وہ اِک لمحہ محبت

حصارِ محبت

سمیرا شریف طور

گاڑی کو ایک جھٹکا لگا تھا، وہ ایک دم ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ شام کے گہرے سائے پہاڑیوں کی چوٹیوں سے جھانک رہے تھے۔ آنکھیں ملتے اس نے سامنے دیکھا۔ باوردی ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا، جبکہ اس کے ساتھ بیٹھا موسیٰ منیر دھیمے سُروں میں گاڑی کے سناٹے میں گونجتی آواز کا ساتھ دے رہا تھا۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے
منتہیٰ نور کو اپنی اعصاب جھنجناتے محسوس ہوئے۔
یہ انداز… یہ غزل… یہ الفاظ!
ْْیہ دلفریب پُرسوز آواز اس کے اندر گہری چوٹ لگانے کو کافی تھی۔
میری منزل ہے کہاں ، میرا ٹھکانا ہے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کے مجھے جانا ہے کہاں
سوچنے کے لیے اک رات کا موقع دے دے
اس کے اعصاب پر سب سے بھاری موسیٰ کی آواز تھی۔ جیسے مذاق اُڑاتی ہوئی۔ تضحیک کرتی ہوئی ہو۔
’’ایسا بھی کیا خاص ہے اس غزل میں… عام سی تو ہے۔‘‘
اس کے دماغ کے گوشے میں جھنجناتی آواز گونجی تھی۔
’’موسیٰ منیر! تم جیسے انسان جو اوروں کو جوتے کی نوک پر رکھیں وہ کیا جانیں ہیں کہ شاعری اور احساسات کیا ہیں؟ یہ عام سی غزل ہے یا خاص… تمہیں کیا تکلیف ہے؟ جائو اپنا کام کرو۔‘‘
منتہیٰ نور کو اپنا ہی طنزیہ لہجہ سنائی دیا تو اس نے ہونٹ چبا لیے۔
’’اتنے بڑے دعوے مت کرو منتہیٰ نور کہ خود ہی منہ کے بل گر پڑو۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا موسیٰ منیر صاف اس کی تضحیک کر گیا تھا۔ اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کا منہ نوچ دے۔
اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نے
اپنی پلکوں پہ چھپا رکھے ہیں آنسو میں نے
میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دے
خیالات کی تکلیف دہ لہر اسے مکمل طور پر بھگو گئی تھی۔ نجانے کیا کچھ یاد آیا تھا، آنکھیں بھیگتی چلی گئی تھیں۔
’’اور تم خود… خود کو سمجھتے کیا ہو؟ طاقت کے زور پر عورت کو زیر کرنے والے۔ ایک سطحی جذبات کے مارے انسان کے علاوہ اور ہو کیا تم… ایک شکی اور منتقم المزاج انسان؟‘‘ نفرت ہی نفرت تھی اس کے لہجے میں۔
رات کے وقت جب سب اپنے اپنے کمروں میں محو خواب تھے تو دونوں اپنے کمرے میں جنگ جدل کی حالت میں تھے۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘ چیختا چنگھاڑتا لہجہ اسے ایک پل کو خاموش کروا گیا تھا۔ رات کی تاریکی میں یہ لہجہ اسے سہما گیا تھا۔ ’’میں تھوکتا بھی نہیں ہوں تم پر… مگر تم نے دوسروں کے ساتھ مل کر میری زندگی کو جہنم بنانے کا جو کھیل کھیلا ہے اس کی سزا بہت تکلیف دہ ہے، ساری عمر تمہیں اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ مجھ سے شادی کی سزا تمہیں بھگتنا ہو گی۔‘‘ اس کے بازو کو اپنی وحشی گرفت میں جکڑے اس نے ایک پل میں اپنا اصل روپ دکھایا تھا۔ گزری رات کی تکلیف دہ باتوں اور وحشت بھری ساعتوں کو یاد کرتے منتہیٰ نور کی آنکھوں میں نمی آتی چلی گئی تھی۔ گاڑی میں گونجتی آواز اس کے اعصاب پر بڑی بھاری تھی۔ لبوں کو کچلتے وہ باہر رُخ پھیر گئی۔ کھڑکیوں سے باہر سرمئی پہاڑیاں شام میں اور بھی پُراسرار دکھائی دے رہی تھیں۔
آج کی رات میرا درد محبت سن لے
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سن لے
آج اظہار خیالات کا موقع دے دے
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
بھیگتی پلکوں کو لیے بڑے ضبط سے اندر کی طغیانی کو اپنے اندر ہی ہمیشہ کی طرح اُتارنے کی کوشش میں وہ بُری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تھی۔
بھولنا تھا تو یہ اقرار کیا ہی کیوں تھا؟
بے وفا تُو نے مجھے پیار کیا ہی کیوں تھا؟
صرف دو چار سوالات کا موقع دے دے
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
یہ شخص اس کی سب سے بڑی آزمائش تھا، جس سے اس نے بلا کی نفرت کی تھی، ساری عمر تو انکار کرتے گزاری تھی مگر آج اس کے ساتھ اتنا طویل سفر کرنے پر مجبور تھی۔
اپنی بے بسی پر وہ خود ہی متاسف تھی۔ وہ کبھی اس شخص کے سامنے مجبور نہ ہوئی تھی۔ اینٹ کا جواب ہمیشہ پتھر سے دیا تھا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارا تھا۔
اپنی ذات کے مکمل مان و غرور سمیت اسے بارہا دھتکارا تھا مگر اب…
غزل دوبارہ ریوائنڈ کی جا رہی تھی۔ ضبط کی کوشش میں وہ چیخ کر رہ گئی تھی۔ صبر کی انتہا تھی یا چوٹ دل پر لگی تھی۔ ان الفاظ نے اسے بکھیر کر رکھ دیا تھا۔
’’ڈرائیور! یہ ٹیپ بند کرو۔‘‘ چیختا ہوا اعصاب شکن لہجہ نہایت غصیلا تھا۔ ڈرائیور اور موسیٰ نے فوراً پلٹ کر دیکھا تھا۔ ’’میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔ بند کرو اس کو۔‘‘ موسیٰ نے بغور جائزہ لیا۔ بھیگی پلکوں کی نمی صاف دکھائی دی۔ ناراض سے لہجے پر کچھ کہنے کو لب وا کیے مگر پھر لب بھینچ لیے اور ہاتھ بڑھا کر کیسٹ پلیئر آف کر دیا۔
’’رہنے دیتیں بی بی جی! سفر اچھا گزر جاتا۔‘‘ وہ سر جھٹک گئی۔ اس نے بیک مرر سے خود پر مرکوز موسیٰ کی مسلسل نگاہوں کو محسوس کر کے سیٹ کی پشت گاہ سے سر ٹکا کر آنکھوں پر بازو رکھ لیا تھا۔ گاڑی میں خاموشی چھا گئی تھی۔ ایسی ہی خاموشی اس کے اندر بھی تھی جو اسے ہر روز توڑتی تھی اور وہ روز اذیت کی بھٹی میں سلگتی تھی۔ باقی کا سارا راستہ بہت خاموشی سے کٹا تھا۔ سارے سفر کے دوران موسیٰ اور ڈرائیور گفتگو کرتے رہے تھے سفر کے دوران انہوں نے کئی بار سٹاپ کیا تھا مگر منتہیٰ ہر بار گاڑی میں بیٹھی رہی تھی۔
اللہ اللہ کر کے سفر اختتام پذیر ہوا تھا۔
خوبصورت بنگلے کے سامنے باوردی ڈرائیور نے گاڑی روکی تو وہ سیدھی ہو گئی۔ رات کی تاریکی میں صرف گاڑی کی ہیڈ لائٹس روشن تھیں۔
’’آئیں بیگم صاحبہ! گھر آ گیا ہے۔‘‘ موسیٰ گاڑی سے نکل کر سامان نکال رہا تھا اس نے پلٹ کر اس سے مخاطب ہونے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔ منتہیٰ اپنی اس ازحد ہتک پر ششدر رہ گئی۔ ڈرائیور کے دروازہ کھولنے پر ناچار باہر نکل آئی۔
نجانے اب اس اجنبی شہر میں اپنوں سے اس قدر دور زندگی کیسے گزرنے والی ہے۔
موسیٰ اندر چلا گیا تو وہ بھی کلستے ہوئے اس کے پیچھے چل دی۔
گھر اندر سے خاصا کشادہ اور ہوادار تھا۔ سجاوٹ تو نہیں تھی مگر ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ وہ بڑے سے ہال میں کھڑے کھڑے اطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔
’’محمد خان… اب تم ادھر ہی رہنا… کھانے وغیرہ کا اہتمام کروا دینا مجھے کرنل صاحب کے پاس فوری پہنچنا ہے، بہت کم وقت رہ گیا ہے، شاید صبح تک واپسی ہو… گھر کا خیال رکھنا۔‘‘ وہ ابھی جائزہ ہی لے رہی تھی جب اچانک ایک کمرے سے یونیفارم بدل کر نکلتے موسیٰ کو دیکھ کر ٹھٹکی اور پھر پھر اسے قطعاً نظر انداز کرتے وہ راہداری کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’یس سر!‘‘ منتہیٰ دو قدم دروازے کی طرف بڑھ آئی تھی۔ موسیٰ ڈرائیور سے مخاطب تھا۔
’’میں نے کال کر دی ہے۔ صبح تک کرنل صاحب ایک اور ملازم بھیج دیں گے۔ گھر کا خیال رکھنا اور ہاں بی بی سے پوچھ لینا کسی چیز کی ضرورت ہو تو…؟‘‘
منتہیٰ کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر روئے۔ اتنے بڑے گھر میں تنہا ہونے کے احساس سے ہی دل گھبرا اُٹھا۔ کیا اس شخص نے اسے سزا دینے کا یہ نیا طریقہ ایجاد کیا تھا؟
انجان جگہ، اجنبی شہر، نا آشنا در و دیوار اور اپنوں سے دوری… منتہیٰ کے اندر وحشت نے سر اُبھارا تھا۔
موسیٰ ملازم کو مزید ہدایات دے رہا تھا اور پھر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز پر منتہیٰ کو احساس ہوا کہ اس کا چہرہ بھیگ رہا ہے۔
’’یا اللہ…‘‘ اس کے دل سے اک ہوک سی اُٹھی۔ موسیٰ کا یہ اجنبی انداز قطعی رویہ اور یوں بُری طرح نظر انداز کرنا اس کی روح میں گہرے شگاف ڈال گیا تھا۔ وہ بے دم سی ہو گئی۔ اس شخص سے بھلائی کی توقع عبث تھی۔ اس منتظم مزاج شخص کی جانب سے وہ تو کبھی بھی غلط فہمی سے دو چار نہیں رہی تھی مگر اس دفعہ اس کے رویے نے اسے گویا آتش فشاں بنا دیا تھا۔ جی چاہا وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر آپا کی تمام ہدایات و یقین دہانیوں کو فراموش کیے یہاں سے چلی جائے۔ مگر وہ بے بس تھی، اپنوں کے چہرے آنکھوں میں سمائے تو نڈھال سی تن تنہا اتنے بڑے گھر کے در و دیوار کو بے بسی سے دیکھتی ہال کمرے کے بڑے صوفے پر آ کر گر گئی تھی۔
یہ اس کی سزا بھی مگر انتہائی اذیت ناک اور تکلیف وہ… وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

اگلے دن شام کے قریب موسیٰ کی واپسی ہوئی تھی۔
’’السلام علیکم…‘‘ محمد خان نے فوراً سلام کیا تھا۔
’’و علیکم السلام! بٹلر آ گیا تھا۔‘‘ جواب دے کر محمد خان سے پوچھا تھا۔
’’یس سر! صبح صبح پہنچ گیا تھا۔‘‘ وہ سر ہلاتے اندر آ گیا تھا۔ گھر میں بلا کی خاموشی تھی۔ کیپ اُتار کر صوفے پر ڈالتے اس نے محمد خان کو دیکھا۔
’’بی بی کہاں ہیں؟‘‘ محمد خان بہت پُرانا ساتھی تھا۔ رجمن اور مختلف علاقوں کی پوسٹنگ کے ساتھ اکثر ملاقات رہتی تھی۔ آج کل وہ اس کے ڈرائیور کے فرائض انجام دے رہا تھا مگر کسی غمگسار دوست سے کم نہ تھا۔
’’بیگم صاحبہ تو رات ہی سے کمرے میں بند ہیں۔ میں نے کئی بار دروازے پر دستک دی مگر انہوں نے کھولا ہی نہیں۔‘‘
’’کیا مطلب…‘‘ موسیٰ ٹھٹکا تھا۔ ’’وہ رات سے کمرے میں بند ہے؟‘‘ حیران ہو کر دریافت کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ’’تمہارا مطلب ہے رات کا کھانا، ناشتہ، لنچ، ڈنر کچھ بھی نہیں…؟‘‘ تشویش سے پوچھا تو اس نے سر اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’اوہ میرے خدا۔‘‘ تشویش سے بُرا حال تھا۔
’’موسیٰ! خیال رکھنا یہ ہماری بہت پیاری چہیتی لاڈلی بہن ہے، کبھی تنہا نہیں رہی، اتنی دور بھی صرف تمہارے بھروسے پر بھیج رہے ہیں دو دن سے رو رو کر اس نے طبیعت خراب کی ہوئی ہے یہ نا ہو کہ وہاں جاتے ہی تم اپنے کاموں میں اُلجھ کر اسے بھول جائو۔ خیال رکھنا۔‘‘ جہانزیب کی آواز اسے اپنے کانوں کے قریب سنائی دی۔
’’موسیٰ! خیال رکھنا، ضدی ہے مگر دل کی بہت اچھی ہے۔ دو دن سے نہ کچھ کھا رہی ہے اور نہ پی رہی ہے، اور اوپر سے بخار بھی چڑھا لیا ہے۔ راستے میں پیار سے کچھ کھلانے کی کوشش کرنا۔‘‘ باجی زہرا کی ہدایت نے اسے مزید متوحش کر دیا اور پھر اس کو گزری رات کی اپنی ساری وحشت ناکی یاد آ گئی۔ غم و غصے کی کیفیت میں کیسے اس نے اسے بے بس کر دیا تھا ذہنی طور پر تو وہ خود بھی خاصا ڈسٹرب تھا، اوپر سے منتہیٰ کی منہ زوری نے اسے مزید بھڑکا دیا تھا اور تمام سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو گئی تھیں کیسے وہ اس کی وحشت کی بھینٹ چڑھی تھی اور ستم یہ تھا کہ موسیٰ کو اپنے سلوک پر ذرا سی بھی ندامت محسوس نہ ہوئی تھی۔ صبح ایک دفعہ ٹکرائو پر منتہیٰ کا بازو چھونے پر اس کے وجود کی حدت کا احساس ہوا تھا مگر وہ اپنے ہی نقصان کا ماتم کر رہا تھا، ذرا بھی تو توجہ نہ دی تھی اور اب یہاں آنے کے بعد بھی وہ اسے مکمل نظر انداز کر گیا تھا۔
سیالکوٹ سے ایبٹ آباد تک کی فلائٹ اور پھر بائی روڈ طویل رستہ!
موسیٰ نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب ندارد تھا۔ منتہیٰ کی جذباتی کیفیت سے اگر واقف نہ ہوتا تو اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے نقصان پر ماتم کرتے ایک طرف ہو جاتا مگر اب جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا، غصے کے ساتھ ساتھ تشویش بھی بڑھتی جا رہی تھی۔
’’محمد خان! تالے کی ایک اور چابی ہو گی؟‘‘ منتہیٰ کی طرف سے ناامید ہو کر محمد خان کو دیکھا۔
ملازمین کے سامنے عجیب شرمندگی کا احساس ہو رہا تھا۔ جی چاہ رہا تھا کہ لمحوں میں منتہیٰ نور کے حواس ٹھکانے لگا دے مگر…
’’جی سر…‘‘
’’تو جلدی لے کر آئو۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ چابیوں کا گچھا لیے چلا آیا تھا۔ موسیٰ نے تالا کھول کر دروازہ کھولا تھا۔ اندر داخل ہوا تو پہلی نگاہ بستر پر منہ کے بل دراز وجود پر پڑی۔ اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے وہ آگے بڑھا تھا۔ انداز ایسا تھا کہ بس لمحوں میں جھنجوڑ کر رکھ دے گا۔
’’منتہیٰ! غصے سے پکارتے بازو پکڑ کر ارادہ جھنجوڑ دینے کا تھا مگر موسیٰ منیر کو شدید جھٹکا لگا۔ منتہیٰ کا سارا وجود گویا آگ میں دہک رہا تھا۔ ہوش و حواس سے بیگانہ نجانے کب کی ایسے ہی پڑی ہوئی تھی۔
’’منتہیٰ…‘‘ انتہائی ضبط کا مظاہرہ کرتے اس نے اس کو سیدھا کیا تھا۔ اس کے رُخسار کو سہلایا بھی تو کوئی حرکت نہیں تھی۔ منتہیٰ کا موبائل اس کے قریب ہی پڑا ہوا تھا جہاں صبح سے لے کر اب تک سیالکوٹ سے کئی کالز اور میسجز آ چکے تھے۔ سرخ و سفید امتزاج کے لباس میں وہ اور بھی دہک رہی تھی۔ اسے سیدھا کر کے الماری سے کمبل نکال کر اس پر ڈالتے اس نے محمد خان کو آواز دی۔
’’محمد خان…‘‘
’’یس سر!‘‘
’’ہمارے بنگلے کے ساتھ جو ڈاکٹر جمشید کا بنگلہ ہے ان کو بلا لائو بیگم صاحبہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘
’’خیریت سر! زیادہ خراب ہے کیا؟‘‘
’’ہوں… اور سنو بٹلر کو کہو ٹھنڈا پانی اور کوئی پٹی بھیج دے۔ بخار بہت تیز ہے۔‘‘ پھر ڈاکٹر کے آنے تک وہ پٹیاں کرتا رہا تھا۔ ڈاکٹر جمشید نے آ کر چیک اپ کے بعد میڈیسن دیں اور انجکشن لگا دیا تھا۔ ساتھ میں مسلسل پٹیاں کرتے رہنے کی ہدایت بھی تھی۔ رات دس بجے کے قریب منتہیٰ کے بخار کا زور ٹوٹا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک کراہ کے ساتھ اس نے آنکھ کھولی تھی۔ سارا جسم پھوڑے کی طرح دُکھ رہا تھا۔
’’اماں…‘‘ اس کے لبوں سے نکلتا نام اسے شرمندگی سے دو چار کر گیا تھا۔ کچھ بھی تھا ذاتی اختلافات ایک طرف، کتنے بھروسے اور اعتماد کے ساتھ اپنی چہیتی کے انکار کے باوجود سب کے اصرار پر اس کے ساتھ رُخصت کیا تھا۔ اسے اچھی طرح علم تھا کہ اس کی طبیعت خراب ہے کل رات بھی محض ضد میں اسے اجنبی جگہ چھوڑ کر بغیر اس کی پروا کیے اس نے اپنی مصروفیات نبھائی تھیں۔ اور اب…
’’منتہیٰ…‘‘ وہ نیم غنودگی میں تھی، اس پکار پر ذرا کی ذرا پلکیں وا کی تھیں۔ کچھ دیر میں اس کی غنودگی میں فرق آیا تھا۔ بخار نے گویا ساری سدھ بدھ بھلا دی تھی۔ اپنی بیماری، اندرونی توڑ پھوڑ اور ذہنی خلفشار سے اس کے آنسو بہتے رہے۔ وہ اس کی ذرا سی نگاہ برداشت نہ کرنے والی اس وقت اس کے مکمل طور پر رحم و کرم پر تھی۔ وہ خالی پیٹ تھی اور نہایت کمزور سی موسیٰ نے بہلا پھسلا کر دودھ کا ایک گلاس پلایا تھا، ساتھ میں میڈیسن دی تھی۔ موسیٰ دوبارہ اسے غنودگی میں جاتے دیکھ کر کمبل اس پر ڈالتے مطمئن ہو کر واش روم میں گھس گیا تھا۔

