Hijaab Apr-18

میرے خواب زندہ ہیں

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
لالہ رخ لاش کی شناخت کی خاطر پولیس اسٹیشن آتی ہے اور مہرو کو نہ دیکھ کر سکون کا سانس لیتی ہے مشکل کی ان گھڑیوں میں فرز ہر دم ان کے ساتھ رہتا ہے۔ کامیش کی گاڑی کے سامنے جو لڑکی آتی ہے وہ دراصل مہرینہ ہی ہوتی ہے جسے اسپتال پہنچا دیا جاتا ہے وہاں ڈاکٹرز اس کی ابتر حالت کے باعث فی الحال کوئی تسلی نہیں دے پاتے، فراز مہرینہ کی گمشدگی کے حوالے سے کامیش سے بات کرتا ہے اور اسے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرنے اور مدد کرنے کا کہتا ہے ایسے میں کامیش کسی لڑکی کے ایکسیڈنٹ ہونے اور اسپتال میں جا کر دیکھنے کو کہتا ہے فراز اور لالا رخ اسپتال پہنچتے ہیں تو مہرینہ ہی وہ لڑکی ہوتی ہے اور آئی سی یو میں ہوتی ہے۔
ماریہ اپنے اپارٹمنٹ میں تنہا ہوتی ہے دوسری طرف فراز اسے یہاں چھوڑ کر خود اس قدر مصروف ہوجاتا ہے کہ اس کی خیریت بھی دریافت نہیں کرپاتا۔ جیکولین کو پچھتاوے گھیر لیتے ہیں جب ہی شدید ٹینشن کا شکار ہو کر اس کی طبیعت بگڑ جاتی ہے ابرام اسے اسپتال لاتا ہے ۔ جیسکا ابرام سے ملنے اسپتال آتی ہے اور نہایت عاجزانہ انداز میں ابرام کو اپنی محبت کا یقین دلاتی ہے لیکن ابرام ماریہ کی وجہ سے اس سے بدظن ہوتا ہے لہٰذا وہ اس کی محبت کا جواب نفرت سے دیتا ہے جیسکا کو اپنی محبت سے دستبردار ہونا نہایت مشکل لگتا ہے ابرام کے انکار پر وہ اپنے حواس کھو دیتی ہے اور واپسی پر روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو کر زندگی سے منہ موڑ لیتی ہے۔ جیسکا کی یہ موت ابرام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیتی ہے دوسری طرف جیکولین ماضی کے حقائق ابرام کے سامنے رکھتی ہے کہ وہ کس طرح ایک ایشئن مرد کی محبت میں گرفتار ہوگئی تھی اور مذاہب میں فرق کے باوجود وہ شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔
باسل فراز کے متعلق تمام سچائی سمیر کو بتاتا ہے جس پر سمیر خوش نظر آتا ہے لیکن اسے یقین ہوتا ہے کہ ساحرہ ان باتوں کو اہمیت نہیں دے گی۔ حورین کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے اور اس کی غائب دماغی کی یہ کیفیت خاور اور باسل کو اضطراب میں مبتلا کردیتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
/…ؤ …/
باسل اور خاور حیات نے ایک دوسرے کو انتہائی کرب آمیز نگاہوں سے دیکھا حورین ہنوز گنگنا رہی تھی کمرے میں چہار سو وحشت رقصاں تھی عجب سی ویرانی کا عالم تھا جیسے وہ اپنے گھر میں نہیں بلکہ کسی صحرا میں کھڑے ہیں نجانے کس کی نظر اس خوشحال فیملی کو لگ گئی تھی۔ باسل اور خاور بے جان سے کمرے کی چوکھٹ پر خالی الذہن کھڑے یک ٹک حورین کو دیکھے جا رہے تھے جواب بے حد اطمینان سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنا دامن جھاڑنے لگی اور بڑے سکون سے اپنے بیڈ کی جانب آکر وہاں بکھری چیزوں کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر بستر کے دوسرے جانب رکھتے ہوئے اپنی جگہ بنا کر لیٹ کر آنکھیں موندھ گئی باسل اور خاور جیسے گہری نیند سے اس لمحے جاگے خاور تیزی سے اندر کی طرف بڑھا اور بے تابی سے حورین کے بیڈ کے پاس پہنچ کر اس کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھا حورین کا ماتھا غیر معمولی طور پر ٹھنڈا محسوس ہوا خاور نے اسے غور سے دیکھا تو وہ گہری نیند میں جا چکی تھی اس نے انتہائی بے بس نگاہوں سے سوئی ہوئی حورین کو دیکھا جبکہ باسل بھی وہاں آگیا تھا اس نے بڑی آہستگی سے حورین کے وجود پر کمبل ڈالا پھر سہولت سے خاور کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لا کر کمرے کا دروازہ بند کیا۔ خاور کو اس وقت خود پر ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ باسل نے خاور کے چہرے کی طرف دیکھا جو اس کی اندرونی توڑ پھوڑ کا بھرپور غماز تھا جب ہی وہ آہستگی سے بولا۔
’’ڈیڈ پلیز خود کو سنبھالیے یہ ہماری لائف کا ایک ٹف پیریڈ ہے مگر ہمیں ہمت نہیں ہارنی بلکہ اس کا بہادری سے مقابلہ کرنا ہے مام کو واپس نارمل لائف کی جانب لانا ہے مجھے اپنے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ڈیڈ وہ ہمیں کبھی مایوس نہیں کرے گا۔‘‘ خاور نے ایک نگاہ باسل کو دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر بولا۔
’’باسل مجھ سے حورین کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے دماغ کی نس پھٹ جائے گی نجانے کس بد بخت کی نگاہ نے میری حورین کو اس حال میں پہنچا دیا ہے۔ ‘‘ آخر میں خاور کے لہجے میں تلخی ہی تلخی تھی باسل نے نرمی سے اپنا ہاتھ خاور کے کندھے پر رکھا۔
’’جو بھی ہے ڈیڈ مگر وہ دوبارہ پہلے جیسی ہوجائیں گی لیکن ہمیں گھبرانا بالکل نہیں ہے نہ ہی مایوس ہونا ہے۔‘‘ باسل کی بات پر خاور نے اثبات میں سر ہلایا پھر ہولے سے گویا ہوا۔
’’آئو ذرا ڈاکٹر اقبال محبوب سے بات کر کے حورین کی کنڈیشن بتاتے ہیں۔‘‘ پھر وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔
/…ؤ …/
مہرو کچھ دیر کے لیے ہوش میں آئی ضرور تھی مگر دوبارہ بے ہوش ہوجاتی تھی شکر تھا کہ اس کے کومہ میں جانے کا خطرہ ختم ہوگیا تھا مگر ابھی بھی اس کی حالت زیادہ تسلی بخش نہیں تھی لالہ رخ اور فراز رات دن کا فرق بھلائے اسپتال میں ہی براجمان تھے۔ مسلسل جاگنے سے لالہ رخ کی طبیعت بھی بہت خراب ہوگئی تھی۔
فراز یہ سب بخوبی دیکھ رہا تھا اس نے کئی بار اسے آرام کرنے کا کہا مگر لالہ رخ مانی نہیں ہر بار وہ یہی کہتی۔
’’جب مہرو جاگ جائے گی تب میں بھی آرام کرلوں گی۔‘‘ اس وقت وہ دونوں صبح کا ناشتہ کینٹین سے کر کے واپس اسپتال کی بلڈنگ کی جانب آرہے تھے جب ہی لالہ رخ کچھ سوچ کر گویا ہوئی۔
’’فراز میرے خیال میں آپ کو کراچی واپس جانا چاہیے مجھے ماریہ کی فکر ہو رہی ہے وہ وہاں بالکل اکیلی ہے آپ کے آسرے پر وہ اتنی دور سے یہاں آئی ہے فراز یقینا وہ بہت ہراساں ہو رہی ہوگی مگر آپ سے ذکر نہیں کر رہی، ماریہ آپ کی ذمہ داری ہے آپ پلیز کراچی چلے جائیں۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر فراز بھی کسی گہری سوچ میں مستغرق ہو گیا پھر ہموار لہجے میں اس کے ہمرہ چلتے ہوئے بولا۔
’’مگر لالہ رخ تم اکیلی یہاں کیسے سب سنبھالو گی اور خود تمہاری حالت بھی کتنی خراب ہو رہی ہے تمہیں آرام کی اشد ضرورت ہے۔‘‘ کاہی گرین اور ریڈ کنٹراسٹ کے کاٹن کے ملگجے سے سوٹ میں واقعی وہ حال سے بے حال لگ رہی تھی۔
’’میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا ہے لالہ رخ۔‘‘ چلتے ہوئے فراز اپنی جگہ رکا تو لالہ رخ بھی اسے دیکھ کر ٹھہر گئی۔
’’کیسا آئیڈیا۔‘‘ لالہ رخ کا لہجہ استفہامیہ تھا جب ہی فراز دوبارہ گویا ہوا۔
’’ہم ایسا کرتے ہیں کہ امی اور زرتاشہ کو یہاں بلا لیتے ہیں امی تمہارے ساتھ یہیں رک جائیں گی جب کہ زرتاشہ مہرو سے مل کر میرے ساتھ کراچی چلی جائے گی۔‘‘
’’مگر میں امی کو یہاں کہاں رکھوں گی فراز؟‘‘ لالہ رخ قدرے حیرت سے بولی تو فراز کچھ سوچ کر بولا۔
’’ویسے تو اس اسپتال کے کچھ فاصلے پر ہوٹلز بنے ہوئے ہیں مگر میں چاہ رہا ہوں کہ اگر یہیں تمہیں پرائیوٹ روم مل جائے تو بہت اچھا ہوجائے۔‘‘ لالہ رخ کو فراز شاہ کا آئیڈیا بہت اچھا لگا تھا وہاںمری میں امی پریشان تھیں یہاں آکر ان کے دل کو بھی تسلی ہوجائے گی۔
’’مگر ایسا ممکن ہے کیا؟‘‘ لالہ رخ سہولت سے بولی جب ہی فراز نے دوبارہ قدم بڑھائے تھے۔
’’ممکن تو سب کچھ ہے لالہ رخ آئو ذرا ایڈمن والوں سے بات کر کے دیکھتے ہیں۔‘‘لالہ رخ نے وہاں کھڑے ہو کر کچھ سوچا پھر سر جھٹک کر وہ فراز کے پیچھے چل دی۔
/…ؤ …/
سونیا نے تو جیسے ایک ہنگامہ کھڑا کردیا تھا کامیشس کے صاف انکار نے اس کے اندر کے غرور اور زعم پر بڑی گہری ضرب لگائی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کامیش کا گریبان پکڑ کر تھپڑوں سے اس کا چہرہ سرخ کردے وہ زخمی سانپ کی مانند اندر ہی اندر بل کھا رہی تھی جبکہ ساحرہ اس کی دل جوئی کرتے ہوئے ہلکان ہوئے جا رہی تھی جس کا اشتعال کسی طور ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔
’’میری جان تم پلیز کول ڈائون ہوجائو میرا بچہ میں تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ کامیش تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا وہ صرف تمہارا ہے اور ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا تم کیوں اتنا اسٹریس لے رہی ہو۔‘‘
’’آنٹی آپ کا بیٹا میرے منہ پر مجھے انکار کر کے گیا ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ میں کول ڈائون ہوجائوں ہنہہ۔‘‘ وہ ساحرہ کو کٹیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے استہزائیہ انداز میں بولی تو ساحرہ جز بز سی ہوئی پھر اسے چمکارتے ہوئے کہنے لگی۔
’’تم اپنی آنٹی کی صرف اس بات پر بھروسہ کرلو میری جان کہ میں کامیش کو ایسا ہرگز نہیں کرنے دوں گی مجھے لگتا ہے کہ وہ فراز کی باتوں میں آگیا ہے مگر تم بالکل فکر مت کرو فراز کا سحر میں اس کے اوپر سے ضرور ختم کر کے رہوں گی۔‘‘ سونیا نے ناگواری سے ساحرہ کو دیکھا پھر نخوت سے ناک چڑھا کر بولی۔
