یہ جو زندگی کی کتاب ہے

یہ جو زندگی کی کتاب ہے

موسم بدل گیا دن میں پنکھا چلانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی اور رات کو کھلے آنگن میں سونے والوں کے بستر ‘ تکیے اوائل اکتوبر کی نم آلود راتوں سے بھیگ جاتے۔
دوپہریں عجب بھید بھری تھیں ۔ نیم تاریک کمروں میں بسی پراسرارسی ٹھنڈک بلاوے دیتی ہوئی محسوس ہوتی تو دل ‘ آنگن میں چلتی خوشگوار ہواکی جانب کھنچنے لگتا تھا۔ ہلکی سی ٹھنڈک میں رچابسا نیم گرم ماحول ‘ ذہن و دل کو مدہوش سا کرتا ہو ا۔ پر سکون خاموشی میں لپٹی یہ تنہائی اس موسم میں بہت لطف دیتی تھی ۔
عفیفہ‘ حمزہ کا پرانا سویٹر نکال کر پچھلے برآمدے میں آئی تو دھوپ برآمدے کی سیڑھیوں میںا ٓکرٹھہر سی گئی تھی۔وہ تخت پر بیٹھ کر اپنی سوچوں میں مگن سوئٹر ادھیڑنے لگی ۔بالکل نیا سویٹر مگر حمزہ کی اٹھان بہت اچھی تھی ۔ایک موسم کے کپڑے اگلے موسم میں اس کے کام نہیں آتے تھے ۔ اس نے ارادہ کیا تھا کہ اسی سویٹر کو ادھیڑکر اجالا کے لیے نیا بنا دے گی ۔ تخت کے کونے پر اون کی ڈھیری سی لگ گئی تھی۔اس نے بھی قدرے تھکاوٹ محسوس کی تو کمر سیدھی کرنے کے لیے یونہی آڑی ترچھی سی لیٹ گئی تھی ۔ پر سکون ماحول‘اعصاب کو تھپکنے لگا تھا ۔
وہ نیم وا آنکھوں سے درختوں کی شاخوں پہ بیٹھی درجنوں پھولی پھولی چڑیوں کو دیکھنے لگی ‘ جو اپنی ننھی ننھی چونچوں سے اپنے پروں کو کھجلارہی تھیں۔درختوں کے پتوں کو چھو کر گزرتی خوشگوار ہو ا ان کی ہلکی پھلکی چہکاروں سے لبریز ہوئی جارہی تھی ۔ہلکی ہلکی غنودگی طاری ہوئی تو اس کی پلکیں خودبخود بند ہونے لگیں ۔
اسی حالت میں کسی کے قدموں کی مدھم سی چاپ اسے اپنے آس پاس ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ قریب ہی ایک سرسراہٹ سی بکھری مانوس خوشبو ‘ پلکوں میں خودبخود ذر ا سی جنبش ہوئی اس کا معصوم اور بھولا سا چہرا آٹھہرا تھا ۔نیم وا ہونٹ ‘پر کشش آنکھوں میں ہچکچاہٹ ۔
وہ اسے سوتا سمجھ کر شش وپنج میں تھا ۔پکارے یا نہ پکارے……..عفیفہ کے ہونٹ بے ساختہ مسکراہٹ روک نہ پائے ۔پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تو وہ جھینپ کر سیدھا ہو بیٹھا ۔
’’اسنعان! تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟‘‘
’’اچھا ……..؟‘‘وہ ذرا سا مسکرائی اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
’’آپ کی باجیاں گھر پر نہیں ہیں کیا؟‘‘
’’اونہوں ………‘‘اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’’کچھ اسکول گئی ہیں ۔کچھ کالج ۔‘‘
’’اور مما …….؟‘‘ اس نے سوال کرتے ہوئے بھابی کی پورشن کی طرف دیکھا، جہاں حسب معمول اس وقت سناٹا چھایا ہوا تھا ۔
’’وہ سورہی تھی۔‘‘
’’ہوں…….مما سو رہی ہیں‘ اور یقینا انہوں نے آپ کو بھی سونے کے لیے اپنے ساتھ لٹایا ہو گا ۔ اور جونہی ان کی آنکھ لگی ۔موصوف موقع سے فائدہ اٹھا کر ادھر بھاگ آئے ۔‘‘اس نے خوشگوار موڈ میں اسے گد گدایا تو وہ ذرا سا مسکرا کر پیچھے کھسک گیا ۔
’’میں کیا کرتا …… مجھے نیند نہیں آرہی تھی ……….‘‘اس نے تو جیہ بیان کی تو وہ اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے ادھڑی اون کے گولے بنانے لگی۔
’’مما سے کہنا آپ کو اسکول میں داخل کروا دیں ۔وہاں بہت بچے آپ کے دوست بنیں گے‘تو آپ کا دل بھی لگا رہے گا‘‘
اپنی ازلی سنجیدگی میں ڈوبا وہ بغیر کو ئی جواب دیے ادھڑی ہوئی اون کو اپنی انگلیوں ہی لپیٹتا‘ادھیڑ تا رہا۔
ساری اون الجھ گئی تھی ۔اسے گولہ بنانے میں دقت پیش آنے لگی ‘تب اسنعان کو احساس ہوا ۔ازحد پریشان چہرے کے ساتھ اس نے عفیفہ کی طرف دیکھا ۔اور پھر اسے اپنی طرف متوجہ نہ دیکھ کر اپنے آس پاس بکھری ساری اون سمیٹ کر شرافت سے اس کے سامنے رکھ دی ۔عفیفہ نے جھکی نگاہوں سے اس کی ساری حرکت کو بغور دیکھا تھا ۔ وہ اب ٹانگیں جھولا رہا تھا اور وقتا ً فوقتاً اس کے چہرے کو کھوج رہا تھا جہاں کہیں گولہ بنانے میں ذرا سی رکاوٹ ہوئی ‘وہ ہونٹ کاٹنے لگا۔
’’کیا ہوا…..؟ نہیں بن رہا ……….اب یہ ٹھیک نہیں ہو گا ؟‘‘
’’میری جان پریشان کیوں ہو رہے ہو؟اون ذرا الجھ گئی ہے ۔میں ٹھیک کر لوں گئی ۔‘‘اس کے تسلی دینے پر بھی وہ مطمئن نہ ہو سکا تھا ۔
(تم ہزار بھی اسے الجھائو تو میں اسے ہزار بار سلجھائوں گی ۔اس آس پر کہ اسنعان کے ننھے ہاتھ اسے ایک بار پھر الجھادیں۔اور میں گرہ لگی الجھی اون کو بہت سنبھال کر اپنے پاس رکھ لوں)
ا س نے دل سے اٹھی ہُوک دباتے ہوئے اسنعان کی پیشانی سے بال ہٹائے اور اون اٹھا کر ایک طرف ڈال دی ۔
’’اسنعان ! سینڈوچ بنا رکھے ہیں ۔کھائو گے ……….؟‘‘
وہ نفی سے سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہو پھر دھیرے دھیرے چلتے ہوئے اس کے عقب میں جا کھڑا ہوا۔
’’چاچی ایک بات پوچھوں ؟‘‘اس کے گلے میں بانہیں ڈالے پوچھ رہا تھا ۔
’’ہاں……پوچھو……‘‘وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی ۔ وہ چند لمحے رکا ۔پھر مدھم آواز میں پوچھنے لگا۔
’’چاچی !پہلے میںآپ کا ہوتا تھا ؟‘‘
اس کے ننھے منے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ایک لمحے کے لیے چپ سی ہوگئی تھی ۔
’’بتایئے نا……؟پہلے میںآپ کا ہوتا تھا ؟‘‘وہ بے تابی سے پوچھ رہا تھا ۔اس کی معصوم ہلکورے لیتی خو شبودار سانسیں عفیفہ نے اپنے گالوں سے ٹکراتی محسوس کیں تو بے اختیار ہی اسے کھینچ کر اپنی گود میں ڈال لیا ۔
’’جی نہیں……آپ صرف اپنی مما کے ہو …..پہلے بھی……اور اب بھی ….‘‘ دل سے اٹھتی ہر آواز کا گلا دباتے ہوئے اس نے اسنعان کو پیار کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔
’’بالکل اسی طرح جس طرح حمزہ اور اجالا میرے ہیں ۔اسی طرح آپ اور فلک صرف اپنی مما کے ہیں ۔‘‘ اس نے اسنعان کو گود سے اتار ا اور خود اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اسنعان قدرے مایوس ہو گیا تھا ۔
’’پتا نہیں کیوں مجھے لگتا تھا جسے پہلے میں آپ کا ہوتا تھا ۔‘‘
’’آہ………!‘‘سلے ہو ئے زخم ایک جھٹکے سے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے اس نے ۔کمرے میںجاتے ہوئے اس نے دروازے کا آسرالیا۔
’’اسنعان اب آپ جائو مما اٹھ گئی ہوں گی ۔‘‘وہ بمشکل کہہ پائی تھی ……………وہ اثبات میں سر ہلا تا وہاں سے اٹھ گیا تھا۔ وہ مرے مرے قدم اٹھاتی بیڈ پر آگری تھی ۔ نیم تاریک کمرے کی خاموشی میں ایک بار پھر اس کی آواز ابھری ۔
’’چاچی ! پہلے میںآپ کا ہوتا تھا ؟‘‘
’’کس نے بتایا اسے۔ کس نے بہکا دیا معصوم جان کو ۔ کون ایسی باتیں اس کے کانوں میں ڈالتا ہے‘ اگر کوئی نہیں تو پھر اس نے یہ کیوں پوچھا؟کیسے پوچھا………کیوں کر احساس ہوا اس کوکہ پہلے وہ میرا تھا۔‘‘
وہ کانوں پہ تکیہ رکھے الجھتی رہی ،سماعتوں پہ دستک دیتے اس سوال سے پیچھا چھڑاتی رہی ۔شام ہوتے ہی سینکڑوں کام اس کے منتظر ہوتے تھے۔اسے خبر نہ تھی‘آج اس نے یہ سارے کام کیسے نمٹائے۔کیا کر لیا۔ کیا باقی رہ گیا۔جسے تیسے وقت کاٹ ہی لیا ۔مگر رات‘تنہائی میں محب کا سامنا کرتے ہی جیسے سارے بند ٹوٹ گئے تھے۔
’’آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔اس نے کس انداز سے یہ سوال مجھ سے کیا تھا ۔ اور ……….اور میرادل چاہ رہا تھا ‘میں سب بھول جائو ں۔ہر راز ‘ہر وعدہ ‘ہر مصلحت ‘بھلادوں سب کچھ اور اس کے اپنے سینے سے بھینچ کر کہہ ڈالوں ۔’’ہاں تم میرے ہو……..تم میرے تھے ۔تم میرے رہو گے ۔تم تو ازل سے میرے ہو۔ میرے روم روم میں بسے ہو ‘میرے خون کے ساتھ گردش کرتے ہو میرے دل میں دھڑکتے ہو۔‘‘ وہ زاروقطار روتی چلی گئی ۔ محب ستے ہوئے چہرے کے ساتھ لب بھینچے بیٹھا رہا۔
’’میں اسے نظر انداز بھی کرتی ہوں ۔اس سے آنکھ بھی چراتی ہوں ۔پھر بھی وہ میرے طرف کھنچا آتا ہے ۔……..‘‘ وہ بے بسی سے دونوں ہاتھوں میں سر تھامے بیٹھی تھی ۔پھر ایک دم سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
’’شاید اسی لیے محب !کہ میرے اندر سے اس کے لیے پکار اٹھی رہتی ہے ۔اسے دیکھے ہوئے زیادہ دیر ہوجائے تومیرے وجود میں بے چینیاں سی بھر جاتی ہیں۔‘‘اس کا چہرہ بے آواز آنسوئوں سے تر ہوتا جارہا تھا۔
’’اور پتا ہے محب !کبھی کبھی مجھے یوں لگتاہے جیسے میں نے اسے ابھی جنم ہی نہیں دیا ۔وہ ابھی تک میری کوکھ میں سانس لیتا ہے ۔ وہ ابھی تک میرے اندر گڑا ہوا ہے ۔اس کی جڑیں میرے وجود میں بہت دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔میں اسے کس طرح اپنے اندر سے نوچ ڈالوں ……….محب ……میں ایسا نہیں کر سکتی ………..مجھ سے یہ کیا ہی نہیں جاتا …………‘‘
درد اس کے ہونٹوں سے پھسل رہا تھا ۔ قطرہ قطرہ آنکھوں سے بہہ رہا تھا ۔چہرے کے ایک ایک نقش میں بسا ہوا تھا ۔ محب بے اختیار ہی اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کا سر تھپکنے لگا تھا۔
’’مت رو عفیفہ ! تم نے بہت بڑی قربانی دی ہے ۔پلیز اس کی عظمت کو برقرار رکھو۔ہم نے دوسروں کی بھلائی کے لیے یہ سب کیا ۔ خدا تمہیں تمہارے صبر کا انعام ضرور دے گا ۔اسنعان کے لیے یوں تمہارا جذباتی ہونا ہمارے لیے بہتر ہے ،نہ اسنعان کے حق میں ۔ہمارے پاس حمزہ اور اجالا ہے نا۔ تم ان پر توجہ دو۔ ان کے لیے سوچو۔ انہیں چاہو ۔ اب ہمارا اسنعان پر کوئی حق نہیں ۔تمہیں یاد ہے نا۔ آخری فیصلہ ہمارا اپنا تھا۔‘‘
وہی مخصوص نرم ‘شائستہ لہجہ‘ اپنی تسلی دیتا ہوا ۔
اس کی بے تابی پر صبر کی پھوار ڈالتا ۔اس کے کاندھے پہ سر رکھے ۔آنسو بہاتے بہاتے اس کا دل ٹھہر سا گیا تھا۔بے چینی تھم گئی تھی ۔دل کا سارا غبار اس مہربان شخص کے سامنے نکال کر وہ جیسے ہلکی پھلکی سی ہوگئی تھی۔
’’میں نے آپ کو خوامخواہ پریشان کر دیا ۔ ‘‘وہ اس کا مضبوط ہاتھ تھامے پشیمان سی بیٹھی تھی۔ محب بے اختیار مسکرا دیا۔
’’کوئی نئی بات نہیں‘میں عادی ہو چکا ہوں ۔‘‘وہ دانستہ شرارتی لہجے میں کہتا سونے کے لیے تکیہ درست کرنے لگا تو وہ اٹھ کر نماز پڑھنے کے لیے آگئی ۔نماز کے بعد دعاکے لیے ہاتھ اٹھائے تو اپنے لیے صبرو قرار اور اسنعان کے لیے بے انتہا خوشیوں کے سوا اس نے کچھ نہیں مانگا تھا۔
’’یہ فیصلہ ہمارا اپنا تھا پر وردگار ! اور اسی معاملے میں ‘میں نے صرف تجھے اپنا مدد گار بنایا ہے ۔ ‘‘
بہت دیر تک دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے رکھنے کے بعد وہ خود بھی اٹھ گئی تھی۔صبح محب کی آنکھ کھلی تو وہ حمزہ اور اجالا کو اسکول کے لیے تیار کروارہی تھی ۔ اس کے کپڑے نکال رکھے تھے نہانے کے بعد اپنی تیاری کرتے ہوئے وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا رہا تھا ……….وہ ہر روز کی طرح ہشاش بشاس ہرگز نہیں تھی۔ بے خوابی سے چور گلابی آنکھیں بوجھل پلکیں ۔ستا ہوا چہرہ۔
ٹائی کی گرہ لگاتے لگاتے محب نے اپنی دراز کھنگالی ۔دو گولیاں نکال کر میز پہ رکھیں جہاں وہ اس کے لیے ناشتہ لگا کر اٹھ رہی تھی ۔
’’ادھر آئو………‘‘ اس کے واپس پلٹنے سے قبل محب نے اسے کلائی سے تھام کر اپنے سامنے بٹھا لیا تھا ۔
’’ناشتہ کرو………‘‘عجب حکمیہ انداز تھا ۔
’’ابھی میرا دل نہیں چاہ رہا میں بعد میں کر لوں گی۔اس نے بڑے سبھائو سے انکار کیا ‘جواب میں محب نے مکھن اور شہد لگا سلائس اس کی طرف بڑھا دیا تھا ۔قطعی انداز تھا ‘اب کے انکار کرتی تو اس کی محبتوں کو نظر انداز کرنے کی مجرم ٹھہرتی ‘وہ خاموشی سے سلائس تھام کر کھانے لگی ۔خود محب نے صرف دودھ پر ہی اکتفا کیا تھا ۔
’’یہ گولیاں کھائو اور سوجائو آرام سے ۔اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ باقی سب کام وام ہوتے رہیں گے ۔ حمزہ اور اجالا کو واپسی پر میں اپنے ساتھ لے جائو گا ۔ہمارے لیے کھانا مت بنانا ۔اوکے ………‘‘وہ ہدایات جاری کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
’’ویسے ایک بات کہوں ……..‘‘وہ دروازے کی طرف جاتے ہوئے پلٹا ۔
’’آج ہرروز سے زیادہ اچھی لگ رہی ہو ۔‘‘اس کا اشارہ عفیفہ کے بکھرے بکھرے بالوں کی طرف تھا۔ جسے اس نے صرف صبح انگلیوں سے سمیٹ کر کلپ لگا لیا تھا ۔
پھیکی سے مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی ۔
’’بس کریں محب !ہماری شادی کو دس سا ل ہو چکے ہیں ۔‘‘اس نے گویا یاد دہانی کرائی تھی۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ……..؟ اٹھائیس سال کی عمر میں تم بوڑھی ہو گئی ہو نہ تینتیس برس کی عمر میںمیری محبت نے دم توڑا ہے ……..شام کو تیار رہنا کہیں باہر چلیں گے ۔‘‘
وہ مسکراتے ہوئے عجلت میں کہتا باہر نکل گیا تھا ۔
وہ بیاہ کر اس گھر میں آئی تو اس کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی۔ کم عمری کی معصومیت ابھی سنجیدگی میں نہ ڈھلی تھی۔ لا ابالی پن ابھی ذمہ داری میں نہ بدلا تھا اور سوچ کا کچا پن ‘ پختگی میں ڈھلنے کے لیے ابھی کچھ وقت مانگتا تھا۔ ذہن و دل نزاکت سے لبریز تھے ۔ پلکوں تلے نو خیز خوابوں کا بسیرا تھا۔ ابھی تو وہ عمر تھی کہ بارش کی کن من بدن میں جلترنگ بجا دیتی تھی۔ بادل ‘ خوشبو ‘ پھول اور ہوائیں مدہوش کر دیتی تھیں۔ اور اسی مدہوشی میں ابٹن ‘ مہندی اور سنگھار کی خوشبو میں رچی بسی وہ پیا کے دیس چلی آئی تو لگا کسی’’حیرت کدے‘‘ میں قدم رکھ آئی ہے۔ زمین ‘ آسمان ‘ فضائیں ‘ سب کا رنگ بدلنے لگا تھا۔
وہ حسین ضرور تھی مگر خود آگاہ ہر گز نہ تھی۔ محب کی وارفتگیاں اسے بوکھلا کر رکھ دیتیں۔ کمرے کی تنہائی سینک کر گھر کی رونق کا حصہ بنتی تو اور بھی گھبراتی۔
ماشاء اللہ بھرا پڑا سسرال تھا۔ دو جیٹھ ‘ جیٹھانیاں ‘ ان کے بہت سے بچے ۔ ایک کنواری نند ‘ باقی نندیں بیاہی تھیں مگر اسی شہر میں ۔ ہر روز کا آنا جانا تھا۔ ہر وقت کی گہما گہمی ‘ اظہار خیال و رائے کی مکمل آزادی۔ بچوں ‘ بڑوں ‘ سب کی ایک ہی محفل جمتی۔ چھوٹے سے چھوٹا فنکشن بڑے سے بڑے پیمانے پر منعقد ہوتا۔ اس گھر میں ہر عادت ‘ ہر فطرت اور ہر طبیعت کے لوگ موجود تھے۔ اپنے گھر کے لگے بندھے معمول اور پرسکون ماحول سے نکل کر ہمہ وقت کے شور‘ ہنگامے میں آ کر وہ گھبرا سی گئی تھی۔ ایک ایک فرد کو سمجھنے کی کوشش میں وہ خود ہی الجھنے لگتی تو تنگ آ کر محب کے سامنے جا بیٹھتی۔
’’کیا کروں ‘ اور کیا نہ کروں…..ہر بندہ اپنا مزاج رکھتا ہے ۔ کس سے ملنا ہے۔ کیسے برتنا ہے مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ وہ حیران حیران سی بیٹھی تھی ‘ قدرے پریشان تھی۔ محب بے اختیار ہنس دیا۔
’’ابھی سب کچھ نیا ہے تمہارے لیے‘ اسی لیے ایسا محسوس کر رہی ہو۔ رفتہ رفتہ سب سے شناسائی بڑھے گی۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
پھر اس شناسائی کو بڑھانے میںاس نے خود بہت کوشش کی تھی۔
سسر کی وفات کے بعد اس کی ساس اس خاندان کی بڑی تھیں ۔ انداز شاہانہ‘ مزاج حاکمانہ‘ ان کے سامنے وہ صرف ’’جی حضوری‘‘ سے کام چلاتی اور داد پاتی تھی۔
بڑی جیٹھانی سرد مزاج رکھتی تھیں‘ ہنسنا بولنا‘ دوسروں سے گھلنا ملنا ان کی عادت میں نہ تھا۔ سنجیدہ اپنے آپ میں گم لیے دیے رہنے والی۔ محفل میں بیٹھتیں تو یوں کہ ان کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ عفیفہ ان سے بچ کر ہی رہتی تھی۔ کام کی بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ۔ مبادا انہیںبرا نہ لگ جائے۔ ان کی عادت تھی مزاج کے خلاف بات ہو جاتی تو ان کے چہرے کے پتھریلے نقوش مزید تن جاتے۔ سپاٹ آواز میں سرد مہری گھل جاتی۔ مخالف فرد کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کرتی تھیں۔ اوپر تلے چار بچیاں پیدا کرنے کے بعد اولاد نرینہ کی خواہش ان کی حسرت بن چکی تھی۔ ان کے سخت مزاج کی ‘ چڑ چڑے پن کی ایک بڑی وجہ شاید ان کی یہ محرومی بھی تھی۔
چھوٹی بھابی ان کے بالکل برعکس تھیں۔ فربہی مائل جسم گوری رنگت گھر کے بیشتر معاملات ساس کے بعد ان ہی کے ہاتھ میں تھے۔ وہ خاصی ہنسوڑ قسم کی خاتون تھیں۔ کام میں بے حد پھرتیلی ‘ ایک بچہ چپس کھانے کی فرمائش کرتا تو وہ دھڑا دھڑ چپس مل کر گھر کے سارے بچے نمٹا دیتیں ۔ آس پڑوس میں آنا جانا‘ مہمانوں کی خاطر تواضع ‘ نندوں کی آئو بھگت ‘ شادی بیاہ پر لینا دینا سب ان کے ہاتھ میں تھا۔ عفیفہ ان کاموں میں ان کی صرف مدد کرواتی تھی۔ بلکہ ان کی وجہ سے وہ بہت ساری ذمہ داریوں سے بچی ہوئی تھی۔زیادہ وقت اپنے کمرے میں گزر تا یا پھر صبح کے وقت محب کے لیے ناشتہ بنا دیتی۔ حمزہ اور اجالا کے بعد البتہ زندگی کافی حد تک مصروف ہو گئی تھی۔
انہی دنوں چھوٹی بھابی کا تینوں بچوں سمیت ویزا کنفرم ہو گیا۔ جیٹھ صاحب پہلے ہی جا چکے تھے لہٰذا چھوٹی بھابی نے ہنستے ہنستے رخت سفر باندھا اور تینوں بچوں سمیت یہ جا ‘ وہ جا ۔ ساری ذمہ داری اس کے سر …..وہ ہکاّ بکاّ رہ گئی۔ یہ کیا ہو گیا۔
بڑی بھابی کا وہی چلن تھا۔ کوئی مہمان آتا تو ان کی پوری کوشش ہوتی چائے پانی کے بغیر ہی کام چل جائے۔ جب کہ اس گھر کی مہمان نوازی زمانے بھر میں مشہور تھی۔ اور پھر دانستہ و نادانستہ شعوری ولا شعوری طور پر وہ سارے فرائض ایک ایک کر کے نبھاتی چلی گئی۔ چھوٹی نند بھی بیاہ کر اپنے سسرال چلی گئی تھی۔ گویا ایک اور خاندان ان کے ساتھ جڑ گیا۔ اور پھر ان ہی دنوں جب بڑی بھابی ‘ چھ بیٹیوں کے بعد ایک مردہ بیٹے کو جنم دے کر بہت اداس اور مغموم رہا کرتی تھیں ‘ وہ تیسری بار امید سے ہوئی۔
دوپٹہ ایک طرف رکھے‘ ہیڈ فون کانوں سے لگائے…..پر شور….تیز گانا سنتے ہوئے وہ بڑے مگن سے انداز میں برتن دھو رہی تھی۔ ہاتھوں کی حرکت میوزک سے ہم آہنگ….سر ‘ تال پہ جھوم رہا تھا…. ڈھیروں برتن منٹوں میں دھل گئے….اب بڑی بڑی دیگچیوں کو مانجھنے کی باری تھی۔ یہ کام بھی جھومتے جھامتے ہو ہی رہا تھا۔ جب ساس صاحبہ نے کچن کے دروازے پر آ کر اسے گھورا….غالباًکچھ کہا بھی …. مگر وہاں کسے سنائی دے رہا تھا؟ پلٹ کر انہیں دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی….کہ ان کی آمد سے باخبر کب تھی۔ ذرا دیر بعد بڑی بھابی پاس آ کھڑی ہوئیں۔ اس نے یونہی نگاہ اٹھا کر دیکھا۔ وہ کچھ بڑ بڑا رہی تھیں….. یا شاید اسی سے مخاطب تھیں….اس نے ایک جھٹکے سے ہیڈ فون کھینچا۔
’’مجھ سے کچھ کہا….؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی ‘ مگر بڑی بھابی بات ختم کر کے دودھ گرم کرنے لگی تھیں۔
وہ دوبارہ پوچھنا چاہ رہی تھی۔ اسی لمحے اجالا کے رونے کی آواز سنائی دی۔ وہ رو رہی تھی اور روئے چلے جا رہی تھی….نجانے کب سے۔ وہ گھبرا کر اپنے کمرے کی طرف لپکی۔
’’ہونہہ….دو بچے پیدا کر چکیں‘ تیسرے کی تیاری میں مگن….اور بچپنے کا یہ عالم ہے کہ….‘‘
وہ ایک لمحے کے لیے سُن ہو کر رہ گئی۔ جلے کٹے لہجے میں یہ واضح بڑ بڑاہٹ….صرف اور صرف اس کے لیے تھی۔ اس نے ہونٹ کاٹتے ہوئے ایک نظر انہیں دیکھا اور من من بھاری قدم گھسیٹتی اپنے کمرے میںآ گئی ۔ اجالا کو گود میں لیتے ہوئے اس نے آنکھوں میں آئی نمی کو محسوس کیا تو بے اختیار ہی سر جھٹک کر مسکرا دی۔
’’اور آپی کہا کرتی تھیں…..عفیفہ ہر کام اتنے مزے سے کرتی ہے کہ بڑے سے بڑا کام بھی اس کی چٹکیوں کی زد پر ہوتا ہے…..‘‘ اور وہ ہنس کر کہتی۔
’’یہ سب میرے واک مین کا کمال ہے۔‘‘
’’لیکن عفیفہ بی بی! اب تم پہلے والی عفیفہ نہیں رہی ہو….دو بچے پیدا کر چکی ہو اور تیسرے کی تیاری میں مگن ہو….چھوڑو یہ بچپنا….اپنی حیثیت پہچانو…..شادی شدہ عورت کو یہ رویے زیب نہیں دیتے۔‘‘
اجالا کو تھپکتے تھپکتے وہ خود کو سمجھانے بیٹھ گئی تھی۔حالانکہ وہ خود بھی جانتی تھی کہ یہ معمولی نوعیت کے واقعات کو بھی سنگین بنا دیا کرتا تھا۔
اور یونہی روز و شب کے سرد و گرم کو سہتے ہوئے اس نے ایک کھلتی ہوئی صبح کے نیلگوں اجالے میں اسنعان کو جنم دیا تھا….ماں باپ دونوں کا حسن چرایا تھا اس نے…..حمزہ اور اجالا بھی خوبصورتی میں کسی سے کم نہ تھے‘ مگر اسنعان اپنی مثال آپ تھا۔
جس روز وہ ہاسپٹل سے گھر آئی ‘ حمزہ اور اجالا گھر پہ نہیں تھے۔
’’دونوں نانا‘ نانی کے گھر جانے کی ضد کر رہے تھے۔ سو میں انہیں پرسوں شام وہاں چھوڑ آیا تھا۔‘‘
شاپرز میں سے اس کا اور اسنعان کا ضروری سامان نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے محب نے قدرے سنجیدگی سے اسے بتایا تھا اور معلوم نہیں کیوں اسے لگا جیسے محب ‘ اسنعان کی پیدائش پر اتنا خوش نہیں جتنا حمزہ اور اجالا کی پیدائش پر ہوا تھا…..بلکہ وہ تو شاید پوری طرح اس کی طرف متوجہ بھی نہیں تھا۔
نہ اس کے لیے پہلے کی طرح فکر مند…..نہ دیکھ بھال کا وہ انداز…..
