ساحلوں کی ہوا

ساحلوں کی ہوا

اقرأ صغر احمد

وہ خوشی سے گنگناتی ہوئی صحن سے ملحق برآمدے میں آئی تھی اور دوسرے لمحے خالی برآمدے کو دیکھ کر اس کے چہرے پر پھیلے قوس وقزح کے رنگ خزائوں کے ویرانوں میں تبدیل ہوگئے تھے۔
’’بھابی بیگم! خود پرستی وخودپسندی کے مظاہرے کب اسٹاپ ہوں گے؟‘‘ اس نے سلگتے دل سے سوچا پیچھے اماں چلی آئی تھیں۔
’’بت کیوں بن گئی ہو؟ جائوگی نہیں کیا؟‘‘
’’اماں! بھائی کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ شہرین کو لے کر گیا ہے ڈاکٹر کے یہاں ‘ چل تجھے رکشہ …‘‘
’’کچھ دیر قبل تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں یہ اچانک کیا ہوا ہے انہیں‘ہارٹ اٹیک یا نروس بریک ڈائون ہوا ہے…‘‘
’’تیرے منہ میں خاک‘ نامراد‘بلاسوچے سمجھے جومنہ میں آتا ہے بکتی چلی جاتی ہے۔‘‘ فریدہ نے آنکھیں نکال کر لتاڑا۔
’’بھابی کو پرابلم کیا ہے؟ کیوں جیلس ہوتی ہیں مجھ سے ؟‘‘ آنسو اس کی خوبصورت آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔ اس نے ضبط کی کوشش بھی نہ کی۔
’’لوبھلا… وہ کیوں تجھ سے جلنے لگی‘ اسے تجھ سے کیا پریشانی ہوگی‘ چل میں جاننے والے کا رکشہ کروادیتی ہوں‘ آرام سے بے خوف وخطرچلی جانا‘ واپسی میں توقیر آجائے گا لینے۔‘‘ اماں نے پچکارا۔
’’اماں!آپ کو اچھی طرح معلوم ہے مجھے رکشے سے چڑ ہے‘ عجیب واہیات سواری ہے، دور سے ہی لوگو ں کو اپنی آمد کی خبر کردیتا ہے۔‘‘ وہ رومال سے چہرہ صاف کرتی بیزاری سے گویا ہوئی۔
’’لڑکی ! تیرے نخروں سے عاجز ہوں میں‘ اپنے باوا سے کہہ کر کار منگوالو‘ اس میں تو تمہیں شرم نہ آئے گی۔‘‘ فریدہ بری طرح چڑ گئیں۔
’’اماں! اس دور میں کار کونسی بڑی بات ہے‘ آج کل تو ’’بے کار‘‘ بھی لیزنگ پر’’کار والے ‘‘ بنے پھررہے ہیں۔ سب کو شعور آگیا نہ آیا تو ہمارے گھروالوں کو جو آج بھی بائیک سے چمٹے ہوئے ہیں۔‘‘
’’ارے بس…بس‘ تالو سے لگالے زبان کو جو کتر کتر چلنا جانتی ہے‘ مائرہ کے ہاں جارہی ہے یانہیں؟‘‘ فریدہ نے حسب عادت اسے جھڑکا۔
’’اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اماں! میرے جانے کا۔‘‘ وہ غصے میں بپھری اندر بڑھتی ہوئی بولی۔
’’کیوں …؟ اب کونساپہاڑ ٹوٹ گیا تجھ پر؟‘‘
انہیں اس کی ضد اور ہٹ دھرمی ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔
’’غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے‘ یہ سب بھابی کی شرارت ہے‘ میں نے ان سے کہا تھا بھائی کو کہہ دیں مجھے مائرہ کے ہاں ڈراپ کرآئیں‘ اس کی انگیجمنٹ ہے۔ میں تیار ہوکر آئی تو وہ بھائی کو لے کر چلی گئیں تاکہ میں نہ جاسکوں۔‘‘ وہ صحن کی ان سیڑھیوں پر بیٹھ گئی جن سے اندر راستہ جاتاتھا۔
’’کتنی دفعہ کہا ہے ایرج! بدگمانی مت پالاکر‘ بہو ایسی نہیں ہے۔‘‘
’’وہ ویسی بھی نہیں ہیں جیسی آپ سمجھتی ہیں۔‘‘
’’اچھا چپ رہ۔ بیماری کوئی کہہ کر تھوڑی آتی ہے۔‘‘
’’مگر بھابی کی تو مٹھی میں رہتی ہیں وقت اور ماحول کے حساب سے جس کو چاہا چٹکی بجائی اور بلالیا۔‘‘ وہ شدید بدظن تھی۔
’’ایرج! بری بات ہے بیٹا‘ بھابی ہے وہ تمہاری کتنی دفعہ سمجھایا ہے اگر تم اپنی بھابی کے ساتھ براسلوک کروگی تو تمہاری بہنوں کے ساتھ بھی ان کے سسرال والے برابرتائو کریں گے۔‘‘ اماں نے ہزار بار کی دی گئی مثال پھر دہرائی تھی۔
’’نہیں اماں! میری بہنیں تو سسرال والوں کی جتنی عزت وخدمت کرتی ہیں‘ بھابی تو اس کا پاسنگ بھی نہیں کرسکتیں‘ اس کے باوجود بھی جب ان کے سسرالیوں کے سر پر شیطان سوار ہوتا ہے وہ ان کو بے عزت کرکے نکال باہر کرتے ہیں ‘کبھی بچوں سمیت تو کبھی بچے چھین کر‘ مطالبے منوانے کے لیے بھیج دیتے ہیں ۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں… بلکہ بھائی کو اپنی مرضی کے تابع کررکھا ہے‘ ایسا بھلا ہوتا ہے کہیں پھر بھی آپ کو یہی فکر رہتی ہے اور آپ کی اسی ڈھیل اور نرمی کی وجہ سے وہ اتنی نڈر ہوگئی ہیں کہ مجھ سے مسلسل زیادتی کرنے لگی ہیں۔‘‘ آنسو پھر تواتر سے اس کے صبیح رخساروں سے پھسلنے لگے تھے۔ اس ہفتے میں بھابی نے یہ تیسری مرتبہ حرکت کی تھی۔
’’دل مت جلاپگلی! چل میں خود چھوڑ کر آتی ہوں ٹیکسی میں لے چلوں گی۔‘‘ اماں کی مامتا جوش میں آئی۔
’’میں نے کہہ دیانہ اماں! اب نہیں جائوں گی۔‘‘ ان کے بے حد اصرار پر وہ اسی ہٹ دھرمی سے گویا ہو ئی۔
’’لڑکیوں پر یہ ضد وہٹ دھرمی اور نخرے اچھے نہیں لگتے۔ تمہیں سدا ہمارے ساتھ نہیں رہنا‘پڑھائی ختم ہوچکی اب شادی کرنی ہے۔ سسرال جاکر یہ سب کروگی تو چٹیا پکڑ کر نکال باہر کرے گا، سب سے پہلے تمہارا گھر والا ہی نکالے گا۔ بدلو اپنے آپ کو۔‘‘
’’فکرنہ کریں‘ میں آپی اور بجیا کی طرح اللہ میاں کی گائے نہیں ہوں۔ پھر بھابی کی ٹریننگ بھی تومل رہی ہے۔‘‘ وہ روتے روتے ہنس پڑی تو فریدہ بھی سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر بولیں۔
’’کبھی سوچ سمجھ کر بولنا نہیں بے شرم‘ اپنی شادی کی بات کتنے مزے سے کررہی ہے۔‘‘
’’اماں!‘‘ اس نے اٹھ کر ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا۔’’آپ میری دوست ہیں‘ دوست سے ہر بات شیئر کی جاتی ہے۔‘‘ وہ کھلکھلائی تھی۔
’’جانتی ہوں سب ‘مسکے مت لگا‘ نہیں جارہی تو کپڑے بدل۔‘‘
’’میں یہاں بیٹھ کر بھائی کاانتظار کروں گی‘ مجھے یقین ہے بھابی نے بھائی سے کہا ہی نہیں ہے ورنہ وہ ایسے نہیں ہیں۔‘‘
’’دونوں وقت مل رہے ہیں تم راستے میں بیٹھی ہو‘ پھر یہاں پودے بھی ہیں۔ بزرگ منع کرتے ہیں چلو اندر چلو اور یہ قصہ بھول جائو۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی تھیں۔

گھر کے ماحول میں آج کل بے حد ٹینشن چل رہی تھی۔ ابا آج کل کچھ زیادہ ہی اپنے بڑے بھائی شفیق صاحب سے مل رہے تھے‘ ویسے تو طویل عرصے سے ان دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات کے باعث تعلقات ا ستوار نہ تھے‘ ان گزرے برسوں کے دوران شفیق صاحب نے اپنی چاروں بیٹیوں کی شادیاں کردی تھیں اور انہیں پوچھا تک نہ تھا۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے توفیق صاحب بھی دوبیٹوں اور دوبیٹیوں کے فرض سے ادا ہوگئے تھے اور ان سے جھوٹے منہ صلاح تک نہ لی تھی۔
دونوں بھائی بیویوں کے ذہن سے سوچتے‘ اور ان کی آنکھوں سے دیکھنے کے عادی تھے‘ اب ایک ماہ قبل شفیق صاحب کو ہارٹ اٹیک ہواتو ان کی آنکھوں پر بندھی غفلت ولاپروائی کی پٹی ازخود کھل گئی۔ ان کی طبیعت کی خرابی کا سن کر توفیق صاحب بھی بھاگے بھاگے چلے آئے تھے۔ طویل عرصے کے بعد ان کا یہ پہلا ملاپ تھا جو دوسازشی وحاسد کی غیر موجودگی وبے خبری میں ہوااور اس ملاقات نے ذہنوں پر جمی گرد کو گھنٹوں میں صاف کردیاتھا۔ ان باتوں اور واقعات کی بھی تردید ہوگئی جو ایک دوسرے کے نام سے سنا کر بھڑکایاجاتاتھا۔
اب وہ اکثر اوقات ملنے لگے تھے‘ جس کی خبر گھر والوں کو بھی ہوگئی تھی۔ تب سے دونوں طرف انتشار پھیلا ہوا تھا‘ ابھی بھی وہ شفیق صاحب سے مل کر آرہے تھے۔ فریدہ بیگم کے بار بار پوچھنے پر بھی انہوں نے نہیں بتایا کہ وہ دونوں بھائی کیا پلان بنا رہے ہیں جو روز روز ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ وہ ایک کال کرتے اور توفیق فوراً چلے جاتے تھے۔
’’ارے اتنے گھنے ہوگئے ہیں تیرے اباہزار بار پوچھنے پر بھی نہیں بتارہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان کیا کھچڑی پک رہی ہے؟‘‘فریدہ جلے کٹے لہجے میں سارہ سے مخاطب ہوئیں جو آج ہی آئی تھی۔
’’تمہارے پیٹ میں ہمیشہ مروڑ رہتی ہے‘ اس لیے تمہیں ہر جگہ کھچڑی پکتی دکھائی دیتی ہے‘ علاج کروالو اپنی آنکھوں کا اور پیٹ کا بھی۔‘‘انہوں نے اخبار آگے سے ہٹائے بغیر خشک انداز میں جواب دیا تھا۔
’’بات کررہے ہیں یا لٹھ ماررہے ہیں؟ ہوا کیا ہے تمہیں تنویر کے ابا! پہلے تو ا یسے نہ تھے۔‘‘ وہ ہکابکا رہ گئی تھیں ان کے لہجے پر۔
’’پہلے کاٹھ کا الوتھا میں‘ جس کو تم انگلیوں پر نجاتی رہیں۔‘‘
’’اور…اب؟‘‘ بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا۔
’’عقل آگئی ہے مجھے اور اب تم سوچ سمجھ کر رہنا۔‘‘ وہ اخبار ٹیبل پر رکھ کر فریدہ کی طرف دیکھتے ہوئے تنبیہی سخت لہجے میں گویا ہوئے۔ نہ معلوم ان کے انداز میں کیا تھا کہ فریدہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئی تھیں کارپٹ پربیٹھی اپنے چھ ماہ کے بیٹے کے کپڑے بدلتی سارہ بھی چونک گئی تھی۔
’’ابا! چائے لیجئے۔‘‘ایرج ٹرے میں مگ لیے کھڑی تھی۔
’’جیتی رہوبیٹی!‘‘ انہوں نے بڑی شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنا چائے کامگ لے کر وہاں سے کمرے میں چلے گئے۔
’’سارہ! دیکھا تم نے؟ تیرے ابا نے کس محبت سے ایرج کے سر پر ہاتھ پھیرا ہے جیسے …جیسے ذبح کرنے سے پہلے قصائی بکری کے سر پر محبت سے شفقت کاہاتھ پھیرتا ہے۔ مجھے تو گڑبڑ لگ رہی ہے۔‘‘ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر متفکرانداز میں گویا ہوئی تھیں۔
’’لواماں کی بات سنو‘ خوامخواہ ابا کو قصائی بنادیااور مجھے بکری۔اماں‘ اباتو مجھے ایسے ہی پیار کرتے ہیں۔ آج کل تو کچھ زیادہ ہی خیال رکھنے لگے ہیں۔‘‘ وہ مسکرا کر انہیں چائے دیتی ہوئی بولی۔
’’اماں کی بات درست ہے ا یرج! جب سے میں آئی ہوں دیکھ رہی ہوں‘ ابا بہت بدلے بدلے لگ رہے ہیں۔ تم سے قریب ہوگئے ہیں اور ہم سے دور۔ دیکھا ابھی چائے لے کر اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں۔ اس سے قبل وہ اپنا وقت ہمارے ساتھ گزارنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔‘‘سارہ کے انداز میں بھی ماں کی طرح پریشانی تھی۔
سارہ اور اماں کو نیا موضوع مل چکا تھا‘ وہ سارہ کے بیٹے کو گود میں لیے باہر نکل رہی تھی جب اس کی سماعتوں میں اماں کی آواز آئی تھی۔
’’شہرین کو آج میکے جانا ہے‘ کچھ دیر قبل اس کی امی نے فون کیا ہے ‘ ابھی تک توقیر نہیں آیا بہو کو دیر ہو رہی ہے‘ کئی بار فون کیا وہ بھی نہیں اٹھارہا۔‘‘ جواب میں سارہ نے کیا کہااس نے نہیں سنا وہ پھرتی سے واپس پلٹی‘ بچہ اس عجلت میں اس کی گود میں ڈالا کہ گرتے گرتے بچا۔
’’یاوحشت! یہ تم پر کیا آفت نازل ہوئی آناً فاناً ! ‘‘ سارہ روتے ہوئے بچے کو سینے سے لگا کر بولی۔
’’مجھے مائرہ کی طرف جانا ہے ‘ وہ ناراض ہے مجھ سے‘ اس کی کال آئی تھی ابھی۔ اماں میں جائوں؟‘‘ وہ ایک سانس میں بولتی گئی۔
’’جیسے میں منع کردوں گی تو تو رک جائے گی۔‘‘
’’ہاں اماں! آپ منع کربھی نہیں سکتیں ‘ میں جاتی ہی کہاں ہوں۔‘‘
’’تجھ سے تو بس زبان درازی کروالو۔‘‘
’’اماں! جانے دیں نا…گھر سے کہاں نکلتی ہے یہ۔‘‘ سارہ کی بدولت اسے اجازت مل گئی تھی۔ تمام سوٹس وہ پہلے ہی پریس کرکے ہینگ کردیا کرتی تھی سو تیاری میں اسے دس منٹ سے زیادہ نہ لگے تھے‘ بال برش کرنے کے بعد فولڈ کرکے کیچر میں جکڑدیئے تھے‘ اس کے تیکھے نقوش خوبصورت تھے‘ شفاف جلد میں گلابیاں گھلی ہوئی تھیں۔اماں کی سختی کی وجہ سے کو ئی میک اپ کاسامان اس کے پاس نہ تھا‘ سوائے ایک لائٹ پنک کلر کی لپ اسٹک کے جو ہونٹوں پر لگ کر محسوس نہ ہوتی تھی۔ وہ اکلوتی لپ اسٹک اس نے ہونٹوں پر پھیری کانوں میں پہلے ہی سونے کے نازک سے ٹاپس تھے جو ہر وقت موجود رہتے تھے‘ وہ پرس لے کر چادر اوڑھتی ہوئی کمرے سے نکل کر بڑے کمرے میں آئی تو اماں نے تنقیدی نگاہ سے دیکھا تھاجبکہ سارہ کی نگاہ میں بڑا پیار وفخر تھا۔
’’ماشااللہ‘مجھ سے اور صوفیہ باجی سے بھی آگے نکل گئی ہو۔ روپ ورنگ میں بھی اور قدوقامت میں بھی۔‘‘ سارہ بلوسوٹ میں اس کے مہکتے وجود کو پیار سے دیکھتی ہوئی بولی۔
’’ہونہہ‘ لمبی اونٹ جیسی ہوگئی ہے عقل ٹخنوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔چل جاکر اپنے ابا کو کہہ وہ چھوڑ کر آئیں گے تجھے۔‘‘
’’میں ابا کے ساتھ نہیں جائوں گی‘ رات میں انہیں دھندلا دکھائی دیتا ہے۔‘‘
’’پھر کس کے ساتھ جائوگی؟‘‘
’’بھائی کے ساتھ وہ آتے ہوں گے۔‘‘
’’مگر وہ شہرین کو لے کر جائے گا۔‘‘
’’اگر آج بھابی نہیں جائیں گی تو قیامت نہیں آئے گی۔‘‘
’’اگر قیامت کوآناہی ہے تو تیری زبان پر کیوں نہیں آجاتی جو بے مصرف چلتی ہے۔ کچھ بھی کہہ لو‘ کچھ بھی سمجھا لو مگر اس لڑکی کی سمجھ میں نہیں آتا ہے۔‘‘ فریدہ جو پہلے ہی شوہر کی طرف سے پریشان تھیں ایسے میں ا یرج کی ضد نے انہیں سیخ پاکردیاتھا۔
’’آپی! اماں اسی طرح بات بے بات میری انسلٹ کرتی ہیں۔‘‘ ا یرج ۔گلوگیر انداز میں سارہ سے مخاطب ہوئی۔
’’اماں! آپ کے سمجھانے کا طریقہ غلط ہے۔ ایسی باتیں پیار محبت سے سمجھائی جاتی ہیں اور ایرج‘ تم بھی بچپنا چھوڑو‘ عقل کو استعمال کرنا شروع کرو۔ آنکھیں کھول کر اپنے اردگرد دیکھواور سیکھو کہ لوگ کس طرح رہ رہے ہیں۔ اس دور میں سچ بھی بہت محتاط طریقے سے بولا جاتا ہے۔‘‘
’’السلام علیکم! کیا باتیں ہو رہی ہیں؟‘‘ اسی وقت توقیر نے اندر آتے ہوئے کہا۔ ایرج منہ پھلائے ان کے قریب پہنچ گئی۔
’’بھائی! مجھے مائرہ کے ہاں جانا ہے اماں منع کررہی ہیں۔‘‘
’’میں منع نہیں کررہی ‘ کہہ رہی ہوں اپنے ابا کے ساتھ چلی جا۔‘‘ فریدہ اسے گھورتے ہوئے بیٹے سے مخاطب ہوئیں۔
’’ابااس ٹائم کہاں جائیں گے۔ میں چھوڑ آتا ہوں۔‘‘
’’بہوکومیکے جانا ہے‘ وہ تیار بیٹھی ہے تم اس کو لے جائو۔‘‘
’’بھابی تو روز میکے جاتی ہیں خصوصاً ان دنوں ان کو امی کی یاد بہت آتی ہیں جب ہمارے ہاں آپی یااپیا آتی ہیں تاکہ کام نہ …‘‘
’’ایرج… ایرج‘ زبان بند کرلے ورنہ …‘‘ فریدہ کا بس چلتاتووہ اس کی زبان کاٹ ڈالتیں۔
’’اماں!کیوں ڈانٹتی رہتی ہیں‘ رہنے دیں بچی ہے ابھی۔‘‘ توقیر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان سے مخاطب ہوا۔
’’بچی ہے ابھی۔ بچی ہے ابھی کہہ کہہ کر تم لوگوں نے اسے بگاڑ کررکھ دیا ہے۔ کل کلاں سسرال جائے گی تو ناک کٹوائے گی ہماری۔ گھرداری کا ذرا بھی شوق نہیں ہے‘ بس فرفرزبان چلتی ہے۔‘‘ اماں کو اس کی زبان سے ازلی بیر تھا وہ بھائی کے کاندھے پرسررکھ کررونے لگی۔ فریدہ کو مزیدپتنگے لگ گئے وہ تلملا کرگویا ہوئیں۔
’’ساری زندگی میں صرف یہی سیکھا ہے زبان چلانا اور آنسو بہانا۔‘‘
’’اماں! اب چھوڑیں بھی۔‘‘ سارہ کو بہن پر ترس آیاتھا۔
’’چلو منہ دھوئوجاکر‘ میں آرہا ہوں کپڑے چینج کرکے کم آن ہری اپ۔‘‘ توقیر اس کا سر تھپتھپا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
’’ہوگئیں خوش‘ بچے کو ذرا سکھ کا سانس نہ لینے دیا گھر میں گھستے ہی حکم صادر کردیا ملکہ نے۔‘‘ اماں بڑبڑائیں۔
’’ایرج! منہ دھو کر آئو۔ بھائی آرہے ہوں گے۔‘‘ اسے جواب دینے کے لیے منہ کھولتے دیکھ کر سارہ نے جلدی سے ٹوکا تھا۔ وہ رومال سے چہرہ صاف کرتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی‘ منہ دھو کر چہرہ صاف کیا سینڈل پہنتے وقت نگاہ پڑی تو معلوم ہوا ایک سینڈل کا کلپ غائب ہے۔ اس طرح وہ سینڈل بری لگ رہی تھی اس میچنگ میں دوسری سینڈل تھی بھی نہیں‘ اسے یاد آیا اس کلر کی سینڈل بھابی کے پاس ہے جس میں جڑے وہائٹ نگینے اس کی شرٹ میں لگی لیس کے نگوں سے میچ کرتے ہیں۔ وہ ان کے کمرے میں چلی آئی جہاں وہ پہلے سے پھولے ہوئے چہرے کو مزید پھلا کربیٹھی ہوئی تھیں اور بگڑے تیور مطلع کررہے تھے کہ چند لمحے قبل یہاں موسم خاصا گرم رہا ہے جس کی شدت وحدت بھابی کے رویے میں موجود تھی۔
’’بھابی جان! آپ اپنی بلووالی سینڈل دیجئے گا جس میں وہائٹ نگینے جڑے ہیں‘ میری سینڈل ٹوٹ گئی ہے۔ ‘‘ اس کے لہجے میں شیرینی تھی۔
’’یہ تمہیں اچانک کیسے مائرہ کی یاد آگئی، دوپہر تک تو تمہارا کوئی ارادہ نہ تھا۔‘‘ وہ اس کی بات اگنور کرکے طنزیہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’بھابی جان! یاد اور ’’بیماری‘‘ کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، بن بلائے کبھی بھی آسکتی ہیں۔‘‘ اس نے بھی مسکراتے ہوئے طنزکاجواب طنز سے دیا۔
’’مائرہ کے ہاں کوئی فنگشن ہے؟‘‘ ان کاموڈ مزید بگڑ گیاتھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’پھر کوئی سی بھی سینڈل پہن جائو بھری پڑی ہیں تمہارے پاس ۔ ضروری تھوڑی ہے فضول باتیں کرنے جائو بھی تو میچنگ ضروری ہے۔ وہ سینڈل میری جہیز کی ہے‘ ۱۵ سو میں خریدی تھی رابی سینٹر سے ٹوٹ گئی توبیکار ہوجائے گی۔ کوئی فنگشن ہوتاتو دے دیتی۔‘‘
و ہ اپنے مخصوص دل جلانے والے انداز میں کہنے کے ساتھ ساتھ باتھ روم کی جانب بھی دیکھتی جارہی تھیں جہاں سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ ایرج نے جواباً کچھ نہ کہااور باہر نکل آئی اماں کووہ بڑے آرام سے جواب دے دیا کرتی تھی اور ان کوبہت کم۔
’’ہونہہ‘ آج کل کی بے غیرت لڑکیوں سے صرف لڑکوں کی باتیں کروالو۔ شادی کااتنا شوق ہے ‘ ایسی باتوں کے لیے موقع کی تلاش میں رہتی ہیں جہاں موقع ملے اور سرجوڑ کربیٹھیں‘بے حیائی کی باتیں کرنے کے لیے ۔‘‘بھابی کمرے سے نکل کر گیلری میں آگئی تھیں اوران کی اونچی بڑبڑاہٹ بخوبی اس کی سماعت تک پہنچ رہی تھی۔ اس کے خون کے اندر طوفان سامچلنے لگا تھا۔ دل تو چاہ رہاتھا اس مڈل کلاس فیل عورت کی جاہلانہ طبیعت لمحے بھر میں درست کردے مگر اماں کے خیال نے اسے باز رکھا۔
’’ایرج! چلوبیٹا۔‘‘توقیر اس کے پیروں کے پاس سینڈل رکھتے ہوئے گویا ہوئے۔ ایرج نے دیکھا یہ وہی سینڈل تھی جسے دینے سے بھابی نے انکا کردیاتھا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دیکھا‘ ان کی مسکراہٹ میں ایک شرمندگی‘ ایک اضمحلال ساتھا۔ بھابی کی جانب سے کی گئی ہرزیادتی پر ان کی طرف سے ایساہی ردعمل ہوتاتھا۔
’’بھائی! یہ آپ کیوں لے آئے بہت قیمتی ہے یہ کسی فنگشن میں اچھی لگتی ہے میں تو…‘‘
’’کتنی بھی قیمتی کیوں نہ ہو‘ میری بہن سے زیادہ قیمتی نہیں ہوسکتی۔‘‘ ان کے ازحد اصرار پر اسے وہ جبراً پہننی پڑی تھی مگر بھابی کی لغو بکواس نے اسے بری طرح پژمردہ کرڈالا تھا۔
لڑکے… اور لڑکوں کی باتیں!
