رنگ‘ حرف‘ روشنی

رنگ‘ حرف‘ روشنی

اقراء صغیر احمد

متورم آنکھیں‘ اداس چہرے ولڑکھڑاتے قدموں سے اسے اس بے حد چمکدار ٹائلز فرش پر چلنا دشوار محسوس ہو رہاتھا۔
دکھوں کاایک صحرا عبور کرکے وہ یہاں تک آئی تھی اور نہ معلوم صحراابھی عبور ہوا تھایاآغاز ہی تھا۔جھرجھر جھر آنسوئوں کی روانی کسی جھرنے کی مانند اس کی غلافی آنکھوں سے گرنے لگی تھی۔
’’ارے… یہ کیا؟ آپ پھر رونے لگیں بیٹا!‘‘
مکرم صاحب نے اس کی جانب دیکھا تو شفقت سے گویا ہوئے۔ ’’آپ کسی غیر کے نہیں اپنے گھر میں آئی ہیں‘ مقصود مجھے سگے بھائیوں سے بڑھ کر عزیز تھا‘بے حد محبت تھی ہم میں‘ گردش معاش میں الجھ کر کچھ وقتی فاصلے درمیان میں حائل ہوگئے تھے ورنہ دل تو کبھی ہمارے جدانہیں ہوئے۔‘‘ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھے افسردگی سے کہہ رہے تھے۔ ’’میں ہر ممکن کوشش کروں گا بیٹا‘ آپ کوباپ کی کمی محسوس نہ ہو۔‘‘ کوریڈور اور کامن روم سے گزر کر وہ لائونج میں پہنچے تھے جہاں ایک عمررسیدہ خاتون نے بڑی اپنائیت سے اس کے نازک سے وجود کو شفقت بھری آغوش میں سمیٹا تھا نہ معلوم کیساانوکھا وتحفظ بھرالمس تھا کہ وہ بے اختیار رونے لگی تھی۔
ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی آصفہ بیگم کے چہرے پر بیزاری وجھنجھلاہٹ کے تاثرات پھیلتے جارہے تھے۔ ان کی نگاہوں میں تحقیرانہ رنگ پھیل رہے تھے‘ وہ ساس کے سینے سے لگی لڑکی کاجائزہ لے رہی تھیں۔ کاٹن کابرائون کلر کابوسیدہ سوٹ‘ کمر پرالجھے بالوں کی موٹی چوٹی… سیاہ بدرنگ چادر اوڑھے وہ اجڈ لگ رہی تھی۔ رنگت سفید تھی جس میں ذردیاں گھلی تھیں۔جسم بے حد لاغر وکمزو ر تھا‘ چہرے پرستواں ناک اور سیاہ موٹی موٹی آنکھیں نمایاں تھیں جن کی دراز پلکوں سے آنسو گرتے ایسے ہی لگ رہے تھے گویا سیاہ ریشم پرموتی دمک رہے ہوں۔
’’ہونہہ‘ ہماری ساس صاحبہ کو ایکٹنگ بہت اچھی آتی ہے۔‘‘وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھیں۔ ’’اماں! میں دیکھتی ہوں‘ ثریا نے روم کی ڈسٹنگ اچھی طرح کی ہے یانہیں۔‘‘ آصفہ ساڑھی کاپلو درست کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔
’’اللہ تمہیں صبر دے بیٹی! مقصود اور مکرم میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتی تھی‘ وہ بھی بڑانیک وسعادت مند تھا پروائے…نصیب!‘‘ انہوںنے آنسو صاف کرتے ہوئے سرد آہ بھری۔ ’’چلو‘ تم نہالو‘ تھکن اتر جائے گی‘ چائے بھی تیار ہورہی ہے۔‘‘
[[[
’’یہ کس کولے کر آئے ہیں آپ؟‘‘ آصفہ بیگم بیڈروم میں آکر مکرم صاحب سے ترش روئی سے گویا تھیں۔
’’بتایا تو تھاآپ کو وہ زمزم ہے مقصود مرحوم کی بیٹی‘ مقصود کی ڈیتھ کے بعد اس کی وائف اسے ساتھ رکھنے کوتیار نہ تھی۔‘‘
’’اور آپ اسے یہاں لے آئے؟‘‘
’’ہوں‘ یہ دراصل ماں کا حکم تھا پھر…‘‘
’’ماں کاحکم تھا‘ میں ہرگز ایسی لڑکی کو اپنے یہاں نہیں رکھوں گی‘ جس کی ماں ہی اسے ساتھ رکھنے کوتیار نہیں۔‘‘
’’وہ زمزم کی رئیل نہیں اسٹیپ مدر ہے۔‘‘
’’ہاں تو اس کی ر ئیل مدر کونسی نیک وپارسا عورت تھی جو…‘‘
’’خاموش رہو۔‘‘ مکرم کے لہجے میں سختی تھی۔
’’میری زبان بند کرسکتے ہیں آپ! لیکن کل جب لوگوں کو معلوم ہوگاتو کسی ایک کی زبان بند نہ کرپائیں گے تب پھر؟‘‘
’’پلیز…پلیز آصفہ‘ سوچو جب ہم کسی کو کچھ بتائیں گے ہی نہیں تو لوگوں کو کیونکرمعلوم ہوگا؟‘‘
’’ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتی ہیں‘ ازخود ہی عیاں ہوجاتی ہیں۔‘‘
’’جی ہاں…ضرور۔‘‘ وہ طنزیہ انداز میں گویا ہوئے۔ ’الہام ہوجاتے ہیں لوگوں کو ایسی باتوں کے!‘‘
’’ہاں ہاں میری آپ اب کہاں سننے لگے‘ ماں کاحکم جو مل چکا ہے۔‘‘ شوہر کو اپنے مؤقف پر ڈٹے دیکھ کر وہ چڑ گئی تھیں۔
’’میری ماں کے خلاف کچھ بھی کہنے سے قبل یہ یاد رکھا کرو‘ تم بھی ایک جوان بیٹے کی ماں ہو اور بہت جلد اس منصب پرفائز ہوگی‘ جس پرمیری ماں ہیں۔‘‘
’’میں ا یسی ساس نہیں بنوں گی۔‘‘
’’یہ وقت بتائے گا‘ مجھے تمہاری طرف سے کوئی شکایت نہیں ملنی چاہئے‘ اس بچی کا بے حد خیال رکھنا‘ ویسے بھی اس گھر میں بیٹی کی کمی تھی جوپوری ہوگئی ہے۔‘‘
[[[
جون کا حبس بھرا دن گزر گیا تھا۔ کھڑکی کے شیشے سے آسمان کے ماتھے پر سجا چاند بھی گویا اپنی ٹھنڈک بھری چاندنی پھیلانے میں ناکام نظر آرہا تھا کہ سورج کی غیر موجودگی میں بھی گرمی کااحساس تھا۔وہ کچھ دیر قبل ہی کھانے کے بعد کمرے میں آئی تھی اوراس کی سیاہ بھنورا آنکھوں میں سوچیں مزید گھری ہوئی تھیں۔ حمیدہ بیگم کی جیسی نفرت وبیزاری اس نے آصفہ بیگم کی آنکھوں اور انداز میں ان چند گھنٹوں میں بخوبی محسوس کرلی تھی جو یہاں آکے گزرے تھے۔ ان کے نفرت وناگواریت سے بھرپور ا ندز نے اس کی خودداری اور عزت نفس کو زک پہنچائی تھی‘ وہ جو پہلے ہی سوچ چکی تھی زیادہ عرصہ ان لوگوں پر بار نہیں بنے گی‘ اب تہیہ کرچکی تھی جلد ہی کوئی جاب تلاش کرکے کسی لیڈی ہاسٹل میں شفٹ ہوجائے گی۔ بلاشبہ ان چند گھنٹوں میں آصفہ بیگم کے ترش رویے کے ساتھ ساتھ اس کوماں جی اور مکرم انکل کی بے لوث وپرشفقت محبتوں سے بھی واسطہ پڑاتھا۔ اس کی پیاسی روح سیراب ہونے لگی تھی مگر نفرت وتحقیر کی ایک نگاہ ہی وجود کے علاوہ روح کو بھی گھائل کرڈالتی ہے۔
[[[
’’بہو تمہاری شان میں کونسی کمی آجاتی اگر اس یتیم بچی کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھ د یتی تو؟ تمہارا رویہ اچھا نہیں ہے۔‘‘ آصفہ شاپنگ سے لوٹی تھیں ماں جی نے موقع دیکھ کر جتایا۔
’’ماں جی! صاف بات یہ ہے مجھے اس کا یہاں رہنا پسند نہیں ہے۔‘‘
’’ہوں…تمہیں تومیرا بھی یہاں رہنا پسند نہیں ہے۔‘‘
’’یہ صرف آپ کی سوچ ہے ورنہ میں آپ کو اپنی ممی کی طرح ہی سمجھتی ہوں۔‘‘ آصفہ آہستگی سے گویا ہوئی تھیں۔
’’چلوٹھیک ہے تمہاری بات پریقین کرلیامگر زمزم سے اتنی نالاں کیوں ہو؟ کیا اس بچی کو دیکھ کر ترس نہیں آتا؟ رحم نہیں آتا؟‘‘
’’ماں جی! میں اسے نہیں اس کے کریکٹر کو دیکھ رہی ہوں۔‘‘
’’بہو! تمہاری کوئی بیٹی نہیں ہے تو اسکایہ مقصد نہیں کہ تم کسی کی بیٹی کو خوا مخواہ بدنام کرو‘ ذرا اللہ کے خوف سے ڈرو۔‘‘ ماں جی طیش ذدہ انداز میں بولیں۔
’’میں جھوٹ تو نہیں کہہ رہی‘ کیااس کی ماں…‘‘
’’خاموش رہو‘ تم جیسی عورتوں کو کوئی بات ملنی چاہئے بتنگڑ بنانے کے لئے‘ضروری ہے ماں کے چلن پر بیٹی بھی چلے اور کان کھول کر سن لو‘ وہ یہاں سے اس طرح نہیں جائے گی‘ عزت کے ساتھ رخصت کروں گی کسی شریف انسان کے ساتھ نکاح کے تین بول پڑھو اکر۔‘‘
جوباتیں آہستگی سے شروع ہوئی تھیں جذبات وغصے کے باعث وہ لائونج میں بیٹھی زمزم کی سماعتوں تک باسانی رسائی حاصل کرچکی تھیں وہ سنسناتے بدن کوبمشکل گھسیٹتے کمرے تک آئی تھی۔ ایسی باتیں اس نے پہلی بار نہیں سنی تھیں‘ یہ تذلیل پہلی بار نہیں ہوئی تھی‘ اس تحقیروبے عزتی کی تشترزنی کرتی باتیں وہ اس عمر سے سنتی آرہی تھی جب ان باتوں کے معنی سے بھی وہ واقف نہ تھی۔
ماں…!
کائنات جس کے وجود سے حسین نظر آتی ہے۔ ماں! اللہ کی رحمتوں میں سے سب سے بڑی رحمت…ماں! جو اولاد کے لئے اس کی حیات ہوتی ہے اس کاافتخار ہوتی ہے‘ اس کی کائنات ہوتی ہے‘ لیکن اس کی ماں اس کے لئے کیا تھی۔
رسوائی…ذلت‘ ندامت۔
آنسو بے آواز ندی کی طرح رخساروں پر بہنے لگے تھے۔
’’زمزم!‘‘ ماں جی وہاں سے اٹھ کر یہاں چلی آئی تھیں۔ ’’بیٹی! روئو مت‘ میں سمجھ گئی تم نے سب سن لیا ہے‘یقینا تمہیں بہت برا لگا ہوگا‘ لگنابھی چاہئے‘ لیکن بیٹی بہو کی زبان خراب ہے‘ وہ سوچ سمجھ کر نہیں بولتی‘ ورنہ دل کی توبہت اچھی ہے۔‘‘ ماں جی اسے قریب بیٹھی دلاسے دے رہی تھیں۔
دل کی اچھائی یابرائی لہجے سے‘ انداز سے عیاں ہوتی ہے‘ دل کہاں نظر آتا ہے۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے ماں جی‘ مجھے برانہیں محسوس ہوا‘ایسی باتیں میں اس عمر سے سنتی آئی ہوں‘ جب شعور کے دروابھی نہیں ہوئے تھے لیکن نہ معلوم کیابات ہے ایک عمر سے سننے والی ان باتوں کی عادی نہ ہوسکی ہوں۔‘‘
’’پگلی! بھلا کوئی ایسی باتوں کابھی عادی ہوسکتا ہے جو درد د یتی ہوں۔‘‘ انہوں نے شفقت سے اس کے آنسو اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کرتے ہوئے کہا۔’’تم مجھے ماں جی نہیں دادو کہا کرو‘ زین بھی دادو کہتا ہے۔‘‘
’’زین…کون ہیں؟‘‘ اس نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔
’’زین العابدین میرا پوتا ہے‘ مکرم کابیٹا‘ چند دنوں قبل ہی تو انگلینڈ سے بزنس کی ڈگری لے کرآیا ہے‘اپنے باپ کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹا رہا ہے دوستوں کے ہمراہ گیاہوا ہے پکنک منانے‘آج کل میں آئے گا‘ بڑانٹ کھٹ ہے۔ اس کے آنے سے گھر میں بہار آگئی ہے۔‘‘ ماں جی اپنے پوتے کی باتیں بتانے لگی تھیں اوراس کے اندر گویا سناٹے اترنے لگے تھے۔ آصفہ بیگم کی ناپسندیدگی کی وجہ سمجھ میں آگئی تھی۔
’’دادو! کیاآپ میری کہیں جاب کابندوبست کرسکتی ہیں؟‘‘
’’کیوں بھئی! تمہیں یہ دودنوں میں ملازمت کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگی؟ کس چیز کی تنگی ہے؟‘‘
’’یہاں تو مجھے گھر سے بڑھ کر آرام ملا ہے‘ کسی شے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی…مگر دادو! بہرحال بہت جلد مجھے یہاں سے جاناپڑے گا۔جاب میری اشد ضرورت ہے۔‘‘
’’یہاں سے کہاں جائوگی؟‘‘
’’ہاسٹل۔‘‘
’’ارے رہنے دو جب تک زندہ ہوں‘ تمہیں کسی پربوجھ نہیں بننے دوں گی۔‘‘ ماں جی کے لہجے میں عزم ومحبت پروہ خاموش ہوگئی تھی‘ مگر دل میں وہ عہد کرچکی تھی‘ بہت جلد جاب حاصل کرکے یہاں سے جانے کا۔
دوسرے دن صبح جب وہ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر لان کے عقبی حصے میں آئی تووہاں پھیلے سبز پتوں وپھولوں پر چمکتے ننھے ننھے موتیوں کی طرح شبنم کے قطروں کو دیکھ کر اس کے اند رگویا ایک خوشگوار تازگی ابھری تھی۔ وہ بے اختیار سحر زدہ سی چپلیں فرش پر اتار کر ننگے پائوں لان کی سبز گھاس پر چلی تو ٹھنڈک وراحت کاپرسکون احساس اس کے بے کل وجود میں سرائیت کرتاچلا گیا۔ رات کے شاید آخری پہر رحمت الٰہی کے کچھ چھینٹے یہاں برسے تھے جن کی نمی وہاں کے پیڑ پودوں وگھاس میں موجود تھی‘پنک کلر کے سادہ سے جارجٹ کے سوٹ میں دوپٹے کو نماز کے انداز میں لپیٹے اس کے غمگین ومتفکر چہرے پر تفکرات کے سائے تھے۔ رات سے اسے نہ ڈھنگ سے نیند آئی تھی‘نہ ہی سکون ملا تھا‘ دادو سے یہ علم ہونے کے بعد کہ ان کاپوتا بھی یہاں رہتا ہے اور آج کل میں آنے والاہے‘ اسے ہراساں کرڈالا تھا‘ پہلے دن آصفہ بیگم کے روکھے پھیکے رویے نے اس کی حساس طبیعت کوبہت کچھ سمجھادیا تھا‘ مستزاد کل شام دادو اور آصفہ بیگم کی باتیں اسے باور کرواچکی تھیں اس کو یہاں ’’پناہ‘‘ نہیں ملنے والی اور کیوں نہیں ملنے والی؟ اس سوال کا جواب بھی اسے مل گیا تھا‘یقینا ہرماں کی طرح آصفہ بیگم بھی اپنے بیٹے کی خیرخواہی چاہتی تھیں۔
گیٹ کھلا تھا ٹریک سوٹ میں کوئی جوگنگ کراہوا اندر آیا تھا‘زمزم گیٹ کی آواز پر چونک کرپلٹی تھی اندر داخل ہونے والا شخص بھی ٹھٹک کر وہیں رک گیاتھا۔ لمحے بھر کے لئے دونوں کی نظریں ٹکرائی تھیں۔ ایک طرف نگاہوں میں حیرانی‘تجسس واشتیاق تھا‘ دوسری طرف نگاہوں میں خوف‘وحشت وسراسیمگی تھی۔
دراز قد… سرخ وسفید رنگت‘ بے حد روشن روشن برائون آنکھیں۔وہ سمجھ گئی کہ اتنے استحقاق بھرے انداز میں گھر میں کون داخل ہوسکتا ہے۔ یقینا وہ ہی زین ہے‘ اس نے سوچاتھا وہ کبھی بھی اس شخص کے سامنے نہیں آئے گی جس کی غیر موجودگی میں آصفہ آنٹی کا اس قدر نازیبا رویہ ہے ان موجودگی میں نہ معلوم ان کا رویہ کیاہوگا؟ مگر سوچیں کب پوری ہوتی ہیں؟ کم از کم اس کی کوئی تمنا‘ کوئی آرزو کب پوری ہوئی تھی جو اب ہوتی… وہ نہ معلوم رات کب آیا تھا دادو عشاء کی نماز کے بعد جلدسونے کی عادی تھیں وہ بھی ان کے کمرے میں ہی رہ رہی تھی سو وہ بھی جلدی سوجاتی تھی۔
