NaeyUfaq Jan-18

سچی محبت

خلیل جبار

وہ کمرا ڈیپارٹمنٹ کے برابر میں ہی تھا۔ یہ کمرا ہم لوگوں کے استعمال میں رہتاتھا کیونکہ ہمارے کام میں استعمال ہونے والا سامان اس میں رکھاہواتھا جیسے ہی کسی پرزے وغیرہ کی ضرورت پڑتی کمرے میں جاکر لے آتے‘ کمرے سے سامان چوری ہونے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ شام کوجاتے ہوئے سب کی تلاشی ہوتی تھی۔ اس لیے کوئی بھی چوری کرنے کاتصور بھی نہیں کرسکتاتھا۔ اب اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کررہاتھا‘ انسان کوکام آنا چاہیے پھراسے کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں بھیج دیاجائے اس کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میری سلائی مشین کاایک پرزہ ٹوٹ گیاتھا۔ میں وہ پرزہ لینے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا‘ ایک حسین دوشیزہ کو دیکھ کرچونکا۔ اس کی عمر بھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ میں نے اسے اس سے قبل فیکٹری میں دیکھا نہیں تھا۔ اس لیے حیرانی ہوئی کہ یہ کون ہے اور کمرے میں کیوں بیٹھی ہے۔ اگر فیکٹری میں کام کرنے آئی ہے تو کام کرے‘ ایسے بٹھا کر تو کوئی بھی تنخواہ نہیں دے گا‘ بقول میرے دوستوں کے فیکٹری مالکان کابس نہیں چلتا ورنہ وہ مزدور کا پورا خون نچوڑ لیں۔
مجھے اس فیکٹری میں آئے ہوئے مشکل سے دو ماہ ہوئے تھے‘ اس سے قبل میں مختلف فیکٹریوں میں کام کرتا رہا ہوں۔ یہاں مجھے ڈبل تنخواہ پررکھا گیاتھا۔ایسے میں اس آفر کوکون ٹھکراسکتاتھا۔ میں نے فوراً کام کی حامی بھرلی اور پرانی فیکٹری سے کام چھوڑ دیا۔ میں ہر قسم کی مشین پر کام کرلیتاہوں اس لیے فیکٹری والے میری قدر کرتے ہیں اور میرے ناز ونخرے بھی اٹھاتے ہیں۔
میں مشین کاپرزہ لے کر چلاآیا‘ میں نے نوٹ کیاتھا کہ اس دوشیزہ کی میری طرف ہی نظر تھی اوراس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔
میراخیال تھا دوسرے دن کمرے میں نظر نہیں آئے گی مگر دوسرے‘ تیسرے حتیٰ کہ پورے ہفتے مجھے وہ کمرے میں بیٹھی نظر آتی رہی۔ جب سے وہ کمرے میں نظرآئی تھی ‘مشین میں روز کوئی نہ کوئی کام نکل رہاتھا اورمجھے کمرے کے اندر ضرورتاً جاناپڑرہاتھا۔ آج میں نے اسے دیکھ کر یہ فیصلہ کرہی لیا کہ اس سے بات کی جائے‘اسی سے پوچھا جائے کہ وہ کون ہے؟ اور اس کمرے میں ہی کیوں بیٹھی رہتی ہے؟ کیااسے ہماری جاسوسی پرمامور کیا گیاہے؟
’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’میں ایک لڑکی ہوں۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’وہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں‘ میر امقصد یہ نہیں ہے میں یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ تم یہاں کیا کام کرتی ہو؟‘‘
’’میں کچھ بھی کام نہیں کرتی۔‘‘ وہ بولی۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ فیکٹری مالکان کسی بھی مزدور کو بٹھا کر نہیں کھلاتے ‘پھروہ تمہیں کیسے بٹھا کر کھلائیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’مجھے ضرورت ہی کیا ہے پیسوں کے لیے کام کروں‘ میرے پاس نوٹوں کی کمی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپناپرس کھول کردکھایا۔
پرس میں ہزار‘ ہزار کے نوٹوں کی گڈیاں بھری پڑی تھیں‘ حیرت سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔
’’اتنی دولت تمہارے پاس کہاں سے آئی؟‘‘ میںنے پوچھا۔
’’میرے پاس اس سے بھی زیادہ دولت ہے۔‘‘
’’پھر تم یہاں کیا کرتی ہو؟‘‘
’’میں نے بتایا ہے نا کہ مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ بس میں توتمہیں دیکھنے آتی ہوں۔‘‘
’’مجھے اس ڈیپارٹمنٹ میں آئے ہوئے ایک دو ماہ ہی ہوئے ہیں۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’ہاں مجھے معلوم ہے۔‘‘ وہ ہنس دی۔
اچانک قدموں کی آواز پرمیں چونکا۔شاید کوئی کمرے کی طرف آرہاتھا۔ میں اس لڑکی سے مزید کچھ دیر اور بات کرنا چاہتاتھامگر کسی اور کی موجودگی میں بات کرنا مناسب نہ سمجھااور وہاں سے چلا آیا۔ میرا وہاں سے آنا اچھاہی ہوا کیونکہ کمرے کی طرف منیجر وقاص احمد آرہے تھے۔ کمرے میں لڑکی کابغیر کسی مقصد کے ہونا اوروقاص احمد کاکمرے میں جانا ضرور گڑبڑ والی بات تھی۔ فیکٹریوں میں اکثر ایسا ہوتاہی رہتاہے۔ اکثر دوشیزائیں کام کی تلاش میں یامنیجر کے قریب ہونے کے چکر میں اپنی عصمتیں گنوا بیٹھتی ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان چکروں میں نہیں پڑتے ورنہ اکثریت میں اچھے عہدوں پر تعینات اپنے عہدے کافائدہ اٹھاتے ہیں اور ہر کلی کا رس چوسنے کے چکر میں رہتے ہیں اور جوانہیں خوش کردے وہ پھر نوازی بھی جاتی ہیں۔
کمرے میں موجود لڑکی کے پاس نوٹوں کی گڈیاں اس کے کردار کو مشکوک بنارہی تھیں۔ وہ خوبصورت تھی‘ کم عمر تھی ایسی لڑکیاں اپنی بھرپور جوانی کاخوب فائدہ اٹھاتی ہیں اور وہ چھوٹے موٹے لوگوں کو لفٹ بھی نہیں کراتی ہیں۔ بڑے بڑے سیٹھوں کے بیڈروم کی زینت بنتی ہیں‘ زیادہ مال وہی دے سکتے ہیں ‘ اس کامجھ سے یہ کہنا کہ میں تمہیں دیکھنے آتی ہوں‘ محض تفریحاً کہا ہوگا بہرحال کچھ بھی تھا‘ منیجر وقاص احمد کو کمرے کی طرف جاتا دیکھ کراس کاکردار میری نظر میں مشکوک ہوگیاتھا۔ وہ کوئی اچھی لڑکی نہیں تھی اب دوبارہ وہ مجھے نظر بھی آئی تو میں اس سے بات بھی نہیں کروں گا۔
دوسرے دن میرا پھر کمرے میں جانا ہوا۔اس کمرے میں جانا ہم سب کی مجبوری تھا‘ آج بھی وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی‘ میں جان بوجھ کر اسے نظر انداز کرگیا۔
