چلو ہم ہار جاتے ہیں

چلو ہم ہار جاتے ہیں

حناملک

شام کے سائے گہرے پڑنے لگے تھے شفاف نیلے آسمان پر آشیانوں کی جانب لوٹتے پرندوں کے غول اڑ رہے تھے‘ جاڑوں کی یہ اداس سی شام دھیرے دھیرے رات کی جانب سفر کررہی تھی۔ دونوں بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے وہ ایک ٹک ڈھلتے سورج کی طرف دیکھے جارہی تھی۔
’’میرو بیٹا!‘‘ داجی کی آواز پر وہ چونکی۔ ’’اندرآجائو بیٹا‘ٹھنڈ بڑھ رہی ہے۔‘‘ روزانہ کی طرح وہ ایک سرد آہ بھرتی‘ کپڑے جھاڑتی‘ اٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ روز کا معمول تھا۔ عصر کے بعد سے وہ روزانہ سبزے سے ڈھکے اس چھوٹے سے ٹیلے پر بیٹھاکرتی تھی اوراسی طرح شام ڈھلتے ہی داجی اسے پکار کرا ندربلالیاکرتے تھے۔
’’چلیں‘آپ کی دوا کاوقت ہوگیاہے۔‘‘داجی چھڑی سنبھالے ہولے ہولے اپنے کمرے کی طرف چلنے لگے تھے تب وہ بھی ہمراہ ہولی۔
’’لڑکی ہمیں تمہاری یہ عادت بہت بری لگتی ہے۔‘‘ وہ مصنوعی خفگی سے بولے۔
’’کون سی عادت بھلا؟‘‘ وہ دھیرے سے مسکرائی۔
’’دواکاوقت یاد رکھنے والی عادت۔‘‘ وہ ناک بھوں چڑاتے ہوئے بولے۔
’’افسوس! میری ایک ہی عادت تو اچھی ہے۔ وہ بھی آپ کو ناپسند ہے۔ داجی آپ کی میرو تو بہت ہی نکمی نکلی۔‘‘
’’خبردار لڑکی! جومیری میرو کو نکمی کہا۔ میری میرو تو اس دنیا کی سب سے اچھی بیٹی ہے۔‘‘داجی کی پیار بھری دھونس پر وہ دھیرے سے مسکرادی۔ داجی کو دوا دینے کے بعد وہ ان کے لئے کھانابنانے کچن میں چلی آئی۔ کھانا وغیرہ بنانے کے لئے کک تھا مگر داجی کے لئے پرہیزی کھانا وہ اپنے ہاتھ سے بنایاکرتی تھی۔ کھانا بنانے کے بعد وہ داجی کے کمرے میں چلی آئی۔
’’کھاناتیار ہے۔‘‘ وہ شوخی سے بولتی اندر داخل ہوئی مگر یکلخت ہی قدم دروازے میں ہی ساکت ہوگئے۔ داجی کے بیڈ کے قریب ہی کرسی ڈالے وہ خاصے ریلیکس انداز میں بیٹھا تھا۔ میرب پر ایک نگاہ غلط ڈال کراس نے خاصا براسامنہ بناتے ہوئے نظروں کا زاویہ بدلاتھا۔ وہ عادی تھی ایسے رویے کی‘ تبھی دھیرے سے چلتی داجی کے بیڈ کے دوسری جانب آکھڑی ہوئی۔
’’داجی! میں آپ سے بعد میں بات کروں گا۔‘‘ بیڈ کی پائنتی پر دھرا کوٹ اٹھاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔اس سے پہلے کہ داجی کچھ کہتے‘ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر چلاگیا۔ داجی نے تاسف سے پہلے دروازے اور پھرمیرب کی طرف دیکھا جو اپنی جگہ چور سی بنی بیٹھی تھی۔ سالار آفندی کایہ رویہ شروع دن سے اس کے لئے تحقیر واہانت بھراتھا۔
’’لیجئے داجی‘ مزیدار سا و یجی ٹیبل سوپ‘‘ وہ لہجے میں بشاشت بھر کر بولی مگر اس کا چہرہ چغلی کھارہاتھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سالار کے رویے سے ہرٹ ہوجاتی تھی۔ حالانکہ جانتی تھی یہ روز کامعمول تھا۔
’’وہ دل کابرانہیں ہے بیٹا‘ بس ذرا…‘‘ ہمیشہ کی طرح جلال خان آفندی نے اسے دلاسادیناچاہا۔
’’افوہ داجی‘ سوپ ٹھنڈا ہورہاہے۔‘‘ وہ زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولی۔ داجی ایک سرد آہ بھر کر سوپ کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’چھوٹے خان نے کھانا کھالیا؟‘‘ اس نے کچن میں موجود گل رانو سے پوچھا۔
’’نئیں بی بی‘ وہ بولا ام کو بوک(بھوک) نئیں اے۔‘‘ گل رانو نے میرب کے ہاتھ سے خالی برتنوں کی ٹرے لیتے ہوئے کہا۔ وہ ایک سرد آہ بھرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ززز
’’رحمت خان ‘ناشتہ!‘‘ گمبھیر لہجہ‘ بھاری آواز‘ سب نوکر الرٹ ہوگئے۔ چھوٹے خان کے غصے سے سب کی جان جاتی تھی۔ دو سیکنڈ میں ناشتااس کے سامنے تھا۔
’’کچھ اور خاناں؟‘‘ رحمت خان مودب ساپاس ہی کھڑا تھا۔
’’نہیں۔داجی کہاں ہیں؟‘‘ ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے گل رانو سے پوچھا۔
’’وہ تو جی میروبی بی کے ساتھ باہر گیا۔‘‘
’’ہونہہ۔‘‘ ہنکارا بھرتاوہ اٹھ کھڑا ہوا۔ گاڑی کے قریب ہی پہنچاتھا جب داجی کا بازو تھامے وہ ہولے ہولے چلتی گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ گہرے نیلے اور سیاہ پرنٹ کے سوٹ کے ساتھ سیاہ شال اوڑھے‘ ٹھنڈ سے سرخ پڑتے چہرے میں وہ ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کررہی تھی۔
’’السلام علیکم داجی!‘‘
’’وعلیکم السلام‘ صبح صبح کہاں چل دیئے برخوردار؟‘‘
’’میرا دوست آرہا ہے ‘ اسے لینے جارہاہوں۔‘‘
’’اچھی بات ہے‘ اسے گھرہی لے آنا۔ میروبیٹا !مہمان خانہ صاف کروادینا گل رانوسے کہہ کر۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ اس کے کہنے پر سالار خان نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی۔
’’داجی! آپ کو کتنی بار کہاہے اتنے سرد موسم میں باہر نہ جایاکریں‘ جنہیں شوق ہے وہ خود جایا کریں۔‘‘تند سے لہجے میں کہتا وہ بے حدخودغرض لگاتھا۔ میرب چپ چاپ وہاں سے چلی گئی۔
’’سالار!کیوں کرتے ہوایسا؟ میں نے ضد کی تھی باہر جانے کی۔ وہ تو انکار کررہی تھی۔‘‘
’’گستاخی معاف داجی‘ آپ ہمیشہ سے اس کی باتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے آ ئے ہیں۔‘‘
’’وہ غلط نہیں ہے‘ پردہ ہمیشہ غلطیوں پر ڈا لاجاتاہے‘ سالار خان۔‘‘ جلال خان دبے دبے جوش سے گویاہوئے۔
’’آئیے میں آپ کو اندر تک چھوڑ دوں۔‘‘ وہ نرم سے لہجے میں کہتا ان کا بازو تھامنے لگا۔
’’ابھی ان بوڑھی ہڈیوں میں اتنی طاقت ہے کہ چند فرلانگ کا فاصلہ اپنے قدموں پر طے کرسکوں۔‘‘وہ خفاخفا سے آگے بڑھ گئے۔ سالار خان اپنے عزیز ازجان دادا کو خفا نہیں دیکھ سکتاتھا مگر ایک میرب احسان کامعاملہ ایساتھا جس میں وہ جھکنے کو تیار نہیں تھا۔
دوپہر میں وہ واپس آیاتو تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کا کوئی دوست بھی تھا جسے مہمان خانے میں ٹھہرایا گیاتھا۔
’’گل رانو! کھانا لگوائو۔‘‘ وہ کچن میں داخل ہوتے ہی بولا مگر اگلے ہی لمحے لب بھینچ گیا۔ وہاں میرب احسان موجود تھی۔جسے وہ گل رانو سمجھاتھا میرب‘ داجی کے لئے سوپ بنا رہی تھی۔ سالار کی آواز پر فوراً پلٹی تھی مگر وہ اپنی بات کرکے جاچکاتھا۔ ہربار سالار کا سامنا ہونے پر وہ ایک نئی ذلت سے دوچار ہوتی تھی۔ اس کے لہجے سے ہی نہیں اس کی نگاہوں سے ‘ اس کے ہر ہر عمل سے میرب کے لئے محض تحقیر اور نفرت ٹپکتی تھی۔ روز کو ئی نہ کوئی بات ایسی ضرور ہوجاتی تھی جس پر وہ محض خون کے گھونٹ بھر کررہ جاتی تھی۔
’’ہاہ‘ مجھ سے اچھے تو اس گھر کے نوکر ہیں‘ جن سے کم از کم تم بات کرنا تو گو ارہ کرلیتے ہو سالارآفندی۔‘‘ دل ہی دل میں کڑھتی وہ سوپ بنانے لگی۔ داجی کو سوپ پلانے کے بعد وہ انہی کے پاس بیٹھی‘ ان کو کوئی کتاب پڑھ کر سنارہی تھی جب سالار آفندی کی دہاڑ سنائی دی۔ وہ گل رانو پر برس رہاتھا۔ آدھے گھنٹے سے ز یادہ ہوگیا تھا اور ابھی تک کھانا نہیں لگاتھا۔ سالار اور اس کا دوست کھانا لگنے کاانتظا ر کررہے تھے۔
’’جب میں کہہ کر گیاتھا کہ کھانا لگوائو تو ابھی تک کھانا کیوں نہیں لگوایا؟‘‘ وہ برس رہاتھا اور سامنے کھڑی گل رانو تھرتھر کانپ رہی تھی۔ میرب بے اختیار زبان دانتوں تلے دباگئی۔ وہ گل رانو کو چھوٹے خان کے حکم سے آگاہ کرنا بھول گئی تھی اور ایسا پہلی بار ہواتھا۔
’’خان…ام توباہر گیاتھا‘ ام کو تو کسی نے نئیں بتایا کہ …‘‘ گل رانو ہمت کرکے منمنائی تھی۔ تبھی سالار کی نظر درو ازے کی چوکھٹ پرکھڑی میرب سے ٹکرائی تھی جو غالباً شور سن کر وہاںچلی آئی تھی۔ سالار نے ایک زہر آلود نگاہ اس پرڈالی اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا‘ اس کے سامنے آرکا۔ایک لمحے کو وہ بھی کانپ کررہ گئی۔جانے نوکروں کے سامنے وہ اس کی کس طرح عزت افزائی کرڈالے۔
’’مجھے زچ کرنے کے یہ اوچھے ہتھکنڈے ہیں میرب احسان۔‘‘ چبا چبا کر بولتا وہ میرب کی روح تک فنا کرگیا۔ ہمیشہ کی طرح وہ اپنی بات مکمل کرکے رکانہیں تھا۔ ’’جانے اس شخص کے دل سے بدگمانی کی گرد دھوپائوں گی بھی یانہیں۔‘‘ وہ ایک سرد آہ بھرتی واپس مڑ گئی۔

میرے ہم سفر تجھے کیاخبر
یہ جو وقت ہے دھوپ چھائوں کے کھیل سا
اسے دیکھتے!
اسے جھیلتے !
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہوگئے
وہ جو راستوں کایقین تھے
وہ جو منزلوں کے امین تھے
وہ نشان پابھی مٹادیئے
تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک
و ہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
میرے ہم سفر‘ تجھے کیا خبر