اس نے کریدنے کے لیے کئی ایک باتیں پوچھ ڈالیں ‘ مگر جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’ناں‘‘ کے بعد مختصراً ہی وصول ہوا تھا۔
’’کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‘‘ وہ اس کے چہرے پر پھیلی گمبھیر سنجیدگی سے خائف ہو کر سوچنے لگی۔
’’ہو سکتا ہے کوئی کاروباری مسئلہ ہو …..ورنہ ایک بیٹے کی پیدائش پر اس کے باپ سے بڑھ کر اور کون خوش ہو سکتا ہے۔‘‘ اس رات وہ محب کے بدلے ہوئے انداز کو سوچتے سوچتے ہی سو گئی تھی۔
اگلی صبح محب آفس نہیں گیا تھا‘ بلکہ یونہی اس کے آس پاس منڈلاتا رہا۔ قدرے بے چین…. قدرے بے قرار….کچھ کہنے یا نہ کہنے کے الجھائو میں پھنسا ہوا….کئی بار بے تابی سے اسے پکارا مگر پھر ٹال گیا۔
بہت واضح طرز عمل کے حامل انسان کا یہ غیر واضح رویہ….وہ ذرا سا چونک گئی۔
’’کوئی بات ہوئی تھی ‘ کوئی بہت بڑی بات …..ورنہ یہ چھوٹی موٹی ‘ غیر معمولی باتیں‘ محب جیسے بندے کو کبھی اتنا متاثر نہ کرتی تھیں۔‘‘
اس نے حمزہ اور اجالا کو واپس لانے کے لیے کہا۔ کسی گہری سوچ میں ڈوبتے ابھرتے محب نے ذرا سا چونک کر اسے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’لے آئو ں گا کل۔‘‘
شام تک وہ منتظر ہی رہی ‘ محب خود سے کوئی بات چھیڑے….وہ پریشانی ‘ وہ مسئلہ جو پچھلے کئی گھنٹوں سے اس کے دل و دماغ کو جکڑے ہوئے تھا۔ وہ خود اس کے سامنے کھول کر رکھ دے مگر انتظار انتظار ہی رہا تھا۔ شام کو وہ یونہی کسی کام سے باہر نکلی تو گھر میں سناٹا طاری تھا۔ ملازمہ کی زبانی معلوم ہوا سب لوگ بڑی اماں کے کمرے میں جمع ہیں۔ ساس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ بے دھڑک اندر چلی گئی تو یہاں بیٹھے تمام افراد کو گویا یکلخت ہی سانپ سونگھ گیا۔ آناًفاناً ایسی خاموشی چھائی کہ وہ خود سے شرمندہ ہو کر رہ گئی۔
’’شاید میں غلط وقت پہ آ گئی ہوں۔‘‘ اس کو مروتاً کہنا پڑا مگر جواباً کسی نے بھی اس کی بات کو رد نہیں کیا تھا ۔ بڑے بھیا اور بڑی اماں کے درمیان سر جھکا کر بیٹھے محب نے سر اٹھا کر ذرا کی ذرا اسے دیکھا ضرور مگر سر ہلانے کی زحمت نہ کی۔ بڑی بھابی نے اسے دیکھا اور پھر نظریں چرا کر اپنے ناخن دیکھنے لگیں۔ توہین کے شدید احساس سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ ان ہی قدموں واپس لوٹ آئی تھی۔
رات گئے محب کمرے میں آیا اور ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے چلتا بیڈ پر آ لیٹا۔ عفیفہ نے یوں ہی لیٹے لیٹے آنکھوں پہ رکھا بازو ہٹاتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اسنعان کے ننھے ہاتھوں میں انگلی تھمائے بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
’’آج سے پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا محب!‘‘ وہ بے اختیار کہہ گئی تو محب کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
’’اگر آپ پریشان ہیں تو کس وجہ سے؟ اور اگر مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ کیوں نہیں دیتے۔ یوں اکیلے جلنے کڑھنے کی ریت پہلے تو ہم دونوں میں موجود نہ تھی۔‘‘
’’ہو سکتا ہے ‘ میں و ہ بات تم سے شیئر کروں تو تم مجھ سے زیادہ پریشان ہو جائو۔‘‘ محب اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ قدرے پریشان ہوتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’ایسی کیا بات ہو گئی ‘ آپ بتا کیوں نہیں دیتے۔‘‘ اس کی بے تابی پر وہ ذرا سا مسکرایا۔ عفیفہ کو یہ مسکراہٹ جبری مسکراہٹ لگ رہی تھی۔
’’اچھا ایک بات بتائو‘ اگر میں تم سے اپنے لیے کوئی بہت بڑی قربانی مانگوں تو…..؟‘‘
عفیفہ کچھ دیر تو سمجھ ہی نہ سکی کہ وہ اس بات کا کیا جواب دے۔
’’بتائو نا عفیفہ! اگر تمہیں میرے لیے کوئی قربانی دینا پڑے تو…..؟‘‘
عفیفہ نے دیکھا۔ محب کی نم آلود آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
’’فار گاڈ سیک محب! یوں پہیلیاں مت بجھوائیں‘ میری حالت ایسی نہیں کہ مجھے مبہم اور ادھوری باتوں سے آزمایا جائے۔ آپ بات کیوں نہیں دیتے‘ آخر کیا چاہتے ہیں مجھ سے ‘ کون سی قربانی درکار ہے ۔‘‘ اس کا دل بہت نازک تھا اور محب جانے کیا کہنے جا رہا تھا۔
’’عفیفہ! اگر ہم اسنعان ‘ بڑے بھیا کو دے دیں تو…..؟‘‘ حد درجہ اطمینان و سکون سے اسنعان کی پیشانی چوم کر سیدھا ہوتے ہوئے محب نے کہا تو وہ آنکھیں پھاڑ ے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
’’یہ کیا کہا ہے محب نے ۔‘‘ اسے اپنی سماعتوں پہ شبہ ہوا تو غائب دماغی سے دوبارہ پوچھنے لگی۔
’’کیاکہا ہے۔ آپ نے ابھی آپ کیا کہہ رہے تھے۔‘‘ اس نے بے ساختہ ہی محب کا بازو جھنجھوڑ ڈالا۔
’’مجھے لگتا ہے انہیں اسنعان کی ضرورت ہم دونوں سے زیادہ ہے۔‘‘ وہ اسنعان کے گورے گلابی گال اپنی انگلی کی پشت سے سہلا رہا تھا۔
’’نہیں محب! نہیں‘ یہ ظلم ہو گا۔ یہ میرا بچہ ہے اور مجھ سے زیادہ کسی کو اس کی ضرورت نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ کمزور سی آواز میں کہتے ہوئے رو دی تھی۔ کیس بات کہی تھی محب نے‘ گویا کلیجے پہ ہاتھ ڈالا ہو۔
’’تم نے نو ماہ اسے اپنے جسم کا حصہ بنائے رکھا ہے۔ جانتی ہو نا ‘ یہ مرحلہ کتنا طویل ہوتا ہے اور تخلیق کا مرحلہ اس سے بھی بڑھ کر اذیت ناک ۔ بڑی بھابی نے ایک مرتبہ نہیں ‘ سات مرتبہ یہ مرحلہ طے کیا ہے۔ کیوں؟ صرف ایک بیٹے کے لیے نا ‘ مگر اللہ نے یہ نعمت دے کر چھین لی ان سے ۔‘‘
’’اور انہوں نے سوچا‘ وہ مجھے دی گئی نعمت کو مجھ سے چھین لیں۔‘‘
’’نہیں‘ انہوں نے مجھ سے یہ نہیں کہا۔ میں خود یہ چاہتا ہوں۔‘‘ عفیفہ جانتی تھی ‘ وہ جھوٹ بول رہا ہے مگر کہہ نہ پائی ۔ بس اسنعان کو بازوئوں میں بھینچے بے آواز روتی رہی۔
’’تمہیں بہت دکھ ہو رہا ہے‘ ہے نا عفیفہ ! باوجود اس کے کہ بڑے بھیا کو دینے کے بعد بھی یہ ہماری آنکھوں کے سامنے رہے گا۔ باوجود اس کے کہ ہمارے پاس حمزہ موجود ہے۔‘‘
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ حمزہ ہمارے پاس موجود ہے۔ کیا حمزہ اسنعان کی جگہ لے سکتا ہے یا اسنعان کے بعد آنے والا بچہ اس کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟‘‘ بھرائی آواز میں اس نے ٹوک دیا تھا۔
’’تم صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہو۔‘‘
’’میں کسی اور کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی۔‘‘ وہ خفگی سے کہتی دور ہٹ کر بیٹھ گئی تھی مگر محب نے ہمت نہیں ہاری تھی۔
’’عفیفہ! اس سے کیا فرق پڑے گا۔ پہلے بھی تو حمزہ‘ تائی کی گود سنبھالے رکھتا ہے ‘ مہک تمہارا دامن نہیں چھوڑتی ‘ کوئی بندہ باہر سے آئے تو اسے پتہ تک نہیں چلتا‘ کون سا بچہ تمہارا ہے ‘ کون سا بھابی کا ۔ اسنعان بھی یوں ہی ہمارے تمہارے بیچ حمزہ‘ اجالا اور دوسرے بچوں کی طرح پل جائے گا۔ تم ماں ‘ بیٹے کے بیچ سات سمندر حائل ہوں گے نہ صدیوں کی دوری۔ مان جائو عافی! ہمارا یہ فیصلہ ان کی زندگیوں میں کیسی روشنی بھر دے گا۔ تم اندازہ بھی نہیںکر سکتی ہو‘ اسنعان باپ کا بازو بنے گا۔ ماں کے سینے میں ٹھنڈک ڈالے گا‘ بہنوں کی چھایا ہو گا ‘ اتنی ڈھیر ساری دعائوں میں جیے گا ہمارا اسنعان۔ یہ سودا مہنگا تو نہیں۔‘‘
دھیرے دھیرے کہتا ہوا محب اسے خود سے بہت دور‘ کوئی اجنبی شخص معلوم ہوا تھا ۔ اس کی بات کا جواب دیے بغیر وہ اسنعان کو لیے کروٹ بدل کر لیٹ گئی تھی۔ محب چند لمحے اس کی طرف سے کسی ردعمل کا منتظر رہا اور پھر لائٹ آف کر کے لیٹ گیا۔جلد یا بدیر وہ سو ہی گیا تھا مگر اس کی آنکھوں سے نیند غائب ہو چکی تھی۔
’’کتنا آسان سمجھ لیا سب لوگوں نے یہ کام ‘ لمحوں میںمیری روح کھینچ ڈالی۔ ارے کوئی ہے تم میں سے جو اپنے جسم کے حصے بخرے کرے ‘ یہاں وہاں ڈال کر جی سکے۔ یہ میرے جگر کا ٹکرا ہے‘ کیسے جیوں گی اس کے بغیر ۔ بھلے دو چار اور بھی آ جائیں مگر اسنعان تو اسنعان ہی ہے نا‘ اس کی جگہ کون لے گا۔‘‘
وہ چپکے چپکے آنسو بہاتی رہی۔دل اندر سے سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔ جانتی تھی فیصلہ بالا ہی بالا ہو چکا ہے اور وہ اتنی کمزور دبّو قسم کی۔ بڑوں کے فیصلے اسے تنکے کی طرح بہالے جائیں گے‘ اسے تو احتجاج کرنا بھی نہ آتا تھا۔ ہمیشہ ‘ ہر لمحہ ‘ ہر مقام محب کی آڑ لی تھی مگر آج…..آج تو محب بھی ان ہی کی زبان بول رہا تھا اور وہ جو اس کی ساس کم عمر لڑکیوں کو بیاہنے کے ہزار فائدے گنایا کرتی تھیں تو سب سے بڑا فائدہ آج اس کی سمجھ میں آیا تھا۔
کم عمر لڑکیاں نادان ہوتی ہیں ‘ نا سمجھ ‘ ناقابل فہم۔ ذرا دبا کر رکھو تو پلٹ کر جواب دینے کے قابل نہیں رہتیں۔ شاطرانہ چالوں کا توڑ نہیں کر سکتیں۔ جو چاہو کہہ سن لو۔ اندر ہی اندر جل کڑھ لیں گی‘ کمرے کی تنہائی سے لپٹ کر رولیں گی‘ ڈائری کے اوراق پر شکوے‘ شکایات درج کر لیں گی اور بس …..اس سے زیادہ کی نہ ہمت اور توفیق ہو گی نہ اجازت۔
اور چھوٹی بھابی کے بھی دو بیٹے تھے ‘ کسی نے ان سے یہ قربانی کیوں نہ طلب کی۔‘‘ اس نے شدید خواہش کی تھی ‘ کاش وہ تیس پینتیس سال کی گھاگ ‘ شاطر ‘ منہ پھٹ عورت ہوتی ۔ پیٹھ ٹھونک کر میدان میں اترتی اور اپنا مقدمہ لڑ کر فاتح کہلاتی۔
مگر مقدمہ لڑنے کی نوبت تو وہاں آتی ہے جہاں بہت سے مخالفین جمع ہوں۔ یہاں تو سب کے سب اس کے ہمدرد تھے۔ اس سے قربانی طلب کر کے اسے نیکو کاروں کی اعلا مسند پر بٹھانا چاہتے تھے اور سب سے بڑھ کر محب….جس نے اپنی عمر پر کیے گئے بڑے بھیا کے تمام احسانات اس کے سامنے لمبی فہرستوں کی صورت میں پیش کر دیے تھے۔ اسے نجانے کیوں رہ رہ کر یاد آنے لگا تھا۔
’’بڑے بھیا نے مجھے باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔‘‘
’’بڑے بھیا نے اپنی اولاد سے بڑھ کر میری فکر کی۔‘‘
’’نا مساعد حالات میں بھی میری تعلیم کو اولین ترجیح دی۔‘‘
اپنی زندگی پر بڑے بھیا کے سارے حقوق انہیں ازبر تھے۔
’’یہ احسانوں کا بدلہ نہیں ‘ ہماری طرف سے محبت کا اظہار ہو گا ۔ تم ایک ماں کے لیے اپنی ممتا قربان کرو گی‘ اللہ کے ہاں تمہارے لیے بہت بڑااجر ہو گا۔ وہ تمہیں اس سے بڑھ کر نوازے گا۔‘‘
’’بڑی بھابی کا شکست خوردہ انداز ‘ بڑے بھیا کی ملتجی نگاہیں‘ بچیوں کے چہرے پر جلتی بجھتی آس۔ اور اسے لگا۔
’’یہ بہت سے دل ٹوٹ گئے ‘ تو شاید میں کبھی خوش نہیں رہ پائوں گی‘ یہ نہ ہو اس خود غرضی کے عوض اور بہت کچھ چھن جائے۔‘‘ اس نے اپنے سینے پر بہت بھاری پتھر رکھ لیا تھا۔
اور ہمیشہ کے لیے رکھا تھا۔
’’یا اللہ! اس معاملے میں‘ میں نے صرف تجھے اپنا مددگار بنایا ہے ۔ کوئی انسانی تسلی میرے غم کا مداوا نہیں۔ تو ہے جو مجھے صبر دے سکتا ہے‘ میرے دل کو کشادہ کر دے پروردگار! میرے دل کو اپنے بندوں کے لیے کشادہ کر دے۔‘‘
ان دنوں وہ دعائیں بہت زیادہ مانگنے لگی تھی اور جس روز وہ اسنعان کو گود میں لیے بیٹھی تھی اور اس کا جھولا ‘ اس کے کھلونے ‘ اس کے کپڑے بڑی بھابھی کے کمرے میں منتقل ہو رہے تھے۔ اس روز محب نے اس کی گود سے اسنعان کو لیتے ہوئے کہا تھا۔
’’عفیفہ! آخری فیصلہ ہمارا اپنا تھا‘ تم نے یہ قربانی صرف میرے لیے دی ہے‘ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا ‘ ہم نے احسان نہیں کیا ‘ کسی کو زیر بار نہیں کیا اور نہ ہی ان سے کسی صلے کی خواہش رکھیں گے۔‘‘
اس نے اثبات میں سر ہلایا کہ اس لمحے وہ کچھ بول نہ پائی تھی بلکہ اگلے کئی روز تک وہ کچھ بول نہ پائی تھی۔ ہاں جس روز حمزہ اور اجالا واپس آئے‘ اجالا کمرے میں آتے ہی چلاّئی تھی۔
’’ماما! آپ نے دیکھا….تائی کے پاس کتنا پیارا بے بی آیا ہے‘ مہک کہتی ہے ‘ وہ اس کا بھائی ہے۔ ماما! وہ کتنا خوبصورت ہے۔‘‘
’’ہاں‘ وہ بہت خوبصورت ہے۔‘‘ اس کے لبوں سے بے اختیار ہی نکلا تھا۔
اور پھر ویسا کچھ بھی نہیں ہوا جیسا محب نے سوچا اور اس نے چاہا تھا۔ اسنعان کو گود میں لیتے ہی بڑی بھابی نے یوں آنکھیں پھیریں ‘ گویا کبھی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اجنبیت کی ایسی دیوار کھڑی کی انہوں نے کہ اسنعان کو دیکھنے کی خواہش میں ان کے کمرے تک جانے کے لیے اسے سینکڑوں بار سوچنا پڑتا اور کبھی وہ ہمت کر کے ان کے پاس چلی بھی جاتی تو ان کے ایک ہی اشارے پر کوئی نہ کوئی بچی اسنعان کو لے کر ادھر اُدھر کھسک جاتی یا پھر وہ خود ہی اسے نہلانے دھلانے کو غسل خانے میں گھس جاتیں۔ وہ حیران حیران سی انہیں دیکھتی رہتی۔ کبھی کبھار ان کی سرد مہری دیکھ کر اس کا دل چاہتا ایک بار کہہ ڈالے۔
’’کیسی عورت ہو تم! تمہارے لیے میں نے اپنے دل میں کبھی نہ بھرنے والا گھائو لگا لیا اور تم مجھے اتنا سا حق دینے کو بھی تیار نہیں کہ میں اپنے بچے کو گود میں بھر لوں اور ایک محبت بھرا بوسہ اپنی ممتا کے نام پر اس کے ماتھے پر ثبت کر سکوں۔‘ ‘ مگر دوسری ہزار باتوں کی طرح لا پروا وبے نیاز ظاہر کرتے ہوئے یونہی کچھ دیر کے لیے اسنعان کو ہنستے کھیلتے ‘ کلکاریاں مارتے دیکھتی رہتی اور پھر لوٹ آتی۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس نے خود پر جبر کر کے خود کو حمزہ اور اجالا تک محدود کر لیا۔
بچوں کی تربیت کا اس کا اپنا ایک انداز تھا۔ ایک مخصوص حد تک اس نے اور محب نے اپنے بچوں کو بھرپور آزادی دی تھی ‘ ان کی خواہشات کا احترام کیا تھا ‘ ان کی صلاحیتوں کو نکھارا تھا۔ جس روز اجالا نے کمرے کی شفاف دیوار پر پہلی مرتبہ ایک ٹیڑھی میڑھی تصویر بنائی۔ اس روز محب نے اس کے سامنے رنگوں اور کاغذات کا ڈھیر لگا دیا۔ وہ تو ہاتھ میں قلم بھی اس انداز سے پکڑتی گویا کسی مصور نے برش تھام رکھا ہو۔ ابتدائی کلاسوں میں ہی اس کی ڈرائنگ دیکھ کر ٹیچرز دنگ رہ گئی تھیں۔ اوپر سے کوئل جیسی آواز میں کوکتی اور یوں مسلسل کوکتی کہ اجنبی سے اجنبی فرد بھی دو گھڑی اس کی باتیں سننے کے لیے ضرور ٹھہر جاتا۔ ٹیچرز اسکول سے پیغام بھجواتیں۔
’’ہر روز اس کی نظر ضرور اتارا کریں۔‘‘
حمزہ کی طبیعت میں تجسّس بہت تھا۔ کیا ہے ‘ کیوں ہے ‘ کیسے ہے ۔ ایک ہزار ایک سوال ہوتے تھے اس کے پاس۔ عفیفہ کے پاس اتنا وقت نہ ہوتا ‘ اگر ہوتا بھی تو وہ جواب دیتے دیتے چڑنے لگتی۔ تب محب اس کی جگہ سنبھال لیتا ۔ دونوں باپ بیٹا مل کر نیشنل جیوگرافک چینل کھنگال دیتے۔ رات گئے تک اسکول کی ہر روز کی روداد سنائی جاتی۔ پڑھائی سے متعلق صلاح ‘ کھیل سے متعلق مشورے ‘ دوستوں کی باتیں اس کی گہری بھوری آنکھوں میں چمک گہری ہو تی جاتی اور گفتگو کا دورانیہ بڑھتا جاتا۔ حمزہ قدرے لا پروا مگر بے حد ذہین اور حاضر جواب بچہ تھا۔
دیکھنے ‘ سننے والے ان دونوں کی زندگی پر رشک کرتے تھے۔
’’تم تو بہت لاپروا اور دبّوسی ہوتی تھیں۔ اتنی ذمہ دار‘ اتنی فرض شناس کیسے ہو گئیں؟‘‘
’’یہ سب محب کاکمال ہے ۔ اگر محب کا ساتھ نہ ملتا تو شاید میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔ سچ…..انہوں نے مجھ پر بڑی محنت کی ہے۔ اگر محب کا ساتھ نہ ملتا تو شاید میں کچھ بھی نہ ہوتی۔سچ….انہوں نے مجھ پر بڑی محنت کی ہے ۔‘ ‘ اپنی دوستوں کی بے تحاشا حیرت کے جواب میں وہ برملا کہا کرتی تھی۔
محب بچوں کے ساتھ رات گئے واپس آیا تھا۔ تب تک وہ بھوک کی شدت سے بے حال ہو کر کھانا کھا چکی تھی۔ ان لوگوں کے لیے چپاتیاں ڈالنے کو اٹھی تو محب نے روک دیا۔
’’نہیں بھئی! ہم لوگ برگر کھا آئے ہیں اور آپ کے لیے آئس کریم لائے ہیں۔‘‘ وہ آئس کریم کا پیک اسے تھما کر خود کپڑے بدلنے چلا گیا۔
عفیفہ نے بچوں کے ساتھ ساتھ دادی کا حصہ بھی نکال کر انہیں دادی کے کمرے میں بھجوایا اپنے لیے آئس کریم نکالتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے رک سی گئی۔ ڈریسنگ روم سے باہر آتے محب نے قمیص کے کالر جھٹک کر سیدھے کرتے ہوئے اسے دیکھا پھر بے اختیار ہنس دیا۔
’’آئس کریم کا چمچ بھر کر سوچنے کا نیا رواج نکلا ہے کیا؟‘‘
’’ارے نہیں‘ میں تو بس…..‘‘ اس نے سر جھٹک کر اس کی بات کی تردید کی پھر ذرا ٹھہر کر پوچھنے لگی۔
’’اسنعان کے لئے بھی آئس کریم بھجوا دوں‘‘
اپنا بریف کیس کھولتے ہوئے محب نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر بھابی کے پورشن کی طرف جھانکا ‘ لائونج پوری طرح روشن تھا اور متحرک سائے کھڑکی کے شیشوں پر ناچ رہے تھے۔
’’بھجوا دو ‘ ابھی تو غالباً سب لوگ جاگ رہے ہیں۔‘‘
’’ان لوگوں کی رات ‘ بارہ ایک بجے کے بعد شروع ہوتی ہے۔‘‘ اس نے اطلاع دیتے ہوئے حمزہ کو پکارا اور پیالہ بھجوا دیا۔ ایک چھوٹا سالان ہی عبور کرنا تھا اس نے اور بس۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ پلٹی تو محب اپنے سامنے کئی قسم کی فائلیں بکھیرے بیٹھا تھا ‘ وہ چڑسی گئی۔
’’کیا ہے بھئی! سارا دن بچوں کے ساتھ سر کھپایا ہے اور اب فائلیں لے کر بیٹھے ہیں ‘ تھکتے نہیں ہیں آپ۔‘‘
’’تھک جاتا ہوں اگر تمہارے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے نہ پیوں تو ۔‘‘ سنہرے فریم کا نفیس چشمہ لگاتے ہوئے اس نے شرارت سے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئی۔
’’چائے تو میں بنا دیتی ہوں محب! لیکن وقت بھی تو دیکھیں ‘ رات دیر سے سوئیں گے تو صبح اٹھنے میں بھی آپ کو ہی دقت ہو گی۔‘‘
’’اچھی بیویوں کے پاس شوہروں کو جگانے کے ہزار طریقے ہوتے ہیں۔ تم بھی کوئی ’’خوبصورت‘‘ سا طریقہ آزما لینا۔ یقین مانو مجھے اٹھنے میں ذرا دقّت نہیں ہو گی۔‘‘ وہ سب فائلیں چھوڑ کر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ یکدم ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’دس سال ہو گئے ہیں ہماری شادی کو۔‘‘ سارا زور ’’دس سال‘‘ پر دیا تھا اس نے۔
