پاگل سا اک میرا ڈھول ماہیا

پاگل سا اک میرا ڈھول ماہیا

سمیرا شریف طور

وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو سیدھی نظر بستر پر آڑھے ترچھے لیٹے بیٹے پر جا پڑی۔ کشن میں سر دئیے وہ دنیا ومافیہا سے بے خبر نیند کی وادیوں میں غرق تھا۔ بایاں بازو نیچے لٹک رہا تھا جب کہ کمبل تو تھا ہی زمین بوس۔ صرف ایک کونا اس کے بازو کے نیچے دبا ہوا تھا۔
’’توبہ ہے یہ لڑکا اتنا بڑا ہو گیا ہے مگر ابھی تک اسے سونا نہیں آیا۔‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائیں۔ اپنے بیٹے سے نظریں ہٹا کر اب انہوں نے ایک تفصیلی نگاہ چاروں جانب دوڑائی۔ کل دوپہر سے لے کر اب تک صرف چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں کمرے کی حالت بدل چکی تھی۔ کتابیں ریک کی بجائے سینٹرل ٹیبل بستر اور قالین پر رونق افروز تھیں۔ گیلا استعمال شدہ تولیہ صوفے پر گولا بنا ہوا تھا۔ ایک جوتا بستر کے قریب تھا تو دوسرا باتھ روم کے دروازے میں الٹا پڑا ہوا تھا۔ رات کو بدلا جانے والا لباس صوفے کے ہتھے پر دھرا ہوا تھا۔ ان کی طبیعت پر یہ پھیلاوا بہت گراں گزرا۔ بعض اوقات اکلوتا بیٹا ہونا بھی عادتیں بگاڑ دیتا ہے۔ وہ خود تو اچھی خاصی سلیقہ مند‘ سگھڑ اور نفیس طبیعت کی مالک تھیں۔ صفائی پسند بھی بے انتہا تھیں بلکہ ان کی بڑی دونوں بیٹیاں بھی ان ہی کا پرتو تھیں۔ شوہر عالم صاحب بھی انہی جیسے تھے مگر یہ دائود عالم نجانے کس پر چلا گیا تھا۔ مجال تھی جو طبیعت میں نفاست ہو۔ بے انتہا لاپروا تھا۔ اس وقت بھی دن کے بارہ بجے وہ اپنے گدھے گھوڑے کیا بلکہ لگتا تھا جیسے پورا اصطبل بیچ کر سویا ہوا ہو۔ کل ہی دس بجے کے قریب وہ کوئٹہ سے لوٹا تھا۔ شام کو دونوں بہنیں بھی اپنے بچوں اور شوہروں سمیت بھائی سے ملنے آ گئی تھیں۔ رات گئے تک وہ سب لائونج میں محفل جمائے بیٹھے رہے تھے۔ دو بجے کے قریب سب سونے کو اٹھے تھے اور ابھی تک غافل پڑے ہوئے تھے۔ عالم صاحب کو تو آفس جانا تھا وہ صبح سویرے ہی چلے گئے تھے۔
جبین اور حنا دونوں کے شوہر بھی اپنے کاروبار والے تھے۔ وہ بھی نو بجے کے قریب چلے گئے تھے جب کہ دونوں بہنیں بچوں سمیت دو دن کے لیے ٹھہر گئی تھیں۔ ناشتہ کر کے گھر کی صفائی دھلائی کے بعد وہ دونوں اپنے بچوں سمیت قریب ہی واقع اپنے چچا کے گھر روانہ ہو چکی تھیں۔ اس وقت وہ گھر پر اکیلی تھیں۔ کافی دیر تک دائود کے بیدار ہونے کا انتظار کرنے کے بعد انہوں نے خود اس کے کمرے کا چکر لگایا تھا مگر کمرے کی حالت دیکھ کر وہ حقیقتاً چکرا کر رہ گئی تھیں۔
’’دائود! اب اٹھ جائو… بہت سو لیا۔ جلدی کرو اٹھو شاباش…‘‘ کمرے میں بکھری کتابیں سمیٹنے کے بعد وہ اس کے سر پر آ کھڑی ہوئیں۔
’’کیا ہے امی… سونے دیں ناں… اتنے دنوں بعد تو گھر کی نیند میسر آئی ہے۔‘‘ نیند سے بوجھل آواز میں کہتے اس نے کمبل سر تک لینا چاہا مگر تجمل بیگم نے ایک دم کمبل اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔
’’بہت بری بات ہے دائود! تمہاری تو سب عادتیں ہی بگڑ چکی ہیں اور تمہاری بہنوں نے مجھے ذرا بھنک نہیں پڑنے دی۔ تم وہاں بھی یقینا یہی سب کرتے رہے ہو گے…‘‘ انہوں نے سخت آواز میں کہا تو وہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے لگا۔ لبوں پر خودبخود دلفریب مسکراہٹ ابھر آئی۔ کہنوں کے بل اٹھتے ہوئے بیڈ کی کرائون سے پشت ٹکائی۔
’’او پیاری امی جی! جانے دیں وہاں کا پوچھیں ہی نہیں… وہ تو حنا ہر ہفتے چکر لگا لیتی تھی تو سہولت ہو گئی تھی ورنہ… آپ اور ابو کے بغیر وہ فلیٹ مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔ بس جی چاہتا تھا کہ اڑ کر آپ کے پاس پہنچ جائوں۔ بڑی مشکل سے بھاگ دوڑ کر کے افسران سے مل کر اپنا یہاں ٹرانسفر کروایا ہے۔‘‘تجمل بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا پھر کمبل تہہ کرنے لگیں۔
’’چلو وہاں سے تو جان چھوٹی۔ کب سے چارج لے رہے ہو یہاں کی برانچ کا؟‘‘ تیزی سے ہاتھ چلاتے کشن زمین اور بستر سے سمیٹتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
’’ایک ہفتے کے بعد۔ یہ چھٹیاں بھی منتیں کر کے ملی ہیں۔ قسم سے امی وہ کوئٹہ کی برانچ کا آفیسر بڑا خرانٹ ہے۔ اس کا بس چلے تو وہ اتوار تو ایک طرف عید بقرعید پر بھی آفس میں ہی بلائے۔‘‘ ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے گھنے مگر بکھرے بالوں کو سمیٹتے وہ بستر سے اترا۔
’’کپڑے نکالوں…؟‘‘ اسے باتھ روم کا رخ کرتے دیکھ کر انہوں نے پوچھا تو وہ سر ہلا گیا۔ انہوں نے کپڑے نکل کر اسے تھمائے اور اس کے میلے کپڑے اٹھا کر ہاتھوں میں لیے۔
’’ناشتے میں کیا لو گے؟‘‘ وہ بہت خوش خوراک تھا پھر کتنے مہینوں بعد یہاں دوبارہ سیٹل ہونے کے بعد شاید پہلی دفعہ ماں ناشتے کا پوچھ رہی تھیں۔ وہ مسکرا دیا۔
’’پراٹھا اور وہ بھی آلوئوں کا۔ قسم سے بہت دن ہو گئے ہیں آپ کے ہاتھوں کی کوئی چیز کھائے ہوئے۔ فریج میں رکھے باسی کھانے کھا کھا کر طبیعت بھی باسی ہی ہو گئی ہے۔‘‘ وہ ہنس دیں۔
’’ٹھیک ہے تم نہا لو‘ اتنی دیر میں تمہارے لیے پراٹھے بناتی ہوں۔‘‘ وہ کمرے سے نکل گئی تھیں جتنی دیر میں وہ نہا کر تیار ہو کر باہر آیا تھا۔ وہ گرما گرم خستہ کرارے پراٹھے لائونج میں ہی لے آئی تھیں۔
’’واہ! ماں ہو تو ایسی۔ جیسی امی جی! ایسی خوشبو بھلا حنا کے پکے باسی کھانوں میں کہاں تھی۔‘‘ خوشبو سونگھتے ہی اس کا معدہ ایک دم متحرک ہوا تھا۔ امی ہنس دیں۔ وہ قالین پر بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے وہیں چھوٹی تپائی پر ٹرے رکھی۔
’’جانتی ہوں میں کتنے نادیدے ہو تم… خاص طور پر ماں کو بنانا تو تمہیں خوب آتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے پاس کی جگہ بنائی۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
’’خدا کی قسم امی! میری کیا اوقات کہ میں آپ کو بنائوں۔ واہ واہ! تعریف تو اس ہستی کی ہے جس نے آپ کو بنایا ہے۔ اتنے لذیذ کھانے بنانے والی والدہ محترمہ کو… واہ۔‘‘ نوالہ توڑ کر منہ میں رکھتے وہ ہانک رہا تھا۔ وہ مسلسل مسکراتی رہیں۔ آج کتنے دنوں بعد اسے اپنے سامنے یوں ناشتہ کرتے دیکھ کر ان کا سیروں خون بڑھا تھا۔ ابھی ایک مہینہ پہلے ہی تو وہ مل کر گیا تھا مگر وہ آمد بھی صرف دن کی تھی۔ اگلی صبح سویرے ہی بغیر ناشتہ کیے اس نے رختِ سفر باندھ لیا تھا اور اب وہ مستقل یہاں سیٹل ہوگیا تھا۔ ان کی آدھی فکر تو ختم ہو گئی تھی۔ جب سے وہ یہاں عالم صاحب کے ساتھ آئی تھیں ہروقت دھیان دائود میں ہی اٹکا رہتا تھا۔ اس کے کھانے پینے‘ اٹھنے بیٹھنے‘ سونے جاگنے کی فکر ہروقت سر پر سوار رہتی تھی۔ روز فون کر کے اسے ہدایات دیتی تھیں۔ وہ تو شکر تھا کہ حنا وہاں قریب ہی رہتی تھی۔ روز وہاں کا چکر لگا لیتی تھی مگر جیسا خیال وہ خود رکھتی تھیں وہ حنا سے اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں کہاں ممکن تھا۔ اب انہوں نے شکر ادا کیا تھا کہ اس کا ٹرانسفر یہاں ہو گیا تھا۔ ناشتے کے بعد انہوں نے اسے چائے بنا کر دی تھی۔ وہ ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا تووہ کچن کا پھیلاوا سمیٹنے لگیں تب ہی فون کی بیل بجی۔
’’دائود! دیکھنا ذرا کس کا فون ہے؟‘‘ انہوں نے وہیں سے صدا لگائی تھی۔ دائود آواز دھیمی کر کے فون کی طرف بڑھ آیا۔
’’ہیلو۔‘‘ ریسیور کان سے لگاتے اس نے کہا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ بھاری نسوانی آواز تھی۔ اس نے ریسیور کو گھورا۔
’’ وعلیکم السلام۔ جی آپ کون اورکس سے بات کرنی ہے؟‘‘
’’مجھے تجمل سے بات کرنی ہے۔ پلیز انہیں بلوادیں۔ میں نسرین بول رہی ہوں۔‘‘ دوسری طرف سے کافی مہذب انداز میں کہا گیا تھا۔
’’جی اچھا ہولڈ کریں۔ میں انہیں بلاتا ہوں۔ ’’امی! آپ کا فون ہے۔ کوئی نسرین صاحبہ ہیں آپ کو بلا رہی ہیں۔‘‘ اس نے وہیں ریسیور رکھ کر امی کوآواز دی تو وہ نسرین کا نام سن کر فوراً باہر نکل آئی تھیں۔
’’ارے نسرین! تم… تم نے کیسے زحمت کر لی میرے گھر فون کرنے کی۔‘‘ اس نے دوبارہ صوفے پر بیٹھ کر اپنی آنکھیں ٹی وی اسکرین پر جما دیں۔ آواز مدہم ہی رکھی کہ امی فون کر رہی تھیں۔
’’نہیں۔ میں تو آنا چاہ رہی تھی مگر عالم صاحب ہی فارغ نہیں ہوتے پھر گھر کی سیٹنگ میں ہی کہیں نکلنے کی فرصت کہاں ملتی ہے۔ اب تو ماشاء اللہ دائود بھی یہیں آ گیا ہے۔ میں کسی دن وقت نکال کر آئوں گی۔ تم سنائو گھر میں سب تو خیریت ہے نا۔ ماریہ کا کیا حال ہے۔‘‘ بہت محبت سے وہ گفتگو فرما رہی تھیں۔ دائود کا لاشعوری طور پر دھیان اسی جانب تھا۔
’’ارے جانے دو۔ اس عمر میں سب لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں لاپروا سی۔ تم خواہ مخواہ ہی پریشان ہورہی ہو۔بچی ہے جب شادی ہو گی سنبھل جائے گی۔ اللہ نے عورت کی فطرت میں بڑی لچک رکھی ہے۔ وہ ہر طرح کے ماحول میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب ذمہ داریاں کندھوں پر آ پڑتی ہیں تو سارا بچپنا سر پر پائوں رکھ کربھاگ جاتا ہے۔‘‘ وہ بہت چاہنے کے باوجود خود کو امی کی گفتگو سننے سے باز نہیں رکھ پایا تھا۔ اسے دوسری جانب کون شخصیت ہیں؟ کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا اور کن محترمہ کا ذکر ہو رہا ہے وہ اصل نکتے تک پہنچ گیا تھا۔ ایک گہری سانس لی۔ ’’یااللہ خیر۔‘‘ اندر ہی اندر اس نے دعا مانگی۔
’’رہنے دو۔ ابھی اس کو تعلیم سے تو فارغ ہو جانے دو پھر تمہیں جلدی کاہے کو ہے۔‘‘ اب کے امی نے کچھ جھنجلا کر کہا تھا۔ دائود نے بغور انہیں دیکھا۔ ایسی ہی جھنجلاہٹ ان کے چہرے سے بھی ہویدا تھی۔
’’وہ نہیں مانتی تو رہنے دو۔ دیکھو نسرین میں تم سے ذکر کر چکی ہوں۔ تم جانتی ہو میں کیا چاہتی ہوں۔ چلو فی الحال خاموش رہو۔ میں ایک دو دن میں چکر لگانے کی کوشش کرتی ہوں۔ ہاں… ٹھیک ہے… بالکل ٹھیک۔ جو میں نے کہا تھا ضرور سوچنا۔ ہاں بھئی دائود کا انتظار تھا ماشاء اللہ وہ بھی کل سے یہاں مستقل آ گیا ہے۔ بات کروں گی۔ بس تم ان لوگوں کو انکار کر دو۔ بس میں نے کہہ دیا ناں۔ اچھا اللہ حافظ۔‘‘ وہ اس کے قریب صوفے پر آ ٹکیں۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔
’’کون نسرین آنٹی… کیسا ذکر؟‘‘ وہ بن رہا تھا۔ امی نے اسے گھورا۔
’’دائود! میں سنجیدہ ہوں۔ نسرین کے گھر ایک رشتہ آیا ہوا ہے۔ قطب الدین بھائی کے دوستوں میں سے کوئی ہے۔ وہ ماریہ کی شادی کرنا چاہتی ہے اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کیا چاہتی ہوں۔‘‘ انہوں نے بلاتمہید فوراً بات کی تھی۔ وہ اندر ہی اندر کلس کر رہ گیا۔ بعض اوقات امی بھی حد کرتی تھیں۔
’’اورمیں نے آپ سے جو کہا تھا آپ وہ بھی جانتی ہیں۔ میں کسی ایسی لڑکی کو یوں اپنی زندگی میں شامل کر لوں… وہ بھی بنا دیکھے سمجھے… نو امی جی پلیز آپ سے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ اس موضوع کو یہیں بند کر دیں۔‘‘ اس نے اب کے کچھ برہمی سے انہیں ٹوک دیا۔
’’تم نے اسے دیکھا نہیں اس بہانے کو تو رہنے ہی دو۔‘‘ جواباً انہوں نے بھی کچھ برہمی سے کہا تووہ زچ ہوا۔
’’ہاں دیکھا تھا اس وقت جب بچہ تھا۔ آپ کے ساتھ نسرین آنٹی کے ہاں جایا کرتا تھا اور وہ موٹی تازی بھیڑ تب بھی کچھ کم نہ تھی۔ آفت کی پڑیا تھی۔ اس کی اوپری منزل میں انسان کا نہیں بلکہ شیطان کا دماغ فٹ تھا۔ پوری بی جمالو تھی وہ۔ عمر کے حساب سے اگر میں اسے بی جمالو کہوں تو زیادہ بہتر ہے… اور آپ بھول گئیں پچھلی دفعہ اس نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کرمیرا کیا حشر کیا تھا۔ حنا اورجبین سے کیسے وہ خار کھاتی تھی۔ مجھے تو معاف ہی رکھیں۔ میں باز آیا ایسی لڑکی سے۔‘‘ اس نے باقاعدہ ہاتھ جوڑے تھے۔ امی حیران ہوئیں اسے تو سب یاد تھا جب کہ وہ تو سب بھول بھال گئی تھیں۔
’’بچپن میں تو سب ہی ایسی ہوا کرتی ہیں۔ تم نے خوامخواہ اسے موٹی تازی بھیڑ بنا دیا ہے۔ وہ تھوڑی صحت مند تھی۔ اب تم دیکھو ذرا ۔ اتنی اسمارٹ اور خوب صورت ہو گئی ہے وہ ماشاء اللہ۔ وہ کچھ شرارتی سی ہے مگر بدتمیز ہرگز نہیں۔ بچپن میں اگر وہ شرارتیں کرتی تھی توتم بھی بدلہ لیا کرتے تھے۔ نسرین سے شکایت لگا کر اسے پٹوا کر۔‘‘ انہوں نے تو گویا پوری سائیڈ لے ڈالی تھی اس کی۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
’’امی جی پلیز! خدا کے لیے اس موضوع کو یہیں چھوڑ دیں۔ وہ بچپن میں کیا تھی یا اب کیا ہو گئی ہے۔ مجھے غرض نہیں ہے۔ شادی کروں گا تو میں اپنی پسند سے۔ بس یہ طے ہے۔‘‘ وہ ریموٹ کنٹرول سے ٹی وی بند کر کے ریموٹ کنٹرول کو ٹیبل پر پٹخ کر لائونج سے نکل گیا۔ پیچھے وہ ہکابکا دیکھتی رہ گئیں۔
’’یااللہ نسرین کو کیا منہ دکھائوں گی میں۔ یہ لڑکا تو کسی بھی طرح پروں پر پانی ہی نہیں پڑنے دے رہا۔‘‘ وہ نہایت فکرمندی سے سوچنے لگیں۔
وہ نہا کر نکلا تو کال بیل ہورہی تھی۔ امی شاید کسی کام میں مصروف تھیں وہ عجلت سے باہرنکلا۔ امی کچن میں آٹا گوندھ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر جلدی سے دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا تو وہ باہر نکل آیا۔ دروازہ کھولا تو وہاں دروازے پر موجود شخصیت کو دیکھ کر اس کا منہ ضرور کڑوا ہوا تھا۔
’’السلام علیکم بیٹا! کیا حال ہے؟‘‘ اندر کی جانب قدم بڑھاتے انہوں نے اس کے گیلے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔ عقب میں ان کے نوعمر سا لڑکا تھا جو دلچسپی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ بائیک پر سوار تھا شاید ان کو چھوڑنے آیا تھا۔ دائود کو متوجہ دیکھ کر فوراً بائیک سے اتر آیا تھا۔
’’السلام علیکم! میں حمزہ ہوں اورآپ یقینا دائود بھائی ہیں۔‘‘ اس سے ہاتھ ملاتے وہ پوچھ رہا تھا۔ دائود نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔ نسرین بیگم دونوں کو کھڑا دیکھ کر اندر کی جانب بڑھ گئیں۔
’’آئو اندر آئو بلکہ بائیک بھی لے آئو۔‘‘ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔ حمزہ بائیک اندر لے آیا تو وہ دونوں بھی ٹی وی لائونج میں چلے آئے۔ امی بھی ادھر ہی آ گئی تھیں۔ بہت اپنائیت سے نسرین ملیں۔
’’میں ادھر سے گزر رہی تھی۔ سوچا کتنے دن ہو گئے ملاقات کیے ہوئے ملتی چلی جائوں… اور سنائو بیٹا آپ کا کیا حال ہے؟‘‘ انہوں نے امی کو اپنے آنے کی وجہ بتاتے ہوئے اسے بھی گھسیٹا۔ وہ پہلو بدل کر رہ گیا۔ امی کا احساس نہ ہوتا تو شاید سامنے بھی نہ آتا۔
’’میں ٹھیک ہوں… آپ سنائیے؟‘‘
’’بس بیٹا! اللہ کا شکر ہے۔‘‘ انہوں نے محبت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
خوب صورت توانا وجود کا مالک‘ سوبر سی شخصیت لیے شلوار سوٹ میں صوفے پر بیٹھا انہیں کافی بھلا لگا۔ آخری بار جب انہوں نے دیکھا تھا تو وہ بارہ سال کا کھلنڈرا سا دبلا پتلا لڑکا تھا پھر کبھی موقع ہی نہ ملا۔ وہ اور تجمل اکثر فون پر رابطہ رکھتی تھیں جب ان کے شوہر کا انتقال ہوا تووہ ملنے آئی تھیں پھر اکثرجب بھی یہاں آنا ہوتا وہ اکثر ملنے آتی رہی تھیں۔ ساتھ میں عالم بھائی بھی ہوتے تھے۔ بچے تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے بہت کم آتے تھے۔ یہاں ان کا ددھیال تھا لیکن ایک دو دن میں واپس چلے جاتے تھے۔ ایسے میں نسرین تجمل بیگم کو دعوت دینے کا سوچتی رہ جاتیں مگر بچوں سمیت گھر پر بلانے کا موقع ہی نہ ملتا تھا۔ اب برسوں بعد وہ دوبارہ یہاں سیٹل ہوئے تھے تو ان کو اپنی دعوت کا خیال آیا تھا مگر دائود پھر بھی نہیں تھا۔ ان کی بیٹیاں آئی ہوئی تھیں۔ تجمل‘ عالم صاحب‘ جبین اور حنا اپنے بچوں سمیت دعوت پر آئی تھیں۔ اب آنا جانا لگا رہتا تھا۔ کبھی وہ آجاتی تھیں اور کبھی تجمل ان کے ہاں چلی جاتی تھیں مگر آج پہلی بار اتنے برسوں بعد وہ دائود سے مل رہی تھیں۔ وہ انہیں اچھا لگا تھا۔ وہ اور حمزہ باتوں میں مصروف ہوگئے تو وہ تجمل کے ساتھ لگ گئی۔
’’میں تو پریشان ہوں ماریہ کی حرکتوں کی وجہ سے… ابھی کل ہی کی بات ہے سب لوگ گھر سے گئے ہوئے تھے۔ بس زویا‘ نازیہ اورماریہ ہی گھر پر تھیں۔ ایسے میں محترمہ نے دونوں کے ساتھ فلم دیکھی اور اس سے پہلے جو تمہیں بتایا تھا کہ قطب صاحب کے دوست کے بیٹے کا رشتہ آیا تھا۔ وہ بھی اس نے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے بھگا دیا۔ لوگ سلجھے ہوئے تھے۔ لڑکا بھی قابل اورصاحبِ روزگار تھا۔ میری بڑی خواہش تھی کہ رشتہ ہو جائے مگر جب وہ لوگ دیکھنے آئے تو انہوں نے جو بھی پوچھا۔ الٹا سیدھا ہانکتی گئی۔ وہ پوچھتے الف تھے اور ماریہ بتاتی ’ی‘ تھی۔ خدا کی قسم بہت شرمندہ ہوئی میں۔گھر بھر کی لاڈلی ہے اوراسی لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے۔ تم میری اپنی ہو۔ بہت قریب ہو میرے اسی لیے سب بتا رہی ہوں پھر تم نے جو خواہش کی ہے میں تو ابھی تک حیران ہوں۔ ماریہ تمہاری بہو بننے کے قابل نہیں ہے۔ وہ کسی اچھے گھر میں جائے یہ میری سب سے بڑی خواہش ہے مگر تمہارے گھر آئے ایسا تو میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا۔ دائود تمہارا اکلوتا بیٹا ہے۔ یقینا بہوبھی تم ایسی ہی چاہتی ہو جو سلجھی ہوئی سگھڑ اور سلیقہ شعار ہو اور اس گھر کو ایسی ہی لڑکی کی ضرورت ہے جب کہ ماریہ تو اس کے بالکل متضاد ہے۔ پڑھائی میں وہ بالکل صفر ہے اور گھر بار کی بھی الف ب سے بھی بالکل ناواقف۔ میں نہیںچاہتی کہ ہماری آپس کی دوستی ومحبت ختم ہو۔ تم آنا چاہ رہی تھیں مگر میں نے سوچا پہلے ہی تم سے بات کر لوں۔ مجھے بہت افسوس ہے۔‘‘
وہ بہت دھیمی آواز میں تجمل بیگم کا ہاتھ پکڑے کہہ رہی تھیں۔ دائود ان دونوں سے کافی دور کونے میں موجود صوفے پر براجمان تھا۔ بہت کوشش کے باوجود بھی ان کی گفتگو کا ایک لفظ بھی اس کے پلے نہ پڑا۔
’’میرا خیال ہے۔ یہ اتنی بڑی وجہ نہیں ہے کہ تم انکار کرو اگر تم ابھی راضی نہیں تو میں انتظار کر لوں گی۔ ویسے بھی ماریہ کا فائنل سمسٹر ہے۔ وہ ہو جائے تو پھر بات ہو گی مگر میں انکار نہیں سنوں گی۔ ابھی اس میں بچپنا ہے جب کندھوں پر ذمہ داری پڑے گی تو خودبخود سلجھتی جائے گی۔ حنا بھی شادی سے پہلے ایسی ہی تھی مگر اب ایسی بدل گئی ہے کبھی میں سوچتی ہوں کہ یہ وہی حنا ہے جس نے شادی سے پہلے کبھی جھاڑو کو ہاتھ نہیں لگایا تھا اورکبھی کچن کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ اب ماسی کی طرح جب تک گھر کی صفائی ستھرائی نہ کرے اسے چین نہیں آتا۔‘‘ انہوں نے فوراً کہا تو نسرین ہنس دیں۔
’’ہاں مگر حنا اور ماریہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسے دنیا کی ہر چیز سے دلچسپی ہو سکتی ہے سوائے گھر کے کاموں اورپڑھائی کے۔ ڈنڈا سر پر ہو تو کتاب کو ہاتھ لگائے گی ورنہ ایک لفظ بھی نہیں پڑھنا۔ سو سو جتن کر کے اسے بی۔ اے تک لائی ہوں۔ بڑی خواہش تھی کہ اسے پڑھائوں گی لکھائوں گی‘ کسی مقام پر پہنچائوں گی مگر واہ ری قسمت۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ ایک انڈا وہ بھی گندا۔‘‘ مجھ پر تو یہ ضرب المثل فٹ آتی ہے۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تو تجمل بھی ہنس دیں۔
تجمل نے ان کی کولڈڈرنکس اور فروٹس کے ساتھ تواضع کی تھی۔ وہ دونوں مزید ایک گھنٹہ بیٹھ کر چلے گئے تھے۔ ان کو رخصت کرتے ہوئے دائود نے شکر ادا کیا تھا۔
’’یہ خاتون… میرا مطلب ہے آپ کی یہ ہمشیرہ صاحبہ خیریت سے ہی آئی تھیں نا؟‘‘ ان کے جانے کے بعد امی کھانا تیار کر رہی تھیں وہ بھی ادھر ہی آ گیا۔
’’ہوں…‘‘ انہوں نے ہنکارا بھرا۔ اس نے بغور دیکھا وہ کچھ سوچ رہی تھیں۔
’’کیا سوچ رہی ہیں؟‘‘ فریج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگاتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔ تم بتائو تم نے اپنی شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘ روٹی توے پر ڈالتے انہوں نے اسے دیکھا تو برا سا منہ بن گیا۔
’’پلیز امی جی! آپ عام مائوں کی طرح مجھے اس سلسلے میں مجبور مت کریں۔ شادی میں اپنی پسند سے کروں گا۔ مجھے نہیں پسند آپ کی یہ بہن اور نہ ہی ان کی بیٹی۔‘‘ اس نے صاف انکار کیا تھا۔ امی دیکھتی رہ گئیں۔ ’’اور ہاں آئندہ اس موضوع پر کوئی گفتگو نہ ہو۔ میں آپ کی خاطر یہاں آیا ہوں۔ اگر آپ نے مجھے اسی طرح زچ کیا تو میں اپنا ٹرانسفر دوبارہ کوئٹہ کرا لیتا ہوں پھر کروا لیجئے گا میری شادی۔ حد ہے جب سے آیا ہوں ایک ہی لفظ سن رہا ہوں۔ شادی… شادی شادی۔‘‘ وہ غصے سے کہتا ہوا کچن سے نکل گیا۔ پیچھے وہ ہکابکا دیکھتی رہ گئیں۔ اس طرح تو وہ کبھی بھی پیش نہیں آیا تھا مگر آج… وہ سوچتی رہ گئیں۔
نسرین بیگم کو آج کل ماریہ کو ایک نیک پروین اور پڑھاکو لڑکی بنانے کا جنوں سوار ہوگیا تھا۔ ہر وقت اپنی نظریں اس پر گاڑے رکھتی تھیں۔ ماریہ جس کی گھر کے کاموں میں خاص طور پر کچن سے جان جاتی تھی۔ آج کل نسرین بیگم کے زیراعتاب آئی ہوئی تھی۔ اس کی غلطیاں سنگین ترین تھیں۔ رشتے سے انکار ایسا تھا کہ وہ چاہنے کے باوجود نظرانداز نہیں کر پا رہی تھیں۔ انہوں نے اس کی پڑھائی کا بھی شیڈول ترتیب دے دیا تھا اورساتھ ہی سختی سے وارننگ بھی کر دی تھی کہ وہ نازیہ‘ زویا کے ساتھ دس سے لے کر ایک بجے تک لائبریری جایا کرے گی اورسنجیدگی کے ساتھ اپنی پڑھائی پر توجہ دے ورنہ وہ کسی بھی ایرے غیرے کے ساتھ اس کی شادی کر کے چلتا کر دیں گی اور کبھی پلٹ کر خبر بھی نہ لیں گی۔ ماریہ واقعی ڈر گئی تھی۔ کچھ نسرین بیگم کے تیور بھی ایسے تھے کہ اس دفعہ وہ رعایت دینے کو تیار نہیں تھیں اور اس نے بظاہر خاموشی سے مان بھی لیا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ سخت جھنجلائی ہوئی تھی اور دوسری طرف انہوں نے حمزہ کی ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ وہ ان تینوں کے علم میں لائے بغیر روزانہ ان کے بعد لائبریری جایا کرے گا اور سارا دھیان رکھے گا کہ وہاں جا کر وہ پڑھتی ہیں یا پھر باتیں کرتی ہیں۔ خاص طور پر ماریہ بی بی۔ اس حکم شاہی پر وہ اندر ہی اندر تلملایا ضرور تھا مگر چچی کے سامنے انکار کرنے کی مجال نہیں تھی۔ اسی لیے آج جب وہ تینوں لائبریری روانہ ہوئیں تو وہ بھی گھر سے نکلا۔
لائبریری کا ماحول‘ وہاں کی سنجیدہ پڑھاکو فضا ماریہ کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ وہ اندر ہی اندر امی کی دی گئی اس سزا پر بل کھا رہی تھی مگر بڑی مشکل سے خود پر قابو پا تی۔ وہ کتابوں سے دوسو کوس دور بھاگنے والی لڑکی تھی مگر اب…
’’یار یہ مائوں کو اپنی نالائق بیٹیوں کو زبردستی پڑھاکو بنانے کا آخر خبط کیوں سوار ہوتا ہے؟‘‘ جیسے ہی اس کے ضبط نے جواب دیا تھا اس نے تلملا کر بوریت سے کتاب ٹیبل پر پٹختے ہوئے انتہائی بیزاری سے منہ بنا کر کہا تو نازیہ اس کی صورت دیکھ کر گھورنے لگی۔ وہ نہایت سنجیدگی سے زبردستی کتابیں ہاتھ میں لیے پڑھنے کا موڈ بنا رہی تھی۔
’’یار کتنی بور ہو تم دونوں۔ ان کتابوں کودور کرو اور مجھے بتائو میں کیا کروں؟ میں تو اس طرح سے مر جائوں گی۔‘‘ مسمسی صورت بنا کر اس نے زویا کے ہاتھ سے کتاب لے کر ٹیبل پر زور سے پٹخ دی تھی جس سے لائبریری کی خاموش فضا میں واضح ارتعاش پیدا ہوا تھا۔ اردگرد بیٹھے لوگ ڈسٹرب ہو کر ان کی ٹیبل کی طرف ایک تنبیہی نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
