وہ اِک لمحہ محبت

اُمید صبح بہار

سمیرا شریف طور

ساری رات گھن گرج کے ساتھ بجلی چہکتی رہی اور پھر مینہ ایسے ٹوٹ کے برسا، جیسے برسوں بعد اسے برسنے کا موقع ملا تھا اور اب وہ صبح سویرے نماز کے بعد صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے رات ہونے والی بارش کے بعد کے اثرات کا جائزہ لے رہی تھی۔
اسے ہمیشہ بارش کے بعد کے مناظر سے وحشت ہونے لگتی تھی۔ بارش کا موسم اکثر اس کے اندر کے کھرنڈ اُتار دیتا تھا اور اس کے اندر کا درد آنسوئوں کی صورت اس کے چہرے پر بکھر جاتا تھا، کیسا دردناک تھا یہ موسم… اس موسم سے اس کی اچھی بُری بہت سی یادیں وابستہ تھیں، جنہیں وہ کوشش کے باوجود فراموش نہیں کر پا رہی تھی۔
بارش کے بعد اسے سب سے زیادہ وحشت اس حبس سے ہوتی تھی جو اس کے اندر باہر اپنا بسیر ا کر لیتا تھا۔ اب بھی ہر طرف بکھرے پتے، گرد اور مٹی سے اٹا صحن… اسے سخت اُلجھن ہو رہی تھی۔
’’سکول جانے میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے، اتنی دیر میں باہر کی صفائی ہو جائے گی۔‘‘
اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے سوچا اور جھاڑو لے کر صحن کی تفصیلی صفائی میں جت گئی۔ صحن کی اچھی طرح صفائی کر کے فارغ ہو کر برآمدے اور ڈرائنگ روم کی ہر چیز کو کپڑے سے جھاڑ کر صاف کیا۔
’’توبہ… بارش کے اثرات بھی کیسے انمٹ ہوتے ہیں۔‘‘
رگڑ رگڑ کر فرش پر پونچھا لگاتے وہ بڑبڑائی۔
’’صبح… صبح بیٹا۔‘‘ ابھی پونچھا لگا کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ تایا ابو کی آواز آنا شروع ہو گئی۔ اس نے جلدی جلدی منہ پر چھپاکے مارے اور دوپٹے سے چہرہ پونچھتے ہوئے اندر بھاگی۔ وہ بستر سے اُٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ فوراً آگے بڑھی۔ سہارا دے کر انہیں بٹھانے کی کوشش کی اور ان کی کمر کے پیچھے تکیہ درست کر کے سیدھی ہوئی۔
’’اسد کہاں ہے؟‘‘ دوسری چارپائی کو خالی پا کر انہوں نے پوچھا تو وہ کمرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے چونکی۔
’’میں نماز پڑھ رہی تھی، جب نکلے تھے۔ روز اس ٹائم تک آ جاتے ہیں مگر… ابھی تک نہیں لوٹے۔‘‘
اسد کے پلنگ کی چادر اُٹھا کر جھاڑ کر دوبارہ بچھا دی۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھی اس کی کتابیں ترتیب سے رکھ دیں۔
’’تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں، آٹھ بج رہے ہیں۔‘‘ اسے مسلسل کمرے میں مصروف دیکھ کر انہوں نے پوچھا۔ ’’کیا سکول نہیں جانا؟‘‘
’’جی… جائوں گی، مگر ذرا دیر سے۔ رات کی آندھی اور بارش سے سارا گھر گرد مٹی سے اٹا اور بکھرا پڑا ہے۔ ہر طرف اتنی گرد ہے، چھت پر بھی پانی جمع ہو گیا ہے۔ شاید پرنالے کے سوراخ میں کچھ کچرا اٹک گیا ہے، سارا پانی سیڑھیوں سے بہتا رہا ہے رات بھر برآمدے کی ہر چیز گیلی ہو گئی ہے۔ صحن کی بھی بڑی بُری حالت ہو رہی تھی۔ اب فارغ ہوئی ہوں۔ ساڑھے نو بجے تک چلی جائوں گی، کون سی اتنی اہم نوکری ہے، جو چلی گئی تو غم ہو گا۔ وقت گزاری کے لیے کر رہی ہوں، صرف آپ کی وجہ سے ورنہ دل نہیں کرتا۔‘‘
پوری تفصیل بتا کر آخر میں اس نے سکول کی نوکری کی طرف سے ہمیشہ کیا جانے والا شکوہ دہرایا۔
وہ خاموشی سے اس کے ملیح چہرے کو دیکھے گئے۔ پھرتی سے چلتے ہاتھ لمحوں میں سارے کمرے کی بے ترتیبی کو ایک ترتیب میں لے آئے تھے۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا۔ ان سے بہتر بھلا کون جانتا تھا کہ وقت گزاری کس قدر گھٹن اور مشکل کام ہے۔
’’آپ کو واش روم لے جائوں؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئے۔
’’میں اسد آئے گا تو چلا جائوں گا، مگر وہ گیا کہاں ہے؟ روز صبح نماز پڑھ کر تو فوراً آ جاتا تھا۔‘‘
ان کے پوچھنے پر اس نے صرف کندھے اچکا دئیے پھر کمرے سے نکل آئی، اپنے کمرے کو سمیٹ کر وہ واش روم چلی گئی۔
تیار ہو کر کچن میں آئی تو کھانے کو کچھ بھی دستیاب نہ تھا۔ اسے ایک دم یاد آیا، کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا رات کو اس نے اسد سے کہا تھا کہ وہ صبح کھانے پینے کو کچھ لائے گا تو ناشتہ تیار ہو پائے گا، مگر اب اسد ہی غائب تھا۔
’’نہ جانے یہ اسد کہاں رہ گیا ہے۔‘‘ صبح صبح سارا گھر صاف کرنے کے بعد اسے اب زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی۔ دودھ بھی نہیں تھا۔ رات کو اس نے آٹا گوندھ کر فریج میں رکھ دیا تھا۔ جلدی جلدی اس نے پراٹھے بنائے۔ ابھی پراٹھا قہوے کے ساتھ نگل ہی رہی تھی کہ اسد چلا آیا۔
’’ایم سوری… صبح صبح دکانیں کھلی ہوئی نہیں تھیں۔ رات ہونے والی بارش سے تمہیں سڑکوں کی حالت کا اندازہ تو ہو گا۔ اگر تم شام کو ہی بتا دیتیں، میں رات کو لے آتا۔ ابھی تو اتنا ہی سامان لایا ہوں، شام کو باقی بھی لا دوں گا۔‘‘
اس نے تمام شاپرز کھانے والی ٹیبل پر رکھ دئیے۔ دوسری طرف وہ پراٹھے اور قہوے کا ناشتہ کر رہی تھی۔
’’تم ابھی تک سکول نہیں گئیں؟‘‘ اسد کو وقت گزرنے کا احساس ہوا تو پوچھنے لگا۔ وہ آخری لقمہ منہ میں ڈال کر قہوے کا ایک بڑا سا گھونٹ لے کر اُٹھ گئی۔
’’میں نے پراٹھے بنا دئیے ہیں، انڈے ہوتے تو آملیٹ بھی بنا دیتی۔ رات والا سالن بھی گرم کر دیا ہے، میں نے لیٹ جانا تھا اس لیے ابھی تک ہوں۔ تایا ابو آپ کا پوچھ رہے تھے۔
مگ دھو کر وہ پلٹی تو اسے اپنی طرف متوجہ پا کر سنجیدگی سے جواب دیا۔ وہ پھر بھی خاموشی سے دیکھے گیا تو اسے کوفت ہوئی۔
وہ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے پہلے اپنے کمرے میں آئی، چادر اور بیگ لے کر وہ تایا ابو کے کمرے میں گئی۔
’’اچھا تایا ابو! میں جا رہی ہوں۔‘‘
’’اچھا بیٹا! اللہ حافظ۔‘‘ انہوں نے لیٹے لیٹے جواب دیا۔
ابھی وہ گیٹ سے نکل کر چند قدم ہی چلی تھی کہ اسد بھی گیٹ بند کر کے اس کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے قدم اُٹھاتا چلنے لگا۔ صبا نے سر اُٹھا کر ایک نظر اپنے ساتھ چلتے ہوئے اسد کو دیکھا اور پھر سیدھی چلنے لگی۔
اسد کا یہ روزانہ کا معمول تھا۔ وہ اسے سکول کے گیٹ تک چھوڑنے جاتا تھا اور وہ ہر روز اس کے ساتھ چلتے چلتے اُلجھ جاتی تھی۔ یہ چند منٹ کا سفر صبا کے لیے بڑا دشوار ہوتا تھا۔ چلتے چلتے اچانک اسے یاد آیا تو سر اُٹھا کر بولی۔
’’تایا ابو کو آج ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے، آپ اکیلے مت لے جائیے گا میں سکول سے آ جائوں تو پھر ساتھ چلیں گے۔‘‘
اس نے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا مگر اسد کے ہونٹ ایک دم مسکرا اُٹھے تھے۔
’’جی اچھا… اور کچھ۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ بظاہر سادہ سی مسکراہٹ تھی مگر صبا کے دل پر بڑا بُرا اثر چھوڑا تھا۔ وہ جواب دے کر مزید تیز تیز قدم اُٹھانے لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ گرتی، ساتھ چلتے اسد نے بروقت اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ صبا کو لگا، اس کے ہاتھ کو جیسے شعلہ سا چھو گیا ہو۔
’’دھیان سے آگے پتھر ہے، ابھی گر جاتیں تو۔‘‘
اس نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اس کے انداز میں ایسی سرد مہری تھی کہ اسد ایک پل کو ساکت رہ گیا تھا۔
’’صبا! ہمیں دو سال ہو گئے ہیں ایک گھر میں رہتے ہوئے، تمہارا میرے ساتھ یہ اجنبیوں والا رویہ کیوں ہے؟ اتنا عرصہ ساتھ رہنے سے اجنبی، نا آشنا لوگوں میں بھی انسیت اور مروت پیدا ہو جاتی ہے، ہم تو پھر بھی بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، پھر اتنی بے اعتباری کیوں؟‘‘
وہ ہمیشہ صبا کے سرد رویے کو نظر انداز کر جاتا تھا مگر آج جیسے اس کا ضبط چٹخ سا گیا تھا۔ اسے صبا کے یوں تنفر سے ہاتھ کھینچ لینے سے تکلیف ہوئی تھی۔
صبا خاموشی سے لب بھینچے بڑے بڑے قدم اُٹھا رہی تھی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کا سکول نزدیک تھا، وہ جلد از جلد اس ہم سفر سے جان چھڑا لینا چاہتی تھی۔ جیسے ہی اس کا سکول آیا، وہ بغیر پلٹ کر دیکھے، اندر داخل ہو گئی۔
اسد اس کے اس ردعمل پر ششدر سا کھڑا رہ گیا۔

صبا کو دو سال ہو گئے تھے، تایا ابو کے ہاں آ کر رہتے ہوئے اور ان دو سالوں میں اس کے اور اسد کے درمیان اس قدر مختصر گفتگو رہی تھی کہ وہ اُنگلیوں پر گن کر بتا سکتی تھی، اس کا اسد کے ساتھ رویہ ایسا ہی ہوتا تھا، بے لچک سخت اور کھردرا۔
بہت کم ایسا ہوا تھا کہ اس نے اسے خود سے مخاطب کیا ہو۔ اگر کبھی وہ مخاطب کرتا تو اس کا رویہ ہمیشہ خراب ہوتا۔
اس کی امی کا انتقال دو سال پہلے ہوا تھا، جب طوفانی موسم میں انہیں ابو اور حماد کی اچانک ناگہانی موت کی خبر ملی تھی۔ ان کے اعصاب پر یہ خبر بجلی بن کر ٹوٹی تھی۔ وہ تو ہوش و حواس ہی کھو چکی تھیں اور پھر کئی ماہ تک ہسپتالوں میں خوار ہونے کے بعد وہ اس زندگی سے ہمیشہ کے لیے ناتا توڑ گئی تھیں۔
اور حماد… حماد کے ساتھ اس کی زندگی کے خوشگوار دن صرف چند ماہ پر محیط تھے، مگر صبا کو لگتا تھا کہ ان چند ماہ میں حماد کے ساتھ وہ اپنی ساری زندگی جی گئی تھی۔
حماد، تایا ابو کا بیٹا تھا۔ انتہائی ذمہ دار اور سلجھا ہوا۔
ڈھائی سال پہلے اس کی شادی حماد سے ہوئی تھی۔ وہ کراچی سے بیاہ کر لاہور آ گئی تھی۔ بچپن سے ہی وہ تایا ابو اور ان کے گھر والوں سے بہت مانوس رہی تھی یہ ہی اسد تھا، جس کے ساتھ اس کی بڑی بے تکلفی تھی اور یہ سنجیدہ و بردبار شخص اس کی ہر اوٹ پٹانگ بات کا جواب انتہائی سلجھے ہوئے طریقے سے دیا کرتا تھا۔
اس کی چھٹیاں ہر سال تایا ابو کے ہاں لاہور میں گزرتی تھیں۔ تایا ابو اسے چاہتے بھی تو بہت تھے۔ اس کے امی، ابو ہمیشہ ان سے شکوہ کرتے تھے کہ انہوں نے صبا کو بگاڑ دیا ہے، ضدی بنا دیا ہے، مگر وہ ہر بار اس کی ڈھال بن جاتے تھے۔
حماد سے اس کا تعلق بے تکلف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا محبوبانہ سا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے تھے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو پا کر بے پناہ خوش تھے مگر یہ خوشی صرف ایک ماہ تک رہی۔ شادی کے بعد پہلی بار وہ اور حماد کراچی گئے تھے، امی ابو سے ملنے۔ امی، ابو، بیٹی اور داماد کو خوش و خرم دیکھ کر بے حد خوش تھے۔ روز سیر و تفریح کے پروگرام بنتے تھے۔ صبا، ماں، باپ کی اکلوتی اولاد تھی، سو وہ خوش تھے۔ مگر اس خوشی کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی تھی۔ ابو اور حماد یونہی باہر گئے تھے گھومنے پھرنے، پھر وہ دونوں اپنے قدموں پر چل کر واپس نہ آ سکے تھے۔ ایک شدید کار ایکسیڈنٹ نے ان کا ناتا زندگی سے ہمیشہ کے لیے توڑ دیا تھا۔
اگلے کئی ماہ تک وہ بے یقین رہی تھی۔ اوپر سے امی کا اچانک حواس کھو دینا، اس سانحے نے ان کے دماغ پر بڑا بُرا اثر چھوڑ دیا تھا۔ کئی ماہ تک تایا ابو اپنا گھر بار چھوڑ کر اس کے پاس کراچی ٹھہرے رہے تھے۔
راجیہ باجی حماد کی جوان موت کی خبر سن کر پاکستان آ گئی تھیں۔ انہوں نے بڑی مشکلوں سے اس کو سنبھالا تھا۔
امی کی روز بروز بگڑتی حالت نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد تو اسے لگتا تھا جیسے اس کے پاس جینے کا کوئی جواز ہی نہیں رہا۔ وہ گھنٹوں خود فراموشی میں گزار دیتی تھی۔ پھر ہوش آتے ہی بلک بلک کر رونا شروع کر دیتی تھی۔ تایا ابو اسے اپنے ساتھ لاہور لے آئے تھے۔ راجیہ باجی واپس چلی گئی تھیں اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اسے صبر آتا چلا گیا تھا۔ تایا ابو کے کہنے پر اس نے سکول میں ملازمت کر لی تھی۔ اسے بھی سکول کی ملازمت میں اپنے غم سے چھپنے کا ایک آسرا مل گیا تھا۔ ورنہ حماد کو بھول جانا اس کے اختیار میں نہ تھا۔
اسد کا مجتبیٰ حُسن سے کوئی خونی رشتہ نہ تھا۔ تقریباً پچیس سال پہلے کی بات ہے، مجتبیٰ حسن کا شمالی علاقہ جات جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ تفریح کے دوران ایک جگہ انہیں انتہائی زخمی حالت میں تین، چار سال کا ایک بچہ ملا، نبض دیکھنے پر اس کے اندر زندگی کے آثار نظر آئے تو وہ اسے فوراً قریبی ہسپتال لے گئے۔ اس کی زندگی تھی جو وہ موت کی سرحد سے لوٹ آیا تھا۔ اسے خطرے سے باہر آنے اور صحت یاب ہونے میں چند دن لگ گئے تھے۔
نہ جانے کس بدبخت نے اس خوبصورت سے بچے کو پہاڑوں کے دامن میں کسی درندے کا لقمہ بننے کو پھینک دیا تھا۔ اس پر اس حادثے کا اس قدر اثر تھا کہ وہ اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتا پا رہا تھا۔ وہ خوفزدہ اور سہما ہوا بچہ ہر کسی کو دیکھ کر رونے لگتا تھا۔ اس کے لبوں پر صرف بابا جان اور بی بی جان کے الفاظ تھے۔
انہوں نے اس کے وارثوں کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر کوئی اُمید افزا راہ دکھائی نہ دی۔ انہوں نے اپنے تمام ذرائع استعمال کر لیے۔ حتیٰ کہ اخبارات میں بھی بچے کی تصویر اور گمشدگی کی اطلاع دی گئی، مسلسل کوشش کے باوجود بھی جب اسد کے اصل ورثا کا کوئی پتا نہ چل سکا تو وہ پولیس تھانے میں اطلاع کر کے اور اپنا ایڈریس وغیرہ دے کر ان کی اجازت سے بچے کو اپنے ساتھ لاہور لے آئے تھے۔
چار سالہ اسد نفسیاتی طور پر اس قدر خوفزدہ ہو چکا تھا کہ جس کو دیکھتا دہشت زدہ ہو جاتا تھا۔ مجتبیٰ حسن کی بیگم نے اسے بڑی محبت و شفقت سے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ تایا ابو کا خیال تھا کہ اسد کے والدین ایک دن ضرور ان تک آئیں گے، مگر دن، ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے تو وہ بھی ناامید ہو گئے۔ اسد کے وارثوں کا پتا لگانے میں تمام کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔ شاید قدرت نے اسد کی پرورش مجتبیٰ حسن کے ہاتھوں لکھی تھی۔
بچے کا اصل نام معلوم نہیں کیا تھا، مگر انہوں نے اسے ’’اسد مجتبیٰ حسن‘‘ کی حیثیت سے پہچان دی، بلکہ اسے معاشرے کا ایک فعال اور توانا مرد بنانے کے لیے اپنی تمام کوششیں بھی صرف کر دیں۔
مجتبیٰ حسن صاحب نے کبھی اس سے اس کی اصلیت نہیں چھپائی۔ وہ اچھی طرح باخبر تھا کہ وہ مجتبیٰ حسن کاحقیقی بیٹا نہیں، مگر اس نے ہر موقع پر حقیقی بیٹا ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ اور وہ بھی برملا کہا کرتے تھے۔ ’’میرے دو بیٹے ہیں، اسد اور حماد۔‘‘ انہوں نے بھی ایک باپ ہونے کے تمام فرائض نبھائے تھے۔
انہوں نے اسد اور حماد میں کبھی کوئی فرق نہ کیا۔ جب صبا، حماد کے ہمراہ بیاہ کر اس گھر میں آئی تھی تو اسد سے بڑے خوشگوار تعلقات رہے تھے مگر جب اُجڑ کر دوبارہ اس گھر میں آئی تو اس نے بہت سی حدود اپنے اور اسد کے درمیان قائم کر لی تھیں۔
مجتبیٰ صاحب جب بھی اسے دیکھتے، ان کے اندر اپنے بیٹے کی جدائی کا صدمہ اور گہرا ہونے لگتا۔ اب وہ اکثر بیمار رہنے لگے تھے۔ اُٹھنے بیٹھنے میں اب انہیں دقت ہونے لگی تھی۔ چند قدم چلتے ہی ہلکان ہو جاتے تھے۔ یہ اعصابی و جسمانی تھکاوٹ انہیں دن بدن کمزور بناتی جا رہی تھی۔
صبا دوبارہ اس گھر میں آنے کے بعد ذہنی طور پر بہت مضطرب ہو چکی تھی۔ جب ہی تایا ابو کے اصرار پر بلکہ مجبور کرنے پر اس نے قریبی سکول میں ملازمت کر لی، اس کی توجہ کا ارتکاز بٹنے لگا تو اس کی ذہنی حالت بھی بہتر ہونے لگی۔ آدھا دن سکول میں گزار کر آنے کے بعد گھر کی مصروفیات نے اسے بڑا سنبھالا دیا تھا۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات تھی کہ اسے اسد کی طرف سے عجیب سا احساس ہونے لگا تھا۔ اس کے محسوسات اسے اسد کی طرف سے مشکوک کر چکے تھے۔ بے شک اسد نے کبھی کوئی نازیبا حرکت تو ایک طرف کوئی ناپسندیدہ لفظ بھی نہ کہا تھا۔ مگر نہ جانے کیوں وہ اپنے دل میں اس کے لیے اچھے جذبات برقرار نہ رکھ پا رہی تھی۔ وہ یہ یقین کرنے پر بھی راضی نہ تھی کہ اسد جو حماد کو سگا بھائی سمجھتا تھا، اب اس کی بیوہ کے لیے بدل رہا ہے، پھر بھی وہ اس کی طرف سے خاصی محتاط ہوتی جا رہی تھی۔ وہ جان بوجھ کر تلخ نہیں ہوتی تھی، مگر اسد کو دیکھتے ہی اس کو اپنے احساسات و جذبات پر قابو نہیں رہتا تھا۔
وہ کوشش کرتی تھی کہ کم سے کم اسد سے مخاطب ہو، مگر کبھی کبھار مخاطب کرنے پر اس کے لب و لہجے میں خودبخود تلخی سی سمٹ آتی تھی۔ جسے ابھی تک مجتبیٰ صاحب نے محسوس نہیں کیا تھا۔ مگر وہ نہ صرف بہت اچھی طرح محسوس کر گیا تھا بلکہ اس کا پس منظر بھی جان گیا تھا اور شاید آج اس کا اس طرح سختی سے ٹوک دینا بھی اسی زمرے میں آتا تھا۔ مگر وہ خود کو پھر بھی حق بجانب سمجھ رہی تھی۔

