Hijaab Feb-18

شب آرزو تیری چاہ میں

نائلہ طارق

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
زرق گھر خریدنے کی خاطر راسب کی مدد چاہتا ہے تب رجاب بھی راسب کو اس کی مدد کرنے کا کہتی حیران کرجاتی ہے رجاب کے مجبور کرنے پر ہی راسب زرق کے ساتھ پراپرٹی ڈیلر سے ملتا اسے گھر کا مالک بنا دیتا ہے زرق کے گھر والے کافی عرصے پہلے اسے چھور کر راہ عدم سدھار چکے تھے اب رشتے کے طور پر صرف ایک بہن تھی جس سے وہ ابھی سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ عرش کو زرق کا ایڈریس مل جاتا ہے اور فوری طور پر اس سے مل کر زنائشہ کے حوالے سے پوچھتا اسے اپنے عتاب کا نشانہ بناتا ہے اسے اب جلد از جلد زناشہ سے ملنا تھا لیکن زرق اسے زناشہ کا ایڈریس نہیں دیتا اور اسے زناشہ سے دور رہنے کا کہتا ہے۔ حازق رجاب سے ملنا چاہتا تھا اس لیے وہ اس کے اسپتال آکر اسے پریشان کردیتا ہے رجاب اب اس سے کوئی رابطہ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی اور گاڑی میں بیٹھتے ہی زرق کو فوراًوہاں سے چلنے کا کہہ کر اسے شک میں ڈال دیتی ہے تب زرق اس سے سوال کرتا حازق کے وہاں ہونے کے تصدیق کرتا غصہ میں آجاتا ہے‘ رجاب اسے یہ بات راسب کو بتانے سے منع کردیتی ہے۔ عرش تنہائی میں روتا زنائشہ کے ملنے کی دعائیں مانگتا ہے شاید اسے اب بھی اپنی دعائوں کا پورا ہونے کا یقین ہے جب ہی وہ گھر فون کرتا سحر سے کچھ خاص ہونے کی بابت پوچھتا اسے حیران کرجاتا ہے سحر اسے جلد گھر آنے کی تائید کرتی سلسلہ منقطع کر دیتی ہے تب عرش کو گیراج میں زنائشہ کی موجودگی کا گمان ہوتا ہے شادی سے واپسی پر زرکاش کی گاڑی عرش کے گیراج کے پاس خراب ہوجاتی ہے جب تک وہ گاڑی ٹھیک کراتا ہے دراج اور زناشہ گیراج کے اندر داخل ہوتی ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
٭ز…٭…ز٭
تشویش ناک نظروں سے وہ زنائشہ کو دیکھ رہی تھی جو روم میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر ڈھے گئی تھی‘ پتہ نہیں پیروں کو بھی کیسے اس نے سینڈلز سے آزاد کیا تھا اور اب بے سدھ تھی۔
’’زنائشہ… آنکھیں تو کھولو‘ بات کرو مجھ سے‘ گھبراہٹ ہورہی ہے مجھے‘ زرکاش ابھی راستے میں ہی ہوں گے‘ میں ان کو کال کرتی ہوں‘ ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا پڑے گا‘ مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہیں۔‘‘ دراج مزید اپنی بے چینی پر قابو نہیں رکھ سکی تھی سو اس کے یخ بستہ وجود کو‘ متوجہ کرنے کے لیے جھنجوڑا۔
’’مجھے کچھ بھی نہیں ہوا دراج… بس بہت تھکن ہورہی ہے‘ میں سونا چاہتی ہوں‘ تم بھی آرام کرو…‘‘ بمشکل آنکھیں کھولتی وہ غنودگی اور کمزور آواز میں بولتی نیند میں ڈوبتی جارہی تھی۔
’’تم نے کھانا بھی نہیں کھایا‘ مجھے تمہارا بلڈ پریشر لو لگ رہا ہے‘ میں اس طرح تمہیں نہیں سونے دوں گی‘ تھوڑی ہمت کرکے اٹھ کر بیٹھو۔‘‘ اسے شانوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے دراج نے اس کے انکار کی پروا نہیں کی اور زبردستی جوس کا پورا گلاس اسے پلایا دیا تھا۔ تکیے پر سر رکھتے ہی وہ اردگرد سے غافل ہوتی چلی گئی تھی‘ اسے چینج کرنے کا کہنا بے کار تھا‘ اس کی جیولری دراج کو ہی اتارنی پڑی تھی‘ کمبل اس پر پھیلا کر وہ اس کے سرہانے ہی بیٹھی اس کی سرد ہتھیلیوں کو دھیرے دھیرے اپنے ہاتھوں سے سہلاتی گرم کرنے کی کوشش میں لگی رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں وہ زنائشہ کی طرف سے مطمئن نہیں ہو پارہی تھی جو کچھ وہ محسوس کررہی تھی اس کے بعد مطمئن رہ بھی نہیں سکتی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ زنائشہ نے اس سے کچھ چھپایا ہے یا جو وہ بتا نہیں پائی اس کا خود بھی سامنا کرنے کی تاب نہیں لاسکی تھی۔ دھیرے دھیرے گزرتے وقت کے ساتھ اس کے دل کو کچھ سکون ملنے لگا تھا کہ زنائشہ کی سرد پیشانی بھی اب گرم ہوتی جارہی تھی‘ اس کی سانسوں کے اتار چڑھائو نارمل تھے اور گہری نیند میں ہونے کا پتہ دے رہے تھے۔ چینج کرکے اس نے کھانے کے بس چند لقمے لیے تھے‘ بھوک تو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی‘ سارا کھانا فرج میں محفوظ کرنے کے بعد وہ لائٹ آف کرتی اپنے بیڈ پر آگئی تھی‘ غائب دماغی سے زنائشہ پر نظر جمائے وہ گیراج میں سامنے آنے والے غیر متوقع حالات پر ہی سوچ رہی تھی‘ وہ جانتی تھی کہ زنائشہ کو ایسی کوئی غلط فہمی نہیں ہوسکتی کہ وہ سب کچھ بھلا کر اتنی بے اختیاری میں کسی انجان شخص کے قریب پہنچ جائے‘ وہ خود زرکاش جیسے شخص کو پانے کے بعد کسی کی وجاہت‘ کسی کی بھی خوبروئی پر یوں چونک نہیں سکتی تھی‘ پہلی ہی نظر میں اس شخص کو دیکھ کر یونہی اسے گمان نہیں ہوا تھا کہ یا تو اس شخض کو کہیں دیکھا ہے یا کسی کے لفظوں سے اس شخص کے پیکر کو اس کے ذہن نے تراش کر محفوظ کر رکھا ہے اور اب اسے یقین تھا کہ چاندنی رات میں روشنی بکھیرتے اس شخص کے سراپے کو اس نے جس کی آنکھوں میں لہراتے دیکھا‘ جس کی باتوں میں اس کی شبیہ دیکھی وہ آنکھیں‘ وہ باتیں زنائشہ کی ہی تھیں‘ یہ سب کچھ اس کے ذہن کا خبط بھی ہے تو وہ شخص کیوں اپنی جگہ پتھر کا بت بنا رہا تھا‘ کیوں ان کی گاڑی کی طرف متوجہ رہتے ہوئے بھی اس کا سکتہ نہیں ٹوٹا تھا اور اب زنائشہ کی یہ عجیب کیفیت… بھاری ہوتے سر کو ہاتھوں میں تھامے اسے انجانے خدشات لاحق ہونے لگے تھے‘ دل کو کچھ ہورہا تھا‘ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کچھ ہونے والا ہے‘ فون پر آتی کال نے اس کے دل کو مٹھی میں جکڑ لیا تھا کہ پہلے ہی دل گھبرا رہا تھا۔
’’سب ٹھیک تو ہے زرکاش… تائی امی ٹھیک ہیں؟‘‘
’’سب ٹھیک ہے دراج… مجھے تو تم ٹھیک نہیں لگ رہیں‘ اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہو… کیا میں نے پہلی بار تمہیں رات کے تین بجے کال کی ہے؟‘‘ زرکاش کے لہجے میں حیرت تھی۔
’’نہیں‘ بس یونہی…‘‘ گہری سانس بھر کر خود کو پُرسکون رکھنے کی کوشش میں وہ یہی کہہ سکی تھی۔
’’اگر تمہاری نیند ڈسٹرب ہوئی ہے تو ایم رئیلی سوری کیونکہ میں واقعی تمہیں ڈسٹرب کرکے بات کرنا نہیں چاہتا تھا۔‘‘ زرکاش نے کہا۔
’’میں جاگ ہی رہی تھی اگر اتنی ہی ضروری بات تھی تو آپ پہلے ہی کال کرلیتے‘ اب جلدی بتائیں بات کیا ہے؟‘‘
’’بات شاید تمہارے لیے بھی زیادہ اہم نہ ہو مگر میرے لیے پریشان کن ضرور ہے‘ آج امان نے مجھے بتایا کہ اس کی بہن اپنے بیٹے بابر کے لیے تمہیں پسند کرتی ہیں۔‘‘
’’آپ یہ جان کر پریشان ہیں؟‘‘
’’تو کیا نہیں ہونا چاہیے؟‘‘ اس کے لہجے میں پریشانی در آئی تھی۔
’’تو پھر مجھے تو پریشان رہ‘ رہ کر ڈپریشن کا مریض اب تک بن جانا چاہیے تھا کیونکہ آپ کی بہنیں بے شمار لڑکیوں کو آپ کے لیے پسند کرچکی ہیں۔‘‘
’’میری بات مت کرو‘ تمہیں پتہ ہے کہ میں ان کی پسند کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال سکتا۔‘‘
’’تو میں بھی کسی ایرے غیرے کو اپنے گلے کا ہار نہیں بنانے والی۔ پسند کی بنیاد پر… کیوں پریشان کررہے ہیں خود کو…‘‘ اس کا جھلایا لہجہ زرکاش کو پسند نہیں آیا۔
’’دراج… انسان جس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اس پر کسی کی بری کیا اچھی نظر پڑنے سے بھی خوف زدہ رہتا ہے‘ کم از کم میرے ساتھ تمہارے معاملے میں ایسا ہی کچھ ہے۔‘‘ زرکاش کے بے حد سنجیدہ لہجے پر وہ ایک پل کے لیے خاموش رہ گئی تھی۔
’’زرکاش…! آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ بھی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’میں اب فوری طور پر امی سے اپنے اور تمہارے بارے میں بات کرکے ان کی رضا مندی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ایک پل کو رک کر وہ بولا۔
’’آپ کی بہنیں اور بھائی؟‘‘
’’میرے لیے سب سے بڑھ کر امی کی خوشی اور اجازت اہم ہے‘ ان کے بعد میں کسی کو بھی کنوینس کرنا کسی بھی حالات کو فیس کرنے میں دشواری محسوس نہیں کرسکتا۔‘‘ زرکاش کے کہنے پر وہ چپ رہی۔
’’خاموش کیوں ہو…؟ ایک تو کبھی کبھی مجھے تم پر شدید غصہ آتا ہے‘ پہلے شادی کی رٹ لگائے رکھتی تھیں اب شادی کا ذکر بھی نہیں کرتیں‘ مشورہ‘ حوصلہ تو دے سکتی ہو‘ تمہارے ساتھ کے بغیر میں کیسے قدم آگے بڑھا سکتا ہوں۔‘‘ وہ آج گلہ کر ہی گیا۔
’’پہلے رشتوں کی قدرو اہمیت نہیں تھی زرکاش… صرف اپنی خوشی کی پروا تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے اور اب تو سب سے بڑھ کر ان رشتوں کی پروا زیادہ ہوگئی ہے جن کا آپ سے تعلق ہے‘ آپ ان سب سے ہیں اور وہ سب آپ سے… آپ سے شادی کا ذکر کرتے ہوئے اب دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے کہ یہ خواہش سب کچھ ختم نہ کردے… یہ خوف رہتا ہے کہ مجھے آپ کے قابل نہ جان کر رد کردیا جائے گا‘ آپ سے تعلق رکھنے والے لوگ مجھ سے اور زیادہ نفرت کرنے لگیں گے‘ مجھے آپ سے دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘
’’میں تمہارے اس خوف کو سمجھ سکتا ہوں دراج… لیکن اس خوف کی وجہ سے میں اور تم اپنی ساری زندگی یونہی برباد نہیں کرسکتے‘ ہمیں ایک دوسرے پر جو یقین اور بھروسہ ہے وہ ہمیں پہلے خود پر بھی ہونا چاہیے‘ کس کا ردعمل کیا ہوگا‘ کون دیواریں اٹھانے کی کوشش کرے گا‘ یہ سب حاوی نہیں ہونا چاہیے ہماری کوششوں پر… مجھے امید نہیں تھی کہ تم اس طرح کمزور پڑ جاؤگی‘ اتنی بزدل کب سے ہوگئیں تم…؟ مجھ پر تمہارا یقین متزلزل ہے تو وجہ بتائو مجھے؟‘‘ زرکاش کے لہجے میں ناراضگی کا عنصر تھا۔
’’ایسا بالکل نہیں ہے‘ بات صرف اتنی ہے کہ میں آپ کے لیے بہت زیادہ حساس اور محتاط ہوتی جارہی ہوں۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولی۔
’’دراج… کچھ دن بعد شذرا گھر آرہی ہے میں اس کی موجودگی میں اپنے اور تمہارے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہوں‘ حالات جو بھی سامنے آئیں‘ اب پیچھے نہیں ہٹنا‘ میں چاہتا ہوں کہ تم اب مستقل طور پر اپنے گھر آجائو اور ایک نئی زندگی کی ابتداء کرو‘ تمہارا اب ہاسٹل میں رہنا مجھے گوارہ نہیں‘ دل سے بوجھ ہٹ جائے گا کہ میں ہی تمہیں وہاں تک لے گیا تھا۔‘‘
’’مگر میری بہتری کے لیے‘ اچھا اور مناسب وقت آنے تک کے لیے…‘‘ دراج نے درمیان میں کہا۔ ’’میں آپ کے ہی آگے بڑھ کر فیصلہ کرلینے کے انتظار میں اب تک خاموش تھی… آپ کو ذہنی طور پر مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘‘
’’جانتا ہوں مگر تم ساتھ ہو تو ثابت قدم رہوں گا‘ میں تم سے بھی یہی امید رکھتا ہوں کہ تم صبر اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دوگی‘ بس یہ یقین رکھنا کہ کتنی ہی مخالفت کیوں نہ ہو میں حالات کو اپنے اور تمہارے لیے سازگار کرکے رہوں گا۔‘‘
’’میری طرف سے آپ مطمئن رہیں‘ میں ہر حال میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘‘ وہ گہری سانس لے کر بولی۔
’’اب کافی اطمینان ہوا ہے دل کو تم سے بات کرکے کل گھر آرہی ہو تم؟ کب تک آئوں پک کرنے؟‘‘
’’نہیں… میں گھر نہیں آرہی کل کیونکہ مجھے زنائشہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مگر آپ تھوڑا وقت نکال کر ہاسٹل ضرور آئیں کل‘ مجھے زنائشہ کے حوالے سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر تمہیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہم اس کے معاملات میں ایک حد تک ہی دخل دے سکتے ہیں‘ وہ تمہارے ساتھ ہے مگر کسی کی بیوی‘ کسی کی امانت ہے۔‘‘
’’وہ سب صرف ایک دھوکہ تھا۔‘‘ وہ بول اٹھی۔
’’قیاس آرائیاں نہ کرو‘ زنائشہ کو راضی کرو کہ وہ حقیقت کو کھوجنے کی کوشش کرے تب ہی میں اس کے اتنے ذاتی معاملے میں کوئی ساتھ دے سکو ںگا۔‘‘ زرکاش کے قطعی انداز پر وہ خاموش رہی تھی۔
٭ز…٭…ز٭