شادی کا شوق اور شادی کی باتیں !
اس کے اندر بار بار کوئی انہی لفظوں کے کوڑے برسارہاتھا۔ بھابی سے اسے پرخاش ضرور تھی مگر آج پہلی بار نفرت وغیریت محسوس ہوئی تھی۔ خنجر کے وار سے ز یادہ زبان کے وار گھائل کرتے ہیں۔
اسی سال وہ بی ایس سی کے ایگزام دے کرفارغ ہوئی تھی۔ تعلیمی مراحل کے دوران اور نہ محلے میں ہی اس کانام کسی لڑکے کے ساتھ آیا تھا کہ اس کی پرورش اماں جیسی سخت گیر وزمانہ شناس عورت نے کی تھی اور آزادی دیتے وقت اس کی حد بھی سمجھا دی تھی پھر بھائیوں‘ بہنوں اور ابا سے اتنی محبت ملی تھی کہ مزید کسی محبت کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تھی۔
خوش نصیبی سے فرینڈز بھی ا یسی ملی تھیں جو اعلیٰ اخلاق و شفاف ذہنوں کی مالک تھیں۔ ان کے درمیان کبھی بھی کسی لڑکے کا ذکر نہ آیا تھا۔ ان کی اپنی باتیں ہی اس قدر ہوتی تھیں کہ کسی اور کی گنجائش نہ تھی۔ مائرہ کے ہاں بھی وہ زیادہ دیر نہ ٹھہرسکی تھی۔
واپسی میں وہ بڑے آرام سے اندر داخل ہوئی تو سامنے بھابی بیٹھی چلغوزے چھیل کر کھارہی تھیں۔ ایرج پر قہر بھری نگاہ ڈال کر دوسری نگاہ انہوں نے اس کے پائوں پر ڈالی۔ اس کے گلابی گلابی پائوں بلوسینڈل میں جاذب نظر لگ رہے تھے۔ پھر نہ معلوم انہوں نے کس انداز میں اسے گھورا تھا کہ وہ اچانک پائوں مڑجانے کی وجہ سے لڑکھڑا کر گری تھی‘ سینڈل کا اوپر کا خول اس کے پائوں میں رہ گیااور نیچے کا سول دورجاگرا۔ ایک ساتھ دوچیخیں ابھری تھیں۔
ایرج کی تکلیف سے چیخ نکلی تھی۔ بھابی کی اپنی ٹوٹی سینڈل دیکھ کر۔ توقیر جواسے لانے کے بعد بائیک اسٹینڈ کررہے تھے وہ بھاگ کر اندر آئے تھے اور برق رفتاری سے اسے اٹھایاتھا جو دہلیز پر پڑی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اماں اور سارہ گھبرا کر وہاں آئی تھیں۔
’’کچھ نہیں ‘ ایرج کاپائوں مڑگیا ہے۔‘‘ وہ اسے اٹھا کر اس کے کمرے میں لے آئے تھے۔ پیچھے پیچھے اماں اور سارہ آئیں تو مجبوراً بھابی کو بھی آنا پڑااور اس شدید تکلیف میں بھی اس نے محسوس کیا بھابی صبروبرداشت کی آخری حدوں سے گزررہی ہیں۔
’’ضرورت کیا پڑگئی تھی سینڈل پہننے کی‘ نہ معلوم کیا شوق ہے یہ پہاڑ پیروں میں پہننے کا۔‘‘ اماں پریشانی سے اس کے قریب بیٹھ گئی تھیں۔ سارہ بھی ا س کاہاتھ اپنے ہاتھ میں دبائے فکرمند سی بیٹھی تھی۔ بھائی نے سینڈل اتار کر اس انداز میں دور پھینکے گویا وہ سینڈل نہ ہوں کوئی زہریلے سانپ ہوں۔ بھابی منہ بنائے کھڑی تھیں اور یقینا دل ہی دل میں اسے تمام گالیوں اور کوسنوں سے نواز رہی ہو گی۔ پہلے بھی کئی بار انجانے میں وہ ان کی نیل پالش‘ پرفیوم اور چوڑیاں شہید کرچکی تھی۔ حالانکہ وہ سب اتفاقاً ہی ہوتاتھا۔ بھابی اس وقت سب کی نگاہ میں اچھی بننے کے لیے اسے کچھ نہ کہتی تھیں مگر تنہائی میں موقع ملتے ہی مبہم انداز میں وہ دل کی بھڑاس نکالا کرتی تھیں۔
’’شکر ہے پائوں صرف مڑا ہے دو تین دن میں ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ توقیر وکس لگانے کے بعد گرم پٹی باندھتے ہوئے طمانیت بھرے لہجے میں گویا ہوئے۔
’’سوری بھابی! آپ کی سینڈل ٹوٹ…‘‘
’’دفع کرو سینڈل کو‘شکر کرو سینڈل ٹوٹ گئی اور ہڈی بچ گئی۔ سینڈل ہزاروں مل جائیں گی۔‘‘ توقیر نے اس کی بات قطع کرکے محبت بھرے لہجے میں کہااور اتنی تکلیف میںنہ چاہتے ہوئے بھی وہ ہنس پڑی تھی۔ بھابی کی شکل دیکھنے والی تھی۔
اس سے سرد جنگ کا آغاز بھابی نے خود ہی کیا تھا ورنہ وہ بڑی بھابی کی طرح ہی ان کی عزت کرتی تھی اور چاہتی تھی۔ سارہ اور صوفیہ کی شادی ہوچکی تھی توقیر کی شادی کے بعد تنویر بھائی نے بھابی اور بچوں کو مسقط بلوالیاتھا کیونکہ فرم کی جانب سے انہیں وہاں رہائش مل چکی تھی وہ عمر کے فرق کے باوجود بڑی بھابی سے کافی فری تھی۔ وہ بہت اچھی عادات واخلاق کی مالک تھیں ۔ کبھی بھی انہوں نے اس گھر کو سسرال نہ سمجھاتھااپنے والدین وبہن بھائی کی طرح ان کا خیال رکھاتھا۔
توقیر کی شادی کے چند ہفتوں بعد وہ چلی گئی تھیں۔وہ بہت دنوں تک انہیں یاد کرکے روتی رہی تھی۔ ان کی کمی محسوس کرتی رہی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کا ذہن ان سے دوری کا عادی ہوتاگیاتو اس کی توجہ ازخود ہی شہرین بھابی کی جانب مبذول ہونے لگی اور بہت جلد اسے احساس ہوا بھابی تو اب اس گھر میں آئی ہیں۔ وہ کسی کو لفٹ دینے کی عادی تھیں نہ کسی کو اہمیت د ینا جانتی تھیں۔ دوسروں میں نقص نکالنااور بے جاتنقید کرناان کامحبوب مشغلہ تھااور وہ جو ابا اور بھائی کی لاڈلی وچہیتی تھی اس کا لاڈ پیار انہیں ایک آنکھ نہ بھاتا۔
انہیں دنیا بھر کی خامی اس کی ذات میں نظر آنے لگی تھی ۔ اصل شامت توقیر بھائی کی آئی تھی جو نہ بھابی کی پوری طرح طرفداری کرپاتے اور نہ گھر والوں سے قطع تعلق کرسکتے تھے۔ وہ دھیمے مزاج کے شفیق ومحبت کرنے والے انسان تھے۔ ایرج سے انہیں دلی لگائو تھا۔ وہ اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس کی ہر فرمائش وخواہش پوری کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ بیوی کے تیور ومزاج سے آشنائی انہیں بھی بہت جلد ہوگئی تھی مگر شرافت وتحمل سے برداشت کررہے تھے۔ کئی بار دبے لفظوں میں انہیں سمجھانے کی سعی کی مگر انہیں اپنی روش پرقائم دیکھ کر صبر کرگئے اور ایرج کاپہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگے جس سے بھابی نے چڑ کر اس کے خلاف سرد جنگ شروع کردی تھی۔ وہ بھی پوری طرح مقابلہ کررہی تھی۔ ان کی بحث میں انہیں جلانے کے لیے ہر وہ کام کرتی جس سے انہیں چڑ تھی۔
ابااور تایا کی خفیہ مشاورت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاتھا۔اسی حساب سے اماں کی ٹینشن بڑھ رہی تھی اور اماں ‘ابا کے تعلقات میں کشیدگی بھی۔ سارہ اور صوفیہ بھی اس ملاپ سے ناخوش تھیں۔ وہ آتیں اور ماں کے ساتھ کھسرپھسر کرتی رہتی تھیں۔
’’ایرج! شہرین اپنے ماموں کے بیٹے کا رشتہ لائی ہے تمہارے لیے۔ لڑکا دبئی میں کام کرتا ہے آجکل یہاں آیا ہوا ہے شادی کی غرض سے۔‘‘اما ں نے بہت میٹھے لہجے میں نہ معلوم اسے اطلاع دی یا رائے لی تھی۔
’’مجھ سے جان چھڑانے کا نیااور خطرناک پلان ۔‘‘ اس کے دل نے سرگوشی کی۔
’’کتنی اچھی ہے شہرین جو تمہاری بھلائی کا سوچتی ہے۔ ایک تم ہو جو اس سے بدگمان رہتی ہو۔ اگر وہ تم سے بغض رکھتی تو ایسے کمائو‘ ہونہار لڑکے کا رشتہ نہ لاتی۔‘‘اماں نے پھربھابی کی سائیڈ لی تھی۔
’’بھابی کے ماموں کابیٹا…؟ ہونہہ ان کے ماموں اور مامی اتنے کالے ہیں تو ان کی اولاد کتنی کالی ہوگی‘ سوچا ہے آپ نے ؟‘‘
’’لودماغ پھر گیا ہے لڑکی کا۔‘‘اماں ہنسی تھیں۔’’ہمیں ان کی کالی رنگت سے کیالینا‘لڑکے کی کمائی اور کردار دیکھا جاتا ہے بیٹی۔ جب جیب میں مال ہوتا ہے تو کالی چمڑی بھی گوری ہوجاتی ہے۔ پھر اس دور میں ا یسی کریمیں اورلوشنز چل گئے ہیں جو راتوں رات رنگ گورا کردیتے ہیں‘ سنا ہے لڑکا خوبصورت ہے۔‘‘ اماں نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔
’’مجھے نہیں کرنی شادی ‘وادی ‘میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ منہ بنا کر بڑبڑائی تھی۔
’’اچھا…تم انکار کروگی اور ہم مان جائیں گے؟ اس بھول میں مت رہنا۔ آج کل میں وہ لڑکا یہاں آنے والا ہے تمیز سے رہنا۔‘‘
اماں اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چلی گئیں اور وہ بھابی کی ہوشیاری پر پیچ وتاب کھانے لگی جنہوںنے ایک تیر سے کئی نشانے لگائے تھے۔
اول… بہت آسانی سے وہ اس سے چھٹکارا پالیتیں۔دوئم…تاحیات اماں‘ ابااور بھائی کے آگے سربلند رہتیں۔سوئم… اس کی زندگی جہنم بنانے کی جو قسم انہوں نے کھائی تھی‘ بہت سہل انداز میں وہ اپنے ماموں‘ مامی اور ان کے بیٹے کو سیکھا کر اسے جیتے جی واصل جہنم کرتیں اور خود موج مناتیں۔
’’دیکھتی ہوں‘ کس طرح وہ ’’ماموں زاد‘‘ یہاں آکر ٹھہرتاہے۔ ایک گھنٹے میں ہی چھٹی کا دودھ یاددلا کر بھاگنے پرمجبور نہ کردوں تو ایرج نام نہیں ہے۔‘‘ اس نے غصے سے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا۔
ایک ہفتے بعد ہی اسے اپنی حسرتیں پوری کرنے کا موقع مل گیا۔
اس دن گھرپر کوئی نہ تھا۔ کال بیل پر اس نے گیٹ کھولا تو سامنے کھڑے سوٹڈ بوٹڈ دراز قدووجیہہ صورت اجنبی بندے کو کھڑا دیکھ کر ایسی بوکھلائی کہ کچھ کہہ نہ سکی۔
’’جی… یہ توفیق انکل کا گھر ہے؟‘‘ اسے خاموش دیکھ کروہ شخص بھاری وپروقار لہجے میں پوچھنے لگا اور وہ فوراً ہی الرٹ ہوگئی۔
’’پڑھنا نہیں آتا آپ کو یا آپ کی نظریں کمزور ہیں؟‘‘ اس شخص کی تمام وجاہت ووقار اس خیال نے محو کردیا کہ وہ بھابی کاماموں زاد تھا۔
’’جی ؟‘‘ اجنبی نے چونک کر حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
’’شاید آپ کو انگلش پڑھنی نہیں آتی تب ہی ابا کا نام آپ پلیٹ پر پڑھنے کی بجائے مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔‘‘ اس کاانداز سوفیصدی توہین آمیز تھا۔ نتیجتاً اجنبی کے وجیہہ چہرے پر غصہ ودرشتگی جھلکنے لگی تھی۔
’’مس! پڑھنے کے باوجود کنفرمیشن ضروری ہوتی ہے اگر میں نام پڑھ کر انفارم کئے بنا اندرچلاآتاتو آپ کاکیا ری ایکشن ہوتا؟‘‘
’’ری ایکشن؟ پھر صرف ایکشن ہی ایکشن ہوتا میرا‘ طبیعت صاف ہوجاتی اور نیت بھی۔‘‘
’’مائینڈ یورلینگویج۔آپ کو مینرز نہیں ہیں کسی سے بات کرنے کے؟‘‘ وہ اجنبی اس بار پوری طرح غصے میں آچکاتھا۔
’’میں بندہ دیکھ کر بات کرتی ہوں مسٹر! تم کیا سمجھتے ہو دبئی سے نمبر دو پیسہ کما کر یہاں آکر ہم پر دھونس جمائوگے؟‘‘
’’اوہ شٹ ‘ یوآرمیڈ! ٹوٹلی میڈ!‘‘ اس شخص کی آنکھوں سے شعلے سے نکلنے لگے تھے۔ سفید رنگت میں آگ دھک اٹھی تھی۔ وہ غصے سے سرخ چہرہ لیے وہاں سے چلا گیا۔ چند سیکنڈ بعد کار کے جانے کی آواز آئی تھی۔
’’ہرا‘ خس کم جہاں پاک۔‘‘ اپنی کامیابی کی خوشی میں وہ جھومنے لگی تھی۔ اپنی بے پایاں مسرت کے جنون میں وہ اس اجنبی کے ہاتھ سے گرا وزیٹنگ کارڈ د یکھنا بھول گئی تھی جو ہوا سے اندر آگراتھا۔
’’بیٹا! کوئی آیا تو نہیں تھا؟‘‘ ابا جو ایک گھنٹے سے بے چین سے تھے اس سے مخاطب ہوئے جو ان کے لیے چائے لائی تھی۔
’’نہیں … تو ابا!‘‘ ان کو کپ دیتے ہوئے لمحے بھر کو اس کے ہاتھ کانپے۔
’’حیرت ہے وہ تو وقت کابڑا پابند ہے۔ میں سمجھا مجھے دیر ہوگئی ہے۔‘‘ ابا پریشانی سے بڑبڑائے۔
’’کون وقت کا بڑا پابند ہے؟ کس کو آنا تھا؟‘‘ اماں متجسس سی گویا ہوئیں۔
’’شاید وہ آکر بھی چلا گیا ہے‘ عمر کی بات کررہے ہیں آپ۔ یہ اس کا وزیٹنگ کارڈ مین گیٹ کے پاس پڑا تھا۔‘‘ توقیر نے سنہری کلر کا کارڈ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جو ابھی باہر سے آرہا تھا۔
’’ہاں…ہاں بھئی! یہ کیسی نامناسب بات ہوئی ہے وہ آیا اور باہر سے ہی چلا گیا جبکہ میں نے خود اصرار سے بلایا تھا اسے۔‘‘ ابا کارڈ دیکھتے ہوئے بے حد تاسف بھرے ا نداز میں گویا ہوئے۔
’’کسی بہت اچھے دوست کابیٹا ہوگا جو آپ کو اتنا دکھ ہو رہا ہے۔ دراصل بہو میکے گئی ہوئی ہے‘ میں مارکیٹ گئی تھی گھر میں ا یرج تنہا تھی یہ پڑ کر سوگئی ہوگی‘ یہ تو ویسے بھی مردوں سے شرط لگا کر سونے کی عادت ہے۔ وہ غریب گھنٹی بجا بجا کر یہ کارڈ ڈال کر چلا گیا تاکہ اس کی آمد کا ثبوت رہے۔‘‘ اماں نے حسب عادت اسے جھاڑنے کا موقع ضائع نہ کیا مگر اس وقت وہ اماں کی بات کا برا نہ مان سکی تھی کہ اس کا ذہن تو ابا کی طرف الجھا ہوا تھا۔
’’دوست کانہیں بھائی شفیق کابیٹا ہے عمر دراز‘ اکلوتا بیٹا‘ بھول گئیں؟‘‘
’’عمر دراز؟‘‘ اماں کے انداز میں بدحواسی تھی۔ گھڑوں پانی ندامت کا اس پر بھی پڑگیا۔ اپنا کہا گیا ایک ایک لفظ کانوں میں گونجنے لگا۔
’’اس کا اس گھر میں کیا کام؟ وہ کیوں آیا یہاں؟‘‘ اماں کسی نڈرلڑاکا سپہ سالار کی مانند ابا کے روبرو سوال کررہی تھیں۔
’’یہ گھر تمہارے باپ کانہیں ہے میرا ہے اور میں جس کوچاہوں بلائوں گا۔ تم میں دم ہے تو روک کر دکھائو؟‘‘ اماں کے آگے بھیگی بلی بنے رہنے والے ابا ایک دم ہی شیر ‘بلکہ ببرشیربن گئے تھے اور گھر میں جنگل ساہی ہنگامہ رہنے لگا تھا۔
’’دال میں کالا تو مجھے بہت پہلے سے دکھ رہاتھا۔‘‘
’’دال اور کھچڑی…تمہاری اوقات یہی ہے بس۔‘‘
’’ابا…! اماں! کیا ہوگیا ہے آپ لوگوں کو؟ ہم نے کبھی آپ کو ایک دوسرے سے تیز آواز میں بات کرتے نہ دیکھااور اب …‘‘
’’ایرج! اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ اسے خاموش اور گم صم دیکھ کر بھائی اس سے مخاطب ہوئے وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آکربیڈ پر اوندھے منہ گرگئی تھی‘ کچھ دیر قبل وہ اپنے کارنامے پر جتنی مسرور اور مطمئن تھی کہ اس کی بدتمیزی دیکھ کر بھابی کا ماموں زاد پلٹ کر نہ آئے گا۔ اب حقیقت معلوم ہونے کے بعد کہ وہ بھابی کاماموں زاد نہیں اس کا تایا زاد تھااور پہلی دفعہ ابا کے بلانے پر آیا تھااوراس نے کس شاندار طریقے سے ا سکا استقبال کیا تھا۔
’’درست کہتی ہیں اماں! میں صرف زبان چلانا جانتی ہوں‘ عقل استعمال کرنا نہیں‘ اگر اس وقت میں یہ سوچ لیتی کہ بھابی کی غیر موجودگی میں ان کا کزن کیوں آئے گا؟‘‘
وہ سوچ سوچ کر شرمندگی کے ساگر میں ڈوبتی جارہی تھی۔

عمر باپ کے سامنے مودب سرجھکائے بیٹھا تھا۔ قریب ہی صاعقہ بیگم بھی براجمان تھیں۔ ان کے چہرے پر گہرے تفکروتجسس کے تاثرات تھے‘ وہ کن انکھیوں سے کبھی بیٹے کی طرف دیکھتیں جو اردگرد سے بیگانہ بنا بیٹھا تھا کبھی اپنے شوہر نامدار شفیق صاحب کی طر ف جو دنیا بھر کی سختی چہرے پر سجائے کچھ کہنے کے لیے لفظوں کے چنائو میں مصروف تھے۔
’’ارے کچھ بولیں گے بھی یایوں ہی خاموشی کی سزا دیں گے؟ حد ہوگئی اتنی دیر خاموش بیٹھے بیٹھے دل گھبراگیا۔ آپ کی خاموشی ہے کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی‘ ایسی منحوس خاموشی کسی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہوتی ہے‘ میرا دل ہول رہا ہے کچھ کہیں تو سہی۔‘‘
صاعقہ مزید اس سسپنس کو برداشت نہ کرسکیں اور ایک دم گویا ہوئیں۔
’’میں نے عمر کی شادی کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘شفیق صاحب کے لہجے میں سختی تھی ‘ وہ ایک نگاہ عمر کے جھکے سر پر ڈالتے ہوئے ان سے مخاطب ہوئے۔
’’اوہ…یہ تو اچھی بات ہے اور آپ ایسے سوچ رہے ہیں جیسے کشمیر کا فیصلہ آپ کوہی کرنا ہے یاعراق میں امن وامان قائم کرنے کی ذمے داری آپ کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہو۔ یہ ہمارے اکلوتے لاڈلے بیٹے کی زندگی کا فیصلہ ہے جو خوشی خوشی کرنا ہے۔‘‘ وہ چہک کر کہنے لگیں۔
’’میں نے تو خؤشی خوشی ہی فیصلہ کیا ہے‘ اب دیکھنا یہ ہے تم کتنی خوشی کا اظہار کرتی ہو‘ اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کی خوشیوں کا۔‘‘شفیق صاحب کے طنزیہ لہجے میں ایسی کوئی بات ضرور تھی جس نے ان کی چھٹی حس کو بیدار کردیاتھا۔
’’یہ کیسے سیاسی لیڈروں کی طرح بات کرنے لگے ہیں آپ؟ بیٹے کی شادی کی خوشی ماں سے زیادہ کسی کو ہوسکتی؟‘‘
’’ہوں‘ یہ کیسی بات ہے خوشی بھی ماں کو ہوتی ہے اور بہو سے زیادہ جھگڑتی بھی ماں ہی ہے‘ یعنی زیادہ خوشی ‘زیادہ لڑنا جھگڑنا ماں ہی کرسکتی ہے۔‘‘
’’کیا ہوگیاہے آپ کو؟ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں؟ بہو گھر آئی بھی نہیں اور آپ نے جھگڑے بھی شروع کروادیئے۔لڑکی کہاں ہے؟ دیکھی ہے آپ نے؟ جو شادی کی بات کررہے ہیں؟‘‘
’’عمر بیٹے!آپ بتائوگے یامیں بتائوں لڑکی کے بارے میں؟‘‘ وہ عمر کی جانب دیکھ کرمسکراتے لہجے میں گویاہوئے۔
’’میں کیا بتائوں پاپا! آپ خود ہی بتائیں۔‘‘ اس نے ایک نگاہ ان پر ڈال کر آہستگی سے کہاتھا۔
’’ہیں! یہ کیا باتیں ہو رہی ہیں باپ بیٹے کے درمیان‘ کس لڑکی کی بات ہو رہی ہے؟ عمر! تم نے کس لڑکی کو دیکھااور مجھے بتایا تک نہیں ہے۔‘‘ وہ حواس باختہ سی عمر کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’اسے پریشان مت کرو بے صبر عورت! لڑکی عمر نے نہیں میں نے پسند کی ہے‘ عمر نے صرف میری خواہش کا احترام کیا ہے۔‘‘
’’کیسی خواہش؟ کیسااحترام؟ لڑکی کس کی ہے ؟‘‘
’’توفیق کی بیٹی ‘میرے بھائی کی بیٹی‘ بہو بنے گی میری۔‘‘ شفیق صاحب کے لہجے میں فخروانبساط امڈ آیا تھا۔ توفیق کانام سنتے ہی صاعقہ اس طرح اچھل کر صوفے سے کھڑی ہوئیں گویا یکلخت اس میں کانٹے نکل آئے ہوں۔ ماں کو اس طرح کھڑے ہوتے دیکھ کر عمر بھی کھڑا ہواتھا۔
’’کیا…کیا…کیا کہا آپ نے …توفیق کی بیٹی‘ ایرج؟‘‘
’’شکر تمہیں نام تو یاد ہے‘ ہاں… وہی ایرج۔‘‘ شفیق صاحب کے لہجے میں طمانیت تھی اور چہرے پر ان کو جلانے والا تبسم۔
’’ارے یہ آپ نے کیا کردیا؟ عمر تم نے بھی ماں کا خیال نہ کیا؟‘‘ وہ کھڑے کھڑے واویلا کرنے لگیں۔
’’جس عورت نے جادو سے دوحصوں میں ہمیں بانٹ دیا‘ بھائی سے بھائی کو برسوں جدا رکھا‘ غم وخوشی میں کوئی واسطہ نہ رکھا‘ اس ماں کی بیٹی اس گھر میں آکر کیا ظلم نہ ڈھائے گی۔‘‘ وہ زوروشور سے رونے لگیں‘ عمر پریشان سا ماں کی طرف بڑھا تھا۔
’’عمر! جائو یہاں سے اس ڈرامے باز عورت کے ڈرامے پر یقین مت کرنا‘ ایسی اداکاری سے یہ ساری زندگی مجھے الوبناتی آئی ہے۔‘‘
