کسی پتھر کی مورت سے

کسی پتھر کی مورت سے

سمیرا شریف طور

میں ابھی تک ہتھوڑوں کی بارش محسوس کر رہا تھا۔ مجھے اپنا پورا وجود ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا گویا کوئی انہونی ہوگئی ہو، میری دنیا میں کوئی طوفان آگیا ہو اور واقعی کوئی طوفان آگیا تھا۔ مجھ پر سکتہ ساطاری ہو گیا تھا۔
’’یہ کیا کر دیا میں نے…میں کس قدر ظالم باپ تھا۔اپنی ذات کے حصار میں مقید اپنے ہی نقصان کا شدید سبب بنتا چلا گیا اور مجھے علم ہی نہ ہو سکا۔ وہ لڑکی جسے میں نے ہمیشہ نفرت کی نظر سے دیکھا۔ اس کے وجود پر لاتعلقی کے کوڑے برسائے، وہ آج میری روح، میری زندگی کی واحد خوشی، میری زندگی کا سبب بن جائے گی۔اس قدر شدید محبت کرتا ہوں اس سے اور ہمیشہ بے خبر رہا۔‘‘ تین دن سے وہ اسپتال میں تھی اور میں تین دن سے ضمیر کی سخت گرفت میں تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ابھی بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی ہو۔ وہی بیٹی جس نے آج تک میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی تھی۔ جس کی زبان سے میرے رویے پر احتجاج کا ایک لفظ تک نہیں نکلا تھا، وہ تین دن پہلے میرے سامنے کھڑی میری ایک ایک لغزش مجھے بتاتی ہوئی، مجھے آئینہ دکھا رہی تھی۔
میں تین دن سے اسپتال میں تھا۔ رات کو سلامہ شاہ نے مجھے زبردستی گھر بھیج دیا تھا تاکہ میں آرام کر سکوں مگر اب آرام کہاں؟ رات بھر اپنی کنپٹیوں کو مسلتے، اپنے شدید نقصان کا تعین کرنے میں مصروف تھا۔ کہاں کہاں مجھ سے حقوق کی بجا آوری میں لرزش ہوئی؟ کہاں کہاں میں غلط تھا۔مجھے اپنی ساری زندگی سے ہی شرم آرہی تھی۔
’’پاپا،آئی ہیٹ یو۔ آئی ہیٹ یو…‘‘ ماورا کے الفاظ ایک دفعہ پھر میرے ذہن میں گردش کرنے لگے تھے۔میں ایک دم بستر سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔ بیڈ کی سائیڈ دراز کے اوپر میری اور سارا کی شادی کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ جسے میں نے کبھی اپنی زندگی سے جدا نہیں کیا تھا۔ میں نے وہ تصویر اٹھالی۔
تصویر میں موجود سارہ آج بھی اپنے ملکوتی حسن سمیت لاثانی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے بھرپور حسن سمیت میرے دل پربجلیاں گراتی رہی تھی اور یہی خود فراموشی آج میری اس اذیت کا سبب بنی ہوئی تھی۔ میں واقعی جنونی تھا۔ سارہ کی وفات کے تیئس، چوبیس سال بعد بھی میں نے اسے زندہ رکھا ہوا تھا۔ اپنی یادوں میں، اپنے خیالوں میں، اپنی سوچوں میں اپنی ساری زندگی میں۔ وہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ ایک عرصہ پہلے میں نے اپنے ہاتھوں سے سارہ کے وجود کو لحد میں اتارا تھا مگر تیئس، چوبیس سال تک میں نے خود کو اس کی موت کا یقین ہوجانے کے باوجود دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا کہ وہ ابھی بھی زندہ ہے۔ محبت کبھی بھی نہیں مرتی۔ ہاں واقعی میں بہت جنونی تھا اور اسی لیے تو ماورا مجھ سے کہہ رہی تھی۔
’’بہت جنونی ہیں پاپا آپ!…آپ نے صرف ایک محبت کی اور کیا کیا آپ نے ساری زندگی۔ماضی پر ماتم کرتے کرتے گزار دی، یہ تک خیال نہ آیا کہ میں کون ہوں، کیا رشتہ ہے میرا آپ سے۔‘‘پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اس نے کہا اور تین دن سے وہ جس طرح چپ چاپ اسپتال کے بستر پر پڑی تھی مجھے ہر آن، ہر لمحہ طوفانوں کی زد میں دھکیلتی جا رہی تھی اور اب سارہ کی تصویر کو دیکھتے، اس کے الفاظ یاد کرکے کوئی میرا دل مٹھی میں بھینچ رہا تھا۔
’’ماورا! میری زندگی، سچ کہا تم نے میں واقعی بہت جنونی ہوں۔ ماضی میں جینے والا۔‘‘اپنے آپ سے اعتراف کرتے ہوئے میں نے وہ تصویر واپس رکھ دی اور خود کو ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہونے سے نہ روک پایا۔

سارہ رحمان میری کلاس فیلو تھی۔ وہ بہت حسین اور پورے ڈپارٹمنٹ کی جان تھی۔ہم دونوں ایم بی اے کے ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ شہر کے ایک بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی۔تھا تو حیثیت و مرتبے میں بھی کچھ کم نہیں۔ میرا تعلق بھی ایک کھاتے پیتے فیوڈل گھرانے سے تھا۔ اپنے ماحول سے نالاں، اکتایا ہوا اور لاتعلق۔ مجھے اپنے باپ کی وراثت میں ایکڑوں کے حساب سے ملنے والی جائیداد سے کوئی غرض نہ تھی۔ مجھے ہر وہ کام کرنے کا جنون تھا جو میرے باپ غفار شاہ کوناپسند تھا۔ انہیں میر ی ذات کے ہر کام میں مداخلت کرنے کی عادت تھی، بچپن کی حدود سے نکلتے ہی میں نے اپنی مرضی کرنا شروع کر دی تھی۔ انہیں ہر ایک کو اپنے زیر اثر رکھنے کا خبط تھا اور میں ان کے زیر اثر رہنے پر قطعی تیار نہ تھا۔ بابا جان کاخیال تھا کہ میں سیاست کی لائن میں آؤں اور مجھے اس سے کوئی غرض نہ تھی۔میری وجہ سے ان کی حیثیت مزید مستحکم ہوسکتی تھی جب کہ میں نے ان کے سب ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے بزنس لائن جوائن کی تھی۔ میرے اور بابا جان کے ہمیشہ نظریاتی اختلافات رہے تھے۔ میں اپنے سسٹم سے اکتایا برگشتہ فطرت کا مالک انسان تھا۔ ایسے میں سارہ سے ملاقات ہونا، اسے دیکھنا۔ میرے احساسات کا محور بدل گیا تھا۔ پہلی نظر کی محبت کیا ہوتی ہے مجھ پر آشکار ہوئی تھی۔ ایم بی اے کا پورا عرصہ میں نے سارہ سے دوستی رکھی اور اپنے سب جذبوں کو دل میں سنبھالے رکھا۔ پھر جیسے ہی میں نے تعلیم کو خیرباد کہا تو بی بی جان سے سارہ کے متعلق بات کی اور انہوں نے بابا جان سے۔ ہمارے خاندان میں اپنی ذات برادری اور خاص طور پر غیر خاندان میں کبھی شادیاں نہیں کی جاتی تھیں۔میری خواہش جان کر بابا جان بہت برگشتہ ہوئے۔ بی بی جان نے ہر طرح سے مجھے سمجھانے کی کوشش کی مگر میں اپنے جذبوں پر بندھ نہ باندھ سکا۔ بابا جان کسی بھی طور پر میری شادی اپنی مرضی کے بغیر کسی غیرخاندان میںکرنے پر راضی نہ تھے اور میں بھی اپنے ارادوں میں اٹل اور ضد کا پکا انسان تھا۔ نجانے کیوں بابا جان سے نظریاتی اختلافات رکھتے رکھتے ان کے ہر فیصلے سے انکار کرنے کی ضدی خاصیت میرے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتی جا رہی تھی۔ بابا جان، سبحان بھائی، دونوں بہنیں بھاوج، بی بی جان سب نے سمجھانے کی کوشش کی مگر میں راضی نہ ہوا اور پھر بابا جان نے غصے میں آکر مجھے ہمیشہ کے لیے حویلی سے نکل جانے کو کہا اور میں بھی اپنا مختصر سا سامان لے کر ان سے قطع تعلق کر آیا۔
حویلی سے نکلتے ہوئے میںبالکل خالی تھا لیکن ایک عزم میرے ساتھ تھا اور شاید قسمت بھی مجھ پر مہربان تھی کہ مجھے ایک بہت اچھی کمپنی میں اعلیٰ درجے کی ایک ملازمت مل گئی۔ گاڑی، گھر وغیرہ کی بھی سہولت تھی پھر میں نے سارہ کے حصول کے لیے کوششیں شروع کردیں۔
پہلے پہل جب سارہ کو یہ علم ہوا کہ میں اسے ایک عرصے سے چاہنے کی جسارت کرتا آیا ہوں تو وہ بہت حیران ہوئی مگر پھر آہستہ آہستہ میرے بار بار اس کی راہ میں آنے پر وہ بھی میری محبت میں مبتلا ہوتی چلی گئی۔ شاید سارا کے والدین مجھ جیسے تنہا شخص سے اپنی چہیتی بیٹی کی شادی کرنے پر کبھی راضی نہ ہوتے اگر میری خاطر وہ اپنے والدین کے سامنے نہ کھڑی ہوتی۔ رو دھو کر، ضد کرکے آخر کار اس نے اپنے والدین کو راضی کر ہی لیا اور پھر ہماری شادی ہوگئی۔
سارہ کا میری زندگی میں آنا بہت خوش آئندہ ثابت ہوا۔جن حالات میں وہ میری زندگی میں آئی تھی، میں مالی مسائل میں الجھا ہوا تھا لیکن اس نے ہر حال میں میرا ساتھ دیا، کبھی بھی میری کم مائیگی پر مجھے طعنہ نہیں دیا۔ وہ عیش و عشرت میں پلی بڑھی لڑکی تھی لیکن میری زندگی میں آتے ہی وہ اپنی گزشتہ زندگی کو، اپنے والدین کے ہی گھر بھول آئی تھی۔ شادی کے بعد میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ بینک سے لون لے کر شراکت داری کی بنیاد پر چھوٹا سا بزنس شروع کر دیا۔ذرا سیٹل ہواتو سارہ کے ہمراہ دوبارہ حویلی گیا، میرا خیال تھا کہ اب بابا جان شاید اپنی ضد کو بھول کر مجھے اپنالیں مگر یہ میری خام خیالی ہی ثابت ہوئی اور بابا جان نے ہم دونوں کو بہت بے عزت کرکے حویلی سے نکال دیا اور پھر اس کے بعد میرے دل میں دوبارہ حویلی والوں سے ملنے کی کوئی حسرت نہ جاگی۔
سارہ سے شادی کے تین سال بعد اﷲ تعالیٰ نے ہم پر کرم کیا۔ سارہ ماں بننے والی تھی۔ جہاں میں بے انتہا خوش تھا وہیں سارہ کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ سارہ کے والدین جو وقتی طور پر ہم دونوں سے بدظن تھے یہ خوشخبری سن کر وہ سارہ کو اپنے پاس لے گئے۔میں بھی اکثر وہاں چلا جاتا۔جوں جوں سارہ کی ڈلیوری کے دن قریب آتے جا رہے تھے میری بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کیونکہ ڈاکٹرز نے سارہ کے کیس کو نارمل قرار نہیں دیا تھا۔ ان ہی دنوں مجھے اپنے کام کے سلسلے میں ترکی کے وزٹ پر جانا پڑ گیا۔ میں جانے پر راضی نہیں تھا لیکن سارہ نے اصرار کرکے بھیج دیا، بقول اس کے کہ میں اس کی خاطر اپنی ترقی کے اتنے اہم موقعے کو مت گنواؤں اور میں چلا گیا۔ ابھی مجھے وہاں پہنچے چار دن ہی گزرے تھے کہ پاکستان سے خبر آئی کہ سارہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ڈلیوری کے دوران اس کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔ یہ خبر میرے لیے ایک زبردست ذہنی جھٹکا ثابت ہوئی۔ نجانے میں کیسے پاکستان پہنچا۔ سارہ نے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔ مجھے اپنی نومولود بچی سے بے انتہا نفرت ہوئی جس کی آمد نے مجھ سے میری عزیزاز جان بیوی کو چھین لیا۔ میں نے ایک دفعہ بھی اپنی بیٹی کو دیکھنے کی خواہش نہ کی۔ اس کی نانی ہی اسے سنبھال رہی تھیں۔ سارہ کی وفات کے کئی ہفتے بعد بھی میری ذہنی حالت سنبھل نہ پائی۔ اپنے خاندان والوں سے میں بالکل کٹا ہوا تھا ایسے حالات میں کوئی بھی مجھے ذہنی سپورٹ دینے والا نہ تھا۔ میری توجہ اپنے بزنس سے ختم ہو کر رہ گئی تھی بلکہ زندگی سے بھی ختم ہوگئی۔میری مسلسل عدم دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ میرا بزنس ختم ہو کر رہ گیا۔ اب اس جگہ رہنے کو میرا دل نہیں چاہتا تھا۔ سب کچھ چھوڑ کر میں واپس گاؤں پہنچا۔ بی بی جان مجھے یوں لٹا پٹا دیکھ کر بہت آزردہ ہوئیں۔ بابا جان اور سبحان بھائی البتہ خاموش ہی تھے۔کچھ وقت گزرا تو بی بی جان مجھ پر دوبارہ شادی کے لیے زور ڈالنے لگیں لیکن سارہ کے بعد کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ حقیقتاً میںنے سارہ کو اپنے تصور میں مرنے ہی نہیں دیا تھا وہ مر کر بھی میرے اندر سے نہیں نکلی تھی۔ ایسے میں کسی دوسرے وجود کو اپنی زندگی میں کیسے شامل کر لیتا۔ یہ میرے لیے ناممکن تھا۔ جب اماں جی کے ساتھ بھاوج اور بابا کا بھی دباؤ بڑھنے لگا تو میں پھر سب تعلق ختم کرکے وہاں سے نکل آیا۔ ماورا اپنی نانی کے پاس تھی۔ انہوں نے ہی اس کا نام ماورا رکھا تھا۔میری عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے انہوں نے اسے پاس ہی رکھنے کا فیصلہ کیاتھا جس سے میں بھی مطمئن ہوگیا تھا۔ اب پاکستان میں رہنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔’’بچا کچا سب کچھ سمیٹ کر میں لندن آبسا اور پھر یہاں جاب کر لی۔ پتا نہیں کتنا عرصہ گزرا تھا۔ مجھے کبھی ماورا کے وجود کا خیال نہیں آیا۔ ہاں البتہ ماورا کے ننھیال والے اکثر رابطہ کرکے اس کی خیرخیریت سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ اس سے زیادہ مجھے ماورا سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ایک نفرت سی میرے دل میں اس کے لیے تھی پھر رفتہ رفتہ دس سال گزر گئے اور ایک دن ماورا کی نانی کا فون آیا۔

’’میں بہت بیمار ہوں۔زندگی کا کچھ نہیں کہہ سکتی…ماورا کو میں سارہ کی نشانی سمجھ کرسینے سے لگا کر پالتی آرہی تھی مگر اب یہاں کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ مجھے علم نہیں کہ سارہ کے بھائی بھی ماورا کو بہن کی نشانی سمجھ کر وہی محبت و پیار دیں گے جو میری موجودگی میں دیتے ہیں۔ وہ تمہاری امانت ہے بیٹا۔ اپنی بیٹی کے بارے میں سوچو۔وہ اب بڑی ہو رہی ہے تمہاری مسلسل غیر حاضری کے متعلق سوال کرنے لگی ہے۔میںاسے مسلسل کسی نہ کسی طرح بہلا لیتی ہوں مگر اب بچی کو تمہاری ضرورت ہے۔ جو تحفظ تم دے سکتے ہو وہ میں یا کوئی اور نہیں دے سکتا۔اس لیے بیٹا اپنی بیٹی کے بارے میں سوچو۔‘‘
پھر مجھے واپس آنا پڑا۔ ماورا کے لیے میرے دل میں قطعی کوئی گنجائش نہ تھی۔ بس ولدیت کے خانے میں میرا نام درج تھا، یہی وہ رشتہ تھا جو اسے میری بیٹی بناتا تھا۔ اسے لے کرمیں حویلی چلا آیا۔دس سال بعد میں دوبارہ وہاں آیا تھا۔ وہاں کا ماحول ویسا ہی تھا۔ بابا جان کا رویہ ہنوز وہی تھا۔ پہلے انہوں نے سارہ کو بہو ماننے سے انکار کیا تھا اب میری بیٹی کو اس خاندان کا خون ماننے سے انکاری ہوگئے تھے اور تب پہلی بار میرے دل میںیہ احساس جاگا کہ وہ میری بیٹی ہے۔میرا خیال تھاکہ اسے میں حویلی چھوڑ کر واپس لندن چلا جاؤں گا لیکن بابا جان کے خود پسند رویہ نے میرے اندر اشتعال بڑھادیا۔ انہیں یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کے اعلیٰ حسب نسب والے خون میں غیر خون کی آمیزش ہو۔ مجھ سے تو وہ متنفر تھے ہی، ماورا کو بھی میری بیٹی ماننے سے انکاری ہوگئے۔ میرے نزدیک بابا جان کا یوں ماورا کو میری بیٹی ماننے سے انکار کرنا کھلم کھلا میری توہین تھی اور یہ توہین میری مردانگی کو گوارا نہ تھی۔میں ماورا کو لے کر لندن آبسا۔
وقت گزرتا چلا گیا اور میں اپنی ذات کے حصار میں بند ہوتا چلا گیا۔ اپنی خود ساختہ نفرت میں غرق میں جان ہی نہ سکا کہ میں کیا کیا غلطیاں کرتا چلا جا رہا ہوں۔ اب بھی میرے شب و روز سارہ کی یاد میں گزرتے تھے۔ اس کی ذات سے ہٹ کر میں نے دوبارہ زندگی میں کسی اور طرف دیکھا ہی نہ تھا۔ حتیٰ کہ ماورا کو بھی میں یہاں لاکر بھول گیا تھا۔ اس کے لیے میں نے ایک مسلمان گورنس کابندوبست کردیا تھا۔ کہنے کو میں اس کی سب ضروریات پوری کرتا تھا۔ بہتر اداروں میں اسے تعلیم دلوا رہا تھا مگر میری نفرت جوں کی توں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر بسنے والا یخ احساسات کا مالک رہبان غفار شاہ مزید سرد گلیشیئرز میں بدلتا چلا گیا۔
حویلی والوں میں سے سبحان بھائی کے بڑے صاحبزادے سلامہ شاہ نے مجھ سے رابطہ رکھا تھا۔ بس وہی ایک شخص تھا جو صحیح معنوں میں میرا حوصلہ بنا تھا۔ کتنے سالوں بعد ایک دن بالکل اچانک وہ مجھ سے ملنے میرے اپارٹمنٹ پر چلا آیا۔ اسے دیکھ کر جیسے نئے سرے سے جی اٹھا۔ اسی دن مجھے دفتری کام کے سلسلے میں کسی دوسرہ شہر میں جانا تھا۔ اسے اپنے گھر میں ٹھہرنے کا کہہ کر میں چلا گیا دو دن کا کام تھا مگر چند گھنٹے بعد ہی سلامہ شاہ نے موبائل پر اطلاع دی کہ ماورا کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے وہ اسپتال میں ہے حیرت کی بات تھی تب بھی میرے احساسات سرد ہی رہے تھے۔ میں آرام سے اپنا کام مکمل کرکے اگلے دن گھر پہنچا۔ ماورا اسپتال میں ہی تھی۔ سارا دن آرام کرکے میں شام کو اسپتال گیا۔ سلامہ بے چارہ میری محبت و مروت میں وہیں تھا۔ میرے کہنے پر وہ چلا گیا۔ اس کے بعد بھی وہ اکثر ملتا رہتا۔ میرے اصرار پر وہ میرے ساتھ ہی رہنے لگا۔ پھر جیسے ہی اس کا کام ختم ہوا وہ چلا گیا۔ جاتے ہوئے وہ مجھے کہہ گیا کہ وہ بابا جان کو راضی کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ سب پرانی باتیں اور رنجشیں بھلا کر مجھے واپس بلا لیں۔ شاید وہ میرے دل میں حویلی والوں سے متعلق محبت کو اچھی طرح محسوس کر رہا تھا اور میں اس کے جانے کے بعد حویلی والوں کی پیش رفت کا انتظار کرنے لگا۔ سلامہ سے رابطہ اسی طرح قائم تھا۔ اب تو اس کی بدولت بی بی جان، سبحان بھائی، بھاوج وغیرہ سے بھی بات ہونے لگی تھی۔ اکثر خط ملتے تھے اور میں شدت سے واپسی کا منتظر تھا۔ یہاں رہتے ہوئے مجھے یہاں کے معاشرے سے ایک الجھن ضرور رہی تھی۔ ماورا اگرچہ یہیں پلی بڑھی تھی مگر اپنی تمام لاتعلقی کے باوجود میری پوری کوشش تھی کہ اس پر اس معاشرے کے اثرات غالب نہ آئیں۔ اسی لیے تو میں نے اس کے لیے فاطمہ جیسی خاتون کابندوبست کیا تھا۔ فاطمہ خاتون بہت مذہبی تھیں۔صوم و صلوٰۃ کی پابند۔ انہوں نے ماورا کی تربیت بھی انہی خطوط پر کی تھی۔ ماورا اپنے لباس گفتگو انداز و اطوار ہر لحاظ سے ایک مکمل مشرقی لڑکی تھی اور اب میری خواہش تھی کہ اس کی شادی یہاں کرنے کی بجائے پاکستان جاکر کروں۔ سلامہ کو جب سے دیکھا تھا میرے اندر عجیب و غریب سے احساسات پیدا ہونے لگے تھے۔ رفتہ رفتہ میری خواہش جڑ پکڑتی جا رہی تھی کہ کیا ہی اچھا ہو کہ سلامہ شاہ ماورا سے شادی کر لے۔ اس طرح ایک تو ماورا خاندان میں ہی رہ جائے گی دوسرے شایدبابا جان کے دل میں بھی جگہ بن جائے۔ اس عمر میں میری سوچ بہت ٹیپیکل ہوتی جا رہی تھی۔ایک سال کے عرصے میں سلامہ صرف ایک دفعہ لندن آسکا تھا۔ وہ بھی دو دن کے لیے اس نے مجھے بتایا کہ حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔
پھر چند ماہ بعد ہی اچانک سلامہ شاہ نے فون کرکے بابا جان پر فالج کا اٹیک ہونے کی اطلاع دی۔ اب میں اتنا پتھر دل بھی نہ تھا کہ ان کی بیماری کی اطلاع سن کر بھی نہ آتا۔ نجانے کیوں مجھے یقین تھا کہ اب کے بابا جان مجھے نہیں دھتکاریں گے۔میںماورا سمیت وہاں پہنچا۔
فالج کے اٹیک نے بابا جان کی ساری اکڑ ختم کرکے رکھ دی تھی۔ حسب نسب پر فخروغرور کرنا اور جاگیردار ہونے کا سارا زعم صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر میرا دل کانپ گیاتھا۔ میرے دل میں کبھی بھی نظریاتی اختلافات کے سوا کوئی برا خیال نہیں آیا تھا۔
’’مجھے معاف کردے رہبان پتر! میں نے بہت برا کیا۔’’حویلی کے کمرے میں لیٹے وہ کہہ رہے تھے۔ فالج نے ان کے دماغ کو بھی متاثر کیا تھا۔جسمانی طور پر وہ ٹھیک تھے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ رو رہے تھے۔
’’معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کریں…سب قصور میرا ہے…بلکہ میں تو خود شرمسار ہوں…‘‘ اس لمحے میری ساری ناراضگی، برسوں کی ضدی فطرت خود سری و طنطنہ نجانے کہاں جا سویا تھا۔ شاید عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ میری انا بھی سرنگوں ہوتی جا رہی تھی یا پھر بوڑھے باپ کو اس حالت میں دیکھنے کا اثر تھا۔
’’یہ تمہاری بیٹی ہے؟‘‘ میں نے ان کے ہاتھوں پر بوسہ دیا تو وہ مسکرا کر میرے عقب میں کھڑی ماورا کو دیکھ کر پوچھنے لگے۔ کبھی انہوں نے اسے میرا خون ماننے سے انکار کیا تھا اور اب…میں نے سر ہلادیا۔
’’ادھر کیوں کھڑی ہو بیٹی…ادھر آؤ…میرے قریب آؤ…میں تمہارا دادا ہوں۔ مجھ سے نہیں ملو گی…‘‘مجھے حیران کرتے اسے بلایا تو وہ کچھ جھجکتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار کیا۔
’’میں غلط تھا…مجھے بڑا زعم تھا اپنے حسب نسب پر…مگر اس بیماری نے سب سمجھا دیاہے۔ اﷲ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ مجھے معاف کر دینا بیٹی۔‘‘ بابا جان ماورا سے کہہ رہے تھے اور میں خاموش تھا۔
پاکستان آکر میں نے بی بی جان کے اصرار پر مستقل یہیں رہنے کا فیصلہ کرلیاتھا۔ میں لندن کچھ کام نمٹانے گیا تو میرے پیچھے ماورا اپنے ننھیال والوں سے ملنے چلی گئی۔ میں واپس آیا تو وہ بھی آچکی تھی۔ یہاں آکر میں بہت خوش تھا۔ان ہی دنوں ماورا کی نانی اور ممانی اپنے بیٹے شہریار کا رشتہ ماورا کے لیے مانگنے آئیں۔ ابھی میں کوئی فیصلہ بھی نہیں کر پایا تھا کہ بابا جان نے سلامہ شاہ کے لیے بات کی۔میری تو دلی مراد بر آئی تھی۔ سلامہ شاہ ہر لحاظ سے معقول تھا۔ بابا جان نے بات کی تو میں انکار کرنے کی گنجائش نہیں نکال سکا۔میری ہاں کی دیر تھی بابا جان اور سبحان بھائی نے وہیں بیٹھے بیٹھے دونوں کی شادی کی تاریخ عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد طے کر دی تھی۔ میں بھی خوش تھا، یہ بوجھ جتنی جلدی اترتا اتنا ہی اچھا تھا۔
سلامہ شاہ سے ماروا کی شادی کا فیصلہ کرکے میں بہت خوش تھا۔ لیکن تین دن پہلے ماورا جس طرح اس رشتے پر انکار کرکے برسوں کی گئی میری کوتاہیاں بھی گنواگئی تھی ان کو یاد کرکے، مجھے اپنے آپ سے بھی نظر ملانا باعث شرم لگ رہا تھا۔
’’میں تو ایک بوجھ کی طرح آپ پر مسلط رہی ہوں۔ بیٹی تو کہیں تھی ہی نہیں اور اب بھی ایک بوجھ کی طرح مجھے اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ بڑا دعویٰ ہے آپ کو کہ آپ نے ماما سے بڑی انمول محبت کی ہے۔ ان کی موت کے بعد بھی ان کی محبت کا عہد نبھاتے رہے ہیں۔‘‘
ماورا کی آواز میرے دماغ میں گھس رہی تھی۔ہر طرف صرف انہی لفظوں کی بازگشت تھی۔
’’مگر مجھ سے پوچھیے کہ آپ دراصل کیا ہیں؟ آپ تو انسان بھی نہیں ہیں۔ باپ کیا بنتے؟‘‘ ہمیشہ میری سب زیادتیاں چپ چاپ سہنے والی میری بیٹی کیسے بلک بلک کر رو رہی تھی۔
’’میرے ساتھ نا انصافیاں کیں… اور اب چاہتے ہیں کہ آپ ہی کی طرح کے ایک جنونی شخص سے شادی کر لوں…نہیں پاپا…ایسا کبھی نہیں ہوگا… نفرت کرتی ہوں اس سے، اس خاندان سے اور آپ سے بھی…پاپا!…میں آپ کو اس زیادتی پر کبھی معاف نہیں کروں گی…‘‘
اس کی آواز کی بازگشت تین دن سے میرا محاسبہ کر رہی تھی۔میری جانب،سے میرے رویوں سے بد دل ہو کر وہ اپنی زندگی ہی ختم کر دینا چاہتی تھی۔وہ تو اگر بروقت سلامہ شاہ اس کے روم میں نہ چلا جاتا تو شاید اس وقت اس کی قبر پر بیٹھا میں پچھتاوے کے آنسو بہا رہا ہوتا۔ میری آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے۔
’’اے اﷲ مجھے معاف کر دے…میں تیرا گناہ گار بندہ بہت ناشکرا تھا۔ ساری عمر تیرے حکم سے سرتابی کی…تیری رضا سے منہ موڑا…مجھ سے میری زندگی چھین لے مگر میری بیٹی کو تندرستی دے دے…مجھے معاف کر دے۔ اے میرے پروردگار معاف کردے…‘‘وضو کرکے آنے کے بعد جائے نماز بچھا کر میں رب کے حضور اپنی غلطیوں پر آنسو بہا رہا تھا۔ بے شک وہی خطاؤں سے درگزر کرنے والا ہے اور گناہ گاروں کی بخشش کرنے والا ہے۔وہ ضرورمجھ گناہ گار کی سنے گا۔

