یقین ایک سرحد ہے

یقین ایک سرحد ہے

سدرۃالمنتہی

زندگی کبھی کبھی ہماری سمجھ سے باہر ہوجاتی ہے‘ اس کے مسائل حل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ میں نے بھی زندگی کو آسان بنانے کی بہت کوشش کی تھی۔
’’تحریم! میری بچی‘ تمہاری آنکھوں میں جو سوال ہیں وہ دیکھتی بھی ہوں اور سمجھتی بھی ہوں۔ میرے پاس ان سارے سوالوں کے جواب بھی ہیں بیٹا‘ مگر میں تمہیں سمجھا نہیں سکتی‘ میں شاید کسی کو بھی کچھ بھی سمجھا نہ سکی تھی۔‘‘ اس نے بھیگی آنکھوں سے اپنے اردگرد دیکھ ہر چیز دھندلی نظر آرہی تھی اس نے ڈائری بند کردی‘ اس کے آنسو صفحہ نمبر سات پر جم گئے تھے۔ ڈائری سینے سے لگائے وہ بینچ سے اٹھی۔
’’میں چاہتی ہوں تحریم! اپنے بابا سے ملا کرو‘ بات کیا کرو‘ چیزوں کی فرمائش کیا کرو۔‘‘ وہی آواز گونجی پھر سے‘ وہی مہربان آواز… لوگ مرجاتے ہیں مگر باتیں نہیں مرتیں۔
’’مجھے بابا اچھے نہیں لگتے‘ وہ سب کو ڈانٹتے ہیں۔‘‘
’’وہ آپ کو نہیں ڈانٹتے۔‘‘
’’پیار بھی نہیں کرتے۔‘‘
’’آپ ان سے باتیں کرو گی تو وہ پیار بھی کریں گے۔‘‘
’’وہ آپ سے جھگڑتے ہیں‘ وہ بُرے ہیں۔‘‘
’’مگر وہ آپ سے نہیں جھگڑتے‘ وہ اچھے ہیں۔‘‘ ایک قدم‘ دو قدم اس کے پائوں میں ہلکی ہلکی لرزش تھی۔
’’تحریم! میں چاہتی تو تمہارے دل میں تمہارے باپ کی محبت پیدا کرسکتی تھی اور چاہتی تو نفرت بھی مگر میں نفرت نہیں پیدا کرنا چاہتی تھی اور محبت پیدا نہ کرسکی۔ تحریم! بڑے ہوکر اپنے باپ سے دور نہ رہنا‘ ہوسکے تو ان سے دوستی کر لینا۔ میرے بعد وہی تمہارے ساتھ ہوں گے‘ اپنے لیے بات کرنا۔ اپنے حق کا احساس دلانا‘ ان کو عادت ڈالنا کہ وہ تمہاری ذمہ داری اٹھائیں‘ تمہارا خیال رکھیں۔ یہ شخص میرا شوہر تھا اس نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا مگر تم اس کی اولاد ہو‘ تمہارے ساتھ بُرا نہیں کرے گا۔‘‘ اس شخص کی کال تھی۔ اس نے سیل فون دیکھ کر کال ریسیو کرلی۔
’’جی بابا! میں ٹھیک ہوں‘ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ میں ان کو چھوڑنا نہیں چاہتی‘ ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔ ان کو میری ضرورت ہے میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے بس اپنی کہی تھی اور سیل آف کردیا۔
ڈائری بیگ کے ادھ کھلے خانے میں رکھی جو بیگ کے ادھ کھلے حصہ سے جھانک رہی تھی‘ اس نے بیگ کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ اس نے سیدھی روش پر چلتے ہوئے اسے بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ اس سے بہت فاصلہ پر تھا مگر اس کے تعاقب میں چل رہا تھا‘ اس کی سست چال‘ کندھوں سے لٹکتا دوپٹہ‘ بیگ کے ادھ کھلے خانے سے جھانکتی ڈائری پر اس کی نظر تھی۔
اس نے جیسے اپنے پشت پر نگاہیں محسوس کی تھیں جبھی اس کی چال میں تیزی در آئی۔ وہ تیزی سے گلاس ڈور دھکیل کر اندر گئی تھی۔ وہ گلاس وال سے جھانکتے ہوئے اس پر توجہ رکھے ہوئے تھا اور اس کے پیچھے پیچھے آیا تھا جب تک وہ لفٹ میں سوار ہوچکی تھی۔
’’تم لفٹ میں کیوں نہیں چڑھتیں؟‘‘
’’مجھے بند کمروں سے خوف آتا ہے۔‘‘
’’تمہیں تو مجھ سے بھی خوف آتا ہوگا۔‘‘
’’مجھے ہر ڈرانے والی چیز سے خوف آتا ہے۔‘‘
’’تمہیں خوف سے خوف نہیں آتا؟‘‘
’’مجھے مشکل سوال بُرے لگتے ہیں۔‘‘
’’تمہیں میں بھی بُرا لگتا ہوں پھر اچھا کون لگتا ہے؟‘‘
’’کوئی بھی نہیں۔‘‘
’’کیا تم بہادر بن گئی ہو۔‘‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے لفٹ پر آیا تھا۔
’’کیا تمہیں اب بند کمروں سے خوف نہیں آتا؟‘‘ وہ پوچھنا چاہتا تھا‘ پوچھنا تو بہت کچھ تھا ابھی۔ وہ روم میں آیا وہ ان کے سرہانے کھڑی تھی اور رو رہی تھی۔
’’میں تمہارے آنسو گن سکتا ہوں پر اس کے لیے بہت حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔‘‘ اس نے اپنے آنسو تیزی سے صاف کیے تھے۔
وہ آگے بڑھا تھا جب تک ڈاکٹرز اندر آئے تھے‘ اس نے ڈاکٹر سے پوچھنا تھا مگر اس سے پہلے ایک ڈاکٹر تحریم کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے دروازے کی طرف گیا تھا۔ وہ تیزی سے اس کے پیچھے گئی تھی‘ اس نے صرف ایک سر سری نظر ہی ڈالی تھی اس پر۔ وہ ادھ کھلے دروازے سے اس کو ڈاکٹر کے ساتھ بات کرتا دیکھتا رہا۔ وہ کسی بحث میں مشغول تھے اس سے پہلے کہ وہ باہر آکر بات کرتا‘ وہ ڈاکٹر کے ساتھ چلی گئی تھی۔
ز…ؤ…ز
یادیں عجیب ہوتی ہیں‘ اچھی بھی‘ بُری بھی۔ چھپی ہوئی ہوتی ہیں ذہن کے کسی پرانے کھنڈرات کے کونے میں پوشیدہ خزانے کی مانند پھر ہم ان یادوں کو ذہن کے کونے سے جتنا بھی کھرچنے کی کوشش کریں تو بھی وہ دیواروں میں لگی سیلن کی طرح جم جاتی ہیں۔ وہ چاہتی تھی یہاں سے جاتے ہوئے تمام یادیں اس کھنڈر نما گھر میں چھوڑ جائے۔ الماری کے لاکر میں بند کرکے تالا لگالے یا پرانے کنویں میں پھینک جائے اور پھر اس گھر میں کبھی واپس نہ آئے مگر افسوس کہ یہ دونوں خواہشات ناممکنات میں شمار ہوتی تھیں۔
’’بی بی! آپ نے ساری پرانی چیزیں پھیلا لی ہیں ان سب کو سمیٹنا بھی ہے۔‘‘ چیزیں پھیلانا آسان ہے پر سمیٹنا کس قدر مشکل ہے اب یہ سارا پھیلا وہ سمیٹنا بھی پڑے گا‘ یہ خیال ہی کوفت میں مبتلا کردیتا تھا۔
’’آپ آگئیں ہیں اماں جی! تو بیٹھیے مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے۔‘‘ یادوں کا جہاں بہت وسیع تھا اس نے فی الحال اپنے بکھری ہوئی چیزوں کو سمیٹنے کی ٹھانی‘ خالی پرفیوم کی شیشیاں‘ پائوڈر کے ایکسپائر ڈبے‘ وارڈ روب میں ٹنگے سندھی کڑھائیوں سے مزین کپڑے‘ یہ سارے بیکار پڑے تھے۔ دو بڑی سفید کلر کی چادریں سندھی کڑھائی کے رنگین دھاگوں سے سجیں۔
’’بی بی یہ کتنی پیاری چادریں ہیں۔‘‘ سکینہ بی بی خاندانی ملازمہ تھیں۔
’’یہ ایک تو خالہ کے لیے ہے‘ ایسا کریں ایک آپ رکھ لیں۔‘‘ زاہدہ کے جہیز کے لیے اور یہ سوٹ بھی۔‘‘ اس نے ہینگ کیے ہوئے سوٹ نکال کر ان کو تھمائے۔
’’نہیں بی بی! میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی‘ آپ یہ اپنے لیے رکھیں۔ بڑی بی بی نے یہ ساری چیزیں آپ کے جہیز کے لیے رکھی تھیں۔‘‘
’’ارے اماں جی ابھی کر کون رہا ہے شادی پھر میں اتنے بھاری کپڑے کہاں پہنتی ہوں‘ یہ زاہدہ کو اچھے لگتے ہیں رکھ لیں۔ وہ بھی میری بہنوں کی طرح ہی ہے۔‘‘
’’آپ بالکل اپنی ماں پر گئی ہیں‘ سخاوت میں بھی اور سچائی میں بھی۔‘‘
’’خیر چھوڑیں‘ بیٹھیے مجھے آپ سے بات کرنی ہے‘ میرے جانے کے بعد اس گھر کا بہت خیال رکھنا ہے۔ پودے سوکھ رہے ہیں روز پانی دینا‘ گھر کی صفائی روز کرنی ہے خصوصاً امی کے کمرے کی۔‘‘ وہ ان کو آرام سے بٹھا کر سمجھا رہی تھی۔
’’آپ کیوں جارہی ہیں بی بی‘ مت جائیں۔‘‘
’’میرا جانا بہت ضروری ہے‘ دیکھو میں بہت اکیلی ہوں آپ اور بابا ہیں مگر پھر بھی آپ ہر وقت میرے ساتھ نہیں ہوتیں۔ میں کچھ دن کے لیے یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔ دم گھٹتا ہے میرا اس کھنڈر جیسے پرانے گھر میں۔‘‘
’’صاحب اس دن کہہ رہے تھے آپ کے لیے نیا گھر بنوا رہے ہیں۔‘‘
’’میری بھولی بڑی اماں! گھر بنوانے سے کچھ نہیں ہوتا‘ گھروں کی اہمیت انسانوں سے ہوتی ہے نا کہ انسانوں کی اہمیت گھروں سے۔ پھر میں کچھ عرصہ کے لیے جارہی ہوں‘ جلدی لوٹ آئوں گی۔ آپ سمجھ رہی ہیں نا میری بات۔‘‘ وہ ان کے چہرے پر چھائی الجھن دیکھ کر بولی۔ انہوں نے خاموشی سے صفائی کرنا شروع کردی تھی کہ گیٹ پر بیل ہوئی۔
’’جایئے اب دیکھئے کون آیا ہے؟‘‘
’’جی بی بی! زیب سائیں کی دلہن آئی ہیں۔ کل بھی آئی تھیں آپ سے ملنے کے لیے۔‘‘
’’یہ بیٹھے بٹھائے ان کو مجھ سے ملنے کا کیا شوق ہوا؟ چلو ٹھیک ہے باہر بٹھادو میں آتی ہوں۔‘‘
’’مگر میں آچکی ہوں۔‘‘ وہ کب سے کھڑکی کے پاس کھڑی تھیں‘ اسے اندازہ نہ ہوا تھا۔
’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہ کھڑکی سے ہٹ کر دروازے کے بیچ آکر رک گئی تھی۔
’’میرے خیال سے آپ باہر چلیں ہمیں وہیں بیٹھنا چاہیے۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑی چیزیں ایک طرف رکھیں اور اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’ضرور… مگر میں عادی ہوچکی ہوں ان سب چیزوں کی۔‘‘ اس کا اشارہ کمرے میں بکھری چیزوں کی طرف تھا۔
’’اتنی جلدی؟‘‘ اسے کچھ حیرت ہوئی‘ وہ اسے لے کر برآمدے میں آگئی تھی۔
گول برآمدہ چاروں اطراف سے کھلا ہوا تھا‘ اسے یہ برآمدہ وینٹلیشن کے حساب سے بڑا پسند تھا۔ اس نے جھولے میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اس کے بیٹھنے کے بعد خود بیٹھ گئی۔
’’جی تو آپ کو مجھ سے ملنے کا خیال کیسے آیا؟‘‘
’’ظاہر ہے زیب کی وجہ سے‘ وہ تمہارا بہت ذکر کرتا تھا۔‘‘ اسے اندازہ نہیں ہورہا تھا اس قسم کی بات پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے اس لیے خاموش رہی۔
’’تم نے پوچھا نہیںکہ وہ تمہارا ذکر کیوں کرتا تھا؟‘‘
’’مجھے اسے سے کوئی غرض نہیں مگر پہلے یقین کرنے دیں کہ وہ میرا ذکر کرتا بھی ہوگا یا یہ صرف آپ مجھے کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’نہیں وہ واقعی تمہارا ذکر کرتا تھا۔‘‘
’’اور بہت بُرے لفظوں میں کرتا ہوگا؟‘‘ اسے یہی اندازہ تھا۔
’’نہیں بہت اچھے اور صاف ستھرے لفظوں میں‘ وہ عزت کرتا ہے تمہاری۔‘‘
’’لطیفہ سنا رہی ہیں آپ مجھے۔‘‘ اسے ہنسی بے وجہ نہیں آئی تھی۔ ’’ویسے یہ کس دور کی بات ہے؟‘‘ ہنسنے کے بعد اسے یاد آیا کہ یہ پوچھ لینا چاہیے۔
’’دو تین سال پہلے کی جب ہم ملے تھے‘ وہ تمہاری باتیں کرتا تھا‘ تمہاری تعریف کرتا تھا۔‘‘
’’اچھا‘ کرتا ہوگا پھر…؟‘‘
’’پھر کچھ نہیں۔‘‘
’’پھر وہ آپ کی تعریفیں کرنے لگا۔‘‘ اس کا لہجہ خودبخود ہی تیکھا ہوگیا تھا۔
’’ہاں وہ تو ہے‘ پر وہ تمہاری عزت بہرحال کرتا ہے‘ دیکھو بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہم جن کی عزت کریں ان سے محبت بھی کرسکیں۔‘‘
’’بالکل ٹھیک ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم جن سے محبت کریں ان کی عزت بھی کریں۔ میرے نزدیک بہرحال عزت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور محبت ہم کسی کو خود سے زبردستی نہیں کرواسکتے۔‘‘
’’خیر آپ چھوڑیں‘ کچھ اور بات ہوجائے؟‘‘
’’تمہیں دکھ تو ہوا ہوگا زیب کی شادی کا؟‘‘
’’مجھے کیوں دکھ ہوا ہوگا۔‘‘
’’کیونکہ وہ تمہارا منگیتر تھا بچپن سے منسوب تھا تم سے۔‘‘
’’ہاں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ نصیب کی بات تو آپ مانتی ہی ہیں نا۔‘‘
’’تو آپ کو زیب کی شادی پر کوئی دکھ نہیں ہے نا۔‘‘
’’مجھے کیوں دکھ ہوگا زیب پر؟‘‘ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہے۔
’’کیا میں اس بات کو دہرائوں کہ آپ دونوں کا ماضی قریب میں بہت گہرا تعلق رہا ہے۔‘‘