موبائل فون کی تیز آواز نے منتہیٰ کو ہڑبڑا کر آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کا ذہن صورتحال کا ادراک حاصل کرتا موسیٰ عجلت میں اندر آیا تھا۔ منتہیٰ کے سرہانے رکھا موبائل فون اُٹھا کر فوراً یس کیا تھا۔
’’السلام علیکم زہرا باجی!‘‘ منتہیٰ مکمل حواسوں میں تھی۔ کمبل ہٹا کر دیکھا۔ موسیٰ کی اس کی جانب پشت تھی۔
’’جی بالکل ٹھیک ہوں… جی… ایک دم مصروف ہو گیا تھا۔ بس خیال نہیں رہا۔ جی کرنل صاحب نے راستے میں ہی کال کر لیا تھا اب کیا کرتا؟ بہت اچھا جب آپ کو ساری رپورٹ مل چکی ہے تو پھر اب اس باز پرس کا فائدہ؟‘‘ تلخی سے جھنجلا کر کہا گیا تھا۔ منتہیٰ نے خاموشی سے آنکھیں بند کر لیں۔ رات آپا سے بات ہوئی تھی تو اپنے اکیلے ہونے کا بتا دیا تھا۔ ’’اُف… اب کیا کہہ سکتا ہوں میری ڈیوٹی ہی ایسی ہے۔ پھر آپ کو ہی شوق تھا اسے میرے ساتھ روانہ کرنے کا۔ اب میں کیا کر سکتا ہوں۔‘‘ مزید تلخی سے کہا گیا تھا۔ ’’آپا پلیز… میں پہلے ہی ’’منتہیٰ نامہ‘‘ سن سن کر بیزار ہو چکا ہوں۔ میری اپنی بھی ایک زندگی ہے۔ اگر اس کے ماں باپ کو اتنا ہی احساس ہے تو اپنی لاڈلی کو پاس رکھتے۔ کیوں اماں ابا کے دبائو میں ساتھ روانہ کیا ہے؟‘‘
اتنا اجنبی اور تلخ رویہ… منتہیٰ کا دل بھر آیا۔
’’آپا کوئی نصیحت نہیں… زور و زبردستی سے ہی سہی، لے کر تو گیا ہوں، اب تو سکھ کا سانس لینے دیں۔‘‘ منتہیٰ نے لب دانتوں تلے دبا لیے۔ ’’منتہیٰ! ٹھیک ہے وہ… کچھ نہیں ہونے والا اسے… بعد میں بات کر لیجیے گا… باتھ لے رہی ہے وہ۔ تبھی تو اس کا سیل میرے پاس ہے۔‘‘ منتہیٰ حیران ہوئی اس کے جھوٹ پر۔ ’’آپ بلاوجہ تحقیقات مت کرتی رہا کریں۔ اُف! کہا نا وہ باتھ روم میں ہے… آپا پلیز وہ آپ کی اگر نند ہے تو میں بھی آپ کا بھائی ہوں سگا اتنی بے اعتباری کس بنیاد پر ہے آخر۔‘‘ آخر میں وہ زچ ہی تو ہو گیا تھا۔ ’’آپا وہ اب میری بیوی ہے۔ یاد رکھیے گا۔‘‘ کہتے ہوئے وہ پلٹا تھا۔ منتہیٰ کو جاگتے دیکھ کر ٹھٹکا۔ پھر سر جھٹکا۔ ’’اچھا آپا… پھر بات ہو گی… میں خود ہی کال کر لوں گا… بے فکر رہیں کیوں نہیں… اُف! اچھا… اچھا… سیز فائر… لڑائی کا قطعی موڈ نہیں پھر بات ہو گی۔ آپ کو تو مجھ سے گلے ہی رہتے ہیں کبھی میرا بھی حاصل دریافت کر لیا کریں۔ میں بھی اتنا ہی مظلوم ہوں… اوکے اللہ حافظ۔‘‘
منتہیٰ اسے یکسر نظر انداز کیے کمبل ہٹا کر بستر سے نکلی تھی۔ کہنے کو تو وہ ابھی ایک پل میں محاذ کھول لیتی مگر فائدہ اس انسان میں انسانیت ہی نہیں تھی، وہ اس کے سب سلوک دیکھ اور برت چکی تھی۔ کھڑے ہو کر ارادہ باتھ روم جانے کا تھا مگر دوسرے قدم پر ہی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔ تین دن سے خالی پیٹ تھی، بیماری، بھوک، کمزوری، یہ حال تو ہونا ہی تھا۔ منتہیٰ نے گرنے سے بچنے کے لیے اطراف میں ہاتھ بڑھایا مگر سہارے کے لیے کچھ ہوتا تو ہاتھ آتا۔ موسیٰ جو دیکھ رہا تھا اس نے فوراً آگے بڑھ کر تھام لیا۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ وہ موسیٰ کے بازو کو جکڑے، کندھے پر سر رکھے خود کو سنبھال رہی تھی۔ اس آواز پر چونک کر سنبھلی۔ سر اُٹھا کر خالی نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ خاصی تشویش سے دیکھ رہا تھا۔ منتہیٰ کو کچھ پل میں بے پناہ قربت کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹی۔ شرمندگی، خجالت، غم و غصے سمیت نجانے کس کس احساس نے آ کر اس سے قلب و ذہن کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
’’چھوڑو مجھے… چیختی ناگوار آواز تھی موسیٰ اس قدر عزت افزائی پر ششدر رہ گیا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ غصے سے پیچھے دھکیلتے وہ بھی غرّایا۔ ’’مجھے کوئی شوق نہیں تمہیں چھونے کا…‘‘ بڑا توہین آمیز انداز تھا۔ منتہیٰ تو انا پر مر مٹنے والی تھی، حالت اس قدر خراب نہ ہوتی تو وہ کہاں اس شخص کو برداشت کرتی۔ کہاں اس کا احسان لیتی۔ اس کے ہاتھوں کو جھٹکتے وہ نفرت سے پیچھے ہٹی تھی۔
’’ہاں جانتی ہوں کتنا اعتبار ہے تمہیں خود اپنے پر… مجھ سے بہتر کون جانتا ہو گا تمہیں…‘‘ ایسی چوٹ تھی کہ موسیٰ ایک دم سلگ اُٹھا۔
’’تم حد سے گزر رہی ہو منتہیٰ!‘‘ بے پناہ اشتعال انگیزی سے باور کروایا تھا۔
’’مجھے حد کی بات نہ سنائو۔ اگر حد کی بات ہوتی تو میں اس وقت اس اجنبی جگہ بیٹھی رو رہی نہ ہوتی؟ میرے ارد گرد میرے اپنوں کا ہجوم ہوتا۔ تمہیں کیا پتا موسیٰ منیر حد سے گزرنا کسے کہتے ہیں؟‘‘ وہ اس سے زیادہ غصے سے بھڑکی تھی، نقاہت کی وجہ سے آواز میں کپکپاہٹ تھی مگر وہ اس کے سامنے اب خود کو مزید ارزاں نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔ ’’میں اپنوں کی محبتوں کی وجہ سے مجبور ہوں جو ادھر آ گئی ہوں ورنہ تمہارے ساتھ ساری عمر رونے سے بہتر ہے کہ میں کچھ کھا کر مر جائوں۔‘‘ نفرت ہی نفرت تھی۔ موسیٰ منیر لب بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ نقاہت سے ہانپتی کانپتی آواز میں وہ اسے سنا رہی تھی۔ اس نے اسے کچھ کہنا چاہا مگر پھر لب بھینچ کر اس پر ایک تیز غصیلی نگاہ ڈال کر کمرے سے نکل گیا تھا اور منتہیٰ بے دم سی دوبارہ بستر پر گر گئی تھی۔

دو تین دن میں اس کی طبیعت بھی بحال ہو گئی تو اپنی تنہائی سے گھبرا کر اس نے خود کو گھر داری میں مصروف کرنا چاہا۔ محمد خان اور بٹلر کی موجودگی میں اس کے لیے کرنے کو کچھ باقی نہیں رہتا تھا۔ کچن بٹلر کے ذمے اور باہر کی ذمہ داریاں محمد خان کے سپرد تھیں۔ اس گھر میں اتنا سامان تھا نہیں کہ وہ خود کو چیزوں کو درست کرنے یا سلیقے سے سجانے میں مصروف رکھتی۔ بیڈ روم میں بیڈ الماری اور ہال کمرے میں صوفوں کے علاوہ باقی ضرورت کا ہلکا پھلکا فرنیچر تھا۔ ہاں کچن میں ضرورت کا سامان تھا۔ ان سے بھی وہ کب تک دل بہلاتی۔ وہ بھرے پرے گھر سے آئی تھی، اماں کو نوکروں سے کام کروانا بہت بُرا لگتا تھا۔ میکے، سسرال دونوں جگہوں میں ہی ملازم نہ تھے، سب کام خود ہی کرنے پڑتے تھے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کی عادت تھی ہی نہیں۔ موسیٰ کا وہی معمول تھا۔ صبح کا گیا رات گئے لوٹتا، دونوں ہی ایک دوسرے سے پہلو بچانے کی کوشش میں تھے۔

وہ کل پانچ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ منتہیٰ سب سے چھوٹی اور گھر بھر کی لاڈلی تھی، بھانجے بھانجیوں اور بھتیجے بھتیجیوں کی ایک فوج تھی۔ منیر چاچا کا گھر گائوں میں ان کے پڑوس میں تھا۔ منیر چاچا کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں باجی زہرا سب سے بڑی تھیں پھر نواز بھائی اور دو بیٹیوں کے بعد موسیٰ اور سب سے چھوٹی عیشہ تھی۔ ابا اور چچا منیر کا بچپن سے بھی بڑا پیار تھا۔ چاچا منیر ملازم آدمی تھے جبکہ ابا کی اپنی زمینیں تھیں جو انہوں نے ٹھیکے پر دے رکھی تھیں۔ اماں ابا بہت زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے مگر انہوں نے اپنا شوق اپنی اولاد کو پڑھا لکھا کر پورا کیا تھا۔ وقت کے تقاضوں کے مطابق ساری اولاد کو ہی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔ بڑے بھائی کی شادی منیر چاچا کی زہرا باجی سے ہونے سے بڑوں کا محبت بھرا یہ تعلق رشتہ داری میں بدل گیا تھا۔ زہرا بھابی بہت اچھی اور سلیقہ مند واقع ہوئی تھیں۔ اس گھر کو انہوں نے احسن ذمہ داری اور سلیقہ مندی سے سنبھالا تھا سب ان کے گرویدہ ہو گئے تھے۔ زہرا بھابی کی تو وہ کچھ زیادہ ہی چہیتی تھی مزید ان کے بچوں نے کسر پوری کر دی تھی۔ جہانزیب بھائی عیشہ کو پسند کرتے تھے، اماں ابا نے بھائی کی خواہش پر عیشہ کا رشتہ منیر چاچا سے مانگا تو انہوں نے جواباً اپنے کیپٹن بیٹے موسیٰ منیر کے لیے منتہیٰ نور کا رشتہ مانگ لیا۔ اماں ابا کو بظاہر تو کوئی انکار نہیں تھا مگر سوچ کر جواب دینے کو کہا۔ منتہیٰ کو پتا چلا تو اس نے زمین آسمان ایک کر دیا۔
’’موسیٰ سے شادی سے بہتر ہے میں زہر کھا لوں۔‘‘ وہ ایسی ہی منہ پھٹ تھی۔ زہرا بھابی کو بڑا بُرا لگا۔
’’کیوں کیا خرابی ہے موسیٰ میں؟‘‘
’’یہ پوچھیے کیا خوبی ہے آپ کے بھائی میں؟ مجھے تو وہ منیر چاچا کا بیٹا لگتا ہی نہیں۔ سارا بچپن تو اس نے میرے ساتھ دشمنیاں پالتے گزارا ہے، دنیا میں اور لڑکے ختم ہو گئے ہیں کیا؟‘‘ اس نے خاصے تیکھے پن سے کہا تھا۔ بھابی ہنس دیں۔
’’اب ایسا بھی نہیں… لاکھوں میں ایک ہے میرا بھائی! کیپٹن ہے۔ ترقی کے مواقع ہیں جو بھی لڑکی آئے گی عیش کرے گی۔‘‘ انہوں نے بڑی محبت سے کہا تھا وہ جل بھن گئی۔
’’ہاں تو کروائیں عیش، مجھے تو بخشیں۔ میں نے اول تو ابھی شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں اگر ایسا ہوا بھی تو کم از کم وہ موسیٰ منیر نہیں ہو گا۔‘‘ صاف جواب تھا۔
’’کیوں…‘‘
’’بھابی پلیز! آپ میرے اور موسیٰ کے تعلق کو اچھی طرح جانتی ہیں۔ ساری زندگی ہماری ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہتے گزری ہے۔ میں زمین ہوں وہ آسمان… ہمارے خیالات، احساسات ہر چیز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں تو اس کے لیے انتہائی ناقابل برداشت ہوں۔ ہم ایک جگہ اکٹھے بیٹھ کر سکون سے ایک منٹ نہیں گزار سکتے، آپ لوگ ساری زندگی کی بات کرتے ہیں۔ ہر گز نہیں… ناممکن۔‘‘
’’مگر منتہیٰ! ہم سب کی خواہش ہے۔‘‘
’’مگر میری نہیں اور مجھے یقین ہے موسیٰ منیر بھی ایسا نہیں چاہے گا۔‘‘ زہرا بھابی خاموش ہو گئی تھیں۔ بظاہر یہ رشتے والی بات دب گئی تھی عیشہ اور جہانزیب کی منگنی کے بعد تو وہ مطمئن ہو گئی تھی کہ اماں ابا نے اس کے مؤقف کو سمجھ لیا ہے۔
گائوں میں رہائش ہونے کے باوجود ان کے گھروں میں ہر چیز موجود تھی۔ دنیا کی ہر سہولت تھی۔ مشترکہ خاندانی سسٹم تھا سارے بھائی اور ان کی اولادیں اکٹھی تھیں۔ باجیاں اپنے اپنے گھروں میں اب صرف وہ اور جہانزیب ہی بیاہنے والے رہ گئے تھے۔
وہ اور عیشہ ماسٹر کر رہی تھیں۔ روز سیالکوٹ جاتی تھیں۔ عیشہ کی شادی اس کے ایگزیمز کے بعد طے تھی جبکہ منتہیٰ کے انکار کے بعد اماں ابا نے دوبارہ اس کی شادی کا موضوع نہیں چھیڑا تھا۔ اس دن وہ تیار ہو کر عیشہ کو لینے سامنے گھر آئی تو سامنے چاچی تخت پر براجمان ملیں۔
’’السلام علیکم… چاچی!‘‘
’’و علیکم السلام… بیٹھو۔‘‘ انہوں نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں چاچی! دیر ہو رہی ہے۔ عیشہ کدھر ہے؟ ابھی تک آواز نہیں دی میں انتظار کرتے کرتے نکلی ہوں، وین آ گئی ہو گی۔‘‘
’’پتا نہیں تیار تو ہو گئی تھی۔ اندر کہیں ہو گی تو خود دیکھ لے۔‘‘ منتہیٰ نے کوفت سے کلائی کی گھڑی دیکھتے فٹا فٹ اندر کی طرف قدم بڑھائے۔
’’عیشہ…‘‘ وہ سیدھی اس کے کمرے کی طرف آئی تھی۔
’’عیشہ… عیشہ…‘‘ اس نے جیسے ہی پردہ ہٹایا تھا عیشہ کے بجائے موسیٰ منیر کو سامنے دیکھ کر حیران ہوئی۔ ’’یہ کب آئے؟‘‘ دل میں سوچا۔ پھر اردگرد جھانکا۔ ’’عیشہ کہاں ہے؟‘‘ بغیر اس کو کوئی اہمیت دئیے لٹھ مار انداز میں پوچھا۔
’’دو مسلمان جب آپس میں ملیں تو سلام کرنا فرض بنتا ہے۔‘‘ موسیٰ کا وہی انداز تھا۔ منتہیٰ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’جی ضرور السلام علیکم عیشہ…‘‘ ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اُچھال کر سلام کہہ کر اس نے پھر آواز دی۔
’’و علیکم السلام! وہ میرے کمرے میں ہے۔‘‘ اس کی طرف دیکھتے اس نے سکون سے جواب دیا تو وہ چونکی۔
’’کیوں؟‘‘
’’میرے کپڑے پریس کر رہی ہے۔‘‘ اب کے اسے غصہ آیا۔
’’اُف… ہمیں دیر ہو رہی ہے، وین والا کب سے آیا کھڑا ہے، اس گھر میں کوئی اور نہیں رہتا، کسی سے بھی پریس کروا لیتے۔ صبح صبح لیٹ کروا کر رکھ دیا ہے۔‘‘ وہ کوفت سے دو چار ہوتی کچھ غصے سے کہتی پلٹی تھی۔
’’سنو…‘‘ وہ پلٹی سر سے پھسلتا دوپٹہ دوبارہ سر پر جمایا مگر موسیٰ کی نگاہیں دوپٹے سے جھانکتی اس کی دراز چوٹی کے بلوں پر اٹک گئیں۔
’’جی فرمائیے اب کیا حکم ہے؟‘‘ خاصے تیکھے پن سے پوچھا تھا۔
’’نہیں رہنے دو، اس وقت تو تم لوگوں کو دیر ہو رہی ہے پھر کبھی سہی۔ میں عیشہ کو بلواتا ہوں۔‘‘ بڑی شرافت سے وہ کہہ کر اس کے سامنے سے نکل گیا تھا اور منتہیٰ حیرت زدہ رہ گئی خود ہی روک کر اب بنا بات کیے چلا گیا تھا۔ دوسرا اتنا پُرسکون انداز وہ دونوں تو عام حالات میں بھی جنگ و جدل کی کیفیت میں رہتے تھے۔ منتہیٰ کو اس کا انداز ہضم نہ ہوا۔ عیشہ کو آتے دیکھ کر اس نے جھٹکا۔
’’کہاں مر گئی تھیں تم… اتنی لیٹ ہو گئی ہیں ہم… اب وہ وین والا سو نخرے کرے گا اور تم کر کیا رہی تھیں؟‘‘ اب کے اس نے غصے سے اسے لتاڑا۔
’’آرام سے سکون سے… ایک تو تم بنا رُکے شروع ہو جاتی ہو۔‘‘ اپنی کتابیں لے کر وہ فوراً چادر اوڑھ کر اس کے ساتھ کمرے سے نکل آئی تھی۔ ’’اچھا اماں! ہم جا رہی ہیں ناشتہ تیار کر دیا ہے۔ موسیٰ بھائی کو کہیے گا کہ کر لیں اور نواز بھائی کو بھی…‘‘ اماں سے کہہ کر وہ اس کے ساتھ گھر سے نکل آئی تھی۔ وین والا کھڑا تھا۔ سو باتیں سننی پڑی تھیں اس کی۔ منتہیٰ نے بھی دس سنا کر سیٹ سنبھالی تو عیشہ اس کے سوجے منہ کو دیکھ کر مسکرا دی۔
’’بات نہیں کرو مجھ سے صرف تمہاری وجہ سے اس ’’کالو‘‘ کی سو باتیں سننی پڑ گئی ہیں۔‘‘
’’صبح موسیٰ بھائی آئے تھے، انہیں فوراً گھنٹے بعد کہیں کام کے لیے جانا تھا۔ بس ان کے لیے ناشتہ تیار کرنے اور کپڑے پریس کرنے میں دیر ہو گئی۔ رات سے ساجدہ بھابی بھی میکے گئی ہوئی ہیں۔ تو تمہیں پتا ہے موسیٰ بھائی کی پسند کا ناشتہ تیار کرنا اماں کے بس کا کام نہیں۔‘‘ اس نے کہا تو وہ سر جھٹک گئی۔ موسیٰ کے ذکر پر اس کا ہمیشہ یہی انداز رہا تھا۔ اس کی موسیٰ سے کوئی خاص دشمنی نہ تھی مگر نجانے کیوں وہ اسے شروع سے ہی اچھا نہیں لگتا تھا۔ شروع سے ہی اسے موسیٰ سے چڑ تھی۔ کبھی بنی ہی نہ تھی۔ اور جب سے رشتے کی بات چلی تھی تو وہ اس سے کچھ زیادہ ہی خار کھانے لگی تھی۔

