Hijaab Jan-18

عشق دی بازی

ریحانہ آفتاب

تو ٹھہرا مصلحت پسند…
اور میں موج ہوا سے لڑنے والی
بہت کچھ پڑھا تھا عشق کے بارے میں اور بہت سے قصے بھی سن رکھے تھے لیکن جب برتنا پڑا تو احساس ہوا کتنا جاں گسل ہے‘ کتنا کاری وار ہے اس کا… کوئی لمحوں میں روح کا رشتہ اس گہرائی سے باندھ لے کہ اس کی تنگ پکڑ سے رہائی کا خیال ہی جان نکال دے۔ روز لڑنا‘ پھر اس لڑائی کو یاد کرکے ہنسنا اور اکیلے اکیلے رو کر ایک دوسرے کو سب ٹھیک ہے کہنا۔
یہ عشق ہی تو ہے جو کسی کا سایہ تک دیکھ کر جان لینے اور دینے کے درپے ہوجاتا‘ جلانے ستانے کو اپنی ریپو کو سائیڈ پہ رکھ کے فضول حرکت کرنا۔ ناراضگی میں ٹریولنگ کی ایک ایک تصویر لگا کر بنا بتائے ابوظہبی جاکے بیٹھ جانا اور کوئی رابطہ نہ کرنے پہ خود ہی میسج کرنا۔
تیری یاد آرہی ہے… میرا دل نہیں لگ رہا ہے ادھر‘ مجھ سے بات کر اور اس ایک جملے پہ ساری ناراضگی بھول کر ایک ہوجانا… ساتھ ہنسنا… ساتھ رونا۔
’’آرہا ہوں‘ تو ناراض ہوتی ہے تو کرتا ہوں فضول حرکت‘ جو کسی کی نہیں سنتا اسے اتنی باتیں سناتی ہے‘ کچھ بھی کرلوں تیرے بنا نہیں رہ سکتا… کبھی بھی۔‘‘ اس دیوانگی کے بعد باقی کچھ نہیں بچتا۔
دو دیوانے… جو خود کو دائو پہ لگائے بیٹھے ہیں… وقت کب بدلے گا؟
نصیب کب پلٹے گا؟
حالات ساز گار ہوں گے یا نہیں؟
عشق کو منزل ملے گی یا نہیں؟
لیکن یہ عشق جسم سے روح نکلنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوگا۔
’’واہ… واہ…‘‘ بے حد خوب صورت لائنز پڑھ کر وہ مسحور سی ہوگئی تھی۔ کتاب کا کونا لبوں پہ لگاتی وہ کچھ سوچنے لگی تھی۔
’’کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ایسے لوگ جو محبت کی وادیوں میں ایک ساتھ سفر کرتے ہیں۔‘‘ وہ تکیہ سینے سے بھینچتی خود کلامی کرتی کتاب سائیڈ پہ رکھ کر رشک کی کیفیت میں غرق تھی۔ تب ہی سناٹے میں 4wd کا ہارن گونجنے لگا۔ وہ ایک دم سے چونک کر تکیہ بیڈ پر پھینکتی اپنے روم سے ملحق بالکونی میں آکھڑی ہوئی۔
’’اتنی رات کو کس کی سواری آئی ہے؟‘‘ اس نے گردن موڑ کر وال کلاک کی سمت دیکھا‘ جہاں گھڑی تین بجنے کا عندیہ دے رہی تھی۔ اس نے پلٹ کر مین گیٹ کی طرف دیکھا‘ ہارن کا شور ایک بار پھر فضا میں گونجا تھا‘ تب ہی واچ مین دروازے کے قریب ہی بنے اپنے کمرے سے آنکھیں ملتا برآمد ہوا اور بھاگتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔
غالباً آنے والا بے صبرا تھا تب ہی ہارن پہ ہاتھ رکھ کر شاید اسے ہٹانا بھول گیا تھا لیکن تب تک آہنی اور مضبوط گیٹ وا ہوچکا تھا‘ نیند کے نشے میں دھت واچ مین اس دیوہیکل دروازے کو وا کرنے کی کوشش میں ہانپ سا گیا تھا۔ گیٹ کھلتے ہی تیز روشنی سے سارا منظر جیسے روشن ہوگیا تھا۔ عیشال کی آنکھیں تیز روشنی سے چندھیا سی گئی تھیں۔ 4wd زن سے داخل ہوئی تھی۔ واچ مین گیٹ بند کررہا تھا کہ 4wd کا دروازہ کھٹاک سے کھلا‘ بلیک چمچماتے مضبوط جوتوں والے نے لال اینٹوں سے مزین فرش پر قدم رکھا۔ عیشال نے آنکھیں مل کر نظریں دوبارہ جمائیں‘ اگلے ہی لمحے سمہان آفندی کو دیکھ کر چونک گئی۔
’’اتنی رات کو یہ آ کہاں سے رہا ہے‘ شام تک تو گھر پہ تھا۔‘‘ وہ بڑبڑا کر ہونٹ سکیڑتی اسی سمت نظریں جمائے کھڑی تھی۔ وہ بلیک جینز اور بلیک ہی جیکٹ میں ملبوس تھا۔ جیکٹ کی کھلی سلور زپ روشنی سے چمک رہی تھی۔ لائیٹ برائون بالوں کی چمک دور سے ہی نظر آرہی تھی۔
وہ غالباً واچ مین کے سو جانے پہ اس کی کلاس لے رہا تھا کیونکہ حویلی میں ڈے اینڈ نائٹ الگ الگ واچ مین ہوتے تھے۔ واچ مین کو مستعد رہنے کی ہدایت تھی۔
’’ہونہہ حویلی کو اپنے کاندھوں پہ چلانے والا آدھی رات کو تشریف لاکر واچ مین بے چارے کی کلاس لے رہا ہے۔‘‘ چند ثانیے بعد وہ اسے راہداری کی طرف مڑتا نظر آیا‘ وہ بالکنی سے ہٹ کر سیڑھیوں کی طرف آگئی کیونکہ ان ہی سیڑھیوں سے گزر کر سمہان آفندی کو اپنے کمرے کی طرف جانا تھا۔
چند لمحوں میں ہی سیدھے ہاتھ میں بیگ لیے بائیں بازو پہ جیکٹ ڈالے جو تھوڑی دیر پہلے اس کے تن پہ سجی ہوئی تھی‘ غالباً سیڑھیاں چڑھتے اتار کر بازو پہ منتقل کرلی تھی۔ ہاف سیلیوز ٹی شرٹ میں اس کے بازو کے کٹس نمایاں تھے۔
’’ہونہہ… اسٹائل تو ختم ہے کم بخت پہ۔‘‘ وہ اس کی اونچی ناک کو دیکھتے منہ ٹیڑھا کر گئی۔
سمہان آفندی کی نظر گرل سے لگی کیا عیشال پر پڑ گئی‘ اس پہ ایک نظر ڈال کر وہ دوبارہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ عیشال اس وقت ملٹی کلر کے گھیردار شلوار اور وہائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس گلے میں ملٹی کلر کا اسکارف لیے کھڑی تھی۔ ہنی کلرڈ بالوں کی لٹیں چہرے اور شانوں پہ بکھر کر اسے حسین ترین بنا رہی تھیں۔ سمہان آفندی چپ چاپ خاموشی سے اس کے پاس سے گزر کر آگے بڑھنے لگا تو عیشال سلگ گئی۔
’’کہیں سے آتے ہیں تو سلام کرتے ہیں۔‘‘ وہ چوٹ کرنا نا بھولی۔ ویسے بھی ہر وقت دونوں کی ٹھنی رہتی تھی۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو چڑانے اور ستانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔
