ہزاروں خواہشیں ایسی

ہزاروں خواہشیں ایسی

فاخرہ گل

ماہی ماہی ماہی مینوں چھلا پوا دے
کھچ میری فوٹو تے بٹوے وچ لادے
ماہی ماہی ماہی مینوں چھلا پوا دے
گلابو بڑی ادا سے آئی برو پنسل پھرے ابرو اٹھا کر اپنی کاجل لگی گول مٹول آنکھیں مٹکاتے ہوئے شہر کے سب سے معروف اور مین بازار میں دکان کے سامنے کھڑے ہو کر کچھ دیر کے لیے گڑوی بجاتی انہیں اپنی لوچ دار آواز کے اتار چڑھائو‘ نظروں کی جادوگری اور آتشی گلابی رنگ کی لپ اسٹک میں چھپے ہونٹوں کی معنی خیز مسکراہٹ سے محظوظ کر رہی تھی۔ جس کے عوض اس کے ہاتھ گاہے بگاہے سکیّ اور نوٹ تھامنے کا بھی شرف حاصل کرتے رہے۔ اپنی ادائوں کے باعث وہ جب بھی اس بازار میں پھیرا لگاتی نا صرف دکانداروں کی توجہ بلکہ اچھی خاصی دیہاڑی بھی ضرور حاصل کرلیتی۔ سانولے ہاتھ جو گرد و غبار اور میل کچیل کی وجہ سے اپنی اصلی رنگت سے کہیں زیادہ سانولے دکھائی دے رہے تھے گڑوی پر ایک مخصوص قسم کے ردھم سے جو تھاپ پیدا کرتے تو بعض اوقات خواتین گاہک بھی مول تول چھوڑ کر بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگتیں تو پھر مردوں کی تو کیا ہی بات تھی۔
ویسے یہ بات بھی حقیقت تھی کہ وہ اندھوں میں کانا راجا کے مصداق قبیلے کی سب سے صاف ستھری اور نخریلی لڑکی مانی جاتی تھی لیکن ظاہر ہے کہ صبح سے شام تک دھول مٹی میں رہ کر وہ خود بھی اسی دھول کا حصہ لگنے لگتی۔ مگر پھر بھی جہاں موقع ملتا وہ اپنے ہاتھ پائوں ضرور اچھی طرح دھو کر صاف کرنے کی کوشش کرتی۔ اسی طرح آج بھی وہ گاتی بجاتی کپڑے والی گلی میں پہنچی تو حسب معمول دوپٹہ رنگنے والے کی دکان کے عین نکڑ پر لگی قطرہ قطرہ پانی ٹپکاتی ٹونٹی کے نیچے مَل مَل کر ہاتھ اور پائوں دھونے لگی۔
ویسے بھی جب سے قبیلے کے لوگوں نے اسے ’’بپاشا باسو‘‘ جیسا قرار دیا تھا تب سے وہ در حقیقت خود کو بپاشا ہی سمجھنے لگی تھی اور اس کا ہر ہر انداز دل پر نقش کر کے وہی اپنانے کی کوشش بھی کرتی۔ ناخن بھی آج سے کچھ عرصہ پہلے تک اس کے لیے قابل توجہ ہر گز نہ تھے مگر اب اس نے بپاشا ہی کی تقلید میں ناخن بھی بڑھا رکھے تھے جس پر ہمیشہ ٹھیلے سے خریدی گئی پانچ روپے کی کچی نیل پالش مختلف رنگوں میں موجود رہتی۔ ابھی وہ ناخن صاف کر کے خود ہی انہیں مختلف انداز سے دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سراہ رہی تھی کہ عقب سے آواز ابھری۔
’’ارے اسے دیکھو ذرا‘ چیونٹی کے بھی پَر نکل آئے۔‘‘ ساتھ ہی استہزائیہ ہنسی ابھری۔
’’ہونہہ اور کیا بھلا ان کا صفائی ستھرائی سے کیا واسطہ۔‘‘
اس نے گردن موڑ کر آواز کی سمت دیکھا۔ دو خواتین شاپرز سے لدی پھندی بڑی نخوت سے تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھتے ہوئے گزری تھیں اور یہ تو نہایت معمولی بات تھی اسی طرح بعض اوقات کچھ من چلے نوجوان بھی اس پر اور اس کے طبقے کی دوسری لڑکیوں پر اپنے جذبات کی تسکین کے لیے مختلف قسم کے جملے اچھال دیتے۔ یوں بھی یہ طبقہ ہمیشہ سے تمام عوام کے لیے ڈانٹ پھٹکار کرنے سے لے کر جملے پھینکنے تک سب سے آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔ جبھی وہ بھی اس طرح کی تمام باتیں سننے کی عادی تھی اسی لیے سر جھٹک کر ربر کی قینچی چپل ایک بار پھر پائوں میں اڑسنے لگی جس کا تلوہ اب گھس گھس کر نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔
/…ؤ …/
برتن دھونے کے بعد زویا نے فرش پر سرف ڈالا اور برش سے ساری چکنائی رگڑ رگڑ کر صاف کرنے لگی۔ اس کے بعد دُھلے ہوئے برتنوں کی ٹوکری اٹھا کر دھوپ میں رکھی اس کے اوپر جالی پھیلا دی۔ نَل سے ذرا فاصلے پر رکھے گملوں کی گوڈی کی اور باتھ روم سے مگا لا کر انہیں پانی دینے لگی۔ کچن چونکہ چھوٹا سا تھا لہٰذا سنک کی جگہ نہ ہونے کے باعث انہوں نے صحن میں ہی بیرونی دروازے کے دائیں جانب دو گز لمبی اور پانچ انچ اونچی بائونڈری سی بنا کر اسے برتن دھونے کے لیے مخصوص کر چھوڑا تھا۔ چونکہ بلدیہ کی طرف سے آنے والے پانی کا نَل بھی وہیں لگوایا گیا تھا لہٰذا وہاں پر نا صرف وہ برتن بلکہ کپڑے وغیرہ بھی دھو لیا کرتی۔
گملوں میں موجود مٹی کو اچھی طرح سیراب کرنے کے بعد وہ نَل کے اوپر لگے پلاسٹک کے اسٹینڈ سے اسپرے بوتل اٹھا لائی۔ اسی اسٹینڈ پر اس نے برتن اور کپڑے دھونے کا صابن‘ نیل‘ برش اور سرف وغیرہ رکھا ہوا تھا تاکہ کام کے دوران بار بار اٹھ کر اِدھر اُدھر نہ جانا پڑے۔ بارش ہونے کی صورت میں البتہ ان تمام چیزوں کی منتقلی شیڈ تلے ہوجایا کرتی۔ اسپرے بوتل میں پانی ڈال کر پتوں اور پھولوں پر اسپرے کرتے ہوئے وہ ہمیشہ ہی بے حد طمانیت اور سکون محسوس کرتی تھی۔ یوں تو قدرت نے ابھی تک اس کے آنگن میں کوئی پھول نہیں کھلایا تھا مگر چنبیلی کے تروتازہ ننھے منے ہلکے زرد اور سفید پھول اسے دیوانہ کر دیا کرتے تھے اور انہی پھول پودوں کی چاہت کا حق وہ ان کا بھرپور خیال رکھ کر بخوبی ادا بھی کرتی تھی۔
یوں بھی وہ گھر میں اکیلی تو تھی سو عائش کے آفس چلے جانے کے بعد وہ پڑوس کے آریان کو ٹیوشن پڑھاتی اور پھر یوں ہی گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں خود کو مصروف کیے رکھتی اور شاید یہی وجہ تھی کہ اس کا چھوٹا سا گھر اس کی نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ کچی گلی ہونے کی وجہ سے گھر کے اندر بنا رکاوٹ کے چلی آنے والی دھول مٹی یا گرد کا بھی کہیں کوئی شائبہ نہ تھا یہی نہیں بلکہ محلے میں اس کے اخلاق کا بھی بے حد چرچا تھا۔ جس فقیر کو سارا محلہ چھان کر بھی کچھ ہاتھ نہ آتا وہ بھی اس کے دروازے سے خالی نہ جاتا تھا۔ اتنی امیر کبیر تو وہ نہیں تھی کہ ہر آنے والے کو سو پچاس پکڑا دیتی لیکن اپنی حیثیت کے مطابق اس نے عائش کی تنخواہ کا حساب لگا کر ایک تناسب سا نکال رکھا تھا اور وہ چند سکے دروازے کی اندرونی سائیڈ پر موجود سیمنٹ کے قدرتی طور پر رہ جانے والے خلا میں روزانہ رکھ دیا کرتی اور کچھ نہ بھی ہوتا تو کچھ کھانے کو دے دیتی کیونکہ وہ اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھی کہ نقلی استحقاق صرف غرور تھی نفس کا دھوکہ ہے اور کچھ نہیں ورنہ کس کام کا ایسا روپیہ پیسہ جو کسی غریب کے کام آنے کے بجائے ان کی دل آزاری کا باعث بنے۔ وہ اور باقی سب جانتے تھے کہ حقیقتاً جو روپیہ پیسہ رضائے الہیٰ کے لیے دیا گیا وہی دراصل ہمارا اپنا اور ہمیشہ رہنے والا ہے ورنہ ہمارے پاس موجود سب کچھ بھی اوروں کا ہے۔ وہ مال جسے ہم بچا بچا کر رکھتے رہے وہ کسی اور کے کام آئے گا اور در حقیقت ہمارے لیے منافع بخش کاروبار وہی ہے جو ہم اللہ سے اس کے بندوں کے وسیلے سے کریں اور جس کا منافع کئی گنا زیادہ اور کبھی نہ گھٹنے والا ہے۔ اس سب کے باوجود اکثر جب وہ اپنے صحن میں موجود ہوتی تو آس پڑوس کے لوگوں کی آوازیں ضرور کان میں پڑتیں جو با آواز بلند فقیروں کو ڈانٹ ڈپٹ کر دھتکار دیا کرتے تو وہ بڑے کرب سے سوچا کرتی کہ ایک تو انہیں خالی ہاتھ لوٹایا جا رہا ہے اور پھر انہیں جھڑکنا دھتکارنا…!