’’کیاناراض ہو؟‘‘ وہ بولی۔
’’تم میری کیا لگتی ہو جومیں تم سے ناراض ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اگر نہیںلگتی تو اپنا بنالو۔‘‘ وہ زو رسے ہنستے ہوئے بولی۔
’’میں تمہیں اپناکیوں بنالوں‘ کیا شہرمیں اچھے کردار کی لڑکیاں مرگئی ہیں۔‘‘ میں نے غصے سے کہا۔
’’مجھ میں ایسی کیابات دیکھ لی جوتم میرے کردار پرشک کررہے ہو۔‘‘
’’منیجر وقاص کااس کمرے میں آناہی تمہارے کردار کومشکوک بنارہاہے۔‘‘
’’یہ کون صاحب ہیں؟‘‘ وہ چونکی۔
’’میرے جانے پر جوصاحب آئے تھے وہی منیجر وقاص احمد تھے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’اچھاہوں گے۔‘‘
’’کیااس نے تم سے بات نہیں کی اور یہ بڑے بڑے نوٹ تمہارے پاس کہاں سے آئے ؟‘‘ میں نے اس کے چہرے کوغور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میںچلی گئی تھی ہوسکتا ہے کہ میرے جانے کے بعد آیاہو۔‘‘ اس نے بے پرواہی سے کہا۔
’’پھرتم یہاں کس سے ملنے آتی ہو؟‘‘
’’ میں نے تم سے کہا بھی ہے کہ میں تم سے ملنے آتی ہوں۔‘‘ اس نے شوخی سے میری جانب دیکھا۔
’’میں کیسے مان لوں؟‘‘
’’جب میں تم سے روز ‘روز ملنے آئوں گی تو پھر تمہیں یقین آجائے گا۔‘‘
’’تم مجھ سے کیوں ملنے آتی ہو؟‘‘
’’اس لیے کہ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے ۔‘‘
’’تمہاری یہ محبت مجھے نوکری سے نکلوادے گی۔‘‘ میں نے غصے سے کہا۔
’’میرے پاس بہت پیسے ہیں تم گھبرائو نہیں۔‘‘
’’تم مجھے کتنی بارپیسے دوگی‘ روز‘روز پیسے دینے سے رہی۔‘‘
’’میں تمہیں روزانہ پیسے دوں گی یقین نہ آئے تو آزمالو۔‘‘ اس نے اپنا پرس کھول کرنوٹ دکھائے۔
’’تم کیا کام کرتی ہو جو تمہارے پاس اتنے پیسے آجاتے ہیں۔‘‘ میں نے پرتجسس لہجے میں پوچھا۔
’’بس یہ مت پوچھو آم کھانے سے غرض رکھو۔‘‘
’’کیاتم…‘‘میں کچھ کہناچاہتاتھا مگرمیری زبان سے وہ الفاظ ادا نہ ہوسکے۔
’’بولو کیوں رک گئے‘ بے فکر رہومیں کوئی غلط قسم کادھندا نہیں کرتی یہ میرے اپنے پیسے ہیں۔‘‘
’’اتنی رقم تمہارے پاس آتی کہاں سے ہے۔‘‘میںنے اسے کریدا۔
’’مجھ پرشک مت کرو‘ محبت میں شک نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
’’میںنے کب تم سے کہہ دیا کہ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘
’’ہے نہیں تو ہوجائے گی۔‘‘ وہ زور سے ہنستے ہوئے بولی۔
قدموں کی آواز پر میں چونکا‘ میرے پیچھے کامران کھڑاتھا۔
’’کیابات ہے دیواروں سے باتیں کی جارہی ہیں۔‘‘
’’مجھے پاگل سمجھاہوا ہے جو دیواروں سے باتیں کروں گا۔‘‘
’’پھر کس سے بات کررہے ہو‘ یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں نہیں ہے یہ ہیں نا۔‘‘ میںنے لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔مجھے زبردست حیرت کاجھٹکا لگا‘ وہاں وہ لڑکی نہیں تھی۔
’’ارے وہ لڑکی کہاں گئی؟‘‘ میں نے کہا۔
’’مجھے بیوقوف مت بنائو میں جب یہاں آیا ہوں کوئی لڑکی موجود نہیں تھی۔‘‘ کامران نے کہا۔
’’میں سچ کہہ رہاہوں‘ میری بات کایقین کرو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اورمیںکیا جھوٹ بول رہاہوں۔‘‘
’’میں اپنی بات کررہاہوں کہ …‘‘
’’کہ تم جھوٹ نہیں بول رہے ہو‘ اب وہاں جائو تمہارا انتظار ہو رہا ہے۔‘‘
’’میراانتظار ہو رہا ہے؟‘‘
’’ہاں وہ انچارج صاحب آئے ہوئے ہیں جو اپنی جگہ نہیں اس کا پوچھ رہے ہیں۔‘‘
’’اوہ اچھا میں ابھی جاتاہوں۔‘‘ میں یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے انچارج شاہد بھائی بڑے غصے میں کھڑے تھے‘ مجھے دیکھ کر وہ میری طرف بڑھے۔
’’ہاں بھئی کہاں گئے تھے‘ یہ ایسے کام نہیں چلے گا۔‘‘
’’شاہد بھائی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو واقعی ایسے کام نہیں چلے گا‘ یہ پرزہ مشین میں لگے بغیر مشین چلے گی نہیں جب مشین نہیں چلے گی تو کام کیسے ہوگا۔‘‘ میںنے کہا۔
’’ٹھیک ہے جلدی اس پرزے کومشین میں لگائو‘ وہ منیجر صاحب دورہ کرنے آرہے ہیں اور میں یہ برداشت نہیں کرسکتا منیجر میرے ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کو کچھ کہیں۔‘‘شاہد بھائی نے کہا۔
’’مجھے مشین میں پزرہ لگاتے دیکھ کر وہ آگے بڑھ گئے۔ مشین پر کام کرتے ہوئے اچانک مجھے پھراس لڑکی کاخیال آگیا۔ کامران جھوٹ نہیں بول سکتا‘ واقعی کمرے میں لڑکی نہیں تھی لیکن وہ اتنی جلدی بھی کمرے سے نہیں جاسکتی تھی۔ جاتے ہوئے وہ ضرور نظر آتی۔ کمرے میں وہ مجھے ہی نظر آرہی تھی‘ اس کامطلب ہے وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں ہے‘ کوئی آسیبی چکر ہے‘ مجھے اس سے معلوم کرنا پڑے گا‘ وہ کون ہے؟ اور مجھ سے کیا چاہتی ہے۔ یہ سوچ کرمیں مطمئن ہوگیاتھا۔
دوسرے دن میں کام کے بہانے سے کمرے میں گیا‘ اس وقت وہ بیٹھی ہوئی تھی‘ مجھے دیکھ کرمسکرائی۔
’’مجھے یقین تھا تم ضرور آئوگے۔‘‘
’’جب تک اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کررہاہوں اس کمرے میں آنا میری مجبوری ہے۔‘‘میں نے کہا۔
’’تم کیوں مجبور بن رہے ہو‘ عیش کی زندگی گزارو۔‘‘ وہ بولی۔
’’عیش کی زندگی گزارنے کودولت چاہیے وہ میرے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’میں تمہیں دولت دوں گی‘ میری بات مان لو۔ فائدے میں رہوگے۔‘‘
’’تم کون ہو اورمجھے دولت کیوں دوگی‘ تمہارے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی ہے اور کب تک مجھے دولت دیتی رہوگی۔‘‘ میں نے کئی سوالات کرڈالے۔