’’خان آ گئے۔‘‘ خان ذکاء اللہ خان نے جیسے ہی حویلی میں قدم رکھا، خبر یہاں سے وہاں تک پھیلتی بی بی جان کے کمرے میں بھی پہنچ گئی۔
’’بی بی جان! بابا جان آ گئے ہیں۔‘‘
پشمینہ نے کمرے میں داخل ہو کر بستر پر دراز بی بی جان کو اطلاع دی تو ان کے چہرے پر ایک دم سکون سا سرایت کر گیا تھا۔ خان جی دو دن کے لیے شہر سے باہر گئے تو بی بی جان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ وہ بہت وہمی ہو گئی تھیں۔ کوئی ان کی نظروں سے ذرا بھی اوجھل ہوتا تو ان کو طرح طرح کے وہم ستانے لگتے تھے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ انہیں دمے کا مرض بھی لاحق ہو گیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ ذکاء اللہ خان نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا۔ بی بی جان اُٹھ کر بیٹھ گئیں۔
’’و علیکم السلام۔‘‘ انہیں اپنے ساتھ دیکھ کر وہ بالکل مطمئن ہو گئی تھیں۔
’’طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘ انہوں نے تشویش سے پوچھا۔
’’نہیں بابا جان! رات سے بی بی جان کو پھر سانس کا پرابلم شروع ہو گیا تھا۔ بی بی جان دن بدن وہمی ہوتی جا رہی ہیں۔ نہ جانے کیوں ان کے دل میں یہ شک جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو بھی گھر سے نکلے گا واپس نہیں آئے گا۔ زرمینہ آپی اور بھائی جان رات کو آ گئے تھے، ابھی گئے ہیں۔‘‘
پشمینہ نے اپنے بابا جان سے ادب سے سر جھکا کر پیار لیا اور فوراً بی بی جان کی شکایت کی تو وہ مسکرا دیں۔
خان صاحب نے ایک سنجیدہ نگاہ اپنی شریک حیات پر ڈالی تو وہ خفت سے مسکرا کر سر جھکا گئیں۔
’’پشمینہ بیٹا! میراں سے کہو کھانا لگائے، تمہارے بابا جان سفر سے لوٹے ہیں، کچھ پینے کو بھی لائو۔‘‘ بی بی جان نے پشمینہ سے کہا تو وہ فوراً سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی۔
’’کتنی دفعہ آپ سے کہا ہے کہ بھول جائیں اس واقعے کو، اپنے آپ کو مطمئن اور پُرسکون رکھا کریں، مگر آپ…‘‘
’’کیا آپ بھول گئے ہیں اس سانحے کو؟‘‘ انہوں نے تڑپ کر کہا اور خان ذکاء اللہ کو لگا ان کے زخموں سے خون رسنے لگا ہو، وہ ایسا ہی گہرا زخم تھا جو بھرتا ہی نہ تھا، بلکہ اب تو ناسور بن گیا تھا۔
’’کوئی حادثہ ہو جاتا تو دل کو قرار بھی آ جاتا، مگر اس طرح نہیں خان صاحب! اس کی جدائی تو میرے دل کا ناسور بن گئی ہے۔ وہ بھو لتا ہی نہیں، آج وہ ہوتا تو اس کی شادی ہو چکی ہوتی۔ بیوی بچے ہوتے۔ میرے آس پاس میری سب اولادیں ہیں، بچے ہیں، مگر وہ نہیں ہے۔ میرا دل روتا ہے خان صاحب! اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے میں نے اسے باہر کھیلنے کو بھیجا تھا۔ پھر وہ کبھی واپس ہی نہیں آیا۔ میں تو اس کی صورت دیکھنے کو ترس گئی ہوں۔
لوگ کہتے ہیں کوئی بھیڑیا، کوئی جانور کھا گیا ہو گا، مگر… مگر کوئی نشان تو ملتا؟‘‘
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں۔ انہیں تو اپنے بیٹے کو یاد کر کے رونے کا بہانہ چاہیے ہوتا تھا۔
’’بس کریں بیگم! بس کریں، میرا دل بھی خون خون ہو جاتا ہے، وہ میرا بازو تھا، میرے وجود کا حصہ، میری طاقت تھا، میرا اکلوتا بیٹا تھا، سب کچھ آپ کے سامنے ہے، کیا کچھ نہ کیا میں نے۔ پولیس، ٹی وی، اخبار، کھوجی ہر ذریعہ اختیار کیا، مگر اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔‘‘
وہ بی بی جان کے پاس صوفے پر ڈھے سے گئے تھے۔ اب تو ان کی بھی ہمت ٹوٹنے لگی تھی۔ اپنے تمام بچوں کے درمیان اپنے صارم کو نہ پا کر ان کے دل سے ہُوک اُٹھتی تھی۔ دل غم سے بھر جاتا تھا۔ مگر صبر و ضبط سے سب سہہ جاتے تھے کہ یہی رب کی مرضی تھی۔ مگر اس پاگل، دیوانی ماں کو کیسے سمجھاتے جو آج بھی آس لگائے بیٹھی تھیں کہ وہ زندہ ہو گا اور انہیں ملے گا۔
’’خان صاحب! پتا نہیں کیوں میرا دل کہتا ہے وہ زندہ ہے۔ مجھے راتوں کو خواب آتے ہیں، وہ مجھے پکارتا ہے، بی بی جان، بی بی جان… اس کے ننھے منے ہاتھ میرے قریب آتے ہیں اور جب میں اسے پکڑنے لگتی ہوں تو وہ غائب ہو جاتا ہے، وہ یقینا زندہ ہے، کہیں موجود ہے۔ میرا صارم، میری زندگی، میری آنکھوں کا نور۔ وہ زندہ ہو گا۔‘‘
اتنا وقت گزر گیا تھا، مگر ان کی آس نہ ٹوٹی تھی۔ خان صاحب کی آنکھوں میں بھی نمی سی اُتر آئی تھی۔
پشمینہ شربت کا جگ اور گلاس ٹرے میں رکھے کمرے میں دستک دے کر داخل ہوئی تو بی بی جان کی سسکیاں اسے اذیت دے گئیں۔ اس نے خاموشی سے گلاس بھر کر بابا جان کو تھمایا۔
’’جیتی رہو۔‘‘ انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا، بی بی جان کو بھی ایک گلاس تھما کر وہ ان کی دوسری طرف بیٹھ گئی۔
’’بی بی جان! پھوپھی گل خانم کا فون آیا ہے، وہ لوگ شام کو آ رہے ہیں آپ کی عیادت کے لیے۔‘‘ بی بی جان کی بھیگی آنکھوں سے اسے بڑی تکلیف ہو رہی تھی اور یہ تکلیف اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھی۔
’’اچھا میراں سے کہو، کھانے پینے کا اچھا سا انتظام کر لے۔ میں بھی آتی ہوں اور ابھی دوپہر کا کھانا لگوائو۔‘‘ آنسو صاف کر کے انہوں نے کہا۔
’’جی… میں میراں سے کہتی ہوں۔‘‘ اثبات میں سر ہلاتی وہ کمرے سے نکل گئی۔
کھانے کی میز پر وہ تینوں ہی تھے۔ پلوشے اور زرمینے کی شادی کے بعد اب گھر میں صرف وہ ہی تھی۔ خان ذکاء اللہ خان دیگر خاتون کی طرح روایتی نہ تھے۔ انہوں نے اپنی دو بیٹیوں کی شادیاں بے شک خاندان میں ہی کی تھیں، مگر تعلیم انہیں وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق دلوائی تھی۔ ان کی تینوں بیٹیاں یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں۔ پشمینہ ایم اے کے امتحان دے کر چند ماہ قبل ہی فارغ ہوئی تھی۔
شام ہوتے ہی گل خانم اپنی شہری بہو راشدہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ چلی آئیں۔ آتے ہی انہوں نے حسب عادت پشمینہ کو لپٹا کر پیار کیا۔ زوار، سجاول بھائی اور راشدہ بھابی کے سامنے وہ پھوپھی بیگم کے اس مظاہرے پر سرخ سی ہو گئی تھی، پھر اسے چھوڑ کر وہ بی بی جان سے ان کی طبیعت کا احوال دریافت کرنے لگیں۔
’’کیا کر رہی ہو آج کل۔‘‘ ذکاء اللہ، سجاول اور زوار تینوں باہر بیٹھک میں چلے گئے تھے۔ وہ راشدہ بھابی کے پاس بیٹھی تو اس نے اپنائیت سے پوچھا۔
سجاول لالہ کو یونیورسٹی میں دوران تعلیم راشدہ پسند آ گئی تھی۔ سب کی بے پناہ مخالفت کے باوجود سجاول لالہ نے راشدہ سے شادی کر لی۔ خوش قسمتی سے راشدہ ایک اچھی اور سلجھی ہوئی بہو ثابت ہوئی، سو سب کی مخالفت توڑ گئی مگر گل خانم کا ملال نہیں جاتا تھا۔ وہ سجاول کے لیے پشمینہ کو سوچے بیٹھی تھیں مگر جب سجاول نے راشدہ سے شادی کر لی تو انہوں نے زوار کو پکڑ لیا۔ وہ اپنے بھائی کی بیٹی کو کسی طور چھوڑنے پر راضی نہ تھیں اور اپنی اس چاہت کا وہ برملا اظہار بھی کرتی رہتی تھیں۔
’’کچھ خاص نہیں، ایگزیمز کے بعد فارغ ہی ہوں، بس رزلٹ کا انتظار ہے، اور بابا جان کا تو آپ کو علم ہے ماسٹر انہوں نے کروا دیا ہے، مزید کچھ کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
’’زرمینے اور پلوشے کیسی ہیں؟‘‘ راشدہ بھابی نے پوچھا۔
’’سب ٹھیک ہیں، زرمینے رات کو آئی تھی، دوپہر کو چلی گئی اور پلوشے تو روز فون کرتی ہے خوش ہے۔‘‘
کھانا سب نے اکٹھے ہی کھایا۔
کھانے کے بعد وہ راشدہ کے ساتھ لان میں چلی آئی۔ چاندنی رات میں تالاب کے پاس بیٹھے ہوئے ماحول میں اک عجیب سا فسوں طاری تھا، جس سے وہ دونوں محظوظ ہو رہی تھیں۔
’’تم تو ایگزیمز کے بعد ایسے غائب ہوئی ہو کہ تمہیں ڈھونڈنے کے لیے لگتا ہے شہر میں منادی کروانا پڑے گی۔‘‘
اپنے عقب میں زوار کی بھاری دلکش آواز پر وہ فوراً پلٹی۔ راشدہ بھابی مسکراتی ہوئی دونوں کو دیکھنے لگی۔
’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘ اس نے تیوریاں چڑھا کر زوار کو گھورا تو وہ مسکراتا ہوا راشدہ اور اس کے درمیان خالی جگہ پر ٹک گیا۔ دونوں تالاب کی دیوار پر بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’تمہیں دیکھے بڑے دن ہو گئے ہیں، تمہاری کڑوی کسیلی سنے۔‘‘ اس نے جواباً اسے گھور کر جواب دیا۔
’’دیکھ رہی ہیں بھابی! یہ ہمیشہ لڑائی کی ابتدا کرتا ہے اور اگر میں کچھ کہتی ہوں تو بابا جان تک شکایت پہنچ جاتی ہے۔ میں تو دن رات شکرانے کے نفل پڑھتی ہوں کہ تم جیسے باڈی گارڈ سے جان چھوٹی۔ یونیورسٹی میں برداشت کرنا تو مجبوری تھی کہ بابا جان اکیلے آنے جانے نہیں دیتے تھے۔‘‘ اس نے بھی فوراً حساب چکایا تھا۔
’’تمہیں اتنا ہینڈسم، وجیہ اور خوبصورت لڑکا باڈی گارڈ لگتا ہے۔‘‘ اس نے فوراً اس کے الفاظ پر گرفت کی تھی۔
’’میرے لیے تو باڈی گارڈ ہی تھے۔ بابا جان نے تمہیں یہی تو بتایا تھا۔‘‘
’’خیر باڈی گارڈ کا بڑا خوبصورت مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے، کیوں بھابی جان!‘‘
اس نے فوراً راشدہ کو ساتھ ملایا، اس نے فوراً مسکراتے ہوئے گردن ہلا دی۔
’’بکواس نہیں کرو، میں گل بی بی سے شکایت کر دوں گی۔‘‘ وہ جل کر بولی۔
’’بصد شوق! اس طرح تو میرا کام اور آسان ہو جائے گا۔‘‘ سرخ سرخ چہرے والی پشمینہ اسے شروع سے ہی بڑی پسند تھی۔
سجاول کی شادی کے بعد زوار کی راہ کھل گئی تھی۔ پہلے پشمینہ سے تعلق وہ اپنی ہر سوچ چھپا کر رکھتا تھا، مگر اب کھلے عام اظہار کرتا تھا اور پشمینہ اسی بات سے بدکتی تھی۔ اب بھی اسے گھورا تھا۔
’’ظالم نظروں سے تم نہ مجھ کو دیکھو، مر جائوں گا او جان جاناں۔‘‘ وہ بڑی شوخی سے گنگنایا۔
’’بھابی۔‘‘ اس نے بے اختیار ہنستی ہوئی راشدہ کو پکارا۔
’’بُری بات زوار! تم خواہ مخواہ بیچاری کو تنگ کر رہے ہو۔‘‘
’’خواہ مخواہ؟‘‘ اس نے ابرو اچکائے۔
’’میں تمہیں تالاب میں دھکا دے دوں گی، خبردار اب تم ایک لفظ بھی بولے تو۔‘‘ اس نے دھمکی دی تھی۔
زوار اور وہ ینیورسٹی میں اکٹھے ہی تھے۔ بابا جان نے ان سب بہنوں کے تعلیمی سلسلے میں کہیں بھی آنے جانے کی تمام تر ذمہ داری سجاول اور زوار پر ہی ڈالی ہوئی تھی۔ بلکہ صارم کی گمشدگی کے بعد پھوپھی بیگم نے بی بی جان کی حالت دیکھتے ہوئے زوار کو ہمیشہ کے لیے ادھر ہی چھوڑ دیا تھا۔ وہ ایک طرح سے بابا جان کا منہ بولا بیٹا بنا ہوا تھا۔ اسی لیے اس کی سب کے ساتھ ایسی ہی بے تکلفی تھی۔ وہ تو اب گل بی بی نے رشتے کا جو شوشہ چھوڑا تھا، اس وجہ سے پشمینہ اس سے ہچکچانے لگی تھی، ورنہ ہم عمر ہونے اور ایک جیسے مشاغل رکھنے کی وجہ سے دونوں کی خوب بنتی تھی۔ جتنا لڑتے تھے، پیار بھی اتنا ہی تھا، مگر جونہی زوار کے تیور بدلے، وہ اس سے پہلو بچانے لگی تھی۔
’’توبہ… لڑتے ہی رہتے ہو تم دونوں، میں اندر ممانی جان کے پاس جا رہی ہوں، لڑو آرام سے۔‘‘ راشدہ دونوں کو ٹوک کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔ وہ بھی منہ پھلا کر اسے کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے جانے لگی تو زوار نے تیزی سے اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔
’’کیا ہے؟‘‘ وہ کاٹ کھانے کو دوڑی۔
’’کبھی پیار سے بھی پوچھ لیا کرو، ہر وقت لڑاکا طیارہ بنی رہتی ہو۔‘‘ الفاظ کے برعکس زوار کی آنکھوں کے تیور ایسے تھے کہ وہ ایک دم سٹپٹا گئی۔
’’ہاتھ تو چھوڑو۔‘‘ اسے گھبراتے دیکھ کر وہ محظوظ ہوا تھا۔
’’بی بی جان آج ماموں جان سے ہمارے رشتے کی باقاعدہ بات کرنے آئی ہیں۔‘‘ اس نے بڑے آرام سے انکشاف کیا تو وہ گھبرا گئی۔
’’ماموں جان تم سے پوچھیں تو منہ پھاڑ کر اعتراض کرنے مت بیٹھ جانا۔‘‘ اس نے ڈپٹ کر تنبیہ کی۔
’’وہ مجھ سے پوچھیں گے تو میں صاف صاف منع کر دوں گی، تم میں تو کوئی خوبی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والی، تو کیا بابا جان اپنی لاڈلی بیٹی کی قسمت پھوڑ دیں گے۔‘‘ وہ آنکھوں میں شرارت لیے کہہ رہی تھی۔
’’اچھا… یہی بات ذرا میری آنکھوں میں دیکھ کر کہنا۔‘‘ اس نے مصنوعی غصہ سے کہا، پھر اس کے گھبرا جانے پر ہنس دیا۔
’’خبردار… اگر تم نے کوئی اُلٹی سیدھی بکواس کی؟ تمہیں کیا پتا میری برسوں کی خواہش پوری ہونے جا رہی ہے، کتنی منتیں مرادیں مانی ہوئی ہیں میں نے۔‘‘ اسے بھاگنے کو پر تولتے دیکھ کر اس نے دوبارہ تنبیہ کی تھی۔ پشمینہ کے ہونٹوں پہ بڑی پیاری سی مسکان اُبھری تھی۔
’’سب جانتی ہوں میں۔‘‘ جلدی سے کہہ کر وہ ایک دم اندر کی طرف بھاگی تھی۔ زوار مسکرا کر ادھر ہی دیکھے گئی۔

