مائے نی میں کنوں اکھاں

مائے نی میں کنوں اکھاں

نازیہ کنول نازی

سبز موسم کے زرد پتے
اجاڑ بستی میں اڑ رہے ہیں
ہوائوں سے زیر لب مخاطب
ہماری کتنی سزا ہے باقی؟
جون کی سلگتی دوپہر میں‘ بسوں میں دھکے کھاکر جس وقت پسینے سے شرابور وہ گھر پہنچی آگے لوڈشیڈنگ اس کو منہ چڑا رہی تھی۔
گھر کے صحن میں برسوں پہلے اس کے مرحوم دادا ابا اپنے ہاتھوں سے شیشم کا پیڑ لگاگئے تھے اس وقت بھی شیشم کا پیڑ خود دھوپ میں جلتے ہوئے اس گھر کے مکینوں کو چھائوں فراہم کررہا تھا۔
اماں اور چھوٹی لائبہ کے ساتھ ساتھ بھابی بھی اپنے تینوں ننگ دھڑنگ بچوں کے ساتھ اسی پیڑ کے نیچے دھری چارپائیوں پر کسی قبضہ گروپ کی صورت براجمان تھیں۔ اوپر ٹنکی میں پانی ختم ہوچکا تھا‘ تحریم کا پہلے ہی گرمی سے کھولتا دماغ مزید کھول اٹھا‘ اس گھر میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
بیگ چارپائی پر پھینکتے ہوئے اس نے ہینڈ پمپ سے بالٹی بھری اور ہاتھ منہ دھوکر کچن میں آگئی۔ کولر میں ٹھنڈا پانی موجود تھا‘ دو گلاس بھر کر ٹھنڈا پانی اندر انڈیلنے کے بعد اس کے اعصاب قدرے پرسکون ہوئے تھے۔ ہاٹ پاٹ میں اس کے حصے کی روٹی موجود تھی جو امی نے یقینا بہت مشکل سے بھابی کے بچوں سے بچاکر رکھی ہوئی تھی۔ قریب ہی چولہے پر دھری ہانڈی میں اروی کا سالن تھا اس نے ٹھنڈا سالن پلیٹ میں نکالا اور چند نوالے کھانے کے بعد روٹی لپیٹ کر رکھ دی‘ بھوک ہی مرگئی تھی۔
اگلے چند منٹوں میں وضو کرکے ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ گرمی میں ہی بناء کپڑے تبدیل کیے چارپائی پر ڈھے گئی۔ بوجھل اعصاب کو بار بار اگر کوئی چیز چھیڑ رہی تھی تو وہ ’’سحرش‘‘ کا تصور تھا۔ وہ سحرش جو پچھلے پانچ سال سے اس کی دوست تھی اور اسی کے ساتھ پرائیوٹ اسکول میں نہایت کم اُجرت پر جاب کررہی تھی۔ تحریم کی طرح وہ بھی حالات کی ماری تھی بس فرق صرف اتنا تھا کہ اس کا باپ مر چکا تھا اور تحریم کا باپ زندہ ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے مُردہ سے کم نہیں تھا۔ دونوں اکثر بریک میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے دکھ سکھ شیئر کیا کرتی تھیں مگر اب وہی بات بات پر گھنٹوں رونے والی سحرش سر تا پیر بدل گئی تھی نہ صرف وہ بدل گئی تھی بلکہ اس کی تقدیر بھی بدل گئی تھی ااس نے بہت محنت کی تھی کچھ اس کی ذہانت بھی کام آئی تھی تبھی نہایت خراب حالات کے باوجود اس کی نیّا پار لگ گئی تھی۔
دو ماہ پہلے دبئی سے اس کے لیے رشتہ آیا جسے معمولی چھان پھٹک کے بعد قبول کرلیا گیا اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق فوری شادی رچاکر وہ اسکول چھوڑ گئی۔ تحریم اس کی تقدیر کا کھیل دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی تھی‘ بھلا لڑکیوں کی قسمت یوں بھی کھل جاتی ہے؟ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
شادی کے پورے تین ماہ بعد وہ اسکول آئی تھی‘ اپنی کولیگ دوستوں سے ملنے اور ان کا منہ میٹھا کرانے مگر وہ جتنی خوش اور خوب صورت لگ رہی تھی تحریم کی نظریں اس کی چہرے پر گڑ کر رہ گئی تھیں۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کے شوہر کی چھٹی ختم ہوگئی ہے لہٰذا وہ دبئی واپس جارہے ہیں مگر وہ تنہا نہیں جارہے اسے بھی ساتھ لے کر جارہے ہیں کیونکہ ان کے میاں جانی کا دل اس کے بغیر اب نہیں لگتا۔
وہ لڑکی جسے اسکول سے گھر واپسی پر روٹی بھی قسمت سے ملتی تھی اب دبئی جارہی تھی وہ بھی اپنے میاں جانی کے ساتھ۔ تحریم اس کی خوش بختی پر جتنا بھی رشک کرتی کم تھا مگر کوئی چیز تھی جس نے اس کے اندر یک عجیب سا طوفان اٹھادیا تھا۔ اسے یکایک ساری دنیا سے نفرت سی محسوس ہوئی تھی‘ سحرش اس سے زیادہ خوب صورت نہیں تھی‘ قابل بھی نہیں تھی اور سب سے بڑی بات نیک بھی نہیں تھی اس نے تو کبھی بھول کر بھی پانچ نمازیں باقاعدگی سے ادا نہیں کی تھیں۔ وہ فیشن کی دلدادہ تھی‘ نہایت غربت میں بھی وہ خود پر توجہ دینا اور خود بننا سنوارنا نہیں بھولتی تھی۔ شدید پریشانی میں بھی اس کی بھنوئیں ترشی رہتی تھیں اور ہاتھ پائوں کے ناخن نیل پالش سے رنگے رہتے تھے پھر بھی اس کا نصیب کھل گیا تھا اور وہ بھی ایسا قابل رشک کہ جس کو پتا چلتا تھا منہ میں انگلیاں دابتا تھا مگر وہ ابھی تک نامساعد حالات سے لڑرہی تھی۔ نیک پاک‘ خوب صورت‘ ذہین ہونے کے باوجود اس کا نصیب نہیں کھل رہا تھا‘ اول تو کوئی رشتہ آہی نہیں رہا تھا بھول بھٹک کر آجاتا تو بات آگے ہی نہ بڑھتی وجہ اس کے حالات تھے۔
اس کے باپ نے بڑھاپے میں جب جوان بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کا وقت تھا‘ کسی عورت سے معاشقہ لڑاکر دوسری شادی کرلی تھی اور ان لوگوں کے احتجاج پر اپنی نئی نویلی دلہن بیوی کو لے کر علیحدہ ہوگئے۔ بھائی خود شادی شدہ مگر پرائیوٹ ملازم تھے‘ کرائے کے گھر میں ‘ طوفانی مہنگائی کے ساتھ‘ اس کے لیے سارے کنبے کی کفالت مشکل ہوئی تو تحریم نے تعلیم کو خیرباد کہہ کر بی اے‘ بی ایڈ کے بعد خود پرائیوٹ اسکول میں نوکری کرلی۔ اس کی ماں ایک صابر اور سادا خاتون تھیں‘ پچھلی عمر میں شوہر کی بے حیائی اور بے وفائی کے روگ نے انہیں بستر پر ڈال دیا تھا پھر بھی وہ اپنے بچوں کا خیال رکھنا نہیں بھولتی تھیں۔
تحریم جب اسکول لائف اور کالج لائف سے گزررہی تھی تو دو چار لڑکوں نے اس پر جال پھینکا تھا اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش بھی کی مگر اس نے کسی کو گھاس نہیں ڈالی تھی۔ خطرناک عمر میں بھی اپنے باپ اور بھائی کی عزت کے لیے اس نے اپنے جذبات پر کڑے بند باندھے رکھے تھے مگر… جیسے جیسے وقت گزرتا گیا‘ وہ تنہا ہوتی گئی اور اس کے خواب گرد آلود ہوتے گئے۔ اب تو دور دور تک اس کی زندگی میں کوئی لڑکا نہیں تھا مگر اب وہ چاہتی تھی کہ اس کی زندگی میں بھی کوئی ہو جو اس کی روکھی پھیکی بے رونق زندگی میں خواب بھر کر اسے رنگین بنائے‘ اسے زندگی کا نیا پیرھن عطا کرے۔
عمر جیسے جیسے سالوں کی مسافت طے کررہی تھی اس کے اندر کا اضطراب بڑھتا جارہا تھا ۔ اسے اپنی خوب صورتی اور ذہانت بے معنی ہوتی محسوس ہورہی تھی۔ اپنے اندر کے اضطراب سے تنگ آکر اس نے ایک دوست کے اصرار پر ’’فیس بک‘‘ جوائن کی تھی اور پھر واقعی اس کا ٹائم اچھا پاس ہونے لگا تھا ۔ اس کی فرینڈ لسٹ میں صرف لڑکیاں ایڈ تھیں‘ اس نے کسی لڑکے کو کبھی ریکوئسٹ نہیں بھیجی تھی مگر لڑکوں کی ریکوئسٹ ضرور اسے موصول ہوتیں جو کبھی تو وہ قبول کرلیتی تھی کبھی پینڈنگ چھوڑدیتی تھی مگر اس رستے پر بھی اس کے لیے نہ سکون تھا نہ منزل۔ لڑکے گپ شپ اور دوستی کی آفر تو کرتے تھے مگر شادی کی طرف نہیں آتے تھے۔ تمام تر صلاحیتوں‘ ذہانت اور خوب صورتی کے باوجود وہ جیسے کسی کو نظر ہی نہیں آتی تھی اس کے لیے پوری دنیا میں جیسے کہیں کوئی ایک لڑکا بھی نہیں تھا۔
آنکھوں پر بازو رکھے اندر ہی اندر وہ رو رہی تھی جب اس سے چھوٹی لائبہ اندر کمرے میں چلی آئی اور آتے ہی اس نے پنکھے کا بٹن آن کردیا۔
’’لائٹ آگئی ہے بجو! گرمی میں کیوں پڑی ہو‘ طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
’’ہوں‘ بس یونہی تھکن ہورہی تھی۔‘‘ جلدی سے بازو آنکھوں سے ہٹاکر وہ اٹھ بیٹھی تھی‘ لائبہ اس کے قریب ہی ٹک گئی۔
’’نماز پڑھ لی؟‘‘
’’ہوں‘ اور تم نے؟‘‘
’’میں نے بھی ابھی پڑھی ہے‘ سچ پوچھو تو آج مجھے تمہاری واپسی کا شدت سے انتظار تھا۔‘‘ لائبہ نے آنکھوں میں عجیب سی خوشی سموتے ہوئے اس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا تھا‘ وہ چونک گئی۔
’’کیوں خیریت؟‘‘
’’ہوں خیریت ہی ہے‘ خالہ نفیسہ آئی تھیں آج‘ وہی جو امی کی منہ بولی بہن بنی ہوئی ہیں۔ ان کی کوئی بھابی ہیں جو اپنے خوب صورت جوان بھائی کے لیے رشتہ دیکھ رہی ہیں۔ خالہ نے انہیں تمہاری تصویر دکھائی تھی جو کہ انہیں بہت پسند آئی۔ اب وہ باقاعدہ رشتہ لے کر آنا چاہتی ہیں‘ امی تو صبح سے بے حد خوش ہیں کیونکہ لڑکا بہت اچھا ہے‘ سمجھ دار ہے سب سے بڑی بات اس کی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے‘ ہمارے گھر کے حالات کے بارے میں بھی جانتا ہے۔‘‘ لائبہ نشریات جاری کرنے پر آئی تو پھر بولتی چلی گئی۔ تحریم کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔
’’سچ…؟‘‘
’’ہاں جی سچ‘ خالہ کہہ رہی تھیں جہیز وغیرہ کی ضرورت بھی نہیں لڑکا کہتا ہے اپنے زور بازو پر اپنا گھر خود بنائوں گا‘ بس یہ ہے کہ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہے‘ اصل میں حالات کی وجہ سے اسے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔‘‘
’’پھر بھی کتنا پڑھا ہے؟‘‘
’’پتا نہیں‘ شاید میٹرک کیا ہو۔‘‘ لائبہ نے بتایا تھا اور ادھر تحریم کے خوابوں کے شہزادے کی جیسے بینائی چلی گئی تھی۔
’’نام کیا ہے؟‘‘
’’ندیم۔‘‘ شہزادے کے بازو بھی ٹوٹ کر گرگئے۔
’’کام کیا کرتا ہے؟‘‘
’’فروٹ کی ریڑھی لگاتا ہے چمن بازار میں‘ خالہ بتارہی تھیں ہوسکتا ہے ایک دو سال میں باہر چلا جائے۔‘‘ شہزادے کی گردن بھی ٹوٹ کر گر پڑی۔ تحریم کے چہرے پر یکایک ہی مایوسی کے تاثرات پھیلے ہوئے تھے جبکہ آنکھیں بھراّ گئی تھیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘ لائبہ جو اسے اشتیاق سے دیکھتے ہوئے سب بتارہی تھی‘ اب اچانک سے اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر حیران رہ گئی‘ تحریم کا سر جھک گیا تھا۔
