Hijaab Aug-18

ملاقات انٹرویو

ایڈمن پینل

حنا اشرف کا تعلق شہر کوٹ ادو سے ہے اور یہ بی ایس اردو کی طالبہ ہیں… ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو پیدا ہونے والی یہ خوش اخلاق‘ سمجھدار اور نازک حسینہ ہمارے گروپ کی سینئر مبمبر اور ایڈمن ہیں‘ اتنا ہی نہیں حنا اشرف تفریحی ادب سے بھی شغف رکھتی ہیں‘ حنا اب تک چودہ (۱۴) سے زائد تحاریر لکھ چکی ہیں جن میں افسانے اور ناولٹ وغیرہ شامل ہیں… حنا کم لکھتی ہیں لیکن بہترین لکھنے والوں میں سے ہیں… ہمیں یقین ہے کہ حنا اگر یونہی لکھتی رہیں تو یقینا بہت جلد خود کو منوا لیں گی۔
صبا معراج
س: کبھی لکھتے وقت الفاظ دل اور دماغ میں تو ہوں مگر قلم سے روٹھے؟
ج: ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا۔
س: کبھی بلاوجہ تنقید کا سامنا ہوا۔اگر ہوا تو آ پ نے کیسے سامنا کیا؟
ج: تنقید برائے تعمیر سے واسطہ پڑا ہے اور اچھا لگتا ہے جب کوئی آ پ کو کہانی کے کمزور پہلوؤں کے بارے میں بتائے اصلاح ہو گی تو مزید اچھا لکھ سکیں گے۔
نادیہ مصطفیٰ خان
س: حنا اشرف آ پ کا تعلق چونکہ میرے شہر کوٹ ادو سے ہے تو وہاں کا ماحول میں بخوبی جانتی ہوں لکھنا لکھانا تو دور پڑھنے کی بھی بہت مشکل سے اجازت ملتی ہے کیاآپ کو بھی کسی ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
ج: الحمدللہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہے پیاری نادیہ ہماری فیملی میں سب ہی تقریباً ڈائجسٹ پڑھتے ہیں میری پھوپو زہرہ کے پاس تو پرانے بے شمار رسائل موجود ہیں ‘ چاچو تو باقاعدہ تلفظ ٹھیک کرنے کے لیے اخبارات وغیرہ سے کالم سنا کرتے تھے پھر کزنز کو دیکھ کر ہم نے بھی ڈائجسٹ پڑھنا شروع کیا اور ابھی تک پڑھتے ہیں اور جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مجھے لگا تھا کہ شاید ابو جی کو یہ بات پسند نہ آ ئے مگر جب پہلی تحریر شائع ہوئی تو انہوں نے حوصلہ افزائی کی اور اب بھی مجھے سپورٹ کرتے ہیں۔
س: آ پ کی نظر میں مزاح لکھنا زیادہ آ سان ہے یا پھر رومانیت؟
ج: مزاح لکھنا آ سان ہے۔
س: آ ج کل انٹرنیٹ اور موبائل کا دور ہے کیا آ پ اب بھی کاغذ پہ لکھتی ہیں یا پھر کی پیڈ کو پیاری ہوگئیں؟
ج: میں کاغذ پہ لکھتی ہوں‘ ایک دو بار کی پیڈ کا استعمال کیا مگر ٹائپنگ کرنا بے حد مشکل لگتا ہے جبکہ کاغذ پہ لکھنے میں بہت آ سانی رہتی ہے۔
صبا جرال
س: پہلی کہانی چھپنے پر آ پ کے تاثرات اور اپنی کامیابی کس سے شئیر کی تھی؟
ج: پہلی تحریر کی خوشی حد سے بھی زیادہ ہوتی ہے میں بھی بہت خوش ہوئی تھی سب سے پہلے امی سے یہ خوشی شئیر کی تھی پھر اپنی بہنوں سے۔
س: زندگی میں کبھی اپنے کیرئیر کے حوالے سے مایوسی ہوئی؟
ج: ابھی تو تعلیم حاصل کر رہی ہوں ڈئیر جی کیرئیر تو بنانا ہے ابھی ان شاء اللہ۔
ام ارسلان
س: آ پ نے جب پہلی کہانی لکھی تو اس پر قارئین کی طرف سے پزیرائی پر کیا تاثرات تھے اور یہ پزیرائی آ گے لکھنے میں کس حد تک مددگار ثابت ہوئی؟
