Hijaab May-18

یہ عشق نہیں آساں

نائلہ ندیمہ

محبت کیا ہے؟ اس کی کوئی سچائی بھی ہے یا یہ محض دل لگی ہے‘ ہاں یہ محبت نہیں محض دل لگی ہے‘ محبت کچھ نہیں ہوتی‘ کچھ بھی نہیں‘ یہ محض دھوکہ ہے اور محبت بس وہی سچی جو رشتوں میں مقید ہو اور کسی کا اچھا لگ جانا‘ سب فضول ہے‘ یہ ایک پندرہ سال کی لڑکی کی سوچ تھی۔ اتنی پختہ… کیا پندرہ سال کی عمر میں سوچ اتنی پختہ ہوسکتی ہے؟ دل اتنا سخت ہوسکتا ہے اور قدم کیا اتنے مضبوط ہوسکتے ہیں؟ ہاں ہوسکتے ہیں‘ جب دل نے دھوکہ کھایا ہو تو محبت اور دل لگی کا فرق سمجھ میں آنے لگتا ہے‘ ابھی تھوڑے عرصے پہلے ہی کی تو بات ہے جب اپنا آپ سب سے اچھا لگتا تھا‘ ساری دنیا رنگین لگتی تھی اور ہر آنکھ سچی لگتی تھی‘ لیکن اب پرکھنا کیسے آگیا دل جو اتنا نرم تھا‘ سخت کیسے ہوگیا‘ قدم جو بہکے ہوئے تھے وہ اپنی جگہ ایسے جمے کہ شاید اب کوئی انہیں اپنی جگہ سے اکھیڑ نہیں سکے گا لیکن یہ مضبوطی خوشی نہیں دیتی کرب میں مبتلا کردیتی ہے‘ شاید خود کا بے وقوف بنائے جانے کا دکھ ایسا ہی ہوتا ہے‘ خود اذیتی میں مبتلا کردیتا ہے۔
’’ملیحہ بیٹا۔‘‘ ماما کی آواز کانوں میں آئی تو سوچیں منتشر ہوئیں‘ میں نے چونک کر ماما کو دیکھا جو غور سے میرا چہرہ دیکھ رہی تھیں‘ میں نے نظریں چرالیں اتنی ہمت نہیں تھی کہ جو کچھ دل پر بیتی تھی ماما کو بھی اس درد سے آشنا کرتی میری انا وخود داری اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی تھی کہ اپنی ماما کو بتاتی کہ ماما آپ کی اتنی مضبوط اور باوقار بیٹی جو آپ اور بابا کا غرور ہے جس کو آپ لوگوں نے ہمیشہ وقار سے جینا سکھایا ہے جس کے وقار اور رکھ رکھاؤ کے چرچے پورے خاندان میں ہیں آج کسی نے اس کو بے وقار کرنے کا سوچا‘ اس کو بے وقوف بنانا چاہا‘ ماما کی آواز دوبارہ کانوں میں آئی۔
’’ملیحہ بیٹے… کیا ہوا ہے تمہیں‘ اتنی بجھی بجھی سی کیوں ہو‘ کیا ر زلٹ کا ڈر ہے؟‘‘ اور میں نے جلدی سے اثبات میں گردن ہلادی۔
’’بیٹا تو پھر دعا کیا کرو اداس ہونے سے کچھ نہیں ہوتا اور نہ ہی اتنا سوچنے سے۔ اللہ سے مدد مانگو اس کے پاس ہر مشکل کا حل ہے۔‘‘ اور میں نے اپنی ماما کے پُرنور چہرے کی طرف دیکھا کہ واقعی اللہ کے پاس ہر مشکل کا حل ہے۔ ماما نے ہمیشہ ہمیں ہر مشکل میں اللہ سے مدد مانگنے کی تلقین کی اور خود بھی اپنے عمل سے ثابت کیا۔ کسی بھی مشکل میں اللہ ہی کو پکارا جب ہی آج ہر طرح سکون اور خوشحالی ان کا مقدر تھی۔ میں وضو کرنے کے لیے اٹھ گئی اور جب نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی۔ میں نے رو رو کر دعا میں اپنے رب سے بس اتنا کہا۔
’’اے میرے رب… مجھے سکون دے۔‘‘ اور جب میں دعا مانگ کر اٹھی تو جیسے میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی تھی یا شاید میں خود ہی سرتا پا بدل گئی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
ایک وہ دن تھا جب میں پندرہ سال کی تھی اور ایک آج کا دن ہے پندرہ سال بعد کا… جب میں شادی شدہ ہوں‘ میرے چار پیارے پیارے بچے ہیں اور جس پر لوگ رشک کرتے ہیں جسے اللہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے۔ چاہنے والا شوہر جو واقعی مجھ پر جان چھڑکتا ہے‘ جس نے کبھی زبانی دعویٰ نہیں کیا بلکہ اپنے ہر عمل سے ثابت کیا‘ اولاد کی نعمت‘ اچھا گھر بار‘ خوشحالی اور سب سے بڑھ کر ماں باپ کی دعائیں اور آنکھوں کا سکون جو مجھے اپنے گھر میں خوش باش دیکھ کر مزید بڑھ جاتا ہے۔
آپ لوگ سمجھ رہے ہوں گے کہ پتہ نہیں میرے ساتھ ایسا کون سا دھوکہ ہوا تھا جس نے مجھے اس قدر اذیت میں مبتلا کردیا تھا‘ تو کوئی بہت بڑی بات نہ تھی یا شاید میرے لیے بہت بڑی بات تھی مگر میں جانتی ہوں کہ لوگوں کے لیے تو یہ بہت معمولی بات ہی ہوگی مگر میرے لیے تو یہ بات ایسی ہی تھی جس کے لیے اس بات کے ذمہ دار شخص کو سولی پر چڑھا دیا جاتا۔
