تراشتا ہے سفر

تراشتا ہے سفر حصہ ۱

بلیک جینز، وائٹ کلر کی ڈھیلی ڈھالی شرٹ اور اس پر بلیک کارڈیگن پہن کر میں نے اسکارف گلے میں ڈالا تھا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔ سیڑھیاں اُترتے ہوئے جونہی میری نظر موبائل پر باتیں کرتی مما اور ان کے ساتھ شام کے اخبار میں منہمک احتشام احمد پر پڑی تو میرا موڈ بری طرح بگڑ گیا تھا۔
’کیا ضروری تھا کہ یہ دونوں اس وقت یہاں موجود ہوتے؟‘ میں نے تلخی سے سوچا تھا اور پھر ان دونوں کو مکمل نظرانداز کر کے میں نے بیرونی دروازے کا رخ کیا تھا۔
’’شانزے بیٹا! کہاں جا رہی ہو اس وقت؟‘‘
وہی شہد کی مانند میٹھا، نرم لہجہ تھا مگر میرے جسم میں چنگاریاں سی پھوٹنے لگی تھیں۔ میں سنی ان سنی کرتے ہوئے سر جھٹک کر آگے بڑھی تھی۔
’’شانزے! میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔‘‘ احتشام احمد کی قدرے بلند آواز نے مجھے ٹھٹکنے پر مجبور کیا تھا۔
’’مگر میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ میں نے پلٹ کر زہرخند لہجے میں کہا تو ایک لمحے کے لئے ان کے چہرے پر سرخی سی دوڑ گئی مگر وہ ضبط کے ہنر سے بخوبی واقف تھے اسی لئے اگلے ہی لمحے وہ بالکل نارمل ہو گئے تھے۔ البتہ مما کے چہرے پر ناگواری کے شدید تاثرات اُبھر آئے تھے۔
’’واٹ نان سینس شان! یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟‘‘ انہوں نے موبائل آف کر کے سائیڈ ٹیبل پر پٹخا۔ ’’احتشام احمد تمہارے باپ کی جگہ ہیں۔‘‘ ان کا تنبیہی انداز میں کہا گیا جملہ تیر کی طرح میرے دل میں پیوست ہو گیا تھا۔
’’مما پلیز!‘‘ میں ایک دم چیخ اٹھی تھی۔ ’’میں ہزار بار آپ سے کہہ چکی ہوں کہ یہ شخص آپ کے ہزبینڈ کے خانے میں تو فٹ ہو سکتا ہے مگر میرے باپ کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا۔‘‘ ان کا کہا گیا ایک جملہ ہی جیسے مجھے بھٹی میں جھونک گیا تھا۔ اپنی بات کہہ کر میں رکی نہیں تھی بلکہ اپنے پیچھے پوری قوت سے دروازہ بند کرتے ہوئے میں باہر نکل آئی تھی اور معلوم نہیں ایسے کسی بھی موقع پر اتنا زورآور، اتنا ڈھیروں ڈھیر غصہ میرے دل میں کہاں سے امڈ کر آتا تھا۔ اس وقت بھی میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں لان میں کھلے رنگ برنگے پھولوں کی پتیاں نوچ ڈالوں یا قطار در قطار رکھے گئے گملوں کو اپنی ٹھوکروں سے تہس نہس کر دوں۔
اس دیوانگی کی حالت میں جب میں گاڑی لے کر نکلی تو مجھے خود معلوم نہ تھا کہ میں کہاں جا رہی ہوں اور جب ایک طویل، سنسان سڑک پر گاڑی دوڑاتے ہوئے میں تھک گئی تو بے اختیار ہی میرا پائوں بریک پر جا پڑا۔
’’اوہ میرے خدا!‘‘ میں نے تھک کر دونوں ہاتھ اپنی گود میں گرا لئے اور سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی بہت بڑے محاذ پر لڑتے لڑتے میں نڈھال ہو کر رہ گئی ہوں۔
’ہاں۔۔۔۔۔۔ شاید یہ جنگ ہی تو ہے جس میں تنہا لڑتے لڑتے میں خود سے بھی جدا ہوتی جا رہی ہوں۔ اور کیا یہ ضروری ہے کہ میں اس موقعے پر کمپرومائز کر کے مما کو مکمل طور پر ’’فاتح‘‘ قرار دے دوں؟‘ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا۔
’نہیں۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں۔‘ پاپا کا ہارا ہوا وجود میری نظروں کے سامنے آ گیا۔
’کاش۔۔۔۔۔ کاش پاپا! آپ میرے سامنے ہوتے تو میں ایک بار آپ سے ضرور پوچھتی کہ آپ نے اتنی جلدی زندگی کیسے ہار دی؟ تھوڑی جدوجہد تو کرتے۔ پھر دیکھتے آپ کی شانزے آپ کے لئے کیا کرتی۔ مگر آپ نے تو اپنی نائو میں سوراخ ہوتے دیکھ کر پتوار ہی پھینک دیئے۔ ذرا مڑ کر دیکھئے تو سہی۔۔۔۔۔۔ آپ کی شانزے اپنے دونوں ہاتھ آپ کی طرف بڑھائے، آپ کو سہارا دینے کے لئے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر پاپا! آپ نے دیکھا ہی نہیں۔‘ میرے وجود میں سارا غم و غصہ، ساری تلخی گرم سیال کی صورت میری آنکھوں سے بہہ نکلی تھی۔
’اور مجھے لگتا ہے پاپا جانچ میں آج بھی آپ کو سہارا دینے کے لئے، اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے دریائے کنارے کھڑی ہوں۔‘
’’ٹھک، ٹھک۔‘‘ مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی گاڑی کا شیشہ بجا رہا ہے۔ بمشکل میں نے اپنی جلتی آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا، میرے آنکھیں کھولتے ہی ایک دم سیدھا ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ میں اس کی شکل بھی ٹھیک طرح سے نہیں دیکھ پائی تھی۔
’’باہر آیئے۔‘‘ گاڑی کا دروازہ کھولے وہ بہت سادہ سے انداز میں کہہ رہا تھا۔
’’کون ہے؟ کیا کرنے والا ہے؟‘‘ میں ششدر سی بیٹھی رہ گئی۔
’’محترمہ! میں آپ سے کہہ رہا ہوں باہر تشریف لے آیئے۔‘‘ خاصے مہذبانہ انداز میں کہا گیا تھا۔ میں حیران پریشان سی کھلے دروازے سے باہر آ گئی۔
’’آنسو پونچھ لیجئے۔‘‘ اس نے برائون کلر کا رومال میری طرف بڑھایا تھا اور میں اس اچانک صورتِ حال پر اس طرح شرمندہ ہوئی تھی کہ بے ساختہ ہی اس کی طرف سے رخ موڑ کر اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرنے لگی تھی۔ اس نے کندھے اچکا کر رومال دوبارہ جیب میں رکھ لیا۔
’’میں نے زندگی میں بڑی طویل جدوجہد کی ہے اور اس جدوجہد میں سب سے بیکار چیز ان آنسوئوں کو پایا ہے۔‘‘ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں گھسائے وہ شخص بڑے اطمینان سے کہہ رہا تھا۔
’’اگر کوئی دکھ آپ کے دل میں جاگزیں ہو گیا ہے تو سمجھیں یہ آنسو دکھوں کی فصل پر بارش کا کام دیں گے۔ اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو اتنا ڈھیر سارا رو لینے کے بعد آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ وہ مسئلہ جوں کا توں اپنی جگہ پر موجود ہے۔۔۔۔۔۔ تو جب یہ آنسو ہمارے کسی کام نہیں آ سکتے تو کیوں نہ ہم ان کی جگہ کچھ نیا سوچیں۔‘‘
اس نے اپنی بات مکمل کر کے میرے چہرے کے تاثرات جانچنے کی کوشش کی اور یقینا اسے کوئی رسپانس نہیںملا تھا۔ اسی لئے اس نے تاسف سے سر ہلایا تھا۔
’’یہ کارڈ رکھئے۔‘‘ اس نے جیسے زبردستی اپنا کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا تھا۔ ’’کبھی فرصت ملے تو یہاں ضرور آیئے گا۔ زندگی بہت ہنستی کھلکھلاتی ملے گی آپ کو۔‘‘
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا پلٹ گیا تو میں نے اتنی دیر سے جھکی ہوئی پلکیں اٹھائیں۔ وہ بہت دراز قامت شخص تھا۔ عجلت میں اپنی کار کا دروازہ کھول کر وہ اس میں بیٹھا تھا اور زن سے گاڑی لے اُڑا تھا۔ میں صرف اس کے گھونگھریالے بال اور چوڑی پشت ہی دیکھ پائی تھی۔ سخت جھنجلا کر میں نے ہاتھ میں پکڑا وزیٹنگ کارڈ بغیر پڑھے ڈیش بورڈ پر اُچھال دیا تھا۔
’تف ہے مجھ پر۔ کیا اب میں اسی قابل رہ گئی ہوں کہ سڑک پر آتا جاتا ہر ایرا غیرا مجھے زندگی گزارنے کے اصول پڑھانے لگے۔‘ خود پر بری طرح برستے ہوئے میں نے گاڑی واپسی کے لئے اسٹارٹ کی تھی۔
///
’’میری سمجھ میں نہیں آتا شانزے! آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے؟‘‘ ونیزہ سخت جھنجلائی ہوئی تھی۔ میں چپ چاپ راستے میں آتی چھوٹی چھوٹی کنکریوں کو جوگرز کی مدد سے دور دور تک پھینکتی رہی۔
’’کتنے دن ہو گئے ہیں تمہیں یونیورسٹی سے غیر حاضر ہوئے۔ آج اگر مارے باندھے آ ہی گئی ہو تو تم نے ڈھنگ سے کوئی کلاس اٹینڈ نہیں کی اور ابھی پروفیسر بشیر احمد ارشد کی کلاس میں تم نے کس طرح مس بی ہیو کیا تھا۔ اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ایک منٹ میں تمہاری انسلٹ کر کے کلاس سے باہر نکال دیتا۔‘‘
میں نے اکتا کر اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا۔
’’کیوں اتنی گرمی کھا رہی ہو؟ آخر ایسا کیا کر دیا میں نے؟‘‘
’’واٹ؟ ابھی تم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ ان کے پورے لیکچر کے دوران تم اپنی پنسل اور نوٹ بُک سے کھیلتی رہی رہی ہو۔ تین مرتبہ انہوں نے تمہیں پکارا تھا اور اگر میرے متوجہ کرنے پر تم حواسوں میں آ ہی گئی تھیں تو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ ’’سر! میں نے آپ کا لیکچر سنا ہی نہیں۔‘‘ یعنی کہ حد ہو گئی۔‘‘ کیفے ٹیریا میں پہنچ کر اس نے فائل میز پہ پٹخی اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ سینڈوچ اور چائے کا آرڈر دے کر میں بھی اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ وہ بالکل بھی میری طرف متوجہ نہیں تھی۔ ایک پائوں مسلسل ہلاتے ہوئے وہ خوامخواہ باہر دیکھے جا رہی تھی گویا مکمل ناراض تھی۔
’’ونیزہ! پلیز اپنا موڈ درست کر لو۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں تمہاری ناراضگی برداشت کر سکوں۔‘‘ میں نے بہت سنجیدگی سے کہا تھا۔ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور غالباً اس نے اس ایک نظر میں ہی میری کیفیت کو جانچ لیا تھا۔ اسی لئے ایک طویل اور گہرا سانس لے کر اس نے گویا اپنا سارا غصہ باہر نکالا اور پھر نرمی سے مجھے دیکھنے لگی۔
’’شان! تم مجھ سے وہ سب کیوں نہیں کہہ دیتیں جو تم کہنا چاہتی ہو۔ کیا تم مناسب سمجھتی ہو کہ عام روایتی سے انداز میں، میں تمہاری منتیں کر کے تمہیں اس بات پر آمادہ کروں کہ تم وہ سب مجھ سے شیئر کرو جو تمہارے دل میں ہے۔ کیا تمہیں نہیںمعلوم شانچ کہ تمہاری بے چینی مجھے کس قدر اذیت دیتی ہے؟‘‘
میں نے میز کی کھردری سطح سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تیر رہی تھی۔
’اور یہ ونیزہ عثمان جو میرے دکھ کو بِنا جانے ہی خودکو اذیت دے رہی ہے، اگر یہ جان لے کہ میں اس وقت کس کرب میں مبتلا ہوں تو نہ جانے یہ کیا کر ڈالے۔ مگر میں اسے یہ کیسے بتائوں کہ زندگی نے اپنا جو بھیانک روپ مجھے دکھایا ہے وہ اس قدر خوف زدہ کر دینے والا ہے کہ اگر میں اسے بیان کرنے لگوں تو زبان مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے اور سارے لفظ ایک ایک کر کے چپ کے قلعے میں مقید ہو جاتے ہیں۔‘
’’اور میری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اس صورتِ حال میں خود کو ایڈجسٹ کیوں نہیں کر پا رہی ہو؟ تم تو ہر طرح کے حالات میں خود کو ڈھال لیا کرتی تھیں۔‘‘ ونیزہ نے سوالیہ انداز میں مجھے دیکھا۔
’’مانا کہ احتشام انکل کو پاپا کی جگہ سمجھنا تمہارے لئے اذیت ناک ہے مگر یہ بھی تو سوچو کہ تمہاری مما کو مجبوراً یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔ اتنا وسیع و عریض کاروبار چلانے کے لئے انہیں کسی ایسے ہی ساتھی کی ضرورت تھی جبھی تو احتشام انکل کو انہوں نے اپنی زندگی میں شامل کیا ہے۔‘‘ وہ بڑے معصومانہ انداز میں میری دلجوئی کر رہی تھی۔
’آہ ونیزہ جانو کاش میری مما اتنی ہی بے بس، معصوم اور لاچار ہوتیں۔ مگر وہ تو آستین میں چھپا ایسا زہریلا سانپ نکلیں جنہوں نے موقع ملتے ہی میرے پاپا کو ڈس لیا۔‘ میں نے ٹھنڈی یخ چائے کا بڑا سا گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے اپنے اندر اُبلتے لاوے کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔
’’آج سینڈوچ بڑے مزے کے ہیں۔‘‘ میں نے ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے مزے سے کہا تو مسلسل بولتی ہوئی ونیزہ ایک دم خاموش ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں یک بیک ہی بے تحاشا غصہ اُمڈ آیا تھا۔
’’یہ لو پکڑو۔ انہیں بھی ٹھونس لو۔‘‘ اس نے اپنے سامنے سے پلیٹ اٹھا کر میرے سامنے پٹخی اور اپنی فائل، بیگ اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتی باہر کی طرف بڑھی۔
’’ارے کہاں بھئی؟ بات تو سنو۔‘‘ میں بوکھلا کر اس کے پیچھے لپکی۔
’’ونیزہ پلیز رُکو تو۔‘‘ میں بھاگ کر اس کے برابر پہنچی۔
’’کوئی ضرورت نہیںمجھے بلانے کی۔‘‘ اس نے اچھا خاصا ڈپٹ کر کہا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنا بیگ ایک جھٹکے سے میرے ہاتھ سے چھڑایا تھا جسے پکڑ کر میں اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اگرچہ غلطی میری ہی تھی اور ونیزہ کو ناراض ہونے کا حق بھی تھا مگر اس کے باوجود اس کی بات سن کر میں اپنی جگہ پر چپ سی کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئی تھی اور میں نہ جانے کس پر غصہ ہوتے ہوئے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سامنے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی تھی۔ بھوری زمین کو گھورتے ہوئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی، جب کوئی چپکے سے میرے پاس آ کھڑا ہوا۔
’’چلو گھر چلیں۔‘‘ اس کی آواز میں ناراضگی کے ساتھ ساتھ مفاہمت کا تاثر بھی واضح تھا۔ میں بغیر کچھ کہے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی جرسی کی جیب میں ہاتھ گھساتی اس کے پیچھے چل دی تھی۔
///
سیاہ بادل کسی بے سمت مسافر کی طرح نہ جانے کس دیس سے بھولے بھٹکے آئے تھے اور سفید موتیوں کی صورت بارش کی سوغات دھرتی کو سونپ کر کسی اور منزل کی طرف رواں ہو گئے تھے۔ سردی جو پہلے کسی اناڑی رقاصہ کی طرح پائل چھنکاتی پھرتی تھی، اب بڑی مہارت اور تندہی سے زمین پر رقص کرنے لگی تھی۔ کہر کی نم آلود سفید چادر نے بڑی نرمی سے پھول، پتوں اور درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ دھند کی دبیز تہ کھڑکیوں کے شیشوں اور گلاس ڈور سے چپک کر بڑی شرارت سے کمرے کے گرم ماحول کا جائزہ لے رہی تھی۔ ایسی صورت میںیونیورسٹی جانا مجھے کسی حماقت سے کم معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ سو ونیزہ کو فون پر اپنے یونیورسٹی نہ جانے کی اطلاع دے کر میں اپنے کمبل میں مزید سمٹ گئی تھی۔
کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے ونیزہ نے میرے اس فیصلے کو بہت سراہا تھا اور اس کے ساتھ ہی گھر آنے کی دعوت بھی دی تھی جسے میں خود کو کہیں جانے پر آمادہ نہ پا کر سہولت سے رد کر چکی تھی۔ اور اب نہ جانے کتنی دیر سے، میں ایک ہی زاویے میں کھڑکی سے باہر وسیع و عریض لان پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ پاپا کو یہ موسم بے حد پسند تھا۔ ایسی ٹھٹھرا دینے والی سردی میں جب مما اپنے فل ہیٹڈ روم میں بند ہو کر رہ جاتیں اور میں بہت سے کمبلوں میں گھسی سردی، سردی چلّا رہی ہوتی تو پاپا بڑے مزے سے کافی کا بڑا سا مگ ہاتھ میں لئے گلاس وال کے قریب راکنگ چیئر پہ جا بیٹھتے اور پھر کتنی ہی دیر تک ان کی نگاہیں کبھی آسمان کی وسعتوں پہ ڈولتے سرمئی بادلوں میں اُلجھتیں تو کبھی لان میں سبز گھاس پر جم کر رہ جاتیں جس پر سفید کہر بے رحمی و سفاکی سے براجمان ہوتی تھی۔ میں اپنے کمرے سے کمبل گھسیٹتی ہوئی ان کے پاس آ کر کشن پر ڈھیر ہو جاتی۔
’’پاپا! کیا دیکھ رہے ہیں اتنی دیر سے؟‘‘ میں ان کے اُداس چہرے کوکو دیکھ کر پوچھتی۔ وہ ایک لمحے کے لئے چونکتے، مجھے دیکھتے اور پھر ایک بہت مدھم سی مسکراہٹ ان کے عنابی لبوں کو چھو جاتی اور اس مسکراہٹ میں ایسی تھکن ہوتی کہ مجھے خودبخود یہ احساس ہونے لگتا جیسے پاپا اس ٹھنڈے یخ ماحول میں تو موجود ہی نہیں تھے۔ وہ تو کسی کٹھن راستے کی مسافت طے کر رہے تھے۔ اپنی روح کے تمام تر دکھوں، ناتمام خواہشوں اور بھرپور یاسیت کا بوجھ اٹھائے اور جیسے میرے پکارنے پر وہ ایک دم اس سفر سے لوٹ تو آئے ہوں مگر خود کو اس ماحول میں ایڈجسٹ نہ کر پا رہے ہوں۔ میں اپنے ہی دل میں اُبھرنے والے خیالات کی یورش سے گھبرا کر پھر سے انہیں پکارنے لگتی اور اپنی بے تکی باتوں سے ان کا دل بہلانے لگتی۔
’’پاپا! بتائیں نا، آپ کو اس موسم میں کون سی چیز سب سے زیادہ انسپائر کرتی ہے؟‘‘ میں ان کا بازو ہلا کر پوچھتی۔
’’شانزے ڈارلنگ! مجھے سردی کا موسم پورا کا پورا بے حد اچھا لگتا ہے۔ اپنے آغاز سے اختتام تک اس موسم کا ہر بدلتا منظر مجھ پر عجیب انداز سے اثرانداز ہوتا ہے۔ بدن کو کپکپا دینے والی سرد، سرسراتی ہوائیں، اپنے پورے قد سے کھڑے نیم خوابیدہ درخت، یوکلپٹس کے پتوں سے قطرہ قطرہ پگھلتی ہوئی کہر، اُداس افسردہ شام میں گھلی یاسیت آمیز خاموشی، سیاہ گھور راتوں کا جاگتا طلسم اور گھنے بادلوں کی اوٹ سے کبھی کبھار اپنی چھپ دکھلاتا پورا چاند۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں کیا بتلائوں شانزے ڈیئر! کہ مجھے اس موسم کی کون سی ادا سب سے زیادہ بھاتی ہے‘‘ وہ مسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہتے۔
’’لیکن پاپا! آپ نے رگوں میں خون جما دینے والی اس ٹھنڈک کا تو ذکر ہی نہیں کیا جو اس وقت مجھ پر پوری طرح قابض ہے۔‘‘ میں کپکپاتی آواز میں کہتی تو جواباً وہ زور سے ہنس پڑتے۔
’’ایسی صورت میں آپ کو ہرگز یہاں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اپنے کمرے میں جا کر ہیٹر آن کر کے گرم گرم چائے کا لطف اٹھانا چاہئے۔‘‘
’’مگر آپ بھی تو یوں ہی بیٹھے ہیں اتنی سردی میں۔ اگر آپ کو ٹھنڈ لگ گئی تو؟‘‘ مجھے فوراً ان کی فکر پڑ جاتی۔ کھدر کا سوٹ اور اس پر ایک گرم چادر۔ یہ لباس اس موسم کے لئے ناکافی تھا۔
’’بیٹا جانی! آپ کے پاپا اتنے بوڑھے نہیں ہوئے کہ اتنی سی سردی برداشت نہ کر سکیں۔ ابھی اس بدن میں اتنی حرارت موجود ہے کہ یہ اس موسم سے نبردآزما ہو سکے۔‘‘
پاپا کہتے اور میں ان کے سرخ و سفید چہرے کو بڑے پیار سے دیکھنے لگتی۔ واقعی پاپا اس عمر میں بھی اتنی شاندار شخصیت کے مالک تھے کہ انہیں دیکھ کر بغیر جانے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک جوان بیٹی کے باپ ہیں۔ خود مما ابھی تک اتنی ایکٹو اور پُرکشش تھیں کہ مجھ سے محض چند سال بڑی دکھائی دیتی تھیں۔
’ٹھیک ہی تو کہتے ہیں پاپا۔ بھلا اتنے اسٹرونگ مین کو یہ چھوٹے موٹے موسم کہاں شکست دے سکتے ہیں؟‘ میں بڑے فخر سے ان کو دیکھتی ہوئی وہاں سے اٹھ جاتی اور یہ تو مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا تھا کہ بعض اوقات بلند و بانگ، عظیم الشان عمارتوں کو گھن اندر ہی اندر اس طرح چاٹ جاتا ہے کہ وہ تیز آندھی کے پہلے تھپیڑے سے ہی زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ اور پاپا! آپ کے شاندار جسم کو ڈھانے کے لئے بیرونی عناصر دشمنی پر نہیں اُترے تھے۔ آپ کو تو اپنے ہی کئے گئے فیصلوں کا گھن چاٹ گیا اور رہی سہی کسر پوری کرنے کے لئے تو آپ کے گرد لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔
میں جیسے تھک کر بیڈ سے نیچے اُتر آئی۔ کمرے کی گرم فضا بے حد بوجھل محسوس ہو رہی تھی۔ بے اختیار ہی کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور پھر میرے قدم لوِنگ روم میں گلاس وال کے سامنے رک گئے شیشے کی بے جان، سرد اور چکنی سطح پر پیشانی ٹکا کر میں نے باہر جھانکا۔
ذرا سی ہوا چلتی، یوکلپٹس کے پتوں پر جمی کہر قطروں کی صورت زمین پر گرتی تو آہٹ کا گمان ہونے لگتا تھا۔ خاک بسر زمین پر سبزے کی چادر اوس کے سفید موتیوں سے سجی ہوئی تھی۔ نیم خوابیدہ درخت آج بھی اپنے پورے قد سے کھڑے تھے۔ ہوا بھی ویسی ہی سرد تھی اور فضا میں گھلی اُداس و افسردہ خاموشی بھی۔
میری نظریں بھٹکتی ہوئی راکنگ چیئر پر جا ک ٹھہر گئی تھیں۔ اس پیارے سے، پُرشفقت، محبت بھرے وجود سے خالی۔ میرا دل کہیں گہرائی میں جا گرا تھا۔
’نجانے یہ موسم اس جگہ ٹھہر سا کیوں گیا ہے؟ شاید یہ اپنے اس ساتھی کا منتظر ہے جس کے ساتھ اس نے سیاہ، گھور راتوں کے طلسم میں جاگنا تھا اور گھنے بادلوں میں چھپے چاند سے آنکھ مچولی کھیلنی تھی اور مجھ میں تو اتنی ہمت بھی نہیں کہ جا کر ان ہوائوں، درختوں، اُداس شاموں کو یہ کہہ سکوں کہ۔ ’’سنو! وہ مسافر ایک مرتبہ پھر اپنی روح کے تمام تر دکھوں، ناتمام خواہشوں اور بھرپور یاسیت کا بوجھ اٹھائے ایک کٹھن سفر کی مسافت طے کرنے نکلا ہے اور اب میرے پکارنے پر بھی واپس نہیں لوٹتا۔‘‘
میں راکنگ چیئر پر گر گئی تھی اور اس لمحے پاپا مجھے بہت شدت سے یادآئے تھے۔
///
’’مجھے جمشید آفندی سے ملنا ہے۔‘‘ دارالاطفال کے سیاہ، آہنی بلند و بالا گیٹ کے سامنے مستعد کھڑے چوکیدار سے میں نے کہا تو اس نے سر تا پا میرا جائزہ لیا تھا۔
’’آپ یہاں سے سیدھی سامنے چلی جائیں۔ کوریڈور کے پہلے کمرے میں مسٹر عاصم بیٹھے ہیں۔ آپ ان سے مل لیں۔ وہ آفندی صاحب کے سیکرٹری ہیں۔‘‘
اس کے بتانے پر میں سرخ روش پر چلتی ہوئی اس کمرے تک پہنچی۔ دروازہ اگرچہ کھلا تھا مگر پھر بھی میں ذرا سا کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئی تھی۔ فائل میں منہمک بیٹھے شخص نے سر اٹھا کر اپنی بڑی بڑی آنکھیں مجھ پر جما دیں۔
’’تشریف رکھئے۔‘‘ اس نے گولڈن پین، ہولڈر میں پھنساتے ہوئے مہذبانہ اور شائستہ لہجے میں کہا تو میں نے کرسی سنبھالتے ہوئے اسے اپنی آمد کا مقصد بتایا۔
’’انہوں نے آپ کو وقت دے رکھا ہے؟‘‘
’’جی نہیں۔ انہوں نے یہ کارڈ مجھے دیا تھا اور کہا تھا کہ میں کسی وقت بھی آ جائوں۔‘‘ میں نے ہاتھ میں پکڑا کار ٹیبل پر رکھ کر اس کی طرف کھسکایا جس پر اس نے سرسری سی نظر ڈال کر دوبارہ میز پہ رکھ دیا تھا۔
’’وہ ابھی آتے ہی ہوں گے۔ آپ کو کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے دوبارہ فائل کھول لی تھی اور بڑے رسمی سے انداز میں چائے کا بھی پوچھا تھا جسے میں نے شکریہ کے ساتھ ٹال دیا تھا اور کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئی تھی۔ آج گھر میں بند رہنے کے بعد میں سخت اُکتا کر باہر نکلی تھی۔ یونیورسٹی میں ایک آدھ کلاس اٹینڈ کی تھی۔ ونیزہ بھی موجود نہیں تھی، سو وہاں سے جلد ہی لوٹ آئی تھی اور یوں ہی سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کا پروگرام بنا رہی تھی جب ڈیش بورڈ پر پڑے اس وزیٹنگ کارڈ پر نظر جا پڑی تھی۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے میں نے گاڑی مطلوبہ سڑک پر ڈال دی تھی۔ اور اب میں جمشید آفندی کے انتظار میں یہاں بیٹھی تھی۔ پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد میں اُٹھنے کا ارادہ کر رہی تھی جب اچانک کھلے دروازے سے کوئی اندر داخل ہوا تھا۔ دراز قد اور گھنگھریالے بالوں کو دیکھ کر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ اس روز یہی شخص مجھے سڑک پر ملا تھا اور یقینا یہ جمشید آفندی ہی تھا۔
اس کی آمد پر عاصم مؤدبانہ انداز میں اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ جمشید آفندی بڑے دوستانہ انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے سنجیدگی سے کچھ ہدایات دے رہا تھا جسے وہ بڑی توجہ سے سن بھی رہا تھا جبکہ میں یہ دیکھ رہی تھی کہ عاصم کی اچھی خاصی شخصیت جمشید آفندی کے سامنے دب سی گئی تھی۔
’ہاں، بعض لوگ ہوتے ہیں نا ایسے جو کسی بھی ماحول پر چھا جانے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
’’سر! یہ محترمہ آپ سے ملنے کے لئے آئی ہیں۔‘‘ عاصم کی آواز پر میں چونک گئی۔
اس نے سرسری سے انداز میں مجھے دیکھا۔ شناسائی کی کوئی چمک اس کی آنکھوں میں نہ اُبھری تھی۔
’’ہوں۔۔۔۔۔۔ انہیں میرے کمرے میں بھیج دو۔‘‘ وہ اپنی بھاری جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے لمبے لمبے گ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ نہ جانے کیوں میرے دل میں ناگواری کی کوئی لہر سی اُٹھی تھی اور ایک لمحے کے لئے میرا دل چاہنے لگا تھا کہ میں اس شخص سے کوئی بات کئے بغیر ہی لوٹ جائوں مگر چونکہ یہ بھی کچھ مناسب نہیں تھا۔ اسی لئے اگلے لمحے میں اس کے آفس میں موجود تھی۔
’’اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں ایک ضروری فون کر لوں۔‘‘ اس نے گویا اخلاقاً پوچھا تھا۔ جواباً میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
