Aanchal Apr-18

تیری زلف کے سر ہونے تک ۱۹

اقرا صغیر احمد

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
زید کچن میں آتا ہے تو زہریلی دوا دیکھ کر چونک جاتا ہے بوا کی زبانی اسے صوفیہ کی کچن میں آمد کا پتا چلتا ہے جب ہی وہ فوراً وہاں پہنچ کر ان کی خودکشی کی کوشش ناکام بنا دیتا ہے صوفیہ بے اختیار تمام باتیں اسے بتا دیتی ہیں جس پر زید اپنی ماں کی جانب سے معذرت کرتا تمام حالات کو بہتر کرنے کا یقین دلاتا ہے دوسری طرف سودہ کے لیے بھی ماں کا رویہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اپنی ذلت اور رسوائی کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوکر برسوں کی بیمار نظر آتی ہے جس پر بوا اور دیگر گھر والے بے حد متفکر نظر آتے ہیں۔ لاریب اپنے ارادوں کو ناکام ہوتے دیکھ کر جہاں آرأ کے پاس پہنچتا ہے اور اپنی گستاخی کی معافی طلب کرتا ہے وہ انشراح کو حاصل کرنے کے لیے بے چین نظر آتا ہے جس پر جہاں آرأ بھی کسی سوچ کے تحت اس کی معذرت قبول کرلیتی ہیں۔ انشراح یوسف صاحب سے بدلہ لینا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے نوفل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا پڑتا ہے جب ہی وہ اس کے بدلتے رویوں پر خائف ہونے کے بجائے اس سے دوستی کرلیتی ہے تاکہ اپنی ذات کی تذلیل کرنے والوں سے بھرپور بدلہ لے سکے جبکہ نوفل اس کے تمام ارادوں سے بے خبر اپنے دلی جذبات سے مغلوب ہوکر اس دوستی پر بے حد خوش نظر آتا ہے۔ یوسف صاحب کو بابا رحمت کے ذریعے مکافاتِ عمل کا احساس ہوتا ہے انہیں لگتا ہے کہ ماضی میں ہونے والے گناہ آج بھی انہیں بے چین رکھتے ہیں اور وہ ان کا ازالہ کرنے کا ارادہ کرلیتے ہیں۔ بابر کے والدین باہر چلے جاتے ہیں ایسے میں عاکفہ اپنی سسرال آتی ہے تو انشراح کو بھی اپنے ہمراہ لاتی ہے جہاں نوفل اسے گھر ڈراپ کرنے کی آفر کرتا ہے انشراح بھی اسے اپنے جال میں پھنسانے کی خاطر ہامی بھرلیتی ہے واپسی پر کچھ افراد ان کی گاڑی روک لیتے ہیں نوفل ان کے آگے ہار ماننے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن وہ انشراح کو ڈھال بنا کر نوفل کا ضبط آزماتے ہیں ایسے میں نوفل کے لیے یہ برداشت کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے انشراح کے ہونٹ سے خون بہتا دیکھ کر نوفل پریشان ہوجاتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
/…ؤ …/
بہتے خون کو محسوس کرتے وہ ہونٹوں کو چھونے والی تھی کہ نوفل نے ٹشو باکس سے کئی ٹشوز نکال کر فوراً اس کی طرف بڑھائے۔
’’خون مکل رہا ہے تمہارے منہ سے‘ ہمیں فوراً اسپتال جانا ہوگا۔‘‘ وہ بری طرح پریشان ہوا۔
’’اسپتال جانے کی ضرورت نہیں ہے ٹھیک ہوجائے گا ابھی۔‘‘ وہ ٹشو سے ہونٹوں کا زخمی حصہ دباتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’تمہارے فیس پر سوئلنگ بھی ہے پین لازماً ہورہا ہوگا میڈیکل ٹریٹمنٹ تمہیں فوری ضرورت ہے۔‘‘ نوفل اس وقت ایک مکمل ہمدرد‘ بے حد حساس شخص نظر آرہا تھا اس کے انداز میں نرمی و لہجہ دوستانہ تھا وہ شدت سے اس کی تکلیف محسوس کررہا تھا۔
’’میں اسپتال نہیں جائوں گی مجھے گھر جانا ہے۔‘‘
’’لاحاصل بحث کرنا تمہاری پرانی عادت ہے بٹ میں تمہیں اس طرح گھر نہیں چھوڑوں گا انڈر اسٹینڈ۔‘‘ اس کی نہ نہ کی تکرار نے نوفل کو سخت لہجہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا‘ اس کی نگاہیں گاہے بگاہے انشراح کے ہاتھ میں دبے ٹشو پر اٹھ رہی تھیں جو سرخ ہوتا جارہا تھا۔
’’اسٹوپڈ گرل یہ وقت اکڑ دکھانے کا نہیں ہے تمہارے اندر جلتی بدلے کی آگ کو سرد کرنے والا یعنی تمہارے انتقام کا شکار بننے والا پہلا اور اہم مہرہ یہی شخص ہے‘ تو خود بالی کے ساتھ مل کر اس بندے کو موم کرنے کی پلاننگ کرتی رہتی ہے اور اب جبکہ وقت کی مہربانی تجھ پر نچھاور ہورہی ہے تو تُو ہاتھ آئی بازی کو خود مات دے رہی ہے۔‘‘ اس کی جھلاہٹ پر وہ کوئی کرارہ سا جواب دینے والی تھی کہ اس کے اندر سے کسی نے سرگوشی کی۔
’’یہ وقت کی مہربانی ہی ہے ناں کہ کل تک تیری پرچھائیں سے بھی دور رہنے والا شخص اس وقت کیسا موم بنا ہوا ہے‘ تیری خیر خواہی میں لگا ہوا ہے قبل اس کے کہ وقت بدل جائے اور یہ پھر پتھر بن جائے مجھے عقل سے کام لینا ہوگا۔‘‘
/…ؤ …/
جنید جس دروازے کو بلاجھجک عبور کرکے آگے بڑھ جایا کرتا تھا آج وہاں پائوں رکھتے ہوئے بھی اسے جھجک وگھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا‘ عجیب موڑ در آیا تھا زندگی میں… کل تک وہ دوست کی حیثیت سے آتا رہا تھا کوئی ایسا مسئلہ درپیش نہیں تھا اور اب جبکہ اس سے بہت خاص دوستی و رشتے داری کا بندھن بندھ چکا تھا تو قربت کی جگہ فاصلے اور بے تکلفی اجتناب میں بدل گئی تھی۔ رشتہ ہونے کے بعد روبرو ان کی پہلی ملاقات تھی زید کے انداز میں سرد مہری و کھردرا پن تھا مصافحہ بھی بے جان ہاتھوں سے کیا تھا۔ جنید کو اس سے اسی رویے کی توقع تھی۔ وہ جانتا تھا اس کا رویہ اسی طرح سخت و اجنبیت بھرا ہوگا‘ مگر پھر بھی دوستی کی ڈوبتی کشتی کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی ڈوبنے لگا تھا کہ زید کی بے رخی و بے گانگی اسے کسی طور گوارہ نہ تھی۔
’’کیا لوگے چائے‘ کافی یا کولڈ ڈرنک۔‘‘ وہ دونوں آمنے سامنے براجمان تھے‘ درمیان میں تمام لوازمات سے سجی میز تھی وہ مصافحے کے بعد لیپ ٹاپ میں الجھ گیا تھا یا راہِ فرار حاصل کی تھی‘ پھر طویل توقف کے بعد وہ گویا ہوا‘ وہ بھی اسی طرح لیپ ٹاپ پر نگاہیں جمائے ہوئے سرسری لہجے میں۔
’’وہ ہی پی لوں گا جو تم پینا چاہو گے۔‘‘ مسکراتے ہوئے اس نے لہجے میں بے تکلفی پیدا کی۔
’’بائی دا وے میرا کچھ پینے کا موڈ نہیں۔‘‘ تیزی سے متحرک انگلیاں لمحے بھر کو رکیں‘ نگاہ پل بھر کو اس کی طرف اٹھی‘ وہ شاکڈ رہ گیا‘ لہجے سے زیادہ آنکھوں میں کاٹ تھی بوجھل سرخ آنکھوں سے عیاں تھا وہ کئی راتوں سے سکون سے سویا نہیں اضطراب‘ انتشار‘ اضطرار اس کی روشن آنکھوں میں چمک رہا تھا جنید پہلو بدل کر رہ گیا۔
’’کوئی بات نہیں… موڈ میرا بھی نہیں ہے آفس سے جوس پی کر ہی چلا تھا۔‘‘
’’ہوں کوئی کام تھا؟‘‘ وہ لیپ ٹاپ شٹ ڈائون کرتا ہوا اسی لہجے میں اس سے مخاطب ہوا جو جنید کو پریشان کررہا تھا۔ ’’میرا مطلب… یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟‘‘
’’مجھے معلوم تھا تمہارا رویہ یہی ہوگا میرے ساتھ… معاف کردو میں نے تمہارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔‘‘
’’معافی کس بات کی؟ تم نے وہ ہی کیا جو تمہیں کرنا چاہیے تھا غلطی میری ہے‘ احمق پن مجھ سے سرزد ہوا‘ آستین میں سانپ پال کر توقع کر بیٹھا تھا کہ مجھے ڈسا نہیں جائے گا لیکن…‘‘
’’زید پلیز… جتنے جوتے مارنے ہیں مار لو جو سزا دینی ہے دے دو میں اف نہیں کروں گا‘ مگر اتنی اجنبیت و بے گانگی مت برتو۔‘‘ جنید کی آواز جذبات کی شدت سے بھر گئی تھی۔
’’افسوس ہے میرے سامنے تمہارے یہ ڈرامے فلاپ ہیں میں ایسی باتوں کو خوب سمجھتا ہوں۔ آدمی کتنا بدکردار و اوباش ہو مگر اخلاقی طور پر دوستوں کی بہنوں کو اپنی بہنوں کی مانند ہی عزت دیتا ہے مگر تم تو اخلاقی طور پر بھی اس قدر سطحی ذہنیت کے حامل نکلے کہ… میں یہ سوچ کر شرمندہ ہوں کہ کیا میری دوستی کا معیار اتنا گھٹیا ہے۔‘‘ وہ سر جھکائے سن رہا تھا یہ اس کی بداعمالیوں کا نتیجہ تھا‘ زندگی لڑکیوں سے فلرٹ کرتے ہی گزری تھی اور حد یہ تھی کہ اس کے ہر فلرٹ کا گواہ وہ شخص ہی تھا قسمت سے جس سے اتنا اہم رشتہ جڑ گیا تھا‘ زید نے قدم قدم پر اس کی رہنمائی کرنی چاہی تھی نیکی و بدی کا سبق پڑھایا تھا اور وہ بدمست ہاتھی بن کر مستیوں میں غرق رہا تھا۔
