یہ رفاقتوں کے دریا

یہ رفاقتوں کے دریا

نگہت عبداللہ

اس نے آخری دو پیریڈ مس کر دیئے تھے اور جیسے ہی اس کے گھر میں داخل ہوئی زرینہ ہمیشہ کی طرح دوپٹے کا کونا دانتوں میں دبا کر ہنسنے لگی۔ گوکہ اب وہ جان گئی تھی کہ وہ یونہی ہنستی ہے پھر بھی ٹوک دیا۔
’’کیوں ہنس رہی ہو؟‘‘
’’تم بھائی سے ملنے آئی ہو نا؟‘‘ زرینہ نے شرماتے ہوئے کہا تو وہ بے ساختہ مسکرائی۔
’’نہیں‘ تم سے۔‘‘
’’سچی…؟‘‘
’’سچی…‘‘ وہ اس کی نقل اتارتے ہوئے پوچھنے لگی۔ ’’اب سچی سچی بتائو‘ تمہارا بھائی کہاں ہے؟‘‘
’’اندر…‘‘ زرینہ نے کمرے کی طرف اشارہ کیا تو وہ اس کے گال پر چٹکی کاٹ کر اس کمرے کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ دوسرے کمرے سے اس کی اماں کو نکلتے دیکھ کر وہ ان کے پاس چلی آئی۔
’’السّلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السّلام‘ ٹھیک ہو؟‘‘ اماں نے جواب کے ساتھ اس کی خیریت پوچھی۔
’’جی‘ آپ کیسی ہیں؟‘‘
’’شکر ہے‘ رابیل ادھر اپنے کمرے میں ہے۔‘‘ اماں نے بتایا تو وہ کچھ جھجک گئی اور ان سے نظریں چرا کر فوراً اس کے کمرے میں آئی۔
’’ہیلو۔‘‘
’’تم…‘‘ وہ قدرے حیراں ہوا۔ ’’یونیورسٹی نہیں گئیں؟‘‘
’’گئی تھی‘ بالکل دل نہیں لگا۔‘‘ وہ کندھے سے بیگ اتار کے بے پروائی سے بیڈ پر اچھالتے ہوئے بولی تو وہ قصداً انجان بن کر پوچھنے لگا۔
’’کیوں؟‘‘
’’تم جو نہیں تھے‘ یہی سننا چاہتے ہو ناں؟‘‘ اس نے کہا تو وہ اسے نظروں کی گرفت میں لیتے ہوئے بولا۔
’’صرف یہی نہیں‘ میں تو اور بھی بہت کچھ سننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی تو وہ نظریں چرا کر بولا۔
’’مت ہنسا کرو‘ مجھے تمہاری ہنسی سے ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’ہائے نہیں‘ اتنی خوف ناک ہنسی تو نہیں ہے میری۔‘‘
’’خواب ناک تو ہے‘ میری نیند چرا لیتی ہے۔‘‘
’’اچھا؟‘‘ وہ چیئر کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’یونیورسٹی کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’بس صبح سر میں درد تھا‘ طبیعت بھی کچھ بوجھل ہورہی تھی‘ اس لیے چھٹی کرلی۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ فوراً پوچھنے لگی۔
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’تمہیں دیکھ کر فریش ہوگیا ہوں۔‘‘ وہ دلکشی سے مسکرایا۔
’’پھر بھی ڈاکٹر کو ضرور دکھا دینا۔‘‘
’’اب ضرورت نہیں رہی۔‘‘ رابیل نے کہا تب ہی زرینہ دروازے میں آکر بولی۔
’’بھائی‘ میں نے کھانا لگا دیا ہے۔‘‘
’’ہاں چلو۔‘‘ وہ اسے دیکھ کر بولا تو اس نے فوراً اٹھ کر اپنا بیگ اٹھا لیا۔
’’نہیں رابی! میں اگر کھانا کھانے بیٹھی تو بہت دیر ہوجائے گی۔‘‘
’’کوئی دیر نہیں ہوتی‘ چلو۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی کھینچتے ہوئے ڈائننگ روم میں لے آیا۔
’’گوکہ وہ پہلی بار اس کے گھر نہیں آئی تھی اور نہ ہی پہلی بار کھانے میں شریک ہورہی تھی پھر بھی اماں کے سامنے جھجکتی تھی‘ زرینہ کی ہنسی اسے مزید خفیف کرتی تھی۔ ابھی بھی وہ بار بار اسے دیکھ کر ہنس رہی تھی اس نے رابیل کو کہنی مار کر اس کی طرف متوجہ کیا تو وہ ڈانٹ کر پوچھنے لگا۔
’’کیوں ہنس رہی ہو؟‘‘
’’ایسے ہی۔‘‘ زرینہ ہنسی کے درمیان بولی۔
’’ایسے ہی تو پاگل ہنستے ہیں۔‘‘
’’کوئی نہیں‘ میں پاگل نہیں ہوں۔‘‘
’’اچھا چلو‘ کھانا کھائو اور اسے بھی کھانے دو۔‘‘
’’بس کھا چکی۔‘‘ وہ فوراً چیئر دھکیل کر اٹھ کھڑی ہوئی تو اماں اسے دیکھ کر تعجب سے بولیں۔
’’ہیں‘ یہ تم نے کھانا کھایا ہے؟‘‘
’’باقی گھر جاکر کھائوں گی کیونکہ امی پریشان ہورہی ہوں گے۔‘‘ وہ کہہ کر اسے یوں دیکھنے لگی جیسے اب میں چلوں گی اور وہ سمجھ کر پوچھنے لگا۔
’’کیسے جائو گی؟‘‘
’’جیسے آئی تھی۔‘‘
’’چلو‘ میں اسٹاپ تک چھوڑ آئوں۔‘‘ وہ کھانے سے ہاتھ کھینچ کر اٹھنے لگا تھا کہ وہ روک کر بولی۔
’’کھانا کھا لو‘ میں انتظار کرلیتی ہوں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ڈائننگ روم سے نکل کر لائونج میں آبیٹھی اور کارنر ٹیبل سے اخبار اٹھا کر اس کی سرخیوں پر نظر دوڑانے لگی۔ کچھ دیر بعد رابیل کے قدموں کی آواز سنتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور جیسے ہی رابیل کمرے میں داخل ہوا وہ فوراً بولی۔
’’چلو رابیل! بہت دیر ہوگئی۔‘‘
’’آتی کیوں ہو؟‘‘ اس کے شاکی لہجے پر وہ روٹھ کر بولی۔
’’آئندہ نہیں آئوں گی۔‘‘
’’بس یہی کہہ سکتی ہو تم۔‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
’’اور کیا کہوں؟‘‘
’’آئندہ آئوں گی تو جانے کا نام نہیں لوں گی۔‘‘ وہ پیچھے مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے بولا تو وہ ہنس پڑی۔
’’یہ میں نہیں کہہ سکتی۔‘‘
’’میرا دل رکھنے کی خاطر ہی کہہ دو۔‘‘ رابیل نے رک کر اس کا راستہ بھی روک لیا تو وہ پیچھے نظر ڈال کر بولی۔
’’کیا کررہے ہو‘ اماں آجائیں گی۔‘‘
’’آجائیں…‘‘ اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
’’رابی پلیز‘ مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ وہ اسے دھکیل کر آگے نکل گئی اور اس سے پہلے ہی دہلیز پار کر گئی تھی۔
ء…/…ء
وہ گھر میں داخل ہوئی تو معمول کے مطابق اپنے کپڑے چینج کرکے کچھ دیر کے لیے سوگئی تھی‘ پھر شام میں اٹھی تو روزانہ کی طرح چائے لے کر امی کے پاس آکر بیٹھی ہی تھی کہ وہ خوشی سے بھرپور آواز میں بولیں۔
’’مبارک ہو‘ سمیر شادی پر آمادہ ہوگیا ہے۔‘‘
’’سچ…‘‘ وہ بھی خوشی سے اچھلی تو اس کے ہاتھ پر گرم چائے چھلک گئی لیکن اس نے پروا نہیں کی‘ مگ ٹرے میں رکھ کر پوچھنے لگی۔ ’’کہاں ہیں سمیر بھائی؟‘‘
’’ابھی باہر گیا ہے‘ کہہ رہا تھا کسی کام سے جارہا ہوں۔‘‘ امی نے بتایا تو وہ پرشوق انداز میں پوچھنے لگی۔
’’اچھا شادی کا کیا کہا؟‘‘
’’زیادہ کچھ نہیں کہا‘ بس یہی بتایا کہ اسے ایک لڑکی پسند آگئی ہے اور وہ جلد ہی مجھے اس کے گھر لے جائے گا۔‘‘ امی نے کہا تو وہ فوراً بولی۔
’’میں بھی چلوں گی۔‘‘
’’ہاں لیکن…‘‘
’’کوئی لیکن ویکن نہیں امی بس میں بھی چلوں گی‘ اللہ مجھے کتنا شوق ہے بھابی کا۔ امی سمیر بھائی سے کہیں ہمیں فوراً ان کے گھر لے جائیں۔‘‘
’’کہا تو ہے اس نے‘ جلدی ہی لے جائے گا۔‘‘
’’آپ نے ابو کو بتایا؟‘‘
’’ابھی آئے کہاں ہیں تمہارے ابو اور ہاں تمہارے سمیر بھائی میٹھے کی فرمائش کرگئے تھے‘ جائو جلدی سے کسٹرڈ بنالو۔‘‘ امی نے اچانک یاد آنے پر کہا تو وہ چائے کا مگ لے کر اٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’اور کھانے میں کیا پکے گا؟‘‘
’’بس روٹی پکانی ہے‘ سالن میں نے دوپہر ہی میں پکا لیا تھا‘ چائے پی لو آرام سے۔‘‘ امی نے اس کے ہاتھ میں مگ دیکھ کر کہا۔
’’ٹھنڈی ہوگئی ہے اور بنائوں گی۔‘‘ وہ کہتے ہوئے کچن میں آگئی‘ پہلے چولہے پر چائے کا پانی رکھا پھر کسٹرڈ کا سامان اکٹھا کرتے ہوئے گنگنانے لگی۔
’’مدت سے یہی ارمان کے بھیا میرا دلہا بنے گا۔‘‘
’’اوہو… بڑے گانے گائے جارہے ہیں۔‘‘ امبر نے کچن میں جھانک کر کہا تو وہ اسے دیکھ کر شوخی سے بولی۔
’’ہاں اب تو گانے گانے کے دن آرہے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ امبر اندر آگئی۔
’’سمیر بھائی کی شادی۔‘‘ اس نے اترا کر بتایا۔
’’سچ کب ہے‘ کس کے ساتھ؟‘‘ امبر نے خوشی کے اظہار کے ساتھ پوچھا۔
’’ایک عدد لڑکی جو سمیر بھائی نے خود پسند کی ہے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ امبر کی بے یقینی پر وہ ہنستی ہوئی بولی۔
’’اس صدی کی حیرت انگیز بات ہی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’ہاں نا۔‘‘
’’واقعی‘ کیسی ہے؟‘‘ امبر نے اعتراف کے ساتھ پوچھا۔
’’پتا نہیں‘ ابھی میں نے دیکھی کہاں ہے‘ آج ہی تو انہوں نے امی کو بتایا ہے کہ وہ لڑکی پسند کرچکے ہیں اور بہت جلد امی کو ان کے گھر لے جائیں گے۔‘‘ اس نے بتایا تو امبر مشکوک انداز میں بولی۔
’’کہیں چکر تو نہیں دے رہے؟‘‘
’’نہیں‘ تمہیں پتا ہے وہ صاف بات کرنے کے عادی ہیں۔‘‘
’’ہاں‘ یہ تو میں مانتی ہوں‘ اچھا سنو سمیر بھائی کی شادی کا پروگرام ہے یا ساتھ تمہاری بھی؟‘‘ امبر نے اسٹول کھینچ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو وہ فوراً تڑخ کر بولی۔
’’جی نہیں‘ میرا ابھی شادی وادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں ابھی تو وہ بے چارہ پڑھ رہا ہے‘ اس کے بعد جاب تلاش کرنے کا مرحلہ آئے گا پھر…‘‘
’’اچھا بس چپ۔‘‘ اس نے ٹوک دیا تو امبر ذرا سا ہنس کر کہنے لگی۔
’’سنو‘ اسے ضرور خبردار کردینا کہ سمیر بھائی کے بعد تمہارا نمبر ہے۔‘‘
’’اسے پتا ہے۔‘‘ وہ قصداً بے نیازی دکھا کر پوچھنے لگی۔ ’’چائے پیو گی؟‘‘
’’نہیں‘ یہ تم کسٹرڈ بنا رہی ہو؟‘‘
’’ہاں…‘‘
’’مجھے ضرور بھجوانا۔‘‘ امبر کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میرے نوکر نہیں لگے ہوئے‘ یہیں آکر کھا لینا۔‘‘
’’رات میں آئوں گی‘ بچا کر رکھنا۔‘‘ امبر کہتے ہوئے چلی گئی تو وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے پھر گنگنانے لگی تھی۔
اسے واقعی اپنے اکلوتے بھائی کی شادی کا بہت ارمان تھا گزشتہ پانچ سالوں سے وہ ان کے لیے لڑکیاں دیکھ رہی تھی یعنی اپنے طور پر اسے جو بھی لڑکی اچھی لگتی وہ اسے سمیر بھائی کے لیے پسند کرلیتی اور جب امی کو بتاتی تو وہ گہری سانس کے ساتھ کہتی۔
’’ارے پہلے بھائی سے تو پوچھو‘ وہ پتا نیں کیا سوچے ہوئے ہے؟ شادی کا تو نام ہی نہیں سننا چاہتا۔‘‘
اس کی کبھی ہمت نہیں ہوئی سمیر بھائی سے پوچھنے کی کیونکہ وہ اس سے ایک دو نہیں پورے دس سال بڑے تھے یعنی وہ پہلوٹی کی اولاد تھے اور یہ سب سے آخر کی۔ یہ اور بات کہ درمیان میں جتنی بھی اولادیں ہوئیں وہ سال چھ مہینے سے زیادہ زندہ نہیں رہی تھیں بہرحال جب وہ چھوٹی تھی تب تو سمیر بھائی کے آگے پیچھے پھرا کرتی تھی لیکن جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی ان کی غیر معمولی سنجیدگی سے خائف رہنے لگی تھی جہاں وہ گھر میں داخل ہوتے یہ اپنے کمرے میں جا گھستی۔ پھر بھی ان کی شادی کے لیے بڑی مشتاق تھی جب وہ آٹھویں کلاس میں پڑھتی تھی تب سے ان کے لیے لڑکیاں دیکھ رہی تھی چار سال تک بڑی پُرجوش رہی تھی پھر آہستہ آہستہ مایوس ہونے لگی۔ یہ تو اس نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا کہ سمیر بھائی خود لڑکی پسند کرلیں گے کیونکہ اس کے خیال میں وہ دنیا کے خشک ترین انسان تھے۔ جانے کیسی لڑکی پسند کی تھی وہ خود ہی سوچ سوچ کر پاگل ہوئی جارہی تھی اور بڑی بے چینی سے منتظر تھی کہ کب سمیر بھائی اسے اور امی کو لے جانے کی بات کرتے ہیں۔
تین دن اس کے بڑے بے قراری میں گزرے تھے‘ چوتھے دن سمیر نے خود ہی اسے ساتھ چلنے کو کہا تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا اور وہ بہت شوق سے تیار ہوکر امی اور سمیر بھائی کے ساتھ ان کی پسند کی ہوئی لڑکی دیکھنے بلکہ باقاعدہ پرپوزل دینے آئی تھی کیونکہ پسند تو سمیر بھائی پہلے ہی کرچکے تھے۔ اب چاہے اسے اور امی کو پسند آئے یا نہ آئے گھر سے چلتے ہوئے سمیر نے امی کو صاف لفظوں میں تو نہیں لیکن اشارتاً بتا دیا تھا کہ وہ شادی کریں گے تو عالیہ سے ورنہ نہیں‘ جس سے اس کا جوش قدرے ماند پڑگیا تھا کہ وہ اس لڑکی پر کوئی تبصرہ بھی نہیں کرسکتی‘ بس دیکھتے ہی اوکے کردینا تھا خواہ وہ کیسی بھی ہو۔ اور وہ کیسی بھی نہیں تھی بلکہ بہت حسین تھی‘ اسے دیکھ کر وہ اور امی بھی کچھ دیر کو تو پلکیں جھپکنا ہی بھول گئی تھیں پھر سمیر کے کھانسنے پر امی چونکنے کے ساتھ بے اختیار بولیں۔
’’ماشاء اللہ۔‘‘
’’ہائے امی! یہ ہمارے گھر آئیں گی‘ انہیں تو کسی محل میں ہونا چاہیے۔‘‘ اس نے خوشی سے بے قابو ہوکر امی سے سرگوشی میں کہا تو وہ اسے گھور کر بولیں۔
’’کیوں سمیر کم ہے کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ ہنسی تو پھر بات بے بات ہنستی ہی رہی تھی کیونکہ اندرونی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی اور جب عالیہ اٹھ کر جانے لگی تو وہ بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلی آئی۔
’’پتا ہے ہم کیوں آئے ہیں؟‘‘ اپنے تئیں اس نے چھیڑنے کی غرض سے کہا لیکن عالیہ مسکرا کر بولی۔
’’سمیر لے کر آئے ہیں‘ بہت دنوں سے کہہ رہے تھے۔‘‘
’’تو سمیر بھائی آتے رہتے ہیں۔‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں اکثر۔‘‘ عالیہ بے پروائی سے بولی۔ ’’یہ تم اپنے بھائی سے پوچھنا کہ وہ یہاں کب کب آتے ہیں۔‘‘ تب ہی اس کی دونوں بہنیں آگئیں تو وہ ان کا تعارف کرانے لگی۔
’’یہ ہما ہے اور یہ فروا۔‘‘
’’السّلام علیکم۔‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی کیونکہ وہ دونوں عالیہ سے بہت مختلف تھیں۔ نہ ناک نقشہ نہ رنگ روپ اور اسی حیرت میں وہ بے اختیار پوچھ گئی۔
’’یہ آپ کی سگی بہنیں ہیں؟‘‘
’’تم سمیر بھائی کی سگی بہن ہو؟‘‘ فروا کو شاید اس کی بات ناگوار گزری تھی جس پر وہ فوراً سنبھل کر بولی۔
’’میرا مطلب ہے سمیر بھائی نے آپ کا ذکر نہیں کیا تھا‘ اس لیے میں سمجھی شاید عالیہ باجی اکلوتی ہیں۔‘‘
’’ہم چار بہن بھائی ہیں‘ تین بہنیں اور ایک بھائی۔‘‘ عالیہ نے بتایا تو اس نے یونہی سر ہلا دیا پھر قدرے توقف سے پوچھنے لگی۔
’’آپ سب سے بڑی ہیں؟‘‘
’’نہیں‘ سب سے بڑے بھائی ہیں پھر میں اور میرے بعد ہما اور فروا۔‘‘
’’اور ہم بس دو بہن بھائی ہیں۔‘‘ اس نے کہا تو عالیہ مسکرا کر بولی۔
’’مجھے معلوم ہے۔‘‘
’’اچھا اور کیا کیا معلوم ہے؟‘‘ وہ پھر شوخ ہوگئی۔
’’زیادہ کچھ نہیں‘ جیسے مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ تم کیا کرتی ہو؟‘‘ عالیہ نے کہا۔
’’میں آنرز کررہی ہوں اور آپ؟‘‘ اس نے بتا کر پوچھا۔
’’میں نے اسی سال انگلش میں ماسٹرز کیا ہے اور اس کے بعد سمیر کے آفس میں ہی جاب کررہی ہوں جبکہ یہ دونوں گریجویشن کرکے گھر بیٹھ گئی ہیں۔‘‘ عالیہ نے اپنے ساتھ بہنوں کا بھی بتایا تو وہ انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’کیوں آپ کو ماسٹرز کرنے کا شوق نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں‘ بی اے کرلیا یہ بھی بہت ہے۔‘‘ ہما نے اس انداز سے کہا جیسے بی اے بھی اس سے زبردستی کروایا گیا ہو۔
’’باتیں تو ہوتی رہیں گی‘ چلو پہلے چائے پی لو۔‘‘ عالیہ کہتے ہوئے اٹھی تو وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور جب اس کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آئی تو امی اسے دیکھتے ہی بولیں۔
’’چلنا نہیں ہے؟‘‘
’’جی چلیں۔‘‘
’’ہائیں‘ ایسے کیسے چلیں بیٹھو بیٹی! کچھ کھائو پیو۔‘‘ عالیہ کی امی نے اس سے کہا تو وہ ایک نظر ٹیبل پر سجے لوازمات پر ڈال کر بولی۔
’’بس آنٹی پھر ان شاء اللہ آئوں گی‘ تو سب کچھ کھائوں گی۔‘‘
’’ہاں اب تو آنا جانا رہے گا۔‘‘ امی کے ساتھ سمیر بھائی بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جب گھر آکر معلوم ہوا کہ انہوں نے سوچ کر جواب دینے کو کہا ہے تو وہ جھنجلا گئی۔
’’اب کیا سوچیں گے‘ پہلے سوچنا چاہیے تھا۔‘‘
’’کیسی بات کررہی ہو‘ پہلے کب گئے تھے ہم۔‘‘ امی نے ٹوکا۔
’’ہم نہیں گئے لیکن سمیر بھائی تو جانے کب سے جارہے ہیں اور ایسے ہی تو نہیں کوئی کسی کو اپنے گھر بٹھاتا۔‘‘ اس کی بات ٹھیک تھی پھر بھی امی نے اسے ڈانٹ کر خاموش کروا دیا تو وہ منہ پھلائے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے امبر کے پاس آگئی۔
’’کیا ہوا‘ پسند نہیں آئی؟‘‘ امبر نے اس کا پھولا منہ دیکھتے ہی پوچھا تو وہ پھر سے جوش میں آگئی۔
’’ارے پسند نہ آنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اتنی پیاری‘ اتنی حسین لڑکی میں نے اس سے پہلے شاید ہی دیکھی ہو۔ ایمان سے میں اور امی پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں۔‘‘
’’اچھا پھر تمہارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟‘‘
’’وہ تو ان کی بات پر… سوچنے کو وقت مانگا ہے‘ بھلا بتائو یہ کوئی تُک ہے؟‘‘
’’ہاں تو تمہارا کیا خیال تھا ابھی اسے ساتھ لے آئو گی‘ تم چلی جانا اسی وقت جب اس کی امی آئیں گی۔‘‘ امبر نے اس کے بازو میں چٹکی کاٹ کر رابیل کے حوالے سے چھیڑا تو وہ بازو سہلاتے ہوئے بولی۔
’’ہاں‘ میں چلی جائوں گی اسی وقت‘ دیکھنا تم۔‘‘
’’ماشاء اللہ اپنی امی سے تو ابھی تک بات نہیں کی۔‘‘
’’امی سے کہتے ہوئے شرم آتی ہے‘ بھابی آجائیں ان سے کہوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر کھلکھلائی تھی۔
ء…/…ء
وہ کلاس روم سے نکلی تو رابیل سامنے ہی موجود تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اس کی طرف آنے کے بجائے ناراضی سے منہ موڑ کر سیڑھیاں اتر گیا۔
’’ارے۔‘‘ اگلے پل وہ ہانپتی ہوئی اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ ’’کس بات پر خفا ہو؟‘‘
’’کل کیوں نہیں آئی تھیں؟‘‘ اس نے خفگی سے پوچھا تو وہ مطمئن ہوکر بولی۔
’’بس اتنی سی بات۔‘‘
’’یہ اتنی سی بات ہے۔‘‘ وہ رک گیا۔ ’’پتا ہے میں سارا وقت کتنا پریشان رہا‘ دس چکر تمہارے ڈیپارٹمنٹ کے لگا ڈالے‘ ایک ایک سے پوچھتا پھرا‘ سو طرح کے اندیشے الگ‘ ایک فون نہیں کرسکتی تھیں یا میسج؟‘‘
’’میرا موبائل خراب ہے۔‘‘ وہ روٹھے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’موبائل خراب تھا۔‘‘ وہ اس کی نقل اتار کر پوچھنے لگا۔ ’’کیوں نہیں آئی تھیں؟‘‘
’’سمیر بھائی کے سسرال گئی تھی۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ اچھل کر بولا۔
’’کیا… تم نے تو کہا تھا تمہارے بھائی کی ابھی شادی نہیں ہوئی؟‘‘
’’ہونے والے سسرال‘ لڑکی دیکھنے…‘‘
’’دیکھ لی۔‘‘
’’ہاں بہت پیاری ہے۔‘‘ وہ خوش ہوکر بولی۔ ’’سمیر بھائی کی شادی ہوگی‘ کتنا مزہ آئے گا۔ میں تمہیں بھی بلائوں گی‘ تم اپنی امی کے ساتھ آنا اور زرینہ کو بھی لے آنا۔‘‘ وہ بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔ ’’آئو گے ناں؟‘‘
’’دیکھو…‘‘ وہ کینٹین کی طرف چل پڑا۔
’’کیا دیکھو…؟‘‘ وہ پھر اس کے ساتھ تھی۔ ’’تمہیں ضرور آنا ہے۔‘‘
’’ایک شرط پر۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’تم سج دھج کر میرے سامنے نہیں آئو گی۔‘‘ اس کے ہونٹوں میں دبی مسکراہٹ سے بھی وہ نہیں سمجھی۔
’’کیوں؟‘‘
’’اگر پورے خاندان کے سامنے مجھ سے کوئی بے اختیار حرکت سرزد ہوگئی تو؟‘‘
’’فضول باتیں نہیں کرو اور نہ ہی میں کوئی فضول بہانا سنوں گی‘ سمجھے۔‘‘ اس کی وارننگ پر وہ کندھے اچکا کر بولا۔