وہ جو اسد سے کہہ کر گئی تھی کہ وہ اس کے ساتھ تایا ابو کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جائے، مگر اسد کا رویہ دیکھ کر گھر جلدی نہ آ سکی تھی۔ چھٹی کے بعد اسے گھر آتے ہوئے ڈھائی بج گئے تھے۔ دیکھا تو دروازہ مقفل تھا۔ اس کے پاس اضافی چابی تھی، گھر کی ایک چابی اسد کے پاس ہوتی تھی اور ایک اس کے پاس۔ دروازہ کھول کر وہ اندر آ گئی۔ کپڑے بدل کر نماز ادا کی، پھر کچن میں گھس گئی۔ اسد اس کی غیر موجودگی میں کچن کا باقی سامان بھی لے آیا تھا۔ فریج بھرا ہوا تھا۔
سالن بھی تیار تھا۔ صبا نے دیکھا ذائقہ اچھا تھا۔ اسد اکثر کوئی نہ کوئی سالن بنا کر رکھ دیتا تھا۔ صبا نے دل ہی دل میں اسد کے سگھڑاپے اور ہاتھ کے ذائقے کی داد دی۔
تائی بیگم کا انتقال کافی سال پہلے ہو گیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد راجیہ باجی نے گھر سنبھالا ہوا تھا۔ مگر تایا ابو نے ان کی شادی بھی بڑی کم عمری میں کر دی تھی۔ راجیہ کے بعد ساری ذمہ داریاں ان تینوں مردوں پر آ گئی تھیں۔ حماد اور اسد کسی سلیقہ مند عورت کی طرح گھریلو امور میں ماہر تھے۔ پھر بھی اس گھر کو ایک عورت کی ہر حال میں ضرورت تھی اور یہ کمی صبا نے پوری کر دی تھی۔
کتنے دنوں سے ایک ایک کر کے کچن کا سامان ختم ہو رہا تھا، مگر وہ اپنی انا کی وجہ سے اسد کو بتا نہیں پا رہی تھی۔ اب فریج بھرا ہوا تھا۔ اسے اندر ہی اندر شرمندگی بھی ہو رہی تھی کہ خوا مخواہ اتنے دن چپ رہی، اس سے قبل تو اس کے کہنے سے پہلے ہی اسد سب سامان لا کر دے دیا کرتا تھا۔ پتا نہیں اس دفعہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا، شاید بھول گیا تھا یا شاید جان بوجھ کر۔
روٹیاں پکا کر وہ دونوں کا انتظار کرنے لگی۔ تقریباً ساڑھے تین بجے وہ دونوں لوٹے۔
’’اتنی دیر کر دی تایا ابو آپ نے، مجھے فکر ہو رہی تھی۔‘‘
دروازہ کھولتے ہی اسد کو نظر انداز کر کے اس نے فوراً تایا ابو سے کہا تھا۔ اسد اس کے یوں راستہ روکنے پر خفا ہوا تھا۔
’’اندر تو آنے دو، یہ باز پرس اندر جا کر بھی ہو سکتی ہے۔‘‘
سنجیدہ اور بے مروت انداز میں اس نے ٹوکا تو وہ فوراً سامنے سے ہٹ گئی۔
اسد، تایا ابو کو ان کے کمرے میں لے گیا تو وہ بھی پیچھے پیچھے چلی آئی۔ اسد نے ان کو بستر پر لٹا دیا تھا۔
’’کیا کہہ رہا تھا ڈاکٹر؟‘‘ وہ بھی تایا ابو کے بستر پر ٹک گئی۔ وہ جتنے نڈھال لگ رہے تھے، اسے تشویش لاحق ہو گئی تھی، تاہم اسد چپ ہی رہا تھا۔
’’اسد بیٹے سے ہی کچھ نہ کچھ کہتا رہا تھا۔ مجھے تو صرف اتنا ہی کہا کہ میں روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ ضرور ورزش کروں بلکہ واک کیا کروں، دوائیاں اور پھل بھی استعمال کروں۔‘‘ انہوں نے تکیے سے ٹیک لگا لی۔
’’میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘
’’ابو کو کھلا دو، مجھے بھوک نہیں ہے، مجھے آفس بھی پہنچنا ہے۔‘‘
صبا کو کمرے سے نکلتے دیکھ کر اس نے کہا تو وہ پلٹ کر اسد کو دیکھنے لگی۔ سنجیدہ انداز لیے وہ کافی روکھا پھیکا سا لگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ اس سے بڑی مروت سے مخاطب ہوتا تھا۔ آج شاید اس کے احساس کو کچھ زیادہ ہی بے دردی سے اس نے کچلا تھا کہ اس کے لہجے میں کچھ تلخی در آئی تھی۔ وہ صبا کے دیکھنے پر اُٹھ کھڑا ہوا۔
صبا خاموشی سے پلٹ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔
کھانا نکال رہی تھی کہ آہٹ پر پلٹ کر دیکھا اسد دروازے کی دہلیز پر کھڑا ہوا تھا۔
’’یہ میڈیسن لے لو، ڈاکٹر بہت تشویش کا اظہار کر رہا تھا، ابو نے تو جیسے زندہ رہنے کی خواہش ہی اپنے اندر سے ختم کر لی ہے، تم ان کو سمجھانے کی کوشش کرو، ساری ہدایات اور میڈیسن کے اقات اس پرچے پر درج ہیں۔ تم دیکھ لینا۔
اس کے قریب ہی میز پر دوائیاں رکھ کر وہ پلٹ گیا تھا۔
صبا ایک گہرا سانس لے کر کھانا اور دوائی لیے تایا ابو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

رات کو اسد گھر لوٹا تو صبا، تایا ابو کے کمرے میں تھی۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔
وہ سو رہے تھے۔ چہرے پر نقاہت و تکلیف کے آثار واضح تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے تھے۔ ان کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگائے وہ جس اذیت سے گزر رہی تھی، یہ صرف وہ ہی جانتی تھی۔
’’ٹیک اٹ ایزی صبا! ان شاء اللہ ابو جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘
اسے یوں بے آواز روتے دیکھ کر اسد کا دل پسیجا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی۔ وہ اور شدت سے سسک اُٹھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ امی، ابو اور حماد کے بعد اب تایا ابو بھی اسے چھوڑ جائیں گے۔ پھر وہ کہاں رہے گی؟ کیسا کرے گی؟ کون تھا اس کا؟ کسی طور بھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔
تایا اس کے لیے ایک مضبوط تناور درخت کی مانند تھے۔ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو وہ کدھر جائے گی، جبکہ راجیہ باجی بھی پاکستان میں نہیں ہیں۔
’’صبا پلیز! صحت و تندرستی، زندگی و موت سب عمر کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اگر انسان یوں ایک دم حوصلہ ہارنے لگے تو زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
اسد اسے سمجھا رہا تھا۔ اس نے بمشکل خود پر ضبط کیا۔
’’تایا ابو ٹھیک تو ہو جائیں گے نا اسد؟‘‘
اس وقت اس کی کیفیت ایک چھوٹے سے بچے کی طرح ہو رہی تھی۔ آس و نراس میں ڈوبا بچہ جس کا چہرہ بے یارو مددگار رہ جانے کے خوف سے زرد پڑ گیا ہو۔ وہ بے یقین سی تھی۔ آنکھوں میں بے پناہ پانی لیے اس نے اسد کو دیکھا تھا۔ اس کے دل میں اس کے آنسوئوں نے ایک تلاطم برپا کیا تھا۔ وہ ان آنکھوں میں کبھی بھی نمی نہ دیکھنے کی خواہش رکھتا تھا۔
’’یقین مضبوط رکھو، ابو ٹھیک ہو جائیں گے۔ مگر ان کو ٹھیک کرنے کے لیے ہم دونوں کو ہی کوشش کرنا ہو گی۔ اپنے آپ کو سنبھالنا ہو گا۔ اگر ہم ہی ہمت ہار گئے تو ان کو کون سنبھالے گا۔ یہ زندگی کی چاہ بھول گئے ہیں اور ہمیں مل کر ان کو زندگی کی طرف لانا ہے۔‘‘
وہ اسے سمجھا رہا تھا۔ صبا نے اپنے تمام آنسو سمیٹ کر سر ہلاتے ہوئے اسے دیکھا۔

اسد سے اس کا رویہ خودبخود بہتر ہو گیا تھا۔
گزرنے والے دنوں میں اسے بخوبی احساس ہو گیا تھا کہ تایا ابو کے علاوہ اسد کا وجود اس کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ ہے۔ اس کی یہ سوچ دنیا داری کی حد تک تھی، اس سے بڑھ کر اس نے کچھ نہ سوچا تھا اور نہ ہی وہ سوچنا چاہتی تھی۔ اسد اور اس کے اندر ایک محسوس کیا جانے والا خلا اب بھی تھا۔ بے شک وہ اب اسے برائے ضرورت مخاطب کرنے لگی تھی۔
وہ تایا ابو کا ہاتھ تھامے باہر لے آئی تھی۔ برآمدے کی سیڑھیوں پر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ دھوپ ڈھل چکی تھی۔ مغرب کی طرف پھیلی سرخی کو بغور دیکھتے اس نے محسوس کیا کہ ہلکی ہلکی ہوا چلنے کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو گیا تھا۔
’’تایا ابو! موسم کتنا اچھا ہو گیا ہے نا۔‘‘ یونہی ادھر اُدھر دیکھتے اس نے پوچھا آسمان پر آہستہ آہستہ ہلکی ہلکی بدلیاں چھا رہی تھیں وہ مسکرائے۔
’’ہوں…‘‘ ان کے جھریوں زدہ چہرے پر تھکی تھکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’تایا ابو! چھٹیوں میں جب بھی میں چھٹیاں گزارنے یہاں آتی تھی نا تو مجھے یہ گھر بہت متاثر کرتا تھا اور ہر بار یہاں آنے کے بعد میرا واپس جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔‘‘ وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کھو سی گئی تھی۔
’’اور پھر ہم تمہیں ہمیشہ کے لیے اس گھر میں لے آئے تھے۔ مگر جس کے ساتھ لے کر آئے تھے وہیں چھوڑ گیا ہمیشہ کے لیے۔‘‘ ان کی آواز رندھ گئی تھی۔ اسے افسوس ہوا کہ اس نے یہ موضوع ہی کیوں چھیڑا؟
تایا ابو نے اپنا لرزتا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا۔
’’تم میری ایک بات مانو گی صبا!‘‘ کچھ سوچتے اس کا سر تھپتھپاتے انہوں نے کہا تو اس نے دوپٹے سے اپنا چہرہ صاف کرتے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا۔
’’آپ کہیے؟‘‘ تایا ابو کے چہرے پر گہری سوچ اور تفکر کا عکس واضح تھا، وہ اُلجھی۔
’’میں چاہتا ہوں کہ تم اب شادی کر لو، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ صرف چوبیس سال، تمہاری عمر کی لڑکیاں تو ہر غم، ہر ذمہ داری سے بے نیاز، آزاد ہیں اور تم۔‘‘ ایک دفعہ پہلے بھی انہوں نے اس سے یہ ذکر چھیڑا تھا اور اب پھر… وہ خاموش رہی۔
’’میں آج ہوں کل نہیں، مجھے اپنی زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں، مرتے مرتے زندگی ایک دفعہ پھر مہلت دے دی ہے۔ حماد زندہ رہتا تو تم ہی سے میرے گھر کی ساری رونقیں تھیں۔ اب بھی تم میرے گھر کی رونق ہو، مگر وہ نہیں تو مجھے بھی کوئی حق نہیں کہ میں تمہیں بٹھائے رکھوں، تمہارے ماں باپ زندہ ہوتے تو یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ تمہارے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ راجیہ کا بھی فون آیا تھا وہ بھی خاصی پریشان ہو رہی تھی۔ اس نے بھی یہی مشورہ دیا ہے۔‘‘ وہ اسے بتا رہے تھے، وہ اب بھی سر جھکائے چپ چاپ بیٹھی رہی۔
’’یہ مستقل بیماری… اب دل بہت گھبرا گیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے جلد از جلد تمہارے فرض سے سبکدوش ہو جائوں۔‘‘
’’پلیز تایا ابو! میں اب دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ حماد زندہ تھا تو سب کچھ تھا، اب وہ نہیں تو ایسی کوئی حسرت نہیں رہی، میں اس کی بیوی ہوں اور اسی کے نام پر ساری زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ مجھے دوبارہ شادی نہیں کرنا، آپ یہ ٹاپک میرے سامنے مت چھیڑا کریں پلیز۔‘‘ وہ بات کرتے کرتے رو دی۔
’’دیکھو صبا بیٹی! مجھ بوڑھے کو اب مزید مت لٹکائو۔ ورنہ مرتے دم تک یہ دُکھ رہے گا کہ تمہیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہا ہوں۔‘‘ وہ دلگرفتہ سے خاموش ہو گئے تھے۔ دونوں کے درمیان خاموشی کے یہ پل طویل ہوتے جا رہے تھے۔
’’اندر چلیں۔ آندھی آنے والی ہے، کتنی تیز ہوا ہو گئی ہے۔‘‘
آسمان پر بدلیاں گہری ہو گئی تھیں۔ مغرب میں ڈوبتا سورج مزید اوجھل ہو گیا تھا۔ ہوا کا زور تیز تر ہوا تو اس نے انہیں ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ انہوں نے بڑی اذیت و بے بسی سے اسے دیکھا تو وہ چپ چاپ سر جھکا گئی۔
انہیں کمرے میں پہنچا کر وہ کچن میں آ گئی تھی۔ چیزوں کو اِدھر اُدھر کرتے ہوئے بھی ذہن تایا کی باتوں میں اُلجھا رہا تھا۔
’’یہ ممکن نہیں تایا ابو! پلیز مجھے معاف کر دیں، جو آپ چاہ رہے ہیں، ایسا اب ممکن نہیں، میں حماد کی سنگت میں ساری خوشیاں حاصل کر چکی ہوں، اب اس تار تار دل میں کسی اور کے لیے قطعی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
اس خیال سے ہی کہ اس کی زندگی میں حماد کی جگہ کوئی اور بھی لے سکتا ہے، وہ بے پناہ اذیت کا شکار ہو گئی تھی۔
اسد آیا تو اسے کھانا دے کر وہ عشاء کی نماز پڑھنے کمرے میں چلی آئی۔ نماز پڑھ کے واپس کچن میں آئی تو اسد کھانا کھانے کے بعد برتن بھی دھو کر جا چکا تھا۔ اس کی آواز تایا ابو کے کمرے سے آ رہی تھی۔ دونوں کسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔ اس نے کچن سمیٹ کر چائے بنا لی تھی۔
’’میں نے اس سے پھر بات کی تھی، مگر وہ انکار کر رہی ہے۔‘‘ چائے بنا کر وہ تایا ابو کے کمرے میں آئی تو دروازے پر ہی رُک گئی۔ موضوع بحث شاید اس کی ذات تھی۔
’’تو پھر اب آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ یہ اسد کی آواز تھی۔ وہ پوری طرح متوجہ ہوئی۔
’’تم جانتے ہو کہ میں کیوں تم دونوں پر بار بار زور دے رہا ہوں۔‘‘ تایا ابو کی نروٹھی آواز سنائی دی۔
’’صبا ایسا کبھی نہیں چاہے گی۔‘‘ اسد نے پُرسکون انداز میں کہا تھا۔ صبا اُلجھی۔
’’حماد کو گزرے دو سال ہو گئے ہیں، سنبھل گئی ہے وہ کافی۔ آہستہ آہستہ حالات سے سمجھوتا کر لے گی۔ تھوڑی جذباتی ہو رہی ہے اور کچھ نہیں۔‘‘
’’پھر بھی میرا خیال ہے وہ ایسا کبھی نہیں چاہے گی، میں اسے اچھی طرح سمجھتا ہوں۔‘‘
’’اسد! میں سمجھوں کہ تمہارے نزدیک میری خواہش کی کوئی اہمیت نہیں؟‘‘ تایا ابو کی بھیگی آواز پر اسد تڑپ اُٹھا۔
’’پلیز ابو جان! کیوں مجھے گناہگار کرتے ہیں، ساری صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ حماد اور صبا کی اٹیچمنٹ سے آپ بے خبر تو نہیں۔ حماد کو اللہ نے عمر ہی اتنی دی تھی ورنہ میں تو ایسا سوچنا بھی اپنے لیے گناہ تصور کرتا ہوں۔‘‘
’’اسد بیٹے! یہ میری خواہش ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، یہ شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ میں دل سے چاہتا ہوں تم صبا سے شادی کر لو، اسے تحفظ دو۔‘‘ انہوں نے ذرا توقف کیا۔
’’حماد کی اگر خواہش نہ ہوتی تو تب بھی میں نے سوچ رکھا تھا کہ صبا کو تمہارے لیے اس گھر میں لائوں گا، مگر پھر حماد نے خواہش کا اظہار کر دیا پھر صبا کا رجحان دیکھتے میں نے بھی چپ سادھ لی، وہ اب نہیں مگر تم تو ہو نا؟ تم سے بہتر صبا کو کوئی اور نہیں سمجھ سکتا، وہ خاموش طبع سنجیدہ مزاج جذباتی سی لڑکی ہے۔ مجھے خوف آتا ہے کہ کہیں اسے ایسی ویسی جگہ بیاہ کر اس کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھوں۔ میں اسے تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ وہ حماد کو نہیں بھولی، اب بھی ذکر کرتا ہوں تو رو دیتی ہے، مجھے تم پر بھروسہ ہے، تمہارے ساتھ بیاہتے ہوئے مجھے یہ تکلیف نہیں ہو گی کہ تم اسے اس کی پچھلی زندگی کا حوالہ دو گے۔ مجھے یقین ہے تم دونوں بہت خوش رہو گے۔ تم اسے اسی طرح عزت اور مان دو گے جیسے حماد دیتا تھا۔‘‘
ٹرے صبا کے ہاتھوں میں لرز گئی تھی۔
اسے لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھینچ لیا ہو۔
’’تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں اسد! اگر ہے تو کہہ دو، جو بھی دل میں ہے بتا دو۔‘‘
اس سے پہلے کہ اسد کچھ کہتا وہ واپس پلٹ گئی، ٹرے کچن کی سلیب پر رکھ کر وہ اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔

حویلی بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ دلہن کی طرح سجی حویلی دور سے ہی دیکھنے سے نمایاں ہو رہی تھی۔
آج خان ذکاء اللہ خان کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی پشمینہ خان کی منگنی زوار خان سے ہو رہی تھی۔ بی بی جان مطمئن سی اِدھر سے اُدھر ملازمائوں کو ہدایات دیتی خاصی مصروف تھیں۔ پلوشے اور زرمینے تو ہفتہ پہلے ہی حویلی میں ڈیرا جما چکی تھیں۔ ان کے ہاں شادی بیاہ کی رسمیں بڑی روایتی سی تھیں۔ خان ذکاء اللہ نے بے شک تینوں بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا تھا۔ مگر اپنی اقدار نہ بھولے تھے۔
’’ماشاء اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ زرمینے نے اسے مسکرا کر دیکھا تو وہ جھینپ گئی۔
’’لگنا بھی چاہیے، آخر میرے پیارے سجیلے بھیا کے نام کا سنگھار ہے۔‘‘ زوار کی بہن لیلیٰ سے رہا نہ گیا۔
بھاری خوبصورت لباس اور زیورات میں وہ کوئی اپسرا ہی لگ رہی تھی۔
بی بی جان کی اجازت سے گل بیگم نے اسے خاندانی انگوٹھی پہنا کر رسم کا آغاز کیا تھا۔
’’تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ ذرا دل تھام کے رکھنا۔‘‘ لیلیٰ نے ہنس کر کہا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ مگر لیلیٰ ہنستے ہوئے نکل گئی۔ کچھ دیر بعد جب خان ذکاء اللہ خان نکاح خواں کو لیے ہوئے اورآئے تو وہ حیران ہی رہ گئی۔
پشمینہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ منگنی کے ساتھ نکاح بھی ہو جائے گا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے دستخط کیے تھے۔ لیلیٰ خوب چہکتی پھر رہی تھی۔ ’’میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ دل تھام کے رکھنا، یہ تمہارے لیے سرپرائز تھا۔ کہو کیسا لگا ہمارا سرپرائز؟‘‘ وہ ابھی تک حیرت زدہ تھی، محض مسکرا کر سر جھکا گئی تھی۔
کچھ دیر بعد مہمانوں کا رش کم ہوا تو پلوشے اور لیلیٰ کی ہمراہی میں وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔
’’میں نے زوار بھیا سے وعدہ کیا تھا کہ تم دونوں کی ملاقات کا بندوبست کر دوں گی۔ تم بس کچھ دیر ایسے ہی رہنا میں بھیا کو اطلاع کرتی ہوں۔‘‘
وہ پریشان ہو اُٹھی۔
’’نہیں لیلیٰ… سنو تو… کسی کو خبر ہو گئی تو؟‘‘
’’جناب! میں نے انتظام کر رکھا ہے، تم آرام سے ادھر بیٹھو، پلوشے اور بھابی ہمارے ساتھ ہیں بس دو منٹ کی تو بات ہو گی۔‘‘ وہ گھبرائی سی اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تو اس کا دل کانپا۔
’’السلام علیکم!‘‘ پُرجوش، کھنکھناتی، جذبات سے بھرپور آواز پر وہ سمٹ سی گئی۔
’’کیا حال ہیں؟ ماشاء اللہ بڑی خوبصورت لگ رہی ہو۔ خیر ہے نا۔‘‘ بڑے والہانہ انداز میں اس کے بنے سنورے سراپے کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے گھورنے کو سر اُٹھایا، مگر اس کے تیور دیکھ کر گھبرا کر پھر سر جھکا لیا۔
’’کیسا لگا سرپرائز؟‘‘ پشمینہ کو اپنے جذبات ریشم کی طرح نرم محسوس ہوئے، سر اُٹھا کر اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں جذبوں کا ایک جہاں آباد تھا۔
’’اچھا تو یہ ساری کارستانی آپ کی تھی؟‘‘
’’کیا کارستانی؟‘‘ اس کی محبت کے اس انداز کو اس نے کارستانی کہا تو وہ چیخ پڑا۔
وہ ہنسنے لگی، اسے مسکراتے دیکھ کر وہ بے خود سا آگے بڑھا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی خوشنما سی حرکت کرتا پشمینہ نے پکارا۔
’’زوار! میں ہمیشہ اسی حویلی میں رہنا چاہتی ہوں۔ میں بی بی جان اور بابا جان کو اکیلے چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘
زوار نے اسے ایک پل بغور دیکھا۔
’’بی بی جان نے تمہیں اپنا بیٹا بنایا ہوا ہے۔ تم شروع سے ہی اس حویلی میں رہے ہو۔ بابا جان اور بی بی جان نے تم سے بہت سی اُمیدیں باندھ رکھی ہیں۔ بابا قبیلے کی وجہ سے ایسا نہیں سوچتے، مگر تم ہمیشہ اس حویلی میں رہو، یہ ان کی بھی خواہش ہے۔‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے دل کی بات کہہ دی تھی۔
’’ویسے ہے تو یہ مردانگی کے خلاف کہ میں گھر داماد بن کر رہوں مگر گھر داماد سے پہلے میں اس حویلی کا بیٹا ہوں اور بیٹے ہمیشہ اپنے گھروں میں ہی جچتے ہیں بیگم!‘‘ اس کی سنجیدگی کو اس نے ہنسی میں اُڑایا تو اس کے ہونٹوں پر بڑی خوبصورت سی مسکان سمٹ آئی تھی۔ ’’زوار! تم… تم بہت اچھے ہو۔‘‘
’’بس ٹائم از اوور، بی بی جان اور دیگر لوگ ادھر آ رہے ہیں۔ زوار لالہ، جلدی سے بھاگنے کی راہ لیں۔‘‘
اس سے پہلے کہ زوار جواباً کوئی خوبصورت سی کارروائی کرتا لیلیٰ کی آمد نے اسے گڑبڑا دیا تھا۔ زوار بی بی جان کا خیال کرتے ہوئے سے باہر کی طرف لپکا اور پشمینہ نے سکھ کا سانس لیا کہ زوار نے اس کی اتنی بڑی خواہش کو اتنی آسانی سے پورا کر دیا۔ اگر وہ بھی بیاہ کر اس حویلی سے چلی جاتی تو بی بی جان اور بابا جان کو صارم کی جدائی مزید تڑپانے لگتی۔

اگلی صبح وہ نو بجے تک بھی کمرے سے نہ نکلی تو اسد کو تشویش لاحق ہوئی۔
رات کو وہ جب مجتبیٰ حسن سے بات کر کے کمرے سے نکلا تو کچن میں پانی پینے کی غرض سے گیا تھا، مگر وہاں سلیب پر ٹرے میں چائے کے تین کپ دیکھ کر چونک گیا۔ اس کے لیے یہ انکشاف ہی بڑا اذیت ناک تھا کہ وہ ان کی گفتگو سن چکی ہے اور اس کے بعد اس نے کیا اندازہ لگایا ہو گا۔ وہ سوچ سوچ کر اُلجھتا رہا۔ دل تو چاہا کہ ابھی جا کر صورتحال واضح کر دے۔ مگر پھر اس کے مزاج اور تیوروں کا خیال کر کے رُک گیا تھا، لیکن اب نو بجے تو وہ صبر نہ کر سکا۔
’’صبا…‘‘ اس نے دروازے پر دستک دی۔
’’صبا…‘‘ اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ قدرے پریشان ہو گیا۔
وہ مسلسل اسے آوازیں دیتے دروازہ بجاتا چلا گیا تھا۔
’’صبا…‘‘ اس کا نام ہونٹوں میں ہی اٹک گیا۔ جب ایک دم دروازہ کھل گیا تھا۔ اسد کا دستک کے لیے اُٹھا ہوا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔
’’دستک دینے کا یہ کون سا انداز ہے۔ بہری نہیں ہوں میں۔‘‘ اس نے اسد کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔ چہرے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ لگتا تھا کہ ابھی منہ دھو کر باتھ روم سے نکلی ہے۔
’’تم ابھی تک کمرے سے باہر نہیں نکلیں تو…‘‘ اس کا غصہ سے سرخ چہرہ اور بدلحاظی دیکھتے اوراسد نے وضاحت کرنا چاہی تھی مگر اس نے درشتی سے بات کاٹ دی تھی۔
’’مر نہیں گئی تھی میں۔‘‘
’’ابو تمہیں بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کچھ کہے بغیر اس کے گیلے چہرے پر ایک نگاہ ڈالتے سامنے سے ہٹ گیا۔ صبا لب بھینچے اس کی چوڑی پشت دیکھے گئی۔
وہ تایا ابو کے پاس جانے کے بجائے گھر کی صفائی ستھرائی میں لگ گئی۔ دو گھنٹے بعد جب بھوک لگی تو ہاتھ دھو کر وہ کچن میں آئی اسد کو چولہے کے سامنے کھڑے دیکھ کر رُک گئی۔
تو ابھی تک اس نے اور تایا ابو نے ناشتہ نہیں کیا تھا ایسا پہلے بھی ایک بار ہوا تھا۔ وہ بیمار تھی تو اسد نے خود ہی ناشتہ تیار کر لیا تھا اور پھر آج… اسے رات کی تمام گفتگو یاد آئی تو پھر اس کا غصہ بڑھنے لگا۔
اسد روٹی بیلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ دونوں توس کھا لیتے تھے، مگر تایا ابو صرف روٹی کا ہی ناشتہ کرتے تھے۔ صبا کو شرمندگی سی محسوس ہوئی۔
’’پیچھے ہٹیں، میں بناتی ہوں۔‘‘ وہ اپنے غصے کو پس پشت ڈالے آگے بڑھی تھی۔
اسد نے ایک نظر اسے دیکھا، پھر روٹی بیل کر توے پر ڈال دی۔ صبا کو بڑی سبکی کا احساس ہوا، اگر تایا ابو کی بھوک کا خیال نہ ہوتا تو پلٹ جاتی مگر…
’’میں نے کہا نا کہ ہٹیں پیچھے، میں بنا لیتی ہوں۔‘‘ اسد کو دوبارہ آٹے کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھ کر اس نے فوراً آٹے والا برتن اُٹھا لیا۔ اسد نے ایک سنجیدہ نگاہ اس پر ڈالی۔
’’رہنے دیں، آپ جائیں یہاں سے، ہمیں عادت ہے یہ سب کرنے کی۔ خوا مخواہ ہماری عادتیں خراب مت کریں۔‘‘ اس کے لہجے میں پل بھر میں اجنبیت در آئی تھی۔
’’تو پھر اپنے لیے بنا لیں میں اپنے اور تایا ابو کے لیے بنا لوں گی۔‘‘ اس نے بھی اجنبیت سے کہا تو وہ خاموشی سے روٹی کی طرف متوجہ ہو گیا۔
اپنے لیے روٹی بنا کر پلیٹ میں رکھ کر چولہا بند کر کے تو ایک طرف رکھنے کے بعد وہ آرملیٹ، جو وہ شاید پہلے ہی تیار کر چکا تھا، لے کر کھانے کی میز پر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگ گیا۔
اس کا یہ روپ پہلی بار صبا کے سامنے آیا تھا، وہ ایک پل کو حیران کھڑی ہو گئی تھی۔ اسے ناشتہ کرتے دیکھ کر اس نے سر جھٹکا پھر دوبارہ چولہا جلا کر توا رکھا، اپنے لیے پراٹھا اور تایا ابو کے لیے سادہ پھلکا بنایا، پھر ٹرے لے کر تایا ابو کے کمرے میں چلی آئی۔
وہ قرآنی تفسیر سے متعلق کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے، اسے دیکھ کر سر اُٹھایا۔
’’آج بہت سوئیں تم؟‘‘ اس نے جیسے ہی میز پر ٹرے رکھی تو انہوں نے کتاب بند کر کے تپائی پر رکھ دی۔
’’بس رات اچھی طرح نیند نہیں آئی، اس لیے صبح جلد آنکھ نہیں کھل سکی۔‘‘
ان کے سامنے کھانا رکھتے اس نے بتایا تو وہ مسکرا دئیے۔
’’رات نیند کیوں نہیں آئی تھی۔‘‘ وہ خوش دلی سے پوچھ رہے تھے جبکہ صبا کا چہرہ ستا ہوا تھا۔
’’بس پچھلی زندگی کی باتیں یاد آتی رہیں، امی، ابو، حماد۔‘‘
تایا ابو نے اس کو بغور دیکھا تو اس کی آنکھوں کے سوجے پپوٹے واضح دکھائی دئیے۔
’’کیا تم حماد کو بھول نہیں سکتیں۔‘‘ ان کے لہجے میں آزردگی سی سمٹ آئی تھی۔
اس کے سامنے ناشتہ رکھا تھا، مگر ابھی تک اس نے ایک لقمہ بھی نہ لیا تھا۔ تایا ابو اس کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔
’’مگر میں تمہیں ساری زندگی یوں گزارنے کی حماقت بھی نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ انہوں نے ٹرے کھسکا کر خاصی برہمی سے کہا تو وہ بے بسی سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’تایا ابو! یہ دل کے معاملات ہیں، آپ زبردستی مت کریں پلیز۔‘‘ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ مجتبیٰ حسن صاحب دُکھ سے اسے دیکھنے لگے۔
’’صبا بیٹے! یہ زبردستی نہیں ہے، تم ابھی کم عمر ہو، جذباتی ہو، تم نہیں سمجھ سکتیں کہ تمہیں مستقبل میں کن مسائل اور حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ فیصلہ تن تنہا زندگی گزارنے سے ہزار درجے بہتر ہے، میں نے اسد سے بات کر لی ہے۔ وہ راضی ہے، میں نے سوچ لیا ہے کہ اس سے پہلے کہ موت آ پہنچے میں تم دونوں کے فرض سے سبکدوش ہو جائوں۔‘‘ ان کا انداز و لہجہ فیصلہ کن تھا۔ وہ حیرت سے انہیں دیکھے گئی۔
’’تمہارے ماں، باپ زندہ ہوتے تو میں کبھی زبردستی نہ کرتا، راجیہ یہاں ہوتی تو بھی کوئی پریشانی نہ ہوتی کہ میرے بعد وہ تمہارا اچھا بُرا سوچنے والی ہے۔ اسد تمہارے لیے ایک غیر محرم ہے۔ وہ کب تک تمہیں تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ کل کو اس نے بھی شادی کرنا ہے اور آنے والی نہ جانے کیسی ہو، وہ تمہیں برداشت کرے یا نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ تمہیں کہیں اور بیاہتے ہوئے مجھے خود بھی خوف آتا ہے۔ اسد اچھا انسان ہے۔ کوئی کمی، خامی نہیں، میں نے راجیہ سے رات فون پر تفصیلی بات کی تھی، اسے میرے فیصلے سے خوشی ہوئی ہے۔‘‘ وہ لب بھینچے بیٹھی رہی۔
’’صبا بیٹے! یقین کرو اسد بہت اچھا انسان ہے، ان دو سالوں میں تم نے اسے اچھی طرح دیکھا ہے، ان کا مستقبل بہت روشن ہے۔ اگر تم اس وجہ سے خوف زدہ ہو کہ نہ جانے وہ کس خاندان کا خون ہے تو بیٹا اس چھوٹی سی بات کو ذہن میں جگہ مت دو۔ اس کے انداز و اطوار، مزاج و شباہت سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عام گھرانے کا چشم و چراغ نہیں ہے۔ نہ جانے کیا حالات تھے کہ وہ مجھے اس حالت میں ملا۔ نہ جانے کس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور کس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ خدانخواستہ غلط ہاتھوں میں پڑ جاتا تو کیا مستقبل ہوتا۔ میں نے اسے اپنا نام دیا۔ لکھایا، پڑھایا، معاشرے میں ایک مقام دیا۔ لوگ اسے میرا بیٹا ہی کہتے ہیں۔ وہ میرے لیے دوسرا حماد ہے۔ اور ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے ایسا ہی بر جاہتا ہے۔‘‘
وہ نہ جانے اسے کیا کیا سمجھا رہے تھے، وہ ایک دم اُٹھی تھی اور ان کے کمرے سے نکل آئی تھی۔

