Hijaab Mar-18

ملاقات انٹرویو

ایڈمن پینل

قرۃ العین سکندر

السلام علیکم! اس بار انٹرویو کے لیے جو مصنفہ آپ کے سامنے ہیں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر پھر بھی ہم آپ کو ان کے بارے میں بتاتے چلیں قرۃ العین سکندر نے اسلامیات میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ہے ساتھ ہی فہم قرآن کے کورسز بھی کیے ہیں انہوں نے باقاعدہ طور پر لکھنے کا آغاز تین سال قبل کیا اور ان کی پہلی تحریر آنچل ڈائجسٹ میں ہی شائع ہوئی تھی ساتھ ہی ایک دوسرے ادارے میں بھی، اس حوالے سے آنچل ڈائجسٹ سے ان کی خصوصی انسیت ہے یہ اب تک ‘چالیس سے زائد افسانے لکھ چکی ہیں اور آٹھ ناول جو مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں خواتین، شعاع، کرن، آنچل، حجاب، پاکیزہ، دوشیزہ، ردا اور ریشم سب ڈائجسٹوں میں لکھا سب اداروں سے محبت ملی اسی سال خواتین ڈائجسٹ میں ان کے افسانہ ’’قسمت‘‘ کو بہترین افسانہ قرار دیا گیا ہے انہوں نے بہت عرصہ کالم نگاری بھی کی ہے بعد ازاں بطور افسانہ نگار ناول نگار کے طور پر زیادہ توجہ دی ان کی شاعری کو پسندیدگی حاصل ہے جو مختلف جرائد میں شامل اشاعت ہوتی رہی ہے ان کے ایک سلسلہ وار ناول کا آغاز بھی حجاب میں ہوگیا ہے امید ہے قارئین کے ذوق اور معیار کے عین مطابق ہوگا اور انہیں شہرت و بلندی عطا کرے گا۔ ان شاء اللہ۔
ثنا ارشد
٭ آپ کا پسندیدہ ناول ہے کون سا ہے ؟
جواب: میرا پسندیدہ ترین ناول ایم اے راحت کا کالا جادو ہے جو ایمان کو تازہ کرتا ہے۔
٭ آپ کو لکھنے کا خیال کہاں سے آیا مطلب یہ کہ آپ کو لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟
جواب: مجھے بچپن سے ہی لکھنے کا شوق تھا میرے پاس اب بھی بچپن میں لکھی کہانیاں موجود ہیں جو میں ڈائری میں لکھا کرتی تھی کبھی کبھار امی کو بھی پڑھ کر سنایا کرتی تھی۔
فرح بھٹو
٭ لکھنا ایک دقت طلب کام ہے اور بھرپور ذہنی یکسوئی کا طالب ہے۔ آپ کو گھر بار اور چھوٹے بچوں کے ساتھ وقت اور یکسوئی کیسے حاصل ہوتی ہے؟
جواب: بہت شکریہ پیاری فرح سلامت رہیں آمین۔
لکھنا میرے لیے کوئی کام نہیں بلکہ یوں سمجھ لیں میری زندگی ہے جینے کا مقصد ہے میری اولین ترجیح ہے میں نے زیادہ تر رات کی خلوت میں لکھا ہے جب سارا عالم مزے کی نیند سوتا ہے تب بہت سے کردار میرے ذہن پر دستک دینے لگتے ہیں۔
٭ ایک انسان روز مختلف کیفیات سے گزرتا ہے کبھی غصہ کبھی صبر کبھی مسرت کبھی غم۔ آپ کی تحریر میں آپ کا موڈ کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے؟
جواب: بالکل انسان کی اندرونی کیفیت اس کی تحریر پر اثر انداز ہوتی ہے انسان کی تحریر عموماً اس کے اندرونی خلفشار کا مخرج ہوا کرتی ہے مگر اس غصہ کو ہی ایک لکھاری اپنا ہتھیار بنا لیتا ہے اور ایک عمدہ تحریر نکلتی ہے
٭ عموماً لکھاری کسی ایک ڈائجسٹ کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں آپ کئی ڈائجسٹوں میں لکھتی ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب: میں نے سب ہی ڈائجسٹ میں یکساں لکھا ہے اس کی وجہ شاید سب اداروں کی محبت ہے اور قارئین پڑھنے کے خواہشمند ہیں تو یہ ہر ادارے کی محبت ہے
شہباز اکبر الفت
٭اپنی لکھی ہوئی کوئی ایسی کہانی یا افسانہ جس میں لاشعوری طور پر آپ کا اپنا عکس بن گیا ہو‘ آپ کو اپنی جھلک نظر آتی ہو؟
جواب: جی یہ ایک فطری عمل ہے اس طرح ہو جاتا ہے کسی نہ کسی تحریر میں آپ کے غم رو پڑتے ہیں کسی تحریر میں خوشی مسکرانے لگتی ہے مگر ایک لکھاری کو اپنی ذات سے مبرا ہو کر اس کردار کا حق ادا کرنا ہوتا ہے جو اس کہانی میں سانس لے رہا ہوتا ہے۔
٭اپنی ہی لکھی ہوئی کوئی کہانی‘ افسانہ یا ناول جسے چھپنے کے بعد پڑھ کر منہ سے بے اختیار نکلا ہو کہواہ! کیا یہ واقعی میں نے لکھا ہے۔
