وہ اِک لمحہ محبت

کیٹ واک

سمیرا شریف طور

’’اُف امی! میں آپ کو کہہ رہی ہوں کہ مجھے یہ سب ڈرامے پسند نہیں، تنگ آ چکی ہوں میں ماڈل بن بن کر۔ میں اسی حلیے میں جائوں گی اگر آپ کو قبول ہے تو ٹھیک، ورنہ میں ڈرائنگ روم میں نہیں جا رہی۔‘‘ وہ بے حد غصے میں تھی۔ ماں کے ہاتھ سے دوپٹہ لے کر اس نے گولہ بنا کر دیوار پر دے مارا۔ اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے۔
’’عاشی!‘‘ زبیدہ خاتون نے بڑی بے بسی سے اسے دیکھا تھا۔ تبھی چھوٹی زویا تیزی سے دروازہ کھول کر اندر آئی تھی۔
’’آہستہ بولیں۔ آپ کی آوازیں باہر کچن تک آ رہی ہیں۔‘‘ کافی تیز لہجے میں مگر آواز دبا کر اس نے دونوں کو کہا تو انہوں نے پھر عائشہ کو دیکھا۔ اس نے غصے سے منہ پھیر لیا تھا۔
’’تم ہی اسے سمجھائو، میری تو کچھ سن ہی نہیں رہی۔ خدا ایسی اولاد کسی کو بھی نہ دے، بجائے ماں کی تکلیف کم کرنے کے مزید اذیت دیتی ہے یہ لڑکی۔‘‘ انہوں نے زویا کو سنایا تھا۔
’’میں اذیت دیتی ہوں تو ٹھیک ہے اب آپ مجھے باہر پہنچا کر دکھائیں۔‘‘ وہ تو ایک دم آئوٹ ہو گئی تھی۔ زویا کو اپنے ہاتھ پیروں میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی۔
’’پلیز عاشی! کیوں تنگ کر رہی ہو امی کو؟ وہ پہلے ہی تمہاری وجہ سے بہت پریشان ہیں۔‘‘ وہ آہستہ آواز میں بولی تھی اس نے اسے بھی گھورا۔
’’میری وجہ سے؟ ہاں واقعی میری وجہ سے ہی تو یہ پریشان ہیں۔ ان کا بس چلے تو بیچ چوراہے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیں، جس طرح کا رویہ آج کل ان کا میرے ساتھ ہو رہا ہے مجھے تو لگتا ہے یہ کسی بھی فقیر کے ساتھ چلتا کرنے میں ایک منٹ بھی نہ لگائیں گی۔‘‘
’’ہاں… اس لیے تو تیس سال کی عمر کر دی میں نے؟‘‘ بیٹی کے اس الزام پر وہ بھی تڑپ کر بولیں تو زویا نے سر تھام لیا۔ یعنی دونوں طرف سے اب محاذ آرائی شروع ہونے والی تھی۔
’’مجھے ہر بات میں عمر کا جتا کر طعنے مت دیا کریں۔ میں اکیلی نہیں ہوں۔‘‘ وہ بھی دوبدو بولی تھی تبھی عمیر بھائی دروازہ کھول کر اندر آئے تھے۔
’’کیا ہو رہا ہے ادھر؟‘‘ وہ شاید آوازیں سن کر آئے تھے امی بیٹے کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر ڈر گئی تھیں۔
’’کچھ نہیں بیٹا! تم کیوں مہمانوں کے پاس اُٹھ آئے۔‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر کہا تھا۔
’’آپ عاشی کو لینے آئی تھیں نا؟ اور عاشی تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں۔‘‘ ماں کو جتا کر اس نے بہن کو دیکھا، بھائی کے سامنے وہ بھی اپنے اوپر قابو پا کر لب سی گئیں۔
’’ہاں بس تیار ہو رہی ہے، تم چلو میں بھی چلتی ہوں۔ زویا! یہ سوٹ میں نکال چکی ہوں اسے کہو کہ پہن کر پانچ منٹ میں اندر آئے۔‘‘ وہ عاشی جیسی مصیبت زویا کے کندھے پر ڈال کر باہر نکل گئی تھیں۔
’’جلدی آنا۔‘‘ عمیر بھائی بھائی نے بھی خصوصی تاکید کی۔
’’میں نہیں پہنوں گی یہ سوٹ۔ ہر بار میرا ہی تماشہ کیوں؟ اور ان کپڑوں میں کہاں تک اپنی عمر چھپائوں گی میں؟ یہ دیکھو ادھر میرے چہرے کی طرف… یہ گال یہ چہرہ خود چغلی کھاتا ہے کہ میں کتنی عمر کی ہوں، یہ سب کسی کو نظر نہیں آتا کیا؟ اندھے ہیں لوگ کیا؟‘‘ امی کا سارا غصہ اب زویا پر نکال رہی تھی۔ زویا نے اس کو دیکھا اور ایک گہرا سانس لیا۔ وہ غلط نہیں تھی مگر یہ موقع بہت نازک تھا وہ اس کی فیور کرتی تو عمیر بھائی نے آگ بگولہ ہو کر سر پر پہنچ جانا تھا۔
’’پلیز عاشی! جہاں تم اتنے عرصے سے امی اور باقی سب کے لیے یہ سب کرتی آ رہی ہو تو پلیز اب بھی تیار ہو جائو، جسٹ اے فارمیلٹی ہے۔ یہ اگر یہ سوٹ پسند نہیں تو تم میرا یہ سوٹ پہن لو۔ سادہ سا اور ڈھیلا ڈھالا ہے تمہیں مسئلہ نہیں ہو گا۔‘‘ وہ خاصی عاجزی سے الماری سے اپنا سوٹ نکال کر کہہ رہی تھی۔ عائشہ نے لب بھینچ لیے۔ ’’کافی دیر سے مہمان آئے بیٹھے ہیں، جلدی کرو۔ چائے اور دیگر لوازمات میں نے امی کے ہاتھ بھجوا دئیے تھے اب تمہارا ملنا ہی رہ گیا ہے بس۔‘‘ وہ مزید نرمی سے ہاتھ تھامے کہہ رہی تھی۔ عائشہ نے تمام تر اشتعال کو پس پشت ڈال کر اس کے ہاتھ سے ہینگ کیا ہوا سوٹ لے لیا تھا۔
ان لوگوں سے ملنا بھی ایک مجبوری تھی اگر نہ ملتی تو جانتی تھی گھر میں کیسا بھونچال آ جاتا۔ امی سمیت سب کی شامت آ جانی تھی۔ یہ عمیر بھائی کی عزت کا سوال تھا۔
وہ لباس بدل کر باہر آئی تو زویا کے بہت کہنے کے باوجود اس نے جل تک نہ لگایا، اسی طرح چپل پہن کر وہ ڈرائنگ روم کی طرف آ گئی تھی۔ اس کا موڈ بہت خراب تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ بغیر کسی کی طرف دیکھے سلام کر کے اندر آ گئی تھی۔
’’و علیکم السلام!‘‘ کئی آوازیں آئی تھیں اس نے مکمل اعتماد سے اطراف میں دیکھا۔
’’اِدھر آ جائو۔‘‘ امی کے کہنے پر وہ ان کے ساتھ جا بیٹھی تھی۔
’’کیا نام ہے آپ کا؟‘‘ امی کے ساتھ ایک طرف بیٹھی لڑکی نے پوچھا تو اس نے اسے سرسری سا دیکھا۔
’’عائشہ۔‘‘
’’کس کلاس کو پڑھاتی ہیں؟‘‘ اس لڑکی نے پوچھا تھا گویا باقاعدہ انٹرویو کا آغاز ہو چکا تھا۔ وہاں موجود تمام لوگوں کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھیں جن میں اس لڑکی کے علاوہ اور خواتین اور دو مرد تھے۔ جن میں ایک لڑکا تھا اور ایک بھائی کا کولیگ جو یہ رشتہ کروا رہا تھا۔
’’میرا سبجیکٹ اکنامکس ہے، کالج میں اسی سبجیکٹ کے پیریڈز لیتی ہوں۔‘‘
’’اوہ… کالج میں کب سے پڑھا رہی ہیں، گورنمنٹ جاب ہے یا پرائیویٹ؟‘‘ دوسری خاتون نے سوال کیا تھا۔
’’گورنمنٹ لیکچرار ہوں، چھ سال سے پڑھا رہی ہوں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔ جس پر اس عورت نے منہ بنا کر پوچھا تھا۔