’’تمہیں یہ رشتہ میرے قابل لگتا ہے لائبہ! سچ بتانا‘ کیا اپنی پڑھی لکھی قابل بہن کے لیے ایک ریڑھی والے کا رشتہ تمہارے لیے قابل قبول ہے وہ بھی اس صورت میں جب وہ پڑھا لکھا نہ ہو اور اس کی ترقی کے کوئی چانس بھی نہ ہوں۔ مان لیا کہ وہ باہر چلا جائے گا مگر باہر جانے والے غریب لڑکے کئی کئی سال دھکے کھانے کے بعد عزت اور سکون کی زندگی جینے کے قابل ہوتے ہیں‘ کیا میری ساری زندگی میرے خواب یونہی حسرتوں کی مٹی تلے دفن ہوجائیں گے؟‘‘ سر جھکائے جھکائے اس کی آنکھیں چھلکی تھیں۔
’’میں عام لڑکی نہیں ہوں لائبہ! مجھے دھن دولت‘ زیورات‘ آسائشات کی ہوس نہیں ہے۔ میں اپنے حالات اور مجبوریوں سے بھی بے خبر نہیں ہوں‘ مگر زندگی کے ہمسفر کے لیے میرا ایک خاکہ ہے بالکل نمرہ احمد اور فرحت اشتیاق کی کہانیوں کے ہیرو جیسا‘ نبیلہ عزیز کی کہانیوں کے ہیرو جیسا‘ ایک منفرد شخص جس کا ساتھ مجھے مکمل کردے۔ میں اپنی فرینڈز سے جب اس کا تعارف کروائوں تو مجھے شرمندگی نہ ہو۔ کوئی ترحم سے میری طرف نہ دیکھے‘ یہ نہ کہے کہ تم نے اتنا صبر کیا پھر بھی تمہیں یہ ملا ایک معمولی شخص… نہیں لائبہ! مجھ سے اپنے سنہری خوابوں کا ٹوٹنا برداشت نہیں ہوگا کیونکہ خواب جب ٹوٹ جائیں تو ان کی کرچیاں انسان کی روح میں چبھ جاتی ہیں‘ میں زخمی روح کے ساتھ کیسے زندہ رہوں گی؟‘‘ وہ اب باقاعدہ رو رہی تھی‘ لائبہ کا چہرہ بھی اداس پڑگیا۔
’’میں تمہارے جذبات سمجھتی ہوں بجو! مگر یہ بھی تو دیکھیںکہ ہمارے حالات ہمارے بس میں نہیں ہیں‘ کیا ہے ہمارے پاس کسی کو دینے کے لیے اور پھر ابو کی کہانی جو بھی رشتہ دیکھنے آتے ہیں‘ تحقیقات ضرور کرتے ہیں تبھی جب ان کو ابو کی کہانی کا پتا چلتا ہے وہ چپ چاپ پیچھے ہٹ جاتے ہیں جن کے باپ ایسے ہوں ان کی بیٹیاں مجبوراً سمجھوتا کرتی ہیں زندگی سے یہ بھی ایک سمجھوتہ ہی ہے وگرنہ میں بھی جانتی ہوں تمہاری خواہشات کیا ہے مگر تم خود دیکھو‘ کیا ہمارے جیسے گھر میں نمرہ احمد یا نبیلہ عزیز کے ہیرو جیسے لڑکے پرپوزل بھیج سکتے ہیں؟‘‘
’’کیوںنہیں بھیج سکتے کیا کمی ہے مجھ میں؟ میرا باپ اگر ایک غلط انسان ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں اگر غریب پیدا ہوئی ہوں تو میرا کیا قصور ہے؟ وہ سحرش بھی تو غریب تھی ان کے گھر میں کیا تھا؟ ان کے حالات تو ہم سے بھی زیادہ خراب ہیں پھر بھی اس کو وہ مل گیا جو اس نے سوچا بھی نہیں تھا‘ بالکل فرحت اشتیاق کے ناولز جیسا ہیرو شخص‘ کتنے فخر سے وہ سارے اسٹاف کے سامنے اس کا تعارف کروارہی تھی۔ تعریفیں کررہی تھی اور سب حیرانگی سے کنگ نہایت رشک سے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے‘ واہ واہ کررہے تھے کیا اس کے ساتھ معجزہ نہیں ہوا؟کیا وہ مجھ سے زیادہ اللہ سے قریب ہے؟ اس نے تو کبھی بھول کر نماز نہیں پڑھی‘ سارے وہ کام کیے جو اللہ کو ناپسند ہیں پھر بھی اللہ نے اسے نواز دیا میں کیوں نظر نہیں آتی اللہ کو؟کیا میں اس کی تخلیق نہیں ہوں‘ کیا میرا ربّ کوئی اور ہے؟‘‘ وہ جذباتی ہوئی تھی‘ لائبہ ترحم سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’ہر انسان کا اپنا نصیب ہوتا ہے بجو! کچھ لوگوں کو دنیا میں سب کچھ مل جاتا ہے اور کچھ کے لیے اللہ آخرت میں ان کا حصہ سنبھال رکھتا ہے۔‘‘
’’بس کرو یار! آخرت کس نے دیکھی ہے‘ مجھے نہیں چاہیے آخرت میں کچھ بھی۔ میرا دل بہت دکھی ہے‘ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے بس…‘‘
’’ایسا نہیں کہتے بجو! اللہ ناراض ہوتا ہے۔‘‘
’’مجھ سے راضی کون ہے؟‘‘ وہ چڑی تھی‘ لائبہ اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’ندیم بھائی خوب صورت ہیں بجو! پھر محنت کرتے ہیں‘ محنت میں کوئی شرم کوئی برائی نہیں ہے بہرحال امی کو فوری انکار مت کیجیے گا‘ انہیں دکھ ہوگا۔‘‘ گہری سانس بھر کر اٹھتے ہوئے لائبہ نے اپنی بہن کو تلقین کی تھی‘ تحریم چپ چاپ گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔
اگلے روز سنڈے کی چھٹی کے باعث وہ گھر پر تھی۔ نفیسہ خالہ‘ ندیم کی بہن کو گھر لے آئیں‘ گھر کے در و دیوار تو جیسے بھی تھے مگر صفائی میں انہوں نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ بھابی جیسی بھی تھیں مگر نندوں کے فرض سے سبکدوش ہونا ان کی پہلی ترجیح تھی لہٰذا وہ بھی ہر کام میں پیش پیش تھیں۔
تحریم نے ماں کے اصرار پر کپڑے بدل لیے تھے مگر نہ خود کو سنوارا تھانہ مہمانوں کے پاس بیٹھی تھی نہ اس نے ان سے کوئی بات کی تھی۔ اس کے چہرے پر عجیب سی خزاں چھائی تھی جبکہ لبوں پر مستقل چپ کا قفل تھا جسے مہمانوں کے ساتھ ساتھ خود اس کی ماں اور بھابی نے بھی محسوس کیا تھا مگر اسے پروا نہیں تھی۔
ریڑھی فروش ندیم احمد کا رشتہ اس کے لیے ہونے نہ ہونے کے برابر تھا۔ ذہنی ڈسٹربنس کے باعث وہ ظہر اور عشا کی نماز بھی نہ پڑھ پائی تھی۔
موسم میں حبس تھا‘ رات کے کھانے کے بعد سب چھت پر سونے چلے گئے مگر وہ بچوں کی ٹیسٹ کاپیاں چیک کرنے کے بہانے شیشم کے پیڑ تلے بیٹھی خاموشی سے روتی رہی‘ کل سحرش نے جیسے اس کے اندر کی سوئی دنیا کو درہم برہم کرکے رکھ دیا تھا۔
سر درد حد سے بڑھا تو اس نے کاپیاں سمیٹ کر بناء نماز کی پروا کیے‘ سیل فون پر فیس بک آن کرلی‘ آج کل کسی بھی ڈپیریشن میں اس سے اچھا دل بہلانے کا ذریعہ اور کوئی نہیں تھا۔ حسب معمولی انباکس میں کئی دوستوں کے پیغامات اس کی توجہ کے منتظر تھے۔ تحریم نے سر سری سی نظر ڈالنے کے بعد توجہ ہٹالی مگر اسی وقت اس کی نظر عبد الہادی نامی شخص کے پیغام پر پڑی تھی اور وہ ٹھٹک گئی تھی‘ وہ شخص اس کی فرینڈ لسٹ میں تھا مگر پچھلے تین ماہ سے کبھی کبھار سلام کاپیغام آجاتا تھا جسے وہ عادت کے عین مطابق نظر انداز کردیتی۔ تاہم اس وقت وہ نظر انداز نہیں کرسکی تھی‘ سلام کے بعد اس نے بس ایک جملہ لکھا تھا۔
’’آپ اتنی سادہ اور اداس کیوں رہتی ہیں؟‘‘ وہ حیران رہ گئی ۔ ایسا پیغام تو آج تک موصول نہیں ہوا تھا‘ بھلا یہ شخص اسے کیسے جانتا تھا؟ فوراً سے بیشتر سارے سوالوں کو ذہن سے جھٹک کر اس نے اس شخص کی پروفائل چیک کی تھی‘ وہ ایک خوب صورت شخص تھا۔ بے حد پُرکشش اور پڑھا لکھا‘ دبئی میں جاب کرتا تھا۔ اپنی پروفائل میں اس نے اپنی ‘ اپنے دوستوں کی اور چند دیگر تصاویر بھی شیئر کررکھی تھیں جو تحریم نے بعد میں اس کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہونے کے بعد دیکھی تھیں کیونکہ اس شخص نے اپنی پرائیویسی سکیور کر رکھی تھی۔
تحریم کو وہ ہو بہو فرحت اشتیاق اور نبیلہ عزیز کے ناولز کے ہیروز کی طرح لگا تھا‘ تبھی ناچاہتے ہوئے بھی اس نے اس کے پیغام کے جواب میں لکھ دیا تھا۔
’’وعلیکم السلام! آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟‘‘ مخالف شخص کو شاید اس سے جواب کی امید نہیں تھی تبھی محض دس منٹ کے بعد اس نے اس کا پیغام پاکر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
’’شکریہ آپ نے جواب تو دیا میں اکثر آپ کی پوسٹس اور کمنٹس دیکھتا رہتا ہوں اپنی ایک کزن کی وال پر‘ بہت اچھی حساس لڑکی ہیں آپ‘ کہیں شادی وغیرہ ہوئی ابھی تک کہ نہیں؟‘‘
چار سال ہوگئے تھے اسے فیس بک جوائن کیے ہوئے مگر ان چار سالوں میں وہ پہلا شخص تھا جو اس سے شادی کا پوچھ رہا تھا‘ تحریم کا دل دھڑک اٹھا۔
’’نہیں…‘‘
’’کیوں کیا ابھی تک کوئی اچھا نہیں لگا؟‘‘وہ یوں پوچھ رہا تھا جیسے برسوں کی شناسائی ہو‘ تحریم چاہتے ہوئے بھی اسے نظر انداز نہیں کرپائی تھی۔
’’نہیں‘ میں بہت منفرد سی افسانوی لڑکی ہوں‘ میری پسند کے معیار پر کوئی عام شخص نہیں اتر سکتا‘ اسی لیے شاید میرے خواب ایک پسندیدہ ہمسفر کے لیے کبھی پورے نہ ہوں۔‘‘
’’آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں؟‘‘ اسے شاید اس کی مایوسی سے حوصلہ ملا تھا۔
’’خواب اگر پورے ہو بھی جائیں تو کیا ‘ جانا تو ایک دن مٹی میں ہے۔ میں آپ میں انٹرسٹڈ ہوں آپ بالکل میری پسند کے معیارپر پوری اتری ہیں‘ اسی لیے میں آپ کو پرپوز کرنا چاہتا ہوں پلیز مجھے غلط مت سمجھئے گا‘ میں فلرٹی یا فراڈ نہیں ہوں ذمہ دار شخص ہوں‘ میچور ہوں‘ دبئی میں سیٹل ہوں‘ انسان ہوں فرشتہ ہر گز نہیں ہوں اور نہ ہی خو د کو پرفیکٹ سمجھتا ہوں ‘ آپ میرے بارے میں سوچ لیں میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا۔‘‘
نبیلہ عزیز کے ناولز کے ہیروز جیسا وہ خوبرو شخص کہہ رہا تھا اور تحریم جو عام حالات میں یوں کبھی کسی کو منہ لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ خواہشات کے بہائو میں اس کے قدم اکھڑ گئے‘ ستائیس سال کی عمر میں لوگوں کی طرف سے روز شادی کا سوال سن سن کر اس کا دل بے زار ہوگیا تھا‘ اندر کہیں مایوسی کی شام اترنے لگی تھی تبھی شاید کپکپاتی انگلیوں سے اس نے لکھا تھا۔
’’میں جسے جانتی نہیں اس کے بارے میں کوئی رائے کیسے دے سکتی ہوں؟‘‘
’’ہوں‘ آپ یقینا مجھے نہیں جانتیں مگر ہم ایک دوسرے کو جان سکتے ہیں‘ بہت دکھ ہیں میری زندگی میں۔ میں چاہتا ہوں آپ میری اور میں آپ کا ہمسفر بنوں‘ آپ میرے دکھ سمیٹیں‘ مجھے سہارا دیں اور میں آپ کے خواب پورے کروں‘ آپ کو ڈھیر ساری خوشیاں دوں۔‘‘
’’مگر میں آپ پر یوں فوری کیسے اعتبار کرسکتی ہوں‘ ایسے تو کوئی بھی لڑکاکسی بھی لڑکی کو پرپوز کرسکتا ہے پھر میں بہت مختلف سی لڑکی ہوں‘ پتا نہیں میں آپ کے ساتھ چل پائوں کہ نہیں۔‘‘
’’پلیز ایسا مت کہیں‘ میرے خلوص اور نیت پر شک مت کریں۔ کوئی لڑکا یوں کسی لڑکی کو پرپوز نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سنجیدہ نہ ہو‘ جہاں تک مجھ پر اعتبار کی بات ہے تو ہماری فیملی میں آج تک نکاح ہوجائے تو طلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ باقی میں انجان ضرور ہوں مگر ایک بات کہہ سکتا ہوں‘ میرا آپ سے وعدہ ہے اگر آپ ہاں کردیں تو میں نکاح ’’مدینہ منورہ‘‘ میں کروں گا جہاں سے ساری زندگی کے لیے رحمتیں اور برکتیں ہمارا ساتھ دیں گی۔ اس سے بڑی سچائی کی میرے پاس کوئی گارنٹی نہیں ہے۔‘‘