’’آنٹی آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ مجھے رشتوں کی کمی نہ پہلے تھی نہ اب ہوگی میں تو صرف آپ بڑوں کی خاطر اس رشتے کو بچانا چاہ رہی تھی۔‘‘ ساحرہ یہ سن کر گویا ہوئی۔
’’میں سمجھ سکتی ہوں بیٹا تمہیں ہماری عزت کا کتنا خیال کس قدر احساس ہے۔‘‘
’’اگر ڈیڈ کو یہ سب پتا چل گیا ناں کہ کامیش نے میری کتنی انسلٹ کی ہے تو وہ ایک لمحہ بھی مجھے اس گھر میں ٹھہرنے نہیں دیں گے اور آنٹی پھر وہ آپ کا بھی چہرہ ساری زندگی نہیں دیکھیں گے آپ کا میکہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔‘‘ سونیا نے اس پل ساحرہ کو جذباتی بلیک میل کیا تھا ساحرہ واقعی گھبرا گئی تھی۔
’’افوہ میری گڑیا میں تم سے کہہ تو رہی ہوں ناں کہ کامیش ایسا کچھ نہیں کرے گا بس تم اب مجھ پر سب چھوڑدو اور پلیز ریلیکس ہوجائو میں تمہارے لیے ابھی فریش اورنج جوس بھجواتی ہوں اوکے۔‘‘ یہ کہہ کر ساحرہ سونیا کے پہلو سے اٹھی اور اس کے کمرے سے باہر نکل گئی۔
/…ؤ …/
زرمینہ یونیورسٹی سے آکر حسب معمول سونے کی بجائے ہاسٹل کے کمرے کی کھڑکی کے پاس آکر کھڑی ہوگئی سردیاں اب مکمل طور پر تمام ہوچکی تھیں موسم بہاراں کی رنگینیاں و رعنائیاں چہار سو پھیلی بے حد دلفریب اور دلکش لگ رہی تھیںہاسٹل کی کچھ لڑکیاں باغیچے میں موجود خوش کپیوں میں مصروف تھیں اور زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتے ہوئے ایک دوسرے سے چھیڑ خانی میں مصروف تھیں زرمینہ نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کے شیشے کو وا کیا تو ایک خوش گوار ہَوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرا کر جیسے زندگی کا احساس دلا گیا وہ بے اختیار ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی اسے بہار کا موسم ہمیشہ سے بہت پسند تھا وہ بھی انہی لڑکیوں کی طرح لان میں جا کر چہل قدمی کرتی‘ پھولوں اور پتوں کی کاٹ چھانٹ کرتی مگر آج کل اس پر عجیب سی یاسیت و پثرمردگی طاری تھی احمر نے جس دن سے اپنے دل کی حکایت بیان کی تھی وہ تو جیسے اندر سے مردہ سی ہوگئی تھی وہ ہنوز گم صم سی کھڑی تھی جب ہی ایک لڑکی اونچی آواز سے اپنی دوست سے بولی۔
’’ویسے کرن تمہیں کیا لگتا ہے یہ شہروز مجھے پروپوز کرے گا یا ایویں ٹائم پاس کر رہا ہے۔‘‘ اس لڑکی کی آواز پر زرمینہ بے اختیار اپنے دھیان سے چونکی تھی۔
’’مجھے تو وہ بالکل سیریس لگتا ہے یار سچائی اس کی آنکھوں سے جھلکتی ہے وہ تم سے واقعی محبت کرتا ہے۔‘‘ اس کی دوست نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا جب ہی ایک دوسری لڑکی بولی۔
’’تو پھر اس علی کا کیا ہوگا جو تمہاری بہن کی نند کا دیور ہے جس کا پروپوزل تمہارے گھر آیا ہوا ہے۔‘‘
’’میں علی کے لیے انکار کردوں گی ڈیئر بھلا شہروز جیسا سچی محبت کرنے والا مجھے کہاں ملے گا۔‘‘ وہ لڑکی بولی تھی۔
’’نرمین تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو محبت کو ٹھکرانا کفران نعمت ہے یہ تو ہمیں قدرت کی طرف سے ملتی ہے وہ لوگ بہت بد نصیب ہوتے ہیں جو خالص محبت کی قدر نہیں کرتے اور اس سے منہ موڑ لیتے ہیں پھر وہ تمام زندگی اس گمشدہ محبت کو تلاش کرتے رہتے ہیں مگر وہ تو جیسے صحرا کی بارش کی طرح روٹھ جاتی ہے پھر کبھی ہاتھ نہیں آتی۔‘‘ زرمینہ اس لمحے جیسے سن سی ہوگئی بے اختیار اس کا ذہن احمر یزدانی کی طرف چلا گیا اسے یک دم بے تحاشا وحشتوں نے آن گھیرا دوسرے ہی پل وہ کھڑکی کا شیشہ بند کر کے وہاں سے ہٹ گئی۔
/…ؤ …/
ڈاکٹر اقبال محبوب حورین کو چیک کر کے تھوڑی دیر پہلے گئے تھے آج باسل اور خاور نے ان کے چہرے پر تشویش کے رنگوں کو بخوبی محسوس کیا تھا وہ دونوں بھی اندر ہی اندر خائف ہوگئے تھے اس تمام وقت میں حورین پر سکون نیند سو رہی تھیں اور ابھی بھی محو خواب تھی خاور نے ملازمہ سے کہہ کر کمرے کی صفائی کرالی تھی جس نے بے حد احتیاط سے بنا کوئی آواز پیدا کیے کمرہ اپنی دوبارہ اصل حالت میں کردیا تھا کیونکہ ڈاکٹر اقبال محبوب کے کہنے کے مطابق کہ حورین جب سو کر اٹھے گی تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے کچھ دیر پہلے والے جنون اور وحشت کو پہلے کی طرح بھول جائے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ کمرے کی ابتری دیکھ کر یقینا بری طرح پریشان ہوجائے گی اور فی الحال حورین کو اس کی بیماری سے لا علم رکھنا ہی بہتر تھا لہٰذا خاور نے فوراً سے پیشتر حورین کی خاص ملازمہ کو اس کی نیند ڈسٹرب کیے بنا روم کو صاف کرنے کا آرڈر دیا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب حورین کی کنڈیشن تو دن بہ دن ڈائون ہوتی جا رہی ہے میں تو بڑی پابندی سے جوس اور کھانے وغیرہ میں میڈیسنز بھی دے رہا ہوں مگر یہ ری کور کیوں نہیں کر رہی ہے۔‘‘ خاور ڈاکٹر اقبال کے ہمراہ چلتے ہوئے انتہائی پریشانی کے عالم میں بولا تو ڈاکٹر اقبال محبوب اپنے مخصوص دھیمے انداز میں گویا ہوئے۔
’’یہی میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا میرے حساب سے تو ان میڈیسنز سے حورین کو کافی ری کور ہونا چاہیے تھا۔‘‘
’’اب ڈاکٹر صاحب۔‘‘ خاور ڈاکٹر صاحب کی بات پر اچھا خاصا متوحش ہوگیا تھا۔ جب ہی ڈاکٹر نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔
’’خاور صاحب آپ پریشان مت ہوں جس بیماری کا شکار آپ کی مسز ہیں اس میں عموماً مریض ایسی کیفت میں مبتلا ہوجاتا ہے یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ان شاء اللہ وہ ٹھیک ہوجائیں گی بس آپ اس بات کا خاص خیال رکھیے کہ کوئی ذہنی بوجھ اور تنائو ان کے دماغ میں نہ ہو اور کسی بھی قسم کی ٹینشن سے انہیں دور رکھنا ہے اوکے۔‘‘ جوابا خاور نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
/…ؤ …/
فراز نے اسپتال کے ایڈمن ڈیپارٹمنٹ میں بات کی تو پہلے تو انہوں نے کوئی روم دینے سے صاف انکار کردیا مگر جب فراز نے پر کشش امائونٹ کی آفر دی تو وہ شخص ڈھیلا پڑتے ہوئے بولا۔
’’ویسے تو سر یہاں ایسا کوئی رول نہیں ہے کہ اس طرح ہم کسی کو روم رینٹ پر دیں مگر ایک طریقہ نکالا جاسکتا ہے۔‘‘ فراز یہ سن کر تیزی سے بولا۔
’’کون سا طریقہ۔‘‘ اگر لالہ رخ کو یہاں ٹھہرنے کے لیے کوئی روم مل جاتا تو بہت آسانی ہوسکتی تھی۔
’’یہاں کچھ رومز ہیں مگر وہ ہمارے دوسرے شہروں سے آئے ڈاکٹرز کے لیے ہیں ہاں اگر ہم یہ کہہ دیں کہ آپ لوگ کسی ڈاکٹر کی فیملی سے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کا کام بن جائے۔‘‘ جب ہی فراز فوراً سے پیشتر بولا۔
’’آپ پلیز کوشش کیجیے اور کسی بھی بات کی بالکل فکر مت کیجیے گا۔‘‘ پھر تقریباً دو گھنٹے کے اندر اندر انہیں بہت ہی اچھا روم مل گیا تھا لالہ رخ بھی بہت مطمئن ہوگئی تھی اب کم سے کم وہ امی کو یہاں بلا سکتی تھی فراز نے فوراً زرتاشہ کو فون کر کے یہاں آنے کو کہہ دیا تھا اور ساتھ میں اسے یہ بھی با آور کر دیا تھا کہ وہ یہاں سے اس کے ساتھ کراچی جائے گی تاکہ وہ وہاں جا کر اپنی یونیورسٹی جوائن کرسکے زرتاشہ نے تغافل برتنا چاہا تھا مگر فراز نے ڈپٹ کر اسے خاموش کرا دیا تھا پھر اس نے ٹریول ایجنٹ سے بات کر کے کل دوسرے دن کی دو ٹکٹ بک کرالی تھیں شام تک زرتاشہ امی کو لے کر بس کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئی تھی اور اب دونوں مہرو کی حالت دیکھ کر زار و قطار رو رہی تھیں۔
’’امی پلیز خود کو سنبھالیے مہرو اب خطرے سے باہر ہے بس آپ دعائیں کیجیے کہ اسے جلد سے جلد مکمل ہوش آجائے۔‘‘ لالہ رخ امی کو تسلی دیتے ہوئے نم لہجے میں بولی جب ہی زرتاشہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے سوالیہ انداز میں گویا ہوئی۔
’’لالہ مہرو ٹھیک تو ہوجائے گی ناں؟‘‘
’’کیوں نہیں ٹھیک ہوگی مہرو؟ تم سب کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں اور پھر یہاں اس کا بہت اچھا ٹریٹمنٹ بھی ہو رہا ہے اللہ سے اچھی امید رکھو زرتاشہ۔‘‘ لالہ رخ کے بجائے فراز نے جواب دیا تو زرتاشہ اثبات میں سر ہلا گئی کہ اچانک فراز کا سیل فون بج اٹھا فراز نے موبائل اسکرین کی طرف دیکھا تو کامیش کالنگ بلنگ ہوتا دیکھ کر وہ ایک سائیڈ پر ہو کر فون پک کر گیا۔
’’ہیلو برو سب کچھ ٹھیک ہے ناں تمہاری پیشنٹ کو ہوش آیا کیا؟‘‘ فراز نے موبائل کان سے لگا کر ہیلو کہا تو دوسری جانب سے کامیش کی فریش سی آواز ابھری تھی فراز نے ایک گہری سانس بھری پھر سہولت سے گویا ہوا۔
’’ابھی مکمل طور پر تو ہوش نہیں آیا کامیش۔‘‘ جواباً کامیش نے ایک ہنکارہ بھرا پھر اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا۔
’’تمہاری فرینڈ کی کسی سے کوئی دشمنی وغیرہ تو نہیں تھی۔‘‘ کامیش نے روایتی پولیس کے انداز میں پوچھا تو فراز سہولت سے بولا۔
’’نہیں یار ان لوگوں کی بھلا کس سے دشمنی ہونی تھیں یہ لوگ تو وہاں مری میں بہت سادہ سی لائف گزار رہے تھے اپنے آپ میں مگن اورمہرو تو بہت فرینڈلی اور ہمدرد لڑکی ہے وہ تو دشمن کو بھی اپنا دوست بنالے اینی ویز میں کل صبح کی فلائٹ سے کراچی آرہا ہوں۔‘‘ آخر میں فراز نے اپنے آنے کی اطلاع بھی دے ڈالی تھی پھر تھوڑی اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد کامیش نے فون بند کردیا تو فراز لالہ رخ اور زرتاشہ کی جانب بڑھ گیا۔
/…ؤ …/