’’میٹرک کس سال میں کیا تھا؟‘‘ عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک استہزائیہ مسکراہٹ سمٹ آئی تھی یعنی اب اس کی عمر سے متعلق انویسٹی گیشن شروع ہو چکی تھی۔
’’چھ سال سے جاب کر رہی ہوں ماسٹر کرتے ہی جاب مل گئی تھی۔ اندازہ لگا لیں کہ کس سال میں میٹرک کیا ہو گا؟‘‘ عورت نے تعجب سے پہلے اسے پھر اس لڑکی کو دیکھا جو اس کی ماں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی اور عائشہ بھی ایسے مظاہرے کبھی کبھار کرتی تھی۔
’’ہمارے بیٹے نے ابھی پچھلے سال ہی ایم بی اے کیا ہے، باہر سے پڑھ کر آیا ہے۔ اس حساب سے تو وہ بہت کم عمر ہے۔‘‘ عورت کی بات پر عمیر بھائی کے چہرے کے زاویے تھوڑے سے بگڑے تھے جبکہ وہ اسی طرح آرام و سکون سے بیٹھی رہی تھی۔
’’معاف کیجیے گا طلحہ پچھلے تین سال سے جس کمپنی میں کام کر رہا تھا اس میں میں بھی جاب کر رہا ہوں۔ طلحہ بی اے کے بعد اس کمپنی سے منسلک ہوا تھا۔ تین سال پہلے کمپنی نے اسے باہر بھیجا تھا اور باہر جانے سے پہلے وہ چار سال اس کمپنی میں کام کرتا رہا ہے۔ میں اس کو ذاتی طور پر جانتا نہ ہوتا تو آپ کے کہنے پر یقین بھی کر لیتا، تین سال بعد وہ واپس لوٹا ہے تو آپ کے کہنے پر کہ وہ ایم بی اے کر کے لوٹا ہے اور دونوں کی عمر میں خاصا فرق ہے۔ خاصی اچنبھے کی بات ہے۔‘‘ عمیر بھائی نے ایک دم بھنا کر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔ عورت تو عورت ان کے ساتھ آیا عورت کا چھوٹا بیٹا بھی گھبرا گیا تھا اور وہ لڑکی بھی۔
’’عمیر بیٹا! مہمانوں سے اس طرح بات نہیں کرتے۔‘‘ امی فوراً گھبرا کر کہنے لگی تھیں۔ انہیں ڈر تھا اب یہ رشتہ بھی گیا ہاتھ سے۔
’’میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ عاشی نے سچ بتایا ہے۔ عاشی کی عمر تیس سال ہے اور میرا خیال ہے آپ کے بیٹے کی ہم عمر بھی ہے۔ اس کے باوجود یہ اپنے بیٹے کی ایجوکیشن بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔‘‘ عمیر بھائی کو کون کہتا وہ ایسے ہی تھے سچ بولنے والے اور سچ پر ڈٹ جانے والے۔
’’لو میں نے کون سا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، پڑھی لکھی ہے گورنمنٹ جاب کرتی ہے تو ہمیں کیا؟ آج کل ساری دنیا اپنے بیٹوں کے لیے کم عمر لڑکیاں دیکھ رہی ہے۔ میرا بیٹا کون سا کم ہے، لاکھوں کماتا ہے۔‘‘ وہ عورت بھی چند لمحوں میں خود کو بال کر چکی تھی۔ خاصا تپ کر جواب دیا تھا۔
’’شکریہ ہمارے گھر آنے اور زحمت دینے کا مگر عقلمندی کا تقاضہ تھا کہ آپ ہمارے گھر آنے سے پہلے یہ بات سوچتیں کیونکہ ہم نے زبیر صاحب سے کچھ نہیں چھپایا انہیں ہمشیرہ کی عمر کا پتا تھا اور اس کی معذوری کا بھی۔‘‘ اب کے عمیر بھائی نے اپنے کولیگ کو دیکھا تو وہ پریشان ہو گیا۔
’’میں نے آنٹی سے ذکر کیا تھا مگر تب تو کہہ رہی تھیں کہ عمر کا کیا ہے؟ لڑکی اچھی خوبصورت اور سلجھی ہوئی ہونی چاہیے اور رہی بات معذوری کی تو انہوں نے خود ہی کہا تھا کہ لڑکی دیکھ کر ہی اندازہ لگائیں گی۔‘‘
’’ہاں تو ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ شکل و صورت کی بھی پوری ہو گی۔ خالی عمر رسیدہ معمولی شکل و صورت کی لڑکی لے کر چاٹنی ہے ہم نے کیا؟‘‘ عمیر بھائی کا چہرہ ایک دم غصے سے سرخ ہوا تھا۔
’’بس…‘‘ وہ ایک دم غصے سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ’’عائشہ اُٹھو جائو یہاں سے اور امی آپ ان مہمانوں کو رُخصت کریں اس سے مزید ہم انہیں گھر میں برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘ عائشہ بھی عمیر کے غصے سے ڈر گئی تھی عمیر بھائی غصے سے کہہ کر کمرے سے نکلے تو وہ بھی تیزی سے وہاں سے نکل آئی تھی۔ باقی سب حیرت زدہ رہ گئے تھے کسی کو ایسے ردعمل کی توقع نہ تھی۔
معذوری معمولی شکل و صورت اور بڑھتی ہوئی عمر اس کی خامی بنتی جا رہی تھی۔ اپنے کمرے میں آ کر دروازہ لاک کر کے وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

احسان صاحب کی وفات اسی سال ہوئی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں چوکیدار تھے اور ساری عمر چوکیداری کرتے ہی گزار دی تھی۔ والدین کی سب سے بڑی اولاد تھے سو ذمہ داریاں بھی سب سے زیادہ تھیں اور پھر اپنی شادی ہوئی اور بیوی بچوں میں پڑ کر ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا تھا۔ چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی موجودگی میں ایک محدود آمدن میں گزارا کرنا خاصا مشکل کام تھا۔
بیوی سمجھدار اور ہنرمند تھیں سلیقے سے گھر سنبھالا ہوا تھا مگر کب تک دال روٹی سے ہی کام چلتا؟ بچے بڑے ہو رہے تھے تعلیمی اخراجات تو ایک طرف دیگر اخراجات منہ پھاڑے کھڑے تھے۔ وہ خود تو پرائمری سکول پاس تھے مگر بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ان کا خواب تھا۔
بڑی بیٹی ساجدہ پھر ماجدہ اور اس کے بعد عمیر بھائی تھے۔ عمیر سے چھوٹی عائشہ پھر مایا اور زویا تھیں۔ عائشہ کے مقابلے میں باقی بہن بھائی خوش شکل تھے خصوصاً مایا اور پھر زویا خاصی خوبصورت لڑکیاں تھیں اپنی کم صورتی کا کمپلیکس عائشہ کے اندر بچپن سے ہی پیدا ہو گیا تھا مگر اس احساس کو اس نے اپنی باقی صلاحیتوں پر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ ذہین تھی سلیقہ مند اور سمجھدار تھی یہ اس کی خوبیاں تھیں۔ وہ ابھی مڈل میں ہی تھی کہ سیڑھیوں پر سے گرنے سے اس کا بایاں بازو فریکچر ہو گیا تھا جو ڈاکٹر کے غلط ٹریٹمنٹ اور پلاستر چڑھانے کی وجہ سے ہڈی اور جوڑوں کو نقصان پہنچ گیا تھا، نتیجتاً اس کا بازو پلاستر اُتارنے کے بعد کام کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گیا تھا۔ یہ انتہائی شدید صورتحال تھی احسان صاحب اور ان کی بیگم نے اپنی ہر طرح کی تگ و دو کر ڈالی تھی مگر اس کا بازو پہلے جیسے نہ ہو سکا تھا۔ یہ عائشہ کی ذات کو پہنچنے والا شدید نقصان تھا۔ اپنے جسم کے ایک حصے کی موجودگی کے باوجود اس کی ورکنگ سے محروم ہو جانا اس کے لیے بہت بڑا المیہ تھا۔
