ہم دل سے ہارے ہیں

ہم دل سے ہارے ہیں

سمیرا شریف طور

وہ سوئی ہوئی تھی۔۔بہت گہری نیند میں تھی‘جب ایک دم کمرے کا دروازہ تھپتھپانے کی آواز پر وہ ہڑبڑ ا کر اُٹھی تھی۔ادھ کھلی آنکھوں سے اپنے اِرد گرد کاجائزہ لیا۔ دروازے پر دستک خواب میں نہیں حقیقت تھی۔
’’کون ۔۔؟‘‘کمرے کی مدہم روشنی میں دوپٹے کی تلاش میںناکام ہوکر وہ دروازے کی طرف چلی آئی تھی ‘ باہر سے فوز ان کے رونے کی آواز کانوں میںگونجی تو اس نے فوراً دروازہ کھول دیا۔
’’آ۔۔آ۔۔آپ ۔۔‘‘شہباز حید ر کو سامنے دیکھ کر وہ ایک لمحے کو سٹپٹائی تھی۔وہ فوزان کو اُٹھائے ہوئے تھے ،جو مسلسل رو رہا تھا، شہباز حیدر نے لب بھینچے ہوئے تھے۔
’’فوزی میری جان ۔۔‘ ‘وہ فوراً آگے بڑھی تھی۔
’’کیا ہوا ہے ۔۔‘‘یہ رو کیوں رہا ہے؟‘‘ وہ شہباز حیدر کے تاثرات نظر انداز کیے پریشانی سے گویا تھی، شہباز حیدر نے سلگتی نظروں سے عیشہ واجدکو دیکھا۔
’’ماما پاس جانا ہے ۔۔‘‘اسے دیکھ کر وہ مزید بلکا۔
’’سنبھالو اسے۔۔‘‘دو گھنٹوں سے اس نے میراسر کھایا ہوا ہے۔۔‘‘ اس کو مزید بلک کر عشہ کی طرف بازوبڑھائے دیکھ کر ان کا پارہ ایک دم ہائی ہو تھا۔عیشہ واجد نے بغور شہباز حید ر کو دیکھا ، کمرے کی ہلکی روشنی سیدھی شہباز حید ر کی چہرے کے تاثرات کو آشکار کر رہی تھی۔انتہائی بیزاری کوفت ،ناگواری کے تاثرات صاف پڑھے جاسکتے تھے ، انہوںنے فوراً ان کو اس کی طرف بڑھایا تو اس نے بھی جلدی سے بازوئوں میں سمیٹ لیا۔
’’میری جان،میرا فوزی ۔۔میرے پاس آنا تھا۔۔‘‘اسے پچکارتے خاموش کرواتے اس نے نیچے کھڑا کیاتھا ، پھر اس کا سر اپنے ساتھ لگا لیا تھا، اس کے پاس آتے ہی فوراً خاموش ہوگیا تھا۔
’’یہ رو کیوں رہا تھا؟‘‘شہباز حیدر واپس پلٹے تھے ، جب اس نے پوچھا تو اس نے چہرا موڑ کے اسے دیکھا۔ہلکی مدھم روشنی میں کھلے بالوں ،بغیر دوپٹے کے ڈھیلے ڈھالے سراپے میں نمایاں ہوتا اس کا سفید دودھیا چہرہ بالوں کی لٹوں میں ایک لمحے کو اٹھیں،اس پر کسی گزرے لمحے کاگمان ہو ا تھا ،اس وقت وہ ان کو با لکل وریشہ کی طرح لگی تھی۔ وہی ہونٹوں کا کٹھیلا پن ،لمبی پلکوں کی جھالر تلے چھپی آنکھوں کی جھیل سے گہرائی میں موجز ن طوفان دودھیا رخساروں کی چٹکتی چاندنی میں ہلکورے لیتا احساس ،پشت پر بکھرا گھنے بالوں کا آبشار ایک لمحے کو انہیں بھی کسی طوفان سے آشنا کر گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے وہ سنبھل کر نظریں چراگئے تھے۔وہ عیشہ واجد تھی،وریشہ نہیں تھی۔
’’تمہارے پاس آنے کی ضد کر رہا تھا ۔۔‘‘ہونٹو ں کو دانتوں کو تلے سختی سے دبا کر انہوںنے اپنے کسی احساس سے نظر چرا کر کہا تو وہ تڑپ اُٹھی ۔۔کتنا ظلم کر رہے تھے بچے کے ساتھ ساتھ اس پر بھی۔
’’تولے آتے۔۔آپ اسے مجھ سے کیوں دور کر رہے ہیں۔۔ ایسی بھی کیا خطا ہو گئی ہے مجھ سے کہ آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں۔‘‘کئی دنوں کا شکوہ اس کے لبوں پر مچل گیا۔ کچھ خفگی ،کچھ ناراضگی اور بے پناہ استحقاق لیے ۔۔وہ کہہ رہی تھی۔ شہباز حیدر نے چونک کر انتہائی تعجب سے اپنے سامنے کھڑی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو اس کی زندگی کو کسی نئے احساس سے آشنا کرنے کے درپے تھی ۔اس کی آنکھوں کی خفگی میںصاف دکھائی دیتا جذبہ اور لہجے کی خفگی میں ڈولتا ابھرتا ’’استحقاق ‘‘ کا احساس انہیں ساکن کر گیا۔
’’میرے کس عمل سے اس لڑکی کو اتنی ہمت ملی ہے کہ آج میرے سامنے کھڑی ہے۔۔‘‘وہ حیران تھے۔ اسی لیے تو وہ اس سے پہلو تہی کی روش اختیار کر رہے تھے ،مگر اب احساس ہورہاتھا ،ان کی یہ روش اس لڑکی کو اور ہی شہ دے گئی ہے۔ یہ لڑکی ان کی راہ میں چٹان کی طرح ان کو شکست دینے کو کھڑی ہے اوپر سے فوزان کی حد سے زیادہ اٹیچ منٹ۔ وہ اس وقت پر پچھتائے جب فوزان کی پیدائش کے بعد اپنے غم میںنڈھال انہوں نے سارے اختیارات عیشہ واجد کو دے دیے تھے اور پھر اس لڑکی کی کو اتنی ہمت ملی کہ آج وہ ان کے سامنے کھڑی یہ پوچھ رہی تھی۔وہ بغیر جواب دیے پلٹے تھے جب پیچھے سے وہ کہنے لگی۔
’’مجھے آپ کے روّیے کی سمجھ نہیں آرہی کہ آپ ایساکیوں کر رہے ہیں۔۔ میرا کوئی قصور ہے تو مجھے بتائیں ۔۔ مجھے اور فوزی کو اس طرح تکلیف دے آپ کو باور کرانا چاہتے ہیں ۔‘‘وہ رکی تھی۔ فوزان کو بستر پر لیٹنے کا اشارہ کرکے کرسی پر پڑی چادر اوڑھ کر وہ اب کمرے سے نکل کر شہباز حیدر کے سامنے آرکی تھی۔
’’چلیں میںآپ کا یہ روّیہ نظر انداز کرتی جارہی ہوں ۔۔مگر کب تک ۔۔ اب تو گھر والے بھی متوجہ ہونے لگ گئے ہیں۔۔ دادی جان بھی کئی بار پوچھ چکی ہیںکہ فوزی میری بجائے اب آپ کے پاس کیوں ہوتاہے ۔۔ یامیں اُکتا گئی ہوں اس کی ذمہ داری سے۔۔‘‘
شہباز حیدرکاخیال تھا کہ اس کے اس ردعمل سے وہ خود ہی پیچھے ہٹ جائے گی ،مگر اس وقت وہ ان کے سامنے کھڑی جس انداز میں باز پرس کر رہی تھی ،ان کا جی چاہا کہ وہ کھینچ کر طمانچہ اس کے منہ پر رسید کر دیں۔ یعنی اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ ۔ ‘‘ ان کے اند ر کا آتش فشاں ایک دم پھٹا تھا۔
’’تم بچی نہیں ہو کہ میرے ان روّیوں کو سمجھ نہ پائو ۔۔یہ سوال مجھ سے نہیں اپنے آپ سے کرو تو بہتر ہے۔۔‘‘ وہ پلٹے تھے، پھر اسے ہکاّ بکاّ دیکھ کر رک گئے ۔
’’اور ہاں !اپنا موازنہ کرتے ہوئے یہ مت بھولنا کہ رشتے میں تم میری بھتیجی ہی نہیں میں تمہارا پھوپھا بھی لگتا ہوں ۔۔ اور ہمارے درمیان تیرہ سالوں کا ایج ڈیفرینس ہے۔۔پاگل احمق لڑکی۔۔‘‘دانت پیستے ،کھا جانے والی نظروں سے لتاڑتے اسے اپنی جگہ پرساکن کرکے آگے بڑھ گئے تھے ۔وہ حیرت سے گنگ ان کی چوڑی پشت کو دیکھے گئی، ہاتھ پاؤں سن ہو گئے تھے ۔
’’تو۔۔‘‘وہ لڑکھڑائی ۔تو اسی لیے یہ میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے تھے ۔مگر میرے کس روّیے سے انہیں یہ محسوس ہوا کہ میں۔۔میں۔۔‘‘
’’ماما آجائیں ۔۔ نیند آئی ہے۔۔‘‘وہ نجانے کیا کیا سوچتی فوزان کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں گھسیٹ لائی ۔ عیشہ کو اپنا پورا وجود کانپتا محسوس ہوا، وہ لرزتی ٹانگوں سمیٹ دروازہ بند کرکے بستر پر آئی تھی،فوزان بستر پر لیٹا ہوا تھا،وہ لیٹی تو اس کے ساتھ چمٹ کر لپٹ گیا ،عیشہ واجدنے اک بے چارگی سے اسے دیکھا ،اس بچے نے نجانے اس کو کن کن احساسات سے دوچار کیاتھا ۔اس کے اندر نجانے کیسے کیسے طوفان برپا کیے تھے ۔ اس کے جذبوں کو کیسی ہوا دی تھی۔ کیسے پھو ل کھلائے تھے ۔۔ عیشہ کی آنکھوں میں نمی آٹھہری ۔اس کی پیشانی چومتے ،بالوں میں انگلیاں پھیرتے اسے بغور دیکھا ۔ اس اک نظر نے اس کے وجود میں اک طوفا ن برپا کر دیا ،دل کی دھڑکن کاکوئی اندازہ نہ تھا، عیشہ واجد کو ایک پل کو ہی گمان گزرا کہ اس کے پہلو میں فوزان نہیں بلکہ شہباز حیدر ہے۔۔اسی خیال نے اس کے انگ انگ میں کپکپی دوڑادی تھی۔
’’مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آتی ۔۔پاپا نے بہت ڈانٹا تھا۔۔تھپڑ بھی مارا ۔۔ کہتے تھے کہ میں ان پاس سویا کروں ۔۔آپ گندی ہیں۔۔‘‘ بچے تومعصوم ہوتے ہیں، جو سنتے ہیں بلاوجہ سوچے سمجھے کہہ دیتے ہیں ،وہ منہ بسور کر بتارہا تھا ۔ وہ بغیر پلکیں جھپکائے حیرت و دکھ سے دیکھے گئی ۔
’’یہ پاپا نے کہاتھا ؟‘‘ اس نے ’’گندی‘‘کے لفظ پر بے یقینی سے پوچھا ،اس نے سراثبات سے ہلایا تو وہ بے بسی سے ہونٹ کچل کر رہ گئی۔
’’پاپا کہہ رہے تھے آپ میری ماما نہیںہیں ۔۔آپی ہیں۔۔ میںآپ کو آپی کہا کروں ۔۔‘‘ بچے اس کائنات کا سب سے بڑا سچ ہوتے ہیں، اپنی معصومیت سے وہ مزید بتارہا تھا۔
’’پاپا بھی کہتے ہیں مجھے آپ کے پاس آنے کے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔۔آ پ سے دور رہا کروں ۔۔پاپا کے پاس سویا کروں ،ان کے ہاتھ سے کھانا کھایا کروں ۔۔وہ مجھے ہوم ورک بھی کروایا کریں گے ۔۔‘‘ وہ اور بھی بہت کچھ بتا رہا تھا ، عیشہ واجد نے خا موشی سے اسکی پیشانی پر اپنی ٹھوڑی ٹکا کر اسے اپنے بازوئوں میں بھنیچ لیا۔
’’اچھا نہیں کر رہے شہبا حید ر آپ ۔۔چھوٹے سے بچے کے دماغ میں آپ اس طرح کی بیٹھا کر نجانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔ فوزان سے میری یہ محبت بے غرض اور بے لوث ہے ، یہ تو اس وجود کا احساس ہے کہ آج میرے دل میں وہ سارے جذبے پنپ رہے ہیں جو کبھی میرے اور شاید اب آپ کے نزدیک باعث گنا ہ ہیں۔۔‘‘ فوزان کے بالوں میںخاموشی سے انگلیاں پھیرتی رہی۔
’’ماما ۔۔‘‘آنکھیں بند کرتے اس نے پکارا تو اس نے اس کودیکھا ۔
’’ہوں ۔۔‘‘
’’ماما۔۔ آپ بابا کے پاس کمرے میںکیوں نہیں رہتیں ۔۔ عدیل کی ماما چاچو کے ساتھ رہتی ہیں ، پھر آپ یہاں نیچے کیوں رہتی ہیں ۔۔مجھے نہیں پتہ بس آپ اور پاپا اکٹھے رہا کریں ۔۔‘‘ وہ انتہائی بھولپن سے اس کے وجود میںآگ لگا گیا تھا، وہ بے یقینی سے دیکھے گئی۔
’’چپ۔۔ ‘‘اس نے سختی سے اس کے منہ پر انگلی رکھ دی ۔
’’خبردار تم نے آئندہ ایسی بات کی تو۔۔ تمہارے بابا تو میری جان نکال دیں گے ۔۔‘‘ایک دم خوف سے ڈر کر اس نے فوزان کو ڈپٹ دیا ، دل کی دھڑکن حد سے سوا تھی۔
’’مگر آج میں نے پاپا سے کہا تھا وہ آپ کو اپنے کمرے میںلے کر آئیں ۔ ۔ انہوںنے اتنی زور سے تھپڑ مارا تھا۔۔ بس مجھے نہیںپتا آپ پا پا کے ساتھ رہیں ۔۔ پھر آپ دونوں کے ساتھ سویا کروں گا۔ ۔ پاپا کے ساتھ اکیلے سوتے ڈر لگتا ہے ۔۔‘‘ وہ منہ بسورتے رہا تھا ،عیشہ نے دہل کر اس کی معصوم صورت دیکھی ۔ ہر نقش شہباز حیدر کا چڑا یا ہوا تھا۔
’’تم نے اپنے پاپا سے یہ سب کہا تھا۔۔؟‘‘ اس نے بے یقینی سے دہرایا تو اس نے گردن زور سے ہلائی ۔
’’پاپا نے سختی سے ڈانٹ دیا تھا ۔۔وہ کہتے ہیـں میری ماما ’’اللہ جی ‘‘کے پاس چلی گئی ہیں ،آپ صرف میری آپی ہیں۔۔‘‘ وہ اسے دیکھے گئی ،بھلا چھوٹے بچے سے یہ باتیں کرنے والی تھیں ۔ شہباز حیدر کو ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ انکے اس طرز عمل سے انکے بیٹے کی شخصیت میں کتنا بڑا خلا پیدا ہوسکتا ہے ۔ ماں سے محرومی کا خلا ۔۔ جو اس نے کبھی ہونے نہیں دیا۔
’’ماما ۔۔پاپا سچ کہتے ہیں۔۔ واقع آپ میری ماما نہیں ہیں۔۔؟‘‘ وہ پوچھ رہاتھا ، عیشہ کا دل کانپ کر رہ گیا، ا س کی آنکھیں بھر آئیں ۔ کتنی تلخ حقیقت تھی مگر سچ تھی۔ وہ جسے ماما کہتا ہے ، وہ اس کی ماں نہ تھی، جبکہ وریشہ اس کی سگی ماں تھی، جو اس کو جنم دینے کاسبب بنی تھی مگر پالا تو اس نے تھا ۔ پیدا ہوتے ہی وہ اس کی ذمہ داری بن گیا تھا ، پھرا تنے سالوںتک اس کی گود اس کی ممتا کی تسکین بنتی رہی تھی، اس نے اسے کبھی ماں کی کمی محسوس ہی نہیں دی تھی اور وہی دور تھا، جب فوزان کی سنبھالتے اسے پروان چڑھاتے اسکے اندر کے الہڑ ،کم عمر جذبوں کی ایک نام ملا تھا ۔ شہباز حیدر کا نام ۔۔ وہ خود ہی ڈرنے لگی تھی، اپنی انہونی خواہشوں سے منہ چھپانے لگی تھی ،اور پھر جب فوزان نے بولنا شروع کیا تھا ،تو اس کی زبان سے لفظ ’’ماما‘‘ نکلاتھا ، اور نہال ہوگئی تھی، کم عمری کے جذبے ،کم عمری کی محبت اور بھر پور محبت کا احساس نجانے کیوں اسے لگنے لگا کہ وہ واقع فوزان کی ماما ہے۔ شروع میںسب ہی چونکے تھے ،فوزان کے منہ سے یہ نام کر مگر وہ بچہ تھا، نہ اسے کوئی سمجھ تھی نہ بوجھ۔۔سب کا خیال تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ جب رشتوں کو جاننے اورسمجھنے لگے گا توخود بخود وہ اس نام کو ترک کردے گا ۔ اور پھر وقت گزرتا چلا گیا ، ااور اس کی ماما کہنے کی عادت پختہ ہوتی چلی گئی ۔ کسی کو بھی اسے ٹوکنے یا اصل حقیقت بتانے کا دھیان نہ رہا ۔ وریشہ کے بعد شہباز حید ر نے اپنے آپ کو کاروباری جھمیلوں میں اس قدر گم کر لیا کہ بچے کی طرف سے بھی غافل ہوتا چلا گیا ۔ نانی ، دادی ، چچی اور سب سے بڑھ کر عیشہ اس کا خیال رکھنے والی تھیں ، وہ مطمئن ولاپرا ہوتا چلا گیا ۔ کالج سے آنے کے بعد عیشہ کی زندگی کا محور فوزان ہوتا تھا ۔ اسکے چھوٹے چھوٹے کام وہ بہت محبت سے کرتے تھی، وہ شروع سے ہی اس کے پاس سوتا تھا ، اور پھر یہ عادت اتنی پختہ ہوئی کہ وہ کسی اور کے پاس ایک رات بھی نہیں سو پاتا تھا۔ یہ تو کچھ دنوں پہلے کی بات تھی یا شاید ایک ماہ سے یہ سب چل رہاتھا ، غیر محسو س طریقے سے شہباز حیدر فوزان کو اس سے دور کرنے کی کوشش میں تھے ،وہ جو رات گئے گھر لوٹتے ، اب سرے شام ہی گھر میں ہوتے تھے ۔ فوزان کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے، کبھی باہر گھومنے لے جاتے اور کبھی کسی کھانے کی چیز کا لالچ دے کر ۔۔ وہ بچہ تھا، بہل بھی گیا تھا ، مگر کب تھا ۔۔ عیشہ خاموشی سے صرف دیکھ رہی تھی بلکہ اچھی طرح محسوس بھی کر رہی تھی ، وہ شہبا ز حیدر سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، ایک دو دفعہ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی بھی تو شہباز حیدر کا روّیہ اس کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز، روکھا پھیکا اور سرد ہو جاتا ۔ وہ ایسے مسلسل اِگنور کرہے تھے عیشہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی ، صرف چپ تھی وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں، اسے کچھ سمجھ آرہی تھی ، وہ سارادن ترس جاتی تھی، فوزان کیلے۔۔اس کی پیاری پیاری باتوں ،معصوم شرارتوں کیلئے وہ صرف رات کو اس کے پاس آتا تھا ، وہ بھی صرف سونے کیلئے اور آج رات وہ اس کے پاس نہیں آیا تھا ، آج شہباز حیدر فوزان کو پارک میںلے کرگئے تھے ،رات گئے لوٹے تھے ،وہ انتظار کرتی رہی تھی کہ گھر آنے کے بعد وہ فوزان کو اس کے پاس چھوڑ جائیں گے مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا۔ کتنی دکھی ہوئی تھی ، فوزان کو اپنے ساتھ چمٹا کر سونے کی عادت اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ اس کے بغیر سونے کا تصور ہی سوہان روح تھا مگر اب جب کہ و خود سونے پر مجبور کر چکی تھی بلکہ سوبھی چکی تھی تو شہباز حیدر فوزان کو ا س کے پاس چھوڑ گئے تھے ، مگر ان کارویہ ان کی باتیں اور اب فوزان کی باتیں۔۔ وہ کٹ کر رہ گئی تھی ۔ اس نے ہونٹ کاٹتے اسے دیکھا، وہ اس کے سینے پر سر رکھے گہری نیند میںتھا ، وہ خاموشی سے اس کے بالوں میںانگلیاں پھیرتی رہی ۔
’’ اچھا نہیں کر رہے آپ میرے ساتھ ۔ ۔ میں نے تو آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا اور نہ ہی مانگوں گی۔۔ صرف خاموشی محبت ہی تو آپ سے کر رہی تھی ۔۔اور اب آپ اس کا حق بھی مجھ سے چھین رہے ہیں ۔۔ یہ فوزی۔۔‘‘ اس نے بھرائی آنکھوں سے معصوم صور ت کو دیکھا ۔
’’اس کے بغیر مر جائوں گی ۔۔ میںنے بن ماں کے زندگی گزاری ہے۔۔ مجھے پتا ہے جب ماں کا سایہ میسر نہ آئے تو زندگی میں کیسا خلا بھر آتا ہے ، میں نے تو اس خیال سے اس بن ماں کے بچے کو اپنا بنایا تھا لیکن کیا پتہ تھا کہ یہ دل ہی بغاوت کر جائے گا۔ اس معصوم صورت نے میرے اندر کے خلا کو آپ کا عکس دیا تھا ، اور اب جبکہ میںاس مقام پر آچکی ہوں جہاں واپس پلٹنا میرے لیے موت ہے تو آپ کا طرز عمل میری جان نکالنے کو کافی ہے۔۔ آپ کے تیور دیکھتے ہوئے اتنے دن سے اپنے آپ کو میں سنبھال رہی ہوں ۔۔ مگر اب نہیں۔۔ بات کھلی ہے تو ہونہی سہی ۔۔ اچھاہے نا،بن کہے ہی آپ میرے جذ بوں سے آگہی پا گئے ہیں۔۔ ورنہ میںشاید ساری عمر سلگتی رہتی ، اور آپ کو خبر ہی نہ ہوپاتی ۔‘‘ آنسو اس کے رخساروں پر تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ایک کر کے گرتے جارہے تھے، اور و ہ گیلی لکڑی کی مانند اندر ہی اندر سلگنے لگی تھی ۔
اس نے بھی اظہار کی شدت میں چپ سادھے رکھی
میں نے بھی کچھ کہنے کی خواہش میں بات چھپا دی
اس وحشت میںہنستے ہنستے جیون دھول ہوئے ہیں
اس نے ایک دیوار اُٹھا دی ، میں نے ایک گراد ی
X X X