یہ کہاں کا اصول اور کیسی انسانیت ہے؟ کچھ دینے کی توفیق نہیں بھی ہے تو شائسگتی سے انہیں منع بھی تو کیا جاسکتا ہے کیا معلوم وقت کب اور کہاں لے آئے برے وقت سے بچنا ہی بھلا اور پھر یہ فقیر بظاہر ہم سے کچھ لینے لیکن حقیقتاً ہمیں بہت کچھ دینے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اجر و ثواب‘ خدا کی رضا مندی‘ سخاوت کا ابدی میڈل‘ نبی پاکؐ کی سنت پر عمل پیرا ہونے سے ملنے والا قلبی سکون اور نجانے کیا کیا۔ یوں بھی یہ فقیر بھلا ہر دروازے پر کہاں آتے ہیں؟ ہر شخص کے آگے کہاں دامن پھیلاتے ہیں ہاں مگر وہ جن کی آزمائش مقصود ہو وہ جنہیں اللہ کی پاک ذات دے کر آزما رہی ہو اور ان میں سے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں وہ اس آزمائش میں بخوبی کامیابی عطا کرے جنہیں اللہ کی طرف سے دیے گئے رزق میں سے کسی کو دینے کی توفیق ہو۔
فقیر کیوں مانگتے ہیں‘ محنت کیوں نہیں کرتے ہاتھ پھیلانے کا گناہ کیوں مول لیتے ہیں؟ اس بات سے اسے قطعاً کوئی واسطہ نہ تھا۔ خدا جانے اور ہاتھ پھیلانے والے‘ اسے تو بس اوپر والا ہاتھ بن کر نیچے والا ہاتھ بننے سے بچنا تھا اور اسی لیے وہ ہزار بار شکر ادا کرتے نہ تھکتی کہ اللہ نے اسے اس قابل بنایا کہ وہ دے سکے۔
/…ؤ …/
’’مائی جرینہ‘ سرت میں لاویں تو جب گلابو پیدا ہوئی تو وے سلا کنجا بوند بھی ناں اتری تھی اور وس کے پیدا ہونے سے پہلے جب وس کا مائی باپ دنیا سے گیا تو کیسے اودے کالے بادلوں نے بھیتر باپر ایک کی رکھی تھی۔ اینی رات بھر بولتی تھی اور مینہ کا شور کسی بیوہ کے بین ماتم کی طرح رات بھر دھرتی کو ڈرائے سہمائے رکھتا تھا یاد ہے نا تھارے کو؟‘‘ قبیلے کے سردار بابے بسیرے نے مائی جرینہ کی یادداشت کی پٹاری کا ڈھکنا ہلکا سا سرکایا۔
مکھ پر آڑھی ٹیڑھی جھریاں سوکھے اور خشک ہاتھ پیر‘ رات کے ماتھے سا سیاہ رنگ‘ کالی سفید بھنوئیں‘ ٹوٹے گرے دانت اور سر پر رکھی ململ کی بڑی سی چدر‘ جو ماسی جرینہ کی پوری کمر ڈھانپے ہوئی تھی۔
’’تیں کیا سمجھے‘ جرینہ بھول گئی اوخت‘ پر اب کیا کروں بسیرے‘ بندے کے اپنے کنے تو کوئی اپائے نا‘ اتنے برس گجار لیے بیٹے بنا اب تو گم کا پوکھر ایسا بڑا ہے کہ سوچو کوئی دن کو چولہے کا بالن ہی بن کر جل مروں۔‘‘ بابے بسیرے نے پہلے سے دہکتے غموں کی آگ کو شاید مزید ہَوا دی تھی اسی لیے اپنی ہتھیلی کا کٹورا بنا کر کان کے نزدیک رکھتے اور مائی جرینہ کی بات سننے کے دوران چلم میں بیٹھی ہوئی راکھ کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا حقہ تازہ کیا لال انگارے چلم میں بھرے گڑ کا سواد لگایا اور کئی برسو بعد اب بھی سوگ کی ماری مائی جرینہ کے باجو میں آ بیٹھا۔
’’تیں اپنے دکھ کی بات کرے‘ چاروں کھونٹ وستی میں نجر چلا جمین پر کوئی سکھی نہ دیکھے منے اور جو جمین کے اندر ان کا رب جانے پر کوئی دن کے لیے منے تاں دیکھ‘ مارا وہی نا جوان گبھرو منے چھوڑ کر چلا گیا ناں کٹھور جالموں نے مارے بیٹے پر بھی بم پھوڑ دیو ہونہہ اوناں کو کسی دوجے کا دکھ نجر نہ آوے وس پیسے کے سامنے۔‘‘ بابے بسیرے نے اپنا نیلی ناڑوں والا ہاتھ آگے بڑھا کر حقہ اپنی طرف کر کے کش لیا۔
ایک قبیلے کا سردار تھا تو دوسری طرف ماسی جرینہ‘ مگر سانجھے دکھ نے دو ناں کو ایک سی رنگیلی پیڑھی پر اکھٹا بٹھا دیا تھا۔ سو جب سمے ہوتا ایک دوجے کے دکھڑے سن کر دل ہلکا کرتے رہتے۔
’’منے اپنے ہاتھاں سے اسے دفن کیا۔ پر تنے کبھی ماری نجروں میں آنسو دیکھے‘ کوئی نیر بہایا منے؟ ہاں بس کوئی دن چادر تانے الانی منجی پر پڑا رہا سانول کبھی مارے منہ سے پانی چھواتا پر مارے سے پیا نہ جاتا۔ مارے پیراں اور ہاتھاں کو ملتا اور کیا کرتا اس کی آواج سے مارے کو اٹھنا ہی پڑا اور اب میں کتنا شتابی بھول گیا او سب۔‘‘ مائی جرینہ نے بسیرے کو دیکھا اور اس کے جھوٹ کو سراہنے لگی۔
’’پر جرینہ تیں کو غم اب تک چپ کرانا مسکل‘ ماری مان اب پچھلیاں باتاں کی پھکر نہ کر اور اپنے کھاندان سنگ کھوسی سے رہ۔ جو گجر گئی وس کو پیٹھ موڑ موڑ کر دیکھن سے بھلا ہے کہ بھول جا ماری تریو‘ اور تھاری تاں پوتی بھی کمائو ہے تیں کو کسی بات کی پھکر۔‘‘ بابے بسیرے نے اپنی نحیف ٹانگوں پر گرم چادر لپیٹیں حقہ گڑگڑایا اور ساتھ ہی ہلکا سا کھانس دیا۔
’’دیکھ بھائی بسیرے‘ تو مارے کو جس بات کی پھکر نہ کرنے کا کاہے ہے وس کی ہی تو پھکر ہے اور مان دل میں بات نہ رکھوں‘ بوجورگ کہوے ہیں دل ماں رکھی بات کو خمیر کھا جا وے۔‘‘
’’ہاں تو دل میں کائے کو رکھتی بول یہاں کوئی غیر ہوئے رہا کیا تھارے سامنے۔ تیں ماری بہن سمان ہے کہہ گجر۔‘‘
’’ناں بھائی رہن دے‘ کوئی دن اور کروں گی تھارے سے بات‘ اب تو میری کمر جباب دے گئی نہ تو دھوپ ماں چین ملے نہ کھاٹ پر آرام‘ ورنہ مردے سمان پڑی رہوں کسی اور۔‘‘ بابے بسیرے نے اسے دیکھا جو کمر پر پھیلی باریک سی چادر کو اب اپنے اوپر لپیٹ رہی تھی۔
’’او بسیرے‘ کیا پالن ہار کی مرجی کون جانے سوچوں تاں اپنے اور وستی کے سب لوگاں کی جندگی پر ترس آوے‘ رونا آئے نیر بہائو تاں سمندر بنیں‘ ماں سوچوں کہ لاٹ بابو تاں اپنے کتوں کو بھی سویٹر پہناویں اور ادر ہم جسے لوگاں رات ماں بھی گجھا مچھا پھٹی پرانی دری اوڑھ کر سوئین وس کو کھبرتاں ہوگی ناں بسیرے کہہ سردی تاں اس وستی کے لوگاں کو بھی لگے ہے؟‘‘ مائی جرینہ نے سردی کے موسم میں دھوپ کی شدت حسب ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے بابے بسیرے کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پوتی گلابو کے متعلق بات کو فی الحال پس منظر میں چھوڑا تھا۔
’’سچ پوچھ بسیرے تاں وس ماگ کے سروع ہوتے ہی دل ماں یہی باتاں آویں پرچھائین بن کر اٹھوں بیٹھوں مارے دل ماں گھسی رہو‘ نجر چرا کر سوئوں تو خواب میں گھس آویں۔ منے بھی جندگی ایسی گجاری مارا پوت بھی اسی جندگی کو جیتا مر گیا اور اب ماری پوتی بھی…!‘‘
’’مائی جرینہ‘ ناں بول ایسیناں بن اتنی کھٹور‘ سکر کر اوپر والے کا کہ تھارے ہاتھ پائوں سلامت ہیں‘ تنے کوئی بیماری بھی ناں ہی‘ کوٹ پینٹ والا کی تان بیماریاں ہی بوت۔‘‘ بابے بسیرے نے اپنے مہندی لگے لال لال بالوں کو نحیف کندھوں سے گرم چادر اٹھا کر اس سے ڈھانپا۔
’’سرع میں کائے کی سرم جرینہ‘ وے بات کرنے کو جب بھی تھارا من حاجب دے مارے کو بلالئیں۔‘‘
’’منے سوچن دے بسیرے‘ وے گلابو بھی آوے تاں وس کے ساتھ مسبرہ کر کے تنے بتائوں اب تاں لگے میں کوں تاب چڑھن کو آوے منے لیٹن دے ہڈی ہڈی دکھے آج تاں۔‘‘ مائی جرینہ نے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے تھوڑی دیر دبائے اور اسی جگہ مکا سا بنا کر لیٹ گئی بابے بسیرے نے حقہ گڑگڑایا اور چلم سیدھی کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔
/…ؤ …/
عائش کے گھر لوٹنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی آج زویا نے اس کا پسندیدہ مرغ دو پیازہ بنایا تھا۔ سو وقت کا اندازہ کر کے سالن گرم کرنے کے لیے ہنڈیا چولہے پر چڑھائی۔ جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر فریش ہونے کے بعد ہلکی سی لپ اسٹک اور مسکارا لگایا تب تک سالن بہت اچھی طرح گرم ہوچکا تھا دھنیا دھو کر کاٹنے کے بعد ہنڈیا میں ڈالا اور چولہا بند کر کے روٹی ڈالنے کے لیے بیلن اور خشکی نکالنے لگی۔ ان کی شادی کو اس وقت چار سال ہونے کو آئے تھے لیکن عائش ہمیشہ یوں وقت پر گھر آتا کہ بعض اوقات وہ ہنس کر کہہ دیتی۔
’’عائش پتا ہے اگر گھڑی کا ٹائم آگے پیچھے ہوجائے ناں تو میں نیوز کے بجائے آپ کے آنے سے ہی ٹھیک کرلیتی ہو۔‘‘
اور یقیناً ایسا ہی تھا عموماً ٹریفک کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوتا کہ بندہ ہمیشہ ہی وقت پر گھر پہنچے لیکن وہ ہمیشہ مین روڈ کے بجائے نسبتاً پر سکون راستے کا انتخاب کرتا کیونکہ اس کی تاخیر زویا کے لیے ہمیشہ نہایت پریشانی کا باعث بنا کرتی۔