اس کے اور تایا جان کے درمیان اک خاموشی سی جنگ جاری تھی اسد کو صورتحال کا اندازہ تھا۔ مگر وہ خاموش تھا۔ مجتبیٰ حسن صاحب نے اپنا فیصلہ منوانے کے لیے اس سے بات چیت بند کر دی تھی۔ انہیں لگتا تھا کہ اس طرح وہ صبا کو قائل کر لیں گے۔ مگر اندر ہی اندر اس خاموش پالیسی پر تینوں ہی دلگرفتہ اور پریشان تھے۔
صبا عجب آزردگی کی کیفیت میں گھری ہوئی تھی۔ رات میں اسے نیند نہیں آ رہی تھی تو باہر نکل آئی تھی، کچھ دیر تو برآمدے کی سیڑھیوں پر گم صم بیٹھی رہی، پھر اچانک برآمدے کی سیڑھیوں پر گم صم بیٹھی رہی، پھر اچانک تایا ابو کے کمرے سے دھڑام سے کوئی چیز گرنے اور ٹوٹنے کی آواز آئی تو وہ چونک گئی، اُٹھ کر کمرے کی طرف بھاگی۔ دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو اوسان خطا ہو گئے۔ تایا ابو شاید پانی پینے کے لیے اُٹھے تھے، سنبھل نہ سکے اور گر پڑے۔ گلاس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
اس نے دوسرے بستر کی طرف دیکھا، وہ خالی تھا، اسد بستر پر نہ تھا۔ تایا ابو کی طبیعت کی وجہ سے اسد زیادہ تر اسی کمرے میں سوتا تھا۔ مگر جس دن اس کے آفس کا کام ہوتا تو وہ اپنے کمرے میں چلا جاتا کہ مجتبیٰ حسن ڈسٹرب نہ ہوں۔
وہ دوڑ کر ان کے قریب پہنچی اور پوری قوت لگا کر ان کو اُٹھانے کی کوشش کی، مگر جب وہ انہیں سنبھال نہ پائی تو اسد کے کمرے کی طرف بھاگی۔ دروازہ بند نہیں تھا۔ تیزی سے اندر داخل ہوتے ہی اس نے بستر پر دراز اسد کے اوپر سے چادر کھینچ لی۔
وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ وہ کبھی بھی اس کے کمرے میں داخل نہیں ہوئی تھی اور اب رات کے اس پہر، اس کی حیرت یقینی تھی۔
’’وہ اسد! تایا ابو۔‘‘ باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ کام نپٹا کر لیٹا تھا۔ فوراً بستر سے اُترا اور تایا ابو کے کمرے کی طرف بھاگا۔
تایا ابو بیہوش ہو چکے تھے۔
’’ابو…‘‘ اس نے سیدھا کیا، مگر کوئی حرکت نہ ہوئی تھی۔ ان کی حالت دیکھ کر وہ رو پڑی تھی۔
’’اسد پلیز ڈاکٹر کو بلوائیں یا ان کو ہسپتال سے جائیں۔‘‘ اس نے وحشت سے اسد کا بازو جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ اسد نے انہیں بستر پر لٹا دیا تھا۔
’’میں انکل امتیاز کی طرف جاتا ہوں۔ اس وقت ڈاکٹرز کا تو ملنا مشکل ہی ہے۔ میں ان کے ساتھ ابو کو لے کر جاتا ہوں۔‘‘
وہ عجلت میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد لوٹا تو اس کے ساتھ انکل امتیاز تھے۔
وہ انکل امتیاز کے ساتھ مجتبیٰ حسن کو لے کر ہسپتال چلا گیا۔ ساری رات وہ پریشانی میں ٹہلتی رہی۔ صبح اس نے ہسپتال سے صبا کو خیریت کا فون کر دیا۔
دوپہر میں اسد اسے لینے گھر آیا تو کافی تھکا ہوا اور نڈھال لگ رہا تھا۔ ساری رات کی بھاگ دوڑ اور بے آرامی نے اسے کافی متاثر کیا تھا۔ اسد کو اس حالت میں دیکھ کر صبا شرمندہ سی ہو گئی۔
’’بہت تھک گئے ہیں۔ کھانا کھائیں گے۔‘‘ اس نے بالوں میں اُنگلیاں چلاتے چلاتے رُک کر اسے دیکھا۔ تھکے تھکے اعصاب لیے اس نے آنکھیں موند لیں۔
’’ہوں۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اس نے کہا تھا۔
وہ کچن میں آ گئی، اس کے لیے کھانا بناتے ہوئے وہ عجب سے احساسات کا شکار ہوئی۔ کھانے کی ٹرے اس کے سامنے میز پر رکھی۔ آواز پر اسد نے آنکھیں کھولیں۔ ٹرے اپنی طرف کھسکاتے اس نے صبا سے بھی کھانے کو کہا تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’صبا… ابو جان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ ڈاکٹرز مکمل طور پر ناامید ہیں، کہہ رہے ہیں کہ اس اٹیک کے بعد ان کی حالت سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ دراصل وہ خود بھی اپنی دل پاور ختم کر چکے ہیں۔ ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ گھر میں ان پر خصوصی توجہ دیں۔ انہیں ایسا ماحول فراہم کریں کہ یہ ٹینشن سے دور رہیں۔ انہیں انجائنا کا دورہ پڑا تھا۔
کھانا کھاتے دھیمے لب و لہجے میں اس نے ساری صورتحال بتائی۔ صبا کا ضبط بکھر کر رہ گیا۔ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
’’رونے کا کوئی فائدہ نہیں صبا! آپ کو یہ ساری صورتحال اس لیے بتا رہی ہوں کہ آپ کا ان سے دہرا رشتہ ہے۔ میرا بے شک ان سے خون کا کوئی رشتہ نہیں، مگر میں نے انہیں ہمیشہ باپ ہی تسلیم کیا ہے۔ جتنا آپ ان کے قریب رہی ہیں، اتنا میں بھی نہیں ہوں۔ میں جانتا ہوں آپ ان سے بہت محبت کرتی ہیں، مگر پلیز آپ ان کو اس ٹینشن سے نکال دیں۔ اپنے لیے کوئی بہتر فیصلہ کر لیں۔ زندگی کبھی تنہا نہیں گزرتی، آپ کو زندگی میں ابھی نہیں تو آگے ضرور سہارے کی ضرورت پڑے گی۔ میں اپنے لیے فورس نہیں کر رہا۔ آپ بے شک کسی اور کے لیے ہی سہی، پر ہاں کہہ دیں، وہ اس دنیا سے جانے سے پہلے آپ کی فکر سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ آپ کو اپنے گھر میں پھر سے آباد دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
دھیمے اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ساری صورتحال واضح کر دی تھی۔ وہ گم صم سی بیٹھی رہ گئی تھی۔ وہ جتنا مرضیٰ جھٹلاتی لیکن تایا ابو کے اس اٹیک کی وجہ وہ خود بھی تھی، جس طرح وہ ان سے قطع تعلق کیے ہوئے تھی، یہ صورتحال تو پیش آنا ہی تھی۔
’’آپ اچھی طرح سوچ لیں، آپ پر کوئی زبردستی کوئی دبائو نہیں، خاص طور پر میری طرف سے تو قطعی نہیں۔ شادی بیاہ بچوں کا کھیل نہیں، یہ عمر بھر کی بات ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دل آمادہ نہ ہوں تو ایسا بندھن باندھنے کی بالکل ضرورت نہیں۔‘‘
اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسد یوں اسے یہ سب سمجھا رہا ہو گا۔
’’میں ذرا چینج کر لوں۔ آپ بھی تیار ہو جائیں پھر ہسپتال چلتے ہیں۔‘‘
وہ کھانا ختم کر چکا تھا۔ برتن سمیٹتے ہوئے تایا ابو کے لیے پرہیزی کھانا بناتے ہوئے تیار ہوتے ہوئے وہ عجب کشمکش کا شکار تھی۔
امتیاز انکل ہسپتال میں تایا ابو کے پاس ہی تھے۔ اسد ان کی ہی گاڑی لے کر آیا تھا۔ صبا اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی تھی۔
اسد نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بغور دیکھا۔ اس کی آنکھیں مزید سرخ ہو رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ وہ پھر خوب روئی ہے۔
’’اسد! آپ اچھی طرح جانتے ہیں، میری اور حماد کی اٹیچمنٹ ایک دو دن کی بات نہ تھی۔ اس کی محبت توجہ اور پیار نے مجھے کبھی کچھ اور سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ میں حماد کے ساتھ بیاہ کر اس گھر میں آئی تھی اور حماد کے بعد کسی اور کا تصور… چاہے وہ کوئی بھی ہو…‘‘
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر سسک اُٹھی تھی۔ اسد لب بھینچے گاڑی چلاتا رہا تھا۔
’’آپ تایا ابو سے کہہ دیجیے کہ میں آپ سے نکاح کے لیے تیار ہوں۔‘‘ روتے روتے اس نے ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا تھا اور اسد بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔

مجتبیٰ حسن چند دن ہسپتال میں رہے تھے۔ ان کی طبیعت کچھ سنبھلی تو ڈسچارج کر دئیے گئے تھے۔ وہ گھر لوٹے تو بہت زیادہ لاغر ہو چکے تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر صبا مزید وحشت زدہ ہو جاتی تھی۔ اسد کے کیا جذبات تھے۔ وہ بے خبر تھی، اس روز کے بعد براہِ راست ان دونوں کی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی تھی۔
وہ رات کو انہیں دوا کھلانے آئی تھی۔ دوا کھلا کر اس نے تایا جان کے ہاتھ تھام لیے۔ آج ان کی طبیعت گزشتہ دنوں سے قدرے بہتر تھی۔
’’تایا ابو مجھے آپ کا فیصلہ قبول ہے، میں اسد سے نکاح کے لیے راضی ہوں۔‘‘ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے کہا تو اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
پہلے تو وہ حیران ہوئے، پھر خوش ہو کر انہوں نے اسے والہانہ انداز میں اپنے سینے سے لگا لیا تھا اور صبا کو لگا اسے دل کھول کر رونے کا موقع مل گیا ہے۔
’’تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا۔ تم میری ہی بہو رہو گی، چاہے حماد کی صورت یا اسد کی۔ یقین رکھنا بیٹا! اسد تمہیں بہت خوش رکھے گا۔ کوئی اور نہ جانے کیسا ہوتا۔ میرا باہر دل ہی نہیں مانا۔ بہت عقلمندی کا فیصلہ کیا تم نے۔ اللہ تم دونوں کو سدا خوش رکھے۔‘‘ وہ اسے سینے سے لگائے مسلسل دُعائیں دے رہے تھے۔
اس کی خواہش تھی کہ نکاح وغیرہ کی تقریب سادگی سے ہو، خود اسد بھی شور ہنگامے کا قائل نہ تھا۔ مگر تایا ابو تو ہر طرح سے خوشی منانا چاہتے تھے دل کھول کر۔ نہ نہ کرتے بھی اچھا خاصا انتظام کر لیا گیا تھا۔ وہ نکاح کے دن بہت خوش تھے۔ بغیر کسی سہارے کے وہ مہمانوں میں چل پھر، اُٹھ بیٹھ رہے تھے۔ زندگی کے بھرپور قہقہے لگا رہے تھے۔
نکاح کے بعد اسد پہلے مجتبیٰ حسن کے پاس ان کے کمرے میں آیا۔
’’تم ادھر؟‘‘ اسد کو اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئے تو اسد جھینپ گیا۔
’’آج تو مجھ بوڑھے کو تنہا چھوڑ دو، جائو بیٹا! صبا انتظار کر رہی ہو گی۔ تم میری فکر نہ کرو، مجھے بس تم دونوں کی فکر تھی، بڑے عرصے بعد سکون محسوس کیا ہے، اب اگر موت بھی آ جائے تو کوئی غم نہیں۔ ایک خلش تھی دل میں کہ میں دونوں بیٹوں میں انصاف نہیں کر پایا، تم بے شک منہ سے کہو، مگر باپ ہوں تمہارا، تمہارے دل کی خواہش مجھ پر آشکار نہ ہوتی تو کس پر ہوتی۔ آج میں سرخرو ہو گیا ہوں۔ جائو بیٹا! اپنی خوشیاں سمیٹو، میری ساری دُعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘
انہوں نے اسد کا چہرہ تھام کر پیشانی چومی، پھر اسے اپنے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا تو وہ باہر نکل آیا تھا۔
اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے اسد کے عجب سے احساسات ہو رہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھی روتی صبا کی وہ ہاں اور الفاظ… وہ بھولا تو نہ تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ صبا نے صرف مجتبیٰ حسن کی خاطر ہاں کی ہے۔ اور کسی کی مجبوری سے فائدہ اُٹھانا اس کی سرشت میں نہ تھا۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو صبا کہیں بھی نظر نہ آئی، البتہ باتھ روم کا دروازہ بند تھا، وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔
صبا باتھ روم سے نکلی تو اس نے دیکھا وہ سادہ سوتی لباس میں ملبوس تھی۔ اس نے نظریں چرائیں۔
اسد نے صبا کو چند پل بغور دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کی۔
’’صبا! یہ میں تمہارے لیے لایا تھا۔ پہن لینا۔‘‘ اسد اس کے قریب آیا۔ پینٹ کی جیب سے ایک ڈبیہ نکال کر اس کی طرف بڑھائی تھی۔ ’’کیا ہے؟‘‘ ہاتھ بڑھا کر لینے کے بجائے اس نے صرف پوچھا تھا۔ اسد کے اندر سارے لطیف احساسات سرد سے ہو گئے تھے۔
’’دیکھ لیں۔‘‘ اسد نے ڈبیہ اس کے قریب رکھ دی۔ ’’ابو ضرور پوچھیں گے اور میں نہیں چاہتا کہ انہیں کسی بھی قسم کی تکلیف ہو۔ تمہارا دل نہ بھی چاہے، تب بھی ضرور پہن لینا۔ مجبوراً ہی سہی، جہاں تک بات ہے تمہارے احساسات کی، میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں تکلیف نہ ہو۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم نے کن حالات میں اور کیونکر اس رشتے کے لیے رضامندی دی ہے۔ کم از کم میری طرف سے تمہیں کوئی شکایت نہ ہو گی۔‘‘ اسے کہہ کر وہ الماری سے لباس لے کر باتھ روم میں گھس گیا اور وہ لباس اور زیور وغیرہ لیے اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کچھ دیر بعد وہ اسد کے کمرے میں آئی تو وہ لیٹا ہوا تھا۔ ایک لمحہ کو دونوں کی نگاہ ملی وہ نظر جھکا گئی۔ خاموشی سے بستر پر آ کر لیٹ گئی۔

