Aanchal Feb-18

وہ جو ایک میں تھا

یاسمین نشاط

’’ارے واہ…!‘‘ اس نے یونیورسٹی میں اپنے آس پاس رنگ برنگی تتلیاں دیکھیں تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا‘ جامعہ میں انٹری نے دل خوش کردیا تھا۔ پھر اس نے مڑ کر داخلی گیٹ کی جانب دیکھا اور پھر سامنے… نہیں وہ غلط جگہ نہیں آیا تھا‘ یہ جامعہ ہی تھی‘ کوئی مینا بازار نہیں۔
’’نواں آیا ایں سونہیا…‘‘ کسی نے اس کے کندھے پر بے تکلفی سے ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر مڑا‘ وہ تین لڑکے تھے۔
’’میں‘عبدالمعیز‘ سکندر اور نعمان۔‘‘ لڑکے نے تعارف کروایا۔ ذیان نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا جسے گرم جوشی سے تھام لیا گیا تھا۔
’’مجھے ذیان شاہ کہتے ہیں۔‘‘
’’ویلکم ذیان شاہ۔‘‘ وہ تینوں بیک آواز بولے۔ ذیان کو لگا اس کے جامعہ میں دن بہت اچھے گزرنے والے ہیں۔ وہ تینوں بہت نائس لڑکے تھے‘ عبدالمعیز ایک وڈیرے کا بیٹا تھا‘ بہاول پور سے آیا تھا۔ سکندر کا باپ کسی سرکاری دفتر میں معمولی کلرک تھا۔ بیٹے کو پڑھا لکھا کر اعلیٰ افسر بنانا چاہتا تھا۔ جبکہ نعمان کسی بزنس مین کی اکلوتی اولاد تھا۔ وہ سب کتابی کیڑے تھے۔ اپنے ماں باپ کے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے آئے تھے اور نہایت تندہی سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں تھے۔
انہیں یہاں سیٹ ہونے میں چند دن ہی لگے تھے۔ یوں بھی یونیورسٹی میں دل لگانے کی بہت سی چیزیں تھیں۔ دل کیوں نہ لگتا۔
ء…/…ء
یشال نے جیسے ہی اپنی کتاب اٹھائی ایک خوب صورت سا کارڈ پھسل کر اس کے قدموں میں آگرا۔ اس نے کارڈ اٹھایا اور اس پر لکھی تحریر پڑھ کر حیران رہ گیا۔ بلا ارادہ ہی اس نے دائیں بائیں دیکھا‘ یہ کارڈ اس کی بک میں کہاں سے آیا تھا؟ اس نے کارڈ پر نظریں جمائیں کارڈ کے اوپر ایک ننھا سا سرخ رنگ کا دل بنا ہوا تھا اور ذرا ہٹ کر ایک دروازہ غالباً شیشے کا… نیچے بڑے بڑے جلی حروف میں ایک شعر درج تھا۔
ایک تیرا نام کہ ہر دم ہے وظیفہ مجھ کو
اک میری بات کہ برسوں میں سنی جاتی ہے
یشال حیدر کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ اس نے جلدی سے کارڈ کے پرزے کیے اور ڈسٹ بن میں ڈال دیئے۔ یہ حرکت کی کس نے تھی؟ وہ سوچنے لگا‘ کیا کالج میں… یا پھر ٹیوشن پڑھنے والی بچیوں میں سے کسی نے‘ لیکن اتنی چھوٹی بچیاں یہ حرکت کیسے کرسکتی تھیں؟ وہ الجھا ہوا سا ردا کی طرف آگیا‘ وہ اس وقت تخت پر بیٹھی امی جان کے سر میں تیل لگا رہی تھی۔ اسے مناسب نہیں لگا کہ ماں کے سامنے یہ بات پوچھے اس لیے خاموشی سے بیٹھ گیا۔ ملیحہ نے اسے بیٹھتے دیکھا تو اسے بھی آفر کی۔
’’ادھر آئو تمہارے بھی سر میں مالش کردوں‘ کیسا روکھا سر ہے تمہارا۔‘‘
’’نہیں امی جان۔‘‘ اس کی نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز تھیں‘ ماں تھیں جان گئیں‘ کچھ مسئلہ ہے۔
’’کیا ہوا‘ پیسے چاہیں؟‘‘ مہینے کا اینڈ تھا‘ ذہن میں آیا شاید پیسوں کی ضرورت ہو‘ اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
’’ارے واہ امی… وہ جو دوپہر میں‘ میں کہہ رہی تھی فئرویل کے لیے ایک سوٹ دلادیں تو کتنی سہولت سے منع کردیا۔‘‘ ردا کا شکوہ عود کر آیا۔ ملیحہ ہنس دیں۔
’’جب وسائل محدود ہوں تو بیٹا سب سے پہلے ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب میرا سوٹ ضروری نہیں ہے کیا؟‘‘ وہ خفا ہوئی۔
’’ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے گردن گھما کر بیٹی کو دیکھا‘ جو بہت سمجھدار تھی اور بے جاضد نہیں کرتی تھی۔
’’لیکن بیٹا‘ ایک بالکل نیا سوٹ جو تم نے ابھی ایک دفعہ ہی پہنا ہے کام آسکتا ہے۔‘‘
’’وہ تو ساری دوستوں نے دیکھ لیا ہے ناں۔‘‘ اس کے کانوں میں اپنی سہیلیوں کی باتیں گونجنے لگی تھیں۔ جو روز بیٹھ کر ڈسکس کیا کرتی تھی کس نے کس ڈیزائن کا سوٹ سلنے دے دیا ہے اور وہ خاموشی سے بیٹھی ان کی باتیں سنتی رہتی تھی۔
’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے بیٹا؟‘‘ ملیحہ کو حیرانی ہوئی‘ ردا کبھی بحث نہیں کرتی تھی لیکن آج اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔ یشال نے بہن کی طرف دیکھا۔ پھر کچھ سوچ کر مسکرادیا۔
’’کوئی بات نہیں ردا… تم جو سوٹ لینا چاہتی ہو لے لو‘ فیئر ویل کب ہے؟‘‘
’’ہائے بھائی…!‘‘ وہ خوشی سے چھلانگ مار کے بھائی کے پاس آئی اور جوش کے مارے اپنے تیل سے سنے ہاتھ اس کے بالوں میں گھسا دیئے۔
’’پاگل‘ سارے بال خراب کردیے‘ ابھی کسی سے ملنے جانا تھا۔‘‘ یشال نے اپنے چپچپے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے گھرکا‘ اس نے فوراً معذرت کی۔ ’’میں تھوڑا سا کام کر آئوں‘ پھر میرے ساتھ چلنا‘ اپنی مرضی کا سوٹ لے لینا۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا تو ردا خوش ہوگئی۔
’’شکریہ بھائی… آپ بہت اچھے ہیں۔ ورنہ میں ہلکان ہو رہی تھی کہ میں اپنا پرانا سوٹ پہن کر کیسے جائوں گی۔‘‘ ملیحہ اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
یشال باہر نکل گیا‘ ملیحہ تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گئی‘ آج سارا دن انہوں نے سردیوں کے کپڑے سمیٹے تھے اور الماریوں میں فینائل کی گولیاں رکھی تھیں‘ اب تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی‘ ردا تیار ہونے چلی گئی تھی۔ اسی وقت بیل ہوئی تھی۔
’’اب کون آگیا؟‘‘ ملیحہ نے لیٹے ہوئے سوچا۔
’’میں دیکھتی ہوں امی۔‘‘ ردا نے آواز لگائی اور اگلے ہی پل اس کی چہکتی آواز سنائی دی۔
’’ارے تم… کتنے دنوں بعد آئی ہو‘ جب سے اسکول والوں نے فری کیا ہے‘ آج شکل دکھائی دی ہے تمہاری۔‘‘ وہ شکوہ کررہی تھی۔
ملیحہ جان گئی تھیں کہ میرب آئی ہے اور تھوڑی دیر بعد وہ دروازے میں کھڑی ان کو سلام کہہ رہی تھی۔
’’دیکھیں تو آنٹی‘ میں ردا کے لیے کیا لائی ہوں۔‘‘ وہ ان کے قریب بیٹھ کر ہاتھ میں پکڑے گفٹس پیک کھولنے لگی۔ ردا شوق سے فرش پر دوزانو بیٹھ گئی۔ میرب نے پیکنگ کھولی تو ایک بے حد خوب صورت چمکتا سوٹ پھسل کر ردا کی گود میں آگرا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے بے حد حیرت سے میرب کو دیکھا سمجھ تو وہ گئی تھی لیکن پوچھنا لازمی سمجھا۔
’’یہ آنٹی کا سوٹ ہے۔‘‘ میرب نے جلدی سے سوٹ اٹھا کر آنٹی کے پاس رکھا اور ان کے کچھ بولنے سے قبل ہی بول اٹھی۔
’’نو انکار… یہ سوٹ آپ کے لیے بی بی جان نے بھجوایا ہے۔ وہ عمرہ کرکے آئی ہیں ناں… اور یہ تسبیح اور جاء نماز بھی۔‘‘ میرب نے ایک اور چھوٹا پیک ان کی طرف بڑھایا… ملیحہ نے خاموشی سے گفٹ تھام لیا… وہ کیا کہتیں۔
’’اور یہ سوٹ اور بیگ تمہارا۔‘‘ اس نے دوسرا گفٹ پیک ردا کو تھمایا۔ اس نے ایک نظر ملیحہ پر ڈال کر قدرے ہچکچاہٹ سے گفٹ تھاما۔
’’یہ بہت زیادہ نہیں ہوگیا میرب؟‘‘ ملیحہ نے نرمی سے کہا۔
’’کچھ بھی نہیں آنٹی… اور…‘‘ اب وہ قدرے متذبذب نظر آرہی تھی۔
’’اتنا زیادہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ ردا کو بھی شرمندگی محسوس ہوئی۔
’’کیسی غیروں والی باتیں شروع کردی ہیں آپ لوگوں نے؟‘‘ میرب خفا ہوگئی۔ ’’میں اتنے شوق سے لائی ہوں اور ردا‘ بالکل ایسا ہی سوٹ میں نے اپنے لیے بھی سلیکٹ کیا ہے۔ میں نے تو سوچا تھا دونوں ایک جیسا ڈریس پہنیں گی فیئر ویل پہ‘ لیکن تم…‘‘ وہ ناراض ہوگئی۔
’’اچھا ناں اب ناراض مت ہو… بہت بہت شکریہ۔‘‘ میرب نے اسے گلے لگالیا۔ ملیحہ نے بھی پیار کیا تو وہ ہلکی پھلکی ہوگئی۔
’’کیا کھائوگی؟‘‘ اب ردا میرب کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی اور میرب نے کئی بار چور نظروں سے یشال کے کمرے کی طرف دیکھا۔
’’آج ہی بھائی نے مجھے نیا سوٹ دلانے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘ ردا نے کہا۔
’’چلو اب بھائی کے پیسے بچ گئے۔‘‘ میرب ہنسی‘ پھر جب ردا اس کے لیے چائے پکانے کچن میں گئی تو میرب جلدی سے پرفیوم کی بوتل یشال کی الماری میں رکھ آئی۔ ہمیشہ کی طرح خاموشی سے اور یہ محبت ہی تھی جو اسے بھٹکائے پھر رہی تھی۔ دن بھر وہ اپنے دل کو بہلاتی رہتی‘ ادھر ادھر کے کاموں میں الجھائے رکھتی لیکن رات ہوتے ہی یشال حیدر اپنی تمام تر وجاہت سمیت اس کے خیالوں میں گھسا چلا آتا‘ اور وہ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیئے جانے کون کون سے جہانوں کی سیر کر آتی۔ اسے اپنے دل پہ اختیار تھا نہ ہی اپنی آنکھوں پر… وہ جب ایک بار محبت کے جھولے پر بیٹھتی تو پھر دور تک جھول کر ہی آتی۔ کتنی بے اماں ہوتی ہے وہ محبت جس کا انجام آپ کو معلوم ہو اور آپ پھر بھی اسے حرز جان بنائے پھریں‘ اور نارسائی کے اس ناگ نے ڈس ڈس کر اسے آدھ موا کردیا تھا۔ یہ تصور ہی اس کے لیے سوہان روح تھا کہ اسے یشال حیدر کی نہیں بلکہ ذیان شاہ کی منکوحہ بننا تھا اور یہ کیسی محبت تھی جس کے بارے میں نہ تو وہ کسی کو بتاسکتی تھی نہ کسی سے شیئر کرسکتی تھی۔ اندر ہی اندر پنپنے والی محبتیں بڑی خطرناک ہوا کرتی ہیں۔
نہ بولیں‘ تو کچھ نہ بولیں‘ بول پڑیں تو سب کچھ تہس نہس کر ڈالتی ہیں‘ اور اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔
ء…/…ء
’’سڑکوں پر رل رہے ہیں تیرے جیسے ادیب۔‘‘ ذیان نے افسردگی سے سر جھکائے بیٹھے سکندر کو چھیڑا… سکندر نے آخری کش لے کر سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا… وہ چین اسموکر تھا… وقفہ آنے ہی نہ دیتا۔
’’پتہ ہے یار ذیان… میں ایک ایسی لو اسٹوری لکھنا چاہتا ہوں جو آج سے پہلے کسی نے نا لکھی ہو۔ لوگ پچھلی ساری محبت کی کہانیاں بھول جائیں۔‘‘ اس کی نظریں کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز تھیں اور ذہن کسی ایسے کردار کی تراش خراش میں مشغول تھا جو امر ہوجائے‘ لوگ اس کردار کے حوالے سے بات کریں‘ مثالیں دیں۔
’’تو پھر اپنی کہانی ہی لکھ لو۔‘‘ ذیان دل کھول کر ہنسا‘ سکندر کو اس کا مذاق اڑانا برا لگا۔
’’تم جیسے ادب سے نابلد شخص سے بات کرنا ہی فضول ہے۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اسی دم نعمان اور عبدالمعیز اندر داخل ہوئے تو ان کی توجہ ادھر ہوگئی۔ لیکن سکندر ذیان کی بات کو ذہن سے نکال نہیں سکا تھا۔
پندرہ دن بعد جب ذیان گھر گیا تو اس کے دل کی حالت دیدنی تھی۔ ان پندرہ دنوں میں کون سا ایسا لمحہ تھا جب اس نے نیلی آنکھوں کو یاد نہیں کیا ہو۔ اس نے جب بھی فون کیا شجیعہ سے پہلا سوال میرب کے بارے میں ہی کیا تھا اور اس کا ترنت جواب آیا تھا۔
’’وہ بھی بہت اداس ہے آپ کے جانے کے بعد…‘‘ اور ذیان شاہ کے دل میں کھلے محبت کے بیل بوٹوں کی آبیاری ہوگئی تھی۔ بہت اچھے موڈ میں اس نے گھر میں قدم رکھا اور سارا رستہ دعا کرتا آیا تھا کہ جاتے ہی اس سے سامنا ہوجائے اور ہوتی ہیں کچھ گھڑیاں ایسی انمول کہ آپ سوچیں اور وہ ہوجائے‘ یہی کرشمہ ہے اور یہی معجزہ۔