’’ڈوب مرو تم۔ کیسی ڈھیٹ ہو تم۔ یہاں بھی چین نہیں ہے۔ اب اگر تم بولی ناں تو میں تمہاری گردن دبا دوں گی۔ یہ لائبریری ہے کوئی پارک نہیں۔‘‘ زویا نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’اب تم میری دادی اماں بننے کی کوشش مت کرو۔ گھر میں ایک ہی دادی کافی ہے۔ حد ہوتی ہے یہ لائبریری نہ ہوئی گھر میں دادی جان کا کمرہ ہو گیا۔ یہ نہ کرو… وہ نہ کرو… چپ رہو… ہنسو نہیں… نگاہیں نیچی رکھو… یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ گھر میں میری اماں ڈکٹیٹر کا رول ادا کرتیں‘ ہر وقت میرے سر پر سوار رہتی ہیں۔ اپنی نظروں سے میرا پوسٹ مارٹم کرتی رہتی ہیں اور یہاں تم دونوں باڈی گارڈ… یااللہ میں کیا کروں؟ میری معصوم سیدھی سادی جان کہاں جائے؟‘‘
ماریہ کا انداز دہائی دینے والا تھا جب کہ الماری کی دوسری طرف پشت کیے کتاب میں سر دیے بیٹھا حمزہ جس کی ساری توجہ ادھر ہی تھی‘ ماریہ کی ساری باتیں سن کر اس کا جی چاہا کہ اس سرپھری لڑکی کا گلا دبا دے۔ اسے نہ تو گھر میں چین تھا اور نہ ہی یہاں۔ وہ تو بری طرح پھنسا تھا جو چچی کے حکم پر مجبوراً یہاں ان تینوں سے چھپ کر ان کی کڑی نگرانی کر رہا تھا۔
’’ماریہ پلیز! تم اگر تھوڑا سا پڑھ لو گی توبہت نوازش ہو گی ہم پر… بلکہ احسانِ عظیم۔ چچی جان نے یہ سب ہانکنے کے لیے تمہیں یہاں نہیں بھیجا تھا بلکہ پڑھنے کے لیے بھیجا تھا اورتم ہو کہ مسلسل بکواس کیے جا رہی ہو۔ خدا کے لیے ہماری جان بخشو کچھ پڑھ لو۔ آخری سمسٹر ہے اور تمہیں ذرا بھی احساس نہیں۔‘‘ نازیہ نے غصے سے جھنجلا کر کہا تووہ کلس کر رہ گئی۔
’’رہنے دو نازی! جب اسے خود ہی احساس نہیں تو ہم کیا کریں؟ پیپرز سر پر ہیں اور یہ ہے کہ…‘‘ بات ادھوری چھوڑ کر اس نے سر جھٹکا تو وہ تلملا اٹھی۔
’’اچھا احساس کرنے کا شکریہ اور مائنڈ اٹ بی بی! میرے سر پر پیپرز نہیں بلکہ بال ہیں۔ وہ بھی ڈیڑھ گز لمبے۔ خاندان بھر میں دوردور تک اتنے خوب صورت بال کسی اور کے نہیں صرف میرے ہیں۔ کبھی تو مثال کا درست استعمال کر لیا کرو۔‘‘ وہ بجائے شرمندہ ہونے کے مزید ہانک رہی تھی۔ نازیہ اور زویا کا جی چاہا کہ اپنا سر پیٹ لیں جب کہ حمزہ صرف دانت کچکچا کر رہ گیا۔
’’واقعی یہ لڑکی لاعلاج ہے۔ چچی جان اس طرح اس پر اتنی محنت کرنے کی بجائے اپنا کچھ وقت اس کے لیے کوئی کان سے بہرہ‘ عقل سے اندھا اور آنکھوں کا کانا ڈھونڈ کر اسے چلتا کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ سارے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے محترمہ کے۔‘‘ وہ انتہائی دلگرفتگی سے سوچ رہا تھا۔
’’تم گھر چلو میں چچی جان کو تمہاری ساری کارستانی بتائوں گی۔ وہی صرف تمہیں ہینڈل کر سکتی ہیں۔‘‘ ماریہ کے جواب میں نازیہ کی تلملاہٹ صاف سنائی دی۔
’’ہوں… جو مرضی کرو میری بلا سے تم تو ہی ہی شکایتی چوہیا۔ سڑی بسی شکل والی۔‘‘ وہ اسے مزید چڑا رہی تھی۔ نازیہ کا ضبط ایک دم چھلکا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی بھاری بھرکم کتاب اس کے کندھے پر دے ماری جو اسے لگی بھی کچھ زور سے۔
’’ہائے… ہائے… ہائے اللہ جی… اوئی میں مر گئی… کیا مار دیا ظالم… کندھا توڑ دیا ہے میرا… ہائے امی جی کتاب نہ ہوئی پتھر ہو گیا۔ اف اللہ تمہیں دیکھے۔ تمہاری پھولی غبارے کی صورت گوبھی کا سنڈیوں بھرا پھول بند جائے۔ تم اچھے رشتے کو ترسو۔‘‘بری طرح کندھے کو سہلاتے ہوئے وہ اونچی آواز میں آہ وزاری کر رہی تھی۔ ساری لائبریری میں ایک دم بھونچال سا آ گیا تھا۔ کچھ لوگ تنقیدی اور کچھ دلچسپ نظروں سے دیکھنے لگے تھے۔ لائبریرین بھی متوجہ ہو گیا۔ اس کی دل خراش صلوٰتوں والی آہ وبکا سے گھبرا کر دونوں نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ دوسری طرف حمزہ بھی تلملائے بغیر نہ رہ سکا۔
’’پلیز! یہ کیا شور مچایا ہوا ہے ساری لائبریری میں آپ نے… یہ پڑھنے کی جگہ ہے۔ اگر یوں ہی شور شرابہ کرنا ہے تو یہ تخریب کاری باہر بھی ہوسکتی ہے۔ پلیز آپ آرام سے بیٹھیں ورنہ میں آپ کے لائبریری کارڈ کینسل کر دوں گا۔‘‘ لائبریرین نے بری طرح جھڑک دیا۔ تینوں کے منہ لٹک گئے۔
’’اب تم نے اگر لب کھولے یا زبان ہلائی تو میں گھر جا کر تمہارا سارا کچا چھٹاکھول دوں گی۔ قیمہ بنا کر چیل کوئوں کو کھلا دوں گی۔ آرام سے بیٹھی رہو بہت ہو گئی عزت…‘‘ زویا نے کہا تھا بلکہ بازو دبوچ کر کرسی پر بٹھایا تھا اور وہ اس بے عزتی پر چپ ہو گئی تھی۔
وہ اردگرد دیکھتی رہی۔ کتاب میں اس کا دل لگنے والا نہ تھا۔ زویا کتاب ایشو کروا کر اس میں سے کچھ پوائنٹ نوٹ کر رہی تھی جب کہ نازیہ انگلش کی ہیلپنگ کتاب لے کر اپنے سبق کا ترجمہ کر رہی تھی۔ وہ اکتا کر لوگوں کے چہرے پڑھنے لگی۔ اسے شروع سے ہی یہ کام نہایت دلچسپ لگتا تھا۔ کتابوں کی بجائے لوگوں کو پڑھنا۔ تب ہی اگلی رو میں دوسری ٹیبل پر بیٹھے خوش لباس وخوش شکل ایک نوجوان پر نظر پڑی تھی۔ وہ بڑے غور ودلچسپی سے ادھر ہی متوجہ تھا۔ ماریہ کو اپنی طرف متوجہ پا کر اس نے اسمائل پاس کی تھی اور ہاتھ ہلا کر وہیں سے سلام جھاڑا۔ ماریہ ایک دم سٹپٹا گئی۔ وہ سب ایک عرصے سے اس لائبریری میں آ رہی تھیں۔ اس لڑکے کو پہلے کبھی نہیں دیکھا جب کہ باقی سب جانے پہچانے چہرے تھے۔ شاید یہ کوئی نیا ممبر تھا۔ اس نے کچھ گھبرا کر ادھر دیکھا‘ نظر ڈالی شاید وہ کسی اور کے لیے ہاتھ ہلا رہا ہو مگر نہیں اس لائبریری میں صرف وہی تین لڑکیاں تھیں۔ باقی سب ہی کتابوں میں غرق تھے۔ صرف وہی فارغ تھی۔ اب کی باراس نے کچھ گھور کر موصوف کو دیکھا۔ ’’اس کی مجال کیسے ہوئی ماریہ قطب الدین کو سلام جھاڑنے کی؟‘‘ وہ اب بھی مکمل توجہ سے ادھر ہی دیکھ رہا تھا بلکہ اب کی بار تو اس نے انتہا کر دی۔ باچھیں پھیلا کر وکٹری کا نشان بنا کر اسے وش کیا توماریہ کا خاندانی جوشیلا خون کھول اٹھا بلکہ جوش میں آیا۔
’’کمینہ۔ ذلیل۔ لڑکی جان کر اشارے کرتا ہے۔ اشارے باز‘ بدتمیز۔ ہمت کیسے ہوئی؟ ارے مائی کا لال ہے تو ادھر آئو۔ تمہیں پوچھوں میں۔‘‘ وہ ایک دم طیش میں آ چکی تھی۔ تلملا کر غصہ سے پھنکارتے سانس پھلا کر بڑبڑا رہی تھی۔ زویا اورنازیہ دونوں نے اس کی بڑبڑاہٹ واضح طور پر سنی اور چہرے پر چھائے غصے کو دیکھا۔
’’ہیں… خیریت… اب تمہیں یہ بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا ہے؟ اب کس بچھو نے کاٹ لیا ہے… اب کون بے چارہ ہے جسے ان مہذب گالیوں سے نوازا جا رہا ہے؟ ذرا بتانا پسند فرمائیں گی؟‘‘نازیہ نے حیران ہو کر پوچھا تو اس نے غصے سے اسے دیکھا وہ اب بھی زیرلب مسکرا رہا تھا۔ شاید وہ اس کا غصہ نوٹ کر چکا تھا۔ ایک دم کھلکھلا کر ہنسا تھا۔ ماریہ کو گویا آگ ہی لگ گئی۔
’’یہ جو سامنے ٹیبل پر بیٹھا ہے۔ یہ لڑکا کب سے اشارے کر رہا ہے مجھے۔ دیکھو دیکھو ذرا اب کیسے مسکرا رہا ہے…‘‘ بھنا کر اس نے اشارے سے کہا تو وہ لڑکا فوراً کتاب پر مسکراتے ہوئے جھک گیا تھا۔ ماریہ کا غصہ مزید بڑھنے لگا۔
’’اللہ خیر کرے۔ کس نے ہمت کر لی بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی… اور ایسا کیااشارہ کر دیا موصوف نے…؟‘‘ نازیہ نے طنز آمیز پوچھا تو وہ اس کا طنز محسوس کر کے کلس کر رہ گئی۔
’’کیسی کزنز ہوتم میری۔ ذرا پروا نہیں میری۔ غیرت نام کو نہیں۔ ایک شخص تمہاری معصوم‘ باحیا‘ شریف‘ عزت دار چچا زاد کو دن دیہاڑے اشارے کر رہا ہے اوربجائے اس کے کہ محترمہ اس کا گریبان پکڑیں الٹا طنز کے تیروں سے میرا جگر چھلنی کر رہی ہو۔ بڑی بری بات ہے۔‘‘ وہ افسوس سے سر ہلارہی تھی۔ زویا طنزاً ہنس دی۔
’’اس خوش فہمی میں مر نہ جائے کوئی۔ سنا تم نے نازیہ! معصوم… باحیا… شریف اور عزت دار۔ وہ بھی انگلش وانڈین فلمیں دیکھنے والی محترمہ… کیا شان ہے اس حیاداری کی… ایسی باحیا عزت کی…‘‘ نازیہ نے تو حد ہی کر دی تھی۔ اسے سر سے پائوں تک دیکھا۔ لاپروائی سے دوپٹہ اوڑھے ایک بازو کرسی کی پشت پر رکھے دوسرا ٹیبل پر پھیلائے نہایت لاپروا انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے کالے بالوں کی لٹیں چہرے پر جھول رہی تھیں۔ دوپٹہ آدھے سر سے ڈھلک گیا تھا۔ ایسے میں محترمہ کا عزت دار باحیا ہونے کا دعویٰ نازیہ کے حلق سے نیچے نہیں اترا تھا۔
’’نازیہ تم حد سے بڑھ رہی ہو۔ دیکھنا گھر جا کر میں تائی امی سے تمہاری شکایت کروں گی۔ بالکل پنے بھائی پر گئی ہو۔ جیسا مینڈک بھائی ویسی ہی مینڈکی بہن۔‘‘ اس کے طنز پر وہ کہہ رہی تھی۔ دوسری طرف الماری کی اس جانب بیٹھا حمزہ اس لقب پر تلملا اٹھا۔
’’آج ماریہ بی بی تمہاری خیر نہیں۔ گھر چلو ذرا ساری کسر نکالتا ہوں۔ میری الماری سے فلم نکال کر دیکھنے پر تو کبھی معاف نہیں کروں گا۔‘‘ ایک ایک لفظ کہتے اپنے غصے کو بمشکل دبا رہا تھا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ ضرور ماریہ کی دہائی پر غور کرتا لیکن اس وقت تو غصے سے براحال تھا۔
’’چلو اب واپس چلتے ہیں۔ بہت ہو گئی پڑھائی… بھوک سے میرے پیٹ میں چوہوں کا میچ شروع وہ چکا ہے۔ تم دونوں کتابیں ایشو کروا لو۔ باقی کا کام گھر جا کر کر لینا۔‘‘ اب کے اس کا انداز صلح جُو تھا۔
’’ہاں نازی! اب چلتے ہیں۔ تین گھنٹے ہو گئے ہیں یہاں آئے ہوئے۔ اب تو مجھے بھی بھوک لگنے لگی ہے۔ آج اتنا ہی کافی ہے باقی بعد میں۔‘‘ زویا نے بھی قلم بند کیا تو نازیہ نے بھی کتابیں سمیٹیں۔
’’تھینک گاڈ تم لوگوں کو مجھ پر ترس توآیا۔‘‘ وہ بھی مسکرا کر کھڑی ہو گئی۔
’’تم اب ذرا ٹھیک ہو جائو۔ کل بھی اگر تم نے یہی حرکتیں کی ناں تو چچی جان کو تمہیں اپنے ساتھ لانے سے منع کروں گی پھر جو تمہاری شامت آئے گی وہ تم جانو اور چچی جان۔‘‘ نازیہ نے تنبیہہ کی تھی۔ اس نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔
’’ویسے نازیہ! بعض اوقات چچی جان بھی حد کر دیتی ہیں۔ اب یہ نہیں پڑھنا چاہتی تو رہنے دیں۔ ان کا بس چلے تو اس کے دماغ میں کتابیں گھول کر ڈال دیں چاہے عقل آئے نہ آئے۔‘‘ زویا نے بھی رائے دی۔ وہ اسے گھورنے لگی۔
’’ساری عقل جیسے صرف تمہارے دماغ میں ہی تو ہے۔ امی کو بھی پڑھائی فوبیا ہو گیا ہے۔ ان کا بس چلے تو صبح دوپہر شام تینوں وقت کھانے میں بھی مجھے کتابیں اور نوٹس ہی تناول فرمانے کو دیں۔ اپنا سارا علم مجھ پر ہی جھاڑنے کے درپے رہتی ہیں۔ بس نہیں دل چاہتا میرا پڑھنے کو تو زبردستی کاہے کو ہے۔ اب تک تو گھسیٹ گھساٹ کر یہاں تک پہنچی ہوں۔ اس دفعہ میں نے سوچ لیا ہے کہ پکا فیل ہونا ہے اور تب تک ہونا ہے جب تک امی میرے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر لیتیں۔‘‘ اس نے بھی اپنے نیک زریں خیالات کا اظہار کیا تھا۔ وہ دونوں توسر جھٹک کر رہ گئیں مگر حمزہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا۔
’’کاش چچی جان اپنے کانوں سے اپنی دختر نیک اختر کے خیالات ملاحظہ فرما سکیں۔‘‘ وہ تینوں وہاں سے نکل گئی تھیں۔ وہ خاموشی سے انہیں جاتا دیکھتا رہا۔ جب وہ وہاں موجود رکشے پر بیٹھیں تو وہ بھی ہاتھ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔
’’شکر ہے اس عذاب سے جان چھوٹی۔ کبھی کبھار تو یہ ماریہ بھی حد کر دیتی ہے۔‘‘ کتابیں لائبریرین کو تھما کر وہ لائبریری سے نکلا تووہاں اپنی بائیک پر سوار ہوتے دائود عالم کو دیکھ کر وہ ٹھٹکا۔ ’’ارے دائود بھائی… یہاں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ وہ صرف ایک لمحے کو ہی سوچ سکا تھا۔ اگلے ہی پل وہ ان کی طرف بڑھ گیا۔
’’السلام علیکم دائود بھائی! کیسے ہیں آپ؟ اور یہاں کیسے؟‘‘ کل ہی تو وہ نسرین چچی کے ساتھ ان کے ہاں ملا تھا۔ اتنی جلدی وہ انہیں کیسے بھول جاتا۔ انہوں نے بھی حیران ہوکر دیکھا۔
’’وعلیکم السلام۔ حیرت ہے تم اور یہاں…‘‘ مصافحہ کرتے وہ خوش دلی سے ہنس دیا۔
’’بس کسی سزا کا نتیجہ ہے۔ آپ بتائیں آپ کیسے آئے یہاں؟‘‘
’’بس یوں ہی۔ یہ لائبریری گھر کے قریب ہے پھر جب تک چھٹیاں ختم نہیں ہوتیں سوچا ادھر ہی آ جایا کروں۔ بوریت بھی دور ہو جائے گی۔‘‘
’’ہوں۔ صحیح کہہ رہے ہیں آپ؟ کسی دن آئیے نا ہمارے ہاں۔ چچی جان تو کل سے آپ کا مسلسل ذکر کر رہی ہیں بلکہ وہ تو باقاعدہ آپ کو گھر بلانے کا بھی پروگرام بنا رہی ہیں۔‘‘ اس نے یوں ہی کہہ دیا تھا۔ دائود عالم کے مسکراتے لب ایک دم بھنچ گئے۔
’’اچھا دیکھیں گے۔ اس وقت میں چلتا ہوں۔ ایک دوست کے ہاں بھی جانا ہے۔‘‘
’’ضرور میں بھی چلوں گا۔ گھر جا کر چچی جان کو آپ سے ملاقات کا ضرور بتائوں گا۔ وہ بہت خوش ہوں گی۔‘‘ وہ چپ ہی رہے پھر وہ ان سے ہاتھ ملا کر خداحافظ کہہ کر وہاں سے نکل آیا تھا جب کہ دائود عالم نے کافی ناگواری سے اسے ایک رکشے میں بیٹھتے دیکھا تھا۔
’’ایک تو ہماری والدہ محترمہ بھی نا۔‘‘ اس نے بھنا کر بائیک اسٹارٹ کی۔
گھر جا کر زویا اور نازیہ نے اس کی سب حرکتوں کی رپورٹ گھروالوں کے گوش گزار کی تھیں۔ امی ورکشاپ اٹینڈ کرنے گئی ہوئی تھیں جو بچت ہو گئی تھی۔ اس نے شکر ادا کیا مگر رات کو جب انہوں نے اپنے کمرے میں بلا کر ساری کسر نکالی تو وہ سر جھکائے سب سنتی رہی کہ بولنے میں مزید شامت کا احتمال تھا۔ جب وہ بول کر خوب ڈانٹ کر تھک گئیں تووہ کرسی پر گر گئی۔
’’تم آج مجھے ایک بات صاف بتا دو۔ سدھرنے کے تم قابل نہیں ہو۔ پڑھنے سے تمہاری جان جاتی ہے۔ اب صرف ایک حل ہے کہ تمہاری شادی کر دوں۔ تجمل مجھے بہت دفعہ کہہ چکی ہے مگر میں نے ہر دفعہ انکار کیا صرف اور صرف تمہاری حرکتوں کی وجہ سے… میں نہیں چاہتی تھی کہ میں اتنی خودغرض بن جائوں مگر اب مجھے کچھ سوچنا پڑے گا… او ر یہی مجھے ایک حل نظر آتا ہے۔ سچ کہتی ہے تجمل سسرال جا کر بڑے بڑوں کی عقل ٹھکانے آ جاتی ہے۔ مگر تم…‘‘
’’امی… امی! میں نے کیا کر دیا ہے۔ آپ کے کہنے پر لائبریری جا تورہی ہوں پھر مزید کیا کروں…؟‘‘ اتنی ڈانٹ پڑی تھی کہ وہ ایک دم رو دی۔ نسرین بیگم کا جی چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے۔
’’بس بی بی! اب مجھ پر احسان مت کرنا۔ جتنے تمغے پڑھ پڑھ کے تم نے میرے سینے پر سجا دئیے ہیں وہی کافی ہیں۔ کہتی ہوں تمہارے تایا اورابا جی کو۔ اب تم میرے ہاتھوں سے نکلتی جارہی ہو۔ تجمل کا لڑکا نہیں تو کہیں بھی… کیسا بھی… جوبھی ملتا ہے بس تمہیں چلتا کریں۔ میں نہیں کر سکتی تمہاری رکھوالی۔‘‘
وہ جذبز ہو گئی۔ یہ تجمل آنٹی اسی لیے آئے دن آ کر ڈھیروں پیار کرتی ہیں اور اب امی۔ کیسے وہ انہیں سمجھائے شادی کا مطلب ہے کہ ساری زندگی کو جہنم بنانا۔
’’امی پلیز! دیکھیں آئندہ جو بھی کہیں گی کروں گی۔ بس شادی کی بات نہ کریں۔‘‘ وہ باقاعدہ روہانسی ہو گئی۔ آگے بڑھ کر امی کے کندھوں کو تھاما۔
’’شادی یا پڑھائی… جو آسان لگتا ہے سوچ لو۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ کم ازکم تمہیں ماسٹرز تو کروا ہی لوں گی لیکن بی اے میں تمہارا یہ حال ہے۔ سارے ارادے ملیامیٹ کر دیئے ہیں تم نے۔ بس بی اے مکمل کرو۔ بہرحال شادی تو کرنی ہی ہے۔‘‘ انہوں نے جیسے اسے باندھ دیا تھا۔ نہایت بے چارگی سے اس نے انہیں دیکھا۔ ’’تمہارے پاس سوچنے کووقت ہے۔ اگر پڑھائی چھوڑو گی تو گھر سنبھالنا ہو گا یہ بھی ذہن میں رکھنا۔‘‘ وہ اسے فیصلہ سنا کر کمرے سے نکل گئیں تووہ بے بسی سے خالی کمرے کو دیکھتی رہ گئی۔

نازیہ سے بڑی نور باجی جن کی شادی پھوپو کے بیٹے زواربھائی کے ساتھ لاہور میںہوئی تھی۔ زوار بھائی جو کہ کسی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ ان کے کام کی نوعیت فیلڈورکنگ کی تھی۔ آج وہ اس شہر میں تو کل کسی اور شہر میں۔ ایسے میں نور باجی‘ پھوپو اور فیملی کے ساتھ لاہور رہتی تھی۔ نور باجی کی جب سے شادی ہوئی تھی۔ وہ ہربار آ کر اپنی شادی کا رونا روتی رہتی تھیں۔ زویا اور نازیہ پر اس قدر اثر نہیں ہوا تھا جس قدر ان کی باتوں کا اثر ماریہ نے لیا تھا۔ اسی لیے وہ نور باجی کی دہائیاں سن کر اندر ہی اندر ہولتی رہتی۔ اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا اتنی جلدی شادی نہیں کروانی۔ اگر کروانی ہے تو کبھی شوہر کی خدمت نہیں کرنی‘ سسرال کے جھنجٹ نہیں پالنے۔ کوئی کام نہیں کرنا۔ کچھ نور باجی کو بھی بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی عادت تھی۔ بظاہر اپنے گھر میں خوش باش ہی نظر آتی تھیں مگر اس کا اثر ماریہ پر کچھ زیادہ ہی تھا۔
ماریہ کے نزدیک پھوپو ہونے کے باوجود نور باجی کی ساس صرف ساس تھیں جو کہ نور باجی جیسی نازک مزاج لڑکی سے سارے گھر کے کام کرواتی تھیں اور ان کے شوہر زوار بھائی بھی ایسے ظالم تھے کہ اپنی پیاری سی خوب صورت نازک مزاج دلہن کو گھر والوں پر چھوڑ چھاڑ کر خود سیر سپاٹے کرتے رہتے تھے جنہیں اپنی بیوی کا ذرا بھی احساس نہیں۔ ماریہ کے نزدیک تو نور باجی دنیا کی مظلوم ترین لڑکی تھیں جن کے نازک کندھوں پر سارے گھر کی ذمہ داری تھی اور یہ ان پر بہت بڑا ظلم تھا۔ آج کل وہ امید سے تھیں بلکہ ان کے ہاں بچے کی ولادت تھی۔ رات کو فون کر کے اپنی ذمہ داریوں کا رونا رو کر انہوں نے دادی جان اورتائی جان سے پرزور التماس کی تھی کہ نازیہ یا کسی اور کو ان کے ہاں بھیج دیں۔ تائی امی کا خون فوراً جوش میں آیا تھا۔ وہ سارے گھر کی ذمہ داری نسرین بیگم اور عذرا چچی پر ڈال کر نازیہ کو ساتھ لیے فوراً روانہ ہو گئی تھیں۔ اب گھر میں وہ اور زویا تھیں۔ بڑی بھابی بھی اپنے میکے پرسوں سے جا چکی تھیں۔ چھوٹی تو پہلے ہی گئی ہوئی تھیں۔ ایسے میں گھر کا سارے کاسارا کام چچی کے ذمے تھا۔
صبح کا سارا چارج انہوں نے ہی سنبھالا ہوا تھا جب کہ رات کی ذمہ داری نسرین پر تھی اور باقی ذمہ داریاں تائی جان پر تھیں۔ ان کے جانے سے یہ کام اس پر اور زویا پر آ پڑے تھے۔ دادی جان تو حکم چلانے کے علاوہ پہلے بھی کچھ نہیں کرتی تھیں۔ اب بھی کچھ نہیں کرتی تھیں۔ ایسے میں ماریہ کی شامت آئی ہوئی تھی۔ اسے کچھ نہیں کرنا آتا تھا۔ اب پھنسی ہوئی تھی۔ جھاڑو لگاتی تو کوڑا پیچھے اور جھاڑو آگے ہوتی تھی۔ جھاڑ پونچھ کا بھی یہی حال تھا۔ زویا کو وہی کام دوبارہ کرنا پڑتا تھا لیکن وہ مجبور تھی۔ نسرین چچی کی سختی سے تاکید تھی کہ اسے عادت ڈالنی چاہیے۔ چھوٹے موٹے کام کرنے کی۔ اب بھی اسے کچھ نہ سکھایا گیا تو وہ ساری زندگی کچھ نہیں کرے گی۔ ان کی کڑی نظریں ہر وقت ماریہ پر ہوتی تھیں۔ ان کا بس چلتا تو وہ سب کچھ گھول کر اسے پلا دیتیں۔
اس دن بھی کام سے فارغ ہو کر دونوں تیار ہوکر لائبریری چلی آئی تھیں۔ اب وہ لڑکا روزانہ تو نہیں البتہ ایک دو دن بعد ضرور آتا تھا۔ اسٹائل اس کا اب بھی وہی ہوتا تھا۔ حرکتیں بھی وہی تھیں۔ اشاروں سے ابھی تک آگے نہیں بڑھا تھا۔ ماریہ کو یقین تھا جس دن بھی اشاروں سے زبان تک آیا اسی دن اس کا ضبط چھلک جائے گا۔ دو دن سے وہ نہیں آتا تھا۔ آج ہی آرہا تھا اور حیرت کی بات تھی اس بار بغیر کوئی اشارہ کیے‘ سلام جھاڑے یا اسمائل پاس کیے آرام سے بیٹھا رہا تھا۔ ماریہ کی نظر جب بھی اٹھی اسے اپنی طرف متوجہ مگر سوچتا ہی پایا۔ ماریہ اور زویا دونوں کواس کا یہ انداز دیکھ کر شدید حیرت ہوئی۔
’’مجھے تو یہ چور فراڈیا لگتا ہے۔‘‘ زویا نے رائے دی۔
’’اور مجھے لگتا ہے آج کہیں سے پٹ کر آیا ہے۔ ایسے لڑکوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ ویسے زوئی! موصوف کا ذرا حلیہ تو ملاحظہ کرو۔‘‘ اس کا رف سا حلیہ دیکھ کر ماریہ نے اسے کہا تووہ سر ہلا گئی۔
’’واقعی آج تو یہ معمول سے ہٹ کر آیا ہے ورنہ روز یہ سوٹڈ بوٹڈ ہوتا تھا۔ شاید یہ بھی اس کا اسٹائل ہو‘ تمہیں متاثر کرنے کا… ویسے ایمان سے ماریہ اس حلیے میں بھی کسی ہیرو سے کم نہیں۔‘‘ وہ آخر میں اسے شرارت سے دیکھنے لگی تو اس نے آنکھیں دکھائیں۔
’’اب آنکھیں تو نہ دکھائو۔ بالکل بھینگی لگ رہی ہو۔ تم مان لو یہ بندہ ہے بڑا ہینڈسم۔‘‘ اسے نظروں سے بغور جانچتے وہ سراہ رہی تھی۔ ماریہ کاجی چاہا زویا کا سر پھوڑ دے۔
’’جب بھی بات کرنا میرے خلاف ہی کرنا۔ بندہ ہینڈسم ہے تو میری بلا سے۔ مجھے تو زہر لگتا ہے یہ شخص۔‘‘ وہ دانت پیسنے لگی۔ زویا سے اپنی ہنسی روکنا محال ہو گیا۔
’’اب تم زیادتی کر رہی ہو۔ بالکل ہیرو لگتا ہے ویسے بھی اس بے چارے کا قصور اتنا بڑا بھی نہیں۔ تمہیں صرف سلام جھاڑتا ہے‘ مسکرا دیتا ہے یا پھر دیکھ لیتا ہے۔ یہاں روز آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے دسیوں لوگ مسکرا کر سلام لے لیتے ہیں۔ وہ بے چارہ بھی لے لیتا ہے تو کیا جرم کر لیتا ہے۔ اس پر اتنا غصہ کرنے کی ضرورت کیا ہے…‘‘ اسے مسلسل شرارت سوجھ رہی تھی۔ ماریہ کو شدت سے نازیہ کی یاد آئی۔ ایسے میں اس کی ایک ہلکی سی تنبیہہ ماریہ کا سارا غصہ ختم کر دیتی تھی جب کہ یہ زویا اس کا جی چاہا کتاب اس کے سر پر دے مارے۔
’’اب تم مجھے یہ مت سکھائو کہ وہ کیا کر رہا ہے کیا نہیں… بس میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ غلط حرکت کررہا ہے۔ یہاں آنے والے اوربھی بہت سے لوگ ہیں جو روز سلام لیتے ہیں یا مسکراتے ہیں۔ ان کا انداز مہذبانہ ہوتا ہے۔ ا س کی طرح اشارے نہیں کرتے۔ وہ بھی صرف ایک کو ہی‘ سب پر مشترکہ سلامتی بھیجتے ہیں۔‘‘ ماریہ نے جل کر کہا تھا۔
’’مرو تم میں جا کر کہہ دیتی ہوں۔ بھائی صاحب… یہ لڑکی آپ پر کچھ زیادہ ہی فدا ہو گئی ہے۔ اس پر بھی نظرکرم کر لیجئے۔ آپ کے سلام کی منتظر ہے۔ اس کو بھی سلام سے نواز دیا کریں۔‘‘
’’ہائے۔ اپنی ایسی قسمت کہاں؟ اور پھر ہو سکتا ہے صرف ایک ہی اس کی نظر میں جچتی ہواور وہ صرف ایک ہی کو سلامتی کے قابل سمجھتا ہو۔‘‘ وہ مسلسل اسے چھیڑ رہی تھی۔
’’میں اب لائبریری نہیں آئوں گی۔ امی کو بھی سب بتا دوں گی… سمجھیں تم…؟‘‘ اس نے چیخ کر کہا تھا۔ اردگرد موجود لوگ فوراً متوجہ ہوئے اوروہ بھی ہوا تھا پھر ماریہ کو دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔ ماریہ جھلس اٹھی۔ ایک دم غصے نے آ لیا۔ زویا کا خیال کیے بغیر فوراً کتابیں اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔
’’بری بات ہے۔ اتنی بڑی ہوکر بھی بالکل بچوں کی طرح جھگڑتی ہیں آپ تو… میرا خیال ہے لائبریری میں ایسی تخریب کاری اچھی نہیں لگتی… سنا آپ نے…‘‘
زویا ہائے ہائے کر رہی تھی جب وہی لڑکا اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے پاس سے گزرتے کہہ رہا تھا۔ دونوں نے حیران ہو کر دیکھا۔ ماریہ گھورنے لگی۔ اس کی اتنی جرأت۔‘‘
’’اے مسٹر!‘‘ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا اس نے اسے پکارا تھا۔
’’تھینک گاڈ آپ کی چپ تو ٹوٹی۔‘‘ وہ بھی بلاکی چیز تھا۔ وہ پکار کر پچھتائی۔
’’جی کہیے کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی؟‘‘ ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ بمشکل روکے کہہ رہا تھا۔
’’ہونہہ تم میری خدمت کرو گے۔ اتنے دنوں سے سب برداشت کر رہی ہوں تو یہ میری شرافت ہے۔ ورنہ تمہیں پہلے دن ہی بتا دیتی کہ تم جیسے لوگوں کا کیا انجام ہوتا ہے اوراس وقت تمہیں کیا تکلیف ہوئی ہم جھگڑیں یا مریں تمہیں اس سے کیا… تم کون ہوتے ہو ہمیں ٹوکنے والے…؟‘‘ وہ اونچی آواز میں کہہ رہی تھی۔ اردگرد کے لوگ بھی متوجہ تھے۔ زویا توایک دم پریشان ہوگئی۔
’’میرا خیال ہے ہم باہر چل کر بات کر لیتے ہیں۔ یہ زیادہ بہتر ہے ۔ میں باہرہوں آ جائیے گا۔‘‘ وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ وہ ہکابکا دیکھتی رہ گئی۔
