Hijaab Sep-18

ملاقات انٹرویو

ایڈمن پینل

اس بار انٹرویو کے لیے جس ممبر کو منتخب کیا ہے ‘ ان کا نام گروپ کے لیے کسی بھی طرح سے نیا نہیں ہے۔ راؤ رفاقت علی طویل عرصے سے آنچل ‘ حجاب اور نئے افق کے گروپ کے علاوہ پیجز پر بھی اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔
رائو رفاقت علی کا تعلق پنجاب کے ضلع لودھراں کی تحصیل دنیا پور سے ہے۔ جہاں انہوں نے ۲۰ اکتوبر۱۹۹۳ کو جنم لیا۔ دنیا پور پنجاب میںا سکول و کالجز کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ان کی تعلیم الیکٹریکل ایسوسی ایٹ انجینئر ہے جو انہوں نے خانیوال کے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خانیوال سے حاصل کی۔ ایڈمن شپ کی ذمہ داریاں یہ ۲۰۱۴ سے بخوبی نبھا رہے ہیں۔
آنچل کی لکھاری سباس گل کے گروپ سے شروعات کی اور پھر وقت کے ساتھ بہت سے گروپس و پیجز کے ایڈمن بنے ‘ اور اب ۲۰۱۶ء میں آنچل گروپ و پیجز کے ایڈمن پینل میں بطور ایڈمن اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
یہ تو ایک مختصرتعارف تھا۔ اب بڑھتے ہیں آپ کی سوالوں کی طرف اور مذید راؤ رفاقت علی کے بارے میں جانتے ہیں۔
ایمن نور
سوال: انٹرویو کے لیے منتخب ہو کر کیسا لگ رہا ہے بھائی؟
جواب: آنچل ایک بہت مشہور اور ادب کی صنف میں ایک بڑا نام ہے اور اس ادارے کی بدولت میرا انٹرویو ہو رہا ہے تو میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔
سوال: آپ اپنے مشاغل بتائیں‘ فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں؟
جواب: نیٹ سے اسلامی کتب سرچ کرنا اور پڑھنا۔ نیوز پیپر پڑھنا کبھی کبھار ڈرامہ بھی دیکھ لیتا ہوں جو اچھا لگے۔ حال ہی میں ’’سنو چندہ‘‘ ڈرامہ دیکھا ‘بہت ہی اچھا تھا۔
سوال: مستقبل کے ارادے بتائیں؟
جواب: مستقبل کو لے کر تو ہر ایک شخص کے بہت سے ارادے ہوتے ہیں۔ اچھی جاب کے ساتھ لائف سیٹ ہو۔ ہم تو بس کوشش کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ ہم اسی طرف چلے جاتے ہیں جہاں ہماری روزی لکھی ہوتی ہے۔
عنامتہ سفیان
سوال: اسلام علیکم بھائی! کبھی سوچا ہے کہ کاش خود بھی لکھتا؟
جواب: وعلیکم السلام! جی ہاں بہت بار سوچا لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے کوشش ہی نہیں کر پاتا اور مجھے نہیں لگتا کہ میں لکھ سکتا ہوں کیونکہ یہ کام بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔
سوال: کبھی کسی رائٹر سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے؟
جواب: شہباز اکبر الفت بھیا سے دو بار مل چکا ہوں‘ بہت ہی نفیس ‘ ملنسار اورخوش اخلاق ہیں۔ لکھتے بہت اچھا ہیں شہباز بھیا۔
سوال: پسندیدہ ناول اور وجہ پسند کرنے کی؟
جواب: وقت کی قلت کی وجہ سے میں ڈائجسٹ نہیں پڑھتا۔
صدف آصف
سوال: بطور ایڈمن آپ کو کن کن رائٹرز کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے؟
جواب: بطور ایڈمن مجھے صائمہ اکرم چودھری ‘ سباس گل ‘نزہت جبیں ضیاء‘ صدف آصف کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا اور اب عریشہ سہیل‘ ماورا طلحہ‘ صبا ایشل اور حنا اشرف ان رائٹرز کے ساتھ بطور ایڈمن بھی کام کر رہا ہوں بہت ہی خوش اخلاق ہیں۔
طیبہ عنصر
سوال: بہت ساری لڑکیوں کے درمیان بطور ایڈ من آپ کو کام میں دقت تو نہیں ہوتی ہے؟
جواب: میرا رشتہ ان سے بھائیوں جیسا ہے اور یہ سب پیاری بہنیں میری بہت ہپلپ کرتی ہیں کبھی انکار نہیں کرتی جس کی وجہ سے مجھے بطور ایڈمن کام کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔
سوال: آپ کو کس کس مصنفہ کا انداز تحریر پسند ہے اور کس وجہ سے؟
جواب: سوچا تھا دوسرے سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ ناولز پڑھ لوں پھر جواب دوں گا مگر وقت نہ ہونے کی وجہ سے پڑھ نہیں سکا‘ اس لیے معدزت۔
سوال: برادر آپ کے خیال میں اس گروپ میں کس کی کارکردگی بطور ایڈمن آپ کو متاثر کن لگتی ہے اپنے علاوہ؟
جواب: اس گروپ میں بطور ایڈمن سب کی کارکردگی سے متاثر ہوں‘ سب اپنا اپنا کام بخوبی کرتے ہیں میرے علاوہ۔
اساور شاہ
سوال: لکھاریوں کی دنیا میں رہتے ہوئے کبھی کہانی لکھنے کا خیال آیا اور کس لکھاری کو بہت پڑھا؟
جواب: جی ہاں بہت بار سوچا لیکن وقت کی قلت کی وجہ سے کوشش ہی نہیں کر پاتا اور مجھے نہیں لگتا کہ میں لکھ سکتا ہوں کیونکہ یہ کام بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔
سوال: اتنی خواتین میں اکلوتا ہونا کیسا لگتا ہے جب کوئی بحث یا گروپ کے متعلق فیصلہ کرنا ہو؟
جواب: مجھے یہ میری پیاری بہنیں اکلوتا محسوس ہونے ہی نہیں دیتی کوئی بھی کام ہو یا مشورہ ہم سب مل جل کر کرتے ہیں اور بحث والا کام تو آج تک ہوا ہی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں ایسی ایڈمن ٹیم میں نے آج تک نہیں دیکھی‘ بہت ہی سلجھی ہوئی اور خوش اخلاق۔
سوال: کس ممبر کی پوسٹس زیادہ پسند ہیں ؟
جواب: جو ممبر اچھی پوسٹنگ کرے ان سب کی پسند ہیں۔
نسرین اختر نینا
سوال: آپ کو کس قسم کی پوسٹ پسند ہیں اور انہیں ایک بار میں ہی اپرو کرتے ہیں؟
جواب: ایسی پوسٹس جس میں کسی کو تنقید کا نشانہ نا بنایا گیا ہو۔اسلامی پوسٹس بحوالہ‘ اچھی شاعری وغیرہ ۔
عنایہ گل
سوال: اپنی کوئی عجیب یا انوکھی خواہش بتائیں؟
جواب: عجیب تو کوئی خواہش نہیںہا ںالبتہ لاڈلی خواہش ضرور ہے وہ ذرا پرسنل ہے۔
سوال: بچپن کیسا گزرا‘ شرارتی تھے یا معصوم۔
جواب: بچپن تو بہت پیارا اور شرارتوں بھرا گزرا؟
سوال:اگر خود کو ایک جملے میں یا ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ جملہ کیا ہو گا؟
جواب: اب یہ تو میرے احباب ہی بتا سکتے ہیں کہ میں کتنے جملوں لائنوں یا لفظوں میں بیان ہو سکتا ہوں لیکن میں تو خود کو معصوم اور پیار بھرا پاگل ہی کہہ دیتا ہوں۔
فاطمہ عبدالخالق
سوال:مجھے یاد ہے جب میں آنچل اور نئے افق باقاعدگی سے پڑھتی تھی تو رائو رفاقت کا نام ضرور ہوتا تھا شاعری میں مگر اب یہ نام نظر نہیں آتا سو شاعری نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟
جواب: بہت بہت شکریہ آپ نے ہمیں یاد رکھا۔ ان میں کچھ شاعری میری خود کی ہوتی تھی اور کچھ انتخاب ہوتے تھے بس پھر جاب میں ایسے الجھے کہ سب بھول گئے وقت ہی نہیں ملتا کہ کچھ اور کر سکیں۔
سوال: رفاقت ادبی چپقلش کا کبھی سامنا ہوا ادبی گروپ کے ایڈمن ہونے کی بنا پر کیونکہ اکثر ایسا ہو جاتا ہے تو اس پہ آپ کا ردعمل ؟
جواب: ابھی تک تو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہمارے ساتھ اگر آیا بھی تو چپ سادھ لیں گے کیونکہ ایک چپ سو کو ہراتی ہے اور ہاں کہیں ایسا لگا کہ یہاں بولنا چاہیے تو وہاں بولنا بھی لازم ہے۔
رانا علی رضا
سوال: راؤ صاحب جیسا کہ آپ کے مختصر تعارف سے پتا چلا کہ آپ ماشاء اللہ الیکٹریکل انجینئر ہو تو میرا پہلا سوال یہ ہے کہ اِس ترقی یافتہ‘ تیز رفتار اور بہت مصروف پریکٹیکل زندگی میں آپ ادب کے لیے وقت کیسے نکال پاتے ہیں؟
جواب: جہاں دل کی بات آجائے وہاں وقت میسر آہی جاتا ہے ‘ادب کی بات ڈیوٹی کے بعد یا آرام کے وقت جو وقت میسر آجا ہے وہ میں ایف بی پر آ جاتا ہوں۔ ویسے بھی آج کل میں لمبی چھٹی پر ہوں۔