رات کھانے کے بعد عیشہ اور موسیٰ چلے آئے تو سب سے مل کر جہانزیب اور موسیٰ کا چہل قدمی کا پروگرام بنا تھا۔ جہانزیب نے ساتھ چلتے ہوئے انہیں بھی پیش کش کی تو وہ فوراً تیار ہو گئیں۔ اماں سے اجازت لے کر وہ بچوں کو ساتھ لیے ان کے ساتھ ہی چلی آئی تھیں۔ بچے اودھم مچا رہے تھے وہ کھیتوں کی طرف نکل آئے تھے۔ چاندنی رات تھی ہر سو روشنی بکھری پڑی تھی۔ وہ اور عیشہ دونوں ٹیوب ویل کے ساتھ کی دیوار پر چڑھ کر بیٹھ گئی تھیں جبکہ بچے کھیتوں میں آنکھ مچولی کھیلنے لگ گئے تھے۔
’’کتنی اچھی رات ہے۔‘‘ عیشہ نے چاند کی طرف دیکھ کر کہا تو وہ ہنس دی۔ ’’جہانزیب بھائی کا ساتھ ہے تمہیں تو اچھی لگے گی ہی نا۔‘‘ اس نے چھیڑا تو وہ جھینپ گئی۔
’’کیوں نہیں۔‘‘
’’میں بھی کہوں آج تمہارا دل باہر چہل قدمی کو کیسے مچل گیا ہے۔ خوب موقع ڈھونڈا ہے تم نے۔‘‘ وہ کہاں باز آنے والی تھی۔
’’ہاں بڑا اچھا موقع دے رہے ہو تم اور موسیٰ بھائی! تم نے تو مجھے اپنے پہلو میں بٹھا رکھا ہے اور موسیٰ بھائی نے اسے۔‘‘ وہ بھی شرارت سے گویا تھی۔
’’ہائیں… اتنا بڑا الزام؟ دفع ہو جائو، جا رہی ہوں میں… مرو تم… ایک تو تمہاری وجہ سے سارے کام چھوڑ کر آئی ہوں اوپر سے یہ الزام تمہارا بھائی ہے، جیسے مرضی اسے یہاں سے دفع کرو۔ میں آم کے باغ میں جا رہی ہوں خبردار میرے پیچھے آئیں تو۔‘‘ وہ فوراً بُرا مان کر وہاں سے اُٹھی تھی۔
’’رُکو تو… منتہیٰ! رُکو…‘‘ وہ آوازیں دیتی رہ گئی تھی مگر وہ اب کہاں رُکنے والی تھی۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ موسیٰ اور جہانزیب قریب ہی تھے اس کے آوازیں دینے پر فوراً چلے آئے تھے۔
’’منتہیٰ اکیلی آموں کے باغ میں چلی گئی ہے ناراض ہو کر۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بس ہماری کسی بات پر بحث ہو گئی تھی۔‘‘
’’میں دیکھتا ہوں۔‘‘ جہانزیب نے کہا تو وہ دونوں بہن بھائی بھی ساتھ ہو لیے۔ باغ میں آئے تو وہ بچوں سمیت باغ میں تھی۔
’’توبہ ہے، تم نے تو ڈرا کر رکھ دیا تھا۔‘‘ عیشہ نے سکون کا سانس لیا۔
’’میرے سامنے ہی بچے ادھر گھسے تھے سو میں بھی ادھر آ گئی تھی۔‘‘ اس نے بے پروای سے سر جھٹکا۔
’’تمہیں تو موقع دیا تھا اب کیوں ادھر آ گئی ہو؟‘‘ وہ جیسے ہی قریب آئی اس نے طنز کیا۔
’’میں باز آئی بابا ایسے موقعوں سے۔‘‘ اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ موسیٰ اور جہانزیب خاموشی سے ادھر ہی ٹہلنے لگے۔ کچھ دیر میں بچوں کو لے کر وہ لوگ واپس پلٹ آئے تھے۔
’’آئو تمہیں بہت اچھی چائے پلائوں گی۔‘‘ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر عیشہ نے پیش کش کی تھی۔
’’میں اکیلی نہیں ہوں۔‘‘ اس نے جہانزیب اور بچوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔
’’بچوں کو گھر بھیجو اور آ جائو۔‘‘ موسیٰ اور جہانزیب پیچھے آ رہے تھے۔ اس لیے بچوں کو اس نے گھر بھیجا تھا تب تک وہ دونوں بھی دروازے تک پہنچ گئے تھے۔
’’چلو بھئی… اب کیا ارادہ ہے؟‘‘ جہانزیب نے منتہیٰ کو دیکھا۔
’’میں چائے پلا رہی ہوں آپ دونوں پی کر جائیے گا۔‘‘ عیشہ اس کا بازو پکڑ کر اندر لے گئی تو جہانزیب بھی چلا آیا تھا۔
’’ساجدہ بھابی رہنے گئی ہیں کیا؟‘‘ وہ اس کے ساتھ ہی کچن میں چلی آئی تھی۔ عیشہ نے چائے بناتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ایک بات پوچھوں؟‘‘ چائے بنا کر مگوں میں ڈالتے عیشہ نے پوچھا تو وہ چونکی۔
’’ہاں پوچھو؟‘‘
’’تم نے موسیٰ بھائی کے لیے انکار کیوں کیا تھا؟‘‘ کئی دنوں بعد اس کے لبوں پر پھر وہی سوال تھا جو وہ بارہا پوچھ چکی تھی۔
’’میری مرضی… تم کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘
’’میری بھی مرضی…‘‘ اس نے اس کے جواب پر ناراضگی سے جتایا اور اس کو مگ تھما کر باہر کی راہ لی تھی۔ ’’تم میرے کمرے میں چل کر بیٹھو۔‘‘ وہ جاتے جاتے ہدایت دے گئی تھی۔
وہ بڑے آرام سے اس کے بستر پر نیم دراز چائے کی چسکیاں لے رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی وہ چونکی۔
’’اپنے کمرے میں آنے کے لیے تمہیں کب سے دستک کی عادت پڑ گئی ہے۔ ’’بغیر نشست بدلے وہ بولی تھی مگر عیشہ کے بجائے موسیٰ کی صورت دیکھ کر وہ ایک پل میں سیدھی ہوئی تھی۔ سوالیہ نظروں سے موسیٰ کو دیکھا۔
’’مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘ وہ پھر بھی کچھ بھی بولے بغیر دیکھے گئی۔ ’’تم نے میرے لیے انکار کیوں کیا تھا؟‘‘ بغیر تمہید کے اس نے براہِ راست سوال کیا۔
’’میری مرضی۔‘‘
’’میں وجہ پوچھ رہا ہوں منتہیٰ!‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی سے ٹوکا تھا۔
’’بس تم مجھے پسند نہیں ہو۔‘‘ موسیٰ کے لیے اس کا وہی دو ٹوک صاف انداز تھا۔ بے لحاظ سا، بے لچک۔
’’کیوں؟‘‘ بڑا شدید احتجاج ہوا تھا۔ اسے شاید اتنی صاف گوئی کی اُمید نہ تھی۔
’’میری مرضی۔‘‘
’’منتہیٰ۔‘‘ اس نے کچھ تیزی سے ٹوکا تو وہ اس سے زیادہ تیزی سے بولی۔
’’چلاّئو مت موسیٰ منیر! کسی کو رد کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی خاص وجہ بھی ہو اور میں دل میں کینہ رکھنے والی لڑکی نہیں ہوں۔ تم سے میری ذہنی مطابقت نہیں ہے، ہم دونوں کی سوچ میں بلا کا تضاد ہے۔ ہم دونوں عام حالات میں مل بیٹھ کر گزارا کرنے والے انسان نہیں تو پھر ساری زندگی گزارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سب سے بڑی وجہ یہ کہ میں تمہیں جیون ساتھی کی حیثیت سے پسند نہیں کرتی بس۔‘‘ اس نے بے پروائی سے کہتے ہوئے کندھے اچکائے تھے، اور یہ سوچے بغیر کہ اس کے ذرا سے الفاظ کسی کے اندر کس قسم کے جذبات پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی کی نظر میں اپنا آپ رد ہو جانا، موسیٰ منیر نے بڑے ضبط سے اسے دیکھا۔
’’بہت اچھی بات ہے۔ میں بھی بس یہ بات صاف کرنا چاہتا تھا۔ زہرا باجی کے بقول تم سے شادی کر کے ایک اچھی زندگی گزر سکتی ہے۔ جبکہ میں ایسا نہیں سمجھتا بظاہر تمہارے انکار سے یہ موضوع ختم ہو چکا ہے مگر بڑوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے، میں بے خبر ہوں، ہاں تمہیں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم نے اب انکار کیا ہے آئندہ بھی کوئی ایسی صورتحال ہوئی تو انکار کر دینا۔ میں خود بھی تم جیسی لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ اس نے بھی بڑے پُرسکون انداز میں کندھے اچکائے تھے اور اس کے انداز نے منتہیٰ کو بڑی ہتک سے دو چار کیا تھا۔
’’ہاں تو ہر دفعہ میں کیوں انکار کروں تم خود کر لینا۔‘‘ اس نے سلگ کر کہا تھا۔ ’’اور ’’تم جیسی لڑکی‘‘ سے کیا مراد ہے تمہاری؟ کیسی لڑکی ہوں میں؟‘‘ موسیٰ کے الفاظ سے اسے بڑی توہین محسوس ہوئی تھی۔
’’ہاں انکار تو میں نے پہلی بار بھی کیا تھا اور آئندہ بھی کروں گا اور تم جیسی لڑکی سے مراد وہی مطلب ہے جیسا تمہارے ذہن میں میرے بارے میں تاثر ہے۔ ہاں چند الفاظ کا اضافہ ضرور کروں گا۔ میں ایک پُرسکون اور مطمئن زندگی گزارنے کے لیے شادی کرنا چاہوں گا ناکہ عمر بھر کا نقصان اپنے مقدر میں لکھوا لوں؟ اور تم سے شادی کرنے کا مطلب ہے عمر بھر کا خسارہ، ذہنی اذیت اور خلفشار…‘‘ بڑے سکون سے وہ منتہیٰ نور کی ذات کے پرخچے اُڑا گیا تھا اور وہ ششدر رہ گئی تھی۔
’’اور تم خود کیا ہو؟ اچھی شکل و صورت کا غرور ہی کم نہیں ہوتا۔ ایک اچھی جاب پر فائز ہو تو ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ تم سے شادی کے نہ میں نے خواب دیکھے ہیں اور نہ ہی ایسی نوبت آئے گی۔ ساری عمر میں نے رونا نہیں ہے۔‘‘ وہ کیوں چپ رہتی اس سے زیادہ تلخی سے بولی تھی۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘ وہ غصے سے بولا تھا۔
’’تم بھی بکواس بند کرو۔‘‘ اس نے لب بھینچ کر اسے گھورا وہ بھی بنا لحاظ کیے اسے گھور رہی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ دونوں کو اس قدر بڑے انداز میں دو بدو تلخ کلامی کرتے دیکھ کر عیشہ فوراً اندر آئی تھی۔ منتہیٰ نے اسے گھورا۔
’’عیشہ اپنے بھائی کو سمجھا لو، آئندہ میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی راہ الگ ہے اور میری الگ۔ شادی سے انکار میرا شرعی حق تھا جو میں نے استعمال کیا۔ یہ اونچے عہدے پر فائز ہے یا شکل صورت اچھی ہے تو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ جب ذہن ہی نہ ملتے ہوں تو بڑوں کی سوچ کوئی معنی نہیں رکھتی۔ دونوں طرف بہترین متبادل مل سکتے ہیں اور مل بھی جائیں گے میں نے انکار کر دیا تو میرا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں تھا، اگر اس نے توہین سمجھ کر مجھ سے باز پرس کی ہے تو یہ اس کا ذہنی خلل ہے۔ آئندہ یہ میری راہ میں آنے یا بات کرتے ہوئے سو بار سوچ لے۔‘‘ غصے سے موسیٰ کو دیکھتے عیشہ سے کہتی وہ بستر سے اُتر آئی تھی۔ موسیٰ پر منتہیٰ کے الفاظ نے کسی اور ہی انداز میں اثر کیا تھا۔
’’مائی فٹ! یہاں کون مر رہا ہے تمہارے لیے؟‘‘
’’تو پھر اس سارے ڈرامے کا مقصد؟‘‘ انتہائی سلگ کر پوچھا تو وہ ایک دم غصے سے بے قابو ہوا تھا۔
’’تم انتہائی بدتمیز اور بدتہذیب لڑکی ہو۔‘‘ منتہیٰ زہر خند انداز میں ہنس دی۔
’’شکریہ اور کوئی ارشاد…‘‘ وہ غصے سے گھورتا پائوں پٹختے وہاں سے چلا گیا تو اس نے بھی سر جھٹکا۔ عیشہ نے بڑی بے چارگی سے اسے دیکھا۔
’’موسیٰ بھائی نے ویسے ہی پوچھ لیا ہو گا، تم نے خوا مخواہ بُرا منا لیا۔
’’اب تم میرا دماغ چاٹنے نہ بیٹھ جانا اور اپنے بھائی کو اچھی طرح سمجھا دو آئندہ اس نے میرے ساتھ اُلٹی سیدھی بات کی تو میں سیدھا چاچا جی کے پاس چلی آئوں گی۔ ڈرتی نہیں ہوں کسی سے۔‘‘ غصے سے اسے جواب دے کر وہ جہانزیب کا بھی انتظار کیے بغیر وہاں سے نکل آئی تھی۔
اس کے بعد موسیٰ منیر کا جب بھی گائوں آنا ہوا دونوں کے درمیان عجیب سی سرد جنگ چھڑ گئی تھی۔ دونوں میں سے کوئی ایک چلتے پھرتے کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتا کہ دوسرا فریق اپنی جگہ سلگتا رہ جاتا تھا۔

اس دن وہ عیشہ کے ساتھ کالج کے میدان میں اپنے گروپ سمیت بیٹھی ہوئی تھی۔ ماہ جبیں اپنی بہن کی منگنی کی تصاویر لے کر آئی تھی وہ سب مل کر ہر تصویر پر تبصرے کر رہی تھیں۔
’’واہ، زبردست، بڑی پیاری لڑکی ہے کون ہے؟‘‘ ستارہ ایک تصویر کو دیکھ کر ماہ جبیں سے پوچھ رہی تھی۔ لڑکی واقعی بہت پیاری تھی۔ منتہیٰ نے سر اُٹھا کر ماہ جبیں کو دیکھا۔
’’ یہ فاروق بھائی (بہن کا منگیتر) کی بہن ہے۔ اپیا کی نند نتاشہ۔‘‘ ستارہ نے تصویر پلٹی تھی۔ اگلی تصویر دیکھ کر جہاں عیشہ چونکی تھی وہیں وہ بھی حیران ہوئی تھی۔
’’یہ لڑکا کون ہے؟‘‘ ستارہ پوچھ رہی تھی دونوں نے پھر ماہ جبین کو دیکھا۔
’’ویسے تو یہ فاروق بھائی کے دوست ہیں، ان کے ساتھ ہی آرمی میں ہوتے ہیں۔ فاروق بھائی کی منگنی والے دن ہر کام میں پیش پیش رہے تھے۔‘‘ منتہیٰ نے موسیٰ کی تصویر پر ایک دفعہ پھر نگاہ ڈالی اور پھر بے پروائی سے اگلی تصویر پلٹ دی مگر اگلی تصویر دیکھ کر وہ دونوں ٹھٹکی تھیں۔
’’یہ لڑکا لگتا ہے کچھ زیادہ ہی تمہارے بہنوئی کی فیملی کے ساتھ انولو ہے۔‘‘ ستارہ تصویر کو دیکھ کر تبصرہ کر رہی تھی۔ منتہیٰ کے چہرے پر نجانے کیوں اک استہزائیہ سی مسکراہٹ آئی تھی، اس نے مسکرا کر عیشہ کو دیکھا تو وہ نظر چرا گئی۔ منتہیٰ نے دوبارہ تصویر کو دیکھا۔ وہ لڑکی نتاشہ اور موسیٰ ساتھ کھڑے تھے۔ بڑا مسکراتا ہوا کلوز اپ تھا۔
’’ویسے مزے کی بات بتائوں، نتاشہ بہت پسند کرتی ہے اس کو۔ نتاشہ کیا، فاروق بھائی کی پوری فیملی موسیٰ کی دیوانی ہے۔ انکل آنٹی تو نتاشہ اور اس لڑکے کے بارے میں خاصے سنجیدہ ہیں۔ یہی حال نتاشہ کا بھی ہے۔‘‘
’’اور موسیٰ… وہ کیا چاہتا ہے؟‘‘ ماہ جبین کے انکشاف پر ایک دم اس کے لبوں سے پھسلا تھا۔
’’وہ تو مجھے نہیں معلوم مگر فاروق بھائی کی فیملی کی خواہش سے بے خبر تو نہیں ہو گا موسیٰ۔ جس طرح یہ دونوں اکٹھے تصویر میں کھڑے ہیں، اندازہ لگا لو۔‘‘ اس نے مسکرا کر کندھے اچکائے تو عیشہ نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر پھر بھینچ لیے۔ کسی کو بھی اس نے نہیں بتایا تھا کہ یہی موسیٰ اس کا بھائی ہے۔ آگے بھی کئی تصاویر میں موسیٰ اس لڑکی کے ساتھ تھا۔ منتہیٰ کے ساتھ عیشہ کو بڑی شرمندگی ہو رہی تھی، وہ تو پہلے ہی موسیٰ سے بدظن تھی اب رہی سہی کسر ان تصاویر نے پوری کر دی ہو گی۔
’’ماہ جبین یہ تصاویر ایک دن کے لیے مجھے دو گی؟‘‘ بہت پیاری تصاویر ہیں۔ میں گھر میں دکھائوں گی۔‘‘ عیشہ کے کہنے پر منتہیٰ نے تعجب سے اسے دیکھا۔ دو دن سے موسیٰ آیا ہوا تھا۔ ایسے میں ان تصاویر کے مانگنے کا نجانے کیا مطلب تھا۔
’’کیوں نہیں، ضرور لے جائو۔‘‘ اس نے فوراً ہامی بھری تھی۔
’’شکریہ…‘‘ وہ مشکور ہوئی۔
’’تم نے یہ تصویریں کیوں لی ہیں؟‘‘ واپسی میں منتہیٰ نے پوچھا تھا۔
’’موسیٰ بھائی ادھر ہی ہیں، ان سے پتا کروں گی کہ یہ کیا چکر ہے۔ یہاں ہم لوگ کیا کچھ سوچے بیٹھے ہیں اور ادھر کوئی اور ہی کہانی ہے۔ ایک تصویر کی بات ہوتی تو میں در گزر کر جاتی مگر یہاں تو پورا البم ہے۔‘‘
’’چھوڑو یار! اس کی زندگی ہے وہ جیسے مرضی گزارے پھر اپنے لیے جیون ساتھی کے انتخاب کا ہر انسان کو حق حاصل ہے۔ اگر اس نے ایسا کر لیا ہے تو کیا مضائقہ ہے؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ اتنی پیاری اور امیر کبیر فیملی سے بھابی مل رہی ہے تمہیں۔‘‘
’’یہ تم کہہ رہی ہو؟ حیرت ہے۔ تمہاری تو بھائی سے ازلی دشمنی ہے۔ اتنے نیک خیالات کس لیے؟‘‘ طنز سے پوچھا تو وہ ہنس دی۔
’’میری اس سے کوئی دشمنی نہیں اور جو حق پر ہے، اس کا ساتھ دیتی ہوں۔‘‘ وہ سر جھٹک گئی۔ چند لمحے بعد پھر منتہیٰ کو دیکھا۔
’’مگر منتہیٰ! ہم لوگ اب بھی صرف تمہیں ہی موسیٰ کے لیے اپنے گھر لانا چاہتے ہیں۔ تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ تمہارے انکار سے سب نے وقتی طور پر خاموشی ضرور اختیار کر لی ہے مگر ہمارے بڑوں میں یہ طے ہو چکا ہے کہ تمہاری شادی موسیٰ سے ہی ہو گی۔‘‘ اس نے منتہیٰ کے اعصاب پر دھماکہ کیا تھا۔
’’کیا بکواس ہے یہ…‘‘
’’بکواس نہیں حقیقت ہے۔ بھلے زہرہ باجی سے پوچھ لینا۔‘‘ منتہیٰ لب بھینچے اسے دیکھے گئی۔
’’اگر یہ سچ ہوا تو…‘‘ اس کے دل و دماغ میں اک جنگ سی چھڑ گئی تھی۔ اچانک کچھ خیال آنے پر اس نے عیشہ کو دیکھا اور پھر اس کی گود میں پڑے تصاویر والے البم کو۔
’’یہ تصاویر تم مجھے دو، میں ماہ جبین کی بہن کی تصاویر گھر والوں کو دکھائوں گی۔‘‘ عیشہ نے تعجب سے اسے دیکھا تو منتہیٰ نے اس کی گود سے البم اُٹھا لیا۔
’’مگر ان میں صرف ماہ جبین کی بہن کی تصاویر نہیں ہیں۔ موسیٰ بھائی اور اس لڑکی کی بھی ہیں۔‘‘ اس نے اُلجھ کر اسے دیکھا وہ مسکرا دی۔
’’تو کیا ہوا؟ اچھا ہے نا سب گھر والے موسیٰ اور اس کی پسند کو دیکھ لیں گے اور میرے لیے انکار کرنا آسان ہو جائے گا۔‘‘
’’ہر گز نہیں۔ واپس کرو یہ البم… میں نے اس نیت سے ماہ جبین سے نہیں لیا تھا۔‘‘ اس نے فوراً سمجھ کر غصے سے اسے گھورتے ہاتھ سے البم لینا چاہا مگر اس نے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔
’’سوری ڈیئر! اب یہ تمہیں تب ہی ملے گا جب موسیٰ اور اس لڑکی کی تصاویر میرے اور تمہارے گھر کے سب لوگ دیکھ لیں۔‘‘ اس نے بڑے آرام سے البم بیگ میں ڈال کر بیگ کندھے پر چڑھا لیا تھا اور عیشہ نے بڑی بے بسی سے اسے دیکھا تھا۔