میں ماروا ہوں رہبان شاہ کی اکلوتی بیٹی اور غفار شاہ کی پوتی۔تھوڑی دیر پہلے سلامہ شاہ میرے سرہانے بیٹھا بہت آزردہ سا تھا۔ وہ مجھے ٹرینکو لائزر کے زیرِ اثر جان کر اپنے رویوں پر پشیمانی کا اظہار کر رہا تھا۔ میرے ہاتھ کی پشت پر اس کے ہونٹوں کا لمس ابھی بھی باقی تھا۔ میں جو اس سے ہمیشہ نفرت کرتی چلی آرہی تھی اس وقت آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کرپائی تھی۔ آج پہلی دفعہ مجھے اس کی محبت کی شدت و گہرائی کا اندازہ ہوا تھا، ورنہ اپنے دل میں نفرت کی دنیا بسائے میں کچھ اور محسوس کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ اس کا آزردہ سا لہجہ میرے دل و دماغ پر اپنے نقش چھوڑ گیا تھا۔
’’آئی ایم سوری ماورا… اگر مجھے علم ہوتا کہ تمہاری نفرت کے پیچھے یہ سب کارفرما ہے تو میں کبھی تمہیں زچ کرنے کی کوشش نہ کرتا۔ میں تو یہی سمجھ رہا تھا کہ تم میرے گزشتہ رویے کی وجہ سے مجھے قبول نہیں کر رہی۔ میری محبت کو ٹھکرا رہی ہو۔تم ایک دفعہ اپنے دل کی بھڑاس میرے سامنے نکالتی تو سہی…اب میں اتنا خودسر و جنونی بھی نہیں ہوں۔ میں تم سے صرف محبت ہی نہیں کرتا، تمہاری عزت بھی کرتا ہوں ورنہ بارہا تمہارے رویے نے مجھے مشتعل کیا اور بارہا میرا دل حد سے گزر جانے کو چاہا…اگر تمہارے احساسات کا پاس نہ ہوتا تو نجانے کیا کرگزرتا۔‘‘
اس کے لفظوں کی پشیمانی میری سماعت میں گھلتی جا رہی تھی۔ کہیں سے کوئی بازگشت بار بار میرے حواس کو جھنجوڑ رہی تھی۔

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے
پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے

میں نے بے بسی سے اپنے ہاتھ کو دیکھا وہاں ان دیکھا لمس ابھی بھی میرے ہاتھ کو دہکا رہا تھا۔آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔ وہ تو مجھے سویا ہوا جان کر سب کہہ گیا لیکن میں اپنے آپ کو اب پہلے والی ماورا نہیں بنا پا رہی تھی۔ شاید پاپا کے سامنے سب کچھ کہہ کر رو دھو کر اپنے دل کا درد بہا کر اب سب احساسات منجمد ہوگئے تھے، کوئی فیلنگز نہیں رہی تھیں۔
بار بار ذہن پیچھے کی طرف گردش کر رہا تھا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ میرا ذہن نارمل ہے مگر شاید پاپا کی طرح میں بھی شدت پسند تھی جو اپنے آپ کو ماضی میں سفر کرنے سے نہیں روک پا رہی تھی۔ کافی دیر تک خود پر کنٹرول کرتے اور بے بس ہوتے، میں نے اپنے آپ کو گزشتہ یادوں کے حوالے کر دیا۔ جہاں میرا ماضی تھا۔
پاپا کا تعلق ایک جاگیردار گھرانے سے تھا۔ ماما سے محبت اور پسند کی شادی کی پاداش میں انہیں اپنے خاندان سے قطع تعلق کر دیاگیاتھا اور پھر ماما کی وفات اور میرا دنیا میں آنا ان کی نفرت کا سبب بنا تھا۔ میرا بچپن نانی اماں کے گھر میں گزرا تھا۔ انہوں نے ہی میرا نام ماورا رکھا تھا۔ انہیں ماما سے بہت محبت تھی، ماما کی وفات کے بعد پاپا کی نفرت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنے پاس رکھ لیا تھا اور پھر دس سال میں ان کے پاس رہی۔
ماما کل سات بہن بھائی تھے۔ بڑی خالہ آنسہ پھر ماموں زبیر ان کے بعد ماموں یحییٰ اور خالہ فوزیہ تھیں پھر دو ماموں عمران اور سیف الرحمٰن تھے سب سے آخر میں ماما تھیں۔ ماموں زبیر کی بیگم شہلا ممانی ان کے بعد آسیہ مامی، طیبہ اور عظمیٰ تھیں۔ سب کے ہی بچے تھے۔ سب ہی گھر بار والے تھے۔ مامی کی عدم موجودگی پاپا کی عدم دلچسپی نے مجھے بچپن سے ہی بہت حساس بنادیا تھا۔ پھر نانی کے گھر میں سب کے رویے کو دیکھتے ہوئے میرے اندر شدید قسم کا کمپلیکس پیدا ہوگیا تھا۔ چاروں ممانیاں اور ان کے بچے ہر لمحہ مجھے یہ احساس دلانے کے لیے کافی تھے کہ میں ان کے گھر رہ رہی ہوں۔ ان کے روپے پر پل رہی ہوں۔ چاروں ممانیاں ایک دوسرے سے برتری لینے کے چکر میں رہتی تھیں۔ ایسے میں اکثر مجھے بھی ہرٹ کر جاتی تھیں لیکن یہاں میرے لیے سب سے بڑا اور مضبوط سہارا نانا اور نانی ہوتے تھے۔ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ اکثر میری خاطر ممانیوں اور ان کے بچوں سے بھی الجھ پڑتے تھے۔ بارہا ممانیوں کے طنز اور پاپا کے رویے پر آزردہ ہو جاتی تھی۔
ایک دن نانو اچانک بیمار پڑگئیں اور پھر وہ اکثر بیمار رہنے لگیں۔ چاروں ممانیاں ایسے میں ان پر زور ڈالنے لگیں کہ وہ پاپا کو بلوا کر مجھے ان کے حوالے کریں۔ پہلے پہل تو ایسا کہنے پر نانو انہیں چپ کرادیتی تھیں مگر پھر رفتہ رفتہ نانو بھی خاموش ہوگئیں۔ نانو کو ہارٹ پرابلم رہنے لگی تھی۔ اسی لیے وہ میری جانب سے فکرمند تھیں اگر انہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا بنے گا۔ ممانیاں تو کسی طور مجھے برداشت نہیں کریں گی۔ ایک دن انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے پاپا سے رابطہ کیا ہے وہ بہت جلد مجھے لینے آئیں گے میں یہ جان کر بہت خوش ہوئی۔یہ جان کر نئے سرے سے جی اٹھی کہ اب میں پاپا کے ساتھ رہوں گی پھر کتنے دنوں کا رہنے والا انتظار ایک دن سچ مچ ختم ہوگیا۔ میں لان میں ایک طرف بنی کیاری میں ٹوٹے مرجھائے پتے چن رہی تھی جب نانا کی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ ساری ممانیاں ان کے بچے اور ماموں نانو سمیت لان میں ہی کرسیاں ڈالے بیٹھے ہوئے تھے۔ سب ہی متوجہ ہوگئے۔ گاڑی میں سے نانا ابو کے ساتھ جو شخص برآمد ہوا اسے دیکھ کر میں وہیں ساکت ہوگئی۔
’’پاپا…‘‘
جس شخص سے میں صرف تصویروں کی حد تک واقف تھی آج انہیں سامنے مجسم دیکھ کر مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ میں جہاں تھی وہیں ساکت کھڑی رہی۔ اتنی ہمت نہ ہو سکی کہ آگے بڑھ کر پاپا سے لپٹ جاؤں۔ وہ فرداً فرداً سب سے مل رہے تھے۔
’’ماورا…‘‘نانی کی آواز پر میں جیسے خواب سے چونکی۔
’’جی…‘‘
مٹی سے اٹے۔ ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے میں نے خود کو سنبھالا۔
’’ادھر آؤ ماورا…ان سے ملو یہ تمہارے پاپا ہیں۔‘‘ نانا جان نے بھی بلایا میں ان کے پاس آگئی۔ وہ بھی مجھے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں سرد سے جامد تاثرات تھے۔ مجھ پر سرسری سی نظر ڈالی تھی۔
’’رہبان یہ ماورا ہے…یہ تمہاری بیٹی ہے۔‘‘ نانو نے پاپا کو بتایا۔
’’السلام علیکم پاپا!…‘‘ ان کے سرد سے انداز پر میں جھجک گئی تھی۔ انہوں نے سر ہلادیا۔
’’کیسی ہیں آپ؟…‘‘نہ ہی کوئی پیار، نہ ہی کوئی محبت بھرا اظہار، تکلف کے لبادے میں لپٹا ہوا یہ استفسار، میرے احساس کو بیدار کر گیا۔
’’کیا باپ ایسے ہوتے ہیں؟‘‘ بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھتے میں نے سوچا۔
وہ مجھ پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد دیگر لوگوں سے مصروفِ گفتگو ہوگئے اور میرے اندر جتنی خواہشوں و آرزوؤں نے سر اٹھایا تھا وہ اپنی موت آپ مرگئیں۔
رات کو سب ہی کمروں میں جاچکے تھے۔ میں پاپا کے کمرے میں آگئی۔ میرے اندر کی دس سالہ بچی اپنے باپ سے باتیں کرنے، اپنی تعلیم کے بارے میں بتانے کو مچل رہی تھی۔
وہ کتاب پڑھ رہے تھے۔ مجھے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو رک گئے۔
’’آپ اس وقت؟‘‘ وہ شاید اس وقت مجھے دیکھ کر حیران ہوگئے تھے۔
’’وہ پاپا میں…‘‘ میں جھجک گئی۔
’’کچھ کہنا ہے آپ کو…‘‘ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اپنے پاس بلا کر ڈھیروں باتیں کریں گے۔ خوب پیار کریں گے مگر ان کا سرد انداز دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔
’’جی…نہیں…‘‘ میں نے نفی میں سر ہلایا تھی میرا چھوٹا سا دل بہت دکھی ہوا۔
’’تو پھر اپنے کمرے میں جاکر سوجائیں۔‘‘ وہ کتاب کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے سرد انداز اور سخت لہجے میں کہہ رہے تھے۔میں ایک دم پلٹی اور باہر نکل آئی اوراپنے کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ میرے اندر جو برسوں سے ایک احساس پل رہا تھا باپ کے سینے پر سر رکھ کر باتیں کرنے کا وہ مزید بڑھتا گیا اور پھر ساری رات میری آنسوؤں میں کٹ گئی۔ میں اپنی دس سالہ عمر سے بڑی باتیں سوچ رہی تھی۔
میرے دل میں پاپا کے لیے بہت محبت تھی مگر ان کی سردمہری سے کئی شکوے بھی جاگ گئے۔
’’وہ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ میری صورت بھی دیکھنا نہیں چاہتے۔‘‘یہ سوچیں مجھے پاگل کر دینے کو کافی تھیں۔
ہم نانی اماں کے ہاں دو دن رہے پھر پا پا مجھے وہاں سے لے کر گاؤں چلے آئے۔ بہت بڑی شاند حویلی تھی۔ وہاں سب لوگ بہت خوش ہو کر پاپا سے مل رہے تھے۔ بچے بھی تھے۔ میرے لیے سب انجان تھے۔ وہ مجھے لے کراپنی اماں جی کے پاس چلے آئے جو بڑے سے تخت پر براجمان تھیں۔ پاپا کو دیکھ کر وہ والہانہ انداز میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’السلام علیکم بی بی جان!…‘‘پاپا ان کے سامنے جھک گئے۔ انہوں نے پاپا کا سر چوم کر گلے سے لگالیا۔
’’کتنا تڑپایا ہے تو نے رہبان اپنی ایک ضد اور خواہش کی خاطر…کیا سے کیا بنا لی ہے زندگی تو نے… ایسے بھی کوئی اپنوں سے خفا ہو جاتا ہے۔ بی بی جان رو رہی تھیں اور پاپا بالکل خاموش تھے۔
’’برسوں بعد اس ماں کی یاد کیسے آگئی تجھے…‘‘دوپٹے سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے انہوں نے پاپا کو شکایتی نظروں سے دیکھا۔
’’میں تو بی بی جان صرف ناراض ہوں…سارے رشتے ناتے تو آپ لوگوں نے خود ختم کر لیے ہیں۔ کیا میرا دل نہیں تڑپتا آپ سے ملنے کو بھائی اور زہرہ بھابھی بچوں کو دیکھنے کو بہنوں کے پاس جانے کو مگر بابا جان نے بھی حد کی ہے پھر میں کس منہ سے اور کیا لینے آجاتا اور آج بھی…‘‘
’’چھوڑ چل پچھلی باتوں میں کیا رکھا ہے۔ آج تو خود چل کر آیا ہے۔ یہی کافی ہے میرے لیے۔‘‘
’’یہ کون ہے؟‘‘ میری طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے پاپا سے پوچھا۔
’’یہ ماورا ہے۔ میری بیٹی…‘‘ ایک دم پاپا کا انداز سرد ہوگیا یا شاید مجھے محسوس ہوا۔
’’اچھا… ماشاء اﷲ بڑی پیاری بچی ہے بالکل ماں جیسی ہے صرف ایک دفعہ دیکھا تھا اسے جب تیرے ساتھ آئی تھی ہو بہو وہی ہے۔ ادھر آؤ بیٹی…‘‘انہوں نے پیار سے کہتے ہوئے بازو سے تھام کر مجھے سینے سے لگالیا۔
’’بابا جان اور سبحان بھائی کہاں ہیں؟‘‘ پاپا نے پوچھا۔
’’تیرے ابا جی تو دو دن سے اپنے کسی دوست کے ساتھ گئے ہوئے ہیں اور سبحان پتر صبح کا زمینوں پر نکلا ہوا ہے…آنے ہی والا ہے…‘‘
’’اماں جی! میں صرف چند دن کی چھٹی پر آیا ہوں۔آپ کو علم ہوگا کہ ماورا اپنی نانی کے پاس ہی رہتی تھی۔ وہ اب بیمار ہیں اسی لیے بلوا کر اسے میرے ساتھ روانہ کر دیا ہے۔ لندن میں تنہا ہوتا ہوں۔ میں اسے کیسے پالوں گا…اسی لیے حویلی لے آیا ہوں۔‘‘
وہ بی بی جان کو بتا رہے تھے اور مجھے جان کر حیرت ہو رہی تھی۔
’’مجھے تو پتر کوئی اعتراض نہیں۔ تمہاری بیٹی ہے سو بسم اﷲ پر تیرے ابا کو کون سمجھائے وہ ابھی تک اپنی ضد پر اڑے تجھے نہ دیکھنے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔ اپنے ابا سے پوچھ لینا… تین چار دنوں میں لوٹ آئیں گے۔‘‘
’’جی اچھا…میں بات کر لوں گا…‘‘ پاپا نے بھی حامی بھری۔
حویلی میں بی بی جان کے علاوہ پاپا کے بڑے بھائی سبحان انکل بھی رہتے تھے۔ ان کے کل پانچ بچے تھے۔ صبا آپی، سلامہ شاہ، ام رومان، علی اور رضا۔صبا آپی، ام رومان اور سلامہ شاہ تینوں مجھ سے بڑے تھے جب کہ علی میرا ہم عمر تھا اور رضا مجھ سے چھوٹا تھا۔ ان کی والدہ کا نام زہرہ بیگم تھا جنہیں سب اماں جی کہتے تھے۔ بی بی جان، اماں جی سبحان انکل کے علاوہ ان کے بچے بھی بہت اچھے تھے مجھ سے بڑا پیار کرتے تھے لیکن ان سب میں سلامہ شاہ کچھ بد دماغ سا انسان تھا۔ جب بھی سامنا ہوتا عجیب نظروں سے گھورنے لگتا تھا۔مجھ سے عمر میں کافی بڑا تھا۔ ڈیل ڈول اور جسامت کا بھی اچھا خاصا تھا۔ چہرے پر موجود ہلکی ہلکی مونچھیں اسے کچھ دلکش چہرے کا مالک بنادیتی تھیں۔ بہرحال جو بھی تھا وہ مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگا۔ پاپا کے رویے سے میں بدظن ہو چکی تھی مگر ان لوگوں کے پرخلوص اور محبت بھرے رویے نے پھر سے مجھے پرامید بنادیاتھا۔ میں اپنوں میں تھی اس احساس نے میرے اندر نئی زندگی دوڑادی تھی۔
بابا جان ابھی تک حویلی نہیں لوٹے تھے۔ ہمیں یہاں آئے ہوئے تین دن ہوگئے تھے۔پاپا سارا دن حویلی سے باہر گزارتے نجانے کہاں کہاں گھومتے رہتے تھے۔ پاپا کا سن کر میری دونوں پھوپھیاں بھی آگئی تھیں۔ وہ دونوں بہت اچھی تھیں۔ اتنے دنوں میں، میں سب کے ساتھ بہت اچھی طرح گھل مل گئی تھی۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ میں ان لوگوں کے لیے اجنبی ہوں۔ مجھے یہاں کسی سے خوف نہیں آتا تھا۔ سوائے سلامہ شاہ کے۔ نجانے کیوں مجھے دیکھتے ہی اس کا اچھا خاصا پرکشش چہرہ بگڑ جاتا تھا۔ نظروں میں پاپا کی ہی طرح کی سردکیفیت ہوتی تھی۔ زبان سے ابھی تک اس نے کچھ نہیں کہا تھا مگر مجھے اس سے بڑا ڈر لگنے لگا تھا۔ ساتھ ساتھ نفرت سے بھی ہونے لگی تھی۔ نجانے کیوں مگر میری بچپن سے ہی یہ عادت پختہ ہوگئی تھی کہ کوئی مجھے ایک دفعہ نفرت سے پکارتا تھا تو میرے دل میں اس کے لیے ہزار درجے نفرت پیدا ہوجاتی۔ ممانیوں کے ساتھ بھی یہی حال تھا لیکن یہاں۔
ام رومان مجھ سے تین سال بڑی تھی اس کے باوجود ہماری پکی دوستی ہوگئی تھی۔وہ تھی بھی بہت اچھی اور پیاری ویسے تو صبا آپی بھی بہت خوبصورت تھیں مگر وہ تو عمر میں سلامہ شاہ سے بھی دو تین سال بڑی تھیں۔ اسی لیے ان سے شرم آتی تھی۔ علی اور رضا بھی میرے دوست بن گئے تھے۔ ہم گھنٹوں اکٹھے مل کر کھیلتے تھے۔ یہاں آکر سچ مچ میں بہت خوش تھی۔
اگلے دن بابا جان بھی آگئے۔ پاپا، سبحان انکل کے ساتھ کہیں گئے ہوئے تھے۔ پاپا کی آمد اور مقصد جان کر وہ بڑے چراغ پا ہوئے۔ مجھے اور ماما کو برا بھلا کہتے رہے۔ پاپا حویلی لوٹے تو انہوں نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اور ساتھ مجھے بھی۔
’’کیا لینے آئے ہو اب تم یہاں…کیا تعلق ہے تمہارا ہم سے۔‘‘میری طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا تو نجانے کیوں پاپا کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔ وہاں کمرے میں سبھی تھے۔ میں پہلی دفعہ انہیں دیکھ رہی تھی۔ ان کے الفاظ سن رہی تھی۔ جس طرح غرور نخوت کا اظہار کرتے انہوں نے کہا مجھے وہ بہت برے لگے۔سلامہ شاہ کی ہی طرح زہر بھرے۔
’’گستاخی معاف بابا جان! جس بات کا آپ کو غصہ ہے وہ تو کب کی منوں مٹی تلے جا سوئی ہے۔ دس سال ہوگئے ہیں اس کے باوجود آپ کی نفرت جوں کی توں برقرار ہے۔ اب تو معاف کردیں…‘‘پاپا نے کہا۔ تو جواباً بابا جان استہزائیہ مسکرائے۔
’’چلو معاف کر دیتا ہوں مگر ہماری بات وہی ہے۔ جس عورت کو میں خاندان کی بہو تسلیم کرنے پر راضی نہ تھا اس کی بیٹی کو خاندان میں کیسے جگہ دے دوں…تم اسے جہاں سے لائے ہو وہیں واپس چھوڑ تو ہم کچھ سوچیں گے…میں اپنے اعلیٰ حسب نسب والے خون میں غیر خون کی ملاوٹ قطعی برداشت نہیں کر سکتا…‘‘ ان کے نخوت بھرے انداز میں مطلق فرق نہیں آیا تھا۔
’’باباجی… یہ آپ زیادتی کر رہے ہیں۔ یہ میری اور سارہ کی بیٹی ہے۔ میرا خون ہے۔ آپ کے رد کرنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی…ویسے بھی اب میں اسے وہاں نہیں چھوڑ سکتا۔ دس سال انہوں نے اسے سنبھالا ہے۔ اب اسے اپنے خاندان کی ضرورت ہے۔‘‘
پاپا اپنے بابا جان سے کہہ رہے تھے۔انہوں نے سر جھٹکا۔
’’تو فراہم کرو تم اسے خاندان کی ضرورت، یہ میری حویلی ہے کوئی یتیم خانہ نہیں کہ میں اس جیسی لڑکیوں کو رکھتا پھروں، نہیں سنبھالی جاتی تم سے تو کہیں چھوڑ آؤ مجھ سے امید مت رکھو…میں نے جو کہہ دیا ہے وہ بدلے گا نہیں…اگر مجھ سے یا اس حویلی کے کسی فرد سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو یہی شرط ہے میری۔ ورنہ میری حویلی کے دروازے تمہیں کبھی روکیں گے نہیں۔‘‘
’’شاہ جی…‘‘ بی بی جان اس دو ٹوک فیصلہ کن انداز پر تڑپ اٹھیں۔
’’بابا جان آؑپ…‘‘سبحان انکل نے کچھ کہنا چاہا تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
’’نہیں سبحان ایسی نافرمان اولاد کے لیے میری حویلی میں کوئی گنجائش نہیں۔ اس نے ہمیشہ اپنی من مانی کی ہے۔ برسوں پہلے میںاسے اپنی زندگی سے نکال چکا ہوں۔ یہ اتنے سالوں بعد آیا ہے میں معاف کر بھی دوں مگر اس لڑکی کو جگہ نہیں دوں گا۔ فیصلہ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے جو میں نے کہنا تھا کہہ دیا۔‘‘
میں خاموش تماشائی بنی ایک طرف کونے میں کھڑی تھی جب کہ میرا دل اندر ہی اندر کانپ رہا تھا کہ اگر پاپا نے مجھے چھوڑ دیا تو؟
’’آپ نے ہمیشہ میری مخالفت ہی کی ہے۔ چاہے وہ معاملہ میری تعلیم کا ہو یا شادی کا۔ ہمیشہ اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش کی ہے۔ہمارے درمیان صرف نظریاتی اور سوچ کی حد تک اختلافات تھے آپ نے ہمیشہ اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ سمجھا۔ ہمیشہ مجھ سے نفرت سے پیش آئے۔ برسوں بعد میں یہاں آیا ہوں اس خیال سے کہ آپ کا دل پسیج گیا ہوگا۔ پتھر میں جونک لگ گئی ہوگی۔ شاید مجھے اپنے سامنے دیکھ کر دل میں تھوڑی بہت گنجائش نکل آئے۔ مگر افسوس…میں نے پسند کی شادی کرکے کوئی غلطی نہیں کی۔غلطی تو اب کی ہے کہ آپ کے سامنے آیا ہوں…جب میرے لیے آپ کے دل میں گنجائش نہیں بنی تو میری اولاد کے لیے خاک بنے گی۔میں بہت بڑی بھول میں تھا۔‘‘وہ غصے سے کہہ کر اور میرا بازو پکڑ کر وہاں سے نکل آئے تھے۔
رات تک ہم نے حویلی چھوڑ دی تھی۔ پاپا مجھے لے کر اپنے کسی دوست کے گھر آئے تھے۔ چند دن ہم وہاں رہے تھے۔ پاپا کا رویہ اگرچہ وہی تھا مگر اب میں مطمئن تھی کہ میں پاپا کے ساتھ ہوں۔ اس دوران پاپا میرے پاسپورٹ اور ویزہ وغیرہ کا انتظام کرتے رہے۔
پھر ہم لندن آگئے۔ یہاں آتے ہی پاپا نے سب سے پہلے میرا ایڈمیشن کروایا۔ پھر میرے لیے ایک مسلمان گورنس کا بھی بندوبست کر دیا۔ وہ خاتون بہت پڑھی لکھی اور مذہبی تھیں۔ شادی کے بعد شوہر کا انتقال ہو جانے کے بعد بالکل تنہا تھیں۔کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ پاپا کے دوست کی بہن تھیں۔ پاپا میری طرف سے فکرمند تھے تو وہ میرے ساتھ رہنے پر رضامند ہوگئیں اور اس طرح مجھے بالکل ایک ماں کی طرح انہوں نے پالا تھا۔ میرا خیال رکھا تھا۔ وہ بہت محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ پاپا کے متعلق سب کچھ جانتی تھیں۔ پاپا کا رویہ میرے ساتھ اب بھی ویسا ہی ہوتا تھا۔ سرد مہری لیے ہوئے اگرچہ وہ مجھ سے لاکھ لاتعلق رہتے تھے مگر کبھی ضروریات سے بے خبر نہیں ہوئے تھے۔ تعلیم سے لے کر ہر چیز مجھے وقت پر مہیا کی۔ وہ بلاشبہ ایک بہت اچھے باپ تھے، اگر کبھی اپنے خول سے نکل کر میرے ساتھ محبت بھرا رویہ رکھ لیتے تو۔ وقت آہستہ آہستہ گزرنے لگا۔ میں نے پہلے اسکولز، پھر کالج اور اس کے بعد یونیورسٹی تک کا سفر بڑے آرام سے طے کیا تھا۔ اس دوران بارہا میرا جی چاہا کہ میں پاپا کے سرد رویے پر چیخ اٹھوں۔ انہیں جھنجوڑ دوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ بجائے کمی آنے کے پاپا کے انداز و اطوار میں شدت ہی آئی تھی۔ برملا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگے تھے۔ میں دس سالہ بچی کی طرح ہر وقت ان کے چہرے کی طرف دیکھتی رہتی تھی کہ شاید کوئی مسکراہٹ میرے نام کی بھی ہو۔ کوئی جذبہ میرے وجود سے بھی متعلق ہو اور ہر بار ناکام رہتی تھی۔میں گھنٹوں پاپا کے رویے پر پُرملال و رنجیدہ رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ میرے دل و دماغ میں بھی ان کے خلاف غبار بڑھنا شروع ہو گیا۔محبت کے ساتھ ساتھ نفرت بھی جگہ پانے لگی۔ بارہا ایسا ہوا کہ میں شدید بیمار ہوئی مگر ان کے اندر احساس تک نہ جاگا۔ کبھی ایک محبت بھر اجملہ نہ بولا…باپ پتھر بھی ہوتے ہیں مجھے یقین کرنا پڑا۔ گزرتے وقت میں پاپا کے خاندان نے پلٹ کر خبر تک نہ لی۔ سوائے ایک فرد کے اور وہ سلامہ شاہ تھا جس کا نام ابھی بھی میرے اندر نفرت کا احساس جگا دیتا تھا۔ اکثر اس کی ٹیلیفون کالز، خطوط اور گفٹس موصول ہوتے رہتے تھے جو سب کے سب پاپا کے نام ہوتے تھے۔
مجھے نہ اس شخص سے کوئی سرور کار تھا اور نہ ہی اس کے خطوط سے۔میرے لیے اس کا پورا خاندان ہی قابلِ نفرت تھا گزرے وقت میں،میں نے لوگوں سے بے پناہ نفرت محسوس کی تھی۔ بہت شدت سے نفرت کا زہر بویا تھا اپنے اندر۔ سلامہ شاہ اور اس کے غرور کے پہاڑ بابا جان دونوں کے الفاظ ہمیشہ بازگشت بن کر میرے دل و دماغ پر کچوکے لگاتے رہتے تھے۔ ان دونوں کے لہجوں سے چھلکتی گہری نفرت و ناگواری اب بھی میرے تصور میں زندہ تھی۔ سلامہ شاہ کی آنکھوں سے عیاں ہوتی وحشت میرے وجود میں ابھی تک ایک عجب سی آگ جلادیتی تھی مگر ان سب کے باوجود میں پاپا کے رویے سے بدظن ہو کر کوئی انتہائی قدم نہ اٹھاسکی۔ پاپا پہلے تو مجھے ماما کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے اب تو اپنے خاندان کی جدائی کا سبب بھی مجھے سمجھنے لگے تھے اور میں بے پناہ محبت کے ساتھ نفرت کا پودا پروان چڑھاتے ان سے ان کی کوتاہیوں کا سبب نہ پوچھ سکی۔ حتیٰ کہ وقت بدلنے لگا۔

