Hijaab Jun-18

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

گزشتہ قسط کا خلاصہ
چودھری بخت منزہ کو دیکھے بغیر اپنے روم میں چلے جاتے ہیں‘ جب کہ ایک دوسرا شخص منزہ کو پہچان کر اس کے قریب چلا آتا ہے۔ منزہ اسے دیکھ کر پریشان ہوجاتی ہے‘ جب کہ وہ شخص انوشا اور ماورا کی بابت پوچھتا منزہ کی پریشانی مزید بڑھا دیتا ہے۔ اسی وقت ہاسپٹل میں ایمرجنسی کیس آجاتا ہے جس سے ہاسپٹل میں رش بڑھ جاتا ہے۔ منزہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتی انوشا اور ماورا کو اپنے ساتھ لے کر وہاں سے نکل جاتی ہے۔ وہ شخص منزہ کا پیچھا کرتا ہے۔ شاہ زر شمعون کو گجر پر غصہ ہوتا ہے اور وہ ان سے انتقام لینا چاہتا ہے‘ لیکن اس بات کی اجازت چودھری حشمت کی طرف سے نہیں ہوتی‘ جب ہی وہ خود پر ضبط کر رہا ہوتا ہے۔ تب ہی ایک لڑکی اس کے پاس آکر اس سے مدد مانگتی‘ گجر کے مظالم کے قصے سناتی ہے ۔ شاہ زرشمعون حویلی آکر وہ ساری بات چودھری حشمت کو بتاتا ہے‘ تب وہ پنچائیت بلانے کا کہتے‘ شاہ زر شمعوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ ماورا یونیورسٹی آتی ہے تو کلاس میں اس کے تعارف کے ساتھ ہی ایشان جاہ کو اور اس کے گروپ کو اس کے ٹاپ کرنے کا علم ہوجاتا ہے‘ ماورا نے اپنے طور پر کوئی مقابلے بازی نہیں کی ہوتی جب کہ ایشان جاہ کو اس کا سرفہرست آنا ناگوار گزرتا ہے۔ وہ شخص منزہ کا پیچھا کرتا اس کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت انوشا اور ماورا اسکول اور کالج گئی ہوتی ہیں۔ وہ شخص منزہ کو ماضی کے حوالے سے ڈراتا اس سے پیسے وصول کرتا چلا جاتا ہے۔ تب منزہ خوفزدہ ہوتی دونوں بیٹیوں کی شادی کے حوالے سے سوچتی صائمہ (ہمسائی) سے رشتے کی بات کرتی ہے۔ پنچائیت میں گجر اور چودھری حشمت میں تلخ کلامی ہوجاتی ہے اور ایسے میں گجر کے آدمی چودھری حشمت پر حملہ کردیتے ہیں۔ شاہ زر شمعون چودھری حشمت کو بچانے کے چکر میں خود گھائل ہوجاتا ہے‘ لیکن وہ گجر کے آدمیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ سمہان آفندی عیشال جہانگیر کو کالج لے کر جا رہا ہوتا ہے کہ راستے میں گاڑی خراب ہوجاتی ہے۔ وہ مکینک کو لینے جاتا ہے‘ تب عیشال جہانگیر کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ گاڑی میں ہی بیٹھ کر اس کا انتظار کرے لیکن واپس آکر اسے گاڑی میں ناپاکر وہ پریشان ہوجاتا ہے‘ تب ہی عیشال جہانگیر کی چیخ سنائی دیتی ہے۔
اب آگے پڑھیے
ؤ…ز…ؤ
عیشال کی آواز مسلسل آرہی تھی۔ اس کی تلاش میں وہ کافی آگے نکل آیا تھا‘ آواز کا تعاب کرتے اسے عیشال جہانگیز نظر آگئی‘ بے حد خوف زدہ اور سہمی ہوئی تھی۔
’’سمہان…‘‘ اس کے صحت مند چہرے اور کسرتی وجود کو دیکھتے عیشال جہانگیر کے چہرے پر سکون پھیلا تھا۔ اس کا نام پکارتی وہ خوف زدہ نگاہوں سے جنگلی کتوں کو دیکھ رہی تھی۔ جنہوں نے اسے گھیرے میں لیا ہوا تھا کہ وہ ذراسی بھی حرکت کرے اور وہ سب اس پر ٹوٹ پڑیں۔
سمہان آفندی کے پسٹل نے کئی شعلے اگلے اور گولیوں کی آواز کے ساتھ فضا میں عیشال کی آواز بھی بلند ہوئی تھی۔ اس نے بے ساختہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔ جنگلی کتوں کو دم دبا کر بھاگتے ہی بنی تھی۔
’’اوپر کیوں فائر کیے‘ ان خون آشام کتوں پر کرتے ناں۔‘‘ کپڑے جھاڑتے وہ اس تک آئی۔ سمہان آفندی ہاتھ میں پسٹل لیے کھڑا ارد گرد پر نظر ڈال رہا تھا۔ فضا میں چیل کوئوں کا شور بھی پھیل گیا تھا۔ حواس بحال ہوتے ہی وہ جرح کرنے لگی۔ اس کی چلتی زبان دیکھ کر اطمینان ہوا کہ وہ ’’خیر‘‘ سے ہے۔
’’کتوں کی بجائے تم پر نا کردیتا… جب کہا تھا کہ گاڑی کے اندر لاک کرکے بیٹھنا… تو تم یہاں تک کیسے پہنچیں۔‘‘ اس نے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ ذرا سی دیر میں اس نے کیا کچھ نا سوچ لیا تھا۔ اس کا غصہ دو چند ہوگیا تھا۔ ہر معاملے میں وہ بلا کا ضبط رکھتا تھا‘ اسے حویلی میں سب سے زیادہ اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنا آتا تھا‘ لیکن واحد عیشال جہانگیر تھی جس کے معاملوں میں وہ خود پر قابو رکھنے سے قاصر رہتا تھا۔
’’کیا ہے‘ بازو کیوں کھینچ رہے ہو۔ میں تو کچے آم توڑنے آئی تھی۔ مجھے کیا خبر تھی یہاں جنگلی کتے بیٹھے ہیں۔‘‘ وہ منہ بسور کر بازو چھڑانے لگی۔
’’جانے وہ کون سی گھڑی ہوگی جب تمہیں عقل آئے گی۔‘‘ بازو جھٹک کر اس نے چلنے کا اشارہ کیا۔
’’اور مجھے یہاں چھوڑ کر تمہارا نمبر کیوں بزی تھا۔ کال کی تو خبر ملی… صارف دوسری لائن پر مصروف ہے۔‘‘ وہ تیکھی چتونوں سے گھورنے لگی۔
’’شنائیہ کی کال تھی۔‘‘ وہ سادگی سے بتا گیا۔
’’یہ شنائیہ جی تمہیں کچھ زیادہ کال نہیں کرتیں؟‘‘ وہ جانے کیوں جیلس ہونے لگی۔
’’تمہاری طرح وہ بھی کزن ہیں میری‘ جس طرح تمہاری وجہ سے دھوپ میں چل رہا ہوں‘ اسی طرح انہیں بھی مجھ سے کام ہوسکتا ہے‘ لیکن تم میں عقل ہو جب نا… نا موقع نا محل اور تم تفتیش کرنے کھڑی ہوگئیں کہ شنائیہ مجھے کال کیوں کرتی ہیں… اب چلو گی…؟‘‘ اس بے وقت کی راگنی پر وہ ٹھیک ٹھاک تپ گیا تھا تب ہی جھلا کر آگے بڑھنے کا ہاتھ سے اشارہ کیا۔ جس میں پسٹل دبا ہوا تھا۔
’’مجھ میں اور شنائیہ جی میں فرق ہے… اوکے۔‘‘ اس کے انداز پر سہمان آفندی ہاتھ سینے پر بندھے۔
’’جی مادام… اب چلنے کی گستاخی کریں گی۔‘‘
’’ہونہہ… یہ تم نے کیا عقل کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ الحمدللہ صاحب عقل ہوں۔‘‘
’’جی آپ میں کتنی عقل ہے‘ ابھی ملاحظہ فرمایا میں نے۔ میں نے ذرا دیر کی ہوتی آنے میں تو جنگلی کتوں کا نوالہ بن چکی ہوتی۔‘‘ وہ بھی ساتھ چلنے لگا۔ احتیاطاً پسٹل ہاتھ میں ہی تھا۔
’’پچھلی بار بھی تم نے غضب کی پرفارمنس دی تھی اور آج بھی… تم پسٹل چوبیس گھنٹے ساتھ لے کر گھومتے ہو کیا…؟‘‘ اس کی نظریں سمہان آفندی کے ہاتھ میں موجود جدید پسٹل پر تھیں۔
’’موسٹلی!‘‘ ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے جواب دیا۔
’’تم اتنے خطرناک انسان ہو‘ مجھے تو خبر ہی نہیں تھی۔‘‘ اس نے متاثر کن لہجے میں کہا۔
’’اب تو خبر ہوگئی ناں‘ اب بچ کے رہنا‘ سوچ سمجھ کے بولنا۔‘‘ دونوں باتیں کرتے ہوئے گاڑی کی طرف چل رہے تھے۔
’’تمہیں کیا لگتا ہے۔ جدید پسٹل لیے مجھے ڈراؤ گے اور میں چپ کرکے بیٹھ جائوں گی۔ کوئی نہیں میں اپنی ہی کروں گی۔ کیا کروگے‘ زیادہ سے زیادہ گولی ہی مارو گے ناں اور تو کچھ کر نہیں سکتے۔‘‘ اس کی طرف دیکھتے وہ ازلی ہٹ دھرمی سے بولی۔ سمہان آفندی نے بے ساختہ اسے دیکھا۔ چادر شاید گاڑی میں رہ گئی تھی۔ اس وقت صرف دوپٹا تھا جو سر سے سرک کر کندھوں پر آگیا تھا۔ دوڑ بھاگ میں بال بھی کھل کر بکھر گئے تھے۔ اڑتے بالوں اور دھوپ کی تمازت سے گلابی چہرہ لیے وہ باغی تیوروں کے ساتھ بھی اچھی لگ رہی تھی۔
’’تم تو ان بے چین روحوں میں سے ہو جو مرنے کے بعد بھی لوگوں کا جینا حرام کردیں۔ میں کوئی پاگل ہوں جو تمہیں مار کر اپنی ساری زندگی برباد کروں‘ چڑیل بن کر پیچھا ہی لے لینا ہے تم نے میرا۔‘‘ مذاق اڑاتا وہ گاڑی تک آیا۔ پسٹل ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوئے اسے بیٹھنے کو کہا۔
’’میں نہیں بیٹھ رہی پہلے تم ٹائر بدلو۔ اف… اب تو کلاس کا وقت بھی ہوگیا ہے۔‘‘ کلائی میں بندھی رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے وہ منہ بسور گئی۔ وہ ٹائر قریب کیے‘ اوزار نکالے ٹائر بدلنے لگا۔ دھوپ کی تمازت کو دیکھتے عیشال سورج کی طرف بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ سمہان آفندی کے پیچھے آکھڑی ہوئی کچھ اس طرح کہ اس کے وجود کا سایہ سمہان آفندی کو دھوپ کی تمازت سے بچا رہا تھا۔ سمہان آفندی اس کا عمل بھانپ گیا تھا۔ جب بولا تو لفظ بے حد نرم تھے۔
’’اندر بیٹھ جائو‘ آرام سے۔ میں اتنا نازک نہیں کہ دھوپ کی تمازت برداشت نا کرسکوں کیوں خود کو جلا رہی ہو؟‘‘
’’تم جو جل رہے ہو۔‘‘ بڑے ہی اختصار سے لفظ کہے تھے‘ مگر اس اختصار میں جو رنگ تھے۔ انہوں نے سمہان آفندی کے ہاتھ ایک پل کو ساکت کردیے تھے۔ کوئی جواب نا بن پڑا کہ وہ اکثر ہی لاجواب کر جاتی تھی۔ ابھی وہ ٹائر لگا کر ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا۔
’’جی دا جان۔‘‘ چودھری حشمت کا نمبر دیکھ کر اس نے جھٹ کال ریسیو کی۔ ٹائر اور اوزار گاڑی کے اندر رکھتے اس نے عیشال جہانگیر کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
’’شاہ کو گولی لگی… پر کیسے… اوہ نو…!‘‘ کال پر بات کرتے اس کے چہرے پر ایک دم تنائو کی کیفیت آگئی تھی۔ شاہ کو گولی لگ گئی۔ سن کر عیشال جہانگیر بھی شاکڈ ہوکر سمہان آفندی کی شکل دیکھنے لگی تھی۔ اس کے چہرے پر سوچ کی لکیریں تھیں۔
’’جی… میں دس منٹ میں حویلی پہنچتا ہوں۔‘‘ دوسری طرف سے شاید‘ شاہ سے متعلق امید افزا خبر ملی تھی۔ تب ہی چہرے کا تنائو کم ہوا تھا۔ کال بند کرتے اس نے تیزی سے گاڑی اسٹارٹ کرکے سڑک پر ڈال دی تھی۔
’’ویرے کو گولی لگی…؟‘‘ وہ حیرانی سے استفسار کررہی تھی۔ گاڑی کا رخ حویلی کی طرف دیکھ کر اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
’’شاہ کو بازو میں گولی لگی ہے‘ لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں ٹریٹمنٹ ہوگی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گجر کو ابدی نیند سلادیا شاہ نے۔ دا جان فوراً حویلی پہنچنے کو کہہ رہے ہیں۔‘‘ جواب دیتے اس نے اسپیڈ مزید بڑھائی‘ عام حالات ہوتے تو وہ اس کی جان کو آجاتی مگر شاہ کے بارے میں سن کر وہ بھی جلد سے جلد حویلی پہنچنا چاہتی تھی اور پھر گجر کی موت کے بعد اس کے بیٹے جانے کیسا ری ایکٹ کرتے۔ ان ہی اسباب کے بنا پر چودھرری حشمت نے اسے فوراً حویلی پہنچنے کا حکم دیا تھا۔
ؤ…ز…ؤ