اس کا بازو جسم کے ساتھ ہی تھا مگر یہ ایسی معذوری تھی جس کا نقصان بہت شدید تر تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنی معذوری سے سمجھوتا کر لیا تھا مگر لوگوں کے سلوک نے اسے ہر لمحہ اس معذوری کا احساس دلایا تھا۔
ذہانت اس کی اضافی خوبی تھی۔ والدین کو اپنی اولاد کو پڑھانے کا شوق تھا اور وہ پڑھ رہے تھے۔ بڑی ساجدہ اور پھر ماجدہ دونوں کی شادیاں بی اے کے بعد اماں ابا نے کر دی تھیں۔
عمیر بھائی پڑھ رہے تھے وہ ذہین تھے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب بھی کرتے تھے۔ عائشہ کی ڈس ایبلٹی ایک اٹل حقیقت تھی مگر اس نے اپنی تعلیم میں اس معذوری کو کبھی حائل نہ ہونے دیا تھا۔ وہ جنون کی حد تک پڑھنے کی شوقین تھی۔
کم صورت اور دوسرا معذوری ان دونوں باتوں سے مل کر اسے جہاں بے حد حساس بنا ڈالا تھا وہاں وہ اذیت پسندی کی حد تک حقیقت پسند ہو گئی تھی۔ بی ایس سی کے بعد اماں نے اس کے لیے رشتہ دیکھنا شروع کیا تو لوگوں کا ردعمل اس کی معذوری کم صورتی کی وجہ سے بڑا شدید ہوتا تھا کچھ عرصہ تو اس نے یہ سب سہا بھی مگر آہستہ آہستہ وہ اس سارے سلسلے سے خاصی بیزار ہو گئی تھی بلکہ اماں سے رشتے والی بات سن کر ہی بھڑک اُٹھتی تھی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اس کے لیے کسی طلاق شدہ یا رنڈوے کا رشتہ آتا جہاں گھر والوں کا ری ایکشن انتہائی شدید ہوتا وہاں وہ خود بھی شدید ترین کمپلیکس شکار ہونے لگی تھی پھر اکنامکس میں ماسٹر کے بعد معذور کوٹہ میں لیکچرر شپ کے لیے سیٹ آئی تو اپلائی کرنے پر فوراً جاب بھی مل گئی۔
اس دوران عمیر بھائی کی بھی شادی ہو گئی تھی کچھ عرصہ دور جانے پر پرابلم بھی ہوئی مگر سال بعد ہی اس کا گھر کے قریبی کالج میں ٹرانسفر ہو گیا تھا۔ لوگوں کے رویوں کی وجہ سے اماں بھی دلگرفتہ ہو گئی تھیں اور پھر انہوں نے اس کے رشتے کی مہم چھوڑ دی تھی۔ اس دوران خاندان میں سے ایک رشتہ آیا مگر وہ رشتہ مایا کے لیے تھا اماں نے فوراً انکار کر دیا تھا وہ بڑی بیٹی کے ہوتے ہوئے چھوٹی کو بیاہنے کے لیے قطعی تیار نہ تھیں۔
پھر تو اکثر ایسا ہونے لگا اس کے لیے آیا رشتہ مایا اور زویا کی طرف منتقل ہونے لگا۔ جب تین چار بار ایسا اتفاق ہوا تو ابا اور عمیر بھائی بھی متوجہ ہو گئے سب کے سمجھانے پر اماں نے پہلے مایا کی شادی کر دی اور پھر زویا کی بھی ایک جگہ بات ٹھہرا دی تھی۔
ان گزرے سالوں میں جہاں وہ لوگوں کے رویوں کی عادی ہو چکی تھی، وہیں اماں اس قدر حساس ہو چکی تھیں کہ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ پلک جھپکتے ہی اس کی شادی کر دیں۔ چند ایک رشتے جو نظروں کو اچھے بھی لگے یا تو ان لوگوں کی ڈیمانڈ بہت اونچی ہوتی تھیں یا پھر وہ انتہائی درجے کے لالچی واقع ہوئے تھے۔ خاندان بھر میں عائشہ کی عمر کا کوئی بر نہ تھا اور جو تھے ان کے خواب ایک حسین و جمیل مکمل عورت کے تھے۔
عائشہ نے تو اماں کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس کا شادی کا خواب بھول جائیں وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہے۔ جاب کر رہی ہے کسی پر بوجھ نہیں بنے گی مگر اماں بھی ماں تھیں کچھ عرصہ تو چپ رہیں اب پھر چند ماہ سے یہ مہم دوبارہ شروع کر چکی تھیں۔ ہر روز گھر میں نت نئے لوگوں کو بلوا لیتی تھیں چند دن تو وہ صبر سے برداشت کرتی رہی تھی لیکن اس مذکورہ رشتے پر وہ مہمانوں سے ملنے تک کو تیار نہ تھی مگر مصیبت یہ تھی کہ یہ رشتہ عمیر بھائی کے ریفرنس سے آیا تھا، عمیر بھائی ابا کی وفات کے بعد اس گھر کے کرتا دھرتا تھے۔ بہنوں اور اماں کے ساتھ ان کا سلوک بہت اچھا تھا مگر کبھی کبھار وہ بیوی کی زبان بولنے لگتے تھے۔ رخسانہ بھابی کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ دونوں بہنوں کی شادی رات ہونے سے پہلے کروا کر فارغ ہو جائیں۔
رخسانہ بھابی عام بھابیوں جیسی ہی تھیں کبھی میٹھی اور کبھی تلخ۔ مطلب ہوا تو بلوا لیا ورنہ ماتھے پر تیوریاں چڑھا لیں۔ عمیر بھائی اچھے تھے وہ بیوی اور ماں بہنوں کو اپنی اپنی جگہ رکھے ہوئے تھے ابھی تک گھر میں سکون تھا مگر رخسانہ بھابی کا رویہ دن بدن جس طرح عائشہ کے ساتھ بدل رہا تھا وہ سمجھ رہی تھی کہ اب یہ سکون بہت کم دنوں پر محیط ہے۔ اماں اور زویا بھی شاید یہ محسوس کر رہی تھیں اس لیے تو اماں کی ’’رشتہ تلاش مہم‘‘ تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔
زویا کے سسرال والے شادی کرنے پر زور دے رہے تھے جبکہ اماں کا ارادہ دونوں بیٹیوں کو ایک ساتھ ہی نمٹانے کا تھا۔ آئے روز بھانت بھانت کے لوگ اور ان کے تبصرے۔ وہ آج سے پہلے کبھی اس قدر شدید احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئی تھی مگر عمیر بھائی کے دوست کے توسط سے یہ آنے والے لوگ جس طرح اس کی معذوری سے ہٹ کر اس کی کم صورتی اور بڑھتی عمر کو نشانہ بنا گئے تھے یہ جملہ بڑا شدید تھا۔ اس کی انا اور عزتِ نفس پر بڑی گہری چوٹ لگی تھی۔

وہ پیریڈ لے کر سٹاف روم میں آئی تو ٹیچر شازیہ اس کی منتظر تھیں وہ ان کے ساتھ ہی آ کر بیٹھ گئی تھی۔