 

میں برسوں نفرتوں میں جیا، میں نفرتوں میں مرا
بڑی آرزو تھی میری کوئی چاہتا مجھے بھی

اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی میں رک گئی۔
’’ہاں تو پھر کیا کروں میں…اپنے خاندان کی جدائی اب میرے لیے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ماورا اگر سارہ کی بیٹی اور میرا خون نہ ہوتی تو کبھی اتنی طویل سزا نہ جھیلتا…‘‘
پاپا فون پر کسی سے کہہ رہے تھے اور میرا وجود سناٹوں کی زد میں تھا۔ وہ بارہا اپنے رویوں، لفظوں سے مجھے یہ احساس دلا چکے تھے کہ میں ان کے لیے قابلِ نفرین ہوں مگر اب یوں دیگر لوگوں سے بھی اپنی نفرت بیان کرنے لگے کہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔باپ کا یہ کون سا روپ ہے میں ساکت تھی۔ میرا ذہن ماؤف ہو رہا تھا۔
’’یہ ناممکن ہے…بابا جان کے حقارت بھرے جملوں نے مجھے مجبور کر دیا تھا کہ میں اسے لے کر یہاں آگیا ورنہ سارہ کے بعد کبھی کسی اور چیز کی خواہش نہیں رہی۔ اب بھی صرف اور صرف اس لیے برداشت کر رہا ہوں کہ سارہ کی بیٹی ہے… ورنہ۔‘‘
نجانے دوسری طرف کون تھا۔ کس سے کہہ رہے تھے مگر ان کا ایک ایک لفظ میرے دل میں ترازو ہوتا جا رہا تھا۔ وہ صرف اپنے باپ کی ضد میں مجھے یہاں لے کر آئے تھے۔یہ احساس ہی میری محبت کا خون کر دینے کو کافی تھا۔ اتنی نفرت…اتنی ناگواری…میں بہتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی جب کہ میرے دل میں طوفاں برپا تھا۔
’’یار کیا بتاؤں میں…زندگی کے اس موڑ پر آکر لگتا ہے سب کچھ بے کار ہے۔ماورا کی وجہ سے میں سب چھوڑنے پر مجبور ہوا تھا ورنہ بابا جان تو مجھے ابھی حویلی میں رکھنے پر راضی ہیں۔ اب تو سلامہ شاہ بھی کہہ رہا تھا کہ وہ بابا جان کو راضی کرے گا۔اﷲ کرے ایسا ہی ہو…‘‘ابھی وہ مزید گفتگو میں مصروف تھے مگر میرے اندر مزید سننے کی سکت نہ تھی۔ ایک دم وہاں سے ہٹ آئی اور پھر اپنے بستر پر گر کر کتنی دیر تک ماما کی موت کا ماتم کرتی رہی۔ اﷲ سے شکوہ کرتی رہی۔
اگلے دو دن تک میری طبیعت کافی خراب رہی۔ میں بالکل گم صم ہوگئی۔ فاطمہ ماما بارہا مجھ سے دریافت کرچکی تھیں مگر میری چپ نہ ٹوٹی۔ اکثر شدید ڈپریشن میں مجھ پر یہ کیفیت طاری ہو جاتی تھی مگر یہ کیفیت کبھی طویل نہیں ہوتی تھی۔ چند گھنٹے کڑھنے کے بعد میں اپنے آپ کو نارمل کر لیتی تھی مگر اب… مجھے بخار اور سردرد بھی تھا۔فاطمہ ماما کے بے پناہ اصرار پر میں ڈاکٹر کے پاس چلی آئی چیک اپ کے بعد اس نے تنبیہہ کی کہ اگر میرا ڈپریشن ختم نہ ہوا تو نتیجتاً میرا نروس سسٹم متاثر ہو سکتا ہے مگر میں کیا کرتی یہ حساسیت میرے اختیار میں نہیں تھی۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ پاپا کی نفرت ہی تو تھی۔ دو دن آف کرکے تیسرے دن میں یونیورسٹی چلی آئی۔ میرا سارا وقت یونیورسٹی میں خالی الذہنی کیفیت میں ہی گزرا۔ یونیورسٹی کے بعد طبیعت ایک دم بگڑی تھی چکر پر چکر آرہے تھے۔ میں فوراً گھر پہنچی۔ دروازہ بند کرکے آگے بڑھی تو وہاں لاؤنج کے صوفے پر پاپا اور ان کے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھ کر میرے قدم وہیں رک گئے۔ اگر زندگی میں ایک دفعہ اس شخص کو نہ دیکھ چکی ہوتی تو تب بھی میں فوراً پہچان جاتی۔ اس کی شکل ہو بہو پاپا سے ملتی جلتی تھی۔حیرت سے میری آنکھیں پھٹنے کو تھیں۔
’’سلامہ شاہ…‘‘ میرے لب ہولے سے ہلے۔ وقت نے اسے کافی بدل ڈالا تھا لمبا قد،بھرابھرا صحت مند تروتازہ سڈول جسم، سرخ و انابی دلکش چہرہ اور اس پر گھنی سیاہ مونچھیں۔ وہ بھی مجھے دیکھ چکا تھا مگر اسے یوں اچانک اس حالت میں دیکھ کر میرے دل و دماغ میں اس کے کہے برسوں کے جملے ہتھوڑے برسانے لگے تھے۔ ہر شخص مجھ سے نفرت کرتا ہے۔برسوں پہلے اس کے منہ سے اپنے لیے نفرت سے لبریز الفاظ سنے تھے کس طرح اس نے میری ذات کی توہین کی تھی۔ میرے چہرے کے تاثرات یک دم کرخت ہوگئے۔ ایسے شخص کو دیکھنے کو بھی میرا جی نہیں چاہا تھا اس سے پہلے کہ میں سامنے سے ہٹتی وہ کھڑا ہو گیا۔
’’السلام علیکم…‘‘ وہ بڑی متانت و سنجیدگی سے سلام کر رہا تھا۔ بڑی اپنائیت تھی اس کے لہجے میں۔ شاید وہ بھی مجھے خوب پہچان چکا تھا۔ جواباً سرد نگاہوں سے میں نے اسے دیکھا تھا۔ ایک سخت شاکی نظر پاپا پر اور اس پر ڈال کر میں مزید رکے اور توجہ دیے بغیر اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
اپنے کمرے میں آکر اپنی اس حرکت بلکہ بداخلاقی پر مجھے عجیب سا سکون ملا تھا۔مجھے ایسے لگا جیسے میں نے اس شخص کے برسوں پہلے کہے گئے الفاظ کا بدلہ لے لیا ہو۔میرے اندر کی تڑپتی، سسکتی میری انا کو یک گونا خوشی حاصل ہوئی تھی۔
میری طبیعت تو پہلے ہی خراب تھی سر چکرا رہا تھا۔ اب اسے یوں اچانک دیکھ کر مجھے کوفت بھی ہونے لگی۔ڈاکٹر کی ہدایت تھی کہ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر پرسکون رکھوں ورنہ میری کوئی نس پھٹ جائے گی لیکن اپنے آپ کو نارمل نہیں کر پا رہی تھی۔ چکراتے سر میں درد کی ٹیسیں شدت اختیار کرتی جا رہی تھیں۔ سرہانے پر سر پٹختے میری چیخیں نکلنے کو بے تاب تھیں مگر میں مسلسل ضبط کر رہی تھی اور پھر ایک دم جیسے مجھے کچھ ہونے لگا تھا۔ ادھر سے اُدھر سر پٹختے میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیاتھا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔
’’آہ…‘‘ آنکھیں کھلی تو ایک کراہ کے ساتھ میں اطراف میں دیکھنے لگی۔ ذہن بالکل خالی تھا اپنے اردگرد کے ماحول سے مانوس ہونے میں کچھ وقت لگا تھا پھر جب اجنبی چہروں میںایک نحیف وجود کے ساتھ ایک سفید بستر پر اپنے وجود کو لیٹا دیکھا تو حیرانگی ہوئی۔ فوراً اٹھنے کی کوشش کی۔
’’اوں…ہوں…لیٹی رہو… وہ مجھ پر جھکا ہوا میرے کندھوں پر ہاتھ رکھے کہہ رہا تھا،ڈرپ لگی ہوئی ہے۔‘‘میں الجھی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس دفعہ بھی اس کے لہجے میں بہت اپنائیت تھی۔ وہ مجھے دونوں کندھوں سے تھام کر لٹاتے ہوئے پیچھے ہٹا۔
’’آپ…‘‘
ساری صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے میرے لبوں سے صرف یہی لفظ ادا ہوسکا۔
’’تمہیں برین ہیمبرج ہوا ہے۔ اس وقت تم اسپتال میں ہو۔ خدا کا شکر ہے۔ اب تم خطرے سے باہر ہو…‘‘وہ کرسی گھسیٹ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ مسکرا کر بتا رہا تھا اور حیرت کے ساتھ میں یاد کرنے کی کوشش میں تھی کہ مجھے ہوا کیا تھا۔
بے پناہ سردرد اور بے ہوشی کے بعد اب ہوش آیا تھا تو علم ہوا کہ گزشتہ لمحوں میں مجھ پر کیا کیفیت گزری تھی۔
’’پاپا…ماما…پاپا کہاں ہیں؟…‘‘ کمرے میں صرف سلامہ شاہ کو ہی دیکھ کر میں نے پوچھا۔
’’انکل تو اپنے آفس کے کام کے سلسلے میں آؤٹ آف سٹی ہیں۔ میں نے فون کر دیا ہے۔وہ جلد پہنچ جائیں گے…البتہ فاطمہ آنٹی کو میں نے گھر بھیج دیا ہے وہ یہیں تھیں۔‘‘اس نے مفصل جواب دیا تو میں چپ چاپ اسے دیکھے گئی۔
’’مجھے یہاں کون لایا تھا؟‘‘ کچھ دیر خود سے ہی الجھتے آخر کار میں نے اس سے پوچھ ہی لیا۔
’’میں لایا تھا…چچا جان تو چلے گئے تھے۔ رات کو میں ہی اپارٹمنٹ میں تھا۔ سو تمہارے پڑوسی ڈاکٹر سعود کی مدد سے تمہیں یہاں پہنچایا تھا۔‘‘مسکرا کر اپنائیت سے کہہ رہا تھا۔گزرے وقت کا اس کے چہرے پر شائبہ تک نہ تھا جب کہ اس کی اپنائیت محسوس کرکے میری سوچیں عود آئیں۔ میں اس شخص سے انتہائی نفرت کرتی تھی لیکن یہ کہہ کیا رہا تھا۔ مجھے اسپتال لے کر آنے والا یہ شخص تھا۔ میری بے یقینی ابھی بھی قائم تھی جب کہ اس نے مسکرا کر میری کلائی تھامی تھی۔ شاید نبض چیک کرنے کو۔ میں اب مکمل حواس میں تھی ایک دم میں نے اپنی کلائی کھینچ لی۔اس کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی تھی۔
’’میں ڈاکٹر کو انفارم کرتا ہوں کہ تمہیں ہوش آگیا ہے۔‘‘اس کی آنکھوں میں کچھ ایسی بات ضرور تھی کہ میں نے فی الفور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ کمرے سے جاچکا تھا اور میں ابھی تک کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ کہاں وہ مجھ سے شدید نفرت کرتا تھا اور اب کہاں اس کی یہ مہربانیاں۔
’’مجھے برین ہیمبرج ہوا تھا…‘‘مجھے حیرت ضرور ہو رہی تھی اس لیے کہ میں پھر بھی زندہ ہوں جب کہ مجھے مرنے کی خواہش تھی اور بابا…میں کل سے یہاں تھی۔ انہوں نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھاتھا کیا وہ اس قدر شدید نفرت کرتے ہیں مجھ سے کہ میرے مرنے اور جینے سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ دیوار پر آویزاں کیلنڈر سے نظر آتی اگلے دن کی تاریخ دیکھ کر میرا دل غم و کرب کی اتھاہ گہرائی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ پھر وہی سوچیں تھیں اور وہی اذیت اور سلامہ شاہ…میںنے سر جھٹکا پھر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔
سلامہ شاہ مجھے یہاں لایا تھا۔ میرے وجود کو چھونے والا وہ تھا جس سے میرا صرف نفرت کا رشتہ تھا۔ ایک دم میرا پورا وجود سنسنا اٹھا۔ اسی تصور سے کہ میں تو بے ہوش تھی اور وہ…میں مزید کچھ بھی نہیں سوچ سکی تھی کیونکہ میرا ذہن ہی نہیں آنکھیں بھی ایک گہرے اندھیرے میں ڈوب گئی تھیں۔
مجھے دوبارہ ہوش شاید آدھی رات کو آیا تھا۔ وہ شخص ابھی بھی وہیں کمرے میں تھا۔میں ابھی بھی مشینوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ڈرب بدستور لگی ہوئی تھی۔ سلامہ شاہ کرسی پر بیٹھا سو رہا تھا۔ میں کچھ زیادہ غوروفکر نہ کرسکی۔ میرے ذہن پر غنودگی چھائی ہوئی تھی۔
’’پا…پ…پانی…‘‘ میرا حلق خشک ہو رہا تھا۔ ایک دم مجھے پانی کی طلب ہوئی۔لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا جو میری آواز سنتا اور جو تھا وہ شاید گہری نیند میں تھا۔میں نے خود اٹھنے کی کوشش کی مگر ہاتھ ٹیبل پر رکھی دوائیوں سے الجھ گیا۔ نتیجتاً کتنی دوائیاں زمین پر جاگری تھیں۔میرا تنفس بری طرح الجھا ہوا تھا۔ نقاہت سے براحال تھا۔میں بے دم ہو کر واپس لیٹ گئی۔ کھٹکے کی آواز سے سلامہ شاہ بھی متوجہ ہوگیا۔ پہلی نظر مجھ پر پڑی تھی مجھے حواس میں پاکر وہ فوراً میرے قریب آگیا۔
’’کیا ہوا ماورا…طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟‘‘مجھے بمشکل گہری سانس لیتے دیکھ کر اس نے پریشانی سے پوچھا تو میں رونے لگی۔ اٹھنے کی کوشش میں بازو میں لگی ڈرپ کی سرنج بھی کسی نس میں الجھ گئی تھی۔ ڈرپ میں خون کی آمیزش شامل ہونا شروع ہوچکی تھی۔ سلامہ شاہ کی نظر جیسے ہی ڈرپ پر پڑی اس نے سرعت سے سرنچ بازو سے نکال کر نس کے اوپر روئی رکھ دی۔
’’میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں…‘‘میری کیفیت سے پریشان ہو کر وہ کہہ رہا تھا۔
’’پانی…مجھے پانی پینا ہے۔‘‘میں بمشکل کہہ پائی تھی… وہ فوراً پانی لے آیا۔
سلامہ شاہ کے سہارا دے کر پانی پلانے پر میرے خشک کانٹے چبھتے حلق میں کچھ سکون آیا۔میںاس کے سہارے لیٹے ہوئے گہری سانس لے رہی تھی ساتھ ہی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
’’ماورا… تم ٹھیک تو ہونا…یا میں ڈاکٹر کو بلواؤں…کچھ تشویش سے دیکھتے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ پوچھ رہا تھا۔میں نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور پھر سر ہلا دیا۔غنودگی ابھی برقرار تھی۔ وہ بستر پر ہی بیٹھ گیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر سہلانے لگا۔ مجھے ساتھ ساتھ اپنا ذہن پرسکون رکھنے کی بھی ہدایت کر رہا تھا۔ اس کی ہدایت کو سنتے سنتے مجھے پتا نہیں چلا کہ کب دوبارہ آنکھ لگ گئی۔
اگلے دن دوپہر کے قریب میں بیدار ہوئی تھی۔ کل کی نسبت میری طبیعت کچھ ٹھیک تھی۔ فاطمہ ماما کمرے میں تھیں اور ان کے ساتھ پاپا بھی تھے جب کہ سلامہ شاہ کہیں نہیں تھا۔
’’کیسی طبیعت ہے اب آپ کی…‘‘مجھے پکارتے ہوئے ان کا یہ پرتکلف انداز ہوتا تھا۔ انہوں نے متوجہ دیکھ کر پوچھا تو میں ان کے اس قدر نارمل انداز پر سر ہلاگئی۔ اب تلخ سی مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر سرائیت کرگئی تھی اور ساتھ ہی میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
میرے مکمل طور پر صحت یاب ہوتے ہی مجھے ڈسچارج کر دیاگیا۔ اس دوران سلامہ شاہ دوبارہ نہیں آیاتھا اور اس کے نہ آنے پر میں نے سکھ کی سانس لی۔ ورنہ اپنے جذبات و کیفیات پر قابو پانا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا۔ خواہ مخواہ میرا ذہن بھٹکنے لگتا تھا اور خود بخود میرے دل و دماغ میں نفرت کے جھکڑ چلنے لگتے تھے۔
طبیعت سنبھلی تو میں یونیورسٹی جانے لگی۔ میری تعلیم متاثر ہو رہی تھی۔ میں اکنامکس میں ماسٹر کر رہی تھی۔
سارا دن یونیورسٹی میں گزار کر گھر لوٹی تو فاطمہ ماما کھانا ٹیبل پر سجائے میری اور پاپا کی منتظر تھیں۔ ٹیبل پر کافی اہتمام کر رکھا تھا۔ لباس بدل کر اور نماز ادا کرکے ابھی میں ٹیبل پر پہنچی ہی تھی کہ کال بیل بجی۔ ماما مجھے کھانے کا کہہ کر چلی گئیں۔میں ابھی پلیٹ میں سالن ڈال رہی تھی جب ماما کے ساتھ سلامہ شاہ کو دیکھ کر میرا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
’’السلام علیکم…‘‘مسکرا کر اس نے مجھے کہا تو میں بس سر جھکا گئی۔
’’آپ بیٹھیں نا، رہبان بھائی نے مجھے کال کر دی تھی اسی لیے میں نے ڈنر کا اہتمام کر لیا۔ وہ کچھ آفس ورک کی وجہ سے لیٹ ہو جائیں گے۔ آپ بیٹا بیٹھیں اور کھانا شروع کریں۔وہ تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے…‘‘ماما کے انداز سے محسوس ہوا کہ اس شخص کو پاپا نے مدعو کیا تھا۔ میرا دل برا ہوا۔ وہ میرے سامنے ہی ٹیبل پر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ میرا کوفت سے برا حال ہو گیا۔ میں پہلو بدل کر رہ گئی۔
’’تمہاری طبیعت کیسی ہے اب ماورا!…‘‘ ماما نے اسے سالن ڈال کر دیا تو کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا۔ میرے چہرے کے اعصاب بھی کشیدہ ہوگئے تھے۔جب کہ ماما کچن سے نکل گئی تھیں۔
’’ٹھیک ہوں…تھینکس…‘‘ کڑواہٹ میرے لہجے سے صاف عیاں تھی۔
وہ میرے کڑوے لہجے پر مسکرادیا اور اس کی مسکراہٹ دیکھ کر میرا چہرہ مزید سرخ ہو گیا۔
’’اسٹوپڈ کہیں کا…‘‘میں دل ہی دل میں کڑھی۔
’’انکل بتا رہے تھے کہ تم اکنامکس کی اسٹوڈنٹ ہو۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اس نے پھر پوچھا اسے یا تو میرے چہرے کے تاثرات نظر نہیں آرہے تھے یا پھر سمجھ کر بھی انجان بن رہا تھا۔خواہ مخواہ بے تکلف ہونے کے چکر میں تھا۔ میں اور تپ گئی۔
’’ جی… میں…‘‘ اندر ہی اندر کڑھ کر رہ گئی۔ ادھر سے ادھر پہلو بدلا۔اس شخص کی موجودگی میرے لیے ناقابل برداشت تھی جلدی جلدی نوالے لینے لگی۔ ماما نہ جانے کہاں رہ گئی تھیں ابھی تک نہیں لوٹی تھیں۔
’’اسٹڈی کیسی جا رہی ہے تمہاری…‘‘وہ شاید میرے ضبط کی حد دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے گھورا۔ میں کھانے سے ہاتھ کھینچ چکی تھی۔ کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میری ذات یا میری اسٹڈی سے آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے مسٹر سلامہ شاہ۔ آپ اپنے انکل کے مہمان ہیں، اسی حد تک محدود رہیں تو بہتر ہے۔‘‘ پھنکار کر غصے سے کہتے مجھے اس کے قریب سے گزر کر باہر نکلنا تھا جب اس کے قریب سے گزرتے اس نے میری کلائی تھام لی تو میں ششدر سی پلٹی۔ بے یقینی سے اس پر نظر ڈالی۔ ایک دم سنجیدہ چہرہ لیے وہ مجھے بغور دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ آج تک کسی کے اندر اتنی جرأت کہاں ہوئی تھی کہ مجھے انگلی سے بھی چھولے اور یہ شخص…
’’اوہ… چھوڑو میرا بازو…‘‘ احساس توہین اور ذلت سے میرا زمین میں گڑ جانے کو جی چاہا۔ ایک دم ہاتھ کھینچا تھا۔اگلے ہی لمحے میرا ہاتھ اٹھا تھا کچھ بعید نہیں تھا کہ میرا اس پر ہاتھ اٹھ جاتا۔ میں اس جسارت پر اس کا حشر بگاڑ دیتی مگر اسی دوران فاطمہ ماما کچن میں داخل ہوئیں،ان کے ہمراہ پاپا بھی تھے۔
’’معاف کرنا بیٹا کچھ دیر ہوگئی…‘‘پاپا سلامہ شاہ سے کہتے ہوئے آگے بڑھے۔ میں اس پر ایک ایک زہر بھری نظر ڈال کر اپنے کمرے میں آگئی۔
رات کو کھانا تیار کرنے کے لیے میں کمرے سے باہر نکلی تو کچن میں داخل ہوتے ہی پہلا سامنا اسی سے ہوا۔ میں تو سمجھی تھی کہ وہ چلا گیا ہوگا مگر اسے اس قدر بے تکلفی سے کچن میں چائے بناتے دیکھ کر حیرانگی ہوئی۔ نجانے ماما کہاں تھیں۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ میرے چہرے کے زاویے خودبخود بدل گئے۔
’’ہیلو…کیسے مزاج ہیں اب…دوپہر کو تو بڑی گرماگرمی والی کیفیت تھی۔‘‘ اسے نظرانداز کرکے میں فریج سے رات کے کھانے کا سامان نکالنے لگی۔ مجھے ایک دم غصہ آگیا گویا جان ہی تو جل گئی میری اس کی اس قدر بے تکلفی پر۔
’’شٹ اپ…‘‘میں پلٹ کر پھنکاری۔’’میں تلملاتے ہوئے تمام چیزیں لے کر ٹیبل پر جا بیٹھی۔ وہ میرے اس قدر آگ بگولا انداز پربھی متبسم تھا۔میں جل کر رہ گئی جب سے آیا تھا میرا جی جلا رہا تھا۔
’’اتنا غصہ… وہ بھی مجھ ناچیز سے…ویسے اتنی نازک سی ہو تم…اس قدر غصہ کرنے سے مزید غضب ڈھانے لگتی ہو۔‘‘ وہ بھی اپنے مگ میں چائے لے کر میری طرف آگیا۔
’’سلامہ شاہ…‘‘میں حیرت سے گنگ رہ گئی۔ کس قدر بے تکلفی پر اتر آیا تھا یہ شخص۔
’’میں جب سے آیا ہوں۔ تمہارا یہی مزاج دیکھ رہا ہوں جب کہ فاطمہ ماما تعریفیں کرتی نہیں تھکتیں تمہاری۔ ویسے غصے کے علاوہ اور کیا مشاغل ہیں تمہارے۔‘‘اس نے حد ہی تو کردی تھی۔
’’بکواس بند کرو…میں پاپا کی وجہ سے آپ کو برداشت کر رہی ہوں اگر مزید آپ نے کوئی بے ہودگی کی تو میں آپ کا سر پھاڑ دوں گی…‘‘بے بسی کی حد ہی تو تھی۔ میں تلملا کر ایک دم ہونٹ بھینچ گئی وہ مسکرا کر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ میرا رواں رواں نفرت سے جلنے لگا۔
’’آپ کا پاپا سے رشتہ ہے اس کو اسی تک رکھیں…میں آپ لوگوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔‘‘
’’کیوں ایسا کیا گناہ کر دیا ہے ہم لوگوں نے، تم کزن ہو میری سگی عم زاد، بہت قریبی تعلق ہے ہمارا…تمہارے کہہ دینے سے رد تو نہیں ہو جائے گا۔‘‘ وہ بہت ہی سنجیدہ ہو کر کہہ رہا تھا۔ میرے چہرے پر خودبخود اس کے الفاظ سے استہزائیہ مسکراہٹ آٹھہری۔
’’بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں مسٹر سلامہ شاہ آپ تو۔‘‘ اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں مسکرا دی جب کہ میری آنکھوں میں صرف نفرت ہی نفرت تھی۔’’آپ کی کزن وہ بھی میں، یعنی ماورا رہبان غفار شاہ۔ کیا مذاق ہے زبردست بھئی…‘‘اب میں باقاعدہ ہنس رہی تھی۔’’میں ماورا اسی سارہ کی بیٹی ہوں جو آپ جیسے اعلیٰ حسب نسب والے خاندان کے لیے کلنک کا ٹیکا ثابت ہوئی تھیں…حیرت ہے بھول گئے آپ تو… جب کہ مجھے تو اچھی طرح ازبر ہے بڑا اعلیٰ حسب نسب والا خاندانی خون ہے آپ کا تو جس میں میری ماں اور میری وجہ سے ملاوٹ ہوجانا تھی…چہ چہ چہ…‘‘ ہنسی کی بجائے اب میرے لہجے سے نفرت ہی نفرت جھلک رہی تھی وہ لب بھینچے مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’آپ نے بھی کیا خوب لطیفہ سنایا ہے۔ میں آپ کی عم زاد ہوں یعنی بہت گہرا تعلق ہے میرا آپ سے…یہ بھی خوب کہی آپ نے…‘‘ پھر میری ہنسی شروع ہوگئی تھی اور رکنے میں ہی نہیں آرہی تھی۔ میں نے برسوں پہلے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھی تھی۔ اس کے لہجے میں رچے نفرت کے زہر کو چکھا تھا اور اسی زہر نے میرا روم روم نیلا کر دیاتھا اور اب اچانک ’’یہ کزن‘‘ والی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