نتیجہ منتہیٰ کی سوچ کے مطابق تھا۔
زہرا بھابی تو تصاویر دیکھ کر گنگ سی ہو گئی تھیں۔
’’موسیٰ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر حال میں اسے تم سے ہی شادی کرنا ہو گی۔‘‘
’’میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ یہ تصاویر آپ کے سامنے ہیں، میں نے موسیٰ سے شادی نہیں کرنی کیوں…؟ ثبوت آپ کے پاس ہیں۔‘‘
’’میں موسیٰ سے بات کرتی ہوں۔ مذاق ہے کوئی بھلا یہ سب اور تم تب تک خاموش رہو گی، کسی اور سے تصاویر کا فی الحال ذکر نہیں کرو گی۔ میں موسیٰ سے سب کلیئر کروں گی۔ ہو سکتا ہے جیسا ان تصاویر میں نظر آ رہا ہے ویسا نہ ہو۔‘‘ وہ پُرامید تھیں۔ منتہیٰ نے کندھے اچکا دئیے۔ وہ تصاویر لے کر فوراً اپنے گھر پہنچی تھیں۔ موسیٰ اپنے کمرے میں تھا، کل اس نے واپس چلے جانا تھا۔ آپا کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
’’آئیے آپا! بیٹھیں۔‘‘
’’یہ کیا ہے موسیٰ؟ کون ہے یہ لڑکی؟‘‘ انہوں نے انتہائی غصے سے تصویروں والا البم اس کے سامنے پٹخ دیا تھا۔
’’کیا ہوا ہے؟ کس بات کا غصہ ہے؟‘‘ ایک نظر البم کو اور پھر بہن کو دیکھ کر پوچھا تو انہوں نے غصے سے البم کھول کر تصویر اس کے سامنے کر دی۔
’’کون ہے یہ؟‘‘ موسیٰ تصویر دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔
’’فاروق کی بہن نتاشہ!‘‘
’’کب سے ہے یہ سلسلہ؟‘‘
’’کیسا سلسلہ آپا؟‘‘
’’کیا شادی نہیں کرنا چاہتے تم اس سے؟‘‘ موسیٰ نے اُلجھ کر انہیں دیکھا۔ اچانک خیال آیا یہ البم اور معلومات انہیں کہاں سے ملی تھیں؟
’’پہلے آپ یہ بتائیں، یہ البم کہاں سے آیا ہے اور میرے بارے میں یہ معلومات آپ کو کس نے دی ہیں؟‘‘
’’منتہیٰ نے… منتہیٰ کی کسی دوست کی بہن کی منگنی اس لڑکے کے بھائی سے ہوئی تھی۔ وہیں اس نے سب دیکھا اور معلومات ملی تھیں۔ شکر کرو اس نے ابھی بڑوں میں سے کسی سے ذکر نہیں کیا۔ سیدھا مجھے لا کر البم دے دیا۔‘‘ غصے سے کہتے انہوں نے موسیٰ کو دیکھا تو اس کا جی چاہا ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر جائے اور منتہیٰ کا سر پھاڑ دے۔ پھر بڑے تحمل سے بہن کو دیکھا۔
’’آپا! اتنی لمبی چوڑی میں نے کوئی پلاننگ نہیں کی ہوئی۔ یہ فاروق کی فیملی ہے اور امیر کبیر لوگ ہیں۔ نتاشہ خود بھی بڑی سلجھی ہوئی تعلیم یافتہ لڑکی ہے۔ منتہیٰ سے لاکھ درجے بہتر ہے، اگر میں اس کے بارے میں سوچوں بھی تو کوئی حرج نہیں ہو گا۔‘‘
’’ہر گز نہیں۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم سب کیا چاہتے ہیں۔ منتہیٰ سے تمہاری شادی کا سلسلہ محض الفاظی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے غصے سے باور کروایا تھا۔
’’آپا! میں منتہیٰ کے سلسلے میں صاف اور واضح انکار کر چکا ہوں۔ ایسا ہی وہ بھی کر چکی ہے تو پھر نتاشہ کے سلسلے میں سوچا جا سکتا ہے۔‘‘ بڑے آرام سے اس نے بہن کو سمجھانا چاہا تھا۔
’’تمہارے اور منتہیٰ کے انکار کو محض تم دونوں کی کم عقلی سمجھتے ہوئے بڑوں نے چپ سادھ لی تھی مگر دونوں گھروں میں تم دونوں کا رشتہ طے ہے، اس سے تم بے خبر نہیں ہو۔ ہاں منتہیٰ ضرور بے خبر تھی اور میرا نہیں خیال اب اس معاملے کو مزید لٹکایا جائے گا۔‘‘
’’آپا! مجھے منتہیٰ سے شادی نہیں کرنی، آپ لوگ ایک بار نتاشہ اور اس کی فیملی سے تو مل لیں وہ بہت اچھی اور سلجھی ہوئی فیملی ہے۔‘‘ اس نے آپا کے دو ٹوک انداز پر غصے سے کہا تو وہ کئی لمحے تک بغور دیکھے گئیں۔
’’ہمیں کوئی ضرورت نہیں کسی سے ملنے اور بہت افسوس کی بات ہے موسیٰ! تمہارے سامنے ساری بات تھی، تم نے ذرا بھی نہ بتایا کہ تم کسی اور لڑکی کی وجہ سے انکار کر رہے ہو؟ اگر تم بتا دیتے تو کم از کم اماں ابا کو منتہیٰ سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے باز رکھتی۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘ انہوں نے بہت دُکھ سے کہا تو وہ فوراً بولا۔
’’میں نے کسی وجہ سے پہلے انکار نہیں کیا تھا۔ ٹھیک ہے، فاروق کی فیملی سے بہت پُرانے تعلقات رہے ہیں مگر پہلے ایسا نہیں سوچا تھا۔ اب اگر سوچ رہا ہوں تو بات آپ تک بھی پہنچ گئی ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ اتنی بڑی بات ہے جسے مسئلہ بنایا جائے۔ زندگی مجھے گزارنی ہے تو اپنی زندگی کے ساتھی کا انتخاب کرنے کا بھی مجھے حق حاصل ہونا چاہیے۔‘‘
’’کیا کمی ہے منتہیٰ میں؟‘‘
’’وہ بہت بدتمیز، منہ پھٹ اور زبان دراز لڑکی ہے۔ خوبصورتی کو میں نے کبھی اہمیت نہیں دی مگر میں جس طرح کے لوگوں اور سوسائٹی میں اُٹھتا بیٹھتا ہوں، میں نہیں سمجھتا کہ منتہیٰ اس ماحول میں ایڈجسٹ کر سکے گی۔‘‘ آپا نے بڑی خفا نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
’’اتنا کچھ تم سوچ چکے ہو اور کہتے ہو کہ تم نے کوئی لمبی چوڑی پلاننگ نہیں کی؟ ٹھیک ہے، میں اماں ابا تک تمہارے دل کی بات پہنچا دیتی ہوں، آگے جو ہو گا تم خود دیکھ لینا۔ ویسے موسیٰ تم نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے۔ منتہیٰ کیسی لڑکی ہے، کاش تم اسے سمجھ سکتے۔ منتہیٰ سے متعلق اتنی منفی سوچ رکھتے ہو تم… حیرت ہے۔‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ منتہیٰ کے ذکر پر موسیٰ کی بھنویں تن گئی تھیں۔
اسے سارے فساد کی جڑ ہی منتہیٰ نور لگ رہی تھی۔ اچھی خاصی پُرسکون زندگی تھی مگر جب سے گھر والوں نے منتہیٰ نام کا شوشا چھوڑا تھا، سارا سکون آرام غارت ہو گیا تھا اور اب نجانے کہاں سے وہ یہ البم اُٹھا لائی تھی جو آپا اس کی کلاس لینے پہنچ گئی تھیں۔ جی تو چاہ رہا تھا کہ ابھی جائے اور منتہیٰ نور کی اس دھاندلی پر خوب سنائے۔ اسے بھلا کس نے حق دیا تھا کہ وہ کسی کی ذاتیات میں دخل اندازی کرے۔ اس نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا تھا۔ آپا چلی گئی تھیں اور اماں ابا کے سامنے جا کر انہوں نے نجانے کس انداز میں نتاشہ اور اس کی فیملی کا ذکر کیا تھا کہ انہوں نے فوراً اسے بلوا لیا تھا۔
’’کون ہے یہ لڑکی؟‘‘ ابا جی کے کمرے میں اماں اور آپا ایک طرف بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس نے ایک نظر میں ہی ابا جی کے تیور جانچے تھے۔
’’فاروق میرے ساتھ ہی آرمی میں ہے، اس کی بہن ہے۔‘‘
’’کیا تعلق ہے تمہارا اس سے؟‘‘ سوال ایسا تھا کہ موسیٰ کا غصے سے بُرا حال ہوا۔
’’میرا اس سے کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ وہ اچھی لڑکی ہے، پڑھی لکھی اور مہذب۔‘‘
’’ان پڑھ اور جاہل تو منتہیٰ بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے دوبدو کہا تھا۔
’’یہاں منتہیٰ کا بھلا کیا ذکر؟‘‘ اس نے اپنے غصے پر بمشکل قابو پا کر کہا تھا۔
’’ذکر ہے، ضرور ہے، ہم اس کے ماں باپ کو زبان دے چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے بے پناہ غصے سے کہا تھا۔
’’میں نے صاف انکار کر دیا تھا۔ میرا اس مسئلے سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ اس نے بھی بدلحاظی سے کہا تو کئی ثانیے تک ابا جی اسے دیکھے گئے۔ موسیٰ منیر کے تیور بڑے باغیانہ تھے۔ انہوں نے پل میں اندازہ لگا لیا تھا کہ موسیٰ سے غصے سے بات کرنا نقصان دہ ہے۔ انہوں نے بڑے تحمل سے خود کو سنبھالا۔
’’کہاں رہتی ہے یہ فیملی؟‘‘ موسیٰ نے حیران ہو کر باپ کو دیکھا۔
’’اسلام آباد۔‘‘
’’ٹھیک ہے، کل تم نوکری پر تو جا رہے ہو، مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلنا۔ میں اس لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں اور اس کی فیملی سے بھی ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ موسیٰ نے ایک دم حیرانی سے انہیں دیکھا۔ ابا جی کے الفاظ ناقابل فہم تھے وہ اتنی جلدی قائل ہو جانے والوں میں سے نہ تھے۔‘‘ اب کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ انہوں نے موسیٰ کے بے یقینی سے دیکھنے پر ٹوکا تو وہ ایک دم خوش ہو گیا۔
’’جی ضرور… میں کل آپ کو ساتھ لے جائوں گا۔ وہ بہت اچھی فیملی ہے۔ آپ ان لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوں گے۔‘‘ ابا جی خاموش ہی رہے تھے۔ ’’مگر ابا جی، چاچا جی اور چاچی جی کو کیا جواب دیں گے ہم؟‘‘ باپ کو یہ فیصلہ کرتے دیکھ کر زہرا باجی فوراً بولی تھیں۔
’’پہلے اُدھر تو مل لیں۔ دیکھ لیتے ہیں کیسے لوگ ہیں پھر ادھر بھی جواب دے دیں گے اور بات سن موسیٰ ان لوگوں سے ملنے کے بعد اگر میرا دل نہ مانا یا وہ لوگ مجھے پسند نہ آئے تو تُو مجھے مجبور نہیں کرے گا۔‘‘ ابا جی نے آپا کو جواب دے کر اسے بھی کہا تو اس نے فوراً سر ہلا دیا۔ فی الحال تو ابا جی کا مان جانا ہی کافی تھا۔ اسے یقین تھا ابا جی کو نتاشہ اور اس کی فیملی ضرور پسند آئے گی۔

اگلی صبح منتہیٰ، عیشہ کو بلانے آئی تو صحن میں ہی موسیٰ سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ وہ موسیٰ پر ایک نگاہ ڈال کر اندر چلی جانا چاہتی تھی کہ موسیٰ نے اسے روک لیا۔
’’سنو…‘‘ اس نے پلٹ کر موسیٰ کو دیکھا۔ ’’بہت اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئی ہو تم۔ تمہارا کیا خیال ہے تمہاری ان حرکتوں سے متاثر ہو کر میں اپنا فیصلہ بدل لوں گا۔‘‘ ایک دم اس نے گولہ بارود کی بوچھاڑ کر دی تھی اور منتہیٰ وہ تو نا سمجھی سے دیکھے گئی۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا… کیا کیا ہے میں نے؟‘‘ وہ بھی فوراً تڑخی تھی۔
’’آپا کو تصویریں لا کر تم نے دکھائی تھیں نا؟‘‘
’’ہاں تو پھر؟‘‘ اس نے کافی تلخی سے اسے دیکھا تو موسیٰ کا جی چاہا کہ اس بدلحاظ لڑکی کا منہ توڑ دے۔
’’تو پھر یہ کہ تمہاری کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو گی نفرت محسوس ہونے لگی ہے مجھے تمہارے ذکر سے بھی… تمہارا کیا خیال ہے کہ تم آپا سے ذکر کر کے اپنے لیے راہ ہموار کر لو گی؟ مگر افسوس تمہارے اس عمل سے میرے دل میں موجود ناپسندیدگی و نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ وہ اس درجہ توہین پر اُتر آیا تھا کہ منتہیٰ کا چہرہ سلگنے لگا۔
’’چپ رہو۔ میرا کوئی غلط مقصد نہ تھا۔ تصاویر گھر عیشہ لائی تھی، میں نے تو محض آپا کو اس لیے بتایا تھا کہ وہ لوگ جو بھی سوچ رہے ہیں اس سے باز رہیں مگر افسوس…‘‘ اس نے سلگتی اور غصہ بھری نگاہ موسیٰ پر ڈالی۔ ’’مجھے تم سے کوئی غرض نہیں… تم مجھے ناپسند کرتے ہو تو میں بھی تم سے اتنی ہی نفرت کرتی ہوں۔ کسی خوش فہمی میں مت رہنا موسیٰ منیر! تم سے کوئی تعلق بنانے سے بہتر ہے کہ میں کسی اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دوں۔ اتنے ہی تو تم شہزادہ گلفام ہو نا ہونہہ انجانے کن خیالوں میں رہ رہے ہو۔ میں تم پر تھوکتی بھی نہیں۔ اتنی گری پڑی پسند نہیں ہے میری۔‘‘ اس نے اپنی توہین کا بدلہ بڑے بھرپور وار سے لیا تھا۔ موسیٰ اس درجہ توہین پر بلبلا اُٹھا تھا۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘
’’مجھے بھی کوئی شوق نہیں تمہیں اپنے نادر خیالات سنانے کا… اور خبردار آئندہ میرے راستے میں آئے یا مجھے روکا تو… منتہیٰ نور اتنی عام گئی گزری لڑکی نہیں ہے۔ جن خوش فہمیوں میں ہو باہر نکل آئو، تم جیسے منتہیٰ نور کے قدموں میں ہوتے ہیں۔‘‘ غصے سے اسے سنا کر وہ اندر بڑھ گئی تھی اور وہ غصے سے اپنی جگہ ساکت کھڑا رہ گیا تھا۔

ابا جی موسیٰ کے ساتھ اسلام آباد آئے تھے اور نتاشہ کی فیملی سے ملے تھے۔ وہ لوگ اچھے خاصے سلجھے ہوئے اور ملنسار تھے۔ چائے کے بعد گفتگو کے دوران انہوں نے وہ خاص موضوع چھیڑ دیا تھا جس کے لیے یہاں تک آئے تھے۔
’’بڑی پیاری اور سلجھی ہوئی بچی ہے آپ کی، ماشاء اللہ۔‘‘ نتاشہ نے مسکرا کر موسیٰ کو دیکھا وہ بھی مسکرا دیا۔ اسے یقین تھا کہ ابا جی ایک بار نتاشہ سے مل کر کبھی انکار نہیں کریں گے۔ ’’موسیٰ نے مجھ سے آپ لوگوں کی فیملی کا ذکر کیا تھا آج آیا بھی بطور خاص اسی سلسلے میں ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے موسیٰ کی بات کہیں اور طے کر رکھی تھی۔ میری بڑی بیٹی کی نند ہے، چھوٹی بیٹی بھی وہیں دے رہا ہوں ہمارے ساتھ ہی گائوں میں رہنے والا خاندان ہے۔ شروع سے بڑی محبت اور آپس میں بڑا پیار ہے۔ وہ بچی پڑھ رہی ہے، خوبصورت بھی ہے، بتایا ہو گا موسیٰ نے آپ لوگوں کو؟‘‘ ابا جی بڑی سنجیدگی سے بتا رہے تھے اور موسیٰ کے چہرے کا رنگ اُڑتا جا رہا تھا۔ وہاں موجود سب لوگ حیران ہو کر موسیٰ اور اس کے دیہاتی باپ کو دیکھ رہے تھے۔ نتاشہ نے بڑی شکایتی نظروں سے موسیٰ کو دیکھا تو وہ نظریں چرا گیا۔ ’’دیکھیں دو بیٹیوں کا سسرال ہے، اچھے لوگ ہیں مگر بیٹی کا رشتہ لے کر اب انکار کرتا ہوں تو میری بیٹی کا رشتہ بھی وہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں مگر موسیٰ کو یہ سب نظر نہیں آ رہا۔ زندگی تو بچوں نے گزارنی ہے پھر سوچا ہمارا کیا ہے، موسیٰ جہاں خوش ہے۔ میں اسی سلسلے میں آیا تھا، آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگنے اگر آپ لوگ ہامی بھرتے ہیں تو میں اسے اپنے بیٹے کے لیے اچھا شگون سمجھوں گا۔ مجھے آپ لوگوں کا خاندان بہت پسند آیا ہے۔ اب آپ لوگ بتائیں۔‘‘ ابا جی دھماکہ کر کے بڑے آرام سے سب کی شکلیں دیکھ رہے تھے۔ موسیٰ کا جی چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ اسے اگر گمان ہو جاتا کہ ابا جی کی اسلام آباد آمد کے پیچھے یہ محرک ہے تو وہ کبھی ان کو ساتھ لے کر نہ آتا۔
’’آپ آئے آپ نے ہمیں عزت بخشی بہت بہت شکریہ۔ موسیٰ بہت اچھا اور فرمانبردار لڑکا ہے۔ ہمارے لیے یہ بڑے بخت کی بات ہے کہ ہماری بیٹی اچھی فیملی میں جائے۔ سلجھا ہوا ہم سفر ہو اس کا، مگر مجھے بڑا افسوس ہے کہ موسیٰ نے کبھی ہم اسے اپنی منگنی وغیرہ کا ذکر نہ کیا اور نہ ہی کچھ اور بتایا۔ پھر بھی ہم آپ لوگوں کو سوچ کر جواب دیں گے۔ یہ رشتے ناتے یوں تو نہیں ہو جاتے، آپ کی صاف گوئی مجھے پسند آئی۔‘‘ فاروق نے بہت ٹھہر ٹھہر کر کہا تھا۔
’’کیوں نہیں، آپ ضرور سوچیں۔ ماں باپ تو اولاد کے لیے ہر فیصلہ ہی سوچ سمجھ کر کرتے ہیں مگر اولاد… آپ بیٹی کے ماں باپ ہیں، میری صاف گوئی کو ایک بیٹی کے باپ کی مجبوری سمجھ لیجیے گا۔ دھوکہ دہی میری فطرت نہیں، اگر میں کسی کی بیٹی کے لیے انکار کروں گا تو یقینا اپنی دوسری بیٹی وہاں نہیں دوں گا۔ بے شک وہ بچہ بہت اچھا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا ہے مگر باپ ہوں نا وہ بھی بیٹی کا اس لیے دوسروں کی بیٹی کی توہین کرتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں۔‘‘ موسیٰ ششدر سا ابا جی کا دوغلا پن دیکھ رہا تھا۔ فاروق نے بڑی شکایتی اور غم و غصے سے بھرپور نگاہ سے اسے دیکھا تو اسے لگا وہ زمین میں دھنس گیا ہے۔ اس سے زیادہ ان مخلص لوگوں کی توہین اور کیا ہو سکتی تھی۔ ابا جی نے موسیٰ کے تیوروں کو دیکھا اور پھر مسکرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔
’’مجھے بہت خوشی ہوئی ہے آپ لوگوں سے مل کر۔ اُمید ہے آپ لوگ سوچ سمجھ کر وہی جواب دیں گے جس میں بچوں کی خوشی ہو گی۔ دیکھیں جی ہم تو زندگی گزار چکے ہیں، اب تو ان بچوں کا دور ہے۔ اب ان کی خوشی کی بات ہے…‘‘ وہ نتاشہ کے ماں باپ سے الوداعی کلمات ادا کرتے ہوئے بھی موسیٰ اور باقی لوگوں کو تکلیف دینے سے باز نہ آئے تھے۔
’’جی ضرور…‘‘ فاروق کے والد صاحب نے بڑی خوش اخلاقی سے بھرم رکھا تھا۔ اور موسیٰ وہ تو کسی سے نظر ملانے کے قابل بھی نہ رہا تھا۔ کتنی عزت تھی اس کی اس گھر میں… فاروق جیسا مقام تھا ان ماں باپ کی نظر میں اور اب…
نجانے وہ کیسے اور کن قدموں پر چل کر وہاں سے واپس آیا تھا۔
’’ابا جی! اگر آپ نے یہ سب ہی کرنا تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا، میں خود ہی انکار کر دیتا۔ آپ نے ان لوگوں کی تذلیل کی ہے، وہ بھی ان کے گھر میں بیٹھ کر… بہت بُرا کیا آپ نے۔‘‘ وہ باہر آتے ہی پھٹ پڑا تھا۔ انہوں نے بڑے تحمل سے اسے دیکھا۔
’’میں نے کوئی کسی کی تذلیل نہیں کی۔ اصل صورتحال بتائی ہے۔ میں ان لوگوں سے متاثر ہوا ہوں۔ وہ بچی بھی بہت پسند آئی ہے مجھے، اسی لیے میں نے پُرانی بات بتا دینا مناسب سمجھا کہ اگر کسی اور ذریعے سے انہیں خبر ہوتی تو ایویں ہی یہ لوگ پریشان ہوں گے۔‘‘ ابا جی کے بیان پر موسیٰ نے لب بھینچ لیے تھے۔ ابا جی سے کچھ بھی کہنا فضول تھا، جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔

آخر وہی ہوا تھا جس کا موسیٰ کو ڈر تھا۔ فاروق کی فیملی نے فون کر کے نتاشہ کے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ موسیٰ نے فاروق سے ملنے اور نتاشہ سے بات کر کے سمجھانے کی اپنی سی کوشش کر دیکھی مگر نتیجہ صفر رہا۔ وہ لوگ موسیٰ کے اتنی بڑی بات چھپانے پر اس سے بُری طرح ناراض ہو گئے تھے۔ موسیٰ لاکھ وضاحتیں کرتا رہا مگر ان لوگوں کی ’’ناں‘‘ ہاں میں نہ بدلی تو وہ گھر والوں سے ناراضگی کے طور پر کئی ماہ تک واپس پلٹ کر نہ آیا۔ ابا جی مطمئن تھے جس طرح انہوں نے دوغلے پن کا مظاہرہ کر کے اس رشتے سے جان چھڑوائی تھی، موسیٰ کو وہ سراسر قصور وار لگتے تھے۔ وہ نتاشہ کی فیملی کے انکار کا سراسر ذمہ دار ابا جی کے رویے کو قرار دیتا تھا مگر ابا جی مطمئن تھے۔ انہوں نے موسیٰ کو کچھ عرصہ اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا اور یہ رشتے والی بات آپا، اماں، ابا اور موسیٰ کے علاوہ کسی دوسرے فرد کو معلوم نہ ہو سکی تھی۔
عیشہ اور منتہیٰ ایگزیمز دے کر فارغ ہوئیں تو ابا جی نے دونوں طرف گفت و شنید کے ذریعے باقاعدہ منتہیٰ اور موسیٰ کا نہ صرف رشتہ طے کر دیا بلکہ عیشہ اور جہانزیب کی شادی کے ساتھ ہی ان دونوں کی بھی تاریخ طے کر دی۔ منتہیٰ جسے اپنے اماں ابا سے اس دھاندلی کی اُمید نہ تھی وہ یوں اچانک صورتحال بدلتے دیکھ کر خوب بگڑی۔ لاکھ اعتراض کیے، سر پٹختی رہ گئی تھی مگر کسی نے اس کے انکار کو بچکانہ فیصلہ سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی۔ شدید احتجاج، بھوک ہڑتال اس نے ہر حربہ آزما ڈالا مگر لگتا تھا کہ جیسے ہر کسی نے جان بوجھ کر اس کی طرف سے آنکھ بند کر لی ہے۔ ایک دن ابا جی اسے خود بٹھا کر سمجھانے لگے۔
’’دیکھ منتہیٰ پتر! میں تیرے جتنا پڑھا لکھا نہیں ہوں مگر زندگی نے جو سبق پڑھایا ہے وہ تم نے ابھی نہیں پڑھا۔ ماں باپ کبھی اولاد کا بُرا نہیں چاہتے۔ ہم تیرے دشمن نہیں۔ موسیٰ اچھا لڑکا ہے، آج کل تُو دیکھ تو رہی ہے، کیسے اچھے رشتوں کا کال پڑا ہوا ہے، اگر میں باہر بھی دیکھ لوں تو دل پھر بھی مطمئن نہیں ہو گا کہ نجانے کوئی کیسا ہو، یہاں یہ تو اطمینان ہے نا کہ وہ اچھا سلجھا ہوا باکردار لڑکا ہے۔ فوج میں ہے، زندگی میں ترقی کرنے والا انسان ہے۔ تُو خوش رہے گی۔ میں نے بہت سمجھ کر ہاں کی ہے تُو نے پہلے بھی انکار کیا ہم چپ رہے، اب بھی تمہیں سمجھا رہا ہوں، جو ہو رہا ہے اسے پتر چپ کر کے قبول کر لے۔ شریف عزت دار گھرانوں کی لڑکیاں ایسے معاملوں میں ماں باپ کے سامنے زیادہ احتجاج کرتی اچھی نہیں لگتیں، تُو تو میری بہت اچھی اور سمجھدار دھی ہے۔ تُو میری بات سمجھ گئی ہے نا۔‘‘ ابا جی کے سمجھانے پر وہ لب دانتوں تلے دبائے چپ چاپ رہ گئی۔ کئی دلائل تھے جو وہ دے سکتی تھی مگر اب کوئی فائدہ ہی نہ تھا، ابا جی کا انداز فیصلہ کن اور دو ٹوک تھا۔ وہ اسے سمجھانے آئے تھے نا کہ اس کے احتجاج اور دلائل کو سننے… اس کے بعد اس نے لب سی لیے تھے، موسیٰ کا کیا ردعمل تھا، اسے علم نہ تھا مگر وہ اتنا تو اچھی طرح جانتی تھی کہ موسیٰ بھی اس رشتے پر راضی نہ ہو گا۔ جس طرح تاریخ طے ہونے اور بعد کے دنوں میں بھی موسیٰ گائوں نہیں لوٹا تھا۔ منتہیٰ کے اندر سے ہر احساس ہی مر گیا تھا۔ ان چاہے ہونے کا احساس اس سب پر حاوی تھا۔ اس کے دل میں موسیٰ کے لیے کوئی بھی جذبہ نہ تھا، اسی طرح موسیٰ کے دل میں اس کے لیے… پھر نباہ ہوتا بھی تو کیسے…؟ وہ اپنے بڑوں کو سمجھانے سے قطعی قاصر تھی۔ جوں جوں شادی کے دن قریب آ رہے تھے اس کے اندر کی وحشت و اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ موسیٰ گائوں سے تقریباً ہر رابطہ منقطع کیے بیٹھا ہوا تھا۔ ابا جی سے اس کی ناراضگی اس قدر شدت اختیار کر گئی تھی کہ اماں اُٹھتے بیٹھتے ہولتی رہتی تھیں۔
شادی کی تاریخ طے کرنے کے بعد جوں جوں دن گزر رہے تھے اماں جی کا دل موسیٰ کی لاتعلقی پر ہولتا جا رہا تھا۔ تاریخ طے ہونے پر ابا جی نے اسے اسلام آباد فون کر کے اطلاع دے دی تھی مگر اس کی بے حسی جوں کی توں تھی۔
’’آپ کو کتنی دفعہ کہہ چکی ہوں خود جا کر اسے لے کر آئیں۔ آپ کو پتا ہے وہ اب خود سے نہیں آنے والا۔ چند دن رہ گئے ہیں شادی میں، میرا دل ہول رہا ہے۔ پوری برادری اکٹھی ہے۔ کہا بھی تھا اتنی جلدی نہ کریں، ابھی غصے میں ہے کچھ عرصہ گزر جائے گا جب مٹی پڑ جائے گی، غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا تو شادی بھی کر دیں گے مگر آپ اپنی ہی کرتے ہیں۔‘‘ اماں جی ابا جی سے اُلجھ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے پُرسوچ انداز میں اپنی بیوی کو دیکھا اور پھر سر ہلا دیا۔ اب واقعی انہیں خود ہی اسلام آباد کا چکر لگانے کی ضرورت تھی۔ شادی میں محض آٹھ دن رہ گئے تھے۔ اب اس کے بنا کوئی اور راہ بھی نہ تھی۔ اولاد سرکش ہو جائے تو اسے کیسے نکیل ڈالتے ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے تھے۔
’’ہاں کل پرسوں میں بھی سوچ رہا ہوں اسلام آباد جائوں۔ بڑا بدلحاظ اور بے حس ہو گیا ہے موسیٰ، اچھی خاصی کلاس لینے کی ضرورت ہے اب۔‘‘ وہ اپنی رائے دے کر اُٹھ گئے تھے۔ اگلے دن تو انہیں کام تھا مگر اس سے اگلے دن وہ صبح صبح ہی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ پچھلے دو سالوں سے موسیٰ مستقل اسلام آباد ہی پوسٹ تھا۔ ابا جی کو سامنے دیکھ کر موسیٰ کے اندر اپنے نقصان کا احساس مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔
’’کتنے پیغام بھیجے، کتنے فون کیے تھے۔ چھ دن بعد تیری شادی ہے اب تک تو پوری برادری اکٹھی ہو گئی ہے۔ اللہ خیر کرے میرے گھر کی دو اکٹھی شادیاں اور آخری خوشی ہے، سو ارمان ہیں مگر تم ابھی تک ادھر ہی ٹکے ہوئے ہو؟‘‘ انہوں نے بات شروع کی تو موسیٰ کا غصے سے بُرا حال ہو گیا۔ ایک تو ابا جی کا انداز دوسرا منتہیٰ سے شادی کا تصور… وہ تو ابھی تک نتاشہ لوگوں کے سامنے ہونے والی بے عزتی ہی نہیں بھول پایا تھا۔ اب اچانک یہ سب کیسے قبول کر لیتا۔
’’مجھے کوئی شادی نہیں کروانی۔‘‘ وہ ایک دم پھٹ پڑا تھا۔ ابا جی نے بغور دیکھا۔
’’میں تجھ سے تیری مرضی نہیں پوچھ رہا۔ میں تجھے ساتھ لے کر گائوں جانے کے لیے آیا ہوں۔ چھٹی کی درخواست دے اور میرے ساتھ چل۔‘‘
’’ابا جی گستاخی معاف… آپ نتاشہ کی فیملی کے ساتھ جو کر چکے ہیں اور جواباً مجھے جو ذلت اُٹھانا پڑی ہے، میں ابھی تک وہی نہیں بھولا۔ آپ کو اگر میری خوشی کی پروا نہیں تو مجھے بھی کوئی مطلب نہیں۔ میں آپ کے ساتھ نہیں جائوں گا۔‘‘ دو ٹوک انداز تھا۔
’’یہ تیرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘ ابا جی نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
’’آخری بھی اور حتمی بھی۔‘‘ موسیٰ کا بھی انداز بے لچک تھا۔
’’چل کوئی بات نہیں… مگر ایک بات یاد رکھنا چھ دن بعد تیری بارات ہے اور ساتویں دن تیری بہن کی۔ چوتھے دن تم گائوں پہنچ جانا۔ ابھی میں بہانا بنا لوں گا کہ تجھے چھٹی نہیں مل رہی اس لیے لیٹ آئے گا۔ مگر چوتھے دن تُو گائوں میں ہو گا۔ اگر پانچواں دن ہوا تو تُو موسیٰ یاد رکھنا چھٹے دن میں تیری بہن کو بھی زہر دے کر خود بھی کھا لوں گا اور تُو جانتا ہے جو میں کہتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں۔ بھائی بشیر کی بیٹی اگر بیاہی نہیں جائے گی تو تیری بہن بھی نہیں بیاہی جائے گی۔ تیرے پاس صرف تین دن ہیں، اچھی طرح سوچ لے۔ چوتھے دن کا مطلب ہے چوتھا دن۔ پانچواں دن نہ آئے موسیٰ۔‘‘ وہ سخت پتھریلے لب و لہجے میں موسیٰ کے سامنے چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑے کہہ رہے تھے اور موسیٰ حیران و ششدر ابا جی کے بے لچک انداز میں چٹانوں کی سی سختی دیکھ رہا تھا۔
’’ابا جی! یہ زیادتی ہے۔‘‘ وہ اگلے ہی پل چیخ اُٹھا تھا۔
’’میں پوری برادری میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میرا سر ہمیشہ اپنی برادری میں بلند رہا ہے۔ تُو نہیں آئے گا تو جو میں کہہ رہا ہوں وہ میں کر جائوں گا۔ اچھی طرح سوچ لے۔ چوتھے دن تجھے گائوں میں ہونا چاہیے ورنہ…‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے غضب ناک تیوروں سے سرد لب و لہجے میں کہتے اپنی دستار کو سر پر جماتے بڑے بڑے قدم اُٹھاتے وہاں سے نکل گئے تھے اور موسیٰ نے بے بسی سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔

چوتھے دن کا سورج ڈوبا اور ہر طرف شام کا ملگجا اندھیرا پھیلنے لگا۔ منیر صاحب کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں گہری ہوتی چلی گئیں۔ شام کے بعد رات کا اندھیرا ہر سو چھا جانا تھا اور شام کے بعد گائوں میں آنے والے تانگے نہیں چلتے تھے۔ موسیٰ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ انہوں نے یہاں آ کر بظاہر سب کو مطمئن کر دیا تھا مگر اب خود غیر مطمئن ہو گئے تھے۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بشیر بھائی کے گھر میں بھی ایسی ہی رونق تھی، دونوں گھروں میں ڈبل شادیاں تھیں۔ مہمان داری شور شرابا، خوشی، گیت کیسا سماں تھا دونوں گھروں میں۔
’’ابا جی! پریشان ہیں؟‘‘ نواز نے محسوس کیا تو پوچھ لیا۔
’’ہاں بس موسیٰ کی طرف سے فکر لگی ہے۔ فون پر کہہ رہا تھا کہ آج آ جائے گا مگر آیا نہیں۔ فون تو کر کے پتا کر ذرا۔‘‘ انہوں نے نواز کو کہا تو اس نے فوراً سر ہلا دیا مگر بار بار ملانے پر بھی موسیٰ کا نمبر آف تھا۔
’’میں بشیر بھائی کے ہاں جا رہا ہوں۔ سب مرد، برادری والے ادھر اکٹھے ہیں۔ تُو بھی آ جانا۔ بارات کا انتظام اور کھانے وغیرہ کا مشورہ کرنا ہے ہم نے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کو نواز کو ہدایت دے کر چل دئیے تھے۔
’’ابا جی! موسیٰ آ گیا ہے۔‘‘ رات دس بجے سب مرد حضرات نے واپسی کی راہ لی تو وہ بھی نواز کے ساتھ گھر کی طرف چل دئیے۔
’’ابا جی موسیٰ آ گیا ہے ابھی آیا ہے۔‘‘ زہرا باجی جو کبھی ادھر اور کبھی اُدھر چکراتی پھر رہی تھیں۔ فوراً ابا جی کو آتے دیکھ کر قریب آ گئی تھیں اور ابا جی کو لگا جیسے کندھوں سے منوں بوجھ اُتر گیا ہے۔ ان کا دل اندر تک پُرسکون ہوتا چلا گیا۔
’’اچھا… چلو اچھی بات ہے۔‘‘ وہ زہرا باجی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دئیے تھے۔ موسیٰ وہیں اماں جی کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ ابا جی کو دیکھ کر اس نے منہ پھیر لیا تھا اتنی ناراضگی تھی کہ باپ کو سلام تک کرنا گوارا نہ کیا تھا۔
’’اچھا کیا جو آج ہی آ گئے۔ کل نواز کے ساتھ جا کر بازار سے اپنے لیے کپڑے وغیرہ خرید لانا۔ شادی زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے بعد میں نہ کہتے پھرنا کہ میری پسند کا لباس نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے بڑے پُرسکون انداز میں کہتے بستر پر جگہ پکڑی تو وہ لب بھینچے اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’اماں جی! میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں، کسی کو بھی میرے کمرے میں مت آنے دیجیے گا۔‘‘ بڑی تلخی سے کہتے وہ کمرے سے نکل آیا تھا اور اپنے کمرے میں آ کر اس نے زور سے دروازہ بند کر دیا تھا۔ باہر صحن میں ڈھولک بج رہی تھی۔ موسیٰ کا جی چاہا کہ ہر چیز کو آگ لگا دے۔

منتہیٰ جو ابھی تک اسی گمان میں تھی کہ شاید موسیٰ ہی انکار کر دے مگر آپا زہرا کی زبانی موسیٰ کی آمد کا سن کر اس کا دل پاتال میں اُترتا چلا گیا۔ اس کے اندر کی وحشت عجیب سے سرد پن کی لپیٹ میں آ گئی اور اس پر اگلے دنوں تک گہری بے حسی کی کیفیت چھائی رہی۔ اماں اور باجی زہرا کو منتہیٰ کے تیوروں سے سخت خوف آ رہا تھا، وہ جس سرد سی کیفیت میں چلی گئی تھی اس سے آپا کا دل ہول رہا تھا۔ اماں جی تو اس کے ساتھ مسلسل سر کھپا رہی تھیں۔ آتے جاتے اُٹھتے بیٹھتے اسے سمجھا رہی تھیں مگر منتہیٰ نے اپنے سارے احساسات سرد برفیلی تہہ میں چھپا کر خود کو ہر احساس سے بے نیاز کر لیا تھا۔ شادی کے دن تک اس کی کیفیت برقرار رہی تھی۔ شہر سے بیوٹیشن بلوائی گئی تھی۔ بیوٹیشن کے ماہر ہاتھوں کا فن تھا جو منتہیٰ نور کا تراشا ہوا حُسن ایک ایسی دو دھاری تلوار بن گیا تھا کہ جو دیکھتا تھا، دنگ رہ جاتا تھا۔ ایسا حُسن جو پانی میں بھی آگ لگا دے۔ پتھروں کو بھی پگھلا دے۔ اماں آخری وقت تک اسے نصیحتوں سے نوازتی رہی تھیں۔ نکاح، کھانے اور دیگر رسموں کے بعد رُخصتی کا عمل شروع ہوا تو منتہیٰ کو اپنے سرد پن کا خول چٹختا محسوس ہوا۔ بے حسی کی چادر میں اپنوں سے دور ہو جانے کا احساس شگاف بن کر دل کو ریزہ ریزہ کر گیا۔ وہ سب بہن بھائیوں کی لاڈلی اور چہیتی تھی، روتی آنکھوں سے اس گھر سے رُخصت ہو کر وہ موسیٰ منیر کے گھر چلی آئی تھی۔ ایک طویل رسموں کے سلسلے کے بعد اس کی جان بخشی ہوئی تو ساجدہ بھابی اور زہرا آپا اسے موسیٰ کے بیڈ روم میں لے آئیں۔ بیڈ روم تازہ گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا۔ منتہیٰ کے دل کے اندر آنے والے لمحات کا تصور کرتے ہی اک سرد پن سا پیدا ہوتا چلا گیا۔
عیشہ کچھ دیر تک اس کے پاس بیٹھی اس کا دل بہلانے کا سامان کرتی رہی مگر اس کی چپ کا قفل نہ ٹوٹا۔
’’منتہیٰ! اب جو بھی ہے اور جیسا بھی ہے موسیٰ تمہارا شوہر ہے، گزری باتوں اور رویوں کو بھلا کر دل سے نئی زندگی کا آغاز کرو۔ میں نے موسیٰ کو بھی سمجھایا ہے تم بھی خیال رکھنا۔ اگر وہ کچھ غلط کہے بھی تو کوشش کرنا کہ برداشت کر لو۔ انکار احتجاج سب کچھ تم نے آزما کر دیکھ لیا، اب یہی تمہارا سب کچھ ہے۔ آپا زہرا ایک بار پھر اسے دھیمے سُروں میں سمجھا رہی تھیں، اور منتہیٰ کو لگ رہا تھا کہ جیسے اس کا فشار خون بڑھ رہا ہے۔ کچھ دیر بعد دونوں بہنیں چلی گئیں تو کمرے میں تنہائی کا آسیب اسے اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ وہ بے حس بنی اطراف کو دیکھے گئی۔
موسیٰ نے رات گئے کمرے میں قدم رکھا تو پہلی نگاہ سیج پر سجی سنوری اپنے انتظار میں بیٹھی منتہیٰ نور پر پڑی تھی۔ موسیٰ کو لگا اس کی رگوں میں خون کی جگہ نفرت کے انگارے گردش کر رہے ہیں۔ اس نے ان چند دنوں میں منتہیٰ نور سے اتنی نفرت کی تھی کہ حد نہیں اور اب اسے سامنے دیکھ کر جی چاہا اپنے اندر کی ساری وحشت اس کے وجود میں اُتار دے۔ ابا جی کے سلوک نے اس کے غضب کو آتش فشاں بنا ڈالا تھا جو اَب بس پھٹ پڑنے کو تھا۔
’’منتہیٰ نور! تم بڑے بڑے دعوے کر کے گئی تھیں، تم تو تھوکتی بھی نہیں تھیں مجھ جیسوں پر پھر تمہاری غیرت نے کیسے گوارا کر لیا میری اس سیج تک آنا۔‘‘ وہ بولا نہیں تھا گویا آتش فشاں پھٹ پڑا تھا۔ منتہیٰ جو نجانے خود کو کیسے سنبھال رہی تھی اس انداز پر غم و غصے سے اسے دیکھے گئی۔ ’’بہت غلط کھیل کھیلا تم نے میرے ساتھ آپا کو ورغلایا تم نے اور پھر ابا جی کے ذریعے تم نے نتاشہ لوگوں کی تذلیل کروائی۔ میری دوستی ختم ہو گئی، میرا بھرم ٹوٹ گیا صرف تمہاری وجہ سے… اتنی شرمندگی، اتنی ندامت… دیکھنا منتہیٰ نور بہت بُرا سلوک کروں گا میں تم سے… ابا جی نے جس طرح مجھے اس شادی پر مجبور کیا ہے میں بھی تمہیں اب اس حد تک مجبور کروں گا کہ تم موت کی بھی دُعا کرو گی مگر میں تمہیں اس قابل بھی نہیں چھوڑوں گا کہ موت تمہیں قبول کر لے۔ تم نے میرے بارے میں بہت غلط رائے قائم کی… موسیٰ منیر! اگر بہت اچھا انسان ہے تو دشمن کے ساتھ بہت بُرا اور سفاک انسان ہے۔ تم نے میرے غضب کو آواز دے کر اچھا نہیں کیا منتہیٰ بیگم! اب ساری عمر بیٹھ کر رونا۔‘‘ گلے میں پڑی ہوئی مالا کو انتہائی وحشت سے نوچ کر ایک طرف پھینک کر سیج کی کئی لڑکیوں کو بے دردی سے روندتے وہ اس کی طرف آیا تھا۔ اس کے لب و لہجے پر منتہیٰ ششدر رہ گئی تھی۔
’’کک… کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ موسیٰ نے جیسے بس کی کلائی تھامی تھی وہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی تھی۔
’’جس طرح میں پل پل مر رہا ہوں، سلگ رہا ہوں اب یہ اذیت تم بھی جھیلنا۔‘‘ انتہائی بے دردی سے اسے جھنجوڑتے ہوئے اس نے کہا تھا اور منتہیٰ نور کے اندر اتنی ہمت نہ رہی تھی کہ وہ خود کو موسیٰ کی وحشت و بربریت کا شکار ہونے سے روک پاتی۔ اس کی گھٹی گھٹی چیخیں اس کے حلق میں ہی دم توڑ گئی تھیں۔