’’میں کینٹین سے کچھ کھانے کو منگوا رہی ہوں، تم منگوائو گی؟‘‘ ماں جی کو پیسے پکڑاتے شازیہ نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ’’کیا بات ہے، صبح سے بڑی ڈل ڈل سی لگ رہی ہو، طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘ ماں جی کو جانے کا اشارہ کرتے شازیہ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
’’نہیں، ٹھیک ہوں میں۔‘‘ مسکرا کر کہتے اس نے جسم کے ساتھ لٹکے اپنے بے جان بازو کو ہاتھ سے پکڑ کر صوفے کی آرم (Arm) پر رکھا۔ بظاہر اس کی ڈس ایبلٹی کسی کو نظر نہ آتی تھی مگر حرکت کرتے مسلسل کوئی کام کرتے ایک ہی ہاتھ کا استعمال کرتے لوگ محسوس کر جاتے تھے۔
’’تم لوگوں کے ہاں کل جو مہمان آئے تھے پھر کیا ری ایکشن رہا ان لوگوں کا؟‘‘ شازیہ ان لوگوں کے ہاں کئی بار جا چکی تھی ان لوگوں کی ہی طرح مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی تھی۔ ایک جیسے مسائل، ایک جیسی سوچ رکھنے کی وجہ سے دونوں بہت جلد ایک دوسرے کے قریب آ گئی تھیں۔ شازیہ اس کے گھریلو مسائل خصوصاً اس کے اس مسئلے سے پوری طرح آگاہ تھی۔ شازیہ انگیج تھی دو سال پہلے اس کی اپائنٹمنٹ ہوئی تھی اس کی فیملی کسی گائوں کی رہنے والی تھی مگر جاب کی وجہ سے وہ یہاں اپنی خالہ کے گھر رہ رہی تھی۔ شادی کے بعد اس کا ارادہ ٹرانسفر کروانے کا تھا۔
’’وہی جو ہمیشہ ہوتا ہے۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا تو شازیہ نے بڑے دُکھ سے اسے دیکھا۔
’’تم لوگوں کے خاندان میں کوئی رشتہ نہیں۔‘‘
’’نہیں… جو چند ایک ہیں ان کی سوچ، خواب، بہت اونچا معیار ہے۔‘‘
’’چلو کوئی بات نہیں اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ دیر سہی اندھیر تو نہیں نا۔‘‘ شازیہ کی یہی خوبی اسے اچھی لگتی تھی کہ وہ زیادہ نہیں کریدتی تھی۔
’’میں کل تو کالج آئوں گی مگر اس کے بعد میں تین چار دن لیولوں گی۔‘‘ کھانے کے لیے شازیہ نے دونوں کے لیے سینڈوچ اور کوک منگوا لی تھیں جو ماں جی پکڑا گئی تھیں اب زبردستی اس کو کھانے پر اصرار کرتے شازیہ بتا رہی تھی۔ عائشہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’کیوں؟ چھٹی کیوں لے رہی ہو؟‘‘
’’تمہیں بتایا تو تھا کہ کزن کی شادی ہے۔ خالہ کے گھر رہ رہی ہوں سو کام ہوں گے۔‘‘ تمہیں میں نے بطور خاص کارڈ نہیں دیا مگر میری طرف سے تم نے شادی پر ضرور آنا ہے۔ دو دن بعد بارات ہے۔‘‘ عائشہ کو فوراً یاد آیا کہ اس کی کزن کی شادی تھی۔
’’سوری یار! میری طرف سے معذرت قبول کر لو۔ میں شاید نہیں آ سکوں؟‘‘
’’ہر گز نہیں تمہیں ضرور آنا ہے۔ اپنی سسٹر اور امی کو بھی ساتھ لانا، سب کولیگز کو میں نہیں انوائٹ کر رہی مگر تمہیں تو ضرور ہی آنا ہو گا ورنہ میں سخت ناراض ہوں گی۔‘‘
’’اوکے… دیکھوں گی۔‘‘ اس نے فی الحال ٹالا۔
اس کا ارادہ بالکل بھی جانے کا نہ تھا وہ تو خاندان میں کہیں نہیں جاتی تھی یہ تو پھر غیر لوگ تھے۔
’’دیکھنا نہیں ضرور آنا ہے۔ سیکنڈ ایئر کا پیریڈ شروع ہو رہا ہے میں لینے جا رہی ہوں اور تم یہ سب مکمل کرنا۔‘‘ اس کے حصے کا منگوایا سینڈوچ اور کوک اسی طرح رکھے دیکھ کر اسے ٹوک کر وہ اپنا بیگ اور بکس سنبھالتی چلی گئی۔ شازیہ کے جانے کے بعد وہ پھر صوفے سے ٹیک لگا گئی تھی۔
سٹاف روم میں چند ایک ٹیچرز تھیں جو باہم گفتگو میں مصروف تھیں۔ وہ خاموشی سے سب کو دیکھے گئی۔ وہ شروع سے ہی ایسی تھی سو کسی کو فرق نہ پڑا تھا اس کی خاموشی کا۔

اس کا شادی میں جانے کا قطعی ارادہ نہ تھا۔ رخسانہ بھابی پچھلے ایک ہفتے سے میکے گئی ہوئی تھیں۔ شام تک وہ بھی گھر واپس آ گئی تھیں۔ عمیر بھائی کے دو بچے تھے گھر میں رونق سی آ گئی تھی۔ رخسانہ بھابی جیسے بھی مزاج کی تھیں مگر بچوں کے معاملے میں کبھی کسی پر پابندی نہ لگائی تھی، بچے ماں کی نسبت پھوپھیوں اور دادی کے پاس زیادہ رہتے تھے۔ شہروز تین سال کا تھا جب کہ مناہل ایک سال کی تھی۔
شام کے بعد وہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی جبکہ زویا کے سکول میں فنکشن تھا وہ کسی میگزین سے دیکھ کر سوٹ سی رہی تھی۔ بھابی اور امی صحن میں تھیں جب کال بیل ہوئی تھی۔ عمیر بھائی گھر آ چکے تھے دروازہ انہوں نے ہی کھولا تھا۔
شاید کوئی مہمان آ گئے تھے وہ باہر نہیں گئی تھی اسی طرح کچن میں کھانا بناتے آوازوں سے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی تبھی زویا تیزی سے اندر آئی تھی۔
’’تمہاری کولیگ شازیہ آئی ہیں، ساتھ میں ان کی خالہ اور ان کے بیٹے ہیں۔ عمیر بھائی نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ہے وہ لوگ بلا رہے ہیں تمہیں۔‘‘ وہ حیران ہوئی آج تو شازیہ کی کزن کی مہندی تھی کل بارات، وہ ان کے ہاں کیا لینے آئی تھی۔
’’یہ لوگ کیوں آئے ہیں؟‘‘ اپنے حلیے کو دیکھا لباس صاف ستھرا اور مناسب ہی تھا البتہ دوپٹہ درست کرتے زویا کو دیکھا۔
’’پتا نہیں، ویسے امی سے کہہ تو رہی تھیں کہ وہ اپنی خالہ ان کے بیٹے کے ساتھ بازار گئی ہوئی تھیں جیولری لینی تھی، واپسی پر وہ ہمارے ہاں آ گئیں کہ تمہیں یاد کروا دیں کہ آج شادی پر آنا ہے۔‘‘
’’لو یہ بھلا کیا بات ہوئی، شادی اس کی کزن کی ہے اور میں خوا مخواہ منہ اُٹھا کر چل دوں، میرا قطعی موڈ نہیں جانے کا، خوا مخواہ لوگوں کی نظریں برداشت کرتے پھرو۔‘‘
’’اچھا تم ڈرائنگ روم میں تو جائو میں چائے بنا کر لے آئوں گی۔‘‘ زویا نے اسے کہا تو وہ ہاتھ دھو کر ڈرائنگ روم میں آ گئی تھی۔