لکھتے لکھتے اچانک اسے احساس ہوا جیسے وہ کسی کی گہری نظروں کے حصار میں ہے۔ اس نے چونک کر سر اٹھایا تو سٹپٹا گئی۔ کچھ ہی فاصلے پر وہ اجنبی موجود تھا۔ میرب کے دیکھنے پر اس نے دھیرے سے مسکراہٹ پاس کی۔ گویا خیر سگالی کے جذبات کااظہار کیا۔ وہ حسب معمول عصر کے بعد اپنی مخصوص جگہ پربیٹھی تھی۔ موسم بے حد خوشگوار ہو رہا تھا۔ ڈھلتی شام میں سبزے کے بیچ گھری وہ گہرے زرد اور نارنجی سوٹ میں اس شام کا حصہ معلوم ہو رہی تھی۔ یہ چھوٹا سا ٹیلہ‘ جس پر بیٹھ کر وہ دور افق کے پار ڈھلتے سورج اور بلند وبالا پہاڑوں اور ہرسوپھیلے سبزے کو دیر تک تکا کرتی تھی‘ وسیع وعریض ’’آفندی لاج‘‘ کے احاطے میں موجود تھا۔ چاروں طرف کی نشاندہی کی گئی تھی۔ گھر کے احاطے میں موجود اجنبی یقینا سالار آفندی کا دوست تھا وگرنہ کسی کی جرات نہیں تھی بغیراجازت ’’آفندی لاج‘‘ میں قدم رکھتا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اندر جانے لگی تووہ پکاربیٹھا۔
’’ایکسکیوز می مس…‘‘ میرب کے بڑھتے قدم تھم سے گئے مگر وہ پلٹی نہیں تھی۔ جبھی وہ اس کے سامنے آرکا۔
’’یہ غالباً آپ کاہے‘‘ سلور اور میرون خوبصورت سا قلم میرب کی طرف بڑھایا۔
’’تھینک یو۔‘‘ اس کے ہاتھ سے قلم لے کر وہ وہاں رکی نہیں تھی جبکہ صارم کی نگاہوں نے دور تک اس کاتعاقب کیا تھا۔
صارم اور سالار کی دوستی کو پانچ برس ہونے والے تھے۔ امریکہ میں ہی دونوں کی دوستی ہوئی تھی۔ سالار اور صارم ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد سالار تو وطن واپس آگیاتھا جبکہ صارم نے وہیں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرلی تھی۔ آج کل ایک ماہ کی چھٹیوں پر پاکستان آیاہواتھا تو سالار سے ملنے ایبٹ آباد چلا آیاتھا۔
’’داجی! آپ کا یہ پوتا تھوڑا اکھڑ اور غصیلا ہے۔ یہ تو میں جانتاتھا مگر یہاں آکر جواس کا سخت گیر ساانداز دیکھا تو واقعی لگا کہ سالار آفندی کا تعلق روایتی خاندان سے ہے۔‘‘ صارم کے کہنے پر سالار دھیرے سے مسکرایاتھا۔داجی نے بہت دنوں بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تھی۔
’’بیٹا یہ باہر سے جتنا سخت گیر اور غصیلا ہے اندر سے اتناہی نرم طبع اور پیار کرنے والا ہے۔ بالکل اپنے باپ کی طرح۔ وہ بھی ایساہی تھا‘ جبکہ داور اندرباہر سے ایک جیسا تھا۔ بہت حساس‘ نرم دل اور پیار کرنے والا۔‘‘ داجی داور کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ اسی لمحے میرب نے لائونج میں قدم رکھاتھا‘ وہ شاید کہیں باہر گئی ہوئی تھی۔ داجی کا آخری جملہ وہ بھی سن چکی تھی تبھی سالار کی نظر میرب پرپڑی تووہ محض دانت کچکچا کررہ گیا۔ میرب نے سرجھکالیا۔ حالانکہ جو کچھ ہوا تھا‘ اس میں اس کا کو ئی قصور نہ تھا مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی احساسِ جرم کاشکار ہونے لگتی تھی جب جب سالار خان کا سامنا ہوتاتھا۔
’’داور بھائی کہاں ہوتے ہیں آج کل؟ جب سے میں آیا ہوں ان سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔‘‘ صارم اپنی دھن میں بولے جارہاتھا جبکہ لائونج میں موجود باقی تین نفوس بالکل ساکت ہوگئے تھے۔ جامد خاموشی کو داجی نے توڑا۔ سرد آہ بھر کرمیرب کی طرف دیکھا۔
’’آئو میروبیٹا‘ اندر آجائو۔‘‘ داجی کے پکارنے پر وہ بمشکل خود کو گھسٹتی ان تک پہنچی تھی۔ سالار آفندی کی آنکھیں لہو رنگ ہو رہی تھیں۔
’’ان سے ملو یہ صارم ہیں‘ سالار کے دوست اور صارم بیٹا یہ ہماری بہت پیاری سی بیٹی ہے میرب۔‘‘ داجی کے تعارب کروانے پر اس نے دھیرے سے سر کے اشارے سے سلام کیا۔ سالار کی خون چھلکاتی نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ فوراً اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ اپنے کمرے میں پہنچ کر دروازہ بند کرتے ہی وہ وہیں دروازے کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ آنسو ایک تواتر سے بہہ رہے تھے۔
’’کیوں ہوامیرے ساتھ ایسا۔ کوئی جرم نہ ہوتے ہوئے بھی میں خود کومجرم سمجھنے پرمجبور ہوجاتی ہوں۔ سالار آفندی کی الزام د یتی نگاہیں مجھے زندگی سے نفرت کرنے پرمجبور کردیتی ہیں۔‘‘ وہیں گھٹنوں میں سردیئے وہ بری طرح سسکنے لگی تھی۔
’’ایک کپ چائے ملے گی؟‘‘ صارم کی آواز پر وہ چونک کر پلٹی تھی۔ داجی کے لئے کھانا بنارہی تھی جب صارم وہاں چلا آیا تھا۔
’’آپ نے کیوں زحمت کی‘ رحیم خان کو کہہ دیاہوتا۔‘‘ میرب کے کہنے پر صارم مبہم سا مسکرایا تھا‘ اب وہ اسے کیابتاتا‘ جسے وہ زحمت کہہ رہی ہے‘ اس کے لئے عین سعادت ہے۔ وہ جب سے یہاں آیا تھا‘ روزانہ اس لڑکی کو اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا کرتاتھا۔ جب وہ عصر کے بعد اپنی مخصوص جگہ پر آکربیٹھا کرتی تھی تیکھے نقوش‘ بڑی بڑی غلافی آنکھیں‘ سرخ وسپید رنگت اور بالوں کی موٹی سی چٹیا بنائے‘ یہ لڑکی سادگی وپرکاری کانمونہ تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ صارم نے اس سے زیادہ حسین لڑکیاں نہیں دیکھی تھیں ‘ وہ جس دیس سے آیا تھا‘ وہاں تو حسن قدم قدم پربکھرا ہوتاہے مگر اس لڑکی میں کوئی خاص بات تھی جو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتی تھی۔
میرب کواس کے اس طرح دیکھنے پر الجھن سی محسوس ہوئی۔
’’گل رانو‘ صاحب کے لئے چائے بنادو۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں ناگواری درآئی۔ داجی کے لئے کھاناٹرے میں لگاتی وہ اس کے پاس سے گزر کر کچن سے باہر چلی گئی۔ صارم سر جھٹک کر دھیرے سے مسکرادیا۔
میرب کو سالار آفندی کے اس دوست سے نامعلوم سی چڑ ہوچلی تھی۔ وہ یقینا سالار کامنہ چڑھا دوست تھا جو یوں آزادی سے پورے گھر میں دندناتا پھرتاتھا۔ وہ صارم کی نگاہوں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ چکی تھی اور یہ بات اس کے لئے خاصی پریشان کن تھی۔
اس روز اس کا جی چاہ رہاتھا ڈھلتی شام کے منظر کو کینوس پر منتقل کردے۔ مصوری اس کاشوق تھی مگر اس نے اس کے لئے کہیں سے باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ قدرتی طور پر اس کے ہاتھ میں خاصی صفائی اور مہارت تھی اور وہ اکثر محض اپنے شوق کی تسکین کی خاطر پینٹنگ کرلیاکرتی تھی۔ وہ اپنے کام میں اس قدر محو تھی کہ پتہ ہی نہ چلا کب صارم وہاں آن کھڑا ہوا۔ وہ بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے اور کبھی کینوس پررنگ بکھیرتے اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔ بالوں کا ڈھیلا ڈھالا ساجوڑابنا رکھاتھا۔ چند آوارہ لٹیں چہرے کے اطراف میں اٹھکیلیاں کررہی تھیں۔ دو تین برش بالوں کے جوڑے میں پھنسائے وہ خاصی دلچسپ لگ رہی تھی۔ تبھی اس کی نظر صارم پرپڑی۔
’’اوہ آپ!کب آئے؟‘‘
’’مجھے آئے ہوئے تو خیر سے اکتیس برس ہونے والے ہیں۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایاتھا۔ میرب کو اس کا یہ مذاق بالکل پسند نہیں آیا تھا۔ وہ پھر سے کینوس کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’’سوری! آپ کو میرا مذاق کرنا برا لگا۔ ‘‘ اس کے چہرے پر پھیلی ناگواری دیکھتے ہوئے وہ کہہ رہاتھا۔
’’اٹس اوکے۔ ویسے بھی آپ کا اورمیرا مذاق کا کوئی رشتہ بنتا بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ رنگوں کوسمیٹنے لگی تھی۔ تسلسل برقرار نہیں رہا تھا اور اب اس کاموڈ بھی نہیں تھا۔
’’رشتہ نہیں ہے مگر بنایا تو جاسکتاہے ناں۔‘‘ بات ذومعنی تھی‘ ایک لمحے کو میرب کے ہاتھ تھم سے گئے۔
’’ایکسکیوز می۔‘‘ وہ کنی کترا کر گزرجانا چاہتی تھی جب وہ راہ میں حائل ہوگیا۔
’’میں نے کوئی ناممکن بات تو نہیں کی۔‘‘
’’آپ سالار آفندی کے دوست ہیں اس لئے میں اتنا لحاظ کررہی ہوں۔‘‘ اس کالہجہ خود بخود سخت ہوگیاتھا۔
’’مجھ میں کیا کمی ہے؟ میں آپ کو اپنانا چاہتاہوں۔ بہت عزت وپیار کے ساتھ ۔ صرف آپ کی مرضی درکار ہے۔ باقی میں خود سنبھال لوں گا۔‘‘ صارم کالہجہ ٹھوس تھا۔ یقینا وہ مصمم ارادہ کرچکاتھا۔ ایک لمحے کو تو میرب احسان گنگ سی کھڑی رہ گئی۔
’’پھرآپ کی خاموشی کومیں کیا سمجھوں؟‘‘ وہ مصر تھا۔
’’دیکھئے آ…آپ…‘‘ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر جانے کیوں الفاظ حلق میں اٹک کررہ گئے تھے۔
’’میں آج شام کو یا شاید کل صبح تک واپس چلاجائوں گا مگر جانے سے پہلے آپ کی رائے جاننا میرے لئے بے حد ضروری ہے۔‘‘
’’میں شادی نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی ایساممکن ہے۔‘‘ اس کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔
’’شادی ناممکن کیسے ہوسکتی ہے؟ شادی نہیں کرنا چاہتیں یا مجھ سے شادی کرنے پراعتراض ہے؟‘‘ وہ سراپا سوال بنا کھڑا تھا جبکہ میرب کو لگ رہاتھا جیسے مارے ضبط کے اس کی کنپٹیاں پھٹ جائیں گیں۔
’’کیا جانتے ہیں آپ میرے بارے میں؟‘‘ وہ عجیب سے انداز میں اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’یہی کہ آپ سالار کی کزن ہیں۔ ماشاء اللہ تعلیم یافتہ ہیں اور…‘‘
’’میں داور خان آفندی کی بیوہ ہوں۔‘‘ یکلخت اس کے بولنے پر صارم کی زبان کو بریک لگ گئے۔ یہ انکشاف اس کے لئے بے حد حیرت انگیز تھا۔
’’داور خان کی بیوہ؟ توکیا داور اس دنیا میں نہیں رہا اور سالار نے اسے بتایا تک نہیں اور داور نے شادی کب کی؟‘‘ سالار کوامریکہ سے آئے ہوئے چند ماہ ہوئے تھے۔ چند ماہ پہلے تک تو ایسی کوئی بات اس کے علم میں نہیں تھی۔ وہ یہ لرزہ خیز انکشاف کرنے کے بعد وہاں رکی نہیں تھی۔جبکہ صارم کافی دیر گم صم ساوہاں کھڑا رہا۔
انجانے میں ہی سہی‘ صارم اس کے ا یسے زخموں کو چھیڑ بیٹھا تھا جن پر گزرتے وقت نے بڑی مشکل سے مرہم رکھا تھا۔ سرشام ہی وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔ داجی سے طبیعت کی خرابی کابہانہ کرکے وہ اپنے کمرے میں مقید ہوگئی تھی۔ رات دھیرے دھیرے بیت رہی تھی او روہ سلگتی ہوئی موم بتی کی طرح قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی۔ ماضی کی تکلیف دہ یادیں اس کے پور پور کو زخمی کئے دے رہی تھیں۔ وہ چاہ کربھی ان اذیت بھری یادوں کو اپنی یادداشت سے مٹانہیں پاتی تھی۔ مٹانا چاہتی بھی تو سالار آفندی کا لہجہ ‘اس کی الزام د یتی نگاہیں‘ اسے کچھ بھی بھولنے نہیں دیتاتھا۔
ززز
شفاعت شاہ کا تعلق ایک بااثر جاگیردار خاندان سے تھا۔ ان کے تین بیٹے تھے‘ سب سے بڑے سبحان شاہ ‘پھر فیضان شاہ اور احسان شاہ ‘شفاعت شاہ روایتی وڈیروں کی طرح بے حد سخت گیر اور غریبوں کواپنی رعایا سمجھنے والے انسان تھے ۔ انسان ان کی نظروں میں محض زمین پررینگنے والے کیڑوں کے برابر تھے۔ سبحان شاہ اور فیضان شاہ ہوبہو باپ کی کاپی تھے۔ احسان شاہ باہر سے پڑھ کرآئے تھے اس لئے ان کی شخصیت میں اس درجہ کرختگی نہ تھی۔ غریبوں کا درد کسی حد تک ان میں موجود تھا۔ ان کی یہی خوبی شفاعت شاہ اور بڑے دونوں بھائیوں کی نظر میں بری طرح کھٹکتی تھی۔ سب سے چھوٹے ہونے کی بنا پر احسان شاہ کچھ لاڈلے اور ضدی بھی واقع ہوئے تھے۔ ماں کی توجیسے جان بند تھی ان میں۔ سبحان شاہ کی شادی خالہ زاد شہربانو سے ہوئی تھی۔ شہربانو حد سے زیادہ نک چڑھی اور اکھڑ مزاج خاتون تھیں۔ حاکمیت ان کی فطرت میں رچ بس گئی تھی۔ فیضان شاہ کی بیوی شہربانو کی چھوٹی بہن مہربانو تھیں مگر پہلے بچے کی پیدائش کے بعد وہ جانبر نہ ہوسکیں۔فیضان شاہ کو مہربانو سے محبت تھی جبھی ہر دم ان کی یاد میں افسردہ دکھائی دیتے؎ ماں‘ باپ بیٹے کی طرف سے پریشان تھے‘ اس نے تو اپنے بیٹے کو بھی نظر بھر کرنہیں دیکھا تھا۔ انہی دنوں شفاعت شاہ نے انہیں تبدیلی آب وہوا کے لئے شمالی علاقہ جات کی طرف بھیج دیا۔ دو ماہ بعد جب وہ واپس آئے تو تنہا نہیں تھے۔زرمینہ ان کے ہمراہ تھیں جن سے وہ باقاعدہ نکاح کرچکے تھے۔ زرمینہ شروع سے ہی کچھ باغیانہ فطرت کی تھیں۔ فیضان شاہ پہلی نظرمیں ان کے بے پناہ حسن کاشکار ہوئے تو زرمینہ بھی فیضان شاہ جیسے خوبرو ‘کڑیل جوان کے سامنے دل ہار بیٹھیں۔ چند ملاقاتیں دونوں کو قریب لے آئیں۔ زرمینہ کے باپ اور بھائی کوپتاچلا تو ان کی فطرت غیرت نے جوش مارا مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی عملی قدم اٹھاتے‘ زرمینہ نے فیضان شاہ کے ساتھ گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ زرمینہ کے گھر والوں نے ان دونوں کو بہتیرا تلاش کیا مگر وہ لوگ ان کی دسترس سے دور جاچکے تھے۔ بیٹے کی خوشی کو دیکھتے ہوئے شفاعت شاہ اور باقی گھر والوں نے مارے باندھے زرمینہ کوبہو تسلیم توکرلیا مگر انہیں کبھی وہ مقام نہ مل سکا جوشہربانو یامہربانو کاتھا۔شہربانو اکثر باتوں باتوں میں یہ جتانا ہرگز نہ بھولتی تھیں کہ زرمینہ گھر سے بھاگ کر آئی تھی۔ رفتہ رفتہ فیضان شاہ کی آنکھوں پر بندھی محبت کی پٹی اترنے لگی‘ وہ شہربانو کی ہر بات پر آمنا صدقنا کہنے کے عادی تھے۔ شفاعت شاہ اور ماں کے انتقال کے بعد سارانظام خو دبخود سبحان شاہ اور شہربانو کے ہاتھ میں آگیا۔ زرمین کو سبحان شاہ اور فیضان شاہ کا یہ آمرانہ روپ دیکھ کر سخت دھچکا لگا تھا۔ سوئے اتفاق کہ وہ ماں ہی نہ بن سکیں۔ مہربانو کے بیٹے کو سگی اولاد کی طرح پالا۔ شہربانو کے تین بیٹے تھے جس پر وہ اترایا کرتی تھیں۔ احسان شاہ نے بھی بڑے بھائی کی دیکھا دیکھی اپنی کلاس فیلو سمیرا سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ سمیرا کاتعلق متوسط طبقے سے تھا۔ باپ سرکاری ادارے میں گریڈ سولہ کاافسر تھا۔ سبحان شاہ اور شہربانو نے صاف انکار کردیا کہ وہ اپنے معیار سے کمتر لوگوں کے ہاں رشتہ لے کر نہیں جائیں گے۔ فیضان شاہ توویسے بھی ہربات میں بڑے بھائی کا ساتھ دیا کرتے تھے۔ احسان شاہ بھی ضد کے پکے نکلے۔ بھائی کو جائیداد سے بے دخل کرنے کی دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی کہ شفاعت شاہ اپنی زندگی میں ہی جائیداد کے تین حصے کرکے تینوں بیٹوں کے نام کرچکے تھے۔ مجبوراً سبحان شاہ کواحسان شاہ کی بات ماننا پڑی مگر نکاح بے حد سادگی سے انجام پایا اور یوں سمیرا دلہن بن کر حویلی میں آگئیں۔زرمینہ سے انکی گاڑھی چھننے لگی تھی۔ جس پرشہربانو کو خاصا اعتراض تھا۔سمیرا نے شادی کے تین برس بعد بے حد پیاری سی بیٹی کو جنم دیا۔ زرمینہ کی خواہش پر اس کانام میرب رکھا گیا۔ میرب بے حد پیاری بچی تھی۔ ذہانت سے چمکتی آنکھیں اس کی خوبصورتی کو مزید نکھار دیتی تھیں۔ ماں سے زیادہ وہ زرمینہ کے قریب تھی۔ مہربانو کا بیٹا شہربانو کی وجہ سے کبھی زرمینہ کے قریب ہی نہ آسکا تھا۔ اس کے ذہن میں بچپن سے ہی شہربانو نے یہ بات بٹھادی تھی کہ زرمینہ اس کی سوتیلی ماں ہے جو کبھی اس کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتی۔ زرمینہ میرب کو پیار کرکے ہی اپنی پیاسی مامتا کو سیراب کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ میرب کوبھی چھوٹی تائی سے بے حد لگائو تھا۔ احسان شاہ اور سمیرا میرب کے معاملے میں بے حد حساس تھے۔ میرب کے بعد سمیرا نے یکے بعد دیگرے دو بیٹوں کوجنم دیا مگر دونوں ہی بچپن میں فوت ہوگئے۔ اس کے بعد سمیرا کبھی دوبارہ ماں ہی نہ بن سکیں۔ میرب کو پڑھنے لکھنے کا شوق تھا‘ احسان شاہ بھی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے شہر میں شفٹ ہونے کا ارادہ کرلیا۔ سبحان شاہ اور فیضان شاہ نے احسان شاہ کے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیاتھا۔
’’احسان شاہ! ہمارے خاندان کی لڑکیاں گھروں سے باہر نہیں جایا کرتیں۔‘‘ سبحان شاہ کالہجہ دوٹوک تھا۔
’’اداٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ فیضان شاہ نے بھی بڑے بھائی کی حمایت کی۔
’’میرب میری بیٹی ہے اور اس کی زندگی کاہرفیصلہ کرنے کامجھے حق حاصل ہے۔‘‘ احسان شاہ جی کڑا کرکے بول اٹھے۔
’’احسان شاہ! تم شاید بھول ر ہے ہو کہ تم کس سے مخاطب ہو۔‘‘ سبحان شاہ گرجے تھے۔’’تم ہمیشہ سے اپنی من مانی کرتے آئے ہو‘ پہلے ایک دوٹکے کی لڑکی کو اس خاندان کی بہوبنایا اور اب بیٹی کو اسکولوں ‘کالجوں میں بھیج کر خاندان کی عزت کوملیامیٹ کرنا چاہتے ہو۔‘‘ فیضان شاہ کے کہنے پر احسان شاہ نے تڑپ کر دیکھاتھا۔
’’ادا‘ آپ میر امنہ نہ کھلوائیں ورنہ میں گستاخ کہلائوں گا۔ آپ نے بھی تو کسی کی بیٹی کوبھگا کر…‘‘
’’بس احسان شاہ! اس سے آگے ایک لفظ مت کہنا۔‘‘
احسان شاہ کاجملہ مکمل ہونے سے پہلے سبحان شاہ بول اٹھے تھے۔
’’میں اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم ضرور دلوائوں گا۔‘‘ احسان شاہ کا ازلی ضدی انداز عو د کر آیا۔
’’تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟‘‘ سبحان شاہ مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے انہیں گھور رہے تھے۔
’’سو فیصد۔‘‘
’’توپھر ٹھیک ہے آج کے بعد تم ہمارے لئے مرگئے اور ہم تمہارے لئے۔ اس حویلی کی دہلیز پر دوبارہ قدم نہ رکھنا۔‘‘ سبحان شاہ کے کہنے پر ایک لمحے کو احسان شاہ چپ سے رہ گئے تھے۔
’’ٹھیک ہے ‘جیسے آپ کی مرضی‘ مگر مجھے یہاں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کیونکہ یہ گھر جتنا آپ کا ہے‘ اتناہی میرا بھی ہے۔‘‘ احسان شاہ یہ کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔ جبکہ دونوں بڑے بھائی اپنی اپنی جگہ بل کھا کررہ گئے۔
احسان شاہ کراچی میں شفٹ ہوگئے تھے۔ میرب نے کالج میں داخلہ لے لیاتھا۔ وہ شہر آکر بہت خوش تھی۔ احسان شاہ سال میں دو تین بار گائوں کا چکر ضرور لگاتے تھے۔ اپنی زمینوں وغیرہ کا حساب انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیاتھا۔ میرب انگریزی ادب میں ماسٹرز کررہی تھی۔
اس روز وہ ڈرائیور کے انتظار میں کھڑی تھی جب سیاہ ہونڈا سوک اس کے قریب آکررکی تھی۔
’’آئو‘ میں تمہیں گھر چھوڑ دیتاہوں۔‘‘ اس قدر بے تکلف لہجے اور انداز پر وہ حیران ہوئی تھی۔ وہ شخص اس کے لئے قطعاً اجنبی تھا۔ میرب رخ موڑ کر ذر ادور ہوگئی۔اس کی متلاشی نگاہیں جامعہ کے گیٹ سے داخل ہوتی گاڑ یوں پر تھیں۔ وہ اکثر خود ڈرائیو کیا کرتی تھی مگر جانے کس خدشے کے تحت باباجان(احسان شاہ) اسے اکیلے کہیں بھی آنے جانے سے منع کرتے تھے۔
’’کم آن… میں کوئی غیر تو نہیں ہوں جو تم اس طرح بی ہیو کررہی ہو۔‘‘ وہ گاڑی سے اتر کر اس کے مقابل آن کھڑا ہوا۔
’’آپ کی تعریف؟‘‘ میرب نے تیورا کر پوچھا تھا۔
’’وہ تو سارا زمانہ کرتا ہے ۔‘‘ گھنی مونچھوں کو انگلی سے سنوارتے ہوئے بولا۔ میرب کو اس کی نظروں سے الجھن سی ہونے لگی تھی۔
’’شٹ اپ مسٹر‘ میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جیسی آپ مجھے سمجھ رہے ہیں۔ جائیے‘ کہیں اور ٹرائی کیجئے۔‘‘ دل ہی دل میں ڈرائیور کے جلدی آنے کی دعا کرتی‘ وہ اس شخص سے سخت الجھن محسوس کررہی تھی۔ جواب میں اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا تھا۔
’’آپ کے خیال میں کیسی لڑکی ہیں آپ؟‘‘ وہ محظوظ ہواتھا۔ تبھی میرب کودور سے اپنی گاڑی آتی دکھائی دی تووہ فوراً آگے بڑھ گئی۔
’’کہاں مرگئے تھے اتنی دیر سے انتظار کررہی تھی۔‘‘ اس شخص کا غصہ بیچارے ڈرائیور پراتاراتھا۔ سارا راستہ اسی کھولن میں گزر گیاتھا۔
’’ہیلو کیسی ہیں آپ؟‘‘ سفید کلف لگے کڑکڑاتے کرتا شلوار میں ملبوس وہ اس کے سامنے تھا۔ میرب کا حلق تک کڑواہوگیا۔ جانے کون تھااور یوں ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑگیاتھا۔ وہ جہاں جاتی‘ وہاں موجود ہوتا‘ یونیورسٹی میں آزادانہ گھومناپھرنا میرب کے لئے دوبھر ہوگیاتھا۔
’’آپ آخر چاہتے کیاہیں ؟‘‘وہ زچ ہو کر بولی تھی۔
’’آپ سے دوستی۔‘‘ گہری مخمور نگاہیں میرب کے صبیح چہرے پر ٹکی تھیں۔
’’آپ کا دماغ تو درست ہے۔‘‘ وہ تقریباً غرائی تھی۔
’’دوستی کرنا غلط بات تو نہیں ہے۔‘‘
’’مگر مجھے آپ جیسوں سے دوستی کرنا ہرگز پسند نہیں ہے۔‘‘ وہ چبا چبا کر بولتی آگے بڑھنے لگی تووہ راہ میں حائل ہوگیا۔
’’مجھ جیسوں سے کیامراد ہے تمہاری؟‘‘
’’آپ فضول میں اپنااور میرا وقت ضائع کررہے ہیں۔‘‘
’’تمہیں اعتراض کس بات پر ہے دوستی پر یا ’’مجھ‘‘ سے دوستی پر۔‘‘ وہ سنجیدہ سے لہجے میں گویاہواتھا۔
’’دونوں باتوں پر۔‘‘ وہ تنک کربولی۔
’’اور اگر میں کہوں مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے تو؟‘‘ اس کی بات پر ایک لمحے کووہ چپ سی رہ گئی۔ بالکل انجان اور ا جنبی سا شخص ‘جو خواہ مخواہ ہی اس کے پیچھے پڑگیاتھا۔ اب نیا شوشا چھوڑ رہاتھا محبت کا۔ میرب کا حلق تک کڑواہونے لگا۔ یہ شخص جو بظاہر دیکھنے میں تو اچھا خاصا خوش شکل تھا مگر اس کاانداز‘ لب ولہجہ اور مستزاد بے تکلفی نے میرب کو اس سے سخت کبیدہ خاطر کردیاتھا۔
’’کہاں کھوگئیں محترمہ؟‘‘ اس کے چٹکی بجانے پر وہ چونکی تھی۔ پھر ایک تیز نظر اس پرڈالی۔
’’میں یہاں پڑھنے آتی ہوں۔ اپنے لئے محبتیں تلاش کرنے نہیں۔‘‘نخوت سے کہتی وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ اپنے لئے دیئے رہنے والی طبیعت کی وجہ سے اس نے کسی سے کبھی خاص دوستیاں نہیں پالی تھیں۔ احسان شاہ کو بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کاشوق ضرور تھا‘مگر اپنے خاندان کی روایات اور حدود وقیود بھی اسے اچھی طرح باور کروادی تھیں۔ اس شخص کی وجہ سے وہ آج کل خاصی پریشان تھی۔یونیورسٹی میں اس کا یوں آگے پیچھے پھرنا‘ راستہ روکنا‘بہت سے افسانوں کو جنم دے سکتاتھا اور وہ کم از کم اپنی نیک نامی پرحرف نہیں آنے دینا چاہتی تھی اور اگر باباسائیں کو اس سارے معاملے کی بھنک بھی پڑگئی توکیاہوگا؟ یہ ان کااعتماد اور محبت ہی تو تھی جس کی بنا پر وہ اپنے سارے خاندان سے کٹ کربیٹھے تھے۔ اس نے سوچ لیاتھا‘ اگر چند روز تک یہی سلسلہ رہاتو وہ باباسائیں سے کھل کر بات کرے گی۔ مگر ایسی نوبت ہی نہ آئی‘ اگلے چند دن حیرت انگیز طو رپر سکون سے گزرگئے۔
’’ہونہہ! ہوگاکوئی بگڑا رئیس زادہ جو چند دن کے لئے دل بہلانے یونیورسٹی چلا آیا تھا۔‘‘
مگر یہ اس کی خام خیالی تھی ۔چوتھے دن وہ پھر سے موجود تھا۔
’’کیسی ہو؟‘‘ ڈارک گلاسز کے عقب سے جھانکتی وارفتہ نگاہیں میرب کے دلکش چہرے پرجمی تھیں۔
’’آ…آپ؟‘‘ اسے یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر وہ بوکھلا گئی۔
’’مجھے دیکھ کر اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو؟‘‘ اس کی کیفیت سے وہ محظوظ ہواتھا۔ ’’تم نے سوچا ہوگا میں کسی حادثے کا شکار ہوگیاہوں گا۔ میرب احسان اتنی آسانی سے میں تمہارا پیچھا چھوڑنے و الا نہیں ہوں۔‘‘
’’تم آخر کیوں میرے پیچھے پڑگئے ہو؟‘‘نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں بے بسی درآئی تھی۔
’’چچ…چچ…اتنی بے بسی‘ مجھے خو اہ مخواہ تم پر ترس آنے لگا ہے۔‘‘
’’بھاڑ میں جائو تم۔‘‘ وہ غصے سے پیر پٹختی آگے بڑھنے لگی تو وہ راہ میں حائل ہوگیا۔
’’میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کی بات پر میرب کو ایک اور دھچکا لگا تھا۔ عجیب شخص تھا۔ نہ جان نہ پہچان‘ خواہ مخواہ کمبل ہو رہاتھا۔ پہلے محبت‘ اب شادی کی پیشکش‘ وہ سچ مچ چکرا کررہ گئی تھی۔
’’مجھے ہر صورت تمہارا جواب ’’ہاں‘‘ میں چاہئے۔ بہت جلد میں تمہارے والد بزرگوار سے بھی ملوں گا۔‘‘ میرب کے اردگرد گویا دھماکے سے ہونے لگے تھے۔ وہ اس کی نظروں کے سامنے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جاچکاتھااور وہ ساکت سی وہاں کھڑی رہ گئی تھی۔
ززز
اگلے چند روز عجیب سی کشمکش میں گزر گئے تھے۔ وہ سخت پریشان تھی ۔ آخر اس نے سب کچھ ماں کو بتانے کا فیصلہ کرلیا۔ دو دن سے وہ یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی۔ ہر آہٹ پر وہ چونک جاتی۔ ڈوربیل بجنے پر یا کسی اجنبی کی آمد کی اطلاع پر وہ سہم سی جاتی۔ اب اس ٹینشن سے بچنے کا واحد حل یہی تھا کہ وہ سب کچھ مما کو بتادیتی۔ وہ نیچے آئی تو مما اور بابا سائیں دونوں لائونج میں موجود تھے۔ دھچکا تو تب لگا جب اس کی نظر وہاں موجود تیسرے فرد پرپڑی۔ اس کا دل ڈوبنے لگاتھا۔
’’میرب آئوبیٹا‘ رک کیوں گئیں۔‘‘ بابا سائیں کی آواز پر وہ مرے مرے قدم اٹھاتی وہاں تک پہنچی۔
’’یہاں بیٹھو‘ میرے پاس۔‘‘ بابا سائیں نے اپنے قریب صوفے پر اس کے لئے جگہ بنائی۔ میرب نے ذراکی ذرا نظریں اٹھا کر دیکھا۔ اس کے لبوں پر بڑی شاطرانہ سی مسکراہٹ تھی۔
’’ان سے ملو‘ یہ مہران شاہ ہے‘ تمہارے بڑے تایا جان کامنجھلابیٹا۔‘‘ بابا سائیں کے تعارف کروانے پرمیرب نے ایک جھٹکے سے جھکاہوا سر اٹھایا تھا۔ مہر بھی تمہاری یونیورسٹی میں ہی پڑھتاہے۔ ‘‘ میرب نے دیکھااس کے لبوں پر ایک خاص سا تبسم تھا۔
’’ایکسکیوز می۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
’’اسے کیاہوا؟‘‘ احسان شاہ حیران ہوئے تھے۔
’’شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں دیکھتی ہوں۔‘‘ سمیرا اپنی شال سنبھالتی اٹھ کر چلی گئیں۔
’’کیاہوا میرب؟ یہ کیاحرکت کی تم نے؟‘‘
’’مما! یہ لفنگا ہمارے گھر کیوں آیاہے؟‘‘ وہ سخت طیش میں تھی۔
’’کون لفنگا؟ مہران شاہ؟ مگر تم کیسے جانتی ہو اسے؟‘‘
’’میں آپ کو یہی بتانے آرہی تھی مگرمجھے نہیں پتاتھا وہ پہلے سے وہاں موجود ہوگا۔‘‘
’’میرب! آخر بات کیاہے؟ کھل کر بتائو۔‘‘ اور تب میرب نے ایک ایک بات سمیرابیگم کوبتادی۔ یہ سب سن کر وہ بھی کچھ متفکر سی نظر آنے لگی تھیں۔
’’مما…باباسائیں سے کہیں جلد ازجلد اس شخص کو یہاں سے چلتاکریں۔‘‘
’’کیسے کہہ دوں؟ تمہارے بابا کابھتیجا ہے وہ۔ اتنے عرصے بعد خاندان کاکوئی فرد ان سے ملنے آیاہے۔ ان کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔‘‘
’’اتنے برسوں بعد ان لوگوں کواب ہماری یاد کیسے آگئی؟‘‘
’’ہوسکتا ہے یونہی ملنے چلا آیاہو۔‘‘ سمیرابیگم نے قیاس آرائی کی۔
’’اور وہ شادی کی آفر! اگراس نے بابا سائیں سے کچھ کہہ دیاتو؟‘‘
’’اللہ مالک ہے۔ تم پریشان نہ ہو۔‘‘ اس کا گال تھپتھپا تیں وہ اٹھ کر باہر چلی گئیں۔
’’چاچا سائیں! باباسائیں آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس بات کا ثبوت میری یہاں موجودگی ہے۔‘‘
’’اداسائیں ہمیشہ سے ہی سخت گیر رہے ہیں۔ ہوبہو بابا سائیں کی کاپی ۔ ادا فیضان کیسے ہیں؟ ان کا بیٹابھی تو اب کافی بڑا ہوگیاہوگا۔‘‘ احسان شاہ کے لہجے میں ان دیکھی سی پیاس تھی۔ اپنوں کی محبت رگوں میں لہو کی طرح دوڑ رہی تھی۔
’’فیضان چاچاکابیٹا پڑھنے کے لئے انگلینڈ گیاہوا ہے۔مجھ سے بڑے ادا کا مران کی شادی بڑے ماموں کی بیٹی فیروزہ سے ہوئی ہے اور مجھ سے چھوٹاعدنان بھی پڑھنے کے لئے انگلینڈ گیاہوا ہے۔ حسیب اور عدنان اکٹھے پڑھتے ہیں۔‘‘ مہران نے خاصا مفصل جواب دیا تھا۔
’’تم یہاں رہ کہاں رہے ہو؟‘‘
’’فی الحال تویونیورسٹی کے ہاسٹل میں۔ کچھ دنوں میں اپنا فلیٹ لینے کارادہ ہے۔‘‘
’’کیسی غیروں جیسی بات کرتے ہو۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ چچا کا گھر ہوتے ہوئے تم ہاسٹلوں میں دھکے کھائو۔ ‘‘ احسان شاہ نے پیار بھری دھونس سے کہا تو مہران ہنس دیا۔
’’یہ تو آپ کی محبت ہے چچا سائیں‘ میں یہاں آتاجاتا رہوں گا۔‘‘
’’اداسائیں خفا ہوں گے تمہارے یہاں رہنے پر؟‘‘
’’میں فی الحال کچھ کہہ نہیں سکتا۔باباسائیں کے مزاج کو آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔‘‘
’’ہاں…ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ احسان شاہ نے ایک گہری سانس لی۔
’’میں اب چلتاہوں۔‘‘ مہران شاہ نے جانے کی اجازت چاہی۔
’’ارے ایسے کیسے ؟ کھانا کھائے بغیر تم یہاں سے نہیں جاسکتے۔ بھئی بیگم! کھانا وغیرہ لگوائیے اور میرب کو بھی بلوائیے۔‘‘ احسان شاہ کب سے خاموش بیٹھی سمیرابیگم کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’میں کھانا لگواتی ہوں۔ میرب ریسٹ کررہی ہے۔ اس کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔ ‘‘ سمیرا بیگم اٹھ کر کچن کی جانب چل دیں۔
ززز
’’آئو‘ میں تمہیں ڈراپ کردیتا ہوں۔‘‘ وہ ڈرائیور کے انتظار میں کھڑی تھی جب مہران شاہ کی گاڑی اس کے قریب آکر رکی تھی۔ وہ سرجھٹک کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
’’کم آن میرب… میں کوئی غیر تونہیں۔ تمہارا سگاتایازاد ہوں۔‘‘ اس کا انداز مصالحانہ تھا۔
’’ڈرائیور آنے والا ہوگا۔‘‘ وہ بمشکل لہجے کی تلخی چھپاپائی تھی۔
’’خواہ مخواہ نخرے مت کروجبکہ تم جانتی ہو ہم کزنز ہیں۔ ‘‘ مہران شاہ کالہجہ جھنجلایا ہواساتھا۔ اردگرد کے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔ وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
’’مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔ آئندہ احتیاط کیجئے گا۔‘‘ بیٹھتے ہی اس نے سرد سے لہجے میں کہاتھا۔
’’مجھے تو پسند ہے ناں۔‘‘ مہران شاہ کالہجہ زچ کرنے والا تھا۔
’’میں آپ کی پسند ناپسند کی پابند نہیں ہوں۔‘‘ وہ ناک چڑھا کر بولی۔
’’نہیں ہو توہم پابند کرلیں گے۔ ا یسی بھی کیاجلدی ہے سویٹ ہارٹ۔‘‘ وہ مسکرایا تو اس کے اندا زاور طرز تخاطب پر میرب جی جان سے جل کررہ گئی۔تھوڑی دورجاکر گاڑی رک گئی۔ میر ب نے دیکھا وہ ایک شاندار سے ریسٹورنٹ کاپارکنگ لاٹ تھا۔
’’گاڑی یہاں کیوں روکی ہے؟‘‘
’’ہم یہاں لنچ کریں گے۔‘‘
’’مجھے کوئی لنچ ونچ نہیں کرنا۔ گاڑی واپس موڑیں۔‘‘
’’مگر مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے۔ کم آن…ضد مت کرو۔ چلو آئو ۔شاباش۔‘‘ وہ چمکار کربولا تو میرب سے ضد کرنا مشکل ہوگیا۔
’’آپ کو لنچ کرناہے تو شوق سے کیجئے۔ میں گھر چلی جائوں گی۔‘‘ وہ گاڑی سے نکل کر سڑک کی طرف بڑھی تووہ اس کے سامنے آگیا۔
’’بڑا غصہ اوراکڑ ہے محترمہ۔ آخر کس بات کا غرور ہے تمہیں؟‘‘ وہ تیکھی نظروں سے اسے جانچتے ہوئے بولا۔
’’مجھے اتنی بے تکلفی پسند نہیں ہے اور یہ جو آپ مجھ پر میرے تایازاد ہونے کا رعب جمارہے ہیں‘ مجھ پر کوئی خاص اثرنہیں ہونے والا۔ ساری زندگی میرے بابا کو خاندان سے الگ کرکے رکھااور اب چلے آئے ہیں رشتہ داریاں نبھانے۔ آپ بابا کے بھتیجے ضرور ہیں مگر میرے کچھ نہیں۔ مجھے …‘‘ وہ پیر پٹخَتی آگے بڑھی اور سامنے سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ دے کرروکا۔ مہران شاہ محض دانت پیس کررہ گیا۔
ززز
’’مما…یہ …یہ کیسے ہوسکتا ہے؟’’ وہ شاک کی کیفیت میں تھی۔
’’یہ تمہارے بابا اور تایا جان کافیصلہ ہے۔‘‘ سمیرا بیگم کا لہجہ تھکا تھکا سا تھا۔
’’بابا ایسا نہیں کرسکتے۔ میری زندگی کااتنا اہم فیصلہ وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر کردیا۔ نہیں مما… آپ…آپ بابا کو بتادیں…مجھے یہ رشتہ کسی قیمت پر منظور نہیں ہے۔‘‘ وہ تویہ سوچ سوچ کر ہی پاگل ہوئی جارہی تھی کہ مہران شاہ جیساشخص‘ جسے وہ سخت ناپسند کرتی تھی۔ اس کامقدربننے جارہاتھا۔
’’میں کوشش کرکے دیکھ چکی ہوں مگر تمہارے بابا کافیصلہ اٹل ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک بار پھر بڑے بھائیوں کو ناراض نہیں کرسکتے۔‘‘
’’مما…مما پلیز۔ میں مرجائوں گی۔ وہ روایتی سوچ رکھنے والافیوڈل لارڈ کسی طرح بھی میرے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔ سمیرابیگم بے بسی سے محض سرد آہ بھر کررہ گئیں۔
سبحان شاہ اور شہربانو کی بالکل اچانک آمد نے احسان شاہ کوورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ سبحان شاہ نے جس بیقراری سے احسان شاہ کوگلے سے لگایا اور پیشانی چومی‘ احسان شاہ کو لگا برسوں کی تھکن اتر گئی ہو۔ شہربانو بھی واری صدقے جارہی تھیں۔