’’تم نے ایک سانس میں کئی سوالات مجھ سے کرڈالے ہیں۔ میں ایک ایک سوال کاجواب دیتی جاتی ہوں‘ میں کون ہوں؟ میں انسانوں میں سے نہیں ہوں‘ میرا تعلق جنات کے قبیلے سے ہے‘ میرا نام عدینہ ہے۔ میں تم کوپسند کرتی ہوں‘ ہمارا قبیلہ اس فیکٹری کے قریب جو درخت ہیں ان پرہمارا بسیرا ہے‘ جب میں نے تمہیں دیکھا ‘میں اپنے حواس کھوبیٹھی اور تمہیں دل وجان سے چاہنے لگی ہوں‘ جب کوئی کسی کوچاہنے لگے پھراس کا سب کچھ اس کاہوجاتا ہے‘ میرے پاس جو بھی کچھ ہے وہ سب تمہارا ہے۔ جب مانگوگے دے دوں گی‘ یہ دولت ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ‘ ہم جب چاہیں حاصل کرلیتے ہیں‘ تم جب تک مجھ سے مخلص ہودولت دیتی رہوں گی۔‘‘ وہ بولی۔
عدینہ نے مجھے جب یہ بتایا وہ جنات کے قبیلے سے ہے‘مجھے خوف سا آیا۔ کامران ٹھیک کہہ رہاتھا یہ اسے نظر نہیں آئی ہوگی ‘کمرے کی طرف کوئی آرہاتھااس لیے میں فوراً پلٹ پڑا‘ یہ کمرہ ایساتھا ہر انسان کوجواس ڈیپارٹمنٹ میں کام کررہا ہے اسے کمرے میں آنا پڑے گا میں تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔
عدینہ کاتعلق جنات کے قبیلے سے ہوگا‘ میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا‘میرا سارا دن اسی سوچ میں گزرا‘ میں نے یہ سناتھا کہ جن عورتوں پر عاشق ہوجاتے ہیں‘ یہ پہلی بار سن رہاہوں کہ ایک جن زادی مجھ پر عاشق ہوگئی ہے اور مجھ پر دولت لٹانے کوتیار ہے‘ رات جب میں بستر پر سونے کولیٹا مجھے جن زادی کی پیشکش اچھی لگی کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے اور دولت بھی دے گی‘ وہ مجھ سے محبت ہی تو کرتی ہے‘ بیشک کرتی رہے اور مجھے دولت سے محبت ہے میں اس سے دولت سمیٹتارہوں گا‘ یہ شاندار آئیڈیا آتے ہی میں مطمئن ہو کرسوگیا۔
صبح بیدار ہونے پرامی اور ابو کی لڑائی چل رہی تھی‘ ان کی لڑائی خرچے پرہوتی تھی‘ ان کی خواہش تھی کہ ابو جوپیسے دیتے ہیں وہ بہت کم ہیں زیادہ دیں۔ یوٹیلیٹی بلز اور دیگر خرچوں سے جوپیسے بچتے تھے وہ سب رقم ابو‘ امی کے ہاتھ پررکھ دیتے تھے پھر اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرنے کے لیے امی جان کے آگے اپناہاتھ پھیلاتے تھے ‘امی جان بھی انہیں رقم ایسے دیتیں کہ جیسے وہ ان پر بہت بڑ ااحسان کررہی ہوں۔ میں جب کمرے میں گیاان کاخرچے پر ہی جھگڑا چل رہاتھا۔ امی ان سے پیسے مانگ رہی تھیں او رابو کہہ رہے تھے مجھے یوٹیلیٹی بلز بھرنے کے لیے دس ہزار روپے درکار ہیں‘ سب رقم تمہیں دے دوں گاتوپھر بل کہاں سے بھروں گا‘ پچھلے مہینے بھی یوٹیلیٹی بلز نہیں بھرے گئے تھے۔
’’میں کچھ نہیں جانتی مجھے خرچے کے لیے رقم بڑھا کردو۔‘‘ امی جان غصے سے بولیں۔
’’میں کہاں سے لائوں۔‘‘
’’چوری کرو‘ ڈاکہ ڈالو مجھے پیسے چاہیں۔‘‘
’’میںنے کبھی جوانی میں چوری ڈاکے نہیں ڈالے کیااب اس عمر میں یہ کام کروں گا؟‘‘ ابو نے کہا۔
’’ابو آپ خرچے کے پیسے امی کو دے دیں‘ باقی رہایوٹیلیٹی بلز کا وہ میں آپ کو دے دوں گا۔‘‘
’’مگر تم کہاں سے اتنی رقم لائوگے۔‘‘ ابو پریشان ہوتے ہوئے بولے۔
’’مجھے اوور ٹائم کے آج پیسے ملیں گے وہ میں آپ کو دے دوں گا۔‘‘ میں نے جھوٹ بولا۔
میری بات سن کرامی اور ابو کے چہرے پرخوشی کی لہر دوڑ گئی۔
’’دیکھ لے علی حسن میرا بیٹااس قابل ہوگیاہے کہ تیرے یوٹیلیٹی بلز ادا کرسکے۔‘‘
’’ہاں آمنہ بیگم مجھے اپنے بیٹے سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’اور امیدیں ہونا بھی چاہیں ہم اپنے بچوں کو پال پوس کر کس لیے جوان کرتے ہیں۔‘‘
’’اس لیے کہ وہ ہمارے بڑھاپے کاسہارابنیں۔‘‘
میں نے جھوٹ ضرور بول دیاتھا مگر اتنے سارے پیسے کہاں سے آئیں گے ‘یہ بات میرے لیے پریشانی کاباعث بن گئی تھی۔ بس ایک عدینہ سے امید تھی ‘ شاید وہ دے دے‘ میں پیسے مانگنے کی نیت سے کمرے میں چلاگیاتھا‘ پیسے مانگنے سے اندازہ ہوجائے گا کہ وہ میرے کام آبھی سکتی ہے یاجھوٹ بولتی ہے۔ میں نے جب اپنی پریشانی کاذکر اس سے کیا تو عدینہ نے فوراً سے اپنے پرس سے پندرہ ہزار روپے کی رقم تھمادی۔میںنے رقم گن کر جب پانچ ہزار روپے واپس لوٹاناچاہے تواس نے لینے سے انکار کردیا۔
’’یہ اضافی رقم تمہارے خرچے کے لیے ہے۔‘‘
’’میرے خرچے کے لیے ؟‘‘ میں چونکا۔
’’ہاں تمہیں بھی تو پیسوں کی ضرورت پڑتی ہوگی نا‘ اپنے دل کے ارمانوں کومت کچلو اور اپنے دل کے ارمان نکالتے رہو‘ جس چیز کی بھی ضرورت پڑے لے آئو‘ جتنی بھی رقم کی ضرورت پڑے گی میں دوں گی۔‘‘ عدینہ نے کہا۔
اتنی رقم ملنے پرمیری خوشی کی انتہا نہ رہی ‘میں نے جلدی سے وہ رقم اپنے پاکٹ میں رکھ لی۔
میں عدینہ کے پاس کچھ دیر رک کربات چیت کرناچاہتاتھامگرکوئی کمرے کی طرف آرہاتھا‘ اس لیے میں تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔
فیکٹری سے چھٹی ہونے پرمیں سیدھا گھر پہنچا اور دس ہزار روپے کی رقم ابو کی ہتھیلی پررکھ دی‘ ابو اتنی رقم دیکھ کرخوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے‘ انہیں امید نہیں تھی کہ میں اتنی رقم لاکردے دوں گا۔
’’بیٹے میں تمہیں جلد ہی یہ رقم دے دوں گا۔‘‘
’’ابو آپ مجھے رقم دینے کی فکرنہ کریں‘ میں نے یہ رقم واپسی کے لیے نہیں دی ہے۔‘‘میں نے کہا۔
’’مجھے پتا ہے تم نے یہ رقم اپنے دوستوں سے ادھار لاکردی ہے‘ تمہاری تنخواہ اور اوور ٹائم ملنے کی تاریخ دس ہوتی ہے اور آج پانچ تاریخ ہے۔‘‘ ابو مسکراتے ہوئے بولے۔
ان کی بات درست تھی پھربھی میں نے بات بناتے ہوئے کہا۔
’’ابو منیجر وقاص احمد مجھ پر آج کل بہت مہربان ہیں ان کی سفارش سے مجھے وقت سے پہلے پیسے مل گئے ہیں۔‘‘
’’اچھابیٹے تم کہتے ہو تو مان لیتاہوں مگر عقل اس بات کوتسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ فیکٹری والے اتنے اچھے کیسے ہوگئے ہیں۔‘‘ ابو نے کا۔