قصہ وہی محبت کے نام پر بے وقوف بنانا… حالانکہ بنانے والا اپنے مقصد میں کامیاب بھی نہ ہوسکا‘ لیکن اس نے یہ کوشش کی ہی کیوں؟ مجھے یعنی ملیحہ وقار کو بے وقوف بنانا چاہا۔ اسے میں ہی ملی تھی پورے خاندان میں… وہ بھی وقار ہاشمی کی بیٹی‘ ان کے غصے اور دبدبے سے پورا خاندان واقف اور متاثر بھی تھا۔ میرے بابا جو اپنے نام کی طرح ہمیشہ وقار سے جیئے۔ جنہوں نے اپنی ساری تعلیمات مجھے بھی گھول کر پلادیں مگر جتنے وہ بظاہر سخت نظر آتے تھے اتنے ہی نرم تھے۔ بڑے چھوٹے سب ان کی عزت کرتے۔ پتہ نہیں یہ عزت ان کی شخصیت کے سبب تھی یا پیسے کے سبب… میں تو یہی سوچتی ہوں کہ پیسے کے سبب تھی کیونکہ اگر رشتے کے احترام اور شخصیت کے سبب ہوتی تو کیا میرے تایا کا بیٹا میرے لیے ایسی سوچ رکھتا کہ مجھے بے وقوف بنائے محض اپنی انا کی تسکین کے لیے کہ اس نے وقار ہاشمی کی بیٹی کا دل فتح کرلیا۔
آپ یہ مت سمجھئے گا کہ میں اپنے آپ کو بہت اعلیٰ چیز سمجھتی ہوں‘ ایسا نہیں ہے میرے بابا جنہوں نے صرف سر اٹھا کر جینا ہی نہیں سکھایا بلکہ یہ بھی سکھایا کہ کبھی اپنے آپ کو کسی سے برتر نہ سمجھو‘ بلکہ انسان ہو تو انسانوں کی طرح جیئو۔ اپنے سر کو انسانوں کے آگے نہیں صرف اللہ کے آگے جھکائو… سر اٹھا کر چلو مگر غرور میں نہیں بلکہ اس لیے تاکہ کوئی تمہارے وقار اور عزت پر انگلی نہ اٹھائے۔ تاکہ تمہیں معاشرے میں اعتماد کے ساتھ رہنا آئے‘ بابا کی باتوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی ہے۔ مجھے بھٹکنے نہیں دیا‘ میرے قدموں کو اکھڑنے نہیں دیا۔
میں جو ڈھیر سارے کزنز کے بیچ پلی بڑھی‘ جن میں لڑکے بھی تھے اور لڑکیاں بھی مگر میں نے ہمیشہ اپنے بوائز کزنز سے فاصلہ رکھا‘ کبھی کسی سے غیر ضروری بات نہیں کی۔ عائشہ اور ثنا میری بہت پیاری بہنیں اور اسد اور عثمان میرے لاڈلے بھائی۔ ہر طرف مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا‘ حالانکہ ننھیال اور دھیال میں سب سے بڑی نہیں تھی بلکہ مجھ سے بڑے کزنز موجود تھے‘ لیکن اس کے باوجود جہاں میری خالائیں لاڈ کرتی نہ تھکتیں‘ وہی پھوپھیاں اور تایا بھی جان چھڑکتے تھے۔ بقول میری خالائوں اور پھوپھیوں کے یہ تو ہماری جان ہے۔ اس کی صورت اور سیرت دونوں پر ہمیں پیار آتا ہے۔ میری خوب صورتی اور معصومیت اوپر سے میرے بابا وقار ہاشمی جو اپنے کھلے دل اور اعلیٰ ظرفی کے باعث خاندان بھر میں ہر دلعزیز تھے۔
میرے بابا کے بڑے بھائی عبدالرحمان ہاشمی میرے تایا ان کے صرف دو ہی بیٹے تھے‘ منیب بھائی اور عاطف۔ منیب بھائی مجھ سے دو سال بڑے تھے اور عاطف چار سال۔ منیب بھائی ان سے تو ہم ایسے گھبراتے تھے جیسے آسیب دیکھ لیا ہو۔ عاطف اور میری عمر میں بھی فرق تھا مگر اس کے باوجود میں نے اسے کبھی عزت کے قابل نہیں جانا۔ سب منیب بھائی سے متاثر تھے اور منیب بھائی کے سامنے اس کی شخصیت بالکل دب سی جاتی تھی یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نویں جماعت میں تھی اور لگ بھگ چودہ سال کی تھی۔ یہ عمر ہی بے عقلی کی ہوتی ہے ہر چیز اپنے بس میں لگتی ہے اور میں نے بھی خواب دیکھنے شروع کردیے حالانکہ مجھ پر میرے ماں باپ کی تربیت کی گہری چھاپ نظر آتی تھی۔ اس کے باوجود میں نے اس عام سے نظر آنے والے عاطف ہاشمی کو سوچنا شروع کردیا لیکن یہ خواب میں نے خود تو نہیں دیکھے تھے بلکہ اس واجبی شخصیت رکھنے والے عاطف ہاشمی نے دکھائے تھے۔