’’ہیلو! گڈ مارننگ۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا اس کی جانب بڑھتا ہوا گویا ہواتو گویا اس کی حسیں بیدار ہوئیں وہ کوئی جواب دینے یااس کی جانب دیکھنے کے بجائے گھبرائی‘ بوکھلائی سی وہاں سے سرپٹ ا یسی بھاگی گویا اس کی جانب بڑھنے والا شخص انسان نہیں کوئی غیر مرئی مخلوق ہو۔ زین حیران ساارے… ارے‘ ہی کرتا رہ گیا۔
رات کے کسی پہر معمولی سی ہونے والی بارش نے گرمی وحبس میں مزید اضافہ کردیاتھا مستزاد ستم درستم طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے ماحول میں آگ لگادی تھی۔U. P.S چارجنگ کمپلیٹ نہ ہونے کے باعث بار بار آف ہو رہے تھے جنریٹر کی آواز سے دادو کو الرجی تھی۔
لائونج کے ماربل کے فرش پر وہ بیٹھی دادو کے سر میں تیل سے مساج کررہی تھی‘ لائٹ گئی ہوئی تھی‘ لان کی سمت کھلنے والی کھڑکیاں کھلی ہونے کے باوجود بھی شدید حبس وگرمی محسوس ہو رہی تھی۔
’’کوئی بات کیا کروبیٹی! یہ کیا ہر وقت منہ کو تالا لگائے رکھتی ہو‘ اس عمر میں تو لڑکیوں کی زبان سروتے کی طرح چلتی ہے‘ ہنسی کے فوارے منہ سے ایسے پھوٹتے ہیں جوبند کروائے بند نہیں ہوتے ہیں۔‘‘
ماں جی کے لہجے میں اس احتیاط پسند گم صم وخاموش رہنے والی معصوم سی لڑکی کے لئے بڑی محبت تھی‘ جس نے بڑی محبت سے ان کے تمام کام اپنے ذمے لے لئے تھے‘ ان کی خدمت کرنا‘ ان کا خیال رکھنا‘ اسے بہت پسند تھا۔ وہ جونک چڑھی وتفاخر سے گردن اکڑائے رکھنے والی بہو کی لاپروائی وبیزاری سے عاجز تھیں‘ زمزم جیسی بے زبان وخدمت گزار لڑکی کسی نیکی کااجرمعلوم ہوتی تھی‘ چند دنوں میں وہ اس کی گرویدہ ہوگئی تھیں۔
’’دادو! وہ خوش نصیب لڑکیاں ہوتی ہیں جو عزت دار وپاکباز مائوں کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ ان کی زبان پر اعتماد کیاجاتا ہے۔ ان کے قہقہے اعتراضات سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کی مسکراہٹ پر پہرے نہیں ہوتے۔‘‘ وہ جیسے خواب کی سی کیفیت میں کہہ رہی تھی۔ ’’مجھ جیسی لڑکیاں جن کی مائیں سب کچھ چھوڑچھاڑ کر کسی اور کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں‘ وہ اپنے کردار کی سیاہی پیچھے چھوڑ جاتی ہیں‘پھر ہمارے ہر قدم پرتنقید ہوتی ہے‘ تمام حرکات وسکنات پرنگرانی ہوتی ہے اس قدر سختی اس قدر نفرت وکراہیت کہ… سانسوں پربھی پہرے محسوس ہونے لگتے ہیں۔‘‘ دل تو ہردم بوجھل رہتاہی تھا‘ دادو کی خواہش پر وہ بلک اٹھی تھی‘ زندگی اس کے لئے کبھی راحت نہ بنی بلکہ ہردن اذیت وذلت ہی اس کے لئے کشید کرتی رہتی تھی اپنے باپ سے کی جانے والی اپنی ماں کی ہرجائی پن کی سزا اس نے اس عمر سے بھگتناشروع کی تھی‘ جب وہ ان جذبوں سے آشنا نہیں تھی۔ وہ فقط دوسال کی تھی جب اس کی ماں (جو ماں بننے کے باوجود بھی ممتا سے محروم تھی) پڑوس میں ر ہنے والے کسی شخص کے عشق میں مبتلا ہو کر رات کے اندھیرے میں اس شخَص کے ساتھ فرار ہوگئی تھی جو کچھ عرصہ قبل ہی و ہاں کرائے دار رہاتھا‘ نہ معلوم کس طرح اس شادی شدہ ایک بچی کی ماں کی عقل ہی ضبط نہ ہوئی تھی‘ ایمان وعاقبت بھی خراب ہوچکی تھی۔‘نہ معلوم ہو ’’عشق‘‘ میں مبتلا ہوئی تھی یا’’ہوس‘‘ میں بھلا ایک شادی شدہ عورت کس طرح کسی غیر کے متعلق سوچ سکتی ہے۔ شاید نفس کی غلامی‘ بے مہار خواہشوں کے انبار‘ خود پرستی اور دین سے بے رغبتی ہی ایسی عورتوں کو ایسے اقدام کی طرف راغب کرتی ہیں جو نہ اس جہاں میں انہیں سرخرووباعزت مقام دے پاتا ہے اور نہ یوم حساب گلوخلاصی کے لئے چھوڑتا ہے‘ ا یسی عورتیں خود تو آگ کے دریا میں چھلانگ لگاتی ہیں ساتھ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو بھی ایک ان دیکھی آگ میں جھلستا چھوڑ جاتی ہیں۔
فرح کے فرار کے بعد کتنے عرصے تک مقصود خود سے نگاہ نہ ملاپایاتھا۔ وہ لوگوں سے چھپنے لگا تھا‘ اپنوں سے بیگانگی اختیار کرلی تھی۔ لوگ اس سے نشتر کی زبان میں ہمدردی کرتے تھے‘ اپنوں کی نگاہو ں میں اسے اپنی مردانگی کامضحکہ اڑاتی تصویریں نظر آتی تھیں۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ بے حد شریف وبیوی پر دل وجان لٹانے والا آدمی تھا‘ عام سے نقوش وسانولے رنگ روپ والے مقصود کو اپنی حسین شوخ وچنچل بیوی سے بڑی محبت تھی‘ وہ اس کی خوشی کی خاطر دن ورات محنت کرتا تھا‘ حالانکہ اس کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی جاب تھی‘ جہاں معقول سیلری تھی مگر نت نئے فیشن کی دلدادہ ومہنگے سے مہنگے کپڑوں وجیولری کی شوقین بیوی کی خواہشو ں کی تکمیل کے لئے اسے اوور ٹائم بھی کرنا پڑاتھا‘ جس کاصلہ اسے یہ ملا تھا کہ وہ اس کی مردانگی وحمیت کو اپنے قدموں تلے کچل کر فرار ہوگئی تھی۔
وفا زندگی بخشی ہے تو بے وفائی مارتی تو نہیں لیکن مردون سے بدتر کردیتی ہے ایک عرصے تک مقصود لوگوں سے منہ چھپائے پڑا رہا پھر ماں کی دھائیوں اور حوصلوں نے اس کے اندر کچھ ہمت پیدا کی۔ اس نے وہ محلہ چھوڑ کر دوسری بستی کا رخ کیا تھا۔ دادی نے بڑی دھوم دھام سے اس کے باپ کی دوسری شادی کی تھی‘ سوتیلی ماں قبول صورت تھی مگرمزاجی واخلاقی طو رپر اس سے زیادہ بدصورت کوئی نہ تھا۔ باپ نے بیوی کے ہرجائی پن وبے وفائی کابدلہ اس سے بیگانگی وبے رخی اختیار کرکے لیا۔ ماں کے علاوہ وہ باپ کے ہوتے ہوئے بھی لاوارث تھی۔ دادی کو اس کی خوبصورت سیاہ آنکھوں میں‘ شفا رنگت تیکھے نقوش میں اس کی ماں کی شبیہہ نظر آتی‘ وہ اکثر بے خطا ہی اسے بری طرح پیٹ ڈالتیں۔ سنہرے نرم بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ کر جھٹکے دیتیں اور ساتھ ہی ان کی زبان سے اس کے اوراس کی ماں کے خلاف خرافات وگالیوں کا طوفان ہوتاتھا‘ جس میں اس کی سسکیاں وآہیں دب کررہ جاتیں۔ نہ کوئی اس کاہمدرد تھا‘ نہ کوئی فریاد سننے والا‘ وہ وہاں ایک بوجھ تھی‘ اس کی ماں بھاگی تھی تو ساتھ ہی اس کے رشتے بھی لے اڑی تھی۔ وہ یہاں نہ کسی کی بیٹی تھی اور نہ ہی کسی دادی کی پوتی۔ وہ ایک آوارہ بدچلن ماں کی بیٹی تھی جوناقابل اعتبار تھی۔
’’خود اپنا منہ کالا کرکے گئی ہے ڈائن! اس سنپولی کو کیوں یہاں چھوڑ گئی؟ دیکھنا یہ بھی اس بھگوڑی کی طرح ہماری ناک کٹوائے گی۔‘‘ دادی آخری سانس تک اس سے بدگمان ومتنفر رہی تھیں اس کی خدمت اس کاایثار وصبر ان کا دل صاف نہ کرسکاتھا۔
دادی کی موت کے بعد وہ پوری طرح سوتیلی ماں کی دسترس میں تھی۔ اس کم ظرف وکینہ ور عورت نے گویا اس کی سانسوں پر بھی پہرہ لگادیاتھا۔ اس کی ماں کووہ ہمیشہ گالی سے یاد کرتی تھی۔ اسے اس کی صورت اور‘ وجود سے چڑ تھی‘ بڑی گہری وقہر کی نگاہ وہ اس پررکھتی تھی‘ اپنا گریجویشن گویاانگاروں پر چلتے ہوئے مکمل کیاتھا۔ سوتیلی ماں کے کوئی اولاد نہیں تھی‘ تب بھی وہ اسے برداشت کرنے کو تیار نہ تھی‘ پھراچانک ہی باپ بیمار ہو کر اسے تنہا چھوڑ گیا۔ وہ بالکل ہی بے سائبان ہوگئی۔ سوتیلی ماں کسی طور اسے ساتھ رکھنے کو تیار نہ تھی۔
ایسے میں کسی خداترس نے مکرم صاحب کو حقیقت سے آگاہ کیا تووہ ماں سے مشورہ کرنے کے بعد فیصل آباد سے اسے لے آئے تھے۔
’’بیٹیاں مائوں کی شناخت ہوتی ہیں اور میری شناخت…‘‘
ماں جی نے اسے بڑی اپنائیت سے گلے لگالیاور گویا ہوئیں۔
’’جوہوناتھا وہ ہوچکا‘ ضروری نہیں کوئلے کی کان سے کوئلے ہی برآمد ہوں‘ کبھی کوئلوں میں سے ہیرے بھی نکل آتے ہیں او رتم اپنی ماں کے سیاہ باطن سے نکلنے والا انمول ہیراہو۔‘‘ انہوں نے اپنے دوپٹے کے پلو سے اس کاچہرہ صاف کیا۔
’’اگر اسی طرح رو رو کر خود کو ہلکان کرتی رہیں تو کبھی کچھ نہ کرسکوگی‘ یہ دنیا رونے والوں کانہیں‘ہنسنے والوں کاساتھ دیتی ہے۔‘‘
’’دادو! آپ مجھے جاب کی اجازت دے دیں۔‘‘
انہیں مہربان موڈ میں دیکھ کر کئی دفعہ کی کہی ہوئی بات اس نے دہرائی‘ دادونے غور سے اس کی بھیگی آنکھوں وسرخ ناک کودیکھا۔
’’اچھا… اگرتمہیں اتناہی شوق چڑھاہے نوکری کاتومکرم یا زین سے کہہ کر ان کے پاس ہی لگوادوں گی‘ اس طرح تمہارا شوق بھی پورا ہوجائے گااور یہ اطمینان بھی رہے گا کہ تم محفوظ ہو۔‘‘
’’نہیں…نہیں… میں ان کے ساتھ کام نہیں کروں گی۔‘‘ وہ پریشان کن لہجے میں بولی۔
’’یہ کیابا ت ہوئی؟ یہاں توتمہیں بیٹھے بٹھائے نوکری مل جائے گی‘ پھر ایسی سختی بھی نہ ہوگی‘ مکرم تو سال کے بارہ مہینوں میں گیارہ مہینے تو ملک سے باہر رہتا ہے تب ہی تو بہو لنڈوری گھومتی ر ہتی ہے‘ کبھی اس پارٹی میں‘ کبھی اس پارٹی میں‘ کبھی اس بھائی کے ہاں تو کبھی اس بہن کے ہاں‘ گھر کی تو فکرنہیں ہوتی اسے‘ ساس کی صورت میں چوکیدار موجود ہے۔‘‘
آصفہ بیگم کی بے توجہی ولاپروائی عموماً ان کے لبوں سے شکوے کی صورت میں برآمد ہوجایاہی کرتی تھی۔
’’اب زین کے آنے سے یہاں میلا لگنے لگاہے‘ ہرروز کبھی بھانجیاں تو کبھی بھتیجیاں منہ اٹھائے چلی آتی ہیں‘ گٹر پٹر بولتی ہوئی‘ بے حیائیں۔‘‘
حسب عادت وہ بہو اوران کے میکے والوں میں الجھ چکی تھیں۔
[[[
’’مام! ہواز شی؟‘‘ زین آصفہ سے مخاطب ہوا تھا۔
’’وہ… ریلیٹو ہے۔‘‘
’’کیا پرابلمز ہیں اس کے ساتھ؟‘‘
زین کاانداز گو کہ سرسری تھا مگر آصفہ بیگم پوری طرح چوکنا ہوئی تھیں۔
’’کیوں؟ آپ سے کچھ کہا اس نے؟‘‘
وہ گہری نگاہوں سے اس کے وجیہہ چہرے کوٹٹولتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’مجھ سے… اوہ نومام! وہ مجھ سے ایسی خوفزدہ رہتی ہے گویا میں انسان نہیں کوئی ’’گھوسٹ‘‘ ہوں۔‘‘
’’اے… آپ سے کب ملاقات ہوئی؟‘‘
’’کل صبح واک کرکے آیا تھاجب وہ لان میں تھی‘ مجھ پر نظر پڑی تووہ دیکھتے ہی اس نے دوڑ لگادی تھی۔ آج دادو سے ملنے گیاتو مجھے دیکھتے ہی کمرے میں بند ہو کر بیٹھ گئی تھی‘ شی از ویری آمیزنگ گرل۔‘‘ زین کے انداز میں تعجب وسرسری پن تھا مگر آصفہ بیگم کی تنگ پیشانی پرلاتعداد شکنیں پھیل چکی تھیں‘ وہ درشتگی سے گویا ہوئیں۔
’’ہونہہ‘ یہ سب ہتھکنڈے ہیں مگر میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔‘‘
’’وھاٹ مام!‘‘ وہ حیران ہواتھا۔
’’زیادہ نہیں صرف اتنا کہوں گی‘ اس کی ماں اس کے باپ کو چھوڑ کر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فرار ہوگئی تھی۔ اس کاباپ مرتے دم تک لوگوں سے منہ چھپاتا رہاتھا۔ اس کی موت کے بعد اس کی سیکنڈ وائف نے اسے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کردیاتو آ کے پاپا اس ’’گند‘‘ کو یہاں لے آئے ہیں‘ جس پر آپ کی دادو دل وجان سے فداہیں اور آپ کے پاپا بھی کالز کرتے ر ہتے ہیں۔‘‘
نہ معلوم انہیں یہ وہم کیوں تھا کہ زین کہیں زمزم کی طرف متوجہ نہ ہوجائے اوران کااپنی بہن کی بیٹی روشانے کو بہوبنانے کاارمان پورانہ ہو‘اول روز سے ہی وہ زمزم سے نفرت کرنے لگی تھیں جو گزرتے دنوں کے ساتھ بڑھ رہی تھی‘ وجہ ساس کی ناپسندیدگی تھی اور زمزم کی یہ بدنصیبی تھی کہ وہ ان کے توسط سے یہاں آئی تھی اور نفرت کی اس بھڑکتی ہوئی آگ کی لپیٹ میں پھنس گئی تھی۔ زین نے کوئی رسپانس نہیں دیاتھا۔
[[[
اس نے سوچا تھا جاب اسے جلدی مل جائے گی اور وہ سیلری ملتے ہی ہاسٹل میں شفٹ ہوجائے گی۔ ایسا کچھ نہیں ہواتھا‘ دوماہ دردر کی خاک چھاننے کے باوجود اسے کسی پرائیویٹ اسکول میں معمولی سی جاب بھی نہ مل سکی تھی۔ اس دوران وہ ہمت تونہ ہاری تھی مگر بددل خوب ہوئی تھی۔
’’میں کہتی ہوں‘ چھو ڑو اب یہ روز روز کے جھنجٹ‘ گھر بیٹھو آرام سے‘ نہیں ملے گی نوکری‘ ملکی حالات دیکھ رہی ہو کس طرح معاشی بدحالی پھیلی ہوئی ہے۔ افراتفری‘ ماراماری نے روزگار تباہ کردیئے ہیں‘ برسرروزگار لوگوں کی نوکریاں ختم ہورہی ہیں تونئے لوگوں کوکیسے ملیں گی؟‘‘دادو نے آج بھی اسے منہ لٹکائے آتے ہوئے دیکھ کر ہمدردی سے کہا۔
’’نوکریاں توہیں دادو! وہ تو بس میرا نصیب ہی خراب ہے۔‘‘اس نے پانی پیتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
’’اچھا… تم شرمیلی بھی تو بہت ہو‘شرماشرمی میں انٹرویو ٹھیک نہیں دیتی ہوگی‘ لوگ سمجھتے ہوں گے لڑکی میں اعتماد ہی نہیں ہے‘ کیوں ملازمت دیں‘ آج کل تو ان بے حیا لڑکیوں کو پسند کیا جاتاہے جو پھنسے پھنسے اونچے کھونچے کپڑے پہنتی ہیں اور گٹ پٹ انگریزی بولتی ہیں۔‘‘ دادو کے انداز پر وہ بے ساختہ مسکرااٹھی۔