’’بدتمیز۔‘‘ وہ کڑھ رہی تھی پھر کتابیں اٹھا کر لائبریرین کو تھام کر باہر نکل آئی تھیں۔ وہ ادھر ہی لائبریری کے باہر ٹہل رہا تھا۔ اس نے ایک زہریلی نگاہ اس پر ڈالی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے نظرانداز کر کے آگے بڑھتیں وہ خود ہی ان کی راہ میں آ گیا۔
’’جی اب کہیے… کیا فرما رہی تھیں آپ اندر…؟‘‘ سینے پر بازو لپیٹے وہ کھڑا تھا۔ ماریہ نے بے بسی سے زویا کو اور پھر اسے گھورا۔
’’دیکھو مسٹر! تم جو بھی ہو‘ جو بھی چاہتے ہو… زیادہ ہینڈسم بننے کی تمہیں ضرورت نہیں۔ میں اگر برداشت کر رہی ہوں تو یہ میری بڑائی ہے ورنہ روزروز جو تم حرکتیں کر رہے ہو‘ میری جگہ کوئی اورہوتی تو کب تک تمہارے حواس ٹھکانے آ چکے ہوتے۔ میں سمجھ رہی تھی کہ شاید تم صرف انجوائے منٹ کے لیے یہ کر رہے ہومگر… میں تمہارے منہ تک نہیں لگنا چاہتی۔ سیدھی طرح سے اپنا رستہ ناپو سمجھے…‘‘ اس کے یوں ڈھٹائی سے اکڑ کر اس کے سامنے کھڑا ہونے پر برداشت نہیں کر پائی تھی۔ اسی لیے جو منہ میں آیا کہتی گئی۔ جواباً وہ مسکرایا تھا۔
’’محترمہ! میں ہینڈسم بننے کی کوشش نہیں کر رہا… میں واقعی ہوں اوراگر میں اپنا رستہ نہ ناپوں تو…؟‘‘ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر عیاں تھی۔ ماریہ کا جی چاہا کہ اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ نوچ لے۔
’’ایسے لوگوں کے منہ لگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ خوامخواہ اپنا تماشا بنانے والی بات ہے۔‘‘ زویا نے اس کا بازو پکڑا تو وہ گھور کر رہ گئی۔
’’اسی وجہ سے تو میں اب تک خاموش تھی اوریہ شخص حد سے بڑھتا چلا گیا ہے۔‘‘ وہ کہے بغیر نہ رہی۔
’’دیکھیں مِس ماریہ! اب کے آپ ناانصافی کر رہی ہیں۔ آپ کو صرف میں اسی تماشے سے بچانا چاہتا تھا جو خاموش تھا ورنہ کب کا کلام کر چکا ہوتا۔‘‘ وہ اب ایک دم سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
’’تم… تم… میرا نام کیسے جانتے ہو؟‘‘ وہ ایک دم سٹپٹا گئی۔ ’’آخر تم کون ہو؟ اور ہمارے ہی پیچھے پڑ گئے ہوکیوں؟‘‘ وہ کہے بغیر نہ رہی تھی۔
’’ہاں یہ سوال کیا عقل مندوں والا۔‘‘ وہ ایک دفعہ پھر مسکرا دیا۔
’’میرا نام دائود عالم ہے۔ پہلے دن یوں ہی ادھر آیا تھا۔ آپ تینوں کو دیکھا۔ آپ کی حرکتیں مجھے اچھی لگیں۔ مجھے ایسی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں جو ہر وقت دادی اماں کا رول ادا کرنے کی بجائے نیچرل ہوں اورماریہ آپ بالکل ایک نیچرل لڑکی لگی تھیں مجھے۔ اسی لیے آپ کو دیکھ کر سلام کر لیا تھا اورپھر مجھے اس میں مزا آنے لگا۔ میرا مقصد صرف آپ لوگوں کے تاثرات نوٹ کرنا تھا اور جب آپ تینوں مل کر مجھ پر تبصرے کر رہی ہوتی تھیں‘ مجھے اچھا لگتا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ مزید کچھ ہومگر آپ لوگوں کی احتیاط دیکھ کر میں نے مزید کوئی حرکت نہ کی… مگر آج یوں ہی ماریہ بی بی کو دیکھ کر زبان پھسل گئی تھی اورآپ لوگوں نے بھی حد کر دی۔‘‘ وہ اب مسکرا رہا تھا۔ ماریہ اسے گھور بھی نہ سکی۔
’’میں اتنی بے وقوف نہیں جو آپ کی باتوں میں آ جائوں۔‘‘ ماریہ کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا۔
’’ارے واقعی۔ میں تو یہ بھول گیا تھا کہ میں ایک عقل مند خاتون سے مخاطب ہوں۔‘‘ ماریہ جزبز ہوئی۔ وہ بظاہر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا لیکن لہجے کا اتارچڑھائو‘ آنکھوں کی شرارت اور ہونٹوں سے چھلکتی مسکراہٹ دونوں سے مخفی نہ تھی۔ وہ اب جی کھول کرانہیں زچ کر رہا تھا۔
’’شٹ اپ۔ بھاڑ میں جائو تم۔آئندہ تم نے ایسی حرکت کی نا تومیں تمہارا سر پھوڑ دوں گی۔ سنبھال کر رکھو اپنا سلام‘ مسکرانا اور داد دینا۔ سمجھے تم۔ چلو زویا۔‘‘ اسے کینہ توز نظروں سے گھورتی زویا کا بازو تھام کر وہ تیزتیز قدم اٹھاتی اپنے راستے پر ہولی جب کہ دائود عالم ان دونوں کو رکشے میں بیٹھ کر نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھتا رہا۔
’’لڑکی واقعی بہت تیز ہے۔‘‘ مسکرا کر وہ اپنی بائیک کی جانب ہو لیا۔
حنا کوئٹہ واپس چلی گئی تھی۔ دراصل اس کے یہاں سسرالی رشتے دار تھے۔ ویسے تو اس کی شادی کوئٹہ میں ہوئی تھی اور وہیں رہتی تھی۔ چھٹیاں گزارنے یہاں آئی تھی۔ اب چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں تووہ چلی گئی تھی جب کہ جبین یہیں بیاہی گئی تھی۔ وہ ہر دوسرے دن آ جاتی تھی اورجب بھی آتی۔ ’’شادی کب کرو گے؟‘‘ کی گردان کرتے دائود کا دماغ کھاتی رہتی تھی۔ تنگ آ کر اس نے گھر سے باہر وقت گزارنا شروع کر دیا تھا۔ امی تو باقاعدہ ناراض تھیں۔ اس نے نسرین آنٹی کی بیٹی کے لیے صاف انکار جو کر دیا تھا۔ وہ اپنی ناراضگی کے تاثر سے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش میں تھیں مگر اس نے سوچ لیا تھا۔ وہ بلیک میل نہیں ہو گا۔
صبح وہ آفس چلا جاتا۔ درمیان میں کچھ وقت نکال کر وہ لائبریری کا چکر ضرور لگاتا تھا۔ اس نے جو مذاقاً دل لگی شروع کی تھی اب واقعی دل کی لگی بن گیا تھا۔ آج کل وہ روز چکر لگا رہا تھا مگر وہ تینوں نہیں آ رہی تھیں۔ اس دن جب دونوں کی آمنے سامنے مڈبھیڑ ہوئی تھی اس کے بعد وہ صرف ایک ہفتہ دونوں آئی تھیںمگر اس کے بعد انہوں نے آنا چھوڑ دیا تھا۔ شروع میں وہ یہی سمجھا کہ وہ اس کی وجہ سے نہیں آ رہی ہیں مگر اب جیسے ہی اگلا ہفتہ شروع ہوا تھا ان کے نہ آنے پر‘ دائود کو تشویش لاحق ہو گئی تھی۔ وہ کیوں نہیں آ رہیں؟ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ لائبریرین سے ان کے متعلق معلومات حاصل کر کے کم ازکم گھر کا ایڈریس ہی لے لے مگر ہر بار یہ سوچ کر ٹال جاتا تھا کہ شاید وہ آج آ جائیں مگر ہر بار ناکامی ہورہی تھی۔
تاہم اس نے اب پکاارادہ کر لیا تھا کہ وہ آج کل میں ضرور معلومات حاصل کر لے گا۔ آج بھی آفس سے آنے کے بعد وہ باتھ لے کر جیسے ہی لائونج میں آیا۔ امی نے اسے دیکھ کر منہ پھلا لیا۔
’’یااللہ یہ میری زندگی میں ’م‘ نام کی لڑکی ہی کیوں آ گئی۔ کوئی اورکیوں نہیں آئی۔ ایک ’م‘ نے جان عذاب میں کی ہوئی ہے تو دوسری نے دل کی حالت میں انقلاب برپا کیا ہوا ہے۔ بندہ جائے تو جائے کہاں؟‘‘ وہ سوچ کررہ گیا۔
’’میری پیاری امی! کیا کررہی ہیں؟‘‘ وہ جبین کے ساتھ کچن میں تھیں۔ وہ بھی وہیں آ گیا۔ انہوں نے اسے دیکھ کر رخ بدلا تو وہ مسکرا کر آگے بڑھا۔
’’بات نہیں کرو مجھ سے۔‘‘ انہوں نے اس کے بازو ہٹائے جو دائود نے ان کے کندھے پر رکھے ہوئے تھے۔
’’تو پھر کس سے کروں؟ میرا خیال ہے بابا سے کہہ دیتا ہوں۔ میرے لیے ایک امی کا انتظام کر دیں۔ آپ تو لفٹ نہیں دے رہیں۔ شاید ان کوہی ترس آ جائے۔‘‘ بھولی صورت بنا کر کہا گیا تھا۔ جبین قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ امی نے ہاتھ میں پکڑا چمچہ اس کے کندھے پر دے مارا۔
’’اپنے لیے تو راضی نہیں ہوتے۔ باپ کی کروانے کے لیے تیار ہو۔‘‘ انہوں نے خفگی سے دیکھا۔
’’قسم سے بالکل تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ لڑکی میری مرضی کی ہو۔‘‘ اس نے ایک دم کہا تو امی نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا۔ جبین بھی متوجہ ہو گئی۔
’’لگتا ہے کوئی نظر میں ہے۔…؟‘‘ جبین نے پوچھا تھا۔ وہ ہنس دیا۔
’’ہاں مگر ابھی مجھے خود بھی مکمل معلومات حاصل نہیں۔ جیسے ہی علم ہوا آپ کو پہلی فرصت میں اطلاع دوں گا۔ باقی کا کام تو آپ ہی کریں گی بلکہ امی خود جائیں گی اس لڑکی کے گھر…‘‘ اگلے ہی پل وہ سنجیدہ ہو کر بتا رہا تھا۔ امی نے ایک گہری سانس لی۔
’’تمہیں ماں کی کیا ضرورت ہے؟ جب ماں کی خواہش کی کوئی اہمیت نہیں تو پھر اس کے وجود کی بھی ضرورت نہیں۔ مالک ہوخودمختار ہو۔ سب کر سکتے ہو تم۔‘‘ وہ بھری بیٹھی تھیں۔ وہ ایک دم پریشان ہوا۔
’’امی پلیز! کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟ کیا آپ زبردستی کرنا چاہتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر اس کے بعد جوہو گا اس کا الزام بھی مجھے مت دیجئے گا جب میرا دل نہیں مانتا تو زبردستی ہے کیا؟‘‘ وہ فوراً سنجیدہ ہوچکا تھا۔ جبین اور امی بھی چپ ہو گئیں۔
’’کون ہے وہ لڑکی جس کی خاطر تم یہ سب کر رہے ہو…؟‘‘ انہوں نے پوچھا توان پر ایک شکایتی نظر ڈال کر باہرکی جانب بڑھا۔
’’کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس کا انداز غصے والا تھا۔ جبین فوراً سامنے آ ئی تھی۔
’’کتنی بری بات ہے…؟ اتنی سنجیدہ گفتگو اس انداز میں نہیں کرتے… ادھر بیٹھو آرام سے بات کرو۔ توبہ کتنے جھگڑالو ہو گئے ہو تم… امی کو تمہاری خواہش عزیز ہے۔ بس وقتی غصہ ہے۔ تم تو عقل مند بنو۔‘‘ جبین نے زبردستی اس کا بازو پکڑ کرکچن کی کرسی پر لا بٹھایا۔
’’میں دشمن نہیں ہوں اس کی۔ اگر یہ راضی نہیں تونسرین نے بھی انکارکر دیا تھا مگر میری خواہش تھی کہ وہ لڑکی میری بہو بنے۔ ابھی پرسوں ہی میں اس کے گھر گئی تھی۔ یوں ہی بات چلی تو بتانے لگی کہ وہ ماریہ کا رشتہ دیکھ رہی ہے ۔ میں تو چپ رہی… کتنی خواہش تھی میری… مگر نسرین نے تو صرف اس لیے انکار کیا تھا کہ کہیں دوستی اور رشتہ داری میں فرق نہ آ جائے… مگر میں…‘‘ وہ چپ ہو گئیں تو دائود کواحساس ہوا وہ تو خوا مخواہ ان سے الجھ بیٹھا ہے۔ اس نے اندر ہی اندر خود کو لعنت ملامت کی۔
’’ایم سوری امی! دیکھئے گا اس لڑکی کا نام بھی ماریہ ہے۔ وہ بھی بہت اچھی ہے۔ آپ اس سے جب ملیں گی تو بہت خوش ہوں گی۔‘‘ وہ ایک دم کہہ بیٹھا تھا۔
’’کیسے لوگ ہیں وہ؟‘ انہوں نے پوچھا تھا۔
’’مجھے زیادہ علم نہیں۔ بس آج کل میں پتہ کر لوں گا۔ دراصل لائبریری میں اسے دیکھا تھا۔ آج کل ہفتہ ڈیڑھ ہو گیا ہے وہ لائبریری نہیں آ رہی پھر جیسے ہی اس کے متعلق تفصیلی علم ہوا آپ کو بتا دوں گا بلکہ اس کے گھر لے کر جائوں گا۔‘‘ وہ خوش تھا۔ امی نے ایک گہری سانس لی۔ وہ خوش تھا تو وہ پھر کیوں ناراض ہوتیں۔ زبردستی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجالی۔
’’ٹھیک ہے تم جلدی معلومات حاصل کرو۔ اب میں دیر نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ انہوں نے ہاں کر کے دائود کا جیسے دل جیت لیا تھا۔
’’تھینک یو امی! تھینک یو سومچ۔‘‘ وہ ایک دم ان کے گلے لگ گیا تھا۔

نور باجی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تھا۔ دادی جان کے ساتھ ساتھ حمزہ اور ماریہ سب جا رہے تھے۔ ان سب کو تایا جان لے کر جا رہے تھے۔ بڑی پھوپو کے ہاں وہ لوگ بہت کم آتے تھے پھوپو ویسے تو اچھی تھیں مگر جب سے نور باجی کی ساس بنی تھیں ماریہ کے نزدیک مشکوک ہوگئی تھیں۔ اس لیے ماریہ کو ان کی بے تحاشا محبت بھی بناوٹ محسوس ہوتی تھی مگر ان کے ہاں آ کر اسے اپنی رائے بدلنا پڑی۔ وہ تو بہت محبت کرنے والی ہستی تھیں۔ نور باجی کو تو پلنگ سے نیچے پیر نہیں رکھنے دیتی تھیں۔ کھانا پینا‘ دھونا دھلانا سب انتظام بستر پر ہی کرتی تھیں۔ ایسے میں وہ حیران ہو جاتی۔ نور باجی سچ کہتی تھیں یا پھر پھوپو ہی ڈرامہ باز ہیں جو ان کے سامنے یہ سب کرتی ہیں۔ زوار بھائی بھی آج کل اپنے شہر میں تھے۔ بہت زیادہ شوخ نہیں تھے‘ سنجیدہ متین تھے لیکن ان سب سے بہت خوش دلی سے ملے تھے۔ ماریہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کون صحیح ہے؟ نور باجی یا زوار بھائی…؟
’’نور باجی! آپ تو کہتی تھیں کہ پھوپو بڑی ڈکٹیٹر ساس ہیں اور زوار بھائی بڑے ظالم شوہر ہیں جب کہ مجھے تو سب کچھ برعکس محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ ایک دن وہ انہیں کہہ بیٹھی۔ وہ ہنستی چلی گئیں اور وہ حیران ہو کر انہیں دیکھے گئی۔
’’تم بھی بدھو ہو۔ بھئی میں تو تم لوگوں پر رعب جمارہی تھی تاکہ تم لوگ ذرا ہوشیار ہو جائو۔ دراصل جب شادی ہوئی تھی تب مجھے شادی کے بعد کی زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا پھر میں تمہاری طرح نازک مزاج تھی۔ میرا خیال تھا کہ شادی کا مطلب ہے اچھے کپڑے پہننا‘ کھانا پینا‘ دعوتوں میں جانا اور سیر سپاٹے کرنا۔ شادی کے شروع کے دنوں میں یہ سب چلا بھی مگر جیسے ہی دلہناپے کے دن گزرے گھر کی ذمہ داریاں کندھوں پر آ پڑیں تومیں بوکھلا گئی۔ زوار سنجیدہ مزاج شخص تھے۔ وہ پریکٹیکل بندے تھے۔ پھوپو بھی خالص گھریلو خاتون تھی اور مجھ میں سوائے ذہانت اور ڈگریاں اکٹھا کرنے کے اور کوئی خوبی نہ تھی۔ ایسے میں‘ میں لمحہ لمحہ پریشان ہوئی۔ ہر دفعہ پریشان ہوکر امی ابو کو فون کرتی تو وہ ڈانٹ دیتیں اورسنجیدگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی نصیحت کرتی تھیں۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ تم لوگوں میں پریکٹیکل زندگی کا احساس پیدا ہو۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھریلو زندگی پر بھی توجہ دو اور تم توہو ہی میری طرح نازک مزاج اسی لیے میں تمہیں زیادہ ڈراتی تھی اور تم الٹا سمجھتی گئی۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر وضاحت کی تووہ سر پکڑ کر رہ گئی۔
’’آپ مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھیں۔ میں تو اتنا ڈر گئی تھی کہ مجھے تو شادی کے لفظ سے ہی خوف آنے لگا تھا۔ پچھلے ماہ ہی ایک رشتہ آیا تھا۔ کچھ مت پوچھیں کیا کیا حرکتیں کر کے بھگایا تھا اور تو اور آپ کو یاد ہو گا امی کی کزن تجمل آنٹی ہیں ناں ان کا بیٹا دائود عالم اس کی بھی بات گھر چلی تھی مگر میں نے امی پر ایسا تاثر ڈالا کہ انہوں نے خود انکار کیا تھا۔‘‘ وہ منہ بنا کر بتا رہی تھی۔ نور باجی کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔
’’بری بات۔ جو لڑکی رشتہ بھگا سکتی ہے وہ اتنی بدھو نہیں ہوسکتی۔ ویسے مجھے تمہاری سب حرکتوں کی رپورٹ ملتی رہی تھی۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ تم یہ سب میرے تجربے سے سیکھ رہی ہو۔‘‘ ان کے ساتھ ساتھ وہ بھی ہنس دی۔
’’دیکھ لیں۔ آپ مت جھوٹ بولیں۔ مجھے ڈر تھا جب پھوپو سگی ہو کر اس قدر آپ پر ظلم کر سکتی ہیں تو دوسرے لوگوں سے تو امید ہی نہیں رکھنی چاہیے۔ اس میں بھی ہمارا ہی قصور ہے۔ میں تو بہت کم لاہور آئی ہوں۔ اسی لیے مجھے پھوپو کی فیملی کے بارے میں کم ہی انفارمیشن حاصل ہے۔‘‘
’’چلو اب تو حاصل ہوگئی نا۔ اب جو بھی رشتہ آیا پہلی فرصت میں ہاں کر دو۔ تم تو ویسے بھی پڑھائی سے جلتی ہو۔ ایک واضح بہانہ لیے تمہارے ہاتھ جب ذمہ داری پڑے گی تو سب سیکھ جائو گی میری طرح۔‘‘
’’نہ بابا نہ۔ آج کل امی اسی سازش میں لگی ہوئی ہیں۔ ابھی چند سال تو بالکل بھی نہیں۔ پہلے ہی بڑی مشکل سے امی کا دماغ ؔآنٹی تجمل کے بیٹے سے ہٹایا ہے لیکن آج کل وہ بوا رحمت کے ساتھ مل کر کوئی کھچڑی پکا رہی ہیں۔ اللہ نہ کرے انہیں کوئی لڑکا پسند آئے۔‘‘ اس نے کانوں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگی تھی۔ نور باجی ہنس دیں۔
نور باجی کے ہاں وہ بہت خوش تھی۔ پڑھائی سے جان چھوٹی ہوئی تھی۔ روز کہیں نہ کہیں جانے کا پروگرام بنتا تھا۔ وہ صرف ڈیڑھ ہفتہ وہاں رہ پائی تھی کہ حمزہ اورتائی جان نے واپسی کا ارادہ باندھا۔ امی نے فون کر کے اسے ان کے ہمراہ ہی واپس آنے کی سختی سے تاکید کی تھی۔ اس کا دل تو نہیں مانتا تھا مگر انکار کا کوئی سبب نہ تھا سومجبوراً تائی اورحمزہ کے ساتھ ہی واپس آ گئی تھی۔ امی نے اسے لائبریری جانے کو نہیں کہا تھا۔ اس نے بھی تنہائی کا بہانہ کر کے خود کو گھر میں مصروف رکھا تھا۔
اس دن امی کے ورکشاپ میں چلے جانے کے بعد وہ لائونج میں میگزین لے کر بیٹھ گئی۔ چچی جان اوردادی جان دونوں سونے کے لیے اپنے اپنے کمروں میں گھس گئیں تو گھر پر وہ بالکل تنہا تھی۔ کل بیل ہوئی تواسے مجبوراً اٹھنا پڑا۔ حمزہ تھا اس نے دروازہ کھول کر یہ دیکھے بغیر کہ اس کے ساتھ اورکون ہے۔ دوبارہ اندر کی طرف قدم بڑھا ئے اور دوبارہ اپنی جگہ پر آ کر میگزین کھولتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ حمزہ تنہا نہیں اس کے ساتھ کوئی اوربھی ہے کیونکہ لائونج کے دوسرے حصے سے دونوں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ دراصل یہ ایک بڑا ہال کمرہ تھا۔ اتنی بڑی فیملی میں کمروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس ہال کمرے کو درمیانی چھت سے لے کر زمین تک پردہ لگا کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک حصہ لائونج کے طور پر کام آتا تھا تو دوسرا ڈرائنگ روم کے طور پر اجنبی مہمانوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اکثر حمزہ کے دوست احباب آتے رہتے تھے۔ وہ نظرانداز کیے بیٹھی رہی۔
’’ماریہ! فٹافٹ اٹھو۔ میرا ایک اہم مہمان ہے۔ پلیز کھانے پینے کو کچھ لے آئو۔‘‘
وہ جو گھر کے کاموں سے پہلے ہی خار کھائے بیٹھی تھی۔ آج امی کی نگرانی میں ساری صفائی اسی نے کی تھی اور اس وقت سے مسلسل کڑھ رہی تھی۔ اب تو آہستہ آہستہ اسے صفائی کرنا بھی آتی جا رہی تھی۔ اب کہیں جا کر تھوڑا سکون ملا تھا لیکن اب حمزہ کی یہ فرمائش۔
’’کیوں نوکرانی سمجھ رکھا ہے تم سب لوگوں نے مجھے۔ جس کا جب جی چاہتا ہے منہ اٹھا کر حکمِ شاہی عنایت کر دیتا ہے۔ اتنی گرمی میں چائے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ فریج میں کوک کی بوتل پڑی ہوئی ہے۔ کیبن میں بسکٹ‘ نمکو‘ پیسٹری اور دیگر چیزیں ہوں گی۔خود جا کر نکالو۔ تمہیں بھی پتا چلے دوستوں کی خدمتیں کیسے ہوتی ہیں اور تمہارے دوستوں کو اس موسم میں تپتی دوپہرمیں بھی اپنے گھروں میں چین نہیں جو منہ اٹھائے کھانے پینے کو آ جاتے ہیں۔‘‘ حمزہ تو اسے کہہ کر پچھتا یا۔ دوسرا اتنا اونچا والیم تھا کہ دوسری طرف آواز بآسانی سنی جا سکتی تھی وہ تپ اٹھا۔
’’تم سے تو کوئی بات کہنا ہی فضول ہے۔ نجانے سسرال میں جا کر کیا کرو گی؟ اوراس قدر اونچا والیم ہے کہ توبہ۔ ساری باتیں سنی ہوں گی دائود بھائی نے۔ پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے ہیں۔ کیا سوچتے ہوں گے وہ بھی…‘‘ وہ بہت دھیمی آواز میں اسے ڈانٹ رہا تھا۔
’’ہاں تو کب کہا ہے میں نے کہ تم آ کر میری منتیں کرو۔ وہ دونوں وہاں جا کر بیٹھ گئی ہیں اوریہاں اکیلی میری جان شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ صبح سے کام کر رہی ہوں۔ اب پھر جُت جائوں۔ میں فارغ نہیں ہوں۔ میرا دماغ کھانے کی بجائے جا کر خود ہی اپنے دوست کے لیے اہتمام کر لو۔‘‘ اس نے صاف لال جھنڈی دکھائی۔ وہ بھی اس پر لعنت بھیجتا دوسری طرف چلا گیا۔ وہ نجانے کیا کہہ رہا تھا۔ وہ سر جھٹکتی میگزین پڑھنے لگی تھی۔ فون کی بیل بج اٹھی۔ وہ کلس کر کونے میں رکھے فون اسٹینڈ کی طرف بڑھی۔
’’نجانے اس بھری دوپہر میں کس کی جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔‘‘ ہڑبڑا کر ریسیور اٹھایا۔
’’ہیلو۔‘‘ وہ سخت بیزار تھی۔
’’کون… ماریہ… میں زویا ہوں۔ کیسی ہو تم۔ کیسی بے مروت ہوادھر جا کر فون تک نہیں کیا۔ تنگ آ کر سوچا ہم ہی کر لیں۔‘‘ دوسری طرف سے وہ نان اسٹاپ شروع ہوگئی تھی۔ وہ جو ان لوگوں کو بہت مس کر رہی تھی ایک دم ساری بیزاری اڑن چھو ہو گئی اور موڈ بھی ایک دم خوش گوار ہوا تھا۔ ساتھ میں آواز بھی اونچی ہوگئی تھی۔
’’ہائے زویا! تم… بڑی بے مروت ہو۔ اب فون کر رہی ہو۔‘‘
’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بہت مزہ آ رہا ہے۔ پتا ہے دائم بھائی کی آج کل خوب شامت آئی ہوئی ہے۔ خوب ان کی جیب خالی کروائی جا رہی ہے۔ وہ بے چارے دہائی دیتے رہ جاتے ہیں مگر کسی کو اثر ہی نہیں ہوتا۔ تم تو آ گئی تھیں۔ نور سمیت سب نے تمہیں بہت مِس کیا ہے۔‘‘
’’ہاں میں بہت مس کررہی ہوں۔ ذرا بھی دل نہیں لگ رہا۔ امی کی وجہ سے آنا پڑا تھا ورنہ…‘‘ اس نے بھی منہ بنا کر کہا۔
’’تمہیں ایک راز کی بات بتاتی ہوں۔ دائم بھائی (زوار کا چھوٹا بھائی) نازیہ میں انٹرسٹڈ ہے۔ یہ بات نازیہ نے مجھے خود بتائی ہے۔ اب سے نہیں بہت پہلے سے۔ ہے نا حیرت کی بات۔‘‘
’’کیا واقعی۔ یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟ ان دونوں کی کبھی بنی ہی نہیں۔ ہروقت بچوں کی طرح توجھگڑتے رہتے ہیں۔ نازیہ تو انہیں الّو‘ بندر اوربھی نجانے کیا کیا کہتی رہتی ہے۔ مجھے تو ذرا بھی یقین نہیں آ رہا۔‘‘ وہ واقعی حیران تھی۔
’’یقین کر لو۔ نازیہ کا اب بھی وہی رویہ ہے مگر بہت خوش ہے۔ پوری گھنی ہے۔ بس ہمارے سامنے بنتی ہے اورخود پور پور محترم کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے۔‘‘ وہ مزے سے بتا رہی تھی۔
’’آ لے یہ نازیہ کی بچی۔ ہمیں کیسے ہروقت لیکچر دیتی رہتی تھی اور خود کودیکھو… ایک دفعہ ہاتھ لگے دیکھنا کیا حشر ہوتا ہے اس کا… ہم سے چھپایا۔ یعنی ماریہ قطب الدین سے۔‘‘ دوسری طرف زویا کھلکھلا کر ہنسنے لگی تھی۔ وہ بھی ہنس دی۔
’’اورتم سنائو۔ لائبریری جا رہی ہو؟‘‘
’’نہیں۔ تم لوگوںکے بغیر بھلا میں کہیں جا سکتی ہوں… خدا خدا کر کے تم لوگوں کا بہانہ کر کے میری اس مصیبت سے جان چھوٹی ہے۔ صبح ہوتی ہے توامی ڈنڈا لے کر سر پر کھڑی ہوتی ہیں۔ سارے گھر کی صفائی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے بعد امی جب چلی جاتی ہیں تو کچھ سکون ملتا ہے۔ ٹی وی دیکھ لیتی ہوں یا ایف ایم سنتی ہوں اگر حمزہ کا موبائل گھر پر ہو تو پھر اس کا آپریشن کرتی ہوں۔ بس اپنی تو یوں ہی بور گزر رہی ہے۔‘‘ اس نے آرام سے بتایا۔
’’اورپڑھتی کب ہو؟ اورچچی جان تمہیں کچھ نہیں کہتیں؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’بالکل نہیں۔ پتا ہے کل امی تجمل آنٹی کو فون پر بتا رہی تھیں کہ اب ماریہ سلجھنے لگی ہے۔ گھر کے کاموں میں دلچسپی لینے لگی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مجھے امی کے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کا زیادہ خوف ہوتا ہے اورامی انہیں یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ میں سنجیدہ ہو کر پڑھ رہی ہوں وہ بھی گھر پر۔ امی کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ میں پڑھ نہیں رہی ہوتی بلکہ تین بجے سے شام چھ بجے تک لان میں برگد کے درخت کے نیچے بیٹھ کر واک مین سنتی ہوں۔‘‘ اس نے ہنس کر بتایا تو زویا چیخی۔
’’کیا… اوراب تک تم بچی کیسے ہو… چچی کو پتا نہیں چلا…؟‘‘
’’نہ بالکل نہیں… دراصل کتاب لے کر گود میں رکھ کر بیٹھ جاتی ہوں۔ بغل میں ریڈیو ہوتا ہے۔ کانوں میں واک مین ہوتا ہے اورکس کے دوپٹہ اوڑھا ہوتا ہے۔ سب سمجھتے ہیں کہ میں ابھی نماز پڑھ کرفارغ ہوئی ہوں اوراس وقت پڑھ رہی ہوں اسی لیے کوئی ڈسٹرب نہیں کرتا۔ امی دیکھ دیکھ کرنہال ہوتی ہیں کہ میں پڑھ رہی ہوں۔ انہیں کیا علم کہ میں سر ہلا ہلا کر گانے کی لے پر ہونٹوں سے کتاب کے لفظ نہیں بلکہ گانے کے بول نکل رہے ہوتے ہیں۔‘‘ وہ خوش ہوکر اپنی ساری کارستانی بتا رہی تھی۔ دوسری طرف زویا نے اپنا سر پیٹا۔
’’تمہیں شرم آنی چاہیے ماریہ! تم چچی جان کودھوکہ دے رہی ہو۔ نہیں بلکہ خود کو دے رہی ہو۔‘‘