میں پہلی دفعہ اس کی نظروں کے ارتکاز سے چونکی اور اپنی طرف اٹھنے والی نظروں کو فوراً بھانپ لیا اور پھر یہی نہیں بلکہ اس نے میرے ہی چچا کے بیٹے علی جو کہ سعود چچا کا اکلوتا بیٹا تھا‘ سعود چچا میرے بابا کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔ یہ تین بھائی تھے اور تین ہی بہنیں۔ یعنی میری تین پھوپھیاں سب اپنے اپنے گھروں میں تھیں ہمارا کوئی جوائنٹ فیملی سسٹم نہیں تھا سب الگ گھروں میں رہتے تھے لیکن آپس میں ملتے جلتے رہتے تھے۔ علی اکلوتا ہونے کی وجہ سے اور سب سے چھوٹا ہونے کے باعث ہم لڑکیوں میں زیادہ رہتا خاندان کے لڑکے اپنے بڑے پن میں اس کو زیادہ لفٹ ہی نہیں کرواتے تھے۔ ہاں مگر عاطف ہاشمی سے اس کی زیادہ ہی بننے لگی‘ عاطف نے ہی اس کے ذریعے پیغام بھیجا پہلے تو میں نے توجہ نہیں دی مگر کب تک پتھر پر مسلسل پانی پڑتا رہے تو اس میں بھی سوراخ ہوجاتا ہے اور میں تو نرم ونازک احساسات کی مالک ایک لڑکی تھی۔ ایک کم عمر لڑکی… جو اس کم عمری میں نئے احساسات سے روشناس ہورہی تھی۔
عاطف ان دنوں بی کام میں تھا۔ تعلیم میں بس واجبی ہی تھا مگر اس کے باوجود اس کا مجھے اس انداز میں دیکھنا کہ اس عام سی صورت اور شخصیت رکھنے والے بندے کا پورا چہرا روشن ہوجاتا پتہ نہیں لوگ اپنی آنکھوں میں مصنوعی چمک کہاں سے لے آتے ہیں‘ دھوکہ دینے کے لیے۔
اس نے مجھ سے کبھی کچھ ڈائریکٹ نہیں کہا ہمیشہ علی ہی کے ذریعے پیغام بھجوائے اور میرے سامنے آتے ہی مجھے یک ٹک دیکھتے رہنا‘ میں نے کبھی عاطف کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی نہ کبھی اس کے کسی پیغام کا جواب دیا‘ ہاں کبھی حوصلہ شکنی بھی نہیں کی۔ اس کے پیغامات پر کبھی غصے کا اظہار بھی نہیں کیا‘ علی کہتا کہ کوئی جواب دیں میں چپ رہتی اور شاید اسی چپ نے مجھے بے وقار ہونے سے بچا لیا تھا۔ اگر میں کچھ کہہ دیتی یا اس کو بھی اسی طرح پیغامات پہنچاتی تو اب اپنے آپ سے کبھی نظر نہ ملا پاتی‘ میرے ماں باپ کے نیک اعمال اور دعائوں کا نتیجہ تھا جو میں بھٹکنے سے بچ گئی‘ پہلے ہی اس شخص کی اصلیت مجھ پر کھل گئی اور ایسی کھلی کہ سمجھو پوری دنیا کی اصلیت کھل گئی ہو۔
کیا کوئی سگا رشتہ دار بھی اپنے ہی خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ یہ کھیل کھیل سکتا ہے‘ یہی سوچ مجھے کرب میں مبتلا کردیتی تھی۔
اس کی اصلیت تب کھلی جب لوگوں نے اس کی مجھ میں دلچسپی نوٹ کرنی شروع کی۔ اس کا مقصد تو محض مجھے بے وقوف بنا کر اپنے وقت کو رنگین بنانا تھا مگر لوگ تو قیامت کی نظر رکھتے ہیں جب دیگر کزنز اور پھوپیوں نے اس سے پوچھا تو اس نے صاف اپنا دامن بچالیا‘ یہ کہہ کر مجھے ملیحہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے میں نے تو محض ذرا سا مذاق کیا تھا بھلا میں اس میں دلچسپی کیوں لوں گا مجھے وہ پسند نہیں۔ یہ بات اس نے بہت عام انداز میں کہی تھی اور میرے کانوں میں بھی پڑگئی تھی۔
یہ تو میرا دل جانتا تھا کہ اس بات اور اس شخص کے اس مذاق نے مجھے کس تکلیف میں مبتلا کردیا تھا۔ علی مجھے دیکھ کر شرمندگی سے سر جھکا لیتا بلکہ اس نے مجھ سے ایکسکیوز کرنے کی بھی کوشش کی کہ اس نے یہ سب عاطف بھائی کے کہنے پر کہا۔ وہ سمجھا تھا کہ وہ میرے لیے سنجیدہ ہیں مگر میں نے اسے بھی کچھ نہیں کہا بلکہ اس سے کوئی سوال نہیں کیا بلکہ اس سے کیا میں نے تو عاطف ہاشمی سے بھی کوئی سوال نہیں کیا لیکن وہ شخص پھر بھی میرے راستے میں آیا اور بارہا آیا‘ کبھی کسی بہانے مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتا‘ لیکن میری ایک چپ تھی جو وہ نہیں توڑ سکا۔ حالانکہ پہلے وہ مجھ سے کبھی کوئی بات ڈائریکٹ نہیں کرتا تھا مگر اس بات کے بعد میری آنکھوں کی نفرت اور حقارت اس کو بار بار میرے راستے میں لائی مگر میں نے اس کی طرف دیکھنا بھی کبھی گوارا نہیں کیا۔