گرم گرم سالن ڈونگے میں ڈالنے کے بعد دستر خوان بچھا کر ہاٹ پاٹ‘ پانی اور سلاد چٹنی سمیت برتن وغیرہ رکھے۔ کمرے میں جا کر پرفیوم لگایا اور صحن میں موجود پلنگ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ یہ اس کی روزانہ کی روٹین تھی جس سے نہ تو وہ اکتاتی تھی اور نہ ہی بور ہوتی تھی اور اپنی اسی روٹین میں بے حد خوش اور مطمئن زندگی گزار رہی تھی کہ وہ پانی کی طرح ہر برتن میں ڈھل جانے والی لڑکی تھی جو ہمیشہ مثبت سوچتی اور خوش رہتی۔
’’السّلام علیکم! بھئی کیسا گزرا سارا دن؟‘‘ عائش نے گھر آکر موٹر سائیکل اندر لاتے ہوئے حسبِ معمول پوچھا۔
’’بہت اچھا‘ ٹائم گزرنے کا تو پتا ہی نہیں چلتا۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے موٹر سائیکل کے ہینڈل سے فروٹ اتارا۔
’’کمال ہے یار! ایک میں ہوں تمہارے بغیر خود کو تنہا محسوس کرتا ہوں کہ ایک پل صدی لگنے لگتا ہے۔ آفس ٹائم ختم ہوتے ہی یوں گھر کے لیے بھاگتا ہوں کہ اکثر کولیگز بھی چھیڑتے ہیں اور جناب کو ٹائم گزرنے کا بھی پتا نہیں چلتا۔‘‘ مصنوعی خفگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عائش نے منہ پھلایا۔
’’جی ہاں بالکل پتا نہیں چلتا اور وہ یوں کہ میں تنہا ہوتے ہوئے بھی کبھی تنہا نہیں ہوتی‘ آپ کا خیال ہر وقت میرے ساتھ جو رہتا ہے۔‘‘ دھیرے سے مسکرا کر زویا نے جواب دیا تو وہ اس کی حاضر جوابی پر قہقہہ لگاکر ہنس دیا۔
’’اچھا تو یہ بات ہے یعنی…
میں تمہارے ساتھ ہوتا ہوں زویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
عائش نے شعر میں بڑے دھڑلے سے ردّ و بدل کرکے پڑھا تو زویا کی مسکراہٹ بھی قہقہے میں بدل گئی جس پر عائش نے فوراً ماتھے تک ہاتھ لے جاکر شاعروں کے انداز میں داد سمیٹی اور دونوں ایک ساتھ گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئے جہاں دستر خوان ان کا منتظر تھا۔
/…ؤ …/
’’اوئے کمینے…‘‘ دھان پان سی گلابو نے شاید حلق کے آخری حصے سے آواز نکالی تھی جب ہی تو اس کے اردگرد حرکت کرتے نفوس تجسّس سے مجبور ہوکر جامد سے ہونے لگے۔
’’ابے او گنڈے! آواج بیچوں ہوں اپنی اجّت ناں ہی بیچوں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں تو لگتا خون اترا ہوا تھا۔ ایک گھٹیا سی گالی کے ساتھ اس نے سامنے کھڑے آدمی کا گریبان جھنجوڑا۔
’’بب… بکواس کرتی ہے یہ… گھٹیا عورت الزام لگا رہی ہے مجھ پر۔‘‘ گلابو کی اس قدر غیر متوقع ہمت اور اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں وہ گھگیا سا گیا تھا جب ہی تو گریبان چھڑانے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہا۔
’’اچھا… تھارا مطبل ہووے ماں الجام لگائوں ہوں‘ تنے جلیل کروں… ارے گھٹیا تاں تیں کھد رہے‘ ڈھونڈن نکلیں ناں تھارے جیسا نہ ملے۔‘‘ ایک نہایت ہی واہیات سی گالی گلوبو کے لپ اسٹک زرہ ہونٹوں سے نکلی۔
’’تین کیا سمجھے‘ مارے کو نجر ناں آئے گا؟ جباب دے… اب کیوں منہ کا باجا ناں کھولے؟‘‘
بس اسٹاپ پر ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے یقینا کوئی نازیبا حرکت کی یا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا پالا کسی عام چھوئی موئی سی لڑکی سے نہیں گلابو سے پڑا تھا جو بُرے کو اس کے گھر تک پہنچا کر چھوڑتی ہے اور پھر وہ تھی بھی تو انوکھی۔ اس کی جگہ اگر قبیلے کی کوئی لڑکی ہوتی تو یقینا یوں مجمع نہ لگاتی بلکہ خود ہی صرف شور مچانے کی دھمکی دے کر معاً طے کرلیتی لیکن وہ گلابو تھی جس کی ہر بات نرالی ہوا کرتی اور جو گلاب کی پھول کی طرح سب میں منفرد تھی اور پھر مائی جرینہ کی گود میں پروان چڑھنے والی گلابو کو مائی جرینہ نے ہو بہو اپنے ہی سانچے میں ڈھال کر یہ بات اچھی طرح باور کروادی تھی کہ ادائیں دکھا کر پیسے نکلوانا الگ بات ہے لیکن اگر کوئی اس سب سے آگے بڑھنا چاہے تو اسے بیچ سڑک کے سبق سکھادو کہ دوسری ٹائپ کا معاملہ طے کرنے سے بہتر دو وقت کا فاقہ ہے۔ اور اسی بناء پر وہ اپنے قبیلے میں بھی سب کے لیے کشش کا باعث بنتی کیونکہ وہ تھی صرف گڑوی بچا کے پیسے مانگنے والی اور دوسری قسم کی لڑکیوں سے اس کا کوئی واسطہ نہ تھا مگر وہ آدمی بھی شاید غلط فہمی میں ہی پھنس گیا تھا۔
’’ابے لڑکیوں کو چھیڑتا ہے‘ ٹھہر تو سہی‘ تجھے تو میں سبق سکھاتا ہوں۔‘‘ جوں ہی ایک آدمی آستین چڑھاتا ہوا دوسرے شخص کی طرف بڑھا گلابو نے کاجل لگی آنکھیں مزید پھیلاتے ہوئے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اسے وہیں روک دیا۔
’’نئیں نئیں‘ جادہ ہمدری نہ ڈخا منے‘ ماں آپ ہی اسے سیخ سخالوں۔‘‘ اس کا گریبان ہنوز گلابو کے ہاتھ میں تھا جب کہ اس شخص کی بوکھلاہٹ اس کے چہرے پر اڑتی ہوائیوں سے بخوبی نمایاں تھی۔ مزید یہ کہ اب وہ قابل رحم شکل بنائے مزاحمت تک نہیں کررہا تھا کہ جانتا تھا ایسا کرنے کی صورت میں وہ آسمان سے گرا بھی تو کھجور میں لازماً اٹک جائے گا کیونکہ اگر اس گلابو سے گریبان چھڑا بھی لیا تو اردگرد جمع ہوئے لوگ اسے نہیں چھوڑیں گے جو ایسے موقع پر کچھ زیادہ ہی پرجوش ہوجاتے ہیں۔
’’ارے او بابو وردی والے۔‘‘ گلابو نے کچھ فاصلے پر کھڑے دو باوردی پولیس اہلکاروں کو پکارا جو ڈرائیور کو بھگتا کر اب فروٹ کے ٹھیلے کے پاس کھڑے کوالٹی چیک کررہے تھے لیکن اس کے پکارنے پر لپک کر آئے اور اپنے شکار کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’سکائی کردیو جی وس کی‘ بڑا بے قابو ہووے آج کل۔‘‘ پولیس سارجنٹ کی آمد پر گلابو نے اس کا کالر چھوڑا تو حسبِ عادت قانون نے وہیں پر اپنے لمبے ہاتھ ہونے کا عملی مظاہرہ شروع کردیا۔
/…ؤ …/
زویا اور عائش ایک دوجے کی رفاقت میں انتہائی پرکیف وقت گزار رہے تھے ویسے بھی شادی کے پہلے چند سال ہی میاں بیوی کے ایک دوسرے سے تمام عمر رہنے والے رویے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اب یہ ایک الگ اتفاق تھا کہ شادی کے دو تین سال بعد ہی پروفیشنل جیلسی سے مجبور ہوکر عائش کے ایک کولیگ نے اسے باس کی نظروں سے گرانے کے لیے مخالف کمپنی کا خیر خواہ ظاہر کرکے مختلف ثبوت پیش کرنے کے بعد یہ ثابت کردیا تھا کہ عائش کمپنی کے تمام اندرونی معاملات ان کے سامنے بیان کرکے خاطر خواہ معاوضہ وصول کرتا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا اس بات میں اگر صداقت تھی بھی تو بس اتنی کہ اتفاق سے اس کا ایک کالج فیلو اس کمپنی میں جاب کرتا تھا اور اچانک ملنے پر یہ چند ملاقاتیں محض پرانی یادیں کھنگالنے کا باعث بنی تھیں اور بس۔
لیکن اب وہ زمانہ گیا جب لوگ رائی کا پہاڑ بنایا کرتے تھے اب تو رائی بھی خود ہی پیدا کرلی جاتی تھی۔ سو یہاں بھی وہی معاملہ تھا لہٰذا باس نے ردعمل کے طور پر اس کی بُری طرح انسلٹ کرکے جاب سے نکال دیا تو ظاہر ہے کمپنی کی جانب سے دیا گیا مکان بھی خالی کرنا پڑا۔ پہلے اور بات تھی وہ اکیلا تھا اور ایسی صورت میں کمبائن فلیٹ یا ہاسٹل کہیں بھی رہ سکتا تھا لیکن اب اس کے ساتھ زویا کی ذات بھی منسلک تھی ایسے میں وہ زویا ہی تھی جس نے بہت اصرار کے بعد اپنا سارا زیور اس کے حوالے کردیا تھا۔
’’کمپنی کی طرف سے تو ابھی بیس روز کی مہلت باقی ہے ناں عائش…! آپ پلیز میری جیولری بیچ کر سب سے پہلے گھر حاصل کرنے کی کوشش کریں‘ باقی معاملات بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ زویا نے زیر استعمال زیور بھی ڈبوں میں ڈال کر اس کے سامنے لا رکھا تھا۔
’’زویا یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ عائش کے اندر جیسے چھن سے کچھ ٹوٹا۔ چوڑیوں کی کھنک سے عاری سونی کلائیاں‘ کانوں میں جھولتی خوب صورت جھمکیاں اور اوپر پہنے گئے ہارٹ شیپ ٹاپس اتارنے پر کان جیسے اپنی زیبائش چھن جانے پر افسردہ تھے اور مخروطی انگلیاں انگوٹھیوں کے بغیر دیہات کے ریلوے اسٹیشنز کی طرح سنسان ویران پڑی تھیں لیکن اس کے چہرے پر موجود طمانیت کے باعث جن رنگوں نے اس کا احاطہ کر رکھا تھا وہ اس کی اندرونی کیفیت کا آئینہ دار تھا۔
’’زویا یہ سب تمہارا اور تمہارے لیے ہے اور تمہارا حق ہے ان پر پلیز مجھے یوں شرمندہ تو نہ کرو۔‘‘ وہ بے حد رنجیدہ ہورہا تھا‘ سوچ رہا تھا کہ اس نے تو زویا کو تمام تر خوشیاں دینے کا وعدہ کیا تھا نہ کہ لینے کا۔
’’تو عائش کیا وہ سب جو میرا ہے صرف میرا ہے اور جو آپ کا ہے وہ صرف آپ کا ہے؟‘‘ لمحے بھر کو اسے تاسف نے آن گھیرا تھا لیکن چونکہ اس وقت وہ عائش کی اندرونی کیفیت سے آگاہ تھی اور اسے اس گرداب سے نکالنا چاہتی تھی سو نظر انداز کرتے ہوئے سر جھٹک دیا۔