جواب: میری ایک خامی سمجھ لیں لکھنے کے بعد دوسری مصنفات کی طرح اس کے انتظار میں نہیں رہتی دوسرا کچھ لکھنے لگتی ہوں اسی طرح میں اپنی ایک تحریر سود و زیاں کا حساب لکھ کر بھول چکی تھی جب امتل آپی کا خواتین سے فون آیا قرۃالعین دیکھو یہ ہم نے لگانا ہے تم کسی اور ادارے میں مت بھیجنا اور بہت حوصلہ افزائی بھی کی اس لیے مجھے بہت بے چینی تھی ڈائجسٹ آئے تو دیکھوں آپی کو کس تحریر نے اتنا متاثر کیا ہے پھر جب ڈائجسٹ مارکیٹ میں آیا تو میں نے پہلی فرصت میں اپنی تحریر پڑھی آپ یقین کریں میں اس تحریر میں اس قدر محو ہو چکی تھی اور دعا کر رہی تھی کہ اختتام برا نہ ہو اور اختتام حسب معمول بہت برا تھا تو وہ تحریر پڑھ کر واقعی میں کافی دیر سوچتی رہی کیا یہ میں نے لکھا تھا درحقیقت میں نے بہت کم کاغذ قلم تھام کر مکمل منصوبہ بندی سے کچھ لکھا ہے مجھے تحریر جس طرف لے جاتی ہے میں چل پڑتی ہوں یوں سمجھ لیں وہ ایک مخصوص کیفیت ہوتی ہے یہاں میں ایک بات اور بھی کرنا چاہوں گی جو بعض رائٹر کہتی ہیں کہ ہمیں کہا جاتا ہے تلخ نہ لکھو لو‘ اسٹوری لکھو ایسا نہیں ہوتا اگر آپ کی تحریر میں روانی برجستگی ہے تو وہ اپنی جگہ بنا لیتی ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ بہت مایوس کن تحریر بھی معاشرے کے لیے مناسب نہیں مگر انسان کو سچ ہی لکھنا چاہیے۔
٭ آپ کی نظر میں آپ کی بور ترین تحریر؟
جواب: اللہ پاک کا احسان ہے ابھی تک مجھے کبھی قارئین کی جانب سے اگلے ماہ ملنے والے خطوط سے ایسا کوئی تبصرہ نہیں ملا ہے
٭معاصرین میں سے پسندیدہ رائٹر
جواب: سب ہی اپنی اپنی جگہ پر اچھا کام کر رہی ہیں سب کے لیے نیک خواہشات۔
٭پزیرائی کا سب سے خوب صورت لمحہ؟
جواب: جب مجھے ایوارڈ سے نوازا گیا سب لڑکیاں ایک دوسرے سے یہی کہہ رہی تھیں قرۃالعین سکندر واقعی حق دار ہیں
٭ کوئی ایسی تحریر جس پر سکندر بھائی سے بہت داد ملی ہو ( جواب مجھے بھی پتہ ہے ہی ہی ہی)
جواب: جی سکندر کو میرا لکھنا پسند ہے اور نہ ہی نا پسند انہوں نے اگر میری حوصلہ افزائی نہیں کی تو کبھی دل شکنی بھی نہیں کی مجھے پتہ نہیں کیوں یقین ہے کہ میرے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد سکندر ضرور میری ہر تحریر کو نہ صرف پڑھیں گے بلکہ سراہیں گے بھی ان شاء اللہ۔جی ہاں وہ نعت تھی مگر افسانہ ناول وغیرہ انہوں نے کبھی نہیں پڑھے۔
٭اپنے کس ناول کو کتابی صورت یا ڈرامائی تشکیل میں دیکھنا چاہیں گی؟
جواب: میں نے حال ہی میں چند اقساط پر مبنی ایک ناول ایک ادارے میں بھیجا ہے وہ تحریر منتخب ہو چکی ہے منظر عام پر نہیں آئی ہے اسے میں ضرور ڈرامائی شکل میں دیکھنے کی خواہش مند ہوں ساتھ ہی ساتھ کتاب بھی ان شاء اللہ ضرور شائع ہو گی۔
٭ ایک تلخ سوال اتنے کم عرصے میں بہت سارا لکھ لینے‘ نام و شہرت کمانے کے باوجود ابھی تک کوئی کتاب منظر عام پر نہ آنے پر کیا احساسات ہیں؟ خاص طور پر جب بہت سے لوگ پیسے دے کر دھڑا دھڑ صاحب کتاب ہوتے جا رہے ہیں؟
جواب: آپ یقین کریں کہ وہ سئینرز رائٹر جن کو بچپن سے پڑھتی چلی آئی ہوں جن کو ادارے آج منت سماجت کرکے سلسلہ وار لکھواتے ہیں ان سب نے مجھے کہا ہے کہ تم صبر اور حوصلے سے انتظار کرو وہ وقت دور نہیں جب تمہاری بے شمار کتب ہوں گی مگر اس کے لیے جلدی نہ کرو نہ ہی پیسے دو کیونکہ تمہارا مستقبل بہت درخشندہ ہے باقی جو پیسے دے کر کتاب شائع کروا رہا ہے یہ اس کی اپنی صوابدید پر ہے مجھے یقین ہے کہ ان سب نے جو کہا ہے یقیناً تجربہ سے کہا ہے
زینب ملک ندیم
٭ماشاء اللہ سے آپ نے جتنا بھی لکھا بہت کمال لکھا
تو آپ اتنے زیادہ موضوعات پر کیسے سوچ لیتی ہیں؟
جواب: جیتی رہو پیاری زینب جزاک اللہ۔
میں نے جب بھی قلم تھاما کوشش کی ہے بامقصد تحریر ہو جب قارئین پڑھیں تو ان کو اس تحریر سے بہت کچھ حاصل ہو موضوعات کے لیے دور کہیں جانا نہیں پڑتا ہمارے ارد گرد بہت سارے لوگ مختلف مسائل کا شکار ہیں ان سب کے دکھوں کو محسوس کرتی ہوں اور پھر اسی پر لکھتی ہوں۔