ج: جب قارئین کی طرف سے حوصلہ افزائی ہو آ پ کی تحریر کو پسند کیا جائے بہت اچھا لگتا ہے ‘ مزید لکھنے کو دل کرتا ہے اگرچہ میرا مختصر افسانہ تھا مگر اسے بھی پسند کیا گیا میری دوستوں نے بھی اپنی رائے کھل کر دی مجھے بے حد خوشی ہوئی تھی۔
س: آ پ کی تحریر پر قارئین نے کبھی تنقید کی؟ اور اس تنقید کا آ پ پر منفی اثر ہوا یا پھر مثبت؟
ج: تنقید برائے تعمیر کا سامنا ہوا ہے منفی اثر تو بالکل بھی نہیں ہوا آ پ کی تحریر میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے تب ہی تو لوگ اس طرف توجہ دلاتے ہیں اور اس بات سے آ پ کا ہی فائدہ ہوتا ہے میری کہانیوں کے بارے میں کوئی رائے دے تو میں ان سے لازمی کہتی ہوں کہ مجھے بتائیں کہاں کمی تھی؟ تاکہ آ ئندہ اس طرف خاص توجہ رکھوں۔
س: ایسا کوئی موضوع یا کردار جس پر چاہتے ہوئے بھی نہیں لکھ پائی؟
ج: موضوع سیاست اور کردار ہاں۔ کردار کچھ ہیں ایسے جن پر ابھی تک چاہنے کے باوجود کچھ نہیں لکھ سکی کیونکہ میں ان کرداروں کو دل سے لکھنا چاہتی ہوں اور ان شاء اللہ ان کو تب لکھوں گی جب مجھے لگے گا کہ میں اچھا لکھ سکتی ہوں۔
عابدہ سبین
س: زندگی کا گول جسے ہر حال میں پورا کرنا ہے؟
ج: ایک کامیاب انسان بننا اور دوسروں میں خوشیاں تقسیم کرنا۔
فاطمہ خان
س: السلام علیکم حنا اپنی فیورٹ ڈش فیورٹ کلر بتائیں؟
ج: وعلیکم اسلام فاطمہ۔ میری پسندیدہ ڈش بریانی ہے اور رنگوں میں مجھے سیاہ رنگ بے حد پسند ہے۔
طیبہ عنصر
س: کس قسم کے موضوعات پہ لکھنا مشکل لگا؟ اور کس طرح کی تحاریر میں قلم میں روانی رہی؟
ج: طیبہ آ پی ابھی تک تو کسی بھی مشکل قسم کے موضوع کو قلمبند نہیں کیا جو بھی لکھا ہلکے پھلکے سے موضوعات تھے اور پرمزاح کہانی لکھنے میں قلم میں روانی رہی۔
س: کون سی اقسام پسندیدہ ہیں ‘افسانہ نگاری ‘ناول‘ناولٹ ‘پڑھنے میں بھی اور لکھنے میں بھی؟
ج: پڑھنے میں سب کچھ ہی دلچسپی سے پڑھتی ہوں چاہے وہ افسانے ہوں ناولٹ ‘ ناول ‘ سلسلے وار ناولز یا پھر کوئی اور اصناف اور جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو ابھی تک صرف افسانوں اور ناولٹ پہ طبع آ زمائی کی ہے تو یہی قسمیں پسند ہیں‘ آ ج کل ایک ناول لکھ رہی ہوں تو ناول لکھنا بھی بے حد اچھا لگ رہا ہے۔
عنامتہ سفیان
س: آ پ لکھتی اتنا کم کیوں ہیں؟
ج: لکھنے کے معاملے میں مستقل مزاج بالکل نہیں ہوں تب ہی لاتعداد ادھوری کہانیاں پڑی ہیں جنہیں مکمل نہیں کرسکی۔
س: دوسرا جیسا کہ عید کا موقع قریب ہے تو کبھی کوئی ایسا عید کا واقعہ جو آ پ کے لیے بہت یادگار ہو؟
ج: عیدالاضحٰی پر میں خالہ کے گھر تھی جب میں نے ضد کی کہ میں نے دیکھنا ہے قربانی ہوتی کیسے ہے مگر جب میں نے بے چارے بکرے کو قربان ہوتے دیکھا تب میرے حوصلے پست ہو گئے تھے مگر پھر بھی سب کو دکھانے کی غرض سے کہ میں بہت بہادر ہوں بغیر ڈرے میں ماموں کے ساتھ بیٹھی رہی تھی اپنی ہمت کو آ ج بھی داد دیتی ہوں وہ دن مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔
س: پہلی تحریر کے بارے میں بتائیں کیا سوچ کر لکھی تھی؟