’’میں مانتا ہوں میری معذرت اور معافی تمہارے اس بھروسے اور اعتماد کو یکجا نہیں کر پائیں گے جو تم دوستی کے حوالے سے مجھ پر کرتے آئے ہو… مگر میں قسم کھا کر کہتا ہوں‘ میں نے گزشتہ زندگی سے توبہ کرلی ہے‘ ماضی کی رنگینی کا کوئی رنگ اب تم میرے کردار پر نہ دیکھو گے۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب چلا آیا۔
’’مائدہ کے علاوہ کوئی لڑکی میری زندگی میں اب نہیں آئے گی میرا جینا مرنا مائدہ کے ساتھ ہی ہے۔‘‘
’’یہ عہد اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے خود سے کرتے رہو کے بس اب تمہارا مرنا و جینا مائدہ کے ساتھ ہی ہے کسی دوسری لڑکی کی طرف تم نے آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تمہاری آنکھوں کو ہمیشہ کے لیے بند کردوں گا ایک لمحہ نہیں لگائوں گا تمہیں جان سے مارنے میں۔‘‘ وہ اس کی بات قطع کرکے اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا غرایا‘ اس کی آنکھوں میں بہن کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔
’’آف کورس یار‘ میں حلف دیتا ہوں کہ میں آخری سانس تک مائدہ کو خوش رکھوں گا‘ تم چاہو تو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔‘‘ اس کی ہر ممکن کوشش تھی کہ زید کا دل اس کی طرف سے صاف ہوجائے‘ ایک دراڑ جو ان کے درمیان میں در آئی ہے وہ دراڑ فوراً ہی بھرجائے اپنے اور اس کے درمیان کے فاصلوں نے اسے مضطرب کر رکھا تھا۔
’’تم اچھی طرح جانتے ہو مجھے کسی پروف کی ضرورت نہیں ہے میں صرف زبان کی اہمیت کو مانتا ہوں اور منواتا بھی ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا کہ رات خاصی گزر گئی تھی کام کا لوڈ ہونے کی باعث مڈ نائٹ اسے آفس میں بیٹھنا پڑا تھا جنید بھی ساتھ ہی باہر آگیا تھا۔
/…ؤ …/
نوفل نے اس کی خاموشی کو رضا مندی سمجھا اور سیدھا اسپتال لے آیا جہاں اس کے تعلقات کی بنا پر اچھا ٹریٹمنٹ ہوا اور وہ بھی لبوں کو سختی سے بند کیے ٹریٹمنٹ کے مراحل سے گزرتی رہی۔
’’شاباش‘ اچھی بچی ثابت ہوئی ہو۔‘‘ وہ اسپتال سے باہر نکلے تو وہ اس کی طرف بڑھتا ہوا فریش لہجے میں مخاطب ہوا۔
’’میں سوچ رہا تھا روگی‘ چلائوگی اسپتال سر پر اٹھا لوگی… پر میں تم سے بے حد تک متاثر ہوا ہوں تم نے انجکشن تک خاموشی سے لگوا لیا امیزنگ۔‘‘
’’کیا انجکشن لگواتے ہوئے بھنگڑا ڈالتی ہیں لڑکیاں۔‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہوا گویا ہوا تو وہ تنک کر بولی۔
’’یہی سمجھ لو عجیب بھنگڑا ہوتا ہے انجکشن دیکھتے ہی لگتا ہے روح قفس عنصری سے کوچ کرنے کو ہے بلا کا شور و ہنگامہ مچا ہوتا ہے اور حیرت انگیز ہوتی یہ بات ہے کہ پالر میں ویکس و تھریڈنگ جیسے تکلیف دہ عمل سے بلاچوں و چراں گزر جاتی ہیں۔‘‘
’’آپ پالر میں ویکس و تھریڈنگ کرتے رہے ہیں لڑکیوں کی؟‘‘ اس نے طنزیہ لہجے میں گویا پتھر دے مارا تھا نوفل کا لمحے بھر کو چہرہ سرخی مائل ہوا مگر وہ ضبط و در گزر کی راہ پر چل رہا تھا بہت تحمل سے اس کی بات برداشت کرکے گویا ہوا۔
’’ضروری نہیں کہ جو بتایا جائے اس کا تجربہ بھی ہو۔‘‘
’’لیکن آپ نے اس طرح بتایا ہے گویا تجربہ ہو آپ کا۔‘‘ اس کے غصے و تحمل کو وہ بھی محسوس کررہی تھی مگر اسے اس حالت میں دیکھ کر وہ حظ اٹھا رہی تھی۔
’’تجربہ نہیں ہے میں اپنی معلومات بتا رہا تھا۔‘‘
’’حیرت ہے… بہت زیادہ حیرت…‘‘ رات کا سیاہ آنچل ابھی تک قائم و دائم تھا سڑک پر ٹریفک برائے نام تھی کار درمیانے انداز میں رواں دواں تھی۔
’’کیسی حیرت ہورہی ہے جو بہت زیادہ ہورہی ہے۔‘‘ اسٹیرنگ گھماتے ہوئے وہ اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولا مگر اس کے رخسار کی سوجن و نیلاہٹ نے اس کے لبوں سے مسکراہٹ یک دم غائب کردی تھی اس نے گہری سانس لیتے ہوئے ونڈ اسکرین پر نگاہ جمادی‘ دل پژمردہ ہوگیا تھا۔ اس کی اس حالت کا ذمہ دار اسے اس درد میں مبتلا کرنے والا وہ خود تھا کیوں اس نے ان لٹیروں کو ڈھیل دی کار سے نکلتے ہی درگت کیوں نہ بنا ڈالی‘ اس کی سیفٹی کے خیال سے ہی ان پر وار نہ کیا تھا مگر چوٹ اسے پھر بھی لگ گئی تھی۔
’’آپ کے متعلق پوری جامعہ میں یہی مشہور ہے کہ آپ پتھر دل ہیں‘ کسی لڑکی کو دیکھنا اپنی انسلٹ فیل کرتے ہیں لڑکیوں سے نفرت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ وہ اس کی سوچوں سے بے خبر تکلیف کے باوجود کہہ گئی تھی۔
’’نفرت کرتا ہوں‘ لڑکیوں سے بات کرنا بھی توہین سمجھتا ہوں‘ ان لڑکیوں سے جو رشتوں کے تقدس کا قتل کرتی ہیں‘ اعتماد و وفا کو تماشہ بنا دیتی ہیں اور ایسی لڑکیوں کو میں عزت نہیں دیتا۔‘‘ اس کے چہرے پر مخصوص سنجیدگی چھا گئی تھی۔
’’ہر لڑکی ایسی نہیں ہوتی‘ ہر تالاب میں کچھ مچھلیاں گندی ہوتی ہیں پھر سب کو گندہ کہنا کہاں کا انصاف ہے‘ ایسے ہی کچھ مرد بے وفا و بے رحم ہوتے ہیں بظاہر بہت نیک و پارسا پولائٹ‘ ہر کسی کی داد رسی کے لیے تیار‘ ہر ایک کے دکھ و درد میں کام آنا جن کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے‘ باہر سے روشنی کا مینار دکھائی دینے والے ایسے لوگ باطن کو سیاہ رکھتے ہیں‘ وہاں اتنا اندھیرا ہوتا ہے کہ اگر وہ لوگوں کی نگاہوں میں آجائے تو ساری شخصیت مسخ ہوکر رہ جائے۔‘‘ وہ اپنی رو میں بہتی چلی گئی۔
’’مجھے پتا ہے… دنیا میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں یہ ہم پر منحصر کرتا ہے ہم کس سے کیا حاصل کرتے ہیں؟ ہر عمل کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے۔‘‘ وہ آہستگی سے بڑبڑایا۔
/…ؤ …/
شاہ زیب نے باپ کی طبیعت کے پیش نظر بوا کی زبانی سنی تمام حقیقت بیان نہ کی تھی سب چھپا گیا تھا جانتا تھا کہ وہ سودہ کو سگی بیٹی سے بھی زیادہ چاہتے ہیں بہت ہی محبت بھرا رشتہ تھا اس سے اگر اس واقعے کی معمولی سی بھنک بھی ان کو مل گئی تو ان کی طبیعت مزید بگڑے گی سو بگڑے گی وہ بڑی مما کو اچھی طرح سبق بھی سکھا دیں گے اور بڑی مما کے مزاج کی تندی و ترشی سے بھی وہ خوب واقف تھا جواباً وہ خاموش بیٹھنے والی نہ تھی۔ گھر میں شدید ہنگامی ماحول پیدا ہوجاتا‘ سودہ کی شامت پہلے سے زیادہ بلائی جاتی… صوفیہ پھوپو کو مزید طعنے سننے کو ملتے اور سب سے زیادہ کھچائی بوا کی ہو جاتی جو خوف سے پہلے ہی کچھ بتانے کو راضی نہ تھیں ان سے وعدہ خلافی کا مرتکب بھی نہیں ہوسکتا تھا کئی قباحتیں تھیں درحقیقت کئی مشکلات راستہ روکے کھڑی تھیں وہ اس کڑوی سچائی کو پی گیا تھا۔
مگر مدثر صاحب کو اندر ہی اندر بے نام سی بے چینی لگ گئی تھی‘ صوفیہ کے آناً فاناً سودہ کی منگنی و شادی کرنے کے فیصلے نے ان کو بے سکون کردیا تھا‘ ایک ہفتے تو وہ بستر سے لگے رہے اور ہمت پاتے ہی وہ سیدھے گھر آئے منور‘ زمرد اور صوفیہ ان کو لائونج میں ہی مل گئی تھیں سلام و دعا کے بعد وہ سیدھے اپنے مدعا پر آئے۔
’’تمہیں یہ ہتھیلی یہ سرسوں جمانے کا شوق پیدا کیوں ہوا صوفیہ‘ اتنی جلدی کوئی گڑیا گڈے کی شادی کرنے میں بھی نہیں کرتا‘ جتنی جلدی تم سودہ کی شادی کرنے کا فیصلہ کر بیٹھی ہو۔‘‘
’’بھائی جان‘ وقت دیکھ رہے ہیں آپ کتنا نازک چل رہا ہے عزتیں سنبھالنا مشکل ہوگیا ہے‘ نت نئی خبریں سننے کو ملنے لگی ہیں کہ بس دل ڈرنے لگا ہے اس دور میں جتنا جلد ممکن ہو اپنے فرائض سے ادائیگی کرنا ہی بہتر ہے۔‘‘ صوفیہ دل میں اٹھتی ٹیسوں کو دباتی دھیمے لہجے میں گویا ہوئیں‘ خود کو بہت مضبوطی سے انہوں نے سنبھالا تھا وگرنہ دل کررہا تھا ان کے سینے پر سر رکھ کر ایک ایک دکھ بتاتی چلی جائے ایک ایک زخم دکھاتی جائے جو عمرانہ کے لفظوں نے لگائے تھے۔
’’سمجھ نہیں آرہا وقت کی نزاکت کا احساس تمہیں اچانک کیوں ہوا؟ بلاشبہ وقت نازک دور سے گزر رہا ہے‘ عزت کی پگڈنڈیوں کو نت نئے فتنے پائوں تلے روندنے لگے ہیں‘ شرم و حیا کے جنازے نکلنے لگے ہیں لیکن سودہ کے قدم بہک جائیں اس کا وجود خاندان کے لیے رسوائی کا باعث بننے لگے۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں باری باری ان تینوں کی طرف دیکھتے کہنے لگے۔ ’’ایسا دن کبھی نہیں آسکتا یہ میرا یقین ہی نہیں ایمان ہے‘ سودہ اس شبنم کے قطرے کی مانند ہے جو سورج کی شعاعوں سے قبل ہی نیم اندھیرے میں جنم لیتا ہے اور روشنی سے قبل ہی اپنے وجود کو سمیٹ لیتا ہے سورج کی شعاعیں بھی جس کو چھو نہیں پاتی ایسی ہی پاک و معتبر وجود رکھنے والی ہے میری سودہ۔‘‘