٭لکھنے کی انسپائریشن کس سے ملی؟یعنی کسی سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا یا آپ کا خواب تھا لکھنا؟
جواب: لکھنے کی انسپائریشن کی وجہ میری حساسیست ہے میں بہت زیادہ سوچتی ہوں اور بعض اوقات کچھ باتیں دل میں تشنہ رہ جاتی ہیں اور وہی قلم تھامنے کا سبب بن جاتی ہیں لکھنا میرا دیرینہ خواب بھی تھا مجھے یاد ہے میں عموماً بچپن میں شاعری کیا کرتی تھی ایک مرتبہ کسی شادی کے موقع پر ایک غزل نے در دل پر دستک دی امی کو بتایا اتنی پریشان ہوئیں یہاں کہاں سے قلم یا صفحہ ملے گا جبکہ تب میں ایک چھوٹی سی لڑکی تھی یہ میری امی کی بھرپور حمایت سے بھی ممکن ہوا۔
٭ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟
جواب: میری خواہش ہے کہ میں اتنا لکھ سکوں جتنا میرا بڑا خواب ہے اور اگر ہم خواب نہ دیکھیں تو ان کی تعبیر بھی نہیںملتی ہے ایم اے راحت میرے پسندیدہ مصنف ہیں انہوں نے جتنا لکھا اتنا تو لکھنا ممکن نہیں لیکن اتنی کتب ضرور منظر عام پر آئیں کہ میں بھی سر اٹھا کر کہہ سکوں کہ ایم اے راحت کی پرستار ہوں۔
عنایہ گل
٭میں نے آپ کو بہت نرم اور متحمل مزاج پایا فیس بک پر
لیکن شدید غصے میں آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے ؟
جواب: جی بہت شکریہ میری کوشش ہوتی ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اگر غصہ آئے تو میں خاموشی اختیار کر لیتی ہوں اور اکثر اوقات راہ بدل لیتی ہوں تاکہ بات نہ بڑھے۔
٭ کوئی ایسی شخصیت جس سے ملنے کی شدید خواہش ہو؟
جواب: جی میری نگہت عبداللہ آپی سے ملنے کی شدید خواہش ہے۔
٭ بچپن میں کیسی تھیں ‘ شرارتی یا معصوم؟
جواب: میں بچپن میں ایک معصوم بچی تھی شرارتی نہیں تھی بچپن سے ہی مجھے صفحات اور قلم اچھے لگتے تھے میں ان کی طرف متوجہ رہتی تھی۔
شبینہ گل
٭ کیا کبھی ایسا ہوا کہ قنوطیت یا کام کاج کے بوجھ کا شکار ہو کر لکھنا ترک کردینے کا دل چاہا ہو؟
جواب: نہیں قنوطیت میرے لیے بہترین وقت ہوتا ہے لکھنے کے لیے وہ قنوطیت مجھے لکھنے پر اکساتی ہے ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ میں نے لکھنے کا ارادہ ایک لمحہ کے لیے بھی ترک کیا ہو بلکہ میں تو اتنی چابکدستی سے گھر کے کام سمیٹنے کی کوشش کرتی ہوں کہ کب میں ہوں گی اور میری تنہائی۔
٭ اس فیلڈ میں کون سے لوگ آپ کاہر طرح کے نامساعد حالات میں حوصلہ بنے؟
جواب: اس فیلڈ میں میری ایک دوست فاطمہ خان ہے جس نے ہر مرتبہ میری حوصلہ افزائی کی ہے میری پہلی تحریر پڑھ کر اس نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ تمہاری پہلی تحریر ہے اور اسے پڑھ کر لگتا ہے کہ تم بہت آگے جاؤ گی تب میں ہنس دی تھی مگر اب جب بہت سئینرز رائٹر ایسا کہتی ہیں کہ تمہارا مستقبل درخشندہ ہے تو میں بالکل چپ ہو جاتی ہوں دراصل ہمارے خوابوں کی تعبیر ہماری روزانہ کی کاوش سے تعبیر ہوتی ہے جس دن لکھنا چھوڑ دیا وہیں سے پہلے قدم سے چلنا پڑتا ہے
٭ گھریلو کام کاج اور لکھنے کے اوقات کار کیسے ترتیب دیتی ہیں؟
جواب: گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد جو وقت بچتا ہے وہ لکھنے کے لیے وقف ہے۔
صائقہ حسن
سول آپی سے میرا پہلا سوال یہ ہے کہ جیسا کہ وہ خود رائٹر ہیں تو وہ کون سی رائٹر سے متاثر ہیں ؟
خواب: مجھے ایم اے راحت بہت پسند ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے نگہت عبداللہ کا سادہ سا انداز تحریر ہمیشہ سے پسند رہا ہے۔
٭ کہانی لکھتے وقت کوئی ایسا مقصد جو زہن میں آتا ہے؟
جواب: جی لکھنے کا محرک کوئی سوچ ہوا کرتی ہے اور بغیر مقصد کے میں نہیں لکھتی کوئی سبق اکثر میری تحریر میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