’’السلام علیکم!‘‘ فرماں برداری سے حکم کی تعمیل کرتا وہ بنا رکے آگے بڑھ گیا‘ جیسے جلد سے جلد اس سے پیچھا چھڑانا مقصود ہو۔
’’والسلام! کہاں سے آرہی ہے سواری‘ اتنی رات گئے؟‘‘ وہ کون سا اس کے حسب منشا چلتی تھی جو جان چھوڑ دیتی‘ فوراً پیچھے لپکی۔
’’چکوال گیا تھا‘ وہیں سے لوٹا ہوں۔‘‘ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے بڑھ رہا۔
’’کیا کتے پیچھے لگے ہیں‘ دو منٹ رک کر سکون سے بات نہیں کرسکتے تم۔‘‘ عیشال اس کے پیچھے بھاگ کر ہانپنے لگی تھی۔
’’کتنی بار کہا ہے آپ کہا کرو‘ بڑا ہوں تم سے۔‘‘ اس کی بات کو قابل اعتناء جانے بناء اس نے گردن موڑ کر اس پہ ایک فہمائشی نظر ڈالی۔
’’بڑے ہو تو ہوتے رہو‘ میری بلا سے‘ میں نے کہا تھا دنیا میں مجھ سے پہلے آئو۔‘‘ اس کی تنبیہہ کو ہمیشہ کی طرح رد کرتے منہ بنا کر کہا۔
سمہان آفندی نے لمبی سانس بھر کر قدموں کی رفتار مزید تیز کردی تھی۔ نتیجتاً عیشال کو بھی بھاگتے ہوئے اس سے گفت وشنید کرنا پڑ رہی تھی۔
’’نکلے کب تھے شام تک تو تم گھر پہ ہی تھے؟‘‘ وہ انکوائری کررہی تھی۔
’’پانچ بجے نکلا تھا۔‘‘ سمہان آفندی نے اس کی الجھن سلجھائی‘ اسے خبر تھی معلومات لیے بناء وہ اس کی جان نہیں چھوڑے گی۔ اس لیے شرافت سے جواب دے رہا تھا۔
’’کیوں گئے تھے؟‘‘ اگلا سوال ہوا‘ کبھی کبھی سمہان آفندی کا دل چاہتا کہ اس بے چین روح کے ماتھے پہ بڑا سا سوالیہ نشان ریڈ مارکر سے بنادے یا کم از کم اس کی زبان کو تالا لگا دے مگر وہ صرف سوچ ہی سکتا تھا۔ وہ بھی احتیاطاً اگر جو اس مکھی کے چھتے جیسی عیشال کو بھنک بھی پڑ جاتی تو وہ اس بری طرح چمٹتی کہ کیا ہی مکھیاں چمٹتی ہوں گی۔
’’تایا جان نے بھیجا تھا۔‘‘ سمہان آفندی نے چوہدری فیروز کا حوالہ دیا۔ یہ طویل راہداری تھی جس کے کافی آگے جاکر سمہان آفندی کا کمرا تھا یہ پُرسکون گوشا اس نے خود اپنی پسند سے منتخب کیا تھا۔
’’تین بج گئے اور اس وقت لوٹ رہے ہو‘ اتنی لانگ نان اسٹاپ ڈرائیو کرکے آنے جانے کی کیا ضرورت تھی۔ صبح آجاتے۔‘‘ جانے عیشال کو کیسے اس کی بے آرامی کا خیال آگیا۔
’’دس بار کہا ہے رات کو سفر نا کیا کرو‘ ہزار بلائیں ہوتی ہیں راستوں میں اوپر سے اونچے نیچے ٹیڑھے میڑھے راستے۔‘‘ اس نے کلاس لے۔
’’بے فکر رہو میں بلا پروف ہوں۔ اتنے سالوں سے حویلی میں تمہارے ساتھ ہوں‘ کچھ ہوا مجھے؟‘‘ وہ لب دبائے اس پہ ایک مسکراتی نظر ڈال کے رہ گیا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ وہ غرائی۔ اس کی مسکراہٹ مزید پھیل گئی۔
’’روک تو وہ لوگ بھی رہے تھے لیکن صبح والد محترم کو مجھ سے کام تھا‘ اس لیے آنا پڑا ورنہ تمہارے حکم کی تعمیل کرتا۔ ویسے بھی آنے کا دل کس کم بخت کا چاہ رہا تھا۔‘‘ سمہان آفندی نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جو اس کے ساتھ چلتی بے حال ہوچکی تھی۔
’’ہاں اتنے ہی تو فرماں بردار ہو میرے؟‘‘ اس نے چڑ کر کہا۔ وہ شاید جوش میں اس کی آخری بات کو سنجیدگی سے نہیں لے پائی تھی۔ سمہان آفندی نے شکر ہی ادا کیا۔
’’آٹھ دس گھنٹوں کی مسلسل ڈرائیو کے بعد تم نے کچھ کھایا بھی ہے یا صرف حکم کی تعمیل ہی کرتے رہے اور کیوں آنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا؟ ایسے کون سے ہیرے جڑے ہوئے تھے وہاں؟‘‘ بالآخر فکرمندی کے بادل چھٹے تو اس کی گرفت میں وہ جملہ آہی گیا‘ سمہان آفندی ذہنی طور پر گولہ باری سہنے کے لیے تیار ہوگیا۔
’’جہاں گیا تھا انہوں نے کافی تواضع کی‘ ان کی بیٹی نے چکن کڑاہی بہت لذیذ پکائی تھی۔ خود سرو کررہی تھی۔‘‘ سمہان آفندی نے سچائی سے گوش گزار کردیا۔
’’وہاں لڑکی بھی تھی؟‘‘ عیشال نے ابرو اچکائے۔
’’ہاں تو… اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟‘‘ سمہان آفندی کے قدم رک گئے۔
’’اسی لیے آنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا؟‘‘ وہ ہانپتے ہوئے اسے گھور رہی تھی۔ اس کے رکنے پہ شکر کا سانس لیا۔
’’مے بی…‘‘ وہ پُرسوچ انداز میں ہونٹ سکیڑ کر بولا۔
’’تو پھر آئے کیوں؟ بیٹھے رہتے وہاں تاکہ وہ تمہیں روز چکن کڑاہی سرو کرتی۔‘‘ وہ چلبلائی۔
’’کہا ناں والد محترم کی وجہ سے آنا ہوا‘ اگلی بار فرصت سے جائوں گا۔ تین چار دن کی چھٹی گزارنے۔‘‘ وہ اس کی جان سلگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔
’’کیوں جاگ رہی ہو اتنی رات گئے؟‘‘ سمہان آفندی نے کلائی میں بندھی خوب صورت بلیک گھڑی میں ٹائم دیکھا۔
’’پاگل ہوں‘ اس لیے جاگ رہی ہوں۔‘‘ اسے جانے کیوں غصہ آنے لگا۔
’’اطلاع پرانی ہے لیکن میں پاگل نہیں‘ بقول تمہارے لانگ ڈرائیو کی ہے اس لیے مجھے واقعی تھکن ہورہی ہے‘ اگر تمہارے سوالنامے میں مزید سوال رہ گئے ہوں تو صبح پرچہ لے کر آجانا‘ ابھی مجھے میرے کمرے میں جانے کی اجازت دو۔‘‘ سمہان آفندی نے اس کا چہرہ بغور دیکھ کر عاجزی سے کہا۔
عیشال نے چونک کر دیکھا وہ دونوں کمرے کے دروازے کے باہر کھڑے تھے اور وہ منتظر تھا کہ عیشال جائے تو وہ بھی اپنے کمرے کو رونق بخشے۔
’’پچھلے دنوں تم نے کمرے کی نئی انٹریئر کروائی تھی دکھائو کیسا لگ رہا ہے کمرا۔ میں نے دیکھا نہیں ابھی تک۔‘‘ اسے جیسے اچانک یاد آگیا‘ سب نے ہی تعریف کی تھی مگر اتفاق تھا جو وہ محروم رہی تھی دیکھنے سے کہ وہ ہر وقت تو کبھی ادھر کبھی ادھر نظر آتا تھا۔