’’تھینک یو۔ آپ اس وقت تک چائے سے لطف اندوز ہوں۔‘‘ اس نے چائے لے کر کمرے میں داخل ہوتے ملازم کو دیکھ کر کہا اور خود فون پر بزی ہو گیا۔ چائے کا بھاپ اُڑاتا کپ میرے سامنے تھا مگر میرے لئے اس شخص کا جائزہ لینا زیادہ لطف انگیز ثابت ہوا تھا بہ نسبت چائے کے۔ اس کے گھنگھریالے، بے ترتیب بال بڑی شان سے اس کی کشادہ پیشانی پر براجمان تھے اور اس کی آنکھیں۔۔۔۔۔۔ میں نے دونوں کہنیاں میز پر ٹکا کر آگے کو جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
ہاں، سبز جھیل سی جادوئی آنکھیں مسحور کر دینے والی طلسماتی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسی ہی پُراسرار کشش تھی۔ بہت مانوس سی کشش۔ میری نظریں بھٹکتی ہوئی عنابی ہونٹوں کے بالکل برابر دائیں گال پر موجود معصوم سے تل پر جا پڑیں جو اس کے ہونٹوں کے ساتھ ہی مسکرا اُٹھتا تھا۔ اس کی بھاری اور جاندار آواز میں نرمی کا تاثر غالب تھا اور اس کی سبز رگوں کی جھلک دکھاتے سرخ و سفید ہاتھ میں دبے قلم کو دیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے خیال آیا تھا کہ ان ہاتھوں میں برش ہوتا۔ اسے دیکھ کر خودبخود میرے ذہن میںکسی مصور کا خیال اُبھر آیا تھا۔ مجموعی طور پر اس کی شخصیت بے حد متاثر کن اور بھرپور تھی۔
ریسیور رکھتے ہوئے وہ ہلکا سا کھنکارا تھا اور پھر سامنے پڑی فائلیں ایک طرف کھسکاتے ہوئے اس نے مجھے مخاطب کیا تھا۔
’’میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟‘‘
’’جی مجھے شانزے ایمان کہتے ہیں۔‘‘
’’ہوں۔۔۔۔۔۔ پہلے تو یہ بتایئے مس شانزے ایمان! کہ اپنے آنسوئوں سے کب کنارہ کش ہو رہی ہیں آپ؟‘‘ گویا وہ مجھے پہچان چکا تھا۔
’’جن کے دلوں میں سمندر آ ٹھہرا ہو آفندی صاحب! وہ آنسوئوں سے کبھی بھی کنارہ نہیں کر سکتے۔‘‘ میرے کہنے پر اس نے چند لمحوں کے لئے بغور میرے چہرے کو کھوجا تھا۔
’’مجھے نہیں معلوم مس شانزے! کہ آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، کیا پریشانی ہے۔ بلکہ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ کے ساتھ کوئی پرابلم ہے بای یھ آپ اپنی کلاس کے اور بہت سے لوگوں کی طرح شوقیہ فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ ہاں البتہ اس بات سے واقفیت ضرور رکھتا ہوں کہ بعض اوقات کوئی دکھ، کوئی غم ہمارے دل میں اس طرح مستقل گھر کر لیتا ہے کہ پھر کسی طور اس گھر سے نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتا بلکہ اسے دربدر کرتے کرتے ہم خود نڈھال ہو جاتے ہیں۔ اس روز آپ کو دیکھا تو ایسی ہی تھکن آپ کے چہرے سے جھلکتی دکھائی دی۔ ہو سکتا ہے مجھے سمجھنے میں غلطی بھی ہوئی ہو کہ بہرحال میں خدائی کا دعویٰ نہیں کرتا مگر اس روز میں خود کو روک نہیںسکا تھا اسی لئے بے اختیار آپ کو یہاں آنے کی دعوت دے ڈالی۔‘‘ وہ پوری توجہ سے پیپر ویٹ کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’چلئے مان لیتے ہیں کہ آپ کا خیال کسی حد تک درست ہے۔‘‘ میں نے بڑی بے نیازی سے کہا تھا۔ اگرچہ دل میں اس کے سو فیصد درست خیال کی قائل ہو چکی تھی۔
’’لیکن سوال یہ ہے کہ یتیموں اور بے آسرا بچوں کی پناہ گاہ میں آ کر مجھے کیا حاصل ہو گا جبکہ مجھے کسی قسم کے سوشل ورک سے کوئی دلچسپی بھی نہیں۔‘‘ میں چونکہ اس کی بات سمجھ نہیں پائی تھی اس لئے صاف گوئی سے کہہ دیا۔ جواباً وہ ذرا سا مسکرایا تھا۔
’’میں سمجھتا ہوں اپنے غم کو غلط کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے دوسروں کے غم میں ضم کر دیا جائے۔ اس طرح ایک قطرہ سمندر میں جا کر اپنا وجود کھو دیتا ہے اسی طرح اس کائنات میں بکھرے بے شمار دکھوں میں آپ کا غم آپ کو بہت حقیر نظر آئے گا اور شاید آپ کو یاد نہیں، میں نے کہا تھا، یہاں زندگی بہت ہنستی کھلکھلاتی ملے گی آپ کو۔ ہاں اگر آپ مزید کچھ چاہتی ہیں تو وہ آپ کو واقعی یہاں سے نہیں ملے گا۔‘‘ اس نے بہت اطمینان سے کہا تھا۔
’’ہونہہ، زندگی اور وہ بھی ہنستی کھلکھلاتی۔‘‘ میں تمسخرانہ انداز میں مسکرائی۔ ’’مسٹر جمشید آفندی! کہیں آپ جاگتے میں خواب دیکھنے کے عادی تو نہیں؟‘‘ میں نے براہِ راست اس کی آنکھوں میں جھانک کر طنز کیا تو لمحہ بھر کو وہاں سکوت سا چھا گیا۔
’’خواب کسے کہتے ہیں مس شانزے ایمان؟‘‘ اس نے کرب آمیز معصومیت سے سوال کیا تھا۔
’’میرا کبھی خواب نامی چیز سے واسطہ نہیں پڑا۔ حقیقت کبھی آنکھوں سے اوجھل ہی نہیں ہوتی تو خوابوں کو جگہ کہاں سے ملتی؟‘‘ اس نے آخری جملے جیسے خود سے کہے تھے۔ مجھے لگا، وہ شخص ایک لمحے کے لئے کہیں کھویا تھا اور پھر پلٹ آیا تھا۔
’’بہرحال میڈم! میں آپ کو یہاں آنے پر مجبور تو نہیں کر رہا۔ آپ کی مرضی ہے دل چاہے تو آ جایئے گا۔ نہ آنا چاہیں تو کوئی زبردستی نہیں۔‘‘ وہ ایک دم بہت رُوڈ سا ہو کر بولا تھا۔
میں حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ ابھی چند لمحے قبل زمانے بھر کا ہمدرد نظر آنے والا شخص، اپنے چہرے پر ’’نو لفٹ‘‘ کا بورڈ سجائے فائل کھولنے میں مصروف تھا۔
’عجیب شخص ہے یہ۔‘ میں سر جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ حقیقت تو یہ تھی کہ مجھے اس کے ’’نظریہ ہمدردی‘‘ نے کچھ زیادہ متاثر نہیں کیا تھا۔
یہاں تو ہر شخص اپنی ذات کے گنبد میں قید ہے۔ کوئی شخص اگر کسی کے آنسو بھی پونچھ رہا ہے تو میں نہیں مان سکتی کہ اس میں اس کی کوئی غرض پوشیدہ نہیں۔ میں نے کوریڈور سے گزرتے ہوئے اس بڑی سی تصویر کو دیکھا جہاں ایک ہاتھ، ایک معصوم بچے کے گالوں پر پھسلتے آنسوئوں کو صاف کر رہا تھا۔
’میں نے اپنی آنکھوں سے انتہائی قریبی رشتوں کو سانپ کی طرح پھن پھیلائے ڈستے دیکھا ہے۔ ایسی صورت میں تمہاری ہنستی کھلکھلاتی زندگی کا فلسفہ ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ کچھ نہیں مسٹر جمشید آفندی!‘ میں نے سیاہ آہنی گیٹ سے باہر نکل کر اپنی کیڈلک کا ڈور لاک کھولتے ہوئے سوچا تھا۔
///
’’دارالاطفال‘‘ سے نکل کر میں نے بے مقصد کتنی ہی سڑکیں روند ڈالی تھیں اور پھر لائبریری کی دھند میں لپٹی سفید عمارت کو دیکھ کر میں نے گاڑی روک لی تھی۔ لائبریری کا اندرونی ماحول باہر کی نسبت کافی گرم اور پُرسکون تھا۔ بہت سے لوگ کتابیں کھولے یوں مگن تھے گویا ہر لفظ میں ایک نئی دنیا دریافت کر رہے ہوں۔ کچھ لمحے گزرے اور پھر میں بھی نئی دنیائوں کو کھوجنے لگی اور جب ان جانی انجانی زمینوں پر گھومتے پھرتے میرے قدم تھکنے لگے تب میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
سڑکوں پر لگے نیون سائن جگمگا رہے تھے۔ اردگرد عمارتوںمیں ننھی منی روشنیاں بڑے اشتیاق و معصومیت سے بڑھتی ہوئی رونق کو دیکھ رہی تھیں اور دن کو اختتام پذیر ہوتے دیکھ کر مجھے انجانی خوشی کا احساس ہوا تھا۔
’چلو کم از کم ایک دن تو میری زندگی سے خارج ہوا۔‘ میں نے تھکے تھکے ذہن سے سوچا۔ جب انسان کا اس دنیا پر اعتبار باقی نہ رہے تو شاید وہ دن کے اختتام پر یوں ہی مسرت محسوس کرتا ہو گا۔ میرا گھر جانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی اس چھ کنال کی وسیع و عریض عمارت میں مجھے ’’گھر‘‘ جیسی کشش محسوس ہوتی تھی۔ اس لئے اب میرا ٹھکانہ ’’شایان ریستوران‘‘ ٹھہرا تھا۔ اس کے وسیع و عریض سبزہ زار میں اس وقت مکمل خاموشی طاری تھی۔ گیٹ وے پر البتہ آنے جانے والوں کی چہل پہل موجود تھی۔ صبح کے وقت اس سبزہ زار میں بے حد رونق ہوتی تھی۔ لوگ مختلف ڈشز اُڑانے کے ساتھ ساتھ نرم گرم لطیف دھوپ کا مزہ بھی اٹھاتے تھے مگر اس وقت ساری رونق ریستوران کے اندرونی حصے میں منتقل ہو گئی تھی۔ گلاس ونڈوز سے اندر کے خواب ناک ماحول کا اندازہ ہو رہا تھا۔ کینڈل لائٹ میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے لوگ، ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ینگ کپلز، مستعد باوردی ویٹرز برتنوں کی کھنک، نت نئے کھانوں کا مزہ، کافی کی مہک، میں نے جیسے باہر کھڑے کھڑے اندرونی ماحول کو پوری طرح محسوس کیا تھا۔
’تو کیا یہ سب ہنستے مسکراتے، خوب صورت او پیارے چہرے اندر سے اتنے ہی کریہہ اور بھیانک ہیں؟‘ کوئی آکٹوپس ایک بار پھر میری سوچوں پر قبضہ کرنے جا رہا تھا۔ میں نے سر جھٹک کر اردگرد نظر دوڑائی۔ کچھ ویٹرز لان میںلگے تمام ٹیبلز ہٹا رہے تھے۔ میں ایک قدرے الگ تھلگ میز کا انتخاب کر کے اس پر جا بیٹھی۔
’کم از کم یہاں بیٹھ کر کسی آشنا کے سامنے خود کو بے حد مطمئن ظاہر کرنے کی کوئی بے چاری سی کوشش تو نہیں کرنی پڑے گی نا۔‘ میں نے قریب سے گزرتے ویٹر کو پکار کر کافی اور سینڈوچز کا آرڈر کیا۔ وہ بے حد حیرت سے میری طرف دیکھتا ہوا پلٹ گیا تھا۔ میں بے اختیار ہی مسکرا دی تھی۔
’’اب میں کیا بتائوں تمہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی تمام حسیات کو مفلوج تصور کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے نہ وہ سن سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے، نہ ہی کچھ محسوس کرنے کے قابل رہتا ہے۔ اسے لگتا ہے جیسے کوئی بھی چیز اس پر اثر انداز نہیں ہو رہی۔ نہ کسی کے آنسو، نہ مسکراہٹ، نہ کسی کی ہمدردی دل کو بھاتی ہے اور نہ ہی محبت کا اظہار۔ بلکہ کبھی کبھی تو اس بات پر بھی شک ہونے لگتا ہے کہ اس کے سینے میں دل دھڑک رہا ہے اور اب سے کچھ دیر پہلے مجھے لگ رہا تھا جیسے میری بھی تمام حسیات مفلوج ہو چکی ہیں۔ مگر اب میں یہاں بیٹھ کر خود کو اس برفاب ہوا میں ٹھٹھرتے دیکھ کر خوش ہو رہی ہوں۔ گویا ابھی بھی زندوں کی صف میں کھڑی ہوں۔‘
میں نے گرم کافی کے بڑے بڑے گھونٹ لئے۔ اس کی گرمی نے اس سردی میں کافی سہارا دیا تھا مجھے۔
’’شانزے! یہ تم ہی ہو نا؟‘‘ قدرے حیران لہجے میں کہا گیا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر آنے والے شخص کو دیکھا اور کافی کا آخری گھونٹ حلق سے نیچے اتارا۔ اور یہ آخری گھونٹ بے حد تلخ ثابت ہوا تھا۔
’’تم یہاں کیوں بیٹھی ہو، اتنی سردی میں؟‘‘ وہ پریشان و متحیر چہرہ لئے میرے سامنے آ بیٹھا تھا۔ میں نے ایک گہرا اور طویل سانس کھینچ کر موسم کی ساری خنکی اپنے اندر جذب کر لینی چاہی۔
’’کیا بیمار ہونے کا ارادہ ہے؟‘‘ وہ اس طرح پوچھ رہا تھا جیسے میں ہمیشہ ارادتاً بیمار ہوتی رہی ہوں۔
’’بہت بری بات ہے شانزے! یہ تو سراسر خود اذیتی ہے۔‘‘
’’اوہ گاڈ۔ کیا دنیا کے باقی سب کام ختم ہو گئے ہیں جو ہر بندہ مجھ پر ریسرچ کرنے چلا آ رہا ہے۔‘‘
میں نے جھنجلا کر بل میز پر پٹخا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ ڈھیٹ ابن ڈھیٹ بنا پیچھے چلا آیا تھا۔
’’رات کافی بیت گئی ہے۔ اب سیدھی گھر جانا۔‘‘
’’مسٹر! تم میرے گارجین نہیں ہو۔ اس لئے بہتر ہے کہ اپنے کام سے کام رکھو۔‘‘ میں سختی سے کہہ کر گاڑی میں بیٹھی تھی اور پوری قوت سے دروازہ بند کیا تھا۔ میری اس حرکت پر وہ زیر لب مسکرایا تھا اور پھر ایک لمحے کے لئے کھڑکی میں جھکا تھا۔
’’سنو! اپنا خیال رکھا کرو۔‘‘ اس کے لہجے سے زیادہ اس کی نگاہوں میں نرمی تھی۔ اگنیشن میں چابی لگاتا میرا ہاتھ لمحہ بھر کے لئے رکا تھا۔
’معلوم نہیں کیوں، کبھی کبھی یہ شخص مجھے بالکل پاپا کی طرح لگتا ہے۔ ویسا ہی لوِنگ، ویسا ہی کیئرنگ۔ مگر اس کو ناپسند کرنے کے لئے کیا یہ جواز کم ہے کہ یہ احتشام احمد کا بیٹا ہے۔‘ میں نے سلگتی نگاہوں سے سائیڈ مرر میں ولید احتشام کے معدوم ہوتے عکس کو دیکھ کر سوچا تھا۔
///
’’یہ آج کل تم کن چکروں میں پڑی ہوئی ہو؟‘‘ گھر پہنچ کر میں ابھی اپنے پائوں بھی جوتوں کی قید سے آزاد نہیں کر پائی تھی کہ مما میرے اعصاب پر سوار ہونے کے لئے آ پہنچی تھیں۔
’’ملازمہ بتا رہی تھی کہ تم صبح ناشتہ کئے بغیر ہی نکل گئی تھیں۔ لنچ پر بھی تم نہیں آئیں۔ اور اب تم رات کے گیارہ بجے آ رہی ہو، جبکہ ہم لوگ ڈنر سے بھی فارغ ہو چکے ہیں۔‘‘
’’مما! یوں مڈل کلاس لوگوں کی طرح پوچھ گچھ کرنا آپ کو قطعاً زیب نہیں دیتا۔ اور جس کلام سے ہم تعلق رکھتے ہیں وہاں اگر کوئی فرد رات کے ایک بجے بھی گھر میں داخل ہو تو بھی یہ پوچھنا حماقت سمجھا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کہاں سے آ رہا ہے، کہاں گیا تھا اور کیوں گیا تھا۔‘‘
میں نے زہر خند لہجے میں انہی کے الفاظ دہرائے تھے جو وہ ہمیشہ پاپا کے سوال پر کہا کرتی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے ان کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں اور اگلے ہی لمحے ماتھے پر کئی بل پڑ گئے تھے۔
’’آر یو آل رائٹ؟ یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو میرے ساتھ؟‘‘
’’یس، آئی ایم پرفیکٹلی آل رائٹ۔ اور اس لہجے میں بات کرنا تو میں نے آپ ہی سے سیکھا ہے۔‘‘ میں نے ان کی حیران حیران آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی جرأت سے کہا تھا اور اسی جرأت پر مما کو پتنگے لگ گئے تھے۔ ان کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا تھا۔
’’تم بے حد گستاخ اور بدتمیز ہوتی جا رہی ہو شانزے! آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟ کیوں بچوں کی طرح بی ہیو کر رہی ہو تم؟ جب سے احتشام احمد اس گھر میں آئے ہیں، تمہارے مزاج ہی نہیں ملتے۔ اتنی سی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی کہ جس کاروبار کی ہمیں الف، ب نہیں آتی ہم کیسے اس کی دیکھ بھال کر سکتے تھے؟ الٹا سارا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا اور ایک وقت آتا کہ یہ گاڑیاں، یہ بنگلہ اونے پونے فروخت کر کے کسی دو کمروں کے کوارٹر میں جا پڑے ہوتے ہم۔ ایسے میں اگر میں نے احتشام احمد سے شادی کر لی تو کوئی گناہ نہیں کیا بلکہ تمہیں تو اس شخص کا شکرگزار ہونا چاہئے جو۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اسٹاپ اِٹ مما! میرے سامنے اس شخص کے قصیدے پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ اس احتشام احمد کے سامنے جائیں اور جی بھر کے اس کی شکرگزار ہو لیں۔ تاکہ بدلے میں آپ کو مزید آزادی مل سکے۔ آپ جی بھر کے من مانیاں کر سکیں اور وہ کبھی میرے اپا کی طرح آپ پر روک ٹوک کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔‘‘
میں نے شدید غصے میں مٹھیاں بھنیچتے ہوئے بمشکل کا اور پھر بھاگ کر ٹیرس پر آ گئی کہ اگر میں وہاں کھڑی رہتی تو شاید اپنے آنسوئوں پر قابو نہ پا سکتی۔
’کاش۔۔۔۔۔۔ کاش میں کہیں چھپ سکوں۔ کسی ایسی جگہ جہاں اس عورت کی پرچھائیں بھی مجھ تک نہ پہنچ سکے جو بدقسمتی سے میری ماں کہلاتی ہے۔‘ ٹھنڈی یخ گرِل سے پشت ٹکا کر میں نے پوری شدت سے خواہش کی تھی۔
///
بعض لوگوں کی زندگی میں خوشیوں کا حصہ بہت تھوڑا ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی میں سے ان ادھوری، ناتمام خوشیوں کا حصہ بھی ختم ہو گیا ہے جو کبھی پاپا کی زندگی میں مجھے نصیب تھیں۔
شاید اسی کو مقدر کا بانجھ پن کہتے ہیں کہ آپ نہ جرم کرنے والوں میں سے ہوں، نہ جرم سہنے والوں میں سے، مگر جب فیصلہ آئے تو معلوم ہو کہ ساری کی ساری سزا آپ کے حصے میں آئی ہے۔
خوشیوں کی، خوابوں کی، مسکراہٹوں کی عمر قید کی سزا۔
ہر پل ذہن و دل پہ پڑنے والے یاد کے کوڑوں کی سزا۔
مال و متاع چھن جانے کی سزا۔
اور سب سے اذیت ناک سزائے موت، جو جسم کو نہیں روح کو سہنی پڑتی ہے۔
اور بے چاری روح، سانسوں کا پھندا گلے میں ڈالے عمر بھر زندگی اور موت کے درمیان لٹکتی رہ جاتی ہے۔
’تو کیا میں بھی اپنے قدم کبھی زمین پر نہیں جما سکوں گی؟‘ کوئی خوف دھیرے دھیرے میرے وجود پہ سایہ کرنے لگا تھا۔ میں بے چین سی ہو کر اُٹھ بیٹھی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ بہت احتیاط سے کیوٹکس لگاتی ونیزہ نے چونک کر مجھے دیکھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ میں نے مضمحل سے انداز میں بالوں میں انگلیاں پھیریں۔
’’میرا خیال ہے اب تم شاور لے لو۔ کچھ دیر میں مہمان آنا شروع ہو جائیں گے۔‘‘
اس کے کہنے پر میں نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ آج اس کی منگنی کا فنکشن تھا، اس لئے میں یونیورسٹی سے سیدھی یہیں چلی آئی تھی اور حسب توقع مجھے سامنے پا کر پھپھو کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے۔ وہ کتنی ہی دیر مجھے سینے سے لگائے، پیشانی پر پیار کرتے ہوئے پاپا کو یاد کرتی رہیں۔ پاپا، پھپھو سے چھوٹے تھے مگر ہمیشہ انہوں نے بڑے بھائی کی طرح پھپھو کا خیال رکھا تھا۔ اور پھر چونکہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے علاوہ کوئی اور بہن بھائی نہیں تھا، اس لئے ان کی آپس کی محبت کی بھی مثال نہ ملتی تھی۔ پھپھو کے اس طرح رونے پر پاپا کی یاد جیسے ایک دم تازہ ہو گئی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں ہم سے بچھڑے ایک سال نہیں، ایک لمحہ گزرا ہے۔
’’پھپھو! اس طرح مت روئیں۔ پاپا کو تکلیف پہنچے گی۔ اور یوں بھی خوشی کا موقع ہے۔‘‘ میں نے پاپا کی یاد می بہنے والے سارے آنسو مقدس موتیوں کی طرح اپنی پوروں پر سمیٹ لئے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ تو نارمل ہو گئیں مگر میرا سکون درہم برہم ہو چکا تھا۔ اور اب کتنی ہی دیر سے آرام کی خاطر لیٹے رہنے کے باوجود میرا دماغ اپنے ہی بنے ہوئے سوچ کے جال میں پھن کر رہ گیا تھا۔ شاور لے کر میں باہر نکلی تو ملازمہ کی زبانی معلوم ہوا کہ مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی ہے۔
ونیزہ اپنے میک اپ میں مصروف ہو گئی تو میں ڈرائیر سے بال خشک کر ک ونڈو میں آ گئی تاکہ آنے والوں کا جائزہ لے سکوں۔ پھپھو اور انکل کا دائرہ احباب اگرچہ بہت وسیع تھا مگر منگنی میں صرف چیدہ چیدہ لوگوں کو انوائٹ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود خاصی رونق اور گہماگہمی تھی۔ پھپھو کو بہت عجلت میں آنے والے مہمانوں کو ریسیو کرتے دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ یہاں کھڑے رہنا فضول ہے۔ لہٰذا میں ونیزہ سے کہتی ہوئی باہر آ گئی۔
اگرچہ تمام کام ملازموں کے ذمہ تھا، پھر بھی نگرانی تو بہرحال ضروری تھی۔ ونیزہ کی باقی کزنز گیسٹ روم میں اپنی نشست سنبھال چکی تھیں۔ یوں بھی وہ مہمانوں کی طرح یہاں آیا جایا کرتی تھیں جبکہ میں نے شاید اپنی آدھی زندگی اپنے گھر میں اور آدھی اس گھر میں گزاری تھی۔ لہٰذا میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتی ہوئی کچن میں آ گئی۔ یہاں چائے اور کھانے کے تمام لوازمات کو چیک کرکے میں نے کچھ ہدایات جاری کیں اور پھر مطمئن ہو کر گیسٹ روم میں آ گئی۔ کچھ کزنز ونیزہ کے پاس جا چکی تھیں اس لئے میں وہیں بیٹھ کر باقی فرینڈز سے ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگی تھی۔
’’ارے فصیحہ! کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں۔‘‘ پھپھو کی آواز کانوں میں پڑی تو میں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ سیاہ مقیش لگی ساڑھی میں ملبوس مما اور ان کے پیچھے سیاہ ڈنر سوٹ میں احتشام احمد کو دیکھ کر میرے دل پر گھونسہ سا آ پڑا تھا۔ مجھے یاد آنے لگا تھا، ایسے ہی ایک فنکشن پر جب میں صبح ونیزہ کے گھر آئی بیٹھی تھی، میں نے پھپھو کی بے قرار آواز سنی تھی کہ ’’ایمان حسن! کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں۔‘‘
اور اب ایمان حسن کو کبھی نہیں آنا تھا۔ نہ جلد، نہ بدیر۔ محفل کا رنگ کچھ اور پھیکا پڑ گیا تھا۔ میں غیر محسوس انداز میں وہاں سے اٹھ آئی تھی۔ اور جب ونیزہ کے سسرالیوں پر آمد پر میں ونیزہ کو تھامے سیڑھیاں اتر رہی تھی تو ایک لمحے کے لئے چونک سی گئی تھی۔ ولید احتشام بڑی بے تکلفی سے ونیزہ کے منگیتر حماد کے پہلو میں بیٹھا تھا۔ پُرلطف مسکراہٹ چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔
’’ونیزہ جی! آپ نے تو ہمیں انوائٹ نہیں کیا مگر دیکھ لیں، ہم آپ کی خوشی میں شریک ہونا نہیں بھولے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہوئے شکوہ کیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا ہ حماد کا انتہائی قریبی دوست تھا اور اسی حوالے سے حماد کے ساتھ آیا تھا۔
ونیزہ کو حماد کے بابر بٹھا کر میں چپکے سے پیچھے کھسک گئی تھی۔ ہنستی کھلکھلاتی اور شوخ و شریر لڑکیوں کے درمیان مجھے اپنا گم صم سا وجود کچھ اچھا نہیں لگا تھا۔ لہٰذا میں ہال کمرے میں ٹیبلز سیٹ کروانے لگی۔ اس کام ے فارغ ہوئی تو واپس جا پہنچی اور پھر مووی، تصاویر کا ایک طویل سلسلہ میں نے ونیزہ کے ساتھ مل کر ختم کیا۔ کھانے کے بعد مہمانوں نے جانے کا قصد کیا تو میں بھی اسی بہانے باہر چلی آئی اور اس وقت میں برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے لان میں گھومتے پی کاک اور پی ہین کو دیکھ رہی تھی جن کے سفید پَر چاندنی میں نہائے ہوئے محسوس ہو رہے تھے، جب ونیزہ، حماد کے ہمراہ چلی آئی۔
’’اور جناب! یہ ہیں شانزے ایمان جو محض اتفاقاً اب تک آپ سے مل نہیں سکیں۔‘‘ اس نے حماد سے میرا تعارف کروایا۔
’’افسوس کہ میں آج سے پہلے ان سے نہیں مل سکا۔‘‘ حماد نے شرارتی نظروں سے پہلے مجھے اور پھر ونیزہ کو دیکھا۔
’’کاش میں آپ سے یہ کہہ سکتی کہ ایک اور انگوٹھی لے کر شان کو بھی پہنا دیں۔ کیونکہ ہم دونوں باآسانی آپ کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہیں۔ مگر اب یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ میری دودھ شریک بہن ہے۔‘‘ ونیزہ کے کہنے پر میرے ساتھ ساتھ حماد نے بھی حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
’’ہاں بھئی، یہ بچپن میں مجھ سے فیڈر چھین کر سارا دودھ ہڑپ کر جاتی تھی۔‘‘ اس کی بات پر حماد کے چہرے پر جاندار سی مسکراہٹ کھل اُٹھی تھی۔
’’ویسے شانزے سے پوچھو، اگر یہ راضی ہو تو میں ابھی انگوٹھی اتار کر۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ اپنی ترنگ میں جو کہنے جا رہی تھی، میں نے پہلے ہی سمجھ لیا تھا جبھی تو بے اختیار اسے ٹوک بیٹھی تھی۔
’’ونیزہ! کبھی کبھی تم بغیر سوچے سمجھے بول جاتی ہو۔‘‘ میری سنجیدگی پر ماد نے چونک کر مجھے دیکھا۔
’دپلیز ڈونٹ مائنڈ۔ میں تو بس یوں ہی مذاق کر رہا تھا۔ یو آر لائیک مائی سسٹر۔‘‘ حماد نے میرا سر پکڑ کر ذرا سا ہلایا تو جواباً میں بھی مسکرا دی۔
’’اچھا بھئی اب اجاز۔ انشاء اللہ پھر کسی دن تفصیلی ملاقات ہو گی۔‘‘ حماد نے باقی سب لوگوں کو گاڑی میں سوار ہوتے دیکھ کر کہا۔
’’شیور، وائے ناٹ۔‘‘ میں نے بھی خوش دلی سے کہا اور انہیں رخصت کرنے آگے بڑھی۔ ونیزہ اپنی ہونے والی نند کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’ویسے حماد! آپ کو ونیزہ کیسی لگی ہے؟‘‘ چونکہ یہ رشتہ خالص بڑوں کی ایما پر ہوا تھا، اس لئے میں نے حماد کی رائے جاننے کی کوشش کی تھی۔
اس لمبے چوڑے شخص نے دونوں بازو سینے پر لپیٹتے ہوئے کچھ دور کھڑی، سفید لباس پہنے پریوں سی ونیزہ کو دیکھا اور کچھ لمحوں بعد حلاوت آمیز لہجے میں اس نے کہا۔
‘‘As fresh as dew.’’
‘‘As innocent as dove.’’
‘‘As fair as lily.’’
میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں ہزار جگنو رقصاں تھے۔ ایک طمانیت بخش کیفیت میرے دل میں اُترتی چلی گئی اور ان لوگوں کو رخصت کرنے کے بعد جب میں ن ونیزہ کو حماد کی رائے سے آگاہ کیا اور اس کی رائے بھانپنے کی کوشش کی تو وہ چندلمحے تفکر کے بعد شرارتی لہجے میں بولی تھی۔
‘‘As rich as jew.’’
‘‘As tall as steeple.’’