٭اب تک کا اپنا فیورٹ ناول بتائیں ؟شکریہ
جواب: میں نے بے شمار کتب کا مطالعہ کیا ہے مگر مجھے ایم اے راحت کا کالا جادو بہت پسند ہے جو بار بار پڑھنے پر بھی ویسی ہی قوت ایمانی کا سبب بنتا ہے زندگی تجھ کو جیا افسوس نہیں میرا ایسا ناول ہے جو میں نے لکھنا شروع کیا تو رات بھر لکھتی چلی گئی حتی کہ صبح ہو گئی تھی اس میں تسلسل ہے اور روانی ہے سب پڑھنے والوں نے اسے سراہا۔
ادیبہ آبرو
٭ہر انسان کسی نہ کسی سے متاثر ہوتا ہے ذہانت عقل مندی اور شعور کے حوالے سے تو وہ کو ن سی ایسی شخصیت ہے جس نے آپ کو متاثر کیا ؟
جواب: مجھے مثبت سوچ رکھنے والے افراد متاثر کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں ذہانت اگر منفی کاموں میں استعمال کی جاتی ہے تو یہ معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے مجھے فیس بک پر فاخرہ گل کی حاضر جوابی نے بہت متاثر کیا ہے۔
٭اگر آپ کو کسی رائیڑر سے ملنا ہو تو کس سے ملاقات کریں گی ؟شرط یہ ہوگی مجھے بھی ساتھ لے کر جانا پڑے گا ملاقات پر؟
جواب: میں جن سے ملنا چاہتی تھی وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے ایم اے راحت اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
مجھے نگہت عبداللہ آپی سے ملاقات کی شدید خواہش ہے وہ بہت ملنسار طبیعت کی مالک ہیں۔
٭ وہ ایسا کون سا لمحہ تھا جب آپ کے لیے جینا مشکل ہوا کیونکہ دکھ سکھ تو سب کے ساتھ ہوتے ہیں ؟
جواب: زندگی میں بعض مقامات ایسے ضرور آتے ہیں جب زندگی رک سی جاتی ہے دکھوں کا بوجھ ڈھوتے انسان رنجور ہو جاتا ہے میں نے ایسے ہی کسی نازک لمحہ میں قلم سے گہری دوستی کی تھی۔
حرا قریشی
٭ اکثر لکھاری لوگ نیند اور حالت بیداری میں بھی اپنے کرداروں کے درمیان رہا کرتے ہیں۔ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے ؟
جواب: بالکل میں اس بات سے متفق ہوں کہ ایک تحریر نوک قلم ہو تو اس کے کردار مسلسل ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں بہرحال نیند میں ایسا کبھی نہیں ہوا مگر چلتے پھرتے گھر کے کام نبٹاتے ذہن اسی طرف مائل ہو جاتا ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے۔
٭ بہت سی چیزوں میں تغیر ضروری ہے کہ یہ زندگی کا حصہ ہے مگر کیا آپ کے خیال میں محبت میں بھی تغیر کی گنجائش ہے۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو کتنی اور کس حد تک؟
جواب: محبت پر بہت سے جملہ حقائق اثر انداز ہوتے ہیں اس سے انحراف ممکن نہیں ہے مگر محبت میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے بسا اوقات اس کی شدت میں کمی بیشی محسوس ضرور ہوتی ہے مگر پھر ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب محسوس ہوتا ہے ہم تو اب بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے
٭ اپنی زیست کا ایک نشاط انگیز اور شدید رنج و غم کا لمحہ بتائیے جسے آپ چاہ کر بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی ؟
جواب: میری زیست کا سب سے نشاط انگیز لمحہ وہ تھا جب میں نے اپنے بیٹے کو گود میں لیا تھا ایک ماں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی شے بیش قیمت نہیں ہو سکتی ہے۔
جب میرا بیٹا محمد قاسم شدید علیل تھا تب میں بے بسی کی انتہاؤں پر تھی تب معلوم ہوتا ہے کہ صرف رب العزت ہی بہترین مددگار ہے زندگی و موت کا مالک ہے۔
حمیرا تبسم
٭زندگی میں کبھی ایسا موڑ آیا جب لکھنے سے دل اکتانے لگا۔ قلم اٹھایا تو الفاظ ساتھ چھوڑ گئے اور تحریر ادھوری چھوڑ دی ؟
جواب: نہیں الحمدللہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا ہے ‘ قلم سے اکتاہٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ تو میری اولین ترجیح ہے۔
٭ آپ کے خیال میں بہترین ادب کون سا ہے ؟