’’لو بھلا اس میں دھوکے والی کون سی بات ہے…؟ انہیں بھی تو میرا مسئلہ سمجھنا چاہیے نا۔ بس نہیں چاہتا میرادل پڑھنے کو تو پھر زبردستی کاہے کو۔ وہ یوں کریں گی تو میں بھی اسی طرح کروں گی۔ تم جانتی ہو کہ کیسے نقل کر کرکے میں یہاں تک پہنچی ہوں۔ اگر امتحانوں کے دنوں میں تم دونوں ساتھ نہ دیتیں تو میں چھٹی کلاس سے آگے کبھی نہ بڑھ پاتی اوربی۔ اے مجھے سب سے مشکل لگ رہا ہے۔ انگلش میرے سرسے گزر جاتی ہے۔ یہ سب تمہارا اورنازیہ کا قصور ہے۔ نہ تم بی۔ اے میں داخلہ لیتیں نہ میری جان شکنجے میں آتی۔ اب امی کی تڑی کہ نہیں پڑھنا تو نہ سہی وہ میری شادی کر دیں گی۔ یعنی دوسرے معنوں میں ایک عدد اُلّو میرے سر پر بٹھا دیں گی۔ شادی کا مطلب بربادی… اوریہ بات امی نہیں سمجھ رہیں… اور مجھے امی کی ضد بھی منظور نہیں۔ ان کے ڈنڈے کے خوف سے گھرداری سیکھ تورہی ہوں مگر سسرال داری نہیں کروں گی اور جو پیس امی میرے لیے منتخب کریں گی اس کا تو ابھی سے ہی اللہ حافظ بلکہ ساتھ میں تم لوگ بھی فاتحہ پڑھ لو۔ کسی کو بھی ذرا بھی مجھ سے ہمدردی نہیں ہے۔ امی نے تو باقاعدہ میرے لیے رشتے کی تلاش کی مہم چلائی ہوئی ہے۔ ذرا بھی مزا نہیں آتا۔‘‘
’’ارے ماریہ! وہ لائبریری والا لڑکا یادآتا ہے تمہیں۔ عجیب شخص تھا وہ بھی۔میں جب بھی تمہاری شادی کا تصور کرتی ہوں۔ مجھے تمہارے ساتھ وہی شخص نظر آتا ہے۔‘‘
’’اچھا یاد دلایا تم نے۔ مجھے بھی تم سے یہ بات کرنی تھی۔ تم نے نازیہ اورنور باجی کو اس لڑکے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ سچ کہہ رہی ہو نا ں۔‘‘
’’ہوں تم تو جانتی ہو کہ جب تک نازیہ سے ساری راز کی باتیں نہ کر لوں مجھے کوئی بات ہضم نہیں ہوتی پھر مجھے وہ لڑکا پسند بھی آیا تھا۔ میں نے جاتے ہی نازیہ کو بتا دیا… اورتم لائبریری کیوں نہیں جا رہی… وہ بے چارہ توانتظار کرتا ہو گا تمہارا۔‘‘
’’توکرے میری بلا سے۔ تم نے کیوں بتایا نورباجی کو وہاں۔ وہ ہر وقت مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتی رہتی تھیں بلکہ اکثر اسی لڑکے کی طرح سلام بھی جھاڑنے لگی تھیں۔‘‘ دوسری طرف زویا کھلکھلا کر ہنسی تھی۔
’’بڑی بے مروت ہو تم… تم سے جو بھی محبت کرے گا اپنا آپ کھوئے گا۔ ویسے ماریہ وہ لڑکا مجھے اچھا لگا ہے۔ کتنی زبردست شخصیت ہے۔ مجھے ایسے لوگ بہت اچھے لگتے ہیں اورتمہارے ساتھ جچے گا بھی بہت۔ کیا خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔‘‘
’’زویا کی بچی… پٹ جائوگی میرے ہاتھ سے۔ اپنے اس ہینڈسم کوتو گولی مارو… ورنہ یہ کام میں کر دوں گا۔ اگر آئندہ تم نے اس اشارے باز‘ بدتمیز شخص کا ذکر بھی کیا تو پھر تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ میں تمہیں بھی ہینڈسم بنا دوں گی۔‘‘
’’اتنا تو سچ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ جچے گا۔‘‘دوسری طرف وہ اب بھی سنجیدہ نہیں تھی۔
’’زویا کی بچی… میں تمہارا بھیجہ نکال دوں گی بلکہ اس بدتمیز شخص کے ساتھ تمہیں بھی گولی سے اڑا دوں گی۔ سمجھیں تم۔‘‘
’’ارے اتنا غصہ۔ ضرور گالوں پر لالی آئی ہوگی۔ آنکھوںمیں کوئی مستی چھائی ہو گی اورہونٹ اس کا نام گنگنا رہے ہوں گے۔ ویسے نام کیا ہے موصوف کا…؟‘‘
’’تمہارا سر…‘‘ اس نے بھنا کرریسیور پٹخ دیا۔ ’’بدتمیز۔ اسٹوپڈ۔‘‘ اسے گالیوں سے نوازتی جوں ہی پلٹی دونوں حصوں کے درمیان پردہ تھامے کھڑے شخص کو دیکھ کر پتھر کی بن گئی۔
’’السلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟ آپ تو لائبریری آ نہیں رہی تھیں۔ سوچا میں ہی آپ سے مل لوں۔ مزاج بخیریت ہیں ناں۔‘‘ وہ پردہ ہٹا کر آگے بڑھ آیا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ ایک دم ہوش میں آئی۔
’’تم… تم… تمہیں جرأت کیسے ہوئی یوںمیرے گھر میں گھس آنے کی…؟ نکل جائو یہاں سے… ورنہ میں شور مچا کرسارے گھروالوں کواکٹھا کر لوںگی۔ میں عام لڑکی نہیں ہوں… سمجھے تم…‘‘ وہ واقعی پریشان ہو گئی تھی۔ یہ شخص پیچھا کرتے کرتے اس کے گھر تک آ گیا تھا۔ نجانے آگے کیا ہو؟ اس کا دل خوف سے کانپنے لگا۔
’’ابھی میرا ذکر ہو رہا تھا… وہ بھی اس قدر اپنائیت بھرے انداز میں۔ سوچا میں خود ہی سامنے آ جائوں۔ ویسے میرا ذکر کرنے کا… مجھے یاد فرمانے کا شکریہ۔ کہیے بندہ حاضر ہے کیا خدمت کر سکتا ہوں… ویسے پہلے یہ بتائیے لائبریری کیوں نہیں آ رہیں؟‘‘ وہ اس کے چہرے پر چھائے غصے کی پروا کیے بغیر بہت توجہ سے پوچھ رہا تھا۔ وہ پریشان ہو گئی۔
’’تم کون ہو… کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو؟ وہاں لائبریری میں اتنے لوگ ہوتے ہیں۔ آخر میرے ہی پیچھے پڑنے کا مقصد کیا ہے؟‘‘ وہ جو کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھی اس وقت خوفزدہ پوچھ رہی تھی۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’تمہیں میرے گھر کا ایڈریس کہاں سے ملا؟‘‘ وہ اب پہلے سے زیادہ خوفزدہ تھی۔ دائود عالم کو اسے اس حالت میں دیکھ کر لطف آ رہا تھا۔
’’لائبریری سے۔‘‘ اس نے مزے سے بتایا۔ وہ لب بھینچ گئی۔
’’دیکھو پلیز یہاں سے چلے جائو ورنہ…‘‘ وہ ایک دم پریشانی سے ادھرادھر دیکھنے لگی۔ ایک دم یاد آیا حمزہ کا کوئی مہمان آیا ہوا تھا اور یہ شخص… ایک دم الجھ کر اسے دیکھا۔
’’اگر میں نہ جائوں تو…؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔ ماریہ کا غصہ ایک دم امڈنے لگا۔
’’تو میں شور مچا کراپنے گھروالوں کو اکٹھا کر لوں گی۔ اس کے بعد تمہاری جو درگت بنے گی وہ ملاحظہ کرنا۔‘‘ دانت کچکچا کر کہا گیا تھا۔ دائود عالم کو اچھا لگا۔
’’واقعی… پھر مچائیں شور… میں بھی دیکھتا ہوں کون کون آتا ہے؟ لگے ہاتھوں آپ کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔‘‘ وہ آگے بڑھ کر بڑے ریلیکس موڈ میں صوفے پر بیٹھا تو ماریہ کا سانس حلق میں اٹکنے لگا۔ عجیب شخص تھا۔
’’دیکھیں۔ آپ میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور آپ اندر آئے کیسے؟‘‘ میں صرف دھمکی نہیں دے رہی۔ میں آپ کا حشر نشر کر دوں گی۔‘‘
’’ضرور… میں بھی تو منتظر ہوں۔ ویسے آپ دھان پان سی لڑکی ہیں۔ میرا حشر نشر کیسے کریں گی؟‘‘
’’تم… تم… دفعان ہو جائو یہاں سے…‘‘ بے بس ہو کر وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے اسے مارنے کو کوئی چیز دھونڈ رہی ہو۔ اس سے پہلے کہ وہ کامیاب ہوتی‘ حمزہ کی آواز ڈرائنگ روم سے آنے لگی۔
’’دائود بھائی… دائود بھائی… کہاں گئے آپ… دائود بھائی۔‘‘ وہ اسے آوازیں دیتا ادھر ہی آ گیا تھا اور ماریہ حمزہ کے منہ سے ان کا نام سن کر ہکابکا کھڑی تھی۔ یعنی یہ حمزہ کا وہی مہمان تھا جس کی خاطرمدارت کا وہ کہہ رہا تھا۔
’’ارے دائود بھائی! آپ یہاں… میں آپ کو ادھر دیکھ رہا تھا۔ دراصل مجھے تواضع کے لیے چیزیں تلاش کرنے میں دیر ہو گئی۔‘‘ وہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے ہوئے تھا۔ آگے بڑھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی پھر اس کی ماریہ پر نظر پڑی تو ٹھٹک گیا پھر دائود کو دیکھا وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ فوراً سٹپٹا گیا پھر ماریہ کو دیکھا تو غصہ آنے لگا۔ کیسے تھوڑی دیر پہلے بری طرح انکار کر دیا تھا اور اب یوں کھڑی تھی گویا اس ریاست کی مہارانی ہو۔
’’دائود بھائی! ان سے ملیں یہ ماریہ ہے۔ میرے چچا قطب الدین اور نسرین چچی کی بیٹی۔‘‘ وہ مجبوراً اس کا تعارف دائود سے کرا رہا تھا ورنہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ جتنی تیزی سے اونچی آواز میں اس کی زبان چل رہی تھی‘ صاف پتا چل رہا تھا کہ محترمہ کیا چیز ہے…
’’اور ماریہ یہ تمہاری تجمل آنٹی کے بیٹے دائود عالم ہیں۔ یہ پرسوں بھی آئے تھے آج ادھر سے گزر رہے ھتے تو میں انہیں اندر لے آیا۔ تم جانتی ہو نا انہیں۔‘‘ وہ بتا رہا تھا اور وہ ہکابکا دیکھ رہی تھی۔
’’کیا…؟‘‘ اس کا ذہن مائوف ہوچکا تھا۔ دائود عالم تجمل آنٹی کا بیٹا… وہ جو کوئٹہ میں تھا جو حال ہی میں یہاں سیٹل ہوا تھا جس کا رشتہ اس کے لیے آیا تھا اور جس کی وجہ سے اس نے امی پر غلط تاثر قائم کرنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے تھے۔
’’جی ۔ میں ہی ہوں دائود عالم۔ آپ کی تجمل آنٹی کا بیٹا۔‘‘ ماریہ کو لگا وہ صرف اسے زچ کر رہا ہے۔ وہ جان بوجھ کر اسے تکلیف دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ایک دم لب بھینچ کر اسے گھور کر ایک غصیلی نگاہ ڈالتے ہوئے وہاں سے چلی آئی تھی۔
’’وہ تجمل آنٹی کا بیٹا ہے۔‘‘ وہ جوں جوں سوچ رہی تھی اس کے دماغ کی رگیں پھولتی جا رہی تھیں اور کچھ دیر پہلے اپنا لائوڈ اسپیکر فل والیم میں کھولے نجانے کیا کیا ہانک رہی تھی۔ اس نے سب سنا تھا۔ اب نجانے وہ کیا سمجھے… ؟ پہلے ہی انتہائی پریشان کیا ہوا تھا اس شخص نے۔

زویا اور نازیہ واپس آ گئیں اور پھر جیسے ہی اس نے انہیں دائود عالم کے متعلق بتایا اور ساری تفصیل گوش گزار کی تو دونوں ہی ہکابکا رہی گئیں بلکہ چیخ اٹھیں۔
’’بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ ہینڈسم سا شخص تجمل آنٹی کا وہی سڑیل بدمزاج پتلا سا بیٹا ہے جو بچپن میں آنٹی کے ساتھ ہمارے ہاں آتا تھا۔ نہیں… یہ ہینڈسم سا بھلا اس کالے کلوٹے سے لڑکے سے کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے۔‘‘ نازیہ کی حیرت ختم نہیں ہو رہی تھی۔
’’جب ہم نے اسے دیکھا تھا تب ہم خود بھی کالی موٹی پلی ہوئی بھیڑیں ہوا کرتی تھیں اور یہ تب کی بات ہے جب ہماری ناک بہتی تھی اور رال بھی ٹپکتی تھی۔ ویسے مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہو رہی ہے کہ اس شخص کا رشتہ ماریہ کے لیے آیا تھا۔ یقین نہیں آتا۔‘‘ نازیہ نے سوچتے ہوئے کہا تو ماریہ نے اسے گھورا۔
’’تم لوگ اس کی تعریفیں کر رہی ہو یا میرے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہو؟‘‘ وہ بھنائی تھی۔
’’دونوں کام۔‘‘ نازیہ نے آرام سے کہا تو وہ چیخ اٹھی۔
’’کیا… تمہارا دماغ تو درست ہے؟ بجائے یہ کہ میری مدد کرو۔ مجھے زچ کر رہی ہو۔ پتا ہے کل بھی تجمل آنٹی آئی تھیں۔ اپنی بڑی بیٹی جبین کے ساتھ۔ امی بھی بہت خوش تھیں۔ مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ یہ سارا ان کے بدتمیز بیٹے کا قصور ہے۔ بچپن میں کیسا بھیگی بلی بنا رہتا تھا ہروقت اپنی ماں کے پلو پکڑے پیچھے پیچھے میں میں کرتا رہتا تھا مگر اب تو جیسے ساری ہوشیاری اس پر ختم ہوتی ہے۔ کتنا بدل گیا ہے وہ…‘‘
’’واقعی نازیہ! ماریہ سچ کہہ رہی ہے۔ بچپن میں تو وہ بہت چینج تھا۔ تمہیں یاد ہو گا ماریہ ایک دفعہ وہ ہمارے ہاں آیا تھا اور ہم نے شرارت سے اسے مرغیوں والے ڈربے میں بند کر دیا تھا اور مرغیوں کا ڈربہ بھی اوپر کی چھت پر تھا۔ گرمیوں کے دن تھے۔ گرمی زوروں پر تھی۔ وہ روتا چیختا رہ گیا تھا مگر ہم بھی تین تھے۔ ایسا قابو کیا کہ اسے بند کر کے ہی نیچے اتریں پھر ہم بھول گئیں اور جب تجمل آنٹی جانے لگیں اور اسے ڈھونڈا تو ہمیں یاد آیا تھا کہ ہم اس کا کیا حشر کر چکی تھیں پھر جب اسے ڈربے سے نکالا تووہ بے ہوش ہو چکا تھا۔‘‘ زویا مزے سے بتا رہی تھی۔ اسے بھی سب یاد آتا گیا۔ خاص طور پر اس واقعے کے بعد پڑھنے والی مار۔
’’واقعی امی سے بہت مار پڑی تھی کیونکہ اسے ڈربے میں بند کرنے کی تجویز میری ہی تھی۔‘‘ اس نے منہ بنا کر بتایا۔ تینوں ہنس دیں۔
’’بچپن کے دن بھی کیا تھے… تب تو وہ بہت معصوم اور سادہ سا لڑکا تھا مگر اب توبہ توبہ…‘‘ زویا نے رائے دی تو دونوں نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
’’اب سوچو۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ ظاہر ہے وہ اب لائبریری والی حرکتیں تو نہیں کرے گا مگر اب آرام سے بھی نہیں بیٹھے گا پھر اب تو اور شیر ہو گیا ہو گا۔ جس طرح مجھے علم ہے کہ امی کس طرح مجھ پر اس رشتے کے لیے زور دیتی رہی تھیں یقینا اس کے گھر میں بات ہوئی ہو گی۔ وہ اتنا چھوٹا بچہ نہیں کہ میں نظرانداز کروں اور وہ آرام سے بیٹھا رہے۔‘‘ یہ واقعی پریشانی والی بات تھی پھر تینوں نے مل کر کافی دیر تک سوچا کہ کیا حل نکالیں مگر کوئی سرا ہاتھ نہ آیا تو تینوں نے حالات پر چھوڑ دیا تاہم ماریہ نے یہ ضرور فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس شخص کے منہ کم ہی لگے گی… بلکہ کبھی بات ہی نہیں کرے گی۔ نجانے اسے کیوں شک سا رہنے لگا تھا کہ وہ یقینا رشتے سے انکار کی وجہ سے اس کے پیچھے پڑا ہے۔
پھر کالج کھل گئے اور ان کی روٹین ایک دم بدل گئی۔ صبح کالج وہاں سے واپس آ کر کھانا کھانا۔ تھوڑا آرام کرنا اور امی کے مجبور کرنے پر کبھی کبھار کچن میں بھی جھانک لینا۔ پہلے کی طرح وہ اب بھی پڑھتی کم ہی تھی بلکہ ادھرادھر کی ہانک کر سارا وقت پاس کرتی تھی۔ البتہ زویا اور نازیہ سنجیدہ ہو چکی تھیں۔ سب گھر میں ہی ہوتے تھے۔ وہ دونوں رات کے کھانے کا انتظام کرتی تھیں۔ ویسے تو وہ بھی ان کا ہاتھ بٹانے لگی تھی مگر وہ بجائے سنوارنے کے کام بگاڑتی ہی تھی۔ ایسے میں دونوں غصے سے اسے کچن سے باہر کر دیتیں اور پھر وہ موجیں مناتی تھی۔ امی نے اب اس سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ اب پہلے کی طرح اسے پڑھنے پر زور نہیں دیتی تھیں بلکہ اکثر جب وہ ان کے سامنے ٹی وی وغیرہ دیکھ رہی ہوتی تو ٹوکتی بھی نہ تھیں۔ یہ ماریہ کے لیے بھی حیرت کی بات تھی پھردن اوپر تلے گزرتے چلے گئے۔
زویا کمرے میں آئی تو وہ موبائل ہاتھ میں لیے مصروف تھی۔ یہ حمزہ کا موبائل تھا۔ رات کو جب وہ باہر کہیں جاتا تھا تو موبائل گھر ہی چھوڑ جاتا تھا کہ راستے میں چھین نہ لیا جائے اور اکثر حمزہ کا موبائل ماریہ کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوتا تھا۔ اب بھی موبائل ماریہ کے ہاتھوں میں دیکھ کر نازیہ تپ گئی۔
’’خدا کا واسطہ ہے بی بی! یہ تمہارا آخری سمسٹر ہے۔ کچھ تو خدا کا خوف کر لو۔ اپنی نہیں تو چچی جان کی عزت کا ہی خیال کر لو۔ کہاں وہ ایم۔ ایس۔ سی میتھ میٹکس اور کہاں تم سی نالائق لڑکی… یہ تم ہر وقت موبائل کے ساتھ مت چمٹی رہا کرو… فیل ہو جائو گی۔‘‘
’’بے فکر رہو‘ میں اتنی چھوٹی باتوں پر پریشان نہیں ہوتی۔ دنیا میں اور بھی غم ہیں پڑھائی کے سوا۔‘‘ اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر گنگنا کر ارشاد فرمایا گیا تھا۔ نازیہ کی جان جل کر رہ گئی۔
’’رہنے دو نازی! اندھے کے آگے رونا اپنے نین کھونا اور بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔ جب فیل ہوگی سر پر اماں کے جوتے پڑیں گے تو سب ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔‘‘ زویا نے کہا اور اپنی کتابیں لے کر بستر پر بیٹھ گئی۔ ماریہ ہنس دی۔
’’تمہیں میرے غم میں دبلے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب پاس ہونا ہو تو محنت بھی کروں جب طے ہے کہ فیل ہی ہونا ہے تو کیوں جان کھپائوں… تم لوگ اپنی فکر کرو۔‘‘
’’مرو تم… تم سے تو کچھ کہنا ہی فضول ہے۔‘‘ نازیہ نے بھی وہیں بیٹھے کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔
کالج جانا ماریہ کے لیے شروع سے ہی تکلیف دہ تھا۔ اب بھی یہی حال تھا۔ اسی لیے وہ ایک دن اگر کالج جاتی تھی تو دوسرے دن چھٹی ضرور کرتی تھی۔ امی اپنے اسکول سے آنے کے بعد گھریلو کاموں میں الجھی رہتی تھیں۔ ایسے میں وہ اب اسے کم ہی جھڑکتی تھیں۔ نور باجی میکے آئی ہوئی تھیں۔ ماریہ کے ہاتھوں ان کا چھوٹا موٹا سا صحت مند آفاق ایک کھلونا تھا۔ کالج سے آتے ہی وہ اسے چمٹ جاتی تھی اور وہ بھی اس کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا۔
تجمل آنٹی کے یہاں پارٹی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ دعوت دینے آئی تھیں بلکہ صبح ہی صبح زویا‘ نازیہ اور ماریہ کو آنے کی پرزور تاکید کی تھی۔ امی نے اور دادی جان نے وعدہ کر لیا تھا کہ وہ انہیں اور نور کے ساتھ صبح کو ہی بھیج دیں گے۔ ماریہ اس حکمِ شاہی پر تلملا کر رہ گئی۔ دعوت والے دن اس نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ نہ جائے مگر امی نے بھی اسے بھیج کر ہی دم لیا۔ سارا رستہ وہ کڑھتی رہی۔ وہ پہلے تجمل آنٹی کے ہاں اس وقت آئی تھیں جب وہ لوگ دوبارہ یہاں سیٹل ہوئے تھے تب پہلی مرتبہ تجمل آنٹی سے اس کی ملاقات ہوئی تھی اور وہ پہلی ملاقات اس کی زندگی کا عذاب بن گئی جسے وہ اب تک بھگت رہی تھی۔ نازیہ اورزویا خوب چہک رہی تھیں۔ نور باجی بھی مسکراتی رہی تھیں جب کہ وہ اندر ہی اندر خوفزدہ ہوتی رہی۔ وہ خود بھی حیران تھی وہ ایسی تو نہ تھی پھر اسے کیا ہو گیا تھا کہ دائود عالم کا نام سن کر ہی اس کے پسینے چھوٹنے لگے تھے۔ نہ ہی وہ کوئی بھوت تھا پھر نجانے کیوں اب اسے دیکھ کر وہ ہولنے لگی تھی۔ اس کا دل اندر پسلیوں میں ہی دھڑدھڑانے لگا تھا۔ اسی لیے وہ یہاں نہیں آنا چاہتی تھی۔ لائبریری کب کی چھوڑ چکی تھی۔ دائودعالم ان کے ہاں باربار آ چکا تھا اور ہر بار اسے اس طرح زچ کرتا تھا کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتی تھی۔ اب تو وہ اس سے متوحش رہنے لگی تھی۔ یہاں آ کر بھی یہی حال ہوا تھا۔ وہ ایک کونے میں چپ چاپ بیٹھی رہی جب کہ وہ تینوں تو بہت خوش تھیں۔ گھوم پھر کر سارا گھر دیکھتی رہیں۔ تجمل آنٹی اور جبین دونوں اسے ایک طرف بیٹھے رہنے کی بجائے گھر دیکھنے کی آفرز کر چکی تھیں جنہیں وہ کئی بار مسکرا کر ٹال چکی تھی۔
’’یہ تجمل آنٹی اور میری امی آخر چاہتی کیا ہیں…؟ اور یہ دائود عالم آخر چیز کیا ہے؟ میں آج کل اس سے اتنی خوفزدہ کیوں رہنے لگی ہوں۔‘‘ وہ کڑھ کر رہ گئی۔
پھر شام تک وہ سب کے ساتھ ادھر سے ادھر گھومتی رہی اور حیرت کی بات ہے کہ دائود عالم ایک دفعہ بھی اس کے سامنے نہ آیا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ گھر پر نہیں تھا بلکہ وہ گھر پر ہی تھا مگر اس طرح مہذبانہ انداز لیے ہوئے تھا کہ ماریہ کو اس کی سابقہ حرکات پر شبہ ہونے لگا۔
’’پورا ڈرامے باز ہے یہ شخص تو…‘‘ وہ سارا دن یہی سوچتی رہی۔ شام سے پہلے ہی امی دادی جان اور تائی امی چلی آئی تھیں۔ باقی کے لوگ گھر پر ہی رک گئے تھے۔ پارٹی کے بعد چائے کا دور چلا تھا۔ ان لوگوں کے علاوہ ان کے اپنے کافی عزیز واقارب تھے۔ دائود عالم سب سے ملتا ملاتا ان کے پاس بیٹھتا اٹھتا لاشعوری طور پر ماریہ کی نگاہوں کی زد میں رہا۔ وہ اس پر نظریں ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتی تھی مگر… اس نے جب بھی خود کو ڈانٹا اس کا دل ہر بار باغی ہوتا چلا گیا۔
’’یااللہ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟‘‘ چائے پیتے ہوئے وہ مسلسل خود سے لڑ رہی تھی‘ جھگڑ رہی تھی۔ یوں ہی نظر اٹھا کر اس نے دیکھا تو دائود عالم کی نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر سٹپٹا گئی۔ اس نے ماریہ کو متوجہ پا کر جاندار انداز میں اسمائل پاس کی تھی۔ اس نے گھبرا کر رخ موڑا تو نظر زویا پر جا ٹھہری وہ شاید دیکھ چکی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک شریر مسکراہٹ تھی۔ وہ اندر ہی اندر سلگ اٹھی۔
’’بدتمیز۔ جانتا ہے ناں میں اس وقت کچھ نہیں کر سکتی اسی لیے تو…‘‘ اس نے سر جھٹکا۔ زویا نے اشارے سے بلایا تو وہ اٹھ کر اس کے پاس چلی آئی۔ وہ اس کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر ہنس دی۔
’’زویا! یہ شخص کسی دن میرے ہاتھوں قتل ہو جائے گا۔‘‘ وہ بھنائی ہوئی تھی۔
’’اچھا۔ نئی بات ہے… مگر مجھے لگتا ہے وہ قتل کریں گے… نہ کہ ہوں گے۔‘‘
’’تم تو اپنی زبان بند ہی رکھا کرو۔ میرا دل جل رہا ہے اور تمہیں اٹھکیلیاں سوجھ رہی ہیں۔‘‘ وہ ایک دم ناراض سی ہوگئی۔
’’ارے۔ تم عرض کرو… بلکہ حکم کرو تو دائود بھائی کو بلا دوں؟‘‘
’’زوئی! میں تمہارا سر پھوڑ دوں گی۔‘‘ وہ ایک دم سٹپٹا کر چیخ اٹھی۔ کتنی بدتمیز ہو گئی تھی زویا پھر وہ دونوں وہاں سے نکل کر گھر کے اگلے حصے میں چلی آئیں جو قدرے اونچائی پر تھا۔
’’کتنا پیارا گھر ہے تجمل آنٹی کا ہے ناں؟‘‘ زویا نے بالکونی میں کھڑے ہو کر نیچے جھانکتے ہوئے پوچھا تو وہ سر ہلا گئی۔ نجانے کیوں ایسا ہی ایک گھراس کے تصور میں بھی تھا۔ اس نے کبھی خواب نہیں دیکھے تھے۔ خوابوں کے جزیروں میں بہت دور تک سفر نہیں کیا تھا مگر ایک ایسے ہی خوب صورت چھوٹے سے ہوادار گھر کا تصور اس کے خیالوں میں رہتا تھا اورآج اسے حیرت ہو رہی تھی کہ اس کا تصور اس کے خیالوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں اس کے سامنے تھا۔ ایسا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
’’گھر واپس کب چلیں گے؟‘‘ اس نے بمشکل اپنے آپ کو پہلے پہلے جیسا بہادر بناتے ہوئے کہا تو زویا نے سر ہلایا۔
’’پتا نہیں۔ ابھی تک تو دادی جان وغیرہ کے اٹھنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔‘‘ وہ ہنس رہی تھی۔
’’اب میرا دل گھبرانے لگا ہے۔ تم پتہ کرو بلکہ امی کو کہو کہ اب چلیں۔ یہ کیا کسی کے گھر آ کر ہی بیٹھ جائیں۔ میں کہوں گی تو امی مزید پھیل کر بیٹھ جائیں گی جب کہ اب میرا دل یہاں سے بھاگ جانے کو چاہ رہا ہے۔‘‘ زویا سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی اور وہ وہیں کھڑی اس کی واپسی کی منتظر رہی۔
’’خیریت… یہاں کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ وہ آسمان پر موجود چاند کو دیکھ رہی تھی جب وہاں سے گزرتے دائود عالم کی نظر اس کی محویت سے دیکھتے سراپے پر پڑی تو وہ وہیں رک گیا۔
ماریہ نے اس کی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔ نظربلاارادہ تھی۔ وہ نظروں میں بے پناہ ستائش لیے دیکھ رہا تھا۔ ایک دو لمحے کو نظر ٹھہر گئی تھی۔ وائٹ کلف دار شلوار قمیص میں وہ اپنے بھرپور وجودکے ساتھ سارے ماحول پر چھایا ہوا محسوس ہوا۔ وہ ہمیشہ اس سے لڑتی جھگڑتی ہی ملی تھی مگر آج… اسے احساس ہوا کہ وہ اس کے یوں غور سے دیکھنے پر مسکرانے لگا ہے تو ماریہ نے فوراً نظر پھیری۔ دل میں ایک دم ہلچل ہونے لگی۔
’’بدتمیز۔ دیکھ کیسے رہا ہے؟ نظر باز کہیں کا۔‘‘ اگلے ہی پل اپنے دل کو ڈانٹ کر اس نے اپنے سابقہ موڈ میں لوٹنا چاہا۔
’’جی آپ کو میرے یہاں کھڑے ہونے پر اعتراض ہے کوئی۔‘‘ وہ جس طرح دیکھ رہا تھا ماریہ کا غصہ لوٹنے لگا۔ اس کی حرکت پر اس نے ٹوکنے کو طنزیہ پوچھا تھا۔ وہ ہنس دیا۔
’’نہیں۔ ویسے مجھے خوشی ہو رہی ہے تمہیں یہاں دیکھ کر… مجھے یقین نہیں تھا کہ تم آئو گی…‘‘
’’چلیں۔ اب تو میں آ گئی ہوں۔ چاہے زبردستی ہی سہی۔ اب کیا ہو سکتا ہے؟‘‘ وہ اپنے موڈ میں واپس لوٹ چکی تھی۔ سینے پر بازو رکھ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑیں۔
’’ہو سکتا ہے۔ بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ہونے کو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم مستقل اس گھر میں آ جائو۔‘‘ ماریہ نے تو اسے پسپا کرنا چاہا تھا لیکن اس نے بھی اس کے اس انداز پر مسکرا کر ایک دم گویا توپ داغ دی تھی۔ وہ پہلے تو ہکابکا ہوئی پھر نظریں پھیریں اور آخر میں جھنجلا کر رخ بھی موڑا۔
’’آپ کا دماغ تو خراب نہیں۔ ہوش میں تو ہیں کیا فرما رہے ہیں آپ؟‘‘ اپنے اتھل پتھل ہوتے دل کو زبردستی ڈانٹ کر اسے گھورا۔
’’بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ سوچنا ضرور۔ امی وغیرہ کو بھیجوں گا۔ امید تو نہیں انکار ہو گا مگر تم جیسی سرپھری لڑکی سے ہر قسم کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔
ماریہ نے اسے یوں دیکھا جیسے کوئی چیز اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے گی۔