’’لیکن پاپا!‘‘ وہ گومگوں کی کیفیت کا شکار ہوا۔
’’جائو۔‘‘ ان کاحکمیہ انداز دیکھ کر وہ چلا گیا۔
’’شفیق صاحب! کیا ہوگیا ہے آپ کو یہ کو ئی کھیل نہیں‘ میرے اکلوتے بیٹے کی زندگی کا سوال ہے۔ گھر ایک باربنتا ہے شادی روز روز نہیں ہوتی ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ میاں کو چٹان کی طرح اٹل دیکھ کر وہ رسانیت سے گویا ہوئیں۔
’’بہت سوچ سمجھ کر ہی میں نے او ر توفیق نے فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ان کے انداز میں کوئی لچک ونرمی نہ تھی۔
’’اچھا…تو اس لیے دونوں بھائیوں کی روز روز ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔ یہ سازش تیار ہو رہی تھی میرے خلاف…مگر…‘‘
’’میں کوئی بکواس سننا نہیں چاہتا۔فریدہ سے تمہیں شکایات ہیں مگر یہ یاد کرو‘ ہرزیادتی کی ابتدا تمہاری جانب سے ہوتی تھی۔‘‘
’’اوہ … ہو‘ یہ آپ نہیں‘ اس جادوگرنی کا جادو بول رہا ہے۔‘‘
’’بہتر یہی ہوگا کہ ماضی کے قصے کوماضی میں دفن رہنے دو۔بچیوں کو فون کرکے کہہ دو کہ کل عمر کے سسرال چلنا ہے شادی کی تاریخ لینے‘ دامادوں کو بھی کہہ دینا۔‘‘
اس وقت ان کے لہجے میں اس قدر سختی وقطعیت تھی کہ صاعقہ جیسی بحث ومباحثے کی شوقین ان کامنہ دیکھتی رہ گئی تھیں۔
ایک کال پر ان کی چاروں بیٹیاں مع بچوں وشوہروں کے موجود تھیں اور ماں سے زیادہ بدحواس وپریشان تھیں ۔ صاعقہ نے بیٹیوں کو دیکھتے ہی دل کی بھڑاس نکالنی شروع کردی تھی۔
’’امی! یہ سب ممکن کیسے ہوا‘ اتنے برسوں تک ہم نے کبھی پاپا کے منہ سے توفیق چچا کانام تک نہ سنا تھا آج اچانک اتنی بڑی خبر کہ ان کی بیٹی ہماری اکلوتی بھابی بننے والی ہیں‘ آخر یہ کایاپلٹ ہوئی کیسے؟‘‘ سب میں چھوٹی زوبیہ نے حیرانگی سے دریافت کیا۔
’’یہ اچانک نہیں ہوا بیٹی! رفتہ رفتہ بڑی سازش سے ہوا ہے۔‘‘وہ دانت پیستے ہوئے گویا تھیں۔ ’’تمہارے پاپا ایک عرصے سے ان سے مل رہے ہیں اس دوران اس جادوگرنی نے خوب تعویذ گھول گھول کر پلائے ہوں گے۔ ان کاموں میں وہ شروع سے ماہر ہے۔ بنادیا تمہارے باپ کو الو‘ اب وہ ہمارے دشمن ہوگئے‘ ان کے گن گارہے ہیں۔ اتنا بڑا فیصلہ کرکے ہمیں غیروں کی طرح اطلاع دی ہے۔‘‘ صاعقہ بیگم کی آہ وبکا کوقرارنہ تھا۔
’’امی! اس لڑکی نے گھر میں آنے سے پہلے ہی آپ کو اور ہمیں دودھ میں گری مکھیوں کی طرح نکلوادیا ہے توگھر میں آنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘
’’ثوبیہ باجی! پاپا تو پہلے ہی ان پر فدا ہوگئے ہیں‘ اگر بھائی بھی پاپا کے نقش قدم پر چل نکلے تو سوچو پھر کیاہوگا؟‘‘
’’ایرج بہت خوبصورت ہے ‘حسن کاجادوسر چڑھ کر بولتا ہے۔‘‘ سومیہ کی اطلاع پروہ چونک گئی تو زوبیہ نے استفسار کیا۔
’’آپی! آپ نے کہاں دیکھا اسے؟‘‘
’’کچھ دن پہلے د یکھاتھاخاندان کی ایک تقریب میں۔ مجھے معلوم نہ تھا یہ توفیق چچا کی بیٹی ہے‘ پہلی نظر میں وہ مجھے عمر کے لیے پسند آئی تھی‘ پھر معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ہمارے دشمنوں کی بیٹی ہے‘ اسی وقت میں نے اس کا خیال جھٹکا تھا مگر معلوم نہ تھاوہی عمر کے نصیب میں لکھی ہے۔‘‘
’’ارے میں کہتی ہوں ابھی بھی کچھ نہیں بگڑ اجاکر اپنے پاپا کا ذہن بدلنے کی کوشش تو کرو۔ ورنہ بڑا فساد ہوگا گھر میں۔‘‘
ماں کی پشت پناہی پر وہ باپ سے شکایتی انداز میں گویا ہو ئیں کہ انہوں نے یہ فیصلہ کرنے سے قبل ان سے اور دامادوں سے رائے نہ لی، اس بات پر ان کے گھروں میں بدمزگی پھیل سکتی ہے۔ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں تو بہتر ہے۔
’’میں نے صرف بات کی ہے کوئی بارات لے کر نہیں پہنچا ہوں۔ اس لیے آ پ میں سے کسی کو کو ئی شکایت نہیں ہونی چاہئے‘ اگر اس کے باوجود بھی کسی کو اعتراض ہے تووہ شوق سے گھر بیٹھ جائے اور یہ توقع نہ رکھے کہ میں اپنا فیصلہ بدلوں گا یااسے منانے آئوں گا۔‘‘ شفیق صاحب نے ازخود یہ بے لچک وٹھوس رویہ اپنایا تھا‘حالانکہ بیٹیوں کو سخت انداز میں جواب د یتے ہوئے لمحہ بھر کو اپنا انداز برا لگا تھا مگر دوسرے لمحے انہیں خیال آیا کہ پہلے ہی مرحلے پر انہوں نے ڈھیل چھوڑ دی تو ٹوٹے رشتے استوار ہونے کے بجائے بالکل ناپید ہوجائیں گے اور ایک عرصے کی محرومی وجدائی پھرسے برداشت کرنے کی ہمت نہ تھی۔ پاپا سے ناکامی کے بعد وہ عمر کے پاس پہنچ گئیں۔
’’میرے چاند سے بیٹے کی تقدیر کیسی مٹی میں ملا کے آگئے تمہارے پاپا۔‘‘ صاعقہ نڈھال سے انداز میں ان کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
عمر جو پہلے ہی پاپا کے فیصلے سے ازحد ذہنی انتشار کاشکار تھا پھر ماں کی ناپسندیدگی وبے بسی کے خیال نے اس کی ٹینشن کو مزید بڑھادیاتھا۔ وہ ذہنی ودماغی طور پر اس حد تک الجھ چکاتھا کہ وہ انہیں اپنے کمرے میں دیکھ کر ان کی پذیرائی کے لیے بھی نہ اٹھ سکا تھا۔
’’بھائی! آپ کی شادی پاپا‘ چچا کی بیٹی ایرج سے طے کرآئے ہیں۔‘‘ زوبیہ نے گلوگیر لہجے میں کہا۔
’’چچا؟ اونہہ‘ وہ اچھے انسان نہیں ہیں‘ اتنے عرصے تک پلٹ کر ہماری خبر نہ لی۔ اب بیٹی دینے کے لیے کس طرح پاپا کو گرویدہ کرلیاہے۔‘‘ ساریہ نے دنیا بھر کی نفرت لہجے میں سمو کر کہا۔
’’امی‘ ٹھیک تو کہتی ہیں چچی پکی جادوگرنی ہیں جو چاہتی ہیں وہ ہی ہوتا ہے‘پہلے انہوں نے امی سے لڑجھگڑ کر گھر سے نکالاتاکہ خود تنہا وہاں راج کریں اور کیا بھی… اب بیٹی کو بھیج رہی ہیں تاکہ جو کسررہ گئی ہے وہ پوری کرسکے۔‘‘ سومیہ کاانداز سب سے الگ تھا۔
’’جب تک تمہاری چچی بیاہ کرنہ آئی تھی تو سسرال میں بڑی قدر بڑی چاہت تھی میری پھر جس دن سے سسرال کی دہلیز پار کی‘ میرا سکون وچین لٹ گیا‘ عزت وچاہت خاک ہوگئی‘ ساس‘ سسر‘ حتیٰ کہ تمہارے پاپا تک اس کے گیت گاتے ‘حمایت لیتے تھے‘ محلے کے لوگوں کو بھی اس نے اسیر کرلیا تھا ہر کوئی اس کے نام کی مالا جپتانظر آتاتھا۔صاعقہ ماضی کے دھندلکوں میں گم ہونے لگی تھیں۔صاعقہ فطرتاً بدلحاظ‘ کاہل وسست مزاج تھیں‘ نت نئے فیشن کرنااور گھومنا پھرنا ان کے پسندیدہ مشاغل تھے‘ گھرداری وتابعداری ‘خدمت گزاری سے وہ واقف نہ تھیں‘ سسرال آکر انہوں نے ایک دن بھی اچھی بہو ہونے کا ثبوت نہ دیا تھا۔ساس‘ سسر کی خدمت تو وہ کیا کرتیں بلکہ الٹا ساس کو ہی ان کا خیال رکھنا پڑتا تھااور انہیں اس کا احساس بھی نہ تھا‘ فریدہ ان کے آنگن میں دلہن بن کر آئی تو انہیں سکھ وآرام کے دن دیکھنے کوملے۔ خوب سیرت وخوبصورت فریدہ نے بہت جلد گھر والوں کو اپنا گرویدہ بنالیاتھا۔ وہ محنتی ‘ سگھڑ‘ سلیقہ شعار وخوش اخلاق تھی گھریلو امور کے علاوہ سلائی‘ کڑھائی اور بھی بے شمار ہنر کی مالک تھیں۔ ان کی ہنرمندی صاف وشفاف گھر کے ہر کونے سے نمایاں ہوتی تھی۔ ساس وسسر کے لبو ںپر ان کے لیے ہمہ وقت دعائیں رہتی تھیں۔
یہیں سے ان کے درمیان نفرت وبیگانگی کی دیوار بلند ہونا شروع ہوئی جو ہوتے ہوتے اتنی اونچی ہوگئی کہ تعلقات ٹوٹتے چلے گئے ۔ ساس‘سسر کے انتقال کے بعد بچوں کو بنیاد بنا کر ا یسی ایسی من گھڑت باتیں دونوں بھائیوں کے کانوں میں بھری گئیں کہ وہ ایک دوسرے سے متنفر ہوگئے۔
شفیق صاحب نے بھی سلسلہ وہیں سے جوڑا تھا جہاں سے منقطع ہواتھا۔ بچوں کی وجہ سے وہ علیحدہ ہوئے تھے بچو ں کے کارن ہی ایک ہونے والے تھے۔ صاعقہ عمر کی بھاری آواز سے چونک کر ماضی سے پلٹی تھیں ۔عمر دونوں چھوٹی بہنوں زوبیہ اور ثوبیہ کو دائیں بائیں بازوئوں میں لیے سمجھا رہا تھا۔
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا‘آپ تمام خدشات وخوف دل سے نکال دیں۔ یہاں ہمیشہ آپ کی مرضی چلی ہے اور آئندہ بھی وہی ہوگا جو آپ چاہیں گی۔‘‘ عمر نے مضبوط لہجے میں بہنوں کے ساتھ ماں کو بھی تسلی دی۔
’’بھیا! آپ منع کیو ں نہیں کردیتے پاپا کو؟ یہ زندگی آپ کی ہے اور آپ اسے اپنی مرضی سے گزارنے کاپوراپوراحق رکھتے ہیں آپ منع کردیں۔‘‘ زوبیہ لاڈ بھرے لہجے میں گویاتھی۔
’’نہیں کرسکتا‘یہی مجبوری ہے پاپا اس معاملے میں اس قدر ایموشنل ہیں کہ ان کی بات نہ مانی تو… میں ان کی ہیلتھ کی طرف سے کوئی رسک نہیں لے سکتا ‘ وہ ہارٹ پیشنٹ ہیں۔‘‘
’’اگر تم اس رشتے پر دل سے راضی نہیں ہو تو میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا‘ تم خود کوقربانی کا بکرا تصور کرو‘ اور ساری عمر نہ خودخوش رہو اور نہ آنے والی کو رہنے دو۔‘‘ شفیق صاحب ان کی باتیں سن کر اندر آتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوئے۔
’’اپنی ماں کی طرح تم بھی نہیں چاہتے کہ یہ ٹوٹے رشتے دوبارہ ایک ہوجائیں تو میں مجبور نہیں کروں گا‘ کیونکہ شادی عمر بھر کے ساتھ کانام ہے جہاں پرخلوص محبت واپنائیت کی فراوانی ہوتوگھر جنت بن جاتے ہیں۔ مجبوری وزبردستی سے رفاقتیں بوجھ بن جاتی ہیں۔‘‘
’’اوہ … سوری پاپا! میرامقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا میں …‘‘انہیں دیکھ کر بری طرح جھینپ گیا تھا جبکہ وہ گھبراگئی تھیں۔
’’فکرمند مت ہو‘مروں گانہیں میں تمہارے انکار سے۔‘‘وہ بدستور خفگی بھرے انداز میں کہہ رہے تھے عمر تڑپ کر ان کی طرف بڑھا۔
’’پاپا! میں نے تو ایسا نہیں چاہا ہے پلیز آپ کی خوشی سے بڑھ کر میری اور کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ آپ کی خواہش پرمیری ہر خواہش قربان ہے۔ مجھ سے آپ کو کبھی شکایت کاموقع نہیں ملے گا۔‘‘ وہ ان کا ہاتھ تھام کر تابعداری سے گویا ہوا۔

خلاف معمول وہ آج دن چڑھے تک سوتی رہی تھی اور اماں نے نہیں اٹھایا تھا اور نہ ہی بھابی نے سامان گرا گرا کر اس کی نیند خراب کرنے کی کوشش کی تھی‘ سارہ اور صوفیہ نے بھی بیدار کرنے کی جسارت نہ کرکے اسے حیران کرڈالا تھا۔ وہ بال سمیٹتی اٹیجڈ باتھ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’تم اٹھ گئیں حیرت ہے؟ میرا تو خیال تھا‘ صور پھونکے جانے سے ہی بیدار ہوگی۔‘‘ اس کو دیکھ کر صوفیہ باجی مسکراتی ہوئی گویا ہوئیں۔
’’دولہا بھائی کی حسین رفاقت نے بھی آپ پرکوئی اثرنہیں ڈالا اب بھی ا یسی خوفناک باتیں کررہی ہیں۔‘‘ وہ ان کے برابر میں بیٹھتی ہوئی مسکرا کر گویا ہوئی۔
’’ایرج! خالی چائے پینے مت بیٹھ جانا‘ میں تمہارے لیے انڈہ ہاف فرائی کرکے لار ہی ہوں۔‘‘ بھابی کے پیار بھرے انداز پر اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ کرکانوں سے جالگی تھیں۔
’’یااللہ! یہ آج سورج غلط سمت سے نکل گیا یا بھابی کی یادداشت چلی گئی ہے؟‘‘ مارے تعجب کے وہ تیز آواز میں کہہ اٹھی تھی۔
’’جو دل چاہے کہو‘ میں برا نہیں مانوں گی کہ آج بے حد خوش ہوں۔‘‘ بھابی کی سماعتیں ہمیشہ کی طرح اس کے اردگرد پھیلی ہوئی تھیں۔
’’خوشی میں آپ اتنی اچھی ہوجاتی ہیں تو میری دعا ہے آپ کی یہ خوشی کبھی ختم نہ ہو۔‘‘ ا یرج ہنس کر بولی۔
’’بے فکر رہو میری یہ خوشی کبھی ختم ہوگی بھی نہیں۔‘‘ بھابی کے معنی خیز انداز میں عجیب طنز تھا وہ شانے اچکا کر صوفیہ سے مخاطب ہوئی۔
’’بجیا! آپ کیا وزیر پید اوارلگ گئی ہیں؟ ملک کی تیزی سے بڑھتی آبادی پرآپ کو ترس نہیں آتا…یا آپ نے کوئی منت مانی ہوئی ہے ہرسال آبادی میں اضافہ کرنے کی۔ ہمارے ملک کو صنعتی‘ زرعی ترقیاتی پیداوار کی ضرورت ہے مگر آپ کے یہاں والی پیداوار نے بے چارے منصوبہ بندی والوں کے سارے پروگرام مٹی میں ملادیئے ہیں۔ رحم کیجئے۔‘‘ وہ ان کی طرف دیکھتی ہوئی شرارت سے بولی تووہ جھینپتی ہوئی اپنے گرد چادر درست کرتے ہوئے بولیں۔
’’یہ تو اللہ کی دین ہے اس نعمت پربندے کااختیار نہیں ہوتاہے جو پیدا کرتا ہے‘ وہ پالتا بھی ہے۔ باقی سب جہالت کی باتیں ہیں اور بنو! تم سے میں اگلے سال پوچھوں گی کہ تم کس طرح اس پیداوار پر قابو پائوگی؟‘‘ وہ چائے کا کپ اٹھا کر معنی خیز لہجے میں بولیں۔
’’میرے خیال میں شادی کے دوسال تک تو انجوائے کرنا چاہئے ۔ پھر تو مرتے دم تک عورت بچے پالتی ہے، پہلے اپنے پھر بچوں کے بچے۔‘‘
’’یہ آج آپ کیسی گفتگو کررہی ہیں ؟‘‘ اسے عجیب سااحساس ہوا۔
’’وقت آگیا ہے بہت جلد سمجھ جائیں گی‘ فی الحال تو گھر چھوڑنے اور سسرال جانے کی تیاری کرو۔‘‘ بھابی کھلکھلاتی ہوئی ناشتہ لے آئی تھیں۔ ٹرے میں انڈے اور سلائس کے علاوہ کباب پراٹھے بھی تھے۔
’’وہاٹ؟‘‘ وہ سن بیٹھی رہ گئی‘ بھابی کی عنایتیں بے جانہ تھیں۔
’’ناشتہ کرو‘ ٹھنڈا ہوجائے گا۔‘‘ سارہ نے کباب اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے پیار سے کہا اسی دم اماں کی غصے سے بھری آواز آئی۔
’’چار بہنوں کا اکلوتا بھائی‘ چیونٹیوں بھر اکباب‘ کباب میں ہڈی تو سنی تھی مگر چیونٹیوں کے تصور نے طبیعت مکدر کردی۔ اس نے کباب اس انداز میں رکھا گویا سچ مچ چیونٹیاں وجود پر موجود ہوں۔
’’اماں جان! خوشی خوشی کام کریں‘ میں عمر سے ملاہوں‘ وہ اچھااور نیک لڑکا ہے‘ صورت وسیرت‘ اخلاق وکردار بہت اچھے ہیں اور سچ بات تو یہ ہے وہ مالی لحاظ سے ہم سے بہت بہترہیں۔ایرج بہت خؤش رہے گی وہاں۔‘‘ یہ آواز توقیر بھائی کی تھی وہ برابر والے کمرے میں بیٹھے انہیں سمجھا رہے تھے‘ درمیان میں گرے پردے سے صاف آواز یہاں پہنچ رہی تھی۔ عمر کے نام پر اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہونے لگے۔ صوفیہ اور سارہ کے اصرار کے باوجود اپنے فیورٹ ناشتے کا ایک لقمہ نہ لے سکی تھی۔
’’لڑکا کتنا نیک سہی‘ ہے تو اسی چلتر باز ماں کابیٹا‘ کرے گاتو وہی جو ماں کہے گی‘ وہ عورت میری پھول سی بچی سے بے گنے بدلے لے گی۔‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے تائی سدھر گئی ہیں۔‘‘
’’ارے کبھی رسی کے بل بھی ختم ہوئے ہیں۔ کتے کی دم بھی کبھی سیدھی ہوئی ہے؟ صاعقہ بھابی کتے کی دم سے ز یادہ ٹیڑھی ہیں وہ سدھرجائیں کبھی ممکن نہیں ہے‘ ہائے میری پھول سی بچی کا کیا ہوگا؟‘‘ اماں بولتے ہوئے اس طرف چلی آئی تھیں جہاں ا یرج گم صم سی بیٹھی تھی اور ان پر نگاہ پڑتے ہی اس کے آنسو بے آواز گرنے لگے تھے۔
’’صوفیہ! اپنے میاں کو فو ن کرو اور بہنوئی کو بھی‘ دونوں کو رات کے کھانے پر بلائواور کہہ دینا ان سے ایرج کی شادی کے لیے مشورہ کرنا ہے ورنہ کل تو یہی جوتا سر پر پڑے گا کہ اتنے اہم موقع پر ان سے رائے بھی نہ لی گئی‘ یہاں تو تمہارے باپ نے ایک دن بھی نہیں دیا‘ سمجھ میں نہیں آتا کس کو بلائیں‘ کس کو چھوڑیں‘ رشتے دار ہماری مجبوری کیا سمجھیں گے۔ فون پربلاوے دے کربھی ہزاروں گلے شکوے ہی سننے ہیں۔‘‘ وہ دانستہ ایرج سے نگاہیں چرا کر مصروف سے انداز میں گویا ہو ئیں۔
’’اماں! گھر ہم سنبھال لیں گے‘ آپ بھابی کو لے کر بلاوے دینے چلی جا ئیں اور اس سادہ سی تقریب میں دامادوں کا کیا کام؟‘‘ سارہ نے کہا۔
’’لگتا ہے باپ کی طرح تمہاری عقل بھی گھاس چرنے گئی ہے۔ ہر کام میں دامادوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہے‘ ہر کام میں ان سے مشورے لیے ہیں جبھی آج ان کی نظروں میں ہماری عزت ہے ورنہ … یہ جو داماد ہوتے ہیں بڑی بدلحاظ مخلوق ہیں۔ ذرا بھی ان کے معاملے میں کمی بیشی رہ جائے‘ سارے ادب وآداب بھلا کر طوطے کی طرح آنکھیں بدل لیتے ہیں۔ خصوصاً سالے وسالی کی شادیوں میں ان کو اپنے جوہر دکھانے کاموقع ملتا ہے مگر میں ایسا کوئی موقع د ینا نہیں چاہتی۔‘‘
مایوں کے پیلے غرارہ سوٹ میں اس کا نوخیز حسن سوگوار سا دلکش لگ رہاتھا۔ مسلسل گریہ وزاری سے آنکھیں اور چہرہ سرخ ہو رہے تھے حسب روایت سات دن قبل اسے مایوں بٹھایا گیا تھا۔ گھر میں مہمان ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ جس انداز میں اور جن لوگوں سے وہ وابستہ کی جارہی تھی ان احساسات نے اس کی ساری شوخی ومسرتوں کو نگل لیاتھا۔ بچپن سے اب تک اماں کی تائی اوران کی بیٹیوں کے بارے میں اتنا کچھ سنتی آئی تھی کہ اسے یقین تھا وہ ان کے لیے قابل قبول نہ ہوگی‘ اگر عمر سے ملاقات اس بدتمیزی وسراسر جاہلانہ انداز میں نہ ہوئی ہوتی تووہ اس کے حوالے سے کسی خوش آئند خیال یاتوقع کی امید رکھ سکتی تھی مگر وہاں بھی اس نے بھابی کو نیچا دکھانے کے چکر میں اپنے پیر پر نہیں مستقبل پر کلہاڑی ماری تھی۔
’’اپیا! مجھے نہیں کھانی یہ مرغن غذائیں‘ میں دال چاول کھائوں گی۔‘‘ وہ چکن اور مٹن سے تیار کی گئی ڈشز کو دیکھ کر منہ بنا کر کہنے لگی۔
’’کھائو اور جان بنائو‘ تائی جان کی ہائٹ دیکھی ہے تم نے؟ کیا ہائٹ ہے ان کی؟ ان سے مقابلے کے لیے تیار کررہے ہیں تم کو۔‘‘ صوفیہ بجیا اپنے تھل تھل جسم کے ساتھ قہقہے لگانے لگیں تووہ بے دلی سے مسکرادی تھی۔
’’مایوں‘ابٹن ومہندی کی رسموں کے دوران تائی اور ان کی بیٹیوں کے سرد وروکھے پھیکے رویے اس نے جھکے سر کے باوجود محسوس کرلیے تھے اور آگے کی راہ کتنی پرخار وکٹھن ہوگی‘ اس کا ادراک اسے متوحش کرگیا تھا۔ عمر کے حوالے سے کوئی خوبصورت تصور ابھرنے سے قبل ہی وہ ملاقات یاد آجاتی اور وہ سوچتی اس کی انسلٹ کرکے وہ نہ بھول سکی تووہ اپنی انسلٹ کس طرح بھول سکتا ہے؟ شاید بدلہ لینے کے لیے ہامی بھری ہو۔
ان ہی خوف واندیشوں میں گھرے شادی کا دن بھی آپہنچا تھا۔ بڑے بھائی اور بھابی بچوں کے ایگزامز کے باعث نہ آسکے تھے مگر فون پر ان کا رابطہ بدستور قائم تھا وہ خواہش کے باوجود بڑی بھابی سے اپنے خدشوں و وسوسوں کااظہار نہ کرسکی تھی۔