ڈوبی ہوئی خلوص میںجس کی نگاہ تھی
مجھ کو اس کی چاہ تھی اور بے پناہ تھی
فراز کس کو علم ہے اس چاند کے بغیر
جو چودھویں کی رات تھی کیسی سیاہ تھی
’’اس کے گھر میں اور خاندان آباد تھے ،ایک عبداللہ صاحب کا اور دوسرا حیدر صاحب کا ۔ عبداللہ صاحب کے دو بچے تھے ،بیٹا واجد عبداللہ اور بیٹی وریشہ عبداللہ جو کے واجد سے کئی سال بعد بڑی منتوں مرادوں سے پیدا ہوئی تھی ، حیدر صاحب کے دو بیٹے شہباز حیدر اور قیوم حیدر تھے ۔ تین بیٹیا ں فارحہ، مہوش، اور سونیا ۔۔تینوں بڑی تھیں ،پھر شہباز تھے،شہباز اور وریشہ ہم عمر تھے ، جبکہ قیوم سب سے چھوٹا تھا۔واجد عبداللہ کی شادی سگی خالہ زاد سے ہوئی تھی مگر چند سالوں بعد گردوں کی تکلیف کی وجہ سے انتقال کرگئیں ، اس وقت عیشہ چار سال کی تھی، اس دوران حیدر صاحب بڑی تینون بیٹیوں کی شادی کر چکے تھے ،اب کی بار عبداللہ صاحب نے چار سال بعد دوبارہ واجد کی صاحب کا گھر بسایا تھا ، عنیقہ ان کے دوست کی بیٹی تھی ، وہ جوائنٹ فیملی سسٹم کی عادی نہ تھیں ،دو بچوں کی پیدائیش تک صبر کر کے انہوں نے یہ سب برداشت کیا تھا ،واجد صاحب اس پر راضی نہ تھے مگر بیوی اور باپ کے سامنے ایک نہ چل سکی تھی، عیشہ اس وقت کافی سمجھدار تھی،پھر ماں سے محرومی ،سوتیلی ماں کے ساتھ نے اسے وقت سے پہلے ہی کافی میچور کر دیا تھا ،وہ باپ کے ساتھ علیحدہ گھر میں نہیں گئی تھی ،یہی رہ گئی تھی ۔عیشہ کو وریشہ سے بہت محبت تھی اور یہی حال وریشہ کا تھا ،عمروں کے فرق کے باوجود دونوں دوستوں کی طرح ہوتی تھیں، وریشہ اور شہباز دونوں ایک دوسر ے کو پسند کرتے تھے ،خاندان کی بات تھی، سو دونوں کی بات بھی طے ہو گئی تھی، عیشہ آٹھویں کلاس میںتھی جب وریشہ کی شہباز سے سے شادی ہوئی تھی ،مگر بد قسمتی سے وریشہ شادی کے تین سال بعد ہی فوزان کی پیدائش پر انتقا ل کر گئی تھیں ،پورے خاندان پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ، وریشہ کی جواں مرگ کا صدمہ ہی ایسا جان لیوا تھا کہ کتنے ماہ تک کوئی بھی اپنے آپ کو نہ سنبھال پایا تھا ،شہباز حیدر تو ایک طرف باقی سب بھی نڈھال تھے۔ عیشہ جو وریشہ سے نہ صرف شکل و صورت میں مشابہت رکھتی تھی بلکہ زیادہ تر وریشہ کے زیر اثر رہتے ہوئے اس کے اندراس جیسی عادات و اطوار پیدا ہوگئی تھیں۔اس نے بہت خاموشی سے انتہائی خلوص وتوجہ سے فوزان کو سنبھال لیا تھا۔ کالج سے آنے کے بعد وہ سارا وقت فوزان کے چھوٹے موٹے کاموں میںصرف کردیتی تھی، وہ ماں سے محرومی کے احساس سے واقف تھی، جس طرح اس کی ماں کے انتقال کے بعد دادی ،پھوپھی نے سنبھال لیا تھا، اسی طرح فوزان کو سمیٹ لیا تھا ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سبھی سنبھل گئے تھے ،فوزان عیشہ سے حد سے زیادہ اٹیچ ہو چکا تھا ،کسی کو بھی احساس نہ تھا کہ آنے والے وقت میں یہ اٹیچمنٹ کوئی اور رنگ بھی اختیار کر سکتی تھی، شہباز حیدر فوزان کو عیشہ کی ذمہ داری سمجھ کر لاپروا ہوتے چلے گئے۔ اور وہی دور تھا جب اس کے اندر نئے نئے جذبات انگڑایاں لے کر بیدار ہوتے چلے گئے تھے۔ اس نے خور کو روکنے کی ، باز رکھنے کی کوشش کی مگر دل ناداں کب تک سمجھتا ہے اور پھر اس نے دل کے سامنے ہار مان لی ۔ ایف ایس سی کے بعد پی ایس سی اور اب وہ ایم ایس سی کے لئے یونیورسٹی ایڈمیشن لے چکی تھی ، یونیورسٹی میں اس کا آخری سال تھا، اپنی پڑھائی میں بڑی سنجیدہ بھی اور کسی کے سامنے دل کا درد آشکار نہیںہونے دیا تھامگر گزشتہ ایک ماہ سے شہباز حیدر کو نجانے کیسے اس کے جذبوں سے آگاہی ہوگئی تھی، اور پھرانہوں نے حفاظتی اقدامات بھی کرنے شروع کر دیئے تھے ،رات سوچنے کے بعد اس نے شہباز حیدر سے آر پایا کا فیصلہ کیا تھا ۔شہباز حیدر کا فوزان کے سلسلے میںیہ روّیہ اس کے لیے برداشت کرنا ناممکن تھا۔صبح اس نے یونیورسٹی سے آف کرنے کا سوچا تھا۔ قیوم چچا کی بیگم مہوش کالج میں لیکچرار تھیں، ان کے دونوں بچے اور فوزان سب اکٹھے ہی صبح صبح ان کے ساتھ سکول کے لیے نکلتے تھے،واپسی پر عبداللہ صاحب بچو ںکو لے کر آتے تھے، فوزان عدیل اور مشاء ایک ہی سکول میںپڑھتے تھے۔ عبداللہ صاحب اور حیدر صاحب لکڑی کا کاروبار کرتے تھے، لکڑی خرید کر آگے فروخت کرنا ان کا کام تھا ،جو رفتہ رفتہ اب کافی وسیع ہو گیا تھا ، واجد کے علیحدہ ہونے پر انہوں نے اس کے حصے کا کاروبار بھی علیحدہ کر دیا تھا ، اب حیدر صاحب اور عبداللہ صاحب کا سارا کام حیدر اورشہباز ہی چلا رہے تھے ،وقت کے ساتھ ساتھ گھر میں خوشحالی آچکی تھی ،قیوم انجینئر تھے،واحد صاحب کے اپنی دوسری بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ،وہ ہر دو سرے دن عیشہ سے ملنے آتے رہتے تھے ۔ عیشہ اپنے کمرے کو سمیٹ کر کچن میںآئی تو چچی جان چیزیں سمیٹ رہی تھیں، اسے آج اسی حلیے میں دیکھ کر رکیں۔
’’تم یونیورسٹی نہیں گئی ۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔‘‘وہ کھانے پینے کو فریج کا جائزہ لینے لگ گئی ۔
’’ہٹو میںپراٹھا بنا دیتی ہوں ۔۔ ‘‘اسے چولہا جلاتے دیکھ کر انہوں ٹوک دیا۔
’’نہیں رہنے دیں۔۔صرف سلائس تلوں گی ۔۔دادا جان اور دادی جان نے ناشتہ کر لیا ہے۔۔؟‘‘
’’ہوں۔۔سب نے ہی کر لیا ہے، صرف شہباز رہتا ہے،اس کیلئے یہ ٹرے تیار کی ہے ۔۔‘‘ انہوں نے ٹیبل پر رکھی ٹرے کی طرف اشارہ کیا ۔
’’لائو میںتل دیتی ہوں ، تم شہباز کو یہ ٹرے دے آئو۔۔‘‘انہوں نے اسے پیچھے ہٹا دیا تھا، شہباز حیدر کے نام پر اس کا دل دھڑکا تھا ،تا ہم وہ خود کو سنبھالتی دوپٹہ درست کرتے ٹرے اُٹھا کر اوپر چلی آئی۔دروازہ نیم واتھا ،دونون ہاتھوں سے ٹرے تھامے وہ بغیر دستک دیے اندر داخل ہو گئی تھی ،وہ آئینے کے سامنے کھڑے بال سلجھا رہے تھے،گہرے کوٹ سوٹ میں اپنی ڈیسنٹ پرسنالٹی سمیت بہت بارعب اور پر وقا ر لگ رہے تھے۔ ان کی شخصیت کی وجاہت دیکھنے کے قابل تھی شاید اسی لیے وہ اپنے جذبوں پر قابو نہ کر پائی تھی، آفس کی تیاری تھی، اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر انکے ماتھے پر بل پڑ گئے رات کا واقعہ ذہن کی سطح پر ایک دم تازہ ہوا ۔ غصے سے ٹیبل پر برش پٹخ دیا ۔
’’چھن چھن ۔۔‘‘پرفیوم کی شیشی نیچے گر کر ٹوٹی تھی، پورا کمرا Posionکی تیز خوشبو سے نہا گیا تھا ،عیشہ ان کے تیور دیکھ کر دہل گئی ،رات وہ جو آریا پار کرنے کا فیصلہ کیا تھا ،ساری ہمت دم توڑ گئی ،مرے قدموں سے آگے بڑکر ناشتے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ دی۔ وہ ایک طرف کھڑی ہو کر انگلیاں چٹخانے لگی ،سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کرے ۔۔پلٹ جائے یا۔۔ شہباز حیدر نے خشمگیں نظروں سے گھورا ۔وہ باہر نکلنے کو پلٹی تھی ۔
’’سنو۔۔‘‘ اس پکار پر اس کے قدم ٹھٹکے تھے ،وہ پلٹی تھی، شہباز حیدر کے تیور دیکھ کر وہ مزید پزل ہوئی۔
’’آئندہ میرے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دستک دے لیا کرنا ۔۔تم اچھی طرح جانتی ہو مجھے یہ بے تکلفی اچھی نہیں لگتی ۔۔‘‘ نہایت برہمی سے ٹوک دیا گیا تھا۔
’’جی ۔۔اچھا۔۔‘‘ شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے اس نے سعادت مندی سے سر جھکا لیا ، وہ ان کی اس قدر پر رعب باوقار پرسنالٹی کے سامنے خو د کو خاصا بے بس محسوس کرتی تھی، ان کارعب ہی ایسا تھا مگر دل کا کیا کرتی ۔۔وہ الٹے قدموں سے پلٹی تھی، ذرا سا سامنا ہونے سے ہی ٹانگیں لرزنے لگ گئی تھیں، اگر ساری زندگی ۔۔اس کا دل اسے اس طرز عمل پر احتجاج کرنے کو اکسانے لگ گیا تھا، دل ودماغ اس کے خوف کے سامنے ایک دم ڈٹ گئے تھے، نکلنے سے پہلے وہ پلٹی تھی۔
’’وہ ۔۔وہ مجھے آپ سے۔۔ بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔‘‘وہ ہمت کر کے یہ الفاظ کہہ پائی تھی ،سر اٹھا کر ان کو دیکھا مگر ۔۔اُف اللہ۔۔ان کی آنکھوں سے انگارے برس رہے تھے، اس نے بے اختیاری میں اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا،دل کی دھڑکن کا کچھ اندازہ ہی نہ تھا ۔
’’مگر مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔‘‘انتہائی کر ختگی سے انکار ہوتھا، وہ ڈبڈبائی آنکھوں سمیت انہیں دیکھے گئی ۔کبھی وہ اس کیلے بڑے مہربان ہو ا کرتے تھے مگراب ۔۔
’’مجھے فوزان کے سلسلے میںبات کرنی ہے ۔۔‘‘اپنے رخسار پر بہہ جانے والے آنسوئوں کو بے دردی سے صاف کرتے اس نے خود کو مضبوط کیا، اس خیال سے کہ زیادہ سے زیادہ چیخ کر اپنا غصہ نکال لیں گے، جان سے تو مارنے سے رہے۔
’’فوزان میر ا بیٹا ہے۔۔ اس کا اچھا یا برا میں تم سے بہتر سمجھتا ہوں ۔۔اس سلسلے میں تم کو جو رعایت مل چکی ہے ،اسکو غنیمت جانو تو بہتر ہے ۔۔ورنہ۔۔ ‘‘اپنا برف کیس کھول کر بستر پر بکھرے کاغذات چیک کر کے وہ اس میں رکھ رہے تھے ،شہباز حیدر کے ’’ورنہ‘‘پر عیشہ کا دل رکنے لگا ۔
’’آپ کے اس طرز عمل سے اس کی شخصیت بجائے بننے کے ،صرف بگڑ ے گی ،اس کا ذہن دو حصو ں میں بٹ رہا ہے، آپ کی باتیں اور توجہ اس کے اندر کئی سوال و جواب کے دروازے کھول رہے ہیں،مگر آپ کو کیا ۔۔آپ تو اسے صرف مجھ سے دور کرنا چاہتے ہیں اور بس۔۔‘‘
’’شٹ اپ۔۔‘‘تمام خوف بالائے طاق رکھے اس نے کہا تو شہباز حیدر نے غصے سے ٹوک دیا ۔وہ ایک دم چپ کر گئی ۔
’’فوزان کا اچھا یا برا تم سے بہتر سمجھتا ہوں ۔۔سمجھیں۔۔ بریف کیس سختی سے بند کر کے انہوں نے گھورا ۔اور تم کو کوئی حق نہیں کہ میرے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرو ۔۔فوزان کے حقوق اداکرنے کو ابھی اس کا باپ زندہ ہے۔‘‘
’’غلط کہہ رہے ہیں آپ ۔۔فوزان کی پیدائش سے لے کر اب تک آپ نے کون سے حقوق نبھائے ہیں اس کے لیے۔۔ اور اب ایک ماہ سے آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ فوزان آپ کا بیٹا ہے ۔‘‘ تلخی نے عیشہ کی طرف سے بھی سر اُبھارا تھا،بغیر کچھ سوچے سمجھے اس نے کہہ دیا۔
’’عیشہ! تم حد سے بڑھ رہی ہو ۔۔‘‘عیشہ کی اس بد تمیزی پر انہوں نے سختی سے کہا تو اس نے سر جھٹکا ۔
’’ہرگز نہیں۔۔آپ کی بھول ہے ۔۔اگر حد سے بڑھنا ہی ہوتا تو بہت پہلے میں آپ کے سامنے کھڑی ہوتی، آج بھی میں صرف اور صرف آپ کے روّیے کی وجہ سے آپ کے سامنے ہوں ۔۔ورنہ حد سے بڑھنا کیا ہوتا ہے آپ کیا جانیں۔‘‘ ایک لمحے سے اس کو خود بھی حیرت ہوئی کہ وہ بغیر ہچکچائے یہ سب کہہ رہی تھی۔
’’تم رشتوں کا ادب لحاظ بھول رہی ہو۔۔‘‘ وہ بے پنا ہ طیش سے اس کے سامنے آکھڑے ہوئے ۔
’’گستاخی معاف! مجھے رشتو ں کا ادب لحاظ آپ سے زیادہ پتہ ہے ،میں تو صرف آپ کو کہہ رہی ہوں کہ فوزان کے معاملے میںآپ کی کسی بھی پابندی کوخاطر میں نہیں لائوں گی ۔۔آپ کو تو اس معصوم پر ذرا بھی ترس نہیں رہا، میں اتنے دنوں سے خود پر جبر کر رہی ہوں تو یہ رشتوں کا ادب و لحاظ ہی ہے ۔۔آپ کے اس روّیے سے وہ سارا دن مختلف سرگرمیوں میں الجھ کر بہل تو جاتا ہے مگر رات کو وہ جو سوال اُٹھاتا ہے ۔۔کاش آپ اندازہ لگا سکیں کہ اس کی ذہنی سطح پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘‘شہباز حیدر نے بے پناہ غصے سے اپنے سامنے کھڑی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا ۔
’’اس کے حق میںیہی بہتر ہے کہ تمہیں اس کے متعلق الجھنے کی ضرورت نہیں۔۔‘‘دل تو چاہ رہا تھا کہ ایک ہاتھ جڑ دے مگر ضبط کیے غصے سے کہا۔ عیشہ کا دل فوزان کے معاملے میں پھر دکھی ہو گیا ۔
’’میںآپ سے تو کچھ نہیں چاہ رہی ۔۔کبھی آپ نے میری زبان سے کوئی غلط لفظ سنا ہے۔۔ بے فکر رہیے ،کبھی آپ کی پریشانی کا سبب نہیں بنوں گی ،بس فوزان کو میرے پاس رہنے دیں ۔۔ وہ پیدا ہونے کے بعد میرے پاس آیا تھا ۔۔اتنے سال میں وہ مجھے اپنے جسم کا حصہ لگنے لگا ہے ،وریشہ پھوپھو زندہ ہوتیںتو شاید وہ اسے اتنی محبت نہ دے پاتیں جتنی میں نے دینے کی کوشش کی ہے ،ایک ایک لمحہ ،ایک ایک پل اس کے لیے اپنا آپ ۔۔ بنا کسی غرض یا لالچ کے۔۔ اور اب آپ اسے مجھ سے جدا کر رہے ہیں۔۔جان بوجھ کر۔۔صرف اور صرف انتقاماً ۔۔‘‘ وہ اس کے سامنے کھڑی رو رہی تھی ،شہباز حیدر کے لیے خود پر ضبط کرنا مشکل ہو گیا ۔ اس وقت وہ ہو بہو وریشہ کی طرح لگ رہی تھی، کتنی مماثلت تھی دونو ں میں۔
’’ میں یہ سب کچھ جان بوجھ کر یا انتقاماً نہیں کر رہا ۔۔میرے اس روّیے کی وجہ مجھ سے بہتر تم جانتی ہو ۔۔انتقاماً ۔۔ ‘‘ دانت پیستے انہوںنے باور کروایا ،وہ کٹ سی گئی ، ان سے نظریں چرا گئی ،انہیں مزید غصہ آیا ۔عیشہ کا غیر معمولی سلوک وہ بہت عرصے سے محسوس ہونے لگا تھا کہ عیشہ کا نارمل روّیہ اب ان کے لیے نارمل نہیں رہا ۔۔ان کے سامنے آنے سے کتراتا،ایک دم سامنا ہوجانے پر گھبرانا ۔۔الٹی سید ھی حرکتیں کرنا ، بات کرنے پر شرمانا ۔۔ خاص طور پر اس کی نگاہوں میں اپنے لیے ایک عجیب سی دہکتی آگ محسوس کرنے لگے تھے، بہت غور کرنے پر انہیں احساس ہوا کہ وہ انہیں ’’چاچو ‘‘کہنا چھوڑ چکی ہے ۔۔آپ ۔ جناب ،سنئے ، یہ، وہ کے الفاظ استعمال کرنے لگی تھی ،انہیں خود سے مخاطب کرنا تو تقریباً چھوڑ چکی تھی ،اگر کبھی بات کرنے کا موقع مل ہی جاتا تو وہ کوئی حوالہ دیتے ہوئے آپ ، یہ کے الفاظ استعمال کرتی تھی،ان کی چھٹی حس انہیں ایک عرصے سے آگاہ کررہی تھی مگر وہ اپنا وہم کہہ کر ٹال جاتے تھے ، اور پھر ایک ماہ پہلے ہی کی بات تھی ، فوزان کو بخار تھا ،رات وہ لیٹ آئے تھے ،فوزان کو طبیعت کافی خراب تھی ،سارا دن امی نے بتایا تو وہ عیشہ کے کمرے میں چلے آئے تھے ۔فوزان سویا ہوا تھا، عیشہ شاید باتھ روم میں تھی ،وہ فوزان کی طبیعت جاننے کے لیے اس کے بستر پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگے تھے ،وہ شاید باتھ لے رہی تھی ، پانی گرنے کی آواز سے وہ یہی اندازہ لگا سکے ۔ فوزان کا بخار چیک کرتے انہوں نے سرہانہ اُٹھا کر اس کے ساتھ کمر ٹکا لی تھی، وہاں کتاب تھی ،یونہی ورق گردانی کے خیال سے اُٹھا لی تھی، مگر وہ ششد رہ رہ گئے تھے۔کتاب کھولتے ہی ان کی جھولی میں کئی تصویریں آگریں تھے۔سب تصویریں ان کی تھیں ‘ صرف ایک تصویر میں ان کے ساتھ عیشہ اور فوزان تھے ۔ یہ تصویر فوزان کی تیسری سالگرہ کے دن کھینچی گئی تھی، وہ حیران ہو کر تصویر دیکھ ہے تھے ، یونہی تصویر کی پشت پر نظر پڑی تو دنگ رہ گئے۔
جب سے تیرے نام کر دی زندگی اچھی لگی
تیرا غم اچھا لگا تیری خوشی اچھی لگی
تیرا چہرہ،تیری خوشبو، تیرا لہجہ ،تیری بات
دل کو تیری گفتگو کی سادگی اچھی لگی
وہ اشعا ر کا انتخاب نہیں تھا ،بلکہ ان کے گرد خوبصورت انداز میں چاروـں جانب عیشہ شہباز حیدر کے نام کی تکرار تھی ،خوبصورت پھولوں کی بیل کی صورت میں لکھے گئے نام کی تکرار ان کو کئی لمحوں تک سُن کر گئی تھی ، وہ عیشہ کی لکھائی ہزاروں میںپہچان سکتے تھے ،وہ حیرت کے سمندر میں غرق تھے ، شک تو پہلے ہی تھا، اب یقین آنے پر وہ شاک میں تھے ، یونہی کتاب وہیں رکھ کر اُٹھ کر وہاں سے چلے آئے ،ان کا دل چاہا کہ اس سے سختی سے باز پرس کریں ،مگر پھر عیشہ کے اندازو طوار گزشتہ رویوں کا انداہ لگا کر رہ یہ سوچ کر چلے گئے کہ اگر بات کھلنے کے بعد وہ ان کے سامنے دل کی حالت بیان کر گئی تو وہ کیا کریں گے ،کیسے اپنا دامن بچاپائیں گے،تب نجانے ان کا ردعمل کیا ہو۔۔ پھر انہوں نے خاموشی سے فوزان کو ان دور کر نا شروع کر دیا تھا ،ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اس لڑکی کو مزید کسی حماقت سے روک سکیں گے۔۔مگر یہ ان کی خام خیالی تھی، پہلے تو شاید اسے بات کھلنے کا ڈر تھا ،اور اب ۔۔ کل رات انہوں نے کسی نہ کسی طرح بہلا پھسلا کر فوزان کو اپنے پاس سونے پر آمادہ کر ہی لیا تھا لیکن آدھی رات کو وہ رونا شروع ہو گیا تھا ،وہ ہڑبڑا کر اُٹھے تھے، اس شورکے عادی نہ تھے ، کچھ پریشان بھی ہوگئے ۔
’’کیا ہو ا فوزی ۔۔؟‘‘
’’ماما کے پاس جانا ہے ۔۔‘‘ روتے ہوئے فرمائش کی گئی تھی،ایک تو نیند ڈسڑب ہو گئی تھی، دوسرا اس کی یہ الٹی فرمائش۔۔ انہیں غصہ آگیا۔
’’کوئی نہیں ہے تمہاری ماما ۔۔‘‘ ان کے ڈانٹنے کی دیر تھی ، فوزان صاحب توحلق پھاڑ کر رونا شروع ہو گئی تھے ، وہ جھنجلا اُٹھے ،ہر طرح سے اسے سنبھالا ، پچکاریاں ، لالچ دیا ،مگر اس کی تو ایک ہی ضد تھی۔
’’ماما کے پاس جانا ہے۔۔‘‘اب کہ انہیں عیشہ پر غصہ آنے لگا ،جو ان کی زندگی میں حد سے زیادہ دخل اندازی کر چکی تھی۔
’’سنو فوزی ۔۔وہ سو گئی ۔۔ہے ۔تم بھی سو جائو۔۔میرا پیار بیٹا ہے نہ ۔۔‘‘انہوں نے غصہ ضبط کرتے پچکارا تھا ، مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا ۔
’’نہیں سوئوں گا ۔۔ آپ انہیں لے کر آئیں ۔۔ان کے ساتھ سوئوں گا۔۔‘‘ وہ بیچارگی سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھتے رہ گئے تھے، وہ اس کی ضدی طبیعت کی عادی نہ تھے ،پریشان ہو گئے ۔
’’وہ یہاں نہیں آسکتیں۔۔تمہیں میرے ساتھ ہی سونا ہے ۔۔سمجھے ۔۔‘‘اب کے انہوں نے سختی سے کہا تھا مگر مجال ہے اثر ہوا ہو ،اور وہ بوکھلا یاتھا ۔
’’کیوں نہیں آسکتیں ۔۔عدیل کی ماما چاچو کے ساتھ سوئی ہیں ۔۔عدیل مجھے بتاتا ہے ۔۔بس آپ ماما کو لے کر آئیں۔۔‘‘ وہ ان ننھے سے بچے کی باتوں سے حق دق رہ گئے ،اوپر سے اس کی فرمائش ۔۔انہیں ایک دم غصہ آیا تھا۔
’’شٹ اپ ۔۔اس نے لاڈاُٹھا اُٹھا کر تمہاردماغ خراب کر دیا ہے ۔۔آرام سے سو جائو ۔۔‘‘ غصہ تھا یا پھر فوزان کی بات کا اثر تھا ،سختی سے ڈپٹتے انہوںنے اسے کھینچ کر تھپڑ مارا تھا ،پھر کیا تھا ۔۔ فوزان میاں کا فل والیم تھا ، وہ زِچ ہو اُٹھے۔
’’مجھے ماما کے پاس جانا ہے ۔۔ابھی جانا ہے ماما کے پاس ۔۔آپ گندے ہیں۔۔ماما اچھی ہیں ۔۔میں ماما کو بتائوں گا۔۔ آپ مارتے ہیں‘‘ وہ سر تھام کر فل والیم سے روتے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھتے رہے مگر وہ نہیں سنبھلا تھا۔غصے سے اُٹھا کر اس کے پاس چھوڑ آئے تھے، اس وقت غصہ اس قدر تھا کہ سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں مفقود ہو کر رہ گئی تھیں ،اسی غصے کی وجہ تھی کہ وہ جو ’’ پردہ قائم ہے‘‘یہ حجاب برقرار رہنے کے لیے سرگرداں تھے ،عیشہ کو خود اپنے سامنے کھڑا ہونے کا موقع دے گئے تھے ۔ساری رات دہکتے انگاروں پر جھلستے سلگتے گزری تھی ،اور اب وہ ان کے سامنے تھے۔
’’دیکھو عیشہ ! تم بچی نہیں ہو کہ یہ حماقتیں سر انجام دو۔۔کل تو تمہاری شادی بھی ہونی ہے۔۔ فوزان سے تمہاری اس قدر اٹیچمنٹ تم دونوں کے لیے ہی نقصا ن دہ ہے ،بہتر ہے کہ تم اس سے دور رہو ۔۔وہ ابھی بچہ ہے ،محبت سے پیار سے بہل جائے گا ،مگر بعد میںشاید یہ نا ممکن ہو ۔۔‘‘شہباز حیدر نے اپنے آپ کو سنبھال کر حصے کو پس پشت ڈالتے قدر ے رسانیت سے کہا تھا ،وہ آنکھوں میںآنسو لیے شکایتی نظروں سے دیکھے گئی، وہ رخ موڑ گئے۔
’’مجھے نہیںکرنی کوئی شادی وادی ۔۔جب میں آپ سے کہہ رہی ہوںکہ میں آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیںبنوں گی تو پھر ایسی باتیںکیوں کر رہے ہیں ۔۔فوزان کو میں نے کبھی پھوپھو کا بیٹا نہیں سمجھا، بلکہ ہمیشہ اپنا بیٹا سمجھا ہے ۔۔اور کوئی بھی ماں اپنے بیٹے کو خود سے جدا نہیں کر سکتی ۔۔‘‘ وہ ان کے سامنے کھڑی واشگاف الفاظ میں آنسو بہائے دل کی بات کہہ گئی تھی۔ اسی لمحے سے تو وہ ڈرتے تھے، وہ تاسف سے اسے دیکھتے رہے۔
’’کاش مجھے اندازہ ہوتا کہ تم اس حد تک بے باک ہو چکی ہو ۔تمہارے دماغ میں اس قدر خناس بھر چکا ہے تو میں یہ نوبت ہی نہ آنے دیتا ۔۔بہت پہلے ہوش کے ناخن لیتا ۔۔‘‘ انہوں نے تلملا کر کہا تو عیشہ نے تڑپ کر دیکھا ، کتنی نفرت وحقارت سے وہ اسے دیکھ رہے تھے، اس کا دل کانپا۔
’’ہونہہ! تم میرے لیے مسئلہ بنو گی ۔۔عیشہ !تم میری بات کان کھول کر سن لو ۔۔تم جو اوٹ پٹانگ خوابوں کے محل تعمیر کر رہی ہو ،وہ کبھی ممکن نہیں۔۔اگر مجھے شادی ہی کرنا ہوتی تو کب کا کرچکا ہوتا ۔۔اور تمہیں شرم تو نہ آئی یہ سب سوچتے ہوئے ۔۔میرے سامنے یوں اپنا آپ آشکار کرتے ہوئے ۔۔‘‘
’’شرم آرہی ہے مجھے اس تصور سے ہی کہ جس لڑکی کو ابھی میں کم عمر بالا اُبالی بچہ سمجھ رہاتھا ، وہ میرے سامنے کھڑی میری آنکھوںمیں دیکھتے ’’اظہارعشق‘‘ فرمارہی ہے ۔۔‘‘
وہ رو دی ،پھُوٹ پھُوٹ کر ۔۔کتنا غلط سمجھ رہے تھے وہ اسے ۔۔وہ اپنی ساری انا ،خود داری، خوف کوپس پشت ڈالے صرف اور صرف فوزان کی خاطر ان کے سامنے آئی تھی اور وہ۔۔‘‘ اس کا دل تڑپ اُٹھا ۔
’’آپ جانتے ہیں کہ میںآپ سے محبت کرتی ہوں ۔۔بغیر کسی لالچ اور غرض کے ۔۔کب میںنے اظہار کیا ہے۔۔ میںفوزان کی بات کر رہی ہوں اور آپ ۔۔‘‘وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپاکر رو گئی۔ شہباز حیدر نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
’’شٹ اپ۔۔‘‘انہوں نے اپنی مٹھی زور سے دبائی ورنہ ان کا دل چاہ رہا تھا کہ اس لڑکی کا چہرہ تھپڑوں سے سرخ کر دیں۔
’’بہت بڑی غلطی ہوئی مجھ ۔۔مجھے فوزان کے معاملے میں تم پر اتنا اعتبار نہیںکرنا چاہیے تھا، مجھے اپنی ذمہ داری خود نبھانی چاہیے تھی ۔۔‘‘ان کا بس نہیں چل رہا تھاکہ اس کا گلا دبادیں ،کیسے بے شرموں کی طرح اقرار کیا تھا ۔
’’پلیز شہباز ۔۔میرے ساتھ یوں پیش نہ آئیں ۔۔مجھے اتنی نفرت سے مت دھتکاریں ،میں کب آپ کو مجبور کر رہی ہوں کہ میری محبت قبول کریں۔۔کم از کم فوزان کے لیے تو اپنی زندگی میں اتنی جگہ دے دیں۔۔ قسم سے ساری زندگی کچھ نہیںمانگو ں گی۔ ۔ مگر آپ کی نفرت نہیں سہہ سکتی ۔۔ پلیز شہباز ۔۔‘‘وہ باکل ان کے سامنے کھڑی رندھے لہجے میں کہہ رہی تھی ،ان کا نام لیتے وہ ان کی برداشت آزماگئی تھی، وہ خود پر بمشکل کنٹرول کر رہے تھے،ان کا ہاتھ ایک دم اُٹھا تھا۔
’’شٹ اپ ۔۔جسٹ شٹ اپ ۔۔آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس نہیںکرنا اور ہاں ۔۔ میراتم سے جو رشتہ ہے اسی حوالے سے پکارو گی ۔۔ نام لیا تو حلق سے زبان کھینچ لونگا۔۔‘‘وہ منہ پر ہاتھ رکھے سسک رہی تھی، وہ تلملا کر اسے وارن کرتے اپنا بریف کیس اُٹھا کر راستے میںپڑی ہر چیز کو ٹھوکر مارتے کمرے سے نکل گئے تھے۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے سسک سسک کر روتے قالین پربیٹھی چلی گئی تھی۔
X X X