’’رہا تھا پر اب نہیں ہے اور اب ایسی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
’’وہ تو ہے پر میں چاہتی ہوں تم زیب کو معاف کردو اگر تمہارے دل میں اس کے لیے کوئی ملال ہے تو‘ دیکھو اس نے بے شک تمہارے ساتھ بُرا کیا ہے پر درحقیقت وہ اتنا بُرا نہیں ہے۔‘‘
’’آپ اس کی طرف سے وضاحتیں دینے آئی ہیں اس کے لیے اس نے بھیجا ہے آپ کو یا یہ نیک خیال خود ہی آگیا آپ کو۔‘‘
’’یہ خیال مجھے آیا کیونکہ مجھے بد دعائوں سے بہت ڈر لگتا ہے‘ تمہارا رنج میری قسمت سے لڑسکتا تھا میں کسی اور کا حق لینے کے خلاف ہوں مگر یہ سب بہت اچانک اور پتا نہیں کیسے ہوگیا۔ میں سمجھی تھی خاندانی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور بہت مشکل ہوگی۔‘‘
’’مگر آپ خوش نصیب ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تو اب آپ آرام سے رہیں کس چیز کی فکر ہے آپ کو۔‘‘
’’مجھے لگتا ہے زیب کو معافی مانگ لینی چاہیے۔‘‘
’’ضرور پر میرے باپ سے‘ کیونکہ بابا نے زیب کو بیٹوں کی طرح پالا تھا‘ ان کا اپنا بیٹا بہت دیر بعد میں ہوا مگر اس کے بعد بھی زیب کو انہوں نے اتنی ہی توجہ اور محبت دی۔‘‘
’’ہاں یہ ان کا بڑا دل تھا کہ انہوں نے زیب کی اس حرکت کے بعد بھی اسے گھر سے نہ نکالا۔‘‘
’’ان کا سگا بیٹا ہوتا تو نکال سکتے تھے پر زیب کا اس ملکیت میں اور گھر کے حصے میں حصہ ہے‘ اس کے چچا حیات ہوتے تو یہ سب چھین سکتے تھے پر اس کا حق کسی اور کے پاس نہیں ہے۔‘‘ وہ صاف گوئی سے کام لیتی تھی اب بھی اس نے یہی کیا تھا۔
’’تم سمجھتی ہو اگر زیب کے فارد زندہ ہوتے تو وہ یہ سب کر دکھاتے مگر یہ بتائو کیا یہ سب کرنا چاہیے‘ حق دار کو حق سے محروم کرنا۔ وہ بھی صرف اپنا حق استعمال کرنے پر پسند کی شادی کوئی گناہ تو نہیں ہوتی۔‘‘
’’ہاں میں بھی یہی سمجھتی ہوں پر زیب کو بابا سے بات تو کرنی چاہیے ان سے معافی تو دور کی بات وہ ملا بھی نہیں ان سے۔‘‘
’’وہ شرمندہ ہے تحریم!‘‘
’’اس کی شرمندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے بہرحال بابا بہت پریشان ہیں البتہ میری زندگی میں کوئی بھونچال نہ آیا۔‘‘ یہ بات اس نے کس دل سے کی تھی یہ صرف اسے پتا تھا۔
’’چلو اچھا ہے میرے دل پر سے بوجھ اتر گیا۔‘‘
’’آپ اچھی ہیں اس کی قسمت بہت اچھی ہے۔‘‘
’’ہاں وہ تو ہے پر تم زیادہ اچھی ہو‘ اس کی قسمت اتنی بھی اچھی نہیں ہے۔‘‘
’’بہت بڑا دل ہے آپ کا ہما! اللہ آپ کو خوش رکھے۔‘‘
’’شکریہ‘ ہم ملتے رہیں گے۔‘‘ وہ وقت دیکھ کر اٹھی تھی۔
’’ہاں جب تک میں یہاں ہوں تو ضرور۔‘‘
’’تم کہیں جارہی ہو؟‘‘
’’جی! اپنی خالہ کے پاس۔‘‘
’’جہاں بچپن میں تمہیں بھیج دیا گیا تھا۔‘‘ اس نے آنکھ دبا کر کہا۔
’’اوہ آپ کو تو سب پتا ہے۔‘‘ وہ ہنسی تھی۔
’’اچھی طرح۔‘‘ وہ دونوں ہنستی ہوئی دروازے تک آئی تھیں۔ اس کے جانے کے بعد وہ اندر آئی۔
پھیلاوا بہت تھا جو سمیٹنا تھا پر وہ پہلے سے کچھ فریش ہوگئی تھی‘ ملازمہ کو چائے کا کہہ کر وہ اندر آئی‘ دیر تک عجیب سوچوں کا شکار رہی‘ سمجھ نہیں آرہا تھا خوش ہونا چاہیے یا پھر افسردہ۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی اور ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ تھی۔
ز…ؤ…ز
’’تو تم نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا؟‘‘ وہ صبح صبح آگئے تھے۔
’’فیصلہ بدلنے کرنے کے لیے تو نہیں کی جاتا بابا!‘‘
’’ہاں مگر نظرثانی توکی جاسکتی ہیں۔‘‘
’’اس کی اب گنجائش نہیں رہی۔‘‘
’’اس کی گنجائش ہے بیٹا!‘‘ وہ جھنجلائے ہوئے تھے۔
’’ہم کتنی دیر سے ایک لاحاصل بحث میں الجھ رہے ہیں اب اگر آپ نے میری کوئی بات نہیں ماننی تو بہتر ہے آپ اپنا حکم سنا ہی دیں۔‘‘
’’تو کیا میرے حکم کی تکمیل ہوگی‘ اس صورت میں کہ تم اپنا سامان پیک کرچکی ہو۔‘‘ ان کا اشارہ اس کے سوٹ کیس کی طرف تھا۔
’’سامان کھل سکتا ہے مگر مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی کہ آپ میرا بھرا ہوا سوٹ کیس کھلوا دیں گے۔‘‘ اس کا موڈ کچھ ہلکا ہوا تھا۔
’’یہ بھرا ہوا سوٹ کیس کتنے دنوں کی نشاندہی کررہا ہے؟‘‘
’’یہ قسمت پر ہے بابا! پر فی الحال مجھے یہاں سے جانے دیں۔‘‘
’’تم بیٹھ جائو پھر ہم بات کرتے ہیں مجھے تم سے بہت اہم بات کرنی ہے۔‘‘ تو آخر کار بات سامنے آگئی جو اس کے اندر ڈر بن کر بیٹھی ہوئی تھی وہ نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی وہ ان کے منہ سے صاف صاف سننا چاہتی تھی تاکہ پھر صاف صاف بات ہوسکے۔
’’تحریم! میری بات غور سے سنو‘ کل مجھے زیب ملا تھا وہ شادی کرنا چاہتا ہے اب۔‘‘ یہ بات انہوں نے سر جھکا کر کنفیوژ ہوتے ہوئے کہی تھی۔
’’اور آپ اس سے ملے پہلی بات‘ دوسری بات کہ آپ نے اس کی یہ بات سن لی‘ بہت بڑی بات ہے اور تیسری حیرت کی بات یہ کہ آپ یہ بات مجھے کہہ رہے ہیں اس سے آگے کے ارادے تک تو میں پہنچ ہی نہیں سکتی۔‘‘ اس کے لہجے میں دکھ‘ شکایت اور افسوس تھا۔
’’میرے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔‘‘ پورے جہاں کی بے بسی ان کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔
’’جب آپ کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا تو آپ اپنی بیٹی کو پھینک دیں گے کہیں بھی۔ بابا یہ تو وہ شخص ہے جو کچھ سال پہلے آپ کے فیصلے کو رد کرکے گیا تھا جس نے ٹھکرایا تھا آپ کی بیٹی کو آج وہ چند سال بعد جب یہ کہہ رہا ہے تو کس نظریے کے تحت کہہ رہا ہے آپ اسے اس کی زمینیں لوٹا دیں بابا! اسے یہی لالچ ہوگا۔‘‘
’’میں نے سب کچھ اسے دے دیا ہے تحریم! اس کے باوجود بھی اس نے مجھ سے درخواست کی ہے‘ میرے پیر پڑا ہے‘ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی ہے‘ رویا ہے وہ میرے سامنے۔ جیسا بھی ہے میں نے اسے اپنی گود میںپالا ہے۔ میں چاہتے ہوئے بھی اسے سزا نہیں دے سکتا تحریم!‘‘ اسے قائل کرنے کے لیے انہوں نے ہر طرح سے دلیل پیش کی۔
’’میں آپ سے درخواست کرتی ہوں‘ ہاتھ جوڑتی ہوں‘ معافی مانگتی ہوں‘ پیر پڑتی ہوں میں بھی روتی ہوں۔‘‘ وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔
’’میں بھی تو آپ کا خون ہوں‘ مجھے بھی تو آپ نے گود میں کھلایا ہے۔ وہ آپ کے بھائی کی اولاد ہے‘ میں تو آپ کی اولاد ہوں۔ میرے لیے آپ کے اندر نرمی کیوں نہیں ہے‘ مجھے آپ کیوں سزا دے رہے ہیں بابا! میں تو آپ کی بیٹی ہوں آپ کی تحریم ہوں۔‘‘
’’اٹھ جائو تحریم! یہاں بیٹھو میرے پاس۔‘‘ انہوں نے اسے اٹھا کر اپنے برابر بٹھایا۔
’’تم کیوں سمجھتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ زیادتی کررہا ہوں۔ میں تو تمہارا مستقبل محفوظ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’آپ سمجھتے ہیں یہ کوئی زیادتی نہیں؟آپ ایک شادی شدہ بندے سے میری شادی کراکے صرف اپنے سر سے بوجھ اتارنا چاہتے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں یہ زیادتی نہیں ہے۔‘‘
’’تحریم بیٹا! جذبات سے نہیں عقل سے کام لو‘ بچی مت بنو۔‘‘
’’آپ نے مجھے بڑا بننے ہی کب دیا ہے بابا! ہمیشہ کمزور ہی رکھا ہے‘ کاش اماں ہوتیں‘ دادی ہوتیں‘ مجھے دکھ ہے کہ میں آپ کو اپنا موقف نہیں سمجھا سکتی یا پھر آپ سمجھنا ہی نہیں چاہتے مجھے۔‘‘
’’تو میں اسے انکار کردوں؟‘‘
’’جی اسی طرح جس طرح اس نے انکار کیا تھا۔‘‘
’’تم یہ سب انتقام لینے کے لیے نہیں کررہیں؟‘‘
’’بالکل نہیں‘ آپ میرا نہیں سوچ رہے وہ اپنی بیوی کا نہیں سوچ رہا۔ آپ ایسا چاہتے ہیں میں ویسی ہی زندگی گزاروں جیسی میری ماں نے گزاری۔‘‘ یہ سب اس کے منہ سے بے ساختہ ہی نکل گیا تھا۔
’’تمہاری ماں نے کیسی زندگی گزاری؟‘‘ پل بھر میں ان کا چہرہ تاریک ہوا۔
’’آپ سے زیادہ مجھے تو علم نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے نظریں چرائی تھیں۔
’’تم بھی مجھے قصور وار سمجھتی ہو ہر معاملے میں؟‘‘
’’یہ بہت پرانی باتیں ہیں یاد کرنے سے تکلیف ہوتی ہے بابا! زیب کو جواب دے دیں اور مجھے جانے دیں کچھ عرصہ کے لیے۔ میں تنہائی سے اکتا گئی ہوں۔‘‘
’’اسی لیے تو میں تمہاری شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘
’’وہ بھی جہانزیب صاحب سے۔‘‘ اس کا لہجہ تلخ تھا۔
’’تو اور کون ہے؟‘‘ وہ کھل کر اسے کہہ نہ پارہے تھے۔ ’’مطلب یہی تھا کہ تمہاری نظر میں کون ہے۔‘‘
’’مجھے نہیں پتا‘ مجھے بس اتنا پتا ہے کہ میں گھٹ کر مرجائوں گی اپنی ماں کی طرح اگر کہیں اور نہ گئی تو۔‘‘
’’ٹھیک ہے تو پھر جائو‘ مگر کب تک آئو گی؟‘‘
’’شاید کچھ ماہ… ایک سال یا پھر کچھ کہہ نہیں سکتی۔‘‘
’’میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گا تحریم۔‘‘
’’آپ رہ لیں گے بابا! آپ کے بیٹے ہیں‘ ان کی شادی ہوگئی ہے ان کے بچے ہوں گے‘ آپ کی بیوی ہے ایک بھرا پرا گھر ہے‘ مجھے دیکھیں میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں نم تھیں۔
’’کیا میں تمہارے پاس نہیں ہوں؟‘‘
’’ہفتے میں ایک دفعہ آپ میری شکل دیکھنے آتے ہیں اتنے دن میں کیسی ہوں کیا کررہی ہوتی ہوں‘ کتنی اکیلی ہوتی ہوں آپ کو کوئی احساس نہیں ہوتا میرا۔‘‘
’’میں تو تمہارا پورا پور اخیال رکھتا ہوں تحریم! تمہاری ضرورتوں کا۔‘‘
’’پیسے اور چیزیں رشتوں کا نعم البدل نہیں ہوتیں بابا!‘‘
’’تحریم! وہ تمہارا بہت خیال رکھتی ہیں کیا؟ اس دن کے بعد اس عورت نے کبھی پلٹ کر تمہاری خبر نہیں لی‘ ایک فون تک نہیں کیا۔ تمہارے باپ تمہارے خاندان کو بُرا بھلا کہتی رہی‘ تمہیں ڈانٹتی تھی بُرا بھلا کہتی تھی‘ تم خود فون کرکے بتاتی تھیں اور اب تم وہیں جانا چاہتی ہو۔‘‘
’’بابا آپ فکر نہ کریں میں کچھ دنو ں میں آجائوں گی اور خالہ اتنی بھی بُری نہیں ہیں وہ مجھ سے پیار بھی کرتی ہیں بہت بس ان کے کچھ شکوے تھے ہم سے جو ٹھیک بھی تھے‘ خیر آپ چھوڑیں اس بات کو۔‘‘
’’منوالی آخر اپنی بات؟‘‘ وہ کچھ مسکرا کر اسے دیکھنے لگے۔
’’بہت معمولی بات منوائی ہے وہ بھی زندگی میں پہلی بار۔‘‘ کچھ دیر بعد وہ دونوں کافی خوش گوار موڈ میں ناشتا کررہے تھے‘ ایسا لگ رہا تھا باپ بیٹی کے درمیان ہمیشہ سے یہی دوستی رہی ہو۔
’’کچھ بھی چاہیے ہوگا فوراً مجھے بتائو گی… روز فون پر بات کرو گی۔‘‘
’’روز آپ مجھے فون کریں گے۔‘‘
’’پہنچتے ہی مجھے بتائو گی۔‘‘
’’پہنچتے ہی آپ کو بتائوں گی۔‘‘
اور اب وہ پریشان تھی کہ ان کے میسج کا کیا جواب دے؟ ان کی کال کیسے اٹھائے؟ شکر ہے وہ آدمی کچھ شریف تھا اس کی گھبراہٹ دیکھ کر سمجھ گیا۔ مونا کو کال کی اس سے پتا لیا مگر افسوس کہ وہ پتا بھی پرانا تھا۔ حال میں ان دونوں کا کوئی خاص ملنا جلنا نہیں تھا۔ وہ پریشان ہوگئی اب کرے تو کیا کرے‘ بابا کی کال پھر آرہی تھی وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے بُری طرح پریشان تھی اس نے آخر کار کال ریسیو کی۔
