دھرتی اپنی ماں

دھرتی اپنی ماں

حمیرا نگاہ

مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ اس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسلمان تو ایک عمارت کی طرح ہیں جس کی ایک اینٹ دوسری کو مضبوط کرتی ہے لیکن یہاں اس دوسری حقیقت کے باوجود بھی ہمارا دعویٰ نہیں ایمان ہے کہ پاکستانی دنیا کی بہترین قوم ہیں … اگر اس وقت یہ قوم ایسی نظر نہیں آرہی جیسی آنا چاہئے تھی تو اس میں قوم کا کوئی قصور نہیں کہ … دہقان اگر اپنے فرائض بھول جائے تو زرخیز زمین میں جڑی بوٹیوں کو اُگنے اور انہیں پروان چڑھنے سے کون روک سکتا ہے۔ بے شک ہم تسبیح کے دانوں کی طرح ہیں لیکن ہم لوگ کئی بار اپنے ایک ہونے کا عملی ثبوت دے چکے ہیں‘‘۔
پروفیسر بخاری اپنے سامنے بیٹھے طلباء کو آہستہ آہستہ مدلل انداز میں ان کی تاریخ سے آگہی دے رہے تھے۔
’’ بابائے قوم نے فرمایا کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ … تو پوری قوم دیوانہ وار ان کے پیچھے کھڑی ہوگئی … بات تو صرف فرض پہچاننے کی ہے … حق مان کر فرض اداکرنے کی ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے الفاظ کو خوبصورت پیراہوں کی شکل دے کر اپنے سامنے بیٹھے طلباء کو دماغوں کے مقفل دروازے کھول کر انڈیلنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور وہ کافی حد تک اس میں کامیاب بھی رہے تھے۔
’’ ڈیئر اسٹوڈنٹس اس کے ساتھ ہی آج آپ کی آخری کلاس بھی اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اگر آپ کے دماغ میں کوئی الجھن ہو تو بلاشبہ آپ مجھ سے پوچھ کر اس کو دور کرسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے لمحہ بھر کے لئے کلاس کی طرف دیکھا جہاں تمام طلبہ نہایت مطمئن انداز سے ان کی گفتگو کے اتار چڑھائو سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ وہ مسکرائے گویا ان کے طلباء کے دماغوںمیں کوئی ابہام نہیں اور وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
’’ ایک بات اور … اگر آپ کو زندگی کے کسی دوراہے پر اپنے اس بوڑھے پروفیسر کی ضرورت پیش آئے تو آپ بلا جھجک اپنے مسائل بیان کرسکتے ہیں۔ خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو اور آپ کو قدم قدم پر کامیابیوں سے ہمکنار کرے (آمین )‘‘ وہ کلاس سے نکلنے لگے تو 20 اسٹوڈنٹس پر مبنی پاکستان اسٹڈیز کی کلاس انہیں الوداع کہنے کے لئے کھڑی ہوگئی۔
ۃ…v…ۃ
’’ پتہ نہیں تمہارے باپ کو کیا سوجھی ہے تمہیں اتنی دور بھیجنے کی‘‘۔ زینب خاتون بولیں جو کب سے عزوہ کے کپڑے چھانٹ چھانٹ کر اٹیچی میں رکھتے دیکھ رہی تھیں۔
’’ امی یہ بابا کا شوق ہے اور میں نہیں چاہتی کہ بابا کی خواہش اس وجہ سے تشنہ رہے کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں‘‘۔ وہ اٹیچی کو بند کرتے ہوئے بولی۔
’’ پھر بھی بیٹا … لڑکوں کے کام لڑکے ہی بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔تم آخر ہو کیا؟ ایک کمزور سی لڑکی‘‘۔ وہ اسے روکنا چاہ رہی تھیں باوجود یکہ وہ رکنے والوں میں سے نہ تھی۔ ایک بار جس بات پر اڑ جاتی اس پر یوں مضبوطی سے قائم رہتی کہ کسی کے لاکھ سمجھانے پر بھی نہ سمجھتی ‘ چاہے اپنا نقصان ہی کروالیتی۔
’’ امی جی … میری پیاری امی جی‘میںآپ کی نظر میں صرف ایک بیٹی ہوں ‘ آپ کے ساتھ ساتھ میں اس دھرتی ماں کی بھی بیٹی ہوں کیا میرا فرض نہیں کہ میں اس کی خدمت کروں۔ اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال دوں۔ مجھ میں اتنی ہمت ہے امی کہ میں اس کی خاطر تن ‘ من دھن سب کچھ قربان کردوں‘‘۔ وہ ایک جذبے سے بولی تھی اس کی ماں اس کا جوش و جذبہ دیکھ کر مسکرا اٹھی۔
’’ قوم کی بہادر بیٹی ‘ ضروری نہیں کہ تم پاک آرمی کو جوائن کرکے ہی اس ملک کی خدمت کرو ‘ تم اپنے باپ کی طرح محکمہ ٔتعلیم کو جوائن کرکے مستقبل کے معماروں کو ان کے حقوق و فرائض سے آگہی دے کر بھی ملک کی خدمت کرسکتی ہو‘‘۔
’’ امی پلیز … اگر مجھے چانس مل ہی رہا ہے تو میرا ساتھ دیں کیوں میرے ارادوں کو ڈانواں ڈ ول کرنے پر تُلی بیٹھی ہیں‘‘۔ وہ بیڈ سے اٹیچی کیس کو نیچے رکھنے لگی۔ تو اس کی ماں اس کے منہ سے نکلنے والی ’آہ‘ سن کر ہنس پڑیں۔
’’ چلیں جی … ایک اٹیچی تو اٹھایا نہیں جارہا ‘ محترمہ کلاشنکوف اٹھائیں گی‘‘۔
’’ ارے امی کلاشنکوف کیا … پوری قوم کی خدمت کا بیڑہ اٹھائوں گی‘‘۔ اس نے اٹیچی کو گھسیٹ کر بیڈ کے نیچے کیا۔
’’ پھر بھی بیٹا ‘ ہم دونوں کیسے رہیں گے تمہارے بغیر‘‘۔ وہ افسردہ ہوگئی تھیں۔
’’ زینب! جب کل کو اس کی شادی ہوگی تو بھی تو ہمیں اس کے بغیر رہنا ہی ہوگا ‘ اچھا ہے ہم عادی ہوجائیں گے‘‘۔ پروفیسر بخاری اندر داخل ہوتے ہوئے بولے۔
’’ آپ نے ہی تو اسے سر چڑھا رکھا ہے اگر آپ کے بھائی صاحب کو پتہ چل گیا نا تو‘‘۔ انہوں نے بات نا مکمل ہی چھوڑ دی۔
’’ تو کیا ہوجائے گا۔ میں بیٹی کے شوق کی راہ میں دیوار نہیں بن سکتا اور ویسے بھی یہ میرا خواب ہے اور اپنے خوابوں سے دستبردار ہونا میں نے نہیں سیکھا‘‘۔ وہ تھوڑے سے جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ غصے بھی ہوئے تھے۔
’’ آپ جانیں اور آپ کی بیٹی ‘ آپ دونوں نے پہلے کبھی میری مانی ہے جو اب مانیں گے‘‘۔ وہ غصے سے کمرے سے باہر نکل گئیں تو پروفیسر صاحب صوفے پر بیٹھی عزوہ کی طرف بڑھے جو آرام سے بیٹھی ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔
’’ فون آیا کالج سے؟‘‘
’’ جی بابا۔ پرسوں سے ہمیں جوائن کرنا ہے‘‘۔ وہ ان کے لیے جگہ بناتے ہوئے بولی۔
’’ تم پیکنگ کرلو میں سیف کو فون کرتا ہوں تمہیں چھوڑ آئے گا‘‘۔
’’ نہیں بابا میں خود ہی چلی جائوں گی‘‘۔
’’ اتنی دور … کہاں لاہور اور کہاں کوئٹہ ‘ پہلی دفعہ جارہی ہو تم‘‘۔ وہ پریشان ہو کر بولے۔
’’ انکل کاظمی بھی کل جارہے ہیں۔ میں ان کے ساتھ تو جائوں گی‘‘۔ وہ مسکرا کر بولی۔
’’ اچھا … یعنی سارا پروگرام پہلے سے ہی طے شدہ ہے‘‘۔ وہ شگفتگی سے بولے۔
’’ بابا … انکل نے مجھے خود فون کیا ہے ‘ میری سیٹ بھی بک کروالی ہے اور میں نے پیکنگ بھی کرلی ہے‘‘۔
اس کی بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گئے۔
’’ بیٹا بہت سے لوگ شوق میں آرمی جوائن تو کرلیتے ہیں لیکن پھر اس کے رولز کو فالو نہ کرنے کے سبب اسے چھوڑ دیتے ہیں … تم ایسا کچھ نہ کرنا‘‘۔
’’ ارے بابا … میں آپ کی بیٹی ہوں۔ پروفیسر عظیم علی بخاری کی بیٹی جو اپنی دھن کی اتنی ہی پکی ہے جتنے کہ آپ … منزل پر پہنچ کر منزل سے منہ موڑنے والوں میں سے نہیں‘‘۔ وہ مستحکم لہجے میں بولی۔
’’ پتہ ہے عزوہ ‘ جس طرح انسان کو ابتداء سے انتہا تک مذہب سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اسے اس کے وطن سے ‘ دھرتی سے اور مٹی سے بھی جدا نہیں کیا جاسکتا جس طرح مسلمان اور مومن میں فرق ہے اسی طرح ایک عام پاکستانی شہری اور پاک فوج کے سپاہی میں بھی فرق ہے … عام شہری بھی وطن سے محبت کرتا ہے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے اور فوج کا جوان بھی لیکن فرق یہ ہے کہ عام شہری گھر کی چار دیواری میں رہ کر یہ کام کرتا ہے جبکہ فوج کا جوان سرحد پر کھڑا ہو کر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کاش میرا بھی کوئی بیٹا ہوتا جو کاظمی کے بیٹے کی طرح پاک آرمی کا حصہ بنتا۔ لیکن آج میں خوش ہوں۔ مطمئن ہوں کہ میری بیٹی میرے لئے بیٹے سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس میں وہی ہمت، حوصلہ اور قوت ہے جو میرے بیٹے میں ہونی چاہئے تھی‘‘۔ وہ بولتے جارہے تھے اور بوڑھی روشن آنکھوں سے آنسوئوں کی ایک نا ختم ہونے والی قطار بہہ رہی تھی۔
’’ بابا … کیا آپ میرے بھائی کو بھی آنسوئوں سے رخصت کرتے‘‘۔ وہ ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’ ارے نہیں بیٹا یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔ آج میں بہت خوش ہوں ‘ میرے سپنوں کو تعبیر مل رہی ہے‘‘۔ وہ بشاشت سے مسکرادیئے تو وہ ہنس دی۔
’’ اگر باپ بیٹی کو باتوں سے فرصت مل گئی ہو تو کھانا کھالیں‘‘۔ زینب خاتون دروازے سے ہی کہہ کر واپس مڑگئیں تو وہ دونوں مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’ اچھا امی اللہ حافظ … بابا امی کا ڈھیر سارا خیال رکھئے گا‘‘۔ وہ ماں سے ملنے کے بعد باپ کی طرف بڑھی۔
’’ اچھا نصیحت بی بی! اپنا بھی خیال رکھنا اور کاظمی یار میری بیٹی پر زیادہ رعب جمانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ وہ اس کی پیشانی کا بوسہ لینے کے بعد بریگیڈیئر کاظمی کی طرف مڑے تو وہ مسکرانے لگے۔
’’ تم بے فکر ہوجائو بخاری اپنے سارے گن اس بیٹی کے ذریعے سامنے لائوں گا‘‘۔ وہ سب ایئرپورٹ پر کھڑے گفت و شنید کررہے تھے۔
’’ اچھا بیٹا اللہ حافظ … نماز نہیں چھوڑنا اور سب سے پہلے مذہب اور وطن کی حرمت سے متعلق سوچنا بعد میں کچھ اور‘‘۔ وہ اس کا کندھا تھپتھپا کر بولے۔
’’ بے فکر رہیں بابا‘‘۔
’’ جلدی چلو عزوہ … فلائٹ انائونس ہورہی ہے‘‘۔ کاظمی انکل بولے تو وہ جلدی سے سب سے مل کر ان کی معیت میں اندر کی طرف بڑھی۔
وہ کوئٹہ کی طرف پرواز کرنے والی تنہا نہ تھی ‘ اس وقت اس کے ساتھ اس کی ماں کی دعائیں بھی تھیں۔ اس کے باپ کی تشنہ خواہشات بھی۔ اس کے جذبات بھی ‘ وطن سے والہانہ عشق بھی ‘ مٹی سے عقیدت بھی اور دشمنوں سے نمٹنے کا جنون بھی۔ دھرتی کے فرائض بھی ‘ حقدار افراد کے حقوق۔ وعدوں کی پاسداری ‘ رشتوں سے رواداری، محبتوں کا پاس اور دوسروں کی عزت نفس کا احساس بھی اس کے ساتھ رواں دواں تھا۔
ۃ…v…ۃ
وقت سیل رواں کی طرح چلتا جارہا تھا۔ اس کی ٹریننگ نہ صرف مکمل ہوگئی تھی بلکہ اسے یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ وہ پاک آرمی کا جو شعبہ بھی چاہے جوائن کرلے ‘ آئی ایس پی آر ‘ آئی ایس آئی ‘ ایم آئی ‘ اے ایس ایف یا آئی بی اس نے پروفیسر بخاری اور بریگیڈیئر کاظمی کے مشورے سے آئی بی کوچنا کیونکہ وہ اپنی پوشیدہ قوتوں وہیں بہتر طور پر اُجاگر کرسکتی تھی۔ اس کے ساتھ اس محکمے میں ایک لڑکی اور تھی اور یہ شاید ان دونوں کی قوت ارادی ہی تھی جو وہ دونوں وہاں تک پہنچ پائی تھیں ‘ آج اس دفتر میں اس کرسی پر بیٹھ کر اسے اپنے بوڑھے انسٹرکٹر کی باتیں یاد آرہی تھیں۔ ٹریننگ کے ساتھی بھی یاد آرہے تھے لیکن جو بات اسے ایک لمحہ کے لیے بھی نہ بھولی تھی وہ اس کے فرائض تھے۔ وہ فرائض جن کو پورا کرنے کے لیے وہ وہاں تک پہنچی تھی۔ اسے دنیاوی عزت و مقام نہیں چاہئے تھا … کیونکہ اگر اسے وہ چاہئے ہوتا تو وہ آئی بی کے بجائے آئی ایس پی آر کو چنتی ‘ اس کے نام کی دھوم مچ جاتی ‘ وہ تو گوشہ نشین ہو کر دھرتی ماں کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔
وہ عہد میں نہیں تاریخ میں زندہ رہنا چاہتی تھی۔ نام نہیں مقام پیدا کرنا چاہتی تھی وہ سہانے تصورات میں کھو کر زندگی ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے باعمل علم کو اپنایا تھا۔ اُس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا وہ نہیں جانتی تھی اس کے سامنے تو صرف دھرتی اپنی ماں تھی۔
ۃ…v…ۃ
’’السلام علیکم عسیف لالہ!‘‘ وہ لائونج سے گزر کر کمرے کی طرف جارہی تھی جب اس نے دروازے کے عین سامنے و الے صوفے پر اپنے تایا زاد کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔
’’ وعلیکم السلام ‘ یہ تمہاری سرگرمیاں آج کل کچھ مشکوک نہیں ہوتی جارہی ہیں‘‘۔ وہ اسے آگے بڑھتے دیکھ کر بولا۔
’’ اگر یہی رائے میری آپ کے بارے میں ہو تو …؟‘‘ اس کی بات سن کر ایک قہقہہ برآمد ہوا اس نے چونک کر دوسرے صوفے کی جانب دیکھا جہاں بیٹھا شخص اسی کی طرف بغور دیکھتا ہوا ہنس رہا تھا۔
’’ یہ چوہدری وجدان ہے میرا بہت اچھا دوست‘‘۔ سفید کلف دار شلوار سوٹ پہنے ‘ مونچھوں کو ایک ہاتھ سے بل دیتا ‘ ٹانگ پر ٹانگ رکھے پائوں میں ملتانی چپل پہنے اسے اس لمحے وہ کوئی اچھا انسان نہیں لگا تھا۔ اس کے ماتھے پر کئی بل جمع ہوئے جنہیں اس نے چھپانا ضروری نہ سمجھا ‘ چوہدری وجدان اس کی ناگواری کو بھانپ گیا تھا اس لیے فوراً اس پر سے نظریں ہٹائیں۔
’’ مجھے ذرا جلدی ہے ‘ ایکسکیوزمی‘‘۔ وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ اس کمرے سے اکیلی نہ نکلی تھی اس کے عنابی دوپٹے کے ساتھ چوہدری وجدان احمد کا دل بھی گیا تھا ‘ اس کی ناگوار نظریں چوہدری وجدان کے وجود کے آر پار نہیں ہوئی تھیں بلکہ اس کے دل میں پیوست ہوگئی تھیں۔ اس نے اس ایک لمحہ میں اسے حاصل کرنے کا لائحہ عمل تیار کرلیا تھا … کب؟ کیوں ‘ کیسے؟ وہ سب کچھ طے کرچکا تھا بس عمل کرنا باقی تھا … جاگیردار باپ کا بیٹا چوہدری وجدان احمد اعلیٰ سرکاری آفیسر ‘خوبصورت شخصیت ‘ لمبا قد ‘ چھریرا بدن ‘ صاف رنگت کسی چیز کی کمی تو نہ تھی ‘ پھر اب تک تو وہ چاہا ہی گیا تھا یقینا عزوہ بخاری پہلی لڑکی تھی جس نے اس پر ناگوار نگاہ ڈالی تھی اور یہی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ جلد یا بدیر اسے بھگتنا تھا۔
’’ تم کیا سوچنے لگے …؟‘‘ عسیف اسے سوچوں میں غرق دیکھ کر بولا۔
’’ ذرا تمہاری کزن کے بارے میں سوچ رہا تھا‘‘۔ وہ صاف گوئی سے بولا۔
’’ اس کے بارے میں مت سوچنا۔ بہت توپ شے ہے ‘ چاچو نے جہاں سارا علم اس کے دماغ میں انڈیلا ہے وہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا تو فرض سمجھتی ہے ‘ ادھار رکھنا تو سیکھا ہی نہیں۔ چاچو کے لاڈ اور پیار کا الٹا ہی نتیجہ نکلا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو میں انسپکٹر ہے‘‘۔ وہ اپنے صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آبیٹھا تھا۔
’’ تمہارے ابا جی جانتے ہیں کہ اس نے آئی بی کو جوائن کر رکھا ہے؟‘‘ وجدان دلچسپی لیتے ہوئے بولا۔
’’ توبہ کرو یار … ابا جی تو اس کی پڑھائی کے ہی خلاف تھے تبھی تو چاچو اسے اور چاچی کو شہر لے آئے تھے‘‘ عسیف رازدارانہ لہجے میں بولا۔
’’گویا خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے توپ اور ٹینک دونوں‘‘۔ وجدان قہقہہ لگا کر بولا تو عسیف نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
’’ اگر تم نے ایسا کچھ سوچ ہی لیا ہے تو تمہارا اللہ ہی وارث ہے‘‘۔ اسی لمحے پروفیسر بخاری اندر داخل ہوئے تو وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’ آج تو ڈی ایس پی صاحب آئے ہیں‘‘۔ وجدان کو دیکھ کر وہ بشاشت سے بولے تو وہ بھی مسکرادیا۔
’’ چاچو! یہ آج ہی نارووال سے واپس آیا ہے اور مجھے لے کر سیدھا آپ کی طرف آگیا۔ ہم نے سوچا ذرا آج گھر چلتے ہیں تاکہ کھانا وانا بھی کھائیں‘‘۔ عسیف ہنستے ہوئے بول رہا تھا جبکہ وجدان ادب سے کھڑا تھا۔
’’ صاحب کھانا لگ گیا ہے‘‘۔ اسی وقت اشرف چاچا نے آکر کھانا لگنے کی اطلاع دی۔
’’ تم دونوں چلو ‘ میں کپڑے بدل کر آتا ہوں‘‘۔ وجدان، عسیف کے ساتھ ڈائننگ روم کی طرف چل پڑا۔ تھوڑی دیر میں زینب خاتون اور پروفیسر بخاری بھی آگئے۔
’’ عزوہ نہیں آئی ابھی تک‘‘۔ انہوں نے میز کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’ میں آگئی بابا‘‘۔ وہ پیچھے سے بولی تو وہ ہنس پڑے۔
’’چلو بیٹھو‘‘۔ وہ مگن سے انداز میں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی لیکن جونہی اس کی نظر سامنے والی کرسی پر پڑی اسے کرنٹ لگا۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’ بے شرم کہیں کا!‘‘۔ وہ منہ میں بڑبڑائی۔
’’ آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ وہ فوراً بولا تو اس نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے ہاتھ چاولوں کی ڈش کی طرف بڑھایا۔ اس سے پہلے کہ وہ ڈش اٹھاتی چوہدری وجدان نے فوراً اٹھالی وہ غصے پر قابو پاتی رہ گئی
’’ میں خود ہی ڈال لوں گا‘‘۔ اس نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا تھا اگر بابا نہ ہوتے تو میں اس شخص کو ایسی کھری کھری سناتی کہ یاد رکھتا ‘ وہ صرف سوچ ہی سکتی تھی۔
’’عزوہ بیٹا کھائو نا‘‘۔ اسے یوں چپ چپ دیکھ کر زینب خاتون بولیں۔
’’ جی امی کھارہی ہوں‘‘۔ اس نے چاولوں کی ڈش اٹھائی لیکن جب چمچ بھرا چاول پلیٹ کی طرف لائی تو پلیٹ پہلے ہی چاولوں سے بھری ہوئی تھی۔ اسے دھچکا لگا۔ غصے سے سامنے کی طرف دیکھا تو وہ انتہائی ڈھیٹ بنا چاول کھانے میں مگن تھا۔ اس نے بے بس نظروں سے عسیف کی طرف دیکھا تو اس نے فوراً کندھے اُچکا دیئے۔
’’ دیکھ لوں گی تمہیں میں … جان نہ پہچان میں تیرا مہمان‘‘۔ اس نے سارا غصہ چاولوں والی ڈش پر نکالا تھا۔
’’ عزوہ آر یو اوکے‘‘۔ عسیف بولا۔