وہ سامنے بیٹھی تھی‘ ہلکی ہلکی دھوپ میں‘ اپنے سنہرے وجود میں کرنیں سمیٹے‘ گیلے بال پشت پر بکھرائے اردگرد سے بے نیاز‘ سامنے کینوئوں کی باسکٹ تھی۔ مشترکہ لان کے دوسرے سرے پر وہ تھی اور اس سرے پر وہ… وہ چند ثانیے کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر آگے بڑھ آیا… وہ یا تو اس کی آمد سے انجان تھی یا بن رہی تھی۔ ایک بار بھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا اس نے‘ ذیان اسی طرح اندر چلا گیا اور لائونج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے ایک بار پھر پلٹ کر دیکھا لیکن وہ اب بھی اپنے دھیان میں مگن بیٹھی تھی۔ وہ ایک ہفتے کی چھٹی پر آیا تھا اور وہ اس ایک ہفتے میں اسے چند بار ہی دیکھا تھا‘ اس نے شجیعہ سے پوچھا تو وہ ہنس دی۔
’’اللہ… بھائی آپ کو پتہ نہیں اس کے ایگزامز چل رہے ہیں آج کل۔‘‘
’’ابھی سے کب…؟‘‘ اس کے جواب پر ذیان نے ابرو چڑھائے۔
’’میرا مطلب ہے شروع ہونے والے ہیں ناں۔ اکثر وبیشتر اس کی دوست ردا بھی آئی ہوتی ہے‘ یا پھر یہ ادھر چلی جاتی ہے۔‘‘ شجیعہ نے وضاحت سے بتایا تو ذیان کو اور عجیب لگا۔
’’یہ چچی اور چچا صاحب اتنے براڈ مائنڈڈ کب سے ہوگئے‘ اس طرح آنا جانا۔‘‘ ذیان کو اعتراض ہوا۔
’’ردا اچھی لڑکی ہے‘ آتی جاتی رہتی ہے‘ ہم سب مل چکے ہیں۔ چھوٹی اماں نے دیکھ بھال کر ہی اجازت دی ہوگی‘ اچھا اب یہ چھان بین بند کریں اور لائیں آج کیا گفٹ دینا ہے؟‘‘ شجیعہ نے ہاتھ پھیلائے۔
’’نہیں آج کوئی گفٹ نہیں ہے۔‘‘ وہ پُرسوچ انداز میں گویا ہوا۔
’’آج مجھے اس سے بات کرنی ہے کل میں جارہا ہوں‘ پھر شاید تین چار ماہ نہ آسکوں۔‘‘
’’اور یہ آپ کیسے کریں گے؟ وہ تو کافی دنوں سے ادھر نہیں آئی۔‘‘ شجیعہ کا انداز مذاق اڑانے والا تھا۔
’’تم لے آنا… بہانے سے۔‘‘ وہ اس کے ذمہ لگا کر اپنے کمرے میں بند ہوگیا اور شجیعہ سوچ میں پڑگئی کہ اسے ادھر کیسے لائے وہ تو بے حد مصروف تھی۔ وہ دوبار چکر لگا آئی تھی‘ لیکن اسے کتابوں میں ہی گم پایا تھا لیکن رات کو وہ خود ہی آگئی‘ شاید نہا کر آئی تھی‘ گیلے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ بی جان اور وہ اس وقت چائے سے شغل کررہی تھیں… سردی جاتے جاتے ایک بار پھر لوٹ آئی تھی۔
’’سلام بی جان۔‘‘ وہ آتے ہی لحاف میں گھس گئی۔
’’جیتی رہو… اس وقت کیوں نہائیں بیٹا؟‘‘ انہوں نے ڈرائی فروٹ کی پلیٹ اس کے آگے رکھی‘ ساتھ ہی پوچھا۔
’’تھک گئی تھی پڑھتے ہوئے سوچا فریش ہوجائوں گی۔‘‘ اس نے کشمش منہ میں رکھتے ہوئے کہا پھر شجیعہ کی طرف متوجہ ہوئی۔ وہ اب اس کے لیے کپ میں چائے انڈیل رہی تھی۔
’’تم دوبار آئیں… میں بزی تھی‘ کوئی کام تھا کیا؟‘‘
’’آں… وہ… نہیں تو…‘‘ شجیعہ گڑبڑائی۔ ’’ایسے ہی بس… بور ہو رہی تھی۔‘‘ اس نے فٹافٹ بات بنائی… بی جان چائے ختم کرکے اٹھ گئیں۔
’’اچھا بھئی لڑکیوں… میں تو چلی اپنے کمرے میں‘ تم لوگ باتیں کرو اور شجیعہ بیٹا تم سونے سے پہلے ذرا میری ٹانگ کی مالش کردینا۔‘‘ انہوں نے باہر جاتے ہوئے کہا تو شجیعہ نے سعادت مندی سے سر ہلادیا۔ ان کے جاتے ہی شجیعہ بھاگ کر اس کے ساتھ لحاف میں گھس گئی۔
’’تمہاری تیاری کیسی ہورہی ہے؟‘‘ میرب نے چائے کا سپ لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ شجیعہ نے چلغوزوں کی مٹھی بھری جو اس کے فیورٹ تھے۔
’’بس سو سو ہے… یار میں تو کہہ رہی ہوں‘ جلدی سے یہ دو سال گزریں‘ میٹرک کرکے فارغ ہوں‘ مجھے بالکل بھی پڑھنے کا شوق نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں تمہیں تو بس بچے پالنے کا شوق ہے‘ کچھ پڑھ جاؤگی تو تمہارا ہی بھلا ہوگا۔‘‘ میرب نے ڈانٹا… وہ ایک سال بڑے ہونے کا خوب فائدہ اٹھاتی تھی۔
’’چھوڑ‘ جب پالنے ہی بچے ہیں تو ایویں دماغ کھپائی کا فائدہ… تم کہو تمہارے بھیا کو شوق تو نہیں ہے ناں پڑھی لکھی بیوی کا؟‘‘ وہ شرارت سے بولی۔
’’ابھی تو نہیں…‘‘ میرب نے کندھے اچکائے۔ ’’لیکن اگر کل پڑھ لکھ کر وہ اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگیا تو‘ پھر کچھ کہہ نہیں سکتی۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’جان سے نہ مار ڈالوں گی کسی اور کی طرف دیکھے تو سہی۔‘‘ شجیعہ کے تیور خطرناک ہوگئے‘ میرب بس اسے دیکھتی رہ گئی۔
اور تھوڑی دیر بعد وہ جب اپنے پورشن کی طرف جارہی تھی‘ وسیع وعریض سے لان سے گزر کر اسی وقت ذیان شاہ سامنے آگیا۔ وہ ایک دم گھبرائی اور سائیڈ سے ہوکر قدم آگے بڑھانے لگی تھی کہ وہ پھر سامنے آگیا۔
’’تم مجھے اتنا اوائیڈ کیوں کرتی ہو؟‘‘ اس نے گہری نظروں سے تکتے پوچھا۔ میرب نے فوراً سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا۔ وہ کبھی اس طرح ذیان کے سامنے نہیں آئی تھی۔
’’نہیں تو…‘‘ اس نے نظر چرائی… وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
’’تو پھر میری محبت کے جواب میں تم نے کبھی کچھ کہا کیوں نہیں؟‘‘ اب وہ سینے پہ ہاتھ باندھے سیدھا اس کے چہرے کو تک رہا تھا۔ کسی بھی قسم کے خوف سے بے نیاز… جبکہ میرب کو عجیب سی گھبراہٹ نے آن گھیرا تھا۔ اس میں دیکھ لیے جانے کا خوف ہرگز نہیں تھا۔
’’میرب…‘‘ اس نے دل کی تمام شدتیں سمو کر اسے پکارا۔ وہ چاہ کر بھی نظریں نہیں اٹھا سکی تھی۔ محبت اگر ہمیں وہاں سے مل رہی ہو‘ جہاں سے ہمیں طلب نہ ہو تو وہ ایسے ہی ہے جیسے بھرے پیالے کو اور بھرنے کی کوشش کی جائے‘ ذیان شاہ کی محبت بھی اس کے لیے کچھ ایسی ہی تھی۔ بے معنی‘ بے مقصد‘ اس کے جی میں آیا کہ ذیان شاہ سے کہہ دے‘ اسے اس کی محبت کی نہ طلب ہے نہ خواہش… وہ اس پر اپنی محبت ضائع نہ کرے‘ لیکن کہہ نہ سکی‘ اور وہ اس کے دل کی آواز سے بے خبر اپنے دل کی کہتا رہا‘ آنکھیں موندے اور جب جذب میں ڈوبے اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ وہاں نہیں تھی۔ بس اس کی خوشبو تھی‘ ہلکی خنکی اور مدھم چاندنی‘ اس کے دل نے پہلی بار اسے آگہی بخشی تھی کہ میرب شاہ اس سے محبت نہیں کرتی۔
ء…/…ء
خوشبو محبت کا پیغام ہوا کرتی ہے‘ یشال حیدر اس خوشبو کی بوتل کو گھور رہا تھا جو اس کے کپڑوں کی تہوں سے برآمد ہوئی تھی اور وہ سکینڈ کے ہزارویں حصے میں جان گیا تھا کہ اس شیشی کو یہاں رکھنے والا کون ہے؟ وہ کارڈ‘ وہ چھوٹے چھوٹے پرزے‘ وہ رومانوی اشعار‘ وہ حجاب کے پیچھے سے جھانکتی نیلی آنکھیں… اور وہ خاموش محبت کا لبادہ اوڑھے میرب شاہ… ان سب میں سے کچھ بھی خوش آئند نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا یہ لڑکی جو اس کی بہن کی دوست ہے‘ کسی اور سے انگیجڈ ہے اور وہ کوئی اور نہیں اس کا تایازاد ہے۔ وہ لاکھ سر پٹخ لے‘ اس رشتے سے کبھی جان نہیں چھڑا سکتی‘ اتنے رشتوں کی ڈور میں بندھا اس کا رشتہ وہ چاہ کر بھی کبھی رہا ہوہی نہیں سکتی تھی اور جو کبھی وہ ہمت کرکے بغاوت کر بھی لیتی تو صرف خسارہ ہی اس کے حصے میں آتا‘ سو یشال حیدر نے جان لیا تھا اسے اس دریا کے آگے بند باندھنا ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی‘ اس کی طلب کے بڑھے کاسے میں اس نے کچھ نہیں ڈالنا‘ توجہ کا ایک سکہ بھی نہیں… پھر وہ بغاوت کی جرأت نہیں کرسکے گی‘ اس نے اپنے دل کو ٹٹولا… لیکن میرب شاہ کے نام کا کوئی جذبہ وہاں موجود نہیں تھا لیکن یہ سب وہ جتنا آسان سمجھ رہا تھا اتنا تھا نہیں‘ یہ آنے والے وقت نے اسے سمجھا دیا تھا۔
ء…/…ء
ذیان نے جو کچھ اس دن میرب سے کہا تھا وہ سب اس نے سن کر دل کے نہاں خانوں میں پھینک دیا تھا۔ اسے اس سب کی نہ چاہت تھی‘ نہ ضرورت لیکن وہ ڈر گئی تھی… ذیان شاہ کی اس درجہ محبت سے‘ اس کا بھائی بھی تو شجیعہ سے ایسی ہی محبت کرتا ہے اور شجیعہ اس محبت سے ڈرتی نہیں تھی بلکہ سر کا تاج بنائے پھرتی تھی‘ کتنا مان‘ کتنا تفاخر ہوتا تھا اس کے لہجے میں جب وہ برہان بھائی کی بات کرتی‘ ان کے لائے گئے تحفوں کو محبت سے دیکھتی‘ پہنتی اور اس محبت کو اوڑھے جب وہ چلتی تو بنا پائل کے اس کے قدم بج اٹھتے۔ اس کے چلنے‘ بولنے‘ بیٹھنے‘ ہر چیز میں برہان کی محبت کی نغمگی تھی اور ایک وہ تھی محبت کا خالی تھال سر پر رکھے چلتی تو ہر قدم اگلے قدم سے خائف ہی ہوتا۔
اس نے خود کو ذیان سے کبھی الگ کرکے نہیں سوچا تھا‘ لیکن اس نے کبھی خود کو ذیان کے ساتھ بھی نہیں سوچا تھا… ذیان اس کے لیے تھا لیکن وہ ذیان کے لیے نہیں… بلکہ وہ شاید کسی کے لیے بھی نہیں تھی‘ یہ جو ایک محبت لاحاصل اس نے دل میں پال لی تھی‘ اس کا انجام بھی وہ جانتی تھی لیکن اسے خود پہ اختیار نہیں رہا تھا اور اس کے بعد تو بالکل بھی نہیں جب یشال حیدر نے اسے کھلے الفاظ میں اس حرکت سے باز رہنے کی تلقین کی تھی‘ وہ جانتا تھا محبت یا پیار سے وہ ماننے والی نہیں‘ اسے سمجھانے کا ایک ہی طریقہ تھا‘ دو ٹوک بات اور اس نے وہی طریقہ اپنایا تھا۔
اس وقت بھی وہ صحن میں بیٹھی بظاہر پڑھائی میں مگن تھی لیکن اس کی تمام تر توجہ سامنے یشال کے کمرے کی طرف تھی‘ اس کی نظریں جس بے چینی سے اس کے کمرے کا طوائف کررہی تھیں‘ وہ کھڑکی پر لگے پردے کی اوٹ سے بخوبی دیکھ رہا تھا‘ ردا کچن میں گئی اور اتفاق سے امی جان بھی پڑوس میں گئی ہوئی تھیں‘ اس نے اس کے تمام تحائف ایک بیگ میں رکھے اور باہر آگیا۔ اس کی محویت ایک دم ٹوٹی اور وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی تھی۔ یشال نے وہ بیگ میز پر رکھا‘ میرب کا وجود لرز رہا تھا‘ وہ کبھی اس کے پاس نہیں آیا تھا اور آج… اس کا دل دھڑک رہا تھا اور وہ بھی بری طرح۔
’’اس میں تمہارے تمام تحائف ہیں۔‘‘ وہ آہستگی سے گویا تھا۔ دل ٹوٹا۔
’’مجھے ان کی ضرورت نہیں‘ اور پلیز آئندہ یہ حرکت نہ ہو… میں ردا کے حوالے سے تمہاری بہت عزت کرتا ہوں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘ وہ جس طرح آیا تھا‘ اسی طرح پلٹ گیا‘ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کرلیا تھا‘ گویا اس پر بند کردیا‘ وہ وہیں کھڑی ساکت رہ گئی‘ اس کی محبت اس کے منہ پر مار دی گئی تھی‘ محبت واپس کیے جانے سے بڑا دکھ کوئی نہیں‘ کم از کم اس وقت میرب شاہ کو یہی لگا تھا۔ وہ اپنی محبت اٹھائے اس گھر سے نکل آئی تھی۔ بلامقصد خالی الدماغ وہ سڑک پر چلتی رہی‘ اسے خود اندازہ نہیں تھا وہ کہاں جارہی ہے… اور کیوں؟
دن بے حد لمبے اور راتیں اداس تھیں‘ اس روز کے بعد اس نے ردا سے کوئی رابطہ نہیں رکھا… وہ جب اس گھر سے نکلی تھی تو پیچھے کچھ نہیں چھوڑا تھا‘ اسے واپس آنا ہی نہیں تھا… وہ کس طرح یشال کا سامنا کرے گی؟ اس نے اسے ٹھکرا دیا تھا‘ میرب شاہ کو… کیا کمی تھی اس میں‘ اس کی محبت میں…؟ وہ سوچتی‘ محبت آنسو بن کر آنکھوں میں ٹھہر جاتی اور پھر قطرہ قطرہ بہنے لگتی… ان قطروں میں اس کا وجود بھی پگھلتا چلا جاتا۔