’’لیکن تم ابھی بھی اوّل روز کی طرح شرماتی ہو۔‘‘ وہ بدستور مسکرا رہا تھا۔
’’میرا خیال ہے ‘ میں چائے ہی بنا لاتی ہوں۔‘‘ وہ مسکراہٹ دباتی فوراً کمرے سے نکل آئی تھی۔
اگلی صبح ’’جگانے‘‘ کا طریقہ واقعی بہت ’’خوبصورت ‘ ‘ تھا مگر عفیفہ کا نہیں ‘ محب کا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی تو محب شرارتی ہنسی لبوں پہ سجائے عجلت میں کہہ رہا تھا۔
’’ہم لوگ جا رہے ہیں ‘ گیٹ بندکر لو۔‘‘
’’ارے…..ارے۔‘‘ اس نے آنکھیں پٹپٹائیں ۔ وال کلاک کی طرف دیکھا ‘ اور پھر گھبرا کر بسترسے نکل آئی۔
’’اتنا وقت ہو گیا…..بچے…..ناشتہ …..ان کا لنچ۔‘‘ وہ چپل گھسیٹتی ان کے پیچھے لپکی۔ محب بچوں کو گاڑی میں بٹھا رہا تھا۔
’’ماما! ناشتہ کر لیا ہے ‘ لنچ بھی لے جا رہے ہیں۔‘‘ حمزہ نے آواز لگا کر اسے تسلی دی۔
گاڑی اسٹارٹ ہو چکی تھی۔ اجالا بائے بائے کرتے ہوئے چیخ چیخ کر نہ جانے کیاکہہ رہی تھی‘ وہ کچھ سمجھ نہ پائی۔ بس الوداعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا اور پھر گیٹ بند کر کے سیدھی کچن میں آ گئی ۔
’’خدا معلوم…..کیا کھا پی کر گئے ہیں۔‘‘ وہ قدرے پریشان ہوئی۔ شوہر اور بچوں کے کھانے پینے کے معاملے میں بہت محتاط رہتی تھی۔
کچن میں موجود ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کا سارا سامان بکھرا ہوا تھا۔ ٹوسٹ ‘ جیم ‘ شہد ‘ مکھن اور دودھ کے خالی گلاس ۔ سینڈوچ میکر کا سوئچ ابھی بورڈ میںلگا ہوا تھا۔ سینڈوچز کے لیے آمیز ہ وہ رات کو تیار کر کے فریج میں رکھا کرتی تھی۔
’’گویا سب کام معمول کے مطابق ہو گئے اور میں پڑی سوتی رہی۔‘‘ اسے شدت سے اپنے نکمّے پن کا احساس ہوا۔
’’محب نجانے رات کس وقت سوئے ہوں گے‘ صبح بھی مجھ سے پہلے اٹھ گئے۔ پتا نہیں کیسے سب کام نمٹایا ۔ یا اللہ! کس نیکی کا اعجاز ہے یہ شخص۔ ایسا پیارا‘ ایسا محب بھرا دل ۔ تو نے میری اوقات سے بڑھ کر مجھے نوازا ہے پروردگار۔‘‘ اس کا دل تشکّر کے جذبات سے بوجھل ہونے لگا۔
نجانے کتنی دیر وہیں بیٹھی رہی پھر اٹھ کر اپنا اور بڑی اماں کا ناشتہ بنانے لگی۔ وہ قدرے دیر سے ہی اٹھتی تھیں‘ اسی لیے وہ اطمینان سے لگی رہی۔ تب ہی دروازے پر ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ بڑی بھابی رات والا خالی پیالہ دینے آئی تھیں۔
’’اسنعان کا گلا پہلے ہی خراب تھا ۔ رات ‘ آئس کریم کھا کر تو بالکل ہی بند ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے مخصوص ترش لہجے میں آتے ہی اطلاع دی۔
’’اچھا…..مجھے تو خبر ہی نہ تھی بھابی! لیکن اگر گلا خراب تھا تو آپ اسے آئس کریم نہ کھلاتیں ‘ وہ تو حمزہ اور اجالا کھا رہے تھے ‘ تو میں نے سوچا۔‘‘
’’یہ ہی تو کہنے آئی ہوں۔ وقت بے وقت ایسی چیزیں مت بھجوایا کرو‘ بچہ ہے ‘ دیکھ کر مچل جاتا ہے اور یوں بھی میں نے کوئی کمی تو نہیں رکھی۔‘‘
’’ایسی تو کوئی بات نہیں بھابی! مجھے معلوم ہے آپ اس کا بہت خیال رکھتی ہیں اور پھر اب تو وہ آپ ہی کا ہے جس حال میں بھی رکھیں‘ ہمیں اس سے کیا غرض ۔ میں نے تو بس یونہی۔‘‘
وہ مدھم آواز میں صفائی پیش کرنے لگی مگر بڑی بھابی ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھیں۔ وہ صرف سنانے آئی تھیں‘ سننے نہیں۔ خون کی گردش رگوں میں تیز ہو گئی تھی۔ وہ اور زور زور سے انڈے پھینٹنے لگی۔
چھوٹی نند ‘ گلشن کے بیٹے کی سالگرہ تھی۔ وہ محب کے ساتھ گفٹ لانے کا پروگرام بنا رہی تھی‘ جب خیال آیا ۔ بچوں کے سردیوں کے کپڑے خریدنے ہیں‘ بدلتے موسم کی اور بے شمار چیزیں ۔ سویٹر ٹوپیاں ‘ موزے ‘ اپنے لیے شال اور بڑی اماں کے دو چار گرم سوٹ ۔ محب جو اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار کھڑا تھا ‘ اتنا لمبا چوڑا پروگرام سن کر وہیں بیڈ پر ڈھے گیا۔
’’نہیں یار! اتنی لمبی خریداری کا بالکل موڈ نہیں۔ تم بچوں کے ساتھ ہو آئو۔‘‘ گاڑی کی چابی اس کی طرف اچھال کر وہ سیدھا ہو کر لیٹ گیا تھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی محب! آپ میرے ساتھ جا رہے تھے۔‘‘ وہ ناراضی سے بولی۔ جواباً اس نے تکیہ اٹھا کر منہ پر رکھ لیا تھا۔ وہ کچھ دیر اس کے بولنے کی منتظر رہی پھر پرس اٹھا کرباہر نکل آئی۔
’’جا رہی ہوں میں ‘ دیر ہو گئی تو پھر مت کہئے گا۔‘‘ باآواز بلند کہتی وہ بھابی کے پورشن کی طرف آ گئی۔ یہاں بچیاں خوب رونق لگائے رکھتی تھیں‘ لہٰذا فارغ وقت میں حمزہ اور اجالا ادھر بھاگے آتے تھے۔ اب بھی انہیں بلانے کے لیے آئی تھی۔ صباحت نے گاڑی کی چابی اس کے ہاتھ میں دیکھی تو فوراً پوچھ بیٹھی۔
’’چاچی! کہیں جا رہی ہیں کیا ؟‘‘
’’ہاں‘ ذرا مارکیٹ تک جا رہی ہوں ‘ چلو گی؟‘‘
’’نیکی اور پوچھ پوچھ ۔ ابھی آ رہی ہوں۔‘‘ وہ چٹکی بجاتی اندر کی طرف بھاگی ۔ صباحت ‘ بھابی کی سب سے بڑی بیٹی تھی۔ حال ہی میں میڈیل میں ایڈمیشن لیا تھا۔ کافی پر اعتماد مگر اکھڑ مزاج کی تھی۔ چھوٹی بہنوں پر اچھا خاصا رعب تھا‘ اس کی وجہ سے عفیفہ کو خاصا اطمینان ہو گیا کہ واپسی پر دیر بھی ہو جاتی تو بہر حال وہ تنہا تو نہ ہوتی ۔ وہ گاڑی میں بیٹھی کچھ دیر انتظار کرتی رہی۔صباحت آئی تو اسنعان بھی ساتھ ہی تھا۔ پچھلی سیٹ پر حمزہ اور اجالا کے ساتھ بیٹھا وہ کافی خوش دکھائی دے رہا تھا۔ بازار میں مختلف چیزوں کی خریداری کرتے ہوئے حمزہ اور اجالا نے اچھا خاصا شور مچایا ہوا تھا۔
’’یہ چیز پسند نہیں ‘ فلاں اچھی ہے ‘ یہ کیوں لے رہی ہیں؟‘‘ ہر چیز پر بڑھ چڑھ کر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے صباحت کو اچھا خاصا پریشان کر رکھا تھا۔ عفیفہ عادی تھی اس چیز کی ‘ سو تھوڑا ان کی پسند کا لیا‘ تھوڑا اپنی مرضی کا ۔ اسنعان اس دوران چپ چاپ ان کے ساتھ ساتھ اردگرد کا جائزہ لیتا رہا۔ بے شمار خوبصورت چیزوں پر سے پھسلتی ہوئی اس کی خاموش نگاہیں صباحت کے چہرے پر جا کر ایک لمحے کے لیے ٹھہرتیں اور پھر پلٹ کر شیشے سے باہر بھاگتی دوڑتی ٹریفک کو دیکھنے لگتیں۔
حمزہ اور اجالا کے لیے چیزیں خریدتے ہوئے اس کا بار ہا دل چاہا ‘ اسنعان کے لیے بھی یہ سب خریدے۔ بہت دیر تک خود پر جبر کیے رہنے کے بعد اس نے صباحت کو صرف اور صرف اپنے کپڑوں لتّوں میں الجھے دیکھا تو پھر رہ نہ سکی۔ بچوں کو ریڈی میڈ ملبوسات کی دکان پر حمزہ اور اجالا کے لیے سوٹ لیتے ہوئے اس نے دو سوٹ صباحت سے اسنعان کے لیے پسند کروائے تھے۔ خود اسنعان کی ساری توجہ کھلونوں کی طرف تھی۔ ایک بڑا سا بھالو اسے دلوا کر وہ کپڑوں کی دکان میں گھسیں تو عفیفہ نے ایک سوٹ بھابی کی چھوٹی بیٹی مہک کے لیے بھی خرید لیا تا کہ اسنعان کے لیے خریدی گئی چیزوں کو بھابی آسانی سے ہضم کر سکیں۔
اس کی شاپنگ مکمل ہو چکی تھی۔ صباحت ابھی تک کپڑوں کے ڈیزائن اور رنگوں میں الجھی ہوئی تھی۔ کون سالوں ‘ کون سا نہ لوں۔ کبھی ایک سوٹ پر ہاتھ دھرتی ‘ کبھی دوسرا تھان نکلوا لیتی۔ حمزہ اور اجالا بھی بیزار ہو چکے تھے۔
’’آپی ! یہ لے لیں۔‘‘ وہ بڑے صبر سے بیٹھی صباحت کو اس کی ’’چوائس ‘‘ خریدنے کا موقع دے رہی تھی۔ جب اچانک ہی اسنعان کے گلابی ہاتھوں کی نرم پوروں نے ایک کپڑے کو چھوا۔
’’آپی! یہ اچھا ہے ‘ یہ والا لیں۔‘ ‘ وہ اصرار کر رہا تھا۔ صباحت اسے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی پسند کا کپڑا کٹوانے لگی تھی‘ جبکہ عفیفہ کی نگاہیں اس کپڑے سے چپک کر رہ گئی تھیں۔ گہرے سبز رنگ کا سوٹ تھا جس کے صرف دوپٹے پر انتہائی خوبصورت اورنج کلر کا بارڈر بنا ہوا تھا۔
’’یہ سوٹ کتنے کا ہے۔‘‘ اس نے بے اختیار ہی اس کپڑے پر ہاتھ رکھا۔ اسنعان نے اپنی آنکھوں میں بے تحاشا حیرت سموتے ہوئے عفیفہ کی جانب دیکھا اور اسے اپنی طرف متوجہ پا کر جھینپتے ہوئے بے اختیار ہی صباحت کی اوٹ میں ہو گیا۔
ان کی واپسی اس وقت ہوئی تھی جب دکانوں کے سامنے لگے نیون سائن جگمگانے لگے تھے۔ اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں مناسب رفتار سے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی ‘ نہ جانے محب کا موڈ اس وقت کیسا ہو گا۔
شام کی چائے نہ ملے تو وہ اکثر بد مزاجی کا مظاہرہ کرنے لگتا تھا ‘ بقول محب کے۔
’’شام کی چائے میرا شوق نہیں‘ میری ضرورت ہے۔‘‘
گھر میں داخل ہوئی تو ہر سو اندھیرا چھا رہا تھا۔ صباحت اور اسنعان اپنی اپنی شاپنگ سنبھالے اپنے پورشن کی طرف بڑھ گئے۔
’’لگتا ہے موصوف ‘ آوارہ گردی کے لیے نکل گئے ہیں۔‘‘ گاڑی لاک کرتے ہوئے اس نے سوچا اور پھر سارے گھر کی ٹیوب لائٹس آن کرتے ہوئے اندر آ گئی ۔ رات کے وقت گھر میں پھیلے اندھیرے سے وحشت ہوتی تھی اسے۔ لہٰذا اکثر ہی غیر ضروری لائٹس جلانے پر محب سے ڈانٹ بھی کھاتی تھی۔
لائونج میں ٹی وی لگا کر ‘ بچوں کو بٹھا کر شاپر ز سنبھالتی وہ بیڈ روم میں آئی تو روشنی کرتے ہی بیڈ روم پہ آڑے ترچھے لیٹے محب کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یوں بے وقت تو وہ کبھی نہ سویا تھا۔ وہ بے اختیار پکارتے ہوئے اس کی طرف بڑھی۔
’’طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔‘‘ اس نے پریشانی کے عالم میں اس کی پیشانی کو چھوا تو وہ خمار آلود آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا۔
’’ہاں بھئی! آئی ایم رائٹ۔‘‘ سستی سے کہتے ہوئے اس نے کروٹ بدلی۔
’’ارے تو پھر اٹھیے نا ‘ یوں کیوں لیٹے ہوئے ہیں اب تک ۔ میرا تو دل دہلا کر رکھ دیا آپ نے۔‘‘ اس نے شاپرز صوفے پہ ڈھیر کیے اور باورچی خانے میں گھس گئی۔ بازار سے لایا ہوا پزا اوون میں گرم کرنے کو رکھا اور چائے بنانے لگی۔
ٹی وی کی بلند آواز اور حمزہ ‘ اجالا کی کھلکھلا ہٹوں نے سوئے سوئے ماحول میں جان ڈال دی تھی۔ بڑی اماں کل سے اپنے بھائی کے ہاں گئی تھیں‘ اس لیے فی الحال رات کے کھانے کی پروا کیے بغیر اس نے صرف چائے ہی تیار کی تھی۔
حمزہ اور اجالا کسی بات پر جھگڑ رہے تھے۔ شور یہاں تک آ رہا تھا۔
’’حمزہ!‘‘ محب کی آواز بیڈ روم سے سفر کرتی لائونج تک پہنچی تھی۔ اگلے پل ہی وہاں خاموشی چھا گئی۔ وہ زیر لب مسکراتی لائونج میںپہنچی تو دونوں اپنی اپنی جگہ پر دبکے ہوئے تھے۔ گفتگو ساری کی ساری سرگوشیوں اور اشاروں میں ہو رہی تھی۔ تب ہی محب چلا آیا تھا۔ بے وقت سونے سے طبیعت میں بے زاری سی در آئی تھی۔
’’کب آئے تم لوگ؟‘‘ ڈھیلے سے انداز میں پوچھتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھا تو جھٹ سے اجالا اس کی گود میں سوار ہو گئی۔ اس کی بولتی شروع ہو جائے تو پھر بند ہونی نا ممکن ۔ چڑیا کی چوں چوں ‘ کوئل کی کوکو…. بلبل کی چہکاریں…..سب اس کے سامنے مات…..باپ کے قہقہے گونجنے لگے تھے۔ بیزاری ‘ سستی سب غائب ۔ چائے ‘ پزا اڑا کر وہ لوگ اپنی مستیوں میں لگ گئے‘ رات کے کھانے کے لیے محب نے منع کر دیا۔
’’چلو چھٹی ہوئی۔‘‘ وہ ہاتھ جھاڑتی ان سب کو ان کے حال پر چھوڑ کر بیڈ روم میں آ گئی ۔ کچھ دیر یونہی آرام کیا ‘ محب نہانے کے لیے گیا تو وہ بچوں کو ان کے کمرے میں لے آئی۔ ان کا ہوم ورک چیک کیا ‘ بیگ تیار کروائے‘ سلایا۔ دوبارہ بیڈ روم میں آئی تو محب فون پر اماں کی خیریت معلوم کر رہا تھا۔ کافی طویل گفتگو تھی۔ یوں جیسے برسوں سے بچھڑے ہوں۔ وہ بچوں کے کپڑے پر یس کر چکی ‘ تب اس نے ریسیور رکھ دیا۔ نہا دھو کر خاصا فریش لگ رہا تھا۔
’’بھوک لگ گئی ہے ۔‘‘
’’لیکن میں نے تو کچھ نہیں بنایا۔‘‘ اس نے چہرے پہ بہت سی تھکن طاری کی۔
’’نہیں بنایا تو اب بنا لیتے ہیں۔‘‘ وہ کچن میں آیا تو اسے مجبوراً پیچھے آنا پڑا۔
’’آٹا گوندھ رکھا ہے‘ چپاتی ڈال دوں۔‘‘
’’اونہوں۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’بچے یونہی سو گئے کیا؟‘‘ اسے فوراً ہی یاد آ گیا۔
’’حمزہ نے پھل کھا لیے تھے‘ اجالا نے دودھ بھی مشکل سے پیا ہے۔‘‘
’’یہ ٹھیک رہے گا۔‘‘ اس نے بھنا ہوا قیمہ اور توس نکال کر اس کے سامنے رکھے اور خود چائے کا پانی رکھنے لگی۔
رات گئے ڈھیر ساری کیچپ کے ساتھ سینڈوچ کھاتے اور گرم گرم چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے وہ اسے اپنی ساری شاپنگ دکھانے لگی تھی۔
’’یہ کس کا ہے؟‘‘ محب نے سبز سوٹ ہاتھ میں لے کر پوچھا۔
’’میرا۔‘‘ اس نے بڑے ناز سے بتایا۔
’’اور یہ کس کے لیے۔‘‘ اسی کے ساتھ کا دوسرا سوٹ نکال کر پوچھا۔
’’یہ بھی میرا ۔‘‘
’’ہوں…..اور یہ…..؟‘‘ وہ استفہامیہ نگاہوں سے اسی کے ساتھ کا تیسرا سوٹ ہاتھ میں لیے پوچھ رہا تھا۔
’’یہ بھی میرا۔‘‘ وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی۔ اعتراف یوں کیا‘ گویا کسی جرم کا اقرار کر رہی ہو۔
’’ایک ہی جیسے تین سوٹ ‘ کیا ہو گیا ہے بھئی!‘‘ وہ حیران تھا۔
عفیفہ نے فوراً سر جھکا لیا۔ آنکھوں میں نجانے کیوں نمی سی اتر آئی تھی۔
’’یہ سوٹ اسنعان نے پسند کیا تھا۔ صباحت سے لینے کے لیے کہہ رہا تھا۔ اس کا دل لینے کا نہیں مانا اور میرا دل چھوڑنے پر راضی نہ ہوا…..ایک سوٹ پر دل نہیں ٹھہرا…..تین لے لیے…..پھر دوسرا….. پھر تیسرا…..اس دوران شاید پھر کبھی اسنعان کسی کپڑے پر اپنا ہاتھ رکھ دے…..‘‘ وہ ملائمت سے کپڑے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا اسنعان کے لمس کو محسوس کر رہی تھی۔ محب کی نگاہیں اس پر سے ہٹ کر سامنے دیوار پر جا ٹکی تھیں اور کبھی کبھار یونہی نجانے کیوں وہ کسی ہلکے سے پچھتاوے کا شکار ہونے لگتا تھا۔
خاندان کا ہر فنکشن بے حد ہنگامہ لیے ہوئے ہوتا تھا پھر یہ تو گلشن کے اکلوتے بیٹے کی خوشی کا معاملہ تھا۔ ہر کوئی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔ منجھلی نند ربیعہ کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ بڑی ڈاکٹر تھی ‘ اس سے چھوٹی اپنے ڈیزائن کردہ ملبوسات سیل کرتی تھی ‘ گھر کے ایک ہی حصے میں بوتیک اور بیوٹی پارلر کاکام چلا رہی تھی۔ باپ سر پہ نہیں تھا مگر ان پر عزم لڑکیوں نے چھوٹے بہن بھائیوں کو کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔ آرائشی ذوق تو ان میں کمال کا تھا۔ پانچوں نے مل کر چند گھنٹوں میں ایسا گھر سجایا کہ ہر کوئی مدح سرائی کیے بغیر نہ رہ سکا تھا۔
وہ اور بڑی بھابی گاڑیوں میں آگے پیچھے ہی گھر سے نکلے تھے۔ بڑی بھابی کی گاڑی میں گنجائش کم تھی ‘ لہٰذا کچھ افراد ان کی گاڑی میں سوار ہوئے ‘ یوں ٹھنس ٹھنسا کر وہ لوگ گلشن کے گھر پہنچے تو رونق اپنے عروج پر تھی۔ عادل اور بختیار مائیک تھامے اپنی گلوگاری کا شوق آزما رہے تھے۔ لڑکیاں کانوں میں انگلیاں ٹھونسے برے برے منہ بنا رہی تھیں۔ وہ لوگ بھی جاتے ہی اس خوشگوار ماحول کا حصہ بن گئے۔
لطیفے ‘ چٹکلے ‘ ہنسی ‘ قہقہے….اوٹ پٹانگ اشعار…..اچھے خاصے جوکر موجود تھے جو ہر چہرے پر جھلملا کر اسے حسین سے حسین تر بنا رہے تھے۔ حمزہ اپنے کزنز کے ساتھ مصروف تھا‘ اجالا پھوپھیوں کی پیاری تھی۔ کبھی ایک کی گود میں سوار ‘کبھی دوسری کی۔
ربیعہ کی دونوں بیٹیاں عفیفہ سے کچھ ہی چھوٹی تھیں‘ ڈاکٹر لیلیٰ تو تقریباً ہم عمر تھی۔ ان دونوں سے عفیفہ کی خوب دوستی تھی‘ بلکہ زونیرہ اکثر کہا کرتی تھی۔
’’آپ کو تو مامی کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘ حمزہ اور اجالا آپ کی گود میں نہ ہوں تو میں آپ سے کچھ بڑی ہی لگتی ہوں۔‘‘
اس کی ایسی بے تکی باتوں پر مسکراتے ہوئے اس نے نگاہ اٹھائی تو اسنعان کو اپنی طرف متوجہ پا کر قدرے چونک سی گئی۔ وہ کچھ دور حمزہ وغیرہ کے ساتھ ہی بیٹھا تھا ‘ مگر ان کے کھیل یا ان کی باتوں میںہر گز شریک نہیں تھا۔ اس نے ذرا سا مسکراتے ہوئے اس کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لی مگر باقی تقریب میں اسے اپنے آس پاس ہی محسوس کرتی رہی۔ تب وہاں سے اٹھنے سے کچھ دیر قبل اس نے اشارتاً اسے اپنی طرف بلایا۔
’’چاچی! یہ وہی سوٹ ہے نا۔‘‘ ادھر ادھر کی چند باتوں کے بعد وہ فوراً ہی اصل بات کی طرف پلٹ آیا۔
’’ہاں…..وہی جو آپ نے پسند کیا تھا۔‘‘ اس کے جواب دینے پر وہ کچھ نہیں بولا۔ بس سر جھکا کر مسکرانے لگاتھا۔
’’میں نے آپ کے لیے بھی کچھ کپڑے لیے تھے‘ آپ نے وہ پہن کر دکھائے ہی نہیں۔‘‘ اس نے یونہی اسے چھیڑا۔
’’مما کہہ رہی تھیں….‘‘ جو گرز کے تسمے کھولتے ہوئے وہ کچھ تذبذب کا شکار ہوا۔
’’ان کے کلرز اچھے نہیں ہیں‘ انہوں نے مجھے یہ والا سوٹ لے کر دیا ہے۔‘‘ وہ اپنی بات کہہ کر بغور ان کا چہرہ دیکھنے لگا تھا۔
’’یہ تو بہت ہی اچھا لگ رہا ہے‘ بالکل شہزادے لگ رہے ہو اس بلیو کلر میں۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا پھر جھک کر اس کے کھلے تسمے ڈھنگ سے باندھے۔
’’چلو بھاگ جائو اب…..حمزہ بلا رہا ہے….‘‘ اس نے اسنعان کی پیٹھ تھپکی اور خود ایک چیئر سنبھال لی۔ معلوم نہیں کیوں سارے ماحول پہ ہلکا سا غبا ر چھا گیا تھا۔ سپید سی دھند میں لپٹی روشنیاں اور چہرے ‘ اس نے سر جھکا کر آنکھیں زور سے مسل ڈالیں۔
مہنگائی کے اس دور میں سات بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کچھ ایسا آسان کام نہ تھا۔ بڑے بھیا فکر معاش میں پچھلے برس سعودیہ جا بیٹھے تھے پھر بھی حمزہ اور اجالا ‘ اسنعان سے کہیں بہتر ماحول میں ہی پرورش پا رہے تھے۔
اگر میں نے اسنعان کے لیے کچھ کیا تھا تو اسے ماں کی حیثیت سے نہ سہی‘ چاچی کے رشتے سے تو تسلیم کیا جا سکتا تھا نا ۔ ویسے ہی جیسے مہک اس کا دیا ہوا سوٹ اب اکثر گھر میں پہنے پھرتی تھی۔