’’بے شک مدثر سودہ ایسی ہی ہے با حیا‘ کم گو‘ ایثار پسند ہے‘ اس نے کبھی ہم کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ ہماری سگی بیٹی نہیں‘ ہم اس کی محبت و خلوص کا حق ادا ہی نہیں کرسکتے۔‘‘
’’زمرد کی ہر بات سچ ہے سودہ اور زید نے کبھی بھی ہم لوگوں کو بے اولاد ہونے کی محرومی کا احساس بھی نہیں ہونے دیا۔‘‘ منور صاحب بھی بیوی کی تائید کرتے ہوئے گویا ہوئے۔
’’پھر اس طرح شادی کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کل تک جس رشتے کے لیے صوفیہ کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہ تھی پھر اچانک ایسا کیا ہوا کہ چند ہی ہفتوں میں سودہ کو پرایا کرنے کی تیاریاں ہونے لگی ہیں؟‘‘ وہ اپنے تجسس پر اٹل قائم رہے۔
’’کچھ نہیں ہوا تم کیوں وہم میں مبتلا ہورہے ہو‘ میں شروع سے پیارے میاں کے رشتے کے حوالے سے مطمئن تھا اور رہا سوال صوفیہ کی ناپسندیدگی کا تو اس کے پیچھے بھی وہ ہی روایتی نند بھاوج کے درمیان چلنے والی چپلقش تھی جو خصوصاً ایسے رشتوں کے درمیان رکاوٹ بنتی ہے۔‘‘
’’اچھی آپا نے بار بار آگے بڑھ کر اپنے غلط رویوں کی معافی مانگی‘ شرمندگی کا اظہار کرتی رہی ہیں‘ بھائی میں بری ضرور ہوں مگر کم ظرف و سنگ دل نہیں ہوں میں نے اسے معاف کر دیا اور ساتھ ہی سودہ کے رشتے کی حامی بھی بھرلی ویسے بھی اس کی تعلیم مکمل ہوچکی ہے اچھا ہے اپنے گھر کی ہوجائے۔‘‘
’’سودہ کے ساتھ ہی ہم مائدہ کے حق سے بھی سبکدوش ہوجائیں گے زید ابھی شادی کرنے کو تیار نہیں ہے وہ ابھی بزنس کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہے بیٹوں پر زبردستی کرنا بھی فضول ہوتا ہے۔‘‘ وہ تینوں اندر سے افسردہ تھے کہ ان کی طبیعت اور عمرانہ کے جارحانہ رویے کے باعث وہ ان سے حقیقت پوشیدہ رکھنے پر مجبور تھے۔
’’ہم نے سوچا حج کی درخواستیں جمع ہونے والی ہیں اچھا موقع ہے دونوں بچیوں کے فرض سے ادائیگی کے بعد حج جیسی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوجائیں۔‘‘ منور صاحب نے کچھ اتنے خوشگوار انداز میں کہا کہ وہ پھر اپنی بے چینی و وسوسوں کا کوئی جواز نہ پیش کرسکے‘ دل میں عجیب سی بے سکونی ہنوز تھی جو زرد چہرے اور کمزور نظر آنے والی سودہ کو دیکھ کر حد سے سوا ہوگئی تھی۔
’’تم خوش ہو پیارے میاں سے رشتہ ہونے پر بیٹی؟‘‘ وہ اس کے کمرے میں ملنے آئے تو وہ ایک عرصے بعد ان کو دیکھ کر اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکی اور پلٹ کر رو دی‘ وہ بھی کئی لمحے اسے محبت و شفقت سے لپٹائے کھڑے رہے پھر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں گویا ہوئے۔
’’پتا نہیں ماموں جان میں خوش ہوں یا نہیں۔‘‘ وہ ان کے قریب ہی بیٹھ گئی آواز ہر جذبے سے عاری تھی۔
’’یہ کیا بات ہوئی میری بیٹی‘ خوشی کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور دل خوش ہو تو ہی کسی کو اپنا بناتا ہے۔‘‘ وہ اس سے اسی طرح دوستانہ انداز میں گفتگو کیا کرتے تھے۔
’’سب خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں۔‘‘
’’بے وقوف مت بنو سودہ‘ شادی عمر بھر کا بندھن ہے مرتے دم تک جس کو نبھانا پڑتا ہے کسی کی خوشنودی کے لیے ایسے بندھن باندھ بھی لیے جائیں تو نبھانا ناممکن ہوجاتا ہے۔‘‘ جذبات و احساسات سے عاری اس کا وجود مدثر صاحب کو پتا دینے لگا کہ وہ اس رشتے سے خوش نہیں‘ اس کی رنگت میں گویا زردیاں سی گھل گئی تھیں‘ موٹی وہ کبھی نہیں رہی تھی مگر اب تو ہڈیوں کا پنجر لگ رہی تھی پھر لب و لہجے میں شکستی در آئی تھی۔ وہ بغور اس کے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچ رہے تھے۔ ایسے موقعوں پر تو پھولوں کی ساری شادابی لڑکیوں کے انگ انگ میں بس جاتی ہے ستاروں کی چمک آنکھوں میں امڈ آتی ہے۔
’’انکار کی کوئی وجہ بھی ہو کس لیے منع کروں؟ میرا وجود ویسے بھی خوررو جھاڑی کی مانند ہے جس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔‘‘ کمال ضبط سے اس نے ماموں کے سامنے خود کو کمپوز رکھا‘ وہ جھکی پلکوں سے بھی دیکھ رہی تھی ماموں کی کھوجتی نگاہیں اس کے چہرے کو ٹٹول اور پرکھ رہی تھیں‘ ڈھونڈ رہی تھیں سچ کو جاننا چاہ رہے تھے کہ وہ خوش کیوں نہیں ہے کس کی خاطر قربانی دے رہی ہے کیوں خود کو دائو پر لگا رہی ہے۔ سارے سوالات بے حد مشکل تھے جواب دینا آسان نہ تھا حالانکہ ماحول سے علیحدہ ہوکر دیکھا جائے تو سوالات مشکل ضرور تھے مگر جوابات دینا آسان تھا کہ یہ مجبوری کے تحت قبول کیا گیا ہے‘ ان کی ذہنی مریضہ بیوی کے بہتان و ظلم سے تنگ آکر جوڑا گیا ہے وہ اس رشتے سے خوش نہیں ہے بلکہ وہ کسی بھی رشتے سے خوش نہیں ہوتی کیونکہ اس کی زندگی میں اس حوالے سے کوئی مرد آیا ہی نہیں تھا‘ اپنی زندگی میں چند مردوں کو اس نے اہمیت دی ہے دو ماموئوں منور اور مدثر صاحب زید اور شاہ زیب جن سے بہت پاکیزہ رشتے تھے ان کے علاوہ کسی مرد کو اس نے نہ کوئی اہمیت دی نہ وقعت۔
’’ہیرا کبھی اپنی قدر و منزلت کو نہیں جانتا‘ ہیرے جیسے لوگ خود کو پتھر ہی سمجھتے ہیں ہیروں کی قدر صرف جوہری ہی کرتے ہیں۔‘‘
’’آپ ہیرے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں ماموں جان تبھی تو اتنی اچھی باتیں کرتے ہیں کہ مجھ جیسا خاک کا ذرہ بھی خود کو انمول سمجھنے لگتا ہے۔‘‘ ماحول میں پھیلی اداسی کو بھگانے کے لیے وہ مسکرا کر گویا ہوئی۔
’’صرف ایک بار کہہ دو سودہ تم خوش ہو؟‘‘ وہ اس کے جواب میں اپنے دل کی طمانیت ڈھونڈ رہے تھے۔
’’آپ خوش ہیں ماموں جان؟‘‘ وہ ان کی طرف دیکھتی ہوئی بولی اور ان کو لگا دل کسی نے بے دردی سے جکڑ لیا ہو دل میں دبی حسرت کسی زخمی کبوتر کی مانند پھڑپھڑانے لگی تھی۔
’’آپ خوش ہیں میں بھی خوش ہوں۔‘‘ وہ ان کے دل کی کیفیت سے بے خبر کہہ رہی تھی۔
’’میں خوش نہیں ہوں‘ بالکل بھی خوش نہیں ہوں کس طرح خوش ہوسکتا ہوں اپنے چمن کو جلتے دیکھ کر خوش ہوا جاتا ہے۔‘‘ درد کی شدید لہر اٹھی اور وہ سینہ پکڑ کر بیڈ پر گرتے چلے گئے‘ کوشش کے باوجود خود کو سنبھال نہیں پائے تھے۔
’’کیا ہوا… کیا ہوا ماموں جان آپ کو؟‘‘ سودہ نے ان کو سنبھالنے کی بے حد سعی کی اور ناکام ہوکر ڈاکٹر کو کال کرنے وہاں سے باہر بھاگی۔
/…ؤ …/
مائدہ اور جنید ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ بے تکلفی سے لنچ کررہی تھی‘ ٹیبل مختلف ڈشز سے سجی ہوئی تھی جنید بھی پلیٹ میں موجود فش نگٹس کانٹے میں پرو رہا تھا اس کے کھانے کے انداز میں بے رغبتی نمایاں تھی وہ خلاف معمول بے حد سنجیدہ تھا۔
’’کیا ہوا کھانا پسند نہیں آیا آپ کو‘ اس ریسٹورنٹ کا کھانا بہت مشہور ہے لوگ دور دور سے کھانے آتے ہیں۔‘‘
’’نہیں… نہیں کھانا تو بہت ہی ذائقے دار ہے۔‘‘
’’پھر آپ کھا کیوں نہیں رہے… بھوک نہیں ہے کیا؟‘‘ مائدہ کا ہاتھ رک گیا۔
’’ارے کھائو ناں‘ تم نے کیوں کھانا چھوڑدیا۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے آپ صرف کھانے کے نام پر چکھیں اور میں خوب کھائوں‘ دس از ناٹ فیئر۔‘‘ اس کے انداز کی لگاوٹ و خلوص جنید کو مسرور کر گیا وہ مسکرا کر گویا ہوا۔
’’میں نے آج ناشتہ بہت دیر سے کیا تھا پھر شام میں ایک میٹنگ ہے اور میٹنگ کے بعد ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے کچھ گیسٹ بھی ہوں گے اگر ان کا ساتھ پارٹی میں نہ دے سکا تو وہ مائنڈ کریں گے ان کے خیال سے ہی میں نے ہاتھ کھینچ رکھا ہے۔‘‘