’’ابھی نہیں‘ ابھی جاکر سو جائو۔‘‘ سمہان آفندی نے طویل سنسان راہداری پہ ایک نظر ڈالی‘ حویلی کے پیچھے جنگل تھے جہاں سے جانوروں کی آوازیں وقفے وقفے سے آتی رہتی تھیں۔
’’کیوں ابھی کیوں نہیں؟‘‘ عیشال نے ضدی لہجے میں پوچھا۔
’’مناسب وقت نہیں۔‘‘ سمہان آفندی نے ایک نظر اس کے سراپے پہ ڈالی اور اگلے ہی لمحے پھر اس کی نظر راہداری کا جائزہ لینے لگی۔
تہجد کا وقت تھا‘ داجان‘ دی جان یا کوئی بھی اس وقت اٹھ سکتا تھا اور انہیں یوں بے فکری سے گفت وشنید کرتے دیکھ کر پوچھ گچھ بھی ہوسکتی تھی۔ بھلے دونوں کزن تھے مگر حویلی میں اتنی آزادی نہیں کہ عورتیں یوں مردوں سے بے تکلف ہوکر راستہ روکے کھڑی باتیں کریں۔
حویلی کی تمام ہی عورتیں چوہدری حشمت کے اصولوں پہ چلتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے شہری پوتے‘ پوتی بھی جب حویلی آتے تو اس ماحول کے مطابق چلتے تھے مگر وہ عیشال ہی کیا جو کسی اصول کو خاطر میں لائے۔ اس وقت بھی وہ جرح کررہی تھی۔
’’کیوں مناسب نہیں… تم کوئی غیر ہو… فرسٹ کزن ہو میرے‘ تمہارے کمرے کی انٹیریئر دیکھنے میں کیا برائی ہے۔‘‘ وہ پیر پٹخ کے ٹھنکی۔
سمہان آفندی کا جی چاہا اس لڑکی کا سر پھاڑ دے۔ اس کی موٹی عقل میں کوئی بات گھستی جو نہیں تھی کہ اتنا کچھ پہلے جو بھرا ہوا تھا‘ ضد‘ غصہ‘ من مانی‘ انکار تو جیسے سننا گناہ تھا اس کی لغت میں۔
’’رات کے ساڑھے تین بجے کسی نے ہم دونوں کو اس طرح راز ونیاز کرتے دیکھ لیا تو گولی مار دیں گے سو بہتر یہی ہے کہ تم جاکر سوجائو اور مجھے بھی سونے دو اور میرے کمرے میں کوئی ایٹمی نسخہ نہیں پڑا جس کی پروٹیکشن کے لیے مجھے لاک کی ضرورت پڑے‘ روم ان لاک ہی ہوتا ہے‘ صبح آکر دیکھ لینا‘ میری غیر موجودگی میں بھی اجازت ہے‘ لیکن ابھی جائو اپنے کمرے میں۔‘‘ سمہان آفندی نے اس کے صبیح چہرے پہ نظریں جما کے ایک ایک لفظ پہ زور دے کر اسے موقع کی نزاکت کا احساس دلایا۔ عیشال کو بھی جیسے اپنے حلیے کا احساس ہوا‘ اسے دھیان نہیں رہا تھا‘ واقعی اگر ابھی چوہدری حشمت یا شاہ زرشمعون میں سے کوئی بھی اس حلیے میں دیکھ لیتا تو ٹھیک ٹھاک اس کی کلاس ہوجانی تھی۔
حویلی کی عورتوں کو آج بھی اتنی آزادی نہیں تھی کہ وہ ماڈرن کپڑے پہن کر حویلی میں گھومیں یہ تو عیشال تھی جو ہر روایت کے پرخچے اڑا دیتی تھی۔ سمہان آفندی کے احساس دلانے پہ اس نے ٹی شرٹ کے گلے میں ہاتھ ڈال کر اسکارف کو ذرا سا کھینچا۔
’’کوشش کیا کرو حویلی کے اصولوں پہ چلنے کی۔ شنائیہ کو ہی دیکھ لو‘ کراچی جیسے ماڈرن شہر میں رہتی ہے لیکن حویلی میں آتی ہے تو یہاں کے طور طریقوں کے حساب سے چلتی ہے۔‘‘ سمہان آفندی نے چوہدری بخت کی بیٹی شنائیہ کی مثال دی جو ان دنوں حویلی میں رہ رہی تھی۔
’’مجھے کسی کو نہیں دیکھنا سننا… میں وہی کرتی ہوں جو میرا دل چاہتا ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر قطعیت بھرے لہجے میں کہہ کر پلٹ گئی۔
سمہان آفندی نے ایک نظر اس کی پشت پہ ڈالی اور اگلے ہی لمحے اپنے کمرے کے لاک پہ ہاتھ رکھ کر اسے گھمانے لگا‘ اسے خبر تھی اس سرپھری کو کچھ بھی کہنا فضول ہے وہ وہی کرتی تھی جو اس کا دل چاہتا تھا۔
٭…٭…٭
شاہ شمعون اپنے من پسند چہیتے سلطان کی پشت پہ سوار تھا‘ سلطان بھی اسے اپنی پیٹھ پہ سوار کیے ٹخ ٹخ کیے دوڑیں لگائے جارہا تھا۔ بلیک شلوار سوٹ میں ملبوس بلیک چادر کو دونوں بازوئوں سے گزار کر پیچھے ڈالے اس کی وجاہت ہی نرالی تھی۔ وہ کھیت میں کام کرنے والے لوگوں کو دیکھ رہا تھا تب ہی چیخ وپکار کا بازار گرم ہوا تھا۔ مرد بھاگنے لگے اور عورتیں چیخ وپکار کررہی تھیں۔
’’ارے بیل بچے کو کچل دے گا۔‘‘ ہجوم میں کوئی چلایا تھا۔ کھیت میں کام کرنے والی عورتیں بچے بھی ساتھ لاتی تھیں۔ جانے کس کا بچہ تھا جو کھیت کے بیچوں بیچ جا پہنچا تھا‘ بچے سارا دن اسی طرح کھیلتے‘ کودتے رہتے تھے اور مائیں آرام سے کام کرتی‘ انہیں آوازیں بھی لگاتی رہتی تھیں۔
صورت حال اس وقت کیشدہ ہوگئی تھی جب ایک بدمست بیل سرپٹ دوڑتا اسی طرف آتا نظر آیا۔ تمام لوگ بیل کی ٹکر سے بچنے کے لیے اپنے اپنے بچوں کو خوف زدہ ہوکر سائیڈ پر کررہے تھے۔ چار سالہ بچہ کھڑا بیل کو دیکھ رہا تھا۔ یہ بیل نصر کے تھے جو ہل جوتنے میں استعمال ہوتے تھے اس کے پاس کئی بیل تھے‘ جنہیں اس نے آتے ہوئے ٹیوب ویل کے قریب پانی پیتے دیکھا تھا‘ یہ یہاں کیسے آگیا؟ شور بڑھتا جارہاتھا۔
بچے کی ماں اپنے بچے کو بچانے کے لیے پچھاڑیں کھا رہی تھی‘ اسے دوسری عورتوں نے پکڑ کے رکھا تھا‘ کسی میں ہمت نہیں تھی کہ آگے دوڑ کر بیل کے سامنے سے بچے کو ہٹالے بیل کی رفتار اور اس کی نوکیلی سینگوں کو دیکھ کر سب کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔
شاہ زرشمعون سستی سے کھڑے سلطان کی پیٹھ پر سرعت سے سوار ہوا تھا اور اس کا برسوں پرانا ساتھی اس کا اشارہ پاتے ہی ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ عجیب منظر تھا‘ بیل سرپٹ دوڑے چلا آرہا تھا‘ شاہ زر شمعون کا سلطان اس کے عین سامنے سفر کررہا تھا‘ ان دونوں کے بیچ بچہ کھڑا تھا۔