’’اوہ شٹ اپ ونیزہ!‘‘ میرے منہ بنانے پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی اور اس ہنسی کی کھنک نے اس کے دل کے تمام راز مجھ پر افشا کر دیئے تھے۔
’’چلو کمرے میں، یہاں بہت ٹھنڈ ہے۔‘‘ اس کے کہنے پر میں نے قدم آگے بڑھا دیئے۔
’’میں ہمیشہ ماں کے لمس سے محروم رہا ہوں۔ مگر اب لگتا ہے۔ ساری تشنگی مٹ گئی ہے۔‘‘
ولید احتشام کے الفاظ سن کر میری مسکراہٹ میرے ہونٹوں پہ اچانک ہی دم توڑ گئی تھی۔ چند قدم آگے جا کر منظر واضح ہوا تھا۔ ولید، مما کے کندھے پر بازو پھیلائے بڑی محبت سے کہہ رہا تھا۔
’’اور اگر اس شخص پر مما کی اصلیت واضح ہو جائے تو کیا تب بھی یہ ان سے ایسی ہی محبت جتائے گا۔‘‘
ونیزہ غالباً مجھے بیٹھنے کے لئے کہہ رہی تھی۔ میں غائب دماغی سے اس کے برابر بیٹھ گئی اور اپنی طرف بڑھا چائے کا کپ خاموشی سے تھام لیا۔
’’ہاں، مجھے بھی تو اتنا فرمانبردار، پلا پلایا بیٹا مل گیا ہے۔‘‘ مماکا لہجہ محبت و شفقت میں گندھا ہوا تھا، چائے کا پہلا گھونٹ مجھے بے حد بد مزہ لگا تھا۔
’کاش مما!۔۔۔۔ آپ ’’محبت‘‘ نامی لفظ سے آشنا ہوتیں تو جان سکتیں کہ آپ نے کتنی محبتوں کو کھویا ہے اور یہ نئی محبتیں ۔۔۔۔۔۔ چند روز بعد یہ بھی ریت کی طرح آپ کی مٹھی سے پھسل جائیں گی۔ اس لئے کہ محبت بدصورت چہروں پر تو مہربان ہو سکتی ہے، مگر بدصورت دلوں پر کبھی مہربان نہیں ہوتی اور آپ کے سینے میں دھڑکتا دل انتہائی مکروہ اور کریہہ ہے۔‘
میں اردگرد کے ماحول سے بے نیاز، چائے کے کپ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی، جب ونیزہ نے مجھے ٹہوکا دیا اور مجھے اپنے کمرے میں چلنے کا کہہ رہی تھی۔ میں نے اثبات میں سر ہلا کر نظروں کا زاویہ بدلا تو اس لمحے مجھ پر انکشاف ہوا کہ کمرے کی دائیں طرف کائوچ پر نیم دراز احتشام احمد کی زیرک نگاہیں میرے چہرے کو کھوج رہی تھیں۔ میں طویل سان لے کر ان پر سے نظریں ہٹا کر ونیزہ کے ساتھ اوپر چلی آئی تھی۔
///
ونیزہ کی منگنی کی خبر پورے ڈیپارٹمنٹ میں پھیل چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کلاس روم میں قدم رکھتے ہی ’’ٹریٹ‘‘ کے فلک شگاف نعرے سے گھبرا کر ہم دونوں باہر نکل آئی تھیں۔
’’ارے ارے، بھاگ کہاں رہی ہو تم لوگ؟‘‘ علی بھاگ کر ہم لوگوں کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
’’منگنی کی ہے تم نے۔ کوئی جرم نہیں کیا جو یوں فرار ہو رہی ہو۔‘‘ مدیحہ اپنی سیٹ پر چلّائی تھی اور ونیزہ منہ بنا کر کلاس روم میں داخل ہو گئی تھی۔
’’افوہ، لگتا ہے ونیزہ کو انگوٹھی پسند نہیں آئی۔‘‘ حیدر حسب عادت روسٹرم کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔
’’تم سے کس نے کہا؟‘‘ ونیزہ نے اسے گھورا۔
’دتمہاری شکل دیکھ کر تو کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔‘‘
’’جی نہیں، آپ کا اندازہ بالکل غلط ہے جناب! انگوٹھی بھی بے حد پیاری ہے اور۔۔۔۔۔‘‘ اس کے ادھورے جملے پر حیدر کھنکار کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
’’اگر واقعی تمہارے فیانسی بھی اتنے ہی پیارے ہیں جتنی یہ رِنگ تو پھر ہم ڈبل ٹریٹ لیں گے۔ کیوںشانزے؟‘‘ رائمہ نے پہلے بغور ونیزہ کی انگلی میں پہنی رِنگ دیکھی اور پھر مجھ سے رائے طلب کی اور میری پُرزور تائید پر ونیزہ چیخ اُٹھی تھی۔
’’بروٹس یو ٹو۔‘‘
’’مجبوری ہے بھئی۔ میں اس معاملے میں پوری طرح ان کے ساتھ ہوں۔‘‘ میرے کہنے پر ونیزہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور پھر ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر رانا صادق صاحب سے اجازت لے کر انہیں دعوت دے کر یونیورسٹی میں ہی چھوٹی سی پارٹی کا اہتمام کر لیا گیا تھا اور بہت احتیاط سے کام لیتے لیتے بھی اچھا خاصا ہنگامہ ہو گیا تھا۔ نوید چپکے سے ارسلان کا لیگ پیس چرا کر سیدھا ہوا تھا تو اس کی پلیٹ سے کیک غائب تھا۔ نیلم اس بات پر شور مچا رہی تھی کہ فہد نے قزا کے پورے چار پیس کھائے ہیں جبکہ باقی سب کے حصے میں صرف دو، دو پیس آئے تھے۔ سب اسٹوڈنٹس کے اصرار پر کسی گرم مشروب کی جگہ پیپسی کا انتظام کیا گیا تھا اور اس موسم میں جبکہ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور سرد ہوا جسم سے ٹکرانے پر بے اختیار جھرجھری سی آ جاتی تھی، جب پیپسی سب کے ہاتھوں میں آئی تو جی بھر کے اس شخص کو گالیوں اور کوسنوں سے نوازا گیا، جس نے سب سے پہلے اس کی نہ صرف فرمائش کی تھی بلکہ سب لوگوں کو ورغلایا بھی تھا۔
’’بھئی پی لو سب لوگ۔ پارٹی کے اختتام پر گرما گرم چائے میری طرف سے۔‘‘ ارسلان نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر سب کو خوش کر دیا تھا اور ان سب کاموں سے فارغ ہو کر پوری یونیورسٹی کا رائونڈ لینے کی خواہش نوید نے ظاہر کی تھی۔ اور شاید یہ دن ہی ہر قسم کی بے تکی حرکتوں کا تھا۔ جبھی تو ہر کوئی راضی نظر آ رہا تھا۔ نائلہ نے نخرہ دکھانے کی کوشش کی تو فہد جھٹ میدان میں کود گیا۔
’’جو نہیں آئے گا، اسے ہم اٹھا کر لے جائیں گے۔‘‘ وہ دونوں کزنز تھے اور ایک دوسرے میں انٹرسٹڈ بھی تھے اسی لئے ایک دوسرے پر دھونس بھی جما لیا کرتے تھے۔
’’یار! اس طرح واک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کچھ گانا وانا بھی ہونا چاہئے۔‘‘ حیدر نے سرد ہوا سے بچنے کے لئے جیکٹ کے کالر کھڑے کئے۔
’’جی ضرور۔ اسی سلسلے میں دعوت دی جاتی ہے جناب علی شیر کو۔‘‘ ارسلان نے فرضی مائیک، علی کو تھمایا۔ علی نے ہلکا سا کھنکارا اور پھر پُرسوز آواز میں گانے لگا۔
ایسا کبھی سوچا نہ تھا
یوں بے وفا ہو جائو گے
آگے لگا کر دل میں میرے
اور کسی کے ہو جائو گے
وہ ونیزہ کے عین سامنے الٹے قدموں چلتے ہوئے بے حد دکھ سے گا رہا تھا۔
’’سنو، کہیں یہ ونیزہ میں انٹرسٹڈ تو نہیں تھا؟‘‘ گانے کے بول سے متاثر ہو کر میں نے بڑی دکھ بھری حیرت سے پوچھا۔
’’پریشان مت ہونا سسٹر! یہ ہر لڑکی کے انگیج ہونے پر یوں ہی افسردہ ہوتا ہے۔‘‘ حیدر نے تسلی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے مٹھی بھر کیشونٹ اپنی جیب سے میرے ہاتھ پر منتقل کئے۔ اس کی بات سن کر سب ہی بے اختیار ہنس دیئے تھے۔ اور جب اس خوشگوار پارٹی کے اختتام پر میں ونیزہ کو ڈراپ کر کے چرچ روڈ تک آئی تو میں نے سوچ رکھا تھا کہ جاتے ہی اپنے بستر میں گھس جائوں گی اور پھر ایک لمبی نیند لوں گی۔
ایک عرصے بعد مجھے اس مخصوص پریشان کن، سرد کیفیت کا زور ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا، جو پاپا کی ڈیتھ کے بعد سے مستقل مجھے اپنے گھیرے میں لئے رکھتی تھی۔ میری اس تبدیلی کو یقینا ونیزہ نے بھی محسوس کیا تھا، جبھی وہ تمام عرصے میں بغور میرا جائزہ لیتی رہی تھی کہ آیا یہ مسکراہٹ جبراً میرے ہونٹوں پہ سجی ہے یا واقعی کوئی خوشی دل سے بھی پھوٹی ہے۔
’اور یہ ہی تو مسئلہ ہے کہ جو لوگ ہماری رگ رگ سے واقف ہوتے ہیں، انہیں ہم کسی صورت دھوکا نہیں دے سکتے۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خود کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے نادانستگی میں ہم ایسے پیاروں کو بھی اذیت دیتے رہتے ہیں جو درحقیقت ہمارے اندر بستے ہیں اور جن کے بارے میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم انہیں دھوکا دینا بھی چاہیں تو وہ باآسانی دھوکا کھا جائیں گے صرف ہمارے اطمینان کی خاطر۔۔۔۔۔۔‘ میں نے موڑ کاٹتے ہوئے سوچا۔
’اور یہ ونیزہ بھی تو انہی لوگوں میں سے ہے۔ جس سے میں کچھ چھپانا چاہوں بھی تو جیسے سب خودبخود اس پر عیاں ہو جاتا ہے۔‘
میں لاشعوری طور پر ہی اس کے متعلق سوچے جا رہی تھی۔ تب ہی اچانک سیاہ چادر میں لپٹی لپٹائی عورت ایک دم گاڑی کے سامنے آ گئی۔ فوری طور پر میرا پائوں بریک پر نہ جا پڑتا تو گاڑی اس کے اوپر سے گزر جاتی۔ گاڑی کے وہیل پوری قوت سے چرچرائے تھے اور آتے جاتے کئی راہ گیروں کو متوجہ کر گئے تھے۔ اس احتیاط کے باوجود گاڑی ہلکی سی اس عورت سے ٹکرائی تھی اور وہ اُچھل کر دور جا گری تھی۔
’’اوہ گاڈ۔‘‘ حادثہ اچانک ہی ہوا کرتا ہے مگر چونکہ میرا ساتھ یہ پہلا واقعہ ہوا تھا، اس لئے میں بے حد متوحش ہو کر اس عورت کی طرف لپکی تھی۔ اس کے قریب ہی ایک بچہ اوندھے منہ گر کر زور و شور سے رو رہا تھا۔ غالباً وہ بچہ عورت نے چادر کے نیچے چھپا رکھا تھا، جبھی اس بچے پر میری نظر نہیں پڑی تھی۔ بہرحال اسے کسی راہ گیر نے اٹھا کر سیدھا کیا اور میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوئی۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ بظاہر تو کسی چوٹ کے آثار نہیں نظر آ رہے تھے۔ وہ غالباً خوف کی وجہ سے ہی بے ہوش ہو گئی تھی۔
اس کی طرف سے مطمئن ہو کر میں نے اپنے گرد پھیلے مجمعے کو دیکھا۔ اکثر لوگوں کے چہروں پر ناگواری ثبت ہو کر رہ گئی تھی۔ ویسی ہی ناگواری، جو ایسے موقعوں پر گاڑی میں سوار کسی بھی فرد کے خلاف پیدل چلنے والوں کے چہرے پر با آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔
’’پلیز اسے اٹھانے میں میری مدد کریں تاکہ میں اسے ہاسپٹل لے جا سکوں۔‘‘ میں نے مدد طلب نظروں سے ان لوگوں کی طرف دیکھا تو ایک ادھیڑ عمر شخص فوراً آگے بڑھ آیا۔ اس عورت کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر میں نے اسٹیئرنگ سنبھال لیا۔ اس کا بچہ میرے برابر والی سیٹ پر بیٹھا رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ میں نے ایک دو بار پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چپ کروانے کی کوشش کی مگر وہ بہت سہما ہوا تھا۔ وہ بمشکل ڈھائی، تین سال کا ہی تھا اور روتے ہوئے بار بار پلٹ کر ماں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی ہچکیوں اور متواتر بہتے آنسوئوں نے مجھے قدرے بوکھلا دیا تھا۔ اس لئے جس پہلے پرائیویٹ کلینک پر میری نظر پڑی تھی، میں نے وہیں گاڑی روک دی تھی۔
صرف کمزوری کی وجہ سے اتنی دیر بے ہوش رہی ہے ورنہ کوئی چوٹ وغیرہ نہیں آئی۔ کیوں بی بی! کہیں درد یا تکلیف تو محسوس نہیں ہو رہی؟‘‘
ڈاکٹر کے پوچھنے پر اس عورت نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔ وہ کچھ دیر قبل ہی ہوش میں آئی تھی۔ اس کی رنگت ہلدی کی طرح زرد ہو رہی تھی۔ بچے کو گود میں لے کر اس نے تھپکنا چاہا مگر وہ مسلسل ریں ریں کئے جا رہا تھا۔
’’بچے کو ٹھیک طرح سے چپ کروائو۔ وہ کب سے روئے جا رہا ہے۔‘‘ مجھے اسے ٹوکنا پڑا تھا۔ مگر کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ بچے کی پیشانی پہ ہونٹ رکھے وہ رو رہی تھی۔ مجھے اس سے بے حد ہمدردی محسوس ہوئی تھی۔
’’سنو، کیا بات ہے؟ رو کیوں رہی ہو؟‘‘ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پوچھا۔
’’باجی! یہ بھوک کی وجہ سے رو رہا ہے اور میرے پاس۔۔۔۔۔۔۔‘‘ باقی کی ساری بات اس نے آنسوئوں کی زبانی کہی تھی۔ اس کی بات سمجھ کر میں نے وہاں کے ایک ملازم سے کچھ فروٹ وغیرہ منگوایا اور جس طرح بچہ ٹوٹ کر کھا رہا تھا، مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کئی پہروں سے بھوکا تھا۔
’’اب مجھے اپنا ایڈریس بتا دو تاکہ تمہیں وہاں تک چھوڑ آئوں۔‘‘ کلینک سے باہر نکلتے ہوئے میں نے پوچھا تو اس کی ویران آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئیں۔
’’باجی! میرا کوئی گھر نہیں۔ میں کہاں جائوں؟‘‘ آنسو ایک بار پھر اس کا چہرہ بھگونے لگے تھے۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’میں یتیم و بے آسرا تھی اور اب بیوہ بھی ہو گئی ہوں۔ باجی! پتہ نہیں، میرے مقدر اتنے سیاہ کیوں ہیں؟ سسرال والوں نے برداشت نہیں کیا، گھر سے نکال دیا ہے جی۔ اب بتائیں میں کہاں جائوں؟ کس گھر کا پتہ بتائوں؟‘‘ اس نے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر دونوں ہاتھ اپنے سر پر گرا لئے تھے اور ٹوٹ کر رونے لگی تھی۔ ’’پتہ نہیں، رب نے مجھ کالے نصیبوں والی کو کیوں بھیج دیا اس دنیا میں۔ مر گئی ہوتی میں بھی اسی دن جب ماں باپ کا سایہ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔ ہائے ماں! کہاں کہاں خوار ہو گی تیری بیٹی۔‘‘
وہ عورت جیسے ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی۔ اس عورت کو اپنی حرماں نصیبی پر ماتم کرتے دیکھ کر میرے اندر سے چھن سے کوئی چیز ٹوٹی تھی۔
’’دیکھو پلیز! یوں مت روئو۔‘‘ میں نے بہت کمزور سی آواز میں اسے چپ کروانا چاہا۔ راہ چلتے کچھ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے تھے۔ میں نے اسے بازو سے تھام کر اٹھایا۔
’’باجی!۔۔۔۔۔۔ آپ کو خدا کا واسطہ ہے، میری مدد کریں۔ آپ کسی امیر گھرانے کی لگتی ہیں۔ مجھے صرف چھت کا آسرا دے دیں۔ میں ساری عمر آپ کی خدمت میں گزار دوں گی۔ پائوں دھو دھو کر پیئوں گی آپ کے۔ میرا یہ چھوٹا سا بچہ رُل جائے گا جی۔ خدا آپ کو اس نیکی کی جزا دے گا۔‘‘ وہ ملتجی لہجے میں کہہ رہی تھی اور میں سوچ میں پڑ گئی تھی۔
گھر میں تو پہلے ہی ملازموں کی ایک فوج موجود تھی۔ ایسی صورت میں اس عورت کی جگہ کہاں بن سکتی تھی؟ تقریباً تمام کوارٹرز بھی زیر استعمال تھے۔ اور پھر اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ میں نے ایک نظر بچے کے معصوم سے چہرے پہ ڈالی اور اگلے ہی لمحے چھپاک سے ایک خیال میرے ذہن میں آیا تھا اور اسی خیال کی تکمیل کے لئے میں ایک مرتبہ پھر ’’دارالاطفال‘‘ جا پہنچی تھی۔
’’کوئی ایسا مسئلہ نہیں۔ یہاں ان کی رہائش کا بندوبست کر دیا جائے گا۔‘‘ ساری بات سن لینے کے بعد جب عاصم نے فارمل سے انداز میں کہا تو میں نے طویل سانس لے کر کرسی چھوڑ دی تھی۔
’’لو بھئی زہرہ! اب تم اطمینان سے یہاں رہو۔ اور عاصم صاحب! آپ کا بے حد شکریہ۔‘‘ میں نے بیگ اٹھا کر کندھے پر ڈالا تو وہ بھی احتراماً کھڑا ہو گیا تھا۔
’’شکریہ کی کوئی بات نہیں میڈم! کسی بھی بے سہارا فرد کو سہارا دینا ہمارے مذہبی فرائض میں شامل ہے۔ اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لئے صلہ رحمی کے خاص احکامات نازل ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے بڑے شائستہ لہجے میں کہا تھا اور میں مسکرا کر اس کی بات کی تائید میں سر ہلا کر باہر نکل آئی تھی اور ابھی میں کوریڈور کی سیڑھیوں سے اُتری ہی تھی جب اچانک بڑا سا فٹ بال میرے کاندھے پہ آ لگا تھا۔ چونکہ حملہ بہت اچانک تھا، اس لئے میں لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچی تھی۔ فطری طور پر غصے کی ایک تیزلہر میرے وجود میں دوڑ گئی تھی۔ تب ہی اچانک کچھ بچے بھاگتے ہوئے میرے قریب آ گئے تھے۔
’’ارے آنٹی! کیا یہ فٹ بال آپ کو لگا ہے؟‘‘ ایک بچہ بے حد حیران لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
’’پھر تو چوٹ بھی آئی ہو گی۔‘‘ دوسرے نے میرے جواب کا انتظار کئے بغیر بڑے دکھ سے کہا تھا۔
’’ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر تو فرسٹ ایڈ کا بندوبست کرنا چاہئے۔ جائو بھاگ کر کمبل لائو۔ آنٹی کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔‘‘ پہلے بچے نے گھبرا کر کہا تھا۔
’’بے وقوف! چوٹ لگنے پر کمبل نہیں ڈالتے، آگ لگنے پر ڈالتے ہیں۔‘‘ دوسرے بچے نے پیشانی پر ہاتھ مار کر اس کی کم عقلی پر ماتم کیا تھا۔ جبکہ میں ان کی بات سن کر بے ساختہ ہی ہنس دی تھی۔
’’آنٹی! چوٹ لگنے پر تو روتے ہیں اور آپ ہنس رہی ہیں۔‘‘ اس بچے کی معنی خیز بات پر میں ہنستے ہنستے ایک دم چپ ہو گئی تھی۔
’’ہاں، مگر۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا۔ ’شاید ہم اپنی بے بسی پر ہنستے ہیں۔‘
’’آنٹی! آپ ہماری نئی ٹیچر ہیں؟‘‘
’’نہیں۔ میں تو بس آج ہی آئی ہوں۔‘‘
’’آپ روز کیوں نہیں آتیں؟‘‘
’’اچھا چھوڑو ان باتوں کو۔ یہ بتائو اتنی سردی میں کھیلنا ضروری ہے کیا؟‘‘ میں نے ان کے بے تکے سوالوں سے جان چھڑاتے ہوئے ان کے سرخ سرخ چہروں کو دیکھا۔
’’ابھی تو اسٹڈی آور ختم ہوئے ہیں۔ بس تھوڑا سا کھیلیں گے، پھر میوزک کی کلاس شروع ہو جائے گی۔‘‘
’’اچھا یہ تو بتائیں آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ میں قریبی بنچ پر بیٹھ گئی تھی۔
’’مالیکیول۔‘‘ پہلا بچہ ابھی بولا بھی نہیں تھا کہ دوسرے نے جھٹ سے جواب دیا تھا۔
’’جی نہیں، میرا نام شاویز ہے۔‘‘
’’اور میرا نام فاران۔‘‘ دوسرے بچے نے فٹ بال زمین پر اچھالتے ہوئے کہا۔
’’آنٹی! آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ شاویز خاصا سمجھ دار بچہ تھا۔
’’میرا نام تو شانزے ہے۔ مگر آپ مجھے شان کہہ سکتے ہیں۔ میرے پاپا مجھے شان کہا کرتے تھے۔‘‘
’’شان۔ ہائو کیوٹ نیم۔‘‘ فاران نے آنکھیں میچ کر کہا۔ ’’میرے پاپا بھی مجھے فانی کہتے ہیں۔‘‘
’’پاپا۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ کیونکہ میری انفارمیشن کے مطابق یہاں یتیم بچوں کی پرورش کی جاتی تھی۔ ’’فانی! آپ کے پاپا ہیں؟‘‘ میں نے قدرے جھجکتے ہوئے سوال کیا۔
’’جی بالکل۔‘‘ فانی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔
’’شان! آپ ملی نہیں آفندی پاپا سے؟‘‘ شاویز یوں متعجب تھا، جیسے میں کسی بہت بڑی شخصیت سے ملنے سے محروم رہ گئی ہوں۔
’’اوہ۔‘‘ بات میری سمجھ میں آ گئی تھی۔ اس ادارے کا سرپرست ہونے کے باعث یقینا وہ بچوں کے باپ کی سی حیثیت ہی رکھتا تھا۔ ابھی میں شاویز کو کوئی جواب بھی نہ دے پائی تھی، جب کہیں دور سے بہت پیاری، نقرئی سی گھنٹیوں کے بجنے کی آواز سنائی دی۔ وہ دونوں ایک دم چونک گئے تھے۔
’’میوزک پیریڈ شروع ہو گیا۔ اب ہم چلتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنے ننھے منے ہاتھ میری طرف بڑھا دیئے۔
’’اوکے، اللہ حافظ!‘‘ میں بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’شان! آپ بہت اچھی ہیں۔‘‘ چند قدم چلنے کے بعد فانی میری طرف پلٹا تھا۔
’’آپ دوبارہ آئیں گی نا؟‘‘ شاویز کی آنکھوں میں اُمید کی کرن تھی۔
اور کیا بچوں سے بڑھ کر کوئی حسین چیز ہو گی اس دنیا میں۔ معلوم نہیں وہ بچے واقعی اتنے خوب صورت تھے یا مجھے محسوس ہو رہے تھے۔
’’ہاں ضرور آئوں گی۔‘‘ میں نے آگے بڑھ کر ان کے نرم گالوں کو اپنی اُنگلیوں سے چھوا تو ان کی محبت کا لمس جیسے پورے جسم کو گرما گیا تھا۔
’’تھینک یو، بائے۔‘‘ وہ دونوں ہاتھ ہلا کر بھاگ گئے تھے اور میں نے بھی واپسی کے لئے قدم بڑھا دیئے تھے۔
///
کروٹ بدل کر میں نے مندی مندی آنکھوں سے ٹائم دیکھا۔ پونے ایک بج رہے تھے۔ گہری اور طویل پُرسکون نیند لے کر میرے اعصاب کافی سکون محسوس کر رہے تھے۔ کچھ دیر یوں ہی لیٹے رہنے کے بعد میں نے تمام بال کلپ میں جکڑے اور بیڈ سے اُتر آئی۔
میری ہدایت کے پیش نظر کسی نے بھی مجھے ڈسٹرب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ منہ ہاتھ دھو کر خشک کرنے کے بعد جب میں نے کمرے سے باہر قدم رکھا تو ایک دم جھرجھری لے کر رہ گئی۔ شال کو اچھی طرح اپنے گرد لپیٹتے ہوئے میں سیڑھیاں اُتر کر کچن میں آ گئی تھی۔
یونیورسٹی سے واپسی پر میں نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اسی لئے اس وقت سخت بھوک لگ رہی تھی۔ میں نے فریج کا جائزہ لے کر بریانی نکال کر گرم ہونے کے لئے اوون میں رکھی اور خود چائے بنانے لگی۔
’’میرے لئے کافی ودآئوٹ شوگر اینڈ کریم۔‘‘ ایک مانوس سی پکار لائونج سے سفر کرتی مجھ تک پہنچی تھی۔ میری نگاہیں بے اختیار ہی بھٹکتی ہوئی لائونج میں جا پہنچی تھیں۔ متلاشی و متجسس نگاہیں، کسی کو ڈھونڈتی، کھوجتی ہوئی۔ مگر اسی پل تمام تر بے قراری و بے چینی کو اپنے اندر سمو کر واپس پلٹ آئی تھی۔
’کمال ہے پاپا! منوں مٹی تلے جا سوئے آپ ۔۔۔۔۔۔ لیکن ابھی بھی یوں لگتا ہے ہر قدم پر آپ میرے ساتھ ہیں۔ میں یہاں چائے بنا رہی ہوں اور آپ لائونج میں کافی کے منتظر بیٹھے ہیں۔ کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ اور ابھی جب میں بیڈروم واپس جا رہی ہوں گی تو آپ اپنے اسٹڈی روم سے نکل کر اچانک ہی میرے سامنے آ جائیں گے۔
’’شب بخیر پاپا کی جان!‘‘ آپ کی دھیمی سی آواز چاروں طرف پھیکی خاموشی میں نازک سا ارتعاش پیدا کر دے گی اور آپ کے وجود کی نرم، گرم خوشبو صبح تک مجھے اپنی آغوش میں لے کر تھپکتی رہے گی۔ مگر پھر بھی پاپا! ہر جگہ میرے ساتھ ساتھ ہونے کے باوجود یہ احساس مسلسل مجھے ڈستا رہتا ہے کہ آپ کہیں نہیں ہیں۔ نہ اپنے اسٹڈی روم میں، نہ لائونج میں، نہ بیڈ روم میں اور نہ ہی کہیں اور۔۔۔۔۔۔‘ کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے ذرا سی چائے میرے ہاتھ پہ گری تو میں یکلخت ہی خیالات کے چنگل سے آزاد ہو گئی۔
بے اختیار ہی ہاتھ کھینچ کر میں نے جائزہ لیا۔ کچھ زیادہ تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ ٹھنڈے پانی سے ہاتھ دھو کر میں چائے کا کپ اٹھائے ٹی وی لائونج میں آ گئی۔ بار بار چینل بدلنے کے باوجود دلچسپی کا کوئی سامان نر نہ آیا تو میں نے جھنجلا کر ریموٹ کنٹرول صوفے پر لڑھکا دیا۔ بے وقت سونے کی غلطی پر پچھتاتے ہوئے میں ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اتنا ڈھیر سارا وقت کن کاموں میں صرف کیا جائے جب اچانک کوئی میرے نزدیک ہلکا سا کھنکارا تھا۔ سناٹے میں یہ آواز میرے لئے اتنی غیر متوقع تھی کہ میں ایک دم خوف سے کانپ گئی تھی۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔ شاید تم ڈر گئیں۔ آئی ایم رئیلی ویری سوری۔ لیکن میں تو کوریڈور کی لائٹیں آن کرتا ہوا آیا ہوں اور میرا خیال تھا، قدموں کی چاپ سن کر تمہیں یقینا اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کوئی فرد اس طرف آ رہا ہے۔‘‘ احتشام احمد نے دائیں طرف صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ انہیں دیکھ کر غصے اور ناگواری کی تیز لہر میرے دل سے اُٹھی اور چہرے پر آ کر ٹھہر گئی تھی۔ غالباً اسی لئے انہوں نے اتنی وضاحت کی تھی۔ میں نے بچی کھچی چائے سمیت کپ میز پر پٹخا اور چپل پہن کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ احتشام احمد کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے حیرت سی نمودار ہوئی۔
’’شانزے! میں رات کے ڈیڑھ بجے یہاں ٹی وی پروگرام دیکھنے نہیں آیا۔ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’میں نے آپ سے یہاں آنے کی وجہ نہیں پوچھی۔ اور یوں بھی میں اس وقت فارغ نہیں ہوں۔‘‘ میں بے اعتنائی سے کہہ کر پلٹی۔
’’شانزے پلیز۔‘‘ انہوں نے بہت اصرار کے ساتھ پکارا تھا۔
’’کبھی کوئی شخص پیچھے سے آواز دے تو پلٹ کر ایک مرتبہ ضرور دیکھنا چاہئے۔‘‘ پاپا نے ایک مرتبہ مجھے کہا تھا اور اس وقت یہی بات مجھے اگلا قدم اٹھانے سے روک گئی تھی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ بڑی امید سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ مجھے دوبارہ بیٹھتے دیکھ کر انہوں نے جیسے اطمینان کا سانس لیا تھا۔
’’جو کہنا ہے جلدی کہئے۔‘‘ میں نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ انہوں نے کچھ دیر کے لئے ٹی وی اسکرین کو دیکھا اور پھر مجھے۔ وہ غالباً یہ سوچ رہے تھے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔
’’شانزے! معلوم ہے، جب فصیحہ نے مجھے تمہارے متعلق پہلی بار بتایا تھا تو میرے ذہن میں ایک بہت خوب صورت سا تصور اُبھرا تھا۔ میں نے سوچا تھا، شانزے ایک پیاری سی گڑیا کا نام ہے جو کومل سی کانچ جیسے جذبات کی مالک، روپہلی چاندنی کی طرح معصوم اور سورج کی اوقلین کرنوں کی طرح شوخ و شریر، نٹ کھٹ سی ہو گی۔ بیٹیاں تو ایسی ہی ہوتی ہیں نا؟‘‘
انہوں نے جیسے مجھ سے تائید چاہی تھی۔ میں چپ چاپ میز کی سطح کو گھورتی رہی۔
’’میں نے سوچا، وہ گڑیا اپنے پاپا کی جدائی کے صدمے سے مرجھا کر رہ گئی ہو گی۔ میں نے ہزار طریقے سوچے تھے اسے بہلانے کے۔ میرا خیال تھا، میں اسے بے انتہا محبت اور بے تحاشا شفقت بھری چاہت دوں گا کہ وہ ایک بار پھر سے کھل اٹھے گی مگر۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ ایک لمحے کے لئے رکے تھے اور میں نے بمشکل خود کو اٹھنے سے باز رکھا تھا اور اسی لمحے مجھے معلوم ہوا تھا کہ کسی انتہائی ناپسندیدہ ہستی کو مسلسل سننا کس قدر ناقابل برداشت ہوتا ہے۔
’’میں نے جہاں جہاں بھی تمہاری زندگی کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی، وہاں وہاں تمہارا گریز، تمہاری نفرت میری راہ روکتی چلی گئی۔ کتنے مہینے گزر گئے مجھے یہاں آئے ہوئے مگر تمہارے روّیے میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا۔ فصیحہ کا خیال ہے کہ میں تمہاری بلا جواز نفرت کا شکار ہو رہا ہوں۔ لیکن میں اسے تسلیم نہیں کرتا کیونکہ میرے خیال میں محبت تو بلاجواز کی جا سکتی ہے مگر نفرت نہیں۔ اور اگر تم میرے ساتھ نفرت کرتی ہو تو اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں۔‘‘
مجھے اپنے وجود میں گرم گرم سی لہریں اس شدید سردی کے باوجود بھی دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ مجھے اس شخص پر بے حد غصہ آ رہا تھا جو خوامخواہ خود کو معصوم ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
’’میں جانتا ہوں، بیٹیاں ماں کی نسبت باپ سے زیادہ نزدیک ہوتی ہیں، انہیں زیادہ چاہتی ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں شانزے! کہ تم مجھے اپنے پاپا کی جگہ اس گھر میں قبول نہیں کر رہیں؟ اگر ایسا ہے تو تم بلاجھجک مجھ سے کہہ سکتی ہو۔ میں صرف فصیحہ کے کہنے پر یہاں سکونت اختیار کئے ہوئے ہوں۔ لیکن اگر تم ڈسٹرب ہوتی ہو تو میں اپنے گھر میں شفٹ ہو جائوں گا۔ لیکن تم اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دو کہ میں زبردستی تمہارے پاپا کی جگہ پر قبضہ جما رہا ہوں۔ میرے ذہن میں تمہارے روّیے کی یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے لیکن اور بہت سی باتوں کو بھی میں نظرانداز نہیں کر رہا۔ ہو سکتا ہے تم مجھے کوئی لالچی انسان سمجھ رہی ہو جو تمہارے خیال میںمحض دولت، جائیداد کے حصول کے لئے اس گھر میں قدم جما رہا ہو۔ یا پھر یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مجھ سے شادی کرتے وقت فصیحہ نے تمہیں اعتماد میں نہ لیا ہو یا پھر اس کے علاوہ بھی کوئی ایسی وجہ جس جس سے ہو سکتا ہے میں واقف نہ ہوں۔‘‘ ان کی نظریں مجھے اندر تک کھوج رہی تھیں۔