رات کو جب میں کمرے میں سونے کوگیا‘ مجھے کمرے میں کسی کی موجودگی کااحساس ہوا‘ میں چونکا‘ کمرے میں عدینہ مجھ سے پہلے موجود تھی ۔
’’تم…‘‘
’’میں ہی ہوں کیا تمہیں مجھے دیکھ کر حیرت ہورہی ہے ۔۰‘‘ وہ بولی۔
’’تم مجھے فیکٹری میںملتی ہو‘ اس لیے یہاں دیکھ کر حیرت زدہ ہونا ہی تھا۔‘‘
’’میں جہاں چاہوں جب چاہوں جاسکتی ہوں‘مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘
’’تم یہاں کیوں آئی ہو؟‘‘
’’فیکٹری میں تم ڈرے ڈرے رہتے ہو اپنی جھلک دکھا کرچلے جاتے ہو‘ جب کہ میں تمہیں گھنٹوں اپنے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں تم سے ڈھیروں باتیں کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا‘ گھروالوں کوپتہ چل جائے گا۔‘‘
’’میںچاہوں گی تو پتہ چلے گانا۔فیکٹری میں میرا کسی کوپتہ چلا سوائے تمہارے۔‘‘
’’ہاں یہ تم ٹھیک کہہ رہی ہو‘ پھر بھی ڈر لگتا ہے نا۔‘‘میںنے کہا۔
’’تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے جو تم سوچ رہے ہو ایساکچھ بھی نہیں ہوگا‘ تم نے مجھ سے رقم مانگ کرثابت کردیاہے کہ تم میرے ہو بس اب تمہیں کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’میں تمہارا ہرطرح سے خیال رکھوں گی۔‘‘ وہ بولی۔
عدینہ سے دوستی ہونا میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوگیاتھا۔ میرے پاس ہر وقت پیسوں کی فراوانی رہنے لگی تھی۔ گھرمیں بھی سکون تھا امی اور ابو کی بھی جو خرچے پرآئے دن لڑائی رہتی تھی وہ ختم ہوگئی تھی‘ دونوں خوش خوش رہنے لگے تھے۔ میں امی جان کو الگ سے بھی خرچہ دے دیاکرتاتھا‘ جس سے گھر کا بجٹ ٹھیک طریقے سے چلتارہتاتھا۔ گھر میں ضرری سامان بھی آنے لگاتھا‘ امی اور ابو کو گھر میں سامان آنا اچھا لگ رہاتھا‘ مگر کبھی کبھی ابو فکرمند بھی ہوجاتے تھے اور مجھ سے اکیلے میں پوچھ بھی لیتے ۔
’’بیٹے سچ سچ بتائو تمہارے پاس ان دنوں اتنے پیسے کہاں سے آرہے ہیں؟‘‘
’’ابو میں اوور ٹایئم کے پیسوں سے یہ سامان لاتاہوں کیونکہ ہمیں سامان کی ضرورت تو ہے ناں۔‘‘میں کہتا۔
’’بیٹے مجھے تمہاری بڑی فکر رہتی ہے‘ ان دنوں حالات اچھے نہیں ہیں‘ بیشتر نوجوان ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے ہیں جس کاراستہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔‘‘
’’ابوآپ بالکل نہ گھبرائیں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ مجھے پتا ہے جونوجوان غلط راہ پر نکل جاتے ہیں وہ اپنی بقیہ زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹتے ہیں یاپولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں۔‘‘ میں کہتا۔
’’میں تمہارے لیے دعا کرتاہوں اورتم بھی مجھے اس عمر میں رسوا مت ہونے دینا۔‘‘
’’ابو میں کبھی بھی کوئی شکایت کاموقع نہیں دوں گا۔‘‘میں سعادت مند بیٹے کی طرح کہتا۔
رات میں وہ میرے پہلو میں آکرلیٹ گئی‘ میرا جسم جب اس کے جسم سے ٹکرایا‘ مجھے ایک عجیب سا لطف محسوس ہوا۔ میرے دماغ میں خوشبوئوں کی لپٹیں بس گئیں اور میں خوشبوئوں کے سحر میں ڈوبنے لگاتھا۔ میں اس سے پہلے بہک جائوں خود کو اس سے دور کرلیا۔
’’کیاہوا؟‘‘ وہ چونکی۔
’’میں بہکنے لگا تھا اس لیے خود کوتم سے دور کرلیا۔‘‘
’’بہک جائو‘ تم سے کس نے دور ہونے کو کہا ہے۔‘‘
’یہ حق تمہارے ہونے والے شوہر کوحاصل ہے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’تم میرے لیے کون سے غیر ہو‘ تمہیں ہی مستقبل میں میرا شوہر ہونے کاشرف حاصل ہوناہے‘ اب تمہاری مرضی ہے اس جسم کو ابھی حاصل کرلو یا نکاح کے بعد حاصل کرلو۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’تم جنات کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہو ایسے میں ہماری شادی کیسے ہوسکتی ہے۔‘‘
’’جب ہم ایک دوسرے سے محبت کرسکتے ہیں تو پھر شادی کیوں نہیں کرسکتے۔ اس کی بات سن کر میں سوچ میں پڑگیا‘ واقعی وہ ٹھیک کہہ رہی ہے‘ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے میں اس سے پیسے کے لیے محبت کاڈرامہ کررہاتھا‘ حقیقت یہ تھی مجھے جنات سے بہت ڈر لگتا ہے‘ پیسے کا لالچ نہ ہونے پر میں کبھی بھی اسے لفٹ نہ کراتا۔ وہ بھی جان گئی تھی پیسے میری ضرورت ہیں اور پیسے کے لالچ میں اس سے محبت کرنے لگوں گا‘ اسی لیے میں جب بھی اس سے پیسے مانگتا فوراً ہی مجھے ہزار‘ ہزار کے نوٹ مل جاتے تھے۔
’’ابو سمجھ رہے ہیں کہ میں کسی غیر قانونی دھندے میں پڑگیاہوں اس لیے وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ اس عمر میں مجھے رسوانہ کرنا۔‘‘
’’میںنے موضوع بدلا۔
’’اچھاپھرتم نے کیا کہا۔‘‘ اس نے میری طرف مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میںنے انہیں مطمئن کردیاہے کہ میں کسی غیر قانونی دھندے میں نہیں ہوں۔‘‘
’’تم کہہ دیتے کہ یہ رقم تمہاری ہونے والی بہو دیتی ہے۔‘‘
’’میں ایسا کہہ سکتاہوں؟‘‘
’’کیوں نہیں کہہ سکتے؟‘‘
’’وہ پہلے ہی میری سرگرمیوں سے خوف زدہ ہیں‘ اگر میں نے انہیں اپنی محبت کے بارے میں بتادیا تووہ بری طرح سے پریشان ہوجائیں گے اور مولوی صاحب کے چکرمیں پڑجائیں گے۔‘‘
’’بھلے پڑجائیں میں مولوی‘ ملائوں سے ڈرنے والی نہیں ہوں‘ میں انہیں ایسا مزاچکھائوں گی کہ وہ پھرادھر کارخ کرناہی بھول جائیں گے۔‘‘وہ غصہ سے بولی۔
’’ارے چھوڑو تم بھی بلاوجہ غصہ کرنے لگی ہو‘ میں تم سے پیار بھری باتیں کرنا چاہ رہاہوں اورتم غصہ ہو رہی ہو‘ ان مولویوں پر۔‘‘میں نے اسے بانہوں میں بھرلیا۔