’’یشال کیوں ٹھکرایا تم نے میری محبت کو…‘‘ دل میں پھر ایک خیال آیا اور وہ پھر سے غم کی وادی میں کھونے لگی… گھر میں کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس پر کیا بیت رہی ہے‘ اس کے ستے چہرے کو امتحانون کی ٹینشن اور اس کی بھوک پیاس اڑ جانے کی وجہ پڑھائی کو سمجھا جارہا تھا… وہ کمرے میں بند تھی… صرف ضرورتاً باہر آتی‘ وہ نہیں چاہتی تھی اس کی محبت کا مذاق بنے‘ وہ سب کچھ خاموشی سے جھیل رہی تھی۔ امتحانات آئے گزر گئے‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ اس نے امتحانی کاپی میں کیا لکھا… لکھا بھی یا خالی دے آئی۔ امتحانات ختم ہوتے ہی اس کی کمرہ بندی بھی ختم ہوئی لیکن وہ اب بھی کمرے میں ہی پڑی رہتی… فضیلت سمجھا سمجھا کر تھک جاتیں لیکن اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا‘ اب وہ اس کے لیے فکرمند ہونے لگی تھیں۔ اس روز ردا آگئی… یشال اسے باہر چھوڑ کر چلا گیا تھا‘ اس کا دل کٹ سا گیا۔ مچلا تھا ایک نظر دیکھنے کو… لیکن محبوب بہت ظالم تھا‘ ردا اس کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’تمہیں ہوا کیا ہے اصل بات بتائو؟‘‘ وہ اس کے پیچھے پڑگئی۔
’’محبت…‘‘ وہ ہنسی… یوں جیسے بہت سے کانچ ٹوٹ گئے ہوں۔
’’وہ تو تمہیں ہے… ذیان بھائی سے‘ اگلی بات بتائو… کہیں ذیان بھائی کو کوئی اور لڑکی تو پسند نہیں آگئی؟‘‘ وہ حقیقتاً اس کی حالت زار کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہوئی۔
’’نہیں مجھے کوئی اور پسند آگیا ہے؟‘‘ اس کی دائیں آنکھ میں موتی چمکا۔
’’کیا…؟‘‘ ردا سناٹے میں رہ گئی وہ پوچھ نہ سکی ’’کون؟‘‘
اور اس نے بتایا نہیں ’’کون؟‘‘
وہ اپنی شادی کا کارڈ دینے آئی تھی۔ رشتہ کیا آیا ملیحہ کو لگا شاید اس کے بعد اچھا رشتہ آئے گا ہی نہیں۔ فٹافٹ اسے نکالنے کی ٹھان لی‘ وہ کبیدہ خاطر تھی‘ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی‘ سائیکالوجی میں ایم ایس کرنا اس کا خواب تھا‘ لیکن اس کے خوابوں پر ماں کے وہم غالب آگئے تھے۔ وہ میرب سے شادی پر آنے کا وعدہ لے کر رخصت ہوئی اور صرف یشال کو ایک نظر دیکھنے کے لیے وہ اسے گیٹ تک چھوڑنے آئی تھی… یشال گیٹ سے کچھ فاصلے پر اپنی بائیک لیے کھڑا تھا۔ سرمئی اندھیرے میں کچھ بھی واضح نہیں تھا۔ نہ خدوخال نہ رشتے‘ ردا اس کی حالت کی پریشانی لیے بائیک پہ جابیٹھی اور بائیک والے نے بائیک کو یوں دوڑایا جیسے کوئی عفریت پیچھے پڑا ہو اور اسے اپنے پتھر ہوجانے کا خدشہ ہو۔
اس نے ردا کی شادی میں بھرپور شرکت کی تھی۔ مایوں سے لے کر بارات تک ولیمہ پر جانے کی اجازت نہیں ملی تھی… یشال نے ہرممکن کوشش کی تھی کہ میرب کی موجودگی میں اندر نہ آئے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہا تھا‘ سب جانتے تھے میرب پردہ کرتی تھی‘ اس لیے کسی نے بھی یشال کے گریز کو محسوس نہیں کیا۔ اس نے ڈھولک بھی بجائی اور لڈی بھی ڈالی اور قہقہے بھی لگائے تھے لیکن کوشش اس کی بھی یہی تھی کہ یشال سے اس کا سامنا نہ ہو‘ بہت مشکل ہوتا ہے کہ آپ جس سے محبت کریں‘ وہ ٹھوکر مار دے‘ شرمندگی سے زیادہ محبت لوٹا دینے کا دکھ ہوتا ہے‘ شادی ہوگئی‘ ردا چلی گئی اور اس کے اس گھر میں آنے کا ہر جواز ختم ہوگیا… وہ ایک بار پھر سے کمرہ نشین ہوگئی۔ رزلٹ آنے میں ابھی کافی ٹائم تھا… اور کتابیں اس کا سہارا بن چکی تھیں کہ اس نے اباجی سے کہا تھا وہ ڈھیر سارا پڑھنا چاہتی ہے اور وہ جانتی تھی یہ فرار تھا یشال حیدر کی محبت سے فرار اور ذیان شاہ سے شادی سے فرار… لیکن فضیلت جانتی تھیں یہ چکر وہ محض شادی سے بچنے کے لیے چلا رہی ہے اس کی چپ و خاموشی انہیں کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی اس لیے انہوں نے فوری طور پر خدیجہ سے بات کی شادی کرنے کی… وہ تو پہلے ہی تیار بیٹھی تھیں۔
’’میں تو بڑے دنوں سے ارادہ کیے بیٹھی ہوں… اب کہ چھٹیوں میں یہ کام سر انجام دینا ہے‘ پڑھائیاں بھی ہوتی رہیں گی۔‘‘ بی جان نے ارادہ ظاہر کیا۔ فضیلت کو اطمینان نصیب ہوا۔
آدھی ادھوری محبتیں بڑا دکھ دیتی ہیں اور پھر عمر بھی کچی ہو تو… یشال حیدر ایک آنسو بن کر میرب کی آنکھ میں ٹھہر گیا تھا اور یہ آنسو ذیان شاہ کی آنکھوں سے محفوظ نہیں رہا تھا لیکن وہ چپ تھا‘ منتظر تھا تقدیر اس کے لیے کیا فیصلہ کرتی ہے… اس نے گھر آنا کم کردیا تھا۔ اب وہ گاہے بگاہے میرب کو تحائف بھی نہیں بھجواتا تھا لیکن میرب کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا‘ ذیان کے دیے گئے سارے تحائف الماری کے سب سے نچلے خانے میں اس کی محبت کی طرح پڑے تھے جہاں پر اس کی نظر بھی خال خال ہی پڑتی تھی‘ لیکن شجیعہ کھوج میں تھی‘ ایسا کیا ہوگیا تھا ان کے بیچ کہ نہ تو میرب ذیان سے بات کرتی اور نہ ہی اب ذیان اس کے لیے اتائولا ہوا پھرتا۔
اس دن ایسے ہی اس کا جی چاہا چند لمحے شجیعہ کے پاس بیٹھ آئے‘ کافی دنوں سے شجیعہ بھی ادھر نہیں آئی تھی۔ شاید اس کی بے رخی کی وجہ سے اور وہ بھی ادھر نہیں گئی تھی… وہ سر جھکائے ان کے پورشن میں آرہی تھی بہت رف سا حلیہ تھا‘ قدرے بکھرے بالوں میں سنہرا رنگ اداسی کا جامہ پہنے بھی دمک ہی رہا تھا اور ایسے ہی بے خبری میں وہ ڈرائنگ روم میں جاگھسی۔
’’تم یہاں کیسے آگئیں؟‘‘ ایک جانی پہچانی آواز اسے بے حد قریب سے سنائی دی۔ وہ سمجھ ہی نہ پائی‘ سر اٹھا کر مدمقابل کو دیکھنے لگی۔
’’ذیان شاہ…!‘‘ وہ چونکی‘ یہ کب آیا؟ اور وہ کہاں تھی؟ جب احساس ہوا تو فوراً باہر کی طرف لپکی۔ یہ اس سے کیا ہوگیا تھا۔ وہ کھلے سر ذیان شاہ کے سامنے چلی آئی تھی‘ اور صرف ذیان شاہ ہی نہیں ڈرائنگ روم میں کوئی اور بھی موجود تھا۔ اس کی ہتھیلیاں بھیگ گئیں۔ پتہ نہیں ذیان شاہ کیا ہنگامہ کھڑا کرے۔ وہ وہیں کھڑے کھڑے سوچ کے تانے بانے بن رہی تھی‘ جب شجیعہ آئی۔
’’زہے نصیب… آپ کہاں سے آگئیں آج؟‘‘ اسے دیکھ کر وہ خوش ہوئی اور اس کی حالت پر پریشان ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ جب کچھ نہ بولی تو شجیعہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
’’نہیں کچھ نہیں…‘‘ اس نے خود کو سنبھالا… ’’مجھے علم نہیں تھا کہ ذیان شاہ اندر بیٹھے ہوئے ہیں‘ کسی کے ساتھ۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ وہ سمجھ گئی۔ ’’بھائی رات ہی آئے تھے۔ زیادہ تو نہیں ڈانٹا؟ آئو کمرے میں چلیں۔‘‘ وہ میرب کا ہاتھ پکڑے اندر آگئی‘ میرب ابھی تک اپ سیٹ تھی۔
’’چلو جانے دو… بیٹھو میں نے سبز چائے تمہارے لیے لے کر آتی ہوں۔‘‘ اسے بٹھا کر شجیعہ باہر نکلی تو وہ بھی بیٹھنے کا ارادہ ملتوی کرتے اس کے پیچھے آئی اور ابھی وہ لان کے بیچوں بیچ پہنچی تھی کہ ذیان پھر اس کے سر پر آن کھڑا ہوا۔
’’کہاں گم رہتی ہو ہر وقت؟ کسی چیز کا دھیان نہیں… جہاں دل کیا گھس گئی‘ کسی نے بھی تمہیں نہیں بتایا کہ اندر ایک غیر مرد بیٹھا ہے۔ مہمان ہے‘ پتا نہیں کیا پڑھ لکھ رہی ہو؟‘‘ وہ کچھ زیادہ ہی تپا ہوا تھا اصل غصہ تو وہ تعریف تھی جو سکندر نے کی تھی‘ اس کا دماغ کھول اٹھا تھا۔
’’اتنی خوب صورت لڑکی کون ہے یار…‘‘ وہ تو منہ پھٹ تھا‘ اس گھر کے اصولوں سے ناآشنا‘ ماڈرن طرز زندگی کا پروردہ‘ اسے کیا پتہ یہاں یہ سب کہنا بلکہ سوچنا ہی معیوب تھا… خیر وہ تو انجان تھا‘ میرب کیوں آئی تھی اندر… جبکہ وہ جانتی تھی ڈرائنگ روم صرف اسی صورت میں کھلتا تھا جب کوئی باہر کا مہمان آیا ہو… پھر منہ اٹھائے کیوں چلی آئی… وہ گرج‘ برس رہا تھا… جبکہ میرب سر جھکائے بس سن رہی تھی‘ اپنی صفائی میں ایک لفظ نہیں بول رہی تھی‘ یشال حیدر نے جو بے عزتی کی تھی اس کے بعد اسے کوئی بے عزتی محسوس ہی نہ ہوتی تھی۔
’’کیا بات ہے ذیان کیوں اتنا بگڑ رہے ہو؟‘‘ فضیلت باہر آئی تھیں مرتضی شاہ اور بڑے شاہ صاحب دونوں گائوں گئے ہوئے تھے۔ خدیجہ بھی ہمراہ تھیں‘ ذیان کی آواز سن کر فضیلت سوتے سے بیدار ہوئیں اور ابھی ذیشان بھی چابیاں ہلاتا گیٹ سے اندر آیا تھا۔ شجیعہ ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھامے دروازے میں آکھڑی ہوئی تھی۔ بات اتنی تھی تو نہیں جتنا تماشا کھڑا کردیا گیا تھا۔ میرب نے سر اٹھا کر ذیان شاہ کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھا پھر چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ماں کا اور پھر قدم آگے بڑھا دیے کچھ بھی کہے بنا۔
’’چچی… اس لڑکی کے تیور اچھے نہیں۔‘‘ وہ فضیلت سے کہتا تن فن کرتا باہر کی طرف بڑھ گیا… ذیشان نے شجیعہ کو دیکھا تو اس نے لاعلمی کے اظہار کے طور پر کندھے اچکائے اور ٹرے سمیت اندر غائب ہوگئی۔
فضیلت تھکے ہوئے قدموں سے میرب کے پیچھے چل دیں۔ واقعہ کیا تھا کسی کو بھی نہیں معلوم تھا‘ میرب اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گئی تھی۔ فضیلت نے اسے دروازے میں کھڑے ہوکر دیکھا پھر واپس پلٹ گئیں۔ یہ ان کے لیے لمحہ فکریہ تھا۔ ذیان شاہ کا یوں چلانا اور اس سے بڑھ کر میرب کا خاموشی سے سب سننا۔
شام میں شجیعہ آئی تھی شاید بھائی کے رویے کا ازالہ کرنے لیکن اسے ضرورت نہیں تھی… شجیعہ بولتی رہی وہ چپ چاپ سنتی رہی۔
’’تم نے واقعی بھائی کا غصہ دل پر لے لیا؟‘‘ اس کی طویل خاموشی کے جواب میں اس نے کہا‘ وہ مسکرائی… شجیعہ نے دیکھا اس کی مسکراہٹ کس قدر پھیکی اور بے جان تھی۔ اسے بھائی کے رویے پر غصہ آنے لگا۔
’’میں ایسی باتوں کو دل پر نہیں لیتی اور لے بھی کیسے سکتی ہوں…‘‘ اس نے قدرے توقف کیا… ’’کیوں کہ میرا دل ہی نہیں ہے۔‘‘ کہہ کر اس نے رخ پھیرلیا اور شجیعہ کا دل دھک سے رہ گیا۔
ء…/…ء
فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی… ملازمہ نے دوبار کمرے میں جھانکا لیکن وہ جوں کی توں اوندھی لیٹی تھی‘ ملازمہ کی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ اسے آواز دے۔ وہ واپس پلٹ گئی… اور پھر خود ہی ریسیور اٹھالیا… دوسری جانب سکندر تھا‘ وہ آواز پہچانتی تھی۔
’’وہ صاحب… میڈم جی تو ابھی تک سو رہی ہیں۔‘‘ سکندر کے پوچھنے پر اس نے بتایا‘ جواباً اس نے اسے فوراً جگانے کا حکم دے دیا لیکن پروین کی ایسی مجال نہیں تھی کہ میڈم جی کو سوتے سے جگانے کی گستاخی کرے… اس لیے خاموشی سے جاکر اپنے کوارٹر میں لیٹ گئی۔ وہ جانتی تھی اب کہ سکندر صاحب خود تشریف لے آئیں گے اور ایسا ہی ہوا تھا۔ پونے گھنٹے بعد ہی سکندر کی گاڑی کا ہارن نان اسٹاپ بج رہا تھا۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا تو وہ فل اسپیڈ سے گاڑی اندر لایا‘ کسی بھی طرف دیکھے بنا وہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتا اندر چلا آیا۔ سب نے اپنے کان بند کرلیے تھے۔ کیونکہ سکندر نے اب جو بھی تماشا کرنا تھا وہ ان سب کی برداشت سے باہر تھا۔ وہ سیدھا اُم حبیبہ کے کمرے میں گیا اور اس کے اوپر سے کمبل کھینچ لیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور سامنے سکندر کو دیکھ کر ایک دم سے اس کے جی میں آئی کہ سکندر کے منہ پر تھوک دے اس کی شکل پر نظر پڑتے ہی اسے پہلا خیال ہمیشہ یہی آتا تھا۔