’’السلام علیکم!‘‘ شازیہ پہلے بھی اپنی خالہ اور کزن (بیٹی) کے ساتھ تین چار بار ان کے ہاں آ چکی تھی جبکہ وہ ایک بار بھی ان کے ہاں نہیں گئی تھی۔ شازیہ کے اصرار پر ہمیشہ ٹال جاتی تھی۔
’’و علیکم السلام! کدھر تھیں تم؟ میں کتنی دیر کی آئی بیٹھی ہوں۔‘‘ شازیہ تو فوراً شروع ہو گئی تھی۔ اس کی خالہ سے سلام دعا کر کے وہ شازیہ کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔
’’میں کچن میں تھی کھانا بنا رہی تھی۔‘‘ عمیر بھائی کے ساتھ شازیہ کے کزن بھی تھے۔ اس کے مشترکہ سلام پر صرف سر اُٹھا کر دیکھا تھا اور پھر عمیر بھائی کے ساتھ باتوں میں لگ گئے تھے۔
’’میں اسپیشلی خالہ کو لے کر آئی ہوں مجھے یقین ہے تم شادی پر نہیں آئو گی۔ آنٹی اور عمیر بھائی کو میں کہہ چکی ہوں۔ آج مہندی ہے تم آنٹی، بھابی، زویا سبھی کو لے کر آنا ہے۔‘‘ شازیہ نے کہا تو آنٹی نے بھی تائید کی۔
’’ہاں بیٹا! اسی لیے میں خود اس کے ساتھ پیغام دینے آئی ہوں۔ یہ کہہ رہی تھی کہ جب تک یہ خود نہیں جائے گی تم نہیں آئو گی۔‘‘
’’آپ فکر مت کریں آنٹی جی! ہم ضرور آئیں گے۔‘‘ رخسانہ بھابی تو ایسے فنکشن میں آگے آگے ہوتی تھیں فوراً ہامی بھری تھی۔ اس نے گھبرا کر امی کو دیکھا نجانے وہ کیا کہیں۔
’’ہاں ضرور آئیں گے ہم لوگ۔‘‘ امی کو بھی ہامی بھرنا پڑی تھی۔ عائشہ چپ رہ گئی۔ تھوڑی دیر بعد زویا چائے اور دیگر لوازمات لے آئی تھی اور ماحول کافی خوشگوار ہو گیا تھا۔
’’آج تو نہیں کل ہم ضرور آئیں گے۔ پلیز آج کے لیے رہنے دو۔‘‘ واپسی کے لیے وہ لوگ اُٹھیں تو عائشہ نے آہستگی سے شازیہ سے کہہ دیا۔
اب یہ لوگ خود دعوت دینے آئے تھے اور وہ اتنی بے مروت بھی نہ تھی۔ شازیہ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ آنے پر راضی تو ہوئی نا۔
’’ہاں بیٹا! کل میں بھیج دوں گی۔‘‘ امی نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
’’عمیر! آپ کو پتا ہے شازیہ کا جو کزن ساتھ آیا تھا وہ انجینئر ہے مگر بیچارے کی بیوی بیٹے کی پیدائش پر فوت ہو گئی تھی۔ آفس کی طرف سے گھر گاڑی سب کچھ ملا ہوا ہے۔ لڑکے کی ماں بتا رہی تھی کہ خاصا اچھا کما لیتا ہے۔ پانچ سال ہو گئے ہیں بیوی کو فوت ہوئے، دو بچے ہیں سات سال کی بیٹی اور پانچ سال کا بیٹا مگر اس شخص نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ بچے دادی نے پالے ہیں مگر لگتا ہی نہیں کہ وہ دو بچوں کا باپ ہے۔‘‘ کھانا کھاتے ہوئے بھابی نے اچانک یہ موضوع شروع کر دیا تھا۔ عائشہ نے اُلجھ کر انہیں دیکھا۔ شازیہ کی زبانی وہ اس کے کزن کی اس ٹریجڈی سے واقف تھی مگر گھر میں کبھی ڈسکس نہیں کیا تھا۔‘‘ لڑکے کی ماں بتا رہی تھی کہ پینتیس سال سے اوپر ہی عمر ہے اس کے بیٹے کی مگر لگتا نہیں۔‘‘ بھابی نے مزید اضافہ کیا تھا۔
’’ہوں قسمت لڑکے کی… باقی سب بہن بھائی شادی شدہ اور اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ صرف ایک بہن رہ گئی تھی جس کی اب شادی کر رہے ہیں یہ لوگ۔‘‘ امی نے گفتگو میں حصہ لیا تھا۔
’’کل شادی میں جا رہی ہیں آپ لوگ؟‘‘ عمیر بھائی نے زیادہ تبصرہ نہ کیا تھا۔ ہوں ہاں کے بعد انہوں نے اُٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’ہاں زویا اور عائشہ، رخسانہ کے ساتھ چلی جائیں، تم چھوڑ آنا۔‘‘ میں گھر میں رہ لوں گی بچے میرے پاس ہی رہ لیں گے۔‘‘ امی نے گویا فیصلہ سنا دیا تھا۔
’’چلیں ٹھیک ہے جب جانا ہو مجھے بتا دینا میں چھوڑ آئوں گا۔‘‘ عمیر بھائی بات ختم کر کے چلے گئے تو باقی لوگ بھی کھانا ختم کرنے لگے۔

اگلے دن اتوار تھا۔ شازیہ کی کزن کی شادی میرج ہال میں ہونا تھی۔ اس نے مشین لگا لی تھی، لائٹ کا کوئی اعتبار نہ تھا۔ آتی جاتی لائٹ میں اس نے تین بجے تک کپڑے دھو ہی لیے تھے۔ زویا ساتھ لگی ہوئی تھی مغرب سے پہلے وہ لوگ تیار ہو گئی تھیں رخسانہ بھابی اور زویا ساتھ چل رہی تھیں۔ عمیر بھائی انہیں چھوڑ آئے تھے۔ گفٹ کے بجائے اس نے نقد سلامی دینے کا سوچا تھا۔
شازیہ اور اس کی خالہ کی فیملی نے بڑے جوش و خروش سے انہیں ویلکم کہا تھا۔ زویا بہت جلد شازیہ کی بہنوں اور کزنز میں گھل مل گئی تھی۔ شازیہ کی بہنیں انہیں ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے بار بار ٹوک رہی تھیں ان کی آفر پر زویا ان کے ساتھ چلی گئی تھی۔ بھابی کو اپنے مزاج کے مطابق خواتین مل گئی تھیں وہ ان کے ساتھ لگ گئیں تو وہ خاموش اپنی سیٹ پر بیٹھی آتی جاتی لڑکیوں ان کے ملبوسات اور شوخیاں دیکھتی رہی۔
’’آنٹی! آپ کو شازیہ پھوپھو بلا رہی ہیں۔‘‘ ایک بچی نے پاس آ کر اسے متوجہ کیا تو وہ چونکی۔
’’کدھر؟‘‘ اس نے بچی کو دیکھا بڑی پیاری اور کیوٹ سی تھی۔ خوبصورت فراک میں ملبوس بہت پیاری لگ رہی تھی۔
’’ادھر…‘‘ اس نے انٹرنس کی طرف اشارہ کیا تو وہ بچی کے ساتھ ہی اُٹھ کر شازیہ کی طرف چلی گئی۔
’’تم تو آ کر اُدھر ہی بیٹھ ہی گئی ہو۔ بارات بس آنے ہی والی ہے۔ مریم (دلہن) بھی پارلر سے آ گئی ہے۔ آئو دلہن دکھائوں تمہیں۔‘‘ اسے دیکھتے ہی اس نے ہاتھ میں تھامی پھولوں والی باسکٹ کسی لڑکی کو پکڑا دی تھی۔
’’رابی بیٹا! پاپا کو کہو کہ شازی آنٹی، مریم پھوپھو کے پاس ہیں اُدھر آ جائیں۔‘‘ اس بچی کو کہہ کر وہ اس کو لیے روم میں آ گئی تھی۔
دلہن بہت پیاری تھی۔ ڈارک ریڈ لباس میں خوبصورت سج رہی تھی۔ مریم ان کے ہاں ایک دو بار شازیہ کے ساتھ آ چکی تھی۔ بڑے تپاک سے ملی تھی۔
وہ اس کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب شازیہ کا کزن اس بچی کی اُنگلی تھامے اور ایک سوتے بچے کو بازو میں اُٹھائے اندر آ گیا تھا۔
’’تم نے بلوایا تھا مریم؟‘‘ اسے دیکھ کر وہ دروازے پر رُک گیا تھا۔