تونے نفرت سے جو دیکھا تومجھے یاد آیا
کیسے رشتے تیری خاطر یونہی توڑ آیا ہوں
کیسے دھندلے ہیں یہ چہرے جنہیں اپنایا ہے
کتنی اجلی تھیں وہ آنکھیں جنہیں چھوڑ آیا ہوں
سارا دن و ہ اپنے کم مائیگی کا ماتم کرتی رہی تھی،رات تک اسے بہت تیز بخار ہو گیا تھا ، وہ اس کے قدموں میں اپنی انا، اپنی خودداری ،اپنی نسوانیت سمیت سب کچھ لٹا آئی تھی ، یہ ایسا دکھ تھا جو اسے اندر ہی اندر کاٹ رہاتھا ،جب تک بات دل میں تھی ، وہ مطمئن تھی ،خود کو بہلا لیاتھا مگر اب زبان سے ادا ہوچکی تھی تودل کا روگ بن گئی تھی، اسے یہ دکھ نہیں تھا کہ اس نے اسکی محبت کو قبو ل نہیںکیا ، اسے یہ دکھ تھا کہ اس نے انتہائی نفرت و حقارت سے اسے دھتکار دیا تھا۔ وہ تو مکمل لٹی تھی ،تن من دھن سے سب کچھ لٹا آئی تھی۔۔ دونوں ہاتھوں سے خالی تھی ۔۔دکھ تھا کہ کم ہی نہیںہو رہا تھا ، کم مائیگی سب کچھ کھودینے کا احساس کاٹ کھا رہا تھا ۔۔وہ مضمحل سی تھی،کھانے کے بعد وہ کمرے میںبند ہوئی تو ساری رات دہکتے انگاروں پر لوٹتی رہی۔۔آگ بکھیرتے انگارے اسے سلگاتے رہے اور وہ سلگتی رہی ، فوزان اس کے پاس بستر پر سویا ہو تھا، مگر اسے کوئی چین ،کوئی قرار نہ تھا ،جوں جوں رات بیتتی جارہی تھی، اسکے اعصاب جواب دیتے جارہے تھے ۔
صبح تک وہ بے چین سی ہو چکی تھی ،فوزان کو اسکول جانا تھا ،اس کی خاطر بستر سے اُٹھی تھی،بمشکل اسے تیار کرا کر کمرے سے باہر بھیج کر وہ دوبارہ بستر پر لیٹ چکی تھی ،بخار کی حدت ، غم کی شدت سے سر چکرارہا تھا ۔خاموشی سے کمبل سرتک تان لیا ۔ شہباز حیدر تیار ہوکر نیچے آئے توامی نے ٹرے تیار کر رکھی تھی، تا یا جان نماز تلاوت کے بعد سو جاتے تھے ،ان کا نا شتے دس بجے ہوتا تھا ،جبکہ حیدر صاحب اخبار دیکھ رہے تھے ،وہ لیٹ آفس جاتے تھے ، شہباز حیدر نے ان کے ساتھ والی کرسی سنبھالی ۔دوسری طرف تائی جان بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’آج عیشہ نے یونیورسٹی نہیں جانا۔۔ ‘‘اچانک تائی جان کو خیال آیا تھا۔
’’ہاں مجھے بھی خیال نہیں رہا۔۔ صبح سے وہ کمرے سے نہیں نکلی ۔۔رات کو بھی شام کو ہی کمرے میںگھس گئی تھی ،صبح نماز پڑھتے نہیں دیکھا ۔۔اور تو اور صبح پودوں کو پانی تو ضرور دیتی ہے ۔۔آج وہ بھی نہیں دیا ۔۔‘‘ شہباز حیدر نے ایک نظر ماں کو دیکھا ،اور خاموشی سے ناشتہ کرتے ہے ۔
’’فوزان اسکول چلاگیا تھا ۔۔ ؟‘‘ اچانک خیال آنے پر پوچھا ۔
’’ہاں ! وہ تو چلا گیا تھا ۔۔تیار شیار ہو کر باہر آیا تھا ۔۔کہہ رہا تھا کہ ماما کو بخار ہے۔۔رات بھی کی طبیعت خراب تھی۔۔ خدا خیر کرے۔۔‘‘
’’جائو زلیخا دیکھو ۔۔عیشہ کیا کر رہی ہے ۔۔تائی جان نے فکر مندی سے کام والی کو کہا تو وہ چلی گئی ،ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے جب وہ بھاگی آئی ۔
’’بیگم صاحبہ ۔۔بیگم صاحبہ ۔۔عیشہ بی بی تو بے ہوش پڑی ہوئی ہیں۔۔ بخار سے تپ رہی ہیں ۔۔ میںنے دو تین دفعہ ہلایا بھی مگر ہو ش نہیںآیا۔۔
’’یا اللہ ۔۔خدا خیر کرے۔۔کیا کہہ رہی ہے تو زلیخا ۔۔اب اتنی خراب طبیعت بھی نہیں تھی بچی ۔۔‘‘ تائی امی تو فوراً عیشہ کی کمرے کی طرف بھاگی تھیں، ان کے پیچھے امی اور حیدر صاحب بھی۔۔شہباز حیدر جو نارمل ہی تھے ۔۔ان کے چہرے پر بھی پریشانی چھلکی۔۔ کل کے واقعے کے بعد انہوں نے اسے نہیںدیکھا تھا ۔۔وہ بھی ٹرے ایک طرف دھکیل کر اس کے کمرے کی طرف چلے آئے۔ وہ بے سدھ بستر پر پڑی ہوئی تھی تائی امی اس کے ہاتھ پیر سہلا رہی تھیں تو امی نے پانی لے کر اس کے منہ پر چھینٹے مار رہی تھیں۔
’’بڑا تیز بخار ہے اسے ۔۔یا اللہ رحم کر ۔۔‘‘ تائی جان تو بس رودینے کو تھیں ۔وہ دروازے پرہی رکے ہوئے تھے۔
’’جائو زلیخا ۔۔ساتھ والے حامد صاحب کو بلا لائو ،وہ اس وقت گھر پر ہونگے ۔۔جلدی کرو۔۔‘‘انہوںنے آگے بڑھ کر اس کی نبض چیک کی تھی،ڈوبتی ابھرتی حالت تھی ، وہ ایک دم گھبرا گئے تھے، زلیخا فوراً باہر بھاگی ۔
’’حامد صاحب ڈاکٹر تھے ۔۔اپنا بیگ لے کر فوراً آگئے ۔۔عیشہ کا بی پی چیک کرنے لگے ۔۔
’’بچی کا بی پی بڑی طرح لو ہے ۔۔بچی کی کنڈیشن بہت خراب ہے ۔۔اتنا لو بی پی ۔۔کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔آپ اسے فوراً ہاسپیٹل لے جائیں ۔۔ورنہ نروس سسٹم بھی متاثر ہو سکتا ہے ۔۔‘‘
ایک اور انجکشن لگا کر اس کا بی پی نارمل کرنے کی کوشش کی تھی ،مگر دیر بعد ناکام ہو کر انہوں نے کہا تو تائی امی پھُوٹ پھُوٹ کر رونے لگیں ۔
’’ہائے میری بچی ۔۔‘‘
’’بھابی آپ پریشان نہ ہوں ۔۔ہم اسے ہاسپیٹل لے جائیں گے ۔۔شہباز! گاڑی نکالو ‘‘ ابو تائی جان کو تسلی دی تھی، شہباز نے گاڑی نکالی تو ابو نے امی کی مدد سے اسے گاڑی میں ڈالا ۔ عیشہ کو انتہائی نگہداشت والے روم میں لے جایا گیا تھا ،وہ بالکل ہاتھ پیر چھوڑ چکی تھی ، پانچ چھ گھنٹے بعد ڈاکٹر نے اسے خطرے سے باہر قرار دیا تھا ۔ ۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی ،رات گئے وہ ہوش میںآئی تھی، حواس میںآتے ہی رونے لگ گئی تھی ۔۔بے اختیار پھُوٹ پھُوٹ کر ، تائی جان، امی، مہوش بھابی اس کی دوسری والدہ ماجدہ سبھی اسے سنبھالنے میں لگے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر نے اس کے پاس زیادہ رش کرنے سے منع کیا تھا ۔۔اگلے دن وہ کافی بہتر تھی، اسے روم میں منتقل کر دیا گیا تھا ،رونے کے بعد وہ خاموش ہو گئی تھی۔ سب نے اس کی خاموشی کو محسوس کیا تھا ۔ واجد صاحب اس کا بھر پور خیال رکھ رہے تھے، بخار بھی قدرے بہتر تھا۔فوزان جس نے پچھلا سارا دن عیشہ کے بغیر گزارا تھا ،خاص طور پر رات کو اس نے شہباز حیدر کو بہت تنگ کیا تھا ، وہ حقیقتاً پریشا ن ہوگئے تھے ، ایک تو عیشہ کی اس قدر سیریس کنڈیشن ہو جانا۔۔ اوپر سے رات کو فوزان کا رویہ وہ انتہائی ڈسٹر ب ہو گئے تھے، عیشہ سے انہیں کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی، مگر وہ جس حماقت کا مظاہرہ کر رہی تھی ، اس کے جواب میںایسی ہی حماقت سر انجام دینا انہیں قابل قبول نہ تھا ۔
اگلے دن فوزان بار بار عیشہ کے پاس جانے کی ضد کر رہا تھا ،اس نے سکول سے چھٹی کی تھی، دس بجے کے قریب شہباز حیدر فوزان کو ہاسپیٹل لے آئے تھے، اس وقت عیشہ کے پاس واجد صاحب کے علاوہ تائی امی تھیں ،جس وقت وہ کمرے میں داخل ہوئے تھے ، عیشہ آنکھوں پر بازو لپیٹے لیٹی ہوئی تھی ،تائی جان کرسی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں، اسے دیکھ کر مسکرائیں ۔۔شہباز حیدر نے سلام کیا تو بھی عیشہ نے بازو نہ ہٹائے ۔
’’ماما۔۔ماما۔۔‘‘ فوزان نے آگے بڑھ کر عیشہ کا بازو جھنجھوڑا تو اس نے تڑپ کر بازو ہٹایا ۔
’’فوزی ۔۔تم۔۔ اوہ میری جان ۔۔ ‘‘وہ اگلے ہی لمحے اُٹھ کر بستر پر بیٹھ گئی تھی،شہباز حیدر نے اس پر نگاہ ڈالی ،ذراکملایا ہو ا چہرہ تھامگر بہت محبت سے وہ فوزان کو بازو کے گھیرے میں لے کر اس کے منہ پر پیار کر رہی تھی ،ان کے دل میں کوئی چیز کلک ہوئی ۔
’’ سکول نہیں گئے ۔۔‘‘وہ پوچھ رہی تھی۔
’’میں نے آپ کے پاس آنا تھا ۔۔‘‘
’’بری بات اچھے بچے سکول سے چھٹی نہیں کرتے ۔۔آپ شام کو آجاتے ۔۔ میں نے بھی اپنے فوزی کو بہت مس کیا تھا۔۔‘‘ وہ بہت لاڈ سے اسے کہہ رہی تھی ۔ فوزان اس کے بستر پر چڑھ کر بیٹھ گیا تھا، وہ اسے کل سارے دن کی روداد سنا رہا تھا ،گزری رات کے متعلق بتا رہا تھا ،تائی امی سے باتیں کرتے شہباز حیدر کا سارا دھیان اسی کی طرف تھا ۔
’’رات کو کس کے پاس سوئے تھے ۔۔‘‘عیشہ کی آوا ز پر شہباز نے دیکھا ،فوزان اس کے پہلو میں لیٹا ہو ا تھا ،وہ بہت محبت سے اس کے بال سنوار رہی تھی۔ اسکا سارا دھیان فوزان کے چہرے کی طرف تھا ۔
’’پاپا کے پاس ۔۔ مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آئی تھی ۔۔پھر بابا دادو کے پاس لے کر گئے تھے، پھر انہوں نے کہانی سنائی تھی اور میں سو گیا ۔۔‘‘
’’ہوں ۔۔عیشہ نے سر اُٹھا کر دیکھا ،شہباز حیدر کی نظروں کا زاویہ بدلا ۔
’’اچھا تائی امی میں چلتا ہوں ۔۔کسی سے ملنا ہے، واپسی میں فوزان کو لے جائوںگا ۔۔‘‘عیشہ نے خاموشی سے شہباز حیدر کو دادی اماں سے بات کرنے کے بعد باہر نکلتے دیکھا تھا ۔پھر اس نے سرہانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
’’آپ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کر رہیں ہیں شہباز ۔۔میں مر جائوں گی ۔۔‘‘ وہ سسک پڑی۔ سارا دن فوزان ا س کے پاس رہا تھا شام کا کھانا قیوم چچا لے کر آئے تھے ،کھانا کھانے کے بعد فوزان کے پاس ہی بستر پر لیٹ گیا تھا ۔قیوم نے فوزان کو لے جانا چاہا تھا مگر وہ نہیں گیا تھا۔ وہ اکیلے ہی واپس چلے گئے تھے ، اس وقت وہ آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی جبکہ دادی جان نماز پڑھ رہی تھیں، فوزان سو گیا تھا ، شہباز حیدر کمرے میں داخل ہوئے تو رک گئے۔۔ سارا دن وہ اپنے کام کے سلسلے میں مصروف رہے تھے ، ان کا خیال تھا فوزان گھر چلا گیا ہو گا قیوم نے انہیں فون کر کے انہیں فوزان کو لے آنے کا کہا تھا ،اسی لیے وہ یہاں آئے تھے ،مگر اس وقت وہ عیشہ کے ساتھ بستر پر لیٹا سو رہا تھا۔
’’فوزان ۔۔‘‘انہوں نے بستر کے قریب آکر آواز دی تو عیشہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ نظریں سیدھی ان کی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں ،کتنی شکایتی نگاہیں تھیں،شہبازنے لب بھینچ لیے ،تلخی سے عیشہ نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔
’’یہ تو سو گیا ہے ۔۔‘‘ فوزان کو دیکھ کر انہوں نے کہا تو وہ چپ رہی ۔
’’کیسی طبیعت ہے اب تمہاری ۔۔؟‘‘ انہیں بھی شاید خیال آہی گیا تھا ، وہ تلخی سے دیکھ کر سر جھکا گئی ۔
’’بخار اترا ۔۔‘‘ بے بسی سے اس نے گہرا سانس لیتے اس نے گردن ہلا دی ۔وہ بہت چاہنے کے باوجود ان کے روّیے پر بھی ان سے بے اعتنائی نہیں برت سکتی تھی۔
’’تائی امی تو نماز پڑھ رہی ہیں ۔۔ مجھے اب چلنا چاہیے ۔۔کافی دیر ہوگئی ہے۔۔‘‘
’’فوزی اُٹھو ۔۔گھر چلیں۔۔‘‘ انہوںنے فوزی کو اُٹھا نا چاہا تو اس نے روک دیا ۔
’’پلیز اس کو سونے دیں ۔۔اس کی نیند خراب ہو گی ۔۔‘‘
’’مگر میں اسے یہاں بھی نہیںچھوڑ سکتا ۔۔تم تو شاید کل ڈسچارج ہوگی ۔۔‘‘
’’تو آپ اسے ایسے ہی اُٹھا کر لے جائیں ۔۔یہ اُٹھنے کے بعد یہاں آنے کی ضد کرے گا ۔۔‘‘ اس نے الجھے لہجے میںکہا تو وہ خاموشی سے اسے اُٹھا نے لگے،تبھی ان کا ہاتھ عیشہ کے دہکتے بازو سے چھوا تھا، یوں لگا جیسے دہکتے انگاروںکو چھو لیا ہو ،انہوںنے ایک دم رک کر اسے دیکھا ۔
’’تمہیں تو ابھی بھی بہت تیز بخار ہے ۔۔‘‘فوزان کو اُٹھانے کے بجائے فکر مندی سے پوچھا،وہ ہنس دی ۔
’’کیا فرق پڑتا ہے ۔۔مرنے والی تو پھر بھی نہیں ۔۔‘‘
وہ خود اذیتی کی حد پر تھی ،انہوںنے لب بھینچ لیے ، ایک دم احساس ندامت نے آگھیرا ۔وہ ان کی وجہ سے اس حال کو پہنچی تھی، انہیں احساس تھا مگر۔۔
’’عیشہ پلیز۔۔‘‘ انہوںنے اسکی دہکتی کلائی پر ہاتھ رکھا تو اس نے سرعت سے ہاتھ کھینچ لیا ۔
’’پلیز اپنے بیٹے کو لے کر جائیں یہاں سے۔۔ مجھ پر یہ مہربانیاں نہ کیا کریں ۔۔میرا دل خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے لگ جاتا ہے۔۔بہت نفرت کرتے ہیں آپ مجھ سے ۔۔میں اسی قابل ہوں ۔۔جائیے یہاں سے ۔۔نہیں مرنے والی میں ۔۔‘‘دھیمی جلتی سلگتی آواز تھی، وہ بغیر آواز پیدا کیے ہاتھوںمیں چہرہ چھپائے پھُوٹ پھُوٹ کر رونے لگ گئی تھی، وہ اسے کچھ کہنا چاہتے تھے، کوئی جملہ انکے لبوں پر آتے آتے رہ گیا۔ تائی جان کی موجودگی کا خیال کرتے انہوں نے ایک تیز قابل رحم نظر اس پر ڈال کر فوزان کو اُٹھایا تھا ۔ وہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے مگر وہ مسلسل رو رہی تھی ،تکیے میں منہ چھپائے شدت سے آنسو بہا رہی تھی ۔
X X X

وہ ہاسپیٹل سے آنے کے بعد دو دن دادی جان کے ہا ں رہی ،پھر اپنا سامان لے کر واجد صاحب کے ہاں چلی آئی ،امی کے بر عکس اس کے تینوں بہن بھائی اس سے بے پنا ہ محبت کرتے تھے ،وہ اکثر ان کے بے پنا ہ اصرار پر ان کے ہاں آکر رہتی تھی، اب بھی خود کو پر سکون کرنے کو چلی آئی کہ وہاں بہت کوشش کے باوجود شہباز حید ر سے سامنا ہو ہی جاتا تھا اورہر بار وہ نئے سرے سے ادھر جاتی تھی، اس کے دل کو جو ٹھیس پہنچی تھی، وہ خود کو نارمل کرنا چاہ رہی تھی ،اس لیے ادھر آگئی ۔ یونیورسٹی بھی یہاں سے چلی جاتی تھی ،شہباز حیدر نے اسے بری طرح نفرت سے دھتکارا تھا ، اندر کی یہ تکلیف کم ہی نہیں ہو پا رہی تھی، ادھر آکر بہن بھائیوں میںالجھ کر وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش میں تھی ۔
فوزان اس کے بغیر کیسے رہ رہا ہے ، رات کو کس کے پا س سوتا ہے ، وہ فی الحال یہ نہیں سوچنا چاہتی تھی ، پس اپنے آپ کو سمیٹ رہی تھی کہ پھر سے پہلے جیسی ہو جائے ،ابھی اسے یہاں آئے چوتھا دن ہی تھا کہ قیوم چاچو اسے لینے چلے آئے۔
’’گھر چلو سب تمہیں بہت مس کر رہے ہیں ۔۔خاص طور پر فوزان تمہارے بغیر کسی اور کے قابو میں نہیں آرہا۔۔ بہت مشکل ہے اسے سنبھالنا ۔‘‘انہوں نے آنے کی وجہ بتائی ۔
’’کیوں ۔۔ ؟ اس کے پا پا تو اس کے پاس ہی ہیں۔۔‘‘
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہو گیا ،وہ ہنس دیے ۔ ’’وہ اپنے پا پا سے زیادہ تم سے اٹیچ ہے۔۔سارا دن تو اسے بہلا لیتے ہیں مگر رات کو اسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔نجانے تم اسے کیسے سلا لیتی ہو ۔۔ رورو کر سارا گھر سر پہ اٹھا لیتا ہے ۔‘‘ انہوںنے بتا یا تو جان بوجھ کر بے حس بن گئی ۔
’’اب ساری عمر تو میں اس کے ساتھ رہنے سے رہی ۔۔‘‘ اس کے لبوں سے تلخی سے یہ نکلا ، وہ مسکرا دیے ۔
’’وہ بعد کی بات ہے ۔۔جب تمہاری شادی ہوگی تو دیکھا جائے گا۔۔‘‘ وہ ان کا چہرہ دیکھے گئی ، دماغ میں شہباز حیدر کے جملے سنسناتے رہے ۔
’’میں ابھی تو نہیں جائو ں گی۔۔پہلی دفعہ کچھ عرصہ یہاںرہنے آئی ہوں، بلکہ پورا ہفتہ رکنے کا ارادہ ہے۔ ۔ فوز ان کے پاپا کس مرض کی دواہیں۔۔ وہ اپنے بیٹے کو سنبھالیں۔۔‘‘ پھر اس کی دادی ، چاچی سبھی ہیں۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
’’وہاں سب ہیں مگر تم تو نہیں۔۔‘‘
’’کیا فرق پڑتا ہے۔۔‘‘ ایک لمحے کو وہ آزردگی کا شکار ہوئی ، پھر سنبھلی۔
’’میں کچھ دن رہوں گی پھر گھر آ جائوں گی ۔۔ پلیز ۔۔‘‘ فوزان کی حمایت میں وہ اس قدر گری تھی ، اور اب اسے خود پر بند باندھنے تھے۔ وہ نہیں گئی تھی، مزید دو دن گزرے تھے، اس رات کھانے کے بعد وہ سب چائے پی رہے تھے، جب شہباز حیدر چلے آئے، چھ سات دنوں بعد سامنا ہو رہا تھا، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے صدیوں بعد دیکھ رہی ہو۔۔ وہ اپنی اسی کیفیت پر کنفیوز ہو گئی ، سلام دعا کے بعد وہ بالکل بت کی طرح بیٹھی رہی۔
’’عیشہ۔۔تم اپنا سامان تیار کر لو۔۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔۔‘‘ چائے کے بعد انہوں نے اس کی طرف رخ کر کے کہا تو وہ چونکی، حیران ہو کر ان کا سنجیدہ چہرہ دیکھا ، وہ تو سمجھی تھی کہ وہ یونہی ابو سے ملنے آ گئے ہیں مگر۔۔
’’جی۔۔؟‘‘
’’فوزان کی طبیعت بہت خراب ہے۔۔ دو دن سے بخار رہنے لگا ہے۔۔ سکول بھی نہیں جا رہا ۔۔ ڈاکٹر کو روز دکھا رہا ہوں مگر وہ تمہیں بہت مس کر رہا ہے۔۔ تم اسی وقت چلو ۔۔ پھر کبھی رہنے آ جانا۔‘‘ انہوں نے تفصیلی بتایا تو وہ ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی۔ فوزان سے دور رہنے کی خود ہی انہوں نے سزا تجویز کی تھی اور خود ہی اب۔۔ اندر ہی اندر فوزان کی طبیعت کا سن کر پریشان بھی ہوئی ، وہ کبھی بھی خود سے اس سے اتنے دن دور نہیں رہی تھی ، نجانے کیسے اپنے دل کو مار رہی تھی، صرف اور صرف اس شخص کی وجہ سے مگر اب دل فوزان کے پاس اُڑ کر پہنچ جانے کو مچل اُٹھا تھا۔
’’بہت زیادہ طبیعت خراب ہے اس کی۔۔‘‘ فکر مندی اس کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔
’’ہوں۔۔اسی لیے تو آیا ہوں۔۔‘‘ انہوں نے نپے تلے انداز میں جتایا تو وہ خاموشی سے اُٹھ گئی۔
’’میں فوزان کی وجہ سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوا ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیںمیں تمہاری حماقتوں سمیت نظر انداز کر رہا ہوں۔۔ تم فوزان کو سمجھائو۔۔ آہستہ آہستہ وہ بہل جائے گا۔‘‘ راستے میں وہ کہہ رہے تھے، وہ جو خوش فہم ہو رہی تھی ، کہ شاید دل میں کہیں نرم گوشہ بیدار ہو گیا ہو ، چھن سے اندر کچھ ٹوٹ گیا، آنکھیں بے وقعتی پر بھر آئیں۔
’’روکیں گاڑی یہاں۔۔ مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ۔۔‘‘ اپنی اس نا قدری و تذلیل پر وہ مزید چپ نہ رہ سکی، بھرّائی آواز میں کہا تو شہباز حیدر نے اسے گھورا ۔
’’وہ آپ کا بیٹا ہے۔۔ سمجھا لیں آپ خود اسے ۔۔ میرے کندھے پر رکھ کر کیوں بندوق چلا رہے ہیں۔۔ آپ کو تو ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ، کوئی یوں بھی کسی کے جذبات سے کھیلتا ہے۔۔‘‘ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی۔ شہباز حیدر خود کو خاصا بے بس محسوس کرنے لگے ، سمجھ نہ آئی کہ وہ اس نالائق جذباتی دیوانی لڑکی کو کیسے سمجھائیں۔ اپنی سختی کا نتیجہ دیکھ چکے تھے جبکہ نرمی۔۔‘‘ انہوں نے سر جھٹکا۔
’’میں اسی لیے قیوم چاچا کے ساتھ نہیں آئی تھی اور اب آپ۔۔‘‘ اپنے آنسو صاف کرتے بے حس بنے شہباز حیدر کو دیکھا۔
’’مجھے ایک فعہ ہی جان سے مار دیں۔۔ یہ قسطوں سے مارنے کا مزہ کیوں لے رہے ہیں۔‘‘ وہ رو پڑی ، شہباز حیدر نے سختی سے لب دانتوں تلے دبا لیے، ان کا کوئی بھی غیر متوقع جذباتی جملہ اس کم عقل لڑکی کو مزید بکھیر سکتا تھا۔
’’میں نے جان بوجھ کر محبت نہیں کی تھی ، یہ جذبے تو خود دل میں جگہ بناتے ہیں۔۔ مجھے اندازہ ہوتا کہ ان جذبوں کی سزا فوزان سے دوری ہے تو خود کو روک لیتی مگر۔۔ بہت روکا تھا۔۔یہ دل کب مانا تھا۔۔‘‘ شہباز حیدر کو لگ رہا تھا کہ ان کا ضبط جواب دے رہا ہے۔
’’میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔۔ پلیز فوزان کو مجھ سے دور نہیں کریں۔۔‘‘ آنسو بھری آنکھوں سے وہ اس کے سامنے التجائیہ بیٹھی تھی، شہباز حیدر نے خاموشی سے ایک گہری سانس کھینچی، پھر اس کے بعد گھر آنے تک ایک طویل خاموشی تھی ۔ وہ گھر آئی تو فوزان کی حالت دیکھ کر مجرم سی بن گئی۔۔ اسے خود پر ندامت ہوئی۔۔ شکایتی نظروں سے شہباز حیدر کو دیکھا، جو خود نظریں چرا گئے تھے۔ وہ مزید تلخ ہوئی۔
’’کیا ہوا تھا میرے فوزی کو۔۔‘‘ اسے ساتھ لگائے اس نے محبت سے پوچھا تو وہ رونے لگا۔
’’ماما کہاں تھیں آپ ۔۔ پاپا کہہ رہے تھے آپ چلی گئی ہیں۔۔ واجد انکل کے ہاں ، اب نہیں آئیں گی۔۔ کیوں گئی تھیں آپ۔۔آپ کو پتا ہے میں آپ کے بغیر نہیں رہتا۔۔‘‘ لائونج میں اس وقت سبھی موجود تھے، اس نے غصے سے شہباز حیدر کو دیکھا۔ وہ چہرہ پھیر گئے تو عیشہ واجد کا دل بھڑ بھڑ چلنے لگا۔
’’اب آ گئی ہوں۔۔ اب نہیں جائوں گی ۔۔ آپ تو میری جان ہو، اپنی فوزی کو چھوڑ کر میںکہیں جا سکتی ہوں۔۔ بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔‘‘ اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے بہلایا ، تو وہ مسکرایا۔
’’میرے پاس ہمیشہ رہیں گی نا ۔۔ کہیں نہیں جائیں گی نا۔۔‘‘ معصومیت ہی معصومیت تھی۔ عیشہ نے والہانہ پن سے اس کی پیشانی چومتے اسے گلے لگا لیا تھا۔
’’میری جان ۔۔ میرا فوزی ۔۔‘‘ لائونج میں موجود سبھی افراد اسے فوزان کے ساتھ لاڈ کرتے دیکھ کر مسکرا دیے تھے۔
X X X

کس طرف جائوں، یہ سوچتی نہیں رہی
ان گنت راستے اور اکیلی تھی میں
بار ہا آئے ایسے مراحل کہ جب
تم میرے ساتھ تھے اور اکیلی تھی میں
فوزان کی بیماری نے اسے ایک نکتہ سمجھا دیا تھا کہ شہباز حیدر چاہے اسے جتنا مرضی دھتکار لیں ، جتنی مرضی نفرت کا اظہار کر لیں، اپنے بیٹے کی وجہ سے اسے برداشت کرنے پر مجبور ہیں، اسی مجبوری نے اس کے اندر نئی توانائیاں بھر دی تھیں، شہباز حیدر کو یکسر نظر انداز کیے وہ ہر وقت فوزان کی ذات میں الجھی رہتی تھی۔ شہباز حیدر تک پہنچنے کیلئے فوزان وہ سیڑھی تھی، جس کے ذریعے وہ با آسانی اپنی منزل پا سکتی تھی ۔ انہی دنوں اس کے لیے ایک پروپوزل آیا تھا ، دادا جان کے دوست کا بیٹا تھا۔ امریکہ سے ہائیلی کوالیفائیڈ تھا، پاکستان میں ہی اپنی کنسٹرکشن کمپنی میں اچھی خاصی پوسٹ پر کام کر رہا تھا، سب کو یہ پرپوزل بہت مناسب لگا تھا ، وہ خاموشی سے سب دیکھتی رہی۔ ابھی تو وہ خود کو نئے سرے سے جوڑ رہی تھی، اور اب یہ نئی مشقت ۔۔ دل کو بہت کچھ ہوا مگر وہ لب سے رہی۔ وہ لوگ آئے اور اسے دیکھ کر اوکے کر گئے، انہیں عیشہ بہت پسند آئی تھی۔۔ وہ صورتحال اور اس قدر تیزی سے بدلتے دیکھ کر سن سی ہو گئی۔ وہ اس طوفان کو روکنا چاہتی تھی ، مگر کچھ نہ کر پا رہی تھی ، اس رات فوزان کے سونے کے بعد وہ ساری رات پریشانی سے ٹہلتی رہی مگر کچھ فیصلہ نہ ہوا۔ اگلے دن ان لوگوں کی طرف سے بلا وہ بھی آ گیا کہ جب چاہیں رسماً آ جائیں، وہ مزید پریشان ہو گئی۔ دو تین دن اسی پریشانی میں گزرے تھے، ادھر سے بھی چند لوگ جا کر دیکھ آئے تھے۔۔ لڑکا انہیں بھی بہت پسند آیا تھا، تقریباً دونوں کی جانب سے ہی معاملہ سیٹ ہی تھا۔۔ بس رسم ہونا باقی تھی، شادی عیشہ کے ایم ایس سی کے بعد فائنل تھی، وہ حالات کو اس قدر تیزی سے بدلتے دیکھ کر الجھ گئی۔ بہت سوچ سمجھ کر اس نے محسن جاوید(لڑکے) سے ملنے کا ارادہ کیا تھا، یونیورسٹی سے واپسی پر وہ سیدھی اس کے آفس پہنچی تھی ، آفس کا ایڈریس اس نے باتوں ہی باتوں میں مہوش بھابی سے لیا تھا۔ اچھی خاصی بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ پر موصوف فائز تھے ، وہ کنفیوز سی تھی ، اس کی سیکرٹری سے اندر اطلاع بھجوا کر انتظار کرنے لگی۔ دو تین منٹ بعد اسے اندر بلا لیا گیا تھا۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے آفس میں داخل ہوئی۔
’’السلام علیکم۔۔‘‘ اتنا بڑا قدم زندگی میں پہلی مرتبہ اٹھا رہی تھی، سو گھبراہٹ لازمی تھی۔
’’وعلیکم السلام۔۔پلیز آئیے۔۔ تشریف رکھئے‘‘ محسن جاوید نے اُٹھ کر اسے ویلکم کیا تھا ، وہ خاموشی سے ٹیبل کے سامنے پڑی کرسیوں میں سے ایک پر ٹک گئی۔
’’میں عیشہ واجد ہوں۔۔‘‘ اس نے اپنے آپ کو سنبھال کر بتایا۔
’’جی میں جانتا ہوں۔۔‘‘ عیشہ نے حیران ہو کر اسے دیکھا ، تو وہ فوراً بولا۔
’’دراصل امی کے پاس آپ کی تصویر دیکھی تھی ، آپ یہاں ۔۔خیریت۔۔‘‘ وہ سر جھکا گئی۔
’’مجھے آپ سے ضروری بات کرنا تھی۔۔‘‘ اس نے ہمت کی ۔
’’جی کیوں نہیں ۔۔پہلے ٹھہریں۔۔ یہ بتائیں کیا لینا پسند کریں گی۔۔‘‘ انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر اس سے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’پلیز اس تکلیف کو رہنے دیں۔۔میں یونیورسٹی سے سیدھی آئی ہوں ، مجھے گھر بھی جانا ہے۔۔‘‘
’’مگر کچھ تو ہونا چاہیے نا۔۔‘‘ وہ بضد ہوا۔
’’مجھے حاجت نہیں۔۔ورنہ میں آپ کو منع نہ کرتی۔۔‘‘
’’اوکے ۔۔ ایزیووِش۔۔‘‘ اس نے ریسیور واپس رکھ دیا۔
’’جی کہیے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی۔‘‘ عیشہ کا نارمل انداز دیکھ کر وہ بھی فوراً موضوع کی طرف آیا تھا۔ ’’آپ کو علم تو ہو گا آپ کو اور ہماری فیملی کس سلسلے میں سوچ رہی ہے۔۔ دیکھیں محسن صاحب! میں آپ کو کسی بھی قسم کے اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتی۔۔میںآپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘
’’جی۔۔؟‘‘ عیشہ کے نارمل روّیے پر وہ الجھا ضرور تھا ، انداز ہ تھا کہ یہ بات ہو گی۔
’’اس کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے عیشہ کے چہرے کو دیکھا ، وہ گردن ہلا گئی۔
’’میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔ مجھے نہیں پتا وہ شخص میرے مقدر میں ہے یا نہیں مگر میں کسی اور شخص کی بھی زندگی تباہ نہیں کرنا چاہتی۔۔ چاہے وہ آپ ہی کیوں نہ ہوں۔۔ میری محبت یکطرفہ ہے۔۔ اس کے باوجود میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔۔ ‘‘ وہ آہستگی سے سب کہہ گئی تھی، وہ خاموشی سے عیشہ واجد کو دیکھے گیا۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’میرے جذبات سے میری فیملی لا علم ہے۔۔ میں اگر آپ کے پر پوزل سے انکار کرتی تو انہوں نے وجہ پوچھنی تھی ، میرے پاس اپنی یکطرفہ محبت کا کوئی جوازنہ تھا، کہ جس کو بنیاد بنا کر میں انکار کرتی۔ اسی لیے آپ کو حقیقت کا بتانا ضروری سمجھا ہے۔۔ آپ میرے جذبوںسے باخبر ہونے کے باوجود اپنے والدین کی بات مانیں گے تو آپ کو مجھ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔ پلیز ٹھنڈے دل سے ضرور سوچئے گا، میں آپ کے جواب کی ضرور منتظر رہوں گی۔۔‘‘ نم آلود آنکھوں، بھرائی ہوئی آواز میں کہہ کر وہ وہاں رکی نہیں تھی، چلی آئی تھی۔ آنکھوں میںنمی روّیے میں جذب کرتے وہ بلڈنگ سے باہر نکل کر سڑک کر اس کرنے کا سوچ رہی تھی جب سیاہ گاڑی تیزی سے اس کے قریب رکی تھی۔ ’’عیشہ۔۔‘‘ شہباز حیدر کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کو ساکت رہ گئی تھی ، وہ بھی شاید حیران تھا اسے یہاں دیکھ کر ۔۔ وہ یونیورسٹی کے علاوہ کہیں اور بغیر بتائے اور اکیلی جاتی بھی نہ تھی۔
’’تم یہاں۔۔خیریت۔۔‘‘ وہ پوچھ رہے تھے۔ انداز سخت تھا۔۔ وہ بوکھلا گئی، کبھی جھوٹ بولنے کی نوبت ہی نہ آئی تھی مگر اب۔۔
’’وہ میری ایک دوست کی بہن اس بلڈنگ میں جاب کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ آئی تھی۔۔‘‘ اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ شہباز حیدر نے چند ثانیے اسے بغور دیکھا ، تو وہ مزید کنفیوز ہو گئی۔
’’بیٹھو۔۔‘‘ انہوں نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا ، وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’آپ ۔۔ یہاں کیا کر رہے تھے۔‘‘ گاڑی میں خاموشی تھی، اس نے گھبرا کر پوچھا۔
’’کام تھا ایک ۔۔ ملنا تھا کسی سے مگر ۔۔‘‘ اس کا ’مگر ‘ اتنا معنی خیز تھا کہ پھر وہ چپ رہی اور یہ چپ باقی سارا رستہ برقرار رہی تھی ۔ گھر آ کر وہ کاموں میں مصروف ہو گئی۔ اگلے دو دن تک اس کی جان سولی پر لٹکی رہی ، وہ محسن جاوید کے جواب کی منتظر تھی، پھر اسے زیادہ انتظار بھی نہ کرنا پڑا۔۔ رات کا وقت تھا ، فوزان کو سلا کر وہ دودھ کا خالی گلاس کچن میں رکھتے کمرے سے نکلی تھی ، جب راہداری سے گزرتے فون کی بیل بجی ، اس نے آگے بڑھ کر اسے اُٹھا لیا۔
’’ہیلو۔‘‘
’’عیشہ ہیں۔۔؟‘‘ دوسری طرف سے کوئی پوچھ رہا تھا۔ ’’جی بول رہی ہوں مگر آپ کون۔۔؟‘‘ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’تھینک گاڈ آپ نے کال ریسیو کی ۔۔ میںکل سے کئی بار آپ کا نمبر ملا چکا ہوں مگر ہر بار کسی اور کی آواز سننا پڑتی تھی۔۔ میں محسن جاوید بات کر رہا ہوں۔۔ کہیے کیسی ہیں؟‘‘ انتہائی بے تکلفی سے کہا جا رہا تھا۔ عیشہ نے ایک گہری سانس کھینچی۔
’’ٹھیک ہوں۔۔ آپ سنائیں۔۔‘‘
’’الحمدللہ۔۔ عیشہ آپ نے مجھے فیصلہ کرنے میں مدد دی ہے۔۔ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا ، وہ چونکی ، حیرت بھی ہوئی۔
’’مگر کیوں۔۔؟‘‘
’’میں بھی آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ دراصل میری کسی اور سے کمٹمنٹ ہے، گھریلو چپقلش کی وجہ سے امی ابو نہیں مان رہے تھے، پھر آپ کی طرف سلسلہ چل نکلا، میں نے ہر ممکن کوشش کی۔۔ بعد میں ہتھیار ڈال دیے تھے، اس دن آپ کی باتوں نے مجھے حوصلہ دیا، غیرت دلائی ، کہ آپ لڑکی ہو کر اپنے لیے کوشش کر رہی ہیں اور میں مرد ہو کر والدین کو نہیں منا سکتا۔۔ بس گھر جا کر میں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے امی ابو مان سکتے تھے۔۔ کل وہ لوگ آپ کے ہاں انکار کرنے آئیں گے۔۔‘‘
’’تھینک یو سو مچ محسن صاحب۔۔‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی۔
’’کوئی بات نہیں۔۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ وہ خوش نصیب جس کیلئے آپ اسٹینڈ لے رہی ہیں کون ہے؟‘‘
’’کیا کریں گے آپ جان کر۔۔ ‘‘ وہ خود اذیتی سے مسکرائی ۔ یکطرفہ جذبات میں جن کا فریق ثانی پر کوئی اثر نہیں۔۔ اور شاید ساری زندگی بھی نہ ہو ۔۔ بس میں اپنے ساتھ سنسیئر رہنا چاہتی ہوں تا کہ مجھے کوئی ملال نہ رہے کہ ڈوبنے سے پہلے میں نے ہاتھ پائوں نہیں مارے تھے۔‘‘ اس کا لہجہ خود بخود آزردہ ہو گیا۔
’’اوہ! ویری سیڈ۔۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔۔ کسی بھی قسم کی مدد کی صورت میں آپ مجھے کہہ سکتی ہیں۔۔ ‘‘ وہ پورے خلوص سے کہہ رہا تھا ، وہ ہنس دی۔
’’شکریہ ۔۔‘‘ وہ مسکرائی پھر دو تین باتیں مزید کیں ، پھر فون بند کر کے وہ کچن میں گلاس رکھ کر واپس لوٹی تو کاریڈور سے گزرتے اس کی لائونج میں بیٹھے شہباز حیدر پر نگاہ پڑی۔ وہ ٹی وی دیکھ رہے تھے، انہوں نے بھی پلٹ کر دیکھا ، تو وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔ نجانے کس خیال سے دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔
X X X