میرا دل بدلنے میں ہاتھ میرے رب کا تھا۔ جو چیز میری قسمت میں ہی نہیں تھی اس کی خواہش میرے اللہ نے میرے دل سے نکال دی۔ عبدالرحمان تایا جن کی خواہش تھی کہ ان کے کسی ایک بیٹے کی شادی مجھ سے ہو مگر بابا اور ماما نے صاف منع کردیا۔ بابا کہتے تھے کہ میں خاندان میں رشتہ نہیں کرنا چاہتا۔ اصل میں دوسرے ماں باپ کی طرح میرے ماما بابا کی بھی خواہش تھی کہ میری شادی بہت اچھی جگہ ہو ان ہی جیسے خوشحال گھرانے اور بہت پڑھے لکھے شخص کے ساتھ اور انہیں کوئی بھی خاندان میں میرے معیار کا نہیں لگتا تھا سو انہوں نے احسن طریقے سے خاندان میں کرنے سے منع کردیا تھا۔
میرا گریز اور بے توجہی دیکھ کر عاطف ہاشمی پھر میرے راستے میں نہیں آیا‘ اس کی شادی پر بھی میں نے خوب ڈھولکیاں بجائیں‘ گانے گائے اور ہم لڑکے والوں نے خوب لڑکی والوں کی ٹانگ کھینچی اور وہ سب خاموشی سے دیکھتا رہا‘ پتہ نہیں یہ میرا وہم تھا یا حقیقت کہ وہ بجھا بجھا سا تھا۔ اس کی بیوی زوباریہ ایک بہت اچھی اور خوش اخلاق لڑکی تھی۔
منیب بھائی کی بھی شادی ہوگئی تھی اور میں نے سوشیالوجی میں ماسٹر کرلیا اور پھر بابا کے جاننے والوں میں میرا بھی بہت اچھی جگہ رشتہ ہوگیا‘ جیسا میرے ماما بابا چاہتے تھے طلحہ بالکل ویسے ہی تھے جیسا بابا چاہتے تھے۔ اللہ کے کرم کے بعد ماما بابا کی دعائیں تھیں جو مجھے بہت قدر کرنے والا سسرال ملی۔ میں نے بہت صاف ستھری زندگی گزاری تھی۔ یونیورسٹی میں پڑھا مگر اپنے آپ کو بہت مضبوط رکھا‘ اتنا مضبوط کہ سامنے والے کو مجھ سے بات کرتے ہوئے دس مرتبہ تو سوچنا پڑتا۔ شاید عاطف ہاشمی کا یہ ایک احسان تو مجھ پر بنتا تھا کہ اس نے بہت اچھی طرح لوگوں کی مجھے پہچان کرا دی تھی۔ اس ایک غلط سوچ کے بعد میں نے کبھی کسی کے متعلق سوچا تک نہیں جس کی وجہ سے میں فخر سے اپنے ہم سفر کے ساتھ پورے خلوص سے قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی۔
میرے چار پیارے پیارے بچے جو میری اور طلحہ کی کل کائنات تھے‘ اپنے تمام ننھیالی اور ددھیالی رشتوں کے لاڈلے اور آنکھوں کے تارے‘ الغرض جتنی محبت میں نے سمیٹی اتنی ہی میرے بچے سمیٹ رہے تھے۔ زندگی ایسے ہی ہنسی خوشی رواں دواں تھی۔
عاطف اور اس کی فیملی باہر چلی گئی تھی مگر وہ آتے رہتے تھے کیونکہ تایا اور تائی اپنی جڑوں سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتے تھے‘ اس لیے عاطف اکثر چھٹیوں میں اپنی فیملی اور ان کے ساتھ آتا تھا‘ ایسے میں سامنا ہوجاتا تھا لیکن ایسے ہی جیسے دو انجان بندے… اس نے بھی کبھی بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور نہ ہی میں نے کبھی اسے سلام تک کرنا گوارا کیا۔ عاطف کے بھی دو بچے تھے اور بہت محبت کرنے والی بیوی… وہ بھی بظاہر اپنی زندگی سے مطمئن نظر آتا تھا اور پھر ان لوگوں کے حالات بھی بدل گئے تھے۔ اس نے اپنا بزنس شروع کردیا تھا جس میں اسے کافی ترقی ملی تھی۔ بظاہر سب ٹھیک تھا مگر کبھی کبھی اس کی نظریں عجیب سی ہوتی لیکن میرے پاس اس پر غور کرنے کا نہ تو وقت تھا اور نہ گنجائش۔
سب کچھ ٹھیک ہی جارہا تھا کہ پھر اچانک جیسے سب کچھ درہم برہم ہوگیا‘ سب کچھ بکھر گیا‘ کاش… ایسا نہ ہوتا مگر…