اگلے دن ان دونوں کا ولیمہ تھا اور ساتھ میں عیشہ کی بارات اور موسیٰ، عیشہ کا ولیمہ اٹینڈ کرتے ہی اگلے دن اسلام آباد روانہ ہو گیا تھا۔ سب نے روکا، اماں ناراض ہوئیں منیر چاچا نے دھمکیاں دیں مگر وہ اب ایک پل بھی رُکنے کا روادار نہ تھا۔ اور ان تین دنوں میں وہ اس قدر ویران اور بے جان ہو گئی تھی کہ سب اس کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے تھے۔
’’منتہیٰ بیٹا! کیا ہوا ہے تجھے؟ لڑکیاں تو شادی کے بعد نکھر کر گلاب کی طرح مہکنے لگتی ہیں تجھے کیا ہو گیا ہے کچھ تو بتا تُو ایسی تو نہ تھی۔‘‘ اماں اور زہرا باجی پوچھ پوچھ کر ہاری تھیں مگر اس کی چپ نہ ٹوٹی تھی۔ مردوں نے توجہ نہ دی تھی کہ ان کے ہاں یہ کوئی اہم بات نہ تھی۔ اماں تو بے چین سی تھیں مگر منتہیٰ کی چپ انہیں چپ رہنے پر مجبور کر رہی تھی۔ موسیٰ نے پلٹ کر خبر لینا تو ایک طرف ایک کال تک نہ کی تھی اور وہ اماں کے گھر سے سسرال اور سسرال سے میکے اسی چکر میں دو ماہ کا عرصہ گزر گیا تو منتہیٰ کے گھر والوں کو تشویش لاحق ہو گئی۔ بشیر صاحب نے موسیٰ کی اس طویل غیر حاضری کا تذکرہ منیر چاچا سے کیا تو انہوں نے بڑی بے بسی سے منتہیٰ کا اُجڑا اُجڑا روپ دیکھا۔ وہ اول روز سے منتہیٰ کو دیکھ دیکھ کر ہول رہے تھے مگر موسیٰ کے ساتھ جتنی سختی کر چکے تھے اس سے بڑھ کر اب کیا کرتے۔
’’میری بات ہوئی ہے کہہ رہا تھا کہ ایبٹ آباد پوسٹنگ ہو گئی ہے۔ اتنی جلدی چھٹی نہیں مل رہی، جیسے ہی چھٹی ملی آ جائے گا۔‘‘ انہوں نے بشیر بھائی کو مطمئن کرنا چاہا جو کسی حد تک سچ بھی تھا اور وہ کچھ مطمئن بھی ہو گئے۔
’’یہ تو اچھی بات ہے پھر وہ تو اب شادی شدہ ہے اسے کہیں کہ حکومت سے گھر کا کہے، اب تو مل بھی جائے گا۔ منتہیٰ بھی ساتھ لے جائے۔‘‘
’’ہاں… میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔‘‘ بشیر بھائی کی بات پر انہوں نے بھی سر ہلایا تھا۔ موسیٰ کی اس طویل غیر حاضری نے منتہیٰ کو سنبھلنے کا کچھ موقع دیا تھا۔ وہ کافی حد تک خود کو سنبھال چکی تھی۔ چند دنوں میں ہی اس نے خود کو سسرال میں ایڈجسٹ کر لیا تھا۔ ساجدہ بھابی اور اماں جی کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے سے وقت اچھا گزرنے لگا تھا۔
دن اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہے تھے۔ موسیٰ کو گھر والے اکثر کال کرتے تھے۔ خود سے تو اس نے کبھی رابطہ نہ کیا تھا اور نہ ہی منتہیٰ نے۔ منیر چاچا جب بھی منتہیٰ کو دیکھتے ان کے دل سے اِک ہوک سی اُٹھتی۔ اپنی طرف سے تو وہ موسیٰ کی ناراضگی ختم کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے اگر وہ اسلام آباد ہوتا تو وہاں خود جا کر اسے مجبور کرتے مگر اب ایبٹ آباد کیسے جاتے۔ فون پر وہ روز اس سے رابطہ کر رہے تھے ان کے جاننے والے کچھ آفیسر ایسے تھے جنہیں انہوں نے موسیٰ کے لیے جلد از جلد ایبٹ آباد میں ایک بنگلے کا انتظام کرنے کو کہا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ موسیٰ، منتہیٰ کو ساتھ لے جائے شاید اس طرح دونوں کے درمیان حائل یہ سرد سی فضا ختم ہو جائے۔ ان کی کوششیں کامیاب ہوئی تھیں۔ موسیٰ کو وہاں بنگلہ مل گیا تھا۔ انہوں نے موسیٰ کے علم میں یہ بات نہیں آنے دی تھی کہ گھر کے سلسلے میں ان کی کوششیں شامل ہیں۔ اب وہ روز موسیٰ سے رابطے میں تھے، اسے کسی نہ کسی طرح ایک چکر گائوں کا لگانے پر مجبور کر رہے تھے۔ اور یہ اتفاق ہی تھا کہ ان دنوں اماں جی کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی تھی اور انہیں چند دن ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔ اماں بار بار موسیٰ سے ملنے کا اصرار کر رہی تھیں۔ منیر صاحب کے بار بار رابطہ کرنے اور اماں جی کی خراب طبیعت کا سن کر اس کا دل پسیجا تھا اور پھر فون پر اماں جی سے بات کر کے ان کی روتے ہوئے کی جانے والی التجا سن کر اس سے اپنا دل مزید پتھر نہ بنایا گیا تھا، چند دن کی چھٹی لے کر وہ گائوں چلا آیا تھا۔ دو دن تو وہ گھر ہی نہیں آیا تھا، اماں جی کے ساتھ ہسپتال میں ہی رہا تھا۔ اور پھر اماں جی کو فارغ کر دیا گیا تو ان کے ساتھ ہی گھر آیا تھا۔ گھر میں اپنے کمرے میں منتہیٰ کو دیکھ کر اسے بہت کچھ یاد آتا چلا گیا تھا۔ اس کے دل میں موجود نفرت میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ منتہیٰ کے ساتھ کیے جانے والے اپنے سلوک پر اسے ذرا بھی ندامت نہ ہوئی تھی۔ بلکہ وہ خود کو حق پر سمجھتا تھا اسے منتہیٰ اس سے بھی بُرے سلوک کی مستحق نظر آتی تھی۔ پہلے دو دن تو بڑے سکون سے گزرے تھے۔ منتہیٰ خود بھی اس کے سامنے آنے سے بچ رہی تھی، اس کی ہر ممکن کوشش تھی کہ موسیٰ منیر سے بچ کر رہے اس کا وحشیانہ سلوک وہ بھولی نہ تھی۔ اسے موسیٰ کے نام سے ہی کراہت ہونے لگتی تھی مگر وہ سمجھوتے پر مجبور تھی شاید یہ بھی خود اذیتی کی ایک کیفیت تھی۔ وہ اپنے گھر والوں کو آخری حد تک باور کروانا چاہتی تھی کہ ان کا فیصلہ غلط تھا اور اب بھی غلط ہے۔
رات گئے جب اسے یقین ہو جاتا تھا کہ موسیٰ سو گیا ہو گا تب کمرے میں قدم رکھتی تھی اور سکڑ سمٹ کر بیڈ کے ایک کونے میں وسوسوں واہموں سے بھری رات کے چند گھنٹے گزار کر وہ اذان کی آواز کے ساتھ ہی کمرے سے نکل آتی تھی۔ اماں کی طبیعت بہتر تھی۔ موسیٰ اپنے کسی دوست سے ملنے گیا ہوا تھا۔ رات کو وہ لیٹ ہو گیا تھا۔ ابا جی نے فون کر کے پوچھا تو اس نے کہہ دیا کہ ابھی وہ دوست کے ہی پاس ہے شاید اس کے پاس ہی رات گزارے۔ منتہیٰ کے سامنے ہی منیر چاچا نے کال کی تھی اس نے شکر کا سانس لیا۔ پچھلی دو راتیں گویا سولی پر لٹکتے گزری تھیں۔ آج رات لگا وہ آزاد ہے۔ نائٹ بلب کی روشنی میں اپنے آپ سے بے نیاز وہ ٹیپ ریکارڈر پر کیسٹ لگا کر سننے لگی تھی۔ فارغ وقت کا یہ اچھا شغل تھا۔ دھیمے سُروں میں گونجتی آواز کمرے میں عجب سا تاثر پیدا کر رہی تھی۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز نجانے کن خیالوں میں تھی جب موسیٰ منیر نے دروازے کے اندر قدم رکھا تھا۔
’’ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف ایک بار ملاقات کا موقع دے دے‘‘
آواز ایسی دلکش تھی کہ وہ چند پل کو ٹھٹک گیا تھا۔ یہ اس کی پسندیدہ غزل تھی جو اس کے کمرے میں ریکارڈ میں شامل تھی۔ موسیٰ منیر کی نگاہ کرسی پر آنکھیں موندے اطراف سے بے نیاز وجود کے گرد لپٹی تو ساکت ہو گئی۔ منتہیٰ نور کی پلکوں سے پانی تسبیح کے دانوں کی طرح پھسل رہا تھا۔ موسیٰ اسے دیکھ کر پھر اک قیامت سے دو چار ہوا تھا۔
پچھلی دو راتوں سے وہ اس کے سو جانے کے بعد کمرے میں آتی تھی مگر آج…
اس نے آگے بڑھ کر غصے سے ہاتھ میں پکڑا ہوا شاپر ڈریسنگ پر پٹخ دیا تھا۔ شور کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی اور موسیٰ منیر کو کمرے کے بیچوں بیچ کھڑے دیکھ کر وہ لب سی گئی تھی۔ موسیٰ نے لائٹ جلاتے ہوئے منتہیٰ کو گھورا تو وہ گڑبڑا کر دروازے کی طرف بڑھی۔
’’کہاں جا رہی ہو؟‘‘ موسیٰ کی پھنکارتی آواز سے منتہیٰ کا دل لرزا۔
’’تم سے مطلب؟‘‘ اس نے اپنی کمزوری کو غالب نہ آنے دیا۔ اب وہ موسیٰ کی کسی بھی انتقامی کارروائی کی نذر نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اپنے اعتماد کو بحال کرتے جواب دیا تھا اور موسیٰ حیران رہ گیا۔ منتہیٰ کا اعتماد اسے بہت ناگوار ہوا۔ آگے بڑھ کر منتہیٰ کی کلائی دبوچتے ہوئے اسے واپس دھکیل دیا تھا اور منتہیٰ اس درجہ غیر انسانی سلوک پر ششدر رہ گئی تھی۔
’’میری زندگی کو شعلوں کی نذر کر کے تم خود کیسے اس آگ سے بچ سکتی ہو منتہیٰ نور! جس اذیت کی بھٹی میں، میں جل رہا ہوں تم بھی اس میں برابر کی شریک ہو۔ اپنا حصہ تو وصول کرو۔‘‘ اس کے قریب ہوتے اس نے پھنکار کر کہا تو منتہیٰ سرعت سے مڑی اسے موسیٰ سے ایک دم خوف محسوس ہوا۔
’’ٹیپ ریکارڈ بند کرو۔‘‘ بڑے تحکم سے کہا گیا تھا۔ وہ کلس کر رہ گئی۔
’’میں نہیں کر رہی بند۔‘‘ وہ اپنے آپ کو بحال کرتے ہٹیلے پن سے بولی تھی۔ وہ کیوں برداشت کرے یہ سب… کیوں…؟‘‘
’’اچھا…‘‘ بڑے دھیان سے غزل سنی جا رہی تھی۔ ایسا بھی کیا خاص ہے اس غزل میں… عام سی تو ہے۔‘‘
منتہیٰ نے نفرت سے منہ پھیر لیا۔
’’موسیٰ منیر! تم جیسے انسان جو اوروں کو جوتے کی نوک پر رکھیں وہ کیا جانتے ہیں کہ شاعری اور احساسات کیا ہیں۔ یہ عام سی غزل ہے یا خاص تمہیں کیا تکلیف ہے؟ میں اب تمہاری کسی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنوں گی۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ استہزائیہ ہنسا۔ ’’اتنے بڑے دعوے مت کرو منتہیٰ نور کہ خود ہی منہ کے بل گرو۔ جو فصل بوئی ہے وہ کاٹو بھی۔ جو کر چکی ہو اس کا بدلہ مل رہا ہے تمہیں… اب اتنی تکلیف کیوں؟‘‘ اس کی کلائی پر گرفت جماتے اس کا لہجہ ایک دم بڑا سرد سا ہو گیا تھا۔ ’’تم ایک دوغلی، فسادی عورت ہو، میری پوری زندگی میں زہر گھول دیا ہے تم نے۔‘‘ وہ زہر بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
’’اور تم خود… میں فسادی ہوں تو تم کیا ہو؟ تم خود کو کیا سمجھتے ہو… طاقت کے زور پر عورت کو زیر کرنے والے۔ ایک سطحی شکی اور منتقم مزاج انسان کے سوا…‘‘ منتہیٰ کے لہجے میں بھی نفرت ہی نفرت سرایت کر گئی تھی۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘ وہ دھاڑا تھا۔ منتہیٰ ایک دم خاموش ہو گئی تھی۔
’’میں تھوکتا بھی نہیں ہوں تم پر… مگر تم نے دوسروں کے ساتھ مل کر میری زندگی کو جہنم بنانے کا جو کھیل کھیلا ہے اس کی سزا بہت تکلیف دہ ہے۔ ساری عمر تمہیں اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ مجھ سے شادی کی سزا تمہیں بھگتنا ہو گی اور تم اب بھگتو گی بھی۔‘‘ اس کے بازو کو اپنی آہنی گرفت سے کچلتے ہوئے ایک دم وحشت پر اُتر آیا تھا۔ پھر وہ سسکیاں بھرتی رہ گئی تھی۔ مگر موسیٰ منیر کا انتقام اس کی سسکیوں، آہوں، آنسوئوں سے ٹھنڈا ہونے کے بجائے اور بڑھا تھا اور وہ ایک بار پھر اس کی وحشت کی بھینٹ چڑھ گئی تھی۔

اگلی صبح وہ بخار سے پھنک رہی تھی مگر موسیٰ کو اپنے رویے کا ذرا بھی احساس نہ تھا۔ ذرا سی بھی ندامت نہ تھی اور کیوں ندامت ہوتی اس کا بھی نقصان شدید تر تھا وہ واپسی کی تیاریاں کر رہا تھا اور آتے جاتے منتہیٰ کو بھی سلگا رہا تھا کہ ابا جی نے بلوا لیا تھا۔
’’جا رہے ہو؟‘‘ جیسے ہی وہ ان کے کمرے میں پہنچا تھا ابا جی نے پوچھا تھا۔
’’جی…‘‘
’’بنگلہ مل گیا ہے تمہیں؟‘‘
’’جی…‘‘
’’اچھی بات ہے منتہیٰ کو بھی ساتھ لیتے جائو۔ وہ یہاں رہ کر بھلا کیا کرے گی۔ پہلے ہی تم تین ماہ بعد لوٹے ہو، اب نجانے کب چکر لگائو۔ اچھا ہے نا وہ تمہارے ساتھ ہی جائے۔ تمہیں بھی سہولت ہو جائے گی۔‘‘ ابا جی کا انداز حتمی اور فیصلہ کن تھا۔
’’ہر گز نہیں ہر بار آپ نے اپنی منوائی ہے، میں اسے اپنے ساتھ نہیں لے کر جائوں گا۔ وہ یہیں رہے گی۔‘‘ ایک دم غصے میں آ کر اس نے انکار کیا تھا۔
’’میرے ساتھ ضد اور بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں موسیٰ! تم جانتے ہو میں جو کہتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں۔ تم اسے ساتھ لے کر نہیں جائو گے تو میں کل خود جا کر چھوڑ آئوں گا۔ بہتر ہے تم آج خود ہی ساتھ لے جائو۔‘‘ ان کے دو ٹوک انداز پر موسیٰ نے لب بھینچ لیے۔ پھر وہ ایک دم وہاں سے نکل آیا تھا۔ واپسی کے سفر میں روتی، دھوتی منتہیٰ اس کے ہمراہ تھی۔ بہ مجبوری اور زبردستی کا تعلق اسے نبھانا ہی پڑ رہا تھا، اس کے سوا اب کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔ اس طرح وہ اسے لے کر ایبٹ آباد آ گیا تھا۔ مگر یہاں آتے ہی اس کا بخار پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر گیا تھا۔ چند دن بیمار رہنے کے بعد وہ اب بہتر ہوئی تو اس نے خود کو گھر کے کاموں میں مصروف کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