بیل چند قدموں کے فاصلے پہ رک گیا تھا‘ اب اس کی نگاہیں سلطان اور سلطان کی پیٹھ پہ سوار شاہ زرشمعون پہ تھیں۔ اس سے پہلے کہ بیل دائیں طرف سینگ مار کر بچے کو قدموں تلے کچل دیتا۔ عین وقت پہ شاہ زرشمعون نے اسے بائیں طرف جل دے کر تیزی سے جھک کر بچے کو اٹھا کر اپنے سامنے بٹھایا تو اس سے دگنی تیز رفتاری سے مڑ کر بیل کے نتھنوں میں ڈالی رسی پکڑ کر سلطان کا رخ مضبوط پیڑ کی طرف کردیا۔ اگلے ہی پل پیڑ کے گرد دو تین چکر لگاتے اس نے بیل کو نکیل ڈال دی۔ بیل آزادی کے لیے زور آزمائی کرنے لگا مگر شاہ زرشمعون کی لگائی گرہیں اتنی کمزور نہیں تھیں جو آسانی سے کھل جاتیں۔ سب نے بنا پلکیں جھپکے یہ سارا منظر دیکھا تھا‘ بیل دو تین چکر لگانے کے بعد تھک کر سستانے بیٹھ گیا تھا۔ بچے کی ماں اور سب لوگ تیزی سے بھاگتے ہوئے آئے تھے۔
’’بہت شکریہ شاہ…‘‘ بچے کی ماں شکر گزار ہوئی۔ متفکر نظروں سے سلطان کی گود میں سوار اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔ شاہ زرشمعون نے بچے کے ساتھ سلطان کی پیٹھ سے چھلانگ لگائی۔
’’خوف زدہ ہے‘ اسے دیکھیں۔‘‘ بچہ اس کی ماں کے حوالے کرتے اس نے اس کی سہمی ہوئی شکل کی طرف توجہ دلائی‘ بچے کی ماں وفور جذبات سے بچے کو چومنے لگی شاہ زرشمعون نے دلچسپی سے یہ منظر دیکھا۔
’’آپ نے عین موقع پر جان بچالی۔‘‘ سب اس کے گن گا رہے تھے۔ بلاشبہ گائوں میں سب ہی اسے بہت پسند کرتے تھے۔ بھلے وہ اکھڑ‘ بددماغ مشہور تھا مگر بلا کا منصف‘ کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی پسند نہیں کرتا تھا۔
ہر کوئی اپنے مسائل اسی سے کہتا تھا‘ اس سے پہلے سب چوہدری حشمت کے پاس جاتے تھے لیکن جب سے وہ چوہدھی حشمت کا بازو بنا تھا‘ سب اس سے ہی رابطہ کرتے تھے اور اس کی انصاف پسندی کے قائل بھی تھے۔ گو کہ فیصلے اب بھی زیادہ تر چوہدری حشمت ہی کرتے تھے اور انہیں عمل میں لانے کا فریضہ شاہ زرشمعون کرتا تھا۔
غریبوں کے لیے احساس‘ ان کے لیے درد اسے سب کی نظروں میں معتبر کرتا تھا‘ ہر کوئی اس کی مدح سرائی کرتے نظر آتے تھے۔
’’میرا بیل؟‘‘ نصر بھی دوڑتا ہوا آیا اسے خبر مل گئی تھی کہ بیل ادھر آنکلا ہے۔
’’تمہارا بیل کھیتوں میں کیسے گھس آیا نصر؟‘‘ نصر سے باز پرس کرتے اس کے چہرے کی سرخی اور بھی گہری ہوگئی تھی۔
’’شاہ… مجھے نہیں معلوم‘ میرے بیل تو پانی پی رہے تھے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ بیل بھٹک کر ادھر آنکلے اور کسی کی جان لینے کی کوشش کرے۔‘‘ نصر نے گڑبڑا کر صفائی دی۔
’’پھر آج کیسے ہوا؟‘‘
’’کھیتوں کا جو نقصان ہوا سو ہوا اگر آج ان میں سے کسی کی جان جاتی تو پتا ہے میں تمہارے ساتھ کیا کرتا؟‘‘ شاہ زر شمعون غیض وغضب سے دھاڑا۔
’’مجھے گولی مار دیتے… مجھے خبر ہے شاہ مگر یقین کریں مجھے خود حیرت ہے‘ میرے بیل بہت سدھائے ہوئے ہیں۔‘‘ نصر کو اس کے تیوروں کے سامنے صفائی دینا مشکل لگ رہا تھا۔
’’ویرے… بیل کو منجو نے تنگ کیا تھا‘ منجو نے جلتی سگریٹ بیل کی ٹانگوں پہ لگائی تھی تب بیل بھاگا تھا۔‘‘ مجمع میں سے دس گیارہ سالہ بچہ آٹھ سالہ بچے کو سامنے لاکر کہانی کے مرکزی کردار کو بے نقاب کر گیا تھا۔ شاہ زرشمعون کی نظریں دونوں بچوں پہ پڑیں تو رخ ان کی طرف پھیر گیا۔
’’ادھر آئو دونوں۔‘‘ اس کے اشارہ کرنے پہ دونوں بچے قریب چلے آئے۔
’’یہ ٹھیک کہہ رہا ہے؟‘‘ جس بچے کی شناخت منجو کے نام سے کی گئی تھی اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا جو مارے ڈر کے سر جھکائے کھڑا تھا۔
’’سچ بولو گے تو کچھ نہیں کہوں گا… انعام بھی دوں گا لیکن جھوٹ کہا تو اسی بیل کے اوپر بٹھادوں گا۔‘‘ شاہ زرشمعون نے قدرے جھک کر کہا۔
’’حیدر سچ کہہ رہا ہے۔‘‘ بچے نے باریک آواز سے اعتراف کرلیا۔ وہ بھی اس کی دہشت سے واقف تھا‘ جانتا تھا جو کہتا ہے کر گزرتا ہے‘ اسے بیل پہ نہیں بیٹھنا تھا تب ہی سچ بتادیا۔
’’سگریٹ کہاں سے آئی تمہارے پاس؟‘‘ ایک اور سوال پوچھا۔
’’ویرے یہ سٹے بھی لگا رہا تھا‘ مجھے دکھا رہا تھا کہ دیکھو دو انگلیوں سے پکڑ کر سٹا لگاتے ہیں اور پھر منہ سے دھواں نکالتے ہیں۔‘‘ شکایتی بچہ ایک بار پھر سرگرم ہوا اور معصو م مجرم سر مزید سینے تک جھکا گیا کہ اب تو اس کی خیر نہیں۔
’’سگریٹ کہاں سے ملی‘ بتائو؟‘‘ شاہ زرشمعون کا سوال اور اس کی گرفت بچے سے سچ اگلوا گئی۔
’’یہاں کھیت سے ملی تھی‘ میں لے کر بھاگ گیا‘ دو تین کش لگا کر اسے دکھایا اور پھر سوچا بیل کے لگا کر دیکھوں‘ کیا کرتا ہے… مجھے معاف کردو ویرے… میں اب کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گا۔‘‘ منجو ساری بات سچائی سے بتا کر جھٹ کان پکڑ گیا تو شاہ زرشمعون کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی‘ ایک بار پھر سرخی اس کے چہرے پر پھیل گئی تھی۔
’’اچھے بچے چاکلیٹ کھاتے ہیں… پھر سے دوبارہ ایسی حرکت کی تو اسی سگریٹ سے تمہاری ٹانگیں جلائوں گا‘ کیسے اچھلوگے پتا ہے ناں؟‘‘ شاہ زرشمعون نے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر والٹ نکالا اور اس میں سے سو سو کے دو نوٹ نکال کر دونوں بچوں کو تھمائے۔