اب میرے لئے خاموش رہنا ناممکن تھا اس لئے بے حد سرد مہری سے میں ان سے مخاطب ہوئی تھی۔
’’پہلی بات تو یہ ہے مسٹر احتشام احمد! کہ پاپا کی جگہ اس گھر میں نہیں میرے دل میں ہے۔ اور اس دل سے نہ انہیں کوئی ہٹا سکتا ہے اور نہ زبردستی ان کی جگہ لے سکتا ہے۔ باقی رہ گئی دولت اور جائیداد تو اس سلسلے میں مھے کسی قسم کی کوئی فکر ہے نہ کسی سے کوئی خطرہ ہے۔ کیونکہ میری مما کو اس دنیا میں دو ہی چیزوں سے محبت ہے اور وہ ہے دولت اور آزادی۔ اور ان دونوں چیزوں کی حفاظت کرنا وہ خوب جانتی ہیں۔ اور آخری بات یہ ہے احتشام صاحب! کہ میں محبت بھی ٹوٹ کر کرتی ہوں اور نفرت بھی۔ میری نفرت کا جواز اتنا معمولی ہرگز نہیں ہو سکتا جتنا آپ کہہ رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے آپ اتنے معصوم اور انجان ہرگز نہیں جتنا خود کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہی۔‘‘ میں زہرخند لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی تھی۔ اور پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کر ان کے سامنے سے ہٹ گئی تھی۔ ان کی پیشانی پر لکیروں کا جال سا بن گیا تھا اور ان کی اُلجھی اُلجھی نظروں نے اس وقت تک میرا پیچھا کیا تھا، جب تک میں اپنے کمرے کے دروازے کے پیچھے گم نہیں ہو گئی تھی۔
’اور میں کیسے مان لوں احتشام احمد! کہ اس سارے کھیل میں تمہارا کوئی حصہ نہیں تھا؟‘
میں نے کمرے کی کھڑکی کو کھول کر سرد ہوا کو جی بھر کے کمرے میں داخل ہونے دیا۔ لمبے لمبے سانس لے کر میں نے اپنے اندر کی ساری گھٹن باہر نکال دینی چاہی۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر کہنیاں جما کر میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے دُکھتے ہوئے سر کو تھام لیا اور پھر میں نے نجانے کتنی دیر یونہی خود کو نارمل کرتے ہوئے گزار دی تھی۔
سرد ہوا میرے جسم سے ٹکرا کر پلٹتی رہی اور وقت گزرنے کا احساس اس وقت ہوا جب میرا پورا جسم سردی سے کپکپا رہا تھا۔ میں نے بہت آہستگی سے اپنے جامد اعضاء کو حرکت دی اور سیدھی ہو کر کھڑکی کے پٹ سے ٹیک لگا دی۔ آسمان کے سینے پر روشن پورا چاند سست روی سے اپنا سفر طے کر رہا تھا۔ کھڑکی سے ذرا آگے ٹیرس پر رکھے وائٹ بیم کی پتیاں چاندی کی طرح چمک رہی تھیں۔ میں نے گردن گھما کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی پاپا کی خوب صورت سی تصویر کو دیکھا اور پھر قریب آ کر تصویر کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا لیا۔
’’پاپا! میں تو صرف آپ کی بیٹی ہوں نا۔۔۔۔۔۔ صرف آپ کی۔‘‘ میں نے جیسے سرگوشی میں انہیں مخاطب کیا تھا۔
’اور اس شخص کو یہ گمان بھی کیسے گزرا کہ وہ آپ کی جگہ لے سکتا ہے؟‘ میں نے اپنے سرد پوروں سے تصویر کو چھونے کی کوشش کی۔
کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔ کبھی نہیں پاپا!۔۔۔۔۔۔ وہ شخص دوسرا جنم لے لے، تب بھی وہ آپ کی جگہ نہیں لے سکتا۔‘‘ میں تصویر پر اپنا چہرہ ٹکا کر سسک اُٹھی تھی۔
///
اس کا سر جھکا ہوا تھا اور نگاہیں مسلسل اٹھتے گرتے قدموں کا طواف کر رہی تھیں۔ ا کے جوتے راستے کی گرد میں اٹے ہوئے تھے۔ بے تحاشا تھکن اس کے جسم میں خون کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھی۔
’’میں کون ہوں؟‘‘
’’کہاں سے آیا ہوں؟‘‘
’’مجھے کہاں جانا ہے؟‘‘
اس نے زیر لب پوچھا تھا۔ اپنے آپ سے، اپنے سر پر ڈولتے پرندوں اور دور تک بل کھاتی سیاہ سڑک سے۔
مگر جواب میں ایک سنسان اور دبیز خاموشی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا تھا۔ اس نے لمحہ بھر کے لئے رک کر کچھ سوچا۔
’کتنے سال بیت گئے۔۔۔۔۔۔ یا شاید کئی صدیاں۔ میں یونہی حالتِ سفر میں ہوں، مڑ کر پیچھے دیکھتا ہوں تو لگتا ہے ابھی قدم بھر مسافت بھی طے نہیں ہوئی۔ میرے پائوں اپنی جگہ ساکت ہیں۔ سفر کے آغاز سے لے کر آج تک صرف زمانے بدلے ہیں۔ راستہ اور مقام وہی ہے۔ میں بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں سے چلا تھا۔ ہاں مگر زمین گردش میں ہے۔‘
میں نے سر اٹھا کر رنگ بدلتے آسمان کو دیکھا۔
’جب میں نے سفر کا آغاز کیا تھا تو ہر چیز جیسے اپنے نقطہ آغاز پر تھی اور اب دن اپنی تمام تر مسافت کو سمیٹے رات کی آغوش میں پناہ لینے جا رہا ہے۔ شاہ خاور اپنی نیم خوابیدہ کرنوں کو لے کر کسی دُور دیس میں جا اُترے گا۔
پرندے قطار در قطار اپنے آشیانوں کی سمت محوِ پرواز ہیں۔ منزل کو چھو لینے کی جستجو میں ان کے نازک پَر برفاب ہوا کو کاٹتے چلے جا رہے ہیں۔
اور میں؟۔۔۔۔۔۔۔ میں منزل کو کھوجنے کی کوشش کرتا ہوں تو آنکھوں میں دُھند اُتر آتی ہے۔ اور طویل لامتناہی، بل کھاتی سڑک بھی کہیں راہ میں کھو سی گئی ہے۔‘
اس نے بے چینی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اسے لگا وہ بہت دیر سے ایک ہی جگہ کھڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چلتے شاہ بلوط کے درخت بھی اس کے ساتھ ٹھہر گئے تھے۔ اس کے قدموں تلے گردش کرتی زمین بھی تھم گئی تھی۔
آج کا سورج اُفق کی بجائے اس کی آنکھوںمیں ڈوبا تھا اور وہ کھلے آسمان تلے تاریکیوں میں مدغم ہوتا جا رہا تھا۔ پھر اس کے قدموں میں ارتعاش پیدا ہونے لگا۔
’تو گویا ٹھہر جانا بھی نصیب نہیں۔‘ اس نے بے بسی سے قدم اٹھائے۔ زمین ایک مرتبہ پھر گردش میں تھی۔
’اور کیا معلوم ان شکستہ قدموں تلے زمین ہے بھی کہ نہیں۔‘ اس نے دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں گھساتے ہوئے سوچا تھا۔ اس کے چاروں طرف فضا جامد تھی۔ صرف پائوں متحرک تھے۔ رات کی یخ بستہ دہلیز پہ بکھرا سناٹا اسے خوف زدہ کر رہا تھا۔ اس نے شدت سے کسی ہم سفر کی چاہ کی تھی اور اس کے دل میں بکھری تنہائی نے کسی خواب کے فسوں سے آزاد ہو کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال دی تھیں
ہم بے نشان لوگوں کو
راستہ نہیں ملتا
راستہ جو مل جائے
منزلیں نہیں ملتیں
منزلیں جو مل جائیں
خود کو مل نہیں پاتے
خود کو مل نہیں پاتے
اس کی تنہائی اسے بہلا رہی تھی۔ اور اس کی آنکھوں میں ایک سمندر جاگ رہا تھا۔
’میں تو آج تک خود سے نہیں مل سکا۔۔۔۔۔ خدا جانے میں ہوں بھی یا نہیں۔‘ اس نے زور سے آنکھیں بند کر لیں اور رات کے رخسار نم ہوتے چلے گئے تھے۔ دور کہیں روشنیاں سی جگمگاتی محسوس ہو رہی تھیں۔
’’شاید بستی نزدیک ہے۔‘‘ اس نے خودکلامی کی تھی۔
’’صاحب! آپ آ گئے ہیں؟‘‘ گلزار خان کی آواز کہیں قریب سے اُبھری تھی۔
اس نے سر اُٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔۔ بلند و بانگ سیاہ آہنی گیٹ اس کے عین سامنے تھا اور اس کے پار ایک دنیا اس کی منتظر۔
’’صاحب! گاڑی کدھر ہے؟ آپ پیدل کیوں آئے ہیں؟‘‘ گلزار خان کا متفکر چہرہ دیکھ کر اس کے چہرے پہ مسکراہٹ لہرائی تھی۔
’’گاڑی خراب ہو گئی تھی خان!‘‘ اس نے کہتے ہوئے سیاہ گیٹ عبور کیا۔
’’آفندی پاپا کب آئیں گے؟‘‘
’’وہ کھلونے لے کر آئیں گے نا؟‘‘
’’وہ ہمیں سیر کے لئے بھی لے کر جائیں گے۔‘‘
’’وہ آ کیوں نہیں جاتے؟‘‘
زندگی سے بھرپور آوازیں رات کے معصوم سناٹے پر کندہ ہو رہی تھیں اور اس کے وجود پر جمی تھکن زدہ تنہائی لمحہ بھر میں چٹخ گئی تھی۔ اس نے خالی ہتھیلیاں اپنے سامنے کر لیں۔
نہ کوئی کھلونا۔۔۔۔۔۔ نہ مٹھائی۔۔۔۔۔۔ نہ تحفہ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں تھا اس کے پاس۔
’’آفندی پاپا! جلدی آ جائیں۔‘‘ کوئی محبت آمیز بے قرار سی دعا سنائی دی تھی۔
’اگرچہ میرے ہاتھ خالی ہیں۔ مگر انہیں دینے کے لئے میرے پاس بہت کچھ ہے۔‘ اس نے قدم آگے بڑھا دیئے تھے۔
///
میں نے تھک کر اپنا سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا تھا۔ میرے سامنے ٹیبل پر کتابوں کا ایک انبار لگا ہوا تھا، جو ونیزہ جاتے ہوئے چھوڑ گئی تھی۔ آج اس نے اسائنمنٹ تیار کرنے کے لئے پوری لائبریری خالی کر ڈالی تھی مگر واپسی پر حماد اسے پک کرنے چلا آیا تھا۔ ان کے بے حد اصرار کرنے پر بھی میں نے ان کے ساتھ لنچ پر جانے سے معذرت کر لی تھی۔ سو ونیزہ ناراضگی کے طور پر کتابوں کا یہ ڈھیر میری گود میںڈال کر چلی گئی تھی اور اب تین گھنٹے کی مسلسل عرق ریزی کے بعد اسائمنٹ مکمل کر کے ہی میں نے کتابوں سے سر اٹھایا تھا اور Rhythm of the world سنتے ہوئے میں خود کو ریلیکس کر رہی تھی۔
’’بی بی جی! اس میں کیا ہے؟‘‘ ملازمہ کی آواز پر میں نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا۔ وہ دیوار گیر وارڈروب میں کپڑوں کی ترتیب درست کر رہی تھی اور اب ایک شاپنگ بیگ ہاتھ میں پکڑے مجھ سے پوچھ رہی تھی۔ میں نے حیرت سے اس شاپنگ بیگ کو دیکھا۔
’’اوہ۔‘‘ چند لمحوں بعد مجھے یاد آیا تھا۔ ’’دارالاطفال‘‘ سے آنے کے اگلے روز میں ونیزہ کے ساتھ مارکیٹ گئی تھی۔ وہاں جب ونیزہ حماد کو گفٹ دینے کے لئے کوئی ڈیڑھ، دو انچ کا بھالو خرید رہی تھی، مختلف کھلونوں کو دیکھتے ہوئے مجھے بے اختیار ہی شاویز اور فاران یاد آ گئے تھے۔ سو میں نے اپنے پرس میں موجود تمام پیسے چھوٹے، بڑے کھلونے خریدنے میں خرچ کر دیئے تھے۔ خیال تھا کہ ایک دو روز میں جائوں گی اور بچوں کو کھلونے دوں گی مگر یہ بات پھر ایسے ذہن سے نکلی تھی کہ آج ہی یاد آئی تھی۔
’’اسے باہر ہی رہنے دو۔‘‘ میں ملازمہ سے کہتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
ونیزہ کے اتنی جلدی آنے کی مجھے امید نہیں تھی، اس لئے میں نے ابھی جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔
’’سنو، ونیزہ آئے تو اسے کہنا ابھی گھر مت جائے۔ میں جلد ہی لوٹ آئوں گی۔‘‘
سرمئی کھدر کے سوٹ کی شکنیں میں نے ہاتھوں سے درست کرتے ہوئے ملازمہ کو ہدایت دی اور پھر شاپنگ بیگ لے کر باہر آ گئی۔ مما کے بیڈ روم سے زور و شور سے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ غالباً ان کی کوئی قریبی دوست آئی ہوئی تھی، جبھی تو ڈرائنگ روم کی بجائے بیڈ روم میں رونق اپنے عروج پر تھی۔ ان کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے پر ایک بھی نگاہ ڈالے بغیر میں آگے بڑھ گئی تھی۔
’’دارالاطفال‘‘ کا پٹھان چوکیدار حسب سابق مجھے سر تا پا گھورنے کی بجائے نہ صرف خوش مزاجی سے مسکرایا تھا بلکہ ماتھے تک ہاتھ لے جا کر سلام بھی داغ دیا تھا۔
’’سنو! بچے اس وقت کہاں ہوں گے؟‘‘ عمارت کے دائیں طرف بنے وسیع و عریض خالی لان اور ساکت جھولوں کو دیکھ کر میں نے چوکیدار سے پوچھا تھا۔
’’ان کا تو اس وقت۔۔۔۔۔۔‘‘ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ ’’ہاں جی، ان کی اس وقت مارشل آرٹ کی کلاس ہو رہی ہے۔‘‘
’’مارشل آرٹ کی؟‘‘ میں واقعی حیران ہوئی تھی۔ ’’یہ تم کیا کچھ سکھاتے ہو بچوں کو؟‘‘
’’بیگم صاحبہ! ہم انہیں ہر وہ چیز سکھاتے ہیں جو اکیسویں صدی کے بچوں کو سیکھنی چاہئے۔ صبح کے وقت انہیں دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ پھر کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم دیتے ہیں۔ پھر جناب! ان کی میوزک اور ڈرائنگ اور پھر مارشل آرٹ کی کلاسیں ہوتی ہیں۔‘‘ وہ رٹو طوطے کی طرح ایک دم شروع ہو گیا تھا۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ویسے مجھے شاویز اور فاران سے ملنا تھا۔‘‘ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ اس ادارے کی ہسٹری سے بھی واقف نہ ہو، سو میں نے فوراً کہہ دیا تھا۔
’’ابھی بلاتے ہیں۔ ویسے زہرہ نے کہا تھا کہ کبھی آپ آئیں تو اس کو ضرور خبر کروں‘‘ مجھے ایک دم ہی اس کا خیال آ گیا تھا۔
’’چلو ٹھیک ہے، اسے بھی بلا دو۔‘‘ میں وہیں بنچ پر بیٹھ گئی تھی۔ مگر چوکیدار نے کسی ملازم کو پیغام دے کر اندر بھجوا دیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ہی زہرہ تیز تیز قدم اٹھاتی میرے پاس آ گئی تھی۔ وہ پہلے کی نسبت مطمئن لگ رہی تھی اور میرے ساتھ بیٹھ کر وہ تقریباً پندرہ منٹ تک خشوع و خضوع کے ساتھ مجھے دعائوں سے نوازتی رہی تھی۔
’’بھئی میرا تو اس میں کوئی کمال نہیں۔ تمہیں ان لوگوں کا شکرگزار ہونا چاہئے جن کی وجہ سے تمہیں اور تمہارے بچے کو تحفظ مل گیا ہے۔‘‘ بالآخر مجھے ٹوکنا پڑا تھا۔
’’ہاں جی۔ ان کو تو جھولیاں بھر بھر کے دعائیں دیتی ہوں۔ کل آئے تھے جی آفندی صاحب۔ میں بھی ملی تھی ان سے۔ بہت اچھے انسان ہیں۔ اللہ ان کی ہر مراد پوری کرے انہیں ان کی ہر نیکی کا صلہ دے۔‘‘
’’آفندی صاحب یہاں نہیں رہتے کیا؟‘‘
’’نہیں جی۔ سنا ہے، کاروبار کے سلسلے میں زیادہ تر ملک سے باہر ہی رہتے ہیں۔ یہاں بس کچھ دنوں کے لئے آتے ہیں۔ بلکہ میرا تو خیال ہے کہ ان کا ایک پائوں یہاں ہوتا ہے اور ایک ملک سے باہر۔‘‘ زہرہ سے بات کرتے کرتے میں نے گھڑی دیکھی۔ مجھے واپس بھی جانا تھا اور بچوں کا دور دور تک کہیں نشان نہیں تھا۔ میں نے زہرہ سے ذکر کیا تو وہ فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میں انہیں خود بلا کر لاتی ہوں۔‘‘
اور تھوڑی دیر بعد جب میں کافی بور ہو رہی تھی، سامنے سے تین بھالو لڑھکتے ہوئے میری طرف آتے دکھائی دیئے۔ سفید اُونی لباس میں ان تینوں بچوں کو دیکھ کر میری ساری بوریت ختم ہو گئی تھی۔ وہ مجھ سے کچھ دور آ کر رکے، جھجکے اور پھر آہستہ سے نزدیک چلے آئے۔ ان کی سانسیں بھاگنے کی وجہ سے پھول رہی تھیں اور چہرے سرخ ہو رہے تھے۔
’’ادھر آئو نا میرے پاس۔‘‘ میں نے پیار سے انہیں پکارا تو وہ میرے بازوئوں کے حلقے میں آگئے۔
’’آپ بالکل بھی اچھی نہیں ہیں۔‘‘ شاویز کا لہجہ ناراضگی لئے ہوئے تھا۔
’’کیوں بھئی؟‘‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’میں اور فانی ہر روز آپ کا انتظار کرتے تھے مگر آپ آئی ہی نہیں۔‘‘
’’اوہ سوری بھئی۔ اصل میں، میں بھی پڑھتی ہوں نا، اس لئے مصروفیت میں وقت ہی نہیں نکال سکی۔ دیکھ لو، آج جیسے ہی فارغ ہوئی فوراً یہاں چلی آئی۔‘‘ میں نے دل میں پشیمان ہوتے ہوئے ان سے بہانہ کیا۔
’’ویسے یہ گڑیا کون ہے؟ آپ نے تعارف ہی نہیں کروایا۔‘‘ میں نے اس گم صم سی بچی کو دیکھا جس کی سیاہ خاموش آنکھیں اس کے دل کی حساسیت کا پتہ دیتی تھیں۔
’’یہ عینی ہے میری دوست۔‘‘ شاویز نے کہا۔
’’میری بھی دوست ہے۔‘‘ فانی نے جھٹ کہا۔
’’جی نہیں شان! یہ عینی کو تنگ کرتا ہے، اس لئے یہ اس کا دوست نہیں ہے۔‘‘ شاویز نے جھٹ انکار کر دیا تھا۔
’’عینی بتائے گی کہ یہ کس کی دوست ہے۔ کیوں عینی؟‘‘
’’دونوں دوست ہیں۔ بس فانی میری پونی کھینچتا رہتا ہے، اس لئے میں اس سے کٹی کر لیتی ہوں۔‘‘ اس نے بہت سوچ کر کہا تھا۔
’’بھئی بہت بری بات ہے فانی! فرینڈز کو تنگ تو نہیں کرتے نا؟‘‘ میں نے فانی کی پیشانی پر بکھرے بالوںکو ہٹاتے ہوئے کہا۔
’’سوری شان! آئندہ نہیں کروں گا۔‘‘ وہ بڑے آرام سے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرنے لگا تھا۔
’’دیٹس لائک اے گڈ بوائے۔ اسی خوشی پر میں آپ لوگوں کو آپ کے گفٹس دے دیتی ہوں۔‘‘ میں نے کہا تو ان کی آنکھیں ایک دم چمک اُٹھی تھیں۔
’’شان! اس میں کیا ہے؟‘‘ فانی نے باقی گفٹس دیکھے۔
’’یہ آپ کے دوسرے فرینڈز کے لئے ہیں۔ اس کے علاوہ چاکلیٹس اور سویٹس بھی ہیں۔ وہ زہرہ آپ سب میں تقسیم کر دے گی۔ ٹھیک؟‘‘
’’نئیں، نئیں۔ وہ بالکل بھی اچھی بچی نہیں ہے۔ اس کو نہیں دینے۔‘‘ شاویز نے پائوں پٹخے۔
’’کیوں بھئی؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’وہ جب مجھے نہلاتی ہے تو گدی گدی بہت کرتی ہے۔‘‘ ا کے کہنے پر میں بے ساختہ ہنس دی تھی۔
’’اچھا تو زہرہ تمہیں نہلاتی ہے۔ کیوں زہرہ! تمہیں شاویز کے گدگدی نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ میں ن خاموش بیٹھی زہرہ سے کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔
’’بس باجی جی! میرا دل چاہتا ہے، یہ بچے ہر وقت ہنستے کھیلتے رہیں۔ اسی لئے کبھی کبھار چھیڑتی رہتی ہوں۔ میرا بس نہیں چلتا باجی! ورنہ میں سب بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلائوں، اپنی گود میں لے کر لوریاں سنائوں، اپنی ساری محبت ان بچوں پر لٹا دوں۔‘‘
میں نے حیرت سے دیکھا، زہرہ کے چہرے پر ممتا بھری مسکراہٹ جیسے ثبت ہو کر رہ گئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں محبتوں کا ایک جہان آباد تھا۔ ماں کا ایسا روپ میں نے اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھا تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے ایک دم کسی کمی کا احساس شدت سے ہوا تھا۔
’’میرا خیال ہے، میں اب چلتی ہوں۔‘‘ میں بولی تو میرا لہجہ بجھا ہوا تھا۔
’’شان! آپ پھر کب آئیں گی؟‘‘ عینی نے میرا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا تھا۔
’’معلوم نہیں۔‘‘ میں نے ایمانداری سے جواب دیا۔
’’ہم کل آپ کا انتظار کریں گے۔‘‘ شاویز نے کہا تھا اور باقی دونوں نے سر ہلا کر اس کی تائید کی تھی۔ میں نے ان کے جذبات کو محسوس کر کے اثبات میں س ہلا دیا اور جب میں نے واپسی کے لئے قدم بڑھائے تو وہ تینوںمجھے ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہہ رہے تھے۔
///
’’وجہ کچھ نہیں۔ بس اسے بھی اپنے باپ کی طرح موقع چاہئے، مجھے ستانے کا۔‘‘ مما، ونیزہ سے غالباً میری ہی شکایت کر رہی تھیں۔ میں پردہ ہٹا کر کمرے میں داخل ہوئی تو وہ دونوں میری طرف متوجہ ہو گئیں۔ میں خاموشی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
’ددیکھ لیا تم نے۔ کتنی بدتہذیب ہوتی جا رہی ہے یہ۔ گھر میں آ کر ’’ہیلو‘‘ تک کہنا گوارا نہیں اسے۔ اور اس کا حلیہ دیکھو ذرا۔ ایک سے ایک قیمتی سوٹ ہے اس کی وارڈروب میں۔ مگر مجال ہے کبھی جو یہ ڈھنگ کا لباس پہن لے۔ آخر کیا سوچتے ہوں گے لوگ اسے دیکھ کر۔‘‘
مما میری بے نیازی پر غصے سے کھول اُٹھی تھیں۔ ونیزہ بے چاری خود کو مجرم سمجھتے ہوئے گردن جھکائے بیٹھی تھی۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے میں خود کو پلٹنے سے روک نہیں سکی تھی۔
’’ونیزہ! انہیں بتا دو کہ جن لوگوں سے میں مل کر آ رہی ہوں وہ ظاہر سے نہیں، باطن سے مرعوب ہوتے ہی۔ اور یہ بھی کہ قیمتی ملبوسات اور امپورٹڈ جیولری کسی کی عزت و توقیر میں اضافے کا باعث نہیں بنتے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج انتہائی کمتر لباس میں ایک ان پڑھ عورت مجھے اپنی ماں کے مقابلے میں ہزار درجے بہتر نظر نہ آتی۔‘‘
میں مما کے تلملاتے چہرے اور ونیزہ کی بے حد حیرت کو نظرانداز کر کے کمرے میں داخل ہو گئی تھی۔ اور قبل اس کے کہ ونیزہ آ کر مجھے سمجھانے کا فریضہ سرانجام دیتی، میں اسٹیریو پر The wory we do it کا نمبر فل والیوم میں چلا کر اپنے بیڈ پر گر گئی تھی۔ مگر اس سے پہلے میں دروازہ لاک کرنا اور کانوں پر تکیہ رکھنا نہیں بولی تھی۔
///
’’وہ جی بڑی بیگم صاحبہ نے آپ کے لئے پیغام دیا تھا کہ آج ڈنر پر ونیزہ بی بی اور ان کے منگیتر کے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔ اس لئے آپ گھر پر ہی رہیں۔‘‘ میں شاور لے کر باتھ روم سے باہر آئی ہی تھی، جب رضیہ پیغام لے کر آ دھمکی۔
’’کیا؟ ابھی چند گھنٹے پہلے تک تو ایسا کوئی پروگرام منظر عام پر نہیں آیا تھا۔‘‘
’’معلوم نہیں جی۔ انہوں نے پیغام دیا تھا، میں نے آپ تک پہنچا دیا۔ خانساماں کہہ رہا تھا کہ جو کچھ بنانا ہو، ابھی سے بنا دیں۔‘‘
’’اُف۔۔۔۔۔۔ ایک تو مما کو وقت بے وقت دعوت سوجھتی رہتی ہے۔ اور اس پر ملازمین کو ہدایات تک دینا گوارا نہیں کرتیں۔‘‘ میں نے گیلا تولیہ بیڈ پر پٹخا تھا۔
’’مما خود کہاں ہیں؟‘‘
’’احتشام صاحب کے ساتھ کسی دعوت پر گئی ہیں۔‘‘ اس کے جواب نے مجھے اچھا خاصا تپا کر رکھ دیا تھا
’’آخر ضرورت ہی کیا تھی یہ کھٹراگ ڈالنے کی۔ اچھا تم چلو، میں خود آ کر بتاتی ہوں۔‘‘ رضیہ کو ٹال کر میں فون کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’ہاں بھئی ونیزہ بی بی! یہ دعوت کا کیا چکر ہے؟‘‘ میں نے چھوٹتے ہی اس سے پوچھا۔
’’کوئی چکر وکر نہیں۔ فصیحہ آنٹی نے کہا، میں تم لوگوں کی دعوت کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا کر لیں۔ یو بھی حماد ایک دو دنوں میں بزنس ٹور پر جا رہے ہیں۔ اس لئے میں نے سوچا، یہی وقت مناسب ہے۔‘‘ وہ مزے سے کہہ رہی تھی۔
’’جی ہاں، آپ کی آنٹی صاحبہ خود تو دعوت اُڑانے چلی گئی ہیں اور مصیبت ساری میرے لئے۔۔۔۔۔۔ خیر اب بتائو کیا کیا بنوائوں تمہارے ٹھونسنے کے لئے؟‘‘ میں اصل مقصد کی طرف آئی۔
’’ہاں، یہ پوچھی ہے نا کام کی بات۔ اچھا رُکو ذرا، میں سوچ کر بتاتی ہوں۔‘‘ دوری طرف ایک طویل خاموشی چھا گئی تھی۔
’’سوچ رہی ہو یا مراقبے میں چلی گئی ہو؟ اب بتا بھی چکو۔‘‘ میں نے اُکتا کر کہا۔
’’اچھا، پھر یوں کرو ریپڈ فش بنوا لو، سویٹ اینڈ سار ساس کے ساتھ اور لیمن چکن ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ اسپائسی کنگ پران وِد بوائل رائس اور سبزی کوئی سی بھی بنوا لینا۔ میٹھے میں رس بھری جیولز اور اس کے علاوہ اگر تم کوئی اضافہ کرنا چاہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘
’’کاش تم میرے پاس ہوتیں تو یقینا ڈائننگ ٹیبل پر تکہ بوٹی کا بھی اضافہ ہو جاتا۔ بہت شوق سے تناول فرماتے تمہارے حماد صاحب۔‘‘ میں نے دانت کچکچائیے۔
’’اچھا، اچھا۔۔۔۔۔۔ سنو ذرا۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے مجھے کہا۔ ’’دیکھو ذرا، دھیان سے۔ حماد کے گھر والے بھی ہوں گے، اس لئے پلیز تم۔۔۔۔۔۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہنا چاہا۔
’’آئی نو اِٹ ویری ویل۔‘‘ مجھے معلوم تھا، وہ کیا کہنے جا رہی تھی اس لئے میں نے اسے ٹوک دیا تھا۔
’’تھینک یو۔‘‘ اس نے کہہ کرفون بند کر دیا تھا۔ میں نے خانساماں کو ہدایت دے کر ڈائننگ روم کی از سر نو ڈسٹنگ کروائی۔ تازہ پھولوں کا گلدستہ خود بنا کر ٹیبل پر رکھا اور پھر مووی لگا کر بیٹھی تو اسی وقت اُٹھی، جب سب مہمانوں نے ایک دم دھاوا بول دیا۔ پھر باتوں کے دوران جب کھانا لگنے کی اطلاع دی گئی تو سب کا رخ ڈائننگ روم کی طرف ہو گیا۔ ونیزہ سے باتیں کرتے ہوئے جب میں نے اپنی مخصوص کرسی سنبھالی تو نظریں خودبخود عین سامنے رکھی کرسی پر جا پڑی تھیں۔ اس کرسی پر ہمیشہ پاپا یٹھا کرتے تھے اور کبھی کوئی فرد ان کی جگہ بیٹھ جاتا تو میں چھریاں کانٹے پٹخ کر ناراض ہو جایا کرتی تھی کہ ہرگز نہیں، یہاں پاپا بیٹھیں گے۔ اور اب۔۔۔۔۔۔ اب بھی میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں ایک مرتبہ پھر ناراض ہو جائوں اور یہ کرسی فوراً خالی کر دی جائے۔ اور اگر مجھے ذرا بھی امید ہوتی کہ کرسی خالی ہوتے ہی ہنستے مسکراتے پاپا اس پر آ بیٹھیں گے تو میں لمحہ بھر کی بھی دیر نہ کرتی۔
’’ہیلو ایوری باڈی۔‘‘ ہشاش بشاش، جاندار آواز نے سبھی کو چونکا دیا تھا۔
’لو، ایک اسی کی کمی رہ گئی تھی۔‘ میں نے جھنجلا کر چمچہ پلیٹ میں پٹخا مگر اگلے ہی لمحے اسے دوبارہ اٹھا لیا۔ یہ بھی شکر تھا کہ اس لمحے کوئی بھی میری طرف متوجہ نہیں تھا۔
’’آئو بھئی۔ کب سے تمہارا انتظار تھا۔‘‘ حماد پُرتپاک انداز میں اس سے ملا تھا۔
’’رئیلی؟‘‘ ولید احتشام جیسے خوشگوار حیرت کا شکار ہوا تھا۔
’’اچھا، اچھا بھئی بیٹھو اب کھانا شروع کرو۔‘‘ احشام احمد کے کہنے پر ولید میرے برابر کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تھا۔ نہ جانے کیوں کھانے میں نمک ایک دم بہت تیز ہو گیا تھا۔ میں نے چمچہ رکھ کر پانی کا گلاس اٹھا لیا۔ ونیزہ بے چاری گاہے بگاہے مجھے دیکھ رہی تھی کہ کہیں کسی بات پر میں واک آئوٹ نہ کر جائوں۔
’دپلیز، یہ ڈش پکڑایئے گا۔‘‘ ولید احتشام نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور مجھ سے پہلے ہی ونیزہ نے فوراً ڈش اس کی طرف بڑھا دی تھی۔
’’تھینک یو۔‘‘ دھیرے سے کہا گیا تھا۔
’’تم ٹھیک طرح سے کھا نہیں رہیں؟‘‘ اس نے اچانک ہی گردن موڑ کر بہت اپنائیت سے پوچھا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ کچھ لوگ آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے اور کچھ مکمل طور پر کھانے کی طرف۔
’’اگر میں نہیں کھا رہی تو اس سے آپ کو کیا تکلیف پہنچ رہی ہے؟‘‘ میں نے یونہی چاولوں سے کھیلتے ہوئے بہت نارمل انداز میں اس سے کہا تھا اور دل کو بڑے پیار سے سمجھایا تھا کہ جہاں اور بہت سے لوگوں کو برداشت کر رہی ہو، وہاں ایک اور کو بھی بھگت لو۔
میرے جواب پر ولید کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ اُبھری تھی، اس کا اندازہ مجھے اس کی طرف دیکھے بغیر ہو رہا تھا۔
کھانے کے بعد باقی لوگ ڈرائنگروم کی طرف بڑھ گئے تھے جبکہ ہم لوگ ٹی وی لائونج میں آ گئے تھے۔
’’ویسے شانزے! آپ بہت کم بولتی ہیں۔‘‘ حماد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔
’’جی ہاں۔۔۔۔۔۔ کم بولتی ہیں۔ مگر جب بھی بولتی ہیں، خو بولتی ہیں۔‘‘ وہ غالباً طنز کر رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں جتنی گالیاں ازبر تھی، اسے دے ڈالیں۔ اگر ونیزہ اور حماد کا خیال نہ ہوتا تو لمحہ بھر میں اس اسٹوپڈ سے شخص کو اس کی اوقات یاد دلا دیتی۔ اور رات گئے جب سب لوگ واپسی کے ارادے سے اٹھے تو میرے دل و دماغ پر بے حد بوجھ تھا اور اعصاب تمام تر احساسات کو ضبط کرنے کی کوشش میں نڈھال ہو چکے تھے۔
اور جب انہیں رخصت کرنے کے ارادے سے میں سب لوگوں کے ساتھ باہر آئی تو چاند آدھے سے زیادہ بادلوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا اور سرد سبک خرام ہوا بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس لمحے شدت سے میرا دل چاہا تھا کہ میرے اردگرد پھیلے یہ لوگ ایک دم اس منظر سے ہٹ جائیں اور میں تنہا اس ماحول میں خود سے باتیں کروں۔ ونیزہ وغیرہ اپنی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔ حماد، مما اور احتشام احمد کے سامنے کھڑا الوداعی کلمات کہہ رہا تھا اور مما اپنے ہنستے مسکراتے، فریش چہرے کے ساتھ اس سے نہ جانے کیا کچھ کہہ رہی تھیں۔ میں ان سے قدرے فاصلے پر کھڑی آسمان کے آخری کنارے پر ٹمٹماتے ستاروں کو دیکھ رہی تھی۔
’’ہم ان کے دیکھنے کو سمجھتے ہیں زندگی
ان کا یہ حال ہے کہ ادھر دیکھتے نہیں‘‘
ولید احتشام کی گمبھیر آواز کہیں بہت قریب سے اُبھری تھی۔ میں نے چونک کر گردن گھمائی، وہ عین میرے پیچھے کھڑا تھا۔
