Hijaab Mar-18

میری تکمیل تم سے ہے

نظیر فاطمہ

ریحان دفتر سے واپسی پر حسبِ معمول سیدھا لائونج میں آیا لیکن خالی لائونج منہ چڑا رہا تھا۔ بابا جان ہر روز اس وقت یہیں پر ہوتے تھے اور ٹی وی پر نیوز یا کوئی ٹاک شو دیکھ رہے ہوتے تھے۔ ریحان نے ہاتھ میں پکڑا سامان اور اپنا لیپ ٹاپ بیگ میز پر رکھا اور وہیں بابا جان کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے کو ایک نظر دیکھا۔ اُس نے آگے بڑھ کر کمرے میں جھانکا‘ بابا جان وہاں بھی نہیں تھے‘ واش روم کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔ وہ واپس مڑا اور لائونج میں آکر اپنی کل وقتی ملازمہ کو آوازیں دینے لگا۔
’’فریدہ خالہ… فریدہ خالہ۔‘‘
’’جی ریحان بیٹا۔‘‘ فریدہ خالہ اپنے گیلے ہاتھ نیپکن سے صاف کرتی کچن سے نکلی تھیں۔
’’بابا جان کہاں ہیں؟‘‘ ریحان نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے پوچھا۔
’’صاحب جی‘ لان میں ہیں۔ میں آپ کے لیے چائے لائوں؟‘‘ انہوں نے اطلاع دے کر ساتھ ہی سوال کیا۔
’’جی… میں فریش ہوکر آتا ہوں۔ آپ چائے لان میں ہی لے آئیے گا۔‘‘ وہ اپنا سامان اور بیگ اُٹھا کر سیڑھیاں چڑھ گیا۔
٭٭٭…٭٭٭
ریحان فریش ہوکر ٹرائوزر‘ ٹی شرٹ میں ملبوس لان میں چلا آیا۔ بابا جان ڈھیلے ڈھالے شلوار کرتے میں ملبوس پوری تندہی سے پودوں کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھے۔
’’السلام علیکم بابا جان!‘‘ اُس نے قریب آکر سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام برخوردار!‘‘ انہوں نے مصروف سے انداز میں سلام کا جواب دیا۔ فریدہ خالہ چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر واپس چلی گئی تھیں۔
’’بابا جان… آئیں چائے پی لیجیے‘ میں نے یہیں منگوالی ہے۔‘‘ ریحان نے انھیں کندھوں سے تھاما۔
’’تم بیٹھو‘ میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں۔‘‘ وہ اپنا کام مکمل کرچکے تھے سو انہوں نے چیزیں سمیٹ لیں۔ بابا جان آکر بیٹھے تو ریحان نے اُن کو چائے کا کپ پکڑایا‘ پھر اپنے لیے چائے نکال کر سیدھا ہوا۔
’’بابا جان… آپ آج کل پودوں سے کچھ زیادہ محبت نہیں کرنے لگے؟‘‘ ریحان نے مسکرا کر انہیں چھیڑا۔
’’تو کیا کروں؟ سارا دن گھر میں اکیلا بور ہوتا رہتا ہوں‘ اب پودوں سے بھی دِل نہ لگائوں۔ تم تو میری کوئی بات مانتے ہی نہیں ہو کتنی بار کہا ہے کہ…‘‘
’’پلیز باباجان… اس وقت یہ موضوع مت چھیڑیئے گا۔‘‘ اُن کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ ریحان بول اُٹھا۔ بابا جان نے سر ہلا کر چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا۔
٭٭٭…٭٭٭
اعظم خان (بابا جان) کے تین بچے تھے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ سب سے بڑا ریحان‘ پھر آیان اور سب سے چھوٹی ماریہ۔ اعظم خان کی اہلیہ آٹھ سال پہلے انتقال کر گئی تھیں۔ آیان اور ماریہ دونوں شادی شدہ تھے۔ آیان کے دو بچے تھے اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیرون ملک رہتا تھا۔ ماریہ اسی شہر میں بیاہی تھی اس کی ایک بیٹی تھی۔ دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں خوش باش تھے۔ بس ایک ریحان ہی تھا جو اب تک اکیلا تھا۔ اُس کی ایسی بے رنگ زندگی اُس کے چاہنے والے باپ اور بہن بھائیوں کے لیے بہت زیادہ تکلیف دہ تھی۔ وہ اپنی طرف سے خود کو محبت کرنے کی سزا دے رہا تھا۔ وہ انتظار کررہا تھا اُس وقت کا جب یہ پچھلی محبت اس کا دامن چھوڑ دے گی مگر وہ یہ بات نہیں جانتا تھا کہ محبت جب ایک بار کسی کا دامن پکڑ لے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتی‘ مرنے کے بعد بھی نہیں‘ وہ کفن کی طرح اس کے ساتھ لپٹ کر قبر میں اُتر جاتی ہے مگر قبر میں ساتھ اُترنے والی محبت ’’اصلی محبت‘‘ ہوتی ہے جو بغیر کسی لالچ یا غرض کے کی جاتی ہے‘ جس میں کچھ لینے کی چاہ نہیں ہوتی‘ بس نوازتے چلے جانے کا ظرف ہوتا ہے لیکن اس نے جو محبت کی تھی وہ محبت تھوڑی تھی۔ ہاں وہ محبت کب تھی؟ وہ تو ایک سودا تھا جس میں دوسرے فریق نے دھوکے سے صرف لینے کی پلاننگ کی تھی۔ محبت تو ہوتی ہی سچی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے… مگر آج کل محبت کرنے والے سچے نہیں رہے۔
بدقسمتی سے ریحان کا پالا بھی ایک ایسی لڑکی سے پڑا تھا جو محبت کے پردے میں چھپ کر مادی چیزوں کا حصول چاہتی تھی اور کون جانے ریحان نے بھی محبت کی تھی یا وہ وقتی لگائو اور پسندیدگی کو محبت سمجھ بیٹھا تھا۔ بہرحال جو بھی تھا وہ آج بھی اس محبت کو بھول نہیں سکا تھا وہ اس کے اندر کہیں سسکتی رہتی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’بابا جان… آپ نے ریحان بھائی سے بات کی؟‘‘ اعظم خان آج اپنی بیٹی سے ملنے آئے تھے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ ان کے پاس بیٹھ کر باتیںکررہی تھی جب اچانک اُس نے بابا جان سے سوال کیا۔
’’میں تو اکثر بات کرتا رہتا ہوں مگر وہ سنے تب ناں۔‘‘ انہوں نے لاچاری سے کہا۔
’’تو آپ اُن پر سختی کریں ورنہ وہ ہاتھ آنے والے نہیں ہیں۔ اب اس کا کیا مطلب ہے کہ…‘‘ ماریہ کی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ ماہم اسے پکارتے ہوئے لائونج میں چلی آئی۔ بابا جان کو دیکھ کر مسکرائی۔
’’السلام علیکم انکل… کیا حال ہے آپ کا؟‘‘ ماہم نے آگے بڑھ کر سر ان کے سامنے جھکایا۔
’’وعلیکم السلام بیٹا! تم کیسی ہو اور گھر میں سب خیریت ہے؟‘‘ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ سامنے سنگل صوفے پر ٹک گئی۔ بابا جان نے اس کی طرف دیکھا۔ سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے پُروقار سی نظر آرہی تھی۔ وہ پہلے بھی ماریہ کے ہاں اس سے دو چار بار مل چکے تھے۔ ماہم کا خاندان پچھلے پچیس سالوں سے ماریہ کے سسرال کے پڑوس میں آباد تھا۔ دونوں خاندانوں کے تعلقات بہت اپنائیت اور خلوص پر مبنی تھے۔ ماہم ماریہ سے تقریباً چار سال بڑی تھی مگر دونوں میں گہری دوستی تھی۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد ماہم نے ماریہ کو مخاطب کیا۔
’’ماریہ… میں زینا کو لینے آئی تھی۔ کہاں ہے وہ نظر نہیں آرہی؟‘‘ اُس نے ماریہ کی بیٹی کا نام لیا۔
’’وہ تو سوگئی ہے۔‘‘ ماریہ نے اس کی طرف دیکھا۔
’’اچھا تو پھر میں چلتی ہوں۔ امّی اکیلی ہیں‘ اُٹھیں تو پلیز اسے میری طرف بھیج دینا۔‘‘ ماہم نے اُٹھتے ہوئے بات مکمل کی۔
’’انکل… آپ کسی دن ہمارے گھر بھی آئیے ناں۔‘‘ اُس نے رخصت لیتے ہوئے بابا جان کو دعوت دی۔
’’ضرور آئوں گا‘ تم بھی میری بیٹی ہی ہو۔‘‘ انہوں نے دل سے کہا۔ انہیں یہ سلجھی ہوئی سنجیدہ سی لڑکی بہت اچھی لگتی تھی ورنہ آج کل لڑکیوں کی اکثریت کو نہ بڑے چھوٹے کی تمیز تھی‘ نہ پہننے اُوڑھنے اور اُٹھنے بیٹھنے کی۔ بابا جان اس کے جانے کے بعد بھی اس کے بارے میں سوچتے رہے۔
’’ماریہ… ماہم بڑی اچھی اور سلجھی ہوئی بچّی ہے۔‘‘ انہوں نے چینل سرچنگ میں مصروف ماریہ کو مخاطب کیا۔
’’یہ تو آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ انکل کے جانے کے بعد اس نے جس طرح آنٹی کو سنبھالا ہے‘ قابل ستائش ہے۔ بھائی تو دونوں باہر سیٹل ہیں انکل کے جنازے تک میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ بینک میں اچھی پوسٹ پر کام کررہی ہے مگر تکبر نام کو نہیں۔ سادہ طبیعت اور محبت کرنے والی‘ میری زینا سے بہت پیار کرتی ہے۔ جس گھر میں جائے گی اُجالا کردے گی۔‘‘ ماریہ تو پہلے ہی ماہم سے بے حد متاثر تھی۔ بابا جان کی بات کے جواب میں اُس نے ماہم کی خوبیوں بیان کیں۔
’’تو پھر یہ اُجالا ہم اپنے گھر میں کیوں نہ کرلیں؟‘‘ انہوں نے استفہامیہ انداز اپنایا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ ماریہ ایک لمحے کو اُلجھی اور پھر بات سمجھ میں آنے پر اُٹھ کر بابا جان کے قریب بیٹھ گئی۔
’’آپ کا مطلب ہے کہ ریحان بھائی؟‘‘ اس نے تصدیق چاہی۔
’’ہوں… مجھے لگتا ہے ہمارے گھر بلکہ ریحان کو ایسی ہی سنجیدہ اور بردبار لڑکی کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے ماریہ کے ادھورے سوال کا جواب دیا۔
’’مگر ریحان بھائی مانیں تب ناں۔‘‘ ماریہ مایوس سی ہوئی۔
’’یہ اب تم مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘ انہوں نے گویا پورا منصوبہ ترتیب دے لیا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
’’ریحان… میں چاہتا ہوں کہ اب تمہاری شادی کے فرض سے سبکدوش ہوجائوں۔‘‘ رات کھانے کی میز پر بابا جان نے اس سے بات کی۔ وہ پلیٹ میں کھانا نکال رہا تھا۔ ان کی بات سن کر ایک لمحے کے لیے رُک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر بغیر کچھ کہے‘ اپنی پلیٹ میں کھانا نکال کر اپنے سامنے رکھ لیا۔
’’میں تم سے بات کررہا ہوں ریحان۔‘‘ اس کی خاموشی پر وہ قدرے جھنجھلائے۔
’’میں نے آپ سب سے کتنی بار کہا ہے کہ اس موضوع کو ہمیشہ کے لیے بند کردیں۔‘‘ وہ ٹھنڈے لہجے میں کہہ کر کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’کیوں کلوز کردوں؟‘‘ بابا جان نے چمچ پلیٹ میں رکھ کر کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔
’’آپ سب کچھ جانتے ہیں پھر بھی پوچھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے مبہم سے لہجے میں کہا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا اس بات سے…؟ ہر بات کی کوئی حد ہوتی ہے۔ دنیا کسی ایک لڑکی پر ختم نہیں ہو جاتی۔‘‘ اب کے بابا جان کو جلال آیا‘ سو انہوں نے قدرے سخت لہجہ اپنایا۔
’’دنیا تو ختم نہیں ہوجاتی لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہوگیا ہے کہ سب لڑکیاں ایک سی ہوتی ہیں‘ لالچی اور دولت کے پیچھے بھاگنے والیں۔‘‘ ریحان کا لہجہ زہر خند تھا۔
’’جس طرح کسی ایک مرد کے غلط ہونے سے سارے مرد غلط نہیں ہوتے اسی طرح کسی ایک لڑکی کے لالچی ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ساری لڑکیاں ہی ایسی ہوں۔ ہر کسی کی اپنی فطرت ہوتی ہے۔ دنیا میں جہاں بدفطرت لوگ ہیں وہاں نیک فطرت لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ بس دیکھنے والی ایسی آنکھ چاہیے جو نیک اور بد کو پرکھ سکے۔‘‘ بابا جان نے اس کے اعتراض کو ذرا برابر اہمیت نہ دی۔
’’تو اب میں ایسی آنکھ کہاں سے لائوں؟‘‘ ریحان کا انداز قدرے تمسخرانہ تھا وہ گویا اپنا مذاق خود اُڑا رہا تھا۔
’’اس دفعہ تمہارے لیے لڑکی میں خود پسند کروں گا اور اللہ کا شکر ہے کہ میرے پاس کسی کی نیک فطرت کو جانچنے والی آنکھ ہے۔‘‘ بابا جان نے بے حد سنجیدہ انداز میں جواب دیا۔
’’آپ کھانا کھائیں پلیز‘ اس موضوع پر بعد میں بات کریں گے۔‘‘ ریحان کا انداز صاف ٹالنے والا تھا۔ اس کے اس انداز پر بابا جان نے اپنے سامنے سے پلیٹ کھسکائی اور کرسی کو زور سے پیچھے دھکیل کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔
’’پانچ سال پہلے تم نے مجھے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے تم پر شادی کے لیے زور ڈالا تو تم یہ گھر چھوڑ کر چلے جائو گے اور آج میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ اب اگر تم نے شادی سے انکار کیا تو میں یہ گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے آیان کے پاس انگلینڈ چلا جائوں گا اور اپنی صورت تمہیں دوبارہ کبھی نہیں دکھائوں گا۔‘‘ وہ غصے سے کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے اور دروازہ لاک کرلیا… ریحان وہیں بیٹھا بابا جان کے رویے پر غور کرتا رہ گیا۔ بابا جان کسی معاملے میں حتمی فیصلہ کرلینے کے بعد ہی ایسا دو ٹوک اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے تھے۔
ریحان اپنے کمرے میں اِدھر سے اُدھر ٹہل رہا تھا۔ وہ مسلسل بابا جان کی دھمکی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو درحقیقت دھمکی نہیں تھی۔ وہ واقعی ایسا کر گزرتے اور یہ اسے کسی طرح منظور نہ تھا کہ اسے اپنے بابا جان بہت عزیز تھے۔ وہ اُن کی ناراضگی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور جو فیصلہ وہ اسے کرنے کے لیے کہہ رہے تھے وہ بھی اس کے لیے آسان نہیں تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
ریحان بابا جان کی سب سے بڑی اولاد تھا۔ وہ چارمنگ سے بابا جان اور خوب صورت سی رابعہ بیگم کا قدرے عام سی شکل و صورت کا بچہ تھا۔ اس کے باقی دونوں بہن بھائی اپنے ماں باپ کی طرح سرخ و سفید تھے۔ جو بھی اسے دیکھتا حیرت کا اظہار کیے بغیر نہ رہتا۔ اپنے ماں باپ کو تو وہ بہت پیارا تھا لیکن وہ ان لوگوں کا کیا کرتے جو ہر موقع پر اسے اس کی کم صورتی کا احساس دلاتے تھے۔ وہ بدصورت تو ہرگز نہیں تھا بس خوب صورت لوگوں کے خاندان میں ایک عام شکل لے کر پیدا ہوا تھا اور لوگوں نے اس چیز کو اس کے لیے طعنہ بنا دیا تھا۔ وہ بچہ تھا‘ لوگوں کے اس رویے پر دن بدن حساس ہوتا گیا اور اپنے ماں باپ کے سمجھانے کے باوجود احساس کمتری کا شکار ہونے لگا تھا۔ ریحان بہت ذہین بچہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ اسکول سے ہی پڑھائی اور کھیل کے میدان میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑھنے لگا تو لوگوں کی توجہ اس کے ظاہر سے جیسے ہٹنے لگی۔ اب لوگ اسے ملتے تو اس کی ذہانت اور کامیابیوں کی تعریف کرتے۔ یہ چیز ریحان کے لیے خوشی کا باعث بننے لگی اور آہستہ آہستہ وہ احساسِ کمتری سے باہر نکلنے لگا۔ اسے یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہ کتنی بھی کوشش کرلے وہ اپنی شکل نہیں بدل سکتا‘ ہاں وہ ایسے کام ضرور کرسکتا ہے جو اس کی شخصیت کو اتنا نمایاں کردیں کہ لوگوں کو انہی چیزوں کو سراہنے سے فرصت نہ ملے اور وہ اپنی عام شکل کے ساتھ ہر کسی کے لیے خاص ہوجائے‘ اور اس نے یہی کیا‘ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کے اندر اس کی کم شکلی کا احساس بالکل ختم ہوگیا تھا۔
یونیورسٹی پہنچنے تک اس کی شخصیت میں بڑا وقار‘ تمکنت اور سنجیدگی آگئی تھی۔ چھ فٹ سے نکلتا قد‘ چہرے پر ذہانت کی چمک اور اس کی اچھی عادات نے اسے سب کی نظروں کا مرکز بنا دیا تھا۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد اس نے اپنے بابا جان کا بزنس سنبھالنے کی بجائے اپنا ذاتی بزنس شروع کیا۔ اس نے اپنی ذہانت اور خدا داد صلاحیتوں سے دو سال کے عرصے میں اس بزنس کو نہ صرف کامیابی سے بڑھایا بلکہ اس کو اچھا خاصا پھیلا بھی لیا تھا۔ ریحان کو اپنے آفس کی اسلام آباد برانچ کے لیے مینیجر کی ضرورت تھی۔ اس نے اپنے یونیورسٹی فیلو اور دوست قیصر کو وہاں کا انتظام سنبھالنے کے لیے منتخب کیا۔ قیصر لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتا تھا۔ محنتی اور ذہین تھا۔ وہ کسی پرائیویٹ کمپنی میں کم تنخواہ پر اسسٹنٹ مینیجر کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ریحان نے اسے تین گنا تنخواہ اور دیگر مراعات کے ساتھ اسلام آباد بھیج دیا۔
’’ریحان… میری ایک کزن ہے مہرین‘ ایم کام کیا ہے۔ اسے نوکری کی ضرورت ہے۔ لاہور برانچ میں اکائونٹٹنٹ کی سیٹ خالی ہے اگر تم اسے وہاں ایڈجسٹ کرلو تو بہت مہربانی ہوگی۔ وہ بہت محنتی اور ذہین ہے۔ تمہیں شکایت کا موقع نہیں دے گی۔‘‘ ریحان خود بھی لاہور برانچ میں ہی ہوتا تھا۔ مہرین اس سیٹ پر کام کرنے لگی۔ آتے جاتے دیگر ورکز کے ساتھ اس سے بھی ریحان کی دعا سلام ہو جاتی تھی۔ وہ بے حد خوب صورت لڑکی تھی اور کچھ اسے پہننے اوڑھنے کا سلیقہ تھا کہ وہ آفس میں سب سے ممتاز نظر آتی تھی۔ مہرین کو یہاں کام کرتے ہوئے چھ ماہ ہوگئے تھے۔ وہ بہت محنت اور توجہ سے اپنا کام کررہی تھی۔ ذمہ دار اتنی کہ کسی فائل پر سائن کروانے ہوتے تو چپڑاسی کی بجائے خود ریحان سے سائن کروا لیتی۔ مہرین فائل لے کر ریحان کے آفس میں آئی تو بہت اُداس اور پریشان تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے تھوڑی دیر پہلے روئی بھی ہو۔ ریحان نے فائل پر سائن کرتے اس کی طرف بڑھائی تو اس کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔ ایک تو حسن‘ دوسرا سوگوار۔ اس کا دل ڈوب کر اُبھرا۔ اسے اپنی طرف یوں متوجہ دیکھ کر مہرین کرسی پر بیٹھ کر رونے لگی۔ ریحان فوراً حواسوں میں آیا۔
’’سب خیریت تو ہے‘ مس مہرین؟‘‘ وہ میز پر کہنیاں ٹکا کر اس سے پوچھ رہا تھا۔ مہرین روتی رہی۔ تھوڑی دیر بعد خود پر قابو پایا۔ ریحان نے اس کی طرف ٹشو بڑھایا۔ وہ اسے تھام کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔
’’سر… ہمارا مالک مکان‘ گھر خالی کرنے کو کہہ رہا ہے۔ میں اور امّی ہی ہیں۔ فی الحال مکان مل نہیں رہا مگر وہ کہہ رہا ہے کہ اگر دو دن کے اندر گھر خالی نہ کیا تو وہ ہمارا سامان اُٹھا کر گلی میں پھینک دے گا۔ قیصر کی بھی میٹنگز چل رہی ہیں‘ وہ بھی نہیں آسکتا‘ ورنہ وہی کچھ کر لیتا۔ میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ مہرین نے سوں سوں کرتے بات مکمل کی۔ ریحان نے اسے پانی پلایا اور تسلی دی۔ ریحان نے دو دن کے اندر شہر کی ایک اچھی سوسائٹی میں ان کے لیے کرائے کے ایک اچھے گھر کا بندوبست کردیا تھا۔ مہرین کے لیے اس گھر کا کرایہ افورڈ کرنا ممکن نہیں تھا مگر ریحان نے ’’ہائوس رینٹ‘‘ کی مد میں اس کی تنخواہ میں اتنا اضافہ کردیا کہ وہ کرایہ ادا کرسکے۔ ریحان کے دل میں مہرین کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوگیا تھا۔
نجانے ریحان کے احسانات کا احساس تھا یا کچھ اور کے اس روز کے بعد سے مہرین اس کا بہت خیال رکھنے لگی تھی۔
’’سر آپ نے چائے پی… سر آپ تھوڑا آرام کر لیں… سر مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی… سر پلیز آپ اتنا کام مت کیا کریں۔‘‘ اور ریحان کو اس کا اپنے لیے یوں فکر مند ہونا اچھا لگنے لگا۔
اب مہرین کا جو بھی مسئلہ ہوتا وہ بے دھڑک ریحان سے کہہ دیتی اور ریحان اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتا جب تک اسے حل نہ کرلیتا۔ ریحان ایک دو بار مہرین کے گھر بھی گیا تھا۔ مہرین کی امّی کے وقار اور رکھ رکھائو نے ریحان کو بہت متاثر کیا تھا۔ مہرین کے لیے اس کی پسندیدگی بڑھتی جارہی تھی۔ وہ وقت گزاری نہیں کررہا تھا۔ وہ مہرین کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا تھا۔
’’مس مہرین… آپ کہیں انگیج تو نہیں ہیں؟‘‘ ریحان نے محتاط انداز میں بات شروع کی۔ وہ حسب معمول فائل پر سائن کروانے آئی تھی۔
