Hijaab Apr-18

صراط مستقیم

فصحیہ آصف خان

’’وائو…‘‘ ثانیہ کے لب فرط مسرت سے سکڑے‘نئے مال کے باہر ماڈلز کی تصاویر اور برانڈڈ لباس دیکھ کر اس کی مسرت کی انتہانہ رہی تھی۔نیناں اور ہادیہ نے بھی اس کی تائید میں سر ہلایا۔
’’جلدی چلو…‘‘ ثانیہ گاڑی کی چابی بیگ میں ڈال کر زپ بند کرتے ہوئے انہیں کہتی تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔نیناں اور ہادیہ نے ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا۔انہیں ثانیہ کے جنون کا پتہ تھا۔
مال کے اندر ایک اور ہی دنیا آباد تھی۔باہر کی تپتی اور غربت زدہ زندگی سے یکسر مختلف‘شہر کے انتہائی پوش علاقے میں اس طرح کے کئی مالز تھے مگر یہ سب سے منفرد اور قیمتی لگ رہا تھا۔ اور ثانیہ ٹھہری دیوانی‘ اس کا پڑائو ہمیشہ کپڑوں کی سیکشن پر ہوتا تھااور جو پسند آجاتا وہ قیمت پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر خرید لیتی۔
نیناں اور ہادیہ کو بھی اس کا ساتھ دینا پڑتا۔تینوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم تھیں۔ آخر کار ثانیہ کو ایک بیش قیمت لباس پسند آگیا۔گلابی سلیولیس شرٹ پر قیمتی اور نفیس نگینوں کا کام بہار دکھا رہا تھا ۔ا ثانیہ ٹرائے روم میں خود کو مختلف زاویوں سے دیکھ کرخوش ہورہی تھی۔دلکشی کو چھوتے حسین تر کئی لباس رد کرنے کے بعد اسے یہ پسند آیا تھا۔ سو پندرہ ہزار میں یہ ڈریس لے کر وہ خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھی۔ نیناں اور ہادیہ نے اپنے لیے بیگزپسند کئے۔جن کی قیمت بھی ثانیہ نے ادا کی۔ میچنگ جیولری لے کر وہ مال کے اندر بنے پیزا ٹریک سے پیزا کھا کر کولڈڈرنک سے پیاس بجھا کر گھر کی جانب رواں دواں ہوئیں۔
نیناں اور ہادیہ کزن تھیں سو انہیں ان کے گھر ڈراپ کرکے ثانیہ اپنے گھر کی جانب ہولی۔گھر کیا تھا ایک محل تھا۔ ’’قصر الحبیب‘‘ احمد اور ثانیہ حبیب اور صوفیہ کی دو ہی اولادیں تھیں۔ حبیب احمد گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔زمین دار نصیر احمد کی اکلوتی اولاد‘ ہاجرہ خاتون کی دلی تمنا تھی کہ حبیب احمد پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے۔ سو انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد حبیب احمد کو نصیر احمد کی مخالفت کے باوجود شہر بھیج دیا۔جس کا نصیر احمد کوخاصا قلق تھا۔اس کی پڑھائی کے دوران کئی بار زمین کو بیچنا پڑا۔ نصیر احمد کو ہر بار یہ صدمہ اٹھاناپڑا مگر ہاجرہ انہیں تسلی دیتی آخر کار حبیب احمد نے ایم بی اے اعلیٰ نمبروں سے پاس کرلیا اور نوکری کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی۔