’’اچھا جی‘ دوستوں کا اتنا خیال ہے تو پھر میرے ساتھ لنچ کرنے ہی کیوں آئے؟ فون پر ہی منع کردینا تھا کہ دوستوں کے آگے میری کوئی اہمیت… نہ ضرورت‘ خوامخواہ چلی آئی میں اٹھ کر یہاں۔‘‘ وہ برا مان گئی۔
’’کیوں مائنڈ کررہی ہو میں تمہارا ساتھ دے رہا ہوں۔‘‘
’’بس… رہنے دیں نہیں ضرورت ہے ایسے ساتھ کی جو دوسرے کو اس کی اوقات یاد دلا دے۔‘‘
’’مائدہ اتنی معمولی سی بات کو کیوں اتنا بڑا ایشو بنا رہی ہو۔‘‘
’’یہ معمولی بات ہے آپ میرے آگے اپنے دوستوں کا سوچ رہے ہیں وہ کس طرح اتنے اہم ہوگئے کہ آپ کو میرا خیال ہی نہیں… ابھی سے آپ اتنے لاپروا اور غیر ذمہ دار ہیں تو شادی کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ جنید نے چند لمحوں قبل جس لگاوٹ و خلوص کو محسوس کیا تھا وہ پل بھر میں ہی ہوا ہوگیا تھا وہ خاموشی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو بلاوجہ ہی اس سے الجھ رہی تھی۔
’’ٹھیک کہتے تھے بھائی کہ آپ جیسا شخص میرے لائق ہی نہیں… آپ میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ کسی لڑکی کے بن سکیں۔‘‘
’’مان لیتیں اپنے بھائی کی بات کیوں نہیں مانی‘ تم آئی ہو میرے پیچھے میں تمہارے پیچھے نہیں آیا تھا۔‘‘ اس کا دماغ بھی گھوم گیا۔
’’ہاں میرا ہی دماغ خراب تھا جو میں آپ کے پیچھے آئی تھی۔‘‘
’’اب تو دماغ درست ہوگیا ہے ناں‘ صحیح و غلط کی تمیز اجاگر ہوگئی ہے تو معاف کردو مجھے‘ چھوڑ دو میرا پیچھا اور کرلو وہیں شادی جہاں پر تمہارے عزت مآب بھائی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’جنید…!‘‘ وہ اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہی‘ جہاں غصہ سرخی بن کر اس کے چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔ مائدہ نے پرس اٹھایا اور وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
/…ؤ …/
وہ اسے گیٹ کے پاس ہی چھوڑ گیا تھا۔ نہ اس نے اندر آنے کی دعوت دی اور نہ ہی اس نے خواہش ظاہر کی البتہ واچ مین کے گیٹ وا کرنے اور اس کے اندر جاکر غائب ہونے تک وہ رکا رہا‘ اس کی نگاہیں اوجھل ہونے تک اس کا پیچھا کرتی رہی تھیں پھر زن سے وہ کار لے اڑا۔
حسب معمول بالی اس کے انتظار میں جاگ رہی تھی اس پر نگاہ پڑتے ہی وہ گھبرا گئی‘ اس نے مختصرا جو ہوا بتادیا‘ ایک تو تکلیف کی شدت زیادہ تھی جس کو وہ نوفل کی موجودگی میں ضبط کرتی آئی تھی کسی بھی حال میں وہ اس کے آگے کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی پھر گھر آتے ہوئے انجکشن نے اپنا کام کرنا شروع کردیا تھا۔ بالی سے گفتگو کے دوران ہی وہ مدہوش سوگئی تھی‘ صبح بیدار ہوئی تو درد میں بھی خاص آرام آگیا تھا اور چہرے کی سوجن بھی غائب ہوگئی تھی ہونٹوں کے پاس معمولی سا زخم رہ گیا تھا وہ فریش ہوکر آئی تو نانی ناشتے پر اس کا انتظار کررہی تھیں۔
’’ارے یہ کیا ہوا ہونٹوں کے قریب‘ یہ زخم کیسا ہے اور تمہارا چہرہ بھی کچھ سوجھا ہوا لگ رہا ہے۔‘‘ وہ عینک درست کرتی ہوئی متفکر انداز میں کہہ اٹھیں۔
’’ایئرپورٹ پر سلپ ہوگئی تھی نانو‘ معمولی سی چوٹ لگی ہے آپ فکر نہیں کریں میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ کرسی پر بیٹھتی ہوئی مسکرا کر ان کو تسلی دینے لگی۔
’’وہ لڑکی عاکفہ کوئی بد روح لگتی ہے جو ہر وقت تمہیں اپنے بس میں رکھنا چاہتی ہے کوئی بھی بات ہو‘ کوئی بھی کام ہو تمہیں اس طرح ساتھ رکھتی ہے گویا تم اس کی زر خرید غلام ہو ایک آنکھ نہیں بھاتی مجھے اس حرافہ لڑکی سے تمہاری دوستی۔‘‘
’’نانو جان پلیز‘ عاکفہ کو گالی مت دیں۔‘‘
’’کیسے نہ دوں‘ اگر میرا بس چلے تو اس لڑکی کو گالی نہیں گولی مار دوں‘ سسرال والے اس کے جارہے ہیں اور ساتھ تمہیں لے گئی‘ تم بھی اس کی کوئی بات ٹالتی کب ہو۔‘‘ وہ انڈے پراٹھے کا دیسی ناشتہ کرتے ہوئے غصہ کررہی تھیں۔
’’انشی نے بہت انکار کیا تھا ماسی‘ لیکن وہ مانی ہی نہیں۔‘‘ بالی اس کے لیے چائے لاتے ہوئے بولی۔
’’عاکفہ کے بہت احسان ہیں مجھ پر پھر وہ بہت محبت کرتی ہے نانو‘ اس جیسے دوستوں کے لیے جان بھی دینی پڑ جائے تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گی میں تو مر رہی تھی‘ زندگی سے نفرت ہوگئی تھی‘ ہر سانس آزار بن کر رہے گی تھی‘ اگر عاکفہ اور اس کے مما و پپا پُرخلوص سہارا نہ دیتے تو میں نامعلوم کہاں ہوتی آج… قبر کے بے رحم اندھیروں میں یا کسی پاگل خانے میں۔‘‘
’’تمہیں ان لوگوں نے کوئی تعویذ پلا دیا ہے جو ہر وقت ان کی شان میں قصیدہ گوئی کرتی رہتی ہو… اور پھر تم صبح ہی صبح خالی چائے پینے بیٹھ گئی ہزار بار منع کیا ہے مگر…‘‘ اسے چائے پیتے دیکھ کر وہ موضوع بدلتی ہوئی گویا ہوئی۔
’’صبح صبح کہاں بھوک لگتی ہے نانی جان۔‘‘
/…ؤ …/
’’مائدہ… مائدہ بات سنو۔‘‘ وہ تیز تیز اس کی طرف آرہا تھا اور مائدہ روتی ہوئی پارکنگ کی طرف بڑھ رہی تھی۔
’’ایم سوری یار‘ ویری سوری میں شاید بہت روڈ ہوگیا تھا۔‘‘ وہ اس کا بازو پکڑ کر خجالت آمیز لہجے میں گویا ہوا۔
’’چھوڑیں‘ مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی‘ بہت خراب لڑکی ہوں جو آپ کے پیچھے آئی اور خود ہی محبت کا اقرار بھی کرلیا‘ عجیب و دوغلا سسٹم ہے ہمارے معاشرے کا بھی مرد خواہ ہزاروں لڑکیوں سے جھوٹی محبت کی پتنگیں لڑاتا رہے اسے کچھ نہیں کہا جاتا اور لڑکی غلطی سے اپنی سچی محبت کا اظہار بھی کردے تو اسے طعنہ مارا جاتا ہے کہ ’’تم خود پیچھے آئی تھیں۔‘‘ وہ اس کی مضبوط گرفت سے بازو نہ چھڑا پائی مگر زبانی وار برابر کرتی رہی تھی جنید نے زبردستی اسے کار میں بیٹھایا۔
’’میں بے حد گلٹی فیل کررہا ہوں مائدہ… نامعلوم کس طرح غصے میں وہ بات منہ سے نکل گئی جو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘ وہ کچھ نہیں بولی غصہ جتانے کے لیے چہرہ موڑ لیا۔
’’تم بھی بے بات غصے میں آئی ہو اپنا کمپئر ان لوگوں سے کرنے لگی ہو جن کا تعلق بزنس کے لین دین سے ہے بھلا وہ کس طرح تمہاری جگہ لے سکتے ہیں کبھی بھی تمہاری جگہ کوئی لے ہی نہیں سکتا‘ بہت خاص جگہ ہے تمہاری یہاں۔‘‘ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر سرگوشی میں بولا… اس کے لہجے میں محبت کی خوشبو وفا کی مہک تھی مائدہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی دل کثافت سے پاک ہوگیا۔
’’ہارٹ فیورٹ ہو۔‘‘ وہ کار اسٹارٹ کرتا ہوا بولا۔
’’بتایا تھا بھائی نے… آپ کا کام ہی فلرٹ کرنا ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر شرارت سے کہہ اٹھی۔
’’تمہارے بھائی کی بات ہی کیا ہے نہ محبت کرتا ہے نہ کرنے دیتا ہے کیسی کیسی حور شمائل لڑکیاں اس کی دیوانی تھیں اور وہ کسی پر ایک نگاہ ڈالنے کا بھی روا دار نہ تھا۔‘‘ وہ خوشگوار موڈ میں تھا اس کی بات کو مائنڈ نہیں کیا۔
’’آپ جو تھے بھائی کے بدلے لڑکیوں کو کمپنی دینے والے۔‘‘
’’ہاہاہاہا… آخر اپنے بھائی کی بہن ہو‘ وہ بھی ایسے ہی جوتے بھگو بھگو کر مارتا ہے کہ بندہ اف بھی نہ کر پائے۔‘‘
’’آپ کی بھائی سے ملاقات ہوئی‘ ہماری انگیجمنٹ کے بعد آپ ایک بار بھی نہیں ملے… میں چاہتی ہوں آپ کی اور بھائی کی جلد از جلد ملاقات ہو پھر پتا چلے گا ان کی ناراضگی دور ہوئی یا نہیں آپ سے؟‘‘ ان دونوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ پھر سے دوستی میں بدل گئی تھی۔ وہ ایسے ہنستے مسکراتے ہوئے باتیں کررہے تھے گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
’’ہوئی تھی اس سے میری ملاقات۔‘‘
’’کیا…! ملاقات ہوئی تھی اور آپ نے مجھے انفارم بھی نہیں کیا؟‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر حیرانی سے چیخی۔ ’’کب ہوئی ملاقات اور بھائی کا رویہ کیسا رہا؟‘‘
’’جیسا سوچا تھا اس سے بھی بڑھ کر وہ خفا تھا پہلے تو مجھ کو یقین ہی نہیں آیا کہ وہ وہی زید ہے جو ہمہ وقت میرا خیال رکھتا تھا۔ میرے اچھے برے عمل پر اس کی نگاہ ہوتی تھی جو میری بہتری کے لیے سرگرداں رہتا تھا وہ ایک دم سے اتنا سرد مہر اور اجنبی بن گیا تھا کہ…‘‘ وہ ایک دم چپ ہوگیا مائدہ نے دیکھا اس کی آنکھوں کی سطح نمی سے چمکنے لگی تھی وہ ہونٹ بھینچے ضبط کررہا تھا۔