تحریم کا دل ایک مرتبہ پھر زور سے دھڑکا تھا‘ کیا واقعی اس جیسی معمولی لڑکی پر تقدیر اتنی مہربان ہوسکتی تھی کہ کوئی اپنے اخلاص کے لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی گارنٹی دے رہا تھا۔ پہلی بار عشاء کی نماز قضا ہونے پر اسے کوئی افسوس نہیں ہوا تھا۔
رات کافی ہوگئی تھی مگر اسے پروا نہیں تھی‘ سیل کا چارج ختم نہ ہوتا تو شاید وہ پوری رات یونہی اس کا انٹرویو لیتی رہتی۔ اس رات وہ ایک پل کے لیے بھی نہیں سو سکی تھی‘ سرور ہی اتنا تھا بے یقینی ہی ایسی تھی کہ اسے کسی طور پر یقین نہیں آرہا تھا کہ قدرت اس پر یوں مہربان بھی ہوسکتی ہے یوںکوئی اجنبی انجان شخص‘ بناء اسے جانے پر کھے اسے پرپوز بھی کرسکتا ہے۔
دل میں جہاں خوشی تھی وہیں یہ خوف بھی تھا کہ کہیں کوئی اسے بیو قوف بناکر اس کی سادگی سے فائدہ ہی نہ اٹھارہا ہو۔ بھلا اس جیسی سادا دل لڑکی کو بے وقوف بنانا کون سی مشکل بات تھی۔ ساری خوش فہمیاں اور خدشات اپنی جگہ مگر وہ رات اس کی زندگی کی سب سے خوب صورت رات تھی۔
اسے لگا جیسے قدرت نے اس کی روکھی پھیکی‘ بے رونق زندگی میں تازہ بہار کی مانند کوئی دریچہ وا کردیا ہو‘ اس کی ذات کے اندھیروں کو کوئی روزن مل گیا ہو۔ اسکول میں بھی سارا دن وہ بے حد خوش رہی۔ دوپہر میں بس کا سفر اور گرمی بھی اسے بُری نہیں لگی تھی‘ گھر واپسی پر روز کی طرح لوڈشیڈنگ نے بھی اس کا موڈ آف نہیں کیا۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد رات میں وہ پھر آن لائن تھا۔
’’کیسی ہو؟‘‘
’’فائن۔‘‘
’’کیا کررہی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ ابھی عشاء کی نماز پڑھی ہے۔‘‘
’’ماشاء اللہ اور کیا کیا کرتی ہیں آپ؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں‘ اسی شہر میں ایک مقامی اسکول میں پڑھاتی ہوں۔‘
’’گڈ‘ شوقیہ پڑھاتی ہیں یا…؟‘‘
’’نہیں… شوقیہ نہیں پڑھاتی حالات سے مجبور ہوکر پڑھاتی ہوں۔‘‘ وہ اسے آزمانے کے لیے اس سے کوئی بھی بات چھپانا نہیں چاہتی تھی۔ دوسری طرف اس نے اداسی والا آئی کون ارسال کردیا۔
’’کیا ہوا حالات کو‘ کیا ابو اور بھائی نہیں ہیں؟‘‘
’’نہیں‘ ابو ہمارے ساتھ نہیں رہتے‘ بھائی پرائیوٹ جاب کرتے ہیں ان کی تنخواہ میں سب کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔‘‘
’’اوہ ویل سیڈ‘ ابو ساتھ کیوں نہیں رہتے؟‘‘
’’بس یونہی‘ چند سال پہلے انہوں نے دوسری شادی کرلی تھی اسی لیے چلے گئے۔‘‘
’’اوہ‘ ویری ٹریجک…کاش میں اس وقت آپ کے پاس ہوتا تو اپنے بازو آپ کے گرد پھیلا کر آپ کو خود میں سمیٹ لیتا‘ اتنی پیاری سی لڑکی غمگین اچھی نہیں لگتی۔‘‘
’’آپ کیسے جانتے ہیں کہ میں پیاری ہوں؟‘‘
’’میں نہیں جانتا‘ میرا دل جانتا ہے کہ جو اسے اچھی لگی ہے وہ ضرور بہت پیاری ہوگی‘ ایسے ہی تو پرپوز نہیں کردیا آپ کو۔‘‘ اس نے لکھا تھا اور تحریم کا دل ڈھیروں خوشی سے بھرگیا۔
’’ایک بات پوچھوں‘ سچ سچ جواب دیں گی؟‘‘ اگلے ہی پل پھر پیغام آیا تھا‘ تحریم نے سر تکیے پر ٹکادیا۔
’’جی پوچھیں؟‘‘
’’آپ کسی کو پسند کرچکی ہو یا تلاش ابھی جاری ہے؟‘‘ جس موضوع پر وہ خود سے بات کرنا نہیں چاہ رہی تھی اسی موضوع پر وہ خود آگیا تھا‘ تحریم کے اندر تک سرشاری اتر گئی۔
’’نہیں‘ میری کوئی پسند نہیں ہے؟‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بس یونہی پسند کے مرد صرف کہانیوں میں ملتے ہیں‘ حقیقت میں نہیں۔‘‘
’’کیوں‘ کیا میں آپ کی پسند کے معیار پر پورا نہیں اترتا؟‘‘
’’میں نے آپ کی بات تو نہیں کی۔‘‘
’’آپ میری بات کریں ناں پلیز‘ میں آپ کو کیسا لگا؟‘‘
’’پتا نہیں آپ میری فرینڈ لسٹ میں نہیں ہیں شاید اسی لیے میں آپ کی پروفائل نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
’’اوکے میں آپ کو ایڈ کرتا ہوں‘ پلیز آپ میری پروفائل دیکھیں۔ میں کام کی مصروفیات کی وجہ سے سوشل میڈیا زیادہ استعمال نہیں کرتا مگر آپ کے لیے فیس بک پر آتا ہوں وقت نکال کے۔‘‘ اس شخص نے پھر اسے معتبر کردیا تھا‘ تحریم کے لب مسکرادیئے۔
’’شکریہ‘ میں دیکھتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں اپنے لیے آپ کی رائے کا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ فوراً ہی اس کا جواب آگیا تھا‘ تحریم نے اس کی ریکوئسٹ قبول کرکے اگلے پانچ منٹ میں اس کی ساری تصاویر دیکھ لیں۔
’’کیسا لگا میں آپ کو؟‘‘ کچھ ہی دیر کے بعد اس نے پوچھا تھا‘ تحریم نے کروٹ بدل لی اس کی ماں اس کے برابر میں سورہی تھی‘ دوسری طرف لائبہ کا بستر تھا وہ درمیان میں لیٹی تھی۔ بھابی اور بھائی نیچے صحن میں سوتے تھے تبھی ایک نظر اپنی سوئی ہوئی ماں پر ڈالنے کے بعد اس نے لکھا تھا۔
’’بہت اچھے‘ اللہ نظر بد سے بچائے۔‘‘
’’شکریہ‘ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ آپ کے الفاظ میرے لیے کتنے قیمتی ہیں۔‘‘
’’شکریہ کی کوئی بات نہیں‘ کیا میں آپ کی فیملی کے بارے میں کچھ پوچھ سکتی ہوں؟‘‘
’’ہاں کیوں نہیں‘ کیا جاننا چاہتی ہیں آپ میری فیملی کے بارے میں؟‘‘
’’کون کون ہے آپ کی فیملی میں‘ باقی جو آپ بتانا چاہیں۔‘‘
’’میں سب سے چھوٹا ہوں اپنی فیملی میں‘ دو بھائی اور دو بہنیں مزید ہیں۔ ایک بھائی اور ایک بہن شادی شدہ ہیں‘ دوسرے کا ابھی موڈ نہیں‘ امی کی چند سال قبل ڈیتھ ہوچکی ہے۔ ابو زندہ ہیں اب آپ بتائیں آپ کی فیملی میں کون کون ہیں؟‘‘
’’میری امی ہیں‘ ایک بھائی ہیں جو شادی شدہ ہیں‘ ایک چھوٹی بہن ہے جو پڑھ رہی ہے۔‘‘
’’بھائی کیا کرتے ہیں پرائیوٹ جاب کے علاوہ؟‘‘
’’کچھ نہیں بس جاب ہی کرتے ہیں۔‘‘
’’گڈ پھر کیا سوچا آپ نے مجھ سے شادی کے لیے؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ آپ مجھ سے شادی کرنا کیوں چاہتے ہیں؟‘‘ دل میں جو خدشات تھے وہ زبان پر لانا چاہتی تھی تبھی دوسری طرف سے جواب آگیا۔
’’کیوں کی کوئی خاص وجہ نہیں‘ یہ میرا فیصلہ ہے شادی تو ایک نہ ایک دن کرنی ہی ہے لیکن میرے لیے آپ بیسٹ ہیں۔ میں اپنی بیوی کی حیثیت سے آپ جیسی لڑکی ہی چاہتا ہوں‘ سادا سی‘ اداس اداس‘ ایک غریب مخلص لڑکی جو ہمیشہ میرے ساتھ وفا کرے۔ زندگی کے اچھے بُرے دنوں میں کبھی میرا ساتھ چھوڑ کر نہ جائے۔ فیصلہ تو آپ نے کرنا ہے مگر سوچیے گا ضرور‘ میں میرے ابو‘ آپ اور آپ کی امی‘ مل کر مدینہ جائیں گے اور نکاح کرلیں گے۔ وہاں میرے دوست رہتے ہیں‘ میری فیملی اور کچھ رشتہ دار بھی ہیں‘ کچھ دن وہاں ان کے پاس قیام کریں گے پھر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں ان شاء اللہ ہمارا نکاح ہوگا۔‘‘ اس نے جو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ حقیقت میں ہورہا تھا مگر اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ ابھی کل تک وہ سحرش کے نصیب پر رشک کرتی تھی اب اسے اپنے نصیب پر رشک آرہا تھا۔ کیا وہ اس قابل تھی کہ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ جاسکتی؟
کیسی بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
’’ٹھیک ہے میں اپنی امی سے بات کرکے بتائوں گی مگر اس سے پہلے میں آپ کو لائیو دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کوئی مسئلہ نہیں‘ کیا آپ اسکائپ استعمال کرتی ہیں؟‘‘
’’نہیں میرے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں میں دو ماہ میں پاکستان آرہا ہوں آپ مجھ سے مل بھی سکتی ہیں‘ مجھے دیکھ بھی سکتی ہیں مگر جب تک میں پاکستان نہیں آتا آپ کو قسم ہے آپ خود کو میری امانت سمجھنا‘ میں کسی طور اب آپ کو کھونے کا تصور نہیں کرسکتا۔‘‘
کتنی بے قراری تھی اس کے ایک ایک لفظ میں‘ وہ خوشی سے جھوم اٹھی۔ اس کی دعائیں رائیگاں نہیں گئی تھیں۔ تقدیر کو آخر اس پر رحم آہی گیا تھا‘ تبھی اس نے مسکراہٹ والا آئی کون ارسال کردیا۔
’’ایک سوال پوچھوں آپ سے‘ اگر سچ سچ جواب دیں؟‘‘ اس کے آئی کون کے جواب میں اگلا پیغام آیا تھا‘ تحریم نے لکھ دیا۔
’’جی پوچھیں۔‘‘
’’کیا آپ کو رومانس اچھا لگتا ہے؟‘‘
’’ہوں‘ مگر آپ تو شکل سے رومانٹک نہیں لگتے۔‘‘
’’بندہ شکل سے نہیں جذبات سے رومانٹک ہوتا ہے اور میں اوور رومانٹک ہوں‘ برداشت کرلیں گی مجھے؟‘‘ تحریم کو اس سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی تبھی وہ سٹپٹائی تھی۔
’’مجھے تو آپ مشکوک لگ رہے ہیں۔‘‘
’’پلیز‘ میرے جذبات کا خون مت کریں‘ آپ کو اپنانے کا فیصلہ میرا اپنا ہے‘ آپ ریجیکٹ کرسکتی ہیں مگر میرے خلوص پر شک مت کریں کیونکہ میں سمجھتا ہوں آپ زندگی میں کبھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑیں گی۔‘‘ وہ ہرٹ ہوا تھا‘ تحریم گھبرا گئی۔
’’سوری اگر آپ کو بُرا لگا‘ آپ بتائیں پاکستان کب آرہے ہیں؟‘‘
’’جب آپ بلائیں‘ آپ حکم کریں گی تو ابھی اڑ کے آجائوں گا۔‘‘ مخالف کا موڈ فریش تھا‘ تحریم پھر لاجواب ہوگئی۔
’’اچھا پلیز اپنی تین چار تصاویر تو ارسال کریں‘ میں نے گھر والوں کو دکھانی ہیں۔‘‘ اس کی خاموشی کے جواب میں عبد الہادی کی طرف سے فرمائش آگئی تھی‘ تحریم نے لکھ دیا۔
’’سوری‘ ابھی میرے پاس تصاویر نہیں ہیں ویسے بھی جب تک میں آپ کو اچھی طرح جان نہیں لیتی‘ تصاویر ارسال نہیں کرسکتی۔‘‘
’’کیوں؟ کیا آپ کو ابھی بھی مجھ پر یقین نہیں‘ میں نے مکہ اور مدینہ کا حوالہ دیا ہے کیا کہیں گی آپ ایسے آدمی کے بارے میں جو آپ کو مدینہ میں نکاح کی گارنٹی دے رہا ہے۔ کیا وہ آپ کو دیکھنے کا حق بھی نہیں رکھتا۔ میں جسے اپنی زندگی میں اپنی بیوی بنانے جارہا ہوں‘ کیا میرا اتنا سا حق بھی نہیں کہ اس کا چہرہ دیکھ سکوں۔‘‘