رات رفتہ رفتہ بھیگ رہی تھی۔ نم آلود سرد ہوا نے اس کے بدن کو چھوا تو وہ بے اختیار کپکپاسی گئی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو احساس ہوا وہ سب سے الگ تھلگ بیٹھی ہے۔ دل میں انگڑائیاں لیتی اداس کیفیت سے پیچھا چُھڑاتی وہ باقی سب لوگوں کے درمیان جا بیٹھی تھی۔
آٹھ بجے کیک کٹا‘ بارہ بجے تک خوش گپیوں میں مصروف رہنے کے بعد وہ لوگ اٹھ گئے تھے۔ بچے رات گئے تک ایسی دعوتیں اڑانے کے عادی تھے ‘ لہٰذا ابھی تک شرارتوں میں مصروف ‘ چیخ و پکار میں محو تھے بڑی بھابی نے حسب عادت گم صم ہو کر یہ وقت گزارا تھا۔ بارہ بجتے ہی ان کے اشارے پر سب بچیاں بھاگ کر گاڑی میں جا بیٹھیں۔
الیشبہ اور اریبہ ان لوگوں کے ساتھ تھیں۔ محب نے گاڑی اسٹارٹ کی ہی تھی جب لیلیٰ اور زونیرہ ‘ ماموںکو آوازیں لگاتی اندھا دھند بھاگی چلی آئیں۔ لیلیٰ تو آتے ہی الیشبہ اوراریبہ کی گود میں سوار ہو گئی۔ زونیرہ بے قرار ہو کر چلا رہی تھی۔
’’ڈگی میں جگہ ملے گی کہ چھت پہ چڑھ جائوں۔‘‘
معلوم ہوا ربیعہ باجی کا گلشن کے ہاں ٹھہرنے کا پروگرام بن گیا۔ وہاں ان دونوں کا ہم عمر کون تھا‘ لہٰذا فوراً ہی عفیفہ کے ساتھ جانے کا ارادہ کر ڈالا۔
عفیفہ نے حمزہ اور اجالا کے ساتھ اسے بھی اگلی سیٹ میں ہی پھنسالیا۔راستے بھر ان دونوں کی آہ وبکا نے مسکراہٹ ہونٹوں سے جدا نہ ہونے دی۔ گھر میں اترے تو اجالا تقریباً سو رہی تھی۔ اسے محب کے سپرد کر کے وہ الیشبہ اور اریبہ کو ان کے پورشن میں پہنچا کر آئی۔ دروازے وغیرہ لاک کیے۔ کمرے میں آئی تو حمزہ ابھی تک ان دونوں کے ساتھ مسخریوں میں لگا ہوا تھا۔ اسے زبردستی بیڈ روم میں محب کے پاس پہنچایا۔
’’اسے سنبھالیں آپ! ہم لوگ دوسرے کمرے میں سوئیں گے۔‘‘ اس نے کہا تھا مگر لیلیٰ اور زونیرہ کی موجودگی میں ایسے پروگرام کب پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتے تھے۔ کیبل پر مختلف چینل بدلتے ‘ کپڑوں کی ڈیزائننگ پر تبصرہ ‘ خاندانی معاملات پر اظہار رائے کرتے ان کو خبر نہ ہوئی ‘ کب رات بیت گئی۔ عفیفہ کے ڈرانے ‘ دھمکانے اور پھر منت سماجت کے بعد وہ لوگ اس وقت سونے کے لیے لیٹی تھیں جب محب فجر کی نماز کے لیے اٹھا تھا۔ اگلے دن چھٹی تھی ‘ لہٰذا سب ہی دن چڑھے تک سوئے رہے ۔ سوائے لیلیٰ کے جس نے آٹھ بجتے ہی شور مچا مچا کر ماموں کو ساتھ لیا اور ہاسپٹل ڈیوٹی دینے جا پہنچی تھی۔
صبح کا وقت تھا ‘ خاصا عجلت بھرا۔ محب کے سامنے آملیٹ کی پلیٹ رکھ کر وہ اجالا کے لیے انڈا پھینٹنے لگی۔ ساتھ ساتھ حمزہ کو ڈانٹ رہی تھی جو ٹوسٹ پر جیم لگاتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اپنا ہاتھ بھی خراب کر رہا تھا۔ محب ناشتے کے ساتھ اخبار بھی ہضم کر رہا تھا۔
زیادہ تر اہم خبریں وہ اسی وقت محب کی زبانی سنا کرتی تھی۔ بچوں کے لنچ کے لئے عموماً وہ سینڈوچ یا فرنچ فرائز بنایا کرتی تھی مگر کل محب کا موڈ کسی بات پر خراب تھا ‘ سو نہ قیمہ آیا ‘ نہ سبزی وغیرہ۔ چکن موجود تھا ‘ اس پر حمزہ اور اجالا کی فرمائش۔ اسی وقت مسالہ لگا کر رکھ دیا اور اب بہت مزے کی خوشبو سارے کچن میں پھیل رہی تھی۔
’’چاچی!‘‘ مخصوص انداز ‘ مانوس آواز ‘ وہ فوراً پلٹی۔
’’ارے….! خوشگوار حیرت میں گھر کر اس نے ٹھک سے چولہے کی ناب گھما کر چولہا بند کر دیا۔
اسکول کے مکمل یونیفارم میں وہ نکھرا ستھرا سا کچن کے دروازے پر کھڑا تھا۔
’’اسنعان ! تم اسکول جا رہے ہو؟‘‘
’’جی‘ آج پہلا دن ہے۔‘‘
’’وائو ‘ بوائے! یو آر لکنگ ویری اسمارٹ۔‘‘‘ محب نے اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے دلچسپی سے اسے دیکھا۔
’’اسنعان ! تم نے میرے اسکول میں ایڈمیشن کیوں نہیں لیا؟‘‘ حمزہ کو افسوس ہوا تھا ‘ اسے بالکل مختلف یونیفارم میں دیکھ کر۔
’’مما کہتی ہیں‘ مہک والا اسکول زیادہ بہترہے۔‘‘
’’مما بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔ جانو! آج پہلا دن ہے اسکول میں ‘ خوب انجوائے کرنا۔‘‘
اس نے حمزہ اور اجالا کے لنچ باکسز تیار کر کے انہیں تھمائے تو اسنعان سے بھی اس کا لنچ باکس لے لیا۔ سنکے ہوئے توس اور فرائی انڈے کو ایک طرف کرکے جگہ بناتے ہوئے اس نے تلا ہوا چکن پیس باکس میں بھرا اور واپس اس کے بیگ میں رکھ دیا۔
’’ارے عفیفہ! کیمرے میں کچھ تصویریں ہیں نا؟‘‘ محب کو ایک دم یاد آ یا ۔ وہ بھاگ کر کیمرہ لے آئی۔صباحت ‘ اسنعان کو لینے کے لیے آئی تھی۔ اس کی وین آ گئی تھی۔ سب لوگ بھاگم بھاگ ڈرائنگ روم میں پہنچے۔ اسنعان کو صوفے کے درمیان بٹھایا‘ اس کے دائیں طرف اجالا اور محب تھے‘ بائیں طرف حمزہ اور عفیفہ ۔ صباحت کی انگلی کی ہلکی سے جنبش نے زندگی کے بے حد قیمتی لمحے کو ہمیشہ کے لیے قید کر دیا تھا۔
صباحت ‘ اسنعان کو لے کر چلی گئی۔ محب ‘ حمزہ اور اجالا کو لے کر روانہ ہو گیا ۔ وہ سر شارسی ہو کر ناشتہ کرنے لگی۔ ماسی کے آنے میں کچھ وقت تھا‘ وہ بڑی اماں کے کمرے میں آ گئی۔ انہیں واپس آنا تھا ‘ سو وہ ان کا کمرہ ٹھیک کرنے لگی۔ اس کی ساس بھی اپنا ہی ایک مزاج رکھتی تھیں ۔ ان کے سونے ‘ جاگنے ‘ کھانے کے اپنے اوقات تھے۔ بعض دفعہ سارا گھر کھانے سے فارغ ہو چکا ہوتا ‘ تب انہیں بھوک لگتی تھی اور کبھی کھانے کی تیاری سے قبل ہی وہ آوازیں دینے لگتی تھیں۔ اچھی خاصی صحت مند ‘ رعب دار خاتون تھیں۔ ادب سے خصوصی لگائو تھا ‘ کلاسیکی شعراء کا کلام پسند کرتی تھیں اور خاصی کتب جمع کر رکھی تھیں۔ چائے کی بے حد شوقین تھیں۔ رات بارہ بجے بھی طلب محسوس ہوتی تو اس کا دروازہ کھٹکھٹانے سے باز نہ آتی تھیں۔ اپنے کمرے تک محدود رہنے کے باوجود ان کی نظر گھر کے تمام معاملات پر رہتی تھی۔ کس طرح….؟ اس کا علم عفیفہ کو آج تک نہ ہو سکا تھا۔
اپنی بیٹیوں سے متعلقہ معاملات میں وہ خاص طور پر حساس تھیں۔ ہر خوشی و غم میں شرکت لازم تھی ۔ خود جا سکیں یا نہیں ‘ عفیفہ کو بطور نمائندہ ضرور بھجواتی تھیں بلکہ ان کے جانے کی نوبت کم ہی آتی تھی۔ عموماً تو چاروں نندوں میں سے کوئی نہ کوئی اپنے بال بچوں سمیت یہیں موجود ہوتی تھی۔ بڑی بھابی کا سرد رویہ انہیں ایسی مہمان داریوں سے دور ہی رکھتا تھا۔ لے دے کر خاطر تواضع کے لیے ایک وہی بچ جاتی تھی ۔ نہایت خوش دلی سے یہ تعلق داریاں نبھاتے نبھاتے زندگی میں اور کچھ اس نے سیکھا ہو یا نہیں‘ سسرال والوںکو خوش رکھنا ضرور سیکھ لیا تھا۔
عفیفہ کے بہنوئی کسی کام کے سلسلے میں ان کی کالونی میں آئے تھے۔ جاتے ہوئے اجالا کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
’’صبح اسکول ٹائم سے پہلے چھوڑ جائوں گا۔‘‘ وہ بڑے آرام سے کہہ گئے تھے اور ان کے ہاں یہ معمول چلتا ہی رہتا تھا ۔ ننھیال ‘ ددھیال سے لے کر میکے اور سسرال کے تمام رشتے اسی ایک شہر میں موجود تھے ۔ گھڑی گھڑی کا آنا جانا تھا ۔ کوئی اس فیملی سے آرہا ہے تو کوئی جا رہا ہے پھر اتنے قریبی رشتوں کی موجودگی میں خاندان سے باہر دوستیاں گانٹھنے کا کوئی رواج نہ تھا ۔ محلے داروں سے تعلقات بس علیک سلیک کی حد تک قائم تھے اور اس سے زیادہ کی ان لوگوں کو نہ خواہش محسوس ہوتی تھی ‘ نہ ضرورت۔
حمزہ ‘ اسکول سے آنے کے بعد سو رہا تھا ‘ محب اماں کے کمرے میں تھا ۔ اس نے کچھ وقت کے لیے خود کو آزاد محسوس کیا تو پچھلے برآمدے میں چلی آئی۔ فرصت کی یہ گھڑیاں بس کبھی کبھار ہی نصیب ہوتی تھیں۔ جب وہ ہر ذمہ داری سے الگ ہو کر صرف خود سے ملتی تھی ‘ اپنی باتیں کرتی تھی ‘ اپنے لیے سوچتی تھی ‘ ورنہ تو کبھی وہ گھبرا کر محب سے الجھ پڑتی تھی۔
’’یہ کیسی زندگی ہے ‘ مجھے لگتا ہے میرے پائوں میں پہیّے لگ گئے ہیں اور میں بس بھاگی پھر رہی ہوں ‘ ادھر سے اُدھر ‘یہاں سے وہاں۔‘‘
’’ٹھہرے پانی سے بدبو آنے لگتی ہے۔ خدا کا شکر کرو‘ زندگی کی تیز رفتاری کا ساتھ دینے کے قابل ہو‘ گرم دم جستجو‘ ہر دم رواں ہے زندگی اور کیا چاہیے۔‘‘وہ بڑے آرام سے سمجھانے لگتا۔
’’ہاں‘ وہ سب ٹھیک ہے لیکن یہ تنہائی ‘ اس کا اپنا ایک نشہ ہے ۔‘‘ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اس نے ایک طویل سانس لے کر خوشبو دار ہوا کو اپنے اندر اتارا۔ شام ڈھل رہی تھی ‘ سامنے بھابی کے پورشن سے بچیوں کے ہنسنے کھیلنے کی آوازیں یہاں تک آ رہی تھیں۔ وہ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے ‘ دائیں بائیں جھولتے ہوئے ہولے ہولے گنگنانے لگی ۔ تب ہی اسنعان نے لائونج کا دروازہ کھولا اور درمیانی لان عبور کرتے ہوئے اس کی طرف بھاگ آیا۔
وہ اسے آتا دیکھ کر ایکدم خاموش ہو گئی۔ چھوٹی بھابی کے جانے کے بعد بڑی بھابی اس پورشن میں شفٹ ہوئی تھیں۔ اسے یاد تھا ‘ اسنعان کو ایک نظر دیکھنے کی خاطر وہ دن میں کئی بار یہ لان عبور کرتی تھی ‘ کبھی سب کے سامنے ‘ کبھی چوری چھُپے۔
اور جب سے اسنعان بڑا ہوا تھا ‘ اس کی یہ مشکل بھی آسان ہو گئی تھی۔ کبھی کسی کام کے لیے اور کبھی یونہی گھڑی بھر کے لیے اسنعان ادھر کا چکر لگا ہی لیا کرتا تھا۔
اب بھی وہ ہاتھوں میں کوئی سفید سی چیز دبوچے بھاگ کر اس کے نزدیک آ گیا تھا۔
پر جوش انداز ‘ شدت جذبات سے تمتماتا ہوا چہرہ ‘ بھنچے ہوئے ہونٹ …..آنکھوں کی بے تحاشا چمک‘ اندرونی خوشی کا پتا دے رہی تھی۔
’’چاچی! یہ دیکھیں۔‘‘ اس نے آتے ہی دونوں ہاتھ اس کے سامنے کیے۔ بے حد خوبصورت سفید رنگ کی کبوتری اس نے اپنی انگلیوں میں تقریباً جکڑی ہوئی تھی۔
’’ارے….رے….آرام سے….اتنی سختی سے پکڑنے پر تو اس کا دم گُھٹ جائے گا۔‘‘ اس نے فوراًوہ کبوتری اس کے ہاتھوں سے نکال لی۔
’’کہاں سے ملی؟‘‘ وہ پر شوق نظروں سے اسے دیکھے گئی۔
’’آم کے درخت کے پاس گری ہوئی تھی ۔ صباحت باجی کہہ رہی تھیں ‘ بھوکی پیاسی ہے ۔ ہم نے دانہ کھلایا……پانی پلایا …..اُڑنے کو تیارتھی ‘ باجی نے پر کاٹ دیے۔ اب یہ میری ہو گئی ہے ‘ اسے میں اپنے پاس رکھوںگا۔‘‘ وہ بڑے تفاخر سے بتا رہا تھا ۔
’’کہاں رکھو گے؟‘‘
’’اپنے کمرے میں۔‘‘
’’بلی کھا گئی تو….؟‘‘
’’بلی کبوتر کھا لیتی ہے؟‘ ‘ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
’’بڑے شوق سے۔‘‘ اس کے جواب پر اسنعان کا سارا اطمینان رخصت ہو گیا تھا ۔
آنکھوں میں تشویش ‘ چہرے پر اضطراب۔
’’اسٹور میں ایک پرانا پنجرہ پڑا ہے ‘ میں آپ کو وہ نکال کر دوں گی۔‘‘ اس نے فوراً اس کی پریشانی رفع کرنے کی کوشش کی۔
’’اگر بلی پنجرہ بھی کھا گئی تو….؟‘‘ اس کے سوال پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’او پیارے لڑکے! بلی لوہا نہیں کھا سکتی۔ اچھا یہ بتائو….اس کا نام کیا رکھو گے؟‘‘ اس نے شرمندہ ہوتے دیکھ کر اس نے فوراً بات بدل ڈالی۔
’’جگنو۔‘‘
اس نے ذرا سا چونک کر اسے دیکھا ۔ گلابی ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلی ہوئی تھی ۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو بڑی آپا اس سے ملنے آئی تھیں۔ انہوں نے حسب عادت اسے’’ جگنو‘‘ کہہ کر پکارا تھا کہ میکے میں اسے اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ سسرال میں البتہ محب نے اس کا یہ نک نیم مشہور نہیں ہونے دیا تھا۔
اسنعان بھی اس وقت یہاں موجود تھا ‘ بعد میں حیران ہو کر پوچھتا رہا۔
’’آنٹی نے آپ کو ’’جگنو‘‘ کیوں کہا؟‘‘
’’میرے ابا کہتے تھے۔ میری بیٹی کی آنکھیں جگنو کی طرح چمکتی ہیں…..تب سے اماں مجھے’’جگنو‘‘ کہہ کر پکارنے لگیں۔ آپ کے چاچو کو یہ نام پسند نہیں ‘ اس لیے یہاں وہ کسی کو میرا نک نیم نہیں لینے دیتے۔‘‘
اور اس بات پر وہ قدرے حیران بھی ہوا تھا ۔
’’نہیں‘‘ ’’جگنو‘‘ تو اچھا نام ہے۔‘‘
اور آج وہ کہہ رہا تھا۔
’’میں اس کا نام ’’جگنو ‘‘ رکھوں گا۔‘‘
یہ بات سن کر وہ چونکی تھی اور اس سے بڑھ کربڑی بھابی….جو اماں سے ملنے کے لیے آئی تھیں اور ان دونوں کو سر جوڑے دیکھ کر چند قدم پیچھے ہی رک گئی تھیں۔
’’تم اس کا نام ’’جگنو‘‘ رکھو گے۔‘‘ اس کے محسوسات عجیب سے ہو رہے تھے۔
اور ابھی وہ کوئی جواب بھی نہ دے پایا تھا جب کسی نے ایکدم اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹ لیا تھا ۔
عفیفہ نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔ بڑی بھابی کی سرد ‘ کاٹ دار نظر ایک لمحے کے لیے اس کی طرف اٹھی تھی۔
’’میں آپ کو پورے گھر میں ڈھونڈتی پھر رہی ہوں اور آپ …..‘‘ الفاظ معمولی تھے مگر لہجہ اور گرفت۔
اسنعان کے سہمے ہوئے چہرے پر تکلیف کے آثار ابھرے تو اس نے لب بھینچ کر آنکھیں بند کر لیں۔
’’یا اللہ! یہ عورت…..‘‘ اس نے بے بسی سے اپنے ہونٹ کاٹ لیے ۔
’’کیسا خوف بھرا ہے اس کے دل میں….کیسا ڈر ہے…..جو یہ اسنعان کو ایک پل کے لیے میری محبت کے سائے میں پناہ نہیں لینے دیتی۔‘‘
وہ تخت سے نیچے اتر آئی۔ راہداری کا دروازہ ایک چر چراہٹ کے ساتھ کھولا اور اپنے عقب میں ایک دھماکے سے بند ہونے کے لیے اسے یونہی چھوڑ کر آگے بڑھ آئی۔
’’وہ جانتی ہیں‘ ممتا میں بہت کشش ہوتی ہے۔
اسنعان کے چھن جانے کا وہم ان کے کٹھور دل کو نرم نہیں ہونے دیتا۔‘‘
اس نے پلکیں جھپک چھپک کر اپنے سارے آنسو اندر اتار لیے ۔ سفید کبوتری ابھی تک اس کے ہاتھوں پر پھڑپھڑا کر آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے اسٹور میں جا کر بہت ساسامان ادھر ادھر ہٹا کر پنجرہ ڈھونڈا۔ چھوٹی بھابی کے عادل کو کسی زمانے میں طوطا پالنے کا شوق ہوتا تھا ‘ بعد میں طوطا مر گیا اور پنجرہ خالی ہو کر اسٹور میں جاپہنچا۔
پنجرے کو دھو کر صاف ستھرا کر کے دانہ پانی ڈال کر اس نے کبوتری کو اندر چھوڑ دیا۔ ایک ڈیڑھ دن انتظار کیا ‘ اسنعان نہیں آیا تو حمزہ کے ہاتھ پنجرہ ادھر بھجوا دیا۔
حمزہ بضد تھا ‘ کبوتر رکھنے کے لیے مگر اس نے ڈانٹ دیا۔
’’یہ اسنعان کا ہے ‘ تم اور لے لینا ۔‘‘
کچھ دیر بعد حمزہ چھلانگیں لگاتا بھاگا آیا تھا‘ پنجرہ ہاتھ میں تھا ۔
عفیفہ کو اپنے اندر کوئی چیز ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ’’تائی نے کہا ہے ‘ کبوتر پالے گا تو پڑھے گا کیسے۔ سارا وقت اسی کی طرف دھیان لگا رہے گا ‘ انہوں نے پنجرا واپس کر دیا ہے۔‘‘
گلے میں آنسوئوں کا پھندا سا پڑ گیا تھا ‘ وہ وہیں ایک کر سی پر بیٹھ گئی۔
مسرت بھری دو آنکھیں اس کے سامنے چکرانے لگیں۔
’’یہ آپ اچھا نہیں کر رہیں بھابی! یہ ظلم ہے اس معصوم پر ۔‘‘ وہ سر جھکائے بے آواز آنسو بہانے لگی تھی۔
اگلے دو روز تک اسنعان نہیں آیا تھا ‘ تیسرے روز اس نے لان عبور کرتے دیکھا تو بیڈ روم کی کھڑکی میں رکھے پنجرے کو بھاگ کر باتھ روم میں چھپا آئی۔
’’خوا مخواہ اس کا دل برا ہو گا ۔‘‘ وہ جانتی تھی‘ بڑی بھابی اب کبھی اسے یہ پرندہ رکھنے کی اجازت نہیں دیں گی۔ اسنعان برآمدے میں بیٹھ کر ہوم ورک کرتے حمزہ اور اجالا سے باتوں میں مصروف تھا ۔ وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے نہیں آئی۔ ادھر ادھر کے چھوٹے چھوٹے کام نمٹاتی رہی ‘ کچھ دیر بعد اس نے کھڑکی سے پردہ ہٹا کر باہر جھانکا۔
اسنعان جا چکا تھا۔
وہ ایکدم طویل سانس لے کر رہ گئی۔ وہ سامنے آتی تو اسنعان لازماً کبوتری کے متعلق سوال کرتا۔ وہ شاید جھوٹ نہ بول پاتی۔ وہ کبوتری کو یہاں دیکھتا تو لے جانا چاہتا۔ اس نے ایک بار پھر کھڑکی سے باہر جھانکا ۔
اسنعان لان کے وسط میں کھڑا چہرہ اوپر اٹھائے ‘اڑے ہوئے پرندوں کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کا ننھا سا وجود ڈوبتے سورج کی نارنجی شعاعوں میں رنگا ہوا تھا۔
امی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ وہ اور محب ہر روز انہیں دیکھنے چلے جاتے ۔ اس روز وہ کچھ زیادہ ہی نڈھال لگ رہی تھیں۔ وہ واپس تو آ گئی مگر ان کا نقاہت زدہ چہرہ بار بار آنکھوںکے سامنے گھومتا رہا۔ شام تک اس نے دو تین طرح کے سالن تیار کر کے فریج میں رکھ دیے۔ محب اور اماں کے تمام کپڑے استری کر کے رکھے۔ کچھ اور ضروری کام نمٹائے ‘ رات تک وہ جانے کے لیے بالکل تیار تھی ‘ محب نے اگر کوئی تھوڑا بہت اعتراض کرنا بھی تھا تو اس کی تیاری دیکھ کر چپ ہو رہا۔ حمزہ اور اجالا اسے بس چھوڑنے جا رہے تھے۔ امی کے ہاں جانے کی نوبت بہت کم آتی تھی۔ عموماً بس آنا جانا ہی ہوتا تھا۔ سو اب اس کا ارادہ جان کر بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ ساتھ بھابیوں کے چہرے بھی کھل گئے تھے۔
’’امی بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ‘ جگنو آئی ہے تو ہم سب خوب انجوائے کریں گے۔‘‘ اس کی بہن الینہ بہت پر جوش ہو رہی تھی ‘ وہ مسکرا کر رہ گئی۔
’’میں یہاں صرف امی کی دیکھ بھال کرنے آئی ہوں۔‘‘
’’ارے واہ…..یہاں دیکھ بھال کرنے والوں کی کمی ہے کیا۔‘‘
’’نہیں بھئی!لیکن دل کی تسلّی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے نا۔‘‘ اس نے کہا تھا اور اسی تسلی کی خاطر وہ اگلے دو دن تک امی کے پیچھے گھومتی رہی تھی۔ وقت پر کھلانا ‘ پلانا‘ سلانا ‘ احتیاط ‘ پرہیز…..اسے اس حد تک پروا کرتے دیکھ کر امی ہنسنے لگتیں۔
’’دو بچے پال کر تم اتنی ٹرینڈ ہو گئی ہو کہ مجھے بھی بچہ بنا ڈالا ہے۔‘‘
وہ جی بھر کے سب کی خدمت کا لطف اٹھا رہی تھی کہ تیسرے ہی دن محب اجالا اور حمزہ سمیت آن پہنچا۔
’’نہ بھئی! اب ہمارا گزارہ نہیں ہوتا ‘ تم ابھی اور اسی وقت ہمارے ساتھ چلو ۔ امی کی خدمت سے دل نہیں بھرا تو ہم انہیں ساتھ ہی لے جاتے ہیں۔ اماں کا دل بھی لگا رہے گا۔‘‘ محب نے آتے ہی مدعا بیان کیا۔