بہت دشوار گزاریوں کے بعد کہیں جاکر زندگی کے راستے سہل ہوئے تھے‘ بہت پامال ہونے کے بعد وہ ہموار ہوئی تھی کہ اب پھر زندگی کی تلخیاں ماضی کی دھند سے نکل کر اس کے سامنے آتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے تیار تھیں… اوس میں بھیگی یخ بستہ گھاس اس کے مسلسل چلتے پھرتے قدموں کو سن کرچکی تھی‘ نڈھال ہوتی وہ چیئر پر جیسے ڈھے گئی تھی‘ دزدیدہ نظروں سے اس نے چاند‘ تاروں سے روشن ومنور آسمان کو دیکھا تھا‘ کیا کیا منظر‘ کیا کیا ہولناک حقیقتیں بھی اس آسمان نے نہ دیکھ رکھی تھیں‘ اس کے ماضی کے کتنے ہی ہولناک لمحوں کا گواہ تھا یہ آسمان‘ اس وقت بھی اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ نہیں بلکہ آسمان اسے دیکھ رہا ہے‘ اسے یہ تسلی دے رہا ہے کہ آج بھی وہ ہمیشہ کی طرح اس کے ساتھ ہے‘ تماشائی بن کر نہیں بلکہ گواہ بن کر… آج اسے اکبر نے ہاسپٹل سے کال کرکے یہ اطلاع دی کہ حاذق پھر ہاسپٹل آیا تھا تو وہ چند پل کے لیے گم صم ضرور ہوئی تھی مگر اسے کوئی دھچکا نہیں پہنچا تھا‘ یقینا حاذق کو آج ہی معلوم ہوا ہوگا کہ ہاسپٹل میں وہ روزانہ موجود نہیں ہوتی‘ اکبر نے بتایا کہ جب اس نے حاذق کو دیکھا‘ وہ واپس جارہا تھا ورنہ اکبر خود اس تک پہنچ کر باز پرس کرتا… رجاب نے اکبر کو تاکید کی تھی کہ وہ حاذق کی دوبارہ آمد کے بارے میں زرق کو کچھ نہ بتائے لیکن وہ جانتی تھی کہ اکبر اس کی تاکید پر زیادہ دیر عمل نہیں کرسکے گا‘ کیونکہ زرق پہلے ہی بہت سختی سے اکبر کو یہ ہدایت دے چکا تھا کہ حاذق کے بارے میں ضرور اسے خبر دے اگر وہ ہاسپٹل کے اردگرد بھی دکھائی دے‘ یہ زرق بھی جانتا تھا کہ راسب بظاہر پُرسکون ضرور ہیں مگر اندر سے وہ کسی زخمی شیر سے کم نہیں‘ حاذق رجاب تک پہنچنا چاہتا ہے اس بات کی بھنک بھی ان کو پڑی تو وہ ایک پل کی بھی دیر نہیں لگائیں گے حاذق کے گریبان تک پہنچنے میں‘ ایک قیامت وہ اٹھادیں گے… رجاب کو اب کسی قیامت کا خوف نہیں تھا البتہ یہ اس کے لیے ناقابل برداشت تھا کہ راسب مزید کسی اذیت میں مبتلا ہوں یا ایک بار پھر ان کے زخم تازہ ہوجائیں‘ حاذق کا نام ان کے زخموں پر نمک سے کم ہرگز نہ تھا… اور وہ خود کسی طور پلٹ کر دیکھنے کے لیے تیار نہ تھی۔ حاذق کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر اس کے دل ودماغ میں بس یہی ایک چیز تھی کہ حاذق سے اپنے سائے کو بھی چھپا کر رکھنا ہے‘ اس وقت بھی یہ سوچ کر ہی اسے ابکائی محسوس ہورہی تھی کہ حاذق سے اس کا کوئی مضبوط تعلق بھی استوار ہوا تھا‘ حاذق کے لیے اس کے دل میں کچھ نہیں تھا‘ کچھ بھی نہیں… بس ایک وحشت تھی‘ جس سے بچنے کے لیے وہ اب کبھی حاذق کا چہرہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی‘ وہ اپنے حصے کی اذیتوں کا بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا چکی تھی اس کے باوجود اس نے تب بھی یہی کوشش کی تھی کہ حاذق ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جو اس کے ہی دل کو ویران کر ڈالے‘ کہیں عجلت میں وہ اس راستے کی طرف نہ چلا جائے جو راستہ اپنے مسافر کو پچھتائووں کی بھڑکتی آگ تک پہنچا کر تاریک کھائی میں گم ہوجاتا ہے مگر نہ حاذق کو اس کا خلوص سمجھ آیا نہ اس کے الفاظ سنائی دیے تھے‘ وہ بس اسی خوف میں مبتلا رہا کہ کہیں اسے ساری زندگی ایک بدصورت لڑکی کے ساتھ نہ گزارنی پڑجائے‘ اسے بس دامن جھٹکنا تھا سو وہ جھٹک گیا تھا‘ خوب صورت چیزوں کی ہوس میں اندھا دھند بھاگنے والے خوب صورت منزلوں سے محروم ہوجایا کرتے ہیں مگر اس نے کبھی بددعا نہیں دی تھی کسی کو‘ جس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو‘ جس کے لیے دل میں کوئی مبہم سا جذبہ تک نہ ہو اس کے لیے برا کہنے یا چاہنے کا بھی سوال نہیں پیدا ہونا چاہیے‘ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا‘ اب وہ کسی قیمت پر بھی ماضی میں اٹھائی گئی ذلتوں‘ اذیتوں اور وحشتوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی‘ کسی پکار پر رکنا بھی اس کے لیے ناممکن تھا… وہ نہیں جانتی تھی کہ کس وجہ سے حاذق اس کے پیچھے آیا ہے‘ وہ جاننا چاہتی بھی نہیں تھی‘ وقت گزر چکا تھا‘ اب اس کے پاس حاذق کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا‘ وہ خود کو اس قابل سمجھتی ہی نہیں تھی کہ کسی کو کچھ دے سکے‘ کم از کم حاذق کے لیے تو وہ مفلس ہی تھی بالکل اسی طرح جیسے کبھی وہ رجاب کے کشکول میں یقین واعتبار کے چند سکے بھی ڈالنے کے قابل نہ تھا۔ دور کہیں سے فجر کی بلند ہوتی آوازوں پر اسے فضا کی چبھتی ہوئی یخ بستگی کا احساس ہوا تھا‘ ٹھنڈی سانس بھر کر ایک آخری نگاہ آسمان پر ڈالتی وہ چیئر سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی‘ وہ بروقت ہی کمرے میں داخل ہوئی تھی اس لیے زرق کی کال اس نے ریسیو کرلی تھی۔
’’مجھے پتہ تھا تم بیدار ہوچکی ہوگی‘ نماز کے بعد اگر تم نے سونا ہے تو مجھے بتادو؟‘‘
’’میرے سونے جاگنے کی چھوڑو‘ تم گھر آکر کچھ گھنٹوں کے لیے سو جائو‘ آغا جان بھی رات میں کھانے پر خفا ہورہے تھے تم پر لیکن تم جانے کس مٹی کے بنے ہو…‘‘
’’اب یہ تحقیق بعد میں کرلینا‘ ابھی جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔‘‘
’’اگر تم حلوہ پوری کا ناشتہ کروا رہے ہو تو میں بالکل جاگ رہی ہوں۔‘‘ وہ فوراً بولی۔
’’اب فجر کے وقت تمہارے لیے کون حلوہ پوری تیار کررہا ہوگا؟‘‘ زرق کا لہجہ خشمگیں ہوا۔
’’تو تم کون سا ابھی آرہے ہو‘ تمہارا ایک گھنٹہ بھی تو دو گھنٹے کے برابر ہوتا ہے‘ نماز پڑھنے کے بعد شہر کے کسی بھی حصے سے ڈھونڈ کر حلوہ پوری لے کر آئو‘ زیادہ انتظار نہیں کروانا۔‘‘ وہ تاکید کررہی تھی۔
’’ہاں‘ میں خود جلد از جلد تم سے بات کرنا چاہتا ہوں‘ مشورہ بھی کرنا ہے۔‘‘ زرق کے کہنے پر وہ چونکی۔
’’اگر اتنی ضروری بات ہے تو تم سب چھوڑو‘ نماز کے بعد سیدھے گھر آئو‘ میں اپنے اور تمہارے لیے گھر میں ہی ناشتہ تیار کروں گی۔‘‘
’’نہیں تم کچھ مت کرنا‘ میں بس ایک گھنٹے کے اندر پہنچتا ہوں۔‘‘
’’اچھا سنو‘ معاملہ کیا ہے کچھ بتادو‘ ورنہ بے چین ہی ہوتی رہوں گی۔‘‘ وہ اصرار سے بولی۔
’’تم جاننا چاہتی تھیں کہ ہاسٹل میں کون رہتا ہے اور اس سے میرا کیا تعلق ہے‘ آج اس کے بارے میں ہی تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر آج اچانک یہ خیال کیسے آیا… کوئی خاص وجہ؟‘‘ رجاب حیران ہوئی۔
’’ہاں‘ وجہ بھی ہے‘ آکر بتائوں گا وہ بھی… بس ابھی یہ بات میرے اور تمہارے درمیان رہنی چاہیے۔‘‘
’’تمہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں‘ بے فکر رہو۔‘‘ رجاب نے کہا‘ اس کے لیے یہ بھی بہت تھا کہ زرق اتنے اہم اور خفیہ معاملے پر اس سے بات کرنے پر تو تیار ہوا۔
٭ز…٭…ز٭
جلتی آنکھیں کھول کر اس نے اپنے اردگرد کے ماحول کو پہچاننے کی کوشش کی‘ دماغ مائوف اور اعصاب اب بھی سن تھے‘ جسم میں جیسے جان ہی باقی نہ رہی تھی۔ رات میں وہ ہاسٹل کے روم تک کس طرح پہنچی‘ اسے کچھ یاد نہیں تھا‘ یہاں تک کہ اپنا بھی اسے ہوش نہ رہا تھا‘ بمشکل اٹھ کر بیٹھتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی‘ سر کسی پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا‘ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا اور اس اندھیرے میں بس ایک ہی چہرہ تھا‘ وہی چہرہ جو کل اس کی روح قبض کر گیا تھا‘ وہی چہرہ جسے وہ زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی‘ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے متورم آنکھوں پر مارتے ہوئے بھی اس کا دماغ چکرا رہا تھا‘ اپنا وجود اسے خلا میں تیرتا‘ بے وزن سا محسوس ہورہا تھا‘ بھیگے چہرے کے ساتھ وہ واش روم سے نکلی تو اسے دراج کی غیر موجودگی کا احساس ہوا‘ رات تقریب کے لیے جو لباس زیب تن کیا تھا اسے چینج کرنا تھا‘ اسے ہلکے پھلکے آرام دہ لباس کی ضرورت تھی مگر وارڈروب تک جانا بھی اس کے لیے محال تھا‘ شدید نقاہت کے باعث آنکھوں کے سامنے تمام منظر گڈمڈ ہورہے تھے‘ بند آنکھوں کے ساتھ وارڈروب کا سہارا لے کر اس نے اپنے لڑکھڑاتے وجود کو سنبھالا‘ گہری سانسیں بھرتے ہوئے اسے دروازے پر قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی‘ یکایک اس کی گہری سانسیں تھم گئی تھیں‘ وہی خوشبو اس کے اردگرد پھیلتی ساکت کررہی تھی جو خوشبو اس زمین کی نہیں تھی‘ اس دنیا کی نہیں تھی‘ وہی خوشبو جو کہکشائوں کے سفر پر کبھی لے جایا کرتی تھی۔
’’زنائشہ…!‘‘ عقب سے ابھرتی دراج کی پکار پر وہ کرنٹ کھا کر پلٹی مگر اگلے ہی پل اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی‘ اس کی پشت کو وارڈ روب نے سہارا دے رکھا تھا ورنہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کے قابل نہ رہی تھی‘ دراج کہاں تھی اسے یہ دکھائی نہیں دیا تھا وہ تو بس وحشت سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ اس جان لیوا وہم کو تمام تر حقیقتوں سمیت مجسم اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہی تھی… ایک ٹک اس پر نظر جمائے وہ اس کے قریب آرکا تھا‘ جو بے حس وحرکت‘ جامد وساکت تھی‘ پلک جھپکے بغیر اس کے لٹھے کی مانند سفید چہرے کو تکتا وہ دھیرے سے اس کے شانوں کو تھام چکا تھا‘ تمام جذبات‘ احساسات جیسے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں سمٹ آئے تھے اگر زنائشہ ہوش وحواس میں ہوتی تو اس چٹخا دینے والی گرفت کی گہرائی سے ادھ موئی ہوجاتی مگر اس وقت تو اس کی تمام حسیات گم تھیں۔
’’زنائشہ… میں یاد نہیں کرنا چاہتا کہ آخری بار کتنا عرصہ پہلے میں نے تمہارے چہرے کو دیکھا تھا… مگر آج‘ اس وقت میں عہد کرتا ہوں کہ اب میں اپنی آخری سانس تک کی زندگی بس تمہارے چہرے کو ہی دیکھتے ہوئے گزار دوں گا…‘‘ آنکھوں میں اذیت کی نمی لیے وہ بھاری لرزتے لہجے میں بولا‘ ضبط کی حدوں سے تجاوز کرتے جذبات کی شدت سے اس کا چہرہ تمتما رہا تھا‘ آنکھیں خوں رنگ تھی‘ کیا کچھ نہیں تھا اس کی بھیگی شہد رنگ آنکھوں میں مگر اس وقت تو دھند چھا رہی تھی‘ آنکھوں میں ہی نہیں دماغ پر بھی… دوسری جانب ضبط کی اذیت اور لرزتے لبوں سے وہ پورے استحقاق سے اس کے بے حس وحرکت‘ بے جان وجود کو اپنے سینے کی وسعتوں میں چھپا گیا تھا‘ گہری تاریکی میں ڈوبتے ہوئے زنائشہ مضبوط بازوئوں کی آہنی قید میں پھڑپھڑا بھی نہ سکی تھی۔
کچھ فاصلے پر ساکت کھڑی دراج کی نظروں سے زنائشہ کی کیفیت چھپی نہیں تھی‘ ہوش میں آتی وہ تیزی سے قریب آئی تھی۔
’’تم چھوڑو زنائشہ کو‘ دور ہٹو اس سے…‘‘ ہول کر چیختے ہوئے دراج نے زنائشہ کو اس سے الگ کرنا چاہا تھا مگر اگلے ہی پل دراج ششدر رہ گئی تھی جب عرش نے سرعت سے اس کا ہاتھ زنائشہ سے دور کیا تھا‘ اس کے تاثرات اور ایک کڑی نگاہ ہی کافی تھی دراج کو سن کردینے کے لیے‘ ہک دک نظروں سے وہ اس کی جرأت کو دیکھ رہی تھی وہ زنائشہ کو سنبھالے روم سے نکل رہا تھا۔
یک دم ہوش میںآتی دراج سرعت سے اپنا بیگ اور فون اٹھاتی اس کے پیچھے ہی بھاگی تھی۔ غفلت میں ڈوبی زنائشہ کا سر اپنی گود میں رکھے وہ بیک سیٹ پر موجود شدید غصے میں بولتی جارہی تھی۔
’’تمہارے اندر ذرا بھی شرم باقی ہوتی تو اسی وقت ڈوب کر مر جاتے جب زنائشہ سے تمہارا سامنا ہوا تھا‘ مگر تمہارے پاس تو انسانیت نام کی بھی کوئی چیز نہیں… اب کون سی کسر باقی رہ گئی ہے جو تم پھر اس کے پیچھے آگئے ہو… لیکن یہ تمہاری بھول ہے کہ تم ایک بار پھر اسے بے وقوف بنا لو گے‘ تم جیسا گرا ہوا انسان صرف دھوکہ دے سکتا ہے‘ جذبات سے کھیل سکتا ہے‘ یہ سچ زنائشہ خود تمہیں بتائے گی۔‘‘ لب بھینچے دراج کی چبھتی آواز سنتا وہ بمشکل ضبط کیے جلد از جلد کسی ہاسپٹل تک پہنچنا چاہتا تھا۔