’’حق ہے مگر ابھی نکاح ہوا تو نہیں ناں‘ ابھی آپ میرے لیے اجنبی ہیں۔ ابھی میں کیسے آپ کو اپنی تصویر دکھا سکتی ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ مت دکھائیں مگر میں ایک بات کہوں گا‘ شک انسان کی زندگی کو تباہ کردیتا ہے۔ زندگی میں لوگوں پر یقین کرنا سیکھیں‘ نہیں تو آپ زندگی میں ہمیشہ کہیں گی
’’میں نے اسے شک کی آندھی میں کھودیا۔‘‘
’’جسے پایا ہی نہیں اسے کھونا کیسا؟ مجھے آپ کے خلوص پر کوئی شک نہیں مگر… آپ تو پہلے ہی مرحلے پر پسائی اختیار کرگئے‘ زندگی کا سفر تو ابھی بہت لمبا تھا۔‘‘ اس نے فوری لکھا تھا مگر وہ آف لائن ہوچکا تھا‘ تحریم کے اندر تک اضطراب بکھر گیا۔ اس کا دل عجیب سے احساسات کا شکار ہورہا تھا‘ پتا نہیں وہ کسی کے ہاتھوں بے وقوف بن رہی تھی یا واقعی تقدیر نے اس کی زندگی میں کوئی نیا دریچہ کھول دیا تھا۔ رات کے دو بج رہے تھے وہ کافی دیر عبد الہادی کی طرف سے پیغام کی منتظر رہی پھر سوگئی۔
اگلے روز ا س کی بے کلی اور اداسی عروج پر تھی‘ اسکول میں بھی چپ چپ سی رہی گھر واپسی پر اپنی ماں کو نفیسہ خالہ کے ساتھ مصروف پاکر اس نے لائبہ کو ساری بات بتادی۔
’’ہوں‘ تو یہ بات ہے پھر اب کیا چاہتی ہو تم‘ میں کروں امی سے بات؟‘‘ ساری بات سن کر لائبہ نے اس سے پوچھا تھا‘ وہ انگلیاں چٹخا کر رہ گئی۔
’’میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا لائبہ! فیس بک پر زیادہ تر لوگ فراڈ ہوتے ہیں‘ سمجھ میں نہیں آتا اس پر اعتبار کروں یا نہ کروں اگر اعتبار کرتی ہوں تو رسوائی کا خدشہ ہے اگر نہیں کرتی تو اسے کھونے کا ڈر ہے جو میں کسی صورت نہیں چاہتی۔ وہ شخص ہو بہو میرے تخیلاتی ہیرو جیسا ہے اگر میں نے اپنی نادانی میں اسے کھودیا تو خود کو کبھی معاف نہیں کرسکوں گی۔‘‘
’’اگر ایسی بات ہے تو تم اسے تصویر بھیج دو‘ زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتا ہے وہ؟‘‘
’’یہی تو میں سوچ رہی ہو ں کیا پتا وہ سچ ہی کہہ رہا ہو۔ کیا پتا سحرش کی طرح میرے نصیب کے تالے بھی کھل جائیں۔‘‘
’’ہوں‘ اللہ کرے ایسا ہی ہو‘ کھانا لائوں تمہارے لیے؟‘‘
’’نہیں ابھی بھوک نہیں ہے‘ تم بتائو یہ خالہ نفیسہ اس وقت کیا کرنے آئی ہیں؟‘‘ وضو کے لیے جاتے جاتے اس نے رک کر پوچھا تھا‘ لائبہ اسے بتانے لگی۔
’’کرنا کیا ہے وہی رشتے والی بات کے لیے آئی ہیں‘ بتارہی تھیں کہ ندیم بھائی نے کہیں تمہیں اسکول آتے جاتے دیکھا ہے ان کو تم اچھی لگی ہو تو اسی لیے انہوں نے اپنی بہن کو بھیجا۔ امی نے رات مجھ سے کہا تھاکہ میں تمہاری رائے لوں کیونکہ ندیم بھائی انہیں بہت پسند آئے ہیں ویسے بھی پورا شہر ان کے اخلاق اور کردار کی گواہی دیتا ہے وہ کسی طور اتنے اچھے رشتے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیں گی۔ مگر اب میں سوچ رہی ہوں کہ انہیں کیا جواب دوں‘ تم تو پٹری ہی بدلے کھڑی ہو۔‘‘
’’کیا کروں یار‘ میرا دل نہیں مانتا کسی معمولی سے شخص کے لیے اگر ایسے ہی کسی شخص سے شادی کرنی ہوتی تو کب کی کرلیتی‘ اتنا صبر نہ کرتی۔‘‘
’’اچھا‘ میں دعا کروں گی اللہ تمہارے حق میں بہتر کرے تم ٹینشن نہ لو‘ پلیز۔‘‘ کمرے سے نکلتے نکلتے لائبہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی وہ پھیکے سے انداز میں مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔
ء…/…ء
’’اللہ اور اللہ کے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی نے قطع تعلق جائز نہیں‘ جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے گا اللہ اس کو بلند کردے گا۔ محبت میں تو ویسے بھی انا نہیں ہونی چاہیے اگرچہ آپ نے ڈائریکٹ میرے کردار پر الزام لگایا تھا جو مجھے بہت بُرا لگا مگر میں محبت کو اپنی انا پر قربان نہیں کرسکتا‘ آئی مس یو۔‘‘ پورے دن بے حد مصروف رہنے کی وجہ سے وہ فیس بک آن نہیں کرسکی تھی مگر رات میں دل کے ہاتھوں مجبور جیسے ہی اس نے فیس بک آن کی‘ اس کا پیغام سامنے آگیا۔
وہ شخص اس سے ناراض نہیں رہ سکا تھا‘ تحریم سارے دن کی تھکن بھول گئی مسکراتے ہوئے اس نے لکھا تھا۔
’’میری تو آپ سے کوئی ناراضگی نہیں‘ آپ کو جو اچھا لگا آپ نے وہ کیا‘ آپ میرے پابند نہیں ہیں۔‘‘
’’میں پابند ہونا چاہتا ہوں‘ تمہارے سارے جملہ حقوق اپنے نام کروانا چاہتا ہوں‘ تمہارے ہمیشہ کے قرب کا طلب گار ہوں‘ میرا ہاتھ تھام لو پلیز۔‘‘ وہ عاجزی پر اتر آیا تھا‘ تحریم کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
’’کیا آپ ہر لڑکی سے یونہی محض چند دنوں میں کلوز ہوجاتے ہیں؟‘‘ وہ اسے اپنی کمزوری نہیں دکھانا چاہتی تھی‘ تبھی ایسا سوال پوچھا جس کا جواب اسے فوری موصول ہوا تھا۔
’’یہ اگلے بندے پر منحصر ہے‘ میں بہت کائنڈ ہوں‘ یہاں دبئی میں بہت دوست ہیں میرے گرلز بھی اور بوائز بھی‘ مگر میں ایک بیلنس زندگی گزارہا ہوں الحمدللہ۔‘‘
’’ہوں‘ مجھے کردار کے مضبوط مرد بہت پسند ہیں۔‘‘
’’آپ جب یہاں دبئی آئیں گی تو آپ کو میرے میل اور فی میل فرینڈز بتادیں گے کہ میرا ان کے ساتھ کیسا رویہ ہے۔‘‘
’’گڈ‘ میں نے بہت ہمت اورصبر کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ میں چاہتی ہوں میں جس سے شادی کروں وہ کوئی عام شخص نہ ہو‘ مجھے صرف شوہر نہیں چاہیے بلکہ شوہر کے روپ میں ایک ایسا دوست چاہیے جو میرا سب کچھ ہو اور مجھے اپنا سب کچھ سمجھے۔‘‘
’’اوہ تحریم! تم میری جان ہو ‘ آپ مجھے اتنا پیار دینا کہ میں دنیا کا ہر دکھ بھول جائوں۔ تم نہیں جانتیں صبر کرنا کتنا مشکل ہے‘ ہجر کے یہ لمحے عجیب سی آگ بن کر سینہ جلارہے ہیں۔ دل کرتا ہے یہ دوری مٹ جائے۔‘‘ دل پسلیاں توڑ کر کیسے باہر آتا ہے یہ اسے اس لمحے پتاچلا تھا‘ صرف ایک لمحے میں اس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھیں‘ وہ شخص ضرورت سے زیادہ رومینٹک ثابت ہورہا تھا۔
’’بس بس پلیز… لگتا ہے آپ پر دبئی کے بے باک ماحول کا کچھ زیادہ ہی اثر ہورہا ہے؟‘‘ کپکپاتی انگلیوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے لکھا تھا‘ جواب بھی فوراً ہی آگیا۔
’’نہیں یار‘ یہاں پاکستان سے زیادہ اچھے مسلمان رہتے ہیں‘ جس نے گناہ کرنا ہے وہ دبئی کا محتاج نہیں۔ پاکستان میں دبئی سے شراب پی جاتی ہے‘ زناء ہوتا ہے‘ قتل ہوتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ آپ اپنے گھر والوں کو کب بھیج رہے ہیں ہمارے گھر؟‘‘ وہ فوراً مطلب کی بات پر آگئی تھی۔
’’پہلے آپ مجھے جان لیں‘ سمجھ لیں پھر ڈائریکٹ فیملی کو انوالو کرلیں گے بلکہ آپ لوگ ہمارے گھر آجانا یا ہم آجائیں گے آپ کے ہاں لیکن اس سے پہلے پلیز آپ مجھے اپنی دو تین تصاویر ارسال کریں‘ آخر میں نے فیملی کو بھی دکھانی ہیں کہ نہیں اب یہاں بیٹھ کر کیاں کہوں ان کو کہ لڑکی پسند کی ہے مگر ایسی لڑکی جسے میں نے ابھی تک خود دیکھا نہیں ہے۔‘‘ گھوم پھر کر بات پھر تصویر پر آگئی تھی‘ تحریم نے اس بار حماقت کیے بغیر تصویر ارسال کردی۔
’’اوہ میری جان! آپ تو بالکل پٹھانی لگتی ہو‘ کاش میں اس وقت آپ کے پاس ہوتا‘ کاش…‘‘ فوراً سے اس کا تعریفی پیغام موصول ہوگیا تھا‘ تحریم کا سیروں خون بڑھ گیا۔ اس رات پھر وہ عشاء کی نماز نہیں پڑھ سکی تھی‘ پڑھتی بھی کیسے عبد الہادی کے پیغامات نے اسے نماز پڑھنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا مگر وہ اتنی مسرور تھی کہ اسے اب نماز چھوٹنے پر زیادہ افسوس نہیں ہوتا تھا۔ آخر کو اس کی دعائیں مستجاب ہوگئی تھیں‘ اس کے خواب تعبیر پانے جارہے تھے۔
ء…/…ء
موسم بدل رہا تھا۔ دو ماہ کیسے اورکب گزر گئے پتا ہی نہیں چلا‘ خواہشات کے سمندر میں قدم اکھڑنے کے بعد تحریم ہر نئی موج کے ساتھ بہتی چلی گئی تھی۔عبد الہادی صرف رومانوی نہیں تھا‘ اس بات کا پتا اسے اس وقت لگا جب اس نے اس کے ساتھ اپنا سیل نمبر شیئر کیا۔ دبئی سے پاکستان کال اس کے لیے جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھی‘ اس کا لہجہ بے حد گمبھیر اور مضبوط ہوتا تھا۔ اتنا گمبھیر اور مضبوط کہ تحریم سمجھ دار ہونے کے باوجود خود کو جذبات کے بہائو میں بہنے سے نہ روک پاتی۔
فجر اور عشاء کی نماز پڑھنا تو ممکن ہی نہیں رہا تھا‘ مگر اس میں بھی سرور تھا۔ وہ ایسی کوئی حماقت نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اس کے خوابوں کا شہزادہ اس سے ناراض ہوکر اسے چھوڑ دیتا پھر اسے خود بھی رومانیت پسند تھی۔ وہ خود بھی یہی چاہتی تھی کہ جب عبد الہادی اس سے بات کرے تو پھر ساری حدیں پار لگ جائیں۔
اماں کو ندیم پسند تھا‘ مگر تحریم کی خوشی اور ضد سے مجبور ہوکر انہوں نے نفیسہ خالہ کو دبے دبے لفظوں میں انکار کردیا۔ عبدالہادی نے اگرچہ اب تک اسے نہ اپنے علاقے کا بتایا تھا‘ ناں فیملی کے دیگر افراد کا تاہم اس نے پاکستان آنے کی تاریخ کلیئر کردی تھی۔
تحریم نے اس سے کہا تھا کہ وہ نکاح پاکستان میں ہی کرے گی تاہم نکاح کے بعد عبد الہادی کی زوجیت میں وہ صرف مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ جانا چاہے گی۔ عبد الہادی نے کوئی اعتراض نہیں کیا‘ وہ تحریم کے ڈر اور شک سے بخوبی واقف تھا۔
اوائل سردیوں کے دن تھے جب وہ پاکستان آیا تھا‘ تحریم کو جیسے ہی اس کے آنے کی خبر ملی وہ جھوم اٹھی‘ پاکستان ائیر پورٹ پر پہنچنے کے بعد اس نے سب سے پہلے کال اسے ہی ملائی تھی۔
’’کیسی ہو میری جان!‘‘
’’میں ٹھیک ہوں‘ آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’کیسا ہوسکتا ہوں جب تک اپنی جان کو قریب سے نہ دیکھ لوں‘ محسوس ناں کرلوں خود ہی بتائو بھلا کیسا ہوسکتا ہوں؟‘‘ اس کی بے قراری اور آنچ دیتے لہجے کے خمار میں پاکستان پہنچ کر بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ تحریم کا جسم پھر موم کی طرح پگھلنے لگا۔