’’ایسی بات نہیں ہے‘ جن لوگوں کومیری ہسٹری معلوم نہیں ہوتی میں ان لوگوں سے پورے اعتماد سے بات کرتی ہوں۔‘‘
’’اچھااب تم اپنا ماضی لے کرمت میٹھ جانا‘ اگر ملازمت تمہاری ضد بن گئی ہے تو میں زین سے کہہ کر…‘‘
’’دادوپلیز! آپ کسی سے کچھ نہیں کہیں گی۔‘‘
’’لوبھلا یہ کیابات ہوئی؟ کوئی تک ہے اس گریز کی؟‘‘ اس کاانکار ان کی سمجھ سے باہر تھا۔
وقت اسی سرعت سے گزر رہاتھا‘ وہ کئی جگہ ملازمت کے لئے درخواستیں دے چکی تھی۔ کچھ جگہ انٹرویوز بھی دے کر آئی تھی‘ اس بار وہ بہت پرامید تھی کہ کہیں نہ کہیں تواس کے بخت کاستارہ چمکے گا۔ آصفہ بیگم کی وہی روٹینز تھیں‘ مکرم صاحب چند دنوں کے لئے گھر آئے تھے‘ یہاں آکربھی کاروباری مصروفیات نے انہیں فارغ رہنے نہیں دیا تھا‘ رات ڈھلے ہی وہ گھر آتے تھے۔ اتنی مصروفیات کے باوجود ان میں یہ اچھی عادت تھی وہ ماں جی کے پاس روز سلام کرنے آتے‘ ساتھ زمزم سے بھی حال احوال معلوم کرتے‘ شفقت سے ان کے سر پرہاتھ پھیرتے اوراس کے اندر ٹھنڈک سی پھیل جاتی تھی۔
زین کی طبیعت میں باپ جیسی انکساری وحلاوت بہت کم تھی‘ مستقل مزاجی کابھی فقدان تھا‘بے شک وہ دادو سے بہت محبت کرتاتھا لیکن اس کے ہر عمل میں بے قاعدگی تھی‘ دادو سے محبت جتانے پرآتاتو دن بھر کئی کئی چکر لگاڈالتا‘پھرغائب ہوتاتو ایسا دنوں مڑکربھی نہ دیکھتاتھا۔
آج کل آفس سے آنے کے بعد اس کاوقت روشی کے ساتھ گزرتاتھا۔ خوبصوت چہرے‘ متناسب قدوقامت کی مالک روشا نے عرف روشی کو اپنے حسن کا پورا پورااحساس تھا‘ اور وہ اپنے روپ کوکیش کروانا جانتی تھی۔ ہینڈسم‘ اسمارٹ زین کوقابوکرنے کی خواہش ہرخواہش سے بڑھ کر تھی‘ زین جو اپنی پراثر شخصیت کے باعث ان گنت جوان لڑکیوں کے سینے میں دل بن کر دھڑکتاتھا‘ اس میں سب سے زیادہ پرکشش خوبی یہ بھی تھی کہ وہ کروڑوں کی دولت کااکلوتاوارث تھا۔
دادوکوبخار ہوگیاتھا۔ نزلہ وکھانسی بھی تھا۔ بخار کی شدت سے وہ نڈھال پڑی تھیں‘ چہرہ سرخ ہو رہاتھا۔
’’دادو پلیز! مجھے ڈاکٹر کوبلانے کی اجازت دے دیں۔ آپ کا ٹمپریچر بہت ہائی ہے۔ آپ کی پھنکی نے کوئی اثر نہیں دکھایاتھا۔‘‘ وہ سرہانے بیٹھی ان کا سر دباتے ہوئے فکرمندی سے کہہ رہی تھی۔
’’کیوں ہول رہی ہے‘ بخار ہی ہے اترجائے گا‘ساٹھ سال سے اوپر عمرہوچکی ہے مجال ہے کبھی رنگ برنگی گولیاں کھائی ہوں‘ مجھے تو یہ جڑی بوٹیاں ہی صحت مند کردیتی ہیں‘ مجھے ان موئے ڈاکٹروں سے تو دور ہی رکھو۔‘‘
طبیعت خراب ہونے کے باجود وہ ڈاکٹر کودکھانے سے گریزاں تھیں نہ معلوم کون کون سی جڑی بوٹیوں کے سفوف وہ پھانک چکی تھیں‘ جن سے نہ بخار میں فرق ہوا‘ نہ نزلہ کھانسی میں مگر وہ ماننے کوتیارنہ تھیں۔
’’بخار تیز ہوتاجارہاہے۔‘‘
’’کچھ نہیں ہوگا۔ ابھی اترجائے گا۔ چلوشاباش آرام کرو‘ کب سے ہلکان ہو رہی ہو‘ یہ حکیمی دوائی ذرادیر سے اثر کرتی ہے سچ پوچھو تو میں چاہتی ہوں یہ بخار مجھے چند دن تو رہے‘ بیماریاں توگناہ معاف ہونے کا ذریعہ بنتی ہیں۔‘‘ باتیں کرتے کرتے وہ غنودگی میں چلی گئی تھیں۔
زمزم اس وقت تک بیٹھی سردباتی رہی جب تک بخار کی حدت میں کمی نہ ہوئی۔ وہ شکر کاسانس لیتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ طبیعت میں عجیب بوجھل پن آگیا تھا ان چند دنوں میں ہی دادونے اسے اتنی محبت واہمیت دی تھی کہ وہ اپنے تکلیف دہ ماضی کی پرخار یادوں سے کسی حد تک دامن بچاپائی تھی۔ دادو کی باغ وبہار طبیعت‘حوصلے وہمت نے اسے ایک نئی توانائی بخشی تھی۔ زندگی سے آنکھیں چار کرنے کاموقع دیاتھا۔ اس کے اندرروشنیاں سی بھرنے لگی تھیں اور آج انہیں اس طرح نڈھال ومدہوش پڑادیکھ کر اس کے اندر تاریکیاں پھرپرپھیلانے لگی تھیں۔ وہ تیزی سے اٹیچڈ بات کی طرف بڑھ گئی تاکہ وضو کرکے صلوۃ الحاجات پڑھے۔ دادونے اسے بہت پہلے سمجھایاتھا کہ پریشانی ومصیبت کے وقت صحابہ کرام وبزرگان دین نماز کی طرف راغب ہوجاتے تھے‘ نماز ہربلا‘ آفت پریشانی سے نجات دلاتی ہے۔ آج کل کے لوگ اسی لئے تو تنزلی وانتشار کاشکار ہیں کہ نماز سے غافل ہوگئے ہیں۔
نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدے میں وہ نہ معلوم کب تک دعائیں مانگتی رہی پھر سورتیں پڑھ کر ان پر دم کیا‘پیشانی پرہاتھ رکھ کردیکھابخار کم تھا۔ وہ بے خبر سو رہی تھیں۔ وہ بے مقصد کمرے میں چکرلگانے لگی تھی۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی‘ ویسے بھی ابھی سونے کاٹائم نہیں ہوا تھا۔
اچانک اسے خیال آیا کہ آصفہ بیگم کو دادو کی ناسازی طبیعت کے بارے میں آگاہ کرے‘ کہیں وہ خود کو لاعلم رکھنے پر خفانہ ہوں۔ اس سے ویسے بھی وہ اول روز سے بیرباندھ چکی تھیں اب تو ان سے سامنابھی بہت کم ہوتاتھا‘ مگر ان کے تنفر ونفرت میں کمی نہ آئی تھی۔
وہ آصفہ بیگم کے پورشن کی جانب آئی تو آگے بڑھتے قدم یکدم رک گئے تھے۔ سامنے صوفے پر زین کے قریب روشی بیٹھی تھی‘ بلیک ٹرائوزر سے اس کی سفید پنڈلیاں نظر آرہی تھیں۔ سرخ شارٹ شرٹ میں اس کے عریاں بازو آستینوں سے آزاد زین کے گرد حائل تھے ڈارک لپ اسٹک‘کانوں میں جھولتے لمبے آویزے‘ گلے میں پڑی پرل کے موتیوں کی مالا وہ بڑی خمار آلود نگاہوں سے زین کو دیکھ رہی تھی۔ زین کابایاں بازواس کے شانے پرتھاوہ مسکراتے ہوئے اس سے کچھ کہہ رہاتھا‘ اسی لمحے اس کی نگاہیں اس طرف اٹھی تھیں جہاں بلولان کے پرنٹڈ سوٹ میں دوپٹے کو پوری طرح لپیٹے وہ کچھ بوکھلائی‘گھبرائی سی واپس مڑی تھی۔
’’ہیلو‘ کہاں غائب ہوگئے ہو؟‘‘روشی نے بڑے انداز سے جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
’’یہیں ہوں‘ کہاں جاسکتاہوں۔‘‘
’’یہ گنوارن یہاں کیوں آئی تھی؟‘‘ واپس جاتی ہوئی زمزم پراس کی نگاہ پڑی تومنہ بنا کر بولی۔
’’گنوارن؟ یہ کیسانام ہے؟‘‘
’’اس پر یہی سوٹ کرتاہے‘ جب بھی دیکھتی ہوں اسے اس کایہی گیٹ اپ ہوتاہے‘ مگر اتنی شریف نہیں ہے جتنی دکھائی دینے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘
’’تم کیوں کیئر کرتی ہو اس کااور تمہارا کیا مقابلہ؟‘‘
’’مقابلہ! ہونہہ مائی فٹ! اس کی شکل سے خوبصورت میرا جوتا ہے۔‘‘ روشی کے لہجے میں غرور وتنفر تھا وہ دونوں بانہوں میں بانہیں ڈالے پورٹیکو کی جانب بڑھ گئے تھے۔ آصفہ بیگم پارٹی میں گئی ہوئی تھیں‘ واپسی میں اسے خاصی دیر ہوگئی تھی‘ روشی کے ساتھ پی سی میں ڈنر کرنے کے بعد وہ سی ویو کی جانب نکل گئے‘ چاندنی رات‘ سمندر کی بھیگی بھیگی ہوائیں‘ قدموں میں لوٹ پوٹ ہوتیں ٹھنڈے پانی کی لہریں‘ روشی کو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں ہواتھا‘ عموماً وہ اسی طرح لیٹ نائٹ آتاتھا۔ لان سے گزرتے ہوئے دادو کے پورشن پر اس کی نگاہ پڑی تو وہاں روشن لائٹس دیکھ کر اسے کچھ کچھ حیرانگی ہوئی تھی کیونکہ یہاں کی لائٹس بہت جلد آف ہوجاتی تھیں‘ اور آج اس وقت تک‘وہ کچھ سوچتا ہوا اس طرف چلاآیا۔ دادوکے کمرے میں داخل ہو کر اسے جھٹکا لگا تھا‘ وہ تیزی سے ان کے بیڈ کی جانب بڑھا تھا‘ جہاں وہ ہوش وخرد سے بیگانہ پڑی تھیں۔ بخار کی حدت سے چہرہ سرخ انگارہ ہو رہا تھا۔
’’کب سے فیور ہے دادوکو؟‘‘ وہ ان کی نبض چیک کرتے ہوئے زمزم سے مخاطب ہوا جو اسے دیکھ کر ان کے قریب سے اٹھ کر دور کھڑی ہوگئی تھی۔
’’صبح سے…‘‘ اس کی آواز دھیمی تھی۔
’’صبح سے… ڈاکٹر کوبلایا تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’وھاٹ؟‘‘ اس کی بھاری آواز کمرے میں گونج اٹھی۔’’سارا دن گزر گیا اور آپ ایزی بیٹھی ہیں‘ دادو کی کنڈیشن دیکھ رہی ہیں؟ فیور دیکھ رہی ہیں؟ نانسینس۔ اگر دادو کو کچھ ہوگیاتو میں آپ کو معاف نہیں کروں گا۔‘‘
غصے وفکر کے تاثرات اس کے چہرے پر سرخی بن کر چھارہے تھے‘ وہ بہت سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہواتھا۔ جواباً وہ خاموش رہی تھی۔ کہہ بھی کیا سکتی تھی‘ وہ ان کے احسانوں تلے دبی ہوئی تھی وہ یہاں رہ رہی تھی‘ کھارہی تھی‘ اسے یہاں وہ سب ملا تھا جو کبھی اپنے گھر میں اپنوں سے نہ ملاتھا‘ وہ بھی بنا کسی معاوضے کے‘ وہ سرجھکائے کھڑی رہی تھی۔ وہ تیزی سے کمرے سے نکلا تھا پھر کار اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ ڈاکٹر کو ساتھ لے کر داخل ہوا تھا‘ دادو ساٹھ سال سے جن انجکشنز ودوائوں سے بچتی رہی تھیں‘ پوتے کی محبت کے طفیل گرفتار ہوگئی تھیں۔ ڈاکٹر ٹریٹمنٹ دے کرجاچکاتھا‘ زین ابھی بھی ان کے بیڈ کے قریب چیئر پربیٹھا تھا‘ زمزم ڈاکٹر کو آتے دیکھ کر کمرے سے نکل کرملحقہ کمرے میں جاچکی تھی۔ دادو کی بگڑتی حالت نے اسے بھی متوحش کرڈالا تھا۔ آصفہ بیگم کوبتانے وہ گئی تھی مگر انہوں نے بیڈروم کا دروازہ ہی نہ کھولاتھا‘ وہ دو تین بار ناک کرکے واپس آگئی تھی اوران کی پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی رہی تھی‘ ڈاکٹرکی ٹریٹمنٹ بہترین تھی آدھا گھنٹہ بھی نہ ہواتھا ان کابخار غائب ہوگیاتھا۔ چہرے پر بھی گویا طمانیت تھی۔
زین دادو کی حالت بہتر دیکھ کرجاچکاتھا‘اور اس کے جاتے قدموں کی آوازیں سن کر وہ اس کمرے میں آگئی تھی۔
صبح دادو کو حسب معمول نماز کے بعد قرآن کی تلاوت کرتے دیکھ کر اس کے دل سے تشکر وممنونیت کے جملے نکلے تھے‘ بہت عرصے بعد وہ کھل کر مسکرائی تھی۔ یہ صبح بڑی روشن وخوبصورت محسوس ہوئی تھی۔ کل دن اور رات بھر کی ان کی حالت نے اس پر واضح کیاتھا کہ ان کی محبت ان کاوجود اس کے لئے حیات کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا تھا۔ وہ ناشتہ بنا کر لے آئی تھی۔ دونوں نے ناشتہ کیا تھا پھر وہ کل دھوئے گئے کپڑے تہہ کرکے رکھنے لگی‘ پریس کرنے والے سوٹ علیحدہ رکھتی جارہی تھی۔
’’یہ بازو میں کیسی تکلیف ہو رہی ہے محسوس ہو رہا ہے سوئی گھسی ہوجیسے۔‘‘ دادو بیڈ پربیٹھی باتیں کرتے کرتے یکدم بازو سہلاتے ہوئے گویاہوئیں۔
’’کل رات آپ کو ڈاکٹر نے انجکشن لگایاتھا۔ اسی کی تکلیف ہوگی۔ میں ابھی برف سے ٹکورکردوں گی تو ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ زمزم وارڈروب میں کپڑے رکھتے ہوئے کہہ رہی تھی‘ اس سے بے خبر کہ دادو کے چہرے پر استعجابیہ رنگ تیزی سے پھیل رہے تھے۔
’’کیا…کہاتم نے… ڈاکٹر! انجکشن؟‘‘ و ہ حیرانی سے گویاہوئی تھیں۔
’’اوہ سوری دادو!‘‘ انہیں خفا دیکھ کر اس نے رات کو ان کی تشویشناک حالت‘زین کے ڈاکٹر کو لانے تک کی سب تفصیل بتادی تھی۔ وہ خاموش ہوگئی تھیں مگر ان کے چہرے سے خفگی ظاہر ہو رہی تھی۔
آفس جانے سے قبل نکھرا نکھرا خوشبوئوں میں شرابور زین آیا تھا۔ دادو سلام کاجواب دے کر بھرے بادلوں کی طرح اس پر برس پڑی تھیں۔
’’میاں! میں پوچھتی ہوں تمہیں کس نے اجازت دی اس موئے ڈاکٹر کولاکر میرا بازو چھلنی کروانے کی؟ ساٹھ سال کسی ڈاکٹر کی شکل نہیں دیکھی تھی‘ اس عمر میں ان قصابوں کے درشن بھی کروائوگے؟‘‘ وہ سخت کبیدگی وخفگی کاشکار تھیں۔
’’آپ کاٹمپریچر بہت ہائی تھاا گرمیں ڈاکٹر کولے کرنہ آتاتو…‘‘
’’ارے رہنے دو مرنہیں جاتی‘ زمزم بھی کتنی سر ہورہی تھی ڈاکٹر کوبلانے کے لئے مگرمیں نے سختی سے منع کردیاتھا‘ مجھے جڑی بوٹیاں ہی راس آتی ہیں۔‘‘
’’دادو! آ پ کی بات درست ہے جس وقت جڑی بوٹیاں اثر دکھاتی تھیں وہ وقت‘ وہ دور بہت صاف وشفاف ہرقسم کی آلودگی سے پاک تھا‘جب ایسے بیکٹریاز نہیں تھے جو آج ہمارے پانی میں‘ ماحول میں‘ فضائوں میں موجود ہیں‘ آج کل ہیلتھی امپروومنٹ میڈیسنز سے ہی ملتی ہے۔ اب دیکھیں ایک انجکشن نے آپ کو فٹ کردیاہے۔‘‘
’’مجھ پرڈاکٹری جھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے‘ ماحول سے نہیں ہرکام نیت سے ہوتاہے‘ یقین سے ہوتا ہے‘ ان ڈاکٹروں کی بھی کوئی اوقات ہے آتا کیا ہے ان کو؟ رشوت دے کر ڈگریاں خریدتے ہیں قصائی جیسے جانور کاٹتے ہیں ایسے انسانوں کو کاٹتے ہیں‘ ہر کام کے لئے مشینیںلگی ہوئی ہیں پھر بھی اعتماد سے مرض کی تشخیص نہیں کرسکتے۔ طبیب تو ہمارے دور میں تھے جو فقط نبض دیکھتے ہی مرض جان جایا کرتے تھے۔اور دوائیاں ایسی کہ چند دنوں میں ہی مرض غائب اور مریض بھلا چنگا ہوکر ہنسی خوشی زندگی گزارتاتھا۔‘‘