’’تمہارے باپ کا نام صالح علوی تھا اس نے کبھی تمہاری ذات میں دلچسپی نہیں لی تھی یہاں تک کہ تمہیں کبھی نظر بھر کر دیکھا تک نہیں تھا مجھ پر جلد ہی اس کی عجیب و غریب شخصیت واضح ہوگئی تھی اس کی زندگی میں کہیں بھی توازن نہیں تھا اس کی سوچیں اور خیالات بھی بالکل اسی کی طرح غیر متوازن تھے وہ جلد ہی کسی رشتے سے اکتا جاتا تھا ہمارے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ابرام… پھر وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا گیا۔‘‘ اس لمحے جیکولین کی آواز نمی میں ڈوبی ہوئی تھی جبکہ حزن و ملال کے رنگ اس کے زرد چہرے پر پوری طرح بکھرے ہوئے تھے ابرام بے پناہ عجیب سی کیفیت میں گھرا یک ٹک اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا جو آج سے پہلے کسی بند کتاب کی طرح تھی مگر آج وہ خود اپنی ذات کا ہر ورق اس کے سامنے رکھ رہی تھی کتنی ٹوٹی ہوئی شکستہ حال پور پور زخم خوردہ اپنے اندر ڈھیروں غموں کو سموئے باہر سے انتہائی سخت و با رعب دکھائی دینے والی اس کی ماں ابرام کی آنکھوں کے کونے اس لمحے تیزی سے گیلے ہوتے چلے گئے تھے۔
’’ابرام میرے بیٹے تمہاری ماں نے دوسری سنگین غلطی پھر ایڈم سے شادی کر کے کی۔‘‘ بہت دیر خاموش رہنے کے بعد جیکولین اپنے گھٹنوں سے لگے بیٹھے ابرام کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولی تو ابرام محض انہیں دیکھتا رہ گیا تھا اسی لمحے اس کے سیل فون کی بیپ بجی تو ابرام اپنے دھیان سے بری طرح چونکا وہ لائونج میں بیٹھا نجانے کتنی دیر سے جیکولین کی باتوں کو یاد کر رہا تھا ان انکشافات کو اپنے اندر اتار کر اسے قبول کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کا دل و دماغ اس جان لیوا سچائی کو ماننے سے بالکل انکاری تھے اس کا سیل فون مسلسل بج رہا تھا ابرام نے ناچارسر جھٹک کر اپنا فون ریسیو کیا۔
/…ؤ …/
سونیا کے ہنگامہ کھڑا کرنے سے ساحرہ سمیر شاہ پر چڑھ دوڑی تھی کامیش کسی مشن کے سلسلے میں دو دن کے لیے ٹھٹھہ گیا ہوا تھا سونیا کو کسی بھی صورت اپنی ہار برداشت نہیں تھی اسے کامیش پر بے حد غصہ آرہا تھا مگر اب صرف اپنی انا کی تسکین کی خاطر وہ کامیش کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتی تھی ورنہ جس طرح اس نے سونیا کو ریجیکٹ کیا تھا اس پر سونیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کامیش جان لے لے اس نے اپنی دوست رامیہ سے بے پناہ اشتعال کے عالم میں کہا تھا۔
’’میں دوبارہ اپنے دل کی پوری آمادگی کے ساتھ کامیش کی جانب بڑھی تھی رامیہ میں خود بھی اندر ہی اندر پچھتا رہی تھی کہ کامیش جیسے بھر پور مرد کو چھوڑ کر میں نے غلطی کی ہے مگر نہیں رامیہ یہ انسان تو عورت ذات کے قابل ہی نہیں ہے اس کے جذبات و احساسات پتھر ہیں اسے صرف اپنے پروفیشن سے سروکار ہے۔‘‘ پھر سارا بیگم کو بھی تمام بات بتا کر کامیش اور اس کے گھر والوں کو خوب برا بھلا کہا تھا جس پر سارا بیگم نے مجبور ہو کر سونیا سے استفسار کیا تھا۔
’’اب تمہارا کیا ارادہ ہے بیٹا کیا گھر واپس آجائو گی۔‘‘ سونیا نے اپنی ماں کی بات پر انتہائی نفرت آمیز لہجے میں اپنے ہونٹوں کو سکیڑ کر کہا۔
’’ ہونہہ کامیش کیا مجھے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کرے گا میں خود اس مشینی انسان کے اوپر لعنت بھیجتی ہوں مگر ہاں مام اتنا ضرور ہے کہ کامیش اور اس کے گھر والوں کو میں ایک لمحہ کے لیے بھی سکون سے رہنے نہیں دوں گی۔‘‘ سونیا نے ابھی فی الحال ساحرہ کے کھونٹے کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھا ہوا تھا اور اسے حسب منشا استعمال کر رہی تھی اور ساحرہ کے ذریعے ہی وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوسکتی تھی لہٰذا اس کے سامنے وہ ہنوز بے چارگی‘ لاچارگی اور مظلومیت کا ڈرامہ کر رہی تھی۔
’’سمیر تم کامیش سے کہو کہ وہ اپنی روش سے باز آجائے اور سونیا کو دوبارہ اپنا لے ورنہ اس بات کا انجام بہت برا ہوگا اوکے۔‘‘ ساحرہ کی ٹون نے سمیر شاہ کو بھی آگ بگولہ کردیا انہوں نے انتہائی خشمگین نگاہوں سے اپنی نصف بہتر ناقص العقل کو دیکھا پھر غصے سے بولے۔
’’تم دھمکی دے رہی ہو مجھے، آج مجھے تمہاری سوکالڈ بھتیجی اور تمہارے اندر کوئی فرق نظر نہیں آرہا ساحرہ اپنے مفاد اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انسانیت کی سطح سے گرجانے والی۔‘‘ سمیر شاہ کے نوکیلے لفظوں کی کاٹ نے ساحرہ کو بلبلانے پر مجبور کردیا۔
’’اچھا میں انسانیت سے گری ہوئی ہوں اور تم… تم اور تمہارا بیٹا کیا بہت عظیم کام کر رہے ہیں سمیر یقینا کامیش صرف تمہاری اور فراز کی شہہ پر ہی یہ سب کر رہا ہے مگر یاد رکھنا سمیر میں سونیا کے اوپر اتنا بڑا ظلم ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ اس وقت وہ واقعی کسی این جی او کی سرگرم ورکر لگ رہی تھی سمیر شاہ نے اسے بے پناہ تاسف سے دیکھا جو پیر پٹخ کر وہاں سے اب جاچکی تھی۔
/…ؤ …/
زرتاشہ فراز کے ہمراہ بائی ایئر کراچی آگئی تھی فراز نے سب سے پہلے اسے ہاسٹل چھوڑا تھا پھر اپنے فلیٹ کی راہ لی تھی زرتاشہ کا چہرہ پورے رستے پھولا ہوا تھا وہ کراچی نہیں آنا چاہتی تھی مگر فراز اسے زبردستی یہاں لے آیا تھا۔ اس لمحے فراز کا تھکن سے برا حال تھا وہ گھر جا کر بس سونا چاہتا تھا اپنے فلیٹ کے دروازے پر پہنچ کر اس نے ڈور بیل بجائی تو ماریہ جو کسی مذہبی کتاب کی ورق گردانی کر رہی تھی اپنے دھیان سے چونکی پھر بے ساختہ خود سے بولی تھی۔
’’اس وقت کون آگیا۔‘‘ پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر اس نے آئی ہول سے دیکھا تو دروازے کے اس پار فراز شاہ کو دیکھ کر اسے اپنے بصارتوں پر یقین ہی نہیں آیا جسم و جاں میں عجیب سی لہر دوڑ گئی جبکہ دل کی دھڑکنیں اسے اپنے کانوں میں سنائی دینے لگیں اس نے اپنی اس نا سمجھ میں آنے والی کیفیت پر قابو پانے کے لیے ایک گہری سانس لی پھر دوسرے ہی لمحے دروازہ وا کردیا فراز نے جونہی ماریہ کو دیکھا اسے سلام کر کے اندر کی جانب قدم بڑھائے ماریہ نے بھی سرعت سے سامنے سے ہٹ کر فراز کو اندر آنے کا راستہ دیا وہ اچانک اس کے یہاں آنے پر حیران سی تھی فراز نے اسے کوئی اطلاع بھی نہیں دی تھی فراز لائونج میں صوفے پر بیٹھ کر اس سے اب حال احوال دریافت کر رہا تھا پھر تھوڑی دیر بعد وہ شرمندگی سے بولا۔
’’ایم سوری ماریہ مجھے آپ کو یوں اکیلے تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا مگر کیا کرتا ایک ایمرجنسی ہوگئی تھی۔‘‘ ڈارک بلو جینز پر وائٹ شرٹ پہنے چہرے پر بے تحاشا تھکن کے اثرات لیے اپنے بکھرے بالوں میں وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا ماریہ نے لحظہ بھر کر اس کی جانب دیکھا پھر نرمی سے بولی۔
’’کوئی بات نہیں فراز صاحب مجھے یہاں کوئی پریشانی نہیں ہوئی آپ سارا انتظام تو کر کے ہی گئے تھے ناں۔‘‘ آف وائٹ سادہ سے شلوار سوٹ میں ملٹی کلر کے دوپٹے میں ماریہ اسے بہت معصوم سی لگی فراز اسے دیکھ کر ہولے سے مسکرایا پھر کسلمندی سے بولا۔
’’میں بہت تھک گیا ہوں اب بس سونا چاہتاہوں۔‘‘ ماریہ نے اسے دیکھا جو صوفے کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں موندھ گیا تھا۔
’’ٹھیک ہے آپ کمرے میں جا کر سوجائیے‘ آپ کے لیے چائے لے آئوں کیا؟‘‘ ماریہ سہولت سے بولی مگر فراز نے کوئی جواب نہیں دیا وہ ہنوز آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا ماریہ نے اسے مزید ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا لہٰذا وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
/…ؤ …/
حورین حسب توقع جب نیند سے جاگی تو اسے کچھ یاد نہیں تھا باسل اسے زبردستی موسمی فریش پھل کھلا رہا تھا جسے حورین صرف باسل کے کہنے پر طوعاً و کرہاً کھا رہی تھی وگرنہ اس کا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔
’’بس باسل پلیز اب مزید کچھ نہیں کھائوں گی۔‘‘ کینو کی جانب بڑھتے ہاتھ کو دیکھ کر حورین بے چارگی سے بولی تو باسل اپنی ماں کو دیکھ کر ہولے سے مسکرایا پھر سہولت سے بولا۔
’’کیوں مام کینو تو آپ کو بہت پسند ہیں ناں پھر منع کیوں کر رہی ہیں۔‘‘ اس وقت وہ حورین کے ہمراہ سیٹنگ روم میں بیٹھا ہوا تھا حورین نے صبح اٹھ کر اپنے معمول کے کام نمٹائے تھے باسل اور خاور خاموشی سے حورین کو مصروف دیکھ رہے تھے پھر خاور تو آفس چلا گیا تھا مگر باسل نے آج یونیورسٹی سے آف کرلیا تھا اب وہ سہ پہر کے وقت بیٹھے فروٹس سے لطف اندوز ہو رہے تھے معاً حورین کو کچھ یاد آیا تو وہ باسل سے استفسار کرتے ہوئے بولی۔
’’باسل کیا آپ نے سمیر بھائی صاحب سے بات کی فراز کے متعلق۔‘‘ حورین کی بات پر باسل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’مام میں اور ڈیڈ سمیر انکل کے آفس گئے تھے میں نے تمام بات ان کو بتائی مگر…!‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوا تو حورین نے بڑی بے چینی سے اپنی پہلو بدلا۔
’’مگر کیا بیٹا؟‘‘ باسل فروٹ باسکٹ ایک جانب سرکاتے ہوئے گہری سانس بھر کر گویا ہوا۔
’’مام سمیر انکل کا کہنا ہے کہ اگر میں نے یہ ساری بات ساحرہ آنٹی کو بتا بھی دی ناں تب وہ بھی فراز بھائی کی بے گناہی پر یقین نہیں کریں گی اور سونیا کا ہی ساتھ دیں گی۔‘‘ یہ سن کر حورین بے حد حیران ہوئی تھی۔