’’تو کرو ناپیار کی باتیں۔‘‘ وہ میری طرف پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ میں نے خدا کاشکر ادا کیا کہ اس کاموڈ اچھا ہوگیا ہے ورنہ میں سوچ رہاتھا کہ ناجانے کتنی دیر اسے منانے میں لگ جائیں گے اور مجھے فیکٹری جانے کے لیے صبح جلدی اٹھناتھا۔ جلدی سونے پرہی جلدی آنکھ کھلے گی‘ وہ مجھ سے ناجانے کیا باتیں کررہی تھی مگرمجھ پر تھکاوٹ بہت تھی اس لیے مجھے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ کب نیند آئی‘ صبح ہونے پر ہی بیدار ہوا۔
٭…٭…٭
’’بیٹے یہ چند تصویریں ہیں دیکھ لو۔‘‘ امی جان نے میرے سامنے تصاویر رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں ان تصاویر کاکیاکروں؟‘‘ میںنے لڑکیوں کی تصاویر دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’ارے بھئی میں تمہارے لیے لڑکی تلاش کررہی ہوں جو لڑکی تمہیں پسند آئے گی وہی اس گھر کی دلہن بنے گی۔‘‘ امی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’امی جان میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’میں کچھ بن جائوں پھردیکھ لیں گے۔‘‘
’’تم کون ساتعلیم حاصل کررہے ہو جوہم تمہاری تعلیم مکمل ہونے اور کام مل جانے کاانتظار کریں گے۔ تمہاری فیکٹری میںنوکری لگی ہوئی ہے‘ او رتمہاری آمدنی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے‘ بس اور کیا چاہیے ہمیں۔‘‘ امی جان نے کہا۔
بات ان کی بھی معقول تھی‘ جب سے میری عدینہ سے ملاقات ہوئی تھی میری آمدنی میں اضافہ ہی ہو رہاتھا جو چاہتا تھاوہ مجھے مل جاتاتھا۔ زیادہ رقم اس لیے نہیں لیتاتھا کہ گھروالے شک کریں گے کہ میراکام ایسانہیں ہے پھر اتنا پیسہ کہاں سے آرہاہے؟
’’امی میں ابھی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتاہوں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’شاہ رخ بیٹے ہم کب چاہ رہے ہیں کہ تمہیں زنجیروں سے باندھ کر گھر میں قید کردیں۔ شادی سب کوایک دن کرنا ہوتی ہے اور شادی جلدی کرنے کایہ فائدہ ہوتاہے کہ بچے جلدی جوان ہوجاتے ہیں‘ ماں باپ کاسہارا بنتے ہیں۔‘‘
’’میں آپ سے بالکل اتفاق کرتاہوں ایسا ہی ہوتاہے مگر میری کچھ مجبوری ہے میں ابھی شادی نہیں کرسکتا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میری بات پر امی جان کاچہرہ بجھ گیا۔ میں انہیں کیسے بتاتا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔
میری اتنی آمدنی نہیں تھی اور شادی کرکے میں پھنس جاتا ‘یہ جن زادی کی مہربانی تھی کہ گھر میں سکون تھا‘ اس کے ہاتھ ہٹالینے سے گھر میں خرچے کے نام پر امی ابو کے جھگڑے شروع ہوجاتے‘ ایسے میں آنے والی میری بیوی پس کررہ جاتی۔ امی ابو کے جھگڑے بعدمیں شروع ہوتے پہلے جن زادی مجھ سے جھگڑا کردیتی ‘میں فی الحال لڑائی جھگڑے سے دور رہنا چاہتاتھا۔
’’پھر بھی بیٹے کچھ تو بتائو سال دوسال کتنے دن بعد تمہارا شادی کاارادہ ہے۔ اصل میں خاندان میں ابھی اچھی لڑکیاں موجود ہیں پھر وہ بک ہوجائیں گی تو پھر ہمیں خاندان سے باہر شادی کرناپڑے گی‘ یہ بھی پتانہیں وہ کیسی آئے ‘خاندان کی لڑکیاں سب دیکھی بھالی ہیں۔‘‘ امی نے کہا۔
’’دوسال تک میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔‘‘ میں نے یہ بات امی جان کوٹالنے کوکہہ دی تھی۔
حقیقت یہ تھی کہ میں نے شادی کے لیے سوچاہی نہیں تھا۔ سوچتا بھی کیسے‘ مالی طور پر مستحکم ہوئے بغیر شادی کرنا سراسرحماقت ہے۔
امی جان سے بات کیے مجھے مشکل سے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہواتھا کہ ابو میرے کمرے میں آئے۔
’شاہ رخ بیٹا تم نے جمال بھائی کی بیٹی فاطمہ کودیکھا ہے نا؟‘‘ ابو نے پوچھا۔
’’ہاں میں نے دیکھا ہے۔‘‘
’’کیسی لڑکی ہے ؟‘‘
’’بہت اچھی اور سمجھدار لڑکی ہے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’میںنے تمہارارشتہ اس سے طے کردیاہے اور اگلے ہفتے وہ رسمی طور پر بات چیت کے لیے آرہے ہیں۔ وہ چاہ رہے تھے تمہاری منگنی دھوم دھام سے ہو مگر میں نے سوچا گھر کی بات ہے‘ کس کو دکھانا ہے‘ بس وہ گھر آکر بات پکی کرجائیں۔‘‘
’’لیکن ابو میں …‘‘
’’مجھے پتا ہے تم یہیں کہنا چاہتے ہونا کہ شادی دوسال کے بعد کروگے‘ میں نے ان سے تین سال بعد شادی کرنے کی بات کرلی ہے‘ تمہیں بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’ابو جب ہمیں شادی دوسال بعد کرنی ہے پھر کسی کی لڑکی کوروکنے کی کیاضرورت ہے۔‘‘
’’تمہیں نہیںمعلوم پھراچھے رشتے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں‘ فاطمہ بیٹی کی تم بھی تعریف کررہے ہو اس کامطلب ہے تمہاری اس کے ساتھ جوڑی اچھی رہے گی اور ساتھ بھی اچھا نبھ جائے گا۔‘‘ ابو نے کہا۔
میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ ابو سے کیا کہوں‘ میری وہی کیفیت تھی سرمنڈھواتے ہی اولے پڑگئے تھے۔ سوچاتھا کہ جن زادی کے پیسوں پر کچھ عرصے عیش کرلوں گا مگر یہاں معاملہ ہی کچھ اور ہوگیاتھا گھروالوں کو میراعیش کی زندگی گزارنا پسند نہیں آرہاتھا۔ میری لاکھ منت سماجت کرنے پربھی امی اور ابو کومیری حالت پر رحم نہیں آیا۔ میں ان سے کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتا‘اس لیے سب کچھ وقت پرچھوڑ دیا جوہوگا دیکھاجائے گا‘ جمال انکل اپنے گھروالوں کے ساتھ ہمارے گھر مٹھائی لے کرآگئے‘ ہمارے یہاں منگنی کی یہی رسم ہوتی ہے کہ لڑکی والے لڑکے کوانگوٹھی اور کچھ رقم دے دیتے ہیں اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ لڑکاان کاہوگیا‘ موقع پرموجود لوگوں کامٹھائی سے منہ میٹھا کردیاجاتاہے‘ منگنی کی رسم سے ایک دن پہلے مجھے جن زادی نے صاف اور کھلے الفاظ میں کہہ دیاتھا کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ منگنی کی رسم نہیں ہوگی۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’دیکھو جن زادی میرا ابھی بالکل بھی شادی کاکوئی ارادہ نہیں ہے ‘گھروالے زبردستی منگنی کررہے ہیں۔‘‘