وہ زین کوخوب سنارہی تھیں‘ زمزم زین کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر کمرے سے نکل کر صحن میں رکھی چیئر پر بیٹھ کر اخبار دیکھنے لگی تھی۔
’’یہ آج کل کے ڈاکٹر ان کی دوا سے اصل بیماری درست ہوتی نہیں کہ دوسری اور لگ جاتی ہیں پھر مرتے دم تک دوائیں کھاتے رہو۔‘‘
زین بہت تحمل سے ان کاغصہ برداشت کرتا رہاتھا‘ دل کی بھڑاس نکال کر وہ اس سے اسی طرح پیار وشفقت سے پیش آئی تھیں۔ ان کاموڈ بحال ہونے کے بعد بہت ساری محبت کااظہار کرکے وہ کمرے سے نکلا تھا۔ اس کی متلاشی نگاہوں نے فوراً ہی چیئر پربیٹھی اخبار پڑھتی زمزم کو ڈھونڈ نکالاتھا۔ میرون وزرد کاٹن کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس اس نے دوپٹے کو اس طرح لپیٹا ہواتھا کہ ایک بال تک نظر نہیں آرہاتھا‘ نہ معلوم وہ ا سطرح ڈھکی چھپی کیوں رہتی تھی‘ اکثر آتے جاتے ہوئے اس کی نگاہ اس پرپڑجاتی تھی‘ وہ اسی طرح ’’پیک‘‘ نظر آتی تھی۔ وہ جو ایک مدت سے لڑکیوں کو ماڈرن اور بولڈ ڈریسز میں دیکھتا آیا تھا‘زمزم کے پیک شدہ حلیے نے عجیب سااحساس بخشاتھا‘ اس وقت بھی اس کی جانب بڑھتے قدم سست پڑگئے تھے۔
’’جسٹ منٹس پلیز‘ میں آپ کا زیادہ ٹائم ویسٹ نہیں کروں گا۔‘‘ زمزم کو تیزی سے اٹھتے دیکھ کر وہ لجاجت سے گویا ہوا۔
’’ایکچوئیلی‘ رات میں دادو کی کنڈیشن دیکھ کر اس قدرایموشنل ہوگیاتھا کہ نہ معلوم اس وقت آپ کو کیا کچھ کہہ گیا‘ جس کااحساس مجھے بعد میں ہوا‘ آئم سوری‘ میرامقصد آ پ کو ہرٹ کرنانہیں تھا وہ ایسا ازخود ہی ہوگیاپلیز آپ مائنڈ مت کیجئے گا۔‘‘
اس کے دھیمے مہذب لہجے سے پشیمانی وخفت کااظہار ہو رہاتھا۔ وہ اس سے کم فاصلے پرتھا۔ زمزم کامارے ڈر کے براحال تھا کہ اگر کوئی ملازمہ یہاں سے گزر گئی‘ وہ فوراً جاکر آصفہ بیگم کے کان بھرے گی اور پھر… وہ کہاں جائے گی؟ جگہ تو شاید کہیں مل جائے مگر دادوجیسی محبت سے بنی ہستی کہاں نصیب ہوگی‘ زین ابھی کہہ رہاتھا او ر وہ وہاں سے چلی گئی تھی زین دیکھتا رہ گیا۔
[[[
آج کل آصفہ بیگم اپنی بڑی بہن صاعقہ کے مشورے پر عمل کرنے کے لئے زوروشور سے زمزم کے لئے رشتہ تلاش کررہی تھیں‘ کل فائقہ بیگم آئی تھیں اور ان کی نگاہ زمزم پر پڑی تھی۔ اس کے تیکھے نقوش وپرکشش پرسنالٹی دیکھ کران کے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی تھی اور آصفہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانے لگی تھی۔
’’آپی! ایسی کوئی بات نہیں‘ وہ بے حد بے ضررلڑکی ہے اپنے کام سے کام رکھنے والی اورمیں نے پہلے ہی دن سے اپنے رویے کادبائو اتناٹائٹ رکھا ہے کہ میرے سامنے آنے سے تووہ گھبراتی ہے اور سچ پوچھو تو مجھے اس کے آنے سے بڑی راحت ملی ہے۔‘‘ آصفہ بیگم نے شانے اچکاتے ہوئے بے پروائی سے کہا۔
’’راحت! وہ کیسے بھئی؟‘‘
’’ساس ماں کی نازبرداریاں اٹھانے سے جان چھوٹ گئی ہے ورنہ اس بڑھیا کی ہروقت کی جھک جھک سے میں پریشان رہتی تھی‘ کہاں آرہی ہوں‘ کہاں جارہی ہوں‘ مجھ سے کون مل رہا ہے‘ کب سو رہی ہوں‘ کب جاگ رہی ہوں اومائی گاڈ: ہر وقت مکرم کے کان بھرتی رہتی تھیں۔ ملازمائوں کی الگ شامت ایک اس لڑکی کے آنے سے سب سکون میں ہیں‘ ہر کام وہی کرتی ہے ان کا۔‘‘
’’مڈل کلاس لڑکیوں کی یہی چاپلوسی ومکاری سے بھرپور خدمت وعنائتیں خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر تمہاری ساس اس قدر اس لڑکی سے متاثر ہوگئی ہے تو پھر مجھے روشی تمہاری بہو بنتی دکھائی نہیں دے رہی۔‘‘
’’ارے آپی! کیسی باتیں کررہی ہیں‘ میری روشی اور اس لڑکی کابلا کیا مقابلہ؟ یہ کیسے سوچ لیا آپ نے؟‘‘ آصفہ بیگم ہنستے ہوئے اعتماد سے بولیں۔
’’تم نے شاید غور سے اس لڑکی کو نہیں دیکھا۔ اس کا چہرہ بے حد جاذب ہے‘ اس کے چہرے کے نقوش بہت دلکش ہیں۔ اگر وہ بہترین لباس زیب کرے اور حلیہ درست رکھے تو بہت حسین نظر آئے گی۔ اس سادگی میں بھی وہ جاذب نظر دکھتی ہے‘ جوان وخوبصورت لڑکی کو تمہیں گھر میں رکھناہی نہیں چاہئے تھا۔ سراسرحماقت ہے تمہاری۔‘‘ وہ اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔
’’آپی! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو اس میں حسن کہاں سے نظر آگیا ہے۔ بے فکر رہیں‘ وہ میری روشی کے لئے خطرہ نہیں بن سکتی‘ زین نگاہ اٹھا کرنہیں دیکھتا‘ اسے میں نوٹ کرتی رہتی ہوں‘ پھر اب تو وہ جاب کرنے لگی ہے اور میں یہی چاہتی تھی اپنا خرچہ وہ خود اٹھائے۔‘‘
صاعقہ ان کے ذہن میں شک کا کانٹا چبھوکرچلی گئی تھیں اگر عورت کے ذہن میں شک کاکانٹاچبھ جائے تووہ ہر لمحہ اس کی کسک کو محسوس کرتی ہے۔ رات کو ہی انہوں نے بغور ماں جی کے ساتھ واک کر تے ہوئے زمزم کو دیکھا تھا اور صاعقہ کی باتیں بالکل صادق لگی تھیں۔
اس کی رنگت جو پہلے سرسوں کی طرح تھی اس میں شادابی جھلکنے لگی تھی۔ سیاہ آنکھوں میں چمک سی درآئی تھی۔ چہرے پر طمانیت نے عجیب سانکھار پیدا کردیاتھا‘ پشت پرپڑی ریشم جیسی بالوں کی سیاہ چوٹی نے اس کومکمل جلابخشی تھی۔ اس کا روپ دیکھ کروہ متحیر رہ گئی تھیں۔ اس ہفتے کے اندر ہی اندر ان کی کوششوں سے زمزم کے تین پرپوزل مل گئے تھے‘ جن میں دھوبی‘ باورچی اور سبزی فروش کے رشتے تھے‘ ماں جی نے باورچی اور دھوبی کے رشتے تو فوراً ہی مسترد کردیئے تھے۔ البتہ آصفہ کی بے حد تعریف وتوصیف اور اصرار پر وہ سبزی فروش کو دیکھنے پر راضی ہوگئی تھیں۔ آصفہ بیگم نے اسے یہیں بلوالیاتھا۔ بوسکی کے کڑھائی والے کرتے‘ کاٹن کی وہائٹ کلف شدہ شلوار‘ پیروں میں گولڈن ری کے کھسے گلے میں موٹی موٹی گولڈن چینیں‘ انگلیوں میں رنگ برنگے پتھروں کی انگوٹھیاں پہنے وہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا‘ جس کے سانولے رنگ پرسیاہ رنگے گئے بال نمایاں ہو رہے تھے۔ وہ شاید بہت کھرچ کھرچ کر شیو کرکے آیا تھا‘گردن اکڑائے ٹانگ پرٹانگ رکھے بیٹھا خود کوکوئی بہت دولت مند سیٹھ ثابت کرنے کی سعی میں مگن تھا۔ ماں جی کو دیکھ کربھی وہ احتراماً کھڑا نہیں ہوا‘بیٹھے بیٹھے ہی سلام جھاڑاتھا۔
’’ابھی سے دلہابن کر آگئے‘ کیا چائوچڑھاہے شادی کا صرف کلے کی کمی تو رہ گئی ہے۔‘‘ ماں جی منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھیں۔
’’ماں جی! بہت بڑے پیمانے پریہ سبزی سپلائی کرتے ہیں پوری کراچی بھر میں ان کے فارمز کی ہی سبزیاں فروخت ہوتی ہیں۔‘‘
درمیانی صوفے پربراجمان آصفہ بیگم فخر سے گویاہوئیں۔
’’ہاں جی‘باجی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ پربندے نے کبھی غرور نہیں کیا۔‘‘
’’اچھا لیکن میاں! تمہاری باسی سبزی جیسی شکل دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ پوری کراچی تم سے سبزی خریدتی ہوگی اور میاں! کیاتم نے ساری زندگی سبزی‘ترکاری کھائی ہے جوسوکھی ککڑی جیسی جسامت ہے تمہاری؟‘‘
’’ہائے اماں! اس عمر میں بھی خوب مذاق کرلیتی ہو۔‘‘اس نے اپنی ران پر زوردار ہاتھ مار کر قہقہہ لگایا اس دوران ماں جی کی زیرک نگاہوں سے اس کی مصنوعی بتیسی پوشیدہ نہ رہ سکی۔
’’باجی جی! لڑکی کو بلوائو دیر ہو رہی ہے‘ بندے کے پاس وقت نہیں ہے۔‘‘وہ آنکھوں پر لگی دبیز شیشے والی عینک اتار کر کرتے کے کونے سے صاف کرتا ہوا گویا ہوا۔ ماں جی کی گھورتی نگاہیں اسے بری طرح پریشان کررہی تھیں‘ دوسری طرف اس کی باجی باجی کی رٹ نے آصفہ بیگم کاموڈ چوپٹ کردیاتھا۔ اپنے باپ سے بھی بڑی عمر کے آدمی کے منہ سے باجی سننا ان کی نسوانیت کوگھائل کررہاتھا۔ زمزم کو ٹھکانے لگانے کی خاطر وہ یہ زہرپی رہی تھیں ورنہ اس سبزی والے کو دھکے دے کرنکلواتیں‘ جس کی سبزی اپنے علاقے میں ہی نہ چلتی تھی‘ وہ ٹھیلے پر سبزی فروخت کرتاتھا۔ آصفہ نے ساس کو رضامند کرنے کے لئے یہ سوانگ رچایاتھا کہ شادی کے بعد وہ بھی کچھ نہ کرسکیں گی۔
’’ارے کونسی لڑکی؟ کیسی لڑکی؟‘‘ اس سے قبل کہ آصفہ زمزم کو لانے کے لئے اٹھتیں‘ ماں جی چمک کر بولی۔
’’وہ… وہ… وہ لڑکی‘ جس سے… شادی…‘‘
’’چپ کر دیدے پھوٹے‘ تجھ جیسے بجو سے میںاپنی لڑکی کی شادی کروں گی۔ تجھے شرم نہ آئی ستر سال کی عمر میں سترہ سال کاچھیل چھبیلا بن کر آیا ہے موئے۔بال کالے کرنے سے‘ دانت لگوانے سے کوئی جوان نہیں ہوجاتااور نہ ہی کوئی آنکھیں بند کرکے لڑکی دیتاہے۔‘‘
ماں جی کاجلالی غصہ عود کر آیاتھا۔ وہ بے چارہ ہکابکا کھڑا ہوگیا۔
’’ماں جی پلیز! اس طرح انسلٹ مت کریں‘ گھر آئے مہمان کی‘ پھر یہ توان کی مہربانی ہے جو اس کے بارے میں سب جان کربھی راضی ہوگئے ورنہ کون کرتاہے ایسی ماں کی بیٹی سے شادی۔‘‘ بات بگڑتے دیکھ کر آصفہ نے مداخلت کی۔
’’بہو! دل میں ذرابھی خوف الٰہی نہیں ہے‘ کس بے خوفی سے اس بے قصور بچی کوبدنام کرتی پھررہی ہو‘ مگریاد رکھواللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں‘ مت اس کے غضب کو آواز دو۔‘‘
’’میں نے فیصلہ کرلیاہے اس لڑکی کی شادی قیوم صاحب سے ہی ہوگی ورنہ… اس گھر میں اس کے لئے جگہ نہیں ہے۔‘‘
’’اس چھچھورے سے میں اپنی بچی کی شادی ہرگز ہرگزنہ کروں گی‘زمزم لڑکی ہے کوئی سبزی نہیں جس کے خراب ہوجانے کاڈر رہتاہے۔‘‘ماں جی کی سچی کھری باتوں نے قیوم صاحب کو آئینہ دکھادیاتھاوہ خاموشی سے چلے گئے تھے۔ آصفہ بیگم کاغصے سے براحال تھا۔
’’ہونہہ‘ اس لڑکی کے لئے آسمان سے کوئی شہزادہ اتر کرآئے گا‘ دیکھئے گابھاگ جائے گی‘ کسی دن اپنی ماں کی طرح کسی چوڑے چمار کے ساتھ پھر آپ کومعلوم ہوگا‘ درست کون تھا آپ…یامیں؟‘‘
’’یہ تو تمہارے دل میں حسرت ہی رہے گی‘آسمان سے اتر کر کوئی شہزادہ تو نہیں آئے گا‘ مگر دیکھنا زمین کاہی کوئی شہزادہ اسے شہزادی بنا کر لے جائے گا‘ اور یہ جگہ کی بھی خوب کہی تم نے‘ شاید میری تمہاری نگاہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رہی‘ یاد رکھنا ہاتھی مراہوا بھی لاکھوں کاہوتا ہے مکرم تم سے زیادہ مجھے چاہتاہے‘ ابھی بھی سعادت مندونیک بیٹا۔‘‘
’’سوری ماں جی! میں جذباتی ہوگئی تھی‘ آپ ٹھنڈے دل سے سوچیں قیوم جیسا قابل آدمی زمزم کومل سکے گا؟‘‘
ماں جی نے ان کی دکھتی رگ پر وار کرکے نرمی پرمجبور کردیاتھا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس بڈھے گھوڑے لال لگام میں تمہیں ایسی کیا خوبی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر وہ ایسا ہی قابل ودولت والا ہے تو تم اپنی کسی بھانجی‘ بھتیجی کی کردو‘ جو تھوک کے حساب سے بھری پڑی ہیں۔‘‘ اپنی بھانجی‘ بھتیجی کے نام پر وہ سرتاپا سلگ اٹھی تھیں۔ ماں جی انہیں سلگا کر خراما ں خراماں مسکراتی ہوئی اپنے پورشن میں آگئیں۔ وہ تصور کی آنکھ سے بہو کو جلتا‘ سلگتا‘ چٹختا دیکھ رہی تھیں۔
’’دادو! کیا ہوا؟ بڑی گہری مسکراہٹ ہے آپ کی۔‘‘ بیڈ کور بدلتی ہوئی زمزم نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’کبھی کبھی کمینے لوگوںکوکمینہ ساجواب دے کربڑی کمینی سی خوشی ہوتی ہے اور جب انسان دل سے خوش ہوتاہے تو ایسی مسکراہٹ ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے صوفے پربیٹھ کراس کی طر ف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ تو شاید آنٹی کے پاس گئی تھیں۔‘‘
’’ہاں کبھی وہ ایسی اوچھی حرکت کربیٹھتی ہے جس سے محسوس ہوتاہے اس کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے‘اسے معلوم ہے اللہ ہے مگر اس سچائی سے ناواقف ہے کہ وہ دیکھ بھی رہا ہے‘ وہ سن بھی رہاہے‘ ہمارے عمل کا بدلہ وہ ضرور دیتاہے‘ دنیاکادنیا میں‘آخرت کاآخرت میں ملے گا۔‘‘
انہیں معلوم تھا‘ آصفہ نے اپنی فطرت کے مطابق کسی ایسے ویسے مرد کاانتخاب کیا ہوگا‘ اور ان کاخدشہ درست ثابت ہوا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے زمزم کے کان میں بھنک بھی نہ پڑنے دی تھی‘ وہ حساس وغیور لڑکی نہ معلوم کیا اثر لے وہ کسی طرح اس کا دل توڑنا نہیں چاہتی تھیں۔