’’خدا کا نام لیں‘ اب تو پاکستان آگئے ہیں‘ اب تو ہوش کرلیں ذرا۔‘‘
’’نہیں‘ میری محبت کی شدت میں کبھی کمی نہیں پائو گی تم۔‘‘
’’ہادی پلیز۔‘‘
’’کیا پلیز یار! ہونے والا شوہر ہوں تمہارا‘ تم سے یہ ساری باتیں نہیں کروں گا تو اور کس سے کروں گا۔ میرا اور ہے ہی کون دنیا میں تمہارے سوا؟‘‘ ایک پل میں ہی وہ جذباتی ہوگیا تھا‘ تحریم کا دل جکڑنے لگا۔
’’ایسا مت کہو پلیز‘ تمہارے ابو ہیں‘ بھائی ہیں‘ بھابی‘ بہنیں ہیں۔ میری امی بھی تو تمہاری امی ہیں پھر خود کو اکیلا کیوں سمجھتے ہو تم؟‘‘
’’میرا کوئی نہیں ہے تحریم! ماں کے ساتھ سارے رشتے مرگئے میرے لیے۔ میں اکیلا تمہارے گھر آئوں گا تمہارا ہاتھ مانگنے۔ پھر شادی کی تاریخ لینے ابو آئیں گے بس میرا اور کوئی نہیں ہے‘ میں نے اور کسی کو اس معاملے میں شامل نہیں کرنا۔‘‘ وہ جذباتی ہوا تھا‘ تحریم پریشان ہوگئی۔
’’ایم سوری ہادی!میں نے آپ کو ہرٹ کردیا‘ مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں مجھے بس آپ کے ساتھ زندگی گزارنی ہے‘ پلیز آپ دکھی مت ہوں۔‘‘
’’میں دکھی نہیں ہوں میری جان! اب کیوں دکھی ہوں گا‘ اب تو اللہ نے مجھے میری منزل عطا کردی ہے۔ زندگی کا مقصد دے دیا ہے‘ اب دکھی نہیں ہونا میں نے‘ بس تم اپنا خیال رکھنا میں آرہا ہوں صبح تمہارے گھر۔‘‘ فوراً ہی سنبھل کر اس نے کہا تھا اور لائن ڈس کنکٹ کردی تھی۔
اگلا دن تحریم اور اس کے گھر والوں کے لیے عید کا دن تھا۔ عبد الہادی تصویروں میں جتنا خوب صورت دکھائی دیتا تھا حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ خوب صورت تھا‘ بے حد صاف ستھرا اور نفیس‘ اس کی پرسنالٹی غضب کی پرسنالٹی تھی۔ اس وقت سفید شلوار سوٹ میں ملبوس وہ اس کے گھر کے کچے صحن میں بیٹھا تھا اور تحریم کے ہاتھ پائوں پھول رہے تھے۔
وہ بلیک قیمتی جوتوں میں قید اس کے شفاف دودھیا پائوں کو دیکھ رہی تھی‘ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کے کپڑوں کا رنگ زیادہ سفید ہے یا اس کے جسم کا۔ عجیب سی سرشاری اور بے یقینی تھی‘ کیا واقعی وہ اتنی خوش نصیب تھی کہ اسے اس جیسا ہمسفر ملتا؟
بھابی اور لائبہ کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں تھا‘ وہ تحریم کی طرف خاصی رشک بھری ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں اور جیسے جیسے ان کی نظریں اس کی طرف اٹھتی تھیں تحریم کی گردن مزید اونچی ہوجاتی ‘ اتنی سی کہانی ہی تو ہوتی ہے لڑکیوں کی۔
اسکول کالج میں سکھیوں نے اپنی اپنی الفت کے چٹخارے دار قصے سنائے تو فٹ سے دل میں خواہش بیدار ہوگئی کہ کوئی ہمیں بھی ٹوٹ کر چاہے۔عمر تھوڑی سی زیادہ ہونے پر کسی نے شادی کا سوال پوچھا تو خوامخواہ شرمندگی اور خود پر ترس آنے لگے۔ زندگی کے کسی موڑ پر کوئی اچھا شخص مل جائے تو سب کے سامنے اترانا گویا فرض ہوجائے جیسے کے ٹو کا پہاڑ سر کرلیا ہو۔
تحریم کی فیلنگز بھی اس وقت کچھ ایسی ہی تھیں‘ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ ہوائوں میں اڑے اور خوب اونچے اونچے قہقہے لگائے۔
عبد الہادی اس کی ماں سے شادی کی بات کررہا تھا‘ اس نے ثابت کردیا تھا کہ وہ فراڈ نہیں ہے۔ اس کی ذات کے لیے تحریم کے دل میں جنم لینے والے سارے خدشات بے بنیاد ہیں وہ نہ صرف تحریم کے لیے بے حد قیمتی تحائف لایا تھا بلکہ اس کی ماں‘ بھابی‘ بچوں‘ بھائی اور لائبہ کے لیے بھی کئی بیش قیمت تحائف لایا تھا تبھی کسی کے پائوں زمین پر نہیں لگ رہے تھے مگر اس کی ماں زیادہ خوش نہیں تھی۔
اس نے اپنی بیٹی کی خوشی کے لیے گھر آئے شخص کو عزت تو دی تھی مگر وہ اپنائیت نہ دے سکی تھی جو انہوں نے ندیم کو دی تھی۔ وہ ندیم جو اُن کا دیکھا بھالا‘ اسی شہر میں رہنے والا عام سا مگر شریف لڑکا تھا جس کی حیثیت ان کی جیسی ہی تھی۔
عبد الہادی ان کا دیکھا بھالا نہیں تھا‘ وہ اس کے سامنے خود کو بہت معمولی تصور کررہی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ رات میں جب وہ کئی گھنٹے وہاں گزار کر واپس گیا تو انہوں نے تحریم کو اپنے سامنے بٹھالیا۔
’’کیا بات ہے امی! کیا آپ کو ہادی اچھا نہیں لگا؟‘‘ تحریم پریشان تھی‘ انہوں نے نفی میں سر ہلادیا۔
’’نہیں‘ اس میں اچھا نہ لگنے والی کوئی بات نہیں وہ بہت خوب صورت اور نفیس شخص ہے مگر جانے کیوں میرا دل نہیں مان رہا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ یوں تمہاری شادی ایک قطعی انجان شخص کے ساتھ کرکے تمہیں خود سے اتنی دور بھیجوں گی۔‘‘
’’امی وہ انجان نہیں ہے میں نے ہر لحاظ سے جانچا پرکھا ہے اسے۔اس میں آج کل کے عام لڑکوں جیسی کوئی بات نہیں‘ آپ دیکھیں کیا ہادی جیسے پرفیکٹ مرد کو لڑکیوں کی کمی ہوسکتی ہے؟ نہیں ناں‘ اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے تو کوئی بھی لڑکی اپنی جان دینے کو تیار ہوسکتی ہے جس ملک میں وہ رہتا ہے وہاں لڑکیاں شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹتی پھرتی ہیں‘ گلے کا ہار بنتی ہیں مگر اسے ایسی لڑکیاں پسند نہیں ہیں اسی لیے تو وہ پاکستان آیا ہے۔‘‘
’’وہ سب تو ٹھیک ہے مگر وہ اس رشتے میں اپنے گھر والوں کو ملوث کیوں نہیں کررہا؟ ہم ایسے بناء تسلی کیے آنکھیں بند کرکے تو بیٹی نہیں دے سکتے ناں؟‘‘ وہ ماں تھیں اور ان کے اپنے خدشات تھے۔
’’اُف امی! آپ یہ سوچیں ہمارے پاس ہے کیا جو کوئی ہمارے ساتھ فراڈ کرے گا اس نے مانگا کیا ہے ہم سے؟ جہیز تک کے لیے صاف انکار کردیا۔ جتنی دیر ہمارے گھر بیٹھا رہا‘ ایک بار بھی نظر اٹھا کر بھابی یا لائبہ کی طرف نہیں دیکھا۔ آپ پلیز اپنے دل کو فضول وہموں میں مت ڈالیں اگر تقدیر نے ہمارے دن بدلنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو آپ بھی تھوڑا سا دل بڑا کریں۔ زندگی میں ایسے لوگ بار بار نہیں ملتے نہ ہی تقدیر یوں ہر کسی پر مہربان ہوتی ہے جہاں تک اس کے گھر والوں کی بات ہے تو ہر فیملی میں مختلف ایشوز ہوتے ہیں امی! ہمیں کیا پتا اس کی فیملی نے اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے جو وہ اتنا ڈسٹرب ہوجاتا ہے ان کو لے کر۔‘‘
’’جو بھی ہو آخر وہ اس کے خون کے رشتے ہیں‘ ایسے موقعوں پر جتنے بھی لڑائی جھگڑے ہوں انسان اپنے خون کے رشتوں سے نہیں کٹ سکتا اور پھر ہمیں کیا پتا وہ سچ بھی بول رہا ہے یا نہیں‘ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہو اور تمہیں دھوکہ دے رہا ہو۔‘‘
’’امی پلیز میں ہادی کے لیے اب ایسی کوئی فضول بات برداشت نہیں کرسکتی جتنا میں نے اسے جانا ہے وہ ایک بہترین عظیم انسان ہے۔ میں کوئی آسمان سے اتری حور پری نہیں ہوں جو وہ ساری دنیا کی لڑکیوں کو چھوڑ کر صرف مجھے ہی بے وقوف بنائے گا۔‘‘
’’اس کے لیے حور پری نہیں ہوگی میرے لیے ہو۔ میں اپنی بچی کو ایک قطعی انجان شخص پر بھروسہ کرکے اپنی آنکھوں سے اتنی دور نہیں بھیج سکتی‘ تم لوگوں کے سوا مجھ دکھیاری ماں کے پاس اور ہے کیا؟ اللہ جانے وہاں لے جاکے کیا سلوک کرے وہ تمہارے ساتھ میں ادھر بیٹھی کیا کرسکوں گی؟ آئے روز ہزار واقعات ہوتے ہیں ویسے بھی میرا دل مطمئن نہیں ہے۔‘‘
’’امی پلیز کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟ میری زندگی ہے جب میں خوش ہوں تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔‘‘
’’تم نادان ہو‘ کم عمر ہو‘ تم نے ابھی دنیا نہیں دیکھی میں نے دیکھی ہے۔‘‘
’’مجھے دنیا نہیں دیکھنی‘ مجھے بس اسی شخص سے شادی کرنی ہے ہر صورت ہر حال میں اگر یہ آپ کو منظور نہیں تو میں قسم کھاکر کہتی ہوں امی! میں ساری زندگی کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کروں گی۔‘‘روکر غصے سے کہتی وہ فوراً وہاں سے اٹھ گئی تھی‘ پیچھے اس کی ماں بے بس‘ بے چین نگاہوں سے اس کی پشت تکتی رہ گئی تھیں۔
ء…/…ء
تحریم کے بھائی نے اپنی ماں کی التجاء پر ایک دوست کے ترلے کرکے اس سے عبد الہادی کا اتا پتا معلوم کروایا تھا وہ جس گھر میں رہتا تھا اس کی شان و شوکت باہر سے ہی دیکھنے والے کو مرعوب کردیتی تھی۔ آس پاس کے لوگوں کے مطابق وہ بہت کم پاکستان آتا تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا‘ گھر میں اس کے علاوہ اس کے والد اور ملازمین رہتے تھے جن کی رائے میں وہ ایک بہت اچھا انسان تھا۔
صبح ناشتے کے بعد وہ گاڑی لے کر نکلتا اور پھر رات گئے گھر واپسی ہوتی۔ کسی نے کبھی اس کے گھر میں کوئی لڑکی یا عورت آتے جاتے نہیں دیکھی تھی۔ ہر طرح کی تحقیق و تصدیق کے بعد اس نے اپنی ماں کو رپورٹ پیش کردی‘ جس کے بعد تحریم کی آنکھوں کے جگنوئوں میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
بھلا جذبوں اور خوابوں کی رومانوی باتیں کرنے والا وہ شخص فریب ہو بھی کیسے سکتا تھا؟ تبھی اس نے اپنی ماں کو خاصی ملامتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ اس کی نظر میں آج کل کی مائیں تو خود اپنی لڑکیوں کی ایسے خوب صورت امیر لڑکوں کے ساتھ‘ میل ملاقات کرواتی تھیں تاکہ ان کی بیٹیاں راج کریں لیکن ایک اس کی ماں تھی کہ پکی پکائی فصل کاٹنے پر بھی انہیں خدشات لاحق تھے۔
شادی کی ساری شاپنگ ہادی کے پیسوں سے ہوئی تھی اس نے تحریم سے کہا تھا کہ پہلے وہ صرف نکاح کرے گا بعد میں جب تحریم کے دبئی کے لیے کاغذات بن گئے ‘ اس کا ویزہ کنفرم ہوگیا تب وہ رخصتی کروائے گا کیونکہ تحریم کے بغیر اب اس کا گزارہ مشکل تھا‘ تحریم نے ہامی بھرلی‘ اسے اس کے کسی فیصلے سے اختلاف نہیں تھا۔
ہادی کے بقول اسے ایک خوب صورت پاکستانی‘ سمجھ دار‘ باوفا‘ باشعور لڑکی کی تلاش تھی‘ جو اپنی محبت سے اس کی ذات کے سارے خلاء پُر کردے۔ زندگی میں کبھی اسے تنہا چھوڑ کر نہ جائے اور تحریم ایسی لڑکی کے معیار پر پوری اتری تھی وہ خود پر رشک کیوں نہ کرتی؟ اوائل سردیوں کے دن تھے جب اس کا نکاح عبد الہادی کے ساتھ ہوگیا تھا۔