’’اماں جی ٹھیک کہتی تھیں کہ پانی پر لاٹھی ماردینے سے پانی بٹ کر دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوجاتا۔ خون کی کشش آخر ایک دوسرے کوقریب کھینچ ہی لاتی ہے۔‘‘ سبحان شاہ کے لہجے کا کروفر‘ عاجزی وانکساری میں ڈھلا ہواتھا۔
’’جب سے مہران شاہ نے بتایا کہ وہ آپ لوگوں سے ملاہے‘ہمیں تو ایک پل کو چین نہیں آیا۔‘‘ شہربانو کالہجہ صاف بناوٹی لگ رہا تھا۔ احسان شاہ تو بھائی بھاوج کے سامنے بچھے جارہے تھے جبکہ سمیرا بیگم محض خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھیں۔ ان کی چھٹی حس بار بار کسی گڑبڑ کااحساس دلا رہی تھی۔ سبحان شاہ اور شہربانو کے چہروں پر نقاب چڑھے ہوئے محسوس ہورہے تھے اور سمیرابیگم کو ان نقابوں کے پیچھے چھپے لالچی اور حریص چہرے صاف نظر آنے لگے ۔جب شہربانو نے پیار بھری دھونس سے مہران شاہ کے لئے میرب کاہاتھ مانگا۔ سبحان شاہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرب ان کی بیٹی ہے‘ او روہ اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔احسان شاہ تو کچھ بول ہی نہ سکے جبکہ سمیرا بیگم جزبز ہو کر رہ گئیں۔ وہ لوگ منگنی کی تاریخ لے کرہی اٹھے تھے۔
’’یہ کیا کیاآپ نے؟ ایک بار میرب سے بھی پوچھ لیاہوتاتو…‘‘
’’ہم میرب کے دشمن نہیں ہیں۔ مہران شاہ پڑھا لکھا‘ سلجھاہوا لڑکاہے۔‘‘
’’مگر…‘‘
’’آخر آپ کو اعتراض کس بات پر ہے؟‘‘ احسان شاہ نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
’’مجھے کیا اعتراض ہوگا۔ اچھا ہوتااگر میرب کی مرضی بھی معلوم کرلی جاتی۔‘‘
’’وہ ہماری بیٹی ہے۔ ہمارے فیصلوں سے انکار کرنے کی جرات نہیں کرسکتی۔ برسوں بعد ہمیں خاندان سے دوبارہ جڑنے کا ایک موقع ملا ہے اور ہم یہ گنوانا نہیں چاہتے۔ ‘‘ احسان شاہ کالہجہ اٹل تھا۔
’’اوہ‘ تو یوں کہئے ناں بیٹی کی قیمت پرخاندان حاصل کرناچاہتے ہیں۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی سمیرا بیگم کا لہجہ طنزیہ ہوگیا۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو تم سمیرابیگم‘ مہران شاہ ہرلحاظ سے میرب کے ہم پلہ ہے۔ ہمارا سب کچھ میرب کاہے۔ کل کو کو ئی غیر اس پرتسلط جمائے ‘کیااس سے اچھانہیں کہ ہمارا اپنا خون ‘ہمارا داماد بنے۔‘‘ احسان شاہ کے دلائل کے سامنے سمیرابیگم بے بس سی نظر آنے لگی تھیں اور اب میرب کا جو ردعمل سامنے آیا تھا‘ اس پر وہ ازحد پریشان تھیں ‘ مگر ان کی پریشانی‘ میرب کا واویلا کچھ بھی کام نہ آیا‘ چند روز بعد سبحان شاہ‘ شہربانو ‘فیضان شاہ ‘ زرمینہ اور گھر کے باقی افراد مٹھائی‘ پھلوں‘ پھولوں ‘زیورات اور کامدار سوٹوں سے لدے پھندے‘ احسان ولا‘ آن پہنچے تھے۔ فی الحال منگنی کی رسم ادا کی گئی اور شادی چھ ماہ بعد میرب کے فائنل سمسٹر کے بعد طے پائی۔ میرب بے جان ہوتے وجود کے ساتھ سب کے درمیان بیٹھی تھی۔ وہ ٹکرٹکر ایک ایک کے چہرے کو دیکھتی اور پھرنظریں جھکالیتی۔قسمت کی اس ستم ظریفی پراس کا رواں رواں شکوہ کناں تھا۔
’’میرے ساتھ چلو۔‘‘ وہ اپنی کلاس کی طرف جارہی تھی جب مہران شاہ چلا آیا۔
’’کہاں؟‘‘
’’جہاں میر ادل چاہے گا۔‘‘ وہ گہری نگاہوں سے اس کے دلکش چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ میرب کلس کررہ گئی۔
’’میری کلاس ہے۔‘‘اس نے بودا سابہانہ بنایا تو مہران قہقہہ لگائے بنانہ رہ سکا۔
’’کلاس سے زیادہ تمہارے لئے میری بات کی اہمیت ہونی چاہئے۔ آخر میں تمہارا ہونے والا شوہر ہوں۔‘‘ وہ مونچھوں کو انگلی سے سنوارتے ہوئے بولا۔ میرب نے چڑ کر نظروں کازاویہ بدلا۔’’جلدی آئو‘ میں تمہارا انتظار کررہاہوں۔‘‘ تحکم بھرے لہجے میں کہتا وہ آگے بڑھ گیا تو ناچار میرب کو اس کی تقلید کرناپڑی۔
’’جانتی ہو یہ وہی ریسٹورنٹ ہے جہاں ایک بار تم نے مجھے بری طرح دھتکار دیاتھا۔‘‘ گاڑی پارک کرتے ہوئے وہ بولا۔ میرب چپ چاپ اپنے ہاتھوں کو گھورے گئی۔جب سے یہ رشتہ جڑاتھا‘ میرب کو گویا ایک نامعلوم سی چپ لگ گئی تھی۔ ہنستی بولتی تھی نہ غصہ کرتی تھی۔ ایک گہرا سناٹا تھا جو اس کے اندر تک اتر گیاتھا۔
’’وقت‘ وقت کی بات ہے۔ بڑ اغرور تھاناں تمہیں خود پر۔دیکھا کیساپابند کیا ہے میں نے تم کو۔‘‘ وہ بڑے فخریہ انداز میں بولا تھا۔ ’’اچھا بولوکیا کھائوگی؟‘‘ مینو کارڈ پرایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے وہ اس سے پوچھ رہاتھا۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی تھی۔
’’مگر مجھے تو ہے۔‘‘ وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔ پھرخود ہی اپنی مرضی سے آرڈر نوٹ کروایا۔
’’کیاتم اس منگنی سے خوش نہیں ہو؟‘‘ بظاہر بڑے بھولپن سے پوچھا گیاتھا۔
’’یہ سراسر بابا کافیصلہ ہے۔میرے خوش ہونے یانہ ہونے سے کسی کو کیا فرق پڑتاہے۔‘‘وہ چٹخ کر رہ گئی۔
’’چچ…چچ …اتنی بے بسی‘ وہ بھی میرب احسان کے لہجے میں۔ ‘‘وہ اسے زچ کرنے لگاتھا۔
’’ہیلومہران! ہائوآریو؟ کہاں غائب ہواتنے عرصے سے؟‘‘ اسی پل دلکش نسوانی آواز قریب ہی سے ابھری تھی ۔ دونوں نے چونک کر دیکھاتھا۔ بلیک جینز اور ملٹی کلرز کی سیلیولیس ٹاپ اور کھلے بالوں میں وہ خاصی دلکش‘ الٹراماڈ سی لڑکی تھی۔
’’ہیلو ماریہ! تم یہاں کیسے؟‘‘ خوشدلی سے کہتے ہوئے باقاعدہ معانقہ کیاگیا۔ بے حیائی کے اس نظارے پر میرب محض نظریں جھکا کرر ہ گئی۔ وہ دونوں باتیں کررہے تھے جبکہ میرب کے اردگرد گہرے سناٹے چھارہے تھے۔ مہران نے اس کاتعارف کروایانہ ہی ماریہ نے اس پر کوئی خاص توجہ کی۔
’’میری بہت پرانی فرینڈ ہے۔ دوسال قبل لندن چلی گئی تھی۔ ماریہ کو رخصت کرنے کے بعد وہ میر ب سے مخاطب ہوا۔ میرب کواس سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ کھانا سرو کیا جاچکاتھا۔ وہ بے دلی سے تھوڑے سے چاول پلیٹ میں ڈالے ٹونگ رہی تھی۔ کھانے کے دوران مہران شاہ کے سیل پرماریہ جیسی دوتین فرینڈز کی کالز آئیں جنہیں وہ خاصی خوشدلی سے ریسیو کررہاتھا۔ گویا اسے میرب کے ردعمل سے کوئی فرق نہیں پڑتاتھا۔ شاید دوہ جانتاتھا کہ میرب احسان اب کچھ نہیں کرسکتی۔ میرب نے آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسوئوں کوبمشکل پیچھے دھکیلا تھا۔ اپنی قسمت پر تووہ خود بھی حیران تھی۔
ززز
وقت نے ایساپلٹا کھایا کہ وہ انگشت بدنداں رہ گئی۔ قیامت سے پہلے قیامت آچکی تھی۔ کم از کم میرب احسان کے لئے تو وہ روز محشر تھا۔ جب وہ یونیورسٹی سے لوٹی تو گھر کے سامنے لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کر دل دہل سا گیا اور پھرجومنظر اس کی آنکھوں نے دیکھا‘ وہ تو گویا پتھراکر رہ گئی۔ مما اور بابا کے خون میں لت پت وجود دیکھ کر وہ وہیں ڈھے گئی تھی۔ اسے نروس بریک ڈائون ہواتھا۔ دو دن بعد وہ ہوش میں آئی تو سب کچھ ختم ہوچکاتھا۔ اس کے جان سے پیارے ماں باپ منوں مٹی تلے جاسوئے تھے۔ وہ اتناتڑپ تڑپ کر روئی تھی کہ پتھروں کے دل بھی گداز ہواٹھے۔شہربانو‘ فیروزہ بھابی‘ زرمینہ تائی سب ہی اس کی دلجوئی کرتے‘ ایک مشہور ومعروف شاپنگ مال میں ہونے والے خودکش دھماکے نے اس کے مما اور بابا کی جان لے لی تھی۔ کل تک اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ایسے کتنے ہی بے گناہوں کو خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کاشکار ہوتے ہوئے دیکھا کرتی تھی کبھی یہ نہ سوچاتھا کہ ایسا کڑ اوقت خود اس پربھی آسکتاہے؟ معصوم اور بے گناہ شہریوں کی جان لینے والے‘ مذہب کے نام پر کھلی دہشت گردی کررہے تھے۔ اسلام تو امن وسلامتی کامذہب ہے۔ اسلام میں تو کسی غیرمسلم تک کو بے گناہ قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے پھر یہ تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون کررہے تھے۔
سبحان شاہ میرب کو اپنے ساتھ لے کر حویلی چلے گئے تھے۔ میرب تو گویا پتھر کی ہوچکی تھی۔ رفتہ رفتہ وہ بہلنے لگی۔ زرمینہ تائی اس کابہت خیال رکھتی تھیں۔ فیضان شاہ کے بیٹے حسیب نے تو کبھی اسے ماں سمجھاہی نہیں۔ میرب کووہ بالکل سگی بیٹیوں کی طرح چاہنے لگی تھیں۔ تھوڑ اقت اور گزراتو میرب کو اپنی نامکمل تعلیم مکمل کرنے کا خیال آیا۔ مگر وہ اس وقت گنگ رہ گئی جب سبحان شاہ نے دوٹوک انداز میں منع کردیا۔
’’جتنا پڑھنا تھا ‘ پڑھ لیا‘ اب آرام سے گھر میں بیٹھو۔‘‘
’’مگر تایا جان…‘‘
’’بس…ہم اپنی بات صرف ایک بار کہنے کے عادی ہیں۔‘‘ پیار نچھاور کر نے والے تایا کا تو روپ ہی بدلاہواتھا۔گھر کے سب لوگوں کا رویہ بدل گیاتھا۔ صرف ایک زرمینہ تائی تھیں جو اس سے بے پناہ پیار کرتی تھیں۔ میرب کو ان کا مہربان وجود بھی غنیمت لگا کرتاتھا۔ کبھی سوچتی اگر تائی زرمینہ بھی نہ ہوتیں تو وہ اس عقوبت خانے میں پاگل ہوجاتی۔ مہران شاہ مہینے میں ایک آدھ بار حویلی آتامگر اب وہ میرب کے وجود سے یکسربے نیاز ہوچکاتھا۔ یہاں آکرہی مہرب کو پتاچلاتھا کہ مہران شاہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔ پہلی بیوی شادی کے چند ماہ بعد ہی چل بسی تھی۔ اس کی موت خاصی پراسرا ر تھی۔ رات کواچھی بھلی سوئی مگر صبح جاگ نہ سکی۔ دبے دبے لفظوں میں یہی کہا جاتاتھااسے زہر دیاگیاتھا۔ مگر کھل کر بولنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔
میرب تو خاصی سراسیمہ تھی۔اسے اب سمجھ میں آیا تھا کہ سبحان شاہ کو اتنے عرصے بعد چھوٹے بھائی کی یاد کیوں ستانے لگی تھی۔ میرب ساری جائیداد کی تنہا وارث تھی۔ مہران شاہ سے شادی کے بعد وہ سب کچھ ہتھیانے کے چکر میں تھے۔ انہی دنوں گھر میں میرب اور مہران کی شادی کاتذکرہ ہونے لگا۔
’’میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘وہ صاف انکار کرتے کرتے رہ گئی۔
’’مگر کیوں؟‘‘ شہربانو نے تیوری چڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’ابھی میں ذہنی طور پر اس کے لئے تیار نہیں ہوں۔ اور …پھرممااور بابا کو گزرے ہوئے محض تین ماہ ہی تو ہوئے ہیں۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی۔
’’شادی ہوجائے گی تو خودبخود ذہن اسے قبول کرلے گا۔‘‘ شہربانو نے قدرے نرم لہجے میں کہا۔
’’پلیز تائی ماں! کچھ عرصہ اور رک جائیں۔ ‘‘ اس نے اتنی لجاجت سے کہا کہ پتھر دل شہربانو بھی خاموش ہوگئیں۔ شادی کی بات کچھ عرصے کے لئے دب گئی تومیرب نے سکھ کا سانس لیا۔ مہران شاہ اسے کسی طور قبول نہ تھا اس کا ذہن اب تیزی سے کچھ اور سوچنے لگا تھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح وہاں سے بھاگ جاناچاہتی تھی مگر یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ اس کے اردگرد کڑا پہرہ رہتاتھا۔ وہ اپنی مرضی سے کہیں آجانہیں سکتی تھی۔ اس کے ننھیال میں فقط ایک ماموں تھے جو دبئی میں مقیم تھے۔ گزشتہ پانچ برس سے وہ پاکستان نہیں آئے تھے۔ بس فون پر دعا سلام ہوجاتی تھی۔ ان کا کانٹیکٹ نمبر اس کے حافظے میں محفوظ تھا۔ یہ تووہ اچھی طرح جان گئی تھی کہ تایا اور تائی کی نظر اس کی جائیداد پر تھی۔
’’شادی تو ظاہر ہے تمہاری مہران شاہ سے ہی ہوگی مگر کبھی بھی اپنی جائداد اس کے نام کرنے کی غلطی نہ کرنا‘ بے مایہ ہوجائوگی تو ان کی نظروں میں بالکل کوئی حیثیت نہیں رہے گی تمہاری۔‘‘ ایک روز زرمینہ تائی نے چپکے سے اسے کہاتھا۔
’’تائی جان! میں…میں مہران شاہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ وہ ذرا سی ہمدردی پاکرسسک اٹھی تھی۔ زرمینہ نے سراسیمہ ہو کردروازے کی طر ف دیکھا۔ لپک کر دروازہ بند کیا۔
’’شش… آہستہ بولو۔یہاں دیواروں کے بھی کان ہیں۔ کسی نے سن لیاتو قیامت آجائے گی۔‘‘
’’زیادہ سے زیادہ کیاہوگا‘ مجھے جان سے مارڈالیں گے۔ تو مار ڈالیں‘ مماپاپا کے بعد تو یوں بھی زندگی بوجھ لگنے لگی ہے۔‘‘
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے میری جان۔‘‘ زرمینہ نے اسے گلے سے لگالیاتھا۔
’’تائی جان! مہران شاہ سے شدید نفرت کرتی ہوں میں ۔پھر بھلا کیسے اسے شوہر کے طور پر قبول کرلوں۔‘‘
’’بعض اوقات انسان کو تقدیر کے آگے سرنگوں ہونا پڑتا ہے۔ مجھے دیکھو…میرے جیسی بدبخت ہوگی بھلا جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی دنیا اجاڑ ڈالی۔ اپنی سطحی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اپنے پیاروں کی عزت کوخاک میں ملاڈالا اور اپنے پیاروں کا دل دکھانے کی سزا یہ ہے کہ میں برسوں سے اس جہنم میں جل رہی ہوں۔‘‘ زرمینہ کا لہجہ کھویاکھویا ساتھا۔ میرب اپنا دکھ بھول کر ان کے چہرے کی طرف بغور دیکھنے لگی تھی۔
’’مگر…میں نے تو سناتھا فیضان تایا سے آپ کی لومیرج تھی۔‘‘
’’ہاں… مگر وہ پیار بھی چند روزہ تھا۔ بعد میں تو صرف سمجھوتہ رہ گیا۔ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کی کوئی عزت نہیں ہوتی‘ شک کے زہریلے ناگ تاعمر اسے ڈستے رہتے ہیں۔ یہ مرد بڑے عجیب ہوتے ہیں‘ محبت کے جھانسے میں لینے کے بعد خود ہی بغاوت کی ترغیب دیتے ہیں اور باقی کی ساری زندگی شک کی نذر کردیتے ہیں۔ ماں باپ‘ بھائیوں کی عزت کومٹی میں روند کر آنے والی لڑکی کی حیثیت سسرال میں دو کوڑی کی بھی نہیں ہوتی۔فیضان نے مجھ پر کبھی اعتماد نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں جو لڑکی اپنے سگے ماں باپ کی عزت اچھال سکتی ہے وہ کل کو کسی اور کی خاطر مجھے بھی تو چھوڑ کر جاسکتی ہے۔‘‘ اور شاید وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ گھر سے ایک بار قدم باہر نکل آئے توسات سمندروں کاپانی بھی دامن اجلا نہیں کرسکتا۔ گھر سے بھاگی ہوئی کا طعنہ تاعمر لڑکی کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔‘‘ آج برسوں بعد زرمینہ نے اپنا آپ کسی کے سامنے کھولا تھا۔ میرب بڑے دکھ کے ساتھ ان کی باتیں سن رہی تھی۔
’’خیر چھوڑو…میں بھی کیا باتیں لے کربیٹھ گئی۔‘‘ زرمینہ نے آنکھوں کے نم گوشے دوپٹے کے پلو سے خشک کئے۔
’’میں جانتی ہوں مہران شاہ کسی طرح بھی تم جیسی لڑکی کے لائق نہیں ہے مگر چندا! کچھ فیصلے انسان کومجبوری میں کرنے پڑتے ہیں۔ تمہارے والدین حیات ہوتے تو او ربات تھی مگر اب تم اس طرح انکار کروگی توسمجھو قیامت آجائے گی۔ یہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ بہتری اسی میں ہے چپ چاپ جو ہوتاہے ہونے دو۔ اللہ سے مدد مانگو‘ وہ ضرور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے گا۔‘‘
ززز
فیروزہ اپنے میکے جارہی تھی‘ اس کے چچازاد کی شادی تھی۔ سا تھ والے گائوں جانا تھا۔ شہربانو نے میرب کو بھی ہمراہ کردیا۔ میرب خود بھی گھربیٹھے بیٹھے بور ہونے لگی تھی سو جانے کے لئے راضی ہوگئی۔ ڈرائیور اور باڈی گارڈ ساتھ تھے۔ راستے میں اچانک گاڑی خراب ہوگئی۔ڈرائیور کافی دیر سے فالٹ چیک کرنے کی کوشش کررہاتھا۔ شدید گرمی تھی اور فیروزہ کے دوسالہ مہروز کا رو رو کربراحال ہورہاتھا۔
’’بھابی‘ گاڑی سے باہر نکل کر ٹہلیں ‘ہوسکتا ہے یہ چپ ہوجائے۔‘‘ میرب کے کہنے پر فیروزہ گاڑی سے اتر گئی۔ میرب بھی ساتھ ہولی۔
’’کیا بات ہے؟ کوئی مسئلہ ہے۔‘‘ ایک سیاہ گاڑی ان کی گاڑی کے قریب آکررکی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود وہ شخص ڈرائیور سے مخاطب تھا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر ایک اور شخص بھی موجود تھا۔
’’پتانہیں صاب‘ کیامسئلہ ہے۔ کچھ پتانہیں چل رہا۔‘‘
’’شام ڈھل رہی ہے‘ آپ کے ساتھ خواتین ہیں‘ اگر آپ کہیں تو میں آپ کو پہنچادوں جہاں آپ جانا چاہتے ہیں؟‘‘ اس کی آواز میرب اور فیروزہ تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔ مہروز کا رو رو کربراحال تھا۔ فیروزہ سخت بے چینی محسوس کررہی تھیں۔
’’نہیں صاب‘ آپ کا شکریہ۔‘‘ باڈی گارڈ نے رکھائی سے جواب دیا۔ حویلی کی عورتیں کسی غیر کی گاڑی میں جائیں‘ سبحان شاہ تو اس کے ٹکڑے کردیتا۔
’’دیکھئے‘ آپ سمجھنے کی کوشش کریں ۔ رات ہونے والی ہے اور علاقہ سنسان ہے‘ خواتین کا معاملہ ہے۔ اور آپ ہم پر اعتبار کرسکتے ہیں۔ ہم شریف لوگ ہیں۔‘‘ دوسرا شخَص بولا جو مقامی تو ہرگز نہیں لگتاتھا۔
’’میرب ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں۔ تم بھی ہمارے ساتھ آجائو۔‘‘ فیروزہ نے ایک پل میں فیصلہ کرلیا۔ ڈرائیور کوچھوڑ کر وہ دونوں باڈی گارڈ کے ہمراہ سیاہ گاڑی کی طرف بڑھیں۔
’’کہاں جانا ہے؟‘‘ وہی شخَص مسلسل بول رہاتھا جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھا شخص خاموش تھا۔ میرب نے مطلوبہ جگہ کانام بتایا۔
’’اوہ گڈ‘ شہباز ہم بھی وہیں جارہے ہیں ناں؟‘‘ وہ اب دوسرے شخص سے تصدق کررہاتھا۔ باقی کاراستہ خاموشی میں کٹا۔ میرب نے ایک سرسری سی نظر اس پرڈالی جو مسلسل بول رہاتھا۔ سرخ وسپید رنگت اور دلکش نقوش والا ہنس مکھ سا شخص لگ رہاتھا۔
’’ہم پر اعتبار کرنے کابہت بہت شکریہ۔ ‘‘منزل مقصود پرپہنچ کر وہ دھیرے سے دونوں خواتین سے مخاطب ہوا تھا۔
’’آپ کی مدد کاشکریہ۔‘‘ فیروزہ نے کہا۔ میرب خاموش ہی رہی ‘داور خان آفندی نے ایک نگاہ اس سادہ اور خاموش سی لڑکی پر ڈالی جس کی آنکھوں میں ایک حزن ساتیرتا نظر آیا تھا۔
’’ہیلو‘ کیسی ہیں آپ؟‘‘ مہندی کی تقریب زوروں پر تھی دلہا کے ساتھ چند قریبی دوستوں کو زنان خانے میں آنے کی اجازت تھی۔ شہباز کے ساتھ وہ بھی اندر آیا تو میرب بھی اس کی نظروں کی گرفتہ میں آگئی۔ میرب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’آ…آپ!‘‘ وہ کچھ بوکھلاسی گئی۔ حویلی کے قاعدے وہ جان چکی تھی۔ کسی اجنبی مرد سے بات کرنا قابل گرفت تھا۔
’’آپ نے مجھے پہچانانہیں شاید۔‘‘
’’جی…وہ میں…جی نہیں۔‘‘ وہ سراسیمگی سے کہتی وہاں سے ہٹ گئی۔
’’کمال ہے‘ عجیب لڑکی ہے۔‘‘ داور خان محض کندھے اچکا کررہ گیا۔
یہ دو منٹ کی ملاقات فیروزہ اور شہربانو کی نظروں سے مخفی نہ رہ سکی تھی۔ شہربانو صبح ہی پہنچی تھیں۔ شہربانو کاشکی دماغ تانے بانے بنے لگا تھا۔ ولیمے سے اگلے دن ان لوگوں کی واپسی تھی۔
فیروزہ کی چھوٹی بہنوں اور چچازاد کزنز سے میرب کی اچھی بننے لگی تھی۔ میرب کووہ لڑکیاں اچھی لگی تھیں۔ سب لڑکیاں شہربانو سے اجازت لے کر میرب کو اپنے ہمراہ زمینوں کی سیر پر گئی تھیں۔ وہاں جاکر سبھی لڑکیاں تتربتر ہوگئیں۔ میرب نہرکنارے قدرے پرسکون سے گوشے میں بیٹھ گئی۔ حالانکہ شہربانو نے سب لڑکیوں کو خاص تاکید کی تھی کہ میرب کو تنہا نہیں چھوڑنا مگرسب لڑکیاں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال چکی تھیں۔ جوتے اتار کر سائیڈ پر رکھے اور پائنچوں کو تھوڑا سافولڈ کرکے وہ دونوں پیرنہر کے ٹھنڈے پانی میں ڈال کربیٹھ گئی۔
’’مائی گاڈ! یہ کیسا حسین اتفاق ہے کہ آپ ہر اس جگہ پرموجود ہوتی ہیں جہاں میں ہوتاہوں۔‘‘ شوخ مردانہ آواز پر وہ چونکی تھی۔ داور خان کچھ ہی فاصلے پر موجود تھا۔ میرب نے بے تاثر سے انداز میں چہرے کا رخ بدل لیا۔
’’آئی ایم سوری‘ مجھے لگتا ہے آپ کومیرا یوں بے تکلف ہونابرا لگا ہے۔‘‘ وہ یکلخت سنجیدگی سے کہتا پلٹنے لگا۔
’’سنئے۔‘‘ وہ جانے کیوں اسے پکار بیٹھی۔
’’جی!‘‘
’’دراصل میں…‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی دفعتا اس کی نظر سامنے جھاڑی میں موجود سانپ پڑی۔ وہ چیخ مار کر اٹھی۔ توازن برقرار نہ رکھ پائی اور نہر میں جاگری۔
’’اوہ نو۔‘ ‘داورخان نے بلاسوچے سمجھے نہرمیں چھلانگ لگادی تھی۔ میرب کی چیخیں سن کر لڑکیاں اس طرف چلی آئیں اور جومنظر ان سب کی آنکھوں نے دیکھا ‘اپنی اپنی مرضی کے مطلب اخذ کرلئے‘ میرب کا بھیگاوجود داور خان کی پناہ میں تھا‘ وہ اسے کنارے تک لارہاتھا۔
داور خان شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپسی کے سفر کی طرف گامزن تھا جب گاڑی میں پانی ختم ہوجانے کے باعث وہ پانی لینے نہر کی طرف آیا تھا۔ میرب کوبیٹھے دیکھ کر وہ بات کئے بنا رہ نہ پایا تھا۔ یہ سادہ سی لڑکی اسے اچھی لگنے لگی تھی۔شومئی قسمت فیروزہ کے بھائی نے بھی یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ داور خان تو جاچکاتھا میرب ابھی تک سراسیمہ سی تھی۔ حویلی پہنچی تو ایک اور قیامت اس کی منتظر تھی۔ یہ خبر زبان زدعام ہوچکی تھی کہ سبحان شاہ کی ہونے والی بہو اور بھتیجی ایک غیر مرد کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھی گئی تھی۔
’’اس گند کو جلد ازجلدختم کرو۔‘‘
میرب تو گویا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بے بہرہ ہوچکی تھی۔ وہ اپنی صفائی میں بولنا چاہتی تھی مگر الفاظ ساتھ ہی نہ دے رہے تھے۔ آواز حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’اچھا تو یہی تھاوہ جس کی وجہ سے یہ شادی سے انکار کررہی تھی۔‘‘ شہربانو کی زہریلی آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
’’ارے اسے تو ڈھونڈو جو اس کھیل میں برابر کاشریک ہے‘ جس کی شہ پر یہ انکار کررہی تھی۔‘‘
’’مار ڈالو‘ اس کمینے کو جس نے ہمارے خاندان کی عزت سے کھیلنا چاہا۔‘‘ جتنے منہ ‘ اتنی باتیں‘ میرب کو قید کردیاگیا تھا۔ داورخان کی تلاش میں کافی لوگ گئے تھے‘ مگر وہ ان کی حدود سے نکل چکاتھا۔ اس بیچارے کو تو علم ہی نہیں تھا کہ اس کے پیچھے کیسی قیامت آچکی تھی۔
میرب نے ساری رات روتے ہوئے گزاری تھی۔ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر وہ خوب گڑگڑائی تھی۔ وہ ایسی ذلت کی موت نہیں مرنا چاہتی تھی اور شاید تب ہی کاتب تقدیر کو اس پررحم آگیا۔ رات کو کھانا د ینے کے بعد ملازمہ دروازے کو تالا لگانا بھول گئی تھی۔ تہجد کے بعد میرب کی نظر اس پرپڑی۔ بڑی سی شال اپنے گرد لپیٹ کر وہ چھپتی چھپاتی بمشکل گیٹ تک پہنچی تھی ۔ گیٹ پر موجود دونوں پہرے دار اونگھ رہے تھے۔جانے اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی۔دیواریں زیادہ اونچی نہ تھیں۔ درخت کے مضبوط تنے پر چڑھ کر وہ دیوار پھلانگ گئی۔ تیز تیز قدموں سے چلتی وہ اللہ کانام لے کر ایک سمت کو چل پڑی۔ وہ نہیں جانتی تھی یہ راستہ کس طرف جاتا ہے۔ صبح کی روشنی پھیلنے لگی تھی۔کچے پر سے ہوتی وہ پکی سڑک کی طرف نکل آئی۔ سیاہ کولتار کی سڑک سنسان پڑی تھی ۔ دور دور تک کسی ذی روح کانام ونشان نہ تھا۔ وہ دھڑکتے دل سے چلی جارہی تھی۔ تبھی دور سے بس آتی دکھائی دی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے بس کو روکااور رکتے ہی فوراً سوار ہوگئی۔
ززز
’’کہاں مرگئے تھے سب کے سب کہ ایک بالشت بھر کی چھوکری سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بھاگ گئی۔ سبحان شاہ غضبناک ہوکر گرجے۔ فیضان شاہ بھی خاصے غصے میں تھے۔ سب لوگ اپنے گائوں واپس آچکے تھے۔ یہ سن کر کہ میرب ان کی قید سے فرار ہوگئی ہے‘ زرمینہ کو گوناگوں سکون کااحساس ہواتھا۔
’’بابا میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اسے پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔ وہ اور اس کا عاشق اب میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے۔‘‘ مہران شاہ کے سینے میں آگ بھڑک رہی تھی۔
’’اس لڑکے کاپتا کرو وہ کون تھااور کہاں سے آیاتھا۔‘‘
’’قاسم(فیروزہ کا چچازاد) کے چھوٹے بھائی کے کسی جاننے والے کے ساتھ آیا تھا۔ کون تھا‘ کہاں سے آیا تھا‘کوئی نہیں جانتا۔یوں بھی شادی میں شرکت کی کھلے عام دعوت دی گئی تھی۔ بہت سے اجنبی موجود تھے۔‘‘ فیضان شاہ نے بتایا۔
’’مجھے تو یہ پرانا چکر لگتا ہے۔ فیروزہ بتارہی تھی کہ راستے میں جب گاڑی خراب ہوئی تو اسی لڑکے نے انہیں لفٹ دی تھی۔ قاسم کی مہندی والے دن میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے میرب کو اس لڑکے سے باتیں کرتے دیکھاتھا۔‘‘ شہربانو نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
’’وہ لڑکی ہماری سوچ سے بھی ز یادہ چالاک اور تیز نکلی۔ یہ پڑھی لکھی شہری لڑکیاں ایسی ہی چلتر باز ہوتی ہیں۔‘‘ طاقت اور دولت کے نشے میں چور ‘سبحان شاہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ کو ئی غیر نہیں ان کی سگی بھتیجی تھی۔ جس کے پاکدامن پر وہ کیچڑ اچھال رہے تھے۔
’’آپ فکر نہ کریں بابا وہ میری منگ تھی اور میری غیرت اس کو مارے بنا چین سے نہیں بیٹھنے دے گی مجھے۔‘‘ مہران شاہ گویا جلتے انگاروں پرلوٹ رہاتھا۔
’’ہمیں وہ چاہئے‘ زندہ یا مردہ۔‘‘ سبحان شاہ سفاکی کی ہر حد پار کرچکے تھے ۔
ززز
بس ایک چھوٹے سے اسٹاپ پررکی تووہ بنا سوچے سمجھے اتر گئی۔ اس کے پاس پھوٹی کوڑی نہ تھی۔ کنڈیکٹر کو اپنی قیمتی رسٹ واچ دے کر راضی کیاتھا۔ قریب ہی ریلوے اسٹیشن تھا۔ وہ لاہور جانے والی ٹرین میں سوار ہوگئی تھی۔ کراچی جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ سبحان شاہ سب سے پہلے اس کی تلاش میں وہیں پہنچتے۔ ’’ہوسکتاہے وہ وہاں پہنچ بھی چکے ہوں۔‘ وہ محض سوچ کررہ گئی۔ سارا راستہ واہموں اور اندیشوں میں کٹا تھا۔ حسین اور جوان لڑکی اور وہ بھی تنہا‘ دنیا بھیڑیوں سے بھری پڑی ہے جو شکار کی تلاش میں گھات لگائے بیٹھے ہیں۔پلیٹ فارم پرہی تین لڑکے اس کے پیچھے لگ گئے تھے۔ خود کو بڑی سی شال میں چھپائے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی پلیٹ فارم سے نکلی تھی۔
’’کتھے جارہے ہو سوہنیو؟‘‘
’’ہم چھوڑ آئیں؟‘‘
وہ لڑکے اس کے دائیں بائیں چلنے لگے تھے۔ مارے خوف کے اس کے پسینے چھوٹ گئے۔ قدموں کی رفتار تیز ہوگئی۔
’’شہزادی ہم سے کیا ڈرنا۔‘‘
’’مم…میرا پیچھا چھوڑ دو۔‘‘ وہ تقریباً منمنائی تووہ تینوں لفنگے بے ہنگم قہقہے لگانے لگے۔ سامنے ہی ایک سیاہ گاڑی رکی ہو ئی تھی۔ اس میں بیٹھے شخص نے بھی یہ منظر دیکھاتھا۔ ایک لڑکے نے میرب کے دوپٹے کاکونہ پکڑا تو اس کے سر سے دوپٹہ ڈھلک گیا۔ میرب کو یوں لگا جیسے وہ سرعام بے عزت کردی گئی ہو۔ اس نے طیش میں آکر اس لڑکے کو تھپڑ دے مارا تھا اور فوراً دوڑ لگادی تھی۔ تینوں لڑکے اس کے پیچھے بھاگے‘ بھاگتے ہی وہ کسی سے بری طرح ٹکرائی تھی۔ دو مضبوط بازوئوں نے سرعت سے اس کے وجود کو تھام کر گرنے سے بچایا تھا۔ میرب نے سر اٹھا کر دیکھاتو اس کی نگاہوں میں شناسائی کی چمک دکھائی دی۔ شناسانہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی نہیں تھے اور پھر میرب نے دیکھا کہ وہ اکیلا ان تینوں سے بھڑگیاتھا۔ذرا سی ٹھکائی کے بعد وہ لڑکے بھاگ گئے تھے۔
’’آئو بیٹھو۔‘‘ داور خان نے اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا تو وہ میکانکی انداز میں بیٹھ گئی۔ اس کے بیٹھتے ہی گاڑی چل پڑی۔ داور نے ایک نظر اس پرڈالی جو شاید گہرے شاک کے زیر اثر تھی۔ گم صم‘ ایک ٹک نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ اس لڑکی سے یکسر مختلف جس سے وہ اس روز شادی میں ملا تھا۔ شہباز کے دوست کے بھائی کی شادی میں شرکت کرنے کااس کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر شہباز کے سامنے اس کی ایک نہیں چلی تھی۔ پہلی ملاقات میں تو اس نے اسے دیکھا بھی نہیں تھا ٹھیک سے۔ہاں دوسری بار مہندی والے روز اسے دیکھا تو عجیب سی اپنائیت کاخوشگوار سا احساس ہواتھا۔ گم صم اور خاموش سی یہ لڑکی اسے اچھی لگی تھی۔ یہ نہیں تھا کہ وہ پہلی نظر میں اس کی محبت میں مبتلا ہوگیاتھا۔ محبت تو بہت دور کی بات تھی‘ وہ تو محض پسندیدگی کی سندہی پاسکی تھی ۔داورخان تو یوں بھی پلوشے سے منسوب تھا جو اس کے داداجلال خان کے چچازاد بھائی کی نواسی تھی۔ پلوشے سے اس کا رشتہ سوفیصد بڑوں کی مرضی سے طے ہواتھا مگر وہ پھربھی پابند تھا۔ شہباز کو ولیمے والے دن ہی اچانک جانا پڑگیاتھا۔ اس لئے واپسی کے سفر میں وہ تنہا تھا۔ میرب کونہر میں ڈوبتا دیکھ کر ایک لمحے کو اسے اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔ وہ بنا سوچے سمجھے نہر میں کود گیاتھا۔
’’گاڑی روکئے پلیز۔‘‘میرب کی آواز پر وہ خیالات کی یورش سے باہر نکلا تھا۔ بے اختیار اس کا پائوں بریک پرجاپڑاتھا۔ میرب کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچاتھا۔
’’اوہ آئی ایم سوری۔‘‘ داور نے پہلی بار بغور اسے دیکھا تھا۔ سرخ ہوتی ناک اور آنکھیں اس کی مسلسل گریہ آہ وزاری کی غماز تھیں۔
’’مجھے کسی بس اسٹاپ پر اتاردیں۔‘‘
’’بس اسٹاپ پراتار دوں تاکہ اسی طرح کے غنڈے آپ کے پیچھے لگ جائیں۔‘‘ وہ ایک لمحے کو رکا۔ ’’بائی دی وے آپ کو جاناکہاں ہے؟ مجھے بتائیے‘ میں ڈراپ کردیتاہوں۔‘‘
’’مم…میں…معلوم نہیں۔‘‘ وہ سخت ہراساں لگ رہی تھی۔ داور خان کو کسی غیر معمولی پن کااحساس ہواتھا۔
’’کوئی مسئلہ ہے؟ آپ اور یوں تنہا؟ میرا مطلب ہے آپ کا تعلق تو خاصی اچھی اور بااثر فیملی سے ہے۔‘‘
’’یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی تھی۔ داور اس کے رونے پر بوکھلا اٹھا تھا۔
’’میری وجہ سے؟ میں سمجھا نہیں۔‘‘وہ مسلسل روتی رہی۔
’’دیکھئے پلیز کھل کر بتائیے‘ کیامسئلہ ہے؟ اور میری وجہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟‘‘ وہ بیچارہ سچ مچ بوکھلا گیاتھا۔
’’آئی ایم سوری‘ میں شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئی تھی۔‘‘ رونے کا زور کم ہوا تووہ شرمندگی سے گویاہوئی۔ اس کی طرح وہ بھی توبے قصور تھا۔ اسے تو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ذرا سی ہمدردی کرنے پر اسے… واجب القتل قرار دے دیاگیاتھا۔
’’پلیز مجھے کھل کر بتائیے‘ بات کیاہے؟‘‘ داور کے پوچھنے پر اس نے ساری بات من وعن گوش گزار کردی۔ حقیقت جاننے کے بعد وہ بھی پریشان نظرآرہا تھا۔
’’آپ کہیں تومیں آپ کے ساتھ چل کرگواہی دینے کو تیار ہوں۔‘‘ داور کے کہنے پر میرب نے سہم کر اسے دیکھا۔
’’بھول کر بھی ایسی غلطی مت کیجئے گا۔ میرے تایا بہت ظالم ہیں‘ دولت کی ہوس میں وہ میرے ساتھ ساتھ آپ کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔‘‘
’’توپھر کیاکیاجائے؟‘‘ وہ پرسوچ اور متفکر انداز میں دائیں انگشت شہادت پیشانی پر پھیرنے لگاتھا۔
’’آپ مجھے کسی دارالامان تک چھوڑ د یجئے۔ میرب کے کہنے پر داور نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
’’میں ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں گویاہوا۔
’’کیامطلب؟‘‘
’’انسانیت کے ناتے ہی سہی مگر میں آپ کوتنہا یوں بے یارومددگار نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
’’مگر میں اپنی وجہ سے آپ کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔
’’آپ میری فکرنہ کریں۔آپ کانام میرے نام کے ساتھ لیا گیا ۔نادانستگی میں ہی سہی‘ پر آپ کو مخاطب کرنے کی غلطی بہرحال میری ہی تھی۔اگر مجھ پر اعتبار ہوتو چپ چاپ وہی کیجئے جومیں کہتاہوں۔‘‘ یکلخت داور خان کالہجہ اٹل ہوگیا تھا۔ یوں لگتاتھا گویا وہ کسی فیصلے تک پہنچ گیاہے ۔ میرب تذبذب کے عالم میں تھی۔ بہرحال تھاتووہ اجنبی‘ آنکھیں بند کرکے بھروسہ بھی نہیں کرسکتی تھی اوراس کے علاوہ کو ئی دوسرا مددگاربھی نظر نہ آرہاتھا۔ آنکھیں پانیوں سے دھندلاگئی تھیں۔ تبھی شاید اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن چمکی تھی۔
’’ماموں! ہاں میرے ماموں کاکانٹیکٹ نمبر ہے میرے پاس۔ اور یہ شخص مجھے ان تک پہنچانے میں مدد کرسکتاہے۔‘‘ ڈوبتے دل کو تسلی ہوئی تھی۔ گاڑی ایک پیٹرول پمپ پر رکی تووہ چونکی۔ داور خان موبائل پر کسی سے بات کررہاتھا۔ میرب کا دل پھروسوسوں کاشکار ہونے لگا۔