’’بس کرو ماورا…یہ کیا بے ہودگی ہے…‘‘ میرے مسلسل ہنسنے پر آخر کار وہ چیخ اٹھا اور میں یہی چاہتی تھی ایک دم ہنسی ضبط کیے اسے زہر بھری نظروں سے گھورا۔
’’بے ہودگی نہیں سلامہ شاہ! حقیقت ہے۔ جسے آپ بھول رہے ہیں۔ کیوں مجھے میری اوقات سے باہر نکال رہے ہیں آپ۔محترم! جب کہ میں اپنی حدود اور قیود اچھی طرح پہچانتی ہوں اور میرا آپ کو بھی مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ بھی اپنی اوقات اچھی طرح جان لیجیے۔ورنہ حد سے تجاوز کریں گے تو منہ کے بل گریں گے۔ اونچے حسب نسب والے اعلیٰ خاندان کے پاک و صاف خون ہیں۔ کیوں آپ محترم مجھ گناہ گار کو مزید گناہ گار کر رہے ہیں۔‘‘
زہر بھرے انداز میں اس کی آنکھوں میں بے خوفی سے آنکھیں گاڑ کر کہتے میں نے دس سال کی عمر میں حویلی میں گزارے ان چند دنوں کا قرض اتارا جنہوں نے میری روح کو نفرت کے تیروں سے گھائل کیے رکھا تھا۔
وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا تھا پھر ایک گہری سانس خارج کرتا وہاں سے اٹھ گیا۔ اس کے چلے جانے پر میں نے سر جھٹکا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مزید کچھ کہے گا مگر اس کے یوں بغیر کچھ کہے چلے جانے پر مجھے حیرت ہوئی۔
سلامہ شاہ ہوٹل چھوڑ کر اب یہیں رہنے لگا تھا۔ میرے ہی گھر میں رہتے، میرے ہی سامنے مالکانہ حقوق کا استعمال کرتے وہ مجھے مزید زہر لگنے لگا تھا۔ اس کی وجہ سے میں نے خود کو مزید مصروف کر لیا۔ میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ اس سے کم سے کم سامنا ہو۔ بعض اوقات یونیورسٹی میں کلاسز کے بعد بھی لائبریری میں بیٹھی رہتی۔ گھر آتی تو کمرے میں بند ہو جاتی۔
اس دن میں روٹین سے کچھ لیٹ ہوگئی تھی بھاگم دوڑ میں تیار ہو کر گھر سے نکلی تو وہ بھی پاپا کی گاڑی لیے کہیں جانے کو تیار تھا۔ میں اسے نظرانداز کرکے تیزتیز قدموں سے آگے بڑھ گئی مگر چندمنٹ بعد ہی اس نے گاڑی میرے قریب ہی لاکر روک دی۔
’’یونیورسٹی جا رہی ہو…آؤ بیٹھو میں تمہیں ڈراپ کردوں گا…‘‘ دروازہ کھول کر اس نے مجھے آفر کی۔ میں نے اسے دیکھا۔ اس دن کے بعد ہمارا سامنا بہت کم ہوا تھا لیکن مخاطب صرف چند ایک بار ہی ہوئے تھے۔ اس کے باوجود اس کے رویے میں میری کسی بات کا اثر نہ تھا۔
’’نو تھینکس…یہ میرا روزانہ کا معمول ہے…میں بآسانی چلی جاؤں گی…‘‘ کھردرے لہجے میں انکار کرکے میں نے اس سے مزید الجھے آگے بڑھنا چاہا تو اس کی بات پر رک گئی۔
’’یہ ہر وقت کی ’’انا‘‘ بھی اچھی نہیں ہوتی ماورا ڈیئر…ماضی میں جو بھی ہوا اس میں نہ تو میرا قصور تھا اور نہ ہی تمہارا…کبھی غصے سے نکل کر بھی دیکھ لیا کرو…تمہاری صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔‘‘مسکرا کر آنکھوں میں شرارت لیے وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔ میرا تو برا حال ہونے لگا۔
’’شٹ یور ماؤتھ…آپ کو کوئی حق نہیں میری ذات پر یوں کمنٹس پاس کریں۔‘‘ تڑخ کر میں نے کہا۔ وہ کھل کر ہنسا۔ میرا خون کھول اٹھا۔
’’حق کی بھی تم نے خوب کہی ماورا! سگی عم زاد تو ہو ہی…مزید رشتہ بنانے میں دیر نہیں لگے گی۔ بشرط تم بھی اپنے دل میں تھوڑی سے گنجائش پیدا کر لو…‘‘
میں غصے میں آگے بڑھ آئی تھی۔
سارا دن یونیورسٹی میں میرا جلتے بھنتے گزرا۔اس کی اس قدر جرأت اور اپنی بے بسی پر کھل کر رونے کو جی چاہا…پیریڈ آف ہوتے ہی میں لائبریری میں چلی آئی۔ عجیب سی کیفیت سوار تھی مجھ پر۔ رہ رہ کر اس کے الفاظ میرا مذاق اڑا رہے تھے۔ میں بچی تو نہ تھی جو اس کے لفظوں کا مفہوم نہ سمجھتی۔ میں سارا وقت لائبریری میں بیٹھی رہی۔ گھر جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا پھر وہاں تھا کون جو میری راہ تکتا سوائے فاطمہ ماما کے جب کہ پاپا کو میرے وجود سے نہ کوئی انسیت تھی اور نہ رغبت۔ تو پھر وہاں جاکر میں کیا کرتی۔ ایک لمحے کو میرا دل شدت سے چاہا کہ میں یہاں سے چلی جاؤں کسی ایسی جگہ جہاں کسی انسان کا وجود تک نہ ہو۔ بے بسی ہی بے بسی تھی۔ کتنی بار میری آنکھیں بہہ گئیں اور کتنی بار میں نے چپکے سے صاف کرلیں۔یہ پبلک پلیس تھی کھل کر رویا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ یونہی بیٹھے بیٹھے نجانے کتنا وقت گزر گیا۔
’’اس طرح فرار اختیار کرنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتا… مل بیٹھ کر مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔یوں چپکے چپکے رونے سے بہتر ہے کہ آپ کسی اپنے کے پاس بیٹھ کر کھل کر رولیں اپنا دکھ کہہ لیں۔ یہ فرار اپنے آپ کو سوائے منظر عام پر لانے کے کچھ نہیں…‘‘ ابھی میں بھیگی آنکھوں سمیت وقت کا تعین ہی نہیں کرپائی تھی۔ جب اس آواز نے میرے اعصاب تک کو جھنجوڑ ڈالا۔
سلامہ شاہ قریب ہی کھڑا بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا جب کہ آواز کے برعکس آنکھیں استہزائیہ انداز میں میرے ضبط کو جھنجوڑ گئی تھیں اور اس کے الفاظ…
’’آپ…یہاں…‘‘مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ یہاں کہیں ہوگا۔ وہ مسکرا کر اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر جما کر میری آنکھوں میں بغور دیکھتے ٹیبل پر جھک گیاتھا۔
’’فاطمہ آنٹی نے بھیجا تھا تمہیں تلاش کرنے کو…بقول ان کے کہ آج سے پہلے کبھی تم اتنی دیر گھر سے غائب نہیں ہوئیں۔انہی کی نشاندہی پر میں سیدھا یہاں پہنچا ہوں اور شکر ہے تم مل گئیں ورنہ مجھے خوار ہونا پڑتا…‘‘اب وہ سیدھا کھڑا ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا۔ میں بغیر کچھ کہے اپنی چیزیں اٹھا کر وہاں سے نکل آئی یہ دیکھے بغیر کہ وہ بھی آرہا ہے یا نہیں۔ روڈ کراس کرکے میں اسٹاپ کی طرف جاکر بس روٹ دیکھنے لگی۔ سلامہ شاہ گاڑی لیے منتظر تھا۔ میں نظر انداز کرگئی۔ تبھی وہ گاڑی لے کر میرے قریب آکر رک گیا۔
’’چلو آؤ بیٹھو…‘‘ دروازہ کھول کر وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے میں فوراً بیٹھ جاؤں گی۔ غصہ تو بہت آیا مگر میں لب سیے کھڑی رہی۔
’’ماورا…‘‘ وہ گاڑی سے نکل آیا۔’’مانا کہ ماضی میں ہم سے بہت سی غلطیاں ہوئیں مگر ہر وقت حال کا ماضی کے تناظر میں جائزہ لینا عقل مندی نہیں کہلاتا… مانا کہ تم مجھ سے شدید نفرت کرتی ہو اتنی کہ میری صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی مگر میں تو تم سے نفرت نہیں کرتا۔ میں تو ہر وقت تمہاری صورت دیکھنا چاہتا ہوں یہ کیوں نہیں سمجھتی…‘‘اس کے اس غیر سنجیدہ انداز پر میں نے تڑپ کر اسے گھورا۔
’’اس طرح گھورنے سے مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس وقت میں خود نہیں آیا، بلکہ بھیجا گیا ہوں۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے یوں ہی سڑک پر کھڑے ہو کر تمہاری منتیں کرنے کا…اب میرا وقت ضائع نہیں کرو…اتنا فالتو نہیں ہوں کہ تمہارے نخرے برداشت کروں…‘‘ وہ اب بھی ہانک رہا تھا۔ میرا ضبط سے براحال تھا۔ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا۔
’’اوہ بیوٹی فل کپل…‘‘ میں اس طرح کھڑی تھی جب ایک ویسٹرن لڑکی اپنی ستائشی نظروں سے سراہتی بے باکی سے کمنٹس پاس کرتی آگے بڑھ گئی۔سلامہ شاہ تو ایک دم قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ جب کہ میرا خفت سے برا حال ہو گیا۔ میری چہرہ تپش سے جھلسنے لگا۔
’’تم اگر نہیں چاہتی کہ ایسا مزید کوئی جملہ ہم سنیں تو پلیز مزید وقت ضائع کیے بغیر اندر بیٹھو۔ورنہ اردگرد لوگوں کو تم دیکھ ہی رہی ہو کہ کیسے ہمیں سراہ رہے ہیں…‘‘احساس توہین کی انتہا تھی مگر اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ میں نے دزدیدہ نظروں سے اطراف میں نگاہ دوڑائی تو واقعی بہت سی نظروں کو خود پر جمے دیکھا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق میں اندر بیٹھ گئی۔
’’سنیے میں آپ کو پہلے بھی کہہ چکی ہوں آپ کا تعلق صرف پاپا سے ہے۔ انہی تک محدود رکھیں تو بہتر ہے۔‘‘
گاڑی سلو رفتار سے چل رہی تھی جب اس کی کسی شوخ سی دھن پر بھنا کر کہا۔
’’زہے نصیب… کچھ تو کفر ٹوٹا…ورنہ لگ رہا تھا کہ آج زبان کہیں رکھ کر بھول گئی ہو۔‘‘محظوظ انداز میں مسکراتا وہ جواباً بولا تو میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ یعنی میرے اس طرزعمل سے وہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔
’’پلیز سلامہ شاہ! انتہا ہوتی ہے کسی چیز کی۔ کیوں میرے پیچھے پڑگئے ہو…‘‘اب کے میرے انداز میں بے بسی و لاچاری تھی وہ چہرہ موڑ کر مجھے بغور دیکھنے لگا۔
’’میں آپ کو صاف صاف کہہ رہی ہوں۔ آئندہ میرے رستے میں آنے کی قطعی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اور میں بھی تمہیں کہہ رہا ہوں۔ میرا ہر رستہ تم تک ہی آئے گا۔تم پہلی نظر سے ہی مجھے اچھی لگی ہو اور مجھے بہت کم چیزیں یوں اٹریکٹ کرتی ہیں۔‘‘ گاڑی روک کر وہ کہہ رہا تھا۔ میں حیرت سے اسے دیکھے گئی۔
’’میں کوئی چیز نہیں ہوں۔ جیتی جاگتی انسان ہوں۔‘‘
’’آئی نو…میں تمہیں کوئی چیز سمجھ بھی کب رہا ہوں…پھر محبت تو واقعی جیتے جاگتے انسانوں سے ہی ہوتی ہے۔‘‘ وہ ابھی بھی غیر سنجیدہ تھا۔ شوخ سی مسکراہٹ تھی لبوں پر۔
’’کیا بکواس ہے یہ…شرم آنی چاہیے آپ کو ایسی باتیں کرتے ہوئے۔‘‘ اس کے لفظ’’محبت‘‘ استعمال کرنے پر میرا ضبط جواب دے گیا تھا۔ میری ذات کے کبھی پڑخچے اڑانے والا آج مجھ سے محبت کی بات کر رہا تھا۔’’ہونہہ آپ محبت کریں گے مجھ سے۔ نفرت کرتی ہوں میں آپ سے اور آپ کے پورے خاندان سے۔ میں آج بھی وہی ماورا ہوں جسے انتہائی حقارت سے اپنی حویلی کی چار دیواری میں کھڑے ہو کر آپ نے کہا تھا کہ میں اپنی اوقات سے آگے مت بڑھوں۔ وہی ماورا ہوں پھر آپ یہ سب کیسے بھول گئے۔ جب کہ میں نے ہر لمحے ان کی بازگشت اپنے اندر محسوس کرتے نفرت کے پودے کو جو آپ کی ہی دین تھا پروان چڑھایا ہے اور اب آپ بات کرتے ہیں محبت کی۔ مجھے وہ سب یاد ہے۔نفرت و اذیت کے زہر میں ڈوبا آپ کا کہا گیا ایک ایک لفظ۔ میں کبھی اپنی توہین نہیں بھولوں گی اور آپ نے ہی سلامہ شاہ مجھے اپنی حدود میں رہنے کی تلقین کی تھی اور اب آپ خود حدود کو پار کر رہے ہیں۔‘‘ بھرائی ہوئی چبھتی آواز میں بمشکل سب کہہ پائی۔
’’ماورا…میں نادم ہوں۔ جو بھی کہا وہ بہت جذباتیت میں کہا تھا بالکل ناسمجھی میں۔تب میں بابا جان کے زیر اثر تھا۔ اب ایسی کوئی بات نہیں…میں سب اچھی طرح دیکھنے اور سمجھنے لگا ہوں، اب حقیقت آنکھیں بند کرکے دیکھنے کی بجائے آنکھیں کھول کر قبول کرنے لگا ہوں۔‘‘
’’مجھے آپ کی کوئی معذرت نہیں چاہیے نہ ہی آئندہ آپ میرے سامنے ایسی باتیں کریں گے۔ میں اگرچہ یہاں پلی بڑھی ہوں مگر میری تربیت جن ہاتھوں میں ہوئی ہے۔انہوں نے مجھے ان لغویات سے نفرت کرنا ہی سکھایا ہے۔ آپ کچھ بھی کہیں مگر اپنے ماضی سے جدا نہیں ہو پائیں گے۔ لاکھ تاویلیں گڑھ لیں مگر میری نفرت تو ختم نہیں ہوگی۔‘‘
بات یہی ختم کرکے میں باہر دیکھنے لگی۔ وہ بھول سکتا تھا مگر میں نہیں…اس کے بعد ہمارے درمیان بالکل خاموشی رہی تھی۔ وہ مجھے گھر چھوڑ کر چلا گیا اور میں نے اس کے اتنی جلدی ٹل جانے پر شکر ادا کیا۔
سلامہ شاہ کچھ دن سے میرے روّیوں سے مایوس ہو کر شاید اپنی راہیں بدل گیا تھا۔ میںنے سکھ کا سانس لیا۔ ورنہ میں سوچ رہی تھی کہ اگر وہ باز نہ آیا تو میں پاپا سے ضرور شکایت کردوں گی۔مجھے اس کا بار بار اپنی راہ میں آنا اور یوں اظہار کرنا صرف فراڈ ہی لگ رہا تھا۔ شاید اپنے ماضی میں موجود روا رکھے گئے رویوں کی وجہ سے اب کسی حس کو تسکین پہنچانا مقصود تھا۔ مجھے تو اس کی یہ محبت صرف اور صرف زچ کرنے کا ایک انداز لگ رہی تھی۔
پاپا اپنے آفس میں تھے، فاطمہ ماما گھریلو خریداری کرنے گئی ہوئی تھیں۔ یورنیورسٹی سے آکر میں گھر پرتنہا تھی۔ کچھ دن سے سلامہ شاہ بہت مصروف رہنے لگا تھا۔ فاطمہ ماما سے ہی علم ہوا کہ وہ جس کام کے لیے آیا ہوا تھا اس کا آفس سیٹ ہو چکا ہے اب وہ جلد ملک واپس چلا جائے گا۔ کال بیل کی آواز پر میں نے دروازہ کھولا تو سلامہ شاہ کو سامنے دیکھ کر حیرانگی ہوئی۔ چند دن سے وہ اس وقت گھر میں کم ہی آتا تھا جب کہ آج تو لنچ ٹائم بھی اوور ہو چکا تھا۔
’’السلام علیکم…‘‘ وہ اندر آگیا۔ میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ بھی پیچھے ہی چلا آیا۔
’’ماورا…‘‘ میرے یوں نظرانداز کرنے پر اس نے ایک دم میرا بازو تھام کر رخ اپنی جانب کیا۔
’’سلامہ شاہ! پلیز اپنی حد میں رہیں…آئندہ مجھے ہاتھ لگانے کی غلطی نہ کرنا ورنہ میں سچ مچ تمہارا سر پھوڑ دوں گی۔‘‘ اس کی بدتمیزی پر میرا دماغ تو کھول ہی اٹھا۔
’’حد میں ہی تو ہوں ماورا! ابھی تک…ورنہ جس چیز کو میں ایک دفعہ اپنے لیے پسند کرتا ہوں اس کے لیے مجھے کبھی اتنا خوار نہیں ہونا پڑتا۔ وہ لمحوں میں میرے قبضے میں ہوتی ہے مگرتم مسلسل مجھے خوار کر رہی ہو۔‘‘ تحکم و نخوت لیے وہ کہہ رہا تھا۔
’’مگر سلامہ شاہ! چیزوں اور انسانوں میں بہت فرق ہوتا ہے اور شاید آپ کو اس فرق کا اندازہ نہیں تبھی میرے سامنے اپنی حاکمانہ فطرت کا مظاہرہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
مگر یاد رکھیں میں آپ کے بابا جان کی جاگیر نہیں جس پر آپ اپنا حق جتائیں۔‘‘
میرا لہجہ زہرخند تھا۔ وہ لب بھینچے مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’جانتا ہوں…مگر تم میرے جذبات کو کیوں نہیں سمجھ رہیں…‘‘اپنے لہجے کو کنٹرول کرکے کچھ دھیمے پن سے کہا تو میں خاموش رہی۔ بار بار ایک ہی بات کو دہراتے اب مجھے خود بھی کوفت ہونے لگی تھی۔
’’ماورا…‘‘ وہ میرے سامنے آکر میرے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے ہٹاتے مسکرا رہا تھا۔ میں ساکت سی اس کی جرأت پر گنگ رہ گئی۔ کتنا ڈھیٹ تھا یہ شخص۔
’’میرے پاس بہت کم دن رہ گئے ہیں۔ میرا کام ختم ہو چکا ہے تقریبا…تم اگر…‘‘
اس کے ہاتھ کو جھٹک کر میں نے اپنے آپ کو کچھ بھی کہنے سے روکا۔
’’ماورا…‘‘ میری لاتعلقی پر وہ زچ ہوگیا۔
’’بہت ڈھیٹ انسان ہیں آپ…بڑا دعویٰ ہے آپ کو کہ محبت کرتے ہیں مجھ سے۔ کیا ہے محبت آپ کی۔ صرف مجھے جھکانا۔ درحقیقت میں نے پہلی ہی نظر سے آپ کی نفی کی تھی اور آپ کو یہی بات ہضم نہیں ہو رہی۔ میری نفرت کے جواب میں میری انا اور نسوانیت کو پامال کرنے کو محبت کہتے ہیں۔ کیا خوب ناٹک رچایا ہے آپ نے…مگر افسوس میں آپ کے لیول کی لڑکی ہوں ہی نہیں۔ مجھے آپ جسٹ فار انجوائے منٹ استعمال کرلیں۔‘‘
’’ماورا…ماورا…غلط سمجھ رہی ہو تم…انتہائی غلط سوچ ہے تمہاری۔‘‘
’’تو درست کیا ہے۔ آپ بتادیں…‘‘ میرا لہجہ طنزیہ و استہزائیہ تھا۔
’’درست یہی ہے کہ میں دل کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ تمہیں اپنانا چاہتا ہوں۔ صرف تمہاری ہاں کا منتظر ہوں تاکہ میں پاکستان جاکر اپنے والدین سے تمہارے لیے بات کرسکوں مگر اس سے پہلے میں تمہارے اپنے متعلق تمام گلے شکوے دور کرنا چاہتا ہوں۔ تم جس خود ساختہ نفرت میں جکڑی کچھ او رسوچنا اور سمجھنا ہی نہیں چاہتیں۔ وہ تمام غلط فہمیاں دور کرنا چاہتا ہوں۔ اپنے گزشتہ تمام رویوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں۔ بشرطیکہ تم تحمل سے میری بات سنو تو سہی۔‘‘وہ انتہائی زچ انداز لیے کہہ رہا تھا اور میں نے اس کی تمام باتیں سن کر کوفت بھرے انداز میں اسے دیکھا۔
’’اگر میں آپ کے رویوں کو بھول کر آپ کی باتوں پر یقین کر بھی لوں تو سلامہ شاہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کا خاندان مجھے کبھی قبول نہیں کرے گا۔ سلامہ شاہ آپ کے اونچے حسب نسب کے دعویدار بابا جان کی انا بلبلا اٹھے گی۔ بڑا مان ہے انہیں اپنے اعلیٰ خاندانی خون پر…وہ میرا خون کیسے برداشت کریں گے۔ بتائیں آپ پھر کیا کریں گے۔‘‘
’’اول یہ کہ وہ صرف میرا خاندان نہیں تمہارا بھی خاندان ہے۔‘‘
’’ہاں ضرور ہوتا اگر وہ میری ذات کی نفی نہ کرتے مجھے اپنے اعلیٰ خون ہونے کا احساس نہ دلاتے میں ضرو خود کو ان سے نتھی کرتی اگر درمیان میں کچھ نہ ہوتا…‘‘میرے جواب پر اس نے ایک گہری سانس لی تھی اور ساتھ ہی مجھے یوں دیکھا جیسے میرا دماغ لاعلاج ہو۔
’’تو تم طے کیے ہوئے ہو کہ اپنا دل صاف نہیں کرو گی۔‘‘
’’نہیں، ضرور کروں گی، جب آپ کے بابا جان مجھے قبول کرلیں گے تب بات کیجیے گا۔ تب آپ کے متعلق میں کوئی جواب دوں گی۔ قبل از وقت کچھ بھی نہیں۔‘‘ کچھ دھیمے پڑتے میں نے کہا۔
’’میں انہیں راضی کروں گا اور مجھے یقین ہے وہ ضرور راضی ہوں گے…‘‘ اس کا لہجہ عزم تھا۔
مجھے بہت برا لگا تبھی میں استہزائیہ ہنس دی۔
’’ہونہہ…وہ راضی ہوں گے…میں آپ کے خاندان کو اچھی طرح جانتی ہوں سلامہ شاہ!آپ نفرت کے پانیوں پر ایک ناقص عمارت تعمیر کرنے کے صرف خواب بن رہے ہیں جب کہ میری ایسی کوئی حماقت کرنے کی خواہش نہیں۔ جس شخص نے پچیس سال گزرنے کے باوجود اپنے بیٹے کو معاف نہیں کیا۔ وہ شخص مجھے کیسے قبول کرے گا۔ بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں آپ تو…‘‘نخوت سے سر جھٹکتے میں اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ لاک کرگئی تھی کہ اس بحث کا کوئی حل نہیں۔
اب تو شاید سلامہ شاہ نے بھی ہار مان لی تھی۔ اس دن تفصیلی گفتگو کے بعد اس نے دوبارہ اس موضوع کو نہیں چھیڑا۔ اول تو ہمارا سامنا ہی کم ہوتا تھا اگر کبھی ہو بھی گیا تو میں فوراً وہاں سے ہٹ جانے کی کوشش کرتی تھی۔ یہاں لندن میں اس کا کام ختم ہوگیاتھا۔ وہ واپس جا رہاتھا۔ ٹکٹ کنفرم ہوچکی تھی۔ پاپا اس کے چلے جانے کے احساس سے ہی رنجیدہ ہو رہے تھے جب کہ میں پرسکون ہوگئی تھی۔ خواہ مخواہ میں اپنے گھر میں ہی محتاط ہو کر رہ گئی تھی۔
سلامہ شاہ کی کل رات کی فلائٹ تھی۔ آج وہ سارا دن گھر پر ہی تھا۔ چھٹی کا دن تھا میںاور پاپا بھی گھر پر ہی تھے۔ فاطمہ ماما سے اس نے اپنی پیکنگ کر دینے کو کہا تھا۔ وہ گھر سے نکلا تو ماما نے مجھے آلیا اور کہا۔
’’ماورا! سلامہ شاہ نے مجھے سامان کی پیکنگ کردینے کو کہا تھا مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ تم ہی میرے ساتھ آجاؤ…‘‘
میں چینل سرچنگ کر رہی تھی۔ انکار کرنا چاہا پھر خاموش ہوگئی۔ اب وہ اس عمر میں بے چاری تنہا کیا کیا کرتیں سارا گھر تو سنبھالاہوا تھا انہوں نے۔وہ مجھے چیزیں پکڑاتی گئیں اور میں ترتیب سے پیکنگ کرتی گئی۔ انہوں نے مجھے ایک فائل پکڑائی اسی وقت کال بیل بجی۔
’’تم کام کرو میں دیکھتی ہوں…‘‘ مجھے اشارہ کرکے وہ باہر نکل گئیں۔ میں فائل کے اندر موجود کاغذات کو ترتیب دینے لگی تمام آفیشل پیپرز تھے تبھی کاغذات کے اندر رکھی کتنی تصاویر میرے ہاتھوں میں آگئیں۔ وہ ساری کی ساری میری تصاویر تھیں۔ میں حیران تھیں سب کی سب وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر لی گئی تھیں بچپن سے لے کر اب تک کی کئی تصاویر کچھ یونیورسٹی کی تھیں اور کچھ گزشتہ سالوں کی۔ نجانے اس کے ہاتھ کیسے لگ گئیں۔

ان دھندلگی آنکھوں میں اک تصویر سجا رکھی ہے
اس دل کی دھڑکن میں بس تیرا نام سمویا ہے
مت پوچھ اے جانِ دلبر! حال اس بے حال کا
کبھی تھا جو وہ بہت فرحاں اب اکثر رات بھر وہ رویا ہے