آنے والے دنوں میں اس نے خود کو پوری طرح اس گھر میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی رہی۔ موسیٰ صبح سویرے گھر سے گیا اس کے سونے کے بعد لوٹتا تھا۔ اس نے موسیٰ کے ہر معاملے سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ شادی کے پہلے ک تمام اختلافات سینے میں دبائے وہ اب صرف سمجھوتا کر رہی تھی اور شاید یہی عالم موسیٰ کا بھی تھا۔ وہ منتہیٰ سے ہر طرح کا بُرا رویہ روا رکھنے کے بعد یہ حقیقت جان گیا تھا کہ وہ کچھ بھی کر لے، منتہیٰ سے قائم تعلق اب ہر صورت نبھانا ہی پڑے گا۔
گائوں سے ابا جی ہر روز فون کر کے اس کو منتہیٰ سے اچھا رویہ رکھنے کی تلقین کرتے تھے اور اس کا جی چاہتا کہ وہ منتہیٰ کا حشر نشر کر دے مگر ہر بار خود کو سنبھال لیتا کہ وہ پہلے ہی اپنی فطرت و مزاج کے برخلاف کافی بُرا سلوک کر چکا تھا۔ ابا جی کی ضد تھی منتہیٰ کو اس کے ساتھ بھیجنا اور وہ منتہیٰ کو یہاں لا کر بھول جانے کی کوشش میں تھا۔ مگر اس کا ضمیر پھر بھی مطمئن نہ ہوتا تو وہ سارا سارا دن باہر گزار کر جب رات گئے گھر لوٹتا تو منتہیٰ کو بیڈ روم میں آرام سے سوتے دیکھ کر اس کے اندر کی وحشت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا اور ایسے میں جی چاہتا کہ وہ منتہیٰ کو جھنجوڑ کر اُٹھا دے مگر وہ ہر بار خود کو روک لیتا۔ وہ خود بھی اپنے غیر انسانی سلوک سے بے چین و مضطرب رہنے لگا تھا۔
منتہیٰ بیڈ روم سے منہ ہاتھ دھو کر نکلی تو ہال کمرے میں روزانہ کی طرح موسیٰ کو بڑے صوفے پر سوتا دیکھ کر اس نے ایک سرد سی نگاہ ڈالی تھی۔ نجانے رات وہ کب لوٹا تھا ایک بجے تک تو وہ جاگتی رہی تھی اور تب تک وہ نہیں آیا تھا اور اب…
وہ سر جھٹک کر واپس کمرے میں چلی گئی۔ فجر کی نماز ادا کر کے کمرے سے نکلی تو بٹلر کچن میں موجود تھا۔
’’تم جائو میں ناشتہ خود تیار کر لوں گی۔‘‘ اسے چلتا کر کے اس نے فریج سے سامان نکالنا شروع کر دیا تھا۔ موسیٰ کی آنکھ کھلی تو پہلی نگاہ کچن کی طرف اُٹھی۔ سبز آنچل کو لہراتے دیکھ کر اس نے پھر سے آنکھیں موند لی تھیں۔
’’ایسا کب تک چلے گا؟‘‘ کسی نے اس کے اندر سے سوال اُٹھایا تھا۔ ’’شاید ساری زندگی‘‘ اس نے تلخی سے دوبارہ آنکھیں کھولی تھیں۔
’’محمد خان!‘‘ اس نے لیٹے لیٹے ہی سختی سے پکارا تو منتہیٰ نے چونک کر باہر جھانکا وہ صوفے پر بیٹھا دکھائی دیا۔
’’جی سر…‘‘
’’بٹلر کہاں ہے؟‘‘ اس نے تحکم سے پوچھا تو منتہیٰ نے ایک گہرا سانس لیا۔ وہی روزانہ کی تکرار تھی۔
’’وہ میرے ساتھ صحن کی صفائی کر رہا ہے۔ بیگم صاحب نے آرڈر دیا تھا کہ سارا صحن آدھے گھنٹے میں صاف ستھرا ہو۔‘‘
’’اسے بھیجو۔ جس کام کے لیے وہ یہاں ہے وہی سر انجام دے۔ آئندہ میں نہ دیکھوں کہ کچن کے کام کوئی اور کرے۔ بھیجو اسے۔‘‘ غصے سے کہتا وہ بیڈ روم کی طرف چلا گیا تھا۔
’’بیگم صاحبہ! آپ مجھے ہر روز جھاڑ پڑوا دیتی ہیں۔ صاحب کو آپ کا کام کرنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ منہ بسورتا چلا آیا تھا۔ منتہیٰ نے بڑی سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’تم محمد خان اور اپنے صاحب کا ناشتہ لے جائو اور پھر خود بھی کر لینا۔ سب تیار ہے۔‘‘ اس کی بات کو نظر انداز کرتے اس نے خاموشی سے اپنا ناشتہ ٹرے میں ٹکال کر ہال کمرے کی راہ لی۔ صوفے پر بیٹھ کر وہ آرام سے ناشتہ کر رہی تھی جب نک سک سے تیار موسیٰ کمرے سے برآمد ہوا۔ اسے دیکھ کر اس کی بھنویں تن گئیں۔ صوفے پر آلتی پالتی مارے وہ بڑے آرام و سکون سے ناشتہ کر رہی تھی۔
موسیٰ دیکھ کر منتہیٰ کے ہاتھ رُک گئے۔
وہی ہمیشہ والا سرد انداز۔
’’میں شام چھ بجے گھر آئوں گا، تم تب تک تیار ہو جانا۔ کچھ دوستوں نے مل کر ایک پارٹی ارینج کی ہے۔ تمہیں ساتھ چلنا ہے۔‘‘ اپنے اسی بے لچک انداز میں وہ گویا تھا۔ منتہیٰ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ جی چاہا کہ صاف انکار کر دے مگر پھر چپ رہی۔ وہ گھر کی چار دیواری میں بند رہ کر اب اُکتانے لگی تھی۔ اس کا جی چاہنے لگا تھا کہ وہ باہر کی کھلی فضا میں سانس لے۔ ہنسے مسکرائے شادی سے پہلے والی بے فکر بے پرواہ منتہیٰ نور بن جائے۔ مگر آہ وہ تیار ہو کر اپنے اسی سرد انداز سمیت چلا گیا تو وہ کلس کر رہ گئی۔ موسیٰ کے گھر سے جانے کے فوراً بعد اس نے بٹلر اور محمد خان کے ہمراہ مل کر سارے گھر کی تفصیلی صفائی کی تھی۔ ادھر سے فارغ ہو کر وہ بیڈ روم میں چلی آئی اس کے کپڑوں کا سوٹ کیس اسی طرح پڑا ہوا تھا۔ الماری میں تو موسیٰ منیر کی اپنی چیزوں کی کمی نہ تھی وہ بھلا کہاں اپنا سامان رکھتی۔ سارے کپڑے ایک کے بعد ایک نکال کر دیکھتی رہی۔ ایک سیاہ رنگ کا خوبصورت کڑھائی والا لباس نکال کر اس نے بٹلر کو دیا کہ وہ پریس کر دے۔ موسیٰ منیر کے ساتھ زندگی گزارنا ایک مشکل ترین کام تھا مگر وہ زندگی کو دھکا لگائے ہوئے تھی۔ موسیٰ سے نہ اسے پہلے کوئی اچھی اُمیدیں اور توقعات تھیں اور نہ ہی آئندہ تھیں۔ وہ بس اپنے ماں باپ کی عزت کی خاطر یہ سب برداشت کرنے پر مجبور تھی ورنہ موسیٰ منیر کے لیے اس کے دل میں اب سوائے نفرت کے کوئی اور جذبہ نہ تھا اور خالی خولی نفرت سے بھی آخر کب تک گزارا کرتی۔ اگر آپا زہرا، اماں، عیشہ اور منیر چاچا روزانہ کالز کر کر کے اسے موسیٰ کے ساتھ نباہ کرنے اور سمجھانے کی کوشش نہ کر رہے ہوتے تو وہ موسیٰ کے ساتھ ایک دن بھی نہ رہ پاتی۔ اپنوں سے اس قدر دور محض ان تسلی دلاسوں کی وجہ سے ہی ابھی تک یہاں رہ رہی تھی ورنہ یہاں رہنے کے لیے اب کچھ بھی نہ تھا۔
ہر چیز تیار کیے وہ شام تک منتظر رہی، وہ صرف تیار نہیں ہوئی تھی کیا پتا اس شخص کی نیت کب بدل جائے اور ذلت علیحدہ… وہ ہال کمرے کی کھڑکی کھولے باہر دیکھ رہی تھی جب موسیٰ لوٹ آیا تھا۔ وہ دیکھ کر بھی انجان بنی رہی۔
’’تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟‘‘ وہ اسے سارے گھر میں دیکھ کر آیا تھا اور اب اسے صبح والے حلیے میں دیکھ کر اس کے تیور بگڑے تھے۔ منتہیٰ نے اسے ایک نظر دیکھا اور کھڑکی سے ہٹ گئی۔ موسیٰ کے لیے منتہیٰ کا یہ انداز بڑا توہین آمیز تھا۔ وہ موسیٰ کے سامنے اب نہیں بولتی تھی، دونوں ہی کلام نہیں کرتے تھے۔ موسیٰ تو کبھی کبھار مخاطب کر ہی جایا کرتا تھا جبکہ وہ یہ بھی نہیں کرتی تھی۔ موسیٰ اس کے پیچھے ہی کمرے میں آیا تھا۔ محمد خان نے اس کا لباس پریس کر دیا تھا۔ تب لباس بدل کر باہر نکلی تو موسیٰ کو دیکھ کر رُک گئی۔
’’پانچ منٹ میں تیار ہو جائو، ہمیں ابھی نکلنا ہے۔‘‘ اسے کہہ کر وہ اپنا لباس لیے باتھ روم میں گھس گیا تھا۔ اس نے کون سا خصوصی اہتمام کرنا تھا۔ بال بنا کر اس نے کانوں میں سونے کے ٹاپس پہنے اور ہونٹوں پر ہلکی سی نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگا لی۔ وہ بستر پر بیٹھی سینڈل پہن رہی تھی جب بالوں میں برش پھیرتے موسیٰ نے اسے بھی دیکھا۔ لمبے گھنے بال اس کے پہلو میں سمٹ آئے تھے جنہیں وہ ایک ہاتھ سے سنبھالے دوسرے سے سینڈل بند کر رہی تھی۔ خوبصورت لباش اور ہلکی سی لپ اسٹک کے باوجود وہ بڑی سوگوار سی لگی۔ موسیٰ نے شاید پہلی بار اسے غور سے دیکھا تھا۔ اس کی نگاہ چند پل کے لیے اس کے چہرے پر جم سی گئی تھی۔ منتہیٰ نے سر اُٹھایا تو موسیٰ کو خود کو دیکھتے پا کر سٹپٹا سی گئی۔ موسیٰ بھی پلٹ کر برش رکھ کر اپنا والٹ اور موبائل اُٹھانے لگا۔
’’تیار ہو؟‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تو وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے باہر نکل آیا۔
’’موسیٰ! تم بہت خوش قسمت ہو۔ تمہاری وائف بہت پیاری اور باوقار ہیں۔‘‘ اس کے دوست مرتضیٰ نے برملا تعریف کی تو منتہیٰ جھینپ گئی۔
’’اور خوبصورت بھی بلا کی ہیں۔‘‘ کسی اور نے بھی لقمہ دیا تھا۔
’’بڑی شرم و حیا والی… ایسی عورت پر مرد کو فخر ہوتا ہے۔‘‘ اس کے سینئر نے موسیٰ کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
’’اب سمجھ آئی تم نے دعوت پر بھابی کو لانے سے کیوں انکار کر دیا تھا۔ واقعی بھابی تو پہلی نظر میں کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جبھی تم ٹال رہے تھے۔‘‘ کسی اور نے بڑی شرارتی آواز میں کہا۔ ایسے تبصروں اور جملوں سے وہ قدم قدم پر سراہی گئی تھی۔ وہ خاصی پُراعتماد لڑکی تھی مگر موسیٰ نے اس کا سارا اعتماد نچوڑ لیا تھا۔ بڑے عرصے بعد اسے اپنی ذات کا فخر دوبارہ حاصل ہوا تو طبیعت کچھ ہلکی پھلکی سی لگنے لگی۔ یہ پارٹی خاصی کامیاب رہی تھی رات گئے جب دونوں لوٹ رہے تھے تو منتہیٰ تھکن سے بے حال پچھلی سیٹ کی پشت گاہ سے کمر ٹکا کر آنکھیں موند گئی تھی۔ محمد خان ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھا موسیٰ گاہے بگاہے بیک ویو مرر سے منتہیٰ کے نظر آتے چہرے کو دیکھتا رہا تھا۔ منتہیٰ سے اسے نفرت تھی کہ وہ کبھی بھی اس کے بارے میں مثبت رائے نہیں رکھ سکتا تھا مگر آج کی تقریب میں جس طرح اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا، قدم قدم پر سراہا گیا تھا موسیٰ بھی چونک گیا تھا، اور پہلی بار اسے منتہیٰ کے وجود کی ساری خوبصورتی بڑے خوبصورت انداز میں متاثر کر رہی تھی۔ اس کے لمبے گھنے بال، خوبصورت متناسب سراپا، سر و قد اور ہیرے کی لونگ سے دمکتی ستواں ناک جو اس کے مغرورانہ سراپا کو اور بھی نمایاں کر دیتی تھی۔ وہ پہلی بار بڑے غور سے اس کے خدوخال کا نا صرف جائزہ لے رہا تھا بلکہ اس کا یہ روپ سروپ بڑے غیر محسوس انداز میں اس کے دل کے تاروں کو بھی چھیڑ رہا تھا۔ منتہیٰ سے اس کا صرف ایک ہی رشتہ تھا، نفرت کا رشتہ، وہ کسی اور تعلق کو نہ مانتا تھا اور نہ ہی قبول کرتا تھا۔ محض منتہیٰ کی زندگی اجیرن کرنے، اسے سخت سے سخت سزا دینے کو وہ اس کے ساتھ ہر بُرا رویہ رکھنے پر خود کو حق بجانب سمجھتا تھا تو پھر اب دل کے اندر یہ اک نیا احساس کیونکر تھا۔
گھر واپس آ کر وہ بیڈ روم میں چلی آئی تھی۔ پہلے دن سے وہ اسی بیڈ روم میں تھی۔ رات وہ بیڈ روم میں ہوتی تھی تو موسیٰ ہال کمرے کے صوفے پر… دونوں کے درمیان یہ معمول خودبخود بندھ گیا تھا۔ دوپٹہ بیڈ پر ڈال کر آئینے کے سامنے کھڑی وہ کانوں سے ٹاپس اُتار رہی تھی کہ موسیٰ کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گئی۔ وہ جب سے یہاں تھی موسیٰ کو ہال کمرے میں سوتے دیکھ کر سمجھی تھی کہ شاید اس کے اندر کچھ انسانیت پیدا ہو گئی ہے مگر اب اسے پھر روم میں دیکھ کر اس کا چہرہ تاریک ہوا تھا۔ آگے بڑھ کر دوپٹہ اُٹھا کر دوبارہ سے کندھوں پہ پھیلا لیا۔ موسیٰ لباس لے کر باتھ روم میں چلا گیا تو وہ گم صم کھڑی رہی۔ موسیٰ دوبارہ کمرے میں لوٹا تو اسے گم صم کھڑے دیکھ کر چونکا۔ اس نے بھی موسیٰ کو دیکھا اور پھر نگاہیں جھکا لیں۔ وہ باہر جانے کے بجائے بستر پر دراز ہو گیا تھا۔
’’آج کھڑے کھڑے سونے کا ارادہ ہے کیا؟‘‘ اسے اسی طرح کھڑے دیکھ کر موسیٰ نے ٹوکا۔ انداز سخت تھا۔ وہ خاموشی سے لباس بدل کر بستر پر چلی آئی۔ موسیٰ کو چت لیٹے خوفزدہ نظروں سے دیکھتے اس نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔

دن اپنی مخصوص رفتار سے گزر رہے تھے۔ اگلے ماہ رمضان شروع ہو جانا تھا، درمیان میں چند دن باقی تھے اسے یہاں آئے بھی ایک ماہ ہونے والا تھا۔ ان دنوں کا خوشگوار واقعہ عیشہ اور جہانزیب کی آمد تھی وہ ہنی مون ٹرپ پر ایبٹ آباد آئے ہوئے تھے چند دن ان کے ہاں بھی ٹھہرنا تھا۔ عیشہ اور بھائی کو دیکھ کر منتہیٰ خوش ہو گئی تھی۔ جہانزیب اور موسیٰ کی آپس میں شادی سے پہلے کافی دوستی تھی۔ جہانزیب کے آنے کا موسیٰ پر اچھا اثر پڑا تھا۔ وہ اب جلد گھر آنے لگا تھا اور جہانزیب اور عیشہ کہیں نہ کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا لیتے تو دونوں کو بھی ان کا ساتھ دینا پڑتا تھا۔ آج بھی مغرب کے قریب وہ لوگ قریبی ٹیلے پر آئے ہوئے تھے۔ موسیٰ قریبی دکان سے عیشہ کی فرمائش پر کچھ کھانے کو لینے گیا ہوا تھا۔ جہانزیب ان کو ایک طرف بیٹھے دیکھ کر نیچے کی طرف چلا گیا تھا۔
’’منتہیٰ، موسیٰ بھائی کے رویے میں کچھ بہتری آئی ہے؟ مجھے تو وہ شادی کے بعد والے موسیٰ بھائی سے خاصے بہتر لگ رہے ہیں۔‘‘
اِدھر اُدھر کی باتوں کے دوران ایک دم عیشہ نے کہا تو وہ چپ کر گئی۔
’’پتا نہیں… مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا… میرے دل میں پہلے اس شخص کے لیے کوئی احساس نہ تھا رہی سہی کسر بعد میں اس کے رویوں نے پوری کر دی۔ اب تو کوئی جگہ بنے دل میں ناممکن سی بات ہے۔‘‘ منتہیٰ کے انداز پر عیشہ تڑپ اُٹھی تھی۔
’’تمہیں ابا جی نے فون کر کے ساری صورتحال بتانی تو تھی۔ وہ نتاشہ لوگوں کے انکار اور پھر ابا جی کے رویوں سے بگڑے ہوئے تھے اور سارا غصہ لامحالہ تم پر ہی نکالنا تھا انہوں نے۔‘‘
’’بہت غلط کیا چاچا جی نے… اپنی زبان کی پاسداری کا انہیں اتنا احساس تھا تو موسیٰ کی زبان کا بھی خیال کرتے۔ یہ شخص میرے ساتھ جیسا بھی سہی مگر اس لڑکی کے ساتھ خوش تو رہتا۔ ایک انکار سے کم از کم اتنی اذیت تو نہ میں سہتی۔ اس نے اپنی ساری نفرت مجھ پر نکالی، میرا تو سرے سے قصور تھا ہی نہیں۔ وہ اب تک سمجھتا ہے کہ نتاشہ لوگوں کے انکار اور زہرا باجی کے ذریعے چاچی کو ورغلانے والی میں ہوں۔ خدا کی قسم میں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا۔ موسیٰ سے بس اختلافات ضرور تھے مگر اس سے شادی کرنے یا اس کی زندگی میں داخل ہونے کا کبھی گمان تک دل میں نہ لائی۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو کبھی اس سے شادی نہ کرتی۔‘‘ وہ بات کرتے کرتے ایک دم رو دی اور عیشہ کی فرمائش پر کھانے پینے کا سامان لے کر آتا موسیٰ اُلٹے قدموں واپس پلٹ گیا۔

وہ کئی راتوں سے سو نہیں پایا تھا۔ وہ سو تو تب سے ہی نہیں پایا تھا جب سے منتہیٰ نام کی اذیت اس کے مقدر میں لکھی گئی تھی اور پھر اس سے شادی اور بعد کے اپنے سلوک نے اسے خود سے ہی اس قدر برگشتہ کر دیا تھا کہ وہ مسلسل کئی ماہ تک دوبارہ گھر نہ جا سکا تھا اور پھر گیا بھی تو وہی نفرت پھر سے عود کر آئی تھی۔ منتہیٰ پاس تھی تو وہ اس کے ساتھ بُرا سلوک کرنے سے خود کو ہر طرح سے باز رکھتا تھا مگر عیشہ لوگوں کی آمد نے صورتحال بدل دی تھی۔ منتہیٰ اور عیشہ کے درمیان ہونے والی گفتگو سن کر وہ اپنی ہی نظروں سے گر گیا تھا۔
’’تو منتہیٰ نور اس سارے کھیل میں بے قصور تھی؟‘‘ وہ جوں جوں سوچتا تکلیف بڑھتی جاتی۔ موسیٰ نے گردن گھما کر بستر کے دوسرے کنارے پر محو خواب وجود کو دیکھا۔ کئی دنوں سے منتہیٰ کا وجود اسے بُری طرح ڈسٹرب کر رہا تھا مگر اب تو حد ہی ہو گئی تھی۔ اس کی راتوں کی نیندیں تک اُڑ چکی تھیں۔ اسے شادی کے بعد منتہیٰ سے روا رکھا جانے والا اپنا سلوک یاد آیا تو نظریں ندامت سے جھک گئیں۔ وہ اتنا حقیر انسان ثابت ہوا تھا، اسے خود سے نفرت ہونے لگی۔ اگر منتہیٰ قصور وار بھی تھی تو اسے کوئی حق نہیں تھا کہ اسے اتنی بڑی سزا سناتا اور اب…؟
منتہیٰ نے کروٹ بدلی تھی۔ موسیٰ نے گردن موڑ کر دیکھا، اس کا خوبصورت سراپا نگاہوں کے سامنے تھا۔ لمبے بالوں کی چوٹی بستر پر پڑی ہوئی تھی۔ مخروطی ہاتھ کی اُنگلیاں… اس نے آہستگی سے اس کی اُنگلیوں کو چھوا۔ ہاتھ کا گداز منتہیٰ کے ہاتھ پر ٹھہرا تو اس نے سرعت سے ہاتھ کھینچ لیا اور لائٹ بند کرتے کمرے سے نکل آیا تھا۔
رات کا ایک بج رہا تھا مگر سکون ندارد تھا۔
ساتھ والا کمرا عیشہ اور جہانزیب کے لیے سیٹ کیا گیا تھا۔ لائٹ روشن تھی، قریب سے گزرتے اندر سے آوازیں سن کر وہ رُک گیا۔
’’زیبی! آپ موسیٰ بھائی کو سمجھائیں نا پلیز۔‘‘ عیشہ کی آواز پر وہ چونکا۔
’’دیکھو میں اس طرح کیسے سمجھا سکتا ہوں؟ منتہیٰ کا بھائی ہوں۔ موسیٰ سے لاکھ بے تکلفی سہی مگر ایک بھائی بھی ہوں۔ آپا زہرا نے جس طرح کے حالات سے آگاہ کر کے ہمیں یہاں بھیجا ہے ایسے عالم میں موسیٰ کو چھیڑنا نری حماقت ہے۔ یہاں آ کر ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد تو میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں منتہیٰ کو سیدھا ساتھ لے جائوں۔ ناحق چاچا جی نے موسیٰ کے ساتھ ساتھ ہماری بہن کو بھی خوار کروا دیا۔ میں تو صاف کہوں گا۔ کہ سارا قصور تمہارے ابا جی کا ہے۔ جب وہ کسی اور لڑکی کو پسند کرتا تھا تو سیدھے سادے طریقے سے ابا جی سے بات کر کے رشتہ ختم کر دیتے۔ اگر رشتہ کرنا بھی تھا تو موسیٰ کو سمجھانے اور منانے کے بہت سے طریقے تھے۔ لے کے ہماری پھولوں جیسی بہن رول دی ہے۔ وہ شادی سے انکاری تھی، میں تو یہی سمجھتا رہا کہ اس کے موسیٰ سے متعلق محض وقتی اختلافات ہیں۔ شادی ہو گی تو حالات درست ہو جائیں گے مگر شادی کے بعد موسیٰ کا تین ماہ تک پلٹ کر خبر نہ لینا اور واپس آیا بھی تو چاچا جی نے ایک اور زیادتی کر ڈالی۔ زبردستی منتہیٰ کو ساتھ روانہ کر دیا۔ اس طرح بھلا حالات سدھرتے ہیں؟ مجھے ساری صورتحال دیکھ دیکھ کر بہت دُکھ ہو رہا ہے۔‘‘ جہانزیب کی دُکھ سے بھرپور آواز سن کر موسیٰ ششدر رہ گیا تھا۔ یعنی ہر کوئی اصل حالات سے بے خبر تھا۔ اس نے سختی سے لب بھینچ کر وہاں سے قدم ہٹا لیے تھے۔

وہ دو تین دن مزید رُکے تھے۔ تیسرے دن وہ لوگ جانے کو تیار تھے۔ موسیٰ سے جہانزیب نے منتہیٰ کو بھی ساتھ لے جانے کی بات کی تو وہ چونک کر جہانزیب کو دیکھنے لگا۔
’’کیوں؟‘‘ اگر جہانزیب کی گفتگو نہ سنی ہوتی تو فوراً منتہیٰ کو بھیجنے پر شکر ادا کرتا بلکہ خوش ہوتا مگر اب…
’’بھئی ہماری بہن ہے، وہ جانا چاہتی ہے، کچھ دن کے لیے ویسے بھی میرا نہیں خیال کہ اس کی غیر موجودگی میں تمہیں کوئی فرق پڑنے والا ہے۔‘‘ موسیٰ نے دیکھا جہانزیب کے تاثرات کچھ طنزیہ لگے تھے۔
اگر نقصان منتہیٰ کو ہوا تھا تو اتنا ہی شدید بلکہ اس سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال اس نے خود بھی برداشت کی تھی ایسے میں جہانزیب کا رویہ ناگوار گزرا تھا۔
’’اوکے لے جائو۔‘‘ اس نے نارمل انداز میں کہہ دیا تھا تو جہانزیب نے لب بھینچ کر عیشہ کو دیکھا جو نظریں جھکا گئی تھی۔ منتہیٰ نے شکر کا سانس لیا کم از کم چند دن کے لیے وہ اس قید سے اس شخص سے دور رہنا چاہتی تھی۔
’’منتہیٰ تم پیکنگ کر لو، شام کو ہم نکل چلیں گے۔ ایک ماہ بہت ہوتا ہے۔ تیار ہو جائو۔‘‘ وہ فوراً سر ہلاتی کمرے میں چلی گئی تھی۔

وہ گائوں آئی تو دوسرے دن ہی روزے شروع ہو گئے تھے۔ وہ ہفتہ اماں کے ہاں رہی اور پھر چاچا منیر اور چچی اسے آ کر اپنے ہاں لے آئے۔ رات افطاری کے بعد ساجدہ بھابی کے ساتھ کچن سمیٹ کر وہ بھابی کے ساتھ ہی اپنے کمرے میں جانے کے لیے نکلی تھی۔ صبح سے اس کی طبیعت عجیب مضمحل ہو رہی تھی۔ بھابی کے ساتھ چلتے اسے بڑے زور کا چکر آیا تھا۔ اس نے فوراً بھابی کا بازو تھام کر خود کو گرنے سے روکا۔
’’کیا ہوا منتہیٰ ٹھیک تو ہو؟‘‘ اس کے وجود کو سنبھالتے ساجدہ بھابی ایک دم پریشان ہوئی تھیں۔
’’کچھ نہیں بس چکر سا آ گیا تھا۔ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا، مگر چہرے کی زردی نظر انداز کی جانے والی نہ تھی۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے اس کے کمرے میں چلی آئیں۔
’’چکر کیوں آیا بھئی۔‘‘ انہوں نے اس کے ساتھ ہی بستر پر بیٹھتے پوچھا تو وہ ہنس دی۔
’’ہو سکتا ہے کمزوری ہو گئی ہو اتنی گرمی میں روزے آئے ہیں۔ میری کیا ہر ایک کی یہی حالت ہو رہی ہے۔ کئی دن سے یہ حالت ہے، اماں کے ہاں بھی ایک دو دفعہ چکرا کر گرنے والی ہو گئی تھی۔‘‘ بھابی نے بغور اسے دیکھا۔
’’ایبٹ آباد کتنے دن رہ کر آئی ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا تو اسے موسیٰ یاد آیا۔ اس نے لب بھینچ لیے اور بھی نجانے کیا کچھ یاد آ گیا تھا۔
’’ایک ماہ۔‘‘
’’صبح اماں کو ضرور بتانا۔ میرا خیال ہے ڈاکٹر سے چیک کروا لو۔ ہو سکتا ہے کوئی خوشخبری ہو۔‘‘ انہوں نے اپنی طرف سے اس کے ساتھ شرارت کرنا چاہی تھی مگر منتہیٰ تو مارے حیرت و پریشانی کے گنگ رہ گئی۔ بھابی کی بات کا مطلب وہ صاف سمجھ گئی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ نگاہیں چرا کر اس نے انکار کیا تو بھابی اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتی رہی تھیں۔ پھر بھابی تو اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں مگر اس کے اندر اک وحشت اُترتی چلی گئی۔ جہانزیب اور عیشہ اسے ساتھ تو لے آئے تھے مگر اسے لگ رہا تھا کہ اس کا سارا دھیان وہیں ایبٹ آباد میں ہی رہ گیا ہے۔ موسیٰ سے اسے لاکھ نفرت سہی مگر اس کے دل میں موسیٰ سے علیحدہ ہونے کا ابھی تک خیال نہ آیا تھا۔ وہ صبح جب چاچا اور چاچی کے ساتھ لوٹ رہی تھی تو جہانزیب نے روک لیا تھا۔
’’اماں، ابا نے جو زبردستی کی اور چاچی نے موسیٰ کے ساتھ جو رویہ رکھا، اس کا نتیجہ اب سامنے ہے۔ موسیٰ کے دل و دماغ میں کوئی اور لڑکی ہے، وہ زبردستی بھی تمہیں اپنے گھر میں بسا لے تو بھی کیا گارنٹی ہے کہ اس کے دل و دماغ میں تمہارے لیے کوئی گنجائش بھی پیدا ہو جائے۔ منتہیٰ! ساری زندگی کی خوشیوں کا سوال ہے تمہارے پاس ایک راستہ ہے میں ہر حال میں تمہارا ساتھ دوں گا۔ اب تو اماں اور ابا کو بھی چاچا منیر کی غلطی جان کر اپنے رویوں کا احساس ہو گیا ہے۔ ہم سب تمہیں اکیلے نہیں چھوڑیں گے، تم جو بھی فیصلہ کرو گی ہم تمہارا ساتھ دیں گے مگر ایسا فیصلہ کرنا جس میں سب کی بہتری ہو۔ تم اچھی طرح سوچ لو، اگر موسیٰ کے ساتھ نباہ کرنا مشکل ہے تو ابھی سے ہی اس تعلق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔‘‘ اور اب کمرے کی تنہائی میں ان باتوں کو یاد کرتے اسے بھابی کی چھیڑ خانی بھی یاد آ رہی تھی۔ وہ اسے بھابی کی شرارت ہی سمجھتی تو بھی اس کے دل میں خوف سا پیدا ہو گیا تھا۔ اس نے سوچا کل گھر جائے گی تو اماں سے بھی بات کرے گی۔