ہادی کی فیملی سے اس کے بزرگ والد اور چھوٹا بھائی آیا تھا کوئی خاتون نہیں آئی تھی مگر تحریم کو پروا نہیں تھی۔ برائون سوٹ میں ملبوس عبد الہادی اتنا خوب صورت لگ رہا تھاکہ وہ جتنا اپنے نصیب پر رشک کرتی کم تھا‘ نکاح کے بعد اس کے سارے خدشات دم توڑ گئے تھے۔
جو فراڈ کرتے ہیں وہ اپنا نام کبھی نہیں دیتے مگر عبد الہادی نے اسے اپنا نام دے دیا تھا۔وہ جتنا بھی ربّ کا شکر ادا کرتی ‘ جشن مناتی کم تھا۔ نکاح کے بعد عبد الہادی کی وارفتگیاں مزید بڑھی تھیں۔ وہ اتنی بے باک گفتگو کرتا کہ تحریم پاس کھڑی کھڑی پانی پانی ہوجاتی‘ اب اسے سحرش کی جیلسی نہیں تھی کیونکہ اسے سحرش سے بڑھ کر ملا تھا۔
ایک فریبی نیٹ ورک نے اسے ایک پرفیکٹ شخص سے ملادیاتھا۔ وہ ہوائوں میں نہ اڑتی تو کیا کرتی؟
نکاح کے چوتھے روز اس نے اسکول سے ریزائن کردیا‘ تاہم وہ پانچ کلو مٹھائی کے ساتھ ‘ بالکل سحرش کی طرح اپنی کولیگز سے اپنی خوشیاں شیئر کرنا نہیں بھولی تھی۔ سحرش کی طرح سب اسے بھی ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ان نظروں میں کیسی کیسی حسرتیں اور رشک تھا‘ یہ صرف تحریم محسوس کرسکتی تھی تبھی اس کے قہقہے رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہادی کی دن رات کی کوششوں سے تحریم کا ویزہ جلدی لگ گیا تھا لہٰذا شادی کی تاریخ بھی ساتھ ہی طے ہوگئی تاہم شادی سے پہلے ہادی نے اس کے بھائی کو جاب چھڑواکر ایک درمیانے درجے کی کپڑے کی دکان کروادی تھی جس سے تحریم کے قد میں تو اضافہ ہوا ہی‘ ساتھ اس کی بھابی اور بھائی بھی ہادی کے گن گانے لگے۔
دسمبر کی چار تاریخ کو تحریم کی رخصتی ہوگئی۔ اس کی ماں اس کے گاڑی میں بیٹھنے تک دہلیز پر کھڑی چپ چاپ روتی رہی تھی۔ اپنے دل کی تمام تر بے چینی اور جدائی کے درد کے ساتھ تاہم تحریم نے وہ درد محسوس نہیں کیا تھا اس کے لیے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں والا معاملہ تھا۔ ماں کے گھر سے رخصت ہوکر وہ سیدھی ائیر پورٹ آئی تھی جہاں عبد الہادی کا باپ بھی ان کے ساتھ ہی دبئی جارہا تھا۔
ہادی کی طرح تحریم کو وہ بھی بہت نائس انسان لگے تھے‘ بے حد سلجھے ہوئے مشفق باپ‘ اسے بے ساختہ اپنا باپ یاد آیا اور ساتھ ہی آنکھیں آنسوئوں سے بھر آئیں‘ جہاز میں عبد الہادی کے برابر آرام دہ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اس نے اپناسر ہادی کے کندھے پر ٹکادیا تھا جس پر اس نے فوراً اس کی طرف جھکتے ہوئے بناء کسی کی پروا کیے اس کی پیشانی چوم لی۔
عشاء کی نماز سے کچھ دیر پہلے ہی اس کے قدموں نے دبئی کی سرزمین کو چھوا تھا اور اندر کہیں انوکھے ساز سے چھڑگئے تھے۔ زندگی یکلخت ہی خواب ہوگئی تھی‘ اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ ایک ایک منظر اور چیز کو وہ بے حد مشتاق نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور ہادی اس کی اس وارفتگی پر زیر لب مسکراتے ہوئے اسے شرارتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
پانچ گھنٹوں کے مسلسل سفر کے بعد اسے اس کمرے میں آنا نصیب ہوا تھا جو اس کا حجلہ عروسی تھا۔ بے حد صاف ستھرا نفیس سا کمرا جو خواب ناک لگ رہا تھا‘ تاہم اسے پھولوں سے سجانے کی زحمت نہیں کی گئی تھی شاید دبئی میں پاکستان والے رواج نہیں تھے‘ وہ سہج سہج چلتی بیڈ پر آبیٹھی ہادی اس کے ساتھ ہی آیا تھا۔
’’خوش ہو ناں؟‘‘ جگمگاتی نگاہوں سے اس کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔ تحریم نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلادیا۔
’’گڈ‘ اب خود کو تیار کرلو‘ میں تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں۔ میرے آتے ہی تمہاری کلاس شروع ہوجائے گی‘ آج کے بعد صبح چار بجے سے پہلے سونا‘ بھول جائو گی تم۔‘‘ اسے بازوئوں سے پکڑ کر خود میں جذب کرتے ہوئے اس نے گویا اطلاع دی تھی۔ تحریم کے پورے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔ اس شخص کی قربت اور جذبوں میں بہت شدت تھی‘ تحریم کے لبوں کو جیسے قفل لگ گیا۔
’’میرا ساتھ دو گی ناں؟‘‘ وہ بے خود ہورہا تھا‘ تحریم کی جان نکلنے لگی۔
’’ہوں۔‘‘ جانے کیسے اس نے کہا تھا۔
’’تھینک یو۔‘‘ اس کے اقرار پر پوری شدت سے اس کی پیشانی چومتے ہوئے وہ پیچھے ہٹا تھا اور پھر فوراً پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا‘ تحریم اگلے پچیس تیس منٹ تک اپنی سانسیں ہموار کرتی رہی‘ اس کا جسم جیسے ایک ان دیکھی سی آگ میں جلنے لگا۔
پورے دو گھنٹے کے بعد رات کے کھانے کے ساتھ اس کی واپسی ہوئی تھی۔ تحریم نے بھوک نہ ہونے کے باوجود اس کا ساتھ دینے کے لیے تھوڑا سا کھانا کھالیا۔ کھانے کے بعد بیوٹیشن آگئی تو وہ تیار ہونے چل دی۔ دبئی کے وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے وہ تیار ہوئی تھی اور ٹھیک بارہ بجے ہادی اپنے دوستوں کو نپٹا کر کمرے میں اس کے پاس آیا تھا۔ تحریم کا دل اس کے قریب بیٹھتے ہی پھر بے قابو ہونے لگا تھا۔ تاہم ہادی کا حال اس سے زیادہ بُرا تھا‘ وہ تو اسے دلہن کے روپ میں اپنے سامنے دیکھ کر گویا پلکیں جھپکانا ہی بھول گیا تھا تبھی اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر شدت سے دباتے ہوئے اس نے خوابناک لہجے میں اس سے پوچھا تھا۔
’’تحریم‘ تم واقعی اتنی ہی خوب صورت ہو یا مجھے لگ رہی ہو۔ کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا؟‘‘ اس کا لہجہ ایسا تھا کہ تحریم کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھیں۔
’’بولو ناں یار‘ چپ کیوں ہو؟ آج میرے صبر کے پیمانے چھلکنے والے ہیں‘ ضبط کے سارے بند ٹوٹنے والے ہیں‘ آج چپ مت رہو پلیز۔‘‘ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے اس نے جیسے التجاء کی تھی۔ تحریم نے آہستہ سے آنکھیں بند کرلیں‘ اس کا جسم انگارہ بنا کانپ رہا تھا۔ دوسری طرف ہادی کی شدتیں عروج پر تھیں۔ وہ تھک رہی تھی مگر… اسے تھکن کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ پیار کا اگر ایک یہ بھی روپ تھا تو قطعی لائق ستائش نہیں تھا۔
دوپہر ایک بجے کے قریب ہادی جاگا تھا۔ اسے سوتے دیکھ کر بناء ڈسٹرب کیے وہ چپ چاپ فریش ہوکر کمرے سے باہر نکل گیا۔ تحریم شام چار بجے کے قریب جاگی تھی‘چار گھنٹوں کی نیند کے باوجود اس کا جسم بے حد تھکن کا شکار تھا جب کہ آنکھوں سے جیسے آگ نکل رہی تھی‘ ہادی کمرے میں آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’اٹھ گئی میری شہزادی؟‘‘
’’جی۔‘‘ وہ اس سے نظریں ملانے کی بجائے سر جھکاگئی۔
’’طبیعت ٹھیک ہے ناں؟‘‘
’’جی۔‘‘
’’گڈ‘ تم سوچ نہیں سکتیں میں کتنا خوش اور پُرسکون ہوں‘ یوں لگتا ہے جیسے ذات کا سارا بوجھ اتر گیا ہو‘ تھینک یو تحریم! تم واقعی میری جان ہو۔‘‘ اچانک ہی وارفتگی سے کہتے ہوئے اس نے پھر اسے بھینچ لیا تھا‘ تحریم پھڑپھڑا کر رہ گئی۔
’’چلو اٹھ کر باتھ لے لو‘ پھر کھانا کھاتے ہیں۔
’’ٹھیک ہے مگر پہلے میںگھر کال کرکے اپنی امی سے بات کرنا چاہوں گی‘ وہ انتظار کررہی ہوں گی۔‘‘ بمشکل وہ سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھ پائی تھی‘ ہادی نے فوراً جیب سے سیل نکال کر اس کے ہاتھ میں تھمادیا۔
’’شیور‘ جتنا دل کرے اتنی بات کرو۔ میں ابھی جارہا ہوں تم فریش ہوجائو تو پھر مل کر کہیں اچھی سی جگہ پر جاکر کھانا کھاتے ہیں‘ ٹھیک ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ مسکرائی تھی‘ ہادی اس کی ناک دبا کر اٹھ گیا۔ اس کے کمرے سے جانے کے بعد تحریم نے اپنے گھر کال ملائی تھی۔ لائبہ نے اسی کے زیر استعمال رہنے والے سیل پر دبئی کا نمبر دیکھ کر فوراً کال ریسیو کرلی۔
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام! تحریم بول رہی ہوں‘ کیسی ہو تم اور امی کیسی ہیں؟ مجھے یاد کرکے رو تو نہیں رہیں؟‘‘ لائبہ تحریم کی کھنکتی آواز سن کر خوش ہوگئی۔
’’امی ٹھیک ہیں مگر رات سے بخار ہوگیا ہے جب سے تم گئی ہو مسلسل رو رہی ہیں۔‘‘
’’اُف… میری بات کروائو امی سے‘ فوری۔‘‘ وہ بے چین ہوئی تھی‘ لائبہ سیل ماں کے پاس لے گئی۔
’’امی‘ بجو کا فون ہے دبئی سے۔‘‘ اس نے کہا تھا اور انہوں نے فوراً سیل فون اس سے جھپٹ لیا تھا۔
’’تحریم…‘‘ بے تابی سے اس کا نام پکارتے ہی وہ رو پڑی تھیں‘ تحریم کی اپنی آنکھیں بھر آئیں۔
’’جی امی! آپ رو رہی ہیں؟‘‘ اس کی خوشی لمحوں میں ماند پڑی تھی۔
’’تم کیسی ہو‘ ٹھیک ہو ناں؟‘‘
’’امی میں ٹھیک ہوں بے حد‘ بے پناہ خوش ہوں۔ میرا یقین کریں امی! بندہ ساری عمر سجدے میں پڑا رہے اور خدا سے ہادی جیسا ہمسفر مانگتا رہے تب بھی شاید اسے ایسا ہمسفر نہ ملے جیسا میرے خدا نے مجھے بن مانگے دیا ہے۔ آپ دیکھنا امی! اب کیسے ہمارے حالات یوں چٹکیوں میں بدل جائیں گے۔‘‘ وہ اتنی خوش اور مطمئن لگ رہی تھی کہ اس کی ماں کو اپنے آنسو خشک کرنے پڑے۔
’’اللہ تمہیں ایسے ہی خوش رکھے میری بچی! میرا دل بہت بے چین تھا آج تک کبھی اتنا دور کیا جو نہیں خود سے۔‘‘
’’دل کو سمجھالیں امی کیونکہ اب ہمارے رونے دھونے کے دن گئے ابھی ہادی کھانا لینے گئے ہیں تھوڑی دیر بعد مجھے پورا دبئی اور شارجہ گھمائیں گے۔ اس کے بعد شاپنگ کریں گے اور دوستوں سے ملوائیں گے میں سچ میں بہت بہت خوش ہوں امی پلیز آپ میری فکر مت کریں۔‘‘
’’مائیں اولاد کی فکر کرنا نہیں چھوڑ سکتیں تحریم! خواہ اولاد کتنی ہی سکھی کیوں نہ ہو۔‘‘