’’ یس … پرفیکٹلی‘‘۔ وہ غصے سے تمتماتے چہرے کے ساتھ بولی تھی۔ عسیف کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’ تم مجھے اتنی ٹینس کیوں لگ رہی ہو؟‘‘ عسیف پھر بولا تو وجدان نے گلاس میں پانی ڈالا اور گلاس اس کی طرف کھسکا دیا اس کے تلوئوں سے لگی سر پر بجھی ‘ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ اگر بندہ مہمان ہو تو مہمان ہی اچھا لگتا ہے اسے میزبان بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے مسٹر وجدان احمد‘‘۔ وہ کرسی پیچھے کی طرف دھکیلتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ وجدان نے شرمندہ شرمندہ نظر پروفیسر بخاری اور ان کی بیگم پر ڈالی۔
’’ سوری سر‘‘۔
’’ آج کل وہ ویسے ہی کچھ ڈسٹرب سی ہے شاید اس لئے‘‘۔ پروفیسر صاحب خجالت سے بولے پھر انہیں کھانا کھانے کا اشارہ کیا۔ زینب خاتون ٹرے میں کھانا رکھ کر عزوہ کو کمرے کی طرف دینے چل پڑیں۔
’’ کہاں تک پہنچا کام تمہارا‘‘۔ پروفیسر صاحب زینب خاتون کے اٹھنے کے بعد وجدان کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’ جلد ہی کورس مکمل ہوجائے گا سر‘‘۔ وہ ادب سے بولا تھا۔
’’ ویلڈن ینگ مین ‘ یہی اسپرٹ تو تمہیں آگے لے کر جائے گی‘‘۔ وہ بہت خوش ہو کر بولے تھے۔
’’ بس آپ کی دعائیں چاہئیں سر‘‘۔ وہ کھانے کی پلیٹ پر جھک گیا۔
ۃ…v…ۃ
’’آپ … آپ کی جرأت کیسے ہوئی مجھے فون کرنے کی اور آپ کو … آپ کو میرا نمبر کس نے دیا؟‘‘ اس نے کافی حد تک خود پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔
’’ شادی کریں گی مجھ سے؟‘‘ سوال گندم جواب چنا آیا۔
’’ واٹ … شادی اور آپ سے ‘ ایک عیاش سے شادی کرنے سے بہتر ہے میں کنواری بیٹھی رہوں‘‘۔
’’ اسٹاپ اٹ … آپ کے پاس میری عیاشیوں کا کوئی ثبوت ہے‘‘۔ وہ چیخا تھا۔
’’جاگیردار طبقہ سوائے عیاشیوں کے اور کرتا بھی کیا ہے اور پھر اگر سیاست بھی گھر کی باندی ہو تو سونے پر سہاگہ‘‘۔ وہ اس کے غصے سے متاثر ہونے والوں میں سے نہ تھی۔
’’ سیاستدان تو آپ کے تایا بھی ہیں اور عسیف بھی تو کیا وہ بھی عیاش ہیں‘‘۔ وہ شاید اسے بلیک میل کرنا چاہ رہا تھا۔
’’ اگر سیاست عبادت سمجھ کر کی جائے تو یہ بہت اچھی شے ہے وجدان صاحب لیکن اگر اسے آپ کے باپ دادا اور میرے تایا جیسے لوگ عیاشی کا راستہ بنالین تو اس سے بڑھ کر گھٹیا کچھ بھی نہیں‘‘۔ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا گئی تھی۔
’’ آپ سیاست کو چھوڑدیں میری ریاست کی بات کریں۔ میرا مطلب ہے شادی کا پوچھا تھا آپ سے‘‘۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا ‘ جان گیا تھا کہ غلط اس کی نظر میں غلط ہی ہے چاہے اس میں اپنے ہی کیوں نہ شامل ہوں۔
’’ میں جواب دے چکی ہوں اور پلیز آئندہ فون مت کیجئے گا‘‘۔
’’ اور آپ بھی سن لیں … عنقریب میرے والدین آرہے ہیں آپ کی طرف سے انکار نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ اس نے دو ٹوک فیصلہ سنایا۔
’’ میں آپ کو اپنا انکار سنا چکی ہوں اگر آپ کو ماں باپ کی عزت افزائی کا شوق ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی‘‘۔ وہ بھی دو ٹوک لہجے میں بولی تھی۔
’’ میرے والدین کو انکار ہوا تو نتائج کی ساری ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی ‘ اللہ حافظ‘‘۔ اس نے دھمکی دے کر فون بند کردیا۔
’’ ہوں … کیا کرلو گے تم۔میرے بھی ہاتھ اتنے لمبے تو ہیں ہی کہ تمہیں قانون کی گرفت میں لے سکوں‘‘۔ اس نے سکون سے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں۔
وہ کب سے گیٹ سے لائونج اور لائونج سے گیٹ تک کے چکر لگارہی تھی ہوا اس کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرتی دائیں بائیں آگے پیچھے گزررہی تھی اور وہ یوں ہی پریشان پریشان سی چکر پر چکر لگائے جارہی تھی جب گیٹ پر گاڑی کا ہارن بجا وہ فوراً اندر کی جانب دوڑی … بیگ اٹھایا اور کچن کی طرف گئی۔
’’ اچھا امی دعا کیجئے گا!‘‘
’’ اللہ تمہیں کامیاب واپس لائے اور اپنی حفظ و امان میں رکھے (آمین )‘‘۔ انہوں نے آیۃالکرسی پڑھ کر اس پر پھونکی اور جانے کی اجازت دی ‘ اجازت ملنے پر وہ جلدی سے گیٹ کی طرف بڑھی۔
’’ سلام میم‘‘ ڈرائیور جلدی سے اس کے لئے دروازہ کھولتے ہوئے بولا تو اس نے سر کی جنبش سے سلام کا جواب دیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
گاڑی منزل کیطرف ر واں دواں تھی جب گاڑی ایک پیٹرول پمپ پر رکی تو اس نے باہر موجود سائن بورڈ پر نظر ڈالی پھر ڈرائیور سے مخاطب ہوئی۔
’’ دلاور کیا گاڑی مزیدآگے نہیں جاسکتی‘‘۔
’’ ذرا پیٹرول ڈلوالوں میم پھر چلتے ہیں‘‘۔ وہ ادب سے بولا۔
’’ کیا اس کے بعد کوئی اور پیٹرول پمپ نہیں ہے؟‘‘ دلاور حسین اس راستے سے پہلے ہی واقف تھا اس لئے پوچھنے لگی۔
’’ ایک PSO ہے میم لیکن وہاں کا تیل (ڈیزل) … میم انجن کے خراب ہونے کا خدشہ ہے‘‘۔
’’ گاڑی اس PSO کی طرف لے چلو‘‘۔ وہ بارعب آواز میں بولی۔
’’ لیکن میم …‘‘۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتا عزوہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’ اسی بات نے تو ہماری معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے … اگر انجن خراب ہوتا ہے تو ہونے دو۔ ٹھیک ہونے میں کچھ پیسے لگ جائیں گے لیکن میں اپنا پیسہ غیر ملک تک نہیں جانے دوں گی … تم اس Shell پیٹرول پمپ کو چھوڑ دو ‘ کیوں اپنے ہی پیسوں سے اپنے ہی بھائیوں کا گلا کاٹنے میں مدد دے رہے ہو‘‘۔ وہ ہلکا سا چیخی تھی ‘ دلاور حسین مزید کچھ نہ بولا تھا۔ سمجھ اور ان سمجھی کے عالم میں وہ اگلے پیٹرول پمپ کی طرف گاڑی لے کر بڑھ گیا۔
گاڑی گیٹ پر روک کر دلاور حسین نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا تو وہ اتر کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔ اسے پیچھے گاڑی کے کھڑے ہونے اور دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور دلاور حسین کے’’ سلام سر‘‘ کے الفاظ بھی اس کے کانوں تک پہنچے لیکن اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا ضروری نہ سمجھا۔
’’ آئیے آئیے مس فاروقی ہم آپ کا ہی انتظار کررہے تھے‘‘۔ اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر اسفند خان اور احمد یار علی دونوں کھڑے ہوگئے۔
’’ آئی ایم سوری … میں کچھ لیٹ ہوگئی‘‘ وہ بااعتماد ہو کر بولی تھی۔
’’ حالانکہ اس قسم کے دھندوں میں دیر بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے‘‘۔ ملک نواز احمد بھی اندر داخل ہوا۔
’’ کبھی کبھی دیر سے آنا فائدہ ہی فائدہ دیتا ہے‘‘۔ وجدان احمد اندر داخل ہوتے ہی عزوہ کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر بولا تھا وہ بھی آئی بی کی انسپکٹر تھی اتنی جلدی پزل ہونے والوں میں سے نہ تھی۔
’’ ٹھیک کہا آپ نے مسٹر‘‘۔ اس نے مسکراتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’ وجدان احمد کہتے ہیں مجھے۔ چوہدری وجدان احمد‘‘ وہ طنزیہ انداز میں بولا تھا۔
’’چلیں اب ذرا اصل کام کی طرف آجائیں‘‘۔ ملک نواز احمد بولا پھر فرداً فرداً وہاں بیٹھی تمام شخصیات کا تعارف کروایا گیا اور کام کی نوعیت کے بارے میں بتانے کے بعد لائحہ عمل طے کیا جانے لگا۔
’’ اس دھندے کا پہلا اصول ایمانداری ہے مس فاروقی‘‘۔ وجدان نے مس فاروقی پر خاص زور دیا تھا۔ عزوہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی۔
’’ میں سمجھتی ہوں مسٹر وجدان احمد‘‘۔ اس کی آنکھوںمیں ایک چمک سی ابھری تھی۔
’’ آپ سمجھ جائیں نا تو اپنی زندگی کا گورکھ دھندا بڑا پرسکون ہوجائے‘‘۔ اس کی بات کو صرف عزوہ بخاری ہی سمجھ سکتی تھی۔
وہاں بیٹھے چاروں نفوس ملکی سطح پر بہت جانے پہچانے تھے … انہوں نے چہرے پر خوبصورت ماسک سجا رکھے تھے۔ ماسک ہٹانے پر وہ اتنے ہی بدصورت تھے جتنے کہ کوئی ملک دشمن عناصر ہوسکتے ہیں۔
اسفند خان … بہت بڑا بیوروکریٹ ‘ کچھ لوگ پیسے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے پیسہ پیدا ہوتا ہے۔ اسفند خان اُن لوگوں میں سے تھا جن کے لئے پیسہ پیدا ہوتا ہے ‘ وہ بنجر زمین میں ہاتھ ڈالتا تو وہ بھی سونا اگلنے لگتی تھی … اس کی یہی خوبی اسے اسمگلنگ کی دنیا کا بادشاہ گردانتی تھی۔ بے تاج بادشاہ۔
احمد یار علی … قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے بالکل اسی طرح احمد یار علی نے زندگی کا بچپن کسمپرسی اور مفلسی میں گزارا تھا اپنی اولاد کو وہ اس مفلسی کا شکار نہ دیکھ سکتا تھا۔ اس نے قطرہ قطرہ جمع کرکے دریا میں بنا ڈالا تھا اور آج اسفند خان اور احمد یار علی کی دوستی۔ اس دھندے کی کامیابی اور پیسے کی ریل پیل کا ثبوت تھی۔
ملک نواز احمد … ایک بہت بڑا سیاستدان ‘ ملکی سیاست کا درخشاں ستارہ ‘ منسٹر سے لے کر ہوم سیکریٹری تک سب اس کے مشورے کے پابند ‘ سیاستدان جو اپنی عزت کی تمنا میں دوسروں کی عزت نفس کو بھی روند ڈالتے ہیں۔اسی عوام کو پسماندہ تصور کرتے ہوئے ان سے گریز کرتے ہیں جو انہیں اس مسند پر جلوہ افروز کرواتی ہے ‘ جن کے ووٹوں سے انہیں کرسی … اقتدار اور اختیار ملتا ہے انہی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
چوہدری وجدان احمد … ایک بیورو کریٹ کا ہی نہیں ایک بہت بڑے سیاست دان کا بھی بیٹا ، سیاست اسے ننھیال اور ددھیال سے ورثے میں ملی تھی … جس نے آنکھ سونے کے جھولے میں کھولی ہے ‘ وہ اپنی محنت اور لگن سے حکومت پاکستان کا اعلیٰ سرکاری آفیسر تو بن گیا لیکن اپنی کرسی کا صحیح فرض ادا نہیں کرپایا۔ وہ چور راستہ ہے جو اسفند خان … احمد یار علی اور ملک نواز احمد جیسے انسان دشمنوں کو مہیا ہے۔
مس فاروقی پروفیسر عظیم علی بخاری کی اکلوتی بیٹی جو آئی بی کی انسپکٹر ہے وہ ایک ٹھوس ارادہ لے کر ان تک پہنچی ہے ‘ وہ محب وطن باپ کی محب وطن بیٹی خود کو اس قابل سمجھتی ہے کہ وطن کی شان سے کھیلنے والے سگے رشتوں کی آنکھوں میں بھی آنکھیں ڈال سکتی ہے وہ تو پھر چند انسان دشمن تھے۔
ۃ…v…ۃ
’’ میں نے تمہیں منع کیا تھا نا کہ مجھے آئندہ فون مت کرنا ‘ لیکن تم باز نہیں آئے‘‘۔ وہ غصے میں کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’ جب پیار کرنا تو کیسا ڈرنا‘‘۔ وہ بھی بہت ڈھیٹ تھا۔
’’ لگتا ہے فارغ اوقات میں آپ صرف بکواس ہی کرتے ہیں‘‘۔ سارا زور بکواس پر تھا۔
’’ ویسے مس بخاری … میں نے آج تک آپ سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی جسے آپ بکواس کہیں‘‘۔ وہ مسکرایا تھا۔
’’ اور یہ جو آپ کہہ رہے ہیں انہیں شاید منہ سے پھول جھڑنا کہتے ہیں‘‘۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی تھی۔
’’ شکریہ ‘ نوازش … ویسے آپ نے پھر کیا سوچا‘‘۔ وہ اصل گفتگو کی طرف آگیا۔
’’ کس بارے میں؟‘‘
’’ میں اپنے پروپوزل کی بات کررہا ہوں‘‘۔
’’ میں آپ کو پہلے ہی جواب دے چکی ہوں اور اب تو یہ کسی طور ممکن ہی نہیں‘‘۔ وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔
’’ کیوں ‘ اب کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ گڑبڑایا۔
’’ اب ‘ جیسے آپ تو کچھ جانتے ہی نہیں … یعنی یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کی اصلیت کیا ہے میں آپ سے شادی کرلوں‘‘۔
’’ میرا حوصلہ بھی تو دیکھیں نا کہ میں آپ سے شادی کی خواہش رکھتا ہوں‘‘۔ وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا۔
’’ کیا مطلب!‘‘
’’ مطلب یہ انسپکٹر عزوہ بخاری کہ میں آپ کی اصلیت جانتے ہوئے بھی آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ اس کی بات سن کر وہ چونکی تھی۔
’’ کہنا کیا چاہتے ہیں آپ ‘ کھل کر بولیں‘‘۔
’’ میں تو ساری بات کھل کر ہی کررہا ہوں ‘ میری اصلیت تو آپ جان ہی چکی ہیں۔ پاکستان کے دشمن عناصر کا ایک ساتھی ہوں اور اب آپ بھی مس فاروقی کے نام سے ہمارے گینگ میں شامل ہوچکی ہیں اور آپ کیوں شامل ہوئی ہیں یہ بھی میں جانتا ہوں‘‘۔ وہ اب کی بار کھل کر ہی بولا تھا۔
’’ مجھے پیسے سے زیادہ پیشے سے محبت ہے وجدان احمد ‘ اگر آپ جان گئے ہیں تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘۔ وہ گھبرائی ضرور تھی لیکن خود کو مضبوط بنا کر بولی تھی۔
’’ اور ہمیں بھی اپنے پیشے سے بہت محبت ہے مس بخاری …‘‘ اس کی بات کاٹ دی گئی۔
’’ کون سے پیشے سے؟‘‘ ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اس کے نازک ہونٹوں کا احاطہ کیا تھا اب کی بار گھبرانے کی باری وجدان احمد کی تھی۔
’’ ایک ہی پیشہ ہے میرا جس کی پانچویں شریک ساتھی آپ بن چکی ہیں‘‘۔ اس کا لہجہ مستحکم تھا۔
’’ اور جو محکمۂ پولیس نے آپ کو آپ کی ایمانداری کے صلے پر ڈی ایس پی تعینات کیا ہے۔ وہ پیشہ شاید آپ نے دہشت گردی کے جھونگے کے طور پر پایا ہے‘‘۔ اس کے طنزیہ انداز گفتگو نے وجدان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’ گویا آپ نے مکمل طور پر انویسٹی گیشن کروائی ہے میری‘‘۔
’’ پہلے نہیں کروائی تھی۔ جب سے آپ کے گینگ میں شمولیت اختیار کی ہے اس کے بعد ضرورت پڑی ہے‘‘۔ اس نے صاف الفاظ میں بتایا۔
’’چلیں کسی بھی طور سہی ‘ ضرورت تو پڑی آپ کو‘‘۔ وہ ڈھیٹ بنا بولا۔
’’ ہاں کبھی کبھی معاشرے کی بد عنوانیاں سامنے لانے کے لیے اس طرح کے کاموں کی ضرورت پڑجاتی ہے‘‘۔ اگر وہ سب کچھ جان گیا تھا تو عزوہ نے بھی سامنے آنے کی ٹھان لی تھی۔
’’ کیسی بدعنوانیاں؟‘‘ وہ چونکا تھا۔
’’ وہی بدعنوانیاں مسٹر وجدان جن میں مصروف ہو کر آپ زندگی کے مقاصد کو بھولتے جارہے ہیں۔ وہ فرائض بھول گئے ہیں جو آپ پر ایک شہری ہونے کی حیثیت سے اس ملک کی طرف سے لاگو ہوتے ہیں آپ کو صرف اپنا خیال ہے اس ملک کی غرض و غایت کا احساس تک نہیں آپ کو‘‘۔ بات ختم کرکے اس نے ایک لمبی سانس کھینچی تھی۔
’’ ہاں ایسا ہی ہے ‘ مجھے سب سے زیادہ اپنی ذات عزیز ہے اس کے بعد اور کچھ ‘ مجھے صرف اپنی خوشی عزیز ہے چاہے وہ جیسے بھی حاصل ہو اس کے لیے میں حلال اور حرام ‘ حقوق اور فرائض کے چکر میں نہیں پڑتا‘‘۔ وہ بھی اسی کے انداز میں بولا تھا۔
’’ اس دھرتی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے وجدان احمد تھوڑا ذہانت سے کام لو۔ اپنے احساس کے تقدس کو جاگنے سے پہلے ہی مٹا ڈالو کیونکہ ہمارے فرائض زیادہ اور حقوق کم ہیں جہاں حقوق کم ہوں وہاں صرف فرائض کی بات ہوتی ہے‘‘۔ وہ مدہم آواز میں سمجھانے کے انداز میں بولی تھی۔
’’ چلو یہ مل بیٹھ کر طے کرلیں گے ‘ حقوق و فرائض کا تعین بھی کریں گے پہلے تم ہاں تو کرو‘‘۔ اس کی بات سن کر عزوہ نے مایوسی سے آنکھیں بند کرلیں۔
’’ آئی ایم سوری وجدان‘‘۔
’’ کیوں؟‘‘
’’ مجھے اپنے فرائض پورے کرنے ہیں۔ دھرتی ماں پر چلنے والے سورمائوں کو تہہ تیغ کرنا ہے اس کے ناسور بنتے زخموں پر مرہم رکھنا ہے‘‘۔
’’ میں کبھی بھی تمہارے فرائض کی راہ میں حائل نہیں ہوں گا‘‘۔ رسانیت سے بولا۔
’’ سوری اگین ‘ آپ کے اور میرے راستے جدا جدا ہیں‘‘۔ اس کی بات نے وجدان احمد کے تن بدن میں آگ لگادی۔
’’ نہ … نہ عزوہ بی بی آئندہ ایسی بات نہیں کرنی ‘ وجدان احمد ایک بار جس چیز پرنظریں جمالے نا وہ صرف اس کی ہوتی ہے‘‘۔
’’ میں جیتی جاگتی انسان ہوں وجدان احمد کوئی چیز نہیں‘‘۔ وہ چلائی تھی۔
’’ ایسا ہی ہوگا لیکن تم صرف میری ہو صرف وجدان احمد کی اور اب اگر تم نے انکار کیا تو میں ملک نواز احمد اور سب کو تمہاری اصلیت بتادوں گا … پھر تم پناہ مانگو گی تو تمہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی‘‘۔وہ دھمکی دیتا ہوا گویا ہوا تھا۔
’’ تم جو کرسکتے ہو کرلو وجدان احمد لیکن یہ بات ذہن سے نکال دینا کہ میں تم سے شادی کروں گی‘‘۔ وہ غصے سے دھاڑی تھی۔
’’ یہ تو وقت بتائے گا‘‘۔ وجدان احمد نے ہنس کر فون بند کردیا تو عزوہ نے سیل ٹیبل پر پٹخ دیا اور سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
ۃ…v…ۃ
’’میڈم آپ سے کوئی صاحب ملنے آئے ہیں‘‘۔ سپاہی نے اندر آکر سلیوٹ مارا۔
’’ نام وغیرہ‘‘۔ اس نے فائل پر سے نظریں اوپر اٹھائیں۔
’’ کہتے ہیں آپ نے خود بلوایا ہے‘‘۔ وہ اٹینشن کھڑا ہو کر بولا تھا۔
’’ اچھا بھیج دو‘‘۔ اس نے فائل بند کردی اور آنے والے کا انتظار کرنے لگی۔
’’ السلام علیکم انسپکٹر صاحبہ‘‘۔ سامنے وجدان احمد کو دیکھ کر اس کے ابرو تن گئے۔ وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آپ … آپ کی جرأت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟‘‘
’’ کول ڈائون مس بخاری … فون آپ ریسیو نہیں کرتیں۔ وہاں اڈے پر میں آپ سے اس قسم کی کوئی بات نہیں کرسکتا۔ گھر پر آپ سے ملاقات نہیں ہوتی پھر مجھے یہاں آنے کی جرأت تو کرنی ہی تھی نا ‘ اسکائے بلیو کاٹن کا کلف زدہ سوٹ پہنے وہ ایک سائیڈ پر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کی گھنی مونچھوں تلے خوبصورت ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
’’آپ اٹھیں یہاں سے ‘ یہ میرا آفس ہے کوئی سرائے نہیں جس کا دل کرے وہ منہ اٹھا کر آجائے‘‘۔ اس نے انگلی کا اشارہ کیا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا ‘ پھر چلتا چلتا اس کے اتنے قریب کھڑا ہوگیا کہ اس کی سانسیں اس کے ماتھے کو چھو جاتیں۔