بھابی ساجدہ کا شک درست نکلا تھا۔ دونوں گھروں میں اس کے وجود کے اندر پنپنے والی خوشخبری سن کر جہاں خوشی دوڑ گئی تھی، وہیں وہ گم صم سی ہو گئی تھی۔ حتیٰ کہ جہانزیب اور اماں ابا بھی سن کر مطمئن ہو گئے تھے شاید اب موسیٰ اپنی اولاد کی وجہ سے ہی اس کے ساتھ تعلق داری کا نئے سرے سے جائزہ لے لے، شاید اب کوئی گنجائش نکل آئے اور حالات بہتر ہو جائیں۔ دن اسی رفتار سے گزر رہے تھے۔ روزوں کی وجہ سے ہر کوئی عبادت اور سحری و افطاری کی مصروفیات میں اُلجھا ہوا تھا۔ اماں نے فون کر کے موسیٰ کو اطلاع کر دی تھی۔ اس کا کیا رد عمل تھا، کوئی اندازہ نہ ہو سکا نا ادھر سے اس نے کوئی رابطہ کیا نا ہی اس نے فون کر کے اس خوشخبری کی تصدیق چاہی۔ منتہیٰ جو کہ اس خوشخبری کے بعد کچھ حد تک اپنے ذہن کو نفرت کے جذبات سے نکال کر مثبت سوچ کی طرف گامزن ہونے والی تھی موسیٰ کے اس رویے پر پھر اپنی جگہ ساکت سی رہ گئی۔
دن رات کے اسی چکر میں اُلجھتے، دن رات کرتے آخری عشرہ شروع ہوا تو منتہیٰ کے دل سے ہر اُمید ختم ہو گئی۔ سمجھوتہ کرنے کا ہر احساس بے حس ہونے لگا۔
وہ اماں کے ہاں افطاری کے بعد آئی تو بھابی زہرا پوچھنے لگیں۔
’’موسیٰ نے کوئی فون کیا؟‘‘ اس نے انہیں ایک نظر دیکھ کر گردن نفی میں ہلا دی۔ انہیں اس پر بڑا رحم محسوس ہوا۔ شادی کے بعد لڑکی ذات کی ساری انا، مٹ مٹ کر فنا ہو جاتی ہے۔ اس کی ساری توجہ و محبت، محبت کے حصار میں سمٹتے اپنے شوہر اور اس کے گھر تک منتقل ہو جاتی ہے۔ مگر موسیٰ کی بے حسی منتہیٰ کے اندر کی نرم و نازک احساسات کی مالک لڑکی کو مسلسل مارے دے رہی تھی، ہر رات کا اختتام اس کی اُمید کا اختتام تھا گویا، پھر کس کس کے سامنے اپنی ندامت کا اقرار کرتی۔
’’فکر نہیں کرو منتہیٰ، عید پر اس نے آنا ہی ہے نا خوب لڑ جھگڑ کر دل کی بھڑاس نکالنا۔ اتنی پیاری بیوی سے وہ بھلا کب تک منہ موڑے بیٹھا رہے گا۔‘‘ انہوں نے ساتھ لگا کر اسے تسلی دینا چاہی تھی مگر منتہیٰ کو لگا اس کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔ وہ چند لمحے وہاں بیٹھی تھی پھر ہر ایک کے منہ سے ایک ہی سوال سن سن کر وہ وہاں سے چلی آئی۔
آخری عشرہ تھا وہ خشوع و خضوع سے عبادت میں مصروف ہو کر دل کی وحشت و اضطراب کا حل ڈھونڈنے لگی اور کسی حد تک مطمئن بھی ہو گئی۔ ستائیسویں کے بعد تو ہر ایک عید کی تیاریوں میں لگا ہوا تھا۔ دونوں طرف سے اسے عیدی ملی تھی۔ سوٹ، کپڑے، زیورات دیگر اشیاء سمیت ہر چیز تھی۔ سب کا خیال تھا کہ موسیٰ دو دن پہلے آ جائے گا مگر انتظار، انتظار ہی رہا۔ حتیٰ کہ چند رات آ پہنچی۔
عیشہ رات تک ادھر ہی تھی۔ اس نے اس کے منع کرنے کے باوجود اس کے ہاتھ پائوں میں بھر بھر کر خوبصورت انداز میں مہندی لگائی تھی۔ وہ لوگ پُرامید تھے کہ رات گئے تک بھی موسیٰ آ جائے گا، مگر اسے کوئی اُمید نہ تھی۔ سب گھر والوں کو وہیں بیٹھا چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں آ گئی۔ مہندی کچھ حد تک سوکھ گئی تھی۔ وہ لائٹ آف کیے لیٹ گئی۔ بستر پر لیٹتے ہی اس کی آنکھ سے ایک قطرہ پھسل کر اس کے بالوں میں جذب ہو گیا تو اس نے لب بھینچ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ دیا۔

صبح کے وقت اک افراتفری سی مچی ہوئی تھی۔ ہر کوئی نہانے دھونے اور تیار ہونے میں مگن تھا۔ وہ صبح صبح فجر کی نماز پڑھ کر کچن میں چلی آئی تھی۔ میٹھا تیار کر کے اس نے پلیٹوں میں ڈال کر بھابی کے چھوٹے کے ہاتھ محلے کے سب گھروں میں بھجوایا اور پھر باقی سب کے کھانے کے لیے دسترخوان لگوا کر وہ خود بھی فٹا فٹ تیار ہونے اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں بکھری چیزیں دیکھ کر حیران ہوئی۔ ڈریسنگ پر پرفیومز اور دوسری کاسمیٹک کی چیزیں بے ترتیب تھیں جبکہ وہ کمرے سے نکلی تھی تو ہر چیز سیٹ کر کے گئی تھی۔ سر جھٹکتے وہ واش روم میں چلی آئی تو دیکھ کر اُلجھی، صاف لگ رہا تھا کہ اس کو چند منٹ پہلے کسی نے خوب دل کھول کر استعمال کیا ہے۔ شاور سے ٹپکتے قطرے، شاید گھر کا کوئی فرد اس کے باتھ روم میں نہا کر گیا تھا پھر وہ ابھی تیار ہو رہی تھی کہ عیشہ کی چہکتی آواز سنائی دی۔
’’منتہیٰ…‘‘
’’آ جائو، اندر ہی ہوں۔‘‘
’’ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہو سب عید گاہ جا رہے ہیں۔ جلدی کرو وقت کم ہے۔ مجھے جہانزیب نے بھیجا تھا کہ تمہیں لے آئوں۔ یہ سب بعد میں آ جائیں گے۔‘‘
’’بس ایک منٹ۔‘‘ بالوں کو کیچر میں جکڑتے اس نے فٹافٹ چادر اوڑھی۔
’’زیور تو پہن لو۔‘‘ عیشہ نے ٹوکا تو وہ سر جھٹک گئی۔ میک اپ کے نام پر صرف لپ اسٹک استعمال کی تھی اس نے۔ ’’رہنے دو… ٹائم نہیں ہے۔‘‘ بے دلی سے انکار کر کے وہ اس کے ساتھ اماں کو بتا کر نکل آئی تھی۔ عید کی نماز کے بعد وہ جہانزیب وغیرہ کے ہمراہ پہلے اپنے گھر گئی تھی، اماں ابا، بھابیوں بچوں اور بھائیوں سے مل کر ایک گھنٹہ وہاں گزار کر وہ اپنے گھر آئی تو اماں کے کمرے سے سب کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں لگتا تھا سب وہیں جمع تھے، وہ بھی ادھر چلی آئی۔
’’کیا ہو رہا ہے بھئی، بڑا شور ہو رہا ہے؟‘‘ اس نے اندر داخل ہو کر مسکرا کر پوچھا تو سب نے ہی پلٹ کر اسے دیکھا اور اماں ابا کے درمیان موسیٰ منیر کو بیٹھا دیکھ کر ساکت رہ گئی۔ ’’تو آ گیا یہ شخص!‘‘ وہ حیران ہو کر اسے دیکھ رہی تھی تو ایک دو پل اس نے بھی اسے دیکھا تھا۔ پھر وہ سنبھل کر باقی لوگوں کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’عید مبارک اماں!‘‘ وہ آگے بڑھ آئی تھی اماں سے مل کر ابا سے پیار لے کر نواز بھائی اور بھابی کو مبارکباد دے کر وہ وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔ بستر پر گم صم انداز میں بیٹھی تو آنکھوں میں نمی چلی گئی اور پھر وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے خوب روئی۔
’’منتہیٰ‘‘ اس پکار پر اس نے تڑپ کر آنے والے دیکھا۔ کیسی شکایت تھی اس کی برستی آنکھوں میں… کیسا شکوہ مچل رہا تھا اس کے کانپتے ہونٹوں پر… موسیٰ کے اندر کا اضطراب مزید بڑھا۔ ’’کیسی ہو؟‘‘ اس کے ساتھ ہی بستر پر ٹکتے وہ بڑے نڈھال سے انداز میں پوچھ رہا تھا۔ منتہیٰ نے ایک نظر اسے دیکھا اس کی پوری زندگی کو سزا بنا دینے کا دعویٰ کرنے والا اس وقت خود قابل رحم لگ رہا تھا۔ عجب شکست خوردہ انداز تھا۔
’’زندہ ہوں…‘‘ منتہیٰ کے لبوں سے نکلے لفظ موسیٰ کو لگا مار ندامت بڑھ گیا ہے۔
’’منتہیٰ! میں بہت ہمت کر کے یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں جو بھی سلوک تمہارے ساتھ روا رکھ چکا ہوں اس پر کوئی بھی لفظ نہیں کہوں گا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود اپنی نظروں سے گر چکا ہوں۔ قصور وار ابا تھے یا جو بھی تھا، مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کہ میں اپنی شکست کا تاوان تم سے حاصل کرتا۔ تمہارا مجرم ہوں، تمہارا سامنا کرنے کی ہمت اور جرأت نہیں تھی۔ اب آیاد بھی ہوں تو صرف اپنے جرم کا اقرار کرنے…‘‘ دھیمے لب و لہجے میں انتہائی شکست خوردہ انداز میں وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے اپنے تمام رویوں کو قبول کر رہا تھا۔ منتہیٰ نے تمام آنسو صاف کر لیے، تاہم بولی کچھ بھی نہیں۔ ’’میں نے کبھی تم سے نفرت نہ کی، پتا نہیں کیا وجہ تھی کہ میری کبھی تم سے نہ بنی۔ میں اب سوچتا ہوں تو ایسی کوئی خاص وجہ بھی نظر نہیں آئی تھی جو ہمارے درمیان اختلافات کی بنیاد بنتی، اس کے باوجود اماں ابا کے بار بار کہنے پر بھی میں نے تمہیں کبھی شریک سفر کے طور پر قبول نہ کیا، نہ سوچا، نتاشہ بہت اچھی لڑکی تھی۔ فاروق میرا دوست تھا اس کی فیملی میری بہت عزت کرتی تھی مگر ابا کی وجہ سے ان لوگوں نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا۔ ابا نے غلط انداز میں ان سے بات چیت کی اور ان لوگوں کے انکار کے بعد میرے انکار کے باوجود تمہارے لیے مجھے راضی کرنا۔ ایسے میں مجھے یہی لگتا تھا کہ اس سارے قصے کی ذمہ دار ہی تم ہو۔ میرے اپنے مفروضے اور غلط فہمیاں تھیں مگر منتہیٰ تمہارے ساتھ بُرا سلوک روا رکھ کر میں بھی سکون سے نہیں رہا۔ ہر آن، ہر لمحے اضطراب کی بھٹی میں جلا ہوں۔ اپنے ہی ضمیر کی عدالت نے مجھے کئی بار سزا سنائی ہے۔ نتاشہ والا باب تو اسی وقت ختم ہو گیا تھا مگر میری شکست تھی جو مجھے اتنا گھنائونا روپ دے گئی۔‘‘
منتہیٰ خاموشی سے سامنے ڈریسنگ کے آئینے کی طرف دیکھے گئی وہاں سر جھکائے بیٹھے موسیٰ کا عکس واضح تھا۔ موسیٰ نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا تو وہ نظر پھیر گئی۔ ’’میں کوئی وضاحت نہیں دے رہا۔ اپنے تمام گناہوں اور غلط رویوں کو قبول کرتے تمہارے سامنے ہوں۔ جب سے اماں نے فون کر کے وہ خوشخبری سنائی ہے یقین مانو میں تو اپنی ہی نظروں سے گر گیا ہوں۔ تمہارا سامنا کرنے، تم سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ تھی۔ کئی بار کال ملائی اور پھر ڈراپ کر دی۔ اتنا بُرا سلوک کرنے کے بعد تم سے بھلا کہتا بھی تو کیا؟‘‘
’’تو اب کیا لینے آئے ہیں؟‘‘ اس نے چیختے ہوئے پوچھا۔ اسے بڑا انتظار تھا کہ کبھی تو موسیٰ کو اپنے غلط رویوں کا احساس ہوا، کبھی تو وہ اپنی غلطیوں کو قبول کرے گا اور اب جب وہ یہ سب کر رہا تھا تو اسے ذرا بھی اچھا نہ لگا تھا۔ موسیٰ نے منتہیٰ کو دیکھا۔ روتی سرخ آنکھوں میں جھانکا تو وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔ ہاتھوں کو مسلتے اس نے ایک بار پھر موسیٰ کو دیکھا۔ ’’میں نے ہر پل ہر لمحے انتظار کیا، ہمارے درمیان جو بھی ہوا، اس نے مجھے تم سے نفرت کرنا سکھائی تھی اور میں نے ہر آن ہر پل تم سے نفرت کی مگر موسیٰ! تم سے تمہارے سلوک سے، تمہارے غلط رویوں سے نفرت کرتے کرتے میں نے ایک مشرقی عورت کی طرح تم سے اُمیدیں وابستہ کر لیں۔ اپنے دل کو نفرت کرنے کے ساتھ ساتھ تمہارے ساتھ عمر بھر کا عذاب جھیلنے کو آمادہ کرنے لگی۔ پچھلا ایک ماہ اور یہ سارا رمضان میں نے تم سے نفرت کرتے گزارا مگر درحقیقت اس نفرت کے تعلق میں میں نے ہر آن، ہر لمحے تمہیں محسوس کیا اور اسی محسوس کرنے نے مجھے ہرا دیا۔ اگر ہمارے درمیان یہ خوشخبری نہ ہوتی تو خدا کی قسم میں اب تک کوئی انتہائی فیصلہ کر چکی ہوتی۔‘‘ وہ ایک دفعہ پھر رو دی تو موسیٰ نے بڑے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا اور وہ مزید سسکی۔
’’آئی ایم سوری منتہیٰ!‘‘ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر وہ معافی مانگنا چاہتا تھا مگر منتہیٰ ایک دم بے اختیار اس کے کندھے پر پیشانی ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ ’’تم بہت بُرے ہو موسیٰ! بہت بُرے…‘‘ وہ سسکتی رہی۔ ’’میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ تمہیں اتنے دن گزرنے کے بعد اپنی اولاد کا بھی خیال نہ آیا۔‘‘ روتے روتے ایک دم سر اُٹھا کر موسیٰ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ شرمندہ سا ہو گیا۔
’’اتنا رُلایا تم نے مجھے، بغیر کسی قصور کے مجھے سزا دی۔ کوئی یوں بھی کرتا ہے؟‘‘ وہ سب گلے شکوے بہا دینا چاہتی تھی۔ موسیٰ نے آہستگی سے اس کے گرد بازو لپیٹ کر اسے دل کھول کر رونے دیا۔ ’’کب آئے تھے تم؟‘‘ خوب رو کر دل کی بھڑاس نکال کر سیدھی ہو کر اس کو دیکھا۔
’’رات گئے لوٹا تھا۔ تم کمرا بند کیے سو گئی تھیں پھر میں تمہیں بے آرام کرنے کے خیال سے اماں کے پاس ہی لیٹ گیا تھا۔ صبح تم مصروف تھیں، کچھ ایک دم تمہارے سامنے آنے کی ہمت ہی نہ تھی۔ سو آرام سے تمہیں کام کرنے دیا۔ باقی سب کو بھی منع کر دیا کہ تمہیں نہ بتائیں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا تو اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’تو پھر میں اُمید رکھوں کہ تم مجھے معاف کر دو گی؟‘‘ منتہیٰ کے رویوں نے اسے کافی حوصلہ دیا تھا اسی لیے کچھ اطمینان سے کہہ رہا تھا۔
’’ایسے کیسے اتنی جلدی معاف کر دوں؟ میرے ساتھ جو اتنا بُرا سلوک کیا، مجھے ساری عمر سزا دینے کے دعوے کیے، وہ سب بھولنے والا ہے کیا؟‘‘ اسے مطمئن ہوتے دیکھ کر اس نے خفگی سے کہنا چاہا تو اس نے ایک دم اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔
’’اب بھی معاف نہیں کرو گی کیا؟‘‘ بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ منتہیٰ کے ہونٹوں پر پہلی بار ایک خوبصورت سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’نہیں… بالکل نہیں۔‘‘ دونوں ہاتھوں کو جدا کرتے شرارت سے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا۔
’’بڑی پیاری مہندی لگائی ہوئی ہے۔ بڑا گہرا رنگ ہے۔‘‘ اپنے ہاتھوں میں منتہیٰ کے ہاتھ لے کر وہ کہہ رہا تھا۔ سوٹ کے علاوہ صرف مہندی ہی تھی جو اس کا سنگھار ظاہر کر رہی تھی۔ ہلکی سی لپ اسٹک لگائی تھی وہ تو کب کی اُتر بھی چکی تھی۔
’’منتہیٰ! جو بھی ہوا اسے بھول کر ہم اک نئی زندگی شروع کریں گے۔ میرے دل میں بے شک تمہارے لیے کوئی بھی خاص احساسات نہیں رہے کبھی بھی مگر اب میں کوشش کر رہا ہوں اپنی زندگی میں ہی نہیں دل و دماغ میں بھی تمہیں جگہ دوں۔ نتاشہ کا تو تصور اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب ان لوگوں کی طرف سے انکار ہوا۔ وجہ کچھ بھی سہی تم سے شادی کے بعد کسی اور وجود یا نام کو سوچا ہی نہیں۔ نفرت سے ہی سہی مگر تمہیں ہی سوچا۔ تم وہ ایک ماہ جو میرے ساتھ ایبٹ آباد گزار کر آئی ہو تو تمہاری اس ہر آن ہر لمحہ کی موجودگی نے تمہارے ہونے، تمہارے وجود کا احساس دیا۔ تمہاری بہت سی خوبیاں مجھ پر آشکار ہوئیں اور شکست کا عمل شروع ہو گیا۔ یہ خوشخبری تو بس ایک آخری ضرب تھی میری خود ساختہ انا کو گزارنے کے لیے۔ اب تمہارے سامنے ہوں تو دل و جان سے تمہارا بننے کا اقرار کرتا ہوں کہو، میرا یہ اقرار قبول کرو گی نا۔‘‘ وہ پوچھ رہا تھا اور منتہیٰ نے اقرار کے طور پر اس کے فراخ و کشادہ سینے پر سر رکھ کر گزشتہ ساری رنجشوں کو بھلا کر اک نئی زندگی کو خوش آمدید کہنے کا پہلا قدم اُٹھا لیا تھا۔
’’شکریہ بہت بہت… تم واقعی بہت اچھی ہو۔‘‘ مارے تشکر کے اس کی آواز بوجھل ہو گئی اور اس نے والہانہ پن سے اس کے گرد دونوں بازوئوں کا حصار باندھ کر ایک قیمتی متاع کی طرح اسے خود میں سمیٹ لیا تھا

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close