’’ہم سے نہیں کھائی جاتیں ماسی کی کچی پکی روٹیاں اور بڑی اماں کی جھڑکیاں۔‘‘ اجالا ناک چڑھائے بیزاری سے کہہ رہی تھی۔
’’مما! دل نہیں لگتا….اسکول سے واپس آئو تو خالی گھر اچھا نہیں لگتا۔‘‘ حمزہ اس کے کاندھے سے لگا اداس آواز میں کہہ رہا تھا۔
بچوں کے اترے اترے چہرے’ محب کی شکایت کرتی نگاہیں ‘ انکار کا تو کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ امی بھی پہلے سے بہترتھیں۔
’’آپ لوگ چائے پئیں‘ میں کپڑے بدل کر آتی ہوں۔‘‘ وہ بھابی کو چائے رکھتے دیکھ کر الینہ کے کمرے میں آ گئی۔جب تک وہ اپنی چیزیں سمیٹ کر ‘ کپڑے بدل کر آئی ‘ بھابی ‘ محب کو کھانے کے لیے روک چکی تھیں۔
’’لیکن اماں وہاں انتظار کر رہی ہوں گی۔‘ ‘ اس نے گویا محب کو یاد دہانی کرائی۔
’’بڑی بھابی کو فون کر دیا تھا ‘ وہ دیکھ لیں گی۔‘‘ محب نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تو وہ بھی مطمئن ہو کر بیٹھ گئی۔
چکن ‘ بریانی اور مزیدار کباب ‘ ڈنر میں لینے کے بعد چائے کا ایک دور اور چلا تھا‘ اور جس وقت وہ گھر جانے کے لیے نکلے ‘ گیارہ بج چکے تھے۔ رات قدرے خنک تھی۔ کھڑکی سے آتی سرد ہوا کو اپنے گالوں پر محسوس کرتے ہوئے اس نے پلٹ کر دیکھا۔ اونگھتی ہوئی اجالا کا سر بھائی کی گود میں جا پڑا تھا اور خود حمزہ خمار آلود پلکیں جھپکتے ہوئے اسٹریٹ لائٹس کی زرد روشنی میں ڈوبے مناظر کو دیکھنے میں محو تھا۔
’’تم خفا تو نہیں ہو ؟‘‘ بالکل اچانک ہی محب نے پوچھ ڈالا۔
’’کیوں بھلا؟‘‘ وہ رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
ہونٹوں پر مبہم سی مسکراہٹ سجائے وہ خاصا مطمئن اور شاداب لگ رہا تھا۔
’’یوں اچانک تمہیں لے آنے پر ‘ تم کچھ دن اور رہنا چاہتی تھیں شاید۔‘‘ موڑ کاٹتے ہوئے محب نے ذرا کی ذرا اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’ہاں‘ میں رہنا چاہتی تھی مگر میں آپ سے خفا بھی نہیں ہوں بلکہ مجھے اچھا لگا۔ آپ لوگوں نے میری ضرورت محسوس کی اور مجھے لینے چلے آئے۔‘‘
’’تم ہماری ضرورت نہیں ہو پگلی! ہماری چاہت ہو۔ جب ہی تو ہم دو ہی دن میں اداس ہو گئے تھے‘ ہے ناں ماسٹر؟‘‘ محب نے بیک مرر میں حمزہ کو دیکھتے ہوئے تائید حاصل کرنا چاہی مگر نیند میں کھوئے حمزہ کا سر سیٹ کی پشت سے جا لگا تھا۔
’’یہ صاحب تو گئے کام سے؟‘‘ وہ دھیرے سے ہنسا پھر گھر پہنچنے تک وہ دونوں اپنی باتوں میں مصروف رہے تھے۔
’’آج یہ لوگ اتنی جلدی سو گئے کیا؟‘‘ اس نے حیرت سے بھابی کے پورشن کی طرف دیکھا‘ جہاں خلاف معمول خاموشی اور تاریکی کا راج تھا۔ محب تبصرہ کیے بغیر حمزہ کو اٹھا کر آگے بڑھ گیا تھا۔
سونے سے قبل وہ منہ ہاتھ دھو کر بیڈ پر آ ئی تو محب پوری آنکھیں کھو لے چھت کو دیکھ رہا تھا۔
’’نیند نہیں آ رہی کیا؟‘‘
’’نہیں ‘ میں تو بس سونے ہی والا تھا ۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے اور پھر قدرے توقف سے بولا۔
’’تمہیں معلوم ہے ‘ بھابی اسلام آباد شفٹ ہو رہی ہیں۔‘‘
رات کے اس پہر وہ ایک خاموش ندی کی مانند پر سکون تھی۔ محب نے بڑا سا پتھر اچھال کر سارا سکون درہم برہم کر دیا ……سینکڑوں دائروں میں بکھرتے ہوئے وہ بمشکل خود میں بولنے کی سکت پیدا کر سکی تھی۔
’’کب؟‘‘
’’معلوم نہیں لیکن بیشتر سامان انہوں نے کل بھجوا دیا ہے وہاں۔‘‘ محب کے جواب پر اس کا دل ڈوب سا گیا تھا ۔
(تو بات یہاں تک آ پہنچی…..کب سے فیصلہ کیے بیٹھی تھیں وہ۔)
’’آپ نے پوچھا نہیں ‘ کیوں جا رہی ہیں وہ ۔‘‘
’’الیشبہ اگلے سال ’’قائد اعظم یونیورسٹی‘‘ جوائن کرے گی۔ صباحت کے لیے ہر ویک اینڈ پر اسلام آباد سے یہاں آنا ممکن نہیں ہوتا ‘ اس لیے انہوں نے وہاں شفٹ ہونے کا سوچا ہے ۔‘‘
’’آپ کو منع کرنا چاہیے تھا‘ جو ان بچیوں کا ساتھ ہے ‘ اس طرح….‘‘ آواز حلق میں دم توڑ گئی تھی۔
’’ان کا بھائی تبادلے کے بعد وہاں سیٹل ہو چکا ہے۔ شاید وہ اس کے پاس زیادہ محفوظ تصّور کریں گی۔‘‘ اس کی مسکراہٹ کا کھوکھلا پن اندر کی شکست و ریخت کو واضح کر رہا تھا ۔ پلکوں کے زیریں کنارے سرخ ہو رہے تھے۔
عفیفہ کا دل ہولے ہولے سسکیاں بھرنے لگا تھا ۔ ہر سوال کا جواب موجود تھا ۔ گویا انہیں روکنے کے لیے وہ اپنی سی ہر کوشش کر چکا تھا۔ وہ آہستگی سے کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔
’’بتی بجھا دو ۔‘‘ اپنے عقب میں محب کی آواز سن کر اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر بتی بجھا دی تھی۔ نائٹ بلب کی نیلگوں روشنی میں اس نے چت لیٹے محب پر ایک نظر ڈالی۔
’’اور راستے بھر تمہارا غیر معمولی خوشگوار رویہ دراصل اندرونی اضطراب کو چھپانے کی ایک کوشش تھا۔‘‘ اس نے بوجھل ہوتا سر تکیے پر ڈال کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے اندر ‘ دل میں ‘ دماغ میں کوئی شور نہیں تھا۔ جذبات میں کوئی طوفان نہیں اٹھا تھا ۔ بس ایک گہرا سکوت تھا ‘ ایک ساکت چپ ‘ ایک جامد سناٹا۔ محب کی بے چین سانسوں کی سر سراہٹ کمرے کی تاریکی میں بھٹکتی پھر رہی تھی۔
عفیفہ نے اپنی مفلوج ہوتی زبان کو بمشکل حرکت دی۔
’’اور اسنعان!‘‘
وہ دونوں اس پل ایک ہی لمحے کے اسیر تھے۔
’’ان کا بچہ ہے ‘ ان کے ساتھ ہی جائے گا۔‘‘ محب کا ٹوٹا ہوا لہجہ سن کر اس نے سختی سے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا ہے ۔ لرزتے ہاتھوں سے اس نے کمبل کھینچ کر اپنے جسم پر ڈال لیا۔
’’سردی لگ رہی ہے ‘ شاید کوئی کھڑکی کھلی رہ گئی ہے۔‘‘ الجھتی سانسوں کے درمیان اس نے بمشکل کہا۔
’’ساری کھڑکیاں بند ہیں۔‘‘ غافل ہونے سے قبل محب کی بہت ہی مدہم ہوتی آواز میں اس نے آخری جملہ یہ ہی سنا تھا۔
’’آپ آفس نہیں جا رہے؟‘‘ محب کو عام گھریلو حلیے میں ڈائننگ ٹیبل پر آتے دیکھ کر وہ بے اختیار ہی پوچھ بیٹھی۔
’’تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ‘ میں آج چھٹی کر لوں گا۔‘‘ وہ اس کے زرد چہرے پر ایک نگاہ ڈال کر کرسی گھسیٹتے ہوئے بیٹھ گیا تھا۔
’’نہیں‘ اب تو میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ آفس چلے جائیے ‘ خوامخواہ کام کا حرج ہو گا پھر اماں ہیں نا میرے پاس‘ ماسی بھی آ جائے گی۔‘‘
’’رات تو تم نے مجھے ڈرا کر رکھ دیا تھا ۔ بی پی اتنا لو کہ میں تو فاتحہ پڑھنے کے لیے تیار ہو گیا تھا ۔‘‘ اسے بہلانے کے لیے وہ قدرے ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑ رہا تھا ۔
’’وہ رات کی بات تھی ‘ اب میں ٹھیک ہوں ۔ آپ ناشتہ کر کے آ جائیں‘ میں کپڑے نکال رہی ہوں۔‘‘ وہ جان بوجھ کر خود کو مصروف رکھنا چاہ رہی تھی۔
’’بچوں کو اسکول چھوڑ کر میں کچھ دیر کے لیے ہی آفس جائوں گا‘ جلدی آ جائوں گا ‘ تب تک تم آرام کرو۔‘‘
محب کہتا رہا ‘ وہ چپ چاپ اثبات میں سر ہلاتی رہی اور جب وہ لوگ گھر سے نکل گئے ‘ تب وہ سر جھکائے اپنی تھکی تھکی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے مسلتے ہوئے کتنی ہی دیر سوچتی رہ گئی۔
’’ابھی میںجائوں گی بھابی کے پاس ‘ کیا کہوں گی؟ کچھ الوداعی کلمات ‘ کچھ دعائیہ حرف۔
اظہار مسرت یا غمگین انداز۔
یا پھر سب میں سے کچھ بھی نہیں
اور
صرف ایک التجا۔
ان کے دروازے کی چوکھٹ پر گاڑ آئوں…..کہ ’’مت جائو ‘ ٹھہر جائو‘ رک جائو کہ تمہارے پاس میرے ایک بہت قیمتی چیز ہے ‘ تم جائو گی تو اسے اپنے ساتھ لے جائو گی ‘ میں اس کے بغیر کیسے جی پائوں گی؟
تمہارے پاس وہ پیاری صورت ہے جو نہ دیکھ پائوں گی تو میری آنکھ کی بینائی جاتی رہے گی۔ وہ نو خیز آواز مجھ سے مت چھینوجو رات کے بے آباد لمحوں میں میری سماعتوں کو آباد رکھتی ہے۔
تمہارے پاس میرے جگر کا ٹکڑا ہے ‘ میری آنکھوں کا نور ہے۔ میری عمر کا وہ حصہ ہے، جسے مصلحت اور قربانی کی لمبی زبان نے نگل لیا۔
تم یہ سب مجھے لوٹا نہیں سکتیں ‘ میں مانگتی بھی نہیں۔
مگر قرب کا وہ احساس جو میری ڈھارس بندھاتا رہتا ہے ‘ اسے مجھ سے مت چھینو۔‘‘
’’باجی! ‘‘ کسی نے پکارا تھا۔
وہ بری طرح چونکی۔ شہناز سامنے کھڑی تھی ‘ کام کرنے والی ماسی کی بیٹی۔
’’وہ بڑی اماں آپ سے چائے بنانے کا کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ‘ تم خود ہی بنا دو۔‘‘
وہ اٹھ کر پچھلے برآمدے سے باہر نکل آئی۔ لان عبور کرتے ہوے اس کا رخ بھابی کے پورشن کی طرف تھا۔
’’کچھ کہنا سننا نہیں ‘ بس اسنعان کو ایک نظر دیکھ کر واپس آ جانا ہے۔‘‘ وہ خود کو تاکید کرتی چلی جا رہی تھی۔ لوہے کے ڈیزائن والا جالی کا بڑا سا دروازہ کھول کر وہ لائونج میں داخل ہوئی ‘ خالی ‘ ویران لائونج ‘ اس نے آگے بڑھ کر راہداری کا دروازہ کھولنا چاہا جو کسی رکاوٹ کے باعث نہ کھل سکا تھا ۔ اس نے الجھ کر ذرا سا سر جھکایا اور اگلے ہی پل سُن ہو کر رہ گئی۔ گھر کے اندر جانے کا ایک ہی تو راستہ تھا اور یہاں ایک موٹا سا تالا جھول رہا تھا۔
’’بھابی‘ صباحت ‘ اسنعان۔‘‘ دیوانگی کے عالم میں دروازہ پیٹتے ہوئے وہ چلّائی۔ یوں جیسے محض اسے دھوکا دینے کے لیے باہر تالا لگایا گیا ہو اور باقی سب لوگ اندر ہی ہوں۔ خالی لائونج میں اس کی آواز گونج کر رہ گئی۔
وہ سب لوگ جا چکے تھے ‘ گھر خالی تھا۔ چند قدم الٹے پائوں چل کر پلٹی اور پوری قوت سے دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
’’وہ لوگ چلے گئے؟ مگر نہیں ‘ اس طرح کیسے جا سکتے ہیں وہ ۔‘‘ بے یقینی میں گھرے اس نے بھابی اور صباحت کو کئی آوازیں دے ڈالیں۔
’’کیا ہواباجی!‘‘ برآمدے کا دروازہ کھول کر شہناز باہر نکلی۔
بے جان جسم کو گھسیٹتے ہوئے وہ بمشکل لان کے وسط میں پہنچی تھی کہ پیروں نے اس کا بوجھ مزید سہارنے سے انکار کر دیا تھا ۔ وہ لڑکھڑا کر وہیں گھٹنوں کے بل گھاس پر گر گئی تھی۔ شہناز بھاگی چلی آئی تھی اس کی طرف۔
’’وہ چلی گئی ‘ بغیر بتائے چلی گئی۔‘‘ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔
’’آئے ہائے باجی! اتنا پسینہ کیوں آ رہا ہے آپ کو ۔‘‘ شہناز گھبرا گئی تھی۔
’’وہ عورت ‘ وہ مجھے سمجھ ہی نہیں پائی۔ میں اتنی کم ظرف نہیں تھی کہ دی ہوئی چیز چھین لیتی۔‘‘
’’باجی! آپ اٹھیں ‘ میں آپ کو…..‘‘
’’بے بنیاد ڈر ‘ خوف ‘ وہم ‘ خدشوں سمیت وہ چلی گئی اسنعان کو لے کر۔ ارے ایک بار مجھے اس سے ملنے تو دیتی ۔ اس کے بال ‘ اس کی آنکھیں ‘ اس کے ننھے ہاتھ ‘ میں ایک بار اسے چھو تو لیتی۔ ‘‘ شہناز اسے بازوئوں سے تھامے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ بھر بھری ریت ہو گئی تھی ‘ جو اس کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی تھی۔
’’میں ایک بار اسے دیکھ لیتی ‘ میری بے رنگ دید میں اس کا چہرہ رنگ بھر دیتا مگر اسے یہ منظور نہ تھا۔‘‘
شہناز ‘ محب کو فون کرنے کے لیے اندر کو بھاگی۔
’’اس نے میری گود خالی کی تھی اور اب میری آنکھیں بھی نوچ کر لے گئی ہے۔‘‘ وہ بری طرح چلائی اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
اسنعان چلا گیا اور اس کے تصور کے پردے پر اس کی شبیہ لہراتی رہ گئی۔ بہت سے دن خود سے لڑتے جھگڑتے ‘ خود کو سمجھاتے گزر گئے۔ چپ کا دائرہ وسیع ہو کر سمٹتا چلا گیا ۔ یونہی بے وجہ برآمدوں کمروں میں ٹہلتے ٹہلتے وہ تھک جاتی تو پچھلے برآمدے میں جا ٹھہرتی۔ نظریں بھابی کے پورشن پر جا ٹھہرتیں۔
قدموں کی مانوس آہٹ سنائی دیتی۔
’’چاچی!‘‘ معصوم پکار پر وہ چونک چونک جاتی۔ اور جب درختوں کی شاخوں میں دبکی چڑیوں کو ‘ شور مچاتے کووّں کو دیکھتے دیکھتے اکتا جاتی تو ’’جگنو‘‘ کو پنجرے سے نکال کر ہاتھوں میں لے لیتی۔
بڑی اماں اس کی پریشان حالی کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھتیں۔
’’اسنعان تو برسوں پہلے ہی فریحہ کا ہو چکا تھا ‘ اب کس بات کا سوگ منایا جا رہا ہے ۔‘‘ محب اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگتا۔
’’میری وجہ سے تم نے بہت کچھ کھو دیا ۔‘‘ وہ اس کا جھکا ہوا سر دیکھتی تو ایک بار پھر ہار جاتی۔
’اگر میری مرضی نہ ہوتی ‘ تو کون میرا بچہ مجھ سے چھین سکتا تھا ۔ اس فیصلے سے مجھے جتنی بھی تکلیف ہوئی ‘ جو بھی اذیت اٹھانی پڑی اس کے ذمے دار صرف آپ بہرحال نہیں ہیں ‘ یہ فیصلہ ہم دونوں کا تھا …. اور شاید ہم دونوں کو سنبھلنے میں کچھ وقت لگے گا۔‘‘
وہ اس مہربان شخص کو کبھی پریشان ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
’’میں نے بھابی کو فون کیا تھا ‘ ان کے یوں چلے جانے پر ناراض بھی ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ اسنعان سے ملتے ہوئے تم جذباتی ہونے لگتی ہو ۔ اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اسنعان اپنے دل و دماغ پر کوئی بوجھ لے کر جائے۔‘‘ محب کی وضاحت پر وہ زبردستی مسکرا دی تھی۔
’’ان کی احتیاط اپنی جگہ بالکل درست تھی ۔ شاید ‘ شاید کبھی میں بھی اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ لوں۔‘‘ اس نے آنکھوں میں ٹھہری نمی کو چپکے سے اپنی پوروں پر اتار لیا۔
(گویا یہ کام ابھی سیکھنا باقی ہے)
محب لاجواب ہو کر خاموش ہو گیا تھا۔
اور پھر اس نے گویا سمجھوتہ کر لیا تھا ۔ اسنعان کی جدائی سے ‘ اس کی یادوں سے۔’’ وہ مجھے یاد آتا رہے گا اور میں اسے یاد کرتی رہوں گی۔ اس کی یاد کی میٹھی پھوار نہ برسے تو میرا دل شاید بے حس ہو جائے۔ سنگلاخ چٹانوں جیسا ‘ جن پر دھواں دھار بارش بھی سبزہ نہیں اگا سکتی۔‘‘ وہ ان دنوں بہت مطمئن اور پر سکون رہا کرتی تھی۔
’’اف اتنے طویل سجدے ‘ اتنی لمبی لمبی دعائیں ‘ مما ! آپ کیا مانگتی رہتی ہیں اللہ سے ؟‘‘ کبھی کبھار حمزہ پوچھتا۔
’’اپنے بچوں کی سلامتی…..‘‘ ’’جگنو‘‘ کو دانہ ڈالتے ہوئے اس کے پاس بس ایک ہی جواب ہوتا تھا۔
اور پھر ایک روز اس نے دعوتی فون سنا تھا۔
صباحت انتہائی پر جوش ہو کر بتا رہی تھی۔
’’ہم سب لوگ سعودیہ جا رہے ہیں۔ جانے سے پہلے پورے خاندان کی دعوت کا پروگرام رکھا ہے ‘ آپ لوگ ضرور…..‘‘ اس نے قریب بیٹھے محب کو ریسیور تھما دیا تھا ۔
محب نے متغیر چہرے کے ساتھ فون سنتے ہوئے اسے بغور دیکھا۔ اس کے اطمینان میں رتی بھر فرق نہ آیا تھا بلکہ انتہائی پر سکون انداز میں وہ ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے چینل بدل رہی تھی۔ وہ ریسیور رکھ کر اس کے پاس چلا آیا۔
’’حمزہ اور آپ کے کپڑے تیار کر دیتی ہوں…..اماں بھی یقینا جائیں گی۔ اجالا میرے پاس رک جائے گی۔ کس دن جائیں گے آپ؟‘‘ وہ اس کے چہرے پہ نگاہ جمائے پوچھ رہی تھی۔
’’جمعہ کو…..‘‘ محب کسی مجرمانہ احساس میں گھر کر فوراً ہی وہاں سے اٹھ گیا تھا ۔ اورجس روز وہ لوگ روانہ ہو گئے ۔ وہ پچھلے برآمدے میں بیٹھ کر مسلسل اس پورشن کے جالی دار لوہے کے درازے کو تکتی رہی۔ جس کے دوسری طرف موجود لائونج میں اسنعان نے اودھم مچا رکھا تھا ۔ پھر اچانک ہی وہ لائونج کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر باہر آیا تھا۔
Maggie,Maggie,let me say
وہ اونچی آواز میں نظم گاتا درختوں کی شاخوں پہ جھول رہا تھا ۔
I want to fly away
Above this blue sky
And let me say you “bye”
شاخوں میں دبکی چڑیاں شور مچاتی ‘ اس کے سر پہ منڈلانے لگیں۔ ان کے گھونسلوں تک رسائی نہ ہونے پر وہ چھلانگ لگا کر بھاگا تو اس بوسیدہ جھولے سے جا ٹکرایا ۔ جو حمزہ اور اجالا کو اپنی گود میں لے کر آسمانوں کی سیر کرایا کرتا تھا ۔ اسنعان نے بے تکلفی سے جھولے پہ سوار ہو کر ایک لمبی اڑان بھری اور فضا میں بکھری نارنجی ‘ گلابی رنگوں کو چھوتے ہوئے ایک شرارت بھری آواز لگائی۔
’’چاچی!‘‘ زمین اور آسمان کی وسعتوں سے بس ایک ہی پکار ابھری تھی۔
وہ گھبرا کر سیدھی ہوئی تو ’’جگنو‘‘ اس کے ہاتھوں سے نکل کر پر پھیلائے دھوپ میں جا بیٹھی تھی۔ اس نے نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا۔ بے رنگ منظر ساکت تھا ۔ کوئی ہلچل نہ تھی۔ جھولا خاموش اور درخت چڑیوں کی رونق سے آباد تھے۔
’’اسنعان کا یہ روپ ‘ یہ رنگ تو میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ ‘‘ شام کے اداس لمحوں میں آسمان کے سینے پہ ڈولتے پرندے گنتا ہوا بچے اسے بے طرح یاد آیا۔ بہت سی چیزیں پس منظر سے پیش منظر کی طرف آتی چلی گئیں۔
’’اسنعان ! جھولے پر نہیں بیٹھنا۔‘‘
’’اسنعان! سڑک پار نہیں جانا۔‘‘
’’اسنعان! درخت پر مت چڑھو۔‘‘
’’یہ نہ کرو…..وہ نہیں کرنا…..ایسا نہیں ہو گا۔‘‘
بہت سی آوازیں آپس میں گڈ مڈ ہونے لگیں۔ دل کی طرف کوئی کھلنے والی آخری کھڑکی بھی بند ہو گئی تھی۔
اور اس شام کے بیت جانے کے بہت دنوں بعد وارڈ روب سے محب کی شرٹ نکالتے ہوئے جیسے کوئی گمشدہ بھولی بسری بات اس کے ہاتھ آ لگی تھی۔
’’اسنعان اندر سے بالکل حمزہ کی طرح تھا۔ میں جانتی ہوں…..‘‘ اس نے پلٹ کر محب کی حیران ہوتی آنکھوں میں جھانک کر اسے یقین دلایا۔ جو عرصے بعد اس کے لبوں سے اسنعان کا نام سن کر چونک سا گیا تھا۔
’’شرارتی ‘ نٹ کھٹ ‘ بلا تکان بولنے اور نچلا نہ بیٹھنے والا….لیکن …..‘‘ وہ پر سوچ انداز میں لمحہ بھر کے لیے رکی۔
’’میں نے کبھی اسے شرارت کرتے نہیں دیکھاتھا۔‘‘
فضا کبوتروں کے بھاری پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے بھر سی گئی تھی۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا ‘ سفید ‘ سیاہ اور چمکیلے پروں والے کبوتر ہوا میں قلا بازیاں کھا رہے تھے۔
نجانے کتنے سالوں بعد اس نے اس گھر میں قدم رکھا تھا ۔ ہاتھ میں پکڑا سفری بیگ اپنے قدموں میں گراتے ہوئے وہ برآمدے کی پہلی سیڑھی پر بیٹھ کرانگلیوں پہ گننے لگا ‘ لیکن تھکن اس کی رگوں میں کینچوے کی طرح خون کے ساتھ ساتھ رینگ رہی تھی۔