’’تم انکار کردو۔‘‘
’’میں یہ گستاخی نہیں کرسکتا۔‘‘ میںنے کہا۔
’’اس کامطلب ہے کہ تم خود چاہتے ہو کہ تمہاری اس سے شادی ہوجائے۔‘‘
’’یہ تم سے کس نے کہہ دیا؟‘‘ میںنے کہا۔
’’پھرتم اس منگنی سے انکار کیوں نہیں کررہے ہو صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو اور مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو۔‘‘
’’یہ سن کروہ اور آگ بگولہ ہوجائیں گے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’اس کامطلب ہے تم خود چاہ رہے ہو کہ تمہاری شادی فاطمہ سے ہوجائے۔‘‘
’’تم میری بات سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہی ہو‘ میں ابھی فی الحال شادی ہی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’جب شادی نہیں کرنا چاہتے تو پھر یہ منگنی کاڈرامہ کیوں؟‘‘
’’یہ سب میرے امی اور ابو کررہے ہیں‘ میں انہیں صاف کہہ چکاہوں کہ میری منگنی مت کرو اور میں دوسال سے پہلے شادی نہیں کرسکتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ پھرمیں ہی کچھ کرتی ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے عدینہ خاموش ہوگئی۔
٭…٭…٭
گھرمیں منگنی کی رسم کااہتمام ہوچکاتھا‘ جمال انکل کی طرف سے آئی مٹھائی کے دوٹوکرے رکھے تھے‘ابھی مجھے منگنی کی انگوٹھی پہنانے کوجمال انکل نے جیب سے انگوٹھی نکالی ہی تھی کہ مٹھائی کے ٹوکروں میں سے عجیب وغریب قسم کی آوازیں آنے لگیں۔ سب کی نظریں ٹوکروں پر گئیں ایسامحسوس ہو رہاتھا کہ جیسے ان ٹوکروں میں کچھ ہے‘ ایک سیاہ ناگ نے ٹوکرے کے اندر سے اپنا پھن نکالا‘ سیاہ ناگ کو دیکھ کر عورتوں کی چیخیں نکل گئیں۔ناگ جیسے ہی باہر آیا ‘ ایک اور سیاہ ناگ باہر نکل آیا دیکھتے ہی دیکھتے ایک درجن کے قریب سیاہ ناگ ٹوکرے سے باہر آچکے تھے۔ ابھی بھی ایسا لگ رہاتھا کہ جیسے ٹوکرے میں اور بھی ناگ موجود ہیں‘ گھر کے صحن میں ان سانپوں کو دیکھ کر ایک ہلچل مچ گئی تھی۔ جس کا جدھر منہ سمایا بھاگ گیا۔ صحن میں امی ابواورمیں ہی بچے تھے۔ ہم تینوں کے پائوں مضبوطی سے زمین میں گڑھ گئے تھے۔ ہم میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اپنے بچائو کے لیے بھاگ سکیں۔
اچانک جن زادی عدینہ ظاہر ہوئی۔
’’دیکھ لیا تم نے شاہ رخ کی زبردستی منگنی کرنے کانتیجہ‘ کہاں ہیں وہ منگنی کے لیے آنے والے لوگ‘ شاہ رخ میرا ہے اور میرا ہی رہے گا‘ اگرتم نے اس کی کہیں بھی زبردستی منگنی یا شادی کرنے کی کوشش کی تو اس کاانجام اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ عدینہ نے کہا۔
’’امی اور ابو گم صم اسے دیکھ رہے تھے‘ان میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس سے بات چیت کرتے‘ جب اس نے دیکھا کہ کوئی نہیں بول رہاوہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔
’’شاہ رخ میں سمجھتی ہوں کہ آ ج کے لیے اتناہی سبق کافی ہے‘ اپنے امی اور ابو کوسمجھادینا کہ آئندہ پھر ایسی کوئی حرکت نہ کریں ورنہ آج تو صرف میں کالے ناگ لائی ہوں‘ کل منگنی میں آئے لوگوں کو ان ناگ سے ڈسوا بھی دوں گی۔‘‘
وہ جیسے آئی تھی چلی گئی‘ اس کے جانے پر کالے ناگ بھی غائب ہوگئے‘ ان کے جانے پرامی اور ابو کے حواس ٹھیک ہوئے۔
’’شاہ رخ بیٹے یہ سب کیاہے؟ا ورتم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ ابو بولے۔
’’یہ جن زادی ہے اور فیکٹری میں یہ مجھے دیکھ کرمجھ پرعاشق ہوگئی تھی او راب اس گھر میں رہتی ہے مگر میرے علاوہ کسی کونظر نہیں آتی ہے۔‘‘ میںنے بتایا۔
’’اگر تم ہمیں پہلے بتادیتے تو آج جوہوا ہے وہ نہ ہوتا۔‘‘ امی جان نے کہا۔
’’مجھے بھی اس کااندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا ہنگامہ کرے گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے اس کابھی علاج کراناپڑے گا۔‘‘ابوبولے۔
’’آپ کیا کریں گے؟‘‘ میں چونکا۔
’’تم پریشان مت ہو‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ ابو نے کہا۔
دوسرے دن سے معمولات زندگی پھرسے اپنی ڈگر پر چلنے لگے۔ جن زادی کاموڈ بھی ٹھیک ہوگیاتھا۔ وہ مجھ سے خوش تھی۔
دوسرے ہفتے اتوار کے دن میری چھٹی تھی‘ میں صبح کے وقت گھر میں ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی میں نے جاکردروازہ کھولا ‘ ایک ادھیڑ عمر آدمی کھڑاتھا‘ کھچڑی نما داڑھی‘ سرپربڑا سا رومال بندھا ہواتھا‘ کرتاپاجامہ میں ملبوس اس شخص نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔
’’تم شاہ رخ ہو؟‘‘
’’ہاں آپ کون ؟‘‘
’’میں بابا جمالی ہوں اور تمہارے ابو نے مجھے بلایاہے۔‘‘
’’ابو نے بلایاہے۔‘‘میںچونکا۔
’ابو کو ان سے کیا کام پڑگیا‘ میں سوچ میں پڑگیا۔ ابوکو آواز دینے پروہ کمرے سے باہر آئے۔
’’باباجمالی آئے ہیں۔‘‘ ابو خوش ہوتے ہوئے بولے۔
’’آئو‘ آئو اندر آجائو تم سے کون ساپردہ ہے۔‘‘ابو یہ کہتے ہوئے اسے اندر لے آئے۔
میں حیرت سے ان صاحب کو دیکھ رہاتھا‘ یہ کون صاحب ہیں جنہیں میں نہیں جانتا‘ اورابوایسے بچھے جارہے نہیں کہ جیسے انہیں برسوں سے جانتے ہوں۔
’’اس بچے پر وہ جن زادی عاشق ہے۔‘‘ باباجمالی میری طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