ایک تصویر کی پشت پر یہ اشعار درج تھے۔ اشعار پڑھنے کے بعد میں ابھی حیرتوں کے سمندر میں غرق تھی کہ جب پشت سے ہاتھ بڑھا کر کسی نے یہ تمام تصاویر کھینچ لی تھیں۔ پلٹ کر دیکھا تو وہ خونخوار چہرہ لیے کھڑا گھور رہا تھا۔
’’میرے سامان کی اس طرح تلاشی لینے کا تمہارا کیا مقصد تھا؟…‘‘وہ پوچھ رہا تھا اور میں اس کے یوںالزام لگانے پر تپ چڑہی گئی۔ ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔‘‘
’’یہ تصاویر…‘‘ فی الحال لڑنے جھگڑنے کی بجائے میرا ذہن اسی میں الجھا ہوا تھا۔
’’تمہاری ہیں…‘‘ آرام سے بتا کر اس نے تمام تصاویر اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں منتقل کیں۔
’’میں اندھی ہوں جو مجھے اپنی صورت دکھائی نہ دی۔ یہ آپ کے پاس کیا کر رہی ہیں؟‘‘
تصاویر پر قبضہ جمانے سے مجھے طیش آگیا تھا۔
’’کم از کم یہ بے جان تصاویر میرا کوئی کام کرنے یا باتیں کرنے سے تو رہیں۔البتہ تصویر والی کبھی کبھار میرے تصور میں آکر میری تنہا راتیں ضرور آباد کر دیتی ہے۔ اکثر تو میرے سینے پر سر رکھ کر…‘‘اس وقت مجھے اس سے اس گھٹیا جواب کی قطعی توقع نہ تھی اوپر سے اس کی جسم میں آگ لگادینے والی مسکراہٹ، شرم و حیاتو جیسے اس میں تھی ہی نہیں۔یوں گھور رہا تھا گویا آنکھوں سے ہی نگل لے گا۔ میرا چہرہ سرخ انگارہ ہو گیا۔ شرم سے برا حال تھا۔
’’واپس کریں شرافت سے میری تصویریں…‘‘
’’نکال سکتی ہو تو نکال لو…‘‘ جیب کے اوپر ہاتھ رکھ کر تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر چیلنجنگ انداز میں گویا تھا۔ تمام شرم و حیات گویا گھول کر پی گیا تھا اور میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کے پڑخچے اڑادوں۔
’’ڈوب مرو تم… اچار ڈال لیجیے گا ان تصویروں کا مگر یاد رکھیں آپ کے یہ حربے اور ایسی باتیں میرے دل میں مزید شدید نفرت پیدا کریں گی‘‘۔
میں پھٹ ہی تو پڑی تھی۔ اس کی اس قدر عامیانہ نظریں مزید برداشت سے باہر تھیں۔ وہ یکدم میرے قریب آگیا۔
’’بہت توہین کی ہے تم نے میرے جذبوں کی…تمہارا کیا خیال ہے میں کوئی گرا پڑا اور فلرٹ طبیعت کا حامل ایک جذباتی انسان ہوں…نہیں ماورا ڈیئر…میں کبھی عام سے عام چیز کے لیے بھی اپنے معیار سے نہیں گرا اور تم سے محبت کرنا میری زندگی کی سب سے پہلی اور بڑی حماقت ہے۔ کبھی کسی کے سامنے اس طرح اپنا مدعا بیان نہیں کیا۔ تم نے ہر بار میری پیش رفت پر میری تضحیک کی۔ میری بے لوث محبت پر شک کیا۔ یوں مذاق اڑایا۔ مگر اب نہیں…میں بار بار اگر تمہاری راہ میں اپنے مقام و مرتبے کو بھول کر حائل ہوا بھی ہوں تو صرف اس لیے کہ شاید اسی طرح تمہارے دل سے نفرت کا رنگ اتر جائے مگر اب مزید نہیں…محبت تم سے کی ہے اور شادی بھی تم سے ہی کروں گا وعدہ ہے میرا۔
تم سے…اپنی عزت نفس کو کچل کر مردانگی و انا کو پس پشت ڈال کے تمہاری نفرت کو برداشت کیا ہے تو صرف اس لیے کہ مجھے تم سے محبت تھی…تمہیں اپنااسیر نہ کیا تو کہنا…بے شک چیلنج سمجھ لو اسے…‘‘
مجھے وہ اچھی طرح سنا کر کمرے سے نکل گیا تو مارے حیرت کے میں وہیں دیکھتی رہ گئی۔ جہاں سے وہ چند سیکنڈ پہلے نکل کر گیا تھا۔
سلامہ شاہ پاکستان چلا گیا۔ جس دن اس کو جانا تھا اس دن میں سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی تھی۔ وہ چلا گیا تو میں باہر نکلی۔ اگلے دن یونیورسٹی سے آکر میں اپنے کمرے میںآگئی۔ رات کو پڑھنے کے لیے کتابیں نکالنے ریک کی طرف آگئی۔ تین دن ہوگئے تھے مجھے کسی بک کو ہاتھ لگائے۔ ابھی میں کتابیں دیکھ ہی رہی تھی جب کتابوں کے ایک جانب گفٹ ریپر میں لپٹا گفٹ دیکھ کر میں ٹھٹک گئی۔ یہی وہ گفٹ تھا جو میری سالگرہ والے دن سلامہ شاہ نے مجھے دینا چاہا تھا اور میں نے انکار کر دیا تھا اور اب یہ گفٹ یہاں کیسے پہنچا۔ کون رکھ کر گیا۔میرا ذہن الجھ گیا تھا۔ تمام کتابیں چھوڑ کر میں نے گفٹ اٹھا لیا۔ گفٹ کے نیچے ہی ایک بند لفافہ بھی دکھائی دے گیا۔ میں دونوں چیزیں لے کر بستر پر آبیٹھی۔
’’ماورا ڈیئر!
ہوسکتا ہے جب تک یہ گفٹ تمہاری نظروں میں آئے میں یہ سرزمین چھوڑ جاؤں۔ تمہارے رویوں سے تو اندازہ ہوگیا ہے کہ تم کبھی میری بات نہیں سنو گی۔ تمہاری نفرت اتنی گہری ہے کہ میری بے پناہ محبت اور لاتعداد کوششیں بھی اسے ختم نہ کرسکیں۔ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو اور تم اس سلسلے میں حق بجانب بھی ہو۔ پہلی دفعہ جب تم ہماری حویلی آئی تھیں تو اس وقت میں نے جو کہا تم سے، جو رویہ رکھا وہ بھی سچ ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اپنے ابا جان کی بجائے میں بابا جان کے زیادہ قریب رہا ہوں۔ بابا جان کی طرح میری سوچ بھی تنگ نظر ہوتی گئی۔ مگر پھر جب خود سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جاگی تو علم ہوا کہ بابا جان کہاں کہاں غلط ہیں اور ساتھ ہی اپنی کوتاہیاں بھی۔ میںاپنے متعلق کوئی صفائی نہیں دوں گا۔ جب میں نے مانا کہ میں غلط ہوں تو وہیں سے میں نے واپسی کی طرف سفر شروع کر دیا۔ یہاں آنا تم لوگوں سے ملنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میں جب یہاں آیا تھا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی تم سے محبت کر بیٹھوں گا۔ تمہیں دیکھا اور جانا اور تب ہی بہت آگے تک سوچا…مگر تمہاری سوچ نے مجھے بہت ٹھیس پہنچائی۔ یہ گفٹ تمہارے لیے ہی خریدا تھا۔ اب واپس لے جاکر کیا کروں گا۔ امید تو نہیں کہ تم قبول کرو بے شک پھینک دینا۔ ہاں جب سے میں یہاں آیا ہوں ایک دفعہ بھی تمہیں جیولری کے نام پر کوئی چیز پہنے نہیں دیکھی۔ ہماری حویلی میں بی بی جان،اماں جی اور دونوں بہنیں سب ہی کچھ نہ کچھ پہنے رکھتی ہیں۔ خاص طور پر چوڑیاں تو ہر وقت۔ تمہیں یوں ہر وقت سر جھاڑ منہ پھاڑ رہتے دیکھ کر اکثر میرا دل چاہا تھا کہ دیکھوں تو سہی تم چوڑیاں پہن کر کیسی لگتی ہو۔ یہ تحفہ بھی اسی خواہش کی تکمیل کے لیے خریدا تھا۔ مگر افسوس…اﷲ حافظ۔
خط لفافے میں رکھ کر میں نے گفٹ ریپرپھاڑا۔ اندر کیا ہے علم تو ہو ہی چکا تھا۔ اب دیکھنے میں حرج ہی کیا تھا۔ سنہری ڈبیہ تھی ڈھکن کھولا تو گولڈ کی جگمگاتی بیرک کانچ کی طرح کی ڈھیروں چوڑیاں تھیں۔ شاید درجن بھر…میں حیران دیکھتی رہ گئی…اتنی قیمتی سونے کی چوڑیوں کی مجھے امید نہ تھا۔ میرے تصور میں صرف کانچ کی چوڑیاں تھی اور یہ تحفہ خوبصورت بھی تھا اور قیمتی بھی۔ میں نے بے دلی سے ڈھکن بند کرکے بیڈ پر ڈال دیا۔
نہ سلامہ شاہ کے خط نے میرے دل و دماغ پر کوئی اثر ڈالا اور نہ ہی تحفے نے۔ میں خاموشی سے کتابیں لینے دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
پاپا نے سلامہ شاہ کے چلے جانے کا بہت اثر لیا۔ اس کی فون کالز اور خطوط والی میلز کا وہ اکثر بے چینی سے انتظار کرنے لگے تھے، نجانے انہیں کون سی چیز بے چین رکھتی تھی۔ بارہا میرا جی چاہا کہ خود سے پوچھ لوں مگر برسوں کی سرد مہری و اجنبیت کی دیوار ہم دونوں میں حائل تھی وہ کچھ بھی پوچھنے نہیں دیتی تھی۔

آہستہ آہستہ وقت آگے بڑھنے لگا۔دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میںبدلنے لگے۔ سلامہ شاہ کی پیش قدمیاں اسی طرح قائم دائم تھیں۔ اکثر اس کے خطوط آتے رہتے تھے۔ کوئی خط میرے نام بھی ہوتا تھا۔ جس میں اکثر سلامہ شاہ نے اپنے جذبات کا اظہار شاعری کی زبان میں کر دیا ہوتا۔ شروع شروع میں جب اس کے خط آنے لگے تو اکثر میری کیفیت بدلنے لگی تھی مگر جب یہ معمول بنتا چلاگیا تو میں نے بھی خود پر قابو پالیا۔ میں سلامہ شاہ کو روک نہیں سکتی تھی مگر اس سے محبت کرنا بھی میرے اختیار میں نہیں تھا۔ وہ اسی خاندان کا لڑکا تھا جنہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ میری ماما کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں سلامہ شاہ کی تمام باتوں کو بھی سچ مان لیتی تو یہ فراموش نہیں کرسکتی تھی کہ میری ذات کو ابھی تک پاپا نے بھی تسلیم نہیں کیا تو ان لوگوں سے کیا توقع۔
میرے سالانہ امتحان اسٹارٹ ہوئے تو ہر بات بھلا کر یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوگئی۔ امتحان کے بعد کچھ تھیسس پروجیکٹ رہ گیا تھا۔ اسے کمپلیٹ کرنے لگی۔ دن رات میرے ادھر صرف ہونے لگے۔ خدا خدا کرکے یہ کام مکمل ہوا تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ یونیورسٹی کے بعد میں نے تھوڑا عرصہ آرام کیا اور پھر ایک کمپنی میں ملازمت ڈھونڈ لی۔
اس دن تھکی ہاری گھر لوٹی تو روزانہ کی ڈاک چیک کی۔ پاکستان سے میرے نام آنے والا خط میں بغیر کھولے ہی بتاسکتی تھی کہ بھیجنے والا کون ہے۔
’’مایوس نہیں ہوتا یہ شخص…‘‘ ہمیشہ کی طرح لفافہ چاک کرنے سے پہلے میں نے ضرور سوچا تھا۔
ڈیئر ماورا!
میری اس قدر پیش رفتی پر بھی وہی سرد موسم ہے لگتا ہے اپنا سکھ چین، قرار و سکون سب وہیں تمہارے پاس ہی چھوڑ آیا ہوں دیکھ لو تمہارے سلوک نے مجھ جیسے خرد مند کا کیا حشر کر دیا ہے۔ یہاں تو صرف خالی خولی وجود ہی لے کر آیا ہوں۔ اب مہینوں گزرنے کے بعد بھی وہی کیفیت ہے۔میرے سب جذبے تو تمہارے پاس ہی رہ گئے ہیں۔اب تو بخدا بہ زبانِ شاعر سچ مچ یہی صورتحال محسوس ہوتی ہے کہ

کس پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے
پرستش کی تمنا ہے، عبادت کاارادہ ہے
جو دل کی دھڑکنیں سمجھے نہ آنکھوں کی زبان سمجھے
نظر کی گفتگو سمجھے نہ جذبوں کا بیان سمجھے
اسی کے سامنے اس کی شکایت کا ارادہ ہے

اور کیا فائدہ ڈیئر! ایسی شکایت کا جس سے محبوب کے سر پر جوں تک نہ رینگے۔اب تو میری بے سکونی پر ماں جی، بہنیں اور بی بی جان تک سب استفسار کرنے لگی ہیں۔ تمہارا نام لے تو لوں تمہاری جانب سے پیش رفت تو ہو… نہ میرا مقصد تمہیں رسواکرنا ہے اور نہ ہی تمہاری تضحیک میری مراد ہے۔ یوں سمجھ لو عشق کے اپنے ہی آداب ہوا کرتے ہیں مائی ڈیئر…بس اتنی چھوٹی سی التجا ہے کہ

اتنا پتھر مت بن کہ خود ہی ٹوٹ گرے اک روز
احساس کے آئینے میں اک ٹھیس ہی کافی ہے
انتظار کی صلیب پر جاں بلب، اپنے وعدے کے ایفا ہونے کا منتظر

سلامہ شاہخط تھا یا لفظوں کی صورت میں جذبات کا ایندھن۔ میرے اندر خط پڑھ کر احساس کی کئی تندوتیز لہریں برپا ہوگئی تھیں۔ بہت کوشش کے باوجود میں اپنے ذہن سے تمام الفاظ کو جھٹک نہیں سکی تھی۔ خیالات و احساسات اور جذبات کا ایک سیلاب تھا جو میرے اندر موجزن اک نیا تلاطم خیز طوفان برپا کر گیاتھا۔
’’نہیں…مجھے خود کو سنبھالنا ہے…ورنہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا…‘‘ اس سے پہلے کہ میں تباہی مچا دینے والے طوفان کی نذر ہوتی جذبات کے سمندر میں بہہ نکلتی ہوش کے ناخن لیتے عقل کا دامن تھاما تھا۔
سلامہ شاہ کو گئے ایک سال ہونے کو تھا۔ اس ایک سال میں وہ صرف ایک دفعہ دو دن کے لیے لندن اپنے کسی آفس ورک کے لیے آیا تھا ان دنوں میرا رزلٹ آیا ہوا تھا۔ فاطمہ ماما کے ساتھ میں ان کے بھائی کے ہاں گئی ہوئی تھی۔ اکثر ماما کے ساتھ میں ان کے رشتہ داروں کے ہاں چلی جاتی تھی۔ ماما مجھے اپنی بیٹی کہتی تھیں۔ اسی لیے جہاں بھی جاتیں مجھے ساتھ لیے رکھتی تھیں۔ ہم واپس لوٹیں تو معلوم ہوا کہ وہ آیا تھا۔ماما کو بہت دکھ ہوا کہ وہ اتنے دن اپنے بھائی کے ہاں کیوں رہیں۔ جلدی آجاتیں تو سلامہ شاہ سے بھی ملاقات ہو جاتی… وقت کے ساتھ ساتھ میں نے خو دکو بہت مضبوط کر لیا تھا۔ پاپا کی نفرت اور سرد رویے نے میرے دل میں کسی کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی تھی۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے میں پاپا کے کسی بھی رشتہ دار کو قبول نہیں کروں گی جس طرح یہ لوگ لمحہ بہ لمحہ میرے لیے اذیت کا باعث بنے تھے اسی طرح میں بھی انہیں ٹھکرادوں گی۔ جب سے مجھے علم ہوا تھا کہ پاپا بھی سلامہ شاہ کو میرے لیے پسند کرنے لگے ہیں تب سے میں نے پکا ارادہ کرلیاتھا کہ چاہے پاپا کا خاندان مجھے قبول کرے یا نہ کرے مگر میں سلامہ شاہ کو کبھی قبول نہیں کروں گی۔ جب پاپا کے دل میں میرے لیے کوئی گنجائش نہیں تو دوسرے جائیں بھاڑ میں…میری نفرت مزید بڑھ گئی تھی۔
پھر ایک دن سلامہ شاہ کا فون آیا کہ اس کے بابا جان کو فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ پاپا یہ سن کر بہت بے چین ہوئے۔ان کی بے چینی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ ان کے باپ نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور اب وہ سب بھلا کے ان کے پاس جانے کے لیے بے تاب تھے۔ سلامہ شاہ نے پاپا کو پاکستان آنے کو کہا تھا اور پاپا اسی چکر میں بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ میں بھی ساتھ ہی جا رہی تھی۔ دل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر فاطمہ ماما کے سمجھانے اور پھر اس مقصد نے مجھے بابا جان سے اپنا آپ تسلیم کروانا ہے۔ میں جانے کو راضی ہوگئی تھی۔ میرے اور پاپا کے بے پناہ اصرار پر بھی ماما ساتھ چلنے کو تیار نہ ہوئی تھیں۔ یہاں ان کے بہن بھائی تھے وہ ان کے پاس جانے کی تیاریاں کرنے لگیں۔
پاپا پاکستان اپنی آمد کی اطلاع کرچکے تھے۔ ہمیں ایئرپورٹ سے ریسیو کرنے والا سلامہ شاہ ہی تھا۔ ایک سال کے عرصے میں اس کا رنگ روپ مزید نکھرا تھا۔ پہلے ہی پُروجاہت تھا۔ اب مزید غضب ڈھانے لگا۔میں دیکھ کر رہ گئی۔ پاپا سے معانقہ کرنے کے بعد مجھے بغور دیکھنے لگا۔
’’کیسی ہو تم ماورا…‘‘ بظاہر سادہ سادہ انداز تھا مگر اس کی آنکھیں۔میں لمحہ بھر کو یہی دیکھ پائی۔
’’آئی ایم فائن…‘‘جواب دینا ہی تھا۔ ایک عرصہ بعد سامنا ہو رہا تھا اس کے باوجود میرا لہجہ خود بخود سرد ہوچکا تھا۔یہ میں لندن سے ہی طے کرکے چلی تھی کہ سلامہ شاہ کے لیے مجھے اپنے رویے و انداز میں ذرا بھی تبدیلی گوارا نہیں۔ وہ میرے سرد انداز پر مسکرا دیا۔
’’ذرا بھی نہیں بدلیں…بالکل ویسی کی ویسی ہو۔‘‘ سر سے پاؤں تک میرا بغور جائزہ لیتے اس نے کہا تو میں اندازہ نہ کر سکی کہ یہ کمنٹس میرے ’’سر جھاڑ منہ پہاڑ‘‘ حلیے پر ہیں یا سرد انداز پر۔
’’چلیں۔‘‘ وہ سامان اٹھا کر پاپا کے ساتھ چلنے لگا۔
حویلی پہنچنے پرہمارا خوب اچھی طرح خیر مقدم کیاگیا۔ سب کے رویے بظاہر نارمل ہی تھے۔خاص طور پر بابا جان کو دیکھتے ہوئے۔ پاپا سے مل کر وہ خوب روئے تھے، بار بار اپنے روپے پر معافی مانگ رہے تھے۔ میں خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔یہی وہ شخص تھا جس نے انتہائی حقارت و نفرت سے اپنے خاندانی مرتبے اور خون پر فخر کرتے میرے وجود سے انکار کیا تھا اور اب۔
وہ مجھ سے بھی اپنے گزشتہ رویوں کی معافی مانگ رہے تھے۔ رو رہے تھے۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ ان کی جانب سے نفرت سے منہ موڑ لوں۔ چیخ چیخ کر کہوں کہ میں آپ کی کچھ نہیں لگتی۔ میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں مگر کس بنیاد پر… جب کہ مجھے تو میرے باپ نے بھی قبول نہیں کیا تھا وہ تو ان کے ہی ساتھ رہی تھی ایک عمر گزار دی تھی اور یہ تو پھر دادا تھا۔ میں خاموشی سے سرد و جامد تاثرات لیے بیٹھی رہی۔
رات کھانے کے بعد میں لان میں آگئی۔سلامہ کی دونوں بہنیں شادی شدہ اور سسرال میں ہی تھیں۔ علی اور رضا بھی میرے مقابل تھے قد کاٹھ میں سلامہ شاہ کی طرح کے تھے مگر مزاج میں قدرے مختلف تھے۔
تھک کر میں سیڑھیوں پر آبیٹھی…میں یہاں تو آگئی تھی مگر اندر ہی اندر ماضی کے حوالے سے میں شکست و ریخت کا شکار تھی۔ پاپا کی سرد مہری ماضی کے بابا کے رویے مسلسل میری سوچوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
’’کیا سوچ رہی ہو؟…ایسے کیوں بیٹھی ہو…‘‘ حساب کتاب کرتے کچھ وقت سرکا تھا جب سلامہ شاہ کی آواز پر پلٹ کر میں نے دیکھا، وہ میرے عقب میں ہی ستون سے ٹیک لگائے مجھ پر ہی نظریں جمائے ہوئے تھا۔ چاند اپنی آخری تاریخوں میں تھا بالکل مدھم روشنی میں وہ بھی کچھ اداس سا تھا جب کہ ستون کے اوپر نصب الیکٹرک ٹیوب کی دودھیا روشنی میں اپنی مونچھوں کو انگلیوں سے سنوارتے سلامہ شاہ ایک خواب ناک تصور ہی تو لگا تھا۔ سرمئی رنگ کے سوٹ میں اس کی پررعب چھا جانے والی شخصیت واقعی متاثر کن تھی۔ مجھے اس بات کا اعتراف دل ہی دل میں ضرور کرنا پڑا۔ ایک نظر ڈال کر آسمان کی جانب زرد سے چاند کو دیکھنے لگی۔
’’ماورا…کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے؟…‘‘وہ کچھ دیر میری جانب سے شاید جواب کا منتظر رہا تھا۔ جب کافی دیر تک بھی میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ جھنجلا گیا۔ خاصا حق جتانے والا انداز تھا۔
’’میں تمہارے کسی بھی سوال و جواب کی پابند نہیں…‘‘ اس کے یوں حق جتانے پر میں نے خفگی سے دیکھا تو وہ مسکرا کر میرے پاس آبیٹھا۔
’’ذرا بھی نہیں بدلی تم…میرا خیال تھا کہ وقت و حالات تمہاری سوچوں پر ضرور اثر انداز ہوں گے مگر تم تو…اس طرح سرد گلیشیئر جذبات لیے ہوئے ہو۔‘‘ وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔
’’ہاں سچ کہا آپ نے…میرا ظاہر و باطن ایک سا ہے پھر میں کیسے بدل جاتی… شاید وقت ضرور مجھ پر اثر انداز ہوتا اگر ایک عرصے آپ لوگوں کی نفرت کا ذائقہ نہ چکھا ہوتا۔ یہ تذلیل و رد کیے جانے کا دکھ اتنی جلدی تو نہیں مٹے گا۔نفرت کی گہری تہہ ہے جو میرے دل و دماغ پر جمی ہوئی ہے یہ پیش رفت تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں۔‘‘ میں ایک عام سی لڑکی نہیں ہوں جو یہ سب دیکھ کر گزشتہ بھول جائے۔‘‘
’’اور ماضی کو مسلسل یاد کرکے صرف اس میں جیے جانا بھی عقل مندی نہیں ہے۔‘‘ میری بات کے جواب میں اس نے بھی طنزاً کہا تھا۔
’’آپ کہہ سکتے ہیں میری جگہ اگر آپ ہوتے تو کیا کرتے…‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔میرا لہجہ طنزیہ تھا۔
’’میں ماضی پر ماتم کرنے کی بجائے حال کو سازگار بنانے کی کوشش ضرور کرتا کیونکہ یہ میرے اختیار میں تھا۔‘‘
اس نے بغیر میرے طنز کا برا مانے مسکرا کر کہا تو مجھے اپنے اندر آگ سی سلگتی محسوس ہوئی۔
’’میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ میں بابا جان کو راضی کر لوں گا۔ آج میں سرخ رو ہوں تم کیا کہتی ہو۔ تم نے ہی تو کہا تھا کہ اگر بابا جان تمہیں قبول کرلیں تو تب بات کروں۔ اب سب کچھ نارمل ہے۔ تم اس خاندان کا ایک حصہ ہو اب کیا کہتی ہو؟‘‘ اس کے سوال پر میں کچھ بھی بول نہیں سکی تھی یہ نہیں تھا کہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ طے تو میں لندن سے ہی کرکے آئی تھی مگر اب سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہوں۔ ا مید نہیں تھی کہ وہ میری ہی بات کو میرے سامنے دہرائے گا۔
’’سلامہ شاہ! جب لندن میں آپ کے لیے میں نے انکار کیا تھا تو اس کی بنیاد آپ خود تھے اور اب… میں کبھی بھی اس خاندان کا حصہ نہیں رہی اور نہ ہی کبھی بننا چاہوں گی۔ کہنے کو میری بنیاد، میرا تشخص یہیں سے ہے۔ میں کبھی اس حویلی میں قدم نہ رکھتی اگر مجھے اپنی ذات کی پہچان نہ چاہیے ہوتی۔ یہ خاندان آپ کا ہے۔ پس اس خاندان کا فرد ہونے کے باوجود یہاں کے لیے اجنبی ہوں اور ہمیشہ رہوں گی۔ میں کل بھی سارہ کی بیٹی تھی جس کے لیے آپ کے چچا نے سب کو ٹھکرا کر شادی کی تھی، میں آج بھی اس کی بیٹی ہوں اور کل بھی رہوں گی۔ برسوں بعد آپ کے بابا جان نے بیماری کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے تسلیم کر بھی لیا ہے مگر میں کبھی تسلیم نہیں کروں گی۔ میں صرف اسی لیے یہاں آئی ہوں۔ اب مجھ سے یہ سوال دوبارہ مت کیجیے گا۔ تب بھی یہی جواب ہوگا۔‘‘ انکار کرکے میں اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی جب سلامہ شاہ نے تلملا کر میرا بازو تھاما۔
’’تم میری اور میری محبت کی مسلسل توہین کر رہی ہو ماورا!…‘‘ اس کی اس حرکت پر میں بھڑک اٹھی۔
’’کیسی توہین سلامہ شاہ!…چھوڑیں میرا بازو۔ بارہا میں آپ سے کہہ چکی ہوں مجھ سے اس طرح پیش مت آیا کریں۔ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ میرا دل نہیں مانتا آپ کے لیے تو زبردستی ہے کیا۔ میں آپ کے لیے راضی ہوتی ہوں یا نہیں یہ میرا حق ہے۔ آپ کون ہوتے ہیں چیخنے والے۔ اس طرح کی حرکتیں کرکے آپ مجھ پر اپنا عامیانہ و گھٹیاپن تو ثابت کریں گے سوائے محبت کے۔نہ مجھے آپ سے غرض ہے اور نہ ہی آپ کی محبت سے۔‘‘اس کے شکنجے سے اپنا بازو چھڑا کر، میں اس سے زیادہ مشتعل ہوئی تھی۔ وہ مجھے گھور رہا تھا۔میں اٹھ کر اندر کی جانب بڑھنے لگی تو ایک دم اس نے میرا راستہ روکا۔
’’سنو ماورا…آج تک تمہاری نفرت میں نے محبت سمجھ کر جھیلی ہے صرف یہی سوچ کرکہ بعض اوقات شدید ترین نفرت بھی شدید ترین محبت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ میں تم پر اچھی طرح واضح کر چکا ہوں کہ سلامہ شاہ کی یہ فطرت نہیں کہ جس کو وہ اپنے لیے ایک دفعہ پسند کرلے اور پھر اس سے دستبردار ہو جائے۔ یہ میری محبت میری انا اور غیرت کو گوارا نہیں۔ تم سے محبت میری پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ تمہیں چاہا ہے دل کی گہرائیوں سے۔ تمہاری پرستش کی ہے۔ تمہارے پیچھے ایک عرصہ خوار ہوا ہوں۔ جب یہ سب کچھ میری شخصیت کو زیب نہیں دیتا تھا۔ بار بار اپنی عزت نفس کو کچل کر تمہیں راضی کرنا چاہا۔ حتیٰ کہ تمہاری خاطر بابا جان جیسے سنگدل، ضدی، انسان کی ضد کو موم کیا۔ صرف تم تک رسائی پانے کے لیے۔ہر پل تمہارے احساسات کا خیال رکھا ہے۔ اب مزید نہیں۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں تمہیں جھکا کر یا تو ڑ کر حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اب… میری طلب، میری جستجو، میری آرزو تم ہو… ابھی تم نے میری ضدی فطرت اور شدت پسندی دیکھی نہیں…میں توڑنا بھی جانتا ہوں اور جھکانا بھی…ذہن میں رکھنا مائی ڈیئر…‘‘ وہ ایک دھمکی آمیز نظر ڈال کر آگ برساتے لہجے میں سب سنا کر زمین پر اپنے وزنی جوتوں کی دھمک پیدا کرتا اندر بڑھ گیا۔