’’اپنا خیال رکھنا۔‘‘ نظریں ملتے ہی اس نے ہمیشہ کی طرح بہت نرمی سے کہا تھا اور پھر میرے قریب سے گزر کر مما کے پاس چلا گیا تھا۔ میں اس کے انداز پر چڑ کر رہ گئی تھی۔
’’ارے ولید بیٹا! تم بھی مہمانوں کی طرح چلنے کے لئے تیار ہو۔ بھئی تمہارا تو اپنا گھر ہے۔ چلو میں تمہارے لئے بیڈ روم کھلواتی ہوں۔‘‘ مما لگاوٹ بھرے لہجے میں اس سے کہہ رہی تھیں اور میں نے چپ چاپ اپنے قدم اندر کی طرف بڑھا دیئے تھے۔ نہ جانے کیوں ان تینوں کو اکٹھے دیکھ کر مجھے یوں لگا تھا جیسے میں کسی اجنبی دیس میں کھڑی ہوں، اجنبی لوگوں کے درمیان۔
’اور مجھے گتا ہے، پاپا کی یادوں کے سوا اس گھر کی ہر چیز میرے لئے اجنبی ہو چکی ہے۔‘
میں اپنے تاریک کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی۔
کچھ لمحوں بعد گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز فضا میں اُبھری اور پھر معدوم ہو گئی تھی۔ ولیداحتشام جا چکا تھا اور اب باہر مکمل سناٹا تھا۔ میں آہستگی سے ٹیرس پر نکل آئی تھی اور اب مجھے بہت دیر تک جاگنا تھا۔
///
اگلے روز میں دارالاطفال پہنچی تو نہ صرف شاویز بلکہ فانی اور بہت سے بچوں کے ساتھ نیم دائرے میں جمع تھے۔
’ان سب لوگوں کو کیا ہوا؟‘ میں حیرت سے سوچتے ہوئے ان کے قریب گئی اور پھر ان سب کے درمیان عینی کو بیٹھے دیکھ کر میں مزید حیران رہ گئی تھی۔ عینی کی سیاہ آنکھیں آنسوئوں سے لبالب بھری ہوئی تھیں۔
’’ارے کیا ہوا ہے؟‘‘ میں شولڈر بیگ گھاس پر پھینک کر فوراً اس کی طرف بڑھی۔ مجھے دیکھ کر ہمدردی کا احساس پاتے ہوئے عینی کے آنسو بے اختیار چھلک گئے تھے۔
’’شان!۔۔۔۔۔۔ عینی کے کانٹا چبھ گیا ہے۔‘‘ فانی نے فوراً مجھے اطلاع دی۔
’’مگر کیسے؟‘‘ میں نے اس کی چھوٹی سی انگلی پر ننھے منے خون کے قطرے کو دیکھا۔
’’یہ آپ کے لئے بکے بنا رہی تھی۔ پھول توڑتے ہوئے کانٹا ہاتھ پہ لگ گیا۔‘‘ شاویز نے بھیگے لہجے میں مجھے بتایا۔
’’میرے لئے؟‘‘ حیرت کا مقام تو تھا نا کہ جس بچی سے میں صرف چند لمحوں کے لئے ملی تھی، اس نے نہ صرف مجھے یاد رکھا تھا بلکہ تحفہ دینے کی خواہش بھی اس کے دل میں اُبھری تھی۔ میں نے بے اختیار ہی اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔
’’جانو!۔۔۔۔۔۔ آپ کی محبت میرے لئے کم تھی کیا؟‘‘ میں نے ٹشو سے خون صاف کیا اور پھر اس کا ہاتھ چوم لیا۔
’’اب آرام آ گیا ہے نا؟‘‘ میرے پوچھنے پر عینی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مسکرا دی تھی۔
’’میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا، خون نکل رہا ہے، کمبل اوپر ڈال دیتے ہیں۔‘ فانی کی بات پر میں بے اختیار ہنس دی تھی جبکہ شاویز نے اپنا سر تھام لیا تھا۔
’’شان! میں نے اس کو کتنی بار سمجھایا ہے کہ آگ لگنے پر کمبل ڈالتے ہیں مگر اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ اس روز آصف کی آنکھ میں کچھ پڑ گیا تھا اور اس نے بیڈ پر پڑا کمبل اٹھا کر اس پر ڈال دیا تھا۔‘‘ شاویز، فانی کی حرکتوں سے خاصا نالاں لگ رہا تھا۔ جبکہ میرے لئے اپنے قہقہے کو کنٹرول کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
’’اچھا خیر اب اپنی باقی دوستوں سے بھی تعارف کروائو۔‘‘ میں نے دوسرے بچوں کی طرف اشارہ کیا تو فانی فرداً فرداً سب کا تعارف کروانے لگا تھا۔
’’شان آنٹی! آپ کو کرکٹ کھیلنی آتی ہے؟‘‘ ایک نسبتاً بڑے بچے نے جھجکتے ہوئے پوچھا تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’پھر ہو جائے مقابلہ؟‘‘ دوسرے بچے نے بڑے اعتماد سے چٹکی بجاتے ہوئے مقابلے کی دعوت دی تو میں کچھ لمحے سوچنے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔
شاویز اور فانی جیسے ننھے منے بچوں کو ایک طرف بٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد دو ٹیمیں بن گئی تھیں۔ ایک وقت تھا جب میں اور ونیزہ کرکٹ کی نشے کی حد تک شوقین تھیں۔ بچپن میں احد یہی کھیل تھا جو ہم لوگوں نے بے تحاشا کھیلا تھا۔ اسی لئے جب پہلی بال، بیٹ پر آ کر لگی تو اس کے ساتھ ہی ہال کا شیشہ چٹخ گیا تھا اور ہنستا مسکراتا بچپن ایک دم سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ اسی لئے ہر بال پر شاٹ لگاتے ہوئے اور اچھل اچھل کر آئوٹ ہونے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے میں بھول گئی تھی کہ یہ شانزے ایمان سیونتھ کلاس کی اسٹوڈنٹ نہیں بلکہ یونیورسٹی میں پڑھنے والی ایک حساس لڑکی ہے۔ جوں جوں رنز بڑھتے جا رہے تھے، شاویز اورفانی کے چہرے بے تحاشا خوشی سے چمک رہے تھے اور جسم کا سارا خون جیسے چہروں میں سمٹ آیا تھا۔ وہ پوری طرح مجھے سپورٹ کر رہے تھے۔
اور جب ایک زور دار شاٹ پر بال اونچی گئی تھی تو ’’سکسر‘‘ کا ایک زوردار نعرہ بھی ساتھ ہی گونجا تھا۔ مخالف ٹیم کے بچے کافی دلگرفتہ ہو کر اُڑتی ہوئی گیند کو دیکھ رہے تھے اور انتہائی غیر متوقع طور پر گیند بجائے نیچے گرنے کے دو مضبوط ہاتھوں میں کیچ ہو چکی تھی۔ مخالف ٹیم کے کھلاڑی، اس آخری کھلاڑی کے آئوٹ ہونے پر بھنگڑا ڈال رہے تھے جبکہ باقی بچے انتہائی صدمے کے عالم میں اس لمبے چوڑے شخص کو دیکھ رہے تھے، جس نے عین وقت پر کیچ کر کے سارا کھیل خراب کر دیا تھا۔
اور میں کسی نامعلوم سی خجالت کا شکار ہوتے ہوئے عینی کی طرف پلٹی تھی۔ میں نہ جانے کیوں اس شخص کا سامنا کرنے سے گریزاں تھی جو اب بچوں کو نہ جانے کیا کیا ہدایات دے رہا تھا۔ اور جب میں جرسی پہن کر جوگرز کے تسمے خوامخواہ ہی کھول کر دوبارہ کس کر باندھ کر پلٹی تو وہ دونوں ہاتھ جیبوں میں گھائے بھاگتے ہوئے بچوں پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی شعاعوں میں وہ کسی یونانی دیوتا کی طرح ایستادہ تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش میں ایک مغرور سی بے نیازی تھی۔
’’ہیلو آفندی صاحب!‘‘ مجھے مجبوراً اسے پکارنا پڑا۔ اس کی ساحر آنکھیں زاویہ بدل کر میرے چہرے پہ جم گئی تھیں۔
’’ہیلو۔۔۔۔۔ کیسی ہیں آپ؟‘‘ عنابی ہونٹوں پر مبہم سی مسکراہٹ اُبھری تھی۔
’’فائن۔ تھینک یو۔‘‘ میں نے بہت فارمل سے انداز میں کہا تھا۔
’’آج سب بچے غیر معمولی طور پر خوش تھے۔ کافی عرصے بعد ان کے پاس ایک ایسا فرد آیا ہے جو ان میں سے نہیں مگر ان جیسا ضرور ہے۔ مخلص، بے لوث، چاہنے والا۔‘‘
میں نے سر اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا
’’آپ دوسروں کے بارے میں بہت جلد رائے قائم کر لیتے ہیں۔‘‘ میں نے دونوں بازو سینے پر لپیٹے۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ساتھ سردی کا احساس بڑھنے لگا تھا۔
’’نہیں، میں دوسروں کو بہت جلد پہچان لیتا ہوں۔‘‘ اس کا لہجہ پُریقین تھا۔ میں نے کندھے اچکا کر حیرت کا اظہار کیا تھا۔
’’آیئے، آپ کو چائے پلواتے ہیں۔‘‘ اس کی آفر پر میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پہ وقت دیکھا۔
’’نہیں۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے، اب میں چلتی ہوں۔ کافی دیر ہو گئی ہے آئے ہوئے۔‘‘ میں نے گھاس پہ پڑا بیگ اٹھا کر کندھے پر ڈالا۔ جرسی کی جیب میں گاڑی کی چابی کی موجودگی کا یقین کرتے ہوئے میں اسے خدا حافظ کہہ کر گیٹ کی طرف بڑھی تھی۔
’’آتی رہا کریں۔‘‘ اس کے لہجے میں محسوس کیا جانے والا اصرار تھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور گیٹ سے باہر نکل آئی۔ گاڑی میں بیٹھ کر میں نے چند لمحے کے لئے سوچا اور پھر گاڑی کا رخ ونیزہ کے گھر کی طرف کر دیا تھا۔
اگلے روز میں نے بھاری رقم کا چیک کیش کروایا تھا اور منیجر کی زبانی مجھے معلوم ہوا تھا کہ اب بھی اتنی ہی رقم ہر ماہ میرے اکائونٹ میں جمع کروائی جاتی ہے جتنی کہ پاپا کی زندگی میں جمع کروائی جاتی تھی۔ احتشام احمد کی یہ عنایت مجھ پر کچھ خاص اثرانداز نہ ہوئی تھی۔ ظاہر ہے یہ سارا کاروبار میرے پاپا کا ہی تو تھا اور اس پر میرا حق آج بھی اتنا ہی تھا جتنا کہ پاپا کی موجودگی میں تھا۔ اور جب یہ رقم میں نے ’’دارالاطفال‘‘ کے فنڈ میں جمع کروانی چاہی تو عاصم نے بڑے سبھائو سے رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔
’’مگر کیوں؟‘‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ہم لوگ ادارے کے لئے فنڈز یا ڈونیشنز نہیں لیتے۔‘‘ وہ بہت اطمینان سے بتا رہا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ بات اچنبھے کی تھی کہ اگر فنڈز نہیں لئے جاتے تو اتنا بڑا ادارہ اتنی کامیابی سے کیسے چل رہا تھا۔
’’ان فیکٹ سب کچھ آفندی صاحب ذاتی طور پر ہی ارینج کرتے ہیں۔ آئی مین تمام اخراجات وہ خود افورڈ کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں بیرونی امداد کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ہاں اگر آپ نیکی کا جذبہ رکھتی ہیں تو اس کی تسکین کے لئے اور بچوں کی مدد کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ وہ رُکا تو میں نے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔
’’دیکھیں میڈم! یہاں جن بچوں کو آپ خوش، مطمئن اور زندگی کی خوشیوں سے لطف کشید کرتے دیکھتی ہیں، یہ بچے ہمیشہ سے ایسے نہیں ہیں اور نہ ہمیشہ سے یہاں رہتے آئے ہیں۔ ان بچوں کا پس منظر انتہائی دردناک ہے۔‘‘ عاصم نے میز پر رکھے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساتے ہوئے کہا۔
’’ان میں سے کچھ بچے ایسے ہیں جو قدرت کی ستم ظریفی کا شکار ہوئے ہیں۔ مختلف حادثات میں جو اپنے ماں باپ کو کھو بیٹھتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں کہ لوگوں کے ہجوم میں جن کے ہاتھ سے ماں کی اُنگلی پھسلی اور پھر وہ پُرشفقت لمس ہمیشہ کے لئے ایک خواب بن کر رہ گیا۔ کچھ وہ ہیں جو رات کی سیاہی کا ثمر ہیں اور کوڑے کے ڈھیر پر پڑے انسانیت کی اخلاقی قدروں پر ماتم کناں تھے۔ کچھ بچے وہ ہیں جو اپنے ہاتھ بھیگ کے لئے پھیلاتے تھے تو ان کی آنکھیں ندامت سے چور ہوتی تھیں۔ کچھ بچے ماں باپ کی مجبوریوں کے عوض یہاں تک چلے آئے کہ ان کے گھروں میں بھوک کا ڈیرا تھا اور پیٹ کا دوزخ روٹی مانگتا ہے۔ ان تمام بچوں کو یہاں لانے کا مقصد نہ صرف ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل بلکہ ان کی شخصیت کی متوازن تعمیر بھی ہے۔ اس لحاظ سے ان بچوں کی اوّلین ضرورت روٹی، کپڑا، رہائش ہے جو کہ پوری کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد جو چیز ان کے لئے ٹانک کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ہے پیار، توجہ، شفقت، تعلیم اور پھر بہترین تربیت۔ اور آپ جیسے ہمدرد لوگوں سے ہم انہی چیزوں کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ انہیں فراغت میں پڑھانے کے لئے آ سکتی ہیں۔ کوئی ایسا فن، کوئی ہنر جو آپ کے خیال میں ان کے لئے بہتر ہو، وہ سکھا سکتی ہیں۔ یعنی کوئی بھی ایسا کام جس سے ان کی محرومیاں دم توڑ دیں اور ایک مضبوط، پُروقار، مستحکم شخصیت کی تعمیر ہو سکے۔‘‘
عاصم نے بات مکمل کر کے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی۔ میں نے بھی طویل سانس لے کر خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔
’’ٹھیک ہے عاصم! میں غور کروں گی کہ میری ذات ان بچوں کے لئے کس طرح فائدہ بخش ہو سکتی ہے۔‘‘ میں تھکے تھکے سے انداز میں اُٹھ کر چلی آئی تھی۔ درحقیقت عاصم کی گفتگو سے دل پر بوجھ بہت بڑھ گیا تھا۔ میں جو یہاں آ کر جمشید آفندی کے اس قول پر ایمان لا رہی تھی کہ ’’زندگی یہاں بہت ہنستی کھلکھلاتی ملے گی‘‘ اب ایک نامعلوم دکھ کے حصار میں گھر گئی تھی۔
’تو گویا مسکراہٹ اور آنسوئوں کا باہمی تعلق ایسا ہی ہے جیسے دن اور رات کا۔ جو نہ ایک دوسرے سے جدا ہو سکتے ہیں اور نہ ہی روشن اور چمک دار دن اتنا طاقت ور ہوتا ہے کہ رات کے سیاہ گھور اندھیرے کو کائنات پر قابض ہونے سے روک سکے۔ اور یوں دن، رات کی جنوں خیزی میں اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے اور مسکراہٹ آنسوئوں کی بارش میں گھل جاتی ہے۔‘
’’دارالاطفال‘‘ کی سفید عمارت اُداسی کی دُھند میں لپٹی نظر آ رہی تھی اور میں بوجھل دل کے ساتھ گاڑی میں آ بیٹھی تھی۔ گاڑی کو ہموار سڑک پر دوڑاتے ہوئے میں نے عاصم کی باتیں ایک مرتبہ پھر ذہن میں دہرائی تھیں۔ کچھ نئے خیالات شعور کے دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دے رہے تھے اور گھر پہنچنے تک میں ’’دارالاطفال‘‘ کو مستقل طور پر جوائن کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔
///
’’او بادشاہو! اب کدھر کے ارادے ہیں؟‘‘ وہی مخصوص لب و لہجہ، وہی کھنکتی آواز۔ کوریڈور میں چلتے چلتے میں ٹھٹک کر رک گئی تھی۔ پلٹ کر دیکھا تو زوار شاہ ہمیشہ کی طرح اپنی بد رنگ جینز اور گھسی پٹی چپل پہنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا آ رہا تھا۔ انداز میں حد درجہ بے نیازی تھی۔
’’کچھ خدا کا خوف کرو زوار شاہ! اتنی سردی میں تم صرف چپل پہن کر پھر رہے ہو۔ بیمار پڑنے کا ارادہ ہے کیا؟ اور وہ تمہارے جوگرز کیا ہوئے جو تم نے دو سال پہلے سال بھر کی پاکٹ منی جمع کر کے لئے تھے؟‘‘ میں جرابوں، جوگرز میں جکڑے ہونے کے باوجود ٹھنڈک محسوس کئے بِنا نہیں رہ سکتی تھی۔
’’میں بتاتا ہوں محترمہ! کہ وہ جوگرز کیا ہوئے۔‘‘ معظم، ہاشمی صاحب کے آفس سے ابھی ابھی نکلا تھا۔ ’’جل جب یہ میری بائیک پر لفٹ لئے گھر جانے کے لئے نکلے تو راستے میں ان کو ایک ایسا شخص نظر آیا جو پائوں سے ننگا تھا اور اپنی ریڑھی دھکیل رہا تھا۔ بس ان محترم نے میری بائیک سے جمپ لگائی، حاتم طائی کی قبر پر لات ماری اور جھٹ سے اپنے جوگرز اُتار کر اس شخص کے ہاتھ میں تھمائے اور خود چل دیئے ننگے پائوں۔‘‘ معظم ایک ہی سانس میں ساری بپتا سنا کر غڑاپ سے عاصم کے آفس میں گھس گیا تھا۔ میں نے حیرت سے زوار شاہ کو دیکھا جو اب سر کھجاتے ہوئے دائیں بائیں جھانک رہا تھا۔
’’زوار شاہ! ہمدردی اچھی چیز ہے مگر۔۔۔۔۔۔‘‘
’’شانزے جی!۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس نے فوراً مجھے ٹوک دیا۔ ’’وہ شخص بہت بوڑھا تھا۔ موسم کی یہ شدت اس کے لئے ناقابل برداشت تھی، میرے لئے نہیں۔ اس لئے مجھے کم از کم وہ تو کرنا چاہئے تھا نا جو میں کر سکتا تھا۔‘‘
’’تمہیں عاصم کی بات مان لینی چاہئے۔ آخر وہ تمہارے کام کا معاوضہ دے گا۔ خدانخواستہ کوئی بھیک یا امدادی رقم تو تمہارے ہاتھ پہ نہیں رکھے گا نا۔‘‘
میں جانتی تھی، وہ مفلس ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر کام کر رہا تھا۔
’’شانز جی! اگر ہر نیکی کا صلہ یہیں مل گیا تو آخرت کے لئے کیا بچے گا؟‘‘ اس نے بہت عام سے انداز میں خاص بات کہی تھی۔ پھر آفس کا دروازہ کھولتے ہوئے بایاں بازو پھیلاتے ہوئے قدرے جھک کر گویا احتراماً مجھے آفس میں داخل ہونے کے لئے کہا تھا۔ آفس میں اس وقت خوب رونق لگی ہوئی تھی۔
’’آیئے آیئے مس شانزے ایمان! ابھی آپ کا ہی ذکر ہو رہا تھا۔‘‘ رضا نے فوراً میرے لئے کرسی خالی کی۔
’’ویسے بائے دا وے۔۔۔۔۔۔ ذکرِ خیر ہی تھا نا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’جی جی بالکل۔ آپ کی اعلیٰ کارکردگی پر شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا تھا۔ اس ایک ماہ کے دوران آپ نے جس ڈی ووشن سے کام کیا ہے، اس نے نہ صرف بچوں بلکہ ’’بڑوں‘‘ کو بھی آپ کا گرویدہ بنا دیا ہے۔‘‘ رضا نے بال سنوارتے ہوئے ’’بڑوں‘‘ پر زور دیا تو میں مسکرائے بِنا نہیں رہ سکی۔
’’واقعی، رضا ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اسپیشل چلڈرن کے لئے کام کرنا بہت محنت اور صبر طلب کام ہے۔ اور جس طرح سے شانزے انہیں ٹریٹ کرتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے باقاعدہ ٹریننگ لے رکھی ہو۔‘‘ بریرہ نے کہا تو میں جھینپ کر رہ گئی۔
’’کیوں مجھے شرمندہ کرنے پر تلے ہوئے ہو تم لوگ؟ میں نے تو زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی یہاں آ کر سیکھا ہے۔ طریقہ محبت کا ہنر تو میں نے آپ لوگوں سے سیکھا ہے۔ اور اگر میں یہاں نہ آتی تو اندر کی گھٹن شاید مجھے کھل کر سانس بھی نہ لینے دیتی۔‘‘
’’اوہو۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے، باقاعدہ شاگردی اختیار کر لی گئی ہے ہماری۔‘‘ زوار شاہ نے دور تک ٹانگیں پھیلاتے ہوئے کہا۔
’’یس سر! یو آر رائٹ۔‘‘ میں مؤبانہ انداز میں کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’کہاں مس شانزے! ابھی سب کے لئے چائے آ رہی ہے۔‘‘ عاصم نے کہا تو میں نے ایک لمحے کے لئے سوچ کر نفی میں سر ہلا دیا۔
’’نہیں۔ میرا خیال ہے، اب میں چلتی ہوں۔ اِن فیکٹ میں یونیورسٹی سے سیدھی ادھر آ گئی تھی۔ لنچ بھی نہیں کیا۔ اس لئے اس وقت سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘
’’ناٹ پرابلم۔ ہم ابھی لنچ کا بندوبست کروائے دیتے ہیں۔‘‘ عاصم نے فوراً انٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
’’ارے نہیں عاصم! ونیزہ میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ اب میں نکل پڑوں۔ وقت پر نہ پہنچی تو وہ مجھے کچا چبا جائے گی۔‘‘ میں سہولت سے اسے منع کر کے باہر نکلی تھی۔
’’ارے ہاں عاصم!‘‘ میں کسی خیال کے تحت اچانک پلٹی تو عاصم جو زوار شاہ کی طرف رخ موڑ چکا تھا، ایک مرتبہ پھر میری طرف متوجہ ہو گیا۔
’’آفندی صاحب کو بہت عرصے سے نہیں دیکھا۔ کہیں گئے ہوئے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔ وہ سنگاپور گئے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے مختصراً بتایا تو میں سر ہلا کر باہر نکل آئی۔
’اور کتنی عجیب بات ہے کہ پورا ایک ماہ ہو گیا ہے مجھے یہاں آتے ہوئے اور ان تین دنوں میں، میں ایک بار بھی اس شخص سے نہیں مل پائی جس نے کہا تھا کہ ’’جس طرح ایک قطرہ سمندر میں جا کر اپنا وجود کھو دیتا ہے، اسی طرح کائنات میں بکھرے بے شمار دکھوں میں آپ کا غم آپ کو بہت حقیر نظر آئے گا۔‘‘ اور مجھے لگتا ہے، اس شخص نے درست ہی کہا تھا۔ کیونکہ وہ دیکھ جو میرے جسم کے روئیں روئیں میں زہر آلود سوئیوں کی طرح گڑا ہوا تھا اور ہر لمحہ میری روح کو ایک نئے عذاب میں مبتلا رکھتا تھا، اب محض ایک پھانس بن کر دل میں گڑ گیا ہے اور مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ یہ پھانس ہی میری روح کا ناسور بنتی جا رہی ہے۔‘
میں نے بہت سست روی سے چلتے ہوئے سوچا تھا۔
اطراف میں درختوں کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ تپش سے محروم سورج کی کرنیں پژمردگی اور بے چارگی سے اپنے وجود کو سمیٹتی ہوئی زمین سے لمحہ بہ لمحہ جدا ہوتی جا رہی تھیں۔ عجیب سرد سی اُداسی پورے ماحول میں رچی بسی تھی۔ نہ کوئی شور نہ ہنگامہ نہ آواز نہ پکار۔ صرف میرے قدموں کی مدھم چاپ تھی جو اس لامحدود چپ پر ثبت ہو رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا بالکل یہی کیفیت میرے دل کی بھی ہے۔ اُداس، پژمردہ، خاموش۔ اور اس خاموش بستی میں بھی کوئی مدھم سی چاپ اُبھر رہی ہے۔ خیال، سوچ، فکر کے ہزارہا قدموں کی مدھم سی چاپ اور کچھ بھی نہیں۔
///
’’واٹس رونگ وِد یو ونیزہ! کیوں تنگ کر رہی ہو؟‘‘ میں نے سخت جھنجلا کر کہا۔ وہ کوئی پندرہ منٹ سے عین میرے سامنے صوفے پر بیٹھی نظروں ہی نظروں میں مجھے جانچ رہی تھی بغیر کچھ کہے۔
’’تو گویا یہ طے ہے کہ ہمارے ’’رہے سہے‘‘ تعلقات بھی اب اختتام پذیر ہونے کو ہیں۔‘‘
اس نے اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔ مجھے لگا وہ کئی دنوں کا حساب چکا دینا چاہتی ہے۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
’’ایک بات تو بتائو شانزے! تم کس سے بھاگ رہی ہو؟۔۔۔۔۔۔ خود سے یا ہم سب سے؟‘‘ اس نے قدرے آگے کو جھک کر مجھ سے پوچھا تھا۔
میں نے ذرا سا ہنس کر اس کی ات کے اثر کو زائلکرنا چاہا مگر شاید میرے ہونٹ میرا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ونیزہ!‘‘
’’ایسی ہی بات ہے۔‘‘ ونیزہ نے ایک دم مجھے ٹوک دیا اور اس کے پُریقین لہجے پر میں نے ایسے ہونٹ بھینچ لئے تھے گویا کبھی کھلے ہی نہ ہوں۔
’’یہ تم جو سارا دن لور لور سڑکوں پر خوار ہوتی ہو، یہ فرار نہیں تو اور کیا ہے شانزے؟‘‘ ونیزہ کی آواز قدرے تیز تھی۔
’’یونیورسٹی میں کوئی کلاس اٹینڈ کرو تو تم اس طرح بے زار و بے چین بیٹھی ہوتی ہو جیسے تمہیں زبردستی وہاں لا بٹھایا ہو۔ صبح سے شام تک تم انجانے راستوں پر بھٹکتی رہتی ہو اور تمہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ کون سے پہر تم نے کھانا کھایا تھا اور کتنے پہروں سے تم بھوکی ہو۔ گھر جانے کا خیال تمہارے لئے سوہان روح بن جاتا ہے۔ باپ تو چلو سوتیلا ہے مگر تمہیں تو ماں کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں۔ خود اپنی ذات کو بھی بری طرح اگنور کر رہی ہو تم۔ کیا پہننا ہے، کیا اوڑھنا ہے، تمہیں کچھ یاد نہیں رہتا۔ اور اوپر سے تم نے وہ چلڈرن ہوم جوائن کر لیا ہے۔ جبکہ ایسے کسی بھی ادارے کے بارے میں تمہارا اوّلین خیال یہ ہوتا تھا کہ یہ محض روپے کمانے اور نام کمانے کا ذریعہ ہے اور کچھ نہیں۔ اور اب تم ایسے ہی ایک ادارے کے لئے پاگل ہوئی جا رہی ہو۔ اتنا وقت اگر تم اس چلڈرن ہوم میں ضائع کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’شٹ اپ ونیزہ! جسٹ شٹ اپ۔‘‘ میں روہانسے لہجے میں چیخ اُٹھی تھی۔ مزید برداشت کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی مجھ میں۔ میں نے اپنے ہاتھوں پر سر گرا لیا۔ آنسو جیسے اُمڈ آنے کو بے تاب تھے۔ مگر میں انہیں ایسا کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔
اور آج مجھے معلوم ہوا تھا کہ کتنا اطمینان بخش ہوتا ہے وہ احساس جب کوئی انسان سب کچھ جاننے کے باوجد انجان بن کر آپ کا بھرم رکھ لے۔
اور
اور کتنا اذیت ناک ہوتا ہے احساس کا وہ لمحہ جب وہی شخص آپ کے سامنے بڑی بے دردی سے آپ کی ذات کے بخیے اُدھیڑ کر رکھ دے۔
’’تم بہت بدل گئی ہو شانزے!‘‘ چند لمحوں بعد ونیزہ کی آواز دوبارہ سنائی دی تھی۔
’’بہت زیادہ بدل گئی ہو اور میں اس تبدیلی کی وجہ جاننا چاہتی ہوں۔ کتنا عرصہ ہو گیا ہے، تم نے کبھی اُداس لہجے میں مجھ سے یہ نہیں کہا کہ ’’آئو ونیزہ! ٹیرس پر چلیں۔‘‘ وہ وہاں چل کر تم مجھ سے اپنا دکھ، اپنی پریشانی شیئر کرو، کوئی پرابلم ڈسکس کرو۔ تم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تمہیں پاپا یاد آتے ہیں۔ اور تم نے تو کبھی یہ بھی نہیں کہا کہ احتشام احمد سے شادی کے فیصلے پر تم مما سے ناراض ہو۔ حالانہ فطری طور پر یہ سب باتیں تمہیں مجھ سے شیئر کرنی چاہئے تھیں مگر تم نے نہیں کیں۔ کسی اور سے نہ سہی مگر کم از کم مجھ سے تو کچھ کہو۔ اپنی ذات کے گرد اتنی بلند فصیلیں کھڑی کر لی ہیں تم نے کہ تم تک رسائی میرے لئے کارِ دشوار بن کر رہ گئی ہے۔ مگر یہ بات کان کھول کر سن لو شانزے ایمان! کہ آج میں وہ سب کچھ سن کر رہوں گی، جو تمہارے دل میں ہے۔‘‘ گویا وہ تہیہ کئے بیٹھی تھی۔
’’کیا سننا چاہتی ہو تم؟‘‘ میں نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر ضبطِ گریہ سے سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں اس پر جما دیں۔
’’یہ کہ پاپا مجھے یاد آتے ہیں۔۔۔۔۔۔ تو سن لو ونیزہ داور! کہ میں اپنے پاپا کو کبھی نہیں بھولی۔ وہ لمحہ بہ لمحہ میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ میں چلتی ہوں تو وہ میرے ہم قدم ہوتے ہیں۔ میں کھاتی ہوں تو وہ میرے سامنے بیٹھتے ہیں۔ میں روتی ہوں تو وہ میرے آنسو پونچھتے ہیں۔‘‘ میرے اندر جیسے کوئی جوار بھاٹا اُٹھا تھا۔
’’اور وہ احتشام احمد۔۔۔۔۔۔ ہاں، میں اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے اس شخص سے نفرت ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ نفرت مجھے اس عورت سے ہے جسے تم میری ماں کہتی ہو۔ مجھے اسکی صورت تک دیکھنا گوارا نہیں۔ میں اسے ایک لمحے کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس کے وجود سے اُٹھتی مہک سے مجھے وحشت ہوتی ہے۔ سن رہی ہو ونیزہ! مجھے اپنی ماں سے شدید نفرت ہے۔‘‘
میں مٹھیاں بھنیچتے ہوئے عین اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔ اسے غالباً اس شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی اسی لئے حیران پریشان اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی۔
’’میں گھر اس لئے نہیں جاتی کہ میں اس عورت کے سائے سے بھی بچنا چاہتی ہوں۔ اس کی موجودگی کا ایک ایک لمحہ مجھ پر قیامت بن کر گزرتا ہے۔‘‘
’’آر یو کریزی شان؟ کیا اول فول بک رہی ہو؟‘‘ اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر صوفے پر بٹھانا چاہا مگر میں نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑا لیا۔
’’یہ اول فول نہیں ہے مس ونیزہ داور! یہ وہی سچائی ہے جسے تم سننے کے لئے بے تاب تھیں۔‘‘ میں نے درشت لہجے میں کہا۔
’’شانزے! اچھا تم بیٹھو تو سہی۔‘‘ اس نے مجھے ٹھنڈا کرنا چاہا مگر میرے اندر جیسے کوئی لاوا اُبل رہا تھا۔
’’شانزے! فار گاڈ سیک بیٹھ جائو۔‘‘ اس نے مجھے صوفے پر دھکیلا اور پانی کا گلاس میری طرف بڑھایا۔
’’نہیں، اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ میرے قطعی لہجے پر اس نے بے بسی سے مجھے دیکھا۔
’’آئی کانٹ بیلیو اِٹ شانزے! یہ سب تم کہہ رہی ہو اور وہ بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ میں نے تیز لہجے میں اس کی بات کاٹی۔ ’’یہ میں کہہ رہی ہوں اور اپنی ماں کے بارے میں کہہ رہی ہوں۔‘‘
’’اسی بات پر تو یقین نہیں آ رہا شانزے! کوئی بیٹی اپنی ماں کے بارے میں ایسا بھی کہہ سکتی ہے۔‘‘ وہ بے یقینی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
’’ہاں، ماں کے بارے میں یہ سب نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن تمہاری فصیحہ آنٹی ایک چلتا پھرتا دیکوریشن پیس ہیں اینڈ نتھنگ مور۔‘‘ میں زہرخند لہجے میں کہتی ہوئی ایک جھٹکے سے اُٹھی تھی اور اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل آئی تھی۔ ونیزہ حیرت و بے یقینی کے باعث مجھے روکنے کی کوئی معمولی سی کوشش بھی نہیں کر پائی تھی۔
///
خوشیوں کی آرزو میں مقدر بھی سو گئے
آندھی چلی کچھ ایسی کہ اپنے بھی کھو گئے
کیا خوب تھا تمہارا یہ انداز دوستو!