جہاں جاتا وہاں کچھ لو اور دو کے اصول پر بات ہوتی۔ جب کہ نصیر احمد اسے رشوت کے لیے ایک روپیہ بھی دینے کے روادار نہ تھے۔ ہاں مشورہ دے ڈالا کہ ان روپوں سے کوئی کاروبار شروع کرلے۔ سال بھر دھکے کھانے کے بعد چند دوستوں سے مشورہ کے بعد آخر کار حبیب احمد نے کاروبار میں ہاتھ ڈال دیا۔ نصیر احمد نے ایک مکان کے سوا ساری زمین بیچ کر اس کی خواہش پوری کردی۔قسمت کا ستارہ روشن تھا۔ کاروبار چمک اٹھا۔ شراکت دار بھی ایمان دار تھا۔اختر ملک جن کی ایک ہی بیٹی صوفیہ تھی۔ حبیب احمد اچھا‘ قابل نوجوان تھا محنتی الگ۔ سوانہوں نے صوفیہ کے رشتے کی بات کر ڈالی۔ حبیب احمد کی ابھی اس طرف توجہ نہ تھی۔ سو والدین سے مشورے کے لیے گائوں آگئے۔ والدین کو وہ کئی بار کہہ چکے تھے کہ شہر آجائیں۔ مگر انہیں اپنی جگہ سے بہت انس تھا اب صوفیہ کا معا ملہ ان کے سامنے رکھا تو نصیر احمد کو سخت طیش آیا۔ وہ اپنی یتیم بھانجی سمیرا سے اس کا رشتہ جوڑے بیٹھے تھے۔
یہاں حبیب احمد نے اپنی پسند سامنے رکھی تو وہ دل پر ہاتھ رکھ بیٹھے۔
’’ابا…میں پڑھا لکھا ہوں اور مجھے زندگی کا ساتھی بھی اپنے جیسا چاہئے۔ چھ جماعتیں پاس سمیرامیرا ساتھ نہیں دے سکتی۔‘‘
حبیب احمد کے دو ٹوک انداز پر نصیر احمد دل پر ہاتھ رکھ کر زمین پر بیٹھتے چلے گئے بروقت امداد سے ان کی جان تو بچ گئی مگر خطرہ ٹلا نہیں۔ ہاجرہ کے سمجھانے پر آخر کار نصیر احمد یہ بازی بھی ہار گئے اور مجبور ہو کر اختر ملک سے صوفیہ کی رشتے کی بات کی۔ پھر چند ماہ بعد ہی صوفیہ شان دار محل نما گھر قصرالحبیب میں آبسیں۔
ہاجرہ اور نصیر احمد گائوں واپس چلے گئے۔ چھ ماہ بعد ہی نصیر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔ ہاجرہ خاتون کی عدت پوری ہوتے ہی حبیب احمد انہیں شہر لے آئے۔ مگر ان کا دل اچاٹ ہوچکا تھا۔نصیر احمد کی یادیں لہو میں گردش کررہی تھیں۔ حبیب اور صوفیہ ان کا بے حد خیال رکھتے۔ مگر ان کا دل جیسے مر سا گیاتھا۔ احمد کی آمد سے ان کے اندر زندگی پھر سے مسکرانے لگی۔احمدمیں ان کی جان تھی۔ وہ زیادہ تر دادی کے پاس رہتا تھا۔
اس موقع کوغنیمت جانتے ہوئے صوفیہ نے باہر قدم بڑھائے بہت سی پارٹیز اور این جی او میں شامل ہوگئیں۔ ہاجرہ خاتون نے شروع شروع میں انہیں سمجھایا۔احمد کی پرورش کا کہا۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی اہمیت کا بتایا مگر وہ مسکرا دیں اور کہا کہ آپ پرانے زمانے کی خاتون ہیں آج کے دور میں یہ سب کرنا لازمی ہے۔ ہاجرہ خاتون حیران رہ گئیں۔ عورت کے لیے تو ہر زمانہ ایک سا ہے۔ سب قوانین ہر دور میں اسی پر لاگو ہیں۔ہاجرہ اس سے زیادہ مداخلت نہ کرسکیں نہ وہ زبردستی وجبر کی قائل تھیں اپنی دنیامیں مگن ہوگئیں۔
سفید ململ کے بڑے سے دوپٹے کی بکل مارے تسبیحات پڑھتیں۔ نماز وقرآن میں مشغول رہتیں۔ نوافل ادا کرتیں۔ حبیب احمد کے پاس بھی وقت بہت کم ہوتا ۔ احمد چار سال کا ہوا تو ثانیہ آگئی۔ بے حد پیاری۔ گول مٹول ہلکی سبز آنکھوں والی سرخ و سفید ثانیہ ہاجرہ خاتون تو جیسے پھر بچوں میں مصروف ہوگئیں۔ثانیہ ان کی گود میں ہی دکھائی دیتی۔ مگر صوفیہ اسے نئے زمانے کے رنگ ڈھنگ اطوار سے روشناس کرانا نہ بھولیں۔ لاڈ پیار نے اسے خاصا ضدی اور مغرور بنا دیا تھا ہر شے کے لیے ضد کرتی اور ضد پوری ہونے پر ہی خاموش ہوتی۔ ضدیں پوری کرنے والے جو موجود تھے۔ انہی دنوں ہاجرہ خاتون حبیب احمد کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد بے حد مطمئن ہوگئیں تھیں۔ زندگی کی سب سے بڑی آرزو بھی پوری ہوچکی تھی