’’اف! میں کیا کروں ‘کہاں جائوں۔ اللہ! توہی میرے حال پر کرم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں سرتھام کر بیٹھ گئی۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
’’جی میں ٹھیک ہوں۔ یہاں سے سردرد کی گولی مل جائے گی؟‘‘
’’میں دیکھتاہوں۔‘‘ وہ گاڑی سے اتر کر پٹرول پمپ پر بنی ٹک شاپ تک چلاگیا۔
’’یہ لیجئے۔‘‘ ایک بڑا سا لفافہ اس کی طرف بڑھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ جوس کے ڈبے‘بسکٹس ‘ چپس کے پیکٹ‘ سافٹ ڈرنک اور دوگولیاں سردرد کی۔ اس نے دونوں گولیاں منرل واٹر کے ساتھ پھانک لیں اور باقی کی چیزیں پچھلی سیٹ پررکھ د یں۔ باقی کا سارا سفر طویل خاموشی میں کٹا تھا۔ داور خان اسے اپنے گھر لے آیا تھا۔ جلال خان کو فون پر وہ ساری سچویشن بتاچکاتھا۔گھر میں دو ملازمائیں تھیں۔ داور کے ماں باپ ایک حادثے میں انتقال کرچکے تھے۔ جلال خان نے ہی دونوں پوتوں کو پالا تھا۔سالار پڑھنے کی غرض سے امریکہ میں تھا۔ میرب کو یہاں آکر بالکل اجنبیت کااحساس نہیں ہوا تھا۔ دن یونہی گزر رہے تھے جب اچانک ہی زندگی کی شاہراہ پر ایک نیا موڑ سامنے آگیا۔
داور کے سسرالیوں نے منگنی توڑنے کااعلان کردیا تھااور وجہ یہ بتائی تھی کہ داور نے میرب سے خفیہ نکاح کیا ہوا ہے۔ جلال خان نے بہتیرا سمجھایا مگر وہ لوگ نہ مانے۔وہ شاید پہلے ہی رشتہ توڑنا چاہتے تھے۔ اب یہ جواز بنا کررشتہ توڑ رہے تھے ۔داور کسی قیمت پر رشتہ توڑنے کو تیار نہ تھے۔ یہ نہیں تھا کہ اسے پلوشے سے کوئی طوفانی قسم کاعشق تھا۔ بس اس نے اس بات کو اپنی غیرت کامسئلہ بنالیاتھا۔ جرگے نے بھی داور خان کے حق میں فیصلہ کیااور پلوشے کے والدین کو اس رشتے کاپابند رہنے کی تاکید کی مگر چند دنوں بعد ہی پلوشے کی موت کی خبر ملی۔اس کی موت ایک معمہ تھی۔ شاید اس نے خودکشی کی تھی ‘ایک عجیب سی اداسی نے درودیوار کوگھیررکھاتھا۔ میرب جانے کیوں خود کومجرم سمجھنے لگی تھی۔
’’داجی‘مجھے معاف کردیں‘ مجھے لگتا ہے یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔‘‘ ایک روز وہ داجی کے قدموں میں گر کر روپڑی تھی۔
’’پگلی! تم کیوں خود کومجرم سمجھتی ہو۔‘‘ داجی تو یوں بھی میرب سے پیار کرنے لگے تھے۔ داجی کی ہی خواہش پرمیرب اور داور کانکاح کردیاگیا۔ شاید داور بھی ایسا چاہتاتھا۔ سادگی سے نکاح کیاگیا اور رخصتی کی تقریب دو ماہ بعد سالار آفندی کی آمد تک موقوف کردی گئی۔نکاح ہونے کے بعد بھی میرب کا دل کسی بھی احساس سے خالی تھا۔ شاید وہ ذہنی طور پر تیار نہ تھی۔ داور خاصاریزرو سابندہ تھا۔ نکاح کے دوسرے دن ہی وہ کسی کام سے اسلام آباد چلاگیاتھا۔
گیا تو وہ اپنے کسی کام سے تھا مگر واپسی اس کی چار کاندھوں پرہوئی تھی۔ اسلام آباد جاتے ہوئے وہ راستے میں کسی اندھی گولی کاشکار ہوگیاتھا۔ داور خان کاقاتل کون تھا‘ یہ کوئی نہیں جانتاتھا ’آفندی لاج‘ کے درودیوار تک اس جواں مرگ پر لرز اٹھے تھے۔ جلال خان جوان پوتے کی موت کی خبر سنتے ہی دل ہار بیٹھے تھے۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہواتھا۔ دو دن وہ زندگی وموت کی کشمکش میں آئی سی یو میں رہے تھے۔ سالارخان جو دو ماہ بعد آنے ولا تھا۔ اس المناک حادثے کی خبر سنتے ہی دوڑا چلا آیا تھا۔ جان سے زیادہ پیارے بھائی کی موت نے اسے توڑکررکھ دیاتھا۔ وہ جانے کس طرح خود پر ضبط کئے ہوئے تھا۔ آنسوئوں پرقابوپاتے پاتے وہ تھکنے لگاتھا۔ تنہائی میں خوب رویا تھا مگر جلال خان آفندی کو دلاسا دیتے وقت وہ بالکل خاموش تھا۔ شدت ضبط سے اس کی آنکھیں لہو رنگ ہو چلی تھیں۔ میرب کاالگ براحال تھا۔ وہ تقدیر کے اس کاری وار کوسہنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔ جلال خان کی جی جان سے تیمارداری کررہی تھی مگر لبوں پرگویا قفل پڑگئے تھے۔ وہ اپنے آپ کومجرم سمجھنے لگی تھی۔ اس کا دل کہتاتھا کہ داور خان کی موت کی ذمہ دار وہ ہے۔ اسے سوفیصد یقین تھا کہ سبحان شاہ اور مہران شاہ نے ہی داورخان کوقتل کرایا ہوگا۔ سالار یہ تو جانتاتھا کہ داور خان کانکاح ہوا ہے مگر یہ نہیں جانتاتھا کہ میرب سے ہوا ہے۔ چند دنوں بعد حواس ٹھکانے آئے تو احساس ہوا کہ یہ لڑکی جو دن رات داجی کی خدمت میں مصروف تھی۔ وہ اس کے لئے اجنبی تھی۔
’’داجی…یہ لڑکی کون ہے؟‘‘ اس کے پوچھنے پر داجی نے ایک سرد آہ بھری تھی۔
’’یہ بدنصیب ہی توداور کی منکوحہ ہے۔‘‘ اور پھر داجی نے سارے حالات سالار کو سناڈالے تھے۔ جس پر وہ محض خاموش ہی رہاتھا۔
ززز
’’کون…کون ہے؟‘‘ داجی کو پیروں پرنمی کااحساس ہواتواٹھ بیٹھے۔ میرب ان کے پیروں پرسررکھے بے آواز رو رہی تھی۔
’’میرو‘میروبیٹا‘ یہ کیا بیوقوفی ہے؟‘‘ داجی نے اس کے سر کوتھپکتے ہوئے کہا۔
’’داجی…مجھے معاف کردیں۔ پلیز مجھے معاف کردیں۔‘‘
’’کس بات کی معافی بیٹا؟‘‘
’’داجی‘ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔داور خان کی موت کی ذمہ دار میں ہوں۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ دہلیز پر کھڑا سالار چونک کر وہیں رک گیاتھا۔ جلال خان بھی ایک لمحے کو ورطہ حیرت میں کھوگئے تھے۔
’’یہ…یہ کیا کہہ رہی ہو میرب؟‘‘
’’ہاں داجی‘مجھے پورایقین ہے کہ داور خان کومہران شاہ نے مارا ہے۔‘‘وہ سسکنے لگی تھی۔ ’’کاش… کاش میں داور خان کے ساتھ نہ آئی ہوتی۔‘‘ وہ رورہی تھی جبکہ سالار خان واپس پلٹ چکاتھا۔
’’پگلی اس میں بھلا تمہارا کیا قصور ہے۔ اللہ کو یہی منظور تھا۔‘‘ داجی بھی آبدیدہ ہوگئے تھے۔
’’چلو اٹھو…یہاں میرے پاس آکربیٹھو۔‘‘ داجی کے کہنے پروہ بیڈ پربیٹھ گئی۔‘‘ دیکھو بیٹا ہرکام اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ بندے تو محض بہانہ بن جاتے ہیں۔ ورنہ تقدیر کالکھا کوئی مٹاسکا ہے بھلا؟تم خود کو کیوں قصور وار سمجھتی ہو؟ تم کیا جانو تم میرے لئے کیاہو؟ داور کے حوالے سے تومجھے اور بھی عزیز ہوگئی ہو۔ تم ہماری عزت ہو… ہم تمہیں خود سے جدا کرنے کاکبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمیں لگتا ہے رب نے ہماری کھوئی ہوئی بیٹی ہمیں لوٹادی ہے۔‘‘ جلال خان کا پرشفیق انداز میرب کے دل پرپڑے بھاری بوجھ کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوگیاتھا۔
دن بدن وہ جلال خان کو اور زیادہ عزیز ہوتی جارہی تھی جبکہ سالار خان کی نگاہوں میں اس کے لئے سوائے نفرت اور تحقیر کے اور کچھ نہیں ہوتاتھا۔ اس نے کبھی میرب کومخاطب نہیں کیا تھا۔ وہ جہاں موجود ہوتی‘ وہ وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا۔ میرب کے ساتھ ساتھ جلال خان نے بھی سالار کے رویے کونوٹ کیاتھا۔ وہ سالار کوٹوکے بنا نہ رہ سکے۔
’’سالارخان! وہ کوئی اچھوت نہیں‘ اس گھر کی عزت ہے۔‘‘
’’گستاخی معاف داجی! مگر میں ایسا نہیں سمجھتا۔‘‘
’’کیامطلب؟‘‘
’’جس لڑکی کی وجہ سے میرا بھائی مجھ سے جد اہوا‘ اس کی میری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
’’سالار خان ‘ وہ تو خودبیچاری مظلوم لڑکی ہے۔‘‘
’’داجی… ہماری کسی سے ذاتی دشمنی تو نہیں تھی نا‘ ایک غیرلڑکی کی وجہ سے داور خان ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگیاہے۔‘‘
’’اس میں میرب کا کیا قصور ہے ؟‘‘
’’مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ ایک اجنبی اور یکسر انجان لڑکی سے آپ کو اتنی ہمدردی کیوں ہو رہی ہے؟‘‘
’’وہ غریب تمہیں کیا کہتی ہے‘ تم نے اس سے کیوں بیر باندھ لیاہے؟‘‘
’’مجھے اس لڑکی سے شدید نفرت ہے۔ میں اسے صرف آپ کی وجہ سے برداشت کررہاہوں ورنہ میرا بس چلے تو اسے ایک پل بھی یہاں نہ ٹکنے دوں۔ جانے کون ہے؟ کس خاندان کی ہے؟ کردار کی کیسی ہے؟‘‘
’’دوسرے لفظوں میں تم داور خان کے کردار پر بھی شک کررہے ہو؟‘‘ جلال خان نے اس کی بات قطع کی تووہ ایک لمحے کو خاموش ساہوگیا۔
’’جب تک میں زندہ ہوں‘ وہ اس گھر میں رہے گی۔وہ اس گھر کی عزت ہے‘ تم نہیں مانتے تو تمہاری مرضی۔ میں تمہیں مجبور نہیں کررہا‘ ہاں میرے مرنے کے بعد…‘‘
’’پلیز داجی…‘‘ وہ تڑپ کر بولا تھا۔ جلال خان کاروٹھا روٹھا ساانداز اس سے برداشت نہیں ہوپایاتھا۔ دادا پوتے کے مابین ہونے والی یہ گفتگو نادانستہ طو رپر ہی میرب نے بھی سنی تھی۔ اتنی تحقیر‘ اتنی نفرت‘ وہ تھرا کررہ گئی۔’’شاید سالار خان بھی ٹھیک ہی کہتا ہے۔ ‘‘ ایک آہ اس کے لبوں پہ آکے دم توڑ گئی تھی۔ وہ چپ چاپ واپس پلٹ گئی تھی۔ وہ اب قصداً سالار آفندی کے سامنے آنے سے گریز کرتی تھی۔ دونوں کے درمیان ایک سرد جنگ سی چل رہی تھی۔ سالار اسے بھائی کی بیوہ سمجھ کے بھی عزت دینے کوتیار نہ تھا۔ یہ سب میرب کا خیال تھا۔ اس نے بھی لبوں کو قفل لگالئے تھے۔ داجی کا آسرا غنیمت جان کر وہ خاموشی سے وہاں رہ رہی تھی۔ اگر پہلے سے حالات ہوتے تووہ سالار آفندی کی اتنی نفرت اور حقارت کبھی برداشت نہ کرتی مگر اب وہ مجبور تھی۔ یہ سب سہنے کو‘ حالات نے اسے یکلخت ہی عرش سے فرش پرلاپٹخاتھا۔ زندگی ایک ہی معمول سے چل رہی تھی کہ ایسے میں صارم رضا کی آمد اور مستزاد شادی کی پیشکش نے اس کی زندگی کے ساکت پانیوں میں ارتعاش پیدا کردیاتھا۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔ موذن نے فجر کی اذان دی تووہ چونکی۔ ماضی سے حال تک کاسفر اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا حال سے ماضی کا اور اس کا ماضی صرف اور صرف تکلیف دہ یادوں سے بھراتھا۔
ززز
صارم رضا خاموشی سے واپس چلا گیا تھا۔ یہ جان کر میرب کے لبوں پراستہزائیہ مسکراہٹ بکھرگئی۔
’’تم بھلا اس دنیا کے مردوں سے مختلف کیسے ہوسکتے تھے؟‘‘
’’میرو…بیٹا! تمہای طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ اس کی سوجی سوجی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر جلال خان پوچھے بنانہ رہ سکے تھے۔
’’جی داجی۔‘‘ وہ نگاہیں جھکا کربولی۔
’’ادھر دیکھو‘ میری طرف۔‘‘ داجی نے اپنے دائیں ہاتھ سے اس کاچہرہ اپنی طرف کیا۔’’کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ وہ نفی میں سرہلا گئی۔
’’سالار نے کچھ کہا ہے؟‘‘ وہ لب کاٹتے ہوئے نفی میں سرہلانے لگی۔’’ بیٹا‘ وہ دل کابرانہیں ہے ‘داور سے بہت پیار کرتاتھا وہ۔‘‘
’’نہیں داجی‘ سالار نے مجھے کچھ نہیں کہاہے۔مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں۔ میری وجہ سے ان کابھائی ان سے جدا ہوا۔ وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں مجھے برانہیں لگتا… میں…میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے جی کڑا کرکے کہہ ڈالا۔ جلال خان کے چہرے کا رنگ یکلخت بدلاتھا۔
’’ہمیں افسوس ہے کہ ہماری محبت میں اتنی طاقت نہیں ہے جتنی سالار خان کی نفرت میں ہے۔ میرب…تم‘تم چلی جائو۔ تم بھی چلی جائو‘ تنہا چھوڑ دو ہمیں۔ ہم شروع سے ہی بدقسمت رہے ہیں۔ جب بھی کسی سے پیار کیا‘ وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ پہلے یارو اور گل مینہ‘پھر زرمینہ‘ پھر داور اور اب تم… چلی جائو۔ تم بھی چلی جائو۔ ہمیں…ہمیں‘‘ وہ ہانپنے لگے تھے۔ شدت جذبات سے چہرہ سرخ ہو رہاتھا۔ سانس پھول رہی تھی۔ جلال خان واقعی جلال میں آگئے تھے۔
’’داجی…آپ…آپ کی طبیعت…‘‘ وہ گھبرا کر آگے بڑھی تو جلال خان نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’چلی جائو… ہمیں…ہمیں تمہاری …ہمدردی کی ضرورت…‘‘ وہ لہرا کر بستر پرآرہے تھے۔
’’داجی۔‘‘ وہ چلائی۔’’سالار…رحیم خان…‘‘ وہ داجی کے پیروں کے تلوے سہلارہی تھی۔ سالار جو اسی طرف آرہاتھا۔ بجلی کی سی تیزی سے اندر آیا۔ رحیم خان اور گل رانو اس کے پیچھے تھے۔
’’داجی! داجی کیاہوا؟‘‘ وہ لپک کر ان کے پاس آیا تھا۔ رحیم خان جلدی سے گاڑی نکالو۔ ‘‘ وہ سخت گھبراگیاتھا۔ ’’تم…تم نے کیاکہاہے داجی سے ؟ بولو۔‘‘ وہ میرب کو قہر برساتی نگاہوں سے دیکھ رہاتھا۔
’’میں …میں…نے تو…‘‘ وہ مارے خوف کے بول ہی نہ پائی تھی۔’’نہیںمیں نے تو…‘‘ وہ سراسیمگی سے کہتی دیوار سے لگ کرکھڑی ہوگئی تھی۔
’’اگرمیرے داجی کو کچھ ہوگیاتو میں تمہیں جان سے ماردوں گا میرب احسان۔‘‘ اس کے لہجے میں اژدھے کی سی پھنکار تھی۔ وہ داجی کو لے کر ہاسپٹل چلاگیاتھا۔ میرب کا دل سوکھے پتے کی مانند لرزرہا تھا ۔برستی آنکھوں اور کپکپاتے لبوں سے وہ صرف ایک ہی دعا مانگ رہی تھی۔ داجی کی سلامتی کی دعا! اس لئے نہیں کہ اسے سالار خان کا خوف تھا۔ اس لئے کہ اب داجی ہی اس کا واحد آسراتھے۔‘‘ خدانخواستہ انہیں کچھ ہوگیاتو میں کہاں جائوں گی؟‘‘ یہ سوچ کرہی وہ لرز اٹھی۔ حالانکہ کچھ دیر پہلے وہ یہاں سے جانے کی بات کررہی تھی۔ مگر کہنے اور سہنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ اسے اب پتا چلا تھا۔ دو گھنٹے مسلسل ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے اس کی ٹانگیں اکڑ گئی تھیں۔ تبھی گیٹ پر گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی تھی۔ وہ دوڑ کرباہر تک گئی تھی۔ رحیم خان اور گل رانو آئے تھے۔
’’داجی… داجی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’ابھی ان کا حالت خطرے میں ہے۔ ڈاکٹر بولتا ان کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ چھوٹا خان بہت پریشان لگ رہاتھا۔ ام نے پہلی بار اس کوروتے ہوئے دیکھابی بی۔‘‘گل رانو نے تفصیلاً جوا ب دیاتو میرب کولگا اس کے جسم میں جان ہی نہیں ر ہی۔
’’مم…مجھے ہاسپٹل لے جائو رحیم خان۔‘‘
’’بی بی …وہ چھوٹا خان…‘‘ رحیم خان کچھ تذبذب کاشکار لگ رہاتھا۔
’’تم مجھے ہاسپٹل کانام بتادو۔ میں خود چلی جائوں گی۔‘‘ وہ سمجھ گئی رحیم خان کو سالار نے منع کیاہوگا۔
’’بی بی…خان ام کومارڈالے گا۔‘‘
’’کچھ نہیں کہے گا وہ تمہیں۔‘‘ اور پھر رحیم خان ہی اسے ہسپتال چھوڑ کرآیا۔ داجی سی ۔سی۔یو میں تھے۔ کاریڈور میں ہی اسے سالار خان فکرمندی سے ٹہلتانظر آگیا۔وہ جی کڑا کرکے اس کے پاس چلی آئی۔
’’داجی کیسے ہیں اب ؟‘‘
سالار نے ایک قہربرساتی نظر اس پر ڈالی اور بناجواب دیئے رخ موڑ گیا۔
’’داجی… کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ڈھیٹ بنی وہ دوبارہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
’’میرب احسان! داجی کے لئے فکرمند ہونے کوابھی میں زندہ ہوں۔ تم اپنی یہ نام نہاد محبت او رفکر اپنے پاس رکھو۔‘‘
’’مائنڈ یومسٹر سالار۔ داجی سے میرا بھی ایک رشتہ ہے جسے آپ بھول رہے ہیں۔‘‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بول اٹھی تھی۔
’’اول تو میں ایسے کسی رشتے کونہیں مانتا۔مان بھی لوں تو بھی وہ رشتہ داور کے ساتھ ہی ختم ہوچکاہے۔‘‘ وہ زہرخند ہورہاتھا۔ تبھی ڈاکٹر نے داجی کی طبیعت سنبھلنے کا مژدہ سنایا تو میرب کے لبوں سے بے ساختہ’’ شکر میرے مولا‘‘ کے الفاظ نکلے تھے۔ اسے یوں لگاجیسے وہ پھر سے جی اٹھی ہو۔ سالار کے چہرے پر بھی اطمینان چھلکنے لگاتھا۔
داجی جتنے دن ہسپتال میں ر ہے‘ میرب ان کی پٹی سے لگی رہی۔ داجی خفاخفا سے تھے وہ گھر آگئے تب بھی ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ میرب سے رہا نہ گیاتو بے اختیار ان کے قدموں میں سررکھ کر رو دی۔
’’داجی‘ پلیز مجھے معاف کردیں۔ میں بہت بری ہوں۔ میں نے آپ کا دل دکھایاہے۔ پلیز داجی‘ میں… میں اب کبھی بھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔میں ہمیشہ آپ کے پاس رہوں گی۔‘‘ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رورہی تھی۔ جلال خان بھی آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا پرشفیق ہاتھ میرب کے سرپر آٹکاتھا۔
’’آپ…آپ نے مجھے معاف کردیا ناں داجی!‘‘ وہ گویا پھر سے جی اٹھی تھی۔
’’میرو… دیکھاجائے تو داور کے بعد اب میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں مگر یہ جو دل ہے نا! یہ کسی نام نہاد رشتے کو نہیں مانتا۔ میں نے تمہیں بیٹی کہاہی نہیں بیٹی مانا بھی ہے۔ جانتی ہو‘ میری اپنی بیٹی نے جوحرکت کی اس کے بعد میرا دل کسی کوبیٹی ماننے کوتیار نہیں تھا۔ تم نے …تم نے صحیح معنوں میں بیٹی بن کر دکھایا۔ تم بہت اچھی‘ بہت پیاری بیٹی ہو۔ ایسی بیٹی جس پر کوئی بھی باپ فخر کرسکتاہے۔ بہت نصیبوں والے ہوتے ہیں وہ والدین جن کے گھر تم جیسی بیٹیاں جنم لیتی ہیں۔‘‘ وہ رو رہے تھے۔ میرب بھی نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ ’’میرو‘ تم جانتی ہو‘ میری بیٹی نے کیا کیا؟ اس نے میرے ماتھے پر کلنک لگا دیا۔ اس نے مجھے یہ سوچنے پرمجبور کردیا کہ میں ایک بدنصیب باپ ہوں۔ مگر تم…تم نے مجھے باور کروایاکہ میرے حصے کی خوش نصیبی تمہاری صورت میں ابھی میری منتظر ہے۔ یہ گھر تمہارا ہی‘ اس گھر کو تمہاری ضرورت ہے۔ وعدہ کرو‘ تم کبھی اس گھر کو چھوڑ کرنہیں جائوگی۔‘‘ ایک بوڑھا شخص جس کے لہجے میں بچوں کا سا خوف اور معصومیت تھی‘ میرب احسان سے عہد لے رہاتھا۔ اپنی بے یقینی اور خوف کویقین میں ڈھلتے دیکھنا چاہ رہاتھا۔
’’داجی… میں آپ کی بہو نہیں ‘ آپ کی بیٹی ہوں اور میں وعدہ کرتی ہوں‘ میں آپ کو چھوڑ کر کبھی نہیں جائوں گی۔‘‘
’’چلو اب اسی خوشی میں میرے لئے اپنے ہاتھوں سے اچھا سا کھانا بنا کرلائو۔ بہت بھوک لگی ہے۔ کچھ مزیدار سا ہوناچاہئے۔ اتنے دنوں سے یہ پھیکے پھیکے میٹھے کھانے کھاکھاکر جی اوب گیاہے۔‘‘ داجی نے ہلکی سی چپت اس کے سرپر لگائی تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی۔ دروازے کی اوٹ میں کھڑا سالار آفندی فوراً ایک طرف ہواتھا۔ یہ لڑکی اس کے دادا کے لئے کتنی اہم تھی‘ یہ اسے پتا چل گیاتھا۔
ززز
’’یہ…یہ تصویر…؟‘‘ وہ گل رانو اور رحمت خان کی بیوی کو ساتھ لگائے اسٹور روم کی صفائی کروارہی تھی جب سنہرے فریم میں لگی تصویر دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ فریم کا شیشہ گرد سے اٹا تھا۔ اسی طرح کی چند اور تصاویر بھی تھیں جن کے فریم ٹوٹے ہوئے تھے۔ میر ب کو وہ چہرہ خاصا جاناپہچانا لگاتھا۔
’’یہ کس کی تصویر ہے؟ اس نے گل رانو سے پوچھا۔
’’یہ…یہ پتانہیں۔ ام کونئیں پتا۔‘‘ گل رانو نے نفی میں سرہلایا۔
’’یہ تصویر…بی بی…یہ واپس رکھ دو۔کان کو پتا چل گیا تو قیامت آجائے گا۔‘‘ رحمت خان کی بیوی گھبراسی گئی تھی۔
’’مگر یہ تصویر ہے کس کی؟‘‘
’’وہ…وہ…‘‘ رحمت خان کی بیوی گل زریں متذبذب نظر آرہی تھی۔
’’تم فکرنہ کرو میں کسی کونہیں بتائوں گی۔‘‘
’’وہ جی…یہ …بڑے خان کی بیٹی کی تصویر ہے‘ زرمینہ گل ۔‘‘
’’زرمینہ گل۔‘‘ میرب کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ ’’تائی زرمینہ ‘فیضان تایا کی بیوی۔‘‘ وہ بڑبڑائی۔
’’بی بی … آپ…‘‘ زریں گل خوفزدہ سی تھی۔
’’تم فکرنہ کرو میں کسی سے ذکر نہیں کروں گی۔‘‘ میرب نے تسلی دی۔ صفائی کروانے کے بعد بھی اس کاذہن وہیں اٹکارہا۔ زرمینہ تائی کی باتیں یاد آنے لگی تھیں۔ داجی ان سے ناراض تھے اور ہونا بھی چاہئے تھا۔ زرمینہ نے حرکت ہی ا یسی کی تھی۔ ’’اپنے پیاروں کی عزت کو رول دینا کہاں کاانصاف ہے۔ جو لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے‘ وہ سراسر غلط ہیں۔ کیونکہ یہ نظریہ مغرب کا ہے۔اسلام ہمیں شدت پسندی کانہیں اعتدال ومیانہ روی کا درس د یتاہے۔ محبت میں اس حد تک آگے بڑھ جانا کہ اپنے باپ‘ دادا کی عزت وناموس خاک میں ملادینا سراسر زیادتی ہے۔ بے شک بالغ لڑکی کو اپنی پسند کی شادی کا حق دیا گیا ہے‘ مگر اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘ داجی ایک لمحے کو خاموش ہوئے۔ اس نے بڑے طریقے سے جھجکتے جھجکتے داجی سے ان کی بیٹی کی بابت دریافت کیاتھا۔
’’زرمینہ کوہم نے بڑے نازوں سے پالا تھا۔ شاید ہمارے بے جالاڈ پیار کا صلہ اس نے اس طرح دیا۔ زرمینہ کی منگنی ہمارے چچازاد کے بیٹے سے ہوئی تھی۔ داور تب دس برس کا تھا اور سالار سات برس کا۔ داور کارشتہ بھی میرے چچازاد کی نواسی پلوشے سے طے تھا‘ مگر زرمینہ کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد حالات بہت برے ہوگئے تھے۔وہ لوگ پلوشے کارشتہ بھی توڑ رہے تھے مگر میرا چچازاد اڑ گیا۔ اس نے یہ رشتہ برقرار رکھنے کافیصلہ کیا۔ بعد کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔ کس طرح ان لوگوں نے برسوں پہلے کابدلہ لینے کے لئے داور کے رشتے سے انکار کیااور پلوشے‘ وہ داور سے پیار کرتی تھی‘ میں جانتاتھا‘ اس نے خودکشی کرلی۔ معلوم نہیں آج کل کی لڑکیوں کو کیا ہوگیاہے۔ ایک نے گھر سے بھاگ کر باپ کے شملے کومٹی میں رول دیا تو دوسری نے خودکشی کرکے باپ دادا کانام روشن کردیامگر سب بیٹیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں‘ کچھ بیٹیاں اچھی بھی ہوتی ہیں۔ تمہارے جیسی‘ نیک اور معصوم۔‘‘ جلال خان کا گلا رندھ گیاتھا۔ وہ بہت سخت جان تھے مگر عمر کے اس دور میں آکر برداشت کرنا مشکل ہوگیاتھا۔
’’داجی…آپ جانتے ہیں وہ اس وقت کہاں ہیں؟‘‘
’’نہیں۔ وہ ہمارے لئے مرچکی ہے۔‘‘ ان کا لہجہ اٹل تھا۔
’’داجی… وہ…میرے سگے تایا کی بیوی ہیں۔‘‘ اس نے سر جھکا کرمجرمانہ سے انداز میں انکشاف کیا تو جلال خان چونک گئے۔ وہ ایک لمحے کو کچھ نہ بول سکے تھے۔ ’’میں نے انہیں کبھی خوش نہیں دیکھا۔ پچھتائوں کے ناگ ہر لمحہ انہیں ڈستے رہتے ہیں۔ بہت یاد کرتی ہیں وہ آپ کو اور ہرلمحہ آپ سے معافی مانگتی رہتی ہیں۔‘‘
’’کیسی …ہے وہ؟‘‘ داجی کی آواز اور لہجہ رندھ گیا تھا۔
’’ویسی… جیسی ایک گھر سے بھاگی لڑکی کی زندگی ہوتی ہے۔‘‘
’’اس نے ہماری عزت مٹی میں ملادی مگر دل سے کبھی بھی ہم نے اسے بددعا نہیں دی۔ وہ بدنصیب اپنا بویا کاٹ رہی ہے۔‘‘
’’خان …خان …غضب ہوگیا۔‘‘ اچانک تھوڑا سا شور بلند ہوا اور رحمت خان حو اس باختہ سااندر داخل ہوا۔
’’الٰہی خیر۔‘‘ جلال خان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھاتھا۔ میرب بھی گھبرا گئی ۔ کسی انہونی کے احساس نے دل کو جکڑلیا تھا۔ جلال خان کا کمزور دل ا یسی کسی بھی خبر کامتحمل نہیں ہوسکتاتھا۔
’’ہواکیاہے؟‘‘ میرب کی گھٹی گھٹی سی آواز نکلی تھی۔
’’وہ سالار خان…‘‘
’’کیا…کیا ہوا سالار کو؟‘‘داجی گھبراگئے تھے۔ میرب بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھی تھی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں رحمت خان کو خاموش رہنے کی تنبیہہ کی ۔‘‘
’’بولتاکیوں نہیں‘ کیاہوامیرے بچے کو؟ کہاں ہے وہ؟‘‘
’’خان…سالار خان کی لڑائی ہوگئی ہے‘ نوروز اور شمشیرخان کے ساتھ۔‘‘ وہ اٹک اٹک کر بتانے لگا۔
’’کیا؟ کہاں ہے وہ؟ٹھیک ہے نا؟‘‘ جلال خان جیساجی دار بندہ بھی گھبرا گیا۔ ’’میرو…میروبیٹا! یہ کیا کہہ رہاہے؟ سالار ٹھیک تو ہے ناں۔ ہم میں اسے کھونے کاحوصلہ نہیں ہے اب۔‘‘جلال خان اس سمے خوفزدہ بچے کی مانند لگ رہے تھے۔ میرب نے بڑی مشکل سے خود کو کمپوز کیا۔
’’داجی‘ آپ پریشان نہ ہوں۔ سالار ٹھیک ہوں گے انشاء اللہ۔‘‘ وہ جلال خان کو تسلی دینے کے بعد خود باہر آگئی۔ تبھی بیرونی دروازے سے سالار اندر آتادکھائی دیا۔ چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔ سر سے کافی خون بہہ رہاتھااور دایاں بازو بھی شاید زخمی تھا۔ وہ بے دم سا ہو کر قریبی صوفے پر ڈھے گیا۔ اس کے دونوں باڈی گارڈز بھی شدید زخمی تھے۔ ڈرائیور تو موقع پر ہی دم توڑ گیاتھا۔ بڑی مشکل سے سالار ڈرائیو کرکے گھر پہنچا تھا۔ باڈی گارڈز زخمی حالت میں گاڑی میں ہی موجود تھے۔
’’سالار…سالار…آپ ٹھیک ہیں نا؟‘‘ وہ بے اختیار اس کے قریب جابیٹھی تھی۔
’’میں…مم…میں ٹھیک…آہ…درد سے کراہ نکل گئی تو خودبخود میرب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’رحمت خان‘ فوراً گاڑی نکالو اور خان کو لے کر آئو۔‘‘ چوکیدار اور رحمت خان کے سہارے وہ گاڑی تک پہنچا تھا۔ میرب نے فرنٹ سیٹ سنبھال لی تھی۔ گل رانو کو داجی کو کچھ نہ بتانے کی تاکید کرکے وہ ہسپتال چلی آئی تھی۔ دونوں باڈی گارڈز میں سے ایک آئی سی یو میں تھا جبکہ دوسرا قدرے بہتر حالت میں تھا۔ سالار کا دایاں بازو فریکچر تھا‘ ٹانگ پر بھی زخم تھے‘ گولی چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ سر پر چوٹ لگی تھی مگر زخم معمولی تھا۔ میڈیکل ایڈ کے بعد اسے وارڈ میں شفٹ کردیاگیاتھا۔ چند ضروری ٹیسٹوں کے بعد بازو کے فریکچر کے لئے اسے آپریشن تھیٹر لے جایاگیا۔ میرب کا دل ڈوب رہاتھا۔ اسے اسپتال کے یخ بستہ کاریڈور میں فکرمندی سے ٹہلتی میرب احسان پر اس لمحے یہ کھلا تھا کہ سالار آفندی اپنی تمامتر نفرت کے باوجود اس کے لئے بہت اہم تھا۔ یہ اس پر اب کھلا تھا کہ سالار کے لئے اس کے دل میں یہ خاص مقام کیوں تھا؟ کیوں اس نے کبھی بھی اتنی نفرت اور حقارت کے باوجود بھی سالار سے نفرت نہیں کی تھی۔ دل کے اس انکشاف پر وہ خود بھی خوفزدہ سی ہوگئی۔
’’نہیں …یہ غلط ہے۔‘‘ وہ خود کو سرزنش کررہی تھی۔ مختلف سورتوں وآیات کا ورد کرتی وہ سالار آفندی کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ تبھی وہ ٹھٹک گئی۔کاریڈور کے دوسرے سرے پر داجی کھڑے تھے وہ لپک کر ان تک گئی۔
’’داجی…آ…آپ…‘‘
میرو…وہ ٹھیک ہے ناں؟داور تو بے وفا نکلا مگر سالار‘ سالار ایسانہیں ہے وہ قول کاپکا ہے۔ وہ ہمیں چھوڑ کر نہیں جائے گا ناں؟‘‘داجی سخت ہراساں تھے ۔ گل رانو کے روکنے کے باوجود بھی وہ رحمت خان کوفون کرکے گھر بلاچکے تھے اور پھر رحمت خان ہی ا نہیں ہسپتال لے کرآیا تھا۔
’’داجی‘وہ بالکل ٹھیک ہیں۔آپ فکرنہ کریں۔ آئیں ادھر بیٹھتے ہیں۔‘‘ اس نے لہجے کوبشاش بنایااور داجی کا ہاتھ تھام کر کاریڈور میں رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔
سالار کو روم میں شفٹ کردیاگیاتھا۔ فی الحال وہ استھزایا کے زیراثر تھا۔ چہرے پر زردیاں کھنڈی تھیں۔ جانے کتنا خون ضائع ہوگیاتھا۔ سر پر‘ بازو پر‘ سینے پر اور بائیں ٹانگ پر پٹیاں بندھی تھیں۔ خوبرو‘جوان پوتے کو اس حالت میں دیکھ کر جلال خان کا دل کٹنے لگاتھا۔ وہ کافی دیر ایک ٹک اسے بیٹھے دیکھتے رہے۔ میرب کے بارہا کہنے پر بھی وہ گھرجانے پرراضی نہیں ہوئے تھے۔
’’سالار…سالار…بیٹا آنکھیں کھولو۔‘‘ سالار کی پلکوں میں معمولی سی جنبش ہوئی تو جلال خان گویا پھر سے جی اٹھے۔ وہ ذراساکسمسا کر پھر سے خاموش ہوگیا۔ ہسپتال میں صرف ایک بندے کو رکنے کی اجازت تھی۔ داجی گھر چلے گئے تھے اور سالار کے پاس میرب رک گئی تھی۔ رحمت خان گاڑی لئے باہر ہی موجود تھا۔ سالار نیم بے ہوش تھا۔ ڈیوٹی نرس اور ڈاکٹر دو بار آکر دیکھ چکے تھے۔
’’تم اس طرح لیٹے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگتے۔ تم پر تو صرف ایک ہی روپ سجتا ہے‘ اکھڑ اور مغرور سا۔ہر وقت غصے سے پھنکارتا ہوا۔ نوکروں کے لئے دہشت کی علامت اور میرے لئے … میرے لئے تم کیاہو‘ یہ تو میں خود سے بھی چھپانا چاہتی ہوں۔ جانتی ہوں تم مجھ سے بے پناہ نفرت کرتے ہو‘داور کی موت کاذمہ دار مجھے سمجھتے ہو‘ مگر میں پھر بھی تم سے کبھی نفرت نہیں کرسکی۔ سالار آفندی ‘میں نے کبھی خواب نہیں دیکھے کیونکہ جانتی ہوں میرے خوابوں کی کوئی تعبیر ہی نہیں ہے اور تم …تم میر اوہ خواب ہو جومیں بند آنکھوں سے کیا کھلی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ رات کے اس پہر وہ تنہا بیٹھی خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑارہی تھی۔ سالار کے سرہانے ہی اس کی کرسی موجود تھی۔ وہ نیم بے ہوش تھا‘ ا س لئے میرب کواس بات کاڈرنہیں تھا کہ وہ اس کی باتیں سن رہاہوگا۔ دل کا غبار کسی طرح تو نکالنا تھاناں۔
ایک ہفتہ ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ گھر آگیا تھا۔ جب تک وہ ہسپتال میں رہا‘میرب اس کی تیمارداری کرتی رہی مگر رات کو وہ اپنے پاس رحمت خان کو روک لیا کرتاتھا۔ گھر آکربھی وہ خاصا خاموش خاموش ساتھا۔ پہلے کی طرح میرب کو دیکھ کر نفرت سے منہ نہیں موڑتاتھا۔ بس لاتعلق سا رہتاتھا۔ میرب اس تبدیلی کواس کی طبیعت سے محمول کرتی رہی۔ داجی کا سارا وقت عموماً سالار کے ساتھ ہی گزرتاتھا۔ سالار کے باقی زخم تومندمل ہوگئے تھے مگر بازو پرابھی پلاسٹر چڑھاتھا۔ دایاں ہاتھ تھاتو کھانے میں بھی مسئلہ ہوتاتھا۔ اس لئے زیادہ تر داجی اسے اپنے ہاتھ سے کھلایا کرتے تھے۔ اس روز رات کے کھانے پر میرب بھی وہاں موجود تھی‘ داجی کے کہنے پر کھانا سالار کے کمرے میں لگایا گیاتھا اور داجی نے زبردستی میرب کوبھی وہاں روک لیا تھا۔ ناچار اسے بیٹھناپڑا تھا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ سالار اس کا اپنے بیڈروم میں آنا پسند نہیں کرتاتھا۔
’’داجی… میں خود کھالوں گا۔‘‘ شاید وہ میرب کی موجودگی کی وجہ سے تکلف محسوس کررہاتھا۔
’’تم تو یوں جھجک رہے ہو جیسے پہلی بار میرے ہاتھ سے کھانا کھارہے ہو۔ برخوردار انہی ہاتھوں سے نوالے بنابنا کر تم دونوں کو کھلایاکرتاتھا ‘آج جوان ہوگئے تو نخرے دکھارہے ہو۔ چلو‘منہ کھولو۔‘‘ داجی کے دھونس بھرے انداز پر وہ دھیرے سے مسکرایا۔
’’یہ شخص مسکراتے ہوئے کتنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میرب نے ایک لمحے کو اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا۔ اسی پل سالار کی نظریں اس سے ملیں تووہ سٹپٹا کرنظریں جھکاگئی۔ کھانے کے بعد گل رانو برتن سمیٹ رہی تھی جب بالکل غیر متوقع طور پراس نے سالار کو کہتے سنا۔
’’گرین ٹی ملے گی؟‘‘ سالار آفندی اور اتنا نرم لہجہ! پہلے وہ سمجھی کہ اس نے گل رانو سے کہا ہے۔
’’گرین ٹی ملے گی؟‘‘ اس کے دوبارہ کہنے پر میرب نے سر اٹھا کر دیکھاتووہ اسی جانب دیکھ رہاتھا۔ میرب کے لئے تو یہ مقام حیرت تھاہی داجی بھی خوشگوار سی حیرت میں گھرگئے تھے ۔ پہلی بار وہ براہ راست میرب سے مخاطب تھااور وہ بھی اتنے نرم انداز میں۔
’’جی…میں بناتی ہوں۔‘ ‘ وہ حیرت کے جھٹکوں سے نکلی تو اٹھ کر کچن کی جانب چلی گئی۔
’’لگتاہے اس حادثے میں سالار آفندی کی یادداشت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ‘‘ وہ بس سوچ کررہ گئی۔ چائے لے کر اندر گئی تو دونوں دادا اور پوتا کسی بات پر مسکرارہے تھے۔ اسے دیکھ کر سالار کی ہنسی یکلخت تھمی تووہ خود کو مس فٹ محسوس کرتے ہوئے اپنا کپ لے کر کمرے سے باہرچلی آئی۔
ززز
’’السلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہ اپنی مخصوص جگہ پر آج کافی دنوں کے بعد بیٹھی تھی۔ ڈوبتے سورج کو دیکھنا اس کاپسندیدہ مشغلہ جو تھا۔
’’آ…آپ؟‘‘ صارم رضا کووہاں دیکھ کر وہ چونک گئی تھی۔ ’’آپ کب آئے ؟‘‘
’’دو گھنٹے پہلے۔ سالار کے حادثے کا یہیں آکرپتا چلا۔‘‘ پہلے کی نسبت وہ خاصا سنجیدہ اور ریزرو سا لگ رہاتھا۔ شاید وہ اسے داور کی بیوہ سمجھ کر عزت دے رہاتھا۔ وہ محض ایک گہری سانس بھر کررہ گئی۔
’’میری والدہ اور بھابی بھی میرے ساتھ آئی ہیں۔ داجی کے پاس بیٹھی ہیں۔ آپ کا پوچھا تو داجی نے کہا شاید آپ سورہی ہیں مگرمیں جانتاتھا آپ یہاں موجود ہوں گی۔‘‘ بایاں ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈالتے ہوئے وہ پہلی بار دھیمے سے مسکرایاتھا۔ گہری نگاہیں میرب پرجمی تھیں۔
’’میں …اندر جاتی ہوں۔‘‘ وہ جانے کیوں وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ حالانکہ اس کے دل میں چور نہیں تھا وہ صارم رضا میں انٹرسٹڈ نہیں تھی اور نہ ہی کبھی ہوسکتی تھی۔ دل تو… دیوانہ تھا کھیلن کوچاند مانگ بیٹھاتھا۔ جو اس کے بس میں نہیں تھا۔