’’مگر کیوں باسل ساحرہ بھابی ایسا کیوں کریں گی انہیں کیا اپنے بیٹے پر اتنا بھی بھروسہ نہیں ہے مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ کوئی ماں اپنی اولاد کو لے کر اتنی بے اعتبار و بد گمان بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ اس لمحے باسل نہیں چاہ رہا تھا کہ حورین کے دماغ پر کوئی ناگوار بوجھ پڑے جب ہی موضوع کو بدلنے کی غرض سے بولا۔
’’اچھا مام یہ بتائیے کہ میری انگیج منٹ کی شاپنگ کمپلیٹ ہوگئی یا اب بھی مزید کچھ باقی ہے۔‘‘ جبکہ یہ سن کر حورین نے اچانک اپنے ماتھے پر دھیرے سے ہاتھ مارا۔
’’او مائی گاڈ باسل دیکھو میں تو بالکل ہی بھولی بیٹھی ہوں مجھے تو عنایہ کے لیے کچھ چیزیں لینی تھیں اور اس کا ڈریس بھی فائنل کرنا تھا تم ابھی اور اسی وقت عنایہ کو فون ملائو۔‘‘ حورین آخر میں بے پناہ عجلت بھرے لہجے میں بولی تو باسل نے اپنا سیل فون کارنر ٹیبل سے اٹھایا اور عنایہ کو کال ملانے لگا۔
/…ؤ …/
زرتاشہ کے اچانک وارد ہوجانے پر زرمینہ کو خوش گوار حیرت کا جھٹکا لگا۔
’’زرتاشہ تم آگئیں۔‘‘ پھر اگلے ہی پل وہ زرتاشہ سے لپٹ گئی دونوں سہیلیاں ایک دوسرے سے لپٹیں بہت دیر تک روتی رہیں پھر زرمینہ نے خود کو پہلے سنبھالا وہ آہستگی سے الگ ہو کر نرمی سے بولی۔
’’بس تاشو اب رونا نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا ہمارا رب سب سے بڑا کارساز ہے ان شاء اللہ مہرو جلد ٹھیک ہوجائے گی اللہ کا بہت بہت شکر ہے کہ وہ زندہ ہے تم دیکھنا وہ جلد ہی اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑی ہوجائے گی۔‘‘ زرمینہ اسے سہولت سے شانوں سے تھام کر بیڈ پر بٹھا چکی تھی جو ہنوز آنکھوں سے آنسو بہا رہی تھی۔
’’زری مہرو کو ابھی تک پوری طرح سے ہوش نہیں آیا اور فراز بھائی کو دیکھو وہ مجھے وہاں سے زبردستی لے آئے مجھے وہیں رکنا تھا امی اور لالہ کے ساتھ میں مہرو کو اس حال میں چھوڑ کر یہاں نہیں آنا چاہتی تھی زری۔‘‘ زرتاشہ انتہائی شکوہ کناں لہجے میں بولی تو زرمینہ ہولے سے مسکرائی پھر اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’فراز بھائی نے بالکل ٹھیک کیا تاشو وہاں اسپتال میں لالہ آپی اور تمہاری امی پہلے ہی مشکل سے رہ رہی ہیں تم وہاں ہوتیں تو ان دونوں کو اور مشکل ہوتی اور پھر مہرو کے لیے تم یہاں بیٹھ کر بھی تو دعائیں کرسکتی ہو ناں۔‘‘ زرمینہ کی بات پر اس نے جھنجلا کر اپنے ہاتھ جھٹکے تھے۔
’’کچھ بھی ہے زری بس میرا دل نہیں چاہ رہا تھا یہاں آنے کو اتنی پریشانی اور کٹھن گھڑی میں امی اور لالہ کو یوں اکیلے چھوڑ کر آنا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی تو زرمینہ ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھام کر گویا ہوئی۔
’’تاشو مشکل گھڑی تو تب تھی جب مہرو ہمیں نہیں مل رہی تھی اب تو صرف خداوند عالم سے دعا کا وقت ہے کہ مہرو کو جلد سے جلد ہوش آجائے اور وہ مکمل صحت یاب ہوجائے۔‘‘ زرمینہ کی بات پر زرتاشہ نے اسے دیکھا پھر کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
/…ؤ …/
ماریہ بہت دیر بعد اپنے کمرے سے نکلی تو فراز شاہ کو ہنوز اسی پوزیشن میں گہری نیند مستغرق پایا وہ یونہی بیٹھے بیٹھے انتہائی بے آرام حالت میں سوگیا تھا ماریہ چند ثانیے کھڑی اسے دیکھتی رہی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے پھر کچھ سوچ کر آہستہ سے چلتی ہوئی فراز شاہ کے قریب آئی اور ہولے سے اسے پکارا مگر غالباً فراز بہت تھکا ہوا تھا وہ ہنوز یونہی سوتا رہا تو مجبوراً ماریہ نے ہلکے سے اس کے کندھے کو ہلایا۔
’’فراز پلیز کمرے میں سوجائیے۔‘‘ بجائے فراز کی آنکھ کھلنے کے وہ مزید صوفے پر سر رکھ کر لیٹ گیا اور اپنے پائوں بھی صوفے پر سمیٹ لیے ماریہ نے انتہائی الجھن بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’اف یہ تو اٹھ ہی نہیں رہے لگتا ہے ان کی نیند بہت گہری ہے۔‘‘ وہ خود سے بولی پھر فرازکے پیروں کے قریب جا کر سہولت سے پہلے اس کے جوتوں کو اتارا پھر موزوں سے اس کے پیروں کو آزاد کیا پھر اس کے بیڈ روم سے جا کر اس کا تکیہ اور چادر اٹھا کر لائی فراز کا سر اٹھا کر اس کے نیچے تکیہ رکھتے ہوئے وہ ہچکچائی تھی مگر یہ کام بھی تو ضروری تھا اس کے وجود پر چادر ڈال کر وہ سیدھی ہوئی تو ایک سکون آمیز سانس اس نے فضا کے حوالے کی فراز کو بے آرام حالت میںسوتا دیکھ کر ماریہ کو بھی بے سکونی محسوس ہو رہی تھی اب وہ قدرے بہتر حالت میں محو خواب تھا ماریہ اسے دیکھ کر بے ساختہ مسکرائی پھر دبے پائوں کچن کی طرف بڑھ گئی۔
/…ؤ …/
ابرام جیکولین کو دلیہ دینے کے بعد میڈیسن کھلا کر اس سے ہلکی پھلکی گفتگو کر رہا تھا کہ اسی دم دوڑ بیل کی آواز پر وہ چونک اٹھا تھا اس نے ابھی تک جیکولین کو جیسکا کی حادثاتی موت کی بابت نہیں بتایا تھا اور جب سے جیکولین اسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر آئی تھی میک اور پال بھی گھر نہیں آئے تھے نہ انہوں نے اسپتال آکر اس کی مزاج پرسی کی تھی۔
’’اس وقت کون آسکتا ہے۔‘‘ ابرام خود سے با آواز بلند بولا تو جیکولین نے کمزور لہجے میں کہا۔
’’ابرام جو کوئی بھی ہو اس سے کہہ دینا میں سو رہی ہوں۔‘‘ جیکولین بستر پر لیٹ چکی تھی ابرام نے اثبات میں سر ہلا کر ’’اوکے مام‘‘ کہا پھر کمرے کی لائٹ آف کر کے دروازہ ہولے سے بند کر کے میں گیٹ کی جانب بڑھ گیا اور اپنی جون میں اس نے جونہی دروازہ کھولا سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر اس کے اعصاب کو خفیف سا جھٹکا لگا تھا جبکہ نووارد نے ابرام کو دیکھ کر ایک پر تپاک مسکراہٹ اس کی جانب کی تھی جبکہ لہجہ بھی ویسے ہی پر جوش تھا۔
’’ہیلو مسٹر ابرام ہائو آر یو۔‘‘ وہ بڑی ترنگ میں بولے تھے پھر دوسرے ہی پل وہ اندر آگئے تھے ابرام راستے سے خاموشی سے ہٹ گیا تھا۔ وہ چلتے ہوئے کاوچ پر آکر تقریبا ڈھے سے گئے پھر اپنے مخصوص انداز میں بولے۔
’’میں بہت تھک گیا ہوں سفر بہت لمبا تھا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔‘‘ وہ ابرام کی خاموشی سے بے خبر بولے جا رہے تھے جبکہ ابرام سوچ رہا تھا کہ اس مصیبت کو بھی ابھی ہی نازل ہونا تھا اسے یکلخت جیکولین کا خیال آیا تو وہ اندر ہی اندر ہراساں ہوگیا یقینا ان کی آمد جیکولین کی طبیعت پر بہت گراں گزرے گی اس خیال نے ابرام کواچھا خاصا ڈسٹرب کردیا جو اب اِدھر اُدھر گردن گھما کر دیکھتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
’’ماریہ اور جیکولین کہاں ہیں، کیا دونوں گھر پر نہیں ہیں کیا؟‘‘ اس پل ابرام اپنی جگہ کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب وہ اس شخص کو کیسے فیس کرے گا۔
/…ؤ …/
لالہ رخ اور امی ہنوز مہرو کے پاس اسپتال میں ہی تھیں مہرو کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا لالہ رخ تو مسلسل آئی سی یو کے باہر ہی بیٹھی ہوئی تھی جبکہ امی بھی اس کے ہمراہ موجود تھیں حالانکہ لالہ رخ نے امی سے بارہا کہا تھا کہ وہ کمرے میں جا کر کچھ دیر آرام کرلیں مگر وہ نہیں مانی تھیں اس وقت عشاء کی آذان ہوچکی تھی لالہ رخ اور امی نے نماز سے فارغ ہو کر کینٹین میں جا کر کھانا کھا لیا تھا اب وہ دوبارہ اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئی تھیں جبکہ زرتاشہ ہر گھنٹہ بعد فون کر کے مہرو کی خیریت دریافت کر رہی تھی اس وقت بھی اس کا فون آگیا تھا وہ از حد فکر مند تھی جب ہی لالہ رخ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی۔
’’تاشو میری جان تم اتنا پریشان کیوں ہو ڈاکٹرز نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ مہرو کو جلد ہی ہوش آجائے گا۔‘‘ اس لمحے تسبیح پڑھتے ہوئے امی بھی لالہ رخ کو دیکھتے ہوئے اس کی باتوں کو سن رہی تھیں۔
’’کیا کروں لالہ میرا دل یہاں بالکل بھی نہیں لگ رہا تم لوگوں کا بار بار خیال آرہا ہے اور امی؟ وہ تو ٹھیک ہیں ناں وہاں اسپتال میں کتنا بے آرام ہو رہی ہوں گی۔‘‘ زرتاشہ ہنوز متفکرانہ لہجے میں بولی تو لالہ رخ ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی پھر دوبارہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
’’تم کیوں اتنی پریشان ہو رہی ہو تاشو یہاں سب ٹھیک ہے امی بھی بے آرام نہیں ہیں بس ابھی تھوڑی دیر بعد میں انہیں کمرے میںبھیج رہی ہوں تاکہ وہ کچھ دیر سوجائیں اور ہاں اب تم بھی سوجائو سویرے جلدی اٹھنا ہوگا ناں۔‘‘ بات کرتے ہوئے لالہ رخ کی نگاہ ایک نرس کی جانب پڑی جو آئی سی یو سے باہر بڑی عجلت میں نکلی تھی۔
’’اچھا چلو صحیح ہے مگر خدا کے واسطے لالہ تم بھی آرام کرلینا ورنہ بیمار پڑ جائو گی۔‘‘ زرتاشہ بادل نخواستہ بولتی آخر میں اسے کہہ گئی تو اس نے اثبات میں سر ہلا کر ہنس کر کہا۔
’’اچھا دادی اماں میں بھی آرام کرلوں گی اب خوش۔‘‘ پھر تھوڑی دیر بعد اس نے فون بند کیا تو ڈاکٹر کو اسی وقت نرس کے ہمراہ جلدی سے آئی سی یو میں جاتے دیکھا لالہ رخ کا دل کسی انجانے خوف سے دھڑک اٹھا۔
’’یا الٰہی خیر کرنا۔‘‘ وہ بے ساختہ دل ہی دل میں بولی پھر وہی نرس تیزی سے باہر آکر ان سے بولی۔
’’آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔‘‘
/…ؤ …/
مسٹر ایڈم تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی ہانک کر دوبارہ ابرام سے استفسار کرتے ہوئے بولے۔
’’ماریہ اور جیکولین کہاں ہیں مسٹر ابرام میں ان دونوں سے ملنا چاہتا ہوں تم پلیز انہیں انفارم کرو کہ میں آیا ہوں۔‘‘ مسٹر ایڈم کی بات پر ابرام نے ان کو بغور دیکھا پھر اپنے دونوں بازو سینے پر فولڈ کرتے ہوئے انتہائی سپاٹ لہجے بولا۔