’’جی! مریم نے نہیں میں نے بلوایا تھا۔ آنٹی نے یہ کچھ چیزیں دی تھیں کہ آپ کو ہال میں دے دوں۔‘‘ شازیہ نے ایک بیگ اس کی طرف بڑھا دیا تھا۔
’’ابھی تو ادھر ہی رہنے دو، جب ضرورت پڑی تو لے لوں گا اور تو کوئی بات نہیں نا؟‘‘ وہ اسی سنجیدگی میں مخاطب تھا۔
’’یہ مریم آپ اور بچوں کو بہت یاد کر رہی تھی۔ بار بار آپ کا پوچھ رہی تھی۔‘‘ شازیہ اپنے کزن سے کہہ رہی تھی ان لوگوں کی موجودگی میں عائشہ کو اپنی موجودگی غیر ضروری لگی تو وہ خاموشی سے اُٹھ کر باہر آ گئی۔ نجانے کیوں وہ ہمیشہ ایسے ماحول اتنی کیئرنگ میں ان ایزی فیل کرتی تھی۔
باہر آ کر وہ ہال کی طرف جانے سے پہلے گلاس وال سے اندر کا منظر دیکھتی رہی تھی۔
وہ آج کل امی اور بھابی کے رویوں سے عجیب قنوطیت کا شکار ہوتی جا رہی تھی ہر چیز سے دلچسپی ختم ہوتی جا رہی تھی گویا…
’’آنٹی آپ ادھر کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ وہی کیوٹ سی بچی تھی، اس نے مسکرا کر بچی کو دیکھا۔
’’نتھنگ بیٹا۔‘‘
’’آنٹی! شازیہ آنٹی کہہ رہی تھیں کہ آپ کا بازو خراب ہے ’’موو‘‘ نہیں کرتا۔ رئیلی ایسا ہے کیا؟‘‘ بچی کی آنکھوں میں تجسس تھا وہ ایک لمحے کو چونکی تھی۔
’’اچھا… شازی نے آپ سے یہ کب کہا؟‘‘ مسکرا کر بچی کا گال چھو کر پوچھا۔
’’ابھی پاپا سے ذکر کر رہی تھیں نا۔‘‘
’’پاپا سے؟ آپ کے؟‘‘ بچی نے گردن ہلائی تو وہ حیرت زدہ ہوئی۔
’’جی…‘‘
’’کیوں بھلا؟‘‘
’’آئی ڈونٹ نو؟‘‘ بچی نے کندھے اچکا دئیے تھے۔
’’یو نو آنٹی! چند منتھ پہلے میں بھی چھت سے گری تھی تو میرا بازو بھی فریکچر ہو گیا تھا، بٹ آنٹی میرا بازو تو ٹھیک موومنٹ کرتا ہے۔‘‘ اس نے اپنے بازو کو باقاعدہ ہلا کر کہا۔
’’آپ پڑھتی ہیں؟‘‘ اس نے بچی کی توجہ ہٹانی چاہی۔
’’یس…‘‘
’’کیا نام ہے آپ کا؟‘‘
’’رابیل مرتضیٰ! انس مرتضیٰ میرا بھائی ہے۔ پاپا کا نیم مرتضیٰ ہے۔‘‘ بچی بہت ذہین اور شارپ مائنڈ تھی۔ عائشہ متاثر ہوئی تھی۔
’’ویری نائس…‘‘
’’آنٹی آپ بتائیں نا آپ کا بازو موو کیوں نہیں کرتا؟ میرا بھی تو فریکچر ہوا تھا بٹ موو تو کرتا ہے نا۔‘‘ بچی کے ذہن میں شاید ابھی تک یہی سوال لٹکا ہوا تھا۔ فوراً کہا تھا۔
’’ڈاکٹر نے ٹھیک سے ٹریٹمنٹ نہیں دیا تھا اور کچھ بیماری اپنی کیئرنس کی وجہ سے ٹھیک سے فریکچر درست نہیں ہوا تھا اور پھر خراب ہو گیا۔‘‘ اس نے بچی کے سوال پر سہولت سے وضاحت کر دی۔
’’آپ کو تو بہت Pain ہوتی ہو گی نا…‘‘ بچی کی آنکھوں میں اس کے لیے بہت رحم تھا، وہ مسکرا دی۔
’’نہیں رابی بیٹا! Pain بازو کی وجہ سے نہیں ہوتی لوگوں کے بی ہیو سے ہوتی ہے۔‘‘ بچی کے گال کو چھو کر کہا۔ تبھی عقب سے کسی نے پکارا۔
’’رابی…‘‘ عائشہ نے پلٹ کر دیکھا لڑکی کا باپ کھڑا تھا۔
’’بُری بات بیٹا! بڑوں سے اتنے سوال جواب نہیں کرتے۔‘‘ اپنی بیٹی کو وہ ٹوک رہا تھا۔
’’ایم سوری اس نے آپ کو ڈسٹرب کر دیا۔‘‘ وہ شاید کچھ نہ کچھ سن چکا تھا۔ فوراً معذرت کر رہا تھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں، اٹس اوکے…‘‘ وہ کہتی بھی کیا۔ وہ تو ایسے رویوں کو سہنے کی عادی تھی۔ اس کے لیے یہ سب عام سی بات تھی۔
’’آپ کی بیٹی بہت ذہین ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر پھر ایک نگاہ بچی کے سرخ رخسار پر ڈالی۔
’’تھینکس!‘‘ وہ شخص مسکرا کر اپنی بیٹی کی اُنگلی تھام کر ایک دو مزید جملوں کا تبادلہ کر کے چلا گیا تو وہ بھی اپنی سیٹ کی طرف چلی آئی۔ کچھ دیر میں بارات آ گئی تو پھر اس کے بعد رات گئے ہنگامہ سا برپا رہا تھا۔

دن اپنی روٹین میں گزر رہے تھے۔ انہی گزرتے دنوں میں اس کے لیے شازیہ کے کزن مرتضیٰ کا پروپوزل ایک دھماکہ تھا۔
اس کی غیر موجودگی میں شازیہ اپنی خالہ کے ساتھ رشتہ لے کر آئی تھی۔ امی آج کل جس طرح سرگرم عمل تھیں وہ گم صم سی رہ گئی تھیں، ایسے کئی پروپوزل پہلے بھی اس کے لیے آ چکے تھے۔ امی سنتے ہی انکار کر دیتی تھیں۔ اس بار شازیہ کی وجہ سے دو ٹوک انکار نہ کر سکی تھیں مگر عائشہ کے علم میں لانے میں بعد فوراً کہہ بھی دیا تھا۔
’’میں نے تمہاری دوست سمجھ کر اسے کچھ نہیں کہا مگر تمہیں کسی طلاق یافتہ یا رنڈوے کے ساتھ ہی بیاہنا ہوتا تو آج سے پہلے کئی اچھے خاندان کے رشتوں پر غور کرتی۔ شازیہ کو کہہ دینا ہم پر لڑکی بھاری نہیں ہے۔ ایک ذرا سی صورت ہی کم ہے یا بازو کا مسئلہ ہے خدانخواستہ کوئی اور معذوری تو نہیں تم میں۔‘‘ رنجیدہ لہجے میں وہ کہہ رہی تھیں۔
وہ شاید خوب رو چکی تھیں عائشہ حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ یہ پرپوزل اس کی توقع سے بڑھ کر تھا جبکہ امی کا انداز ہی اور تھا۔
’’امی اب آپ نے ذہن میں نجانے کیا سوچ رکھا ہے۔ اتنی عمر میں اب ایسے ہی رشتے آئیں گے اور اوپر سے بازو کا مسئلہ، اسے معذوری نہیں کہتے تو پھر کیا کہتے ہیں۔ نجانے اتنا وقت ضائع کر کے بھی عقل نہیں آئی اور کب آئے گی۔ آج تو دو بچوں کے باپ کے رشتے آ رہے ہیں کل کو یہ بھی نہیں آئیں گے۔‘‘ رخسانہ بھابی بھی پاس ہی تھیں غصے سے فوراً جواب دیا تھا۔ وہ ایسی ہی تھیں چھوٹی سی بات پر بھی فوراً غصے سے جواب دیتی تھیں۔
’’تم اس معاملے میں مت بولو، اب اپنی بیٹی کے ذرا سے نقص کی وجہ سے اسے کنویں میں دھکیل دوں کیا؟‘‘
’’خیر کنویں میں تو نہیں کہہ رہی، اچھی خاصی شکل و صورت کا انسان ہے۔ دو بچے ہیں تو کیا ہوا؟ عائشہ بھی تو ڈس ایبل پرسن ہے۔ اوپر سے آج کے دور میں لوگوں کی جو ڈیمانڈ ہیں اس میں جو کنوارے کے ساتھ بیاہنے کے خواب بس خواب ہی سمجھیں آپ۔‘‘ عائشہ حیرت زدہ سی اُٹھ کھڑی ہوئی جبکہ امی اور بھابی اس باقاعدہ بحث کرنے لگ گئی تھیں۔