’’اگر کسی انسان کویہ معلوم ہوجائے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے کسی کی نظر ہے اس پر تووہ کس طرح سنبھل سنبھل کر چلتا ہے۔احتیاط سے کام لیتا ہے مگر یہ بھول جاتاہے کہ وہ جو سب سے بڑا ہے‘ سب سے طاقتور‘ سب سے افضل ومہربان جس کی ذات ہے‘ ہمارا بولنا‘ سوچنا‘ کہنا کچھ بھی اس سے مخفی نہیں ہے لیکن ہم پروا نہیں کرتے۔ ہمیں خیال ہی نہیں آتا کہ ہمارا ہر عمل خواہ وہ اچھاہویابراوہ سب سے واقف ہے تو کبھی خواب میں بھی ہم سے برانہ ہو۔‘‘
’’یہی بات ہے آج کل کی بے سکون وابتر حالات کی کہ ہم یہ جانتے ہیں اللہ ہے مگر ہم نے اللہ کومحسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔‘‘
’’سمجھ میں نہیں آتاکہ ایسا کرکے لوگ کس طرح زندہ ہیں؟ کس طرح سکون پاتے ہیں؟ بچپن سے آج تک میں نے اللہ کو اپناہمراز پایا ہے‘ دوست پایاہے‘ اپنے دل کی ہربات‘ پریشانی‘ خوشی‘ تفکرات سب اپنے رب سے شیئر کئے ہیں اور ہر دفعہ میں نے وہ راحت وتسکین محسوس کی ہے کہ بیان کرنا لفظوں میں ناممکن ہے لوگ کہتے ہیں وہ آسمانوں میں رہتا ہے لیکن میں نے جب بھی اسے پکارا‘ وہ مجھے دل میں ملا۔‘‘
[[[
’’بیٹا! یہ سوئٹ ڈش لو‘ بڑی لگن سے تمہارے لئے میں نے خود بنائی ہے۔‘‘ صاعقہ سوئٹ کی ڈش زین کے آگے رکھتی ہوئی اصرار آمیز لہجے میں بولیں۔
’’میں سوئٹ کہاں لیتاہوں آنٹی پھربھی آپ کی محبت کی خاطر چکھ لیتاہوں۔‘‘ فروٹ ٹرائفل معمولی سی مقدار میں پلیٹ میں ڈالتا ہوا گویا ہوا۔ روشی اسے دیکھتے ہوئے گویاہوئی۔
’’اوہ! بڑاخیال ہے اپنی اسمارٹنس کا۔‘‘
’’اوہ یس‘یہی تو راز ہے گرلز کو انسپائر کرنے کا۔‘‘
آنٹی کے خیال سے وہ آہستگی سے گویاہوااور گرلز کے جملے پر روشی نے اسے مصنوعی خفگی سے آنکھیں دکھائی تھیں۔
فائزہ آپی سے بہت کم ملاقات ہوتی ہے کہاں ہیںوہ؟‘‘
’’تم تو جانتے ہی ہومیری دوہی بیٹیاں ہیں‘ ان میں جان ہے ہماری‘ ان کوہم دیکھ دیکھ کرجیتے ہیں یہ گھر سے کم ہی نکلتی ہیں‘ دراصل میں ان کی پرورش بڑے سخت خطوط پر کی ہے فائزہ کی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی ہے وہ گئی ہے بلکہ وہ تو جانہیں رہی تھی‘ زبردستی لے کر گئی ہے یہاں اس کی فرینڈ اب بتائو کوئی گھر چل کر آجائے تو کس طرح منع کیا جاسکتا ہے عموماً یہی ہے‘ اس کی فرینڈز آکر لے جاتی ہیں اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چلی جاتی ہے۔‘‘
صاعقہ اس جیسے شچص کے آگے بیٹیوں کی تربیت وگھر رہنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھیں‘ روشی جس کے ساتھ آدھی آدھی رات تک باہر رہتی تھی‘ بنا کسی جھجک وگھبراہٹ کے اور روشی سے بڑی فائزہ کی اس سے دو دفعہ ہی ہیلو ہائے ہوئی تھی‘ دونوں مرتبہ وہ بہت جلدی میں تھی‘ آنٹی کی دروغ گوئی پر اسے کچھ اچھا فیل نہ ہواتھا مگر وہ خاموش رہا۔
’’ممی! ہم آئسکریم پارلرجارہے ہیں۔‘‘ روشی نے مسکراتے ہوئے ماں کو اطلاع دی۔ ان کے پرسکون چہرے پر کوئی اعتراض نہ تھا‘وہ آرام سے زین کے ہمراہ ڈائننگ روم سے نکل گئی تھی۔
[[[
اسے ایک گارمنٹس فیکٹری میں سپروائزر کی جاب مل گئی تھی‘ وہ فطرتاً بے حد محنتی وایماندار تھی‘ پھر اس کی جو خواہش تھی خود انحصاری کی‘ کچھ بن کر دکھانے کے عزائم تھے‘ انہوں نے اسے سخت ترین محنت کرنے پرمعمور کردیاتھا۔ یہاں بھی اس نے دوہفتوں میں ہی تمام ورکرز کادل اپنی ہمدرد طبیعت وخوش مزاجی سے جیت لیاتھا۔ تمام ورکرز بڑی چھوٹی عمر کی اس سے محبت سے پیش آتیں‘ بہت عزت کرتی تھیں۔
تھکادینے والی ملازمت کے باوجود اس نے دادو کی خدمت میں کوئی کمی نہ آنے دی تھی۔ وہ اسی طرح ان کا‘ ان کی ایک ایک ضرورت کا خیال رکھتی تھی‘ او روہ اسے دعائیں دیتی نہ تھکتی تھیں۔
جب ہم کسی سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتے ہیں تو بدلے میں ہمیں بھی ایسی ہی ستھری وبھرپور محبت ملتی ہے کہ گلاب دو‘ گلاب لو کے مصداق دادو بھی اس کی محبت میں بہت کچھ کررہی تھیں وہ جو یہاں آتے وقت اپنے بیگ میںبوسیدہ رنگ اڑے کپڑے بھر کر لائی تھی‘ پیروں میں کالی دوپٹی والی چپل تھی اور جیولری کے نام پر کوئی آرٹیفیشل رنگ بھی اس کے بیگ میں نہ تھا‘ انہوں نے غیر محسوس طریقے سے اس کی اناوخودداری کوملحوظ خاطررکھتے ہوئے دو‘ دو‘ تین تین کرکے بہترین ملبوسات منگوا کر اس کی وارڈروب بھردی تھی۔ اعلیٰ قسم کی کئی مختلف سینڈلز وشوز کی جوڑیاں تھیں‘ ہلکی پھلکی جیولری بھی تھی۔ ان اشیاء نے اس کی ظاہری شخصیت کو سنواراتھا توان کی چاہتوں بھرا خیال اس کے اندر کی خوبصورتی اجاگر کررہاتھا‘وہ اس کی غذا کا خاص خیال رکھتی تھیں‘ کیونکہ وہ شروع سے اپنا کھانا پینا علیحدہ کیے ہوئے تھیں۔ آصفہ بیگم کی روٹین دیر سے ناشتہ‘ لنچ‘ ڈنر کرنے‘ دیر سے سونا‘ دیر سے اٹھنا۔ وہ عشاء کی نماز اور وظائف سے فارغ ہو کر جلد سوجاتی تھیں اور فجر کی نماز سے قبل جاگتی تھیں‘ مکرم تو تھے ہی ماں کے حکم پر چلنے والے۔
آج سنڈے تھا‘ اس نے چھٹی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پورشن کی صفائی کی اپنے اور دادو کے بیڈ کے کورز چینج کئے‘ کشنز پر دوسرے کورز چڑھائے اپنی اور ان کی وارڈروب درست کرکے وہ باتھ لینے چلی گئی تھی۔ نہانے کے بعد میرون کاٹن کاملٹی ایمبرائڈری والا سوٹ زیب تن کیا۔وہ دادو کی قمیص پر لگی لیس ادھیڑ رہی تھی جو ٹیلر نے غلطی سے وہائٹ کے بجائے شوخ کلر کی لگادی تھی‘ اس کی پشت پر سیاہ ر یشم بالوں کا گھنا جنگل مہک رہا تھا‘ وہ بڑے مگن انداز میں اپنے کام میں لگی ہوئی تھی۔ زین کی آمد کو محسوس ہی نہ کرسکی۔ زین جو دادو کے پاس آیا تھا۔ صحن سے گزرتے ہوئے اس کی نگاہ بلاارادہ ہی اس کی جانب اٹھی تھی‘ اس کی پشت پر گھنے سیاہ ر یشم کے ڈھیر کو دیکھ کر مبہوت سارہ گیاتھا۔یکدم ہی اسے مخصوص مہک کااحساس ہواتھا‘ وہ گھبرا کر اٹھی تھی‘ قبل اس کے کہ وہ پلٹ کر دیکھتی‘ زین اس کے بال بہت آہستگی سے مٹھی میں لے چکاتھا۔
’’وھاٹ اے آمیزنگ! یہ آپ کے اوریجنل ہیئر ہیں؟‘‘ زین کے لہجے میں ازحدحیرانی وتجسس تھا زمزم کے پورے بدن میں مارے اشتعال ورنج کے شرارے سے دوڑنے لگے تھے۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس کی گرفت سے اپنے بال چھڑائے تھے اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔ زین کو ہربار وہ گم صم کردیا کرتی تھی‘ اب بھی وہ حیران سا دیکھتا رہ گیا۔ اس طرف آتی دادو نے سب دیکھاتھا ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔
’’دادو! یہ لڑکی بہت عجیب ہے۔‘‘ وہ انہیں دیکھتے ہوئے حیرانی سے بولا۔
’’زین! تمہاری یہ حرکت بہت غیر مہذب وبیہودہ تھی۔ اگر وہ یتیم ومسکین لڑکی مجبور ہو کر تمہارے گھر‘تمہاری چھت کے نیچے پناہ لینے آگئی ہے تو اس کامطلب…‘‘
’’دادو! دادو! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ ان کی بات قطع کرکے وہ پریشان کن لہجے میں گویاہوا۔
’’وہی کہہ رہی ہوں‘ جو تم نے سمجھا ہے آخر تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی؟‘‘ وہ بری طرح آگ بگولہ تھیں زین ازحد سراسیمہ۔
’’آپ کو مجھ پرکانفڈینس نہیں ہے؟ آپ کی نگاہ میں میں لوز کریکٹر ہوں؟ آپ کومیری نیت پر شک ہے؟‘‘ وہ سراپا احتجاج بناہواتھا۔
’’نیتوں کاحال اللہ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا‘ میں آنکھوں سے دیکھ کر کس طرح غلط سمجھ سکتی ہوں‘ تم طویل عرصہ اس دیس میں گزار کر آئے ہوجہاں نہ عورت کی عزت سلامت رہی ہے‘ نہ احترام وتقدس۔‘‘
’’مجھے وہاں کے لوگوں سے کمپیئر نہ کریں دادو! آئم سویئر‘ یہ جو کچھ ہوانہ معلوم کس طرح ہوگیا یاشاید میں نے لائف میں کبھی ا یسے اصلی بال نہیں دیکھئے تھے ان بالوں کی اصلیت نے مجھے مبہوت کرڈالا تھا۔ مجھ پرجادو ہوگیا تھا جو کچھ بھی ہوااس میں میرا کوئی ارادہ نہ تھا۔‘‘
دادو کا خونخوار انداز‘ زمزم کے ناگواری ودرشتگی بھرے طرز عمل نے اس کے اندر ندامت واستعجاب پھیلا دیا تھا وہ سخت متعجب وپشیمان تھا۔
’’ٹھیک ہے مجھے اپنے خون سے اس قدر گرائوٹ کی امید تو نہیں ہے مگر بچے! عقل وشعور کی روشنیوں کوخواہشوں کی پھونکوں سے گل رکھوگے تو پستی کی کیچڑ میں جاگروگے‘ جو خواہشوں کی منہ زوری کے تابع ہوجاتا ہے وہ عزت وتوقیر سے محروم کردیاجاتا ہے‘ یہ محرومی دنیا کی ہر محرومی سے بڑھ کر ہوتی ہے ہمیشہ ذہن نشین رکھنا۔‘‘
زین کو ازحد شرمندہ وپشیمان دیکھ کر دادو کے لہجے میں ملائمت کے ساتھ چہرے کے جلالی تاثرات میں بھی نرمی آئی تھی کیونکہ ان کی جہاندیدہ نگاہوں نے اس کے انداز میں کوئی ہوس وبدنگاہی محسوس نہ کی تھی بلکہ اس کے انداز میں وہ بے ساختہ پن تھا جو کسی فرد کو اچانک کوئی نئی ودلچسپ شے نظر آنے پرہوتا ہے‘ لیکن وقت کاتقاضا یہی تھا کہ اس سرزد ہونے والی پہلی بے ساختگی کوہی سختی سے رد کردیاجائے جو آگے کسی دوسری بے ساختگی کااحتمال ہی نہ ہونے پائے۔
’’آف کورس دادو! لیکن میں پھر یہی کہوں گا شاید میرا انداز غلط تھا مگر نیت بالکل صاف تھی۔‘‘ وہ ان کی نگاہوں میں سرخروئی چاہتاتھا۔
’’مجھے یقین آگیاہے تمہاری بات پر‘دراصل یہاں آکربھی تمہارا واسطہ ایسی لڑکیوں سے پڑاہے جو مادر‘پدر آزاد ہو کرخود کو آزادی نسواں کی علمبردار مانتی ہیں اور اپنے وقار ومشرقی تہذیب وحیا کو اپنے ہی قدموں تلے روند کر سراسر اپنا نقصان کررہی ہیں۔ تم سے جو کچھ ہوا وہ ماڈرن لڑکیاں ان حرکتوں کو اپنے حسن کاخراج سمجھ کر وصول کرتی ہیں لیکن شریف وباحیا لڑکیوں کے لئے ایسی نازیبا حرکتیں کسی تازیانے سے کم نہیں ہوتی ہیں۔‘‘
زین خاموشی سے ان کی باتیں سن رہاتھا‘ جوبہت عجیب ونئی تھیں۔
آسمان پر چاند کتناحسین ودلکش نظر آتا ہے مگر جب یہ چاند بادلوں کی اوٹ سے دکھائی دیتا ہے تو اس کا حسن دوبالا ہو کر نگاہوں کوخیرہ کردیتاہے نگاہیں سحرزدہ ہوجاتی ہیں۔‘‘
دادو اسی کے جھکے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویاتھیں۔ ’’باپردہ و بے پردہ عورت میں یہی فرق ہوتاہے۔ باپردہ عورت بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند کی مانند ہوتی ہے‘ پرکشش وسحر زدہ کرنے والی۔‘‘
زین کے جانے کے بعد وہ اپنے روم سے ملحقہ رو م میں چلی آئیں جہاں زمزم کل کمپنی جانے کی تیاری میں لگی تھی۔ بال اب سمیٹ کر چوٹی کی صورت میں بندھ چکے تھے‘ وہ دوپٹہ اچھی طرح لپیٹے پریس کررہی تھی۔ اس کی متورم آنکھیں اور سرخ ناک اس کے خوب رونے کی غمازی کررہے تھے۔
’’جو کچھ بھی ہوا اس پرمیں تم سے شرمندہ ہوں بیٹی!‘‘ وہ آتے ہی بلاتمہید گویا ہوئی تھیں اور اسے چپ رہنے کااشارہ کیا تھا۔
’’دراصل زین جس ماحول سے آیا ہے اور جن لوگوں کے درمیان رہ رہا ہے وہاں تو اس سے بڑی بڑی باتیں معیوب نہیں سمجھی جاتیں۔ دراصل بہو کی وجہ سے وہ مجھ سے بہت دور رہاہے‘ میں کوئی معقول تربیت نہ کرسکی اس کی‘جب تک ہم بچوں کو اچھے اور برے کے بارے میں نہیں بتائیں گے انہیں کس طرح معلوم ہوگا؟ تم دل خراب مت کرنا‘ بلاشبہ اس کی حرکت بچکانہ تھی مگر اللہ گواہ ہے تمہارے آگے مجھے اپنے خون کی نہیں لگی‘ خوب کھری کھری سنائی ہیں اسے کہ آئندہ خواب میں بھی وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا‘ ویسے دل میں برائی اس کے بھی نہ تھی‘ ایک عرصے سے پرکٹی کبوتریوں کی طرح لڑکیوں کے چھوٹے چھوٹے بال دیکھتا آرہا ہے تمہارے بالوں نے اسے حیران کرڈالا تھااور اس حیرانی کی سزااسے ٹھیک ٹھاک طریقے سے میں نے دے دی ہے لفظوں کی مار لگا کر۔‘‘
زمزم کوشش کے باوجود کچھ نہ کہہ سکی۔دادو کی عظمت وصاف گوئی کی وہ متعرف ہوگئی تھی۔ اس کی سماعتوں نے کچھ دیر قبل ہونے والی وہ تمام گفتگو سنی تھی جو ان دادی‘ پوتے کے درمیان ہوئی تھی۔ اس کے آنسو ازخود ہی خشک ہوتے چلے گئے تھے زندگی اس نے جہنم سے مشابہ گھر میں گزاری تھی دادو کے روپ میں کسی انجانی نیکی کے بدلے دنیا میں ہی اسے جنت مل گئی تھی‘ وہ بڑی محبت سے ان سے لپٹی تھی۔