جس کاملنا دشوار بہت ہے
مجھے اس شخص کا انتظار بہت ہے
خواب جو مجھے اس سے ملادیں
ان خوابوں سے مجھے پیار بہت ہے

ذہن کی پرواز جانے کہاں تک چلی گئی تھی۔ وہ دھیرے سے مسکرائی۔ صارم کی موجودگی یکسر فراموش کربیٹھی تھی۔ تبھی نظر سامنے اٹھی تو گویا پلٹنابھول گئی۔ سالار خان خاصی خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہاتھا۔ صارم خان کی اس کی جانب پشت تھی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بوکھلاگئی۔
وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے واپس بھی پلٹ گیا مگر میرب احسان کے دل کی دنیا تہہ وبالا کرگیا۔ وہ بوکھلائی بوکھلائی سی اندر کی جانب بڑ ھ گئی۔ صارم کی والدہ اور بھابی بڑی شفقت سے ملی تھیں۔ والدہ کا رویہ تھوڑا کھنچا کھنچا ساتھا۔ جسے وہ صحیح طرح سے محسوس بھی نہ کرپائی تھی۔ داجی کے کہنے پر وہ کھانا لگوانے چلی گئی تھی۔ کھانا وغیرہ کھا کروہ لوگ روانہ ہوئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد سے جلال خان گہری سوچ میں گم تھے۔
’’سالار مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ وہ متفکر اور پرسوچ سے انداز میں بول رہے تھے۔
’’داجی‘مجھے بلالیاہوتا‘ آپ نے کیوں تکلیف کی؟‘‘ وہ تعظیماً اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’جب کسی سے کوئی درخواست کرنی ہو تو خود چل کر آناپڑتاہے برخوردار۔‘‘ وہ تھکے تھکے سے لہجے میں کہتے صوفے پر ٹک گئے۔
’’کیسی باتیں کررہے ہیں داجی! آپ حکم کیجئے۔‘‘
’’توسنو!‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوگیا۔
ززز