’’تم جیسے بے حس انسان کو یہ تک پروا نہیں تھی کہ جسے آسرے میں رکھا تھا وہ زندہ ہے بھی یا نہیں… تم نے ایک معصوم لڑکی کی زندگی میں زہر گھولا تھا‘ میں تمہیں ذلیل وخوار کروا دوں گی اگر تم نے اپنا کوئی گھٹیا حق زنائشہ پر تھوپنے کی کوشش کی… تم زنائشہ کے لیے مر چکے ہو‘ یہ تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی اس لیے صدمے سے بے ہوش ہوگئی ہے جس کے تم ذمہ دار ہو‘ کوئی تعلق نہیں ہے تمہارا اس سے‘ سیدھی طرح شرافت سے ہمیں ہاسپٹل پہنچادو اور اس کے ہوش میں آنے سے پہلے بھاگ جائو جس طرح پہلے بھاگے تھے اسے دھوکہ دے کر…‘‘ سڑک کے کنارے ایک جھٹکے سے رکتی گاڑی کے ساتھ ہی دراج کی چلتی زبان کو بھی بریک لگے تھے‘ جارحانہ انداز میں وہ ڈرائیونگ سیٹ سے اترتا ایک جھٹکے سے بیک سیٹ کا ڈول کھول تھا۔
’’باہر نکلو تم…‘‘ عرش کے بپھرے تاثرات اور سخت کھردرے لہجے پر دراج ایک پل کو گنگ رہ گئی۔
’’ہرگز نہیں‘ میں کسی حال میں زنائشہ کو اس طرح تمہارے رحم و کرم پر چھوڑ کر نہیں جائوں گی کیونکہ میں تمہاری طرح بزدل نہیں ہوں۔‘‘
’’باہر آئو ورنہ پھر مجھے خود یہ کام کرنا ہوگا۔‘‘ عرش کے سخت لہجے پر دراج کا پارہ چڑھ گیا تھا۔
’’تم زبردستی مجھے زنائشہ سے الگ نہیں کرسکتے‘ کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حالت کا فائدہ اٹھا کر اسے اغوأ کرکے لے جائو‘ ہاسٹل کی انتظامیہ کو تم بے وقوف بناسکتے ہو مگر مجھے نہیں‘ اگر تم نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو تماشہ لگوا دوں گی یہاں اور تم لاک اپ میں…‘‘ غصے میں بھڑکتی دراج کی آواز اس وقت حلق میں گھٹ گئی‘ یقینا عرش کے ضبط کی انتہا ہوچکی تھی۔ مجبوراً اسے دراج کے ہاتھ کی جانب ہاتھ بڑھانا پڑا تھا مگر وہ اس درجے جرأت پر ہول کر چیختی‘ زنائشہ کو چھوڑ چھاڑ کر خود ہی گاڑی سے باہر نکل گئی‘ عرش کو کوئی تگ ودو کرنی ہی نہیں پڑی تھی۔
’’تم جانتے نہیں ہو مجھے‘ اب دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرواتی ہوں‘ ابھی پولیس اسٹیشن جاکر ایف آئی آر کٹواتی ہوں۔ پوری نفری کے ساتھ اسی گیرج پر دھاوا بولوں گی جہاں کل تم…‘‘ وہ بھڑکتی چیختی رہ گئی تھی جبکہ عرش کان دھرے بغیر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا گاڑی ہوا میں اڑا لے گیا تھا‘ سڑک کے کنارے کھڑی دراج غصے میں بے حال زرکاش کو کال کرتی رو دینے والی ہوگئی تھی۔
٭ز…٭…ز٭
سبزے پر دھیرے دھیرے بکھرتی نرم گرم سی دھوپ سے نگاہ ہٹا کر رجاب نے بغور اسے دیکھا جو ٹیبل کی سطح پر نگاہ جمائے بالکل خاموش تھا۔ اس کے چہرے پر ملال اور سوگواری ہی سوگواری پھیلی تھی۔
’’تم اگر مجھے پہلے ہی یہ سب کچھ بتا دیتے تو اب تک یقینا سب بہتر ہوچکا ہوتا۔ حالات تمہارے کنٹرول میں ہوتے‘ تمہیں تھوڑی ہمت سے کام لینا چاہیے تھا اپنی بہن کے معاملے میں۔ ماضی میں جس حد تک بھی برا ہوا مگر تمہارا اس سے رشتہ ٹوٹ تو نہیں سکتا‘ اسے واپس تم تک پلٹنا ہی پڑتا۔‘‘ اس کی شدت گریہ سے متورم اور سرخ آنکھوں کو دیکھتی وہ بولی۔ ’’بہرحال دیر تو ہوئی ہے مگر اتنی بھی نہیں‘ جو گزر گیا وہ گزر گیا اب آگے کا سوچو‘ مجھے بتائو تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’میں بس یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے معاف کرے یا نہ کرے‘ ساری زندگی ٹھوکروں پہ رکھے مگر اس غلط انسان کے شکنجے میں دوبارہ نہ پھنسے۔ وہ زنائشہ کو تنہا سمجھ کر ایک بار پھر شیشے میں اتارنے کی کوشش کرے گا‘ اس تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ مجھے بس زنائشہ کا تحفظ عزیز ہے‘ میں اسے بربادی کی طرف جاتا نہیں دیکھ سکتا۔ وہ شخص شاطر ہے‘ جادوگر ہے اور میری بہن آج بھی معصوم اور تنہا ہے۔ وہ شاطر آدمی جانتا ہے کہ میرے اور زنائشہ کے درمیان براہ راست کوئی رابطہ نہیں‘ زنائشہ کے لیے میں آج بھی گم شدہ ہوں۔ مجھے فی الوقت کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ زنائشہ کی حفاظت کے لیے مجھے کون سے اقدامات کرنے چاہیں جبکہ میں آج بھی اس کا سامنا کرنے کی ذرا بھی ہمت نہیں رکھتا۔‘‘ زرق مضطرب انداز میں بولتا چلا گیا۔
’’سب سے پہلے تو تم اللہ پر یقین رکھو‘ اللہ نے اب تک تمہاری بہن کو جس طرح تحفظ میں رکھا ہے وہ آگے بھی رکھے گا۔ دوسری بات یہ کہ اپنی بہن کی بہتری اور بھلائی کے لیے اب تمہیں اس کا سامنا کرنے کی ہمت کرنی پڑے گی۔ میں جانتی ہوں یہ مرحلہ تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا مگر اب تمہارا چھپے رہنا تمہارے لیے مزید کسی پچھتاوے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک بار ہمت کرلو گے تو پھر تمام خدشات دور ہوجائیں گے‘ تمہیں اس شخص کا بھی کوئی خوف نہیں رہے گا جو تمہاری بہن کے تعاقب میں ہے۔ تمہارے ساتھ ہونے والی تلخ کلامی کے بعد وہ شانت ہوکر نہیں بیٹھے گا‘ اس نے تم پر نظر رکھی ہوگی‘ تمہارے تعاقب میں ہوگا‘ تمہارا یہ اندازہ بالکل ٹھیک ہے تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ ہاسٹل کا رخ نہیں کیا‘ ابھی کچھ دن تک ہاسٹل کے اس راستے سے بھی نہ گزرنا مگر اب وقت آگیا ہے کہ زنائشہ کو اپنی زندگی میں تمہاری موجودگی کا مکمل علم ہوجائے۔ دو دن بعد میں خود ہاسٹل میں زنائشہ سے ملاقات کروں گی اور میری یہ بھرپور کوشش ہوگی کہ اس کا اعتماد حاصل کرکے اسی دن اسے تمہارے فلیٹ پر لے آئوں۔‘‘ رجاب نے گہری سنجیدگی سے اپنے لائحہ عمل سے اسے آگاہ کیا۔
’’رجاب… مجھے تم پر مکمل یقین اور بھروسہ ہے‘ تم جو کرنا چاہتی ہو اس پر جلد از جلد عمل کر ڈالو۔ اب میرے لیے ایک ایک دن گزارنا بھی کٹھن ہورہا ہے‘ میری بہن کسی بھی لمحے خطرے میں گھر سکتی ہے۔ یہ اندیشے مجھے سانس نہیں لینے دے رہے۔‘‘ زرق شدید بے چینی میں مبتلا تھا۔
’’خود کو پُرسکون رکھو زرق… وہ شخص ابھی نہیں جانتا کہ زنائشہ کہاں موجود ہے‘ میں ہاسٹل بھی ڈرائیور کے ساتھ جائوں گی‘ عین وقت تک ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ تم کسی عجلت میں کوئی گڑبڑ نہیں کرو گے۔‘‘ رجاب کے لہجے میں تنبیہہ تھی۔
’’نہیں‘ میں صبر کے ساتھ اپنے فلیٹ پر تمہارا انتظار کروں گا‘ مجھے یقین ہے کہ تم زنائشہ کو اپنے ساتھ لے کر پہنچو گی مگر یہ یاد رکھنا کہ اسے راضی کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ شدید نفرت کرتی ہے مجھ سے‘ شاید نفرت کی اس دیوار کو گرانے میں تمہیں بھی اذیت پہنچ سکتی ہے۔‘‘ وہ افسردہ لہجے میں بولا۔
’’تمہاری یہ قیاس آرائی غلط بھی ہوسکتی ہے‘ وقت حالات اور نظریات کو بدلنے کا خوب ہنر رکھتا ہے اگر تمہاری قیاس آرائی درست ہے بھی تو میں اسے تم تک آنے کے لیے مجبور کردوں گی۔ تم سے پہلے وہ اب میری بہن ہے‘ اسے قائل ہونا پڑے گا‘ تمہاری یہ نئی زندگی‘ تمہارا ظاہر اور باطن اس کے دل سے تمام کدورتوں کو دھو دے گا‘ سب کچھ بھول جائو بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بہن بالآخر اب تمہارے پاس آنے والی ہے۔‘‘ رجاب کے پُریقین لہجے پر زرق نے تشکر آمیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
٭ز…٭…ز٭
ہاسٹل کے وزیٹنگ روم میں شدید بے چینی اور فکر میں مبتلا مسلسل ٹہلتی‘ ہاتھ ملتی دراج طیش میں بھی تھی‘ جس سڑک پر عرش نے اسے گاڑی سے اتارا تھا‘ وہیں اس نے شدید اشتعال میں زرکاش کو فون پر مختصراً ساری صورت حال سے آگاہ کرکے جلد ہاسٹل پہنچنے کی تاکید کی تھی‘ غصے میں بھری وہ واپس ہاسٹل پہنچی تھی‘ تب سے اب تک زرکاش کی منتظر وہ بھڑکتی آگ بنی ہوئی تھی۔ زرکاش سیدھا اس کے پاس آنے کے بجائے ہاسٹل کے آفس میں زنائشہ کے بارے میں بات کرنے چلا گیا تھا‘ فون پر اس نے عرش کے بارے میں خوب نمک مرچ لگا کر زرکاش کو سب بتایا تھا اس کے بعد شاید زرکاش کو یہی بہتر لگا تھا کہ پہلے ہاسٹل کی انتظامیہ سے جواب طلبی کی جائے۔ اتنا وقت یونہی گزر گیا اور دراج کو یہی فکر کھائے جارہی تھی کہ جانے عرش اب تک زنائشہ کو لے کر کہاں سے کہاں نکل گیا ہو‘ اسے یقین تھا کہ عرش اب نہ زنائشہ کو واپس ہاسٹل لائے گا نہ ہی اس سے دستبردار ہوگا۔ دراج اسے اسی مقصد میں ناکام کرنے کے لیے پاگل ہوئی جارہی تھی‘ اس سے پہلے کہ اس کے صبر کی انتہا ہوجاتی‘ غنیمت ہوا کہ زرکاش کی آمد ہوگئی۔
’’میں یہاں پریشانی میں گھل رہی ہوں اور آپ ان بے پروا‘ غیر ذمہ دار لوگوں سے مذاکرات میں وقت برباد کررہے ہیں جن کو یہ بھی نہیں پتا کہ وہ اوباش انسان زنائشہ کو لے کر جانے کہاں غرق ہوچکا ہوگا‘ آپ کو پہلے میرے پاس آنا چاہیے تھا۔ سب کچھ میری موجودگی میں ہوا تھا‘ وہ میرے سامنے زنائشہ کو اغوأ کرکے لے گیا ہے‘ ان لوگوں نے تو کردیا تھا اس بدقماش آدمی کے حوالے میری دوست کو‘ وہ تو اس حالت میں بھی نہیں تھی کہ یہ دیکھتی اس کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے‘ میں کس منہ سے سامنا کروں گی اس معصوم لڑکی کا اگر اس کے ساتھ مزید کچھ غلط ہوا تو میں ہی ذمہ دار ٹھہرائی جاؤں گی کیونکہ میں نے بھی بزدلی کا مظاہرہ کیا‘ ڈٹ جاتی‘ مر جاتی مگر زنائشہ کو یوں ہاتھوں سے نہ نکلنے دیتی۔ آپ پہلی فرصت میں ہاسٹل والوں کی اس غیر ذمہ داری کی رپورٹ پولیس کو دیں۔‘‘ شدید غصے میں چیختی وہ اپنے آنسو بھی ضبط نہیں کرسکی تھی۔
’’اپنے آپ کو سنبھالو دراج… حالات کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرو‘ اس طرح رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ اس کی کیفیت کو زرکاش اچھی طرح سمجھ سکتا تھا سو پہلے نرمی سے سمجھا کر اسے بیٹھنے اور پانی پینے پر راضی کیا تاکہ اس کے منتشر حواس درست ہوں۔
’’اب غور سے میری بات سنو دراج… یہاں کسی نے کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا‘ اس شخص نے تمام ثبوت دکھائے ہیں جس کے بعد کوئی شک نہیں رہتا کہ وہ زنائشہ کا شوہر ہے جبکہ یہاں سب کے سامنے ان کا نکاح نامہ دیکھ کر تم خود اس بات کی تصدیق کرچکی ہو۔ یہ بھی بتا چکی ہو کہ وہی نکاح نامہ کورٹ کا جاری کیا ہوا زنائشہ کے پاس بھی موجود ہے ورنہ یہاں کی سیکیورٹی کا تمہیں پتا ہے‘ کسی غیر متعلقہ شخص کا ہاسٹل میں قدم رکھنا بھی ناممکن ہے جبکہ وہ شخص ہاسٹل کے روم تک پہنچ گیا تو صرف اس لیے کہ وہ زنائشہ سے تعلق بھی رکھتا ہے اور حق بھی۔ زنائشہ کی بگڑی طبیعت کی تصدیق کرنے والی سب سے پہلے تم تھیں‘ زنائشہ کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ اس کے شوہر کو روکا جاتا کہ وہ اسے ہسپتال نہ لے جائے‘ روکے جانے کا کوئی جواز نہیں تھا لیکن پھر بھی تمہاری ضد پر تمہیں ان دونوں کے ساتھ بھیجا گیا اب ہاسٹل کے باہر کے حالات کی ساری ذمہ داری تم پر عائد ہونی تھی مگر تم نے مجھے کال کرنے سے پہلے ہی سارا معاملہ بگاڑ دیا۔‘‘
’’زرکاش… میں یہ سب مانتی ہوں‘ ہر تصدیق کے ساتھ میں یہ تصدیق کرنے کو بھی تیار ہوں کہ ہوش و حواس میں زنائشہ کبھی اس نام نہاد شوہر کے ساتھ کہیں بھی جانے پر راضی نہ ہوتی۔‘‘ دراج درمیان میں بول اٹھی۔
’’میں یہی تمہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ زنائشہ ہوش و حواس میں نہیں تھی کہ مزاحمت کرتی مگر تم تو مکمل حواسوں میں تھیں۔‘‘ زرکاش نے جس طرح اس کی بات کاٹی چند لمحوں تک وہ سن بیٹھی اس کے سنجیدہ تاثرات دیکھتی رہی۔
’’مگر اس نے زبردستی مجھے گاڑی سے اترنے پر مجبور کردیا تھا اگر غصے میں‘ میں نے اسے بتادیا کہ زنائشہ اس سے نفرت کرتی ہے اس پر لعنت بھیج چکی ہے کہ وہ اسی قابل تھا تو یہ سچ ہے۔‘‘
’’تو اپنے سچ کا ردعمل دیکھ لیا تم نے۔‘‘
’’ہر سچ کہنے کے لیے نہیں ہوتا اگر کہنا ہی تھا تو موقع کی نزاکت کو پہلے دیکھنا چاہیے تھا تمہیں۔‘‘