سوال: ایمان نور کے سوال کے جواب میں آپ نے لکھا کہ آپ سنو چندا ڈرامہ بہت شوق سے دیکھتے ہیں‘ اِس کا مطلب آپ رومینٹک ڈرامے دیکھنا پسند کرتے ہیں تو کیا آپ خود بھی ایک رومینٹک طبیعت کے مالک انسان ہیں سنو چندا کے علاوہ آپ کو کون کون سے پاکستانی ڈرامے پسند ہیں‘ چند ایک کے نام ضرور بتائیے گا‘ من مائل اور صدقے تمہارے تو آپ نے ضرور دیکھے ہوں گے؟
جواب: میں وہ ڈرامہ دیکھتا ہوں جس کا نام پڑھ کر مجھے لگے کہ یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے اور سنو چندہ ان چند ایک ڈراموں میں سے ہے۔ رومینٹک ڈرامہ دیکھنے سے بندہ رومینٹک تو نہیں ہوتا‘ مجھے کامیڈی ڈرامے پسند ہیں اور سنو چندہ ایک پر مزاح ڈرامہ بھی تھا۔ انوکھا لاڈلا‘ عنایہ تمہاری ہوئی اور چھت دیکھے ہوئے ہیں۔
سوال: ادب کے علاوہ فارغ وقت آپ کیسے گزارتے ہیں‘ یعنی آپ کے مشاغل کیا ہیں؟
جواب: فارغ وقت میں اسلامی کتب اور نیوز پیپر وغیرہ پڑھتا ہوں۔
زرناب علی
سوال: اپنی زندگی کا کوئی ایسا لمحہ جسے یاد کر کے اب بھی شرمندگی ہوتی ہو۔
جواب: ایک بار میں نے اپنے استاد کو خود کا بڑا بھائی بن کر فون کیا اور اچھی خاصی چھٹیاں لے لی چھٹیاں گزارنے کے بعد جب اسکول گیا تو استاد جی نے اچھی خاصی کلاس لی اور تب مجھے پتہ چلا کہ استاد جی کو تو کال کے دوران ہی معلوم ہو گیا تھا میرا ‘ میں آج بھی استاد جی سے ملتا ہوں تو مجھے وہ واقعہ یاد آتا ہے تو مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
ظہیر شیخ
سوال: بطور ممنون حسین اس گروپ میں کیسا ل محسوس ہوتا ہے؟
جواب: ممنون حسین سے تو کہیں زیادہ ایکٹو ہوں میں اور اس گروپ میں آ کر بہت اچھا محسوس ہوتا ہے لائک اے فیملی ۔
تسلیم شیخ
سوال: آپ کو جب غصہ آتا ہے تو کیا کرتے ہیں؟
جواب: مجھے جب غصہ آتا ہے تو ضبط کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر خاموشی سے تنہائی اختیار کر لیتا ہوں۔
سوال: ماں جی سے ڈر لگتا ہے یا بابا سے؟
جواب: بابا سے ڈر لگتا ہے اور ویسے ڈر کی بات نہیں ہے بس احترام کرتے ہیں ماں اور بابا کا اور خود سے بڑے کا چاہے جو بھی ہو۔
سوال: اپنی ایک اچھی اور ایک بری عادت بتائیں؟
جواب: اچھوں کے ساتھ اچھا رہتا ہوں یہ اچھی عادت ہے۔ کسی کو جلدی معاف نہیں کر پاتا یہ بری عادت ہے۔
دعا ہاشمی
آپ کا تعارف پڑھ کر آپ کی شخصیت کے بہت سے پہلو سامنے آئے ماشاء اللہ‘ اب ذرا اپنی کسی خامی کی نشاندہی کر دیں؟
جواب: کسی کو جلدی سے معاف نہیں کر پاتا یہ بری عادت ہے۔
حنا اشرف (کوٹ ادو)
سوال: کھانے میں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟
جواب: جو مل جائے وہی لیکن من پسند بریانی ہے۔
سوال: آپ کا پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟
جواب: پسندیدہ رنگ پنک اور بلیک۔
سوال: کس طرح کے لوگ پسند ہیں؟
جواب: خوش اخلاق منافقت سے پاک اور سیدھی بات کرنے والے۔
سوال: بچپن کی کوئی ایسی شرارت جس پہ بہت ڈانٹ پڑی ہو؟
جواب: ایسے تو بہت سی شرارتیں ہیں لیکن بچپن میں کراٹے بازی بہت کرتا تھا آئے دن کسی نہ کسی بچے کے ساتھ جھگڑا اور آئے دن مجھے بہت ڈانٹ پڑتی تھی۔
راؤ رفاقت علی سلجھے ہوئے انسان اور دوسروں کے کام آنے والوں میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی خوبیوں سے ابھی ہم ناواقف ہیں کیونکہ وقت کی کمی کے باعث انہوں نے محفل برخاست کردی۔ ہماری دعا ہے کہ اﷲ سبحان و تعالی انہیں ترقی و کامیابی عطا فرمائے‘آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close