’’کیوں۔‘‘ اپنے ایش گرے سفری کوٹ سے کوئی چیز ٹٹولتے ہوئے یکلخت ابرام کے لفظ پر مسٹر ایڈم نے بے حد اچنبھے سے اسے دیکھا پھر کندھے اچکا کر بولے۔
’’کیوں کا کیا مطلب میں اتنے عرصے بعد گھر آیا ہوں تو ماریہ اور جیکولین سے ملنا چاہتا ہوں میں کوئی انہونی بات کر رہا ہوں کیا؟‘‘ اس لمحے ان کے لہجے میں ناگواری شامل ہوگئی تھی ابرام نے اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک مسٹر ایڈم کو اسی رنگ ڈھنگ میں دیکھا تھا وہ بغیر کسی کو بتائے یونہی سالوں کے لیے غائب ہوجاتے تھے اور پھر اچانک وارد ہو کر کچھ عرصہ گھر پرگزار کر پھر گھر سے نکل پڑتے تھے مگر اس بار وہ گھر پر آئے تھے تو حالات پہلے جیسے ہر گز نہیں تھے ابرام کو اس بے حس اور خود غرض شخص پر بے حد غصہ آیا۔
’’اوہ تو آپ ماریہ اور جیکولین سے ملنا چاہتے ہیں جو غالباً آپ کی بیٹی اور بیوی ہے کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت وہ لوگ کس حال میں ہیں۔‘‘ ابرام کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس شخص کو جھنجوڑ ڈالے آخر کب تک وہ اپنی ذمہ داریوں سے منہ چھپائے یونہی آوارہ گردی کرتا رہے گا۔
’’میں وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ ان کے کیا حال ہیں؟‘‘ مسٹر ایڈم بے زاری سے بولے تو ابرام نے انہیں استہزائیہ انداز میں دیکھتے گویا ہوا۔
’’اچھا آپ کو دو سال بعد ان کا حال پوچھنے کا خیال آ ہی گیا۔‘‘ ابرام کی بات پر مسٹر ایڈم جزبز سے ہوگئے۔
’’وہ… وہ میں کچھ مصروف تھا ورنہ جیکولین کو فون ضرور کرلیتا۔‘‘
’’میں آپ سے آپ کی اس مصروفیت کے بارے میں بالکل نہیں پوچھوں گا جس نے اتنے دن آپ کو اپنی بیوی اور بیٹی کے حال سے غافل رکھا اینی ویز مام کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے وہ اس وقت ریسٹ کر رہی ہیں بہتر ہوگا کہ آپ انہیں ڈسٹرب نہ کیجیے۔‘‘ یہ کہہ کر ابرام تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔
/…ؤ …/
اس وقت رات کے نو بج رہے تھے زرتاشہ اور زرمینہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی باتیں کرکے اپنے اپنے بستروں پر سونے کے لیے لیٹی تھیں کہ یک لخت زرمینہ کے موبائل فون کی بیل تیزی سے بج اٹھی زرمینہ نے جلدی سے اٹھ کر سائیڈ میز پر رکھے فون کو اٹھا کر دیکھا تو اسکرین پر بھائی کا نام جگمگاتا دیکھ کر وہ اندر ہی اندر خائف ہوگئی۔
’’اللہ خیر کرے یہ بھائی مجھے اس وقت فون کیوں کر رہے ہیں۔‘‘ وہ تیز آواز میں خود سے بولی زرتاشہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی سائیڈ لیمپ کی مدہم سی روشنی میں اس نے زرتاشہ کے پریشان چہرے کو دیکھا تھا اور جلدی سے فون پک کر کے فوراً پوچھا تھا۔
’’بھائی سب خیر تو ہے ناں۔‘‘ دوسری جانب سے زرمینہ کے بھائی کی پریشان کن آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
’’زرمینہ خیریت نہیں ہے آج شام حمیرا چھت سے گر گئی تھی اس وقت وہ اسپتال میں ہے۔‘‘
’’یا اللہ خیر۔‘‘ زرمینہ نے بے اختیار اپنے دل پر ہاتھ رکھا پھر بے حد ہراساں اور گھبرا کر بولی۔
’’بھائی حمیرا کیسے چھت سے گرگئیں اور اب ان کی حالت کیسی ہے؟‘‘ زرتاشہ یہ سن کر انتہائی پریشان ہو کر زرمینہ کے بستر پر آکر بیٹھ گئی۔
’’حمیرا کی حالت ٹھیک نہیں ہے زرمینہ بس تم دعا کرو۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے فون رکھ دیا تو زرمینہ کان سے فون کو ہٹا کر محض اسے دیکھتی رہ گئی جب زرتاشہ سے مزید برداشت نہیں ہوا تو زرمینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
’’کیا بات ہے زری سب خیر تو ہے ناں کون ہیں یہ حمیرا بھابی۔‘‘ معا زرتاشہ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو زرمینہ بری طرح چونکی پھر زرتاشہ کی طرف دیکھا اور دوسرے ہی لمحے اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی پھر ہچکیاں لیتے ہوئے بمشکل بولی۔
’’وہ… وہ میرے بھائی کی بیوی ہیں تاشو ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ زرمینہ کے منہ سے یہ انکشاف سن کر زرتاشہ گم صم سی بیٹھی رہ گئی آخر اتنی بڑی بات زرمینہ نے اسے کیوں نہیں بتائی تھی کہ اس کی بھابی بھی ہے مگر یہ وقت شکوے شکایتوں کا نہیں تھا زرتاشہ اسے تسلیاں دینے لگی جو ہنوز رورہی تھی۔
/…ؤ …/
مسٹر ایڈم بالکل چپ چاپ ساکت سے بیٹھے نجانے کن سوچوں میں گم تھے جیکولین نے انتہائی بے زاری سے انہیں دیکھا پھر بڑے سپاٹ انداز میں بولی۔
’’میرے خیال میں ماریہ کا یہ سب کرنے کے بعد تمہارے لیے اتنا ہی جاننا کافی ہے کہ تمہاری بیٹی اب یہاں نہیں رہتی وہ زندہ ہے یا مر گئی ہے اس بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے۔‘‘ جیکولین جب سو کر اٹھی تو اسے بھی مسٹر ایڈم کی آمد کا علم ہوگیا تھا اب وہ ماریہ کے بارے میں مختصراً بتا کر اے یقینا ورطہ حیرت میں مبتلا کر گئی تھی لائونج میں بہت دیر تک خاموشی چھائی رہی ابرام بھی اس پل وہیں جیکولین کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا پھر کافی دیر گزر جانے کے بعد مسٹر ایڈم کی گمبھیر آواز فضا میں گونجی۔
’’ماریہ نے تمہاری اتنی کڑی نگرانی کے باوجود اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا لیا جیکولین۔‘‘ اس پل ان کے لہجے میں عجب سا تاثر تھا ابرام انہیں بے ساختہ دیکھتا رہ گیا جبکہ جیکولین نے ان کو بڑے استہزائیہ انداز میں دیکھا پھر طنزیہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’اوہ تو تم مجھے مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہو ایڈم کیا تم یہ بات فراموش کر گئے کہ اس کی رگوں میں تمہارا خون تھا۔ ہو نہ احسان فراموش اور خود غرضی تو اسے اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہے ناں۔‘‘ مسٹر ایڈم نے نگاہ اٹھا کر جیکولین کو دیکھا پھر گڑ بڑا کر گویا ہوئے۔
’’میرا یہ مطلب بالکل نہیں تھا جیکولین ماریہ کو اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا اس نے اپنے ساتھ ساتھ تم لوگوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے اس نے اچھا نہیں کیا۔‘‘ جیکولین نے ہنوز نگاہوں سے مسٹر ایڈم کو دیکھا پھر ایک گہری سانس بھر کر تلخی سے بولی۔
’’غلطی شاید میری ہی ہے میں یہ بات بھول گئی تھی کہ ماریہ تمہاری بیٹی ہے۔‘‘ جواباً مسٹر ایڈم جیکولین کو دیکھتے رہ گئے۔
/…ؤ …/
لالہ رخ کے جسم کا روم روم اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھا طویل جان لیوا انتظار کے بعد مہرو کو ہوش آگیا تھا مگر ابھی ان کا ذہن غنودگی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹرز نے جب اس سے اس کا نام پوچھا تو وہ بتا نہیں سکی تھی جبکہ اپنے پاس کھڑی لالہ رخ اور امی کو بھی اس نے کوئی توجہ نہیں دی تھی بس وہ اتنا بولی تھی۔
’’مجھے سونے دو بہت نیند آرہی ہے۔‘‘ اس کے بعد مہرو ایک بار پھر غنودگی میں چلی گئی تھی۔
’’ڈاکٹر صاحب یہ یہ ہمیں پہچان کیوں نہیں رہی تھی۔‘‘ لالہ رخ نے بے تحاشا ہراساں ہو کر ڈاکٹر فہیم سے پوچھا تھا جو ایک مایہ ناز سرجن تھے۔
’’ڈونٹ وری مس لالہ رخ دماغ پر چوٹ لگنے اور ہیوی ڈوز میڈیسنز کی وجہ سے ابھی مہرینہ بی بی کا ذہین ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہے مگر ان شاء اللہ دو سے تین دن میں ان کا دماغ کام کرنا شروع کردے گا تو انہیں سب یاد آجائے گا اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اوکے۔‘‘ ڈاکٹر کی زبانی یہ سب سن کر لالہ رخ اور امی کو گہری طمانیت اور مسرت کا احساس ہوا تھا لہٰذا دونوں مہرو کی طرف سے پر سکون ہو کر اپنے کمرے میں آگئی تھیں اور آتے ہی بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر بجا لائی تھیں۔ ’’لالہ اللہ نے ہماری مہرو پر اپنا بہت کرم کیا ہے اس کا لاکھ لاکھ شکرہے بیٹا۔‘‘ امی نماز سے فارغ ہو کر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولیں تو لالہ رخ اپنے دھیان سے چونک کر امی کو دیکھنے لگی۔
’’آپ نے کچھ کہا امی؟‘‘ لالہ رخ نے استفسار کیا تو امی چند ثانیے کے لیے اسے دیکھتی رہ گئیں تھکن کے ساتھ ساتھ چہرے پر تفکرات کے بکھرے رنگوں کو دیکھ کر امی نے نرمی سے کہا۔
’’کیا بات ہے لالہ تم مجھے پریشان لگ رہی ہو‘ مجھے بتائو کس بات کو لے کر تم اتنی ڈسٹرب ہو؟‘‘ لالہ رخ نے ایک نگاہ امی کو دیکھا پھر بیڈ پر سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے وہ گویا ہوئی۔
’’امی میں آگے کے حالات کے بارے میں سوچ رہی ہوں مہرو ہوش میں آنے کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے اس حادثے کو لے کر کیسے ری ایکٹ کرے گی وہ پہلے ہی اس بات کو لے کر اتنا اپ سیٹ تھی کہ وہ پھوپو کی سگی بیٹی نہیں ہے ہوش میں آنے کے بعد نجانے اس کی ذہنی کیفیت کیسی ہوگی؟‘‘ لالہ رخ کی بات انہیں سو فیصد درست لگی تھی۔
’’یہ تو تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو لالہ مہرو کے ذہن پر بٹو کی موت کا بہت برا اثر پڑے گا اپنے سگے بھائی کی طرح چاہتی تھی وہ اسے۔‘‘بٹو کے نام پر لالہ رخ کے تصور کے پردے پر اس کا بھولا بھالا چہرہ لہرا گیا یکلخت اس کا دل گہرے رنج و ملال سے بھر گیا۔ ’’بٹو کی موت ہمارے لیے بہت بڑا سانحہ ہے امی وہ واقعی ہم دونوں کو اپنے چھوٹے بھائی کی طرح عزیز تھا نجانے اس غریب کے ساتھ ہوا کیا کس ظالم نے اس معصوم کی جان اتنی بے دردی سے لے لی تھی۔‘‘ بے اختیار لالہ رخ کی خوب صورت آنکھوں سے آنسو موتی کی صورت میں گرنے لگے تھے۔