’’زرکاش… میں نے جو بھی کہا مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ وہ اس طرح زنائشہ کو لے کر غائب ہوجاتا۔ اس کی نیت پہلے ہی ٹھیک نہیں تھی‘ میں خاموش رہتی تو بھی اس نے وہی کرنا تھا جو وہ کرچکا ہے‘ وہ اسی ارادے سے یہاں آیا تھا۔‘‘ دراج یک دم بھڑکتے لہجے میں بولی۔
’’ٹھیک ہے‘ میں مان لیتا ہوں کہ اس نے زنائشہ کی غفلت کا فائدہ اٹھایا لیکن اگر تم ضبط کا مظاہرہ کرلیتیں تو زنائشہ کے ساتھ ہوتیں۔ مجھے اتنا وقت مل جاتا کہ میں اس کے شوہر تک پہنچ جاتا یا کم از کم زنائشہ خود حالات کو فیس کرنے کی حالت میں آجاتی مگر تم نے سارے سچ اپنے طور پر ایسے نازک وقت میں بول دیئے کہ جسے سننے کے بعد وہ شخص یقینا حواس باختہ ہوگیا ہوگا اگر اسے یونہی بھاگنا ہوتا تو وہ تمہیں ہاسٹل کے گیٹ پر ہی چھوڑ کر فرار ہوجاتا۔ پتا نہیں وہ شخص کن حالات میں زنائشہ سے دور رہنے پر مجبور تھا‘ اتنے عرصے بعد جانے کس طرح اپنی بیوی تک پہنچا تھا۔ تمہارے ایسے سچ سننے کے بعد اس نے یونہی فرار ہونا تھا۔ بہرحال ہم یہاں کسی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے‘ اب ایک سچ میں بھی تمہیں بتانا چاہوں گا کہ وہ شخص اپنا ایڈریس‘ کانٹیکٹ نمبر وغیرہ سب غلط دے کر گیا ہے‘ فی الوقت اسے ڈھونڈنے کے لیے ہمارے پاس کوئی سراغ نہیں۔‘‘ زرکاش کی اطلاع پر دراج کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔
’’یہ اس شخص کی غلط فہمی ہے کہ وہ اپنے سچ‘ جھوٹ کے ہیر پھیر سے ہاسٹل والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے مگر وہ مجھے نہیں جانتا۔ میں تو اس کی پچھلی نسلوں تک بھی پہنچ جائوں گی باآسانی۔ فی الحال آپ ایسا کریں کہ مجھے اسی گیراج تک لے چلیں جہاں کل رات آپ گاڑی کی سروس کے لیے رکے تھے۔‘‘ اس کے چبھتے ہوئے مگر ذومعنی انداز نے زرکاش کو حیران کردیا تھا۔
’’میں سمجھا نہیں‘ کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘
’’مطلب یہ کہ اس شخص کا اتا پتا اسی گیراج سے ملے گا‘ کل رات وہ وہیں تھا اور کسی عفریت کی طرح زنائشہ کے تعاقب میں گاڑی کا پیچھا کرتا ہاسٹل تک پہنچا تھا۔‘‘
’’مگر وہ گیراج میں کہاں موجود تھا‘ مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا تم نے؟‘‘ زرکاش دنگ ہوا۔
’’بتایا تو مجھے بھی نہیں تھا زنائشہ نے مگر اس شخص کو دیکھ کر زنائشہ کی جو حالت تھی اس کے بعد شک تو مجھے وہیں ہوگیا بلکہ کسی حد تک یقین بھی مگر صبح تک یقین مستحکم بھی ہوگیا۔ آپ نے بھی یقینا اسے دیکھا ہوگا‘ وہ بلیک جیکٹ میں تھا اور…‘‘ دراج رکے بغیر عرش کا نقشہ کھینچتی زرکاش کو بری طرح چونکنے پر مجبور کر گئی تھی۔
’’دراج… تمہیں پورا یقین ہے کہ وہی شخص زنائشہ کا شوہر ہے جسے کل گیراج میں تم نے دیکھا اور آج ہاسٹل میں؟‘‘
’’بالکل سو فیصد وہی تھا‘ میں تو اب آنکھیں بند کرکے بھی اس فتنے کو پہچان سکتی ہوں‘ آپ اب مزید دیر مت کریں۔ پولیس کو ساتھ لے کر گیراج پہنچیں‘ اس شخص کے سب نام و نشان وہیں سے ملیں گے‘ وہ وہاں جس حیثیت سے بھی موجود تھا مگر گیراج میں کام کرنے والے سب اسے جانتے ہوں گے‘ سب سے بڑھ کر اسے پہچاننے کے لیے میں خود جو موجود ہوں۔‘‘ دراج تیز لہجے میں بولتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی جبکہ زرکاش جو پُرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا‘ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’دراج… میرا خیال ہے کہ ہمیں کسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے‘ زنائشہ کو کوئی مشکل بھی پیش آسکتی ہے بہتر یہی ہے کہ میں پہلے خود اس شخص سے ملاقات کروں اس کے ارادے دیکھوں پھر کوئی انتہائی قدم اٹھانے کی نوبت آئی تو ظاہر ہے عمل کرنا پڑے گا۔‘‘ زرکاش کچھ سنبھل کر بولا۔
’’اسے کوئی رعایت دینے کی ضرورت نہیں‘ ایک تو پہلے ہی آپ جرح اور میری غلطیوں کی نشان دہی کروانے میں اتنا وقت ضائع کرچکے ہیں اس کے بعد بھی آپ کو یہ سب عجلت لگ رہی ہے۔ آپ ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ گیراج چلیں‘ مجھے آج ہی ہر صورت زنائشہ کو اس شخص کے چنگل سے نکالنا ہے۔‘‘ وہ ہتھے سے اکھڑتی قطعی انداز میں فیصلہ سنا گئی تھی۔
’’بات کو سمجھنے کی کوشش کیا کرو دراج… وہ شخص کوئی اغوأ کار نہیں‘ زنائشہ کا شوہر ہے‘ زنائشہ کیا چاہتی ہے یہ جانے بغیر میں پولیس کو انوالو کرکے کوئی اور مصیبت کھڑی نہیں کرسکتا۔ تم پہلے ہی معاملہ بگاڑ چکی ہو‘ تمہاری موجودگی میں وہ شخص مجھ سے ملنے کے لیے بھی شاید تیار نہ ہو۔ میں تنہا گیراج جائوں گا اور میرے کال کرنے تک تم کسی سے بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کرو گی۔‘‘ یک دم زرکاش جس طرح برہم ہوا تھا‘ دراج ہک دک نظروں سے اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی جبکہ اس کی خاموشی کو غنیمت جان کر وزیٹنگ روم سے نکلنے میں زرکاش نے بالکل دیر نہیں کی تھی۔
٭ز…٭…ز٭
تیز چبھتی روشنی میں آنکھیں کھولنا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا مگر پھر دھیرے دھیرے وہ آنکھیں مکمل کھولنے میں کامیاب ہوگئی تھی‘ اردگرد نظر ڈالتے ہوئے اس کے تمام حواس بیدار ہورہے تھے۔ کشادہ کمرے کی آرائش سے سادگی اور نفاست جھلک رہی تھی مگر یہ اجنبی درو دیوار اور ماحول اسے غنودگی کی کیفیت سے مکمل نکالنے کے لیے کافی تھا۔ خالی دماغ میں آہستہ آہستہ گزرے حالات‘ واقعات بھی اس کی حسوں کے ساتھ بیدار ہوتے چلے گئے تھے‘ بمشکل وہ شدید نقاہت کے باوجود اپنے بے جان سے وجود کو کھینچتی اٹھ بیٹھی تھی۔ دل خوف اور اندیشوں سے ڈوبنے لگا تھا‘ وحشت زدہ نظروں سے ایک بار پھر اپنے اطراف میں دیکھتے ہوئے اس کی نگاہ دائیں جانب سائیڈ ٹیبل پر رکھی سنہری فریم میں جکڑی ایک تصویر پر ساکت رہ گئی تھی وہ اس تصویر میں نمایاں چہروں کو کیسے بھول سکتی تھی جو اس کی سانسیں روک رہے تھے۔ چند لمحوں تک وہ جامد و ساکت سناٹے میں گھری رہی مگر پھر اگلے ہی پل پیروں پر سے چادر دور جھٹکتے ہوئے اس نے وحشت ناک نظروں سے بند دروازے کی سمت دیکھا تھا۔
ساری صورت حال اسے خودبخود سمجھ آتی چلی گئی‘ دراج وہ ڈوبتے دل کے ساتھ چیختی بیڈ سے اتری تھی‘ چند لمحوں کے توقف کے بعد شدید اضطرابی کیفیت میں وہ لرزتے قدموں کے ساتھ دروازے کی سمت بڑھنے لگی تھی۔ چند قدم ہی وہ چلی تھی کہ دروازے کے باہر ابھرتی آہٹ نے اس کے پیر ساکت کردیئے تھے۔ دھیرے سے دروازہ کھلا اور اس کے ساتھ ہی اندر داخل ہوتے شخص نے جیسے اس کی روح کھینچ لی تھی‘ سفید لباس میں ملبوس وہ شخص اگر فرشتہ تھا بھی تو زنائشہ کے لیے وہ صرف موت کا فرشتہ ہی ثابت ہورہا تھا‘ پتھر بنی وہ وحشت سے پھٹی آنکھوں اور تھم کر رہ جانے والی سانسوں کے ساتھ اسے اپنی سمت بڑھتا دیکھ رہی تھی۔ دوسری جانب عرش کے لیے بہت مشکل تھا‘ اپنے جذبات اپنی بے قراریوں پر بند باندھے رکھنا‘ زندگی تو یہ تھی جسے کھو کر وہ سر پٹختا رہا تھا‘ محبت کا ماورائی چہرہ یہی تو ہے جسے واپس پانے کے لیے وہ تنہائیوں میں گریہ و زاری کرتا رہا تھا۔ اپنے سجدوں میں‘ اپنی دعائوں میں جسے وہ مانگتا رہا تھا‘ جسے بالآخر سجا سنوار کر تحفے کی صورت ایک بار پھر قدرت نے عطا کردیا تھا۔ وہ حقیقت میں مجسم اس کے روبرو تھی‘ ہاتھ بڑھا کر وہ اسے چھو سکتا تھا دل اسے محسوس کرنے کی تڑپ میں پگھل رہا تھا مگر دیدار کے رعب نے اس کی جرأت کو پست کردیا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اس کے بغیر تو وہ بس سانس لے رہا تھا‘ زندہ تو اب ہوا ہے‘ جانے کتنے الفاظ آتش فشاں بنے سینے کی دیواروں سے ٹکراتے شور مچانے کے لیے بے تاب ہورہے تھے۔ فراق میں جنم لینے والی ان گنت آہیں‘ کراہیں اس بت بے نیاز کے قدموں میں بکھرنے کے لیے تڑپ رہی تھیں۔ کڑی آزمائشوں سے لیس مسافتوں کے گلے شکوے‘ اذیتیں لبوں تک آنے کے لیے مچل رہی تھیں مگر چارہ ساز کے پہنچنے تک وجود میں جان کی ہلکی سی رمق ہی تو باقی رہ گئی تھی۔ زبان گنگ ہورہی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ بولنا تو دور کی بات وہ آہ تک نہ بھر سکے گا‘ بس ایک غبار تھا جو آنسوئوں کی صورت چارہ گر کے دامن کو تر کرسکتا تھا اس وقت تک جب تک کہ دل ہلکا نہ ہوجائے۔ سانسوں میں روانی نہ آجائے اور اس خواب ناک‘ زندگی سے بھرپور محبت کی تمام رعنائیوں سے مرقع وجود کے قریب ہونے کا یقین نہ آجائے تب تک… تب تک… شدت ضبط سے سرخ اور نم آنکھوں سے وہ یک ٹک زنائشہ کے متغیر چہرے کو دیکھ رہا تھا‘ وہ کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ تمام لفظ جیسے کھو گئے تھے مگر پھر بھی جانے کیا کہنے کی کوشش میں اس کے ہونٹ لرز رہے تھے‘ یوں لگ رہا تھا کہ جسے کسی بھی پل بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردے گا۔ یہ خوف حاوی تھا کہ وہ اس کے چھوتے ہی غائب نہ ہوجائے‘ کہیں یہ خواب ٹوٹ نہ جائے اور ایک بار پھر کہیں وہ تہی دست‘ تہی داماں نہ رہ جاتے۔ اس کے خوف کے باوجود جانے کس بے اختیاری کیفیت میں اس نے اپنے لرزتے ہاتھوں میں دھیرے سے زنائشہ کا فق چہرہ تھاما تھا‘ پھٹی آنکھوں سے یک ٹک عرش کے تمتمائے چہرے کو تکتی زنائشہ کو جیسے انگاروں نے چھولیا تھا۔ اپنے پیروں کے نیچے سے اسے ایک بار پھر زمین سرکتی محسوس ہوئی تھی‘ ایک جھٹکے سے عرش کے ہاتھ اپنے چہرے سے دور جھٹکتی وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی تھی اور وہ جو پہلے ہی جذبات کی شدت سے مغلوب اور سینے میں اٹھتی درد کی لہروں سے ادھ موا ہورہا تھا چند لمحوں کے لیے موت جیسے سناٹوں میں گھرا زنائشہ کی آنکھوں میں رقصاں خوف‘ وحشت اور اجنبیت کے تاثرات دیکھتا ساکت رہ گیا تھا‘ عرش کی آنکھوں میں کیا کچھ تھا یہ دیکھنے کی اسے کوئی چاہ نہ تھی۔ بدحواسی میں وہ سرعت سے کھلے دروازے کی سمت بڑھی تھی مگر بروقت اس کے ارادے بھانپتا عرش دوسرے ہی قدم پر اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں جکڑ گیا تھا۔ زنائشہ کے حلق سے بلند ہوتی وحشت ناک چیخ عرش کے دل و دماغ کے پرخچے اڑا گئی تھی۔ زنائشہ اپنا ہاتھ اس کی مضبوط گرفت سے نکالنے کی کوشش میں ادھ موئی ہورہی تھی حتیٰ کہ وہ دنگ نظروں سے اسے دیکھتا اس صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔
’’مجھے یہاں سے جانے دو۔‘‘ کوشش میں ناکام ہوتی وہ حلق کے بل اس پر چیخی۔
’’کیوں… کیوں دور بھاگ رہی ہو مجھے سے؟ کیوں جانا چاہتی ہو تم یہاں سے؟‘‘ زنائشہ کی آنکھوں میں ابلتے غصے‘ نفرت و کراہیت کو بے یقینی سے دیکھتا وہ بمشکل بول سکا۔
’’میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گی‘ میں نہیں جانتی تمہیں‘ مجھے جانے دو یہاں سے۔‘‘ اپنا ہاتھ آزاد کروانے کے لیے جدوجہد کرتی وہ پھر چیخی جبکہ عرش کو لگا تھا جیسے بہت اونچائی سے کسی نے اسے دھکا دے دیا ہو‘ زنائشہ کے الفاظ برچھی بن کر سینے میں پیوست ہوئے تھے۔
’’کیا کہا تم نے‘ تم مجھے نہیں جانتیں؟‘‘ شدید صدمے سے اسے دیکھتے ہوئے عرش کے تاثرات تن گئے تھے۔ ’’کیوں مجھے کند چھری سے یوں ذبح کررہی ہو؟ کیوں ایک بار پھر مجھے جہنم میں غرق کردینا چاہتی ہو تم؟‘‘ شدید اذیت سے عرش کا لہجہ گھٹ گیا۔
’’میں مر تو سکتی ہوں مگر ایک منٹ بھی اور یہاں نہیں رک سکتی۔ میں تم جیسے غلیظ انسان کی صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی‘ دور رہنا چاہتی ہوں تمہارے سائے سے بھی۔ چھوڑ دو میرا ہاتھ…‘‘ بڑھتی گرفت کی اذیت سے وہ طیش میں غرائی تھی جبکہ عرش کی رگوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
’’میں غلیظ انسان ہوں… یہ آج تمہیں یاد آیا ہے؟ یہ تم نے اس وقت کیوں نہ یاد رکھا جب مجھ سے تعلق باندھا تھا‘ یہ سچ اس وقت تم کیسے بھول گئی تھیں۔ جب مجھ سے محبت کی تھی‘ آخری سانس تک ساتھ رہنے کا عہد کیا تھا‘ بتائو مجھے؟‘‘ سرخ چہرے اور بھینچے لہجے کے ساتھ سوال کرتا وہ بخوبی اپنے لیے زنائشہ کی آنکھوں میں نفرت اور حقارت دیکھ سکتا تھا۔