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
دیکھتے دیکھتے کئی برس بیت گئے۔ ہاجرہ خاتون کی کمرخمیدہ ہونے لگی۔ نظر دھندلاگئی۔ کئی بیماریوں نے جسم کو جکڑ لیا تھا۔احمد کے تعلیم مکمل ہونے اور حبیب کے ساتھ کاروبار میں شامل ہوتے ہی صوفیہ نے اپنی سہیلی فرح کی بیٹی بشریٰ سے اس کی شادی کردی۔ثانیہ اس وقت سیکنڈ ایئر میں تھی جس کے شوق بھی اس کی طرح تھے ۔آئے دن شاپنگ ‘پارٹیاں اٹینڈ کرنا۔ ہلا گلا‘ وہ تھرل کی شوقین تھی۔ چھٹی کے دن ‘دن چڑھے اٹھنا‘ صبح صادق کے وقت سونا۔ گھرمیں سب کے انداز نرالے تھے۔ ہاجرہ خاتون کس کس کو سمجھاتیں سو چپ سادھ لی۔ گھر میں نماز و قرآن کا کوئی اہتمام نہ تھا۔ روزے موسم دیکھ کر رکھے جاتے تھے
بے حیائی عروج پر تھی۔ دو پٹے ندارد‘ہاجرہ خاتون دیکھ دیکھ کر کڑھتیں اور ان کی ہدایت کی دعا کرتیں۔ پھر ہدایت تو اسی کوملتی ہے جو اس کی جانب رجوع کرے۔ قدم بڑھائے خالی خولی دعا سے کیا ہوتا ہے۔جب نیت ہی درست نہ ہو۔ دل سے صحیح اور غلط کو نہ مانا جائے۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
’’ہائے دادی ماں۔‘‘شاپنگ بیگز لیے ثانیہ دھپ سے آکر ان کے قریب رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔ ہاجرہ خاتون اس وقت ٹی وی پر ایک مذہبی پروگرام دیکھ رہی تھیں کہ ثانیہ نے ریموٹ اٹھا کر میوزک چینل لگادیااور بیگ کھولتے ہوئے بولی۔
’’یہ دیکھیں میری شاپنگ۔‘‘گلابی نگینوں سے سجی شرٹ ثانیہ نے ان کے سامنے پھیلائی۔ ایک نظر ہاجرہ خاتون نے ٹی وی پر آئی ماڈل کو دیکھا جس کا مختصر لباس اس کے لیے تکلیف دہ تھا اور اب ثانیہ کا یہ لباس۔
’’بیٹا! یہ لیاس تمہارے لیے مناسب نہیں ۔‘‘ہاجرہ خاتون بول اٹھیں۔
’’ارے چھوڑیں آج کل یہی فیشن ہے۔ جب میں یہ پہنوں گی تو آپ دیکھیے گا سب کی نگاہیں مجھ پر ٹکیں گی۔ ‘‘ثانیہ گانے کے ساتھ جھوم کر بولی۔
’’بیٹامیری طرف دیکھو میں بھی عورت ہوں۔‘‘ان کی آواز میں نمی سی تھی۔سفید دوپٹے کے ہالے میں ان کا پر نور چہرہ دھلا دھلایا بال تک چھپے ہوئے تھے۔
’’ارے آپ تو بزرگ ہیں۔ ہم ابھی آپ کی عمر کے تو نہیں ہوئے۔ ‘‘ثانیہ نے کہتے ہوئے قہقہہ لگایا اور بیگ اٹھا کر جانے لگی تو انہوں نے اسے بٹھایا اور نرمی سے بولیں۔
’’بیٹا عورت پر پردہ لازم ہے‘ نا محرم کی نگاہیں عورت کو غلیظ کردیتی ہیں اور ہاں میری بیٹی بلا ضرورت کپڑے مت بنوائو۔ ایک ایک چیز کا حساب دینا ہے۔ کچھ آخرت کی تیاری کا بھی سوچو۔‘‘ہاجرہ خاتون آج پھر دل سے مجبور ہو کر اسے سمجھانے لگیں۔
جس پر ثانیہ بے زار ہوتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ انہوں نے ثانیہ کوسورۃ انساء اور سورۃ نور کا ترجمہ پڑھ کرسمجھایا مگر اس پر کوئی اثر نہ ہو ا تھا۔
صوفیہ‘ بشریٰ اور ثانیہ تینوں ایک ہی رنگ میں رنگی ہوئی تھیں۔ مردوں کو پیسہ کمانے اور عورتوں کو پیسہ لٹانے سے فرصت ہی نہ تھی۔ جب گھر کا ماحول ہی ایساہوگا تو خدا کی رحمتیں اور برکتیں خود ہی منہ موڑ لیتی ہیں پھر انسان شکوے کیونکر کرتاہے؟