ج: بس یہی سوچا تھا کہ لکھنا ہے اور ضرور لکھنا ہے چاہے جیسا بھی لکھ لیا ڈائجسٹ میں بھی لازمی بھیجنا ہے چونکہ آ نچل ڈائجسٹ میرا پسندیدہ تھا تب ہی پہلا افسانہ بھی اسی ادارے میں بھیجا تھا اور الحمدللہ شائع بھی ہوا۔
فائزہ شعیب
س: ریڈر سے رائٹر تک کا سفر کیسے طے کیا؟
ج: ریڈر سے رائٹر تک کا سفر اپنی بہن کے اشتعال دلانے پر پار کیا تھا۔
س: کیسے اور کب لگا کہ آ پ لکھ سکتی ہیں؟
ج: جس دن پہلا افسانہ لکھا تھا اسی دن۔
س: اپنے آ پ کو رائٹر کے طور پہ کہاں دیکھتی ہیں؟
ج: ابھی تو سفر کا آ غاز کیا ہے۔
کوثر ناز
س: اب تک کا خوب صورت ترین لمحہ؟
ج: ہر وہ لمحہ میرے لیئے خوب صورت ہوتا جب میرا چھوٹا بھائی محمد روحان اپنی شرارتوں کے بعد مسکراتا ہے۔
س: حنا لکھتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھتی ہیں؟
ج: کرداروں کے نام اور کہانی کا عنوان اچھا سا ہونا چاہیئے۔
س: حنا کیسی شاگرد ہے؟ سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہیں یا موڈ پر منحصر ہوتا ہے؟
ج: شاگرد زرا نالائق سی ہوں ‘ مگر سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہوں۔
س: ڈائجسٹ کب پڑھنا شروع کیا اور آ نچل کی کس لکھاری سے متاثر تھیں؟
ج: باقاعدگی سے تو میٹرک سے ڈائجسٹ پڑھنا شروع کیا اور ہر وہ لکھاری پسند ہے جن کی تحاریر میں ایک خاص گہرائی اور سبق ہو۔
عریشہ سہیل
س: لکھتے وقت کس چیز کے چناؤ میں زیادہ مشکل درپیش آ تی ہے؟ عنوان یا کرداروں کے نام؟
ج: دونوں میں ہی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ کہانی کا نام اور کرداروں کے نام میرے لیے بہت اہم ہوتے ہیں‘ کرداروں کے نام تو کچھ تگ و دو کے بعد منتخب کر لیتی ہوں مگر عنوان کے لیے کافی سوچنا پڑتا ہے۔
س: حقیقت نگاری پر یقین رکھتی ہیں یا خیالی دنیا کو قلم بند کرنا پسند ہے؟
ج: حقیقت نگاری پہ یقین رکھتی ہوں۔
س: ایڈمن شپ اور لکھنے کے سفر میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع ملے تو کسے چنیں گی؟
ج: یقینا لکھنے کو چننا پسند کروں گی کہ اس کے بغیر تو اب میں خود کو ادھورا محسوس کرتی ہوں ۔
س: کبھی کسی نے آ پ کا مداح ہونے کا دعویٰ کیا؟
ج: جی ہاں میرے ابو اس بات کے دعویدار ہیں۔
نورالامین
س: کبھی لکھتے ہوئے مشکل پیش آ ئی؟
ج: جی ایک دو بار ایسا ہوا کہ لکھتے ہوئے تھوڑی بہت مشکل پیش آ ئی ‘ وہ بھی صرف کہانی کے اختتام یا پھر کہانی کا نام سلیکٹ کرتے وقت۔
سباس گل… رحیم یار خان
س: لکھنا مشکل کام ہے یا آ سان؟
ج: آ پی لکھنے کا شوق رکھنے والوں کے لیے لکھنا مشکل نہیں ہوتا فی الحال تو یہ آ سان کام لگتا ہے ‘ ابھی کم لکھتی ہوں شاید اس وجہ سے بھی آ سان لگتا ہو۔
س: لکھنے کے حوالے سے کیا خواب ہیں آ پ کے؟
ج: لکھنے کے حوالے سے میرے ڈھیر سارے خواب ہیں سباس آ پی میں بہت اچھا لکھنا چاہتی ہوں ایسا جو سب کو پسند آ ئے بے شک عام سا ہو مگر اپنے اندر ایک خاص تاثر رکھتا ہو اللہ پاک نے چاہا تو ایک دن ضرور ایسا لکھ سکوں گی ان شاء اللہ۔
مہوش ملک