ہمدرد بن کے آئے تھے، کانٹے چبھو گئے
’’میرا خیال ہے انکل! شانزے کو کسی سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے۔‘‘ ونیزہ کی آواز پر قدم جیسے زمین نے جکڑ لئے۔
’یہ کیا کہہ رہی ہے ونیزہ؟‘ میں نے آہستگی سے ڈرائنگ روم کا پردہ ہٹا کر اندر جھانکا۔ ونیزہ، احتشام احمد کے سامنے بیٹھی بڑی سنجیدگی سے مشورہ دے رہی تھی۔
’’ایک نارمل فرد اس طرح بی ہیو نہیں کرتا انکل! مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا انکل! کہ یہ وہی شانزے ہے جسے میں بچپن سے جانتی ہوں۔ اسے تو میں نے کبھی معمولی سا غصہ کرتے بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر کل اسے اس حالت میں دیکھ کر میں سخت پریشان ہو گئی تھی۔ انکل! آپ جلد از جلد کسی سائیکاٹرسٹ سے رابطہ کریں۔‘‘
پردہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا اور میں دم بخود سی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی تھی۔ اور یہ ونیزہ تھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ جانتی ہے، سمجھتی ہے اور جس کا خیال ہے کہ مجھے کسی سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے۔ میرے حلق میں پھندا سا پڑ گیا تھا اور آنکھوں کے سامنے ایک لمحے کے لئے اندھیرا سا چھا گیا تھا۔
’اور اگر میں نے دل کی ساری بات تم سے کہہ دی ہوتی ونیزہ! تو شاید اس وقت میں کسی مینٹل ہاسپٹل میں پہنچا دی گئی ہوتی۔‘ میں انہی قدموں واپس ہو لی تھی۔
’اور کیا ہوتا اگر آج میں سب کے اصرار پر ’’دارالاطفال‘ میں ہی رک گئی ہوتی، سرشام گھر نہ لوٹتی اور انجان ہی رہ جاتی، کچھ بھی نہ سن پاتی۔ کم از کم ونیزہ کی زبانی تو یہ سب نہ سن پاتی۔ اس ونیزہ کی زبانی جو مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ جانتی تھی، سمجھتی تھی۔‘
میں بے دم ہو کر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ غائب دماغی سے گاڑی چلاتے ہوئے میں نجانے کن کن راستوں سے ہوتی ہوئی ایک بار پھر اس گوشۂ عافیت میں جا پہنچی تھی۔
’’ارے تم گئی نہیں؟‘ شہزینہ نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ کاش نہ گئی ہوتی۔
’’ہاں، گئی تھی۔ کوئی خاص کام نہیں تھا اس لئے دوبارہ آ گئی۔‘‘ میں پھیکی سی ہنسی ہنس دی تھی اور ایک بار پھر اسپیشل چلڈرن سیکشن کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’شانزے کو کسی سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے۔‘‘ خود کو کئی کاموں میں مشغول کر لینے کے باوجود میں اس ایک جملے سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکی تھی۔
’تو کیا میں واقعی ابنارمل ہو چکی ہوں؟‘ میں نے اپنی دُکھتی ہوئی کنپٹیوں کو دباتے ہوئے سوچا اور پھر دھیرے دھیرے چلتی ہوئی ایک قدرے الگ تھلگ گوشے میں آ بیٹھی تھی۔
///
’’معلوم نہیں دارالاطفال میں قدم رکھتے ہی ایک طویل اور پُرسکون نیند کی خواہش دل میں ہمکنے کیوں لگتی ہے؟ اور کیا میں نہیں جانتا کہ ایسی کسی بھی خواہش کی تکمیل کم از کم اس جنم میں ممکن نہیں۔ اور بالفرض آواگون کے چکر میں، میں نیا جنم لے بھی لوں تو بھی مجھے یقین ہے کہ لاحاصل جستجو اور بے نام مسافت کے سوا میرے مقدر میں اور کچھ نہیں ہو گا۔‘‘
اس نے تھکن زدہ بوجھل پلکیں اٹھا کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آج کی رات کچھ زیادہ روشن نہیں تھی۔ فضا ایک غیر محسوس سی دُندمیں لپٹی ہوئی تھی۔ تیسری تاریخ کا چاند مثا ابرو بڑے تفاخر سے چشمِ فلک پر تنا ہوا تھا۔ بھولی بھٹکی سرد ہوا کا جھونکا کبھی کبھار درختوں سے ٹکراتا تو پتوں کی کھڑکھڑاہٹ پر کسی آہٹ کا گمان ہوتا تھا۔ وسیع و عریض لان اس وقت نیم تاریکی کی زد میں تھا۔ نظریں یونہی گھماتے ہوئے وہ بری طرح چونک گیا تھا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ اس نے بے حد حیرت سے نیم تاریکی میں ڈوبے اس وجود کو دیکھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو گلزار خاں نے اسے اطلاع دی تھی کہ تمام ممبران جا چکے ہیں اور دیگر کمروں کو لاک کر دیا گیا ہے۔
’تو پھر یہ کون ہو سکتا ہے؟‘ وہ ایک جھٹکے سے مڑا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل آیا تھا۔
معلوم نہیں، اس کے قدموں کی آہٹ سنی نہ گئی تھی یا جان بوجھ کر سنتے ہوئے بھی نظرانداز کر دی گئی تھی۔ بہرحال اس وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی تھی۔ وہ چند لمحے لب بھینچے بغور اس ساکت وجود کو دیکھتا رہا اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے سینے میں بند سانس خارج کی تھی۔ تنے ہوئے عضلات قدرے ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
’’مس شانزے ایمان!‘‘ اس نے اپنے خیال کی تصدیق چاہی تھی۔ مخالف وجود میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی مگر بیٹھنے کے انداز میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ وہ ابھی تک دونوں بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے، سر جھکائے بیٹھی تھی۔ شال کندھے سے ڈھلک کر آدھی بنچ پر اور آدھی گھاس پر لٹک رہی تھی۔ وہ دنیا سے ہی نہیں، خود سے بھی بے نیاز لگ رہی تھی۔
’’آر یو آل رائٹ؟‘‘ اس نے قدرے جھک کر کہا۔ اس نے بہت آہستگی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس تاریکی میں بھی کرب کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔
’’آپ گھر نہیں گئیں؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’گھر۔‘‘ وہ یوں بولی تھی جیسے یہ لفظ اس کے لئے مکمل اجنبی ہو۔ ’’میرا کوئی گھر نہیں آفندی صاحب! میںتو ایک مکان میں رہتی ہوں اور بہت سی دیواروں، چھتوں، دالانوں، دہلیزوں سے مکان گھر تو نہیں بن جاتے نا؟‘‘ وہ بھیگے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘ اس نے اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پہ رکھا۔ جلتی ہوئی پیشانی نے اس کے خیال کی مکمل تصدیق کی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر ہاتھ ہٹا لیا۔
’’آیئے، میں آپ کو گھر چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اس نے بہت نرمی سے کہا تھا۔
’’میرا وہاں جانے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘ اس کے لہجے سے بے بسی و بے چارگی عیاں تھی۔
’مس شانزے! پرندے ایک بار اپنا آشیاں چھوڑ دیں تو تپتا سورج تا عمر اُن کے روں پر چمکتا رہتا ہے۔ خود کو زرد دھوپ کے حوالے مت کیجئے۔‘‘ آفندی نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اٹھانا چاہا۔
’’گاڑی کی چابی کہاں ہے؟‘‘ آفندی نے اس کے اُترے اُترے چہرے کو غور سے دیکھا۔ اس نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے جرسی کی جیب سے چابی نکال کر اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دی تھی۔
’’آیئے۔‘‘ وہ اسے ساتھ لے کر آگے بڑھ گیا تھا۔
’کاش میں جان سکتا کہ کون سا دکھ اس لڑکی کو ہر لمحہ گھائل کئے رکھتا ہے۔ پہلی بار اسے دیکھا تھا، تب بھی اسے بچوں کی طرح ٹوٹ کر آنسو بہاتے دیکھا تھا۔ اس کی ناراضگی میں بھی بچوں کی سی سرکشی ہے۔ کبھی کبھار تو یوں لگتا ہے جیسے بھیڑ میں کوئی بہت ہی عزیز شخص اس سے بچھڑ گیا ہو۔ جیسے کسی میلے میں کوئی بچہ اپنی ماں سے جدا ہو جائے اور زندگی کے اس برتائو پر خفا ہونے کے ساتھ ساتھ خوف زدہ بھی ہو۔‘
اس نے مڑ کر اپنے برابر بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا۔ پانیوں سے لبالب بھری آنکھیں باہر تاریکی میں نہ جانے کیا کھوج رہی تھیں۔
’اماوس کی رات کو پہلی بار سمندر میں ڈوبتے دیکھا ہے۔‘ اس نے ایک لمحے کے لئے سوچا تھا۔
’’ایک بات کہوں اگر آپ برا نہ منائیں تو؟‘‘ اس نے موڑ کاٹتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’مس شانزے! اپنا دکھ تو بس اپنا ہی ہوتا ہے نا؟ پھر ہم اس کی تشہیر کر کے دوسروں کو اپنا تمسخر اُڑانے کا موقع کیوں دیتے ہیں؟‘‘ اس نے ذرا کی ذرا اس کی طرف دیکھا۔ وہ نچلا ہونٹ سختی سے دانتوں تلے دبائے بیٹھی تھی مگر ضبط کی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی تھی۔ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر روانی سے بہہ نکلے تھے۔ وہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا۔
’’زندگی اس طور نہیں گزرے گی جس طور آپ گزار رہی ہیں۔ اس لئے آپ میری ایک بات مانیں شانزے!‘‘اس نے گاڑی ’’شانزے ولا‘‘ کے سامنے روکی اور پھر پورے کا پورا اس کی طرف متوجہ ہوا۔ ’’آپ یوں کیجئے کہ اپنے مقدر کے پیوند زدہ پیرہن کو تسلیم و رضا کے خوش نما لبادے سے ڈھانپ دیجئے۔۔۔۔۔۔ اپنی تلخی کو نرمی کا آنچل اوڑھا دیں۔۔۔۔۔۔ اپنی نفرت کو محبت کے سمندر میں غرق کر دیں۔ اور اپنے تمام تر احساسات کے گرد ایک سرد، آہنی حصار کھینچ دیں۔ یقین کیجئے اس طرح جینا بہت سہل ہو جائے گا۔‘‘
وہ اپنی بات مکمل کر کے اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور پھر اس کی طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی کی چابی اس کی طرف بڑھائی۔
’’آئی ایم سوری، میری وجہ سے۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے بمشکل بولی تھی۔ وہ بے اختیار مسکرا دیا۔
’’کوئی بات نہیں مس شانزے!‘‘
’’آپ واپس کیسے جائیں گے آفندی صاحب؟ گاڑی لے جایئے۔‘‘ اپنی پشت پر اس کی آواز سنائی دی تو وہ بے اختیار رک گیا تھا۔ پھر پلٹ کر بے اختیار اس کی طرف دو قدم بڑھ آیا۔
’’ڈونٹ وری۔ میرے قدم اس زمین کے ساتھ ساتھ گردش کرتے ہیں۔ میں یونہی چلا جائوں گا۔‘‘ اس نے ایک نظر اس کے تپتے ہوئے چہرے اور سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تھا اور واپس پلٹ گیا تھا۔
///
’’سنا ہے دشمنوں کی طبیعت ناساز ہے؟‘‘ دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی ولید احتشام کی آواز سنائی دی تھی اور میں نے غیر ارادی طور پر ہی کروٹ بدل لی تھی۔
’’شش۔۔۔۔۔۔ ولید بھائی! آپ کب واپس آئے؟ اور یہ شانزے آپ کی دشمن کب سے ہو گئی؟‘‘ ونیزہ نے غالباً میری ڈسٹربنس کے خیال سے پہلے اسے تنبیہ کی تھی اور پھر فوراً سوال داغ دیا تھا۔
’’کل رات ہی واپسی ہوئی ہے۔ حماد بھی میرے ساتھ ہی آیا تھا اور محترمہ! دشمنوں کا لفظ میں نے محاورتاً استعمال کیا ہے۔ ویسے ہوا کیا ہے؟‘‘ ولید کا اشارہ میری طرف تھا۔
’’ٹمپریچر تھا۔ احتشام انکل بتا رہے تھے کہ کل رات بہت دیر سے واپسی ہوئی تھی اور لائونج میں صوفے پر ہی سو گئی تھی۔ شاید سردی کی وجہ سے بخار ہو گیا تھا۔‘‘ ونیزہ نے بہت نیچی آواز میں بتایا تھا۔
’’ونیزہ! آپ دونوں کی تو بہت انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ کیا آپ سے بھی کچھ شیئر نہیں کرتی یہ؟ آئی مین کبھی اس نے کچھ کہا نہیں آپ سے ڈیڈی کے بارے میں یا۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میرا خیال ہے ہم لوگ باہر چل کر بات کرتے ہیں۔‘‘ ونیزہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا تھا اور چند لمحوں بعد قدموں کی مدھم سی چاپ کے ساتھ دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنائی دی تو میں نے دھیرے سے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’اور کیا میں نہیں جانتی ونیزہ! تم باہر جا کر کیا کہو گی؟ یہی نا کہ ’’شانزے کو کسی سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے۔‘ دو آنسو چپکے سے آنکھ کے گوشوں سے نکلے تھے اور بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔
’اور جمشید آفندی! تم کہتے ہو کہ میں اپنے مقدر کے پیوند زدہ پیرہن کو تسلیم و رضا کے خوشنما لبادے سے ڈھانپ دوں۔۔۔۔۔۔ کیا بہت آسان سمجھ رکھا ہے تم نے تلخی کو نرمی کے آنچل میں سمیٹ لینا اور نفرت کو محبت کے سمندر میں غرق کر دینا؟۔۔۔۔۔۔ ہاں، یقینا جینا بہت سہل ہو جائے گا مگر انسان ہونے کے ناتے اپنے تمام تر احساسات کو کسی آہنی قلعے میں مقید کیسے کر دوں؟۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم نے ٹھیک ہی کہا تھا۔۔۔۔۔۔ زندگی اس طور ہرگز نہیں گزاری جا سکتی۔ سو تمہارے مشورے پر ایک بار عمل تو ضرور کروں گی۔‘ میں نے آخری بار آنسوئوں کو کھل کر ہہ جانے دیا تھا۔
///
’’ہیلو ایوری باڈی۔‘‘ میں نے بشاش لہجے میں کہا تو آفس میں بیٹھا ہر فرد اپنی جگہ پر چونک گیا تھا۔
’’آئو آئو بادشاہو!۔۔۔۔۔۔ کہاں گم تھے اتنے دنوں سے؟‘‘ زوار شاہ نے اپنی ٹانگیں پیچھے ہٹاتے ہوئے مجھے گزرنے کی جگہ دی۔
’’عاصم بھائی! ہماری عینک کہاں ہے؟‘‘ رضا نے میز پر اِدھر اُدھر ہاتھ مارا۔
’’بھائی! عینک آپ کی ناک پر رکھی ہے۔‘‘ عاصم نے جتایا۔
’’اچھا ذرا غور تو کیجئے حاضرین! جو خاتون ابھی ابھی آئی ہیں، یہ اپنی شانزے کی ہم شکل نہیں لگ رہی ہیں؟‘‘ اس نے عینک درست کرتے ہوئے بغور مجھے دیکھا۔
’’میرا خیال ہے چھوٹو! تمہیں اپنی عینک کا نمبر بدلوا لینا چاہئے۔ میں شانزے ہی ہوں اور ذرا یہ تو بتائو یہ خاتون کس کو کہا ہے تم نے؟‘‘ میں نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا۔
’’بندہ اس گستاخی پر معافی چاہتا ہے۔ مگر یہ تو عرض کیجئے اتنا عرصہ کہاں گزارا؟‘‘
’’میں بیمار تھی اور زیادہ عرصہ نہیں، صرف ایک ہفتہ۔‘‘
’’واہ۔۔۔۔۔۔ اگر بیماری انسان کو اتنا فریش کر دیتی ہے تو پھر مہینے میں ایک آدھ بار تو ہر بندے کو بیمار ہونا چاہئے۔‘‘
’’بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے رضا۔ آج تم بہت فریش لگ رہی ہو۔‘‘ رحمہ نے ستائشی نظروں سے میرے ڈارک برائون اینڈ وائٹ فور پیس وول ڈریس کو دیکھا۔
’’رحمہ جی صرف فریش نہیں پیاری بھی لگ رہی ہیں۔‘‘ رضا کے لہجے میں شرارت تھی۔
’’چھوٹو! آئی تھنک تمہاری نظر ابھی تک میرے جوتوں پر نہیں پڑی۔‘‘ میں نے سنجیدہ لہجے میں کہتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔
’’نہیں آپا! تمہارے جوتے بھی بہت اچھے ہیں۔‘‘ رضا نے کھسیا کر اس طرح پینترا بدلا تھا کہ سب لوگ بے اختیار ہنس دیئے تھے۔ عین اسی وقت درازہ کھول کر تیزی سے کوئی اندر آیا تھا اور جمشید آفندی کو سامنے دیکھ کر سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ سر کے اشارے سے بیٹھنے کا کہتے ہوئے عاصم کی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’مسز روزی وائٹ سے بات ہو گئی ہے۔ وہ نیکسٹ وِیک پاکستان پہنچ رہی ہیں۔‘‘ دونوں ہاتھ ٹیبل کی سطح پر جمائے قدرے جھک کر وہ عاصم سے مخاطب ہوا تھا۔
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
میری نظریں سنہری روئیں والے مضبوط ہاتھوں پر جا کے ٹھہر گئی تھیں۔ گزشتہ کسی رات کا کوئی لمحہ ایک دم سے روشن ہو گیا تھا۔
’کچھ لوگ روح کے مسیحا ہوتے ہیں اور یہ شخص بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہے۔‘ میری نظروں کا زاویہ بھی اس وقت بدلا تھا، جب اپنی بات مکمل کر کے اس نے دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالے اور دروازے کی طرف پلٹ گیا تھا۔
’’اور ہاں۔‘‘ دروازے سے نکلنے سے پہلے اس نے ایک مرتبہ پھر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔
’’آپ لوگوں نے کبھی ’’انا اخمتووا‘‘ کو پڑھا ہے؟۔۔۔۔۔ اس کا کہنا ہے۔ ’’ہمارے آنسو سے بے نیاز غموں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس میں تفاخر اور سادگی ہے۔‘‘
اس کی ساحرانہ آنکھیں ایک لمحے کے لئے میرے چہرے پر ٹکیں اور دوسرے لمحے وہ آفس سے باہر جا چکا تھا۔ میں نے گہری سانس لے کر دروازے سے نظریں ہٹا لی تھیں۔
’’واہ! کتنی اچھی بات کہی ہے آفندی صاحب نے۔‘‘ رضا نے سر دُھنتے ہوئے کہا۔
’’آفندی صاحب نے نہیں، اس نے کہی ہے۔‘‘ شہزینہ نے اسے ٹوکا۔
’’کس نے؟‘‘ رضا نے جان بوجھ کر کہا تو شہزینہ کو گڑبڑاتے دیکھ کر میں نے فوراً بات بدل دی۔
’’اچھا چھوڑو اس بات کو۔ میرے ذہن میں ایک زبردست آئیڈیا ہے، وہ سنو۔‘‘
’’سنائو۔‘‘ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔
’’کیوں نہ ہم سب بچوں کے ساتھ پکنک منانے چلیں۔‘‘
’’اوہ یس، گڈ آئیڈیا۔‘‘ رضا اپنی کرسی سے اچھل پڑا تھا۔ باقی سب بھی اس آئیڈیا سے پوری طرح متفق تھے۔ لہٰذا آفندی صاحب سے اجازت اور تمام انتظامات عاصم کے سپرد کر کے باقی سب لوگ بچوں کو خوشخبری سنانے بھاگے تھے۔ اور جب ایک روز موسم سرما کی نرم گرم دھوپ ہر چیز کو بڑی محبت سے چھو رہی تھی، ’’دارالاطفال‘‘ کے مکین پکنک پر جانے کو تیار تھے۔ ننھے بچوں کے لئے ہوم پکنک کا اہتمام کیا جا رہا تھا۔
’اور اگر میں یہاں نہ آئی ہوتی تو شاید میرے اندر کی گھٹن مجھے کھل کر سانس بھی نہ لینے دیتی۔ میں تو شاید انسانیت پر کبھی اعتبار ہی نہ کر پاتی۔‘ پارک میںآزاد پرندوں کی مانند اِدھر اُدھر بھاگتے کھیلتے بچوں کو دیکھ کر میں نے سوچا تھا۔ ان کے معصوم قہقہوں کی آوازیں لہروں کی صورت دل میں ہلچل مچا رہی تھیں۔ میں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی شہزینہ کے پاس آ بیٹھی تھی۔ زوار شاہ ایک طرف کچھ بچوں کو ساتھ لئے انہیں پھولوں کی مختلف اقسام اور ان کے پارٹس کے بارے میں بتا رہا تھا۔ رضا یہاں بھی بچوں کو مارشل آرٹس کے دائو پیچ سکھا رہا تھا۔ گلزار خان بھاگ بھاگ کر دور جانے والے شرارتی بچوں کو گھیر رہا تھا۔ بچے جان بوجھ کر اس کو تنگ کر رہے تھے اور وہ خوشی خوشی تنگ ہو رہا تھا۔
’’کتنے عجیب لوگ ہیں یہ۔ آج کل جب کہ انسانوں کا خون سفید ہوتا جا رہا ہے، یہ لوگ اپنا پیار، اپنی چاہتیں، اپنی توجہ بالکل غیر بچوں میں اس طرح بانٹ رہے ہیں جیسے وہ ان کے اپنے وجود کا حصہ ہوں۔ ان لوگوں کے دل کتنے خوب صورت ہیں نا شہزینہ!‘‘
’’ہوں۔‘‘ شہزینہ نے ہنکارا دیا۔
’’اور یہ اپنا زوار شاہ بالکل درویش ہے۔ سمندر جیسا دل ہے اس کا۔‘‘ میں نے کھدر کے کرتے اور جینز میں ملبوس زوار شاہ کو دیکھا۔
’’ہوں۔‘‘ شہزینہ نے ایک بار پھر غائب دماغی سے ہنکارا بھرا تو میں محسوس کئے بغیر نہ رہ سکی۔ اُلجھ کر میں نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ ایک ہاتھ پر ٹھوڑی جما کے وہ میری طرف بالکل بھی متوجہ نہیں تھی۔ میں نے حیرت سے ایک نظر اسے اور پھر اس کے تعاقب میں عین سامنے دیکھا تھا اور پھر بے اختیار چونک گئی تھی۔ کیونکہ مرکزِ نگاہ عاصم تھا۔ درخت سے ٹیک لگائے، دونوں بازو سینے پر لپیٹے وہ انصر سے محوِ گفتگو تھا۔
بلیک پینٹ اور بلیک جرسی میں سلیقے سے جمے جمائے بالوں کے ساتھ وہ خاصا مہذب لگ رہا تھا۔ چہرے پر ازلی طمانیت اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ مبہم سی مسکراہٹ بھی جھلک رہی تھی۔ میں نے ایک بار پھر مڑ کر شہزینہ کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عاصم کا عکس نمایاں تھا اور چہرے پہ محبت کا ایسا خوب صورت تاثر اُبھرا ہوا تھا کہ پھر میں نے اسے کیف آگیں خیالات سے نکالنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
’’دیکھیں محترمہ! آپ خوامخواہ بدتمیزی کر رہی ہیں۔‘‘
’’کیا؟۔۔۔۔۔۔ بدتمیزی میں کر رہی ہوں یا آپ پہلے ہاتھ پائوں چلا رہے تھے؟ اب زبان بھی چلانے لگے ہو۔ اور مجھے لگتا ہے، تمہارا دماغ بھی چل گیا ہے۔‘‘ رضا کی منمنائی آواز کے ساتھ ایک تیز نسوانی آواز سن کر ہم سب لوگ اس طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
رضا بے چارہ گردن کھجاتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا اور وہ پٹاخہ سی لڑکی دونوں ہاتھ کمر پہ جمائے اسے قہر آلود نظروں سے گھور رہی تھی۔
’’آج تو بری طرح پھنسا ہے رضا۔‘‘ اس لڑکی کے کڑے تیور دیکھتے ہوئے شہزینہ نے کہا تھا۔ زوار شاہ، عاصم اور انصر حقیقت حال جاننے کے لئے فوراً اس طرف بڑھ گئے تھے۔
’’دیکھیں محترمہ! آپ خوامخواہ بات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ آپ کو کوئی چوٹ ووٹ بھی نہیں آئی۔ اور میں ہاتھ پائوں چلائوں یا زبان، آپ کو اس سے مطلب؟ اور آخری بات یہ کہ میرا دماغ چلتا نہیں، گھومتا ہے۔ اور جب گھوم جائے تو پھر میں سامنے والے بندے کا بالکل لحاظ نہیں کرتا۔ اور یوں بھی آپ کے لئے تو میرا ایک پنچ ہی کافی ہو گا۔‘‘ آخری جملہ بہت لچک کر فخریہ انداز میں مکا لہراتے ہوئے کہا گیا تھا۔
’’کیا؟‘‘ مارے صدمے کے لڑکی کی آنکھیں پھیل گئی تھیں اور اس سے پہلے کہ وہ زمین پر پھسکڑا مار کر رونا شروع کرتی، عاصم نے قصہ دریافت کر لیا تھا۔
’’دیکھیں بھائی صاحب! یہ پارک ہے۔ کوئی جوڈو کراٹے کا کلب تو نہیں۔‘‘ وہ فوراً عاصم سے شکایتی لہجے میں کہنے لگی۔
’’میری بال اس طرف آ گئی تھی۔ میں جونہی اٹھانے کے لئے اس طرف آئی، یہ صاحب جھٹ سے فلائنگ کک لگانے کو اچھلے۔ وہ تو میں ہی عقلمند تھی کہ جھٹ سے نیچے بیٹھ گئی اور یہ محترم اُڑتے ہوئے میرے اوپر سے گزر گئے۔ ورنہ میرے ہونے والے ہزبینڈ تو شادی سے پہلے ہی بیوہ ہو جاتے۔‘‘ بات کے اختتام پر لڑکی کا لہجہ روہانسا ہو گیا تھا۔
’’سفید جھوٹ ہے یہ۔‘‘ رضا تڑپ اٹھا تھا۔
’’عاصم بھائی! میں تو بچوں کو فلائنگ کک کا دائو سکھا رہا تھا۔ اور میرا نشانہ یہ سامنے والا درخت تھا۔ یہ محترمہ نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑیں بیچ میں۔‘‘ رضا نے جل کر کہا تھا۔ اور اس سے پہلے کہ لڑکی کوئی جوابی حملہ کرتی، عاصم نے بڑے سبھائو سے دونوں کو خاموش کروا کر، بڑے سلجھے ہوئے انداز میں اس لڑکی سے معذرت کر لی تھی۔ معذرت قبول کرنے کے بعد وہ پٹاخہ سی لڑکی نظروں ہی نظروں میں رضا کو کچا چباتے ہوئے پلٹ گئی تھی۔ رضا نے طویل سانس کھینچ کر دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا تھا اور اس کے شرمندہ و برہم موڈ کو درست کرنے کے لئے رحمہ نے فوراً دسترخوان بچھانا شروع کر دیا تھا۔
پکنک سے واپسی پر تمام بچوں کو ’’دارالاطفال‘‘ پہنچا کر جب گھر جانے کی باری آئی تو رحمہ اور زوار شاہ کو ڈراپ کرنے کی ذمہ داری مجھ پر آ پڑی تھی، جسے بخوشی نبھا کر جب میں گھر پہنچی تو احتشام احمد متفکر انداز میں کوریڈور میں ٹہل رہے تھے۔ انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر کے میں آگے بڑھ گئی تھی اور میں نے محسوس کیا تھا کہ مجھے دیکھتے ہی ان کے لب کچھ کہنے کے لئے بے اختیار کھلے تھے مگر پھر فوراً ہی انہوں نے لب بھینچ لئے تھے اور اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے میں نے دیکھا وہ سر جھکائے اپنے بیڈ روم کا دروازہ کھول رہے تھے۔
’تو گویا میرے انتظار میں جاگنے کا ناٹک ہو رہا تھا۔‘ میں استہزائیہ انداز میں دل ہی دل میں ان پر ہنستی سونے کے لئے بستر پہ آ گئی تھی۔ تھکن اور نیند کا غلبہ اس قدر شدید تھا کہ میں جلد ہی غافل ہو گئی تھی۔
///
کلاسز آف ہو چکی تھیں۔ بچے قطار در قطار عمارت کے رہائشی حصے کی طرف جا رہے تھے اور میں شاویز اور فانی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے درحقیقت شہزینہ کی منتظر تھی جو مجھے صرف دو منٹ انتظار کرنے کا کہہ گئی تھی اور اب پورے پندرہ منٹ کے بعد بھی وہ عاصم کے آفس سے برآمد نہیں ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ شاویز اور فانی بھی رخصت ہو گئے اور میں پلر سے ٹیک لگائے یونہی آسمان پر ڈولتے پرندوں کو دیکھنے لگی۔ تبھی پیچھے سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو میں شہزینہ کی توقع میں مڑ کر دیکھنے لگی۔ مگر دروازہ آفندی کے آفس کا کھلا تھا۔
’’آپ ابھی تک گئی نہیں؟‘‘ مجھے دیکھ کر وہ ادھر آ گیا تھا۔ ہاتھ میں کی رنگ اس بات کی نشانی تھی کہ وہ اس وقت کہیں جانے کے لئے نکلا ہے۔
’’مجھے شہزینہ کا انتظار ہے۔ کہہ رہی تھی کہ میں اسے ڈراپ کر دوں۔‘‘ میں نے اس کی طرف رخ موڑتے ہوئے کہا۔ ’’آفندی صاحب! کل آپ ہمارے ساتھ پکنک پہ کیوں نہیں گئے؟ سچ ہم نے آپ کو بہت مس کیا۔‘‘
’’ہم سے مراد؟‘‘ اس نے استفہامیہ نظروں سے مجھے دیکھا تو میں گڑبڑا گئی۔ ’’یہ سوال میں نے اس لئے کیا ہے کہ باقی سب لوگ میری غیر موجودگی کے عادی ہیں۔ وہ کبھی ایسی تفریحات میں مجھے مس نہیں کرتے۔‘‘
’’لیکن آفندی صاحب! مجھے تو آپ کی کمی بہت محسوس ہوئی تھی۔‘‘ میں نے ایمانداری سے اعتراف کیا تو اس کی آنکھیں مجھ پر ایک لمحے کے لئے ٹھہر گئی تھیں۔