’’اس وقت مجھے بہت برا محسوس ہوا تھا اس کا رویہ برداشت کرنے کے لائق نہ تھا اس نے میری پروا بھی نہ کی اس رات بہت بددل تھا سوچا تھا اب کبھی اس کی شکل نہیں دیکھوں گا لیکن ضمیر کی عدالت نے مجھے ہی مجرم ٹھہرایا تھا اس کی کوشش ہوتی تھی میرے فلرٹ سے دوسری لڑکیوں کو محفوظ رکھے اور جب اس نے سنا کہ مجھ جیسا بھنورا صفت اس کی بہن کا طلب گار ہے تو کیا حال ہوا ہوگا جس آگ سے وہ دوسروں کے گھروں کو بچاتا تھا وہ آگ اس کے گھر تک پہنچ گئی تھی زید کی جگہ میں ہوتا تو میرا بھی رد عمل ایسا ہی ہوتا کہ ہر بھائی کو بہن ایسی ہی عزیز ہوتی ہے یہ میں سمجھ گیا تھا میرا دل اس کی طرف سے اب بالکل صاف و شفاف ہے۔‘‘
/…ؤ …/
بابا رحمت کے قرب نے ان کو یک گو نہ سکون و راحت عطا کی تھی وگرنہ اس سے قبل وہ کسی گیلی لکڑی کی مانند اندر ہی اندر سلگ رہے تھے ماضی کے کچھ راز ان کے سینے میں پوشیدہ تھے جس کی خبر صرف ان کے والد محترم کو تھی وہ ان رازوں کو سینے میں چھپائے دنیا سے کوچ کر گئے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی تھی وہ بابا رحمت کے سامنے اپنی ماضی کی کتاب وا کرکے بیٹھ گئے تھے۔ واصف جمال خاندانی رئیس تھے پیسہ ان کی لونڈی تھی عیش و عشرت میں وہ پلتے آئے تھے دولت گھر کی باندی ہو اور ساتھ ہی جابرانہ‘ ظالمانہ حاکمیت بھرے مزاج ہوں تو لحاظ مروت و خلوص چھو کر بھی نہیں گزرتے پھر سامنے کوئی جچتا نہیں ہے اپنا قد ہی سب سے بلند و دکھائی دیتا ہے واصف جمال بھی خود سے کمتر لوگوں کو کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ دیتے تھے‘ اپنی دولت و منصب سے ان کو بے حد پیار تھا یہی وجہ تھی کہ مرحوم بھائی کی بیٹی جو ان کے بیٹے یوسف سے عمر میں اٹھارہ سال بڑی تھی گھر کی دولت گھر میں ہی رہنے کی نیت سے کم عمر بیٹے سے اس کی مرضی کے برخلاف شادی کردی تھی۔
’’بابا جان آپ نے زبردستی اپنی من مانی تو کرلی مگر میں کبھی بھی اسے اس کا حق نہیں دے پائوں گا پھر آپ مجھ سے کوئی شکایت نہ کرنا وہ مجھ سے بہت بڑی ہے بہت بڑی۔‘‘ نوجوانی کا ابتدائی دور تھا وہ ستاروں پر کمند ڈالنا چاہتا تھا پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کی شوریدہ سری اس کے اندر ہلچل برپا کیے ہوئے تھی اسے لگ رہا تھا وہ ایسا پنچھی ہے اڑان سے قبل ہی جس کے پر کاٹ دیے گئے ہوں۔
’’یہ میری پہلی اور آخری زبردستی تھی بیٹا آپ پر میں اب کسی بات کے لیے آپ کو فورس نہیں کروں گا زرقا سے شادی کرنے کا مقصد یہ تھا کہ گھر کی عزت گھر میں ہی رہے باہر نہ جائے۔‘‘ حجلۂ عروسی میں دلہن اس کی منتظر تھی اور وہ گلے میں ڈالے گئے پھولوں کے ہاروں کو اتار کر پائوں تلے روندتے ہوئے غصے سے کہہ بول رہا تھا۔
’’عزت نہیں بابا دولت کہیں دولت گھر سے باہر نہ جائے۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میںگویا ہوا تھا‘ وہ قہقہہ لگا کر ہنستے چلے گئے تھے۔ اس زبردستی کی شادی نے اس کے اندر شدید ترین سرکشی اور بغاوت پیدا کردی تھی گھر میں پہلے ہی ٹائم کم گزارتا تھا اب تو گھر سے بھاگنے لگا تھا زرقا کے وجود سے اسے وحشت ہونے لگی تھی وہ خاموش و گم صم سی لڑکی جس نے کوئی شکوہ و شکایت اپنے لبوں پر نہ سجا پایا تھا وہ سر جھکائے سوچوں میں گم رہتی تھی۔
’’مما زرقا کی خاموشی مجھے ڈسٹرب کرنے لگی ہے اس کا کوئی حل نکالیے ناں آپ۔‘‘ وہ موٹے موٹے طلائی کنگن سے کھیلتی ہوئی بھاری بھرکم ماں سے ایک دن موقع پا کر راز داری سے بولا۔
’’کیوں ڈسٹرب ہوتے ہو تن تنہا اور بے سہارا لڑکی کیا کرے گی۔‘‘
’’میں اسے ڈائیورس دیتا ہوں آپ اس کی کہیں اور شادی کردیں کیوں اس کی عمر خراب کرتی ہیں۔‘‘
’’دماغ ٹھکانے پر ہے؟ ہاتھ آئی سونے کی چڑیا کون اڑاتا ہے‘ پڑا رہنے دو اسے ایک کونے میں‘ ہاتھ آئی سونے کی چڑیا میں اڑا سکتی ہوں ناں آپ کے بابا تمہیں دو‘ تین‘ چار جتنی شادیاں کرنی ہیں کریں کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔‘‘ وہ شادی تو پھر کرنے کے موڈ میں نہیں تھا کہ ایک کرکے ہی سکون نہیں مل پارہا تھا پھر وہ پڑھائی کے بہانے امریکا چلا آیا اور وہاں پھر سال پر سال گزرتے چلے گئے تھے۔ دولت کی فراوانی و بے خوف زندگی آزادی کی تمام حدود کراس کرتی چلی گئیں تعلیم مکمل کرکے ملک واپس آئے تو باپ کے ساتھ سیاسی اکھاڑے میں قدم جمانے میں کچھ وقت گزارا اور الیکشن میں بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل کرکے منسٹر کی کرسی پر براجمان ہوگئے کردار تو داغ دار تھا مگر لوگوں کی حالت زار نے ان کی مفلسی اور غربت‘ بے بسی و لاچاری کے دکھ نے ان کے اندر کے انسان کو بیدار کردیا تھا وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے چلے گئے۔ بہت کم عرصے میں وہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے لگے تھے لوگ ان پر جان دینے کو تیار تھے اس دوران انہوں نے بڑی دھوم دھام سے دوسری شادی کی اور وہ اس شادی سے بہت خوش تھے۔
/…ؤ …/
زید گھر آیا تو سب سے پہلے سامنا بوا سے ہوا اور حسب عادت انہوں نے مدثر صاحب کی طبیعت خرابی کی خبر اس کے گوش گزار کی وہ بریف کیس وہیں رکھتا ہوا منور صاحب کے پاس چلا آیا۔
’’معمولی سا درد تھا ڈاکٹر نے چیک اپ کیا میڈیسن دی آدھے گھنٹے میں ہی مدثر کی طبیعت سنبھل گئی تھی تم پریشان نہیں ہو وہ ٹھیک تھا کار خود ڈرائیور کرکے گیا ہے اور گھر جاکر خیریت سے پہنچنے کی کال بھی کردی ہے۔‘‘ منور اس کے پریشان چہرے کو دیکھ کر تسلی دینے لگے‘ زمرد نے بھی باپ سے اس کی محبت محسوس کرلی تھی۔
’’آپ نے ان کو جانے کیوں دیا راستے میں بھی ان کی طبیعت خراب ہوسکتی تھی شاہ زیب کہہ رہا تھا خاصے عرصے سے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ پراپر چیک اپ بھی نہیں کرا رہے۔‘‘ اس کے لہجے میں تشویش موجود تھی۔
’’ہم سب نے ہی بہت اصرار کیا کہ رک جائو‘ مگر وہ رکے ہی نہیں ان کی عادت ہے ایک بات پر ڈٹ جانے کی۔‘‘ زمرد بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
’’طبیعت کیوں خراب ہوئی کیا ہوا تھا؟‘‘ اسے خوف تھا کہ عمرانہ والی حرکت ان کو معلوم نہ ہوگئی ہو۔
’’کمزور وہ پہلے سے ہورہا ہے سودہ سے ملنے اس کے روم میں گیا تھا وہاں جاکر کچھ دیر بعد ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔‘‘
’’سودہ نے کچھ بتایا تھا پاپا کو؟‘‘
’’نہیں… وہ ایسا نہیں کرسکتی۔‘‘
’’آپ نے پوچھا ہے اس سے؟‘‘
’’پوچھنے کی بات ہی نہیں تھی سودہ کا مزاج ہی نہیں ہے کہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کی داستان کسی کو سنائے۔‘‘
’’پاپا اس کے پاس گئے اور ان کی طبیعت بگڑی…‘‘
دل تو اس کا بھی گواہی دے رہا تھا کہ وہ ایسی اوچھی حرکت نہیں کرسکتی لیکن اس کے پاس جاکر ان کی طبیعت خراب ہونے کا مقصد تھا کہ ایسا ضرور کچھ ہوا ہے جو وہ ضبط نہ کرسکے تھے۔
’’اس کی لاڈلی بہت جلد پرائی ہونے والی ہے گھر میں آتے ہی اس کی نگاہیں سودہ کو دیکھنے کی عادی ہیں اب وہ رخصت ہوجائے گی اور یہی خیال اسے رنجیدہ کر گیا تھا۔‘‘
’’لاڈلی وہ ہم سب کی ہے میں ابھی سے یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ سودہ کے جانے کے بعد ہم کیسے اس کے بغیر رہ سکیں گے کون ہمارا خیال رکھے گا‘ گھر بالکل ہی سونا ہوجائے گا۔‘‘ زمرد بیگم گلوگیر آواز میں گویا ہوئیں اور وہ پریشان کھڑا رہا۔
’’بیٹیاں گھر کی روشنی ہوتی ہیں‘ آنکھوں کی ٹھنڈک ان کو دیکھ کر ہی ملتی ہے لیکن رب کائنات کے حکم پر ان کو رخصت کرنا ہی ہوتا ہے یہ ریت صدیوں سے چلی آرہی ہے۔‘‘ وہ خود بھی آبدیدہ ہوگئے تھے انہیں سمجھاتے ہوئے زمرد رونے لگیں۔