’’ بہت محبت کرتا ہوں میں آپ سے‘‘۔ وہ اگر ذرا سا سر آگے کرتا تو اس کا سر اس کے سر سے ٹکراجاتا۔
’’ محبت … اس کا مفہوم جانتے ہیں آپ‘‘۔ وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹ گئی تھی۔
’’ مفہوم کو چھوڑیں۔ میں تو آج آپ کی رضامندی لینے آیا ہوں‘‘۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا تو اس نے فوراً گھنٹی کا بٹن دبادیا ‘ وجدان احمد دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔
’’ یس میڈم‘‘۔ سپاہی نے اندر داخل ہوکر حسب دستور سلیوٹ مارا۔
’’ حسن‘ صاحب کو باہر …‘‘۔ اس کی بات کاٹ دی گئی
’’ صاحب کو باہر کی چائے اچھی نہیں لگتی اس لیے کافی لیں گے ‘ اب آپ جاسکتے ہیں‘‘۔ وہ بارعب آواز سے بولا تو حسن باہر نکل گیا اور عزوہ وہ بے بسی سے دیوار کے ساتھ جالگی۔
’’ کیا چاہتے ہیں آپ؟‘‘ وہ زچ ہو کر بولی تھی۔
’’ آپ کو … صرف آپ کو‘‘۔
’’ وجدان احمد! پلیز رحم کرو مجھ پر‘‘۔ وہ کراہ رہی تھی۔
’’ یہاں تو ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو والا معاملہ ہے مس بخاری ‘ آپ مجھ پر رحم کریں میں آپ پر کروں گا‘‘۔ وہ وہیں کھڑا بولا تھا۔
’’آپ جان کیوں نہیں چھوڑتے میری‘‘۔ وہ ہلکا سا چلائی تھی۔
’’ آپ کی جان میں تو میری جان ہے ‘ کیسے چھوڑ دوں‘‘۔ وہ آگے بڑھ آیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کا منہ نوچ ڈالتی وہ دیوار کے ساتھ لگی اسی کی طرف دیکھ رہی تھی وہ آگے بڑھتے بڑھتے بالکل اس کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا اس کے دائیں بائیں دونوں ہاتھ دیوار پر رکھتے ہوئے اس نے اس کے فرار کی تمام راہیں مسدود کردی تھیں۔
’’ اب بولو کیا کہتی ہو؟‘‘
’’ مجھے کسی وطن دشمن سے شادی نہیں کرنی‘‘۔
’’ آئی لو مائی پاکستان۔ اب بولو‘‘۔ اس نے گویا بات ہی ختم کردی۔
’’ صرف منہ سے بول دینے سے محبت نہیں ہوجاتی‘‘۔
’’ تم میرے دل میں جھانک کر دیکھو ‘ تمہیں محبت ہی محبت نظر آئے گی اپنے لیے بھی اور وطن کے لئے بھی‘‘۔ وہ خُمار آلود لہجے میں بولا۔
’’ میری نہ ہاں میں نہیں بدل سکتی‘‘۔ وہ مضبوط اور مستحکم لہجے میں بولی تھی۔
’’ اگر جان دے دوں تو‘‘۔
’’ جان دینا اتنا آسان تو نہیں ہوتا ‘ زبان سے کہنا آسان ہوتا ہے ‘ وجدان احمد لیکن عمل کرنا بہت مشکل اور پھر تم جیسے لوگوں کیلئے تو اور بھی مشکل‘‘۔وہ طنزیہ انداز لیے ہوئے تھی۔
’’ یہ مجھ جیسے لوگوں سے کیا مراد ہے تمہاری‘‘۔ اس نے اس کے الجھے بالوں کی لٹ کو ہاتھوں سے پکڑ کر اس کے کانوں کے پیچھے اڑسا تو وہ اس کی اس جسارت پر لرزگئی۔
’’ تم جیسے لوگ جو اس سرزمین پر رہ کر ‘ اس دھرتی ماں کی آب و ہوا میں سانس لے کر اس کے پانی کو استعمال کرکے اس کے ساتھ بے وفائی کرتے ہیں۔
’’بس … اتنی سی بات پر تم انکار کررہی ہو‘‘۔ وہ بہت پرسکون ہو کر بولا تھا۔
’’ اتنی سی بات … یہ اتنی سی بات نہیں وجدان احمد ‘ تمہیں جو کرسی حکومت پاکستان کی وساطت سے ملی ہے اس پر عائد شدہ ذمہ داریوں کی تکمیل تم پر فرض ہے … لیکن تم … تم کیا کررہے ہو۔ کرسی پر بیٹھے بدامنی پھیلا رہے ہو۔ تمہاری شہ پر تمہارے لواحقین غریب لوگوں سے ان کے منہ کا نوالہ چھین لیتے ہیں ‘ غریبوں کو ان کی محنت کا صلہ درکار ہے جو انہیں نہیں مل رہا ان میں بددلی پیدا ہورہی ہے وہ تم سے تمہاری کرسی سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ سوچو وجدان احمد اگر تم ایک عظیم شخصیت کے مالک ہو تو بحیثیت انسان ہر عام شہری ایک عظیم شخصیت کا مالک ہوتا ہے … تم جیسے لوگوں کی عیاشیوں کی وجہ سے انسانیت سوز واقعات ہورہے ہیں۔ تمہارے علاقے میں غنڈہ گردی عام ہے اور پھر دہشت گر دی جو ملک کے کونے کونے میں جڑ پکڑ رہی ہے سوچو اس میں تم جیسے لوگوں کا کتنا ہاتھ ہے‘‘۔ وہ اس کے پل پل بدلتے رنگ کو دیکھ کر خاموش ہوگئی تھی۔
’’ چپ کیوں ہوگئیں … عزوہ بخاری بولونا ‘ تمہیں یہ تمام نقائص صرف میرے علاقے میں ہی کیوں نظر آرہے ہیں۔ اس کرسی پر تو تمہارا تایازاد عسیف احمد بھی بیٹھا ہے۔ عیاشی تو وہ بھی کررہا ہے پھر تمہاری تان جا کے میرے باپ دادا کی سیاست پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے‘‘۔ وہ واقعی شرمندہ تھا یا شرمندہ ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ کسی شکست خوردہ کی طرح دیوار سے ہٹالئے تھے۔
’’ پتہ ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے وجدان احمد‘‘۔ وہ اس کے ایک طرف سے ہو کر نکلتے ہوئے بولی۔’’ تم لوگ حقیقت کو قبول نہیں کرتے اگر تم لوگوں کو حقیقت سے روشناس کرایا جائے تو تم لوگ اسی حقیقت کو خوبصورت ریپر میں لپیٹ کر سامنے موجود شخص کے منہ پر مارنے کی کوشش کرتے ہو ‘ جس کرسی پر تم بیٹھے ہو اس پر تم سے پہلے بھی کئی لوگ بیٹھ چکے ہیں۔ سب نے وہی کیا جو تم کررہے ہو … توقع بھی یہی کی جاسکتی ہے کیونکہ کرسی تو وہی رہتی ہے صرف چہرے بدلتے ہیں ‘ تمہارے باپ دادا نے جو کیا وہ آج تم کررہے ہو اور تمہارے بعد تمہارے بیٹے اور پوتے کریں گے چہرے بدلیں گے کام وہی ہوگا، عوامی اعتماد کو قتل کیا جائے گا۔ تم جیسے لوگوں کا نام لیوا کوئی نہ بچے گا‘‘۔ وہ کرسی پر بیٹھ چکی تھی اور بہت پرسکون ہو کر بول رہی تھی۔
’’ اگر تم سیاست میں آجائو نا عزوہ تو یقین مانو تمہاری قوت شعلہ بیانی کے سبب تم چیف منسٹر کے عہدے تک تو پہنچ ہی جائو گی‘‘۔ وہ مڑتے ہوئے بولا تو عزوہ بخاری نے ترحم نظروں سے اس کی طرف دیکھا وہ پڑھا لکھا باشعور شخص اس کی ساری باتوں کو ہنسی میں اڑا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی حسن دروازے پر دستک دے کر اندر چلا آیا ‘ بھاپ اڑاتے کافی کے دو مگ ان دونوں کے سامنے رکھے اور واپس لوٹ گیا۔
’’ پھر تمہارا فیصلہ کیا ہے؟‘‘ اس کی تان پھر اسی بات پر ٹوٹی تھی۔
’’ میں جو فیصلہ ایک دفعہ کرلوں نا وجدان احمد … پھر میرا باپ بھی مجھے اس فیصلے سے نہیں ہٹا سکتا‘‘۔
’’ گویا تمہارا فیصلہ نہیں بدلے گا مجھے کوئی اور طریقہ اپنانا پڑے گا‘‘۔ وہ اٹھتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ تم سوائے اوچھے ہتھکنڈوں کے اور کر بھی کیا سکتے ہو؟‘‘
’’ نہیں میں اور بھی بہت کچھ کرسکتا ہوں اور تمہیں کرکے دکھائوں گا‘‘۔ وہ اس کے نزدیک آیا۔ ایک ہاتھ میز پر اور ایک اس کی کرسی کی پشت پر رکھ کر نیچے جھکا۔
’’ اب دیکھو … عزوہ بخاری وجدان احمد کیا کرتا ہے‘‘۔ وہ رکا نہیں چلتا چلا گیا۔ کافی کے بھاپ اڑاتے مگ ویسے کے ویسے ہی پڑے تھے۔
’’ کون تھا یہ … بڑا پرسنلٹیڈ تھا‘‘۔ محراب وجدان احمد کے باہر جانے کے فوراً بعد اندر داخل ہوا۔
’’ کون … کس کی بات کررہی ہو‘‘۔ عزوہ اپنے خیالوں سے چونکی۔
’’ یہ جو صاحب ابھی باہر گئے ہیں‘‘۔ عزوہ سمجھ گئی اس کا اشارہ کس کی طرف ہے۔
’’چوہدری وجدان احمد … محکمۂ پولیس میں ڈی۔ ایس پی ہے ‘ نارووال کی ایک بڑی سیاسی شخصیت کا اکلوتا چشم و چراغ‘‘۔ وہ تفصیلات بتانے لگی۔
’’ ویسے بندہ خوب ہے … یعنی خوبیاں ہی خوبیاں‘‘۔ محراب مسکرائی۔
’’ ایک ایکسٹر اخوبی اور بھی ہے‘‘۔ عزوہ اس کی طرف دیکھ کر بولی۔
’’ یعنی سرپرائز …‘‘ محراب تھوڑا سا آگے جھکی اور کافی کا ایک مگ اٹھالیا۔
’’ جی … وجدان احمد اس گینگ میں کام کرتا ہے جسے میں نے بطور ٹارگٹ چنا ہے‘‘۔
’’ کیا …؟‘‘ محراب کے ہاتھوں میں پکڑا ہوا کافی کا مگ چھلکا تھا جس سے کچھ کافی گر گئی تھی۔
’’ تم نے ڈی جی صاحب کو بتایا؟‘‘
’’ انہیں ساری صورتحال کا پتہ ہے‘‘۔ اس نے کافی کا بھرا ہوا مگ ایک طرف کیا اور نیچے سے فائل نکالی۔
’’ پھر کیا بولا انہوں نے؟‘‘ محراب نے کافی کا گھونٹ اتارا۔
’’ سر نے بولا ہے کہ میں چپ چاپ اپنا کام کرتی جائوں۔ اگر وجدان احمد نے انہیں بتایا تو اگلا لائحہ عمل طے کریں گے‘‘۔ اس نے فائل کھولی اور بال پوائنٹ سے کچھ نوٹ کرنے لگی۔
’’ یہ بھی تو ہوسکتا ہے وجدان احمد نے انہیں بتادیا ہو وہ تمہیں بے وقوف بنارہے ہوں‘‘۔ محراب کی بات پر اس نے جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا تھا۔
’’ نہیں اگر ایسا ہوتا تو ڈی۔ جی صاحب تک ضرور خبر پہنچ جاتی‘‘۔
’’ ویسے یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وجدان بھی تمہاری طرح کسی نیک ارادے سے اُن کے گینگ میں شامل ہوا ہو‘‘۔ محراب کی بات ٹھیک ہوسکتی تھی لیکن عزوہ سب کچھ جانتی تھی۔
’’ نہیں ‘ میں مکمل انویسٹی گیشن کرچکی ہوں ‘ اسے چھ سال ہوگئے ہیں ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور ان چھ سالوں کے دوران کتنے ہی موقع آئے جب وہ بآسانی ان پر ہاتھ ڈال سکتا تھا لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا اور میری تحقیقات کے مطابق وہ ڈی ایس پی بھی ڈائریکٹر کوبرا کی سفارش پر بھرتی ہوا تھا‘‘۔ وہ تفصیلاً بتانے لگی۔
’’کوبرا … یہ کون ہے؟‘‘ محراب نے کافی کا خالی مگ میز پر رکھا۔
’’ اُن ناسوروں کا کرتا دھرتا۔ وطن کے ہزاروں پھولوں کو نوچنے والا … دھرتی ماں کے لاکھوں بیٹوں کا قاتل ‘ اسی تک تو پہنچنا ہے مجھے‘‘۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں برسنے لگی تھیں۔
’’ ہوسکتا ہے وجدان احمد ابھی تک کوبرا تک نہ پہنچا ہو اسی لئے ہاتھ نہ ڈالتا ہو‘‘۔ محراب نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’ محراب! کوبرا ملک نواز احمد ‘ اسفند خان اور احمد یار علی کی نسبت وجدان احمد پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے ‘ کئی مرتبہ تو بالمشافہ اس سے ملاقات بھی کرچکا ہے جبکہ باقی تینوں کی تو صرف فون پر اس سے بات چیت ہے‘‘۔ اس نے اس کے خیال کو غلط قرار دیا۔
’’ اچھا … ویسے اگر تم بولو تو میں اپنے طور پر چوہدری وجدان احمد پر نظر رکھوں‘‘۔ محراب نے ایک خیال پیش کیا تو عزوہ کے ذہن میں کوئی کوندہ سا لپکا۔
’’ اس نے تمہیں یہاں دیکھا تو نہیں‘‘۔
’’ نہیں‘‘۔
’’ چلو پھر آج سے اس ٹارگٹ پر بھی کام شروع کردیتے ہیں‘‘۔عزوہ فائل بند کرتے ہوئے بولی۔
’’ تمہاری کافی ٹھنڈی ہوگئی ہے اور بھجوائوں‘‘۔ محراب اٹھی۔
’’ نو تھینکس‘‘۔ عزوہ فون کی بجتی گھنٹی کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
’’ بابا آپ نے مجھے بلایا‘‘۔ وہ ان کے اسٹڈی روم میں داخل ہوکر بولی۔
’’ اب تو اتنے اتنے دن ہوجاتے ہیں اپنے بیٹے کی شکل دیکھے ہوئے‘‘۔ وہ اسٹڈی چیئر سے اٹھ کر کونے میں پڑے ڈبل صوفے پر بیٹھ گئے۔
’’ اصل میں بابا میں چاہتی ہوں کہ محنت ‘ ہمت اور جرأت سے ادارے کی امیدوں پر پوری اتروں‘‘۔ وہ کمپیوٹر کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’ گُڈ … یہی اسپرٹ تو تمہیں آگے لے کر جائے گا‘‘۔
’’ یونیورسٹی کیسی جارہی ہے‘‘۔
’’ تمہارے آفس کی طرح اے ون ‘ تمہارے تایا ابو کا فون آیا تھا‘‘۔ وہ اصل بات کی طرف آگئے۔
’’ وہ ٹھیک تھے نا؟‘‘
’’ ہوں ‘ بالکل! کہہ رہے تھے کہ کئی ہفتوں سے تم سے بات نہیں ہوئی کدھر ہوتی ہو تم‘‘۔
’’ اچھا … پھر آپ نے کیا کیا؟‘‘ وہ کی بورڈ کو چھیڑتے ہوئے بولی۔
’’ میں نے … میں نے بتایا کہ تم نے ایم۔ اے میں داخلہ لے لیا ہے ‘ کہنے لگے ایک ایم۔ اے تھوڑا تھا‘‘۔ وہ کتاب میں سفید کاغذ رکھ کر بولے۔
’’ اچھا ‘ حویلی میں ہیں نا ‘ میں انہیں تھوڑی دیر تک رنگ بیک کرتی ہوں‘‘۔ وہ سمجھی شاید وہ اس سے بات کرنا چاہ رہے تھے وہ اس سے محبت بھی تو بہت کرتے تھے۔ بیٹی کی کمی عزوہ نے ہی تو پوری کر رکھی تھی۔
’’ تم انہیں کبھی بھی اپنی آئی بی کی جوائننگ سے متعلق کچھ مدت بتانا ‘ سیاستدان ہیں وہ اور پھر تم لوگوں کو تو ویسے بھی اپنے پیشے کو خفیہ رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے‘‘۔ وہ اسے نصیحت کرتے کرتے بولے تو وہ مسکرادی۔
’’ انہوں نے فون تمہاری شادی کے لئے کیا تھا‘‘۔
’’ میری شادی؟‘‘ وہ چونکی۔
’’ ہاں عسیف اور اس کی بیگم انگلینڈ شفٹ ہورہے ہیں اور تمہارے تایا ابا کا خیال ہے کہ تمہاری شادی عریض سے کردی جائے تاکہ وہ پرسکون ہوجائیں‘‘۔وہ نہایت مدہم آواز میں اس سے کہہ رہے تھے۔
’’ اور عسیف بھائی کی جاب‘‘۔
’’ وہ عسیف بہتر جانتا ہے کہ اسے کیا فیصلہ کرنا ہے تم اپنی شادی سے متعلق بتائو‘‘۔ وہ بات گول کرگئے تھے۔
’’ لیکن بابا‘‘۔
’’ میں شاید کبھی راضی نہ ہوتا بیٹا ‘ لیکن عریض صرف تمہاری مرحومہ پھوپو کا ہی بیٹا نہیں بلکہ تمہارا ماموں زاد بھی ہے تمہاری امی بھی اس رشتے پر خوش ہیں کہ مرحوم بھائی کی نشانی ہے وہ۔ مجھے اگر اعتراض تھا بھی تو صرف اس بات پر کہ بھائی صاحب کے زیر کفالت کہیں وہ سیاستدانوں والی حرکات نہ اپنالیں لیکن میرا یہ اعتراض بھی رفع ہوچکا ہے۔ وہ ایک پڑھا لکھا اور محنتی بچہ ہے اور پھر جس طرح اس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنے مرحوم باپ کی سیٹ سنبھالی ہے اتنی چھوٹی عمر میں ایس پی کی سیٹ بہت فخر کی بات ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے کوئی اعتراض نہیں … لیکن‘‘۔ وہ رک گئے۔
’’ لیکن کیا بابا؟‘‘ وہ الجھی۔
’’ لیکن اگر تم راضی نہیں تو ایک دوسری چوائس بھی ہے‘‘۔
’’ دوسری چوائس؟‘‘ اس کا ماتھا ٹھنکا۔
’’ وجدان احمد … عسیف کا بہت اچھا دوست ہے ‘ میرا بہت اچھا اسٹوڈنٹ رہا ہے۔
پھر تقریباً تمہاری لائن کا ہی ہے ‘ اس کے اماں اور ابا بھی آئے تھے‘‘۔
’’ لیکن بابا … ابھی تو میرا اسٹارٹ ہے اتنی جلدی شادی‘‘۔ وہ سٹپٹائی تھی۔
’’ اسی لیے میرا ووٹ وجدان کیطرف ہے کیونکہ وہ تمہاری جذباتی وابستگی سے بھی واقف ہوچکا ہے اور تمہاری جاب سے متعلق بھی جانتا ہے اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور اگر تمہارا ووٹ عریض کی طرف ہو تو میں کوئی اعتراض نہیں کروں گا لیکن پھر مشکل ہوگا کہ تم جاب جاری رکھ سکو‘‘۔ انہوں نے ساری بات مکمل کرنے کے بعد سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ بابا وجدان کو تو آپ انکار ہی کردیں اور عریض کیلئے مجھے وقت چاہئے‘‘۔ اس نے صاف لفظوں میں بات کی تھی۔
’’ میرا خیال ہے عزوہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو ‘ تمہارے حق میں وجدان زیادہ بہتر ہے‘‘۔
’’ بابا جو بات میں جانتی ہوں وہ آپ نہیں جانتے‘‘۔ وہ شرمندہ ہو کر بولی تھی۔
’’ بیٹا پڑھاتے ہوئے ایک مدت گزرگئی ہے۔ بندوں کی اتنی جانچ پرکھ تو میں کرہی لیتا ہوں ‘ وجدان واقعی بہت قابل ‘ سمجھدار ‘ محنتی اور ایماندار بچہ ہے‘‘۔
’’ ہوگا بابا لیکن اس کے ساتھ میرا نباہ بہت مشکل ہے۔ دو تین دفعہ میری اس سے ملاقات ہوچکی ہے اس کی سوچ بالکل تایا ابا جیسی ہے ‘ خود کو برتر سمجھنا ‘ ہر وقت دوسروں کی ذات کو تضحیک کا نشانہ بنانا جبکہ آئی تھنک بابا عریض کو میں قائل کرلوں گی‘‘۔ جانتے بوجھتے وہ کیسے کنویں میں چھلانگ لگاسکتی تھی۔
’’ چلو جیسے تمہاری مرضی ‘ لیکن پھر بھی وجدان …!‘‘ وہ شاید اسے عریض سے شادی کرنے سے روکنا چاہ رہے تھے۔
’’ پلیز بابا ‘ آ پ تایا ابو کو ابھی کچھ مت کہیئے گا‘‘۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ ٹھیک ہے … تم اچھی طرح سوچ لو۔ زندگی تمہیں گزارنی ہے ‘ فیصلہ بھی تمہیں ہی کرنا ہے‘‘۔ وہ اس پر اپنا فیصلہ مسلط نہ کرنا چاہتے تھے۔ زندگی میں قدم قدم پر اس نے کامیابی سمیٹی تھی اور آج جب اسے اپنے آنیوالے کل کا فیصلہ کرنا تھا تو پروفیسر عظیم علی بخاری اسے وہ فیصلہ بھی آزادی سے کرنے کا حق دینا چاہتے تھے تاکہ کل کو وہ اپنے مسائل سے خود نمٹ سکے ‘ دوسری طرف وجدان کے خاندانی پس منظر سے بھی وہ بخوبی واقف تھے اور وجدان کی قابلیت سے بھی لیکن فیصلہ پھر بھی بیٹی کو کرنے کا اختیار دیا تھا۔
ۃ…v…ۃ
’’ایکسکیوزمی مس‘‘۔ وہ گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرکے جیسے ہی آگے بڑھی اسے کسی شخص نے پکارا۔
’’ جی فرمائیے‘‘۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی اسے اپنی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا محسوس ہوا وہ ڈولنے لگی اسے اندھیرے کی وادی میں گم ہونے سے قبل اتنا محسوس ہوا تھا کہ اسے دو مردانہ ہاتھوں نے تھاما تھا۔
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک کمرے میں مقید پایا اسے کچھ سمجھ نہ آرہی تھی اس نے چار سو نظر دوڑائی۔ زیرو بلب کی ہلکی ہلکی روشنی میں کمرے کا جائزہ لیا ‘ جہازی بیڈ سائز جس پر وہ بیٹھی تھی ‘ ڈریسنگ ٹیبل ‘ دو بیڈ چیئرز ‘ قیمتی دبیز پردے ‘ کارپٹ پر پڑے کشن ‘ سامنے والی دیوار میں بنی بڑی سی وارڈروب ‘ ایک کونے میں پڑا ٹی وی اور دیوار پر لگی قیمتی پینٹنگز کسی چھوٹے سے محل کی تصویر تھے۔ اس نے اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے مسلا اور جلدی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی۔ ہینڈل کو کھینچا تو دراوزہ کھل گیا وہ دوپٹہ صحیح کرنے کے بعد کمرے سے باہر نکلی لیکن سامنے بنے ڈرائنگ روم میں بیٹھی شخصیت کو دیکھ کر اسے دھچکا لگا۔