’’جائو چاکلیٹ لے لو‘ انعام ہے تم دونوں کا‘ سچائی جو بتائی۔‘‘ دونوں پیسے لے کر اچھلتے کودتے چلے گئے۔
’’آج سے کام کرتے ہوئے مجھے کوئی سگریٹ پیتا نظر نہ آئے‘ جسے پینی ہو وہ دو منٹ کا وقفہ لے کر تنہائی میں جاکر اپنے جگر کو جلا سکتا ہے‘ کسی کی بے دھیانی میں جلتی سگریٹ مجھے پھر سے نظر آئی تو اسی دن سے چھٹی‘ سمجھ آگئی سب کو…؟‘‘ بچوں کو مسکراتی نظروں سے دیکھتے وہ پلٹا تو اس کی سپاٹ اور غصیلی زور دار آواز نے سب پہ خوف طاری کردیا۔ مرتے کیا نا کرتے کے مصداق ہاں میں سرہلایا کہ اس کے اصول اکثر ان کے فائدے کے لیے ہی ہوتے تھے اور ابھی بھی جو نقصان ہونے سے بچ گیا اس میں بھی ا ن کا ہی قصور تھا۔ جلتی سگریٹ اٹھا کر بچے کی حرکت نے کہرام مچادیا تھا‘ کئی بچوں کی جان جاسکتی تھی۔
’’وہ… میں اپنا بیل لے جائوں؟‘‘ نصر گھگھیایا۔
’’ہاں شوق سے۔‘‘ شاہ زرشمعون بیل کی طرف اشارہ کرتے بجتے ہوئے سیل فون کی طرف متوجہ ہوا تھا‘ سیل فون کرتے کی جیب سے نکالتے اس نے سب کو کام کی طرف متوجہ کیا۔ مجمع منتشر ہوکر لوگ اپنے اپنے کاموں کی طرف بڑھ گئے تھے۔
’’جی داجان…‘‘ الٹے ہاتھ سے سلطان کی لگام تھامتے سیدھے ہاتھ سے سیل فون کان سے لگائے وہ واک کرتے بات کررہا تھا۔ سدھایا ہوا سلطان اپنی مخصوص چال میں اس کے پیچھے چلا آرہا تھا۔
’’جی… کھیتوں میں ہوں۔‘‘ دوسری طرف چوہدری حشمت تھے نے اس سے پوچھا تھا۔
’’کب تک فارغ ہوجائو گے؟‘‘ چوہدری حشمت نے دریافت کیا۔
’’ایک گھنٹا مزید لگے گا داجان‘ بھٹے کی فصل چیک کرنی ہے۔ اگر تیار ہوئی تو کل سے کٹائی کا کام شروع کروائوں گا۔‘‘
’’فارغ ہوتے ہی‘ حویلی آکر مجھ سے ملو۔‘‘ چوہدری حشمت نے حکم صادرکیا۔
’’جی داجان… میں جلد ہی آتا ہوں۔‘‘ وہ سعادت مندی سے جواب دے کر احتراماً لائن پہ ہی تھا تاکہ چوہدری حشمت خود ہی لائن منقطع کریں۔ وہ یہ گستاخی نہیں کرسکتا تھا۔ ان کے ساتھ… چوہدری حشمت نے لائن منقطع کی تو اس نے بھی جست لگا کر سلطان کی پیٹھ پہ سوار ہوکر اسے ایڑھ لگائی۔ وہ جلد سے جلد مطلوبہ مقام تک پہنچ کر کام مکمل کرکے حویلی لوٹنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
چوہدری حشمت نے بلایا تھا۔ یقینا کوئی ضروری کام ہوگا۔ اسی خیال سے اس نے سلطان کو اشارہ دیا اور سلطان ہوا سے باتیں کرنے لگا۔
٭…٭…٭
شولڈر کٹ بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے بلو شارٹ شرٹ‘ اورنج شلوار دوپٹے میں بے حد حسین مکھڑے کے ساتھ بور ہوتے تاثرات سے وہ اس بڑے سے ہال نما کمرے کا بے فکری سے جائزہ لیتی چیونگم چبا رہی تھی۔ چوہدری حشمت کا ہال نما کمرا تاریخی نوادرات‘ پیتل اور تانبے کی آرائشی و زیبائشی چیزوں سے بھر اہوا تھا‘ ان کے مضبوط بیڈ کے ساتھ ان کا حقہ رکھا ہوا تھا۔ چوہدری حشمت اپنی پگڑی اتارے ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے کمرے میں ٹہل رہے تھے۔ قدیم سیٹی پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے کہنی گھٹنے پہ جمائے ہتھیلی کے پیالے میں چہرہ ٹکائے وہ کمرے کی ایک ایک چیز کی گنتی کرکے فارغ ہوتی تو ایک اچٹتی نگاہ ٹہلتے ہوئے چوہدری حشمت پہ بھی ڈال لیتی تھی۔
’’سلام داجان… حکم آپ نے یاد کیا تھا؟‘‘ شاہ زرشمعون اپنی وجاہت کے ساتھ چادر شانے پہ درست کرتا چوہدری حشمت کے سامنے سر جھکا گیا تھا۔ یہ اس کا مخصو ص انداز تھا۔
’’والسلام! خُوش رہ پتر۔‘‘ چوہدری حشمت اس کے جھکے سر پہ ہاتھ پھیر کر اپنی مخصوص کرسی کی طرف بڑھ گئے۔
’’پتر تو فارغ ہے ابھی؟‘‘ چوہدری حشمت نے کرسی پہ بیٹھتے اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’جی داجان۔‘‘ وہ ان کے سامنے رکھی کرسی پر مودب ہوکر بیٹھ گیا۔ شنائیہ کو اس اکڑو کو اتنا مودب دیکھ کر ہمیشہ سے بہت حیرت ہوتی تھی‘ وہ صرف بڑوں خصوصاً چوہدری حشمت کے آگے سر اٹھا کر بات نہیں کرتا تھا‘ نظریں بھی جھکی رہتی تھیں۔
شنائیہ سمیت حویلی کے تمام اراکین کو یہی لمحے انمول لگتے تھے ورنہ تو اس کی اٹھتی سرد اور غصیلی نظر جس پہ اٹھتی تھی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ جاتی تھی۔ حویلی میں سب ہی کی جان چوہدری جہانگیر کے بعد شاہ زر شمعون کے آگے ہی نکلتی تھی۔ چوہدری جہانگیر اس کے چچا جان تھے مگر وہ فطرتاً ان کا پرتو تھا۔ یہ اس کے وجود کی دہشت ہی تھی جو اسے دیکھتے ہی کانشس ہوکر بیٹھ گئی تھی۔
’’پتر شنائیہ کو کراچی چھوڑ آ… اس کی پڑھائی کا حرج ہورہا ہے‘ بخت کو فرصت نہیں ہے کہ اسے لینے آسکے اور اس نے جانے کی جلدی مچائی ہوئی ہے۔‘‘ چوہدری حشمت کے بائیں طرف اشارہ کرنے پہ شاہ زرشمعون نے چونک کر اس پر نظر ڈالی۔
یہ سن کر کہ داجان شاہ زرشمعون کو اس کا باڈی گاڈ بنا کر اسے ڈراپ کرنے کی ذمہ داری سونپ رہے ہیں شنائیہ کا دل ہی جیسے بند ہونے لگا مگر شاہ زر شمعون کی نظر خود پہ دیکھ کر اس نے زمانے بھر کی معصومیت اپنے چہرے پہ سجا کر پلکیں پٹپٹا کر دوپٹا شانوں پہ ٹھیک کرتے اس معصومیت میں مزید رنگ گھولنا چاہا۔