پاپا اپنے بابا کی عیادت کے لیے آئے تھے لیکن یہاں آکر انہوں نے مستقل رہائش کا ارادہ کر لیا تھا۔ مجھے یہ جان کر بہت اذیت ہوئی مگر میں اب بھی ان کو کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ ان کے فیصلے پر خاموش رہی۔ وہ لندن کچھ ضروری امور نمٹانے چلے گئے تو میرا دل نانو کے ہاں جانے کو چاہنے لگا۔ یہاں میں سب کی توجہ کے باوجود بولائی بولائی پھرتی تھی۔بس میرا دل چاہتا تھا کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں۔ سلامہ شاہ اپنے کام کے سلسلے میں زیادہ تر شہر میں ہی رہتا تھا مگر ہر دوسرے دن وہ حویلی میں ہوتا تھا۔ اس کا دن بدن بدلتا رویہ…طنزیہ فقرے و عامیانہ جملے میرے ضبط کی انتہا تھی۔ نجانے میں کیسے ضبط کیے ہوئی تھی۔ نانو کی تقریباً روز ہی کالز آرہی تھیں۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں۔ پاکستان آکر میںنے ان سے سب سے پہلے رابطہ کیا تھا اسی لیے وہ بے قرار تھیں۔میں نے سبحان انکل سے جانے کی بات کی تو وہ مجھے لے جانے کو تیار ہوگئے۔سلامہ شاہ نے البتہ مخالفت کی مگر بابا جان اور بی بی جان کے کہنے پر چپ ہو گیا۔ اس طرح میں نانو کے ہاں چلی آئی۔ انکل مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔میرا کچھ دن رہنے کا ارادہ تھا۔
ماضی کے رویوں کے برعکس سب لوگ محبت سے ملے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ میں گزشتہ رویوں کو بھول گئی تھی لیکن یہاں اب دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جہاں دہرانا تھا وہاں میں بھولی نہیں تھی۔ ساری ممانیاں ٹھیک سے ملی تھیں۔ ان کے بچے سب ہی ملنسار تھے۔ ان سب کے لیے میرا لندن پلٹ ہونا خاص اہمیت رکھتا تھا۔ کچھ پاپا کا مضبوط خاندانی پس منظر توجہ کا حامل تھا جو بھی تھا یہاں آکر حویلی کی نسبت میں نے زیادہ اطمینان محسوس کیا تھا۔ سب ہی کزنز لڑکے اور لڑکیاں ہم عمر تھے۔ خوب رونق ہوتی تھی۔ البتہ ان سب میں مجھے طیبہ مامی کا بڑا بیٹا شہریار سخت برا لگا تھا۔ وہ شاید مجھ سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوگیاتھا۔ بے چارہ ہر وقت مجھے امپریس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ وہاں حویلی میں سلامہ شاہ جان کا آزار، تھا اور یہاں شہریار نیا درد پیدا ہوگیا۔ مجھے حیرت بھی ہوتی اور ہنسی بھی آتی وہ طیبہ مامی جنہیں کبھی میرا یہاں مستقل رہنا بہت کھٹکا کرتا تھا۔ وہی اب مجھ پر دل و جان سے فریفتہ ہو رہی تھیں۔ دونوں ماں بیٹا کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئے لگ رہے تھے۔ چلیں ان کے برعکس دیگر لوگ گزارے لائق تھے۔ اسی لیے میں انہیں نظرانداز کر جاتی تھی۔
رات کو میں اپنے کمرے میں تھی جب ملازمہ نے مجھے فون کی اطلاع دی۔ میں باہر آگئی۔
’’ہیلو…‘‘
’’السلام علیکم…میں سلامہ شاہ بات کر رہا ہوں…‘‘دوسری طرف سے فوراً تعارف کرایاگیا۔ تعجب کے ساتھ میں نے ایک گہری سانس لی۔
’’جی فرمائے… کیسے زحمت کرلی۔‘‘ حسب عادت میرا لہجہ سرد ہوگیا۔
’’تم کب واپس لوٹ رہی ہو؟‘‘ جواباً وہ بھی آرام سے پوچھنے لگا۔
’’فی الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں… اس ہفتے تو میں بڑی خالہ کے ہاں جاؤں گی اس کے بعد چھوٹی خالہ کے ہاں اگر جلدی فرصت مل گئی تو سوچوں گی…‘‘ جس طرح وہ میرے رویے سے چڑ رہا تھا میرا دل بھی اس چڑانے کو چاہ رہا تھا۔میں نے اسے اپنا پروگرام سنایا۔
’’کوئی ضرورت نہیں تمہیں اس طرح ادھر اُدھر سیرسپاٹے کرنے کی۔جلدی واپس آؤ۔دو تین دنوں میں چچا جان واپس آرہے ہیں اور تمہیں ان کے آنے سے پہلے یہاں ہونا چاہیے۔ بہت مل لیا تم نے اپنے رشتہ داروں سے…‘‘وہ جس طرح حاکمانہ لہجے میں کہتا مجھ پر حکم چلا رہا تھا اس سے میرا خون کھولنے لگا۔
’’میں آپ کی پابند نہیں ہوں کہ آپ کے حکم پر دوڑی چلی آؤں گی… حاکم ہوں گے آپ اپنی جاگیر کے… جب جی چاہے گا آؤں گی…‘‘
’’ماورا! میں نے تمہیں کہا ہے نا کہ تم واپس آؤ۔سمجھ میں نہیں آرہا جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔‘‘میرے غصہ دلانے پر وہ بھی غصے سے کہنے لگا۔
’’اور شاید آپ کو بھی سلامہ شاہ میری بات سمجھ نہیں آرہی۔میں فی الحال نہیں آؤں گی اور نہیں کا مطلب ہوتا ہے نہیں…سمجھے آپ…‘‘ دو ٹوک انکار کرکے میں نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔ ابھی میں گہری سانس لے کر واپس پلٹی ہی تھی کہ دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔
’’اب کون ہے…؟‘‘
’’ماورا…میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ میری ضد کو آواز مت دو…تمہیں یہ دھمکی مہنگی بھی پڑسکتی ہے۔ سوچ لیں۔ کل صبح میں واپس جا رہا ہوں…تمہیں بھی ساتھ چلنا ہے میرے۔لینے آؤں گا تمہیں تیار رہنا…بصورتِ دیگر جو بھی کروں گا پھر بھگتنا۔‘‘جیسے ہی میں نے فون اٹھایا تھا اس نے پھنکارتے ہوئے کہہ کر فون بند بھی کر دیا اور میں ریسیو کو گھور کر رہ گئی۔
اگلے دن ناشتہ کرکے میں دوبارہ سوگئی۔ دس بجے کے قریب نانو نے مجھے آکر اٹھا دیا۔
’’حویلی سے تمہارے دادا کا فون آیا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ تم آج ہی حویلی پہنچو کل تک تمہارے پاپا پاکستان آرہے ہیں۔ تمہیں لینے تمہارا تایازاد سلامہ شاہ نیچے آیا بیٹھا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا تو میں ہونق چہرہ لیے انہیں دیکھتی رہ گئی۔
’’مگر نانو مجھے تو ابھی کچھ دن رہنا تھا…‘‘
’’میں نے سلامہ شاہ سے کہا بھی تھا لیکن وہ مان ہی نہیں رہا…کہہ رہا تھا کہ تمہیں لے کر ہی جائے گا…پھر تمہارے دادا کا بھی فون آگیا اور میں انکار نہ کر سکی…جلدی سے تیار ہو جاؤ وہ نیچے انتظار کر رہا ہے۔‘‘
سلامہ شاہ یوں اپنی دھمکی پر عمل کر دکھائے گا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا میں روہانسی ہوگئی۔یہ شخص مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش لگا۔
’’تم باتھ لے لو میں اقرا کو بھیجتی ہوں وہ تمہاری پیکنگ کر دے گی۔‘‘ نانو ہدایت دے کر باہر نکل گئیں اور میں بے بسی سے سر تھام کر رہ گئی۔
’’کتنا چالاک اور حاکم طبیعت کا مالک ہے یہ شخص۔‘‘ میں کلستے ہوئے کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گئی۔تیار ہو کر اپنا بیگ لے کر نیچے آئی تو وہ نانا جان کے ساتھ بیٹھا باتیں بگھار رہا تھا۔ مجھے بمع سامان کے دیکھ کر اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ چمکی۔ جب کہ میں اندر ہی اندر بل کھاتی رہی۔
اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے بھی میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اس شخص کو شوٹ کردوں نجانے کیسے خود پر ضبط کر رہی تھی۔
’’کہیے ماورا جی! کیسے گزرے یہ دن؟‘‘ گاڑی اسٹارٹ کرکے گیٹ سے نکالنے بعد بہت فاتحانہ مسکراہٹ لیے پوچھ رہا تھا میں تلملا کر رہ گئی۔
’’بات نہیں کریں مجھ سے…‘‘ بے بسی نے آنکھوں میں مرچیں لگادی تھیں۔
’’اف اتنا غصہ…‘‘ وہ ہنس رہا تھا۔’’یار تم سے بات نہیں کروں گا تو پھر کس سے کروں گا۔اس وقت تم ہی مجھے دستیاب ہو۔ یوں بھی اب تم ایسی بے مروت تو مت بنو…میں تمہارے اس گھونچو کزن سے لاکھ درجے بہتر ہوں۔ فرسٹ کزن ہوں، بہت حق بنتا ہے میرا…‘‘وہ مسلسل سلگتے ہوئے لہجے میں مسکرا کر میرا جی جلا رہا تھا۔
’’میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ ابھی میں کچھ دن رہنا چاہتی ہوں۔‘‘ بے بسی سے میرا برا حال تھا۔
’’رات فون کرکے میں نے تمہیں اسی لیے خبردار کر دیا تھا۔ اب کچھ کہنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔‘‘میرا جی جل کر رہ گیا۔
’’آپ…کتنے برے ہیں، میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے…کیوں میری جان کو آگئے ہیں…‘‘ میری آواز یکدم بھرا گئی تو اس نے بھی گاڑی کو بریک لگائے۔
’’محبت کرتا ہوں تم سے‘ کیسے چھوڑ دوں تمہیں… بہت آگے آکر اب پیچھے پلٹنا میرا شیوہ نہیں۔ تمہاری عقل میں میری یہ بات نہیں آرہی…‘‘
’’میں کچھ نہیں سمجھتی اور نہ ہی سمجھنا چاہتی ہوں۔ میں نہ ماضی سے جدا ہو کر جی سکتی ہوں اور نہ آپ کر سکتے ہیں۔ خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑ دیں، مجھے معاف ہی رکھیں۔‘‘ اب کے بے بسی کے گہرے احساس سے میں واقعی رو دینے کو تھی۔ میری آنکھوں میں آنسو آٹھہرے تھے۔ جنہیں میں روکنے کی کوشش میں تھی۔
’’تم ایسی ادائیں دکھاؤ گی تو سچ کہہ رہا ہوں ہمارا منزل تک پہنچنا ضرور مشکل ہو جائے گا۔‘‘میں کہیں راستے میں ایکسیڈنٹ ضرور کر بیٹھوں گا۔ بہتر ہے خود پر کنٹرول رکھو۔‘‘
میرے آنسوؤں کی جانب اشارہ کرتے سلگتے انداز میں اس نے مجھے بری طرح ٹوک دیا۔میں نے فوراً اپنا چہرہ صاف کیا۔ نجانے کیا ہو رہا تھا مجھے جو خود پر کنٹرول کرنا مشکل لگ رہا تھا۔میں بھری آنکھوں سمیت رخ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔ وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے
پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے

وہ دھیمے سروں میں ڈرائیونگ کرتے ’’اسٹیرنگ پر اپنی انگلیاں بجاتے شوخ سی آواز میں گنگنانے لگا۔‘‘ گاڑی کے خاموش ماحول میں میری ’’سوں، سوں‘‘ کے ساتھ اس کی آواز عجیب ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

جو دل کی دھڑکنیں سمجھے، نہ آنکھوں کی زباں سمجھے
نظر کی گفتگو سمجھے، نہ جذبوں کا بیاں سمجھے
اسی کے سامنے اس کی شکایت کا ارادہ ہے

میرا دل دھک سے رہ گیا۔میں پہلو بدل کر رہ گئی۔وہ اس درجہ شوخ جسارت پر اتر آئے گا میں لق و دق تھی۔ اپنی ظاہری شخصیت کے ساتھ بلاشبہ ایک خوبصورت گنگناتی آواز کا بھی مالک تھا۔ گیت کے بول ماحول کے ہم آہنگ تھے۔ مجھے یکدم اس کا خط یاد آگیا جو اس نے لندن بھیجا تھا۔اس میں بھی یہی اشعار تھے۔ میں صرف اپنے اوپر ضبط کیے سنتی رہی۔

یہ سوچا ہے کہ دل کی بات اس کے روبرو کہہ دیں
نتیجہ کچھ بھی نکلے آج اپنی آرزو کہہ دیں

اس کی شوخ آواز مسلسل میرے اعصاب کو جھنجوڑ رہی تھی۔ میں بالکل لاتعلقی ظاہر کیے باہر دیکھتی رہی جب کہ ذہن اس کے صرف ایک لفظ میں کھویا ہوا تھا۔

محبت بے رخی سے اور بھڑکے گی وہ کیا جانے
طبیعت اس ردا سے اور پھڑکے گی وہ کیا جانے
وہ کیا جانے کہ اپنا کس قیامت کا ارادہ ہے

شوخ آواز میں گاتے اس نے میری طرف دیکھا تھا اسی دوران میں نے بھی پلٹ کر دیکھا تو وہ بھرپور انداز میں ہنس دیا۔ میں فوراً نظر پلٹ گئی۔ نجانے میں کیسے خود کو سنبھال رہی تھی۔اپنی خودداری و انا اور نسوانیت کا پاس نہ ہوتا تو ایک لمحے کی دیر میں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوتے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی تھی۔ میں بھی انسانی جذبات و احساسات کی مالک کب تک خود کو پتھر بنائے رکھتی جبکہ وہ مسلسل میرے پتھر جذبات کو پگھلانے کے درپے تھا۔

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے
پرستش کی تمنا ہے، عبادت کا ارادہ ہے

وہ شوخ آواز میں مسلسل ان لفظوں کی تکرار کر رہا تھا۔میری آنکھوں سے میرا دل بھی قطرہ قطرہ ٹپکنے لگا۔ آخر یہ شخص چپ کیوں نہیں ہو جاتا۔ چہرہ موڑے میں صرف رو رہی تھی۔ جب کہ میرے دل کی ہستی نجانے کن طغیانیوں کے زیر اثر تھی۔ پہلی بار مجھے اپنی شکست کا احساس ہو رہا تھا کہ اگر اس طرح وہ میرے ضبط کو آزماتا رہا تو کسی دن میں واقعی ہار جاؤں گی۔
’’ماورا…‘‘کچھ توقف کے بعد اس نے پکارا۔’’ماورا…‘‘ اب کے اس نے میرا کندھا تھاما تو میں چیخ اٹھی۔
’’کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے…میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی…نہیں کرسکتی قبول میں آپ کی محبت… میرے دل میں نہیں بنتی آپ کے لیے گنجائش… جب سب جانتے ہیں تو پھر بھی کیوں میرا سکون برباد کر رہے ہیں…کیوں میری جان لینے کے درپے ہیں…‘‘
میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی…وہ بغیر جواب دیے مسلسل گاڑی ڈرائیو کرتا رہا۔
’’ساری بات یہ ہے ماورا کہ میں سب کچھ بھول کر بھی تمہاری جانب سے اس بری طرح ہونے والے ردعمل کے اظہار کو نظرانداز نہیں کر پا رہا…تمہیں حاصل کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے۔میں آج بی بی جان سے بات کروں تو تم آرام سے میری زندگی میں شامل ہو جاؤ گی۔ تمہارا حصول میرے لیے نہ ہی مشکل ہے اور نہ ہی ناممکن… ساری بات دل کے تعلق کی ہے جو مجھے کوئی انتہائی قدم اٹھانے نہیں دیتا…مجھے نہ جانے کیوں آج بھی یقین ہے تم ضرور بدلو گی۔ شاید اس لیے میں مسلسل خود کو تمہاری نظروں سے گراتا چلا جا رہا ہوں لیکن یہ سچ ہے۔ نہ میری محبت کوئی فریب ہے اور نہ میرے جذبوں کی شدت میں کوئی کھوٹ، میں صرف تمہیں راضی کرنا چاہتا ہوں۔ اتنی گہری نفرت کی وجہ اب سمجھ میں نہیں آتی جب کہ اب تو سب حالات نارمل ہو چکے ہیں تو پھر تمہارا یوں رد کرنا آخر کیا وجہ ہے۔ جب تک تم وجہ نہیں بتاؤ گی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘ کچھ دیر بعد میرے چپ ہونے پر اس نے یہ سب کہا تھا۔
’’آپ صرف ایک لاحاصل کے لیے بھاگ رہے ہیں اور کچھ نہیں…اگر آپ کا یہی ارادہ ہے تو بخوشی بھاگتے رہیں مگر میں وہی رہوں گی…‘‘ اب میں خود کو سنبھال چکی تھی۔ وقتی جذبات کا سمندر اترچکا تھا۔ شاید سلامہ شاہ نے میری طرف دیکھ کر کچھ کہنا چاہا پھر وہ لب بھینچ گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سرد کیفیت اتر آئی تھی جو میری سمجھ سے بالاتر تھی۔
اگلے ہی دن پاپا بھی لوٹ آئے۔ سلامہ شاہ کا رویہ کبھی بے حد لونگ ہو جاتا اور کبھی بے حد سرد۔ انہی دنوں نانا نانی اور ماموں ممانی شہریار کا رشتہ لے کر آگئے۔ میں جو سلامہ شاہ کی طرف سے پریشان تھی اب شہریار کے نام کے درد سر نے آلیا۔ میں شش و پنج میں تھی پاپا اور دیگر لوگوں نے سوچ کر جواب دینے کو کہا تو وہ لوگ پرامید انداز میں واپس لوٹ گئے۔ تیسرے دن سلامہ شاہ آگیا۔ میرا خیال تھا کہ آتے ہی وہ ضرور بازپرس کرے گا طنز وتمسخر سے نوازے گا مگر رات تک خیرخیریت ہی رہی۔ سارا دن تو نہیں البتہ رات کو میرے کمرے میں آیا۔میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی اسے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’کسی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے شاید دستک دی جاتی ہے۔ لگتا ہے آپ کو ایسے آداب سکھائے نہیں گئے…‘‘اس کے یوںدندناتے کمرے میں گھس آنے پر مجھے بہت غصہ آیا۔ جتنی میں کوشش کرتی تھی کہ اس سے منہ ماری کم ہو اتنا ہی وہ مجھے اشتعال دلاتا تھا۔
’’ایسی اخلاقیات کا مظاہرہ اجنبیوں کے لیے کیاجاتا ہے تم تو پھر میری اپنی…‘‘
’’کیوں آئے ہیں یہاں؟‘‘ اس سے پہلے کہ کوئی ناقابل برداشت جملہ اس کے منہ سے نکلتا میں نے گھبرا کر پیش بندی کرتے ہوئے پوچھا۔ اس کا مسکراتا چہرہ مزید چمکنے لگا۔
’’تمہیں مبارکباد دینے آیا ہوں۔ خیر سے تمہاری شادی کی تاریخ طے پاگئی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے پورے آٹھ دن بعد…‘‘ بڑے آرام سے میرے حواس پر بم پھوڑے وہ کرسی پر ٹک گیا اور میں ہونق بنی دیکھ رہی تھی۔
’’تو گویا پاپا نے تن تنہا ہی میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے، میری رضا مندی جانے بغیر کر دیا…‘‘ میں بے یقین تھی۔
’’یہ تو میرے کل ہی فون کرنے پر اماں جی نے یہاں کی صورتحال بتائی تھی۔ فوراً سب کام چھوڑ کر بھاگا ہوں۔ ورنہ وہ گھونچو شخص سچ مچ تمہیں لے اڑتا اور میں تمہارے راضی ہونے کے انتظار میں ہاتھ ملتا رہ جاتا…‘‘ وہ مزید کہہ رہا تھا اس کے اگلے جملوں نے میرے چھکے چھڑا دیے تھے۔ کتنا مطمئن تھا۔ اب کے میں نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ میں ایک دم بے چین ہوگئی۔ سلامہ شاہ کے چہرے کی گہری مطمئن، آسودہ حال فتح مند مسکراہٹ بہت سے ان کہے بھید کھول رہی تھی۔
’’میں نے بابا جان وغیرہ کو منع کر دیا ہے جب خاندان میں متبادل رشتہ موجود ہے تو پھر وہ لوگ باہر دیکھتے بھی کیوں…چچا جان تو خود یہی چاہتے تھے اور میرے لیے تو یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے پھر کیسے چوک جاتا۔ تم سے محبت کی ہے ماورا شاہ۔ تم میری ہو اور ہمیشہ رہو گی۔ کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ اس طرح منگنی وغیرہ کے تھروآؤٹ شادی کی تاریخ طے ہو چکی ہے۔‘‘
وہ انکشاف پر انکشاف کر رہا تھا اور میرا مارے صدمے و حیرت کے برا حال تھا۔ سارے حواس گویا مختل ہوگئے تھے۔ پاپا یوں بھی کریں گے۔ ساری زندگی ہمیشہ لاتعلق رہے۔ میرے ساتھ ناانصافی کی مجھ سے نفرت بھرا رویہ رکھا اور اب میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ بغیر مجھ سے پوچھے۔ میری رضا جانے، مجھے بتائے بغیر کر دیا۔ جیسے میں کوئی پتھر کی مورت ہوں جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ میرے ذہن کو شدید جھٹکا لگا۔ سلامہ شاہ کی طرف سے نہیں پاپا کی جانب سے۔
’’ماورا… لگتا ہے… اس خبر نے تمہارے حواس پر کچھ زیادہ ہی اثر کر دیا ہے۔‘‘
’’مجھے یوں بے حواس اپنی طرف گھورتے دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھ کر میری طرف آیا۔
’’نہیں…پاپا مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاسکتے…ہرگز نہیں…جھوٹ بولتے ہیں آپ…‘‘ یکدم حواسوں میں آکر میں اس پر الٹ پڑی۔
’’دھیرج سے…کول ڈاؤن ڈیئر…ایسا تو ایک دن ہونا ہی تھا۔ وہ اگر تم سے پوچھتے تو اتنا بڑا فیصلہ کبھی نہ ہوتا…ویسے بھی ہمارے خاندان میں لڑکیوں سے ان کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے۔‘‘ انتہائی غرور سے کہتا وہ میری حالت سے لطف اٹھا رہا تھا۔
’’میں کبھی تم سے شادی نہیں کروں گی۔ سنا تم نے…وہ اور ہوتی ہوں گی جنہیں فیصلے سنائے جاتے ہوں…ماورا ان میں شامل نہیں ہو سکتی…‘‘ اس کے الفاظ اور صدمے سے میرا برا حال تھا۔ دل چاہ رہاتھا کہ چیخ چیخ کر سارے عالم کو بتادوں کہ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔
’’جانتا ہوں میں…مگر میں تم سے شادی کروں گا اور اسی طے شدہ تاریخ پر ہی ہوگی۔میں نے وعدہ کیا ہے اور نبھاؤں گا۔ تمہیں کسی اور کے نام کا ہونے دوں یہ میری غیرت کو کبھی گوارا نہیں…تم میری محبت کو مانو یا نہ مانو…میرے وجود سے لاکھ انکار کرو۔ نفرت کا اظہار کرو میں سب سہہ لوں گا…لیکن ماورا یہ کبھی گوارا نہیں کروں گا کہ تم میرے علاوہ کسی اور کے سنگ رخصت ہو، فیصلہ ہو چکا ہے اور تمہیں ہر حال میں ماننا بھی ہوگا۔ تم اب اس خاندان کا حصہ ہو۔ یہاں کی ایک فرد ہو اور ہماری خاندانی روایتیں اپنے فیصلے بدلا نہیں کرتیں۔ خاص طور پر اس طرح کے فیصلے تو ساری عمر برقرار رہتے ہیں چاہے کوئی خوش ہو یا ناخوش…سمجھیں تم…‘‘
اس کا مسکراتا لہجہ یک دم دوآشتہ ہو گیا۔ تلخی و تندی سے کہتے وہ کمرے سے نکل بھی گیا۔اور میں منہ پر ہاتھ رکھے دیکھتی رہ گئی۔
’’ہماری خاندانی روایتیں اپنے فیصلے بدلا نہیں کرتیں…خاص طور پر اس طرح کے فیصلے تو ساری عمر برقرار رہتے ہیں… چاہے کوئی خوش ہو یا ناخوش…سمجھیں تم…‘‘اس کے یہی الفاظ مسلسل میرے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔
’’نہیں…اگر ایسا ہوا تو میںبے موت مرجاؤں گی…پاپا آپ اس موڑ پر میرے ساتھ اتنی بڑی زیادتی نہیں کر سکتے…اب مزید نہیں…بالکل نہیں…‘‘ میں زور سے چیخنے اور رونے لگی۔ یوں لگ رہا تھا کہ پاپا نے یہ آخری کیل ٹھونک کر میرے بالکل مردہ وجود کو تابوت کی نذر کر دیا ہو۔ میں بلک بلک کر رو دی مگر میری آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ میری روتی بلکتی سسکتی آواز دیواروں سے ٹکرا کر پلٹ آتی تھی اور میں روتے روتے بستر پرگر گئی۔

