Hijaab Apr-18

حمد و نعت

وجد چغتائی/الطاف صاحب

ذرہ ہوں آفتاب کی توصیف کیا لکھوں
کرنیں ملیں کرم کی تو حمد و ثنا لکھوں
تیری صفات و ذات میں تفریق ہے عبث
جلوہ لکھوں تجھے کہ میں جلوہ نما لکھوں
واحد کہوں، وحید کہوں، حامد و حمید
تجھ کو حکیم و حاکم روز جزا لکھوں
قیوم بھی، قدیم بھی ہے تو عظیم بھی
مطلق لکھوں، صمد لکھوں رب العلیٰ لکھوں
ذروں کو آفتاب کے جلوے عطا کیے
اس سے سوا میں اور کیا تیری عطا لکھوں
عالم نیا ہو روز مرے وجد و حال کا
مضمون تیری حمد کا ہر دم نیا لکھوں

جناب وجد چغتائی

نعت سرکار کی پڑھتا ہوں میں
بس اسی بات سے گھر میں میرے رحمت ہوگی
اک ترا نام وسیلہ ہے مرا
رنج و غم میں بھی اسی نام سے راحت ہوگی
کبھی یاسین، کبھی طہٰ کبھی واللیل آیا
جس کی قسمیں مرا رب کھاتا ہے
کتنی دلکش میرے محبوب کی صورت ہوگی
یہ سنا ہے کہ بہت قبر اندھیری ہوگی
قبر کا خوف نہ رکھنا اے دل
وہاں سرکار کے چہرے کی زیارت ہوگی
حشر کا دن بھی عجب دیکھنے والا ہوگا
زلف لہرائے وہ جب آئیں گے
پھر قیامت میں بھی اک اور قیامت ہوگی
میرا دامن تو گناہوں سے بھرا ہے الطاف
اک سہارا ہے کہ میں ان کا ہوں
اسی نسبت سے کہ حشر شفاعت ہو گی
اک تیرا نام وسیلہ ہے مرا
رنج و غم میں بھی اسی نام سے راحت ہوگی

جناب الطاف صاحب

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close