شب ہجراں کی اذیت کی خبر کس کو ہے
میری گمنام محبت کی خبر کس کو ہے
کس کو احساس میری شدت جذبات کا ہے
میری حالت‘ میری وحشت کی خبر کس کوہے
کون ویران مکانوں کی خبر رکھتا ہے
میری ا جڑی ہوئی قسمت کی خبر کس کو ہے
میں نے چپ چاپ محبت کے ستم جھیلے ہیں
میری اس بے پناہ محبت کی خبر کس کوہے

’’یہ غیر اخلاقی حرکت ہے سالار آفندی۔‘‘ میرب نے ڈائری اس کے ہاتھ سے جھپٹ لی۔
’’آئی ا یم سوری مگر اپنے پرسنلز کو اپنے روم تک محدود رکھا کیجئے۔‘‘ خاصاتند وتیز سالہجہ تھا۔ وہ یونہی لائونج میں چلا آیا تھا جب نظر سینٹر ٹیبل پرپڑی سیاہ جلد والی ڈائری پرپڑی جو کھلی پڑی تھی اور بال پوائنٹ اس پررکھا تھا۔ وہ یونہی اس میں لکھی شاعری پڑھنے لگاتھا۔ میرب اپنے لئے چائے بنانے کچن تک آئی تھی اور شومئی قسمت ڈائری لکھتے لکھتے وہیں کھلی چھوڑ گئی۔ رات کے اس پہر سالار خان جاگ رہاہوگا یہ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔
’’افسوس کہ آپ کی یہ ’’گمنام محبت‘‘ گمنام ہی رہے گی۔‘‘ سالار کے کہنے پر اس نے الجھ کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
’’میں جانتی ہوں۔‘‘ وہ گویا بڑبڑائی تھی مگر سالار نے سن لیا۔
’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم داور کی بیوہ ہو‘ تم نے صارم کی حوصلہ افزائی کیوں کی؟‘‘ وہ اس کی راہ میں حائل ہوگیاتھا۔ ایک لمحے کو تو وہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی تھی۔
’’کیامطلب؟‘‘
’’اتنی معصوم نہیں ہو جتنی بن رہی ہو۔‘‘
’’سالار خان کھل کر بات کریں۔پہیلیاں مت بجھوائیں۔‘‘
’’صارم نے تمہارے لئے اپنا پروپوزل دیاہے کیا میںپوچھ سکتاہوں تم نے اسے اجازت کیوں دی؟ کہاں گئے وہ دعوے کہ تمام عمر داو ر کے نام پر بتادوگی۔ کہاں گئے وہ وعدے وہ جھوٹی تسلیاں جو تم اب تک داجی کو دیتی آرہی تھیں کہ ان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائوگی۔‘‘ اس کی طرف بڑھتے ہوئے وہ بول رہاتھا اور میرب پیچھے کو ہٹتے ہٹتے دیوار سے جالگی تھی۔
’’بولو! میرب احسان ‘ جواب دو۔ ‘‘ دائیں بائیں دونوں ہاتھ دیوار پر ٹکادیئے یوں کہ وہ بالکل اس کے حصار میں آگئی۔ اس کی زندگی میں تین مرد آئے تھے ۔مہران شاہ‘ داور خان اور صارم رضا‘وہ کسی سے بھی محبت نہ کرسکی تھی۔ حتیٰ کہ نکاح کے بعد بھی اسے داور خان سے محبت نہیں ہوسکی تھی۔ہاں وہ اس کی عزت ضرور کرتی تھی کہ وہ اس کی عزت کا رکھوالا ثابت ہواتھا۔ شاید وہ اس سے محبت بھی کرتی اگر شادی ہوجاتی…مگر…وائے قسمت کہ محبت ہوئی بھی تو کس سے؟ اس شخص سے جوشاید اس دنیا میں اس سے سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا اس کی صورت بھی د یکھنا نہیں چاہتاتھا۔ میرب کو پتا بھی نہ چلا اور آنسو اس کے گال بھگوتے چلے گئے۔
’’جانتاہوں‘ یہ آنسو عورت کا سب سے مضبوط ہتھیار ہوتے ہیں مگر تم…تم جیسی عورتیں…‘‘
’’مجھ جیسی عورتیں؟ کیسی عورت ہوں میں؟ کیا کیاہے میں نے ؟ آخر کیابگاڑا ہے میں نے آپ کا؟‘‘ وہ تڑپ کر اس کے حصار سے نکلی تھی۔ ’’جانتی ہوں آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں‘ مگر کیوں کرتے ہیں؟یہ جاننے کاحق توہے ناں مجھے ۔ مجھ میں کونسی خرابی دیکھ لی ہے آپ نے ؟میرے کردار پر آپ کو شک ہے‘ مجھ سے بے پناہ نفرت ہے‘ آپ کے خیال میں داور خان کومیں نے پھنسایا یاانہیں مجبور کیا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ بھگا کر لے آئیں؟ یا داور خان میری وجہ سے مرگئے؟ آج آپ مجھے ایک بار میرے تمام قصور بتادیجئے ۔ میر خطائیں جن کی وجہ سے میں معتوب وقابل نفرین ٹھہری۔ رہی بات صارم رضا کی‘ تو میں نہیں جانتی اس نے ایسا کیوں کیا؟ ویسے آپ کو تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟ آپ تو خود چاہتے ہیں ناں کہ میں اس گھر سے چلی جائوں تو پھر چاہے وہ صارم رضا ہو یا کوئی ایکس وائی زیڈ‘ آپ کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوناچاہئے۔‘‘ وہ بولنے پر آ ئی تو بولتی چلی گئی۔
’’اول تو میں نہیں جانتی صارم رضا نے میرے لئے اپنا رشتہ کیوں بھجوایا‘ اگرایساہے تو ٹھیک ہے مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔‘‘ وہ پلٹی تو ایک لمحے کو ساکت رہ گئی۔ جلال خان وہاں موجود تھے۔ وہ کب سے وہاں کھڑے تھے۔ یہ وہ نہیں جانتی تھی۔ وہ اپنے آنسوئوں کو پونچھتی خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔ جلال خان اور سالار آفندی ایک دوسرے کو دیکھ کررہ گئے۔
’’تو پھر تم نے کیا سوچا ہے؟‘‘ جامد خاموشی کوجلال خان کی بھاری آؤاز نے توڑا تھا۔سالار خان نے ایک نظر سامنے میز پررکھی سیاہ جلد والی ڈائری پر ڈالی۔
’’ٹھیک ہے داجی‘ آپ صارم کی والدہ سے خود ہی مناسب طریقے سے بات کرلیجئے گا۔‘‘ وہ تھکے تھکے سے انداز میں کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
ززز
رات آنکھوں میں کٹی تھی مگر وہ بالکل نہیں روئی تھی۔ آنکھیں بالکل خشک تھیں کیونکہ وہ اب تک اتنا رو چکی تھی کہ اب تو آنسو بھی بیزار ہو کر کب کااس سے دامن چھڑا کرجاچکے تھے۔نماز پڑھنے کے بعد کتنی ہی دیر وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہی پوپھوٹنے لگی پھر سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمکنے لگا۔وہ تب بھی اپنے کمرے میں بند رہی۔
’’بی بی …‘‘ گل رانو نے دروازہ بجا کردھیرے سے پکاراتھا۔
’’آجائو۔‘‘اس نے قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ کر آنکھوں سے لگایا۔
’’بی بی‘ وہ بڑے خان…‘‘
’’کیاہواداجی کو؟‘‘ وہ گھبراگئی۔
’’وہ جی کچھ نہیں کھارہے‘ چھوٹے خان کوبھی ڈانٹاہے۔‘‘
’’اوہ ۔‘‘ وہ تاسف میں گھر گئی۔ روزانہ داجی کو ناشتہ دینا اور ساتھ ساتھ اخبار پڑھ کر سنانا اس کا معمول تھا۔ آج جانے یہ سب کیوں بھول گئی تھی۔ وہ شرمندہ شرمندہ سی ان کے کمرے میں داخل ہوئی‘ تو وہاں سالار خان ہاتھ میں سوپ کاپیالہ لئے داجی کی منتیں کرتانظر آیا۔
’’مجھے دیجئے۔‘‘ اس نے بنا کچھ کہے سنے سالار کے ہاتھ سے پیالہ لے لیا۔ ’’گل رانو‘ اخبار لائو آج کا۔ ‘‘ وہ اب ان کے قریب بیٹھ گئی۔ سالار اٹھ کر سامنے رکھی کرسی پرجابیٹھا تھا اس نے دیکھا کس طرح داجی نے بنا کسی حیل وحجت کے میرب کے ہاتھ سے نہ صرف وہ سارا سوپ پی لیاتھا بلکہ دوابھی لے لی تھی۔ میرب اب انہیں اخبار پڑھ کر سنارہی تھی اور داجی ملکی حالات پر تبصرے کررہے تھے۔
’’داجی میں چلتاہوں اب۔‘‘ سالار کچھ مطمئن سا ہو کر وہاں سے نکل آیا۔ نکلتے نکلتے ایک اچٹتی سی نظر میرب احسان پر ڈالی جو پوری طرح اخبار کی طرف متوجہ تھی۔
’’شام تک سارا بندوبست ہوجانا چاہئے۔‘‘ جلال خان نے سالار سے کہا تھا جس پروہ سرہلا کرباہر نکل گیاتھا۔
’’میروبیٹا‘ کیامجھے اتنا اختیارہے کہ میں ایک باپ بن کر تمہاری زندگی کا فیصلہ کرسکوں۔‘‘
’’داجی‘ ایسا کہہ کر آپ نے مجھے ایک پل میں پرایاکردیا۔ آپ کا ہرفیصلہ سرآنکھوں پر۔ ‘‘
’’جیتی رہو۔ تم نے مجھے اتنا مان دے کرمیرا سرفخر سے بلند کردیاہے۔‘‘ فرط جذبات میں داجی نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیاتو اس کی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی۔
’’آج شام کو تمہارا نکاح ہے۔‘‘ داجی کے کہنے پر وہ چونکی نہ حیرت میں مبتلاہوئی۔
’’تو تم جیت گئے سالار آفندی ‘تمہاری نفرت جیت گئی اور میری محبت ہار گئی۔ تم نے ٹھیک ہی کہاتھا کہ میری یہ محبت ہمیشہ گمنام ہی ر ہے گی اور میں اس گمنام محبت کی مرقد کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے دل کے کسی کونے میں گم کردوں گی تاکہ صارم رضا تک اس کی آنچ بھی نہ پہنچے اور میں پوری ایمانداری سے یہ نیارشتہ نبھاسکوں۔ اس نے آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسوئوں کو حلق میں اتار دیاتھا۔
ززز
اس کی آنکھ کھلی تو کافی دیر وہ چکراتے سر کے ساتھ چت لیٹی رہی۔ کمرے میں زیرو پاور کے بلب کی مدھم سی روشنی تھی۔ ایک لمحے کو تو وہ خالی الذہنی کی کیفیت میں بیٹھی رہی۔ کشادہ سا بیڈروم جس کے وسط میں پڑے جہازی سائز بیڈ کے ایک کونے پر وہ لیٹی تھی۔ گہرے سبز دبیز پردے اور میچنگ کارپٹ آف وائٹ صوفہ اور بیڈ ‘ اس کاسربھاری بھاری ہو رہا تھا۔
’’میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے ذہن پر زور ڈالنے کی کوشش کی۔ اسے یاد آیا وہ صبح سویرے حسب معمول واک کے لئے نکلی تھی۔ سب سو رہے تھے‘ داجی بھی خلاف معمول فجر کی نماز کے بعد دوبارہ سوگئے تھے۔ شام کو نکاح کی چھوٹی سی تقریب تھی اور اگلی صبح یہ حادثہ ہوگیا۔ حادثہ ؟ میرب کی حسیات ایک ایک کرکے بیدار ہونے لگی تھیں۔ وہ واک کرتے کرتے کافی دور نکل گئی تھی۔ جب اچانک نیلی پجارو اس کے قریب رکی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی‘ اس کے منہ پر رومال رکھ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسے کوئی ہوش نہیں رہاتھا۔
وہ بمشکل تمام چکراتے سر کو تھام کر اٹھ کرکھڑکی تک گئی تھی۔ پردے ہٹائے تو باہر ڈھلتی شام کا منظر تھا۔ وہ شاید اوپری منزل پر تھی۔ گیٹ پر دو مسلح پہرے دار تھے۔
’’یااللہ! میں کہاں ہوں؟‘‘ وہ دھک سے رہ گئی تھی۔ دفعتا! وال کلاک نے شام کے سات بجنے کا اعلان کیا ۔ صبح چھ بجے وہ گھر سے نکلی تھی۔ ’’اوہ میرے اللہ‘ مجھے گھر سے نکلے ہوئے بارہ گھنٹے ہونے والے ہیں۔داجی کتنے پریشان ہوں گے۔‘‘ اسے دل ڈوبتا ہوامحسوس ہوا۔تبھی کلک کی آواز سماعتوں میں ٹکرائی تووہ چونک کرپلٹی۔ دروازہ کھول کر اندر آنے والا شخص میرب کے اوسان خطا کرگیا۔خوف‘حیرت کے ملے جلے تاثرات میں گھری وہ گنگ رہ گئی۔
’’میں نے کہاتھا ناں کہ مرتے دم تک تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ اس کے مقابل آکھڑاہواتھا۔ ’’ویسے ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ تم بزدل نہیں ہو‘ جبھی اتنی جرات سے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہوگئیں۔ ‘‘بولتے بولتے اس کے لہجے میں خون اتر آیاتھا۔ میرب نے اس لمحے خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کیا۔
’’تم نے سوچاتھا اس طرح بھاگ کر تم مہران شاہ سے جان چھڑالوگی‘ تو تم غلطی پر تھیں سویٹ ہارٹ۔‘‘ مہران شاہ نے اس کے چہرے کو بائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
’’ڈونٹ ٹچ می۔‘‘ میرب نے اس کاہاتھ پرے کیا۔
’’کیوں؟ میرے چھونے پر اتنی تکلیف کیوں؟ جس کے ساتھ بھاگی تھیں…‘‘
’’شپ اپ‘بند کرو یہ بیہودہ بکواس۔‘‘ وہ چلائی۔
’’اوہ …بڑی لمبی زبان ہوگئی ہے۔‘‘مہران شاہ نے اسے گھورا۔
’’مگر مہران شاہ کو ا یسی لمبی زبانیں گدی سے کھینچ لینا بھی آتاہے۔‘‘ مہران نے اس کے بالوں کو جکڑ کر پیچھے کی طرف جھٹکادیا۔ ’’جی تو کرتاہے تجھے یہیں زندہ گاڑ دوں مگر نہیں …ابھی توتجھ سے کچھ حساب کتاب بھی چکتا کرنا ہے۔‘‘ وہ خباثت سے مسکرایاتو میرب جی جان سے لرز کر رہ گئی۔مہران شاہ اس پرجھکا‘ اس کی سانسوں کی تپش میرب کے چہرے کوجھلسائے دے رہی تھی۔ تبھی اس کا موبائل بج اٹھا۔ وہ چونک کر دورہٹا‘ میرب کو دھکا دینے کے انداز میں بیڈ پر گرادیااور خود فون سننے لگا۔
’’جی باباسائیں‘ یہیں ہے۔‘‘ دوسری طرف یقینا سبحان شاہ تھے۔ ’’مگر…اتنی جلدی…ابھی تو…جی بہتر…میں آتاہوں۔‘‘ فون بند کرکے وہ اس کی طرف پلٹا‘ ’’چلومیرے ساتھ۔‘‘ بازو سے پکڑ کر تقریباً گھسیٹنے والے اندا ز میں وہ اسے لے کرباہر نکلا تھا۔مہران شاہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گیاتھا۔ واپسی پر ایبٹ آباد میں کسی کام سے ایک دو دن ٹھہرناپڑاتھا۔ اور تب اس کی نظر میرب پرپڑی تھی‘تنہا‘ سوچوں میں گم وہ صبح سویرے سڑک کے کنارے چلی آرہی تھی۔ مہران شاہ نے لمحوں میں فیصلہ کیاتھا۔ میرب کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ جس کی تلاش میں وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے خوار ہو رہاتھا۔ قدرت نے خودبخود اسے اس کے سامنے لاکھڑا کیاتھا۔ سبحان شاہ کی دلچسپی میرب سے زیادہ جائداد کے اس بڑے حصے میں تھی جو میرب کے نام تھا۔ احسان شاہ کی وصیت کے مطابق ان کی ساری جائداد کی وارث میرب اور بعد میں اس کی اولاد ہوگی۔ خدانخواستہ میرب کے انتقال کی صورت میں جبکہ اس کی کوئی اولاد نہ ہو یا شادی نہ ہوئی ہو‘ تو ساری جائداد ٹرسٹ کو دے دی جائے گی۔ احسان شاہ نے بہت پہلے ہی یہ وصیت تیار کروادی تھی۔ شاید وہ اپنے بڑے بھائیوں کی فطرت سے بخوبی واقف تھے۔ صرف اسی وجہ سے سبحان شاہ میرب کوزندہ تلاش کررہے تھے تاکہ جائداد کے کاغذات پر اس کے دستخط کروائے جاسکیں اور کاری کرنے کا ڈرامہ تو محض لوگوں کی زبانیں بند کرنے کے لئے رچایا جارہاتھا۔
میرب کو حویلی کے تہہ خانے میں قید کردیاگیاتھا۔ حویلی میں سب کومیرب کے آنے کی خبر ہوچکی تھی۔ مگر کسی کو بھی اس سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ ’’یااللہ! ہربار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟خوشیاں میرے دروازے پر دستک دیتے ہی واپس لوٹ جاتی ہیں۔‘‘ رو رو کر اس کابراحال تھا۔ ابھی تو خوشیوں بھری زندگی کی راہ پر پہلا قدم ہی رکھاتھا کہ …