’’نہیں… مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘ مہرین نے اُلجھ کر پوچھا تو ریحان نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی پسندیدگی ظاہر کی جس سے اس کے چہرے پر سرخی سی چھا گئی۔
’’سر… آپ امّی سے بات کرلیں۔ مجھے اُن کا ہر فیصلہ منظور ہوگا۔ میں خود سے کچھ نہیں کہہ سکتی۔‘‘ اس کا جواب سُن کر ریحان کو بڑی طمانیت محسوس ہوئی کہ وہ اتنی حسین ہونے کے باوجود اتنے مضبوط کردار کی لڑکی تھی۔ مرد خود خواہ جیسا بھی ہو‘ بیوی اُسے خوب صورت اور مضبوط کردار والی ہی چاہیے ہوتی ہے۔
ریحان نے بابا جان اور امّی سے بات کی تو وہ اس کی پسند کو اپنانے پر خوشی خوشی تیار ہوگئے کہ مہرین سے مل کر وہ بھی مایوس نہیں ہوئے تھے۔ ریحان نے قیصر سے بات کی تو وہ بہت خوش ہوا۔ پھر اِن کی منگنی ہوئی۔ چھ ماہ بعد شادی طے پائی تھی۔ وقت تیزی سے گزرا اور شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ مہرین کی زیادہ تر شاپنگ ریحان نے اپنے ساتھ لے جاکر اس کی پسند سے کروائی تھی۔ اُس شام وہ جلدی فارغ ہوگیا تھا تو اُس نے سوچا کہ مہرین کو لے جاکر ویڈنگ ڈریس کا آڈر دے دیں۔ وہ مغرب کے بعد آفس سے نکلا تو مہرین کے گھر تک پہنچنے تک اندھیرا چھا گیا۔ وہ اسے سر پرائز دینا چاہتا تھا سو اسے اطلاع نہیں تھی۔ مہرین کے گھر کا گیٹ کھلا ہوا تھا۔ قیصر کی گاڑی کھڑی تھی۔ مہرین کا کوئی بھائی نہیں تھا تو ان کی طرف کی شادی کی تیاریوں کی ذمہ داری قیصر پر تھی اور وہ تقریباً ہر ہفتے لاہور آجاتا تھا۔ ریحان قیصر سے مل لینے کے بارے میں پُرجوش ہوکر آگے بڑھا تو لان کی باڑ کے باہر جیسے اس کے پائوں زمین نے پکڑ لیے۔ وہ قیصر اور مہرین تھے۔
’’یار… تم شادی کے بعد سچ مچ ریحان کی محبت میں مبتلا نہ ہو جانا۔‘‘ یہ قیصر کی آواز تھی۔
’’محبت اور اُس کم شکل انسان سے… مجھے تو بس دو سال اس سے محبت کا ڈرامہ رچانا ہے پھر کافی ساری جائیداد اپنے نام کروا کے اس سے خلاصی حاصل کرنی ہے‘ پھر ہم دونوں ہوں گے اور ایک پُر آسائش زندگی۔‘‘ مہرین کی آواز نے گویا ریحان کو جلا کر خاک کردیا تھا۔ مہرین کا ہاتھ قیصر کے کندھے پر اور قیصر کا بازو مہرین کی کمر کے گرد حائل تھا۔ دونوں دنیا کو بھلائے لان کے سنگی بنچ پر بیٹھے تھے۔
’’ہاں… لیکن یہ دو سال تم تو گزارو گی اپنے اس شوہر کے پہلو میں اور میں کانٹوں بھرے بستر پر اکیلے۔‘‘ قیصر نے اپنا چہرہ اس کے بالوں کے قریب کرتے ان کی خوشبو اپنے اندر اُتاری۔
’’کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہے ناں میری جان۔ ویسے بھی کبھی کبھی میں اور تم…‘‘ ریحان کی برداشت کی حد بس یہاں تک ہی تھی۔ وہ اندھیرے سے نکل کر ان دونوںکے سامنے آکھڑا ہوا۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ ہونے کا موقع بھی نہ مل سکا تھا۔ حواس بحال ہوتے ہی دونوں بوکھلا کر کھڑے ہوگئے۔
’’تمہیں تو میں کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘ ریحان نے قیصر کو ہاتھ سے پرے دھکیلا۔
’’یہ تمہاری گھٹیا‘ نیچ سوچ اور لالچ کے لیے…‘‘ ریحان نے مہرین کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ دے مارا۔
’’تم دونوں کو دولت چاہیے تھی تو ڈائریکٹ کہہ دیتے۔ میرے پاس اتنی دولت ہے کہ اگر چند لاکھ تم لوگوں کو دے دیتا تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔ مگر تم نے میرے جذبوں اور دل کے ساتھ کھیل کر جو ظلم کیا ہے اس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔‘‘ ریحان نے مہرین کو دھکا دیا تو وہ بنچ پر لڑھک گئی اور وہ تیز تیز چلتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گیا۔ قیصر اسے فحش گالیاں دیتے ہوئے مہرین کو اُٹھانے لگا۔ دونوں کو اپنی بے عزتی سے زیادہ اپنے منصوبے کے ناکام ہونے کا دکھ ہورہا تھا۔
قیصر اور مہرین لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ دونوں اپنے ماں باپ کی طرح محنت کی چکی میں پستے ہوئے زندگی نہیں گزارنا چاہتے تھے۔ وہ ایک پُرتعیش زندگی گزارنا چاہتے تھے جہاں دولت کی ریل پیل ہو‘ جہاں ایک ایک چیز‘ ایک ایک خرچے کے لیے سوچنا نہ پڑے۔ قیصر نے جب ریحان کے آفس میں کام کرنا شروع کیا تو اسے اس کی دولت کا اندازہ ہوا۔ پھر اس نے مہرین کے ساتھ مل کر اس کی دولت کا ایک بڑا حصہ اپنے نام کرنے کا منصوبہ بنایا۔ دولت کے پیچھے قیصر نے اپنی غیرت ہی بیچ کھائی تھی کہ مہرین اس کی بچپن کی منگیتر تھی اور وہ اسے ہی مہرہ بنا کر دولت حاصل کرنے چلا تھا اور مہرین وہ بھی قیصر جیسی گھٹیا فطرت رکھتی تھی‘ اسی لیے خوشی خوشی اس کے اس مکروہ کھیل کا حصہ بن گئی تھی۔ وہ دونوں ’’پوری‘‘ کے لالچ میں ’’آدھی‘‘ بھی گنوا بیٹھے تھے۔ انسان کے اندر خواہشات کا پیدا ہونا غلط نہیں… ہاں مگر ان کا بے لگام ہوجانا غلط ہے۔ خواہشات بے لگام ہوجائیں تو پھر وہ انسان کو برائی کے راستے پر سر پٹ دوڑاتی ہیں اور آخر میں منہ کے بل گرا دیتی ہیں۔ وہ دونوں بھی اپنی بے لگام خواہشات کے ہاتھوں منہ کے بل گر پڑے تھے۔
اس کے بعد ریحان کا دل جیسے ویران ہوگیا تھا۔ اس کا اعتبار ٹوٹا تو پھر وہ دوبارہ کسی پر اعتبار ہی نہ کرسکا۔ رابعہ بیگم اس کی بربادی کا غم سینے سے لگائے دنیا سے چلی گئیں۔ ریحان نے خود کو بزنس میں مصروف کرلیا۔ تین سال تک وہ اس غم کا اشتہار بنا رہا پھر اس نے خود کو سنبھالا۔ اس کے سنبھلنے کے بعد بابا جان نے اس پر شادی کے لیے دبائو ڈالا تو اس نے گھر چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔ اس کے بعد پانچ سالوں میں بابا جان نے اسے کئی بار سمجھایا تھا مگر یوں فورس نہیں کیا تھا مگر اب تو لگ رہا تھا کہ وہ آر یا پار کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اس بار ریحان کو ہار مانتے ہی بنی۔
٭٭٭…٭٭٭
شادی کے لیے ہامی بھرنے کے بعد ریحان جیسے ہر چیز سے لاتعلق ہوگیا تھا‘ مگر بابا جان کو اس سے کوئی فرق نہ پڑا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر ساری تیاریاں خود کیں۔ شادی سے آٹھ دن پہلے آیان بھی اپنے بیوی بچوں سمیت پہنچ گیا۔ سب نے اس کی شادی میں خوب رونق لگائی۔ جی بھر کر اپنے ارمان نکالے۔ ہر کسی کا چہرہ خوشیوں سے چمک رہا تھا۔ سوائے ریحان کے۔
’’السلام علیکم!‘‘ ریحان شادی کی اولین رات ماہم سے مخاطب ہوا۔
’’میرا خیال ہے کہ میاں بیوی کے رشتے کی شروعات سچائی اور خلوص سے ہونی چاہیے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں آپ کو اپنی بات کس طرح سمجھائوں۔‘‘ ریحان لمحہ بھر کو رُکا ماہم کا سر ابھی تک جھکا ہوا تھا مگر وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھی۔
’’میں نے یہ شادی صرف بابا جان کی خواہش پر کی ہے۔ (کر ہی لی تھی تو اس کا اظہار میرے سامنے کرنے کی کیا ضرورت تھی) میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا کہ اپنی ذمہ داری کو پورے خلوص سے نبھاؤں۔ (زبردستی کی ذمہ داریاں نِرا بوجھ ہوتی ہیں) میں نے بابا جان کے کہنے پر یہ رشتہ قائم کیا ہے اور ان کے لیے اسے ہمیشہ نبھاؤں گا بھی مگر مجھے اس سب کے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔ اس سلسلے میں مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہوگی (اور مجھے جو اس گھر میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے وہ) آپ بہت سمجھ دار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ میرا ساتھ دیں گی (حیرت ہے آپ کو مرد ہوکر ایک عورت کے سہارے کی ضرورت پڑ رہی ہے) میں جانتا ہوں دولت عورت کی کمزوری ہوتی ہے (ہر عورت کی نہیں) آپ کی ہر ضرورت پوری ہو گی مگر مجھے اس رشتے کو قبول کرنے میں کچھ وقت لگے گا اور میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ مجھے یہ وقت ضرور دیں گی (ساری اُمیدیں مجھے ہی پوری کرنا ہوں گی)‘‘ ریحان کی ساری باتوں کے کہنے کا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو ’’مجھے تم سے کوئی دل چسپی نہیں‘‘ وہ بات کے اختتام پر فوراً ہی وہاں سے اٹھ گیا۔
’’اب آپ آرام کریں میں بھی سونا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کپڑے سنبھالتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ریحان نے تہھڑی دیر کے لیے اس کی طرف دیکھا جو ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ رہی تھی۔
’’ایک منٹ…‘‘ ماہم ڈریسنگ روم کے دروازے پر تھی جب ریحان نے اسے روکا۔ اُس نے وہیں سے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
’’یہ تمہارا منہ دکھائی کا گفٹ۔‘‘ ریحان نے ایک چھوٹا سا خوب صورت کیس اس کی طرف بڑھایا۔ ماہم کو اس کے اس انداز پر غصہ تو بہت آیا لیکن جب بولی تو لہجہ پُر سکون تھا۔
’’ٹیبل پر رکھ دیں۔‘‘ اُس نے ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرلیا۔ ریحان کیس ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہ گیا۔ اسے اس جواب کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ اس نے کیس ٹیبل پر رکھا اور لیٹ گیا۔
٭٭٭…٭٭٭