’’اوکے باس۔‘‘ پھر سنجیدہ ہوکر پوچھنے لگا۔ ’’کیسے بلائو گی مجھے‘ میرا مطلب گھر والوں سے کیا کہو گی؟‘‘
’’یہی کہ تم…‘‘ وہ خود سوچ میں پڑگئی اور اس کے ہنسنے پر گھور کر بولی۔
’’یونیورسٹی فیلو…‘‘
’’بس۔‘‘
’’ہاں بس اتنا تعارف کافی ہے۔‘‘ وہ کہہ کر بات بدل گئی۔ ’’اچھا سنو‘ میں کل بھی نہیں آئوں گی کیونکہ کل لڑکی والے ہمارے ہاں آئیں گے۔‘‘
’’کیا صبح سے آئیں گے۔‘‘ وہ رک کر پوچھنے لگا۔
’’جب بھی آئیں میں بہرحال نہیں آئوں گی کیونکہ سارے گھر کی صفائی کرنا ہے اور کھانا بھی مجھے پکانا ہے‘ سمجھے اب میں جارہی ہوں‘ میری کلاس ہے۔‘‘ وہ اسے یونہی گم صم چھوڑ کر پلٹ آئی تھی۔
ء…/…ء
اگلا سارا دن وہ بہت مصروف رہی‘ امبر بھی اس کی مدد کو آگئی تھی۔ دونوں نے دوپہر تک پورا گھر چمکا دیا‘ اس کے بعد کھانا کھاکر کچھ دیر آرام کیا پھر رات کی دعوت کی تیاری کے لیے دونوں کچن میں آگئیں۔ کام کے ساتھ دونوں کی نہ ختم ہونے والی باتیں بھی جاری تھیں۔
امبر سے اس کی دوستی بہت پرانی نہیں تھی بس دو سال ہوئے تھے وہ اوپر کے پورشن میں ان کے ہاں کرائے دار تھے جس طرح اس کی کوئی بہن نہیں تھی اسی طرح امبر بھی اکلوتی تھی۔ اس لیے دونوں پر کوئی پابندی نہیں تھی یعنی آزادانہ ایک دوسرے کے پاس آتی جاتی تھیں اکثر ویک اینڈ پر رات گئے تک یا امبر نیچے رہتی یا وہ اس کے پاس ہوتی تو پھر جب تک انہیں احساس نہ دلایا جاتا تب تک سوتی نہیں تھیں۔ پہلے تو دونوں آزادنہ ہنستی بولتی کھلکھلاتی تھیں یعنی ان کی آوازیں دوسرے کمرے تک سنی جاتی تھیں لیکن جب سے اس کی زندگی میں رابیل آیا تھا اور اس نے امبر کو ہم راز بنایا تھا تب سے وہ سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگی تھیں کیونکہ موضوع خواہ کوئی بھی ہوتا درمیان میں رابیل کا ذکر ضرور آجاتا تھا۔ اس وقت بھی کام کے ساتھ وہ سمیر بھائی کی عنقریب متوقع شادی کی باتیں کرتے ہوئے رابیل کو بلانے نہ بلانے پر الجھ گئی تھیں۔
’’میرا خیال ہے بلا ہی لو‘ اس طرح میں بھی اسے دیکھ لوں گی اور انکل آنٹی بھی ازخود سمجھ جائیں گے۔‘‘ امبر نے کہا تو وہ اچھل کر بولی۔
’’کیا… کیا سمجھ جائیں گے؟‘‘
’’یہی کہ جس لڑکے کو تم نے بلایا ہے وہ کوئی عام نہیں بلکہ خاص بندہ ہے۔ یوں تمہارے لیے بھی آسانی ہوجائے گی یعنی خود سے نہیں کہنا پڑے گا۔‘‘ امبر نے بڑی سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو وہ پُر سوچ انداز میں سر ہلا کر بولی۔
’’کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو۔‘‘
’’ہاں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں‘ اب کوئی لیکن اگر مگر مت کرنا۔‘‘ امبر نے فوراً کہا تو وہ ہنس کر بولی۔
’’جی میں کوئی اگر مگر نہیں کررہی بلکہ پوری طرح تم سے متفق ہوں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ خاصی پرجوش ہوگئی تھی اور مہمانوں کے سامنے بھی وہ ناصرف ایکٹیو بلکہ کھلکھلاتی رہی تھی کیونکہ پہلے مرحلے پر ہی جب وہ چائے لے کر گئی تھی تب ہی اس نے سن لیا تھا عالیہ کی امی اس رشتہ پر ہامی بھر رہی تھیں۔ اس لیے ان کی خاطر مدارت میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور امبر جو مہمانوں کے آتے ہی گھر چلی گئی تھی‘ ان کے جاتے ہی وہ اسے خوش خبری سنانے دو دو سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر پہنچتے ہی چلّانے لگی۔
’’امبر… امبر… ان کی طرف سے ہاں ہوگئی۔‘‘
’’سچ…‘‘ امبر فوراً ہی اس سے لپٹ گئی۔
’’کیا ہوا ہے‘ اتنا شور کس بات کا ہے؟‘‘ امبر کی امی ان کے شور سے باہر آئیں۔
’’وہ آنٹی‘ سمیر بھائی کی شادی…‘‘ وہ گڑبڑا کر بولی۔
’’کب ہے؟‘‘ آنٹی نے پوچھا تو وہ پیشانی پر ہاتھ مار کر بولی۔
’’یہ تو میں امی سے پوچھنا بھول ہی گئی‘ ابھی پوچھتی ہوں۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ جس طرح سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی آئی تھی اسی طرح واپس نیچے چلی آئی تو امی ٹوک کر بولیں۔
’’یہ کیا طریقہ ہے آرام سے نہیں چل سکتیں؟‘‘
’’ابھی میں بالکل حواسوں میں نہیں ہوں‘ خوشی سے پاگل ہو رہی ہوں۔‘‘ اس نے کھلکھلاتے ہوئی امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں لیکن ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے جب ان کے چہرے پر نظر پڑی تو کچھ ٹھٹک گئی۔
’’کیا بات ہے آپ خوش نہیں ہیں؟‘‘
’’کیوں نہیں۔‘‘ امی کے ڈھیلے ڈھالے انداز نے اسے مزید چونکا دیا۔
’’آپ کچھ چھپا رہی ہیں؟‘‘
’’چھپانے کی کوئی بات نہیں‘ اصل میں انہوں نے بدلے میں تمہیں مانگا ہے۔‘‘ امی نے بتایا تو اس کی ساری خوشی اور جوش پل بھر میں رخصت ہوگیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ اچانک کیا ہوا تھا‘ وہ حیرت سے امی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کیا… کیوں… میرا مطلب ہے‘ آپ صاف منع کردیں۔‘‘ وہ ان کے گلے سے بانہیں نکال کر نظریں چراتے ہوئے بولی۔
’’صاف منع کیوں کریں‘ پہلے لڑکا دیکھیں گے‘ سمیر تو اس کی بہت تعریف کررہا تھا کہ ماشاء اللہ اچھا پڑھا لکھا ہے اور کاروبار بھی اپنا ہے۔‘‘ امی نے کہا تو وہ جزبز ہوکر بولی۔
‘‘اس سے کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’یہی سب دیکھا جاتا ہے۔‘‘ امی نے زور دے کر کہا تو وہ بھی اسی انداز میں بولی۔
’’ہاں لیکن بدلے والی بات ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’مجھے بھی یہی بات کچھ کھٹک رہی ہے‘ بہرحال کل بلایا ہے انہوں نے‘ تمہارے ابو اس سے ملنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔‘‘ امی بات ختم کرکے اٹھ کھڑی ہوئیں تو وہ بے اختیار ان کا ہاتھ تھام کر بولی۔
’’امی مجھے شادی نہیں کرنی‘ میرا مطلب ہے میں ابھی پڑھ رہی ہوں۔‘‘ وہ امی کی نظروں سے خوف زدہ ہوگئی تھی اس لیے فوراً بات بنا گئی۔
’’ہاں ہاں… پڑھ لو۔‘‘ امی کا انداز ٹالنے والا تھا جس سے وہ جھنجلا کر رابیل کے حوالے سے بات کرنا ہی چاہتی تھی کہ ابو کو آتے دیکھ کر خاموش ہوگئی لیکن ساتھ ہی وہ کئی فیصلے کرچکے تھی۔
’’میں خاموش نہیں رہوں گی۔‘‘ اس نے کمرے سے نکلتے ہوئے یہ بات سوچی تھی پھر تمام رات وہ خود کو ہمت دلانے اور الفاظ کو ترتیب دینے میں جاگتی رہی تھی‘ کئی بار دل میں خیال آیا کہ اوپر جاکر امبر سے مشورہ کر لے لیکن پھر کچھ سوچ کر بیٹھی رہی تھی۔ صبح کے قریب اس نے تکیہ پر سر رکھا تو آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے کی وجہ سے خود ہی بند ہوتی چلی گئی تھیں۔ دوپہر سے ذرا پہلے آنکھ کھلی تو وہ حیران ہونے کے ساتھ سوچنے لگی کہ کسی اور نے اسے کیوں نہیں اٹھایا‘ رات سونے سے پہلے وہ اپنا موبائل آف کرکے سوئی تھی اس لیے اٹھتے ہی اسے آن کیا اور واش روم میں بند ہوگئی‘ فریش ہوکر کمرے میں آئی تو امی بیڈ پر بیٹھی تھیں‘ اسے دیکھتے ہی بولیں۔
’’آج تمہیں یونیورسٹی نہیں جانا تھا؟‘‘
’’جانا تھا‘ آپ نے اٹھایا نہیں۔‘‘
’’کتنی بار جھنجوڑا‘ کیا کھا کر سوئی تھیں؟‘‘
’’افیم…‘‘ اس نے جل کر سوچا اور انہیں جواب دیئے بغیر کچن میں آکر پہلے جائزہ لیا پھر چائے بناکر امی کے پاس آبیٹھی‘ بیڈ پر رکھے ان کے کپڑے دیکھ کر انجان بن کر پوچھنے لگی۔
’’کہاں کی تیاری ہے؟‘‘
’’تمہارے سسرال‘ آج رات کے کھانے پر بلایا ہے انہوں نے۔‘‘ امی کے منہ سے بے ساختہ ہی تمہارے سسرال نکلا تھا‘ جس پر وہ اچھل پڑی۔
’’میرا سسرال کہاں سے آگیا؟‘‘
’’ہو بھی سکتا ہے کیونکہ آج ہم لڑکا دیکھیں گے۔‘‘ امی نے کہا تو اس نے ہونٹ بھینچ کر خود کو فوراً کچھ کہنے سے باز رکھا پھر پہلے چائے پی‘ اس کے بعد بہت سنبھل کر انہیں مخاطب کرکے بولی۔
’’امی! آپ کو لڑکا دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ امی نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’وہ میں آپ کو بتانا چاہتی تھی کہ رابیل…‘‘ وہ اسی قدر کہہ کر سر جھکا گئی تو امی کچھ دیر اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتی رہیں پھر پُر سوچ انداز میں پوچھا۔
’’کون ہے رابیل!‘‘
’’میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہے‘ اس کا ایم کام کا آخری سال ہے۔‘‘ اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے بتایا پھر کتنی دیر امی کے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔ ذرا سی پلکیں اٹھا کر انہیں سوچتے دیکھ کر کہنے لگی۔
’’میں نے کوئی جرم نہیں کیا‘ بس مجھے وہ اچھا لگا‘ اس کے گھر والے بھی اچھے ہیں۔ میں ان سے مل چکی ہوں اور میں اس کے علاوہ…‘‘ وہ پھر خاموش ہوگئی تو امی سخت لہجے میں بولیں۔
’’جو تمہارے باپ کو وہ پسند آگیا عالیہ کا بھائی۔‘‘
’’میں یہ سب نہیں جانتی‘ میں نے آپ کو بتا دیا ہے اب ابو کو سمجھانا آپ کا کام ہے۔‘‘ وہ امی کو مشکل میں ڈال کر ان کے کمرے سے نکل آئی تھی اور یہ نہیں تھا کہ وہ خود اطمینان سے ہوگئی تھی بلکہ پہلے سے زیادہ پریشان اور خائف تھی کیونکہ ابو کی اصول پسند اور قدرے سخت گیر طبیعت سے واقف تھی۔ اس لیے شام میں وہ اپنے کمرے سے نکلی ہی نہیں‘ صبح سے اب تک رابیل کے بھی دس فون آچکے تھے وہ اس وقت اس سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی‘ اس لیے اس کے میسج کا جواب بھی نہیں دے رہی تھی جب سمیر بھائی‘ امی‘ ابو کو لے کر چلے گئے تب اس نے باہر آکر اوپر کی بیل بجائی تو امبر ریلنگ سے جھانک کر بولی۔
’’کیا ہے؟‘‘
’’نیچے آئو؟‘‘ وہ کہہ کر لائونج میں آبیٹھی تو فوراً ہی امبر سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے آگئی۔
’’خود نہیں آسکتی تھیں۔‘‘
’’نہیں…‘‘ اس نے گہری سانس کے ساتھ کہا تو امبر اس کا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’کیا بات ہے‘ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘ پھر اِدھر اُدھر دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’آنٹی کہاں ہیں؟‘
’’امی ابو‘ سمیر بھائی کے ساتھ ان کے سسرال گئے ہیں۔‘‘
’’تم نہیں گئیں؟‘‘
’’نہیں یار بہت گڑ بڑ ہوگئی ہے۔‘‘ وہ امبر کا ہاتھ کھینچ کر بٹھاتے ہوئے بولی۔ ’’سمیر بھائی کے سسرال والوں نے بدلے میں میرا رشتہ مانگ لیا ہے۔‘‘
’’پھر…؟‘‘
’’میں نے امی کو رابیل کے بارے میں بتا دیا ہے۔‘‘
’’یہ تم نے اچھا کیا۔‘‘
’’اچھا تو کیا لیکن ابو کو کچھ پتا نہیں ہے اگر انہیں سمیر بھائی کا سالا پسند آگیا تو مشکل ہوجائے گی‘ ابھی اسے ہی دیکھنے گئے ہیں۔‘‘ اس نے تشویش ظاہر کی تو امبر پوچھنے لگی۔
’’تم نے دیکھا ہے اسے؟‘‘
’’نہیں اور نہ ہی میں دیکھنا چاہوں گی‘ بس دعا کرو ابو بھی اسے ریجیکٹ کردیں۔‘‘ اس نے کہا تو امبر ہنس کر بولی۔
’’اسے میرے گھر کا راستہ دکھا دینا تھا۔‘‘ وہ بھی بے ساختہ ہنسی تھی۔
ء…/…ء
بات صرف امی‘ ابو کو لڑکا پسند آنے کی نہیں تھی اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ ادھر سے بدلے کی شادی کی شرط رکھ دی گئی تھی۔ جس پر سمیر بھائی اور ابو کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا امی بھی اعتراض نہ کرتیں اگر جو وہ انہیں رابیل کے بارے میں نہ بتا چکی ہوتی۔ اس لیے انہوں نے ابو کے سامنے بدلے کی شادی کے منفی پہلو بیان کرنے شروع کیے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی۔
’’یہ سب پرانے زمانے کی باتیں ہیں کہ ایک گھر خراب ہو تو دوسرا بھی اجڑ جاتا ہے پھر ہم اس طرح سوچیں ہی کیوں گو وہ اس سلسلے میں کچھ سننا ہی نہیں چاہتے تھے اور ادھر سے مایوس ہوکر امی نے اس کے سامنے لڑکے کی تعریفیں شروع کردیں تو پہلے تو وہ بے دھیانی میں سنتی رہی لیکن جب امی کا مقصد سمجھ میں آیا تو چڑ کر بولی۔
’’وہ خواہ کتنا بھی اچھا ہو‘ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔‘‘
’’پھر بتائوں میں کیا کروں۔‘‘ امی نے بے بسی سے کہا تو وہ ان کی بات سے زیادہ لہجے کی بے بسی سے ٹھٹکی تھی۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘
’’وہ لوگ عالیہ کے لیے ہامی نہیں بھر رہے تھے اگر آپ کو لڑکی دینا منظور ہے تو پھر ہمیں بھی منظور ہے۔‘‘ امی نے بتایا تو وہ ضبط کرتے ہوئے بولی۔
’’تو آپ کو اسی وقت کہہ دینا چاہیے تھا کہ آپ کو منظور نہیں ہے۔‘‘
’’کیسے کہہ دیتی‘ اتنی مشکل سے سمیر شادی پر راضی ہوا ہے اور کرے گا بھی اسی سے۔‘‘ امی نے کہا تو وہ دکھ سے بولی۔
’’آپ کا مطلب ہے‘ ان کی خاطر میں…‘‘ امی خاموش رہیں اور ان کی خاموشی گویا تصدیق تھی اس نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا پھر اپنے کمرے میں بند ہوگئی تو رات کے کھانے پر بھی نہیں نکلی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کرکے اپنی بات منوانا چاہتی تھی بلکہ وہ حد درجہ پریشان ہوگئی تھی کیونکہ جانتی تھی کہ اگر ابو نے اس متبادل رشتے کے لیے ہامی بھرلی تو پھر وہ امی کی بھی نہیں سنیں گے۔ بہرحال اس رات اس نے بہت سوچا لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس صورت حال سے کیسے نمٹے۔ اس پریشانی میں وہ یونیورسٹی آئی تھی رابیل جو اس کی تین دن کی غیر حاضری پر ناراض تھا اس کی اتری ہوئی شکل دیکھ کر ساری ناراضی بھول گیا۔
’’کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘
’’میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ اس کی آنکھیں ویسے ہی چھلکنے کو بے تاب تھیں۔
’’ارے ارے یوں سر عام روئو گی تو مسئلہ ہوجائے گا‘ تمہارے لیے کم میرے لیے زیادہ۔‘‘ وہ بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں بولا ورنہ حقیقتاً پریشان ہوگیا تھا۔
اس نے فوراً ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑ ڈالیں پھر اس کے ساتھ لائبریری میں آبیٹھی اور ساری بات بتاکر سوالیہ نشان بن گئی تو وہ کتنی دیر سوچتا رہا اور پھر اس نے کہا۔
’’میں کیا کروں‘ میرا مطلب ہے میں یہی کرسکتا ہوں کہ آج ہی اماں کو تمہارے گھر بھیج دوں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میں ابھی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوا جبکہ تمہارے گھر والے پہلا سوال ہی یہ کریں گے کہ میں کیا کرتا ہوں‘ ہاں اگر انہیں تمہاری شادی کی جلدی نہ ہو تو…‘‘
’’بات جلدی دیر کی نہیں ہے‘ سمیر بھائی کی وجہ سے امی ابو کو مجبوراً میرے لیے بھی ہامی بھرنا پڑے گی۔‘‘
’’تو تم اپنے سمیر بھائی سے بات کرو۔‘‘ اس نے کہا تو وہ مایوسی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’نہیں کرسکتی البتہ امی ان سے کہہ سکتی ہیں لیکن وہی بات کہ وہ عالیہ کو پسند کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ شادی کریں گے تو عالیہ سے ہی ورنہ کبھی کسی سے نہیں۔‘‘
’’تو یہ بات تم نے کیوں نہیں کی۔‘‘ وہ ناچاہتے ہوئے بھی کچھ شاکی ہوگیا تو وہ الجھتے ہوئے کہنے لگی۔
’’میں امی کو تمہارے بارے میں بتا چکی ہوں۔‘‘
’’لیکن تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ میں لڑکی ہوں‘ سمیر بھائی کی طرح میں وارننگ نہیں دے سکتی۔‘‘
’’ہوں…‘‘ وہ ہونٹ بھینچ کر کچھ دیر سوچتا رہا پھر اسے دیکھ کر بولا۔
’’ایک راستہ ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’میرے ساتھ بھاگ چلو۔‘‘ اس نے بظاہر بہت سنجیدگی سے کہا تھا جس پر وہ کتنی دیر اسے خونخوار نظروں سے گھورتی رہی پھر افسوس سے بولی۔
’’مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔‘‘
’’پھر کیا امید کرتی ہو مجھ سے بتائو تاکہ میں وہی کروں۔‘‘
’’کچھ نہیں‘ تم کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی تو وہ فوراً اس کی کلائی تھام کر پوچھنے لگا۔
’’اور تم کیا کرو گی؟‘‘
’’فکر مت کرو‘ زہر نہیں کھائوں گی۔‘‘ وہ اس کے خائف انداز پر بولی۔
’’تم تو نہیں کھائو گی لیکن میں ضرور کھا لوں گا۔‘‘ وہ اس کی کلائی چھوڑ کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا۔
’’رابی…‘‘ وہ دوبارہ بیٹھتے ہی ٹیبل پر پیشانی ٹکا کر رو دی تو وہ خود پر جبر کیے اسے دیکھے گیا‘ کتنی دیر بعد جب اس کے آنسو تھم گئے اور وہ اٹھنے لگی تب اسے روک کر بولا۔
’’سنو‘ میں کل تمہارے ابو سے ملوں گا۔‘‘
’’نہیں‘ ابو نے اگر تمہیں منع کردیا تو پھر ساری کوشش بے کار جائیں گی۔‘‘ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولی۔
’’پھر اماں کو بھیجوں؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ سوچتے ہوئے الجھ گئی۔
’’مجھے نہیں پتا‘ میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’تو پھر ایسا کرو اپنے بھائی کی منگیتر سے بات کرو کہ وہ اپنے گھر والوں کو بدلے کے رشتے سے باز رکھے۔‘‘ رابیل نے کہا تو سوچنے لگی پھر اسے دیکھ کر بولی۔
’’میرا خیال ہے میں عالیہ کے بجائے اس کے بھائی سے بات کروں کیونکہ عالیہ ہوسکتا ہے اپنی محبت میں خود غرض بن جائے جبکہ ادھر ایسا کوئی معاملہ نہیں۔‘‘
’’ہوں…‘‘ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
’’چلو پھر۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تو وہ قدرے حیران ہوا۔
’’میں کہاں چلوں؟‘‘
’’عالیہ کے گھر سے اس کے بھائی کے آفس کا نمبر معلوم کردو۔‘‘ اس نے کہا تو وہ اچھل پڑا۔
’’میں اس کے گھر جائوں۔‘‘
’’گھر نہیں بابا فون پر تم خود کو اس کا دوست ظاہر کرکے نمبر معلوم کرسکتے ہو۔‘‘ اس نے جھنجلا کر کہا تو ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا‘ پھر اس کے ساتھ چلتے ہوئے اچانک رک کر اسے دیکھنے لگا۔
’’سنو کیا تمہیں یقین ہے کہ…‘‘ وہ اپنی بات پوری نہیں کرسکا کیونکہ اس کی آنکھیں یکلخت نمکین پانیوں سے بھرگئی تھیں۔
یونیورسٹی سے آکر اس نے روزانہ کی طرح امی کے ساتھ کھانا کھایا اس کے بعد اس وقت سونا بھی کیونکہ اس کے معمول میں تھا اس لیے برتن سمیٹ کر سیدھی اپنے کمرے میں آگئی جب امی کو اس کے سونے کا یقین ہوگیا تب بیگ سے موبائل نکال کر عالیہ کے بھائی کا نمبر ڈائل کرنے ہی لگی تھی کہ کچھ سوچ کر لائن کاٹ دی اور ذہن میں لفظوں کو ترتیب دینے لگی‘ کچھ دیر بعد وہ پھر نمبر ڈائل کرنے لگی۔
’’جی میں سکندر ابراہیم سے بات کرسکتی ہوں۔‘‘
’’جی بول رہا ہوں‘ آپ کون؟‘‘
’’جی میں زوبیہ…‘‘ اس نے بہت سنبھل کر کہا تو وہ سوچتے ہوئے انداز میں بولا۔
’’زوبیہ…؟‘‘
’’جی سمیر بھائی کی بہن۔‘‘ اس نے مزید تعارف کرایا۔
’’او کیسی ہیں آپ؟‘‘ اب اس نے خوش دلی سے پوچھا تو اس کے غصہ میں اضافہ ہوگیا لیکن پھر بھی ضبط کرتی ہوئی بولی۔