’’وہ معصوم بچہ نجانے کس کی بربریت کی بھینٹ چڑھ گیا مہرو ان شاء اللہ پوری طرح ہوش میں آئے گی تب ہی وہ اس حقیقت سے پردہ اٹھائے گی کہ اس صبح آخر ہوا کیا تھا۔‘‘ پھر کچھ دیر بعد انہیں کوئی خیال آیا تو لالہ رخ سے مخاطب ہو کر بولیں۔
’’تم نے فراز کو بتایا کہ مہرو کو کہ ہوش آگیا ہے اور اب وہ خطرے سے باہر ہے؟‘‘
’’نہیں امی میں نے فراز کو فون نہیں کیا وہ بہت تھکا ہوا تھا ہوسکتا ہے سو رہا ہو اسی خیال کے تحت میں نے فون نہیں کیا تھکن اتر جانے کے بعد خود ہی فون کرلے گا۔‘‘
’’ہوں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو چلو خیر صبح فون کر کے تم تاشو اور فراز کو خوش خبری سنا دینا اور اب تم بھی سوجائو ۔‘‘ امی کی بات پر لالہ رخ نے اثبات میں سر ہلا دیا اور پیر پھیلا کر لیٹ گئی۔
/…ؤ …/
تقریبا رات کے پچھلے پہر اچانک فراز کی آنکھ کھلی تو وہ ہڑبڑا کر صوفے سے اٹھاچند ثانیے کے لیے اسے سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے پھر ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہوا تو سب یاد آنے پر وہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا تھوڑی دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد اس نے بے ساختہ اپنے پیروں کی طرف دیکھا جو ہر چیز سے آزاد تھے پھر زمین پر پڑے اپنے جوتے اور موزوں کو دیکھ کر وہ خفیف سا ہوگیا یہ کام یقینا ماریہ نے کیا تھا فراز ابھی مزید کچھ اور بھی سوچتا کہ اسی پل ماریہ نے دھیرے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تو اسے جاگتا دیکھ کر اس کے چہرے پر خوشگواریت پھیلتی چلی گئی وہ تیزی سے باہر آکر بولی۔
’’اوہ تھینک گاڈ کہ آپ جاگ گئے آپ صوفے پر بہت بے آرام ہو کر سو رہے تھے میں نے آپ کو جگانے کی کوشش کی تاکہ آپ اپنے بیڈ روم میں جا کر سوجائیں مگر شاید آپ بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے۔‘‘ فراز نے ایک نگاہ ماریہ کی جانب دیکھا پھر شرمندگی سے گویا ہوا۔
’’آئی ایم سوری ماریہ آپ کو میرے جوتے اتارنے پڑے یو آر رائٹ میں واقعی بہت تھک گیا تھا۔‘‘ اسے جھینپتا دیکھ کر ماریہ دھیرے سے مسکرا دی پھر نرمی سے بولی۔
’’اٹس اوکے فراز آپ کے جوتے اتارنا کوئی اتنا بڑا کام تو نہیں تھا جس کے لیے آپ مجھ سے یوں نادم ہو رہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر فراز دھیرے سے ہنس دیا پھر سامنے دیوار پر لگی وال کلاک کی جانب دیکھا جو رات ڈھائی بجے کا اعلان کر رہی تھی اس نے بے ساختہ جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا سیل فون نکالا جو اس نے دوران فلائٹ سوئچ آف کردیا تھا اور اب تک آف ہی تھا اس نے سرعت سے اپنا سیل فون آن کیا۔
’’پتا نہیں کہیں لالہ رخ نے مجھے کال نہ کی ہو۔‘‘ وہ دل ہی دل میں خود سے بولا جب ہی ماریہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ۔
’’میں آپ کے لیے کچھ کھانے کے لیے لائوں؟‘‘ لالہ رخ کا فی الحال کوئی میسیج موبائل فون میں موجود نہیں تھا فراز نے سر اٹھا کر ماریہ کو دیکھا پھر سہولت سے بولا۔
’’یس شیور بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ ماریہ اس کا جواب سن کر ہولے سے مسکرائی پھر کچن کی جانب بڑھ گئی جبکہ فراز شاہ صوفے سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
/…ؤ …/
تقریباً فجر کے قریب زرمینہ کے موبائل فون کی گھنٹی ایک بار پھر بجی تھی دونوں کی ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے آنکھ لگی تھی زرتاشہ اور زرمینہ ہڑ بڑا کر اٹھی تھیں زرمینہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ فون پک کیا اور دوسرے ہی لمحے وہ بلک بلک کر رونے لگی۔
’’کیا ہوا زری سب ٹھیک تو ہیں ناں بھابی کیسی ہیں اب؟‘‘ زرمینہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیوں کا گلا گھوٹنے کی کوشش میں بے حال ہوئے جا رہی تھی۔
’’تاشو بھابی… بھابی چلی گئیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلی گئیں۔ اب وہ ہمیشہ کے لیے پر سکون ہوگئیں تاشو انہیں اس زندگی سے نجات مل گئی جو ایک کرب مسلسل تھی انہیں آزادی مل گئی تاشو وہ آزاد ہوگئیں مجھے رونا تو نہیں چاہیے نا وہ تو آج زندہ ہوئی ہیں آج ہی تو انہیں زندگی ملی ہے مجھے بالکل نہیں رونا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے اپنی ہتھیلیوں سے اپنے گالوں پر ڈھلکے آنسوئوں کو پونچھنے لگی زرتاشہ اسے انتہائی نا سمجھی کے عالم میں دیکھے گئی پھر دوسرے ہی لمحے اس نے زرمینہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’ہوش میں آئو زری اللہ کی یہی مرضی تھی صبر کرو میری اچھی سہیلی خود کو سنبھالو کاتب تقدیر کے آگے ہم سب بے بس ہیں پلیز زری سنبھالو خود کو۔‘‘ وہ ہولے ہولے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بول رہی تھی پھر صبح آٹھ بجے کے قریب زرمینہ کا ڈرائیور اسے لینے آگیا۔
’’میں تمہیں ہی فون کرنے والی تھی۔‘‘ زرمینہ کو سی آف کر کے اس نے بوجھل دل سے لالہ رخ کو فون ملایا پھر مہرو کی بابت اسے بتایا تو اس کا دل خوشی سے لبریز ہوگیا جبکہ آنکھیں بے ساختہ چھلک پڑیں۔
’’ اللہ کا بہت شکر ہے لالہ اب مہرو بالکل ٹھیک ہوجائے گی ناں۔‘‘ وہ روتی ہوئی آواز میں بولی تو لالہ رخ مسکرا کر گویا ہوئی۔
’’کیوں نہیں تاشو مہرو ان شاء اللہ مکمل صحت یاب ہو کر پہلے کی طرح مجھ سے بے تکی باتوں پر جھگڑا بھی کرے گی اور اپنے اس ہیرو کی شان میں قصیدے بھی پڑھا کرے گی۔‘‘
’’اللہ کرے لالہ ایسا ہی ہو۔‘‘ وہ بے ساختہ بولی پھر تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد فون بند کر کے نا چاہتے ہوئے بھی کیمپس کی تیاری کرنے لگی آج زرمینہ کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کا دل یونیورسٹی جانے کا بالکل نہیں چاہ رہا تھا۔
/…ؤ …/
باسل نے سمیر شاہ کے گھر جا کر جب ساحرہ کے سامنے فراز شاہ کی بے گناہی رکھی تو توقع کے عین مطابق ساحرہ نے باسل کو پوری طرح جھٹلایا تھا اس کے بقول فراز باسل کو بھائیوں کی طرح سمجھتا تھا لہٰذا باسل فراز کی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے یہ سارا جھوٹ بول کر سونیا کو کامیش کی زندگی سے نکال باہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے شکر تھا کہ جس وقت باسل اور خار کے ہمراہ سمیر شاہ کے گھر آیا تھا سونیا اپنی کسی فرینڈ کے گھر گئی ہوئی تھی وگرنہ یہ سب سن کر وہ یقینا خوب واویلا مچانے کے ساتھ ساتھ باسل کی طبیعت بھی اچھی طرح صاف کردیتی گھر آکر جب باسل نے حورین کے پوچھنے پر یہ سب بتایا تو اسے ساحرہ کی کم عقلی اور فراز کی جانب سے اس قدر بد گمانی پر بہت رنج ہوا تھا عنایہ اور باسل کی منگنی کی ساری تیاریاں مکمل تھیں مگر خاور کو باسل کی منگنی کی خوشی سے زیادہ حورین کی صحت کی بے حد فکر تھی اب وہ ڈاکٹر اقبال محبوب سے زیادہ قابل اور نامور سائیکالوجسٹ سے حورین کا چیک اپ کرانا چاہتا تھا وہ اقبال محبوب کی ٹریٹ منٹ سے مطمئن نہیں تھا حورین کا مرض بجائے کم ہونے کے بڑھتا جا رہا تھا باسل بھی اندر ہی اندر اپنی ماں کو لے کر بہت پریشان تھا عنایہ آج صبح ہی گھر پر آدھمکی تھی حورین اور خاور کے ساتھ ناشتہ کر کے وہ اپنی انگیج منٹ کے کارڈ لے کر زبردستی باسل کو اپنے ہمراہ لے کر اپنے فرینڈز کو ان کی اکیڈمی میں کارڈ دینے نکل کھڑی ہوئی تھی باسل کو اس کے ہمراہ گھومتے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی جب ہی وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا۔
’’تمہارے کارڈ اب بٹ چکے یا مزید باقی ہیں۔‘‘ ایک تو آج گرمی بھی کافی زیادہ تھی اوپر سے صبح سے ہی باسل کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا جو اب مزید بڑھ گیا تھا۔
’’بس باسل صرف ایک کارڈ اور دینا ہے میرے بہت فیورٹ سر ہیں انہوں نے ہماری یونیورسٹی چھوڑ کر کراچی یونیورسٹی جوائن کی تھی پلیز میرے ساتھ وہاں چلو ناں۔‘‘ عنایہ اس کا موڈ دیکھ کر لجاجت آمیز لہجے میں بولی تو باسل نے اسے تادیبی نگاہوں سے دیکھا جبکہ عنایہ نے یکلخت مسکین سی صورت بنالی تو باسل ایک گہری سانس بھر کر بولا۔
’’کون سی یونیورسٹی جانا ہے۔‘‘ اس کا جواب سن کر وہ پوری طرح سے کھل اٹھی۔
’’او باسل میں نے تمہیں ابھی تو بتایا ہے کہ کراچی یونیورسٹی جانا ہے۔‘‘ یک دم باسل اپنی جگہ تھم سا گیا اپنے دھیان میں محو اس نے عنایہ کے منہ سے کراچی یونیورسٹی کا نام پہلے نہیں سنا تھا پھر بڑی خاموشی سے باسل نے گاڑی ان راستوں پر ڈال دی تھی جہاں وہ ہر گز نہیں جانا چاہتا تھا۔
/…ؤ …/