’’میرا مطلب ہے…؟‘‘
’’آپ کا جو بھی مطلب ہو عائش لیکن میرا مطلب ہے کہ اب میں اور آپ میں کچھ نہیں رکھا‘ زندگی تبھی اچھی گزرے گی جب میں اور آپ ہم ہوجائیں اور پھر آپ مجھ سے زبردستی تو نہیں لے رہے ناں‘ میں خود دے رہی ہوں اپنی رضا مندی اور خوشی سے۔‘‘ عائش کے کھوجنے کے باوجود اسے زویا کی آنکھوں میں کچھ کھو دینے کے ملال کی جگہ ایک الوہی سی چمک نظر آئی تھی۔
’’میں نے ایسا تو کبھی بھی نہیں چاہا تھا زویا!‘‘ عائش نے افسردگی سے کہا تو اس کی دل جوئی کرتی زویا اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ گئی۔
’’ہمیشہ وہی کچھ تو نہیں ہوتا ناں جو ہم چاہتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جو ہمارا ربّ چاہتا ہے اور میرا ایمان ہے کہ وہ ہمیشہ اچھا ہی سوچتا ہے ہم سب کے لیے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہمارا ذہن وہاں تک نہیں پہنچ پاتا۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ عائش نے بوجھل دل سے تائید کی اور اپنی نظریں زیورات کے ڈبوں پر جما دیں۔
/…ؤ …/
’’دیکھ گلابو! ماراں تاں اب سارا سر پسید ہوا‘ منہ ماں دانت کہیں ہووے رہا کہیں ناں‘ سانس کا بھی اب تاں منے تیار ناں ہی… اسے ماں سوچوں کہ اگر منے جمین آواج دے بلالے تاں تھاری پھکر کون کرے‘ تاں کس کے سنگ جئے منے بگیر…؟‘‘ مائی جرینہ اور گلابو سونے کے لیے لیٹیں تو کروٹ بدل کر مائی جرینہ نے آخر کار وہ بات چھیڑ ہی دی جو وہ کئی دنوں سے سوچ رہی تھی۔
’’مائی پھکر نہ کر‘ جمین تھارے لیے بیٹھی ناں رہے‘ روج کتنے لوگاں وس کی کھوراک بنیں۔ وس کو تھاری ٹوٹی بھوٹی بڈھی ہڈیوں سے کا پھائدہ ملے جو تنے شتابی بلائے۔‘‘ گلابو نے مائی جرینہ کی بات ہنسی میں اڑائی اور تکیے کے نیچے سے ہتھیلی جیسا شیشہ نکال کر اس میں کبھی آنکھوں کو دیکھتی کبھی گالوں کو۔ پھر ہونٹوں کے مختلف زاویئے بناتی اور کبھی ابرو چڑھاتی۔ مائی جرینہ نے ایک نظر اس کو دیکھ کر آہ بھری اور اپنی جوانی یاد کرنے لگی۔
’’اے جوانی بوت بے بفا ہووے گلابو! اتنی کھموسی سے ساتھ چھوڑے کہ بندہ وِس کو ڈھونڈتا ہی رہ جاوے۔ اب تاں سارا راج باٹھ کھتم ہوئے رہا‘ نہ بان نہ بسترا‘ نہ لمبے باجو کی قمیج‘ نہ مارے باجود میں کھن کھن بجتے جوڑے‘ نہ کان ماں بالے… اب تاں بس مائی جرینہ بھی کتے بھگان اور بچے ڈران کے لیے ہووے اور بس… کنے کچھ نہ رہیو اب تاں…‘‘ مائی جرینہ پر افسردگی چھاگئی تھی۔
’’ماری مان تاں بیاہ کر لے‘ منے بھی سکون سے موت آوے اور تھاری جندگی بھی کھوسی مان گجر جائے۔‘‘ مائی جرینہ کی بات پر گلابو نے پہلے مائی جرینہ کو اور پھر اتراتے ہوئے آئینے میں خود کو دیکھا۔
’’مائی‘ ماری اتی اجاد جندگی تھارے کو بھلی ناں ہی لگے؟ ماں پھر کی مافق جدر مرجی گھوموں‘ پرلو کاں کہیں اور اب تاں میں بھی سوچوں کہ تھارے جیسے بڑوں کو اجادی وِس وخت ہی اچھی لگے جب کھد جواں ہوویں‘ دوسرے لوکاں کے لیے ناں ہی۔‘‘ اس کی بات پر مائی جرینہ اٹھ بیٹھی پھر ہاتھوں سے کڑاکے نکالے اور آخری بولی۔
’’سیدھی بات کا منے گلط جباب نہ دے گلابو! انصاپھ کی بات کر‘ اب لڑکی جات کی کوئی جمے داری ناں ہی لیتا‘ جمانہ بدل گیا ہے ری‘ کیسے بتلائوں تھارے کو۔‘‘ اس کا جواب سن کر مائی جرینہ جھنجلا سی گئی تھیں۔
’’ری منے کیا‘ سارا دن کھاٹ پر ڈھیر ہوئی رہوں یا وس ٹوٹی پھوٹی دری مان تھن ٹھنڈا کیے بیٹھی رہوں‘ مارے کو کوئی کچھ نہ بولے‘ پر گلابو منے بس تھارا کھیال رہوے‘ سارا دن تھارا مرد جات ماں گجرے‘ مارے دل ماں گلط کھیال آویں‘ سوچوں کا ہے کو تنے اب تک سادی بیاہ کرکے کسی کے حوالے نہ کیا؟ اری ماں کا جباب دوں تھارے باپ کو‘ اگر تنے سادی کے بگیر ہی چھوڑ موت کنے چلی گئی ناں؟‘‘ اب کی بار گلابو بھی شیشہ ایک طرف رکھ کر اٹھ بیٹھی تھی اور سمجھ گئی تھی کہ مائی جرینہ آج سنجیدہ بھی ہے اور پریشان بھی۔
’’مائی تین ماری وجہ سے پریسان نہ ہو‘ کرلے مرجی‘ بیاہ دے منے‘ پر ایک بات مان جرور کروں۔‘‘ مائی جرینہ اس کی طرف سے ہاں سن کر خوشی سے پھولی نہ سمائی تھی اور تبھی یک بیک اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ یہ آنسو خوشی سے آئے تھے یا جدا ہونے اور پھر اس کے نصیب کے اچھا بُرا ہونے کے دھڑکے نے انہیں جنم دیا تھا‘ یہ خود مائی جرینہ کو بھی معلوم نہ تھا۔
’’بول ماری بچی‘ ایک بات چھوڑ ہجار بول‘ پالہنار تنے کھوس رکھے۔‘‘
’’ماں سادی تاں کروں مائی پر کروں وس کے ساتھ جو منے سادی کے روج سونے کی مندر پہناوے۔‘‘
’’سونے کی مندری؟‘‘ مائی جرینہ نے حیرت سے اپنی انگلی دانتوں کے عین بیچ اس مسوڑے پر جا رکھی جہاں دانت ٹوٹ جانے کے بعد اب جگہ خالی تھی۔
’’پریم ماں سیس کٹان کا کچھ اور ہی مجا آوے اور منے بھی تاں پتہ چلے کس کے دل ماں مارا کنا کھیال ہے۔ بس ای ماری پہلی اور آکھری سرط ہے‘ آگے جو تیں بولے گی سو ماں کروں۔‘‘ مائی جرینہ جانتی تھی کہ خانہ بدوش منگتوں کی ایسی بستی میں سونے کی انگوٹھی لانا ایک ناممکن سی بات تھی اور خود مائی جرینہ بھی کسی سے یہ مطالبہ کرتی تو سامنے والے ضرور اس کی دماغی حالت کے اِدھر اُدھر ہونے کا سوچتے کیونکہ اس وقت وہ خود بھی گلابو کی ذہنی حالت کے بارے میں مشکوک و شبہات میں مبتلا دکھائی دے رہی تھی۔
/…ؤ …/
نیک‘ ایمان دار اور اصول پرست انسان کے لیے آج کل کے دور میں کسی بھی جگہ کسی اور کے انڈر رہ کر کام کرنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں کیونکہ اردگرد کام کرنے والے دوسرے لوگ ایسے شخص کو اپنے لیے ہمیشہ ایک رکاوٹ اور راہ کا کانٹا ہی خیال کرتے ہیں مگر جو لوگ اللہ کے بتائے گئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا ارادہ کرلیتے ہیں ان کے لیے آسانیاں بھی اللہ کی ذات ہی پیدا کرتی ہے۔
عائش کی کمپنی نے تمام ملازمین کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے ہونے والے منافع کے باعث سارے اسٹاف کو بونس دینے کا فیصلہ کیا تھا اور آج بونس کی رقم کیشیئر کے ہاتھوں نقد وصول کرنے کے بعد عائش نے سوچ لیا تھا کہ وہ تمام کاموں اور ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر اس دفعہ زویا کو گولڈ کی ایک خوب صورت سی انگوٹھی بنوا کردے گا۔ وہ جانتا تھا کہ بچوں کی طرح اسے بہلانے کی خاطر ہی زویا نے گھر میں چنبیلی اور موتیا کے پودے لگا رکھے تھے جن سے حاصل ہونے والے چنبیلی اور موتیا کے پھولوں کو وہ نہ صرف کانوں میں ڈالتی بلکہ اکثر اوقات گجرے بناکر کلائیاں بھی سجا لیتی۔ لیکن اب چونکہ قدرت کی طرف سے عائش کو یہ موقع دیا گیا تھا کہ وہ زویا کے لیے ایک خوب صورت سا تحفہ خرید سکے سو آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد بینک سے اپنی سیلری بھی نکالوائی اورموٹر سائیکل کو اسٹارٹ کرکے آنکھوں میں خوب صورت خواب سجائے جیولر کے پاس جا پہنچا۔ مختلف ڈبے کھلوائے‘ کتنے ہی ڈیزائن مسترد کیے اور بالآخر تین سفید نگوں والی خوب صورت سی سونے کی انگوٹھی لے کر انہی راستوں پر اپنے موٹر سائیکل کو تقریباً اڑاتا ہوا منٹوں کا فاصلہ سیکنڈ میں طے کرنے لگا۔
’’آج اتنی دیر… خیر تو ہے ناں؟‘‘ روٹین سے ہٹ کر آج وہ تاخیر سے گھر لوٹا تو اڑی اڑی رنگت کے ساتھ پریشان سی زویا پر عائش کو بے حد پیار آیا۔
’’بھئی کبھی کبھار دیر بھی تو ہونی چاہیے ناں‘ ایک سی روٹین سے تو دل اوبنے لگتا ہے۔‘‘ اس نے زویا کی پریشانی کا مزہ اٹھاتے ہوئے جان بوجھ کر اسے مزید ہوا دی۔
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کم از کم پڑوس میں فون کرکے بتا دیتے تو میں اتنا پریشا ن نہ ہوتی۔‘‘
’’بھئی اب ہر کام بیویوں کو بتانے والا بھی تو نہیں ہوتا ناں۔‘‘ ہاتھ منہ دھونے کے بعد دستر خوان پر بیٹھتے ہوئے عائش کے یوں کہنے پر زویا کا چونکنا لازمی تھا۔