’’ہاں بابا وہ اس پرعاشق ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کی کسی سے شادی نہیں ہونے دے گی‘ اگراس کی شادی ہوگی تو اس جن زادی سے ہوگی۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’میں اسے دیکھ لوں گا‘ میں نے اچھے اچھے جنات کوجلا کربھسم کردیاہے‘ مجھے یہ پسند ہی نہیں ہے کہ جنات انسانوں کوتنگ کریں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے باباجمالی نے ایک خالی برتن منگوایااور اس برتن میں پانی ڈال کرکچھ پڑھنا شروع کردیا۔
میری عجیب حالت ہونے لگی‘ میرا خود پر کنٹرول رکھنا مشکل ہورہاتھاور پھر مجھ پر دیوانگی سی کیفیت طاری ہوگئی‘ اور میں نے پانی کابرتن اٹھا کرباباجمالی کے سر پرمار دیا۔
باباجمالی اس حملے کے لیے ذہنی طور پر بالکل بھی تیار نہ تھے اس لیے گھبرا کراٹھ کھڑے ہوئے… وہ خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگے۔
’’اے جن زادی میں تجھے دیکھ لوں گا۔‘‘ باباجمالی بولے۔
’’تومجھے دیکھے گا ‘ ٹھیک ہے آج یہ فیصلہ ہوکررہے گا‘ کون زیادہ طاقتور ہے۔‘‘ میرے منہ سے جن زادی کی آواز نکلی۔
باباجمالی کھڑے کھڑے منہ میں کچھ پڑھنے لگے۔ وہ غصے سے مجھے ایسے گھوررہے تھے کہ ابھی جلا کربھسم کردیں گے۔ مجھے خود پتا نہیں چل رہاتھا یہ سب کیا ہو رہا ہے‘ اور پھر میری زبان لمبی ہونے لگی‘ سانپ کی سی گولائی میں تبدیل ہو کرباباجمالی کی طرف بڑھنے لگی‘ زبان کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر باباجمالی کا دم خشک ہونے لگاتھااور پھرایک جھٹکے سے زبان بابا جمالی کے گلے میںپھندے کی طرح لگ گئی۔ پھندے کادبائو بڑھنے سے باباجمالی کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگی تھیں‘ ان کے چہرے سے ایسا لگ رہاتھا کہ ابھی ان کا دم نکل جائے گا۔
’بول کون طاقت ور ہے تویامیں۔‘‘ جن زادی کی آواز آئی۔
باباجمالی کچھ بولنا چاہتے تھے مگراس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل پارہاتھااورپھر جب وہ کوشش کے باوجود ایک لفظ ادا نہ کرسکا تواس نے جہاں سے جن زادی کی آواز آئی تھی اس طرف باقاعدہ ہاتھ جوڑ لیے۔
’’ٹھیک ہے میں تجھے معاف کردوں گی ایک شرط پر کہ آئندہ یہاں کارخ نہیں کرے گا۔‘‘ جن زادی کی آواز آئی۔
باباجمالی نے ہاں میں بامشکل گردن ہلائی۔
ان کی حامی میں گردن ہلانے پر میری زبان جوپھندا بنی ہوئی تھی ہٹ گئی اور میرے منہ میں ایسے سماگئی جیسے منہ سے باہر نکلی ہی نہیں تھی۔
’’مرغابن جاورنہ میں ابھی تجھے جلا کربھسم کردوں گی۔‘‘ جن زادی کی آواز پرباباجمالی نے مرغا بن جانے میں ذرا بھی تاخیر نہ کی اور مرغابن گیااس کے مرغابن جانے پرمیں خود بخود آگے بڑھااور اس کی پیٹھ پر بیٹھ گیا۔ باباجمالی پرمیرے بیٹھ جانے سے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکے اور دھڑام سے زمین پرگر پڑا۔
’’ان لوگوں کو بتادے تو جعلی عامل ہے۔‘‘ جن زادی بولی۔
’’ہاں میں جعلی عامل ہوں مجھے کچھ نہیں آتا۔‘‘ بابا جمالی بولا۔
’’اس کوتم لوگ لائے تھے میرے مقابلے پر یہ تو خود جعلی عامل ہے۔‘ جن زادی سب کے سامنے ظاہر ہوتے ہوئے بولی۔
امی اور ابو کیا بولتے بس خاموشی سے جن زادی کودیکھتے رہے جب وہ کچھ دیر تک یونہی گم صم رہے تو جعلی عامل کی طرف مخاطب ہوئی۔
’’تیری خیریت اسی میں ہے کہ ابھی اور اسی وقت یہاں سے دفعہ ہوجا ورنہ میں تجھے جلا کربھسم کردوں گی۔‘‘
باباجمالی نے بھاگنے میں ذرابھی تاخیر نہ کی اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔
امی اور ابو بھی باباجمالی کے جانے پر کمرے سے چلے گئے‘ ان کے جانے پر جن زادی بھی غائب ہوگئی۔
ابو کومیری فکر لگ گئی تھی‘ وہ مختلف عاملوں کولاتے مگر جن زادی انہیں بھگادیتی تھی۔ اس کے باوجود ابو نے ہمت نہ ہاری تھی۔
’’ابو آپ عامل کوگھرپرلانا چھوڑ دیں۔‘‘ ایک دن تنگ آکر میں نے کہا۔
’’کیوں؟‘‘ وہ بولے۔
’’عدینہ بہت طاقتور ہے ؔ اس کے سامنے ایک بھی عامل نہیں ٹھہرسکتاپھر فائدہ عامل کو لانے کا۔‘‘ میں نے انہیں سمجھایا۔
’’شاہ رخ بیٹے ابھی جن زادی تم پرعاشق ہوئی ہے زیادہ عرصہ ہوجانے پر یہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گی‘ ہم تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں اوریہ جن زادی عدینہ تمہاری شادی نہیں ہونے دے گی۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’آپ کوئی اچھا عامل بھی تو نہیں لارہے ہونا‘ کہیں ایسا نہ ہو وہ غصے میں آکر آپ دونوں کونقصان نہ پہنچادے۔‘‘میںنے خدشہ ظاہر کیا۔
’’وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی‘ ہم تمہارے والدین ہیں جس کوگھر کی د لہن بننے کا شوق ہو وہ اپنے ساس سسر کو کیسے کوئی نقصان پہنچائے گی۔‘‘ ابو بولے۔
’’اشتعال میں کوئی بھی شخص انتہائی قدم اٹھالیتاہے پھر یہ جن زادی ہے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’شاہ رخ بیٹے میں نے نیم والے بابا کی بڑی تعریف سنی ہے جنات اس کانام سن کر کانپ اٹھتے ہیں۔ میں تمہیں ان کے پاس لے کرجائوں گا۔‘‘ابو نے کہا۔
میں ان کی بات سن کرسوچ میں پڑگیا۔ وہ میری بات نہیں سمجھ رہے تھے۔ جن زادی بہت طاقتور تھی۔ اس کامجھے اندازہ ہوگیاتھا۔ اس لیے میں چاہ رہاتھا ‘وہ عامل کوگھر پرلاکر اپنا وقت برباد نہ کریں۔
اتوار کے دن ابو ایک ٹیکسی والے کو لے آئے اور مجھے نیم والے باباکے پاس لے گئے۔
نیم والے بابا کاکیانا م تھا کسی کوبھی نہیں معلوم تھا بس ایک نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے رہتے تھے لوگ دور‘دورسے اپنے اپنے کام کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ ا س وقت بھی ان کے پاس انے والوں کاایک ہجوم تھا ابو کودیکھتے ہی نیم والے بابا نے اپنے پاس آنے کااشارہ کیا‘ ابو مجھے لے کر ان کے پاس گئے۔
’’میں اس جن زادی کو ابھی سبق سکھاتاہوں۔‘‘ نیم والے بابا نے کہا۔