تایا ابو کا یوں چلے جانا اگرچہ اچانک نہیں تھا، مگر بہت بڑا صدمہ تھا۔ کتنے دنوں تک تو صبا سنبھل ہی نہ سکی تھی۔ راجیہ باجی باپ کی وفات کی خبر سن کر فوراً پاکستان آ گئیں۔ چند ہفتے ٹھہریں، مگر کب تک اپنا گھر بار چھوڑ کر وہ یہاں ٹھہری رہتیں۔ وہ صبا کو آنے والی زندگی سے متعلق ہزاروں نصیحتیں کرتے ہوئے روانہ ہو گئیں۔ صبا کے آنسوئوں میں آہستہ آہستہ کمی آنے لگی۔
اسد صبا کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کرتا رہا۔ اس کے احساسات و جذبات کا خصوصی خیال رکھتا تھا۔ وہ غیر محسوس انداز میں اسد پر انحصار کرنے لگی تھی۔ اسد کی موجودگی ڈھارس دیتی تھی اور جب اسد نے تایا کی وفات کے بعد دوبارہ سے آفس جانا شروع کیا تو صبا تنہائی کے احساس میں گھرتی چلی گئی تھی۔ وہ جتنی دیر تک گھر سے باہر رہتا وہ مختلف اوہام و تفکرات کا شکار ہو کر ہولتی رہتی، جب وہ گھر آتا تو اسے لگتا وہ کسی مضبوط سائبان کے سائے میں آ گئی ہے۔
وہ ایک ذمہ دار منصب پر فائز تھا اور اس کے ذمے آفس کی طرف سے ایک خاص پروجیکٹ تھا۔ جس کی کامیابی کی صورت میں اسے کراچی کمپنی کی برانچ کا انچارج بنا کر بھیجے جانے کے لیے بہت امکانات تھے۔ اس میں اسے کافی مراعات ملنے کی توقع تھی۔ اس کا پروجیکٹ پاس ہو گیا اور اسے کراچی شفٹ ہونے کے احکامات مل گئے تھے۔
مجتبیٰ حسن کی وفات کے بعد یہ پہلی خوشخبری تھی، وہ خاصا مسرور سا گھر لوٹا تھا۔
اس کا خیال تھا کہ صبا سو گئی ہو گی، مگر جب وہ اندر آیا تو صبا کو ٹی وی لائونج میں بیٹھے دیکھ کر رُک گیا۔
’’السلام علیکم!‘‘ صبا نے خاموشی سے اسے دیکھ کر سر ہلا دیا۔
پہلے پہل تو صبا اس کی آمد سے قطعی بے پروا رہتی تھی، مگر تایا ابو کی وفات کے بعد وہ ہمیشہ گھر آنے پر اسے اپنی منتظر ملی تھی۔
’’کھانا کھائیں گے؟‘‘ وہ کھڑی ہوئی۔
’’نہیں… سوری میں صبح بتانا بھول گیا تھا کہ آج میٹنگ تھی۔ اسی لیے لیٹ ہو گیا اور ڈنر بھی وہیں کر لیا تھا۔‘‘ صبا کے چہرے پر اک تاریک سا سایہ لہرا گیا تھا۔
’’اگر چائے مل جائے تو۔‘‘ وہ خاموشی سے سر ہلا کر کچن کی طرف چلی آئی۔
اسد کے لیے چائے بناتے ہوئے وہیں کھڑے کھڑے عجلت میں چند لقمے لینے لگی۔ چائے دم پر تھی، جب اس نے آخری لقمہ لیا تھا۔
’’تم نے کھانا نہیں کھایا تھا؟ مائی گاڈ! رات کے بارہ بج رہے ہیں اور تم ابھی تک بھوکی بیٹھی ہوئی تھیں۔‘‘ وہ برتن سنک میں رکھ رہی تھی کہ اسد کی آواز پر چونک کر پلٹ کر دیکھنے لگی۔ وہ نہ جانے کب آ کھڑا ہوا تھا اور اب شرمندگی سے بول رہا تھا۔
’’بس یونہی پہلے بھوک نہیں تھی، ابھی لگی تو کھا لیا۔‘‘ وہ جس انداز میں کھڑا تشویش زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا، وہ صرف یہی کہہ سکی تھی۔ اسد کو اتنا لیٹ ہونے پر ملال ہوا تھا۔
’’ایم سوری… مجھے تمہیں بتا دینا چاہیے تھا کہ میں لیٹ ہو جائوں گا، بس یاد نہیں رہا۔‘‘ وہ خاموشی سے مگ میں چائے ڈالنے لگی تو اسد کو اس کا انداز خاصا مضطرب لگا۔
’’کمرے میں ہی لے آئو۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹ گیا تو وہ مگ لیے کمرے میں چلی آئی۔ اسد کپڑے بدل کر آستین کہنیوں تک لپیٹتے ہوئے بستر پر آ بیٹھا۔
’’مجھے اندازہ ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی مصروف ہو گیا ہوں۔ تمہیں زیادہ وقت نہیں دے پا رہا، ایم سوری! آئندہ ایسا نہیں ہو گا، میں کوشش کروں گا کہ وقت پر گھر آ جایا کروں۔‘‘
’’مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں۔ میں آپ کے فرائض اور جاب کے مسائل سمجھ سکتی ہوں۔ بے فکر رہیں، میں مطمئن ہوں۔‘‘ بظاہر صبا کے الفاظ سادہ تھے، مگر اسد کو ان میں خود اذیتی کی کیفیت محسوس ہوئی تھی۔
’’ایک خبر ہے، میرے لیے تو یہ ایک اہم نیوز ہے۔ مجھے کراچی کی نئی برانچ کے انچارج کے طور پر شفٹ کیا جا رہا ہے۔‘‘ کچھ توقف کے بعد اسد نے کہا تو وہ چونک کر اسد کو دیکھنے لگی۔ ایک دم تکلیف کے گہرے آثار صبا کے چہرے پر واضح پڑھے جا سکتے تھے، وہ لب بھینچ گئی۔
’’میں نے اس پرجیکٹ کے لیے بے پناہ کوشش کی ہے، دن رات کی تمیز کے بغیر تمام صلاحیتیں استعمال کی ہیں، اگر میں یہ کہوں کہ یہ میری زندگی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ میں خود بھی کراچی شفٹ ہونا چاہتا تھا۔‘‘
وہ بتا رہا تھا اور صبا کے اندر صدمے سے نڈھال ہو جانے والی کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ یعنی وہ اسے چھوڑ کر جا رہا تھا۔ وہ گم صم سی خالی مگ لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ اسد نے دزدیدہ نظروں سے صبا کے چہرے کے تاثرات جانچنا چاہے، مگر وہ اس کے ہاتھ سے بھی خالی مگ لیے باہر نکل گئی تھی۔
اس کے جواب نہ دینے پر وہ کچھ پریشان سا ہو گیا۔ اس کے اور صبا کے درمیان اجنبیت کی دیوار رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد بھی بدستور قائم تھی۔
وہ کیسے اسے اپنے وجود اپنے ہونے کا احساس دلاتا، جبکہ اول روز سے صبا کا رویہ اس کے ساتھ ایک اجنبی کا سا تھا۔ اس نے اپنے اور اس کے درمیان اونچی اونچی دیواریں قائم کر رکھی تھیں۔ وہ اس کی ناراضی کی وجہ سمجھ رہا تھا۔ وہ بستر پر آ کر لیٹی تو اس نے مخاطب کیے بغیر کہا۔
’’ٹھیک ہے میں نے لاپروائی برتی، مگر تمہاری ذمہ داری سے کب انکار کیا ہے میں نے۔‘‘ صبا بغیر جواب دئیے کروٹ بدلے رو رہی تھی، اس نے بے چین ہو کر پکارا۔
’’صبا…‘‘ اسد نے ایک دم اس کا رُخ اپنی طرف کیا۔
’’صبی!‘‘ اس کی پکار میں دل کے سارے جذبے بندھ آئے تھے۔ دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر وہ اس پر جھکا اور صبا کے آنسو اس کے رُخساروں پر ہی ٹھہر گئے تھے۔
’’میں نے اگر بحالت مجبوری آپ کو قبول کیا تھا تو آپ نے بھی مجبوراً یہ زہر کا پیالہ بھرا تھا۔ ہم دونوں کے اپنے اپنے مفادات تھے۔ آپ تایا ابو کو خوش کرنا چاہتے تھے اور مجھے بہرحال سر چھپانے کے لیے چھت چاہیے تھی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے اپنی غرض میں آپ کو قبول کیا ہے تو آپ کوئی حتمی فیصلہ کر لیں۔ چھوڑ دیں مجھے۔‘‘
وہ اس وقت جذباتیت کی انتہا پر تھی، جو منہ میں آیا کہتی چلی گئی۔
’’پلیز صبا! چپ ہو جائو، تمہیں اندازہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو؟ یہ رشتہ میں نے صرف ابو کی خواہش پر نہیں باندھا، دل کی پوری رضامندی سے تمہیں اپنایا ہے۔ تم میری اولین خواہش تھیں صبا۔‘‘
وہ آج اس کے سامنے ہار گیا تھا۔ جو جذبے برسوں دل کے نہاں خانوں میں چھپا کر رکھے تھے، آج اس پر آشکار کر دئیے تھے۔ مگر دوسری طرف وہ متوجہ ہی نہیں تھی۔ اس قدر خوبصورت اظہار پر بھی اس کی طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا۔
’’صبا…‘‘ محبت و لگاوٹ سے اسے پکارتے ہوئے اسد نے دونوں کے درمیان قائم خود ساختہ انا کی دیوار کو گرانے میں پہل کرنا چاہی تھی۔ اس کے وجود کو اپنے مضبوط بازوئوں کے حصار میں لیا تھا۔
’’آپ مجھے چھوڑ کے چلے جائیں گے؟‘‘ اس نے بہت کرب سے پوچھا تھا اور جواباً اسد حیران رہ گیا۔
’’ہر گز نہیں میں بھلا تمہیں کیوں چھوڑ کر جائوں گا، تم ہر جگہ میرے ساتھ رہو گی۔‘‘ اس نے بے یقینی سے دیکھا۔
’’وہاں مجھے رہائش مل رہی ہے، تم بس پیکنگ کرو، تم میرے ساتھ چلو گی۔‘‘
اسد نے اسے بھرپور الفاظ اور انداز میں یقین دلانے کی کوشش کی، مگر اس نے کچھ نہ کہا، بس تھوڑی دیر تک دیکھتی رہی، پھر کروٹ بدل کر آنکھیں موند لیں۔

پشمینہ اور زوار خان کی شادی ہو گئی تھی۔ بی بی جان مطمئن تھیں۔ پشمینہ اور زوار خان ان کے پاس تھے۔ دونوں کو بے پناہ خوش دیکھ کر بی بی جان کے دل کے اندر اطمینان سرایت کرتا جا رہا تھا۔ صارم کے دُکھ کے بعد ان کی ساری اُمیدیں تینوں بیٹیوں کی خوشیوں سے ہی وابستہ تھیں۔
سب لوگ کہتے تھے کہ صارم اس دنیا میں نہیں مگر ان کا دل اس حقیقت کو نہیں مانتا تھا۔ حتیٰ کہ خان زکاء اللہ خان بھی اس حقیقت کو مان چکے تھے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے، مگر ان کی ممتا کو ایک یقین تھا کہ وہ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ دنیا کے کسی گوشے، کسی کونے میں وہ سانس لے رہا ہے۔ وہ اس کے وجود کی حرکت ابھی بھی اپنے وجود میں محسوس کرتی تھیں۔
بی بی جان ملازمہ سے اپنی الماری کی صفائی کروا رہی تھیں۔ جب ان کی نگاہ سرخ مخملیں البم پر پڑی۔
’’میراں! یہ البم نکال دو ذرا۔‘‘ میراں نے البم نکال دیا۔ وہ اسے لے کر بستر پر بیٹھ گئی تھیں۔ یہ ان کے بچوں کی تصاویر پر مشتمل پرانا البم تھا۔ کئی تصویروں کو دیکھتے ہوئے ایک تصویر پر ان کی نظر جم گئی تھی۔
خان صاحب نے صارم کو گود میں اُٹھایا ہوا تھا، جبکہ پلوشے ان کی گود میں تھی۔ زرمینے بڑی تھی، وہ ان کے پہلو میں کھڑی تھی۔ البتہ پشمینہ بعد میں پیدا ہوئی تھی، اس لیے وہ تصویر میں نہیں تھی۔
ان کی آنکھیں نم ہونے لگیں تو انہوں نے اگلی تصویر پر نگاہ ڈالی۔ موٹی موٹی آنکھوں والا دو سالہ صارم واکر میں بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے بے اختیار تصویر کو ہونٹوں سے چھو لیا۔
’’بی بی جان! زوار، سجاول لالہ کے پاس جا رہے ہیں، مجھے بھی ساتھ لے جا رہے ہیں۔‘‘
پشمینہ ایک دم کمرے میں داخل ہو گئی تھی۔ روانی میں کہتے ہوئے وہ اچانک رُک گئی۔
’’بی بی جان! آپ رو رہی تھیں؟‘‘ اس کی نگاہ ان کے چہرے سے ہوتی سامنے کھلے البم پر پڑی تو پل میں سارا ماجرا سمجھ گئی۔
’’کتنی بار کہا ہے آپ کو، بی بی جان! کہ مت رویا کریں اور یہ البم آپ کو کس نے نکال کر دیا ہے، میں نے سب سے اوپر دراز میں چھپا کر رکھا تھا۔‘‘
وہ بی بی جان کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی۔
’’تم کیا کہہ رہی تھیں۔‘‘ انہوں نے خود کو سنبھالا تھا۔
’’زوار بتا رہی تھی وہ سجاول لالہ کے ہاں ساتھ چلنے کی ضد کر رہے ہیں، کہہ رہے ہیں چند دن کی بات ہے، آئوٹنگ ہو جائے گی۔‘‘
’’ضرور جائو، یہی دن تو ہوتے ہیں گھومنے پھرنے کے۔‘‘
’’پھر میں زوار سے کہہ دیتی ہوں کہ وہ انتظامات کر لیں؟‘‘ انہوں نے خاموشی سے سر ہلا دیا تھا۔
’’بی بی جان! یہ البم میں اپنے کمرے میں لے کر جا رہی ہوں۔ اب آپ کو ہاتھ نہیں لگانے دوں گی۔ خوا مخواہ آپ طبیعت خراب کر لیتی ہیں اپنی۔‘‘ اس نے البم اپنے قبضے میں کر لیا۔ بی بی جان نے کچھ کہنا چاہا، مگر پھر خاموش ہو گئیں۔
تصویریں نظروں سے اوجھل ہو سکتی تھیں، مگر جو تصویر دل پہ نقش تھی، اس کو وہ کیونکر دور کر سکتی تھیں۔