اگلی کلاس بھی تعارفی رنگ لیے ہوئے تھی‘ مگر لیکچرار ذرا کریٹیو مائنڈ تھے۔ چند سوالات دے کر پوری کلاس کو جوابات لکھنے کی ہدایت دے کر ریلیکس ہوکر بیٹھ گئے کہ وہ اسٹوڈنٹس کو پرکھنا چاہتے تھے۔ سوالات آسان اور کورس سے جڑے ہوئے تھے۔ ماورا یحییٰ جیسی ذہین و فطین لڑکی کے لیے جہاں آسان تھے وہیں کئی ایک بغلیں بھی جھانک رہے تھے۔ جن میں انشراح سر فہرست تھی۔ وہ اپنے گروپ کو دیکھ رہی تھی۔ سب ہی لکھنے میں مگن تھے۔ کاپی بھی نہیں کر پا رہی تھی کہ لیکچرار کی نظر سب پر تھی۔ کئی ایک کو وہ ٹوک چکے تھے۔ سب پر سے ہوتی اس کی نظر ماورا یحییٰ کے رواں ہاتھوں پر پڑی۔ سر جھکائے وہ تیزی سے لکھنے میں مصروف تھی۔ اس نے نخوت سے سر جھٹکا اور پھر سے لکیریں کھینچنے لگی۔
’’TIMES UP‘‘ کا نعرہ لگاتے لیکچرار کی نظر ایشان جاہ پر پڑی۔ جو انہیں اپنا اسائمنٹ دینے آیا تھا۔ انہوں نے ایشان جاہ کے ذمہ لگا دیا کہ وہ تمام اسٹوڈنٹس سے اسائمنٹ پیپر لے۔ ایشان جاہ کئی ایک کلاس فیلو سے پیپر لے کر ماورا یحییٰ کے پاس آیا تو وہ اپنا نام لکھ کر فارغ ہوچکی تھی۔ ایشان جاہ کی نظر اس کی خوب صورت ہینڈ رائٹنگ میں الجھ گئی۔ اسائنمنٹ اٹھا کر دینے کے بجائے ماورا یحییٰ نے آگے سرکا دیا۔
’’اسائمنٹ اٹھا کر دینے کی عادت ڈالیں۔ میں آپ کا نوکر نہیں ہوں۔‘‘ سلگتے لہجے میں دبی زبان سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا‘ کچھ لڑکے اب اپنا نام لکھ رہے تھے وہ اپنے گروپ کی طرف آیا۔
’’کیا ہوا‘ موڈ کیوں بگڑا ہوا ہے؟‘‘ سعید نے اسائمنٹ پیپر پکڑاتے استفسار کیا۔
’’پیپر اٹھا کر دیتے نواب زادی کی شان گھٹ رہی تھی۔‘‘ اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔
’’اوہ…‘‘ سب کی نظریں ماورا یحییٰ پر جم گئیں۔ لیکچرار کی موجودگی میں سب دبی زبان میں مصروف تھے۔ تب ہی کسی طرف سے ایشان جاہ کے نام کی پکار پڑی اور انشراح نے سرعت سے ماورا یحییٰ کے اسائنمنٹ پیپر اپنے اسائنمنٹ پیپر سے اٹیج کرکے اپنے پیپر ماورا یحییٰ کے نام سے جوڑ دیئے۔
’’اوئے‘ یہ کیا کررہی ہو؟‘‘ عزیر نے سرگوشی کی۔
’’شش۔‘‘ انشراح انہیں چپ کرواتی جلد ہی اپنی کارستانی سے فارغ ہوکر ماورا یحییٰ کے نام کا اسائنمنٹ سب سے اوپر رکھ گئی۔ ایشان جاہ مزید چند اسائنمنٹ لے کر آیا تو باقی کے اسائنمنٹ کے نیچے رکھ کر روسٹرم پر رکھ آیا۔
’’دیکھنا ابھی کیسی عزت افزائی ہوتی ہے محترمہ کی۔‘‘ انشراح دبی زبان میں اپنے گروپ میں مزے سے کہہ رہی تھی۔ سب ہی سرگوشی میں خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ ماورا یحییٰ کی ممکنہ بے عزتی پر کھلکھلا رہے تھے۔
’’کس کی عزت افزائی؟‘‘ ایشان جاہ نے یونہی پوچھ لیا۔
’’اسی مڈل کلاس نواب زادی کی۔‘‘ انشراح نے لب بھینچے۔
’’کس طرح؟‘‘ اسے حیرانی ہوئی۔
’’انشراح نے اسائنمنٹ پیپرز بدل دیے ہیں۔‘‘ عثمان نے اسے آگاہ کیا۔
’’وہاٹ؟‘‘ وہ بری طرح چونک کر انشراح کو دیکھنے لگا۔ انشراح بھرپور طریقے سے مسکرائی۔ ایشان جاہ کی نظر بے ساختہ لیکچرار پر اٹھی تھیں‘ جو جانے کس کے پیپرز پر نظر ڈال رہے تھے اور ان کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے انہوں نے صفحہ پلٹ کر نام دیکھا اور پھر پوری کلاس کو۔
’’کون ہیں یہ ماورا یحییٰ…؟ کھڑی ہوں ذرا۔‘‘ لیکچرار کی دبنگ اور خشک آواز پر ماوار یحییٰ جہاں بری طرح چونکی ایشان جاہ کے گروپ کے ارکان میں گرم جوشی بڑھ گئی۔
’’یس سر‘ میں ماورا یحییٰ۔‘‘ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اگر آپ کو ٹرک اور بسوں کے پیچھے لکھے شعر لکھنے کا اتنا شوق ہے‘ آڑی ترچھی لکیروں کا جال بننے کا اتنا دل کرتا ہے تو آپ کسی نچلے درجے کے اسکول میں جاکر یہ فرائض انجام دیں۔ اس کلاس میں کیا کررہی ہیں۔ اسائنمنٹ کے نام پر یہ کیا خرافات تھمائی ہے آپ نے… آپ جیسے نان سیریس لوگ ہی ہوتے ہیں جو کسی حق دار کا حق مار کر سیٹ ہتھیا لیتے ہیں… آپ اس کلاس کے قابل نہیں ہیں۔‘‘ لیکچرار نے پیپرز ہوا میں لہرائے جو شاید جانے انجانے میں ان کے ہاتھ سے نیچے گر گئے تھے۔ ماورا یحییٰ جو سمجھ رہی تھی انہوں نے اسے شاباشی دینے کے لیے کھڑا کیا ہے وہ ان کے اس انداز اور گرے ہوئے پیپرز کو دیکھ کر ذلت کے احساس سے گڑھ کے رہ گئی۔ اوپر سے کلاس فیلوز کی نظریں اور دبی دبی ہنسی اسے خفت میں مبتلا کردینے کے لیے کافی تھی۔
لیکچرار برس رہے تھے اور ایشان جاہ کا گروپ مزے لے رہا تھا۔ ماورا یحییٰ نے ایک خاموش نظر ایشان جاہ پر ڈالی۔ اس کی دانست میں ایشان جاہ نے یہ حرکت کرکے اپنی بھڑاس نکالی تھی۔ سر جھکا کر پیپر اٹھا کر وہ دوبارہ اپنی جگہ پر جاکے کھڑی ہوگئی۔ کلاس کا ٹائم ختم ہوگیا تھا۔ لیکچرار جی بھر کر سنا کر جاچکے تھے۔ اسٹوڈنٹس بھی چہ میگوئیاں کرتے نکلنے لگے تو ماورا یحییٰ بھی اپنی چیزیں سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’چچ چچ بے چاری۔‘‘ انشراح نے ماورا یحییٰ کے قریب سے گزرنے پر اس کے زخموں پر نمک چھڑکنا ضروری سمجھا۔
’’تم جیسے گرے ہوئے لوگ ایسی ہی گھٹیا حرکت کرکے دوسروں کو ذلیل کرکے خوش ہوتے ہیں۔ مقابلہ کرنا ہے تو سامنے سے آکر کرو ناں یوں بزدلوں کی طرح ہارنے کے ڈر سے پیپر بدل کر تم نے میری نہیں اپنی اوقات دکھائی ہے۔ تم جیسوں کو ایسی ہی اوچھی حرکت زیب دیتی ہے۔‘‘ ماورا یحییٰ ایک پل کو ان کے سامنے رکی تھی۔ ان سب کے خوشی سے پُر چہرے اور ایشان جاہ کے اسائنمنٹ پیپرز جمع کرنے پر وہ سمجھ گئی کہ یہ حرکت ایشان جاہ نے کی ہے۔ مگر وہ یہ بات لیکچرار کے سامنے ثابت نہیں کرسکتی تھی۔ تب ہی جب انشراح نے مذاق اڑایا تو ماورا یحییٰ سخت لفظوں میں سنا گئی۔ ذلت و بے عزتی کے احساس نے آنکھوں کی سطح گیلی کردی تھی۔ وہ ان سب کو جانتی تک نا تھیں… مگر ان سب نے جیسے اس سے بیر باندھ لیا تھا۔ اپنی بات کہہ کر وہ رکی نہیں تھی۔ ایشان جاہ غصے سے لال ہوگیا تھا۔
’’کس قدر زبان دراز ہے یہ لڑکی۔ کیسے چیلنج کر گئی۔ تم نے کچھ کہا کیوں نہیں ایشان۔‘‘ انشراح مچلی۔ سب کو ایشان جاہ کی خاموشی محسوس ہوئی تھی۔
’’اسے تو میں بعد میں دیکھ لوں گا۔ لیکن تمہیں ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی انشراح۔‘‘ وہ جب بولا تو باقی سب بھی چونکے۔
’’کیا…؟‘‘
’’وہ تمہیں اتنا سنا گئی اور تم یہ کہہ رہے ہو۔‘‘ انشراح کو برا لگا۔ وہ تو اپنے عمل پر داد چاہ رہی تھی۔
’’میں تنہا ہی مقابلہ کروں گا اس سے۔ تب دیکھتا ہوں کتنے پانی میں ہے۔‘‘ اس نے سر جھٹکا۔ سب باتیں کرتے آگے بڑھنے لگے مگر ایشان جاہ کو رہ رہ کر اس کی آنکھوں کی نمی یاد آرہی تھی۔ حقیقتاً اس کی بہت بے عزتی ہوئی تھی۔
ؤ…ز…ؤ
حویلی میں ہر چار چھ ماہ کے وقفے سے مرحلہ وار صفائی کا آغاز کیا جاتا تھا جس میں فیصلہ کیا جاتا تھا کہ غیر استعمال شدہ چیزوں کا کیا کیا جائے۔ بیشتر چیزیں اسٹور کا حصہ بن جاتی تھیں لیکن جب اسٹور میں بھی گنجائش نا بچی کچھ رکھنے کی تو سب کو سمجھنا پڑا کہ اب اسٹور میں صفائی کی ضرورت ہے۔ پرانا کاٹھ کباڑ نکال کر پھنکوانے کی نیت سے الگ رکھا گیا تو پرانے بکسے اور صندوق کے تالے بھی کھلنے لگے۔ ملازمائیں زنگ آلود صندوق ہال میں لے آئیں کہ دیکھیں کیا چیزیں پھینکنے والی ہیں۔ وہ سب کپڑے دیکھنے میں اس حد تک مگن تھیں کہ تینوں خواتین کا چوکنا ملاخطہ نا کرسکیں۔
’’دیکھنا یہ ٹشو کا دوپٹا مجھ پر کیسا لگ رہا ہے۔‘‘ شازمہ نے ریڈ دوپٹا اٹھا کر سر پر لیا۔ زرش اور بہنوں سے رائے لینے لگی۔
’’اتارو انہیں اور رکھو واپس‘ صندوق میں۔‘‘ فائزہ کے ایک دم سے ناگواری سے بولنے پر شازمہ سمیت سب ہی ایک پل کو چونکیں۔
’’کیا ہوا مما‘ آپ غصہ کیوں ہورہی ہیں۔‘‘ شازمہ کو ڈانٹ پڑنے پر یمنیٰ نے ماں سے سوال کیا۔ جواب ناپاکر اس کا رخ زمرد بیگم کی طرف ہوا۔
’’دی جان… یہ کس کے کپڑے ہیں؟‘‘ فریال تو پہلے ہی سوال جواب سے بچنے کے لیے سبزیوں میں مصروف ہوگئی تھیں۔ زمرد بیگم کو بھی یہ سوال بھاری گزرا تھا۔ ابھی وہ کوئی جواب دے ہی نہیں پائی تھی کہ چودھری حشمت اور شاہ زرشمعون کو آتے دیکھ کر سب میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔ شاہ زر شمعون کے بازو سے بندھی پیٹی اور آستین پر خون کے نشانات ان سب کو پریشان کر گئے۔
’’چودھری جی یہ سب… کیا ہوا پتر؟‘‘ زمرد بیگم چودھری حشمت کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی آگے بڑھ کر شاہ زرشمعون کو تھام گئیں۔ فائزہ بھی چودھری حشمت کی موجودگی میں جھجکتی بیٹے کے قریب آگئیں۔
سمہان آفندی اور عیشال جہانگیر بھی اسی لمحے داخل ہوئے تھے اور سمہان آفندی جس تیزی سے شاہ زرشمعون تک آیا سب کو تشویش ہونے لگی کہ بات کچھ خاص ہے۔
’’تم ٹھیک ہو نا بھائی…؟ کہا بھی تھا میں بھی ساتھ چلتا ہوں؟‘‘ سمہان آفندی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ عیشال جہانگیر نے چادر اتار کر سائیڈ پر رکھی دوپٹا پھیلا کر اوڑھنے لگی۔ فریال نے اسے اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ ان کے قریب جا بیٹھی۔
’’میں ٹھیک ہوں بھائی۔ خبر نہیں تھی کہ گجر وہاں اپنے حواریوں کے ساتھ موجود ہے‘ ورنہ تمہیں بھی ضرور لے جاتا۔‘‘ مسکرا کر اس کا گلہ دور کرنے کی کوشش کی۔ خواتین متجسس نگاہوں سے چپکی کھڑی تھیں کہ اصل حقائق سے آگاہ ہوں۔ چودھری حشمت کے آگے تو ان میں سوال کرنے کی بھی ہمت نا تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں آپ سب فکر نا کریں۔ گولی چھو کر گزر گئی ہے۔‘‘ ان کے متفکر چہروں پر طائرانہ نگاہ ڈالتے انہیں تسلی دی۔
’’گولی؟‘‘ فائزہ ماں تھیں اس لیے تشویش سے بازو تھام گئیں۔ کوئی چودھری فیروز کو بھی بلا لایا تھا۔ چودھری اسفند شہر گئے ہوئے تھے۔ چودھری حشمت نے تفصیل سے سب کو گجر سے سامنا اور وہاں بیتنے والا منظر دہرا دیا تھا۔ سب کی آنکھوں میں خوف سمٹ آیا تھا۔
’’اللہ میرے پوتوں کی حفاظت فرمائے۔‘‘ پوتوں سے جہاں چودھری حشمت کو بے حد محبت تھی وہیں زمرد بیگم بھی شاہ کے بازو کو دیکھ کر ہول اٹھی تھیں چند روز پہلے ہی سمہان آفندی اور چودھری حشمت پر جان لیوا حملہ ہوا تھا اور اب ایک بار پھر شاہ نشانے پر آگیا تھا۔