س: ایک مصنفہ ہوتے ہوئے بھی ایسا کون سا موضوع ہے جس پر آ پ لاکھ چاہتے ہوئے بھی نہیں لکھ پاتیں؟
ج: میں سیاست میں دلچسپی لینے والوں پر لکھنا چاہتی ہوں مگر چاہنے کے باوجود ابھی تک اس لیے نہیں لکھا کہ مجھے سیاست پسند نہیں اور اس کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں ہے۔
س: ایسا کون سا ناول ہے جسے پڑھ کر آ پ کو لگا کہ میں اس سے بہتر لکھ سکتی تھی؟
ج: ایسا کوئی ناول نہیں۔
س: کہانی لکھتے وقت سب سے پہلے کون سی چیز مدِ نظر رکھتی ہیں؟
ج: سب سے پہلے ’’عنوان‘‘ اور پھر موضوع اور پلاٹ۔
ریما نور رضوان
س: چلو زیست کو سمجھتے ہیں؟ یہ تحریر پڑھتے ہوئے باربار احساس ہوا کہ یہ کسی مخصوص وقت اور خاص انداز میں لکھی گئی ہے‘ کیا ایسا ہی ہے؟
ج: اپنی کہانیوں کے زیادہ تر کردار میں نے اپنے اردگرد لوگوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد تخلیق کیے ہیں تب ہی آ پ کو ایسا محسوس ہوا۔
س: کتنی کہانیاں ہیں جو منتخب ہونے کے بعد شائع ہونے کی منتظر ہیں؟
ج: اس وقت دو کہانیاں ہیں جو منتخب ہو چکی ہیں۔
س: کس کس ڈائجسٹ میں تحاریر بھیجی ہوئی ہیں کب تک شائع ہوں گی؟
ج: حجاب ڈائجسٹ اور الف کتاب ویب سائٹ پر کہانی منتخب ہو چکی ‘ یہ نہیں معلوم کب تک شائع ہو گی اس کے علاوہ پچھلے ماہ نئے افق اور پاکیزہ ڈائجسٹ میں بھی افسانہ بھیجا تھا۔
س: ایڈمنز شپ کے ساتھ رائیٹنگ اور روٹین لائف یہ سب کیسے بیلنس رکھتی ہیں؟
ج: لکھنے کے معاملے میں مستقل مزاج بالکل نہیں ہوں تب ہی کم ہی لکھتی ہوں۔ میری روٹین لائف بھی زیادہ ٹف نہیں ہے اسی لیے سب آ سانی سے ہو جاتا ہے۔
عائشہ تنویر
س: اس گروپ کی اور پیج کی ایڈمن شپ کرتے کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟
ج: گروپ کی ایڈمن تو تب سے ہوں جب سے گروپ بنا تھا تقریباً تین سال پہلے مگر پیج کی ایڈمن گروپ سے بھی پہلے کی تھی اب یاد نہیں کہ کتنا عرصہ ہو گیا۔
س: بطور ہیڈ صبا ‘ سعیدہ آ پا‘ طاہر بھائی اور کو ایڈمنز کے عریشہ‘ ماورا‘ راؤ‘ کوثر کے بارے میں آ پ کی رائے؟
ج: میں نے سعیدہ آ پی اور طاہر بھائی جیسے سادہ اور مخلص لوگ بہت کم دیکھے جن کا اخلاق اور پرخلوص انداز مجھے بے حد پسند ہے ان کی تعریف کے لیے تو میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں۔ بطور ہیڈ ایڈمن صبا بہت اچھی ہیں دوسروں کا خیال رکھنے والی مخلص دوست جس نے خوش اسلوبی سے سب کچھ سنبھالا ہوا ہے‘ اس نے مجھ جیسی نالائق ایڈمن کو بھی برداشت کیا ہوا ہے صبا کی کہانیاں دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں ‘ راؤ بھائی ہمیشہ بھائیوں کی طرح سب کا خیال رکھتے ہیں جب بھی کوئی کام کہا کبھی بھی انکار نہیں کیا اور فوراً کام کر دیا ‘ کوثر ناز ایک پیاری سی سادہ دل لڑکی جو ایک اچھی مصنفہ بھی ہیں ہمیشہ محبت سے پیش آ تی ہیں ‘ عریشہ جو مجھے بہت معصوم سی لگتی ہے جسے کبھی دیکھا تو نہیں مگر یقینا اتنی ہی خوب صورت ہوں گی جتنی اچھی باتیں کرتی ہے اس کی ایڈیٹنگ بہت لاجواب ہوتی ہے ماورا چلبلی سی شرارتی‘ چہکتی چڑیا کی طرح ہے ماشاء اللہ لکھتی بھی بہت اچھا ہے یقینا ابھی بہت سی کامیابیاں اس کی منتظر ہیں۔ سب اپنے کام کو ذمہ داری سے سرانجام دیتے ہیں تب ہی آج تک نہ کسی میں جھگڑا ہوا نہ کوئی تکرار۔