کسی سے پیار کرتاہوں تو ہمیشہ ہار جاتاہوں
میں جتنی بار کرتاہوں ہمیشہ ہار جاتاہوں
کبھی کسی محفل میں وفا کی گفتگو پر جب
تکرار کرتاہوں توہمیشہ ہار جاتاہوں
کہ شاید اس دفعہ کوئی مجھے اپنابنالے
ہمیشہ پیار کرتا ہوں ہمیشہ ہار جاتاہوں
ابھی ابھی تو اس دشمن جاں نے اسے قبول کیا تھا…
ابھی تو اس نے مسکرانا سیکھا تھا…
ابھی تو اسے دل کا حال بھی سناناتھا…
ابھی تو اسے اپنی محبت کایقین بھی دلاناتھا
ابھی تو نفرت کے پودے کو جڑ سے اکھاڑنابھی تھا۔
ابھی تو…کتناکچھ کرناتھا‘

ابھی تو سب کچھ ویسے ہی پڑا تھا۔ نامکمل اور ادھورا! تو کیا میں واقعی میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی حاصل کرنے سے پہلے ہی اس سے محروم کردی گئی ہوں؟ سوچیں ‘سوچیں ‘سوچیں…ہر طرف ایک ہی چہرہ …ہر طرف اسی کی تصویر…اسے لگا وہ پاگل ہوجائے گی یااسی عقوبت خانے میں جان کی بازی ہار جائے گی۔ رات سے لے کر اگلے دن دوپہر تک وہ سجدے میں گری زاروقطار روتی رہی تھی۔ مہران شاہ نے اسے لاکر یہاں قید کردیاتھا۔ سبحان شاہ یا فیضان شاہ میں سے ابھی کوئی یہاں نہیں آیا تھا۔رات کے کسی پہر کھٹکا سا ہواتووہ چونکی ‘ زرد بلب کی ملگجی سی روشنی میں ایک سایہ دھیرے دھیرے چلتا اس تک آیا تھا۔ میرب نے نظر اٹھا کر دیکھا تو بمشکل خود کو کچھ کہنے سے روکا تھا۔
’’تا…تائی جان۔‘‘ نیم مردہ وجود میں جان سی پڑنے لگی تھی۔
’’میرب‘ میری جان…تم…تم دوبارہ کیسے آگئیں۔‘‘ زرمینہ نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
’’تائی جان… میں بہت بدقسمت ہوں‘ بہت زیادہ… وہ رو دی تھی ۔
’’تم تھیں کہاں؟ تم نے تو کہا تھا اپنے ماموں کے پاس دبئی چلی جائوگی پھر یہاں کیسے؟‘‘
’’ماموں کا پرانا نمبر میرے پاس تھا ‘مگر وہاں رابطہ کرنے پرپتاچلا کہ وہ تو کب کے سب کچھ بیچ کر کسی دوسرے ملک شفٹ ہوگئے تھے۔‘‘
’’توپھر تم کہاں رہیں؟‘‘
’’قسمت نے مجھے جہاں پہنچادیاتھا‘ وہاں رہتے ہوئے میں خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھنے لگی تھی۔ جانتی ہیں وہاں مجھے سب کچھ ملا‘ عزت‘ محبت ‘ وقار‘ جینے کی امنگ‘ باپ جیسی شفقت اور …اور…‘‘ وہ ایک بار پھر رو دی تھی۔
’’تو تم مہران شاہ کو کہاں سے مل گئیں؟‘‘
’’تائی جان…بدقسمتی کبھی بتا کر تھوڑا آتی ہے ۔‘‘ ایک سر د آہ لبوں سے خارج ہوئی۔ وہ کل سے بھوکی تھی مگر بھوک کااحساس ہی گویا مرگیاتھا۔ پانی کو ترسے لب خشک ہورہے تھے۔ جن پر وہ بار بار زبان پھیر رہی تھی۔ زرمینہ نے دیکھا کھانا جوں کاتوں رکھاتھا۔
’’میری جان… اس طرح بھوکے رہ کرتم ان لوگوں کا مقابلہ کیسے کرپائوگی؟ کچھ کھالو۔‘‘
’’تھوڑا سالے لومیری جان۔ شاباش منہ کھولو۔‘‘ زرمینہ لقمے بنا بنا کر اس کے منہ میں د ینے لگیں او روہ چپ چاپ کھائے گئی۔
’’تائی جان…آپ مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتی ہیں؟‘‘ کھانے سے فارغ ہو کر اس نے پوچھا تو زرمینہ دھیرے سے مسکرادیں۔
’’پتہ نہیں بس شروع سے ہی تمہیں دیکھ کرمجھے پیار آتاتھا۔‘‘
’’میں بتائوں کیوں؟‘‘
’’بتائو‘‘
’’آپ جانتی ہیں میں اتنے دن کہاں رہی؟ مجھے کس شخص کے ساتھ دیکھ کر قتل کرنے کا شور مچایاگیا؟داور آفندی! جلال خان آفندی کاپوتااور یاور آفندی کابیٹا‘ اور آپ کا سگا بھتیجا۔‘‘
’’تت…تم…‘‘ ایک لمحے کو زرمینہ گنگ رہ گئیں۔
’’ہاں تائی جان‘ میرے سر پر دست شفقت رکھنے والے داجی ‘ آپ کے داجی۔‘‘
’’کیسے …ہیں وہ؟‘‘ کافی دیربعد زرمینہ بولنے کے قابل ہوئیں۔ آنکھوں سے سیل رواں ہوگیا۔
’’پے درپے صدمات نے انہیں کافی کمزور کردیاہے۔ پہلے بیٹااور بہو‘ پھرآپ اور پھر…پھر داور…‘‘
’’کیا…کیا کہہ رہی ہو ؟ کیا ہوا داور کو؟‘‘ زرمینہ کو لگا ان کا دل پھٹ جائے گا۔ ان کا وہ گل گوتھنا سا‘ سرخ وسپید بھتیجا‘ انہیں بہت پیارا تھا۔ وہ چھ برس کاتھااور سالار چار برس کا جب وہ فیضان شاہ کے ساتھ وہاں سے بھاگ کر آئی تھیں اور اپنی اس ایک غلطی کا خمیازہ اب تک بھگت رہی تھیں۔
’’ان نام نہاد غیرت مندوں نے اس معصوم شخص کو مار ڈالا۔ وہ بہت اچھے انسان تھے۔ بہت پیار کرنے والے‘ عزت کرنے والے۔‘‘ داور کا ذکر وہ بڑی عقیدت سے کررہی تھی۔
’’نہیں …دور…‘‘ زرمینہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں۔ کافی دیر وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتی رہی تھیں۔ جانے کون کون سے دکھ ان کے دلوں میں تھے جو آنسو بن کربہہ رہے تھے۔
’’تائی جان…مجھے کسی طرح یہاں سے نکالئے۔پلیز تائی جان۔‘‘
’’میرب…میری جان‘ تم فکرنہ کرو‘ میرے بس میں جو ہوامیں کروں گی۔ میرے میکے کی عزت ہو تم۔ تمہاری حفاظت میں اپنی جان پرکھیل کربھی کروں گی۔ بس تم کسی پرظاہر نہ ہونے دینا کہ تمہارا میرے میکے والوں سے کوئی تعلق ہے۔‘‘
’’تائی جان… آپ…آپ پلیز سالار کو کسی طرح یہاں کاپتا…نہیں نہیں …وہ یہاں آیا تو یہ لوگ اسے بھی …نہیں نہیں…‘‘ وہ خوفزدہ سی ہو کر اپنی ہی بات کی نفی کر نے لگی۔
’’سالار بہت ہوشیار بچہ ہے‘ تم مجھے اس کا فون نمبر دو۔ میں طریقے سے اسے بتائوں گی۔‘‘
’’تائی جان اگر کسی کو پتا چل گیاکہ آپ میرے پاس…‘‘ اس کا دل واہموں اور خدشات کی آماجگاہ بناہواتھا۔
’’کچھ نہیں ہوتا۔ مردوں میں سے اس وقت گھر پر کوئی نہیں ہے۔ بھابی شہر بانو بھی اپنے بھائی کے گھر گئی ہوئی ہیں۔ رہے ملازم‘ تو انہیں خاموش کر وانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ تم مجھے نمبر بتائو۔‘‘ میرب نے انہیں سالار کے دونوں نمبر بتادیئے۔ زرمینہ اس کے لئے اندھیرے میں روشنی کی کرن بن کر آئی تھیں۔
ززز
’’آپ تہہ خانے میں کیا کررہی تھیں ؟‘‘ زرمینہ اوپر آئیں تو مہران شاہ سے ٹاکراہوگیا۔ اس کا لہجہ تندوتیز ساتھا۔ زرمینہ ایک لمحے کو گھبراسی گئی پردوسرے ہی لمحے خود پرقابوپالیا۔
’’سکھاں (ملازمہ) بتارہی تھی میرب کھانا نہیں کھارہی۔ میں نے کہا خودجاکر زبردستی کچھ کھلائوں۔ کہیں مرمراگئی تو ہمارا توبنابنایاکھیل بگڑ جائے گا۔‘‘
’’اوہ… اچھا…توپھر کچھ کھایا اس نے ؟‘‘
’’ہاں …بڑی مشکل سے چند لقمے لئے ہیں۔ بس اب جلد ہی کوئی فیصلہ کرلو۔ کیوں رکھا ہوا ہے اسے ابھی تک یہاں۔‘‘
’’تائی اماں ‘ بس آج کی رات‘ کل صبح جرگے کے سامنے اسے قتل کردیاجائے گا۔‘‘ وہ مونچھوں کو تائو دینے لگاتو زرمینہ نے دل ہی دل میں اس پرلعنت بھیجی۔
’’مگر اس کے مرنے کے بعد تو ساری جائداد…‘‘
’’اس کا بھی بندوبست کردیاہے میں نے۔‘‘ وہ خباثت سے دانت نکوسنے لگا۔
’’وہ کیا؟‘‘ زرمینہ بے ساختہ پوچھ بیٹھی تھیں۔ مہران شاہ نے بڑی عجیب سی نظروں سے انہیں دیکھا۔
’’آپ اتنی دلچسپی کیوں لے رہی ہیں؟ میں نے تو سنا تھامیرب آپ کو بہت پیاری ہے پھر اس کے مرنے کی آپ کو اتنی جلدی کیوں ہے؟‘‘ وہ بھی ایک کائیاں تھا۔ زرمینہ داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں۔
’’مجھے بھلا اس سے ہمدردی کیوں ہونے لگی۔ تم نے نہیں بتانا‘ نہ بتائو‘ جوہوگا سب کے سامنے آجائے گا۔‘‘ وہ خود کو لاتعلق ظاہر کرتیں آگے بڑھ گئیں۔ مہران شاہ پرسوچ انداز میں انہیں جاتا دیکھتا رہاپھر سرجھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
شیکسپیئر نے کہاتھا کہ ’’محبت کی تکمیل یہ نہیں کہ جب دو لوگ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگیں‘ محبت کی تکمیل تویہ ہے کہ جب ایک نظر انداز کرے اور دوسرا پھر بھی اسے چاہے جائے۔ اپنی زندگی کی آخری سانس تک۔‘‘ اور مجھے بھی…یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں سالار آفندی کی محبت میں بری طرح گرفتار ہوچکی ہوں۔ جانتی ہوں وہ مجھ پر ایک نظر بھی ڈالنے کا روادار نہیں ہے۔ مجھ سے شدید نفرت کرتاہے۔ اس کے باوجود بھی میرا دیوانہ دل اس کی جانب ہمکتاہے۔اپنے دل کی اس گستاخی پرمیں نے بارہا اس کی سرزنش کی ہے مگر یہ دل ہے کہ مانتاہی نہیں۔
ایک اور جگہ لکھا تھا۔

میں بھول جائوں تمہیں
اب یہی مناسب ہے
مگر بھلانا بھی چاہوں تو کس طرح بھولوں
کہ تم توپھر بھی حقیقت ہو
کوئی خواب نہیں
یہاں تو دل کا یہ عالم ہے کیا کہوں
بھلانہ پایا‘ یہ وہ سلسلہ
جو تھاہی نہیں
وہ اک خیال
جو آواز تک گیاہی نہیں
وہ ایک بات
جو میں کہہ نہیں سکی تم سے
وہ ایک ربط
جوہم میں کبھی رہاہی نہیں ۔
مجھے ہے یاد وہ سب
جو کبھی ہوا ہی نہیں