’’تھینک یو۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔ مگر اس لمحے یہ بھلی سی مسکراہٹ مجھے اس کے چہرے پہ اجنبی سی لگی تھی۔
’’ان فیکٹ مصروفیت بہت ہوتی ہے۔ میں بہت کم دنوں کے لئے یہاں آتا ہوں، اس لئے کوشش کرتا ہوں کہ کم وقت میں زیادہ کام نمٹا سکوں۔‘‘ اس نے پکنک میں شمولیت نہ کرنے کی وجہ بتائی۔
’’کام کرنا اچھی بات ہے افندی صاحب! لیکن جسمانی و ذہنی تندرستی کے لئے ایسی تفریحات میں حصہ لیتے رہنا چاہئے۔ اور خاص طور پر آپ جیسے انسان کو کہ جس پر بہت سے لوگوں کی خوشیوں کا دارومدار ہو۔‘‘
’’ارے لگتا ہے، آپ کی کشتی بھنور سے نکل کر کنارے تک آ پہنچی ہے۔ اب آپ مشورہ لینے نہیں، دینے لگی ہیں۔‘‘ اس نے خوشگوار حیرت سے کہا تھا۔
’’نہیں، میری کشتی جس طوفان کا شکار ہوئی تھی، اس کے بعد کنارے کی توقع ہی عبث ہے۔ وہ تو کب کی اپنے مسافر سمیت ڈوب چکی۔ میں تو آپ کے مجرب نسخے کی بدولت اس قابل ہوئی ہوں کہ خود کو زندوں میں شمار کر سکوں۔ وہ کسی نے کہا ہے نا کہ۔۔۔۔۔۔
ہم نے یہ سوچ کر ہنسنے کا ہنر سیکھ لیا
درد رکھنا ہے تو پھر دیدئہ تر کیا رکھنا‘‘
نہ چاہتے ہوئے بھی میرے لہجے میں اُداسی گھل گئی تھی، جسے غالباً وہ محسوس کرتے ہوئے بھی نظرانداز کر گیا تھا۔
’’دیٹس لائک آ گڈ گرل۔ زندہ رہنے کے لئے یہ اصول بہترین ہے۔‘‘ اس نے نارمل لہجے میں کہا اور پھر آستین قدرے اونچی کر کے وقت دیکھا۔
’’اوکے، میرا خیال ہے میں لیٹ ہو رہا ہوں۔ اس لئے مجھے چلنا چاہئے۔‘‘ اس نے جیسے اجازت طلب نظروں سے مجھے دیکھا اور میرے اثبات میں سر ہلانے پر پلٹ گیا تھا۔
///
میں نے کروٹ بدل کر گھڑی پہ نظر ڈالی تو گھنٹے کی سُوئی بارہ کے ہندسے پر لرز رہی تھی۔
’’او گاڈ!‘‘ میں نے جھنجلا کر تکیہ دوبارہ منہ پر رکھ لیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔ ایک وقت تھا جب میں یونیورسٹی سے واپسی پر جی بھر کے سویا کرتی تھی اور رات کے اس پہر جب میری آنکھ کھلتی تھی تو میں فوراً بستر چھوڑ دیا کرتی تھی۔ پاپا اپنی تمام کاروباری مصروفیات اس وقت تک نمٹا لیا کرتے تھے یا پھر کل تک ملتوی کر دیا کرتے تھے۔ اور چونکہ اس وقت تک ملازمین اپنے کوارٹرز میں جا چکے ہوتے تھے، س لئے میں اور پاپا لائونج میں بیٹھا کرتے تھے۔ اور پھر اس دوران ہم ڈھیروں ڈھیر باتیں کیا کرتے تھے، ہر موضوع پر۔ میں اپنے سارے دن کی روداد انہیں سناتی اور وہ اپنا ہر دکھ مجھ سے شیئر کیا کرتے تھے۔ اور ان کے بعد یہ وقت کس قدر مشکل سے گزرتا تھا۔ اسی لئے میں نے اپنی روٹین بدل لی تھی۔ اور آج تو محض تھوڑی دیر آرام کی خاطر میں بستر پہ لیٹی تھی، نہ معلوم کب آنکھ لگ گئی۔ دوبارہ نیند کا آنا محال تھا اس لئے میں اُٹھ بیٹھی تھی۔
بال سمیٹتے ہوئے میں نے یونہی کھڑکی کا پردہ سرکا کر دیکھا۔ سیاہ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا اور کتنے دنوں بعد یہ منظر دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ ورنہ تو سرمئی بادل آسمان کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ڈیرہ ڈالے رکھتے تھے۔
وقت گزاری کے لئے میں نے یونہی کھڑے کھڑے پورے کمرے میں نظر دوڑائی۔
’کیا، کیا جائے؟‘ میوزک سننے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لئے اسٹیریو کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا تھا۔ کتابوں کو عرصہ ہوا ہاتھ نہیں لگایا تھا اور نہ ہی پاپا کے بغیر کچھ نیا پڑھنے کو دل چاہتا تھا۔ وڈیو گیم کھیل کھیل کر میں سخت بور ہو چکی تھی۔ آخر میں میری نظر کمپیوٹر پہ جا کر ٹھہر گئی تھی۔ پاپا نے اپنی زندگی میں ہی انٹرنیٹ کنکشن لے رکھا تھا تو اس وقت یہی دلچسپ کام لگا تھا مجھے فریش ہونے کے لئے۔ اس وقت چائے یا کافی ضروری تھی۔ سو کرسی سنبھالنے سے پہلے میں اس مقصد کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو سیڑھیوں پر روشنی کا راستہ سا بن گیا تھا۔ ڈرائنگ روم میں اس وقت مکمل اندھیرا تھا۔ البتہ ٹی وی لائونج کی لائٹیں آن تھی۔ میں اطمینان سے چلتی ہوئی اس طرف آئی تھی۔
’’میرا اِک سپنا ہے
میں دیکھوں تجھے سپنوں میں
تو مانے نہ مانے
ہے تو ہی میرے اپنوں میں‘‘
میرے لائونج میں قدم رکھتے ہی کوئی گنگنایا تھا اور جہاں میں بری طرح چونکی تھی، وہاں ناگواری کی ایک تیز لہر بھی میرے پورے وجود میں دوڑ گئی تھی۔
معلوم نہیں وہ میری آمد سے انجان تھا یا انجان بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ صوفے پر دراز، ایک کشن سر کے نیچے اور دوسرا سینے پہ رکھے آنکھیں بند کئے وہ گنگنا رہا تھا۔ پائوں مسلسل حرکت میں تھا اور چہرے پر بے خبر سی مسکراہٹ جو اس وقت مجھے زہر لگی تھی۔
’معلوم نہیں کہاں کہاں سے لوگ منہ اٹھائے چلے آتے ہیں اس گھر میں۔‘ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی ہوئی میں کچن میں آ گئی۔
’اچھا خاصا ڈرا کے رکھ دیا تھا اس اسٹوپڈ نے۔‘ میں برنر آن کر کے فریج کی طرف آ گئی تھی۔
’’میرے لئے کافی ود شوگر اینڈ کریم۔‘‘ میرے ہاتھ سے ملک پیک چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔ میں نے لائونج کی سمت دیکھا اور پھر وہیں اسٹول پر ڈھے گئی۔
لہجہ بھی مختلف تھا اور الفاظ بھی مگر دل کو ایک دھچکا سا لگا تھا۔ جسم میں دوڑتے خون کی گردش ایک لمحے کے لئے تیز ہو گئی تھی۔
’اور مجھے لگا پاپا! جیسے آپ نے پکارا ہو‘ گہرا سانس لے کر میں دل کو تھپکتی اُٹھ گئی تھی جو نہ جانے کیوں ایسی ان ہونیوں پر چونک چونک جاتا تھا۔
’’کیا بنا رہی ہیں؟‘‘ اب کے آواز دروازے سے اُبھری تھی۔
’’آر یو بلائنڈ مسٹر ولید احتشام؟‘‘ میں نے ٹی بیگ نکالتے ہوئے بہت مناسب انداز میں پوچھا تھا۔
’’ناٹ۔۔۔۔۔۔ آئی ایم ناٹ۔۔۔۔۔۔ مگر کیا کروں؟ آپ کے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔‘‘ لہجہ حد درجہ معصوم تھا مگر مجھے تائو دلا گیا تھا۔ یہ تلخی کو نرمی میں بدلنے کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ یوں سر پہ چڑھا آ رہا تھا۔
’’کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اپنا کام مکمل کئے بغیر یہاں سے چلی جائوں؟‘‘ میں نے تیز لہجے میں کہا تو اس نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
’’آپ بخوشی اپنا کام کریں۔ آئندہ آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔۔۔ ویسے بائے دا وے۔۔۔۔۔۔‘‘ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا تھا۔ ’’یونیورسٹی سے اتنی چھٹیاں کس خوشی میں کی جا رہی ہیں؟‘‘
برنر آف کرتے ہوئے میں نے تعجب سے اسے دیکھا۔ اس کا لہجہ کچھ ایسا ہی تھا جیسے وہ سکول سے ڈھیر ساری چھٹیاں کرنے والے بچے کی کلاس لے رہا ہو۔
’دآپ نے بتایا نہیں۔‘‘ اس نے فریج سے کنڈینسڈ ملک نکالتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
’’آپ میری جاسوسی کس خوشی میں کر رہے ہیں؟‘‘
’’ارے اس غلط فہمی میں مت رہئے گا۔ مجھے جاسوسی فلموں کا ہیرو بننے کا کوئی شوق نہیں۔ ہاں، البتہ فون آیا تھا آپ کی مس ونیزہ دائود کا۔ اتفاق سے میں نے ریسیو کیا تھا۔ بتا رہی تھیں کہ آپ کی Leave لگواتے لگواتے تھک گئی ہیں اور امتحان بے حد قریب آ چکے ہیں مگر اس کے باوجود آپ یونیورسٹی کا منہ دیکھنے پر رضامند نہیں۔‘‘ اس نے کافی پھینٹتے ہوئے کہا تھا۔ ’’ویسے سوشل ورک کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دنیا کے باقی سب کاموں کو خدا حافظ کہہ دیا جائے۔ آپ کو اپنی اسٹڈیز پر بھی توجہ دینی چاہئے۔‘‘ بہت لاپروا سے انداز میں اس نے کہا تھا۔
’’مشورے کا شکریہ۔ مگر یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ اگلے بندے کو اس کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں۔‘‘ میں چائے کا کپ اٹھا کر طنزیہ لہجے میں کہتی کچن سے باہر آ گئی تھی۔ اور جب اپنے کمرے میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر پاور کا بٹن پش کیا تو پھر وقت گزرنے کا احساس ہی باقی نہ رہا تھا۔ اور جب میں وہاں سے اُٹھی تھی تو چار بج کر پچّیس منٹ ہو رہے تھے۔
بستر پہ جانے سے پہلے میں نے گلاس ونڈو سے باہر کا جائزہ لیا تو سرد رات دھیرے دھیرے کھسک رہی تھی۔ اور لان کی گھاس پہ شبنم اپنا ڈیرہ جما رہی تھی۔ بے اختیار ہی میرا دل چاہا کہ اس ٹھنڈی گھاس پہ ننگے پائوں چلوں اور یہ خواہش کچھ اس قدر شدید تھی کہ میں گرم شال اچھی طرح اپنے گرد لپیٹ کر باہر آ گئی تھی۔
’اور اگر کوئی مجھے اس وقت یہاں چہل قدمی کرتے دیکھ لے تو فوراً میرے پاگل پن پہ مہر لگا دے۔‘ میں دل ہی دل میں ہنسی تھی اور پھر کپکپاتے ہوئے میں کتنی ہی دیر تک اپنی اس احمقانہ خواہش کی تکمیل کے لئے لان میں ٹہلتی رہی تھی۔
///
رات دیر سے سونے کی وجہ سے صبح آنکھ بھی دیر سے ہی کھلنی تھی۔ اور ابھی میں غنودگی میں ہی تھی، جب اپنے ماتھے پر نرم گرم اُنگلیوں کا لمس محسوس کر کے میں نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’شانزے جانو! کب تک سوتی رہو گی؟‘‘ پھپھو کے مسکراتے چہرے کے ساتھ ان کی شفیق آواز نے مجھے پوری طرح بیدار کر دیا تھا۔
’’ارے۔۔۔۔۔۔‘‘ میں بے اختیار ہی اُٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔ پاپا کی ڈیتھ کے بعد پھپھو نے ہماری طرف آنا بہت کم کر دیا تھا۔
’’کب آئیں آپ؟‘‘ میں نے محبت سے ان کا ہاتھ تھام کر پوچھا۔
’’ابھی ابھی۔۔۔۔۔۔ جب تم سو رہی تھیں۔ تم نے تو بھلا ہی دیا ہے ہمیں۔ اس لئے میں نے سوچا، میں خود جا کر دیکھ آتی ہوں۔‘‘
’کہ شانزے کس حد تک پاگل ہو چکی ہے۔‘ میں نے دل ہی دل میں ان کی بات مکمل کی۔
’’اچھا کیا آپ نے۔ اسی بہانے آپ آئیں تو سہی۔‘‘ میں اٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’آج کل کہاں مصروف رہتی ہو شان؟ یونیورسٹی سے بھی بہت دنوں سے غیر حاضر ہو۔ ونیزہ بے چاری الگ پریشان رہتی ہے۔ کتنی بار تمہیں فون کر چکی ہے۔ موبائل تمہارا ہر وقت آف رہتا ہے۔ کل تو وہ بری طرح رو دی تھی۔ کہنے لگی، شانزے مجھ سے ناراض ہے۔ جبھی کوئی کانٹیکٹ نہیں کر رہی۔‘‘ پھپھو چائے پیتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ ’’میں نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ تم دونوں کے تعلق میں ناراضگی کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ یقینا کہیں مصروف ہو گی۔‘‘ پھپھو بتا رہی تھیں اور مجھے دل ہی دل میں احساس ہو رہا تھا کہ میں ونیزہ کے ساتھ زیاندتی کر رہی ہوں۔
’اس میں اس بے چاری کا کیا قصور تھا؟۔۔۔۔۔۔ نہ جانے میں غصے میں اس کے سامنے کیا کچھ کہہ گئی تھی جو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ میں ایک سائیکک کیس بن چکی ہوں۔‘ اپنی جذباتیت میں ونیزہ کو دکھ پہنچانے پر میں گلٹی فِیل کر رہی تھی۔
’’نہیں پھپھو! میں ناراض نہیں ہوں۔ ونیزہ سے کہئے گا، میں صبح یونیورسٹی آئوں گی۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو پھپھو کا چہرہ خوشی سے کھل گیا تھا۔
’’اچھی بات ہے۔‘‘ انہوں نے کپ رکھتے ہوئے کہا اور پھر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’میں اب چلتی ہوں۔ تم کسی روز گھر پہ بھی چکر لگا لینا۔ تمہارے انکل بہت یاد کر رہے تھے تمہیں۔ اور ہاں۔‘‘ وہ جاتے جاتے پلٹی تھیں۔ ’’رات کو جلدی گھر آیا کرو اور کھانا وغیرہ وقت پر کھایا کرو۔ کل فصیحہ نے مجھ سے فون پر بات کی تھی۔ بہت فکرمند تھی تمہارے بارے میں۔ اس کا خیال رکھا کرو۔ آخر کو ماں کا دل ہے، پریشانی تو ہوتی ہو گی نا اس کو بھی تمہاری اس بدلی ہوئیروٹین سے۔‘‘ انہوں نے پیار سے مجھے سمجھایا تھا۔
’’ویری اسٹرینج پھپھو! کہ وہ میرے بارے میں فکرمند رہتی ہیں۔ ویسے میری اطلاع کے مطابق تو ان کے سینے میں دل ہے ہی نہیں کجا کہ ماں کا دل۔‘‘ اس نے کندھے اچکا کر حیرت کا اظہار کیا۔
’’اونہوں۔۔۔۔۔ بری بات ہے۔ یوں نہیں کہتے۔‘‘ انہوں نے سرزنش کی اور پھر ساڑھی کا پلّو سمیٹتی باہر نکل گئی تھیں۔
///
’’ایک طرف انسان بڑے طنطنے سے اشرف المخلوقات کا تاج سر پہ سجائے پھرتا ہے تو دوسری طرف یہ حیوانوں سے بھی بدتر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ بستی دیکھ رہی ہیں مس شانزے ایمان! یہاں کسی کا کسی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔ یہاں انسان مفلسی کی گود میں آنکھ کھولتا ہے اور بھوک کی گود میں جا سوتا ہے۔ یہاں غربت ماں کی گود ہے اور افلاس باپ کی شفقت۔ یہاں کوئی بہن، بھائی، دوستی کے رشتے کو نہیں ترستا۔ یہاں سب ’’روٹی‘‘ کو ترستے ہیں۔ ہماری بھری ہوئی تجوریوں میں سے اپنا حصہ چاہتے ہیں، اپنی محنت وصول کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب اپنی محنت کا معاوضہ بھی وصول نہیں کر پاتے تو اپنے مقدر کو بیچ دینا چاہتے ہیں۔
آپ جانتی ہیں مس شانزے! یہاں اگر کسی ماں سے اس کا بچہ گودلینے کی خواہش کی جائے تو وہ اسے خوشی خوشی ہمارے حوالے کر دیتی ہے۔ اپنے کلیجے پہ بھاری پتھر کی سل رکھ کر وہ اس احساس سے اطمینان کشید کرتی ہے کہ اس کا بچہ بھوکا نہیں رہے گا۔ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھائے گا چاہے کسی کی گود میں بھی رہے اور ہم۔۔۔۔۔۔ ہم مغرور و متکبر لوگ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ ہم نے کبھی آنکھیں کھول کر دیکھا ہی نہیں تو ہمیں معلوم کیسے ہو کہ کون بھوکا ہے؟ کس کے تن پہ کپڑا نہیں اور کون سائبان کو ترس رہا ہے؟۔۔۔۔۔۔ کس نے تپتی سڑکوں پہ لوٹتے ہوئے جان دے دی ہے اور کون سردی سے ٹھٹھر کر مر گیا۔‘‘
لمحہ بھر کے لئے وہ خاموش ہوا تو میں نے گھاس پر سے نظریں ہٹا کر اس شخص کو دیکھا، جس کا لہجہ حد درجہ تلخ تھا اور بالکل اجنبی لوگوں کا دکھ قطرہ قطرہ اس کی سبز آنکھوں کو بھگو رہا تھا۔ میں نے ایک طائرانہ نظر خانہ بدوشوں کی اس بستی پر ڈالی۔
اور ٹھیک ہی تو کہا تھا اس نے۔ اس وقت سردی کے شدید موسم میں، جب کہ میں سویٹر، ہائی نیک، جرسی اور اس پر لیدر کی جیکٹ پہنے ہوئے تھی، اس بستی کے بچے نیکروں اور پھٹی پرانی پوشاکوں میں سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔ عورتوں اور مردوں کے چہرے پہ چھائی بے بسی، مردنی، زندگی سے بیزاری کی واضح علامت تھی۔ اور یہ سب میرے لئے نیا ہی تو تھا، زندگی کا یہ روپ میں نے اس سے پہلے کب دیکھا تھا؟ اور یہ محض اتفاق ہی تو تھا کہ آج میں اس شخص کے ساتھ یہاں چلی آئی تھی۔
’’دارالاطفال‘‘ سے نکل کر کچھ دور جا کر جب پٹرول ختم ہونے پر میں جھنجلائی ہوئی، ٹیکسی کی تلاش میں کھڑی تھی، تب ایک گاڑی میرے نزدیک آ رُکی تھی اور اپنے سامنے جمشید آفندی کو دیکھ کر میں نے پدرے سکون کا سانس لیا تھا۔ اور جب مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ شہری آبادی سے دور ایک خانہ بدوش بستی میں ضرورت کی کچھ اشیاء پہنچانے جا رہا ہے تو می نے بے اختیار ہی ساتھ جانے کی فرمائش کر ڈالی تھی، محض ایک ایڈونچر کے شوق میں۔ اور یہ تو مجھے یہاں آ کر معلوم ہوا تھا کہ یہ ایڈونچر نہیں، ایک تلخ اور بھیانک حقیقت ہے۔ روح کو جھنجوڑ دینے ولی۔
اور جب ’’دارالاطفال‘‘ کا ملازم افضل تمام چیزیں لوگوں میں تقسیم کر چکا تھا، تب ہم لوگ دوبارہ گاڑی میں آ بیٹھے تھے۔ گاڑی اسٹارٹ ہوئی تو لوگ چلتے ہوئے سڑک تک آ گئے تھے۔ اور پھر جب تک گاڑی موڑ نہیں مڑ گئی تھی، میں بیک ویو مرر سے ان لوگوں کو دیکھتی رہی تھی جو دونوں ہاتھ اٹھائے اس اجنبی انسان کو دعائیں دے رہے تھے جو ان کے درد کا درماں بن کر آیا تھا اور گھڑی بھر میں لوٹ گیا تھا۔ وہ لوگ نظروں سے اوجھل ہوئے تو میں نے ایک نظر اسے دیکھا۔ رعونت بھری بے نیازی سے وہ سڑک پر نظریں جمائے گاڑی چلا رہا تھا۔ کھڑکی سے آتی سرد ہوا نے اس کے چہرے پہ سرخی سی پھیلا دی تھی۔
’ہاں بھئی، یہ رعونت اس پر جچتی بھی ہے کہ وہ صرف باتوں کا ہی نہیں، کردار کا بھی دھنی ہے۔‘ میں نے اس کی طرف سے نظریں ہٹا کر ونڈ اسکرین پر جما دی تھیں۔
///
’’ارے یہ کون ہے؟‘‘
’’لگتا ہے، اسے پہلے بھی کہیں دیکھ رکھا ہے۔‘‘
’’پوچھ لو کہیں راستہ بھول کر تو ادھر نہیں آ نکلیں؟‘‘
’’شاید میری نظریں دھوکا کھا گئی ہیں۔‘‘
’’ارے کیا یہ واقعی تم ہو؟‘‘
یونیورسٹی میں میری آمد پر اس اس طرح سے حیرت کا اظہار کیا گیا تھا کہ میں بری طرح شرمندہ ہو گئی تھی۔
’’بس بھی کرو یار! تم لوگ تو خوامخواہ ہی اس کے پیچھے پڑ گئے ہو۔‘‘ آصف نے ڈپٹ کر سب سے کہا تو میری خلاصی ہوئی۔
’’ٹھیک ہے آصف بھائی! ہم اس کی غلطی معاف کر دیں گے مگر جرمانہ لازم ہے۔‘‘ نوید دو دو کرسیاں پھلانگتا ہوا قریب آ گیا۔
’’ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر پہلے یہ بتایا جائے کہ جرمانے کی نوعیت کیا ہو گی؟ تاکہ ہم اس پر غور فرمانے کی زحمت کر سکیں۔‘‘ میں نے شاہانہ انداز میں کہا تھا۔
’’کچھ زیادہ نہیں مادام! بس کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں معمولی سا لنچ۔‘‘ نوید نے فرمائش بھی یوں کی تھی جیسے دو روپے کی ریوڑیاں لینے کی خواہش ہو۔
’’ویسے تو تمہیں بگے پہلوان کا چھپر والا ہوٹل ہی سوٹ کرتا ہے۔ مگر خیر، تم بھی کیا یاد کرو گے کہ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔‘‘ میں نے اپنے کالر سے نادیدہ گرد جھاڑتے ہوئے کہا اور پھر کلاسز آف ہونے پر ہم سب لوگ گاڑیوںمیں پھنس پھنس کر ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔ وہاں اپنی چیخم دھاڑ اور بے تکی حرکات سے لوگوں کو محظوظ کرنے اور انتظامیہ کوزچ کرنے کے بعد ہم لوگ باہر آئے تو ونیزہ اصرار کرتے ہوئے مجھے اپنی طرف لے گئی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد جب میں نے واپسی کا قصد کیا تو اس نے ڈھیر سارے نوٹس میرے حوالے کر دیئے تھے۔
’’پوزیشن لینا تو محال ہے لیکن اگر یہ ڈیڑھ ماہ بھی تم ڈٹ کر تیاری کرو تو بہت اچھے مارکس سے پریویس کلیئر کر لو گی۔‘‘ اس کے کہنے پر میں دل ہی دل میں خود کو پڑھنے پر آمادہ کرتے ہوئے نوٹس سمیٹ کر اُٹھ گئی تھی جو اس پورے عرصے میں ونیزہ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے تیار کر رکھے تھے۔ گھر پہنچ کر نوٹس رکھنے اور ڈریس چینج کرنے کے بعد میں ’’دارالاطفال‘‘ آ گئی تھی۔ کوریڈور سے گزرتے ہوئے میں نے عادتاً عاصم کے آفس میں جھانکا تھا۔ عاصم کی سیٹ خالی تھی البتہ زوار شاہ تنہا بیٹھا کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا۔ آہٹ پر اس نے سر اٹھایا۔
’’ہیلو!‘‘ میں نے اندر آتے ہوئے کہا۔
’’ہیلو بھئی کہاں رہیں آج سارا دن؟‘‘ اس نے خوش دلی سے پوچھا تھا۔
’’یونیورسٹی چلی گئی تھی۔‘‘ میں نے مختصراً بتایا۔
’’محترمہ! جس روز یونیورسٹی جانا ہو، بتا کر جایا کریں۔ رضا کا تو سمجھو آج سورج ہی طلوع نہیں ہوا۔ یوں بھی آفس آتے ہی تمہیں دیکھنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ ہر کوئی آنے کے بعد تمہارا ہی پوچھ رہا تھا۔‘‘ اس نے کتاب میں بال پن پھنسا کر کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔
’’چھوڑو زوار شاہ! اب میں ایسی بھی اہم ہستی نہیں۔‘‘ میں نے اس کی بات کو محض مذاق سمجھتے ہوئے فوراً ٹالا اور بات بدلنے کے لئے عاصم کو پوچھنے لگی۔
’’وہ آفندی صاحب کو سی آف کرنے ایئرپورٹ تک گیا ہے۔‘‘ اس نے عام سے انداز میں بتایا تھا اور میں ٹھٹک گئی تھی۔
’’آفندی صاحب کو سی آف کرنے؟ وہ کہاں گئے ہیں؟‘‘
’’امریکہ گئے ہیں۔‘‘
’’کمال ہے۔ کل شام ہی تو انہوں نے مجھے گھر ڈراپ کیا تھا مگر ایسا کوئی ذکر انہوں نے نہیں کیا۔‘‘ میں بے ساختہ ہی کہہ گئی تھی اور زوار شاہ نے چونک کر مجھے دیکھا تھا۔
’اور کیا اسے ایسا کوئی ذکر مجھ سے کرنا چاہئے تھا؟‘ زوار شاہ سے پہلے میرے دل نے ہی سوال داغ دیا تھا اور میں گڑبڑا گئی تھی۔
’’کوئی کام تھا کیا؟‘‘ زوار شاہ نے میرے ایک دم خاموش ہو جانے پر سادہ سے لہجے میں پوچھا تھا۔
’’ہاں۔‘‘ میں ذرا سا چونکی۔ ’’ہاں، کام ہی تھا۔ مگر کچھ ایسا خاص بھی نہیں۔ ان کی واپسی کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔‘‘ میں نے بروقت خود کو سنبھالا تھا۔
’’اچھی بات ہے۔ ویسے بھی انہیں زیادہ دن نہیں لگیں گے۔ دو ہفتے بعد ’’دارالاطفال‘‘ کی سالانہ تقریب ہے جس میں شرکت کے لئے انہیں جلدی لوٹنا پڑے گا۔‘‘
’’ہوں، اچھا پھر میں ذرا اپنی کلاس دیکھ لوں۔‘‘ میں جلد ہی وہاں سے نکل آئی تھی۔
’کس قدر بے وقوف ہوں میں بھی۔ بھلا وہ مجھے اپنے جانے کی اطلاع کیوں دیتا؟ کہیں بھی آنا جانا اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اور اپنے ذاتی معاملات میں وہ مجھ سے کیوں ڈسکس کرنے لگا؟‘ میں نے خود کو بری طرح ڈانٹ دیا تھا۔ اور یہ بات کہ ’’دارالاطفال‘‘ کی سفید عمارت پہ اُترتی گلابی شام مجھے اس لمحے بے حد اُداس لگی تھی۔
///
میں بہت دنوں بعد اسٹڈی روم میں آئی تھی۔ اپنے تمام نوٹس اور کتابیں بھی یہیں اٹھا لائی تھی تاکہ یکسو ہو کر پڑھ سکوں۔ اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے میں نے ہاتھ میں پکڑی کتابیں ٹیبل پر رکھتے ہوئے طائرانہ نظر اپنے اطراف میں ڈالی۔ ان گنت کتابوں سے شیلف بھرے ہوئے تھے۔ پاپا کو شاعری سے بے حد لگائو تھا۔ ملکی شاعروں کے علاوہ ان کے پاس شیلے، کیٹس، انگرکرسٹن سن، بیراگوڈی، اوپ اور گارسیالورکا جیسے غیر ملکی شاعروں کی بھی بہترین کتابیں موجود تھیں۔ اور اب یہ ساری کتابیں جوں کی توں بند پڑی تھی۔ ان کو ہمہ وقت چھونے والی نظریںاب کہیں نہیں رہیں تھیں۔ دل میں ہوک سی اُٹھی تھی اور کرسی کی پشت پہ رکھی میری انگلیاں کپکپا سی گئی تھیں۔
یہ وہی اسٹڈی روم تھا، جہاں میں نے اپنے ہر ایگزام کی تیاری پاپا کے ساتھ مل کر کی تھی۔ جہاں کسی بات کی سمجھ نہ آتی میں فوراً پاپا کے پاس جا پہنچتی اور میرے بار بار ڈسٹرب کرنے کے باوجود کبھی ان کی یوری پر بل نہیں پڑتا تھا۔ کبھی ان کی مسکراہٹ بیزاری میں میں اور خوشدلی جھنجلاہٹ میں نہ بدلتی تھی۔ گزرا ہوا ایک ایک لمحہ ذہن میں ارتعاش پیدا کرنے لگا تھا اور میں غیر ارادی طور پر ہر چیز کو چھو چھو کر پاپا کے گم شدہ لمس کو ڈھونڈنے لگی تھی۔
ان کا اسٹڈی ٹیبل، ان کی چیئر، ان کا لیمپ، گولڈن فریم کا نہایت خوب صورت اور نفیس چشمہ، صندل کی لکڑی سے بنا قلم۔
اور
اُن کی پرسنل ڈائری جو پہلے صفحے سے لے کر آخری صفحے تک خالی تھی۔ حالانکہ یہ ڈائری ہر روز میں ان کے سامنے کھلی دیکھتی تھی۔
’اور نہ جانے وہ کون سی باتیں تھیں پاپا! جو آپ نوکِ قلم پر لانے کی جرأت نہ کر سکے۔‘
میں نم آنکھوں کو رگڑ کر اپنی کتابوں کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ کارپٹ پر کشن رکھ کر میں نے نشست سنبھالتے ہوئے دوبارہ پاپا کی مخصوص چیئر کی طرف دیکھا تھا جو کسی ماں کی اُجڑی گود کی طرح خالی و ویران لگ رہی تھی۔ شفقت و اپنائیت کے محبت بھرے لمس سے عاری فضا میں سناٹا سا اُتر آیا تھا اور میں نے اپنی ناکام نظروں کو سفید کاغذ پر بکھرے سیاہ لفظوں میں گم کر لیا تھا۔
چونکہ بہت دنوں بعد کتابوں سے رشتہ جوڑا تھا، اس لئے ابتدا میں پڑھنے میں کافی دقت ہوئی تھی۔ مگر جب ذہن آمادہ ہوا تو پھر میں صفحات پلٹتی چلی گئی۔ اور جب ساڑھے تین گھنٹے مسلسل پڑھنے کے بعد میں نے کتاب بند کی تھی، تب ملازمہ دروازہ ناک کر کے اندر چلی آئی تھی۔
’’جی کھانا لگا دوں ٹیبل پر یا یہیں لے آئوں؟‘‘
’’کون کون ہے کھانے پر؟‘‘ میں نے ایک لمحہ سوچ کر پوچھا تھا۔
’’کوئی بھی نہیں۔ اس وقت تو گھر میں آپ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ پھر ٹیبل پہ ہی لگا دو۔ میں آ رہی ہوں۔‘‘ میرے جواب پر اس نے تاسف سے مجھے دیکھا اور باہر نکل گئی۔ اسے یقینا اس بات پر حیرت و افسوس ہوا تھا کہ میں گھر والوں کی موجدگی میں ہمیشہ اپنے کمرے میں کھانا کھاتی تھی اور اب سب کی غیر موجودگی میں ٹیبل تک جا رہی تھی۔
منہ ہاتھ دھو کر ابھی میں نے پہلا نوالا ہی منہ میں ڈالا تھا جب اچانک بیرونی دروازے پر ہلچل سی مچ گئی تھی۔ باتوں اور قہقہوں کی آواز نے مجھے خاصا حیران کر ڈالا تھا۔ بے اختیار ہی پلٹ کر میں نے آوازوں کی سمت دیکھا تھا۔ اور جب آنے والوں کو دیکھ کر میں سیدھی ہوئی تھی تو میرا منہ حلق تک کڑوا ہو چکا تھا۔