’’آپ نے کیا سمجھ رکھا ہے کہ میں مٹی کا کوئی بے جان بت ہوں۔ایک بے روح گڑیا ہوں جو کچھ محسوس نہ کرتی ہو۔ میں نے اپنی زندگی کے تیئس چوبیس سال آپ کی نفرت کا عذاب سہا ہے۔ اس لیے کہ باپ تو صرف باپ ہوتے ہیں کبھی تو اس پتھر میں بھی شگاف پڑے گا۔کبھی تو آپ موم ہوں گے میری چپ، میرا خاموش احتجاج، میری نظروں کی بے بسی آپ کا سینہ چیر دے گی مگر آج آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ باپ پتھر بھی ہوتے ہیں۔ آپ جیسے ظالم بھی ہوتے ہیں۔ آئی ہیٹ یو پاپا۔ رئیلی آئی ہیٹ یو…‘‘
ساری رات اپنی قسمت کو کوستے ہوئے میں نے پاپا کے کمرے کے دروازے پر دستک دے دی۔ کچھ دیر بعد کھل بھی گیا۔ پاپا مجھے یوں اپنے سامنے دیکھ کر حیران تھے مگر میں کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی۔ غم نے میرا دماغ شل کر دیاتھا۔ میں اندر آگئی اور اب میرے منہ سے جو نکلتا جا رہا تھا میں کہتی جا رہی تھی۔ ساری رات روتی رہی تھی اور اب بھی میری آنکھیں بہہ رہی تھیں۔
’’ماورا…یہ کیا بدتمیزی ہے۔ تمیز سے بات کرو۔ کیا کہہ رہی ہو تم…‘‘انہوں نے مجھے میرے بے باک، بدتمیزانہ انداز پر ٹوکا تو میں پہلے سے زیادہ چیخ اٹھی۔
’’مت کہیں مجھے ماورا… کچھ نہیں لگتی میں آپ کی… آپ جیسے پتھر، بے ضمیر انسان کیا جانیں کہ تمیز کیا ہے۔ مت رسوا کریں میرے اور اپنے رشتے کو۔ کوئی حق نہیں آپ کو میرا نام لینے کا بھی۔ میں نے بچپن سے اب تک آپ سے صرف محبت کی ہے۔ بت کی طرح پوجا ہے آپ کو مگر جواباً آپ نے مجھے کیا دیا۔ نفرت۔صرف اور صرف نفرت۔ اتنی گہری کہ بارہا میرا مر جانے کو جی چاہا۔ ماما مرگئیں تو کیا میرا قصور تھا۔ نہیں پاپا اس سارے معاملے میں میرا کہیں بھی کوئی قصور نہ تھا مگر آپ نے صرف اور صرف مجھے سزا دی۔ آپ کتنے ناشکرے انسان ہیں پاپا…ماما کی موت تو امرِ ربی تھی جس میں کسی کا کوئی دوش نہ تھا لیکن نہ صرف آپ نے اس کے حکم کو نہ مان کر اس کے حکم سے انکار کیا بلکہ اس کی وحدۂ لاشریک ذات سے بھی منکر ہوگئے۔ آپ ساری عمر سوگ مناتے رہے۔ خود پر ساری زندگی کی خوشیاں حرام کرلیں صرف ایک بات کے پیچھے سب کچھ ختم کر دیا۔
’’بکواس نہیں کرو ماورا… حواس میں تو ہو تم…‘‘ پاپا نے مجھے یوں کہنے پر ٹوک دیا تھا۔
’’یہ بکواس نہیں پاپا!… کبھی آپ اپنا محاسبہ کریں تو احساس ہو گا کہ کتنے بڑے گناہ گار ہیں آپ۔ آپ کے سلوک نے مجھے پاگل بنادیا ہے۔یہ سب کچھ تو صرف ایک احساس ہے اور یہ احساس وہ تازیانہ ہے جو ہر لمحے آپ نے پاپا میرے وجود پر اپنی نفرت کی صورت میں برسایا ہے۔ بڑی نفرت تھی نا آپ کو میرے وجود سے اور بڑی محبت کرتے تھے ماما سے۔تو کہا ہوتا اﷲ سے کہ وہ مجھے اٹھا لے اور ماما کو بھیج دے۔آپ اس کے حکم پر راضی ہی نہ ہوئے تو مجھے نانو کے گھر پھینک دیا۔ آپ کیا جانیں کہ وہاں گزرا ایک ایک لمحہ میری رندگی میں کتنی محرومیاں دے گیاتھا۔کس قدر جذباتی بن گئی ہوں میں، نفرت ہی نفرت اگنے لگی تھی میرے اندر۔ اور یہ سب کچھ آپ کی بدولت ہوا۔ وہاں لوگوں کی باتیں، ممانیوں کے طنز، ان کے بچوں کے رویے سب میرے اندر کی لڑکی کو زندہ درگور کرتے گئے۔ کیا کیا نہ بیتی مجھ پر۔ میں نے آپ کے زندہ ہونے کے باوجود یتیموں کی سی حسرت بھری زندگی گزاری اور اب اس موڑ پر آکر کیا خیال ہے آپ کا کہ آپ کے فیصلے پر سرجھکادوں گی۔ آپ کی بدولت مجھے یہ خاندان بھی قبول نہیں…سلامہ شاہ سے تو میں نے زندگی میں کبھی شادی کرنے کا سوچا بھی نہیں۔پاپا میں سب سہہ لیتی اگر آپ مجھے اس موڑ پر رد نہ کرتے جس شخص کا نام لینا بھی میں قابل نفرت گردانتی ہوں، آپ اسی کے ساتھ مجھے ساری زندگی کے لیے باندھ رہے ہیں۔ آپ کے خاندان نے مجھے کبھی تسلیم نہیں کیا اور آج آپ ان کی ذرا سی عنایت پر مجھے قربان کر رہے ہیں تاکہ آپ ماضی کی تلخیوں کو مٹا کر اپنے لیے بہتر جگہ تلاش کرسکیں۔میں تو اس خیال سے یہاں آگئی تھی کہ شاید آپ کبھی مجھے میری ذات کا مان سونپ دیں۔ سب نظر انداز کیے خود پر ہزاروں پہرے بٹھائے یہاں رہ رہی ہو اور آپ کا خیال ہے میں اس شحص سے شادی کر لوں گی جس سے میری نفرت کا صرف اور صرف ایک ہی سبب ہے کہ وہ آپ کا بھتیجا ہے۔ اس خاندان کا بیٹا ہے…‘‘
میں یکم دم چپ ہوگئی، بولتے بولتے میرا حلق خشک ہو گیا۔ پاپا بالکل خاموش تھے۔ بس مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے نفرت سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔
’’بہت جنونی ہیں پاپا آپ! آپ نے صرف ایک محبت کی تھی اور کیا کیا آپ نے۔ آپ تو صرف ماضی میں جینے والے انسان ہیں اور مجھے بھی ایسا ہی بنادیا…آپ نے اپنی ساری زندگی ماضی پر ماتم کرتے کرتے گزار دی۔ حتیٰ کہ اب تک یہ خیال نہ آیا کہ میں کون ہوں؟ کیا رشتہ ہے میرا آپ سے۔ کبھی احساس نہ جاگا آپ کے اندر کہ بیٹی کی صورت میںایک جیتا جاگتا وجود بھی ہے آپ کے اردگردہے۔ جسے کھانے پینے، تعلیم، رہائش وغیرہ کے علاوہ کچھ اور بھی چاہیے…میں تو ہمیشہ بوجھ کی طرف آپ پر مسلط رہی ہو۔ بیٹی تو کبھی تھی ہی نہیںاور اب بھی یہی بوجھ آپ اتار پھینکنا چاہتے ہیں۔ بڑا دعویٰ ہے کہ آپ نے ماما سے بڑی انمول اور باوفا محبت کی ہے۔ ان کی محبت کے بعد بھی ان کی محبت کا عہد نبھاتے رہے ہیں مگر مجھ سے پوچھیے کہ درحقیقت آپ ہیں کیا…آپ تو اچھے انسان بھی نہیں باپ کیا بنتے؟
میرے ساتھ ناانصافیاں کیں اور اب چاہتے ہیں کہ آپ کی ہی طرح کے ایک جنونی شخص سے شادی کر لوں…نہیں پاپا…ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ نفرت کرتی ہوں میں اس سے اس خاندان سے بھی اور آپ سے بھی…اور آپ کو بھی اس زیادتی پر کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘میں روتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تھی مگر دروازے ہی پر سلامہ شاہ کو کھڑے دیکھ کر میرے قدم ٹھٹکے۔ ایک نفرت بھری نظر میں نے اس پر ڈالی۔
’’ماورا…‘‘ اس نے مجھے پکارا مگر میں اپنی ہی آنکھوں کو سختی سے رگڑ کر بغیر پلٹ کر اسے دیکھے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔
میں ساری رات روتی رہی۔ میرا دل اندر ہی اندر ٹوٹ چکا تھا۔ سر اب درد سے پھٹ رہا تھا۔میری سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفقود ہو چکی تھیں۔ ادھر سے اُدھر ٹہلتے نجانے میرے ذہن میں یکدم کیا آسمائی تھی۔میں بابا جان کے کمرے میں آئی تو انہیں جائے نماز پر بیٹھے دیکھا۔ میری نظر ان کی دوائیوں پر جا پڑی۔ ان دوائیوں میں سے میں نے ایک شیشی اٹھا لی۔میں انہیں انکار کرنے کے ارادے سے آئی تھی مگر اب ان کو نماز میں دیکھ کر میں کچھ اور سوچنے لگی۔
’’اگر یہ زندگی ہی نہ ہوگی تو سب دکھ ہی ختم ہو جائیں گے۔‘‘ شیشی لے کر میں واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ موت بہت سے مسئلوں کا حل ہوتی ہے۔ ایک میرے مرجانے سے اگر پاپا کو سکون مل جاتا ہے تو یہ سودا اتنا مہنگا بھی نہ تھا۔
ماضی میں چکر لگاتا میرا دماغ حقیقت کی دنیا میں آگیا۔ گہری طویل سانس خارج کرکے میں نے اپنے بہتے آنسو صاف کیے۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ سوائے میرے۔ سو مجھے اتنا طویل وقفہ مل گیا تھا کہ میں گزشتہ واقعات کا اعادہ بآسانی کر سکتی۔
اس دن میں نے بابا جان کی خواب آور گولیاں کافی مقدار میں نگل لی تھیں اور اس کے بعد مجھے اسپتال کے اس کمرے میں ہوش آیا تھا۔ ایک عرصہ میں نے نفرت کی وادیوں میں بھٹکتے زندگی گزاری تھی۔ اب پاپا کا رویہ بدلا ہوا اور محبت سے بھرا ہوا تھا۔ میرے لیے بہت اجنبی تھا۔ میرے اندر کے جذبات اب ختم ہو چکے تھے۔ نفرت محبت اب کچھ بھی باقی نہیں تھا مگر میں اپنے اندر کی تلخی ابھی تک ختم نہیں کر پا رہی تھی۔ تین دن سے میں کچھ نہیں بولی تھی۔ کسی سے کچھ نہیں کہا تھا۔پاپا سلامہ شاہ، بی بی جان، سلامہ کی والدہ کوئی بھی آتا تو میں آنکھیں بند کیے لیٹی رہتی۔ کسی سے بات کرنے، نظر ملانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ نفرت کرتے کرتے اب کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ عجیب بے بسی کا مقام آگیاتھا زندگی میں۔
پاپا کو میں نے ان کی غلطیوں کا احساس دلادیاتھا مگر ساتھ ساتھ اپنی بھی بہت سے غلطیاں تین دن سے مجھے باور ہو رہی تھیں، سب سے بڑی لغزش تو خودکشی کرنے کی یہ کوشش تھی میں بھی پاپا کی طرح وہی غلطی کرنے جا رہی تھی۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کتنا قابل مذمت فعل ہے۔ اﷲ کے ہاں ایسے لوگوں کی کبھی بخشش نہیں۔ جہنم ہی صرف حصے میں آتی ہے۔ جذبات میں انسان واقعی ہوش کھوبیٹھتا ہے۔ تبھی تو ہمارا اسلام ہمیں ہر حالت میں ہوش سے، سوچ سمجھ کر کام کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ جذبات اندھے ہوتے ہیں،چاہے وہ بے پناہ محبت کے ہوں یا نفرت کے۔ پاپا کی نفرت نے مجھے کس قدر اندھا بنادیاتھا کہ اپنی زندگی داؤ پر لگانے چلی تھی۔ اگر اﷲ مجھے نہ بچاتا تو میں تو اپنے جذبات کے ہاتھوں اپنی آخرت تباہ کر چکی تھی۔مجھ جیسے جذباتی لوگوں کا شاید یہی المیہ ہوتا ہے کہ صرف پچھتاوے ہی ان کا مقدر بنتے ہیں۔ یہ زندگی تو صرف آزمائش کا گھر ہے اور میں بھی کتنی ناشکری ہوں۔ سب کچھ تو تھا میرے پاس اس کے باوجود میں اﷲ سے شکوہ کرتی رہی…وہ ذات تو بے نیاز رحمان و رحیم ہے اور ہم بندے اپنی کم فہمی و کم عقلی سے نقصان اٹھالیتے ہیں۔
’’یااﷲ تو مجھے معاف کردے…بے شک تو رحمان ہے…میں غلط تھی…جذبات میں بہت بڑا فعل سرزد ہوگیا…یا اﷲ احسان ہے تیرا…شکر ہے تیری ذات کا کہ تو نے مجھے بچا لیا ورنہ جہنم کی گہری کھائی ہی میرا مقدر ہوتی…‘‘ سرہانے میں منہ دیے میں مسلسل رو رہی تھی۔
اسپتال سے حویلی پہنچ کر بھی ماورا کی چپ نہیں ٹوٹی۔ وہ کسی سے کچھ نہیں کہتی۔ نہ ہی کوئی الزام اور نہ ہی کوئی ناراضگی بس مسلسل چپ سی تھی جو کسی کو بھی کچھ کہنے نہیں دیتی تھی۔ بابا جان سے لے کر پاپا تک سب ہی اندر ہی اندر پچھتا رہے تھے۔ سلامہ شاہ سے بھی سامنا کم ہوتا تھا وہ محسوس کرنے لگی تھی کہ وہ خود ہی اس کے سامنے نہیں آتا تھا۔
عیدالاضحیٰ قریب آرہی تھی۔ سب اس کی طرف سے توجہ ہٹا کر دیگر امور کی طرف متوجہ ہوگئے تو اسے بالکل ہی چپ لگ گئی۔ ام رومان اور صبا دونوں ہی عید کرنے حویلی آئی ہوئی تھیں۔ ام رومان کا زیادہ تر وقت ماورا کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔ اس کے باوجود ماورا کا خود ساختہ خول نہیں ٹوٹ پایا تھا۔ ام رومان اٹھ کر گئی تو وہ کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگی۔ صبا اور رومان کے بچے لان میں کھیل رہے تھے۔ ان کی معصوم سی چہکاریں ماورا کے اندر مزید محرومیاں پیدا کرگئیں۔ وہ جھلملاتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
’’ماورا…‘‘ پاپا کی آواز تھی وہ یکدم پلٹی وہ مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔ گزرے دنوں میں کس قدر شفیق و مہربان ہوگئے تھے۔
’’کیا دیکھ رہی ہو باہر؟‘‘ خوشگوار موڈ لیے انہوں نے پوچھا تو وہ بستر پر آبیٹھی۔ لب بالکل ساکت تھے۔
’’ماورا…کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتیں…کیا میرے گناہ و غلطیاں ناقابل معافی ہیں۔ اب میرے پاس سوائے پچھتاوے و پشیمانی و ندامت کے کچھ بھی نہیں…کیا تم میری جھولی میں معافی کے چند لفظ بھی نہیں ڈال سکتی…کچھ تو کہو…یہ چپ تو توڑو… بے شک میرے گزشتہ تمام رویوں پر مجھے برا بھلا ہی کہو…‘‘اس کے یوں پتھر رویے پر آزردہ ہو کر کہہ رہے تھے۔وہ یکدم ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی۔اب وہ اتنی پتھر بھی نہیں تھی کہ اپنے باپ کو اپنے سامنے یوں گڑگڑاتے دیکھتی۔
’’ماورا…میری بیٹی…میری جان۔‘‘ اس کے یوں پھوٹ پھوٹ کر رونے پر وہ تڑپ کر آگے بڑھے اور اس کا سر اپنے سینے سے لگالیا۔
’’پاپا…کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا…ایک بار بھی آپ کے دل میں میری محبت نہیں جاگی۔ کیا ایک دفعہ بھی آپ کا دل مجھے پیار کرنے کو نہیں چاہا۔ بتائیں پاپا کیوں کرلیا تھا آپ نے خود کو یوں پتھر کہ میری محبت بھی کسی کام نہ آئی۔‘‘ آج وہ بالکل نارمل ہو کر ایک ننھی سی بچی کی طرح ان کے سینے سے لگی گلے شکوے کر رہی تھی۔ بڑی حسرت تھی اسے پاپا کے سینے سے لگ کر ان سے اپنے دل کی ساری باتیں کرنے کی اور آج اس کی برسوں پرانی خواہش پوری ہو رہی تھی۔
’’بس…میری بیٹی بس…اب نہیں رونا… میں پلٹ آیا ہوں۔ مجھے احساس ہو گیا ہے اپنی غلطیوں کا… بہت دفعہ ایسا ہوا کہ میرا دل تمہاری طرف مائل ہوا۔ تم سے ڈھیروں باتیں کرنے کو چاہا، تمہیں سینے سے لگانے کی خواہش نے جنم لیا لیکن ہر بار میری اَنا نے مجھے روک دیا۔‘‘
پاپا بھی رو رہے تھے۔
’’آئی ایم سوری پاپا…میں نے آپ کو بہت دکھ دیا…مگر میں کیا کرتی…آپ کے سوا میرا تھا ہی کون…آپ کی یہ مسلسل لاتعلقی مجھے اندر ہی اندر مارے جا رہی تھی اور پھر اس دن آپ کے کمرے سے نکلنے کے بعد میرا دل چاہا تھا کہ میں اپنے آپ کو ختم کر لوں اور پھر کچھ سمجھ نہ آئی…میرا دل بہت دکھی ہو رہا تھا اور میں نے وہ کچھ کر لیا جو اﷲ کو کبھی پسند نہیں آتا۔‘‘
’’چپ… بس اب کچھ نہیں کہنا…مجھے احساس ہوگیا ہے۔ انشاء اﷲ اب کوئی کوتاہی نہیں ہوگی…بس اب تو ازالے کا وقت ہے۔‘‘
’’پاپا نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔‘‘
رومان کے زبردستی کرنے پر وہ کمرے سے باہر نکلی۔ منشی عید پر ذبح ہونے والے بکرے لے کر آیا جو خاص طور پر سارا سال پالے ہی اسی مقصد کے لیے گئے تھے۔ ساری خواتین بکرے دیکھ رہی تھیں۔ رومان بھی ادھر چلی گئی۔ جہاں بکرے بندھے تھے وہ ستون سے لگ کر دیکھنے لگی۔علی، رومان، صبا باجی، رضا سارے ہی افراد جمع تھے۔ خوش ہو رہے تھے۔صبا اور رومان کے بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے شور کیے جا رہے تھے۔ بہت عرصے بعد ماورا کو یہ پرشور زندگی کی مسرتوں سے مزین ماحول خوبصورت لگا۔ورنہ زندگی تو گویا اس کے اندر سے ختم ہوگئی تھی۔ پاپا کی محبت کیا ملی تھی ساری دنیا اچھی لگنے لگی تھی۔ رومان اسے یوں کھڑے دیکھ کر مسکراتی اس کے قریب آکھڑی ہوئی۔
’’دیکھنا تم ماورا!…یہاں حویلی میں بقرعید پر میٹھی عید سے بھی زیادہ رونق ہوتی ہے۔ قربانی ہوتی ہے۔ گوشت بانٹا جاتا ہے۔ طرح طرح کے پکوان پکتے ہیں۔ ہم لوگ تو گوشت کی خوشبو سے پیٹ بھر لیتی ہیں۔ پہلے دن بکرے ذبح کیے جاتے ہیں پھر دوسرے دن بڑے جانور کی قربانی کی جاتی ہے۔ تین دن تو اس مصروفیت میں گزر جاتے ہیں۔ یقین مانو ہم عورتوں کی شامت آئی رہتی ہے۔‘‘ وہ اسے بتا رہی تھی اور وہ صرف مسکراتی رہی۔
’’ویسے یہ عید پہلے سے زیادہ خوشیاں لے کر آرہی ہیں۔ تمہاری اور بھائی کی شادی جو طے ہے سمجھ نہیں آرہی کہ عید کی تیاریاں کریں یا شادی کی…‘‘ وہ مزید کہہ رہی تھی ماورا کے مسکراتے لب بھینچ گئے۔ اتنے دن ہوگئے تھے مگر اس موضوع پر تو اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ انکار کی اب کوئی بھی وجہ نہیں رہی تھی مگر اس کا دل سکڑ کر پھیلا تھا۔
سلامہ شاہ! کے تمام رویے کیسے بھول جاتی۔ اس کا یوں فخریہ طور پر بتانا کہ ان کے فیصلے بدلا نہیں کرتے نے ہی اسے اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا اور اب رومان کا یہ کہنا اس کے دل میں بہت سی اذیت ناک لہریں اٹھیں۔
’’ہمارے ہاں بڑی روایتی قسم کی عید ہوتی ہے۔ عید والے دن کوئی آرہا ہے، کوئی جا رہا ہے۔ ملازموں کے ساھ سارا دن کچن میں ہی گزر جاتا ہے۔ میں نے تو آتے ہی اعلان کر دیا ہے کہ اب میں کچن میں نہیں گھسوں گی۔ میرے دونوں بیٹے تو ایسے آفت کے پرکالے ہیں۔ ایک منٹ بھی ان سے آنکھ ہٹادوں تو طوفان برپا کر دیتے ہیں۔انگلی پر نچاتے ہیں مجھے۔ ایک پاؤں ادھر تو دوسرا ادھر بالکل اپنے باپ پر گئے ہیں۔ وہ بھی ایسے ہی ہیں۔ ویسے اماں جی نے تمہاری بری تیار کرنے کی ذمے داری لگادی ہے۔ صرف انہی تین چاردنوں میں۔ کچھ نہ پوچھو ہماری شامت آئی ہوئی ہے۔‘‘ وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی اور ماورا کا ضبط جواب دینے کو تھا۔
’’میں اندر جا رہی ہوں…میرا دل گھبرا رہا ہے۔‘‘ نجانے کیوں وہ اس ذکر سے بھاگ رہی تھی۔
’’کیوں…خیریت…کیا ہوا؟…‘‘اس نے فوراً پرتشویش انداز میں پوچھا۔
’’کچھ نہیں…ویسے ہی…‘‘ وہ سرہلاتی اندر اپنے کمرے میں آگئی۔ تھوڑی دیر بعد پاپااندر آئے تو وہ بالکل گم صم سی بیٹھی تھی۔
’’پاپا!…میں سلامہ شاہ سے شادی نہیں کرو گی…‘‘ انہیں دیکھ کر اس نے کہا۔
’’مگر ماورا…‘‘
’’پاپاپلیز…میں کہہ رہی ہوں نا…مجھے وہ بالکل پسند نہیں…بہت برا لگتا ہے وہ مجھے…اس کے لیے مجھے مجبور مت کریں… میرا دل نہیں مانتا…‘‘ میرا انداز قطعی تھا۔
’’تو پھر کیا کرو گی…تمہاری نانو نے شہریار کے لیے کہا تھا…تم راضی ہو تو پھر میں ان سے بات کرتا ہوں…‘‘ اس کے انکار سے انہیں بہت تکلیف ہوئی تھی اس کے باوجود انہوں نے بردباری سے کہا تو وہ رونے لگی۔
’’نہیں پاپا…مجھے نہیں پتا…مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی…کسی سے بھی نہیں،نہ سلامہ سے، نہ ہی شہریار سے…‘‘ اس کی اس بچکانہ بات پر رہبان شاہ ہنس پڑے۔
’’اچھا۔ یہ بتاؤ تم سلامہ شاہ کو کیوں ناپسند کر رہی ہو…پہلے تو میں وجہ تھا اب…‘‘انہوں نے ملائمت سے پوچھا تو وہ سر جھکاگئی۔
’’پاپا آپ کو شاید برا لگے لیکن میں اس خاندان میں خود کو کبھی ایڈجسٹ نہیں کر پاؤں گی۔جذباتی طور پر مجھ میں برداشت بہت کم ہے۔ میں یہاں کے طور طریقوں ریت رواجوں کو کبھی قبول نہیں کرپاؤں گی۔ اس خاندان نے چوبیس سال تک مجھے قبول نہیں کیا۔اب اگر قبول کیا بھی ہے تو سب کی اپنی اپنی غرض ہے اور میں کسی کی غرض کی بھینٹ نہیں چڑھوں گی۔‘‘
صاف اور دو ٹوک انداز میں اس نے بات کی تھی۔ اس نے صرف ایک کو موردِالزام نہیں ٹھہرایا تھا سب کو ہی شامل کیا تھا۔ رہبان شاہ صاحب چپ چاپ دیکھتے رہ گئے۔وہ کیا کرسکتے تھے یہ سب کچھ ان کا اپنا ہی تو کیا دھرا تھا۔
رہبان شاہ نے سب کو ماورا کا فیصلہ سنادیا۔ اس کا انکار سب تک پہنچادیا۔ سب ہی چپ چاپ دیکھتے رہ گئے۔
’’چچا جان وہ جذباتی ہے۔ صرف ایک سطحی بات سوچ رہی ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کی بات مانی بھی جائے۔ سلامہ شاہ نے کہا۔
’’نہیں سلامہ شاہ! تم میرے داماد بنتے یہ میری خوش نصیبی تھی مگر اب میں اپنی جانب سے ماورا کو کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا…‘‘وہ کہہ کر خاموشی سے اٹھ گئے بعد میں ان لوگوں کے درمیان مزید گفتگو ہوتی رہی۔
اماں جی، بی بی جان صابر اور رومان سب ہی بہت دکھی تھیں اتنے عرصے بعد سلامہ شاہ کسی لڑکی کے لیے راضی ہوا تھا خود اپنی زبان سے کہا تھا لیکن ماورا…
ماورا اس رشتے سے انکار کرکے پہلے سے زیادہ ذہنی طور پر پریشانی کا شکار ہوگئی۔ پہلے تو سلامہ شاہ کا رویہ تنگ کرتا تھا مگر اب…وہ جو رومان سے تھوڑی بہت گھلی ملی تھی ان دو دنوں میں پھر کمرہ نشین ہوگئی تھی۔ رات کو وہ اپنے کمرے سے نکل کر لان کی سیڑھیوں پر آبیٹھی۔سردیاں زوروں پر تھیں۔ موسم دن بدن ٹھنڈا ہوتا جا رہا تھا۔ رات کوبھی اوس پڑتی تھی ساتھ میں دھند بھی۔ اس وقت سیڑھیاں بھی گیلی تھیں ماورا اگرچہ مکمل طور پر گرم کپڑوں میں لپٹی تھی اس کے باوجو سرد لہر اندر تک اترتی جارہی تھی۔ اس معاملے میں وہ کافی حساس تھی موسم اس پر بہت جلد اثر انداز ہوتا تھا۔
دھند کی لپیٹ میں چاند بہت مدھم دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ابھی یونہی بیٹھی تھی جب گیٹ کھلنے پر گاڑی اندر داخل ہوئی۔ سلامہ شاہ صبح کا شہر گیا ہوا تھا اور اب رات گئے لوٹا تھا۔ ماورا اسے گاڑی کھڑی کرکے سیڑھیوں کی طرف آتے دیکھتی رہی۔
’’اتنی سردی میں، اس وقت تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ اتنے دنوں بعد وہ براہِ راست مخاطب ہوا تھا۔ اپنی طرف سے تو سلامہ شاہ نے آرام سے ہی پوچھا تھا مگر غصے کی ہلکی سی رمق ضرور تھی۔ جب سے اس نے رشتے سے انکار کیا تھا سلامہ شاہ کا غصہ حد سے بڑھا ہوا تھا صرف چچا کا احساس تھا ورنہ لمحوں میں اس کا دماغ درست کر دیتا۔
’’نظر تو آپ کو بھی آگیا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں۔‘‘ سلامہ کے غصے سے استفسار پر اس نے اسی کے لہجے میں جواب لوٹایا۔ ’’کم از کم اس وقت واک کرنے سے تو رہی۔‘‘
’’اٹھو یہاں سے اور اندر چلو…مرنے کا ارادہ ہے کیا…اوس پڑ رہی ہے اس قدر دھند ہے…‘‘ ماورا کو گھور کر اس نے ڈپٹا تھا۔
’’آپ جائیں آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ سلامہ شاہ کے ڈپٹنے پر اس نے بھی روکھے پن سے کہا تو سلامہ شاہ کا دماغ بھنا گیا۔ غصہ تو پہلے بھی تھا۔
’’فکر کی بچی…اٹھو یہاں سے ورنہ دوں گا الٹے ہاتھ کا ایک جھانپڑ…عجیب شوق ہیں تمہارے۔ سارا عالم سردی سے بچنے کی کوشش میں بستروں میں دُبکا بیٹھا ہے اور تم ہو کہ…‘‘ آگے بڑھ کر ماورا کا بازو تھام کر کھڑا کرتے اس نے سخت خشمگین نظروں سے گھورا تو ماورا ایک لمحے کو سچ مچ خوفزدہ ہوگئی۔ اس سے کیا بعید تھا اتنا تو حاکم و خود سر ہے اگر واقعی ایک جھانپڑ لگادیا تو۔
’’خواہ مخواہ… ایسے ہی رعب مت جمائیں…ہاتھ تو لگا کر دیکھیں مجھے… بڑے آئے کہیں کے دھمکیاں دینے والے…‘‘ اپنا بازو چھڑوا کر پیچھے ہٹی تو سلامہ شاہ نے گھورا۔
’’یہ دھمکیاں نہیں ہیں عمل بھی کرتا ہوں۔ تمہیں شاید یوں قسطوں میں مرنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ اسی لیے آئے دن نئے نئے معرکے سر کیے اسپتال پہنچی ہوتی ہو…‘‘ وہ طنز کر رہا تھا دراصل غصہ تو اس بات کا تھا کہ اس نے آخر انکار کیوں کیا۔ سب کچھ تو اب نارمل تھا پھر وہ کیوں اب تک وہی پتھر کی مورت بنی ہوئی ہے۔
’’آپ اپنی حد میں رہیں سلامہ شاہ!… مجھ پر طنز کرنے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔‘‘اس کی پچھلی بات پر سیخ پا ہوتے ہوئے اس نے کہا تو سلامہ ہنس دیا۔
’’حق کی بھی تم نے خوب کہی… سارا سارا دن اور ساری ساری رات اسپتال میں خوار ہوتا رہا ہوں۔ آرام سے اندر چلو ورنہ اٹھا کر لے جاؤں گا…‘‘ دھمکی دیتے اس نے کہا تو وہ تلملا گئی۔ اس کے ساتھ مغز ماری کرنے کی بجائے پاؤں پٹختے اندر آگئی…اپنے کمرے میں بھی آکر وہ خود سے الجھتی رہی۔
عید میں صرف دو دن باقی تھے۔ حویلی میں خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ ام رومان اسے کمرے سے زبردستی باہر نکال لائی۔ ان سب میں سے کسی کے بھی رویے میں رشتے سے ناراضگی کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ جو پہلے ہی انکار کرکے خود سے الجھی ہوئی تھی ان کے رویے دیکھ کر مزید شرمندہ ہوتی چلی گئی۔ صبا، رومان، اماں جی، بی بی جان ڈھیروں کپڑے پھیلائے بیٹھی تھیں۔وہ بھی بیٹھ گئی۔ دلچسپی سے دیکھتی رہی۔ بی بی جان نے شہر سے سب کے لیے عید کے لیے کپڑے منگوائے تھے اس کے لیے بھی کتنی ساری چیزیں تھیں۔ وہ تو ہمیشہ ایک سادہ سے حلیے میں رہی تھی۔ اگر بہت ضرورت پڑی تو ہونٹوں پر لپ اسٹک لگالی۔ اب اپنے لیے یہ ڈھیروں چیزیں دیکھ کر حیران ہوئی۔
’’یہ سب میرے لیے ہے…‘‘
’’تو اور کیا…یہ سب تم پہنو گی بہت سجے گا تم پر…‘‘ بی بی جان نے اسے اسے ساتھ لگاتے محبت سے کہا تو صبا نے مسکرا کر سوٹ اٹھا کر اس کے ساتھ لگادیا۔ رومان اس کا ہاتھ پکڑ کر چوڑیاں پہنانے لگی۔
’’اوہ مائی گاڈ…اتنا سب کچھ میں نہیں پہنوں گی…نو…نیور…اتنا آکورڈلگے گا۔اتنا ہیوی ہے یہ سب کچھ۔مجھ سے نہیں سنبھالا جائے گا یہ سب کچھ کوئی سادہ سا سوٹ ہو توبھی…‘‘
’’تم تو آرام سے بیٹھی رہو…عجیب شوق ہیں تمہارے مائیوں والے…میں شادی نہیں کروں گی۔ یہ نہیں پہنوں گی…تو پھر کیا کرو گی…‘‘رومان نے اس کے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے اسے ایک دم چپ کرادیا۔ وہ خجل سی ہوگئی۔
’’دیکھیں تو سہی…کیسی لگتی ہے یہ بندیا تم پر…‘‘صبا باجی نے بندیا اٹھا کر اس کے ماتھے پر سجادی۔وہ ’’ناں‘‘،’’ناں‘‘ کرتی رہ گئی تھی مگر کسی نے بھی دھیان نہ دیا۔
’’دوپٹہ جس پر بہت ہیوی کوڑی اور موتیوں کا کام تھا۔ اماں جی نے بھی اس کے سر پر اوڑھایا تو وہ لجا سی گئی۔
’’دیکھیں بی بی جان آپ کی یہ پوتی بن سنور کر کیسی شہزادی لگنے لگی ہے۔‘‘ رومان اسے چھیڑ رہی تھی۔ بی بی جان نے اسے مزید لپٹا لیا۔ماورا کا شرم سے برا حال تھا۔ یوں ہی گرتی پڑتی پلکیں اٹھا کر اماں جی کی طرف دیکھنا چاہا تو ان کے عقب میں کھڑے سلامہ شاہ کو دیکھ کر وہ مزید سٹپٹاگئی۔ وہ نجانے کب اندر آیا تھا۔ بڑی گہری نظروں سے تک رہا تھا۔
’’ماشاء اﷲ! میری بچی ہے ہی پیاری…شہزادی ہی تو ہے۔ اﷲ میرے رہبان کی خوشی سلامت رکھے…‘‘ بی بی جان نے ایک دم اس کی پیشانی چومی۔
’’سلامہ بھائی! اب آپ بھی بتادیں کیسی لگ رہی ہے ماورا؟…‘‘ ام رومان سلامہ کی آنکھوں میں چھلکتے جذبے دیکھ کر شرارت سے بولی تو سلامہ سمیت سب ہنس دیے۔ اس پر گھڑوں پانی پڑگیا۔ اماں جی نے رومان کو ڈانٹا۔
’’چلو…میری بیٹی کوزیادہ تنگ نہیں کرو…‘‘ انہوں نے دلار سے کہا تو وہ دوبارہ سر بھی نہ اٹھاسکی۔ سلامہ شاہ کمرے سے باہر نکلا تو وہ بھی سب کچھ وہیں چھوڑے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔
جذبے نجانے کیوں بے لگام ہوئے جا رہے تھے۔ خوش رنگ خوشبو جیسے۔ سلامہ شاہ کی شخصیت کبھی بھی نظرانداز کیے جانے والی نہ تھی تو پھر وہ کیوں پتھر بنی رہی جب کہ وہ ابھی بھی اسی کے تصور میں غرق تھا۔
’’کیا میں واقعی سلامہ شاہ سے کبھی نفرت کرتی تھی اتنی گہری کہ کوئی گنجائش نکلنا بھی مشکل تھی اور جب کہ اب تو حالات نارمل تھے۔ پاپا کا رویہ بھی بہتر تھا تو میں کیوں اڑی رہی اپنی ضد پر…‘‘تین دنوں میں پہلی دفعہ یہ سوال وہ خود سے کر رہی تھی اور اندر سے جو جواب آیا تھا اسے سن کر وہ کئی لمحے ساکت بیٹھی رہی۔
ان دو دنوں میں یہی ہوا تھا کہ اس کے جذبے رخ بدل گئے تھے شاید اس رات جب سلامہ شاہ اس کمرے میں جانے کا کہہ رہا تھا کس قدر احساس تھا اسے کہ وہ کہیں سردی میں بیمار نہ پڑ جائے جب کہ وہ غصے میں تھا اور غصے میں تو وہ خود بھی تھی شاید گزرے دنوں کی وجہ سے تھا۔ پاپا سے سب کچھ کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد نفرت جیسے کسی جذبے کا اب تصور بھی نہیں تھا۔ بس سلامہ شاہ کی وجہ سے انکار کر دیا تھا لیکن اب بد دل…
’’کیا میں واقعی اپنا فیصلہ کرکے مطمئن اور خوش ہوں۔‘‘ وہ کمرے میں ٹہلتی رہی۔اس کے سامنے ایک ایسا موڑ تھا جس کے بارے میں اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس سلامہ شاہ سے اس نے کبھی بے پناہ نفرت کی تھی اب اس کے نام کے جذبے اس کے اندر سر ابھارنے لگے تھے جب کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی ساری راہیں بند کرچکی تھی۔
عید والے دن حویلی میں خوب رونق تھی۔ اس کی دونوں پھوپھیاں بھی اپنے بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔ قربانی کے بعد گوشت بانٹنے اور پکوان بنانے میں سبھی مصروف ہوگئے تھے۔ وہ بھی بجھے دل کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔نجانے کیوں باہر جانے کو موڈ نہیں بن رہا تھا۔ اماں جان کی لائی ہوئی تمام چیزیں زیب تن کی ہوئی تھیں۔پہلی دفعہ وہ یوں سجی سنوری تھی۔ بہت منفرد و خوبصورت بھی لگ رہی تھی۔ پاپا اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے کہ کسی اور سے ابھی تک سامنا ہی نہیں ہوا تھا پھر و ہ خود بھی بچنے کی کوشش میں تھی۔بستر سے اٹھ کر الماری کی طرف آگئی۔ ادھر سے اُدھر تلاش کرکے اسے وہ چیز مل گئی تھی جس کی اسے تلاش تھی۔ بستر پر بیٹھ کر اس نے ڈبے میں سے تمام چوڑیاں نکال کر اپنے دائیں ہاتھ میں پہننا شروع کردیں۔ یہ وہی چوڑیاں تھیں جو لندن میں سلامہ شاہ اس کے کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔ یہاں آتے ہوئے وہ انہیں اپنے ساتھ لے آئی تھی۔ یہ سوچ کرکہ سلامہ شاہ کو واپس کردوں گی مگر یہاں آکر ادھر کے مسئلوں میں الجھنے میں واپس ہی نہ کرپائی تھی اور اب جب کہ کچھ نہیں بچا تھا تو خود سے بہت لڑنے کے بعد اس نے آج پہلی بار یہ چوڑیاں پہن لی تھیں۔
’’ارے تم کیا آج بھی کمرہ نشین ہوئی بیٹھی ہو۔باہر چلو سب تمہارا پوچھ رہے ہیں۔‘‘ صبا باجی اندر آئیں اور اسے چوڑیاں پہنے دیکھ کر چونکیں۔
’’ارے یہ اتنی پیاری گولڈ کی چوڑیاں کہاں سے لیں تم نے۔؟ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ جھینپ گئی جواب بھی نہ بن پڑا۔
’’اچھا اب باہر چلو وہاں تمہاری سسرال آئی بیٹھی ہے۔‘‘ اگلے ہی لمحے انہوں نے مزید کہا تو وہ حیران ہوئی۔ چونک کر انہیں دیکھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ چچا جان نے تمہارے ننھیال والوں کو ہاں کہہ دی تھی۔ آج وہ نکاح کی تقریب کرنے آئے ہیں۔ تم تو اندر بند ہو۔ تمہیں کیا خبر؟‘‘
’’صبا باجی…‘‘ وہ منہ کھولے ہکا بکا تھی۔ ابھی تو اسے اپنے جذبوں کی خبر ہوئی تھی۔ ابھی تو اسے پاپا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا تھا لیکن یہ کیا…
’’اماں جی اور بی بی تمہیں تیار کرکے لانے کو کہہ رہی ہیں۔ اب جلدی کرو وقت نہیں ہے میرے پاس۔‘‘ انہوں نے جیسے اس کے اڑے اڑے حواس دیکھے ہی نہ تھے۔ ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا۔
’’مگر صبا باجی…‘‘ وہ رو پڑی۔
’’اگر مگر کچھ نہیں۔ تم سلامہ بھائی کے لیے راضی نہ تھیں ہم نے زبردستی نہیں کی۔ جب تم ہی راضی نہیں تو پھر کیا فائدہ۔ یہ بندھن باندھنے کا۔ چچا جان تو ادھر بھی راضی نہ تھے مگر ہم سب کے سمجھانے پر راضی ہوگئے؛‘‘ صبا باجی نے سنجیدگی سے اسے بتایا۔ اس کے آنسو مسلسل بہنے لگے۔
’’صبا باجی! پلیز کچھ کریں…مجھے نہیں پسند یہ شہریار…اتنا برا ہے وہ…سلامہ شاہ تو اس سے کئی درجے بہتر ہیں…میں نادم ہوں، میں واقعی غلطی پر تھی۔ مگر میری غلطی کی اتنی بڑی تو سزا نہ دیں۔‘‘ وہ ایک دم اپنے جذبے عیاں کر گئی۔ صبا خاموشی سے اسے دیکھے گئیں۔ پھر نفی میں سر ہلایا۔
’’اب میں کچھ نہیں کر سکتی… فیصلہ ہو گیا ہے۔ مہمان آئے ہوئے ہیں۔ اب واقعی کچھ نہیں ہو سکتا۔ تم ہماری بھابھی بنتی یہ ہمارے لیے خوشی کا مقام تھا کیونکہ ہمارے بھائی کی خوشی تم سے ہے لیکن ہمارے بڑوں کی زبان بھی کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ کاش تم سمجھ سکتیں۔‘‘انہوں نے اسے چپ کرادیا۔
نجانے انہوں نے اسے کب تیار کیا تھا۔ سجایا سنوارا تھا۔ دلہن بنا کر وہ اسے ہال کمرے میں لے گئی تھیں جہاں ساری حویلی والی اور مہمان عورتیں جمع تھیں۔ نانو ممانیاں اس سے بہت محبت سے ملیں۔ وہ ٹھنڈے یخ ہاتھوں کو جکڑے واقعی پتھر کی مورت بنی بیٹھی تھی۔ سب اس کی تعریف کر رہے تھے۔ سراہ رہے تھے مگر وہ یہاں کہاں تھی۔ اس غائبانہ ذہنی حالت میں اس کا نکاح بھی ہو گیا۔ پاپا اس کے پاس نکاح کا رجسٹر لے کر آئے ان کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھتے اس نے دستخط کر دیے۔ پھر پتا نہیں وہ کب تک وہاں بیٹھی رہی تھی اور کیا کیا ہوتا رہاتھا۔
صبا باجی اس کی ذہنی حالت محسوس کرکے اسے وہاں سے نکال کر دوبارہ اس کے کمرے میں لے آئیں۔
’’صبا باجی…‘‘ ان کے کندھے سے لپٹ کر وہ خوب روئی۔ سب اس کے ساتھ زیادتیاں کرتے آئے مگر اس نے پہلی دفعہ کسی کے ساتھ زیادتی کی تھی اس کی بھی فوراً سزا مل گئی تھی۔ ساری عمر کے رونے کی صورت میں۔
’’اب بس بھی کرو ماورا… اور کتنا رو گی۔ جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا…‘‘ انہوں نے کافی دیر بعد خود سے جدا کرتے ہوئے کہا تو وہ پھر بلک اٹھی۔
’’یہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے…اوروں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا…کیا ساری محرومیاں میرے ہی مقدر میں ہیں۔‘‘
’’ماورا…صبر سے کام لو…تم تو خود خاصی سمجھدار ہو…اتنی جذباتیت کیوں…‘‘ انہوں نے کہا تو وہ سر جھکائے روتی رہی۔ حتی کہ وہ اٹھ کر خاموشی سے باہر نکل گئیں۔ غصے میں آکر اس نے بھاری دوپٹہ نوچ کر پھینک دیا۔ بھاری کام سے مزیں فراک اور پاجامے میں اس کا وجود دیکھنے کے لائق تھا۔ اس نے ایک ایک کرکے سارے زیورات اتار کر بستر پر پٹخ دیے۔ دائیں ہاتھ میں صرف اب وہیں چوڑیاں تھیں جو سلامہ شاہ نے دی تھیں۔ روتے ہوئے وہ پلٹی تو نظر دروازہ بند کیے اس کے ساتھ پشت ٹکا کر کھڑے سلامہ شاہ سے جا الجھی۔ وہ بڑی دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ گھنی مونچھوں تلے کشادہ لب نجانے کیوں مسکرا رہے تھے جب کہ ماورا کے خیال میں اسے رنجیدہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ آخر کو اتنے دعوے کیے تھے اس نے اور اب…مگر یہ یہاں آیا کیوں اور یہ ہنس کیوں رہا ہے۔ اپنا بھیگا چہرہ صاف کرکے اسے دیکھا وہ ایک ایک قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
’’آپ…آپ…‘‘سلامہ شاہ کے تیور اور اس کی یہ پیش قدمی وہ گھبراگئی۔ کہیں غم سے میری طرح اس شخص کا دماغ تو نہیں چل گیا۔ ماورا نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
’’آپ…آپ…کب آئے…‘‘ ماورا کے اوسان خطا ہونے کو تھے۔ لڑکھڑاتا لہجہ تھا۔ سلامہ شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ وہ مزید بد حواس ہوئی۔
’’اگر تم یہ پوچھتیں کہ کیوں آیا ہوں تو بہت اچھے انداز میں جواب دیتا۔‘‘سینے پر ہاتھ باندھ کر بے باک نظروں سے دیکھتے اس نے گلی افشانی کی تو وہ جزبز ہوگئی۔پہلے بھی جو ہوا تھا ناقابل قبول تھا۔ اب یہ سلامہ شاہ اور اس کے تیور…‘‘ آخر یہ اتنا خوش کیوں ہے۔‘‘ اسے الجھن ہوئی۔
’’جب تم رونے دھونے میں اور زیور اتار کر پھینکنے میں مصروف تھی تو اندر آیا تھا۔ صبا باجی نے بڑی ڈرامائی سیچویشن بتائی تھی۔انہیں خدشہ تھا کہ کہیں تم غم کی شدت سے کوئی اوٹ پٹانگ حرکت نہ کر بیٹھو۔‘‘ آخر کو ہم تمہاری ایک ایسی حرکت بھگت چکے ہیں… لیکن یہاں آکر دیکھا تو ایسی کوئی صورتحال نہ تھی، تم تو مرنے مارنے والے موڈ میں ہو…‘‘ وہ شاید صرف اس کا جی جلانا چاہتا تھا۔ آخر کو بڑے دعوے تھے محبت کے۔ اب اتنی جلدی کیسے جان بخشی کر دیتا۔ اس نے اس کی اس ساری بکواس پر شکایتی نظروں سے دیکھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اسے نظریں جھکانا پڑیں۔ سلامہ شاہ کی نگاہوں میں کوئی شریفانہ تیور نہ تھے۔ اس نے گھبرا کر رخ بدلنا چاہا تو سلامہ شاہ نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے مزاحمت بھی نہ کرنے دی۔
’’یہ…یہ…آپ…‘‘ بے بسی کے احساس سے اس کی آنکھیں بھرآئیں۔ ماورا کی اس شخص کے ساتھ ایک بھی خوش کن یاد نہ تھی۔ ہمیشہ دونوں محاذآرائی کی ہی حالت میں رہے تھے اور اب اس کی یہ جسارت جب کہ درمیان میں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ ہمیشہ کی طرح وہ اس پر چیخ بھی نہ سکی۔ اس کی حدود کا کہہ کر اسے باز بھی نہ رکھ سکی۔ دل عجیب طوفانوں کی زد میں تھا۔
’’آپ جائیں یہاں سے…مجھے تنگ نہ کریں۔‘‘ رندھی آواز میں کہتے اس نے اس کے ہاتھ جھٹکنا چاہے تو سلامہ شاہ ہنس دیا۔
’’تم چاہے مجھے جتنا مرضی تنگ کر لو اور اب بھی وہ کہتے ہیں نا کہ رسی جل گئی پر بل نہ گیا۔ رو دھو کر ان خوبصورت آنکھوں کا ستیاناس مار لوگی منہ سے نہیں پھوٹو گی۔‘‘ہنسی روک کر اس نے کہا تو وہ ششدر سی دیکھتی رہ گئی۔’’اس شخص کو صبا باجی نے سب بتا دیا ہے اب یقیناً یہ مجھے طنز کی مار مارے گا۔ کیسا ظالم ہے یہ بھی…‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا؟…‘‘ سلامہ کی بات نے اس کے اعصاب جھنجوڑ دیے تھے فوراً چہرہ صاف کرکے پوچھا۔
’’مطلب بھی میں سمجھاؤں یا تم سمجھاؤ گی…‘‘اس کے گھمبیر لہجے پر ماورا واقعی کچھ مزید الجھ گئی۔ آنسوؤں کی روانی میں ایک دم اضافہ ہوا۔
’’پلیز۔ چھوڑ دیں مجھے…جائیں یہاں سے…‘‘ اپنے کندھوں سے اس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش میں ناکام ہو کر اس نے چٹخ کر کہا۔
’’ماورا…اب بس بھی کرو…سچ مچ کتنا پانی ہے تمہاری آنکھوں میں ایک عرصے سے اپنے پیچھے خوار کیا ہے تم نے مجھے اور اب آنسو بہا بہا کر جان لینے کے درپے ہو۔‘‘
اس کے مہکتے جذبوں سے اٹی آواز پر وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رودی۔
’’پاپا نے بہت غلط کیا میرے ساتھ…میں نے انہیں منع بھی کیا تھا مگر پھر بھی انہوں نے آج نکاح کر دیا…مگر مجھے نہیں کرنی اس شہریار گھونچو سے شادی…سن لیں۔ آپ بھی…کوئی زبردستی تھوڑی ہے۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔
سلامہ شاہ شہریار کو گھونچو کہنے پر زور دار قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
’’آپ ہنس کیوں رہے ہیں‘‘اس نے غصے سے پوچھا۔
’’اب تم یوں احمقوں والی حرکتیں کروگی تو میں ہنسوں بھی نہیں…‘‘ہنسی دبا کر اس نے ماورا کی آنکھوں میں جھانکا پھر اس کے تمام آنسوؤں کو پوروں سے چن لیا۔ وہ کوئی مزاحمت بھی نہ کر سکی۔صرف اسے دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں ان گنت جذبوں کی روشنی تھی۔
’’تمہارا کسی شہریار وغیرہ سے نکاح نہیں ہوا…‘‘ اس نے ایک دم ماورا کے حواس پر بم پھوڑا۔
’’کیا…توپھر؟‘‘ وہ پھیلی آنکھوں سے حواس باختہ تھی۔
’’تو پھر مجھ سے ہوا ہے۔ میں نے کہا تھا نا کہ میرا تم سے وعدہ ہے محبت تم سے کی ہے تو شادی بھی تم سے کروں گا دیکھ لو کتنا سچا ہوں میں اپنی محبت میں بقول شاعر