جواب: میرے نزدیک بہترین ادب وہ ہے جو ہماری معاشرتی اقدار و روایات ثقافت اور زبان کی ترویج کا باعث بنے معاشرے میں پنپتے مسائل کے حل کے لیے قلم کو طاقت بنایا جائے۔
٭ آپ تنہائی میں بیٹھ کے لکھتی ہیں یا سب کے درمیان بیٹھ کے بھی تحریر لکھ لیتی ہیں؟
جواب: جب ایک تحریر کا خاکہ بن جاتا ہے اور پس منظر واضح ہو جاتا ہے تو میں سب کے درمیان بھی لکھ لیتی ہوں مگر بہترین ماحول تنہائی میں ہوتا ہے جب یکسوئی ملتی ہے۔
ریا ایمان
٭ آپ نے لکھنا کب شروع کیا اور پہلی تحریر کے شائع ہونے پر آپ کے احساسات کیسے تھے؟
جواب: میں بچپن سے ہی لکھ رہی ہوں مگر لکھ کر اپنے پاس ہی رکھ لیتی تھی پہلی مرتبہ تین سال پہلے بھیجا اور اس کے بعد سے لکھنے میں بالکل وقفہ نہیں آیا پہلی تحریر پر بے انتہا خوشی محسوس ہوئی تھی۔
٭کسی بھی لکھاری کے اندر آپ کے نزدیک ایسی کون سی خوبی ہونی چاہئے کہ وہ ایک کامیاب لکھاری بن سکے؟
جواب: پوری ذمہ داری سے معاشرے کی اصلاح کی طرف توجہ دے بامقصد تحریر ہو مطالعہ وسیع تر ہو انکساری رہے ہمیشہ۔
سمیہ عثمان
٭اپنی شاعری میں سے کچھ شیئر کریں
جواب:
صدیوں کے فاصلے پل میں سمٹ جائیں
شرط لازم وہ دے مجھے صدا تو سہی
خون جگر‘ سوز نہاں‘ تحفے ہزار
تو اپنی کوئی انجمن کبھی سجا تو سہی
آنکھیں ہیں منجمند ٹھٹھرتی رات کی مانند
اے گردش دوراں اب مجھے رلا تو سہی
میرا دعویٰ خدا خالی ہاتھ لوٹاتا نہیں
تو دعاؤں میں اپنی گریہ و زاری لا تو سہی
وہ وضع داری تھی یا پاس وفا تھی
یہی بہت وہ میری قبر پر رکا تو سہی
پلوشہ خان
٭جب آپ کی پہلی تحریر پبلش ہوئی تو آپ کے دوستوں کا کیا رد عمل تھا؟ اور آپ کے دوست آپ کو کتنا سپورٹ کرتے ہیں ؟
جواب: میری پہلی تحریر کی اشاعت کے بعد سب دوستوں نے خوشی کا بھرپور اظہار کیا میری سب دوستیں میری اس معاملے میں بہت حوصلہ افزائی کرتی ہیں میری ہر تحریر پڑھ کر راے دیتی ہیں بہت سارے پیارے پیارے نام ہیں فاطمہ خان شیروانی ‘سحرش فاطمہ‘ مسز عبدالعزیز ‘وریشہ ‘فرح بھٹو ‘جویریہ ‘لبنی غزل ‘ بشریٰ ماہا ‘سدرہ آفاق ندا ‘فوزیہ احسان رانا ‘شہر بانو‘ سمیرا چوٹھانی حنا ‘شازیہ نوید‘ ریحانہ اعجاز فائزہ ‘حورعین‘ گل ارباب‘ ریما آمنہ ‘نزہت جبین ضیا‘ نادیہ زینب‘ ملک ندیم‘ شبینہ گل‘ قندیل قمر‘ ڈاکٹر صبا آیت‘ عرشومہ‘ آمنہ‘ خدیجہ عطا ‘کنول خان جگنو ‘نائلہ عثمان‘ سعدیہ اور پلوشہ خان اور بھی بہت لمبی تعداد ہے الحمدللہ میرا حلقہ احباب خاصا وسیع ہے۔
٭ تعریف تو سب کو اچھی لگتی ہے۔ لیکن جب کو ئی تنقید کرتا ہے تو آپ کا کیا ریکشن ہوتا ہے؟ جب کہ تنقید بھی بلاوجہ ہو۔
جواب: مجھ پر ابھی تک ایسی تنقید نہیں ہوئی الحمدللہ سب نے ہمیشہ سراہا ہے اور یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے الحمدللہ سب اداروں کی مدیران بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں پھر بھی اگر کبھی تنقید برائے اصلاح ہوئی کبھی تو وہ سر آنکھوں پر۔
٭ جب آپ اداس ہوتی ہے یا پریشان تو کس کا خیال پہلے ذہن میں آتا ہے کہ اس سے بات کروں گئی تو پرسکون ہو جاؤں گئی۔
جواب: ہر مسئلہ ہر دوست سے بیان نہیں کیا جاسکتا ہے سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ میری کسی بھی دوست سے پوچھیں تو وہ مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہونے کی دعوایدار ہوگی لیکن بہت سارے غم ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف رب العزت سے ہی بانٹے جاتے ہیں ہاں دوستوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے مگر یہ میرے اندر کے محسوسات ہیں۔
٭ اگر کسی فیس بک فین سے ملنے کا موقع ملے تو وہ کون خوش نصیب ہو گا؟
جوب: اس معاملے میں میں کیا کہہ سکتی ہوں سب ہی محبت سے پیش آتے ہیں اور ان کی محبت میرے لیے بیش قیمت ہے‘ شکریہ۔
نازیہ بتول رضا
میں نے تمہاری تحاریر پڑھی ہیں جس میں حساسیت اور فکر صاف دکھائی دیتے ہیں تم بلاشبہ ایک بہترین لکھاری ہو۔