’’ڈرائیور بھیج دیں بابا‘ مجھے اب واپس آنا ہے۔‘‘ کس دل سے اس نے یہ کہا تھا‘ وہ بھی یہ بات جانتے تھے۔
ز…ؤ…ز
’’دیکھا اسی بات کا ڈر تھا‘ اسی لیے میں تمہیں کہتا تھا جلد بازی سے کام مت لو مگر تمہیں ہر وقت اپنے بڑے بیٹے کی پروا ہوتی ہے‘ صدا کا نفسیاتی ہے وہ ہمیشہ ہمیں مصیبت میں ڈالتا ہے۔‘‘ بجائے پریشان ہونے کے وہ بُری طرح بگڑے ہوئے تھے اور اس سب کا غصہ ان پر ہی نکلنا تھا‘ سو نکل رہا تھا۔
’’میں نے تو اسے بہت سمجھایا تھا‘ معظم مجھے کیا پتا وہ یوں اچانک گھر چھوڑ کر چلا جائے گا۔‘‘ اس کے جانے سے سب سے زیادہ پریشان وہی تھیں۔
’’بابا میں تب تک شادی نہیں کروں گا جب تک زید گھر نہیں لوٹتا۔‘‘
’’لو اب سن لو اس کی بھی‘ ایک اور نئی مصیبت۔ خاور باہر جارہا ہے اور میں شادی کینسل نہیں کرواسکتا یہ سن لو تم۔ کھیل سمجھ رکھا ہے کہ تم سب نے‘ اسے آنا ہوگا تو آجائے گا‘ کوئی ضرورت نہیں ہے پریشان ہونے کی۔ شادی اسی دن ہوگی جو ڈیٹ فکس ہوئی ہے اور ہاں رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے‘ آجائے گا دیکھنا ہفتہ دو دن میں جب سڑکوں پر دھکے کھائے گا تو عقل ٹھکانے آجائے گی اس کی۔ دیکھتا ہوں کب تک رُلتا ہے۔‘‘ وہ بڑی بے پروائی سے کہتے ہوئے کمرے میں چلے گئے تھے۔
اور وہ آنسوئوں سے بھری آنکھوں سے ان کی بے پروائی پر کڑھتی رہ گئی تھی۔ زین البتہ کچھ الجھا ہوا تھا مگر لگ رہا تھا کہ وہ باپ کی رائے سے کچھ اتفاق رکھتا ہے۔
ز…ؤ…ز
یہ رات دس بجے کا وقت تھا اس وقت بک شاپ پر رش کافی کم ہوتا تھا اس کا ساتھی ورکر جاچکا تھا اور اسے کئی دنوں سے جاتے جاتے دیر ہوجاتی تھی۔ وقت دیکھنے پر اسے فوراً احساس ہوا تھا آج پھر دروازہ دیر سے کھلے گا اور جب کھلے گا تو روز کی طرح لمبی کلاس ہوگی‘ جھڑکیاں سننا پڑیں گی اور پھر وہی بات کہ کوئی اور ٹھکانہ دیکھ لو اپنا۔ ’’اُف خدایا!‘‘ اس نے کتابوں کا کارٹن ایک طرف رکھا‘ کل سیٹ کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے اسٹور بند کرکے باہر نکل آیا‘ بھوک بھی بہت لگی تھی مگر باہر کا کھانا اسے سوٹ نہیں کرتا تھا۔ اس کی طبیعت ویسے ہی بگڑی ہوئی تھی۔ پہنچتے پہنچتے حسب معمول گیارہ بج گئے تھے اور پھر وہی کلاس ہوئی پورے دس منٹ وہ دروازہ بجاتا رہا‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی آئی تھیں۔
’’تمہارا دماغ کب درست ہوگا آخر لڑکے کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے‘ اپنی ملازمہ‘ اپنی ماسی یا پھر کچھ اور۔‘‘ جتنا لہجہ سخت ہوتا تھا اتنا ہی انداز۔
’’مجھے کھانا دے دیں زبردست بھوک لگی ہے۔‘‘
’’بہت زبان دراز ہوگئے ہو‘ شکایت لگائوں گی تمہارے باپ سے ایک فون کال کی ضرورت ہے بس۔‘‘
’’ہماری کمٹمنٹ میں ایسا کچھ نہیں‘ اپنی شرائط یاد رکھیں۔‘‘ وہ بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔
’’ہماری کمٹمنٹ میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ تم نو بجے تک گھر آجائو گے وہ یاد ہے تمہیں؟‘‘ انہوں نے ٹرے پٹخنے کے سے انداز میں رکھی تھی۔
’’میں بچہ نہیں ہوں‘ کماتا ہو میم! دیر سویر ہوجاتی ہے۔‘‘
’’زیادہ بکواس مجھے پسند نہیں ہے لڑکے! سن سن کر میرے کام پک جاتے ہیں‘ میں کہتی ہوں کہیں اور بندوبست کرلو ورنہ میں تمہارے باپ کو خبر کردوں گی۔‘‘
’’خسارہ آپ کا ہی ہے۔‘‘
’’بلیک میل کررہے ہو مجھے؟‘‘
’’آپ کا اسٹوڈنٹ رہ چکا ہوں ماضی قریب میں۔‘‘ کھانا کھاتے ہوئے اس کا موڈ کافی اچھا ہوگیا تھا۔
’’چلے جائو اپنے روم میں شکل مت دکھایا کرو مجھے اپنی۔ ماں باپ کو بھی تکلیفیں دی ہوں گی جبھی گھر سے نکال دیا نا۔‘‘
’’گھر سے نکالا نہیں گھر چھوڑ کر آیا ہوں میں اپنی مرضی سے۔‘‘
’’بڑی عقل مندی کا کام کیا ہے… کتنے فخر سے بتا رہے ہو سینہ تان کر۔‘‘
’’بڑی بہادری کا کام ہے یہ‘ آپ نے کبھی گھر چھوڑا ہو تو پتا لگے۔‘‘
’’میں کیوں گھر چھوڑتی‘ میں کوئی تمہاری طرح آوارہ گرد ہوں کیا؟‘‘
’’نہیں نہیں آپ بڑی شریف خاتون ہیں بلکہ نوجوانی میں شرمیلی بھی رہ چکی ہوں گی۔‘‘ اس کی زبان ان کے سامنے پھسل ہی جاتی تھی۔
’’میں بوڑھی لگتی ہوں اب تمہیں؟‘‘
’’نہیں آپ نوجوان ہیں‘ شادی کی عمر ہے آپ کی ابھی تک‘ کرلیں تنہائیاں دور کرنے والا ساتھی مل جائے گا کوئی۔‘‘
’’شادی کرنے کی عمر تمہاری ہے نالائق انسان! کوئی لڑکی دیکھ کر تمہیں زنجیر ڈال دینی چاہیے تاکہ زبان کو بھی ذرا تالا لگے۔‘‘
’’کوئی بھی لڑکی مجھ سے شادی نہیں کرے گی اس لیے آپ بے فکر رہیے میں چلا اب۔‘‘ وہ کھانا ختم کرکے اٹھا تھا۔
’’پتا نہیں کس کے نصیب پھوٹیں گے۔‘‘
’’آپ بے فکر رہیں آپ کے نہیں پھوٹتے‘ محفوظ ہیں آپ۔‘‘ وہ کہتے ہوئے تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
’’نالائق کہیں کا بدتمیز۔‘‘ ان کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی تھی جو کہ کبھی کبھار ہی آتی تھی۔
ز…ؤ…ز
لیپ ٹاپ کی اسکرین روشن ہوئی ساتھ ہی اس نے اپنے میسج چیک کرنا شروع کردیئے تھے ایک جگہ آکر اس کے ہاتھ رک گئے تھے۔
وہ کتنا خوب صورت لگ رہا تھا اپنی بیوی کے ساتھ‘ اس کے ہونٹوں پر عجیب تلخ سی مسکراہٹ تھی حالانکہ خود سے خوش ہونے کی اس نے ہر طرح سے کوشش کرکے دیکھ لی تھی۔ ساتھ میں امی اور ابو بھی تھے اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ دل میں ایک چوٹ سی لگی تھی۔
’’یہ نہیں میں خوش نہیں ہوں آپ سب کی خوشیاں دیکھ کر‘ یہ ہے کہ آپ سب تو خوش ہیں مجھے کھوکر مجھ سے دور رہ کر۔ کوئی فرق نہیں پڑتا آپ سب کو۔ میری کوئی حیثیت نہیں ہے آپ سب کے درمیان۔ میرے بغیر آپ سب خوش ہوسکتے ہیں اور میں اداس ہوں‘ میں کیوں یاد کرتا ہوں آپ سب کو۔‘‘ وہ بھولے سے بھی ان کے چہروں سے اداسی نہ تلاش کرسکا تھا۔
’’تو یہ ہے میری حیثیت‘ اتنا بے وقعت۔‘‘
’’یہ تمہارا بھائی ہے زید؟‘‘ وہ کب ان کے پیچھے آکھڑی ہوئی اسے پتا نہ چلا تھا۔
’’جی…‘‘ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا تھا۔
’’اس کی شادی ہوئی ہے؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’کب ہوئی؟‘‘
’’دو دن پہلے‘ آج اس کا ولیمہ ہے۔ ولید نے ابھی ابھی تازہ تصویر بھیجی تھی ولیمے کی۔‘‘
’’تم کیوں نہیں گئے وہاں‘ وہ سب تمہیں یاد کرتے ہوں گے۔ ایسی کیا ناراضگی ہے کہ تم ماں باپ کو یوں چھوڑ آئے ہو۔‘‘ پہلی بار انہوں نے نرمی سے بات کی تھی اس سے اور سنجیدگی سے بھی۔
’’ان میں سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ آپ دیکھ لیں کیا ایسا لگ رہا ہے؟‘‘
’’ایسا نہیں ہوتا زید! تمہیں نہیں پتا ماں باپ اندر سے کیا ہوتے ہیں۔‘‘
’’ابا جی بھی بظاہر ہنستے تھے‘ مسکراتے تھے مگر وہ ٹوٹ گئے تھے۔ سارا نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اسی کا غم لے ڈوبا تھا ان کو۔‘‘
’’سارا آپ کی بہن‘ جن کی شادی ہوئی تھی کسی دیہات میں‘ وہ اب کہاں ہیں؟‘‘
’’مرگئی وہ… ایک میں رہ گئی۔‘‘ وہ جاتے ہوئے بڑبڑائی تھیں۔ ان کے لہجے میں گھلی ہوئی نمی اور دکھ اس پر عیاں ہوا تھا۔
وہ انہیں جاتا ہوا دیکھتا رہا تو اس دنیا میں کوئی بھی دکھ سے خالی نہیں ہے‘ اس نے لمبی سانس بھری‘ اس کا چہرہ بھی تاریک تھا۔
ز…ؤ…ز
گھر بھی وہی تھا اور پتا بھی‘ گلی بھی وہی اس نے ڈرائیور کو واپس جانے کا اشارہ کیا اور اپنا بیگ گھسیٹتی ہوئی دروازے تک آئی۔ دوچار دفعہ بیل دینے کے بعد ایک گیارہ بارہ سالہ بچے نے دروازہ کھولا تھا وہ بغیر کچھ پوچھ گچھ کیے آگے بڑھ آئی۔ سامنے لان میں ایک درمیانی عمر کا آدمی اخبار پھیلائے اس میں پوری طرح سے گم تھا اور کچن کی کھڑکی سے ایک خاتون خانہ ہنڈیا بھونتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ سامنے لائونج کے دروازے سے ایک لڑکی ٹہلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی‘ وہ بچے کے اشارے پر سیدھی اندر آگئی مگر اب سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے تعارف لے۔ لڑکی اسے سامنے آتا دیکھتے ہوئے کچھ ناگواری سے کمرے کی طرف چلی گئی تھی‘ وہ بچہ کچن سے ان خاتون کو بلا کر لایا تھا۔ وہ کافی حیرانی سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی۔
’’یہاں پروفیسر صدیقہ معین رہتی تھیں؟‘‘ اس نے بیگ نیچے رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’جی ہاں مگر پچھلے چھ سات سال سے ہم یہاں ہیں انہوں نے یہ گھر میرے بھائی کو بیچا تھا ان سے ہم نے لیا تھا۔ آپ کیسے جانتی ہیں ان کو؟‘‘ خاتون بھی ذرا عجلت میں تھیں کھڑے کھڑے کہتے ہوئے اس نے دو تین بار کچن کی طرف دیکھا تھا۔
’’میں ان کی بھانجی ہوں‘ اب وہ کہاں رہتی ہیں پلیز ان کا کوئی پتا وغیرہ؟‘‘ ان سے زیادہ اسے جلدی تھی یہاں سے جانے کی۔
’’مجھے تو نہیں معلوم بیٹا! البتہ بھائی صاحب کو علم ہوگا میں ان کا نمبر دیتی ہوں آپ پوچھ لیں۔‘‘ خاتون یہ کہہ کر فون اسٹینڈ کی طرف بڑھی تھی۔
’’آپ خود اگر معلوم کرلیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘
’’اچھا چلو ٹھیک ہے‘ تم بیٹھو میں دیکھتی ہوں۔‘‘
’’بیٹا! وہ کہتے ہیں آپ ان کے کالج جاکر ان کا پتا لے لیں‘ وہ پچھلے ایک سال میں دو فلیٹ بدل چکی ہیں اب کا پتا ان کے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’وہ زبیدہ کالج میں ہیں ابھی تک؟‘‘
’’میں کچھ نہیں کہہ سکتی‘ اگر تم چائے لینا چاہو تو…‘‘ مروت آڑے آگئی۔
’’آپ صرف مجھے ایک پانی کا گلاس دے دیں۔‘‘ اس نے اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے کہا۔ اس نے پانی پی کر گلاس بچے کو پکڑایا اور باہر آگئی۔
گلی سنسان تھی‘ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔ بھاری بیگ گھسیٹتی ہوئی وہ سڑک تک آئی۔ یہ دوپہر کا وقت تھا اس کا سیل فون بجا‘ بابا کالنگ جگمگارہا تھا تو وہ اب کیا کہے گی ان سے۔ ہاں پہنچ گئی ہوں خیریت سے‘ کال بیک کرنے کے بجائے اس نے میسج لکھا تھا۔
’’اگر وہ وہاں بھی نہ ملیں تو…‘‘ اس سوال کا جواب وہ ڈھونڈنا نہیں چاہ رہی تھی۔ گاڑی تو مل گئی تھی مگر اس خدشے نے اسے بُری طرح پریشان کردیا تھا۔
گاڑی زبیدہ کالج کے گیٹ سے کچھ فاصلہ پر رکی تھی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ ڈرائیور کو وہیں رکے رہنے کا کہہ کر بیگ لے کر گاڑی سے باہر آئی‘ کھلے ہوئے گیٹ سے لڑکیاں گزر رہی تھیں یہ شاید چھٹی کا وقت تھا۔ وہ کس سے پوچھتی اس نے ایک دو لڑکیوں سے پوچھتے ہوئے بڑی شرمندگی کا سامنا کیا‘ کچھ لوگ اس کے ہاتھ میں سامان دیکھ کر ہاسٹل کا پتا بتارہے تھے۔ وہ گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے آپس میں بات کرتی ہوئیں چار لڑکیوں کے پاس آئی وہ چاروں کسی گرما گرم بحث میں مگن تھیں جب اس نے آکر سلام کیا تھا۔ ان میں سے کسی ایک نے سلام کا جواب ناگواری سے دیا تھا باقی خاموش ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگیں۔