س: رائٹنگ مشکل ہے یا ایڈمن شپ؟
ج: میرے خیال میں دونوں ہی آ سان ہیں بس وقت درکار ہونا چاہیے۔
گڑیا شاہ
س: کچھ اپنے بارے میں بتائیں آ پ کی کامیابیوں کا سہراکس کوجاتاہے؟
ج: میری کامیابیوں کا سہرا مجھ سے منسلک تمام لوگوں کو جاتا ہے۔
س: زندگی کانچوڑ‘ آپ کی زندگی کاخوب صورت لمحہ‘کل اثاثہ؟
ج: میری زندگی کا سب سے خوب صورت لمحہ جب میں پہلی بار خانہ کعبہ اور گنبد خضریٰ کو اپنی آ نکھوں سے دیکھوں گی۔ زندگی کا نچوڑ میرا کل اثاثہ میرے والدین میری فیملی اور دوست احباب۔
س: ہمارے معاشرے میں خواتین کو آ ج بھی بہت سے مسائل کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
ج: عورتوں کو مسائل کا سامنا اس لیے ہے کہ ان میں تعلیم کی کمی ہے اگر وہ تعلیم حاصل کر لیں تو اپنے مسائل خود حل کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔
ہادی انس
س: پہلی کون سی تھی کہانی آ ئی؟
ج: میں نے جو پہلی کہانی لکھی وہ ’’چلو تم کو بتاتے ہیں‘‘ تھی مگر جو پہلی بار ڈائجسٹ میں شائع ہوئی وہ ’’عید ایثار اور خوشی‘‘تھی۔
س: اپنی کہانیوں میں آپ کو سب سے زیادہ کون سی کہانی پسند ہے؟
ج: لکھاری کو اپنی لکھی ہر تحریر سے محبت ہوتی ہے چاہے وہ عام سی ہی کیوں نہ ہو مجھے بھی اپنی ساری تحاریر پسند ہیں چلیں ان میں سے ایک بتا دیتی ہوں۔ چلو زیست کو سمجھتے ہیں۔
ثمر فاطمہ
س: سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
ج: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘ بڑی خواہش تو نہیں مگر چھوٹی خواہشیں ان گنت ہیں۔
س: کبھی لکھتے ہوئے مشکل پیش آ ئی؟
نورین مسکان
س: حنا کیا آ پ کو ایسا لگتا ہے کہ کبھی آ پ کے الفاظ خود چل کر آپ کے قلم کی نوک تک آ ئے ہوں؟
ج: نورین ڈئیر کبھی کبھار ایسا لگتا ہے جیسے میرے الفاظ خودبخود میرے قلم کی نوک تک آ گئے ہوں تب ہی پھر اس وقت جب لکھنے بیٹھوں تو بس لکھتی ہی چلی جاتی ہوں۔
س: مقید زنداں کر کے آ پ سے کچھ لکھنے کو کہا جائے تو آ پ زندگی کا حوالہ کیسے دیں گی؟
ج: اگر مجھے مقید زنداں کیا جائے تو میری تو سانس ہی رک جائے گی زندگی ختم ہو جائے گی پھر لوگ ہی حوالے دیتے پھریں گے؟
س: آ پ کے خیال میں ادیب کی کیا پہچان ہے؟
ج: ادیب کی اصل پہچان اس کا قلم ہوتا ہے اس کی تحاریر اور انداز بیاں بھی۔
شگفتہ یاسمین
س: آ پ کس چیز کے بارے میں لکھتی ہیں؟مطلب آ پ کو کس چیز نے لکھنے پہ مجبور کیا؟
ج: شگفتہ بہنا مجھے لکھنے کا بے حد شوق تھا مصنفہ بننا میری خواہش تھی اور پھر ان لوگوں کی باتوں نے بھی لکھنے پر مجبور کر دیا تھا جن کا یہ کہنا تھا کہ لکھنا تمہارے بس کا کام نہیں پہلے پہل مجھے ایسا لگتا تھا میں کبھی بھی نہیں لکھ سکوں گی مگر جب قلم اٹھایا اور کامیابی و ناکامی کی فکر سے آ زاد ہو کر لکھنا شروع کیا تو الحمدللہ پھر لکھتی ہی گئی اب وہی لوگ مجھے سراہتے ہیں۔