’’بابا جان اب گجر کے قتل کی وجہ سے پولیس اور پنچایت کے چکروں سے کیسے نکلیں گے…؟‘‘ چودھری فیروز جہاں بیٹے کو زندہ سلامت دیکھ کر خوش ہوئے وہیں آنے والا کل انہیں ڈرانے لگا۔ سب ہی متفکر نظر آرہے تھے۔
’’بے فکر رہو۔ ہمارے ہوتے پولیس اور پنچایت ہمارے پوتوں کو چھو بھی نہیں سکتی۔ ہم راستے میں ہی جہانگیر سے سارے معاملات طے کر آئے ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ ہم بے فکر رہیں۔ اس قتل میں شاہ کا نام نہیں آئے گا۔ پنچایت پولیس تو ویسے ہی گجر کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اس کی موت کو کراس فائرنگ کا نام دیا جائے گا۔ یہ سب جہانگیر اپنے تئیں ڈیل کرلے گا۔ رہے گجر کے بیٹے۔ تو ان میں اتنا دم نہیں کہ ہمارے سامنے آئیں۔ پنچایت کے لوگ بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے خود دیکھا ہے خون خرابہ کرنے کی نیت گجر کی تھی۔ شاہ نے تو سیلف ڈیفنس میں گولیاں چلائیں۔‘‘ چودھری حشمت کے مفصل بیان پر سب ہی کے چہرے مطمئن دکھائی دینے لگے۔ بڑے مزید باتیں کرتے رہے تو لڑکیاں فریال اور فائزہ کے اشارے پر کچن میں کھانے کے انتظامات دیکھنے کے خیال سے اٹھنے لگیں۔ تب ہی چودھری حشمت کی نظریں صندوق اور نیچے بکھرے کپڑوں پر پڑیں۔ ان کی آنکھیں لہو رنگ ہونے لگیں۔
’’کس نے نکالے ہیں یہ کپڑے۔ اٹھائو انہیں اور آگ لگادو… دوبارہ یہ کپڑے نظر نا آئیں۔‘‘ چودھری حشمت کے ایک دم سے دھاڑنے پر سب ہی سراسیمہ سے ہوگئے۔ زمرد بیگم نے ملازمہ کو جلدی اٹھانے کا اشارہ کیا۔ جو سہمی کھڑی تھی۔ لڑکیاں بری طرح چونکیں کہ اتنے اچھے کپڑوں کو جلانے کا کیوں کہہ رہے ہیں۔
عیشال جہانگیر چونکہ ابھی آئی تھی اس لیے کپڑوں کا راز جاننے سے قاصر تھی۔ ہاں اس کی آنکھوں میں الجھن صاف نظر آرہی تھی اور سمہان آفندی یہ الجھن دیکھ کر سر تھام گیا کہ اب وہ اس الجھن کو سلجھن بنا کر ہی دم لے گی اور وہ یہ ہی نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی گورکھ دھندے میں پھنسے۔
ؤ…ز…ؤ
چودھری جہانگیر سے سارے معاملات جان کر شاہ زرشمعون کی کال پر تمام گارڈ کو مستعد دیکھ کر چودھری بخت اور دیا کو بھی حیرانی ہوئی تھی۔ شاہ زرشمعون نے حسب وعدہ گائوں پہنچنے کے اگلے ہی روز گارڈز کی کافی تعداد چودھری بخت کے بنگلے پر تعینات کروا دی تھی۔ اس کی ہدایت کے مطابق وہ ہر آئے گئے پر نظر رکھیں گے۔ ان سب کے لیے الگ سے کافی مقدار میں کھانا پکتا تھا۔ اس کے علاوہ چودھری بخت اور دیا کو ٹیرس پر ان کی موجودگی سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ الٹا وہ ریلیکس ہوگئے تھے۔
دیا اور چودھری بخت نے تو تفصیلی بات کی تھی۔ ماہم بھی شاہ کی کار گزاری پر بے حد متاثر نظر آرہی تھی کہ سہلیوں پر مزید بھرم پڑے گا۔ سوائے شنائیہ چودھری کے ہر کوئی ہی متاثر تھا۔
’’ہونہہ… درندہ ہے پورا۔ انسان کو بھی ایسے شوٹ کرتا ہے جیسے لوگ چیونٹی کو مارتے ہیں۔‘‘ اسے سن کر بے حد عجیب لگا کہ شاہ زرشمعون نے کئی بندوں کو مارا ہے۔ اس کے خاندان میں خون خرابہ کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن وہ نازک احساسات والی لڑکی تھی۔ ہمیشہ سے گائوں اور ان کے مسائل سے دور آزاد ماحول میں پلی بڑھی تھی لیکن وہاں سے آتی خبروں سے اس کا فشار خون بلند کرجاتا تھا۔ پہلے سمہان اور چودھری حشمت پر حملہ پھر شاہ زرشمعون کے ہاتھوں کئی لوگوں کا قتل… اسے عجیب لگا۔ شاہ زرشمعون کو بھی گولی لگی‘ یہ جان کر اسے تشویش بھی لاحق ہوئی۔ ساتھ ہی شکر ادا کیا کہ اس کے والدین روشن خیال تھے اور شہری زندگی جی رہے تھے۔ بوریت سے بچنے کے لیے اس نے ناعمہ کے گھر جانے کا پلان بنایا۔ وہاں سے دونوں کا شاپنگ پر جانے کا ارادہ تھا۔
دیا کو اپنے جانے کا بتا کر ابھی وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے ہی لگی تھی جب تین چار گارڈز ہتھیاروں سے لیس جیپ میں سوار ہونے لگے۔ پانچواں جیپ ڈرائیو کررہا تھا۔ اس نے کندھے اچکا کر اگنیشن میں چاپی گھمائی۔ جیپ میں بھی یہ ہی عمل دہرایا گیا۔ اب کے وہ چونکی۔ جیپ میں سوار ان سب کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔
’’جانا ہے تو جاتے کیوں نہیں؟‘‘ کھڑکی سے سر نکال کر اس نے جیپ کے ڈرائیور کو آڑے ہاتھوں لیا۔
’’میم پہلے آپ چلیں۔ ہم آپ کو فالو کریں گے۔‘‘ ڈرائیور نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
’’کیوں‘ تمہارے صاحب نے تم سب کو کراچی گھمانے کی ذمہ داری مجھے سونپی ہے جو میں تم سب کو لیے لیے پھرتی رہوں۔‘‘ وہ بری طرح جھنجھلائی۔
’’شاہ جی کی سخت ہدایت موصول ہوئی ہے کہ کسی بھی فرد کو اکیلا باہر نا جانے دیا جائے… جو بھی باہر جائے گا چند گارڈز ساتھ جائیں گے۔ آپ چلیں ہم آپ کی سیفٹی کے لیے مامور ہیں۔‘‘
’’وہاٹ…؟‘‘ شنائیہ چودھری اس کی بات پر بری طرح چونکی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شاہ زرشمعون نے ایسی کوئی ہدایت جاری کی ہے۔
’’آپ سب اپنا کام کریں۔ میں اس پروٹوکول کی عادی نہیں۔ یہ آپ کے شاہ جی پر ہی جچتا ہے۔‘‘ وہ جل کے کہتی دوبارہ سے کار اسٹارٹ کرنے لگی۔
’’میں نے کہا ناں… آپ سب میرے پیچھے نہیں آئیں گے۔‘‘ جیپ اسٹارٹ ہوتے دیکھ کر وہ چراغ پا ہوئی۔
’’میم ہم شاہ کے حکم پر چلیں گے۔ ہمیں یہی ہدایت ہے‘ آپ کو اعتراض ہے تو آپ خود شاہ سے بات کرلیں۔ وہ جو کہیں گے ہم عمل کریں گے۔‘‘ اس کی گھوری اور ڈانٹ پر ڈرائیور بے جارا جان کی امان چاہتے اسے راہ دکھا گیا۔ شنائیہ چودھری جیپ میں سوار ملک الموت ٹائپ لوگوں کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئی اور کوئی چارہ نہیں ملا تو سیل فون اٹھا کر اس نے کال ملائی۔
دوسری طرف لنچ سے فارغ ہوکر سب کی محبت بھری جھاڑ سن کر فائزہ کی زبردستی پر شاہ زرشمعون اپنی خواب گاہ میں کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے آیا تو سمہان آفندی بھی ساتھ چلا آیا۔ دونوں ہی آنے والے واقعات پہ فکر مند تھے کہ کہیں ان کی فیملی کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ جہانگیر کی اطلاع کے مطابق گجر کے بیٹے فرار تھے۔ دونوں کو ہی کراچی میں مقیم چودھری بخت کی فیملی کی فکر تھی۔ اسی بنا پر اس نے پہلے ہی گارڈز تعینا کروا دیے تھے۔ سمہان آفندی نے بھی اس عمل کو سراہا تھا۔ چودھری جہانگیر اور ایشان جاہ تو اپنی فیملی کو پروٹیکٹ کرسکتے تھے۔ پھر چودھری جہانگیر کی پولیس پارٹی بھی موجود تھی۔ جب کہ چودھری بخت خاصے شریف واقع ہوئے تھے۔ سمہان آفندی کافی دیر بیٹھ کر چلا گیا تھا۔ تاکہ وہ آرام کرسکے۔ ابھی لیٹنے کی نیت کو عملی جامہ پہنا کر اس نے آنکھوں پر بازو رکھا تھا کہ سیل فون بجنے لگا۔ اسکرین پر شنائیہ چودھری کا نام دیکھ کر اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ آرام کرنے کا وقت غارت ہوتا نظر آرہا تھا۔
’’ارشاد…‘‘ اس نے سیل فون کان سے لگایا۔ اسے جب کچھ کہنا ہوتا تھا تب ہی کال کرتی تھی۔ ورنہ عام حالات میں تو مہینوں بیت جاتے تھے وہ زحمت نہیں کرتی تھی۔ خیر خیریت کے لیے بھلے سمہان آفندی کو وقت بے وقت کال کرلیتی تھی۔
’’یہ کیا بلائیں پیچھے لگا دی ہیں میرے… مجھے شاپنگ پر جانا ہے اور ایک فوج میرے پیچھے چلنے کو تیار ہے۔‘‘ شاہ زرشمعون کا اندازہ درست ثابت ہوا تھا۔ اس کی آواز سنتے ہی وہ غصہ سے بولی۔
’’وہ بلائیں نہیں‘ آپ کے پروٹیکشن کے لیے بھیجے گئے گارڈ ہیں۔‘‘ اس نے خلاف عادت نرمی سے جواب دیا۔
’’مجھے نہیں چاہیے اپنے پیچھے کوئی فوج… وہاں انسانوں کا قتل آپ کریں اور یہاں ہم محصور ہوکر رہ جائیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔‘‘ وہ ناگواری کا اظہار کر گئی۔
’’آپ جس ماحول کی ہیں وہاں رہ کر میرا تیرا کرنے کی عادی ہیں لیکن ہم گائوں والوں کی ہر چیز سانجھی ہوتی ہے۔ آپ کے لیے بھلے گائوں میں بسنے والے آپ کے خونی رشتے اہم نا ہوں‘ آپ اپنی فیملی کا حصہ نا سمجھیں مگر ہمارے لیے ہے اور اپنی فیملی کے لیے مجھے جو بہتر لگے گا میں کروں گا… گجر کوئی شریف زادہ نہیں تھا جس کا میرے ہاتھوں قتل ہونے کا آپ کو دکھ ہورہا ہے۔ اس جیسے درندوں کو اگر مجھے بار بار قتل کرنے کو کہا جائے تو میں بار بار یہ عمل کروں گا۔ گجر کے بیٹے مفرور ہیں ممکن ہے وہ پلٹ کر میری فیملی پر وار کریں اس لیے یہ سیکورٹی آپ کے لیے ضروری ہے۔ امید ہے آپ گارڈز کے ساتھ تعاون کریں گی۔ وہ حکم کے غلام ہیں۔‘‘ سرد لہجے میں کہتے وہ اس کی ہڈیوں میں پھریری دوڑا گیا تھا۔
’’میں پپا سے بات کروں گی۔‘‘ وہ اس کے حکم پر جھنجھلائی۔
’’میں چچا جان سے بات کرچکا ہوں اور وہ میرے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ آپ بھی اپنا شوق پورا کرلیں… اگر آپ نے گارڈز کو زیادہ زچ کیا تو مجھے مجبوراً دا جان تک اطلاع پہنچانی پڑے گی کہ محترمہ شنائیہ چودھری اکیلی کراچی کی شاہراہوں پر گاڑی دوڑتی پھرتی ہیں۔‘‘ اس کی بات سن کر شائبہ چودھری کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’یعنی آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟‘‘ وہ بھڑکی۔
’’آپ گارڈ کے بناء نکل کے دکھائیں پھر میں دکھائوں گا کہ دھمکی کو عملی جامہ کیسے پہناتے ہیں؟‘‘ اس کھلم کھلا چیلنج پر وہ لب بھینچ گئی۔
’’بھاڑ میں جائے شاپنگ۔‘‘ جھلا کر اس نے اگنیشن سے چابی نکال لی۔
’’ایز یور وش۔‘‘ دوسری طرف سے چڑایا گیا۔ چابی ڈیش بورڈ میں پھینک کر کال ڈسکنیکٹ کیے بنا وہ ڈرائیونگ سیٹ سے باہر نکل آئی۔ دروازہ زور دار طریقے سے بند کرتے اس نے ٹائر پر لات مار کر غصہ کم کرنا چاہا۔ جب کہ دوسری طرف اس کے جھلاہٹ بھرے مکالمے پر شاہ زرشمعون کے لبوں پر ایک لحظے کو مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
ؤ…ز…ؤ