’’میں ٹھیک ہوں اور مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ وہ اسے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونے دینا چاہتی تھی جب ہی فوراً اصل بات پر آگئی تو وہ بھی غالباً سنجیدہ ہوگیا تھا۔
’’جی فرمایئے۔‘‘
’’مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ میں آپ کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی‘ آپ پلیز اپنے والدین سے کہیں کہ وہ بدلے کی شرط ہٹاکر صرف سمیر بھائی کے لیے بات کریں۔‘‘ اس نے جو سوچا تھا وہی جلدی سے کہہ دیا تو دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
’’ہیلو…‘‘ چند لمحوں بعد اس نے پکار کر پوچھا۔
’’آپ خاموش کیوں ہوگئے؟‘‘
’’پھر میں کیا کروں؟‘‘ وہ جیسے سمجھ نہیں پارہا تھا۔
’’مجھے اس پریشانی سے نکالیں میرا مطلب ہے مجھے یقین دلائیں کہ آپ کی طرف سے اب ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔‘‘ اس نے جھنجلاہٹ چھپا کر کہا تو وہ گہری سانس کھینچ کر بولا۔
’’اور کوئی حکم…‘‘
’’شکریہ اور بس یہ کہ کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے آپ کو فون کیا تھا۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘ اس نے کہا تو وہ مطمئن ہوگئی اور ایک بار پھر شکریہ کہہ کر فون رکھ دیا پھر وہ لمبی تان کر ایسا سوئی کہ شام میں امی نے آکر اٹھایا ساتھ رابیل کی اماں اور بہن کے آنے کا بتایا تو وہ جو ابھی بھی اٹھنے میں سستی کررہی تھی ایک دم ہوشیار ہوکر اٹھ کھڑی ہوئی اور امی کے گلے میں بانہیں ڈال کر بولی۔
’’امی! انہیں منع نہیں کیجیے گا۔‘‘
’’پھر…؟‘‘ امی قدرے متوحش ہوگئی تھیں۔
’’پھر کیا‘ میں نے آپ کو رابیل کے بارے میں بتایا تو تھا۔‘‘
’’ہاں لیکن ادھر عالیہ والے…‘‘
’’اُدھر کی فکر نہیں کریں‘ میرا مطلب ہے ادھر آپ منع کردیں کچھ نہیں ہوگا۔ سمیر بھائی کی شادی عالیہ ہی سے ہوگی۔‘‘ وہ بڑے آرام سے امی کو حیران چھوڑ کر واپس واش روم میں بند ہوگئی۔ منہ ہاتھ دھوکر نکلی تو کچن کا رخ کیا اور چائے کے ساتھ جو بسکٹ نمکو وغیرہ موجود تھے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئی۔
’’السّلام علیکم!‘‘ اس نے اماں کو سلام کرکے زرینہ کو گھورا جو حسب عادت اسے دیکھ کر ہنسنے لگی تھی اور اس وقت تو اس کی ہنسی میں شوخی بھی تھی۔
’’جیتی رہو‘ خوش رہو۔‘‘ اماں نے اسے دعا دی۔
پھر وہ چائے بنانے تک وہاں بیٹھی ‘ اس کے بعد زرینہ کو لے کر اپنے کمرے میں آئی تو وہاں امبر موجود تھی‘ اسے دیکھتے ہی پوچھنے لگی۔
’’کون آیا ہے؟‘‘
’’یہ رابیل کی بہن ہے۔‘‘ اس نے جواب میں زرینہ کا تعارف کرایا تو امبر نے معنی خیز انداز میں ہونٹ سکیڑ کر پوچھا۔
’’او… رابیل بھی آیا ہے؟‘‘
’’وہ کیوں آئے گا؟‘‘ اس نے امبر کو گھور کر کہا۔
’’پھر یہ کس کے ساتھ آئی ہے؟‘‘
’’اپنی اماں کے ساتھ‘ زرینہ تم بُرا نہیں ماننا اسے فضول بولنے کی عادت ہے۔‘‘ اس نے جواب کے ساتھ زرینہ سے کہا تو امبر براہ راست زرینہ سے پوچھنے لگی۔
’’اس کا رشتہ لے کر آئی ہو؟‘‘
’’جی…‘‘ زرینہ ہنسی تھی۔
’’میری طرف سے ہاں ہے‘ چاہو تو کل ہی بارات لے کر آجانا۔‘‘ امبر نے زرینہ کی ہنسی سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا تو وہ دانت پیس کر اس پر جھپٹنا چاہتی تھی کہ امی زرینہ سے بولیں۔
’’بیٹی! تمہاری اماں جارہی ہیں۔‘‘
’’اچھا بابا‘ میں چلتی ہوں۔‘‘ زرینہ اس سے کہہ کر امی کے ساتھ چلی گئی تو امبر بیڈ پر گرتے ہوئے بولی۔
’’یار بہن تو بہت پیاری ہے۔‘‘
’’وہ بھی بہت ہینڈسم ہے۔‘‘ اس نے فوراً کہا تو امبر پہلے ہنسی پھر سنجیدہ ہوکر پوچھنے لگی۔
’’اور اس بدلے والے رشتے کا کیا ہوا؟‘‘
’’وہ میں نے منع کردیا‘ میرا مطلب ہے…‘‘ وہ امبر کے پاس بیٹھ کر اپنا کارنامہ بتانے لگی۔
اگلے روز جب وہ یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہورہی تھی تو امی نے یہ کہہ کر روک دیا کہ سمیر کے سسرال والے آنے والے ہیں جس پر اس نے کوئی احتجاج نہیں کیا کیونکہ اپنی طرف سے اسے اطمینان ہوگیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ آج وہ لوگ بدلے کی شرط ہٹا کر صرف سمیر کی بات کریں گے۔ اس لیے دوپہر تک وہ گھر کی صفائی ستھرائی میں لگی رہی‘ اس دوران دوپہر کا کھانا بھی تیار کرلیا تھا اور جب امی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھی تو شوق سے پوچھنے لگی۔
’’کب تک ہوگی سمیر بھائی کی شادی؟‘‘
’’صرف سمیر کی نہیں تم دونوں کی شادی۔‘‘ امی نے کہا تو اس کا نوالہ اٹھاتا ہاتھ وہیں رک گیا۔ ساتھ ہی دل اندیشوں کے خوف میں گھر کر دھڑکنے لگا تھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’تمہارے ابو نے سکندر کے لیے ہامی بھرلی ہے۔‘‘ امی نے بتایا تو وہ چکراگئی۔
’’کیوں بھری ہامی اور مجھ سے پوچھے بغیر‘ مجھے نہیں کرنی وہاں شادی۔‘‘
’’بے کار بات مت کرو۔‘‘ امی ناگواری سے ٹوک کر بولیں۔ ’’سمیر کہہ چکا ہے کہ وہ عالیہ کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرے گا اور ہمیں ہر حال میں اس کی شادی کرنی ہے کیونکہ اس گھر میں رونقیں اسی کے بال بچوں سے ہوں گی تم اپنے گھر کی ہوجائو گی۔‘‘ وہ کتنی دیر سناٹے میں امی کو دیکھے گئی پھر بولی تو اس کی آواز ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
’’امی آپ کو صرف سمیر بھائی کی خوشی عزیز ہے۔‘‘
’’تم بھی خوش رہو گی‘ سکندر اچھا لڑکا ہے۔‘‘ امی اس کی طرف دیکھ نہیں رہی تھیں اور وہ انہیں جھنجوڑنا چاہتی تھی لیکن جان گئی تھی کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ بیٹے کی محبت میں امی نے اس کی طرف سے دل پر پتھر رکھ لیا تھا اس لیے وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی اور پھر تمام دوپہر وہ سکندر کے نمبر کو ڈائل کرتی رہی تھی کبھی وہ میٹنگ میں ہوگا‘ کبھی کسی کام میں مصروف اور پتا نہیں واقعی مصروف تھا یا اس سے بات کرنا نہیں چاہتا تھا اس نے بہرحال طے کرلیا تھا کہ اس سے پوچھے گی ضرور کہ وہ اس کے ساتھ فائول کیوں کھیل رہا ہے اس لیے اس نے اپنی کوشش ترک نہیں کی اور بار بار نمبر ملاتی رہی تھی اور دوسری طرف اب سکندر نے اپنا موبائل آف کردیا تھا جو اس کے غصہ کو مزید ہوا دے گیا تھا۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے جاکر اس کا منہ نوچ لے آخر پانچ بجے سے کچھ پہلے وہ لائن پر آیا تھا تو وہ جو غصے میں پاگل ہورہی تھی اس کی آواز سنتے ہی جو منہ میں آیا کہے گئی۔
’’آپ انتہائی جھوٹے اور بے ایمان آدمی ہیں اور مجھے ایسے لوگوں سے سخت نفرت ہے‘ یاد رکھیں اگر میری شادی آپ کے ساتھ ہوگئی تو آپ کو میری طرف سے کبھی خوشی نہیں ملے گی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے سلسلہ منقطع کردیا اور موبائل آف کرکے بیڈ کی طرف اچھال دیا تھا۔
ء…/…ء
وہ اپنی ساری کوششوں اور تدبیروں میں ناکام ہوگئی تھی اور اب وہ سب سے زیادہ شاکی امی سے تھی جنہوں نے سمیر بھائی کی خوشی کو اس کی خوشی پر مقدم جانا تھا۔
’’سمیر بھائی کے بال بچوں سے اس گھر میں رونق ہوگی‘ خوش رہیں اپنی رونقوں میں‘ میں کبھی پلٹ کر اس گھر میں نہیں آئوں گی۔‘‘ جانے کب سے وہ گھٹنوں میں سر دیئے یہی سب سوچے جارہی تھی‘ امی دو تین بار اس کے کمرے میں جھانک کر گئی تھیں پھر شاید انہوں نے ہی امبر کو بلا کر اس کے پاس بھیجا تھا۔
’’اے…‘‘ امبر نے اس کے پاس بیٹھ کر آہستہ سے اس کا کندھا ہلایا تو وہ گھٹنوں سے سر نکال کر دیکھنے لگی‘ وہ رو نہیں رہی تھی پھر بھی اس کی آنکھیں نہ صرف سرخ ہورہی تھیں بلکہ ان میں وحشت بھی سما گئی تھی۔
’’کیا ہوگیا ہے تمہیں۔‘‘ امبر نے نرمی سے ٹوکا تو وہ سچ مچ ٹوٹ گئی۔
’’میں ہا رگئی امبر… میں ہار گئی۔‘‘
’’ایسا مت کہو‘ ہوسکتا ہے اسی میں تمہاری بہتری ہو۔‘‘ امبر نے اس کے ہاتھ تھام کر تسلی آمیز انداز میں کہا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’نہیں‘ میری بہتری کسی نے نہیں سوچی‘ امی ابو دونوں کو صرف سمیر بھائی کی خوشی عزیز ہے۔‘‘
’’تمہیں بھائی کی خوشی عزیز نہیں ہے؟‘‘ امبر بالا ارادہ ہی کہہ گئی تھی۔
’’لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ میں اپنی خوشی ان پر قربان کردوں‘ یہ قربانی وہ بھی تو دے سکتے تھے۔‘‘ وہ چیخ کر بولی۔
’’جناب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مرد قربانی نہیں دیا کرتے۔‘‘ امبر نے قصداً ہلکا پھلکا انداز اختیار کرکے اس کا دھیان بٹانے کی سعی کی پھر اس کا ہاتھ کھینچ کر اٹھاتے ہوئے بولی۔
’’چلو‘ میرے ساتھ اوپر چلو۔ میں تمہیں اچھی سی چائے پلائوں گی۔‘‘
’’مجھے رابیل کو فون بھی کرنا ہے۔‘‘ اس نے تکیے پر سے دوپٹہ اور موبائل اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’کیوں؟‘‘
’’اتنے دنوں سے یونیورسٹی نہیں جارہی‘ وہ پریشان ہوگا اور پھر اسے بتاتو دوں کہ…‘‘ اس کی آواز حلق میں اٹک گئی تو وہ امبر سے پہلے ہی کمرے سے نکل آئی تھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح رابیل کو اس تمام صورت حال کے بارے میں بتائے اور اس سے کیا کہے کہ اس کے گھر والے سمیر بھائی کی خوشی میں اس کی خوشی قربان کررہے تھے۔ شاید رابیل کو یہ سب پہلے سے ہی معلوم تھا جو اس نے اماں اور زرینہ کے جانے کے بعد سے کوئی رابطہ ہی نہیں کیا تھا وہ موبائل فون سے رابیل کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
’’ہیلو…‘‘
’’رابی…‘‘ وہ اس کی آواز سنتے ہی پھر بکھرنے لگی تھی۔
’’کون زوبیہ! کیسی ہو‘ یونیورسٹی چھوڑ دی کیا؟‘‘ رابیل کے لہجے میں کوئی بے قراری نہیں تھی‘ سیدھے سادے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
’’آں… ہاں۔‘‘ اس نے چونک کر کہا تو وہ پھر اسی انداز میں پوچھنے لگا۔
’’شادی ہوگئی کیا؟‘‘
’’تم کیا کہنا چاہتے ہو۔‘‘ اس نے بمشکل آواز پر قابو پاکر پوچھا تھا۔
’’کم آن یار‘ جو ہونے والی بات ہے وہ تو ہوگی پھر اس پر رونے واویلا مچانے کا کیا فائدہ۔‘‘
’’رابی تم… تمہیں دکھ نہیں ہورہا؟‘‘
’’ہوا تھا بلکہ دل میں درد بھی اٹھا تھا لیکن اب سب ٹھیک ہے‘ کوئی دکھ نہیں۔‘‘ اس نے کہا تو وہ دکھ سے بولی۔
’’شاید اسی لیے میں اپنی کوششوں اور تدبیروں میں ناکام ہوگئی۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ اس نے موبائل آف کردیا ساتھ ہی دل کسی کانچ کی طرح ٹوٹ گیا۔
آنکھوں میں رکا سیلاب اب امڈ کر آرہا تھا وہ انگلیوں سے انہیں روکنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ وہ برآمدے میں کھڑی آسمان کو دیکھنے لگی جس کی نیلاہٹیں تاریکیوں میں چھپ رہی تھیں‘ اسے لگا جیسے وہ بھی تاریکیوں میں ڈوب رہی ہو اور اب اس کی زندگی میں کبھی خوشیوں بھرا سویر انہیں آئے گا۔
ء…/…ء
پھر چند دن بعد ہی وہ دل میں بے شمار کدورتیں اور رنجشیں لیے اس گھر سے اس شخص کے ساتھ رخصت ہوئی جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ وہ اسے کبھی دیکھنا بھی نہیں چاہے گی اور ابھی بھی اس کے اندر کوئی تجسس نہیں تھا۔ حجلہ عروسی میں وہ یوں بیٹھی تھی جیسے وہ بھی اس خصوصی سجاوٹ کا حصہ ہو‘ دل میں نہ کوئی امنگ نہ ترنگ اور نہ انتظار۔ یہاں تک کہ بھاری قدموں کی آواز بھی اس کے دل کو نہیں دھڑکا سکی۔
’’جناب! جھوٹا بے ایمان آپ کی خدمت میں حاضر ہے اور سلام عرض کرتا ہے۔‘‘ سکندر نے اس کے سامنے بیٹھ کر خاصے گمبھیر لہجے میں کہا تب اس کا دل یکبارگی بڑی زور سے دھڑکا اور دھیرے سے کانپا تھا۔
’’میرے خدا…‘‘ دل بہت زور سے دھڑکا تھا وہ غصہ میں جانے اس شخص کو کیا کیا کہہ گئی تھی۔
’’سلام کا جواب دینا فرض ہے۔‘‘ اس نے پھر کہا تو وہ دھیرے سے بولی۔
’’وعلیکم السّلام۔‘‘
’’شکریہ‘ اب بتائیں آپ مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی تھیں؟‘‘ وہ اس کی ٹھوڑی اٹھا کر پوچھنے لگا تو وہ کچھ سوچ کر الٹا اس سے پوچھ گئی۔
’’آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
’’میرا…‘‘ وہ اس کے سامنے ہاتھوں کا تکیہ بناکر لیٹ گیا پھر کہنے لگا۔
’’میں نے بہت ساری باتیں سوچی تھیں ایک یہ کہ آپ کسی کو پسند کرتی ہوں گی‘ دوسرے شاید آپ ابھی مزید پڑھنا چاہتی ہیں یا پھر بدلے کی شادی کے خلاف ہیں۔‘‘
’’تیسری بات ٹھیک ہے۔‘‘ وہ جو اس کی پہلی بات پر خائف ہوئی تھی‘ تیسری بات پر فوراً اعتراف کرلیا تو وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔
’’کیوں؟‘‘
’’کیونکہ میں نے اس کے اچھے نتائج نہیں دیکھے۔‘‘
’’دیکھے تو میں نے بھی نہیں‘ بہرحال ہمارے ساتھ ان شاء اللہ اچھا ہی ہوگا اور ہم اس خیال کو غلط ثابت کردیں گے‘ کیوں؟‘‘ اس نے بات کے اختتام پر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس کی غیر معمولی ٹھنڈک محسوس کرکے پوچھنے لگا۔
’’آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’لیکن مجھے آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں‘ کچھ پریشان اور اداس۔‘‘ اس کے درست قیاس پر وہ خائف ہوکر بولی۔
’’نہیں‘ میں پریشان نہیں ہوں۔‘‘
’’شیور…؟‘‘ اس نے بس سر ہلادیا۔
’’چلو اب تمہاری بار ی ہے۔‘‘ اس نے کہا تو وہ سمجھی نہیں۔
’’جی۔‘‘
’’بھئی اب تم مجھ سے پوچھو کہ تمہارے کہنے پر بھی میں نے شادی سے منع کیوں نہیں کیا۔‘‘ اس نے کہا تو وہ جزبز ہوکر بولی۔
’’آپ بتادیں۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ وہ اٹھ بیٹھا۔ ’’میں چاہتا تھا تم اپنی جنگ خود لڑو اگر کسی کی محبت میں لڑتیں تو ضرور جیت جاتیں‘ ہے ناں؟‘‘ وہ بڑی کوشش سے مسکرائی تھی۔
’’بہرحال تمہاری ہار نے میرے دل سے بوجھ ہٹا دیا ہے‘ اب بتائو تمہاری ذات سے مجھے کوئی خوشی ملے گی کہ نہیں۔‘‘ وہ بہت خوب صورتی سے اس کی کہی باتیں دہرا رہا تھا اور وہ اپنی اندر نہیں نہیں کی تکرار سے گھبرا کر اس کے سینے میں جاچھپی تھی۔
ء…/…ء
اگلے روز دو تقریبات ایک ساتھ تھیں یعنی اس کا ولیمہ اور عالیہ کی رخصتی‘ اس لیے گھر والوں کی توجہ بٹ گئی تھی بلکہ زیادہ توجہ عالیہ ہی نے کھینچ لی تھی یہ اسے بہت غنیمت لگ رہا تھا کہ وہ سب کے سامنے پوز کرنے سے بچ گئی تھی۔ گو کہ سکندر کی پرسنالٹی ہر لحاظ سے اٹریکٹو تھی لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی جس کی کوری زمین پر سب سے پہلے رابیل نے قدم جمائے تھے جن کے نشان وہ اب کھرچ ڈالنا چاہتی تھی۔ رات سکندر کے سینے میں چھپ کر اس نے یہی سوچا تھا کہ وہ اب کبھی اسے یاد نہیں کرے گی‘ جو بڑے آرام سے اس کی محبت سے دستبردار ہوکر اسے بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرگیا تھا اور رات سے اب تک وہ صرف اسے ہی سوچ رہی تھی۔ محبت سے نہ سہی کسی اور انداز سے سہی وہ بہرحال اس کے ہر پل پر قابض تھا اگر سکندر کو فراغت سے اس کے پاس بیٹھنے کا موقع ملتا تو اس کی بجھی آنکھیں دیکھ کر ضرور ٹھٹکتا اور اگر اس سے نہ بھی پوچھتا تو اپنے آپ قیاس ضرور کرتا لیکن گھر کا اکلوتا لڑکا ہونے کے باعث عالیہ کی شادی کے انتظامات کی ذمہ داری بھی اس پر آن پڑی تھی۔ صبح ناشتا بھی اس نے بہت عجلت میں کیا تھا اس کے بعد جانے کہاں کہاں مصروف رہا تھا اور ابھی اسٹیج پر بھی اسے اپنی دلہن کے ساتھ بیٹھنا نصیب نہیں ہورہا تھا‘ کبھی ادھر سے اس کی امی پکارتیں کبھی اُدھر سے بہنیں پھر جب بارات کی آمد کا شور اٹھا تب اس کی پلکیں خودبخود اٹھ گئیں اور یک ٹک اپنے بھائی سمیر کو دیکھے گئی جن کی شادی کا مدتوں سے ارمان تھا اور کتنے ہی ارمان تھے اس کے دل میں جو دل ہی میں رہ گئے تھے اس کی جگہ اس کی نندیں ہما اور فروا سمیر کے دائیں بائیں‘ بازو سے لگ کر بیٹھ گئی تھیں۔
’’کیسی ہے میری بیٹی!‘‘ امی نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا تو اس نے چونک کر انہیں دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
’’ناراض ہو؟‘‘ امی نے محبت سے ٹوکا تو وہ خود کو بکھرنے سے بچانے کی سعی میں بولی۔
’’ہاں۔‘‘
’’پگلی‘ میں تو سمجھی تھی سکندر کو دیکھ کر…‘‘
’’سکندر اچھے ہیں لیکن میں پھر بھی خوش نہیں ہوں کیونکہ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘ اس کے انداز سے تنفر ظاہر ہونے لگا تھا۔
’’بُرا کیا کیا میں نے؟‘‘ امی اب ٹھٹکی اور پریشان بھی ہوئی تھیں۔
’’آپ جانتی ہیں بیٹے کی خوشی پر مجھے قربان کردیا۔‘‘
’’نہیں‘ ہم نے تمہارا اچھا سوچ کر ہی…‘‘ امی اپنی صفائی پیش کرنے جارہی تھیں کہ اس کی ساس کے آنے پر خاموش ہوگئیں جبکہ ان کا دل اس کی طرف کھنچ رہا تھا آخر ماں تھیں چاہتی تھیں اسے سینے سے لگا کر تسلی دیں لیکن خائف بھی تھیں کہ کہیں وہ پھٹ نہ پڑے جب ہی اس کے پاس سے اٹھ گئیں پھر بس دور دور سے ہی اسے دیکھتی رہی تھیں۔
ء…/…ء
اگلے دن اس نے سنا سمیر بھائی اپنی دلہن کے ساتھ ہنی مون پر چلے گئے ہیں گو کہ اس کے اندر ایسی کوئی خواہش نہیں تھی پھر بھی وہ منتظر رہی کہ سکندر کوئی پروگرام بنائیں گے یا اس کے ساس سسر ہی کہیں گے کہ دلہن کو کہیں گھما پھرا لائو لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اس کے برعکس تیسرے دن سے ہی اسے ہانڈی چولہے میں لگا دیا تھا پھر مروتاً بھی اس کی نندیں ہما اور فروا اس کا ہاتھ بٹانے کو کچن میں نہیں آتی تھیں جبکہ ٹیبل پر سب سے پہلے آن موجود ہوتیں۔ مزید اس کے پکائے کھانے میں نقص بھی نکالتیں‘ نمک تیز ہے‘ گوشت بھنا نہیں‘ چاول کچے ہیں‘ دال میں کنکر رہ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا تھا اور منہ توڑ جواب دینا بھی جانتی تھی لیکن صرف ضد میں خود پر جبر کررہی تھی‘ اس نے یہ ضد کسی اور سے نہیں اپنے ماں باپ سے باندھ لی تھی جنہوں نے بیٹے کی خوشی پر اسے قربان کردیا تھا اور اس کا بدلہ وہ خود اپنے آپ سے لے رہی تھی یہ نہیں تھا کہ وہ بہت نازوں میں پلی تھی اکلوتی ہونے کے باوجود گھر داری کے سارے کام کرتی تھی لیکن اپنے شوق اور موڈ کے مطابق۔ دل نہیں چاہتا تھا تو صاف انکار بھی کردیتی تھی جس پر امی زبردستی نہیں کرتی تھیں اور یہاں کیونکہ اس نے ضد میں خود کو مٹانے کا سوچا تھا تو اس سے ساس نندوں کو اور موقع بھی مل گیا تھا بہرحال اس وقت وہ بہت تھکی ہاری اپنے کمرے میں آئی تھی اور بس فوراً سو جانا چاہتی تھی لیکن سکندر اس کے انتظار میں تھا۔
’’کیا کررہی تھیں‘ کچھ میرا بھی احساس ہے تمہیں کہ نہیں۔‘‘
’’بہت ہے۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر تھکی تھکی مسکراہٹ در آئی تھی۔
’’اب کیا کررہی ہو؟‘‘ سکندر نے اسے وارڈ روب کھولتے دیکھ کر ٹوکا تو وہ اس کی طرف پلٹے بغیر بولی۔