پیاری نازیہ بہت شکریہ پسندیدگی کے لیے اگر ایک لکھاری میں حساس دل نہ ہو تو وہ لکھ بھی نہیں سکتا ہے سلامت رہیں آمین ثم آمین۔
٭ لکھنے کے لیے کون سا وقت موزوں ترین لگتا ہے؟
جواب: لکھنے کے لیے تنہائی درکار ہو تو کیا ہی بات ہے۔ اس طرح دن ہو رات دونوں اوقات میں لکھ لیتی ہوں مگر مجھے رات کے وقت لکھنا بہت اچھا لگتا ہے جب یکسوئی ملتی ہے۔
٭ادب کی دنیا میں کس لکھاری سے متاثر ہو؟
جواب: ادب میں بہت سارے نام ہیں میں نے سب کی تحریر سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے مگر مجھے مرحوم ایم اے راحت بہت پسند تھے میری دیرینہ خواہش تھی کہ ان سے ملاقات ہو ان کی تحاریر پر سیر حاصل بحث ہو میں ان کو بتانا چاہتی تھی کہ وہ کس قدر اعلی لکھتے ہیں مگر میری یہ آرزو تاعمر تشنہ رہے گی میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
عمران رضا بٹ
٭ آپ اچھی رائٹر بن سکتی ہیں کب ایسا محسوس ہوا اور رائٹر ہی بننا چائیے آپنے یہ کب سوچا اور یہ سارے آئیڈز کہانیوں کے کیسے آتے ہیں دماغ میں‘ کیا اچھا لگتا ہے اور کیا پسند ہے کون سی بات بری لگتی ہے میری ھاھاھاھا کھانے میں کیا پسند ہے اور پکانے میں کیا آسان لگتا ہے؟
جواب: نہایت قابل احترام بھائی ایک ساتھ اتنے سوالات جس طرح آپ نے کیے ہیں ماشاء اللہ اسی طرح کچھ خیالات میرے ذہن میں بھی رب کی عطا بن کر نازل ہوتے ہیں مجھے لکھنے کا جنون ہے اب اس کو رائٹر کہا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے غموں کی دھوپ میں جھلسنے کے بعد ہی ایک تحریر لکھی جاتی ہے بس لکھنا اب بالکل ایسے ہی ہے جیسے سانس لینا مجھے صاف گو تصنع سے پاک گفتگو پسند ہے جو اپنے سیدھے راستے پر چلے اور دوسروں کے لیے مشکلات پیدا نہ کرے۔
مجھے دوسروں کی ٹوہ میں رہنے والے اور دوسرے کی دل آزاری کرنے والے افراد پسند نہیں ہیں۔
ماہ جنین
٭ آپ سے یہ جاننے کو دل چاہ رہا ہے کہ کلاسیک ادب سے کون سا رائٹر آپ کو پسند ہے؟
٭ادب کے علاوہ کیا پڑھنا پسند کرتی ہیں؟
جواب:مجھے جو بھی مل جائے پڑھنے کے لیے ضرور مطالعہ میں لاتی ہوں بانو قدسیہ قرۃالعین حیدر سعادت حسن منٹو اشفاق احمد مستنصر حسین تارڑ سب۔
صائمہ سکندر سومرو
٭کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ کے اندر الفاظ کا شور ہو اور آپ لکھنے بیٹھیں تو ایک لفظ بھی نہ لکھ پائیں۔
جواب: نہیں ایسا اللہ کا شکر ہے ایسا کبھی نہیں ہوا ہے بلکہ اندر شور ہو تو تحریر عمدہ نکلتی ہے۔
میری تمام نیک دعائیں آ پ کے نام سدا خوش و آباد رہیں‘ آمین۔
کوثر ناز
٭ جب آپ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو بہت سے خیالات ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں آتے ہیں اور ایسے ہی کسی ایک خیال کو لے کر لکھاری لکھنا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی ایسی کہانی جو بہت متاثر ہوکر نہ صرف لکھی بلکہ آپ کو بہت پسند بھی ہو؟
جواب: بالکل درست کہا متفق ہوں گھر سے باہر نکل کر ماحول ہماری تحریر پر اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات لکھنے کا محرک بھی بنتا ہے میں نے عموماً اطراف میں بکھرے ہوئے مسائل پر ہی لکھا ہے ایک افسانہ انقلاب تقریباً سچ پر مبنی تحریر ہے مجھے امتل آپی خواتین ڈائجسٹ کی مدیرہ نے کہا تھا نالہ دل کی صدا لگانا ہے اگلے ماہ اور جب میں نے یکم کو انقلاب افسانہ بھیجا تو ان کو وہ اتنا پسند آیا کہ پہلے اگلے ماہ وہی لگا دیا انہوں نے وہ تحریر دل کے قریب بھی ہے۔
٭ آپ نے لکھنے کے معاملے میں کبھی کسی سے اصلاح لی ؟ گو کہ لکھنے کے لیے صلاحیت ہونی چاہیے لیکن اس کے باوجود اسی صلاحیت کو نکھارنے کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں‘ سو کوئی استاد ہے؟