دادو کی باتوں اور زمزم کے اجتناب نے اسے آئندہ کئی دنوں تک الجھائے رکھا تھا وہ کب پردے اور بے پردگی کی فلاسفی سے باخبر ہواتھا۔ اس نے صنف مخالف کو کھلے انداز میں ہی دیکھاتھا۔ انگلینڈ میں اس کی دوستی بہت سی لڑکیوں سے رہی تھی‘ بولڈ اورفرینک لڑکیاں اسے شروع سے ہی اپیل کرتی تھیں‘ یہاں آکر کبھی اس کی دوستیاں رہی تھیں تینوں ماموئوں اور چاروں خالائوں کی بیٹیاں اس کی پاکستان واپسی پر شہد کی مکھیوں کی طرح حملہ آور ہوئی تھیں۔ ایک انار سوبیمار کے مصداق وہ ان کے نرغے میں پھنس گیاتھا۔ ان میں سے ہر ایک اسے پانے کے لئے اپنی متاع کل لٹانے کے لئے تیار تھیں۔ وہ راجہ اندربنا ان کی کرم نوازیوں سے حظ اٹھارہاتھا پھرنہ معلوم کیاہوا تھا رفتہ رفتہ وہ ختم ہوتی چلی گئیں۔ روشی اور صاعقہ بیگم نے چالاکی سے ان کے پرانے معاشقوں وکمزوریوں کو ہتھیار بنا کر ان کے ہی خلاف استعمال کرکے میدان صاف کرلیا اور پھر روشی بہت تیزی سے اس کے قریب ہوتی چلی گئی تھی۔
خوبصورت…بے باک… بھرپور جذبات واحساسات کابرملااظہار کرنے والی روشنی کاساتھ اسے اچھا لگنے لگاتھا۔ فری ٹائم وہ اس کے سنگ گزارتاتھا‘ آج بھی وہ اسی کے ساتھ تھا‘بلو جینز‘ ریڈ اسٹرپس والے بلائوز میں وہ فل میک اپ میں کانوں میں بڑی بڑی گولڈن بالیاں اور گلے میں چین پہنے وہ آج عام دنوں سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ کار ڈرائیو کرتا ہوا وہ بار بار گہری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتاجارہاتھا۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی روشی اس کی توجہ اپنی جانب مبذول دیکھ کر اترا ئی اترائی بیٹھی تھی۔
’’ایسے کیا بار بار دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’سمجھنے کی کوشش کررہاہوں‘ موسم تمہارے دم سے حسین ہے یاموسم نے تمہیں بیوٹی فل بناڈالا ہے۔‘‘ وہ شوخی سے گویاہوا۔
اس کااشارہ آسمان پر چھائے سیاہ بادلوں سے گرتے ننھے ننھے آبدار قطرے‘ ٹھنڈی ہوائوں کی سرمراہٹوں نے ماحول کو پرکیف بناڈالا تھا۔
’’باتیں مت بنائو‘اگر میں اتنی ہی حسین ہوں تو تم مجھے اپنی لائف پارٹنر بنانے میں انٹرسٹ کیوں نہیں لے رہے۔ یونومیرے اتنے پروپوزل آرہے ہیں‘ ممی‘ڈیڈ صرف میری وجہ سے ریجیکٹ کررہے ہیں لیکن مجھے لگ رہا ہے میں زیادہ ٹائم انہیں نہ دے پائوں گی پھرنہ کہنا…‘‘ اس نے ایک ادائے دلربائی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے دانستہ بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
’’ڈونٹ مائنڈ مائی ڈیئر! میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔‘‘
’’وھاٹ؟ فیصلہ! یوناٹ لومی؟‘‘ وہ ہکابکا تھی۔
’’آئی ڈونٹ نو‘ آر یو…لو…‘‘ وہ ونڈاسکرین کو دیکھتا ہوا الجھے الجھے سے لہجے میں گویا ہوا اس کے مسکراتے لہجے پرسنجیدگی طاری تھی۔
’’اوہ… اوہ مائی گاڈ! یہ تم نے کیا کہہ دیازین؟‘‘
’’ڈونٹ وری‘ ان دنوں میں بہت ڈسٹربنس کاشکار ہوں۔ تم مائنڈ مت کرو‘ مجھے کچھ وقت درکار ہے۔‘‘ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر شگفتگی سے گویاہوااوراس کے پھڑپھڑاتے دل کو کچھ تقویت ملی تھی۔
پھرنہ معلوم کیا ہوا موسم کی طرح اس کامزاج بھی بدلنے لگا۔ وہ جو دادو کے پاس کبھی کبھی جاتاتھا‘ روز ان کے پاس جانا معمول بن گیا تھا۔ اس دن جو نادانستگی میں اس سے حرکت صادر ہوئی تھی اور جواب میں دادو کی کھری وسچی باتوں نے اس کے فراٹے بھرتے ضمیر وحمیت کو بیدار کیاتھا۔ ان کی باتوں نے اسے کئی راتوں سکون سے سونے نہیں دیا تھا۔ اسے کسی نے ایسی باتیں کب سکھائی تھیں‘ پردہ وبے پردگی‘حجاب ونقاب کی باتیں اس نے کب سنی تھیں‘ اس نے سوچااور بہت سوچا‘ دادو اور اپنے سے متعلق لوگوں کاموازنہ کیاتو دادو کی باتوں میں اسے انوکھا سا چارم دکھائی دیا۔ مغربی کلچر کی تاریکیاں اسے کچھ دکھائی دینے لگی تھیں۔ ان سیاہیوں کودھونے کے لئے ہی وہ ان کے پاس آنے جانے لگا تھا۔اس دوران زمزم اپنے کمرے میں رہا کرتی تھی۔ اس دن کے بعد سے وہ بھی بہت احتیاط برتنے لگاتھا۔ آصفہ بیگم اس کی ان نئی سرگرمیوں سے لاعلم تھیں۔ صاعقہ‘ آصفہ بیگم پردبائو ڈال رہی تھیں کہ وہ زین کی خاموشی سے کیا مطلب اخذ کریں؟ جونہ روشی کو درست جواب دے رہاہے اور نہ ہی پرپوزل بھیج رہا ہے۔ ان کے خیال میں اتنابہت ساٹائم روشی کی دلاویز سنگت میں گزارنے کے بعد اسے ایک دن بھی دور نہیں رہنا چاہئے۔
آصفہ بیگم جوبیٹے کی دلچسپی روشی میں محسوس کرچکی تھیں۔ انہوں نے بڑے اعتماد سے بڑی بہن کو تسلی دی کہ دل میں کسی وہم کوجگہ نہ دیں‘ وہ مکرم صاحب کی واپسی کی منتظر ہیں۔ ان کے آتے ہی وہ زین کے لئے روشی کاہاتھ مانگنے آئیں گی۔ آصفہ بیگم کی وضاحت کے باوجود صاعقہ بیگم کے دل کوسکون نہ تھا‘نہ معلوم ان کے ذہن کے کسی خفیہ خانے میں زمزم کاخیال جم چکاتھا۔ وہ جلدازجلدروشی اور زین کومضبوط بندھن میں باندھنا چاہتی تھیں‘ روشی سے بڑی فائزہ کاافیئر شہرکے بڑے صنعتکارر کے بیٹے سے چل رہاتھا۔ زین کی آمد سے قبل روشی بھی بڑی بہن کے نقش قدم پر چلتی ہوئی کئی افیئرز کاشکار رہی تھی‘ زین کی آمد کی خبر سن کر وہ سب سے دامن چھڑا کر اس کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اس اثناء میں فائزہ نے بھی دوسروں سے تعلقات ختم کرکے ماں کے مشورے پر اس صنعت کار کے اکلوتے بیٹے سے ناطہ جوڑاتھا تاکہ وہ کسی طرح چھوٹی بہن سے پیچھے نہ رہ سکے اور صاعقہ بیگم کے دل میں یہ خواہش تھی کہ ان کی دونوں بیٹیاں ان سے بھی اونچے گھرانوں کی بہوئیں بنیں‘ تاکہ سب میں ان کی گردن فخر وانبساط سے بلند رہے۔
بلوشیفون کی سیلولیس قمیص جو ٹائٹ اور اونچی تھی بلو گھیروالی شلوار ہم رنگ دوپٹہ کسی رسی کی طرح جھول رہاتھا تراشیدہ بال کلپ میں جکڑے ہو نے کے باوجود بھی اس کے حسین چہرے کااحاطہ کئے مغرور لگ رہے تھے۔ اس کے دمکتے میرون ہونٹوں پربڑی سحر طراز مسکراہٹ تھی کچھ دنوں سے وہ پھر سے زین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ وہ بھی جس ماحول کا عادی تھا‘ بن جل مچھلی کی مانند زیادہ دور نہ رہ سکاتھا۔
وہ ڈنر کے بعد گھر لوٹے تو روشی کافی کے لئے اسے گھر لے آئی تھی‘ صاعقہ گھر پرنہیں تھیں۔ آج رات ان کا دیر سے گھر آنے کاارادہ تھا‘ وہ کسی فنگشن میں گئی ہوئی تھیں‘ کافی روشی نے تیار کی تھی کافی کے دوران ہونٹوں سے کم‘نگاہوں سے زیادہ بات ہوئی تھی‘ اس ہفتے میں اس کے حسن کاخمار زین پر غیر محسوس طریقے سے چھایا رہاتھا‘ اب بھی ماحول کی خاموشی میں ایک پرکیف سااسرار پنہاں تھااس کے نزدیک بیٹھی روشی کے وجود سے بے حد ہیجان انگیز مہک اٹھ رہی تھی‘ اس کی بے حجاب نگاہیں جواس کے جذبوں کو ایک نئے تلاطم میں مبتلا کررہی تھیں‘ وہ اس کے اتنی قریب تھی کہ اس کی بہکی بہکی سانسیں اس کے اندر شعلے دھکانے لگی تھیں‘ اس کی رگ رگ میں شرارے سے دوڑنے لگے۔ حواسوں پر یکدم ہی سرخ آندھی چلنے لگی تھی‘ نفس وہوس کی زور آوری انتہائوں پر تھی‘ روشی کی جانب سے مکمل خودسپردگی تھی وہ کب سے یہ گیم کھیل کراسے اپنی دسترس میں کرنا چاہتی تھی جوآج پورا ہونے والا تھا۔ جذبات سے مغلوب ہوکرزین نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کوتھامنا چاہا‘ اسی دم یکلخت جیسے کسی غیرمرئی دودھیائی نرم سادھواں اسے اپنے حصار میں لینے لگا۔ کچھ عرصے قبل دادو کی کی گئی نصیحت اس کی سماعتوں میں گونجنے لگی۔
’’جوخواہشوں کی منہ زوری کے تابع ہوجاتا ہے وہ عزت وتوقیر سے محروم کردیاجاتا ہے یہ محرومی دنیا کی ہر محرومی سے بڑھ کر ہوتی ہے۔‘‘
یہ آواز تھی یاحق وصداقت کی بلندی‘ کے اندھیارے گویا لمحے بھر میں باطل کی طرح مٹتے چلے گئے۔ اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ شاخوں کی طرح جھکے تھے وہ ہڑبڑا کر اس طرح پیچھے ہٹاتھا جیسے ابھی ابھی گہری نیند سے بیداری نصیب ہوئی ہو‘ چہرے پر شدید تنائو پھیلنے لگا تھا۔
’’ارے کہاں جارہے ہو؟‘‘ اس کی یکلخت بدلتی ہوئی کیفیت اور سراسیمہ انداز میں گیٹ کی طرف بڑھتے دیکھ کر روشی شدید حیرانی سے استفسار کرنے لگی۔
’’جارہاہوں۔‘‘ وہ آگے بڑھتے ہوئے بولا۔
’’لیکن کیوں؟تم اس طرح نہیں جاسکتے۔‘‘
کامیابی کے بالکل قریب پہنچ کر ناکامی نے اسے بدحواس کرڈالا تھااس نے بھاگ کر دونوں بازو اس کی پشت کی جانب سے حائل کرکے روکنا چاہا۔
’’پلیز‘ مجھے جانے دو‘ میرا اس ٹائم جانا ضروری ہے۔‘‘ اس نے جس کراہیت بھرے انداز میں اسے خود سے دور جھٹکاتھاوہ درشتگی روشی کو ششدر کرگئی تھی‘ نہ معلوم کیا تھاان سلگتی آنکھوں میں جو وہ سعی کے باوجود اسے روکنے میں ناکام رہی تھی۔
گناہ کی طرف رغبت دانستہ ہویاغیردانستہ وہ ضمیر کو جلد یابدیرجھنجوڑتی ضرور ہے‘نیکی کی ننھی سی طاقت بڑے سے بڑے گناہ کو ہلاک کرڈالتی ہے۔ اگر قلب کے کسی گوشے میں ہدایت پانے کی تمنا ہو تو ہدایت ضرور ملتی ہے اسے حاصل ہوئی تھی‘ اس میں جہاں دادو کی دعائوں کااثر تھا وہاں اس کی نیک نیتی کابھی دخل تھا‘ خواہ معمولی ساہی تھا‘ روشی کے وہاں سے آنے کے بعد وہ کئی دن تک خود سے نگاہیں چراتا رہاتھا۔ اس دن رونما ہونے والا وہ ادھورا واقعہ اس کے ذہن کے کئی دریچوں کو روشن کرگیاتھا۔ اسے آگہی ملی تھی پردے وبے پردگی‘حیا وبے حیائی کی رموز سے‘عورت اور عورت کے فرق میں‘ ایک لڑکی نادانستگی میں بھی کسی مرد کااپنے بالوں کو چھونا برداشت نہیں کرسکتی۔ اس کی حیا‘ اس کی پاکبازی کویہ گوارانہیں ہوتااور جس کی پاکدامنی وشرافت کی گواہی وہ محافظ ایک ایسی ہستی ہوتی ہے جو اس غیر کی خاطر اپنے خون کوبھی خاطر میں نہیں لاتی۔ دوسری لڑکی کاتعلق بھی صنف نازک سے ہی ہے مگر اس کونہ اپنی حیا کاخیال ہے‘ نہ نسوانیت وتقدس کا‘ ایک خودکوگلاب کے پھول کی طرح کئی پرتوں میں چھپا کررکھنا چاہتی ہے اور دوسری حیاونسوانیت کے لباس کو اپنے ہی خواہشوں کے ہا تھوں تارتار کرکے ارزاں کرنے کو تیار تھی۔
نیک وبد‘ صحیح وغلط‘ روشنی وتاریکی اسے بہت کچھ سمجھ آنے لگا تھا۔ روشی نے دن رات کوشش کی اس سے رابطہ کرنے کی‘ وہ گھر بھی مسلسل آئی مگر وہ اس کی آہٹیں محسوس کرکے گھر سے نکل جاتاتھا۔ اس کے دل میں روشی کے لئے کوئی احساس‘ کوئی جذبہ باقی نہ رہاتھا۔ محبت‘ نفرت‘ الفت‘ کوئی بھی تو فیلنگز نہ ر ہی تھیں۔ وہ اس کے دل پر لکھی ایسی کچی تحریر تھی جو آن واحد میں اس طرح مٹی تھی کہ معمولی سانشان بھی باقی نہ رہاتھا۔ جورشتے لالچ وطمع‘ خودغرضی ومفاد پرستی سے باندھے جاتے ہیں وہ اسی طرح بنا نقوش کے مٹ جایا کرتے ہیں۔
وہ سڑک سے گزر رہاتھا جب اسے لگاسامنے سڑک کی سائیڈ پر زمزم کھڑی ہے‘ پہلے تو اسے اپنی بصارت پر دھوکے کاگمان گزراتھا مگر پھر آگے جاکرکارروک کرسائیڈ مرر سے بغور دیکھا تووہ وہی تھی‘ میرون ویلوپرنٹڈ سوٹ پر گرے چادر اوڑھے‘ گرے پرس شانے پر لٹکائے وہ کھڑی تھی۔
’’کم ان‘ میں گھرہی جارہاہوں۔‘‘ وہ کار اس کے قریب لے گیا۔
’’وین آنے والی ہے۔‘‘ ایک گھبرائی سی نگاہ اس پرڈال کر وہ کہنے لگی۔
’’جلدی آجائو‘ وین ابھی نہیں آئے گی۔‘‘
’’میں نے کہانہ میں وین میں آئوں گی۔‘‘
وہ اسٹاپ پر کھڑے ڈھیروں لوگوں کومعنی خیز نگاہوں سے اس طرف دیکھتے پاکر گھبرارہی تھی۔ زین کاموڈ بھی بری طرح بگڑ گیاتھا۔ اس نے قہربھری نگاہیں اس پرڈالتے ہوئے غصی سے فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا۔
’’کوئیک…میں اندر گھسیٹنے میں ہچکچائوں گانہیں‘ یہ تماشہ مجھے پسند نہیں۔‘‘
وین کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا۔ لوگوں کی کاٹ دار نگاہیں اور مستزاد اس کادرشتگی سے بھراانداز وہ چپ چاپ اندر بیٹھ گئی تھی۔
’’سمجھتی کیاہوخود کو؟ ان اسٹوپڈ لوگوں میں انسلٹ کروائی ہے وہ لوگ مجھے کوئی آوارہ‘ لفنگا سمجھ رہے ہوں گے‘ جو آتے جاتے تھرڈ کلاس لڑکیوں کو لفٹس دیتے ہیں۔‘‘ اس کالہجہ پرطیش تھا‘ وہ چپ ہی رہی۔
’’کہاں گئی تھیں؟‘‘ کچھ دیر بعد وہ نرمی سے گویا ہواتھا۔
وہ بدستور خاموش رہی تھی مگراس کے دوبارہ پوچھنے پر اس نے سوچا کہ اس سے چھپانافضول ہے۔ آج نہیں تو کل اسے جاب کامعلوم ہوجائے گا پھر جاب کرتے ہوئے اسے دو ماہ ہوچکے تھے‘ اس دوران وہ اپنے لئے ایک لیڈی ہاسٹل میں بات کرآئی تھی‘ جہاں ایک ماہ بعد خالی ہونے والا روم اسے ملنے والا تھا وہ وہاں شفٹ ہونے والی تھی۔