س: سب سے پہلے کب لکھنا شروع کیا؟
ج: میں نے۲۰۱۵ میں لکھنا شروع کیا تھا پہلا افسانہ ستمبر میں شائع ہوا تھا۔
حافظہ ثوبیہ عارف
س: آ پ کو کس چیز نے‘ یا کس بات نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا تھا؟
ج: جس دن میں نے اپنی پہلی کہانی لکھی تھی اس دن مجھے کسی نے کہا تھا کہ لکھنا تمہارے بس کا کام نہیں پس میں نے قلم اٹھایا ‘ اللہ کا نام لے کر لکھنا شروع کیا تو کہانی لکھ ڈالی۔
س: کبھی ناکامی ملی تو آ پ کو کیسا لگا؟ شروعات میں آ پ نے اپنی تحاریر کو شائع کروانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلے؟
ج: ضروری تو نہیں کہ آ پ ہر میدان میں صرف کامیابیاں سمیٹیں ‘ ہمیں ناکامی کے لیے تیار رہنا چاہیے اگر صرف کامیاب ہونے کے لیے بیٹھ جائیں تو جینا مشکل ہو جائے گا۔ حنا ڈائجسٹ میں ایک افسانہ بھیجا تھا میں نے جو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ یہ بہت زیادہ مختصر ہے۔ اس ناکامی پر بجائے افسوس کے مجھے خوب ہنسی آئی تھی۔ الحمدللہ اپنی تحاریر کو شائع کروانے کے لیے کبھی پاپڑ نہیں بیلنے پڑے اور نہ ہی ان شاء اللہ کبھی اس کی نوبت آ ئے گی۔ جب ہم کسی سفارش کے ساتھ آ گے بڑھیں گے تو یہ ہماری سب سے بڑی ناکامی ہو گی کامیابی نہیں۔ ہمیشہ اللہ پاک پر بھروسہ رکھنا چاہیئے وہ اپنا کرم آ پ پر ہمیشہ رکھے گا۔
س: نئے لکھاریوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اور ان کو کیا نصیحت کرنا چاہتی ہیں؟
ج: نئے لکھنے والوں میں بہت سے ایسے رائٹرز ہیں جو اچھا لکھ رہے ہیں۔ انہیں چاہیئے وہ اپنا مطالعہ وسیع کریں تاکہ زیادہ اچھا لکھ سکیں اور خاص طور پر میں ویب سائٹ پر لکھنے والے نئے رائٹرز کو یہ کہنا چاہوں گی کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے توجہ طلب موضوع ہیں جن پر لکھنے کی ضرورت ہے خدارا مذہب پر کوئی بھی کہانی لکھنے سے پہلے اس موضوع کے بارے میں مکمل معلومات ضرور حاصل کر لیں۔
عنایہ گل
س: آ پ کی پسندیدہ شخصیت جن سے متاثرہوں؟
ج: سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں‘ ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہا ‘ حضرت خالد بن ولید۔
س: کوئی ایسی بات جسے سوچتے ہی چہرے پہ بیساختہ مسکراہٹ آ جاتی ہو؟
ج: بچپن کی ساری باتیں شرارتیں سوچتے بے ساختہ ہنسی آجاتی پھر گھنٹوں ان شرارتوں کا ذکر چلتا رہتا ہے۔
س: اپنی کوئی خوبی و خامی بتائیں نیز ایک تعریفی جملہ جو اکثر سننے کو ملتا ہو۔
ج: خوش رہیں حنا اللہ پاک آ پ کو ڈھیروں کامیابیوں سے نوازے آمین۔ خوبیاں تو دوسرے زیادہ بہتر بتا سکتے ہاں خامیاں بہت سی ہیں چونکہ آ پ نے خامی پوچھی تو صرف ایک ہی بتاؤں گی وہ یہ کہ ’’میں بہت جذباتی ہوں‘‘ اور سب سے زیادہ تعریف میری کوکنگ میں ہوتی ہے۔حناء کھانا اچھا بناتی ہے اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے۔ آمین ثم آمین دعاؤں کے لیے جزاک اللہ بہنا آ پ بھی سدا خوش رہیں۔
عائشہ احمد