’’داجان… کراچی اور میں…؟‘‘ وہ جیسے مخمصے میں پھنس گیا مگر چوہدری حشمت کو انکار کرنے کی بھی جرأت نا تھی۔ وہ اسے سولی پہ چڑھنے کو بھی کہتے تو وہ سوال کیے بنا چڑھ جاتا مگر شنائیہ کا نام سنتے ہی جو بے زاری کے رنگ اس کے چہرے پہ آئے وہ شنائیہ کی خوبصورت سی ناک کے نتھنے پھلا گئے۔
’’داجان میں بائی ایئر اکیلی چلی جائوں… آن لائن بکنگ…‘‘ شاہ زرشمعون کی عقاب جیسی نگاہ اس سرعت سے اس پہ پڑی تھی کہ اس سے بات پورا کرنا محال ہوا۔
’’پتر یہ بات تو اچھی طرح جانتی ہے کہ ایسی آزادی حویلی کی عورتوں کو نہیں… کیا تو کراچی میں بھی اکیلی ہر طرف سفر کرتی ہے؟ بات کرتا ہوں بخت سے‘ رنگ دکھا رہا ہے اس کا شہر میں رہنا۔‘‘ چوہدری حشمت کو بھی اس کا بیچ میں بولنا گراں گزرا۔ ساتھ ہی چوہدری بخت کی بھی شامت آگئی تو شنائیہ نے خاموشی میں ہی عافیت جانی… یہاں تو سوچ سمجھ کر بولنا پڑتا تھا۔
یہ ٹھیک تھا کہ چوہدری بخت کا شجرہ نصب بھی اسی حویلی سے تھا مگر وہ سالوں سے کراچی میں مقیم تھے۔ پیشے سے ڈاکٹر تھے‘ ان کی اہلیہ‘ شنائیہ کی والدہ ماجدہ دیا بھی ڈاکٹر تھیں‘ دونوں پڑھے لکھے اور روشن خیال تھے… انہوں نے دونوں بیٹیوں شنائیہ اور ماہم کو روشن خیالی سے پالا تھا۔ وہ بس چھٹیوں میں حویلی آتے تھے یا حویلی کے مکین کبھی کراچی آتے تو بخت اور دیا کی ہدایت پہ دونوں بیٹیاں ہی بہت تمیز سے رہتی تھیں۔ اب بھی ماہم کے کالج اور شنائیہ کی یونیورسٹی کی چھٹیاں تھیں۔ دونوں چوہدری بخت اور دیا کے ساتھ چند دنوں کے لیے آئی تھیں مگر زمرد بیگم کے اصرار پہ وہ شنائیہ کو چھوڑ گئے تھے کہ ماہم کے کالج کا مسئلہ تھا۔
وہ بے چاری سی شکل بنا کر رہ گئی تھی‘ جس پہ واضح درج تھا کہ وہ رکنا نہیں چاہ رہی تھی۔ مگر دیا نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کرکے رکنے پہ مجبور کردیا‘ زمرد بیگم محبت کا اظہار کررہی تھیں‘ دیا اور چوہدری بخت سے کم کم آنے اور جلدی جانے پہ گلہ کررہی تھیں۔ ایسے میں انہوں نے شنائیہ کو کچھ دن حویلی چھوڑ دینے کا کہا تو دونوں انکار نہ کرسکے‘ شنائیہ منہ بسور کر رہ گئی۔ حویلی میں قیام کرنا تو قدم قدم پہ سوچ سمجھ کر بولنا‘ شنائیہ جیسی آزاد منش لڑکی کے لیے عذاب سے کم نا تھا‘ اٹھنا بیٹھنا‘ سونا جاگنا سب دوسروں کا طے شدہ تھا۔ حویلی میں مرضی کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ وہ یہاں آکر خود کو قیدی تصور کرتی تھی‘ اوپلوں کی مہک سے اس کا جی متلانے لگتا‘ تو اڑتی مٹی سے ڈسٹ الرجی کی فکر لاحق ہوکر اسے ناک منہ پہ کپڑا لپیٹنے پہ مجبور کردیتی تھی۔ حقیقتاً وہ بہت نخریلی اور نازک مزاج تھی۔
حویلی میں سب ٹیوب ویل کا پانی پیتے تھے مگر وہ منرل واٹر کی جگہ دوسرے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگاتی تھی‘ حویلی میں اس کی نخریلی فطرت سے سب ہی آگاہ تھے‘ مگر شاہ زر شمعون کو اس کے نخرے ذرا نہیں بھاتے تھے۔ وہ حویلی سے بور ہوگئی تو اس نے بخت اور دیا سے کہا کہ وہ اسے لینے آجائیں مگر دونوں کی مصروفیت نے انہیں اجازت نہ دی تو انہوں نے اسے مزید کچھ دن اور رہنے کا مشورہ دیا‘ جس پہ اس نے اکیلے آنے کی بات کی تو چوہدری بخت کے ساتھ دیا نے بھی جھاڑ پلائی کہ حویلی میں ایسی بات بھولے سے بھی نا کہے‘ انہیں چوہدری حشمت کے افکار کی خبر تھی۔ لیکن شنائیہ سے اب یہ بھول ہوچکی تھی جلد سے جلد حویلی سے بھاگنے کے لیے اس نے جھوٹ موٹ کہہ دیا تھا کہ اس کی کلاسز اسٹارٹ ہوگئی ہیں اور ہرج ہورہا ہے۔
’’سوری داجان…‘‘ وہ معصوم سی شکل بنا کر رہ گئی کہ مبادا وہ اسے چھڑوانے کا ارادہ ہی نا کینسل کردیں۔
’’جانتا ہوں تمہیں طویل سفر پسند نہیں لیکن سمہان رات گئے ہی چکوال سے لوٹا ہے‘ ابھی بھی صبح سے نکلا ہوا ہے‘ اسفند کے کام سے… جانے کب لوٹے گا… اس لیے یہ ذمے داری تمہیں سونپ رہا ہوں۔‘‘ چوہدری حشمت نے تفصیل سے ذکر کرکے سب واضح کیا تو وہ جو سمہان آفندی کا نام لینے کا ارادہ رکھتا تھا چپ ہوگیا۔
’’داجان کل سے فصل کی کٹائی شروع کروانی ہے۔‘‘ شاہ زرشمعون نے دامن بچانا چاہا کہ کل سمہان آفندی فری ہوتا تو وہ اس مصیبت کو ڈراپ کردیتا۔
’’اس کی تم فکر نہ کرو وہ سمہان دیکھ لے گا۔‘‘ چوہدری حشمت نے بھاگنے کی یہ راہ بھی بند کردی تو اس نے سرینڈر کردیا۔
’’جی بہتر… کب نکلنا ہے؟‘‘ لمبی سانس بھر کے ہتھیار ڈال دیے۔
’’سڑیل‘ پوز تو ایسے کررہا ہے جیسے اسے کالا پانی کی سزا سنائی گئی ہو…‘‘ شنائیہ کے وجود کے اندر جملہ شور مچانے لگا۔
’’ہونہہ…‘‘ اس کے سائیڈ پوز سے جھلکتی تیکھی ناک کو نخوت سے دیکھ کر اس نے سر جھٹکا‘ منہ سے کچھ نا بول سکی کہ کہیں بدک کر ڈراپ کرنے سے انکار ہی نا کردے۔
’’ابھی… آدھا‘ ایک گھنٹے میں نکل جائو‘ تمہاری دی جان سے کہلوا دیتا ہوں وہ صغراں سے کھانے پینے کی چیزیں بھی تیار کروا کر پیک کروا دیں گی۔‘‘ چوہدری حشمت نے زمرد بیگم کا نام لے کر مزید کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا۔
’’جو حکم۔‘‘ وہ مودب تھا۔
’’جائو شنائیہ‘ تم تیار ہوجائو‘ کچھ وقت ہے تمہارے پاس۔‘‘ چوہدری حشمت نے اس کی طرف رخ کیا تو وہ خوشی سے اچھل پڑی۔
’’تھینکس داجانپ مجھے بس دس منٹ لگیں گے میں نے اپنا سارا سامان پیک کرلیا ہے‘ پہلے ہی۔‘‘ وہ جوش میں کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی‘ اس کے لفظوں اور تاثرات سے صاف ظاہر تھا اسے یہاں سے بھاگنے کی جلدی تھی۔