’’یہاں پروفیسر صدیقہ معین پڑھاتی ہیں مجھے ان سے ملنا ہے۔‘‘
’’وہ جلدی گھر جاتی ہیں‘ اب تک تو جاچکی ہوں گی۔‘‘
’’ان کے گھر کا پتا‘ فون نمبر وغیرہ ہوگا آپ کے پاس؟‘‘ اس نے باری باری تینوں کی طرف دیکھا تھا۔
’’آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں آپ ان کی نئی اسٹوڈنٹ تو نہیں؟‘‘
’’نہیں میں ان کی بھانجی ہوں‘ مجھے ان سے ملنا ہے۔‘‘
’’بھانجی تم ہو پتا ہم سے پوچھ رہی ہو؟ عجیب بات ہے۔‘‘ سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
’’دیکھئے میں بہت عرصہ بعد آئی ہوں اس شہر میں‘ انہوں نے گھر بدل لیا تو پھر مجھے یہاں آنا پڑا۔‘‘
’’اچھا‘ تو پھر پہلے ان سے پوچھ لینا چاہیے تھا۔‘‘ ان کے لہجے سے صاف لگ رہا تھا کہ ان سب کو اس کی کسی بات کا کوئی یقین نہیں آرہا۔
’’دیکھئے میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘ اس وقت اس کی حالت بُری ہورہی تھی۔
’’اچھا تو پھر ایسا کرو کہ لطیف آباد چلی جائو وہاں ان کی بیسٹ فرینڈ رہتی ہیں میڈم مونا‘ وہ یقینا تمہیں ان تک پہنچا دیں گی۔‘‘
’’اور ان کے گھر کا پتا فون نمبر وغیرہ؟‘‘
’’پتا تو نہیں البتہ نمبر ہے لکھ لو یا ایڈ کرلو۔‘‘ وہ شکریہ کہتی نمبر پریس کرتی ہوئی گیٹ سے باہر آئی‘ بیل مسلسل جارہی تھی بمشکل چوتھی بیل پر کسی نے فون اٹھایا وہ کوئی صاحب تھے جنہوں نے اسے میڈم مونا کا پتا سمجھا کر فون بند کردیا۔ اس نے بیگ رکھا اور گاڑی میں بیٹھ گئی اگر وہ نہ ملیں یا پتا غلط نکلا یا پھر وہ کوئی دوسری میڈم مونا ہوں اس صورت میں وہ کیا کرے گی۔ اس نے سیل فون بیگ میں ڈالتے ہوئے بابا کی دو مسڈ کالز دیکھیں اور ایک لمبی سانس لی۔
’’تو آپ جیت گئے بابا! میری ضد ہار گئی۔‘‘ اس کی آنکھیں گیلی ہورہی تھیں۔
گاڑی اس پتے پر آکر رکی اس نے پھر اپنا بیگ اتارا‘ ڈرائیور کافی عجلت میں پیسے مانگ رہا تھا اور زیادہ مانگ رہا تھا اس نے بغیر کچھ کہے اسے پیسے دے کر فارغ کیا اور گیٹ پر آئی‘ یہاں پہلی بیل پر ہی دروازہ کھل گیا تھا کوئی آدمی تھا میڈم مونا کے بارے میں پوچھنے پر اس نے اسے اندر آنے کو کہا‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے آئی یہ شاید وہی فون والا بندہ تھا۔ وہ اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر کچھ منٹ بعد اس کے لیے کولڈ ڈرنک لے آیا اس کے پھر پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس اسلام آباد گئی ہوئی ہیں اس کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا‘ دروازہ بھی بند تھا۔
ز…ؤ…ز
’’تم کہاں کہاں آوارہ پھرتی رہی ہو‘ کچھ خیال بھی ہے۔ میں اور تمہارا باپ کتنا پریشان ہیں۔‘‘ انہوں نے اسے عید گاہ کے قریب ہی دیکھ لیا تھا۔
’’آوارہ میں پھر رہی ہوں کمال ہے آپ سو سو گھر بدل لیتی ہیں‘ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پریشان ہورہی ہوں آپ کا گھر صبح سے اب تک کس حال میں ہوں‘ کہاں کہاں کے دھکے کھاکر لوٹی ہوں آپ کو کچھ احساس نہیں ہے۔‘‘ وہ ان کا ری ایکشن دیکھ کر روہانسی ہوگئی تھی۔
’’میم چلیں اب۔‘‘ وہ ان دونوں کو بیچ سڑک بحث بازی میں مگن دیکھ کر آگے آیا۔
’’ہاں چلو… چلو بیٹھو اب گاڑی میں۔ تم بیگ لے لو اس سے۔‘‘ وہ کہتی ہوئی آگے بڑھیں۔
’’رہنے دیں۔‘‘ اس نے بیگ مضبوطی سے پکڑلیا۔ وہ کاندھے اچکاتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا اور دونوں کے بیٹھتے ہی گاڑی اسٹارٹ کردی۔
’’تمہیں کچھ تو بتا دینا تھا لڑکی! ہمیشہ طوفان کی طرح آتی ہو‘ طوفان کی طرح جاتی ہو‘ پریشان کرکے رکھ دیا مجھے اب بات کرلو اپنے باپ سے کب سے وہ آدمی مجھے بُرا بھلا کہے جارہا ہے۔‘‘
’’بابا سے کب بات ہوئی آپ کی؟‘‘ وہ حیرانی سے دیکھنے لگی۔
’’آج صبح ہی انہوں نے فون کیا تھا مجھے تمہارے نکلنے کے بعد۔ اسی لیے میں کالج سے بھی جلدی نکل آئی تھی۔‘‘
’’بابا کے پاس نمبر تھا آپ کا‘ اُف… مجھے لے لینا چاہیے تھا۔‘‘
’’چلو غلطی تو تسلیم کرلی تم نے۔‘‘
’’تمہارے باپ نے تو جان کھالی‘ یہ بتائو خیریت ہے نا‘ آئی کیوں ہو؟‘‘
’’آ تو گئی ہوں مگر بُری طرح پچھتار ہی ہوں۔‘‘
’’ہاں تو پھر چلی جانا۔‘‘ وہ ذرا بھی مروت نہیں رکھتی تھیں۔ زید نے حیرانی سے پیچھے دیکھا تھا۔
’’چلی جائوں گی کچھ دیر میں‘ ڈرائیور پہنچتا ہوگا میرا۔‘‘
’’اگر اتنی ہی افراتفری تھی تو اتنا سفر کس خوشی میں کیا پھر؟ تمہارے باپ نے کہا ہے کہ کچھ دن رہ لو‘ رہنا چاہو تو ٹھیک ہے ورنہ کل چلی جانا۔‘‘ وہ بڑے افسوس سے ان کی طرف دیکھتی رہ گئی۔
’’نہیں شکریہ! ابھی جانا ہے‘ بھجوادیں آپ مجھے۔‘‘
’’زیادہ ڈرامے مت کرو‘ ابھی بھجوادیں یہاں کوئی تمہارے باپ کا نوکر نہیں لگا ہوا۔‘‘
’’آپ ہر بات میں میرے باپ کو کیوں لے آتی ہیں آخر۔ انہوں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا؟‘‘
’’میرا تو اس کی پچھلی سات نسلیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔‘‘
’’میڈم گھر آگیا۔‘‘ گاڑی گیٹ کے آگے آ رکی تھی۔
’’اب اترو نیچے صاحب زادی! اور اپنا بیگ بھی لے آنا۔‘‘ وہ اس سے پہلے اتری تھیں۔
تحریم کڑھتی ہوئی ان کے پیچھے پیچھے اندر آئی اور وہ ابھی تک حیرت سے کھڑا تھا۔
ز…ؤ…ز
’’ویسے رات کھانا نہ کھا کے تم نے کیا ثابت کیا‘ یہ میں جانتی ہوں اگر ابھی بھی تم ناشتا نہیں کرو گی تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘ اس نے گردن موڑ کر چونکتے ہوئے پیچھے دیکھا تھا یہ سب اسے ہی کہا جارہا تھا مگر وہ خاموشی سے بغیر کچھ کہے اپنے لیے کپ میں چائے ڈال رہی تھی اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا۔
’’چائے لے لو لڑکے! پھر کہو گے دیر ہوگئی۔‘‘ وہی لٹھ مار انداز تھا‘ وہ اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل تک آیا۔
’’یہ ٹوسٹ تمہیں نہیں کھانے تو میرا بالکل بھی کچھ اور پکانے کا موڈ نہیں ہے‘ مجھے کالج جانا ہے اب۔‘‘ وہ اپنی چائے ختم کرکے اٹھی تھیں۔
’’لڑکے! پہلے تم نکلو پھر میں دروازہ بند کرکے باہر جائوں گی۔‘‘ وہ کمرے سے فائل اور بیگ لے کر آئی تھیں۔
’’آپ باہر سے دروازہ بند کردیں گی؟ میرا مطلب ہے یہ اکیلی ہوں گی گھر پر تو…‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا۔
’’تو یہ تمہارا مسئلہ ہر گز نہیں ہے تم تیاری پکڑو چلنے کی۔ اب جوان جہان لڑکی کو ایسے ہی چھوڑدوں کیا۔‘‘ وہ اسے گھورتے ہوئے بولیں۔
’’آپ دروازہ بند کرکے جائیں میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ چائے ختم کرکے اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ اسے بے یقینی سے دیکھنے لگیں پھر اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا جو ہونق بنا کھڑا اس کی سعادت مندی دیکھ رہا تھا۔
’’آپ ٹی وی دیکھ لیجیے گا او رمیرے کمرے میں کتابیں پڑی ہیں بلکہ لیپ ٹاپ بھی چاہیں تو استعمال کرسکتی ہیں۔‘‘ اس نے جاتے جاتے کہا تھا۔ تحریم کی طرف دیکھ کر اسے رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ وہ بے چاری پورا دن اکیلی بند گھر میں کیا کرے گی۔
’’کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کے کمرے میں جانے کی‘ ہاں البتہ ٹی وی دیکھ لینا۔‘‘ وہ سختی سے کہتے زید کو گھورتے ہوئے اس کے ساتھ باہر نکلیں اس نے درازہ لاکڈ ہونے کی آواز سن کر ٹھنڈا سانس لیا۔
برتن اٹھا کر کچن میں گئی‘ برتن دھوئے‘ کچن صاف کیا پھر باہر آئی بجلی چلی گئی تھی اس لیے ریموٹ وہیں رکھ کر وہ ان کے کمرے کی طرف آگئی جہاں چیزیں بُری طرح بکھری تھیں کتابیں دوپٹہ‘ عینک بیڈ پر پڑی تھی سب کچھ سلیقے سے رکھا اور کمرے کی تفصیلی صفائی کی‘ پھر کھانا بناکر جب وہ کمرے میں آئی تھکن سے بُرا حال تھا دو منٹ کے لیے وہ لیٹی ہی تھی کہ نیند آگئی۔ اتنی گہری نیند رات میں بھی نہ آتی تھی کتنے دنوں بعد وہ گہری نیند سوئی تھی۔
’’میری چیزیں اِدھر اُدھر بکھیر کر تم کیا ثابت کرنا چاہتی ہو آخر۔‘‘
’’میں کچھ بھی ثابت کرنا نہیں چاہتی‘ بس یہی کہ بہت دنوں سے یہاں صفائی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ وہ شام میں اٹھی تھی اور کافی فریش فریش لگ رہی تھی۔
’’یہ میرا گھر ہے تمہیں کوئی حق نہیں ہے یہاں ردّو بدل کرنے کا۔ جیسا ہے جس طرح ہے جس کو چاہیے یہاں رہے جس کو نہیں پسند وہ جاسکتا ہے۔‘‘ یہ اشارہ زید کی طرف بھی تھا‘ وہ ابھی دفتر سے لوٹا تھا اور کھانا کھانے کے بعد وہ اسٹور پر جاتا تھا تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آیا تھا اور ان کی زور دار گرج پر رک سا گیا۔
’’میں کچھ دنوں میں یہاں سے جانے والا ہوں‘ میرے دوست نے ایک مکان دیکھ لیا ہے میرے لیے۔‘‘ اسے ان کا کچھ بھی کہنا بُرا نہیں لگتا تھا مگر ابھی تحریم کے سامنے بہت بُرا لگا تھا جس طرح سے انہوں نے کہا تھا۔
’’شوق سے جائو مجھے کما کر نہیں کھلاتے تم‘ جسے جانا ہے وہ چلا جائے۔‘‘ وہ کہتی ہوئی کمرے کی طرف چلی گئیں۔
’’آپ اگر یہاں آکر پچھتا رہی ہیں تو یہ فیصلہ آپ کو بھی کرلینا چاہیے۔‘‘ وہ اس کی طرف افسوس سے دیکھ کر کہنے لگا اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر چلا گیا کہ اس سے جواب کی کوئی توقع تو نہ تھی مگر اس کی آنکھوں سے نکلتی نمی اس نے دیکھی تھی۔ پتا نہیں کیوں اسے اس لڑکی سے ہمدردی محسوس ہورہی تھی جب کہ وہ شرمندگی کے مارے کچھ کہہ نہیں پارہی تھی۔
’’یہ تم پھر بالکونی میں کھڑی ہو‘ سخت بُری لگتی ہے تمہاری یہ عادت مجھے۔‘‘
’’گھٹن سی محسوس ہورہی تھی مجھے یہاں تازہ ہوا ہے۔‘‘ وہ چائے کا کپ لے کر یہاں آکھڑی ہوئی تھی۔ وہ کمپیوٹر پر کام کررہا تھا جب ان کی آواز پر اپنے کمرے کی کھڑکی سے اس نے بالکونی میں جھانکا تھا۔
’’تمہیں پتا ہے یہاں سامنے لڑکے کا کمرہ ہے تو تمہیں یہاں آکر کھڑا ہونا نہیں چاہیے تھا۔‘‘
’’میں آپ کے لڑکے کی وجہ سے نہیں آئی‘ مجھے تازہ ہوا کی ضرورت تھی۔‘‘ اس کے لہجے میں دکھ اور شکایت تھی۔
’’ٹھیک ہے آئندہ خیال کرنا۔‘‘ ان کا لہجہ ویسا ہی تھا۔
’’آپ پہلے بھی ایسی تھیں‘ اب بھی ایسی ہیں ہیں۔‘‘
’’تم پہلے بھی احمق تھیں اب بھی احمق ہو‘ نالائق ہو تمہیں ذرا عقل نہیں آئی اب تک پہلے بھی آئی تھیں تو زندگی حرام کرکے رکھ دی تھی اب بھی سکھ چین اڑا کر جائو گی۔‘‘
’’آپ بے فکر ہوجائیں‘ جارہی ہوں میں واپس۔‘‘ اس نے کمرے میں جاکر دروازہ زور سے بند کیا‘ دروازہ بند ہونے کی آواز اسے اوپر تک آئی تھی۔
’’ٹھیک ہے سارا پھیلاوہ سمیٹ کر ہی جانا‘ فون کردو اپنے باپ کو اور خیال رہے میری چیزیں مت بھر لینا اپنے تھیلوں میں۔‘‘ وہ دروازہ سے باہر آکر دنگ رہ گیا ان کا جلال دیکھ کر امید تو تھی مگر وہ سوچتا تھا اب بدل گئی ہوں گی وہ کچھ مگر یہاں کچھ بدلنا تو خاک بگڑا ضرور تھا۔ اسے حیرت بھی ہورہی تھی اور ہنسی بھی آرہی تھی۔