’’چلیں کام نہ سہی لیکن پلیز آئندہ اگر آنے میں دیر ہوجائے تو مجھے بتا دیا کریں‘ مجھ پر تو ایک ایک منٹ بھاری گزرتا ہے ورنہ…‘‘ اس نے بظاہر نارمل رویہ اور مناسب لہجہ رکھتے ہوئے سلاد کی پلیٹ اس کے آگے کی تھی لیکن چہرے کے اُتار چڑھائو سے اس کے اندر کی بے چینی اور جھنجلاہٹ صاف عیاں تھی جس کا جائزہ عائش دل ہی دل میں بخوبی لے رہا تھا۔ دوسرے دنوں کے برعکس آج کھانا نہایت خاموشی سے کھایا گیا جس کے بعد زویا برتن سمیٹ کر کچن میں لے گئی۔ چولہے پر چائے کے لیے پانی چڑھایا اور برتن ھونے کے لیے سنک میں منتقل کرنے لگی۔ ذہن ابھی تک عائش کی باتوں میں الجھا ہوا تھا‘ اُدھر عائش جس نے آج تک زویا سے کبھی کچھ بھی نہیں چھپایا تھا دبے پائوں کچن میں اس کے پیچھے جاکھڑا ہوا سو اب کے چونکنے کی باری زویا کی تھی۔
’’جو تھی کل بھی پسند‘ وہ ہے اب بھی پسند‘ میری مٹھی میں بند ہے کیا؟ بتادوں ناں…؟‘‘ عائش کے اس انداز پر زویا حیران رہ گئی کیونکہ گانا گنگنانا تو کبھی بھی عائش کے مشاغل میں شامل نہیں رہا تھا سو کہاں یہ کہ ایک اشتہار پر چلنے والا گانا گنگنایا جارہا ہے۔
’’عائش خیر تو ہے ناں؟آج یہ سب…؟‘‘ وہ ابھی تک ان تمام انہونیوں کے محرکات سے لاعلم ہونے کی وجہ سے حیرت سے آنکھیں پھیلائے کھڑی تھی۔
’’خیر ہی خیر ہے جانِ عائش!‘‘ اس کی طرف سے رخ پھیر کر عائش نے جیب میں سے انگوٹھی نکالی۔
’’یہ دیکھو آج میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے پیار سے زویا کا ہاتھ تھام کر باریک سی تین سفید نگوں والی انگوٹھی اس کی نازک سی انگلی میں پہنا دی۔
’’آئی رئیلی لو یو زویا!‘‘ مگر حیرت سے گنگ زویا اس وقت کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ان کی بچت اس بات کی قدرے متحمل نہیں ہوسکتی کہ گولڈ کی خریداری کی جائے۔ تنخواہ کا ایک بڑا حصہ گیس بجلی کے بل‘ گھر کا اخراجات میں نکل جاتا تھا۔
’’لیکن یہ گولڈ رِنگ آئی کہاں سے؟‘‘ حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں لبریز وہ استفہامیہ لہجے میں بولی تو عائش نے مصنوعی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
’’ارے یار کیا تم بھی ناں‘ کردیا ناں اتنے رومینٹک موڈ کا ستیاناس۔‘‘ اور جب زویا کو عائش کی زبانی ساری بات پتا چلی تو خوشی کے مارے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’یہ لو یہ بونس میں ملنے والے پیسے سنبھال کر رکھ لو‘ ان میں سے تو ایک آنہ بھی خرچ نہیں ہوا۔‘‘ اس نے جیب سے نکال کر پیسوں کا لفافہ زویا کی طرف بڑھایا تو وہ مسکرا کر لفافہ لیے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئی۔ عائش بھی اس کے پیچھے ہی تھا‘ اُدھر دیگچی میں چائے کے لیے رکھا گیا پانی بھاپ بن کر اڑنا شروع ہوگیا تھا۔
/…ؤ …/
’’کیوں بے فی لم دیکھے گا؟‘‘ شادے نے جامو کے جھونپڑے میں سر ڈال کر پوچھا تو تنہا بیٹھ کر اپنے چپٹے ناخن چباتے جامو نے رک پھیرتے ہوئے شادے کو دیکھا اور فوراً بولا۔
’’منے تاں ایو پتہ ہے اغر فی لم ماں ماری گلابو ہووے تاں دیکھوں‘ جرور دیکھوں نئیں تاں ماں کائے کو اپنا وخت جائع کروں۔‘‘
بات کرتے کرتے وہ شادے کے ساتھ ہی باہر نکل آیا تھا‘ جہاں سڑک کنارے بسائی گئی چھوٹی سی بستی میں تو گویا ایک الگ ہی دنیا آباد تھی۔ بڑے سے میدان میں ذرا ذرا سے فاصلے پر کوبان نما جھونپڑیوں میں زندگی بڑی سست روی سے قدم گھسیٹتے ہوئے گزر رہی تھی۔ کہیں پر کچھ عورتیں کپڑوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں کاٹنے اور پھر جوڑنے کے بعد بچھونا بنا رہی تھیں اور کہیں پر مرد بیٹھے دن بھر کے دھندے کو ڈسکس کررہے تھے۔ شام کے سائے اپنی تمام تر اداسی سمیت دھیرے دھیرے پنجے گاڑنے میں لگے ہوئے تھے۔ رسّی نما بالوں والی چند بچیاں الگ سے ٹولی بناکر کھیلنے میں مصروف تھیں‘ سب کچھ حسب معمول ہی تو تھا لیکن جامو کی نظروں کو البتہ قرار نہیں آرہا تھا جبھی شادے نے اسے دوبارہ ٹھوکا دیا۔
’’فر بتا دے منے‘ پیسے دے گا؟‘‘
یہ بستی والوں کی واحد عیاشی تھی کہ جب ان کے پاس کچھ پیسے جمع ہوتے تو ملا کر کسی واقف دکان والے سے ٹی وی اور وی سی آر کرائے پر لاکر ایک دو فلمیں دیکھ لیا کرتے لیکن فی الحال جامو کسی بات کا بھی جواب دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتا تھا کیونکہ وہ یک ٹک گلابو کو دیکھتے ہوئے من کی پیاس بجھانے لگ تھا۔ گلابو جو ابھی چند لمحوں پہلے ہی اپنے جھونپڑے سے نکلی تھی‘ گہرے سانولے رنگ اور بڑی بڑی آنکھوں والی گلابو کو جب سے بپاشا سمجھا گیا تھا اس میں نخرہ بڑھ گیا تھا۔ گھٹنوں کو چھوتی کُرتی اور ٹخنوں سے اوپر کے گھاگرے میں سے جھانکتی سیاہ ہوتی پازیبیں چھن چھن کرتیں تو بستی کے سبھی لڑکے خود بخود سورج مکھی کے پھول کی طرح اپنا رخ اس کی جانب کرلیا کرتے۔ سر پر جمایا گیا دوپٹہ جو ہمیشہ صرف کمر ہی کو ڈھانپتا آج بھی اپنا فرض پورا کیے ہوئے تھا۔ چلتے ہوئے ایک جھونپڑے سے دوسرے میں جاتے ہوئے کبھی پنڈلی کھجلاتی کبھی سر‘ چلنے کا انداز ایسا لچک دار تھا کہ قدم اٹھتے تو چٹیا کے ساتھ گندھا ہوا لمبا پراندہ کبھی کمر پر پھیلے دوپٹے کی دائیں سمت سے باہر نکلتا اور کبھی بائیں۔ آنکھوں میں مقناطیسی کشش اور الہڑ پنے کی لو تھی تو آواز میں نرم گرم جذبات کی ترنگ۔
بستی میں کون ایسا تھا جو اس کے نازو انداز کو گردن کندھے پر ڈالے دیکھتا نہ رہتا اور سوچتا کہ کون ہو گا وہ خوش نصیب جسے گلابو کا ساتھ ملے گا اور خود گلابو بھی ان تمام باتوں سے اچھی طرح واقف تھی جبھی تو اس نے شرط بھی ایسی نرالی رکھ چھوڑی تھی کہ جو بھی پوری کرتا وہ تمام عمر اس کی داسی بن کر گزار دیتی۔
’’چل جامو‘ فی لم تاں ماں تھاری گلابو والی لے ہی آئوں پر وس کو بھی اب کوئی روج بعد دیخنا چھوڑ دے۔‘‘ شادے کو جیرو کی بے چینی اور غائب دماغی کی وجہ سے اپنے سامنے چلتی پھرتی نظر تو آرہی تھی مگر اس نے سر کھجاتے ہوئے اس کی توجہ اپنے اوپر لانے کی کوشش کی۔
’’چھوڑ دوں؟‘‘ جامو کی نظریں فی الحال جی بھر کے گلابو کو دیکھنے سے ٹھنڈک محسوس کررہی تھیں مگر دل میں اترتے ایک عجیب سے سرور نے اسے بُری طرح اپنے حصار میں لے رکھا تھا جبھی دنیا جہان کی وارفتگی اپنی آنکھوں میں سموئے بس اسے دیکھتا رہا۔
’’چھوڑ دے گلابو کے سفنے دیخنا جامو‘ تھارے لیے ناں ہی بنی۔‘‘ شادا اسے یوں بُت بنا دیکھ کر اب اکتا گیا تھا سو جھنجلا کر اس کا کندھا اچھی طرح جھنجوڑ ڈالا۔
’’مارے لیے ناں ہی بنی ناں تو مار ڈالوں کھد کو۔‘‘ لمحہ بھر میں جامو طیش میں آگیا تھا۔
’’ایو تاں ربّ جانے‘ پر ماں تنے بتائوں گلابو کا بیان وس سے ہووے گا جو گلابو کی کھاطر سونے کی مندری لاوے۔‘‘
’’سونے کی مندری؟‘‘ جامو کا منہ اس ہوش اڑاتی خبر پر کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔
’’اب بتا منے‘ کا کھیال ہے تھارا؟‘‘
وہ کیا کہتا شادے کی اس بات پر تو وہ حیرت سے بغیر کچھ کہے بس اس کا منہ دیکھنے لگا تھا۔ وہ تو یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ اس کے صاف اور سچے جذبوں کی آنچ اب تک گلابو کے دل تک بھی پہنچ چکی ہوگی لیکن اب اس کی مشروط رفاقت کے اعلان نے تو اسے دم بخود کر چھوڑا تھا اور شرط بھی ایسی جو اس کے لیے ہر گز ممکن نہ تھی۔ البتہ وہ یہ ضرور جانتا تھا کہ قبیلے کے سردار کے بیٹے سانول کے کانوں تک جس لمحے یہ خبر پہنچی اسی لمحے گلابو اس کی پہنچ سے دور بہت دور چلی جائے گی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھاکہ جب گلابو کو اس کی حقیقت کا معلوم ہے کہ ہم سونے کی انگوٹھی حاصل کرنا تو بہت دور کی بات اسے چھو بھی نہیں سکتے تو ایسے میں اتنی احمقانہ شرط رکھنے کا بھلا کیا جواز؟
’’بس شادے ماری تاں گلابو بھی نرالی اور وس کی باتاں بھی۔‘‘ وہ زیر لب یونہی مایوسی سے گردن ہلاتے ہوئے بولا۔
’’تاں فر سکایت کا اور سکوہ کیوں؟ ماری مان تاں وس کا کھیال نکال دے دل سے تھارے لیے اور بوت۔‘‘ شادے اور جامو کی پرانی دوستی تھی اب اس نے جامو کو بنیان دھوتی پہنے پیڑھی پر بیٹھ کر گلابو کی خاطر منہ لٹکائے دیکھا تو اس کے بھی چہرے پر اداسی چھا گئی۔
’’مارے کو لڑکی جات کا سوق ناں ہی سادے اور ایو تنے اچھی طریو کھبر ہے۔ منے تا وس گلابو سے پیار بھی ناں ہی‘ عسق ہے منے وس کے ساتھ عسق۔‘‘ جامو نے زمین پر انگلی پھیرتے ہوئے سامنے ہی گری ماچس کی تیلی اٹھا کر اپنی دھوتی کے ایک کونے سے صاف کیا اور دانتوں میں پھراتے ہوئے ڈکار لے کر بولا۔