’’صبح کے لیے آپ کے کپڑے پریس کردوں۔‘‘
’’رہنے دو‘ صبح میں خود کرلوں گا‘ چلو یہاں آکر لیٹو۔‘‘ اس نے خاموشی سے وارڈ روب بند کی پھر لائٹ بھی آف کرکے اپنی جگہ پر آئی تھی۔
’’تھک گئی ہو؟‘‘ سکندر کی سرگوشی پر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
’’ہوں…‘‘
’’کیوں اتنا کام کرتی ہو‘ ہما اور فروا بھی تو ہیں۔‘‘
’’انہیں شاید عادت نہیں ہے۔‘‘ اس نے یونہی کہہ دیا تھا۔
’’کیوں عادت نہیں ہے تمہارے آنے سے پہلے تو وہی کرتی تھیں۔‘‘ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا تو وہ گہری سانس کو روکنے کے لیے ہونٹ بھینچ گئی۔
’’صبح تم میرے ساتھ چلنا۔‘‘ قدرے توقف سے اس نے کہا تو وہ کچھ حیران ہوئی۔
’’کہاں؟‘‘
’’میں آفس جاتے ہوئے تمہیں تمہاری امی کے پاس چھوڑ دوں گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیوں کا مطلب، کیا تمہارا دل نہیں چاہتا میکے جانے کو؟‘‘ اب اس نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’ہاں‘ چاہتا ہے۔‘‘ وہ کچھ پریشان ہوئی تھی۔
’’پھر کہتی کیوں نہیں ہو۔‘‘
’’آپ کی مصروفیات کی وجہ سے۔‘‘ اسے فوراً جواب سوجھ گیا تھا۔
’’چلو اب میں خود لے جایا کروں گا۔‘‘ اپنے تئیں وہ اسے خوش کررہا تھا۔
ء…/…ء
وہ جب امی کے ہاں پہنچی تولائونج میں امی کے ساتھ سمیر بھائی بیٹھے تھے جنہیں دیکھ کر سکندر نے بے ساختہ خوشی اور تعجب کا اظہار کیا۔
’’ارے آپ ہنی مون سے کب لوٹے؟‘‘
’’رات ہی آئے ہیں۔‘‘ سمیر بہت خوش نظر آرہے تھے بہت گرم جوشی سے سکندر سے گلے ملے اور اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا تب اسے دیکھا تھا۔
’’کیسی ہو زوبیہ؟‘‘
’’ٹھیک ہوں‘ بھابی کہاں ہیں؟‘‘ وہ کوشش کے باوجود بھی شوق کا اظہار نہیں کرسکی تھی۔
’’سو رہی ہیں۔‘‘ سمیر نے بتایا تو اس کے منہ سے بلا ارادہ ہی نکلا تھا۔
’’ابھی تک؟‘‘
’’ہاں‘ اصل میں سفر کی تھکان…‘‘ سمیر اسی قدر کہہ کر سکندر کی طرف متوجہ ہوگئے پھر سکندر کو کیونکہ آفس جانا تھا اس لیے وہ زیادہ دیر نہیں رکا اور شام میں آنے کا کہہ کر چلا گیا تو امی اسے اپنے کمرے میں لے آئیں‘ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر دیکھنے لگیں۔
’’آپ خوش ہیں؟‘‘ اس سے پہلے کہ یہ سوال امی کرتیں اس نے پوچھ لیا۔
’’میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ امی نے کہا تو وہ ابھی بھی جتانے سے باز نہیں آئی۔
’’خوشی چھین کر خوش دیکھنا چاہتی ہیں؟‘‘
’’تم ایسی باتیں کیوں کرتی ہو اور یہ تم نے اپنا کیا حال کر لیا ہے لگ ہی نہیں رہا ہے کہ تم نوبیاہتا ہو۔‘‘ امی نے اس کے کان چھوئے پھر خالی کلائیاں تھام لیں۔
’’مجھے چھوڑیں امی! آپ اپنے ارمان بہو پر نکالیں۔‘‘ اس نے اپنی کلائیاں چھڑاتے ہوئے کہا تب ہی سمیر کے ساتھ عالیہ کو دیکھ کر اس نے قصداً خوشی کا اظہار کیا کیونکہ وہ اس کی صرف بھابی ہی نہیں نند بھی تھی۔
’’کیسی ہیں بھابی؟‘‘
’’تم کب آئیں؟‘‘ عالیہ نے اس کی بات کا جواب ہی نہیں دیا۔
’’تھوڑی دیر ہوئی۔‘‘
’’اکیلی آئی ہو؟‘‘
’’نہیں سکندر آفس جاتے ہوئے چھوڑ گئے ہیں۔‘‘
’’اچھا‘ تم تو ابھی رکو گی میں جارہی ہوں۔‘‘ عالیہ نے کہا تو سمیر امی سے بولے۔
’’امی ہم عالیہ کے گھر جارہے ہیں‘ شام تک آئیں گے۔‘‘
’’ابھی تو تمہاری بہن آئی ہے۔‘‘ امی نے غالباً انہیں روکنا چاہا تھا لیکن عالیہ نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی۔
’’’چلو سمیر۔‘‘ وہ ان کے بازو میں ہاتھ ڈال کر نکل بھی گئی۔
’’ماشاء اللہ‘ چاند سورج کی جوڑی ہے‘ اللہ نظر بد سے محفوظ رکھے۔‘‘ امی نے بیٹے بہو کو سراہنے کے ساتھ دعائیں دیں پھر اسے دیکھ کر بولیں۔
’’بیٹھو‘ میں تمہارے لیے…‘‘
’’نہیں میرے لیے کچھ نہیں کریں‘ میں ابھی ناشتا کرکے آرہی ہوں۔‘‘ اس نے فوراً روک دیا۔
’’اچھا میں ذرا ماسی کو دیکھ لوں اور ہاں دوپہر کے کھانے میں کیا کھائو گی؟‘‘ امی نے جاتے جاتے رک کر پوچھا۔
’’کچھ نہیں‘ میرا مطلب ہے آپ کوئی اہتمام نہ کیجیے گا‘ آپ ماسی کو دیکھیں میں امبر سے مل کر آتی ہوں۔‘‘ وہ کہتے ہوئے امی سے پہلے ہی کمرے سے نکل آئی‘ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے اچانک اندر خالی پن کا احساس ہوا کہ امبر کو بتانے کے لیے اس کے پاس زندگی کے نئے موڑ کی کوئی خوب صورت داستان نہیں ہے نہ ہی اس کی چھیڑ چھاڑ پر وہ شرمیلی ہنسی ہنس سکتی ہے۔ اس خیال نے اسے مزید آزردہ کردیا تھا اور وہ ایسے ہی امبر کے سامنے جاکھڑی ہوئی تھی۔
’’ارے تم…‘‘ امبر نے غور ہی نہیں کیا‘ بس اسے دیکھ کر خوش ہوگئی تھی۔
’’دو تین بار مجھے معلوم ہوا کہ تم آئیں اور چلی بھی گئیں‘ میں بہت ناراض ہوں تم سے۔ تم سیڑھیاں نہ چڑھتیں مجھے بلوا لیتیں یا اپنے میاں سے ملوانا نہیں چاہتیں۔‘‘ اس نے شرارت سے اسے چھیڑا پھر اسے لے کر کمرے میں لے آئی تو وہ اِدھر اُدھر دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’خالہ جان کہاں ہیں؟‘‘
’’مارکیٹ گئی ہیں‘ آتی ہوں گی تم بیٹھو۔‘‘ امبر نے لائٹ آن کرتے ہوئے کہا پھر اسے دیکھ کر وہیں کھڑی رہ گئی‘ تو وہ کچھ حیران ہوئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’تمہیں کیا ہوا ہے‘ اتنی کمزور لگ رہی ہو؟‘‘
’’تمہاری آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں۔‘‘ وہ آرام سے بیٹھ گئی تو امبر اس کے قریب بیٹھ کر دھیرے سے پوچھنے لگی۔
’’سنو‘ وہ یاد آتا ہے؟‘‘
’’کون؟‘‘ ایک پل کو اس کا دل ڈوبا تھا۔
’’رابیل…‘‘
’’نہیں۔‘‘ اس نے سختی سے جھٹلایا جب کے دل اس کے نام کا ورد کرنے لگا تھا۔
’’بالکل نہیں‘ تم آئندہ کبھی اس کا نام بھی مت لینا‘ مجھے نفرت ہے اس سے۔‘‘
’’پھر تم اتنی سونی سونی کیوں لگ رہی ہو؟‘‘
’’امی بھی یہی کہہ رہی تھیں مجھے اصل میں زیورات کا شوق نہیں ہے۔‘‘ اس نے سنبھل کر بات بنائی تو امبر کو اس پر رحم آگیا۔
’’میں تمہارے لیے جوس لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’نہیں امبر‘ میں کچھ نہیں لوں گی بس تم میرے پاس بیٹھو۔‘‘ اس نے امبر کا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’اچھا سکندر بھائی بھی آئے ہیں؟‘‘ امبر نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر بولی۔
’’ہوں‘ اب شام میں آئیں گے۔‘‘
’’ہیں کیسے؟‘‘
’’اچھے ہیں۔‘‘
’’اور ان کے گھر والے؟ ارے ہاں سمیر بھائی اور بھابی تو آگئے ہیں نا‘ میں رات ہی بھاگی گئی تھی نیچے لیکن…‘‘ امبر شوق سے بولتے ہوئے ایک دم خاموش ہوگئی تو اس نے بلاارادہ ہی ٹوکا تھا۔
’’لیکن کیا…؟‘‘
’’بھابی نے بات ہی نہیں کی‘ ابھی کیا کررہی ہیں؟‘‘ امبر نے بتاکر پوچھا۔
’’میکے گئی ہیں۔‘‘
’’ہیں… تم یہاں آئی ہو‘ وہ وہاں چلی گئیں۔‘‘
’’افوہ… چھوڑو یہ باتیں۔‘‘ اس نے جھنجلا کر ٹوکا تو امبر بے ساختہ کھلکھلا کر ہنسی تھی پھر شام میں سکندر اسے لینے آیا تو امی ابو کے بہت اصرار پر بھی رات کے کھانے تک رکنے پر آمادہ نہیں ہوا جو اسے بہت برا لگا کیونکہ وہ خود تو دوپہر میں سوگئی تھی اور امی اسی وقت سے اہتمام میں لگ گئی تھیں جبکہ سمیر اور عالیہ اس وقت تک نہیں آئے تھے بہرحال اس نے سکندر کے نہ رکنے کو محسوس تو کیا لیکن بہت تھوڑی دیر کے لیے اس کے بعد وہ یہ سوچنے لگی تھی کہ اچھا ہے‘ اب امی ابو کو پتا چلے گا کہ ان کا انتخاب کیا ہے۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ سکندر نے اس پر نظر ڈال کر اچانک پوچھا تھا۔
’’ہوں… کچھ نہیں۔‘‘ وہ بُری طرح چونکی تھی۔
’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ اس کی مسکراہٹ بڑی دلکش تھی وہ ایک پل کو کنفیوز سی ہوگئی۔
’’بتائو نا؟‘‘ اس نے اصرار کیا تو وہ الٹا اس سے بولی۔
’’آپ بتائیں؟‘‘
’’اول روز کی طرح پہلے میں قیاس کروں۔‘‘ اس نے محظوظ ہوکر کہا تو وہ اندر ہی اندر جزبز ہوئی پھر سوچ کر کہنے لگی۔
’’میں یہ سوچ رہی تھی کہ امی ابو اتنا اصرار کررہے تھے آپ کو رک جانا چاہیے تھا۔‘‘
’’ہاں رکنا تو چاہیے تھا لیکن میرا کچھ اور پروگرام تھا‘ بلکہ ہے۔‘‘
’’کیا…‘‘
’’پہلے شاپنگ پھر کھانا۔‘‘ اس نے بتاکر اسے دیکھا تو قصداً مسکرائی پھر پوچھنے لگی۔
’’کس خوشی میں؟‘‘
’’عجیب لڑکی ہو بجائے خوش ہونے کے مجھ سے خوشی پوچھ رہی ہو‘ پھر بھی بتادوں کہ میں چاہتا ہوں تم بہت سارا وقت میرے ساتھ رہو۔‘‘
’’کیا مطلب…‘‘ وہ واقعی نہیں سمجھی تھی اور وہ ایک دم سنجیدہ ہوگا۔
’’گھر میں تو تم ملتی نہیں ہو‘ لگتا ہے تمہاری شادی مجھ سے نہیں باقی سب گھر والوں سے ہوئی ہے اور کسی وقت تو مجھے لگتا ہے جیسے تم مجھ سے بھاگ رہی ہو۔ سچ بتائو کہیں سچ مچ ایسا تو نہیں؟‘‘ وہ پارکنگ ایریا میں گاڑی روک کر اسے دیکھنے لگا تو اسے لگا جیسے وہ پھٹ پڑے گی‘ جب ہی دانتوں کو سختی سے ایک دوسرے پر جما کر نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’اچھا یہ بتائو‘ مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو؟‘‘
’’ارے یہ آپ راستے میں کیسی باتیں کرنے لگے ہیں‘ چلیں مجھے بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہوئے اپنی طرف کا دروازہ کھول کر اتر گئی۔
’’پہلے کھانا یا پہلے شاپنگ؟‘‘ وہ گاڑی لاک کرکے اس کے پاس آیا تو پوچھنے لگا۔
’’شاپنگ…‘‘ اور وہ جانے کس موڈ میں تھا اسے اچھی خاصی شاپنگ کروا ڈالی پھر کھانا کھاتے ہوئے خود ہی کہنے لگا۔
’’مجھے احساس ہے تمہارے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے۔ ہما اور فروا نے بالکل ہی کاموں سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور امی بھی ان ہی کا ساتھ دے رہی ہیں میں اگر بولوں گا تو…‘‘
’’نہیں آپ کو کچھ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے فوراً ٹوکا۔ ’’میرے لیے یہی بہت ہے کہ آپ کو خود احساس ہے۔‘‘
’’تم بھی کبھی کبھی میرا احساس کرلیا کرو۔‘‘ سکندر مسکین شکل بنا کر بولا تو بے ساختہ شرمیلی ہنسی کے باعث اس نے نظروں کا زوایہ بدلا تھا کہ عین سامنے وہ آگیا جسے نہ سوچنے کا عہد کرکے وہ اب تک اس کی نفی کرنے میں لگی ہوئی تھی اور اس نے بہت چاہا کہ فوراً نظریں واپس موڑ لے لیکن یہ کہاں ممکن تھا جبکہ رابیل اس کی طرف متوجہ نہیں تھا‘ وہ اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی کا ہاتھ تھامے جانے اس کی آنکھوں میں کون سے خواب سجا رہا تھا کہ وہ گم صم ہوگئی تھی۔
’’ارے کیا ہوا؟‘‘ سکندر نے اس کے سامنے ہاتھ لہرا کر ٹوکا پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں گردن موڑ کر دیکھنے لگا تو وہ چوکنے کے ساتھ کچھ خائف ہوئی پھر بمشکل سنبھلتے ہوئے بولی تھی۔
’’وہ لڑکی شاید یونیورسٹی میں تھی۔‘‘
’’تمہارے ساتھ؟‘‘
’’ہاں… نہیں تو میرا مطلب ہے‘ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں نہیں تھی۔‘‘
’’اور اس کے ساتھ؟‘‘
’’پتا نہیں ہوگا کوئی چلیں…‘‘ وہ نہیں چاہتی تھی کہ رابیل اسے دیکھے جب ہی فوراً کھڑی ہوئی تھی۔
ء…/…ء
سکندر اس پر مزید محبتیں نچھاور کرکے سوچکا تھا اور سونا تو وہ بھی چاہتی تھی لیکن نیند آکے نہیں دی کیونکہ ذہن بُری طرح الجھ رہا تھا‘ نظروں سے وہ منظر محو ہوکے نہیں دے رہا تھا‘ آنکھیں بند کرتی پھر کھولتی آخر تکیے میں منہ چھپا کر رو پڑی۔
’’اتنی جلدی وہ بدل گیا‘ میں کوشش کرکر کے ہار رہی ہوں اور وہ…‘‘ پھر خود کو تسلیاں دینے لگی۔ ’’وہ ایسا ہی ہوگا‘ فلرٹ‘ جب ہی تو میری شادی کا سن کر اس پر کچھ اثر نہیں ہوا تھا اور کچھ نہیں تو مجھے الزام ہی دیتا وہ بھی نہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ یہی چاہ رہا تھا کہ میں خود اس کی زندگی سے نکل جائوں۔ بے ایمان‘ دھوکے باز‘ فریبی…‘‘ اس نے تکیے سے آنکھیں رگڑ ڈالیں پھر ڈرتے ڈرتے سکندر کو دیکھا‘ وہ بے خبر سو رہا تھا۔ مدھم روشنی میں اس کے نقوش بڑے دل فریب لگ رہے تھے یا شاید تھے ہی ایسے کیونکہ وہ پہلی بار اتنے قریب سے اسے براہ راست دیکھ رہی تھی۔
’’اور اگر یہ ایسا جازب نظر نہ ہو تب بھی میرا شوہر ہے۔ میرا احساس کرتا ہے‘ مجھے خوش رکھنا چاہتا ہے اور میں اس فریبی کی وجہ سے اسے نظر انداز کرتی ہوں۔ اُف کتنی بُری ہوں میں‘ اب میں خوش رہوں گی‘ اس کے لیے ہنسوں گی‘ کھلکھلائوں گی۔‘‘
’’اوں ہوں…‘‘ کسی نے چپکے سے دل کا دامن کھینچا تھا۔ ’’مت ہنسا کرو مجھے تمہاری ہنسی سے خوف آتا ہے۔‘‘
’’کیوں اتنی خوف ناک ہے میری ہنسی۔‘‘
’’اونہہ خواب ناک…‘‘
وہ پھر تکیے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی اور یونہی روتے روتے جانے کب سوئی تھی پھر بھی صبح معمول کے مطابق اٹھ گئی اور روزانہ کی طرح منہ ہاتھ دھوکر سکندر کے پیر کا انگوٹھا ہلاتے ہوئے کمرے سے نکل کر سیدھی کچن میں جا پہنچی اور اس وقت وہ چاہتی تھی کہ سکندر کے لیے ناشتا بنا کر اپنے کمرے میں لے جائے لیکن ساس نندیں جیسے اس کے کچن میں جانے کے انتظار میں بستروں میں پڑی رہتی تھیں ادھر وہ چولہا جلاتی‘ اُدھر سب کی آوازیں آنے لگتیں جس سے غیر ارادی طور پر اس کے ہاتھوں میں تیزی آجاتی تھی پھر سکندر آفس جانے کے لیے تیار ہوکر ٹیبل پر آتا تو وہ بھی آن موجود ہوتے۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا سب ٹیبل پر بیٹھ چکے تھے وہ آخر میں ٹی پاٹ میں چائے دم کرکے لارہی تھی کہ اسی وقت عالیہ آگئی جسے دیکھ کر اس نے بے اختیار تعجب کا اظہار کیا کیونکہ کل وہ اور سمیر بھائی سارا دن یہاں رہے تھے اور رات گئے جب سکندر کے ساتھ وہ واپس آئی تھی تب انہیں گھر جانے کا خیال آیا تھا جب ہی اس وقت پھر اس کی آمد پر اسے حیرت ہوئی تھی۔
’’آپ…؟‘‘
’’کیوں… میں نہیں آسکتی؟‘‘ عالیہ نے تنک کر کہا تو اس سے پہلے اس کی ساس بول پڑیں۔
’’کیوں نہیں‘ تمہارا گھر ہے جب چاہو آئو۔‘‘
’’اسے شاید بُرا لگا ہے۔‘‘ عالیہ بیٹھتے ہوئے بولی۔ ’’ویسے بُرا لگے یا بھلا‘ میں تو آئوں گی اپنی ماں کے پاس۔‘‘
’’سمیر نہیں آئے؟‘‘ سکندر نے اسے مزید کچھ کہنے سے روکنے کی خاطر پوچھا تھا۔
’’وہی چھوڑ گئے ہیں‘ شام کو آئیں گے۔‘‘ وہ سکندر کو جواب دے کر پھر اس سے مخاطب ہوئی۔
’’تم ابھی تک حیران کھڑی ہو‘ آخر کیوں؟‘‘ سکندر نے ایک نظر اسے جزبز ہوتے ہوئے دیکھا پھر بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں کہنے لگا۔
’’اس کی حیرت بجا ہے عالیہ! اصل میں تم لوگ کل بھی تو آئے تھے۔‘‘
’’پھر…‘‘ عالیہ پتا نہیں سمجھ نہیں رہی تھی یا جان بوجھ کر انجان بن رہی تھی۔
’’پھر یہ کہ ناشتا کرو۔‘‘ سکندر نے جان چھڑانے کی خاطر کہا ساتھ ہی اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’سمیر ناشتے کے بغیر چلا گیا۔‘‘ عالیہ پراٹھے کی پلیٹ اٹھاتے ہوئے بولی۔
’’پتا نہیں ان لوگوں کے ہاں ناشتے کا رواج نہیں ہے یا شاید بڑی بی اس انتظار میں بیٹھی تھیں کہ میں ناشتا بنائوں گی۔‘‘ اس کے حلق میں سلائس کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی اٹک گیا تھا‘ جلدی سے چائے کا گھونٹ لے کر اس نے سکندر کو دیکھا تو اس نے ٹیبل کے نیچے اس کے پائوں پر پائوں رکھ کر گویا خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
اور پھر یہ روزانہ کا معمول بن گیا کہ سمیر بھائی صبح آفس جاتے ہوئے عالیہ کو یہاں چھوڑ جاتے اور شام میں آتے تو اکثر رات گئے دونوں کی واپسی ہوتی اور کسی دن شام میں جاتے تو ان کا آئوٹنگ کا پروگرام ہوتا تھا‘ بہرحال ایک طرف تو اسے اپنے بھائی پر حیرت کے ساتھ بے انتہا افسوس اور غصہ آرہا تھا دوسری طرف وہ یہ بھی ضرور سوچتی تھی کہ امی کو اپنے بیٹے پر اس کی خوشیاں قربان کرنے کا صلہ مل رہا ہے‘ اس دوسری سوچ کی گرفت بعض اوقات اتنی مضبوط ہوتی کہ وہ خوش ہوتی۔ اس روز بہت دنوں بعد سکندر آفس جاتے ہوئے اسے امی کے گھر چھوڑ کر گیا تھا تو اس نے ذرا بھی لحاظ نہیں کیا اور طنزیہ جتا دیا۔
’’کیوں امی بڑی رونق ہوگئی آپ کے گھر میں‘ سمیر بھائی کے بال بچوں سے۔‘‘ جواب میں امی کے آنسو اس روانی سے چھلکے کہ وہ ایک پل میں پاتال میں جا اتری تھی۔
’’امی… امی میرا مطلب یہ نہیں تھا۔‘‘ وہ ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر انہیں مناتے مناتے خود بھی رونے لگی تھی۔
’’تم کیوں رو رہی ہو۔‘‘ امی نے آنسو پونچھتے ہوئے اسے ٹوکا تو اس کی پہلی سوچ عود کر آئی۔
’’مجھے سمیر بھائی پر غصہ آتا ہے یا شادی ہی نہیں کررہے تھے اور کی تو…‘‘
’’بس بیٹا! سب نصیب کی بات ہے۔‘‘ امی نے آہ بھری۔
’’ہاں لیکن سمیر بھائی کوئی نو عمر لڑکے نہیں ہیں‘ اچھے خاصے میچور آدمی ہیں۔ انہیں ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتیں وہ صرف ان کا نہیں میرا بھی سسرال ہے‘ روزانہ منہ اٹھائے چلے آتے ہیں۔‘‘ وہ غصے میں بولتی چلی گئی اور کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہی تھی‘ جب وہ خاموش ہوگئی تب پوچھنے لگیں۔
’’تمہاری ساس بیٹی کو سمجھاتی نہیں؟‘‘
’’وہ کیا سمجھائیں گی‘ الٹا خوش ہوتی ہیں۔‘‘ اس نے جل کر کہا تو امی تعجب سے بولیں۔
’’عجیب عورت ہے یہ بھی نہیں سوچتی کہ بیٹی کے روزانہ آنے سے بہو پر کیا اثر پڑے گا۔‘‘
’’مجھے تو انہوں نے لاوارث سمجھ لیا ہے کیونکہ سمیر بھائی بھی آتے ہیں تو سالیوں کے کمرے میں گھسے رہتے ہیں‘ مجھ سے سرسری حال احوال پوچھنا بھی حرام ہے۔‘‘
’’یہ تو بہت غلط بات ہے‘ میں تمہارے ابو سے کہوں گی وہی سمیر کو سمجھائیں گے۔‘‘ امی نے تشویش سے کہا تو وہ سر جھٹک کر بولی۔
’’سمجھ چکے وہ۔‘‘
’’پھر بتائو میں کیا کروں؟‘‘
’’آپ کچھ نہیں کرسکتیں‘ اب میں ہی…‘‘
’’نہیں‘ تم کچھ مت کرنا۔‘‘ امی نے فوراً ٹوکا تو وہ ان کی تشویش دیکھتے ہوئے خاموش ہورہی تھی۔
ء…/…ء
رات تقریباً ایک بجے وہ سمیر بھائی اور عالیہ کے ساتھ ناچاہتے ہوئے بھی بیٹھی رہی اور سکندر کو بھی بٹھائے رکھا پھر ان کے جانے کے بعد اپنے کمرے میں آئی تو یہاں بھی سکندر کے ساتھ اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے اس نے تین بجا دیئے تھے اور گوکہ یہ پہلی رات نہیں تھی جو وہ اتنی دیر سے سو رہی تھی اکثر سکندر کے سونے کے بعد بھی وہ بلا مقصد جاگا کرتی تھی لیکن آج کیونکہ اس پر جتانا مقصود تھا اس لیے اسے بھی جگائے رکھا اور اب اطمینان سے سوتی رہی جب معمول کے مطابق کچن میں اس کی موجودگی کے آثار نہیں جاگے تب جانے کس نے اس کے کمرے کا دروازہ دھڑ دھڑایا تھا جس سے اس کی آنکھ کھلی ضرور لیکن وہ اٹھی نہیں اور سکندر کو اٹھتے دیکھ کر مزید سوتی بن گئی۔
’’زوبیہ…‘‘ سکندر نے اس کا کندھا ہلایا تو وہ کسمسا کر بولی۔
’’کیا ہے؟‘‘