’’تم نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے اُم؟‘‘ وہ دھاڑا۔ ’’روز تمہاری وجہ سے شوٹنگ کینسل ہورہی ہے وہ رضوی میری جان کو آگیا ہے‘ لاکھوں روپے ڈوب رہے ہیں اس کے روزانہ۔‘‘
’’ہاں ایک بس رضوی کا کچھ نہ لٹے۔‘‘ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے سگریٹ کیس میں سے سگریٹ نکالا ہونٹوں میں دبایا اور لائٹر سے جلانے لگی۔ ’’تم ہر گدھ کے سامنے ڈالنے سے پہلے اور بعد میں یہی کہتے ہو… لیکن سکندر ریاض… مجھے اب کسی گدھ کی خوراک نہیں بننا… یہ دیکھو… میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں‘ مجھے جانے دو… کسی کنوئیں میں دھکا دے دو… زہر دے دو… لیکن اب بس کرو… اس جسم میں اب کچھ نہیں بچا… رحم کرو مجھ پر۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑے سسکنے لگی۔
سکندر ریاض اس کے پاس بیٹھ گیا… اور اس کے جڑے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا… پینترا بدلنے میں تو وہ ماہر تھا۔
’’دیکھو جان سکندر…‘‘ اس کا لہجہ اور آنکھیں مخمور ہوئیں۔
’’تم جانتی ہو ناں میں تم سے عشق کرتا ہوں۔‘‘ (آگ لگے ایسے عاشق اور عشق کو) اس نے نفرت سے سوچا۔
’’اور جب تم مجھ سے علیحدہ ہونے… دور جانے کی بات کرتی ہو تو میرا دم نکلنے لگتا ہے…‘‘ (تو نکلے ناں… کہاں اٹکا ہوا ہے کم بخت مارا)
’’دیکھو میری جان…‘‘ اس نے پھر پینترا بدلا۔ ’’میں اور تم جس راہ کے مسافر ہیں وہاں سے پلٹ جانے کا راستہ نہیں ہے‘ کیا کروگی تم واپس جاکر… ایک بار جاکر دیکھ چکی ہو‘ کسی نے تمہیں قبول کیا؟ اتنا بڑا تو گناہ نہیں ہے ناں تمہارا‘ اور یہ گناہ تھا بھی نہیں‘ اپنی مرضی کی زندگی گزارنا گناہ نہیں ہے۔‘‘
’’گناہ ہی ہے۔‘‘ وہ چیخی۔ ’’اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑائے… ’’گناہ ہی ہے اپنی مرضی کی گناہوں بھری زندگی گزارنا… گناہ ہی ہے‘ ماں باپ کی محبت پر لعنت بھیجنا‘ گناہ ہی ہے اپنی خواہش میں خود غرض ہوکر اپنے سے وابستہ زندگیاں تباہ وبرباد کرنا‘ کتنی زندگیاں برباد کی ہیں میں نے۔ صرف اور صرف تمہاری بات مان کر… میں نے سوچاہی نہیں کہ ایک صرف ذیان شاہ کو اذیت دینے کے لیے میں خود کو کس گڑھے میں گرا رہی ہوں… اور تم… تم نے مجھ سے کس بات کا بدلہ لیا… کیوں تباہ کی میری زندگی… نفرت ہے مجھے تم سے… سکندر ریاض‘ میرے بس میں ہو تو… تم بس مجھے رہا کردو‘ میں اس گٹر سے باہر نکلنا چاہتی ہوں…‘‘ وہ پھر ہذیانی ہوئی۔
’’یہ پراجیکٹ مکمل کروا دو‘ میں خود تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آئوں گا۔‘‘ سکندر ریاض نے پُرسوچ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے وعدہ کیا۔
’’سچ کہہ رہے ہو تم ان کو منالو گے ناں؟‘‘ اس کی نیلی آنکھوں میں جوت جگی تھی۔ سکندر ریاض کا بہلاوا دل آویز تھا۔
’’ہاں… چلو اب فٹافٹ تیار ہوجائو‘ میں باہر تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ سکندر ریاض اس کا سر تھپکتا باہر نکلا تو اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ کوئی اس کی بات سے انکار کردے‘ اس کی ساحر آنکھوں سے بچ نکلے یہ تو کہیں لکھا ہی نہ تھا اور بیس منٹ بعد ہی نکھری ستھری اُم حبیبہ سکندر ریاض کی گاڑی میں بیٹھ کر شوٹنگ پر جارہی تھی۔
ء…/…ء
کوئی وحشت سی وحشت تھی‘ جو شجیعہ کے وجود کو چمٹی تھی۔ میرب کی آنکھیں‘ میرب کی خاموشی اور وہ جملہ۔
’’دل ہی نہیں ہے…‘‘ اور اس کے کہنے کا انداز کچھ بھی نظر انداز کرنے والا نہیں تھا‘ اسے کسی طوفان کی آمد لگ رہی تھی اور پھر ذیان نے جو کچھ فضیلت چچی سے کہا وہ بھی… تو کیا ایسی کوئی بات ہے جو ذیان بھائی کو معلوم تھی اور وہ میرب پر اسی لیے غصہ بھی کررہے تھے۔ اسے یاد آرہا تھا کہ کافی عرصہ سے ذیان نے میرب کو کوئی گفٹ بھیجا تھا اور نہ ہی کوئی لفظی پیغام اور میرب نے تو خیر کبھی کچھ کہا ہی نہ تھا‘ اس کی محبت بھی ذیان شاہ کے دیے گئے تحائف کی طرح درازوں میں بند تھی اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ میرب نے وہ چیزیں کبھی پہن کر بھی دیکھی ہوں‘ استعمال کرنا تو دور کی بات اور ان دونوں کے بیچ شاید سب کچھ تھا لیکن اس کا نام محبت نہیں ہوسکتا تھا… اور برہان… اس کی سوچ کا دھارا برہان کی طرف مڑ گیا‘ تحائف تو وہ بھی دیتا تھا‘ جنہیں وہ پہنتی تھی‘ استعمال کرتی تھی اور خوش بھی ہوتی تھی‘ لیکن یہ خوشی میرب کے چہرے پر نہیں تھی‘ میرب کیا کرنے جارہی تھی؟ اس کے ذہن میں آرہا تھا لیکن وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی‘ اسے کچھ نہیں سوچنا تھا بس اللہ سے دعا کرنا تھی ایسا کچھ نہ ہو کہ ہنستے بستے گھروں اور رشتوں میں دراڑ آجائے… اس کا رواں رواں اس انہونی سے کانپ رہا و لرز رہا تھا۔
فضیلت الگ پریشان تھیں… میرب کا رویہ ناقابل فہم تھا تو ذیان کا غصہ بھی سمجھ سے بالاتر‘ لیکن انہوں نے ایک عقل مندی کی بہن اور شوہر کے آتے ہی انہوں نے سب کچھ گوش گزار کردیا تھا۔ اپنا وہم‘ شک‘ ماں بن کر پردہ نہیں ڈالا اور انہوں نے بھی تدبیر سے کام لیتے ہوئے خاموشی سے پہلے حالات کا جائزہ لیا اور پھر میرب کے رزلٹ آنے پر شادی طے کردی۔ فضیلت نے بہت ڈرتے ڈرتے یہ خبر میرب کو سنائی تھی‘ وہ اس کی طرف سے شدید ردعمل کی توقع کررہی تھیں لیکن اس نے خالی آنکھوں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ یہ خبر سنی تھی… جیسے انہوں نے اسے محلے کی کسی لڑکی کی شادی کی خبر سنائی ہو‘ ایک عجیب طرح کی خاموشی نے سارے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ذیان گھر آیا تو اسے بھی یہ خبر دے دی گئی تھی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن والدین کی عزت آڑے آگئی‘ وہ ان کا احترام کرتا تھا‘ سوال جواب کی جرأت نہیں تھی… وہ کچھ دن رہا‘ لیکن میرب اسے دکھائی نہیں دی… وہ ذہن میں الجھنیں لیے واپس لوٹ گیا۔ یونیورسٹی کی اپنی مصروفیات تھیں‘ وہاں یہ مسئلہ اتنا محسوس نہیں ہوتا تھا‘ لیکن جب بھی اکیلا ہوتا تصور کے پردے پر دو نیلی آنکھیں ابھر آتیں۔ سپاٹ‘ صحرا جیسی آنکھیں‘ جن میں نہ کوئی جذبہ تھا نہ خوشی کی رمق‘ سکندر اپنا معرکۃ الآرا ناول لکھنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور ایک معروف جریدے نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا‘ پڑھائی کے علاوہ سارا وقت وہ کاغذ قلم تھامے کسی الگ تھلگ جگہ پر بیٹھا نظر آتا… ناول نے اسے بزی کردیا تھا… ایک دن نعمان نے بتایا کہ وہ بیٹھ کر تعریفی خطوط کے جوابات دیتا رہتا ہے۔
’’ہیں…‘‘ ذیان اور عبدالمعیز دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا۔
’’کیسے دوست ہو تم لوگ؟‘‘ اس روز سکندر ان پر چڑھ دوڑا۔
’’کبھی میری لکھی تحریر کو بھی پڑھ لیا کرو… کوئی دو چار تعریفی الفاظ اپنے منہ سے پھوٹ دیا کرو… سارا زمانہ تعریف کرتا ہے۔‘‘
’’پاگل زمانہ…‘‘ عبدالمعیز زیرلب بڑبڑایا… پھر مسکرا کر کہنے لگا۔
’’تمہیں کیا پتہ میں تو ایک ایک قسط کو سو سو بار پڑھتا ہوں اور ہر بار الگ ہی مزہ آتا ہے۔‘‘ اس نے نعمان کو آنکھ ماری۔ وہ شروع ہوگیا۔
’’اور وہ ہیروئن کا کیریکٹر… قسم سے کیا لکھا ہے تم نے‘ اتنی اسٹرونگ لڑکی‘ ایک ہی ہاتھ کے وار سے ہیرو کا سر پھاڑ دیا… میں تو اش اش کر اٹھا لڑکی کی مردانگی پر۔‘‘ اس نے بھی لمبی چھوڑی۔
’’لعنت ہو تم سب پر‘ مت پڑھو لیکن اس طرح کی جھوٹی باتیں مت پھیلائو‘ میرے ناول کا امیج خراب ہوتا ہے۔‘‘ سکندر کو غصہ آگیا ان کی دروغ گوئی پر۔
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں‘ یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم ہم سب کا نام نہ لو‘ کیا میں اور یہ سودائی ہیں؟
عبدالمعیز نے ٹیبل بجا کر سُر بکھیرنے شروع کردیے۔ نعمان اور ذیان کا ہنس ہنس کر براحال ہوگیا۔ سکندر دانت پیستا غصے سے اٹھ کر چلا گیا۔ عبدالمعیز کا سُر اور اونچا ہوگیا اور اب کہ نعمان اور ذیان کی آواز بھی شامل تھی‘ سکندر گیا تو وہ تینوں بھی گھومنے نکل کھڑے ہوئے۔ رات گئے جب وہ خوب آوارہ گردی کرکے لوٹے تو پتہ چلا ذیان کا فون آیا تھا گھر سے… اس کا دل تیزی سے دھڑکا کیا میرب نے کچھ کر دکھایا؟ یہ سوچ کر اس کا سر دکھنے لگا… صبح دم اس نے گھر فون کیا‘ تو پتہ چلا میرب کا رزلٹ آگیا ہے اور وہ فوراً پہنچے۔ وہ ٹال مٹول کرنا چاہتا تھا لیکن بی جان نے فوراً پہنچنے کا حکم نامہ جاری کردیا تھا۔ ان کی تیاری مکمل تھی‘ بس تھوڑا ٹائم دیا تھا انہوں نے میرب کو سنبھل جانے کا… لیکن وہ کیسے سنبھل سکتی تھی‘ اس کی خاموش محبت اس کے منہ پر دے ماری گئی تھی۔ تذلیل وشرمندگی اسے اندر سے کھا رہی تھی اور وہ چپ تھی۔
عورت جب محبت میں ہار جاتی ہے تو چپ کی بکل مار لیتی ہے‘ اس اکیلے سفر میں تھکن اوڑھتی ہے آبلے سہتی ہے‘ مگر پلٹ کر نہیں دیکھتی‘ زخم نہیں گنتی اور جب وہ تھک کر چور ہونے لگتی ہے تو عشق اس کی قدم بوسی کو آجاتا ہے اس کو بانہوں میں بھرتا ہے‘ سہلاتا ہے‘ ماتھا چوم کر اسے سرخرو ہونے کی نوید دیتا ہے‘ محبت بھری مٹھی اس کے آگے کھول دیتا ہے لیکن تب… تب عورت اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوجاتی ہے‘ تھکن سے چور جسم کو سمیٹتی ہے‘ اپنے آبلے پھوڑتی ہے‘ زخم گنتی ہے اور سینہ تان کر کہتی ہے‘ اب اسے ضرورت نہیں… وہ ابھی محبت کے اس مقام پر پہنچی تو نہیں تھی لیکن وہ ہر بات سے بے نیاز ضرور ہوگئی تھی‘ کچھ مل رہا ہے یا چھن رہا ہے‘ وہ اب سوچتی ہی نہیں تھی‘ اس کی چار سالہ محبت ایک آبلے کی صورت اس کے اندر موجود تھی۔ جسے وہ چھوتی تھی اور اذیت کا ایک جہاں پار کرتی تھی۔ وہ جانتی تھی ایک دن اسے یہ آبلہ اپنے ہاتھوں سے پھوڑنا ہے اور درد سہنا ہے‘ لیکن تب تک اسے یہ آبلہ بہت عزیز رکھنا تھا۔ گھر میں رونقیں اتر آئی تھیں… خدیجہ اور فضیلت کا زیادہ وقت اب باہر لان میں بچھی چٹائی پر ہی گزرنے لگا تھا‘ بری کے کپڑے‘ جہیز‘ سب کچھ مشترکہ ہورہا تھا‘ میرب پڑھائی میں اچھی تھی‘ رزلٹ بھی اچھا تھا… وہ کالج میں داخلہ لینا چاہتی تھی لیکن کسی سے کہا نہیں‘ چپ چاپ اپنی شادی کی تیاریاں دیکھنے لگی… ذیان آگیا اور اتفاق سے پہلا سامنا ہمیشہ کی طرح اس سے ہی ہوا تھا۔ وہ گھاس پر اپنے کومل پیر رکھے گود میں دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلائے جانے کہاں گم تھی‘ ذیان شاہ بہت خاموشی سے اس کے پیچھے آکھڑا ہوا تھا‘ وہ اس وقت سفید نیٹ کے لانگ فراک میں ملبوس تھی‘ گندم کے خوشوں جیسے سنہرے بال چمک رہے تھے اور ہوا سے اڑ کر ادھر ادھر ہورہے تھے… وہ اسی طرح تھی‘ خاموش‘ کسی مورت کی طرح۔
’’میرب…‘‘ وہ بہت آہستگی سے گویا ہوا۔ وہ یونہی بیٹھی رہی… ’’میرب‘‘ اس نے پھر پکارا… میرب زبردست طریقے سے چونکی اور سر گھما کر پیچھے دیکھا‘ اس کی آنکھیں بے تحاشا سرخ تھیں۔
جانے کیا کچھ!!
جلتا ہوگا سینے میں
اتنا تلخ دھواں تھا
آنکھیں خون ہوئیں!!