’’انکار کر دینا شازیہ کو میں نہیں کرنے والی اس جگہ رشتہ۔‘‘ امی نے پیچھے سے آواز لگائی تھی۔
باقی سارا وقت عجیب گم صم سی رہی تھی۔ رات کو اسے اپنے کمرے میں حبس کا احساس ہوا تو باہر نکل آئی۔ بھابی کے کمرے کے پاس سے گزرتے ٹھٹک گئی دروازہ ادھ کھلا تھا آوازیں باہر تک آ رہی تھیں۔
’’میں سچ کہہ رہی ہوں عمیر! اب میں برداشت نہیں کرنے والی۔‘‘ رخسانہ بھابی کا صاف جواب دیا۔
’’تو تمہیں کیا مسئلہ ہے، اب اسے گھر سے اُٹھا کر باہر پھینکنے سے تو رہا… کوئی اچھا رشتہ ملے بھی تو؟‘‘
’’یہ جو اچھا رشتہ آیا ہے اس پر تو سوچیں نا؟‘‘ وہ خاموشی سے کھڑی رہی۔
’’امی نے صاف انکار کر دیا ہے۔‘‘
’’میں بھی دشمن نہیں ہوں اس کی ٹھیک ہے اچھا کماتی ہے۔ آپ سے زیادہ کماتی ہے۔ زویا بھی سکول اور اکیڈمی سے کما لیتی ہے مگر لوگوں کی باتیں اور طعنے میں سنتی ہوں کہ بھابی نہیں چاہتی کہ شادی ہو۔ نند کی تنخواہ لیتی ہوں، میرے بچے پال لیتی ہیں آپ کی بہنیں۔ میرے فائدے میں، میں بھلا کیوں سوچوں گی اور آج زویا کے سسرال والوں نے بھی کال کی تھی امی سے صاف کہہ دیا کہ تین ماہ میں شادی کرنے کا ان کا پکا ارادہ ہے۔‘‘
’’اپنی سی کوششیں کر رہا ہوں نا، کتنے لوگوں کو کہا ہے اور جو چند ایک اچھے معقول رشتے ملتے ہیں ان کی ڈیمانڈ ہی ختم نہیں ہوتیں۔‘‘ عائشہ نے سر تھام لیا۔ اس وقت بھابی کی سوچ کتنی مختلف تھی۔
’’آپ امی پر زور دیں نا، اچھا رشتہ ہے لڑکا خوش شکل ہے۔ جس دن وہ ہمارے گھر آیا تھا مجھے اس کے ساتھ ہونے والا حادثہ سن کر دُکھ ہوا تھا مگر اسی دن سوچا تھا کہ ان لوگوں سے عائشہ کے لیے بات کروں۔ اب قسمت سے وہ لوگ خود چاہ رہے ہیں، اپنی امی کو سمجھائیں، منائیں…‘‘
’’اچھا سوچوں گا۔ ویسے رخسانہ! عائشہ کی تنخواہ سے گھر کا اچھا خاصا بجٹ چل جاتا ہے۔ ہماری تو سیونگ سے بس پلاٹ وغیرہ کے واجبات ہی ادا ہو رہے ہیں۔ ایک دو سال تک میں سوچ رہا ہوں کہ عائشہ کی اگر شادی ہو گئی تو پرابلم ہو جائے گی۔‘‘ وہ جانے لگی تھی عمیر بھائی کی بات پر پھر ٹھٹک گئی۔
’’امی نے اچھی خاصی سیونگ کر رکھی ہے، امی سے مانگیں نا… باقی اللہ مالک ہے۔‘‘ بھابی کا انداز ہنوز بُرا لگا۔ وہ خاموشی سے واپس کمرے میں آ گئی تھی اس کے اندر اک عجیب سی بے چینی پھیل گئی تھی۔ اگلے دن اس نے کالج سے چھٹی کر لی تھی۔ شام کو شازیہ کا فون آ گیا۔
’’تم نے چھٹی کیوں کر لی تھی؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی۔
’’بس طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ہلکا سا فلو ہو رہا تھا۔‘‘
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہوں۔‘‘
’’پھر تمہاری فیملی سے مرتضیٰ بھائی کے پرپوزل پر کیا سوچا؟‘‘ وہ فوراً اصل موضوع پر آ گئی تھی۔
’’پہلے تم یہ بتائو کہ تم یہ پرپوزل لے کر کیوں آئی تھیں؟‘‘
’’میں صاف اور سچ سچ کہوں تو یہی بات ہے کہ میں تمہیں مسلسل ایک اذیت کا شکار دیکھتے اب خود اذیت محسوس کرنے لگی تھی۔ تم ایک مکمل لڑکی ہو، ایک ذرا سی ڈس ایبلٹی سے تم ناکارہ شے نہیں بنیں۔ تم تعلیم یافتہ سلجھی ہوئی لڑکی ہو۔ گھریلو امور سر انجام دے سکتی ہو۔ کوئی کمی نہیں ہے تم میں۔ جو لوگ تم میں حُسن و خوبصورتی ڈھونڈتے ہیں وہ خود اندھے ہیں۔ تم ایک حساس دل رکھنے والی محبت کرنے والی لڑکی ہو اور مرتضیٰ بھائی کے بچے ماں کی محبت کو ترسے ہوئے ہیں۔ میں تمہیں ایک گھر اور انہیں ایک محبت کرنے والی ماں دینا چاہتی تھی۔ مرتضیٰ بھائی بہت اچھے انسان ہیں۔ قسمت نے تم دونوں کے ساتھ جو کھیل کھیلا وہ ایک طرف، تم دونوں ایک گھر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہو۔ بس اسی لیے…‘‘ اس نے تفصیلی جواب دیا تھا۔
’’اگر میں انکار کر دوں تو…؟‘‘
’’تو میں کہوں گی کہ ایک حساس وجود نے صرف اپنے وجود کا درد ہی درد سمجھا۔ دو معصوم بچو ں کے روشن مستقبل کو اپنی حساسیت سے سنوارنے کی کوشش نہ کی۔‘‘
’’کتابی باتیں مت کرو شازی! وہ شخص دو بچوں کا باپ اور میں ایک ڈس ایبل پرسن، کیا جوڑ بنتا ہے ہمارا؟ اور امی قطعی نہیں مان رہیں۔‘‘
’’انہیں رشتوں کی کمی نہیں ہے۔ ان کی جاب اور انکم دیکھتے لوگ اپنی کنواری بیٹیوں کا رشتہ فخر سے ان کو دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ مریم کی شادی میں میں نے تمہیں انہیں دکھایا۔ تمہاری ڈس ایبلٹی کے بارے میں بھی بتایا اور پھر کچھ دن سوچنے کے بعد انہوں نے ہاں کہہ دی اور رہ گئی تمہاری ڈس ایبلٹی معذوری ان کی Will اور سوچوں میں ہوتی ہیں، تم ایک بہادر اور معاشرے میں فخر کے ساتھ جینے والی لڑکی ہو۔ مجھے یقین ہے کہ جب تمہیں مرتضیٰ بھائی جیسے انسان کا ساتھ میسر آئے گا تمہارے اندر جو تھوڑا بہت احساس کمتری ے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘‘ وہ حوصلہ دے رہی تھی وہ سوچوں میں اُلجھ گئی۔ ’’تم ضرور سوچنا… فیصلہ تم نے کرنا ہے۔ جو بھی فیصلہ کرو اپنی بہتری اور بھلائی کے لیے کرنا۔‘‘ شازی نے مزید چند الفاظ کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔

’’دیکھو بہن! اب جیسے رشتوں کا تم تقاضا کر رہی ہو ایسے تمہاری بیٹی کو ملنے سے رہے۔ اگر چھوٹی کا طے نہ ہوتا تو سمجھو لائن لگا دیتی، اب ایسے ہی ملیں گے۔ لڑکی کی تصویر اور بازو کا سن کر لوگ فوراً انکار کر دیتے ہیں۔ یہ پہلے زمانے کا دور نہیں جہاں لوگوں میں خدا کا ڈر اور خوف ہوتا ہے۔ نہ ہی تم کوئی لینڈ لارڈ ہو کہ لوگ دولت کا ہی سن کر راضی ہو جائیں۔‘‘