جیکولین کی ناسازی طبع کی وجہ سے سرپال اور میک نے ماریہ کو ڈھونڈنے کے لیے اس کے گھر کا رخ نہیں تھا مگر ابرام کو یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ ان کے گھر کا اور جیکولین اور اس کا موبائل فون بھی یقینا انڈر آبزرویشن تھا جیکولین نے تو اپنے سیل فون کی بیٹری آف ہوجانے کے بعد اسے دوبارہ ری چارج کرنے کی ضرورت بھی گوارا نہیں کی تھی البتہ ابرام ابھی بھی محتاط تھا مگر اس کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ وہ فراز شاہ کو فون کر کے یہ بات کنفرم کرے کہ ماریہ اس کے ساتھ ہی ہے ناں جو کچھ بھی ہوا تھا ابرام کو ماریہ کے ساتھ ساتھ فراز شاہ پر بھی بہت غصہ تھا وہ تو اس کا مخلص دوست تھا کم سے کم وہی اسے اپنے اعتماد میں لے کر یہ بات بتا دیتا کہ وہ ماریہ کو اپنے ملک لے جانے والا ہے کبھی کبھی فراز شاہ انتہائی درجے کا دھوکہ باز اور فریبی معلوم ہوتا جس نے دوست بن کر اس کی پیٹھ پر چھرا گھونپا تھا وہ ابھی اس بابت مزید کچھ اور بھی سوچتا کہ اسی پل مسٹر ایڈم وہاں چلے آئے ابرام نے ان کو خاموشی سے دیکھا تو وہ پر سوچ آواز میں بولے۔
’’کیا آپ واقعی نہیں جانتے کہ ماریہ کہاں چلی گئی ہے وہ آپ سے تو بہت کلوز رہی ہے اس نے آپ کو بھی کچھ نہیں بتایا؟‘‘ ابرام نے جواباً نفی میں سر ہلایا تو مسٹر ایڈم محض خاموشی سے اسے دیکھ کر رہ گئے پھر کچھ دیر توقف کے بعد گویا ہوئے۔
’’مجھے ماریہ سے ایسی جرأت اور دیدہ دلیری کی امید نہیں تھی وہ اپنی ماں سے تو بہت پیار کرتی تھی اسے جیکولین کا احساس کرنا چاہیے تھا۔‘‘ اس بار بھی ابرام کچھ نہیں بولا خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھا رہا مسٹر ایڈم نے کچھ دیر ابرام کے بولنے کا انتظار کیا تھا پھر وہ بھی وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تو ابرام ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا اس لمحے اسے اپنا وجود بالکل خالی اور بے جان سا محسوس ہوا۔
٭٭٭……٭٭٭
صبح تقریبا گیارہ بجے اس کی آنکھ کھلی تھی اور فراز شاہ نے سب سے پہلے لالہ رخ کو فون کر کے مہرو کی خیریت دریافت کی تو مہرو کے ہوش میں آنے کی خبر سن کر اسے بے پایاں مسرت کا احساس ہوا وہ بے پناہ خوشی سے بولا تھا۔
’’ان شاء اللہ لالہ رخ دو تین دن میں مہرو مکمل ہوش میں آجائے گی اور پھر وہ بٹو کے قاتل کی بھی نشاندہی کردے گی۔‘‘ لالہ رخ نے اس سے اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا تھا تو ہمیشہ کی طرح فراز نے اسے تسلی دیتے ہوئے اس کی ہمت و حوصلہ بڑھاتے ہوئے یہ کہہ کر اس کا دل مضبوط کیا تھا۔
’’لالہ رخ تم فکر کیوں کرتی ہو مہرو اکیلی تھوڑی ہے ہم سب ہیں ناں اس کے اپنے اسے کبھی بکھرنے نہیں دیں گے ہم سنبھال لیں گے اسے۔‘‘ اور یہ سب سن کر واقعی اس کے دل کو بہت ڈھارس ملی تھی وہ بے ساختہ فراز شاہ کا شکریہ ادا کر گئی تھی جس پر اس نے خاص برا بھی مانا تھا۔
’’اب تم مجھے یہ تھینکس کہہ کر غیر تو مت کرو پلیز۔‘‘ جواباً لالہ رخ دھیرے سے ہنس دی تھی فراز اس پل خوشگوار موڈ میں تیار ہو کر باہر آیا تو ماریہ ناشتے کی ٹیبل پر محو انتظار تھی۔
’’مجھے آنے میں دیر تو نہیں ہوگئی۔‘‘فراز خوش دلی سے بولا تو ماریہ مسکرا کر گویا ہوئی تھی۔
’’آپ بالکل صحیح وقت پر آئے ہیں فراز صاحب۔‘‘ فراز کرسی کھسکا کر اس پر بیٹھتے ہوئے بے تکلفی سے ماریہ سے بولا۔
’’ماریہ پلیز تم میرے نام کے ساتھ صاحب تو مت لگایا کرو ان فیکٹ ہم دونوں دوست ہیں ناں پھر آپ جناب اور صاحب کا تکلف کیسا؟‘‘ اسی دوران وہ بریڈ پر مکھن بھی لگانے میں مصروف رہا ماریہ نے اسے چند ثانیے کے لیے دیکھا پھر دھیرے سے ہنس کر بولی۔
’’اوکے فراز اب میں آپ کو فراز صاحب نہیں کہوں گی فائن۔‘‘ بلیک جینز پر ڈارک گرے ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو سلیقے سے بنائے وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
’’دیٹس گڈ ماریہ‘ اچھا یہ بتائو تم اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہو۔‘‘ فراز چائے اپنے کپ میں انڈیلتے ہوئے بولا تو ماریہ نے اس پل اسے حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا فراز نے لحظہ بھر کر اسے دیکھا۔
’’تم مجھے اتنی حیرانی سے کیوں دیکھ رہی ہو۔کیا میں نے کوئی انہونی بات پوچھ لی ہے تم سے۔‘‘ فراز کا شرارت سے لبریز لہجہ محسوس کر کے ماریہ نے خود کو سنبھالا پھر سہولت سے گویا ہوئی۔
’’بالکل فراز آپ نے انہونی بات ہی تو کہی ہے میں بھلا یہاں اپنی اسٹڈی کیسے جاری رکھ سکتی ہوں میرے سارے ڈکومینٹس تو وہیں لندن میں رہ گئے ہیں۔‘‘ اس پل اس کے لہجے سے عجیب سی اداسی و یاسیت کے رنگ جھلکے تھے فراز نے لمحہ بھر کو اسے دیکھا پھر ہنوز لہجے میں بولا۔
’’تم اس بات کی فکر مت کرو بس یہ بتائو آگے پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہو ناں۔‘‘ فراز کی بات پر ماریہ پر جوش ہوئی تھی۔
’’آف کورس یس مگر یہ سب ممکن ہے کیا؟‘‘ وہ ابھی بھی بے یقین سی تھی۔ ’’اس دنیا میں نا ممکن کچھ بھی نہیں ہے تم بس مجھے یہ بتائو کون سی فیلڈ میں دلچسپی رکھتی ہو۔‘‘ پھر ماریہ اسے تفصیل سے بتانے لگی تھی۔
/…ؤ …/
عنایہ سائیکالوجی ڈپارٹمنٹ کی جانب باسل کے ہمراہ چلی جا رہی تھی اور اس کے قدموں کے ساتھ ساتھ اسی رفتار سے اس کی زبان بھی چل رہی تھی مگر باسل اس کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہاں موجود نہیں تھا چلتے چلتے عنایہ یکدم ٹھہری تو باسل کے قدم بھی تھم گئے تھے اس نے استفہامیہ نگاہوں سے عنایہ کو دیکھا جو ٹشو کی مدد سے اپنے چہرے پر آئے پسینے کو صاف کر رہی تھی جبکہ دھوپ کی تمازت سے اس کے گال سرخ ہو رہے تھے۔
’’افوہ باسل یہ رہا سائیکالوجی ڈپارٹمنٹ اب آگے چلو ناں۔‘‘ اس نے سامنے ہی قد آور بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا تو باسل فوراً بولا۔
’’عنایہ تم اپنے سر کے پاس جائو میں اپنے دوست سے مل کر آتا ہوں۔‘‘ باسل یہ کہہ کر یہ جا وہ جا جبکہ عنایہ محض اسے آوازیں دیتی رہ گئی پھر سر جھٹک کر بلڈنگ کی جانب بڑھ گئی باسل کسی کشش کے زیر اثر چلا جا رہا تھا اس لمحے اس کے قدموں پر اس کا جیسے کوئی اختیار ہی نہیں تھا اور جب اس کے قدم ٹھہرے تو وہ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں الجھا سا کھڑا تھا اکنامکس ڈپارٹمنٹ میں مخصوص چہل پہل تھی لڑکے اور لڑکیوں کی ٹولیاں بلند و بانگ قہقہے لگانے میں مگن تھے تمام اسٹوڈنٹس کے چہروں پر زندگی سے بھرپور رنگ اور بے فکری کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں باسل کی بے قرار نگاہیں اس لمحے اسے بڑی شد و مد کے ساتھ ڈھونڈنے میں مصروف عمل تھیں اور پھر جیسے اس کی نگاہوں کو اپنا گوہر نایاب مل گیا زرتاشہ سب سے الگ تھلگ گرائونڈ کے کنارے منڈیر پر اکیلی اور خاموشی سے بیٹھی نجانے کن سوچوں میں گم تھی باسل اسے چند ثانیے دیکھتا رہا تھا اور لائٹ گرین اور لیمن کلر کے کنٹراسٹ کے سوٹ میں حسب معمول آف وائٹ رنگ کی کشمیری چادر جس پر مختلف دھاگوں کی کڑھائی کی کئی تھی اسے اچھی طرح اپنے وجود پر لپیٹے دنیا و مافیہا سے بے خبردکھائی دے رہی تھی باسل نے ایک گہری سانس بھری پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کے قریب جا کر کھڑا ہوگیا زرتاشہ جو زمین پر نگاہیں ٹکائے کسی غیر مری نقطے کو گھور رہی تھی یک دم مردانہ جوتوں پر اس کی نظر پڑی تو اس نے سرعت سے اپنا سر اٹھایا انتہائی غیر متوقع طور پر باسل خاور حیات کو دیکھ کر وہ فطری طور پر چونک اٹھی۔
’’ارے باسل صاحب آپ؟‘‘ زرتاشہ نے اسے جب مخاطب کیا تب جیسے باسل کو ہوش آیا۔
’’وہ… وہ میں یہاں اپنے فرینڈ سے ملنے آیا تھا آپ کو دیکھا تو سوچا خیریت معلوم کرلوں۔‘‘ وہ یہ جملہ بول تو گیا مگر دل ہی دل میں خود کو کوسنے بھی لگا بھلا زرتاشہ سے اس کی کون سی جان پہچان یا رشتے داری تھی جو وہ یوں خیریت معلوم کرنے چلا آیا۔
’’باسل حیات تم بہت بڑے ایڈیٹ ہو۔‘‘ وہ خود سے انتہائی تپ کر بولا جبکہ وہ بڑے اداس لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’میں تو ٹھیک ہوں باسل صاحب مگر میری بہن ٹھیک نہیں ہے آپ پلیزان کے لیے دعا کیجیے گا۔‘‘ کوئی اور وقت ہوتا تو زرتاشہ باسل سے کبھی یہ بات نہ کرتی مگر اس وقت وہ خود کو بے حد تنہا محسوس کر رہی تھی اس پر مستزاد مہرو کی فکر اور زرمینہ کی بھابی کی ناگہانی موت نے اس کے اوپر کافی برا اثر ڈالا تھا باسل چونکا۔
’’آپ کی بہن وہی جو مری کے ریسٹ ہائوس میں جاب کرتی ہیں کیوں انہیں کیا ہوا؟‘‘ وہ لالہ رخ کو سمجھا تھا زرتاشہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے یاد دلانے والے انداز میں بولی۔
’’لالہ نہیں وہ اس دن جب آپ نے اس لڑکے کی پٹائی کی تھی نا تو میرے ساتھ ایک اور بھی لڑکی تھی وہ ہماری پھوپو کی بیٹی ہے اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے آپ پلیز دعا کیجیے گا کہ وہ جلدی سے ٹھیک ہوجائے۔‘‘ آخری جملہ آنسوئوں کی بھرپور نمی لیے ہوئے تھا جبکہ آنکھیں بھی بے ساختہ چھلک پڑی تھیں باسل تحیر کے عالم میں اس کی بھیگی پلکوں کو دیکھتا چلا گیا۔
’’کیا کسی کی آنکھیں اتنی حسین بھی ہوسکتی ہیں۔‘‘ کوئی اس کے اندر سے بولا زرتاشہ اپنی پلکوں کو انگلی کی پوروں سے صاف کرتے ہوئے نروٹھے انداز میں بولی۔
’’میں بھی وہاں مہرو کے ساتھ اسپتال میں رہنا چاہتی تھی مگر فراز بھائی اور لالہ نے مجھے زبردستی یہاں بھیج دیا۔‘‘ باسل بے جان سا کھڑا خاموشی سے اسے دیکھتا چلا گیا اس پل اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا نجانے کیسے صرف ایک ہی لمحے میں یہ لڑکی اس کا سب کچھ چھین گئی تھی وہ لٹا پٹا سا واپس جانے کے لیے پلٹا تو زرتاشہ اسے اتنی خاموشی سے اچانک وہاں سے جاتا دیکھ کر حیران سی ہوئی وہ لمحہ بہ لمحہ اس کی نگاہوں سے دور ہونے لگا تو زرتاشہ نے نا سمجھی والے انداز میں کندھے اچکائے اور پھر دوبارہ اپنی سابقہ جگہ پر بیٹھ گئی۔