ذیان کا دل لرز کر رہ گیا۔ کیا چھپائے پھر رہی تھی وہ لڑکی دل میں… جو نہ کسی سے کہتی تھی‘ نہ بولتی تھی‘ بس ایک چپ کی بکل مارے خود ہی سہہ رہی تھی۔ ذیان اس کے سامنے آبیٹھا… اس بات کو یکسر بھلائے کہ گھر میں کتنی چہل پہل تھی‘ کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا؟
’’میرب… تم اس شادی سے خوش نہیں ہو تو… میں یہ شادی رکوا دیتا ہوں۔‘‘ ذیان شاہ نے جس طرح‘ جس حوصلے سے یہ بات کی تھی وہی جانتا تھا‘ میرب نے نفی میں سر ہلایا… وہ نہ چونکی تھی اس کی بات پر نہ الجھی تھی۔
’’کیا؟‘‘ وہ سمجھ نہ پایا۔
’’میری سانسیں کٹ رہی ہیں… ذیان‘ محبت‘ میرا رواں رواں نوچ رہی ہے… میں مر جائوں گی ذیان… مر جائوں گی۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر سسک اٹھی… اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر ڈالی تھی۔ ہونے والے شوہر کے سامنے کسی اور سے ہوجانے والی محبت کا اعتراف کرلیا تھا۔ ذیان شاہ کے سارے لفظ جیسے مر گئے تھے۔ ابھی کچھ دیر پہلے کا حوصلہ جیسے قبر میں جا سویا تھا۔ وہ ایک ٹک اس لڑکی کو روتے دیکھ رہا تھا جس سے اس نے آخری حدوں تک محبت کی تھی اور جس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے لیے نہیں کسی اور کے لیے تھے۔ اس کی محبت کسی اور کی محبت میں مبتلا تھی اور یہ بات اس کی روح پر کسی تازیانے کی طرح برس رہی تھی۔ وہ رات ذیان شاہ کے لیے بہت طویل تھی۔ وہ اپنے حوصلے جانچ رہا تھا… اپنی محبت کو پرکھ رہا تھا‘ کیا وہ جس راہ پر چلنے جارہا تھا منزل اس کا مقدر تھی؟
اور سب سے بڑی بات کیا وہ اس شادی سے انکار کرنے کی ہمت رکھتا تھا اور رات تو میرب کی بھی آنکھوں میں کٹی تھی‘ پچھلی کئی راتوں کی طرح… کیا اس نے ذیان کے سامنے اپنا آپ عیاں کرکے اچھا کیا تھا؟ کیا وہ تمام عمر اسے اس کی محبت کے طعنے نہیں مارے گا… اور کیا وہ اتنا اعلیٰ ظرف تھا کہ اس اعتراف کے بعد اسے قبول کرے گا… صبح کچھ بھی ہوسکتا تھا… ایک ہفتہ بعد ہونے والی شادی رک بھی سکتی تھی‘ اسے سزا بھی سنائی جاسکتی تھی… اس کے پیروں میں زنجیریں باندھ کر قید بھی کیا جاسکتا تھا… لیکن یہ محبت… اس کے اندر محبت روتی تھی اور اس کے ساتھ دل روتا تھا… اور جب دل روتا تھا تو آنکھ بھی ساتھ دیتی تھی‘ یوں اچھی خاصی محفل سج جایا کرتی تھی۔
صبح ویسی ہی تھی جیسی ہوتی تھی… نارمل‘ ناشتے چائے والا شور‘ بڑے اور چھوٹے شاہ صاحب کی ہدایات… خدیجہ اور فضیلت کی گفتگو… ملازمائیں اپنے کاموں میں مصروف‘ سب کچھ ہلچل لیے ہوئے۔ میرب کمرے سے باہر نکلی‘ قدرے فریش لگ رہی تھی۔
’اماں…‘‘ اس نے قریب آکر فضیلت کو پکارا۔
’’ہوں…‘‘ وہ اپنی مصروفیت میں مگن تھیں۔
’’میں ردا کو کارڈ دے آئوں؟‘‘ انہوں نے چونک کر سر اٹھایا۔ کچھ کھوجنا چاہا تھا لیکن وہ نارمل تھی۔
’’ذیشان کے ہاتھ بھجوا دو…‘‘ انہوں نے مشورہ دیا۔
’’نہیں میں ساتھ جانا چاہتی ہوں… اسے کہوں گی شادی پر ضرور آئے… پلیز آخری بار جانے دیں ناں۔‘‘ وہ ملتجی ہوئی تھی۔ فضیلت نے خدیجہ کی طرف دیکھا‘ انہوں نے آنکھوں کے اشارے سے اجازت دے دی اور فضیلت نے بھی اقرار میں سر ہلا دیا۔ وہ اندر سے حجاب لینے چلی گئی اور جب وہ بیرونی گیٹ کی سمت بڑھ رہی تھی تو بہانے سے فضیلت اٹھ کر پیچھے آگئیں۔
’’سنو… جو کچھ وہاں بھول گئی ہو ناں‘ آتے ہوئے ساتھ لے آنا۔ زندگی سہل ہوجائے گی۔‘‘ فضیلت کی آواز تنبیہہ لیے ہوئے تھی۔
اماں کا لب ولہجہ اس کے اندر تک اتر گیا تھا… اس نے لرز کر ماں کو دیکھا‘ ان کی نظروں میں تنبیہہ تھی‘ التجا تھی اور کچھ ایسا بھی تھا جو وہ پڑھ نہیں پارہی تھی لیکن وہ نظریں اسے اپنے وجود کے آرپار ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔
’’جو کچھ وہاں بھول گئی ہو… جو کچھ وہاں بھول گئی ہو… آتے ہوئے ساتھ لے آنا… لے آنا۔‘‘ فضیلت کی آواز کی بازگشت اس کے وجود کے نہاں خانوں میں گونج رہی تھی۔ لیکن جب وہ وہاں پہنچی تو جو کچھ اس کے پاس تھا وہ بھی وہاں چھوڑ آئی‘ یشال حیدر کے قدموں میں۔ ایک عزت نفس تھی وہ بھی اس نے پتھر کے بت کے آگے گنوادی۔ ہاتھ باندھے نیلی آنکھوں میں سمندر بھرے اس وقت وہ ایک بھکارن لگ رہی تھی۔ محبت کی بھیک مانگتے ہوئے اور وہ پتھر کا بت چپ تھا… اپنی انا کی مسند پر بیٹھا‘ اس پر ایک نظر نہ ڈالنے کا روادار‘ اس پر نہ تو نیلی آنکھوں سے جھانکتے سمندر کا اثر تھا‘ نہ بندھے ہاتھوں کا اور نہ ہی اس کی بھیگی آواز کا۔ وہ رو رہی تھی اور اس کا دل بھی رو رہا تھا اور وہ اس محبت میں بھیگی تھی جو چپ چاپ اس نے نبھائی تھی اکیلے ہی لیکن محبت اکیلے کب نبھتی ہے؟ دوسرے کا ساتھ مانگتی ہے۔
محبت کی طلب بہت زیادہ ہے مانگتی رہتی ہے‘ مانگتی رہتی ہے‘ سیراب ہوتی ہی نہیں۔ ذیشاں اسے باہر اتار کر چلا گیا تھا‘ سوئے اتفاق ملیحہ گھر پر نہیں تھیں۔ دروازہ کھولنے والا وہی ستمگر تھا اور ہمیشہ کی طرح وہ دروازے سے ہٹا نہیں تھا اس کا رستہ روکے کھڑا تھا اور ملیحہ کے گھر نہ ہونے کا بتارہا تھا‘ وہ بھول گئی تھی کہ یہاں کیوں آئی تھی۔ اتنے دنوں کی کشمکش جیسے اس مقام پر آکر ٹھہر گئی تھی اور بلا ارادہ ہی اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
’’مجھ سے محبت مت چھینو یشال… یہ محبت میرے اندر دل بن کر دھڑکتی ہے۔ تم نے میری محبت لوٹائی ہے ناں تو میں جی نہیں پارہی‘ میرے اندر کچھ مر رہا ہے۔ میں ٹوٹ رہی ہوں لمحہ لمحہ‘ اللہ کے لیے میری محبت رکھ لو۔‘‘ یشال حیدر اتنا سنگ دل نہیں تھا لیکن اس لڑکی کے لیے اس کے دل میں کوئی جگہ نہیں تھی اور اگر تھی بھی تو وہ پہلو تہی کررہا تھا۔
’’شادی مبارک میرب شاہ…‘‘ وہ بولا بھی تو بس یہ‘ اس کے ہاتھ میں پکڑا کارڈ دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کس لیے آئی ہے لیکن اس کی باتیں اسے اندر تک ہلا گئی تھیں اسے مضبوط بنے رہنا تھا اور وہ پتھر بنا اس موم کی لڑکی کو قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھ رہا تھا‘ اس نے اپنا آپ سنبھالا۔
’’ردا تو دبئی شفٹ ہوگئی ہے شاید نہ آسکے لیکن ہم ضرور آپ کی شادی میں شرکت کریں گے۔ اللہ کرے یہ شادی آپ کے لیے خوشیوں کا جہان ثابت ہو‘ لایئے دیجیے کارڈ۔‘‘ اس کی تمام تر منت سماجت کے بعد اس نے کہا بھی تو یہ۔ اس کے ہاتھ سے کارڈ پکڑ کر اللہ حافظ کہتے ہوئے دروازہ بند کردیا اور میرب شاہ اس روز اس دروازے پر اپنا سب کچھ ہار آئی‘ اپنا دل‘ وجود‘ عزت نفس۔ وہ واپس تو آگئی لیکن فضیلت کا کہا نہ پورا کرسکی۔ وہ خالی ہاتھ گئی‘ خالی دل لوٹی اور اماں کی جہاندیدہ نظریں اس کے خالی پن کو جانچ گئی تھیں لیکن وہ اس کے پاس نہیں آئیں دلاسہ نہیں دیا۔ محبت پر سے نہیں لیتی‘ وہ اسے خود ہی سنبھلنے دینا چاہتی تھیں پھر شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے تھے۔
وہ مایوں بٹھا دی گئی اس کے جوڑے کا پیلا رنگ اس کے دل پر بھی چڑھتا گیا اور جس دم اس نے نکاح نامے پر سائن کیے اس کے دل سے خون کا آخری قطرہ بھی ٹپک گیا اور اس نے دل کو اٹھا کر آنکھوں کے سرد خانے میں رکھ دیا‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
ء…/…ء
اور یہ ذیان شاہ کا کمرہ تھا‘ اس وسیع و عریض محل کا کمرہ جو ایک پل میں اس کے میکے سے سسرال میں بدل گیا تھا۔ کمرہ کئی بار کا دیکھا ہوا تھا‘ نیا نہیں تھا اس کے لیے لیکن آج وہ ایک نئے رشتے سے اس کمرے میں موجود تھی اور وہ جس کا کمرہ تھا جو اپنے نام کے ساتھ باندھ کر اسے لایا تھا۔ غائب تھا‘ میرب کے لیے یہ اطمینان بخش تھا‘ آبھی جاتا تو اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اسے اب کسی بھی بات سے کوئی بھی مسئلہ نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر رچی مہندی دیکھی بڑے خوب صورت نقش و نگار بنے تھے۔ عروسی جوڑے میں دلکش بھاری جیولری میں اس کا روپ کھل رہا تھا اور وہ ذیان تھا جو اسے اس روپ میں دیکھنے کا متمنی تھا اور اب باہر کہیں منہ چھپائے بیٹھا تھا۔ خدیجہ پوچھنے آئیں کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور تبھی انہوں نے دیکھا ذیان باہر بیٹھا تھا‘ وہ پریشان ہوگئیں۔
’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘ انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا‘ وہ چونکا اور ایک دم کھڑا ہوگیا۔
’’یہاں کیوں بیٹھے ہو‘ میرب تمہارا انتظار کررہی ہوگی۔‘‘ انہوں نے تنبیہی نظروں سے دیکھا۔
’’جی بس جارہا تھا۔‘‘ ذیان نے فوراً اندر کی طرف قدم بڑھائے۔ خدیجہ نے اندر جانے کا اردہ ملتوی کردیا کہیں میرب کے دل میں گرہ نہ پڑ جائے‘ انہوں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور سمجھانے لگیں۔
’’میرب اب تمہاری ہے اور اس سے تمہارا رشتہ صرف بیوی کا نہیں ہے اس سے پہلے وہ تمہاری چچا زاد ہے کبھی بھی کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ چھوٹی موٹی غلطیاں ہوہی جاتی ہیں‘ نظر انداز کرنا سیکھو گے تو زندگی آرام سے گزرے گی۔ میرب بہت اچھی لڑکی ہے‘ زیادہ دن نہیں لگائے گی ایڈجسٹ ہونے میں۔ محبت سے ہینڈل کرنا اسے‘ لڑکیاں بہت نازک ہوتی ہیں اور اس رشتے کے حوالے سے بہت خواب دیکھ رکھے ہوتے ہیں انہوں نے‘ اسے کبھی دکھی نہیں ہونے دینا۔ بہت عزیز ہے وہ ہم سب کو‘ تمہاری طرح۔‘‘ انہوں نے ذیان کی پیشانی چومی اور اسے اندر جانے کا اشارہ کیا‘ وہ چپ چاپ اندر چلا گیا اور یہ اس کا کمرہ تھا‘ پھولوں سے مہکتا‘ سارے کمرے میں بس پھول ہی پھول تھے۔ پھولوں کا فرش‘ پھولوں کا بستر‘ اس نے ایک نظر بیڈ پر ڈالی۔ اس کا خیال تھا وہ رو رو کر کھوئی ہوئی محبت کا غم منارہی ہوگی لیکن ایسا کوئی سین نہیں تھا وہ بہت اطمینان سے بیٹھی تھی‘ کھٹکے پر سر اٹھا کر اسے دیکھا بھی تھا پھر دوبارہ نظریں جھکالی تھیں‘ سب کچھ اتنا پُرسکون تھا کہ ذیان شاہ کو خوف آنے لگا‘ کہیں کچھ کرکے تو نہیں بیٹھی۔ زہر وغیرہ یا پھر خوف کا ناگ اس کے اندر سرسرایا تو وہ تیز قدموں سے چلتا بیڈ کے پاس آگیا۔
’’تم ٹھیک ہو۔‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔ اس نے ہولے سے سر ہلایا‘ ذیان شاہ نے بے خود ہوکر اس کے حنائی ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔
’’بہت خوب صورت ہاتھ ہیں تمہارے میرب…‘‘ وہ بہت آہستگی سے گویا تھا‘ اس کی جانب سے خاموشی پاکر حوصلہ کچھ مزید بڑھا۔
’’تم نہیں جانتیں میرب… میں نے تم سے کس قدر محبت کی ہے۔‘‘
’’اور تم بھی نہیں جانتے ذیان شاہ… میں نے یشال سے کس قدر محبت کی ہے۔‘‘ ایک دھتکاری محبت نے سر اٹھایا۔
’’جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے‘ پل پل تمہارے نام سے جیا ہوں۔‘‘
(اور میں نے بس ایک ہی پل جیا ہے‘ یشال حیدر کے نام سے) اس کی پلکوں میں ارتعاش پیدا ہوا اور بالکل غیرارادی طور پر اس نے ذیان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
اس کے چند دن قبل کے اعتراف سے بے نیاز وہ اس وقت پور پور میرب شاہ کے سحر میں گرفتار تھا۔ اپنی بے تابیاں بیان کرتا‘ جدائیوں کے لمحوں کا قصہ سناتا پھر اس نے سائیڈ ریک سے ایک مخملیں ڈبا نکالا اور کھول کر اس کے آگے کردیا خوب صورت اور نفیس طلائی سیٹ اس کی رونمائی کا تحفہ تھا۔ اس نے دیکھا مگر ہاتھ نہیں لگایا‘ ذیان نے خود ہی پہنایا اسے پتا نہیں کیا ہوگیا تھا۔ چاہ کر بھی اسے روک نہیں پارہی تھی۔ ذیان نے اپنی محبت کا جی بھر کر اظہار کیا اور میرب نے بے حسی کا لیکن رات گزر ہی گئی تھی۔
ولیمے کا فنکشن مرتضیٰ شاہ نے ملک سب سے بڑے ہوٹل میں رکھا تھا جس میں ان کے سب کاروباری دوست انوائٹڈ تھے اور ساتھ ہی ذیان اور برہان کے دوست بھی۔ نعمان اور سکندر ولیمے سے کچھ دیر پہلے ہی سیدھا گھر پہنچے تھے اور ذیان کی خبر لے رہے تھے جس نے شادی کی بھنک تک نہ لگنے دی اور ناراض ہورہے تھے کہ اس نے انہیں صرف ولیمے میں کیوں بلایا پوری شادی میں کیوں نہیں اور ذیان شاہ کے چہرے پر صرف مسکراہٹ تھی۔ ذیان نے انہیں مجتبیٰ شاہ اور مرتضیٰ شاہ دونوں سے ملوایا اور وہ ان دونوں سے مل کر خوش ہوئے تھے۔ ہال میں مردوں اور عورتوں کا علیحدہ انتظام تھا‘ خدیجہ اور فضیلت مہمانوں کو ریسیو کررہی تھیں اور میرب اور ذیان سے ملوا رہی تھیں۔