اس دن میرے ماما بابا کے گھر بہت بڑی دعوت تھی‘ میرے لاڈلے بھائی عثمان کے بیٹے کا عقیقہ تھا۔ سارا خاندان جمع تھا۔ بابا نے اسلام آباد کے پوش ایریا میں نئی کوٹھی خریدی تھی۔ اس طرف آبادی بہت کم تھی مگر مکان بہت خوب صورت بنے ہوئے تھے۔ میں صبح سے بچوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ اتفاق سے عاطف بھی اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آیا ہوا تھا‘ میری جب اس پر نظر پڑی تو وہ بہت غور سے میری طرف دیکھ رہا تھا‘ میں نے سرسری سی نظر ڈال کر بے نیازی سے اپنا رخ اس کی بیوی ذوباریہ کی طرف کیا اور اس سے ملنے لگی۔ باقی سب مہمان بھی شام کو آنے تھے۔ ذوباریہ اور تائی اپنے بچوں کے ساتھ کچھ خریداری کے لیے چلی گئی کہ شام کے لیے بچوں کی کچھ شاپنگ کرنی ہے اور تایا بھی اپنے کچھ کام نبٹانے کے لیے باہر چلے گئے۔ عاطف البتہ یہیں تھا وہ صبح ہی اپنے کام نبٹا آیا تھا اور اب آرام کے موڈ میں تھا۔ میں نے کچن میں تیاریوں کے بارے میں جانچنے کے لیے قدم بڑھائے تو دروازے پر عاطف کو دیکھا‘ میں نے وہیں سے قدم واپس موڑ لیے اور اس نے میری اس حرکت کو بغور دیکھا تھا۔
’’کیا تمہاری نفرت ابھی تک مجھ سے کم نہیں ہوئی؟‘‘ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ لیکن میں اب وہ پندرہ سال کی لڑکی نہیں رہی تھی‘ اب نا صرف شادی شدہ عورت بلکہ چار بچوں کی ماں بھی تھی۔ کمزور تو میں پندرہ سال کی عمر میں نہیں پڑی اور اب تو شوہر اور بچوں کی محبت نے مزید پُراعتماد بنادیا تھا‘ ایک لحظہ کو میں حیران رہ گئی اس شخص کی جرأت پر پھر جیسے میرے اندر زہر ہی زہر بھر گیا‘ وہ زہر جو پندرہ سال بعد بھی ختم نہیں ہوا تھا‘ وہ زہر جس کا وقت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ وہ زہر جو خوشگوار زندگی جینے کے باوجود اور ہر طرح کی خوشحالی کے باوجود بھی میرے دل سے نہیں نکلا تھا اور اس زہر نے اس کو بھی نیلا کردیا‘ کیا اناو خوداری کا زہر اتنا زہریلا ہوتا ہے جو پندرہ سال بعد بھی آپ کو چین نہیں لینے دیتا‘ شاید میرے لیے میری اناو خوداری سب سے بڑھ کر تھی۔ اتنی عزیز تھی مجھے اپنی انا کہ جس نے مجھ جیسی نرم ونازک حساس دل رکھنے والی کو بھی زہریلا کردیا تھا۔ میں نے اس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہایت حقارت سے کہا۔
’’مسٹر عاطف ہاشمی تمہیں تو میں اپنی نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھتی‘ تم جیسا شخص بھلا اس قابل ہوسکتا ہے جس سے میں کوئی تعلق رکھوں اور میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ میرے راستے میں کبھی مت آنا کیونکہ تم جیسے لوگوں کا راستے میں آنا مجھے کوفت میں مبتلا کردیتا ہے۔‘‘ اور ٹھیک ویسا ہی پھیکا پن جو میں نے پندرہ سال پہلے اس کے چہرے پر پھیلتا دیکھا وہی میں نے آج دوبارہ پھیلتے دیکھا تھا اور میرے دل میں سکون اترتا چلا گیا تھا۔ اس نے ایک دم نگاہیں چراتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔
’’کیا میں اتنا برا ہوں کہ تم مجھ سے تعلق میں شرمندگی محسوس کرتی ہو۔‘‘ اور میں نے بہت تحقیر اور لاتعلقی سے کہا۔
’’اگر تم مر بھی جائو نہ عاطف ہاشمی تو میری آنکھ سے دو آنسو نہیں بہیں گے‘ اس سے اندازہ لگالو کہ تم میرے نزدیک کیا حیثیت رکھتے ہو۔‘‘ اور اس نے بہت چونک کر خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھا تھا‘ پتہ نہیں اس وقت ان آنکھوں کے خالی پن اور مانند پڑتی چمک میں ایسا کیا تھا کہ میں جو بہت طنزیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ایک دم نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی‘ پھر میں سر جھٹکتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