’’خوش فہمی ہے آپ کی۔ میں آپ جیسے اشارے باز شخص سے شادی کروں۔ کسی بائولے کتے نے نہیں کاٹا مجھے… اور آپ کو ہمت کیسے ہوئی میرے متعلق ایسا سوچنے کی۔ میں آپ کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہوں تو یہ صرف امی کی وجہ سے ہے۔ آپ رشتہ بھیج کر تو دیکھیں میں لائبریری میں کی جانے والی آپ کی ساری حرکتیں سارے گھروالوں کو بتا دوں گی۔‘‘ اس نے گویا دھمکی دی تھی۔
’’آپ سب لڑکیوں کے ساتھ آخر ایک ہی مسئلہ کیوں ہوتا ہے؟ شادی سے انکار کرتے کرتے آخر میں ہاں کہنے والی عادت… آخر لڑکیاں چاہتی کیوں ہیں کہ لڑکے ان کے پیچھے خوار ہوں۔‘‘ دائود عالم نے اسے زچ کرنے کی حد ہی کر دی تھی۔
’’بڑی خوش فہمی ہے آپ کو اپنے متعلق؟ چلیں آپ رشتہ بھیج کر دیکھیں؟ آپ اپنا حق استعمال کریں میں انکار کرتی ہوں۔ پتا چل جائے گا کون کس کے پیچھے خوار ہو رہا ہے… اور کب تک ہوتا ہے؟‘‘
وہ ایک دم چیلنج کے انداز میں اس کے سامنے جم کر کھڑی کہہ رہی تھی۔ دائود کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی۔
’’اوکے۔ پھر ڈن؟‘‘ اس نے ایک دم ہاتھ پھیلایا تو ماریہ سٹپٹا گئی۔ ’’میرا وعدہ ہے اب کی بار آپ خوار ہوں گی۔‘‘ جاندار مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی۔
’’شرم آنی چاہیے آپ کو۔‘‘ غصے سے ایک دم اس کا برا حال ہوگیا۔ ’’نجانے یہ شخص کیا ہے؟‘‘ وہ کڑھ کر رہ گئی۔
’’ارے آپ تو ناراض ہو گئیں۔ بھئی چیلنج تو آپ کر رہی ہیں؟ میں نے تو صرف آپ کی ہاں میں ہاں ملائی ہے… یا پھر میں سمجھوں آپ ابھی سے ہار مان رہی ہیں…‘‘ ماریہ کا جی چاہا اس کا مسکراتا منہ نوچ لے۔ گویا کوئی اثر ہی نہ تھا بلکہ ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ والا حال تھا۔
’’میں جتنا بھی آپ کا لحاظ کر رہی ہوں آپ اتنا ہی حد سے گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ اب کے مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔‘‘ اسے انگلی سے تنبیہہ کر کے وہ آگے بڑھنے کو تھی جب اس کی سائیڈ سے گزرتے دائود عالم کی مضبوط گرفت میں ماریہ کی نازک کلائی آ گئی۔
’’بدتمیز انسان۔ میری کلائی چھوڑو۔‘‘ ماریہ کے لیے یہ کسی شاک سے کم نہ تھا ۔ ایک دم پلٹ کر پھنکاری۔
’’اگر نہ چھوڑوں تو…؟‘‘ دائود عالم نے تو حد کر دی تھی۔ وہ مزاحمت کرتی اس کی آنکھوں میں دیکھے گئی۔ وہ جیسے آج اسے آخری حد تک زچ کرنا چاہتا تھا۔ ایک دم ماریہ مشتعل ہو گئی۔ کسی بھی نتیجے کی پروا کیے بغیر اس نے اپنے دانت اس کے ہاتھ پر گاڑھ دیئے۔ دائود نے بلبلا کر ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ یوں بھاگی جیسے شکاری سے بچ کر کوئی جانور بھاگتا ہے۔
’’پوری جنگلی ہے یہ لڑکی تو… لگتا ہے اب انجیکشن لگوانا پڑے گا۔‘‘ ہاتھ کی پشت سے خون کی بوندیں نکلتے دیکھ کر دائود عالم بڑبڑایا پھر اپنی ہی حرکت پر وہ خفیف ہوتے ہنس دیا تھا۔

’’کتنی پیاری نیند ہے ان دونوں کی اور ایک میں ہوں۔‘‘ رات کے دو بجے بستر پر کروٹ بدلتے تھک گئی تو ایک گہری سانس لے کر وہ بستر سے نکل آئی۔ ایک حسرت بھری نظر دونوں پر ڈال کر وہ درمیانی دروازہ کھول کر سائیڈ میں بنی بالکونی میں چلی آئی۔ وہ جب سے دائود عالم کے گھر سے لوٹی تھی ایک عجیب بے چینی نے پورے وجود کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔
’’اللہ تمہیں سمجھے دائود عالم۔ کیوں ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے ہو۔ آخر کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا۔ اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی۔ ہر غم سے آزاد بے فکر… مگر اب…‘‘ وہ وہیں ٹھنڈی زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کا دھیان خودبخود دائود عالم کی طرف چلا گیا تو وہ پہلی نظر کے بعد مسلسل پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتی چلی گئی اور پھر آخر میں آج اس کی‘ کی جانے والی حرکت۔
ماریہ کو اپنی کلائی دہکتی محسوس ہوئی۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر اپنے بازو پر اس جگہ انگلیاں پھیریں جہاں اب آگ کی لپٹیں نکلتی محسوس ہو رہی تھیں۔
’’یہ مجھے ہو کیا گیا ہے؟ کیوں میں نے اس چھوٹے سے واقعے کو اس قدر ذہن پر سوار کر لیا ہے… بھول کیوں نہیں پا رہی میں…‘‘ اس نے بے بسی سے اپنی دہکتی کلائی پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’میرا وعدہ ہے اب کی بار آپ خوار ہوں گی۔‘‘ ماریہ کا جی چاہا وہ رو دے۔ وہ تو دوسروں کو بے بس کرنے والی لڑکی تھی۔ کبھی کسی سے بے بس نہیں ہوئی تھی مگر اب یہ دائود عالم کیسے جان کی مصیبت بنتا چلا گیا… کس قدر زعم سے اس نے کہا تھا وہ اس وقت کو کوسنے لگی جب وہ سامنے آیا تھا۔ کیا تھا میں وہاں جاتی ہی نہ اور اب… ایک تو ان لوگوں کا گھر کتنا خوب صورت ہے اور ایک ہمارا ہے۔ بغیر نقشے کے بنایا ہوا سب کے کمرے ایک ہی سیدھ میں ہیں۔ نہ ہی لان ہے ا ور گیٹ کے نام پر ایک بڑا سا دروازہ… اور ان کا گھر… وہ ایک بار پھر وہیں جا پہنچی۔
’’کتنا سکون تھا وہاں… اگرچہ دعوت والا گھر تھا لیکن ذرا بھی افراتفری نہ تھی اور یہاں ہمارا گھر ہے۔ ایک آ رہا ہے ایک جا رہا ہے۔ دونوں بھابیوں کے بچے وہ الگ شور مچاتے رہتے ہیں… ذرا بھی تو پرائیویسی نہیں ہوتی۔‘‘ وہ جو اسی زندگی کو زندگی سمجھتی تھی۔ ہر وقت ہلا گلہ کرتی رہی تھی۔ لوگوں کی آمدورفت سے خوش رہتی تھی۔ اب دائود عالم کے گھر کا موازنہ کرتے ہوئے اسے اپنا گھر عجیب سا لگا۔ یہ لوگ عالم صاحب سے کسی طرح کم نہ تھے بلکہ ان سے زیادہ خوشحال تھے مگر ان کی زندگی گزارنے کا وہی پرانا انداز تھا جب کہ ان کے ہاں سب کچھ نیا تھا اور شاید یہی کشش تھی جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اتنی سطحی سی لڑکی نہیں تھی مگر اب کے وہ خود بھی اپنی کیفیت کا اندازہ نہیں کر پا رہی تھی۔
’’اور اگر دائود عالم نے سچ مچ تجمل آنٹی کو بھیج دیا تو پھر کیا کروں گی میں؟ امی تو اب انکار کو بالکل نہیں مانیں گی… اور کیا میں واقعی انکار کر پائوں گی…‘‘ اچانک وہ اس نکتے پر آ کر جم سی گئی۔ رات بیتی جا رہی تھی۔ رات کی شبنم اردگرد کے ماحول کو ٹھنڈا کر رہی تھی مگر ماریہ کو جیسے کچھ ہوش ہی نہ تھا۔ اپنی کیفیت کا تجزیہ کرتے کرتے صبح کا وقت آ گیا اور پھر اسے احساس ہوا کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہوش میں اس طرح پوری رات جاگی ہے… اور اسی جاگنے نے اسے وہ بات سمجھا دی جو وہ ساری رات کڑھ کڑھ کر سوچتی رہی تھی۔ اس پر یہ انکشاف حیرت انگیز تھا کہ وہ دائود عالم سے خار کھاتے کھاتے سنجیدہ ہو گئی ہے۔ زویا اور نازیہ کو اگر علم ہو گیا تو میری جان کو آ جائیں گی۔ نیچے چہل پہل ہونے لگی تھی۔ وہ بھی ایک گہری سانس لیتی واپس کمرے میں آ گئی۔ وہ دونوں اب بھی سو رہی تھیں۔ اسے رشک آیا ان کی نیند پر پھر آگے بڑھ کر اس نے زویا کو جھنجوڑ دیا۔
’’کیا ہے بھئی… سونے دو…‘‘ وہ جھنجلائی۔
’’اٹھو زوئی! مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے… پلیز اٹھو۔‘‘ اس نے چادر کھینچ لی تھی۔ وہ آنکھیں ملتے اٹھ بیٹھی تھی۔
’’کیا ہے۔ اب تمہیں کیا تکلیف ہو گئی ؟‘‘ ہاتھ منہ پر رکھ کر اس نے جمائی روکی۔
’’صبح کا وقت ہے نیچے شاید کچھ لوگ اٹھ گئے ہیں۔ سنو میں بہت پریشان ہوں۔ ساری رات نیند نہیں آئی۔‘‘ زویا نے چونک کر اسے دیکھا۔ اس کے انداز میں کوئی بات تھی۔
’’کیوں… تم تو پریشان کرنے والی ہو تمہیں کیا پریشانی آپڑی؟‘‘
’’پلیز! طنز نہیں کرو۔ میں سنجیدہ ہوں یہ سارا اس دائود عالم کا قصور ہے۔ بڑے دعوے سے کہہ رہا تھا کہ وہ مجھے خوار کرے گا… بلکہ وہ تجمل آنٹی کو بھیجنے کا کہہ رہا تھا۔ تم ہی بتائو میں کیا کروں؟ میرے دل کی حالت بھی عجیب ہو رہی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ بس رونا آ رہا ہے۔‘‘ وہ واقعی رو دینے کو تھی۔ زویا نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔ وہ جو سن رہی تھی واقعی سچ تھا۔
’’کیا…؟ مجھے لگتا ہے تمہیں دائود عالم سے محبت ہو گئی ہے۔‘‘ وہ ایک دم اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
’’مجھے بھی یہی لگتا ہے۔‘‘ جواباً وہ بغیر چونکے آرام سے بولی تو حیرت سے برا حال ہو گیا۔
’’تم ہوش میں تو ہو نا…؟‘‘ زویا کو تو یہی لگا وہ نیند میںہے۔ اکثر نیند میں وہ ایسی ہی حرکتیں کرتی تھی۔ جواباً اس نے شاکی نظروں سے دیکھا۔
’’میں ساری رات سوئی نہیں۔‘‘ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ وہ ہنس دی۔
’’مجھے سب بتائو وہاں کیا ہوا؟‘‘ زویا نے سنجیدہ ہو کر پوچھا تو اس نے سب بتایا۔ اپنی حرکت سمیت۔
’’ارے دائود بھائی تو بڑے چھپے رستم نکلے۔ میں تو سمجھی تھی انہیں صرف اشارے ہی آتے ہیں مگر وہ تو…‘‘ وہ رک گئی پھر شرارت سے اسے دیکھنے لگی۔ ماریہ نے کھینچ کر ہاتھ اس کی کمر پر دے مارا۔
’’دفع ہو۔ میں بہت پریشان ہوں… اور تم میری جان جلا رہی ہو۔‘‘
’’اس کا صرف ایک ہی حل ہے۔ تم آرام سے شادی کر کے دائود بھائی کو پیاری ہو جائو۔ اس طرح تمہاری پڑھائی سے بھی جان چھوٹ جائے گی اور اس گھر سے بھی… کتنے آرام سے اس نے کہہ دیا تھا۔ ماریہ نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔
’’یہ تو وہی بات ہوئی نا۔ اپنے ہی دام میں صیاد آ گیا۔ میں تم سے حل پوچھ رہی ہوں۔‘‘
’’لو… اس میں کون سی عجیب بات ہے۔ شادی تو چچی جان کو تمہاری کرنی ہی ہے۔ آج نہیں تو کل اور کیا ہی بہتر ہو کہ وہ بندہ صرف دائود بھائی ہی ہو۔ تجمل آنٹی کی طبیعت نہایت ہی مخلص اور ملنسار ہے۔ تم جیسی لڑکی صرف ان ہی کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہے اور تمہیں سیدھا کرنے کے لیے دائود بھائی جیسے لڑکے کو ہی ہونا چاہے۔‘‘ وہ باقاعدہ خامیوں سمیت ذکر کر رہی تھی۔
’’اور مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں… گھرداری میں تو بالکل کوری ہوں۔ ٹھیک سے چائے بنا نہیں سکتی… مزید کیا خاک کروں گی…‘‘ اس نے ایک نیا مسئلہ اٹھایا۔ ’’اور تم مجھے شادی کا مشورہ دے رہی ہو۔‘‘
’’یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ تم کم عقل یا پھر سرے سے نااہل تو نہیں ہو۔ اب بھی سنجیدگی سے توجہ دو تو سب کچھ سیکھ سکتی ہو… بلکہ ہم سے کئی گنا بہتر کارگردگی دکھا سکتی ہو۔ بس دھیان دو۔‘‘
’’اور وہ پڑھائی… شادی کرنے سے کتابوں سے تو جان چھوٹ جائے گی ناں… مجھے پڑھنا تو نہیں پڑے گا ناں؟‘‘ وہ بے چارگی سے پوچھ رہی تھی۔ زویا کا جی چاہا قہقہے لگائے۔ اسے محبت بھی ہوئی تھی تو اپنے مطلب کی۔ وہ شادی کا سوچنے پر آمادہ بھی ہوئی تھی تو صرف پڑھائی سے جان چھڑانے کے لیے۔
’’نسرین چچی کی تو میں تمہیں گارنٹی دیتی ہوں لیکن دائود بھائی کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہیں۔ چچی تو پہلے ہی تیار بیٹھی ہیں۔ کوئی ایسا رشتہ ملے جو تمہیں سب خامیوں سمیت قبول کر لیں تو وہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کی کریں۔ ایک دن کی دیر نہ لگائیں۔ اب انہیں موقع مل رہا ہے تو وہ کیوں دیر لگائیں گی… بلکہ خوش ہوں گی ان کا دردِ سر ختم ہوا۔‘‘ وہ اس کے منہ پر اس کی خامیوں کا ذکر کر رہی تھی۔ ماریہ نے گھورنا چاہا مگر گھور نہ پائی۔
’’اگر پڑھائی سے جان چھوٹتی ہے تو مجھے یہ سودا برا نہیں۔ میں گھرداری سیکھ لوں گی… بلکہ سب کچھ کر لوں گی… بس دائود عالم کو پتہ نہ چلے۔ میں اس کے لیے یہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔‘‘ ماریہ کہہ رہی تھی اور زویا اندر ہی اندر ہنس رہی تھی بلکہ جی تو چاہ رہا تھا کہ اس کا باقاعدہ مذاق اڑائے۔ کل تک یہ لڑکی دائود عالم سے خار کھاتی تھی۔ اس کا نام سننے کی روادار نہیں تھی اور اب اس سے محبت کر رہی تھی۔ وہ بھی اس انداز میں… وہ خوب محظوظ ہوئی۔
اگلے دن تک وہ اسی کیفیت میں گھری رہی۔ زویا نے نازیہ کو بھی بتا دیا تھا۔ دونوں ہر وقت اس کا سر کھاتی رہتیں اور وہ اس کے الٹے سیدھے مشوروں پر عمل کرتی۔ اگلے تین چار دن تک ایسی حماقتیں کرتی رہی کہ سارے گھروالے اس کی اس کایا پلٹ پر حیران ہوتے رہے۔ کہاں وہ کسی کے ہزار بار ٹوکنے کے باوجود کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتی تھی ۔ ان تین دنوں میں وہ بغیر کسی کے کہے ہی ہر کام کرنے کو تیار تھی۔
روز نت نئے تجربے کرتے کرتے کبھی ہاتھ جلاتے اور کبھی پیر پر گھی کے چھینٹے گراتے وہ کچھ نہ کچھ کرنے ہی لگی تھی۔ کالج سے آنے کے بعد وہ کچن میں زویا اور نازیہ کے ساتھ کھڑی ہو جاتی تھی۔ کبھی سبزی کاٹ دیتی‘ کبھی سلاد بنا دیتی‘ چاول چن دیتی یا پھر برتن دھونے کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام کر دیتی۔
اس دن وہ کچن میں کھڑی کباب تل رہی تھی۔ زویا سموسے بنا رہی تھی۔ کبابوں کے بعد سموسے تلنے تھے جب فرائی پین میں کباب رکھتے چھینٹے اڑ کر اس کے ہاتھوں پر بیل بوٹے بنا گئے تھے۔ وہ کفگیر وہیں پھینک کر پورے کچن میں بریک ڈانس کرنے لگی تھی۔
’’ہائے امی جی… ہائے میرا ہاتھ… ہائے اللہ۔‘‘ وہ مسلسل دہائی دے رہی تھی۔
’’توبہ ہے تم تو حد کر دیتی ہو۔ دکھائو مجھے اپنا ہاتھ۔‘‘ زویا جو سموسے بنا رہی تھی ایک دم سب چھوڑ کر اس کی طرف بڑھی۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر دیکھا تو بائیں ہاتھ کی پشت اچھی خاصی جل گئی تھی۔ اس نے ماریہ کا چہرہ دیکھا۔ آنسوئوں سے تر تھا۔ اسے ماریہ پر ترس آیا۔
’’تم رہنے دو۔ میں کر لوں گی۔ نازیہ تو یوں بھی ساتھ کام کروائے گی تم جائو۔‘‘ کیبن سے ٹیوب نکال کر اس کے ہاتھ پر لگاتے ہوئے اس نے کہا تو وہ دوسرے ہاتھ سے چہرہ صاف کر کے نفی میں سر ہلانے لگی جب کہ لبوں سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔
’’یہ تو اب روز جلیں گے۔ میں کب تک یوں ہی بچتی رہوں گی۔ میں کر لیتی ہوں۔‘‘ زویا نے اب کے ایک بار پھر بے پناہ حیران ہو کر دیکھا۔ اس قدر بڑی تبدیلی۔
’’سنو۔ تم کوئی ڈرامہ تونہیں کر رہی ناں… تمہیں واقعی سچ مچ دائود عالم سے محبت ہوئی ہے ناں؟‘‘ اس کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ ماریہ شاکی نظروں سے دیکھ کر اپنا ہاتھ چھڑا کر دوبارہ اوون کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
’’تمہیں کیا لگتا ہے؟‘‘ اس نے دوبارہ چمچ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
’’مجھے تو بہت سیریس حالت لگ رہی ہے۔ رہنے دو۔ اب اتنی بھی سعادت مندی تم پر اچھی نہیں لگتی… میں کر لوں گی… دائود عالم اب اتنے بھی اچھے نہیں کہ تم ان کے لیے اپنے پھول جیسے ہاتھ ہی برباد کرلو۔‘‘ اس نے اس کے ہاتھ سے چمچ لینا چاہا مگر وہ ہاتھ پرے کر گئی۔
’’ان چند دنوں میں مجھ پر اپنی ذات کے بہت سے انکشافات ہوئے ہیں۔ میں سب کر سکتی ہوں ۔ مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میں جو یہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتی رہتی ہوں۔ وہ کسی کے لیے ناقابلِ برداشت بھی ہو سکتی ہیں۔ تم لوگ بھی تو یہی کام کرتے ہو… مگر اب جب خود پہ سب جھیل رہی ہوں تو لگ رہا ہے میں ہمیشہ سے غلط تھی۔ مجھے یہ سب بہت پہلے سے کرنا شروع کر دینا چاہیے تھا۔ دائود عالم تو خوامخواہ ایک بہانہ بنا ہے۔‘‘
’’ارے… بس… بس… اتنے چرکے ہی کافی ہیں کہیں میں بے ہوش ہی نہ ہو جائوں… اف اللہ یقین نہیں آ رہا۔ اتنی واضح تبدیلی اور وہ بھی تم میں… مل جائیں دائود بھائی تو شکریہ ادا کروں گی کہ ہماری اس قدر سرپھری لڑکی کو سیدھا کر دیا ۔‘‘ زویا واقعی حیرت زدہ تھی۔
’’نہیں۔ تم اسے کچھ نہیں بتائو گی۔ وہ پہلے ہی خوش فہمیوں میں مبتلا ہے۔ مزید پھیل جائے گا کہ میں اس کے پیچھے خوار ہو رہی ہوں۔‘‘ اس نے فوراً اسے ٹوک دیا تو زویا نے ہنس کر اثبات میں سر ہلایا۔
ہر کوئی ماریہ کی ہمت افزائی کر رہا تھا۔ وہ سب کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہوگئی اور پہلی دفعہ اسے محسوس ہوا کہ بعض اوقات دوسروں کو خوش کرنا بھی کس طرح روح کی طمانیت کا سبب بنتا ہے۔‘‘
اگلی شام اس نے فیرنی بنائی تھی جسے دیکھ کر زویا اور نازیہ نے خوب مذاق اڑایا تھا۔
’’ بھئی یہ ہے کیا چیز؟ اسے کم ازکم فیرنی نہیں کہہ سکتی میں… ہاں فیرنی کے علاوہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔‘‘ نازیہ بائول میں ادھر سے ادھر پانی کی طرح ہلتے آمیزے کو دیکھ کر ہنسی تھی۔
’’دفع ہو جائو۔ تم جیسے بدذوق لوگ کیا جانیں کہ اصل میں فیرنی ہوتی کیا ہے؟‘‘ اس نے بائول اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور پلٹ کرفریزر میں رکھا۔
’’سن رہی ہو زویا! میں جو گزشتہ آٹھ سالوں سے کچن میں کام کر رہی ہوں بدذوق ہوں… اور مجھے فیرنی کا کچھ پتہ ہی نہیں۔‘‘ اس نے روٹیاں بناتی زویا کو بھی گھسیٹا تو وہ بھنا کر پائوں پٹختی وہاں سے باہر نکل آئی اور رات کو جب سب چائے نوش فرما رہے تھے تو میٹھے کی طلب ہوئی بلکہ فرمائش ہوئی تھی۔ وہ جو نازیہ کی باتوں پر پہلے ہی بوکھلائی ہوئی تھی‘ سٹپٹا گئی۔ نازیہ تو موقع کی تلاش میں تھی۔ فوراً فریج سے بائول نکال لائی۔
’’یہ کیا چیز ہے بھئی؟‘‘ زوہیب بھائی نے بائول میں جھانکتے ہوئے پوچھا تو وہ خفیف ہوگئی۔
’’فیرنی ہے… وہ بھی ہماری ماریہ نے بنائی ہے۔ ٹیسٹ کریں اور داد دیں بنانے والی کو۔‘‘ نازیہ تو پورا ’’بی جمالو‘‘ کا کردار ادا کر رہی تھی۔ وہ دانت کچکچا کر رہ گئی جب کہ زوہیب بھائی ہنس دیئے۔
’’نہ بھئی نہ… میں تو یہ تجربے افورڈ نہیں کر سکتا۔‘‘ انہوں نے ہنس کر کانوں کو ہاتھ لگائے۔
’’دو ادھر‘ میں خود کھا لوں گی۔ خوامخواہ ہی فریزر سے نکال لائی ہے۔‘‘ ماریہ کا غصے سے برا حال تھا۔
’’نہیں بھئی۔ ہماری بیٹی نے اتنی محنت کی ہے۔ لائو نازیہ یہ مجھے پیالی میں ڈال دو۔ میں کھائوں گا۔‘‘ اسے یوں سب کے مذاق کا نشانہ بنتے دیکھ کر تایا ابو کو فوراً اس پر ترس آیا۔ نازہہ نے پیالی میں فیرنی نما آمیزہ نکال کر انہیں دیا۔ انہوںنے چمچ بھر کر منہ میں ڈالا تو ماریہ کی سانس اٹکنے لگی۔
’’واہ بھئی۔ ذائقہ تو اچھا ہے۔‘‘ ایک دو منٹ ذائقہ محسوس کر کے انہوں نے سر ہلایا اور پھر کھانے لگے۔ انہیں اس قدر رغبت سے کھاتا دیکھ کر دوسرے لوگ بھی کھانے لگے۔
’’واقعی یہ ماننا پڑے گا… کہ ذائقہ لاجواب ہے۔ شکل کیا ہے… شکل تو انسان کی بھی بری ہو سکتی ہے۔ اصل چیز تو باطن کی ہوتی ہے ناں۔‘‘ حمزہ بھی اسے چڑا رہا تھا۔ ’’ویسے اگر ماریہ کی شکل اچھی ہے تو اندر بھی اچھا ہونا چاہیے۔ کیوں تایا ابو…‘‘ وہ اب باقاعدہ اس کا مذاق اڑانے لگا تو ماریہ بھنا اٹھی۔
’’تم تو رہنے ہی دو۔ ایک تو پیالی بھر کر کھا بھی لی ہے اور پھر باتیں کر رہے ہو۔ خود بنائو تو پتا چلے۔‘‘ اس کا غصہ دیکھنے کے قابل تھا۔ سب ہی ہنس دیئے۔
’’بری بات ہے حمزہ! بہن کا مذاق نہیں اڑاتے۔ ہماری بیٹی نے اتنی اچھی کوشش کی ہے۔ اسے تو انعام ملنا چاہیے۔ بولو ماریہ کیا لو گی؟‘‘ حمزہ کے والد چھوٹے چچا نے حمزہ کو ٹوک کر اسے پیار سے پوچھا تو وہ ایک دم پھیلی۔
’’میں جو مانگوں گی دیں گے ناں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔ انہوں نے سر ہلایا۔
’’تو امی سے اجازت دلا دیں۔ میں مزید پڑھنا نہیں چاہتی۔ قسم سے کالج جاتے ہوئے میری جان جاتی ہے۔ کتابوں کو ہاتھ لگائوں تو نیند آنے لگتی ہے جو کہیں گے کروں گی مگر بی۔ اے نہیں کروں گی۔‘‘ سب نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ خاص طور پر امی نے جو بیٹی کی پہلی کاوش پر مسکرا رہی تھیں مگر وہ اب گھورنے کا کام سرانجام دے رہی تھیں۔
’’تم اگر اس مقصد کے لیے یہ سب کر رہی ہو ناں تو مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر تم یہ سیکھ ہی لو گی۔ چاہے رو کر یا ہنس کر۔ اس وقت کی اہم ضرورت تعلیم ہے۔ بی۔ اے سے پہلے تو میں تمہاری شادی کا بھی نہیں سوچوں گی۔ کالج چھوڑنے کا خیال ذہن سے نکال دو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔‘‘ امی نے فوراً ڈانٹ دیا تھا۔ اس نے منہ بسور کر سب کو دیکھا۔ سب ہی گویا متفق نظر آئے۔ وہ پائوں پٹختی ہال کمرے سے نکل آئی… اور نسرین بیگم نے اسے وہاں سے نکلتے ہوئے تاسف بھری نظروں سے دیکھا تھا۔
اگلے دن کالج سے واپسی پر وہ تینوں سواری کی تلاش میں کھڑی تھیں۔ ان کے لیے رکشہ لگوایا ہوا تھا جو انہیں چھوڑنے بھی آتا تھا اور لینے بھی۔ آج اس نے چھٹی کر لی تھی۔ صبح جیسے تیسے کر کے وہ آ گئی تھیں مگر اب واپسی کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔
’’یہ بھی کیا مصیبت ہے۔ امی کا بس چلے تو وہ رات کو بھی کالج بھیجیں۔‘‘
انتظار سے اکتا کر وہ کتابیں زویا کو پکڑا کر کالج کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
’’سواری مل جائے گی۔ تم تو یوں ہی اکتا جاتی ہو۔‘‘ نازیہ نے اس کی مرجھائی صورت دیکھ کر قدرے سکون سے کہا۔ وہ سر جھٹک آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی۔ وہ یوں ہی دیکھ رہی تھی جب کوئی بائیک زن سے آگے بڑھی تھی مگر پھر پلٹ کر ان کے قریب آ کر رکی تھی۔ اس نے چونک کر دیکھا۔ دائود عالم کو دیکھ کر اس کا دل ایک دم دھڑکنے لگا۔
’’یہ یہاں کیسے؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’السلام علیکم! آپ لوگ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟ کوئی کنوینس کا مسئلہ ہے؟‘‘ اس نے بائیک روک کر دونوں سے پوچھا تھا جب کہ ان دونوں سے قدرے فاصلے پر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ماریہ کو دیکھا۔
’’وعلیکم السلام! جی آج ہمارا رکشے والا نہیں آیا مگر اب کوئی سواری نہیں مل رہی۔‘‘ نازیہ نے رسان سے جواب دیا۔
’’اوہ آئی سی۔ میں تو ادھر سے گزر رہا تھا۔ آپ لوگوں کو دیکھ کر رک گیا۔ بتائیں اس سلسلے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں۔‘‘ کافی مہذبانہ انداز میں وہ پوچھ رہا تھا۔ گزشتہ ملاقات کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ بغور دیکھے گئی۔
’’خدمت تو یہی کر سکتے ہیں کہ ہمیں گھر چھوڑ آئیں مگر آپ تو بائیک پر سوار ہیں بھلا یہ خدمت کیسے سرانجام دے سکیں گے۔‘‘ زویا نے ہنس کر کہا تو وہ بھی ہنس دیا۔
’’میرا خیال ہے ایک فرد تو بائیک پر بیٹھ ہی سکتا ہے کیوں؟‘‘ وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا۔ مسکرا کر ماریہ کو دیکھا وہ فوراً سٹپٹا گئی جب کہ نازیہ اور زویا ہنس دیں۔
’’وہ ایک فرد ماریہ کبھی نہیں ہو سکتی۔ انگور کٹھے ہیں۔ اس لیے ہم میں سے کسی ایک کومنتخب کر لیں۔‘‘ زویا نے بھی برملا کہا تو نازیہ اور دائود کے ہنسنے کے ساتھ وہ بھی جھینپ گئی۔
’’میرا خیال ہے۔ دو خواتین تو بیٹھ ہی سکتی ہیں… اگر اعتراض نہ ہو تو۔‘‘
’’نہیں جی تین بھی بیٹھ سکتی ہیں… بشرطیکہ ہم میں سے کسی ایک کو بائیک چلانا آتی ہو۔‘‘ نازیہ نے بھی برجستہ کہا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
’’چلیں… خدمت کرنا ہی چاہتے ہیں تو ماریہ کو لے جائیں۔ ہم تو عادی ہیں۔ وہ اس طرح دھوپ میں کھڑی مر رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمیں اس کو اٹھانے کے لیے گھر سے کسی کو بلوانا پڑے آپ اس کو لے جائیں۔‘‘ وہ مسلسل چپ تھی۔ زویا نے شرارتاً کہا تھا جواباً دائود عالم نے یوں سانس کھینچی کہ خوامخواہ ماریہ چڑ اٹھی۔