تصویریں بن رہی تھیں‘ مووی والا کیمرہ سنبھالے عورتوں کی طرف آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ خدیجہ اعتراض کررہی تھیں کہ مووی والے کو بلایا کس نے اور ذیشان پورا دفاع کررہا تھا کہ یہ اسی کا کارنامہ تھا۔ اللہ اللہ کرکے اسے صرف دلہا اور دلہن کی حد تک دو رہنے کی ہدایت دے کر اندر آنے کی اجازت دے دی گئی۔
اسی وقت نعمان اور سکندر اس کے دائیں بائیں آکر بیٹھ گئے تھے‘ ذیان شاہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
’’ان دونوں کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘ بڑے شاہ صاحب کو اعتراض ہوگا۔
’’کیا بات ہے‘ تمہیں ہمارا آنا اچھا نہیں لگا؟‘‘ نعمان نے اس کی بے چینی کو محسوس کرلیا تھا۔
’’نہیں‘ اٹس اوکے۔‘‘ وہ کچھ کہہ تو سکتا نہیں تھا‘ تصویریں اور مووی بن گئی تو دونوں اسٹیج سے نیچے اتر گئے۔ ذیان نے سکھ کا سانس لیا لیکن اگلے ہی پل اسے زور کا جھٹکا لگا۔ سکندر ریاض نے اسٹیج سے اترتے ہوئے دونوں کی تصویر اپنے موبائل میں لے لی تھی۔
کچھ خاص فرق نہیں آیا تھا زندگی میں‘ ذیان پندرہ دن کی چھٹی لے کر آیا تھا۔ ایک ہفتہ خاندانی ضیافتوں میں گزر گیا اور ایک ہفتہ ہنی مون ٹرپ پر اتنا بے رنگ اور بے جان ہنی مون شاید ہی کسی کا ہوگا۔ میرب تو مانو برف کی سل تھی‘ کسی جذبے کا اس پر اثر ہی نہ ہوتا تھا۔ روٹین کے مطابق اٹھتی ناشتا کرتی تیار رہتی اور اس کے ساتھ چل پڑتی۔ مری‘ پٹریاٹا‘ بھوربن۔ اس نے میرب کی ڈھیر ساری تصویریں کھینچی تھیں کچھ حجاب میں کچھ حجاب کے بغیر۔ اس کا چہرہ کسی بھی تاثیر سے عاری تھا‘ اس نے کتنے ہی کپلز دیکھے تھے جو یہاں انجوائے کررہے تھے اور ادھر‘ ذیان پہلے دو دن نارمل رہا۔ تیسرے دن بدمزہ ہوا اور چوتھے پانچویں دن اس کا موڈ بری طرح آف ہوچکا تھا۔
اس لڑکی پر کچھ بھی اثر نہیں کررہا تھا‘ اس نے ہنی مون ٹرپ پلان ہی اس لیے کیا تھا کہ وہ میرب کو اپنی شدید محبت سے اپنا بنالے گا۔ ان چند دنوں میں وہ اسے بھرپور رفاقت دے گا‘ میرب کو اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کردے گا لیکن اس کا سارا پلان ناکامی سے دوچار ہوا تھا۔ وہ بولتا رہا‘ وہ خاموشی سے سنتی رہی‘ وہ اسے دیکھتا رہتا‘ وہ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی رہتی۔ وہ اس کا ہاتھ تھامتا‘ کوئی جسارت کرتا لیکن وہ پتھر کی مورت بنی رہتی۔ وہ اتنی سرد تھی کہ ذیان شاہ کے ہاتھ یخ ہونے لگے تھے۔ چھٹے دن اس نے میرب کو واپسی کی نوید سنادی‘ میرب کے تنے چہرے پر کچھ نرمی آئی۔ اوہ تو وہ اس کی قربت سے نالاں تھی‘ ذیان شاہ کے دل میں ایک اور کانٹا پیوست ہوگیا۔ اسے ماں کی بات نبھانی مشکل لگ رہی تھی۔ کیسے گزرے گی ساری زندگی‘ سوچ پر پھیلائے ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔
گھر پہنچے تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا‘ ایک اور دعوت کا انتظام تھا‘ دونوں بہنوں نے میرب کا سپاٹ اور ذیان کا بگڑا مزاج بخوبی نوٹ کیا تھا اور نئے سرے سے پریشانی نے ان کے دل میں گھر کرلیا تھا‘ صبح ذیان شاہ کی روانگی تھی وہ واپس جارہا تھا۔ اپنے کپڑے بیگ میں رکھتا وہ گاہے بگاہے اس پر بھی نظر ڈال لیتا تھا جو لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے پاس رکھی راکنگ چیئر پر جھول رہی تھی اور جانے کہاں گم تھی‘ کس کو کھوج رہی تھی؟
’’میرب…‘‘ ذیان نے کوئی چوتھی مرتبہ پکارا تھا‘ اس کا جیسے سکتہ ٹوٹا‘ ایک دم پلٹی۔ نیلی آنکھیں سمندر تھیں‘ کیا سوچ رہی تھی جو آنکھیں بھر آئی تھیں۔ یہ اس کی کمزوری تھیں اس نے پکارا تو کسی اور وجہ سے تھا لیکن یوں لبریز آنکھیں‘ وہ تڑپ اٹھا اس گریز سے جو وہ برت رہی تھی۔
وہ اس کے پاس دو زانو بیٹھا اس کے برف ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے‘ اس نے آنسو چھپانے کے لیے پلکیں بند کیں۔ دو قطرے ذیان کی ہتھیلی کی پشت پر آگرے‘ اسے لگا یہ آنسو نہیں انگارے ہوں‘ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا‘ دلاسہ دینا چاہتا تھا ان آنکھوں کو آنسو بخش دینے والے کا نام جاننا چاہتا تھا لیکن ان آنسوئوں نے جیسے عاشق کی جگہ شوہر لاکھڑا کیا۔ اس نے بہت سرعت سے میرب کے ہاتھوں کو آہنی گرفت سے آزاد کیا اور ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اس نے دوسری نگاہ میرب پر نہیں ڈالی اور کمرے سے آندھی طوفان کی طرح باہر نکل گیا تھا‘ وہ بس دروازے کو ہی تکتی رہ گئی تھی۔
اس روز ردا کا فون آگیا تھا دبئی سے‘ شادی کی مبارک باد دے رہی تھی اور اپنے شامل نہ ہونے پر معذرت۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی۔
’’اماں نے بتایا تم بہت خوب صورت لگ رہی تھیں اور وہ تمہارا دلہا کزن بنا سجن‘ تو بہت ہی ڈیشنگ پرسنالٹی کا مالک ہے۔‘‘ وہ اسے چھیڑتی رہی اور وہ ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔
’’لگتا ہے ذیان بھائی کی محبت نے تمہاری بولتی بند کردی ہے۔‘‘ بالآخر ردا نے اس کی چپ محسوس کرہی لی تھی۔
’’نہیں… تم سنائو کیسی ہو؟‘‘ بالآخر اس نے سوال کیا۔
’’ہاں‘ بالکل ٹھیک‘ کچھ ہی عرصے میں تمہیں خالہ جان بننے کا شرف حاصل ہوجائے گا۔‘‘ خوشی اس کے لہجے سے چھلکی پڑ رہی تھی۔
’’واہ… مبارک ہو بہت بہت۔‘‘ اس نے مبارک باد دی۔
’’تمہیں بھی‘ یار کبھی امی کی طرف چکر لگالیا کرو۔ اکیلی ہوتی ہیں سارا دن‘ بھائی بھی ٹریننگ پر چلا گیا ہے۔ میں روزانہ فون پر بات تو کرتی ہوں لیکن… اس سے اکیلا پن تو دور نہیں ہوتا۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی اور میرب کے جی میں آئی کہہ دے۔
’’تمہارے بھائی نے مجھ پر سب دروازے بند کردیئے ہیں‘ گھر کے بھی دل کے بھی اور ہر خوشی کے بھی۔‘‘ لیکن کہہ نہ سکی‘ اللہ حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔
تو یشال حیدر تم ٹریننگ پر چلے گئے ’’بڑے اچھے لگو گے سی ایس پی آفیسر بن کر‘‘ تصور میں ایک بار پھر وہ مغرور سا یشال حیدر آگیا۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں لیکن اب کی بار اس نے آنسو چھلکنے نہیں دیئے تھے۔ اپنے اندر ہی اتار لیے تھے۔
ء…/…ء
پہلی بار وہ لڑکی اسے تب اچھی لگی جب وہ انجانے میں ڈرائنگ روم میں چلی آئی تھی‘ چائے کے کپ کی طرف اس کا بڑھا ہاتھ تھم سا گیا تھا اور وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جو اب گھبرا کر ذیان شاہ کو دیکھ رہی تھی اور وہ اسے شاید ڈانٹ رہا تھا۔ وہ الٹے قدموں لوٹ گئی تھی لیکن اس کے دل پر گہرے نقوش ثبت کر گئی تھی اس کے بعد سکندر نے مسلسل اس لڑکی کو سوچا تھا‘ اتنا مکمل حسن اس نے پہلی بار دیکھا تھا اور مبہوت ہوگیا تھا۔ حسن پرست تو وہ تھا ہی ساتھ میں عاشق مزاج بھی بلا کا تھا۔ اوپر سے اس کا بات کرنے کا اسٹائل تو گویا مقابل کے دل کی ساری سیڑھیاں ایک ہی جست میں عبور کرلیتا لیکن یہ تب ہی ہوتا جب کوئی اس سے بحیثیت رائٹر بات کرتا ورنہ عام زندگی میں وہ بس ایک عام سا لڑکا تھا۔
ذیان‘ عبدالمعیز اور نعمان کا دوست‘ اس نے ایک بار پھر دلہن بنی میرب کو کلوز کرکے دیکھا۔ اسکرین پر ہاتھ پھیرا اور سگریٹ کے کش لینے لگا‘ اسے اس خوب صورت لڑکی کی طلب محسوس ہورہی تھی جو اس کے جگری یار کی محبت اور منکوحہ تھی۔ غلط تھا لیکن اس وقت وہ اسے جائز سمجھ رہا تھا‘ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔ اب اس نے یہ وطیرہ اختیار کیا کہ ذیان شاہ کو پکڑ کر بیٹھ جاتا اور اس کی شادی شدہ لائف کو ڈسکس کرتا رہتا۔ اسے ذیان شاہ کے چہرے پر وہ خوشی دکھائی نہیں دی تھی جو چند دنوں کی شادی کے بعد ہر جوڑے کے چہرے پر ہوتی ہے۔ ذیان نے بے شمار دفعہ اپنی کزن سے محبت کا ذکر کیا تھا اور یہ ذکر کرتے وقت اس کی آنکھوں میں جو چمک ہوتی تھی وہ پوری طرح اس کے دل کے راز کو عیاں کرتی تھی۔ وہ سارے مل کر ذیان کا ریکارڈ لگاتے تھے لیکن اب جب سے وہ آیا تھا بہت سنجیدہ ہوگیا تھا‘ دوستوں کے ساتھ جو ہنسی مذاق تھا اس میں بھی کمی آگئی تھی۔ وہ ہمہ وقت خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔
’’ذیان دل کے ساتھ ادھر کیا کیا چھوڑ آئے ہو‘ بھابی کے پاس؟‘‘ وہ کافی دیر سے ایک ہی صفحہ کھولے کہیں گم تھا۔ نعمان نے باقی سب کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے جملہ کسا‘ وہ سب اس وقت لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سمسٹر نزدیک تھا اور انہیں پوری توجہ سے پڑھائی کرنا تھی‘ سکندر نے ایک نگاہ ڈالی اس پر کی اور پھر سے اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرنے لگا تھا۔
’’ذیان…؟‘‘ عبدالمعیز نے اس کا شانہ ہلایا تو اس کی محویت ٹوٹی۔
’’کیا… کیا ہے؟‘‘ اس نے چونک کر باری باری سب کی شکلیں دیکھیں‘ سب شرارت سے اسے تک رہے تھے ماسوائے سکندر اس کی آنکھوں میں کچھ اور تھا‘ جسے کوئی بھی کبھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
’’ہم نے کہا دل کے ساتھ اور کیا کیا چھوڑ آئے ہو بھابی کے پاس۔‘‘ نعمان نے اپنی بات ہنستے ہوئے دہرائی۔
’’سب کچھ‘ سب کچھ ہی چھوڑ آیا ہوں‘ خالی ہاتھ آیا ہوں۔‘‘ وہ کہیں کھو سا گیا‘ سکندر نے محسوس کیا اس کا لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری و خالی تھا۔
ایک کمینگی سی خوشی نے سکندر کا احاطہ کرلیا‘ وہ خوامخواہ ہی گنگنانے لگا اور نعمان اور عبدالمعیز اس کا ساتھ دینے لگے۔ ذیان اٹھنا چاہتا تھا لیکن نہیں اٹھا وہ نہیں چاہتا تھا دل پر ہوئی واردات اس کے دوستوں تک پہنچے اس لیے ایک نظر ان سب پر ڈال کر مسکرادیا۔
ء…/…ء
پورے تین ماہ ہوگئے تھے اسے گھر آئے ہوئے اور ان تین ماہ میں بی جان ہی دن رات اپنے بیٹے کو یاد کرتی تھیں ورنہ اس نئی نویلی دلہن کو تو کوئی پروا ہی نہیں تھی۔ ایک بار بھی انہوں نے اسے اپنے شوہر کے لیے پریشان ہوتے نہیں دیکھا تھا بس اپنی روٹین میں مگن تھی۔ ڈھیر ساری کتابیں اور وہ‘ بی جان نے فضیلت سے بات کی۔ وہ چپ کر گئیں‘ کیا جواب دیتیں بیٹی کا رویہ ان کے اختیار میں نہیں تھا‘ وہ اسے شادی سے پہلے سب کچھ سمجھا چکی تھیں‘ سب اونچ نیچ سمجھائی تھی لیکن وہ اپنی روٹین بدلنے پر آمادہ ہی نہیں تھی۔ انہوں نے خدیجہ سے اسے سمجھانے کا وعدہ کیا لیکن میرب کو سمجھا نہ سکیں‘ یا اس نے سمجھا نہیں؟
پھر ایک روز ذیان گھر آگیا‘ پورے پانچ ماہ چوبیس دن بعد… بی جان کھلی جارہی تھیں‘ گھر بھر میں رونق ہوگئی تھی۔ ذیان نے اس ستمگر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں لیکن ناکام ہوگیا نہ اس نے پوچھا نہ کسی نے بتایا۔ وہ شام تک وہیں ٹی وی لائونج میں گپیں ہانکتا رہا اور وہیں پڑ کر سوگیا۔ میرب شام کی چائے کا کہنے آئی تو اس نے ذیان کو وہاں سوتے دیکھا ’’یہ کب آئے؟‘‘ پل بھر کو سوچا اور پھر چائے کا کہہ کر واپس کمرے میں چلی گئی۔ چائے پی کر اس نے آرام سے کمبل تانا اور سوگئی‘ رات آٹھ بجے کے قریب کمرے میں کھٹر پٹر کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی‘ زیرو پاور کی مدھم روشنی میں اسے الماری کھولے ذیان نظر آیا وہ پھر سے سوتی بن گئی۔ ذیان نے آگے بڑھ کر لائٹس آن کردیں اور آنکھیں بند کیے ہوئے بھی میرب کو محسوس ہوا تھا کہ وہ اس پر نظریں گاڑے کھڑا ہے اور وہ سچ میں اس پر نظریں گاڑے کھڑا تھا۔ بلیک کمبل میں چھپا آدھا چہرہ‘ ہولے سے لرزتی پلکیں وہ جان گیا تھا کہ وہ سونے کی ایکٹنگ کررہی ہے۔ ذیان کی نگاہوں کی تپش نے اسے کروٹ بدلنے پر مجبور کردیا۔ ذیان گھٹنوں کے بل بیڈ کے پاس بیٹھا اور ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر بکھری لٹوں کو ہٹایا وہ کسمسا کر رہ گئی۔