میں اپنے عشق میں سچا ہوں اور کہتا ہوں
میرے لہو میں بہت زہر ہے رقابت کا
ہزار اس نے چاہا میں بکھر جاؤں
پر میں نے صبر کیا، صبر بھی قیامت کا

تم سے محبت کی ہے۔ تمہارے احمقانہ انکار پر بہت غصہ آیا‘ جی تو چاہا منٹوں میں دماغ سیدھا کردوں۔ اس طرح تمہارے سارے کل پرزے ٹھیک ہو جائیں گے مگر پھر سوچا، ہو تو تم پتھر کی مورت ہی۔ اتنے عرصے سے سر پھوڑ رہا ہوں کیا فائدہ ہوا ہے۔ تھرو آؤٹ پراپر چینل استعمال کرو۔ اب افسوس ہو رہا ہے کہ یہ پراپر طریقہ کاش پہلے استعمال کیا ہوتا تو کب کی ہماری دسترس میں ہوتی۔‘‘
وہ ہزارہا جذبوں میں گھرا اسے بتا رہا تھا اور ماورا کی وہ حالت تھی گویا کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔ مرتے مرتے دوبارہ زندگی ملی تھی۔ خدا کیسے پل میں مہربان ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو بہہ نکلے
’’اب کیوں رو رہی ہو؟‘‘ روتے میں ہنس دی۔
’’ہیں اب کیاہوا ہے…؟‘‘ اس نے گھورا۔
’’یہ بھی کوئی انسانوں والا طریقہ تھا میری جان نکال کے رکھ دی اور صبا باجی بھی کیسی ڈکٹیٹر بن بیٹھی تھیں۔ ذرا بھی میرے رونے کا احساس نہ کیا۔ اتنا نہ ہوا کہ مجھے بتا ہی دیں۔‘‘ہنسی روک کر کچھ خفگی سے اسے دیکھا تو وہ ہنس دیا۔
’’تمہیں اگر وہ بتادیتیں تو یہ سارا معاملہ کیسے سلجھتا۔ تم نے تو اچھا خاص چوپٹ کر دیا تھا وہ تو بھلا ہو میرے بڑوں کا کہ ان کی عقل تمہاری طرح گھاس چرنے نہیں گئی تھی۔ بہتر فیصلہ کیا۔ میری یہی رائے تھی کہ تمہیں لاعلم رکھا جائے۔ تمہارا کیا تھا تم پھر کوئی کھڑاک دیتیں بمشکل ہی تو قابو میں آئی ہو۔ ویسے تمہیں شرم آنی چاہیے تھی یوں مجھ سے اپنے جذبات چھپانے پر۔ جب میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا ایک ایک جذبہ تمہارے سامنے تھا تو تم نے یہ بے ایمانی کیوں کی؟‘‘وہ ایک دم یوں باز پرس پر اتر آیا تھا جیسے درمیانی تعلقات ہمیشہ ہی سے اسی طرح قائم دائم تھے۔ ماورا نے گھورا۔
’’میں نے کوئی بے ایمانی نہیں کی۔ مجھے خود علم نہیں تھا وہ تو ان ہی دو تین دنوں میں علم ہوا کہ…‘‘وہ کہتے کہتے ایک دم رک گئی۔ سلامہ شاہ کو دیکھا وہ پوری طرح متوجہ تھا۔
’’کہ محترمہ ہمارے عشق میں مبتلا ہوچکی ہیں۔‘‘ وہ ہنسا۔وہ زچ ہوئی اس کی خوش فہمی پر۔
’’میں کوئی مبتلا وبتلا نہیں ہوئی بس بات ساری یہ ہے کہ پوری ایمانداری سے سوچا تو آپ کی محبت اور آپ کی شخصیت اتنی بری بھی نہ تھی۔ اسی لیے…‘‘ وہ شرارتی انداز میں مزید کچھ کہتی جب سلامہ شاہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھ دیا۔‘‘

ختم شد

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close