اک پاکیزہ محبت کے طلبگار تھے ہم
آزما کے دیکھتے بہت وفادار تھے ہم
ہم نے بھی دامن میں خوشیوں کو سمیٹنا چاہا
شاید اسی خواہش کے گنہگار تھے ہم
محسن جاوید کے والدین نے فون کر کے اس رشتے سے معذرت کر لی تھی،بات ہی ایسی تھی کہ کتنے دن تک گھر والے افسردہ رہے تھے ، چند دن زور و شور سے اس موضوع پر تبصرے بھی ہوئے مگر پھر رفتہ رفتہ سب بھول گئے ، کچھ دن مزید سر کے تو تائی جان کو اب اُٹھتے بیٹھتے عیشہ کے رشتے کی فکر ستانے لگی ۔۔ وہ کوئی کم عقل ، کم صورت جاہل لڑکی نہ تھی کہ رشتے میں پریشانی ہوتی ، مگر محسن جاوید کی فیملی کے انکار کے بعد وہ خوا مخواہ ہی الٹا سیدھا سوچنے لگی تھیں۔ انہوں نے کئی لوگوں سے عیشہ کے رشتے کا کہہ رکھا تھا۔ عیشہ سب دیکھ رہی تھی مگر خاموش تھی ، اس نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ شہباز حیدر کے علاوہ کسی اور کی زندگی میں داخل نہیں ہو گی، اس کے پاس انکار کا بہت اچھا جواز فوزان کی صورت میں موجود تھا ، سو وہ مطمئن تھی۔ اس دن بھی وہ یونیورسٹی سے واپس لوٹی تو مہوش نے اسے اچھی طرح ڈریس اپ ہو کر ڈائنگ روم میں چلنے کا کہا تھا ، وہ تھکی ہاری لوٹی تھی ، کئی دن سے اس نئے رشتے کے متعلق سن رہی تھی ، اب سامنے یہ مصیبت دیکھ کر اس کے اعصاب پر منوں بوجھ آ پڑا ۔
’’مہوش چچی۔۔ ضروری ہے کیا۔۔؟؟‘‘ اس کے منہ بنانے پر وہ ہنسیں۔
’’ہاں بہت زیادہ۔۔ دو گھنٹے سے وہ لوگ آئے بیٹھے ہیں، چائے ، وغیرہ سے فارغ ہو چکے ہیں۔۔ بس تم چینج کر کے فوراً اندر آئو۔۔‘‘ اس کے رخسار پر چٹکی بھر کر مسکرا کر وہ چلی گئیں، تو وہ بھی لب بھینچے کھڑی رہی۔ پھر بجائے کپڑے بدلنے کے وہ اندر چلی آئی۔ موڈ آف تھا ، سو اسی انداز میں سلام کیا۔ دو عورتیں ایک لڑکی اور دو مرد تھے۔ لڑکی اس سے مختلف سوال کرتی رہی، جنہیں وہ آف موڈ کے ساتھ جواب دیتی رہی۔ پھر جیسے ہی اس کی جان چھوٹی وہ اپنے کمرے میں بھاگی ۔ واجد صاحب نے اپنی ساری ذمہ داری اپنے والدین پر چھوڑ رکھی تھی ، عیشہ کے اندر دادی ، دادا کے سامنے انکار کرنے کی ہمت نہیں تھی، اوپر سے شہباز حیدر کے روّیے۔۔ جب وہ اسے بری طرح نظر انداز کرتے تو اس کا دل لہولہاں ہونے لگتا تھا ، کوئی راز داں نہ تھا ، جس سے وہ کہہ سن کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی۔۔ اور جو باخبر تھا وہ ایک نظر ڈالنا بھی گوارہ نہ کرتا تھا ۔ ادھر سے یہ لوگ بھی جا کر لڑکا دیکھ آئے تھے، لڑکا بینک مینجر تھا ۔۔ خاندان بھی بہت پسند آیا ۔۔ چونکہ بالکل انجان اور غیر لوگ تھے، سو عبداللہ صاحب کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے خوب چھان پھٹک کروا لینے کے حق میں تھے، انہوں نے جانچ پڑتال کی ذمہ داری شہباز حیدر کے سپرد کی تھی ، عیشہ کو علم ہوا تو کلس کر رہ گئی۔
محسن جاوید کو اس نے کسی طرح انکار پر آمادہ کر لیا تھا مگر اب کیا کرے۔۔ اسے کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی تھی۔ رات فوزان شہباز حیدر کے پاس تھا، کھانے کے بعد وہ اسے اوپر لے گئے تھے ، عیشہ کا خیال تھا کہ وہ خود ہی چھوڑ جائیں گے، اب وہ اسے رات کو اپنے پاس سلانے کی غلطی نہیں کرتے تھے مگر آج رات گیارہ بجے تک وہ اسے چھوڑنے نہ آئے تو وہ الجھ گئی۔ نیچے بھی ایک ایک کر کے سب سو گئے تھے، اوپر والے پورشن میں بھی بالکل اندھیرا اور خاموشی تھی ، عیشہ نے فوزان کے انتظار سے اکتا کر سو جانا چاہا تو نیند کوسوں دور تھی ، اسے رہ رہ کر شہباز حیدر پر غصہ آنے لگا ، نجانے وہ کیا چاہتے تھے ۔ ایک دم کسی خیال سے چونک کر کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ کمرے سے نکل گئی۔
سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلی آئی۔ شہباز حیدر کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے وہ کچھ خوفزدہ تھی دروازہ کھلا تھا ، اس کے ہاتھ لگانے سے کھلتا چلا گیا۔
’’کون۔۔؟‘‘ وہ سائیڈ پر تھی ، ورنہ شہباز حیدر کی نگاہ ضرور پڑتی۔ عیشہ کی طرف سے بالکل خاموشی تھی شہباز حیدر اُٹھ کر دروازے کے قریب چلے آئے اسے دیکھ کر چونکے ، پھر حیران ہوئے۔
’’تم ۔۔ اس وقت ۔۔؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ تلخ ہو گیا۔
’’وہ فوزی۔۔‘‘ ملگجے اندھیرے میں اپنے سامنے شہباز حیدر کے توانا وجود کو دیکھ کر وہ پھر ہمت ہار گئی۔ ’’وہ سو گیا۔۔‘‘ سخت لہجے پر عیشہ نے نظریں اُٹھ کر انہیں دیکھا۔ کھا جانے والی نظروں سے گھورا جا رہا تھا وہ فوراً سر جھکا گئی۔
’’وہ ۔ وہ مجھے آپ سے ۔۔‘‘ انگلیاں چٹخائے آ تو گئی تھی مگر اب ساری ہمت پانی کا بلبلہ ثابت ہو رہی تھی ۔
’’آپ دادا جان کو منع کر دیں ، مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں۔۔‘‘ ہمت کر کے کہہ دیا ، شہباز حیدر کا دماغ بھنا اُٹھا۔
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔ رات کے اس پہر تم مجھے یہ بتانے آئی ہو۔۔‘‘ انہوں نے اپنے غصے کو بمشکل کنٹرول کرتے چبا چبا کر کہا تھا ، وہ سر جھکا گئی۔
’’آپ۔‘‘
’’بکواس بند کرو۔۔ جائو آرام سے جا کر سو جائو۔ فوزان سو یا ہوا ہے۔۔ اگر رات کو تنگ کیا تو تمہارے پاس چھوڑ آئوں گا۔۔‘‘ اپنے غصے پر بمشکل کنٹرول کرتے انہوں نے کہا ۔ اور جہاں تک اس رشتے کی بات ہے میں انکار نہیںکروں گا ، تم اگر خود کرنا چاہتی ہو تو تایا ابو سے بات کرو، میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا ۔۔‘‘ تلخی سے باور کروا کر انہوں نے دروازہ بند کرنا چاہا تو عیشہ نے تیزی سے اپنا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر رکھ کر ان کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔
’’آپ پلیز میری بات تو سن لیں۔۔‘‘ عیشہ کا جی چاہا کہ پھُوٹ پھُوٹ کر رو دے ، یوں دھتکارے جانے پر دل مچل اُٹھا۔ انجام کی پروا کیے بغیرتیزی سے کہا۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ شہباز حیدر دھیمی آواز میں پھنکارے ۔ ساتھ والا کمرہ قیوم اور مہوش کا تھا ، اگر رات کے اس پہران میں سے کوئی باہر نکل آتا تو انہیں کتنی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ، مگر یہ لڑکی ان نزاکتوں کو نہیں سمجھ پا رہی تھی ، کسی چیز کی پروا ہی نہ تھی۔
’’آپ یوں چیخ کر میری زبان روک نہیں سکتے ، یوں دھتکار کر میرے اندر موجزن جذبوں کو نوچ نہیں سکتے۔۔ کیا مانگ رہی ہوں میں آپ سے ۔۔ آپ کا عمر بھر کا ساتھ تو نہیں مانگ رہی اور نہ آپ کو شادی کی آفر کر رہی ہوں۔۔ جو اس طرح طیش سے مجھے دروازے سے ہی دھتکار رہے ہیں۔۔‘‘ شہباز حیدر جتنی دھیمی آواز میں پھنکارا تھا ، وہ اتنی ہی تیزی سے چیختی تھی۔ شہباز کا دماغ گھوما تھا ، ایک دم اس کا بازو دبوچ کر اندر گھسیٹ لیا۔
’’تم میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا حرکت پر اُتر آئو گی۔۔‘‘ اسے دیوار کے ساتھ دھکا دے کر وہ کمرے میں سخت اضطراب سے ٹہلنے لگے تھے ، عیشہ نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا۔
’’یہ میری زندگی کا معاملہ ہے ۔۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھے مجبور کرنے والے۔۔ نہیں کرنی مجھے کسی بھی ایکس وائی زیڈ سے شادی۔۔ ‘‘ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بری طرح رو رہی تھی۔ ان کا دماغ الٹنے لگا۔
’’تو ٹھیک ہے ۔۔ تم یہ انکار اپنے باپ اور دادا کو کرو۔۔ یہاں کیوں آئی ہو ۔۔‘‘ وہ پھر پھنکارے تھے ، وہ قطعی لوز ٹمپرامنٹ کے مالک نہ تھے ،مگر یہ لڑکی ہر بار انہیں اسی طرح جھنجوڑ رہی تھی کہ وہ بلبلا اٹھتے تھے ۔ اب بھی پھنکارے تھے۔ زیرو پاور کے بلب کی روشنی میں سبز ہلکی روشنی میں کمرہ عجیب منظر پیش کر رہا تھا ۔
’’آپ اس رشتے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔۔‘‘ روتے ہوئے اس نے وجہ بتائی ، تو شہباز حیدر کا جی چاہا کہ اس سر پھری کم عقل لڑکی کا سر پھاڑ دے۔ ’’تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔‘‘ پہلے بھی تو انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ جا کر محسن جاوید کو انکار کر آئی تھی ، اب بھی کوئی نیا ڈرامہ رچا لینا ۔ عیشہ رونا بھول کر بری طرح حیران نظروں سے انہیں دیکھے گئی۔ جو صرف گھور رہے تھے۔ ’’آپ۔۔ آپ جانتے ہیں۔۔‘‘ اس جی حیرت کا سکتہ ٹوٹا۔
’’محسن جاوید سے میری اچھی خاصی علیک سلیک ہے۔۔ اس دن میں اس سے ملنے گیا تھا ، مگر اس کے آفس سے آتی تمہاری آواز سن کر پلٹ آیا تھا ، اور اسی رات جب اس نے کال کی تھی ، تم سے پہلے لائونج میں رکھا فون میں اُٹھا چکا تھا ۔ محسن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں ، اس کی کسی سے کمٹمنٹ نہیں تھی ، وہ صرف تمہاری وجہ سے نکار کر رہا تھا ، اس کے والدین اس سے جس قدر ناراض ہیں، کاش تم اپنی حماقت کا اندازہ لگا سکو۔۔ اوراب۔۔‘‘مٹھیاں بھینچ کر غصے سے اسے دیکھتے وہ چپ ہو گئے تو وہ پھر ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو دی۔
’’میں مر جائوں گی۔۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے آپ کے بغیر میں مر جائوں گی۔۔ وہ جذباتیت کی انتہا پر تھی، شہباز حیدر کا جی چاہا کہ لمحوں میں اس لڑکی کو غائب کر دیں۔
’’دماغ خراب تمہارا ۔۔ اور کچھ نہیں۔۔ خناس بھر چکا ہے اس میں ۔۔ ‘‘ اس کی جذباتیت پر وہ پھر آئوٹ ہوئے۔
’’یہ صرف میری ڈھیل ہے ، تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو۔۔ شرم تو نہ آئی تمہیں یہ سب بکواس کرتے ہوئے۔۔ میری اور اپنی عمروں کا ہی خیال کر لیا ہوتا۔۔ کم از کم اتنا ہی جان لیا ہوتا کہ ہمارا آپس میں کیا رشتہ ہے۔۔ اور تم اس رشتے کے حوالے سے میرے لیے کتنی محترم ہو۔۔‘‘ وہ تاسف سے کہہ رہے تھے۔
’’بات کرتا ہوں میں تایا جان سے۔۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔۔ تمہارے ماسٹر کا انتظار کرنے کے بجائے تمہیں کل ہی رخصت کریں۔۔ یہ رشتہ ہر لحاظ سے معقول ہے۔۔‘‘ انتہائی سفاکی سے کہتے شہباز حیدر نے گویا اسے آگ میں دھکیل دیا تھا ، وہ بے یقینی سے دیکھے گئی ، پھر نفی میںسر ہلا یا۔
’’آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔ مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔‘‘ سختی سے کہا۔
’’میں ایسا ہی کروں گا۔۔‘‘ اس نے زیادہ سختی سے جواب ملا تھا۔
’’میں کچھ کھا لوں گی۔۔‘‘ بلا سوچے سمجھے اس نے دھمکی دی تھی ، وہ کتنے پل حیران نظروں سے اسے دیکھے گئے ، پھر ایک دم غصے سے برا حال ہوا تھا ۔ ’’تو پھر جو کچھ بھی کھانا ہے ابھی جا کر کھا لو ۔۔ کیونکہ میں موقع ملتے ہی تایا ابو سے بات کروں گا۔۔‘‘ اس کا بازو پکڑ کر باہر دھکیل کر سختی سے کہہ کر انہوں نے دروازہ بھی بند کر لیا تھا ۔
’’نہیں ۔۔ شہباز پلیز میری بات سنیں ۔۔ آپ ایسا نہیں کریں گے۔۔ مر جائوں گی میں۔۔‘‘ ہتھیلیوں سے دروازہ پیٹتے اسے کسی بات کا بھی ہوش نہ رہا تھا ۔
’’مر جائوں گی میں ۔۔ خدا کے لیے شہباز ۔۔‘‘ اس کی حالت اس وقت دیکھنے کے لائق تھی ۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ کسی نے عقب سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ، وہ ایک دم ساکن ہو گئی ۔ فوراً ہوش میں آئی تو لمحوں میں احساس ہوا کہ وہ اس وقت کہاںہے۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ دوبارہ پکارا گیا تھا ، آواز پہچان کر وہ فوراً پلٹی تھی ۔ اپنے سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی تھی ۔
X X X

مہوش اور قیوم دونوں نے کن انکھیوںسے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر عیشہ کو۔۔وہ اب بھی قالین پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے بڑی طرح رو رہی تھی ۔
’’عیشہ ۔۔‘‘مہوش نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ مزید بلکی۔
’’اب بس بھی کرو بہت رو لیا تم نے۔۔ ‘‘ قیوم بھی پچکار ا مگر اس نے آنسو تھے کے تھمنے میں ہی نہیں آرہے تھے، بلکہ مزید شدت آگئی تھی ۔ بے بسی کا احساس تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ، اب کی بار تو کچھ بھی نہیں بچا تھا، رہی سہی انا عزت نفس سب کچھ لٹا چکی تھی ،کچھ بھی تو باقی نہیں بچا تھا ،روتی نہ تو پھر کیا کرتی ۔۔
’’دیکھنا ہم شہباز بھائی کا کیا حشر کرتے ہیں ۔۔بڑا رولیا تم نے ۔۔ساری کسر نکالیں گے ہم ان کی ۔۔ فکر کیوں کرتی ہو۔۔جب دل کا سارا بوجھ ہلکا کیا ہے تو اعتماد بھی کرو۔۔ شہباز بھائی اب ہمارا مسئلہ ہیں۔۔ تم بے فکر ہو جائو ۔۔ ‘‘مہوش چچی نے اسے بہلایا تھا، اس نے سر اُٹھا کر دیکھا ۔
’’وہ نہیں مانیں گے۔۔وہ مجھ سے سخت نفرت کرتے ہیں۔۔‘‘
’’کیوں نہیں مانیں گے۔۔ان کے تو بڑے بھی مانیں گے۔۔دیکھنا میں کیا کرتی ہوں۔۔‘‘ مہوش نے چٹکی بجائی تھی، ان کے اعتماد پر عیشہ کو کچھ حوصلہ ہوا۔
’’چلو اب جائو ۔۔جا کر آرام سے سو جائو۔۔ کل میں دیکھوں گی کیا کرنا ہے ۔۔ تم فکر نہیں کرو ۔۔ سب نارمل ہوجائے گا۔۔‘‘ ان کے اس تعاون پر اس کا دل پر سکون ہوا ۔ ان کے کمرے سے نکل کر وہ نیچے چلی آئی ، اپنے کمرے میںآکر بیڈ پر لیٹی تو گزشتہ لمحے ایک ایک کر کے یاد آنے لگے۔ شہباز حیدر کے کمرے سے نکالنے کے بعد وہ جب بھی دروازہ پیٹتے رو رہی تھی، تو عقب سے قیوم چچا نے آواز دی تھی، وہ تو انہیں سامنے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
’’چاچو ۔۔‘‘کہہ کر کے وہ ان کندھے سے لپٹ کر دھواں دھار روئی تھی ،وہ تو اس نئی افتاد پر بوکھلا گئے تھے ،خاموشی سے سہارا دے کر اپنے کمرے میں لے گئے تھے ،مہوش کو جگا کر صورتحال بتائی ،وہ فوراً اس کی طرف متوجہ ہوئی تھیں ، وہ تو پہلے ہی سدھ بدھ کھو رہی تھی ،تھوڑا سا محبت سے پچکار نے کی دیر تھی ، وہ ایک ایک کر کے سب بتاتی گئی ۔دونوں کئی لمحے بے یقین رہے ،پھر مہوش نے ہی خود کو سنبھالا تھا۔
’’ارے یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔۔عیشہ سے بڑھ کر فوزان کے لیے بھلا کوئی اور ماں ہو سکتی ہے ۔۔ہم بھی ادھر اُدھر رشتے دیکھ رہے تھے ۔۔ کتنے پاگل ہیں۔۔ عیشہ کے لیے شہباز بھائی کا خیال ہی نہیںآیا۔۔ بھائی صاحب نے بھی کہیں نہ کہیں شادی کرنی ہی ہے نا۔۔ ابھی انکار کررہے ہیں،بعد میں خود ضرورت محسوس کریںگے تو پھر ابھی کیوں نہیں۔۔ تم فکر نہیںکرو عیشہ ! میںتمہارے ساتھ ہوں۔۔‘‘ وہ فوراً پر جوش ہوگئی تھیں، اورپھر مسلسل تسلیاں دلاسے دیتی رہی تھیں ۔اب وہ کچھ پر سکون تھی۔ اسے یقین تھا کہ مہوش چچی نے وعدہ کیا ہے تو وہ سب حالات کو سنبھال لیں گی ، اطمینان سے آنکھیں بند کیں تو دیر بعد نیند سے اس کی پلکیں بوجھل ہونا شروع ہوگئی تھیں۔
X X X

اگلے دن مہوش بھابی نے کالج سے چھٹی کی تھی، عیشہ کے یونیورسٹی جانے کے بعد شہباز حیدر نیچے اُترے تھے،مہوش نے بغور دیکھا ،نارمل انداز میںناشتے سے انصاف کرتے گزری رات کے کسی بھی واقعے کاعکس ان کے چہرے سے ڈھونڈ نے سے بھی نہیںمل رہاتھا ، عیشہ نے جو بتایا تھا ان کاخیال تھا کہ شہباز تائی امی سے ضرور رشتے کے متعلق ذکر چھیڑیں گے مگر خیریت رہی ۔۔شہباز کے چلے جانے کے بعد تائی امی، چچی دونوں ناشتہ کر رہی تھیں، مہوش بھی اپنا ناشتہ لے کر ان کے پاس ٹیبل پر آبیٹھیں ۔یونہی اِدھر اُدھر کی باتوںکے دوران انہوں نے وہ بات شروع کردی ۔
’’امی میں سوچ رہی ہوں کہ اب شہباز بھائی کی بھی شادی کردینی چاہیے ۔۔ جوک لینے کو اتنا عرصہ بہت ہوتا ہے۔۔ فوزان کو تو عیشہ نے سنبھال رکھا ہے ،وہ اب بڑا ہورہا ہے ،شہباز بھائی کو بھی کچھ عرصہ بعد بیوی کی ضرورت محسوس ہو گی۔ اسی لیے بہتر ہے کہ ہم ابھی سے سوچیں۔‘‘ مہوش نے بڑے سلیقے سے بات کی تھی ،دونوں خواتین نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔
’’بات تو ٹھیک ہے مگر شہباز نہیں مانتا ۔۔‘‘امی نے نفی میںسر ہلایا ۔
’’کیوں نہیں مانتے ۔۔ابھی تواک عمر پڑی ہے انکی۔۔ یوں بغیر گھر والی کے زندگی گزرنے سے تورہی۔۔‘‘ مہوش نے کچھ تیزی سے کہا۔’’آپ توماں ہیں ،پیار سے سختی سے راضی کریں۔۔ وریشہ کی زندگی اتنی ہی تھی ،فوزان کوہم سب سنبھالنے والے ہیں ، خاص طور پر عیشہ ۔۔کل کواس کی شادی کر دیں گے، پھر بھی تو فوزان تنہا ہو گا ہی نا۔۔ شہباز بھائی کو بھی اب عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔۔‘‘
’’ ہاں! بہو صحیح کہتی ہے۔۔ تم ہی کچھ زور دو،میں کئی بار کہہ چکی ہوں۔۔‘‘تائی امی نے بھی مہوش کی ہاں میں ہاں ملائی ۔
’’کئی بار اس موضوع پر بار کر چکی ہوں ۔۔مگر ہر با ر کہہ دیتا ہے کہ مجھے بیوی اور آپ کو بہو تو مل جائے گی ، اگر آنے والی نے فوزان کو قبول نہ کیا تو ۔۔عفیفہ بھابی کو بھی ہم لوگ لائے تھے ،انہوں نے عیشہ کو کب اپنایا ۔۔ میںاپنے بیٹے کو ساری عمر کسی محرومی میںنہیں رکھنا چاہتا ۔۔‘‘ امی نے دکھی لہجے میں بتایا تومہوش نے ایک گہری سانس لی۔
’’ہاں ! یہ بھی سچ ہے ۔۔فوزان کو عیشہ نے جس طرح شاید وریشہ بھی نہ پالتی ۔۔‘‘انہوں نے جان بوجھ کر عیشہ کا ذکر کر دیا تھا۔
’’ہاں اللہ اجر دے بچی کو ۔۔جب اس کی شادی کر دیں گے تو بڑا مسئلہ ہوگا ۔۔ فوزان تواس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ،اس نے بھی اس کے لاڈاُٹھا کر ضدی بنا ڈالا ہے اسے ۔۔ صرف وہی اسے سنبھال سکتی ہے ۔ میں سوچتی ہوں جب وہ چلی گئی تو ہم کیسے سنبھالیں گے۔۔‘‘ امی کو اب نئی فکر ستائی تھی ۔
’’امی میرے ذہن میں جب سے عیشہ کے رشتے کا چکر چلا ہے ،ایک خیال آرہا ہے ۔۔اگر برانہ لگے تو ۔۔‘‘وہ رک گئیں ،دونوں خواتین نے دیکھا ۔
’’کیوں نہ ہم شہباز بھائی اور عیشہ کی ۔۔ ‘‘وہ جان بوجھ کر بات ادھوڑی چھوڑ چکی تھیں، دونوں خواتین نے بے حد حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر مہوش کو جو کہہ رہی تھی ۔
’’چھوٹا منہ مگر بڑی بات والی بات ہے لیکن یہ بھی سچ ہے ۔۔جس طرح فوزان عیشہ کے ساتھ اٹیچ ہے،اگر عیشہ ہمیشہ کے لیے شہباز بھائی کی زندگی میں آجائے تو سوتیلی کے ڈر سے شہباز بھائی شادی کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے ،وہ بھی کر لیں گے۔۔پھر ہم نے باہر بھی تو اس کی کہیں نہ کہیں شادی کرنی ہی ہے نا۔۔ اور شہباز بھائی کی بھی تو دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتی۔۔‘‘ مہوش نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا تھا ۔
’’ہے تو ٹھیک بات مگر۔۔ ‘‘تائی امی رک گئیں ۔
’’لوگ کیا کہیں گے کے دونوں میں تیرہ چودہ سال کا فرق ہے ۔۔پھر وہ رشتہ بھی نازک سا ہے ۔۔لوگ باتیں نہ بنا لیں۔۔‘‘امی کو بھی مہوش کی بات بھائی تھی مگر خدشے بول اُٹھے ۔
’’رشتے میں دونوں چچا بھتیجی لگتے ہیں ۔۔سگے تو نہیں ہیں نا۔۔ پھر حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا بھی یہی رشتہ تھا ۔۔رہ گئی بات عمر کی تو اتنا زیادہ فرق بھی نہیںہے ۔۔ آپ باہر سے بھی کوئی لڑکی لائیں گے تو اس کی بھی عمر اتنی ہی ہوگی یا ایک دو سال زیا دہ ہوگی ۔۔لوگوں کی تو بات ہی نہیں کریں ، عیشہ کی ماں کے بعد یا وریشہ کے بعد دونوں کو لوگوں نے تو نہیں سنبھالا تھا۔ گھر کی بات ہے۔۔ جب گھر والے راضی تو کیا کریں گے لوگ۔۔‘‘ اس نے آرام سے کہا تھا ۔ دونوں خواتین کے دل کو بات لگی تھی ۔
’’مہوش ٹھیک کہہ رہی ہے آپا۔۔آپ بتائیں آپ کیا کہتی ہیں۔۔؟‘‘ امی نے تائی امی کو دیکھا، وہ ہنس دیں۔
’’میرے لیے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔۔ شہباز اور عیشہ اپنے بچے ہیں۔۔ اپنے گھر میں آنکھوں کے سامنے رہیں گے۔۔ وریشہ کے بعد اب عیشہ۔۔ حیرت ہے۔۔ مجھے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔۔‘‘ وہ خوش ہو کر کہہ رہی تھیں۔
’’پھر آپ بھائی صاحب اور واجد سے بات کریں، میں شہباز اور اس کے ابا سے بات کرتی ہوں۔۔ گھر کی بات ہے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔۔‘‘ مہوش نے جو ذمہ داری لی تھی ، وہ با احسن نبھائی تھی، اب جو کرنا تھا ان خواتین نے کرنا تھا ، وہ مسکراتے ہوئے خالی برتن اُٹھا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
X X X

یہ بات جب عبداللہ صاحب کے کانوں تک پہنچی تو ان کا یہ مشورہ بہت پسند آیا ۔ اسی شام انہوںنے واجد کو بلا کر بات کی تو وہ کتنی دیر تک چپ رہے پھر کہنے لگے۔
’’اماں جی! ویسے تو سب ٹھیک ہے مگر ۔۔ عیشہ اور شہباز کی عمر میں بڑا فرق ہے۔۔ شہباز ایک بچے کا باپ ہے ، نجانے عیشہ راضی بھی ہو کہ نہیں۔‘‘ وہ متذبذب ہوئے۔
’’عمر کی کوئی بات نہیں۔۔ باہر بھی کریں گے تو پتہ نہیں کوئی کتنی عمر والا شخص ہو۔۔ رہ گئی عیشہ کی بات تو اس سے میں خود ہی پوچھ لو گی۔۔ تم اپنی مرضی بتائو۔‘‘ ماں کی بات پر وہ مسکرا دیے۔
’’حرج تو کوئی نہیں ہے۔۔ عیشہ کی رضا مندی لے لیں ، جو جی چاہے کریں۔۔ شہباز سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہیے۔‘‘
’’ٹھیک ہے! میں عیشہ سے پوچھ کر رضا مندی دے دیتی ہوں، آگے بچوں کی قسمت ۔‘‘ انہوں نے خوش ہو کر کہا۔ تائی اماں نے عیشہ سے پوچھنے کی ذمہ داری مہوش کے ذمہ لگائی تھی ، مہوش ہنس دی۔
شام کے کھانے کی تیاری کے دوران مہوش نے عیشہ کو اپنی سارے دن کی کارگردگی بتائی تو کتنی دیر تک ہکاّ بکاّ رہ گئی۔
’’کیا واقعی۔۔ یہ سچ ہے۔۔؟‘‘ وہ بے یقین تھی ۔
’’ہوں ۔۔‘‘ مہوش نے اس کے رخسار پر چٹکی بھری تو وہ جھینپ گئی۔
’’اتنی جلدی کیسے ہو گیا یہ سب ۔۔‘‘ خوشی ہی ایسی تھی کہ وہ سرخ گلنار ہو گئی۔
’’بس دعا دو ہمیں۔۔ کہا تھا نا کہ ہم پر چھوڑ دو۔۔ بس میں نے تائی امی اور امی کو رام ہی ایسے کیا ہے کہ خود بخود انہوں نے سارا معاملہ طے کر لیا ۔ ۔ اب بات بڑوں میں ہے۔۔‘‘ وہ مزے سے بتا رہی تھی ، وہ ابھی بھی بے یقین تھی۔
’’اور شہباز ۔۔‘‘ اس نے کہا ۔
’’آج رات امی کا ان سے بات کرنے کا ارادہ ہے، دیکھتے ہیں کیا جواب ملتا ہے۔۔‘‘
’’اگر انہوں نے انکار کر دیا تو۔۔‘‘ ایک دم وہ خدشوں میں گھر گئی تھی ، مہوش ہنسی۔
’’فکر کیوں کرتی ہو۔۔ ہم ہیں نا۔۔‘‘
’’خوش تو میں بھی بہت ہوں۔۔ ہو تو تم مجھ سے چھوٹی مگر رشتے میں جیٹھانی بنو گی۔۔‘‘ وہ چھیڑ رہی تھیں ، وہ سرخ پڑ گئی۔
’’تائی امی نے تم سے پوچھنے کی ذمہ داری مجھ پر لگائی ہے۔۔ مگر انہیں کیا پتا ان کی چہیتی ہی تو شہباز صاحب کے عشق میں پور پور ڈوب چکی ہے۔۔‘‘ ان کی اس چھیڑ چھاڑ پر وہ بلش ہو گئی۔
’’چچی پلیز ۔۔‘‘ اس نے ٹوکا ، وہ کھلکھلا کر ہنسیں۔
’’رشے میں تمہاری دیورانی بنوں گی۔۔ ابھی سے سوچ لو۔۔ چچی کہو گی یا ۔۔‘‘ عیشہ کی بھی ہنسی نکل گئی۔
’’آپ میری چچی ہیں بس۔۔‘‘
’’اور شہباز صاحب چچا۔۔ ویسے بائی دا وے ۔۔ چچا سے وہ کیسے بن گئے۔۔‘‘ وہ کتنی بے باک ہو رہی تھیں۔
’’مہوش چچی پلیز ۔۔‘‘ اس کا شرم سے برا حال تھا۔
X X X