س: نئے اور پرانے لکھاریوں میں سے کون بہتر لکھ رہا ہے؟ کیا ہمارے نئے لکھاری موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق لکھ رہے ہیں؟
ج: میں مستقبل کی بجائے حال پہ توجہ دینے والوں میں سے ہوں تب ہی قبل از وقت کچھ کہہ نہیں سکتی۔
س: افسانہ اور کہانی میں کیا فرق ہے؟
ج : افسانہ فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنی قصہ ‘ داستاں اور جھوٹی کہانی کے ہیں افسانہ اور کہانی میں فرق یہ ہے کہ کہانی میں اصل واقعات بیان کیے جاتے ہیں جبکہ افسانے میں تخیل اور خیالات ہوتے ہیں ‘ مکالمے ‘ کردار اور پلاٹ دونوں میں ایک سے موجود ہوتے ہیں۔
س: آ پ اردو ادب کو آ نے والے وقتوں میں کہاں دیکھتی ہیں؟
ج: بس اتنا کہنا چاہوں گی جب تک اردو بولنے ‘ لکھنے اور پڑھنے والے موجود ہیں ان شاء اللہ اردو ادب ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔
محمد تنویر خلیل
س: لکھتے وقت کن باتوں کو مد نظر رکھ کے لکھتی ہے؟
ج: لکھتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتی ہوں کہ کہانی کہیں پہ بھی الجھاؤ کا شکار نہ ہو ‘ مکالمے سادہ ہوں ‘ کرداروں کی تعداد بہت زیادہ نہ ہو کیونکہ کردار اگر کہانی کی مناسبت سے ہوں گے تب ہی آپ کو لکھتے ہوئے آ سانی بھی رہے گی۔
س: ناول ‘افسانہ اور ناولٹ میں کیا آسان لگتا ہے لکھنا اور کون سا پسند ہے؟
ج: یہ ہر لکھاری کی شخصیت پہ منحصر کرتا کہ اس کے لیے سب سے زیادہ کیا لکھنا آ سان ہے مجھے لکھنا اچھا لگتا ہے چاہے وہ افسانہ ہو ناولٹ یا پھر ناول بس وقت درکار ہونا چاہیے ویسے ابھی تک میں نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا تب ہی اگر کچھ عرصے بعد یہ سوال پوچھا جائے تو میں زیادہ بہتر جواب دے سکوں گی کہ کیا لکھنا میرے لیے زیادہ آسان ہے۔
ایمن نور
س: آ پ کو اپنا نام کیسا لگتا ہے؟
ج: مجھے اپنا نام اچھا لگتا ہے کیونکہ اس کا مطلب مجھے بہت پسند ہے۔
س: کبھی کسی فین سے ملاقات ہوئی؟
ج: نہیں ملاقات کسی سے نہیں ہوئی۔
س: کیسا لگتا ہے جب لوگ لکھنے کے حوالے سے عزت دیتے ہیں؟
ج: الحمدللہ بہت اچھا لگتا ہے بے حد خوشی بھی ہوتی ہے یہ سب اللہ پاک کا خاص کرم ہے۔
اساور شاہ
س: آ پ کی آ واز کیسی ہے اور پوسٹس اور گروپ کے حوالے سے آ پ بہت بے ضرر معصوم سی لگتی ہیں؟ اپنے بارے میں کیا خیال ہے ؟
ج: یہ تو دوسرے ہی بہتر بتا سکتے کہ میری آ واز کیسی ہے میں اپنے منہ سے میاں مٹھو نہیں بننا چاہتی (آہم) معصوم تو میں ہوں یہ تو میں خود بھی اچھی طرح سے جانتی ہوں۔
س: کبھی کسی کی سچی کہانی کو یا زندگی میں ملے کسی کردار کو کاغذ پر اتارا ہے؟
ج: میں نے جتنی بھی کہانیاں لکھی ہیں ان کے کافی کردار میں نے اپنے اردگرد دیکھے ہیں اور جہاں تک کسی کی سچی کہانی کو لکھنے کی بات ہے تو اس حوالے سے بھی میں نے ایک کہانی لکھنی شروع کی ہے یہ مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ وہ مکمل کب ہو گی۔
س: کیا آ ج تک کچھ ایسا لکھا جسے خود بھی لکھ کر اور پھر سے پڑھ کر لگا ہو کے ہاں اب حق ادا ہوا اور نئے آ نے والوں کے لیے کوئی تجویز؟