/…ؤ …/
اور بالآخر دو دن بعد مہرو کو مکمل ہوش آیا تو سب سے پہلے اس نے بٹو کو آوازیں دینا شروع کردیں لالہ رخ اسے سنبھال کر بولی۔
’’مہرو پلیزریلیکس ہوجائو خود کو سنبھالو دیکھو میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔‘‘ مہرو کی کیفیت اس لمحے انتہائی دگرگوں تھی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بے پناہ گھبرا کر بول رہی تھی۔
’’لالہ … لالہ میرا بٹو کہاں ہے بتائو ناں بٹو کہاں ہے وہ… وہ میرے پاس ہی تھا لالہ اس نے مجھ سے کہا کہ باجی تم جائو یہاں سے مگر وہ خود کہاں ہے بٹو … بٹو۔‘‘ مہرو تو جیسے جل بن مچھلی کی مانند اس کے ہاتھوں سے نکلی چلی جا رہی تھی لالہ رخ اور امی کی آنکھیں بھی اس پل سمندر بہا رہی تھیں۔
’’اللہ کے واسطے مہرو خود کو سنبھالو بٹو چلا گیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔‘‘ لالہ رخ اس کے دونوں بازوئوں کو جھنجوڑ کر بولی تو مہرو کا تڑپتا وجود یکلخت یوں ساکت ہوا جیسے چابی کا کھلونا چابی ختم ہوجانے کی صورت میں بالکل خاموش ہوجاتا ہے پھر دوسرے ہی پل وہ لالہ رخ کے سینے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
’’لالہ بٹو کیوں چلا گیا وہ… وہ میری وجہ سے اس دنیا سے چلا گیا لالہ وہ میری ناموس میری آبرو کو بچانے کی خاطر اپنی جان کی بازی ہار گیا ہائے میرے اللہ بٹو نے اپنا خون بہا کر میری عزت کی چادر کو داغدار ہونے سے بچا لیا۔‘‘ مہرو کے منہ سے نکلے یہ الفاظ لالہ رخ اور امی کے لیے بہت جان لیوا اور کرب ناک انکشاف تھا جس کی زد میں آکر وہ دونوں ششدر کھڑی تھیں بہت دیر بعد لالہ رخ کچھ بولنے کے قابل ہوئی تو ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی۔
’’مہرو کو یقین تھا وہ ذلیل انسان جس نے تمہارے ساتھ…!‘‘ وہ فقط اتنا ہی بول سکی تب ہی مہروہولے سے بولی۔
’’ملک دلاور وڈیرے کا بیٹا اور حبیب…!‘‘
/…ؤ …/
سی ویو کے سحر انگیز ماحول میں باسل احمر کے ہمراہ نسبتاً پر سکون گوشے میں بیٹھا سمندر سے آتی جاتی لہروں کے کھیل کو غائب دماغی سے دیکھ رہا تھا احمر یہ بات بخوبی محسوس کر گیا تھا باسل آج ضرورت سے زیادہ ڈسٹرب ہے وہ چاہ رہا تھا کہ باسل اسے خود اپنے دل کی بات بتائے مگر وہ ہنوز کھویا کھویا سا بالکل خاموش تھا جب ہی احمر نے ہولے سے اپنا ہاتھ اس کے شانے پر رکھ کر ہلکا سا دبایا۔
’’میں جانتا ہوں کہ کوئی بات تمہیں بہت زیادہ پریشان کر رہی ہے باسل میرے یار مجھ سے اپنے دل کی بات بالکل بے فکر ہو کر شیئر کر و میں وعدہ کرتا ہوں تم سے کہ اپنی جان دے دوں گا مگر تمہارے راز کی حفاظت کروں گا۔‘‘ احمر کی گمبھیر آواز پر باسل نے چونک کر اپنے پہلو میں بیٹھے احمر یزدانی کو دیکھا اس میں تو کوئی شک ہی نہیں تھا کہ احمر یزدانی اس کا بہت مخلص اور سچا دوست تھا جس نے ہر موقع پر اس کا بھرپور ساتھ دیااور اسے کبھی مایوس نہیں کیا تھا سورج غروب ہونے کی تیاریوں میں مصروف تھا جس نے اپنی بنفشی روشنی بیکراں آسمان پر میں بکھیر دی تھی باسل نے رخ موڑ کر سورج کے زرد گولے کو دیکھا پھر دھیرے سے بولا۔
’’احمر ہم اپنی زندگی میں ہرکام پلاننگ کے تحت کرتے ہیں ہمیں کیا پڑھنا ہے کون سا کیریئر چوس کرنا ہے کس طرح کی جاب کرنی ہے یہ سب کچھ ہم خود ڈی سائیڈ کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی زندگی کا پارٹنر بھی ہم پلان کر کے سلیکٹ کرتے ہیں اور شاید یہ سب کچھ کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قدرت بھی اپنا زور رکھتی ہے تقدیر بھی کوئی چیز ہے جسے ہم اپنی عقل و دانش کے زعم میں بالکل فراموش کردیتے ہیں۔‘‘ احمر خاموشی سے بغور اس کی بات سنتا چلا گیا جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھور رہا تھا۔
’’ہم اپنے نصیب اپنی تقدیر کو بھی اپنی پلاننگ کی لکڑی سے ہانکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب ہماری تقدیر ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے تو تب ہم بوکھلا جاتے ہیں سپٹپٹا جاتے ہیں اور الٹے پائوں اس سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پھر کیا ہوتا ہے تھک ہار کر ہمیں اپنی تقدیر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں۔‘‘ باسل خاموش ہوگیا اطراف میں اندھیرہ تیزی سے پھیلنے لگا تھا جب ہی احمر سنجیدگی سے بولا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو میرے دوست تقدیر سے فرار ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے سامنے سرنگوں ہوجانا ہی بہتر ہے۔‘‘
’’جانتے ہو احمر جب کبھی بھی میرے دماغ میں شادی کا خیال آیا تو عنایہ جیسی ہی لڑکی میری پلاننگ میں تھی جو پڑھی لکھی اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ میری سوسائٹی میں بہت اعتماد کے ساتھ موو کرسکتی تھی مگر اب۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ رکا تو احمر اسے الجھن بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’مگر اب میں عنایہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ اس نے گمبھیر لہجے میں اپنا جملہ مکمل کیا تو احمر چپ بیٹھا رہ گیا پھر دونوں کے درمیان بڑی طویل خاموشی چھا گئی صرف لہروں کا شور یا دور سے منچلوں کی آوازیں سنائی دیں جب ہی کافی دیر بعد احمر آہستگی سے بولا۔
’’عنایہ سے شادی نہ کرنے کے لیے محبت کرنا تو ضروری نہیں تھا۔‘‘ جواباً باسل زور سے ہنسا پھر دھیرے سے بولا۔
’’اگر محبت پلاننگ کر کے ہوتی تو کیا تم زرمینہ سے محبت کرتے؟‘‘ احمر نے چونک کر اسے کرب آمیز نگاہوں سے دیکھا پھر آہستگی سے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’کون ہے وہ۔‘‘ باسل اپنے پاس پڑی کنکریاں اٹھا کر سمندر میں پھینکتے ہوئے کہنے لگا۔
’’ہے ایک چھوٹے سے شہر کی چھوٹے سے گھر میں رہنے والی، معمولی سی مڈل کلاس لڑکی جسے نہ کاانفیڈنس سے بولنا آتا ہے نہ ڈریسنگ کا ڈھنگ آتا ہے ہو‘ ایک غریب سی لڑکی جس کے آگے پیچھے تو کوئی مرد بھی نہیں ہے۔‘‘
’’ہوں اتنی ساری خامیوں والی لڑکی سے محبت کرلی تم نے۔‘‘ احمر اداسی سے مسکرا کر بولا تو باسل سر ہلاتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ہاں اسی ٹائپ کی لڑکی جس ٹائپ کی لڑکیوں سے مجھے نفرت تھی۔‘‘
’’زرتاشہ۔‘‘ احمر کے لبوں سے سرگوشیانہ انداز میں یہ نام نکلا تو باسل محض اسے دیکھ کر رہ گیا۔
/…ؤ …/
زرمینہ اپنے گائوں سے واپس آگئی تھی زرتاشہ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا جبکہ آنکھیں بھی شدت گریہ سے سوجی ہوئی تھیں زرتاشہ نے اسے تسلی و تشفی دینے کی کوشش کی مگر زرمینہ صرف چپ رہی اس نے مہرو کے ہوش میں آنے کی بابت بتایا تو زرمینہ نے خوشی کا اظہار کیا مگر پھر اس کے بعد اس کے لبوںپر خاموشی کا قفل پڑگیا۔ زرتاشہ اس کے طرز عمل سے کافی اپ سیٹ ہورہی تھی جب ہی دوپہر کے کھانے کے بعد وہ اس کے بستر پر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’زری موت برحق ہے ہم سب کو ہی دنیا میں اپنا مقررہ وقت گزار کر یہاں سے جانا ہوتا ہے یہی ہمارا عقیدہ ہمارا ایمان ہے اور ہم سب راضی برضا ہیں۔‘‘ زرتاشہ کی بات پر زرمینہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’میں یہ جانتی ہوں تاشو اور سب مانتی بھی ہوں حمیرا بھابی کا اس دنیا سے چلے جانا ہی بہتر تھا اب یقینا انہیں سکون مل گیا ہوگا۔‘‘ پھر زرمینہ زرتاشہ کی آنکھوں میں جھانک کر عجیب سے انداز میں بولی۔
’’تاشو میں ان کی موت پر دکھی تو نہیں ہوں بلکہ خوش ہوں بہت خوش ہوں۔‘‘ زرتاشہ زرمینہ کی کیفیت دیکھ کر سہم سی گئی شاید اس نے اپنی بھابی کی موت کا کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا تھا۔
’’زری یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو مجھے خوف آرہا ہے۔‘‘ ہمیشہ کی ڈرپوک زرتاشہ اس لمحے زرمینہ کی ذہنی کیفیت دیکھ کر سہم گئی تھی جب ہی وہ خود کو سنبھال کر سنجیدگی سے بولی۔
’’ایم سوری تاشو میں نے تمہیں پریشان کر دیا۔‘‘
زرتاشہ ابھی مزید کچھ اور کہتی کہ دروازے پر دستک ہوئی ملازمہ نے زرمینہ کے کسی مہمان کے آنے کی بابت بتایا تو زرمینہ کے ہمراہ زرتاشہ بھی وزیٹنگ روم میں چلی آئی احمر یزدانی کو وہاں دیکھ کر زرتاشہ کے قدم ٹھٹک کر رکے تھے جبکہ زرمینہ اپنے دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے شعلے اگلتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی احمر تھوڑا سا خائف سا ہوا پھر جلدی سے بولا۔
’’مس زرمینہ میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا بس اتنا کہوں گا کہ اگر صرف ایک بار آپ میرے بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچ لیں تو یہ میرے اوپر آپ کا بڑا احسان ہوگا۔‘‘
’’مسٹر احمر یزدانی کسی کی منکوحہ سے اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘‘ الفاظ تھے یا ڈائنامک احمر کے ساتھ ساتھ زرتاشہ کو بھی ششدر سی اسے دیکھے گئی۔ ’’کسی کی منکوحہ‘‘ احمر کے ساکت لب پھڑپھڑائے تھے۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close