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
ہاجرہ خاتون کی طبیعت کافی دنوں سے خراب تھی۔ ثانیہ ان کا پورا خیال رکھ رہی تھی۔ ڈاکٹر سے بھی رابطہ تھا۔ دوائیاں باقاعدگی سے کھا رہی تھیں مگر طبیعت تھی کہ بگڑتی ہی چلی جارہی تھی۔
آج بھی صوفیہ اور بشریٰ اس وقت کہیں لنچ پر گئی ہوئی تھیں۔ انہیں دوائی دے کر ثانیہ اپنے کمرے میں آگئی اور اپنا وارڈ روب کھول کر یونہی دیکھنے لگی۔ کم وبیش سو کے قریب قیمتی ونفیس سوٹ‘ بیش قیمت جوتے ‘جیولری‘ میک اپ کا سامان گویا برانڈڈ چیزوں کی کوئی دکان ہو۔ یک دم اس کا دل جیسے اچاٹ سا ہوگیا۔ لباس بھی ایسے کہ بے پردگی اور نمائش کا کھلا سامان۔ اس وقت بھی وہ بنا دوپٹے کے تھی۔جانے دل میں کیاہوا بہت تلاش کرنے کے بعد ایک اسکارف نظر آہی گیا جو دادی ماں اس کے لیے حج کرنے کے بعد لائی تھیں مگر ثانیہ نے اسے گول مول کرکے ایک طرف پھینک دیا تھا۔اسکارف وہ گلے میں ڈال رہی تھی کہ صغریٰ نے وحشت ناک انداز میں دروازہ بجایا۔ ثانیہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔
’’بڑی بی بی جی کی طبیعت خراب ہورہی ہے ثانیہ بی بی۔‘‘وہ کہتی ہوئی ہاجرہ خاتون کے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔ ثانیہ بھی اس کی دیکھا دیکھی دادی کے کمرے میں دوڑی۔ ہاجرہ خاتون گہرے گہرے سانس لے رہی تھیں۔ سر ہنوز دوپٹے سے ڈھکا تھا۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں اور بدقت تمام بولیں۔
’’وہ دیکھو تمہارے دادا آئے کھڑے ہیں ‘ مجھے بلا رہے ہیں۔‘‘ ثانیہ یکدم گھبرائی۔ ہاجرہ خاتون کے لب یکایک مسکرا دیئے اور لبوں سے کلمہ جاری ہونے لگا۔ اگلے لمحے ان کی روح پروازکرگئی۔
ثانیہ ہک دک رہ گئی۔ جلدی سے ماں باپ کو فون کیا۔ آنسو تھے کہ بہتے گئے۔ صغریٰ کی مدد سے ان کو سیدھا کیا۔ آنکھیں بند کیں ۔یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے کسی انسان کو دنیا سے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ شدت غم سے رو پڑی۔ صغریٰ بھی نم آنکھوں سے اسے خاموش کرانے لگی۔ تھوڑی دیر میں سب ہی آگئے اور ان کے سفر آخرت کی تیاری ہونے لگی کہ صغریٰ نے ایک گٹھڑی صوفیہ کے سامنے رکھی اور بولی۔
’’یہ بڑی بی بی نے مجھ سے الماری میں رکھوائی تھی۔ کفن ہے ان کا۔آب زم زم سے دھلا ہوا۔ انہوں نے کہا تھا میرا سب سے قیمتی اور اہم لباس یہی ہے۔جو میرا آخری پہناوا ہوگا۔‘‘صغریٰ کے کہنے پر ثانیہ نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا۔ صغریٰ نے آنکھیں صاف کیں اور گرہیں کھولنے لگی۔گٹھڑی کھلتے ہی خوشبو کا ایک جھونکا آیا۔ جس نے ساری فضا کو معطر کردیاتھا۔ تہہ شدہ سفید مہکتا کفن سب کی آنکھیں بھر آئیں۔ثانیہ ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔بشریٰ بھی اسے گلے سے لگا کر سسک اٹھی۔