سب تیار ہونے میں مگن تھے کھانا تو باہر ہی سے آنا تھا مگر سلاد‘ رائتہ‘ وغیرہ گھر میں ہی بنانا تھا اور چھوٹا موٹا کام نبٹا کر میں‘ میری چھوٹی بہن اور بھابیاں باتوں میں مصروف ہوگئے‘ ابھی صرف شام کے سات ہی بجے تھے اور ابھی مہمانوں کے آنے میں وقت تھا۔ ذوباریہ اور تائی اور تایا بھی ابھی تک نہیں آئے تھے‘ میں اپنی دوسرے نمبر کی بہن ثنا کو بہت یاد کررہی تھی‘ جو اس تقریب میں شریک نہیں تھی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ باہر ہی سیٹل ہوگئی تھی۔ عاطف اپنے کمرے میں آرام کررہا تھا‘ جو بابا نے گیسٹ روم کے طور پر ہی سیٹ کیا تھا۔ ہم باتیں کرنے میں مگن تھے کہ باہر سے کچھ عجیب وغریب آوازیں آنے لگیں ہم سب ایک دم چونک گئے۔ بابا اور دونوں بھائی باہر سے کھانا لینے گئے ہوئے تھے ہم سمجھے کہ شاید وہ لوگ آگئے ہیں مگر اس سے پہلے کہ ہم باہر نکل کر دیکھتے کہ اتنے میں چار لڑکے بچوں کو پکڑے ہوئے گھر میں گھس آئے۔ ہم سب کے رنگ اڑ گئے‘ ان کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا اور یہ دیکھ کر تو میرے ہوش اڑ گئے کہ انہوں نے وہ اسلحہ بچوں پر تان رکھا تھا۔ میں ایک دم بدحواس ہوکر بچوں کی طرف لپکی… ان میں سے ایک نے پھرتی سے مجھے گھسیٹ کر میری کنپٹی پر بندوق رکھ دی اور بچوں کو زور سے دور دھکیلا جو لگاتار رو رہے تھے۔ مجھ سے کہا کہ انہیں چپ رہنے کا کہو‘ بچوں کے رونے سے شاید وہ لوگ گھبرا گئے تھے‘ دونوں بھابیوں نے لپک کر بچوں کو پکڑا اور اپنے پیچھے چھپا لیا۔ میری ماما بدحواس سی ٹکرٹکر مجھے دیکھ رہی تھیں ایک دم لپک کر میری طرف آنے لگیں کہ ایک ڈاکو نے زور سے بٹ ان کے کندھے پر مارا ہم سب کی چیخیں نکل گئیں۔
’’تم میں سے کسی نے بھی آواز نکالی تو ہم اس کو مار دیں گے۔‘‘ انہوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ اتنے میں شور شرابا سن کر عاطف بھی سیڑھیاں اترتا دکھائی دیا‘ بچوں کے رونے اور ہمارے چیخنے کی آوازیں شاید اس تک بھی پہنچ گئی تھیں‘ اس کی نظر جیسے ہی مجھ پر گئی وہ اپنی جگہ ٹھہر گیا ان ڈاکوئوں نے اسے دیکھ کر بندوق کی نالی مزید میرے سر سے چپکادی۔ میرا خوف کے مارے براحال تھا۔ ’’جو کچھ ہے ہمیں خاموشی سے دے دو‘ ورنہ انجام کے ذمہ دار تم لوگ خود ہوگے۔‘‘ امی نے لاکر کی چابی خاموشی سے دے دی۔ ان کا ایک آدمی امی کے ساتھ گیا اور سارا زیور اور نقدی سمیٹ لایا لیکن بندوق ابھی بھی انہوں نے مجھ پر تان رکھی تھی۔ سب رو رہے تھے مگر وہ خباثت سے مسکرا رہے تھے۔ پھر وہ مجھے بھی گھسیٹ کر ساتھ لے جانے لگے۔
’’کوئی آگے بڑھا تو اس کو نہیں چھوڑیں گے اس کا بھیجا اڑا دیں گے۔‘‘ سب بدحواس ہورہے تھے بھابیاں‘ امی اور بہن بچے سب اونچا اونچا رونے لگے۔ اس سے پہلے کہ وہ گیٹ پار کرتے کہ اچانک عاطف سامنے آیا اس نے مجھے گھسیٹ کر پیچھے کی طرف دھکیلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ڈاکو کی بندوق جو اس نے میرے اوپر تانی ہوئی تھی‘ اس سے نکلی گولی عاطف کو لگی… وہ ڈاکو بدحواس ہوگئے اور اس پر پولیس کا سائرن بھی سنائی دینے لگا تھا۔ گرنے کی وجہ سے میرا سر زور سے کسی چیز ٹکرایا تھا اور کچھ خوف اور پولیس کے سائرن کی آوازیں ان سب خوفناک مناظر نے مل کر میرے حواس چھین لیے تھے۔
جب میں ہوش میں آئی تو اپنے آپ کو ہسپتال کے بیڈ پر پایا‘ طلحہ پریشان صورت لیے میرے پاس ہی بیٹھے تھے‘ تھوڑی دیر تو میں خالی نظروں سے انہیں دیکھتی رہی اور جب میرے حواس کچھ بیدار ہوئے تو وہ خوف ناک منظر پھر سے میرے سامنے آنے لگا‘ میرا دل ابھی بھی سخت پریشان تھا جیسے کچھ ہوا ہے‘ کچھ ایسا کہ دل اب بھی خوف کی گرفت سے نہیں نکل پارہا تھا‘ طلحہ مجھے کافی دیر تک تسلی دیتے رہے اور پھر انہوں نے آہستہ آہستہ جو بات مجھے بتائی اس کو سن کر تو میں سناٹے میں رہ گئی‘ عاطف کو دو گولیاں لگی تھیں اور وہ اسی ہاسپٹل میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا‘ ڈاکٹرز اس کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں تھے‘ گولیاں نکال لی گئی تھیں مگر خون اتنا زیادہ بہہ گیا تھا کہ ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا‘ وہ تو ماما بابا کی نوکرانی ساجدہ نے ڈاکوئوں کا شور سن کر کچن میں ہی اپنے موبائل سے پولیس کو اطلاع دے دی تھی مگر پولیس نے بھی آتے آتے کچھ دیر کردی اور ان کا سائرن سنتے ہی وہ ڈاکو بدحواس ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے لیکن شکر ہے وہ شیطان پکڑے گئے جنہوں نے ہمارے خاندان کے ایک چراغ کو موت کے منہ میں لاکھڑا کیا‘ میں طلحہ کی یہ بات سن کر گم صم رہ گئی۔ میں نے طلحہ سے خواہش ظاہر کی کہ مجھے بھی تایا اور تائی کے پاس لے کر چلیں‘ عاطف اسی ہاسٹپل میں I.C.U میں تھا۔ میں اور طلحہ I.C.U کی طرف گئے تو سب کے پریشان چہرے دیکھ کر ایک لمحے کو تو میرے حواس خطا ہوگئے۔ تائی ایک کونے میں جائے نماز بچھائے مسلسل رو رو کر دعائیں کررہی تھیں‘ بابا تایا کو سہارا دیئے کھڑے تھے اور منیب بھائی پریشان چہرے اور خالی نگاہوں سے I.C.U کے کمرے کو تک رہے تھے اور زوباریہ جو مسلسل اپنی سسکیاں دبانے میں مصروف تھی میرے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہی مجھ سے لگ کر رونے لگی۔ مجھے اس معصوم سی لڑکی پر بہت ترس آیا جس کا سہاگ موت کے دوراہے پر کھڑا تھا۔ اس کا غم مجھ سے تو بہت بڑا تھا اس کو حوصلہ دینے کی ہمت میں کہاں سے لاتی‘ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر نکلا‘ منیب بھائی ایک دم اس کی طرف لپکے۔
’’مریض ہوش میں تو آگئے ہیں مگر ان کی کنڈیشن ابھی بھی ٹھیک نہیں ہے۔ خون بہت زیادہ بہہ گیا ہے‘ ہم کوشش کررہے ہیں‘ بس دعا کریں۔ آپ لوگ باری باری ان سے مل سکتے ہیں مگر مریض کو پریشان نہیں کرنا… آپ لوگوں کو بہت حوصلہ رکھنا ہوگا۔‘‘ ڈاکٹر کی یہ بات سن کر سب کے چہرے مزید زرد پڑگئے۔ پھوپھو اور ذوباریہ کی سسکیاں بلند ہوگئیں۔ منیب بھائی نے سب کو حوصلہ دیا اور ذوباریہ اور تائی کو اندر کمرے میں بھیجا۔ بابا تایا کو سنبھال رہے تھے جو اپنے آپ کو ایک دم بہت کمزور اور بے بس محسوس کرنے لگے تھے۔ جس کا جوان بیٹا اس حال میں ہو اس کے دل کو کیسے صبر آئے اور میں شرمندگی سے سر جھکائے یہ سوچ رہی تھی کہ اس سب کی ذمہ داری کہیں میرے سر پر بھی عائد ہوتی ہے‘ ذوباریہ ایک دم کمرے سے نکل کر میری طرف آئی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں نے چونک کر دیکھا۔
’’آپ کو عاطف بلا رہے ہیں۔‘‘ میں نے بہت حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا اور میں سست قدموں سے I.C.U کی طرف بڑھی۔ پتہ نہیں آج میرے قدموں میں جان کیوں نہیں تھی۔ میں ملیحہ وقار جو زمین پر قدم جما کر چلتی تھی‘ آج اس کے قدموں میں اتنی لڑکھڑاہٹ کیوں تھی‘ دو قدموں کا فاصلہ بھی دوبھر لگ رہا تھا اور یہ آنکھوں کے آگے اتنی دھند کیوں چھا رہی تھی کہ سامنے کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میں سخت بے بسی کا شکار ہونے لگی۔ اگر پلک جھپکتی تو آنسو ٹوٹ کر میرے چہرے پر آگرتے اور سارا بھرم بھربھری ریت کی طرح ڈھ جاتا اور اگر ہاتھوں سے صاف کرتی تو جب بھی پکڑی جاتی… اور یہ کیسے ممکن تھا کہ ملیحہ وقار عاطف ہاشمی کے سامنے کمزور پڑجائے… بڑے غرور اور رعونت سے کہا تھا میں نے۔
