Hijaab May-18

حمد و نعت

بہزاد لکھنوی/صائم چشتی

حمد باری تعالیٰ
حمد کرتا ہوں اے خدا تیری
گو کہ دشوار ہے ثنا تیری
تو حد فکر میں نہیں آتا
حمد کس طرح ہو ادا تیری
پتے پتے میں تیرا عالم ہے
ذرے ذرے میں ہے ادا تیری
اے خدا تو ہی رب عالم ہے
ہے سبھوں کے لیے عطا تیری
تو ہی تو ہر طرف نمایاں ہے
یاد کیونکر نہ ہو بھلا تیری

حضرت بہزاد  لکھنوی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
تو شاہ خواباں تو جان جاناں ہے چہرہ ام الکتاب تیرا
نہ بن سکی ہے نہ بن سکے گا مثال تیری جواب تیرا
تو سب سے اول تو سب سے آخر ملا ہے حسن دوام تجھ کو
ہے عمر لاکھوں برس کی تیری مگر ہے تازہ شباب تیرا
نظر میں اس کی ہے ہر حقیقت ہو مشک و عنبر یا بوئے جنت
ملا ہے جس کو ملا ہے جس نے پسینہ حسن گلاب تیرا
خدا کی غیرت نے ڈال رکھے ہیں تجھ پہ ستر ہزار پردے
جہاں میں بن جاتے طور لاکھوں جو اک بھی اٹھتا حجاب تیرا
ہے تو بھی صائم عجیب انساں جو خوف محشر سے ہے ہراساں
ارے تو ہے جن کی نعت پڑھتا وہی تو لیں گے حساب تیر

جناب صائم چشتی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close