شادی کے ہنگامے سرد پڑے تو ریحان نے آفس جوائن کرلیا۔ شاید نکاح کے بولوں کا اثر تھا کہ وہ اپنی تمام تر بے گانگی کے باوجود ماہم کو اچھا لگنے لگا تھا… مگر ماہم کو اپنی انا بہت عزیز تھی سو اس نے اپنی اس پسندیدگی کو دل کے اندر ہی چھپا لیا تھا۔ یہ اس کا خیال تھا ورنہ دیکھنے والے صاف دیکھ سکتے تھے کہ وہ کس طرح اس کا خیال رکھنے لگی تھی۔ وہ اس سے غیر ضروری بات کرنے سے گریز کرتی تھی۔ جان بوجھ کر اس کے سامنے جانے سے بھی اجتناب کرتی تھی۔ سب کے سامنے وہ نارمل طریقے سے بات کرتا تو وہ بھی نارمل انداز میں جواب دیتی۔ کمرے میں آکر وہ ’’تو کون… میں کون‘‘ کی تفسیر بن جاتا تو جواب میں وہ بھی انجان بن جاتی جیسے تمہیں پروا نہیں تو مجھے بھی کوئی پروا نہیں۔
بے نیازی عورت کا وہ حربہ ہے جو مرد کو تلملانے پر مجبور کردیتا ہے۔ ریحان کو بھی ماہم کی یہ بے نیازی غصہ دلانے لگی تھی۔ شاید وہ یہ چاہتا تھا کہ اس کی بے رُخی کے باوجود وہ اس کے آگے پیچھے پھرے‘ اس پر توجہ دے مگر اُدھر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کہ وہ اس کا خیال نہیں رکھتی تھی‘ وہ اس کی بہت پروا کرنے لگی تھی مگر اس کے باوجود وہ اس کی بے رُخی کے بدلے میں بے نیازی اپنا کر اسے برابر کا جواب دیتی تھی۔ اب بھی وہ صوفے پر بیٹھ کر کمبل اپنے گرد لپیٹے کسی کتاب کے مطالعے میں گم تھی۔ ریحان اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔ اس نے ایک دو بار نظر اُٹھا کر ماہم مگر وہ ایسا ظاہر کررہی تھی جیسے کمرے میں بالکل اکیلی ہو۔
’’ماہم… ایک کپ چائے مل سکتی ہے؟‘‘ ریحان نے اسے متوجہ کیا۔ وہ کتاب سائیڈ پر رکھ کر اُٹھی‘ چائے لاکر خاموشی سے اسے پکڑائی اور پھر سے اپنے شغل میں مصروف ہوگئی۔
٭٭٭…٭٭٭
ماہم کے ساتھ رہتے ہوئے ریحان کو بہت اچھی طرح یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ عام لڑکیوں سے مختلف ہے۔ اسے اپنی خود داری اور عزت نفس بہت پیاری ہے۔ وہ عام لڑکیوں کی طرح شاپنگ کے جنون میں مبتلا نہیں۔ چار ماہ میں ایک بار بھی اس نے ریحان سے کسی چیز‘ حتیٰ کہ پیسوں تک کا تقاضا نہیں کیا تھا۔ یہ الگ بات کہ ریحان ہر ماہ باقاعدگی سے اسے جیب خرچ دیتا تھا۔ بابا جان سے بہت عزت‘ پیار اور احترام سے بات کرتی۔ حتیٰ کہ نوکروں تک کے ساتھ عزت اور آداب سے پیش آتی تھی۔ ریحان اب اکثر نادانستہ طور پر ماہم اور مہرین کا تقابل کرنے لگا تھا۔ اس میں اور مہرین میں کوئی رشتہ نہیں تھا مگر وہ اس سے بہت بے تکلف تھی۔ اپنی ہر ضرورت بلا جھجک بیان کردیتی۔ اپنی فرمائشیں دھونس سے پوری کرواتی اور ہر وقت بن سنور کر اس کو اپنی جانب متوجہ رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ مگر ماہم اس کی بیوی ہونے کے باوجود ایسی کوئی کوشش نہیں کرتی تھی کیونکہ اسے زبردستی کسی کے سر پر سوار ہونا پسند نہیں تھا۔ پھر پہلے دن ہی ریحان نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اسے ریجیکٹ کردیا تھا تو پھر بھلا وہ کیوں اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو اپنے مقام سے گراتی۔ ماہم کے ساتھ گزرے چھ ماہ میں ریحان کا اعتبار دھیرے دھیرے بحال ہونے لگا تھا۔ اسے سمجھ آنے لگی تھی کہ ہر عورت دوسری عورت سے مختلف ہوتی ہے۔ ماہم ان عورتوں میں سے ہے جنہیں مردوں کے لیے انعام قرار دیا گیا ہے‘ وہ اس انعام کو پورے حق کے ساتھ قبول کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ وہ بابا جان کی پرکھنے والی بصیرت پر یقین کرچکا تھا۔ اب اس کا ملال کم بلکہ ختم ہونے لگا تھا۔ اُسے لگنے لگا تھا کہ مہرین تو اس کی وقتی پسندید تھی جسے اُس نے محبت کا لبادہ پہنا دیا تھا۔ وہ محبت نہیں تھی۔ محبت تو یہ تھی جو‘ اب اُسے ماہم سے ہونے لگی تھی۔ سچی اور کھری محبت… اللہ کے بنائے ہوئے قاعدے اور حدود کی پابند محبت… جس میں خسارے نہیں ہوتے‘ صرف برکت ہی برکت‘ بڑھاوا ہی بڑھاوا ہوتا ہے کیوں نہ ہو‘ بھلا اللہ کی بنائی ہوئی حدود کے اندر رہ کر بھی انسان کبھی خسارے کا شکار ہوا ہے؟ وہ اللہ کا شکر گزار ہونے لگا تھا کہ جس نے اُسے بروقت حقیقت سے آگاہ کرکے کسی کے مکروہ عزائم کا شکار ہونے سے بچا لیا تھا اور اُس پتھر کے بدلے اُسے یہ ہیرا عطا کیا تھا۔ اب اُسے اس ہیرے کی قدر کرنا تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
بابا جان‘ ریحان اور ماہم لائونج میں فرصت سے بیٹھے گپ شپ کررہے تھے۔ بابا جان ان کو اپنی جوانی کے قصے سنا رہے تھے۔ ماہم نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ اُس نے کیک بیکنگ کے لیے رکھا ہوا تھا۔ بیکنگ ٹائم پورا ہوگیا تو وہ اُٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ چائے وہ پہلے ہی دم پر رکھ چکی تھی۔ اس نے کیک اوون سے نکالا اور اس کے ٹکڑے نفاست سے کاٹ کر ٹرے میں رکھے اور پیالیوں میں چائے نکالی۔ سب چیزوں کو ایک بڑی ٹرے میں رکھ کر لائونج میں چلی آئی۔ سب چیزیں ٹیبل پر رکھ کر انہیں کھانے کا اشارہ کرکے وہ باقی کیک فریج میں رکھنے کے لیے پھر سے کچن میں چلی آئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ ماہم کا خالہ زاد فرقان اپنے سازو سامان سمیت لائونج میں کھڑا تھا۔
’’وعلیکم السلام! بیٹا۔‘‘ بابا جان نے اُٹھ کر اسے خوش دلی سے گلے لگایا۔ اس کے بعد فرقان نے ریحان کے ساتھ مصافحہ کیا۔
’’انکل… ہماری پرنسس کہاں ہے؟‘‘ فرقان نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں۔ اتنے میں ماہم چلی آئی اور فرقان کو غیر متوقع طور پر سامنے دیکھ کر خوشی سے چلا اُٹھی۔
’’فرقان تم؟‘‘
’’جی پرنسس… ہم۔‘‘ فرقان نے اپنا بازو پھیلایا تو ماہم جھٹ اُس کے بازو سے جالگی۔
’’تمہاری سرپرائز دینے کی عادت ابھی تک بدلی نہیں۔‘‘ وہ اُسے دیکھ کر بہت خوش تھی۔ خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔
’’بعض عادتیں بہت پکی ہوتی ہیں‘ مرنے کے بعد ہی چھوٹتی ہیں۔‘‘ فرقان نے ترنگ میں کہا۔
’’اچھا ناں… اب فضول باتیں نہ کرو۔ تم بیٹھو میں تمہارے لیے بھی چائے اور کیک لاتی ہوں۔‘‘ فرقان ایک بے حد وجیہہ شخص تھا۔ ماہم کی اس سے یہ بے تکلفی ریحان کو تھوڑی سی چبھی تھی۔
’’میرے ساتھ تو کبھی ایسے فری نہیں ہوئی۔‘‘ ریحان دل ہی دل میں کلسا اور اُن سب کو باتیں کرتا چھوڑ کر خاموشی سے اُٹھ گیا۔
پھر اگلے کچھ دنوں میں اسے اندازہ ہوا کہ پہلے روز والی بے تکلفی تو کچھ بھی نہیں تھی۔ وہ دونوں تو آپس میں بہت بے تکلف تھے۔ ریحان بالکنی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی نظریں اور کان لان میں شٹل کاک کھیلتے فرقان اور ماہم کی طرف تھے۔
’’پرنسس… تمہارا شوہر کچھ سڑیل سا نہیں۔‘‘ فرقان ریحان کی کم آمیزی پر حیران تھا۔ وہ خود دوست بنانے کا شوقین تھا۔
’’اب ہر کوئی تمہاری طرح تھوڑی ہوتا ہے۔ ریحان تھوڑے سے سنجیدہ مزاج ہیں اور کچھ نہیں۔‘‘ ماہم نے اس کی بات کے جواب میں ریحان کا دفاع کیا۔
’’اچھا تم کہتی ہو تو مان لیتے ہیں۔‘‘ فرقان نے زور سے ہٹ لگائی اور دونوں ہنس دیے۔
٭٭٭…٭٭٭
’’پرنسس… چائے دے دو‘ بہت دیر ہوگئی اور ہاں‘ پلیز میری پیش کش پر غور ضرور کرنا۔ تمہارا بہت فائدہ ہے اس میں۔‘‘ وہ ناشتے کی میز پر ریحان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا جو ناشتہ ختم کرکے چائے پی رہا تھا۔ بابا جان ناشتہ کرکے جاچکے تھے۔
’’تم تو پاگل ہو‘ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی۔‘‘ ماہم نے چائے فرقان کے سامنے رکھی اور خود بھی کرسی گھسیٹ کر ناشتہ کرنے بیٹھ گئی۔
ریحان کو فرقان کا پرنسس پرنسس کہنا بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ ابھی دونوں جو ذومعنی گفتگو کررہے تھے‘ اسے بہت ناگوار گزر رہی تھی۔ وہ زور سے کرسی گھسیٹ کر اُٹھا اور کمرے میں چلا گیا۔ دونوں ہی اس کے انداز پر چونکے۔
’’انہیں کیا ہوا؟‘‘ فرقان حیران ہوا‘ ماہم نے کندھے اچکائے۔
پچھلے کچھ روز سے ریحان کے دل میں یہ خیال آرہا تھا کہ شاید شادی سے پہلے ماہم اور فرقان ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ ان کی باتیں اور بے تکلفی اس کے اس شک کو مضبوط کررہی تھی اور یہ شک اس کا چین قرار لوٹنے لگا تھا۔ وہ دل میں شک اور بدگمانی کو جگہ دے چکا تھا۔ یہ دونوں چیزیں تو بعض دفعہ ان لوگوں کو بھی جدا کردیتی ہیں جن کے درمیان گہری محبت ہو‘ یہاں تو ابھی محبت کے پودے نے سر ہی اُٹھایا تھا اور محبت کا نازک پودا بھلا شک کی بے مہر مار کہاں سہہ پاتا ہے۔
’’اسی لیے ماہم نے آج تک میرے قریب ہونے کی کوشش نہیں کی۔ میری اوّل روز والی بات سن کر تو اس کے دل کی کلی کھل گئی ہوگی اور تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق اس نے مجھ سے کنارا کشی اختیار کرلی۔ حالانکہ اگر چاہتی تو مجھے بڑی آسانی سے اپنی طرف راغب کرسکتی تھی۔ مردوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے عورتوں کے پاس سو ہتھیار ہوتے ہیں مگر وہ یہ ہتھیار وہاں استعمال کرتی ہیں جہاں وہ خود چاہے۔ اب اتنے خوب صورت عاشق کو بھولنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے ناں۔ اب یہ ماہم کو اُکسا رہا ہے کہ وہ مجھ سے الگ ہوکر اس سے شادی کرلے مگر میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ ریحان نے راکنگ چئیر پر جھولتے ہوئے ایک دم رُک کر اس کی ہتھی پر زور سے مکہ مار کر اپنا غصہ نکالا۔ اس وقت اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ ایک کامیاب بزنس مین ہے‘ اس وقت وہ خود اور ساری دنیا سے روٹھا ہوا بچہ لگ رہا تھا جسے اپنے کھلونے کے چھن جانے کا خوف لاحق ہوگیا تھا۔ اب وہ خود ماہم کی طرف متوجہ ہوا تو وہ اسے اپنی پہنچ سے دور جاتی محسوس ہورہی تھی۔ فرقان اسے ہر وقت اپنے ساتھ مصروف رکھتا تھا۔ ریحان شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہورہا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