’’کل رات میں یہی سوچ کر خود کو سمجھاتا رہا تھا کہ تم مجھ سے دور نہیں بھاگ رہی ہو‘ بس مجھ سے بدظن ہو‘ بدگمان ہو‘ خفا ہو اور اس سب کے لیے تم حق بجانب ہو مگر اب مجھے اندازہ ہورہا ہے حقیقت کا۔ یقین ہورہا ہے مجھے کہ میرے منظر سے ہٹتے ہی تمہیں احساس ہوا کہ مجھ جیسے غلیظ انسان سے تعلق جوڑ کر تم نے کتنی بڑی غلطی کر ڈالی… میری غیر موجودگی نے تمہارے پچھتاوے کو پختہ کردیا اور اسی لیے تم نے اپنے پیچھے ایسا کوئی نشان تک نہیں چھوڑا کہ جس کے ذریعے میں دوبارہ تم تک پہنچ سکتا۔ مجھے اب احساس ہوا ہے کہ کل رات تم نے مجھ سے منہ نہیں پھیرا تھا بلکہ میرے منہ پر طمانچہ مارا تھا‘ اس کا یقین مجھے اس وقت تمہاری نفرت اور حقارت دیکھ کر ہوچکا ہے۔ تمہیں موقع ملا اور تم مجھ سے جان چھڑا گئیں‘ ہر جذبے‘ ہر تعلق پر مٹی ڈال کر بھاگ گئیں میری پہنچ سے دور اور اب تک بھاگ رہی ہو ورنہ ایک ہی شہر میں دن رات تمہاری تلاش میں سرگرداں میں مرمر کر نہ جی رہا ہوتا۔‘‘ وہ بلند آواز میں بولا جبکہ اس کی کمزور پڑتی گرفت سے اپنا ہاتھ جھٹک کر نکالتی زنائشہ نے زہرخند نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میرے لیے کوئی راستہ باقی چھوڑا تھا تم نے جو میں کہیں بھاگ جاتی‘ جان چھڑا کر میں نہیں تم بھاگے تھے۔ نت نئے شوق تمہارے منہ کو لگے تھے بدکردار انسان‘ تم کہاں ساری زندگی کسی ایک پر صبر کرسکتے تھے۔ گھاٹ‘ گھاٹ پر منہ کالا کیے بغیر تھا تمہارا گزارہ؟‘‘ خون خوار انداز میں چیختے ہوئے زنائشہ کی آواز یک لخت اس لمحے بند ہوئی تھی جب اس نے عرش کو انتہائی جارحانہ انداز میں اپنی طرف قدم بڑھاتے اور پھر یک دم رکتے دیکھا تھا‘ اس کی خون رنگ آنکھوں اور چہرے کے بپھرے تاثرات سے زنائشہ کو لگا تھا کہ اب عرش کا ہاتھ اٹھے گا اور اس کے چہرے پر نشان چھوڑ جائے گا مگر جانے کیوں ایسا ہوا نہیں تھا۔ زنائشہ کے دو دھاری لفظوں نے اس کے سینے کو زخموں سے بھردیا تھا۔
رگوں میں ابلتے لہو میں انگارے دوڑ گئے تھے‘ بڑھتا اشتعال مقابل کی دھجیاں اڑا دینے کے لیے کافی تھا مگر وہ یہ نہیں بھول سکتا تھا کہ اس کے مقابل کون ہے‘ کون ہے کہ جس کی نفرت کا پھندہ گردن میں تنگ ہوتا اسے زمین و آسمان کے درمیان معلق رکھے ہوئے تھا۔
’’زنائشہ… تمہاری زبان سے یہ سب سننے سے پہلے مجھے واقعی زندہ نہیں رہنا چاہیے تھا۔‘‘ زنائشہ کی خونخوار نگاہوں میں دیکھتا وہ بھینچے لہجے میں بولا۔
’’میں ہر بار اسی یقین کے سہارے تم تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہا تھا کہ کم از کم ایک انسان تو اس دنیا میں جس سے میرا گہرا‘ اٹوٹ رشتہ ہے۔ وہی رشتہ جسے آسمانوں میں کہیں جوڑا گیا تھا‘ سانس لینے کے لیے یہ احساس کافی تھا کہ ایک انسان کے پاس تو وہ آنکھیں ہیں جسے میرے وجود میرے دامن پر لگے داغ نظر نہیں آسکتے‘ جسے کبھی غلاظت میں لتھڑی میری روح سے بھی گھن محسوس نہیں ہوئی تھی‘ اس انسان پر یقین کے سہارے میں نے اپنے شب و روز دو ہی کام پوری دیانت داری سے کرتے ہوئے گزارے۔ ایک اس قیمتی انسان کو تلاش کرنا‘ دوسرا اپنے گناہوں کی معافی اللہ سے مانگتے رہنا‘ تمہیں اللہ سے مانگنا کام نہیں تھا۔ میرے سانس لینے کی وجہ اور ضرورت تھی‘ ضرورت اس لیے کہ میں تمہارے لیے زندہ رہنا چاہتا تھا جو خواب تمہاری آنکھوں میں‘ میں نے دیکھے تھے‘ ان کو تعبیر دینے کے لیے مجھے دار پر لٹکتے ہوئے بھی سانس لیتے رہنا تھا‘ ہر سانس میں‘ ہر گھڑی تمہیں مانگنا۔ گزرے ماہ و سال میں بس یہی سب کچھ رہا میری زندگی میں‘ کل رات اچانک تمہیں اپنے سامنے دیکھ کر مجھے یہ یقین کرنے میں دیر لگی کہ میرے گناہ معاف کردیئے گئے ہیں‘ اسی لیے قدرت نے مجھے ایک بار پھر تم سے نواز دیا۔ تم ثبوت تھیں میری دعائوں کے مقبول ہوجانے کی مگر آج میرے سب یقین ملیا میٹ ہوچکے ہیں‘ آج تم نے دوبارہ مجھے اسی غلاظت میں دھکیل دیا جس سے باہر نکلتے نکلتے میری روح تک چھلنی ہوگئی تھی۔ آج تمہیں اپنی دسترس میں‘ اپنے روبرو دیکھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہورہا ہوں کہ اگر میں تمہارے مل جانے کی دعائیں مانگتا ہی رہ جاتا تو کم از کم آس اور امید کے سہارے زندہ تو رہ جاتا مگر آج تم نے مجھے مار دیا ہے اپنے لفظوں سے‘ اپنی نفرت سے۔ کل رات تمہیں مجھ تک نہیں آنا چاہیے تھا یا ماضی میں مجھے اپنی ذات سے‘ اپنی زندگی سے محبت کرنے کا درس نہیں دینا چاہیے تھا۔ اتنی نفرت مجھے اپنے آپ سے پہلے کبھی نہیں ہوئی جتنا کہ اب ہورہی ہے۔‘‘ دزدیدہ نظروں سے اسے دیکھتا وہ زخم خوردہ لہجے میں بولا۔
’’تمہیں خود سے نفرت ہونی بھی چاہیے کیونکہ تم اس نفرت کے حق دار ہو‘ تم پر بھروسہ کرنے جیسی بھیانک غلطی کے بعد میں بھی آج تک اپنی ذات سے نفرت کرتی رہی ہوں مگر اس ایک غلطی کی سزا کے طور پر مجھے موت تو قبول ہے لیکن تمہارے اس جہنم میں چند لمحے بھی رکنا گوارا نہیں‘ مجھے اس دوزخ میں روکنے کی کوشش بے کار ہے۔‘‘ زہرخند لہجے میں بولتی وہ ایک بار پھر دروازے کی سمت بڑھنا چاہتی تھی مگر عرش نے ایک قدم بھی اسے اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیا۔ شدید اذیت کے باعث زنائشہ کے حلق سے کراہ بلند ہوئی تھی۔
’’لہو تھوکتا رہا ہوں تمہارے لیے‘ اتنی آسانی سے تم مجھے یوں ٹھوکر مار کر نہیں جاسکتیں۔‘‘ اس کے بال مٹھی میں جکڑے وہ شعلہ باز لہجے میں بولا‘ سرخ انگارہ آنکھوں اور اس کے جارحانہ سلوک نے زنائشہ کو سن کردیا تھا۔
’’اس گھر کی بنیادوں میں میرے ماں باپ کی محبت ان کے خواب شامل ہیں‘ تمہیں اس گھر تک لانا میری زندگی کا سب سے بڑا ارمان تھا‘ اس گھر کو میری اس جنت کو دوزخ کا نام دے کر تم نے مجھ سے زیادہ میرے ماں باپ کو اذیت پہنچائی ہے۔ توہین کی ہے ان کی‘ اب اس گھر سے تم تو کیا تمہارا سایہ بھی باہر نہیں جاسکتا‘ اپنے ہاتھوں سے یہیں دفن کروں گا تمہیں۔‘‘ بھڑکتے لہجے میں غراّتے ہوئے عرش نے ایک جھٹکے سے اسے آزاد کیا‘ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ منہ کے بل گری تو پھر اٹھ نہ سکی۔ دوسری جانب وہ مزید کچھ کہے بغیر تیز قدموں سے باہر نکل گیا تھا۔ دروازہ دھماکے سے بند کرنے کے بعد وہ نہیں جانتا تھا کہ کس طرح اسٹیئرز تک پہنچا تھا‘ وجود خلاء میں تھا‘ پیروں تلے زمین محسوس ہی نہیں ہورہی تھی۔ دوسرے ہی اسٹیپ پر رکتا وہ ریلنگ کا سہارا لیتا مزید قدموں پر کھڑا نہیں رہ سکا تھا۔
گردن موڑ کر اس نے جلتی نگاہوں سے بند دروازے کو دیکھا تھا‘ کاری وار اس کے اعصاب کو بری طرح توڑ پھوڑ گئے تھے‘ یہ سب تو نہیں چاہا تھا اس سب کے لیے تو ریاضتیں نہیں کی تھیں۔ دماغ مائوف تھا کہ سنگ دلی کی حد اس نے توڑ ڈالی تھی جو زندگی اور قسمت سے بھی زیادہ بڑھ کر ظالم ثابت ہوئی تھی۔ سر ہاتھوں میں تھامے وہ اپنی جلتی آنکھوں سے بہتے گرم سیال کو چہرے پر بکھرتا محسوس کررہا تھا۔
٭ز…٭…ز٭
طائرانہ نگاہوں سے کیبن کا جائزہ لیتے ہوئے زرکاش یہی سوچ رہا تھا کہ اسے بات کا آغاز کس طرح کرنا ہوگا کہ بہرحال یہ کسی کا بہت ذاتی قسم کا معاملہ تھا۔ دراج کی طرف سے دبائو نہ ہوتا تو بھی یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ زنائشہ کے سلسلے میں وہ عرش سے ملے۔ دراج نے کل رات گیراج میں موجود جس شخص کی نشان دہی کرتے ہوئے انکشاف کیا وہ اس کے لیے بہت ناقابل یقین تھا۔ اب تک وہ حیرت اور تعجب میں مبتلا تھا اگر وہ پہلے سے عرش کو جانتا‘ پہچانتا نہ ہوتا تو کبھی اس قدر نہ الجھتا۔ شہرام کی بدولت عرش سے اس کا تعارف ہوچکا تھا‘ وہی عرش سے اس کی پہلی سرسری سی ملاقات تھی‘ ایک شام اتفاق سے شہرام سے کوریڈور میں ملاقات ہوئی‘ اسی دوران وہاں عرش آتا دکھائی دیا تو شہرام نے بتایا کہ وہ بھی ان کا بھائی ہے‘ اس تعارف نے زرکاش کو کافی حیران کیا تھا حالانکہ وہ اس سے پہلے شقران سے بھی مل چکا تھا مگر ایسی حیرانی نہیں ہوئی تھی۔ اس کی شخصیت شہرام اور شقران سے بالکل مختلف تھی کسی طور بھی عرش ان دونوں سے مشابہت نہیں رکھتا تھا مگر زرکاش کو اس کی شخصیت بہت پسند آئی تھی اس پر نظر کا ٹھہر جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی۔ شہرام کی وجہ سے عرش کو قدم روکنے پڑے تھے‘ ان کے تعارف کروانے پر بس اشارے سے اس نے زرکاش کو سلام کرنے پر ہی اکتفا کیا اور عجلت میں ہی شہرام سے شقران کی گھر میں موجودگی کا پوچھتا آگے بڑھ گیا تھا۔
’’برا مت ماننا زرکاش… یہ ذرا اپنے آپ میں مگن رہنے والا بندہ ہے۔ گھر بھر کے چہیتے ہیں اس لیے مزاج ذرا کم ہی ملتے ہیں۔‘‘ شہرام نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
’’بالکل نہیں‘ آپ اتنے فارمل نہ ہوں‘ ویسے بھی بندہ ضرورت سے زیادہ حسین و جمیل ہو تو مزاج ذرا کم ہی ملتے ہیں۔‘‘ زرکاش نے ہلکے پھلکے انداز میں مسکرا کر کہا تھا۔
’’اگر ایسا ہے تو اس حساب سے تمہارے مزاج تو بالکل نہیں ملنے چاہئیں۔‘‘ شہرام برجستہ بولے تھے۔
’’ایسا ہونا تو چاہیے مگر میں آپ کی طرح عاجزی اور کسر نفسی سے کام لیتا ہوں۔‘‘ شہرام بے ساختہ ہنسا تھا۔
اس سرسری ملاقات کے بعد زرکاش نے دوبارہ کل رات ہی گیراج میں عرش کو دیکھا تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ کل عرش نے اسے دیکھا یا نہیں‘ یا یہ کہ دیکھا بھی ہے تو پہچانا بھی تھا یا نہیں۔
کھلتے گلاس ڈور کی مدھم آواز پر زرکاش چونک کر متوجہ ہوتا چیئر سے اٹھا تھا۔ اسے امید نہیں تھی مگر عرش نے کافی خوش اخلاقی اور گرم جوشی سے اس بار مصافحہ کیا تھا۔
’’اگر فون پر مجھے آپ کی یہاں آمد کا معلوم نہ ہوتا تو آج میرا یہاں آنے کا ارادہ نہیں تھا‘ تشریف رکھیے۔‘‘ اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا وہ ٹیبل کے دوسری جانب چلا گیا‘ اس مختصر وقت میں زرکاش نے مکمل اس کا جائزہ لے لیا تھا۔ رائل بلیو شرٹ کی سلیوز کہنیوں تک چڑھائے وہ اس وقت بھی کافی عجلت میں لگ رہا تھا اس کی آنکھوں کی سرخی اور لہجے کا بھاری پن زرکاش کی نگاہوں سے چھپ نہیں سکا تھا‘ اس کی مسکراہٹ بھی زرکاش کو جبری اور مصنوعی لگی تھی۔
’’پھر تو مجھے معذرت کرنی چاہیے کیونکہ میری وجہ سے تمہیں یہاں آنے کی زحمت اٹھانی پڑی۔‘‘
’’بالکل نہیں‘ شرمندہ مت کریں‘ زحمت تو آپ نے کی ہے‘ گاڑی کا کوئی مسئلہ یا معاملہ تھا تو آپ بھائی کو کال کردیتے۔ میں گیراج سے کسی کو بھیج دیتا۔‘‘
’’نہیں‘ میں گاڑی کے کسی سلسلے میں یہاں نہیں آیا ہوں۔‘‘ زرکاش کے کہنے پر اس کے بے حد سنجیدہ تاثرات میں حیرانی بھی ابھر آئی تھی۔
’’میں جس معاملے پر تم سے بات کرنے آیا ہوں وہ ذرا الگ نوعیت کا ہے اگر تم مجھے تھوڑ اوقت دے سکو تو…‘‘
’’ضرور‘ آپ کے لیے وقت ہی وقت ہے جو بات بھی ہے بلا جھجک کیجیے۔‘‘ عرش کے فوراً کہنے پر زرکاش نے کچھ سنبھل کر اسے دیکھا۔
’’میں تم سے زنائشہ کے سلسلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا نام لیا آپ نے؟‘‘ عرش بری طرح چونکا‘ ایک پل کو اسے یہی لگا کہ اس کی سماعتوں کو دھوکا ہوا ہے۔
’’زنائشہ کا ہی نام لیا ہے میں نے‘ وہ اس وقت کہاں ہے؟‘‘ زرکاش کے مزید کہتے وہ چند لمحوں تک دنگ نظروں سے اسے دیکھتا رہا مگر پھر اس کے چہرے کے تاثرات تن گئے تھے۔
’’آپ اسے کیسے جانتے ہیں اور کس حیثیت سے اس کے بارے میں مجھ سے سوال کررہے ہیں؟‘‘ عرش کا لہجہ سپاٹ اور سرد ہوگیا تھا۔
’’ہاسٹل میں تم زنائشہ کی دوست اور روم میٹ سے ملے ہوگے‘ دراج میری کزن بھی ہے۔‘‘
’’تو پھر؟‘‘ حسب توقع عرش کے چہرے پر ہی نہیں لہجے میں بھی ناگواری اتر آئی تھی۔
’’زنائشہ کافی عرصے سے میری ایمپلائی ہے اور…‘‘
’’تو کیا آپ اپنی کمپنی کے تمام ایمپالائز کے بارے میں اسی طرح پوچھ گچھ کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں؟‘‘ عرش کے چبھتے ناگوار لہجے پر زرکاش فوری طور پر کچھ بول نہیں سکا۔