وہ گھر میں داخل ہوئی تو خالہ صغراں آئی بیٹھی تھیں وہ انہیں ہاتھ سے سلام کرتی امی کے پاس ہی چارپائی پر جا بیٹھی۔ امی پالک بنا رہی تھیں اور صغراں خالہ کرسی پر گلاس تھامے کولڈ ڈرنک پی رہی تھیں، پاس ہی بھابی بگڑے تیور لیے ہوئے براجمان تھیں۔
’’پھر بھی… تم دیکھو تو سہی پیسوں کی فکر مت کرو، جتنے بھی کہو گی دوں گی۔ زویا کے سسرال والے شادی پر زور دے رہے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ دونوں کی ایک ساتھ کروں۔‘‘ خالہ نے گلاس ختم کر کے بھابی کو تھمایا اور اسے دیکھا۔
’’ہاں کوشش کروں گی، اب اِدھر اُدھر کوشش تو بڑی کر رہی ہوں آگے تمہاری بیٹی کے نصیب، اچھا میں چلتی ہوں۔ کرائے کے لیے پیسے تو دے دو سیٹلائٹ ٹائون سے سیدھا ادھر آئی ہوں، ماڈل ٹائون میں ایک رشتہ ہے ادھر چکر لگاتی ہوں ابھی، کرایہ تو لگے گا نا۔‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ امی نے پرس سے دو سو نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔
’’ہائے… ہائے بھلا ان دو نوٹوں سے کیا بنتا ہے؟ ماڈل ٹائون میں اتنی گرمی میں پیدل چلنے سے تو رہی۔ پانچ سو دو۔‘‘ منہ پھاڑ کر اس نے کہا تو امی نے بیچارگی سے پرس میں موجود پانچ سو کا نوٹ نکال کر اسے تھمایا۔
’’تو پھر شام کو فون کروں نا؟‘‘ امی نے بڑی آس سے پوچھا تھا۔
’’ہائیں… اتنی جلدی کس بات کی ہے؟ پہلے ادھر جائوں گی ’’ٹوہ شوہ‘‘ لوں گی۔ کوئی بات دل کو لگی تو خود آ جائوں گی۔‘‘ نوٹ سرعت سے اپنے گریبان میں منتقل کرتے ہوئے کہا تھا۔ عائشہ نے غصے سے لب بھینچ لیے۔
پچھلے چھ سالوں سے امی اس عورت کے ہاتھوں لٹ رہی تھیں اور آج تک یہ عورت کوئی ڈھنگ کا رشتہ لے کر نہ آئی تھی اور امی ہر بار نئی آس اُمید لیے بلوا لیتی تھیں۔
’’اچھا بہن! چلتی ہوں… سلام علیکم۔‘‘
’’امی کیا ضرورت ہے اس عورت کو بار بار کہنے کی، مفت میں پیسہ بٹور رہی ہے وہ، آج تک اس نے ایک بھی ڈھنگ کا رشتہ تو دکھایا نہیں۔‘‘ اتنی دیر سے ضبط کرتی رخسانہ بھابی فوراً بولی تھیں۔ امی کچھ نہیں بولیں۔
’’اچھا بھلا رشتہ آیا تھا نہ جانے کیا طے کر رکھا ہے آپ نے بھی۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی گلاس لے کر کچن میں چلی گئی۔
’’تم نے شازیہ کو جواب دے دیا ہے؟‘‘ کچھ سوچتے انہوں نے اسے دیکھا۔
’’نہیں…‘‘ وہ پالک کے پتوں کو علیحدہ کرنے لگی تھی۔ امی نے بغور اسے دیکھا۔
ایک عرصہ ہوا اب وہ اس کی طرف سے نظریں اُٹھا کر بغور دیکھنا چھوڑ چکی تھیں وہ اسے بہت کمزور اور زرد سی لگی۔
’’کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ تمہاری دونوں بڑی بہنوں کو بتایا ہے وہ کہہ رہی ہے کہ اچھا رشتہ ہے کر لوں، میرا بھی دل لڑکے کو دیکھ کر خوش ہوا تھا۔ مگر اس کے دو بچوں کا سوچتی ہوں تو دل سے ہوک اُٹھتی ہے۔ رخسانہ کو میں غلط نہیں کہتی، عمیر پر زور دیتی ہوں تو وہ اپنے پلاٹ کی رقم کا سناتا ہے اور زویا کے سسرال والے زور دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے چھری ایک طرف رکھ کر سر تھام لیا۔
عمیر بھائی نے دو ماہ پہلے کمرشل ایریا میں پلاٹ خرید لیا تھا۔ جس کی رقم اقساط کی صورت میں ادا کی جا رہی تھی امی اسی سلسلے میں ذکر کر رہی تھیں۔
’’میں نہیں چاہتی کہ تم دل میں سوچو کہ میری ماں کو باقی تینوں کے لیے بہت اچھے بر مل گئے اور تمہارے لیے دو بچوں کے باپ کو دیکھا۔ کیا کروں اپنی سی تو ہر کوشش کر رہی ہوں، کچھ سمجھ نہیں آ رہا… ہر جاننے والی ہر رشتہ کروانے والی سے کہہ رکھا ہے۔‘‘ وہ سخت آزردہ تھیں اور عائشہ کو اپنا ضبط ختم ہوتا محسوس ہوا۔
’’امی میں تنگ آ چکی ہوں اس روز روز کے تماشے سے، سچی بات ہے میں شادی کے نام سے ہی نفرت محسوس کرنے لگی ہوں۔ شازیہ آج بھی کہہ رہی تھی وہ لوگ رات کو پھر چکر لگائیں گے فیصلہ ہر حال میں آپ نے کرنا ہے مگر میری رائے مانگتی ہیں تو میں اس مقام پر ہوں کہ جہاں دو بچوں کے باپ کو بھی قبول کرنے کو تیار ہوں۔ کم از کم اس روز روز کی اذیت سے تو چھٹکارا ملے۔ میں کم صورت ہوں، ڈس ایبل ہوں۔ یہ میری دو خامیاں ہیں جن کی موجودگی میں میری خوبیاں نظر نہیں آتیں۔ آپ مجھے کسی کنوارے کے ساتھ رُخصت کر بھی دیں تو کیا گارنٹی ہے وہ مجھے خوش رکھے گا۔ امی یہ لوگ کم از کم میری معذوری اور کم صورتی کو تو پوائنٹ آئوٹ نہیں کر رہے نا، آگے میری قسمت۔ ہو سکتا ہے میں ان بچوں کے ساتھ نیکی کروں اور اللہ مجھے اس نیکی کا اس سے بہتر اجر دے۔‘‘ اس نے ایک گہرا سانس لیا مگر لگتا تھا اندر برسوں سے غبار اکٹھا ہو چکا ہے۔
’’میں اس شخص سے مل چکی ہوں، دیکھا ہے اسے۔ اچھا انسان لگتا ہے پھر وہ میری کم صورتی اور معذوری کے باوجود مجھے قبول کر رہا ہے۔ امی میں اب کسی اور ’’کیٹ واک‘‘ کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ بس آج رات وہ لوگ آئیں گے جواب لینے کے لیے انہیں ہاں کہہ دیجیے گا پلیز۔‘‘ امی کے دونوں ہاتھ تھام کر اس نے کہا تو آنکھوں میں ٹھہرا پانی بہہ نکلا۔
’’میری بچی…‘‘ امی نے اس کو فوراً بازو کے حصار میں لے لیا۔ ’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ اور اسی نے اندر کا غبار باہر بہنے دیا۔
’’امی میرے کوئی لمبے اونچے خواب نہیں، کوئی خواہش نہیں۔ بس عزت کی زندگی چاہیے۔ جہاں میری عزت نفس میری معذوری کا احساس دلا کر مجروح نہ کی جائے۔ میں اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہتی۔‘‘ امی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود بھی رو دی تھیں۔
ان کا دل اندر ہی اندر بیٹی کے اچھے نصیبوں کی دُعا کر رہا تھا۔


Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close