رات شہباز گھر لیٹ آئے تھے ، تقریباً سبھی سو چکے تھے، امی ان سے بات کرنے کی نیت سے جاگ رہی تھیں ، کھانا انہوں نے کمرے میں ہی کھایا تھا۔ کھانے کے بعد امی نے وہ بات چھیڑ دی ، جس کیلئے وہ اب تک جاگ رہی تھیں۔۔ اور پھر جب انہوں نے عیشہ کا نام لیا تو شہباز حیدر گنگ رہ گئے۔
’’کیا ۔۔عیشہ۔۔؟‘‘ وہ حیرت زدہ تھے۔
’’ہوں ۔۔ وریشہ کے بعد جس طرح اس نے فوزان کو پالا ہے ، مانو تو اس نے دل جیت لیا ہے۔۔ آپا لوگ باہر اس کا رشتہ دیکھ رہے ہیں۔۔ فوزان جس طرح اس کے ساتھ بہل گیا ہے ، دل ڈرتا ہے کہ پتہ نہیں اس کے بعد وہ سنبھل پائے کہ نہیں ۔۔ پھر تمہاری طرف سے بھی دل دکھتا ہے ، تم فوزان کو سوتیلی ماں کے حوالے نہیں کرنا چاہتے مگر عیشہ کیلئے تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، اتنی سلجھی ہوئی بچی ہے وہ۔۔ یوں کہوں کہ میری تو دل کی مراد بر آئی ہے۔۔‘‘ وہ خوش تھیں ، بہت خوش ۔۔ وہ برہم ہوئے۔
’’آپ ہوش میں تو ہیں۔۔عیشہ ۔۔ مائی گاڈ ۔۔ جسے میں آج تک چھوٹی بچی سمجھتا آ رہا تھا ، آپ اس کی بات کر رہے ہیں۔۔ سچ سچ بتائیں کہ یہ کس کی سازش ہے۔۔‘‘ غصے سے جو جی میں آیا کہہ دیا۔
’’ہیں۔۔ ہیں۔۔یہ سازش کی خوب کہی تم نے ۔۔ دل میں خیال تھا آپا اور بھائی صاحب سے بات کی، انہوں نے واجد اور عیشہ کی رضامندی لے کر ہاں کہہ دی۔۔ اب تم سے پوچھ رہی ہوں اور تم مجھے ہوش کا سنا رہے ہو۔۔ ‘‘ شہباز حیدر کے انداز پر وہ بھی برہم ہو گئیں۔
’’یعنی کہ مجھ سے پوچھے بغیری بڑوں تک بات پہنچ چکی ہے۔۔ یااللہ ‘‘ وہ بے چارگی سے ماں کو دیکھتے رہ گئے۔
’’منع کر دیں۔۔ مجھے نہیں کرنی عیشہ سے شادی ، شہباز حیدر نے فوراً منع کر دیا ۔
’’ارے کیوں منع کر دوں ۔۔ عیشہ جیسی لڑکی چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والی۔۔گھر کی بات ہے تقریباً سب طے ہے ۔۔ بھائی صاحب نے ہاں کہہ دی ہے۔۔ اب میں شادی کی ڈیٹ طے کرنے میں دیر نہیں لگائوں گی۔۔‘‘ شہباز کے ایک دم انکارنے انہیں کر دیا تو انہوں نے بھی دو ٹوک بات کی۔
’’امی پلیز ۔۔ آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں ۔۔ وہ بچی سی ہے۔۔ پھر میری اور اس کی عمر میں بہت فرق ہے ۔۔‘‘ ماں کے دو ٹوک انداز پر وہ کچھ دھیمے ہوئے، تاہم بے چارگی نمایاں تھی۔
’’کوئی بچی وچی نہیں ہے ۔۔ پورے تیئس سال کی ہو چکی ہے ۔۔ رہی عمر کی بات تو میاں بیوی میں عمر کا یہ فرق عام ہے۔۔ سب چلتا ہے۔۔‘‘ انہوں نے یہ اعتراض فوراً رد کیا۔
’’وہ غیر شادی شدہ ہے۔۔ مجھ شادی شدہ کے ساتھ کیسے ایڈجسٹ کرے گی، پھر مجھے بھی وہ بطور لائف پارٹنر پسند نہیں۔۔‘ ‘ بے چارگی سے دوسرا اعتراض کیا۔ ’’اس کی رائے لے چکے ہیں۔۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ۔۔فوزان کو وہ پہلے ہی سنبھال رہی ہے۔۔ رہ گئی پسند کی بات تو شادی کے بعد خود بخود پسند کرنے لگے گی۔۔‘‘ ادھر سے جواب تیار تھا۔
’’وہ بہت امیچور ہے۔۔ اس کے لئے اسی جیسا لڑکا چاہیے تھا۔۔‘‘ کلس کر پھر کہا تھا ۔
’’خیر سے شادی کے بعد تمہارے عادات و اطوار دیکھ کر خود ہی سنجیدہ ہو جائے گی۔۔‘‘ وہ تو جیسے پوری تیاری کر کے آئی تھیں، کسی اعتراض کو چند اں اہمیت نہ دی تھی، انہوں نے لب بھینچ لیے۔
کوئی اور بھی اعتراض ہے تو وہ بھی کر لو۔۔ میں انکار نہیں سننے والی۔۔ ‘‘ شہباز حیدر نے انتہائی غصے سے انہیں دیکھا ، آج وہ انہیں ذرا بھی محبت جتانے والی ماں نہ لگیں۔
’’آپ بھلا کون سا میرے کسی اعتراض کو خاطر میں لا رہی ہیں جو میں مزید بحث کروں ۔‘‘ شکایتی انداز میں ماں کو دیکھا ، وہ ہنس دیں۔
’’جب تم اعتراض ہی اوٹ پٹانگ کرو گے تو میں بھلا کیا خاطر میں لائوں۔ خیر سے اپنے گھر کی بچی ہے ۔۔ پھر عیب سے پاک اور تم لگے کیڑے نکالنے۔۔‘‘ انہوں نے گہرا سانس لیا۔
’’پھر میںتمہارے تایا جان کو ہاں کہہ دوں ۔۔‘‘ برتنوں کی ٹرے اُٹھا کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ ماں کے ڈپلومیسی انداز پر وہ کوفت کا شکار ہوئے۔
’’مجھے نہیں پتا ۔۔ مگر ایک بات طے ہے، مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔۔ ‘‘ اندر کا اُبال ایک دم امڈ آیا ، امی نے غصے سے بیٹے کو دیکھا۔
’’شہباز ! والدین کے دل سے اس طرح نہیں کھیلتے۔۔ وریشہ کا غم اب اتنا تازہ بھی نہیں کہ تم ہمیں نا مراد لوٹائو۔ اتنے سال بہت تھے اب تو میرا خیال ہے کہ اعتراض کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ عیشہ اور وریشہ میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے ۔ خالہ مر جائے تو بھانجی ، پھوپھی کی جگہ بھتیجی ۔ دنیا میں ہوتا آیا ہے۔۔ کئی مثالیں ہیں۔۔ تم دنیا کے اکیلے نرالے تو نہیں ہو۔۔ میں انکار نہیں سننے والی ، جا کر بھائی صاحب کو ہاں کہہ دیتی ہوں۔‘‘ وہ غصے سے بھنا کر کمرے سے چلی گئیں۔ شہباز حیدر نے غصے سے سرہانہ اُٹھا کر دیوار پر دے مارا۔ جی چاہا ابھی جا کر عیشہ واجد کو جھنجوڑ کر رکھ دیں، مگر وہ ضبط کر گئے، رات کے اس پہر وہ تو سو چکی ہوگی مگر شہباز حیدر انگاروں پر لوٹنے لگے۔
X X X

شہباز حیدر کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی ، ایک چھوٹی سی لڑکی نے انہیں اذیت سے دوچار کر رکھا تھا، صبح نیچے ہلچل ہوئی تو وہ بھی کمرے سے نکل آئے ، نیچے آئے تو ابھی سبھی اپنے کمروں میں تھے۔ وہ عیشہ کے کمرے کی طرف چلے آئے ۔ دروازہ لاک نہیں تھا ۔ ہینڈل گھمانے سے کھلتا چلا گیا تھا ، وہ اندر داخل ہوئے تو فوزان بستر پر کمبل پر لیٹا سو رہا تھا ، اور وہ واش روم سے وضو کر کے نکل رہی تھی ۔ اتنی صبح صبح شہباز حیدر کو اپنے کمرے میں دیکھ کر چونکی۔
’’آپ ۔۔؟‘‘ دوپٹہ وضو کے اسٹائل میں لپٹا ہوا تھا ۔
’’تم ۔۔‘‘ عیشہ کو دیکھ کر گزری رات کی اذیت نئے سرے سے تازہ ہو گئی ۔ ایک دم طیش میں قدم بڑھائے۔ عیشہ شہباز حیدر کے تیور دیکھ کر پیچھے ہٹی تھی۔
’’تم خود کو سمجھتی کیا ہو۔ کہاں عذاب کی طرح مسلسل میرے پیچھے پڑ گئی ہو۔۔‘‘ عیشہ کا گدازآستین چڑھا بازو ان کی فولادی گرفت میں جکڑ لیا گیا تھا ، عیشہ ان کے تیور دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی۔
’’آپ کیا کر رہے ۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔ پلیز ۔۔‘‘ گرفت اتنی سخت تھی کہ تکلیف سے بس چیخ نکلنے کی کسر تھی۔ اپنا بازو چھڑانا چاہا تو شہباز نے مزید طیش میں آ کر جھٹکا دیا تھا ، وہ بری طرح دیوار کے ساتھ جا لگی۔ ’’جان سے مار دوں گا تمہیں ۔۔ پاگل لڑکی! تم نے امی اور تائی امی تک بات پہنچا دی۔۔ جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا ۔۔ یہ ساری تمہاری سازش ہے۔۔ تمہارا کیا خیال ہے اس طرح کرنے سے تم مجھ سے شادی کرنے میں کامیاب ہو جائو گی۔۔ لعنت بھیجتا ہوں میں تم پر۔۔ ‘‘ اس قدر غصیلے طیش بھرے لہجے میں دنیا جہاں کی نفرت تھی۔ حیران پھٹی پھٹی نگاہوں سے بازو کی ساری تکلیف بھولے پتھر بن گئی۔ اتنی نفرت۔۔؟ اس قدر نا پسندیدگی کا اظہار۔۔؟ وہ بے یقینی سے دیکھے گئی۔
’’میرا خیال تھا کہ تم عقلمندی کا مظاہرہ کرو گی۔۔ کل رات جو بھی ہوا ، میں تمہاری نادانی سمجھ کر نظر انداز کر گیا مگر اب ۔۔ تم نے اپنی راہ میں خود کانٹے بوئے ہیں۔۔ بہت برا کروں گا میں تمہارے ساتھ ۔۔‘‘ شہباز کے اندر کا لاوہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو پا رہا تھا ، عیشہ کا خوف سے برا حال ہوا۔ شہباز حیدر کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھنے میں آ رہا تھا ۔
’’میں نے کیا کہاہے۔۔؟‘‘ وہ رو دی۔ کچھ بازو کی تکلیف اور کچھ شہباز کا خوف ، آنسو ایک ایک کر کے چہرے پر گرنے لگے ۔ کچھ لمحے پہلے اس نے وضو کیا تھا ، چہرہ گیلا تھا ، ٹھوڑی سے گردن تک سارے چہرے پر پانی کے قطرے چمک رہے تھے، سرخ و سپید چہرہ ۔۔ جا بجا چمٹی کالے بالوں کی لٹیں ۔۔ ایک لمحے کو اس کے رو دینے پر اس کی اس گہری آنکھوں میں موجود پانی دیکھ کر ساکت ہوا تھا ، مگر اگلے ہی لمحے یہ نمی ان کے اندر کی آگ کو بھڑکا گئی تھی۔
’’ابھی بے حیائی میں کوئی کسر باقی ہے۔۔ مائی گاڈ ۔۔ جو بات میں سوچتے ہوئے بھی لرز جاتا تھا وہ بات تم نے کتنی آسانی سے بڑوں تک پہنچائی ۔ نہ صرف پہنچائی بلکہ میری کسی مرضی کو خاطر میں لائے بغیر سب کچھ طے بھی پا گیا۔۔ صرف ایک دن میں ۔۔‘‘ ایک لمحے کی کیفیت تھی، اگلے ہی لمحے اندرونی خلفشار نے پھر غضبنا کی کی ردا اوڑھا دی۔
’’پلیز چپ کریں ۔۔ میں نے کسی سے بات نہیں کی ۔۔ قسم لے لیں۔۔آپ مجھے بے حیائی کے طعنے مت دیں۔۔ میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔۔ میرا جرم صرف اتنا ہے کہ آپ سے محبت کرنے کی گنہگار ہوں۔۔ میرے جرم کو میری سزا تو مت بنائیں۔۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’کتنا رلا رہا تھا یہ شخص اسے۔۔ اور اس شخص کو اپنے برے روّیے کا احساس نہ تھا۔۔‘‘ شہباز حیدر نے بھینچے ہوئے چہرے سے اس کے بازو سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔
’’تو پھر بات اتنی آگے کیسے بڑھ گئی کہ امی میری رائے کو اہمیت دیے بغیر تم سے شادی کا فیصلہ سنا گئیں۔۔‘‘ غصہ کسی طرح بھی کم نہیں ہو پا رہا تھا۔
’’مجھے کیا پتہ۔۔ اپنی امی سے جا کر پوچھیں۔۔ میں نے اگر ان سے ہی بات کرنا ہوتی تو اتنا عرصہ آپ کا یہ روّیہ برداشت نہ کرتی۔۔‘‘ وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر شدت سے رو دی۔ اس کی ہر ہچکی پر شہباز حیدر اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورے گیا۔
’’تم کوئی بھی ڈرامے بازی کر لو۔۔ جو مرضی کر لو۔۔ میں متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔۔ نبٹ لوں گا تم سے اچھی طرح۔۔ ‘‘ شہباز حیدر نے اسے اچھی طرح دھمکیوں سے ڈرا دھمکا کر باہر کی راہ لی تو عیشہ نے ہاتھوں سے چہرہ اُٹھا کر ہلتے دروازے کو دیکھا۔آنسو ایک دفعہ پھر اس کے رخساروں پر بہہ نکلے تھے۔
X X X

وہ اک شخص جو کم کم میسر ہے ہم کو
آرزو ہے کہ کسی روز وہ سارا مل جائے
اسے کہنا کہ ملاقات ادھوری تھی وہ
اسے کہنا کہ کبھی آ کے دوبارہ مل جائے
حیدر صاحب کو اپنی بیگم صاحبہ سے شہباز حیدر کے عیشہ کے لیے اعتراضات کا علم ہوا تو انہوں نے شہباز سے خود بات کی، شہباز حیدر جنہوں نے امی کے سامنے صاف انکار کر دیا تھا ، باپ کے سامنے کچھ بھی نہ کہہ سکے۔ حیدر صاحب شہباز کے سامنے دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتے رہے، رشتوں کی نزاکت و اہمیت باور کراتے رہے۔ شہباز نے لب بھینچے باپ کی سب باتیں سنیں۔
’’تو پھر میں بھائی صاحب کو ہاں کہہ دوں۔۔‘‘ ایک طویل لیکچر کے بعد انہوں نے بیٹے کے چہرے کا جائزہ لیا۔ شہباز نے گہری سانس لی۔
’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا یہ فیصلہ درست ہے تو جو جی چاہے کریں۔۔‘‘ ان کے اس انداز میں بھی ان کے دلی جذبات آشکار ہو گئے تھے۔ حیدر صاحب مسکرائے۔
’’تمہیں فی الحال یہ مناسب نہیں لگ رہا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تم خود ہمارے اس فیصلے کو سرا ہو گے۔۔‘‘ وہ اس کا کندھا تھپک کر چلے گئے تھے۔ شہباز حیدر نے لب بھینچ لیے۔
’’عیشہ واجد۔۔‘‘ کچھ تلخ سوچتے سوچتے انہوں نے سر جھٹکا۔ باپ کے سامنے وہ بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر عیشہ واجد کی پیش قدمیوں کو روکنے کیلئے انہیں صرف یہی حل سجھائی دیا تھا کہ فی الحال خاموشی اختیار کریں۔۔ جو ہو رہا ہے ہونے دیں، عیشہ واجد سے انہیں کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی مگر۔۔
اگلے دن دونوں کی باقاعدہ بات طے ہو جانے کی خبر پورے گھر میں پھیل چکی تھی ۔ اوپر نیچے سب کو پتہ چل چکا تھا ۔ عیشہ یونیورسٹی سے واپس لوٹی تو چچی نے پاس بٹھا کر خوب پیار کیا۔ عیشہ تو کتنی دیر تک ورطہ حیرت میں غرق رہی۔ کل صبح کا شہباز حیدر کا روّیہ اتنا آتش فشاں اور غضبناک تھا کہ وہ دہل گئی تھی، اور اب یہ ’’ہاں‘‘ وہ بے یقین تھی ۔ پتھر اس کے لیے واقعی موم ہوا تھا یا پھر۔۔ جو خواب اس نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا کیا وہ واقعی سچ ہو رہا تھا ۔ مہوش کے کمرے میںپہنچی تو بھی بے یقین ہی رہی۔
’’مہوش چچی! یہ رشتے طے ہو گیا ہے۔۔ کیا واقعی ۔۔ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔‘‘
’’یہ بالکل خواب نہیں ہے۔۔ رات ابو نے خود شہباز بھائی سے بات کی تھی ، پھر نیچے آ کر تایا ابو وغیرہ سے یوں بات طے ہو گئی۔ ۔ اب تو باقاعدہ ہاں ہوئی ہے۔۔‘‘
’’مگر وہ شہباز۔۔ انہوں نے اعتراض تو کیا ہو گا۔۔‘‘
’’ہوں۔۔بہت سے امی بتا رہی تھیں، مگر ابو کون سا ان کے اعتراض ختم کرنے گئے تھے۔ انہیں بٹھا کر سمجھایا تھا۔۔ اور بس۔۔‘‘ مہوش چچی کے اس جواب پر اس کے دل کے اندر خوف پیدا ہونے لگا۔
’’اس کا مطلب ہے چھوٹے دادا جان نے انہیں مجبور کیا ہے۔‘‘
’’یہ تو مجھے نہیں پتا۔۔ البتہ صبح ناشتے پر منہ بڑا سنجیدہ بنایا ہوا تھا ۔۔ میں نے چھیڑنا چاہا تو جھڑک دیا۔۔ پھر چائے پی کر نکل گئے تھے۔۔ مگر تم کیوں فکر کرتی ہو۔۔ تھوڑا بہت غصہ تو وہ دکھائیں گے ہی ۔۔ ابو وغیرہ کہہ رہے تھے کہ شہباز کو کوئی بھروسہ نہیں ۔۔ شادی نہیں تو نکاح کی تقریب تو ضرور کریں گے۔۔ یوں سمجھو تم دونوں کو پکی بیڑیاں ڈالنے کا ارادہ ہے۔۔‘‘ مہوش نے آخر میں اسے چھیڑا تو وہ مسکرا بھی نہ سکی۔ شہباز راضی نہ تھے، صرف والدین کی وجہ سے چپ تھے، اسے یقین ہو گیا تھا۔
X X X

رشتہ طے کیا ہوا، باقی سب کچھ آناً فاناً طے ہوتا چلا گیا۔ عبداللہ صاحب اور حیدر صاحب کی مشترکہ رائے کے مطابق منگنی کے بجائے ڈائریکٹ نکاح کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ شہباز حیدر نے امی کو کافی روکا تھا ، کہ بات طے ہو گئی ہے، کافی ہے، اس جھنجھٹ کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ مگر وہ بھی سب پکے کام کرنے پر بضد تھے۔۔ کیاپتہ کب شہباز مکر جائے، بات طے ہونے کے بعد شہباز کا ایسا ہی روّیہ تھا کہ سب کو ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ خوش نہیں ہیں۔ خاص طور پر عیشہ تو ہر وقت ہولتی رہتی تھی۔ اسے کھونا محال تھا اور پانا اس سے بھی زیادہ۔
نکاح کی تقریب خاصی پر رونق تھی ، قیوم کی شادی کے بعد اس گھر میں کوئی پہلی خوشی دیکھنے کو مل رہی تھی ، سو سبھی خوش تھے۔ شہباز حیدر کا انداز وہی تھا۔ خاموش ، سنجیدہ اور کچھ ناراض سا۔۔ وہ اس سارے شور شرابے پر خوش نہ تھے۔ مہوش عیشہ کو پارلر لے گئی ہوئی تھی ، جب دونوں لوٹیں تو سبھی مہمان آ چکے تھے ۔ تقریب کا اہتمام تھا ، سارا صحن جگمگا رہا تھا۔ عیشہ نکاح کے گولڈن مہرون شرارے میں بھاری جیولری کے ساتھ عام حلیے کے برعکس کوئی اور ہی چیز لگ رہی تھی ، امی اور مہوش نے اسے خصوصی بنائے گئے اسٹیج پر لا بٹھایا تھا۔ وہ ہمیشہ سادہ سے حلیے میں دکھائی دینے والی عیشہ واجد آج پور پور سجی ہر ایک کی نگاہ کو خیرہ کر رہی تھی ۔ وہ بہت کنفیوژ ہو رہی تھی ، دل کی دھڑکن کا تو کوئی جواب ہی نہ تھا ، اس نے اپنی بہن شہلا کو مسلسل اپنے پاس بٹھائے رکھا۔ شہلا واجد کی دوسری بیوی کی اولاد تھی ، اور بی اے کی اسٹوڈنٹ تھی۔ نکاح کی تقریب کے بعد کھانے پینے کا سلسلہ چل نکلا تھا ۔ نکاح سے پہلے تک وہ مسلسل خوفزدہ تھی ، نکاح کے بعد وہ ایک دم پر سکون و مطمئن ہو گئی۔ شہباز حیدر اب اس کا تھا ، مکمل طور پر اس کا ۔۔ یہ ایسی خوشی تھی کہ جس کی اس نے راتوں کو جاگ جاگ کر اپنے رب سے پوری ہونے کی دعا مانگی تھی،اور آج رب نے اس کی دعا سن لی تھی۔ شہباز حیدر کو کھو دینے کا احساس بہت پیچھے رہ گیا تھا ۔
’’السلام علیکم ! کیسی ہیں عیشہ۔۔‘‘ وہ اسٹیج پر بیٹھی اپنی سوچوں میںمگن تھی جب اس آواز پر ایک دم چونک کر دیکھا ، اس کے سامنے ’’محسن جاوید‘‘ کھڑا تھا۔
’’آپ ۔۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’جی۔۔‘‘ وہ مسکرایا ۔ بہت بہت مبارک ہو، یہ یقینا شہباز بھائی ہی تھے جن کے لیے آپ نے انکار کیا تھا۔‘‘ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا ، عیشہ نے گھبرا کر اپنے ساتھ بیٹھی شہلا کو دیکھا ، جو محسن جاوید کو دیکھ رہی تھی دلچسپی سے۔۔ محسن جاوید کی پوری فیملی اس تقریب میں انوائیٹڈ تھی ، دادا جان کے جاوید صاحب سے تعلقات جوں کے توں تھے ، اس تقریب میں محسن جاوید کو دیکھ کر حیران ضرور ہوئی تھی ، مگر چونکی نہیں تھی۔
’’بہت لکی ہیں شہباز بھائی۔۔‘‘ وہ مزید کہہ رہا تھا۔
’’ویسے آپ کی تعریف ۔۔؟‘‘ وہ اب شہلا کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔
’’شہلا واجد۔۔‘‘ اس نے مسکرا کر اپنا نام بتایا تھا۔
’’اوہ۔۔یعنی کہ واجد بھائی کی بیٹی ۔۔‘‘ اس نے عیشہ کو دیکھا تو اس نے سر ہلایا۔
’’میں ذرا امی کے پاس چکر لگا لوں ، پھر آتی ہوں۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ اُٹھ کر چلی گئی تھی۔
’’آپ نے مجھ سے انکار کرتے ہوئے جھوٹ بولا تھا ، آپ کی کسی سے کمٹمنٹ نہیں تھی ۔۔‘‘ محسن جاوید کی نظریں شہلا کے تعاقب میں تھیں جب عیشہ کی اس دھیمی آواز پر متوجہ ہوا۔
’’آپ کو کس نے کہا۔۔؟‘‘ دھیان سے پوچھا۔
’’فوزان کے پاپا نے۔۔‘‘
’’مائی گاڈ ۔۔ کتنا نیچرل انداز ہے۔۔‘‘
’’سچ سچ بتائیں عیشہ ! آپ تو کہہ رہی تھیں کہ یکطرفہ محبت ہے مگر شہباز بھائی نے میرے انکار سے متعلق درست خبر آپ کو کیسے دے دی۔۔‘‘ وہ جھینپ گئی تھی۔
’’یہ اب بھی یکطرفہ محبت ہے۔۔ بس گھر والوں کا تعاون تھا کہ آج یہ تقریب رونما ہو گئی ہے ورنہ ’’اُن ‘‘ سے تو کوئی بعید نہیں ۔‘‘
شہباز ، مہوش اور قیوم کے بعد یہ چوتھا شخص تھا جو اس کے دل کا راز پا گیا تھا ۔ اس کا بے تکلف انداز عیشہ کو اچھا لگا تھا ، سو دوستانہ انداز میں اس نے بھی بتا دیا۔
’’ویسے شہباز بھائی جانتے ہیں۔۔‘‘ وہ پوچھ رہا تھا ، اس نے گردن ہلا دی۔
’’مگر مانتے نہیں ہیں۔۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی ، وہ ہنس دیا۔
’’تو فکر کیوں کرتی ہیں۔۔ اتنا مضبوط تعلق بن گیا ہے دونوں میں۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ مان جائیں گے۔۔‘‘ اس نے اسے دلاسا دیا تو وہ سر ہلا گئی۔
’’ویسے عیشہ ! آپ کی بہن بھی آپ کی طرح بہت ہی پیاری ہیں۔۔ کیاخیال ہے۔۔؟‘‘ اس کی اس بات پر اس نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
’’کیا مطلب۔۔؟‘‘
’’آپ کیلئے انکار پر امی ابو اب تک مجھ سے ناراض ہیں۔۔ شہلا کو دیکھنے کے بعد سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ امی ابو کو راضی کر لوں۔۔ آخر کو رشتہ لے کر والدین ہی آتے ہیں۔۔‘‘ عیشہ نے بے حد انبساط و حیرت سے دیکھا۔
’’واقعی۔‘‘ اس نے پوچھا تو اس نے فوراً سر ہلایا تھا ۔ وہ پھر دو تین باتیں کر کے نیچے اُتر گیا تھا ، کھانے کے بعد فوٹو گرافی کا سلسلہ چل نکلا تھا ، شہباز حیدر کو قیوم حیدر نے زبردستی عیشہ کے ساتھ لا بٹھایا تھا۔ واجد صاحب کا بیٹا دونوں کے مختلف پوز لینے لگ گیا تھا۔
’’چاچو پلیز! چہرے پر اسمائل لائیں۔۔ یوں لگ رہا ہے جیسے آپ کو زبردستی بٹھایا گیا ہے مار کر ۔۔ ‘‘ وہ چھیڑ رہا تھا، شہباز حیدر کے چہرے کے سنجیدہ زاویوں میں مطلق فرق نہیں آیا تھا۔
’’جیٹھ صاحب! اب ایسی بھی کیا سنجیدگی ، اتنی چاند سی پیاری دلہن آپ کو دے رہے ہیں مگر مجال ہے چہرے کے تاثرات بدل جائیں ۔۔ ‘‘ مہوش بھی سنجیدہ شکل پر تبصرہ کرنے سے باز نہیں آئی تھی ، عیشہ کا دل تو شہباز کی قربت پر تمام دیواریں توڑ کر باہر آنے کو تھا۔ فوٹو گرافی کے بعد سلامی اور تحائف کا سلسلہ چلا تھا ، رات کے بارہ بجے کے نزدیک تقریب اختتام کو پہنچی تھی، عیشہ کا ایک ہی زاویے سے بیٹھ کر برا حال ہو رہا تھا ، کمر تختہ بن چکی تھی، مہوش اسے سہارا دے کر کمرے میں لے آئی۔
’’سنو! اب کچھ نہیں اتارنا ، میں آتی ہوں ، شہباز بھائی بلا رہے تھے، ان کی بات سن لوں۔۔‘‘ وہ اسے بٹھا کر چلی گئی تھیں ، شہباز کے نام پر دل کی دھڑکن بڑی نرالی تھی، وہ خود ہی معجوب سی ہنس دی۔
’’اور کتنی نفرت کریں گے مجھ سے آپ ۔۔ میرے بن چکے ہیں۔۔ ایک دفعہ آپ کی زندگی میں آ جائوں پھر ساری نفرت دور کر دوں گی۔۔ صرف ایک دفعہ۔۔ ‘‘ اپنے خیال پر وہ خود ہی شرما گئی۔۔ بیڈ کی پشت سے سر ٹکا کر اس نے کمر بھی تکیوں سے ٹکا کر پائوں سیدھے کیے۔ مہوش اسے بٹھا کر خود پتہ نہیں کہاں گم ہو گئی تھی ، اس نے خاموشی سے آنکھیں موند لیں ۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر کھٹکے کی آواز پر وہ متوجہ ہوئی۔
’’مہوش چچی کہاں رہ گئی تھیں آپ ۔۔ مجھے کپڑے بدلنے تھے۔۔ تھکن سے برا حال ہو رہا ہے میرا۔۔‘‘ آنکھیں کھولے بغیر وہ کہہ رہی تھی ، مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’آپ۔۔؟‘‘ شہباز حیدر کو اپنے سامنے کھڑے خاموشی سے دیکھتے پا کر وہ فوراً سیدھی ہوئی تھی ۔
’’مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔‘‘ اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے وہ اندر چلے آئے تھے ۔ عیشہ کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا ، حیرت سے شہباز حیدر کے انتہائی سنجیدہ چہرے کو دیکھے گئی۔ وہ بستر پر بیٹھے تو اس نے تیزی سے ٹانگیں سمیٹیں، پھر چہرہ بھی جھکایا ، شرم ایک دم درمیاں میں آ ٹھہری ۔
’’میں اب تک سمجھ رہا تھا کہ تمہاری دیوانگی ایک وقتی جذباتیت ہے ، اسی لیے میرا خیال تھا کہ میرے تلخ روّیے ، ڈانٹ پھٹکار سے تمہیں عقل آ جائے گی مگر۔۔‘‘ ان کی بات عیشہ کو کچھ پلے نہ پڑی تھی ، اوپر سے ان کا ٹھنڈا سنجیدہ لہجہ۔
’’یہ رشتہ بظاہر جتنا مضبوط ہے اتنا ہی کمزور ہے۔۔ میں کبھی سنجیدہ نہ ہوتا اگر امی ابو اس قدر سنجیدگی سے اس معاملے میں انوالو نہ ہوتے۔ ہمارا نکاح میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور یہی بات میں تمہیں باوار کروانا چاہتا ہوں، مجھ سے تم کسی بھی قسم کی توقعات وابستہ مت کرنا ۔۔ فوزان کے لیے تم میری زندگی میں داخل ہونا چاہتی تھی ، میرے گھر والوں کا بھی یہی موقف ہے، اسی لیے تم آج سے فوزان کے لیے ہی مخصوص ہو۔۔ رہ گئی بات رخصتی کو تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔ تم نے جس طرح قیوم اور مہوش کو اپنے ساتھ ملا کر یہ سارا ڈرامہ اسٹیج کیا ہے، میرے دل میں تمہارے لیے جو تھوڑی بہت عزت افزائی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔۔ تمہارے نزدیک رخصتی کی بات کوئی اہمیت رکھتی ہو مگر میرے لیے تم کل بھی کچھ نہیں تھی ، آج بھی کچھ نہیں ہو ، نہ ہی کل کچھ ہو گی۔۔‘‘ تلخی سے کہہ کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ عیشہ جیسے پتھر ا گئی تھی ، کیا محبت کرنا واقعی جرم ہے۔۔ کیا اس نے شہباز حیدر سے محبت کر کے واقعی کوئی جرم کیا تھا ۔ وہ بالکل ساکت تھی۔
’’میں اب تک سمجھ رہا تھا کہ تم بچی ہو۔۔ اس عمر میں دل کے تقاضے انسان کو بری طرح خوار کرتے ہیں۔۔ میں شاید تمہاری کم عمری کا ایڈوانٹیج دے کر تمہاری طرف مائل ہو ہی جاتا اگر مجھے یہ سب علم نہ ہوتا کہ یہ سب کیا دھرا مہوش اور قیوم کا ہے، جو تمہارے لیے کر رہے ہیں۔۔‘‘ اپنے کمرے میں بیٹھے وہ دونوں خود سے باتیں کر رہے تھے لیکن جس طرح وہ میرا ذکر کر رہے تھے تمہارے معاملے میں مجھے انوالو کر رہے تھے تو میرا دل چاہ رہا تھا کہ اسی وقت تمہیں شوٹ کرا دوں۔۔‘‘ اپنے کردار کے معاملے میں وہ انتہائی جذباتی تھے ، اب بھی ایک دم غصے سے کہا تو عیشہ جیسے ہوش میں آئی ۔ لرز کر رہ گئی۔ ان کی آنکھیں۔۔ وہ تو دیکھ بھی نہ پائی ۔
’’وریشہ کے بعد تو میں نے کبھی کسی اور جانب نگاہ ہی نہ کی تھی ،پھر بھلا تم جیسی کم عمر امیچور لا اُبالی سی لڑکی کو کیسے اپنی طرف انوالو کر لیتا۔۔ میں نے تو ہر ممکن کوشش کی تھی کہ تم جو حماقت سر انجام دینا چاہتی ہو باز آ جائو مگر۔۔ ‘‘ وہ سخت اضطراب کا شکار تھے، کمرے میں ٹہلنے لگے۔
’’مہوش اور قیوم کے سامنے تم نے میرے متعلق کیا کہا تھا جو دونوں کہہ رہے تھے کہ شہباز بھائی آخر کب تک انکار کر سکتے ہیں۔۔۔ عیشہ جیسی لڑکی تو بڑے بڑوں کی سدھ بدھ کھو دیتی ہے، اگر وہ انوالو نہ ہوتے تو اتنی جلدی ہتھیار کیسے ڈال دیتے۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ شہباز بھائی کا ہی کوئی طرزِ عمل عیشہ کو اس حد تک لے جانے کا سبب بنا ہے۔۔ بولو ۔۔ کیوں انہوں نے یہ بات کہی۔۔بولو ۔۔ جواب دو۔۔‘‘ وہ تو خود گنگ تھی، وہ کیا جواب دیتی ، شہباز کا یہ سب الفاظ دہراتے غصے سے برا حال ہو رہا تھا ، انہوں نے ہمیشہ ایسی زندگی گزاری تھی جو ہر طرح کے الزام سے پاک تھی ، مگر عیشہ کے معاملے میں مہوش کی زبانی گفتگو سن کر اس کو سخت دھچکا لگاتھا۔
’’مجھے نہیں پتا انہوں نے ایسا کیوں کہا۔۔ یقین کریں۔۔ میں نہیں جانتی۔۔ ‘‘ شہباز سے تو وہ پہلے ہی خائف رہتی تھی ، اب اس کا غصہ دیکھ کر مزید ڈر گئی، شہباز نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا۔ گولڈن مہرون شرارے میںوہ جیولری پہنے دلہن میک اپ میں ایک ایسی جیتی جاگتی قیامت لگ رہی تھی ، شہباز حیدر نے سختی سے اپنے خیال کو جھٹک دیا ۔ ایک نفرت کی نگاہ اس پر ڈالی ۔ ’’انہیں تمہارے متعلق یہ سب کیسے علم ہوا۔۔؟‘‘ سختی سے باز پرس کی گئی تھی ، وہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئی۔
’’اس رات جب ۔۔‘‘ وہ آہستگی سے سب بتاتی گئی ، وہ خشمگیں نظروں سے سب سنتے رہے۔
’’میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں بتایا تھا ، اس کے بعد جو بھی ہوا مہوش چچی نے ہی کیا تھا ۔۔ دادی جان اور چچی جان سے بھی شاید انہوں نے ہی بات کی تھی۔۔‘‘ سر جھکائے وہ اعتراف جرم کر رہی تھی۔
’’دیکھ لیا اپنی کم عقلی کا نتیجہ۔۔ تمہاری ذرا سی لرزش لوگوں کو نجانے کس انداز میں سوچنے کا موقع دے رہی ہے۔ تمہیں شاید کوئی فرق نہ پڑے گا مگر مجھے اپنے کردار کی بڑی پروا ہے۔۔ جو ہو گیا وہ تو ایک طرف ۔۔آئندہ تمہاری طرف سے مجھے کچھ بھی الٹا سیدھا سننے کو ملا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔‘‘ وہ غصے سے کہہ کر دروازہ کھٹاک سے بند کر کے چلے گئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد عیشہ کا کب کار کا ہوا سانس بحال ہوا۔ ’’مہوش چچی نے ایسی بات کیوں کی۔۔ کیا وہ نہیں جانتیں کہ یہ میرے یکطرفہ جذبات تھے ، شہباز کا تو ان سے تو دور کا بھی واسطہ نہیں۔۔‘‘ اس دن کے لیے اس نے کئی راتیں جاگ کر دعائیں مانگی تھیں اور آج یہ رات نصیب میں آئی بھی تھی ، تو دامن میں لاکھوں وسوسے و تفکرات ڈال گئی تھیں، ابھی سے اتنا غصے والا انداز ہے۔۔ بعد میں پتہ نہیں کیا ہو گا۔۔‘‘ اب وہ مستقبل کے خوف سے ہلکان ہونا شروع ہو گئی تھی۔
X X X