’’اور بہت معذرت کے ساتھ‘ اپنی جس کزن کا آپ نے ابھی نام لیا ان کا نام تک میں دوبارہ نہیں سننا چاہتا کیونکہ جو کچھ میں جان چکا ہوں اس کے بعد مجھے اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ زنائشہ پر ان کے اثرات کافی گہرے رہے ہوں گی۔‘‘ عرش انتہائی سرد اور خشک لہجے میں بولا۔ ’’میں اپنے اس ذاتی معاملے پر کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا‘ وہ آپ ہی کیوں نہ ہوں‘ مجھے امید ہے کہ اس معاملے کو اپنی طرف سے آپ یہیں ختم کرکے جائیں گے‘ آپ کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’میں اس معاملے کا پرچار کرنے کا ارادہ رکھتا بھی نہیں ہوں۔ کل گیراج میں میں نے بھی تمہیں دیکھا لیکن تم سے زنائشہ کے تعلق کے بارے میں مجھے آج دراج سے معلوم ہوا میں یہاں اپنی الجھن اس لیے بھی دور کرنے آیا ہوں کیونکہ شہرام کے بھائی کی حیثیت سے میں تمہیں جانتا ہوں مگر فی الوقت میں نے یہ بات دراج سے چھپائی ہے اگر اسے بھنک بھی لگ گئی تو وہ کسی طور صبر نہیں کرے گی۔ زنائشہ سے اس کا تعلق بہت گہرا ہے‘ وہ بہت جذباتی ہے میں جانتا ہوں کہ تمہاری موجودگی میں اس نے ضبط کا مظاہرہ نہیں کیا ہوگا یقینا اس نے مشتعل کردینے والی بات کی ہوگی اس کے لیے میں تم سے معذرت چاہتا ہوں‘ تمہارے کسی ذاتی معاملے میں یقینا مجھے دخل دینے کا بالکل حق نہیں لیکن میں اپنی الجھن سے زیادہ دراج کی وجہ سے تمہارے پاس آنے پر مجبور ہوا ہوں۔‘‘
’’زرکاش… آپ مجھے یہ سب مت بتایئے‘ برائے مہربانی آپ اپنا اور میرا وقت برباد مت کیجیے‘ میں آپ کی عزت کرتا ہوں جب تک میں زنائشہ اور اپنے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں کرلیتا تب تک میں آپ کی کوئی الجھن دور کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘ عرش اس کی بات کاٹتا قطعی انداز میں بولا۔
’’عرش… تم میری پوری بات سن لو پہلے‘ مجھے تمہارے اور زنائشہ کے معاملے سے کوئی سروکار نہیں۔ تم شہرام کے بھائی ہو‘ زنائشہ کے شوہر ہو میرے اطمینان کے لیے یہ بہت ہے مگر دراج کے لیے تمہیں لچک رکھنی پڑے گی۔‘‘ زرکاش کا لہجہ کچھ برہم ہوا۔
’’اگر میں ایسا نہ کروں تو؟‘‘ عرش نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’تو پھر مجبوراً مجھے شہرام سے بات کرنی ہوگی۔‘‘ زرکاش صاف گوئی سے بولا۔
’’آپ مجھے بلیک میل کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں‘ خوب۔‘‘ عرش نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ہرگز نہیں‘ میں کہہ چکا ہوں کہ مجبوراً مجھے یہ کرنا پڑے گا‘ دراج اور زنائشہ کے درمیان بہت گہرا جذباتی تعلق ہے۔ دراج اس کے لیے بہت پریشان ہے‘ میں اسے تکلیف میں دیکھ سکتا ہوں ناں دراج کے آنسو برداشت کرسکتا ہوں کیونکہ میرے لیے وہ صرف ایک کزن نہیں ہے۔ آگے تم خود سمجھ دار ہو‘ مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ زرکاش کے خاموش ہونے پر وہ جو بغور اسے دیکھ رہا تھا‘ گہری سانس لے کر یوں سر ہلایا جیسے سمجھ گیا ہو۔
’’اگر یہ بات ہے تو مجھ سے زیادہ بہتر آپ کی مجبوری کو کوئی اور نہیں سمجھ سکتا خیر آپ اپنی بات مکمل کرلیں۔‘‘ عرش نے سنجیدگی سے کہا۔
’’میں بس تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کم از کم دراج کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ اسے معلوم ہو زنائشہ کیسی ہے‘ کس حال میں کہاں ہے۔ ان دونوں کا ساتھ تقریباً پانچ سال سے زیادہ کے عرصے پر محیط ہے‘ دراج کچھ زیادہ ہی اٹیچڈ ہے اس سے ظاہر ہے دن رات کا‘ دکھ سکھ کا طویل ساتھ رہا ہے شاید تمہیں معلوم نہ ہو کہ دراج کی اس سے پہلی ملاقات بہت گمبھیر قسم کی رہی ہے۔ میں خود اس کا گواہ ہوں‘ کیا تم یقین کرو گے کہ زنائشہ خودکشی کے ارادے سے میری گاڑی کے سامنے آئی تھی؟‘‘ ایک پل کو رک کر زرکاش نے عرش کے بدلتے تاثرات کو دیکھا۔
’’وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہوسکی‘ اسے ایک نئی زندگی کی طرف لانے میں دراج کا بہت عمل دخل رہا ہے‘ باقی کے حالات زنائشہ تمہیں زیادہ اچھی طرح سے بتاسکتی ہے جہاں تک میری بات ہے تو میں یہ تک نہیں جانتا تھا کہ زنائشہ کے شوہر کا نام کیا ہے‘ ایک دو بار میں نے دراج سے کہا کہ زنائشہ اپنے شوہر کے بارے میں مجھے بتائے تو میں اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں مگر زنائشہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔ وہ میری کمپنی کے سینئر ایمپالائز میں سے ایک ہے‘ دراج سے بہت کلوز ہے اس لیے میرے لیے قابل عزت ہے‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ان دونوں کو الگ نہ کرو۔ دراج ہی نہیں زنائشہ بھی اچانک یہ سب ذہنی طور پر قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگی۔ تم ان دونوں کو کم از کم فون پر رابطہ کرنے کی اجازت دو‘ دراج کی وجہ سے مجھے تم پر یہ دبائو ڈالنا پڑ رہا ہے۔ امید ہے کہ تم میری پوزیشن کو بھی سمجھو گے۔‘‘
’’مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ میری غیر موجودگی میں آپ اور آپ کی کزن نے زنائشہ کو سپورٹ کیا ہے‘ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ وہ آپ جیسے اچھے لوگوں کے حصار میں محفوظ رہی ہے۔ حالات کچھ ایسے رہے کہ میں کوشش کے باوجود زنائشہ تک نہیں پہنچ سکا۔ اب جبکہ وہ میرے پاس ہے تو میرا یہ بالکل ارادہ نہیں کہ اسے سب سے کاٹ کر اپنی ذات تک محدود رکھوں مگر آپ کو اندازہ ہوگا کہ میری اتنے طویل عرصے کی گمشدگی نے زنائشہ کو کس حد تک میرے خلاف اور بدظن کر رکھا ہوگا۔ میں آپ کا مقصد سمجھ چکا ہوں اس لیے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں جب تک اس کی بدگمانیاں دور کرکے اسے خود بھی تیسرے شخص کی مداخلت سے بچا کر رکھنا چاہتا ہوں۔ میرے اپنے گھر والے بھی زنائشہ کے مل جانے سے تب تک لاعلم رہیں گے حالانکہ وہ سب زنائشہ کے حوالے سے سب جانتے ہیں‘ یہ بھی کہ وہ میری بیوی ہے مگر وقت کے ہیر پھیر نے ہمیں جدا کردیا تھا۔ زنائشہ سے جب میرا تعلق بنا اس وقت میں بالکل تنہا تھا مگر اس سے جدا ہوجانے کے بعد قدرت نے مجھے کچھ محبت کرنے والے مقدس رشتے عطا کردیئے۔ زنائشہ ان سب سے لاعلم ہے ہوسکتا ہے ان سب کو میری زندگی میں قبول کرنا اس کے لیے مشکل ہو لیکن یہ تب بہت مشکل نہیں رہے گا جب وہ مجھ سے راضی ہوجائے گی جب میں دوبارہ اس کا اعتبار جیت لوں گا۔ آپ کی مشکل کو سمجھتے ہوئے مجھے آپ کی کزن سے زنائشہ کی بات کروانے میں کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ وہ زنائشہ کو اکسانے والی کوئی بات نہ کریں۔‘‘
’’اس تعاون کے لیے میں تمہارا شکر گزار رہوں گا‘ میں دراج کو بھی سمجھادوں گا کہ وہ زنائشہ سے ایسی کوئی بات نہیں کر جو تمہاری مشکل کو بڑھائے اس طرح سے بھی مطمئن رہو کہ اس معاملے کی کوئی بھنک تمہارے گھر تک پہنچے گی۔ اپنے گھر والوں کو تم زنائشہ کے بارے میں کب بتاتے ہو یہ تمہارا الگ نوعیت کا اپنا معاملہ ہے۔ میری طرف سے تمہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی‘ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم جلد از جلد سب کچھ ٹھیک کرو‘ زنائشہ بہت سمجھ دار اور ذمہ دار لڑکی ہے وہ یقینا تمہاری تمام پرابلمز سے آگاہ ہونے کے بعد راضی ہوجائے گی مجھے پوری امید ہے۔‘‘ زرکاش نے کہا۔
’’مجھے بھی یہی امید ہے اور اگر آپ کو ناگواری نہ ہو تو یہ کرسکتے ہیں کہ زنائشہ کا ضروری سامان پیک کروا کے مجھ تک پہنچادیں۔ آپ کی کزن یہ کام کرسکتی ہیں؟‘‘
’’ضرور‘ تم یہاں کب تک ہو؟‘‘ زرکاش نے پوچھا۔
’’آپ اگر آج ہی یہ کام کرواسکتے ہیں تو مجھے بتادیں وقت‘ میں یہیں ملوں گا۔‘‘
’’دراصل مجھے یہاں سے ہاسٹل ہی جانا ہے تو میں زنائشہ کا سامان بھی پیک کروا دیتا ہوں۔ ایک گھنٹے بعد میں آتا ہوں یہاں۔‘‘ زرکاش نے رسٹ واچ میں وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
٭ز…٭…ز٭
جانے کتنا وقت گزر گیا تھا‘ نرم دبیز کارپٹ پر وہ اسی طرح منہ چھپائے جامد و ساکت ہوچکی تھی‘ اپنی بے بسی اور وقت کی سفاکیوں پر سسکتے ہوئے اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ وجود غم کی شدت سے لاغر ہوچکا تھا‘ ماضی کی لغزشیں اس کے حال کو برباد اور مستقبل کو تاریک کردینے کے درپے تھیں‘ اسے اپنی انتھک محنت‘ جدوجہد‘ حوصلے یہاں تک کہ اپنا وجود بھی خاک میں ملتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے بند دروزے سے سر ٹکرانے کی کوشش کی تھی‘ نا فرار کے لیے کوئی روزن تلاش کرنے کی کوشش کی‘ وہ بس یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وقت اسے اب اور کس حد تک‘ کہاں تک تباہ کاریوں کی طرف دھکیلتا ہے‘ اب انتہائی سوجی آنکھوں کے دکھتے پپوٹے کھولتی وہ بمشکل اٹھ بیٹھی تھی۔ نقاہت کی وجہ سے یک دم آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیلا تھا‘ بھاری دکھتے سر کو ہاتھوں میں سنبھالے وہ چند لمحوں تک آنکھیں بند کیے ساکت رہی تھی۔ کچھ دیر بعد سر اٹھا کر اس نے وال کلاک میں وقت دیکھا جس میں رات کے اٹھ بجنے والے تھے۔
ڈوبتے دل کے ساتھ دراج کا خیال آرہا تھا جانے فکر و پریشانی میں اس کا کیا حال ہوچکا ہوگا‘ ایک بار پھر اس کی آنکھیں دھندلا گئی تھیں۔ بخار میں پھنکتے وجود کے ساتھ وہ خود کو کھینچتی کچھ فاصلے پر موجود سائیڈ ٹیبل تک آئی اور اس سے پشت ٹکالی تھی‘ گھٹنوں کے گرد ہاتھ لپیٹتے ہوئے اس نے اپنا سر گھٹنوں پر رکھ لیا تھا‘ وہ نہیں جانتی تھی کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے مگر کچھ اچھا ہونے کی امید بھی اسے نہیں تھی البتہ دل کو یہ یقین ضرور تھا کہ دراج نے زرکاش کو سب کچھ بتادیا ہوگا اور وہ دونوں اس تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہوں گے۔ اسے اب کسی انہونی کا ہی انتظار تھا‘ عرش کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی اس کی وحشت حد سے تجاوز کررہی تھی کیونکہ وہ باور کروا گیا تھا کہ اپنی دسترس سے وہ اسے نکلنے نہیں دے گا۔ اس کے تیور بھی اس کے ارادوں کی تصدیق کرچکے تھے‘ سوچنے‘ سمجھنے کی ہمت بھی اس میں زیادہ نہیں رہی تھی مگر کہیں نہ کہیں دل میں اس نے پہلے ہی تہیہ کرلیا تھا کہ وہ بھی آسانی سے عرش کے سامنے زیر ہوکر ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ اس کی زندگی ہی کیوں نہ خطرے میں پڑ جائے‘ زندگی سے کوئی لگائو اب باقی بھی نہ رہا تھا‘ عرش کا چہرہ دیکھنے کے بعد تو بالکل بھی نہیں‘ بس ایک نفرت کا جذبہ تھا جسے وہ چھپا کر رکھنا نہیں چاہتی تھی۔ بخار کی شدت اور اعصابی انتشار نے اسے بری طرح نڈھال کردیا تھا‘ نفرت اور اشتعال کے الائو اس کے گرد بھڑک رہے تھے۔ آنکھیں انگاروں کی طرح سلگ اٹھی تھیں۔ گہری خاموشی میں دروازے پر ہوتی آہٹ نے اسے ہوشیار کردیا تھا مگر اس نے گھٹنوں سے سر نہیں اٹھایا تھا‘ عرش چند لمحوں تک اس کی جانب دیکھتا رہا۔ جان گیا تھا کہ وہ اس کی آمد سے بے خبر نہیں ہے مگر یقینا وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق جو کھانا اور دوائیں وہ لایا تھا وہ سب سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے پھر بغور زنائشہ کو دیکھا اور اگلے لمحے بہت خاموشی سے اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا گیا۔