’’ آئیے آئیے انسپکٹر صاحبہ ‘ لگتا ہے کئی راتوں سے سوئی نہیں تھیں اس لیے خوب آرام کیا‘‘۔ وہ اٹھ کر اس کے مد مقابل آیا تھا۔
’’ اس سے گھٹیا حرکت تم کر بھی نہیں سکتے تھے وجدان احمد‘‘۔ وہ غصے سے چلائی تھی۔
’’ میں نے تم کو بولا تھا نا کہ اگر تم نے انکار کیا تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی‘‘۔ وہ انگلی اٹھا کر بولا تھا۔
’’ تو پھر کرو … جو کچھ تم کرسکتے ہو ‘ زیادہ سے زیادہ جان سے ماردو گے اور کیا کرو گے تم‘‘۔ وہ غصے سے تمتما رہی تھی۔
’’ کروں گا تو میں بہت کچھ لیکن یوں چھپ کر نہیں۔ سر عام‘‘۔ وہ ذومعنی انداز میں کہہ کر اس کی طرف بڑھا۔
’’خبردار جو تم نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو‘‘۔ اس نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا۔
’’ تو … تو کیا کرلو گی تم‘‘۔ وہ مزید آگے بڑھا۔
’’ تو … تو میں اپنی جان لے لوں گی‘‘۔ اس نے کارنر پر پڑے کرسٹل گلدان کو اٹھالیا۔
’’ چہ … چہ… چہ آئی بی کی انسپکٹر اور بزدلانہ اقدام یعنی خودکشی‘‘۔ وہ آگے بڑھا اور ایک ہی جست میں اس کے ہاتھ سے گلدان چھین کر سامنے والی دیوار پر دے مارا اس کے ٹوٹنے کی آواز سارے کمرے میں گونجی۔ وجدان نے اسے بازو سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف چل دیا۔
’’چھوڑو مجھے … جنگلی انسان ‘ وحشی‘‘۔ وہ اس وقت آئوٹ آف کنٹرول ہورہی تھی۔ وہ اسے کھینچتا ہوا اوپر لے گیا پھر اسے کمرے میں داخل ہوتے ہی سامنے پڑے صوفے کی طرف دھکا دیا۔ وہ درد سے کراہ اٹھی۔ اس کی کلائی درد کی شدت سے سرخ ہوگئی تھی۔ وہ رونے لگی جب اس کے سر پر کسی نے ہاتھ رکھا تو اسے جھٹکا لگا اس نے سر اوپر اٹھایا اور سامنے موجود اپنے تایا زاد عسیف کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’عسیف لالہ‘‘ وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ اس کا دوپٹہ اس کے پاس نہیں ہے اس نے آس پاس متلاشی نظریں دوڑائیں تو سامنے ہی وجدان احمد دوپٹہ پکڑے کھڑا تھا۔
’’ یہ لو‘‘۔ اس نے دوپٹہ عزوہ کی طرف بڑھایا تو اس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔
’’ اس عزت افزائی کا شکریہ وجدان صاحب‘‘۔ اس نے طنزیہ انداز میں کہہ کر دوپٹہ جھپٹ لیا۔
’’ عسیف اسے کہو کہ اس کے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے ‘ میں آدھے گھنٹے تک مولوی صاحب کو لیکر آتا ہوں ان کے سامنے کوئی بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا‘‘۔ وہ کمرے سے چلا گیا۔
’’عسیف لا … لہ … آپ بھی‘‘۔ وہ شاک میں تھی اس کا ذہن کئی خانوں میں بٹ رہا تھا اس کے دماغ میں کوئی جھکڑ سے چل رہے تھے۔
’’ تم وجدان کی بات مان لو عزوہ‘‘۔ وہ الفاظ نہیں ہتھوڑے تھے جو اس کے سر پر برس رہے تھے۔
’’ لیکن کیوں …؟‘‘ وہ چلائی۔
’’ اس لیے کہ اسی میں تمہارا فائدہ ہے‘‘۔ وہ اسے کندھے سے تھامتے ہوئے بولے۔
’’ فائدہ … کیسا فائدہ ‘ مجھے اپنا فائدہ عزیز نہیں ہے عسیف لالہ ‘ مجھے صرف دھرتی ماں کا فائدہ دیکھنا ہے اور پھر آپ کے دوست سے شادی کرنے سے کون سا فائدہ آئے گا میرے ہاتھ‘‘۔ وہ ان کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے منہ دوسری طرف موڑ گئی۔
’’ دیکھو وجدان کے ساتھ شادی سے تم اپنا مشن بآسانی جاری رکھ سکو گی کسی کو شک بھی نہیں ہوگا‘‘۔
’’ کیسامشن؟‘‘ وہ چونکی تھی۔
’’ وہی مشن جو تم کوبرا کے خلاف جاری کرچکی ہو۔ وجدان تمہاری مدد کرے گا اس تک پہنچنے میں‘‘۔ وہ اطمینان سے بولا تھا۔
’’ اوہ … تو وجدان صاحب ساری انفارمیشن آپ تک منتقل کرچکے ہیں ‘ تبھی تو آپ صرف ایک رخ سے دیکھ اور سوچ رہے ہیں‘‘۔
’’ ایک رخ سے کیا مطلب؟‘‘ اب کی بار وہ چونکا تھا۔
’’ کیا مطلب … یعنی آپ کے دوست نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ وہ کوبرا کے قابل اعتماد بندوں میں شمار ہوتا ہے ‘ وہ پھر کیونکر مدد کرے گا میری‘‘۔
’’ اس لیے کہ تم اس کی بیوی ہوگی اور تمہاری مدد کرکے خود قانون کی مدد کرے گا‘‘۔
’’ قانون کی مدد! جو شخص قانون کا پاسدار ہوکر قانون کی مدد نہ کرسکا وہ میری وجہ سے کب کرے گا ایسا‘‘۔ وہ افسوس سے بولی تھی۔
’’ تم آہستہ آہستہ سب سمجھ جائو گی عزوہ … فی الحال صرف میری بات مانو‘‘۔ اس کے لہجے میں التجا تھی۔
’’ نہیں ‘ مجھے کسی نہیں ماننی ‘ کسی کی بھی نہیں ‘ میں اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کرسکتی‘‘۔
’’ وہ بہت اچھا شخص ہے تم سے محبت کرتا ہے۔ ایسے لوگ بہت اچھے لائف پارٹنر ثابت ہوتے ہیں اور یقین مانو عزوہ تم سے شادی کے بعد وہ سب کچھ چھوڑ دے گا‘‘۔ وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تھا۔
’’ ایسے لوگ عسیف لالہ … جن کے نزدیک شرافت اور شریف انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ‘ حصول اقتدار کیلئے ہر حربے کو موزوں خیال کرتے ہیں ‘ یہ تو لاتوں کے بھوت ہیں لالہ جو شریف اور غریب انسان کی باتوں سے نہیں مانتے۔ ان لوگوں کے نزدیک انسانیت کی عظمت شرافت نہیں بلکہ غرور اور تکبر ہے‘‘۔ کتنا زہر پالے ہوئی تھی وہ ان کے خلاف۔
’’ خوف محبت سے قوی تر ہوتا ہے عزوہ ‘ محبت میں جھکائو ہوتا ہے اور نفرت میں مضبوطی اور سختی ہے اس لیے محبت سے زیادہ نفرت زود اثر ہے اگر ہم ان لوگوں پر ظلم کرتے ہیں تو اس طرح یہ ہمیں بر اخیال کرتے ہیں اور یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ آکر ہماری کرسی پر بیٹھیں‘‘۔ عسیف نے اسے سمجھانا چاہا لیکن اس پر الٹا اثر ہوا۔
’’ اب کی نا آپ نے سیاستدانوں والی بات‘‘۔ وہ ذومعنی انداز میں بولی تھی۔
’’ ہم ہمیشہ اچھے دوست رہے ہیں عزوہ … جو بات تم چاچو سے نہیں کہہ سکتی تھی وہ ہمیشہ تم نے مجھ سے کہی ہے تو کیا اب اپنے دوست کی بات نہیں مانو گی‘‘۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پاس بٹھاتے ہوئے بولا۔
’’ نہیں ہیں آپ میرے دوست۔ آپ کی دوستی صرف آپ کے نفس سے ہے جو آپ کو آپ کے ارادوں اور خواہشات کے پیچھے لے کر بھاگ رہا ہے‘‘۔ اس نے آنسو صاف کرنے کیلئے ہاتھ گالوں پر پھیرا۔
’’ ابھی تم اس بات کو نہیں سمجھ رہی کچھ عرصہ تک جان جائو گی تو کہو گی کہ سب کچھ ٹھیک ہی ہوا تھا‘‘۔ عسیف کی بات سن کر اس نے اپنا جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا۔
’’ بہت افسوس ہوا یہ سن کر عسیف لالہ ‘ کہاں تو آپ اپنی قوت شعلہ بیانی سے اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں ایک نئی روح پھونک دیتے تھے ‘ ناجائز بات نہ کرتے تھے اور کہاں آج آپ ایک ناجائز مطالبہ بلا تامل تسلیم کررہے ہیں … بابا کے بعد آپ تو میرے آئیڈیل تھے ‘ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے والے لیکن آج … آج آپ حرص کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں ‘ کیوں کررہے ہیں آپ ایسا … آخر کیوں ‘ آپ اپنے پختہ کردار کو تایا ابا کی سیاسی منفعت پر قربان کرنے کیلئے تُلے ہوئے ہیں‘‘۔ وہ رو رہی تھی اس کے آنسو عسیف علی بخاری کو تکلیف دے رہے تھے۔
’’ بس کرو عزوہ … میں ابا جی کی سیاسی منفعت سے خود کو بچا کر ہی تو اپنی دھرتی سے اتنی دور جارہا ہوں جہاں پل پل اس مٹی کی خوشبو مجھے یاد آئے گی ‘ لیکن ایسا کرنا ضروری ہے‘‘۔ وہ بھی پھٹ پڑا تھا۔’’ عزوہ تم نے ہمیشہ مجھے بھائی کا درجہ دیا ہے تو آج بھائی کی حیثیت سے میرا فیصلہ قبول کرلو‘‘۔
’’پلیز لالہ مجھے مجبور نہ کریں ‘ میں بابا کو جواب دے چکی ہوں اور پھر اگر مجھے شادی کرنا ہی ہوئی تو امی اور تایا ابا کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں عریض سے شادی کروں گی‘‘۔ گویا وہ حتمی فیصلہ کرچکی تھی۔
’’ عریض علی بخاری کسی بھی طرح تمہارے قابل نہیں عزوہ‘‘۔ وہ چلایا تھا۔
’’ جب آگ میں ہی کودنا ہے تو لالہ اس آگ میں کیوں نہ کودا جائے جو اپنوں نے نہایت چاہت سے جلائی ہو‘‘۔
’’ عریض کے ساتھ شادی کرکے تم اپنے فرائض نبھانہیں سکو گی عزوہ جبکہ وجدان نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے رستے پر رہے گا اور تمہارے مشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا‘‘۔ عسیف مضبوط لہجے میں بولا تھا۔
’’ ٹھیک کہا آپ نے لالہ۔ وہ واقعی میرے مشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ میرا مشن ہی ختم کردے گا‘‘۔ وہ صرف سوچ سکی تھی۔
’’ عزوہ اپنی دھرتی ماں کی خاطر میری بات مان لو‘‘۔ وہ تڑپ اٹھی تھی اس کی بات سن کر بے ساختہ اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
’’ بس کریں لالہ … ایک وطن دشمن کے لئے اتنی بڑی قسم نہ دیں مجھے‘‘۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دروازے کی جانب دیکھا تو سامنے عریض کھڑا تھا۔
’’ دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی‘‘
عریض کو دیکھ کر اس نے برجستہ شعر پڑھا تھا۔
’’ سوری عزوہ ‘ لیکن میری مشہد کے ساتھ کمٹ منٹ ہے اس لیے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا‘‘۔ وہ شرمندہ شرمندہ سا بولا تھا۔
’’ مشہد … مشہد کون ہے؟‘‘ اس نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ میری محبت … میری منزل اگر سچ پوچھو نا عزوہ تو میں نے زندگی کی راہ گزر پر قدم قدم اسے ساتھ چلتے پایا ہے اب اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ تم عسیف لالہ اور وجدان کی بات مان لو‘‘۔ وہ ایک تواتر سے کہتا چلا گیا۔
’’ کوئی بات نہیں عریض علی بخاری … اچھا ہے تم بھی دیکھ لینا کہ زندہ شخص پر سے کھال کیسے کھینچی جاتی ہے‘‘۔ اس کا انداز گفتگو طنزیہ تھا پھر وہ عسیف کی طرف مڑی۔
’’ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے عسیف لالہ لیکن …‘‘ وہ ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح بولی۔
’’ لیکن کیا …؟‘‘
’’ لیکن میرے بابا کی شرکت لازمی ہوگی اور صرف نکاح ہوگا‘‘۔
’’ وجدان لالہ ماموں کو ہی لینے گئے ہیں‘‘۔ عریض کی بات پر اس نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا۔
’’ یہاں بہت سی باتیں ڈھکی چھپی ہیں عزوہ ‘ آہستہ آہستہ جان جائو گی‘‘۔ اب کی بار پھر عریض ہی بولا تھا۔
اس نے چپ چاپ خود کو حالات کے بہتے دھارے پر چھوڑ دیا تھا۔ اگر اب سب راضی تھے تو وہ بھی نیم دلی سے ہی سہی ان کی رضا میں راضی ہوگئی تھی لیکن اس نے چند منٹوں میں جو کچھ پلان کیا تھا وہ وجدان احمد کی آئندہ آنے والی زندگی میں کافی تھا۔
ۃ…v…ۃ
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا۔ دن رات کی محنت کا نتیجہ اسے اس کی شاندار ترقی کی صورت میں ملا تھا۔ اس نے باپ سے اپنے مسائل کہنا چھوڑ دیئے تھے وہ جو بات بات پر قہقہہ لگاتی تھی گم صم ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ اتنا ہی بولتی تھی جتنی کہ ضرورت ہوتی اس کی یہ حالت دیکھ کر اس کی ماں ایک رات یوں سوئی کہ صبح اٹھ ہی نہ سکی اور وہ … اس کے تو آنسو ہی خشک ہوگئے تھے وہ سسکی لینا تو کجا کراہ بھی نہ سکی۔ کسی کے کوئی جذباتی الفاظ اسے آنسو بہانے پر مجبور نہ کرسکے۔ وہ اپنے اصولوں پر سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی۔ دو سال تک اس نے اپنی بھی پرواہ نہ کی تھی اس کے سامنے صرف ایک ہی مقصد تھا دھرتی ماں کے سینے پر چلنے والے دشمنوں سے نبرد آزمائی۔ اس نے نہایت ہوشیاری سے ایسے ایسے دشمنوں کے چہروں سے نقاب کھینچی تھی کہ دیکھنے والے انگلیاں منہ میں داب لیتے۔ اس نے اپنے آئیڈیل اپنے باپ سے بات کرنا چھوڑ دی تھی۔ عسیف کا فون آتا تو وہ ریسیو ہی نہیں کرتی تھی۔ وجدان سے آمنا سامنا ہوتا تو یوں کترا کر گزرجاتی جیسے وہ کوئی نامحرم ہو اور عریض علی بخاری کو تو وہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی اس پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کوبرا کو … نیب کوبرا کو اس کے ساتھیوں سمیت گرفتار کرنا ‘ اسے ابھی تک آمنے سامنے ملاقات کا موقع نہیں ملا تھا لیکن وہ پھر بھی ان کے لیے کام کررہی تھی۔ اس کے نکاح کو اس کے بابا نے خفیہ رکھا تھا یہاں تک کہ اس کے تایا ابو کو بھی نہیں بتایا تھا۔ وہ کئی بار عریض اور اس کی منگنی و شادی کی بات فون پر کرچکے تھے اس کے بابا ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے لیکن جس واقعے نے اسے ہلا کر رکھ دیا وہ عریض علی بخاری کے سسپینڈ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی گرفتاری بھی تھی۔ وہ بھی ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملوث تھا۔ نہ صرف اسمگلنگ بلکہ دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی ‘ وہ بھی نیب کوبرا کے ساتھ کام کرتا تھا۔ گویا وجدان اور وہ دونوں مل کر کام کررہے تھے چونکہ وجدان ان دونوں کا رشتہ جانتا تھا اس لیے اس نے حتی الامکان ان دونوں کو آمنے سامنے نہیں آنے دیا تھا۔
اس دن عرصے بعد اس نے دوبارہ اپنے باپ سے باتیں کی تھیں ‘ ڈھیر ساری باتیں اور آخری بھی کیونکہ اگلی صبح اسے اس کے باپ کی شہادت کی خبر ملی تھی۔ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو ان کی گاڑی سے ٹکرا دیا تھا چونکہ وہ علم کا خزانہ بانٹنے جا رہے تھے اس لیے شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے ‘ خودکش حملوں کے بقیہ کیسوں کی طرح اس کی فائل بھی آہستہ آہستہ نیچے دب گئی لیکن عزوہ بخاری نے خود کو اس سرغنہ تک پہنچانے کی ٹھان لی۔باپ کے جانے کے بعد عزوہ کے تایا ابا نے بہت کوشش کی کہ وہ حویلی چلے لیکن وہ نہ مانی اس نے اس گھر کو اس آنگن کو جس میں اس نے اپنے باپ کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا تھا چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ اس کے تایا ابا انگلینڈ سے واپس آئے ہوئے عسیف کو اس کے پاس چھوڑ کر دو دن کے لیے واپس حویلی گئے تو وجدان احمد اسے لینے آگیا۔
’’ نہیں مجھے کہیں نہیں جانا‘‘۔ وہ اپنی ضد پر قائم تھی۔
’’ وجدان کو کل آفس کے کام سے اسلام آباد جانا ہے عزوہ جلدی پیکنگ کرلو‘‘۔ عسیف نرمی سے بولا۔
’’ میں نے بول دیا نا کہ مجھے کہیں نہیں جانا‘‘۔ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیا تھا۔
’’ لیکن مجھے تمہیں ابھی اور اسی وقت لے کر جانا ہے‘‘۔ اس نے بھی اسی کا انداز اپنایا۔
’’ مجھے اور ذلیل نہ کرو وجدان احمد ‘ مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
’’ باتیں کم بنائو اور پیکنگ کرو‘‘۔ وہ چیخا تھا۔
’’ تم مر کیوں نہیں جاتے‘‘۔ وہ بے بسی سے بولی تھی۔
’’ عزوہ منہ سے بدفعال نہیں نکالتے‘‘۔ عسیف نے اسے ڈانٹا اور اٹھ کر لائونج سے باہر نکل گیا۔ وجدان اٹھ کر عزوہ کے صوفے تک چلاآیا۔ وہ کرنٹ کھا کر اٹھی تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھالیا۔
’’ جلدی پیکنگ کرلو۔ اب میں جائوں گا تو تمہیں ساتھ لے کر ہی‘‘۔ وہ ساتھ تو جانے پر تیار نہ تھی جبکہ وہ اسے وہاں چھوڑنے پر راضی نہ تھا۔
اپنے غصے ‘ دھمکی اور اپنائیت کا کچھ اثر نہ دیکھ کر اس نے اسے بازو سے پکڑا اور اس کے بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا وہ چیختی رہی لیکن وہ تو گویا کان بند کئے ہوئے تھا۔
’’ چھوڑو مجھے ‘ کہیں نہیں جانا ہے مجھے تمہارے ساتھ‘‘۔ آنکھیں بھر آئی تھیں اس کی۔
’’ تمہارے توہوتے سوتے بھی جائیں گے‘‘۔ اس نے اس کے بازو کو جھٹکا دے کر بیڈ کی طرف دھکیلااور خود اس کی وارڈروب کی طرف بڑھا اور جو کچھ ہاتھ لگا بیگ میں ٹھونس ڈالا ‘ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے جارحانہ عزائم سے اس کی طرف بڑھا تو وہ بیڈ پر سے گھسٹتی ہوئی دوسرے کنارے پر جالگی۔
’’ کیوں خواہ مخواہ اپنا وقت بھی ضائع کررہی ہو اور میرا بھی‘‘۔ وہ بیگ نیچے رکھ کر ایک کونے میں ٹک گیا تھا۔
’’ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو وجدان پلیز‘‘۔ اس نے منت بھرا احتجاج کیا تھا۔
’’ تم اب میری ذمہ داری ہو اور مجھے اپنی ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھانے دو مسز عزوہ وجدان احمد‘‘۔ اس نے ایک ایک لفظ کو چبا کر بولاتھا۔
’’ نہیں بننا ہے مجھے تمہاری ذمہ داری … میںکل گائوں تایا ابا کی طرف جارہی ہوں‘‘ وہ اپنی منت کا کوئی اثر نہ دیکھ کر بولی۔
’’ اور وہ تمہارا ٹارگٹ‘‘۔ وہ اسے مطلوبہ پوائنٹ پر لے آیا تھا۔
’’ وہ میرا درد سر ہے تمہیں خواہ مخواہ اس کی فکر پالنے کی ضرورت نہیں‘‘۔ وہ اسے گھور کر بولی۔
’’ فکر تو مجھے ہوگی نا آخر تمہاری زندگی کا مقصد ہے وہ اور تم میری عزیز بیوی ہو‘‘۔ وہ ایک ہی جست لگا کر اس کے پاس پہنچ چکا تھا وہ لرز گئی۔
’’ میں تایا ابا کے پاس پہنچ کر تمہیں خلع کے کاغذات بھجوادوں گی‘‘۔ الفاظ تھے یا کوئی بم۔