کچھ روز پہلے فرقان ماہم کی امّی والے گھر میں شفٹ ہوگیا تھا مگر ہر روز یہاں ضرور چکر لگاتا‘ ریحان آفس سے گھر آیا تو بہت تھکا ہوا تھا۔ کام کی تو زیادہ تھکن نہیں تھی مگر مسلسل کئی روز کی ذہنی کشمکش نے اسے بہت تھکا دیا تھا۔ اسے ماہم پر سخت غصہ تھا کہ وہ فرقان کے ساتھ اتنا فری کیوں ہوتی ہے۔ اسے لگنے لگا تھا کہ ماہم دوسری لڑکیوں سے مختلف ہے‘ فرقان کے آنے کے بعد اس کی یہ سوچ پھر بدل گئی تھی۔ ماہم بھی دوسری لڑکیوںکی طرح دولت اور حسین مردوں سے متاثر ہونے والی ہی تھی۔ ریحان کے سر میں شدید درد تھا۔ وہ جلد از جلد اپنے بیڈ روم میں پہنچ جانا چاہتا تھا مگر ماہم کی آواز نے اس کے قدم جکڑ لیے تھے۔ ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
’’چلو فرقان… اب تم یہاں سے کھسکو‘ میرے شوہرِ نامدار آنے والے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ تم تب تک یہاں رُکو‘ مجھے انہیں بھی ٹائم دینا ہوتا ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ بندہ کسی اور طرف دیکھ بھی لے۔‘‘ ماہم نے فرقان کے بال بکھرے۔ اس سے پہلے کہ وہ مڑتی فرقان نے اس کی کلائی پکڑلی۔
’’پرنسس… بہت ظالم ہو تم‘ پہلے میری پوری بات تو سن لو‘ پھر اپنے سڑیل شوہر کی خدمتیں کرلینا۔ دیکھو تمہاری ایک ہاں میری آئندہ زندگی سنوار سکتی ہے۔ پلیز ہیلپ می۔‘‘ ریحان کو لگا سالوں پہلے کی طرح وہ ایک بار پھر بے وقوف بنادیا گیا ہے۔ ایک دفعہ پھر اس کی عزت چوراہے پر تار تار کردی گئی ہو۔ اس سے آگے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں جواب دے گئیں۔ اُس نے اپنا بیگ لائونج کے صوفے پر اُچھالا اور تن فن کرتا دونوں کے سر پر جاپہنچا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر وہ دونوں اپنی جگہ پر جم سے گئے۔ ماہم کی کلائی ابھی بھی فرقان کے ہاتھ میں تھی۔ ریحان نے آئو دیکھا نا تائو اور فرقان کو گریبان سے پکڑ کر صوفے سے اٹھایا اور اسے جھٹکے دیتا ہوا چیخنے لگا۔
’’گھٹیا انسان… تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے ہی گھر میں آکر میری ہی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہو تم‘ کیا سمجھتے ہو تم لوگ کہ میں اندھا ہوں جسے تم لوگوں کے اس مکروہ کھیل کا پتہ نہیں چلے گا۔‘‘ فرقان تو اس کے انداز اور الفاظ پر ایسا گنگ ہوا کہ وہ اپنا دفاع کرنا بھی بھول گیا۔ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کو کیا جواب دے۔ ماہم اسے چھڑانے کے لیے آگے بڑھی۔
’’ریحان… چھوڑئیے پلیز… کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘ ماہم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ریحان کا بازو پکڑ کر فرقان کا گریبان چھڑانا چاہا۔
’’تم غلیظ عورت… دور رہو مجھ سے۔‘‘ ریحان نے اسے زور سے دھکا دیا کہ وہ ڈرائنگ روم کے دروازے سے ٹکرا کر نیچے جا گری۔
’’ریحان یار… تم غلط سمجھ رہے ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہے…‘‘ فرقان نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
’’میں کہہ رہا ہوں تم میرے منہ مت لگو‘ ابھی نکلو میرے گھر سے اور اس گھٹیا عورت کو بھی ساتھ لے جائو۔ سب عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں جنہیں صرف دولت اور خوب صورت مرد چاہیے ہوتا ہے چاہے اس کے لیے انھیں گندگی میں ہی گرنا پڑے۔‘‘ ریحان نے پھر اس کا گریبان پکڑا۔ ماہم اُٹھی اور پھر سے دونوں کی طرف لپکی۔ آنسو اس کے گالوں پر پھسل رہے تھے۔
’’یہ سب کیا ہورہا ہے؟‘‘ ریحان کے چیخنے چلانے کی آواز سن کر بابا جان وہاں پہنچے تھے۔ اندر کی صورتِ حال دیکھتے اور ریحان کی باتیں سن کر انہیں جلال آگیا۔
’’کیا بکواس کررہے ہو تم؟‘‘ وہ ریحان کی طرف بڑھے۔
’’میں بکواس کررہا ہوں؟ یہ دونوں نہ جانے کب سے آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں اور آپ اب بھی ان کی سائیڈ لے رہے ہیں۔‘‘ وہ فرقان کا گریبان چھوڑ کر ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
’’ابھی تم نے جو کچھ کہا ہے اس کے لیے فرقان اور ماہم سے معافی مانگو۔‘‘ بابا جان نے ٹھنڈے لہجے میں حکم دیا۔
’’میں کیوں معافی مانگو میں تو اس جیسی عورت کی طرف دیکھوں بھی ناں۔ میں اسے طلاق دے دوں گا تاکہ یہ اسی کے ساتھ چلی جائے۔‘‘ ریحان نے نفرت سے ماہم کی طرف دیکھا جو اتنی تذلیل پر کانپ رہی تھی۔ اس کا رنگ زرد ہوچکا تھا اور آنسو روانی سے بہہ رہے تھے۔ فرقان کے چہرے پر افسوس اور غصے کے ملے جلے تاثرات تھے۔
’’تم جانتے ہو‘ ان دونوں میں کیا رشتہ ہے؟‘‘ بابا جان نے پوچھا۔
’’یہ بھی میں آپ کو بتائوں تو سنیے ان دونوں میں عاشق اور معشوق کا رشتہ ہے اور یہ…‘‘ اس کی بات ابھی منہ میں ہی تھی۔
’’ریحان…‘‘ بابا جان کا ہاتھ اُٹھا اور ریحان کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا اور ماہم کو لگا اس کی روح اس کے وجود کو چھوڑ کر دور جاکھڑی ہوئی ہو۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر یوں گری جیسے اب اس کے لیے دنیا میں کچھ بھی باقی نہ بچا ہو۔ اس کا دل شدت سے اس بات کا متمنی تھا کہ وہ یونہی بیٹھے بیٹھے زمین میں سما جائے۔
’’یہ دونوں دودھ شریک بہن بھائی ہیں۔‘‘ بابا جان نے ریحان کے سر پر بم پھوڑا جس نے اس کی دھجیاں اُڑا دی تھیں۔ ریحان نے پھٹی ہوئی آنکھوں سے ماہم کی طرف دیکھا جو ایک سکتے کی حالت میں تھی۔ کمرے میں موت کا سناٹا چھا گیا تھا۔
’’فرقان… پلیز… مجھے اپنے ساتھ لے چلو… پلیز…‘‘ ماہم بمشکل اُٹھی اور لڑکھڑاتے قدموں سے فرقان کے بازو سے جالگی وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔ فرقان نے ایک نظر بابا جان اور ریحان کو دیکھا اور ماہم کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے بازو کے حلقے میں لے لیا۔
’’چلو یہاں سے…‘‘ ماہم اس سے التجا کررہی تھی جیسے وہ مزید وہاں کھڑی رہی تو مر جائے گی۔
’’تم اسے لے جائو فرقان بیٹا… اس وقت اس کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔‘‘ بابا جان نے فرقان سے کہا۔ وہ اسے بازو کے حلقے میں لیے ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے کے قریب جاکر وہ یک دم رُکی‘ فرقان کا بازو اپنے کندھے سے ہٹایا۔ اپنے کانوں سے ٹاپس‘ گلے سے چین اور انگلی سے انگوٹھی اُتار کر واپس مڑی اور ساری چیزیں میز پر رکھ دیں۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو اسے منہ دکھائی کا تحفہ ملی تھیں اور وہ ان کو ہر وقت پہنے رکھتی تھی۔
’’میں اس گھر سے بالکل خالی ہاتھ جارہی ہوں‘ کچھ بھی لے کر نہیں جارہی۔‘‘ ماہم نے اپنے خالی ہاتھوں کو پھیلا کر کہا۔ اس وقت کوئی بھی اس کا مخاطب نہیں تھا وہ جیسے خود سے بات کررہی تھی۔ اس کے انداز پر بابا جان کا دل کٹا تھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس نے آنسوئوں بھری آنکھوں سے ان کو دیکھا اور پلٹ کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔ بابا جان ریحان پر ایک ملامتی نگاہ ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے اور ریحان گرنے کے سے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا۔
٭٭٭…٭٭٭
فرقان ماہم کو اس کی امّی کے گھر لے آیا جو آج کل اپنے بیٹے کے پاس انگلینڈ گئی ہوئی تھیں۔ گاڑی سے اُتر کر وہ تقریباً بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گئی اور دروازہ لاک کر لیا۔ وہ کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتا رہا مگر اس نے دروازہ نہ کھولا۔ وہ تھک کر صوفے پر جا بیٹھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو کچھ ہوا تھا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اسے بہت افسوس ہورہا تھا کہ ماہم جیسی کھری لڑکی کا شوہر ایسی سطحی اور گھٹیا سوچ رکھتا تھا۔
شام سے رات ہوگئی مگر ماہم نے دروازہ نہ کھولا۔ وہ بھوکی پیاسی گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ وہ سخت اذیت میں تھی۔ ریحان کے الفاظ نے اس کی روح کو کانٹوں پر گھسیٹا تھا اور اسے جو زخم لگے تھے ان کا مداوا ممکن ہی نہیں تھا۔ ساری زندگی اس نے خود کو بچا بچا کر‘ سینت سینت کر رکھا تھا لیکن پھر بھی اس پر بدکرداری کا الزام لگا دیا گیا تھا۔ اس کے اندر جیسے آگ بھڑک رہی تھی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’یہ کیا کردیا میں نے… کیا ہوگیا تھا مجھے…؟ ماہم سے محبت کے اظہار کے معاملے میں تو میں بالکل گونگا بنا رہا‘ مگر نفرت کے اظہار کے لیے میں اتنا منہ پھٹ کیوں ہوگیا کہ میں نے ان دونوں کے دل چیر دیے۔‘‘ وہ سخت اضطراب میں مبتلا تھا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ماہم یہاں سے خالی ہاتھ گئی ہے‘ پھر بھی نہ جانے کیا سوچ کر اس نے ماہم کا نمبر ملایا۔ اس کا فون بیڈ روم میں ہی کہیں رکھا تھا کیونکہ بیل کی آواز اِدھر سے ہی آرہی تھی۔ اس نے جھنجھلا کر اپنا فون بیڈ پر پٹخ دیا۔