’’تم بے شک نفرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھو مگر میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے دیکھو شاید میرے چہرے‘ میری آنکھوں سے تم ان تمام اذیتوں کو پڑھ سکو جو تمہارے بعد مقدر بنی رہیں‘ شاید ماضی کا کوئی اچھا لمحہ میرے چہرے کو دیکھ کر تمہیں یاد آجائے یا شاید وہ تمام سنہری وقت یاد آجائے جسے تم بھول چکی ہو اور مجھے بے موت مار گئی ہو۔‘‘ بھاری مدھم لہجے میں کہہ کر وہ چند لمحوں تک اس کے متوجہ ہونے کا منتظر رہا مگر پھر جانے کس بے اختیاری کیفیت میں اس نے دھیرے سے زنائشہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا‘ اس بات سے بے خبر کہ اس کے اس لمس نے ہی زنائشہ کی رگوں میں شرارے بھر دیئے ہیں‘ سرعت سے وہ اس کا ہاتھ اپنے سر سے دور جھٹکتی خونخوار نظروں سے اسے دیکھتی غصے کی شدت سے کچھ بول نہ سکی تھی۔
’’ہاتھ جھٹکنے سے میرا حق ختم نہیں ہوجائے گا زنائشہ… یہ مضحکہ خیز حرکت دوبارہ مت کرنا‘ تم جتنی شدت سے مجھے دور ہو گی میں اس سے زیادہ شدت سے تمہاری طرف بڑھوں گا۔ دنیا کا کوئی قانون‘ کوئی طاقت مجھے اب تم سے دور نہیں کرسکتی‘ تم بھی نہیں۔‘‘ اس کی سرخ انگارہ آنکھوں میں دیکھتا وہ بھینچے لہجے میں بولا تھا۔
’’تم بھی یاد رکھو کہ تم کسی طور بھی مجھے زیر ہونے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ بہتر یہی ہے کہ مجھ پر اپنی طاقت مت آزمائو۔‘‘ وہ بھڑکتے لہجے میں بولی۔
’’جو تمہارے قدموں میں روز اول سے ڈھیر ہے‘ جس کا دل‘ جس کا سر تمہارے سامنے ہمیشہ کے لیے جھک چکا ہے وہ تمہیں کیا زیر کرے گا زنائشہ‘ جو تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں چھونے تک کی ہمت نہیں کرسکتا‘ وہ کیا تم پر اپنی طاقت آزمائے گا۔‘‘
’’مجھے اپنی دوغلی باتوں میں مت الجھائو‘ اس چار دیواری میں مجھے قید کرنے کے باوجود تم یہ سب کہہ رہے ہو۔ شرم آنی چاہیے تمہیں زبردستی مجھے اپنی قید میں رکھ کر ایسے دعوے کرتے ہوئے۔‘‘ وہ اسی لہجے میں غرائی۔
’’اس گھر کے مین گیٹ کے علاوہ کوئی دروازہ تمہارے لیے لاک نہیں ہے۔ میں نے اس گھر میں تمہیں قید کرنے کا خواب نہیں دیکھا تھا‘ ہمیشہ اپنے تصور میں‘ میں نے تمہیں یہاں استحقاق سے چلتے پھرتے دیکھا ہے۔ آج حقیقت میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم اس گھر کے ہر حصے کو دیکھو‘ محسوس کرو کہ یہاں کے سب درو دیوار کس شدت سے تمہارے منتظر رہے ہیں۔ یہ گھر تمہارا ہے اور تمہارا ہی رہے گا اس پر صرف تمہارا حق ہے‘ ایسا مت سوچو کہ تم یہاں قید ہو یا نظر بند ہو‘ جس حد تک بھی زبردستی پر میں مجبور ہوا ہوں اس پر میں واقعی شرمسار ہوں مگر اس کے مقصد پر نہیں۔ تم اس مقصد کو سمجھنے کی کوشش تو کرو‘ میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ مجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا بس ایک موقع دے دو۔‘‘
’’میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں بچا‘ ایک موقع بھی نہیں۔ تھوک چکی ہوں تم پر‘ میں اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہتی ہوں ماضی کی سیاہیوں سے۔ تمہارے سیاہ چہرے سے‘ یہ میرا گھر نہیں‘ اس زمین پر قبر کے سوا میرا کوئی گھر کبھی نہیں ہوسکتا۔ میں یہ قبول کرچکی ہوں‘ مجھے اپنی سنہری باتوں میں الجھا کر دوبارہ کوئی دھوکہ دینے کا تمہارا ارمان بس ارمان ہی رہے گا۔ میں تمہاری طرح گری ہوئی نہیں ہوں‘ مجھے آزاد کرو اور جاکر اپنے ہی جیسی کوئی ڈھونڈو۔‘‘ زہرخند انداز میں بولتی وہ عرش کو ضبط کی حدوں پر لے گئی تھی۔
’’ایک بات ذہن نشین کرلو وہ یہ کہ میرے حصار‘ میری دسترس سے نکلنا تمہارے لیے ناممکن ہے اس چیز کو تم قید کا نام دو یا کوئی اور…‘‘ وہ سرخ چہرے کے ساتھ شعلہ بار لہجے میں بولا۔ ’’تم جس قدر چاہو مجھے برا بھلا کہو‘ میں سب سنوں گا‘ برداشت کروں گا مگر اس غلط فہمی سے نکل آئو کہ میں تمہیں دامن چھڑانے دوں گا یا تم سے دستبردار ہوجائوں گا۔ تمہیں سننا ہوگا‘ محسوس کرنا ہوگا میرے کرب میں کرلاتے لمحے کو‘ جس کا ثمر مجھے یہ ملنا تھا۔ تمہاری یہ نفرت‘ یہ ذلت جو میں دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہا ہوں‘ تمہیں قائل ہونا پڑے گا۔ واپس لینا ہوگا اپنے ہر الزام کو‘ اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال تمہارے لیے گنوا سکتا ہوں تو اپنے جذبوں کی بے قدری اور بے حرمتی کے لیے ساری زندگی تمہاری سانسوں پر بھی جبراً مسلط ہوسکتا ہوں اور اس کی ذمہ دار صرف تم ہوگی۔‘‘ بپھرے لہجے میں اس کی آواز بند کرتا وہ سامنے سے اٹھ گیا تھا۔
’’مجھ سے نفرت کرنے کے لیے بہت دم خم کی ضرورت ہے لہٰذا کھانا اور دوائیں کھانا مت بھولنا۔‘‘ بات ختم کرتا وہ پھر رکا نہیں تیز قدموں سے باہر نکل گیا تھا۔ دوسری جانب زنائشہ سلگتی نظروں سے بند دروازے کو دیکھتی رہی تھی اور پھر تھکے تھکے انداز میں دوبارہ سر گھٹنوں پر رکھ لیا تھا۔
٭ز…٭…ز٭
’’مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ مجھ پر یقین ہونے کے باوجود تم کیوں رو رو کر اپنا حال خراب کیے جارہی ہو‘ تمہاری فکر پریشانی کو میں سمجھ سکتا ہوں اس لیے میں نے عرش تک پہنچے میں دیر نہیں کی۔ بار بار کہہ رہا ہوں کہ زنائشہ محفوظ ہے وہاں‘ اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوگا پھر بھی تم ہمت ہارے بیٹھی ہو۔‘‘ زچ ہوکر زرکاش نے اسے ڈپٹا جو بار بار بہتے آنسو صاف کرتی بالکل خاموش تھی۔
’’عرش اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘ میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں۔ میری تفصیلی بات ہوئی ہے عرش سے‘ وہ بس یہ چاہتا ہے کہ جن حالات میں وہ زنائشہ سے دور رہا ہے ان حالات سے زنائشہ واقف ہوجائے۔ عرش سے راضی ہوکر تمام غلط فہمیوں سے نکل آئے ان دونوں کو ہمیں وقت دینا ہوگا دراج… جان بوجھ کر عرش نے زنائشہ کو کوئی دھوکا نہیں دیا۔ اس کی زندگی میں زنائشہ کی اہمیت ہے‘ وہ اپنے اور اس کے تعلق کے لیے پوزیسو ہے اسی وجہ سے ہر ممکن سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش وہ کرے گا۔ ان دونوں کو اپنے معاملات خود طے کرنے دو‘ میں تو یہی چاہوں گا کہ زنائشہ مزید اپنا وقت برباد نہ کرے‘ عرش کو اس سے ہزار گنا زیادہ بہتر لڑکی مل سکتی ہے‘ اس کے لیے مشکل نہیں زنائشہ سے تعلق توڑنا مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ میں دیکھ چکا ہوں کہ وہ زنائشہ سے محبت کرتا ہے۔ بے حد حساس ہے وہ اس کے لیے‘ کیا تم نہیں چاہتیں کہ تمہاری دوست اپنے گھر میں آباد ہوکر مطمئن زندگی گزارے؟ کیا تم اسے ساری زندگی ہاسٹل میں‘ میرے اور اپنی سہارے دیکھنا چاہتی ہو… کیا یہ اس کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا؟‘‘ زرکاش کے سوالوں پر وہ بس خاموش تھی۔ جانتی تھی کہ عرش نے بہت اچھی طرح زرکاش کو قائل کرلیا ہے لہٰذا اب کچھ کہنا بے کار ہے‘ زرکاش اب اس کی نہیں سنے گا۔ معاملہ فہم انسان ہے سو تمام معاملات کو سامنے رکھ کر آگے بڑھے گا۔
’’عرش نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ زنائشہ کو تم سے الگ نہیں کرنا چاہتا‘ میں نے بھی اسے خبردار کردیا ہے کہ زنائشہ سے تمہارا رشتہ بھی کمزور نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ وہ تمہیں زنائشہ سے رابطہ کرنے دے اور اس نے میری بات مان لی۔ وہ رات تک کال کرے گا پھر تم خود زنائشہ سے بات کرکے تسلی کرلینا لیکن یہ یاد رکھنا کہ تمہیں اس سے عرش کے خلاف بھڑکانے والی کوئی بات نہیں کرنی ورنہ عرش کے سامنے مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔‘‘ زرکاش کے تاکیدی لہجے پر وہ پیشانی پر بل ڈالے بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔
’’اب جائو اور زنائشہ کا ضروری سامان پیک کرکے لے آئو‘ گیراج میں پہنچانا ہے اور تم بھی میرے ساتھ گھر چلو‘ عرش میرے ہی فون پر رابطہ کرے گا۔‘‘ زرکاش کے کہنے پر وہ جیسے جبراً اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ اس کے وزیٹنگ روم سے نکل جانے کے بعد زرکاش نے گہری سانس لے کر رسٹ واچ دیکھی‘ دراج کی خاموشی نے اسے تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا کہ بہرحال یہ خاموشی بڑی غیر معمولی اور کسی طوفان کا پیش خیمہ ہی معلوم ہورہی تھی اور زرکاش مسلسل اسے سمجھاتے ہوئے طوفان کو روکے رکھنے کی کوشش میں تھا۔
٭ز…٭…ز٭
اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی یہ دیکھ کر کہ کھانا‘ دوائیں یہاں تک کہ پانی کا گلاس بھی جوں کا توں رکھا ہے‘ ایک گھونٹ بھی پانی پینا اس نے گوارا نہیں کیا جو خود بھی وہیں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی جیسا کہ عرش اسے چھوڑ کر گیا تھا۔ صبح نیم غشی میں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق عرش نے وقفے وقفے سے اسے دوبارہ جوس پلایا تھا اور اب تو اسے غذا اور دوائوں کی اشد ضرورت تھی۔
’’تم نے اب تک کھانا کیوں نہیں کھایا؟ تمہیں یہ لگتا ہے کہ اس طرح بھوکا‘ پیاسا رہ کر تم مجھے کمزور کرسکتی ہو؟ ایسا کرکے تم مجھ سے زیادہ خود کو نقصان پہنچائو گی۔‘‘ کچھ فاصلے پر کھڑا وہ سرد لہجے میں بولا۔
’’کیا ہی اچھا ہو کہ تمہاری حسرت پوری ہوجائے‘ میں یہاں سے نہیں جاسکتی مگر میرا جنازہ تو جاسکتا ہے یا پھر یہیں دفن کرکے مقبرہ بنوادو گے میرا۔‘‘ ایک جھٹکے سے سر اٹھاتی وہ غرائی۔
’’بار بار اس گھر کو جہنم مت کہو تم۔‘‘ وہ بھڑک کر بلند آواز میں بولا۔
’’میں ہر اس جگہ کو جہنم کہوں گی‘ جہاں تمہارا سایہ بھی پڑتا ہے ایک بار نہیں ہزار بار کہوں گی۔ تمہیں آگ لگتی ہے تو لگتی رہے‘ نہیں کھائوں گی تمہارا دیا ہوا کھانا‘ تم سمیت اس گھر کی ہر چیز حرام ہے مجھ پر۔‘‘ وہ پھولی سانسوں کے درمیان چیخی تھی کہ یک دم عرش درمیانی فاصلہ پلک جھپکتے ہی عبور کرتا اس کے مقابل پنجوں کے بل بیٹھتا اس کا چہرہ سختی سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں جکڑ گیا تھا جبکہ زنائشہ کی سانس ہی نہیں دھڑکن بھی رک گئی تھی۔ اس کی آہنی انگلیوں کا شکنجہ زنائشہ کو اپنے جبڑوں میں اترتا محسوس ہورہا تھا۔
’’تمہارے کہہ دینے سے حلال‘ حرام میں نہیں بدل سکتا۔‘‘ عرش کا بپھرا لہجہ آگ برساتا اس کے چہرے کو جھلسا گیا تھا۔ جبڑوں کو چٹخا دینے والی گرفت کی اذیت سے اس کی آنکھیں جل تھل ہوگئی تھیں‘ سختی سے لب بھینچے وہ اپنی کربناک چیخ کو بمشکل روکے ہوئے تھی۔
’’میں دوبارہ آئوں گا تب اگر تم نے کھانا کھانے سے انکار کیا تو یاد رکھو مجھے حد سے آگے بڑھنے میں دیر نہیں لگے گی۔ میں تمہارے لیے جو کچھ بھی ہوں مگر یہ نہیں بھولنا کہ تم مجھ پر حلال ہو۔‘‘ اس کے سرد لہجے میں جو کچھ تھا وہ یخ بستہ سرد لہریں زنائشہ کے وجود میں دوڑا گیا تھا‘ دوسری جانب وہ ہلکے سے جھٹکے سے اس کا چہرہ آزاد کرتا سامنے سے اٹھ گیا تھا۔ زنائشہ سن بیٹھی نگاہ اٹھا کر بھی اس کی جانب نہیں دیکھ سکی تھی جو کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے سے نکل گیا تھا۔ بند دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں سے اذیت کا سمندر بہہ نکلا تھا۔ ہاتھوں میں چہرہ چھپاتے ہوئے اس کی ہمت اور حوصلہ دونوں ہی ختم ہوکر رہ گئے تھے۔