بارات آچکی تھی‘ نکاح بھی ہوچکاتھا۔ ڈنر کے بعد اب رخصتی کی تیاری تھی‘ دلہنوں کے روائتی سرخ لہنگے سوٹ‘ زیورات ومیک اپ میں اس کا سحر انگیز حسن دہک اٹھا تھا۔ اس کی دوستوں کو دولہا بہت پسند آیا تھا۔ اس کی چارمنگ پرسنالٹی وآئیڈیل فگر کی وہ تعریف کررہی تھیں اور ساتھ ہی انہیں اس بات پر حیرانی تھی کہ اس کی ساس ونندوں میں سے کوئی بھی اس کے قریب نہ آیا تھا جواباً وہ چپ رہی تھی۔صوفیہ اور سارہ اس کے پاس رخصتی سے کچھ دیر قبل آئی تھیں اس کی دوستوں کو باہر بھیج دیا تھا جہاں دولہا کو سلامی دی جارہی تھی۔
’’ایرج! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے جاتے ہی عمر پرکنٹرول کرلینا‘تائی اور ان کی بیٹیوں کے تیور اچھے نہیں لگ رہے۔ میاں تمہاری مٹھی میں ہوگا تو یہ سب تمہارے پیچھے دم ہلاتی پھیریں گی۔‘‘ صوفیہ نے نصیحت کی۔
’’سنو…جب تک تگڑی منہ دکھائی نہ ملے منہ نہ دکھانا۔‘‘ سارہ نے مشورہ دیا۔
’’سارہ! پھر تو عمر کو اپنی ماں ہی تگڑی رونمائی میں د ینی پڑے گی۔‘‘ صوفیہ کے ساتھ سارہ بھی کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘ شہرین بھابی ایرج کو تیکھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے خوشگوار موڈ میں بولیں۔
’’بھابی! ہم ایرج کو سمجھارہے ہیں جاکے گوری میکے کی لاج رکھنا‘ ہر ظلم وستم ساس نندوں کے سہنا مگر اف نہ کرنا۔‘‘ سارہ نے سیاسی جواب دیا۔
’’ہاں… اپنی زبان کو قابو میں رکھنا۔ میں نے سنا ہے عمر غصے کے تیز ہیں اور ماں ‘بہنوں سے بہت اٹیچڈ ہیں ان کے خلاف ایک لفظ برداشت کرنے کا روادار نہیں ہے۔‘‘ بظاہر ان کا لہجہ شیریں واپنائیت سے پرتھا مگر وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اپنی تسکین کے لیے عمر اور اس کے گھر والوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرچکی ہیں جبھی ان کے اوصاف انہیں گنوارہی تھیں اور اس کا دل اندر ہی اندر بیٹھنے لگا۔ بھابی کی معلومات کبھی غلط نہیں ہوسکتی تھیں اور پھر جس طرح بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی تھیں اپنے ماموں زاد کے پرپوزل کے انکار کے باوجود وجہ اسے اب سمجھ میں آئی تھی۔
سجی سجائی کار منزل کی طرف رواں دواں تھی۔
دونوں اطراف میں اس کی نند اور ساس بیٹھی ہوئی تھیں۔ بڑی نند کی کہنی ریوالور کی نوک کی طرح بائیں پہلو میں گڑی ہوئی تھی اور ساس صاحبہ کا وجو د کسی غریب کی جھونپڑی کے آگے بنگلے کی طرح تمام ہوا روکے ہوئے تھا۔ ساس کے حکم پر اس کا لمبا گھونگھٹ نکال دیا گیا تھا ۔ اس میں اس کا دم گھٹنے لگا تھا مگر وہ خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور تھی۔
’’کار گدھا گاڑی کی رفتار سے کیوں چلا رہے ہو؟ اس لڑکی نے میرا دم گھونٹ کررکھ دیا ہے ۔ مجھ سے صحیح سے سانس بھی نہیں لیا جارہا۔‘‘صاعقہ اپنے بھانجے رافع سے مخاطب ہوئیں جو کار ڈرائیو کررہاتھا۔
’’سانس تو بے چاری بھابی کا آپ نے روکا ہوا ہے‘ ذرا گھونگھٹ ہی ان کا سر کادیجئے‘ اس ماڈرن دور میں کون ایسے ’’فرشی گھونگھٹ‘‘ نکالتا ہے بلکہ اب تو سرے سے دلہنوں کے چہرے پر گھونگھٹ ہی نہیں ہوتا۔‘‘رافع بچپن سے ان سب سے کلوز تھا عمر کے امریکہ جانے کے بعد صاعقہ نے اسے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ وہ جب سے ہی ان میں سگے بیٹے و بھائی کی طرح گھل مل گیا تھااب جاب اور گھر کی ذمے داریوں کے باعث وہ مستقل تو یہاں نہیں رہ پاتاتھا مگر وقت ملتے ہی آجاتاتھا وہ آرام سے بولا۔
’’یہ سب بے حیا لوگوں کی بے حیائی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔‘‘
’’پڑھ لکھ کر شرم وحیا تو جیسے فروخت کردی ہے۔ ماں اور بڑے بھائی کے سامنے کیسی بے شرمی کی بات کررہا ہے؟‘‘ ساریہ خوامخواہ ہی طیش میں آئی تھی۔
’’دوسال تو بڑے ہیں مجھ سے عمر بھائی‘ اور ایرج بھابی تو تین چار سال چھوٹی ہوںگی ‘ مگر دیکھئے گا‘ کل کس مزے سے میرا نام لیں گی۔‘‘ رافع سارے راستے کچھ نہ کچھ کہتا ہی آیا تھا فرنٹ سیٹ پر بیٹھا عمر زیادہ اس کی شوخیوں کی زد پر تھا جس کے سنجیدہ چہرے پر دھیمی مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں وہ مسرتیں نہ تھیں جو ایسے موقع پر ہونی چاہئے تھیں۔ ماں ‘بہنوں نے جس طرح سوگ بھری خوشیاں اس کی شادی کی منائی تھیں آتے جاتے ان میں سے کوئی نہ کوئی اندیشہ اس کی سماعتوں میں پہنچاتی رہتی تھیں۔
’’جادوگرنی کی بیٹی آرہی ہے۔ اللہ ہی حافظ ہے میرے گھر کا۔‘‘
’’ہمارا تو ایک ہی بھائی ہے اگر اس کو بھی اس نے ورغلادیاتو کیاہوگا؟‘‘
’’میں نے سنا ہے جتنی خوبصورت ہے اتنی ہی بدمزاج وزبان دراز ہے اور جھگڑالوتو اتنی ہے کہ اپنی بھابی کو سکون سے نہیں رہنے دیتی۔‘‘
’’آئے ہائے‘ آگ لگے ایسی خوبصورتی کو جہاں تمیز وآداب نہیں۔‘‘
’’بھائی کو ذرا ڈھیل نہیں دینی چاہئے تو سب ٹھیک رہے گا۔‘‘
ان کے تمام اندیشوں ووسوسوں سے نہ سہی مگر ماں بہنوں کی ان باتوں سے وہ اتفاق کرتاتھا کہ اس کی ہونے والی شریک حیات بدزبان‘بدتمیز وجھگڑالو ہے۔ اس کے مزاج کے جوہر وہ اس سے پہلی ملاقات میں دیکھ چکا تھا اس وقت اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ شعلہ صفت لڑکی اس کی زیست کاعنوان بنے گی۔
’’عمر! بیٹے کیاسوگئے؟ کار سے اترو گھر آگیا ہے۔‘‘ صاعقہ بیگ کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر سوچوں سے نکلا تھا۔
’’سو نہیں گئے‘ کھوگئے ہیں گھونگھٹ میں چھپے مکھڑے کے خیال میں۔‘‘ڈرائیونگ کھولتا ہوا رافع قہقہہ لگا کر بولا جواباً عمر نے گھورا تھا۔
’’رافع کے بچے! بڑے پر نکل گئے ہیں تیرے‘ ٹھہر…خالہ سے کہہ کر تیرا بھی بندوبست کرواتی ہوں‘ سارے راستے دماغ کھاتا آیا ہے۔‘‘
’’قسم سے آپی! میں اور میرے ہونے والے بچے بھی آپ کو دعائیں دیں گے‘ مما کو تو چاند سی بہو لانے‘ گلاب سے پوتے کھلانے کاشوق ہی نہیں ہے۔‘‘ رافع اپنے پَروں پر پانی پڑنے دینے والا نہ تھا۔
’’توبہ …شادی کے لیے کیسے مرے جارہے ہو‘ مگر منہ دھو رکھو‘ جب تک بڑی بہنوں کی شادی نہیں ہوجاتی تمہارا نمبر نہیں آئے گا۔‘‘ ماریہ ماں کے ساتھ اندر جاتے ہوئے اسے چڑانے لگی تھی۔
’’عمربھائی! بھابی کو اٹھائیے اور چلیے ۔‘‘ وہ کچھ فاصلے پر کھڑے عمر سے مخاطب ہوا۔ اس نے ایرج کو سہارا دے رکھاتھا کیونکہ بھاری بھرکم لہنگے کو سنبھالنے کی ناکام کوشش میں وہ ڈگمگارہی تھیں۔ وہ مضبوطی سے اسے سہارا دیئے ہوئے تھا۔ حالانکہ اس وقت یہ کام نندوں اور بھابیوں کاہوتا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی قریب نہ تھا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہنسی مذاق‘ قہقہوں سے فضا زعفران زاربنی ہوئی تھی وہ سب صاعقہ کے میکے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی ناپسندیدگی سے واقف تھے اس لیے کوئی قریب نہ آیا تھا۔
’’عمر بھائی! کیا سوچ رہے ہیں آپ؟ خالہ جانی نے بھابی کا برائیڈل سوٹ اپنے و یٹ کے مطابق بنوالیا ہے بھابی سے سنبھالا نہیں جارہا۔ آپ اٹھائیں ان کواور اندر چلیں۔‘‘ رافع کو بھی دلہن سے لاتعلقی پسند نہ آئی تھی۔
اسی دم شفیق صاحب وہاں چلے آئے تھے۔
’’چلوبیٹا! دلہن کو اٹھا کر اندر لے چلو۔‘‘ وہ آکر عمر سے گویا ہوئے۔ساتھ ان کے چاروں بیٹیاں تھیں۔ ان کے چہروں کے تنائوبتارہے تھے وہ آئی نہیں زبردستی لائی گئی ہیں۔ یقینا شفیق صاحب ڈانٹ ڈپٹ کر لائے ہیں۔ صاعقہ بیگم ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود نہ آئی تھیں بقول ان کے …
’’اپنی تباہی کے سامان کو وہ خود اپنے ہاتھوں اندر نہیں لاسکتیں۔‘‘ وہ چاروں لاتعلق کھڑی تھیں۔ باپ کے حکم پر عمر نروس ہوگیا تھا۔ رافع کے مذاق کواگنور کرتارہاتھا۔ اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ اسے ہاتھ لگانے سے ہی بوکھلاہٹ کاشکار تھا۔ کجا کہ اسے گود میں اٹھانا؟ اس کی طبیعت بچپن سے ہی سنجیدہ ‘خاموش اور پروقار تھی۔ وہ کسی سے جلد فری نہیں ہوتا تھا۔ وہ بے حد حساس وتنہائی پسند تھا جو لوگ اسے قریب سے نہ جانتے تھے وہ اسے اکھڑ ومغرور سمجھتے تھے۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟ اٹھالوگے یار!‘‘ ماموں نے قریب آکر چھیڑا تھا۔ سب کی مسکراہٹوں وشوخ نظروں کی زد میں وہ آگے بڑھاتھا اور جھجکتے ہوئے ایرج کو اس آرام سے بازوئوں میں اٹھاچکاتھا گویا وہ لڑکی نہ ہو کوئی بے جان گڑیا ہو۔ اس لمحے کئی شوخ سیٹیاں بجی تھیں ‘کئی شرارتی جملے اچھالے گئے تھے وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ پھولوں سے ان کااستقبال ہو رہاتھا اور دروازے کی جھری سے دیکھتی ہوئی صاعقہ بیگم نے دل پر ہاتھ رکھ لیاتھا۔
’’ہائے اللہ! بیٹا تو پہلے ہی قدم پر ہاتھوں سے نکلتا نظر آرہا ہے۔‘‘
اس شگفتہ ماحول‘ مسرتوں وقہقہوں نے پہلی بار اس کے اندرخوشی کی کوئی کرن جگمگائی تھی‘ اس کے لطیف وجود کا لمس ‘ لباس سے پھوٹتی سہاگ کی سحر انگیز مہک نے اس کے جذبوں کو گدگدانا شروع کردیاتھا‘ دل قرب وسرور کے کیف میں ڈوب کر بے قابو ہونے لگا۔
آپی کے اشارے پر وہ اسے سیدھا بیڈروم میں لے آیا تھااور پھول بکھرے بیڈ پر آہستگی سے بٹھادیاتھا ۔ پورا بیڈروم گلاب کے پھولوں سے مہک رہاتھا۔
’’ارے کیا رسمیں نہیں ہوں گی جو دلہن کو سیدھا بیڈروم میں پہنچادیا ہے؟‘‘ ایک خاتون نے حیرانگی سے دریافت کیا۔
’’بیڈروم میںرسمیں کرنا منع ہیں کیا؟‘‘ ساریہ نے تنک کر کہا۔
’’ارے غضب ہوگیا بھائی…‘‘ زوبی اندر آکر گلوگیرلہجے میں بولی۔
’’کیا ہوگیا؟ کیا ہوگیا؟‘‘ وہاں موجود خواتین کی آوازوں میں عمر کی آواز دب کررہ گئی۔ ا یرج بری طرح سہم گئی۔
’’امی باتھ روم سے باہر آتے ہوئے گر گئی ہیں۔‘‘ بدحواس ہو کرعمر اسی ٹائم کمرے سے نکل گیا۔ پیچھے تمام خواتین بھی چلی گئیں ۔ مہکتے کمرے میں سناٹا چھاگیا۔ ایرج نے کانپتے ہاتھوں سے گھونگھٹ الٹا‘ بیڈروم بہت سوبر اور آرٹسٹک انداز میں ڈیکوریٹڈ کیا گیا تھا۔ بیڈ کے اطراف گلاب کے تازہ پھولوں کی لڑیاں بہار دکھارہی تھیں۔ فرنیچرز ترتیب میں تھا۔ ڈارک اینڈ لائٹ بلو کاکمبی نیشن دیواروں اور پردوں پر چھایا سکون آمیز تھا۔ چھت کے وسط میں آویزا ں فانوس نے ہرشے روشن کر رکھی تھی مگر…اسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا، دل گھبرائے جارہاتھا۔
’’ارے یہ کیا ہوا؟ دلہن نے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا ساس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔‘‘ممانی خوفزدہ لہجے میں بولیں۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہو بھابی آپ‘ میری بہن اور اس کی اولاد کو اللہ اپنی حفظ وامان میں رکھے۔‘‘ بڑی خالہ تشویش زدہ تھیں۔
’’پریشانی کی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ڈاکٹر انجکشن لگا گیا ہے دوا دے گیا ہے‘ نہ ٹانگ ٹوٹی ہے اور نہ ہی کوئی چوٹ آئی ہے۔ شاید تمہاری امی خوف سے بے ہوش ہوگئی ہیں۔‘‘ شفیق صاحب نے تسلی دی تھی۔
’’لیکن پاپا! ایسی بھی کیا بے ہوشی پچھلے دو گھنٹے سے امی بے ہوش ہیں دوا‘ انجکشن کے باوجود ہوش نہیں آرہا‘ نہ معلوم کس قسم کی ہیں ہماری بھابی‘ گھر میں قدم رکھتے ہی ہماری ماں کو بستر پر ڈال دیا سبز قدم کہیں کی۔‘‘ زوبی نے زور وشور سے روتے ہوئے باپ سے کہا۔
’’زوبی! کیا بچوں جیسی باتیں کررہی ہو؟ یہ اتفاق ہے محض اور آپ کی والدہ محترمہ تو ہیں ہی نازک مزاج ‘عمر! اپنے کمرے میں جائو‘ تمہاری امی ٹھیک ہیں اور ہاں… اگر تم لوگوں کو کچھ رسمیں وغیرہ کرنی ہوں تو جلد ازجلد کرو۔‘‘ شفیق صاحب صاعقہ کے چہرے پر ملامت آمیز نگاہیں ڈالتے ہوئے چلے گئے تھے۔ ۳۸ سالہ رفاقت میں وہ ان کی رگ رگ سے واقف ہوچکے تھے مگر وہ ہٹ دھرمی میں اکلوتے بیٹے کی خوشیوں کابھی خیال نہ کریں گی اس کاانہیں اندازہ نہ تھا۔
’’کیسی باتیں کررہے ہیں بھائی صاحب! ایسے موقع پر رسمیں اچھی لگیں گی؟ پھر سارے مہمان بھی جاچکے ہیں۔‘‘ ممانی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
’’نہ معلوم کس نیت سے کھانا کھلایا ہے‘ پیٹ میں درد ہی ختم نہیں ہو رہا۔‘‘ ثوبیہ کی بات کی تائید باقیوں نے بھی کی۔
’’قصور کھانے کانہیں ‘آپ کے پیٹ کا ہے کیوں اتنا کھایا کہ …‘‘
’’رافع! خاموش رہو‘ ہر بات میں دخل اندازی ضروری نہیں ہے۔‘‘ رافع کی والدہ نے اسے ڈانٹا وہ ہونٹ بھینچ کر کھڑا ہوگیا۔
’’ہائے…میں مری‘ کیسا درد ہورہا ہے۔‘‘ اسی دم صاعقہ کو ہوش آیا تو ہائے ہائے کرتے ہوئے بولیں پھر قریب بیٹھے عمر کاہاتھ پکڑ کر گویاہوئیں۔
’’میرے بیٹے! میرے چاند‘ تیرا تو اللہ ہی حافظ ہے۔‘‘
’’امی! درد زیادہ ہورہا ہے؟‘‘ اس نے ان کاہاتھ ‘ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
’’کیسی بے سروپا باتیں کررہی ہو دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا؟ یہ موقع ایسی احمقانہ باتیں کرنے کا ہے۔‘ شفیق صاحب شدیداشتعال میں کہہ رہے تھے۔’’سوجائو‘ بہت ٹائم ہوگیا ہے آپ لوگ بھی اپنے کمروں میں جائیں۔‘‘ وہ شدید غصے میں کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔
’’خالوٹھیک کہہ رہے ہیں‘ خالہ جان‘ اگر ہم ہی ایسی باتیں کریں گے تو باہر والوں کو باتیں بنانے کا موقع مل جائے گا۔‘‘رافع نے سنجیدگی سے کہاتھا۔
’’چلوعمر! تم بھی اپنے کمرے میں جائو۔ بہت ٹائم گزر چکا ہے۔ ‘‘ممانی نے کہا۔
’’جامیرے بچے تجھے اللہ کے حوالے کیا ۔کمرے میں قدم رکھنے سے پہلے آیت الکرسی ضرور پڑھ کرپھونک لینا ‘ نہ معلوم کیا کیا جادومنتر لائی ہوگی۔‘‘
’’اوہ خالہ جان! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے جیسا آپ کہہ رہی ہیں حد ہوتی ہے توہم پرستی کی‘ بھائی کا خیال نہیں ہے آپ کو‘ بھابی کی صورت دیکھنے سے قبل ہی آپ بدگمانیاں پیدا کررہی ہیں ان کے دل میں…‘‘ رافع حیرانی و تاسف سے کہتا ہوا عمر کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا تھا۔
وہ دروازہ بند کرکے بیڈ کی طرف بڑھا تو نہ انداز میں کوئی گرمجوشی تھی نہ دل میں کوئی امنگ جگمگارہی تھی‘ چند گھنٹوں قبل جب وہ اسے بازوئوں میں اٹھا کر لارہاتھا تو خود کو آکاش پر پرو از کرتا ہوا محسوس کررہاتھا۔ ارمانوں وخواہشوں نے دل میں تلاطم برپا کردیاتھا مگر گویا سب سمندر کی تہہ میں گم ہوتا چلا گیا تھا۔ بہنوں کے اداس چہرے ‘ ماں کی تکلیف‘ اس کی خوشیوں پرحاوی آچکی تھی۔ اس نے بے تاثر نظروں سے بیڈ کے وسط میں دیکھا۔
’’آپ ابھی تک بیٹھی ہوئی ہیں؟ اتناٹائم گزر گیا‘ جائیے ڈریس چینج کرکے آجائے‘ تھک گئی ہوں گی۔‘‘ بیڈ کے کنارے پربیٹھاشوز اتارتا ہوا وہ اس سے عام سے لہجے میں بولا جیسے وہ ایک طویل عرصے ساتھ رہتے آرہے ہوں۔ اس کے اندر بڑی زور کی توڑ پھوڑ مچی تھی۔ وہ بکھرسی گئی‘ چار گھنٹے سے وہ اس کے انتظار میں جن خارزار وسوسوں سے گزری تھی‘ اس کا صلہ یہ عام سے غیر جذباتی وبے وقعت سے لفظ تھے کن اذیت وکرب کے لمحوں سے گزری تھی وہ‘ اس کااحساس کسی کو بھی نہ ہواتھاکہ وہ تنہا کس قدر پریشان وفکرمند ہوگی؟ گھر میں داخل ہونے کے بعد کسی نے اس کا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیاتھا‘ نہ کوئی ساس کے متعلق خبر دے کر گیا اور جس عام سے انداز میں اس کے مجازی خدا نے مخاطب کیا تھا‘ اپنی تذلیل وتضحیک کے احساس سے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
عمر اسے اسی طرح بیٹھے دیکھ کر خود کپڑے چینج کرنے چلا گیا تھا‘ اس کے جانے کے بعد آنسو صاف کئے وہ خود کو کمزو ر ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے دوپٹہ شانوں پر ڈالااور زیور اتارنے لگی‘ معاً بھابی کے کبھی کہے گئے الفاظ سماعتوں میں گونجے۔
’’میری بددعا ہے تمہیں ایساشوہر ملے‘ جو تمہاری قدرہی نہ کرنا جانے‘ بہت ناز ہے تمہیں اپنی حسین صورت پر‘ وہ تمہاری صورت پر تھوکنابھی گوارانہ کرے۔ پھرتمہیں اپنی اوقات معلوم ہوگی۔‘‘ اس کے آنسو پھر چھلکنے لگے۔
’’بھابی! آپ نے مجھے دل سے بددعادے دی تھی‘ خدا گواہ ہے میں نے کبھی اپنی صورت کو ناز کے قابل نہ جاناتھا۔‘‘ اس نے سسکتے ہوئے سوچاتھا۔
وہ خود کوا بھی ہاتھوں کے زیور سے آزاد کرپائی تھی کہ عمر نائٹ سوٹ پہن کر ڈریسنگ روم سے باہر آگیا تھا۔ اس نے جلدی سے دوپٹہ سر پرڈالا اور لہنگا سنبھالتی ہوئی بیڈ سے اترنے لگی تھی۔ ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ دوپٹے اور لہنگے میں بیک وقت پائوں الجھاتھا وہ بے توازن ہوتی ہوئی زمین بوس ہوگئی اوراس کی بے اختیار چیخ سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔
بال بناتا ہوا عمر برش پھینک کر اس کی طرف بڑھا تھا۔
’’کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘ وہ اسے سہارا دے کر اٹھاتا ہوا متفکرانداز میں گویا ہوا۔ مارے شرمندگی کے وہ صرف نفی میں سرہلا سکی تھی۔ وہ اسے دوبارہ بیڈ پر بٹھا کر گلاس میں پانی لے آیا۔
’’پانی پی لیں پھر ڈریس چینج کیجئے گا۔‘‘ گلاس دیتے وقت اس کی نگاہ ایرج کے چہرے سے ٹکرائی تھی پھر وہ نگاہیں جھکانا بھول گیاتھا۔ گھبرائی ہوئی‘ شرمندہ سی بھیگی پلکوں والا چہرہ کچھ ایسی پرکشش جاذبیت لیے ہوئے تھا کہ وہ د یکھتا رہ گیا۔ بنا پلکیں جھپکائے‘ یک ٹک۔