’’اٹھو گی نہیں؟‘‘
’’اونہوں‘ سر میں درد ہورہا ہے۔‘‘ اس نے مزید بازو میں چہرہ چھپا لیا اور سکندر کی تیاری محسوس کرتی رہی پھر پتا نہیں کسی نے اسے ناشتا دیا یا وہ سمیر بھائی کی طرح ایسے ہی چلا گیا تھا بہرحال اس کے جانے کے بعد وہ گھر والوں کا ردعمل سوچتے ہوئے دوبارہ سونے کی کوشش کررہی تھی کہ ساس اس کے سر پر آن کھڑی ہوئیں۔
’’ارے کب تک سوئو گی؟‘‘ وہ آنکھوں سے ذرا سا بازو نیچے کھسکا کر انہیں دیکھنے لگی‘ بولی کچھ نہیں۔
’’اٹھو‘ ناشتا بنائو۔‘‘ انہوں نے کہا تو اب وہ بیزاری سے بولی۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘
’’سر میں درد اور نیند بھی پوری نہیں ہوئی‘ رات دیر تک عالیہ بھابی کے ساتھ بیٹھی رہی۔‘‘ اس نے جان بوجھ کر عالیہ کی دیر تک موجودگی جتائی تھی۔
’’اس کا تو روز کا معمول ہے‘ تمہیں کیا ضرورت تھی جاگنے کی۔ سکندر بھی بغیر ناشتے کے چلا گیا۔‘‘ وہ ناگواری سے مزید بڑبڑاتے ہوئے چلی گئیں۔
’’میرا بھائی بھی بغیر ناشتے کے جاتا ہے۔‘‘ اس نے سر جھٹک کے تکیے میں منہ چھپا لیا تھا۔
اور پھر اس نے بھی اپنا یہی معمول بنانے کا سوچ لیا‘ رات کے کھانے کے برتن یونہی چھوڑ کر سکندر کے ساتھ لائونج میں آبیٹھی جہاں عالیہ‘ سمیر‘ ہما اور فروا بھی موجود تھیں جو اسے دیکھ کر آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کرنے لگیں اور وہ دیکھ کر بھی انجان بن گئی لیکن عالیہ سے بالکل برداشت نہیں ہوا فوراً ٹوک دیا۔
’’تم کیوں اپنی نیند خراب کررہی ہو‘ جائو سو جائو۔‘‘
’’سارا دن تو سوتی رہی ہوں اب نیند نہیں آرہی۔‘‘ اس نے اطمینان سے جواب دے کر ریموٹ کنٹرول اٹھا کر ٹی وی آن کرلیا۔
’’تو کیا اب ساری رات جاگتی رہو گی؟‘‘ عالیہ کی پریشانی وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔
’’نہیں‘ جب تک آپ لوگ بیٹھے ہیں۔‘‘
’’ہم اگر دو بجے تک بیٹھے رہیں تو…‘‘
’’تو کیا میں اپنے گھر میں بیٹھی ہوں‘ آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں۔‘‘ وہ اندر ہی اندر محظوظ ہوکر بول رہی تھی۔
’’میں کیوں پریشان ہوں گی میں تو اس خیال سے کہہ رہی ہوں کہ پھر صبح تم اٹھو گی نہیں۔‘‘ عالیہ نے ناگواری سے کہا تو اس کا دل چاہا کہہ دے کہ اصل بات تمہارے منہ سے نکل ہی گئی لیکن وہ ان سنی کرکے ٹی وی دیکھنے لگی۔
پھر سکندر تو نیند کے باعث معذرت کرکے پہلے اٹھ گیا لیکن وہ سمیر اور عالیہ کے جانے کے بعد ہی اپنے کمرے میں آئی تھی اور اس وقت واقعی دو بج رہے تھے‘ سکندر بے خبر سو رہے تھے۔
’’سوری صبح پھر تمہیں ناشتے کے بغیر جانا پڑے گا۔‘‘ اس نے دھیرے سے کہہ کر لائٹ آف کی تھی۔
اور صبح کسی نے اس کا دروازہ نہیں دھڑ دھڑایا‘ سکندر کے اٹھنے اور جانے کا بھی اسے پتا نہیں چلا تھا‘ کافی دن چڑھ آنے پر خود سے اس کی آنکھ کھلی تو سر بوجھل ہورہا تھا اور یہ یقینا دیر سے سونے اور دیر سے اٹھنے کا نتیجہ تھا‘ جس پر وہ خود کو ابھی سرزنش کررہی تھی کہ اس کی ساس آگئیں۔
’’اٹھ گئیں خیر سے۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور بال سمیٹنے لگی۔
’’دیکھو بی بی! یہ طریقے یہاں نہیں چلیں گے‘ میں جانتی ہوں تم عالیہ کی نقل کرنا چاہ رہی ہو لیکن تم اچھی طرح سمجھ لو کہ تم اس جیسی کبھی نہیں بن سکتیں۔‘‘
’’اللہ نہ کرے جو میں اس جیسی بنوں۔‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ ہی نکلا تھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ ساس یکدم آپے سے باہر ہوگئیں۔ ’’تم کیا آسمان سے اتری حور پری ہو‘ میری عالیہ کا کیا مقابلہ کرتی ہو۔ اس کے پیر کی جوتی کے برابر نہیں ہو تم پھر وہ تو میاں کے دل پر راج کرتی ہے تمہاری کیا حیثیت ہے ابھی سکندر سے کہوں تو تین لفظ کہہ کر نکال باہر کرے گا تمہیں۔‘‘ وہ ہکا بکا دیکھتی رہ گئی۔
’’ایسے آنکھیں پھاڑ کے کیا دیکھ رہی ہو‘ چلو اٹھ کر ہانڈی روٹی کرو یا تمہارا باپ آکر کرے گا۔‘‘
’’میرا باپ کیوں‘ ان کی بہو آئی ہوگی اس سے کہیں۔‘‘
’’اچھا تو ساری تکلیف تمہیں اس کے آنے کی ہوتی ہے۔‘‘
’’بالکل ہوتی ہے اور جب تک وہ اس طرح آتی رہے گی میں کچھ نہیں کروں گی۔‘‘ وہ برابر سے جواب دینے پر آگئی تو ساس آخر ی حربہ استعمال کرکے چلی گئیں۔
’’اگر یہ بات ہے تو جا بیٹھو‘ اپنے باپ کے گھر۔‘‘ اور وہ جو اَب اٹھنا چاہ رہی تھی دوبارہ لیٹ گئی۔ چائے کی شدید طلب کو بھی دبا دیا تھا‘ پھر شام کو سکندر کے آتے ہی ماں بہنوں نے اسے لائونج میں ہی گھیر لیا اور اس کے خلاف جو بولنا شروع ہوئیں تو انہیں چپ کراتے کراتے آخر وہ سر تھام کر بیٹھ گیا۔ اس پر بھی وہ خاموش نہیں ہوئیں اور وہ اپنے کمرے میں ان سب کی آوازیں سنتے ہوئے کچھ خائف بھی ہوگئی تھی کہ جانے اب سکندر آکر اس سے کیا کہے گا تب ہی سکندر کے دھاڑنے کی آواز آئی تھی۔
’’آپ سب خاموش ہوجائیں۔‘‘ یکدم خاموشی چھاگئی پھر قدرے توقف سے سکندر نے کہا تھا۔
’’یہ سب عالیہ کی وجہ سے ہوا ہے جب سے اس کی شادی ہوئی ہے ایک دن اپنے گھر میں ٹک کر نہیں بیٹھی اگر یہیں رہنا تھا تو شادی کا ڈھونگ رچانے کی کیا ضرورت تھی اور آپ بجائے اسے سمجھانے کے الٹا اس کی سائیڈ لے رہی ہیں۔‘‘
’’تو تمہیں بھی بہن کا آنا بُرا لگتا ہے۔‘‘
’’ہاں لگتا ہے‘ یہ اپنے ساتھ میرا گھر بھی خراب کررہی ہے اور یہ میں برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ غصہ سے کہہ کر اپنے کمرے میں آیا تھا اور اس کی سہمی شکل دیکھ کر بھی اسی انداز میں بولا۔
’’چلو۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘ وہ حیران ہوئی لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔
’’جلدی سے چینج کرکے آجائو‘ میں انتظار کررہا ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا تو وہ اپنے آپ میں الجھتے ہوئے پانچ منٹ میں تیار ہوکر اس کے پیچھے بھاگی آئی تھی۔
’’آپ ناراض ہیں؟‘‘ اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر وہ پوچھنے لگی۔
’’تم سے… کیوں؟‘‘
’’میں دو دن سے آپ کا خیال جو نہیں کررہی۔‘‘ اس نے مجرمانہ انداز میں گویا اپنے جرم کا اعتراف کیا تو وہ ذرا سی تاسف بھری ہنسی کے ساتھ بولا۔
’’صرف دو دن‘ میرے حساب سے تمہیں پہلے یہ سب کچھ کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’آپ کے خیال میں‘ میں ٹھیک کررہی ہوں۔‘‘
’’نہیں… لیکن غلط بھی نہیں کہہ سکتا‘ تمہیں کیا لگ رہا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ آزردگی سے بولی۔
’’میں ایسا نہیں چاہتی‘ آپ کو پریشان بھی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’ہوں…‘‘ وہ جانے کیا سوچنے لگا‘ وہ وقفے وقفے سے گردن موڑ کر اسے دیکھتی رہی لیکن ٹوکا نہیں۔ جب وہ اسے ریسٹورنٹ میں لے آیا تب بھی پہلے کھانے کا آرڈر دیا پھر اسے دیکھ کر مسکرایا تو وہ پوچھنے لگی۔
’’آپ کو بھوک لگ رہی ہے؟‘‘
’’کیوں تمہیں نہیں لگ رہی‘ کیا کھایا تھا دن میں؟‘‘ وہ خاموش رہی تو پوچھنے لگا۔
’’ایسا کب تک چلے گا؟‘‘
’’بس آج آخری دن تھا صبح میں…‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ ٹوک کر بولا۔ ’’تم صرف میرا اور اپنا کام کرو گی اور بس‘ ہما اور فروا کو سر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں۔‘‘ اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
اگلی صبح وہ معمول کے مطابق اٹھ گئی اور سکندر کو ہلا کر کچن میں آئی تو پہلے کی طرح ادھر اس نے چولہا جلایا اُدھر گھر میں چہل پہل شروع ہوگئی لیکن اس نے توجہ نہیں دی اور آرام سے سکندر اور اپنے لیے ناشتا بناکر ٹرے اپنے کمرے میں لے آئی۔ سکندر آفس جانے کے لیے تیار ہوچکا تھا‘ بغیر کوئی تبصرہ کیے اس کے ساتھ ناشتا کیا پھر جاتے جاتے اچانک یاد آنے پر رک کر کہنے لگا۔
’’سنو آج ایک دوست کی شادی میں جانا ہے‘ تیاری رکھنا۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘ وہ اسے سی آف کرنے باہر تک آگئی پھر واپس آئی تو لائونج میں عالیہ اور ہما ناشتا بنانے پر الجھ رہی تھیں جبکہ فروا صوفے پر پائوں پسارے لیٹی تھی۔
’’ایسا کرو عالیہ آج ناشتا تم بنالو۔‘‘ ہما نے کہا تو عالیہ کا جواب سننے کے لیے قصداً اپنے قدم سست کرلیے تھے۔
’’میں…؟‘‘ عالیہ اچھلی تھی۔ ’’مجھے اگر ناشتا بنانا ہوتا تو میں یہاں کیوں آتی۔‘‘
’’تو تم یہاں ناشتا کرنے آتی ہو؟‘‘
’’یہی سمجھ لو۔‘‘ عالیہ نے کندھے اچکا کر کہا تو ہما اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ٹھیک ہے‘ میں ناشتا بنا دیتی ہوں لیکن دوپہر کا کھانا تم بنائو گی۔‘‘
’’مجھ سے امید مت رکھنا یوں بھی میں مہمان ہوں۔‘‘
’’مہمان…‘‘ ہما اور فروا چیخی تھیں اور وہ کسی طرح اپنی ہنسی نہیں روک سکی تو جلدی سے کمرے میں آگئی۔
ء…/…ء
اجنبی لوگوں میں کسی شناسا چہرے کی تلاش میں اس کی نظریں مسلسل بھٹک رہی تھیں‘ سکندر بھی اسے بٹھا کر جانے کہاں چلا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ شادی کی تقریب میں انتہائی بور ہورہی تھی اور یہ بوریت اس کے چہرے پر بھی واضح نظر آرہی تھی‘ کچھ دیر بعد جب دلہن کو اسٹیج پر لایا گیا تب اس کی توجہ تھوڑی بٹ گئی اور اِدھر اُدھر بھٹکتی ہوئی نظریں بھی اسی پر جا ٹھہری تھیں جو چیز اسے سب سے زیادہ اپنی طرف متوجہ کررہی تھی وہ دلہن کے ہونٹوں پر چمکتی مسکراہٹ تھی اور ابھی اس مسکراہٹ کا راز پانے جارہی تھی کہ عقب سے آواز آئی تھی۔
’’رابیل… رابیل… یہاں آئو۔‘‘
’’رابیل…‘‘ اس کی دھڑکنیں منتشر ہوگئیں کیونکہ سامنے سے وہ اسی طرف آرہا تھا‘ وہ کوشش کے باوجود نظروں کا زاویہ نہیں بدل سکی اور سماعت کے در بند کرنا تو اور بھی مشکل تھا۔
’’میں کتنی دیر سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں‘ کہاں تھے؟‘‘ وہ جو کوئی بھی تھی جارحانہ حقوق کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔
’’یہیں تو تھا۔‘‘ اسے رابیل کے ہونٹوں کی مسکراہٹ محسوس ہوئی تھی۔
’’یہیں تھے تو نظر کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’تم نے دل کی آنکھ سے نہیں دیکھا ناں۔‘‘ بڑا دلفریب انداز تھا اس نے ذرا سی گردن موڑ کر اس لڑکی کو دیکھنا چاہا لیکن نظریں رابیل کی پشت سے ٹکرا کر رہ گئیں۔
’’دل کی آنکھ سے کیسے دیکھا جاتا ہے؟‘‘ وہ اب اٹھلا کر پوچھ رہی تھی‘ وہ رابیل کا جواب سننا چاہتی تھی لیکن سکندر کے پکارنے پر چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی تو وہ بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’تم شاید بور ہوگئیں۔‘‘
’’ہاں… چلیں۔‘‘ اس نے چلیں کے ساتھ ہی اٹھنا بھی چاہا تو سکندر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’ابھی کون جانے دے گا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کھانا لگ چکا ہے‘ تمہارے لیے یہیں لے آئوں یا…‘‘ وہ سکندر کی بات پوری ہونے سے پہلے اٹھ کھڑی ہوئی پھر اس کے اشارے پر جس طرف خواتین جارہی تھیں وہ بھی اسی طرف آگئی‘ پلیٹ میں بریانی نکال کر جیسے ہی پلٹی‘ رابیل سامنے آگیا اور گہری مسکراہٹ کے ساتھ پوچھنے لگا۔
’’کیسی ہو؟‘‘
’’بالکل ٹھیک۔‘‘ اس کے منہ سے بلا ارادہ ہی نکلا تھا اور پھر وہ اسی کو سچ ثابت کرنے کے لیے ہنس کر پوچھنے لگی۔
’’تم کیسے ہو؟‘‘
’’اگر میں کہوں تم بن ادھورا تو…‘‘ اس کے ہونٹوں پر ابھی بھی مسکراہٹ تھی لیکن لہجے میں بلا کی مسرت‘ وہ یوں محسوس نہیں کرسکی کہ ساری توجہ خود کو سنبھالنے میں تھی۔
’’ہاہاہا…‘‘ وہ قصداً استہزائیہ ہنسی تو وہ بات بدل گیا۔
’’تمہارے ساتھ کون ہے؟ تمہارا شوہر…‘‘
’’وہی ہیں۔‘‘ وہ تائید کے ساتھ پلیٹ پر جھک گئی تو چند لمحے توقف سے وہ پوچھنے لگا۔
’’خوش ہو؟‘‘ اس نے پہلے چمچ منہ میں ڈالا پھر اثبات میں سر ہلا کر بولی۔
’’ہوں‘ بہت۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔‘‘ وہ جانے لگا پھر ایک دم رک کر بولا تھا۔ ’’تم ساڑھی میں اچھی لگ رہی ہو۔‘‘
’’تھینک یو۔‘‘ وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر ہنسی تو وہ رک گیا۔
’’یوں مت ہنسا کرو۔‘‘ اس کی ہنسی یکلخت غائب ہوگئی اور وہ بھی فوراً ہی دوسری سمت نکل گیا تھا۔ کتنی دیر بعد اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھنا چاہا لیکن وہ اب کہیں نظر نہیں آیا تب وہ پلیٹ رکھ کر سکندر کے پاس آئی تو میک اپ کے باوجود اس کا چہرہ پھیکا لگ رہا تھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ سکندر نے فوراً ٹوکا لیکن وہ کچھ بول نہیں سکی۔
’’چلو‘ چلتے ہیں۔ ٹھہرو… میں ذیشان سے کہہ آئوں۔‘‘ وہ کہہ کر اسٹیج کی طرف بڑھ گیا لیکن پھر درمیان ہی میں کسی لڑکی کے پاس کھڑا ہوگیا تھا غالباً اسے ہی اپنے جانے کا بتا رہا تھا پھر اسے لیے اس کے قریب آگیا۔
’’یہ زوبیہ ہے میری وائف۔‘‘ لڑکی نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے تھامتے ہوئے وہ سوالیہ نظروں سے سکندر کو دیکھنے لگی۔
’’یہ ذیشان کی بہن شمائلہ ہے۔‘‘ سکندر نے اس کا تعارف کرایا تو اس نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
’’ٹھیک ہے شمائلہ‘ ہم چلتے ہیں۔‘‘ سکندر نے اس سے کہا تو وہ پوچھنے لگی۔
’’کل آئو گے ناں؟‘‘
’’دیکھو۔‘‘
’’ضرور آنا‘ کل تو گھر کی تقریب ہے۔‘‘ اس کے اصرار پر سکندر نے اثبات میں سر ہلایا پھر اسے دیکھا تو وہ چلنے کا اشارہ کرکے چل پڑی تھی۔
گھر آتے ہی وہ ہلکا سا شلوار سوٹ نکال کر واش روم میں بند ہوگئی اور پہلے ساڑھی سے نجات حاصل کی پھر منہ ہاتھ دھوکر نکلی تو سکندر دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے جانے کن سوچوں میں گم تھا۔ اس نے پہلے سر سری نظر اس پر ڈالی پھر ساڑھی ہینگر کرتے ہوئے بار بار اسے دیکھا لیکن وہ متوجہ نہیں ہوا تب وہ سوئچ بورڈکے قریب جاکر پوچھنے لگی۔
’’لائٹ آف کردوں؟‘‘
’’ہیں…‘‘ وہ بُری طرح چونکا تھا۔ ’’کچھ کہا تم نے؟‘‘
’’لائٹ آف کردوں…‘‘ اس نے کچھ ٹھٹک کر اپنی بات دہرائی تھی۔
’’ہاں…‘‘ وہ آنکھیں بند کرگیا تو وہ لائٹ آف کرکے اپنی جگہ پر آلیٹی اور اس وقت وہ سوچنا کچھ اور چاہتی تھی لیکن اس کا ذہن سکندر کی سوچوں پر الجھنے لگا تھا۔ صبح اس کے آفس جانے کے بعد وہ ناشتے کی ٹرے کچن میں رکھنے آئی تو ہما اسے سنا کر بولی۔
’’آج عالیہ نہیں آئی؟‘‘
’’عالیہ نہیں آئی؟‘‘ اس نے برملا حیرت کا اظہار کیا تو اب ہما براہ راست اسے دیکھ کر بولی۔
’’تم خوش ہوں گی۔‘‘ وہ مصلحتاً خاموش رہی اور پیٹھ موڑ کر سنک میں رکھے برتن دھونے لگی تو قدرے رک کر ہما پوچھنے لگی۔
’’تم رات ذیشان بھائی کی شادی میں گئی تھیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
’’شمائلہ سے بھی ملیں؟‘‘
’’شمائلہ؟‘‘ اس نے نل بند کر کے ہما کو دیکھا تو وہ فوراً بولی۔
’’ذیشان بھائی کی بہن۔‘‘
’’ہاں‘ آتے ہوئے ملاقات ہوئی تھی اس سے۔‘‘ اس نے بتایا تو اب ہما معنی خیز انداز میں پوچھنے لگی۔
’’کیسی ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’میں اس کی طبیعت نہیں پوچھ رہی۔‘‘ ہما نے ٹوکا تو وہ سمجھی نہیں۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’خوب صورت ہے نا۔‘‘ ہما ہنسی اور اس کے ایسے ہی نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتے رہنے پر کہنے لگی۔
’’سکندر بھائی اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔‘‘
’’اچھا…‘‘ اس نے پھیکی ہنسی کے ساتھ پوچھا۔ ’’پھر کی کیوں نہیں۔‘‘
’’تم جو درمیان میں آگئیں۔‘‘ ہما نے آرام سے اسے الزام دے ڈالا۔
’’میں…؟‘‘ وہ حیران ہوگئی۔ ’’میں کب آئی‘ میں تو سمیر بھائی کا رشتہ لے کر آئی تھی پھر بدلے کی شرط تو یہاں سے رکھی گئی۔‘‘
’’ہاں بس عالیہ۔‘‘ ہما جانے کیا کہنے جا رہی تھی کہ ایک دم بات ادھوری چھوڑ کر کچن سے نکل گئی اور وہ کوشش کے باوجود سر نہیں جھٹک سکی اور سارا دن وقفے وقفے سے اس کا ذہن مختلف باتوں میں الجھتا رہا اسے یہ بھی یاد آیا کہ اس نے خود سکندر کو فون کیا تھا کہ وہ شادی سے منع کردے لیکن اس نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا تھا اور پھر اولین شب بات اس پر ڈال دی تھی یہ کہہ کر میں چاہتا تھا تم اپنی جنگ خود لڑو۔
’’ہما جھوٹ کہتی ہے۔‘‘ بہت الجھنے کے بعد آخر میں اس نے سوچا تھا یا خود کو تسلی دی تھی لیکن پھر خیال آیا کہ رات شادی کی تقریب میں سکندر اسے بٹھا کر خود غائب ہی ہوگیا تھا اور اس نہج پر سوچتے ہوئے وہ پھر الجھ گئی تھی۔
شام میں سکندر معمول سے بہت پہلے آگیا اور کچھ دیر آرام کے بعد ذیشان کے ولیمے میں جانے کی تیاری کرنے لگا تو وہ اس کے آس پاس منڈلاتے ہوئے انتظار کرنے لگی کہ وہ اسے بھی تیار ہونے کا کہے گا لیکن وہ پتا نہیں اسے لے جانا نہیں چاہتا تھا یا اپنا سوٹ پریس کرنے میں کچھ زیادہ ہی مگن تھا کہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تب اندر ہی اندر جزبز ہوتی وہ خود ہی ایک ساڑھی نکال کر اس سے پوچھنے لگی۔
’’میں یہ پہن لوں؟‘‘
’’ہیں، تم بھی چلو گی؟‘‘ اس نے چونک کر دیکھتے ہوئے کہا پھر خود ہی جیسے اپنی بات سنبھالنے لگا۔ ’’میرا مطلب ہے کل تم بور ہوگئی تھیں۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ اس نے ساڑھی واپس الماری میں ڈال دی۔ ’’میرا خیال ہے میں نہیں جاتی۔‘‘
’’نہیں اگر چلنا چاہو تو…!‘‘
’’نہیں، آپ چلے جائیں البتہ مجھے اگر امی کے گھر چھوڑ دیں تو۔‘‘
’’ہاں یہ ٹھیک ہے پھر واپسی میں تمہیں لیتا آئوں گا۔‘‘ وہ فوراً اس کے پروگرام سے متفق ہوگیا تھا۔
وہ امی کے گھر آتو گئی تھی لیکن اب اسے افسوس ہورہا تھا کیونکہ بارہ بج چکے تھے اور سکندر ابھی تک نہیں آیا تھا۔ ابو کافی دیر اس کے پاس بیٹھ کر اپنے کمرے میں جا چکے تھے اور امی بھی اس کی وجہ سے بیٹھی ہوئی تھیں۔ جبکہ سمیر بھائی اور عالیہ گھر پر نہیں تھے۔ امی نے عالیہ کے بارے میں بتایا تھا کہ آج سارا دن وہ اپنے کمرے میں بند رہی تھی پھر جیسے ہی سمیر آفس سے آیا اسے ساتھ لے کر نکل گیا تو اب تک وہ نہیں لوٹے تھے۔ اس نے قصداً ان دونوں کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔ یوں بھی اس وقت اسے اپنی پوزیشن آکورڈ سی لگ رہی تھی۔
’’آپ سوجائیں امی، سکندر آئیں گے تو میں چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے امی کی نیند سے بوجھل آنکھیں دیکھ کر کہا۔
’’نہیں کوئی بات نہیں، سمیر اور عالیہ کے آنے تک میں بیٹھی ہوں۔‘‘