’’جرا کوسیس تاں جرور کروں‘ اب آسانی سے اپنا عسق ناں چھوڑوں سادے‘ بس تیں دعا کر‘ منے مارا عسق‘ ماری گلابو مل جاوے۔ وس کی کھاطر منے جو کرنا پڑے وہ کروں۔‘‘ اور تب شادے نے بھی اپنے جگری دوست کی خوشیوں کے لیے دل سے دعا کی تھی کہ اسے اس کا عشق اس کی گلابو مل جائے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لیے کسی انتہائی قدم سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
/…ؤ …/
کمپنی کی طرف سے بونس تو دیا گیا تھا مگر اب عائش کو معلوم ہوا تھا کہ کمپنی چونکہ دو بھائیوں کی ملکیت تھی سو اب سانجھے کی ہنڈیا چوراہے میں بس پھوٹنے ہی کو تھی اور ایک بھائی کی جانب سے کیشیئر کے ذریعے دینے والا بونس بھی اسی معاملے کی ایک کڑی تھی۔ اب یہ اطلاع سچ تھی کہ نہیں مگر بہرحال آج کل آفس میں یہ بات گردش ضرور کررہی تھی جس سے عائش نے زویا کو بھی آگاہ کرکے ان روپوں کو فی الحال استعمال نہ کرنے کی ہدایت کر رکھی تھی اور اس کی طر ف سے دی گئی اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے زویا ان روپوں کو سنبھال کر صحن میں آئی اور آریان کی کاپی اٹھاکر حیران رہ گئی۔
’’انگلش ہماری نہ صرف سرکاری بلکہ قومی زبان بھی ہے۔ معاشرے میں عزت و مقام حاصل کرنے کے لیے اگر روانی سے انگلش بولنا ضروری ہے تو معاشرے کے لیے اسٹیٹس سمبل بھی ہے اور اس زبان سے واقفیت نہ رکھنے والے کو ہر لحاظ سے قابلیت سے عاری سمجھا جاتا ہے۔‘‘
’’آریان میں نے آپ کو قومی زبان پر مضمون لکھنے کو کہا تھا ناں اور آپ نے یہ سب کیا لکھا ہوا ہے؟‘‘ زویا نے کاپی میں تحریر محض دو تین سطریں پڑھ کر ہی اس کی نوٹ بک بند کردی تھی۔
’’آپی صحیح تو لکھا ہے میں نے‘ غلط بھلا کیا ہے۔‘‘ آٹھویں جماعت کے طالب علم آریان نے اکتائے ہوئے لہجے میں سر کھجاتے ہوئے کہا۔
یوں بھی وہ تھا تو آٹھویں کلاس میں لیکن اس کی ذہنی عمر اس کی جسمانی عمر سے کہیں زیادہ تھی اور کچھ گھریلو حالات نے اسے ضرورت سے زیادہ حساس بنا دیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ زویا نے اسے پڑھانے کی ذمہ داری قبول کی تھی ویسے بھی وہ ان بچوں میں سے تھا جو قدرتی ذہین تو ہوتے ہیں مگر انہیں صرف کسی کی توجہ یا تھوڑی سی بنیادی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اور یوں اس طرح زویا کا بھی آسانی سے وقت گزر جایا کرتا۔
’’جی نہیں ہماری قومی زبان اردو ہے اور یہ بات آپ اچھی طرح جانتے بھی ہو پھر…‘‘ زویا نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
’’نہیں آپی! اردو تو ہم غریبوں کی طرح دھتکاری ہوئی ہے‘ انگلش میڈیم کے بچے ہمیں حقارت سے دیکھتے ہیں۔ بیرون ملک جاکر ہمارے وزراء تک اردو بولنے میں ہتک محسوس کرتے ہیں حالانکہ کئی دوسرے ممالک انگلش کے بجائے اپنی زبان کو اہمیت دیتے ہوئے مترجم کا استعمال کرتے ہیں اور دوسرے ممالک کی بات چھوڑیں آپی! خود ہمارے دفتروں پر انگریزی زبان کا راج ہے‘ ہونہہ بلکہ انگریزی کا تو یہ حساب ہے کہ آگ لینے آئی تھی آگ والی بن بیٹھی۔‘‘
’’آریان!‘‘ اس کے لہجے کی تلخی زویا کو حیران کررہی تھی لیکن پھر بھی اس نے چند منٹ خاموش رہ کر اس کے اندر جمے ہوئے لاوے کو باہر نکلنے کا بھرپور موقع دیا۔
’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں آپی! ہم جیسے غریب لوگ جو سرکاری اسکولوں میں اردو کو اوڑھنا بچھونا بناکر مائوں کو بڑا افسر بننے کا خواب دکھاتے ہیں ناں بعد میں ہم ہی لوگ ان خوابوں کی کرچیاں بھی سمیٹتے ہیں۔‘‘ سر جھکا کر وہ سامنے رکھی کاپی پر آڑھی ٹیڑھی لائنیں بنانے لگا تھا۔ پہلے تو زویا نے خاموشی سے سوچا مگر پھر اپنے ہی ارادے کی نفی کرکے بولی۔
’’محنت کرنے والے لوگ پرائیوٹ اسکولز یا انگلش کے محتاج نہیں ہوتے آریان! تم دیکھو ہمارے ملک کے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کرنے کا باعث بنے وہ میری اور آپ کی طرح سرکاری اسکولوں سے ہی پڑھے تھے ناں۔‘‘
’’پتا نہیں آپی! لیکن آپ یہ بھی تو دیکھئے ناں صبور بھائی اب تک نوکری کے لیے صرف اس لیے خوار ہوتے پھر رہے ہیں کیونکہ وہ انگلش لینگویج کا کورس کرنے کے باوجود انٹرویو میں اعتماد سے انگلش نہیں بول پاتے۔ باوجود اس کے کہ وہ نہایت ذہین ہیں مگر انگلش میں روانی نہ ہونے کے باعث نروس ہوجاتے ہیں۔‘‘ سابقہ تلخ لہجے میں اب شکستگی بھی نمایاں تھی اور زویا کے سامنے اب اس کے رویے کی گتھی چونکہ سلجھ چکی تھی اس لیے چاہتی تھی کہ اسے پیار سے سمجھائے مگر آج وہ پہلے ہی جلدی چھٹی کرنے کا کہہ چکا تھا اس لیے زویا نے اپنا ارادہ کل پر ملتوی کرتے ہوئے چھٹی تو دی مگر اس کی کہی گئی باتیں ذہن کے کونے میں چپک کر رہ گئیں۔
’’چلو مسٹر افلاطون! آج تو چھٹی کرو اور اس ننھے سے دماغ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو‘ باقی تفصیل سے باتیں ان شاء اللہ کل کریں گے۔‘‘ زویا نے خوشدلی سے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی تو وہ بھی ہنسنے لگا۔
اس کے بیگ سمیٹنے تک وہ بھی اٹھی‘ چولہا صاف کرنے کے بعد دھونے والے برتن ٹوکری میں رکھے‘ بچا ہوا سالن پلیٹ میں ڈال کر فریج میں رکھا اور برتن صحن میں نل کے پاس رکھ کر دھونے لگی۔ آریان اس کے صحن میں آنے سے پہلے ہی اسے اللہ حافظ کہہ کر جاچکا تھا اور وہ ابھی تک اس کی حساسیت پر حیران تھی کہ اس عمر میں تو لڑکے عموماً کرکٹ اور دوسرے مشاغل کی باتیں کرتے ہیں اور وہ ابھی سے کن مسائل اور فکروں میں الجھا ہوا ہے یہی سوچتے ہوئے اس نے ہمیشہ کی طرح انگوٹھی اتار کر ساتھ رکھے گملے میں ڈال دی۔ پہلے بھی اس کا یہی معمول تھا آٹا گوندھتی‘ برتن دھوتی یا کپڑے‘ انگوٹھی ہمیشہ اتار کر رکھ دیتی تھی تاکہ اس کی چمک ماند نہ پڑجائے اور پھر جس محبت اور جن حالات میں عائش نے اب یہ انگوٹھی خریدی تھی تو اسی جذبے کے پیشِ نظر زویا کے لیے یہ انگو ٹھی اپنے اس تمام زیور سے عزیز تر تھی جو اس نے عائش کو دیئے تھے۔
/…ؤ …/
’’وے اب نہ مانے کسی کی بات‘ منے تاں دماگ کھراب نہ ہوجائے‘ بوت باتاں کئے ہوں وس کے ساتھ‘ مائی جرینہ تاں کھاٹ پر لیٹن لاگی تھی‘ منے بولی کھد بات کر لیئو۔‘‘ شادے نے جامو کے پاس آکر اسے پوری تفصیل سے آگاہ کیا۔
’’تنے وس کو بتایا کہ میں کو وس کے سوا جگ ماں کچھ نجر نہ آوے۔‘‘
’’سب بتائے ہوں وس کو اور تنے کھبر ہے کا بولی؟‘‘ شادے نے لمحہ بھر رک کر کان صاف کیا اور اس کے صبر کو نہ آزماتے ہوئے بولا۔
’’بولی‘ منے بھی کھاب دیکھے ہیں مارا بھی تاں دل بولے کی جندگی ماں آن والا جے لمبے قد کا ہو‘ سادی والے روج سر پر راجپوتی صافہ باندھے‘ لمبے اور کھلے باجو والی گھیر واں قمیج پہن کر اپنے کان ماں گول گول بالے پہن کر‘ باجو پر گٹھڑی باندھے وس روج راجہ کے ماپھق نجر آوے۔‘‘
’’سادے ایو تاں مسکل ناں ہی‘ وس کے ساتھ مندری کی بات کرن بھیجا ناں تھارے کو‘ وس کا‘ کا بولی؟‘‘ جامو نے جب سے اس کی شرط سنی تھی گویا جان پر بنی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا حریف و سانول یہ شرط پوری کرکے سرخرو ہوجائے جبھی شادے کو پیامبر بنا کر اس کے پاس صرف اسی لیے بھیجا تھا تاکہ وہ اسے یہ شرط واپس لینے پر راضی کرسکے مگر ایسا نہ ہو بلکہ گلابو نے وہ تمام حلیہ بھی کہہ سنایا جیسا کہ وہ اپنے ہونے والے دلہا کو شادی کے روز دیکھنا چاہتی تھی۔
’’وے کوئی بات ناں سنے کسی کی‘ وس کی باتاں سن کر تاں مائی جرینہ بھی نجریں گالاں مان جوڑ لیں‘ کوئی وخت روئی بھی‘ پر ترنت اپنی چدر ماں آنسو چھپان کی کوسس مان آجو باجو دیکھن لاگی‘ پر تھاری گلابو اپنا کھیلا‘ اپنی سرط نہ بولی۔ وس کا گیروار رنگ تو بولوں دغ دغ کرن لاگا۔ شام سمے کی سرکھی ماپھق۔ بولی سادی تو کروں اور جرور کروں پر کروں گی وس کے سن جو ماری سرط پوری کرے۔‘‘ شادے نے جامو کے چہرے پر اترتی مایوسی بھی دیکھی اور آنکھوں میں جنم لیتا جنون بھی۔
’’مائی جرینہ بولی‘ وس نے بابے بسیرے کو ایو بات ناں بتائی اب تک‘ پر کوئی روج پتہ تاں لاگے ناں وس کو بھی اور کھدا جانے اب تک پتہ لگ بھی گئیو کہ نئیں۔‘‘