’’ کیا کہا تم نے عزوہ بیگم … کان کھول کے سن لو ہم زمیندار لوگ اتنی جلدی اپنی بیویاں نہیں چھوڑتے اور پھر ابھی تو میں نے تم سے بہت کچھ وصول کرنا ہے‘‘۔ اس کی دوسری بات نے عزوہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑادی تھی۔
’’ میں نے ایک دفعہ کہہ دیا وجدان احمد کہ مجھے اس گھر سے کہیں نہیں جانا اگر جانا ہے تو صرف اپنے دادا کی حویلی … سنا تم نے صرف معظم علی بخاری کی حویلی‘‘۔ اس نے ایک ایک لفظ پر پورا زور دیا تھا۔
’’ اچھا جیسے تمہاری مرضی‘‘۔ وہ اس کا ہاتھ سائیڈ ٹیبل پر پڑے فروٹ نائف کی طرف بڑھتا دیکھ کر بولا اور پھر ایک ہی وار میں چاقو اٹھا کر دور پھینک دیا اسے بازو سے دبوچا اور کھینچتا ہوا باہر کی طرف چل دیا وہ مزاحمت کرتی رہی لیکن وہ ایک ہاتھ میں بیگ پکڑے اور دوسرے سے اس کی کلائی سرونٹ کوارٹر کی طرف بڑھا تھا جہاں اشرف چاچا اور عسیف دونوں کھڑے پریشان پریشان نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’ اچھا عسیف ہم چلتے ہیں‘‘۔ وہ عسیف سے اجازت مانگ رہا تھا۔
’’ وجدان چھوڑو مجھے …‘‘ وہ ناگواری سے بولی تھی تو اس نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’ بچے وجدان کی عزت کرو ‘ یہ تمہارے سر کا سائیں ہے‘‘۔ اشرف چاچا نے آبدیدہ ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھوں سے رم جھم پھوار شروع ہوگئی۔ چہرے پر موتیوں کی لکیر بننے لگی تھی۔
’’ اشرف چاچا پلیز مجھے اس کے ساتھ نہیں جانا ‘ مجھے تایا ابا کے پاس حویلی جانا ہے‘‘۔ وہ ایک ہی بات کی رٹ لگائے تھی ساتھ ہی ساتھ زوروشور سے آنسوئوں کی آمدورفت بھی جاری و ساری تھی۔
’’ عزوہ … چاچو کے قتل کے بعد تمہارا گائوں جانا ٹھیک نہیں ہے اور ویسے بھی انہوں نے اشرف چاچا کو منع کیا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد تمہیں گائوںنہ جانے دیں‘‘ یہ کیسا انکشاف تھا اس نے روتی آنکھیں عسیف پر جمائیں۔
’’ لیکن کیوں …؟‘‘ وہ اس سے آنکھیں نہ ملاپایا اور اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔
’’ اس لیے عزوہ کہ بخاری صاحب کے قتل کے بعد اب تم ان کا ٹارگٹ ہوگی اور گائوں والی حویلی پر بھی ان کی گہری نظر ہے‘‘۔ وجدان بولا تھا۔
’’ گویا مجھے فرعون سے بچانے کے لیے فرعون کے ماتحت خاص کے حوالے کیا جارہا ہے‘‘۔ وہ طنزیہ ہنسی ہنسی تھی۔
’’ شاید ایسا ہی ہے لیکن اسی میں تمہارا فائدہ ہے‘‘۔ عسیف نگاہیں جھکا کر ہی بولا تھا۔ وہ خود میں اتنی ہمت نہیں پارہا تھا کہ اس کی برستی آنکھوں کا سامنا کرتا۔
’’ اچھا اشرف چاچا آپ ہم سے مل کر جائیے گا‘‘۔ وجدان نے بیگ نیچے رکھ کر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اشرف چاچا نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ عزوہ کا بہت خیال رکھنا وجدان بچے … یہ بہت چھوٹی تھی جب میں اس گھر میں آیا تھا ‘ اس کی شادی کے حوالے سے بہت خواب تھے۔ ہمارے لیکن جو قدرت کو منظور ہو ‘ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی رخصتی ایسی ہوگی‘‘۔ ان کی بوڑھی آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے۔
’’ آپ بے فکر رہیں چاچا‘‘۔ پھر وہ عسیف کی طرف مڑا۔
’’ میں عزوہ کا باقی سامان پہنچادوں گا اور اشرف چاچا ہفتے کو میرے ساتھ ہی چلے جائیں گے‘‘۔ عسیف کی بات پر عزوہ نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا۔
’’ اشرف چاچا آپ کہاں جارہے ہیں؟‘‘ وہ ننھے بچوں کی طرح ان کا بازو تھام کر بولی تھی۔
’’ اشرف چاچا میرے ساتھ یو۔ کے جارہے ہیں کیونکہ یہ ان کی اور تمہاری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے عزوہ‘‘۔
’’ نہیں مجھے کہیں نہیں جانا ‘ مجھے یہیں رہنا ہے اپنے بابا کے گھر ‘ اشرف چاچا کے ساتھ‘‘۔ وہ چیختی رہی۔ چلاتی رہی لیکن وجدان اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا کر دوسری طرف سے خود بھی آکر بیٹھ گیا۔ اس نے گھر پر ایک الوداعی نظر ڈالی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسے آتش جنگ میں جھونکا جارہا ہو۔ اس کا رشتہ اس کی مٹی سے اپنی دھرتی ماں کی جڑوں سے کاٹا جارہا ہو جیسے اسے اپنے وطن کی سرزمین سے نکال کر کسی دوسرے کے مفاد کی خاطر دوسری زمین پر پھینکا جارہا ہو ‘ وہ بے بس تھی سوائے رونے کے اس وقت کچھ نہ کرسکتی تھی اور اس وقت وہ وہی کررہی تھی اور دل کھول کررہی تھی۔
وجدان نے ایک نگاہ غلط اس کے وجود پر ڈالی۔ بلیک سوٹ پہنے ‘ ننگے پائوں اور ننگے سر گھٹنوں میں منہ دیئے وہ بری طرح رونے میں مصروف تھی۔ اس نے اسے رونے دیا اور اپنی توجہ چپ چاپ ڈرائیونگ پر مرکوز کردی۔
ۃ…v…ۃ
جوہر ٹائون میں بنا وہ شاندار سا گھر وجدان احمد کا تھا۔ انٹیریئر ڈیکوریشن کمال کی تھی اتنا شاندار گھر دیکھنے کے بعد اتنا تو وہ جان ہی گئی تھی کہ یہ کسی صورت بھی محکمہ سے وجدان کو نہیں ملا گویا حرام کی کمائی سے اتنا زبردست شاہکار تیار کیا گیا ہے ‘ دو تین دن تو اس نے جیسے تیسے گزارے ‘ وجدان اگر اس سے کوئی بات کرنے کی کوشش کرتا تو اس کے چہرے پر نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتا … وہ دن رات اس کے آگے بچھا جاتا اور وہ اس سے مزید بدظن ہی ہوتی جارہی تھی … وہ اس سے محبت جتاتا تو وہ نفرت کی دیوار سامنے کھڑی کردیتی … وہ اپنائیت سے پیش آیا تو وہ کچوکے لگاتی گویا ایک ہی گھر میں وہ ندی کے دو کناروں کی طرح زندگی بسرکررہے تھے جو ساتھ ساتھ تو رہتے لیکن فاصلے پر کہ کہیں میل ہوتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ وجدان اندر ہی اندر سارا غصہ پی اتا لیکن عزوہ ایسا کچھ نہ کرتی وہ اسے بات بات پر نفرت سے دھتکارتی جس سے ایک دن وہ پھٹ پڑا۔
’’ تم اندر کا سارا زہر ایک ہی دفعہ باہر کیوں نہیں نکال دیتی‘‘۔ وہ اس وقت ڈائننگ چیئر پر بیٹھا ناشتہ کررہا تھا جب عزوہ نے ایک بار پھر اس کی ذات کو نشانہ بنایا تھا۔
’’ نہیں وجدان احمد۔ میں قطرہ قطرہ زہر تمہارے اندر اتاروں گی تاکہ تم تڑپ تڑپ کر مرو‘‘۔ وہ اس کے دو بدو بولی تھی۔
’’ جشن آزادی آرہا ہے‘‘۔ وہ اس کی بات کو نظر انداز کرکے اس کے پسندیدہ موضوع کی طرف لے گیا تھا۔
’’ میں جانتی ہوں لیکن کسی وطن دشمن کے منہ سے جشن آزادی کا سن کر حیرانگی ضرور ہوگئی‘‘۔ ایک اور وار ہوا۔
’’ بے شک میں وطن دوست نہیں لیکن اس کی آب و ہوا میں سانس لیتے ہوئے اس کا جشن آزادی منانا تو میرا حق ہے نا‘‘۔ اس نے چائے کا کپ اٹھایا۔
’’ کبھی فرائض کی بات بھی کرلیا کرو وجدان احمد‘‘۔ وہ اس کی بات سن کر چٹخی تھی۔
’’ تم‘ عزوہ وجدان تم مانو تو میں تو سارے فرائض پورے کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں‘‘۔ وہ بات کو کسی اور سمت لے گیا تھا۔
’’ تمہاری تان میرے فرائض پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے … یہ جو تمہارے سامنے محکوم لوگ ہیں ان کے حق سے ان کو کیوں محروم کیا جارہا ہے‘‘۔ وجدان احمد اس کا المیہ جانتا تھا … جانتا تھا کہ وہ وطن سے ‘ دھرتی ماں سے بہت محبت کرتی ہے ‘ اس پر بسنے والے دکھ اپنے دل پر محسوس کرتی ہے … آئے روز کی دہشت گردی وخودکش دھماکوں سے انسانی جانوں کے ضیاع سے وہ ہر روز بکھرتی تھی اسے صرف ان لوگوں تک پہنچنے کی دھن جوڑے ہوئے تھی لیکن وہ اس کی نہ مان سکتا تھا کیونکہ جس دلدل میں وہ اتر چکا تھا۔ اگر چاہتا بھی تو پائوں باہر نہ نکال سکتا تھا اور پھر اگر نیب کوبرا کو پتہ چل جاتا تو وہ اسے روئے زمین والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیتا۔
’’ میں جو کچھ کررہا ہوں نا عزوہ بخاری … اسی میں سب کا فائدہ ہے‘‘۔
’’ فائدہ … کیسا فائدہ؟‘‘ وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی پھر آنکھوں پر آئی نمی کو صاف کیا اور بولی۔’’ ان لوگوں کا فائدہ جو بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے زبان ہلا رہے ہیں جو غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنے پالتو کتوں کے آگے ڈال رہے ہیں جو قانون توڑنے سے گریز نہیں کرتے ‘ جو ایوان بالا کی نشستوں پر براجمان ہو کر صرف اپنے لوگوں پر نظر کرم کئے ہوئے ہیں … یا پھر ان لوگوں کا فائدہ وجدان احمد جو تمہارے باپ اور میرے تایا ابا کی طرح اس ملک کی جڑوں کو کاٹنے میں مصروف ہیں اسے کھوکھلا کر رہے ہیں‘‘۔
’’ اسٹاپ اٹ‘‘۔ وہ دھاڑا تھا۔
’’ کیوں … آخر کیوں ‘ کیوں چپ کروں میں ‘ عوام کے سامنے تو تم لوگ قوانین کی بات کرتے ہو لیکن در پردہ انہی قوانین کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھتے ہوئے ان سے گریز کرتے ہو‘‘۔
ۃ…v…ۃ
’’ یس سر‘‘۔ وہ اس وقت ڈی جی آئی بی کے روبرو بیٹھی بول رہی تھی۔
’’ آپ اور محراب دونوں ہوشیار رہیں کیونکہ کوبرا آج کل مکمل طور پر آپ کی انویسٹی گیشن کروارہا ہے‘‘۔
’’ سر اگر انہیں پتہ چل گیا تو‘‘۔ اس لمحے عزوہ کے چہرے پر کوئی سایہ سا لہرایا تھا۔
’’ مانا کہ اس کا نیٹ ورک بہت وسیع ہے لیکن آئی بی والے بھی اتنے احمق نہیں‘‘۔ وہ نہایت اطمینان سے بولے تھے۔
’’ اور وجدان احمد سر …‘‘
’’ اس پر ہاتھ ڈالنا فی الحال مشکل ہے‘‘۔
’’ بٹ وائے سر‘‘۔
’’ آپ تو جانتی ہیں مس بخاری کہ وجدان احمد کا باپ موجودہ حکومت میں ایک اہم عہدے پر فائز ہے پھر ابھی تک تو ہم نیب کوبرا تک بھی نہیں پہنچ پائے‘‘۔
’’ آئی تھنک سر اگر ان چاروں کو اریسٹ کرکے انویسٹی گیٹ کیا جائے تو ہم کوبرا تک پہنچ جائیں گے‘‘۔ اس نے ایک تجویز سامنے رکھی۔
’’آپ ایک حد تک ٹھیک کہہ رہی ہیں مس بخاری لیکن یہ تمام لوگ گھاگ شکاری ہیں جو اکثر و بیشتر شکار بننے سے پہلے شکار بنالیتے ہیں ‘ یہ ساری زندگی بھی جیلوں میں سڑتے رہیں … سخت سے سخت تشدد کا شکار بنتے رہیں یہ اپنی زبان نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ ایک ساتھی دوسرے ساتھی کا نام نہیں لے گا‘‘۔ ان کی بات سن کر اسے اپنے ارادوں پر پانی پڑتا محسوس ہوا۔
’’ تو سر پھر ہم کیا کریں‘‘۔
’’ مس بخاری ہمارے ذرائع کے مطابق کوبرا نے آپ کو تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ مس فاروقی کی حیثیت سے نہیں بلکہ پروفیسر عظیم بخاری کی بیٹی عزوہ بخاری کی حیثیت سے ‘ کوبرا نے اپنا اعتماد وجدان پر ہی کیا ہے اور آپ کی تصویر اس تک پہنچادی ہے اور یہ ہمارے لیے ایک پلس پوائنٹ ہے‘‘۔ وہ جو ان کی بات سن کر قدرے پریشان ہوئی تھی اب الجھی۔
’’ پلس پوائنٹ‘‘۔
’’ کیونکہ بہر حال کچھ بھی ہو وجدان احمد ان لوگوں کو تم تک نہیں پہنچنے دے گا کیونکہ تم اس کی عزت ہو چاہے اس کے لیے اسے ان سے غداری ہی کیوں نا کرنی پڑے۔ آپ کو اپنے تایا ابا سے بھی بات کرنے کے لیے کسی پی سی او یا بوتھ سے فون کرنا ہوگا کیونکہ ان کا فون ٹیپ ہورہا ہے اور ایک اور بات آپ اپنے تایا ابو کو اپنی شادی سے متعلق ابھی کچھ نہ بتائیے گا کیونکہ اس طرح کوبرا کو بھی پتہ چل جائے گا اس فون ٹیپ کے ذریعے جو انہوں نے حویلی میں لگا رکھا ہے‘‘۔ وہ چند لمحے رکنے کے بعد دوبارہ بولے تھے۔
ۃ…v…ۃ
’’ میں عزوہ بات کررہی ہوں تایا ابا‘‘۔ وہ سلام کے بعد بولی تھی۔
’’ عزوہ میری بچی کیسی ہو؟ کہاں ہو؟ میں نے تمہیں کہاں کہاں تلاش نہیں کیا‘‘۔ ان کا والہانہ پیار محسوس کرکے اس کا دل یوں چاہا کہ اڑ کر ان کے پاس پہنچ جائے۔
’’ میں ٹھیک ہوں تایا ابا … آپ کیسے ہیں؟‘‘ اس نے اپنے آنسوئوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔
’’ تمہارا تایا ابا بہت اکیلا ہے عزوہ … عریض نے کیا کردیا کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ‘ عسیف وہاں سے واپس نہیں آرہا اور عظیم اگلی دنیا سدھار گیا‘‘۔ وہ رو رہے تھے عزوہ بھی رونے لگی۔
’’ پلیز تایا ابا حوصلہ سے کام لیں جو خدا کی مرضی ‘ عریض سے ملے آپ؟‘‘ وہ انہیں حوصلہ دینے لگی۔
’’ ہاں ایک دفعہ ملنے گیا تھا اسے۔ مگر اسے تو اپنے کئے پر کوئی پچھتاوا ہی نہیں۔ عسیف جب بھی فون کرتا ہے تمہیں تلاش کرنے کو بولتا ہے ‘ عریض بھی تمہارا پوچھ رہا تھا‘‘۔ وہ ان کی بات سن کر ایک نئی الجھن میں گرفتار ہوچکی تھی۔
’’ عریض کیا پوچھ رہا تھا؟‘‘
’’ پوچھ رہا تھا کہ تمہارا کچھ پتہ چلا کہ نہیں اور کہہ رہا تھا کہ ماموں جی عزوہ میری منگ ہے اسے ڈھونڈیں … چھوٹے ماموں کے بعد اس کے پاس کوئی بھی نہیں‘‘۔ وہ الجھتی ہی جارہی تھی۔
’’ میں آپ سے ملنے آئوں گی تایا ابا لیکن ابھی نہیں‘‘۔ وہ کچھ سوچ کر بولی تھی۔
’’ ملنے آئو گی … عزوہ میری بچی یہ گھر ہے تمہارا‘‘۔ وہ محبت اور اپنائیت سے بولے تو عزوہ کو اپنے زخموں پر کوئی مرہم رکھتا محسوس ہوا۔
’’آپ کے سوا میرا کون ہے تایا ابا‘‘۔ وہ بھی مان سے بولی تھی۔
’’ تم ہو کہاں؟ اور اشرف کا بھی کچھ پتہ نہیں‘‘۔ وہ الجھے ہوئے تھے۔
’’ میں … میں‘‘۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی اسے فوراً تایا ابا کے فون کے ٹیپ ہونے کا خیال آیا۔’’ میں اپنی ایک دوست کے پاس ہوں کراچی ‘ اشرف چاچا بھی میرے ساتھ ہی ہیں‘‘۔
’’ کراچی … میری بچی تم گائوں کیوں نہیں آئی؟‘‘ وہ اس کی بات سن کر الجھے تھے۔
’’ تایا ابا میری دوست کا بھائی پولیس میں ہے بقول ان کے میری جان کو خطرہ ہے اگر میں گائوں آتی تو آپ کی جان کو بھی خطرہ ہوتا‘‘۔ وہ نہایت سوچ سمجھ کر الفاظ کا استعمال کررہی تھی۔
’’تمہاری جان کو خطرہ … لیکن کس سے؟‘‘
’’ اسی شخص سے جس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے۔ قتل نہیں بلکہ شہید کیا ہے کیونکہ میرے بابا تو علم کی روشنی بکھیرنے جارہے تھے پھر تو وہ شہید ہوئے نا‘‘۔ وہ تواتر سے بولتی جارہی تھی جبکہ دوسری طرف موجود اس کے تایا ابا اس کی مبہم گفتگو سے کچھ بھی اخذ نہ کرپا رہے تھے۔
’’ کون ہے وہ عزوہ جس نے مجھ سے میرا بھائی چھینا ، میں اسے پاتال سے بھی کھینچ لائوں گا‘‘۔ وہ ایک جوش سے بولے تھے عزوہ کو طمانیت محسوس ہوئی کہ وہ اکیلی نہیں کوئی اس کے دکھ سکھ بانٹنے کو اس کے ساتھ ہے۔
’’ اس کا اصل نام میں نہیں جانتی تایا ابا … سب اسے نیب کوبرا کے نام سے جانتے ہیں‘‘۔ اس نے جانتے بوجھتے یہ نام لیا تھا۔
’’ نیب کوبرا … تم بے فکر ہوجائو آگے میں جانوں اور میرا کام ‘ اپنا خیال رکھنا اور اب مجھ سے رابطہ رکھنا‘‘۔ وہ اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولے۔
’’ جی تایا ابا … اللہ حافظ‘‘۔ فون رکھنے کے بعد وہ مزید الجھ گئی تھی۔
’’ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ ‘ عسیف لالہ اور عریض تو میرے نکاح سے متعلق جانتے ہیں تو پھر یہ سب کچھ ہاں یقینا انہوں نے یہ سب کچھ وجدان کے کہنے پر کیا ہوگا تاکہ نیب کوبرا کو کچھ پتہ نہ چلے‘‘۔
ۃ…v…ۃ
وجدان جیسے ہی اس لڑکی کے ساتھ ہال کمرے میں داخل ہوا کمرے میں موجود تینوں نفوس نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’ ان کا تعارف؟‘‘ سب سے پہلے ملک نواز احمد بولا۔
’’ یہ مس سونیا ہیں ‘ مس فاروقی کی پرسنل سیکریٹری ‘ مس فاروقی چند ماہ کے لئے بیرون ملک گئی ہیں ان کے حصے کا کام یہ کریں گی۔ یہ نیب کوبرا سے مل چکی ہیں اور وہ نہایت مطمئن ہیں اس معاملے میں‘‘۔ وجدان تفصیلاً بتانے لگا۔
’’ کچھ تجربہ وغیرہ بھی ہے یا خالی پرسنل سیکریٹری ہی بن سکتی ہیں‘‘۔ اسفند یار اس کے معصوم چہرے کو آنکھوں میں سموتے ہوئے بولا۔
’’آپ کو تجربے کا اچار ڈالنا ہے مسٹر … آپ کو تو صرف دام گننے چاہئیں‘‘۔ وہ نہایت اطمینان سے کسی کے کہے بغیر ہی صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔
’’ خادم کو اسفند یار خان کہتے ہیں‘‘۔ وہ کمینگی سے آنکھ مار کر بولا تھا۔
’’ آپ خادم ہی اچھے لگتے ہیں یہ خان کا دم چھلا لگانے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔ وہ طنز سے بولی تو اسفند یار کو اپنے ہی کہے پر ندامت ہونے لگی۔
’’ ویسے بی بی آپ …‘‘
’’ ایکسکیوزمی میرا نام سونیا ہے‘‘۔ وہ ملک نواز احمد کی بات کاٹ کر بولی تھی ‘ وجدان بڑے آرام سے ایک کونے میں بیٹھا اُن سب کی گفت و شنید پر غور کررہا تھا۔
’’ مس فاروقی کب تک آئیں گی؟‘‘ احمد یار علی بولا۔
’’ کچھ کہا نہیں جاسکتا انہیں وہاں چند دن بھی لگ سکتے ہیں اور چند ہفتے بھی ‘ ویسے آپ لوگ مجھ پر اعتماد کرسکتے ہیں‘‘۔ وہ مسکرا کر بولی تھی۔
’’ آپ جیسے معصوم چہرے والی پر کوئی عدم اعتماد کا اظہار کیسے کرسکتا ہے‘‘۔ اسفند یار خان کی آواز آئی۔
’’ کبھی کبھی معصوم چہرے بھی دھوکا دے جاتے ہیں خان صاحب‘‘۔ وہ مسکرائی۔
’’ ہم دھوکا کھانے کیلئے تیار ہیں‘‘۔ وہ ایک ادا سے بولا اس سے پہلے کہ سونیا کچھ بولتی وجدان احمد بول اٹھا۔
’’ میرا خیال ہے پہلے مال بنالیں پھر دھوکا کھالیں گے کیوں مس سونیا‘‘۔ اس نے تائیدی نظروں سے سونیا کی طرف دیکھا۔
’’ ہم تو آپ کی ہاں میں ہاں ملانے والوں میں سے وجدان صاحب‘‘۔ اس نے ایک دلفریب مسکراہٹ اچھالی تو اسفند یار نے بے اختیار پہلو بدلا۔
’’ اچھا ذرا کام کی بات ہوجائے‘‘۔ احمد یار علی ہنستے ہنستے سنجیدہ ہوا تھا۔
ۃ…v…ۃ
’’ ہم لوگ کل حویلی جارہے ہیں‘‘۔ وجدان بولا۔