’’تم کیا دیکھ رہے ہو لڑکے! اپنا کام کرو یا پھر بوریا بستر سمیٹو تم بھی اپنا۔‘‘ انہوں نے اسے اوپر کھڑا دیکھ کر اسی انداز میں کہا تھا۔
’’ضرور جائوں گا مگر یہ مہینہ پورا کرکے کرایہ ایڈوانس دے چکا ہوں۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر دوبارہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔
…٭٭٭…
وہ رات کو دیر سے آیا تو دروازہ اس نے کھولا تھا۔
’’آپ ابھی تک یہیں ہیں؟‘‘ سب سے پہلی بات اس نے یہی پوچھی تھی۔
’’السّلام علیکم!‘‘ وہ کہہ کر دروازے سے ہٹ گئی تھی۔ ’’خالہ نے کہا تھا کہ اگر آپ دیر سے آئیں تو دروازہ نہیں کھولنا مگر بہرحال میں نے سوچا کھول دیتی ہوں۔‘‘
’’وعلیکم السّلام! ویسے ہیں کہاں میم ابھی؟‘‘ وہ فریج سے اپنے لیے کھانا نکالتے ہوئے گرم کرنے لگا۔
’’سورہی ہیں ان کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی تھی‘ انہیں استھما کا مسئلہ ہے‘ امی کو بھی یہی مسئلہ تھا۔ یہ مسئلہ زیادہ تر ٹینشن کی وجہ سے بڑھتا ہے‘ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا انہیں کیا ٹینشن ہے۔‘‘ وہ ان کے لیے خاصی پریشان تھی۔
’’وہ تو ٹینشن دینے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔‘‘ وہ ہنسی روک نہ سکا۔
’’آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے‘ ایسے لوگ اندر سے بہت نرم ہوتے ہیں۔‘‘
’’تو یعنی ہمدردی میں آپ کا جانے کا پروگرام کینسل ہوچکا ہے۔‘‘
’’میں جائوں گی مگر ان کی طبیعت ذرا بہتر ہوجائے‘ میں کوشش کروں گی ان کی کسی تلخ بات کا جواب نہ دوں۔‘‘
’’آپ کو اتنا خیال ہے جب کہ ان کو تو ذرا احساس نہیں ہے آپ کا۔‘‘
’’میں نے اصل میں ان کو تنگ بھی تو بہت کیا تھا نا۔ وہ سمجھ رہی ہیں میں ہمیشہ ایسا ہی کروں گی‘ ان کو چھوڑ کر چلی جائوں گی۔‘‘
’’وہ بھی تو بہت اکیلی ہیں نا‘ ان کی شادی ہوجانی چاہیے تھی۔‘‘
’’یہ تو میں بھی سوچتی ہوں۔‘‘ وہ چائے لے کر ڈائننگ ٹیبل کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’میم کا کوئی بھی رشتہ آتا تھا تو وہ اس بندے کی ہی بے عزتی کروا کر بھیج دیتی تھیں‘ کسی کو ہمت نہ تھی میرے ابا نے تو ان کی شادی کرانے کی بہت کوشش کی بلکہ خود بھی پروپوز کیا مگر تھینک گاڈ کہ میں کڑوے کسیلے جیسی ماں سے بچ گیا۔‘‘ وہ کھانے کی ٹرے لے کر وہیں بیٹھ گیا تھا۔
’’آپ سید معظم کے بیٹے ہیں؟‘‘ وہ ذرا چونکی تھی۔
’’جی ہاں۔‘‘
’’آپ وہی زید ہیں آپ کو یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ یہاں آئی تھی آپ لوگ کالونی میں رہتے تھے خالہ کے گھر کے برابر میں۔‘‘
’’بالکل یاد ہے… سب کچھ یاد ہے۔‘‘
’’آپ سارے بچوں کو لے کر کھیلتی تھیں‘ ساری کھڑکیوں کے شیشے ہماری بال نے توڑے تھے‘ لان میں لگے پودوں کا جو ستیاناس ہوا تھا‘ میم نے کیا حشر کیا تھا ساری شرارتیں یاد ہیں مجھے۔‘‘ وہ کہتے ہوئے مسکرایا تھا۔
’’خالہ کو جوش تھا مجھے سگھڑ بنانے کا وہاں دادی فون پر ان کو کوئی نہ کوئی تاکید کرتیں اور یہاں میرا بیڑا غرق ہوجاتا تھا۔ سارے کام میرے سر پر ڈال دیئے گئے تو یہی کرتی نا۔‘‘
’’اور آپ ہمارے گھر کے فون سے دادی کو کال کرکے شکایت لگاتیں‘ خالہ بہت ظالم ہیں‘ کام کرواتی ہیں۔ مجھے نہیں رہنا یہاں‘ میرے پیسے بھی رکھ لیے اپنی مرضی سے دیتی ہیں‘ آج انہوں نے مجھے مارا۔ پرسوں اسکول لے کر چلی گئیں‘ مجھے نہیں پڑھنا۔‘‘ وہ اس کی نقل اتارتے ہوئے بولا۔
’’آپ کی یادداشت تو اچھی خاصی ہے زید!‘‘ وہ بھی ہنسی تھی۔
’’پھر آپ چلی گئیں‘ آپ نہ جاتیں تو اچھا خاصا پڑھ لیتیں۔‘‘
’’میری دادی کا انتقال ہوگیا تھا جب خالہ مجھے گائوں لے کر گئی تھیں اس کے بعد میں نہیں آئی مجھے بابا نے روک لیا تھا‘ تب مجھے بھی کہیں اور سکون نہیں ملتا تھا۔‘‘
’’آپ کی امی کو کیا ہوا تھا تحریم! میم ان سے ملی بھی نہ تھیں شاید پسند کی شادی تھی نا ان کی۔‘‘ وہ کچھ جھجکتے ہوئے بولا تھا۔
’’جی پسند کی شادی تھی‘ اس دن کے بعد میری خالہ نے پہلی مرتبہ میری ماں کا چہرہ تب دیکھا تھا جب وہ لاش کی صورت پڑی تھیں۔ امی کو کینسر ہوگیا تھا۔‘‘ اس کی آنکھیں گیلی ہورہی تھیں۔
’’ان کا علاج تب ہوا جب کینسر آخری اسٹیج تک پہنچ چکا تھا۔‘‘
’’اتنی بڑی نا انصافی۔‘‘ وہ رک نہ سکا۔
’’مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘ وہ فوراً کرسی سے اٹھی تھی۔
’’سوری تحریم! مجھے یہ نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔‘‘ لیکن وہ مزید وہاں نہیں رکی تھی۔ وہ اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا کچھ دیر بعد کمرے کے سامنے سے گزرتے ہوئے کھڑکی سے اسے انہیلر لیتا دیکھ کر رک گیا تھا۔
وہ اسے سامنے دیکھ کر رک گئی اور آگے بڑھ کر کھڑکی بند کردی تھی‘وہ تعجب سے وہیں کھڑا تھا۔
’’سمجھ نہیں آتی آپ کو کیا ٹینشن ہے تحریم!‘‘ وہ کہنا چاہتا تھا پر بند کھڑکی دیکھ کر وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر اپنے کمرے میں آگیا۔
یہ بیماری بہت بُری ہے‘ سانس گھٹتا ہے‘ گھٹن ہوتی ہے۔ مجھے گھٹن ہورہی تھی جبھی یہاں آکھڑی ہوئی۔ اس کے جملے ذہن میں گونج رہے تھے اس کی آدھی رات سوچتے ہوئے گزری تھی جب کہ وہ تمام رات جاگتی رہی تھی۔
ز…ؤ…ز
اس نے وہ زندگی گزاری تھی جسے محرومی کہتے ہیں ماں باپ کے ہوتے ہوئے اسے اچھی طرح یاد تھا وہ بہت چھوٹی تھی اس کا باپ جب گھر آتا تھا وہ ان کی ٹانگوں سے چمٹ جاتی تھی وہ اسے زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے۔ تھوڑا سا پیار کرکے ہٹا دیتے تھے‘ ملازموں کو پاس بلا کر کچھ معاملات طے کرتے‘ پھر دادی کے پاس تخت پر بیٹھتے بہت عام سی بات بھی ٹھہر ٹھہر کر بے زاری سے کرتے تھے وہ دور دور سے ان کو دیکھتی تھی پھر جب وہ کمرے میں آتے ان کا رویہ عجیب سا ہوتا۔ بہت دیر تک وہ دونوں خاموش رہتے تھے یا تو اگر بات ہوتی تو کوئی نہ کوئی اختلاف ہورہا ہوتا۔ اس کی ماں کچھ کہہ دیتی اور وہ گرجتے برستے چلے جاتے اس نے کتنی خاموشی اور اعلانیہ جنگیں دیکھی تھیں‘ اپنے ماں باپ کے درمیان۔ وہ صرف ماں کے قریب سہمی ہوئی رہتی تھی‘ ان سے وہ بہت سوال پوچھنا چاہتی تھی مگر اسے سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کہے اور کیسے کہے‘ ماں اسے ہر وقت کوئی نہ کوئی سبق پڑھا رہی ہوتی تھی یا کوئی کہانی سنا رہی ہوتی تھی وہ کہانیوں سے بہل جاتی تھی مگر اس کے اندر کی بے چینی کم نہیں ہوتی تھی بلکہ بڑھتی ہی جاتی تھی‘ اس نے اپنے چاچا چاچی کو ہمیشہ اچھے ماحول‘ آپس میں ہنس کر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
وہ چاہتی تھی اس کے والدین بھی اسی طرح رہیں سب کہتے تھے ان کی پسند کی شادی تھی مگر اسے کہیں سے نہیں لگتا تھا کہ یہ سچ ہے‘ وہ چاہتی تھی تعلقات بہتر ہوں مگر تعلقات بدتر ہوتے گئے۔ اس کے باپ نے کمرے میں آنا چھوڑ دیا تھا اس کی ماں بیمار رہنے لگی تھی‘ وہ عجیب کیفیت کا شکار ہوتی جارہی تھی۔
اس کی ماں اندر سے بالکل خالی تھی اس نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا‘ وہ کمزور ہوگئی تھیں پھر ایک دن ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ اس دن اس نے اپنی ماں کو شدت سے روتے ہوئے دیکھا تھا‘ اس کی ماں اسے خود سے دور رکھنے لگی تھی‘ سب کہتے تھے ان کا آپریشن ہوگا کچھ دنوں میں انہیں پھر ہسپتال لے جایا گیا تھا جب وہ واپس آئیں تو ان کا سر ڈھکا ہوا تھا‘ وہ دوڑ کر ان سے لپٹانا چاہ رہی تھی مگر اس کی دادی نے اسے روک لیا تھا۔ وہ دور سے ماں کو دیکھ کر روتی رہی‘ اس کی ماں اس سے دور ہورہی تھی۔
پھر ایک رات اس کی ماں نے اسے خوب لپٹا کر پیار کیا تھا‘ کہانی سنائی تھی۔ وہ بیڈ پر ان سے لپٹ کر سوگئی تھی وہ پتا نہیں کیا کیا کہتی رہیں‘ سمجھاتی رہیں اسے مگر وہ کچھ نہیں سمجھ رہی تھی۔ وہ صرف ان کے ساتھ لگ کر رونا چاہتی تھی اور اس رات وہ روتے روتے سوگئی تھی پھر رات کے کسی پہر اسے کسی نے وہاں سے اٹھا کر دادی کے کمرے میں سلایا‘ اسے کچھ یاد نہ تھا۔ بس وہ جب صبح اٹھی تو گھر میں بہت سارے لوگ جمع تھے‘ رونے کی آوازیں تھی وہ کمرے سے باہر آئی اس کی ماں ایک چارپائی پر بے سدھ پڑی تھی اس نے دوڑ کر کپڑا ہٹایا‘ آوازیں دیں ماں کو جھنجوڑا مگر وہ اسی طرح سوئی رہیں وہ نا سمجھی سے انہیں جھنجوڑتی رہی۔ بہت سی عورتیں اسے تسلی دیتی جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں۔ وہ اپنی دادی کی گود میں تھی۔
اس نے تب پہلی بار اپنی خالہ کو دیکھا جو اس کی امی سے کچھ مشابہہ تھیں اس انجان عورت نے اسے گلے سے لگا کر پیار کیا تھا‘ سمجھایا تھا۔ وہ پوری رات اس کے ساتھ رہیں صبح وہ چلی گئی تھیں۔
وہ کئی دنوں تک روتی رہی مگر آہستہ آہستہ اسے صبر آگیا۔ دادی اسے بہت پیار دینے لگی تھیں۔ اس کا باپ اس پر توجہ دینے لگا تھا مگر وہ دلی طور پر باپ سے دور ہوتی جارہی تھی۔ دوسرے معنوں میں وہ ان سے نفرت کرنے لگی تھی۔ اسے لگتا تھا اس کا باپ لڑتا تھا جبھی امی خفا ہوکر چلی گئیں‘ اس کا دل نہیں چاہتا تھا کہ وہ اب باپ کے پاس جائے۔ ان کے بلانے پر مشکل سے کچھ منٹ بیٹھ کر کھیلنے کا بہانہ بناکر وہاں سے ہٹ جاتی تھی۔ محلے سے اب اس کی شکایتیں آنے لگی تھیں۔ سارا دن کھیلتی‘ وہ ایک بگڑی ہوئی بچی بن گئی تھی‘ اسے اس کی محرومی عجیب رستوں پر لے کر جارہی تھی۔
اس کی دادی اس کے لیے بہت فکر مند رہنے لگی تھیں اس پر سختی کرنے کے غلط نتائج مل رہے تھے پھر ایک دن اس کی دادی نے اس کی خالہ کو شہر فون کیا تھا۔ اسے بہلایا گیا کہ وہاں بہت کھلونے‘ جھولے ہوں گے‘ اسے گھمایا پھرایا جائے گا وہ صرف ایک دو دن کے لیے جارہی ہے اس کے باپ کو اعتراض تھا اس نے خاصی بحث کی تھی مگر دادی کے سامنے چل نہ سکی۔ اس سے پوچھا تو اس نے باپ کے سامنے جانے کی ہامی بھرلی۔ وہ جیسے مجبور سے ہوگئے تھے‘ وہ دادی سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی مگر کئی باتوں سے‘ بہت سی چیزیں اور پیسے دے کر بہلا پھسلا کر اسے بھیجا گیا تھا۔ وہ اصل پلان سے ناواقف تھی‘ شہر آتے ہوئے اس کی نظر میں خوش فہمیوں کا ایک جہان تھا مگر خوش فہمیوں کے بُت ایک ایک کرکے ٹوٹے تھے۔
ز…ؤ…ز
’’اب کیسا محسوس کررہی ہیں آپ؟‘‘وہ ان کے لیے سوپ بناکر لائی تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں‘ یہ کیوں بنالائی ہو تم؟‘‘ انہوں نے ناگواری سے سوپ کے پیالے کی طرف دیکھا تھا۔
’’آپ کو طاقت کی ضرورت ہے‘ یہ کھالیں تو پھر دوائیں بھی لینی ہیں۔‘‘
’’تم میری استاد نہ بنو‘ کیا کھانا ہے کیا نہیں‘ مجھے اچھی طرح پتا ہے۔‘‘ وہ اپنے کپڑے نکالنے کے لیے الماری کی طرف بڑھیں۔