’’واہ ری ماری گلابو! ایو سن کر مارے تاں ہاتھ پائوں نہ چلیں‘ جقین کر سادے‘ منے لاگے جیسے پائوں جمین ماں پھنس گئے مارے۔ پر کا کروں مارے دل کی آواج منے کاناں ماں سنائی دے‘ دل کرے شتابی بس سونے کی مندری ملے۔‘‘ شادے نے ترس کھاتی نظروں سے جامو کو دیکھا جو اس سردی میں بھی بغیر چادر یا قمیص پہنے صرف بنیان اور دھوتی میں اس کے سامنے اپنے جھونپڑے میں بیٹھا تھا۔
’’اور ماری آنکھوں نے تاں اب تک سونے کی مندری دیکھی بھی ناں ہی۔‘‘
’’تنے کیا اس پوری وستی ماں کسی کے کھاندان ماں اب تک سونے کی مندری ناں آئی اور ماری بات مان جامو وستی ماں دوجی بھی تاں ٹانڈے ماپھق لڑکیاں ہی‘ کنی اور پسند کر رکھ وس کا دھیان چھوڑ دے‘ وے آپی سادی کرے‘ آپ بر لاوے تو وس کاٹنٹا گھتم کر۔‘‘ شادے نے اپنی تئیں بڑا مفید مشورہ دیا تھا اور اب کونے میں پڑا ٹھنڈی چلم والا حقہ اٹھا کر اس کے قریب لے آیا تھا اور اسے گڑگڑاتے ہوئے جامو کے جواب کا منتظر رہا جو اس کی بات سن کر بھی ٹھونکے کیل کی طرح ویسا کا ویسا بیٹھا رہا۔
’’جرا جان نگڑی کر اور وے گلابو آپی کانچ کی گڑیا سمجھے ناں پر تیں دیکھیں وس کانچ کی گڑیا کنے پلید بلی بنا دیوے وس کے ساتھ سادی کرنے والا۔‘‘
’’ناں سادے ناں‘ وس کو کچھ ناں بول…‘‘ جامو سے برداشت نہ ہوا تھا کہ شادے کے منہ سے گلابو کے لیے ایسی کوئی بھی بات سنتا‘ جبھی اس کی حمایت میں بولا پڑا۔
’’اَلاد اگر بن ماں باپ کے پلے تاں وے کھوڑ ہو ہی جاوے‘ اس ماں گلابو کا دوس۔‘‘
’’فرتیں جانے اور تھاری گلابو‘ منے تاں کچھ سمجھ نہ آوے‘ تھاری عاسقی کا‘ کا بنے۔‘‘ شادے نے تو ہتھیار ڈال دیئے تھے اور اب حقہ تازہ کرنے کے لیے چلم ہاتھ میں پکڑی اور آٹے کے کنستر کے اوپر رکھے شاپر میں سے گڑ کی ننھی سی ڈلی اٹھائی اور اسی شاپر میں رکھے دوسرے لفافے میں سے تمباکو مٹھی میں لیا اور چلم میں موجودہ سابقہ راکھ گرانے کے لیے جھونپڑے سے نکل گیا جب کہ جامو اس وقت بجلی کی سی رفتار سے گزرتے وقت کو اپنے حق میں کرنے کا گُر ذہن میں آنے پر مسکراتے ہوئے قدرے مطمئن لگ رہا تھا۔
/…ؤ …/
’’اللہ کے نام پر منے کچھ دے دیو بابا… اللہ رسولؐ کے نام کی کھاطر ماری مدد کر دیو…‘‘ ابھی برتن دھوتے زویا کو چند ہی منٹ گزرے تھے کہ گلی سے آتی یہ صدا اس کے کانوں تک پہنچی اور ساتھ ہی دروازہ بجانے کی بھی آواز آئی تو اس نے فوراً ہی صابن لگے اپنے ہاتھ دھوئے اور ہمیشہ کی طرح کچھ دینے کی نیت سے دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی بیرونی دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ … مگر یہ کیا؟
آریان کے جانے کی بعدوہ اس کی باتوں کے خیال میں یوں الجھی ہوئی تھی کہ دروازہ اندر سے بند کرنے کا تو دھیان بھی نہیں رہا تھا جبھی اس کے قدم جہاں تھے وہیں رک گئے تھے۔ ٹخنوں سے بالشت بھر اونچا سبز چوغہ‘ پائوں میں تین چار کڑے‘ گلے میں موٹے موٹے پتھر نما موتیوں کی مالا اور سر پر مختلف قسم کے کپڑوں کی ٹکڑیاں جوڑ کر بنائی گئی ٹوپی جس میں سے بال نکل کر شانوں پر جھول رہے تھے۔ ایک پائوں دروازے کے اندر اور دوسرا باہر کیے سرمہ لگی آنکھوں سے وہ لمبا چوڑا اور ہٹا کٹا فقیر بڑی گہری نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔
’’جو دیوے اس کا بھلا۔‘‘ دروازے کے عین درمیان میں کھڑے ہوکر اس نے بازو دراز کرتے ہوئے کشکول اس کی طرف بڑھایا تو زویا کے انگ انگ میں سنسنی دوڑ گئی اور جسم جیسے چیونٹیوں کی گزرگاہ لگنے لگا۔ بھائیں بھائیں کرتے خاموش اور چپ چاپ درو دیوار اس بات کے گواہ تھے کہ وہ اس وقت گھر میں اکیلی ہے۔
’’اگر مانگنا ہی ہے تو دروازے کے باہر کھڑے ہوکر مانگو یہ کون سا طریقہ ہے؟‘‘ تمام تر ہمت جمع کرکے وہ آخر بول ہی پڑی۔
’’ارے ڈر مت بچے! مارا کام تنے نصقان پوچانا نہ ہووے‘ ماں تاں کھیر بانٹوں‘ سب کے واسیے بس کھیر…‘‘ زویا اس کا حلیہ اس کی بات چیت اور خصوصاً اس کے دیکھنے کے انداز سے بے انتہا گھبرا گئی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے کہ ایک دم چونک ہی تو گئی۔
’’حق اللہ… حق…‘‘ آنکھیں بند کرکے جھوم کر کہتے ہوئے اس ’’اللہ لوک‘‘ نے بائیں ہاتھ میں پکڑا وہ ڈنڈا جس پر جابجا رنگ برنگے دھاگے بندھے ہوئے تھے زور سے زمین پر دے مارا تھا۔
’’ٹھیک ہے‘ ٹھیک ہے لیکن پہلے گھر سے تو باہر نکلو‘ پھر میں کچھ دیتی ہوں۔‘‘ گوکہ لرزش زدہ ٹانگوں کی کپکپاہٹ اس کے رہے سہے اعتماد کو بھی ختم کیے دے رہی تھی لیکن ظاہر ہے جیسے تیسے آخر ہمت تو کرنا ہی تھی سو دو قدم آگے بڑھاکر اس نے ہاتھ کے اشارے کا سہارا لیتے ہوئے اسے باہر نکلنے کو کہا تو اس اللہ لوک نے براہ راست اپنی عقابی آنکھیں زویا کی آنکھوں کی سیاہ پتلیوں پر مرکوز کرتے ہوئے ایک دم ہی بڑے جلالی انداز میں اسے وہیں اسی جگہ پر روک دیا۔
’’منے جیسے اللہ لوک گھر آویں تاں دھکے ناں ہی دیتے بچے۔ وس راسدہ بھی مارے ساتھ ایہو کس کیو‘ ہونہہ اب کھد قزرت وس کو مٹی ماں رول رہی ہے۔‘‘ خلا میں کچھ کھوجتے ہوئے اپنی بولتی آنکھیں اس پر مرکوز کرکے اس نے جانے کس راشدہ کی بات کی تھی لیکن زویا کو ایک دم اپنا سر زور سے چکراتا اور درد کرتا محسوس ہونے لگا تھا۔
’’لل… لیکن میں تو ابھی پیسے دے رہی تھی ناں آپ کو۔‘‘ بُری طرح گھبراہٹ کا شکار زویا نے دروازے کے ساتھ ہی رکھے چند سکوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’ای او…‘‘ وہ بڑے استہزائیہ انداز میں مسکرایا اور خود ہی وہاں سے ایک سکہ اٹھا کر ہاتھ کے اشارے سے اسے پاس بلایا اور خود گیٹ بند کرکے وہیں اندرونی طرف فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ وہ بھی بلاچوں چو چرا چھوٹے چھوٹے چار پانچ قدم اٹھاتی اس سے ذرا فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔
’’سائیں ماچس والی سرکار (فرضی نام ہے) کا گلام ہوں ماں۔ بچے سرکار کے نام کی نیاج لوں‘ اپنے کنے کچھ ناں رکھوں‘ تیں بھی میکوں جرا دل بڑا کرکے نیاج دے۔‘‘ اس کے وہیں سامنے بیٹھ جانے پر اس نے زویا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یوں بات کی گویا ہونٹ تو ہلے ہی نہیں تھے اور آنکھیں ہی آنکھوں سے ہم کلام ہوگئی تھیں پھر سکہ منہ میں ڈال کر داڑھ کے نیچے رکھ کر دبایا اور تھوک سمیت زویا کی طرف بڑھا دیا۔ زویا نے بھی میکانکی انداز میں اپنی ہتھیلی پھیلائی اور سکہ تھامتے ہی یوں مٹھی کو بھینچا گویا تبرک کی بے ادبی کا ڈر ہو۔
’’وس سکے کو گھر کے پیسوں کے ساتھ رکھ چھوڑ‘ فر دیکھیو پیسہ چقمق کی ماپھق تھارے گھر میں کھنچتا آوے گا۔‘‘ چند منٹ پہلے مزاحمتی رویہ رکھنے والی زویا اب اس کی ہر بات پر دل سے یقین بھی کررہی تھی اور چہرے پر اللہ لوک کے لیے نہایت عقیدت بھی تھی۔
’’بابا مہینے کے آخری دن ہیں ناں اس لیے تنخواہ تو تقریباً ختم ہوگئی ہے مگر کچھ بونس کی رقم ہی ہے جو میں استعمال نہیں کرسکتی۔‘‘
’’ہوں…‘‘ آنکھیں بند کرکے جھومتے ہوئے اس اللہ لوک نے چند لمحے کا مراقبہ کیا اور پھر ایک دم جیسے ’’منزل‘‘ پالینے پر حق اللہ… حق کہتے ہوئے ڈنڈا زمین پر دے مارا۔
’’اوبچے مارے کو مرشدوں سی طرفاں اتنی جاجت تاں نئیں پر تھارے لیے منے کھاس عرجی ڈال کر سرکار سے جاجت لی ہے۔ تھارے سوہر سے بھی پوچھ لیئو منے اب کی اب… جا لے آ جلدی شتابی…‘‘
اللہ لوک نے زویا پر خاص عنایت کرتے ہوئے اپنے علم کے ذریعے عائش سے بھی اجازت لے لی تھی۔ سو زویا نے خوابیدہ انداز میں چلتے ہوئے بونس میں ملنے والی رقم اسی طرح خاکی لفافے میں لاکر اس کے حضور پیش کردی۔ دونوں ہاتھوں سے لفافہ تھام کر فرش پر رکھنے کے بعد چند لمحے آنکھیں بند کرکے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتا رہا اور پھر اس سے پانی لانے کا کہا لیکن جب تک وہ پانی لائی وہاں نہ تو اللہ لوک کا کوئی وجود تھا نہ ہی خاکی لفافے میں بند ان روپوں کا اور تب اچانک ہی اسے یوں لگا جیسے وہ کسی بہت لمبی نیند سے جاگی ہو۔ پانی لانے اور یہاں یوں فرش کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کا مقصد بھی ذہن سے محو تھا۔ غائب دماغی سے اس نے گلاس وہیں ایک طرف رکھا‘ کھلے ہوئے دروازے کو کنڈی لگائی اور وہیں بیٹھ گئی۔ چند ہی لمحوں میں جیسے اس کی یادداشت واپس آنے لگی اور تبھی اس پر منکشف ہوا کہ وہ اپنی تمام تر پونجی گنوا بیٹھی ہے۔ بے اختیار آنسو اس کے چہرے سے ہوکر گود میں رکھی ہتھیلیوں پر گرنے لگے تو یکایک اسے اپنی انگوٹھی کا خیال آیا۔ بجلی کی سرعت سے قریب ہی موجود گملے کو دیکھا تو وہ بھی خالی تھا۔ روتے روتے اب کی بار وہ گملے کے پاس بیٹھی تو بس بیٹھتی ہی چلی گئی۔ یعنی وہ اللہ لوک اسے اللہ کے نام پر خالی ہاتھ اور تہی داماں کر گیا تھا۔