’’ ہم سے مراد …؟‘‘ عزوہ جو بیگ سے کچھ تلاش کررہی تھی وہ سر کو گھماتے ہوئے بولی۔
’’ میں اور تم …‘‘
’’ لیکن میں تو نہیں جارہی‘‘۔ وہ دوبارہ بیگ کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’ وجہ جاننے کی زحمت کرسکتا ہوں؟‘‘ وہ اس کے روبرو بولا۔
’’ وجہ جاننا ضروری نہیں‘‘۔ وہ بیگ بند کرکے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ مجھے آج شام کو کسی کام سے کراچی جانا ہے ‘ پرسوں میں آجائوں گا ‘ تم جلدی کرو‘‘۔
’’ ڈیپارٹمنٹ کے کام سے یا نیب کوبرا کے کام سے؟‘‘
’’ یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے‘‘۔ وہ وارڈ روب کی طرف بڑھا۔
’’ کیوں یہ میرا مسئلہ نہیں ہے مسٹر وجدان احمد … وہ شخص میرے باپ کا قاتل ہے‘‘۔ عزوہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا تھا۔
’’تمہارے باپ کا قاتل ان کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوچکا ہے‘‘۔ وہ طنزیہ انداز میں بولا تھا۔
’’ وہ صرف مہرہ تھا وجدان احمد۔ اصل قاتل تو نیب کوبرا ہے‘‘۔
’’ اسی لیے تو کہہ رہا ہوں کہ تیار ہوجائو یہاں تمہاری جان کو خطرہ ہے‘‘۔
’’ مجھے نہیں جانا … مجھے بابا کے گھر چھوڑ دو ‘ میں تایا ابا سے مل لوں گی‘‘۔ وہ تھوڑا نرم پڑ کر بولی تھی۔
’’ ہاں تاکہ وہ لوگ آئیں اور تمہیں گولیوں سے بھون کر رکھ دیں‘‘۔ وہ وارڈروب کی طرف جاتا جاتا ایک دم پلٹا تھا۔
’’ آئی بی کے آفیسروں پر ہاتھ ڈالنااتنا آسان نہیں وجدان احمد‘‘۔
’’ بس یہی تو … یہی تو پلس پوائنٹ ہے کہ وہ لوگ یہ نہیں جانتے ‘ بہر حال تم جلدی کرو‘‘۔
’’ پلیز وجدان ضد نہ کرو‘‘۔
’’ تم بھی نہیں کرو‘‘۔ فون کی بجتی بیل سن کر وہ ادھر لپکی ریسیور کانوں سے لگایا۔
’’ ھیلو السلام علیکم!‘‘
’’ وعلیکم السلام ‘ شکر ہے تمہاری آواز تو سننے کو ملی ‘ کیسی ہو؟‘‘ مخاطب اس کی آواز پہچان کر بولا تھا۔
’’ الحمد للہ … سانس چلنے کو اگر زندگی کہتے ہیں تو میں زندہ ہوں‘‘۔ وہ جلے کٹے انداز میں بولی۔
’’ ابھی تک ناراض ہو‘‘۔
’’ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا لالہ‘‘۔ وہ رونے لگی۔
’’پلیز عزوہ … حوصلہ کرو جو کچھ ہوا ہے مجھے اس کا افسوس ہے‘‘۔
’’ عسیف لالہ مجھے تایا ابا کے پاس جانا ہے پلیز آپ وجدان سے بولیں‘‘ کسی اپنے کی آواز سن کر وہ روہانسی ہوگئی تھی۔
’’ ابھی چند ماہ تمہارا ان کی طرف جانا ٹھیک نہیں عزوہ کیونکہ ابا جی کا فون ٹیپ کیا جارہا ہے‘‘۔
’’ آپ نے تایا ابا سے یہ کیوں بولا کہ وہ مجھے تلاش کریں‘‘۔ اس نے اپنی الجھن سلجھانے کو پوچھا۔
’’ تمہیں بتایا تو ہے کہ فون ٹیپ کیا جارہا ہے ہم سب تمہارے لیے بہت پریشان ہیں اور تمہیں تلاش کررہے ہیں تم سمجھ رہی ہو نا میری بات‘‘۔
’’ جی لالہ …‘‘ وہ نا سمجھی کے عالم میں بولی۔
’’ تم ابا جی کو اپنی شادی کا نہ بتانا۔ دو تین ماہ تک میں آرہا ہوں پھر مل بیٹھ کر بات کریں گے‘‘۔
’’ جی اچھا … بھابھی اور حصیر ہیں‘‘۔ اسے ایک دم ان کا خیال آیا۔
’’ میں آفس سے فون کررہا ہوں وہ بالکل ٹھیک ہیں ‘ وجدان ہے؟‘‘
’’ جی … یہ لیں‘‘۔ پھر وہ وجدان کی طرف مڑی اور اسے ریسیور پکڑا کر خود ایک سائیڈ پر ہوگئی۔ تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وجدان نے فون بند کردیا۔
’’ پھر کیا فیصلہ ہے تمہارا؟‘‘ وہ عزوہ کی طرف مڑا۔
’’ مجھے بس چند سوٹ بیگ میں رکھنے ہیں‘‘۔ وہ اپنا عندیہ دے کر وارڈروب کی طرف بڑھ گئی۔
جب وہ حویلی پہنچے تو ہلکی ہلکی شام اتر رہی تھی اس کا استقبال کسی وی آئی پی مہمان کی طرح ہوا۔ وجدان اسے چھوڑ کر اسی وقت واپس چلا گیا۔ دو راتیں وہاں گزارنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ اپنوں کی محبت ‘ چاہت اور اپنوں کا مہربان سایہ کیسا ہوتا ہے ‘ اس نے خنساء کے بچوں اور منصورہ کے ساتھ مل کر ساری حویلی کو سبز جھنڈیوں سے سجادیا ‘ چودہ اگست کی صبح سب نے نماز پڑھ کر دھرتی ماں کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے ڈھیروں دعائیں مانگیں وہ اس وقت ناشتہ کررہی تھی جب اس کی طرف نو کرنے ایک خوبصورت بکے اور کارڈ بڑھایا اس نے کارڈ کھولا۔
’’ مائی ڈیئر ‘ 14 اگست کا سہانا دن تمہیں تہہ دل سے مبارک ہو ‘ یہ دن دنیائے عالم کے گلستان جمہوریت میں تا قیامت گلاب کے پھول کی طرح مہکتا رہے گا ‘ اس کی خوشبو مایوسیوں ‘ محرومیوں سے عبارت فضائوں کو ہمیشہ مسرت و شادمانی کی مہک سے معطر کرتی رہے گی ‘ اپنا ڈھیروں خیال رکھنا ‘ تمہارے دل کے بہت قریب تمہارے اپنے‘‘۔
وہ کارڈ پڑھ کر مسکرائی تھی اس طرح کے کارڈ ہمیشہ اسے عسیف لالہ دیتے تھے۔ محبت سے ‘ چاہتوں سے اور اپنائیتوں سے کوئی چیز ملے تو انسان کا مان بڑھ جاتا ہے اسے آج بھی عسیف پر مان تھا اور اندھا اعتماد تھا۔ یہ اس کی کہی باتیں ہی تھیں کہ وہ وجدان احمد کے ساتھ حویلی آگئی تھی اور تایا ابا سے بھی کوئی رابطہ نہ رکھا تھا۔
آنے والے دنوں نے اس کی الجھنوں میں اضافہ کیا تھا۔ وجدان نے نہ کوئی فون کیا تھا اور نہ ہی خود آیا تھا اس نے محراب کی طرف فون کیا تو فون حسن نے اٹھایا اس نے بتایا کہ محراب آفس کے کسی کام سے چند دنوں کے لیے شہر سے باہر گئی ہے لیکن جو حیرت انگیز انکشاف ہوا وہ یہ تھا کہ وہ وجدان کے ساتھ باہر گئی تھی اور اس کی یعنی عزوہ بخاری کی تین ماہ کی چھٹی کی درخواست منظور کرلی گئی تھی ‘ اگست کا مہینہ ختم ہوچکا تھا اور ستمبر کے بھی پانچ دن گزرچکے تھے جب نوکر نے ایک اور کارڈ اس کی طرف بڑھایا ‘ اس نے کارڈ کھولا تو اندر سے گلاب کی سرخ کلی گری اور یوم دفاع کا خوبصورت کارڈ۔
’’ قوم کی بہادر سپاہی ، تمہیں یہ شاندار سا دن مبارک ہو ‘ بہادر قوم کے بہادر لوگ اپنی وراثت کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ یہ دن مائوں ‘ بہنوں اور بیٹیوں کو ان کے بہادر بیٹوں ‘ بھائیوں اور باپوں کی یاد دلاتا رہے گا ‘ اپنا ڈھیروں خیال رکھنا ‘ تمہارے دل کے بہت قریب تمہارے اپنے‘‘۔
کارڈ پڑھ کر وہ مسکرائی ‘ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر اس کے سسر اس کی طرف بڑھے۔
’’ کیا پڑھا جارہا ہے؟‘‘
’’ یہ کارڈ آیا ہے ابا جی‘‘۔ اس نے کارڈ ان کی طرف بڑھایا تو وہ پڑھنے لگے۔
’’ کس نے بھیجا ہے‘‘۔
’’ پہلے تو عسیف لالہ ایسی مہربانیاں کرتے تھے پتہ نہیں آج کل کون بھیج رہا ہے‘‘۔ وہ صاف گوئی سے بولی تو وہ مسکرانے لگے۔
’’ عسیف ہی ہے پاکستان آیا ہوا ہے وہ‘‘۔
’’ واقعی … کب؟‘‘ وہ خوش ہو کر بولی۔
’’ ہاں … پرسوں آیا ہے۔ وجدان اور وہ شاید کل آئیں ‘ شہرمیں جوہر ٹائون کی رہائش گاہ جو وجدان کے زیر استعمال تھی وہ وجدان کے کسی دوست کی تھی کل اسے ڈائنامٹ سے اڑا دیا گیا ہے‘‘۔
’’ کیا … اور وجدان … وہ … وہ تو خیریت سے ہے نا ابا جی‘‘۔ پریشانی اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔
’’ وجدان اپنی سرکاری رہائش گاہ میں تھا لیکن وجدان کا وہ دوست جو تمہارے بابا کا دست راست تھا وہ اسی مکان کے اندر …‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ شایدوہ بات کو مکمل کرنے کی ہمت ہی نہ رکھتے تھے۔ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھ گئے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’ کون ہے وہ شخص جس نے میری جان لینے کے لئے ایک اور معصوم شخص کو مار دیا‘‘۔ اس نے ڈی جی صاحب کو فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ ایمرجنسی میٹنگ میں ہیں اس نے آئی بی کے تمام چیدہ چیدہ آفیسرز کے نمبرز ملائے لیکن وہ سب میٹنگ میں مصروف تھے اس نے وجدان کا نمبر ملایا تو وہاں بھی نو رسپونس تھا وہ الجھتی چلی جارہی تھی۔
ۃ…v…ۃ
گزرتے دنوں میں وہ وجدان کے گھر والوں کو کافی حد تک سمجھ چکی تھی۔ اس نے جو شکوک شبہات ان سے متعلق پال رکھے تھے وہ بالکل اس کے الٹ تھے۔ اس کے ابا جی سیاست تو کرتے تھے لیکن اپنے اصولوں کے اند ررہ کر، ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں انہوں نے عزوہ سے کہا تھا کہ’’ دشمنی بھی ہمیشہ اصولوں کے اندر رہ کر کرنی چاہئے کیونکہ بے اصول دشمنی اچھی نہیں ہوتی‘‘۔ اور وجدان کی اماں تو عزوہ پر جان دیتی تھی ‘ خنساء اور اس کے تینوں بچے بھی اس سے بہت محبت کرتے تھے ‘ منصورہ کی تو اس میں جان تھی اگر ایک مختلف تھا تو وجدان احمد …
وہ صبح ہی صبح تیاریوں میں مصروف تھی۔ دس بجے کے قریب وہ دونوں آگئے۔ وجدان اسے پہلے بھی چاق و چوبند اور صحت مند لگ رہا تھا۔ شاید اسے قدم قدم پر کامیابی مل رہی تھی اور نیب کوبرا کا اعتماد اس پر بڑھتا ہی جارہا تھا اور عسیف سے تو اسے ہمیشہ اپنے بابا کے جیسی خوشبو محسوس ہوتی تھی ‘ وہی محبت اور اپنائیت ملتی تھی جو اس کے بابا کا خاصہ تھی۔ سارا دن کام میں گزرا … شام نے دھیرے دھیرے اپنے پر پھیلانے شروع کردیئے۔ عسیف کو رخصت کرنے کے بعد وہ اپنے بیڈ روم میں آیا تو عزوہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ تم کہاں چل نکلیں؟‘‘ وہ دروازہ بند کرتے ہوئے بولا۔
’’ میں منصورہ کی طرف‘‘۔ اس نے گھما پھرا کر بات کرنا ضروری نہ سمجھا۔
’’ یہاں یہ تماشہ نہیں چلے گا‘‘۔ وہ دروازہ لاک کرنے کے بعد اس کی طرف بڑھا۔
’’ تماشہ میں کررہی ہوں یا آپ‘ دروازہ کھولیں مجھے باہر جانا ہے‘‘۔ وہ غصے سے بولی تو وہ مسکرایا۔
’’ باہر کیا رکھا ہے جان من‘‘۔ اس نے اسے بازو کے حلقے میں لے کر پہلی شرارت کر ہی ڈالی۔
’’ اپنے ناپاک ہاتھ مت لگائیں مجھے‘‘۔ وہ چیخی۔
’’ ناپاک کیسے ہوگئے؟ ابھی دھو کر آیا ہوں اور کلمہ طیبہ بھی پڑھا ہے‘‘۔ اس نے گھیرا مزید تنگ کردیا اس کے مخصوص کلون کی خوشبو عزوہ کے نتھنوں سے ٹکرائی۔
’’ چھوڑو مجھے‘‘۔ وہ اس کے بازو کے گھیرے میں کسی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔
’’ چھوڑنے کے لئے تو نہیں پکڑا‘‘۔ اس نے اس کی پیشانی پر محبت کی پہلی مہر ثبت کردی اور پھر اپنے استحقاق کے پھول کھلاتا چلا گیا۔
’’ پلیز لیو می‘‘۔ وہ پھر چیخی لیکن وجدان احمد تو اس لمحے محبت کی گرفت میں تھا کیسے چھوڑ دیتا۔ وہ مزاحمت کرتی رہی لیکن اس دفعہ مزاحمت کارگر نہ ہوئی۔
صبح اس کی آنکھ اذان کی آواز پر کھلی ‘ وجدان بیڈ پر موجود نہ تھا وہ اپنے بکھرے وجود کو سمیٹتی ہوئی واش روم کی طرف بڑھی ‘ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو اس وقت تک وجدان بھی کمرے میں آچکا تھا ‘ غرور و تکبر تو پہلے ہی بہت تھا اب تو کچھ کامیابی کا نشہ بھی تھا۔ عزوہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور کچن کی جانب چل دی۔ وہ اس وقت منصورہ کے ساتھ ناشتہ کررہی تھی۔
اچانک کسی کے اونچا اونچا بولنے کی آواز آئی ‘ وہ باہر کی طرف لپکی تو وجدان فون پر لگا ہوا تھا اور شدید غصے میں تھا۔
’’ اس کمینے کی جرأت کیسے ہوئی کہ تم سے ایسا بولے‘‘۔
’’ میں دیکھ لوں گا اس کو … ہمارے ٹکڑوں پر پلے اور ہمیں ہی کاٹ کھانے کو دوڑے‘‘۔ گالیوں کا ایک طوفان برپا تھا۔
’’ اچھا تم روئو نہیں … پلیز محراب تم جانتی ہو نا تمہارے آنسو مجھے کتنی تکلیف دیتے ہیں‘‘۔ وہ تھوڑا نرم پڑا تھا۔
’’ میں اب وہاں پہنچ کر تمہیں رنگ بیک کروں گا ‘ تم پریشان نہیں ہو‘‘۔ وہ اسے تسلی دے رہا تھا۔
’’ انہوں نے خود بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالا ہے وہ جانتے نہیں کہ وجدان کس طوفان کا نام ہے۔ انہوں نے صرف وجدان احمد کی دوستی دیکھی ہے دشمنی نہیں‘‘۔ وہ فون بند کرنے کے بعد خود ہی بڑبڑارہا تھا اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا وہ اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا۔ اس لیے اسے نہ دیکھ سکا لیکن عزوہ حقیقتاً اس وقت اس کا غصہ دیکھ کر اندر سے کانپ گئی تھی۔ منصورہ نے اس کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھا تو اس کی طرف لپکی۔
’’ کیا ہوا بھابھی؟‘‘ وہ بھی اس کی طرف مڑا۔
’’ کچھ نہیں‘‘۔ وہ ان دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
’’ کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ منصورہ سے مخاطب ہوا تو منصورہ نے کندھے اُچکادیئے وہ بھی اس کے پیچھے چل دیا۔
’’ کمرے میں پہنچ کر جلدی جلدی کپڑے تبدیل کئے ‘ والٹ جیب میں رکھا موبائل چیک کرنے کے بعد کی رنگ اٹھائی اور باہر کی طرف لپکا پھر ایک لمحے کو اس کے سامنے کھڑا ہوا وہ صوفے پر بیٹھی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی وہ دوزانو ہو کر اس کے سامنے بیٹھا۔
’’ تم کبھی بھی اس معاملے میں مجھ پر شک نہ کرنا عزوہ ‘ کیونکہ میں ‘ میرا دل سب کچھ تمہارا ہے‘‘۔ وہ شاید بات کی تہہ تک پہنچ چکا تھا ‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔
’’ عزوہ پلیز‘‘ اس کا نرم لہجہ دیکھ کر اسے اپنے کئے پر شرمندگی ہوئی۔
’’ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے وجدان صاحب ‘ میں تو اپنی نسوانیت کے ایک وطن دشمن کے ہاتھوں لٹ جانے پر ماتم کناں ہوں‘‘۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور واش روم میں گھس گئی۔ وجدان نے تھوڑی دیر انتظار کیا لیکن پھر ناامید ہو کر واپسی کی راہ لی۔
زندگی موسموں کی طرح گزرتی جارہی تھی ‘ کبھی چھائوں سی ‘ کبھی دھوپ سی ‘ کبھی خزائوں اور بہاروں کے روپ سی ‘ اس نے ڈی جی صاحب کو فون کیا تو انہوں نے اسے چند ماہ مزید روپوش ہونے کا کہا ‘ محراب سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ نیب کوبرا دوسرے علاقوں میں بھی اپنا جال پھیلا چکا ہے اور اس معاملے میں وجدان نے اس کا بہت ساتھ دیا ہے۔ ہر طرف نا امیدی ہی نا امیدی تھی ‘ نا امیدی کے انہی اندھیروں میں گائوں میں قائم اسپتال کئی تو ڈاکٹر نے اسے امید کی کرن دکھائی تھی ‘ وہ خوش ہوتی اگر یہ سب کچھ اس کی منشاء سے ہوتا تو لیکن یہاں تو ایک فریق نے دوسرے کی رائے کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔
’’ یہ کیا ہے؟‘‘ وجدان جو اسی دن حویلی لوٹا تھا وہ بکھرے کاغذ دیکھ کر پریشان ہوا۔
’’ یہ آپ کی کارستانیوں کا نتیجہ۔‘‘ وہ بھی بپھری تھی۔ پورے تین ماہ بعد وہ حویلی آیا تھا۔ وجدان تمام رپورٹس دیکھنے کے بعد مسکرایا۔
’’ یہ تو خوشی کی خبر ہے‘‘۔
’’ صرف تمہارے لیے وجدان احمد … صرف تمہارے لیے لیکن میں … تمہیں یہ خوشی ہرگز دیکھنے نہیں دوں گی‘‘۔
’’ دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟‘‘ وہ بھی ہتھے سے اکھڑنے لگا۔
’’ ابھی ہی تو ٹھیک ہوا ہے … میں نے تمہیں بہت سمجھایا تھا وجدان احمد کہ یہ کام چھوڑ دو لیکن تم نے … تم نے میری بات نہیں مانی اور اب کی بار کوئی بھی آجائے میں تمہاری بات نہیں مانوں گی‘‘۔ وہ وارڈروب کی طرف بڑھی اور کپڑے نکال نکال کر بیڈ پر پھینکنے لگی۔
’’ تم ہوش میں تو ہو‘‘۔ وہ چیخا۔
’’ ہاں … ہوں! ہوش میں ابھی تو آئی ہوں ‘ میں سمجھتی تھی کہ شاید تم بھی میری طرح نیک ارادہ لے کر ان تک پہنچے ہو اور یہاں آنے کے بعد میں صرف یہی محسوس کرتی تھی … لیکن میری تین ماہ کی رخصت منظور ہوگئی ‘ مجھے پتہ تک نہیں چلا ‘ میری جگہ پر کوئی مس سونیا میری پرسنل سیکریٹری کے طور پر نیب کوبرا کے ساتھ کام کرنے لگی جسے میں جانتی تک نہیں لیکن اب محراب سے جاننے کے بعد کہ وہ درندہ صفت لوگ دوسرے علاقوں تک جا پہنچے ہیں اور تم ان کی مدد کرنے میں پیش پیش ہو تو یہ قطعاً ممکن ہی نہیں کہ میں اپنی جان کو وبال میں ڈالوں‘‘۔ وہ بولنے کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی تہہ کرتی جارہی تھی۔
’’ اگر میرے بچے کو کچھ ہوا نا تو‘‘۔
’’ تو کیا کرلو گے تم ‘ جان سے ماردو گے؟ لو مارڈالو تاکہ یہ قصہ ہی ختم ہوجائے‘‘۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گردن تک لے آئی۔’’ تمہارے ساتھ تو رہنے سے بہتر ہے کہ میں خودکشی کرلوں … کیا کیا خواب تھے میرے دھرتی ماں کے حوالے سے … میرے سارے خواب ‘ سارے سپنے تم نے چکنا چور کردیئے وجدان احمد … بہت افسوس ہے کہ تم نے ذاتی تعلقات کی بناء پر انسانیت سے گری ہوئی حرکات شروع کردیں۔ میں کسی وجدان احمد کو اب دنیا میں نہیں آنے دوں گی ‘ وہ بھی تو تمہارا ہی بچہ ہوگا نا تم جیسا ہی اس لیے میں اس بچے کو…‘‘ اسے پڑنے والے تھپٹر سے بات ادھوری رہ گئی۔
’’ بکواس بند کرو‘‘۔ اس نے اسے تھپڑوں سے اڑا کر رکھ دیا۔
’’ یہ تھپٹر اب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وجدان احمد ‘ میری انا و خودداری پر اتنی چوٹیں لگی ہیں کہ اب ان تھپڑوں کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا‘‘۔ وہ گالوں پر ہاتھ رکھے دھاڑ رہی تھی۔
’’ تم ہمیشہ مجھے ہی غلط کیوں سمجھتی ہو؟‘‘ وہ بھی چیخا تھا۔
’’ اس لیے کہ تم ہو ہی غلط‘‘۔
وہ کپڑے بیگ میں ٹھونسنے لگی۔
’’ تم کہیں نہیں جائو گی‘‘۔ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیا تھا۔
’’ جائوں گی میں ‘ کیا کرو گے تم‘‘۔ اس نے بیگ کی زپ بند کی