’’آنکھیں کھولو میرب۔‘‘ وہ بے حد آہستگی سے گویا ہوا تھا۔ اس کی گرم سانسوں کی حدت اسے اپنے چہرے پر محسوس ہوئی تھی‘ اسے آنکھیں کھولتے ہی بنی‘ ذیان کا ہاتھ ابھی تک اس کے چہرے پر تھا۔
’’میں نے تمہیں بہت مس کیا میرب…‘‘ وہ ہولے ہولے کہہ رہا تھا۔ ’’میں بہت کوشش کرتا ہوں تمہیں بھلادوں‘ تمہارے بارے میں نہ سوچوں… تم سے محبت نہ کروں لیکن تمہارے معاملے میں خود میرا دل میرے مدمقابل ڈٹ گیا ہے۔ میں نے بہت کوشش کی ہے میرب‘ بہت زیادہ لیکن میں خود کو روک نہیں پارہا ہوں۔‘‘ ذیان کا لہجہ بھیگنے لگا تھا‘ اس کی ہمت نہیں پڑرہی تھی کہ اس شخص کا ہاتھ پرے ہٹادے‘ وہ ساکت لیٹی رہی۔ وہ شخص اس پر سارے اختیار رکھتا تھا‘ حق دار تھا لیکن اسے اپنے دل پر اختیار نہیں تھا۔ ان ڈھیر سارے دنوں میں اس نے بہت کوشش کی تھی یشال کو بھول جانے کی لیکن وہ جیسے جیسے اس کی یاد کو دل سے کھرچتی وہ پہلے سے زیادہ شدت سے اس کے خیالوں میں آن موجود ہوتا۔
’’مجھ سے محبت کرلو پلیز…‘‘ ذیان کے لہجے میں اتنی تڑپ تھی کہ میرب کا وجود کانپ اٹھا‘ وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی‘ دونوں ہتھیلیوں کو گالوں پر رگڑتی وہ تیزی سے بیڈ سے اتر آئی۔ اس کا وجود لرز رہا تھا‘ بے چینی سے ہونٹ کاٹتی وہ کمرے میں چکر لگانے لگی۔ ذیان کے اندر پانچ ماہ چوبیس دن کی جدائی کی تڑپ تھی‘ وہ اب جلتے زخموں پر آس کا مرہم چاہتا تھا اسے میرب کے وجود کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی چاہیے تھا‘ وہ دل جو صرف اس کے لیے دھڑکے‘ اسی سے پیار کرے۔
میرب اب بیڈ پر بیٹھ چکی تھی‘ اس کی آنکھیں نم ہورہی تھیں‘ وہ رونا چاہتی تھی بے تحاشا رونا چاہتی تھی۔ اسے ذیان سے ہمدردی محسوس ہورہی تھی‘ اسے خود پر ترس آرہا تھا‘ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر سسک اٹھی‘ اب وہ دل میں دعا کررہی تھی کہ اللہ اس کے دل سے یشال حیدر کی محبت کو نکال دے اور ذیان‘ اس کے شوہر کی محبت ڈال دے۔ اس خالی محبت سے وہ اب نجات چاہتی تھی جس نے اس کا تن من خالی کردیا تھا لیکن وہ ایسا کر نہیں پارہی تھی‘ ہزار ہاکوشش کے باوجود۔
نکلتا ہی نہیں وہ شخص مجھ سے
میں خود کو کب سے خالی کررہا ہوں
میرب نے وہ رات بیڈ کی پائنتی پر گزاری اور ذیان نے کھڑکی کے پار چاند دیکھتے‘ وہ اس کے لیے تو نہیں آیا تھا وہ تو سوچ رہا تھا شاید اتنے دنوں کی جدائی نے اس پر کچھ اچھا اثر ڈالا ہو شاید اس پتھر میں دراڑ پڑی ہو لیکن ادھر تو معاملہ جوں کا توں تھا۔ وہ آتے ہوئے دل میں جو ہلکی سی امید کی رمق لے کر آیا تھا اسی رات ختم ہوگئی۔ وہ سمجھ گیا اس کی زندگی یونہی گزرنی ہے‘ محبت و التفات کے بغیر اسے اپنا صبر آزمانا تھا اور میرب کا جبر۔ وہ چند دن رکا اور زیادہ تر وقت اس نے گھر سے باہر ہی گزارا۔ بی جان جانتی تھیں لیکن اس سے کچھ پوچھتی نہیں تھیں‘ وہ جانتی تھیں اگر ایک ٹانکا بھی ادھڑا تو پوری زندگی بکھر جائے گی اور وہ اسے بکھرنے سے بچانا چاہتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں خاموشی سے یہ سلسلہ اسی طرح ختم بھی ہوجائے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو لیکن تقدیر نے ان کے لیے کچھ اور سوچ رکھا تھا۔ وہ سب جو یہ سوچ بھی نہ سکتے تھے اس روز وہ شجیعہ اور امی کے ساتھ بازار آئی تھی‘ کچھ شاپنگ کرنا تھی۔ شجیعہ نے امی کی نظر بچا کر برہان کے لیے کف لنکس اور موبائل کور خریدا تھا۔ اس کی آنکھوں میں الوہی چمک تھی‘ محبت کی‘ چاہنے کی اور چاہے جانے کی‘ پُرسکون چہرہ۔ میرب یک ٹک اس کا چہرہ دیکھے گئی‘ شجیعہ کو احساس ہوا تو ہنس پڑی۔
’’کیا دیکھ رہی ہیں بھابی صاحبہ… آپ کچھ نہیں لیں گی‘ اپنے محبوب شوہر کے لیے؟‘‘ اس نے چھیڑا۔
اور وہ کہنا چاہتی تھی کہ لے چکی لیکن کہہ نہ پائی‘ زبان گنگ ہوگئی اور حسیات منجمد‘ بیرونی دروازے سے میرون شرٹ اور گرے پینٹ میں وہ اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ اندر آرہا تھا۔ اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا اور اسے احساس بھی نہیں ہوا‘ ہاتھ میں پکڑا‘ چرمی والٹ جو وہ ذیان کے لیے لینا چاہ رہی تھی‘ کائونٹر پر رکھ کر بے خودی کے عالم میں اس کے پاس جاپہنچی۔ وہ کائونٹر پر کھڑا کچھ مانگ رہا تھا اور ساتھ ساتھ دوسرے آدمی کے ساتھ محو گفتگو بھی تھا۔
’’یشال…‘‘ پاس پہنچ کر اس نے اتنی آہستگی سے پکارا کہ شاید ہی کوئی دوسرا سن سکے لیکن یشال بہت تیزی سے پلٹا تھا اور اسے وہاں کھڑا دیکھ کر سن ہوگیا تھا۔ حجاب کے پیچھے سے جھانکتی دو نیلی صحرا جیسی آنکھیں‘ وہ سٹپٹا سا گیا‘ اس پاگل لڑکی سے کچھ بھی بعید نہیں تھا لیکن وہ لمحوں میں خود پر قابو پاکر بولا۔
’’ارے آپ… کیسی ہیں اور آپ کے شوہر نامدار نظر نہیں آرہے۔ عبدالرافع یہ میرب ہے‘ ردا کی بیسٹ فرینڈ۔‘‘ اس نے ساتھ ہی تعارف کروایا لیکن میرب کی پیاسی نظریں اس کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔ وہ دید کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی‘ کتنی دیر کے بعد اسے دیکھا تھا‘ یشال نظریں چرا رہا تھا۔ عبدالرافع بھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا‘ اس سے پہلے کہ میرب سے کچھ اور سرزد ہوتا‘ شجیعہ اس کے سر پر آن پہنچی‘ آتے ہی اس کا بازو پکڑا۔
’’تم ادھر کیا کررہی ہو میرب؟‘‘ مگر وہ اپنے حواسوں میں ہی کب تھی۔
یشال کو کسی خطرے کا شدت سے احساس ہوا‘ اس نے عبدالرافع کا بازو پکڑا اور آناً فاناً وہاں سے نکل گیا۔
’’میرب…‘‘ شجیعہ نے اس کا کندھا زور سے ہلایا‘ اس نے چونک کر دیکھا آنکھوں میں ڈھیروں آنسو تھے۔
’’میرب…‘‘ شجیعہ کا پورا وجود جھٹکوں کی زد میں آگیا۔
تو وہ یہ تھا… آج وہ جان گئی تھی‘ میرب نے کچھ نہیں کہا چپ چاپ شاپ سے نکل آئی۔ شجیعہ چچی امی کو بلانے چلی گئی جو تھک کر سائیڈ پر کرسی پر بیٹھ گئی تھیں۔ ایک سناٹا میرب کے اندر اترا تھا اور ایک چپ شجیعہ کے اندر‘ آج شجیعہ بھی وہ راز جان گئی تھی جس نے اس کے بھائی کو سب سے دور کردیا تھا اور اس لڑکی کو زندگی سے۔ شجیعہ نے دوبارہ میرب سے بات کی نہ سوال‘ میرب کے لیے یہ رات پھر سے کٹھن تھی۔
وہ جب بھی اس شخص کو بھلانے کا ارادہ کرتی‘ وہ اس کے تمام تر دعوئوں کو غلط ثابت کرنے پھر آموجود ہوتا‘ وہ اس رات پھر روئی اور بہت زیادہ روئی‘ کاش کہ وہ آنسو کی صورت ہی دل سے نکل جاتا اور اسی رات شجیعہ کو وہم سا ہوا تھا کہ شاید وہ اور برہان مل نہ پائیں۔ محبت کرنے والوں کے دل بڑے نازک ہوتے ہیں اور حساس بھی اس کے اندر جو خطرے کی گھنٹی بجی تھی بے سبب نہیں تھی۔ میرب کی بے خودی و وارفتگی ایک غیر مرد کے لیے تھی اور یہ کیسے ممکن تھا اس کے اس غلط اقدام کا اثر باقی سب پر نہ پڑے۔ اس نے اس طوفان سے بچائو کے لیے‘ صدق دل سے دعا کی تھی جو ان سب کی زندگیاں درہم برہم کرنے والا تھا۔
اور پھر کئی ماہ گزر گئے‘ ذیان گھر نہیں آیا‘ فون پر بات کرلیتا یا پھر شجیعہ اور ماں کے لیے کچھ نہ کچھ کورئیر کروا دیتا۔ وہ بھی بھول گیا تھا کہ اس گھر میں اس سے منسوب کوئی اور رشتہ بھی ہے شاید وہ میرب کو وقت دے رہا تھا کہ وہ خود سب کچھ بھلا کر اس کی طرف بڑھے جب کہ میرب نے تو گویا بے حسی کی چادر تان لی تھی۔ سب کچھ اپنی جگہ پر تھا لیکن یوں محسوس ہوتا کچھ بھی اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ ایک خالی پن کا احساس تھا جو سارے گھر میں آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا رہا تھا اور سب کچھ اپنی آغوش میں لینے والا تھا۔
ء…/…ء
سکندر ریاض بہت خوش تھا‘ کسی پروڈیوسر نے اس کا ناول ڈرامائی تشکیل کے لیے سلیکٹ کرلیا تھا۔ آنے والے دن اسے ایک مشہور اور کامیاب رائٹر ثابت کرنے والے تھے۔ وہ اچھا لکھنے والا تھا لیکن اسے چانس نہ مل پارہا تھا اور اب کسی یونیورسٹی فیلو کے توسط سے اس کی ٹی وی تک رسائی ہوگئی تھی اور وہ ہر ممکن اس چانس کو پایہ تکمیل تک پہچانا چاہتا تھا۔ ان دنوں اس کے پائوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے‘ اس نے بہت مشاقی سے یہ ناول مکمل کیا اور پُرامید تھا کہ اسے بھرپور پذیرائی ملے گی۔ اس کے یار دوست بھی اس کی کامیابی پر خوش تھے بلکہ ایکٹنگ کا شوق رکھنے والے عبدالمعیز نے تو بطور ہیرو اسے کاسٹ کرنے کی باقاعدہ درخواست دے دی تھی لیکن اپنی کامیابی کے ساتھ ساتھ وہ ذیان پر بھرپور نظر رکھے ہوئے تھا۔ وہ خوش تھا کہ ذیان ایک عرصے سے اپنے گھر نہیں گیا اور وہ یہ بھی معلومات رکھتا تھا کہ اس کی بیوی کا نہ تو کبھی فون آیا ہے اور نہ ہی خود کبھی بیوی کو کال کرتا پایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چاہتا تھا ذیان ایک دفعہ اپنے گھر جائے اور بہانہ بناکر پیچھے پیچھے وہ بھی رخ یار کا دیدار کرنے پہنچ جائے لیکن یہ بات وہ منہ سے نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ کسی بھی طرح ذیان کو شک میں مبتلا نہیں کرسکتا تھا۔ سو اس نے گیم کھیلا‘ ذیان صبح سے کہیں غائب تھا‘ کلاسز بھی اٹینڈ نہیں کی تھیں‘ سکندر جانتا تھا کہیں منہ چھپا کر غم منارہا ہوگا۔
عبدالمعیز اور نعمان گھر گئے ہوئے تھے سو اسے جھوٹ بولنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا وہ اسے ڈھونڈتا ہوا یونیورسٹی کے سب سے آخری گرائونڈ میں گیا۔ اس وقت رش کم تھا اور سکندر کو اسے ڈھونڈنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘ فائل چہرے پر رکھے وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر لیٹا تھا۔
’’ذیان… ذیان…‘‘ اس نے دور سے ہی آواز لگائی۔
’’ذیان… اٹھو‘ فون کیوں نہیں سن رہے؟‘‘
’’کیا… کس کا فون ہے؟‘‘ اس نے چہرے سے فائل ہٹائی تھی‘ سکندر نے دیکھا اس کی آنکھیں سرخ تھیں‘ وہ اس کے قریب بیٹھ کر بتانے لگا۔
’’گھر سے… تمہاری والدہ کی طبیعت…‘‘
’’کیا ہوا بی جان کو؟‘‘ وہ بے چینی سے اٹھ بیٹھا اور فوراً موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگا‘ سکندر نے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑلیا۔
’’گھر جانا چاہیے تمہیں بلکہ چلو‘ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘
’’خیریت ہے ناں‘ تم کچھ چھپا تو نہیں رہے؟‘‘ ذیان کے دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے تھے‘ کہیں وہ کچھ کھونے تو نہیں جارہا۔
’’اٹھو‘ تیاری کرو‘ میں سیٹیں ریزرو کروا دوں۔‘‘ سکندر اس کی بات کو نظر انداز کرتا نمبر ڈائل کرنے لگا‘ کن انکھیوں سے ذیان کی حالت کا بھرپور جائزہ لے رہا تھا۔ وہ بے چینی سے ہاتھ مسل رہا تھا‘ سکندر نے اسے چلنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بات کرتا اس کے پیچھے چل پڑا۔ ذیان پوچھ پوچھ کر تھک گیا لیکن سکندر نے یہی کہا کہ ’’گھر پہنچ کر پتا چل جائے گا‘‘ اور اس سے آگے کیا کرنا تھا یہ بھی وہ سوچ چکا تھا۔
رات کے دس بج چکے تھے جب ذیان اور سکندر گھر پہنچے۔ گیٹ کھولنے والی نذیراں مائی تھی کیونکہ باقی ملازم جاچکے تھے۔
’’ارے صاب آپ…‘‘ وہ ذیان کو اس وقت دیکھ کر چونکی۔
’’سلام اماں! گیسٹ روم کھلوا دیں‘ مہمان ادھر ہی رکیں گے۔‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے سر ہلاتے ہوئے گیٹ بند کیا‘ وہ سکندر کو لے کر ڈرائنگ روم کی طرف آگیا۔ دل دھک دھک کررہا تھا۔ نذیراں گیسٹ روم کی طرف چل دی تھی‘ سکندر کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر جب وہ بی جان کے کمرے میں پہنچا تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کا دل ہی ڈوب گیا۔
ء…/…ء
وہ میرب تھی جو بی جان کے قدموں میں بیٹھی رو رہی تھی‘ کرلا رہی تھی اور بی جان کسی پتھر کے بُت کی طرح اسے دیکھ رہی تھیں۔
’’میں نہیں جانتی بی جان… مجھے نہیں پتا چلا۔ کب… کب اس شخص کی محبت میرے اندر آبیٹھی بس بی جان اتنا جانتی ہوں‘ میں لاکھ چاہنے کے باوجود اس محبت کو اپنے دل سے نکال نہیں پارہی‘ میں نکالنا چاہتی ہوں لیکن مجھ سے نہیں ہورہا بی جان… مجھے معاف کردیں۔‘‘