یونیورسٹی سے وہ سخت بددل ہوکر لوٹی تھی۔ ایشان جاہ نے جتنی گری ہوئی حرکت کرکے اسے پوری کلاس کے سامنے تماشا بنایا تھا وہ اسے رہ رہ کر ملول کررہا تھا۔ ہتک عزت کے خیال سے ذہن و دل سلگ رہا تھا۔ گھر آکر اس کا منہ سر لپیٹ کر پڑ جانے کا ارادہ تھا لیکن گھر میں داخل ہونے پر منزہ اور انوشا کو گھر کی صفائی ستھرائی‘ نئی بیڈ شیٹ بچھاتے دیکھ کر استفسار سے پہلے منزہ نے خود ہی بتا دیا کہ لڑکے والے انوشا کو دیکھنے آرہے ہیں‘ ساتھ ہی اس کے ذمہ کام بھی لگا دیا تو وہ لمبی سانس بھر کے ان کے ساتھ کام میں مصروف ہوگئی۔ انوشا نے دو تین بار کھانا کھا لینے کو بھی کہا مگر اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر ٹال دیا۔ کاموں سے فراغت کے بعد انوشا نے شاور لے کر نیا جوڑا پہنا تو وہ بھی کمر سیدھی کرنے کی نیت سے لیٹ گئی مگر آرام نصیب میں نہیں تھا۔ اسی دم صائمہ کی مدعیت میں چند فربہہ خواتین پسینے کے بھپکے چھوڑتی گھر میں داخل ہوئیں۔ انوشا کو تیار ہونے کا کہہ کر وہ ان کی واضع داری کے لیے کچن میں مصروف عمل ہوگئی۔
شربت کے ساتھ لوازمات کی ٹرے لے کر انوشا گئی تو لڑکے والوں نے اصرار کرکے اسے بھی بلوالیا کہ بھئی اپنی دوسری بیٹی کو بھی بلائیں۔ کہیں کوئی بات گراں نا گزرے‘ ناچار منزہ کی پکار پر وہ دھلے منہ سے چلی آئی اور انوشا کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
’’ماشاء اللہ… بیٹیاں تو آپ کی دونوں ہی خوب صورت ہیں۔‘‘ ایک خاتون نے دونوں کا ایکسرے کرتے ہوئے کہا تو منزہ مسکرا دی۔
’’صائمہ لڑکی تو تم نے بہت اچھی دکھائی‘ دل خوش کردیا۔‘‘ دوسری صائمہ کے واری صدقے ہورہی تھی۔
’’بہت اچھی بچیاں ہیں۔ عادات و اطوار میں بہترین ہیں۔ آپا نے بیٹیوں کی تربیت بہت اچھی کی ہے۔‘‘ صائمہ حق پڑوس ادا کرنے لگیں۔ خواتین پُرسوچ انداز میں سر ہلانے لگیں۔ منزہ بھی خوش اخلاقی سے مسکراہٹ سجائے بیٹھی تھیں۔
’’ہم برسوں سے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ آپ لوگ بے فکر ہوکر رشتہ طے کریں۔ بہت سیدھے لوگ ہیں۔‘‘ صائمہ اپنی طرف سے مزید معلومات فراہم کررہی تھیں۔ ماورا یحییٰ نے ایک نظر خواتین پر ڈالی جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والی لگ رہی تھیں۔
’’آپ کی ساری باتیں سچ ہوں گی صائمہ بہن۔ ہمیں بھی بچیاں پسند آئی ہیں۔ خیر سے میرے بھی دو بیٹے ہیں۔ سوچ رہی ہوں دونوں بچیوں کو ہی گھر لے جائوں۔‘‘ خاتون کے کہنے پر سب ہی چونکیں۔ ماورا بے ساختہ منزہ کی شکل دیکھنے لگی جو ان کی بات پر خوش نظر آنے لگی تھیں۔
’’انوشا‘ میں ابھی شادی نہیں کروں گی۔‘‘ منزہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھیں جو وہ انہیں اشارہ کرکے اس فیصلے سے منع کرتی‘ سو انوشا کے کان میں منمنائی۔
’’ابھی چپ کرو۔ بعد میں بات کریں گے۔‘‘ انوشا نے اس کا ہاتھ دبا کر سرگوشی کی تو وہ لمبی سانس بھر کر رہ گئی۔
’’بسمہ اللہ کریں بہن۔ نیک خیال میں دیری کیسی۔ ایک گھر کی دو بیٹیاں ہوں وہ بھی اتنی سلجھی ہوئی کہ سمجھیں آپ کے بیٹوں کے نصیب جاگ گئے۔‘‘ صائمہ اپنا کردار بخوبی نباہ رہی تھیں۔ منزہ کو بھی آس ہونے لگی کہ جلد سے جلد ان کی دونوں بیٹیاں بیاہی ہو جائیں گی۔
’’کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں۔ ہمیں یوں تو سب پسند آیا مگر…‘‘
’’مگر…‘‘ خاتون کہتے کہتے رک گئیں تو منزہ کو بے چینی ہونے لگی۔
’’بہن بات ساری یہ ہے کہ میں کرتی ہوں صاف بات۔ بن باپ کی بچیاں ہیں۔ آپ کے گھر کے حالات ہمارے سامنے ہیں کہ ہم جہیز کی امید نہ رکھیں۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اس گھر سے کچھ ملنے کی امید نہیں۔ ایک اکیلی ماں مانگ تانگ کر کتنا جہیز جمع کرسکے گی۔ دو بیٹوں کا۔‘‘ خاتون بے رحمی سے بول رہی تھیں اور وہ تینوں جیسے ساکت رہ گئیں۔ صائمہ بھی پہلو بدلنے لگیں۔
’’اس مہنگائی کے دور میں بھائی‘ باپ والی لڑکیوں کو اچھا جہیز نہیں مل رہا تو یہاں سے تو آس ہی فضول ہے… اگر ہم یہ مسئلہ چھوڑ بھی دیں… اللہ واسطے‘ ترس کھا کر لڑکیوں کو رخصت بھی کروالیں تو بھی دنیا کے لوگوں کو کیا جواب دیتے پھریں گے کہ لڑکیوں کے والد نہیں… آپ بتا رہی ہیں بچیاں چھوٹی تھیں تب ہی آپ کے شوہر کا انتقال ہوگیا… میں آپ پر شک نہیں کررہی‘ آپ سچ ہی کہہ رہی ہوں گی منزہ بہن لیکن معاف کیجیے گا۔ دو بچیوں کے ساتھ جو عورت برسوں سے اکیلی رہ رہی ہو لوگ ایسی عورتوں کا یقین کم ہی کرتے ہیں۔ لوگ تو یہ ہی کہیں گے کہ ہوسکتا ہے طلاق لے کر جھوٹ موٹ شوہر کی موت مشہور کردی ہو… کیونکہ خیر سے آپ کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں ہے نا بچیوں کا ننھیال نا ددھیال۔ شادی تو دو خاندانوں کے بیچ ہوتی ہے ناں۔ ہم کہاں تک یقین دلاتے پھریں گے کہ بچیاں حلال ہیں۔‘‘ منزہ کا دل چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے خاتون کی فراٹے سے چلتی زبان کو دیکھ رہی تھیں۔ جو نا خوف الٰہی سے لرز رہی تھیں نا شرم و حیا سے بند ہو رہی تھی۔
کم و بیش یہی حال انوشا اور ماورا یحییٰ کا بھی تھا۔ صائمہ الگ چپ رہ گئی تھیں۔ خاتون کی باتوں کا عکس ایک پل کو ان کے چہرے پر بھی نظر آیا۔
’’کیا معلوم واقعی ایسا ہو… ہم بھلے برسوں سے پڑوسی ہیں لیکن منزہ نے اس وقت بھی یہ ہی کہانی سنائی تھی۔ کیا معلوم کتنا جھوٹ ہے کتنا سچ۔‘‘
’’ہوسکتا ہے‘ میری باتیں آپ کو بری لگ رہی ہوں‘ لیکن میں سچ بولنے کی قائل ہوں بہن… کیا کوئی ایسی چیز ہے جس سے آپ ثابت کرسکیں کہ یہ دونوں آپ کے شوہر کی ہی بیٹیاں ہیں۔‘‘ خاتون نے حد کردی تھی۔ منزہ پیلے زرد چہرے سے دیوار سے لگ گئی تھیں۔
’’آپ لوگوں کی تشریف آواری کا شکریہ۔ آپ لوگ جاسکتے ہیں۔‘‘ ماورا یحییٰ کی برداشت جواب دے گئی تھی۔
انوشا بھی اس گری ہوئی سوچ پر رشتے کا خیال دل سے نکالتے اٹھ کر منزہ کو تھامنے لگی تھی۔ ماورا کے ایک دم سے بولنے پر خاتون کا منہ بن گیا۔
’’کیوں بہن میں تو کہہ رہی تھی شریف لڑکیاں ہیں‘ یہ تو گز بھر کی زبان لیے بیٹھی ہے۔‘‘ خاتون نے چمک کر صائمہ کی طرف رجوع کیا۔
’’آپ جیسی گری سوچ والے منہ کھولنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ بہتر ہوگا آپ جانے کی تیاری کریں اور جاتے جاتے یہ ضرور ثبوت دیتی جائیے گا کہ جن بیٹوں کا رشتہ لے کر آپ در در جھانک کر لڑکی والوں کی کھلی اڑا رہی ہیں وہ آپ ہی کے بیٹے ہیں اسے کیسے ثابت کریں گی؟‘‘ ماورا یحییٰ تلخ ہوگئی۔ عورت بھڑک گئی۔
’’لڑکی کیا بک رہی ہے؟‘‘
’’آپ جو ’’فرما‘‘ رہی تھیں میں وہی ’’بک‘‘ رہی ہوں۔‘‘
’’ماورا…!‘‘ منزہ نے نحیف آواز میں اسے پکار کر چپ رہنے کا اشارہ کیا مگر وہ انہیں باہر کی راہ دکھا گئی۔
’’ہم پر انگلی اٹھانے سے پہلے لڑکی اپنے اصل کو پہچان۔ ہم خاندان والے ہیں۔ تمہارے تو آگے پیچھے کا پتا نہیں۔ جانے حلال بھی ہے یا نہیں۔‘‘ خاتون زہر بجھی تیر چلا کر ایک کے پیچھے دوسری نکل گئیں تو پیچھے صرف صائمہ رہ گئیں۔ ماحول پر خوفناک سناٹا طاری ہوچکا تھا۔ منزہ کا چہرہ خوفناک حد تک پیلا پڑگیا تھا۔ وہ بے دم سی ہوگئی تھیں۔
ؤ…ز…ؤ
کچے پر کپڑوں کا ڈھیر رکھ کر ان پر پیٹرول چھڑک کر ملازمہ نے آگ دکھائی اور شعلے نے لپک کر انہیں گھیرے میں لے لیا تھا۔ ملازمہ ڈنڈے کی مدد سے کپڑے کو اوپر نیچے کررہی تھی تاکہ کپڑوں کا نام و نشان تک مٹ جائے۔ فضا میں دھواں جلنے کی ناخوشگوار بو پھیلنے لگی تھی۔ لڑکیاں عجیب نظروں سے یہ سب دیکھتی اپنے اپنے کام میں مگن ہوگئی تھیں۔ پوچھنے پر بھی کسی نے نہیں بتایا تھا کہ کس کے کپڑے ہیں اور پھر کپڑوں کا یہ حشر ہوا تھا۔ مزید اقرار پر انہیں بھی ناخوشگوار صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔ حویلی کے مکین جس بات کا جواب نا دینا چاہیں‘ اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ باقی سب تو حویلی کے رنگ ڈھنگ میں رنگی ہوئی تھیں‘ مگر بالکنی سے سارا منظر دیکھتی عیشال جہانگیر کی متجسس نگاہیں ایک شخص کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اس کے علم میں تھا ینگ جنریشن میں کوئی آگاہ ہو نا ہو‘ وہ ضرور ہوگا۔
’’سمہان…‘‘ شومئی قسمت کہ وہ گزرنے لگا تھا۔ جب اس کی نظر پڑی اور اس نے بے ساختہ اسے آواز دی۔
’’اب کیا ہے؟‘‘ وہ دامن بچانا چاہ رہا تھا۔
’’یہ تم اتنی بے زاری کیوں دکھا رہے ہو۔ کون سا قلعہ تعمیر کرنے کا کہہ دیا۔‘‘ اس کے لفظوں سے بے زاری محسوس کرکے وہ ناک چڑھا گئی۔
’’آپ کو ناگوار گزرا تو اس گستاخی کے لیے معافی کا خواستگار ہوں‘ حکم کریں کس لیے یاد فرمایا۔‘‘ وہ سر خم کرکے اس کے روبرو آگیا۔ وہ لب بھینچ کر گھورنے لگی۔
’’گھورنے کا عمل بعد میں سر انجام دیا جاسکتا ہے۔‘‘ احساس دلا رہا تھا کہ وہ غیر اہم فریضہ چھوڑ کر اہم کام کی طرف دھیان دے۔
’’زیادہ بنا مت کرو میرے آگے۔‘‘ وہ لفظ چبا کر بولی۔
’’میری اتنی مجال۔‘‘ وہ لب دبا گیا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ ٹھیک ٹھاک اس کی کلاس لیتی مگر اٹھتا ہوا دھواں اسے بار بار اپنی طرف متوجہ کررہا تھا۔
’’ان کپڑوں کی کیا کہانی ہے؟‘‘ وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر پوچھ بیٹھی۔
’’کون سے کپڑے؟‘‘ وہ انجام بن کر الٹا استفسار کرنے لگا۔
’’وہی جو جل رہے ہیں۔‘‘ اس نے کپڑوںکی طرف اشارہ کیا۔
’’مجھے کیا پتا میں تو تمہارے ساتھ ہی آیا تھا۔‘‘ وہ صاف دامن بچا گیا۔
’’زیادہ معصوم بننے کی ایکٹنگ مت کرو۔ تم پر سوٹ نہیں کرتا۔‘‘ وہ ناک پھلا گئی۔
’’کیا سوٹ کرتا ہے‘ وہ بتادو وہی کرلوں گا۔‘‘ وہ تابعدار بنا کھڑا تھا۔
’’سمہان آفندی‘ ڈونٹ ایور ٹرائے ٹو ڈائیورٹ می… تم بن رہے ہو‘ میرے سامنے صاف صاف قبول کرلو کہ تم ان کپڑوں کی کہانی سے واقف ہو… ایسا ہو نہیں سکتا کہ دا جان کے رائیٹ ہینڈ سمہان آفندی اور ویرے شاہ اس حقیقت سے لاعلم ہوں… سچ بتائو کیا کہانی ہے؟‘‘ وہ دوٹوک لہجے میں جتا گئی کہ وہ اس کے بہلاوے میں نہیں آئے گی۔
’’قسم سے کیا ایس ایس پی چودھری جہانگیر کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا ہے اس گھڑی تم نے… بنا کسی صفائی کے ڈائریکٹ جرم قبول کروا رہی ہو۔ وہ بھی زبردستی‘ میری جگہ ابھی کوئی اور ہوتا تو تم نے ابھی تک اس سے قبول بھی کروالینا تھا۔‘‘ وہ بھی سمہان آفندی تھا‘ جلا کر خاک کردینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔
’’تو تم نہیں بتائو گے؟‘‘ وہ گھورنے لگی پھر عیشال جہانگیر کا حوالہ موڈ بگاڑ گیا۔
’’کچھ پتا ہو تو بتائو ناں۔ بقول تمہارے شاہ کو پتا ہے۔ اس سے پوچھ لو۔‘‘ وہ ہری جھنڈی دکھا گیا۔
’’میں ویرے سے زیادہ بات نہیں کرتی۔‘‘
’’میں نے پابندی نہیں لگائی۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’تم ہوتے کون ہو‘ مجھ پر پابندی لگانے والے… ہونہہ…‘‘
’’تو اور کیا۔‘‘
’’کپڑوں کو دیکھ کر دا جان کا اتنا ہائپر ہوجانا عام بات نہیں ہے۔ آخر کس کے کپڑے تھے؟‘‘ پُرسوچ انداز میں بڑبڑا کر وہ لب کاٹنے لگی۔
’’ہر اینگل سے اچھی طرح سوچ لو۔ جواب مل جائے تو مجھے بھی بتا دینا۔ اب تو تجسس میں ڈال کر تم نے مجھے بھی بے چین کردیا ہے۔‘‘ وہ حقیقتاً لفظوں کا کھلاڑی تھا۔
’’سمہان آفندی… میں تمہیں جتنا جانتی ہوں ناں اس سے یہ صاف ظاہر ہے تم جیسا گھاک آدمی کبھی قبول نہیں کرے گا کہ اسے سچ پتا ہے۔‘‘ وہ لڑنے والے انداز میں دونوں ہاتھ کمر پر رکھ گئی۔
’’پھر کوشش کرکے اپنی ننھی سی جان کو کیوں ہلکان کر رہی ہو۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’یعنی تم جانتے ہو؟‘‘ وہ مشکوک ہوئی۔ وہ یہاں سے بھاگنے کی راہ ڈھونڈنے لگا۔ ورنہ تو وہ کچھ نا کچھ اگلوا ہی لیتی۔
’’نہیں‘ میری ماں…‘‘ وہ بے ساختہ ہاتھ جوڑ گیا۔
’’شٹ اپ… میں تمہاری ماں نہیں۔‘‘ ناگواری سے ٹوک گئی۔
’’سوری‘ بچوں کی ماں کہنے والا تھا لیکن بچوں نے بھی احتجاج کردینا ہے اس زیادتی پر… ایسی ماں۔‘‘
’’خون ہی پی جائوں گی میں تمہارا۔‘‘ وہ ہنکاری۔ وہ ہنستے ہوئے نکل ہی رہا تھا جب زرش ہانپتی کانپتی ان دونوں تک آئی۔
’’اچھا ہوا ویر آپ مل گئے۔ میں آپ کو ہی ڈھونڈ رہی تھی۔‘‘
’’تمہیں بھی اس کی بیماری لگ گئی؟‘‘ وہ در پردہ چوٹ کر گیا۔ عیشال جہانگیر کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’کس کی؟‘‘ زرش حیران ہوکر باری باری دونوں کو دیکھنے لگی۔
’’چھوڑو۔ کام کی بات کرو۔‘‘ اس نے دھیان بٹایا۔
’’آج میری سہیلی کے بھائی کی شادی ہے۔ پلیز دا جان سے اجازت دلوا دیں۔ میری پکی والی سہیلی ہے۔ ابھی جو کجھ ہوا اس پر دا جان شاہد منع کردیں لیکن ویر آپ اجازت دلواسکتے ہیں۔‘‘ زرش بہت آس و محبت سے اکلوتے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔
’’ٹھیک ہے لے دوں گا اجازت‘ تم تیار رہنا۔ میں خود لے جائوں گا۔‘‘ حقیقتاً وہ حویلی کے لیے اچھا پوتا تھا تو ماں باپ کا اچھا بیٹا ہونے کے ناتے اچھا بھائی بھی تھا۔ جب کبھی کسی کو کوئی بات چودھری حشمت سے منوانا ہوتی تھی تو سب اس کا سہارا لیتے اور ابھی تو سگی بہن نے کہا تھا۔
’’تھینک یو ویر۔‘‘ زرش خوشی سے کھل اٹھی۔
وہ محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر گیا تو وہ اچھلتی ہوئی بھاگ گئی۔ عیشال جہانگیر نے دلچسپی سے اس منظر کو دیکھا تھا۔ کاش کہ اس کا بھی کوئی بھائی ہوتا اور وہ اسی مان سے اس سے کام کرواتی۔ وہ سر جھٹک گئی۔ کچھ خواہشات ناممکنات کی سرحدوں پر ہوتی ہیں۔ اس کی اکثر خواہشیں بھی ان ہی سرحدوں میں رہی تھیں۔
’’میں بھی اپنے کپڑے نکال لوں۔‘‘ وہ بھی زرش کے ساتھ شادی میں جانے کے لیے تیار تھی۔ خبر ہوگئی تھی وہ کچھ نہیں بتائے گا‘ سو کوشش فضول تھی۔
’’مجھے شدت سے ایک محاورہ یاد آرہا ہے۔‘‘ اس کی زبان میں کھجلی ہوئی۔ اندازہ ہوگیا۔ کوئی تپانے والا جواب ہی ہوگا۔ تب ہی چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔
’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔‘‘ وہ لب دبا گیا۔
’’تمہاری شادی میں نہیں جارہی جو آگ لگ رہی ہے۔‘‘ حسبِ عادت وہ بھڑکی۔
’’فکر نا کرو۔ اپنی شادی میں تمہیں بطور چیف گیسٹ انوائیٹ کروں گا۔‘‘ لہجہ شریر ہوا۔
’’کیوں؟‘‘ ابرو اچکائے۔
’’آفٹر آل دلہن کے آنسو پونچھنے والا کوئی اپنا تو ہو۔‘‘ جان سلگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
’’تم سے شادی کرکے دلہن کو ساری عمر ہی رونا ہے‘ اس کے آنسو پونچھنے کی کیا ضرورت ہے دریا بنا لینا۔‘‘ وہ جوابی وار کرکے پلٹ گئی تو وہ بھرپور طریقے سے مسکرادیا۔ نظر اٹھتے ہوئے دھوئیں پر پڑی۔
’’یہ جھلی مروائے گی۔‘‘
ؤ…ز…ؤ
وہ اپنی دھن میں کمرے کی طرف جارہی تھی ملازمہ کو آئرن کے لیے کپڑے دے کر تھوڑی دیر آرام کا ارادہ تھا ابھی وہ راہداری میں ہی تھی جب تیز رفتار پجیرو ہارن بجاتی اندر داخل ہوئی اور چودھری جہانگیر پورے کروفر سے باہر نکلے۔ عیشال جہانگیر ایک پل کو انہیں دیکھ کر ساکت رہ گئی۔ وہ اپنے مخصوص شلوار سوٹ میں ملبوس کھیڑیاں پہنے اسی سمت آرہے تھے۔ انگلیوں میں سگریٹ سلگ رہی تھی۔ عیشال جہانگیر کو تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں تھا کہ آخری بار ان سے کب سامنا ہوا تھا۔ اس وقت بھی وہ شاید حویلی کے معاملات کے باعث آئے تھے۔ اس کے لیے تو ان کے پاس بھولنے سے بھی وقت نہیں تھا۔ ان کی نظر بھی اس پر پڑ چکی تھی تب ہی اس تک آکر رک گئے۔ وہ راستے میں ہی کھڑی تھی۔ اس کے آگے سے گزر کر ہی وہ اندر جاسکتے تھی۔
’’سلام دعا بھول گئی ہو؟‘‘ وہ یک ٹک انہیں دیکھ رہی تھی۔ جو کہنے کو اس کے والد تھے اور وہ بھی چھ آٹھ ماہ بعد اس کی صورت دیکھ رہے تھے مگر دونوں کے انداز میں کوئی گرم جوشی اپنائیت نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ بے گانگی سے کھڑی رہی تو انہوں نے ناگواری سے کہا۔
’’ہر آئے گئے سے بھلے سلام دعا بھول جائوں‘ آپ سے نہیں بھولوں گی‘ آپ کے ہر بار آنے اور جانے پر سلام ہی تو کرتی آرہی ہوں‘ سلام کی حد تک ہی تو جانتی ہوں آپ کو‘ یوں جیسے اجنبی پر نظر پڑ جائے اور اسے سلام کردیں۔‘‘ استہزائیہ انداز میں بولی تو چودھری جہانگیر کی پیشانی پر ناگواری کی لکیریں واضح ہوگئیں۔
’’بہت بدلحاظ ہوگئی ہو تم چھوٹے بڑے کی تمیز ہی بھول بیٹھی ہو۔‘‘ انہیں جیسے ناگوار گزرا۔
’’وقت و حالات کے عنایت کیے ہوئے تحفے ہیں… خزاں میں سانس لے کر میں خوشبو تو بکھیرنے سے رہی۔‘‘ وہ بے دھڑک بول گئی۔ چودھری جہانگیر اب کے بری طرح چونکے۔ انہیں اس کے اندر بغاوت صاف نظر آنے لگی۔
’’اتنا مت پھڑپھڑائو‘ تمہاری اڑان اس حویلی کی چار دیواری تک محدود ہے۔‘‘ غصہ دبا کر انہوں نے اسے اس کی دوسرے معنوں میں اوقات یاد دلائی۔
’’میں اپنا دائرہ پہچانتی ہوں کسی کے مزار پر اپنا آشیانہ نہیں بناتی۔‘‘ وہ حد درجہ تلخ گوئی کا مظاہرہ کر گئی۔
’’مروگی… اپنی ماں کی طرح تم بھی اسی حویلی میں سسک سسک کے مرو گی۔‘‘ چودھری جہانگیر کا جلال عود کر آیا۔ وہ کسی بھی اینگل سے باپ نہیں لگ رہے تھے۔ وہ یوں نفرت کا اظہار کررہے تھے جیسے مقابل ان کی بیٹی نہیں ان کی دشمن صائقہ ہوں۔
’’چلیں اچھا ہے‘ مر جائوں گی۔ کم از کم قاتل کو مقتول کا درد تو نہیں ہوگا۔‘‘ وہ جیسے ان کا ضبط آزما رہی تھی۔ ان کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔
’’گیٹ لاسٹ!‘‘ وہ پوری قوت سے دھاڑے۔
’’جانے لگیں تو اطلاع بھجوا دیجئے گا۔ سلام کرنے آجائوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر چلی گئی۔
چودھری حشمت سے مل کے سارے معاملات طے کرتے ہوئے وہ کافی دیر تک اپنا غصہ کنٹرول کرتے رہے تھے۔
ؤ…ز…ؤ
’’آج کے لوگوں میں احساس مروت اور زبان میں لگام نہیں‘ انہیں اپنے علاوہ سارے کیڑے مکوڑے لگتے ہیں۔‘‘ خواتین کے جانے کے بعد تینوں ہی ملول بیٹھی رہیں۔ صائمہ بھی افسوس کا اظہار کرتی چلی گئیں۔
منزہ نڈھال سی ہوگئی تھیں۔ ان کا موڈ بحال کرنے کی دونوں کی ہر کوشش بے سود ہوئی تھی۔ وہ اکیلے میں وقت گزارنا چاہتی تھی۔ ماورا کافی دیر تک دل کا غبار لفظوں کے ذریعے نکالتی رہی۔ انوشا نے اس کے بگڑے موڈ کی وجہ پوچھی تو اس نے یونیورسٹی میں ہونے والی بے عزتی کا سارا احوال کہہ سنایا۔ انوشا کو بے حد افسوس ہوا۔
’’غریب اور بے سہارا ہونا جرم ہے ہمارا‘ ہر ایک کو تضحیک کرنے کا لائسنس ملا ہوا ہے جیسے۔‘‘ ماورا یحییٰ مسلسل بول رہی تھی۔
’’چھوڑو… مت دل جلائو اپنا برا بھلا بولنے سے کوئی نہیں سدھرنے والا‘ لوگ بے حس‘ ضمیر فروش اور خود غرض ہیں‘ صرف اپنے مفاد کو سوچتے اور اپنی عزت کروانا چاہتے ہیں‘ اپنی خوشی کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو کھنڈر بنانے والوں کو ذرا احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنی نیچ حرکت کررہے ہیں۔ وقتی طور پر خوشی اور کامیابی تو شاید انہیں مل جائے مگر رہتی دنیا تک وہ نشان عبرت ہی بن جاتے ہیں۔‘‘ انوشا اسے سمجھا رہی تھی اور دوسرے کمرے سے ان کی تمام باتیں سنتی منزہ جیسے گڑھتی جارہی تھیں۔
وقتی خوشی اور جیت واقعی انسان کو نشان عبرت بنا دیتی ہے۔ وہ بن تو گئی تھیں۔ ہر گزرتا دن ان کے لیے ذلت ہی تو لے کر آرہا تھا۔ ان کے کردار کی سیاہی سے ان کی بیٹیوں کے دامن داغ دار ہورہے تھے۔ ان پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ آج جو کچھ ان کے گناہ گار کانوں نے سنا وہ انہیں سنگسار کرنے کے مترادف تھے۔
’’نفرت ہے مجھے ایسے لوگوں سے جو صرف اپنے لیے جیتے ہیں… اپنی خوشی کے لیے دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھول دیتے ہیں۔‘‘ ماورا بے حد نفرت سے گویا تھی اور منزہ نے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔
’’اگر جو انہیں میری اصلیت کا علم ہوجائے تو میں کیسے ان کی نفرت سہہ پائوں گی۔‘‘ آنسو ان کے رخسار پر بہہ رہے تھے‘ ان کی حالت اتنی دگرگوں ہورہی تھی‘ ذہنی حالت اتنی خراب تھی کہ اگر دونوں بیٹیوں کا خیال نا ہوتا تو وہ اب تک خودکشی کرچکی ہوتیں۔
’’یااللہ… میرا پردہ رکھ لینا‘ میری بیٹیوں کے سامنے… مجھ میں ان کی نفرت سہنے کا حوصلہ نہیں… میرا بھرم رکھ لینا۔‘‘ اشک بہاتے گھٹی گھٹی آواز سے وہ دعا گو تھیں۔ ایک ناسور ان کے اندر پل پل کر انہیں کھوکھلا کر گیا تھا۔
ؤ…ز…ؤ