اگلے دن صبح ہوتے ہی وہ مہوش کے پاس جا پہنچی تھی، ان سے شہباز کا روّیہ بتا کر اس طرح گفتگو کا سبب پوچھا تو وہ ہنستی چلی گئیں۔
’’احمق ہو تم بھی اور تمہارے وہ صاحب بھی۔۔ کل صبح اچانک وہ ہمارے کمرے کے پاس سے گزرے تو مجھے شرارت سوجھی تھی ، میںنے فوراً بات پلٹ کر ایسا کہنا شروع کر دیا تھا ۔ مجھے پتہ تھا کہ وہ بن رہے ہیں جان بوجھ کر ایسی باتیں کہی تھیں ، صرف ان کو یہ باور کروانے کے لیے کہ اگر وہ اس طرح چپ رہ کر اپنی ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں تو ہم بھی بے خبر نہیں اور انہوں نے اس مذاق کو اپنے انداز میں لے لیا۔۔ اوہ مائی گاڈ ۔۔ ‘‘ وہ ہنس دی تھیں ، عیشہ خاموشی سے دیکھے گئی۔
’’مجھے پتہ نہیںتھا وہ اتنے احمق بلکہ بیوقوف ثابت ہوں گے، بجائے ہمارے اس تعاون پر ہمارا شکریہ ادا کرنے کے ، وہ نئی جنگ چھیڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔۔ کردار پر جب بات آتی ہے تو سب کو ہی غصہ لگتا ہے۔۔ یہی بات میں تمہارے حوالے سے انہیں بتانا چاہتی تھی مگر الٹی پڑ گئی ہے۔‘‘
’’پھر بھی آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا ۔۔ وہ اتنے غصے ہو رہے تھے مجھ پر کہ حد نہیں۔۔ نجانے کیا کچھ سخت سست کہتے رہے۔۔‘‘ رات کی باتیں یاد آتے پھر سے آنکھیں بھر گئیں۔
’’اوہو۔۔رونا نہیں۔۔ میں خود بھائی صاحب سے بات کر کے معاملہ جکڑ لوں گی۔۔ تھوڑی بہت ان کی بھی برین واشنگ ہونے کی ضرورت ہے۔۔ دیکھو کیا کرتی ہوں ، تم اب آرام سے رہو۔۔نکاح ہو چکا ہے دونوں کا ، کچھ نہیں کہیں گے وہ۔۔ ‘‘ انہوں نے اسے پھر سے بہلا لیا تھا ۔ مہوش نے شہباز سے بھی بات کی تھی ، اس کا کیا ردعمل تھا، عیشہ کو کچھ پتہ نہیں تھا ۔ دو دن بعد وہ یونیورسٹی جانے کو تیار ہو کر کمرے سے نکلی تو شہباز ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ، نکاح کے بعد پہلا تصادم تھا، اس رات کے بعد تو وہ ان کے سامنے آنے سے بھی ڈرنے لگی تھی ، انہوں نے سر سری نظر ڈالی تھی ۔ چچی امی نے اس کی بلائیں لیں، پھر ناشتہ اس کے سامنے رکھ دیا۔ شہباز کے سامنے والی کرسی پر بیٹھے وہ خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی ، جب شہباز نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
’’شہباز بیٹا! آج سے عیشہ کو تم یونیورسٹی چھوڑ کر آیا کرو گے۔۔ خیر سے یہ تمہاری ذمہ داری ہے، یہ اکیلی کیوں آیا جایا کرے۔۔‘‘ عیشہ نے حیران ہو کر چچی امی کو دیکھا ، شہباز نے اس حکم پر ناگواری سے اسے دیکھا تھا، وہ فوراً سر جھکا گئی ۔ وہ ہمیشہ اکیلی ہی یونیورسٹی کی بس میں ہی آتی جاتی تھی مگر آج۔۔
’’مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔ ‘‘ اس وقت کچن میں ان تینوں کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ، اسی لیے شہباز حیدر نے اپنی ناگواری نہیں چھپائی تھی۔
’’شہباز۔۔‘‘ انہوں نے سختی سے ٹوکا تو عیشہ نے گھبرا کر دیکھا۔
’’رہنے دیں چچی ۔۔ میں چلی جائوں گی۔۔ اور خود ہی تو جاتی ہوں۔۔ یونیورسٹی روٹ کی بس ہمارے روٹ سے ہی گزرتی ہے۔۔‘‘ شہباز حیدر کے تیوروں سے خائف ہو کر اس نے فوراً مداخلت کی تھی۔
’’پہلے کی بات اور تھی ۔۔ جب گھر میں شوہر کی گاڑی کی سہولت موجود ہے تو پھر تم کیوں بسوں ، ویگنوں میں خوار ہو۔۔ ویسے بھی اب تم شہباز کی ذمہ داری ہو۔۔‘‘ اس نے کن انکھیوں سے شہباز کے چہرے کے تاثرات کی ناگواری جانچی۔
’’میں گاڑی نکال رہا ہوں۔۔‘‘ ماں کی بات کے جواب میں غصے سے کہہ کر وہ باہر نکل گئے تھے، عیشہ نے بے چارگی سے چچی کو دیکھا۔
’’انہیں کوئی کام ہو گا ۔۔ رہنے دیں۔۔‘‘ وہ خود بھی شہباز کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ، مگر کہتی کسے۔۔‘‘
’’کچھ نہیں ہوگا۔۔ اپنے کام پر جاتے تمہیں بھی چھوڑ دے گا۔۔ تو قیامت نہیں آ جائے گی۔۔‘‘ شہباز حیدر کے تیور وہ بھی اچھی طرح سمجھ رہی تھیں ، اسی لیے تو انہوں نے یہ نیا حکم نامہ نافذ کیا تھا۔ مرے مرے قدموں سے باہر آئی تو وہ منتظر تھے، گاڑی میں بیٹھتے ہی انہوں نے تیزی سے گاڑی اسٹارٹ کی تھی ، عیشہ ان کے بگڑے زاویے دیکھ کر ہولتی رہی۔
’’آج کے امی کے اس نئے حکم نامے کا میں کیا مطلب سمجھوں۔۔؟‘‘ سرخ سگنل پر گاڑی رکی تھی ، جب نہایت تلخ آواز میں پوچھا گیا تھا ۔
’’جی۔۔‘‘ وہ کچھ نہیں سمجھی تھی ۔
’’دیکھو عیشہ ۔۔ میں تمہاری اپنی زندگی میں اس حد تک بے جا مداخلت قطعی برداشت نہیں کروں گا۔۔ انسان کی برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔ میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میرے ساتھ یہ سب نہیں چلے گا ۔۔ گھر والوں کی وجہ سے تمہیں فوزان کے لیے برداشت کرنے پر مجبور ہوں ، تو میری اس مجبوری کو میری زندگی کا امتحان مت بنائو۔۔ ورنہ پچھتائو گی۔۔‘‘ انتہائی سخت لہجے میں دنیا بھر کی بیزاری لیے انہوں نے اندر کی ساری تلخی اس پر انڈیلی تھی۔
’’میں نے چچی جان کو منع کیا تھا ۔۔‘‘ اپنی اس قدر عزت افزائی پر پہلے تو وہ ہکاّ بکاّ رہ گئی ، پھر بھنا کر کہا بھی تو آنسو پہلے امڈ آئے ۔ ہر بار یہ شخص اسے رلا دیتا تھا ۔ سگنل کھلنے پر شہباز نے گاڑی آگے بڑھا لی تھی ، عیشہ کو تسلسل سے آنسو بہاتے دیکھ کر وہ الجھا۔
’’کیا لو گی چپ ہونے کا۔۔‘‘ سرد آواز پر اس کے آنسو بھی ٹھٹھر گئے ۔
’’کیا مصیبت ہے۔۔ زندگی عذاب ہو کر رہ گئی ۔۔‘‘ وہ اب خود سے بڑ بڑا رہا تھا ، عیشہ کا دل پھر بھر آیا ، پھر ہاتھوں میںچہرہ چھپا کر رو دی۔ یہ بھی زندگی کا کیسا ساتھی تھا ، پتھر ۔۔سنگدل ۔۔ کٹھور۔۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ بے چارگی سے ایک طرف گاڑی روک کر اس کی طرف رخ کیا، انداز ایسا تھا کہ جیسے ایک پل میں اسے کہیں غائب کر دیں گے۔۔ یا پھر۔۔‘‘ وہ اس وقت ضبط کی انتہا پر تھے۔
’’مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ کہیں ۔۔ بس اتار دیں یہیں۔۔ چلی جائوں گی میں خود ہی۔۔‘‘ اگلے ہی پل دوپٹے سے چہرہ صاف کرتے اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا تھا ، اس سے پہلے کہ وہ نیچے اترتی ، شہباز حیدر نے بھنا کر غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک کر زور سے دروازہ بند کر کے لاک کیا تھا۔
’’بکواس نہیں کرو۔۔ آرام سے بیٹھی رہو۔۔‘‘ غصے سے گھورتے وارن کیا گیا تھا۔
’’کیوں۔۔ جب آپ کو میرا وجود اتنا ہی ناگوار گزر رہا ہے تو جانے دیں ۔۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے۔۔ نہیں جائوں گی میں آپ کے ساتھ کہیں ۔۔ دروازکھولیں۔۔‘‘ اپنی اس درجہ ہتک آمیزی اور عزت افزائی پر وہ بھی چٹخ اُٹھی تھی ، غصے سے روتے ہوئے شہباز حیدر کو دیکھا ، جو لب بھینچے اس کے اوپر نظریں جمائے ہوئے تھے۔
’’اس رات اتنی بری طرح بے عزت کر دیا حتیٰ کہ میرا کوئی قصور بھی نہ تھا ۔ مہوش چچی کا مذاق میرے گلے پڑا اور اب آپ کی امی نے آپ کو کہا تھا میں نے منتیں نہیں کیں۔۔ آپ کے پائوںنہیں پڑی تھی کہ مجھے بھی ساتھ لے کر جائیں۔۔ آپ نے فوزان کی وجہ سے یا کسی کے کہنے پر مجھے برداشت کیا ہے تو ہر بار جتانے کی ضرورت نہیں۔۔ میں یہ اچھی طرح جانتی ہوں ، پتھر ہیں آپ ۔۔ میں سمجھتی تھی کہ پتھر کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے مگر آپ تو ۔۔‘‘ وہ برح طرح شدت سے رو دی۔
’’دروازہ کھولیں۔۔ میں چلی جائوں گی، روپے پیسے کے علاوہ تو میری ہر ذمہ داری میرے باپ نے نہیں سنبھالی آپ کیا سنبھالیں گے۔۔ پلیز دروازہ کھولیں ۔۔ یہ احسان نہیں کریں مجھ پر۔‘‘ غصے ، بے بسی جذباتیت کا بہائو اُتر ا تو بالکل چپ ہو گئی ، مگر آنسو نہ رکے۔ اس کی عزت نفس پر یہ گہری چوٹ لگی تھی، جو تکلیف بھی شدید تھی۔ شہباز حیدر نے خاموشی سے دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کی ، وہ دوپٹے سے چہرہ صاف کرے ابھی بھی رو رہی تھی ، اور پھر مسلسل روتی رہی۔ حتیٰ کہ شہباز نے اس کی یونیورسٹی کیمپس کے سامنے گاڑی روک دی تھی ۔ وہ اُترنے لگی ، مگر دروازہ لاک تھا ، رخ موڑ کر شہباز کو دیکھا۔
’’چہرہ صاف کرو اپنا۔۔‘‘ اسی سخت ، بے لچک انداز میں کہا گیا تھا ، اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر دروازہ لاک کیا تھا۔
’’بے فکر رہیں ، میرے رونے سے آپ کے کردار پر کوئی بات نہیں آئے گی۔۔‘‘ اسی تلخی سے اس نے جواب دیا۔
’’عیشہ۔۔‘‘ شہباز نے بری طرح ٹوک دیا ۔ عیشہ جواباً پرواہ کیے بغیر سر جھٹک کر گاڑی سے اُتر گئی تھی ۔
X X X

شہباز حیدر کے لیے عیشہ کی موجودگی ناقابل برداشت تھی تو عیشہ نے بھی خود کو اتنا مضبوط کر لیا کہ شہباز حیدر کا ہونا یا نہ ہونا اس کے لیے ایک برابر رہ گیا ۔ وہ اس سے محبت ضرور کرتی تھی، دونوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق تھا ، سو وہ مطمئن تھی ، اور یہی اطمینان اس دن کے بعد جب شہباز کی گاڑی میں تھی کے بعد اس کے ہر انداز سے چھلکنے لگا تھا ، اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب شہباز حیدر کو اپنی اس درجہ تذلیل کرنے کا موقع نہیں دے گی۔ اس نے بھی خود کو جان بوجھ کر بے حسی کی چادر اوڑھا دی تھی ، فوزان کی ذمہ داری وہ اب بھی پوری خوش اسلوبی سے نبھاتی تھی ، مگر شہباز حیدر کے سلسلے میں اس نے مکمل لا تعلقی اختیار کر لی تھی ، ایک گھر میں رہتے ہوئے سب کی موجودگی میں یہ ممکن تو نہ تھا مگر شہباز حیدر کے سلسلے میں اس نے یہ ممکن کر لیا تھا ۔
محسن جاوید کا رشتہ شہلا واجد کے لیے آیا تھا ، ویسے تو یہ سب کے لیے حیرت کی بات تھی مگر عیشہ کو شاید اس رشتے کی امید تھی ، اور پھر بڑوں میں یہ رشتہ فائنل ہو گیا تھا ۔ دونوں طرف سے باقاعدہ منگنی کا اِرادہ تھا، منگنی کے دنوں میں وہ فوزان سمیت واجد صاحب کے ہاں چلی آئی تھی ، یونیورسٹی سے ادھر چلی جاتی تھی ، فوزان بھی پابندی سے اسکول جا رہا تھا ، منگنی کی تقریب تین دن بعد تھی ، ہفتہ ہو گیا تھا اسے یہاں آئے ہوئے ۔ آج کل اس کے بہت ضروری پریکٹیکل ہو رہے تھے ، اس لیے روز یونیورسٹی آنا پڑ رہا تھا ۔ آج بھی اسی سلسلے میں وہ آئی تھی ، سارا دن مصروف گزرا تھا ، تین بجے کے قریب وہ فارغ ہوئی تھی ۔ شہلا کو آج شاپنگ کے لیے جانا تھا ، اس نے جلدی آنے کو کہا تھا ، وہ تیز تیز قدم اُٹھاتے گیٹ سے باہر نکلی تھی، مگر اپنے سامنے کھڑی سیاہ گاڑی کو دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی ۔ بڑے ریلیکس موڈ میںگاڑی سے ٹیک لگائے، سن گلاسز لگائے شہباز حیدر منتظر تھے ، جبکہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر نظر آتے شہلا اور فوزان کے چہرے۔۔
’’آپ۔۔‘‘ پورے ایک ہفتے بعد دیکھ رہی تھی ، سو وہ بھی یہاں۔۔ حیرت یقینی تھی۔
’’السلام علیکم۔۔‘‘ اسے ایک اور جھٹکا لگا ، بغور دیکھا ، یہ شخص اس پر سلامی بھیجنا تو دور کی بات نفرت کی نظر ڈالتے ہوئے بھی ہزار بار سوچتا تھا ، وہ خاموشی سے سر ہلا گئی ۔ شہلا نے بھی اسے دیکھ کر گاڑی کا شیشہ نیچے کیا۔
’’آپ کے انتظار سے گھبرا کر میں آپ کو لینے آ گئی ہوں۔۔ شہباز بھائی یونہی آئے تھے، میں نے چلنے کو کہا تو چلے آئے۔۔ اب فٹا فٹ بیٹھیں، پہلے ہی بڑی دیر ہو چکی ہے۔۔‘‘ شہلا کی بات پر اس نے ایک گہری سانس لی ، ورنہ شہباز حیدر کی غیر متوقع آمد پر نجانے دل خوش فہمیوں کے کن سمندروں میں ڈبکی لگا آیا تھا ، تلخی سے مسکرا کر وہ آگے بڑھی ، فرنٹ ڈور کھلا ہوا تھا ، وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’فوزان ۔۔ آپ اسکول سے کب آئے۔۔ اور یہ یونیفارم بھی نہیں بدلا۔۔ ‘‘ پچھلی طرف رخ کر کے اس نے فوزان سے پوچھا تھا ۔
’’یہ ایک بجے ہی آ گیا تھا ، دادا جان عدیل وغیرہ کو لینے گئے تو ان کے ساتھ چلا گیا تھا ، دو بجے کے قریب شہباز بھائی اسے ہی چھوڑنے آئے تھے ، کہہ رہے تھے کہ آپ کے پاس آنے کی ضد کر رہا تھا ۔‘‘ شہلا نے جواب دیا تھا۔
’’کھانا کھایا تھا ۔۔؟‘‘
’’دادا نے کھلا دیا تھا ۔۔ پھر پاپا نے آئس کریم کھلائی تھی ۔۔ ماما میں آگے آ جائوں۔۔؟‘‘ اس کے مسکرا کر سر ہلانے پر وہ سیٹ کی بیک سے جگہ بنا کر اچھل کر آگے آ گیا تھا ، اس کی جھولی میں بیٹھ کر بتانے لگا۔
’’ماما ۔۔ بابا نے پرامس کیا ہے کہ وہ آج مجھے شاپز سے اچھے اچھے کپڑے لے کر دیں گے ۔۔ کھلونے بھی اور بڑا سا جہاز بھی ۔۔‘‘ فوزان کے چہرے کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی ، وہ مسکرا دی۔
’’پاپا ماما کے بھی اچھے اچھے کپڑے لیں گے اور آپ کے بھی ۔۔‘‘ اس کے مسکرانے پر وہ فوراً گاڑی ڈرائیو کرتے شہباز کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔ عیشہ نے فوراً رخ بدل لیا ، باہر دیکھنے لگی ، اس دن کے بعد اس نے اس شخص سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔
’’ہوں۔۔‘‘ شہباز نے بیٹے کے جواب میں کہا تھا۔
’’ماما ۔۔آپ کیسے کپڑے لیں گی۔۔؟ بالکل ویسے لیجئے گا جیسے آپ نے اس دن پہنے تھے جب آپ دلہن بنی تھی نا۔۔ پاپا ہم ماما کے دلہنوں والے کپڑے لیں گے۔۔ ہیں نا۔۔؟‘‘ وہ شہباز کے ساتھ ساتھ اس کا بھی سر کھا رہا تھا ۔ عیشہ ایک دم خفت سے دو چار ہوئی۔
’’فوزی چپ کر کے بیٹھو۔۔‘‘ اس نے ٹوک دیا۔ بڑی باتیں کرنی آ گئی ہیں تمہیں۔۔‘‘ شہباز حیدر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ، سرخ خفت سے دوچار چہرے پر برہمی کے آثار تھے ۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھی شہلا ، عیشہ کے فوزان کو ڈانٹنے پر ہنس دی۔
’’بھلا بچے بیچارے کو کیوں ڈانٹ رہی ہو۔۔ اس میں اس کا کیا قصور ۔۔؟‘‘
’’بڑا تیز ہوتا جا رہا ہے یہ۔۔‘‘ منہ بسورتے فوزان کو دیکھ کر اس نے اپنی خفت مٹائی تھی ، ہلکی سی چپت لگائی تھی، اس کا منہ پھول گیا۔
’’مجھے نہیں بیٹھنا آپ کے پاس ۔۔ گندی ہیں ۔۔ ڈانٹتی ہیں ، پاپا! ماما گندی ہیں۔۔‘‘ فوزان کو ڈانٹ کا بڑا پتا تھا ، فوراً واک آئوٹ کر جاتا تھا ، اب بھی عیشہ کے ڈانٹنے پر برے برے منہ بناتا اس کی گود سے نکل کر شہباز کی گود میں جا بیٹھا تھا ۔ شہباز نے گاڑی ڈرائیو کرتے اس کے گرد بازو لپیٹ کر سیدھا کیا تھا، پھر مسکرا کر دیکھا۔ عیشہ چپ کر کے باہر دیکھنے لگی۔ شہلا نے اپنی ضروری شاپنگ کرنی تھی ، اس نے وہ کی تھی۔ شہباز حیدر نے فوزان کے لیے کچھ کپڑے کھلونے اور ضروری چیزیں لی تھیں ، پھر سردیوں کا موسم تھا ، اسی مناسبت سے کپڑے خریدے تھے ، شہلا کے بار بار کہنے پر بھی عیشہ نے کچھ نہیں لیا تھا ۔ یہ نہیں تھا کہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے ، دادا جان واجد صاحب ، دادی امی ، سب ہی اسے اکثر پیسے دیتے رہتے تھے ، اس وقت بھی اچھے خاصے پیسے تھے مگر دل جب نہ مانتا ہو تو کچھ چیزبھی اچھی نہیں لگتی ، شہباز حیدر ہوتے تو شاید کچھ لے لیتی مگر اب دل میں کوئی جزبز نہ تھا ، پھر اس کے پاس اچھے خاصے کپڑے موجود تھے ۔ نکاح کے لیے پانچ چھ اچھے خاصے قیمتی فینسی ڈریس چچی جان نے بنوائے تھے ، وہ بغیر چھوئے پڑے ہوئے تھے ، وہ مطمئن تھی ، کہ ان میں سے کوئی ایک پہن لے گی ۔ وہ دونوں جیولری کی دکان میں تھیں ، جب شہباز فوزان کو ان کے پاس چھوڑ کر خود چلا گیا تھا ، ایک گھنٹے کے بعد ان کی آمد ہوئی تھی ، ان کے ہاتھ میں کئی شاپرز تھے ، شاید انہوں نے اپنے لیے شاپنگ کی تھی ، شہلا کی شاپنگ مکمل تھی ، صرف شہباز کا انتظار تھا ، شام ہو رہی تھی ، عیشہ کا بھوک سے برا حال ہو رہا تھا ، صبح سے پیٹ میں سلائس اور ایک چائے کے کپ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ، اوپر سے یہ بازار کی خریداری ۔۔ سارا دن باہر گزار کر اب اس کا جسم درد سے چُور ہو رہا تھا ۔
واپسی میں شہباز ان کو ایک ریسٹورنٹ میں لے آئے تھے ، عیشہ سیدھا گھر جانا چاہتی تھی ، اسے ہوٹلوں کی یہ عیاشی کبھی اچھی نہ لگی تھی مگر اب کیا کہہ سکتی تھی ، اس نے شہباز حیدر سے کبھی نہ بولنے کی قسم کھائی تھی ، بھوک سے برا حال ہونے کے باوجود عیشہ واجد نے ایک لقمہ بھی نہیں لیا تھا ۔ فوزان شہلا نے اس سے کتنی مرتبہ کچھ نہ کچھ کھا لینے کا اصرار کیا تھا ،مگر پانی کے ایک گلاس کے علاوہ اس نے حلق سے کچھ بھی نہ اتارا تھا ۔ شہباز حیدر اسے فوزان کی وجہ سے اپنی زندگی میں شامل کرنے پر مجبور ہوا تھا ، وہ جان گئی تھی سو اس نے خود کو فوزان کی حد تک محدود کر لیا تھا ، وہ اس شخص کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتی تھی ، واپسی کا سفر وہ شام کے ملگجے اندھیرے میں کچھ نہ کچھ کھوجتی رہی تھی ۔ فوزان اس کی گود میں تھا ، وہ سارے دن کی تھکن کی وجہ سے سو چکا تھا ، شہلا اور شہباز کوئی نہ کوئی بات کرتے رہے تھے ، جبکہ وہ بالکل گم صم تھی ۔ آج شہباز حیدر جب تک ان کے ساتھ تھا قدم قدم پر اس کی موجودگی عیشہ کو ڈسٹرب کرتی رہی تھی مگر اس موجودگی میں بھی لاتعلق تھی اور اسی لاتعلقی نے عیشہ واجد کے اندر کی رہی سہی طاقت بھی سلب کر لی تھی گھر آ کر اس نے سوئے ہوئے فوزان کو اُٹھا کر سنبھال کر گاڑی سے قدم باہر رکھے تھے ۔ جب شہباز نے دوسری طرف آ کر اس کے بازوئوں سے فوزان کو لے لیا تھا ، وہ لب بھینچ کر اپنا بیگ کتابیں اور فائل لے کر سیدھی اپنے کمرے کی طرف آئی تھی ، جو اس گھر میں اس کے لیے مخصوص تھا ۔ شہباز حیدر فوزان کو اُٹھائے دوسرے ہاتھ میں مختلف شاپنگ بیگز بھی بستر پر ڈھیر کیے ۔ ان سب میں فوزان کی شاپنگ تھی مگر سبز رنگ کا وہ شاپنگ بیگ اُٹھا کر شہباز نے اس کی طرف بڑھایا تھا ، وہ حیران ہو کر دیکھنے لگی ۔ ’’یہ میں نے تمہارے لیے خریدا تھا۔۔‘‘ عیشہ کے ہونٹوں پر تلخی آ ٹھہری۔
’’کیوں۔۔‘‘
شہباز نے بغور دیکھا ، اس دن کی رونی بسورتی عیشہ کے برعکس کچھ مختلف سی لگی۔
’’فوزان کے لیے کی تھی تو ظاہر ہے تمہارے لیے بھی کی ہے۔۔ کیوں کا کیا سوال۔۔؟‘‘ انہوں نے رعب سے کہا تھا مگر وہ ان کے رعب میں اب نہیں آنے والی تھی۔
’’پلیز مجھ پر یہ احسان کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔ اپنا یہ شاپنگ بیگ اُٹھا ئیں اور لے جائیں۔۔ مجھے آپ کی یہ خیرات نہیں چاہیے ۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ غصے سے پھنکاری تو شہباز نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے ان کا ازلی غصہ عود کر آیا۔ خاص طور پر خیرات کے لفظ پر ۔
’’جی الحمدللہ۔۔ مکمل ہوش و حواس میں ہوں اور مجھے اپنی اوقات بھی اچھی طرح یاد ہے۔۔ میں نے اپنی سی پوری کوشش کی تھی کہ بھولے سے بھی آپ کے منہ لگنے کی کوشش نہ کروں مگر آپ مجبور کرتے ہیں۔۔ میرے لیے میرے باپ کا پیسہ کافی ہے۔ آپ اپنی یہ ’’خیرات ‘‘ کسی اور کی جھولی میں جا کر ڈالیں۔۔‘‘ وہ تو دو دھاری تلوار بنی ہوئی تھی ۔ شہباز حیدر غم و غصے سے دیکھے گئے۔
’’عیشہ ۔۔‘‘ خیرات کے لفظ پر وہ بری طرح دھاڑے تھے ، وہ سر جھٹک گئی۔
’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ مجھے اپنے گھر والوں کی وجہ سے فوزان کی وجہ سے اپنانے پر مجبور ہوئے ہیں، اور میں صرف فوزان کے لیے مخصوص ہوں۔۔ آپ کے نزدیک میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔ تو اب یہ عنایت کیوں۔۔ اس لیے کہ آپ اپنے بیٹے کے حصے کی بچی کھچی خیرات میری جھولی میں ڈال کر احسان کرنا چاہتے ہیں۔۔میں نے تو اس دن کے بعد آپ کی راہ میں آنا ، آپ کی طرف دیکھنا تو دور کی بات ، اس راہ پر آنا تک چھوڑ دیا ہے۔۔ جہاں مجھے گماں گزرتا ہے کہ آپ کی موجودگی ممکن ہے۔۔ تو پھر یہ عنایت کیوں۔۔؟‘‘
شہباز حیدر غصے سے اسے دیکھے گئے۔
’’بس تمہارا دماغ خراب ہے ، خناّس بھرا ہوا ہے اس میں اور کچھ نہیں۔۔‘‘ غصے سے شاپنگ بیگ بستر پر پٹختے وہ باہر نکل گئے تھے کہ عیشہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر وہ شاپر اُٹھا یا تھا ، ان کے پیچھے لپکی تھی ، وہ بغیر رکے اپنی گاڑی کی طرف چل رہے تھے۔
’’کیا ہوا۔۔؟‘‘ وہ بھی تیزی سے ان کے پیچھے بھاگی تو پیچھے سے شہلا نے آواز دی مگر وہ پلٹے بغیر ان تک پہنچی تھی ، وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکے تھے۔
’’مجھے اس خیرات کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔۔ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے۔۔ نہ ہی مجھے آپ کی اس نام نہاد نفرت کی ضرورت ہے ، جس کا راگ آپ الاپتے رہتے ہیں ، اتنی ہی بری لگتی ہوں تو مجھے میری ذات کو تسلیم کرتے ہوئے میری برائیوں کا ذکر کریں۔۔ میں اُف کر گئی تو کہیے گا۔۔ مگر اس بے وجہ کا ٹھکرائے جانا برداشت نہیں کروں گی۔۔ اپنے جذبوں سے ہار کر آپ کا نام مقدر میں لکھوایا ہے تو اس خیرات سے بڑھ کر حق طلب کرنے کا حق رکھتی ہوں۔۔ اگر دینی ہی ہے تو مجھے میری وہ عزت دیجئے ، جو بیوی ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے، یہ خیرات نہیں۔۔‘‘ ان کی طرف آ کر کھڑکی میںجھک کر سب کہہ کر شاپنگ بیگ اندر پھینک کر وہ رکی نہیں تھی ، تیز رفتاری سے پلٹ بھی گئی تھی ۔ وہ گم صم ، حواس باختہ حیرت زدہ دیکھتے رہ گئے تھے۔
X X X