’’ آرام سے بیٹھو‘‘۔ اس نے اسے بازو سے پکڑ کر بیڈ پر دھکا دیا۔
’’ آج تو تم مجھے جان سے بھی ماردو نا تو بھی جانے سے نہیں روک پائو گے‘‘۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ کیا ہورہا ہے یہ‘‘۔ چوہدری میزان احمد اندر داخل ہوئے کمرے کی بکھری ہوئی حالت اور کمرے سے بڑھ کر عزوہ کی حالت ‘ ان کے پیچھے پیچھے منصورہ اور صاعقہ بیگم بھی داخل ہوئیں۔
’’ کچھ نہیں ابا جی ‘ آپ جائیں‘‘۔ وجدان غصے پر قابو پاتا بولا۔
’’ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ وہ پھر بولے۔
’’ مسئلہ اتنا بڑا نہیں ‘ میں ہینڈل کرلوں گا ‘ پلیز آپ لوگ جائیں‘‘۔ آخری بات کرتے ہوئے وہ گرجاتھا تو وہ چپ چاپ باہر نکل گئے۔
’’ منصورہ بھابھی کو پانی پلائو‘‘۔ وہ منصورہ کو باہر نکلتا دیکھ کر بولا تو منصورہ فوراً پلٹی اور جگ سے گلاس میں پانی ڈال کر عزوہ کی طرف بڑھایا۔
’’ نہیں پینا ہے مجھے پانی‘‘۔ اس نے گلاس پانی سمیت فرش پر دے مارا۔
’’ یہ اکڑ کسی اور کو دکھانا ‘ آرام سے بیٹھو‘‘۔ اس نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔
’’ تم جائو منصورہ‘‘۔ اس کے کہنے پر وہ باہر نکل گئی تو اس نے اٹھ کر دروازہ لاک کیا۔
’’ صبح تیار رہنا ‘ گیارہ بجے جی ایچ کیو میں ایم آئی ‘ آئی بی اور اے ایس ایف والوں کی میٹنگ ہے جس میں تمہاری شرکت اشد ضروری ہے‘‘۔ وہ بات کرنے کے بعد واش روم میں گھس گیا تو وہ اپنی چوٹوں کو سہلانے لگی۔
پورے پانچ ماہ بعد وہ سب کے درمیان تھی۔ وہ پانچ ماہ ان سے دور رہنے کے باوجود بھی خفیہ ادارے کے میس میں ہونے والی ہلچل پر نظریں جمائے رکھتی تھی ‘ نارووال سے سیدھی اسلام آباد پہنچی تھی ‘ تمام لوگ آہستہ آہستہ میٹنگ روم میں آنا شروع ہوگئے تھے۔ ڈی جی آئی بی ‘ ڈی جی ایم آئی ‘ اے ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ تمام محکموں کے اہم عہدیداران آدھے گھنٹے تک سب کے آجانے کے باوجود میٹنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔ شاید ایک کرسی ابھی خالی تھی ‘ ایک معمولی کرسی لیکن اس کرسی پر بیٹھنے والا شخص معمولی نہ تھا۔ جب آدھے گھنٹے بعد وہ شخص محراب اور عسیف کی معیت میں اندر آیا تو وہ اسے دیکھ کر چکرا گئی ‘ وجدان احمد اور یہاں … یعنی ایک نئی الجھن ‘ میٹنگ شروع ہوچکی تھی جب اے ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل وجدان احمد کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’ جی مسٹر وجدان ‘ آپریشن کی تیاری کہاں تک پہنچی؟‘‘
’’ سر تیاری مکمل ہے … مزید دیر ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے‘‘۔ وہ باادب کھڑا ہو کر انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کرنے لگا۔
جب ساری اسکیم مکمل ہوگئی تو اس نے ایک ثانیے کو سب کی طرف دیکھا اور پھر اپنی نظریں عزوہ کے چہرے پر گاڑ دیں۔
’’ ڈیئر فرینڈز … اگر کوئی سوال ہو تو …‘‘ لہجہ سوالیہ ہی تھا۔
’’ نیب کوبرا کون ہے؟‘‘ سوال بھی عزوہ کی طرف سے آیا تھا۔
’’ اس دھرتی پر چلنے والا ناسور … اس کا امن تباہ کرنے والا بدبخت۔ غریبوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کی برین واشنگ کرنے کے بعد دھماکہ خیز بیلٹ ان کے حوالے کرنے والا کوئی خیر خواہ تو نہیں ہوسکتا مس عزوہ‘‘۔ جواب اے ایس ایف کے کیپٹن عسیف نے دیا تھا۔
’’ جب آپ سب کچھ جانتے تھے تو اتنی دیر کیوں مسٹر عسیف‘‘۔ سارے حساب وہ بھی برابر کرنے لگی تھی۔
’’ ہم زمینی حقیقتوں سے آنکھیںنہیں چُرا سکتے تھے میڈم عزوہ ‘ ہمارا رشتہ اس دھرتی … اپنی دھرتی اور بے بس عوام سے بڑا پختہ ہے۔ ہم نے پہلا عشق اس دھرتی سے اور اس کے عوام سے کیا ہے اور کوشش بھی یہی کی ہے کہ اس عشق کو وفاداری اور استواری سے نبھائیں باوجود یکہ جانتے ہیں زخم بھی آئیں گے ‘ بے وفائیوں کے مرتکب بھی ٹھہریں گے ‘ غدار بھی کہلائیں گے اور یقینی طور پر نافرمان بھی کہا جائے گا لیکن ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے‘‘۔ جواب وجدان احمد نے تفصیلاً فراہم کیا تھا کوئی اور سمجھا نہ سمجھا عزوہ ‘ محراب اور عسیف بخوبی سمجھے تھے۔
’’ آپ کیا سمجھتی تھیں مس عزوہ کہ منڈلاتی تتلیوں کی جگہ پر برستے گولے ‘ تڑپتی لاشیں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ ہمیں سنائی اور دکھائی نہیں دے رہی۔ صاف چشموں کی جگہ آج سرخ رنگ کے چشمے ہمیں ندامت سے آنکھیں جھکانے پر مجبور کررہے ہیں۔ یہاں صرف ایک نیب کوبرا نہیں آفیسرز ‘ کئی کرائے کے کارندے ہیں جو مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا رہے ہیں ‘ نیب کوبرا تو صرف ایک سانپ ہے جو اپنا زہر ہم میں نچوڑ رہا ہے اصل بات تو اس مداری کی ہے جس کی بین کے آگے کئی کوبرا ناچ رہے ہیں۔
کیا ہمارے خدا نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے یا پھر ہم نے اپنے خدا سے مانگنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے ساتھیو! اپنی مدد آپ کے تحت ملک کو بچائیں … اگر ہمارے حکمران ہمارے ووٹوں سے برسر اقتدار آتے ہیں تو ہمیں حق ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لئے ان سے باز پرس کرسکیں۔ یہ حق ہمیں کسی سے چھیننا نہیں ہے یہ حق تو ہمارے اللہ عزوجل اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے … آپ لوگ آپریشن کی تیاری مکمل کریں ہمیں اب مزید دیر نہیں کرنی۔
’’ وہ پرجوش الفاظ بول کر سب کے دلوں کو گرماگیا تھا اگر ایک شرمندہ بیٹھی تھی تو عزوہ بخاری تھی جس نے کبھی اسے جاننے کی کوشش ہی نہ کی تھی۔
ۃ…v…ۃ
وجدان احمد اے ایس ایف میں لیفٹیننٹ بھرتی ہوا تھا۔ آرمڈ اسٹرٹیجک فورسز میں کام کرتے ہوئے اسے عسیف کے توسط سے نیب کوبرا کا پتہ چلا تو عسیف جو پولیس میں تھا اس نے بھی پروفیسر عظیم علی بخاری کی فیور لے کر اے ایس ایف کو جوائن کرلیا۔ یہ الگ بات کہ اے ایس ایف کے اوپر کے عملے نے اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور اس کا نام نہ صرف صیغۂ راز میں رکھا بلکہ وجدان احمد کو بھی پولیس ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا ‘ وجدان احمد بھی اسی کشتی کا سوار تھا جس کی سوار عزوہ بخاری تھی اگر عزوہ بخاری کو حب الوطنی گھٹی میں ملی تھی تو وجدان احمد کو بھی دودھ میں گھول گھول کر پلائی گئی تھی۔ اس نے وطن دشمن عناصر پر نظر رکھنے کے لئے اسفند یار سے رابطہ کیا اور وہیں سے نیب کوبرا تک جا پہنچا اس کے سامنے کئی ایسے موقع آئے جب وہ بآسانی ان پر ہاتھ ڈال سکتا تھا لیکن اتنی جلدی سب کچھ کرنے سے اس کے راستے میں کئی مشکلات کھڑی ہوسکتی تھیں۔
وہ پروفیسر عظیم علی بخاری کا تابعدار اسٹوڈنٹ ہونے کے علاوہ ان کی بوائے اسکائوٹنگ ٹیم کا ہیڈ تھا۔ اس نے سامنے نہ آکر کئی دفعہ نیب کوبرا کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے چند ساتھیوں کو کراچی ‘ کوئٹہ اور دیگر شہروں سے گرفتار کروایا تھا … عریض پر ہاتھ ڈالنے کی ایک اور وجہ تھی جو صرف وہی جانتا تھا یا عریض … عسیف سارے معاملے میں اس کے ساتھ تھا۔ وہ عزوہ بخاری جیسی ہی کوئی لڑکی چاہتا تھا اور عسیف سے جاننے کے بعد اس نے دیر کرنا ضروری نہ سمجھا ‘ اسے پیار سے ‘ اپنائیت سے اور چاہت سے سمجھا کر دیکھا جب وہ نہ مانی تو پروفیسر صاحب ‘ عسیف اور عریض کو اعتماد میں لے کر اس سے نکاح کا فیصلہ کیا اگر پروفیسر صاحب عزوہ پر دبائو ڈالتے تو شاید وہ چپ چاپ مان جاتی لیکن اس طرح کئی ایسے لوگوں کو ان کی شادی کی خبر ہوجاتی جن سے چھپانا ضروری تھا ‘ وہ دن رات عزوہ کی جلی کٹی سنتا رہا۔ اگر اسے پروفیسر صاحب کے قتل کا پتہ چل جاتا تو شاید وہ سب کچھ الٹا گھما کر انہی کی طرف رکھ دیتا لیکن اسے تیر کے کمان سے نکلنے کے بعد خبر ہوئی تھی اور عزوہ کو راستے سے ہٹانے کے لیے کوبرا نے اسی پر اعتماد کیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے آرام سے عزوہ کو گائوں حویلی بھجوا کر اس کی چھٹی منظور کروالی تاکہ باقیوں کو خبر نہ ہو اور محراب کو مس سونیا کی صورت ان کے ساتھ کام کے لئے راضی کیا۔
عزوہ نے دن رات اسے ذہنی تکلیف دی تھی۔ لیکن وہ چپ تھا کیونکہ جب وہ خودکو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچتا تو اسے احساس ہوتا کہ وہ صحیح ہے لیکن اتنی جلدی وہ اسے سب کچھ نہیں بتاسکتا۔ اب ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے بعد اور عزوہ کی ذہنی حالت کے پیش نظر اس نے سب کچھ اس کے سامنے پرت در پرت کھول دیا تھا۔
محراب سلطان احمد ‘ عزوہ کی کولیگ ہی نہیں بلکہ وجدان احمد کی چچا زاد اس کی بہن خنساء کی اکلوتی نند بھی تھی … کوبرا نے ہی آئی جی سلطان احمد کو راستے سے ہٹایا تھا کیونکہ وہ کافی حد تک اس کے خلاف ثبوت اکٹھے کرچکے تھے۔ یہ وجدان احمد کی چچا سے محبت ہی تھی کہ اس نے ان کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا اپنا فرض جانا اور اس میں محراب شانہ بشانہ اس کے ساتھ تھی … اور عسیف علی بخاری نے کوبرا کی گرفتاری کے لئے کئی خفیہ ثبوت وجدان تک پہنچائے تھے۔
ۃ…v…ۃ
’’ کیا وہ مجھے معاف کردیں گے ‘ میں نے انہیں غدار ‘ عیاش اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا تھا اور ان کی اعلیٰ ظرفی کہ سب کچھ چپ چاپ سہتے رہے ‘ آج تک مجھ سے کچھ نہ بولا کچھ نہ کہا … محبت کی زبان میں مجھ سے بات کی لیکن میں نے انہیں دھتکار دیا۔ انہیں کیا دیا میں نے …؟ محبت کی بجائے نفرت ‘ حقارت ‘ دکھ اور تکلیف … وہ تو پہلے ہی الجھے ہوئے تھے اور میں انہیں مزید الجھاتی رہی … یا الٰہی خیر کرنا ‘ میں کیا کروں؟‘‘ وہ چوکھٹ پر گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی تھی۔ وجدان اسے اور محراب کو رات ہی پی آئی اے کی خصوصی فلائٹ سے اسلام آباد سے لاہور بھجواچکا تھا اور خود اس نے کہا تھا کہ وہ عسیف کے ساتھ گاڑی پر صبح آئے گا وہ لاہور محراب کے ہاسٹل میں تھی۔
’’ کیا ہوا عزوہ اتنی سردی میں یہاں بیٹھی ہو‘‘۔ محراب شاید آفس کے لئے نکل رہی تھی۔ بیگ کندھے پر ڈالے اس کی طرف آئی۔
’’ محراب کیا وجدان مجھے معاف کردیں گے؟‘‘ وہ کھڑی ہوگئی تھی۔
’’ تم نے کونسا گناہ کیا ہے کہ تمہیں معافی مانگنا پڑے وہ تم سے بہت محبت کرتے ہیں اور جواب میں بھی تمہاری محبت کے طلب گار ہیں‘‘۔ وہ اسے تسلی دے رہی تھی۔
’’ میں نے ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا لیکن میں … محراب واقعی میں کچھ نہیں جانتی تھی‘‘۔
’ میں جانتی ہوں عزوہ … اگر وجدان لالہ مجھے منع نہ کرتے تو شاید میںتمہیں ساری بات کھل کر بتادیتی۔ تم چلو میرے ساتھ میں تمہیں وجدان کے فلیٹ پر اتاردوں گی‘‘۔ اس کی بات سن کر وہ کسی نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔ وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد بیگ کندھے پر ڈالے اس کی طرف آئی۔
’’ چلیں …‘‘
’’ ہوں … چلو‘‘ وہ دونوں کار کی طرف بڑھ گئیں ‘ حسن پہلے سے ہی گاڑی میں موجود تھا۔
وجدان احمد کے گھر کی طرف یہ اس کا پہلا سفر تھا جو وہ اپنی مرضی سے کررہی تھی … وہ جان گئی تھی کہ حقوق و فرائض کی جنگ میں اس نے وجدان کو تو فرائض پہچاننے کی تلقین کی تھی لیکن اپنے فرائض بھول گئی تھی۔ آج اس کے کندھوں پر اگر کوئی بوجھ تھا … اس کے دل میں کوئی اداسی تھی ‘ اس کی آنکھوں میں کوئی آنسو تھا اس کے ہونٹوں پر کوئی فریاد تھی تو وہ بوجھ … وہ اداسی … وہ آنسو اور وہ فریاد صرف وجدان کے سامنے پشیمانی تھی لیکن اب تو اسے کسی بھی طریقے سے اپنے روٹھے ہوئے محبوب کو منانا تھا۔
’’تم یہاں‘‘۔ وہ جیسے ہی واش روم سے نکلا سامنے وہ بیٹھی تھی۔ محراب اسے فلیٹ کے باہر چھوڑکر جا چکی تھی اور یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اسے فلیٹ کا دروازہ کھلا ملا تھا کیونکہ عسیف اسی وقت کہیں باہر نکلا تھا۔
’’ کیوں کیا یہاں آنا منع ہے …؟‘‘ وہ مسکرا کر نگاہ جھکا گئی۔
’’ نہیں خیر منع تو نہیں لیکن پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے اس آوارہ … کمینے اور عیاش بلکہ وطن دشمن شخص کے فلیٹ کو رونق کیونکر بخشی؟‘‘ وہ تولیہ بیڈ پر اچھالتے ہوئے بولا۔
’’ آپ شوہر ہیں میرے‘‘۔ وہ شرمندہ سی بولی تھی۔
’’ تو کیا یہ بات تمہارے لیے باعث ندامت ہے؟‘‘ وہ اس کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا تو اس نے اوپر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی۔
’’ نہیں بلکہ یہ تو میرے لیے باعث فخر ہے لیکن جو کچھ میں نے سوچا تھا اس پر واقعی میں شرمندہ ہوں‘‘۔
’’ بس صرف شرمندہ ہو‘‘۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر اسے اپنے بازوئوں کے حصار میں لے چکا تھا۔
’’ نہیں آپ سے معافی بھی مانگنا چاہتی ہوں‘‘۔ اس نے اسے بے اختیار ساتھ لگالیا تھا۔
’’ آئی لو یو عزوہ … رئیلی آئی لو یو سو مچ‘‘۔ وہ جھینپ گئی تھی اور اس کی والہانہ محبت اور الفت پر سرشار بھی ہوگئی تھی۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔ اس نے آن کرکے کان سے لگایا۔’’ کیا خبر ہے؟‘‘
’’ ویلڈن‘‘
’’ عسیف اور عریض پہنچ گئے؟‘‘
’’ تم ٹیم تیار کرو … میں وہیں ملوں گا‘‘۔ اس نے چند مزید باتیں کیں اور موبائل بند کرنے کے بعد عزوہ کی طرف بڑھا۔
’’ نیب کوبرا پر کسی نے فائرنگ کی ہے‘‘۔
’’ کس نے؟‘‘ عزوہ جو اس کی باتیں سن کر ہاتھ مسل رہی تھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ پتہ نہیں … ابا جی اور عرفان لالہ آرہے ہیں تم ابھی ان کے ساتھ نکل جائو‘‘۔ وہ سر جھکا کر بولا تھا۔
’’ اور آپ …؟‘‘ وہ اٹک اٹک کر بولی تھی۔
’’ میں انشاء اللہ مشن مکمل کرنے کے بعد آجائوں گا ‘ گھر میں سب کا ڈھیروں خیال رکھنا اور میرے لیے دعا کرنا‘‘۔ وہ اسے کندھوں سے تھامتے ہوئے بولا۔
’’ جی …‘‘ وہ کچھ بول نہ پارہی تھی۔ آنسوئوں کا کوئی نمکین سا گولہ اس کے حلق میں پھنس گیا تھا۔
’’ تم اپنے تایا ابا کو فون کرکے نکاح کا بتادو‘‘۔ اس نے نم آنکھوں سے وجدان کی طرف دیکھا تو وہ اسی کی طرف محبت سے دیکھ رہا تھا۔
’’ جی اچھا …‘‘ وہ خود کو ضبط کرنے میں لگی تھی لیکن آنسو خود ہی آنکھوں کے کناروں سے باہر پھسل پڑے۔
’’ پاگل … رو کیوں رہی ہو … میں تو ایک نیک ارادہ لے کر جارہا ہوں مجھے تمہارے آنسوئوں کی نہیں دعائوں کی ضرورت ہے‘‘۔ وہ اس کے آنسو صاف کررہا تھا لیکن اس کے رونے میں شدت آرہی تھی۔
’’ پلیز عزوہ …‘‘ وہ باہر گھنٹی کی آواز سن کر لپکا تو وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ کر خود کو نارمل کرنے لگی۔ آنے والے عسیف لالہ ‘ عرفان لالہ (خنساء کے شوہر اور محراب کے بھائی ) اور وجدان کے ابا جی تھے۔ وجدان انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر خود بیڈ روم میں آیا تو عسیف بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔
’’ یار تم ہی اسے سمجھائو … پاگلوں کی طرح روتی ہی جارہی تھی‘‘۔ وجدان عسیف کی طرف مڑا۔
’’ عزوہ بی بریو … وجدان تو تمہارے خوابوں کو تعبیر دینے جارہا ہے۔ دھرتی پر چلنے والے ناسوروں کو تہہ تیغ کرنے جارہا ہے۔ اگر تم اسے اس طرح رخصت کروگی تو وہ اپنے دل پر کتنا بوجھ لے کر جائے گا نا‘‘۔ عسیف اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھانے لگا تو وہ آہستہ آہستہ یوں سر ہلانے لگی جیسے سب سمجھ رہی ہو۔
’’ چلو شاباش آنسو صاف کرو … اور ہمیں اچھی سی چائے پلائو ‘ میں مرنے سے پہلے تمہارے ہاتھ کی چائے پینا چاہتا ہوں‘‘ وجدان بولا تو اسے یوں لگا جیسے اس کا دل پھٹ جائے گا۔
’’ پلیز عسیف لالہ انہیں بولیں کہ یہ منہ سے ایسی باتیں نہ نکالیں‘‘۔ وہ بمشکل خود کو ضبط کرکے بولی تھی۔
’’ اچھا یار سوری … اب چائے تو بنائو‘‘۔ وجدان اسے ہنسانے کو کان پکڑ کر بولا تو وہ آنسو ضبط کرتی کچن کی طرف بڑھ گئی ‘ جب تک چائے تیار ہوئی وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرتے رہے۔ وہ سب کو وہیں چائے سرو کرنے لگی۔ جب وجدان اپنا کپ اٹھا کر کمرے کی طرف بڑھ گیا تو عسیف نے اسے بھی اٹھنے کا اشارہ دیا تو وہ بھی وجدان کے پیچھے چل دی۔
’’ یہ لے لو‘‘۔ اس نے ایک گفٹ پیک اس کی طرف بڑھایا۔
’’ یہ کیا ہے؟‘‘ وہ متجسس ہو کر بولی۔
’’ چاہے جس حالت میں بھی سہی ہمارا نکاح تو ہوا تھا نا ‘ پتہ نہیں میں لوٹ کر آئوں یا نہ آئوں‘‘۔ اس کی بات سن کر اس کے دل کو کچھ ہوا۔
’’ یہ بھی لو‘‘۔ اس نے لفافہ پکڑا چاک کیا تو اندر سے گلاب کی سرخ کلی اس کی گود میں گری اور ساتھ چھوٹا سا کارڈ بھی۔
’’ جان من ‘ قرارداد پاکستان کا عظیم دن 23 مارچ مبارک ہو ‘ یہ دن ہزاروں دعائوں ‘ لاکھوں سجدوں اور کروڑوں نمازوں کے بعد ملا۔ ہم اس کے وارث ہیں۔ امین ہیں حفاظت کرنا ‘ اپنا ڈھیروں خیال رکھنا‘‘۔
’’ یہ کارڈ …‘‘
’’ تمہارے لیے خریدا تھا ‘ سوچا ابھی دے دوں پرسوں تو 23 مارچ بھی ہے پتہ نہیں پوسٹ کر پائوں یا نہ کر پائوں‘‘۔