’’مجھے خود پر قابو پانا چاہیے تھا۔ اسی لیے غصے کو حرام قرار دیا گیا ہے کہ یہ انسان سے وہ کچھ کروا دیتا ہے جو بعد میں اس کے لیے شرمندگی اور پچھتاوے کا باعث بن جاتا ہے۔ میرا آج کا غصہ میری شخصیت‘ اخلاق اور عقل سب کچھ اپنے ساتھ لے گیا۔ فرقان میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا اور ماہم… ماہم نے میرے سخت جملوں کی مار کیسے سہی ہوگی۔‘‘ وہ تھوڑی دیر پہلے کی صورتِ حال کو سوچتا پچھتا رہا تھا۔ واقعی غصہ ایک آگ ہے جس پر اگر بروقت قابو نہ پایا جائے تو وہ اتنا بھڑک جاتی ہے کہ انسان کا سب کچھ جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ ریحان کے غصے نے فرقان اور ماہم کو تو جو اذیت دی سو دی مگر اب وہ خود اُس آگ میں جھلس رہا تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
ساری رات ماہم کمرے میں بند رہی اور فرقان لائونج کے صوفے پر بیٹھا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے دروازے پر تین چار بار دستک دی‘ دروازہ نہ کھلا۔ اس نے ماہم کو کئی آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ بے حد پریشان ہوگیا۔ کچھ سوچ کر اُس نے ماریہ کا نمبر ملایا۔
’’ماریہ… آپ کچھ دیر کے لیے میری طرف آسکتی ہیں؟‘‘ کال ریسیو ہوتے ہی فرقان نے پوچھا۔
’’ابھی؟‘‘ ماریہ نے گھڑی دیکھی جو صبح کے سات بجا رہی تھی۔
’’جی پلیز… جلدی آئیے‘ میرے ساتھ ماہم بھی ہے۔‘‘ فرقان کے لہجے میں نمایاں پریشانی تھی۔
’’اوکے… میں آتی ہوں۔‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’امّی… زینا سو رہی ہے۔ آپ ذرا اس کا دھیان رکھیے گا۔ ماہم آئی ہے میں اس سے مل کر ابھی آئی۔‘‘ ماریہ نے اپنی ساس کو اطلاع دی جو لائونج میں بیٹھ کر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ وہ تھوڑا حیران ضرور ہوئیں مگر انہوں نے سر ہلا کر اجازت دی۔ ماریہ وہاں پہنچی تو فرقان پریشانی سے ٹہل رہا تھا۔
’’کیا بات ہے فرقان بھائی؟‘‘ وہ آگے بڑھی۔
’’ماہم کل شام سے اپنے کمرے میں بند ہے‘ میں نے بہت کوشش کی مگر وہ دروازہ نہیں کھول رہی۔ آپ پلیز کسی طرح یہ دروازہ کھلوائیے۔‘‘ فرقان نے پریشانی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
’’کل شام سے…! مگر کیوں؟‘‘ وہ حیرت کی تصویر بن گئی۔
’’کسی بات پر اس کا اور ریحان کا جھگڑا ہو گیا ہے۔‘‘ فرقان نے صرف اتنا ہی کہا۔ وہ ماریہ کو ساری بات بتانے کا حوصلہ نہیں کر پارہا تھا۔
’’ماہم… ماہم… دروازہ کھولو۔‘‘ جواب ندارد تھا۔
’’فرقان بھائی… اس کمرے کی چابی تو ہوگی ناں؟‘‘ ماریہ نے پلٹ کر سوال کیا۔
تھوڑی دیر کی تلاش کے بعد مطلوبہ چابی مل گئی تو وہ لاک کھول کر اندر داخل ہوئی۔ پیچھے ہی فرقان تھا۔ وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔ اس کا وجود دھیرے دھیرے ہل رہا تھا۔
’’ماہم…‘‘ ماریہ دوڑ کر اس تک پہنچی اور اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سر اُٹھایا۔ رو رو کر اس کا پورا چہرہ سرخ ہورہا تھا‘ آنکھیں لال انگارہ‘ بال اُلجھے ہوئے‘ اس کی حالت دیکھ کر ماریہ کا دل ہولنے لگا۔
’’ماہم… بتائو کیا ہوا ہے؟‘‘ ماریہ نے اسے بے ساختہ اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ فرقان پانی لایا۔ پانی پی کر اس کی حالت تھوڑا سنبھلی تو ماریہ نے اس کے بال سمیٹ کر اس کی ٹانگیں سیدھی کیں۔
’’میں کھانے کے لیے کچھ لاتا ہوں۔‘‘ فرقان اس وقت وہاں سے غائب ہونا چاہ رہا تھا سو بہانے سے نکل گیا۔
’’ماہم… دیکھو تم میری بہن کی طرح ہو۔ یہ مت سوچنا کہ میں ریحان بھائی کی بہن ہوں۔ اس وقت میں تمہاری بہن ہوں‘ جو بھی ہوا ہے مجھے صاف صاف بتائو پلیز… رونا بند کرو۔ میرا دل ہول رہا ہے۔‘‘ ماریہ نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا تو اس نے سسکتے ہوئے ساری بات بتادی اور مارے شرمندگی کے ماریہ کا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ اس کے پاس تسلی کے لفظ ہی ختم ہوگئے تھے۔ فرقان کی زبانی جھگڑے کا سن کر اس نے یہی سوچا تھا کہ کسی چھوٹی موٹی بات پر لڑائی ہوئی ہوگی مگر یہ خیال بھی اس کے دل میں آیا تھا کہ ماہم چھوٹی موٹی باتوں کو ہوا دینے والوں میں سے نہیں ہے مگر یہ بات یہاں تک تو اس کی سوچ بھی نہیں جاسکتی تھی۔ فرقان ناشتہ لے آیا تو ماریہ نے ماہم کو زبردستی تھوڑا سا کھلا کر سر درد کی گولی کھلائی اور اسے لٹا کر گھر واپس چلی گئی۔
’’ماریہ بیٹا… خیریت تھی؟‘‘ اس کی ساس نے پوچھا۔
’’جی… وہ ماہم اور ریحان بھائی کا جھگڑا ہوگیا ہے تو…‘‘ وہ ادھوری بات کہہ کر خاموش ہوگئی۔
’’بچے… میاں بیوی میں چھوٹے موٹے جھگڑے ہوہی جاتے ہیں‘ تم کیوں اتنا پریشان ہورہی ہو؟‘‘ وہ اس کی ہولتی شکل دیکھ کر بولیں۔
’’جھگڑا چھوٹا ہی تو نہیں…‘‘ وہ دل میں کہہ کر زبردستی مسکرا دی۔
٭٭٭…٭٭٭
شام کو ماریہ اپنے شوہر شعیب کے ساتھ بابا جا ن کی طرف آئی۔ سلام دعا کے بعد دونوں بابا جان کے پاس بیٹھ گئے۔
’’ریحان بھائی کہاں ہیں؟‘‘ ماریہ نے پوچھا۔
’’کل سے اپنے کمرے میں بند ہے‘ آج آفس بھی نہیں گیا۔‘‘ بابا جان بہت افسردہ تھے۔ شعیب نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دی کہ ساری بات سن کر اسے بھی دھچکا لگا تھا اور اب اسے بہت دُکھ ہورہا تھا۔
’’میں ان سے مل کر آتی ہوں۔‘‘ اس نے زینا کو شعیب کی گود میں دیا۔ دروازہ ناک ہوا تو ریحان چہرے سے تکیہ ہٹا کر اُٹھا۔
’’دروازہ کھولیے بھائی۔‘‘ ماریہ نے آواز دی تو ناچار اسے دروازہ کھولنا پڑا۔ ماریہ نے اسے ایک نظر دیکھا۔ عجیب اُجڑا سا انداز تھا اس کا۔ وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’بھائی میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ نے ماہم کے ساتھ یہ سب کیوں کیا؟‘‘ اس وقت وہ صرف ماہم کی طرف دار بن کر آئی تھی سو لہجہ کڑا تھا۔
’’مجھے کیا معلوم تھا کہ ان دونوں میں بہن بھائی کا رشتہ ہے۔‘‘ وہ سخت شرمندہ تھا مگر ماریہ پھر بھی کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں تھی۔
’’ویری گڈ… ساری دنیا کو یہ بات معلوم ہے۔ ایک آپ ہی انجان ہیں۔ ماہم کے ساتھ آپ کا اتنا قریبی رشتہ ہے‘ آپ کو اس حقیقت سے بے خبر ہونا تو نہیں چاہیے تھا۔‘‘ ریحان نے اس کی باتیں سن کر خاموشی سے سر جھکا لیا کہ اس ’’قریبی رشتے‘‘ کی حقیقت یا وہ جانتا تھا یا ماہم۔
’’بالفرض آپ کو نہیں بھی پتہ تھا تو اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں تھا کہ آپ ماہم کے کردار پر حملہ کردیتے۔ وہ بہت ہرٹ ہوئی ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو محبت کے بغیر تو زندہ رہ لیتے ہیں مگر عزت کے بغیر مر جاتے ہیں اور آپ نے اس کو ایسا رسوا کیا کہ وہ مر ہی گئی ہے۔ آج صبح اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو آپ ہی ذمہ دار ہوتے۔‘‘ اس وقت ماریہ اس کے بڑے ہونے کا لحاظ بھی نہیں کررہی تھی۔
’’کیا ہوا اسے‘ وہ ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘ ریحان کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’وہ مرے یا جیے آپ کی بلا سے۔‘‘ وہ جیسے پھٹ پڑی اور اُٹھ کر باہر نکل گئی۔
’’باباجان… اب کیا ہوگا؟‘‘ ماریہ نے واپسی کے وقت بابا جان سے پوچھا۔
’’حوصلہ رکھو بیٹا… ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا‘ بس تم ماہم کا بہت خیال رکھنا۔‘‘ بابا جان نے اسے تسلی دی مگر ابھی اُن کے سامنے بھی ایک بڑا سا سوالیہ نشان تھا کہ صورتِ حال ٹھیک کیسے ہوگی۔
٭٭٭…٭٭٭
’’آئم سوری باباجان… معاف کردیجیے‘ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔‘‘ ریحان ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر دوزانو بیٹھ گیا۔ آج پانچواں روز تھا بابا جان نے اس سے بات کرنا تو درکنار اس کی طرف دیکھا تک نہیں تھا۔ اب اس کے معافی مانگنے پر بابا جان نے اس کی طرف دیکھا جس کا چہرہ احساس ندامت سے چُور تھا۔
’’برخوردار… مجھ سے کیا معافی مانگتے ہو۔ معافی مانگنی ہے تو فرقان اور ماہم سے مانگو۔‘‘ انہوں نے قدرے رکھائی سے کہا۔
’’جس جس سے کہیں گے اس اس سے معافی مانگ لوں گا مگر پلیز آپ مجھ سے ناراض مت ہوں۔‘‘ ریحان نے ان کے گھٹنوں سے ہاتھ ہٹا کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’چلو جائو‘ ہاتھ منہ دھو کر چینج کرو۔ پھر اکٹھے چائے پیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ کس طرح حل ہوگا۔‘‘ انہوں نے اس کے کندھے پر تھپکی دے کر اپنی ناراضگی کے ختم ہونے کا اعلان کیا۔
’’تھینک یو سو مچ بابا جان…‘‘ وہ ان کے ہاتھ چوم کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
٭٭٭…٭٭٭
فرقان واش روم سے باہر آیا تو فوراً اپنے موبائل کی طرف بڑھا جو مسلسل بج رہا تھا۔ اس نے ایک نظر فون کی اسکرین کو دیکھا اور پھر کال ریسیو کرلی۔
’’السلام علیکم انکل… کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’وعلیکم السلام بیٹا! میں ٹھیک ہوں‘ تم اور ماہم کیسے ہو؟‘‘
’’انکل… خیریت آپ نے فون کیا تھا؟‘‘ اس نے اُن کے سوال کا جواب گول کردیا۔
’’بیٹا… میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ تم شام کو آسکتے ہو؟‘‘ وہ اس کا جواب سننے کے منتظر تھے۔