جواب: میں ایک مکمل گھریلو انسان ہوں بہت سارے لوگوں سے روابط بھی نہیں مگر ایک آدھ تحریر پر سر ظفر اقبال ہاشمی سے مشورہ لیا تھا اور انہوں نے خوب حوصلہ افزائی کی تھی اس کے علاوہ سچ کہوں تو وقت بہت بڑا استاد ہے اور میرے اندر خود لفظوں کی بارش ہوتی ہے۔
٭ایسی پسندیدہ چند کتابیں جنہیں چاہ کر بھی نہیں بھول سکتیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ زندگی میں بہت تبدیلیاں لے آئیں؟
جواب: بہت ساری کتابیں ہیں جن کو پڑھ کر اندر تک سکون اتر آتا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ کچھ نیا سیکھتے ہیں اور سیکھنے کا یہ تسلسل تاعمر جاری و ساری رہتا ہے مجھے زاویہ بہت پسند ہے۔
ایمن نور
٭اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں؟
جواب: الحمدللہ میں شادی شدہ ہوں‘ گھریلو ہوں‘ میرے والدین بیرون ملک مقیم ہیں میری سسرال ماشاء اللہ بہت بڑی ہے سب محبت سے مل جل کر رہتے ہیں میں لاہور سے ہوں یہیں بچپن گزرا۔
٭پہلی کہانی کون سی لکھی اور کب‘جذبات بیان کیجئے؟
جواب: پہلی کہانی ظلمت شب کی سحر اسی ماہ دوسرے ادارے سے۔سود و زیاں کا حساب۔بہت خوشی ہوئی تین سال پہلے ماہ یاد نہیں ہے اب۔
٭ آپ کے افسانے زیادہ پڑھے ہیں آپ کے افسانوں میں آپ کا پسندیدہ کون ہے اور کیوں؟
جواب: اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے کیونکہ ہر تحریر دل سے لکھی ہوئی ہوتی ہے جس طرح ماں کے لیے فیصلہ مشکل ہوتا ہے کہ بچوں میں سے کون سا سب سے پیارا ہے پھر بھی نالہ دل کی صدا خواتین ڈائجسٹ اور ایک سلسلہ وار ناول جو آنچل ڈائجسٹ اور کرن میں بھیجا ان کی اشاعت کا شدت سے انتظار ہے۔
ماورا طلحہ
٭ تمہارا پسندیدہ شہر یا جگہ کون سی ہے؟ جہاں جانا تمہاری پہلی ترجیح میں شامل ہو؟
جواب: میرا پسندیدہ شہر لاہور ہی ہے جہاں میں نے آنکھ کھولی اپنے شہر سے محبت ہے مگر حلقہ احباب میں بہت اچھی ساتھی رائٹرز ہیں جو کراچی سے ہیں اس لیے میری خواہش ہے کہ میں کبھی کراچی بھی جاؤں۔
٭ ایسی کون سی ڈش تمہاری ا سپیشل ہے جسے تم پکاؤ اور کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ جائیں؟
جواب: الحمدللہ میرے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے جو شاید امی سے ملا ہے‘ بہرحال میں ہر طرح کے رائس بہت اچھے پکاتی ہوں۔
٭ تمہاری فیملی میں تمہاری کون سی خوبی کو زیادہ سراہا جاتا ہے؟
جواب: اس سوال کا جواب تو فیملی والے ہی دے سکتے ہیں ویسے میری عاجزی وسادگی پسند ہے۔
صباء ایشل
٭ زندگی میں سوچنا کتنا ضروری ہے؟ اور آپ زندگی کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
جواب: زندگی کے نصب العین سے آگاہی کے بنا جینا بالکل بے مقصد جینے جیسا ہے اللہ رب العزت نے ہمیں زندگی کی نعمت عطا کی ہے‘ اس کا مقصد صرف کھانا پینا نہیں بلکہ رب کی رضا و خوشنودی کی راہ پر چلنا ہے‘ میرا نظریہ یہ ہے کہ ہم کسی کے ساتھ اگر بھلائی نہیں کرتے تو برا بھی نہ کریں جب ہم اپنے وجود کی تخلیق کا راز پا لیتے ہیں تو زندگی کی اہمیت آشکار ہوتی ہے۔
٭ لکھنے کے لیے مطالعہ کتنا ضروری ہے؟
جواب: لکھنے کے لیے مطالعہ بے حد ضروری ہے میں نے اپنی عمر کا ایک حصہ پڑھا اور بہت پڑھا کسی مخصوص موضوع پر کتب نہیں پڑھیں بلکہ میں نے مختلف موضوعات پر مختلف رائٹرز کو پڑھا ہے لیکن یاد رہے کہ ہر مطالعہ کرنے والا شخص لکھاری نہیں ہو سکتا ہے لکھنے کے لیے صرف کتب بینی کافی نہیں ہے ہمارے ارد گرد زندگی بکھری پڑی ہے ہر رنگ میں ہر روپ میں ہر رشتے میں بدلتے مناظر میں دن و رات کے تغیر میں ہم کتب بینی سے سیکھتے ضرور ہیں لیکن وقت بہت بڑا استاد ہوتا ہے اور وہ زندگی میں سوچ کے نئے در وا کرتا ہے۔
٭ آپ کتنا وقت مطالعے کے لیے نکالتی ہیں اور آپ کی نظرمیں پڑھنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟
جواب: میں نے پچھلے ایک ماہ سے کچھ نہیں لکھا مسلسل پڑھتی رہی ہوں پھر جب لکھنے پر دل آمادہ ہو تو میں لکھتی ہوں اور جب طبیعت پڑھنے کی طرف راغب ہو تو میں وہ وقت مطالعہ میں صرف کرتی ہوں۔
٭ کسی بھی لکھاری کی تخلیق کا پہلا محور کوئی بہت خاص دوست یا عزیز ہوتا ہے اور اکثر پہلی کہانی حقیقی ہوتی ہے کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اگر ہاں تو وہ کون شخصیت تھی؟
جواب: میری پہلی تحریر کا محرک کوئی بھی قریبی دوست یا ساتھی نہیں تھا میں نے معاشرتی موضوع پر ہی پہلی تحریر پر لکھا تھا۔
٭ پہلی کہانی کے شائع ہونے کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑا تھا؟
جواب: پہلی تحریر بھیجنے کے بعد مجھے طویل عرصہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا چار ماہ میں لگ گئی تھی‘ اس معاملے میں میں خوش قسمت رہی ہوں اب تو ایک ماہ بھی بعض اوقات انتظار نہیں کرنا پڑتا ہے میں بھجتی ہوں اور دوسرے ماہ لگ جاتی ہے الحمدللہ۔
٭ فیملی میں لکھنے کے حوالے سے آپ کو کیسا تاثر دیکھنے کو ملتا ہے ؟ سب سے زیادہ سپورٹ کون کرتا ہے؟
جواب: میرے سسرال میں سب خوش ہوتے ہیں اور کسی کو بھی میرے لکھنے پر اعتراض نہیں ہے سکندر نے بھی کہا ہے تمہاری پہلی ترجیح گھر اور بچے ہوں اور میں اپنے تمام فرائض کی ادائیگی کے بعد ہی لکھتی ہوں دراصل مجھے دوسری خواتین کی طرح نت نئے فیشن کا ٹی وی دیکھنے کا یا محلے میں یا کہیں بھی گھومنے پھرنے آوٹینگ کا شوق نہیں ہے میں مکمل گھریلو خاتون ہوں اور گھر کے بعد میرا اولین شوق لکھنا ہے میں اپنی ذات کے لیے جو وقت ملے لکھنے پر ہی صرف کرتی ہوں اور لکھ کر ترو تازگی محسوس کرتی ہوں۔
٭ اس فورم اور ہمارے پینل کے ایڈمنز کے بارے میں اگر رائے دینا چاہیں؟
جواب: بہت اچھا پلیٹ فارم ہے جہاں سب نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے لوگ کہتے ہیں کہ بعض ادارے نئے لکھنے والوں کو موقع نہیں دیتے میں اس کی جیتی جاگتی مثال ہوں۔ آنچل نے کبھی یہ نہیں دیکھا لکھاری نیا ہے یا پرانا ہے تحریر ان کے ادبی معیار کے مطابق ہو تو وہ کھلے دل سے جگہ دیتے ہیں تمام ایڈمنز ملنسار ہیں ماورا ہنس مکھ نٹ کھٹ سی ہے خوشی ہوتی ہے اس کی زندہ دلی دیکھ کر میری دعا ہے کہ وہ یونہی مسکراتی رہے آمین۔
حنا جو بہت با اخلاق لڑکی ہے اتنی محبت سے بات کرتی ہے کہ دل میں گھر کر لیتی ہے راؤ رفاقت بھائی جس کو پیار سے میں چھوٹو بھی کہتی ہوں میں نے جب کسی کام کے لیے کہا اس اچھے لڑکے نے ہمیشہ جی آپی کہہ کر وہ کام کیا بہت دعائیں سمیٹی ہیں صبا ایشل مہارت سے ہر طرح کے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرتی ہے اور نہایت ذمہ دار لڑکی ہے اور میں نے جب بھی ان باکس میں بات کی اسے ہمیشہ نرم خو پایا الغرض تمام ایڈیٹر بہت ہی خوش اخلاق ہیں اور یہاں میں آنچل و حجاب کی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ مجھے جگہ دی ہے اور جب کبھی طاہر بھائی سے بات ہوئی تب تب ان کے اخلاق کی گرویدہ ہوئی ہوں اتنے مشفقانہ انداز میں بات کرتے ہیں کہ دل مطمئن ہو جاتا ہے بہت ہی نفیس طبیعت کے مالک انسان ہیں سعیدہ نثار آپی سے جب بھی بات کی حلیمی سے جواب دیا۔
٭ نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام؟
جواب: نئے لکھنے والوں کے لیے میرا پیغام یہی ہے کہ اپنے مطالعے کو وسعت دیں جتنا مطالعہ وسیع ہو گا لکھنا سہل ہوگا جب لکھ کر کسی بھی ادارے میں تحریر بھیج دیں تو اس کا انتظار کرنے کی بجائے کچھ نیا لکھیں لکھتی رہیں مسلسل لکھیں جتنا لکھیں گی تحریر میں روانی آے گی اور یہ بہت صبر آزما کام ہے جس میں لگن اور مسلسل مشق ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
بشکریہ ایڈمن
صباء ایشل‘ ماورا طلحہ‘ حنا اشرف اور راؤ رفاقت علی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close