سارا حساب کتاب غلط ہو گیا تھا۔ اس نے انگلیاں اپنے بالوں میں پھنساتے ہوئے محسوس کیا کہ وہ نروس ہو رہا ہے۔
اس گھر کے مکینوں سے ملنے کی اسے بہت چاہ تھی۔
لیکن جب وہ لکڑی کے ریڈ آکسائیڈ گیٹ کو دھکیل کر اندر آ رہا تھا تو ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ شدید ہچکچاہٹ لپٹی جا رہی تھی۔ چال کی تیزی اور تندی کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ اور اب وہ اپنی پیشانی سہلاتے ہوئے کچھ دیر سے سوچ رہا تھا۔
’’پتا نہیں سب لوگ مجھ سے کیسے ملیں گے؟‘‘ اور معلوم نہیں ‘ یہ لوگ مجھے پہچان بھی سکیں گے کہ نہیں؟‘‘
وہ سر اٹھا کر سامنے لان میں لگے درختوں کو دیکھنے لگا۔ گھر کا نقشہ پہلے سے بدل چکا تھا۔
’’لیکن موسم وہی ہے ۔‘‘
اسے سب یاد تھا ‘ یہ ہی بدلتا ہوا ‘ اداسی میں گھرا موسم تھا جب وہ اس گھر کو چھوڑ کر گیا تھا ۔ خاموشی اس گھر کے برآمدوں ‘ راہداریوں اور نیم تاریک کمروں میں چکراتی پھرا کرتی تھی۔ اور سناٹا ہر پل چڑیوں کی چہکار سے گونجا کرتا تھا ۔
لکڑی کا نیم واگیٹ کسی نے زور سے دھکیلا تھا ۔ وہ چونک گیا ۔
حمزہ بائیک لیے اندر داخل ہو رہا تھا ۔ شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے ہوئے ‘ گریبان کے دو بٹن کھلے ‘ قدرے بے ترتیب بال ‘ جھنجھلا یا ہوا چہرہ‘ غالباً بائیک خراب تھی۔ ماتھے پہ چمکتے پسینے کے ننھے قطرے بتا رہے تھے کہ وہ کافی دور سے یہ مشقت جھیلتا ہوا آ رہا تھا۔ بائیک کھڑی کر کے گرد آلود جو گرز کو دھپ دھپ زمین پہ مار کر گرد جھاڑتے ہوئے اس نے جھکا ہوا سر اٹھایا تو ایک پل کی حیرانی کے بعد اس کی آنکھیں پہچان کے ہزار رنگوں سے جھلملا اٹھی تھیں۔
’’اوئے اسنعان! یہ تم ہو…..؟‘‘ ایک ہی جست میں اس تک پہنچ کر وہ اس کے گلے لگ گیا تھا ’’کب آئے؟ اور یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ بیگ بھی یہیں پڑا ہے۔‘‘
وہی پر جوش انداز ‘ اوپر تلے کے سوالات ‘ اسنعان گڑ بڑا سا گیا ۔
’’اوہ اچھا ….ابھی آئے ہو گے نا؟ آ جائو…..مما سے نہیں ملے اب تک؟‘‘ وہ خود ہی جواب دیتا اس کا بیگ ہاتھ میں لیے آگے بڑھ گیا تھا۔
جس کمرے میں وہ لوگ داخل ہوئے ‘ ایک بیڈ روم تھا ‘ بے حد پر سکون اور ٹھنڈک بخش….یہاں بیٹھو…. میں مما کو بلا کر لاتا ہوں۔‘‘ حمزہ ٹیوب لائٹ کا بٹن دبا کر باہر نکل گیا۔ روشنی کے ایک جھما کے کے بعد کمرے کا منظر واضح ہو گیا تھا ۔ دروازے کے قریب رکھے موڑھے پر بیٹھ کر اس نے اپنے جوتے اتارتے ہوئے اردگرد نظر دوڑائی۔
بیڈ پر سبز اور ہلکے آسمانی رنگ کی چادر بچھی تھی۔ اور سائیڈ ٹیبل پر لیمپ کے ساتھ ایک فریم شدہ تصویر….‘ وہ اٹھ کر تصویر ہاتھوں میں لے کر دیکھنے لگا۔ چاچو‘ اجالا ‘ حمزہ ‘ چاچی اور ان سب کے درمیان میں بیٹھا وہ خود ‘ فل یونیفارم پہنے گود میں بیگ رکھے ‘ یہ اس کا اسکول میں پہلا دن تھا۔
دروازے کے باہر ہلکا سا کھٹکا ہوا تھا۔ وہ تصویر واپس رکھ کر ایک کرسی پہ جا بیٹھا تھا ۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ عجیب بے چینی سی محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنی سرد پوروں کو اپنی ہتھیلیوں میں گاڑ دیا۔
’’کیسے ملوں گا میں ان سے ؟‘‘
تیزی سے گردش کرتے خون کے ساتھ وہ ایک مانوس سی مہک کو محسوس کر کے اٹھ کھڑا ہوا ۔ ہلکا سا مسلتے ہوئے ذرا کی ذرا نگاہ اٹھائی ‘ وہ جواب دیے بغیر قدم اٹھاتی اس کے سامنے آ رکیں ۔ اور پھر بازو اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام لیا ۔ ایک لمحے کے لیے اسنعان کو لگا ‘ اس کے جسم کا سارا خون اس کے چہرے پہ جمع ہو گیا ہے ‘ آنکھیں اندرونی کرب سے دہکنے لگی تھیں۔
’’کیسے ہو تم؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھیں۔
اسنعان فوری طور پر کوئی جواب نہیں دے پایا۔ تب انہوں نے اس کی پیشانی پر پیار کیا اور پھر پلٹ کر بیڈ پہ جا بیٹھیں۔
’’بس….؟‘‘ وہ حیرت زدہ سا کھڑا رہ گیا تھا ۔
اور اس کا خیال تھا کہ وہ سامنے آئے گا تو شاید وہ کچھ دیر کے لیے پتھر ہو جائیں گی۔…..یا پھر تڑپ اٹھیں گی۔ بے قرار ہو کر اسے بازوئوں میں بھینچ لیں گی اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہیں گی۔
’’تم آج سے پہلے کیوں نہیں آ گئے اسنعان! میںتمہارے لیے بہت ترسی ہوں ‘ بہت بلکتی ہوں۔‘‘
لیکن اس کے سامنے ایک سمندر تھا ‘ وسیع اور گہرا ‘ مگر اس کی موجوں میں اضطراب نہیں تھا ۔ پر سکون لہریں ریت کنارے کو ذرا سا چھو کر پلٹ گئی تھیں۔
تشنگی کا صحرا اسے اپنی طرف گھسیٹنے لگا تو وہ گہرے گہرے سانس لیتا واپس کرسی پہ جا بیٹھا تھا ۔ لیکن اندر کوئی تھا ‘ کوئی ننھا سا وجود ‘ جو سامنے بیٹھی بیڈ کی چادر پر پڑی نا دیدہ گرد کو جھاڑتی ہوئی عورت کی طرف ہمک رہا تھا ‘ جو اس کی گود میںسر رکھ کربہت سا رونا چاہتا تھا ۔ بہت سارے گلے ‘ شکوے شکایات ‘ ناراضی جو وہ اس کے حوالے کر دینے کی خواہش لے کر یہاں آیا تھا ۔ اب اپنی آہوں اور سسکیوں میں چھپائے ناراض نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’گھر میں سب خیریت سے تھے نا…..؟‘‘ وہ اس سے پوچھ رہی تھیں۔
’’جی…..‘‘ وہ مختصر جواب دے کر چپ ہو رہا تھا ۔
وہ نجانے کس سوچ میں ڈوب گئیں ‘ تب اس نے جھجکتے ہوئے نگاہ اٹھائی اور بغور انہیں دیکھنے گا۔
وہ آج بھی بالکل ویسی ہی تھیں۔ گزرے ماہ و سال نے ان پر کچھ خاص اثر نہیں ڈالاتھا ۔ بس سیاہ بادلوں میں کہیں کہیں چاندی کے تار جھلملا رہے تھے ۔ اور آنکھوں کے گرد حلقے بن گئے تھے ‘ جو بہت زیادہ گہرے نہ ہونے کے باوجود ان کی سفید رنگت پر نمایاں ہو رہے تھے۔
’’اسلام آباد آنے کے بعد ہم نے پورے خاندان کی دعوت کی تھی ‘ مگر آپ لوگ آئے ہی نہیں۔‘‘ انہیں خاموش دیکھ کر اس نے یونہی ایک بات چھیڑی۔
’’ہاں…..حمزہ اور اجالا کے امتحانات ہو رہے تھے ان دنوں ‘ محب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘‘ وہ جواباً کہہ رہی تھیں تب ہی دروازہ کھول کر حمزہ داخل ہوا۔ وہ دونوں ہاتھوں میں بڑی سی ٹرے تھامے ہوئے تھا۔
’’میںنے سوچا‘ بچہ تھکا ہوا آیا ہے ‘کیا تکلیف دوں۔ چائے یہیں پر لے آیا ہوں۔‘‘
چکن رول ‘ پزا‘ فروٹ کیک اور مختلف اقسام کے بسکٹس سے بھری ٹرے اس کے سامنے رکھ کر وہ خود بھی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا تھا ۔
بھوک ہونے کے باوجود کوئی چیز حلق سے نیچے نہ اتر رہی تھی۔ ایک چکن رول کھا کر اس نے گرم گرم چائے کا کپ اپنے اندر انڈیل لیا تھا ۔ جب کہ حمزہ چائے کے ساتھ بھی لنچ جیسا سلوک کر رہا تھا۔
’’تم اب کچھ دیر آرام کر لو اسنعان ‘ باقی باتیں شام میںہوں گی۔‘‘ وہ چائے کے برتن سمیٹ کر باہر نکل گئیں۔ حمزہ کچھ دیر اس کے پاس بیٹھا رہا۔
’’پاپا کے ایک دوست آپریشن کے لیے لاہور جا رہے تھے۔ اس قدر گھبرائے ہوئے تھے کہ پھر ان کی تسلی کے لیے پاپا ان کے ساتھ چلے گئے۔ یہاں ہوتے تو تمہیں دیکھ کر یقیناً بہت خوش ہوتے۔‘‘ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد حمزہ جمائیاں لیتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ تب تھکن سے نڈھال ہوتے ہوئے اس نے شاور لے کر کپڑے بدلے اور پھر بیڈ پہ لیٹا تو شام تک سوتا ہی رہا تھا ۔
’’تمہیں یوں اچانک سامنے پا کر گویا میری سانس ہی رک گئی تھی۔ کمرے کے درو دیوار یوں گھومے کہ مجھے کچھ سجھائی ہی نہ دیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرے کی دبیز چادر تن گئی تھی ‘ مگر یہ تم تھے جو روشنی بن کر سامنے کھڑے تھے۔ میں تمہاری طرف بڑھی تو مجھے احساس ہوا کہ میرے دل ‘ دماغ اور میری آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہے۔ تمہارا چہرہ تھام کر میں نے تمہاری موجودگی کو تسلیم کرنا چاہا تو میری آنکھ بھر آئی۔ حلق میں آنسوئوںکا پھندا سا پڑ گیا تھا۔ اور یہ دھڑکنے میں سستی دکھانے لگا تھا۔ تم نہیں جانتے ‘ کسی اچانک صورتحال کو برداشت کرنا میرے لیے کتنا مشکل ہو گیا ہے۔ بہت زیادہ خوشی ‘ بہت زیادہ غم سہنے کے لیے مجھے پہلے سے تیار ہونا پڑتا ہے اور تم نے تو یوں اچانک آ کر گویا میری جان ہی نکال لی تھی۔‘‘ زبان تلے گولی رکھ کر وہ راکنگ چیئر جھلانے لگی تھی۔
’’حالانکہ یہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ تم تو ہر روز میرے پاس آتے رہے ہو۔ کبھی بند آنکھوں کے پیچھے‘ کبھی کھلی آنکھوں کے سامنے ۔ مگر میرے لیے تو آج تک تم وہی حیران حیران آنکھوں والے ننھے منے اسنعان تھے۔ وہ ساری تصاویر جو آج تک وقتاً فوقتاًبڑے بھیا ہمیں بھجواتے رہے ‘ جامد تھیں گونگی تھیں‘ تم ان میں مجھے مسکراتے ہوئے دکھائی نہ دیتے تھے۔ ان تصویروں میں کوئی مجھے ’’چاچی ‘‘ کہہ کر نہیںپکارتا تھا ۔ سو میں انہیں ایک نظر دیکھ کر البم میں لگا دیا کرتی تھی۔ اور پھر پچھلے برآمدے میں بیٹھ کر تمہیں دیکھا کرتی تھی لان میں بھاگتے ‘ کھڑکی سے پکارتے‘ ادھڑی ہوئی اون کو الجھاتے ‘ اور پھر پریشان ہوتے۔‘‘
’’مما…..!‘‘ اجالا نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا ۔
’’اسنعان بھائی کو جگا دوں؟ اب تو کافی دیر ہو گئی ہے ۔‘‘ وہ بے تابی سے پوچھ رہی تھی۔
’’وہ خود ہی اٹھنے والا ہو گا اب تو…..تم ذرا آئو میرے ساتھ کچن میں۔‘‘ وہ فوراً ہی اٹھ گئی۔
’’کھانا کھائے بغیر سو گیا تھا ۔ تم کباب تل کر رائتہ بنا لو ۔ میں بریانی دم دے دیتی ہوں۔ باقی اہتمام رات کے کھانے پر کر لیں گے۔‘‘
اس نے اجالا کو ہدایت دی تھی مگر اسنعان جاگا ہی اس وقت تھا جب رات کا اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ ٹی وی لائونج کی طرف بڑھتے ہوئے اجالا نے اسے کمرے سے باہر آتے دیکھا تو ایک دم چیخ کر اس کے کندھے سے جا لگی۔
’’اتنی دیر تک سوئے ہیں ‘ کب سے انتظار کر رہی تھی۔ موقع بھی ڈھونڈ رہی تھی کہ چپکے سے اندر جا کر آپ کو جگا دوں مگر ہماری مما بھی ایک طرح سے جلاد ہیں پوری…..مجال ہے جو میری نگرانی سے باز آئی ہوں۔ الٹا کچن میں ہزاروں کام ڈھونڈ لیے میرے لیے۔‘‘
وہ آج بھی ویسے ہی نان اسٹاپ بولتی تھی۔اسنعان اس سے ایک ڈیڑھ برس چھوٹا ہی تھا مگر ایک تو برسوں کی دوری ‘ اس پر اسنعان کے چہرے پہ گڑی سنجیدگی ‘ وہ خودہی آپ جناب پر آ گئی تھی۔
عفیفہ چکن اور ٹرائفل بنانے کے بعد چپاتیاں ڈال کر آئی تو وہ تینوں لائونج میں بیٹھے تھے۔ اجالا اور حمزہ کی زبان رکنے میں نہ آ رہی تھی۔ اسنعان صرف انہیں سن رہا تھا ۔ وہ اجالا کو کھانا لگانے کا کہہ کر وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی تھی۔ اجالا منت سماجت کر کے حمزہ کو بھی ساتھ لے گئی تھی۔ ایک دوسرے کے بغیریوں بھی ان کا گزارہ نہیں ہوتا تھا ۔
ان کے جانے کے بعد وہ اسنعان کی طرف متوجہ ہوئی ۔ جو بڑی سنجیدگی سے ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ دیر تک سوئے رہنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں گلابی رنگ گھلا ہوا تھا ۔ وہ دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پہ سب سے نمایاں چیز اس کی آنکھیں تھیں ‘ کھوئی کھوئی سی اداس آنکھیں جو دیکھنے والوں کو بھی اداس کرتی تھیں۔ سوچ کی گہرائیوں میں ڈوبتی ابھرتی۔
’’اسنعان!‘‘ وہ بے اختیار ہی اسے پکار بیٹھی۔
وہ ذرا سا چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’تمہاری آنکھیں بالکل اجالا جیسی ہیں۔‘‘
’’جی…..خاندان کے اکثر لوگوں نے مجھ سے یہ ہی کہا ہے۔‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔
’’یہاں کیا مصروفیت ہوتی ہے تمہاری؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں۔ ایک پرائیویٹ فرم میںجاب کر رہا ہوں۔ بابا اپنا بزنس یہاں سیٹ کر لیں گے تو پھر ان کا ہاتھ بٹائوں گا۔‘‘ وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا۔ تب ہی اجالا انہیں ڈائننگ روم میں پکارنے لگی تھی۔
اور کھانے کی میز پر حمزہ اور اجالا کے درمیان بیٹھا اسنعان ‘ عفیفہ کو عجیب سی بے چینی سے دوچار کر رہا تھا ۔ حمزہ اور اجالا کے ہر قہقہے پر وہ اپنا چمچہ چھوڑ کر اسے دیکھنے لگتی ۔ ایک پل کو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگتی تو اگلے پل وہ پھر سنجیدہ نظر آتا تھا ۔ اور یوں مسکرانے پر بھی اس کی آنکھیں قطعاً اس کا ساتھ نہیں دیتی تھیں۔
’’کیا کچھ کھو دیا ہے تم نے‘ ہماری قربانیوں کی آڑ میں۔ دکھ تو سارے میں نے جھیلے ہیں۔ ان کا عکس تمہاری آنکھوں کو کیوں اداس بنا رہا ہے؟‘‘ وہ پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اپنے آنسو بھی پی رہی تھی۔
وہ انتہائی شوخ رنگ کے کھلے ہوئے ‘ شاداب پھولوں کے بیچ ایک مرجھایا ہوا پھول تھا۔ جس کا ہر رنگ پھیکا تھا ۔ زرد دھوپ کی بارش میں پروان چڑھا کملایا ہوا پھول۔
ہر پکار پر چونکنا اس کا معمول تھا‘ ہر سوال کے جواب میں وہ گھڑی بھر کے لیے چپ ہو جاتا ‘ یوں جیسے ہر بات کا جواب سوچ کر دے رہا ہو۔ اگر سن رہا ہے تو نظر مخاطب کے چہرے پر نہیں ‘ سامنے میز پر جمی ہوئی ‘ کہنا ہو تو ایک خفا سی نگاہ اگلے بندے پر ڈال کر گویا فرض پورا کرتا تھا ۔ آواز نرم مگر اتنی مدھم ہوتی کہ وہ بمشکل اس کی بات سمجھ پاتے تھے۔
کم بولنا ‘ کم ہنسنا۔
’’ویسے مما! اسنعان بھائی ہمارے ساتھ رہتے تو کتنا…..‘‘ اجالا چہکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
اس کے ہاتھوں سے پانی چھلک گیا تھا ۔ ٹھیک ہے ‘ بڑے ہونے پر یہ بات خود بخود کسی نہ کسی طرح ان سب کے علم میں آ گئی تھی ‘ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ اس بات کو یوں اسنعان کی موجودگی میں ڈسکس کیا جاتا ۔
’’صباحت کی بات چل رہی ہے کہیں؟‘‘ اس نے ایک تنبیہی نظر اجالا پر ڈالتے ہوئے بات بدلی۔
’’الیشبہ اور اریبہ کی شادی پر بہت سے لوگوں نے پوچھا تھا ۔ لیکن وہ خود ابھی شادی نہیں کرنا چاہتیں۔‘‘ وہ یوں بولا تھا گویا اجالا کی بات سنی ہی نہ ہو۔
کھانے کے بعد وہ تینوں اس کے بیڈ روم میں آ گئے تھے۔ رات گئے تک باتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ وہ وقفے وقفے سے اسنعان سے کچھ نہ کچھ پوچھ کر اس کی پسند نا پسند کا اندازہ لگا رہی تھی ۔ اجالا حسب عادت میری فرینڈز ‘ میری پینٹنگز میں الجھی ہوئی تھی۔ حمزہ کے پاس ہزاروں موضوعات تھے۔ ایک وہی تھا جس کی چپ اس کے سینے میں نیزے کی انّی کی طرح گڑی جا رہی تھی۔
’’بس مما! بہت باتیں ہو گئیں۔ اب آپ سو جائیں ورنہ پھر طبیعت خراب ہو جائے گی۔‘‘
حمزہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’جی…..اور آج تو پاپا بھی نہیں ہیں یہاں۔ آپ کا خیال رکھنے کے لیے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ‘ ہم لوگ تو ہیں نا…..‘‘ اجالا کی بات پر وہ بے اختیار ہی بولا تو عفیفہ کی نگاہ اس کے صبیح چہرے پر جم کر رہ گئی تھی۔
’’ارے جناب ‘ ہم تینوں مل کر بھی پاپا جیسے تیمار دار ثابت نہیں ہو سکتے۔‘‘ حمزہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔
صبح کے ملگجے اجالے میں اس نے کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر جھانکا ‘ اور پھر دھیرے سے مسکرا دی ۔ آج پچھلے لان میں اسنعان موجود نہیں تھا۔ بلکہ آج وہ اس کے ساتھ والے بیڈ روم میں تھا۔ محو خواب ‘ وہ ابھی ابھی اسے دیکھ کر ‘ اپنے ہاتھوں سے اس کے بال سنوار کر ‘ اس کی پیشانی کو اپنے لبوں سے چھو کر آ رہی تھی۔ اس کے پورے وجود میں ایک ٹھنڈ ک سی پھیلی ہوئی تھی ۔ باہر کبوتروں کی غٹر غوں نے اچھا خاصا شور مچایا ہوا تھا۔ وہ دروازہ کھول کر باہر آئی اور ان سب کو آزاد کر کے بڑے سے پنجرے کے اندر رکھی کٹوری میں صاف پانی بھرنے لگی۔ اس کام سے فارغ ہو کر باجرے کا تھال لے کر بیٹھ گئی۔ مٹھی بھر باجرہ اچھالنے پر درجنوں کبوتر پر پھڑپھڑاتے ہوئے زمین پہ اتر کر دانہ چگنے لگے تھے۔ اور تب بہت خاموشی سے وہ اس کے برابر آ بیٹھا تھا۔
’’کل میںنے ان کبوتروںکو اڑتے ہوئے دیکھا تھا ۔ مجھے معلوم نہیں تھا۔ یہ سب کبوتر آپ کے ہیں۔‘‘ وہ دلچسپی سے انہیں دانہ چگتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
’’میرے….؟‘‘ وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
’’یہ کبوتر میرے تو نہیں اسنعان‘ یہ سب تمہارے ہیں۔ تمہیں یاد ہے ناں! تم مجھے ’’جگنو‘‘ دے کر گئے تھے۔‘‘ وہ اس سے سوال کر رہی تھی۔
وہ کندھے اچکا کر ‘ نا سمجھی کے عالم میں ان کبوتروں کو دیکھ کر اپنی یاد کھنگالتا رہا ‘ پھر دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔
وہ طویل سانس لے کر سیدھی ہوئی۔ پھر ذرا سا ہنس دی۔
’’ہاں! تم اس وقت کافی چھوٹے تھے…..تمہاری کبوتری میرے پاس رہ گئی تھی۔ میں برسوں اس کی حفاظت کرتی رہی ۔ پھر ایک برسات میں وہ مر گئی۔
لیکن مرنے سے پہلے وہ بہت سے کبوتر مجھے دی گئی تھی۔ تب سے ان کی دیکھ بھال کر رہی ہوں ‘ یوں لگتا ہے جیسے میں ان سے اور یہ مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں۔ صبح کے وقت جب میں اکیلی گھر پہ رہ جاتی ہوں تب یہ میری تنہائی بانٹ لیتے ہیں۔ جب تک بڑی اماں یہاں تھیں۔ دوسرا ہٹ کا احساس رہتا تھا ۔ لیکن حج کرنے کے بعد چھوٹی بھابی کے ہاں ان کا دل لگ گیا ہے۔ اب اکیلے میں جو بھی کہنا ہو ‘ ان ہی سے کہہ سن لیتی ہیں۔‘‘