’’واہ بڑی حیران کن اطلاع ہے۔‘‘ موڑ کاٹتے ہوئے وہ حیرانی سے گویاہوا۔
’’اس میں حیرانی کی کیابات ہے؟ جاب میری ضرورت ہے۔‘‘
’’اچھا… اور کیا کیا ضرورتیں ہیں آپ کی؟‘‘
اتنے عرصے میں وہ پہلی بار اسے بولتے ہوئے سن رہاتھااور سننااچھا لگ رہا تھا۔ آواز اچھی تھی رس بھری‘ مدھ بھری‘ جھرنے کی مانند گنگناتی ہوئی۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ گھر تک راستہ خاموشی سے کٹا تھا۔
گھر آیا تو نئی اطلاع ملی‘ گزشتہ ایک ہفتے سے فائزہ گھر سے غائب تھی۔ صاعقہ روشی کو لے کر گھر پر ہی آئی ہوئی تھیں۔ گھر سے حسب معمول وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گئی تھی اور ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود واپس نہیں آئی تھی۔ اس لڑکے کی تمام فیملی ملک سے باہر گئی ہوئی تھی۔ صاعقہ بیگم روتی پیٹتی آصفہ کے پاس آئی تھیں کہ وہ خاموشی سے زین سے کہہ کر فائزہ کے متعلق معلومات حاصل کریں‘ بات ابھی کسی کے کانوں تک نہ پہنچی تھی۔ وہ جانتی تھیں اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے فائزہ کاپتہ لگالے گا۔
چند گھنٹوں میں ہی فائزہ مل گئی تھی۔ سڑک پر کچھ لو گ اسے چلتی گاڑی سے پھینک کر چلے گئے تھے۔ خستہ حال مدہوش فائزہ اس طرح اچھالے جانے سے فریکچر کاشکار ہو کر ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئی تھی۔
دوسرا دن زمزم کی خواہشوں پربجلی بن کر گرا تھا جب صبح اسے کال کرکے بتایا گیاکہ جاب سے فارغ کردیاگیا ہے۔ اس کے سرپر گویا چھت ہی آن گری تھی۔ اتنی تگ ودو کے بعد ملنے والی ملازمت کس طرح آسانی سے ختم کردی گئی تھی۔ بلاکسی عذر کے اس نے اپنی غلطی جاننے کی بہت سعی کی مگر حاکم بالاکب کسی ملازم کو جوابدہی کے پابندہوتے ہیں۔
’’کب تک رو رو کر خود کو گھلائوگی۔ مٹی ڈالو میں نے تب بھی کہاتھا اور اب بھی کہہ رہی ہوں‘ میرے پاس نہ رقم کی کمی ہے‘ نہ کسی اور شے کی‘ تمہیں دل سے میں نے اپنا ماناہے‘ جب میں تمہاری ہوں تو میری ہرچیز تمہاری ہے اب تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے نوکری‘ ووکری کی‘ بس اب چھوڑو یہ رونا۔‘‘ دادو نے بڑی چاہ سے اس کے آنسو اپنے آنچل میں جذب کرتے ہوئے کہا۔
’’مجھے آپ کی بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے مگر دادو! میرا دل گوارا نہیں کرتا‘ اس طرح آپ پربوجھ بن جانے کو۔‘‘ اس کی آنکھوں کے ساتھ آواز بھی بھیگی بھیگی تھی۔
’’خیر تم بوجھ تو نہیں ہو‘ غیورباپ کی غیور وخوددار بیٹی ہو‘ جو اس طرح سوچتی ہو‘اچھی بات ہے خو دداری ووقارہی ہماری اصل میراث ہے۔ میں بات کروں گی زین سے اب تو اسے معلوم ہوگیا ہے وہ کوئی اچھی ملازمت دلوادے گا۔ بس تم خوش رہو۔‘‘
ان کے تسلی د ینے پر دل کو کچھ ڈھارس ہوئی تھی ورنہ وہ جانتی تھی اس شہر میں جاب حاصل کرنا پارس پتھر حاصل کرنے کے مترادف تھا۔
فائزہ کے متعلق جان کر جہاں اسے شدید غم وغصہ برداشت کرنا پڑاتھا وہاں حمیت وغیرت نے بھی خوب جوش مارا تھا۔ و ہ بے بس ہو کررہ گیاتھا۔ فائزہ گینگ ریپ کا شکار ہوئی تھی۔ وہ جس دولت مند لڑکے کو قابو کرنے کے چکر میں رات دن اپنی اناووقار بھلائے پڑی رہی تھی‘ پہلے تو اس صنعت کار کے بیٹے نے اس سے فائدہ اٹھایا اور پھرملک سے باہر جانے سے قبل اپنے دوست کے حوالے کرگیا۔
اگر صاعقہ بیگم کے کہنے پر زین خفیہ پولیس کااستعمال نہ کرتاتو نہ معلوم کیاہوتا۔ رسوائی کے ڈر سے صاعقہ بیگم نے معاملہ آگے بڑھنے نہ دیاتھا۔ فائزہ جیسی آزاد منش لڑکیوں کو سب کچھ گنواکر عقل آتی ہے تووہ ہر طرف سے تہی دامن ہوچکی ہوتی ہیں جسم کے گھائو بھرجاتے ہیں مگر روح کی کسک مرتے دم تک گھائل رکھتی ہے۔ چھ ہفتوں بعد وہ قدرے نارمل ہوگئی تھی‘ مگر کبھی شاداب وشگفتہ دکھائی د ینے والا اس کاسراپا اب خزائوں کی زد میں رہنے لگا تھا۔
’’ماں جی! آخر یہ لڑکی کب تک یہاں بیٹھ کر مفت کی روٹی توڑے گی۔ کوئی کام نہیں ہے اسے ہر وقت آپ کی بغل میں گھسی بیٹھی ر ہتی ہے۔‘‘آصفہ بیگم ساس سے مخاطب ہوئیں جو زمزم کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
’’تمہیں اس بچی کی ایک روٹی کیوں بھاری پڑرہی ہے حد ہوتی ہے کمینے پن کی بھی‘ کیوں بیر باندھ لیا ہے اس بچی سے؟‘‘
’’میں کہتی ہوں‘ مجھے کسی کی پرائی جوان لڑکی اپنے گھر میں نہیں رکھنی میرے جوان خوبروبیٹے کا ساتھ ہے لوگ کیا سمجھیں گے؟‘‘
’’اے بی!جائو منہ مت کھلوائو میرا‘ کیوں کسی کی شریف بچی کی زندگی تنگ کرتی ہو‘ تمہارے لئے کچھ نہیں مگرمیرا بڑا سہارا ہے یہ لڑکی۔‘‘
’’شریف اور یہ؟‘‘ انہوں نے تمسخرانہ انداز میں زرد پڑتے چہرے والی زمزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’جانتی ہوں کس ماں کی بیٹی ہے کیا گل کھلا کر آئی ہے اس کمپنی میں جوانھوں نے گھربیٹھے جاب سے چھٹی کردی۔‘‘
’’بہو! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بات کرو‘ یہ تو بدنام ماں کی بیٹی ہے اور تمہاری بہن کی بیٹی نے ایسا کیا کیاتھا جو راتوں رات ادھیڑ عمر کے آدمی کے ساتھ رخصتی کردی۔‘‘بہو کی بدلحاظی انہیں کبھی برداشت نہ ہوئی تھی۔
’’آپ کی عادت ہے غیروں کو مجھ پر ترجیح د ینے کی اور رہی بات فائزہ کی شادی کی تو وہ تھی ہی اتنی خوبصوت کہ وہ لوگ جھٹ پٹ شادی کرنے کو تیار ہوگئے پھر اسی ہفتے وہ نیروبی چلی گئی۔‘‘
’’اللہ سب کی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔‘‘ اصل بات کہتے کہتے دادو کو برا محسوس ہوا ورنہ فائزہ کے تمام حالات سے وہی نہیں زمزم بھی واقف تھی کیونکہ ان بہنوں کی عادت تھی ہربات بلند آواز میں کرنے کی اور دادو کی سماعت اس عمر میں بھی بہترین تھی۔
’’میری بھانجیاں تو ہیں ہی لاکھوں میں ایک۔‘‘ آصفہ بیگم کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔ دراصل ان دنوں وہ بہت دبائو میں تھیں۔ ایک تو فائزہ کی بدلتی حالت کے پیش نظر بدنامی کے خوف سے ایک ایسے آدمی سے شادی کرنی پڑی تھی جو پہلے ہی دوبیویاں نمٹاچکاتھا‘ دوسرے اس نے شادی کرنے کے عوض بزنس کے لئے رقم مانگی تھی‘ اس طرح صاعقہ بیگم کے خواب کی تعبیر بالکل ہی الٹ ثابت ہوئی تھی۔ آصفہ کو بھی بھانجی کے اس انجام کاازحدقلق تھا اور اب وہ چاہتی تھیں کہ جلدازجلد روشی اس گھر میں دلہن بن کر آجائے۔
مکرم صاحب نے فیصلہ بیٹے کی مرضی پر چھوڑ دیاتھا مگر زین نے انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیاتھا۔
’’عورت کی فطرت بھی عجیب ہے اپنے تو درجن سے زیادہ بچوں کو دل سے لگا کررکھے گی اور کسی اور کے ایک بچے کو نہیں سنبھال سکتی۔‘‘
’’دادو! ذراایک کپ اسٹرونگ سی چائے تو پلوائیے گا۔‘‘ زین کو کچھ دنوں سے ان کے پاس آنے کی خواہش اٹھی تھی۔ وہاں آکر وہ کھانے پینے کی فرمائشیں کرتا کہ جانتاتھا آج کل ملازمہ کے گائوں جانے کے باعث کچن کی ذمے داری زمزم نے خود اپنے سر لے لی ہے۔
’’کیا بات ہے آج کل بہت چائے پینے والے بن گئے ہو۔‘‘ وہ پان کی گلوری منہ میں رکھتے ہوئے گویاہوئیں۔
’’تھوڑا دماغ فریش ہوجاتاہے دادو۔‘‘ وہ ان کی گود میں سررکھ کرلیٹ گیااور وہ دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پہلے باہر صحن میں بیٹھی پودوں کو درست کرتی زمزم سے چائے کا کہہ کر اس سے مخاطب ہوئیں۔
’’تم سے کب سے ایک ضروری بات کرنے کا سوچ رہی ہوں۔‘‘
’’خیریت توہے دادو! ایسی کیابات ہے؟‘‘
’’ارے یہ جواپنی زمزم ہے نا…‘‘
’’اپنی!‘‘ اس نے شوخی سے اپنی کو طول د یا۔
’’چپ کر شریر! تیری ماں نے سن لیاتو ہنگامہ کھڑا کردے گی۔ ویسے بھی اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے۔‘‘ انہوں نے گھرکا۔
’’میں چاہتی ہوں جلد سے جلد اس کے ہاتھ پیلے کردوں۔‘‘
’’اچھا میں ابھی آپ کو کلر کاڈبہ لادیتاہوں فوراً ہاتھ پیلے کردیجئے گا‘ فکر کس بات کی ہے۔‘‘
’’لڑکے! کس بات کی تجھے شوخی سوجھ رہی ہے‘ جومیں کہہ رہی ہوں سب سمجھ رہا ہے‘ میں چاہتی ہوں اس کے لئے کوئی نیک اور اچھا لڑکا تلاش کر‘ بڑی نیک وسعادت مند لڑکی ہے جہاں جائے گی گھر کو جنت بنادے گی۔ بہت کوشش کی ہے میں نے۔ کہ اچھے لوگ مل جائیں مگر…‘‘ وہ گہری سانس لے کر کچھ توقف کوچپ ہوئیں۔
’’ماں کے کرتوت بچی کے آگے آجاتے ہیں لوگ ظاہر پرست ہوگئے ہیں‘ باطن میں جھانکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا‘ سنی سنائی پریقین کرتے ہیں‘ سچائی پرکھنے کی کسی میں صلاحیت نہیں ہے۔‘‘
دادو کے لہجے میں اس نے ہمیشہ ہی اس لڑکی کے لئے خاص تاثر محسوس کیاتھاایسا تاثر جو مقابل کو بھی گداز کردے۔
’’ضروری نہیں ہے جن کی مائیں خراب اطوار وبدچلن ہوں‘ ان کی بیٹیاں بھی وہی راہ اپنائیں‘ یہ تو اپنے اپنے ظرف ومزاج کی بات ہوتی ہے‘ کہ نیک اور شریف لوگوں کی اولادیں رسوائیوں وپستی میں گرجائیں اور بدنام لوگوں کی اولادیں ہرعیب وبرائی سے دور رہ کربھی رسواہی رہیں۔‘‘
[[[
اس دن روشی نے اسے اس طرح گھیراتھا کہ وہ راہ فرار حاصل نہ کرسکاتھا۔ گرے اینڈ بلیک ٹرائوزر سوٹ میں وہ اس کے سامنے بیٹھی آنسو بہارہی تھی۔ اس کی بے وفائی وبے رخی کاشکوہ کررہی تھی۔
’’روشی! تمہیں یہ غلط فہمی کب ہوگئی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں؟‘‘ اس کی بار بار گردان پر وہ سنجیدگی سے گویاہوا۔
’’پھر وہ سب کیاتھا جو وقت ہم نے ساتھ گزارا؟‘‘
’’دوستی… کیادوست وقت ساتھ نہیں گزارتے؟ کیا دوستی کابہترین تعلق کاکوئی تصور نہیں ہوتا؟‘‘
’’یہاں نہیں ہوتا‘ پھر تم جھوٹ کہتے ہو تم مجھ سے محبت کرتے ہو‘ میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے چاہت کے چراغ روشن ہوتے دیکھے ہیں۔ تمہاری سانسوں میں اپنی محبت کی خوشبو محسوس کی ہے۔ اب نہ معلوم کیاہوا ہے جوتم مجھ سے بھاگ رہے ہو۔ جھوٹ کہہ ر ہے ہو کہ مجھ سے محبت نہیں کرتے ہو۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قدمو ں میں بیٹھنے لگی تھی زین فوراً کھڑا ہو اتھا اور خاصادور ہوگیاتھا۔
’’روشی! پلیز جوزین تمہارے پیچھے رہتاتھا وہ کچھ عرصہ پہلے مرچکا ہے اب جو تمہاے سامنے کھڑا ہے اس زین کو آگہی حاصل ہوگئی ہے‘ اندھیرے واجالے کا فرق محسوس ہوگیاہے۔‘‘
اس کالہجہ‘ اس کاانداز ہی بدلے ہوئے نہ تھے بلکہ وہ سرتاپابدل گیاتھا۔ الجھاالجھابھرپور بیگانہ نگاہوں میں سموئے‘ وہ اسے اپنی دسترس سے بالکل دور بہت دور محسوس ہوا۔
’’دادوکہتی ہیں…‘‘ روشی نے شدید غصے میں بات قطع کرکے کہا۔
’’اوہ! تو یہ ساری آگ دادو کی لگائی ہوئی ہے‘ ممی اور آنٹی کو پہلے ہی شک تھا کہ وہ تمہیں ہم سے دور کررہی ہیں اور آج ثابت…‘‘
’’شٹ اپ روشی! میں دادوکے خلاف کوئی لفظ برداشت نہیں کروں گا۔‘‘ وہ بگڑے تیوروں سے جارحانہ انداز میں گرجا۔
’’میں غلط نہیں کہہ رہی ہوں‘ تمہاری دادو اس تھرڈ کلاس لڑکی کو اس گھر کی بہو بنانے کی پلاننگ کررہی ہیں اور تم بھی اس میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لینے لگے ہو تب ہی…‘‘
’’بکواس بند کرو اپنی۔‘‘ وہ سخت اشتعال میں تھا۔
’’میں تمہیں کسی اور کاہونے نہیں دوں گی۔ اس چڑیل کا تو ہرگز نہیں‘ شوٹ کردوں گی اسے‘ مارڈالوں گی۔‘‘ شکست وریخت کے احساس نے اسے حواسوں سے بیگانہ کرڈالا تھا۔
’’تمہاری انگلی بھی اسے اگر ٹچ کرگئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ نہ معلوم کس جذبے‘ کس احساس کے تحت اس کے منہ سے یہ جملے ادا ہوئے تھے‘ وہ خود بھی شاکڈ سارہ گیا جبکہ روشی مارے حیرانی کے آنکھیں پھاڑ کررہ گئی تھی۔ کتنا احترام! کس قدر عزت ومحبت تھی اس کے لہجے میں اس ادنیٰ وبے توقیر لڑکی کے لئے جس کی شناخت کسی گالی سے کم نہ تھی جس کو اس کے اپنوں نے وہ اپنائیت وعزت نہ دی تھی جو اس کاحق تھا او روہ سب اسے اس شخص سے مل رہاتھا جس سے حاصل کرنے کی چاہ میں وہ مری جارہی تھی۔
’’ایساکیاہے اس میں جو مجھ میں نہیں؟‘‘ وہ پھر روپڑی تھی۔