’’میں…میں کپڑے چینج کرنے جارہی ہوں۔‘‘ اس کی آنکھوں کی حدت وچہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر وہ بری طرح بوکھلاگئی تھی۔
’’اونہوں… بدل لینا اتنی جلدی کس بات کی ہے۔‘‘ وہ گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر رکھتا ہوا بوجھل لہجے میں مسکرا کر بولا۔
’’یہ میں آپ کے لیے لایاتھا۔‘‘ وہ بیڈ سائیڈ سے بلوشہنیل کاکیس نکال کر اس میں سے جھلملاتا ڈائمنڈ نیکلس اس کے گلے میں پہناتا ہوا بولا۔
’’سوری‘ امی کی وجہ سے خاصی ڈسٹربنس ہوگئی ہے۔‘‘ اس کے شانوں پربازو پھیلائے وہ کہہ رہاتھا۔ چند لمحوں قبل کی تمام بیزاری وسردمہری برف کی طرح بہہ گئی تھی۔ اب اس کے چہرے پر جذبوں کے رنگ تھے۔ آنکھیں وارفتگی سے اس کے گھبرائے‘ شرمائے چہرے کا احاطہ کئے ہوئے تھیں۔
’’تائی امی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ اس نے نگاہیں جھکائے جھکائے سوال کیا۔وہ اس کے حنائی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سنجیدگی سے گویاہوا۔
’’اب قدرے بہتر ہیں۔ ہماری شادی جن حالات میں ہوئی ہے یا جن جذبوں کے تحت کروائی گئی ہے ان سے آپ اچھی طرح واقف ہوں گی‘ پاپا اور چچا کی طرح میری بھی خواہش خاندان کو جوڑنے کی رہی ہے۔ اچھے کاموں کے لیے انسان کو بے حد صبرواستقلال‘تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں وجود چھلنی ہوجاتا ہے اور پائوں لہولہان ‘ یہاں ایک راستہ ایسا بھی آتا ہے کہ انسان سوچتا ہے وہ ہار گیا مگر یہ صرف دھوکا ہوتا ہے سچ کی روشنی ضرور پھیلتی ہے جو برائی کے تمام اندھیروں کو نگل جاتی ہے۔ امی اور چچی اماں کوایک کرنے کے لیے آپ کو بھی میرے ساتھ ساتھ چلنا ہوگا۔ امی غصے کی تیز ضرور ہیں مگر نرم دل ومحبت کرنے والی بھی بہت ہیں۔ آپ کو میری خاطر سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا صرف چند ماہ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ اس کے شانوں پر بازو رکھتے ہوئے بولا۔
باہر سے دروازہ ناک کیا گیا تھا وہ چونک کر دروازے کی طرف بڑھا۔
’’عمر! نہ معلوم امی کو کیا ہوگیا ہے‘ ان کی طبیعت بہت بگڑ گئی ہے۔ وہ مسلسل تمہیں پکارے جارہی ہیں۔‘‘ دروازے پر ساریہ گھبرائی کھڑی تھیں۔ وہ گھبراہٹ میں لمحہ ضائع کئے بنا وہاں سے چلا گیا۔ پیچھے ایرج بھی لپکی۔
’’تم کہاں چلیں؟‘‘ ساریہ کمر پرہاتھ رکھ کر فہمائشی انداز میں گویا ہوئیں۔
’’تائی جان کو میں بھی دیکھ آئوں ۔‘‘ ساریہ کے انداز نے اسے چونکا دیا تھا۔
’’کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی ہمیں اپنی ماں کی ضرورت ہے، تمہارے منحوس قدم اس گھر میں کیاآئے کہ امی کو بستر سنبھالنا پڑا۔ تمہار اڈائن وجود انہیں نگل نہ جائے۔ کپڑے بدل کر سوجائو‘ عمر کاانتظار مت کرنا‘ وہ اب نہیں آئے گا۔‘‘ ان کے لہجے میں اتنی نفرت وحقارت تھی کہ وہ مزید قدم آگے نہ بڑھاسکی ‘وہ چلی گئیں۔ اسے محسوس ہوا تائی کی بیماری محض ناٹک ہے ان دونوں کوایک دوسرے سے دور رکھنے کی گھنائونی سازش۔

’’عمر! اٹھو بیٹا‘ تم یہیں سوگئے؟ میں بھی دوائوں کے نشے میں مدہوش ہوگئی۔ بھلا دلہن کیا سوچ رہی ہوگی چلو اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ صبح صاعقہ نے عمر کو جگاتے ہوئے پریشان لہجے میں کہا وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ صبح کااجالا کھڑکیوں سے جھانک رہاتھا وہ ایسی بے خبری کی نیند کبھی نہ سویاتھا۔
’’جائوبیٹے!‘‘ صاعقہ نے پچکارتے ہوئے اصرار کیا۔
’’امی! بھابی جان کو تو یہاں آکر آپ کی خیریت معلوم کرنی تھی جبکہ بھائی بھی ساری رات کمرے میں نہیں گئے۔ ‘‘کمرے سے نکلتے ہوئے ثوبیہ کی آواز آئی۔ وہ کمرے میں جانے کے بجائے مسجد چلاگیا۔ نماز پڑھ کر کمرے میں آیا تو وہ کاٹن کے سادہ پنک سوٹ میں بہت تازہ وکلیوں کی طرح نوخیز لگی۔
’’صبح بخیر۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔’’رات امی کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور شاید یہ شاد ی کی ایک ہفتے کی تھکن تھی جو میں پہلی بار زندگی میں اتنی گہری نیند سویاکہ اٹھانے سے بیدار ہوا ہوں۔‘‘ وہ خاموش رہی کیابولتی کہ یقینا اس میں بھی ان کی شرارت رہی ہوگی۔
’’کچھ بولو! ناراض ہو؟‘‘ اسے خاموش دیکھ کر وہ فکرمندی سے گویا ہوا۔
’’نہیں …اب کیسی طبیعت ہے تائی امی کی؟‘‘ وہ آہستگی سے پوچھ بیٹھی۔
’’بہتر ہے … آپ کو رات امی کی طبیعت دریافت کرنے آنا چاہئے تھاجبکہ میں پھر یہاں آیا بھی نہیں تھا۔‘‘ اس نے ثوبیہ کا شکوہ خود دہرایا وہ سوچنے لگی ساریہ والی بات بتائے کہ نہ بتائے اسی اثناء میں گیٹ پھر ناک ہوا۔ سو میہ چائے لیے اندر آگئی‘ وہ کپ ساسر عمر کوپکڑا کر اس کے پاس چلی آئیں۔ وہ ان کی سرد نگاہوں سے اس قدر سٹپٹائی کہ انہیں سلام بھی نہ کرسکی۔
’’صبح کے وقت بڑوں کو سلام کیا جاتا ہے۔ خیر ہمارے ہاں رہوگی تو تمام آداب تمیز سیکھ جائوگی۔ چلو امی یاد کررہی ہیں چائے ان کے ساتھ ہی پینا۔‘‘ وہ ایرج سے مخاطب ہو کر عمر سے شوخ لہجے میں بولیں۔
’’دلہن کو لے جائوں؟ کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟‘‘
’’مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے آپی۔‘‘ وہ جبراً مسکرایا۔
سومیہ کی ہمراہی میں وہ مختلف راہداریوں ‘کمروں سے نکل کر ساس کے کمرے میں پہنچی تھی سامنے بیڈ پر ساس بے خبر ہاتھ پائوں چھوڑے سو رہی تھیں۔ ان کے برابر میں ثوبیہ نیند میں گم تھی۔
’’چائے میں نے صرف عمر کے لیے بنائی تھی‘ جب سب کے لیے بنے گی تمہیں بھی مل جائے گی‘ یہاں لیٹ جائو…‘‘ وہ صو فے کی طرف اشار ہ کرکے چلی گئیں۔ ان کے منصوبے وہ پوری طرح سمجھ گئی تھی، کوئی خوش کن امیدیں لے کر وہ بھی یہاں نہ آئی تھی، اسے یقین تھا یہ سب اس کے ساتھ ہوگا مگر اتنی جلد اور اس انداز میں ہونے کی امید نہ تھی۔ نیند اس کی روٹھ چکی تھی وہ صوفے پر لیٹ گئی۔آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا پھر ایسے ہی لیٹی رہی۔ نہ معلوم کتنا ٹائم گزرا تھا ساس کے خراٹوں کی آواز بند ہوئی تو اس نے معمولی سا ہاتھ ہٹا کر دیکھا وہ نارمل انداز میں اٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی تھیں۔ جانے سے قبل محتاط انداز میں اس کی جانب بھی کئی بار دیکھا تھا۔ رات سے اب تک انہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیوقوف بنایاجارہاتھا ۔ نفرت وغصے کی لہر اس کے اندر اٹھی تھی اس نے بھی ان کی چوری پکڑنے کا فیصلہ کرلیااور جیسے ہی وہ باتھ روم سے آئیں و ہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’السلام علیکم تائی جان۔‘‘ وہ براہ راست ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
’’آں… میں گری … ارے گری ثوبی!‘‘ انہیں معلوم نہ تھا کہ بھانڈا اس طرح پھوٹے گا اپنی دانست میں وہ فوراً باتھ روم سے آئی تھیں اور سلام کا جواب دینے کے بجائے لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر جاگری تھیں۔
’’کیا ہو اامی؟‘‘ ثوبیہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔
’’بڑی ہمت کرکے باتھ روم تک گئی تھی۔ واپسی میں پھرٹانگ میں ایسا درد اٹھا کہ چکر آگیا ہائے۔‘‘ وہ ٹانگ پکڑ کر ہائے ہائے کرنے لگیں۔
’’لائیں میں آپ کی ٹانگ دبادوں تائی جان۔‘‘ اپنے باپ کی نصیحت اور رات کو جوعمر نے صبر واستقلال‘ہمت وبہادری کا درس دیاتھا ان کے پیش نظر وہ ان کے کارنامے اگنور کرکے ان کی طرف بڑھی تھی۔
’’اے خبردار!کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے اپنے منحوس ہاتھ لگانے کی۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں ہماری امی کو ہاتھ لگانے کی‘ نہ معلوم کس نیت سے اس گھر میں آئی ہو کہ آتے ہی پہلا حملہ امی پر کیا ہے۔‘‘ ثوبیہ جو اس کی ہم عمر تھی اس سے بات کرتے وقت اس کے انداز میں جو بے زاری وحقارت تھی پھر جس بدتمیزی سے اس نے ایرج کو ہاتھ سے دھکا دیاتھا وہ اسے سن کرگیا۔
’’جادوگرنی کی بیٹی جادوگرنی نہ ہوگی تو کیاہوگی ‘مگر اب تم ماں‘ بیٹی کے کوئی جادوچلنے والے نہیں‘ میں پہلے سے انتظام کرکے بیٹھی ہوں۔پکابندوبست کروایا ہے میں نے جن ارادوں سے تم اس گھر میں آئی ہو وہ کبھی پورے نہ ہوں گے۔ یہ تو تم نے رات کو ہی دیکھ لیا ہوگا‘ میرابیٹا میرے فیور میں کس قدر ہے کہ پہلی رات کی دلہن کو چھوڑ کر آگیا‘ پروانہ کی اس نے‘ میری بیٹیوں اور مجھ سے بڑھ کر اسے تم کبھی عزیز ہوہی نہیں سکتی ہو اپنی اوقات میں رہنا۔‘‘ وہ تمسخرانہ لہجے میں جتا رہی تھیں اور اس کے ذہن میں اماں کی آواز گونج رہی تھی۔
’’چار بہنوں کا اکلوتا بھائی‘ چیونٹیوں بھراکباب۔‘‘
اسے لگا وجود میں تیزی سے باریک سرخ سرخ چیونٹیاں سرائیت کرتی جارہی ہوں اور ان کے زہریلے ڈنکوں نے گوشت نوچنا شروع کردیا تھا۔
باہر سے بھاری قدموں کی چاپ پہچان کر وہ ہائے ہائے کرنے لگیں۔شفیق صاحب اندر آئے تو اس نے سلام کیا وہ جواب دے کر اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر وہیں بیٹھ گئے۔
’’ثوبیہ! ناشتہ لگوائیں بیٹا! بہت ٹائم ہوگیا ہے ایرج کو بھی بھوک لگ رہی ہوگی۔‘‘ وہ ثوبیہ سے مخاطب ہوئے تو وہ سرہلاتی ہوئی چلی گئی۔
اسی اثناء میں ساریہ چائے لے کر آگئی اور تینوں کو کپ پکڑادیئے۔
’’ناشتہ تیار ہونے والا ہے‘ یہ اب تمہارے تایاہی نہیں سسر بھی ہیں سر ڈھک کررکھا کرو‘ اچھا لگتا ہے۔ ‘‘ ساریہ نے معمولی سے ڈھلک جانے والے آنچل پر چوٹ کی۔
’’ارے یہ میری بیٹی ہے اور بیٹی ہی رہے گی۔‘‘ وہ شفقت سے گویا ہوئے۔
’’ولیمہ آپ کو ملتوی کرناپڑے گا۔‘‘ صاعقہ نے تکلیف زدہ لہجے میں کہا۔
’’کیوں خیریت؟ کارڈ بانٹے جاچکے ہیں۔‘‘ ان کے انداز میں حیرانگی تھی۔
’’مجھ سے چلا نہیں جارہا میری ٹانگ دیکھ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’تمہاری ٹانگ کا ولیمے سے کیا تعلق؟‘‘ وہ جز بزہوئے۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہیں امی! پاپا‘مہمانوں کو ریسیو امی کوہی کرنا پڑے گا پھر تکلیف میں تقریب اچھی لگے گی‘ بعد میں دیکھاجائے گا۔‘‘ اندرآتا ہوا عمر سنجیدگی سے بولاتھا۔
’’یہ کس طرح ممکن ہے لوگوں کو دعوت دی جاچکی ہے ہال بک ہے۔‘‘
’’لوگوں سے فون پر معذرت کرلی جائے گی او ر ہال منیجر سے بھی۔‘‘ عمر کے انکار پر شفیق صاحب الجھ کررہ گئے۔ صاعقہ بیگم نے ساریہ کی طرف فاتحانہ انداز میں دیکھاتھا۔

دوپہر کو شہرین بھابی اور صوفیہ بجیااسے گھر لے آئی تھیں۔ تائی امی نے بخوشی اجازت دیتے ہوئے اسے کل بلوانے کاکہاتھا۔ عمر کہیں نظر نہیں آیا تھا‘ دونوں بہنوں کو ان کے ولیمہ نہ کرنے پر غصہ آرہاتھا۔ وہ اماں کے سامنے بیٹھی بڑبڑارہی تھیں۔ اماں کے چہرے پر جامد خاموشی تھی اور آنکھوں میں تفکرات کے رنگ۔ بھابی آتے جاتے اس کے گلے میں پڑے ڈائمنڈ نیکلس کی قیمت کااندازہ لگارہی تھیں۔ ان کے سانولے چہرے پر حاسدانہ تاثرات واضح تھے۔
اباآئے تو اماں کو ساتھ لے کر تائی امی کی مزاج پرسی کو چلے گئے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں آگئی کل تک اس کے اندر ایک ہنگامہ برپا رہتاتھا اور آج سناٹے پھیلے ہوئے تھے۔ کل تک وہ ایرج توفیق تھی تو بہت خوش ومطمئن زندگی تھی ۔ اب وہ ایرج عمر بنی تووسوسے‘ اندیشے‘ ذلتیں‘ وناقدری اس کی جھولی میں آگری تھیں۔ صوفیہ بجیا کو یقین تھا تائی ولیمے کا خرچہ بچانے کے لیے ناٹک کررہی ہیں۔ بھابی بار بار کہہ رہی تھیں یہ اچھا نہیں ہوا۔ ہماری ایرج کو اس حادثے کا طعنہ ملے گا۔ سارہ نے کچھ نہ کہا تھاوہ خاموشی سے اس کی چوڑیاں دیکھتی رہی تھی۔ وہ ہونٹوں پر جبراً مسکراہٹ سجائے خاموش رہی تھی۔ اماں ہمیشہ اس کے بلاسوچے سمجھے بولنے اور بے عقلی کے مظاہروں پر کڑھتی رہی تھیں کہ اسے عقل کب آئے گی۔ ۲۱ سالوں تک جس عقل وشعور کی سیڑھیاں وہ نہ چڑھ سکی تھی کل رات میں بے خبری کا راستہ چھوڑ کر عقل وشعور کی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی اس نے ایک لفظ منہ سے نہ نکالا کہ جانتی تھی ان کے رویوں کی بھنک بھی اماں کے کانوں میں پڑگئی تووہ کسی قیمت پر اسے وہاں نہیں بھیجیں گی‘ ابااور تایا کے خواب ٹوٹ جائیں گے‘ بھابی پھولوں نہ سمائیں گی۔
’’میں پہلے کہتی تھی کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔‘‘ امی کی تیز آواز پر اس نے پردے کی اوٹ سے دیکھا اماں کا چہرہ غصے سے تمتمارہاتھا۔
’’کیا ہوا اماں؟‘‘ صوفیہ نے پوچھا۔
’’سیدھے منہ بات نہیں کی اس نے‘ بھائی جان ہی بولتے رہے۔داماد کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ آکر دو انگلی کا سلام ہی کرجاتا ساس‘ سسر کو۔ اچھا نہیں کیا آپ نے میری بچی کو ڈبودیا۔ مجھے نہیں لگتا میری بچی کے ساتھ وہاں اچھا سلوک ہوا ہوگا۔ ماں بیٹیوں کے تھوبڑے ابھی بھی سوجے ہوئے تھے۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے بھلی عورت! بھابی شدید تکلیف میں تھیں‘ ان سے بات نہ کی جارہی تھی‘ بچیاں اور بھائی صاحب اخلاق سے پیش آئے ہیں کافی ہے۔ عمر اس وقت گھر میں نہیں تھے۔‘ ‘توفیق صاحب رسانیت سے سمجھانے لگے۔
’’یہ جھوٹی تسلیاں خود کو د یں مگر میں کہے دیتی ہوں‘ میں نے اپنی بیٹی کو بڑے لاڈ وپیار سے پرورش کیا ہے‘ اگر اس کی مٹی خراب ہوئی تو اینٹ سے ا ینٹ بجادوں گی اس گھر کی‘ کان کھول کر سن لیں آپ۔‘‘

وہ دوستوں سے فارغ ہو کر گھر آیا کچھ دیر امی اور بہنوں کے پاس بیٹھ کر گپ شپ کی ‘ امی کوبالکل ٹھیک ٹھاک دیکھ کر اسے اطمینان ہوا۔ نظریں بچا کر اس نے کمرے میں ایرج کو تلاش کیا وہ وہاں نہیں شاید بیڈروم میں تھی۔ امی نے کچھ دیربعد ہی اسے کہا کہ کمرے میں جاکر آرام کرے ابھی تھکن کہاں اتری ہے۔ وہ انہیں شب بخیر کہتا اپنے کمرے کی طرف آگیا آج سارا دن اسے یہ احساس ستاتارہا کہ کل اس نے ا یرج کے ساتھ ذرا اچھا سلوک نہیں کیا ‘امی کی پریشانی میں وہ اس کے جذبات واحساسات کابالکل خیال نہ رکھ سکا تھااوراس نے سوچا تھاآج کی شب وہ کل کی زیادتی کاازالہ کردے گا‘ معذرت کرے گا۔
وہ سوچوں میں گم سرشار سا بیڈروم میں داخل ہوا۔ خالی بیڈ پر شکن چادر دیکھ کر وہ آگے نہ بڑھ سکا۔ کمرہ اس کے وجود سے خالی تھا۔ اٹیچڈ باتھ‘ ڈریسنگ روم کی لائٹس آف تھیں کہاں گئی؟ اس کے وجیہہ چہرے پر اضطراب پھیلنے لگا۔ کشادہ پیشانی پر کئی شکنیں نمودار ہوگئی تھیں۔ وہ کافی دیر تک اضطراری اندا ز میں ٹہلتا رہاتھا پھر دروازہ کھول کر باہر آیا کوریڈور میں زوبی جاتی ہوئی نظر آئی۔ اسے اشارے سے بلایا۔ وہ قریب آکر کھڑی ہوگئی۔
’’تمہاری بھابی کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ اپنی امی کے ہاں گئی ہیں کل آئیں گی ۔کیا آپ کو نہیں معلوم؟‘‘وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی ہوئی بولی۔
’’کس کی اجازت سے گئی ہیں؟‘‘ اس کا خون کھولنے لگا۔
’’آپ کی … امی نے منع بھی کیا تھا مگر وہ بولیں آپ سے اجازت لے چکی ہیں۔‘‘
’’اوکے جائوتم۔‘‘ وہ آکربیڈ پربیٹھ گیا وہ جو کل کی زیادتی کے مداوے کی نیت سے آیا تھا اور اس کی غلط بیانی وجھوٹ نے مسرتوں کی تمام تتلیاں اڑادی تھیں۔ خوش گمانی کے پھول کھلنے سے قبل ہی مرجھاگئے تھے اس نے غصے میں موبائل پر نمبر پش کئے تھے۔ دوسری طرف جلد فون اٹھالیا گیا۔
’’میں عمر بول رہا ہوں‘ آداب بھابی۔ ‘‘ شہرین کی آواز سن کر اس نے بمشکل اپنے لہجے کی درشتگی پر قابو پایا۔
’’خیریت ہی ہے پلیز ا یرج سے بات کرادیں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔ دوسری طرف بھابی نے و یٹ کرنے کو کہااور شاید سیل لے کر وہ ایرج کے پاس گئی تھیں۔ گیٹ ناک کرنے کی آواز اس کی سماعتوں میں صاف آرہی تھی۔
’’سوچکی ہیں نہیں اٹھ رہیں‘ اوکے… نہیں کوئی میسج نہیں گڈ بائے۔‘‘
اس نے سیل بیڈ پر پھینک کردونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔
رات کھانے کے بعد محفل جمی تھی وہ نیند کابہانہ کرکے اپنے روم میں چلی آئی تھی مگر نیند آنکھوں سے اوجھل تھی۔ عجیب بے کلی وجود میں پھیل گئی تھی۔ ازخود ہی ذہن عمر کی طرف راغب تھا‘ نہ چاہنے کے باوجود وہ اسے سوچے جارہی تھی‘ دل اس کی یاد میں ہمک رہاتھا جس کا ساتھ صرف چند منٹوں پرمحیط تھا۔ وہ بھی اس کے لیے بے قرار ہوگا؟ اسے سوچ رہا ہوگا؟ اگر ایسا ہی ہے تووہ فون تو کرسکتا ہے‘ میٹھی میٹھی باتیں نہ سہی سلام دعا ہی سہی۔ دروازہ دھیرے سے ناک ہوا اور بھابی کافی کا مگ اٹھائے اندر آگئیں۔
’’مجھے یقین تھا تم سو نہیں رہی ہوگی۔‘‘ وہ مگ اسے پکڑاتے ہوئے بولیں۔
’’ارے آپ کو کیسے یقین تھا؟‘‘اسے شدید حیرانگی ہوئی۔
’’مجھے حالات گڑبڑ لگ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
’’میں سمجھی نہیں بھابی!‘‘ وہ مستعد ہو کر بیٹھ گئی بھابی کی عنایت بلا وجہ نہ تھی۔
’’اب مجھ سے مت چھپائو‘ بھابی ہوں کوئی دشمن تو نہیں۔ عمر نے تمہیں دوسرے دن ہی رکنے بھیج دیا کوئی اعتراض نہیں کیا؟‘‘ وہ مطلب پر آرہی تھیں۔
’’اس میں اعتراض کی کیا بات ہے بھابی‘ کیا میں اب یہاں رک نہیں سکتی؟‘‘