/…ؤ …/
آج کا دن ہی شاید اپنے دامن میں زویا اور عائش کے لیے عجیب و غریب اتفاقات لیے ہوئے طلوع ہوا تھا پہلے وہ اللہ لوک ساری جمع پونجی لے اڑا تھا اور اب عائش کے کمپنی ہیڈ اور پولیس… وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی کہ آخر پولیس اس کے گھر کی تلاشی کیوں لے رہی ہے؟ یوں بھی ہمارے ملک میں پولیس اتنی بااختیار ہے کہ جب چاہے بغیر اجازت نامے اور اطلاع کے کسی بھی عام آدمی کے گھر کی تلاشی لے سکتی ہے۔ اسی دوران عائش گھر میں داخل ہوا اور زویا ہی کی طرح وہ بھی پولیس کو دیکھ کر حیران تو ہوا ہی مگر چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا۔
’’کیوں بی بی! کہاں وہ رقم جو بونس کے نام پر ورکرز کو خریدنے کے لیے دی گئی تھی اور سبھی ورکرز نے باقاعدہ دستخط کرکے وہ تمام روپے وصول بھی کیے اور سر کے خلاف پولیس کو دینے والی درخواست کا حصہ بھی بنے۔‘‘ پولیس آفیسر کمپنی ہیڈ کے سامنے مکمل طور پر ایکٹو نظر آرہا تھا اور درست جواب کے حصول کی خاطر اس نے عائش کا منہ بھی زویا کے مخالف سمت کردیا تھا تاکہ کوئی واضح اشارہ نہ دیا جاسکے۔
’’رقم…؟ سر آپ جہاں چاہیں پورے گھر میں چیک کرلیں ایسی کوئی رقم ہمارے گھر میں نہیں۔‘‘
’’نہیں… کیسے نہیں جب سر کا بھائی خود کہتا ہے کہ اس نے عائش سمیت سب لوگوں کو انہیں خریدنے کے لیے رقم دی ہے اور میرے پاس ان نوٹوں کے نمبر ہیں پھر آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ رقم گھر پر ہے ہی نہیں؟‘‘
’’ٹھیک سر اگر وہ اتنے ہی سچے ہیں اور آپ ان کی باتوں کو اتنا ہی سچ جانتے ہیں تو پھر ان کی طرف سے دائر کی وہ شکایت بھی کیا سچی ہے؟‘‘ زویا کی بات پر وہ پولیس مین لاجواب ہوکر رہ گیا تھا۔
’’اور سر آپ نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو کہا تھا کہ انہوں نے سب ورکرز کو وہ روپے ایک ہفتے تک استعمال نہ کرنے کا کہا تھا سو اگر میرے پاس رقم ہوتی تو کیا میں اسے کہیں خرچ کرتا؟‘‘ پولیس آفیسر اور کمپنی کے ہیڈ نے ایک دوجے کو بغور دیکھا۔
’’سر آپ لو گ میرا یقین کریں نہ تو میرے پاس وہ روپے ہیں اور نہ ہی میں نے کہیں خرچ کیے ہیں اور اگر ہوتے تو بھلا اس چھوٹے سے گھر میں بھلا میں کہاں چھپاتا۔‘‘ عائش کے التجائیہ انداز پر اس کے کمپنی ہیڈ کا ہی دل پسپا سو پولیس آفیسر سے مخاطب ہوا۔
’’چھوڑیں‘ رہنے دیں اسے یہ میری کمپنی کا ذہین اور ایمان دار انسان ہے یقینا اس کے پاس وہ روپے نہیں ہیں ورنہ جھوٹ نہ بولتا۔‘‘
’’آپ لوگ پلیز اس بات کا یقین کرلیں کہ ہمارے گھر میں اس رقم کا ایک روپیہ بھی موجود نہیں ہے‘ تلاشی پہلے بھی آپ ہر جگہ کی لے ہی چکے ہیں۔ تسلی کرنا چاہیں تو بے شک ایک بار پھر اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں۔‘‘ زویا کیونکہ سچ بول رہی تھی اور گھر میں رقم کا کوئی وجود ہی نہیں تھا جبھی نہ تو لہجہ کانپا نہ الفاظ ڈگمگائے البتہ عائش جو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ محض اسے بچانے کی خاطر جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے اپنے چہرے کے تاثرات کا توازن درست نہیں رکھ پارہا تھا۔
’’مجھے تم پر فخر ہے عائش۔‘‘ کمپنی ہیڈ نے آگے بڑھ کر اس کا کندھا تھپکا۔ ’’تمہاری ایمان داری اور محنت کا تو پہلے بھی پورے اسٹاف میں چرچا تھا اور میں خو د تمہاری اس خوبی کا معترف بھی تھا مگر آج تو تم نے میرا دل جیت لیا ہے۔‘‘ ان کی اس قدر تعریف پر جہاں عائش نے سر جھکایا تھا وہاں انگلیاں چٹخاتی اور انہونی کے ڈر سے مضطرب زویا نے بھی بے اختیار گہری سانس لے کر اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔
’’اور اب پرموشن یقینا تمہارا حق بنتی ہے۔‘‘ انہیں خوش خبری سنانے کے بعد یوں پولیس کے گھر پر آنے اور تلاشی لینے کی معذرت کرتے ہوئے وہ جب گھر سے رخصت ہوئے تو عائش اور زویا دونوں ہی حیران تھے۔
یہ سچ تھا کہ اس نے وہ پیسے بونس کی مد میں وصول کیے تھے مگر اس بات سے وہ قطعی طور پر لاعلم تھا کہ یہ روپے کمپنی ہیڈ کے خلاف شکایت درج کروانے کے لیے دستخط کرنے کی مد میں اسے ادا کیے گئے ہیں اور یہ بات محض اس کی ایماندار ہی کی وجہ سے اس سے مخفی بھی رکھی گئی تھی اور زویا جو ابھی کچھ دیر پہلے بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اس نے تو آج تک کسی دوسرے کیا گلی سے گزرنے والے فقراء کے بارے میں بھی بُرا نہ سوچا نہ عمل کیا تو پھر آخر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا کہ وہ جو اللہ کی محبت میں اللہ کے بندوں سے محبت کا رویہ رکھے ہوئے تھی اسے آخر اس مصیبت اور پریشانی کا سامنا کیوں کرنا پڑا جو اس اللہ لوک کے ذریعے گھر میں داخل ہوئی۔ مگر پولیس اور کمپنی ہیڈ کے جانے کے بعد اب اس کا یقین اس بات پر مزید پختہ ہوگیا تھا کہ بعض اوقات ربّ ذوالجلال اپنے پیارے بندوں کو معمولی پریشانی دے کر کسی بڑی مصیبت سے بچا لیتا ہے۔
’’کیا تم بھی وہی سوچ رہی ہو زویا جو میں سوچ رہا ہوں؟‘‘ عائش نے اسے چپ چاپ کسی سوچ میں مگن دیکھ کر پوچھا تھا وہ چونکی‘ مسکرائی اور گہری سانس لے کر اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔
’’بے شک وہ سب سے اعلیٰ کارساز اور بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘ عائش نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور شکرانے کے نفل پڑھنے کے ارادے سے اٹھ گیا۔
/…ؤ …/
بس اسٹاپ سے میل بھر دور خانہ بدوش فقیروں کی یہ بستی آج تو کچھ الگ ہی ڈھب میں نظر آتی تھی‘ رنگین پیڑھی پر بیٹھی گلابو‘ آتشی گلابی جوڑا پہنے‘ سر کے بالوں کو پراندے میں گوندھ کر چٹیا بنانے کے بجائے پتلی پتلی مینڈھیاں بنائے‘ بازوئوں اور گلے میں مصنوعی مگر سنہری زیورات سجائے اپنی کاجل لگی بڑی بڑی آنکھوں کو جھکائے جامو کے ساتھ شرمائی لجائی بیٹھی تھی اور جامو فخر سے یوں گردن اکڑائے ہوئے تھے جیسے سومنات کا مندر اسی نے فتح کیا ہو۔ بستی کے باقی لوگ بھی نیم دائرے کی شکل میں ان دونوں کے گرد موجود تھے اور سب ہی گلابو کی قسمت پر رشک کررہے تھے۔ گلابو کی سہیلیاں گھی کے خالی ڈبے کو بجا کر مختلف گیت گارہی تھیں کہ آج گلابو اور جامو کے ایک ہونے کا دن تھا اور پھر جیسے ہی ان سب نے اپنی بپاشا کا پسندیدہ گانا ’’ماہی ماہی مینوں چھلا‘‘ گانا شروع کیا تو ساتھ ہی خود کو رقص کرنے سے بھی نہ روک سکیں۔ بابے بسیرے اور سانول سمیت سبھی ہتھیلی پر جم جانے والی اس سرسوں پر بے حد حیران تھے اور جب جامو نے اپنے وعدے کی تکمیل کی صورت میں جیب سے انگوٹھی نکال کر مائی جرینہ کی طرف بڑھائی تو مائی جرینہ نے بڑی سہولت سے اس کا ہاتھ سامنے بیٹھی زیر لب مسکراتی گلابو کی طرف موڑ دیا اور یوں جب جامو نے گلابو کو وہ تین سفید نگوں والی خوب صورت سی انگوٹھی پہنائی تو وہاں موجود تمام بستی والوں کی آنکھوں میں رشک و حسرت تھی اور گلابو کے ہونٹوں کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ ان روپوں کا دکھ فراموش کرگیا تھا جو بستی تک پہنچنے سے پہلے ہی کہیں اِدھر اُدھر جاگرے تھے۔
وہاں موجود تمام لوگوں اور خود جامو نے آج سے پہلے تک تو کبھی سونے کی انگوٹھی کو چھوا تک نہیں تھا مگر آج سونا خود گلابو کی انگلی کو چوم رہا تھا اس لیے گلابوکا اترانا بھی حق پر تھا سو نظروں ہی نظروں میں گلابو کا طواف کرتا جامو آج خود کو ہوائوں میں اڑتا محسوس کررہا تھا کہ آج اس کی گلابو حقیقت میں بپاشا بنی ادائیں دکھا رہی تھی اور ایک سونے کی انگوٹھی کے بدلے اب تمام عمر کے لیے اس کی ملکیت تھی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close