’’معاف کیجئے گا زویا جی! مجھے صحیح سلامت گھر پہنچنا ہے اور میری والدہ کو بھی میری ابھی ضرورت ہے۔ کبھی یہ جنگلی بلی بنی ہوتی ہیں اور کبھی جھگڑالو ٹائپ خاتون… اب کیا پتہ یہ شیرنی بن کر مجھے ہی دبوچ لیں۔ البتہ آپ دونوں کو لے جا سکتا ہوں۔‘‘ وہ سب کہہ رہا تھا اور ماریہ اندر ہی اندر تپتی جا رہی تھی۔
’’ہاں مجھے تو جیسے بڑا شوق ہے تم سے لفٹ لینے کا۔‘‘ وہ دل ہی دل میںکڑھ کر رہ گئی۔ ’’جی نہیں شکریہ۔ مجھے بھی کوئی شوق نہیں آپ کی اس اعلیٰ وارفع بائیک کی سواری کا۔ جائیے راستہ ناپیے اپنا۔‘‘ وہ چپ رہنے والی نہ تھی۔ دل کا کیا تھا ایک پتھر رکھ کر وہ فوراً اس سے دودو ہاتھ کرنے کو تیار تھی۔
’’تھینک گاڈ۔ شکر ہے آپ بول سکتی ہیں۔ میں سمجھا کہیں زبان رکھ کر بھول چکی ہیں۔‘‘ وہ کہہ کر پچھتائی۔ اسے پھاڑ کھانے والی نظروں سے گھورا جب کہ نازیہ اور زویا ہنس دیں۔
’’آپ سے بہتر بول سکتی ہوں اور ویسے بھی مجھے فضول لوگوں سے بات کرنے کی وہ بھی خوامخواہ عادت نہیں ہے۔‘‘ اپنی خفت مٹانے کو وہ یہ بھی کہہ گئی۔ دائود عالم نے ایک افسوس بھری سانس خارج کرتے نازیہ اور زویا کی شرارت بھری آنکھوں میں دیکھا۔
’’مجبوری سی مجبوری۔ سب جھیلنا پڑ رہا ہے۔ اوکے مجھے علم ہوتا کہ یوں سرِراہ ملاقات ہو سکتی ہے تو کسی دوست کی کار ہی لے آتا۔ کم ازکم لوگوں کو افسوس تو نہ ہوتا۔‘‘ اس نے بھی دل جلانے کی حد کر دی تھی۔ ماریہ نے شکایتی نظروں سے دونوں کو دیکھا جو ہنس رہی تھیں۔
’’مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔‘‘ وہ بھی بولنے پر مجبور تھی تو اس نے سر ہلایا۔ وہ سر پیٹ کر رہ گئی۔
’’تو پھر مجھے کچھ جلنے کی بو کیوں آ رہی ہے؟‘‘ وہ بھک سے اڑ گئی۔ دزدیدہ نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ آنکھوں میں شرارتی مسکان لیے پوری طرح متوجہ تھا۔ ایک دم وہ آئوٹ ہوئی تھی۔ پائوں پٹخ کر زویا اور نازیہ پر چڑھ دوڑی۔
’’تم دونوں کو گھر جانا بھی ہے یا ہر ایرے غیرے‘ فضول لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر گپیں ہانک کر اپنا تماشا کرانا ہے۔‘‘ وہ جب بھی آئوٹ ہوتی تھی یوں ہی بولتی تھی۔ زویا سے کتابیں چھین کر کالج کی طرف بڑھی۔
’’جب کوئی سواری مل جائے تو بلا لینا۔‘‘ ایک سلگتی نظر دائود عالم اور دونوں پر ڈال کر وہ کالج میں گھس گئی۔ دائود ہنس دیا۔
’’کیا چیز ہے یہ…؟‘‘
’’ویسے دائود بھائی! یہی حال رہا تو میں سوچ رہی ہوں کہ آپ دونوں کا گزارا کیسے ہو گا؟‘‘ نازیہ کے لہجے میں اب بھی شرارت تھی۔ دائود نے ایک سانس کھینچی۔
’’ہو ہی جائے گا۔ تم دونوں دعا کرنا۔ میں گھر خیریت سے پہنچ جائوں۔ ویسے کسی کو یوں جلتے کڑھتے بددعائیں دیتے چھوڑ کر جانا اچھی بات تو نہیں مگر کیا کیا جا سکتا ہے… آپ کی کزن صاحبہ میں انا بہت ہے۔ چاہے اپنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ وہ پہلے بولتی ہیں پھر سوچتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی بددعائیں بڑا اثر رکھتی ہیں۔ چلو ہاتھ تو انجیکشن سے ٹھیک ہو سکتا ہے مگر کوئی ہڈی پسلی فی الحال افورڈ نہیں کر سکتا۔ اوکے اللہ حافظ۔‘‘ وہ شرارت سے کہہ کر بائیک بھگا لے گیا۔ نازیہ اور زویا ہنستی چلی گئیں۔
وہ باتھ لے کر کمرے میں آیا تو کافی دیر سے بجتا موبائل اٹھا لیا۔ وہاں آنے والا نمبر دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا۔
’’السلام علیکم۔‘‘ تولیے سے بال خشک کرتے دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگایا۔
’’وعلیکم السلام دائود بھائی کیا حال ہے؟‘‘ دوسری طرف زویا تھی۔ دائود نے تولیہ اسٹینڈ پر ڈال کر خود کو صوفے پر گرا لیا۔
’’بالکل اے ون۔ تم بتائو ادھر کا مطلع کیسا ہے؟ دوپہر کو کافی ابرآلود لگ رہا تھا بلکہ گھر پہنچتے پہنچتے مجھے محسوس ہوا جیسے بارش بھی ہو رہی ہے۔ لگتا ہے کافی گھن گرج کے ساتھ بارش ہوئی ہے اور تمہاری کال بھی اسی گھن گرج کا پیش خیمہ ہے کیا؟‘‘ دوسری طرف خوب صورت ہنسی کی جھنکار سننے کو ملی تھی۔
’’آپ بھی کیا چیز ہیں؟ اب بس بھی کریں۔ اتنا کافی ہے۔ وہ تو بے چاری جل کڑھ کڑھ کر آدھی ہو گئی ہے بلکہ ہاتھ جلا جلا کر اس کے پھول سے ہاتھوں کا ستیاناس ہو رہا ہے۔ آپ کو ترس نہیں آتا اس پر…‘‘
’’کبھی آتا تھا ترس مگر اب نہیں آتا۔‘‘ دائود نے گنگنا کر کہا تو زویا ہنستی چلی گئی۔ ’’مادام! میں نے فرمائش نہیں کی تھی کہ پھول سے ہاتھوں کا ستیاناس کیا جائے۔ آپ کی کزن صاحبہ خود ہی اعلیٰ وارفع چیز ہیں۔ وہ کسی کی باتوں میں آنے والی نہیں۔‘‘ بالوں میں انگلیاں پھیرتے اس نے کہا تھا۔
’’مگر وہ آپ کی باتوں میں آ گئی ہے… سچ مچ آپ اسے بری طرح خوار کر رہے ہیں۔ پہلے وہ ہر وقت اس بات پر کڑھتی رہتی تھی کہ اسے روز لائبریری میں اشارے کرنے والا شخص آخر کون ہے؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ وہ تو ان ہی دنوں آپ سے دودو ہاتھ کرنے پر بضد تھی۔ وہ کر بھی لیتی اگر میری اور نازیہ کی ہر وقت کی بریفنگ نہ ہوتی… وررنہ آپ کا بھانڈا کب کا پھوٹ چکا ہوتا؟ آپ کو علم نہیں وہ کیا چیز ہے؟ اگر اسے علم ہو گیا کہ آپ اسے الّو بنا رہے ہیں تو خدا کی قسم وہ آپ کی گردن دبوچ لے گی… جو آپ چاہ رہے تھے وہ تو ہو گیا۔ اب تو محترمہ مبتلائے درد ہونے کے ساتھ ساتھ مبتلائے دردِ خانہ داری بھی ہو گئی ہیں اور بھی نجانے کیا کیا ہونے کے امکانات ہیں۔ اب اس پر ترس کھالیں۔ اس نے تو کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ آپ کی خاطر کیا کیا نہیں کر رہی… جسے ٹھیک سے جھاڑو پکڑنا نہیں آتی تھی اس کے ہاتھوں میں چھالے دیکھ کر میرے نازک دل کو تو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور آپ کتنے پتھردل ہیں ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔‘‘ وہ رکی تو دائود نے ایک گہری سانس کھینچی۔
’’اثر لینے کا مطلب ہے… اس کو اپنے سر پر سوار کر لوں… بلکہ میرا تو خیال ہے کہ اسے تھوڑی اور تربیت مل جائے جب وہ یہاں آئے تو مجھے اس پر زیادہ محنت نہ کرنی پڑے۔ میں جس انداز میں ڈھالنا چاہوں وہ ڈھل جائے۔ ادھر سے اب امی باقاعدہ ناراض رہنے لگی ہیں کہ نہ میں انہیں لائبریری والی لڑکی سے ملا رہا ہوں اور نہ ہی ادھر ہاں کر رہا ہوں… کچھ نہ پوچھو کس طرح ان دو محاذوں پر لڑ رہا ہوں۔‘‘
’’آپ تو پھر بھی فائدے میں ہیں جب کہ صرف اپنی ذات سے لڑنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ وہ لڑکی جس نے زندگی میں کسی چیز کو سنجیدہ ہی نہ لیا ہو وہ اچانک کسی ایک شخص کی خاطر اپنی پوری زندگی کو ہی بدلنے پر مصر ہو جائے تو اس انقلاب کو آپ کیا کہیں گے… یہ اچانک تو رونما نہیں ہوا ہو گا… کتنا اس نے اپنے آپ سے‘ اپنی عادتوں سے اور اپنی فطرت سے جھگڑا کیا ہو گا۔ صرف اپنی ذات کو نظرانداز کر کے ایک دم کسی کی اہمیت تسلیم کر لینا بہت بڑی بات ہے۔ دائود بھائی وہ بھی ایک ایسی لڑکی کے لیے جس نے محبت جیسی لغویات کو کبھی گردانا ہی نہ ہو‘ جس کے نزدیک شادی جیسا فعل صرف حماقت اور اپنی زندگی برباد کرنا ہو‘ وہ ایک دم اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار ہو جائے بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کرے تو ایسے میں آپ یہ توقع رکھیں کہ وہ خود آگے بڑھ کر اظہارِ محبت کرے تو آپ غلط ہیں۔ وہ بہت اچھی ہے۔ سونے جیسا دل ہے اس کا۔ پلیز اسے مزید خوار مت کریں۔ وہ بہت ڈسٹرب ہے بلکہ آج جب سے اس نے آپ کو دیکھا ہے وہ متضاد خیالات میں گھری ادھر سے ادھر چکرا رہی ہے۔ چپکے چپکے رو چکی ہے۔ ہمیشہ اس نے شادی سے انکار کیا ہے اور اب وہ آپ کی منتظر ہے تو آپ کو بھی اس کے احساسات کا پاس رکھنا ہو گا۔‘‘
دائود مسکرا دیا تھا۔
’’آپ کے کہنے پر میں نے اور نازیہ نے وہ سب کیا ہے جو شاید اس کے علم میں آجائے تو وہ ہمیں قتل ہی کر ڈالے۔ اسے اپنی انا بہت عزیز ہے اور اگر اسے علم ہو گیا کہ ہم شروع سے آخر تک اس واقعے میں شامل ہیں تو نجانے وہ کیا کرے… بہت ہو گیا ڈرامہ اور مذاق آپ کو اب کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔‘‘وہ چپ ہو گئی۔
’’ٹھیک ہے میں سوچتا ہوں۔ وہ تو ٹھیک ہے ناں۔ میرے دوپہر والے مذاق کا اس نے اثر تو نہیں لیا ناں۔‘‘
’’ابھی تک تو اس نے آپ کی کج ادائی کا ہی اثر لیا ہوا ہے‘ مزید کوئی ڈرامہ بازی کیے بغیر لوہا گرم ہے چوٹ لگا لیں تو بہتر ہے ورنہ آج کل گھر میں ایک رشتہ آیا ہوا ہے۔ میری ممانی کے بھائی کا ہے۔ رشتے دار ہیں۔ اب تو وہ سلجھتی جا رہی ہے تو نسرین چچی بھی سنجیدہ ہو رہی ہیں۔ پڑھائی میں ماریہ کی دلچسپی زیرو ہے۔ صرف وہ اس کے بی۔ اے کی منتظر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ شادی تو نہیں البتہ منگنی ضرور کریں گی۔‘‘ سنجیدگی سے اس نے بتایا تو دائود عالم ایک دم پریشان ہو کر سیدھا ہوا۔
’’کیا… ہوش میں تو ہو تم… اور تم اس رشتے کے متعلق اب بتا رہی ہو… اتنی محنت میں نے کی ہے… اور کوئی اور لے اڑے ناممکن… پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے تاکہ میں امی سے بات کرتا…‘‘ وہ ایک دم ناراض ہو اٹھا اس پر۔
’’مجھے خود ابھی علم ہوا ہے۔ وہ لوگ اتوار کے دن آ رہے ہیں۔ دراصل جیسے ہی ہم گھر پہنچے تو ان لوگوں کا فون آ گیا۔ ماریہ تو سنتے ہی کمرے میں بند ہو گئی تھی۔ رورو کر برا حال ہو رہا تھا اس کا۔ ابھی وہ لیٹی ہے تو میں آپ کو فون کرنے آئی ہوں۔‘‘
’’اچھا کیا تم نے… میں امی سے بات کرتا ہوں۔ کل ہی وہ اور جبین وغیرہ آئیں گی اور ہاں اپنی کم عقل کزن کو مت بتانا۔ پہلے ہی اس میں عقل کی کمی ہے۔ خوامخواہ کوئی نیا ایشو اٹھائے گی۔ انا تو ویسے بہت ہے اس میں… لیکن میرا مقصد ابھی چند دن اور سزا دینے کا ہے… اور یہ چند دن مزید تم لوگوں کو میرا ساتھ دینا ہے سمجھیں…‘‘ وہ ایک دم اسے کہہ رہا تھا۔ دوسری طرف وہ ہنسی۔
’’اوکے۔ سمجھ گئی باس۔ اور کیا حکم ہے؟‘‘ وہ بھی کھل کر ہنسا تھا۔
’’حکم یہ ہے کہ لوہا گرم ہے۔ تم مسلسل چوٹ لگاتی جائو۔ لوہا مزید پگھلتا جائے گا۔‘‘ اب وہ ہلکا پھلکا ہو کر کہہ رہا تھا۔ زویا ہنستی چلی گئی۔
’’ٹھیک ہے مگر یہ آخری بار ہے۔ پہلے ہی میں اسے بہت تکلیف دے چکی ہوں۔ آپ اپنا ڈرامہ فولڈ کر لیں۔ اس سے پہلے کہ میں خود بتا دوں۔‘‘ اب کے وہ اسے چڑا رہی تھی۔
’’ضرور‘ ضرور بتائو۔ اگر تمہیں اپنی گردن پیاری نہیں۔ تمہاری کزن تو ویسے بھی جنگلی بلی ہے پوری۔‘‘ دائود نے آرام سے کہا تھا۔
’’ایک منٹ دائود بھائی! مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے دوسرے فون سے کوئی سن رہا ہے۔ میں آپ سے پھر بات کروں گی۔ اللہ حافظ۔‘‘ ایک دم عجلت سے کہتے زویا نے فون بند کر دیا تھا۔ دائود عالم نے ایک گہری سانس خارج کرتے موبائل سائیڈ پر رکھا۔
ریسیور کریڈل پر رکھ کر وہ جیسے ہی تیزتیز قدم اٹھاتی ٹی وی لائونج میں آئی تو وہاں ماریہ کو ریسیور پکڑے دیکھ کر اپنی جگہ پر پتھر ہو گی۔ وہ اس کی دائود عالم سے ہونے والی تمام گفتگو سن چکی تھی۔ اسے یوں چپ سادھے بیٹھے دیکھ کر زویا نے خشک ہوتے حلق کو تر کرتے آگے قدم بڑھائے۔
’’ماریہ!‘‘ اس نے قریب پہنچ کر اسے پکارا۔ اس نے کریڈل پر ریسیور رکھ کر اسے جس انداز میں دیکھا۔ زویا کا جی چاہا کہ وہ زمین میں سما جائے۔
’’ماریہ میں… وہ دائود بھائی…‘‘ اس نے اس سے کچھ کہنا چاہا تھا مگر وہ اسے کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر وہاں سے بھاگ گئی۔
’’ماریہ! بات سنو میری۔ پلیز ماریہ۔‘‘ وہ بھی پیچھے لپکی تھی مگر وہ کمرے میں جا کر دروازہ لاک کر گئی تھی اور وہ بند دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔ ماریہ کا ردِعمل انتہائی شدید تھا وہ خوفزدہ ہوئی۔
اس وقت رات کے گیارہ بجے تھے۔ تقریباً سب ہی اپنے کمروں میں سو گئے تھے۔ نازیہ نو بجے ہی سو گئی تھی۔ ماریہ نے جب سے رشتے کا سنا تھا تب سے کمرے میں بند تھی۔ آج تو اس نے کچن میں ان کا ہاتھ بھی بٹایا تھا۔ نسرین بیگم جانتی تھیں کہ وہ رشتے کا سن کر خاموش احتجاج کر رہی ہے تو انہوں نے بھی ذرا توجہ نہ دی۔ اب انہوں نے سوچ لیا کہ پہلے ہی دو رشتے ہاتھ سے گنوا چکی تھیں۔ اب وہ مانے یا نہ مانے وہ ہاں کر دیں گی۔ اسی لیے اس کا رویا رویا چہرہ بھی نظرانداز کر گئیں۔ زویا کافی دیر تک اسے تسلیاں دیتی رہی تھی پھر وہ لیٹ گئی تھی تو وہ نیچے چلی آئی۔ برآمدے میں ہی رکھا فون اسٹینڈ دیکھ کر اس کے دل میں دائود سے مسئلہ ڈسکس کرنے کا خیال آیا تو نمبر ملا لیے۔ اسے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ماریہ نیچے بھی آ سکتی ہے اور پھر دوسرے فون سے اس کی ساری گفتگو بھی سن لے گی… اور اب اس کا ردِعمل۔ اس کا دل خوف سے سمٹنے لگا۔ وہ نجانے کیا سمجھے۔ وہ جوں جوں سوچ رہی تھی پریشان ہو رہی تھی۔ وہ کافی دیر تک ادھرادھر ٹہلتی رہی مگر اسی طرح ساری رات تو نہیں گزر سکتی تھی۔ وہ دوبارہ دروازے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس نے تین چار دفعہ دروازہ کھٹکھٹایا تھا مگر وہ نہیں کھلا تھا۔
’’پلیز ماریہ دروازہ کھولو۔ میں اس طرح ساری رات کمرے سے باہر نہیں گزار سکتی۔ پلیز…‘‘ وہ روہانسی ہو گئی تھی اور تب ہی دروازہ کھل گیا تھا۔ وہ تیر کی سرعت سے اندر داخل ہوئی۔ ماریہ دروازہ کھول کر بستر پر دراز ہو کر سر تک چادر تان چکی تھی۔ اس نے بے بسی سے دیکھا۔
’’ماریہ! اگر تم میری بات سن لو تو شاید تمہیں سوچنے میں آسانی ہو۔ بخدا میرا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہیں تھا… بلکہ میں تو…‘‘
’’تمہارا اور نازیہ کا جو بھی مقصد تھا۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ میں بس اتنا سمجھی ہوں کہ تم دونوں نے میری تذلیل کی ہے اور اس کے لیے میں تم لوگوں کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘ ایک دم سپاٹ آواز میں سب کہہ گئی تھی۔ زویا دیکھتی رہ گئی۔
’’ماریہ!‘‘
’’پلیز! مجھے نیند آ رہی ہے… اور ہاں مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ پھنکارتی آواز تھی۔ زویا تو کئی لمحے سن کھڑی رہی۔ ہاں وہ جانتی تھی کہ ماریہ اس معاملے میں کس قدر شدت پسند ہے۔

صبح کے وقت ابوامی اور دائود عالم تھے۔ دائود سوچ رہا تھا کہ امی سے کیسے بات کرے… امی تو اب اس سے ناراض رہنے لگی تھیں جب سے اس نے لائبریری والی لڑکی کے متعلق آگاہ کیا تھا۔ وہ اس لڑکی کے گھر جانا چاہتی تھیں مگر وہ کوئی سرا ہی ہاتھ نہیں پکڑا رہا تھا۔ پہلے اس نے ماریہ کی جانب سے خود انکار کیا تھا اور اب ایک دم اقرار۔
’’امی! وہ مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘ کھانا کھاتے ہوئے اس نے گفتگو کی ابتدا کی۔
’’ہاں۔ کہو…‘‘ انہوں نے سرسری سا کہا۔
’’وہ امی! میں چاہتا ہوں کہ آپ نسرین آنٹی کے ہاں آج جائیں۔ ان کی بیٹی ماریہ کے لیے۔‘‘ اٹک اٹک کر اس نے کہہ ہی دیا۔
’’کیا…؟‘‘ امی تو امی عالم صاحب بھی حیران رہ گئے۔
’’یہ کیا مذاق ہے؟ تم جانتے ہو دائود! کہ مجھے ایسا مذاق قطعی پسند نہیں کہ جس میں کسی کی بیٹی وغیرہ پر حرف آئے۔ پہلے انکار اب اقرار… یہ کیا بات ہوئی بھلا…‘‘ وہ خفگی سے کہہ رہی تھیں۔
’’میں پہلے بھی راضی تھا… یہ ایک لمبی بات ہے پھر کبھی بتائوں گا۔ فی الحال تو آپ لوگ آج ان کے ہاں جائیں۔ ماریہ کے لیے اتوار کو ایک رشتہ آ رہا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ ان لوگوں سے پہلے بات کر لیں تو اچھی بات ہے۔‘‘ اس نے آرام سے کہا تھا۔ امی نے ابو کو دیکھا۔
’’تم بھول رہے ہو کہ تم اس لڑکی کے لیے پہلے ہی انکار کر چکے ہو۔ اب میں کس منہ سے ان کے ہاں جائوں…؟‘‘ امی کو اچانک تائو آیا تھا۔ ’’اور وہ لڑکی جس کا تم ایک بار ذکر کر رہے تھے۔ اسے کس کھاتے میں ڈالو گے بولو۔‘‘
’’امی! وہ لڑکی نسرین آنٹی کی بیٹی ماریہ ہی ہے… اور پلیز مختصر یہ کہ میں نے جان بوجھ کر انکار کیا تھا اور اب اقرار کر رہا ہوں تو اس کی بھی وجہ ہے کہ میں اس لڑکی کو کھونا نہیں چاہتا۔ آگے آپ سمجھ دار ہیں۔‘‘ وہ کھانا کھا چکا تھا۔ وہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ امی ابو بھی چپ چاپ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے رہ گئے۔
زویا اس سے باربار بات کرنے کی کوشش کر چکی تھی مگر اس کی چپ نہیں ٹوٹی۔ بہت سنجیدگی کے ساتھ وہ کالج گئی تھی اور حیرت کی بات تھی اس نے پہلی دفعہ سارے پیریڈ اٹینڈ کیے تھے اور تو اور پہلی دفعہ اس نے لیکچر کے دوران ٹیچر سے کوئی سوال بھی کیا تھا۔ واپس آ کر وہ کچن جانے کی بجائے کمرے میں گھس گئی تھی۔ نماز وغیرہ ادا کر کے قرآن مجید پڑھتی رہی۔ قرآن مجید بند کیا تو کتابیں کھول لیں۔ زویا تو سب جانتی تھی مگر نازیہ بھی حیران ہوئی اور پھر جب اسے زویا سے ساری حقیقت کا علم ہوا تو وہ بھی چپ کی چپ رہ گئی۔
شام کی چائے کی ذمہ داری بڑی بھابی نے اس پر عائد کی تھی جسے اس نے نہایت خاموشی سے نبھایا بھی تھا۔ ابھی وہ لوگ چائے پی رہے تھے جب تجمل آنٹی اور عالم انکل چلے آئے۔ ان کے ساتھ ان کا داماد اور جبین بھی تھیں۔ ان کو دیکھتے ہی وہ کمرے میں گھس کر دروازہ لاک کر گئی تھی۔ اسے نہیں پتا وہ لوگ کب گئے اور کیا کیا باتیں ہوئیں؟ بس وہ تو اپنے اندر کی آگ سے نبرد آزما تھی۔ وہ لوگ چلے گئے تو وہ کمرے سے نکلی۔ عشا کی نماز ادا کر چکی۔ وہ امی کے کمرے میں چلی آئی۔ وہ جائے نماز پر کھڑی تھیں۔ ابھی انہوں نے نماز شروع ہی کی تھی۔ وہ ان کے بستر پر لیٹ گئی اور جب تک انہوں نے نماز مکمل کی وہ بس چھت کو گھورتی رہی۔ آدھے گھنٹے بعد انہوں نے جائے نماز لپیٹا تو وہ تب ہی اسی حالت میں تھی۔ وہ جائے نماز ایک طرف ڈال کر اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
’’ماریہ! کیا بات ہے… چندا کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ وہ جتنی اس کی حرکتوں پر خائف رہتی تھیں اتنی ہی اس سے محبت بھی کرتی تھیں۔ اس کا سر اپنی گودمیں رکھ کر بالوں میں انگلیاں پھیریں۔
’’امی! یہ تجمل آنٹی وغیرہ کیوں آئے تھے؟‘‘ ان کے سوال کو نظرانداز کرتے اس نے پوچھا تھا۔ وہ پہلے تو چونکیں پھر سمجھ کر مسکرا دیں۔
’’تم جانتی ہو… بلکہ جو سمجھ رہی ہو وہ سچ ہے۔ وہ ایک دفعہ پھر اپنے بیٹے کے لیے رشتہ لے کر آئی ہیں۔‘‘
’’امی جان پلیز! آپ انکار کر دیں۔ مجھے نہیں کرنی اس دائود عالم سے شادی۔ اس کے علاوہ آپ جہاں کہیں گی میں تیار ہوں مگر ادھر نہیں۔‘‘ وہ ایک دم بھّرا گئی تاہم خود کو رونے سے باز ہی رکھا۔
’’مگر ماریہ…‘‘ انہوں نے اس قدر دوٹوک انداز پر کچھ کہنا چاہا تو اس نے روک دیا۔
’’امی پلیز! زویا کی ممانی کے بھائی کا جو رشتہ آ رہا ہے وہ مجھے منظور ہے۔ آپ ان لوگوں کو ہاں کہہ دیجئے گا۔‘‘ وہ انتہائی سنجیدہ تھی بلکہ خطرناک حد تک۔ اس روپ میں تو انہوں نے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’ماریہ۔‘‘ ان کے لب ہلے تھے۔
’’امی! میں بہت بری ہوں۔ مجھے اب احساس ہو رہا ہے۔ میں ایک عرصے سے آپ کے لیے تکلیف کا سبب بنتی رہی ہوں۔ میں نے زندگی کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ میرے نزدیک زندگی کا نام صرف کھیل تماشا تھا اور اس کو میں پوری زندگی سمجھتی رہی ہوں… لیکن اب لگتا ہے کہ زندگی اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہے… مگر اب میںاپنے سارے رستے گم کر بیٹھی ہوں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کہاں جائوں؟ کس راستے پر قدم رکھوں؟ کون سا راستہ اچھا ہے کون سا برا؟‘‘ وہ ایک دم ان کی گود میں منہ چھپا کر بکھر گئی۔ نسرین بیگم پریشان ہو گئیں۔
’’میں نے تعلیم کو قدرواہمیت کو کبھی پرکھا ہی نہیں۔ مجھے ہمیشہ تعلیم زہر لگتی تھی۔ میرا بس چلتا تو میں ساری دنیا کی کتابیں بھٹی میں جھونک دیتی ۔میری جان جاتی ہے اس لفظ سے مگر اب لگتا ہے میں کیا کچھ کھو بیٹھی ہوں۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے کہ وہ معاشرے میں مقام بنا سکے۔ لوگوں کو پرکھ سکے… ان کے چہروں کے پیچھے چھپی اصلیت اخذ کر سکے۔ اپنے اردگرد کا جائزہ لے سکے۔ تعلیم تو نام ہی ادراک کا ہے اور میں نے کیا درست کیا؟ میں جب بھی سوچتی ہوں تو مجھے ہرطرف زیرو ہی زیرو نظر آتا ہے۔ امی میں ایسی کیوں تھی…؟ بتائیں میں ایسی کیوں تھی… مجھے زندگی کو سمجھنا کیوں نہ آیا…؟‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور اسے یوں بلک بلک کر روتے دیکھ کر نسرین بیگم کے ہاتھ پائوں پھولے جا رہے تھے۔
’’ماریہ! میری جان میری چندا۔ کچھ بتائو تو سہی… کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ تڑپ اٹھی تھیں۔
’’امی آپ کی ماریہ ہار گئی۔ زندگی سے ہار گئی۔‘‘ وہ مزید پھوٹ پھوٹ کر روئی۔
اور کافی دیر تک روتے رہنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ ایک تسلسل سے کیا حماقت کیے جا رہی ہے اور امی کیا سوچ رہی ہوں گی۔ احساس ہوتے ہی اس نے ایک دم سر ان کی گود سے اٹھالیا تھا۔ شرمندہ ہوتے ہوتے اپنا چہرہ صاف کیا پھر امی کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ وہ ابھی بھی پریشان اس کا چہرہ کھوج رہی تھیں۔
’’ایم سوری امی! میرا مقصد آپ کو پریشان کرنا نہیں تھا۔ رئیلی سوری۔‘‘ ان کے ہاتھ پکڑ کر وہ ندامت سے کہہ رہی تھی۔ انہوں نے بغور جائزہ لیا۔
’’تمہارے رونے کی وجہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
’’وہ بابا یاد آ رہے تھے۔‘‘ یہ سچ بھی تھا جب سے زویا اور نازیہ کی حقیقت علم میں آئی تھی تب سے اپنے یتیم ہونے کا احساس شدت سے ہو رہا تھا۔ تب سے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے سر پر باپ کا سایہ ہوتا تو کیا تب بھی زویا اور نازیہ اس کے ساتھ یہ سب کرتیں۔ کل سے اب تک اسے اپنا آپ بہت حقیر لگ رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے دونوں نے بیچ چوراہے میں اس کی بولی لگا دی ہو۔
’’اس کے علاوہ…؟‘‘ وہ اتنی جلدی مطمئن ہونے والی نہ تھیں۔
’’اس کے علاوہ اپنی غلطیوں کا احساس ہے۔ آپ کو پریشان کرنے اور مسلسل تکلیف دینے کا پچھتاوا ہے۔ کبھی بھی آپ کی بات نہ ماننے کا احساس… تکلیف دہ باتوں کی یاد… رئیلی امی جی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں آگہی کا ایک لمحہ ضرور آتا ہے اور وہ میری زندگی میں کل رات آیا تھا۔ میں ماضی میں جو بھی کر چکی ہوں اس کو بدل تو نہیں سکتی مگر میرا وعدہ ہے حال اور مستقبل میں آپ مجھے بالکل ویسا ہی پائیں گی جیسا کہ آپ چاہتی ہیں۔ میں اپنے آپ کو سنوار لوں گی۔ آپ کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کروں گی۔ آپ چاہتی تھیں نا کہ میں بہت پڑھوں اگرچہ کتابوں سے میری جان جاتی ہے مگر میں پڑھوں گی صرف آپ کے لیے۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے سب کہہ رہی تھی اور وہ خوشی کے ساتھ اس کی اس کایا پلٹ پر حیران ہو رہی تھیں۔