کراچی شفٹ ہونے کے بعد اسد نے صبا کا بھرپور خیال رکھنے کی کوشش کی تھی۔ آفس کے بعد سارا وقت وہ گھر پر ہی گزارتا تھا۔ اس کا رویہ اسد کے ساتھ قدرے بہتر ہوا تھا۔ مگر درمیان میں ایک ان دیکھی دیوار اب بھی حائل تھی جسے نہ اس نے عبور کیا تھا اور نہ ہی اسد نے ایسی کوشش کی تھی۔ صبا کی ایک بار کی بے یقینی کے بعد اس نے آہستہ آہستہ صبا کے ساتھ اپنے سلوک کو اس قدر نرم کر لیا تھا کہ صبا خود اس کی محبت اس کے احساسات و جذبات کو سمجھ جائے۔ شاید اسی طرح اس کے دل تک رسائی ممکن ہو سکتی تھی۔ اس وقت بھی وہ دوپہر کو لوٹا تو وہ گھر پر نہیں تھی، آج اسے کوئی کام تھا، جسے نپٹا کر وہ دوبارہ آفس جانے کے بجائے گھر آ گیا تھا۔
’’کہاں گئی ہیں بیگم صاحبہ!‘‘ اس نے ملازمہ سے دریافت کیا تھا، صبا کی تنہائی کا احساس کرتے ہوئے اس نے یہاں شفٹ ہونے کے فوراً بعد ایک کل وقتی ملازمہ کا انتظام کیا تھا کہ صبا کو اکیلے پن کا احساس نہ ہو۔
’’وہ جی ساتھ والے بنگلے کی راشدہ باجی آئی تھیں، وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئی ہیں۔‘‘
ملازمہ بتا کر چلی گئی تھی۔ اسد کو خوشی ہوئی کہ یہاں آ کر گھر کی چار دیواری میں مقید ہونے کے بجائے صبا نے باہر کی دنیا میں بھی دلچسپی لینا شروع کی تھی۔
وہ وقت گزاری کے لیے ٹی وی دیکھنے لگا تھا جب صبا کے ہمراہ راشدہ (جسے اسد بارہا اپنے گھر دیکھ چکا تھا) اور ایک اجنبی چہرے کو… داخل ہوتے دیکھ کر وہ سیدھا ہوا۔
’’السلام علیکم!‘‘ صبا اسے خلاف معمول گھر میں دیکھ کر چونکی۔
’’و علیکم السلام!‘‘ راشدہ اور دوسری لڑکی دروازے پر ہی رُک گئی تھیں۔
اسد احتراماً کھڑا ہو گیا تھا۔ پشمینہ نے اپنی چادر اپنے چہرے پر درست کی۔ وہ کوئی باقاعدہ شرعی پردہ نہیں کرتی تھی۔ یونیورسٹی میں بھی اس نے پردہ نہیں کیا تھا۔ مگر چادر اس نے ہمیشہ اس انداز میں لی تھی کہ اس کا آدھے سے زیادہ چہرہ چادر کی اوٹ میں آ جاتا تھا۔ یہی ان کی بی بی جان کی تعلیم تھی۔
’’راشدہ اور پشمینہ آئو پلیز بیٹھو نا۔‘‘ صبا کے کہنے پر پشمینہ اسد کی طرف دوسری نظر ڈالے بغیر صوفے پر راشدہ کے ہمراہ ٹک گئی تھی۔
’’پشمینہ! یہ اسد ہیں میرے ہزبینڈ اور اسد! یہ پشمینہ ہے۔ راشدہ کی دیورانی اور راشدہ کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔‘‘ صبا نے اسد کو اسی طرح کھڑے دیکھ کر تعارف کروایا۔ اسد سلام کر کے وہاں سے نکل گیا۔
’’بڑا پیارا گھر سجایا ہوا ہے۔‘‘ پشمینہ کی نگاہوں میں ستائش تھی۔ اسد کے چلے جانے کے بعد وہ آرام سے بیٹھ گئی تھی۔
کراچی میں اسد کو راشدہ کے برابر میں گھر ملا تھا۔ پہلی بار راشدہ ان کے گھر آئی تھی دوسری بار وہ خود آ کر صبا کو ساتھ لے گئی تھی۔ راشدہ سے صبا کی کافی دوستی ہو گئی تھی۔ اب اسے پشمینہ بھی بہت پسند آئی تھی۔
پشمینہ ستائشی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہ ٹیلی فون اسٹینڈ پر رکھی بڑی سی تصویر پر ٹھہر گئی۔
مجتبیٰ حسن کے ساتھ کھڑے دائیں بائیں بھرپور دلکش مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اسد اور حماد کا بڑا خوبصورت انداز تھا۔ اسد کو یہ تصویر بہت پسند تھی۔ لاہور میں بھی یہ تصویر اس کے کمرے میں سائیڈ ٹیبل پر سجی ہوئی تھی اور اب یہاں بھی۔
’’یہ کون ہیں؟‘‘ پشمینہ نے تصویر ہاتھ میں لے لی تھی، نہ جانے تصویر میں ایسی کون سی بات تھی کہ پوچھ بیٹھی۔
’’یہ میرے تایا ابو ہیں، ساتھ میں یہ حماد اور یہ اسد ہیں۔ اسد سے تو تم ابھی ملی ہو نا۔ تایا ابو اور حماد اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔‘‘ وہ اب بھی اس ذکر پر آزردہ سی ہو جاتی تھی۔ دُکھ خودبخود آواز میں گھل گیا تھا۔
’’اوہ… ایم سوری۔‘‘ وہ شرمندہ سی ہو گئی، مگر نظریں تصویر پر جیسے جم سی گئی تھیں۔ تصویر میں اسد اور حماد دونوں تھے، مگر پشمینہ کی نظریں اسد کے مسکراتے چہرے میں اُلجھ گئی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس نے پہلے بھی یہ چہرہ کہیں دیکھا ہے، یہ چہرہ اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
’’صبا! کیا تمہیں ایسا لگتا ہے کہ ہم پہلے بھی کہیں ملے ہیں؟‘‘ اس نے صبا سے ہی پوچھ لیا تھا۔
’’ہو سکتا ہے میں یہیں کراچی میں ہی پلی بڑھی ہوں، شادی کے بعد لاہور شفٹ ہو گئی تھی۔ مگر اب اسد کی پھر یہاں شفٹنگ ہو گئی ہے۔‘‘
’’لیکن میں پہلی دفعہ کراچی آئی ہوں، تمہیں تو میں نے پہلی بار ہی دیکھا ہے، مگر لگتا ہے تمہارے شوہر کو کہیں دیکھا ہوا ہے، مگر کہاں؟ یاد نہیں آ رہا۔‘‘ صبا نے حیران ہو کر دیکھا۔
’’ہو سکتا ہے تمہیں وہم ہوا ہو، اسد اور صبا ابھی چند دن پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئے ہیں۔‘‘ راشدہ نے ٹوکا تو اس نے مزید کچھ کہنے کے بجائے تصویر دوبارہ اسٹینڈ پر رکھ دی تھی۔ مگر اس کا ذہن اُلجھ چکا تھا۔
تھوڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد راشدہ اور پشمینہ چلی گئیں تو وہ اسد کے پاس آئی۔
اسد کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
’’اسد! کھانا لگائوں؟‘‘ راشدہ کے ہاں جانے سے قبل وہ کھانا تیار کر چکی تھی۔ اس نے کہا تو اسد نے چونک کر اسے دیکھا۔ اسد کا انداز کچھ ایسا تھا کہ صبا کو لگا وہ اس ماحول سے بالکل کٹا ہوا ہے۔
’’میں کھانے کا پوچھ رہی تھی؟‘‘ اس کی کیفیت پر حیران ہوتے اس نے پھر سوال دہرایا تھا۔ پہلے تو نہیں مگر اب وہ اسد پر توجہ دینے لگی تھی۔ وہ اس پر غور کرنے لگی تھی۔ جہاں اس کی شخصیت کے بہت سے راز اس پر عیاں ہوئے تھے۔ وہاں اسے یہ احساس بھی شدت سے ہونے لگا تھا کہ اکثر وہ سوچتے سوچتے کہیں کھو جاتا ہے۔ وہ اس کیفیت کا محرک نہیں جانتی تھی، سو اُلجھ جاتی تھی۔ اپنی کنپٹیاں مسلتے اس نے سر ہلا دیا تھا۔
’’کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ ایک تو اس کا جلدی آ جانا اور اوپر سے یہ گم صم انداز، وہ متفکر سی پوچھ ر ہی تھی۔
’’ہاں… ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ ہی اُلجھا انداز۔
’’مگر مجھے لگتا ہے کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ سارا دن آفس میں بزی رہتے ہیں اسی لیے تھکن ہو جاتی ہے۔ اتنا کام کا لوڈ کیوں ڈالتے ہیں خود پر، اس طرح تو آپ کی صحت خراب ہو جائے گی۔‘‘
وہ سمجھی تھی کہ شاید کام کی زیادتی ہے۔ اس نے ہلکے سے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ اسد نے حیران ہو کر صبا کا متفکر انداز دیکھا۔ خاص طور پر یوں پیشانی چھونا اس کے اندر خوشگوار سا احساس جاگا تھا۔ ایسے لگا جیسے حبس زدہ ماحول میں دل کو معطر کرنے والا ایک جھونکا دل میں اُتر گیا ہو۔ ورنہ وہ ہمیشہ عجب سرد احساسات لیے ہوتی تھی، مگر اب یہ مہربانی…
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے دل کی خواہش پر اس کے سبک نرم ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیے تھے۔
صبا کی گردن میں اپنا دیا گیا لاکٹ دیکھ کر اسد کے اندر عجب سرمستی چھائی تھی۔ شادی کے بعد اس نے بظاہر یہ لاکٹ پہن لیا تھا، مگر تایا کی وفات کے بعد اس نے اُتار دیا تھا اور اب پھر یہ اس کی گردن میں تھا۔ یعنی وہ بدل رہی تھی۔ یہ خوشگوار احساس تھا۔
اسد نے تو صرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ مگر صبا کو لگا وہ لمحوں کی قید میں جکڑی گئی ہے۔ اسد کی نظروں کا ارتکاز تھا یا اس کے ہاتھ کا لمس، جو اس کی گردن پر لپٹے لاکٹ کو چھیڑ رہا تھا۔ وہ اپنے آپ میں سمٹ سی گئی۔ ہمیشہ کی طرح وہ اس کا ہاتھ جھٹک نہ سکی تھی۔
اسد کی نظروں میں ایسی لپک تھی کہ اس کا دل اتھل پتھل ہونے لگا۔ اسد کی موجودگی میں اس پر ایسی کیفیت پہلے کبھی طاری نہ ہوئی تھی۔
’’صبا‘‘ اس نے اس کے مقابل کھڑے ہوتے بڑی محبت سے پکارا۔ اس نے چہرہ موڑنا چاہا، مگر اسد نے ایسا نہ کرنے دیا۔
’’پلیز صبا! تم نہیں جانتیں تم میرے لیے کیا ہو؟ میں تمہیں دیکھتا ہوں تو زندگی کا مقصد یاد آنے لگتا ہے اور تم ایک پل کو نظر نہ آئو تو لگتا ہے میں اندر سے خالی ہو گیا ہوں۔‘‘
بے حد جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے استحقاق سے اسد نے اسے بازوئوں میں بھر لیا تھا۔
اسد کی نظروں کا والہانہ پن اور مسلسل تنگ ہوتی گرفت۔ ہر چیز چیخ چیخ کر اعتراف کر رہی تھی کہ وہ اس کے لیے کس قدر خاص ہے۔ وہ اس کی زندگی میں کیا مقام رکھتی یہ۔ صبا کو اپنا آپ پگھلتا محسوس ہو رہا تھا۔ دل تھا کہ سینہ توڑ کر باہر نکلنے کو بے تاب۔
اس نے کچھ کہنا چاہا۔ مزاحمت کرنا چاہی، مگر سارے حوصلے بھربھری مٹی کی طرح ڈھے گئے۔
’’صبا آئی لو یو، رئیلی آئی لویو، میں جانتا ہوں میں بے نام و نشان وجود ہوں۔ مگر حالات کیسے بھی ہوں پلیز مجھے کبھی تنہا نہ چھوڑنا۔ میری ذات کو نہ جھٹلانا۔ مجھے کبھی خود سے دور نہ کرنا۔ میں جانتا ہوں کہ میں تمہاری محبت نہیں، ترجیح بھی نہیں ہوں، پھر بھی میرا ساتھ دینا، میں برسوں تڑپا ہوں۔ صرف تمہارے وجود کا سہارا ہے ورنہ…‘‘
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔ آواز رندھ گئی تھی، جبکہ بازوئوں کی گرفت لمحہ بہ لمحہ تنگ ہو رہی تھی۔ اس کے حصار میں مقید صبا کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔
’’اسد! پلیز ہوش کریں، کوئی آ جائے گا۔‘‘ وہ روہانسی ہو گئی تھی۔ سانس تک لینا محال تھا۔ وہ بمشکل کہہ پائی تھی، اسد چونک گیا۔ وہ دونوں ٹی وی لائونج میں تھے۔ ایک دم اسے اپنے بازوئوں کے حصار سے الگ کیا۔ وہ اس قدر پُرجوش اور بے باک پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔
’’ایم سوری صبا! رئیلی سوری۔‘‘ وہ رُخ موڑ گیا تھا۔ صبا خود حیران تھی۔ ایک نگاہ اس کی چوڑی پشت پر ڈالی۔
’’آپ بیٹھیں… میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘ اپنی لڑکھڑاتی ٹانگوں سمیت لرزتی آواز میں کہہ کر وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔

وہ کئی دنوں سے اس کی کیفیت نوٹ کر رہا تھا۔ جب سے وہ لوگ کراچی سے آئے تھے تب سے اسے لگ رہا تھا کہ پشمینہ کچھ کہنا چاہتی ہے، مگر کہہ نہیں پاتی۔ اب بھی رات کے اس پہر وہ بظاہر کتاب پڑھ رہا تھا۔ مگر بستر پر دراز پشمینہ کو ہی نوٹ کر رہا تھا۔
’’پشمینہ! کیا بات ہے، پریشان ہو؟‘‘ پشمینہ نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر سر نفی میں ہلا گئی۔
’’اگر راشدہ بھابی نے کوئی بات کہہ دی ہے تو مجھ سے کہو۔‘‘
’’کوئی بات نہیں ہے، آپ کو خوا مخواہ فیل ہو رہا ہے۔‘‘ اس نے پھر ٹال دیا تھا۔
’’مرضی ہے تمہاری… ویسے کہتے ہیں کہ کہنے سننے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔‘‘
کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے مکمل توجہ سے پشمینہ کو بازو کے حصار میں لے لیا تھا۔
’’کہا نا کوئی بات نہیں، آپ کو تو بس موقع چاہیے۔‘‘ اپنے بالوں میں چلتا زوار کا ہاتھ روکتے اس نے چڑ کر کہا اور زوار خان ہنس پڑا۔
’’ہماری پیاری سی بیگم صاحبہ خوا مخواہ ڈسٹرب نہیں ہوئیں، کوئی بات ہوئی ضرور ہے، شاباش جو مسئلہ ہے مجھ سے کہو۔‘‘ پشمینہ نے لب دانتوں میں دبا لیے، وہ بھلا زوار سے کیا کہتی اور کیونکر، وہ تو خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے کیا چیز اُلجھا رہی ہے۔
’’زوار میں بہت اُلجھی ہوئی ہوں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آپ سے کس طرح شیئر کروں۔ وعدہ کریں، مجھے غلط نہیں سمجھیں گے۔‘‘
زوار نے بڑی سنجیدگی سے اسے دیکھا اور پھر گردن ہلا دی۔
’’اس کا نام اسد ہے، اسد مجتبیٰ حسن مکمل نام ہے۔ اس کی بیوی کا نام صبا ہے۔ بہت پیاری لڑکی ہے۔ راشدہ بھابی کے ساتھ والا گھر ہے ان کا۔ وہ اصل میں لاہور کا رہنے والا ہے، مگر کمپنی کی وجہ سے کراچی شفٹ ہو چکا ہے۔ میں نے پہلی بار اسے اس کے گھر میں دیکھا تھا۔ اور پھر میں جتنے دن وہاں رہی لاشعوری طور پر میں اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ بہت پیارا اور اچھا انسان ہے۔ براہِ راست گفتگو نہیں ہوئی، مگر میں ہر روز اس کے گھر خصوصاً اسے دیکھنے جاتی رہی۔ نہ جانے اس کے اندر کون سی کشش تھی کہ میرے قدم خودبخود اس کے گھر کی طرف اُٹھنے لگتے تھے اور یہاں آ کر مجھے لگ رہا ہے کہ نہ جانے میں کیا کچھ کھو آئی ہوں۔‘‘
زوار کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پشمینہ فوراً بولی۔
’’زوار! مجھے غلط نہ سمجھئے گا، بس اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ کوئی چیز ہے جو مجھے اس کی طرف کھینچتی ہے۔ میں بہت پریشان ہوں زوار بہت۔‘‘
وہ بتاتے بتاتے آخر میں ایک دم رو پڑی تھی۔ اس کے سینے پر سر رکھے آنسو بہاتے ہوئے وہ زوار خان کو پتھر کر گئی تھی۔
’’پشمینہ۔‘‘ زوار کو اپنی آواز بھی اجنبی لگی تھی۔
’’زوار! میں صرف آپ سے محبت کرتی ہوں، میں نے ہر پہلو سے سوچا کہ وہ میرے دل کو کیوں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ مگر ہر بار خاموشی ملتی ہے۔ مگر اتنا جانتی ہوں یہ کشش بہت مقدس جذبات میں لپٹی ہوئی ہے۔
وہ بہت اچھا ہے، آپ اس سے ملیں گے تو آپ کو بھی اچھا لگے گا۔‘‘ زوار کچھ نہ بولا۔ اگر میرے دل میں کوئی غلط بات ہوتی تو کبھی آپ سے شیئر نہ کرتی۔‘‘
وہ یقین دلا رہی تھی۔ زوار نے بمشکل خود پر قابو پایا۔
’’ہوتے ہیں بعض انسان ایسے جن کو دیکھ کر دل خودبخود ان کی طرف کھنچنے لگتا ہے۔ ڈونٹ وری یار! پریشان نہیں ہوتے۔‘‘ وہ مسکرا کر اسے دلاسہ دے رہا تھا۔
’’گل بی بی کچھ دنوں کے لیے راشدہ بھابی کی طرف جا رہی ہیں۔ میں بھی ساتھ چلی جائوں؟ بلکہ آپ بھی چلیے، اس سے مل لیجیے گا۔‘‘
’’اوکے… کوئی مضائقہ نہیں چلیں گے۔‘‘
پشمینہ عام طور پر یوں کسی سے متاثر ہونے والی نہیں تھی۔ وہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ اس شخص میں ایسی کیا بات ہے جو پشمینہ جیسی لڑکی گھائل ہو گئی ہے۔ وہ اس سے مل کر ہی کوئی حتمی رائے قائم کر سکتا تھا۔
’’اچھا… اب آرام سے سونے کی کوشش کرو۔ صبح میں گل بی بی سے ساتھ چلنے کی بات کروں گا۔‘‘ اس نے اسے بھرپور تسلی دی اور لائٹ بند کر دی۔

گل بی بی سے بات کی تو انہوں نے فوراً ساتھ چلنے کی ہامی بھر لی تھی۔ اس طرح وہ پھر کراچی پہنچ گئے تھے۔ راشدہ بھابی دوبارہ پشمینہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب گل بی بی آرام کرنے لیٹ گئی تھیں وہ زوار کو لے کر صبا کے گھر چلی گئی۔
صبا بھی پشمینہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ اسے بھی پشمینہ بہت اچھی لگی تھی۔ زوار کو دیکھنے کے بعد اسے ان کی جوڑی بہت بھائی تھی۔
’’معاف کیجیے گا زوار بھائی! اسد کراچی میں نہیں ہیں، وہ صبح ہی لاہور کے لیے نکلے ہیں۔ کل رات تک واپس آ جائیں گے۔‘‘
زوار نے جب اسد سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو صبا نے بتایا۔
زوار کے ساتھ ساتھ پشمینہ کے چہرے کی بھی جوت بجھ گئی تھی۔
’’میں چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ اُٹھ کر چلی گئی تو پشمینہ نے اسٹینڈ پر رکھی تصویر تھام کر زوار کو تھمائی۔
’’یہ ہیں صباح کے شوہر اسد مجتبیٰ حسن، یہ سسر ہیں اور یہ اسد کے بھائی۔‘‘
زوار نے اسد کی تصویر پر نگاہیں جما دیں۔ وہ کئی ثانیے بغیر پلک جھپکائے دیکھے گیا۔
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر واپس آ گئے تھے۔
’’پشمینہ! مجھے اس کو دیکھ کر ایسا لگا کہ میں اس سے پہلے کہیں مل چکا ہوں، دیکھ چکا ہوں۔ مگر کہاں، یاد نہیں آ رہا۔‘‘ اپنی کنپٹیاں مسلتے وہ کہہ رہا تھا اور پشمینہ ایک دم پُرجوش ہو گئی۔
’’بالکل میرے جیسی کیفیت ہے۔ سچ زوار! مجھے بھی یہی لگا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہوا ہے، ملی ہوئی ہوں اس سے۔‘‘
زوار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ’’پشمینہ! مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے اس شخص کی شکل ماموں جان سے ملتی جلتی ہے۔ شاید یہی اٹریکشن ہے، جو ہمیں اس کی طرف کھینچتی ہے۔‘‘ وہ چونک گئی تھی۔
’’اگر اس کے چہرے پر بھی داڑھی ہو اور چہرے پر کچھ بڑھتی عمر کا عکس ہو تو بالکل ماموں جان کا چہرہ لگے۔‘‘
وہ پُر سوچ اندازا میں کہہ رہا تھا اور پشمینہ کو لگا اس کے ذہن میں کوئی دھماکہ سا ہوا ہے۔
’’صارم لالہ!‘‘ وہ سرسراتی آواز میں بولی اور زوار چونک پڑا۔
’’زوار! وہ صارم لالہ تو نہیں۔ ہمارے لالہ! یہ ہمارے خون کی کشش تو نہیں جو مجھے ان کی طرف کھینچ رہی ہے۔‘‘
’’مگر ان کا نام تو اسد ہے۔ مجتبیٰ حسن کے بیٹے حماد حسن کے بھائی، وہ لاہور سے آئے ہیں پھر وہ ہمارے لالہ کیسے ہو سکتے ہیں۔‘‘ زوار نے اُلجھ کر کہا۔
’’زوار! دُعا کریں یہ ہمارے صارم لالہ ہی ہوں۔ ہمارے لالہ بی بی جان نے ایک عمر انتظار کیا ہے۔ وہ ساری ساری رات سجدے میں گزار دیتی ہیں اس اُمید پر کہ ان کا صارم زندہ ہے۔‘‘
وہ شدت سے رو پڑی تھی۔