’’تائی جان وہ ابھی تو رخصت نہیں ہورہی ناں۔‘‘ وہ ان کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا اور کچھ دیر وہ اپنے کمرے میں جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تو قدم بوجھل ہوگئے تھے۔
خلاف معمول عمرانہ کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ ان کے پاس چلا آیا جو ڈائی کرائے گئے بالوں میں برش کررہی تھیں اس کے سلام کا جواب انہوں نے بڑی خوش دلی سے دیا اور ساتھ ہی بال سمیٹ کر جوڑا بنایا۔
’’کیا بات ہے بہت پریشان لگ رہے ہیں۔‘‘ وہ گہری نگاہوں سے اس کے چہرے کا جائزہ لیتی ہوئی گویا ہوئیں۔
’’آپ کو معلوم ہے آج پاپا یہاں آئے تو ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی؟‘‘
’’میں مائدہ کے ساتھ شاپنگ پر گئی ہوئی تھی پھر وہاں سے رضوانہ بجیا کے گھر چلی گئی اور بجیا کی عادت تو آپ کو معلوم ہی ہے کھانا کھلائے بنا کہاں آنے دیتی ہیں وہاں سے گھر آئی تو بوا نے بتایا تھا۔‘‘ وہ بے تاثر لہجے میں بولیں۔
’’پاپا میں ویکنس بڑھتی جارہی ہے بہت بیمار رہنے لگے ہیں۔‘‘
’’ارے یہ کیا سن رہی ہوں ہاں… آپ اس آدمی کے لیے فکر مند ہورہے ہیں جس نے کبھی ہماری فکر نہیں کی زندہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے لیے زندہ نہیں ہے‘ میں اور مائدہ گھر میں آئے تو وہ یہیں تھا۔ لیکن اس کی عیادت کو نہ میں گئی نہ مائدہ کیوں جائیں بھلا؟ اس کی بیوی موجود ہے چاہنے والی‘ بیٹا ہے کیئر کرنے والا۔‘‘ ان کا لہجہ بدگمانی و نفرت سے بھرا ہوا تھا زید کے لہجے میں باپ کے لیے محبت و تفکر دیکھ کر ان کو برا محسوس ہوا تھا۔
’’آف کورس مما بٹ ہمارا بھی ان سے وہ ہی تعلق ہے پھر اب طویل عرصہ گزر گیا ہے اس سارے قصے کو وقوع پزیر ہوئے جو ہوا سو ہوا پلیز معاف کردیں پاپا کو وہ…‘‘
’’شٹ اپ… شٹ اپ زید معلوم بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں میں اور اس ہرجائی آدمی کو معاف کردوں دوبارہ سے اس کا ساتھ مانگ لوں۔ یہ ممکن ہی نہیں… جس طرح زمین و آسمان مل نہیں سکتے اسی طرح مدثر اور میرا ملن بھی نا ممکن ہے۔‘‘ وہ شدید ترین غم و غصے میں مبتلا ہونے لگیں۔
’’معاف کرنا اچھی بات ہے‘ در گزر کرنا زندگی کو پُرسکون کرتا ہے آپ ایک بار ان کو معاف کرکے تو دیکھیں مما۔‘‘ اس کے بھاری لہجے میں التجا تھی جب سے منور صاحب کی زبانی باپ کی مظلومیت کا پتا چلا تھا تب سے ہی دل میں بھرا ان کے خلاف غصہ‘ عناد و شکوے دھیرے دھیرے گم ہونے لگے تھے۔
’’اسے معاف کردوں… اس کے لیے دوبارہ تعلق جوڑ لوں؟‘‘
’’آپ کا ان سے تعلق جڑا ہوا ہے آپ ان کی شریک حیات ہیں۔‘‘
’’یہ تعلق محض کاغذوں میں جڑا ہوا ہے دل سے سالوں پہلے ٹوٹ چکا ہے اور یہ تعلق بھی آپ کی اور مائدہ کی وجہ سے قائم ہے تاکہ کوئی آپ دونوں کی طرف انگلی نہ اٹھائے کوئی یہ نہیں کہے کہ ان بچوں کی ماں طلاق یافتہ ہے۔‘‘
’’مائدہ کہاں ہے؟‘‘ ماں کو پتھر کی طرح اٹل دیکھ کر اس نے موضوع بدلنا ہی بہتر جانا ورنہ ان کی خفگی کا بھی اندیشہ تھا۔
’’اپنے روم میں سونے چلی گئی ہے۔‘‘
’’اتنی جلدی ابھی تو ڈنر کا ٹائم بھی نہیں ہوا۔‘‘
’’سر میں درد ہورہا تھا ٹیبلٹ کھا کر لیٹی ہوگی۔‘‘
/…ؤ …/
دل مچلنے کے اسباب ہوا کرتے ہیں
بعض چہرے بڑے نایاب ہوا کرتے ہیں
نیند سے جن کی ٹھنی رہتی ہے ہر شب یارو
ان کی جھولی میں کئی خواب ہوا کرتے ہیں
رات اسے دیر سے نیند آئی تھی ذہن کی اسکرین پر بار بار وہی مناظر رواں تھے لڑکوں کا کار کو روکنا اس سے تکرار کرنا انشراح کا کار سے نکلنا اور لڑکے کا اس کی کنپٹی پر پستول رکھنا ساری رات یہی سب ذہن میں چلتا رہا تھا خاص طور پر اس کے چہرے کی سوجن اور ہونٹوں سے نکلتے خون کے قطرے ذہن پر فریز ہوکر رہ گئے تھے۔ بابر کو رات ہی ساری بات بتا دی تھی۔
’’تمہیں کوئی چوٹ تو نہیں آئی ناں؟‘‘ اس نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں… وہ خاصی انجرڈ ہوگئی ہے میں نے اسے کہا بھی تھا کار سے نہیں نکلنا وہ پھر بھی نکل آئی تھی۔‘‘
’’لڑکیاں جب ڈرتی ہیں تو بلا سوچے سمجھے فیصلے کرتی ہیں جن میں سراسر نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے اینی وے تم انشراح کو گھر تک چھوڑ کر آئے تھے آئی من گھر کے اندر گئے تھے؟‘‘
’’نہیں میں نے اسے گیٹ کے پاس ہی ڈراپ کردیا تھا۔‘‘
’’کیوں تم ہی کہہ رہے ہو بہت چوٹ لگی ہے اسے‘ اگر خدانخواستہ چکرا کر گر گئی ہو تو اور مزید چوٹ لگ گئی ہو؟‘‘
’’وہ بہت اسٹرونگ ہے اتنی انجرڈ ہونے کے باوجود اس نے کوئی ہلکی سی بھی آواز منہ سے نہیں نکالی‘ تکلیف ضبط کرنے کا ہنر آتا ہے اسے‘ میں اندر یوں نہیں گیا کہ اس خود غرض عورت کو کسی نئی خوش فہمی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا تھا۔‘‘
’’انشراح نہیں بتائے گی وہ اس کی نانی ہے یار۔‘‘
’’اگر وہ اپنی نانی کی نیچر کی نہیں ہے تو ان کو نہیں بتائے گی۔‘‘ بابر سے بات ہونے کے بعد بھی کئی گھنٹون تک وہ جاگتا رہا اور بہت جلد ہی بیدار ہوگیا تھا آنکھ کھلتے ہی خیال آیا کہ وہ کیسی ہوگی؟ اس نے کال کرنے کے لیے فون سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا تھا ٹائم دیکھا تو ہلکی ہلکی صبح نمودار ہورہی تھی اس نے کھڑکی کھول کر باہر دیکھا۔
ماحول پر شبنمی اندھیرے کا راج تھا دور سے اذان کی پُرنور آوازیں آرہی تھیں اور وہ بے خود سا سنتا چلا گیا‘ سکون ہی سکون تھا وہ جب نماز کے لیے نیچے آیا تو پہلے سے موجود رحمت بابا اور یوسف صاحب سے دعائیں سمیٹیں اور ایک طرف بند آنکھوں کو کھولنے کی سعی میں مبتلا لاریب کو دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’آنکھیں کھول کر چلو گر جائو گے۔‘‘ وہ قریب آکر گویا ہوا۔
’’کس طرح آنکھیں کھولوں… نہیں کھل رہیں ابھی تو سویا تھا اور اٹھا دیا زحمت بابا نے ڈور ناک کرتے چلاتے رہیں گے کہ نماز نیند سے بہتر ہے نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘ وہ رحمت بابا کو غصے سے زحمت بابا کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ نیند سے اس کی بری حالت تھی بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح راہ فرار حاصل کرکے نرم گرم بستر میں گھس جائے۔
’’میں تمہیں بابا رحمت کے خلاف کوئی فضول بات بولنے کی اجازت نہیں دوں گا وہ بزرگ ہیں ہمارے اور وہ بالکل درست کہتے ہیں بے شک نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا۔
’’ہاں بھائی میں ہی غلط ہوں بابا جی کے یہاں رہتے ہوئے مجھے تو اپنی روٹین چینج کرنی پڑے گی ورنہ میرا حشر نشر ہوجائے گا۔‘‘ وہ بڑبڑاتا ہوا چلنے لگا۔
مسجد قریب ہی تھی بابا رحمت پیدل جانے ہی کو ترجیح دیتے تھے ان کی پیروی ان سب کو ہی کرنی پڑی تھی کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا ماسوائے لاریب کے وہ ان سے کتنی بار درخواست کرچکا تھا کہ وہ کار میں چلیں مگر وہ ہر بار بڑی شفقت سے انکار کردیا کرتے تھے ساتھ ہی صبح سویرے پیدل چلنے کے فوائد گنواتے تھے لاریب نماز ادا کرتے ہی رفو چکر ہوگیا تھا وہ اشراق کی نماز کی ادائیگی تک ان کے ساتھ موجود رہا اور جلدی سے دن نکلنے کی دعا کرتا رہا تھا۔
/…ؤ …/
رضوانہ نے بیٹی کے ساتھ مل کر سودہ کے خلاف عمرانہ کے کان خوب بھر دیے تھے وہ جانتی تھیں عمرانہ ہر جھوٹ کو سچ مانے گی اور وہ بنا تحقیق کے نہ صرف سودہ کی درگت بنا ڈالے گی بلکہ زید کو بھی آڑے ہاتھوں لے گی اور پھر سب توقع کے مطابق ہوا تھا عمرانہ نے سودہ کی ایسی مار لگائی تھی کہ وہ کئی ہفتوں تک بستر سے نہ اٹھ سکی تھی اور زید کو بھی خوب سنائی تھیں۔ اس قصے کو بھی گزرے دو ماہ گزر گئے تھے سودہ کی منگنی پیارے میاں سے کل ہی ہوئی تھی بڑی سادہ سی تقریب تھی جس کو گھر میں ہی انجام دیا گیا تھا مہمان نہ ان کی طرف سے مدعو تھے نہ اچھی بیگم لائی تھیں مگر بارات میں ہزار سے بھی زائد باراتی لانے کا اعلان بھی کردیا تھا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔
’’چلو اچھا ہوا راستے کا کانٹا نکل گیا ورنہ مجھے نہیں لگ رہا تھا وہ لڑکی اتنی آسانی سے اس گھر سے نکلے گی سب کو ہی مٹھی میں کیا ہوا تھا۔‘‘
’’کیسے نہیں نکلتی بجیا اسے یوں راتوں رات نکلوانے کی حکمت عملی میری تھی میں نے بھی ایسا گیم کھیلا تھا وہ صوفیہ جو کسی طرح اس رشتے کو مان کر نہ دے رہی تھی ایک دن میں ہامی بھر چکی تھی۔‘‘ عمرانہ اسٹرابیری منہ میں رکھتی ہوئی فاخرانہ لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’میں سمجھ گئی تھی یہ تمہاری ہی کارستانی ہے‘ بچپن سے ہی تم اپنے حریفوں کو اسی طرح مات دیتی آئی ہو۔‘‘ ان کے درمیان کانچ کے سفید بائول میں ٹھنڈی ٹھار اسٹرابری رکھی تھیں جو وہ تینوں کھا رہی تھیں۔
’’یہ میں نے آپ سے ہی سیکھا ہے بجیا آپ کہتی ہیں اپنے دشمن کو کبھی معاف نہ کرو دشمن معاف کرنے کے قابل نہیں۔‘‘ وہ ان سے بڑے لگاوٹ بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہو‘ دشمن کو کبھی بھی معاف نہیں کرنا چاہیے یہ بات ممی کہا کرتی تھیں دشمن اور سانپ یکساں فطرت کے حامل ہوتے ہیں ڈسے بغیر چھوڑتے نہیں۔‘‘
’’آنٹی مجھے آپ کی پلاننگ فیل لگتی ہے۔‘‘ عروہ نے منہ بنا کر کہا۔
’’یہ بات آپ کیوں کہہ رہی ہیں میرے پلان میں آپ کو کہاں پہ ناکامی دکھائی دی؟‘‘ وہ بائول سے ہاتھ ہٹا کر حیرانی سے بولیں۔
’’کہاں ہے کامیابی آپ کہہ رہی تھیں زید کو وارننگ دے چکی ہیں کہ انہوں نے آپ کی بات نہ مانی تو آپ وصیت کرکے جائیں گی کہ مرنے کے بعد آپ کا چہرہ ان کو نہ دکھایا جائے وغیرہ وغیرہ۔‘‘
’’آپ اس قدر بددل کیوں ہورہی ہیں۔‘‘
’’وہ اس لیے آنٹی آپ نے مائدہ کی بھی منگنی کردی… کل خیر سے سودہ بیگم بھی منگنی شدہ ہوگئی… اب بچی تو میں ہوں نہ… جس کی منگنی دور کی بات رشتہ تک طے نہیں ہوا۔‘‘ وہ سخت برہم لہجے میں بولی۔
عمرانہ نے رضوانہ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا‘ وہ اول درجے کی زیرک نگاہ و جہاندیدہ عورت تھیں عمرانہ کی آنکھوں میں چھپی ناگواری و ناپسندیدگی ان کی نگاہوں سے چھپی نہ رہ سکی۔
’’عروہ کی خواہش جائز ہے عمرانہ‘ یہی عمر ہوتی ہے ایسی خوشیاں حاصل کرنے کی مائدہ کو دیکھتی ہو کتنی خوش ہے وہ من پسند ساتھی وقت پر مل جائے تو خوش نصیبی ہوتی ہے۔‘‘
’’وہ پہلے ہی مائدہ اور جنید کی منگنی سے ناخوش ہے کسی بھی قیمت پر جنید سے منگنی کرنے کو تیار نہ تھا وہ تو مائدہ کی گفتگو اتفاق سے سننے کے بعد ہامی بھری تھی ابھی وہ مائدہ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا ایک فاصلہ سا آگیا ہے ان کے درمیان۔‘‘
’’اب یہ تمہارا کام ہے عمرانہ زید کو راضی کرنا عروہ سے شادی کے لیے عفرا کے ساتھ ساتھ عروہ کے بھی کئی رشتے آرہے ہیں سب ہی لوگ دولت مند اور اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور میں دل پر پتھر رکھ کر انکار کررہی ہوں صرف تمہاری خاطر۔‘‘
’’میں نے آپ کو اپنی مجبوری بتائی ہے آپ ایسا کریں عفرا کے لیے کوئی تگڑا سا پرپوزل سلیکٹ کرلیں اور منگنی کردیں اس دور میں اچھے رشتے ملتے ہی کہاں ہیں زید کے راضی ہوتے ہی میں سیدھی بارات ہی لے کر آئوں گی یہ میرا وعدہ ہے۔‘‘ وہ بہن کا ہاتھ پکڑ کر یقین دلانے والے لہجے میں بولیں۔
’’یہ میں کس طرح کروں گی؟ بڑی بیٹی رہ جائے اور چھوٹی کی منگنی ہوجائے تو لوگ طعنے دے دے کر مار دیتے ہیں۔‘‘
’’اب وقت بدل گیا ہے چھوٹی کی کرو یا بڑی کی کچھ نہیں ہوتا۔‘‘
’’آپ مجھے کب تک زید کو راضی کرنے کے چکر میں لٹکا کر رکھیں گی‘ مجھے معلوم ہے وہ نہیں مانے گا اس رات میرے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے انہوں نے یہی کہا تھا کہ اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ میں دنیا کی آخری لڑکی ہوں تب بھی وہ مجھ پر تھوکنا پسند نہیں کریں گے۔‘‘ اس کے طنزیہ لہجے میں یک دم درد سمٹ آیا تھا۔
’’دل پہ مت لیں اس کی بات غصے میں بول دیا ہوگا۔‘‘ عمرانہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تمہاری محبت دیکھ کر ہی تو میرا دل عروہ کی کسی دوسرے شخص سے شادی کرنے پر راضی نہیں ہوتا پھر اس رشتے سے ہم بہنوں میں بھی یگانگت اور محبت جڑی رہے گی ورنہ پھر کہاں ایسی محبت رہتی ہے۔‘‘
/…ؤ …/
تیری خاموشی کے بھنور میں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
دیکھ کر بے رخی تیری مر جانے کو جی چاہتا ہے
تو کیا جانے راہ الفت کے ایم
سراپأ الفت بن کر تیرے دل میں اتر جانے کو دل چاہتا ہے
بہت کرتے ہو وفائوں کی باتیں تم
تیری وفا کو اب سر عام آزمانے کو دل چاہتا ہے
’’تم نے ماسی کو کیوں نہیں بتایا رات والے واقعے کا؟‘‘ آج اس نے یونیورسٹی سے چھٹی کی تھی جہاں آرأ شاپنگ کرنے گئیں تو بالی نے پوچھا۔
’’نانو کی عادت تم جانتی ہو نوفل کا ذکر آتے ہی ان کو اپنی پرانی روش پر لوٹ جانا ہے اور ویسے بھی وہ گاہے بگاہے نوفل کو الو بنا کر دولت لوٹنے کے گروں سے مجھ کو آگاہ کرتی ہیں ایسے میں وہ ساری حقیقت جان لیں تو نامعلوم کیا کر بیٹھیں گی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی تو بالی نے افسردگی سے کہا۔
’’سمجھ میں نہیں آتا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ماسی کو پیسے سے محبت کیوں ہے؟‘‘
’’پیسے سے محبت انسان کو انسانیت سے گرا دیتی ہے اور جب کوئی انسان گر جاتا ہے تو گری ہوئی حرکتیں ہی کرتا ہے‘ نہ اسے اپنی عزت کا خیال ہوتا ہے‘ نانو کا بھی یہی حال ہے۔‘‘
’’رات کے واقعے کا ایک حد تک مجھے دکھ ہے تو خوشی بھی ہے۔‘‘ بالی اس کے سرہانے بیٹھ کر بالوں میں مساج کرتی ہوئی بولی۔
’’دکھ کا تو سمجھ آتا ہے یہ خوشی والی بات سمجھ نہیں آئی مجھے۔‘‘ بالی کے روئی کے گالوں کی مانند ہاتھوں میں ایک سحر چھپا تھا وہ ہولے ہولے انگلیوں کو ایک خاص انداز میں حرکت دیتی ہوئی سر کے ہر گوشے کو سکون بخشتی تھی انشراح بھی اس کے سحر میں ڈوبتی ہوئی نیند کی آغوش میں جانے لگی تھی۔
’’تم اپنی چال میں کامیاب ہونے جارہی ہو وہ تمہارے جال میں بہت جلد پھنسنے والا ہے دیکھوں ناں جو کل تک تمہارا پکا حریف تھا‘ تمہاری اچھائیوں میں برائی ڈھونڈا کرتا تھا آج وہ تمہارے لیے ان بدمعاشوںسے لڑ پڑا کتنا خیال کیا اس نے تمہارا اس کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ہوگی ورنہ وہ شخص اتنا سنگ دل و کٹھور ہے کہ تمہیں ہوٹل میں لہو لہان دیکھ کر بھی چلا گیا تھا اب اتنی معمولی سی چوٹ پر اس کا پاگل پن بہت معنی رکھتا ہے۔‘‘
’’تم دیکھتی جائو ابھی میں اس کا حشر کیا کروں گی۔‘‘
تب ہی عاکفہ کی کال آگئی وہ بہت پریشان ہورہی تھی جامعہ جانے پر نوفل اور بابر کی زبانی اسے حقیقت حال کا پتا چلا تھا۔
’’میرا دل کررہا ہے میں اڑ کر تمہارے پاس پہنچ جائوں مگر تمہاری نانی سے خوف آتا ہے کل ہی انہوں نے بڑی مشکل سے اجازت دی تھی آج تو وہ مجھے گیٹ کے اندر بھی قدم نہیں رکھنے دیں گی۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں یار‘ بہت معمولی سی چوٹ تھی اب خاصی بہتر ہے۔‘‘ اس نے اسے تسلی دی‘ ساتھ عاکفہ کے کہنے پر وہ اسکائپ پر ویڈیو کال پر آگئی تھیں بالی ایک طرف ہوگی۔
’’خاک ٹھیک ہو‘ فیس پر ابھی بھی سوجن ہے اور زخم صاف دکھائی دے رہا ہے کیسا مارا ہے اس ظالم نے اللہ کرے اس کے ہی ہاتھ ٹوٹ جائیں مر جائے کمبخت کہیں کا بیڑہ غرق ہو اس کا۔‘‘
’’ارے… بس بھی کرو کیا بڑھی کھوسٹ عورتوں کی طرح بد دعائیں دے رہی ہو‘ جو ہونا تھا وہ ہوگیا ویسے بھی میرے ساتھ کوئی نہ کوئی ٹریجڈی ہوتی ہی رہتی ہے اس بار یہ چوٹ ہی سہی۔‘‘ وہ بے فکری سے مسکرائی۔
’’نوفل بھائی بہت گلٹی فیل کررہے ہیں کہ یہ سب ان کی وجہ سے ہوا… اگر وہ نہ روکتے تو ایسا نہیں ہوتا کار روکنے کا فیصلہ ان کا بہت غلط ثابت ہوا۔‘‘ عاکفہ بولی۔