’’آپ کا براوئن کلر والا جوڑا پریس کرکے لٹکا دیا ہے۔‘‘ انہوں نے اسی ناگواری سے اس کی طرف دیکھا اور دوسرا جوڑا تلاش کرنے لگیں مگر کوئی بھی پریس نہ تھا ناچار وہی اٹھا کر واش روم میں چلی گئیں۔
وہ وہیں بیٹھ کر ان کا انتظار کرتی رہی۔ وہ جب آئیں تو تازہ اخبار سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا تھا سوپ کا پیالہ پلیٹ سے ڈھکا ہوا تھا ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔
’’مجھے دیر ہورہی ہے یہ ملغوبہ خود پی لینا۔‘‘ انہوں نے سرسری دیکھتے ہوئے کہا اور بال سلجھا کر باندھ لیے پھر اپنے پیپرز اور نوٹس جمع کرنے لگیں جو سلیقے سے پن اپ کرکے دراز کے خانے میں رکھے گئے تھے۔
’’کہاں جارہی ہیں آپ اس حالت میں‘ آرام کی ضرورت ہے آپ کو۔‘‘
’’کیا ہوا ہے میری حالت کو‘ اچھی بھلی تو ہوں۔‘‘
’’بظاہر اچھی بھلی ہیں مگر اندرونی کمزوری ہے‘ یہ سوپ لے لیں تاکہ دوائی لی جاسکے پھر اچھا محسوس کریں گی آپ۔‘‘
’’تم مجھے بوڑھوں کی طرح کیوں ٹریٹ کررہی ہو‘ میں اتنی لاچار نہیں ہوئی ابھی ہلکی سی طبیعت خراب تھی۔‘‘
’’جارہی ہوں کالج‘ دیر ہورہی ہے۔‘‘ ان کا لہجہ ہنوز ایسا تھا۔
’’کمرے کی گھڑی رکی ہوئی ہے‘ ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔‘‘
’’اوہ میرا خدایا! تم نے مجھے اٹھایا نہیں‘ اب بتا رہی ہو مجھے۔‘‘
’’آپ نیند کے انجکشن کے زیر اثر سو رہی تھیں اور یہ ضروری بھی تھا اب دیکھیں خاصی فریش محسوس کررہی ہوں گی۔‘‘
’’پتا نہیں کیسے انجکشن ٹھنسوا دیئے مجھے ایسا تو نہیں کہ سلو پوئزن دے رہی ہو مجھے۔‘‘ انہوں نے بیگ اور کاغذات رکھ دیئے اور اخبار اٹھایا۔
’’کیا… سلو پوئزن… آپ مجھے کیا سمجھتی ہیں آخر‘ دشمن ہوں میں آپ کی کیا؟‘‘ اسے ان سے اس حد تک سوچنے کی توقع نہیں تھی۔
’’ہاں تو اور کیا‘ میری بہن کو بھی سلو پوئزن دے کر مار دیا تمہارے باپ نے اب تمہیں پڑھا کر بھیجا ہے۔‘‘
’’خدا کے واسطے‘ میرے باپ نے ایسا نہیں کیا‘ وہ اپنی بیوی کو سلو پوئزن کیوں دیں گے۔‘‘
’’تمہیں سلو پوئزن کے معنی بھی پتا ہیں‘ زہر کئی قسم کا ہوتا ہے۔ تمہارے باپ نے اسے سختی کا زہر دیا‘ قید کا‘ ظلم کا‘ دھوکے کا‘ نفرت کا‘ اس کی زندگی تباہ کر ڈالی۔ ختم کر ڈالا اسے‘ میں چاہوں بھی تو وہ لمحہ نہیں بھلا سکتی جب آخری بار اسے دیکھا تھا میں نے‘ ظالموں نے ہمیں بتایا تک نہیں ملنے تک نہیں دیا۔ وہ گھٹتی رہی پھر مر گئی اور لاش کو پرسہ دینے کے لیے بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو ہم کامیاب ہوگئے اسے ختم کرنے میں۔‘‘ ان کے لہجے میں جہاں بھر کی تلخی تھی۔
’’آپ لوگوں نے بھی تو کوئی کسر نہیں چھوڑی اگر پسند کی شادی کی تھی تو گناہ نہیں کیا تھا اگر نانا اور آپ ان کو معاف کرتے اور ملتے رہتے تو شاید نوبت یہاں تک نہ آتی۔‘‘
’’میرا باپ دل کا مریض تھا اس نے بیمار کردیا ان کو صدمہ دے دے کر‘ پھر جب وہ آخری بار ملنے گئے تو ملنے سے انکار کردیا گیا اور وہ ملنے آئی نہیں اپنے باپ سے‘ مرنے سے پہلے ان سے معافی تک نہ مانگی۔‘‘
’’آپ کو کیا لگتا ہے کہ ان کو بتایا گیا ہوگا کہ ان کا باپ ان سے ملنے آیا ہے۔ مرادن خانہ اتنی دور ہے کہ آواز تک نہیں جاتی گاڑی کے ہارن کی بھی‘ سو اُن کوکیسے پتا ہوتا کہ میرا باپ مجھ سے ملنے آیا ہے تو میں جاکر مل لوں اور معافی مانگ لوں۔ میں نے خود ان کو راتوں کو اٹھ کر روتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے کتنی بار ان سے آپ کا اور نانا کا ذکر سنا ہے مجھے پتا ہے وہ کیسے ترستی تھیں۔ کتنا دل چاہتا ہوگا آپ سب سے ملنے کے لیے‘ میری وجہ سے وہ سب کچھ چھوڑ بھی تو نہ سکتی تھیں۔ مجبوریاں ان کی میں نے دیکھی ہیں ان کو مرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے‘ کیا مجھے اس سب کا دکھ نہیں ہوگا۔ آپ کو تو صرف دکھ ہے صدمہ ہے مگر فرق نہیں پڑا آپ کی زندگی پر۔ اثر تو مجھ پر اور میری زندگی پر پڑا ہے‘ آپ تو یہاں شہر میں رہتی ہیں اپنی مرضی سے۔ میں نے تو اپنا بچپن کئی محرومیوں میں گزارا ہے تو مجھے نہیں دکھ ہوگا تو اور کسے ہوگا ان کے نہ ہونے کا کہ ہر کسی میں ان کو ڈھونڈتی ہوں مگر وہ مجھے کسی صورت میں نہیں نظر آتیں۔ آپ میں بھی نہیں وہ اگر ہوتیں تو مجھ سے یہ سلوک نہ ہورہا ہوتا۔ آج میں وہاں سے بھاگ کر یہاں نہ آتی پناہ لینے کے لیے اور آپ اتنی ان سیکیور ہیں کہ آپ کو گمان ہوتا ہے کہ میں آپ کو سلو پوئزن دے سکتی ہوں۔‘‘ وہ اب اپنے آنسوئوں کو روک نہیں پارہی تھی۔
’’میں تو کل ہی جارہی تھی مگر آپ کی طبیعت کی وجہ سے رک گئی مگر اب میں نہیں رکوں گی۔‘‘ وہ یہ سب کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی تھیں پھر سوپ اور اخبار لے کر آئیں‘ سوپ گرم کیا اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئیں۔ بڑے گم انداز میں وہ سوپ پیتی رہیں اور سامنے اخبار کھلا ہوا تھا۔
وہ سامنے کھلی کھڑکی سے دیکھتے ہوئے دنگ رہ گئی کہ ان کو کسی چیز کی کوئی پروا نہیں ہے‘ اس نے کافی انتظار کیا تھا کہ وہ اسے گلے سے لگائیں گی‘ روکیں گی اسے تسلی دیں گی مگر ایسا کچھ نہ تھا۔ وہ بڑے افسوس اور دکھ سے پیکنگ کرتی رہی جب پیکنگ مکمل ہوئی تو ان کو سلام کرنے چلی گئی۔ ان کو بتایا کہ ڈرائیور آگیا ہے اور وہ خاموشی میں اثبات میں سر ہلاکر کام میں لگ گئیں جیسے انہیں کوئی پروا نہیں ہے اس کے یوں جانے کی۔
(امی آپ کے بارے میں جو بھی کہتی تھیں‘ غلط کہتی تھیں)
’’اللہ حافظ۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ اسی مصروف انداز میں اپنے نوٹس بناتی رہیں۔
’’میں نے کپڑے سارے دھو دیئے ہیں‘ چار جوڑے پریس کرکے لٹکا دیئے ہیں‘ کچن صاف کردیا ہے۔‘‘ وہ جان بوجھ کر یہ سب کہہ رہی تھی۔
’’اس سب کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ وہی سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے اپنا خیال رکھیے گا‘ آپ سن رہی ہیں نا۔‘‘
’’میرے کان سلامت ہیں۔‘‘
’’اللہ آپ کو صحت اور لمبی عمر دے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
’’نانی اماں بننے کی کوشش مت کرو‘ اب جائو۔ تمہاری گاڑی بار بار ہارن دے رہی ہے۔‘‘
’’آپ مجھے کچھ دیں گی بھی نہیں‘ کوئی تحفہ کوئی دعا ہی سہی۔‘‘
’’تحفہ دینے کا رواج میرے ہاں نہیں ہے نہ ہی میری دعا کی کسی کو کوئی ضرورت ہے۔‘‘
’’آپ بہت بُری ہیں۔‘‘ اس نے بڑی مشکل سے یہ سب کہا تھا۔
’’میں اچھی طرح جانتی ہوں‘ تم اپنی ماں کی طرح اچھی رہو‘ کافی ہے۔‘‘ وہ سامان اٹھا کر باہر چلی آئی‘ بے دردی سے آنکھیں صاف کیں ایسے بندوں سے امید بے فائدہ ہے۔ اس کا دل بُری طرح مایوس ہوا تھا۔
’’چلو اور راستے میں گاڑی کہیں نہیں روکنا۔‘‘ اس نے بیٹھتے ہوئے ڈرائیور کو کہا اور سر پشت سے ٹکا لیا‘ اس نے آخری نظر اس بند گیٹ پر ڈالی تھی پھر گاڑی آگے بڑھ گئی۔
ز…ؤ…ز
وہ رات کو آیا تو دروازہ کھلا ہوا تھا دونوں کمرے بند تھے وہ اپنے کمرے میں آکر سوگیا۔ سوچا صبح موقع ملے گا تو اس سے ضرور بات کرے گا اور اس کا حال احوال پوچھے گا۔ اسے کہے گا اپنا علاج کسی اچھے سے ڈاکٹر سے کروائے‘ دوسروں کا خیال رکھنے والی اپنا خیال بھی تو رکھے‘ اتنے دن ایک ہی گھر میں رہ کر ایک دوستانہ فضا تو قائم ہو ہی گئی تھی گوکہ وہ ان کے سامنے احتیاط کرتا تھا بات کرنے سے مگر بہرحال سر سری بات تو ہو ہی جاتی تھی۔ کل رات کی بات چیت کے دوران اچھی شناسائی ہوگئی تھی اور وہ دونوں بچپن میں ملے ہوئے بھی تھے تو اب بات کرنے میں کچھ خاص جھجک نہ ہوگی ویسے بھی باتیں تو بہت کرنی تھیں‘ صبح بہت سوچیں لے کر وہ اٹھا تھا‘ فریش ہوکر نیچے آیا تو وہ اکیلی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔
’’السّلام علیکم!‘‘ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
’’وعلیکم السّلام!‘‘ مصروف سے انداز میں جواب آیا۔
’’تحریم کہاں ہے میرا مطلب ہے ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘
’’تمہیں کس نے کہا وہ بیمار ہے؟‘‘
’’میں نے پرسوں رات ان کو انہیلر لیتے ہوئے دیکھا تھا اور ان کی میز پر وہی میڈیسن دیکھی جو آپ لیتی ہیں۔ خاصی ہائی پاور کی گولی ہے۔ آپ اسے کہیں کہ اچھے سے ڈاکٹر کو دکھا کر میڈیسن تبدیل کروالیں۔‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو؟‘‘ لہجہ کچھ نرم ہوا تھا۔
’’ظاہر ہے میں ٹھیک کہہ رہا ہوں‘ مجھے کیا فائدہ جھوٹ بولنے کا۔ ابھی کہاں ہے وہ؟‘‘ اردگرد نظریں دوڑاتے پوچھنے لگا۔
’’اپنے گھر پر ہوگی۔‘‘
’’گھر پر‘ وہ چلی گئیں کیا؟ آپ نے روکا نہیں۔‘‘
’’میں کیوں روکوں گی‘ اسے جانا تھا اپنے گھر سو چلی گئی۔‘‘
’’آپ کو دکھ نہیں ہوا؟‘‘
’’مجھے کیوں دکھ ہوگا؟‘‘
’’وہ آپ کے گھر کے سارے کام کرتی تھی‘ آپ کا خیال رکھتی تھی۔‘‘
’’یہ تو سب میں بھی کرسکتی ہوں‘ کوئی مشکل نہیں ہے۔‘‘
’’آپ کو کچھ احساس نہیںہے رشتوں کا نہ ہی اپنوں کا نہ ان کی محبت کا۔‘‘ وہ کہنے سے باز کہاں رہتا تھا۔
’’یہ بات کہتے ہوئے تمہیں تو ذرا بھی شرم نہیں آئی‘ تمہیں بہت احساس ہے جبھی ماں باپ کو اس حالت میں چھوڑ آئے ہو‘ رو رہی ہے تمہاری ماں‘ بیمار ہوگئی ہے وہ ایک دفعہ فون کرکے پوچھا تم نے بتائو؟‘‘
’’ان سب کو کیا فکر ہے میری‘ شادی تو کردی میرے بغیر اس کی‘ میں کیوں جائوں اور کیوں پوچھوں کس لیے پوچھوں؟‘‘
’’سب تمہارا قصور ہے اس میں جانتی ہوں۔ میں نے تو کہا تھا ثمینہ کو ایسے بیٹے پر لعنت بھیجو مگر وہ بے چاری ماں ہے نا‘ کیا کرے۔‘‘
’’کب بات ہوئی آپ کی ان سے۔‘‘ وہ کچھ ڈھیلا پڑا تھا۔
’’رات کال کی تھی مجھے اس نے۔‘‘
’’آپ نے میرے بارے میں کچھ بتا تو نہیں دیا؟‘‘
’’بتا دیا کہ تم میرے پاس ہو دو ماہ سے۔‘‘
’’اُف او! منع کیا تھا آپ کو۔‘‘
’’آج آرہے ہیں وہ‘ رک جانا گھر پر۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے‘ میں جارہا ہوں سامان بعد میں لے جائوں گا‘ اللہ حافظ۔‘‘
’’رکو بد تمیز انسان! وہ مجھ سے پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گی۔‘‘
’’یہ آپ کا مسئلہ ہے‘ وہ بائیک کی چابی اور سیل فون اٹھا کر نکلا۔
’’مگر جا کہاں رہے ہو؟ رات کہاں رکو گے؟‘‘
’’فٹ پاتھ پر آپ کی بلا سے۔‘‘
’’اللہ ایسی اولاد کسی کو نہ دے۔‘‘ با آواز بلند کہا تھا۔
’’آپ بے فکر ہی رہیے‘ یہ عذاب یہاں نہیں اترا۔‘‘ اس نے اسی انداز میں کہا تھا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔
’’نالائق بدتمیز انسان! عذاب ہی ہے یہ اولاد تو کڑا امتحان ہے۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی برتن سمیٹنے لگیں پھر بیگ لے کر باہر نکل آئیں۔ دروازہ مقفل کیا اور کار اسٹارٹ کرنے لگی گاڑی اسٹارٹ نہیں ہورہی تھی‘ اٹھ کر چیک کیا مگر کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اب کسے کہوں گاڑی بند کرکے ٹیکسی پکڑنے کے لیے سڑک تک پیدل آئیں‘ بھری دھوپ میں ہانپتے ہانپتے پہنچیں پھر جاکر گاڑی ملی‘ آج ان کے لیے بہت بُرا دن تھا۔ مسائل ہی مسائل‘ گھر پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی تھی‘ چینج کرنے کے بعد اتنا تھک گئیں کہ چائے بنانے کی ہمت نہ ہوئی‘ لیٹ گئیں۔ انہیلر کی ضرورت پڑی‘ اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے لگیں۔