اقرار گئے، انکار گئے، ہم ہار گئے
جینے کے سب آثار گئے، ہم ہار گئے
کچھ یادیں اس کی سیج سمندر ڈوب گئیں
کچھ سپنے اپنے رہ اس پار گئے ہم ہار گئے
اک عمر رہے ہیں جیت سے بے پروا لیکن
جب جیتنا چاہا جیون وار گئے ہم ہار گئے
وہ ابھی تک حیرت زدہ پریشان اور گم صم تھے۔ وہ جس لڑکی کو کبھی کسی خاطر میں نہیں لائے تھے، جسے ہمیشہ ڈانٹ کر کم عقل ، نادان لڑکی سمجھتے رہے تھے ، وہ ہی ان کی شکست کا باعث بنتی جا رہی تھی ، اور وہ بھی بری طرح حیرت زدہ تھے ۔ ابھی تک گم صم تھے ، سمجھ نہیں پا رہے تھے ، جو حفاظتی بل باندھتے آ رہے تھے، وہ ایک دم کیوں ٹوٹتے جا رہے ہیں۔۔ ان دیکھی خواہشیں ، جذبوں کا منہ زور ریلا ان حفاظتی بندھوں اور تختوں کی پروا کیے بغیر اب سب کچھ بہا لے جانا چاہ رہا تھا ۔ کیوں۔۔وہ ایک دم اچانک کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔۔ جذبے اس قدر منہ زور تھے ، یا حفاظتی اقدامات بے حیثیت تھے ، وہ ابھی تک حیرت زدہ تھے۔ وہ سچ مچ ہار رہے تھے ، یا ابھی کوئی موقع باقی تھا۔ گزرے لمحوں کا حساب کرتے وہ خود سے بھی بے پروا ہو رہے تھے۔
کل شہلا کی رسم منگنی تھی ، اس وقت سب اِدھر گئے تھے مگر وہ بہت چاہنے کے باوجود اِدھر نہیں جا سکے تھے ، اِدھر وہ تھی ان کی شکست کا سامان۔۔ جسے انہوں نے بار ہا رُلایا تھا ، اور خوب رُلایا تھا ، جسے اپنے لفظوں جملوں ، طنز کے نشتروں سے بار ہا گھائل کیا تھا ، جو ہر بار ان کے ہاتھوں بری طرح تختہ مشق بنتی تھی ، ہتک کے ساتھ ذلت کا احساس اُٹھاتی تھی۔ اپنے اندر کے کسی ہار جانے والے خدشے کے سر اُبھارنے سے پہلے ہی وہ اسے بے عزت کر کے رکھ دیتے تھے ، اور پھر بھی دل مطمئن نہ ہو پاتا تھا ، ہار تو جیسے نصیب میں لکھی جا چکی تھی ، وہ اس کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی ، وہ ان کی بن چکی تھی ، وہ ان کی زندگی میں اپنا نام منوا چکی تھی ، پھر بھی وہ اسے ٹھکرا دیتے تھے ۔ ہر بار دھتکار دیتے تھے ، اور ہر بار دھتکار دینے کے بعد خود بھی تکلیف سے دو چار ہو جاتے تھے کہ ان کی طبیعت کا رنگ نہ تھا۔
وریشہ عبداللہ ان کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی ، جو صرف ان کی تایازاد ہی نہیں ، محبت بھی تھی ، اور پھر وہ ان کی زندگی میں ایک خاص رشتے سے داخل بھی ہو گئی ۔ لیکن اس کی زندگی نے وفا نہ کی ، تین سال کے مختصر وقفے میں ان کی زندگی میں گل و گلزار کے باغات آباد کرنے کے بعد بے آباد بھی کر گئی۔ وریشہ کے بعد وہ ٹوٹ کر بکھرے تھے ، وقت سب سے بڑا مرہم ہے، فوزان کو عیشہ نے سنبھال لیا اور وہ اپنی ذات میں گم ہوتے چلے گئے ، گھر والوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شادی کا اِصرار بڑھا تو انہوں نے چپ اوڑھ لی۔ وریشہ کے بعد ان کا دل مردہ سا ہو گیا تھا ، پھر اصرار بڑھا تو انہوں نے فوزان کا بہانہ کر کے ٹالنا شروع کر دیا ۔ وقت رکنے کا نام تو نہیں۔۔ ہر زخم کا علاج ممکن ہے اور قدرت نے ان کے سامنے عیشہ واجد کو لا کھڑا کیا، جو ہو بہو وریشہ کی کاپی تھی ۔ شکل و صورت سے لے کر عادات و اطوار میں بھی اس جیسی، وہ سارے خاندان کی ہر دلعزیز اور محبوب لڑکی تھی۔ مگر باپ کی طرف سے بے اعتنائی کا شکار۔۔واجد صاحب اس کا ہر لحاظ سے خیال رکھتے تھے مگر اولاد کو جو خصوصی توجہ والدین سے ملتی ہے ، وہ دینے سے رہ گئے تھے۔ اس بات کا احساس سب کو تھا ، اور سبھی اس کا خاص خیال رکھتے تھے ، وہ پڑھنے کی شوقین تھی ، سو ہر کسی نے اس کی پڑھائی کا خاص خیال رکھا تھا ، وہ فوزان کے معاملے میں حد سے زیادہ حساس اور ٹچی تھی تو سب نے اسے فوزان کی ذات میںگم ہونے سے نہیں روکا تھا۔ اور شاید یہیں سے غلطی کی ابتداء ہوئی تھی ، اور جب شہباز حیدر کو غلطی کی سنگینی کا احساس ہوا ، وقت بہت گزر چکا تھا ، عیشہ واجد کے دل و دماغ میں ایک واضح تشبیہ اُتر آئی تھی ، اور جب انہیںاپنے شک کے یقین ہونے پر مہر ثبت ہوئی تو انہوں نے حفاظتی اقدامات کرنے شروع کر دیے تھے ۔ وہ اس ننھی سی لڑکی سے ڈر گئے تھے ، جس کی گہری آنکھوں کے سمندر میں ان کی شکست کا سامان کرنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے ۔ انہیں لگتا تھا کہ جسے وہ ان کی ذات کے گرد کھڑی بلند و بالا فصیلوں کو ڈھانے کے چکر میں ہے اور ہر بار اس سے سامنے کے بعد وہ اپنے گرد موجود فصیلوں کو مزید بلند کر لیتے تھے ، وہ پتھر نہیں تھے مگر خود کو پتھر بنانے پر مجبور تھے۔ وہ بے حس نہیں تھے ، مگر اپنی بے حسی کا مظاہرہ کرنے میں ہی انہیں عیشہ واجد کی بھلائی دکھائی دے رہی تھی ، ایسے میں فوزان کا اس سے حد سے زیادہ لگائو ، وہ جتنی بھی کوشش کرتے کہ فوزان کی توجہ اس کی ذات سے ہٹ کر اپنی طرف مبذول کروالیں ، انہیں اس قدر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ اور وہ ایک ماہ جو انہوں نے انکشاف کے بعد فوزان کو اپنی طرف ملتفت کرنے میں گزارا تھا ، وہ ایک ماہ بھی بیکار گیا ، انہیں اس رات اپنی حماقت کا شدید احساس ہوا جب انہوں نے بہلا پھسلا کر فوزان کو اپنے پاس سلانے پر راضی کر لیا تھا ، مگر آدھی رات کو اُٹھنے کے بعد فوزان کا رونا دھونا ، وہ سخت اذیت سے دو چار ہو گئے تھے۔ وہ ایک ماہ کا عرصہ جو انہوں نے فوزان کے لیے ہر کام کو پس پشت ڈال کر گزارا تھا ، عیشہ کے ساتھ گزارے چھ سالوں کی تربیت و عادت کو بدلنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا ۔ وہ لڑکی فوزان کی صورت میں ان کی سب سے بڑی شکست بن کر سامنے آئی تھی ، وہ تلملا کر رہ گئے تھے ، اس تصور سے ہی ان کا بیٹا ہی ان کے قابو میں نہیں آ رہا ۔۔ اور اسی رات اس کے کمرے تک جاتے ہوئے فوزان کو اس کے بازو ئوں میں دیتے ہوئے ، اسے تلخی سے دیکھتے ہوئے غصے سے اس پر اپنے با خبر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر لمحے اپنے ہار جانے کا دھڑکا لگا تھا ، اور اس دھڑکے نے انہیں مزید تلخ کر دیا تھا ، اور اگلی صبح جب وہ ان کے سامنے کھانے کی ٹرے لے کر آئی تھی ، وہ پھر اس خوف سے جکڑتے چلے گئے تھے کہ یہ لڑکی باقاعدہ ان کی شکست کا اہتمام کرنے سامنے آ چکی ہے ، تب انہوں نے اندر کی تلملاہٹ ، خوف ، ہار جانے کے ڈر کو اپنے غصے ، اپنی تند مزاجی میں لپیٹ کر اس لڑکی کو بری طرح نفرت کا اظہار کرتے دھتکار دیا تھا ، کچھ عیشہ واجد کے بھر پور صاف اظہار نے اس کے اندر آتش فشاں کو گویا بارود دکھا دیا تھا ، وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں مگر خود کو کچھ بھی تلخ نفرت انگیز کہنے سے باز بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔ اور تب تو حد ہی ہو گئی تھی جب انہوں نے عیشہ کے منہ پر اپنا ہاتھ اُٹھتا دیکھا تھا ۔
’’پلیز شہباز۔۔میرے ساتھ یوں پیش نہیں آئیں۔۔ مجھے اتنی نفرت سے مت دھتکاریں ، میں آپ کو کب مجبور کر رہی ہوں کہ میری محبت قبول کریں، کم از کم فوزان کے لیے تو اپنی زندگی میں اتنی جگہ دے دیں۔۔ قسم سے سارے زندگی کچھ نہیں مانگوں گی۔۔مگر آپ کی نفرت نہیں سہہ سکتی ۔۔ پلیز شہباز۔۔‘‘ وہ اس کا نام لے کر انہیں پکار رہی تھی ، جس لڑکی کو انہوں نے ہمیشہ اپنی بھتیجی کے روپ میں دیکھا تھا ، اس کے منہ سے یہ اظہار ، یہ التجا کیسے برداشت کر لیتے ۔ وہ بری طرح رو رہی تھی ، سسک رہی تھی ، وہ کمرے سے نکل گئے تھے اور پھر وہ سارا دن انہوں نے بہت اذیت میں گزارا تھا ، اس لڑکی کے آنسو ان کے پائوں کی زنجیر بننے کو بے تاب تھے، اس کی سسکیاں ان کے دل سے گرد بلند و بالا فصیلوں کو ڈھانے کے درپے تھیں اور اس کا ہر انداز ان کو گھائل کرنے کو کافی تھا ۔ وہ سارا دن بہت مضطرب رہے تھے ، رات کو لیٹ آئے تھے ، اگلے دن جب اس کو ہوش و حواس سے بیگانہ بخار میں پھنکتا دیکھا تو وہ سب کچھ بھول بھال گئے تھے ۔ ہاسپٹل میں اپنے باپ کے ساتھ خوار ہوئے ، ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگتے انہیں ایک دم احساس ہوا تھا کہ یہ لڑکی اتنی کمزور نہیں جتنی وہ سمجھ رہے ہیں ، وہ لڑکی تو ان کی شکست کا پورا اہتمام کیے ہوئے تھی ، بخار سے وہ نچڑ کر رہ گئی تھی ، ہوش میں آنے کے بعد وہ ان کی طرف دیکھنے سے اجتناب کر رہی تھی ، تو وہ خود بھی اس کا سامنا کرنے سے بچ رہے تھے ، وہ رات انہوں نے اپنے گھر اپنے کمرے میں فوزان کے ساتھ گزاری تھی ۔ اور پھر اس لڑکی کا ہر روّیہ ، ہر انداز یاد کرتے انہیں ندامت کا احساس ہوتا جا رہا تھا ، کم از کم انہیں اس کے ساتھ اس قدر سختی سے پیش نہیں آنا چاہیے تھا ، گویا ان کے اندر کا انسان موم ہو رہا تھا ۔
عیشہ ہاسپٹل سے آنے کے بعد اپنے باپ کے پاس چلی گئی تھی ، وہ کبھی واجد صاحب کے ہاں ایک دن سے زیادہ نہیں رہی تھی ، اسے چار دن ہو گئے تھے وہاں گئے ہوئے ، فوزان اس کے بغیر بڑا تنگ کر رہا تھا ، انہوں نے قیوم کو اسے لینے کو بھیجا تھا ، مگر وہ نہیں آئی تھی ، انہیں خوش ہونا چاہیے تھا کہ وہ ان کے کہنے کے مطابق ان کے بیٹے کی زندگی میں معاملات سے دور ہو رہی ہے، مگر متفکر ہو گئے تھے ۔ دو دن تک فوزان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی مجبوراً انہیں خود جانا پڑ ا تھا ، وہ آ گئی تھی ، انہوں نے اسے سختی کے ساتھ باور کروا دیا تھا کہ وہ اسے صرف اور صرف فوزان کی وجہ سے اہمیت دینے پر مجبور ہے۔ وہ رو دی تھی ، اور گھر آ کر اس نے فوزان کو سمیٹ لیا تھا ، اگلے ہی دن وہ بھلا چنگا ہو گیا تھا ، ان کے اندر آندھیاں سی چلنا شروع ہو گئی تھیں۔ اور انہی دنوں اس کے اندر عیشہ واجد کو پس منظر سے غائب کر دینے کی تحریک ایسی اُبھری کہ وہ جاوید صاحب کے ہاں چلے گئے ، وہ ان کے والد اور تایا ابا کے دیرینہ دوست تھے ، انہوں نے انہیں اپنے بیٹے محسن جاوید کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ دکھانے کی بات کی تھی ، وہاں جا کر عیشہ سے بار ہا مل چکے تھے ، بہت خوش ہوئے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔۔ ان کا مقصد عیشہ کو جلد از جلد اپنی اور فوزان کی زندگی سے دور کرنا تھا ، وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی تھے، اگر عیشہ واجد خود جا کر محسن جاوید کو انکار نہ کر دیتی ، انہوں نے محسن جاوید کے آفس کے باہر کھڑے ہو کر عیشہ جاوید کے انکار کو سنا تھا ، جی چاہ رہا تھا کہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس لڑکی کا چہرہ سرخ کر دیں ، وہ کون ہوتی تھی ان کے ہر عمل کو ناکام بنا نے والی ۔۔ وہ بہت مشکل سے خود پر قابو کر پائے تھے ، اس نے صرف محسن جاوید کے رشتے سے ہی انکار نہیں کیا تھا بلکہ اگلا آنے والا رشتے بھی اس کے لیے پریشانی کا باعث بن چکا تھا ۔ اور اس رات وہ پھر ان کے سامنے کھڑی تھی ، جس طرح وہ انکار کر رہی تھی ، جس طرح وہ اپنی محبت کو پیش کر رہی تھی ، وہ ہکاّ بکاّ رہ گئے تھے، ان کا خیال تھا کہ ان کے رویّے سے دلبرداشتہ ہو کر وہ کچھ نہ کچھ عقل کا دامن ضرور تھامے گی مگر الٹا ہو رہا تھا ، ان کے ہر عمل کا رد عمل انتہائی شدید تھا، وہ ایک دفعہ پھر خود پر قابو نہ کر پائے تھے ۔ غصے سے اس کی کچھ کھا لینے کی دھمکی پر اشتعال میں آ کر کمرے سے نکال دیا تھا ۔ وہ روتے ہوئے دروازہ پیٹ رہی تھی ، انہیں پکار رہی تھی ، میں مر جائوں گی ۔۔ اس کی آواز سے بھی لگ رہا تھا مگر انہوں نے خود کو پتھر بنا لیا ، ان کی ذرا سی نرمی بھی ان کے اپنے لیے نقصان دہ تھی۔
اگلے دن ان کا خیال تھا کہ وہ تایا جان سے اس رشتے کو فائنل کر لینے کی بات کریںگے ، جانچ پڑتال وہ کر چکے تھے ، رشتہ ہر لحاظ سے مناسب تھا ، مگر وہ وقت نہ ملنے پر بات نہ کر سکے ، رات لیٹ آئے تھے ، سب سو چکے تھے ، امی نے ہی کھانا لا کر دیا تھا ، ابھی کھانا کھا کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ امی نے وہ بات شروع کر دی تھی جس نے ان کو بد حواس کر دیا تھا ۔ ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا کہ قدموں تلے سے زمین سرک چکی ہے ، وہ امی کی تجویز پر برہم ہوئے تھے ، ہزار ہا اعتراضات کیے تھے، ہر ممکن بچنے کی کوشش کی تھی مگر اس بار امی بھی لگتا تھا کہ پوری تیاری کے ساتھ آئی تھیں ، وہ اپنا فیصلہ سنا کر جا چکی تھیں اور ان کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا ، اگلی صبح انہوں نے عیشہ کے کمرے میں جا کر اپنا سارا غصے نکالا تھا ، وہ پھر رو دی تھی ، وہ ہر بار اسے بری طرح رلا دیتے تھے ۔ اور پھر اس کے پھُوٹ پھُوٹ کر رونے پر مزید غصہ آنے لگتا تھا ۔
وہ وضو کر کے فارغ ہوئی تھی ، صبح کے وقت اپنے گیلے چہرے سمیت وہ اوس سے ڈھکا کوئی گیلا گلاب ہی محسوس ہوئی تھی ، ایک دفعہ پھر ان کا دل ان کے سامنے ڈٹ گیا تھا مگر انہوں نے دل کو ڈانٹ کر عقل کا دامن نہیں چھوڑا تھا، اسے سخت سست سنا کر آ گئے تھے۔ اور پھر ان کے بے پناہ اختلاف کے باوجود یہ رشتہ طے پا گیا تھا ، ابو نے ان سے اتنے سلجھے ہوئے انداز میں بات کی تھی کہ وہ بہت خواہش کے باوجود انکار نہ کر پائے تھے ، اور پھر تلملا کر رہ گئے تھے۔
ان کے والدین تو جیسے منتظر ہی تھے، فوراً نکاح کی تقریب منعقد کر کے یہ رشتہ ہمیشہ کے لیے مضبوط کر لیا تھا ، اسٹیج پر بیٹھی عیشہ واجد جو کہ اب عیشہ شہباز حیدر بن چکی تھی ، عروسی لباس میں بے پناہ حسین لگ رہی تھی ، ادھر اُدھر بھٹکتے ان کی نگاہ بار ہا اس کے چہرے پر چپک گئی تھی ، وہ اپنے آپ کو ہر بار ڈانٹ دیتے تھے ، مگر اسے دیکھنے سے باز نہیں آتے تھے ۔ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ انہیں اپنے اوپر سے اختیار اُٹھتا محسوس ہوا تھا ۔ اس وقت عیشہ انہیں بالکل وریشہ کی طرح ہی لگی ، وہی رخسار ، وہی نین نقش ، وہی قد و قامت ۔۔ وہ جو صبح مہوش قیوم کے کمرے سے گزرتے ہوئے ان کی باتیں سن کر خفا تھے، بس موقع کی تلاش میں تھے کہ وہ عیشہ کو اس سلسلے میں باز پرس کریں۔۔ انہوں نے مہوش سے عیشہ سے کوئی بات کرنے کو کہا تھا ، مہوش نے انہیں تنگ کرنا چاہا تھا مگر انہوں نے سختی سے ٹوک دیا تو وہ بھی سنجیدہ ہو گئی اور عیشہ سے ملنے کا اہتمام کر دیا تھا ، وہ اس کے کمرے میں آئے تو وہ آنکھیں بند کیے نیم دراز سی تھی ، اس کو دیکھ کر ان کے اندر وہی کیفیت اُبھری تھی، جو کچھ دیر پہلے ان کے اندر تلاطم برپا کر چکی تھی ۔ وہ ان لمحوں میں بڑی مشکل سے خود پر قابو کر پائے تھے ، انہوں نے فوراً مہوش کی بات والا کھاتا کھول لیا تھا ، اور تبھی انہیں علم ہوا کہ یہ ساری سازش مہوش کی ہے ، وہ کچھ نہیں کہہ سکے تھے، ایک دفعہ پھر اسے غصے سے بری طرح سنا کر وہ چلے گئے تھے ۔ اور پھر ان کی زندگی کا اک نیا باب کھلا تھا ۔
ہر بات ، ہر معاملے میں عیشہ واجد ان کے سامنے ہوتی تھی ، اس دن اس کو یونیورسٹی میں ڈراپ کرتے ہوئے انہیں بظاہر امی پر غصہ تھا ، ناراضگی تھی ، انہوں نے جس طرح اس کے اعتراضات کو خاطر میں لائے بغیر یکطرفہ فیصلہ کرتے نکاح کروایا تھا وہ ان سے ناراض ہی تھے ، وہ ان کی ناراضگی سے اچھی طرح باخبر تھیں ، اسی لیے انہوں نے عیشہ کو ان کے ساتھ لے جانے پر کیا تھا۔
انہیں امی کی بات پر ایک دم غصہ آیا تھا ، وہ اس طرح کیا ثابت کروانا چاہتی ہیں، یعنی کہ وہ اتنا کمزور ہے کہ جس بات کو وہ اب تک ’’انکاری‘‘ ہے ، عیشہ کے چند پل کے ساتھ سے وہ’’ہاں‘‘ ہو جانے کیاانہیں امی کی سوچ پر غصہ تھا ، اور یہ غصہ انہوں نے سارا عیشہ پر اُتارا تھا ، وہ ایک روز پھر اسے رونے پر مجبور کر گئے تھے ، وہ رو رہی تھی ، انہیں تکلیف پہنچ رہی تھی ، وہ نجانے اتنے کمزور ہوتے چلے گئے تھے کہ اب یہ لڑکی انہیں اپنے وجود کا احساس بری طرح دلا رہی تھی ، اور جس طرح گاڑی سے نکلنے کے بعد ان کے پاس گئی تھی وہ حیرت زدہ رہ گئے تھے ۔ وہ کتنے دنوں تک خود کو اپنے اس برے روّیے پر ملال کا شکار ہونے سے نہیں روک پا رہے تھے، پھر وہ شہلا کی منگنی کی وجہ سے ایک ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہی واجد صاحب کے ہاں جا بیٹھی تھی ، فوزان بھی اس کے ساتھ ہی گیا تھا ۔ اس دوران انہیں بڑی شدت سے دونوں کی کمی محسوس ہوئی تھی ، اس نے انہیں پتھر کہا تھا ، اور پتھر پگھل رہا تھا ، وہ خود بھی حیرت زدہ تھے ، جس شکست سے وہ ڈرتے تھے وہ ان کا مقدر بننے کو بس چند قدم کے فاصلے پر تھی ۔ وہ ہار رہے تھے ، انہیں اندازہ ہو رہا تھا ۔ جس انا کے سامنے وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ تھے ، وہ انہیں مجبور کر رہی تھی ۔ وہ فوزان کو چھوڑنے واجد صاحب کے ہاں گئے تھے ۔ وہ اتفاق سے اس دن جلدی گھر آ گئے تھے، شہلا انہیں بازار لے جانے کا کہہ رہی تھی ، وہ فارغ ہی تھے ، سو مان گئے تھے ، راستے میں ہی شہلا اسے عیشہ کو بھی یونیورسٹی سے پِک کرنے کا کہا تھا ۔ وہ حیران تو ہوئے تھے مگر اظہار نہ کیا۔۔ انہیں وہاں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا تھا ، اور پھر وہ آ گئی تھی ، شہباز حیدر کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ تھی ، وہ اچھی طرح اس کی حیرت پڑھ رہے تھے ۔ انہوں نے سلام کیاتو وہ صرف حیرت سے سر ہلا کر رہ گئی تھی ۔ وہ ان کے پہلو میں تھی ، لا تعلقی کا اظہار کرتی ہوئی مگر لا تعلق نہیں تھی۔ سائیڈمرر سے اس کے چہرے کی تکان وہ صرف پڑھ سکتے تھے ، فوزان اس کے پاس آگے آ گیا تھا ۔ اس سے باتیں کر رہا تھا ، تبھی اس کی بات پر اس نے ڈانٹ دیا تو انہوں نے بغور دیکھا تو وہ فوزان کی بات پر خفت کا شکار تھی ۔ ان کے اندر ایک عجیب سی کیفیت نے سر اُبھارا تھا۔ بڑی خوبصورت لگ رہی تھی ، وہ خود بھی حیران تھے۔
شاپنگ کے دوران اس نے کچھ بھی نہیں لیا تھا ، فوزان کی شاپنگ میں اس نے ان کی مدد کی تھی، شہلا اور فوزان اسے کچھ نہ کچھ لینے کو کہہ رہے تھے مگر وہ انکار کر گئی تھی اور تبھی وہ ان کو جیولری والی دکان پر چھوڑ کر چلے گئے تھے ، کچھ اپنے لیے اور کچھ اس کے لیے شاپنگ کی تھی ۔ اور پہلی بار وہ مطمئن تھے، پہلی بار ان کا روّیہ مثبت تھا ، اور پہلی بار اپنی شکست کے خوف سے ان کے اندر غصے کے طوفان نے سر نہیں اُبھارا تھا ، اور پہلی بار ان کو اپنی یہ کیفیت اچھی نہیں لگ رہی تھی ، انہیں عیشہ اچھی لگ رہی تھی ، فوزان کا عیشہ کے لیے یہ لگائو اچھا لگ رہا تھا ۔وہ تھک گئی تھی ، وہ محسوس کر رہے تھے ، وہ خود بھی تھکن محسوس کر رہے تھے ، وہ بھوکی تھی ، انہیں احساس ہو رہا تھا ، اسی لیے وہ ان تینوں کو اس ریسٹورنٹ میں لے آئے تھے ۔ اس نے ان کے ساتھ آنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔ وہ خوش ہو رہے تھے ، جس طرح اس عیشہ کا لاتعلقی کا روّیہ تھا ، وہ اس کی طرف سے کچھ خوفزدہ تھے مگر ان کی خوشی اس وقت ملیا میٹ ہوئی تھی جب ٹیبل پر کئی ڈشز کی موجودگی کے باوجود اس نے صرف پانی کا گلاس لیا تھا ، وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھتے رہے تھے ، شہلا اور فوزان اسے بار بار کچھ نہ کچھ لینے چکھنے کا اصرار کر رہے تھے ، مگر وہ ہر بار سہولت سے انکار کر رہی تھی ۔
’’پلیز نہیں۔۔اس وقت بالکل بھی گنجائش نہیں ۔۔ صبح معمولی سا ناشتہ کیا تھا ، تو کینٹین سے جی بھر کر کھایا تھا ۔۔ ایک برگر دو سموسے اور چائے پی تھی۔۔‘‘ اس کے چہرے سے بھوکا ہونے کے آثار صاف پڑھے جا سکتے تھے، شہباز خاموش ہو گئے تھے ، ان کا دل بجھ گیا تھا ۔
یونیورسٹی ڈراپ کر دینے والے دن سے لے کر اب تک اس کا روّیہ ایسا ہی تھا ، وہ جو ان کو دیکھ کر صرف رو دیتی تھی ، ذرا سی سختی پر فوراً آنکھیں بھر آتی تھی ، ان کے خوف سے وہ ہر وقت خائف رہتی تھی ، یکسر بدل رہی تھی ، وہ ان سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی تھی ۔ ان کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی ، اور سب سے بڑھ کر ان کا منگوایا گیا کھانا نہیں کھا رہی تھی، انہیں اذیت ہو رہی تھی ، مگر چپ تھے، اسے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ سب ان کا اپنا بویا سامنے آ رہا تھا ۔ واپسی پر جب فوزان کو اس کے کمرے میں لٹانے کے بعد انہوں نے فوزان کے سامان کے ساتھ اس کے لیے خریدی گئی چیزوں کا شاپر اس کے سامنے کیا تھا ، وہ کتنی حیران ہوئی تھی ، اور اگلے ہی لمحے وہ طنز پر اُتر آئی تھی ، انہوں نے پہلی دفعہ اس کے لیے بہت خلوص سے کوئی چیز خریدی تھی اور اس نے اسے خیرات کا نام دیا تھا ۔ وہ اس کے لفظ پر ایک دم طیش میں آئے تھے ، وہ اور بھی نجانے کیا کیا بکواس کر رہی تھی ، غصے سے وہ شاپر وہیں بستر پر پھینک کر آ گئے تھے ۔ اور وہ بھی پیچھے چلی آئی تھی ، وہ گاڑی اسٹارٹ کر رہے تھے جب وہ کھڑکی میں جھک کر کہنے لگی تھی۔
’’مجھے اس خیرات کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔۔ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے۔۔ نہ ہی مجھے آپ کی اس نام نہاد نفرت کی ضرورت ہے، جس کا آپ راگ الاپتے رہتے ہیں۔۔ اگر میں آپ کو اتنی ہی بری ، نا قابل قبول لگتی ہوں تو مجھے میری ذات کو تسلیم کرتے ہوئے میری برائیوں کا ذکر کریں۔۔ میںاُف بھی کر گئی تو کہیے گا۔۔ مگر اس بے وجہ کا ٹھکرائے جانا برداشت نہیں گروں گی۔۔ اپنے جذبوں سے ہار کر آپ کا نام اپنے مقدر میں لکھوایا ہے تو اس خیرات سے بڑھ کر حق طلب کرنے کا حق رکھتی ہوں ، اگر کچھ دینا ہی ہے تو مجھے میری وہ عزت دے دیجئے جو بیوی ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے۔۔یہ خیرات نہیں۔۔‘‘ وہ حیرت سے گنگ رہ گئے تھے ، بالکل حواس باختہ ، گم صم ۔۔ اور یہ سکتہ ابھی تک برقرار تھا ۔ اس وقت گھر میں صرف ان کے علاوہ کوئی بھی نہ تھا ، سب واجد کے ہاں گئے ہوئے تھے ، اور انہیں رہ رہ کر وہ یاد آ رہی تھی ، جنہیں ہار جانے کے خوف سے انہوں نے کبھی انسان ہی نہ سمجھا جاتا ، جسے ذلیل کرنے کا کوئی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا۔ جسے ہر لمحہ ہر پل اپنی نفرت سے سلگاتے رہے تھے اور آج اگر وہ ان کے سامنے بجائے رونے دھونے کے پوری عزت و وقار کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی تو وہ حیران رہ گئے تھے ، اس کا یہ روپ ان کو چاروں شانے سے چت کر دینے کو کافی تھا۔
اقرار گئے ، انکار گئے ، ہم ہار گئے
اک عمر رہے ہیں جیت سے بے پروا لیکن
جب جیتنا چاہا جیون وار گئے ہم ہار گئے
وہ لب بھینچ کر رہ گئے ، انہیں آج اپنی یہ مکمل ہار بری نہیں لگ رہی تھی ، نہ ہی اس ہار کے اعتراف نے ان کے اندر تلاطم برپا کیا تھا ، وہ اک میٹھی سی کسک محسوس کر رہے تھے ، ایک دھیمی سلگتی آگ جو انہیں حیات بخش ذائقے سے متعارف کروا رہی تھی ۔ انہوںنے اپنے بستر کی سائیڈ ٹیبل سے البم نکال لیا۔ یہ نکاح کے دن کی تصاویر تھیں جو مہوش بھابی نے ان کو تھمائی تھیں ، انہوں نے غصے سے بغیردیکھے اندر ڈال دی تھیں مگر اب ان تصویروں کو دیکھنے کو دل مچل رہا تھا ۔ ہر تصویر میں اس کا روپ نرالا تھا ، عروسی لباس و میک اپ میں بھاری جیولری سمیت وہ اچھی خاصی دلربا سی لگ رہی تھی ۔ ہر تصویر کو بغور دیکھنے کے بعد ان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی ۔
’’اگر کچھ دینا ہی ہے تو مجھے میری وہ عزت دیجئے جو بیوی ہونے کے ناطے آپ پر فرض ہے ۔۔ یہ خیرات نہیں۔۔‘‘ اپنی تمام تر نا تعلقی کے باوجود وہ اپنے دل کی بات کہنے سے باز نہیں آئی تھی ۔ ان کے اندر اک نشہ سا اُترنے لگا۔
کم عمر لڑکی کی محبت کا واحد حقدار ہونا جو پوری جی جان سے ان پر مرتی ہو۔ اس کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، انہیں احساس ہو رہا تھا ۔ تصویروں کو سائیڈ پر رکھتے وہ ہنس دیے تھے ، آج بہت عرصے بعد وہ دل سے کھلکھلا کر ہنسے تھے ،ورنہ خود کو تو بقول عیشہ کے نام نہاد نفرت کی زد میں رکھ کر بھول گئے تھے۔
’’میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔ میں آپ کے بغیر مر جائوں گی۔۔ پلیز مجھے یوں بری طرح نفرت سے مت دھتکاریں۔۔ ‘‘ کبھی کا کہا روتی بلکتی سسکتی آواز میں یہ جملہ ان کے اندر اک آگ لگا گیا تھا ۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ اس کم عمر دیوانی لڑکی سے کتنی زیادتیاں کر چکے ہیں۔ کسی خیال سے چونک کر انہوں نے واجد صاحب کے گھر کے نمبر ملائے ، کال ریسیو کرنے والی واجد صاحب کی بیگم تھیں ، سلام دعا کے بعد انہوں نے فوزان سے بات کروانے کو کہا تھا ۔
’’السلام علیکم بابا۔۔‘‘ وہ فوراً بات کر رہا تھا ، وہ مسکرا دیے۔
’’وعلیکم السلام ۔۔ کیسے ہو۔۔ ماما کیسی ہیں۔۔؟‘‘
’’ٹھیک ہوں۔۔ ماما شہلا آپی کو مہندی لگا رہی ہیں۔۔‘‘
’’تم سوئے نہیں۔۔ اتنی رات ہو گئی ہے۔۔‘‘ انہوں نے ٹائم دیکھا ، گیارہ بج رہے تھے۔
’’میں سو گیا تھا ، یہاں اتنا شور ہے۔۔ آنکھ کھل گئی تھی۔۔ پاپا آپ کیوں نہیں آئے ۔ یہاں سب ہیں۔۔ بہت مزہ آ رہا ہے۔۔‘‘
’’میں کل آئوں گا۔۔آپ اپنی ماما سے بات کروائیں۔۔‘‘
’’اچھا پاپا۔۔‘‘
تھوڑی دیر بعد عیشہ کی آواز سنائی دی۔
’’ہیلو۔۔‘‘
’’عیشہ۔۔‘‘ وہ رک گئے، ذہن بالکل خالی ہو گیا ۔
’’جی فرمائیے۔۔ کیسے زحمت کی۔۔‘‘ اتنے عرصے میں وہ ان پر طنز کرنا ضرور سیکھ چکی تھی ، انہوں نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’تمہارا ایم ایس سی مکمل ہونے میں کتنے ماہ باقی ہیں۔۔‘‘ سنجیدگی سے پوچھنے پر دوسری طرف موجود عیشہ حیران ہوئی ۔ یہاں بھلا ایم ایس سی کا کیا ذکر ۔۔ وہ بھی اس وقت ۔۔
’’جی۔۔؟‘‘
’’جی ہاں۔۔ کتنے ماہ باقی ہیں۔۔؟‘‘ انہوں نے دوبارہ دہرایا۔
’’تین ماہ بعد ایگزام ہو رہے ہیں۔۔ کیوں خیریت ۔۔؟‘‘ عیشہ حیران تھی کہ رات کے اس پہر اسے اس کے ایم ایس سی سے کیا دلچسپی ہونے لگی کہ یوں کال کر کے پوچھا جا رہا تھا۔
’’میں بھی حساب لگا رہا تھا کہ تین چار ماہ مجھے تمہیں بیوی کے ناطے عزت دینے میں کتنا تکلیف دہ انتظار کرنا ہو گا کہ تمہیں بھی دی گئی عزت خیرات نہ لگے۔‘‘
’’جی۔۔؟‘‘ اب تو عیشہ کے حقیقتاً طوطے اُڑے تھے، کچھ بھی سمجھ نہ پائی تھی ۔یہ شخص اس پر ایسا مہربان ہی کب تھا کہ وہ اعتبار کرتی۔
’’ویسے تمہیں مجھ تک پہنچنے کے لیے فوزان کو قابو کرنے میں مشکل تو بڑی ہوئی ہو گی۔۔‘‘ وہ مزید کہہ رہے تھے ، دوسری طرف عیشہ کو تو گویا پتنگے لگے تھے۔
’’دماغ ٹھیک ہے آپ کا۔۔ فوزان کے سلسلے میں آپ میرے جذبات کی توہین کر رہے ہیں۔۔ ‘‘ وہ کلس کر رہ گئی ، شہباز نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
’’تم نے بھی تو میری کی گئی شاپنگ کی چیزیں قبول نہ کر کے کی ہے۔۔ وہ کس زمرے میں آتی ہے‘‘ وہ اسے صرف ستانے کے موڈمیں تھے ، دوسری طرف عیشہ واقعی برہم ہو گئی۔
’’اور جو آپ میرے ساتھ ایک عرصہ سے کرتے آ رہے ہیں، وہ کس کھاتے میں ڈالیں گے۔۔‘‘ وہ چٹخ ہی تو گئی تھی ، وہ ہنس دیے۔
’’میں تو ایسا ہی ہوں۔۔ منع کیا تھا تمہیں۔۔ اب بھگتو بھی۔۔ اپنے سے بڑی عمر کے شخص سے دل لگائو گی تو یہی حال ہو گا۔۔‘‘
’’آپ کو میرے احساسات کا پتہ ہے ، اسی لیے آپ مجھے دل لگانے کی سزا دے رہے ہیں۔۔ میری قسمت ۔۔ سر پھوڑنے کو بھی مجھے آپ جیسا پتھر ملا تھا۔۔ مگر کب تک ۔۔ کسی نہ کسی دن آپ کو اپنی غلطی کا احساس تو ہو گا۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے حساسیت کا شکار ہوتے اس کی آواز رندھ گئی ۔
’’میں آپ سے جتنا بھی برا سلوک کر لوں، آپ کے برابر نہیں ہو سکتی۔۔ آپ تو ۔۔‘‘ وہ واقعی رو دی۔ شہباز کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا ، کم از کم اب تو رلانے کے موڈ میں نہ تھے ، صرف ستانا مقصد تھا ۔
’’مجھے میری باتوں کے طعنے دے لیں ۔۔ اللہ کرے آپ بھی۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی ، ایک دم فون بند کر دیا تھا ۔ شہباز حیدر کو تاسف نے آ گھیرا ، مگر اگلے ہی لمحے پھر کچھ سوچ کر مطمئن ہو گئے۔
X X X