’’ تو کیا وہ سارے کارڈز آپ نے بھیجے تھے ‘ اسے 14 اگست ‘ 6 ستمبر ‘ 9 نومبر ‘ 25 دسمبر والے خوبصورت کارڈ اور گلاب کی سرخ کلیاں یاد آئیں۔
’’ ہوں … لیکن لکھوائے سارے عسیف سے تھے‘‘۔ وہ بھی اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔
’’ خود کیوں نہیں لکھے؟‘‘
’’ اس لئے کہ کہیں تم وہ میرے منہ پر نہ ماردو ‘ میں وہاں جہاں کر تمہیں فون کروں گا ‘ گائوں پہنچتے ہی تایا ابا کو فون کرکے نکاح کا بتادینا۔ باقی تمام باتیں مشن مکمل کرنے کے بعد میں اور عسیف انہیں بتادیں گے اپنا ڈھیر سارا خیال رکھنا۔’’ اس نے اس کے کندھے تھپتھپائے اور مہر محبت ثبت کرنے کے بعد باہرنکلنے لگا پھر رک گیا۔
’’سب کا خیال رکھنا۔ میں تمہیں ‘ اپنے بچے اور گھر والوں کو خدا کی حفظ و امان میں دیتا ہوں‘‘ وہ اس کی بات سن کر تپ اٹھی تھی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کی طرف لپکی۔
’’آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں وجدان‘‘۔
’’ کیونکہ میں کل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا عزوہ ‘ ‘۔ اس نے بے اختیار اسے گلے سے لگالیا تو وہ رونے لگی۔
’’ قوم کی بہادر سپاہی ‘ شوہروں کو رو کر رخصت نہیں کرتیں ‘ انہیں دعائوں کی ضرورت ہوتی ہے آنسوئوں کی نہیں‘‘۔ وہ اس کے بالوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتے ہوئے بولا۔
’’ میں آپ کے بغیر کیسے رہوں گی ‘ اماں جی ‘ ابا جی اور آپ کا بچہ‘‘۔
’’ یوں رو کر مجھے کمزور نہ کرو عزوہ‘‘۔ وہ بڑی مشکل سے خود پر ضبط کرکے بولا تھا پھر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔
’’ پلیز روئو نہیں اس سے میرے بیٹے پر برا اثر پڑے گا ‘ میرے بیٹے کا بہت سا خیال رکھنا‘‘۔
’’ بیٹا …!‘‘ وہ بڑبڑائی۔
’’ ہاں میرا بیٹا‘‘۔ وہ اس کا دھیان بٹانا چاہ رہا تھا۔
’’ وجدان‘‘ وہ سسکی وہ اس کے کندھے سے سر ٹکاتے ہوئے پتہ نہیں کیا کچھ بول رہی تھی۔
’’ عزوہ مجھے وطن کی سلامتی سے بڑھ کر نہ کل کچھ عزیز تھا نہ آج کچھ۔ پلیز مجھے کمزور نہیں کرو‘‘۔ وہ تھک کر بولا تھا۔
’’ وجدان پلیز آج نہیں … کل چلے جائیے گا‘‘ بھیگی اور بھرائی ہوئی آواز میں منت بھرا لہجہ تھا۔ وجدان کے چہرے سے بے چینی ظاہر تھی پھر اس کے آنسو ‘ وہ اسے روک نہیں رہی تھی ‘ لیکن جانے والے بھلا کب رکتے ہیں وہ چلا گیا تھا وہ خود کو مضبوط بنائے آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں لگی رہی اور گائوں حویلی پہنچ گئی۔
ۃ…v…ۃ
اسے گئے ہوئے 48 گھنٹے گزرچکے تھے لیکن نہ کوئی پیغام اور نہ ہی فون ‘ اس نے متعدد بار وجدان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہوسکا اس نے کچھ سوچ کر تایا ابا کی طرف فون کیا۔
’’ السلام علیکم تایا ابا‘‘۔
’’ عزوہ کیسی ہو؟‘‘ وہ اس کی آواز پہچان کر بولے تھے۔
’’ ٹھیک ہوں … آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’ میں ٹھیک ہوں ‘ کہاں ہو تم؟‘‘ وہ حقیقتاً اس کی طرف سے سخت پریشان تھے۔
’’ میں اپنے گھر پر ہوں تایا ابا‘‘۔
’’ یعنی شہر والی رہائش پر ‘ لیکن کل تو تم وہاں نہیں تھیں‘‘۔ وہ خود ہی سوال و جواب کررہے تھے۔
’’ نہیں اپنے گھر … چوہدری وجدان احمد کو جانتے ہیں نا آپ‘‘۔
’’ ہاں … ہاں وہ عسیف کے دوست وجدان کا باپ ‘ ہمارے ساتھ ہی وہ بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہے‘‘۔
’’ وجدان میرے شوہر ہیں تایا ابا‘‘۔ یہ کیسا انکشاف تھا جس نے اس کے تایا ابا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
’’ کیا … تم نے شادی کرلی؟‘‘
’’ یہ شادی عسیف لالہ اور بابا نے مل کر کی تھی‘‘۔ وہ انہیں تسلی دینے کو بولی تھی۔
’’ اچھا … اچھا یقینا انہوں نے اچھا ہی سوچا ہوگا‘‘ وہ خوشدلی سے بولے۔
’’ تایا ابا وہ نیب کوبرا کا کچھ پتہ چلا؟‘‘ وہ اصل موضوع کی طرف آگئی۔
’’ ہاتھ آتے آتے رہ گیا کم بخت‘‘۔
’’ اس پر فائرنگ ہوئی ہے تایا ابا وجدان بتارہے تھے‘‘۔ اس کی بات نے انہیں چونکا دیا تھا۔
’’ وہ فائرنگ میں نے ہی کروائی تھی لیکن پھر بھی بچ گیا‘‘۔ وہ اسے راز سے بتانے لگے۔
’’ کون ہے وہ تایا ابا … آپ اسے جانتے ہیں‘‘۔ اب کی بار وہ چونکی تھی۔
’’ تمہاری ملاقات کرائوں گا اس سے ‘ بہت چوٹی کا سیاستدان ہے‘‘۔ وہ کچھ سوچ کر بولے تھے۔ پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد انہوں نے فون بند کردیا۔ فون بند کرنے کے بعد وہ وارڈروب سے گفٹ نکال کر کھولنے لگی تو اندر سے ایک خوبصورت بچے کی تصویر کے ساتھ ہی ایک ڈائمنڈ رنگ بھی نکلی تھی ‘ اس نے تصویر سامنے رکھے ڈریسنگ ٹیبل پر سجادی ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ اس کے سیل پر بیل ہوئی وجدان کا نمبر تھا۔
’’ہیلو السلام علیکم!‘‘ وہ موبائل کانوں سے لگانے کے بعد بولی۔
’’ وعلیکم السلام اینڈ ھیپی اینورسری جان من‘‘۔ ریسیور سے وجدان کی آواز ابھری تھی۔
’’ آپ کہاں ہیں وجدان ‘ میں کل سے مسلسل آپ کو فون کررہی ہوں لیکن آپ کا نمبر ہی بند پڑا ہے‘‘۔ وہ اس کی بے تابانہ چاہت کو نظر انداز کرکے پریشانی سے گویا ہوئی تھی۔
’’ میں بالکل ٹھیک ہوں عزوہ جان ‘ تم نے چیک اپ کروایا‘‘۔ اس نے بات کو بدلنا چاہا۔
’’ جی … ڈاکٹر نے 28 مئی کی ڈیٹ دی ہے لیکن آپ … آپ ہیں کہاں؟‘‘ وہ پھر پہلی والی بات پر آگئی۔
’’ آج رات ہمیں ریڈ کرنا ہے عزوہ ‘ دعا کرنا‘‘۔ وہ اسے بتانے لگا۔
’’ اور محراب‘‘۔ اس نے فوراً محراب کا پوچھا تھا۔
’’ وہ آج واپس آجائے گی کیونکہ اس کا کام ختم ہوچکا ہے ‘ شکنجے تیار ہیں بس شکار کے پھنسنے کی دیر ہے‘‘۔ وہ ایک جوش اور ولولے سے بولا تھا۔
’’آپ واپس آجائیں وجدان … مجھے آپ اور آپ کی خیرخیریت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں چاہیے۔‘‘ وہ جو وطن سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتی تھی آئی بی کی اہم پوسٹ پر متعین ہونے کے باوجود آج وطن کی سلامتی سے بڑھ کر گھر کی سلامتی چاہ رہی تھی۔
’’ پاگل مت بنو عزوہ ‘ قابو پائو خود پر۔ حرام موت مرنے سے بہتر ہے کہ میں دھرتی ماں کے لئے جان دے دوں ۔ وہ لوگ سب کچھ جان چکے ہیں عزوہ اور بھوکے کتے کی طرح مجھے سونگھتے پھررہے ہیں ‘ وہ لوگ اب کسی بھی قیمت پر مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے‘‘۔ وہ صاف صاف بولا تھا۔
’’ نہیں کچھ نہیں ہوگا آپ کو ‘ پلیز وجدان آپ لوٹ آئیں‘‘۔ اس نے ایک بار پھر منت کی تھی۔
’’ تم پریشان نہیں ہو مشن کے مکمل ہوتے ہی میں لوٹ آئوں گا سب کا خیال رکھنا ‘ محراب آج کسی بھی وقت واپس آجائے گی‘‘۔
’’ اور آپ …؟‘‘ اس کی تان پھر اسی پر آکر ٹوٹی تھی۔
’’ ابا جی کدھر ہیں بات کرائو میری ان سے‘‘۔ وہ فون لے کر بیڈ روم سے باہر نکل آئی تو سامنے ہی سارے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ اس نے فون ابا جی کی طرف بڑھایا۔ تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وجدان بولا۔
’’ اسپیکر آن کریں ابا جی میں آخری بار سب کو اللہ حافظ کہنا چاہتا ہوں‘‘۔ اس کی بے بسی محسوس کرکے عزوہ رو دی تھی۔
’’ اماں جی … اگر میرا بیٹا ہوا اسے بھی محراب اور عزوہ کی طرح آرمی میں بھیجئے گا … اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی یا انجانے میں میں نے آپ کو یا اماجی کو کوئی تکلیف دی ہو تو مجھے معاف کردیجئے گا‘‘۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بول رہا تھا جبکہ دوسری جانب موجود تمام نفوس کے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’ محراب سے کہیے گا کہ عزوہ کا ڈھیر سارا خیال رکھے کیونکہ وہ اس کی دوست بھی ہے ‘ منصورہ میری کامیابی کے لئے دعا کرنا ‘ خنساء آپی میں اپنے بعد آپ کو بڑا سمجھ کر سب کا خیال رکھنے کی التماس کرتا ہوں۔ اپنے بچوں کو جب پاک فوج کی بہادری کے قصے سنائیں تو آپی ان کے ماموں کا ذکر مت کرنا بھولئے گا … اور عرفان لالہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو عریض کے ساتھ محراب کی شادی کردیجئے گا کیونکہ اس سارے مشن میں وہ میرے شانہ بشانہ رہا ہے ‘ اس کا جیل جانا اور وہاں سے رہائی یہ سارا کچھ ہماری گیم کا ایک حصہ تھا … فون بند کرنے سے پہلے ایک اور اہم بات نیب کوبرا ہمارے اسی دوست کی بین کے آگے ناچ رہا ہے جس کے ہم اتحادی ہیں جس کو ہم نے خود اپنی سرحدوں کا راستہ دکھایا ہے۔ آج وہ ہمارے ہی بھائیوں کو کاٹ رہا ہے۔ وہ ہمیں توڑنا چاہ رہا ہے لیکن اللہ کی قسم جب تک ہم اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ہمیں نہ تو کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی پچھاڑ سکتا ہے۔ عزوہ اپنی صحت کا خیال رکھنا ‘نیب کوبرا کون ہے بس چند گھنٹوں کی بات ہے سب کچھ کھل کر سامنے آجائے گا۔ میں آپ سب کو اللہ کی حفظ و امان میں دیتا ہوں ‘ اللہ حافظ‘‘۔ وہ جب خود پر قابو نہ پاسکا تو فون بند کردیا۔
’’ روئو نہیں بیٹا …دعا کرو اس وقت اسے ہم سب کی دعائوں کی ضرورت ہے‘‘ وہ اسے تسلی دیتے ہوئے وضو کرنے کے لئے واش روم کی طرف بڑھ گئے۔
جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا اس کا دل سمٹتا جارہا تھا اس نے سب کے چہروں پر پریشانی دیکھی تھی کوئی بھی اپنی جگہ پر مطمئن نہیں تھا۔ وہ کسی حد تک خود پر قابو پائے ہوئے تھی لیکن جب اس نے محراب کو حویلی میں داخل ہوتے دیکھا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ سب اس کی طرف دوڑے بڑی مشکل سے اس کی حالت سنبھل پائی تھی۔ سورۃ یاسین پڑھوائی جارہی تھی۔ عزوہ نے متعدد بار تایا ابا کی طرف بھی فون کیا لیکن کوئی ریسیو نہ کررہا تھا ‘ محراب کی ڈی جی صاحب سے بات ہوئی لیکن وہ بھی کوئی خاص تسلی نہیں دے سکے وہ سب عزوہ کے پاس اس کے کمرے میں بیٹھی تھیں جب فون کی گھنٹی بجی فون محراب نے ریسیو کیا۔
’’ جی … عسیف لالہ ‘‘ وہ آواز پہچاننے کے بعد بولی تھی۔
’’ چلیں آپ کو مبارک ہو‘‘۔
’’ میں جانتی ہوں اس وقت آپ کی حالت کیا ہوگی‘‘۔
’’ میں بتادوں گی … اللہ حافظ‘‘ اس نے فون رکھ کر سب پر ایک اُچٹتی نظر ڈالی اور خود میں ہمت جمع کرنے لگی۔
’’ کیا کہہ رہے تھے عسیف لالہ‘‘۔ عزوہ ہی سب سے پہلے بولی تھی۔
’’ وہ سب اپنے مشن میں کامیاب رہے ہیں‘‘ اس کی بات سن کر سب نے بے ساختہ خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
’’ نیب کوبرا پکڑا گیا ہے اسفند یار خان ‘ احمد یار علی دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ملک نواز احمد زخمی حالت میں ہے عریض اور وجدان …‘‘ وہ خاموش ہوگئی۔
’’ کیوا ہوا انہیں؟‘‘ عزوہ چیخی تھی۔
’’ یہ مشن جتنا پیچیدہ تھا یہ ان کی ہمت ہی تھی کہ وہ مشن کو کامیاب کرپائے‘‘۔ وہ اتنا ہی بول سکی تھی۔
’’ محراب! میں وجدان کا پوچھ رہی ہوں‘‘ وہ زور سے چلائی تھی۔
’’ وہ عزوہ … عریض اور وجدان لالہ کے علاوہ آئی بی کے تین ‘ ایم آئی کے چھ اور اے ایس ایف کے دس نوجوان شہید ہوئے ہیں‘‘۔ اس نے بہتے آنسوئوں کے ساتھ حقیقت دے ہی دی۔
اس کی بات سن کر اور حقیقت جان کر وہ اپنے ہوش و حواس میں کب تھی ‘ ایک طرف اس کا شوہر تھا تو دوسری طرف اس کا ماموں زاد اور پھوپھی زاد بھی اسی مشن میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوا تھا مسلسل رونے سے اس کی آنکھیں سوج چکی تھیں جو اسے دیکھتا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتا اس کی آنکھیں ویران ہوچکی تھیں اور پھر وہ آگیا ‘ شہادت کا جام نوش کرکے۔وہ دھرتی ماں کے سینے پر چلنے والے چند ناسوروں کو تہہ تیغ کرکے لوٹ آیا تھا۔فوجی اعزاز کے ساتھ اس کا تابوت لایا گیا تھا اس کے چھ فٹ کے تابوت کو دیکھ کر کوئی بھی خود کو قابو نہ رکھ پایا تھا۔ آزمائش جلد ختم نہیں ہوتی اس نے وجدان سے کہا تھا کہ وہ تاریخ میں زندہ رہنا چاہتی ہے اور اس کی خواہش وجدان نے خود کو تاریخ میں زندہ کرکے پوری کی تھی۔
اس نے کتنی کوشش کی تھی اسے روکنے کی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ جانے والے رکا نہیں کرتے اور جو چلے جائیں لوٹ کر نہیں آتے مگر اس نے پھر بھی اپنی سی کوشش کی تھی۔ وقت دھیرے دھیرے چلتا جارہا تھا۔ وہ سوچتی کہ جانے لوگ اتنی جلدی کیوں چلے جاتے ہیں۔ ابھی دل بھی نہیں بھرتا کہ دبے پائوں رات آجاتی ہے اور زندگی دکھ کے دامن سے بھر دی جاتی ہے جب دل میں آگ لگتی ہے تو آنکھیں چھلکتی ہیں اور اس کی آنکھیں ایک لمحے کیلئے بھی چھلکنے سے رک نہیں پاتی تھیں۔ وہ بے بسی و غمی کے ڈھیروں آنسو سمیٹے بیڈ کرائون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی جب محراب نے کمرے میں آکر اس کی طرف فون بڑھایا۔
’’ عزوہ … عسیف لالہ کا فون ہے‘‘ اس کی آواز میں نمی گھلی تھی عزوہ کو یاد آیا کہ عسیف لالہ صرف وجدان کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ ہی آئے تھے اور پھر عریض کو دفنانے کے لئے گائوں چلے گئے تھے۔
’’ہیلو …‘‘ عسیف لالہ کی بھاری آواز ان کی خستہ حالی کی گواہی دے رہی تھی۔
’’ عسیف لالہ …‘‘ وہ بھی رونے لگی۔
’’ حوصلہ کرو عزوہ‘‘۔
’’ عسیف لالہ وجدان اور عریض‘‘۔ اس کے رونے میں شدت آگئی تھی۔
’’ حوصلہ کرو میری بہن ‘ مجھے دیکھو اتنا اچھا دوست چلا گیا۔ بھائیوں جیسا کزن کھودیا اور باپ خود اپنے ہاتھوں سے انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کرآیا ہوں‘‘۔ ان کی بات نے اسے چونکایا تھا۔
’’ تایا ابا … کدھر ہیں تایا ابا ‘ وہ مجھ سے ملنے بھی نہیں آئے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ‘‘۔ وہ پھر رونے لگی۔
’’ وہ تو شاید ہی عمر بھر تمہارا سامنا کرسکیں عزوہ کیونکہ وہ نہ تو تمہارے تایاا با تھے اور نہ ہی میرے ابا جی … وہ نہ تو پروفیسر عظیم علی بخاری کے بڑے بھائی تھے اور نہ ہی وزارت داخلہ کے سیکریٹری‘‘۔ وہ اسے پہیلیوں میں الجھا رہے تھے۔
’’ آپ کھل کر بولیں لالہ ‘ کیا ہوا ہے تایا ابو کو؟‘‘ وہ روتے ہوئے بولی تھی۔
’’ وہ صرف نیب کوبرا تھے عزوہ۔ صرف نیب کوبرا ‘ نعیم علی بخاری نیب‘‘۔ ان کا انکشاف واقعی دل دہلا دینے والا تھا۔
’’ نیب کوبرا‘‘ وہ اپنا رونا دھونا بھول چکی تھی۔ یہ کیسا انکشاف تھا۔ تو کیا اس کے بابا کو اس کے تایا ابا نے ‘ اوہ مائی گاڈ ‘ لیکن تایا ابو جتنے بھی برے سہی اس کے بابا کی جان تو نہیں لے سکتے تھے۔
’’ہیلو عزوہ‘‘ دوسری طرف اس کی چپ سے عسیف نے یہ سمجھا کہ شاید لائن کٹ گئی ہے۔
’’ جی لالہ بولیں میں سن رہی ہوں ‘ تایا ابا اس وقت کدھر ہیں؟‘‘
’’ وہ اس وقت آئی بی کے انویسٹی گیشن روم میں ہیں۔ عزوہ میری بہن مجھے معاف کردینا میں چاچو کی حفاظت نہیں کرسکا‘‘۔ وہ مضبوط بنا بول رہا تھا لیکن اندر سے بھربھری مٹی ثابت ہورہا تھا۔
’’ جو خدا نے لکھا ہو وہ ہو کر رہتا ہے شاید یہ چاچو کی تربیت اور ان سے محبت کا نتیجہ ہی تھا کہ جب مجھے نیب کوبرا کی سرگرمیوں کا پتہ چلا تو میں نے سب کچھ وجدان اور عریض سے ڈسکس کیا۔ چاچو کی سپورٹ کی بدولت میں اے ایس ایف میں اس طرح گیا کہ ابا جی کو بھی پتہ نہ چلا اور وجدان کو اس طرح محکمہ پولیس میں سیٹ کیا گیا کہ ابا جی اس پر اعتماد کرنے پر مجبور ہوگئے اس طرح یہ مشن پایۂ تکمیل کو پہنچا ‘ وہ بے شک میرے باپ تھے عزوہ لیکن یقین مانو مجھے دھرتی ماں سے بڑھ کر نہ کل کچھ عزیز تھا اور نہ آج کچھ ہے۔ نہ کوئی باپ اور نہ کوئی جنم دینے والی ماں ‘ اگر کچھ اپنا ہے ‘ اپنا تھا اور اپنا رہے گا تووہ صرف دھرتی ماں ہے صرف اور صرف دھرتی اپنی ماں‘‘۔ آج عزوہ کو حقیقتاً اپنے تایا زاد بھائی پر فخر محسوس ہوا تھا وہ جان گئی تھی کہ جب محبتوں کا امتحان آجائے تو کسی کو چھوڑ کر کسی کو چننا پڑتا ہے اور اس کے بابا کی تربیت کا حق ادا کرتے ہوئے عسیف نے باپ کو نہیں بلکہ دھرتی ماں کو چنا تھا۔ بے شک وہ باپ کی نظروں میں نافرمان اولاد ہوگا لیکن اپنی اور خدا کی نظروں میں اور دھرتی ماں کے لاکھوں سپوتوں کی نظروں میں وہ ضرور سرخرو ہوگیا تھا۔
عسیف کے پاس کہنے کو مزید کچھ نہ بچا تھا جو وہ اسے بتاتا وہ اسے اللہ حاظ کہہ کر فون بند کرچکا تھا۔
ۃ…v…ۃ
اس نے بے اختیار پلٹ کر ڈریسنگ ٹیبل پر لگی ہوئی بچے کی تصویر کو دیکھا۔ اس لمحے اس نے عہد کیا تھا کہ اسے اپنے بیٹے کو عسیف علی بخاری کی طرح بنانا ہے جو اگر سگے رشتوں میں بھی غداری دیکھے تو اتنا حوصلہ رکھتا ہو کہ دھرتی ماں کی حفاظت آن اور شان میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سگے رشتوں کو کاٹ کر رکھ دے تاکہ اس کی دھرتی اپنی ماں پر کوئی آنچ نہ آئے۔ اتنا تو وہ جان ہی گئی تھی کہ دھرتی ماں کے بیٹے اسے بچانے کے لئے شہید ہوتے رہیں گے۔ دشمن سازش کرے گا لیکن اس کی سازش اس کے گلے میں ڈالنے کے لئے دھرتی ماں کے بیٹے ہمیشہ سینہ تانے کھڑے رہیں گے۔( انشاء اللہ )

ختم شد

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close