’’یہ بات نہیں ہے بے وقوف‘ اس طرح شروع کے دنوں میں کوئی نہیں چھوڑتا۔ تمہارے بھائی کو ہی دیکھ لو شادی کو سال سے زیادہ ہوگیا رات کو گھر پر ہی ہوتی ہوں‘ رکنے نہیں گئی آج تک۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے‘ عمر بہت اچھے ہیں۔‘‘ وہ کافی لبوں سے لگا کر بولی۔
’’دھیان رکھنا ایک عرصہ وہ غیر ملک میں رہ کر آیا ہے نامعلوم کیا کیا گل کھلائے ہوں گے۔ جن لوگوں کو بغیر شادی کے سب کچھ مل جاتا ہو ان کو بیوی کی پروا کہاں رہتی ہے تم دھیان رکھنا۔‘‘ وہ اس کے لیے سوچوں کا تکلیف دہ نیا باب کھول گئیں۔ یہ بتائے بغیر کہ عمر کی کال آئی تھی اور انہوں نے اپنے اٹیچڈ باتھ روم کا دروازہ خاصی دیر تک ناک کرکے اس سے سراسر جھوٹ کہاتھا۔
آج وہ اسے لینے آئے تھے۔ ابا‘ اماں نے کھانے پر خوب ا ہتمام کیا تھا۔ کھانا خوشگو ار ماحول میں کھایا گیا۔ پرپل کلر کے بھرے ہوئے سوٹ میک اپ اور جیولری میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔ عمر لائٹ کلر کے پینٹ سوٹ میں ہینڈسم لگ رہاتھا۔ اس نے ایک بھرپورنگاہ کے بعد دوسری اس پر نہ ڈالی تھی۔ شفیق اور توفیق صاحب آج اپنی فیملی کو ساتھ دیکھ کر بے حد مسرور تھے۔ صوفیہ کافی کاتھرموس اٹھائے بڑھ رہی تھیں۔ معاً ان کاپائوں مڑااور فلاسک کا ڈھکنا بھی گرا۔ دوسرے لمحے بھاپ اڑاتی کافی تائی کی ٹانگوں پر گری اور سب آوازوں میں تائی کی چیخنے کی آواز سب سے بلند تھی۔ وہ ٹانگ پکڑے بری طرح کراہنے لگی تھیں۔ یہ اتنا غیر متوقع طور پر ہوا کہ وہ سب ہکابکا رہ گئے۔ صوفیہ تو گویا مجسمہ بن گئی۔ سب سے پہلے عمر ماں کی طرف بڑھا‘ پھر چاروں بیٹیاں‘ توقیر کوئی ٹیوب لے آیاتھا۔ جو ساریہ نے ماں کے گھٹنے تک جھلسے ہوئے پائوں پر لگادی تھی۔ مگر انہیں کسی دم قرار نہ تھا۔ وہ مسلسل ہائے میں مرگئی ‘چیخ رہی تھیں۔
’’چچی جان! ہم تو دل صاف کرکے آئے تھے مگر آپ یہ سلوک کریں گی ہم نے سوچا بھی نہ تھا۔‘‘ سومیہ غصے میں چیختے ہوئے بولی۔
’’سا…ریہ! یہ اتفاق ہے۔‘‘ اماں کی آواز میں تشویش تھی۔ اس دورا ن عمر ماں کو لے جاچکاتھا‘ جہاں کچھ دیر قبل قہقہے گونج رہے تھے وہاں اب سناٹے بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ چاروں خوب کہہ سن کر باہر نکل آئی تھیں۔
’’بہو کہاں ہے؟‘‘ شفیق صاحب زو بی سے بولے۔
’’ان کے لیے ہمارے گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے جب سے وہ گھر آئی ہیں امی کو…‘‘
’’خاموش رہو۔ رافع بیٹا! تم ان لوگوں کو لے کرجائو میں بہو کو لارہا ہوں۔‘‘ وہ اس کی بات قطع کرکے رافع سے بولے اور خود اندر بڑھ گئے۔
وہ گھر پہنچ کر اسے اور گھر والوں کو گالیاں اور کوسنے دینے لگیں۔
’’بھابی! آپ کمرے میں چلیں‘ ابھی آنٹی آجائیں گی ہاسپٹل سے سب ٹھیک ہوجائے گا۔ آئیں میں آپ کو کمرے تک چھوڑ آئوں۔‘‘ اس صورتحال نے رافع کی شوخیاں بھی سلب کرلی تھیں وہ اسے کمرے تک چھوڑ گیا۔
وہ صوفے میں آکر کتنی د یر تک گم صم بیٹھی ر ہی کیا سوچا تھا؟ کیا ہوگیا؟ غلطی پر بھی سسرال والوں کا ردعمل کتنا شدید تھا اور عمر کے چہرے پر اس نے اس وقت بہت کبیدگی دیکھی جب تائی بلک بلک کررو رہی تھیں اور وہ بہت خوفزدہ ہوگئی تھی۔ اٹھ کر ڈریس چینج کیا،وضو کرکے جاء نماز بچھا کر نفل پڑھنے لگی پھر وہ دعا مانگ رہی تھی جب وہ اندر آیا تھا۔
اس نے تائی کی طبیعت پوچھی تووہ جو پہلے ہی سخت غصے میں تھا پھٹ پڑا۔
’’آپ کے ہاں اس طرح مہمانوں کی عزت افزائی ہوتی ہے؟ گھر بلا کر یوں بدلے لیے جاتے ہیں؟ میں نہیں جانتاتھا پاپا اپنوں کے چکر میں گھٹیا لوگوں سے تعلق قائم کرلیں گے۔ امی کاخیال ٹھیک تھاوہ اچھی طرح جانتی ہیں آپ لوگوں کو۔‘‘ وہ شدید غصے میں شعلے برسا رہاتھا آواز قدرے بلند تھی۔
’’پلیز آپ یقین کریں وہ محض اتفاق تھا۔‘‘
’’اچھا پھرمیری ماں کے ساتھ ہی کیوں اتفاقات ہو رہے ہیں؟ چچی بھی تو وہیں بیٹھی تھیں‘ ان پر کافی کیوں نہیں گری؟ مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم جھوٹ بولنے میں کتنی فاسٹ ہو اس کااندازہ مجھے کل ہی ہوگیا تھا۔ پاپا کی چوائس پر نفرت ہو رہی ہے مجھے‘ میرا فیوچر‘ میری لائف برباد ہوگئی ہے ‘ میری ماں تکلیف میں ہیں میں ان کے پاس جارہاہوں۔‘‘ اس کاانداز وتیور اتنے جارحانہ تھے کہ وہ سہم کر چپ رہی تھی۔
’’میں بھی چلوں گی ‘ تائی کو دیکھنے۔‘‘ وہ قدم بڑھاتی گویا ہوئی۔
’’کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کی صورت ان کی تکلیف کو بڑھادے گی۔‘‘ وہ کٹھور پن سے کہتا گیٹ کھول کر باہر نکل گیا اور کھڑکی سے چپکی کھڑی اندر کی گفتگو سنتی ہوئی ساریہ پھرتی سے کوریڈور میں گھسی تھی۔
ایک ہفتے بعد صاعقہ بیگم بالکل ٹھیک ہوگئی تھیں اور اس سے قبل ہی اس کی ہمت‘ صبر واستقامت کے امتحان شروع ہوگئے تھے۔ ان ماں‘ بیٹیوں کے مزاج ملتے نہ تھے مگر نہ معلوم عمر کو انہوں نے کیا سکھایا کہ وہ اس سے بالکل ہی بیگانہ ولاپروا ہوگیا۔ چاروں بیٹیوں میں سے دو تو یہاں موجود رہتی تھیں‘ باقی دو بڑی بھی عموماً آجاتی تھیں اور باتیں کرتی تھیں۔ گھر کے دوسرے کاموں کے لیے ملازمائیں تھیں کچن کی ذمے داری ایک ہفتے بعد ہی اس کے شانوں پر آگئی تھی۔ وہ اسے بخوبی نبھارہی تھی گھر میں اس نے کچن کی ذمے داری بھابی کی بحث میں پوری طرح نہ اٹھائی تھی مگر یہاں سارا کچن خود ہی سنبھالناپڑتا جو ڈش پکانی نہیں آتی وہ خاموشی سے سیل پر اماں سے پوچھ کر نوٹ کرلیتی مگر اتنا احتیاط سے پکانے کے باوجود کوئی نہ کوئی کسر رہ جاتی اور صاعقہ کو خوب موقع مل جاتا اس کا پھوہڑپن جتانے کا پھراس کی اور اماں کی شاندار لفظوں میں قصیدہ گوئی کی جاتی کہ وہ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتی تھی۔
صاعقہ اور ساریہ نے کڑی چاول پکانے کا حکم صادر کیا تھا۔ ساتھ ہی اچا رگوشت بھی۔ چاول تو کئی بار پکاچکی تھی کڑی اور اچارگوشت کی ترکیب اماں سے پوچھ کر کاغذ پر لکھ لی ۔ اچار گوشت کے بعد کڑی چڑھا کر وہ پکوڑوں کا بیسن بائول میں ڈال کر اس میں ڈالنے والا مصالحہ دیکھ رہی تھی باہر سے آنے والی قدموں کی آہٹوں پر گھبرا کرہاتھ میں پکڑا کاغذ ریک میں رکھنا چاہا وہ غلطی سے سیدھا فلیم پر گرااوردھڑدھڑ جلنے لگا۔ اسی دم ثوبیہ کسی کام سے اندر آئی تھی اس کی نگاہ سیدھی کاغذ پرگئی جو جل چکا تھا وہ حواس باختہ ہو کر چیخی۔
’’امی!آپی! یہاں دیکھیں‘ کیسے تعویذ جلائے جارہے ہیں۔‘‘ منٹ بھر میں وہ وہاں تھیں۔
’’ثوبی! غلط مت سمجھو یہ ترکیب کاغذ ہے تعویذ بھلا کہاں سے آئے گا۔‘‘ وہ پریشانی سے بولی۔ ان کاانداز اسے بوکھلاہٹ کاشکار کررہاتھا۔
’’میں جبھی کہوں گھر میں مجھے گھبراہٹ کیوں ہونے لگی ہے۔ دل اڑا اڑا سا کیوں رہتا ہے‘ ہر وقت طبیعت مچلتی رہتی ہے کہ یہاں سے کہیں چلی جائوں مجھے کیامعلوم گھر سے نکالنے کے تعویذ جلائے جارہے ہیں۔ بس اسی دن سے میں ڈرتی تھی۔‘‘
انہوں نے واویلا کرنا شروع کردیا۔
’’یقین کریں تائی جان! تعویذ بھلا کہاں سے آئے گا۔‘‘
’’تیری ماں کے گھر سے اور کہاں سے۔ یہ سب ہمیں گھر سے نکالنے کی سازشیں ہیں۔ جس طرح تیری ماں نے ہمیں نکالا تھا اور گھر پرقبضہ کرکے بیٹھ گئی تھی۔‘‘
’’تائی جان! آپ خوامخواہ بات بڑھا رہی ہیں‘ میں آپ کو اماں کی جگہ سمجھتی ہوں مگر اپنے گھر والوں کے خلاف میں پہلے دن سے اتنا کچھ سن چکی ہوں کہ اب مزید تاب نہیں ہے مجھ میں۔ آپ کو جو کہنا ہے مجھے کہیں مگر اماں کے خلاف اب ایک لفظ بھی نہیں سنوں گی۔‘‘ ایک ماہ کے مسلسل جسمانی ودماغی ‘ذہنی خلفشار نے اسے ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ سمجھوتوں کو ہتھیار بنا کر عمر کو خوش کرنے کی خاطر‘ نئے رشتے مضبوط کرنے کی خاطر‘ وہ اپنی سرشت کے خلاف سب کچھ بہت صبروتحمل سے برداشت کررہی تھی مگر جس کے لیے کررہی تھی وہ اس سے تعلق جوڑ کر لاتعلق ہوگیا تھا۔ اسے پروا نہ رہی تھی اور اب بالکل بے بنیاد الزام پر وہ خاموش رہ نہیں سکی تھی۔
’’ارے… میری ماں سے زبان چلاتی ہے میں تیرا منہ توڑ دوں گی۔‘‘ ثوبیہ غصے سے بپھری ہاتھ اٹھا کر اس کی طرف بڑھی تھی۔
’’اپنی حد میں رہو ثوبی! ورنہ ہاتھ کا استعمال میں بھی جانتی ہوں۔ میری برداشت اور صبر کو تم نے میری کمزوری سمجھا ہے تم جیسے لوگوں کے دماغ میں اچھی طرح درست کرناجانتی ہوں۔‘‘ اس کے انداز سے ثوبیہ ٹھٹک کررک گئی۔
’’اری تو کیا ہمارے دماغ درست کرے گی‘ تیرے مزاج تو میں ابھی درست کرتی ہوں۔‘‘ صاعقہ دھم دھم کرتی خطرناک انداز میں آگے بڑھیں۔
’’امی… امی! کیا ہو رہا ہے؟ کیسی آوازیں آرہی ہیں؟‘‘ عمر کی حیرت زدہ آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی اس کی آمد بے موقع تھی وہ گھبراگئیں۔
’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘ وہ سیدھا کچن میں چلا آیا۔
صاعقہ نے جھٹ منہ پر دوپٹہ ڈال کر رونا شروع کردیا۔ ثوبیہ‘ ساریہ نے بھی ان کی تقلید کی‘ ایرج ان کی اداکاری دیکھتی رہ گئی۔
’’ہوا کیا ہے؟‘‘ وہ حیران پریشان کبھی ماں‘ بہنوں کو دیکھ رہا تھا تو کبھی چپ کھڑی ا یرج کو جس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
’’اب ہم نہیں آئیں گے یہاں پر‘ بھابی کو ہمارا آنا پسند نہیں ہے اور نہ ہم میں ہمت ہے امی کی بے عزتی ہوتے د یکھنے کی۔‘‘ ثوبیہ روتے ہوئے بولی۔
’’ہم ان کی محبت میں آتے ہیں ورنہ کسے شوق ہے اس طرح روز گھر اور بچے چھوڑ کر آنے کا۔‘‘ ساریہ کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
’’میں کہاں جائوں؟ میں ہی کانٹا ہوں‘ اس دن کے لیے ماں اور بہنیں گھر میں بہو وبھابی لاتی ہیں کہ وہ آئے اور سب کو نکال باہر کرے۔ میری عزت تو یہ رتی بھر نہیں کرتی ہے۔‘‘ صاعقہ گویا دکھ سے نڈھال تھیں۔
’’تم… تم نے بدتمیزی کی امی سے؟ تم ہوتی کون ہو میری بہنوں کو یہاں آنے سے روکنے والی؟‘‘ وہ شدید اشتعال میں اس سے مخاطب ہوا۔
’’دیکھو بیٹے یہاں تعویذ جلاپڑا ہے۔ ثوبی کا پوچھنا غضب ہوگیا۔ بہو نے چوری پکڑی جانے پر اسے تھپڑ دے مارا اور ہم سے لڑنے لگی۔
’’اوہ گاڈ! کچھ تو خوف خدا کریں‘ اس عمر میں جھوٹ بولتے…‘‘
’’شٹ اپ !‘‘ باقی ماندہ الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔ عمر کا زور دار تھپڑ اس کے بائیں رخسار کو دھکاتا ہوا چار انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا۔
’’اگر آئندہ تم نے زبان درازی کی کوشش کی تو زبان کاٹ دوں گا۔ چلو معافی مانگو‘امی اور ساریہ آپی سے۔‘‘ اس کے انداز میں درندگی تھی۔
’’ارے کیوں ہاتھ چلاتے ہو یہ میری بیٹی ہے غصہ آہی جاتا ہے کبھی۔‘‘ وہ قہقہے چھپاتی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کرگویا ہوئیں۔
’’تمہیں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے تھاعمر۔‘‘ ساریہ نے کہا۔
’’بھائی! آپ کیوں ہماری خاطر اپنا گھر خراب کررہے ہیں بھابی کی خواہش ہے تو ہم نہیں آئیں گے۔ ہمیں صرف آپ کی خوشیاں عزیز ہیں۔‘‘
’’میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں ثوبی! جو عورت کی خاطر خون کے رشتوں کو ٹھوکرماردیتے ہیں۔ اس گھر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہیں گے۔‘‘ وہ ثوبیہ کو سینے سے لگا کر شفقت سے بولا اور کچن سے نکل گیا۔
’’دیکھ لی اپنی اوقات! آئندہ منہ لگنے کی کوشش مت کرنا۔‘‘ صاعقہ طنزیہ بولیں۔
’’بہت ناز تھا تم کو اپنی خوبصورتی پر۔‘‘ ساریہ کھلکھلا کر ہنسی تھیں۔
’’بھائی کی زندگی میں تم جیسی نہ معلوم کتنی آئیں‘ کتنی گئیں وہ تمہیں د یکھنا بھی پسند نہیں کرتے اس گھر میں رہنا ہے تو زبان بند رکھنی ہوگی ورنہ…‘‘
وہ تینوں جشن مناتیں وہاں سے چلی گئیں۔ عمر کے تھپڑنے اس کی تمام طاقت سلب کرلی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ سب کے سامنے ہی تھپڑ ماردے گا، ماں بہنوں کی حمایت میں ان کی اتنی فکر تھی اور اس کی پروا ہی نہیں۔
’’آپ نے مجھے بیوی کا رتبہ دیا ہی کب ہے؟ پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے جھجک کیونکر آتی؟‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے وہ کمزور نہیں تھی مگر عمر کے تھپڑنے اسے توڑ پھوڑ دیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا ساس نندوں کے سامنے اب کبھی بھی آنکھ اٹھا کر بات نہ کرسکے گی۔ عمر کے تھپڑنے اس کی خودداری وعزت نفس کو کچل ڈالا تھا۔ وہ جو حق کے لیے اماں کے سامنے بھی بول پڑتی تھی اور بھابی سے اصل جھگڑا ہی جھوٹ وفریب کی چال چلنے پر تھا مگر اب وہ حالات کے آگے سر جھکا چکی تھی۔ آنسو بہاتے ہوئے کھانا پکانے میں مصروف ہوگئی تھی۔ اس کے پائوں میں باپ اور تایا کے یقین کی بیڑیاں پڑی تھیں۔ دومخالف راستوں کو ایک سمت میں لانے کے لیے اسے یونہی تختہ مشق بننا تھا۔ کھانا تیار کرکے وہ کمرے میں چلی آئی۔ سامنے بیڈ پر دراز میگزین پڑھتے ہوئے عمر نے نگاہ اٹھا کرنہ دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نمکین پانی پھرجمع ہونے لگا۔ وہ تیزی سے اٹیچڈ باتھ کی طرف بڑھ گئی۔ وضو کرکے باہر آئی تووہ نہیں تھا یہ اس کی ناراضی کااشارہ تھا کہ وہ اس سے خفا ہے۔ وہ ظہر کی نماز ادا کرکے لیٹ گئی۔ کھانے کاوقت گزر چکا تھااسے کسی نے پوچھنا بھی گوارا نہ کیاتھا۔ عمر کو بھی اس کی کمی محسوس نہ ہوئی تھی؟ ایک نئے احساس نے اذیت سے دوچار کردیا تھا۔
خاصا ٹائم گزر گیا تھا وہ یونہی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی ثوبیہ کھانا لے کر آئی تھی۔
’’لو…کھائو۔‘‘ وہ ٹرے اس کے آگے پٹختی ہوئی بولی۔
’’لے جائو واپس… نہیں کھانامجھے کچھ۔‘‘ وہ چڑچڑے پن سے کہہ اٹھی۔
’’ہمیں کونسا شوق ہے تمہیں کھلانے کا‘ بھائی کے کہنے پر لانا پڑا۔‘‘
’’مجھے ضرورت نہیں ہے میں مرجانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپا کر رودی۔
’’دیکھیں نہ بھائی! میری اتنی منتوں پر بھی بھابی کھانا نہیں کھارہی ہیں۔‘‘ وہ اندر آتے عمر سے مخاطب ہوئی تھی۔
’’ان کی بھابی بھی نیچے آئی ہوئی ان کاانتظار کررہی ہیں۔‘‘
’’بھا…بھابی آئی ہیں۔‘‘ وہ آنسوئوں سے تر چہرہ اٹھا کر گویا ہوئی۔
’’جی … کھانا کھا کر جلدی سے آئیں‘ وہ بار بار پوچھ رہی ہیں۔‘‘ وہ چلی گئی۔ وہ کتنے غلط وقت پر آئی تھیں۔ اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کس طرح وہ چار انگلیوں کانشان رخسار سے غائب کرے؟ یہ نشان اس کی ازدواجی زندگی کی ناآسودگی کے بھرم کو کھوکھلا ظاہر کررہاتھا اپنی فکر میں وہ عمر کی موجودگی بھی فراموش کرچکی تھی جو اس کے اضطراب کو بغور دیکھ رہا تھا۔ خو ب رگڑ رگڑ کر چہرہ دھونے کے باوجود گلابی مائل سفید رنگت پر وہ سرخ نشان واضح ہوگیاتھا۔ گریہ سے سرخ آنکھوں کی سوجن پر بھی کوئی فرق نہ تھا۔وہ جھنجلاتی باہر آگئی اور بال برش کرکے کمرے سے نکلنا ہی چاہتی تھی کہ عمر نے بیٹھے بیٹھے ہاتھ بڑھا کر اس کاہاتھ پکڑلیا۔
’’کھانا کھائو…پھرجانا۔‘‘ وہ اکھڑ لہجے میں بولا۔
’’بھوک نہیں لگ رہی۔ ہاتھ چھوڑیں ۔‘‘ ضبط کے باوجود آواز بھیگ گئی تھی۔
’’چھوڑ دوں گا۔ پہلے کھانا کھائو۔‘‘ وہ اس کے آنسوئوں سے متاثر ہواتھا۔
’’بھوک نہیں لگ رہی کہانا۔‘‘ اس نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایاتھا آج وہ پرانی والی ایرج بن چکی تھی جو ضدی وہٹ دھرم تھی۔ عمر جو اس کے گال پر اپنے تھپڑ کا نشان دیکھ کر نادم ہونے لگا تھا۔ اس کا اس طرح جھٹکے سے ہاتھ چھڑاکرجانا ازسرنو اشتعال میں مبتلا کرچکاتھا۔
سیٹنگ روم سے قہقہوں وباتوں کی آوازیں آرہی تھیں وہ انہیں آج ہونے والے جھگڑے کابتارہی تھیں۔ جوابا! بھابی کی کِل کِل کرتی ہنسی اسے سن کر گئی۔ اس کانشیمن کسی غیر کے نہیں اس کے گھر کے چراغ سے ہی جل رہاتھا وہ مجبور سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اندر آگئی۔ اسے اچانک اندر دیکھ کر وہ ایکدم خاموش ہوگئیں۔ وہ بھابی کو سلام کرتی ان کے قریب بیٹھ گئی۔
’’تم نند سے باتیں کرو‘ ہم چلے۔‘‘ صاعقہ اٹھتے ہوئے بولیں۔
’’آپ کیوں جارہی ہیں؟ بیٹھیں۔‘‘ بھابی نے مروت سے کہا۔
’’بہو کے میکے والے آئیں تو ساس نندوں کابیٹھنا مناسب نہیں ہوتا۔‘‘امی کے بجائے ساریہ نے کہا اور وہ چلی گئیں۔
’’یہ تمہارے گال پر نشان کیسا ہے؟ کیا تم‘ روتی رہی ہو؟ ‘‘ ان کے باہر جاتے ہی وہ سرگوشیانہ انداز میں گویا ہوئی تھیں۔
’’ابھی بتاتو رہی تھیں تائی جان ‘ عمر نے زبان درازی پر مجھے مارا ہے ‘ ثوبی اور ساریہ آپی نے پوری اسٹوری سنائی ہے آپ کو۔‘‘ وہ عام سے انداز میں بولی اور بھابی سے مارے جھینپ کے فوراً کوئی بات نہ بن سکی۔ کچھ توقف سے بولیں۔
’’اپنی غلطی کون بتاتا ہے تم اصل بات بتائو کیا ہوئی تھی میں دیکھنا توقیر سے کیسے ان کے دماغ ٹھکانے لگواتی ہوں‘ تمہیں کسی نے کبھی پھولوں سے نہ چھوا اور یہاں عمر نے تمہارے چہرے پر نشان ڈال دیا‘ ماں بہنوں کی چڑھائی میں آکر‘ ابھی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں جو یہ سب شروع ہوگیا۔‘‘
’’بڑااحسان ہوگا آپ کامجھ پر‘ گھر میں کسی کو بھی کچھ مت بتائیے گا‘ یہ تو ہر گھر میں ہوتا ہے۔ گھر گھر کی کہانی ہے یہ پھر عمر نے مارا تو کوئی بات نہیں‘ پیار بھی تو سب سے زیادہ کرتے ہیں۔‘‘ اس نے اپنے لہجے کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔
’’مجھے خوشی ہوئی یہ جان کر کہ تم نے وقت کے ساتھ چلنا سیکھ لیا ہے۔‘‘
’’بے خبری سے آگہی تک کاسفر صرف ایک رات میں طے کیا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جو علم ہم برسوں نہیں سیکھ پاتے‘ وہ وقت کبھی ایک پل میں سکھا دیتا ہے۔‘‘
’’کیا سوچ رہی ہو؟ چلو تیار ہوجائو‘ میں تمہاری ساس سے اجازت لے چکی ہوں۔ پرسوں اماں‘ ابا جدہ جارہے ہیں پھر ایک ماہ بعد عمرہ کرکے لوٹیں گے۔‘‘
وہ اس خبر سے پہلے ہی آگاہ تھی۔ عمر نے اندر آکر بھابی کو سلام کیا تھاوہ بیگ لینے کمرے میں آگئی۔ تیار ہو کر آئی تووہ وہاں چائے کے ہمراہ لوازمات سے ٹیبل بھری ہوئی تھی ۔ ثوبیہ پلیٹوں میں ڈال کر سب کو سرو کررہی تھی۔
’’ماشااللہ میری بہو پر ہر رنگ کھلتا ہے۔ آکر یہاں بیٹھو میرے پاس۔‘‘ صاعقہ نثار ہونے والی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنے قریب بیٹھنے کااشارہ کرنے لگیں۔ وہ خاموشی سے ان کے قریب بیٹھ گئی۔
’’تم چلی جائوگی‘ گھر سونا سونا ہوجائے گا۔‘‘ عمر کے سامنے وہ اسی طرح پیش آتی تھیں۔ اس وقت بھی عمر کی نظریں اس پر تھیں میرون کلر کے کامدانی کے سوٹ میں میچنگ لپ اسٹک اور ہلکی سی گولڈ کی جیولری میں اس کا افسردہ حسن کچھ زیادہ ہی نکھر گیاتھا اس کا دل کہہ رہاتھا اسے روک لے نہ جانے دے۔
’’ہماری بھابی ہمیں اتنی اچھی لگتی ہیں کہ ہم روز آجاتے ہیں۔‘‘ ثوبیہ نے لوازمات سے بھری پلیٹ اس کی جانب بڑھا کر محبت سے کہا۔
’’کھالوبہو! کھانے کے ٹائم ثوبی تمہیں بلانے گئی تھی مگر تم سو رہی تھیں۔ تمہارے آرام کے خیال سے نہیں اٹھایا۔ عمر نے بھی تمہاری وجہ سے دو تین لقمے ہی لیے تھے۔ اس کاانکار سن کر صاعقہ نرمی سے گویا ہوئیں۔
عمر کے آج کے سلوک نے اس کی بھوک پیاس اڑادی تھی پھر وہ صاف دل وشفاف سوچوں والی لڑکی تھی‘ منافقت وموقع پرستی اس کی سرشت میں نہ تھا۔ اسے بھوک نہ تھی۔ اس نے ان کے کہنے کے باوجود پلیٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔ عمر جو اسے شام کو ہی واپسی لانے کافیصلہ کرچکاتھا۔ ماں بہنوں کے پیار بھرے روئیوں کے جواب میں اس کا سرد وسپاٹ رویہ اسے پھر متنفر کرگیا۔
’’ایرج! چائے تو لے لو ‘ رئیلی کوئی اتنے پیار سے زہر بھی پلائے تو میں پی لوں‘ ساریہ کتنی محبت سے اصرار کررہی ہیں۔‘‘ اس پرتنقید کرنے کا موقع بھابی نے یہاں بھی ضائع نہ کیا۔ عمر کے چہرے پرغیرارادی نگاہ اس کی پڑی تو اس کی غصے سے سرخ آنکھیں دیکھ کر اس نے فوراً مگ پکڑلیا۔

صوفیہ‘ سارہ گھر آئی ہوئی تھیں۔ سب بہت گرمجوشی سے ملیں۔ اماں کتنی دیر تک اسے سینے سے لگائے خاموش آنسو بہاتی رہیں پھر اس کی پیشانی چوم کر بولیں۔
’’تجھے میں پتھر سمجھتی رہی‘ تو تو ہیرا نکلی ایرج۔‘‘
ابا اس کے سر پر ہاتھ رکھے کتنی ہی دعائوں سے نوازتے رہے۔ توقیر وہی محبت وشفقت سے ملے اور خوشخبری سنائی کہ وہ جلد ہی کار لے رہے ہیں۔ اگر وہ پہلی والی لاابالی وبے عقل سی ایرج ہوتی تو فوراً شکوہ کرتی کہ اس کے گھر سے نکلتے ہی کار آرہی ہے مگر اب وہ ایرج توفیق نہیں ‘ ا یرج عمر تھی مسکراتے ہوئے بھائی کو پیشگی مبارکباد دی تھی۔
’’تمہارے بھائی مان نہیں رہے تھے وہ تو میں نے راضی کیا۔ یہ کہہ کر کہ ایرج کے سسرال میں دو تین گاڑیاں ہیں اور ہمارے پاس ایک کار بھی نہیں۔ کہیں تمہاری سبکی نہ ہو تب جاکر یہ مانے ہیں۔‘‘ بھابی نے فوراً صفائی دی تھی۔
اسے اپنے رخسار پر پڑے نشان کے متعلق کئی بہانے وجھوٹ بولنے پڑے تھے مگر اماں کی آنکھیں جاتے وقت تک بھیگی بھیگی تھیں۔ ماں سے بیٹیوں کا دکھ کب چھپتا ہے۔ ماں تووہ ہستی ہے جو اولاد کے سکھ ودکھ بن کہے جان جاتی ہے۔
وہاں سے کوئی ملنے نہیں آیا تھا۔ رافع کی زبانی معلوم ہوا عمر کسی پراجیکٹ کے سلسلے میں چند دنوں کے لیے لندن گیا ہوا ہے تایا پہلے ہی کئی ہفتوں سے جرمنی میں تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں ہمیشہ کی طرح رافع گھر کی ذمے داری اٹھائے ہوئے تھا۔ عمر کے جانے کا سن کر وہ خوب روئی تھی۔ ان کے درمیان کشیدگی ضرور تھی مگر دیارغیر جانے سے قبل وہ ملنے نہ آسکاتھا کم از کم فون تو کرسکتاتھا؟
اماں‘ ابا کے جانے کے بعد گھر ویران ساہوگیا تھا۔ صوفیہ اور سارہ بھی ایک ہفتہ رہ کرجاچکی تھیں۔ بھابی بہت کم تنہائی میں اس سے مخاطب ہوتی تھیں۔ بھائی سے شام میں آفس سے آنے کے بعد ملاقات ہوتی تھی مگر اب وہ ان سے پہلے کی طرح بے تکلفی سے پاس بیٹھ کر گفتگو نہ کرپاتی تھی۔
اس کی کیفیت عجیب تھی۔ وہ عمر سے خفا بھی تھی مگر وہ ہرپل اس کے حواسوں پر سوار رہتاتھا۔ شادی کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود ان میں پہلے جیسا ہی فاصلہ تھا۔ وہ صبح کا سائٹ پر گیا کبھی شام کو تو کبھی رات کو لوٹتا۔ دروازے میں ہی کبھی ماں تو کبھی بہنیں گھیرلیتیں پھر ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہ ان کی سنگت میں گزار کرآتاتو اس کا موڈ آف ہوتا‘ وہ فریش ہو کر آرام کرتا اور دوستوں کی طرف نکل جاتا تھا‘ پھر کبھی کھانے سے پہلے یابعد گھر میں آتاتو پھر نہ معلوم صاعقہ بیگم کونسے قصے چھیڑ دیتیں جو رات گئے ختم ہوتے اور وہ جو سارے دن کی تھکی ہوئی ہوتی تھی۔ انتظار کرتے کرتے سوجاتی اور وہ اس کے انتظار کی خوش فہمی دل میں لیے آتا اور اسے سوتا دیکھ کر پیچ وتاب کھا کر سوجاتا۔ دونوں انا کے جال میں پھنسے ایکدوسرے کی پہل کے انتظار میں لاتعلق سے ہوئے تھے۔ صاعقہ کی تمام چالیں کامیاب ہو رہی تھیں۔
’’لائیے بھابی! میں آلو چھیل دوں۔‘‘ وہ کچن میں آکر بولی۔
’’ہاں…لو‘ دیر ہوگئی ہے آج تو‘ توقیر آتے ہی ہوں گے۔‘‘ وہ چھری اسے پکڑا کر سالن بھوننے لگیں۔ وہ بڑی نفاست سے الو کے چھلکے اتار نے لگی۔
’’شکر ہے تمہیں بھی سسرال جاکر کچن سے دلچسپی ہوگئی۔ بڑی اداس رہنے لگی ہو؟ ہاں بھئی ہونا بھی چاہئے‘ سسرال والوں نے پلٹ کر خبر ہی نہ لی اور عمر کو بھی ایک ہفتے سے زیادہ ہوگیا ہے گئے ہوئے اس نے بھی نہ کال کی‘ نہ سیل کی۔ تمہاری حالت تو ا یسی ہونی ہی چاہئے ۔ تمہاری جگہ میں ہوتی تو پاگل ہوچکی ہوتی مارے وہموں کے‘ دیکھو نہ‘ وہ گیا بھی تو کہاں لندن‘ توبہ…بہت ہی آزاد وبدذات معاشرہ ہے‘ اچھے اچھوں کاایمان کمزور پڑجاتا ہے۔ اس ماحول میں۔ پھر وہاں کی وہ گوری چمڑی والی میمیں ایشیائی مردوں پر ایسی مرتی ہیں جیسے گڑ پر مکھیاں عمر تو ہیں بھی خوبصورت وہینڈسم پھردولت مند اور جوان ہیں۔ ایسے مردوں کو وہ جلد قابو میں کرلیتی ہیں۔ ایک بات بولوں گی‘ تم برامانویا بھلا…عمر کے چال چلن مجھے درست نہیں لگتے۔‘‘ وہ بت بنی ایرج کے آگے سے چھلے ہوئے آلو اٹھا کر سالن میں ڈالتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’وہ تمہیں چھوڑ کر مزے سے چلا گیا‘اگر محبت کرتاتو کسی بھی بہانے سے ہنی مون کے لیے ساتھ لے جاتا…مگر وہی بات کہ جو مرد دوسری نیت سے جائے وہ اپنے ساتھ کیوں پائوں کی زنجیر لے جائے؟ اب تک اسے آجانا چاہئے تھا۔‘‘
’’ارے کیا ہوا؟‘‘ اس کی خاموشی پر پلٹ کر دیکھا تو وہ دھواں دھواں چہرہ لیے کھڑی تھی اور دوسرے لمحے وہ بھاگ کر ان سے لپٹی رو رہی تھی۔ ان کی باتیں پہلی بار اسے بالکل سچ لگیں۔ ان کا ایک ایک لفظ حقیقت کی ترجمانی کرتا محسوس ہوا۔ اسے لگا بھابی سے بڑھ کر کوئی ہمدرد نہیں ہے۔
’’ایرج! ‘‘ بھائی کی آواز پر اس نے تیزی سے چہرہ دوپٹے سے رگڑا تھا۔
’’عمر کی کال آئی ہے وہ ایرج کولینے آرہا ہے۔ ا یرج ! تم تیار ہوبیٹا۔‘‘
وہ ہاتھ میں پکڑے کئی شاپرز بھابی کی طرف بڑھاتے ہوئے دونوں سے مخاطب ہوئے۔
’’عمر… کب آئے بھائی؟‘‘ اس کا دل دھڑکنے لگا نہ معلوم خوشی سے یا…
’’وہ رات کوآیا ہے اسی وقت وہ تمہیں لینے آرہے تھے مگر تم سوچکی تھیں اس لیے تمہاری بھابی نے منع کردیا کہ تم بے آرام ہوگی‘ اب عمر نے آفس فون کیا ہے۔‘‘
توقیر نے عمر سے کی گئی تمام گفتگو دہرادی۔ وہ بھیگی آنکھوں سے بھابی کو دیکھے گئی۔ مبالغہ آرائی‘ جھوٹ اور مکاری میں وہ کتنی پستیوں میں جاگری تھیں۔ دکھ سے اس کا دل بھر گیا۔ وہ تو چند لمحے قبل صدق دل سے ان کی زیادتیاں معاف کرچکی تھی۔
’’کیا کروں اماں کے جانے کے بعد تمام ذمے داریاں میرے اوپر آگئی ہیں۔ دماغ الجھ کررہ گیا ہے۔ تمہیں بتانا یادہی نہیں رہا اور آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ پہلی بار عمر ایرج کو لینے آرہا ہے کھانے کا ٹائم ہے گھر میں بھی کچھ خاص نہیں بنا ہے کیا کروں؟ عزت کا سوال ہے؟‘‘ وہ بری طرح سٹپٹائی ہوئی تھیں۔ انہیں گمان بھی نہ تھا کہ اس طرح ان کی غلط بیانی وفریب کا پردہ چاک ہوگا یاعمر یہاں کی بجائے توقیر کے آفس فون کرکے اجازت لیں گے۔
’’فکرمت کرو‘ میں بازار سے بہت کچھ لے آیا ہوں‘ تم پڈنگ اور شیرخورمہ بنالو‘ رس ملائی اور ربڑی میں لے آیا ہوں۔‘‘ ان کامسئلہ حل ہوگیا۔ اس نے ویلوٹ کے بلوسوٹ پر ریڈ‘ گولڈن اور بلو کے امتزاج کادوپٹہ اوڑھا تھا۔ بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹ کر گلاب کا پھول لگایا تھا۔ ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک نے چہرے کو روشن کرڈالا تھا۔ کانوں میں دوپٹے کے میچنگ کے بڑے ٹاپس تھے۔ گلے میں عمر کا رونمائی میں د یاہواڈائمنڈ نیکلس ہر وقت رہتاتھا اور دونوں ہاتھوں میں طلائی چوڑیاں بھی ۔ وہ تیار ہو کر باہر آئی تو اسی لمحے باہر سے کار کے ہارن کی آوا ز سنائی دی تھی۔ بھابی گیٹ کی طرف گئی تھیں وہ بھی پیچھے آکر پردے کی اوٹ میں ہوگئی۔ اس نے انہیں سلام کیا تھا مگر کار سے نہیں اترا تھا۔
’’اندر تو آئونا‘ کھانا تیار ہے ہم کب سے انتظار کررہے ہیں۔‘‘
’’ایم سوری بھابی! میں اس وقت بہت جلدی میں ہوں‘ کھانا پھر کبھی کھائوں گا۔ آپ ا یرج کو بلادیں پلیز۔‘‘ اس نے باوقار لہجے میں معذرت کرتے ہوئے کہا۔ بھابی کے بے حد اصرار پر اس نے مجبوری بیان کی کہ ان کی کسی اہم ترین پراجیکٹ کے سلسلے میں صوبائی منسٹر سے اپائنمنٹ ہے جس کے لیے اسے فوراً جانا تھا۔ بھائی باتھ لے رہے تھے‘ وہ بھابی کو خداحافظ کہتی ہوئی فرنٹ سیٹ پربیٹھ گئی جس کا دروازہ پہلے سے واتھا۔
وہ بہت رش ڈرائیونگ کررہاتھا‘ اس کے چہرے پر بے حد سنجیدگی تھی۔ سرخی مائل ہونٹ مضبوطی سے پیوست تھے۔ وہ جو اس کی بدگمانیوں ‘کج ادائیوں کا شکار تھی ‘ چاہنے کے باوجود وہ پہل نہ کرسکی‘ اضطراری انداز میں انگلیوں اور ناخنوں کا جائزہ لیتی رہی۔ اس کے ملبوس سے نکلتی فرنچ پرفیوم کی مہک سے اس کے احساسات عجیب ہو رہے تھے۔
’’جب میکے سے دل نہیں بھراتھا تو کیوں شادی کے لیے حامی بھری تھی؟‘‘ وہ اس کی جانب دیکھے بغیر کاٹ دار لہجے میں مخاطب ہوا۔
’’نیند کی اسقدر شیدائی ہو‘ جب بھی کال کی سوتی ہوئی ملتی ہو یا گھر سے غائب ۔ لندن جانے سے پہلے کال کی بھابی نے کہا سو رہی ہو‘ لندن جاکر ہزار بار کالز کیں معلوم ہوا سو رہی ہو ۔ اٹھایاجائے گاتو سرمیں درد ہوجائے گا۔کل ایئرپورٹ سے کال کی کہ ساتھ لیتا ہوا چلاجائوں گا ۔ بھابی نے خبر دی سوگئی ہو۔ میں نے غصے میں سیل آف کردیا۔ بھابی کہہ رہی تھیں ایک ہفتے بعد آئوگی‘ ابھی میکے سے دل نہیں بھرا ہے نشہ کرتی ہو وہاں جاکر؟ میری کوئی پرسٹج‘ کوئی ویلیو نہیں ہے تمہاری نظروں میں؟ ایجوکیٹڈ ہو‘ اسمارٹ ہو‘ میرڈ لائف کی کیا ریلشین شپ ہوتی ہے اس سے آگاہ نہیں ہو؟ یا صرف زبان چلانے پر ہی تمام انرجی ویسٹ کردی ہے؟‘‘ کچھ لمحوں قبل چھائی خاموشی طوفان کے آنے سے قبل والی خاموشی تھی۔ اب وہ بھرے بادلوں کی طرح برستا چلا گیاتھا۔ وہ شاکڈ سی سب سنتی چلی گئی نا معلوم بھابی اس کے معاملے میں اتنی کیوں گرگئی تھیں کہ اپنے رتبے و وقار کے ساتھ ساتھ یہ بھی بھول بیٹھیں کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے‘ سچ ہرحال میں اپنا آپ ثابت کرتا ہے‘ وہ سب بھلا کر اسے ڈبل کراس کرتی رہی ‘ وہاں ساس ونندوں سے خبروں کا لین دین کرکے یہاں اسے عمر سے بدظن کرتی رہیں اور عمر کو اس سے اکثر راتوں کو اس نے فون کی گھنٹیاں سنی تھیں او راس کے اٹھانے سے قبل وہ اٹھالیا کرتی تھیں۔ سیل رکھنے کی وہ عادی نہ تھی۔
’’اب کس طرح خاموش بیٹھ گئی ہو جیسے بولنا نہیں جانتیں؟‘‘ زبان تمہاری صرف امی اور میری بہنوں کے سامنے چلتی ہے؟ امی لینے گئیں‘ آپی لینے آئیں‘ تم نے انہیں بے عزت کیا اور کہا کہ تمہارا تعلق صرف مجھ سے ہے اگر میں گھر میں موجود نہیں ہوں تو تمہارا وہاں کیا؟‘‘ عمر نہ معلوم کیا کیا کہہ رہاتھا اس نے اپنا چکراتا سر دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا کہ کوئی فرار کا راستہ ہی دکھائی نہ دے رہا تھا۔ آگے کھائی ‘ پیچھے کنواں‘ اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔
’’چیٹنگ…زہر لگتی ہے مجھے اوور ایکٹنگ کرتی عورتیں۔‘‘ وہ غرایا۔ وہ وحشتوں کے صحرائوں میں بھٹکنے لگی ‘برابر میں ڈرائیونگ کرتا شخص قصور وار ہوتے ہوئے بھی جج بنا سارے الزامات اس کے کھاتے میں ڈال رہا تھا۔ اتنے دنوں کی جدائی نے بھی اس پر گری بدگمانی وکٹھورپن کی برف نہ پگھلائی تھی ۔ بیوی کی پریشانی و بے بسی اسے اداکاری لگتی تھی اور ماں‘ بہنیں اس کے ظلم کاشکار۔
’’اپنی ماں ‘بہنوں کی اداکاری کبھی آپ کو اوورفیل نہیں ہوئی؟‘‘ اس بار وہ بولی تو اس کے لہجے میں کڑواہٹ تھی۔
’’بکواس مت کرو۔‘‘ اس نے قہر آلود نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ہونہہ‘ سچائی آپ کو بکواس لگتی ہے اور بکواس… سچ…‘‘
’’مجھے دوبارہ ہاتھ اٹھانے پر مجبور مت کرو‘ تمہاری اصلیت میں جانتا ہوں۔‘‘
’’کیا جانتے ہیں بتائیے؟‘‘ وہ سمجھوتہ فراموش کربیٹھی۔
’’تم سے پہلی ملاقات بھولانہیں ہوں‘ حرف بہ حرف یاد ہے مجھے وہ سب‘ پاپا نے جب مجھ سے اپنی خواہش ظاہر کی تو میں راضی نہ تھا مگر پاپا کے خواب توڑنے کامجھ میں حوصلہ نہ تھا اور دل بھی ایک جاہل وبدتمیز لڑکی کو قبول کرنے پر رضامند نہ تھا مگر میں نے خود کو یہ سوچ کر بہلالیا کہ وہ سب مس انڈراسٹینڈنگ ہوسکتی ہے۔ میری بجائے وہاں کسی اور کو آنا ہوگا۔ مگر اب اندازہ ہوا وہ سب میرا وہم نہیں حقیقت تھی۔ تم ہو ہی ایسی بدتمیز‘ بدزبان وسنگدل لڑکی!‘‘
وہ پھر کچھ نہ بولی۔ گھر آگیا وہ اس سے پہلے اتر کر اندر چلا گیا۔ وہ اندر آئی تو چاروں نندیں موجود تھیں‘ تائی نے اٹھ کر والہانہ انداز میں استقبال کیا۔ نندیں واری صدقے گئیں۔ وہاں موجود رافع بہت احترام سے ملا۔
عمر بھانجوں‘ بھانجیوں کو پیار کرنے میں مصروف تھا۔ لائونج میں دوسوٹ کیس کھلے پڑے تھے جن سے نکالا گیاڈھیروں سامان کارپٹ پر بکھرا تھا وہ ماں بیٹیاں گفٹس دیکھنے میں مصروف تھیں۔ رافع اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔
’’زوبی ڈیئر! جلدی سے کھانا لگائو مجھے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ اس کی آواز پر حیرت سے دیکھا۔ ساتھ ہی ان ماں بیٹیوں کے چہروں پر بھی استعجاب درآیا تھا۔
’’سرال پہلی دفعہ گئے ہو وہاں کسی نے نہیں پوچھا؟‘‘ صاعقہ مسکرا کر بولیں۔
’’شہرین بھابی بے حد اصرار کررہی تھیں میں خود نہیں رکا کہ دوسری فارمیلیٹیز میں میں لیٹ ہوجائوں گا۔‘‘ وہ ان کی مسکراہٹوں کی معنی خیزیاں کیسے پہچان سکتاتھا۔
زوبی نے وہیں سینٹر ٹیبل پر کھانا لگادیا تھاوہ کھانے لگا۔
’’بھائی جان! سب کے گفٹس پر نام لکھا ہے مگر ان گفٹس پر کسی کانام نہیں ہے یہ کس کے ہیں؟ ساڑی‘ میک اپ کٹ‘ پرل کا سیٹ کس کے لیے ہیں؟‘‘
’’نام نہیں لکھا تو سمجھ جائو یہ سب بھابی کے لیے ہیں۔‘‘ رافع نے کہا۔
’’ساڑی کا کپڑا کتنا سوفٹ ہے‘ مہرون کلر پر ا یمبرائیڈری کتنی زبردست ہے۔‘‘
’’پرل میں تو ہیروں سے زیادہ چمک ہے میں بھی خریدوں گی ایسا سیٹ۔‘‘
’’بھائی! میرے لیے بھی لاتے ا یسی کٹ اس کمپنی کی پروڈکٹس یہاں نہیں ملتیں۔‘‘
’’آپ کو پسند آرہی ہیں آپ لوگ لے لیں‘ ایرج کے لیے بعد میں آجائیں گی۔‘‘ وہ کھاناکھا کر اٹھ چکا تھا کہتا ہوا باہر چلا گیا، رافع کمرے میں چلا گیا۔
’’توبہ کیسے نکھٹے لوگ ہیں داماد پہلی دفعہ گھر گیااور ایسے ہی سوکھے منہ ٹرخا دیا حد ہوتی ہے بے غیرتی کی بھی۔‘‘ میدان صاف ہوتے ہی امی اسے گھورتے ہوئے گویا ہوئیں پھر بیٹیاں بھی شروع ہوگئی تھیں۔ اس نے خود کو پتھر بنالیا۔ انہوں نے اپنے گفٹس سمیٹتے ہوئے اس کے گفٹس بھی اپنے قبضے میں کرلیے تھے۔ اسے کوئی ملال نہیں ہوا‘ وہ کون سا اس کے لیے محبت سے لایا تھا۔ اگراس کی چاہتوں میں خلوص ہوتاتو وہ انہیں کیوں لینے دیتا۔
وہ کمرے میں آگئی بلامقصد وہ ڈیکوریشن پیسز کو ترتیب دیتی ر ہی پھر عشاء کی نماز پڑھنے لگی ۔ رات تیزی سے گزرنے لگی ۔ عمر کا پتہ نہ تھا۔ رافع بھی آج خلاف عادت بہت خاموش تھا ورنہ وہ کچھ وقت اس کی باتوں میں گزار لیتی۔ بارہ بج چکے تھے عمر نہیں آیا تھا اسے بھوک کااحساس ستانے لگا۔
رات سے بھابی کی باتوں نے اس کی بھوک پیاس اڑا رکھی تھی۔ صبح کا ناشتہ دوپہر کا کھانا ا س نے برائے نام ہی کھایا تھااور اب اس کے انتظار میں نہ کھاسکی تھی۔ وہ پروا کئے بنا خود کھاکرچلا گیا تھا گھر میں بھی سب کھاچکے تھے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہاتھا اس کے معدے میں اینٹھن بڑھتی جارہی تھی اوراسے جسم بے جان محسوس ہونے لگا وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے صوفے پر ہی لیٹ گئی۔ اسے محسوس ہوا بھوک کی مار ہر مار سے زیادہ بھاری ہوتی ہے تب ہی لوگ کیا کچھ نہیں فروخت کردیتے حتیٰ کہ عصمت بھی۔