’’میں کسی کی رسوائی نہیں چاہتا اوراس لڑکی کی توہرگز نہیں جوبہت بے ضرر ومعصوم ہے‘ جونگاہ اٹھا کرمقابل کو د یکھنا بھی گناہ سمجھتی ہے۔ میں اس کی عزت کرتا ہوں‘ احترام ہے میرے دل میں۔‘‘
’’صاف کیوں نہیں کہتے محبت کرتے ہو اس سے‘ اس نے تمہیں اپنے جال میں پھانس لیاہے آوارہ ماں کی آوارہ بیٹی‘ بڑی پردے دار بنتی ہے۔‘‘ روشی نے چیخنا چلانا شروع کردیاتھا جس کی آواز لمحوں میں کہیں سے کہیں پہنچ گئی تھی او رسب وہاں آگئے تھے۔
’’روشی…میری جان! کیا ہوا؟‘‘ آنے والوں میں آگے آگے آصفہ بیگم تھیں جو روشی کی طرف بڑھی تھیں جبکہ دادو کے ہمراہ زمزم بھی وہاںآگئی تھی۔ صورت حال سے یکسرلاعلم سی۔
’’یہ…یہ…اس چڑیل نے زین پر جادو کردیا ہے‘ مجھ سے چھین لیا ہے‘زین اس سے محبت کرنے لگاہے۔‘‘
اس نے چیخ چیخ کر زمزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہذیانی انداز میں کہا۔ زمزم کے قدموں تلے زمین نکلی سونکلی ازحد پراعتمادومضبوط زین بھی اس وقت شاکڈ سارہ گیاتھا۔ آصفہ بیگم نے ایک تحیر آمیز نگاہ پہلے بیٹے پر ڈالی‘ جس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں نے روشی کی بات کی تصدیق کردی تھی‘ نفرت وجنون کاایک طوفان تھا جو ان پر حاو ی ہواتھا اور وہ کسی طوفانی بگولے کی مانند ہی زمزم کی طرف بڑھی تھیں اور دوسرے لمحے کمرے کی خاموش فضا زور دار تھپڑوں کی آوازوں سے گونج اٹھی تھی یہ سب لمحے بھر میں ہوا تھا۔
’’مماپلیز! پلیز اسٹاپ اٹ۔‘‘ زین نے بڑ ھ کر ان کے ہاتھ تھامے تھے۔
’’چھوڑو مجھے‘ میں اس کا خون پی جائوں گی‘ ذلیل عورت کی ذلیل بیٹی نے آخر کار اپنے گندے خون کی گندگی دکھادی وہی ہو اجس کاڈرتھا۔‘‘
آصفہ بیگم آپے سے باہر تھیں‘ وہ زین کے ہاتھ جھٹک کر دوبارہ زمزم کی طرف بڑھی تھیں اس بار دادو اس کی ڈھال بن گئی تھیں۔
’’بس…بہت ہوگیا بہو! اپنے ہاتھ قابو میں رکھو۔‘‘ وہ بری طرح سہمی ہوئی خوفزدہ زمزم کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے آصفہ بیگم سے مخاطب ہوئی تھیں جن کے تھپڑوں نے ا س کاچہرہ سرخ کردیاتھا۔
’’میں آج آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گی۔‘‘
’’مجھے خواہش بھی نہیں ہے چلوبیٹی۔‘‘ وہ زمزم کابازو پکڑ کر آگے بڑھیں۔
’’اب یہ اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔ میں ابھی اسی وقت اس کو دھکے دے کر یہاں سے نکالوں گی۔‘‘ ان کو کسی پل قرار نہیں تھا۔
’’بہت خوب! اس لڑکی کے کہنے پر تم نے نہ صرف اس بے قصور لڑکی بلکہ اپنے اکلوتے بیٹے پربھی کیچڑ اچھالی ہے اس پرشک کیا ہے‘ پوچھو اس سے… اس نے کیا دیکھا؟ کس بنا پر الزام لگایا؟‘‘
دادو رک کرروشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے گویاہوئیں۔
’’روشی کبھی جھوٹ نہیں کہہ سکتی‘ اس نے جو کہا وہ سچ ہے۔‘‘
’’اچھا…! تمہیں اپنے بیٹے سے زیادہ بھانجی پراعتماد ہے؟‘‘
’’وہ… وہ اس عمر میں ہر کوئی بہک جاتا ہے‘ اس میں زین کا کوئی قصور نہیں ہے۔ مکاری اس لڑکی کی ہے جس نے…‘‘
’’مما! ایسا کچھ نہیں ہے‘روشی سراسرغلط بیانی کررہی ہے یہ کیسا یقین‘کیسا اعتماد ہے جو اپنی اولاد پر نہیں ہے۔‘‘ ماں کی سطحی ذہنیت نے اسے سخت مضمحل کرڈالا تھا۔
’’آپ جائو یہاں سے‘ ان جیسی چلترباز لڑکوں کو آپ نہیں سمجھ سکتے‘ یہ دولت وعیش حاصل کرنے کے لئے خود بھی فروخت کرڈالتی ہیں۔‘‘
’’سوری مما! آپ کی باتوں نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے۔ آپ نے مجھے سمجھادیاہے کہ آئندہ آپ سے جو کچھ بھی میرے متعلق کہاجائے گا اس پرآپ بلاتصدیق یقین کی مہر لگادیں گی‘ بلایہ جانے کہ آپ کایہ عمل آپ کے بیٹے کو اس کی نگاہوں سے گراچکاہے۔‘‘
’’زین! مائی سن! آپ مائنڈ مت کریں۔‘‘ اس کے دھواں دھواں چہرے کو دیکھ کر وہ اس کی جانب بڑھی تھیں۔
’’میں نے مائنڈ نہیں کیا…فیصلہ کیا ہے۔‘‘
’’کیسا فیصلہ؟‘‘ وہ بوکھلائی تھیں۔
’’اس لڑکی کو تحفظ وعزت والا نام دینے کا فیصلہ‘ میں زمزم سے شادی کررہاہوں۔‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا تھا۔
اس کی بات نے بھونچال پیدا کردیاتھا‘ وہ کسی طورماننے کو راضی نہ تھا مکرم صاحب ٹور ادھورا چھوڑ کر واپس آگئے تھے‘ آصفہ بیگم صدمے سے بیمار پڑگئی تھیں۔ ان کی بازی پلٹ گئی تھی۔ زین ضدی نہیں تھا مگر یہ سب ہی جانتے تھے جب وہ ضد پر آجائے تو منوا کر ہی چھوڑتاہے۔ زمزم سے شادی کرنا اس کی ضدبن چکی تھی‘ دادو نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس پر کوئی اثرنہ ہوا تھا۔
مکرم صاحب اسے ایک مرتبہ پھر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کاکہہ رہے تھے۔
’’پپا! کیاآپ بھی مما کی طرح نہیں چاہتے کہ وہ غریب ولاوارث آپ کی بہوبنے؟ آپ کوبھی سوسائٹی کاخو ف ہے۔‘‘
وہ اس وقت بے حد سنجیدہ تھامکرم صاحب ایک شفقت بھری نگاہ بیٹے کے وجیہہ چہرے پرڈلا کر گویاہوئے۔
’’میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو سوسائٹی کاخوف پالتے ہیں‘ میری نگاہ میں ہمیشہ سب کی خوشیاں مقدم رہتی ہیں‘ مجھے یہ خیال آپ کی وجہ سے آیا ہے آج آپ جذباتی ہوکرفیصلہ کررہے ہیں کل آپ کوپچھتاوانہ ہو۔ زمزم پرمجھے پورااعتماد ہے اور پھر جو لڑکی ماں جی جیسی مشکل عورت کو اپنا گرویدہ بنالے وہ لڑکی کس قدر صلاحیت والی ہوگی یہ مجھ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے اور رہا سوال اس سے جڑے ماضی کاتو میں اس کی پروانہیں کرتا کہ اس کی ماں نے کیاکیااور کیوں کیا؟‘‘
’’میں یہ اعتراف نہیں کرتا کہ مجھے اس سے محبت ہے لیکن میرا دل اس کے ساتھ پرمطمئن ہے‘روشی کاخاکہ بھی میرے آس پاس نہیں بھٹکتا۔‘‘
’’کہاں گم ہوگئے برخوردار! کب تک شہنائی بجوانے کاارادہ ہے؟‘‘وہ ایک دم کسی خیال کے زیراثر آیا تووہ شوخی سے کہہ اٹھے۔
’’ابھی کچھ ٹائم لگے گا‘ مما خاصی اپ سیٹ ہیں ابھی۔‘‘وہ جھینپ کر گویاہوا۔
’’آصفہ کی فکرمت کرو جب دل سے خدمت کرنے والی بہو مل جائے گی تو کب تک ناراض رہ سکے گی۔‘‘
زمزم کو اس واقعے سے ایسی چپ لگی تھی جو دادو کومضطرب کرگئی تھی۔ دادو نے ہر طرح اس کی دلجوئی کی‘مکرم صاحب نے بیوی کے رویے پر معذرت کی‘ معاملہ رفع دفع ہوگیابلکہ دادو اسے زیادہ اہمیت د ینے لگیں۔ زین نے کئی مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی‘وہ نہیں مانی اور مانتی بھی کیسے جس عزت کو‘جس بھرم کو‘ جس انا کو اس نے بچا بچا کررکھا تھا۔ وہ پل بھر میں جل کرراکھ ہوگئی تھی‘ وہ اپنی ماں کے چلن سے ہی بالآخر پکاری گئی تھی۔ آوارہ ماں کی آوارہ بیٹی…!
آصفہ کے تھپڑوں نے چہرہ سرخ کیاتھا مگر لفظوں نے روح جھلسا دی تھی۔ و ہ جوخودداری وانا کی انگلی پکڑے خراماںخراماں زندگی کوسمجھنے لگی تھی ایکدم ہی سب کچھ ختم ہوکررہ گیاتھا۔ اسے کچھ بھی اچھانہیں لگ رہاتھا۔ وہ یہاں سے فرار ہونا چاہتی تھی۔
اس گھرسے!اس دنیا سے! اس زندگی سے… مگر فرار کے تمام راستے میسدور تھے دادو کڑی پہرے دار تھیں۔
’’میں پوچھتی ہوں‘ کب تک یوں ہونٹ سئے رہوگی؟ تکلیف کے بعد ہی راحت آتی ہے‘ تکلیفیں تم نے اٹھالیں اب راحتیں سمیٹنے میں پیچھے ہو‘ سچ پوچھو تو میں نے کئی وظیفے اس لئے کئے کہ تم ہمیشہ اس گھر میں رہو‘ میری بہو بن کر زین کی بیوی بن کر‘ آتے جاتے میں کسی نہ کسی طرح ا س کے کان میں بھی تمہاری کوئی نہ کوئی اچھائی بیان کردیا کرتی تھی‘ یہ اسی کانتیجہ ہے جوزین نے تمہارا نام لیااور دل سے لیاورنہ…‘‘
’’دادو! مت کریں ایسی باتیں‘ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کس کی بیٹی ہوں آپ اچھی طرح جانتی ہیں مجھ جیسی لڑکیوں کے لئے عزت دار زندگی نہیں ہوتی ہے مت ترس کھائیں مجھ پر۔‘‘
وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپا کررو دی تھی۔
’’کوئی ترس کھاکر شادی نہیں کی جاتی بیٹی! کہانہ جوہوا بھول جائو اب توبہو بیگم کوجلد ہی عقل آجائے گی‘ بہن بھانجی نے بائیکاٹ جوکردیاہے۔گڑھاکھوداتھا تمہارے لئے اور گر خود گئیں۔‘‘
’’دادو! میں یہاں نہیں رہوں گی‘ ہاسٹل چلی جائوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھرجس طرح تمہیں نوکری سے زین نے نکلوایا تھا اسی طرح وہاں سے بھی نکلواد ے گا پھر کہاں جائوگی؟‘‘
’’جی…یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ دادو؟‘‘ اشکوں سے بھرے چہرے پرسخت ترین حیرانی پھیل گئی۔
’’لووہ آگیا خود ہی معلوم کرلو‘ مجھے نماز کو دیر ہو رہی ہے۔‘‘
اندر داخل ہوتے دیکھ کر زین کو دادو نماز کی چوکی کی طرف بڑھ گئیں۔ وہ مہکامہکا وجود لئے کرسی پرٹک گیاتھا۔
’’آپ نے…آپ نے میری جاب ختم کروائی تھی؟‘‘ یہ انکشاف اس کے لئے اتناحیران کن تھا کہ وہ بلاکسی تمہید کے اس سے مخاطب ہوئی تھی جس کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔
’’جی ہاں۔‘‘ نہایت شرافت سے جواب ملا۔
’’کیوں؟ آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘‘
’’میرے پاس آپ کے لئے اس جاب سے بھی زبردست جاب ہے۔‘‘
’’کون سی جاب؟‘‘وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔
’’ہے ایک پرکشش جاب‘اگر آپ پرامس کریں کہ جوائن کریں گی تو بتادیتاہوں۔ بہت زیادہ آپ کومراعات حاصل ہوں گی۔‘‘
اس کی اٹھی نگاہیں جھکتی چلی گئیں‘ چہرہ لال بھبھوکا ہوگیا۔ زین کی شرارت وہ سمجھ چکی تھی۔ وہ شادی کی آفر کررہاتھا۔
’’زین صاحب! مجھ میں مزید حوصلہ نہیں ہے اپنا تماشہ بنوانے کا بچپن سے تقدیر میرے ساتھ ا یسے کھیل کھیلتی آئی ہے لیکن اب میں تھک گئی ہوں‘ کسی اور کہانی کاعنوان نہیں بن سکتی‘ مجھے معاف کردیں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے گویاہوئی تھی۔
’’میں جانتاہوں‘ ممااور روشی کی باتوں سے آپ کی عزتِ نفس مجروح ہوئی اناووقار کو ٹھیس پہنچی۔ ان تمام باتوں کوبھول جائو تو بہتر ہے۔ میں آپ سے اپنی پارسائی کادعویٰ نہیں کرتا‘ مجھے اعتراف ہے ایک عرصہ میں نے بھی آزاد زندگی گزاری ہے بولڈ‘ ماڈرن لڑکیاں میری کمزوری رہی تھیں۔ اگر یہاں دادو اور آپ کی زندگی میرے سامنے نہ ہوتی تو میں آج نہ معلوم کن گمراہ کن راستوں کاراہی ہوتا اور اپنے اساس کی پہچان ہی مٹاچکاہوتا۔‘‘
وہ بہت شرمندگی سے کہہ رہاتھا۔
’’ضروری نہیں ہے ایک عورت کی بے راہ روی سے خاندان تباہ ہوجاتے ہیں‘ بلکہ مرد کی بے راہ روی بھی نسلوں کی گمراہی کاباعث بنتی ہے۔ روشی نے جھوٹ کہاتھا گر اس وقت مجھ پر انکشاف ہواوہ جھوٹ نہیں کہہ رہی‘ تم بہت خاموشی سے میرے بہت قریب آچکی تھیں۔ اتنی قریب کہ پرچھائیں کاگمان ہونے لگے۔‘‘
وہ آہستہ آہستہ کہہ رہاتھا‘لہجے میں سچائی تھی۔
’’تم نے دادو سے کہا یہ سب میں ترس کھا کرکررہاہوں تو ایسا کوئی بے وقوف نہیں ہوگا جو اپنی زندگی کے فیصلے ترس جیسے لمحاتی جذبات سے باندھنے کی کوشش کروں گا تمہیں ہر وہ سکھ‘ہر وہ خوشی دوں‘ جو دے سکتا ہوں۔ ممابہت نائس ہیں وہ جلد مان جائیں گی۔ مجھے تمہارا اقرار چاہئے کبھی ایسا ہوتاہے ہم محبت پہلے کرلیتے ہیں‘ شادی بعد میں‘یہاں ذرا شادی پہلے ہوگی‘ محبت بعد میں‘ وہ بھی پوری ا یمانداری کے ساتھ۔‘‘ اس کی خاموشی رضامندی تھی وہ کرتی بھی کیا۔
’’لڑکا اتنی بک بک کرکے چلا گیامگر تمہارے منہ کا قفل نہ ٹوٹا اب ایسابھی کیا طنطنہ کہ کسی کومعاف ہی نہ کیاجائے‘ ایسے بھاگ تو کسی کسی کے جاگتے ہیں بچی! اب بھی وقت ہے عقل کے ناخن لے لے مرد اور گھوڑے میں ایک قدر مشترک ہے اگر کسی طور بدک جائیں تو قابو نہیں آتے اور یہ زین توہے ہی سر پھرا۔‘‘
دادو نماز سے فارغ ہو کر اس کے قریب چلی آئی تھیں۔
’’دادو! جیسے آپ کی مرضی۔‘‘
دادونے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔
’’سب سے پہلے بہو کومنانا ہے‘ حقیقت سے وہ بھی واقف ہے مگر اپنی ناک کوکسی طرح جھکنے نہیں دے گی‘ جب میں ہی آگے بڑھوں گی تووہ کب تک دور ہے گی۔‘‘
دادو اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے آصفہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بڑبڑا رہی تھیں۔

ختم شد

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close