جب ہاجرہ خاتون کو غسل دے کر کفن پہنایاگیا کافور و گلاب کی مہک سے مہکتا وجود جو اب خاکی تھا مگر ان کے چہرے سے نورانی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ پرسکون مسکراہٹ ان کے لبوں پر ٹھہری ہوئی تھی۔ ثانیہ ایک ٹک انہیں دیکھے گئی۔ مدھم مسکراکر بولنے والی دعائیں دینے والی دادی آج خاموش ابدی نیند سو رہی تھیں۔ ثانیہ کے اندر جیسے کسی غم کا بسیرا ہوگیاتھا۔ روتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
زندہ اور مردہ انسان کا اس نے آج پہلی بار تجزیہ کیا تھا۔ خوف کی لہریں جسم کے آرپار ہورہی تھیں۔ قبر کا اندھیرا اس کے اندر خوف و دہشت پیدا کررہا تھا۔ اس نے ایک دم جھرجھری لی۔ پسینہ ہر مسام سے پھوٹ رہا تھا۔
اگر میں بھی ابھی مر جائوں تو کیا ہوگا؟اس کی آنکھیں خوف کے مارے پھٹنے کے قریب ہوگئیں۔ اپنا کمرہ آرام دہ نرم وگداز بستر اورپھر…قبر‘مٹی کا گھر اس نے تو اس سفر کے لیے کوئی زاد راہ بھی جمع نہیں کیا تھا۔ نماز کب پڑھی یاد نہیں۔ روزہ کب رکھا۔ یہ بھی فراموش کرچکی تھی۔ بے پردہ‘ بے نیاز گھومتی رہی۔ گھر میں روک ٹوک کی تو بس دادی نے ۔ ماں اور باپ جدیدیت کے ایسے حامی تھے کہ پلٹ کر مڑکر کبھی دیکھا ہی نہیں کہ بچوں کی تربیت کن خطوط پر ہورہی ہے۔ انہیں آرام و آسائش مہیا کرنا ہی ان کے نزدیک سب سے بڑا فریضہ تھا۔ حالانکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ’’بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت والدین کی طرف سے بہترین عطیہ ہے۔‘‘اور دنیا کے لیے جو کچھ کررہے ہیں آخرت میں ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے۔گم صم ثانیہ خوف کے عالم میں تھی۔
یہاں تک کہ مردوں کے اندر آنے کی اطلاع ملی کہ دادی کو سفر آخرت پر لے جایا جائے کہ ان کی تدفین کی جائے۔
تو کیا دادی قبر میں رکھنے کے لیے لے جائی جارہی ہیں؟اندھیری ‘مٹی کی کوٹھڑی‘ نہ روشنی نہ ہوا۔ نہ کوئی آواز نہ صدا‘ثانیہ کا جسم ہولے ہولے کپکپانے لگا تھا۔ یہاں تک کہ دادی کو لے گئے۔ ثانیہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ لمحہ بھر کو چند سسکیاں ابھریں۔ وہ بھی معدوم ہوگئیں۔ پھر وہا ں ہر کسی کے ہاتھ میں گھٹلیاں اور زبان پر جہاں بھر کے قصے جاری تھے۔
ثانیہ نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔کچھ دیر بعد صغریٰ اس کے لیے کھانا لائی۔وہ بھی جوں کا توں رکطا رہا۔ گھنٹے بعد صوفیہ اس کے کمرے میں آئیں۔ رو رو کر ثانیہ کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیںجب کہ صوفیہ نارمل انداز میں اس کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیرتے ہوئے بولیں۔
’’سب کو جانا ہے ثانی‘ ہمت کرو بیٹا۔ اٹھو۔ ہاتھ منہ دھوکر کھانا کھالو۔شاباش۔‘‘صوفیہ نے اسے پچکارا۔’’مجھے بہت کام ہیں باہر‘ تم سو جانا۔ ‘‘صوفیہ پیار سے کہتے ہوئے باہر چلی گئیں۔
ثانیہ نے ہاتھ منہ دھو کر دو چار لقمے حلق سے اتارے۔ اوربھاری سر کو سنبھالتی بستر پر آگئی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ کافی دیر بعد اسے نیند آئی۔ جانے کتنی دیر سوئی تھی۔ یک دم اس کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں ہلکا اندھیرا تھا۔ اس نے خواب میں دادی کو دیکھا تھا۔ وہ ایک پھولوں سے بھرے سرسبز باغ میں جائے نماز پر بیٹھی قرآن پاک پڑھ رہی ہیں اور جھوم رہی ہیں۔ ان کا نورانی چہرہ دمک رہا تھا۔ ثانیہ کی سمجھ میں بس یہی آیا کہ دادی بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ پھر جانے کب اس کی آنکھ لگی۔