’’انکل… اگر ہم کہیں باہر مل لیں تو بہتر رہے گا۔‘‘ وہ ہچکچایا۔
’’میں تمہاری کیفیت اور احساسات کو سمجھ سکتا ہوں مگر آج میرے کہنے پر تم گھر آجائو پلیز۔‘‘ انہوں نے التجا کی۔
’’پلیز انکل اس طرح کہہ کر مجھے شرمندہ مت کریں‘ میں شام کو حاضر ہوجائوں گا۔‘‘ فون بند کرکے فرقان نے ٹھنڈی سانس بھری۔
شام کو فرقان بابا جان کی طرف چلا آیا۔ سارے راستے وہ یہ دعا کرتا آیا تھا کہ ریحان سے اس کا سامنا نہ ہو۔ بابا جان لان میں بیٹھے تھے وہ وہیں چلا آیا۔
’’آئو بیٹھو۔‘‘ بابا جان نے اپنے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ ملازم چائے کی ٹرے رکھ گیا تھا۔ انہوں نے چائے کا ایک کپ اس کی طرف بڑھایا اور دوسرا خود پینے لگے۔
’’اگر میں یہ کہوں کہ تم اور ماہم ریحان کو معاف کردو تو…‘‘ اِدھر اُدھر کی چند باتوں کے بعد انہوں نے فرقان سے پوچھا۔
’’کیا یہ اتنا آسان ہے؟‘‘ اس نے سوال کے بدلے سوال کیا۔
’’آسان تو نہیں ہے لیکن اگر تم میری مدد کرو تو یہ ممکن ہوسکتا ہے۔ میں اپنے بیٹے کا گھر بستا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مگر آپ کے صاحب زادے کا مجھے ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔‘‘ فرقان کا لہجہ گہرے طنز سے لبریز ہوا۔
’’ایسی بات نہیں ہے‘ وہ بہت شرمندہ ہے اپنے طرزِ عمل پر۔‘‘
’’اس کی شرمندگی سے اب بیتا وقت واپس آنے سے تو رہا۔‘‘ فرقان کو بابا جان کی باتیں ناگوار گزر رہی تھیں۔ جنہیں صرف اپنے بیٹے کی پروا تھی ماہم کی نہیں کہ اس کے دل پر کیا گزر گئی تھی۔ یہ سوچ اس کے چہرے پر اتنی واضح تھی کہ بابا جان اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے۔
’’تم مجھے خود غرض سمجھ رہے ہو ناں؟‘‘ وہ چونکا۔
’’نن… نہیں میں تو بس…‘‘ وہ ان کے پُر یقین انداز پر بوکھلا گیا۔ پھر بابا جان نے اُس کے سامنے ریحان کا ماضی کھول کر رکھ دیا۔ اس کی پسندیدگی‘ دھوکا کھانا‘ اعتبار ختم ہونا‘ شادی نہ کرنے کی ضد‘ اس کو مجبور کرنا ہر تفصیل بتا دی کچھ بھی نہ چھپایا۔
’’پھر تم لوگوں کے رشتے کی نوعیت سے بے خبری کے سبب اس نے تم دونوں کی بے تکلفی اور انڈراسٹینڈنگ کو اپنی مرضی کے معانی پہنانا شروع کردیے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تو تمہیں معلوم ہی ہے۔‘‘ بابا جان نے بات مکمل کرکے کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی۔
’’انکل… وہ تو ٹھیک ہے… مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ اگر ایک عورت نے آپ کو دھوکا دیا ہو تو ساری عورتیں ہی دھوکے باز ہوں‘ کسی ایک کے کیے کی سزا دوسروں کو کیوں دی جائے؟‘‘ اب کے فرقان کا لہجہ قدرے پست تھا۔
’’بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو فرقان‘ یہ میری غلطی تھی مگر اب میں اسے سدھارنا چاہتا ہوں۔‘‘ ریحان ان کے پاس چلا آیا۔ اسے دیکھ کر فرقان کے جبڑے بھینچے‘ مگر وہ خود پر جبر کیے بیٹھا رہا۔
’’میں بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ ریحان اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’آپ کی شرمندگی سے کیا ہوگا اب… جب میں ایک سال کا تھا تو خالہ کے ہاں ماہم پیدا ہوئی۔ اس کی پیدائش پر خالہ شدید بیمار ہوگئیں تو امّی ماہم کو اپنے ساتھ گھر لے آئیں اور میرے ساتھ ساتھ اسے بھی اپنا دودھ پلایا۔ مجھ سے بڑے دو بھائی تھے‘ ہماری کوئی بہن نہیں تھی۔ ماہم کی صورت ان کے ہاتھ کھلونا آگیا وہ ننھی ماہم کو پرنسس کہنے لگے۔ بڑے ہوکر ان کی دیکھا دیکھی میں بھی اسے پرنسس ہی کہنے لگا۔ میری اور ماہم کی زیادہ دوستی اور انڈراسٹینڈنگ تھی۔ ماہم کافی عرصہ ہمارے گھر رہی۔ اس کے بعد ہم لوگ کراچی اور پھر کینڈا شفٹ ہوگئے اور ماہم اپنے گھر چلی گئی۔ لیکن ہم سب کی انسیت میں کوئی کمی نہ آئی۔ آپ نے ہمارے اس پاکیزہ رشتے پر شک کرکے بہت غلط کیا… ریحان… بہت غلط‘ انکل کو… باقی سب کو یہ پتہ تھا پھر آپ کیسے بے خبر رہ گئے؟‘‘ فرقان کی آواز رندھ گئی تھی۔
’’ریلیکس یار… میں تمہارا اور ماہم کا مجرم ہوں۔ تم جو سزا دینا چاہو مجھے قبول ہے مگر ایک دفعہ مجھے معاف کردو۔‘‘ ریحان نے پہلے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے پھر بات مکمل کرکے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔ اس کا لہجہ نم تھا۔ بابا جان کی وضاحت اور اس کی معذرت نے فرقان کا دل کافی حد تک صاف کردیا تھا۔ فرقان نے خود کو نارمل کیا۔
’’جو غلطیاں معاف کردی جائیں اُن کی سزا نہیں دی جاتی‘ بھائی صاحب… میں تو آپ کو معاف کر ہی دوں گا مگر اصل مسئلہ تو آپ کی زوجہ محترمہ کا ہے جو آج کل دنیا سے بالکل کٹ چکی ہے۔ اگر آپ اُن کے سامنے گئے تو آئی سوئیر‘ وہ زخمی شیرنی کی طرح آپ پر حملہ کردے گی۔‘‘ آخر میں فرقان نے شرارت آمیز سنجیدگی سے کہا۔ اس کے لہجے کو محسوس کرکے ریحان قدرے ریلیکس ہوا۔
’’یار… اب ڈرائو تو مت۔ پہلے ہی میں احساسِ شرمندگی سے ادھ موا ہورہا ہوں۔‘‘ ریحان نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
’’اور میں پریشانی سے ادھ موا ہوا جارہا ہوں کہ میری شادی کا مسئلہ جو بیچ میں لٹک گیا ہے۔ اس روز میں اس کی منت کررہا تھا کہ وہ میری پسند سے مل کر امّی کو کنونس کرے‘ بدلے میں وہ جو کہے گی میں اسے دلائوں گا… مگر آپ کی جلد بازی نے سارا کام خراب کردیا۔ اب پہلے میں آپ دونوں کی صلح کروائوں‘ پھر اپنے بارے میں سوچوں… توبہ کتنا ظلم ہے یہ مجھ غریب پر۔‘‘ فرقان مصنوعی حسرت سے بولا۔ اس کے مثبت انداز نے ریحان کے اندر اُمید کا دیا جلا دیا تھا کہ اب ماہم بھی مان جائے گی مگر یہ سب اتنا آسان تو نہ تھا۔
٭٭٭…٭٭٭
ماہم تو جیسے دنیا کی ہر چیز سے بے زار ہوگئی تھی۔ اجڑے بکھرے حلیے میں گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھی رہتی۔
’’ماہم… کیا بوریت ہے بھئی۔ اب بس بھی کرو۔ کیا ایک بات کو سر پر سوار کرلیا ہے تم نے۔ چلو اُٹھو کپڑے بدل کر آئو‘ آج کہیں باہر لنچ کرتے ہیں۔‘‘ فرقان نے ماہم کو ہاتھ پکڑ کر اُٹھایا۔
’’میرا دل نہیں چاہ رہا۔‘‘ ماہم نے منہ بنایا۔
’’تمہارے دل کی ایسی کی تیسی‘ تمہارے پاس دس منٹ ہیں۔ میں گاڑی میں تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ وہ وارننگ دے کر باہر نکل گیا تو ناچار اُسے اُٹھنا ہی پڑا۔
کھانے کا آڈر دے کر اب وہ دونوں ویٹ کررہے تھے۔ فرقان ماہم کو اِدھر اُدھر کی باتوں سے بہلا رہا تھا۔ وہ اس کی کسی بات پر مسکرائی تھی جب کسی نے ان کی ٹیبل ناک کی۔
’’کیا میں آپ کے ساتھ شامل ہو سکتا ہوں۔‘‘ نووارد نے اجازت چاہی۔
’’شیور پلیز…‘‘ فرقان نے آنے والے کا پُرجوش خیر مقدم کیا۔ آنے والے کو دیکھ کر ماہم کے مسکراتے لب یک لخت سکڑے اور ساری صورتِ حال سمجھ میں آتے ہی وہ ریحان کو نظر انداز کرکے فرقان سے مخاطب ہوئی۔
’’گاڑی کی چابی دو۔‘‘ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
’’لنچ تو کرلو۔‘‘ فرقان اس کے تاثرات سے خائف ہوا۔
’’میں نے کہا گاڑی کی چابی دو۔‘‘ وہ ہلکے سے غرائی۔ اسے خود پر ضبط کرنا مشکل ہورہا تھا۔ اس کا دِل چاہ رہا تھا ہر چیز کو تہس نہس کردے۔ فرقان نے اس کے ردِ عمل کی شدت سے گھبرا کر چابی اس کے حوالے کردی۔
’’اب اپنا کھانا انجوائے کرو۔‘‘ وہ ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اُچھال کر باہر نکل گئی۔ فرقان نے اپنی رُکی ہوئی سانس بحال کی۔
’’پبلک پلیس کی وجہ سے بچت ہوگئی۔‘‘ وہ ریحان کو دیکھ کر مسکرایا۔
’’تم نے اُسے بتایا نہیں تھا کہ میں بھی آرہا ہوں۔‘‘ ریحان کو ماہم ایسا کرنے میں حق بجانب نظر آئی تھی اس لیے کوئی شکایت نہ کی۔
’’بتا دیتا تو ضرور آتی‘ اب بھی دیکھ لیا ناں… اب کوئی اور حل ڈھونڈتا ہوں۔‘‘ ریحان نے سر ہلایا۔
’’یہ کیا حرکت تھی؟‘‘ وہ گھر واپس آیا تو ماہم بھری بیٹھی تھی۔
’’پلیز ماہم… جو بھی ہوا غلط فہمی کی بناء پر ہوا۔ تم اس بات کو بھولنے کی کوشش کرو اور ریحان سے صلح کرلو۔‘‘ فرقان نے اس کے پاس بیٹھ کر سمجھانا چاہا۔
’’یہ تم کہہ رہے ہو؟‘‘ وہ تلخ ہوئی۔
’’ہاں میں کہہ رہا ہوں‘ کیونکہ میں تمہاری طرح جذباتی نہیں ہوں۔ اس وقت میں بھی بہت ہرٹ ہوا تھا مگر جب ریحان نے معافی مانگ لی تو میں نے اپنا دِل صاف کرلیا۔ تمہاری طرح بات کو پکڑ کر نہیں بیٹھ گیا۔‘‘ وہ لاجواب ہوگئی تو اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
٭٭٭…٭٭٭
ٹھنڈی ہوا پانی سے بھرے بادلوں کو اپنے ساتھ اِدھر اُدھر اُڑائے لیے جارہی تھی۔ ایسا موسم ماہم کو بے حد پسند تھا۔ وہ باہر لان میں چلی آئی اور وہاں بیٹھ کر آسمان کو تکنے لگی۔ موسم کی خوب صورتی نے اس پر بہت اچھا اثر کیا تھا۔ وہ اُٹھ کر لان کے وسط میں جاکھڑی ہوئی۔ ہوا کا خوشگوار سا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا تو اس نے بے ساختہ آنکھیں موندلیں۔ اس کا آنچل ہوا کے سنگ لہرانے لگا کہ اچانک اسے اپنے ارد گرد مانوس سی خوشبو محسوس ہوئی تو اس نے یک دم آنکھیں کھول دیں۔ اس کے بالکل سامنے ریحان کھڑا تھا‘ اتنا قریب کے وہ ایک قدم اُٹھاتی تو اس کے سینے سے جالگتی۔ حقیقت کا ادراک ہوتے ہی وہ واپس مڑی مگر ریحان نے اس کے دونوں بازو اپنی گرفت میں لے لیے۔ پھر اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لاکر بولا۔
سنو جاناں!!