زوار خان نے بڑے سبھائو سے گل بی بی کو ساری بات بتائی۔ وہ فوراً صبا کے ہاں جانے کے لیے اُٹھیں۔
پشمینہ گل بی بی کو ہمراہ لیے صبا کے ہاں چل پڑی۔ صبا بڑے تپاک سے گل بی بی سے ملی۔
اس نے انہیں ٹی وی لائونج میں بٹھایا تو پشمینہ کے اشارہ کرنے پر انہوں نے موقع محل کا انتظار کیے بغیر فوراً تصویر اُٹھا لی۔
’’صارم!‘‘ اسد پر نگاہ پڑتے ہی وہ پکاریں۔ صبا نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔
’’یہ… یہ… کون ہے؟‘‘ انہوں نے تصویر پر اُنگلی رکھی۔
’’میرے شوہر ہیں اسد۔‘‘ اس نے سادگی سے بتایا تو گل بی بی فوراً بول اُٹھیں۔
’’نہیں یہ صارم ہے۔ میرے لالہ کی جوانی میں تو ایک نظر میں پہچان گئی ہوں۔ آج وہ ہمارے پاس ہوتا تو بالکل ایسا ہی ہوتا۔ میرا دل کہتا ہے کہ یہ صارم ہے۔ اس کے رُخسار کا یہ تل، ٹھوڑی کا یہ نشان… ہمارے صارم کا ہی تو ہے۔ اس کے والدین کون ہیں، کہاں ہیں۔‘‘
ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور صبا حیران و ششدر کھڑی تھی۔
’’اس کے والدین کون ہیں۔ کیا نام ہے اس کے باپ کا؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھیں اور صبا کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ انہیں کیا بتائے۔ اپنے باپ کا نام تو اب شاید اسد کو بھی یاد نہ ہو۔ سب اسے مجتبیٰ حسن کے بیٹے کے نام سے ہی جانتے تھے۔
’’اسد… اسد مجتبیٰ حسن۔‘‘ اس کی زبان سے پھسلا۔ ’’دراصل…‘‘ اس نے کچھ کہنے کو لب وا کیے۔
’’نہیں… یہ صارم ہے۔ صارم کے والد کا نام خان ذکاء اللہ خان ہے۔ یہ پشمینہ کا بھائی ہے۔ میرے لالہ علاقے کے سردار ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ یہ ہمارا بچپن کا کھویا ہوا صارم ہے۔ بھابی جان کو یقین ہے کہ صارم زندہ ہے۔ انہوں نے اس کے انتظار میں سالوں گزارے ہیں۔
میں کیسے مان لوں کہ یہ اسد ہے۔ میں پہلی نگاہ ڈال کر ہی کہہ سکتی ہوں کہ یہ میرا صارم ہے۔ ادھر علاقے میں لے جا کر کھڑا کروں تو لوگ قسم کھا کر کہہ دیں گے کہ یہ صارم ہے ہوبہو میرے لالہ کی جوانی ہے۔‘‘
وہ رو رہی تھی اور صبا کا دماغ اس انکشاف پر سائیں سائیں کر رہا تھا۔
’’اس کی ٹھوڑی کا یہ نشان تب پڑا تھا، جب ایک دن لالہ، صارم کو اپنے ساتھ گھوڑے کی سواری کروانے لے گئے تھے اور یہ گر پڑا تھا۔ ٹانکے لگے تھے وقت کے ساتھ ساتھ داغ مدھم ہو گیا ہے۔ مگر نشان برقرار ہے۔
وہ صبا کو بتاتے بتاتے آنکھیں صاف کر رہی تھیں۔
’’ہمارا مخالف قبیلے سے شروع سے ہی جھگڑا چل رہا تھا۔ اب تو یہ قصہ ہی ختم ہو گیا ہے، مگر اس وقت دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ ہمارے ایک ہی لالہ تھے اور صارم ان کا ایک ہی لخت جگر… انہوں نے سازش سے ہمارا صارم ہم سے چھین لیا۔ وہ ہمارے خاندانی ملازم کے ساتھ حویلی سے نکلا تھا۔ بھابی جان نے اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے بھیجا تھا۔ پہاڑوں پہ دشمن نے حملہ کر دیا۔ ملازم کو مار ڈالا اور ہمارا صارم… لوگ کہتے تھے کہ وہ پہاڑ سے نیچے جا گرا ہے۔
ہم نے بہت کوشش کی مگر ہمارا صارم نہ ملا، لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں نہیں مگر ہمیں یقین نہیں آتا تھا۔‘‘
وہ صوفے پر بیٹھی سب بتا رہی تھیں۔ پشمینہ کی آنکھیں بھی سرخ ہو چکی تھیں، صبا بے دم بیٹھی تھی۔
’’آنٹی! اسد آپ کا صارم ہی ہے۔‘‘ اس کی زبان سے کیا نکلا پشمینہ اور گل بی بی شدت سے رو دیں۔
’’تم سچ کہہ رہی ہو نا؟ یہ صارم ہے نا میرے لالہ کا بیٹا! اس کی آنکھوں کا نور۔ میری بھابی کے دل کی ٹھنڈک، ہمارا صارم۔ یا اللہ کرم، تیرا شکر…‘‘ وہ اب اونچی آواز میں روتے ہوئے اسد کی تصویر چومے جا رہی تھیں۔
’’تم ہماری بہو ہو، ہمارے صارم کی بیوی۔‘‘
انہوں نے والہانہ پن سے صبا کو خود سے لپٹا لیا۔
پشمینہ نے آہستہ آہستہ صبا کو اسد کی پہلی نگاہ دیکھنے کے بعد سے اب تک تمام صورتحال بتائی۔
وہ چپ ہوئی تو صبا نے شروع سے لے کر آخر تک ساری حکایت بیان کر ڈالی۔
’’اللہ غارت کرے ان لوگوں کو، جنہوں نے میرے لالہ کی نسل ختم کرنا چاہی تھی مگر جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے، اللہ نے کیسے میرے صارم کو بچانے کا وسیلہ بنایا۔ بڑے نیک صفت تھے تمہارے تایا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو ضرور عقیدت سے شکریہ ادا کرتی، انہوں نے ہماری امانت سنبھال کر رکھی۔ اپنا نام دیا، پڑھایا لکھایا شادی کی۔ ورنہ کسی بے نام و نشان کا سہارا کون بنتا ہے۔‘‘
وہ پھر آبدیدہ ہو گئی تھیں۔
’’بہت پیاری ہو تم۔ بھابی جان کو بڑا ارمان تھا کہ ان کا صارم زندہ ہوتا تو وہ اسے دولہا بناتیں، شادی کرتیں، اس کے بچوں کو گود میں کھلاتیں۔ اب تم دیکھنا، کیسے ہم تمہیں ارمانوں سے اپنے گھر لے کر جاتے ہیں۔ اپنے سارے ارمان پورے کرتی ہیں۔
اس کی پیشانی چومتے ہوئے بہت محبت سے کہا تو وہ مسکرا دی۔
’’پشمینہ! اپنا موبائل نکال کر زوار کو اطلاع تو دو۔ بڑا بے چین ہو گا، پھر حویلی فون کرتی ہوں۔ لالہ اور بھابی جان کو خوشخبری سناتی ہوں۔‘‘
’’مگر آنٹی وہ اسد۔‘‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسد کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اس نے فی الحال انہیں روکنا چاہا تھا۔
’’مجھے مت روکو بہو! اس خوشخبری کے لیے ہم نے مایوسی اور اُمید و نا اُمیدی کے درمیان ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اب اس کے والدین کو بتانے دو۔ جب تک وہ اپنے کام سے لوٹے گا تب تک لالہ بھابی اور باقی لوگ بھی ادھر آ جائیں گے۔‘‘
انہوں نے اس قدر ملتجی انداز میں کہا کہ وہ کچھ بھی نہ کہہ سکی تھی۔

وہ یہاں پہنچا تو گھر میں دو بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی دیکھ کر چونکا، ملازمہ سے صبا کا پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ کچن میں ہے تو وہ سامان رکھ کر کچن میں ہی چلا گیا۔
وہ دروازے کی طرف پشت کیے روٹی پکانے میں مصروف تھی۔ دوپٹہ قریب ہی اسٹینڈ پر تھا۔ شاید نہائی تھی اس لیے لمبے بالوں کا آبشار پشت پر بہہ رہا تھا۔ محض ایک کیچر کی مدد سے ہلکا سا سمیٹا ہوا تھا۔
’’صبا…‘‘ وہ اس کے بالکل عقب میں آ کھڑا ہوا، وہ چونک کر پلٹی تو اس کے ساتھ ٹکرا گئی۔ اسد کو اس کی اس قدر گھبراہٹ پر ہنسی آ گئی۔
’’اتنی گھبراہٹ؟ اتنی بُری آواز تو نہیں میری کہ ڈر جائو۔‘‘
اس کے ساتھ بین لے کر سلیب پر رکھا اور دونوں کندھے تھامے کل سے وہ نظروں سے اوجھل تھی تو لگتا تھا کہ کچھ کھو گیا ہے اور اب سامنے آئی تھی تو لگتا ہے خود پر سارے اختیار ختم ہو گئے ہیں۔
صبا کے چہرے پر خوشگوار سی مسکان تھی جو یقینا اسد کی آمد کی وجہ سے ہونٹوں پر چمکی تھی۔ اسے یقین سا ہو گیا تھا کہ اگر وہ اس پر استحقاق جتاتے ہوئے دونوں کے درمیان حائل دیوار کو گرانے کی کوشش کرے گا تو صبا ناراض نہیں ہو گی۔
’’آپ نے تو رات میں آنا تھا؟ پھر اس وقت کیسے؟‘‘ اس کی گہری بولتی آنکھوں کا سحر ایسا ہی تھا کہ وہ اس کے حصار میں آتے ہی سب کچھ بھول گئی تھی۔
’’تمہارے بغیر دل ہی نہیں لگا۔ جلدی جلدی کام نبٹا کر بھاگا چلا آیا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔ ’’تم نے مجھے یاد کیا تھا میری غیر موجودگی محسوس کی تھی؟‘‘
وہ نجانے کیا سننا چاہتا تھا، وہ دھیمے سے مسکرا دی، پھر شرارت سے بولی۔
’’نہیں…‘‘
صبا کے ہونٹوں پر ٹھہری مسکراہٹ نے اسے بے خود سا کر دیا تھا۔
’’سنو… میں دعویٰ نہیں کرتا مگر میرا یقین کر لو۔ بے شک وفا کا حلف سمجھ لو، میں تمہیں بہت چاہوں گا۔ بہت زیادہ… حماد کی جگہ نہیں لے سکتا مگر کوشش کروں گا کہ میری رفاقت میں تم خوش رہو۔‘‘
وہ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے جذبے سے کہہ رہا تھا، صبا کا دل اس کے ہر ہر لفظ پر ایمان لاتا جا رہا تھا۔
’’پلیز چھوڑیں۔ کوئی آ جائے گا۔ ملازمہ باہر ہی ہے۔‘‘
’’صبا… صبا بیٹے کہاں ہو… صبا۔‘‘ یہ آواز بی بی جان کی تھی۔ اسد چونکا۔
’’یہ کون ہیں؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
’’بہو…‘‘ آواز دروازے سے آئی تو اسد نے حیرانی سے پلٹ کر دیکھا۔
دروازے میں جو خاتون تھیں، ان میں بلا کی تمکنت اور وقار موجود تھا۔ اسد پر نگاہ پڑتے ہی وہ دروازے پر منجمد ہو گئی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اسد ان کے اس طرح دیکھنے سے پریشان ہونے لگا۔
’’صارم! تم صارم ہو ناں۔‘‘ انہوں نے اسد کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا تھا۔
’’صباح…‘‘ اس نے حیرانی سے صبا کو پکارا۔
’’اسد! یہ آپ کی بی بی جان ہیں۔ آپ کی ماں۔‘‘
صبا رندھی ہوئی آواز میں اسے ساری صورتحال بتانے لگی۔ اسد کی آنکھیں سرخ ہوتی جا رہی تھیں۔ تینوں نفوس اپنی اپنی جگہ گم صم خاموش اور عجیب سے احساس میں گھرے کھڑے تھے۔ صبا نے بات ختم کر کے اسد کا کندھا ہلایا اور وہ جو اتنی دیر سے ضبط کیے کھڑا تھا، ایک دم ان سے لپٹ گیا، ماں بیٹے کے ملن کا یہ منظر صبا کی روح میں اُتر گیا تھا۔
وہ اسے دیوانہ وار چوم رہی تھیں۔
’’آپ اندر چلیں۔‘‘ اسد سہارا دے کر انہیں لائونج میں لیے چلا آیا۔
کچھ دیر بعد صبا لائونج میں اور بھی بہت سے چہروں کو بلا لائی۔ وہ سب بظاہر اس کے لیے اجنبی تھے۔ مگر اس کے اپنے تھے۔ بہت گہرا تعلق تھا اس کا ان سب سے۔ اس کی بہنیں، بہنوئی، کزنز، خالائیں، پھوپھیاں دیگر رشتہ دار وہ سب سے ملا، سب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔
’’یہ میرا بیٹا ہے، میرا خون، میری آن، میری شان، میرا بیٹا۔‘‘
خان ذکاء اللہ کتنی دیر تک اسے خود سے لپٹائے کھڑے رہے تھے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔
اس کی تینوں بہنیں اس کے گرد تھیں، بازوئوں کے حصار میں لیے سب کو پیار کرتے اس نے تینوں کے آنسو صاف کیے تھے۔
’’اب تم دونوں ہمارے ساتھ وادی چلو گے۔‘‘ خان ذکاء اللہ نے دونوں کو ساتھ لگا کر خواہش ظاہر کی تھی۔
’’بہت دھوم دھام سے اپنی بہو اور بیٹے کو لے کر جائوں گا، سارا علاقہ دیکھے گا کہ خان ذکاء اللہ کا بیٹا زندہ ہے۔‘‘ وہ بہت پُرجوش ہو رہے تھے۔
کھانے سے فراغت کے بعد وہ کمرے میں آئی تو اسد پہلے سے وہاں موجود تھا۔
’’تم نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ گھر میں اتنے سارے لوگ موجود ہیں۔‘‘
’’آپ نے موقع ہی کب دیا تھا۔ آتے ہی شروع ہو گئے تھے۔‘‘ اس نے اس کا سرخ چہرہ دیکھا، جو اندرونی و روحانی خوشیوں کا عکاس تھا۔
’’صبا! اس دن کے لیے میں نے ساری زندگی انتظار کیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں گزشتہ زندگی کے وہ چار سال بھول چکا تھا کہ میں کون ہوں، کیا ہوں؟ جو نام، جو مقام ابو جان نے دیا، وہی معتبر جانا، اور ان کی زندگی میں کبھی اپنوں کو تلاش کرنے کی کوشش نہ کی کہ کہیں وہ ہرٹ نہ ہو جائیں۔ یہاں آ کر بھی میں اُلجھتا رہا کہ کہاں سے شروع کروں۔ اس سے پہلے کہ میں باقاعدہ کوئی قدم اُٹھاتا یہ سب ہو گیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا صبا! کہ میں نے اپنوں کو پا لیا ہے۔ مجھے اپنی ذات کا اک نشان مل گیا ہے۔‘‘
وہ جذب سے کہہ رہا تھا اور صبا اس کی خوشیوں کے دائمی ہونے کی دُعا کر رہی تھی۔

یہ سب جس قدر عجلت میں ہوا تھا، اسی قدر دلچسپ تھا۔ بہت رومانوی اور خواب ناک… صبا کو لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی سلطنت کی مہارانی ہو۔ ایک ہفتہ پہلے وہ سب اس حویلی میں آئے تھے۔ بابا جان، بی بی جان اور تینوں بہنیں سب نے گویا انہیں ہاتھ کا چھالا بنا رکھا تھا۔ تینوں بہنیں اس کے آگے پیچھے یوں ہلکان ہو رہی تھیں جیسے وہ بڑی قیمتی شے ہے۔
صارم خان ذکاء اللہ کا اکلوتا بیٹا تھا جو برسوں نگاہوں سے اوجھل رہا تھا، یہاں لانے کے بعد انہوں نے اس کے ولیمہ کا اہتمام کر لیا تھا۔
نکاح کے وقت تو وہ خاص اہتمام سے تیار نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی سنگھار کیا تھا۔ مگر اب ان لوگوں کے خاندانی رسم و رواج کے مطابق دونوں کو ایک دفعہ پھر پورے اہتمام سے تیار کیا گیا تھا۔ نہ جانے کیا کیا رسمیں ہوئی تھیں، صبا کو تو بعض سمجھ میں بھی نہ آئی تھیں، مگر وہ خوش بہت تھی۔
تمام رسموں سے فارغ ہو کر انہوں نے صبا کو اس کے کمرے میں پہنچا دیا، اس کی کمر کے گرد تکیہ درست کر کے اسد کو بھیجنے کا کہہ کر وہ تینوں بہنیں باہر نکل گئیں۔
اسد آہستگی سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔ صبا اس وقت مکمل دلہنوں والے انداز میں تھی۔ اسے اپنے لیے یوں اہتمام سے سجے دیکھ کر دل و نظر ایک احساس تفاخر سے دو چار ہوا تھا۔
ملیں ہم کبھی تو ایسے کہ حجاب بھول جائے
میں سوال بھول جائوں ، وہ جواب بھول جائے

وہ کسی خیال میں ہو اور اسی خیال میں ہی
کبھی میرے راستے میں وہ گلاب بھول جائے

تیری سوچ پر ہو حاوی میری یاد اس طرح سے
کہ تُو اپنی زندگی کا یہ نصاب بھول جائے
’’صبا!‘‘ اس کے ماتھے کی بندیا درست کرتے ہوئے اس نے بہت جاذبیت سے پکارا تھا۔
اس کی کلائی کے زیورات کو چھیڑتے وہ بچپن سے لے کر اب تک کے تمام واقعات یاد کرنے لگا۔ ہر لمحہ یادگار تھا، مگر اب لگتا تھا کہ اس نے بے نام و نشانی کا جو بھی دور گزارا تھا، اس کا انعام حویلی، محبت کرنے والے ماں باپ، جان چھڑکنے والی بہنوں اور صبا کی دلنشیں رفاقت کی صورت مل گیا تھا۔
’’اتنا انتظار کیا ہے اس وقت کا، اب تو رحم کر لو تھوڑا۔‘‘
وہ اس کے کان میں شرارت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ اسد کی بوجھل آواز صبا کو اپنے حواس بے خود ہوتے محسوس ہوئے۔ وہ مکمل طور پر موڈ میں تھا۔
بے باک نگاہوں کے تقاضے نظر انداز کیے جانے والے تو نہ تھے، اس کی قربت میں اسے اپنا آپ فراموش ہوتا محسوس ہوتا تھا۔ محبت بھری جسارتوں پر وہ گھبرا جاتی تھی۔
’’تم نہیں جانتیں، صبا! تم میرے لیے کیا ہو؟
مجھے اپنی محبت کا اظہار کرنے سے مت روکا کرو، اتنے جتن سے تو میں نے تمہیں پایا ہے۔‘‘
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں کا لمس بخشتے وہ اسے اپنے دل کی تمام وارداتوں کی کہانیاں سنا رہا تھا اور وہ خود کو اس کے سپرد کیے اس کی اُلفت و محبت کی روداد سنتے اک احساس تفاخر سے دو چار ہوئی جا رہی تھی اور دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیے جا رہی تھی

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close