’’کہاں رکھ دیا بھئی تحریم کہاں ہو؟‘‘ بے ساختہ منہ سے نکلا دو تین بار آوازیں دینے کے بعد خیال آیا تو چپ کرکے بیٹھ گئیں۔ دوائی کھاکر ابھی لیٹی تھیں کہ سیل فون بجنے لگا۔
’’گھر جاکر ایک خیریت کا فون نہیں کیا۔‘‘ بڑبڑاتے ہوئے کسی امید سے سیل اٹھایا تو نمبر معظم صاحب کا تھا۔
’’اُف او! اب کیا کہوں, تمہیں بھی ابھی ہی جانا تھا۔‘‘ بیل مسلسل بج رہی تھی اور وہ سر تھام کر بیٹھی ہوئی تھیں۔
ز…ؤ…ز
ساری رات وہ سڑکوں پر پھرتا رہا‘ یہ نہیں کہ وہ گھر جانا نہیں چاہتا تھا یا اسے وہ سب یاد نہیں آتے تھے بات صرف اتنی تھی کہ وہ زین کے اور اپنے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا نہیں چاہتا تھا اور اسے شکایات تھیں تو اپنے ماں باپ کے ساتھ جنہوں نے ایک غلط فیصلے سے دونوں بھائیوں کے درمیان دیوار کھڑی کردی تھی وہ اس دیوار کو جتنا گرانا چاہتا وہ اتنی مضبوط ہوجاتی تھی۔ کبھی بھی وہ اور زین دور نہ رہے تھے‘ اسے زین سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوتی تھی وہ بچپن سے اس کی چیزیں لے لیتا تھا اس کے کھلونے‘ اس کے کپڑے‘ اس کی چاکلیٹ‘ اس کے پیسے… وہ ہمیشہ زین کو بچوں کی طرح لیتا تھا حالانکہ وہ عمر میں اس سے دو ڈھائی سال ہی بڑا تھا مگر اسے لگتا وہ زین سے بہت بڑا ہے۔ اسے کبھی کچھ بُرا نہیں لگا تھا۔ زین اس سے زیادہ ذہین تھا‘ پڑھائی میں اچھے نمبر لیتا تھا اسے بہت کامیابیاں ملی تھیں وہ ہمیشہ سے لکی رہا تھا جو چیز اسے پسند آتی تھی وہ اسے مل بھی جاتی تھی جب کہ اس کے ساتھ کچھ الٹ تھا اسے اپنی پسند کی چیز مشکل سے ملتی تھی اور بہت سی چیزیں تو اسے نہیں ملی تھیں۔
شہرین جو بچپن سے اس کے نام تھی سب سے پہلے اس نے اسے ٹھکرایا تھا وہ اس کے چچا کی بیٹی تھی۔ اپنے کالج فیلو سے شادی کرلی جس کے پاس پیسہ تھا اور ہر سکھ تھا۔ اسے پہلا صدمہ وہ ہوا تھا پھر یونیورسٹی میں سارا سے اس کی اچھی دوستی ہوگئی۔ زین کا کہنا تھاکہ وہ لڑکیوں سے بہت جلدی متاثر ہوجاتا ہے اور سمجھ نہیں پاتا اسی لیے لڑکیاں اسے بے وقوف بنا لیتی ہیں۔ سارا کو اس نے پوری سچائی سے پروپوز کیا تھا اس نے سوچنے کے لیے وقت لیا‘ اسے ہاں بھی کی اس کے والدین اس کے گھر گئے تھے‘ چارہ ماہ بات لٹکتی رہی پھر اس نے سارا کو کسی اور کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھا تھا اس کے پوچھنے پر وہ ٹال گئی‘ رشتے سے انکار کردیا تھا۔
اس کا اعتبار ایک دفعہ پھر ختم ہوا تھا اس کے بعد وہ کہیں انوالو نہ ہوسکا سب کچھ بھلا کر وہ ساری توجہ اپنی پڑھائی پر دینے لگا۔ پڑھائی ختم ہونے کے بعد وہ جاب ڈھونڈنے لگا۔ زین جو اس سے دو سال بعد پاس آئوٹ کرکے نکلا تھا‘ دو تین ماہ میں اسے جاب مل گئی تھی مگر وہ پورے تین چار سال دھکے کھاتا رہا پھر ایک دن اس نے غصے میں آکر ڈگری جلا ڈالی تھی جب اس کا باپ اسے اپنے ایک جاننے والے کے پاس لے گیا تو اس نے الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کردیں۔ مجھے الف بے نہیں آتی‘ اے بی سی نہیں پڑھی وغیرہ۔ میں کوئی کام نہیں جانتا اس کا باپ بہت شرمندہ ہوا تھا‘ اسے لے کر واپس آیا گھر آکر اس کی خوب بے عزتی کی تھی۔ اس دن کے بعد اس نے کہیں اپلائی نہیں کیا۔
اس کے باپ نے اسے شاپ کھول کر دی کہ وہ کوئی کام کرلے مگر اس میں بھی لوز ہوتا گیا پھر اس کے ماں باپ نے سوچا کہ اس کی شادی کرادیتے ہیں‘ شادی کے بعد شاید ذمہ داری قبول کرلے اور اس کے لیے رشتے دیکھنے لگے۔ اسی دوران اس کے باپ کا دوست پاکستان آیا تھا اپنی فیملی لے کر اور معظم صاحب سے ملنے کے بعد ماہا کے لیے اچھا لڑکا ڈھونڈنے کو کہا۔ معظم صاحب نے زید کا ذکر کیا ان کی فیملی سے بات چیت ہوئی زید کو فیملی سے ملوایا گیا اور بات طے ہوگئی۔
انہی دنوں زین لاہور کے ٹوئر سے لوٹا تھا جس دن ان کی فیملی گھر پر آئی تھی۔ اس کی فیملی زین سے اور اس کی جاب سے متاثر ہوگئی اس نے واضح طور پر محسوس کیا تھا مگر اسے کچھ بُرا نہیں لگا تھا۔ زین ان کے گھر سے ہوکر آیا اس نے ماہا کی بہت تعریف کی تھی اسے خوشی ہوئی تھی خود زین کی نیت بُری نہ تھی دو ماہ یہ بات چلی پھر اچانک ایک انکشاف ہوا۔
اس نے باہرریسٹورنٹ میں زین اور ماہا کو دیکھا‘ گھر آکر اس نے زین سے پوچھا کہاں گئے تھے تو اس نے صاف جھوٹ بول دیا۔
اس نے ایک مرتبہ زین کا فون چیک کیا جس پر ماہا کے کئی میسج آئے ہوئے تھے اور مسڈ کالز تھیں۔ وہ پوری رات کڑھتا رہا اس نے سوچا زین آئے تو بات کرے گا مگر اس کی ضرورت نہ پڑی ان لوگوں نے سید معظم کو بلا کر بات کی کہ وہ زید کی بجائے زین سے ماہا کی شادی کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بہت ناراض ہوئے مگر یہ ماہا کی ضد تھی وہ زین سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس کی فیملی نے کئی چکر لگائے‘ انہوں نے کسی طرح معظم صاحب کو سمجھایاآخر کار وہ مان گئے تھے۔
زید کو بلاکر پاس بٹھا کر سمجھایا گیا حالانکہ اس نے سوچا تھا کہ وہ زین کی شکایت لگائے گا اس سے لڑے گا‘ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا‘ الٹا اسے سمجھایا گیا تھا کہ دو زندگیوں کا سوال ہے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرلینا چاہیے۔ زین نے انکار کردیا مگر اسے پتا تھا یہ صرف وہ اس کے سامنے کلیئر ہونے کے لیے کررہا ہے ورنہ وہ بھی اب ماہا میں دلچسپی لیتا ہے اس کا دل اس کھیل تماشے سے بہت بُرا ہوگیا تھا۔ زین کی بات طے ہورہی تھی اس نے گھر چھوڑ دیا تھا۔ حیدرآباد اپنے ایک دوست کے پاس آگیا‘ یہاں بہت مسائل تھے کام کا ملنا کھانا پینا‘ رہائش بہت سر درد تھے۔ اصل مسائل تو اَب شروع ہوئے تھے اس کی زندگی نے اسے سڑک پر لاکھڑا کردیا تھا جہاں سے اسے کوئی رستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
ز…ؤ…ز
قسمت نے جلد ہی اسے وہیں لاپھینکا تھا بابا اسے اتنی جلدی دیکھ کر خوش کم پریشان زیادہ ہوئے تھے کیونکہ ان کو بالکل بھی توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی لوٹے گی پھر جتنی گرم جوشی سے وہ گئی تھی سارا جوش مفقود تھا وہ بار بار پوچھتے رہے۔
’’سب ٹھیک تھا‘ تمہیں مزا نہیں آیا‘ کیوں؟‘‘
’’آپ پوچھ تو ایسے رہے ہیں جیسے میں وہاں ہمیشہ کے لیے گئی تھی۔ گھومنے گئی تھی‘ بس موڈ تبدیل کرنے کے لیے اب کوئی کسی کے گھر آکر کتنا رہ سکتا ہے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے ٹالا تھا۔
’’ٹھیک ہے تمہاری ضد تو پوری ہوئی خیر اب تو تم خوش ہو نا۔‘‘
’’جی میں خوش ہوں‘ اللہ کا شکر ہے پھر جانے کی ضد نہیں کروں گی۔ آپ بے فکر رہیے گا۔‘‘ وہ ان سے فاصلے پر پودوں کے فالتو پتے کاٹ رہی تھی۔
’’اب ہمیشہ ایسی رہنا‘ تمہاری ماں بھی ایسی تھی۔‘‘ بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا تھا۔
’’میری ماں… ختم ہوگئی میری ماں۔‘‘ اس نے قینچی نیچے پھینک دی تھی۔
’’تمہیں یاد آتی ہے اپنی ماں؟‘‘
’’ماں کی یاد کیسے نہیں آئے گی فرق تو مجھے ہی پڑا ہے۔‘‘
’’تم مجھے بہت بُرا سمجھتی ہو نا تحریم! نفرت کرتی تھیں تم مجھ سے‘ اپنے باباسے۔‘‘
’’نفرت ہونے ہی نہ دی آپ کی بیوی نے مجھے‘ رات دن باپ کی محبت کے ترانے پڑھاتی رہیں۔‘‘ اس کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ تھی۔
’’وہ اچھی عورت تھی اس نے بہت قربانیاں دیں۔‘‘
’’اچھی عورت تھی بابا جبھی تو ان کے ساتھ اتنا بُرا ہوا تھا۔‘‘
’’یقین کرو بیٹا! مجھے اس کی بیماری کا واقعی علم نہیں تھا۔‘‘
’’بابا رہنے دیں وہ سب‘ اب شکایتیں تازہ ہوں گی تو بات بڑھ جائے گی۔ یہ دکھ مجھے تلخ کردیتا ہے‘آپ کو پتا ہے میری خالہ آپ سے کیا مجھ سے بھی نفرت کرنے لگی ہیں‘ مجھے بھی بُرا سمجھتی ہیں۔ اپنی بہن کے دکھ نے ان کو مزید تلخ اور بے یقین سا کردیا ہے‘ ان کی طبیعت بھی اب بہت خراب رہنے لگی ہے۔‘‘
’’تمہیں ان کا خیال رکھنا چاہیے تھا‘ کچھ دن رکنا چاہیے تھا۔‘‘
’’مجھے آپ کا بھی خیال تھا‘ واپسی بھی آنا تھا سو آگئی۔‘‘
’’تحریم! تم مجھے اپنے دونوں بیٹوں سے زیادہ پیاری ہو۔‘‘
’’پیاری تھی نہیں‘ پتا نہیں اب کیسے ہوگئی ہوں۔‘‘
’’اپنی ماں کی طرح طعنے مارنے کی عادت نہ چھوڑنا۔‘‘
’’آپ سنتے تھے میری ماں کے طعنے؟‘‘
’’اب ایسا بھی کچھ نہیں تھا ہمارا بہت وقت اچھا گزرا تھا۔‘‘
’’کاش وہ وقت میں دیکھ سکتی۔‘‘
’’تب تم پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں‘ شادی کے شروع شروع کے دن تھے پھر جب اسے پتا چلا کہ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں وہ گائوں آئی اس دن کے بعد ہمارے درمیان تلخیاں پیدا ہوگئیں میں نے بہت کوشش کی اسے سمجھانے اور منانے کی مگر وہ مجھ سے لڑتی رہی اور تمہارے پیدا ہونے کے بعد آہستہ آستہ اسے چپ لگتی گئی۔‘‘
’’پھر پورے چودہ سال میری ماں کے ایک چپ کی نذر ہوگئے‘ کاش میں پیدا نہیں ہوتی تو کم از کم وہ یہاں سے جا تو سکتی تھیں۔‘‘
’’تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو تحریم؟‘‘
’’بابا مجھے ان کا آخری وقت نہیں بھولتا‘ ان کی بیماری ان کی تکلیف‘ ان کی چپ ان کا صبر…‘‘ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔
’’تحریم! اس سب میں میرا قصور ہے کیا؟‘‘
’’نہیں بابا ان کی قسمت کا قصور ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں طنز تھا۔
’’مجھے پتا ہے۔‘‘ انہوں نے سلیپر پہنے اور چارپائی سے اٹھے تھے۔
’’کہاں جارہے ہیں آپ؟‘‘
’’ایک ضروری کام یاد آگیا‘ کمدار کو وقت دیا تھا زمینوں کا کچھ حساب رہتا ہے۔ زیب کچھ بیج مانگ رہا تھا فصل کے لیے۔‘‘
’’آپ نے ان کو زمین دے دی ان کی۔‘‘
’’ہاں دے دی‘ بیٹوں کو بھی دے دی۔ سب کو حصہ دے دیا‘ اب رکھیں‘ بیچیں‘ آباد کریں مرضی ہے ان کی‘ اپنا حصہ میں نے تمہارے نام کردیا ہے اور تمہارے چند ایکٹر ہیں۔ تم سیل کرنا چاہو تو بھی ٹھیک ہے ورنہ آباد ہوتی رہے گی جب تک میں ہوں پھر تمہاری مرضی بیٹا!‘‘
’’بابا! اب میرے پاس صرف آپ بچے ہیں ماں اور دادی کے بعد میرا اور کون ہے کہ آپ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے آپ کی ضرورت ہے‘ نہ کہ حصے کی۔ مجھے کیا کرنا ہے کھانا پینا اور اوڑھنا ہے‘ چند ضرورتیں ہیں جو پوری ہوجاتی ہیں۔‘‘