ج: میرا ایک افسانہ ’’میٹھے بول‘‘ کے نام سے ہے جو کتاب ’’فسوں کدہ‘‘ میں شائع ہوا ہے اسے لکھ کر اور بعد میں اسے پڑھ کر میں مطمئن تھی۔ نئے آ نے والوں کے لیے یہی کہوں گی کبھی بھی حوصلہ مت ہاریں اگر آ پ کی کوئی تحریر رد ہو جائے تو لکھنا ہرگز مت چھوڑیے گا ہمیشہ ایسا لکھیں جس سے آ پ کا دل مطمئن ہو۔
ذکر شب فراق
س: آ پ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کسے دیتی ہیں؟
ج: میرے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت میرے والدین کی ہے اور پھر ان کے بعد بہن بھائی اور دوستوں کی۔
س: کوئی ایسا واقعہ جس نے آ پ کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا؟
ج: بہت سے ایسے واقعات ہیں جنہوں نے مجھے تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر انہیں بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔
س: مستقبل میں کیا بننا چاہتی ہیں مطلب کیا سوچا آ پ نے کہ آ پ نے کیا کرنا ہے؟
ج: آ ہ کیا یاد دلا دیا مستقل کے بارے میں تو نجانے کیا کیا خواب دیکھے تھے پہلے پہل تو وکیل بننے کا شوق تھا پھر ڈاکٹر‘ ٹیچر‘ رائٹر‘ صحافی اور بھی بہت کچھ سوچا تھا ان گنت خواب دیکھے تھے۔ اب قسمت میں اللہ پاک نے جو بھی لکھا ہو گا وہ مل جائے گا بلکہ ایک خواب تو الحمدللہ پورا ہو چکا یعنی رائٹر بننے کا۔
سادی خان
س: اپنی کہانیوں میں آ پ کا پسندیدہ کردار کون سا ہے؟
ج: ’’آنچل کے ستارے‘‘ میں زرنش کا کردار اور ’’چلو کچھ دیر ہنستے ہیں‘‘ میں مجھے حازم زمیل اور زیاد کے کردار پسند تھے کہ انہیں میں نے بہت محبت اور دل سے لکھا تھا۔
س: آ پ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟
ج: مجھے ہر وہ مصنف اور مصنفہ پسند ہیں جس کی تحریر میں خاص سبق موجود ہو پسندیدہ رائٹرز کی لسٹ کافی لمبی ہے سیدہ غزل زیدی ‘ سمیرا شریف طور ‘ عائشہ نور محمد ‘ نازیہ کنول نازی ‘ عفت سحر طاہر ‘ نمرہ احمد ‘ ام مریم ‘ فاخرہ گل ‘ سباس گل ‘ عابدہ سبین ‘ صائمہ قریشی ‘ محمود ظفر اقبال ہاشمی ‘ نایاب جیلانی ‘ سحر ساجد ‘ مصباح نوشین صبا ایشل ‘ ماورا طلحہ‘ نزہت جبین ضیاء‘ فرح بخاری ‘ نائلہ طارق اور ان کے علاوہ بھی بہت سی مصنفین پسند ہیں جن کا نام ابھی ذہن میں نہیں آ رہا۔
س: نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی نصیحت‘جس سے ان کو بہتر لکھنے میں مدد ملے؟
ج: نئے لکھنے والوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ آ پ جتنا اچھا پڑھیں گے اتنا ہی زیادہ اچھا لکھ سکیں گے اس لیے زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں آ پ کا مطالعہ جتنا وسیع ہوگا آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بھی زیادہ ہوگا۔
صدف آ صف
س: حنا رائٹر بن کر زیادہ اچھا لگتا ہے یا ایڈمن بننا؟
ج: رائٹر بن کر زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ خوشی ملتی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close