اس کا موڈ آف ہوگیا تھا چودھری جہانگیر سے سامنا ہوکر سارا پلان چوپٹ ہوگیا تھا‘ کمرے میں جانے کی بجائے وہ حویلی کے پچھلے حصے میں آبیٹھی‘ اس کا خیال تھا چودھری جہانگیر جلد ہی چلے جائیں گے مگر جب اسے بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہوگئی سر میں درد بھی محسوس ہونے لگا تو وہ کچن میں آگئی۔ کچن کی حالت سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ چودھری جہانگیر کی تواضع کی جاچکی ہے۔
’’آپ کے والد آئے ہیں۔ آپ ملیں ان سے؟‘‘ جینا نے اسے دیکھتے ہی گرم جوشی سے اطلاع دی کہ شاید وہ لاعلم ہو ان کی آمد سے۔
’’میں چائے پینے آئی تھی کچن میں۔‘‘ خشک لہجے میں کہہ کر وہ ساسر کے لیے نگاہ دوڑاتی برنر آن کر گئی۔ جینا نے جب دیکھ لیا کے کوئی رسپانس نہیں دیا تو خود ہی سائیڈ پر ہوکر برتن دھونے لگی۔
جب تک چائے تیار ہوئی‘ پاپ کارن بناکر جمبو سائز ڈسپوزیبل بائول میں بھرچکی تھی۔ جینا اپنا کام کرتے اسے بھی دیکھتی رہی تھی۔ جانتی تھی وہ کتنی من موجی ہے موڈ ہوتا تو گھنٹوں باتیں بگھارتی ورنہ منہ کھولنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔
’’پاپ کارن اور چائے کا مگ لے کر کچن سے نکل کر وہ اپنے کمرے کا رخ کرری تھی جب صغراں پیغام لے کر حاضر ہوئی۔
’’چودھری جی (چودھری حشمت) نے حکم دیا ہے سب ہال میں جمع ہوجائیں۔ تقریبا سب آگئے ہیں‘ آپ بھی چلی جائیں۔ بی بی جی (زمرد بیگم) آپ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔‘‘ اس نے ایک کوفت بھری سانس لی۔
’’ایسی کیا آفت آگئی اس حویلی میں جو میلا لگائے بیٹھے ہیں سب… اپنی مرضی سے دو پل بھی نہیں جی سکتی کیا؟‘‘ پاپ کارن بائول اور سیدھے ہاتھ میں موجود مگ کو دیکھ کر اس نے تلخی سے سوچا اور دونوں کو اسی طرح تھامے ہال میں داخل ہوگئی۔
چودھری حشمت اور چودھری جہانگیر کے ساتھ چودھری اسفند بھی براجمان تھے۔ وہ شہر سے لوٹ آئے تھے خبر ملتے ہی لیکن چودھری جہانگیر کی آمد کے بعد سب کچھ کنٹرول میں آگیا تھا۔
زمرد بیگم کے ساتھ فائزہ‘ فریال اور چاروں لڑکیاں موجود تھیں۔ شاہ زرشمعون بھی پاس ہی براجمان تھا۔ یہ بیٹھک اسے کسی خاص فیصلے کا پیش خیمہ لگ رہی تھی کہیں نا کہیں خطرے کی گھنٹی عیشال جہانگیر کے سر پر بجتی محسوس ہورہی تھی مگر وہ جس کے لیے ہلکان ہورہا تھا اس کا دور دور تک کوئی نام و نشان نا تھا جانے کہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ بائیں ہاتھ میں بائول اور دائیں ہاتھ میں چائے کا مگ تھامے‘ پاپ کارن کھاتے داخل ہوتی عیشال جہانگیر کو دیکھتے سب ہی اس کے غیر سنجیدہ انداز پر جزبز ہوگئے۔ چودھری جہانگیرنے سرد نگاہ ڈالی تو چودھری حشمت بھی اس کے بے فکرے انداز کو دیکھ کر ایک لمحے کو سوچ میں پڑگئے۔ صوفے پر آلتی پالتی مار کر گود میں بائول رکھ کر چائے کی چسکی لے کر اس نے سب پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر جیسے خاموشی کی زبان میں ارشاد فرمایا کہ اب جلسے کا آغاز کیا جائے۔
’’ہونہہ ریوڑیاں ملیں گی سب کو۔‘‘ تلخی سے سر جھٹک کر اس نے پاپ کارن منہ میں رکھے۔ سمہان آفندی اسی پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ پیچھے ہوکر دیوار سے لگ کر ہاتھ سینے پر باندھے اس کے انداز ملاحظہ کرتے اسے شدید غصہ آرہا تھا۔
یوں سب کی طلبی ہوئی ہو ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا تھا۔ ایسا اسی وقت ہوتا تھا جب حویلی میں کوئی خاص فیصلہ ہونے والا ہو اور سب کو مطلع کرنا ہو۔ نئی نسل تو یوں بھی بڑوں کے سامنے چپ ہی رہتی تھی مگر آج تو جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔
’’بخت اور اس کی فیملی کی غیر موجودگی ہمیں بھی محسوس ہورہی ہے لیکن وہ دور ہے ہمیں احساس ہے… آپ سب کو یہاں اس لیے اکٹھا کیا گیا ہے کہ ہم آپ سب کو مطلع کرنا چاہ رہے ہیں کہ نئی نسل اب ماشاء اللہ شادی کے قابل ہوگئی ہے‘ لڑکیوں میں ندا سب سے بڑی ہے تو ہم سب سے پہلے اس کے فرض سے سبکدوش ہوں گے۔‘‘ ماحول میں پہلے ہی خاموشی تھی۔ چودھری حشمت نے بولنا شروع کیا تو سب نے جیسے سانس بھی روک لی۔
اس محفل میں کوئی غیر سنجیدہ موڈ اور حرکت میں ملوث تھا تو وہ عیشال جہانگیر تھی۔ چودھری جہانگیر اس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ ان کے ماتھے کی لکیریں گہری ہونے لگی تھیں۔ وہ دیکھ رہے تھے۔ اس کی دلچسپی نا ہونے کے برابر تھی۔ چودھری حشمت کی بات ختم ہوئی تو اسے چونکنا پڑا‘ جانے کیوں اسے ندا کے چہرے کا رنگ اڑتا محسوس ہوا۔
’’یہ لڑکے کی تصویر ہے۔ ہم اسی سلسلے میں شہر جا رہے تھے لیکن صبح ہی ہمارے دوست نے تصویر بھجوا دی لڑکے کی فیملی ہمارے پرانے واقف کاروں میں سے ہے… اچھے لوگ ہیں… آپ سب تصویر دیکھ لیں۔‘‘ چودھری حشمت نے تصویر ساتھ کھڑے سمہان آفندی کی طرف بڑھائی۔ تصویر تھامتے اسے کسی قدر سکون محسوس ہوا۔ بات ندا کی تھی اور وہ بلاوجہ پریشان رہا۔ اس نے سب سے پہلے تصویر زمرد بیگم کو تھمائی‘ انہوں نے ایک سرسری نظر ڈال کر فائزہ کو دی پھر فریال‘ اسی طرح سب سے گھومتی ہوئی تصویر آخر میں عیشال جہانگیر تک پہنچی۔
’’کب تک منگنی کا ارادہ ہے؟‘‘ زمرد بیگم نے ہی استفسار کیا‘ عیشال جہانگیر نے ایک نظر تصویر پر ڈالی اور دوسری نظر سر جھکائے بیٹھی ندا پر تصویر میں موجود بڑی بڑی مونچھوں اور خوفناک تاثرات والا شخص یقینا لڑکیوں میں کسی کو پسند نہیں آیا تھا لیکن سب نے اپنے تاثرات چھپالیے تھے۔
’’وہ لوگ منگنی کرنا نہیں چاہتے جلد شادی کے خواہاں ہیں‘ ہمارا بھی خیال ہے عید سے پہلے اس فرض سے سبکدوش ہوجائیں‘ تمہارا کیا خیال ہے فیروز خان…؟‘‘ زمرد بیگم کو جواب دے کر چودھری حشمت نے فیروز خان سے استفسار کیا کہ ندا ان کی بڑی بیٹھی تھی‘ شاہ زرشمعون بھی انہیں دیکھنے لگا۔
’’آپ اور بی جان جیسا مناسب سمجھیں بابا جان۔‘‘ فیروز خان نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔
’’دا جان… یہ شخص ندا آپی کے لیے بالکل مناسب نہیں… بہت بڑی عمر کا لگ رہا ہے اور بہت سخت گیر‘ خوفناک بھی۔‘‘ سمہان آفندی جو عیشال کے ناگوار تاثرات پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ دعا گو تھا کہ وہ اپنی کتر کتر چلتی زبان پر قابو رکھے۔ نظر ملنے پر نفی میں سر ہلاتے منہ پر انگلی رکھ کر سمہان آفندی نے اسے اس مسئلے سے دور رہنے کا اشارہ بھی کیا مگر وہ کب کسی کی سنتی تھی۔ عیشال کا بولنا تھا کہ ماحول پر موت کی سی خاموشی چھا گئی۔
سمہان آفندی کی نظر بے ساختہ چودھری حشمت اور چودھری جہانگیر کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی۔ چودھری حشمت یوں چونکے جیسے اب تک اس کی موجودگی سے ہی لاعلم ہوں۔ چودھری اسفند اور شاہ زرشمعون خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ چوہدری حشمت کے فیصلوں پر اعتراض اٹھانے کی کسی میں ہمت نہیں تھی لیکن عیشال جہانگیر کب کسی حد و قید کی پروا کرتی تھی‘ اس کے اختلاف رائے پر سب چونکے تھے۔
’’ابھی‘ تم بہت چھوٹی ہو عیشال‘ بہتر ہوگا بڑوں کے معاملات میں بولنا چھوڑ دو۔‘‘ چودھری حشمت چپ ہی رہے مگر چودھری جہانگیر کو عیشال کی گستاخی ایک آنکھ نا بھائی‘ تب ہی سرد لہجے میں اسے سرزنش کی۔
’’بے شک میں چھوٹی ہوں مگر مجھے یقین ہے یہاں موجود کسی کو بھی یہ شخص پسند نہیں آیا… لیکن کسی میں اختلاف کرنے کا حوصلہ نہیں۔‘‘ عیشال جہانگیر نے اپنی بات پر زور دے کر کہا۔ اس کی جی داری پر سب ہی پہلو بدلنے لگے۔ لڑکیوں نے تو مارے خوف کے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ زمرد بیگم‘ فائزہ اور فریال بھی جزبز ہورہی تھیں۔ سمہان آفندی غصہ دبائے کھڑا تھا‘ نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں جو چودھری جہانگیر کی طرف متوجہ تھی۔
’’بابا جان کے کیے گئے فیصلے کی مخالفت کا حوصلہ کسی میں نہیں تو یہ جرأت تم میں کیسے آگئی۔‘‘ چودھری جہانگیر نے سرخ آنکھیں اس پر مرکوز کردیں۔
’’بات سچ اور حق کی ہو تو ڈر کیسا… مجھے پسند نہیں آیا میں نے اپنی رائے کا اظہار کردیا۔‘‘
’’اپنی رائے‘ پسند ناپسند کو زندگی سے نکال پھینکو تو تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا ورنہ تمہاری زبان کٹوانے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘‘ چودھری جہانگیر اس بری طرح دھاڑے کہ فائزہ اٹھ کر بے ساختہ عیشال تک آئیں۔
’’آپ تو سمجھ داری دکھائیں‘ بچی ہے۔‘‘ چودھری جہانگیر کا گھٹنا دبا کر چودھری اسفند انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ عیشال مسلسل چودھری جہانگیر کو دیکھ رہی تھی‘ وہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی مگر فائزہ کے ہاتھ کے دبائو سے زیادہ حلق میں گھلتے نمکین پانی نے اسے کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا۔
’’بابا جان چھوٹے بڑے کا فرق بھول کر جلد سے جلد اسے حویلی سے رخصت کرنے کی کریں ورنہ اس کے انداز بتا رہے ہیں کہ کوئی چاند ضرور چڑھائے گی۔‘‘ وہ ایک عورت کے تناظر میں اس سے نفرت کا اظہار کررہے تھے تو دوسری کے کردار پر اسے پرکھ رہے تھے۔ درحقیقت عیشال جہانگیر دو عورتوں کے حصے کا تاوان بھگت رہی تھی اور وہ اس بھگتان کے اسباب سے بھی لاعلم تھی۔
ان کے آناً فاناً تقاضے پر سمہان آفندی کا دل دھڑک اٹھا۔ سب ہی بری طرح چونکے۔ چودھری حشمت پُرسوچ انداز میں سر ہلا گئے۔
’’بہتر ہو تو اس تصویر والے سے ہی نکاح کرکے رخصت کردیں اسے۔‘‘ چودھری جہانگیر نے بے رحم لہجے اور نفرت بھرے انداز سے کہا۔ سمہان آفندی کا دل مٹھی میں آگیا تھا۔ عیشال جہانگیر سے مزید ضبط محال ہوا تو وہ جھٹکے سے ہال سے نکل گئی۔
’’بن ماں کی بچی ہے جہانگیر… کبھی تو نرمی سے کام لیا کرو۔‘‘ چودھری حشمت نے جیسے ناصحانہ انداز میں سرزنش کی۔
’’نرمی سے ہی تو کام لیا تھا بابا جان‘ کیا ہاتھ لگا۔‘‘ جھلا کر ماضی ادھڑ بیٹھے پھر فوراً سنبھل کر بولے۔ ’’اب میں کسی کے ساتھ نرمی سے کام نہیں لیتا۔‘‘ چودھری جہانگیر سرخ آنکھوں سے خلا میں دیکھنے لگے حویلی آکر وہ ہمیشہ سے کرب کا شکار ہوجاتے تھے۔ اس مبہم انداز گفتگو پر لڑکیاں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں تو بڑے نظریں چرانے لگے‘ سوائے شاہ زرشمعون اور سمہان آفندی کے جو یہ سوچ رہے تھے کہ حویلی کی یادوں کو خوشگوار کیسے بنایا جائے۔