میں حیرت سے انہیں دیکھنے لگا‘ کہ اتنے عامل جن زادی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے پھریہ کیا کریں گے۔نیم والے بابا آنکھ بند کیے منہ میں کچھ پڑھ رہے تھے اچانک جن زادی ظاہر ہوگئی‘ وہ سخت غصے میں تھی‘ شعلہ بار آنکھوں سے نیم والے بابا کو دیکھ رہی تھی۔
’’مجھے کیوں بلایاہے ؟‘‘
’’تم ان لوگوں کو کیوں تنگ کررہی ہو؟‘‘ بابا نے پوچھا۔
’’میں شاہ رخ کو پسند کرتی ہوں اوراس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ عدینہ بولی۔
’’اس لڑکے کے والدین یہ نہیں چاہتے۔‘‘
’’ان کے چاہنے یانہ چاہنے سے کیاہوتاہے‘ مجھے ہرصورت میں شاہ رخ سے شادی کرنی ہے۔‘‘
’’میں تم سے کہہ رہاہوں اس کاپیچھا چھوڑ دو ورنہ میں تمہیں جلا کر بھسم کردوں گا۔‘‘ بابا بولے۔
’’مجھے جلاکربھسم کرنے والے کتنے آئے اور چلے گئے میر اکچھ نہیں بگاڑ سکے۔‘‘ جن زادی بولی۔
’’ہاں میں جانتاہوں‘ وہ تمہارے سامنے ٹھہر نہیں سکے اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ او رکوئی بھی تمہارامقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھ سکتا‘ میں تمہیں چند منٹ دے رہاہوں‘ سوچ کربتادو۔‘‘
’’چند منٹ کیادس سال بعد بھی پوچھوگے تومیرا یہی جواب ہوگا کہ شاہ رخ کوچھوڑنے کاتصور بھی نہیں کرسکتی۔‘‘ جن زادی بولی۔
’’پھر سنبھل۔‘‘ یہ کہہ کر نیم والے بابا نے اس پرکچھ پڑھ کر پھونکا۔ جن زادی زور سے فضا میں اچھلی اور زمین پر گر پڑی وہ کچھ دیر تک یونہی بے سدھ پڑی رہی پھرہوش میں آئی اور بابا کو غصے سے دیکھنے لگی۔
’’بولو کیا ارادے ہیں۔‘‘ بابا بولے۔
’’مجھے شاہ رخ سے جدا نہ کرو‘ مجھ پررحم کھائو۔‘‘ وہ رحم طلب نظروں سے بابا کودیکھنے لگی۔
’’تم نے عامل پررحم کھایاتھا۔‘‘
’’کیاکروں وہ مجھے شاہ رخ سے جدا کرنا چاہتے تھے پھرمیں ان پررحم کیسے کھاتی۔‘‘
’’تمہیں شاہ رخ کوچھوڑناپڑے گا‘ یہ میرا حکم ہے چاہے پیار سے مانو یاغصے سے تمہیں ماننا پڑے گا۔‘‘بابا جلال میں آگئے۔
جن زادی عدینہ نیم والے بابا کو جلال میں دیکھ کر غائب ہوگئی۔
’’بھاگ گئی بزدل کہیں کی۔‘‘ بابا بولے۔
’’بابااس جن زادی کوجلا کرخاک کردو تاکہ میرے بیٹے کی اس سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے۔‘‘ ابو بولے۔
’’میں ایسا کرسکتاہوں لیکن کروں گا نہیں۔‘‘ بابا مسکراتے ہوئے بولے۔
’’وہ کیوں بابا؟‘‘ ابو نے پوچھا۔
’’جنات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہیں کسی کوبلاوجہ جلاکر بھسم کرنااچھی بات نہیں ہے۔ وہ شاہ رخ کاپیچھا چھوڑ دے گی میں جیسا کہوں ویسا کرنا۔‘‘ بابا نے کہا۔
’’ٹھیک ہے بابا جیسا کہیں گے ہم ویسا ہی کریںگے۔‘‘ ابو نے کہا۔
نیم والے بابا نے ایک پانی کی بوتل دی اور ہدایت کی کہ مجھے روزانہ نہاتے ہوئے بالٹی میں اس کاتھوڑا پانی نہانے کے پانی میں شامل کرکے نہائو‘ ایک اگربتی کاپیکٹ گھر میں عصر کے وقت جلانے کودیا‘ پندرہ دن یہ عمل مجھے کرناتھا او رپھر بابا کے پاس آکر رپورٹ دینی تھی۔
میرا دل فی الحال جن زادی کوچھوڑنے کو نہیں چاہ رہاتھا‘ مجھے ایک طرح سے اس سے محبت ہوگئی تھی۔ مگر میں ابواور امی کے سامنے مجبور تھا۔ میں روزانہ نیم والے بابا کی ہدایت پر عمل کر رہا تھا جن زادی رات میں آتی اور مجھے منع کرتی کہ میں اس پانی سے نہیں نہائوں میں وقتی طور پر ہاں کردیتا لیکن کرتا وہی تھا جو بابا نے کہاتھا میرا یہ عمل ہونے سے ایک دن پہلے جن زادی میرے کمرے میں آئی ‘ وہ بہت ہی افسردہ تھی۔
’’میںنے تم سے سچی محبت کی اور تم نے جھوٹ سے کام لیا۔‘‘ وہ بولی۔
’’مجھے بھی تم سے بہت محبت ہے۔‘‘میںنے کہا۔
’’پھرتم نے بابا کی بات پر کیوں عمل کیا؟ اب ہم ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے۔‘‘
’’میں اپنے ابواور امی کا کہنا نہیں ٹال سکتا‘ ان کی خوشنودی کے لیے ایسا کیا حقیقت یہ ہے مجھے بھی تم سے سچی محبت ہوگئی تھی اور میں نے اپنے والدین کی خاطر سچی محبت کوقربان کردیاہے۔‘‘میںنے دکھی لہجے میں کہا۔
میری آواز بھراگئی تھی۔
’’میں چاہتی تھی کہ تم دولت میں کھیلتے زندگی گزارو مگر تم یہ نہیں چاہتے‘ اس لیے میں کل سے تمہارے پاس نہیں آئوں گی۔ بابا نے کچھ ایسا عمل کردیاہے‘ تمہارے پاس آتے ہوئے میرا جسم جلنے لگتاہے‘ دور ہوتی ہوں توٹھیک ہوجاتی ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ چلی گئی‘ اس کے جانے کامجھے بہت دکھ ہوا وہ اگر انسانوں میں سے ہوتی تو میں کسی صورت میں اسے نہیں چھوڑتا۔ اپنی شریک حیات بناکرہی رکھتا۔
والدین کے فیصلے کے آگے میں مجبور تھا۔ میں انہیں ناراض کرکے اپنی آخرت خراب کرنا نہیں چاہتاتھا۔
پندرہ دن ہونے پرہم نیم والے بابا کے پاس گئے ‘ اور ساری صورت حال سے آگاہ کیا‘ میری بات سن کر بابامسکرائے۔
’’بیٹا مجھے پتاہے تم بھی اس سے محبت کرنے لگے تھے۔ جنات سے دوستی اچھی نہیں ہوتی‘ کبھی بھی یہ انسانوں کوفائدہ دیتے ہوئے نقصان بھی پہنچادیتے ہیں اس لیے ان سے دور رہنا زیادہ بہتر رہتا ہے۔ بہت سی باتیں وقت گزرنے پرپتاچلتی ہیں۔‘‘نیم والے بابا نے کہا۔
میں گردن جھکا کر ان کی بات سنتا رہا‘ مجھے چند نصیحتیں کرکے جانے کی اجازت دے دی‘ میں بوجھل قدموں سے چلا آیا۔ میں نے والدین کی خاطر جن زادی عدینہ سے مستقبل میں بھی کسی قسم کا رابطہ نہ کرنے کاتہیہ کرلیاتھا۔ میری انکل جمال کی بیٹی فاطمہ سے شادی ہوچکی ہے۔ تین لڑکے او ردو بیٹیاں بھی ہیں۔ مالی حالات بھی بہتر ہیں‘ میں سوچتاہوں جن زادی سے شادی کرکے دولت ضرور حاصل ہوجاتی مگر بچوں کی دولت سے محروم رہتا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close