’’تو آپ یوں محبت کرتی رہی ہیں مجھ سے۔‘‘ اس کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہوئے اس نے سوچا تھا۔
’’مما آئیں گی کسی روز ‘ کچھ سامان یہاں چھوڑ گئی تھیں ‘ وہ لینے۔‘ باتوں باتوں میں اسنعان نے کہا۔
’’نہیں ‘ وہ تو سب کچھ لے گئی تھیں اپنے ساتھ۔‘‘ کبوتروں کی طرف مزید دانہ اچھالتے ہوئے اس نے قطعی لہجے میںکہا ۔ پھر جیسے کچھ یاد آنے پر وہ چونکی۔
’’ہاں…..سامان…..ہاں! وہ تو ہو گا …..لے جائیں ‘ جوں کا توں رکھا ہے ۔‘‘ وہ اپنی کہی گئی بات کا اثر زائل کرنے کے لیے فوراً اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’آئو ‘ میں تمہارے لیے ناشتہ بناتی ہوں۔‘‘ وہ اسے لے کر کچن میں چلی گئی تھی۔ اور پھر سب کے ساتھ مل کر ناشتہ کرنے کے بعد وہ باقی سب رشتے داروں سے ملنے کے لیے حمزہ کے ساتھ نکل کھڑا ہوا تھا۔ کئی لوگوں نے اس کے یہاں آنے کا سن کر دعوت کر ڈالی تھی۔ اور ٹھیک تیسرے دن وہ اس کے سامنے تیار کھڑا ‘ جانے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔
’’تم جا رہے ہو؟‘‘ وہ یوں حیران ہو کر ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی گویا اس کی کہی گئی بات پر یقین نہ آ رہا ہو۔
’’جی….مما‘ میری غیر موجودگی کو بہت مِس کرتی ہیں۔ اور پھر…..جانا تو ہے ہی۔‘‘ اس کی آواز معمولی سے بھی دھیمی ہو گئی تھی۔
’’ہاں …..‘‘ وہ جیسے ایکدم سنبھلی تھی۔
’’حمزہ‘ تمہیں اسٹیشن تک چھوڑ آئے گا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے پلٹی اور بیڈ روم میںجا کر الماری کھولنے لگی اس میں وہ ڈھیر ساری چیزیں تھیں جو اس نے وقتاً فوقتاً اسنعان کے لیے خریدی تھیں۔ اور یہ چیزیں وہ اب اسے دینا چاہتی تھی۔ مگر نجانے کیوں وہ ان چیزوں کو الماری سے نکالنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
’’عفیفہ ‘ اسنعان سے ملتے ہوئے ہمیشہ جذباتی ہو جاتی ہے۔ میں نہیں چاہتی اس کے ذہن پر کوئی برا اثر پڑے۔‘‘
ماضی میں کہا گیا ایک جملہ ساری چیزوں کے سامنے پھن پھیلائے کھڑا تھا۔
’’وہ ایک پر سکون زندگی گزار رہا ہے ۔ ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکو گی تو در حقیقت اسے ہزار دائروں میں الجھا دو گی۔‘‘
’’مما! آ جائیے ‘ اسنعان کو دیر ہو رہی ہے۔‘‘ حمزہ کی آواز آئی تھی۔ اس نے ٹھک سے الماری کے دونوں پٹ بند کیے اور تیز تیز قدموں سے چلتی باہر آ گئی۔
اسنعان اسی کا منتظر تھا ۔
اسے آتے دیکھا تو جھک کر اپنا بیگ اٹھا لیا۔
’’چلتا ہوں اب۔‘‘
’’ہوں….خدا حافظ….اپنا خیال رکھنا۔‘‘ زبردستی مسکراتے ہوئے اس نے اپنے ٹھٹھرتے ہوئے سینے پہ دونوں بازو باندھ لیے تھے۔ پلکوں کو بار بار جھپک کرآنسو پینے کے باوجود کناروں پہ اٹکے ‘ بے رنگ پانی کے قطرے اسنعان کی نگاہوں سے اوجھل نہ رہ سکے تھے۔ وہ ترحم بھری نظروں سے اسے دیکھ کر زیر لب ’’خدا حافظ‘‘ کہہ کر برآمدے کی سیڑھیاں اتر گیا تھا ۔ حمزہ گیٹ کے باہر بائیک پہ بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ گیٹ کی طرف بڑھتا ہوا اسنعان کچھ یاد آنے پر ٹھٹک کر رک گیا تھا ۔ پھر بیگ زمین پر رکھ کرپنجوں کے بل بیٹھ کر بیگ کی زپ کھولنے لگا۔ اس میں سے کوئی چیز نکال کر وہ اس کی طرف پلٹ آیا۔
’’چاچی!‘‘ ان تین دنوں میں اس نے پہلی مرتبہ اسے پکارا تھا۔
’’یہ میںآپ کے لیے لایا تھا ۔‘‘ اس نے پیک کیا ہوا گفٹ اس کی طرف بڑھایا ۔ وہ کچھ لمحوں کے بعد اپنے منجمد ہاتھوں کو حرکت دے سکی تھی۔ گفٹ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے وہ قدرے جھکا اور اس کے ہاتھ کی پشت کو چوم کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا واپس ہو لیا تھا۔ اس کی پتھرائی نگاہیں ‘ اس کا گیٹ سے باہر نکلنے تک تعاقب کرتی رہی تھیں۔ وہ اس وقت تک وہاں کھڑی رہی جب تک بائیک کی آواز سنائی دینا بند نہ ہو گئی تھی۔
’’مما! آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘ اجالا اس کی پیلی ہوتی رنگت سے پریشان ہو کر پوچھ رہی تھی۔
’’مجھے میرے کمرے میں لے چلو…..‘‘ وہ اجالا کا سہارا لیتی اپنے بیڈ پر آ لیٹی تھی۔
’’اسے کھول کر مجھے دکھائو….‘‘ خود میں ہمت نہ پا کر اس نے وہ گفٹ اجالا کی طرف بڑھایا۔
’’وائو…..‘‘ پیکنگ کھولتے ہی بے اختیار وہ چیخی اور پھر گفٹ اس کے سامنے کر دیا۔
تنکوں سے بنا ہوا ایک مصنوعی گھونسلہ تھا ‘ جس پر اصل کا گمان ہوتا تھا ۔ اس گھونسلے کے بیچ ایک چڑیا اپنے تین بچوں سمیت بیٹھی تھی۔ اجالا نے وہ بٹن بھی ڈھونڈ نکالا تھا جسے دبانے پر وہ تینوں بچے چونچیں کھولے ‘ چوں چوں کرتے اپنی ماں کی طرف گردنیں اٹھا کر ہمکنے لگتے تھے۔
’’بھابی کہتی تھیں ‘ عفیفہ ‘ اسنعان سے ملتے ہوئے جذباتی ہو جاتی ہے۔‘‘ اور میں کہتی تھی۔
’’شاید میں کبھی اپنے جذبات پہ قابو پانا سیکھ لوں۔ لیکن اب مجھے لگتا ہے میں ایسا کبھی بھی نہیں کر پائوں گی ۔‘‘ رات گئے اس تحفے پہ نظریں جمائے وہ محب سے کہہ رہی تھی۔
فون پر دوسری طرف موجود محب اس کی آواز میں آنسوئوں کی آمیزش اور نقاہت محسوس کرتے ہوئے پل بھر کے لیے خاموش ہو گیا تھا۔
’’اسنعان آیا تھا ؟‘‘
’’ہاں….‘‘
’’نہا دھو کر تیار ہو جائو۔ وجیہ کی امی کا فون آیا تھا۔ ان تین چار دنوں میں کئی بار تمہارا پوچھ چکی ہیں۔ ان کی طرف جانا ہے ‘ واپسی پر صباحت کو بھی لیتے ہوئے آنا ہے۔ اس کی گاڑی سروس کے لیے گئی ہے۔‘‘
وہ شام چار بجے گھر پہنچا تھا ۔ اور اب ٹھیک سات بجے مما اسے اٹھانے کے لیے آ چکی تھیں۔ وہ چند لمحے یونہی سر جھکا ئے بیٹھا رہا۔ پھر اٹھ کر وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا۔
’’تم نے عفیفہ کو بتایا تھا ‘ اپنی شادی کے متعلق؟‘‘
’’نہیں…..اس سلسلے میں کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔‘‘ وہ باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
’’کوئی بات نہیں‘ میں خود جائوں گی انہیں کارڈ دینے کے لیے۔‘ ‘ وہ تفاخر بھرے لہجے میں کہہ رہی تھیں۔ اسنعان خاموشی سے ان کی بات سن کر نہانے گھس گیا تھا‘ دس گھنٹے کے سفر کی گرد چھڑا کر وہ باہر نکلا تو مما پرس اٹھائے کھڑی تھیں۔
وجیہ کے گھر والوں نے حسب معمول پرجوش انداز میں ان کا استقبال کیا تھا ۔ اس کی ایک ہی سالی تھی۔ وہ بھی نٹ کھٹ اور شریر۔ سارا وقت اس کے سر پہ سوار رہتی ۔ وہ اپنی ہونے والی سسرال میں آنے سے ہمیشہ ہی گھبرایا کرتا تھا ۔ اس کے اپنے گھر کے مقابلے میں اس گھر کا ماحول بے حد خوشگوار اور کشادہ تھا ۔ ہر فرد باتونی‘ خوش مزاج اور ہنس مکھ ‘ وہ جتنی دیر یہاں بیٹھتا ‘ ہر فرد پوچھتا ۔ اور بار بار پوچھتا۔
’’اسنعان بہت چپ چپ ہے۔‘‘
’’کوئی بات کرو نا؟‘‘
’’اسنعان ‘ اتنا کم کیوں بولتا ہے؟‘‘
ایک ہی بات مختلف انداز سے اس طرح دہرائی جاتی تھی ۔ کہ بعض اوقات وہ زچ ہو جاتا ۔ کبھی چڑنے لگتا ۔ اور کبھی اسے بے اختیار ہی ہنسی آ جاتی ۔ لیکن پھر بھی وہ دل میں دعا کرتا تھا ۔
’’یا اللہ! وجیہ ایسی نہ ہو۔‘‘
لیکن وجیہ بالکل ویسی ہی تھی۔ بلکہ ان سب سے دو ہاتھ آگے…..اس کا اندازہ اسے شادی کی پہلی رات ہی ہو گیا تھا ۔ جب اس کا گھونگھٹ الٹے بغیر اس نے منہ دکھائی کا تحفہ اس کے سامنے رکھا ۔ تو اس کی زور دار ہنسی کی آواز پورے کمرے میں پھیلتی چلی گئی تھی۔
وہ جھنجھلا سا گیا تھا ۔
’’سارا وقت تو دوپٹہ سر پر ٹکائے مزے سے مووی بنواتی رہی ہو۔ اب گھونگھٹ کس خوشی میں نکال لیا ہے۔‘‘
اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس نے وجیہ کی غلطی پکڑنی چاہی۔ مگر وہ اس کی طرح جلے بھنے بغیر مدھر ہنسی کا رس اس کے کانوں میں ٹپکاتی رہی تھی۔
اگلی صبح ولیمہ تھا۔
عفیفہ نے وجیہ کو ایک بھاری سونے کا سیٹ اور جڑائو کنگن دیے تھے۔ محب نے گاڑی کے ساتھ پچاس ہزار روپے کا چیک اسنعان کو سلامی میں دیا تو اتنے مہنگے تحفوں پر بڑی بھابی کا منہ بن گیا تھا ۔
بڑے بھیا نے کچھ کہنا چاہا تو محب نے انہیں خاموش کروا دیا تھا ۔
’’ہمیں اپنے فرض سے سبکدوش ہونے دیں بھیا ۔ بھلے وہ آپ کا ہی ہے۔ مگر اس کا ہم پر بھی کچھ حق بنتا ہے۔ ہمیں اپنی خوشی پوری کرنے دیں۔‘‘
ولیمے سے اگلے روز سب مہمان رخصت ہو گئے تھے ۔ اور اسنعان اپنی نئی نویلی دلہن کو لینے سسرال پہنچا تھا۔
وجیہ بالکل اپنے نام کی طرح وجیہ تھی ۔ خوبصورتی اور خوب سیرتی دونوں میں بے مثال۔ ہمہ وقت ہنسنے اور ہنسانے والی ‘ گھومنے پھرنے کی شوقین‘ دھاڑتے رنگوں کے لباس پہنتی تھی ۔ خوش مزاجی کا یہ عالم تھا کہ برتن بھی ہاتھ سے چھوٹ جاتا تو گھنٹوں سوچ سوچ کر ہنستی رہتی تھی۔
چار بہنوں کی شادی کے بعد گھر میں اسنعان کے علاوہ صباحت ‘ مہک اور مما ہی ہوتے تھے۔ اولین دنوں میں گھر کے بجھے بجھے سنجیدہ ماحول میں جب اس کے بلند آہنگ قہقہے گونجتے تو گھر کے سب افراد حیرت بھری نگاہیں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی وجیہ پر جم جاتیں۔
’’صبح ہم لوگ سیر سے واپس آ رہے تھے نا ‘ تو ایک موٹر سائیکل تیزی سے ہمارے پاس سے گزری۔ اتنی تیزی سے کہ اس پر سوار آدمی کے ہاتھ سے دہی کی تھیلی چھوٹ کر ہمارے پاس گر گئی اور وہ خود….‘‘
بتاتے ہوئے اس کی ہنسی ایک بار پھر اسٹارٹ ہو جاتی۔
کبھی کچن سے قہقہے لگاتی آواز باہر آتی۔
’’ہنڈیا بناتے ہوئے امی کا فون سننے گئی تھی۔ مہک نے چمچ ہلاتے ہوئے نمک بھی ڈال دیا ۔ مجھے خبر ہی نہ تھی۔ میں نے ایک اور چمچہ بھر کے ڈال دیا۔
کبھی کرنٹ افئیر جیسے سنجیدہ پروگرام کو سنتے ہوئے اس پہ ہنسی کا دورہ پڑنے لگتا تھا ۔
’’معلوم ہوتا ‘ کمپیئر تو لڑکی ہے ۔‘‘ مہک نے ایک دم سر اٹھا کر کہا۔ حقیقت میں صباحت اس وقت تک چینل بدل چکی تھی۔
اور مہک کی اسی ایک بات پر وہ اتنا ہنسی تھی اتنا ہنسی تھی کہ اس کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا ۔ ایسی حالت میں اس پر نہ مما کی سرد نگاہوں کا اثر ہوتا تھا نہ صباحت کے ماتھے پر نمودار ہوتی تیوریوں کا ۔
اسنعان کی بات البتہ مختلف تھی۔ اس کے لاشعور میں کھل کر ہنسنے اور خوشیوں کے بے ساختہ اظہار کی کوئی خواہش موجود تھی۔ جب ہی تو وجیہ کے یوں ہنسنے پر وہ اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگتا تھا۔
’’کیا ہے اسنعان! اتنے سنجیدہ رہتے ہیںآپ، کبھی تو مجھے بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگنے لگتا ہے ۔ یہ نہ ہو بات ناگوار گزرے تو آپ جھانپڑ دے ماریں یا پھر سر ہی پھوڑ دیں۔ کرسٹل کے اس گلدان سے جو ہر وقت آپ کے سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوتا ہے۔‘‘ اسنعان نے سامنے رکھی فائلوں سے سر اٹھا کر حیران سی نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ فوراً بات بدل گئی ۔
’’چلیں سنجیدہ ہونا تو کوئی بات نہیں۔ مگر بندے کو سننے کو ہی ترس جائیں۔‘‘ وہ اکثر ہی ایسی شکایتیں کرتی نظر آتی تھی۔ مگر آج انداز میں خفگی بھی تھی۔
’’شادی شدہ جوڑوں کے پاس سینکڑوں باتیں ہوتی ہیں۔ اپنی کہتے ہیں ‘ دوسروں کی سنتے ہیں ۔ مگر یہاں تو شادی کے چھ ماہ بعد تک میں مسلسل کہتی جا رہی ہوں۔ آپ کو سننے کی خواہش تو اب حسرت بن کر رہ گئی ہے۔‘‘
’’پہلی بات تو یہ کہ میں جنگلی عادات کا مالک نہیں ہوں۔ تم بلا خوف و خطر مجھے سے ہر بات کہہ سکتی ہو۔ دوسری بات یہ کہ کم گوئی کی عادت سے جان چھڑانا میرے لیے ممکن نہیں۔
ہر انسان میں کچھ نہ کچھ خامیاں ہوتی ہیں نا۔ تو میری اس خامی سے تمہیں سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ وہ فائلیں سمیٹ کر وہاں سے اٹھ گیا تھا ۔
’’لو جی….بات ختم ‘ قصہ تمام….کس پتھر کے صنم سے ناتا جوڑا ہے ۔ ٹھیک ہے صاحب! سمجھوتہ تو ہمیں ہی کرنا پڑے گا۔ سر پھوڑتے رہیں گے ‘ راضی برضا سمجھوتے وہ ہر گز نہیں کر سکتی تھی۔ بظاہر بہت سخت کٹھور اور لیے دیے رہنے والے اسنعان کی حد درجہ نرم مزاجی اسے عجیب کوفت اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیتی تھی۔ اس روز وہ چائے کا خالی کپ اٹھانے اسٹڈی روم میں آئی تو احساس ہوا کہ موصوف جوں کے توں مگن ہیں اور چائے پڑی پڑی ٹھنڈی ہو چکی ہے۔
’’افوہ! اب ایسی مصروفیت بھی کس کام کی کہ بندہ کھانے پینے کا شوق بھی نہ رکھے۔‘‘ وہ چائے سے بھرا کپ اٹھا کر پلٹی۔
’’وجیہ!‘‘ عقب سے پکارا تو وہ مڑ کر دیکھنے لگی۔
’’ادھر آئو….‘‘ وہ اس کے قریب آئی تو اسنعان نے تیزی سے چلتا ہوا قلم روک کر اس کے ہاتھ سے دوبارہ کپ لیا۔ اور ٹھنڈی ٹھار چائے ایک ہی سانس میں پی کر کپ واپس اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
’’اسنعان! یہ کیا کیا ہے آپ نے؟‘‘ وہ چبھتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ وہ دوبارہ قلم ہاتھ میں لے کر مگن انداز میں فائل کھولنے لگا ‘ مگر اس نے ایک جھٹکے سے قلم اس کے ہاتھ سے چھین لیا تھا ۔ اسنعان نے سر اٹھا کر دیکھا ‘ وہ غصہ ضبط کرنے کی کوشش میں سرخ ہوئی جا رہی تھی۔
’’آپ نے ٹھنڈی چائے کیوں پی ہے؟‘‘
’اگر پی لی ہے تو اس میں اتنا خفا ہونے والی کون سی بات ہے؟‘‘ وہ الٹا اسی سے پوچھنے لگا۔
’’خفا ہونے والی بات ہے اسنعان! میں اگر گھر کے ہر فرد کے لیے دن میں کئی مرتبہ کھانا گرم کر سکتی ہوں ‘ وقت بے وقت چائے‘ شربت بنا کر پیش کر سکتی ہوں تو آپ کے لیے ایک کپ چائے گرم نہیں کر سکتی تھی؟‘‘
’’میں نے یہ نہیں کہا کہ تم ایسا نہیں کر سکتیں۔ بس مجھے عادت نہیں دوسروں کو تکلیف دینے کی۔‘‘ وہ بڑے آرام سے کہہ رہا تھا مگر وجیہ جھلس کر رہ گئی۔
’’عادت نہیں ہے تو عادت بنا لیجئے ۔ ایک کپ چائے گرم کرنے یا دوبارہ بنانے میں کوئی گھنٹوں نہیں لگ جاتے۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ زندگی کے ہر معاملے میں آپ نے اپنی ذات کو سب سے آخری مقام دے رکھا ہے ۔ آپ کو ‘‘میں‘‘ یا ’’مجھے‘‘ کی عادت ہی نہیں رہی اور یہ بات مجھے ہر گز پسند نہیں ہے۔‘‘ وہ خفا ہو کر باہر نکل گئی تھی ۔ اسنعان سر جھٹک کر دوبارہ سے فائلوں میں مصروف ہو گیا ۔ مگر بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی تھی۔ چھوٹی موٹی تلخیاں ہر روز کا معمول بن گئی تھیں۔ وجیہ اس کی شخصیت کی گتھیوں میں گویا الجھ کر رہ گئی تھی۔ وہ ایک ایسے ماحول کی پروردہ تھی جہاں سب کی خوشیاں ‘ سب کے غم سانجھے تھے۔ یہاں ہر فرد اپنی تنہائی میں بس آپ ہی گھلتا تھا۔ باقی سب پہ تو اس کا بس نہیں چلتا تھا ۔ ایک اسنعان تھا جس کی پریشانی پر وہ پروانوں کی طرح اس کے گرد چکرانے لگتی تھی۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کوئی مسئلہ ہے کیا؟‘‘
’’کسی سے کوئی جھگڑا ؟ مما یا صباحت باجی سے ناراضی؟‘‘
’’میری کوئی بات بری لگی؟‘‘
’’خفا ہیں….؟ آخر پریشانی کیا ہے ؟‘‘
’’سینکڑوں سوالا ت ‘ بے وجہ کی فکریں ۔ اسنعان اس روّیے کا عادی کہاں تھا ؟ ایک روز جھنجھلا کر چلاّ اٹھا۔
’’کیوں خوامخواہ سر پر سوار ہو ۔ تم میری جان چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟‘‘
وہ ایک لمحے کے لیے سن ہو کر رہ گئی۔ اور اگلے ہی پل دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ اس کے عقب میں دروازہ ایک دھماکے سے بند ہوا تھا ۔ ناراضی کا واضح اظہار ‘ اسنعان سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اور پھر اس پروجیکٹ کا پیپر ورک مکمل کرنے لگا ‘ جس پر سعودیہ سے واپسی پر وہ بابا کے ساتھ مل کر کام شروع کرنا چاہ رہا تھا ‘ رات گئے تک کام کرنے کے بعد وہ بیڈ روم میں داخل ہوا تو وجیہ ابھی تک جاگ رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی رخ بدل لیا۔ آنکھیں بے تحاشا رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی تھیں۔
’’آئی ایم سوری وجیہ!‘‘ بیڈ پہ لیٹتے ہوئے اس نے کہا۔
’’ہم لوگ ان روّیوں کے عادی نہیں ہیں۔ جو تم ہمارے ساتھ برت رہی ہو۔ کبھی میری پریشانی تمہیں تنگ کرنے لگے تو بس اتنا کیا کرو کہ اس لمحے مجھے اکیلا چھوڑ دیا کرو۔‘‘
’’کیسے چھوڑ دیا کروں اکیلا؟‘‘ وہ یک دم اٹھ بیٹھی تھی۔
’’نہیںکر سکتی میں ایسا‘ آپ ان رویوں کے عادی نہیں ہیں تو مجھے بھی اس ماحول کی عادت نہیں ‘ اگر کچھ سمجھوتے میں کر رہی ہوں تو کسی مقام پر آپ بھی مجھے سمجھنے کی کوشش کریں۔ میرے ماں باپ نے مجھے غموں کو بانٹ لینے کی تربیت دی ہے ۔ دوسروں کے دکھوں کا مداوا کرنا سکھایا ہے۔ وہاں تو ایک فرد کی مسکراہٹ پھیکی پڑنے پر گھر بھر اداس ہو جایا کرتا تھا۔ ایک آنکھ کا آنسو ساری آنکھیں نم کر دیتا تھا ۔ میرے ماں باپ نے تو مجھ سے کہا تھا تمہارے گھر کا ہر مسئلہ تمہارا اپنا مسئلہ ہو گا۔ خواہ وہ کسی بھی فرد کے ساتھ پیش آئے ۔ اور آپ کہتے ہیں‘ آپ ان رویوں کے عادی نہیں۔‘‘ اس کی آواز بھیگ گئی تھی۔
’’مجھ سے پوچھیے…..میں اس گھٹے ہوئے ماحول میںکیسے زندگی گزار رہی ہوں۔ ہر کوئی الگ تھلگ اپنی زندگی جی رہا ہے‘ کسی کو کسی کی محبتوں سے کوئی غرض نہیں۔ ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس مٹ چکا ہے۔ وہ پریشان ہے ‘ اسے مت چھیڑو ‘ وہ خفا ہے اسے اس کے حال پہ چھوڑ دو ‘ اسے یہ کھانا نا پسند ہے ۔ بھوک لگے تو تو خود ہی کھا لے گا ۔ یہ سب ہوتا ہے ‘ اس گھر میں۔‘‘ وہ اب کھل کر رو رہی تھی۔
’’یہاں کسی کو نہیں معلوم کہ خفا ہونے والے کو منایا جا سکتا ہے۔ دکھی کو ہنسانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ پریشانی کو حل کیا جا سکتا ہے۔ نا پسندیدہ چیز کا متبادل کوئی پسندیدہ چیز بھی ہو سکتی ہے‘ لیکن….‘‘ وہ گھٹنوں میں منہ دے کر سسکنے لگی تھی۔