’’اوہ امی! پلیز اب خوش ہوجائیں ناں‘ میں ہادی سے کہوں گی مجھے کوئی اچھی سی جاب دلوائیں پھر وہ پیسے میں پاکستان بھیجوں گی آپ کو‘ اس کے بعد میں ہادی اور آپ عمرہ کرنے جائیں گے‘ ٹھیک ہے۔‘‘ وہ ماں کو بچوں کی طرح بہلارہی تھی‘ سمندر پار سے اتنا ہی ہوسکتا تھا۔
’’چلیں اب میں فون رکھتی ہوں‘ ابھی باتھ لینا ہے تیار ہونا ہے۔ آپ اب روئیں یا اداس ہوئیں ناں تو سچ میں میں نے ناراض ہوجانا ہے اور بات بھی نہیں کرنی۔‘‘
’’ٹھیک ہے نہیں ہوتی اداس مگر یہ دل ہے کہ اس میں عجیب سی آگ بھڑک اٹھی ہے‘ کسی کروٹ قرار نہیں۔‘‘
’’دل کو مضبوط کریں امی! میں اب رات میں بات کروں گی‘ اللہ حافظ۔‘‘
اسے عجلت تھی لہٰذا جلدی سے لائن ڈراپ کرکے وہ واش روم میں گھس گئی۔ شام میں ہادی نے اسے وعدے کے عین مطابق دبئی اور شارجہ کی بہت سی اہم جگہوں پر گھمایا‘ سٹی آف گولڈ سے خوب صورت سیٹ بھی لے کر دیا اور تمام دوستوں سے متعارف بھی کروایا۔ رات گئے واپسی پر دونوں ہی تھکن سے چُور تھے لہٰذا سوگئے۔
اگلی صبح پھر ایسی ہی مصروفیات رہیں‘ رات میں البتہ کھانا کھانے کے بعد جب وہ ہادی کے پہلو میں آکر لیٹی تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے بازو پر سلالیا۔
’’آج کیا موڈ ہے؟‘‘
’’کس بات کا؟‘‘ وہ اس کی نظریں پہچاننے کے باوجود انجان بن گئی تھی۔
’’بتائوں کس بات کا؟‘‘ وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا‘ تحریم کی پلکیں لرزنے لگیں۔
’’بتانا ضروری ہے۔‘‘
’’ہوں‘ جو جان کر انجان بنے اسے بتانا ضروری ہے۔‘‘ وہ شرارت پر آمادہ تھا‘ تحریم نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑلیے۔
’’میں دعویٰ سے کہہ سکتی ہوں کہ پوری دنیا میں آپ سے بڑھ کر پیار کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے کہا تھا اور وہ کھل کر ہنس پڑا تھا۔
’’ابھی یہ دعویٰ مت کرو کیونکہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’ہر بات کا مطلب بتانا ضروری ہے؟‘‘
’’ہوں‘ جب بات عقل کے خانے میں فٹ نہ آتی ہو تو مطلب بتانا ضروری ہے۔‘‘
’’ہوں‘ تو یہ بات ہے چلو بتاتے ہیں پھر مطلب۔‘‘ کہنی کے بل اٹھتے ہوئے اس نے کہا تھا اور پھر بناء کوئی شرارت کیے ایک بڑی سی البم اٹھالایا تھا۔ تحریم اٹھ کر بیٹھ گئی‘ ہادی اس کے پہلو میں تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے البم کھولنے لگا۔ تحریم نے دیکھا وہ سب لڑکیوں کی تصاویر تھیں‘ مختلف ممالک کی لڑکیوں کی‘ مختلف رنگ اور نسل کی لڑکیوں کی‘ کچھ خواتین کی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکی تھی‘ ہادی نے اسے بازو کے حلقے میں لے لیا۔
’’بتاتا ہوں میری جان! بتانے کے لیے ہی یہ البم اٹھا کر لایا ہوں۔‘‘ اس کے بھرے بھرے لبوں پر مسکراہٹ تھی‘ تحریم نے اپنی نظریں پھر البم پر چپکادیں۔
’’یہ سمیہ ہے‘ پاکستان میں سیالکوٹ شہر کے قریب ایک گائوں میں رہتی ہے‘ تین بچے ہیں اس کے‘ میری زندگی میں ماں کے بعد جو پہلی لڑکی آئی وہ یہی تھی۔‘‘ البم کے آغاز میں ایک سادا سی بھرے بھرے سے جسم والی لڑکی کی تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے اس نے بتایا تھا اور تحریم کے اندر کہیں چھن سے کچھ ٹوٹ گیا‘ غیر محسوس انداز میں اس نے اپنے کندھوں کے گرد سے ہادی کا بازو ہٹانا چاہا تھا مگر ناکام رہی تھی‘ وہ بتارہا تھا۔
’’بہت چاہا تھا میں نے اسے‘ بھری گرمیوں کی دوپہروں میں بناء سورج کی تپش کی پروا کیے میں کئی کئی گھنٹے اس کے اسکول کے باہر کھڑا اسے صرف ایک نظر دیکھنے کے لیے جلتا رہتا تھا۔ بہت ماریں بھی کھائیں اس کے لیے دو بار جیل بھی گیا‘ سارے زمانے کی رسوائی مول لی‘ اپنا جسم سگریٹ سے جلا جلا کر راکھ کیا مگر اسے مجھ پر رحم نہیں آیا اور یہ بناء میری دیوانگی میری محبت کی پروا کیے مجھے چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی۔ میں جیسے پاگل ہوگیا تھا‘ امی شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں‘ میری حرکتوں نے ان کی جان لے لی اور وہ ایک رات لاہور کے میو ہسپتال میں شریان پھٹنے کے باعث چپ چاپ ہمیشہ کی نیند سوگئیں۔ امی کی موت میرے لیے زندگی کا دوسرا بڑا دھچکا تھا لہٰذا میں آوارہ گرد ہوگیا‘ ابو نے سمجھانے کی کوشش کی تو ان سے لڑپڑا۔ بھابی نے روک ٹوک کی تو ایک روز اسے پکڑ کر دھودیا‘ بھائیوں کے ساتھ بھی معاملہ قتل و غارت تک پہنچ گیا تھا تبھی گھر سے نکال دیا گیا۔ میرا ایک دوست یہاں دبئی میں سیٹل تھا‘ اسے میرے حالات کا علم ہوا تو اس نے کوشش کرکے مجھے یہاں دبئی بلوالیا یہاں آکر میں نے ایک نئی دنیا دیکھی‘ ایسی دنیا جس کا پاکستان میں تصور بھی نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ میں اسی ماحول کا حصہ بن گیا‘ تبھی میرے دوست نے مجھے کسی کام دھندے پر لگانے کی بجائے ایک نئی راہ دکھائی‘ ترقی کی راہ‘ کامیابی کی راہ دولت کمانے کا شارٹ کٹ راستہ۔‘‘ اپنے مخصوص انداز میں ٹھہر ٹھہر کر وہ اسے بتاتا جارہا تھا اور تحریم دم سادھے سانس روکے سنے جارہی تھی۔
’’جانتی ہو وہ شارٹ کٹ راستہ کیا تھا؟ نہیں… چلو میں بتاتا ہوں۔‘‘ بے پروائی سے اس کی ساکت ہوئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’ہم پانچ دوستوں کا گروپ ہے یہاں ایک کی بیوی اس کی کسی کزن کے ساتھ بھاگ گئی تھی‘ دوسرے کی سوتیلی ماں نے اسے بڑا ستایا‘ تیسرے کی گرل فرینڈ بے وفا نکلی اور چوتھا اپنے گھر والوں کی بی حسی سے متفکر ہوکر ادھر آیا۔ یہ جو لڑکیاں تم دیکھ رہی ہو‘ یہ سب لڑکیاں ہم پانچوں دوستوں کی ان تھک محنت کا ثمر ہیں۔ دبئی کے سخت قانون کے مطابق یہاں کسی لڑکی کو بناء کسی محرم رشتے کے لانا قدرے مشکل ہے لہٰذا مجبوراً شادی کا کھیل رچاکر لانا پڑتا ہے اور یہاں پھر جو رئیس ہیں ان کے سامنے مختلف درہم کی قیمت لگا کر چند گھنٹوں کے لیے پیش کرنا پڑتا ہے اب سمجھ گئیں یا ذرا اور تفصیل سے سمجھائوں۔‘‘ وہ گوشت سے پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہورہی تھی اور ادھر ہادی یوں پُرسکون تھا جیسے یہ بات کوئی معنی ہی نہ رکھتی ہو۔
’’چلو ذرا تفصیل سے سمجھاتا ہوں‘ اصل میں یہاں دبئی میں پاکستانی لڑکیوں کی بہت مانگ ہے‘ یوں سمجھ لو کہ انہیں خریدنا زیادہ پسند کیا جاتاہے۔ انڈین‘ انڈونیشیا‘ فلپائن‘ سری لنکا کی لڑکیوں کی بہتات ہے مگر ان کی اتنی مانگ نہیں تو مجبوراً ہم پاکستانی لڑکیوں کو دانا ڈالتے ہیں ‘ کبھی فیس بک‘ کبھی اسکائپ‘ کبھی سیل فون اور کبھی لائیو‘ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی پھنس ہی جاتی ہے۔ لڑکیاں بھی بے چاری کیا کریں‘ پاکستان کے حالات ہی ایسے ہیں‘ ایسے حالات میں محبت اور شادی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ہم اسی مسئلے سے فائدہ اٹھا کر اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ یہ دیکھو یہ گرین سوٹ والی‘ یہ ابھی بھی میری وائف ہے۔ دو گھنٹوں کے پانچ سو درہم لیتا ہوں میں اس کے‘ بہت فائدہ پہنچایا ہے اس محبت نے‘ تمہاری طرح یہ بھی حالات کی ماری تھی۔ سات بہنیں تھیں اس کی‘ کسی کی بھی شادی نہیں ہورہی تھی۔ اب تین کی ہوچکی ہے‘ باقی کی طے ہورہی ہے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے ناں؟‘‘ وہ شخص جو خوشبو کا پیکر تھا فقط چند لمحوں میں گدھ بن گیا تھا اور تحریم کی دھند لائی آنکھیں اس کا چہرہ بھی نہ دیکھ پارہی تھیں جو مسکرا رہا تھا۔ اپنی خوش بختی اور اس کی بدنصیبی پر۔
’’اور یار پلیز رونا نہیں‘ یہاں رونے سے سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ پنک سوٹ والی دیکھو‘ تم سے زیادہ خوب صورت پڑھی لکھی سمجھ دار تھی۔ ابھی پچھلے سال ڈیتھ ہوئی ہے اس کی‘ امیر ماں باپ کی بیٹی تھی مگر میری محبت اور جذبوں کی شدت کے سامنے قدم اکھڑ گئے اس کے۔ اسی لیے ماں باپ سے بغاوت کرکے ‘ سب کچھ چھوڑ کر میرے ساتھ یہاں چلی آئی۔ بہت روئی تھی شروع شروع میں‘ بھوک ہڑتال بھی کی دھمکیاں بھی دیں۔ دو بار چکر دے کر فرار ہونے کی کوششیں بھی کی مگر کامیاب نہ ہوسکی‘ ہو بھی نہیں سکتی تھی۔ ہمارا نیٹ ورک ہی اتنا مضبوط ہے کہ جو چڑیا ہمارے جال میں پھنس کر یہاں آجائے اسے پھر موت کے سوا رہائی نصیب نہیں ہوتی۔ یقین نہ آئے تو آزما کر دیکھ لینا۔‘‘ وہ اسے دھمکا نہیں رہا تھا‘ بتارہا تھا۔ تحریم کو دماغ کے ساتھ ساتھ اپنا سارا جسم سُن ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
’’تم میرے دل کو بہت اچھی لگی ہو‘ میں نہیں چاہتا تمہارے ساتھ زیادتی ہو اسی لیے سمجھارہا ہوں‘ جیسا کہوں ویسا کرنا‘ تنگ کرو گی تو تمہارے ساتھ بھی کچھ اچھا نہیں ہوگا اور ادھر پاکستان میں تمہارے جو پیارے پیارے رشتے ہیں‘ ان کو بھی تکلیف ہوگی کیا تم چاہو گی کہ ان کو تکلیف ہو؟‘‘ تحریم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ اسے وارن کررہا تھا‘ اس کی آنکھوں سے کئی قطرے ایک ساتھ چھلک پڑے‘ اسے لگا وہ جیسے کسی پہاڑ سے دھکا دے کر گرائی گئی ہو۔
’’اچھا یہ ادھر دیکھو‘ یہ جو بلیک سوٹ میں لڑکی ہے ناں۔ اسے بھی مجھ سے محبت ہوئی تھی بلکہ نہیں‘ محبت کے ساتھ ساتھ اسے مجھ سے ہمدردی تھی۔ میری تنہائی‘ میری اداسی‘ میری وحشت پر دل کٹتا تھا اس کا‘ کمشنر کی بیٹی تھی میرے دکھ بانٹنے میری زندگی میں آئی تھی مگر یہاں آنے کے بعد اسے مجھ سے نفرت ہوگئی۔ اس نے مجھے چیلنج دیا کہ یہ مجھے اور میرے دوستوں کو ضرور بے نقاب کرے گی تاکہ اس کی طرح کوئی اور لڑکی اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھ کر ‘ ہمارے ہاتھوں برباد نہ ہو مگر افسوس کامیاب نہ ہوسکی۔ انکل نے اس کے ارادے جاننے کے بعد اسے ایک ’’ایڈز‘‘ کے مریض شخص سے ملوادیا یوں ہمیں بے نقاب کرنے کی خواہش لیے چار ماہ کے اندر اندر ایڈز کی شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھی۔ میں نے اس کے ماں باپ کو اس کی ڈیڈ باڈی بھجوادی تھی ساتھ میں میڈیکل رپورٹس بھی۔‘‘ کتنے فخر سے وہ اسے بتارہا تھا‘ تحریم کے اندر دھواں پھیلتا گیا۔