ؤ…ز…ؤ
شنائیہ چودھری کا شاپنگ‘ آئوٹنگ سب کا موڈ غارت ہوگیا تھا۔ وہ گائوں میں بیٹھا حکم چلا رہا تھا اور وہ اپنے ہی شہر اور گھر میں محصور ہوکر رہ گئی تھی۔ وہ سخت برہم تھی۔ اس نے احتجاجاً دیا اور چودھری بخت سے بھی شاہ زرشمعون کے عمل کی شکایت کی۔ دونوں نے جب شاہ زرشمعون کے فیصلے کی تائید کی اور اسے بھی عمل درآمد پر زور دیا تو وہ مزید بور ہوگئی۔ ماہم تو آگے پیچھے گارڈز والے پروٹوکول پر بہت خوش تھی۔ وہ گانے سن کر فیس بک چلا کر بور ہوگئی تو بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
’’تم تو شاپنگ کے لیے جا رہی تھیں‘ گئی نہیں؟‘‘ دیا کمرے میں آئیں اور اسے بے زار دیکھ کر سوال کیا۔
’’مجھے نہیں جانا کہیں ان باڈی گارڈز کے ساتھ۔‘‘ وہ منہ بناکر کشن دبوچ گئی۔
’’شاہ نے یہ اقدام ہماری حفاظت کے لیے ہی کیے ہیں بیٹا‘ ویسے بھی حالات اتنے برے ہیں کہ بچیوں کے لیے تو گارڈز ہونا ہی چاہیے کم از کم والدین کو ان کی واپسی تک دھڑکا تو نا لگا رہے۔‘‘ جب دیا مطمئن تھیں تو وہ کب تک اختلاف کرتی سو چپ رہی۔ وہ دیا کے بولنے کی منتظر تھی۔ اسے لگ رہا تھا دیا کسی خاص مقصد سے آئی ہیں۔ اور وہی ہوا۔ اگلا جملہ ان کے منہ سے نکلا تو وہ ہمہ تن گوش ہوگئی۔
’’حویلی سے بابا جان کی کال آئی تھی‘ وہ حویلی میں اب شادیوں کا آغاز کرنا چاہ رہے ہیں‘ بتا رہے تھے ندا کے لیے انہوں نے رشتہ بھی دیکھ لیا ہے اور جلد ہی بات پکی کردیں گے لڑکیوں میں ندا سب سے بڑی ہے تو اسی کی پہلے ہوگی۔‘‘
’’شکر ہے… کچھ تو تبدیلی آئے گی لائف میں‘ شادی انجوائے کروں گی‘ کیسا ہے لڑکا… آپ نے دیکھا ہے؟‘‘ وہ ایکسائیٹڈ ہوئی۔
’’ہاں‘ بابا جان نے تصویر واٹس اپ کی تھی‘ تمہارے پپا کو‘ انہوں نے مجھے بھی کردیں۔ تم بھی دیکھ لو۔‘‘ دیا نے اپنا سیل فون اس کے آگے کیا۔ ’’لڑکے‘‘ کی تصویر دیکھ کر ایک پل کو اس کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
’’مما…! یہ کس اینگل سے لڑکا ہے؟ بڈھا کھوسٹ لگ رہا ہے۔ جب کہ ندا تو بہت پیاری اور نازک سی ہے۔‘‘ وہ تصویر دیکھتے ہی اٹھ بیٹھی۔ لہجہ شاکڈ تھا۔
’’میرے سامنے تو کہہ دیا۔ اپنے پپا اور حویلی والوں کے سامنے بھولے سے بھی نہ کہنا‘ یہ بابا جان کا فیصلہ ہے۔‘‘ وہ تنبیہ کرنے لگیں۔
’’لیکن کیوں مما‘ بابا جان کو جوڑ بھی تو دیکھنا چاہیے۔ ندا کی بھی تو کوئی پسند ناپسند ہوگی۔‘‘ اسے اختلاف ہوا۔
’’ندا کی پسند ناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔ شادی اسی سے ہوگی جسے بابا جان پسند کریں گے۔ حویلی میں پسند ناپسند کا اختیار کسی کو نہیں‘ خاص طور پر لڑکیوں کو تو بالکل نہیں۔‘‘ دیا حقیقت پسندی سے اسے حویلی کے رموز سمجھا رہی تھیں۔
کل کو ندا کی شادی بھی ہوجاتی اور پھر ایک دن ان کی بیٹی کی باری بھی آنی تھی۔ انہیں اپنی نخریلی بیٹی کی فکر ہوئی تو وہ چلی آئیں کہ اس کے کان میں بات ڈال دیں۔ تاکہ وہ بھی ذہنی طور پر تیار رہے۔
’’کل کو بابا جان ایسے ہی کسی خوفناک آدمی سے میری شادی طے کردیں گے تو… آپ اور پپا کچھ نہیں کہیں گے؟‘‘ وہ وہی سوال کر گئی جس کا جواب دیا سمجھانے آئی تھیں۔ وہ فکر مندی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’بابا جان کا فیصلہ ہی حرف آخر ہے‘ وہ ہمارے بڑے اور سرپرست بھی ہیں۔‘‘ دیا نے واضح کیا۔
’’خواہ یہ ندا جیسا بے جوڑ فیصلہ ہی کیوں نا ہو؟‘‘ اسے جیسے صدمہ پہنچا۔
’’صرف ظاہری شکل و صورت اور عمر میں تضاد کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مانا یہ لڑکا خوب صورتی اور عمر کے خانے میں فٹ نہیں مگر خاندانی ہے‘ ہوسکتا ہے یہ ندا کو بہت خوش رکھے۔‘‘ دیا نے روشن پہلو دکھایا۔
’’ساتھ چلنے اور زندگی کو انجوائے کرنے کے لیے ذہنی ہم آہنگی رکھنے والا ہم سفر چاہیے ہوتا ہے‘ جو آپ کے ساتھ چلتے ہوئے نامناسب نا لگے۔ خاندانی رکھ رکھاؤ کا اچار ڈالنا ہے؟‘‘ وہ سخت بدمزا ہوئی۔ اس کے انداز پر دیا کو چونکنا پڑا۔
’’تم کسی کو پسند تو نہیں کرنے لگیں؟‘‘ دیا کے تشویش سے بھرے سوال اور مشکوک نظروں سے اس کا اپنا سر پیٹ لینے کو دل چاہنے لگا۔
’’نہیں مام‘ میں تو پسند ناپسند بتا رہی ہوں۔ ابھی کوئی ایسا بنا ہی نہیں جسے شنائیہ چودھری پسند کرے۔‘‘ وہ اکڑی‘ دیا کو کسی قدر سکون ہوا۔
’’اور کبھی پسند آنا بھی نہیں چاہیے۔ ورنہ لوگ میری تربیت پر انگلی اٹھائیں گے۔ پسند کی شادی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے‘ حویلی میں اور تمہیں اپنی حد یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘ دیا نے دو ٹوک لفظوں میں واضح کردیا۔
’’میں کسی کو پسند نہیں کرتی لیکن ایسے کسی رشتے کے لیے ندا کی طرح کبھی نہیں مانوں گی۔‘‘ اس نے اعلان کیا۔
’’آج تو یہ فضول جملہ بول دیا لیکن آئندہ نا سنوں میں۔ تم بچوں کو صحیح غلط کی تمیز ہی کہاں ہوتی ہے‘ فلمی ہیرو کو دیکھ کر اسے آئیڈیالائز کرنے لگتی ہو‘ یہ جانے بنا بھی کہ اس کی ظاہری چمک دمک تمہارے مستقبل کو کتنے اندھیرے میں لے جاسکتی ہے‘ شادی وہیں ہوگی جہاں بابا جان چاہیں گے یہ ذہن میں بٹھا لو اپنے۔‘‘ دیا ایک ایک جملے پر زور دے کر چلی گئیں اور شنائیہ ایک نئی ٹینشن میں مبتلا ہوگئی۔ تصویر والے لڑکے کا تصور کرتے اس نے بے اختیار جھرجھری لی تھی۔
ؤ…ز…ؤ
وہ حد درجہ اداس تھی۔ اکیلے پن کے احساس سے اس کی آنکھیں بار بار پانی سے بھر رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے کاجل بار بار بہہ رہا تھا۔ زرش نے اسے جلدی تیار ہونے کا کہا مگر چودھری جہانگیر سے ہونے والے سامنے کے بعد اس کا موڈ کچھ کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا لیکن بیٹھی رہتی تو دماغ مزید خراب ہوتا اس لیے وہ اٹھ کر تیار ہونے لگی۔ چودھری جہانگیر کے رویے نے اسے دکھی کردیا تھا۔ کہنے کو تو وہ اس کے باپ تھے مگر شاید ہی انہوں نے کبھی اسے بحیثیت باپ کے گلے لگایا ہو‘ پیار بھری نظر سے دیکھا ہو‘ مہینوں بعد حویلی کا چکر لگاتے تھے اور ہر بار پہلے سے زیادہ دوری پر نظر آتے تھے‘ اگر ان کا ایسا مزاج سب کے ساتھ ہوتا تو شاید وہ صبر کرلیتی مگر ان کا رویہ صرف اسی کے ساتھ اتنا روڈ ہوتا تھا… کیوں…؟ وہ وجہ جاننے سے قاصر تھی۔
ماں بچپن میں مر گئی تھی اور چودھری جہانگیر نے کبھی باپ کا پیار اس کے حصے میں آنے ہی نہیں دیا تھا جب کہ کراچی میں مقیم بیٹی نرمین اور بیٹے ایشان جاہ کے لیے ان کی جان بھی حاضر رہتی تھی۔ وہ بھول بیٹھے تھے کہ حویلی میں ان کی ایک اولاد بھی رہتی ہے جو ان کے قرب و محبت کو ترستی ہے‘ کوئی بہن بھائی نا ہونے کی وجہ سے اپنی باتیں کسی سے شیئر نہیں کر پاتی تھی۔ اسی محرومی‘ کمی نے اسے اس ماحول اور لوگوں سے باغی بنا دیا تھا۔ ہر وہ کام کرتی تھی جس کی حویلی میں ممانعت تھی۔ حویلی میں سب ہی اس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے تھے۔ چودھری اسفند کو وہ زیادہ عزیز تھی۔ وہ جب کبھی اپنے بچوں کے لیے کچھ لاتے تو اس کے لیے بھی ضرور لاتے تاکہ اسے محسوس نہ ہو مگر ماں‘ باپ کی کمی ایسا خلا تھی جو کسی کے التفات اور ہمدردی سے پر نہیں ہوسکتی تھی۔ ایسے میں چودھری جہانگیر کا اس کے لیے نفرت بھرا لہجہ اور انداز اس کے نازک سے دل و احساسات کو مزید مجروح کردیتا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ آخر اس نے ایسا کون سا جرم کردیا ہے کہ چودھری جہانگیر اس سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔
چودھری جہانگیر کی گاڑی کے ٹائر چرچرائے تو پرفیوم اسپرے کرتے اس کے لبوں پر پراستہزاؓئیہ مسکراہٹ پھیل گئی وہ جس طرح آئے تھے اسی طرح واپس چلے بھی گئے تھے۔ بالوں کو شولڈر پر بکھیرے دوپٹا دونوں شانوں پر پھیلائے وہ ہال میں چلی آئی۔ بلیک جینز شرٹ پر مسٹرڈ شارٹ جیکٹ پہنے سمہان آفندی کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھ رہا تھا۔
’’کہاں ہے یہ زرش٭ مجھے تو کہہ گئی دس منٹ میں ہال پہنچو۔‘‘ کلائی میں پڑی چوڑیوں کو ٹھیک کرتی وہ موڈ چینج کرکے آئی تھی‘ آواز پر سمہان آفندی نے اس کی سمت دیکھا تھا۔
بلیک میکسی میں بالوں کو بائیں شولڈر پر ڈالے مناسب میک اپ اور جیولری میں وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ ایک پل کو اس کے احساسات عجیب سے ہوگئے کہ اگر جو کوئی اور اس کا نصیب بن گیا تو کیا ہوگا۔
’’تمہیں کیا ہوا؟ سنجیدہ اور غصے میں لگ رہے ہو۔‘‘ وہ اس کے رنگ ڈھنگ پر چوٹ کر گئی اور اسے واقعی اس پر شدید غصہ تھا۔
’’تم جو کچھ کرتی پھر رہی ہو اس پر تمہیں کون سے تمغے سے نوازوں‘ یہ سوچ رہا ہوں۔ کیا ضرورت تھی تمہیں وہ سب بکواس کرنے کی‘ کیوں کرتی ہو ہر بات سے اختلاف؟ کیوں حویلی کی دیگر لڑکیوں کی طرح خاموش رہ کر یہاں کے اصولوں پر زندگی نہیں گزارتیں؟‘‘ وہ برس پڑا۔
’’کیوں کہ میں ڈمی نہیں ہوں۔ جو حویلی کے مردوں کے اشاروں پر چلتی رہوں۔‘‘ وہ بھڑک اٹھی‘ بڑی مشکل سے اس نے اپنا موڈ ٹھیک کیا اور پھر سے وہی ذکر اس کی جان جلانے لگا۔
’’جب کسی کو اس رشتے میں کوئی اعتراض نہیں تو تمہیں کیا تکلیف ہے۔ کیا ملے گا اس بغاوت سے۔ تم نے آج جو حرکت کی وہ کم تھی…؟ جہانگیر چچا تو بضد تھے کہ تصویر والے سے ہی تمہارا نکاح کروا دیا جائے مگر بھلا ہو ڈیڈ کا وہ آڑے آگے ورنہ ابھی اسی خوفناک چہرے والے سے نکاح کی تیاری کررہی ہوتیں۔‘‘ وہ بھڑاس نکالنے لگا۔
’’کرکے تو دیکھتے… میں بھی بتا دیتی۔‘‘ اس نے بال جھٹکے۔
’’اپنی بہادری بعد کے لیے سنبھال کر رکھو آگے بہت ضرورت پڑنے والی ہے‘ لیکن اللہ کا واسطہ ہے ابھی منہ بند رکھنا سیکھو‘ ہاتھ جوڑتا ہوں تمہارے آگے۔‘‘ بولنے کے ساتھ وہ واقعی ہاتھ جوڑ گیا۔ عیشال جہانگیر جو اس کی غیر مبہم باتیں سمجھنے کی کوشش کررہی تھی اس کے ہاتھ جوڑنے پر ایک دم دیکھنے لگی غضب کی ڈریسنگ اس کی وجاہت کو مزید بڑھا رہی تھی۔