’’تم نہیں سمجھو گی تمہیں پتا ہے میں تمہیں اپنے بھائیوں کے برابر مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں۔ میرے بعد کوئی بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔‘‘ انہوں نے شال کندھوں پر ڈالی اور اس کا سر تھپتھپا کر باہر نکلے۔
ز…ؤ…ز
وہ اسے جنرل اسٹور کے باہر ملی تھیں وہ ان کا سامان لے کر گھر تک آیا تھا پھر اچانک خیال آیا تو انہیں گزارش کی کہ یہاں کرائے پر رکھ لیں‘ وہ بھی اکیلی تھیں پھر یہ ان کا اسٹوڈنٹ رہ چکا تھا‘ مان گئیں۔ دوچار دن ان کا رویہ ٹھیک رہا پھر عجیب برتائو کرنے لگیں مگر اسے کہاں پروا تھی۔ پھر ایک دن اس نے اس لڑکی کو دیکھا دیکھتے ہی وہ اسے اچھی نہیں لگی تھی نہ ہی پہلی نظر کی محبت کا شکار ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ اسے اچھی لگنے لگی۔ اس کی خدمت‘ سچائی‘ خلوص‘ ٹھہرائو‘ رکھ رکھائو‘ شرافت اور معصومیت وہ اس کی خوبیوں کا قائل ہوگیا وہ اسے بہت اچھی لگتی تھی۔
محبت کا مرحلہ تو بہت بعد کا تھا مگر اس نے بہت سچائی کے ساتھ اسے پروپوز کرنا چاہا تھا مگر اب وہ کہاں سے رابطہ کرتا۔ میم سے تو ایسی کوئی امید ہی نہیں تھی اس کا گائوں اس نے دیکھا نہ تھا پھر سوچا آخری آپشن یہی ہے کہ میم سے بات کرنا پڑے گی۔ اس دن وہ رات کو گیا تھا اپنا سامان لینے‘ وہ جاگ رہی تھیں۔
’’تمہارا باپ دو مرتبہ یہاں آچکا ہے اور دس مرتبہ کال کرچکا ہے‘ میں کیوں پھنس گئی ہوں تمہارے مسائلے میں۔‘‘
’’ایک شرط پر میں ان سے مل لوں گا اگر آپ اپنی بھانجی کا پتا دیں مجھے۔‘‘
’’خواب میں بھی مت سوچنا تم۔‘‘
’’شادی کرنا چاہتا ہوں میں آپ کی بھانجی سے۔‘‘
’’تو اپنے ماں باپ کو منائو‘ ان سے کہو رشتہ لے کر جائیں مگر ایک بات سن لو میرا نام نہ آئے میں ویسے ہی بدنام ہوں ان کی نظر میں۔ بہت ظالم لوگ ہیں میں نہیں سمجھتی راضی ہوں گے۔‘‘
’’آپ نہیں چاہتیں کہ آپ کی بھانجی کی زندگی بن جائے۔‘‘
’’پہلے تم خود کی زندگی تو بنا لو برخور دار!‘‘
’’ٹھیک ہے تو پھر بات کرکے دیکھتے ہیں۔ آپ ابا کو کہیں میں کل تک گھر پہنچ جائوں گا‘ اسٹور پر کچھ کام ہے بک اسٹاک میں نے خرید لیا ہے قسطوں پر اس کے کچھ معاملات ہیں‘ بات چیت کرکے کل کراچی جائوں گا۔‘‘
ز…ؤ…ز
سیل فون کب سے بج رہا تھا اس نے پوری طرح آنکھیں کھول کر اسکرین دیکھی‘ رانگ نمبر تھا وہ پھر سوتی بنی مگر بیل مسلسل ہوتی رہی آخر کار اس نے فون ریسیو کیا۔
’’ہیلو تحریم! کیسی ہو؟‘‘ یہ وہی آواز تھی برسوں پرانی۔
’’تحریم! میں تم سے محبت کرتا ہوں‘ کبھی نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔ میں پڑھ کر آجائوں پھر ہم شادی کریں گے۔‘‘ پڑھائی کے بعد جاب کا بہانہ‘ جاب کے بعد کئی اور بہانے پھر ایک دن اس نے اسے ٹھکرادیا پھر وہ دن بھی آیا کہ وہ اپنی دلہن کو یہاں لے آیا اور اب وہ فون کررہا تھا‘ کیوں اور کس لیے‘ کیا بچتا تھا۔
’’تحریم! کیسی ہو… بولو نا۔‘‘
’’کون ہیں آپ؟‘‘
’’میں زیب ہوں‘ پہچانا نہیں تم نے مجھے۔‘‘
’’سوری میں کسی زیب کو نہیں جانتی۔‘‘
’’تحریم! تم ایسا کیوں کررہی ہو‘ میری بات سنو پلیز۔‘‘ اس نے نمبر آف کردیا سارے میسج پڑھے بغیر ڈلیٹ کردیئے اس کا دل بالکل خالی تھا۔
…٭٭٭…
اسے ہمیشہ ٹھکرایا گیا تھا یہ کوئی نئی بات نہیں تھی مگر اسے تحریم سے بہرحال یہ توقع نہ تھی اس کے ماں باپ گئے تھے رشتہ لے کر اور وہ مایوس ہوکر لوٹے تھے۔ وہ صرف ایک بار بات کرنا چاہتا تھا اس سے‘ وجہ پوچھنا چاہتا تھا‘ شکایت کرنا چاہتا تھا مگر اس نے تو نمبر ہی بند کردیا تھا۔ وہ تو بات کرنا ہی نہیں چاہ رہی تھی اور اس کے دل میں کتنے سوال تھے جنہیں شاید ہمیشہ کی طرح تشنہ رہ جانا تھا۔
وہ پوری رات بیٹھا اپنی زندگی کے خسارے جمع کرکے گنتا رہا اور سونے کی کوشش میں صرف کروٹیں ہی بدلی تھیں۔ آج فجر کی نماز اس نے بہت عرصے بعد پڑھی تھی بڑے اور اسے بے حد سکون ملا تھا۔ اس نے سوچا وہ فجر کی نماز ہمیشہ پڑھے گا اس کے ہاتھ تمام خساروں کے بعد ایک سکون کی چابی لگ گئی تھی اس کے دل کا غبار چھٹنے میں بہت کم وقت تھا۔
ز…ؤ…ز
ان کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی تھی انہوں نے تحریم کے بابا سے بات کی تھی‘ وہ تحریم سے ایک مرتبہ بات کرنا چاہتی تھیں۔ اس کا دل اپنی طرف سے صاف کرنا چاہتی تھیں مگر تحریم کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا اس لیے انہیں ناچار ان سے بات کرنا پڑی‘ انہوں نے تسلی دی تھی کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گی۔ وہ تحریم کو ان کے پاس بھیجیں گے تحریم ان کا خیال رکھے گی‘ وہ پہلی مرتبہ ایک نئے احمد شاہ کو دیکھ رہی تھیں۔
وقت کہاں کہاں‘ کیا کیا تبدیل کرلیتا تھا۔ انہوں نے واقعی تحریم کو بھیج دیا تھا اسی شام۔ تحریم انہیں فوراً اسپتال لے گئی تھی انہیں ایڈمٹ کرلیا گیا تھا‘ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوپارہی تھی۔ وہ گزآشتہ چار دنوں سے ان کے پاس تھی ان کی خدمت کررہی تھی‘ ان کے کمرے سے اسے ڈائری ملی تھی اس کی ماں کی اصلی ڈائری۔ جس میں انہوں نے اس سے بہت باتیں کی تھیں جو کچھ وہ کہنا چاہتی ہوں گی جو کچھ ان کے دل میں ہوگا۔
ز…ؤ…ز
’’ہم آج شام گھر چلیں گے۔‘‘ وہ ان کے بیڈ کے نزدیک آکر رک گئی۔
’’ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟‘‘
’’آپ بالکل ٹھیک ہیں۔‘‘
’’بہلا رہی ہو مجھے؟‘‘
’’اتنا مشکل کام میں نہیں کرسکتی خالہ۔‘‘
’’مذاق کررہی ہو میرے ساتھ؟‘‘
’’یہ ہمت بھی نہیں رکھتی۔‘‘ وہ دوائیں چیک کرتے ہوئے مسکرادی۔ ’’بابا آج شام آرہے ہیں آپ کی طبیعت پوچھنے‘ اب یہ مت کہیے گا کہ اس زحمت کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’ایک بات پوچھوں‘ تم مجھ سے نفرت کیوں نہیں کرتیں؟ میں نے تمہارے ساتھ بہت بُرا کیا‘ میں بہت بُری ہوں‘ سخت ہوں‘ دل دکھاتی ہوں۔ جس وقت تم جارہی تھیں اس وقت مجھے رونا آرہا تھا میرا دل بیٹھا جارہا تھا‘ میں تمہیں گلے سے لگاتی پیار کرتی تو تم جا نہ پاتیں‘ تمہیں جانا تو بہرحال تھا میں خود کو تمہارا عادی نہیں بنانا چاہتی تھی مگر تم نے عادی بنا ہی ڈالا‘ بہت دنوں تک میں تمہیں یاد کرتی رہی‘ بہت دنوں تک مجھے تمہاری کمی محسوس ہوتی رہی۔ تمہیں دیکھ کر دل چاہا تھا کاش تم میری بیٹی ہوتیں۔‘‘
’’میں آپ کی بیٹی ہوں۔‘‘ وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’تو مجھے باربار چھوڑ کر کیوں چلی جاتی ہو؟‘‘ انہوں نے زندگی میںپہلی بار اسے گلے سے لگایا تھا۔
’’اب چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘
’’پھر ایک وعدہ کرو‘ تم میرے گھر سے رخصت ہوگی؟ میں تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’آپ کیسی باتیں کررہی ہیں؟‘‘ وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
’’زید اتنا بھی بُرا نہیں ہے۔ اس کے ماں باپ بھی عزت کے قابل تھے پھر کیوں کیا ایسا؟‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتی آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘
’’وہ لوگ رشتہ لے کر آئے تھے۔‘‘
’’میرے علم میں نہیں ہے یہ سب۔‘‘ وہ واقعی لاعلم تھی۔
’’آجائے تمہارا باپ دیکھ لیتی ہوں میں سارا کچھ۔‘‘ وہ پھر سے اپنے جنون میں واپس آگئی تھیں۔
’’اچھا مگر پہلے ٹھیک تو ہوجائیں۔‘‘
’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘ ڈاکٹر کو بلائو مجھے ابھی گھر جانا ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر چیزیں سمیٹنے لگیں۔ انہوں نے سیل سے فون کیا۔ ’’ہاں زید! باہر کھڑے ہو نا‘ آجائو بیٹا سامان اٹھوالو ذرا‘ گھر جانا ہے۔‘‘ وہ فوراً اندر آیا اور سامان سمیٹنے میں مدد دینے لگا۔
’’ڈاکٹر سے تو بات کرلیں خالہ!‘‘ وہ سر تھام کر رہ گئی۔
زید اس کی طرف دیکھنے سے نظریں چرا رہا تھا اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی ناراضگی کا تاثر تھا۔ وہ بیگ کندھے پر لٹکائے بڑے مطمئن انداز میں چلتے ہوئے مسکراہٹ روکے ہوئے ان دونوں کو باری باری دیکھ رہی تھی۔ ادھ کھلے بیگ سے ڈائری جھانک رہی تھی‘ پشت پر بالوں کی چوٹی بڑی خوب صورت لگ رہی تھی‘ کندھوں سے لمبا دوپٹہ لٹک رہا تھا اور چہرے پر اطمینان اور مسکراہٹ تھی۔ اس کی نظریں بار بار بھٹک رہی تھیں۔
…٭٭٭…
’’تم پھر اس سے بات کررہی ہو؟‘‘ وہ اس کے سر پر آکھڑی ہوئی تھیں۔
’’نہ… نہیں تو…‘‘ وہ بوکھلا گئی۔
’’میں نے لاکھ بار منع کیا ہے کہ پہلے سے اتنی لمبی لمبی باتیں نہیں کرنی چاہئیں‘ اس سے مسائل بڑھتے ہیں مگر تم سمجھتی ہی نہیں ہو۔‘‘
’’میں کہاں بات کرتی ہوں اس کا فون آجاتا ہے تو کیا کروں۔‘‘
’’میں خوب سمجھتی ہوں تمہیں‘ خیر اٹھو اور کام کرو۔‘‘ وہ بگڑتی بڑبڑاتی ہوئیں کمرے سے باہر چلی گئیں۔
’’رکھتی ہوں اب خالہ بگڑ رہی ہیں تو چپ نہیں ہوں گی اور پلیز اب فون مت کرنا زید! خالہ سخت غصہ ہوتی ہیں۔‘‘
’’ایک بات بتادو صرف…؟‘‘
’’جلدی پوچھو۔‘‘
’’اب تمہیں بند کمروں سے خوف نہیں آتا ناں۔‘‘
’’اب مجھے بند کمروں سے خوف نہیں آتا۔‘‘
’’اب تمہیں آدمیوں سے ڈر نہیں لگتا نا؟‘‘
’’اب مجھے آدمیوں سے خوف نہیں آتا۔‘‘
’’اب میں تمہیں اچھا لگتا ہوں نا؟‘‘
’’اس بارے میں‘ میں تمہیں کچھ کہہ نہیں سکتی۔‘‘ مسکراہٹ اچھی ہوتی ہے‘ مسکراہٹ جب پھیل جاتی ہے۔
’’مگر مجھے تم اچھی لگتی ہو۔‘‘
’’اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتی۔‘‘ مسکراہٹ تب بھی اچھی ہوتی جب مسکراہٹ سمٹ جاتی ہے۔
’’تم مجھ پر اعتبار کرتی ہو نا؟‘‘
’’یہ سوال تو اور بھی مشکل ہے۔‘‘
’’تم بہت بُری ہو تحریم!‘‘
’’سوچ لو پھر ابھی وقت ہے۔‘‘ مسکراہٹ تب بھی اچھی ہوتی ہے جب شرارت میں بدل جاتی ہے۔
’’بہت دماغ خراب ہے تمہارا ہے نا۔‘‘
’’تم نے ابھی تک فون بند نہیں کیا۔‘‘ ان کی گرجتی ہوئی آواز ابھری۔
’’جی بند کردیا۔‘‘ اس نے کال کاٹ دی۔
’’پھر یہ باتیں کس سے ہور ہی ہیں؟‘‘
’’دیواروں سے باتیں کررہی ہوں۔‘‘ وہ ہنستی ہوئی باہر آئی۔
’’پاگل ہوگئی ہو شادی سے پہلے ہی۔‘‘
’’جو کام بعد میں کرنا ہے وہ پہلے ہی کرلیا جائے۔‘‘ وہ کپڑے دیکھنے لگی۔
’’بہت فضول بولنے لگی ہو اتنی زبان مت چلایا کرو‘ اگلے گھر جائو گی۔ تمہیں بدلنے کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ ضروری چیزیں الگ کرکے رکھنے لگیں۔
’’میں بدل کر کیا کروں گی‘ میں ایسے ہی اچھی ہوں۔‘‘
’’ہاں بہت اچھی ہو‘ چلو ذرا جلدی چیزیں سمیٹو‘ بہت کام ہیں۔‘‘ وہ ڈانٹتے ہوئے کام کرنے لگیں۔
اس نے چیزیں پیک کرنا شروع کردی تھیں‘ مسکراہٹ تسلی کی نشانی ہوتی ہے اور یقین ایک ایسی سرحد ہے جہاں سے زندگی کا سراغ ملتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے تمام تلخ تجربات سے ہوکر ایک یقین کی طرف آگئے تھے‘ یقین کی سرحد کا پتا زندگی کے تجربات سے ہوکر ہی ہاتھ آتا ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close