’’کیا معاف کروں میرب…‘‘ بی جان کی سرد آواز آئی۔
’’تم نے ذیان کو تباہ کردیا‘ اس کی زندگی تمہاری محبت سے عبارت تھی اور تم نے وہ محبت کسی اور کی جھولی میں ڈال دی۔ میرا ذیان کس کرب سے گرز رہا ہے‘ تمہیں اندازہ ہے۔ اس نے یہ گھر‘ یہ شہر‘ ہمیں سب کچھ چھوڑ دیا ہے۔ ایک صرف اس لیے کہ تمہاری صورت ہم نے زندہ لاش اس کے کمرے میں اتار دی ہے۔ تم تو بچپن سے اس سے منسوب تھیں ناں پھر خیانت کی مرتکب کیوں ہوئیں تم‘ بتائو میرب… کہاں کمی رہ گئی‘ ہماری محبت اور تربیت میں‘ میں نے تمہیں بے حساب چاہا۔ اس گھر کی بڑی بیٹی کا مان دیا تمہیں اور تم نے میرے ہی بیٹے کو توڑ کر رکھ دیا‘ کیسے جی رہا ہوگا وہ۔‘‘ ان کی آنکھیں بھر آئیں‘ بیٹے کی ماں تھیں بہو کے منہ سے کسی اور کی چاہت کا اقرار سننا کس قدر تکلیف دہ امر تھا‘ وہی جانتی تھیں مگر میرب صرف بہو ہی نہیں اس گھر کی بیٹی بھی تھی لیکن یہ بھی سچ تھا اس اقرار کے بعد وہ اس کی شکل بھی دیکھنے کی روادار نہیں تھیں۔ اس وقت بیٹے کی محبت حاوی تھی اور اس کی بربادی کا دکھ ہوا۔
’’فضیلت۔‘‘ انہوں نے پکارا‘ دروازے کی بیچوں بیچ کھڑے ذیان کی نظر ذرا پرے کائوچ پر بیٹھی چچی خالہ پر پڑی جو ندامت کے بار سے سر نہ اٹھا پارہی تھیں۔ ہولے سے ’’جی آپا‘‘ ہی بول پائیں۔
’’تم میرب کو لے جائو‘ اللہ اس معاملے کا انجام خیر کرے‘ مجھے کچھ اچھا دکھائی نہیں دے رہا۔ بڑے شاہ صاحب تک بات پہنچی تو جانے کیا ہو‘ ذیان آجائے میں پھر فیصلہ کروں گی۔‘‘ وہ کس فیصلے کی بات کررہی تھیں‘ ذیان تڑپ کر آگے بڑھ آیا۔
’’آداب بی جان…‘‘ بی جان چونکیںاور نظر وال کلاک کی سمت گئی۔ میرب اور فضیلت بھی اسے وہاں موجود پاکر حیران ہوئیں۔
’’تم کہاں سے آگئے اس وقت؟‘‘ اس کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔ میرب اٹھ کر کمرے سے نکل گئی تھی‘ فضیلت کو اور خفت کا سامنا ہوا۔ وہ شرمندہ شرمندہ سی ذیان کا احوال دریافت کرنے لگیں (انہیں امید تھی کہ شاید اس نے کچھ نہیں سنا) ذیان کو کمرے کے ماحول میں شدید تنائو اور کشیدگی محسوس ہورہی تھی‘ وہ وہیں بیڈ پر ٹک گیا شاید بی جان کے سامنے یوں اپنی ذات کے بے پردہ ہوجانے پر الفاظ کھوج رہا تھا۔
فضیلت بی جان کو اللہ حافظ کہتی باہر نکل گئیں‘ بی جان نے ذیان کا جھکا سر دیکھا اور جان گئیں وہ ساری بات سن چکا ہے۔
’’میں نے میرب کو واپس بھجوادیا ہے۔‘‘ بی جان نے بات کا آغاز کیا۔ ’’اور تم… تم نے سب کچھ جانتے بوجھتے اس سے شادی کرلی۔ تم پہلے سے جانتے تھے ناں کہ وہ کسی اور سے محبت کرنے لگی ہے پھر بھی تم نے اتنا بڑا فیصلہ کرلیا۔ کچھ نہیں سوچا اپنے بارے میں۔‘‘ وہ اب اسے ڈانٹ رہی تھیں۔
’’میں تو سمجھی تھی شاید یونہی کسی کو پسند کر بیٹھی ہے اس قدر طوفانی عشق۔‘‘
’’اپنے بارے میں ہی تو سوچا تھا بی جان… وہ جیسی بھی ہے بی جان‘ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور شاید اس کے بغیر میرے پاس زندہ رہنے کا کوئی جواز بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ جھکے سر کے ساتھ اس محبت کا اعتراف کررہا تھا جو اس کے ساتھ ساتھ پروان چڑھی تھی اس تناور درخت کو کھینچ نکالنا مشکل تھا وہ بے بس تھا بہت زیادہ۔
’’میں نے میرب کو واپس بھیج دیا ہے‘ اس کے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر مرد کی محبت اوڑھ کر سوئے یہ میں برداشت نہیں کروں گی۔ بڑے شاہ جی آجائیں پھر فیصلہ کرتے ہیں‘ تم چلو کھانا کھالو۔‘‘ اب وہ نارمل نظر آرہی تھیں۔
’’میرے ساتھ مہمان بھی ہے‘ آپ کی طبیعت ٹھیک تھی؟ میرا فون آن تو تھا شاید سگنل پرابلم تھی۔ وہ تو مجھے سکندر نے بتایا۔‘‘ وہ متفکر ہوا۔
’’کیوں کیا ہوا میری طبیعت کو؟‘‘ وہ سوالیہ ہوئیں۔
’’مجھے تو جب شجیعہ نے بتایا کہ کل اس نے بازار میں کیا حرکت کی ہے تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ غضب خدا کا ایسی بے شرمی‘ ایسی بے حیائی‘ سارے شہر میں عزت رول کر رکھ دی۔‘‘ بی جان غصے میں تھیں۔ ذیان کے کان کھڑے ہوئے۔
’’کیا حرکت کی میرب نے بازار میں؟‘‘ وہ بی جان کی بجائے شجعیہ سے جاننا چاہتا تھا سو معذرت کرتا شجیعہ کے پاس آگیا۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کسی سوچ میں گم‘ جانے اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔ اس نے جو کچھ کل ہوا تھا بی جان کو آگہی دے دی تھی۔ وہ جانے اور میرب لیکن وہ اس شخص کے بارے میں نہیں جان پائی تھی کہ وہ کون تھا اور میرب اسے کیسے جانتی تھی۔
’’کیا ہوا تھا کل؟‘‘ وہ شجیعہ کے سر پر کھڑا پوچھ رہا تھا۔ شجیعہ اسے اچانک دیکھ کر گھبرا گئی۔
’’بھائی آپ…!‘‘ وہ سر پر دوپٹہ جماتے ہوئے بولی۔ دل بے تحاشہ دھڑکنے لگا۔ اس نے آنکھیں میچ لیں۔
’’کیا ہوا تھا کل‘ کیا کیا میرب نے؟‘‘ اس کے لہجے میں سختی لیکن آنکھوں میں صحرا کی پیاس تھی‘ کچھ بھی چھپانے کا فائدہ نہیں تھا۔ شجیعہ نے نظریں جھکائے ساری بات کہہ سنائی‘ شجیعہ بول رہی تھی اور ذیان کے اندر کچھ ٹوٹتا جارہا تھا نئے سرے سے۔
’’تو تمہیں یہ سب بی جان کو بتانے کی کیا ضرورت تھی‘ تمہیں پتا ہے تمہاری اس ذرا سی بات نے معاملات کتنے بگاڑ کر رکھ دیئے ہیں۔‘‘ خود کو جوڑتا سنبھالتا وہ گویا ہوا۔
’’میں بہت پریشان ہوگئی تھی بھائی جان… اس کی بے خودی‘ وارفتگی‘ بھرے مجمعے میں‘ کیا کوئی اس طرح کرتا ہے۔ اس کا رویہ آپ کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے‘ گھر میں کسی کے بھی ساتھ وہ بات چیت نہیں کرتی۔ سارا دن کمرے میں بند رہتی ہے‘ صرف اس شخص کی وجہ سے جس کا اس سے کوئی تعلق کوئی رشتہ نہیں۔‘‘ شجیعہ دکھ سے بول رہی تھی‘ ذیان نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔
’’تعلق ہے‘ رشتہ بھی اس کے دل کے تمام سلسلے اسی شخص سے جاکر ملتے ہیں۔ میری پاگل بہن‘ میں تو کچھ بھی نہیں تھا اس کے لیے نہ پہلے نہ اب۔ بہرحال تمہیں بی جان کو بتانے سے پہلے مجھ سے بات کرنا چاہیے تھی‘ کم از کم اپنے بارے میں ہی سوچ لیتیں تم۔‘‘ وہ کہتا پلٹ گیا۔ شجیعہ شکست خوردہ سی واپس آبیٹھی‘ اپنے بارے میں ہی تو سوچ رہی تھی وہ کل سے اور اس گتھی کا کوئی سرا ہاتھ آکے نہ دے رہا تھا۔
ذیان نے سکندر کو کھانا کھلایا اور گیسٹ روم میں چھوڑ آیا‘ فون کہاں سے آیا‘ کس نے کیا‘ سب کہیں پیچھے ہی چھپ گیا۔ ادھر تو حالات ہی بگڑے ہوئے تھے‘ میرب کا یوں گھر سے چلے جانا اچھا نہیں تھا۔ خالی بھائیں بھائیں کرتے کمرے میں ساری رات اس نے ہمیشہ کی طرح تنہا گزاری تھی لیکن وہ ایک فیصلے تک ضرور پہنچ گیا تھا‘ اسے صرف اپنا ہی نہیں شجیعہ کی خوشیوں کا بھی خیال کرنا تھا۔ معاملات کو بگڑنے سے بچانا تھا‘ دو گھروں کو ٹوٹنے سے بچانا تھا اس لیے اس نے صبح بی جان اور بڑے شاہ صاحب سے الگ الگ ملاقات کی‘ بی جان سے وعدہ لیا کہ وہ اس بات کو اپنے تک رکھیں گی اور کسی کو بھی ہوا نہ لگنے دیں گی اور بڑے شاہ صاحب سے ریکوئسٹ کی کہ وہ میرب کو ہمراہ لے جانے کی اجازت دیں‘ وجہ یہ بتائی کہ ہاسٹل میں رہ کر وہاں کا کھانا کھا کر اس کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی۔ بڑے شاہ صاحب نے کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ وہاں بند ان کا گھر جو وہ کبھی کبھار کاروباری مقاصد کے تحت کیے جانے والے دوروں میں استعمال کرتے تھے‘ صاف کروا دیا۔ دو ملازم ہمہ وقت اس کی دیکھ بھال کے لیے مامور تھے‘ ذیان نے سکندر کو ناشتا کروا کے رخصت کردیا تھا۔
وہ دل مسوس کر رہ گیا، اس کا ارادہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا تھا۔ میرب البتہ ایزی چیئر پر دراز‘ آنکھیں بند کیے نظر آگئی۔ وہ خاموشی سے پاس رکھے کائوچ پر آکر بیٹھ گیا۔ میرب کے چہرے پر اداسی تھی‘ وہ محسوس کرسکتا تھا وہ اس کے اندر کا دکھ بھی جانتا تھا لیکن وہ بے بس تھا نہ اس کے لیے کچھ کرسکتا تھا نہ اپنے لیے۔ وہ مجبور تھا اس کے معاملے میں بھی اور اپنے معاملے میں بھی۔
’’میرب۔‘‘ اس نے ہولے سے پکارا میرب نے پٹ سے آنکھیں کھولیں‘ وہ سامنے موجود تھا‘ آنکھوں میں کرب کا جہاں بسائے۔
’’اٹھو پیکنگ کرلو‘ میں تمہیں ساتھ لے کر جارہا ہوں۔‘‘ اس کا کہا اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ کرنٹ کھا کر اٹھی‘ اس نے جو سنا سچ تھا کیا؟
’’جلدی کرو‘ آجائو۔‘‘ وہ نظریں چرا کر بولا‘ اپنی محبت سے منہ موڑنا کتنا کٹھن ہوتا ہے میرب بنا کسی سوال جواب کے بعد اس کے پیچھے چل پڑی۔ کچن کے دروازے سے فضیلت نے دونوں کو آگے پیچھے جاتے دیکھا تو سکون کا سانس لیا۔ بی جان کے فیصلے نے تو ان کو دہلا کر ہی رکھ دیا تھا‘ کیا جواب دیتی پھرتیں وہ سب کو‘ میرب نے کیا کیا؟
میرب نے خاموشی سے ساری پیکنگ کی‘ وہ اتنی دیر بیڈ پر لیٹا اسے ادھر اُدھر کمرے میں گھومتا دیکھتا رہا‘ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے اتنی جلدی راضی ہوجائے گی۔
بڑے شاہ صاحب نے گیراج میں کھڑی چھوٹی گاڑی مین ٹین کروا دی کیونکہ اب اسے گاڑی کی ضرورت تھی۔ سب نے انہیں پیار سے رخصت کیا اور بی جان نے بھی ایک دفعہ بیٹی اور بیٹے کی خاطر خود کو سمجھالیا تھا۔
ء…/…ء
انہیں گھر سیٹ کرنے میں کچھ وقت لگا‘ یہ چھوٹا سا گھر بھائیوں نے سالوں پہلے خرید کر فرنش کیا تھا‘ انہیں بزنس میٹنگز کے لیے جب بھی آنا ہوتا تھا وہ یہیں قیام کرتے تھے۔ چار اسٹیپس کے بعد آمنے سامنے دو بیڈ رومز تھے‘ دونوں کی بیک والی کھڑکیاں پچھلے لان میں کھلتی تھیں لان میں کھلے موسمی پھول کھڑکی سے دلفریب منظر پیش کرتے تھے۔
’’دونوں میں سے جو بھی کمرہ پسند ہو‘ لے لو۔‘‘ ذیان نے اسے کمرے دکھاتے ہوئے کہا‘ وہ اس کی بات پر چونکی تھی‘ کیا ذیان اسے الگ کمرے میں رکھنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنا سامان نیچے ہی رہنے دیا‘ ذیان یونیورسٹی چلا گیا تھا اپنا سامان لینے۔ ڈرائیور اور مالی دو ملازم موجود تھے‘ ڈرائیور اپنی بیٹی کو بلا لایا تھا تاکہ اس کی ہیلپ کروا سکے۔ کائنات نے فٹافٹ پہلے کھانا تیار کیا پھر اس کے لیے چائے لے آئی‘ اسے اس وقت شدید طلب محسوس ہورہی تھی‘ چائے پیتے ہوئے اس نے اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچا تھا۔ اسے کچھ ایسی خوش فہمیاں نہیں تھیں۔
وہ اپنے بارے میں بھی جانتی تھی اور ذیان کے بارے میں بھی۔ ذیان شام میں دیر سے آیا‘ تب تک وہ کائنات کے ساتھ لگ کر گھر کو سیٹ کرچکی تھی‘ ذیان کے آتے ہی کائنات نے کھانا میز پر لگادیا‘ وہ بنا میرب کا انتظار کیے چپ چاپ بیٹھ کر کھانے لگا۔ پوچھا بھی نہیں کہ میرب کھاچکی ہے یا نہیں‘ میرب منتظر تھی لیکن منتظر ہی رہی۔ وہ کھا کر فارغ بھی ہوگیا‘ وہ اپنی ہتک محسوس کررہی تھی۔
’’تم نے کون سا کمرہ لیا؟‘‘ اوپر جاتے ہوئے مڑ کر اس نے پوچھا۔
’’کوئی بھی نہیں۔‘‘ وہ مختصراً جواب دے کر ٹیبل کی طرف آگئی‘ بھوک اب ناقابل برداشت ہوگئی تھی‘ انا کا مسئلہ بنائے رکھتی تو بھوکا ہی سونا پڑتا۔ وہ آرام سے اوپر گیا اور دائیں طرف والے کمرے میں جاکر اندر سے لاک کرلیا‘ میرب کے حلق میں یک لخت نوالہ پھنس سا گیا تھا۔ پانی کا پورا گلاس چڑھانے کے بعد اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا‘ اپنا مختصر سامان لے کر وہ بائیں طرف والے کمرے میں آگئی تھی۔ جانے زندگی کس نہج پر گزرنے والی تھی اس نے بڑے سے فرنشڈ بیڈر کور دیکھتے ہوئے سوچا اور اس جہازی ساز بیڈ پر لیٹتے ہی اسے جانے کب نیند آگئی تھی۔
صبح اس کی آنکھ گیارہ بجے کھلی‘ اس نے اٹھ کر کرئٹز ہٹائے‘ نرم چمکیلی دھوپ شیشوں سے چھن کر اندر آنے لگی۔ باہر اس کا منظر دلفریب تھا‘ مالی پودوں کی کانٹ چھانٹ کررہا تھا وہ وہیں کھڑے ہوکر اسے دیکھے گئی۔ وہ ابھی تک سمجھ نہیں پارہی تھی ذیان نے بی جان کے فیصلے سے انحراف کیوں کیا تھا؟ اسے اپنے ہمراہ کیوں لے آیا تھا یقینا محبت کے علاوہ بھی اور کوئی بات تھی‘ کیا یہ وہ ابھی جاننے سے قاصر تھی۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close