’’وہ لوگ کون سا مجھے کمپنی دیں گے۔ میں امبر کے پاس چلی جاتی ہوں۔‘‘ وہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’وہ سو گئی ہوگی۔‘‘ امی نے کہا لیکن اس نے ان سنی کر کے اوپر کی بیل بجا دی تو فوراً ہی امبر بھاگی آئی تھی اور اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھنے لگی۔
’’تم اس وقت آئی ہو؟‘‘
’’نہیں، شام کو آئی تھی لیکن تمہارا خیال ابھی آیا ہے۔‘‘ اس نے ہنس کر کہا تو امبر نے برا نہیں مانا۔
’’شکر آیا تو…‘‘
’’چلیں امی‘ اب آپ سو جائیں امبر ہے میرے پاس۔‘‘ اس نے زبردستی امی کو اٹھا دیا پھر امبر کے ساتھ بیٹھ کر کہنے لگی۔ ’’اصل میں سکندر اپنے دوست کی شادی میں گئے ہوئے ہیں۔‘‘
’’تم نہیں گئیں؟‘‘ امبر نے فوراً پوچھا۔
’’میں کل گئی تھی بہت بور ہوئی۔‘‘ پھر اچانک یاد آنے پر امبر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سرگوشی میں بولی۔
’’سنو، وہاں وہ بھی تھا رابیل۔‘‘
’’ہیں، تمہاری ملاقات ہوئی اس سے؟‘‘ امبر نے متجسس ہو کر پوچھا تو وہ ناگواری سے بولی۔
’’ہاں آیا تھا میرے پاس۔‘‘
’’کیا کہہ رہا تھا؟‘‘ امبر کا تجسس ہنوز تھا۔
’’بس رسمی باتیں‘ کیسی ہو خوش ہو‘ ساڑھی میں اچھی لگ رہی ہو وغیرہ وغیرہ۔‘‘ اس نے بتایا تو امبر اس کا ہاتھ دبا کر پوچھنے لگی۔
’’تم کیسی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔‘‘
’’کیسی بھی نہیں وہ خود ہی سامنے آگیا تھا فضول آدمی۔‘‘ اس نے کہہ کر سر جھٹکا تو امبر اس کے بازو میں چٹکی کاٹ کر بولی۔
’’اب وہ فضول ہوگیا۔‘‘
’’شروع سے تھا میں نے ہی اسے سمجھنے میں غلطی کی۔ لیکن اب شکر کرتی ہوں کہ…!‘‘ ڈور بیل سے وہ بات ادھوری چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’شاید سکندر آگئے چلو تم گیٹ بندکرلینا۔‘‘
’’مجھے اس لیے بلایا تھا۔‘‘ امبر نے خفگی سے ٹوکا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ ہنسی پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے باہر تک لے آئی پہلے اس کا سکندر سے تعارف کرایا پھر خدا حافظ کہہ کر گاڑی میں آبیٹھی اور بلا ارادہ کہہ گئی۔
’’بہت دیر کردی؟‘‘
’’شادیوں میں تو دیر ہوہی جاتی ہے۔‘‘ سکندر کے انداز میں بے پروائی محسوس کر کے وہ خاموش ہورہی تھی۔
ء…/…ء
پھر کتنے سارے دن گزر گئے وہ اب اس گھر میں رچ بس جانا چاہتی تھی اور اس کے لیے اس نے اپنا محاسبہ کیا تو اپنی بہت ساری غلطیاں سامنے آئیں۔ جیسے شروع دن سے ہما اور فروا اس سے دور دور تھیں تو اس نے بھی خود کو الگ تھلگ کرلیا تھا اور ساس کو بھی اپنی ساس سمجھ کر سمجھوتہ کرلیا تھا۔ اس کے برعکس اگر وہ ان کے معاملات اور دوسری باتوں میں دلچسپی لیتی اور اپنے معاملات میں ان سے مشورہ کرتی تو اس کے خیال میں اجنبیت کی دیوار گر سکتی تھی۔ ابھی بھی اتنی دیر نہیں ہوئی تھی۔ وہ ان باتوں پر عمل کرسکتی تھی۔ البتہ عالیہ کے ساتھ وہ رعایت برتنے کو تیار نہیں تھی۔ وہ اگر طریقے سے آئے گی تو اسے اہمیت دی جائے گی ورنہ نہیں یہ بھی اس نے غیر جانبداری سے سوچا تھا اور پھر یہ نہیں کہ وہ یہ ساری باتیں سوچ کر رہ جاتی بلکہ اسی دن سے عمل بھی شروع کردیا تھا اور کچھ ہی دنوں میں وہ گھر کے کام یوں تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ ہما اور فروا اپنے حصے کے کام بغیر کہے خود ہی کرنے لگی تھیں۔ جبکہ ساس کے کمرے کی جھاڑ پونجھ اور دوسرے چھوٹے موٹے کام بھی اس نے اپنے ذمہ لے لیے تھے۔ مزید فارغ وقت میں وہ ان کے پاس بیٹھنے بھی لگی تھی اور ایسے میں وہ خود کو بالکل فراموش کر کے صرف انہیں اہمیت دیتی تو پھر بہت جلدی وہ اس پر کھلنے لگی تھیں۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی دوست، ہمدرد مل جائے۔ بہرحال ان دنوں وہ ہما کے لیے بہت پریشان تھیں یعنی اس کی شادی کے لیے۔ رشتے آتے تو تھے لیکن بات نہیں بنتی تھی۔
’’پتا نہیں کب نصیب کھلیں گے اس لڑکی کے۔‘‘ اس وقت وہ آہ بھر کر بولی تو وہ انہیں تسلی دینے لگی۔
’’آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔ جب اللہ کو منظور ہوگا ہوجائے گی اس کی شادی۔‘‘
’’اے سنو، تمہارے میکے میں کوئی نہیں ہے۔ چچیرے، ممیرے، بھائی۔‘‘ انہوں نے پوچھا تو وہ سوچتے ہوئے بولی۔
’’میری خالہ کے چار بیٹے ہیں صرف ایک کی شادی ہوئی ہے۔‘‘
’’باقی تین تو کنوارے ہیں نا‘ کیا کرتے ہیں؟‘‘ وہ اس کے قریب کھسک آئی تھیں۔
’’ماشاء اللہ پڑھے لکھے برسر روزگار ہیں۔‘‘ اس نے بتایا تو وہ فوراً بولیں۔
’’تو اپنی ہما کے لیے بات چلائو نا۔‘‘
’’میں… میں امی سے کہوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر پچھتائی تو نہیں لیکن پھنس ضرور گئی تھی کہ شام میں سکندر کے آتے ہی وہ اس سے میکے جانے پر اصرار کرنے لگیں اور اسے تو کیا اعتراض ہو سکتا تھا لیکن اس وقت سکندر نے تھکن کے باعث منع کردیا تو پھر اگلے دن وہ دو دن رہنے کا پروگرام بنا کر امی کے گھر آئی تھی۔ پہلے کی طرح سکندر صبح آفس جاتے ہوئے اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا اور وہ ابھی امی کے پاس بیٹھی ہی تھی کہ سمیر کے کمرے سے پہلے سمیر کی پھر عالیہ کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ اس نے کچھ پریشان ہو کر امی کو دیکھا۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
’’روزانہ کا معمول ہے تم چلو میرے کمرے میں۔‘‘ امی اسے وہاں سے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آئیں لیکن اس کا دھیان اسی طرف تھا۔
’’کیوں امی کیوں لڑتے ہیں دونوں؟‘‘
’’کیا بتائوں اس لڑکی نے زندگی اجیرن کردی ہے گھر داری کی طرف تو آتی ہی نہیں۔ نہ ناشتا کھانا دیتی ہے نہ اسے کپڑے تیار ملتے ہیں۔ اسی بات پر جھگڑا ہورہا ہے اور شام میں تو اور ہنگامہ کرتی ہے روز کہیں نہ کہیں جانے کے لیے تیار۔‘‘ امی بولنے پر آئیں تو بولتی چلی گئیں۔ وہ دم سادھے سن رہی تھی پھر شاید امی کو خود ہی احساس ہوا تو سر جھٹک کر بولیں۔
’’چھوڑ میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔‘‘
’’لیکن امی ایسا کب تک چلے گا۔‘‘ وہ واقعی پریشان ہوگئی تھی۔
’’میں کیا کہہ سکتی ہوں۔‘‘
’’ویسے غلطی بھیا کی ہے۔ شروع میں ہی اسے اتنا سر چڑھا لیا کہ اب وہ…!‘‘ عالیہ کو آتے دیکھ کر وہ نا صرف خاموش ہوئی بلکہ اپنی جگہ سے کھڑی بھی ہوگئی تھی اور ابھی سلام اس کے ہونٹوں میں تھا عالیہ کہنے لگی۔
’’اچھا ہوا تم یہیں ہو اور اب یہیں رہنا، وہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے پہلے ایک نظر امی پر ڈالی تھی۔
’’میں جا رہی ہوں تمہارے بھائی پر اور گھر پر لعنت بھیج کر، اونہہ۔‘‘ وہ غصہ سے کہہ کر اسی انداز میں واپس پلٹ گئی تو اس کے ساتھ امی بھی اس کے پیچھے بھاگی آئیں۔
’’عالیہ… عالیہ رکو تو… کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’اس جہنم سے دور۔‘‘ وہ رکے بغیر بولی تھی۔
’’سنو سمیر کہاں ہے… سمیر۔‘‘ امی اسے روکنے کے ساتھ سمیر کو پکارنے لگیں لیکن وہ شاید آفس کے لیے نکل چکے تھے۔ جب ہی ادھر سے کوئی جواب نہیں آیا اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے۔
’’سمیر بھائی چلے گئے شاید۔‘‘ اس نے امی کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر خود کو سہارا دیا تھا۔
’’ہیں…؟‘‘ امی نے اسے دیکھا تو ٹھٹک گئیں۔ چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہورہا تھا ہاتھوں میں بھی لرزش تھی تب امی نے جلدی سے اسے بٹھایا اور جا کر پانی لے آئیں۔
’’تم کیوں پریشان ہورہی ہو؟‘‘
’’پریشانی کی بات نہیں ہے کیا؟ آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ گئی ہے کہ تمہیں وہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا تو امی اسے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگیں۔
’’اس کے کہنے سے کیا ہوتا ہے اور کوئی ہم نے تھوڑی نکالا ہے اسے خود گئی ہے۔‘‘ پھر قدرے رک کر پوچھنے لگیں۔ ’’شام میں سکندر ادھر ہی آئے گا نا۔‘‘
’’نہیں، آج تو نہیں آئیں گے میرا مطلب ہے میں دو دن رہنے کے ارادے سے آئی تھی۔‘‘ وہ بتا کر یوں دیکھنے لگی جیسے اسے رہنا چاہیے یا نہیں۔
’’شوق سے رہو، دو کیا چار دن رہو۔‘‘ امی نے اس کی نظروں کا سوال پڑھ کر کہا تھا۔
’’نہیں امی، اس طرح تو بات خراب ہوجائے گی۔‘‘
’’تو پھر ایسا کرو، سکندر کو فون کر کے شام میں ادھر ہی بلا لو پھر جیسا وہ کہے۔‘‘ امی نے کہا تو کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ انہیں دیکھ کر بولی۔
’’میرا خیال ہے پہلے آپ سمیر بھائی کو فون کرکے عالیہ کے جانے کا بتائیں اور دیکھیں وہ کیا کہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آفس سے واپسی پر وہ اسے لیتے ہوئے آئیں۔‘‘ آخر میں اس نے قیاس بھی کیا۔
’’ہاں یہ بھی ممکن ہے میں فون کرتی ہوں سمیر کو۔‘‘ امی اٹھ کر چلی گئیں۔ تو اس نے صوفے کی پشت پر سر ٹکا لیا۔ اچانک اسے بہت کمزوری محسوس ہونے لگی تھی۔ یوں جیسے جسم میں جان ہی نہ ہو جبکہ ذہن مائوف ہورہا تھا پھر بھی وہ امی کے آنے کی منتطر تھی۔ جاننا چاہتی تھی کہ سمیر بھائی کیا کہتے ہیں اور سمیر نے صاف انکار کردیا تھا عالیہ کو لے کر آنا تو دور کی بات۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ کبھی اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے اور اگر ان کے ساتھ اس کا معاملہ نہ جڑا ہوتا وہ شاید امی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتیں لیکن اب وہ بھی پریشان ہوگئی تھیں۔
’’تم سکندر کو فون کرو۔‘‘ امی کا اصرار تھا۔
’’نہیں جب میرا کوئی جھگڑا نہیں تو میں کیوں خوامخواہ کی صفائیاں پیش کروں۔‘‘ اس نے اچانک سکندر کو فون کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ ورنہ تھوڑی دیر پہلے وہ بھی یہی سوچ رہی تھی۔
’’صفائیاں پیش کرنے کی کیا بات ہے۔ صرف اسے صورتحال بتا دو ورنہ اس کی ماں بہنیں…!‘‘
’’آپ فکر نہیں کریں وہ اتنے کانوں کے کچے نہیں ہیں۔‘‘ اس نے امی کی بات کاٹ دی اور انہیں مزید اطمینان بھی دلایا لیکن خود اندر سے متوحش تھی۔
پھر سارا دن وہ متضاد کیفیات میں گھری رہی۔ کبھی وہ امی ابو کے فیصلے کو نئے سرے سے غلط قرار دیتے ہوئے اس پر کڑھتی کبھی اسے سمیر بھائی پر افسوس ہوتا جنہوں نے پہلے بھی اپنی خوشی کے حصول کی خاطر اسے نظر انداز کیا تھا اور ابھی بھی اس کا خیال نہیں کررہے تھے اور وہ کبھی اپنے مقدر سے شاکی ہوتی کہ اسی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ وہ تو اس گھر میں رچ بس جانا چاہتی تھی اور ایمانداری سے سب کو اپنا بنانے کی تگ و دو میں لگی تھی اب پتا نہیں اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ وہ سوچ سوچ کر پریشان تھی۔
شام میں سمیر آئے تو امی نے انہیں بری طرح لتاڑا۔ اس کا احساس دلانے کی خاطر بھی جانے کیا کچھ کہا جس کا ان پر پتا نہیں اثر ہوا یا نہیں کیونکہ وہ کچھ بولے ہی نہیں۔ امی کی ساری باتیں خاموش بت بنے سن کر اپنے کمرے میں بند ہوگئے تھے۔ پھر ابو آئے تو اس سے پہلے کہ امی ان کے سامنے شروع ہوتیں وہ اٹھ کر اپنے سابقہ کمرے میں آبیٹھی لیکن لاشعوری طور پر منتظر تھی کہ ساری روداد سن کر ابو اس کے پاس ضرور آئیں گے جب ہی دروازے پر آہٹ محسوس ہوئی تو وہ بے اختیار ادھر متوجہ ہوتے ہی حیران ہوگئی۔
’’مانا کہ مجھے پرسوں آنا تھا لیکن اس وقت آنے پر تم نے کوئی پابندی تو نہیں لگائی تھی یا لگائی تھی؟‘‘ سکندر نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے مسکرا کر کہا تو وہ بوکھلا گئی۔
’’نہیں۔‘‘
’’پھر اتنی حیران کیوں ہورہی ہو؟‘‘ وہ آرام سے بیٹھ گیا تو بلا ارادہ پوچھا۔
’’آپ آفس سے آرہے ہیں؟‘‘
’’نہیں، گھر سے۔‘‘ وہ اس کی کیفیت سمجھ رہا تھا پھر بھی انجان بنا اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنے پاس بیٹھا لیا۔
’’جانتی ہو، میں اس وقت کیوں آیا ہوں۔‘‘ اس نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا تو وہ چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر کہنے لگا۔
’’کیونکہ میں تمہیں دو دن اس خوف میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتا تھا کہ عالیہ اور سمیر کے جھگڑے کے بعد تمہارا کیا ہوگا۔ اسی لیے میں اس وقت آگیا اور اگر تم چاہو تو ابھی میرے ساتھ چل سکتی ہو چلو گی؟‘‘
’’جیسا آپ کہیں۔‘‘ وہ سر جھکا کر بولی۔
’’تمہارا کیا دل چاہ رہا ہے۔‘‘
’’کل… کل چلوں گی۔‘‘ اس نے کہا تو وہ مسکرا کر بولا۔
’’ٹھیک ہے‘ میں کل آجائوں گا۔‘‘
’’تھینک یو۔‘‘ وہ اب کھل کر مسکرائی تھی۔ دل سے بھاری بوجھ جو سرک گیا تھا۔
ء…/…ء
صبح ناشتے کی میز پر سمیر مجرمانہ انداز میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور امی بار بار ابو کو اشارے کر رہی تھیں کہ انہیں سمجھائیں لیکن ابو ایک نظر ان پر ڈال کر انجان بن جاتے پھر اچانک اس سے پوچھنے لگے۔
’’رات سکندر کیا کہہ رہا تھا؟‘‘
’’جی۔‘‘ وہ چونک کر متوجہ ہوئی تھی۔ ’’کچھ نہیں، ایسے ہی آئے تھے۔‘‘
’’عالیہ کے متعلق کچھ کہا؟‘‘ ابو نے پھر پوچھا۔
’’نہیں…‘‘
’’سمجھ دار لڑکا ہے میں نے بھی ذکر کرنا چاہا تو اس نے فوراً روک دیا کہ یہ ان کا معاملہ ہے اور ان کے معاملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ ابو نے سمیر کی طرف اشارہ کر کے کہا پھر انہیں مخاطب کیا۔
’’کیوں سمیر! تم نے کیا سوچا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ سمیر بھائی غالباً اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جب ہی اس قدر کہہ کر اٹھ کر چلے گئے تو ابو اسے دیکھ کر کہنے لگے۔
’’بیٹا ان کے لڑائی جھگڑوں سے تم پریشان مت ہونا اور نہ ہی گھر جا کر عالیہ سے الجھنا۔ اس کی کوشش تو یہی ہوگی کہ تمہیں بھی میکے بٹھا دے لیکن تم تحمل سے کام لینا اور جیسا تمہارا شوہر کہے ویسے کرنا، سمجھیں۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’اور تمہیں بھی سمیر کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دو چار دن گزریں گے تو خود ہی لے آئے گا بیوی کو۔‘‘ ابو امی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ بھی ناشتے کے برتن سمیٹ کر کچن میں آگئی پھر جب تک امی اس طرف آئیں وہ برتن دھو چکی تھی۔ اس کے بعد وہ امی کے ساتھ لائونج میں آبیٹھی اور جب انہیں بتایا کہ اس کی ساس نے ہما کے رشتے کے سلسلے میں اسے یہاں بھیجا تھا تو امی نے صاف انکار کردیا۔
’’نا بھئی، میں تو تمہاری خالہ سے بات نہیں کروں گی اور نہ میں تمہیں کرنے دوں گی۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کیوں کا کیا مطلب ایک کو بھگت رہی ہوں نا میں اور پھر تمہاری خالہ کہیں گی کہ جانے کس دشمنی کا بدلہ لیا ہے۔‘‘ امی نے ہاتھ جوڑ کر کہا تو وہ جزبز ہو کر بولی۔
’’لیکن امی، ہما ایسی نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں۔ تمہارے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا انہوں نے نوکرانی بنا کر رکھ دیا تمہیں۔‘‘
’’ہاں لیکن اب۔‘‘
’’بس مجھے اپنی بہن کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا۔‘‘ امی اسے ٹوک کر چلی گئیں تو وہ اپنے آپ پر کڑھتے ہوئے دکھ سے سوچنے لگی۔
’’میری کوئی اہمیت کوئی حیثیت نہیں ان کی نظر میں نہ میرا احساس ہے پہلے سمیر بھائی کا خیال تھا اب اپنی بہن کا خیال آخر مجھے کیوں نظر انداز کردیا جاتا ہے یہ بھی تو سوچا جاسکتا تھا کہ اس طرح میرے سر سے ایک بلا ٹلے گی یا اس طرح سسرال میں میری حیثیت کچھ مضبوط ہوجائے گی۔ میرا کیوں نہیں سوچتیں امی۔ مجھے بوجھ سمجھ کر اتار کیوں پھینکا نے اگر سکندر اپنی بہن کا بدلہ لینے کے لیے مجھے یہاں چھوڑ جاتے تو۔‘‘ فون کی بیل سے اس کی سوچیں منتشر ہوگئیں۔
’’ہیلو۔‘‘ منفی سوچوں کے باعث اس کی آواز میں مایوسی اور شکستگی تھی پھر بھی پہچاننے والا پہچان کر بولا۔
’’مجھے رات معلوم ہوا کہ تم یہاں ہو تو میں نے سوچا ٹرائی کروں شاید قسمت یاوری کرجائے۔‘‘
’’رابیل۔‘‘ اس کے ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی۔
’’ہیلو زوبیہ۔‘‘ چند لمحے انتظار کے بعد اس نے پکارا تو وہ سنبھلنے کی سعی کرتے ہوئے بولی۔
’’میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
’’میں جانتا ہوں اور میں تمہیں ڈسٹرب بھی نہیں کرنا چاہتا۔ بس ایک بار تم سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ وہ کسی طرح بھی اپنے لہجے میں ناگواری نہیں سمو سکی۔
’’کیوں؟‘‘
’’یہ میں نہیں جانتا بس ایک بار۔‘‘ اس کا عاجزانہ اصرار تھا۔
’’نہیں‘ میں تو اتفاقاً سامنا بھی نہیں چاہتی کہاں تم ملنے کی بات کررہے ہو اور ہاں تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں یہاں ہوں کیا تم میری جاسوسی کرتے ہو اس نے ایک خیال آنے پر پوچھنے کے ساتھ ٹوک بھی دیا تو وہ آزردگی سے بولا تھا۔
’’ایسی بات مت کرو جو مجھے اپنی ہی نظروں میں گرا دے۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’تم شاید بھول گئیں ذیشان کی شادی میں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ ذیشان میرا سیکنڈ کزن ہے اور رات تمہارے میاں وہاں آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے میں بھی وہیں موجود تھا۔‘‘
’’اور میرے میاں نے تمہیں بتایا کہ میں یہاں ہوں۔‘‘ وہ طنزیہ بول پڑی تھی۔
’’مجھے نہیں شمائلہ کو بتا رہے تھے۔‘‘ جواباً اس نے بھی کچھ باور کرانے کی کوشش کی تھی اور وہ بس اس قدر کہہ سکی۔
’’پھر؟‘‘
’’پھر یہ کہ تمہیں ہوشیار رہنا چاہیے۔‘‘ اس نے کہہ کر فون بند کردیا تھا اور وہ ٹھٹکی تو شمائلہ کے نام پر ہی تھی مزید متوحش ہو کر کتنی دیر اس کی بات سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔ لیکن پھر سکندر کا رویہ سوچ کر وہ کافی مطمئن ہوگئی البتہ رابیل سے مزید متنفر کہ وہ ضرور اسے پریشان کرنا چاہتا ہے۔
پھر شام کو سکندر آیا تو وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے پہلے سے تیار بیٹھی تھی۔ امی نے کہا بھی کہ رات کا کھانا کھا کر جانا لیکن وہ نہیں رکی اور بہت عجلت میں سکندر کے ساتھ نکل آئی تھی۔ اصل میں وہ یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ عالیہ کے یہاں سے جانے کے بعد اس کی ساس نندیں اب اس کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں۔ اتنی دقتوں سے تو وہ آپس کی کشیدگی دور کر پائی تھی اب جانے کیا ہو۔ تمام راستہ وہ یہ سوچتی آئی تھی اور جب سکندر کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تو پہلے مرحلے پر ہی عالیہ سے سامنے ہوگیا۔ وہ اسے دیکھتے ہی آپے سے باہر ہوگئی۔