شاہ زر شمعون کی سرد نظروں نے اس کے سارے جوش کو ٹھنڈا کردیا تھا۔ سست قدموں سے چوہدری حشمت کے کمرے سے نکل رہی تھی… شاہ زرشمعون کو خبر تھی باہر نکلتے ہی اس نے مور کی طرح پنکھ پھیلا کر رقص شروع کردینا ہے۔ وہ شنائیہ کے سارے رنگ بہت اچھی طرح پہچانتا تھا۔
٭…٭…٭
منزہ ٹوٹی ہوئی عینک لگائے ایمبرائیڈری مشین میں ریشم کا دھاگا ڈالنے میں منہمک تھیں‘ کتنی ہی بار کوشش کے بعد ریشم کا دھاگا سوئی میں جانے کو تیار ہوتا تھا۔ فجر کے بعد سے جو ایمبرائیڈری مشین سنبھالتی تھیں تو رات گئے تک اس کی گھرر گھرر چلتی رہتی تھی۔ بس ایک دھاگا سوئی کے پار کرنے کا عمل ہی جوکھم کا تھا۔ انہوں نے دوبارہ کوشش کرنا چاہی مگر ان کے ہاتھ سے دھاگا لے کر ان کے برابر بیٹھ کر ماورا یحیٰ نے مشین کا رخ ذرا سا اپنی طرف کیا اور اگلے ہی سیکنڈ اس نے دھاگا سوئی میں پرو دیا تھا۔
’’ارے واہ کتنی جلدی چلا گیا تم سے…‘‘ منزہ خوش ہوگئیں۔ ان کی عمر چالیس کے لگ بھگ تھی‘ مگر چہرے کی ملاحت ونزاکت گواہی دیتی تھی کہ وہ بھی کبھی حسین رہی ہوں گی۔
’’کتنی بار کہا ہے آپ سے‘ گلاسز بنوالیں‘ کب تک یوں ہی کام چلائیں گی۔‘‘ مشین کا رخ ان کی طرف کرکے ماورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بنوالوں گی… بنوالوں گی۔‘‘ منزہ نے ہمیشہ کی طرح آس میں رکھنا چاہا۔
’’کب بنوائیں گی جب اس کا دوسرا شیشہ بھی جواب دے جائے گا؟ لائیں مجھے دیں میں ابھی جارہی ہوں آپٹیکل شاپ پہ… آتے ہوئے تیار ہوگیا تو لیتی آئوں گی۔‘‘ ماورا نے ہاتھ بڑھا کر گلاسز اتارنا چاہا۔
’’کہا ناں بنوالوں گی‘ ابھی لے جائو گی تو کام کیسے کروں گی‘ آپٹکل والے اتنی جلدی کہاں بنا کر دیں گے۔ دو تین دن تک دوڑیں لگوائیں گے۔‘‘ منزہ نے چشمہ دینے سے انکار کیا۔
’’ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ شام کو کلینک چلیے گا‘ آنکھیں ٹیسٹ کروا کر نیا گلاسز بنوالیں گے۔ اس طرح پتا بھی چل جائے گا خدانخواستہ بینائی مزید کم تو نہیں ہوگئی۔‘‘ ان کی بات مانتے اس نے انہیں شام کا پلان بتایا۔ منزہ نے سر ہلایا تاکہ بات آئی گئی ہوجائے۔
’’کہیں جارہی ہو؟‘‘ منزہ نے اپنی حسین بیٹی کو بغور دیکھا۔
دوپٹا سر پہ لیے وہ تیار کھڑی تھی‘ چہرہ میک اپ کے لوازمات سے عاری تھا مگر اس سادگی میں بھی وہ ہوش ربا لگ رہی تھی۔
’’جی بتایا تھا ناں‘ آج انٹری ٹیسٹ ہے۔‘‘ اس نے دوپٹا ٹھیک کرتے بیگ کی تلاش میں نگاہ دوڑائی جو اسے پلنگ پہ رکھا نظر آیا‘ دھاگا ڈالتے وقت اس نے وہیں رکھ دیا تھا۔
’’ہاں دیکھو میں بھول گئی‘ جائو اللہ تمہیں کامیاب کرے‘ بہت اچھا ہو ٹیسٹ۔‘‘ منزہ یاد آنے پہ دعائیں دینے لگیں۔
’’میں چلوں تمہارے ساتھ؟ اکیلی گھبرا جائوگی۔‘‘ منزہ کی بات پہ اس کے لبوں پہ مسکراہٹ آگئی۔
’’میں کوئی چھوٹی سی بچی ہوں جو گھبرا جائوں گی۔‘‘ وہ مسکرائی۔ ’’آپ فکر نا کریں میں چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے دلاسا دیا۔
’’لیکن یونیورسٹی کوئی قریب تھوڑی ہے‘ شہر کے دوسرے کونے میں ہے۔‘‘ منزہ کو اب یونیورسٹی کی دوری کی فکر ہونے لگی۔
’’مجھ اکیلی کے لیے تھوڑی دور ہے‘ ہزاروں لڑکیاں لڑکے روز آتے جاتے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں میں چلی جائوں گی۔‘‘ وہ ان کا تردد دور کررہی تھی۔
’’سالن میں نے پکا دیا ہے‘ انوشا آکر روٹیاں پکا لے گی‘ آپ نا گھس جائیے گا کچن میں کام کرنے۔‘‘ وہ تنبیہہ کرتے ہوئے کہنے لگی۔
’’کرائے کے پیسے تو ہیں ناں تمہارے پاس؟‘‘ منزہ فکر مند سی ہوئیں۔
’’جی ہیں۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
’’سو پچاس اوپر ہی رکھنا‘ کیا معلوم کب راستے میں ایمرجنسی پیش آجائے۔‘‘ منزہ نے کہنے کے ساتھ ہی دوپٹے کا پلو ٹٹول کر قریب کیا‘ پلو کے ایک کونے میں گرہ لگی ہوئی تھی۔ منزہ اسے کھولنے لگی تھیں‘ جب گرہ کھلی تو اس میںسے پچاس اور سو کے نوٹ نکلے۔
’’لو رکھ لو‘ کیا معلوم کب ضرورت پڑ جائے۔‘‘ منزہ نے روپے اس کی طرف بڑھائے۔
’’اماں میرے پاس ہیں‘ کل بچوں کی فیس آئی تھی اس میں سے میں نے پانچ سو رکھ لیے تھے۔‘‘ وہ انہیں مطمئن کرنے کے جتن کررہی تھی۔
’’پھر بھی رکھ لو…‘‘ منزہ نے زبردستی اس کی ہتھیلی پکڑ کر روپے اس کے ہاتھ میں تھمائے۔ ماورا اﷲ حافظ کہتی تیزی سے دروازے کی طرف لپکی تھی۔ مبادا منزہ پھر کسی اور فکر میں مبتلا نا ہوجائیں۔ ماورا کے جانے کے بعد منزہ اپنی بیٹیوں کے لیے فکر مند تھیں۔
’’گھنٹوں محنت کرتی ہیں میری بیٹیاں اور انہیں کیا ملتا ہے؟ قصور ان کا کہاں ہے؟ انہیں ایسی ناآسود زندگی دینے والی‘ ان کے ماتھے پہ غربت کا نشان چھوڑنے والی میں ہی تو ہوں۔‘‘ منزہ کی ذہنی روبھٹک گئی تھی۔ وہ کئی لمحے تک گم گشتہ ماضی میں سفر کرتی رہیں۔ سکھ آسائش‘ ناز نخرے اٹھانے والے… کیا کچھ ناں تھا ان کے پاس مگر کیا کیا تھا انہوں نے؟ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ احساس ندامت اب جگر کو کاٹنے لگا تھا۔ مشین کو ایک طرف کرکے وہ بے دم سی ہوگئی تھیں۔ جب کبھی یہ کسک اٹھتی تھی ان کی حالت غیر ہوجاتی تھی۔
٭…٭…٭