زویا کی ممانی اگلے دن اتوار کے روز اپنے بھائی کا رشتہ لے کر آئی تھیں۔ جسے سوچ کر بتانے کا کہا گیا تھا۔ اس نے امی کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ دوسرا رشتہ قبول کر لیں۔ اب پتا نہیں وہ سب کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ ماریہ کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔ کالج جانا اور گھر پر بھی وقت دینا ایسے میں دل کی شکستہ بستی کو نظرانداز کر کے صرف سامنے نظر آنے والے منظر کو ہی ملاحظہ کرنے کے لیے مشکل ہی نہیں‘ ناممکن بھی تھا مگر اب وہ جس طرح ان سب حالات سے پوری استقامت کے ساتھ نبردآزما تھی اس پر وہ خود بھی حیران ہوئی تھی کہ اس کے اندر اتنی طاقت کہاں سے آ گئی ہے یا پھر ایک انکشاف نے اس کے اندر برسوں سے چھپے بزدل لمحوں کو اکھاڑ پھینکا تھا۔ وہ نالائق ضرور تھی مگر بے عقل نہیں۔ اچھی سمجھ بوجھ والی لڑکی تھی۔ کبھی اپنے آپ کو استعمال ہی نہیں کیا تھا اور اب وہ خود کو آزمانا چاہتی تھی۔ زویا اور نازیہ نے ہر ممکن طریقے سے اس سے بات کرنا چاہی مگر وہ انہیں بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی۔ تنگ آ کر زویا تو رو ہی دی۔
’’یہ سب دائود بھائی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان ہی کا پلان کیا ہوا ڈرامہ تھا۔ ہمارا قصور تو صرف اتنا تھا کہ ہم نے ان کا ساتھ دیا۔ صرف اور صرف ماریہ کے بہتر مستقبل کے لیے مگر وہ ہمیں ہی ملزم سمجھ رہی ہے۔ کچھ سننے پر آمادہ ہی نہیں۔ کم ازکم حقیقت تو جان لے پھر چاہے جو مرضی سزا دے لے مگر اس طرح چپ کی مار تو مت مارے۔‘‘ نازیہ کے سامنے وہ رو رہی تھی۔
’’وہ شروع سے ہی کم عقل ہے۔ اب بھی حماقت کر رہی ہے‘ بے وقوف کہیں کی… میرا تو دل چاہ رہا ہے کہ کس کر تین چار تھپڑ لگائوں۔‘‘ زویا کا رونا اس سے برداشت نہیں ہوا۔ غصے سے برا حال ہو رہا تھا۔
’’میں دائود بھائی کو سب بتا دوں گی۔ مجھ سے نہیں برداشت ہوتی اس کی ناراضگی۔ زندگی میں اس طرح اس نے کبھی بھی نہیں کیا۔ ان چار پانچ دنوں میں کتنی بدل گئی ہے وہ۔ دائود بھائی جانیں اور ان کا پلان۔ ہم تو خوامخواہ پھنسے ہیں۔ اب تو نیکی کا کوئی زمانہ ہی نہیں رہا۔‘‘ آنسو صاف کر تے اس نے فیصلہ کیا۔ نازیہ نے بھی گردن ہلائی پھر دونوں نے مل کر دائود عالم کو فون کیا۔ ساری بات بتا کر وہ اسے ماریہ کا ردِعمل بھی بتانے لگیں۔
’’دائود بھائی! اس نے ممانی کے بھائی کا رشتہ بھی قبول کر لیا ہے۔ تاہم چچی جان نے فیصلہ دادی جان اور تایا ابو پر چھوڑ دیا ہے۔‘‘ وہ اسے بتا رہی تھی اور وہ پریشان ہوا۔
’’دماغ تو خراب نہیں ہو گیا اس لڑکی کا جب اس نے سن ہی لیا تھا تو تم اس کو ساری بات بتانے کی کوشش تو کرتیں…‘‘ آخر میں وہ زویا پر ہی چڑھ دوڑا۔
’’اچھی بات ہے۔ آپ دونوں کی نیکی جرم گناہ لازم والی بات فٹ آتی ہے ہم پر۔ ایک تو ہم گیند کی طرح ادھر سے ادھر لڑھک رہے ہیں۔ آپ دونوں کی بھلائی چاہ رہے ہیں اور الٹا ہم ہی کو الزام۔ واہ بھئی واہ کیا دستور ہے آپ کے ہاں نیکی کا بدلہ اتارنے کا سبحان اللہ۔‘‘ زویا کی زبان آج تیزداری تلوار بنی ہوئی تھی۔ دائود سٹپٹا گیا۔
’’ایم سوری۔ تم اس سے بات کرنے کی کوشش کرو۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی؟ جب وہ مجھ سے محبت کرتی ہے تو پھر دوسرا رشتہ قبول کر لینے کی کیا تُک ہے بھلا۔‘‘
’’یہ تو آپ اسی سے پوچھیں۔ اب ہم کسی بھی معاملے میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔ آپ جانیں اور وہ پاگل لڑکی… آج کل تو بڑی بدل گئی ہے… اور کچھ فائدہ ہوا ہو یا نہ ہو یہ ضرور ہوا ہے کہ جس لڑکی کو سالوں تک کوئی ایک لفظ بھی نہیں سکھا سکا تھا۔ وہ صرف پانچ دنوں میں سر سے پائوں تک بدل گئی ہے… اور دکھ کی بات یہ ہے کہ آپ کے لیے اس نے خود کو بدلنے کی کوشش ضرور کرنا چاہی تھی مگر بدلی وہ اپنے لیے ہے‘ صرف اور صرف اپنے لیے… تاکہ ہم اور آپ جیسے لوگ اس کی ذات کو اشتہار نہ بنائیں۔‘‘ دائود عالم کو سب کہہ کر زویا نے فون بند کر دیا اور دائود عالم کتنی دیر تک ہکابکا بیٹھا رہا تھا پتھر کی مانند۔
’’وہ کون ہوتی ہے… میرے لیے انکار کرنے والی… ایسی کی تیسی…‘‘ اس نے موبائل زور سے بیڈ پر پھینکا۔ ’’ایک دفعہ ہاتھ لگ جائے… ایسی سزا دوں گا کہ ساری عقل ٹھکانے آ جائے گی… بے وقوف… جنگلی بلی… احمق۔‘‘ وہ کمرے میں چکر لگاتا مسلسل کڑھ رہا تھا۔
’’تم صرف میری ہو ماریہ بی بی۔ میں وہ بچپن والا دائود نہیں ہوں۔ سیدھا سادا الّو سا جسے تم اگر کھینچ کھانچ کر ڈربے میں بند کر دو اور کچھ مزاحمت بھی نہ کر پائوں۔ تمہیں تو اب میں عقل سکھائوں گا۔‘‘ کشن اٹھا کر دیوار پر مارتے اس نے ہونٹ بھینچے۔

وہ امی کو انکار کر کے کچھ مطمئن سی ہو گئی تھی۔ دادی جان کی زبانی دائود عالم کے رشتے کی منظوری سن کر سکتے میں آ گئی۔ کئی پل حرکت ہی نہ کر سکی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے امی نے اسے یہ خبر دی تھی تب سے اب تک وہ گنگ بیٹھی ہوئی تھی۔
’’نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا… ایک آوارہ بدتمیز شخص ہی میرے لیے رہ گیا ہے۔ میں لاکھ سزا کی حق دار لیکن یہ سزا مجھے قطعی منظور نہیں… میں اپنی غلطیاں تسلیم کرتی ہوں۔ اپنی سب بے وقوفیوں پر نادم ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک ایسے شخص کو ساری زندگی کے لیے قبول کر لوں جو دوسروں کے ساتھ مل کر میری ذات کا اشتہار لگاتا ہے۔ لائبریری کی حرکتوں کو میں نظرانداز کر دوں مگر اپنے دل کا کیا کروں جس نے پہلی دفعہ اس کے نام پر دھڑکنا سیکھا تھا۔ کتنا زعم تھا اس شخص کو خود پر کہ وہ مجھے خوار کرے گا لیکن نہیں… میں کیوں خوار ہوں… وہ ہو گا… وہ کون ہوتا ہے اتنا بڑا دعویٰ کرنے والا اوروں کے ساتھ مل کر میری ذات کے پرخچے اڑانے والا۔ مجھے کیڑوں مکوڑوں سے بھی حقیر کر دینے والا… میری اپنی نظروں میں ہی میری تذلیل کر دینے والا… نہیں دائود عالم… بالکل نہیں۔ لاعلمی میں‘ میں زویا اور نازیہ کی باتوں میں آ گئی۔ میں تو اب سمجھی ہوں کہ شاید تمہاری طرف کبھی راغب نہ ہو پاتی جو اگر یہ دونوں نہ ہوتیں… کیسے ہروقت مجھ سے تمہارا ذکر کرتی تھیں… لائبریری میں کی جانے والی تمہاری حرکتیں… ہمارے گھر آنا اور پھر اس کے بعد کے واقعات… کس طرح انہوں نے مجھے بریفنگ دی تھی اور میں بھی کتنی بے وقوف نکلی جو ان کی باتوں سے پھسلتی چلی گئی… میں احمق ہوں اور کم عقل بھی مجھے زندگی کا سیلقہ ہی نہیں تھا۔ مجھے سوائے لڑنے کے کچھ آتا ہی نہ تھا اور تب میں نے سوچا تھا کہ میں تمہارے لیے خود کو بدلوں گی۔ محبت نے میرے دل میں جگہ بنائی تھی اور میں کتنی احمق نکلی… سمجھ ہی نہ سکی کہ وہ محبت نہیں تھی بلکہ یہ تو وہ تذلیل تھی جو تم لوگوں کو رشتے سے انکار کر کے میں نے کی تھی۔ تم مجھ سے بدلنا لینا چاہتے تھے… تم مجھے میری نظروں سے گرانا چاہتے تھے… تم تو ایک عام انسان کی طرح ہی میرے سامنے آئے تھے۔ اتنی دیر تک منظر پر رہے اور پھر جب یہ منظر میرے دل پر نقش ہونے لگے تو تم نے سارے خوابوں کو اکھاڑ پھینکا۔ کاش اس رات میں نیچے نہ آتی۔ زویا کو فون پر مصروف دیکھ کر چپکے چپکے باتیں کرتے دیکھ کر میرے دل میں اس کی باتیں سننے کا خیال پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی میں ساری گفتگو سنتی… نہ ہی یہ اذیت سہتی کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے بلکہ میری انا کو کچلنا چاہتے ہو… میں پاگل بے عقل سی بے وقوف لڑکی تھی۔ میرے پاس سوائے انا کے اور تھا ہی کیا اور تم اسے چھیننا چاہتے تھے… نجانے تم نے یہ سب کیوں کیا؟ بس میں تو صرف یہ جانتی ہوں کہ میری ذات کی تذلیل کی گئی ہے اور یہ زویا‘ نازیہ … میری کوئی بہن نہیں تھی مگر یہ دونوں میری سب کچھ تھیں۔ نہیں سہیلیاں اور کزنز… لیکن انہوں نے کیا صرف ایک غیر شخص کے لیے میرا برسوں کا اعتماد ریزہ ریزہ کر دیا۔ تنکوں سے بھی حقیر ہو کر رہ گئی ہوں میں۔ ان کا جو بھی مقصد تھا لیکن مجھے تو صرف ایک بات ہی سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے ایک اشارے بازشخص کی خاطر میری انا کے بدلے میری محبت‘ میرے جذبوں اور سب سے بڑھ کر میری ذات کی بولی لگائی ہے… کاش میں ان پر کبھی دوبارہ اعتماد کر سکوں… دائود عالم اس سب کے لیے میں تمہیں معاف نہیں کروں گی… میری بددعا ہے جس طرح میں روز تڑپتی ہوں‘ سسکتی ہوں تم بھی تڑپو… تم بھی خوار ہو… سکون کو ترس جائو تم… میری محبت کا مذاق اڑایا تم نے کبھی سکھی نہ رہو۔‘‘ ان چند دنوں میں اس نے اپنے آپ کو کس قدر تنہا اور اکیلا کر لیا تھا۔
’’بابا کی وفات کے بعد مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی میں کوئی خلا آ گیا ہے۔ میں ہروقت روتی رہتی تھی اور سارے گھروالے میرے آنسوئوں سے پریشان ہو جاتے تھے۔ ان سب نے مجھے غیر معمولی توجہ دی تھی۔ پیار‘ محبت‘ اپنائیت اتنا ملا کہ میں بگڑتی چلی گئی۔ میری زندگی میں توازن ختم ہوتا چلا گیا اور میں غیر متوازن ہوتی گئی۔ پہلے کتابوں سے دل اچاٹ ہوا پھر پڑھائی سے… پتا نہیں بی۔ اے تک کیسے آ گئی؟ امی نہ ہوتیں تو میں شاید ان پڑھ ہی رہتی… اور پھر وقت سرکتا گیا اور اس زندگی کو میں نے اپنا کا نصب العین بنا لیا۔ کوئی کیا کہتا ہے کس چیز میں میری بہتری ہے؟ کون مجھے سکھانا چاہتا ہے؟ میں نے دھیان دینا چھوڑ دیا تھا اور شاید اس سب میں میرا اپنا قصور تھا جس کا نتیجہ اب میں بھگت رہی ہوں… نہ ہی میری شخصیت اس قدر غیر متوازن ہوتی اور نہ ہی میری زندگی میں دائود عالم کا نام ہوتا۔‘‘
رورو کر برا حال ہو رہا تھا۔ پہلے کمرے میں اندھیرا پھیلا اور پھر یہ اندھیرا اس کی آنکھوں اور ذہن میں بھی چھاتا چلا گیا… اور جب ہوش آیا تو ہرکوئی پریشان پریشان چہرہ لیے اس پر جھکا ہوا تھا۔ وہ بستر پر تھی۔ اس نے بے دھیانی میں سب کو دیکھا پھر نظر امی پر جا کر رک گئی۔
’’امی…‘‘ اس کے لبوں سے سسکاری نکلی۔
’’ماں صدقے… کیا ہوا میری چندا کو…‘‘ انہوں نے جھک کر اس کی پیشانی چوم لی۔
’’امی! مجھے… شادی نہیں کرنی… نہیں کرنی… بالکل نہیں کرنی… کسی دائود سے نہیں کرنی… کسی سے نہیں کرنی…‘‘ وہ ایک دم ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔ امی دادی اور وہاں موجود ہر شخص اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔
’’ماریہ… ماریہ…‘‘ مگر وہ تو ہاتھوں سے پھسلتی چلی گئی۔
’’ہائے میری بچی… کیا ہو گیا اسے…؟‘‘ وہ دوبارہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ نسرین بیگم کی تو اپنی حالت بگڑنے لگی۔
دوبارہ جب اسے ہوش آیا تو کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ماریہ کی نظر سب چیزوں کا جائزہ لینے لگی۔ جب پہلے ہوش آیا تھا تو وہ اپنے کمرے میں تھی مگر اب امی کے کمرے میں تھی۔ امی بستر کے دوسری طرف سو چکی تھیں۔ آہستہ آہستہ اسے یاد آتا گیا کہ وہ عصر کے قریب اپنے کمرے میں تھی جب بے ہوش ہوئی تھی اور اب اس نے گھڑی دیکھی تو رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔
’’یااللہ میرے دل کو مضبوط کر دے۔ میں یہ کیا پاگل پن کر رہی ہوں۔ مجھے استقامت بخش… مجھے میرے اپنوں کے سامنے شرمندہ نہ کرنا۔ میں پہلے ہی بہت سی حماقتیں کر چکی ہوں۔ اب سرخرو کر دے۔‘‘ بے آواز روتے ہوئے وہ نجانے کب تک دعا مانگ رہی تھی۔
اگلے دن سب ہی اسے نارمل دیکھ کر مطمئن ہو گئے تھے۔ تاہم اس سے کسی قسم کا کوئی سوال جواب نہیں کیا گیا تھا۔ زویا اور نازیہ شرمندہ شرمندہ سی اس کے سامنے آنے سے کتراتی رہیں جب کہ نسرین بیگم اس کے اس ردِعمل پر شش وپنج میں پڑ گئی تھیں کہ کیا کریں؟ ایک دل چاہا کہ کھل کر ماریہ سے بات کریں مگر رات اس کی حالت دیکھ کر دل اس طرح ڈرا ہوا تھا کہ وہ دوبارہ کوئی ذکر چھیڑ کر کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتی تھیں۔ تاہم تجمل سے زیادہ انہیں بیٹی عزیز تھی۔ دائود ہر لحاظ سے معقول تھا لیکن ماریہ کی جگہ نہیں لے سکتا تھا۔
’’ایم سوری ماریہ! یہ سب ہماری وجہ سے ہوا ہے… اگر تم ہماری بات سن لو تو تمہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی پھر جو بھی سزا دو گی ہم بخوشی برداشت کر لیں گے لیکن پلیز ہم سے یوں منہ نہ موڑو۔‘‘ وہ اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی جب نازیہ اور زویا اس کے پاس آگئی تھیں۔ وہ نادم تھیں‘ شرمندہ تھیں۔ ماریہ نے ایک گہری سانس لی۔
’’میں تم لوگوں سے ناراض نہیں ہوں لیکن آئندہ تم مجھ سے کوئی ذکر نہیں کرنا۔ خاص طور پر یہ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ ان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے مسکرا کر کہا تھا تو دونوں نظریں چرا گئیں۔
وہ ٹی وی لائونج میں بیٹھی ہوئی تھی جب تجمل آنٹی‘ ان کی بیٹی‘ داماد‘ انکل اور… دائود آئے تھے۔ شاید اس کی ناساز طبیعت کا سن کر آئے تھے۔ ان کو دیکھ کر اس کی بھنویں تن گئیں۔ دل تو چاہا کہ چیخ چیخ کر ان سے کہے کہ وہ اس کے گھر سے نکل جائیں لیکن وہ برداشت کر گئی جب تک ان کے پاس بیٹھی رہی چہرہ سپاٹ ہی رہا۔
دائود عالم گاہے بگاہے اس پر نظر ڈال لیتا تھا لیکن وہ تو دیکھنا کیا ایک نظر ڈالنا بھی قابلِ نفرت سمجھ رہی تھی۔ وہ اس کے تیور دیکھ کر ہی ڈر گیا۔ وہ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھی رہی۔ بالکل چپ چاپ اور سپاٹ چہرے لیے۔ جب ضبط چھلکنے لگا تو معذرت کر کے بڑے ہی پروقار قدموں سے چلتی وہاں سے نکل آئی۔ دائود عالم کی نگاہوں نے باہر نکلنے تک اس کا پیچھا کیا تھا۔
’’کیا یہ میری بات سن پائے گی؟‘‘ وہ سوچ کر رہ گیا۔
بڑے باتوں میں مصروف تھے۔ سب ہی ٹی وی لائونج میں تھے سوائے اس بے وقوف کے۔ وہ جبین کے پاس سے اٹھ کر زویا اور نازیہ کے قریب چلا آیا۔
’’سنو میں ماریہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ایم سوری۔ ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے… وہ محترمہ پہلے والی لڑکی نہیں رہی… وہ واقعی بدل گئی ہے۔ دائود بھائی پہلے ہی اس کی طبیعت خراب ہے۔ آپ کو نہیں پتا رات ہمارے گھر قیامت آتے آتے رہ گئی تھی۔ وہ کس بری طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی چلی گئی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ ڈاکٹر موجود تھا جو فوری ٹریٹمنٹ دینے سے وہ سنبھل گئی۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسے کسی بھی قسم کے صدمے سے دور رکھیں ورنہ اس کا نروس برین ڈائون ہو سکتا ہے… اور ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتیں۔‘‘ نازیہ نے صاف انکار کر دیا تھا۔ وہ بے بسی سے دیکھتا رہ گیا۔
’’پلیز! میں صرف اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ معاملہ صاف کرنا چاہتا ہوں ایک دفعہ… پلیز صرف ایک دفعہ… میں احتیاط کروں گا کوئی ایسی بات نہیں ہو گی جو اس کی طبیعت کو دوبارہ سے خراب کرنے کا سبب بنے۔‘‘ وہ انتہائی عاجزی سے کہہ رہا تھا کہ زویا کا دل پسیج گیا۔
’’ٹھیک ہے… لیکن میرا نام نہیں آنا چاہیے۔‘‘ اٹھتے ہوئے اس نے تنبیہہ بھی کی۔
وہ اسے لے کر کمرے میں گئی تو وہ وہاں نہ تھی۔ وہ اسے تلاش کرتے رہے جو گھر کی پچھلی جانب بنی سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ چاند آخری تاریخوں کا تھا۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ صرف ایک ساٹھ والٹ کا بلب تھا جس کی روشنی بہت مدہم تھی۔ وہ نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے ہوئے تھے۔ سب سے چھپ کر وہ یہاں آ بیٹھی تھی۔ زویا اسے اشارہ کر کے وہاں سے نکل گئی۔ وہ چلتا ہوا اس کے عقب میںآ کھڑا ہوا۔
’’ماریہ…‘‘ بہت آہستگی سے پکارا گیا تھا لیکن وہ ایک دم ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔
’’آ…آپ…‘‘ اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
’’کیسی ہو…؟‘‘ اس کے زرد چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتے بہت محبت سے پوچھا تھا۔ جواباً وہ استہزائیہ ہنس دی۔
’’کم ازکم ویسی نہیں ہوں جیسا کہ آپ کو مجھے دیکھنے کی خواہش تھی۔‘‘ وہ طنزیہ کہہ رہی تھی۔
’’تم خوامخواہ خودکو اذیت دے رہی ہو۔ اگر آرام سے بات سن لو… معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ دائود عالم نے بات شروع کی تھی۔
’’دائود عالم صاحب! کیسا معاملہ؟ آپ شاید بھول رہے ہیں… ہمارے درمیان کبھی کوئی معاملہ طے نہیں ہوا اور پھر آپ کس معاملے کی بات کر رہے ہیں؟‘‘ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ دائود نے لب بھینچے۔
’’ماریہ! تم جانتی ہو کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ یہ رشتہ میری پسند سے بھیجا گیا تھا… لیکن اس سے پہلے کے واقعات سے تم بے خبر ہو۔ میں تمہیں وہی سب کچھ بتانا چاہتا ہوں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں… اسی لیے میں نے…‘‘
’’پلیز دائود صاحب! اتنے مقدس جذبے کی یوں تضحیک نہ کریں۔ آپ کیا جانیں محبت کسے کہتے ہیں…؟ لائبریری کی چاردیواری میں بیٹھ کر اشارے کرنے والا شخص کیا جانے کہ جذبے کیا ہوتے ہیں…؟ کسی کی تذلیل کرنے والا شخص مجھے ان لفظوں کو اپنے منہ سے نکال کر توہین کرنے والا ناقابلِ نفرت لگ رہا ہے…‘‘ اس کا ہر لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا۔
’’تم آخر میری بات کیوں نہیں سنتیں…؟ پہلے اصل بات تو جان لو پھر کوئی دفعہ بھی عائد کرنا۔‘‘ وہ ایک دم اشتعال میں آ گیا تھا لیکن اپنے لب ولہجے پر بمشکل کنٹرول کر پایا۔
’’میں کچھ نہیں سننا چاہتی… اور کس زعم میں آپ میرے سامنے آ کر اس طرح بات کر رہے ہیں…؟ مائنڈ اٹ دائود صاحب! میں نے ہمیشہ آپ کی نازیبا حرکات برداشت کی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرے ہی گھر میں اس طرح میری بازپرس کریں… اور کس دعوے پر آپ یہاں تک چل کرآئے ہیں… انکار میرا حق ہے اور میں نے کہا تھا کہ آپ اپنا حق استعمال کریں اور میں اپنا حق استعمال کروں گی۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں کہہ رہی تھی اور پھر قدم اٹھا کر اس کو بالکل نظرانداز کر کے جانے کو تھی کہ اچانک دائود عالم نے بڑھ کر اس کا بازو کھینچ کر روکنا چاہا تھا۔
’’تم میری بات سنے بغیر نہیں جا سکتیں… سمجھیں تم…‘‘ وہ غیرمتوازن اس کے بازو سے آ لگی تھی۔ ماریہ کو یوں لگا جیسے اس کے پورے بدن میں کرنٹ لگ گیا ہو۔
’’چھوڑیں مجھے۔ کاش میں آپ کی اس حرکت پر آپ کا منہ نوچ سکتی۔‘‘ پھولی سانس سمیت وہ کہہ کر جھٹکے سے اپنا بازو چھڑا کر وہاں سے بھاگ نکلی۔
’’آئی ڈیم اٹ۔‘‘ اس نے بھنا کر دائیں ہاتھ کا مکّا بنا کر دیوار پر دے مارا۔ دائود عالم کو اگر اس کی خراب طبیعت کا احساس نہ ہوتا تو وہ دو منٹوں میں اس کا سارا دماغ درست کر دیتا مگر اب لب بھینچ کر رہ گیا۔

امی نے اس سے انکار کی وجہ پوچھی تھی اور اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن وہ ایک لفظ بھی نہ کہہ پائی۔ بالکل خاموشی سے ان کے سامنے سے اٹھ آئیں۔ اسے رہ رہ کر دائود عالم پر غصہ آ رہا تھا۔ کس قد‘ زعم سے‘ دھڑلے سے اس سے بازپرس کر رہا تھا جیسے اس نے باقاعدہ اس کے سامنے اظہارِ محبت کیاہو۔ اس سے عہدوپیمان باندھے ہوں اور اب وہ مکر رہی ہو۔ اسے بھولنے سے بھی کچھ بھول نہیں رہا تھا۔ اس نے اللہ سے اپنے حق میں سکون قلب مانگا تھا اور پھر سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر پرسکون ہو گئی تھی۔
تجمل آنٹی کے ہاں سے ڈھیروں سازوسامان آیا تب اسے احساس ہوا کہ امی نے ان کو ہاں کہہ دی ہے۔ وہ بوکھلا کر رہ گئی۔ اگلے ہی لمحے ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
’’امی! میرے انکار کے باوجود آپ نے ان لوگوں کو ہاں کہہ دی… میری ذرا بھی اہمیت نہیں آپ کی نظروں میں…؟‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ ان کا دل پسیجا مگر اگلے ہی لمحے انہوں نے دل پر پتھر رکھ لیا۔
’’تم جب تک مجھے انکار کی اصل وجہ نہیں بتائو گی۔ میں تمہاری بات نہیں مانوں گی… ناحق شادی نہ کرنے کی چھوٹی سی ضد پر اتنا اچھا رشتہ ہاتھ سے گنوا دیتی…‘‘ وہ کہہ رہی تھیں۔ وہ چند لمحے چپ چاپ انہیں دیکھتی رہی۔
’’تب تو آپ کو صرف رشتہ گنوانا تھا مگر اب آپ بیٹی کو بھی گنوا دیں گی۔‘‘ ایک دم روتے ہوئے کہہ کر وہاں سے نکل آئی تھی۔ ساری رات روتی رہی۔ سب اس کے پاس آئے تھے مگر اس نے دروازہ ہی نہیں کھولا تھا۔
سب کو ہی اس کی فکر تھی مگر وہ تو جیسے کمرے میں بند ہو کر باہر نکلنا بھول گئی۔ خوب رو دھو کر ساری کسر نکالنے کے بعد وہ کمرے سے نکلی۔
’’کسی کو میرا احساس ہی نہیں۔‘‘ وہ خودترسی کا شکار ہونے لگی پھر نجانے ذہن میں کیا سمائی کہ فون لے کر بیٹھ گئی۔ دائود عالم کے موبائل کا نمبر ڈائری میں درج تھا۔ اپنی سرخ ہوتی ناک کو صاف کر کے اس نے نمبر ملایا۔ بیل جاری تھی پھر کال ریسیور کر لی گئی تھی۔ اب اس کی آواز آ رہی تھی۔
’’ہیلو…‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔
’’دائود عالم صاحب! میں نے زندگی بھر آپ جیسا گھٹیا انسان نہیں دیکھا۔ حیرت ہے میری اس قدر شدید نفرت کے باوجود آپ لوگوں نے ہمارے گھر وہ سب سازوسامان بھیجنے کی ہمت کیسے کر لی؟ اور ہاں یاد رکھنا دائود عالم… وہ اور لڑکیاں ہوں گی جن سے کبھی تمہارا واسطہ پڑا ہو گا… ماریہ قطلب الدین نہیں… تم مجھے خوار کرنے کا دعویٰ کرتے تھے اور میں کہتی ہوں میں تمہیں خوار کروں گی… اس قدر رسوا کروں گی کہ تم اپنے آپ سے بھی نظر نہ ملا سکو گے… جس طرح میں بالکل تنہا ہوتی جا رہی ہوں… تم بھی ہوتے جائو گے دیکھنا ذرا…‘‘ اس کی آواز پہچان کر ماریہ نے دل کی ساری بھڑاس نکالی اور پھر اس کی کوئی سنے بغیر ریسیور کریڈل پر رکھنے کی بجائے اسٹینڈ پر پٹخ دیا اور نئے سرے سے رونا شروع کر دیا اور پھر سے کمرے میں بند ہو گئی۔
سارا دن بغیر لباس بدلے‘ کچھ کھائے پیئے بغیر کمبل سر تک تانے وہ لیٹی رہی۔ کتنے دنوں سے آنسو بہا رہی تھی ۔ اب تو آنکھیں بھی خشک ہو گئی تھیں۔ عصر کے قریب جب کمرے کی گھٹن اور حبس سے جی گھبرانے لگا تو باتھ روم میں گھس گئی۔ نہا کر ایک سادہ سا سوٹ نکال کر زیب تن کیا اور باہر نکل آئی۔ سب نے ہی اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ امی‘ چچی‘ تائی‘ دادی جان ‘ نور باجی‘ بھابیاں‘ بچے سب ہی خوش تھے۔ وہ بھی خاموشی سے سب میں شامل ہو گئی۔
رات کو حمزہ‘ زویا‘ نازیہ‘ نور باجی اور بچوں کا آئوٹنگ کا پروگرام تھا۔ اسے بھی سب نے گھسیٹنا چاہا۔ اس نے منع کر دیا تو دادی جان نے ٹوک دیا۔
’’چلی جائو بچے! طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔ اس طرح گھر میں بند رہ کر تو اور طبیعت خراب ہو گی۔‘‘ محبت سے اس کی پیشانی چومتے انہوں نے کہا تو اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ تو جو کچھ بھی ہوا وہ ایک طرف… وہ سب کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟ ایک دفعہ پھر وہی سب غلطیاں اور بے وقوفیاں دُہرا رہی ہے۔ انسان ایک دفعہ ٹھوکر کھا کر سیکھ جاتا ہے اور وہ باربار ٹھوکر کھانے کے کام کر رہی ہے۔ اس نے اپنے آپ کو ڈانٹا۔ کپڑے تو نہ بدلے البتہ ہونٹوں پر لپ اسٹک لگا لی۔ شال لے کر جب وہ باہر آئی تو وہاں لائونج میں تجمل آنٹی اور انکل آئے بیٹھے تھے۔ وہ بغیر ان سے ملے سائیڈ سے ہو کر وہاں سے نکل آئی۔
آئوٹنگ کے دوران خوب ہلہ گلہ کیا گیا تھا۔ وہ لوگ پارک میں آئے تھے۔ بچوں کے ساتھ حمزہ خود بچہ بنا ہوا تھا پھر نور باجی بھی اس کی طبیعت کی تھیں۔ خوب لطیفے سناسنا کر ایک دوسرے کو محظوظ کرتے رہے۔ حمزہ بچوں کو لے کر جھولوں کی طرف چلا گیا تو نور باجی اپنے بچے کو سنبھالتی نازیہ کے ساتھ پارک کے ایک گوشے میں مٹی کے برتن بیچنے والے آدمی کے پاس جا کر برتن دیکھنے لگیں۔ وہ زویا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔
’’آئو ماریہ! ہم بھی گھومیں۔ یہ کیا ایک ہی جگہ آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ذرا مزا نہیں آ رہا۔‘‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ کہہ رہی تھی۔ ماریہ نے ہاتھ جھٹکنا مناسب نہ سمجھا۔ خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لی۔ وہ دونوں پارک سے گزرتے ہوئے دوسری جانب جا رہی تھیں۔ درختوں کے اندھیرے میں زویا نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ تیز قدم اٹھاتی پیچھے ہٹ گئی تھی۔
’’زویا…‘‘ وہ واپس کیوں پلٹی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ عقب سے کسی سے ٹکرا گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ سیدھی ہوتی۔ اس کی کلائی پر گرفت مضبوط ہو چکی تھی۔
’’دائود بھائی پلیز! میں نے رسک لیا ہے۔ پلیز خیال رکھیے گا۔ کوئی ایسی حرکت نہ کیجئے گا کہ مجھے پچھتانا پڑے۔‘‘ وہ پتھر بنی اپنے اس قدر قریب کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جب زویا کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔
’’تورویانے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے؟‘‘ ماریہ نے سوچا۔
’’پلیز ماریہ! غلط مت سمجھنا۔ تم جو بھی رویہ اپنائے ہوئے تھی۔ اس کے لیے یہ سب بہت ضروری تھا۔ تم دائود بھائی کی بات سن لو پھر کوئی فیصلہ کرنا۔‘‘ وہ آرام سے اسے کہہ کر تیزتیز قدم اٹھاتی نظروں سے غائب ہو گئی اور اس کے ساکن وجود میں حرکت پیدا ہوئی تھی۔
’’چھوڑو مجھے۔ تمہیں ہمت کیسے ہوئی… یہ سب کرنے کی…‘‘ اگلے ہی لمحے وہ پھنکاری تھی۔
’’نورباجی سے میری بات ہو چکی ہے۔ وہ حمزہ کو سنبھال لیں گی۔ تم چلو میرے ساتھ۔‘‘ اس کے سوال کے جوا ب میں اس نے اس کا بازو گھسیٹا۔
’’چھوڑو مجھے نہیں جائوں گی میں تمہارے ساتھ کہیں بھی… دھوکے سے لائے ہو تم لوگ مجھے۔‘‘ وہ چیخ رہی تھی۔ مزاحمت کر رہی تی۔ لیکن دائود عالم کے ہلکے سے دبائو سے وہ کھنچتی چلی جا رہی تھی۔
’’میں شور مچا دوں گی۔ اگر تم نے میرا بازو نہ چھوڑا تو…‘‘ وہ چیخی تھی۔ مگر ادھر اثر کہاں تھا۔ وہ اسے لے کر پارکنگ میں کھڑی گاڑی کے پاس آیا تھا۔ لاک کھولا اوراسے اندر گھسیٹ دیا۔
’’دروازہ کھولو… دائود عالم تم اچھا نہیں کر رہے۔ پچھتائو گے تم…‘‘ وہ رودی۔ دوسری طرف آ کر بیٹھتے ہوئے اس نے اگنیشن میں چابی گھمائی ور پھر اس کی طرف پلٹا جو ہاتھوں میں چہرہ دیئے رو رہی تھی۔
’’آخر تم اتنی جذباتی کیوں ہو…؟‘‘ وہ اب مکمل طور پر متوجہ ہوا تھا۔ ماریہ نے تڑپ کر ہاتھ ہٹائے آنسوئوں سے بھری شکایتی نظریں اس کے چہرے پر جمائیں۔
’’تم اچھا نہیں کر رہے… پچھتائو گے تم…‘‘ وہ پھر رودی تو دائود نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی۔ ماریہ نے دوبارہ رونا شروع کر دیا اورپھر کافی دیر تک آنسو بہاتے رہنے کے بعد اچانک احساس ہوا تو ہاتھ ہٹا کردیکھا۔
’’تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو…؟‘‘ وہ خوفزدہ ہوئی تھی۔ رات کے اندھیرے میں کچھ سمجھ نہیں پائی تھی۔
’’افق کے اس پار۔‘‘ دوسری طرف سے کافی غیرسنجیدہ جواب موصول ہوا تھا۔ اس کے آنسو پھر بہہ نکلے۔
’’دائود! دیکھو اگر تم مجھے کسی ایسی ویسی جگہ پر لے گئے تو میں جان لے لوں گی اپنی بھی اور تمہاری بھی…‘‘ آنسو پھر بہہ نکلے۔
’’وہ تو پہلے ہی تم پر فدا ہو چکی ہے۔ خالی جسم کا کیا کرو گی؟‘‘ ادھر تو جیسے اثر ہی نہ تھا۔
’’دائود! میں سچ کہہ رہی ہوں۔ گاڑی روکو ورنہ میں کود جائوںگی۔‘‘
’’دروازہ لاک ہے۔ اس لیے اگرتم یہ حماقت کرو گی بھی تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ یہ گاڑی ایک دوست کی ہے اس سے مانگ کر لایا ہوں۔ تمہیں اگر کچھ ہوگیا تو وہ بے چارہ پھنس جائے گا۔‘‘نہایت سکون سے جواب ملا تھا۔ ماریہ کا طیش کے مارے برا حال ہو گیا۔ ایک دم ہاتھ مار کر اسٹیئرنگ گھما ڈالا۔ وہ جو توقع ہی نہیں کررہا تھا۔ ایک دم بوکھلا گیا۔
’’میں زندہ تو تمہارے ساتھ کہیں نہیںجائوں گی۔ اب لاش ہی ملے گی تمہیں۔ بیٹھ کر ماتم کرنا‘ روتے رہنا ساری عمر۔‘‘ وہ اس وقت مرنے یا مار دینے کا سوچے ہوئے تھی۔ وہ جواسٹیئرنگ سے اس کے ہاتھ ہٹانے میں ناکام ہوا تھا۔ اس نے بازو بڑھا کراسے اپنے شکنجے میں لے کر دوسرے ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے پائوں بریک پر رکھ کر اس کی ساری مزاحمت بے کارکی۔
’’تم واقعی جنگلی ہوپوری کی پوری۔ عزت راس نہیں ہے تمہیں۔‘‘ وہ ایک دم خونخوار ہو کر اس کی طرف پلٹا تھا۔ گاڑی رک چکی تھی۔ وہ اس کے بازو کے حلقے میں تھی۔ اس کے اس طرح بولنے پر سہم کر اس کے کندھے پر سر رکھ کررو دی۔ وہ لب بھینچے ساکت رہا۔
’’کیسی آفت ہے لڑکی۔ زویا کہتی ہے یہ بدل گئی ہے مگر مجھے تو اس میں ایک چیز بھی بدلی نہیں لگ رہی۔ ویسی کی ویسی ہے۔ مرنے مارنے کو تیار۔‘‘ اس کے بالوں میں ہاتھ رکھ کر اس نے ہلکا سا دبائو ڈالا تھا۔ وہ فوراً سیدھی ہوئی تھی پھر بغیر اس کی طرف دیکھے رخ موڑ کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اپنی بے خبری پراسے رہ رہ کر تائوآنے لگا۔ وہ اس کے حصار میں تھی۔ اس کے کندھے پر سر رکھے رو رہی تھی۔ ماریہ کو خود پر غصہ آنے لگا۔ دائود نے مسکرا کر اسے دیکھا اورگاڑی اسٹارٹ کی۔ رات کے اندھیرے میں ہر منظر غیرواضح تھا۔ بس گاڑی تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ دائود نے نظر گھمائی۔ وہ سوں سوں کرتی انگلیاں مروڑتی دیکھنے کے قابل لگ رہی تھی۔
پھر اچانک گاڑی کو بریک لگ گئی۔ وہ چونک گئی یہ جانی پہچانی جگہ تھی۔
اتریں مادام! آ گئی ہے ہماری منزل۔ میرا ارادہ تھا کہ گاڑی میں اچھے خاصے مذاکرات ہوجائیں گے۔ خوامخواہ دوست کا احسان بھی لیا لیکن تمہارے تیور دیکھ کر میں تو ڈر ہی گیا تھا۔ عافیت اسی میں تھی کہ کسی پرسکون جگہ بیٹھ کر آرام سے بات کر لی جائے۔‘‘ اس کی طرف آ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر جھکتے ہوئے اس نے ساری بات بتائی۔
’’مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔ بس مجھے واپس جانا ہے۔‘‘ وہ اس وقت اسے اپنے گھر میں لے کرآیا تھا۔ وہ اب پہچان گئی تھی کہ وہ کہاں ہے؟
’’نومیڈم! جب تک ساری بات کلیئر نہیںہوگی آپ یہاں سے ہلیں کی بھی نہیں… چلو آئو۔‘‘ اس نے دوبارہ کہا تھا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تو دائود نے اس کا بازو پکڑ کر اسے باہر کھینچا۔
’’تم کیوں چاہتی ہو کہ میں تمہیں باربار چھوئوں…‘‘ وہ کہہ رہا تھا وہ فوراً گاڑی سے اتر گئی۔
’’شٹ اپ۔ تم مجھ سے اس طرح کی بات مت کرو۔ نہیں جانا مجھے تمہارے گھر سمجھے تم؟‘‘ اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کرتے وہ چیخی بھی تھی لیکن دائود نے دروازہ لاک کر کے گیٹ کے پاس جا کر لاک کھولا اورپھر اسے اسی طرح پکڑے اندر کی طرف بڑھتا چلا گیا تھا۔
ڈرائنگ روم میں لا کر اس نے اس کا بازو چھوڑ دیا تھا اور پھراس نے آگے بڑھ کرتمام لائٹس آن کی تھیں۔ کمرہ روشنی میں نہا گیا۔
’’بیٹھو۔‘‘ وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ روشنی میں اس کے چہرے کے خدوخال واضح ہورہے تھے۔ رونے سے چہرہ کافی سرخ ہوچکا تھا اور ناک بھی دہکتا انگارہ بنی ہوئی تھی۔
’’کیا پیو گی… بلکہ یہ بتائو کیا خدمت کروں میں تمہاری؟‘‘ وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ دائود نے صلح جو انداز میں پوچھا تو وہ اسے پھاڑ کھانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’زہر…‘‘ انداز بھی زہر بھرا تھا۔ وہ کھل کر مسکرایا۔
’’زہر کیوں… بلکہ اپنی محبت کا امرت گھول کر پلائوں گا بشرطیکہ تم آرام سے بیٹھ جائو۔‘‘ وہ اس کی اس بات پر ادھرادھر جھانکنے لگی۔ وہ مسکراتا چلا گیا تھا۔ واپس لوٹا تو ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں اورکولڈڈرنکس کے گلاس تھے۔
’’اپنے گھر میں تو تم نے منہ پھٹ انداز میں مہمان داری کرنے سے انکار کر دیا تھا مگر میں ایسا نہیں ہوں۔ کھائو یہ سب اورمیری امی کے ذائقے کی داد دو… بلکہ یہ سب سیکھنے کی کوشش بھی کرنا۔ مجھے یہ سب بہت پسند ہے۔‘‘ ٹرے ٹیبل پر رکھتے اس کی زبان مسلسل چل رہی تھی۔ وہ ناگواری سے دیکھے گئی۔ کئی لوازمات تھے اس نے دوبارہ نظر نہ ڈالی۔
’’میں یہاں یہ سب اڑانے نہیں آئی تھی۔ تمہیں جو کہنا ہے وہ کہو تاکہ میں اپنے گھر جاسکوں۔‘‘ اس کے انداز میں ذرا بھربھی رعایت نہیں آئی تھی۔
’’تم بیٹھو تو سہی۔ تھانیداروں کی طرح کھڑی مجھے گھورے جا رہی ہو۔‘‘ وہ ہنس رہا تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ جانتی تھی کہ جب تک وہ اپنی منوا نہ لے جانے نہیں دے گا۔ تاہم اس نے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔
’’میں نہیں کہتا کہ یہ ایک بڑی لمبی چوڑی داستان ہے لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ یہ یکطرفہ محبت نہیں تھی۔ یہ تب کی بات ہے جب میں امی کے ساتھ تم لوگوں کے گھر آتا تھا۔ تم اچھی تھیں اور مجھے تمہاری شرارتیں دلچسپ لگا کر تھیں لیکن مجھے تم جس طرح ہدف بناتی تھیں تو مجھے تم پر غصہ بھی آتا تھا۔ یہاں سے جانے کے بعد تم لوگوں کی خیریت ملتی رہی اورساتھ ساتھ یہ بھی کہ تم کیسی ہو؟ اب تم کیا کر رہی ہو؟ رفتہ رفتہ میرا ذہن ایک واضح امیج بنا چکا تھا کہ تم ایسی ہوسکتی ہویا ویسی؟ پھر ان دنوں جب جبین باجی کی شادی تھی تو امی تم لوگوں کے ہاں آئی تھیں۔ واپسی پر وہ کچھ تصاویر لے کرگئی تھیں۔ ان تصاویر میں ہنستی مسکراتی لڑکی مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ امی اور جبین جس طرح خصوصی طور پر تمہارا ذکر کرتی تھیں۔ مجھے تمہیں روبرو دیکھنے کا تجسس پیدا ہوگیا لیکن میری مصروفیات ایسی تھیں کہ میں کبھی یہاں نہ آ سکا۔ یہاں جب امی ا ور ابو دوبارہ سیٹل ہوئے تو انہوں نے مجھے فون کرکے تمہارے متعلق بات کی تھی اور میں ایک دم سنجیدہ ہو کر سوچنے لگا تھا لیکن حنا جو ان دنوں یہاں امی ابو سے ملنے آئی ہوئی تھی‘ اس نے فون پر مجھے تمہارے متعلق تفصیلی بتایا تھاکہ تم کس قسم کی لڑکی ہو؟ کیسی ہو؟ ذمہ دار ہو کہ نہیں؟ تعلیم کے متعلق تمہارے کیا نظریات ہیں اورگھرداری میں تمہارا کیا رول ہے؟ یقین مانو ماریہ مجھے ہرمعاملے میں تمہاری صفر کارکردگی کا جب علم ہوا توبہت دکھ ہوا تھا۔‘‘ وہ کوک لے کراس کے سامنے والے صوفے پر آ بیٹھا تھا۔ وہ جو اس کی طرف سے چہرہ موڑے ایک ایک لفظ بغور سن رہی تھی بلکہ حیران ہورہی تھی۔ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔ بظاہر اسے دکھ ہونا چاہیے تھا لیکن وہ صرف سن رہی تھی۔
’’میں اپنے والدین کا کلوتا بیٹا ہوں اور لاشعوری طورپر امی جان کی خواہش ایسی بہو کی ہے جو ان کے ساتھ ساتھ اس پورے گھر کی بھی ذمہ داری اٹھائے جب کہ تم یہ نہیں کر سکتی تھیں اورمیں صرف پسند کی بنیاد پر اتنا بڑا رسک بھی نہیں لے سکتا تھا۔ اگر میں امی کی اس بات کو درست بھی مان لیتا کہ تم یہاں آ کر سیکھ لوگی تو تمہیں بہت ٹائم لگتا جب کہ میں اپنے گھر کے معاملے میں بہت حساس ہوں اورشاید تم سے شادی کر کے پچھتاتا بھی۔ اسی لیے میں کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ مجھے امی کو انکار کرنا چاہیے یا اقرار…؟‘‘ ماریہ جو صرف اسے دیکھ رہی تھی اس کی بات پر ہونٹ بھینچ کرسر جھکا گئی۔ دائود نے اپنی جگہ سے اٹھ کر ٹرے میں پڑا گلاس اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’تم ساتھ ساتھ یہ لو… ورنہ یہ گرم ہو جائے گا۔‘‘ ماریہ نے خاموشی سے گلاس لے لیا تھا۔ وہ بھی اپنا گلاس لے کر دوبارہ صوفے پر جا بیٹھا۔
’’میں اسی شش وپنج میں تھا کہ مجھے آنا پڑا۔میں اپنے گھر سے جدا ہو کر کبھی نہیں رہا اوروہاں مجھے اتنے ماہ تنہا رہنا پڑ رہا تھا اسی لیے میری کوشش تھی کہ میرا تبادلہ یہاں ہو جائے تاکہ وہاں کی پریشانی ختم ہو تب ایک دن نسرین آنٹی ہمارے ہاں آئیں۔ وہ امی سے تمہاری نالائقیوں اوربے وقوفیوں کا ذکر کر رہی تھیں۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ امی صرف اور صرف نسرین آنٹی کی محبت میں اتنی بڑی ذمہ داری اٹھا رہی ہیں جب کہ میں ایسا نہیں چاہتا تھا اوراتفاق سے ان کو واپسی پرلینے کے لیے زویا‘ نازیہ اور زوہیب بھائی آئے تھے۔ وہ نسرین آنٹی کو ہمارے گھر چھوڑکر چلے گئے تھے۔ واپسی پر لینے آئے تو میری نازیہ اور زویا سے ملاقات ہوئی تو مجھے وہ دونوں اچھی لگیں۔ وہ زیادہ تر تمہاری ہی باتیں کرتی رہیں اور میں خاموشی سے سنتا رہا اورپھر میں واپس چلا گیا۔ وہاں جا کر مسلسل سوچنے پر ایک بات ذہن میں آئی کہ تم اتنی بری بھی نہیں ہو۔ اچھی عادت کی مالک ہو۔ بس گھرداری اورتعلیم کی طرف سے غفلت برت رہی ہو اور اگر میں اپنے لیے تمہارے اندر یہ احساس پیدا کروں تو تم اپنے آپ کو بدل لو۔ کیا ہی اچھا ہو اس خیال کا آنا تھا کہ میں ایک دم پرجوش ہو گیا اور پھر تمہارے گھر فون کیا تھا۔ فون نازیہ نے اٹھایا تھا۔ ہلکی پھلکی بات چیت کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ وہ میرا ساتھ دے سکتی ہے یا نہیں؟ زویا اور نازیہ دونوں مجھے قابلِ اعتبار لگیں اور پھر میں یہاں مستقل آ گیا۔ یہاں آنے کے فوراً بعد میں حنا کے ذریعے نازیہ اورزویا سے ملا تھا اورانہیں اپنے ساتھ ملانے کوکہا تھا۔ پہلے تو وہ نہ مانیں۔ ان کا خیال تھا کہ تم اول تو شادی کے چکر ہی میں نہیں آنے والی۔ دوسرا تم کبھی نہیں بدلو گی جب کہ میرے نظریات ذرا ہٹ کر تھے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں اتنی لچک ضرور رکھی ہے کہ وہ خود کوحالات کے دھارے پر موڑ سکے۔ تم بھی تو ایک لڑکی ہی ہو اور جس رخ سے میں تمہاری ذات میں انوالو ہونا چاہتا تھا‘ وہ میرے لیے مشکل نہ تھا۔ بس ضروری یہ تھا کہ تم مایوس نہ ہو اورنہ ہی میں کچھ غلط کروں پھر اس کے بعد لائبریری آنا‘ روز تمہیں اسمائل پاس کر دینا یا سلام جھاڑ دینا تو صرف تمہیں اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔ نازیہ اور زویا مجھے اچھی طرح جانتی تھیں۔ وہ تمہارے غصے سے بھی باخبر تھیں اس لیے نازیہ تمہیں ٹھنڈا کر دیتی تھی۔ اس طرح یہ سب ہوتا چلا گیا۔‘‘
وہ ہولے ہولے سِپ لیتی سر جھکائے کافی پشیمان تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اب کیا کرے؟ گلاس خالی کر کے خود اٹھ کر ٹیبل پر رکھ دیا۔
’’کافی دیر ہو گئی ہے۔ مجھے اب چلنا ہوگا۔‘‘ اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے ماریہ نے سوچا۔
’’ماریہ! تم یقین کرو۔ اس سب ڈرامے کا مقصد نہ ہی تمہاری ذات کو کوئی نقصان پہنچانا تھا اور نہ ہی تمہاری توقیر کم کرنا تھا۔ میں نے امی کو کچھ نہیں بتایا۔ وہ تو خوش ہیں کہ میں تم سے شادی پر رضامند ہوں اور یہ رضامند میں تب ہوا جب یہ جان لیا کہ اب تم اس موڑ پر ہو کہ میں جس طرح چاہوں تمہیں اپنی خواہش کے مطابق ڈھال سکتا ہوں۔ محبت دنیا کی سب سے خوب صورت اچھائی ہے۔ تمہیں اپنی طرف انوالو کر کے میرا مقصد تمہاری انا ختم کرنا نہیں تھا۔ میرا صرف یہ خیال تھا کہ تم اپنے اندر اتنی لچک پیدا کر لو کہ جب میں شادی کر کے تمہیں اپنے گھر لائوں تو تمہیں اس گھر کی ذمہ داری نبھانے میں کوئی اعتراض نہ ہو۔ دنیا کی ہر لڑکی سیکھ جاتی ہے یہ کام۔ ہماری حنا بھی بالکل تمہاری جیسی تھی لیکن امی نے اس کی شادی فوراً کر دی تھی۔ گھر کی ذمہ داریوں میں پڑ کر وہ سارا بچپنا بھول گئی اور مجھے تمہارے متعلق جو کچھ بھی علم ہوا اس سے صرف ایک ہی نتیجہ نکلتا تھا کہ تم حنا کی طرح سمجھو گی نہیں بلکہ سمجھائو گی۔ وہ بھی اپنے لیول پر ؔآ کر اورمجھے صرف ایک ایسی عورت چاہیے تھی جو نہ صرف مجھے پسند ہو بلکہ اس میں تمام خوبیاں بھی ہوں۔ تم ایسی نہیں تھیں مگر میں تمہارے اندر اس خامی سے متعلق احساس تو اجاگر کر سکتا تھا اورمیں نے صرف یہی کیا اوریہی میرا مقصد تھا۔‘‘ و ہ بالکل خاموش ہوگیا اورماریہ کولگا جیسے وہ ایک دم فیصلے کی دہلیز پر آ کھڑی ہوئی ہے۔
’’ایم سوری۔ سب کہتے ہیں میں جذباتی ہوں۔ میں واقعی بہت جذباتی ہوں۔ مجھے جب فون پر آپ اور زویا کی گفتگو کا علم ہوا تومجھے صرف یہی لگا کہ ایک غیر آدمی صرف میری ذات کے پڑخچے اڑانا چاہتا ہے۔ میرے جذبات کو غلط روش پر ڈال کر صرف مجھے پامال کرنا چاہتا ہے… ایم سوری۔‘‘ وہ انگلیاں چٹخاتے اس وقت واقعی شرمندہ تھی۔ ’’ایسے میں میرا ردِعمل کچھ غلط نہ تھا۔ میری زندگی بالکل ویسی ہی گزری ہے جیسی ابھی آپ نے ذکر بھی کیا ہے۔ میں بہت غیر ذمہ دار اور نالائق قسم کی لڑکی واقع ہوئی ہوں اور واقعی زویا اورنازیہ کی ہر وقت باتوں سے میرے اندر یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ میں ان کی طرح نارمل انداز میں زندگی کو نہیں لے رہی اور پھر آپ کا بھی خیال رہتا تھا مگر واقعی میں اس طرح کی لڑکی نہ تھی لیکن زویا اور نازیہ کی ہر وقت کی جانے والی برین واشنگ نے ہی میرے اندر آپ کا احساس جگایا تھا۔ ان کی ہروقت باتوں‘ چھیڑچھاڑ‘ ہنسی مذاق نے ہی مجھے آپ کی طرف متوجہ کیا تھا‘ ورنہ شاید میں زندگی کے دوسرے نارمل امور کی طرح اس قسم کے جذبات سے بھی نابلد ہی رہتی… اور پھر اس کے بعد جو بھی ہوا بحیثیت لڑکی غلط نہ تھا۔ کم ازکم آپ کو مجھے سب بتانا چاہیے تھا۔ آپ نہیں تو زویا اور نازیہ تو تھیں ناں مگر انہوں نے آپ سے وعدہ نبھایا‘ میرا خیال نہ کیا۔ یہی اصل دکھ تھا جس کی وجہ سے میں اس حد تک جذباتی ہوتی چلی گئی۔‘‘ وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے بالکل خاموش ہو گئی تھی۔ نظریں اپنے ہاتھوں پر جمائے وہ ناخنوں کو کھرچنے لگی۔
’’چلیں جوہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ اب کیا ارادہ ہے؟‘‘ وہ مسکرا کر پوچھ رہا تھا۔ وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر جھینپ گئی۔
’’میں نے اب سوچ لیا تھا کہ میں بھی زویا اور نازیہ کی طرح گھر پر توجہ دوں گی۔ یہ ایک عورت کے لیے بہت ضروری ہے کہ سب سیکھے۔ میں نالائق ضرور ہوں‘ پھوہڑ نہیں۔ ان چند دنوں میں مجھے بہت اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے۔‘‘ اس کی بات کو ٹالنے پر اس نے گھور کر اسے دیکھا۔
’’یہ تومیں جانتا ہوں کہ تم اب سیریس ہو ہی جائو گی۔ انسان کو صرف ایک جھٹکا ہی کافی ہوتا ہے۔ میں اپنی بات کر رہا ہوں۔ میرے گناہ معاف کیے جانے کے قابل ہیں کہ نہیں…‘‘ وہ اپنے موڈ میں واپس لوٹ چکا تھا۔ ماریہ کوامید نہیں تھی کہ وہ براہ راست اصل بات کی طرف آ جائے گا۔ اب بری پھنسی تھی۔
’’آپ نے مجھے اتنی تکلیف دی ہے کہ میں آپ کو اتنی جلدی کبھی معاف کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ لائبریری سے لے کر اب تک ایک ایک حرکت قابلِ گرفت ہے۔‘‘ اس نے آرام سے کہا۔
’’کیا…؟‘‘ وہ چیخا۔ ’’تم ہوش میں تو ہو لڑکی…‘‘ اس نے رعب جمانا چاہا تھا۔
’’بالکل۔‘‘ ماریہ پر کوئی اثر نہ تھا۔ وہ تاسف بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہیں۔ بی۔ اے تو تمہیں کرنا ہی ہے… بلکہ اس کے بعد بھی میں چاہوں گا کہ تم پڑھو۔‘‘ اس نے اسے پڑھائی کا ڈراوا دیا تھا۔ وہ ہنس دی۔
’’کر لوںگی… بلکہ میرا ارادہ ہے کہ کم ازکم امی کی طرح بہت زیادہ نہیں تو ایم۔ اے تو ضرور کروں گی۔ یہ کیا اتنی لائق فائق تعلیم یافتہ ماں کی بیٹی صرف ایف۔ اے پاس اچھی لگتی ہے کیا… بلکہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کروں گی پھر امی کی طرح ٹیچنگ کروں گی اور پھر اس کے بعد…‘‘ وہ شرارت سے کہہ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ اس کا پروگرام لمبا ہوتا دائود نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
’’بس… زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں۔ میں صرف بی۔ اے تک انتظار کر سکتا ہوں۔ عورت کے لیے اصل چیز اس کا گھر ہونا چاہیے۔ بی۔ اے بہت ہے کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ باقی رہنے دو… بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ سب سیٹ ہوتا جائے گا… اور اگر مجھے محسوس ہوا کہ تمہیں تعلیم کی ضرورت ہے تو میں خود تمہاری مدد کروں گا لیکن ابھی نہیں۔‘‘
’’اچھا جی…‘‘ وہ ہنس دی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے کوئی تکڑا سا جواب دیتا اس کا موبائل بج اٹھا۔ اس نے بھنا کر اسے دیکھا۔ موبائل کی یہ مداخلت اسے بہت گراں گزری اس وقت۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ماریہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی تھی۔
’’تمہیں تو میں ابھی دیکھتا ہوں۔ پہلے اس رقیب روسیا سے نمٹ لوں۔‘‘ وہ جھینپ گئی تو وہ موبائل سننے لگا۔
’’دائود بھائی بڑی بری بات ہے۔ مجھے گھر سے جوتے پڑوانے کا ارادہ ہے کیا… آپ ایک گھنٹہ کہہ کر آئے تھے اب ڈھائی گھنٹے ہو رہے ہیں۔ خدارا کچھ تو احساس کریں۔ گھر سے آپ کے والدین رخصت ہو چکے ہیں اور آپ ہیں کہ… جہاں کہیں بھی ہیں فوراً پہنچیں۔‘‘ دوسری طرف زویا تھی جو حمزہ کے موبائل سے کال کر رہی تھی۔ دائود نے ایک گہری سانس لی۔
’’اگر میں نہ آئوں تو…‘‘ اپنے سامنے کھڑی ماریہ پر ایک گہری نگاہ ڈال کر کہا۔
’’ارے… یہ حوصلوں کے علّم اتنے بلند کیسے ہوگئے… محترم بھائی صاحب! لگتا ہے کہ مذاکرات کافی کامیاب رہے ہیں۔‘‘ زویا دائود کے لہجے کی کھنک کو محسوس کر کے کہہ رہی تھی۔ وہ ایک دم قہقہہ لگا گیا۔
’’بہت زیادہ۔ میرا تو دل چاہ رہا ہے اسی وقت کسی قاضی وغیرہ کا انتظام کروں۔‘‘ ماریہ کے قریب آ کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے کہا۔ موبائل آف کر کے جیب میں ڈالتے ہوئے وہ ماریہ کی طرف خفیف سا جھکا۔
’’اور آپ کا فرماتی ہیں مادام…؟ سیدھے قاضی کے پاس نہ چلے چلیں۔ ایمان سے یہ دل بڑا بے ایمان ہو رہا ہے اس وقت۔‘‘ دل پر ہات رکھ کر وہ خاص فدویانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔ ماریہ فوراً پیچھے ہٹ گئی۔
’’نہ… نہ… نہیں… گگ… گھر چلیں… بہت دیر ہو گئی ہے۔‘‘ اس جیسی پراعتماد لڑکی بھی کنفیوز ہو گئی تھی۔ وہ اسے دیکھے گیا تھا۔ وہ مزید خود میں سمٹی تھی۔
’’آخاہ… پر دل بھی کیا چیز ہے… اچھے بھلے ہوش مند شخص کو بھی پاگل کر دیتا ہے۔‘‘ وہ گنگنا کر پوچھ رہا تھا۔ وہ چٹخ اٹھی۔
’’دائود پلیز!‘‘ اس کی آنکھوں میں قطرے چمکنے لگے۔ وہ مسکرایا۔
’’تم بھی ناں…‘‘ ماریہ کے گھورنے پر وہ ہنسا۔
’’ٹھیک ہے چلتے ہیں۔ کل اچھی طرح ڈریس اپ ہونا۔ میں آئوں گا اور اگر تمہارے گھروالوں نے اجازت دی تو ایک اچھا سا ڈنر بھی باہر کریں گے۔‘‘ وہ منصوبہ بنا رہا تھا اورماریہ نے مسکراتے ہونٹوں اور جھلملاتی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ میری قسمت کا درخشاں ستارہ تھا۔ شکر ہے اپنی نالائقیوں سے اسے کھو نہیں دیا۔ وہ نہ جانے اور بھی کیا کہہ رہا تھا۔ وہ تو بس اسے دیکھ رہی تھی۔ صرف اپنی قسمت کے درخشاں ستارے کو محسوس کر رہی تھی۔
’’یااللہ! تیرا شکریہ۔‘‘ وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر بجا لائی کہ یہ خالص نایاب موتی اسی کی عنایت تھی۔

ختم شد

Show More