’’اسے کیوں لے آئے۔ میں اس کا گھر چھوڑ آئی ہوں۔ یہ بھی یہاں نہیں رہ سکتی نکالو اسے۔‘‘ اس نے خائف نظروں سے سکندر کو دیکھا تو اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا تھا کہ عالیہ کی تیز آواز سن کر ہما، فروا کے ساتھ اماں بھی آگئیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’یہ یہاں نہیں رہے گی۔ مجھے نہیں بسنے دیا اس کے ماں باپ نے آپ بھی اسے چلتا کریں۔‘‘ عالیہ ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر باقاعدہ اونچی آواز میں یوں رونے لگی جیسے اس پر بہت ظلم ہوا ہو۔
’’بس بند کرو یہ مکاری۔‘‘ سکندر زور سے دھاڑا تھا۔ تم خود نہیں بسنا چاہتیں دوسروں کو الزام کیوں دیتی ہو اور اماں آپ کو اس سے ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے آپ اچھی طرح جانتی ہیں اسے۔‘‘
’’ہاں جانتی ہیں میری ماں ہیں ان سے زیادہ کون جانے گا مجھے۔ تم انہیں میرے خلاف نہیں بہکا سکتے۔‘‘ عالیہ انتہائی بدتمیزی سے بولی تھی۔
’’میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا اور تمہیں بھی یہاں رہنا ہے تو تمیز سے رہنا ورنہ…!‘‘
’’کیا کر لوگے تم۔‘‘ عالیہ اماں سے یوں الگ ہوئی جیسے ابھی سکندر پر جھپٹ پڑے گی اور ادھر سکندر کا ہاتھ اٹھا تھا کہ وہ چیخ پڑی۔
’’نہیں… سکندر۔‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ اس کا بازو تھام کر کھینچتے ہوئے کمرے میں لے آئی تھی اور پھر اس کے خلاف باقاعدہ محاذ کھل گیا۔ عالیہ نے گویا طے کرلیا تھا کہ اسے یہاں سے نکال کر دم لے گی اور اماں ہما اور فروا کو بھی اس نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ سکندر تو صبح کا گیا شام میں آتا اور سارا دن وہ اکیلی ان ماں بیٹیوں کے ستم کا نشانہ بنتی۔ عالیہ تو یوں حکم چلاتی جیسے وہ سچ مچ نوکرانی ہو۔ مزید اس کے ماں باپ اور بھائی کو گالیاں اور کوسنے بھی دیتی تھی اور وہ سب سننے اور سہنے پر مجبور یوں تھی کہ ابو نے پہلے ہی تنبیہ کردی تھی کہ اسے عالیہ سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے اور ادھر سکندر بھی صبر اور تحمل کی تلقین کررہا تھا۔
’’آخر کب تک؟‘‘ اس وقت وہ بہت عاجز تھی۔
’’میں کیا کہوں، اپنے بھائی سے پوچھو آخر اس نے کیا سوچا ہے۔‘‘ سکندر بڑے آرام سے خود بری الذمہ ہوگیا تو وہ بہت دل گرفتہ سی اس کے پاس سے ہٹ گئی لیکن پھر اسے لگا سکندر ٹھیک کہہ رہا ہے اتنے دن ہوگئے تھے عالیہ کو یہاں آئے ہوئے اور ادھر سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی امی نے بھی فون نہیں کیا تھا خیریت معلوم کرنے کے لیے ہی فون کرلیں۔ اس نے سوچا شاید انہیں میری خیریت مطلوب ہی نہیں ہے۔ اس نے دکھ سے سوچا اور اگلے دن خود ہی انہیں فون کر ڈالا۔
’’کیسی ہو؟‘‘ امی نے پوچھا تو وہ اکتا کر کہنے لگی۔
’’ان باتوں کو چھوڑیں اور یہ بتائیں سمیر بھائی نے کیا سوچا ہے۔‘‘
’’وہ میری کچھ سنتا ہی نہیں ہر بات کے جواب میں بس یہی کہتا ہے کہ میں نے عالیہ کو نہیں نکالا وہ خود گئی ہے اگر آنا چاہے تو خود ہی آجائے۔ میں لینے نہیں جائوں گا۔‘‘ امی نے بتایا تو وہ چیخ کر بولی۔
’’یہ تو وہ بھول جائیں کہ عالیہ خود سے جائے گی۔‘‘
’’پھر بیٹا میں کیا کروں؟‘‘
’’آپ کچھ نہیں کرسکتیں۔‘‘ اس نے فون بند کردیا۔
ء…/…ء
اسے اچانک غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا تو وہ یہی سمجھی کہ تینوں بہنیں کہیں سر جوڑے بیٹھی ہوں گی لیکن جب کچن سے نکل کر آئی تو کہیں کسی کی موجودگی کے آثار نظر نہیں آئے کچھ دیر لائونج میں رک کر اس نے کوئی آواز سننے کی کوشش کی پھر اپنی ساس کے کمرے میں جھانکا اور انہیں اکیلے بیٹھے دیکھ کر اندر چلی گئی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ ساس نے بے تاثر لہجے میں پوچھا تو وہ جزبز ہو کر بولی۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ پھر ہمت کر کے ان کے سامنے آبیٹھی تو وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔
’’سب لوگ کہاں ہیں؟‘‘ اس نے یونہی بات کرنے کی غرض سے پوچھ لیا۔
’’بازار گئی ہیں‘ تم نے کھانا کھا لیا؟‘‘
’’جی’ آپ کے لیے لے آئوں؟‘‘
’’نہیں‘ لڑکیاں آجائیں پھر کھائوں گی۔‘‘ وہ ان کے نروٹھے انداز پر کچھ دیر خاموش انہیں دیکھتی رہی پھر انہیں متوجہ کر کے پوچھنے لگی۔
’’اماں، ایسا کب تک چلے گا۔‘‘
’’کیسا؟‘‘
’’دیکھیں نا، آپ کو ابھی ہما اور فروا کی شادی بھی کرنی ہے اگر عالیہ اس طرح گھر چھوڑ کر بیٹھ گئی تو ان دونوں کے لیے مشکل ہوگی۔‘‘ اس نے سمجھاتے ہوئے کہا تو ان کے چہرے کا تنائو کچھ کم ہوگیا۔
’’یہی میں کہتی ہوں لیکن عالیہ کو میں کیا کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ پھر تمہارے گھر سے بھی تو کوئی نہیں آیا۔‘‘
’’سمیر بھائی کہتے ہیں وہ خود گئی ہے خود آئے۔‘‘ اس نے خفیف انداز میں کہا تو وہ آہ بھر کر بولیں۔
’’پھر تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘
’’لیکن اماں‘ ہما اور…!‘‘ وہ پھر ہما، فروا کا احساس دلا کر انہیں گرفت میں لینا چاہتی تھی لیکن ان تینوں کی آمد سے دل مسوس کر رہ گئی۔ جبکہ اماں ان کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔
’’کیا کیا خرید لائیں؟‘‘
’’لان کے سوٹ ہیں دیکھیں۔‘‘ عالیہ شاپرز میں سے سوٹ نکال نکال کر اماں کے سامنے ڈالنے لگی پھر کن اکھیوں سے اسے دیکھ کر ہما سے کہنے لگی۔
’’وہ سوٹ دکھائو جو شمائلہ نے پسند کیا تھا۔‘‘
’’شمائلہ بھی ساتھ گئی تھی کیا؟‘‘ اماں نے سوٹ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں، وہیں بازار میں مل گئی تھی اور اماں اس کی ابھی شادی نہیں ہوئی میں تو کہتی ہوں سکندر کے لیے چلی جائیں۔‘‘ عالیہ نے کہا تو اماں بے اختیار اسے دیکھنے لگیں۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہیں۔ یہ زیادہ دن یہاں نہیں ٹکے گی۔‘‘
’’میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔‘‘ وہ ضبط کرتے کرتے بھی کہہ کر کھڑی ہوئی تھی کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا وہ پیشانی پر ہاتھ رکھ کر سر جھٹکنے لگی۔
’’بس یہ ایکٹنگ اپنے گھر جا کر کرنا۔‘‘ عالیہ نے اسے دھکا دے کر کمرے سے باہر نکال دیا تو اس کی آنکھیں مزید دھند لا گئیں۔ بمشکل خود کو گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے تک آئی تھی۔
’’کیوں؟ میںکیوں یہ سب برداشت کر رہی ہوں۔ کس کے لیے میرے میکے میں ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے جو مجھے ستم سہنے پر مجبور کرے۔ پھر میرے ماں باپ کون سا میراخیال کررہے ہیں جو میں ان کی لاج رکھنے کا سوچوں اور سکندر وہ جانے کس مجبوری کے تحت یہ بندھن نباہ رہے ہیں۔‘‘ وہ سوچ سوچ کر روتی رہی۔ شام میں سکندر آیا تو وہ نڈھال پڑی تھی پھر بھی اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’سکندر میں اب یہاں نہیں رہ سکتی۔‘‘
’’پھر۔‘‘ اس کے سرسری انداز پر وہ مزید سلگ گئی لیکن بہت ضبط کرتے ہوئے بولی۔
’’یا تو میرے لیے علیحدہ گھر کا انتظام کریں یا پھر مجھے میرے میکے چھوڑ آئیں۔‘‘
’’اگر میں کہوں یہ دونوں باتیں ممکن نہیں تو؟‘‘ وہ اب بہت توجہ سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
’’تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے؟‘‘ اس کے حتمی انداز پر وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر خود کو صوفے پر گراتا ہوا بولا۔
’’علیحدہ گھر تو میں افورڈ نہیں کرسکتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر مجھے میکے چھوڑ آئیں۔‘‘ اس نے کہہ کر بیڈ کے پیچھے سے سوٹ کیس کھینچ لیا تو اب وہ ٹھٹکا تھا۔
’’تو تم نے پہلے ہی سے تیاری کر رکھی تھی۔ ویسے آج ایسی کیا بات ہوئی ہے جو۔‘‘
’’آج میری برداشت کی حد ختم ہوگئی ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ گئی تو وہ اٹھتے ہوئے بولا۔
’’سوچ لو۔‘‘
’’مجھے اب کچھ نہیں سوچنا۔‘‘ وہ واقعی سوچنے کیا سننے پر بھی تیار نہیں تھی۔ جب ہی سکندر نے مزید کچھ نہیں کہا اور سوٹ کیس اٹھا کر اسے چلنے کا اشارہ کیا تھا۔
ء…/…ء
’’جب وہ سوٹ کیس اٹھائے گھر میں داخل ہوئی تو بوجھل شام رخصت ہوچکی تھی۔ امی ابو دونوں لائونج میں بیٹھے تھے۔ اس کے ہاتھ میں سوٹ کیس دیکھ کر فوری طور پر وہ کچھ نہیں بول سکے اور پہلے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسے۔
’’میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس گھر میں بس جائوں لیکن…‘‘ وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن اس کی آواز بھرا گئی تب امی اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے بازوئوں میں لے کر اپنے ساتھ بٹھا لیا تو وہ ان کے کندھے پر پیشانی رکھ کر رو پڑی۔
’’میں جانتا تھا سمیر کی ضد اسے بھی لے ڈوبے گی کس کے ساتھ آئی ہو؟‘‘ ابو نے کہہ کر اس سے پوچھا۔
’’سکندر۔‘‘ وہ اسی قدر کہہ سکی۔
’’کیا کہہ کر چھوڑ گیا ہے؟‘‘ ابو نے پھر پوچھا تو اس نے پہلے آنسو صاف کیے پھر کہنے لگی۔
’’انہوں نے کچھ نہیں کہا میں خود آئی ہوں کیونکہ ان کی بہنوں نے میرا جینا دو بھر کردیا تھا اور سکندر میرا دفاع نہیں کر رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ ادھر سے عالیہ کو منانے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘‘
’’لیکن اس روز تو وہ کہہ رہا تھا کہ عالیہ اور سمیر کے جھگڑے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ امی نے کہا تو وہ دکھ سے بولی۔
’’مجھے بھی یہی کہا تھا لیکن پھر وہ مجھ سے لا تعلق ہوگئے۔‘‘
’’تم رو مت میں خود سکندر سے بات کروں گا۔‘‘ ابو نے اسے تسلی دینے کے ساتھ امی کو اشارہ بھی کیا تو وہ اسے اٹھا کر اس کے کمرے میں لے آئیں۔
’’سکندر نے اپنے منہ سے نہیں کہا لیکن شاید وہ چاہتے یہی تھے کہ میں یہاں آجائوں۔ جب ہی انہوں نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی اور اب میرا خیال ہے ادھر سے یہی کہا جائے گا کہ پہلے عالیہ کو لے کر جائیں۔‘‘ وہ اب امی کے ساتھ سہولت سے بات کرنے لگی تھی۔
’’ہاں‘ یہی مقصد ہوگا ان کا۔‘‘ امی تائید کے ساتھ کہنے لگیں۔
’’اللہ سمیر کو عقل دے اپنا نہیں تو تمہارا ہی احساس کرے۔‘‘
’’کیا کہتے ہیں سمیر بھائی۔‘‘
’’بس وہی ضد ہے خود گئی ہے خود آئے میں لینے نہیں جائوں گا خیر تم فکر نہیں کرو، وہ نہیں گیا تو تمہاے ابو اور میں جا کر لے آئیں گے عالیہ کو۔‘‘ امی نے اسے تسلی دی لیکن وہ مایوسی سے سر ہلانے لگی۔
’’وہ لڑکی سدھرنے والی نہیں ہے۔‘‘
’’اب چاہے جیسی بھی ہے تمہاری خاطر برداشت تو کرنا پڑے گا۔‘‘ امی نے گہری سانس کھینچی پھر اٹھتے ہوئے بولیں۔ ’’چلو تم منہ ہاتھ دھولو۔ میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘
’’آپ لوگ کھا لیں مجھے ابھی بھوک نہیں ہے۔‘‘ وہ کہہ کر واش روم میں چلی گئی۔ پھر امی ابو نے اس سلسلے میں فوراً کوئی اقدام نہیں کیا صرف اس لیے کہ کہیں اسے یہ نہ سننا پڑے کہ ماں باپ ایک دن اسے اپنے پاس نہ رکھ سکے۔ پھر تھوڑی بہت یہ امید تھی کہ اسے یوں دیکھ کر شاید سمیر کو احساس ہو لیکن سمیر جانے کس مٹی کے بنے تھے اسے دیکھ کر یوں بن جاتے جیسے دیکھا ہی نہ ہو۔ اس وقت بھی اسے یکسر نظر انداز کرتے وہ امی سے چائے کا کہہ کر اپنے کمرے میں جانے لگے تھے کہ امی نے پکار لیا۔
’’سمیر۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ پلٹ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے تو امی اس کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگیں۔
’’تمہاری بہن کتنے دنوں سے آئی ہوئی ہے تم نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ یہ یہاں کیوں ہے؟‘‘
’’کیوں ہے؟‘‘ وہ نہ ٹھٹکے نہ چونکے بلکہ امی کے ٹوکنے پر ہی پوچھا تھا۔
’’تمہاری وجہ سے تم اپنی بیوی کو لے آئو تو یہ بھی اپنے گھر جانے والی بنے۔‘‘ امی نے کہا تو اب وہ اسے دیکھ کر بولے تھے۔
’’اگر ایسی بات ہے تو میں عالیہ کو طلاق دے دوں گا۔‘‘
’’سمیر۔‘‘ امی نے ٹوکا تو وہ سر جھٹک کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ سناٹے میں بیٹھی تھیں۔
’’دماغ خراب ہے اس کا‘ تمہارے ابو آجائیں پھر ہم ابھی جا کر لے آئیں گے عالیہ کو۔‘‘ امی نے کہتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا کر تو اس نے خالی خالی نظروں سے انہیںدیکھا پھر آہستہ سے ان کا ہاتھ ہٹا کر اٹھی تھی کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
’’امی۔‘‘ اس نے پکارا تھا۔
’’کیا ہوا بیٹا۔‘‘ امی نے اٹھ کر اسے کندھوں سے تھام لیا۔ ’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’پتا نہیں… پتا نہیں مجھے کیا ہورہا ہے۔‘‘ وہ صوفے پر گر کر سر پٹخنے لگی تو انتہائی پریشان ہو کر امی نے وہیں سے سمیر کو پکارا اور ان کے آنے پر گاڑی نکلانے کا کہہ کر اسے اٹھانے لگیں۔
’’چلو، چلو بیٹا ڈاکٹر کے پاس۔‘‘ وہ امی کے سہارے خود کو گھسیٹتے ہوئے گاڑی تک آئی تھی۔
ء…/…ء
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد جہاں اس کے ماں بننے کی نوید دی وہاں اس کی صحت کی طرف سے تشویش بھی ظاہر کی۔
’’بہت کمزور ہے اچھی خوراک اور مکمل آرام بہت ضروری ہے کوئی ٹینشن بھی نہیں لینی۔ یہ دوائیں پابندی سے استعمال کرائیں۔‘‘ ڈاکٹر نے پرچا امی کے ہاتھ میں تھما دیا۔
امی اس کے لیے فکر مند ہوتی کچھ نہ کچھ بولے جا رہی تھیں اس نے سیٹ کی پشت گاہ سے سر ٹکا لیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ دل چاہ رہا تھا کسی موڑ پر گاڑی رکے اور وہ اتر کر بھاگتی ہوئی کہیں دور نکل جائے معاً گاڑی رکی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ امی نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا تو وہ چونکنے کے ساتھ ہی چہرہ موڑ کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔ ٹریفک جام ہونے کے باعث گاڑیاں دھیرے دھیرے رینگ رہی تھیں۔ سمیر بھائی جانے کیوں بریک پر پائوں رکھ کر بھول گئے تھے پھر ان کی نظروں کے تعاقب میں اس کی نظریں بھی ٹھہر گئی تھیں۔ سامنے کوئی کمپلیکس تھا جس کے مین گیٹ پر سکندر کے ساتھ شمائلہ تھی۔ سمیر بھی ان ہی دونوں کو دیکھ رہے تھے اور صورتحال اس کے لیے زیادہ پریشان کن تھی۔
’’چلیں نا بھائی۔‘‘ اس نے گھبرا کر کہا تب سمیر نے سر جھٹک کر گاڑی آگے بڑھا دی لیکن وہ ان کی طرح سر نہیں جھٹک سکی۔
’’تو سکندر نے اس لیے مجھے رکنے پر اصرار نہیں کیا تھا۔‘‘ تکیے پر سر رکھتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ پھر اس نے لاکھ خود کو بہلایا مگر حقیقت نہیں جھٹلا سکی اور ہما نے بھی کہا تھا کہ سکندر شمائلہ کو پسند کرنے کے ساتھ اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ گزشتہ بار جب وہ یہاں آئی تھی تب رابیل نے بھی شاید صرف اسے خبردار کرنے کے لیے فون کیا تھا۔
’’رابیل بھی جانتا ہے۔ اف میں تو ہر جگہ رسوا ہوگئی۔ جھوٹا بھرم رکھنے کے قابل بھی نہیں رہی۔‘‘ یونہی روتے اور کڑھتے ہوئے وہ جانے کب سوئی تھی۔
کافی دن چڑھ آیا تھا جب شور کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی تھی پہلے تو کچھ دیر سمجھنے کی کوشش کرتی رہی پھر اٹھ کر کمرے سے نکل آئی۔ لائونج میں امی ابو کے سامنے سمیر بھائی اونچی آواز میں بول رہے تھے۔
’’مانتا ہوں میں نے غلطی کی لیکن اس غلطی کا خمیازہ میں ساری زندگی نہیں بھگت سکتا۔ میں عالیہ کو طلاق دے دوں گا۔‘‘
’’اور زوبیہ کا کیا ہوگا؟‘‘ ابو نے غصے سے پوچھا تھا۔
’’کیا ہوگا، آپ یہ غلط سمجھ رہے ہیں کہ میری وجہ سے زوبیہ کی زندگی متاثر ہوگی۔ اس کا میاں تو پہلے ہی…!‘‘ وہ سمیر کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی واپس کمرے میں آگئی۔ بے شک وہ حقیقت بیان کرنے جا رہے تھے لیکن جس طرح وہ خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس پر انہیں غصہ آرہا تھا کیونکہ سکندر خواہ کیسا بھی ہو وہ بہرحال سمیر بھائی کی خوشی پر قربان کی گئی تھی اور اس وقت وہ جس حال میں تھی اس کا ذمہ دار وہ سمیر بھائی کو سمجھنے میں حق بجانب بھی تھی۔
’’کتنے آرام سے کہہ رہے ہیں کہ غلطی کا خمیازہ نہیں بھگت سکتا تو اور کون بھگتے گا۔‘‘ وہ اتنائی تنفر سے بڑبڑا رہی تھی کہ امبر نے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر اسے گھورنے لگی۔
’’کس سے باتیں کر رہی تھیں؟‘‘ وہ روٹھے لہجے میں بولی۔
’’اپنے آپ سے۔‘‘
’’اچھا چلو پہلے ناشتا کرو، آنٹی کہہ گئی ہیں تمہیں اپنی نگرانی میں ناشتا کرائوں۔‘‘ امبر نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’کیا مطلب امی کہاں گئی ہیں؟‘‘ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’تمہارے سسرال‘ بتا رہی تھیں عالیہ بھابی کو لینے جا رہی ہیں۔‘‘ امبر نے بتایا تو وہ مزید حیران ہوئی۔
’’سمیر بھائی بھی گئے ہیں؟‘‘
’’نہیں، آنٹی اور انکل جا رہے تھے۔ سمیر بھائی کو تو میں نے نہیں دیکھا اور یہ تم اتنی حیران کیوں ہو؟‘‘
ناشتے کے دوران اس نے صاف گوئی سے امبر کو تمام حالات کہہ سنائے یہاں تک کہ شمائلہ کے بارے میں بھی بتا دیا پھر آخر میں کہنے لگی۔
’’میں مانتی ہوں میرے ساتھ شروع دن سے اچھا نہیں ہو رہا لیکن پھر بھی میں واپس پلٹنا نہیں چاہتی کیونکہ اب میں اکیلی نہیں ہوں۔ سکندر کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن شمائلہ کے چکر سے سکندر کو کیسے نکالو گی؟‘‘ امبر نے پوچھا تو وہ بے بسی سے بولی۔
’’یہی تو میری سمجھ میں نہیں آرہا۔ تم بتائو کیا کروں پھر؟‘‘
’’انکل آنٹی کو آنے دو ہوسکتا ہے عالیہ ان کے ساتھ آجائے اور سکندر بھی۔‘‘ امبر نے کہا تو وہ گہری سانس کھینچ کر رہ گئی۔
اس کے لیے اب صرف سسرال کا مسئلہ نہیں تھا اس سے زیادہ شمائلہ کا معاملہ سنگین لگ رہا تھا۔ اس وقت اس کا ذہن اسی نکتے پر آکر اٹک گیا تھا کہ ابو امی آگئے تو ان کی مایوس شکلیں دیکھ کر اس نے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور بہت خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی کچھ دیر بعد امی اس کے پاس آبیٹھیں اور خود ہی بتانے لگیں۔
’’عالیہ آنے پر تیار ہی نہیں ہوئی۔ ہر بات پر بے یہی کہتی رہی کہ ایسے دقیانوسی شخص کے ساتھ میرا گزارا نہیں ہے۔‘‘