’’چلو ٹھیک ہے اب سے تمہاری بات رکھنے کی کوشش کروں گی‘ بتا دینا کب اور کہاں بہادری دکھانی ہے۔‘‘ اس کا جملہ پکڑ کر چھیڑ گئی‘ وہ ان کے ایک دم سے مان جانے پر حیران ہوتا خود بھی مسکرادیا تھا۔
ؤ…ز…ؤ
میں بہت شرمندہ ہوں منزہ بہن‘ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ لوگ اس مزاج کے ہیں۔‘‘ منزہ صائمہ کے ساتھ ہاسپٹل آئیں۔ شاہد اور صائمہ وقت بے وقت ان کے بہت کام آتے تھے۔ ایسے میں صائمہ کو اپنے عزیز کی عیادت کے لیے جانا پڑا تو انہوں نے منزہ کو ساتھ لے لیا۔ منزہ بھی چلی آئیں کہ ان کی ٹیسٹ رپورٹ بھی آج ہی ملنا تھی لگے ہاتھوں وہ بھی ڈاکٹر کو دکھا سکتی تھیں۔ صائمہ گزشتہ واقعے پر افسوس کا اظہار کررہی تھیں۔
’’تمہارا کیا قصور صائمہ‘ تم نے تو خلوص نیت سے کام کیا‘ لیکن لوگ… خیر جانے دو… تم اپنی عزیز سے ملو۔ میں تب تک ڈاکٹر کو رپورٹس دکھا کر آتی ہوں۔‘‘ رپورٹس انہوں نے آتے ہوئے راستے سے لے لی تھیں اور اب منزہ ڈاکٹر کو دکھانا چاہ رہی تھیں۔ صائمہ سر ہلا کر چلی گئیں تو وہ بھی بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں۔
گزشتہ واقعہ کے پیش نظر اب وہ باہر نکلتے چہرے پر نقاب کرلیتی تھیں۔ ان کی خود طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ماورا اور انوشا نے انہیں آنے سے منع کیا تھا کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک صائمہ کے ساتھ چلی جائے گی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔ اپنی باری آنے پر وہ اندر گئیں۔ ڈاکٹر رپورٹس دیکھ رہا تھا اور وہ جب اس کے تاثرات سے کچھ اخذ ناکر پائیں تو چپ کرکے بیٹھی رہیں۔
’’تو میرا شک درست نکلا۔‘‘ ڈاکٹر نے لمبی سانس بھر کے چشمہ آنکھوں پر سے اتارا۔ انداز میں افسوس کا رنگ نمایاں تھا۔
’’کوئی ساتھ آیا ہے‘ آپ کے… کوئی فیملی ممبر؟‘‘ ڈاکٹر کے چہرے پر ایک دم سے تردد کی کیفیت طاری ہوئی۔
’’میں اپنی پڑوسن کے ساتھ آئی ہوں۔ خیریت ہے‘ ڈاکٹر صاحب…؟‘‘ منزہ کو ان کے انداز پر حیرت ہوئی۔
’’گھر میں کوئی سرپرست‘ کوئی مرد جس سے بات کرسکوں؟‘‘
’’میں اور میری بیٹاں ہی ہیں۔ بات کیا ہے‘ ڈاکٹر صاحب…؟‘‘ منزہ کو ان کے سوالات عجیب لگ رہے تھے۔ حقیقت جان کر ڈاکٹر ایک لمحے کو ہونٹ سکوڑ گیا۔ چند ثانیے خاموشی کے بعد ڈاکٹر تذبذب کی کیفیت میں انہیں دیکھتا رہا۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ منزہ کی چھٹی حس انہیں کسی خطرے کا پیغام دے رہی تھی۔
’’عموماً ہم پیشنٹ سے اس کی بیماری ڈسکس نہیں کرتے کہ وہ اس بات کو لے کر مزید طبیعت خراب کرلے گا۔ تب ہی آپ کے سرپرست اور مرد کے حوالے سے استفسار کیا۔ لیکن… آپ کی دو ہی بیٹیاں ہیں تو وہ یہ سب جاننے کے بعد کیسا بی ہیو کریں۔‘‘ ڈاکٹر پُرسوچ انداز میں بولا۔
’’میں اپنی بیٹیوں کو کوئی تکلیف دہ صورت حال نہیں دینا چاہتی۔ جو بھی ہے آپ مجھے ہی بتادیں۔‘‘ انہوں نے جی کڑا کرلیا۔
’’آپ کے ٹیسٹ رپورٹس سے بلڈ کینسر کا مرض تشخیص ہوا ہے جو لاسٹ اسٹیج پر ہے…‘‘ ڈاکٹر نے کہا اور منزہ کی نگاہوں میں دونوں بیٹیوں کا عکس ڈول گیا۔ ڈاکٹر بھی بتاتے ہوئے دکھی تھا۔ شاید یہ جان کرکے دنیا میں دو بیٹیاں ہی ان کی کائنات ہیں۔
’’کتنا وقت ہے میرے پاس؟‘‘ منزہ کو اپنی ہی آواز اجنبی لگی۔
’’شاید کچھ ماہ‘ شاید سال‘ یا پھر کچھ دن… موت کا وقت تو صرف اوپر والے کو پتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے آزردہ لہجے میں کہا تو منزہ کے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔
رب العزت نے کیا خوب انصاف کیا تھا۔ جینے اور خوشیوں کی ہوس میں زندگی کو اپنے اشاروں پر چلانے کا عزم رکھنے والی کو زندگی میں ہی موت کی آگاہی دے دی گئی تھی۔ موت اچانک ہوتی تو شاید انہیں احساس تک نہ ہوتا۔ وہ سوچتی رہتیں کہ ابھی انہیں دس بیس سال اور زندہ رہنا ہے لیکن ان کا وقت پورا کرکے ان کو احساس دلایا گیا تھا کہ وہ لمحہ لمحہ خود سے قریب آتی موت کے قدموں کی آہٹ اسی زندگی میں محسوس کریں کیا‘ خوب انصاف تھا اس کا۔ تھکے قدموں کو گھسیٹتی منزہ کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھ گئی تھی۔
ؤ…ز…ؤ
’’تم لوگ جلدی نہیں آسکتے تھے…؟‘‘ شازمہ انہیں دیکھتے ہی چونکی۔ تینوں کو واپسی میں تھوڑی دیر ہوگئی تھی۔ وہ سب لوٹ کر آئے تو ہال میں ہی لڑکیاں اور باقی خواتین بھی مل گئیں۔
’’کیوں ایسا کیا ہوگیا جو ہمیں جلدی لوٹ کر آنا چاہیے تھا۔‘‘ عیشال نے چادر اتار کر سائیڈ پر رکھتے سوال کیا۔
’’دا جان نے کوئی خاص اعلان کرنا تھا۔‘‘ شازمہ نے راز داری سے کہا۔ اس کی آواز دھیمی تھی لیکن اس کے باوجود سمہان آفندی کے کان اعلان کا سن کر کھڑے ہوگئے۔
’’دن کو اتنا دھماکے دار اعلان تو کیا دا جا نے اب اور کون سا اعلان باقی بچتا ہے۔‘‘ عیشال نے منہ بنایا۔
’’بھئی وہ تو ندا کی شادی کا اعلان تھا ناں… یعنی لڑکیوں میں ندا بڑی ہے تو… اب لڑکوں کی بھی باری آئے گی ناں…؟‘‘ یمنیٰ نے دانائی سے سمجھایا تو وہ ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھنے لگی۔
’’یعنی ویرے شاہ کی شادی کا اعلان؟‘‘ زرش اچھلی۔
’’ہاں… ناں۔‘‘ شازمہ بھی پُرجوش ہوئی۔
’’کس سے‘ لڑکی کی تصویر دکھائی دا جان نے؟‘‘ سمہان آفندی نے بھی دلچسپی لی۔
’’یہ ہی اہم کام تو نہیں ہوسکا۔ آپ لوگ موجود جو نہیں تھے۔‘‘ شازمہ نے منہ بگاڑا۔
’’دی جان سے پوچھو۔ شاید انہوں نے تصویر دیکھی ہو۔‘‘ زرش نے سب کا دھیان زمرد بیگم کی طرف کیا تو لڑکیاں ان کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ عیشال جہانگیر چینج کرنے کے ارادے سے اپنے کمرے کی طرف جانے کے لیے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’آئندہ سے اتنا تیار ہوکر کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔‘‘ وہ سیڑھیوں پر چلتی ایئر رنگ اتار رہی تھی۔ پیچھے سے آتے سمہان آفندی نے ایک دم سے کہا۔ ایک پل کو وہ ٹھٹھکی۔
’’کیوں…؟‘‘
’’بس کہہ جو دیا۔‘‘ وہ حتمی لہجے میں کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
شادی میں ہر کوئی ہی اس کی تعریف کررہا تھا۔ سب ہی اس کے متعلق بار ہار پوچھ رہے تھے اور ایک وہ تھا جو تعریف کی بجائے آئندہ تیار نا ہونے کا کہہ رہا تھا۔
’’اب بندہ اتنا بھی جل ککڑا نا ہو‘ سب نے ہی میری تعریف کی۔‘‘ وہ منہ بنا گئی۔
’’میں یہ ہی تو نہیں چاہتا کہ کوئی تمہاری تعریف کرے‘ آئی سمجھ۔‘‘ وہ بغور دیکھتے ہوئے بولا۔ جرح کرنے والے انداز سے وہ اسے گھور رہی تھی۔
’’بڑا شوق ہے تمہیں تعریفیں سننے کا۔‘‘ موڈ بدل کر سخت نظروں سے دیکھنے لگا۔ وہ کوئی سخت سا جواب دینے ہی لگی تھی جب شاہ زرشمعون کو آتے دیکھ کر الرٹ ہوگئی۔
’’لوٹ آئے تم لوگ؟‘‘ شاہ زرشمعون قریب آگیا تھا۔ عیشال جہانگیر دوپٹا سر پر لیتی انداز نارمل کر گئی۔ شاہ زرشمعون نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سمہان آفندی کی طرف متوجہ ہوا۔
’’نیند نہیں آرہی تھی تو سوچا تم سے تھوڑی گپ شپ ہی کرلوں۔‘‘
’’نیند کہاں سے آئے گی جناب کو… دا جان نے شادی کی پھلجھڑی جو چھوڑ دی ہے… سچ بتائو برو‘ تصویر دیکھی۔‘‘ وہ چھیڑنے لگا تھا اور شاہ زرشمعون کے چہرے پر شرم کی سرخی بکھر گئی۔ عیشال جہانگیر دو دوستوں کی چھیڑ چھاڑ میں خود کو مس فٹ محسوس کرتے اپنے کمرے کے دروازے پر رک گئی۔ وہ دونوں آگے بڑھ گئے لیکن اسے دونوں کی آوازیں آرہی تھیں۔
’’او نہیں بھئی۔‘‘ شاہ زرشمعون‘ سمہان آفندی کے ہم قدم تھا۔
’’اب صبح ہی دیکھنا تصویر… یقینا ناشتے کی میز پر ہی تصویر کشائی ہوگی۔‘‘ شاہ زرشمعون نے اس کے اشتیاق پر جواب دیا تو وہ بھی ٹھنڈی سانس لے کے رہ گیا کہ انتظار کے سوا کوئی چارا نہیں تھا۔
’’بازو کا زخم کیسا ہے اب…؟‘‘ وہ روز مرہ کی باتیں کرتے راہداری میں گم ہوگئے تھے‘ عیشال جہانگیر بھی اپنے کمرے میں داخل ہوگئی۔
ؤ…ز…ؤ
صبح ناشتے کی میز پر ہر کوئی متوجہ تھے کہ چودھری حشمت کب شاہ زرشمعون کی شادی کا اعلان کریں‘ لڑکیاں یونیورسٹی کے لیے معمول کے مطابق تیار بیٹھی تھیں۔ انہیں بھی شدت سے انتظار تھا کہ ان کی روانگی سے قبل اعلان ہوجائے۔ سب چوری چوری چودھری حشمت کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ جو ناشتا کرنے میں مگن تھے۔ بالآخر وہ لمحہ بھی آگیا جب وہ سب سے مخاطب ہوئے۔
’’یوں تو ہم ندا کی شادی کا اعلان کرچکے ہیں کیونکہ ندا لڑکیوں میں بڑی ہے۔‘‘ عیشال جہانگیر کو ایک بار پھر ندا کے چہرے پر سایہ پھیلتا محسوس ہوا۔ جسے چھپانے کو وہ سر جھکا گئی تھی۔
’’لیکن اس سے بڑا شاہ ہے تو ہم نے طے کیا ہے کہ ندا سے پہلے شاہ کی شادی کی جائے۔‘‘
’’بہت اچھا خیال ہے ماشاء اللہ…‘‘ زمرد بیگم نے سراہا۔
فائزہ کے چہرے پر بھی بیٹے کی شادی کا سن کر چمک دوڑ گئی تھی۔ ندا بھی ان کی بیٹی تھی لیکن ان کی خود کی دلی خواہش تھی کہ چونکہ شاہ زرشمعون‘ ندا سے بڑا ہے تو پہلے اس کی ہو اور اب چودھری حشمت ان کے دل کی بات کررہے تھے۔ چودھری اسفند اور چودھری فیروز قدر مطمئن بیٹھے تھے۔ جیسے انہیں سب پتا ہو‘ البتہ تمام خواتین متعجب نظروں سے چودھری حشمت کو دیکھ رہی تھیں۔
’’اس جمعہ کو شاہ اور عیشال کی منگنی کی رسم ادا کی جائے گی اور جلد ہی شادی۔‘‘ سب ہی چودھری حشمت کے بولنے کے منتظر تھے اور جب انتظار کے بعد وہ سب کہہ گئے تو کئی اشخاص بے یقینی سے ان کی صورت تکتے رہے۔
’’شاہ زرشمعون کے لیے ہم نے عیشال کا انتخاب کیا ہے۔ گھر کی بچی گھر میں ہی رہے گی۔‘‘
اسے لگا تھا اس کی سماعت کو دھوکا ہوا ہے لیکن جب چودھری حشمت نے ایک بار پھر نام دہرائے تو عیشال جہانگیر شاکڈ سی ہوکر بے ساختہ سمہان آفندی کی طرف دیکھنے لگی کم و بیش اس کے چہرے پر بھی ایسی ہی بے یقینی کے تاثرات تھے۔
’’شاہ زرشمعون اور عیشال جہانگیر…!‘‘ اس سے آگے وہ سن نہیں سکھی۔
ذہن سن ہوگیا تھا۔
(ان شاء اﷲ کہانی کا بقیہ حصہ آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close