’’تم کیوں نوفل کی ترجمان بنی ہوئی ہو یہ خود ایکسیوز کرے گا۔‘‘ بابر نے کہتے ہوئے عاکفہ کو دور کیا پھر اس کی خیریت معلوم کرتا ہوا خود بھی دور ہٹ گیا‘ اب سامنے اسکرین پر نوفل تھا اس کے چہرے پر بے حد سنجیدگی تھی چند لمحوں تک وہ نگاہیں جھکائے کھڑا رہا شاید لفظوں کو ترتیب دے رہا تھا۔
’’کیسی ہو تم… آئی مین آپ کیسی ہیں؟‘‘ اس کے گڑبڑانے پر اس کے ساتھ ساتھ بالی نے بھی اپنی مسکراہٹ بمشکل ضبط کی‘ بالی سائیڈ میں بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی۔
’’ایم فائن‘ آپ مجھے تم کہہ کر ہی مخاطب کریں بی کوز مجھے معلوم ہے آپ کو لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے آئی مین عادت نہیں ہے ڈونٹ مائنڈ۔‘‘ بالی کو ہنسی دبانی مشکل ہوگئی۔
’’یس… آف کورس مجھے لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز ہے نہ عادت لیکن کچھ کام مجبوری میں بھی کرنے پڑتے ہیں اور مجبور کون کرتا ہے ہمیں ہمارا ضمیر اسی کے دبائو میں آکر میں تمہاری خیریت معلوم کرنا چاہ رہا ہوں۔‘‘ اس کا لہجہ نارمل تھا مگر وہ لفظوں کو جما جما کر ادا کررہا تھا اس کے لہجے میں کچھ ایسا وقار و تمکنت تھی کہ وہ فوراً ہی کوئی جواب نہ دے سکی تھی۔ بالی کی ہنسی کو بھی گویا بریک لگ گئے تھے۔
’’جی… میں بالکل خیریت سے ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی۔ ساتھ ہی اسکائپ لاگ آئوٹ کردیا تھا۔
/…ؤ …/
’’یہ پیارے میاں تو بہت ہی لٹو ہیں تم پر اور ان سے زیادہ تمہاری ساس جو ہر دوسرے دن بھاگے بھاگے چلے آتے ہیں۔‘‘ بوا کی زبانی ان کی آمد کی خبر سن کر مائدہ طنزاً گویا ہوئی۔
’’ایک میری مدر ان لاء ہیں ان کو بیٹے کی خوشی کا ہی احساس نہیں… دو ماہ ہوگئے ہیں پرپوزل ایکسیپٹ کیے ہوئے مجال ہے جو ایک فون ہی کرلیا ہو انتہا کے پوزیسو اور سیلفش لوگ ہیں وہ جنید کی دادی بھی ایک بار آکر رہ گئیں اور یہاں منگنی کو آٹھ دن ہوئے ہیں جن میں سے چار دن وہ آچکے ہیں۔‘‘
چوٹی باندھتی سودہ کو وہ سنا رہی تھی اور وہ خاموش تھی کہ بات تو سچ تھی ہر دوسرے دن ان کا آنا اور آنے سے قبل اچھی بیگم فون کرکے ناشتے اور پھر کھانے کی فرمائش کرتی تھیں اور صرف اس پر ہی اکتفا نہیں تھا دوسرے دن کے لیے کھانا بندھوا کر بھی لے جاتی تھیں صوفیہ اعتراض کے باوجود صبر سے کام لے رہی تھیں پھر زمرد اور منور نے سختی سے منہ بند کرنے کی بھی ہدایت دے رکھی تھی۔
’’بٹیا اچھی آپا تمہیں دیکھنے کے لیے بے قرار ہورہی ہیں اس لیے بلا رہی ہیں۔‘‘ اطلاع کے بعد اب بوا اس کے بلانے چلی آئی تھیں۔
’’اچھی آپا ہاہاہاہا بوا وہ عمر میں آپ سے دس بارہ سال چھوٹی ہی ہوں گی اور آپ انہیں آپا کہہ رہی ہو۔‘‘ مائدہ ہنستی ہوئی گویا ہوئی۔
’’ارے… میں ہی کیا بٹیا ان کو تو چھوٹے بڑے سب ہی آپا کہتے ہیں سنتے سنتے میرے منہ پر بھی آپا چڑھ گیا۔‘‘ بوا نے ہنستے ہوئے کہا اور دوبارہ سودہ کو جلدی چلنے کو کہا۔
’’جائو نہ جلدی کرو‘ کیوں تڑپا رہی ہو ماں و بیٹے کو‘ جاکر اپنے پیارے پیارے نازک سے ہاتھوں سے ان کو لقمے بنا کر کھلائو۔‘‘ اس کے لہجے میں حسد و جلن صاف محسوس ہو رہا تھا وہ کچھ کہے بنا بوا کے ساتھ کمرے سے نکل آئی‘ اس کے منہ لگنا فضول تھا۔
’’مائدہ بیٹی نے اب تم سے جلنا شروع کردیا ہے سسرال والے ان کو پلٹ کر جو نہیں پوچھتے‘ حسد وہ تم سے کرنے لگی ہیں۔‘‘
’’چھوڑیں بوا ایسی باتیں مت کیا کریں اچھا نہیں لگتا مجھے۔‘‘
’’خوش رہو بیٹا‘ تم تو اپنے دشمنوں کے لیے بھی برا نہیں سوچ سکتی۔‘‘ ڈرائنگ روم میں سب موجود تھے وہ جھجکتے ہوئے اندر سلام کرتی داخل ہوئی‘ اچھی آپا نے اٹھ کر اس کی پشانی چومی‘ گلے لگایا اور ہاتھ پکڑ کر قریب ہی بیٹھاتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’میری تمنا ہوتی ہے گھر میں آتے ہی تمہیں دیکھوں تمہارا یہ پیارے سا مکھڑا ہر وقت میری نگاہوں میں بسا رہتا ہے میں روز دن گن گن کر گزار رہی ہوں کہ کب یہ روپ کی ملکہ میرے آنگن میں خوشبو بکیھرے گی۔‘‘ انہوں نے اسی صوفے پر اسے بٹھایا تھا جس پر پیارے میاں بھی بیٹھے تھے ان کی پُرشوق نگاہوں کی تپش وہ محسوس کررہی تھی۔
’’اماں میرے دل کی ترجمانی کررہی ہیں۔‘‘ وہ جھک کر سرگوشی میں بولا۔
’’چند ہفتے رہ گئے ہیں سودہ کو دلہن بن کر آپ کے گھر آنے میں۔‘‘
’’اف… یہ چند ہفتے نہیں… صدیاں ہیں صدیاں جو گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔‘‘ اس نے پھر سرگوشی کی۔
’’بھابی سودہ میری بچی ہے جہیز کے لیے خوار مت ہونا معمولی سا سامان ہونا چاہیے اللہ کا دیا سب ہے میرے گھر میں میری طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی ڈیماند نہیں ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں سچائی۔
’’جو اس کا نصیب ہوگا وہ لے جائے گی یہاں نہ تم انکار کرسکتی ہو نہ ہم اصرار۔‘‘ منور صاحب نے مروت بھرے لہجے میں کہا۔
’’یہ بات درست ہے کیا بوا نے چائے نہیں پکائی ابھی تک۔‘‘ وہ وال کلاک دیکھتی ہوئی حیرانی سے گویا ہوئیں۔
’’اماں پندرہ منٹ ہوئے ہیں آئے ہوئے اور آپ کو چائے کی طلب بھی محسوس ہونے لگی۔‘‘ پیارے میاں ماں کی اس بے تکلفی سے پریشان ہوئے۔
’’بوا ٹیبل لگانے ہی گئی تھیں میں دیکھتی ہوں جاکر۔‘‘ سودہ جو سب کی موجودگی پیارے میاں کی والہانہ نظروں اور سرگوشیوں سے حواس باختہ ہورہی تھی‘ موقع ملتے ہی ہَوا کی مانند وہاں سے نکل گئی۔
’’ارے کیسی باتیں کرتے ہو میاں اچھی آپا شروع سے کھانے پینے کی شوقین ہیں یہ گھر ان کا اپنا ہے منہ سے مانگ کر کھانا ان کا حق ہے۔‘‘ منور صاحب نے کہا۔
/…ؤ …/
سمندر کے سینے پر رواں دواں ایک شپ پر اس نے عاکفہ‘ بابر اور انشی کو ڈنر پارٹی دی تھی اسے یقین نہ تھا کہ وہ آئے گی لیکن اس کے سارے اندیشے بے بنیاد ثابت ہوئے‘ وہ آگئی تھی گرین کلر کی لانگ گھیر دار فراک پر سنہری موتیوں اور کندن کا کام ہوا تھا ساتھ ہم رنگ دوپٹے پر بھی ایسا ہی سنہری کام تھا چوڑی دار پاجامہ شاہانہ چھب دکھا رہا تھا کمر سے نیچے جاتے سرخی مائل گولڈن بالوں کی آبشار اس کی پشت پر گری ہوئی تھی‘ چہرہ میک اپ سے مبرا ہوکر بھی چاند کو شرما رہا تھا۔ اس نے دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ حسن‘ سادگی‘ بے نیازی کیا کچھ نہ تھا انداز میں نامعلوم کیسی جادو گری تھی کہاں کا فسوں تھا کہ وہ اپنی حالت سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا خود کو سنبھالنے کی سعی میں نڈھال ہوا جارہا تھا۔
کھانا پُرتکلف انداز میں کھایا گیا‘ اندر سے جو اس کی حالت تھی وہ ہی جانتا تھا لیکن باہر سے اس نے خود کو سنبھالا ہوا تھا عاکفہ اور بابر کو بھی پہلی بار ہی تنہائی ملی تھی اور کچھ ماحول کی رومانیت کا بھی اثر تھا وہ ان سے بے نیاز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے شپ پر بنے چھوٹے سے تھیڑ میں پوپٹ شو ہورہا تھا عاکفہ اور بابر وہ دیکھنے چلے گئے ان دونوں نے جانے سے منع کردیا تھا۔
وہ ٹیرس پر چلی آئی‘ آسمان صاف تھا قمری تاریخیں تھیں چاند غائب تھا سمندر پُرجوش تھا اور سمندر کے سینے پر رواں دواں خوب صورت روشنیوں سے جگمگاتا وہ شپ ایک چھوٹے سے شہر کا نقشہ پیش کررہا تھا وہاں ہر سو پانی ہی پانی تھا اور اندھیرے میں تیرتا وہ روشنیوں سے جگمگاتا شہر‘ روشنی و اندھیرے کا سنگم فسوں خیز تھا۔
’’آپ کو کٹھ پتلی تماشہ پسند نہیں؟‘‘ وہ اس کے قریب آکھڑا ہوا۔
’’ہم خود کٹھ پتلی ہیں اپنا تماشہ کیا دیکھنا‘ بائی دا وے آپ مجھے آپ نہ کہا کریں‘ تم کہہ کر ہی مخاطب کیا کریں۔‘‘ وہ اس کی طرف پلٹی ہوئی مسکرا کر گویا ہوئی۔
’’تم کہہ کر مخاطب کروں اور بدتمیز کہلائوں…‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
’’بدتمیز تو آپ ہیں اس میں کیا شک؟‘‘
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)
(الحمدللہ مسلسل اشاعت کے چالیس سال مکمل)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close