’’اور کسی کے بارے میں کچھ جاننا چاہو گی؟‘‘ روح شگاف انکشافات کرنے کے بعد کتنے سکون سے وہ اس سے پوچھ رہا تھا‘ وہ سسک اٹھی۔
’’میرے ساتھ ایسا مت کرو پلیز۔‘‘
’’کیوں؟ تم یہاں صرف دبئی دیکھنے آئی ہو؟‘‘
’’میں یہاں صرف تمہارے لیے آئی ہوں۔‘‘
’’ہمارا جو سرکل ہے اس میں میرا تیرا نہیں چلتا‘ ڈئیر تحریم! تم میری بیوی رہو گی مگر… تمہیں رات کے لیے پارٹنر میں اپنے باس یعنی انکل سے پوچھ کر دیا کروں گا‘ ویسے انکل سے تو تم مل ہی چکی ہو‘ میرے والد کے روپ میں۔‘‘
’’نہیں‘ پلیز ایسا مت کرو‘ میں مرجائوں گی مگر خود کو نیلامی کے لیے پیش نہیں کروں گی۔‘‘
’’تو مرجائو‘ یہاں پروا کس کو ہے۔‘‘
’’تم میرے ساتھ اتنا بڑا فریب کیسے کرسکتے ہو‘ میں نے تم پر اعتبار کیا تھا‘ تمہاری قسموں پر اعتبار کیا تھا۔‘‘
’’اعتبار کیا تھا تو اب اس اعتبار کا پھل بھی کھائو‘ زیادہ بک بک کر وی تو برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ ایک پل میں اس کے تیور بدلے تھے پھر اس سے پہلے کہ وہ مزید احتجاج کرتی‘ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
ء…/…ء
سردی اپنے جوبن پر تھی۔ دبئی فش مارکیٹ میں مچھلی ہول سیل میں فروخت ہورہی تھی۔ وہ گاڑی سے اتری اور محتاط قدموں سے چلتی ہوئی‘ سامنے بڑی مچھلی کی ایک قطار کی طرف چلی آئی‘ جہاں اس جیسے عبایا میں ہی ملبوس ایک اور لڑکی ایک خوبرو سی پاکستان سیلز مین سے کہہ رہی تھی۔
’’بھائی‘ دو کلو جھینگے ملیں گے؟‘‘
’’نہیں‘ یہ ہول سیل ہے‘ یہاں دو کلو کوئی چیز نہیں ملتی۔‘‘ سیلز مین نے اس لڑکی کو صفا چٹ جواب دے دیا تھا۔ تحریم کے قدموں کی رفتار سست پڑگئی۔
’’پلیز دے دیں‘ میں زیادہ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی‘ مہربانی ہوگی پلیز۔‘‘ وہ عاجزی پر اتر آئی تھی‘ تحریم کی سماعتوں میں جیسے گھنٹیاں سی بجنے لگیں۔
’’سحرش…‘‘ یونہی ابہام میں کپکپاتی آواز سے اس نے اس لڑکی کو پکارا تھا اور وہ جیسے کرنٹ کھاکر پلٹی تھی۔ ساتھ ہی مچھلیاں فروخت کرتے نوجوان نے چونک کر اسے دیکھا تھا اور جیسے ٹھٹک گیا تھا۔ دبئی کی فضائوں میں پورے پانچ سال کے بعد وہ کبھی یوں آن ملے گی اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
’’تحریم…‘‘ اس کے سامنے کھڑی پاکستانی لڑکی پلٹی تھی اور اس کے اندازے اور گمان کی تصدیق ہوگئی۔ وہ وہی تحریم تھی جسے اس نے چاہا اور پرپوز کیا تھا مگر وہ اس کی نہ ہوسکی تھی۔ آج جبکہ وہ لکھ پتی تھا وہ صرف دو کلو مچھلی خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی چھلکی تھی مگر وہ فوراً رخ پھیر کر دوسرے گاہکوں کی طرح متوجہ ہوگیا تھا۔ تحریم اسے نہیں پہچان پائی تھی وہ ندیم تھا۔
’’تحریم… تم یہاں کیسے؟‘‘ بھیگی پلکوں سے تحریم کے ہاتھ چومتے ہوئے سحرش نے اس سے پوچھا تھا جواب میں اس کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔
’’بس حالات لے آئے‘ تم سنائو کیسی ہو؟‘‘
’’کیسی ہوسکتی ہوں‘ سونے کے پنجرے میں لمحہ بہ لمحہ جینے مرنے والی بے بس چڑیا کیسی ہوسکتی ہے؟‘‘
’’کیا مطلب‘ میں سمجھی نہیں۔‘‘ وہ چونکی تھی‘ سحرش نے آنسو پونچھ لیے۔
’’میں تمہیںیوں سر راہ سمجھا بھی نہیں سکتی تحریم! میری نگرانی ہورہی ہے بس اتنا سمجھ لو کہ زندگی برباد ہوگئی ہے۔ کوئی دولت کے سحر میں اپنا نام دے کر لوٹ لایا اور یہاں لاکر گناہ کی دلدل میں دھکیل دیا‘ یوں کہ واپسی کی ساری راہیں ہی مسدود ہوگئیں۔‘‘ سحرش کے لہجے میں کرب کی آنچ تھی‘ اس کی بلوری آنکھیں نقاب کے اندر بن بادل برسات برسنے لگی تھیں‘ تحریم کے دل کو زبردست دھچکا لگا۔
’’بہت کوشش کی خود کو بچانے کی‘ بہت ہاتھ پیر مارے مگر… نہ بچ سکی‘ اب تو ہمت ہی نہیں رہی اندر کہیں زندگی جیسے مرگئی ہے۔ خیر چلتی ہوں وہ لوگ یہیں کہیں آس پاس ہوں گے۔‘‘ اچانک ہی گھبرا کر اس کے ہاتھوں کو پوری شدت سے دباتے ہوئے وہ اس کے ہاتھوں سے ہاتھ چھڑاتی تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک طرف کو نکل گئی تھی۔ پیچھے تحریم یوں ٹھہرائی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی جیسے قافلہ گزر گیا ہو اور پیچھے صرف اڑتی ہوئی دھول باقی رہ گئی ہو۔
وہ بھی اسی راہ کی مسافر تھی کہ جس راہ نے تحریم سے اس کی زندگی کا مقصد چھین لیا تھا‘ بڑا گہرا وار کیا تھا تقدیر نے کہ وہ جس لڑکی کے نصیب پر رشک کرتی تھی اسے بھی ویسا ہی نصیب مل گیا تھا اس نے کہا تھا۔
’’مجھے نہیں چاہیے آخرت میں کچھ بھی۔‘‘
اور وقت کے دیوتا نے جیسے یہ جملہ اچک لیا تھا‘ عبد الہادی کے بعد اس کی عزت کا جنازہ نکالنے والا وہی شخص تھا جسے ہادی نے پاکستان میں اپنا باپ متعارف کروایا تھا مگر دبئی میں وہ اس کا باس اور انکل تھا ۔ اسی رات اس کی التجا پر ہادی نے اسے پاکستان کال ملا کر دی تھی۔
’’السلام علیکم بجو! کیسی ہو؟‘‘ حسب توقع کال اٹھانے والی لائبہ تھی‘ تحریم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
’’تم کیسی ہو امی اور باقی سب لوگ کیسے ہیں؟‘‘
’’سب ٹھیک اور خوش باش ہیں آپی! آپ کو پتا ہے ندیم بھائی نے مجھے پرپوز کیا ہے اور امی نے اس بار انکار نہیں کیا آخر کو ندیم بھائی ان کے دل کو لگتے ہیں اور اب تو ہادی بھائی کی طرح ان کا بھی دبئی میں لاکھوں کا کاروبار ہے۔ فش مارکیٹ میں ہول سیل میں مچھلی فروخت کرتے ہیں‘ سب بہت خوش ہیں بجو! پچھلے ہفتے ابو کی دوسری بیوی بھی انہیں دھوکہ دے کر بھاگ گئی بہت پشیمان تھے ابو‘ ادھر ہی آگئے ہیں۔ کاش آپی آپ یہاں ہوتیں تو دیکھتیں کیسے ہمارے سب رشتہ دار جل جل کر مررہے ہیں‘ چچی لوگوں کی تو زبان نہیں سوکھتی تمہارے نصیب پر رشک کرکرکے۔ بڑی بلے بلے ہوئی پڑی ہے تمہاری یہاں‘ بھائی کا کاروبار بھی اچھا چل پڑا ہے‘ سچ کہتی ہوں بجو! اللہ تم جیسا نصیب ہر بیٹی کو دے۔‘‘
’’نہیں… اللہ نہ کرے۔‘‘ لائبہ کی دعا پر اس نے دہل کر دل ہی دل میں کہا تھا پھر خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بمشکل بولی۔
’’امی کہاں ہیں؟‘‘
’’نماز پڑھ رہی ہیں‘ ابھی سلام پھیرتی ہیں تو بات کرواتی ہوں۔ جب سے تم گئی ہو بجو! امی ہر وقت تمہاری باتیں کرتی رہتی ہیں‘ تمہیں یاد کرکے روتی رہتی ہیں۔ پانچ سال ہوگئے تمہاری شادی کو مگر امی کی چپ نہیں ٹوٹی‘ ہر وقت اداس رہتی ہیں۔ تمہارے لیے دعائیں مانگتی‘ مصلّے پر بیٹھی روتی رہتی ہیں۔ بس یہیں کہتی ہیں میرے دل کو سکون نہیں ہے‘ میرا اندر جل رہا ہے‘ اب اتنی خوشیاں ہونے کے باوجود پتا نہیں کیوں ان کے دل کو سکون نہیں ہے ‘ کیوں ان کا دل جلتا رہتا ہے؟ ‘‘ لائبہ اس سے اس کی ماں کی شکایت کررہی تھی‘ تحریم کے لیے اپنی سسکیوں کو روکنا محال ہوگیا۔ عجیب سگنل ہوتے ہیں مائوں کے دلوں کے‘ سمندر پاربیٹھ کر بھی انہیں اپنے بچوں کے دکھوں کا پتا چل جاتا ہے‘ اس کے آنسو مزید روانی سے بہنے لگے۔
’’امی کا خیال رکھا کرو لائبہ! میں یہاں بہت خوش ہوں‘ ہادی میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔‘‘
’’جانتی ہوں بجو! ہادی بھائی جیسا آئیڈیل شخص تو پوری دنیا میں دوسرا کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔‘‘
’’ہوں‘ اچھا میں فون رکھتی ہوں‘ کریڈٹ ختم ہورہا ہے امی کو میرا سلام کہنا اور ایک ریکوئسٹ بھی کرنا۔‘‘
’’کیسی ریکوئسٹ؟‘‘ لائبہ پوچھ رہی تھی اور ادھر تحریم سے بولنا دشوار ہورہا تھا۔ وہ اس لہجے میں اپنی ماں سے بات نہیں کرسکتی تھی کیونکہ مائیں لہجے پہچان لیتی ہیں۔
’’امی سے کہنا لائبہ! وہ رات میں تمہارے سونے سے پہلے نہ سویا کریں‘ کیونکہ شب کے اندھیرے میں جن جوان بیٹیوں کی مائیں ان کے سونے سے پہلے سوجاتی ہیں ان بیٹیوں کا امتحان پھر زندگی اپنے ڈھب سے لیتی ہے۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں بجو۔‘‘
’’امی سمجھ جائیں گی۔‘‘ شکستگی سے کہتے ہوئے اس نے آہستہ سے لائن ڈس کنکٹ کردی تھی۔
ہادی اسکائپ پر پاکستان میں حیدرآباد کی کسی لڑکی سے گپ شپ لگارہا تھا‘ وہ باہر سڑک کی جانب کھلنے والی کھڑکی میں آکھڑی ہوئی۔
ہوا چل رہی تھی مگر اسے گھٹن محسوس ہورہی تھی‘ اندر ایک عجیب سی کسک کا غبار بڑھتا جارہا تھا۔ آنسوئوں کا کوٹا تو جانے کب کا ختم ہوچکا تھا تبھی پلکیں موند کر سر کھڑکی کے کھلے ہوئے پٹ سے ٹکاتی‘ وہ اپنے تخلیل کی دنیا میں پاکستان پہنچ گئی تھی‘ وہ پاکستان جہاں غربت تھی‘ جہالت تھی‘ مسائل تھے‘ لوڈشیڈنگ اور بھوک تھی مگر… اس بھوک میں بھی ذلالت نہیں تھی‘ سکون تھا۔
اس کی عزت کی اجلی چادر‘ فاقے کرکے بھی کسی کی گندے ہوس کے مزار پر نہیں چڑھتی تھی۔ کسی نے عزت بناکر وہاں اس کے وجود کو دھجیوں میں نہیں بکھیر اتھا‘ وہ اپنی ہی ذات کے مقبرے میں زندہ دفن نہیں ہوئی تھی۔ وہاں تو بس خواب تھے‘ خواہشات تھیں اور ’’اعتبار تھا۔‘‘
مگر جانے افلاس کی اس دھرتی کی اور کتنی نوخیز کلیوں کو ان روپہلے خوابوں‘ خواہشات اور بھروسے کی سولی چڑھنا تھا۔
’’مائے نی میں کنوں آکھاں‘ درد و چھوڑے دا حال نی
مائے نی میں کنوں آکھاں
دکھاں دی روٹی‘ سُولان دا سالن
آہیں دا بالن بال نی مائیں
مائے نی میں اکھاں؟ درد و چھوڑے دا حال نی مائیں
جنگل بیلے‘ پھراں ڈھونڈ ینیدی
اجے ناں پائیو بال نی … مائیں
مائے نی میں کنوں آکھاں‘ درد و چھوڑے دا حال نی
رانجھن رانجھن‘ پھراں ڈھونڈ ینیدی
رانجھن میرے نال نی
مائے نی میں کنوں آکھاں‘ درد و چھوڑے دا حال نی

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close