’’اگر تم مر بھی جائو تو تم جیسے شخص کے لیے میری آنکھوں سے دو آنسو نہ بہیں اس سے اندازہ لگالو کہ تم میرے نزدیک کیا حیثیت رکھتے ہو۔‘‘ میں نے ایک دم رخ موڑ کر آنسو صاف کیے اور جیسے ہی رخ موڑا سیدھی نظر اس کی طرف پڑی‘ میرے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے۔ وہی پندرہ سال پہلے کا منظر تھا‘ وہی آنکھیں جن کی چمک ستاروں کو بھی ماند کر گئی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں روشنیاں اتر آئی تھیں‘ وہ ٹکٹکی باندھے روشن آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا‘ یہی تو وہ نظریں تھیں جنہوں نے مجھے پندرہ سال پہلے احساس دلایا تھا کہ میں کسی کے لیے بہت اہم ہوں اور آج پورے پندرہ سال بعد ان آنکھوں کی چمک نے مجھے پھر سے چونکا دیا تھا‘ میں یک ٹک اس شخص کی طرف دیکھتی چلی گئی جس کے زرد چہرے پر دو روشن آنکھیں مجھے مسلسل دیکھ رہی تھیں‘ اور ان میں اطمینان اترا ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں‘ ڈاکٹرز اور نرسیں اس کی طرف لپکیں… تائی اور زوباریہ اپنی سسکیاں دبانے لگے اور چند لمحوں میں جیسے سب ختم ہوگیا۔ تائی اور زوباریہ کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں… منیب بھائی اور تایا ایک دوسرے سے لپٹ کر رو رہے تھے۔ بابا بھی نڈھال سے اپنے آنسوئوں پر بندھ باندھ رہے تھے اور طلحہ تایا اور منیب بھائی کو تسلی دینے کے لیے سہارا دیئے کھڑے تھے اور میں اسی جگہ پر کھڑی تھی‘ آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر میرے چہرے کو بھگو رہے تھے لیکن مجھے پروا نہیں تھی اور اب پروا بھی کیوں ہوتی کیونکہ جن سے چھپانے تھے وہ تو دنیا ہی سے چلا گیا۔ ہاں اب ان آنسوئوں کو کسی کا ڈر نہیں تھا کیونکہ ہارنے والا تو زندگی ہار گیا اور میں ملیحہ وقار اپنی انا وخودداری سمیت جیت گئی۔ میری انا جیت گئی یہ اس شخص کے آگے کبھی سرنگوں نہیں ہوئی اور وہ عاطف ہاشمی جس سے میں نے دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کی تھی بلکہ شاید نفرت ہی صرف اس سے کی تھی‘ وہ شخص میری خاطر اپنی زندگی ہار گیا‘ میں جو اس کے سامنے کبھی بھی نہیں ڈگمگائی‘ کبھی نہیں لڑکھڑائی اس کے سامنے اپنی آنکھ میں آنسو نہیں آنے دیے‘ ہمیشہ اپنی انا کے پرچم کو بلند رکھا… آج میں اپنی انا خودداری اور وقار سب ہار گئی لیکن اس ہار کا اندازہ مجھے بہت دیر میں ہوا… میں نے بہت دیر سے اس شخص کی آنکھوں کی چمک کا مطلب سمجھا‘ وہ آنکھیں جو مجھے دیکھتے ہی روشن ہوجاتی تھی وہ بھلا دھوکہ کیسے دے سکتی تھیں… میں اس کے کہے لفظوں کے زہر میں ڈُوبی رہی کبھی آنکھوں کی زبان پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ان پر یقین کیا‘ لفظ جھوٹے ہوسکتے ہیں مگر آنکھیں نہیں‘ یہ بات اس شخص نے اپنی زندگی ہار کر مجھے سمجھادی… اس نے مجھے جیت کا مان دے دیا‘ اپنی زندگی ہار کر۔
میرا غرور میری اناو خودداری مجھ پر ہنس رہے تھے‘ میرا مذاق اڑا رہے تھے کہ ملیحہ وقار تمہیں بہت ناز تھا ناں اپنے اوپر اپنی انا پر… اب جیت کا جشن منائو‘ لو تم جیت گئی‘ اب کیوں رو رہی ہو تم؟ اس جیسے بے وقعت شخص کے لیے جس کے لیے تم نے دعویٰ کیا تھا کہ دو آنسو نہیں بہائوں گی‘ کیوں… آخر کیوں؟ اور اس سوال نے میرے اندر گہری خاموشی اتار دی۔ ایک ویرانی تھی جو رگ وپے میں اتر آئی تھی اور شاید اس ویرانی نے ساری عمر میرے دل میں رہنا تھا۔
سب سمجھتے ہیں کہ عاطف ہاشمی نے اپنے خاندان کی عزت کے لیے اپنی جان دائو پر لگادی‘ لیکن ملیحہ وقار جان گئی کہ اس نے ایسا کیوں کیا‘ مرتے وقت اس شخص کی روشن آنکھوں نے میرے دل پر جمی تمام گرد جھاڑ دی تھی۔ اس نے کچھ نہیں کہا مگر کیا کہنا ضروری ہوتا ہے؟
اور کیا اب کہنے کو کچھ رہ گیا تھا؟ اور اب وہ روشن آنکھیں کیا ملیحہ وقار ساری عمر چین لینے دیں گی۔
؎تم محبت کو کھیل کہتے ہو
ہم نے برباد زندگی کرلی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close