’’دقیانوسی؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’ہاں‘ میں نے بھی وضاحت طلب کی تو کہنے لگی سمیر کو بچے چاہیں اور مجھے تو بچے زہر لگتے ہیں۔ مر کر بھی سمیر کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتی۔‘‘
’’اس کی اماں نے کچھ نہیں کہا۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں وہ تو بیٹی کے سامنے بے بس لگ رہی تھیں۔‘‘ امی نے بتایا تو وہ قدرے رک کر پوچھنے لگی۔
’’اور سکندر…‘‘
’’وہ گھر پر نہیں تھا ہوتا بھی تو کیا کرلیتا۔ وہ تو اپنے سامنے کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہیں اور مجھے تو اپنے سمیر پر حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہے کہ صرف صورت دیکھ کر مرمٹا تھا اور دیکھ لو ظاہری خوب صورتی کا جادو کتنا عرصہ چلتا ہے۔‘‘
’’یہ سب تو ٹھیک ہے امی لیکن سمیر بھائی کو ایک دم آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے تحمل سے کام لیں اور بچے کے لیے جلدی مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ سال دو سال بعد بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ اس نے کہا تو امی مایوسی سے بولیں۔
’’مجھے تو نہیں امید۔‘‘
’’امید تو مجھے بھی نہیں ہے کیونکہ وہ بہت ضدی ہے اور خود سر لڑکی ہے اس کے باوجود میری خاطر آپ کو سمیر بھائی کو یہی سمجھانا ہے۔‘‘ اس نے کہا تو امی چونک کر اسے دیکھنے لگیں۔
’’ہاں میری خاطر۔‘‘ اس نے زور دے کر ایک طرح سے جتایا تھا کہ ان کی خاطر میرے دل کا خون بھی تو کیا تھا امی اس کا مطلب سمجھ کر کچھ دیر تک سوچتی رہی پھر اسے دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
’’تم سکندر سے کیا امیدرکھتی ہو؟‘‘
’’سکندر جیسا بھی ہے میں اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں کیونکہ میرے نزدیک شادی کھیل نہیں کہ آج اس سے تو کل اس سے۔ مجھے سکندر سے شکایت ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ا سے ناتا ہی توڑ لوں۔‘‘ چند لمحے رک کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے پھر کہنے لگی۔
’’میں اس سے ناتا نہیں توڑوں گی لیکن میں اس گھر میں بھی نہیں جائوں گی اور یہ میں سکندر سے کہہ کر آئی تھی کہ وہ میرے لیے علیحدہ گھر کا انتظام کر ے اور میرا مطالبہ ناجائز نہیں ہے اگر وہ غیر جانبداری سے سوچے گا تو ضرور مان لے گا۔‘‘
’’اسے سوچنے کی فرصت ملے گی تب نا۔ سمیر تو اس کے بارے میں کچھ اور بتا رہا تھا۔‘‘ امی کا اشارہ شمائلہ کی طرف تھا اور وہ سمجھ کر بھی انجان بن گئی۔
’’دوا ابھی وقت پر لینا۔‘‘ امی تاکید کرتے ہوئے چلی گئیں۔
ء…/…ء
پھر کتنے دن گزر گئے۔ اسے یہاں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے والا تھا اور اس دوران سکندر نے فون بھی نہیں کیا تھا جبکہ وہ شدت سے منتظر تھی۔ کیونکہ اس کے خیال کے مطابق اس کا سکندر سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اسے یہاں چھوڑ کر جاتے ہوئے اس نے یہ کہا تھا کہ وہ پھر آئے گا لیکن کسی کسی وقت اسے اپنا یہ انتظار خود بھی بڑا عجیب لگتا کیونکہ آس کا کوئی دیا اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔
’’میں کیا کروں؟‘‘اس وقت وہ امبر کے سامنے رو پڑی۔ ’’مجھے میکے میں اس طرح رہنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’تو تم خود کیوں نہیں سکندر کو فون کرلیتیں۔‘‘ امبر نے کہا تو وہ رندھی آواز میں بولی۔
’’مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’کس بات سے؟‘‘ امبر نے حیرت سے پوچھا۔
’’کہیں وہ سمیر بھائی اور عالیہ کا حوالہ دے کر یہ نہ کہہ دیں کہ میرا بھی تم سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ اس نے صاف گوئی سے اپنا خدشہ بیان کردیا۔
’’ہاں‘ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ امبر نے پرسوچ انداز میں تائید کی تو وہ مزید پریشان ہوگئی۔
’’پھر اب میں کیا کروں؟‘‘
’’دیکھو برا مت ماننا تم حقیقت سے نظریں چرا رہی ہو۔‘‘
’’کیا مطلب۔‘‘ وہ اپنے رخسار سے اس کا ہاتھ ہٹا کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’مطلب یہ ہے کہ جب سکندر تمہارے ساتھ فیئر ہی نہیں ہے تو پھر تم کیوں اس کے لیے ہلکان ہورہی ہو۔ دوسری بات یہ کہ بدلے کی شادیوں میں یہ تو ہوتا ہے پھر تم کیوں آس لگائے بیٹھی ہو۔ اس کے برعکس میں تو کہوں گی تم ذہنی طور پر خود کو تیار کرلو کہ کسی بھی وقت تمہارا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ اگر عالیہ کی وجہ سے نہیں تو شمائلہ کی وجہ سے۔‘‘ امبر اچانک کسی خیال کے تحت اس کا ہاتھ کھینچ کر بولی۔ ’’تم شمائلہ سے بات کرو۔‘‘
’’شمائلہ سے۔‘‘ وہ سوچ میں پڑ گئی۔
’’کیا سوچ رہی ہو۔‘‘ امبر نے اسے متوجہ کیا تو اس کے سینے سے آپ ہی آپ گہری سانس خارج ہوئی پھر اسے دیکھ کر بولی۔
’’شمائلہ سے نہیں میں رابیل سے بات کرتی ہوں۔‘‘
’’رابیل سے۔‘‘
’’ہاں‘ وہ شمائلہ کا کزن ہے۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
ء…/…ء
وہ گزشتہ دو تین دن سے رابیل کے نمبر پر ٹرائی کررہی تھی اور اس وقت جب اس کی آواز سنائی دی تو جیسے وہ عاجز کھڑی تھی اسی انداز میں بے اختیار کہہ گئی۔
’’کہاں ہو تم میں کب سے تمہیں…!‘‘ اچانک احساس ہونے پر خاموش ہوگئی تو ادھر وہ جو اس کے انداز پر حیران ہو رہا تھا ٹوک گیا۔
’’ہاں کہو۔‘‘
’’مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ اس نے سنبھلنے کی سعی کرتے ہوئے کہا تو اب وہ بے اختیار بولا تھا۔
’’شمائلہ کے بارے میں۔‘‘
’’جب جانتے ہو تو سمجھاتے کیوں نہیں اسے، کیوں میرا گھر خراب کر رہی ہے۔‘‘ وہ چیخ کر اس پر بگڑنے لگی تو وہ بھی ناگواری سے بولا۔
’’اسے کیوں الزام دے رہی ہو، قصور تمہارا اپنا ہے تم نے کیوں گھر چھوڑا۔‘‘
’’یہ میرا مسئلہ ہے۔‘‘ وہ جزبز ہوگئی تھی۔
’’اور شمائلہ۔‘‘ رابیل نے فوراً پوچھا تھا۔
’’تمہاری کزن ہے۔‘‘
’’اس سے مجھے انکار نہیں لیکن اس کی ذاتی زندگی میں‘ میں کیسے مداخلت کرسکتا ہوں۔‘‘ اس نے ایک طرح سے معذوری ظاہر کی تھی۔
’’بہرحال وہ اچھا نہیں کررہی۔‘‘ وہ کہہ کر فون رکھنے لگی تھی کہ اس نے پکار لیا۔
’’سنو، بس یہی کہنا تھا اور کچھ نہیں کہو گی۔‘‘
’’مثلا کیا۔‘‘ وہ ناچاہتے ہوئے بھی پوچھ گئی۔
’’یہی کہ ان حالات میں تمہیں اس شخص کا خیال آتا ہے جو تمہیں دیکھ کر جی اٹھتا تھا۔‘‘ اس کے لہجے میں بڑی آس تھی کہ وہ ڈگمگا گئی اور بڑی دقتوں سے بولی۔
’’نہیں، میں پلٹ کر دیکھنے والوں سے میں سے نہیں ہوں۔‘‘
’’اچھی بات ہے میری نیک خواہشات تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘
’’تھینک یو۔‘‘ وہ فون رکھ کر اپنے کمرے میں آئی تو کوئی دبے پائوں ساتھ چلا آیا وہ چونک کر پلٹی اور گھبرا کر دروازہ بند کردیا لیکن آنے والا آچکا تھا جس کی سرگوشیوں میں وہ بہک رہی تھی۔
’’ریت کے گھروندے بھی کہیں پائیدار ہوتے ہیں۔ یہ تو ہوا کے جھونکوں سے بکھر جاتے ہیں کہاں میں آندھی طوفانوں سے بچانے کی سعی میں ہلکان ہوئی جا رہی ہوں۔ امبر ٹھیک کہہ رہی تھی کسی بھی وقت میرا فیصلہ ہوسکتا ہے اور اب کیا رہ گیا ہے جس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ سمیر بھائی کو بچے چاہیے جبکہ عالیہ کو بچے پسند نہیں اور سکندر… وہ اپنی پرانی محبت کی طرف لوٹ چکا ہے پھر میں کس کے انتظار میں ہوں مجھے بھی پلٹ کر دیکھنا چاہیے۔ رابیل‘‘ ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی ساتھ اس نے آنکھیں بند کی تھیں کہ فوراً گھبرا کر سیدھی ہو بیٹھی کیونکہ رابیل کے ساتھ اس لڑکی کا خیال آگیا تھا جسے اس نے ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا۔
’’جھوٹے مکار‘ کیوں مجھے ورغلانے آگئے ہو جائو چلے جائو۔‘‘ وہ ڈپریشن کا شکار ہو کر چلاّتے ہوئے بھاگی اور امی کی گود میں سر رکھ کر رونے لگی۔
’’زوبیہ… زوبیہ…!‘‘ امی کے جھنجوڑنے سے اس کی چیخیں اور بلند ہونے لگیں تب گھبرا کر امی اٹھ کھڑی ہوئیں اور پہلے ابو کو آفس فون کیا پھر پڑوس میں کہہ کر ٹیکسی منگوائی اور اسے کلینک لے گئیں۔
’’کیا پریشانی ہے اسے؟‘‘ ڈاکٹر نے اسے ڈرپ لگاتے ہوئے پوچھا۔
’’بس کچھ کھاتی پیتی نہیں ہے۔‘‘ امی یہی کہہ سکیں۔
’’یہ تو بہت غلط بات ہے۔‘‘ ڈاکٹر اپنے پیشہ ورانہ انداز میں بولتی رہی پھر سسٹر کو ڈرپ میں انجکشن ڈالنے کا کہہ کر چلی گئی۔
’’کیوں اتنا ٹینشن لیتی ہو‘ سکندر اگر تمہیں لے جانا نہیں چاہتا تو ہم اسے مجبور تو نہیں کرسکتے۔‘‘ ڈاکٹر کے جانے کے بعد امی شروع ہوئی تو وہ آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی۔
’’مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘
’’ہاں سو جائو‘ میں تمہارے ابو کو فون کرکے آتی ہوں۔‘‘ امی نے کہا تو وہ فوراً پوچھنے لگی۔
’’ابو سے کیا کہیں گی؟‘‘
’’یہی کہ ہم یہاں ہیں اور تمہیں ڈرپ لگی ہوئی ہے۔‘‘ امی کہتی ہوئی چلی گئیں تو ان کے پیچھے دیکھتے ہوئے وہ چونک گئی زرینہ کھڑی تھی۔
’’سنو تم زوبیہ ہو نا؟‘‘ وہ لڑکی اب اندر آکر پوچھ رہی تھی۔ وہ آنکھیں کھول کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’میں زرینہ ہوں تم نے مجھے پہچانا نہیں۔‘‘ زرینہ نے اپنا نام بتانے کے ساتھ شکوہ بھی کیا تو وہ افسردگی سے مسکرائی۔
’’اتنی جلدی بھول گئیں۔‘‘ زرینہ ہنوز شاکی تھی۔
’’بھولنا اپنے اختیار میں کب ہوتاہے۔‘‘ اس کے لہجے میں دکھ تھا۔
’’تمہاری شادی ہوگئی ہے نا؟‘‘ زرینہ شاید تصدیق کے لیے پوچھ رہی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’بھائی تو شادی کا نام ہی نہیں سننا چاہتے‘ جب اماں بہت زور دیتی ہیں تو کہتا ہے زوبیہ جیسی کوئی ہو ہی نہیں سکتی‘ وہ نہیں تو کوئی نہیں۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ اس کے اندر ابال اٹھنے لگا تھا۔ ’’دماغ خراب ہے تمہارے بھائی کا۔ وہ تم لوگوں کو چکر دے رہا ہے ورنہ میں نے خود اسے ایک نہیں کئی لڑکیوں کے ساتھ دیکھا ہے۔‘‘
’’نہیں باجی‘ میرا بھائی چکر باز نہیں ہے۔ لڑکیاں خود اس کے پیچھے بھاگی آتی ہیں گھر بھی آتی ہیں لیکن میرا بھائی کہتا ہے کہ کوئی بھی زوبی جیسی نہیں وہ تمہیں بھولتا ہی نہیں۔‘‘ زرینہ اپنے بھائی کی صفائی میں بولے جارہی تھی۔ پھر شاید اس کی اماں نے پکارا تھا کہ پہلے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا پھر جاتے ہوئے بولی تھی۔
’’تم بہت بری ہو۔‘‘
’’میں بری ہوں۔‘‘ وہ آنکھیں بند کر کے سوچنے لگی۔ ’’نہیں‘ میرا نصیب برا ہے۔ جب ہی تو ساری تدبیریں ناکام ہوگئی تھیں جبکہ سکندر بھی شمائلہ کو پسند کرتا تھا۔ پھر بھی اس نے میری بات کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔‘‘
’’کیوں؟ وہ الجھنے لگی سکندر کے ساتھ کیا مجبوری تھی وہ آرام سے انکار کر کے شمائلہ کے ساتھ شادی کرسکتا تھا اب بھی تو…!‘‘
’’سو گئیں…؟‘‘ امی کی آواز پر وہ آنکھیں کھول کر غائب دماغی سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’کچھ کھائو گی؟‘‘ امی نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا کر ڈرپ کو دیکھ کر بولی۔
’’پتا نہیں یہ کب ختم ہوگی۔‘‘
’’ہوجائے گی‘ جلدی کیا ہے۔‘‘ امی نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’میں تھک گئی ہوں اور مجھے یہاں گھبراہٹ ہورہی ہے‘ گھر چلیں۔‘‘
’’تم اتنی جلدی پریشان کیوں ہوجاتی ہو۔ صبر نہیں ہے تم میں۔ گھر جا کر کیا کرو گی۔ وہاں بھی تو لیٹنا ہی ہے۔‘‘ امی کچھ خفگی سے بولنے لگیں تو اس نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔
’’کیا بات ہے ایسے کیوں کرتی ہو۔‘‘ قدرے رک کر امی اس کے پاس آبیٹھیں اور اس کا بازو ہلایا تو اس نے ان کا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں پر رکھ لیا۔
’’رو رہی ہو۔‘‘ امی کو اس کے آنسوئوں کی نمی محسوس ہوئی تھی۔ ’’رونے سے مسئلے حل نہیں ہوتے بیٹا؟‘‘
’’پھر کیسے حل ہوتے ہیں؟‘‘ وہ دھندلائی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’صبر سے اچھے وقت کا انتظار کرو۔‘‘ امی جز بز ہو کر بولیں۔
’’ایک بات بتائیں امی! اگر سمیر بھائی اور عالیہ صلح پر آمادہ نہ ہوئے تو میرا کیا ہوگا۔ کیا میں اس طرح بیٹھی رہوں گی۔‘‘ اس نے کسی خیال کے تحت پوچھا تھا اور امی کے پاس غالباً جواب نہیں تھا جب ہی آہ بھر کر رہ گئی تھیں۔
ء…/…ء
اس نے خود کہا تھا کہ وہ پلٹ کر دیکھنے والوں میں سے نہیں ہے لیکن حالات کی ستم ظریفی کہ اپنی بات کا بھرم رکھنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ مزید زرینہ کی باتوں سے وہ اور پگھل رہی تھی۔
’’بھائی کہتا ہے کوئی زوبیہ جیسی نہیں ملتی۔ وہ تمہیں نہیں بھولتا۔‘‘
’’اب کیوں بھول گیا ہے۔‘‘ وہ اس کے فون کے انتظار میں ٹوٹ رہی تھی۔ کیونکہ عہد کر چکی تھی کہ خود سے رابطہ نہیں کرے گی۔ ان دنوں وہ مکمل طور پر گئے دنوں کی گرفت میں تھی کہ خود سے رابطہ نہیں کرے گی اور جیسے امی نے کہا تھا کہ صبر سے اچھے وقت کا انتظار کرو تو اسے لگتا جیسے گئے دن لوٹ کر آنے والے ہیں۔ اس وقت وہ ان ہی دنوں میں کھو کر سوچ رہی تھی۔
’’زرینہ نے اسے بتایا تو ہوگا کہ میں اسپتال میں ہوں پھر اس نے فون کیوں نہیں کیا۔ میری طبیعت پوچھنے کے بہانے ہی…‘‘
’’زوبیہ۔‘‘ امی اسے پکارنے کے ساتھ کمرے میں آئیں تو وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
’’یہ دیکھو‘ عالیہ نے…‘‘ امی نے سفید رنگ کا لفافہ اس کی طرف بڑھایا تو وہ ایک نظر اس پر ڈال پوچھنے لگی۔
’’کیا ہے اس میں؟‘‘
’’خلع کا نوٹس بھجوایا ہے اس نے۔‘‘ امی نے بتایا تو اب اس نے لفافہ لے لیا اور اس میں سے پیپر نکال کر دیکھنے لگی اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا تھا اور ایسے ہی اس کے اندر بھی خاموشی تھی۔
’’بتائو بھلا‘ یہاں کیا تکلیف تھی اسے اپنی مرضی سے سوتی جاگتی‘ کھاتی پیتی تھی پھر نندوں کا بکھیڑا بھی نہیں ہے یہاں جیسا تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ امی اپنا بولے جا رہی تھیں اس نے ان کی باتوں پر بھی تبصرہ نہیں کیا اور خاموشی سے لفافہ واپس ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے اگر سمیر نے بھی غصے میں آکر اسے طلا ق بھجوادی تو…‘‘
’’تو کیا ہوگا۔‘‘ وہ بول پڑی۔ ’’بدلے میں سکندر بھی یہی کریں گے ایسی شادیوں میں یہی ہوتا ہے نا۔ دونوں کامیاب یا پھر دونوں ناکام۔ کبھی آپ نے یہ بھی سنا کہ…‘‘
’’بس کرو۔‘‘ امی قدرے سختی سے ٹوک مزید کچھ کہنا چاہتی تھیں کہ ڈور بیل کی آواز پر بڑبڑاتے ہوئے اٹھ کر چلی گئیں۔
کھنکارنے کی آواز پر فوراً ادھر متوجہ ہوتے ہی حیرت میں گھر گئی۔
’’سکندر۔‘‘
’’میری آمد غیر متوقع ہے کیا؟‘‘ سکندر نے سامنے آکر اس کی آنکھوں میں جھانکا تواس نے پہلے نظروں کا زاویہ بدلا پھر سر جھکا لیا۔
’’مایوس ہوگئی تھیں؟‘‘ سکندر نے اس کے پاس بیٹھ کر پوچھا اور وہ ابھی بھی خاموش رہی۔
’’ناراض ہو؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’ادھر دیکھو میری طرف، کیا ہوگیا ہے تمہیں؟‘‘
’’کچھ نہیں میں وہ… ابھی عالیہ کا بھجوایا ہوا نوٹس دیکھ رہی تھی اور اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔‘‘ اس نے بات بناتے ہوئے کہا۔ تو وہ فوراً پوچھنے لگا۔
’’اس کے علاوہ اور کیا سوچ رہی تھی؟‘‘
اور…!‘‘ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر جاننے کی کوشش کرنے لگی کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔
’’عالیہ کے ساتھ اپنے آپ کو کبھی مت سوچنا۔ وہ سر پھری ضدی لڑکی ہے اور اپنے ہر عمل کی خود ذمہ دار سمجھیں۔‘‘ سکندر نے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا تو جزبز ہو کر بولی۔
’’ہے تو آپ کی بہن۔‘‘
’’ہاں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ میں غلط فیصلوں میں بھی اس کا ساتھ دوں۔‘‘
’’آپ کے گھر والے تو یہی چاہتے ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے ناخن دیکھتے ہوئے بولی۔
’’گھر والوں کو چھوڑو، تمہیں مجھ پر بھروسہ ہونا چاہیے میں تمہیں لینے آیا ہوں اور میں چاہتا ہوں تم سارے خدشات سے نکل کر میرے ساتھ چلو۔‘‘ اس نے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی بولی کچھ نہیں۔
’’کیا بات ہے، کچھ غلط کہہ گیا ہوں میں؟‘‘ اس نے ٹوک کر پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا کر کہنے لگی۔
’’نہیں غلط تو نہیں بس ایک بات رہ گئی۔‘‘
’’کون سی؟‘‘
’’شمائلہ… میرا مطلب ہے جب آپ شمائلہ کو پسند کرتے تھے تو پھر مجھ سے شادی کیوں کی‘ کیا مجبوری تھی آپ کے ساتھ؟‘‘ اس نے کھوجتی نظریں اس کے چہرے پر جما دی تھیں۔
’’عالیہ…‘‘ سکندر کے سینے سے گہری سانس خارج ہوئی تھی پھر قدرے رک کر کہنے لگا۔
’’عالیہ کی ضد اور خود سر طبیعت کے باعث اماں کو خدشہ تھا کہ وہ اپنے گھر نہیں بس سکے گی۔ یعنی اس کے سسرال والے اسے زیادہ عرصہ برداشت نہیں کریں گے اور یوں سمجھو۔ اس کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے اماں نے مجھ سے یہ قربانی مانگی تھی کہ اس طرح سمیر پابند ہوجائے گا یعنی اپنی بہن کی خاطر عالیہ کی عادت سے سمجھوتا کرے گا لیکن یہاں تو الٹا ہی معاملہ ہوگیا۔‘‘
’’اونہہ‘ انسان کیا کیا تدبیریں کرتا ہے لیکن تقدیر سے نہیں لڑ سکتا۔‘‘ اس کے لہجے میں دکھ سمٹ آیا تھا۔
’’بہرحال میں محبت کی قربانی دے چکا ہوں لیکن بیوی کی قربانی نہیں دے سکتا کیونکہ میں پلٹ کر دیکھنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ اس نے کہا تو وہ بری طرح چونکی لیکن فوراً سنبھل کر بولی تھی۔
’’میں نے ابھی کچھ دن پہلے آپ کو شمائلہ کے ساتھ دیکھا تھا۔‘‘
’’ضرور دیکھا ہوگا۔ اصل میں مجھے گھر کی تلاش تھی اور وہ اسی سلسلے میں میری مدد کر رہی تھی۔ اس کی دوست کا اپارٹمنٹ خالی تھا۔ میں اس کے ساتھ وہی دیکھنے گیا تھا۔ شاید تم نے وہیں کہیں دیکھا ہوگا۔‘‘
’’وہ صاف گوئی سے بتا کر مسکرایا تو وہ نظریں چرا گئیں۔‘‘
’’بس یا کچھ اور بلکہ میرا خیال ہے باقی باتیں اپنے گھر جا کر۔ اپارٹمنٹ ہے تو چھوٹا لیکن ابھی ہم بھی تو دو ہی ہیں جب تین، چار، پانچ ہوں گے تب کوئی اور گھر دیکھ لیں گے‘ ٹھیک۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ دبا کر اقرار چاہ رہا تھا۔ اس نے مسکرانے سے پہلے دل میں عہد کیا تھا کہ اب کبھی پلٹ کر نہیں دیکھے گی۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close