’تم ابھی سے گھبرا گئی ہو ۔ میں نے تو ایک عمر گزاری ہے اسی ماحول میں ۔ ‘‘ وہ اس کی سسکیوں کو سنتے ہوئے سوچ رہا تھا۔
’’وہ بہت عجیب شخص ہے ماریہ! میں کوشش کے باوجود ابھی تک اسے سمجھ نہیں پائی ہوں۔ خفگی‘ ناراضی ‘ جھنجھلاہٹ ‘ بیزاری ‘ خوشی ‘ مسرت ‘ طمانیت ‘ کچھ بھی تو اس کے چہرے سے عیاں نہیں ہوتا۔
معلوم نہیں اس کے جذبات سرد پڑ گئے ہیں یا پھر وہ انہیں چھپانے میں اتنی مہارت رکھتا ہے کہ اگلا بندہ اس کی اندرونی کیفیت تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ میرے حقوق و فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتتا ہے۔ لیکن یہ سب کرنے میں کوئی محبت ‘ کوئی خلوص چاہت بھی نظر نہیں آتی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے وہ میرے ساتھ بھی کسی آفس فائل جیسا سلوک کر رہا ہے۔ بلکہ صرف میرے ساتھ ہی کیوں‘ وہ تو اپنے ساتھ بھی ایسا سلوک روا رکھتا ہے کہ میرا خون کھولنے لگتا ہے بسا اوقات۔
چائے ٹھنڈی ہے تو گرم کرنے کی زحمت نہیں کرے گا۔ کھانے میں نمک زیادہ ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
وہ دن بھر کا تھکا ہوا واپس آئے اور مما ان ہی قدموں‘ کسی کام سے واپس لوٹا دیں تو اس کے منہ سے اپنے لیے ایک لفظ تک نہیں نکلے گا۔ بہت ہوا کبھی ‘ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ بہت زیادہ چڑ جائے تو ایک دم چلّا اٹھتا ہے۔ یہ سب ایک نارمل انسان کی عادات تو نہیں ہیں نا….؟ ‘‘وہ تھکے تھکے سے لہجے میں اپنی الجھن اپنی بہن سے کہہ رہی تھی۔
’’تم بڑے بھائی سے کیوں نہیں کہتی ہو یہ سب…..ہو سکتا ہے وہ اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد کر سکیں۔‘‘ ماریہ نے مشورہ دیا ۔ بڑے بھائی سائیکا ٹرسٹ تھے۔
’’ہوں…..کوئی نہ کوئی گرہ ہے تو ضرور….خیر تھوڑی بہت نفسیات تو میں نے بھی پڑھ رکھی ہے۔ ذرا اسے آزما لوں ‘ خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا تو پھر بھائی سے مشورہ لوں گی۔‘‘
اور ان ہی دنوں جب وہ اس کی ذات کے بارے میں بہت متجسّس ہو رہی تھی ‘ اسے معلوم ہوا وہ مما اور بابا کا حقیقی بیٹا نہیں ہے۔ یہ بات اسے ایک ڈائری سے معلوم ہوئی تھی ‘ جسے کبھی لڑکپن میں اسنعان نے اپنی تنہائی کا ساتھی بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس ڈائری کے بیشتر صفحات خالی تھے۔
وجیہ کمرے سے باہر نکلی تو دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ قدرے چونک سا گیا تھا ۔ اپنے کام میں منہمک وہ بہت دیر سے اسے اس کمرے میں ادھر سے ادھر چکراتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔اور وہ منتظر تھا کہ ابھی وہ اس سے کوئی بات کرے گی مگر وجیہ خلاف توقع اس سے مخاطب ہوئے بغیر کمرے سے باہر چلی گئی۔ یہ بات حیران کن اسی لیے تھی کہ خلاف معمول تھی۔ کچھ ماہ قبل وہ بہت دنوں بعد اسے اپنے اصل رنگوں میں نظر آئی تھی۔ گلابوں کا گلدستہ اس کے ہاتھ میں تھماتے اور بے تحاشا ہنستے ہوئے اس نے اسنعان کو خوشخبری سنائی تھی۔ کہ وہ باپ بننے والا ہے۔ اور وہ اس کے شرم سے گلنار ہوتے چہرے کو دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا ۔ وہ اسے ایک انوکھی خوشی دینے جا رہی تھی۔ اس لمحے وجیہ‘ اسنعان کو اس دنیا کی سب سے حسین عورت دکھائی دی۔
’’لیکن اب کیا پوچھتا کہ وہ چند دنوں سے بہت مضمحل ‘ بہت اداس دکھائی دینے لگی تھی۔ نہ پہلے کی طرح اس کے قہقہے گھر میں گونجتے تھے۔ نہ وہ ہنستی کھیلتی اس کے آگے پیچھے پھرا کرتی تھی۔ اسنعان نے کھڑکی کا پردہ سرکا دیا۔
وہ ٹیرس کی گرل پہ جھکی ہوئی بوگن ویلیا کے کاسنی پھول نوچ نوچ کر مسل رہی تھی۔ نگاہیں کسی غیر مرئی نقطے پر جمی تھیں۔ یوںجیسے کوئی بہت گہری سوچ اسے لے ڈوبی ہو۔
وہ اپنے حلیے سے بھی قدرے بے نیاز ہو گئی تھی ۔ اس سے پہلے ہمیشہ نک سک سے تیار ملتی تھی۔ سوٹ کے ہم رنگ چپلیں۔ چوڑیاں ‘ جیولری۔
اور اب دوپٹہ بھی سوٹ سے میچ نہیں کر رہا تھا ۔
’’کیا چیز پریشان کر رہی ہے اسے۔‘‘ اس نے بے اختیار ہی کھڑکی کا پٹ کھول کر اسے پکارا۔
’’یہاں آئو‘ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔‘‘
کھڑکی بند کرتے ہوئے وہ حیران ہو کر ذرا سا مسکرایا۔ وہ اس کی پریشانی شیئر کرنا چاہ رہا تھا۔
’’مجھے لگتا ہے ‘ تم مجھے اپنے رنگ میں رنگ ہی لو گی۔‘‘
وجیہ ستا چہرے لیے کمرے میں آ گئی تھی۔
’’بیٹھو…..‘‘ بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے اپنی کرسی کا رخ موڑ کر اس کی طرف سیدھا کیا۔
’’تم آج کل کچھ پریشان ہو…..؟‘‘ اس کی سوالیہ نظروں کے جواب میں اس نے براہ راست پوچھا۔
’’نہیں….‘‘ اس نے بڑے اعتماد سے نفی میں سر ہلا دیا ۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہا ۔ ’’بانٹ‘ ‘ لینے کا ہنر بھی پوری طرح نہیں آیا تھا اسے۔
’’اگر کوئی مسئلہ ہے تو تم مجھے بتا سکتی ہو۔‘‘
’’کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ بس ایک معاملے میںآپ کی اجازت درکار ہے ۔‘‘ وہ کافی سنجیدہ نظر آ رہی تھی۔
’’کس معاملے میں….؟‘‘
’’آپ صبوحی کو جانتے ہیں نا …..میرے چچا کی بیٹی۔‘‘
’’وہی جو والدین کی وفات کے بعد تم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی۔‘‘ اسنعان اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ مگر اس کا یہاں ذکر ….وہ نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھنے لگا۔
’’اس کی شادی کو چھ برس ہو گئے ہیں۔ اور…..ابھی تک اس کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔‘‘ وہ سر جھکائے بتا رہی تھی۔
’’پھر…..؟‘‘
’’پھر یہ کہ….‘‘ وہ ہلکا سا کھنکھاری ‘ چند لمحے کی خاموشی اسنعان کو وحشت میں مبتلا کر گئی تھی۔
’’میں سوچ رہی تھی۔ کہ اگر ہم ‘ میرا مطلب ہے اگر آپ راضی ہوں تو ہم اپنا بچہ۔‘‘
بات کرتے کرتے اس نے نگاہ اٹھائی تو مزید کچھ نہ بول سکی تھی۔ لب بھینچے ‘ سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے وہ وجیہ کو اس طرح گھوررہا تھا کہ اس نے خاموش ہونے میں ہی عافیت جانی تھی۔
’’کیااس بچے کا وجود اس قدر ان چاہا ہے کہ اس دنیا میںآنے سے قبل ہی تم اسے کسی اور کو سونپ دینے کا سوچ رہی ہو۔‘‘ اس کا لہجہ آگ برسا رہا تھا ۔
’’ایسی بات نہیں ہے۔ لیکن مجھ….سے ان کا دکھ دیکھا نہیں جاتا۔ اس محرومی نے انہیں کس طرح اکیلا کر دیا ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہیں وہ نفسیاتی مریضہ ہی نہ بن جائیں۔
’’انہیں نفسیاتی مریضہ بننے سے بچانے کے لیے تم اپنے بچے کو نفسیاتی مریض بنانا پسند کرو گی؟
بولو…..؟ کیا تم چاہو گی کہ ایک اور اسنعان۔‘‘ غصے سے چلّاتے ہوئے وہ ایک دم خاموش ہو گیا تھا ۔ پھر جیسے بہت ضبط کرنے کے بعد وہ بولا تھا ۔
’’ان کی محرومی دور کرنے کا یہ ہی ایک طریقہ نہیں ہے ۔ یتیم خانے بھرے ہوئے ہیں ‘ ہزاروں بچوں سے ۔ اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ ان کی محرومی کا ازالہ کر کے وہ اپنی عاقبت بھی سنوار سکتی ہیں۔ تمہیں اس کے لیے میرا بچہ قربان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بے لچک انداز میں کہہ کر اس نے کرسی کا رخ میز کی طرف کیا اور دوبارہ کام کی طرف کیا اور دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہونے لگا۔گفتگو کو اس موڑ پہ چھوڑنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس لیے ہمت کر کے دوبارہ بول اٹھی تھی۔
’’اس میں قربانی کی کیا بات ہے ‘ اسنعان ‘ آخر آپ بھی تو……‘‘
’’ہاں…..میں بھی…..اسی لیے کہہ رہا ہوں میں نہیں چاہتا۔ میرا بچہ ویسی زندگی جیے‘ جیسی میں جیا ہوں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں کرب کا سایہ سا لہرا گیا تھا۔
’’کیا ہوا ہے آپ کی زندگی کو…..اچھی بھلی کامیاب…..‘‘ وہ اس کی دکھتی رگ کی طرف دانستہ ہاتھ بڑھا رہی تھی۔
’’اسٹاپ اٹ وجیہ! ‘‘ وہ ایکدم گرج اٹھا تھا۔
’’مجھے ڈسکس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں تم سے کہہ رہا ہوں ایسا ہر گز ‘ ہرگز نہیں ہو گا۔‘‘ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔ وجیہ کو قدرے خوشی کا احساس ہوا تھا اسے اس حالت میں دیکھ کر ۔
’’دیکھو وجیہ!‘‘ وہ اٹھ کر اس کے پاس چلا آیا تھا۔
’’یہ بچہ اللہ تمہیں اور مجھے دے رہا ہے۔ اس کے حقوق و فرائض کی ادائیگی اس کی پرورش کا ذمہ وہ ہمیں دے رہا ہے۔ تم کیوں اس سے جان چھڑا لینا چاہتی ہو۔‘‘ اسے غالباً وجیہ کی سنگ دلی پہ دکھ ہو رہا تھا۔
’’میں بھلا کیوں جان چھڑانے لگی اسنعان! اللہ ہمیں اور دے گا۔ آپ اس انداز سے مت سوچیں۔‘‘ وہ دانستہ بات بڑھا رہی تھی۔
’’میں اسی انداز میں سوچوں گا وجیہ! میری ایک بات غور سے سن لو۔ اللہ کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی کو نہ دے کر ‘ اس سے صبوحی کو اولاد جیسے نعمت سے محروم رکھا ہے تو ہو سکتا ہے اس سے بھی ان کی آزمائش مقصود ہو۔ تم خود کو نعوذباللہ اللہ سے زیادہ انصاف پسند سمجھنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ بچہ اللہ نے ہمیں دیا ہے ۔ اور اس کی ذمہ داری میں ہی قبول کروں گا۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘
وہ قطعی انداز میںکہتے ہوئے اٹھ گیا تھا۔ وجیہ نے آج کے لیے اتنا ہی کافی سمجھتے ہوئے چپ سادھ لی تھی۔
مثال برگ خزاں زندگی جیا ہوں میں
ہوا ذرا سی چلی اور بکھر گیا ہوں میں
میرے بد ن میں یہ بہتا لہو سنہرا ہے
رگوں سے پور تک زردی نہا گیا ہوں میں
وجیہ کہتی ہے۔ دس روٹیوں میں کسی کو دیا تو کیا دیا؟ اور کسی کی بھوک کا احساس کرتے ہوئے آپ وہ ایک روٹی بھی دان کر دیں۔‘‘
’’اور میںکہتا ہوں‘ روٹیوں میں اور بچوں میں فرق ہوتا ہے۔ اولاد بانٹنے کی چیز نہیںہوتی کہ اس کی گود خالی دیکھی تو اس میں ڈال دی ‘ اُس کو بلکتے دیکھا تو اس کے حوالے کر دیا۔
سخاوت اور دریا دلی کے تمغے حاصل کرنے کے لیے ‘ اپنے اعمال میں ایک ثواب ایک نیکی لکھوانے کی خاطر ہم اپنے بچوں کو کیوں استعمال کرتے ہیں۔‘‘ کروٹیں بدل بدل کر وہ تھک گیا تو اٹھ کر لائونج میں چلا آیا ۔ گلاس وال سے پرے رات کے اس پہر تاریکی ایک دبیز چادر کی طرح لان کی گھاس پر بچھی تھی۔ وہ ننگے پیر چلتا ہوا لائونج سے باہر آ گیا تھا ۔ دروازہ کھلنے پر فضا کی خنکی نے یکلخت ہی اپنے دونوں ہاتھ شرارت سے اس کے چہرے پر رکھ دیے تھے مگر وہ اس پل بہت بے چین تھا ۔ نم آلود ٹھنڈک کو محسوس کرنے کے باوجود وہ لان میں چلا آیا تھا۔
’’پر خلوص محبتوں کے بیچ احسان ‘ مصلحت ‘ قربانی کی روایت ہمارے معاشرے میں نئی نہیں‘ گئے وقتوں میں ایک قربانی مجھے جنم دینے والوں نے بھی دی تھی۔ کیوں؟
میں آج تک سمجھ نہیں پایا۔
مجھے جنم دینے والوں نے اللہ کے فیصلے سے منکر ہو کر مجھے ایسے ماں باپ کے حوالے کیا، جنہیں اللہ بیٹے کی نعمت سے نوازنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ چھ بیٹیوں کے بعد بیٹے کا پیدا ہو کر مر جانا اور کیا معنی رکھتا ہو گا ۔ اللہ کے اس فیصلے میں ہزار مصلحتیں ہوں گی ‘ جنہیں اس وقت کسی نے جاننے ‘ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ اور جو آج بخوبی میری سمجھ میں آ رہی ہیں۔
اس گھر کی چھ بیٹیاں تھیں۔ اور چھ کی چھ مضبوط دل و دماغ کی مالک ‘ مضبوط اعصاب بلند حوصلگی‘ مردانہ جرأت ‘ بے پناہ اعتماد ‘ ٹھوس خیالات ‘ سے مالا مال ‘ اپنی راہ آپ بنانے والی ۔ دو ٹوک فیصلہ کرنے والی ‘ میں نے کبھی انہیں عام لڑکیوں کی طرح معمولی باتوں پر روتے بسورتے نہیں دیکھا تھا۔ ہر وہ کام جس کے لیے لڑکیاں باپ ‘ بھائیوں کے سہارے ڈھونڈا کرتی ہیں‘ انہوں نے بخوبی خود انجام دیے۔ انہیں کسی ’’بھائی نما‘‘ سہارے کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ اور اگر مجھے کوئی ایسا سہارا بنانے کے لیے لایا بھی گیا تھا تو یہ سب لوگوں کی غلط فہمی تھی۔ اس گھر کی سب سے چھوٹی بھی اس وقت بحیثیت لیکچرار کالج جوائن کر چکی تھی جب میں نے کالج میں اپنا پہلا قدم رکھا تھا۔
اور اگر مما ‘ بابا کو اپنے بڑھاپے کے لیے کوئی سہارا درکار تھا تو پھر میں ہی کیوں؟ باجی صباحت کیوں نہیں جو اپنا کلینک کامیابی سے چلاتے ہوئے کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو ان کے ساتھ اسی گھر میں رہ سکے۔
یا پھر محب چاچو کیوں نہیں ‘ جو کہتے تھے ۔ بڑے بھیا نے مجھے بچوں کی طرح پالا ہے۔ اپنا حق خود ادا کرنے کے بجائے انہوں نے مجھے کیوں اس کام کے لیے منتخب کیا؟
مما‘ بابا بیٹیوں کی شادی کے بعد چاچو ‘ چاچی کے پاس چلے جاتے تو وہ ان کو اتنا محترم نہ جانتے جتنا آج سمجھتے ہیں…..یہ سب کچھ کسی اور طرح سے بھی ہو سکتا تھا مگر یہ نصیب….‘‘ وہ خود سے الجھتے الجھتے تھک سا گیا تھا۔ ٹانگیں چلتے چلتے سن ہونے لگیں۔ تب وہ سنگی بینچ پر آ بیٹھا تھا۔
بینچ سے ٹیک لگا کر وہ آسمان کو دیکھنے لگا۔
آدھا چاند آسمان کے عین وسط میں گڑا ہوا تھا۔
’’ہونہہ ‘ ادھورا چاند…..ادھوری روشنی ….ادھوری زندگی ….‘‘ وہ زیر لب بڑبڑایا۔ عقب میں ہلکی سی آہٹ ہوئی اور وجیہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی بالکل چپ چاپ اور خاموش ۔
’’بیٹھو….!‘‘ اس نے ذرا سا کھسک کر اپنے برابر جگہ بنائی۔
’’اسنعان ! آپ کو میری بات سے دکھ پہنچا ہے۔ وہ ہلکی سی چاندنی میں اس کا غمگین چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ’’تم نہیں جانتی ہو ‘ ان چوبیس سالوں میں کس کس چیز کے لیے ترسا ہوں۔ ایک وہ عورت تھی۔ جس نے مجھے جنم دیا تھا ۔ وہ محبتوں سے گندھی ہوئی عورت تھی ‘ جسے دیکھ کر سب سے پہلا تصّور ماں کا آتا تھا ۔ وہ اپنے بچوں پر جان چھڑکتی تھی۔ اس کی محبت ‘ اس کے ہاتھ سے بنے ہوئے کھانوں میں ذائقہ بھر دیتی تھی ۔ حمزہ کے کرتوں پہ کاڑھے پھولوں سے اس کی ممتا کی خوشبو آتی تھی۔ اجالا اس کی سی گئی فراکین پہن کر تتلیوں کی طرح اڑا کرتی تھی۔ اور میں…..میں اس عورت کو دور سے دیکھا کرتا تھا ۔ وہ مجھے اپنی طرف بلاتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔‘‘
اس کی آواز میں بے قراری سی در آئی تھی۔
’’میں اس کے سامنے جاتا تو اس کی آنکھیں چمک سے بھر جاتی تھیں۔ میں اسے آزمانے کے لیے ادھڑی ہوئی اون کو الجھا کر رکھ دیتا ۔ اس کے کمرے میںجا کر دانستہ کوئی چیز گرا دیتا۔ کبھی کبھار چُن کر رکھے گئے چاولوں میں کنکر ڈال دیتا۔ مگر اس کی آنکھوں نے کبھی مجھے سختی سے نہیں دیکھا تھا ۔ اس کے لبوں سے مسکراہٹ جدا نہ ہوتی تھی۔ الجھی ہوئی اون ٹوٹی ہوئی چیزیں چھوٹے ‘ بڑے کنکر وہ سب سمیٹ کر اپنی ہتھیلیوں میں بند کر لیتی تھی۔‘‘
’’دوسری طرف وہ عورت تھی ‘ جسے میری ماں بنا دیا گیا تھا۔ شوہر کی عدم موجودگی میں اپنی چھ بیٹیوں کی حفاظت اور تربیت کے خیال نے اس کے دل میں جو سختی بھر دی تھی میں نے اس میں سے اپنا پورا پورا حصہ وصول کیا تھا ‘ میری چھ باجیوں نے اپنی ‘ اپنی تربیت کے سارے اصول ‘ سارے گُر مجھ پر آزمائے تھے۔ مجھے کیا کرنا ہے ۔ کیا نہیں ‘ کون سی چیز میرے لیے بہتر ہے ‘ کون سا رستہ میرے لیے مناسب ہے۔ اس کا فیصلہ کرنے والے بہت سے لوگ موجود تھے۔
میری خواہشات ‘ میری اپنی آرزوئیں ۔میرے اپنے خواب۔ سب کے سب یہاں دفن ہیں۔ میرے دل میں۔ مجھے لگتا ہے میں صرف دوسروں کے لیے بنا ہوں اور مجھے صرف دوسروں کے لیے ہی جینا ہے ۔ اور تمہیں خبر ہے وجیہ‘ میں نے سوچا تھا میں اپنے بچوں کو اس بیگانگی بھرے ماحول سے بہت دور رکھوں گا۔
انہیں وہ سب کچھ دوں گا۔ جو مجھے نہیں مل سکا۔ لیکن تم…..تم پہلے موقع پر ہی۔‘‘
وجیہ سر جھکائے بیٹھی رہی تھی۔
’’میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا بچہ اس گھٹے ہوئے ماحول میں جیے۔ آدھی پونی محبتیں کسی کام کی نہیں ہوتیں۔تمہارا خیال ہے ‘ صبوحی اس بچے کو ہم سے زیادہ محبت دے سکتی ہے۔؟‘‘
’’آپ کی لاتعلقی ‘ آپ کی بیگانگی میں تو سہہ سکتی ہوںمگر یہ بچہ برداشت نہیںکر سکے گا۔‘‘ اس کے جتانے پر وہ گھڑی بھر کے لیے خاموش رہ گیا تھا۔
’’آپ نے ہمیشہ اپنی سگی ماں کو آئیڈلائز کیا ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ اپنی محبت کو دوسروں کا حق جان کر انہیںدیتی تھیں۔ اپنا پیار بے دریغ لٹاتی تھیں۔ اور میں آپ کو بتائوں اسنعان کہ ایک بچہ محبتوں کے اس وسیع خزانے کو سمیٹ کر ہی ایک اچھا ‘ بھرپور اور مکمل انسان بنتا ہے۔ بجھی بجھی محبتیں ذہن و دل کو جکڑ لیتی ہیں۔ پیار بھرے خلوص کا واضح اور بے ساختہ اظہار اس قدرتی بارش کی طرح ہوتا ہے جس کی پھوار میں بھیگنے والا پودا بہت سر سبز شاداب اور کھلتے ہوئے رنگوں کا ہوتا ہے۔‘‘
’’میں خود کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں وجیہ تمہارا ساتھ رہا تو انشاء اللہ تم مجھے ایک بدلا ہوا انسان پائو گی۔ ہاں ! اس میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ اور تم دیکھ لینا ۔ ہمارا بچہ ‘ ہماری محبتوں اور شفقتوں میں اس طرح پروان چڑھے گا کہ اس کا ہر رنگ بہار کے اولین دنوں میں کھلنے والے پھولوں کی طرح گہرا اور شوخ ہو گا۔‘‘
رات کے آخری پہر میں جب خالق ِکائنات آسمان سے زمین تک نور کی ایک لکیر کھینچ رہا تھا ۔ اوس میں بھیگی گھاس پر چلتے ہوئے وہ اپنے آنگن میں کھیلنے والے پھولوں کی تروتازہ سی مہک ابھی سے محسوس کر رہے تھے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close