اگلے دن اس نے بلیک خوبصورت ایمبرائیڈری سے مرقع شیشوں کے کام والا سوٹ پہنا تھا ، یہ اس کے نکاح کے جوڑوں میں سے ایک تھا ، خوبصورت جیولری میک اپ سمیت وہ اپنے خوبصورت سراپے کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی ، کہنیوں تک مہندی کی بیل بوٹوں سے سجے الٹے سیدھے ہاتھ پائوں بہت بھلے لگ رہے تھے ، چوڑیوں گجروں کی دلکشی نے اس کے حسن کی جگمگاہٹ کو چار چاند لگا دیے تھے ، رات کی تقریب تھی ، گھر کے اندر ہی سارا انتظام کیا گیا تھا ، مہمانوں کی آمد کے بعد خوب گہما گہمی ہو گئی تھی ، محسن جاوید نہیں آیا تھا نہ ہی ان کے خاندان میں کسی لڑکے لڑکی کو ایک جگہ بٹھا کر تقریب کر نے کا رواج تھا ۔ وہ کافی متحرک تھی ، اِدھر سے اُدھر سے اِدھر آتے جاتے عیشہ کی رات شہباز حیدر آئے تھے ، مردوں میں ہی مصروف رہے تھے ، چونکہ مردوں کے لیے بیٹھنے کا انتظام صحن میں کیا گیا تھا تو کم ہی سامنا ہو رہا تھا ۔ عیشہ نے بھی شکر ادا کیا کہ نجانے کب کیا وہ شخص کہہ دے ۔ رات دس کے قریب مہمان واپسی کے لیے ہو لیے تھے ، ان کے جانے کے بعد اچانک عیشہ کو یاد آیا کہ کافی دیر سے اس نے فوزان کو نہیں دیکھا، شاید گھنٹہ ڈیڑھ سے ۔۔ لاسٹ ٹائم اس نے شہباز حیدر کو فوزان کو اُٹھائے مردوں والے حصے میں جاتے دیکھا تھا ، اس کے بعد فوزان اسے نظر نہیں آیا تھا ، اس نے جس سے بھی پوچھا اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو وہ حقیقتاً پریشان ہو گئی، دیگر لوگ بھی پریشان ہوئے۔
’’کہاں جا سکتا ہے بچہ۔۔‘‘
’’کہاں نکل گیا بچہ۔۔‘ چچی جان بھی پریشان تھیں۔
’’وہ مجھ سے آئس کریم کھانے کی ضد کر رہا تھا ، میں اسے ٹال رہی تھی ، پتہ نہیں کہیں خود سے ہی باہر نہ نکل گیا ہو۔۔ اسے تو یہاں کے راستوں کا بھی پتہ نہیں۔۔‘‘ عیشہ کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ، بس رونے کی کسر باقی تھی ۔
’’فکر نہیں کرو۔۔ پتہ کرواتے ہیں۔۔‘‘ حیدر صاحب اسے تسلی دے کر باہر نکل گئے تھے ، عیشہ کی آنکھوں سے باقاعدہ آنسو بہنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد یاسر بھاگتا آیا ۔ کچھ دیر پہلے وہ فوزان کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔
’’وہ فوزان۔۔‘‘
’’کہاں ہے وہ۔۔؟‘‘ وہ فوراً بے تاب ہوئی۔
’’شہباز چاچو کی گاڑی میں۔۔ وہ اسے آئس کریم کھلانے لے کر گئے ہوئے تھے۔۔ ابھی آئے ہیں، باہر ہی گاڑی میں ہیں۔۔‘‘ وہ بتا رہا تھا ، عیشہ کو ایک گو نہ سکون ہوا تو دوسرے ہی لمحے شہباز کا خیال آتے ہی وہ بھنا اُٹھی۔
’’وہ باہر آپ کو بلا رہے ہیں۔۔‘‘ وہ الجھی تھی ، یاسر کے اس پیغام پر باقی سب نے بھی سکون کا سانس لیا تھا ، اسے شہباز حیدر سے اس قدر غیر ذمہ داری کی امید نہ تھی ، کم از کم بتا کر تو جاتے۔ سب کے سامنے پیغام ملا تھا ، اکیلے میں تو شاید غصے سے انکار کر دیتی ، چپ کر کے وہ باہر چلی آئی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد گیٹ ابھی تک کھلا ہوا تھا ۔ گاڑی سامنے ہی کھڑی تھی ، اسے آتے دیکھ کر شہباز نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا ، دوسری طرف واجد صاحب کھڑے تھے۔
’’بیٹھو۔‘‘
’’جی۔۔؟‘‘ وہ جو فوزان کی وجہ سے چلی آئی تھی ، رک گئی ، باپ کو دیکھا ، وہ مسکرائے۔
’’جلدی چھوڑ جانا یار۔۔ پہلے ہی فوزان کی وجہ سے تم نے سب کو پریشان کر دیا تھا۔۔‘‘ اس کے دیکھنے پر واجد صاحب شہباز حیدر کو کہہ کر اندر چلے گئے تھے ۔
’’سنا نہیں بیٹھو۔۔‘‘ دوبارہ کہا گیا تو وہ غائب دماغی سے بیٹھ گئی۔
’’آپ کے پاس تھا تو کم از کم کہیں لے جانے سے پہلے بتا دیا ہوتا۔۔ سب پریشان ہو کر رہ گئے تھے۔۔ فوزان کی گمشدگی اب یہ ۔۔‘‘ وہ الجھ گئی تھی۔ فوزان سو چکا تھا ، شہباز کے ساتھ ہی سیٹ پر تھا ، سر اس کی جھولی میں تھا ، شہباز نے مسکرا کر دیکھا۔
’’میں تمہارے سامنے ہی لے کر گیا تھا ۔۔ پتہ تو ہے تمہیں۔۔‘‘
’’مگر بتا کر نہیں گئے تھے ، میں سمجھی تھی کہ آپ شاید باہر مردوں میں لے کر گئے ہیں۔۔‘‘ فوزان کا سر اپنی جھولی میں رکھ کر اس کی ٹانگیں اس نے سیدھی کیں۔
’’آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔ اور مجھے کیوں لے کر آئے ہیں۔۔؟‘‘ تھوڑی دیر بعد عیشہ کے حواس کام کرنا شروع ہو گئے تھے ، باہر ہر سُو پھیلے گہرے تاریک اندھیرے کو دیکھا اور اندر شہباز حیدر کو۔۔
’’رات تم نے فون کیوں بند کر دیا تھا ۔۔‘‘ اس کے سوال کو نظر انداز کر کے پوچھا تھا ، وہ چونکی۔
’’تو آپ مجھے رات فون بند کرنے کی سزا دینے یہاں لے کر آئے ہیں۔۔‘‘ وہ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔ شہباز حیدر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ مچل گئی۔
’’میں آپ کو اتنا برا نہیں سمجھتی تھی ۔۔ میرا خیال تھا کہ آپ کے نزدیک میری تھوڑی بہت تو عزت ہو گی مگر آپ تو۔۔‘‘ وہ شہباز حیدر کی مسکراہٹ سے کچھ اور ہی سمجھی تھی ۔ ایک دم روہانسی ہوئی۔ شہباز کا قہقہہ بے ساختہ تھا ، وہ مزید خائف ہو گئی۔
’’یہ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔؟‘‘ وہ ہونق ہو گئی۔ شہباز نے بغور دیکھا ، شرارتی مچلتی مسکراہٹ ہونٹوں پر رقصاں تھی۔ سیاہ خوبصورت لباس میں مٹے مٹے میک اپ میں آنکھوں میں نمی تھی ، وہ ابھی بھی بے حد دل نشین لگ رہی تھی۔
’’رات فون بند کرنے کے بجائے میری بات سن لیتی تو اس وقت اتنی بد گمان نہ ہوتیں۔‘‘ گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر کے اس کی طرف رخ کیا تھا ، عیشہ کا دماغ سنسنا اُٹھا۔ شہباز حیدر کا لہجہ کیا آنکھیں تک بدلی ہوئی تھیں۔
’’آپ ۔۔‘‘ وہ کچھ کہنے کی کوشش میں سختی سے لب سی گئی۔
’’نہیں! فوزان کی آئس کریم کھلانے کی ضد پر اسے لے کر گیا تھا ، مگر راستے میں کچھ جاننے والے مل گئے تو دیر ہو گئی۔۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ تم لوگ پریشان ہوں گے۔۔ تم لوگوں کا بھی میری طرف دھیان نہیں گیا تھا ورنہ کال کر کے پوچھ لیتے تو پتہ چل جاتا۔۔ بہر حال واپسی پر واجد بھائی مل گئے تھے، وہ فوزان کو ہی ڈھونڈنے نکلے تھے ، میرے ساتھ ہی گھر آئے ہیں، اس لیے پوچھ کر ان کی اِجازت سے ہی تمہیں لے کر آیا ہوں۔۔‘‘
’’کیوں۔۔؟‘‘ ایک دم وہی لاتعلقی لہجے میں اُتر آئی۔
’’بھئی بیوی ہو میری اور آج اس لباس میں لگ بھی بہت خوبصورت رہی ہو۔۔‘‘ شہباز کا بظاہر انداز نارمل تھا مگر لہجے میں شرارت رچی ہوئی تھی ، عیشہ ایک دم کنفیوز ہو گئی ، وہ اس لہجے کی عادی کب تھی ۔ انہوں نے اس کے شرماتے روپ کو مسکرا کر دیکھتے اس کی چوڑیوں سے بھرا مہندی گجرے سے مہکتا ہاتھ تھاما، وہ لرز گئی۔۔ گھبرا کر چہرہ دیکھا۔
’’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم آج زیادہ پیاری لگ رہی ہو یا نکاح کے دن زیادہ خوبصورت تھیں ، یا عام گھریلو سادہ حلیے میں دل کے زیادہ پاس لگتی ہو۔۔‘‘ عیشہ عام اعصاب کی مالک نہ بھی ہوتی تو بھی ان جھٹکوں سے بے جان ہو جاتی۔ خوف سے اسے دیکھا۔ یہ شخص تو مسکرا کر بات کر نا تو دور کی بات ، کبھی ایک نظر کے بھی روادار نہ تھے اور اب اس کا یہ روپ۔۔
’’ویسے بے یقینی سے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ بھئی میں شہباز ہی ہوں۔۔‘‘ شرارت سے بھر پور انداز تھا ، وہ الجھ سی گئی، پھر اگلے ہی پل سارا حوصلہ جواب دے گیا۔
’’پلیز ختم کریں اپنا ڈرامہ۔۔ آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ میرے جذبوں سے اس طرح کھیلیں۔۔ میں نے آپ کی نفرت قبول کی ہے ، وہ روپ ہی میرے لیے کم تکلیف دہ تھا جو اب یہ نیا انداز۔۔ یہ نیا ڈرامہ رچا بیٹھے ہیں۔۔ محض مجھے اذیت دینے کو ۔۔‘‘ اگلے ہی لمحے وہ رو دی۔ شہباز نے حیرت سے دیکھا، پھر ایک دم بازو سے اپنی طرف کھینچا ، گود میں فوزان تھا ، وہ صرف ان کی طرف لڑھکی تھی ۔ انہوں نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا۔
’’شٹ اپ۔۔کوئی ڈرامہ نہیں کر رہا میں۔۔ میں تو تمہیں یہ سب رات کو ہی کہنا چاہتا تھا ۔۔تمہیں میں نے اتنا ستایا ۔۔ اتنی تکلیف دی، تمہاری ذرا سی لا تعلقی نے وہ کام کر دکھایا جو تمہاری اتنے عرصے کی محبت نہ کر دکھائی۔۔ میں تمہارے سامنے ہارنا نہیں چاہتا تھا ، میں تم سے عمر میں بڑا تھا ، میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہارے ساتھ کوئی نا انصافی ہو۔۔ میرا خیال تھا کہ میاں بیوی ہم عمر ہوں تو انڈر اسٹینڈنگ اچھی رہتی ہے ، زندگی پر سکون اور خوشگوار گزرتی ہے ۔۔ ابھی تم نادانی کا مظاہرہ کر رہی ہو۔۔ ہو سکتا ہے بعد میں جذبات کا زور کم ہو اور تمہیں احساس ہو کہ تم غلطی پر تھیں ، تو بعد میں پچھتانے سے بہتر تھا کہ تم ابھی سے کچھ سوچتیں ۔۔ زندگی جذبات کے سہارے گزرنے والی نہیں ہے۔۔ تم ہمیں بہت عزیز ہو ، تمہارے ساتھ کوئی نا انصافی ہو ، کم از کم میرے نزدیک تو یہ ممکن نہیں تھا۔۔ اس لیے میں نے تمہارے لیے خود کو سخت کر لیا، میں جتنی سختی کا مظاہرہ کر رہا تھا ، تمہاری محبت اتنی ہی منہ زور طوفان کی طرح آگے بڑھتی جا رہی تھی ، میں ڈر گیا تھا ، تم سے نہیں خود سے خوفزدہ ہو گیا تھا ۔ مجھے اپنے اندر توڑ پھوڑ ہوتی محسوس ہو رہی تھی ، تمہارے معاملے میں کمزور پڑ رہا تھا ، میرے دل و دماغ میں اک جنگ سی چھڑ چکی تھی ، جس کے وجہ سے تمہیں بار ہا میں نے سخت رنج ، تکلیف اور اذیت سے دو چارکیا تھا، میرے اندر کا اشتعال دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ، اور ہر بار میرا غصہ تم پر نکلتا تھا ، میں ہارنا نہیں چاہتا تھا مگر ہار رہا تھا اور تمہاری ذرا سی لا تعلقی میری رہی سہی انا کو بھی توڑ پھوڑ گئی۔ ایسے میں تم مجھے یہ کہو کہ میں ڈرامہ کر رہا ہوں تو بڑے شرم کی بات ہے میرے لیے۔۔‘‘ وہ ہکاّ بکاّ ، پتھر کی طرح ساکن ، بغیر پلکیں جھپکائے سن رہی تھی ، شہباز حیدر کا شہرہ جس پر جذبے اپنا عکس دکھا رہے تھے ، دیکھ رہی تھی ، مگر بے یقین تھی، کیا یہ شخص واقعی سچ کہہ رہا ہے، یہ میرا کوئی خواب ہے۔ میری یہ محبت ، میرا یہ بدلا انداز ، میری توجہ ، خیرات نہیں ہے۔۔یہ وہ حق ہے جو میرے نکاح میں ہونے کی حیثیت سے تم ڈیزرو کرتی ہو۔۔ کیا اب بھی نہیں مانو گی میں ہارا ہوں تمہاری دیوانگی ، محبت کے سامنے۔۔ میں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔۔ اب بولو میری حقیر سی محبت قبول کرو گی۔۔ مجھے میری تمام غلطیوں سمیت اپنی محبت کے وسیع دامن میں سمیٹ کر مجھے مالا مال کرو گی۔۔ بولو کرو گی۔۔ ‘‘اس نے دونوں ہاتھ تھامے شہباز حیدر یہ بھی بھول گئے تھے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں، عیشہ کی آنکھوں سے آنسو بہتے چلے گئے تھے ، وہ سر جھکا گئی۔
’’بس اب نہیں رونا۔۔ بہت رُلایا ہے میں نے تمہیں۔۔ تمہاری محبت نے میرے مردہ احساسات کو اک نئی زندگی دی ہے ، وریشہ کی وفات کے بعد میںنے اپنے تمام جذبوں امنگوں خواہشوں کو بھی اس کے ساتھ دفن کر دیا تھا کہ اب یہ دل کوئی اور نگر آباد نہیں کرنا چاہتا ۔ طلب خواہش ہر چیز مٹ گئی تھی ، تمہارے وجود نے میرے اندر پھر وہ پرانی امنگ پیدا کی ہے تمہارے نام سے۔۔ تمہارے وجود سے۔۔ میں نے ابا جی اور واجد بھائی سے بات کر لی ہے۔۔ تمہارے ایگزام کے انتظار میں میں مزید صبر نہیں کر سکتا ۔۔ بعد میں بے شک ایگزیمز دیتی رہنا ، بس اگلے ماہ تک رخصتی ہو جانی چاہیے۔۔ بولو خوش ہو نا۔۔؟‘‘
عیشہ کا ابھی بھی برا حال تھا ، وہ تو سب کچھ سمجھ کر بھی نا سمجھ تھی ، اس کی بے یقینی دیکھ کر شہباز حیدر کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی ، اسکے آنسو اپنی پوروں سے صاف کرتے ہوئے انہوں نے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیا تو وہ چونکی ، جیسے ایک دم خواب سے بیدار ہو گئی ہو۔۔ یہ خواب نہیں حقیقت تھی ۔۔ سچ مچ حقیقت ۔۔ زخم دینے والا مہربان ہو گیا تھا ۔۔ اس سے لا تعلقی کا مظاہرہ کرنے والا تعلق داری کا اظہار کر رہا تھا ۔ دھتکارنے والا نوازشوں پر آمادہ تھا ، وہ شہباز حیدر کی اس قربت پر جھینپ گئی، دل دھک دھک کرنے لگا ، اس نے بے اختیار شہباز کا بازو جھٹکا ، ساری صورتحال سمجھ میں آئی تو چہرہ گلنار ہوتا چلا گیا ۔ شہباز نے دل چسپی سے اس کا یہ روپ دیکھا ۔ یہ روپ بھی پاگل کر دینے والا تھا۔
’’افسوس ! تمہیں شاید خوشی نہیں ہوئی۔۔‘‘ انداز سرا سر چھیڑنے والا تھا ، وہ بلش ہو گئی ۔ پھر فوراً نفی میں سر ہلایا۔
’’وہ رخصتی۔۔ اتنی جلدی۔۔ ابھی تو میں نے پیپرز ۔۔‘‘ شہباز حیدر کی وارفتہ مچلتی نگاہوں کی زد میں الجھ کر وہ جملہ بھی نا مکمل چھوڑ گئی۔
’’خدا کو مانو بیوی۔۔ ایک منٹ نہیں صبر کرنے والا میں۔۔ میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ تمہیں اس روپ میں سیدھا اپنے بیڈ روم میں لے جائوں مگر۔۔ تم ہو کہ۔۔‘‘ وہ شہباز حیدر کے اس قدر کھلے ڈلے انداز پر حواس باختہ ہو گئی ۔ خوف و شرم سے لرز اُٹھی ۔ سرخی سے چہرہ تپنے لگا۔ اس نے محبت کی بازیابی کی دعا مانگی تھی ، اللہ نے اس کی سن لی تھی ، اتنی شدت تھی شہباز کی محبت میں، وہ سر نہ اُٹھا پائی۔ جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔
’’تم تو یوں خوفزدہ ہو رہی ہو جیسے میں۔۔‘‘ اس کی گھبراہٹ سے لطف لیتے ہوئے شہباز حیدر نے اس کا کندھا تھاما تو وہ کانپ اُٹھی۔
’’پلیزگھر چلیں۔۔ ابو انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ کانپتی لرزتی آواز میں کہتے اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا ۔ شہباز دل کھول کر ہنسا ۔
’’واجد بھائی جانتے ہیں اس وقت میرے جذبات کیا ہو رہے ہیں۔۔ کوئی نہیں انتظار کر رہے ہوں گے۔۔ تم اپنے شوہر کے ساتھ ہو، اعتبار کرویار۔۔ ہم دل ہارے ہیں۔۔ اور بے ایمانی تو اپنی عادت ہے ہی نہیں۔۔ اب یہ لرزنا کانپنا بند کرو۔۔ یقین نہیں آ رہا کہ میری محبت میں پاگل دیوانی ہر چیز کی پروا کیے بغیر میرے سامنے اظہار کرنے والی اس قدر شرم کی پوٹلی بھی ہو سکتی ہے۔۔‘‘ شہباز حیدر نے ہلکے پھلکے انداز میں اس کا اعتبار اسے لوٹانا چاہا تھا ۔ وہ سختی سے لب بھینچ گئی ، ہاتھ ہٹا کر دیکھا ، وہ مسکرا دیے۔اس شخص کی نفرت سو ہان روح تھی ، تو یہ قربت ۔۔ اور یہ محبت ۔۔ یہ مسکراہٹ ۔۔ ‘‘ اپنائیت و محبت سے چھیڑنا ، وہ مسکرا رہے تھے ، کھلکھلا رہے تھے ، اپنے ساتھ اسے بھی ہنسنے پر مجبور کر رہے تھے، اور عیشہ جو ان کی نگاہوں کی وارفتگی ، جملوں کی معنی خیزی ،آپس کی قربت سے پزل ہو رہی تھی نے ایک دم پر سکون ہو کر سیٹ کی شیٹ سے سر ٹکایا ۔ اس کے دل میں یقین بھرتا چلا گیا کہ
اب یہ شخص اس کا ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی کا ہے
وہ ا س کی محبت کی بلا شرکت غیرے تنہا مالک ہے
وہ اس کا دل جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھی
کام مشکل تھا مگر وہ فاتح تھی
یہ دل بھی اس کا تھا اور شہباز حیدر بھی
زمانے کو چلنے دو چلو ایک ساتھ چلتے ہیں
نئی دنیا بسانے کو چلو ایک ساتھ چلتے ہیں
ہمیں جیون کا ہر لمحہ تمہارے نام کرنا ہے
یہی وعدہ نبھانے کو چلو ایک ساتھ چلتے ہیں

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close