صبح بہت اداس تھی۔ گھر میں عجب سوگوار سی خاموشی چھائی تھی۔ آج صوفیہ نے قرآن خوانی اور ایک درس دینے والی عالمہ کو بلایا تھا۔ عصر کے بعد انہوں نے آنا تھا۔ دوپہر کے بعد چاندنیاں بچھنے لگیں۔ لوبان واگر بتی کی خوشبو نے ماحول کو افسردہ بنا دیاتھا۔ رفتہ رفتہ خواتین آنے لگیں۔ یہاں پر بھی انہوں نے فیشن کو حتی المقدور اپنانے کی پوری کوشش کی تھی۔ جدید لباس ‘جیولری جوتے ثانیہ کے حلق میں کڑواہٹ سی گھل گئی۔
وقت مقررہ پر عالمہ فاطمہ ہاشمی بھی آگئیں۔نیناں اور ہادیہ ثانیہ کے دائیں بائیں بیٹھی تھیں۔ فاطمہ ہاشمی کے چہرے پر عجیب سی روشنی تھی۔ کالے حجاب میں لپٹا سرخ وسفید چہرہ۔ ہرطرح کی آرائش سے پاک۔
سب خواتین سر ڈھکے ان کی باتیں سننے کے انتظار واشتیاق میں تھیںکہ ان کی د ل نشین نرم آواز ابھری۔
’’السلام علیکم!سب بہنیں خاموش ہوجائیں اور دل سے ایک بار درود پاک پڑھیں۔‘‘ان کی مسحورکن آواز ثانیہ کے دل میں اتر گئی۔’’درود پاک‘‘ وہ جیسے کسی خواب سے جاگی تھی۔ نیناں اور ہادیہ کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ تب ثانیہ نے سرجھکا کر نیناں سے کہاکہ وہ اسے آہستگی سے درود پاک پڑھائے۔نیناںنے مختصر سادرود پاک پڑھا۔ ثانیہ ساتھ ساتھ دہرانے لگی۔ مارے شرمندگی کے اس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی۔ نئی فلموں اوراداکاروں کے نام اور سب گانے اسے ازبر تھے۔نہ یاد تھا تو درود پاک۔ اس کے اندر شرمندگی سر اٹھا رہی تھی۔
’’میری بہنو! کل اس گھر سے ایک بزرگ خاتون کو رب کریم نے اپنے پاس بلالیا۔ آپ سب جانتی ہیں کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ جلد یا بدیر اسے موت ضرور آنی ہے۔ زندگی کے بعد موت ایک اٹل حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے موت کے بعد اس کی زندگی میں ہونے والے اعمال کا حساب کتاب شروع ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے جیسے آپ سب کسی پرچے یا امتحان کی تیاری کرتے ہیں اور پھر نتیجے کا انتظار ہوتا ہے۔ جو با لآخر آجاتا ہے۔اسی طرح دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور نتیجہ مرنے کے بعد حساب کتاب کے بعد ملتا ہے۔بہنو! دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارلجزاء۔‘‘
’’تو میری پیاری بہنو! ہم سب کو آج ہی سے اپنا احتساب کرنا ہے۔ ہم سارا دن کیا کرتے ہیں۔ کتنی نیکیاں اور کتنے گناہ اور کیا ہم گناہ کے بعد سچے دل سے توبہ کرتے ہیں؟توبہ کیا ہے؟توبہ یہی کہ دوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا رب کریم کے حضور سچے دل سے وعدہ کرنا۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سب اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ کریں۔ توبہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اس کا بندہ اپنے گناہوں سے شرمندہ ہوکر اس کی بارگاہ میں توبہ و بخشش کا طلب گار ہوتا رہے۔ میری بہنو!دین کو اپنا شعار بنائو۔یہودوہنود کی اندھی تقلید کے پیچھے مت بھاگو۔ اپنی نمازوں کی ادائیگی وحفاظت کرو‘ پردے کا اہتمام کرو‘ قرآن حکیم کی تلاوت کو اپنا معمول بنائو۔ ترجمہ سے استفادہ کرو۔ اپنے گھروں کو ایمان کی سچی روشنی سے سجائو۔‘‘ تو آج ہی میری عزیز بہنو! اپنے آپ کو ایمان و سنت کے لباس میں ڈھالو تاکہ آنے والی نسلوں تک اس کا اثر پہنچے۔آئیے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیجئے اور حاجرہ خاتون کے درجات کی بلندی کے ساتھ ساتھ اپنی بخشش کی دعا بھی کریں۔ ‘‘
ثانیہ پر کپکپی طاری تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ کیسی پر اثر باتیں تھیں۔آج سے پہلے تو گویا جہالت کی زندگی گزررہی تھی۔ اندھیرا تھا‘ گہری تاریکی‘روشنی تو اسے اب نظر آئی تھی۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
یہ ہدایت کا ہی لمحہ تھا اوراس کی سچی نیت پھر آنے والے دنوں میں ثانیہ کی کایا پلٹی۔عبایا اور حجاب میں ملبوس ثانیہ دیکھنے والوں کے لیے حیرانی کا باعث بنی۔ گھر میں بڑے بڑے دوپٹوں میں ملفوف نماز وقرآن کی باقاعدگی۔ ایک نئی ثانیہ کا جنم ہوا تھا۔ صوفیہ اور بشریٰ اسے سمجھانے کی کوشش کرتیں مگر الٹا وہ انہیں درس دینے لگتی۔
دادی کے کمرے میں جاتی تو ایک انمول مہک اس کی سانسوں میں اتر جاتی۔ وہ رو پڑتی کاش دادی کی زندگی میں اس کے اندر یہ تبدیلی آجاتی۔تو وہ کتنی خوش ہوتیں۔ وہ ان کو کلام پاک پڑھ بخشتی رہتی۔
زندگی یکسر تبدیل ہو کر رہ گئی تھی۔ گھر والوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیاتھا۔ صوفیہ اور بشریٰ کی وہی روٹین تھی۔ کوئی اسے بڈھی روح کہتا‘ کوئی پرانے زمانے کی بڑھیا۔ ثانیہ کو کسی کی پروا نہ تھی۔ سیرت نبویﷺ کے مطالعے۔ قرآن حکیم کے ترجمہ وتفسیر نے اس کے اندر صبر‘برداشت اور حوصلہ پیدا کردیا تھا۔ اسے یہ پتہ چل چکا تھا کہ ایک دین دار عورت پورے معاشرے کو بدل کر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ آنے والی نسلوں کی اسلامی خطوط پر پرورش کرسکتی ہے۔
اپنی تعلیم سے فراغت کے بعد اس نے عالمہ کا کورس کیا۔وہیں پر موجود مسز مجید نے اسے دیکھا اور اپنے بیٹے ڈاکٹر احمد صالحہ کے لئے پسند کرلیا۔اونچا لمبا باریش ڈاکٹر احمد صالح سب کو پسند آیا۔ مسز مجید گھر میں درس کا اہتمام کرتیں۔ سو انہیں ثانیہ جیسی بہو کی تلاش تھی۔یوں چھ ماہ بعد ثانیہ ڈاکٹر صالح کی دلہن بن کر آگئی۔ ہدایت کا کوئی لمحہ نہیں۔ بس انسان کی نیت صاف ہو تو راستے کے کانٹے اور رکاوٹیں خود بخود دورہوجاتی ہیں۔ثانیہ کی خوش نصیبی کہ شادی کے چار ماہ بعد ہی اسے احمد صالح کے ساتھ حج کی سعادت نصیب ہوگئی۔
’جاتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں۔‘‘اللہ نے اسے اپنے پسندیدہ لوگوں میں شامل کرلیا تھا۔ اس سے بڑھ کر زندگی میں اور کیا چاہئے تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close