کچن میں ٹیبل کے گرد کرسی کی پشت سے سر ٹکائے وہ آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا‘ اس کے اعصاب ہی نہیں چہرے کے تاثرات بھی تنائو میں تھے‘ کنپٹیوں کی نسیں پھڑک رہی تھیں‘ جانے زیادہ غم و غصہ اسے زنائشہ کے کٹھور پن پر تھا یا اپنے جارحانہ سلوک پر‘ بار بار بند آنکھوں میں زنائشہ کا اذیت سے متغیر ہوتا چہرہ لہرا رہا تھا۔ تکلیف سے برستی آنکھوں کا درد چابک بن کر عرش کو اپنی پشت پر پڑتا محسوس ہورہا تھا‘ وہ یہ کیا کررہا تھا؟ وہ کیوں اپنی انا‘ اپنی ضد میں ایسی سفاکی‘ ایسے جبر کا ارتکاب کررہا ہے جو اس کی فطرت میں ہی شامل نہیں۔ فطرت کے خلاف جاکر وہ زنائشہ پر ہی نہیں خود پر بھی ظلم توڑ رہا ہے۔ دل کے کسی گوشے سے ابھرتی ہیجان خیز آوازوں نے اس پر عجیب جنونی کیفیت طاری کی تھی۔ پانی کے گلاس کے گرد اس کی گرفت آخری حد تک جاپہنچی تھی‘ ایک چھناکے کی آواز کے ساتھ ٹوٹتے گلاس کی کرچیاں اس کی ہتھیلی اور انگلیوں میں اترتی چلی گئی تھیں۔ سپاٹ نظروں سے اپنے زخمی خون سے تر ہاتھ کو دیکھتے ہوئے اسے یک گو نا سکون ملا تھا۔ یہی ہاتھ اسے اذیت پہنچانے کی وجہ بنا تھا جسے وہ کبھی کسی اذیت سے دوچار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘ یہ سزا پھر بھی بہت کم تھی اس اذیت سے جو اذیت اس نے زنائشہ کی آنکھوں اور چہرے پر دیکھی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اپنے حواس کھوتا جارہا ہے‘ یہ سچ ہے کہ جس سے بے پناہ محبت ہو اسی کی نفرت اور حقارت برداشت کرنا بھی بے پناہ اذیت ناک ہوتا ہے۔ صبر اور برداشت کے سارے اسباق بھول گئے تھے‘ وہ تو چند گھنٹوں میں ہی ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔
ہاتھ کے زخموں کو صاف کرتا وہ اسی کشمکش میں تھا کہ آخر کس طرح زنائشہ کو کھانا اور ٹیبلٹس کھانے کے لیے راضی کرے‘ وہ جانتا تھا کہ زنائشہ ٹھیک نہیں ہے‘ عرش کو بس اب اس کی صحت کی فکر تھی۔ جس قسم کی صورت حال ہوچکی تھی اس میں زنائشہ کو کھانے کے لیے راضی کرنا بھی کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ دستک کی آواز پر وہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی سرعت سے آنکھیں رگڑ کر خشک کر گئی تھی۔ اپنے آنسو عیاں کرکے وہ مزید خود کو بے بس اور لاچار ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی‘ دوبارہ وہ کھلے دروازے کی طرف متوجہ نہیں ہوئی تھی‘ اس کے جھکے سر کو دیکھتا وہ سائیڈ ٹیبل تک آیا تھا‘ گرم کھانے کی ٹرے وہاں رکھی اور پھر واپس اس کے سامنے آرکا تھا۔
’’مجھے مارنے کے لیے ایک تمہاری نفرت ہی کافی تھی مزید کسی حربے کے طور پر تمہیں خود کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ گمبھیر آواز پر زنائشہ نے کن انکھیوں سے دیکھا وہ اس کے سامنے سے ہٹتا بیڈ کے کنارے بیٹھ رہا تھا۔
’’میں نہیں جانتا تھا کہ محبت میں کبھی جبر کرنا بھی مجبوری بن جاتا ہے اگر یہ واقعی سچ ہے تو بھی میری فطرت کے خلاف ہے‘ میں اس سے زیادہ کسی سختی کا مظاہرہ کر بھی نہیں سکتا جس حد تک کرچکا ہوں اس کے لیے مجھے معاف کردینا۔ میں تم سے التجا تو کرسکتا ہوں مگر جبر نہیں‘ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے۔‘‘ اس کی ندامت سے چور مدھم آواز پر زنائشہ اس کی جانب دیکھے بغیر نہ رہ سکی تھی جبکہ اسے اس طرح خاموشی سے یک ٹک اپنی طرف دیکھتا پاکر عرش کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ اس کے زرد چہرے اور بکھری حالت پر عرش کا دل چاہا تھا کہ اسے سب سے چھپا کر بہت دور کسی اور دنیا میں چلا جائے۔
’’تم اپنی دوست سے بات کرنا چاہو گی؟‘‘ عرش کے اس اچانک سوال پر وہ جو سر جھکا چکی تھی بری طرح چونک کر دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’دراج سے؟‘‘ شدید بے یقینی سے وہ سوال کر گئی جواباً اثبات میں سر ہلاتا عرش اس کی آنکھوں میں پھیلی بے یقینی کو بھانپ گیا تھا۔
’’اس کا کزن زرکاش آیا تھا تمہارے سلسلے میں مجھ سے بات کرنے۔‘‘
’’وہ خود آئے تھے؟‘‘ زنائشہ بے اختیار پوچھ بیٹھی جبکہ عرش کے چہرے کے تاثرات کچھ بدلے تھے۔
’’ہاں‘ وہ خود آئے تھے‘ تمہاری دوست سے زیادہ شاید اسے فکر ہے تمہاری۔‘‘ عرش کے عجیب سے چبھتے لہجے پر وہ سناٹے میں گھرتی منہ پھیر گئی تھی کہ یک دم دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے‘ اس شخص کی جرأت کی وجہ سے زرکاش کی نظروں میں بھی اس کی عزت کی دھجیاں آج اڑ گئیں۔ سارے پردے اٹھ گئے‘ جانے زرکاش کیا سوچ رہا ہوگا اس کے بارے میں‘ ایک بار پھر اسے عرش سے شدید نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔
’’میں نے زرکاش کو زبان دی ہے‘ پھروں گا نہیں ورنہ تمہاری دوست اس قابل نہیں کہ…‘‘ تلخ ہوتے لہجے کے ساتھ وہ بات ادھوری چھوڑ گیا۔
’’تمہیں ابھی اپنی دوست سے بات کرنی ہے تو پہلے ہاتھ منہ دھوکر کھانا اور ٹیبلٹس کھائو۔‘‘
’’کیا تم واقعی ابھی دراج سے میری بات کروائو گے؟‘‘ مشکوک نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے وہ اب بھی بے یقین سی تھی۔
’’ہاں لیکن پہلے جو کہا ہے وہ کرو۔‘‘ وہ سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھتا بولا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتا بیڈ کے دوسری جانب گلاس ونڈو کے پاس جاکھڑا ہوا۔ چند لمحوں تک زنائشہ کچھ سوچتی رہی مگر پھر اپنی نقاہت پر قابو پاتی اٹھ کر واش روم کے دروازے کی طرف بڑھتی تھی۔ ٹھنڈے پانی کے کئی چھینٹے آنکھوں پر مارنے کے باوجود نہ آنکھوں کی جلن کم ہوئی تھی نہ دل کی۔ بے سائبان اور بنا کسی مضبوط ڈھال کے سانس لیتی عورت کو جلتی‘ بھڑکتی آگ کے درمیان ہی جانے کیوں زندگی کو گزارنا پڑتا ہے۔
تلخ حقیقت کے ادراک سے دل مزید نڈھال اور بوجھل ہوگیا تھا‘ بھیگے چہرے کو آئینہ میں دیکھتے ایک بار پھر اس نے اپنے شانوں کے گرد لپٹی گرم شال پر غور کیا تھا‘ شال جس خوشبو میں بھیگی تھی اس سے اندازہ ہوچکا تھا کہ یہ کس کی ہوسکتی ہے مگر اپنی نفرت اور کراہیت میں وہ اس شال کو اپنے وجود سے الگ کرکے بے پردگی کی مرتکب بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ واپس کمرے میں آئی تب عرش ہنوز گلاس ونڈو کے پاس کھڑا باہر ہی متوجہ رہا تھا‘ زنائشہ کی سمت دیکھنے کی اس نے کوشش نہیں کی تھی شاید وہ یہ چاہتا تھا کہ زنائشہ بنا کسی حیل و حجت کے کھانا کھالے۔ ویسے بھی بیڈ کے کنارے بیٹھی زنائشہ کی پشت اس کی جانب تھی لیکن وہ یہ دیکھ سکتا تھا کہ زنائشہ کھانا کھا رہی ہے‘ عرش نے جہاں سکون کی سانس لی وہیں دل میں ان دونوں شخصیات کے لیے اس کے دل میں رقابت کا جذبہ بھی سر اٹھا رہا تھا۔ اندازہ ہورہا تھا کہ زرکاش اور دراج کی کیا اہمیت اور درجہ ہے زنائشہ کے دل میں کہ جو بات منوانا عرش کے لیے ناممکن ہورہا تھا وہ ان دونوں شخصیات کے نام لیتے ہی زنائشہ نے ممکن کردیا تھا۔ ٹیبلٹس کھا کر اس نے نیم گرم دودھ کا آخری گھونٹ بھی حلق سے اتارا تھا۔ اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا‘ فون پر بات کرتا وہ عقب سے اس کے سامنے آگیا تھا۔ زنائشہ کے لیے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ زرکاش سے بات کررہا ہے بہرحال چند منٹ کے بعد اس نے خاموشی سے زنائشہ کی سمت فون بڑھایا‘ فون لیتے ہوئے زنائشہ نے براہ راست اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی جو فوراً ہی سامنے سے ہٹتا واپس ونڈو کی طرف چلا گیا تھا۔
’’زنائشہ… کیسی ہو تم‘ سچ بتانا اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘ بے تابی سے بولتی دراج کی آواز سنتے ہی اس کا دل بھرنے لگا مگر اسے ضبط کرنا تھا۔
’’میں ٹھیک ہوں اور کیا کہوں۔‘‘ زنائشہ کی آواز بھرا گئی تھی۔
’’کیا وہ ہماری گفتگو سن رہا ہے؟‘‘ دراج نے احتیاطاً پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کیا وہ قریب ہی کہیں ہے؟‘‘
’’ہاں مگر فاصلے پر ہے‘ تم بولتی رہو۔‘‘ زنائشہ نے کہا۔
’’بڑی مشکل سے زرکاش نے مجھے تنہائی میں تم سے بات کرنے کی اجازت دی ہے‘ ان کو وہ شخص بہت ہوشیاری سے کنوینس کرچکا ہے۔ زرکاش کو یہ خدشہ ہے کہ میں تمہیں اس کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کروں گی‘ تم ہی بتائو جس قسم کے کرتوت اس کے سامنے آرہے ہیں اس کے بعد مجھے تم کو اس کے خلاف کرنے کی ضرورت نہیں وہ اپنے ہاتھوں سے بہت پہلے ہی اپنی اصلیت ظاہر کرکے یہ کام کرچکا ہے۔ اس نے بہت عیاری سے زبردستی مجھے راستے میں ہی اپنی گاڑی سے اترنے پر مجبور کردیا ورنہ میں کبھی تمہیں اس کے آسرے پر نہ چھوڑتی۔ بس ایک غلطی ہوگئی مجھ سے کہ جذبات میں بہہ کر بے موقع اس سے بھڑگئی اور اس نے اسی موقع کا فائدہ اٹھایا مگر میرا نام بھی دراج ہے اس کے چودہ طبق روشن کرکے ہی دم لوں گی مگر تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔ تم پہلے یہ بتائو کہ تمہاری طبیعت کیسی ہے؟ تمہاری آواز سے لگ رہا ہے کہ تم ٹھیک نہیں ہو اس نے تمہارے ساتھ کسی قسم کی زبردستی یا تشدد تو نہیں کیا؟‘‘
’’نہیں‘ بس اس نے مجھے زبردستی یہاں روکا ہوا ہے‘ یہ اس کا گھر ہے۔ میں ٹھیک تب ہی ہوسکتی ہوں جب تک اس قید سے مجھے رہائی نہیں مل جاتی۔‘‘ وہ مدھم کمزور لہجے میں بولی۔
’’تم فکر مت کرو‘ اس سے زیادہ زبردستی وہ کر بھی نہیں سکتا ورنہ زرکاش چھوڑیں گے نہیں اسے‘ وہ اچھی طرح تمہارے معاملے میں اسے خبردار کرچکے ہیں اور اس سے رابطہ میں ہیں لیکن یہ سب مسئلہ کا حل نہیں‘ اس شخص سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہم دونوں کو ہی کچھ کرنا ہوگا۔‘‘
’’میں ایک کمرے تک محدد ہوں دراج… تم بتائو میں کیا کرسکتی ہوں؟‘‘ وہ بہت ہلکی آواز میں بول رہی تھی۔
’’سب سے پہلے تو اپنی سیکیورٹی کا پورا دھیان رکھو‘ یہ کام صرف تم ہی کرسکتی ہو۔ دوسری بات یہ کہ کسی بھی صورت میں خود کو اس کے سامنے کمزور ظاہر کرکے پسپائی اختیار مت کرنا ورنہ میں کچھ نہیں کرسکوں گی۔ تیسری بات یہ کہ جلد از جلد اپنی طبیعت ٹھیک کرو‘ تم لاوارث نہیں ہو میں اور زرکاش ہیں تمہارے ساتھ۔ ہمت سے کام لو‘ عقل کو استعمال کرو‘ تمہیں فوری طور پر اس قید سے نکلنا ہوگا۔‘‘
’’مگر کیسے؟‘‘ زنائشہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تھی۔
’’عقل کے ساتھ آنکھیں بھی استعمال کرو‘ کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جائے گا۔ ایک بار تم وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئیں تو پھر میں اور زرکاش مل کر سب سنبھال لیں گے۔ یہ بتائو تمہیں کچھ آئیڈیا ہے کہ اس کا گھر شہر کے کس حصے میں موجود ہے؟‘‘
’’مجھے کچھ خبر نہیں دراج… مجھے تو ہوش ہی اس کمرے میں آیا ہے‘ جہاں میں ابھی ہوں۔‘‘
’’کیا اس کمرے میں تم قید ہو؟‘‘
’’نہیں‘ دروازہ لاک نہیں ہے مگر میں کیا کروں گی کمرے سے نکل کر‘ گھر سے باہر نکلنے کا گیٹ تو اس نے لاک کیا ہوا ہے‘ وہ بتاچکا ہے مجھے۔‘‘ مدھم آواز میں بولتے ہوئے زنائشہ نے چور نظروں سے عرش کو دیکھا جو ونڈو کے پاس جانے باہر کس طرف متوجہ تھا۔
’’یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے کوئی کھڑکی‘ بالکنی میسر نہیں تو کیا گیٹ اور دیوار پھلانگنا بھی ممکن نہیں؟ بے وقوف کمرے سے باہر نکل کر پہلے جائزہ تو لو۔ تم جانتی ہو کہ وہاں سے تمہیں جلد از جلد فرار ہونا ہے۔‘‘ دھیمی آواز میں دراج نے گھرکتے ہوئے کہا۔
’’میں بھی کہاں رکنے والی ہوں لیکن دراج اگر میں کوشش کے باوجود فرار ہونے میں ناکام رہی تو؟‘‘ زنائشہ کا دل ہی نہیں آواز بھی ڈوب گئی تھی۔
’’تو بھی تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘ اپنا اعتماد اور حوصلہ گنوانا مت جب تک میں موجود ہوں تمہاری زندگی میں کچھ غلط نہیں ہوگا اب۔ یہ تمہاری زندگی ہے اسے اپنی مرضی سے گزارنے کا تمہیں پورا حق حاصل ہے۔ میں تم تک پہنچ کر ہی دم لوں گی اس کام کے لیے میں زرکاش کی بھی محتاج نہیں‘ ابھی اس لیے ضبط کررہی ہوں کہ تم اپنی مرضی سے واپس آئو گی تو زرکاش مکمل تمہارا ساتھ دیں گے۔ دوبارہ زبردستی تمہیں اس شخص کی قید میں نہیں جانا پڑے گا‘ معاملہ ہمارے حق میں ہوگا۔‘‘
’’ہاں‘ تم ٹھیک کہہ رہی ہو‘ مجھے ہی پہلا قدم اٹھانا پڑے گا۔‘‘
’’بس اسی عزم کے ساتھ کوئی راستہ تلاش کرو‘ ہزاروں مل جائیں گے اور سنو اس نے زرکاش سے کہہ کر ہاسٹل سے تمہارا سامان منگوالیا ہے۔‘‘ دراج کی اطلاع نے اسے دنگ کردیا تھا۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close