’’ہیلو شانزے ڈیئر!‘‘ مما کی پُرجوش آواز عقب میں اُبھری تھی۔ وہ دو ہفتے پشاور میں اپنی کسی دوست کے پاس گزار کر آئی تھیں اور شاید ان کے خیال میں، میں ان کے بغیر بہت اُداس ہو گئی تھی۔ جبھی تو بھرپور لگاوٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لگایا تھا مگر مجھے ان کے وجود سے ایسی وحشت ہوئی تھی کہ میں نے فوراً ہی خود کو ان کی گرفت سے آزاد کروا لیا تھا۔ مما نے تحیر آمیز برہمی سے مجھے دیکھا۔ میرے چہرے پہ رقم ناگواری کے تاثرات یقینا انہوں نے بہت آسانی سے پڑھ لئے تھے۔ مگر احتشام احمد اور ولید احتشام کی موجودگی کی بنا پر وہ میری اس بدتمیزی کو نظرانداز کر گئی تھیں اور فوراً ماسی نذیراں کو پکار کر کھانے کا کہنے لگی تھیں۔ اس نے چند لمحوں میں ہی کھانا سرو کر دیا تھا۔ میرے عین سامنے مما بیٹھ گئی تھیں۔ ان کے دائیں طرف احتشام احمد اور بائیں طرف ولید احتشام تھا۔ مما نہ جانے کون سا قصہ شروع کئے بیٹھی تھیں۔ وہ دونوں پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھے اور اس ٹرائی اینگل میں مجھے اپنا آپ ایک دم نہایت فضول اور بہت ہی غیر اہم سا لگا تھا۔ تب ہی مما کی نظر مجھ پہ پڑی تھی۔
’’کیا بات ہے جانو! تم ٹھیک طرح سے کھا کیوں نہیں رہیں؟‘‘ وہ کچھ دیر پہلے کی بات کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے محبت کے اسی انداز میں بولی تھیں۔
’اور اگر یہ نظر ایک ماں کی ہوتی تو تب آپ یقینا یہ دیکھ سکتیں کہ میں تو ٹھیک طرح سے سانس بھی نہیں لے رہی۔‘
میرے حلق میں نوالہ پھنسنے لگا تھا۔ سو خاموشی سے پانی پی کر میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’شانزے بیٹا! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ میں چلتے چلتے ٹھہر سی گئی تھی۔ احتشام احمد کا لہجہ متفکر تھا اور چہرے پہ بے پناہ نرمی۔
’شاید یہ شخص بہت بڑا اداکار ہے۔‘ میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا تھا اور ان تینوں کی سوالیہ نظروں کو نظرانداز کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی۔
’’یہ شانزے کو کیا ہوا ہے؟‘‘ احتشام احمد نے فوراً مما کو میری بجھی بجھی کیفیت کی طرف متوجہ کیا تھا۔
’’ہونا کیا ہے۔ ایمان حسن کی طرح اس کو بھی عادت ہے ہر وقت بسورتے رہنے کی۔ خیر چھوڑیں آپ اس کو۔ یہ چکن لیں۔ ہاں ولید! میں کیا کہہ رہی تھی تم سے؟‘‘ وہ دوبارہ سے اپنا قصہ لے بیٹھی تھیں اور میں نے مرے مرے قدموں سے آخری سیڑھی بھی پار کر لی تھی۔ بیڈ روم میں داخل ہونے سے پہلے میں نے یونہی پلٹ کر دیکھا تھا۔ وہ بے تحاشا ہنستے ہوئے کوئی بات کر رہی تھیں۔ فانوس کی تیز روشنی میں ان کی سفید رنگت دمک رہی تھی۔ چہرے پر سرخی سی پھیل رہی تھی۔ ڈارک لپ اسٹک سے مزین ہونٹ اور سفید ہموار موتیوں جیسے دانت۔ سفید لباس میں ان کا حُسن کس قدر مکمل تھا۔ روشن اور شاداب چہرے پر خوشیوں کا جھلملاتا عکس۔
’آپ تو آج بھی اتنی ہی خوش حال، اتنی ہی مطمئن ہیں مما! ایک طرف من پسند ہم سفر ہے تو دوسری طرف بیٹے کا مضبوط سہارا۔ محرومیاں تو صرف میرے حصے میں آئی ہیں۔ سب کچھ چھین لیا آپ نے مجھ سے۔ باپ، دوست، دکھ شناس، ہر طرح سے تہی داماں کر دیا آپ نے مجھے۔ اور اس کے باوجود بھی آپ اتنی مطمئن و پُرسکون ہیں، جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔‘ میں نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا جہاں دکھ کی کوئی لکیر بھی ثبت نہ تھی۔
’کیا پچھتاوے کے لہراتے، بل کھاتے سانپ نے کبھی ان کے سینے پہ ڈنک نہیں مارا ہو گا؟
اور
کیا اتنے ڈھیر سارے دنوں میں کوئی ایسا لمحہ نہ آیا ہو گا جو انہیں احساسِ زیاں سے دوچار کر گیا ہو؟
کوئی احساسِ جرم، جس نے ان کی راتوں کی نیند اُڑا دی ہو؟
بیتی رفاقتوں کا کوئی ایسا لمحہ جو یاد بن کر دل میں کھب گیا ہو اور پھر ضبط کا کوئی یارا نہ رہا ہو۔
اپنے فعل پر کوئی دکھ، کوئی ندامت۔۔۔۔۔۔ جس نے سانس لینا دوبھر کر دیا ہو۔‘
میں نے ہر زاویے سے ان کے چہرے کو کھوجا تھا مگر وہاں بھولے سے بھی کوئی ایسا تاثر نہ اُبھر رہا تھا۔ وہاں تو خوشی تھی، مسکراہٹ تھی، روشنی تھی۔
’تو گویا میرا یہ کہنا غلط نہ تھا کہ اس عورت کے سینے میں دل نام کی کوئی چیز نہیں۔‘ میرے بجھے بجھے دل میں نفرت کی تیز لہر ایک بار پھر انگڑائیاں لینے لگی تھی۔
///
’’دارالاطفال‘‘ کے سالانہ فنکشن کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں۔ ہر فرد بڑے جوش و خروش سے اس تقریب کو یادگار بنانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ رضا ہر روز ایک آدھ گھنٹے کے لئے آتا اور پھر رو دھو کر واپس چلا جاتا۔ کیونکہ اپنے بی ایس سی کے ایگزام کی وجہ سے وہ ان تیاریوں میں بھرپور شرکت نہ کر پا رہا تھا۔ اس روز بھی میں یونیورسٹی میں چند اہم کلاسز اٹینڈ کرنے کے بعد دارالاطفال آ گئی تھی اور جب یہاں سے باہر نکلی تھی تو اندھیرا ہر سُو پھیل چکا تھا۔
’اور آج پورا ایک ہفتہ ہو گیا ہے آفندی صاحب کو گئے ہوئے۔‘ ریڈ سگنل پر گاڑی روکتے ہوئے میں نے سوچا تھا۔ اور اس ایک ہفتے میں ہر روز آفس کے بند دروازے کو میں نے ایک لمحے کے لئے رک کر دیکھا۔ لاشعوری طور پر یہ خواہش دل میں اُبھرتی رہی تھی کہ آفس کا دروازہ لاک نہ ہو اور ہر دفعہ ہی یہ بند دروازہ مجھے چڑا کر رکھ دیتا تھا۔
’اور اس اجنبی سرزمین، اجنبی لوگوں اور اجنبی فضائوں میں سانس لیتے اس شخص کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ اس لمحے کوئی اسے کتنا مس کر رہا ہے۔‘ گرین سگنل پر میں نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے وقت دیکھا۔ آج یونیورسٹی میں ونیزہ نے کوئی گھنٹہ بھر میرے کان کھانے کے بعد مجھے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ آج میں ڈنر ونیزہ اور حماد کے ساتھ کروں گی۔
’’یار! تم خوامخواہ مجھے کاب میں ہڈی بنوا رہی ہو۔‘‘ میں نے جھلا کر اسے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اس کا کہنا تھا کہ حماد نے خاص طور پر یہ ڈنر میرے لئے ارینج کیا ہے۔ اس لئے کباب میں ہڈی والا محاورہ یہاں درست نہیں بیٹھتا۔ اور جب یہ ہی بات حماد نے فون پر مجھ سے کہی تھی تو پھر میں انکار نہ کر سکی تھی۔
ونیزہ نے مجھے آٹھ بجے ہوٹل پہنچنے کا کہا تھا اور اس میں ابھی پونا گھنٹہ باقی تھا۔ سو یہ پونا گھنٹہ میں نے بے کار و بے مقصد گاڑی کو سڑکوں پر دوڑاتے ہوئے گزارا تھا۔ کیونکہ آج کل موسم میں وہ مخصوص نمی نہ تھی اور نہ ہی آسمان پر گھنے بادلوں کا ڈیرہ تھا۔ سو اس وقت اطراف میں خوب رونق اور ہلچل تھی۔ اور جب میری کلائی پر بندھی گھڑی نے آٹھ بجنے پر اپنا مخصوص الارم بجایا تھا، تب میں نے گاڑی کا رخ موڑ دیا تھا۔
’’فائیو ویز‘‘ کے پارکنگ ایریا میں گاڑی پارک کر کے میں نیچے اتری تو عین اسی لمحے کوئی گاڑی میرے برابر آ رکی تھی۔ دروازہ بند کرتے ہوئے میں نے یونہی سرسری نظر ہنڈا سوک سے اُترتے شخص پر ڈالی تھی اور ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں یہ سرسری سی نظر ایک بھرپور اور گہری نگاہ میں بدل گئی تھی۔ حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات دل میں ہلچل سی مچا گئے تھے۔
’اور کیا بے دھیانی میں کی گئی دعائیں یوں بھی مستجاب ہوتی ہیں؟‘
میں نے اپنا رخ پوری طرح اس کی طرف موڑ دیا تھا اور اسے پکارنے کے لئے ابھی میرے لب وا ہی ہوئے تھے جب اچانک اس کی طائرانہ نظریں مجھ سے آ ملی تھیں۔ اور ابھی میں مسکرا کر ہیلو بھی نہ کہہ پائی تھی جب وہ نگاہیں اپنی تمام تر اجنبیت اور سرد و سپاٹ تاثر سمیت میرے چہرے سے ہٹ گئی تھیں۔ میرے پھیلے ہوئے ہونٹ ایک دم ہی سکڑ گئے تھے اور میں ششدر سی اپنی جگہ پر کھڑی اس کی چوڑی پشت کو دیکھتی رہ گئی تھی۔ حد درجہ بیگانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ غیر ملکی عورت کے ساتھ جا چکا تھا اور میں دم بخود سی اپنی جگہ ساکت کھڑی رہ گئی تھی۔ اور ابھی میں اس کے اس روّیے کو پوری طرح سمجھ بھی نہ پائی تھی، جب اچانک کسی نے زور سے میرا بازو ہلایا۔ میں نے بری طرح چونک کر دیکھا۔ ونیزہ ہنستے مسکراتے چہرے سمیت میرے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔
’’کہاں گم ہیں محترمہ! ہم لوگ آ چکے ہیں۔‘‘ اس کے پیچھے حماد کو دیکھ کر میں نے بہ دقت تمام اپنے چہرے پہ مسکراہٹ سجا لی۔
’’ہاں، میں آپ ہی لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔‘‘
’’تو پھر جلدی چلو نا۔ میرا تو سردی سے دم نکلا جا رہا ہے۔‘‘ ونیزہ نے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتے ہوئے کہا تو میں نے آگے کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ مگر چند قدم رکنے کے بعد میں ایک دم ٹھٹک کر رک گئی تھی۔
’’کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ کسی اور ہوٹل میں چلیں؟‘‘ میں نے پلٹ کر ان دونوں سے کہا۔
’’کسی اور ہوٹل میں۔۔۔۔۔۔ کیوں، خیریت؟‘‘ حماد نے حیران سے لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں خیریت ہی ہے مگر۔۔۔۔۔۔‘‘ میں اُلجھ سی گئی تھی۔ ’’میرا مطلب ہے۔۔۔۔۔۔ ڈنر ہی کرنا ہے تو کسی اور جگہ سہی۔‘‘ میری اس بے تکی بات پر حماد نے حیرت سے ونیزہ کو دیکھا تھا اور معلوم نہیں، ونیزہ نے اسے اشارہ کیا تھا یا حماد نے خود ہی اپنی حیرت پر قابو پا لیا تھا اسی لئے فوراً ہی خوش دلی سے اس نے کہہ دیا۔
’’اوکے بھئی۔ ایز یو وِش۔ بتائو کہاں جانا چاہو گی؟‘‘
’’میرا خیال ہے ’’شایان‘‘ میں چلتے ہیں۔ وہ یہاںسے کافی نزدیک ہے۔‘‘ میں نے لمحے بھر سوچنے کے بعد کہا اور وہ دونوں راضی برضا ایک مرتبہ پھر گاڑی کی طرف بڑھ گئے تھے۔ اور حقیقت تو یہ تھی کہ میں اس وقت بری طرح ڈسٹرب ہو چکی تھی اور اگر ان دونوں کا خیال نہ ہوتا تو فوراً یہاں سے بھاگ نکلتی۔ مگر اب صرف ان کی خاطر میں ذہن سے ہر خیال کو جھٹک کر خود کو نارمل کرنے لگی تھی۔ اور ’’شایان ریسٹورنٹ‘‘ تک پہنچتے پہنچتے میں خود پر اس حد تک قابو پا چکی تھی کہ سردی سے بچنے کے لئے حماد کے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی ونیزہ میرے جملوں پر بری طرح بلش ہوتی جا رہی تھی۔
///
دل جس کو دیکھنے کی تمنا میں گم رہا
کل یوں ملا تھا جیسے ہمیں جانتا نہیں
کتنا مختصر تھا وہ لمحہ جو ہم دونوں کے بیچ آیا تھا اور چپ چاپ سرک گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود دل کی بے کلی اس طرح سے بڑھی تھی کہ رات کے اس پہر بھی نیند میری آنکھوں سے کوسوں دُور تھی۔ ان سبز آنکھوں کو اپنے چہرے کو چھوتے اور پھر بے انتہا اجنبیت سمیت پلٹتے میں اس لمحے بھی محسوس کر رہی تھی اور جوں جوں ان سب آنکھوں کا اجنبی تاثر میرے دل میں واضح ہو رہا تھا، توں توں بے عزتی کا احساس دل میں بڑھتا جا رہا تھا۔ نہ دیکھنا اور بات تھی اور دیکھ کر اس طرح نظرانداز کر دینا مجھے کسی طرح ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
’آخر کیوں کیا اس نے ایسا؟ کیا میں اتنی ہی گئی گزری تھی کہ وہ مجھے ہیلو تک نہ کہہ سکتا تھا اور اس غیر ملکی عورت کے ساتھ چلتا بنا۔‘ میں نے بے چینی سے کمبل دور پھینکا اور اٹھ بیٹھی تھی۔ کتنا سوچا تھا میں نے اس شخص کے بارے میں پچھلے سات دنوں میں بے وجہ ہی۔
ڈرائیونگ کرتے ہوئے۔
کاپی پہ آڑی ترچھی لکیریں کھینچتے ہوئے۔
دارالاطفال کے کوریڈور میں سے گزرتے ہوئے۔
کسی مستحق فرد کو سو سو کے کئی نوٹ تھماتے ہوئے۔
کسی بچے کے آنسو صاف کرتے ہوئے۔
اس کا سحر انگیز سراپا جیسے زبردستی آنکھوں میں گھسا چلا آیا تھا۔ اور آج جب مجسم میرے سامنے آیا تھا تو اس کا گریز مجھے خودسے بھی شرمندہ کر گیا تھا۔
’ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس عورت کے سامنے مجھ سے مخاطب نہ ہونا چاہتا ہو۔‘ دل نے توجیہ پیش کی تھی اور مجھے وہ عورت یاد آ گئی تھی، جس کی چال میں بہت تیزی اور بے باک سا اعتماد تھا۔
’مگر میرے اور اس کے درمیان ایسا کوئی تعلق نہیں، جس کی دوسروں کے سامنے تشہیر کرنا ممکن نہ ہو۔ کون نہیں جانتا کہ وہ ’’دارالاطفال‘‘ جیسے ادارے کا مالک جمشید آفندی ہے اور جس ادارے میں بیسیوں ورکرز اس کے تحت کام کرتے ہوں، وہاں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ کوئی ورکر اس سے ٹکرا سکتا ہے۔ پھر مسکرا کر وِش کرنے میں آخر حرج ہی کیا تھا؟‘
سیاہ آسمان پر نظریں دوڑاتے ہوئے میں نے اُلجھ کر سوچا تھا۔ مگر بہت کوشش کے بعد بھی کوئی سرا میرے ہاتھ میں نہ آیا تھا۔ حتیٰ کہ کھڑکی سے آتی سرد سرسراتی ہوا سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے تھے۔ تب میں کھڑکی بند کر کے دوبارہ بستر پہ آ گئی تھی اور سونے سے ایک لمحہ قبل تک وہ سبز اجنبی آنکھیں میرے دماغ میں گھومتی رہی تھیں۔
///
رات دیر سے سونے کے باوجود صبح میری آنکھ جلد ہی کھل گئی تھی۔ یونیورسٹی بند تھی اور میں کوشش کے باوجود خود کو ’’دارالاطفال‘‘ جانے پر آمادہ نہیں کر سکی تھی اور اس وقت میں تنہا بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جب احتشام احمد جاگنگ سے واپس آئے تھے۔ میری یہاں موجود پر وہ ٹھٹکے تو ضرور ہوں گے کیونکہ اس وقت تک میں اپنی گاڑی سمیت گھر سے نکل گئی ہوتی تھی یا پھر اپنے بیڈ روم میں ابھی تک بستر پہ پڑی ہوتی تھی۔ بہرحال وہ مجھ سے مخاطب ہوئے بغیر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ اور جب وہ سوٹڈ بوٹڈ آفس جانے کے لئے کمرے سے باہر آئے تو ٹی وی لائونج میں میرے پاس آ کر قدرے رک سے گئے تھے۔
’’شانزے بیٹا!۔۔۔۔۔۔ بہت دنوں بعد گھر میں دیکھا ہے تمہیں اور بہت اچھا لگ رہا ہے مجھے۔ اگر فارغ ہو تو چلو، آج اپنے آفس کا چکر لگا لو۔‘‘
’’نو تھینکس۔‘‘ ان کے نرم لہجے کے جواب میں، میں نے قدرے رُکھائی سے کہہ کر ٹی وی پہ نظریں جما دی تھیں۔
’’اوکے، انجوائے یور سیلف۔‘‘ انہوں نے ہولے سے میرا سر تھپتھپایا تھا اور پلٹ گئے تھے۔ جبکہ میں دل ہی دل میں تائو کھا کر رہ گئی تھی۔ ٹی وی پہ متحرک تصویریں بور کرنے لگیں تو میں اٹھ کر باہر لان میں آ گئی۔ موسم سرما کی نرم گرم، معصوم اور الہڑ سی دھوپ لان کی دیواروں سے اُتر کے گھاس پہ آ ٹھہری تھی۔ میں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی پرندوں کے پنجرے کے پاس آ گئی۔ موسم کی شدت سے بے زار آسٹریلین پیرٹ دھوپ میں پَر پھیلائے جیسے اپنے وجود میں جمی برفاب ٹھنڈک کو پگھلا رہے تھے اور خاصے پُرجوش نظر آ رہے تھے۔ چائنیز ڈو، پروں کو مخصوص انداز میں حرکت دیتے ہوئے رقص میں مصروف تھی۔ اور ابھی میں نہ جانے کتنی دیر تک ان کی حرکتوں سے محظوظ ہوتی کہ ملازم نے کارڈلیس میرے ہاتھوں میں تھما دیا۔ دوسری طرف عاصم تھا جو اپنے مخصوص پُرتکلف مگر اپنائیت بھرے انداز میں مجھے آج شام میں ہونے والی میٹنگ کی اطلاع دے رہا تھا۔
’’آفندی صاحب آ چکے ہیں، انہوں نے ہی میٹنگ کال کی ہے۔‘‘ وہ بتا رہا تھا۔
’’پھر آپ پہنچ رہی ہیں شام کو؟‘‘ اس کے پوچھنے پر میں کسی خیال سے چونکی۔
’’ہاں آئوں گی۔‘‘ میں نے چند لمحے سوچ کر جواب دیا تھا اور پھر چند رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد اس نے فون بند کر دیا تھا۔
شام کو میں مقررہ وقت پر ہی ’’دارالاطفال‘‘ پہنچی تھی۔ اور اس وقت میٹنگ روم میں رضا اپنے مخصوص لاابالی انداز میں ’’چیٹنگ‘‘ کے آزمودہ نسخے مجھے ازبر کروا رہا تھا۔ جب میٹنگ روم کا دروازہ کھلا تھا اور پہلے جمشید آفندی اور اس کے بعد عاصم کا چہرہ نظر آیا تھا۔ اپنی نشست سنبھالتے ہوئے اس نے بڑے سادہ سے لہجے میں سب لوگوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا تھا اور اس کے بعد آئندہ چند دنوں میں ہونے والی تقریب کے متعلق بات شروع کی تھی۔ میں نے یونہی میز کی سطح سے نظریں اٹھا کر سب کے چہروں کو دیکھنا شروع کیا۔ ہر کوئی بے حد سنجیدگی سے اس کی طرف متوجہ تھا۔ میں نے بھی ان کی تقلید میں نظریں اس کے چہرے پر گاڑ دی تھیں اور دوسرے معنوں میں اجنبیت و بیگانگی کے اس تاثر کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی جس سے کل مجھے سابقہ پڑا تھا۔ مگر اس وقت ایسا کوئی تاثر مجھے دیکھنے کو نہ ملا تھا۔ وہ اپنی بات میں پوری طرح محو و مگن تھا۔ میٹنگ ہال میں اس کی آواز گونج رہی تھی اور باقی سب لوگ جیسے مٹی کے مادھو بنے اپنی نظریں اور سماعتیں اس پر گاڑے بیٹھے تھے۔
’اس کی شخصیت میں کوئی ایسا سحر ہے ضرور جو دوسروں کو مبہوت کر دیتا ہے۔‘
میں نے اس کی آواز کے اتار چڑھائو کو پوری طرح محسوس کرتے ہوئے سوچا تھا۔ اور میں اپنی انہی سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اسی وقت چونکی جب میٹنگ کے اختتام پر رحمہ نے مجھے ٹہوکا دیا تھا۔ میٹنگ کے بعد ڈنر کا پروگرام تھا اور موڈ نہ ہونے کے باعث میں ضروری کام کا بہانہ کرتے ہوئے اُٹھ گئی تھی۔ گاڑی کے قریب پہنچ کر میں نے جرسی کی جیبیں ٹٹول کر چابی ڈھونڈنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں ناکامی کے بعد میں نے اپنا شولڈر بیگ کھنگالنا شروع کر دیا تھا۔
’’افوہ، کہاں چلی گئی؟‘‘ میں نے چڑ کر بیگ کی ساری چیزیں اُلٹ دیں مگر چابی یہاں سے بھی برآمد نہ ہوئی تھی۔ میں نے پلٹ کر ادھر دیکھا جہاں سے میں آئی تھی اور اب وہاں اچھی خاصی محفل جم چکی تھی۔ دوبارہ جا کر چابی کی تلاش میں سب کو ڈسٹرب کرنا مجھے بہت آکورڈ لگا تھا۔
میں نے گھڑی میں وقت دیکھا۔ کچھ زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔ اس لمحے کوئی بھی سواری آسانی سے مل سکتی تھی اس لئے میں یونہی گیٹ سے باہر آ گئی تھی۔ اس روڈ پہ کوئی خاص رش نہیں تھا۔ اِکادُکا گاڑیاں چل رہی تھیں۔ کبھی کبھار کوئی موٹرسائیکل یا سائیکل سوار بھی پاس سے گزر جاتا تھا۔ آسمان پہ پورا چاند اس حد تک روشن اور قریب محسوس ہو رہا تھا کہ ہاتھ بڑھا کر چھو لینے کو دل چاہ رہا تھا۔ بادلوں سے اٹکھیلیاں کرتی سرد ہوا، کپکپاہٹ کے باوجود بہت اچھی لگ رہی تھی۔
میں نے آنکھوں کے پپوٹے ایک لمحے کے لئے بند کر کے ان کی ساری ٹھنڈک کو اپنے اندر جذب کیا اور ہاتھوں کی سرد پوروں کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ تبھی کوئی پتھر پائوں کی ٹھوکر کی زد میں آیا تو میرے سامنے دور تک لڑھکتا چلا گیا۔ میں بے ساختہ سی ہنس دی تھی۔ اور پھر اس پتھر کو لگنے والی دوسری اور تیسری ٹھوکر شعوری تھی۔
میرے دل تُو ہے مسافر
زندگی اِک سفر ہے
دھیرے دھیرے گنگناتے ہوئے ایک لمحے کو میرا دل چاہا، میں پوری قوت سے گلا پھاڑ پھاڑ کر گانے لگوں اور اپنے اس خیال پہ میں خود ہی زور سے ہنس دی تھی۔
’’لگتا ہے کسی دیوانی کی روح مجھ میں آ سمائی ہے جو اس سرد اور جامد سناٹے سے پوری طرح محظوظ ہونا چاہتی ہے۔‘‘ میں خود سے مخاطب ہوئی تھی۔
تبھی پاس سے گزرتے سائیکل سوار نے غالباً میری بڑبڑاہٹ سن کر پلٹ کر مجھے دیکھا تھا۔
’’اے بھائی! مجھے بھی ساتھ لے چلو۔‘‘ میں نے اسے پکارا۔ وہ کوئی نوعمر لڑکا تھا۔ میرے کہنے پر اس کی آنکھیں تحیر آمیز خوف سے پھیل گئی تھیں۔ اسٹریٹ لائٹ کی زرد روشنی میں اس کے چہرے پہ واضح بوکھلاہٹ مجھے نظر آئی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس نے آگے کو جھک کر زوردار پائوں پیڈل پر مارے اور چند لمحوں میں ہی یہ جا وہ جا۔ میں نے مسکراتے ہوئے ٹیکسی کی تلاش میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اس سے زیادہ سردی میں برداشت نہیں کر سکوں گی۔ تبھی ایک گاڑی میرے بالکل نزدیک آ کر رکی تھی۔ اور ساتھ ہی گاڑی کا دروازہ کھول دیا گیا تھا۔ میں نے چونکا نظروں سے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے شخص کو دیکھا اور پھر کچھ لمحے سوچ میں پڑ گئی۔
’’آیئے مس شانزے!‘‘ اس کے پکارنے پر میں نے دائیں بائیں دیکھا اور کسی سواری کو نہ پا کر میں گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔
’’آپ بعض اوقات بہت بچوں جیسی حرکتیں کرتی ہیں مس شانزے!‘‘ میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے پوری سنجیدگی سے کہہ ڈالا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’اس وقت یوں سڑک کے کنارے ٹہلنا کیا معنی رکھتا ہے؟ میری جگہ اگر کوئی غنڈہ، کوئی اوباش انسان ہوتا تو۔۔۔۔۔۔؟‘‘
میں نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔ سبز آنکھوں میں برہمی تھی اور لہجے میں غصے کی آمیزش۔ نہ جانے کیوں میں بے اختیار ہنس دی تھی۔
’’کمال ہے آفندی صاحب! کہاں تو آپ ہمیں پہچان نہیں پائے تھے اور کہاں ہماری حفاظت کے لئے اتنا تردّد۔ بائے دا وے آفندی صاحب! آپ ہمیں دیکھ نہیں پائے تھے یا پھر دیکھ کر پہچان نہ سکے تھے؟‘‘ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا مگر جواباً وہ کچھ بولا نہیں تھا۔ ہونٹ بھینچے خاموشی سے اسٹیئرنگ گھماتا رہا تھا اور جب وہ بولا تھا تو لہجہ یکسر بدلا ہوا تھا۔
’’بعض اوقات یوں ہوتا ہے مس شانزے ایمان! کہ لمحے انسان کی دسترس میں نہیں رہتے بلکہ انسان لمحوں کی دسترس میں چلا جاتا ہے اور پھر اس کی ہر حرکت ان لمحوں کے تابع ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ مجھے معلوم ہے، آپ میرے کل کے روّیے پر ناراض ہیں۔ اپنا نظر انداز کیا جانا آپ کو بے حد گراں گزرا ہو گا۔ مگر بس اتنا سمجھ لیجئے کہ اس وقت میں بھی کسی ایسے ہی لمحے کی زد میں تھا۔‘‘
اس کا لہجہ بہت بکھرا ہوا تھا اور بے تحاشا جگمگاتی آنکھوں کی جوت مدھم پڑ گئی تھی۔ اس کے لفظوں پر غور کرنے کے باوجود بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ مگر اسے مضمحل سا دیکھ کر میں نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا تھا۔ نہ جانے کتنی دیر تک خاموشی کی دیوار ہم دونوں کے مابین کھڑی رہی۔ اپنے اپنے خیالات میں ہم اس طرح غرق تھے کہ پتہ ہی نہیں چلا کب گاڑی ’’شانزے ولا‘‘ کے سامنے جا رُکی۔
’’مس شانزے! چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا کرنا چھوڑ دیں۔ خوش رہا کریں۔‘‘
میں گاڑی کا دروازہ کھولتے کھولتے رک سی گئی۔ میں نے یونہی گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ اس کی نظریں مجھ پہ جمی تھیں۔ اس کے چہرے پہ ایک یاسیت بھری اُداسی تھی۔
’’آفندی صاحب! آپ گھر نہیں چلیں گے؟‘‘ میں نے اسے اپنی جگہ جمے دیکھ کر پوچھا تو وہ جیسے کسی گہرے خیال سے چونکا تھا۔ نظروں کا زاویہ بدل کر اس نے ایک نظر پُرشکوہ ’’شانزے ولا‘‘ کو دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
’’میں اب چلوں گا۔‘‘ اس کے کہنے پر میں گاڑی سے اُتر آئی تھی اور میرے دیکھتے ہی گاڑی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ مگر اس کے وجود سے پھوٹتی مخصوص مردانہ پرفیوم کی خوشبو نے بیڈ روم تک میرا پیچھا کیا تھا۔
’کتنی اپنائیت تھی اس شخص کے قرب میں۔‘ میں نے بیڈ پر گرتے ہوئے سوچا۔
’نظریں ملیں تو لگتا ہے ہم دونوں کے بیچ کبھی کوئی فاصلہ ہے ہی نہیں۔
خاموش رہوں تو لگتا ہے یہ شخص زینہ بہ زینہ میری ذات میں اُترتا جا رہا ہے۔
بولنے لگوں تو لگتا ہے سب کچھ پہلے سے ہی جانتا ہے۔
ولایت کا دعویٰ نہیں کرتا مگر ولی سے کم بھی نہیں۔ ویسا ہی پاکیزہ، کانچ کی طرح شفاف، فرشتوں کی طرح معصوم۔ اندر سے بھی ویسا ہی خوب صورت جیسا باہر سے، دوسروں کے آنسو مقدس موتیوں کی طرح اپنے دل کی سیپ میں بند کر لینے والا۔ مگر معلوم نہیں اپنی ذات میں کیسے اسرار لئے پھرتا ہے وہ۔ اور آج اس کے چہرے پہ کیسی حسرت تھی مگر صرف لمحہ بھر کے لئے۔ کبھی کبھار تو مجھے اس کی آنکھوں میں دکھ ہی دکھ نظر آتا ہے مگر وہ بھی گھڑی بھر میں معدوم ہو جاتا ہے۔ اور مجھے تو لگتا ہے، اس کی چٹان جیسی مضبوط شخصیت کے اندر ایک اور ہی جہاں آباد ہو گا، جس کے اندر جھانکنے کی جرأت آج تک کوئی کر ہی نہ سکا ہو گا۔‘
اس رات میں بہت دیر تک اس کے بارے میںسوچتی رہی تھی اور سونے سے ایک لمحہ قبل تک میرے آس پاس ایک ہی جملے کی گردان ہوتی رہی تھی کہ۔
’’چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا کرنا چھوڑ دیں۔ خوش رہا کریں۔‘‘

(جاری ہے)