نہ معلوم کس ٹائم بھوک سے لڑتے لڑتے وہ سو گئی ۔ آنکھ کھلی تووہ بھی برابر رکھے صوفے پر بے خبر سو رہا تھا۔ بیٹھے بیٹھے نہ معلوم وہ کس وقت آیا تھا ؟ نیند میں ڈوبا ہوا اس کا چہرہ کتنا دلکش ووجیہہ لگ رہاتھا ۔ سنگدلی وبے حسی سے صاف۔
’’ہم لڑکیاں بھی کتنی بے وقوف وخوابوں میں رہنے والی ہوتی ہیں جو جیون ساتھی کے روپ میں خوبصورت واسمارٹ شخص کی خواہشمند ہوتی ہیں۔ کوئی مجھ سے پوچھے یہ خوبصورت چہرہ رکھنے والے اندر سے کتنے سفاک اور بے رحم ہوتے ہیں یہ کند چھری سے ذبح کرتے ہیں اور تڑپنے بھی نہیں دیتے۔آنسو اس کی آنکھوں میں آگئے بھوک کی تڑپ نے اسے نڈھال کردیا۔ معدے میں ایکدم شدید درد کی لہر سی اٹھی اور وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے کراہنے لگی۔ اس کی کراہ سے عمر کی آنکھ کھلی تھی۔ اسے بے چین دیکھ کر ایک جست میں اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا پریشانی سے دریافت کرنے لگا۔
’’ایرج … ایرج! کیا ہوا؟‘‘ اس کا زرد چہرہ ‘خشک ہونٹ اور بند ہوتی آنکھوں سے بہتے آنسو متوحش کرگئے تھے۔
مسلسل ذہنی وروحانی کشمکش نے اسے پہلے ہی ادھ مرا کردیاتھااور رہی سہی کسر بھوک نے پوری کردی وہ بیہوش ہوگئی تھی۔ عمر اسے بازوئوں میں اٹھا کر باہر نکلا تو رافع جو کسی کام سے باہر آیا تھا وہ دوڑ کر اس کے پاس آیا اوراس کے کہنے پر کار نکالی تھی۔ ہاسپٹل تک پہنچتے پہنچتے اس کی دل کی دھڑکنیں ڈوبتی ابھرتی رہی تھیں۔ وہ دیوانوں کی طرح ر افع کی موجودگی کی پرواہ کئے بغیر اس کے بیہوش وجود کو بانہوں میں متاع حیات کی طرح سنبھالے ہوئے اس کے لیے دعائیں مانگتا رہا تھا۔
ہاسپٹل کی ایمرجنسی میں اسے فوری ٹریٹمنٹ دی گئی۔ اسے نروس بریک ڈائون ہواتھا۔ اس کی حالت بہتر نہ تھی۔ ڈاکٹرز نے اس سے ملنے کی اجازت نہ دی تھی۔ دوسری بات جو ڈاکٹرنے کی وہ اس کے خالی معدے کی تھی۔
وہ سرپکڑ کر بیٹھتاچلا گیا تھا۔ کسی کتاب میں پڑھا ہوا وہ قصہ اسے یاد آنے لگا کسی نجومی نے اپنی موت کی پیشن گوئی کی تھی کہ وہ بادشاہ کے محل میں فاقوں سے مرے گااور کسی دن بادشاہ شکار پر چلا گیا اور وہ لڑکا محل کے کمرے فاقوں سے مرگیا کہ کسی کو یاد ہی نہ رہاتھا وہ لڑکا کمرے میں بند رہ گیا ہے۔
’’عمر بھائی! پریشان مت ہوں‘ بھابی ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘ رافع نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو اس نے بمشکل خود پرقابو پایا۔
’’آج میں نے بہت کچھ کہا ہے اسے‘ بہت سنایا ہے۔‘‘ وہ جیسے خود سے مخاطب تھا۔ رافع اس کے قریب ہی بیٹھا رہا تھا۔
’’بھابی بہت اچھی ہیں ‘ نیک اور صابر‘ اس نفسا نفسی کے دور میں ایسی تابعدار اور اطاعت شعار بہو اور بیوی کہاں ملے گی۔ مجھے بہت دکھ وافسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے۔‘‘وہ کچھ توقف کے بعد آہستگی سے بولا۔
’’خالہ جان اور چاروں بہنوں نے بھابی کو قبول نہیں کیا ہے ‘ وہ سیاسی گیم کھیل رہی ہیں آپ کے ساتھ۔‘‘
’’رافع! تمہیں معلوم ہے تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس کے لہجے میں سختی درآئی۔
’’جی ہاں! بھابی غلط نہیں ہیں‘گھر والے غلط کررہے ہیں۔‘‘
’’فارگاڈ سیک ! میں ڈسٹرب ہوں‘ مزید مت کرو۔‘‘
’’عمر بھائی! بھابی زندگی وموت کی کشمکش میں مبتلا ہیں اگر انہیں کچھ ہوگیا تو… یہ قتل ہوگا جس میں ان کے ساتھ آپ بھی شامل ہوں گے۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ آپ تو ملک ملک گھومے ہیں۔ بے شمار لوگوں سے ملتے ہیں آپ کو ابھی تک لوگوں کی شناخت نہیں ہوئی؟ ساری بات اعتماد کی آجاتی ہے۔ غیروں سے تعلقات استوار کرنے سے قبل ہم خوب چھان بین کرتے ہیں کہ اپنوں سے دھوکے وفریب کی توقع نہیں ہوتی ہے مگر اس دور میں دھوکا وفریب ہمارے اپنے ہی دیتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے آکر ایرج کی نئی زندگی کی نوید دے دی تھی مگر اس سے ملنے کی اجازت نہ دی۔ دونوں نے ہی سجدہ شکر ادا کیا تھا۔
’’اگر آپ بھابی سے محبت کرتے ہیں تو ان کو اس منافقت بھرے بے حس ماحول سے نکال کر کہیں دور لے جائیں ورنہ برا ہوگا۔‘‘
’’تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے رافع! امی اور وہ چاروں ایرج پر خوب جان چھڑکتی ہیں میں نے ہزار بار نوٹ کیا ہے۔‘‘
’’وہ آپ کو دکھانے کے لیے ہی تو ہوتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بھابی سے اتنی نفرت کرتی ہیں کہ ان پر تھوکنا بھی پسند نہ کریں اس سے بڑھ کر بھی نفرت کی جاسکتی ہے کسی سے۔‘‘
’’میں نہیں مان سکتا میں یہی کہوں گا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ وہ پیشانی کو ہاتھ سے رگڑتے ہوئے متذبذب انداز میں گویا ہوا۔
’’آپ کو ماننا ہوگا بھائی! میں نے آپ کی عدم موجودگی میں ساری جاسوسی کی ہے۔ یہاں خالہ جان اور ساریہ آپی وغیرہ نے انہیں قبول نہیں کیا وہاں ان کو تباہ کرنے میں ان کی شہرین بھابی پیش پیش ہیں۔‘‘
وہ اسے متوجہ دیکھ کر کہتا چلا گیا۔
’’ان سب نے مل کر فیصلہ کرلیاتھا کہ وہ آپ کو اور بھابی کو ساتھ نہیں ر ہنے دیں گے‘ اس کے لیے انہوں نے بہت گھنائونی چالیں چلی تھیں اگر آپ غیر جانب داری سے سوچیں گے تو ہر بات کلیئر ہوجائے گی۔خالہ جان آپ سے شکایت کررہی تھیں بھابی کی کہ وہ ان کے ساتھ نہیں آئیں‘ ساریہ باجی کو بھی بے عزت کرکے بھیج دیا اور سچ تو یہ ہے وہ بھابی کو لینے گئی ہی نہیں، نہ ساریہ باجی کو بھیجا تھا…بلکہ بھابی کو آپ کے جانے کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘
’’یہ …یہ کس طرح ممکن ہے؟‘‘ وہ حیرانگی درحیرانگی کاشکار ہوا۔
’’اسی طرح جس طرح آج آپ کی آنکھوں کے سامنے سومیہ آپی‘ ثوبی اور زوبی نے آپ کے لائے ہوئے گفٹس جو بھابی کے لیے تھے وہ لے لیے کیا محبت کرنے والی بہنیں اس طرح بھائی کی خوشیوں کا استحصال کرتی ہیں؟ اگر بھابی غلط ہوتیں تو کس طرح کوئی ان کی چیزیں لے سکتاتھا؟ خالہ جان نے بھی آنکھیں بند کرلیں۔‘‘ وہ ایک کے بعد ایک نقاب جھوٹ کے چہرے سے الٹ رہاتھا۔ عمر بیٹھا ہوا مضطرب تھا۔
’’میں نے آپ سے کہا کہ آپ شہرین بھابی کے بجائے آپ توقیر بھائی سے ایرج بھابی کو لانے کی اجازت لیں اور آپ نے دیکھا راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ورنہ ان کی بھابی اسی طرح جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہتیں۔‘‘
’’پلیز چپ ہوجائو۔‘‘ رافع جو کہہ رہاتھا وہ جھوٹ بھی نہ تھا مگر دل اسے سچ ماننے کو راضی بھی نہ تھا عجیب کشمکش تھی۔
اذانوں کے بعد انہیں اجازت ملی تھی ا یرج سے ملنے کی۔ وہ ہوش میں تھی۔ رافع طبیعت پوچھ کر روم سے چلا گیا تھا۔ وہ چپ چاپ کھڑا اس کے سفید چہرے کو دیکھتا رہا۔اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔ ایرج ابھی بھی غنودگی میں تھی۔ بائیں بازوں میں ڈرپ لگی ہوئی تھی۔
وہ کوشش کے باوجود کچھ بول نہ پایا مجرمانہ انداز میں کھڑا رہا۔ وہ دوبارہ گہری غنودگی میں ڈوب گئی تھی۔
’’بھائی میرا مطلب آپ کو ڈس ہارٹ کرنا نہیں تھا۔ صرف تصویر کے دونوں رخ دکھانے تھے تاکہ آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔‘‘ رافع اندر آگیا تھا اور اسے گم صم کھڑا دیکھ کر بولا تھا۔
’’میرا دل نہیں مانتا‘ کیا سگی ماں کا یہ کام ہوسکتا ہے؟ بہنیں بھائی کی خوشیاں اس طرح برباد کرسکتی ہیں؟‘‘ وہ بے حد پریشان تھا۔
’’انہوں نے آپ کی ماں اور بہن بن کر نہیں صرف اور صرف تائی بن کر سوچا۔‘‘رافع کی بات پوری طرح اس کی سمجھ میں آئی تھی یانہیں مگر وہ خاموش ہوگیا تھا۔ گھر آکر اس نے بتایا کہ رات کو ایرج کی طبیعت خراب ہوگئی تھی وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے۔ اسی وقت امی‘ چاروں بیٹیوں کو لے کر ہاسپٹل پہنچ گئیں۔ وہ بہت پریشان وفکرمند دکھائی دے رہی تھیں‘ عمر نے دعا کی رافع کی باتیں غلط ہوں وہ اتنی ہی مخلص ہوں جتنی نظر آتی ہیں۔
ایرج ایک ہفتے بعد ڈسچارج ہوئی تھی اور اس دوران اس کی آنکھوں سے پوری طرح پردہ ہٹ گیاتھا۔ امی ایک دفعہ چند منٹ کے لیے اس کے پاس گئی تھیں‘ پھر انہوں نے اور بیٹیوں نے پلٹ کر خبر نہ لی۔ اس کے سامنے زبانی جمع خرچ سے کام چلاتی رہیں۔ اس دوران رافع نے اس کا پورا ساتھ دیا تھا۔ ایرج کا بھی بہت خیال رکھا تھا۔
وہ ندامتوں کے گہرے ساگر میں ا سطرح غرق ہوا تھا کہ ایرج سے نگاہ چرانے لگا تھا۔ ویسے تو بہت خیال رکھنے لگا تھا۔ ہاسپٹل سے آنے کے بعد بھی اس نے اسے بیڈ سے اترنے نہیں دیا تھا۔ وہ اس کی خاموشی کو نفرت سمجھ رہی تھی۔ دراصل عمر کے ذہن پر چھائے بدگمانی وخفگی کے سائے تحلیل ہوگئے تھے مگر اصل صورتحال سے ناواقف ایرج اس کی راہ پر چل پڑی تھی۔
’’سنیں …! میں گھر جانا چاہتی ہوں…ہمیشہ کے لیے۔‘‘ اس دن وہ اس سے مخاطب ہوئی جو فائلز پھیلائے بیٹھا تھا۔
’’ہمیشہ کے لیے ؟‘‘ اس نے آگے پڑی فائل بند کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔’’یہ بھی تو تمہارا گھر ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’نہیں‘ یہ میرا گھر نہیں ہے۔‘‘ آنسوئوں کا گولہ اس کے حلق میں پھنس گیا۔
’’آپ وہاں…شادی کرلیں‘ جہاں تائی اماں چاہتی ہیں۔‘‘
’’اچھا… پھر تم کیا کروگی؟‘‘ وہ بے ساختہ ہنس پڑاتھا۔
’’میں تنہا زندگی گزار سکتی ہوں صرف مجھ سے اپنا نام نہ چھینئے گا۔‘‘
’’اوکے سوچوں گا۔‘‘ بہت عرصے بعد اس کی آنکھوں میں چاہت کے جگنوجگمگائے تھے۔ وہ مکمل استحقاق سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ایرج بے خبر تھی۔
’’جرمنی کی ایک بڑی فرم سے میرا اپائن منٹ لیٹر آیا ہے۔ انہوں نے ایک خاص پراجیکٹ کے لیے مجھے سلیکٹ کیا ہے‘ میری فرم کی طرف سے بھی پرزور اصرار ہے کہ مجھے ضرور جانا چاہئے اس طرح کاروباری ودوستانہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔ کل رات کی فلائٹ ہے کیامجھے سی آف نہیں کروگی؟‘‘
’’آ…آپ مجھے اب بتارہے ہیں؟‘‘ اس سے جدائی کا تصور ہی محال تھا۔
’’تم تو میری زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکلنے کا فیصلہ کرچکی ہو پھر ابھی بتائوں یا نہ بتائوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔’’تم بھی اپنا سامان پیک کرلینا۔‘‘
’’میں کیوں کروں؟ جا آپ رہے ہیں۔‘‘
’’تم بھی تو گھر چھوڑوگی نا‘ کیا کہیں گی تمہاری بھابی صاحبہ خالی ہاتھ نکال دیا۔‘‘ اس کے وجیہہ چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی۔
اس کی زندگی سے نکل جانے کے اٹل فیصلے کے باوجود دل کے کسی خفیہ خانے میں یہ امید زندہ تھی کہ وہ اسے روک لے گا۔جانے نہ دے گا‘ منالے گا مگر یہ اس کی خوش فہمی تھی وہ شاید کب سے اس فیصلے کا منتظر تھا۔
وہ امی کے کمرے میں داخل ہوناہی چاہتاتھا کہ اندر سے آئی آواز پر رک گیا ساریہ غصے سے کہہ رہی تھی۔
’’دیکھا کیسے آفس سے آنے کے بعد اس سے چپکا رہتا ہے ‘کس نے مشورہ دیا تھا آپ کو کہ ان کو کھلی چھوٹ دے دیں۔ نہ معلوم کیا گھول کر پلایا ہے اس نے کہ ہاتھ کا چھالہ بنا کررکھا ہوا ہے‘ یاتو اس کی طرف دیکھنا گوارا نہ تھا یااب اسے بیڈ سے اترنے ہی نہیں دیتا۔‘‘
’’پریشان مت ہو ابھی چار دن کی محبت کا خمار چڑھنے دو۔ اس بھوت کو میں خود جوتے مار کر بھگا دوں گی۔ عمر پھر وہی ہمارے اشاروں پر چلے گا۔ تھوڑا صبر سے کام لو۔‘‘ صاعقہ مسکرا کر بولیں۔
’’امی! مجھے خطرہ لگ رہا ہے‘ بھائی ہاتھوں سے نکل گئے ہیں۔‘‘
’’ارے نہیں‘ بہت دن ہوگئے کوئی ڈرامہ نہیں کیا۔ ہماری اداکاری تو ایسی ہوتی ہے کہ مردے اٹھ کھڑے ہوں۔‘‘
’’پھر امی‘ دیر مت کریں‘ مجھے لگ رہا ہے رافع کے بچے نے کچھ گڑبڑ کی ہے۔ بڑے کان لگا کر ہماری باتیں سنتاتھا جب سے بھابی آئی ہیں وہ غائب ہے میری چھٹی حس کہہ رہی ہے گڑبڑ ہے۔‘‘زوبی نے کہا۔
’’ملا کی دوڑ مسجد تک‘عمر کی دوڑ ہم تک۔ وہ ہمیں چھوڑ کر کہاں جاسکتا ہے۔‘‘ اس کے سامنے حقیقت عیاں ہوگئی تھی کتنا مشکل ہے اپنوں کامکروہ چہرہ دیکھنا۔ اس کے اعصاب لرزنے لگے مزید سننے کی تاب نہ تھی۔
’’عمر… بیٹا! کب آئے؟‘‘ وہ اسے دیکھ کر حواس باختہ ہوگئی تھیں۔
’’ابھی ابھی یہ بتانے کے لیے کہ کل میں جرمنی جارہا ہوں پانچ سال کے کنٹریکٹ پر پاپا بھی وہیں ہیں۔‘‘
’’پانچ سال کے لیے ؟‘‘ وہ حواس باختہ ہوگئیں ۔’’ایرج کا کیا ہوگا اور ہم کس طرح رہیں گے تمہارے بغیر؟‘‘
’’ایرج… میرے ساتھ جارہی ہے۔‘‘ رشتے پامال ہوجائیں ‘اعتبار واعتماد کا قتل معمولی نہیں ہوتااسے ان رشتوں نے گھائل کرڈالا تھا جن کووہ زندگی کا حاصل سمجھتارہاتھا مگر وہ پھر بھی بلند ظرف کا مالک تھا کوئی حرف شکایت لبوں پر لائے بغیر وہاں سے چلا آیا تھا۔
وہ کمرے میں آیا تووہ سوں سوں کرتی سوٹ کیس لاک کررہی تھی۔ اس کے گولڈن برائون بال پشت پرپھیلے ہوئے تھے۔ بھیگی آنکھیں وسرخ چہرہ پتہ دے رہا تھا وہ روتی رہی ہے۔
’’چہ … چہ میکے جانے کی خوشی میں لڑکیاں ہنستی ہیں اورتم رو رہی ہو۔ کیاسسرال چھوڑنے کو دل نہیں چاہ رہا؟‘‘ وہ بیڈ پر دراز ہو کر بولا۔
’’آپ مجھ سے کوئی بات نہ کریں۔‘‘ وہ منہ پھلا کر بولی۔
’’کیوں ؟ مجھ سے کیا قصور سرزد ہوا؟‘‘ اس کاموڈ فریش تھا۔ ’’تم نے بتایا نہیں ؟ کیوں بات نہ کروں؟‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب آگیاایرج بے ساختہ روپڑی۔
’’ پلیز عمر! مت تنگ کریں۔ میں پہلے ہی بے حد ڈسٹرب ہو ں بے حد۔‘‘
’’یہی تو جاننا چاہتا ہوں ‘ کیوں ڈسٹرب ہو؟ میری جدائی کے خیال سے ؟ یا یہ گھر چھوڑنے کے احساس سے؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ وہ اور شدتوں سے رونے لگی۔
’’ایڈیت جو ہو‘ صرف زبان چلانا جانتی ہو یا جھگڑنا ‘جذبوں کااظہار‘ محبت کا اقرار کرنا نہیں آتاتمہیں۔‘‘ اس نے بائیں بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’جان چھوٹ جائے گی آپ کی‘ ہر وقت زبان درازی وجھگڑے کے طعنے دیتے رہتے ہیں جاکر کرلیجئے گا کسی گونگی‘ بہری سے شادی۔‘‘
’’تم ہی کروائوگی‘ تب ہی تو ساتھ لے کرجارہا ہوں۔‘‘
’’جاتے وقت تو مت دل جلائیے۔‘‘ وہ سسکی۔
’’میں تمہیں اپنے ساتھ لے کرجارہا ہوں‘ وہاں جاکر ہم اپنی نئی زندگی کی ابتدا کریں گے جن میں نہ بداعتمادیوں کے کانٹے ہوں گے اور نہ بے اعتمادیوں کے گھائو۔‘‘ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’آپ… مذاق تو نہیں کررہے؟‘‘ وہ بے یقین تھی۔
’’نہیں‘ یہ پورا ہفتہ میں نے تمہارے ڈاکومینٹس ریڈی کروانے میں گزارا ہے۔ یہ آفر مجھے بہت عرصے سے ملی ہوئی تھی مگر میں اب گھر سے دور رہنا نہیں چاہتاتھا۔رفتہ رفتہ مجھے احساس ہونے لگا میں قریب آکر اپنوں سے دور ہوگیا ہوں۔ اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں میں نے زندگی کے بہت بدصورت چہرے دیکھے ہیں۔ نفرت‘ حقارت اور بدلہ یہ سگے رشتوں کی علامت بن گئی ہی۔ میں انجان نہیں تھا جومیرے ساتھ ہو رہا تھا وہ میں سمجھتے ہوئے بھی اس لیے سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا کہ اس میں میرے اپنوں کی سازشیں تھیں لیکن ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔اب میں نے جان لیا ہے محبتوں کا اصل حسن قائم رکھنا ہے تو فاصلوں کو بڑھائو‘ وصال ہی محبت کو زندہ رکھتا ہے۔‘‘ وہ سمجھ گیا تھا سابقہ روایت برقرار رکھتے ہوئے اس کی ماں بہنیں اس کے کمرے کے گیٹ اور کھڑکیوں سے چپکی کھڑی سن رہی ہیں وہ بولتا چلا گیا تھا۔
’’تائی امی تنہا کیسے رہیں گی۔ انہیں بھی ساتھ لے چلیں۔‘‘ ایرج کے لہجے میں خلوص واپنائیت تھی، عمر اس کے ساتھ ہی شکر بجالایا۔
’’پاپا کل پہنچ رہے ہیں وہ امی کو جانے نہیں د یں گے۔‘‘
’’چلو تم تیار ہوجائو‘ توقیر بھائی سے مل آتے ہیں۔ وہیں سے خالہ کے ہاں بھی چلیں گے۔ رافع سے بھی ملاقات ہو جائے گی پھر نہ معلوم کب ملاقات ہو؟ ہمارے اپنوں کو ہماری یاد آئے نہ آئے لیکن یہ میرا وعدہ ہے جب بھی خلوص ومحبت سے ہمیں پکاراجائے گا ہم واپس آجائیں گے۔ فٹافٹ تیار ہو جاؤ۔‘‘ اندر سے آتی آوازوں نے باور کروا دیا تھا کہ جو کچھ وہ کرتی رہیں وہ ان سے بے خبر نہیں تھے۔
’’امی! بھائی کو روک لیں‘ ہم بھابی کو تنگ نہیں کریں گے‘ وہ بہت اچھی ہیں‘ بس ہم ہی غصے میں انہیں تنگ کرتے رہے مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ کمرے میں آکر خوب رو رہی تھیں کہ عمر کو بہت زیادہ چاہتی تھیں‘ اب اس کی جدائی کے خیال سے دل کٹ رہا تھا۔
’’بالکل درست فیصلہ کیا ہے عمر نے ‘مجھ جیسی خود پرست وخودغرض عورت کو ایسی ہی سزا ملنی چاہئے۔ اولاد کی جدائی سے بڑھ کر ماں کے لیے کوئی سزا نہیں ہوسکتی۔ میں یہ زہر پیوں گی مگر مجھے یقین ہے بہت جلد میرا بیٹا ہی نہیں میری بہو بھی پورے اعزاز کے ساتھ واپس یہاں آئیں گے پھر کبھی نہ جانے کے لیے‘ابھی محبت کی کونپلیں پھوٹی ہیں۔‘‘

ختم شد

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close