سالار کو لگا صفحہ قرطاس پربکھرے یہ موتی‘ یہ الفاظ‘ الفاظ نہیں اس کے اپنے دل کی بھی آواز ہیں۔ دو دن سے میرب کا کچھ پتانہیں تھا۔ داجی پریشانی میں بستر سے جالگے تھے۔ ان کی ایک ہی رٹ تھی کہ میری میرو کو لے آئو‘ میں جانتاہوں اسے اس کے تایانے اغواء کیاہے۔‘‘ اور وہ بے بس ساہوجاتا۔ میرب احسان کی یہ ڈائری وہ پوری پڑھ چکاتھا۔ تھی تو غیراخلاقی حرکت مگر اس میں جو انکشاف تھا وہ سالار آفندی کی زندگی کے لئے شاید سب سے بڑا سچ تھا۔
میں‘ سالار خان آفندی‘ شروع سے ہی خاصا اکھڑ اور بدمزاج مشہور تھا۔ داور کامزاج مجھ سے بہت مختلف تھا۔ ماں باپ کے بعد داجی ہی ہمارے سب کچھ ہیں۔ داور کی اچانک موت نے میرے حواس مختل کردیئے تھے۔ جان سے پیارے بھائی کی دائمی جدائی نے میرے اندر سناٹے سمادیئے تھے۔ میرب احسان‘ بے ضرر سی لڑکی تھی۔ مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ اس لڑکی کی وجہ سے میرا بھائی مارا گیا ہے تو تب مجھے میرب احسان سے اتنی نفرت محسوس ہوئی کہ جی چاہا اس کو دھکے دے کر گھر سے نکال دوں۔ جانے کون تھی اور کہاں سے آئی تھی‘ داور کو اس سے ہمدردی مہنگی پڑگئی تھی۔ پتانہیں اس نے داجی پر کیا جادو کیا تھا کہ وہ اس کی خاطر مجھ سے بھی الجھ پڑتے تھے‘ دن بدن مجھے اس لڑکی سے نفرت ہوتی جارہی تھی اور وہ تھی کہ روز بروز داجی کی کمزوری بنتی جارہی تھی ۔ داور کی منگیتر پلوشے کے بھائیوں نے ایک روز اچانک مجھ پرحملہ کردیاتھا۔ جانے وہ لوگ کونسی دشمنی پالے بیٹھے تھے۔ اور تب مجھ پر انکشاف ہوا کہ داور کو مروانے میں بھی انہی لوگوں کا ہاتھ تھا۔ بہن کی خودکشی کاسبب وہ ہم لوگوں کو سمجھتے تھے۔ حالانکہ رشتہ توڑنے کی بات بھی ان لوگوں نے خود ہی کی تھی۔ اس قاتلانہ حملے میں میں بچ تو گیامگر دل ودماغ بدلنے لگے تھے۔ میرب احسان بالکل اچانک مجھے اچھی لگنے لگی تھی۔ وہ لمحہ‘ جب میرے زخمی ہونے پر وہ پریشان ہو کر میرے قریب آئی تھی‘ اس سمے اس کی آنکھوں میں کتنی فکراور پروا تھی۔ صرف میرے لئے …اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ‘میرے لئے۔ جب تک میں ہاسپٹل میں رہا وہ میری تیمارداری کرتی رہی اور ایک رات مجھے سوتا سمجھ کر اس نے اپنا حال دل بیان کیاتو میں ششدر ر ہ گیا۔ یقین کی مہر تب ثبت ہوئی جب میں نے اسے صارم رضاکے ساتھ کھڑے دیکھا۔اس سمے مجھے شدید جیلسی محسوس ہوئی۔ جی چاہا صارم کو وہاں سے ہٹادوں اور جب داجی نے بتایا کہ میرب کے لئے صارم رضا نے اپنا رشتہ بھیجا ہے تو میں ایک لمحے کوسناٹوں کی زد میں آگیا۔
’’داجی‘ میرب ہماری غیرت ہی‘ ہماری عزت ہی‘ اس کی شادی کا آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟‘‘ میں خود بھی نہیں جانتاتھا یہ ا لفاظ میرے لبوں سے کیسے نکلے۔داجی نے بڑی جانچتی نگاہوں سے مجھے د یکھا‘ جیسے کہہ ر ہے ہوں ’’بڑی جلدی خیال آگیا کہ وہ اس گھر کی عزت ہے۔‘‘ میں بے ساختہ نظریں چرا گیا۔
’’اس کے آگے پہاڑ کی سی زندگی پڑی ہے جب تک میں زندہ ہوں ‘تب تک تووہ یہاں رہ سکتی ہے مگر میرے بعد وہ در در کی ٹھوکریں کھاتی پھرے‘ یہ ہمیں گوارا نہیں ہے۔ ہم اپنی زندگی میں ہی اس کے فرض سے سبکدوش ہوجانا چاہتے ہیں۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنے بڑے بڑے دکھ دیکھے ہیں بچی نے۔‘‘
’’داجی …مگر…صارم رضا…‘‘ میں کچھ الجھ ساگیا تھا۔ دل جانے کیوں یہ سب قبول نہ کرپارہاتھا۔
’’کیااگر مگر…صارم رضا میں کیا برائی ہے‘ اچھا‘ دیکھا بھالا لڑکاہے۔ خاندان بھی ٹھیک ہے مگر… اس کی ماں مجھے دل سے رضامند نہیں لگ رہی تھی۔ خیر…لڑکا تو راضی ہے ناں۔ ماں بھی راضی ہوجائے گی۔ میرو تو اتنی اچھی بچی ہے کہ کوئی اس سے خفا رہ ہی نہیں سکتا۔ سوائے تمہارے۔‘‘
’’افوہ…داجی …آپ…‘‘ میں جھلاگیا۔
’’تم کیوں اتنی اہمیت دے رہے ہو میرب احسان کو۔ تمہارے سر سے تو بلاٹلی۔ تم تو خود ہی چاہتے تھے ناں کہ وہ اس گھر سے چلی جائے۔ پھر اب ا یسا کیوں کررہے ہو؟ اور تب میں لاجواب ساہو کر وہاں سے چلاگیا۔چند روز تک عجیب سی کشمکش میں مبتلا رہا۔ میرب کے چہرے پر کسی بھی قسم کاتاثر نہیں تھا۔ وہ خوش تھی نہ اداس ‘ تب میں اس سے الجھ پڑا تو وہ بھی گویاپھٹ پڑی اور پہلی بار اس کے آنسو میرے دل پر گر رہے تھے اور تب داجی نے مجھ سے التجا کی کہ میں میرب سے نکاح کرلوں۔ اپنے بوڑھے دادا کایہ التجائیہ انداز دیکھ کر میں ندامت سے زمین میں گڑ گیا۔ گویا میں اتنا بدتمیز اور اکھڑ ہوں کہ میرے دادا کوبھی مجھے حکم نہیں بلکہ درخواست کرنی پڑی اور تب میں نے تمام فیصلوں کااختیار داجی کوسونپ دیا۔ میں نے دیکھا داجی کی آنکھیں فرط جذبات سے چمکنے لگی تھیں۔ وہ بے تحاشا خوش تھے اور میں ان کی خوشی میں ان سے زیادہ خوش تھا۔
’’ٹرن …ٹرن …‘‘ فون بجنے پر میں خیالات کی یورش سے باہر نکلا۔
’’السلام علیکم…جی…سالار آفندی بول رہاہوں‘‘
’’کون زرمینہ گل؟ پھوپو؟‘‘
’’واٹ؟آپ مجھے پتہ لکھوائیے۔‘‘ رائٹنگ پیڈ پر وہ دوسری طرف سے لکھوایا جانے والا پتہ لکھنے لگا۔ یوں لگا گویا بدن میں جان پڑنے لگی ہو۔
ززز
’’میں کہتا ہوں سیدھی طرح میرب کومیرے حوالے کردیں آپ لوگ۔‘‘ سالار خان کے لہجے میں اژدھے کی سی پھنکار تھی۔
’’وہ یہاں سے نہیں جائے گی۔ تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ چپ چاپ واپس لوٹ جائو۔‘‘ مہران شاہ غرایاتھا۔
’’میں میرب کو لے کرہی یہاں سے جائوں گا۔‘‘ سالار خان آگے بڑھا۔’’چلو میرب‘‘ حواس باختہ کھڑی میرب کا بازو تھام کر کھینچا۔
’’تم اسے یہاں سے نہیں لے جاسکتے۔‘‘ مہران شاہ نے میرب کا دوسرا بازو تھام کر اپنی طرف کھینچا تو سالار آفندی کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
’’میں دیکھتا ہوں کون روکتاہے مجھے۔‘‘
’’رک جائو… ورنہ میں تمہیں شوٹ کردوں گا۔‘‘ مہران شاہ نے ریوالور سالار خان پر تان لیاتومیرب جی جان سے لرز گئی۔
’’ہم ان کھلونوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ سالار کا لہجہ اٹل تھا۔ وہ میرب کابازو تھام کر آگے بڑھا۔
’’ٹھاہ ٹھاہ …ٹھاہ…‘‘یکے بعد دیگرے تین فائر ہوئے تھے۔
’’نہیں …‘‘میرب زور دار چیخ مار کر اٹھ بیٹھی تھی۔ پورا جسم پسینے میں شرابور ہو رہا تھا۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ تنفس تیز تر ہورہاتھا۔
’’یااللہ‘ یہ کیسا خواب تھا۔‘‘ وہ سہم گئی تھی۔’’تائی جان…ہاں میں تائی جان کومنع کردوں گی وہ سالار کوفون نہ کریں۔ پہلے میری وجہ سے داور…اور اب سالار…نہیں‘ نہیں … میں خود کو قربان کرڈالوں گی مگر داجی کو اور دکھ نہیں سہنے دوں گی۔‘‘ مارے اضطراب کے اس کابے چین دل سینے کی دیواروں سے ٹکرانے لگا اور وہ بے بس سی اسی قیدخانے میں محض پھڑپھڑاکررہ گئی۔
صبح تک وہ سجدے میں گری خدا سے رحم کی بھیک مانگتی رہی۔ سالار کی سلامتی کی دعائیں‘ اپنی عزت کی بقا کی دعائیں۔ داجی کی خوشیوں کے دوام کی دعائیں‘ رو رو کر آنکھیں سوج گئی تھیں۔ زرمینہ پھر دوبارہ وہاں آئی ہی نہیں تھیں۔ تبھی فیصلے کی گھڑی آن پہنچی۔ مہران شاہ اسے اس زنداں سے نکالنے آپہنچا تھا۔ سبحان شاہ‘ فیضان شاہ‘ شہربانو‘ زرمینہ‘ کامران شاہ‘ سبھی وہاں موجود تھے۔
’’چٹاخ… ‘‘ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ سبحان شاہ کا بھاری ہاتھ اس کے بائیں گال پر نشان ثبت کرگیا۔
’’کہاتھاہم نے اس کے باپ سے کہ لڑکی ذات کو کالجوں میں مت بھیج‘ اب دیکھ لیا اس کا انجام‘ شکر کر تیراباپ تیرے ان کالے کرتوتوں کودیکھنے سے پہلے ہی مر گیا۔ گھٹیا عورت کی گھٹیا اولاد۔‘‘ شہربانو کی زبان زہر اگل رہی تھی۔
’’خبردار کسی نے میری ماں کو گالی دی۔ گھٹیا وہ نہیں گھٹیا آپ لوگ ہیں۔‘‘ جانے اتنی ہمت اس میں کہاں سے آگئی تھی۔ ایک لمحے کوسبھی اس کی اس جرات پرگنگ رہ گئے۔ بالکل غیر متوقع سی صورت حال تھی۔
’’ادا سائیں…وقت ضائع نہ کریں۔ جلدی سے کاغذات پردستخط کروائیں۔ پھرجرگے والے بھی انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘ فیضان شاہ کا لہجہ اکتاہٹ بھراتھا۔
’’تایا سائیں‘ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ میں آپ کی بھی کچھ لگتی ہوں۔ آپ کے بھائی کاخون ہوں۔ میرا قصور ثابت کئے بغیر مجھے کیسے سزا دے سکتے ہیں آپ لوگ۔ تائی جان…آپ بھی تو کچھ بولئے۔‘‘ وہ فیضان شاہ اور مہربہ لب کھڑی زرمینہ کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اس کا گدا زلہجہ فیضان شاہ کے دل پر اثر کرنے لگا۔
’’بہت خوب‘یہ لڑکی تو ہمارے اندازوں سے زیادہ چلتر اور ڈرامہ باز ہے۔ ‘‘سبحان شاہ کے لبوں سے زہر میں بجھے الفاظ ادا ہوئے۔
’’یہاں دستخط کرو۔‘‘ چند کاغذات اس کے سامنے رکھے گئے۔ شہربانو اور فیروزہ نے اسے تھام کر صوفے پر بٹھایا اور خود اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئیں۔ شہربانو نے سرخ گوٹا لگا دوپٹہ اس کے سر پراوڑھا دیا۔ آناً فاناً مولوی صاحب کواندر لایا گیا۔ زرمینہ چپ چاپ بے بس سی کھڑی یہ تمام کارروائی دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے ایک لاچار سی نظر ہاتھ میں پکڑے موبائل فون پرڈالی اور دوسری نظر میرب پر جوشہربانو اور فیروزہ کے شکنجے میں تھی۔
’’مہران شاہ ولد سبحان شاہ بعوض حق مہر…‘‘
’’یہ سب گناہ ہے۔ میرا نکاح پہلے ہی ہوچکاہے۔ میں کسی کی منکوحہ ہوں۔‘‘ مولوی صاحب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ چلائی تو مولوی صاحب حیرت سے سبحان شاہ کی طرف دیکھنے لگے۔
’’بکواس کررہی ہے یہ‘ آپ نکاح پڑھائیں۔‘‘
’’میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میرا نکاح ہوچکاہے۔‘‘
’’اچھا…کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس۔ کہاں ہے وہ نکاح نامہ؟ کہاں ہے تمہارا شوہر؟‘‘ مہران شاہ نے استہزائیہ انداز میں کہا۔وہ بے بسی سے لب کچل کررہ گئی۔
’’چلو…یہاں دستخط کرو۔‘‘ سبحان شاہ نے ریوالور نکال کر اس کا رخ میرب کی طرف کردیا۔
’’میں دستخط نہیں کروں گی ‘تایاسائیں‘ جس جائداد کی خاطر آپ یہ گناہ کررہے ہیں وہ تو پھربھی آپ کو نہیں لینے دوں گی میں۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ تبھی باہر سے شور کی آوازیں آنے لگیں۔ دروازہ زور زور سے بجایا گیا۔ مہران شاہ نے دروازہ کھولا تو اندر آنے والے کو دیکھ کر میرب کے اندر گویابجلی سی بھرگئی۔
’’سالار…مجھے بچالو۔‘‘ یکلخت وہ دوڑتی ہوئی اس کے سینے سے آلگی تھی۔ سالار نے اس کو اپنے حصار میں لے لیا۔ سالار کے ساتھ پوری پولیس پارٹی تھی۔ ایس پی منیب حسن اس کا گہرا دوست تھا۔ سالار نے اس کی مدد لی تھی۔
’’ایس پی تم بیچ میں مت آئو۔ یہ ہمارا خاندانی معاملہ ہے۔‘‘ سبحان شاہ ایس پی منیب کو دیکھتے ہی بول پڑے۔
’’قانون ایسی کسی بات کو نہیں مانتا۔‘‘
’’اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ابھی آپ نے یہ بے حیائی کانظارہ۔ ایک لڑکی کا کسی نامحرم کے گلے لگنا کہاں جائز ہے؟‘‘
’’بے حیائی؟ بے حیائی یہ نہیں بے حیائی تو وہ ہے جو ابھی آپ لوگ کررہے تھے۔ میرب میری بیوی ہے۔ میری عزت ہے۔ میں ہوں اس کامحرم‘ ثبوت چاہئے تو یہ رہا ہمارا نکاح نامہ۔‘‘ ٹھوس لہجے میں بولتا وہ سب کی زبانوں کو بند کرگیا۔
’’شاہ صاحب… نکاح پر نکاح کروانے کا جرم آپ پرثابت ہوچکاہے۔‘‘ ایس پی نے اضافہ کیا۔
’’تم اس کویہاں سے ایسے نہیں لے جاسکتے۔‘‘ بالکل اچانک مہران شاہ نے سالار پر ریوالور تان لیاتھا۔
’’آپ قانون کو ہاتھ میں لینے کی غلطی کررہے ہیں۔‘‘ ایس پی نے وارننگ دی۔
’’میرب میری منگیتر ہے۔ میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔‘‘ مہران شاہ کے سر پرگویا جنون سوار ہوگیاتھا۔ میرب کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ رات کو دیکھاہو خواب اپنی پوری جزئیات سمیت نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔
’’نہیں…تم سالار کو نہیں مار سکتے۔ میں … میں … ‘‘ وہ سالار کے آگے تن کرکھڑی ہوگئی تھی ۔
میرب نے دونوں بازو یوں پھیلادیئے گویاسالار کو اپنی پشت پر چھپا دینا چاہتی ہو۔
’’ٹھاہ ٹھاہ …‘‘ دو فائر ہوئے تھے۔
’’نہیں ‘‘ شہربانو کی چیخ سب سے بلند تھی۔ مہران کے فائر کھولنے سے ایک لمحہ پہلے بجلی کی سی تیزی سے زرمینہ میرب کے سامنے آگئی تھیں۔ گولی سیدھا ان کے دل میں اتر گئی تھی اور ایس پی منیب حسن جو کافی دیر سے مہران کو وارننگ دے رہے تھے۔ ان کے ریوالور سے نکلی گولی مہران کاسینہ چیرگئی۔جوان بیٹے کی موت کا صدمہ سبحان شاہ کا دل سہارنہ پایاتھا۔ اور وہ اسی وقت ڈھے گئے تھے۔ جس دولت کی خاطر اتنے دل دکھائے‘ خدااور رسولؐ کے حکم کی نافرمانی کی‘ وہ بھی انہیں اس ذلت بھری موت سے نہ بچاپائی تھی۔ شہربانو کا سارا کروفر اور طنطنہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔ اس واقعے کااثر ان کے دماغ پر ہوگیاتھا۔ بہکی بہکی باتیں کرتی رہتی تھیں۔ فیضان شاہ سچے دل سے تائب ہوگئے تھے۔ زرمینہ کی موت کابھی انہیں گہرا صدمہ پہنچا تھا۔میرب اسی وقت سالار کے ساتھ چلی جاتی اگر فیضان شاہ اسے روک نہ لیتے۔انہوں نے میرب سے معافی مانگی تووہ تڑپ اٹھی۔ رشتوں کااحترام کرنے والی‘ صاف دل سی لڑکی تھی وہ۔سبحان شاہ ‘زرمینہ اورمہران کے سوئم تک وہ حویلی میں ہی رہی تھی۔ جلال خان بیٹی کی موت کی خبر سن کر رہ نہیں سکے تھے۔ وہ تو سمجھتے تھے وہ ان کے لئے اسی دن مرگئی تھی جب اس نے باپ کی دہلیز کی مٹی چھوڑی تھی مگر اب …سالار خان نے جو خبر سنائی تھی تووہ رہ نہ پائے تھے۔ بیٹی کو جیتے جی نہ دیکھنے کی جو قسم کھائی تھی‘اس پر قائم نہ رہ سکے تھے۔ سوئم کے بعد جب جلال خان‘ میرب کو لینے آئے تو فیضان شاہ نے بڑی لجاجت سے ان کے ہاتھ تھام لئے۔
’’میرب اس گھر کی بیٹی ہے۔ میں چاہتاہوں اسے بڑی شان سے اس گھر سے رخصت کروں۔مانتاہوں مجھ سے بڑی کوتاہیاں ہوئیں مگر قدرت نے مجھے ان غلطیوں کے ازالے کاایک موقع دیاہے جو میں گنوانا نہیں چاہتا۔‘‘ زرمینہ زندہ ہوتیں تو یہ منظر دیکھ کر ویسے ہی خوشی سے مرجاتیں۔
’’ٹھیک ہے برخوردارمگر اب ہم زیادہ انتظار نہ کرپائیں گے۔‘‘ جلال خان کی رضامندی پرسالار کچھ تذبذب کاشکار نظر آرہاتھا۔
’’جانتا ہوں تمہارا دل ابھی بھی بے اعتبار ہے۔ مگر ہمار ایقین کروبیٹا‘ میرب تمہاری امانت ہے اور میں اس میں خیانت نہیں کروں گا۔ میری بھتیجی نہیں بیٹی ہے وہ۔‘‘ فیضان شاہ نے گویااس کی سوچ پڑھ لی تھی۔ وہ شرمندہ ساہوگیا۔ دو ماہ بعد رخصتی کی تاریخ طے کردی گئی۔
ززز
وہ جو تقدیر سے شکوہ کناں تھی۔ ایک دم سے قسمت میں درآنے والی اتنی بڑی تبدیلی پر ابھی تک انگشت بدنداں تھی۔ زندگی نے اتنے دکھ دیئے تھے کہ اب ایکدم سے اتنی خوشیاں وہ سنبھال نہ پارہی تھی۔ سادہ مگر پروقار تقریب میں اسے سالار خان آفندی کے ہمراہ رخصت کیاگیاتھا۔ ان دو ماہ میں فیضان شاہ نے اسے اتنی عزتی‘ اتنامان اور پیار دیاتھا کہ اسے اس زندگی سے جتنے بھی شکوے تھے‘ سب دور ہوگئے تھے۔ انہوں نے ایک باپ کی طرح اسے رخصت کیاتھا۔ سالار خان نے جہیز لینے سے انکار کردیاتھا۔ رخصتی کے وقت فیضان شاہ نے میرب کے حصے کی ساری جائداد کے کاغذات اس کے حوالے کردیئے تھے ۔ سالار اس کے حق میں نہیں تھامگر فیضان شاہ کایہ کہنا…’’یہ ہم باپ بیٹی کامعاملہ ہے۔‘‘ اسے مسکرانے پرمجبور کرگیاتھا۔

کچھ خواب ہیں جن کو لکھناہے
تعبیر کی صورت د ینی ہے
کچھ لوگ ہیں اجڑے دل والے
جنہیں اپنی محبت دینی ہے
کچھ پھول ہیں جن کوچننا ہے
اور ہار کی صورت دینی ہے
کچھ اپنی نیندیں باقی ہیں
جنہیں بانٹنا ہے کچھ لوگوں میں
ان کوبھی تو راحت دینی ہے
اے عمررواں !
آہستہ چل !
ابھی خاصا قر ض چکانا ہے …!

گمبھیر لہجہ سماعتوں میں رس گھول رہاتھا۔ اس کی توقع کے برعکس سالار کا رویہ خاصا حوصلہ افزا تھا۔ وہ جواب تک بدترین خدشات میں گھری تھی اور یہ سمجھتی تھی کہ یہ شادی سالار نے داجی کے مجبور کرنے پر کی ہے۔ اسے اپنے سارے خدشات ریت کی دیوار کی طرح گرتے ہوئے محسوس ہوئے۔سالار نے اس کے گلے میں گولڈ کی چین پہناتے ہوئے یہ نظم پڑھی تھی۔
’’بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔‘‘ دائیں ہاتھ کی پشت پر دوسلگتے لب جارکے تھے۔ اسے گویا دو سووالٹ کا کرنٹ لگا۔ اپنی جگہ پراچھل کررہ گئی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ کپکپاتے لب‘ اٹھتی گرتی پلکیں‘ ستواں ناک میں لشکارے مارتی ہیرے کی لونگ…سالار نے خاصے محظوظ کن انداز میں دیکھا تھا۔ کل تک جس سے شدید نفرت کرتاتھا۔ آج اسی کے ساتھ ایک ایسے اٹوٹ اور مضبوط تعلق میں بندھاتھا کہ دل خودبخود بے خود ہوا چاہتاتھا۔
’’کچھ تو کہو۔ مجھ سے پوچھوگی نہیں کہ یہ کایا پلٹ کیسے ہوئی؟ ہر آن‘ ہر لمحہ انگارے برساتے لب اس وقت پھول کیوں بکھیر رہے ہیں؟ میرب! کہتے ہیں کہ بہت شدید نفرت بعض اوقات بہت شدید محبت پر آکرختم ہوتی ہے اور دیکھو ایساہی ہوا ہے۔ میں کھرااور تھوڑا تھوڑا بددماغ سابندہ ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے تم سے کوئی طوفانی قسم کا عشق ہوگیاہے ہاں یہ ضرور ہے کہ جب داجی نے صارم کے رشتے کی بات کی تومجھے شدید جلن ہوئی۔مجھے یقین ہے کہ بہت جلد میں تم سے طوفانی قسم کا عشق بھی کرنے لگ جائوں گا۔ جیسے کہ تم مجھ سے کرتی رہی ہو۔‘‘ آخری بات شرارت سے لبریز تھی۔میرب نے چونک کر پلکوں کی چلمن اٹھائی تھی۔
’’سوری …مگر میں تمہاری ڈائری پڑھ چکاہوں۔‘‘ وہ نادم ساہوا۔
’’اوہ ‘جبھی…‘‘ وہ گویا جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔
’’اب یہ مت سمجھ لینا کہ تمہاری ڈائری پڑھنے کے بعد میں تم سے شادی پررضامند ہواہوں۔‘‘ اس نے گویا میرب کے دل کاحال جان لیاتھا۔
’’تم بہت اچھی ہومیرب‘ آج ہم اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہے ہیں‘میرارویہ‘میرا سلوک تمہارے ساتھ یقینا بہت برا تھا ‘ جس کے لئے میں تم سے معافی مانگتاہوں۔‘‘
’’پلیز آپ مجھے شرمندہ مت کیجئے۔‘‘
’’تم واقعی بہت اچھی لڑکی ہو اور میں پوری کوشش کروں گا کہ اس اچھی لڑکی کو زندگی کی ہر وہ خوشی دوں‘ جو یہ اچھی لڑکی چاہتی ہے اور یہ کہ اچھی لڑکی‘ ابھی بہت سی باتیں ہیں جو تم کوسنانی ہیں مگر وہ ساری باتیں پھر کبھی سہی‘ کیونکہ آج کی یہ رات بہت خاص ہے جس کے ایک ایک لمحے کومیں یادگار بنانا چاہتاہوں۔‘‘ سالار نے اس کی طرف جھک کر شوخ سی جسارت کرڈالی جس پراس کے چہرے پر گلال سمٹ آیا۔
’’بلیومی‘ تمہارے چہرے پر چھائی یہ سرخی ‘یہ منظر اتناحسین ہے کہ …‘‘
میرب نے ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں دیکھااور پھر اس کی نظروں کامفہوم سمجھ کر شرما کر اس کے کشادہ سینے میں چہرہ چھپالیا۔ حیا کا یہ دلفریب منظر سالار آفندی کو مسرور کرگیا۔ اور اس کی مضبوط بانہوں میں‘ اس کے سینے سے لگی میرب کارواں رواں اللہ کے حضور شکر گزار تھا۔ زندگی کی اتنی سختیاں اور تلخیاں سہنے کے بعد سالار آفندی کاساتھ اسے اپنے رب کی طرف سے صبر کامیٹھا پھل لگ رہاتھا اور سالار بھی اس لمحے میرب کا ساتھ پاکر سوچ رہاتھا کہ یہ پیاری سی لڑکی اس کے لئے اللہ کی طرف سے کسی نیکی کاانعام ہے۔

دھنک کے پل پہ چل کے
گگن کے پار جاتے ہیں
چلوہم ہار جاتے ہیں …

وہ دھیرے سے اس کے کان میں گنگنایا تووہ سمٹ کر رہ گئی۔

ختم شد

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close