اگر میں یہ کہوں تم سے
کہ تم بِن نامکمل ہوں
تو کیا تکمیل ممکن ہے؟
وہ دھیمے سے لہجے میں اپنی بات بیان کر گیا اور وہ گم صم سی اسے دیکھتی رہ گئی۔ آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں اور ریحان کی صورت دھندلا گئی۔ وہ اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔ ایک دم اس کے بازو ہٹا کر پلٹی اور بھاگ کر کمرے میں چلی گئی۔
٭٭٭…٭٭٭
ریحان گھر پہنچا تو بابا جان اپنے پھول پودوں کے ساتھ مصروف تھے۔ ریحان نے لان چئیر پر بیٹھ کر ٹیک لگائی اور ٹانگیں آرام دہ حالت میں پھیلا لیں۔
’’ہاں برخوردار… تم نے تو آج ماہم کو لینے جانا تھا۔‘‘ تھوڑی دیر بعد بابا جان اپنے کام سے فارغ ہوکر اس کے سامنے آبیٹھے۔
’’میں گیا تھا مگر مجھے لگتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔‘‘ ریحان کے لہجے میں بے چارگی تھی۔ اس نے انھیں ساری بات بتائی تو وہ مسکرا دیے۔
’’صاحب زادے… آ پ تو بہت ہی نالائق ہیں‘ اپنی بیوی کو منانے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔‘‘ ان کا لہجہ مسکراتا ہوا تھا مگر انداز سنجیدگی لیے ہوئے تھا۔
’’ایک ہم تھے بیوی کتنی ہی ناراض ہوتی پانچ منٹ میں منالیا کرتے تھے۔‘‘ بابا جان نے اسے شرم دلائی۔
’’تو پھر میں کیا کروں؟ اتنے ہی ماہر ہیں تو پھر مجھے بتائیں کہ میں اپنی بیوی کو کیسے منائوں؟‘‘ وہ ان کی شرارت سمجھ کر خود بھی موڈ میں آگیا۔
’’تمہیں تو نہیں بتائوں گا۔ مگر تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہاری بیوی دو دن میں گھر آجائے گی۔ تم بھی کیا یاد کرو گے کیسے سمجھ دار باپ سے پالا پڑا ہے۔‘‘ وہ مڑ کر مسکرائے اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔
٭٭٭…٭٭٭
ماریہ ماہم کی طرف آئی ہوئی تھی۔ دونوں فرصت سے باتوں میں مشغول تھیں۔ ساتھ ساتھ سامنے رکھی چپس بھی کھا رہی تھیں۔ معاً ماریہ کا سیل گنگنانے لگا۔ اس نے انگلیوں میں دبے چپس منہ میں منتقل کیے اور ہاتھ صاف کرکے موبائل اُٹھایا۔
’’جی بابا‘ میں ماہم کی طرف ہی ہوں۔‘‘ ماریہ نے چند لمحے دوسری طرف کی بات سنی اور پھر ماہم کی طرف مڑی۔
’’بابا جان کی کال ہے۔‘‘ ماریہ نے اپنا موبائل ماہم کی طرف بڑھایا۔ اتنے دنوں میں انہوں نے آج پہلی بار کال کی تھی۔ ماہم نے موبائل پکڑ کر کان سے لگایا۔
’’السلام علیکم! بابا جان۔‘‘
’’وعلیکم السلام بیٹا۔‘‘
’’باباجان آپ تو مجھے بالکل ہی بھول گئے اتنے دنوں میں ایک بار بھی کال نہیں کی۔‘‘ ماہم نے شکوہ کیا۔
’’تم میری بیٹی ہو اور بیٹیاں بھی کبھی بھلائی جاتی ہیں۔ میں تمہیں سنبھلنے کا وقت دے رہا تھا۔ آج اس لیے فون کیا ہے کہ اپنی بیٹی سے کہوں کہ وہ گھر واپس آجائے اس کے بغیر اس کا باپ اُداس ہوگیا ہے اور گھر سونا۔‘‘ وہ اصل موضوع کی طرف آگئے۔ جواب میں خاموشی تھی۔
’’بیٹا… تم سن رہی ہو ناں؟‘‘ انہوں نے تصدیق چاہی۔
’’جی…‘‘
’’ماہم… اُس روز جو کچھ بھی ہوا‘ اس میں قصور کس کا تھا‘ اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ریحان بہت شرمندہ ہے وہ تم سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔ ریحان کو میں نے بڑے عرصے بعد خوش دیکھا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے مگر اس واقعے سے سب کچھ بکھر گیا۔ حقیقت معلوم ہوتے ہی ریحان نے اپنی غلطی کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ وہ اپنی غلطی کو سدھارنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی اپنی غلطی مان کر پلٹنا چاہے تو ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘ وہ خاموش ہوئے۔ ’’میری تم سے درخواست ہے مانو گی؟‘‘ ان کا لہجہ التجائیہ ہوا۔
’’بابا جان مجھے شرمندہ مت کریں۔ آپ حکم کریں۔‘‘ وہ ان کے انداز پر شرمندہ ہوئی۔
’’بیٹیوں کو حکم نہیں دیا جاتا ماہم‘ انھیں مان سے کہا جاتا ہے اور بیٹیاں اپنے ماں باپ کا مان کبھی نہیں توڑتیں۔ مجھے یقین ہے کہ میری بیٹی بھی میرا مان نہیں ٹوٹنے دے گی۔ تم گھر واپس آجائو اور میرے ریحان کا ہاتھ تھام کر اسے خوشیوں کی طرف لے آئو۔‘‘ وہ بات مکمل کرتے اس کے جواب کے منتظر تھے۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ ہولے سے بولی۔
’’چلو تم تیاری کرو میں اپنے بچے کو خود لینے آئوں گا۔ اللہ حافظ۔‘‘
’’اللہ حافظ۔‘‘ ماہم نے فون بند کرکے ماریہ کی طرف بڑھایا جو غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’بابا جان مجھے لینے آرہے ہیں۔‘‘ اس نے مختصراً بتایا۔ ماریہ نے اسے گلے سے لگایا اور فرقان کو یہ خوش خبری سنانے چل دی۔
٭٭٭…٭٭٭
چھ بجے کے قریب ریحان کی گاڑی گھر میں داخل ہوئی۔ وہ تھکا تھکا سا اندر کی جانب بڑھا۔ لائونج میں بابا جان‘ ماریہ‘ شعیب اور فرقان کی محفل جمی ہوئی تھی۔ وہ سب کو مشترکہ سلام کرکے وہیں بیٹھ گیا۔ اس کا دل بہت اُداس تھا۔ آج ماہم کی یاد اس پر شدت سے حملہ آور ہوئی تھی۔ صبح سے کتنی ہی بار اس کی یہ کیفیت ہوچکی تھی کہ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ دور کہیں کسی ویرانے میں نکل جائے۔ جہاں وہ تنہا ہو اور اس کے ساتھ صرف اور صرف ماہم کی یادیں ہوں۔ سارا دن وہ اِدھر اُدھر کی مصروفیت میں گم ہوکر اس کی یاد سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کررہا تھا مگر سب بے سود ثابت ہورہا تھا۔
’’اگر تم چائے پینا چاہتے ہو تو کچن میں فریدہ خالہ سے کہہ آئو‘ وہ ہم سب کے لیے لارہی ہیں اور ہم میں سے کوئی تمہیں اپنی چائے نہیں دے گا۔‘‘ فرقان نے کہا تو وہ کسلمندی سے بیٹھا رہا۔
’’تم نے چائے نہیں پینی تو کوئی بات نہیں‘ جائو اپنے کمرے میں آرام کرو مگر جاتے جاتے فریدہ کو چائے جلدی لانے کا کہہ دو۔‘‘ بابا جان نے کہا تو وہ اپنا بیگ سنبھالے اُٹھ گیا۔ اس وقت وہ واقعی آرام کرنا چاہ رہا تھا۔ وہ کچن کی طرف بڑھا تاکہ فریدہ خالہ کو پیغام دے کر اپنے کمرے میں چلا جائے۔
’’فریدہ خالہ بابا جان…‘‘ ریحان کا باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ ماہم بڑے اطمینان سے ٹرے میں چائے کے کپ رکھ رہی تھی۔
’’تم…!‘‘ وہ بیگ کرسی پر رکھ کر اس کے قریب آیا۔ ماہم کا چہرہ بالکل سنجیدہ تھا۔
’’تم کس کے ساتھ آئیں؟‘‘
’’بابا جان کے ساتھ۔‘‘ وہ مختصر جواب دے کر پھر سے اپنا کام کرنے لگی۔ اس کا مصروف سا انداز ریحان کو سلگا گیا۔
’’اور میں جو تمہیں لینے گیا تھا تب تو تم نے خود کو کمرے میں بند کرلیا تھا۔ اب کیوں آئی ہو؟‘‘ ریحان نے ماہم کو کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔
’’آپ نے کب کہا تھا کہ آپ مجھے لینے آئے ہیں۔ کہا ہوتا تو آپ کے ساتھ بھی آجاتی۔‘‘ اس نے نظریں اُٹھا کر سنجیدگی سے کہا۔
’’آپ کے ساتھ بھی آجاتی‘ مطلب ناراضگی ختم۔‘‘ وہ زیرلب بڑبڑایا۔
’’تو وہ نظم سنا کر میں نے کیا جھک ماری تھی۔ اس کا یہی مطلب تھا۔‘‘ اب کے وہ ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا۔ اس کے ہاتھ ابھی تک اس کے کندھوں پر تھے۔
’’نہیں‘ آپ کو سیدھے سیدھے کہنا چاہیے تھا۔‘‘ وہ اپنی بات پر قائم تھی۔ ریحان نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھا تو اس کے چہرے پر رنگ سے بکھر گئے۔
’’اچھا تو پھر صاف صاف سنو کہ مجھے تم سے محبت ہے اور…‘‘
’’بھئی چائے بن رہی ہے یا پائے؟ کب سے انتظار کررہے ہیں۔‘‘ ابھی ریحان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ فرقان اُونچی آواز میں بولتا کچن میں داخل ہوا۔ ماہم نے ریحان کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹائے اور چائے کپوں میں اُنڈیلنے لگی۔ فرقان ان دونوں کو قریب کھڑے دیکھ چکا تھا۔
’’ریحان… تم ابھی تک یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘ فرقان نے تجاہل عارفانہ سے پوچھا۔
’’تمہارا سر…‘‘ ریحان اس کی بے وقت دخل اندازی پر جی بھر کر بدمزا ہوا۔
’’حدِ ادب ریحان‘ ورنہ میں اپنی بہن کو واپس لے جائوں گا‘ پھر میرے پیچھے پیچھے پھرتے رہنا۔‘‘ فرقان نے صاف الفاظ میں دھمکی دی۔
’’تمہاری بہن کو اب میں کہیں نہیں جانے دوں گا اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔‘‘ ریحان نے دھمکی کا جواب دھمکی سے دیا۔
’’پرنسس… سن رہی ہو یہ تمہارے بھائی کو کیسے دھمکا رہا ہے؟‘‘ فرقان نے دہائی دی اور پھر ماہم کا بازو تھام لیا۔
’’چلو میری بہن اب میں تمہیں اس جن کے ساتھ نہیں رہنے دوں گا۔‘‘ فرقان ماہم کی طرف بڑھا۔
’’مگر مجھے اب اس جن کے ساتھ ہی رہنا ہے۔‘‘ ماہم اپنا بازو چھڑا کر ریحان کے دائیں طرف جاکھڑی ہوئی۔ ریحان نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر فرقان کو دیکھ کر وکٹری کا نشان بنایا۔
’’ماہم تم… غدار میں تم دونوں کو دیکھ لوں گا۔‘‘ فرقان نے دھمکی دے کر چائے کی ٹرے اُٹھائی اور ان کو گھور کر چلا گیا۔
’’یعنی تمہیں بھی مجھ سے محبت ہوگئی ہے؟‘‘ ریحان نے اسے بازو کے حلقے میں لے لیا۔
’’تو کیا نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ اس نے سر اس کے کندھے پر ٹکا دیا تو وہ اس کے کان میں دھیرے سے گنگنایا۔
تمہیں معلوم ہے جاناں!
میری تکمیل تم سے ہے
میری جاناں!
مجھے تکمیل بخشنے دو
مجھے اپنا بنانے دو
دوریاں مٹ چکی ہیں اب
مجھے احساس کرنے دو
کبھی واپس نہیں جانا
وصال کی راتیں سونپ کر
تمہیں معلوم ہے جاناں!
میری تکمیل تم سے ہے!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close