’’کیا حال ہے برو؟‘‘ سمہان آفندی صبح کا نکلا کچھ دیر قبل ہی لوٹا تھا۔ شدید بھوک لگ رہی تھی‘ وہ فریش ہوکر کچن کی طرف جارہا تھا کہ شاہ زرشمعون بھی چوہدری حشمت کے کمرے سے نکلتا نظر آیا۔ سمہان آفندی کا سامنا ہوا تو اس نے پُرجوش طریقے سے وش کرتے ہوئے‘ ہوا میں ہاتھ لہرا کر‘ دونوں کے ملن کا ڈنکا بجایا۔
’’کہاں جارہے ہو؟‘‘ شاہ زرشمعون نے اس کے فریش چہرے کی طرف نظر ڈالی۔
’’صبح کا نکلا وہ ابھی لوٹا تھا مگر تھکن کا شائبہ تک نہیں تھا اس کے چہرے پہ‘ وہ اس وقت بھی ہنستا مسکراتا اس کے روبرو تھا۔ بڑوں سے شاہ زر شمعون ایک حد میں رہ کر ملتا تھا تو چھوٹے اس کے مزاج کے باعث خود ہی حد میں رہنے پہ مجبور تھے۔ اس کے سامنے کسی کی چوں کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ واحد سمہان آفندی تھا جو اس سے ایک ڈیڑھ سال ہی چھوٹا تھا مگر دونوں کی خوب بنتی تھی۔ شاہ زرشمعون‘ چوہدری حشمت کے بازوئوں جتنی اہمیت رکھتا تھا تو سمہان آفندی کو بھی ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت حاصل تھی۔
چوہدری بخت اور چوہدری جہانگیر سالوں سے کراچی میں اپنی اپنی فیملی سمیت مقیم تھے۔ حویلی میں چوہدری فیروز تھے جنہیں جاگیرداری سے لگائو تو تھا مگر جب سے زمین جائیداد اور کھیتوں کی دیکھ بھال ایگری کلچر میں ماسٹرز کرنے والے ان کے بیٹے شاہ زرشمعون نے اپنے کندھوں پر لی تھی تب سے چوہدری حشمت کی ساتھ چوہدری فیروز کو بھی فراغت نصیب ہوئی تھی۔ وہ اکیلا ہی سب کچھ اتنی اچھی طرح منیج کرلیتا تھا کہ انہیں دخل دینے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی۔
دوسری طرف سمہان آفندی تھا‘ جو حویلی کا جن کہلاتا تھا۔ اس کے والد چوہدری اسفند حویلی کے سب سے چھوٹے بیٹے ہونے کے ساتھ بالکل بھی جاگیردارانہ مزاج نہیں رکھتے تھے۔ وہ آرکٹیکٹ تھے اور اکثر دوروں پہ ہی شہر شہر گھومتے رہتے تھے لیکن سمہان آفندی میں دونوں کوالٹی تھی۔ وہ جاگیرداری بھی اچھی طرح ہینڈل کرلیتا تھا اور حویلی کے تمام ان ڈور اور آئوٹ ڈور کام بھی۔ سب کو اسی کا نام یاد رہتا تھا۔ وہ انجینئرنگ کے آخری سال میں تھا۔ ہر مسئلہ چٹکی بجا کر حل کرکے سب کو مخمصے میں ڈال دیتا تھا۔ جہاں شاہ زر شمعون کا غصہ‘ عجلت عود کر آتا وہیں اس کی دانائی سے دیے مشورے پہ وہ چپ بھی ہوجاتا تھا۔ جہاں اس کی اعلاو ارفع‘ دانائی کی باتوں سے بات نابنتی پھر وہاں شاہ زرشمعون کی گولی چلتی تھی۔
دلچسپ لیکن الگ الگ مزاج کے دو لوگ ایک دوسرے سے حسد ورقابت رکھنے کی بجائے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے جس پہ تمام ینگ جنریشن کو حیرت ہوتی تھی۔ سب کو سمہان آفندی کے لفظوں کے جال کا بھی پتا تھا وہ مقابل کو ایسے لپیٹ لیتا تھا کہ اگلا محبت میں جان بھی دے دے‘ اپنی اپنی انفرادیت کے بنا پہ دونوں پوتے چوہدری حشمت کی جان تھے۔
’’ڈیڈ نے زمینیں دیکھنے کا کام سونپا تھا‘ اسی میں لگا ہوا تھا‘ ابھی لوٹا ہوں‘ غضب کی بھوک لگی ہے اس لیے ماما کو کہہ دیا تھا کھانا لگادیں… اب پیٹ پوجا کرنے جارہا ہوں۔‘‘ سمہان آفندی نے تفصیل سے گوش گزار کیا۔
’’میں بھی اسی مقصد سے اسی طرف جارہا ہوں‘ چلو ساتھ میں لنچ کرتے ہیں گو کہ لنچ کا ٹائم نہیں ہے۔‘‘ شاہ زر شمعون نے کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی میں وقت دیکھتے اس کے ساتھ قدم ملائے۔
’’تم نے کیوں نہیں کیا لنچ؟‘‘ سمہان کو حیرانگی ہوئی‘ وہ کھانے پینے کے معاملے میں ٹائم کا بڑا پابند تھا۔
’’کھیتوں میں ٹائم لگ گیا‘ پھر داجان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔‘‘ اس نے مصروفیت بتائی۔
’’ابھی آتے ہوئے بڑی واہ واہ سنتا آرہا ہوں تمہاری‘ سنا ہے بڑی ہیرو والی پرفارمنس دی اپنے سلطان کے ساتھ۔‘‘ انداز شرارتی تھا‘ شاہ زرشمعون ہنس دیا۔
ایسا منظر کم ہی دیکھنے میں آتے کہ وہ ہنس رہا ہو۔ شنائیہ سمیت سب ہی کو حسرت رہی تھی کہ وہ ہنستا ہوا کیسا لگتا ہے۔
’’میری جگہ تم ہوتے تو اس سے اچھی پرفارمنس دے سکتے تھے… آئم شیور۔‘‘ شاہ زرشمعون نے اس کا مان بڑھایا۔
’’چھوڑو یار… تیرے سامنے دال ہی نہیں گلتی۔‘‘ سمہان آفندی نے مذاقاً کہا۔
’’اب اتنا بھی جھوٹ نا بول۔‘‘ شاہ زرشمعون نے گھرکا۔
دونوں ہنستے مسکراتے کچن کے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے تھے۔ صغراں اور دیگر کچن کے ملازمین انہیں ایک ساتھ آتے دیکھ کر الرٹ ہوگئے۔ حویلی کے مرد حضرات کم ہی اس ڈائننگ ہال میں آتے تھے… کھانا اور ناشتا مین ہال میں ہی لگتا تھا‘ جہاں سب اکھٹے ہی بڑی سے ڈائننگ میز پہ ایک ساتھ بیٹھتے تھے‘ ہاں سمہان آفندی اور شاہ زرشمعون کو وقت بے وقت کھانے کا موقع ملتا تھا تو وہ دونوں اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ کیا اکیلے کے لیے ملازموں کی دوڑیں لگوائیں‘ اسی لیے وہ دونوں اکثر کچن سے ملحق ہال میں ہی کھانا کھانا پسند کرتے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی صغراں جلدی جلدی کھانے کے لوازمات میز ہر رکھنے لگی۔
’’آج تو بڑا اہتمام ہے صغرا بی…‘‘ سمہان آفندی مینو دیکھ کے سراہے بغیر نہ رہ سکا۔ شاہ زر شمعون بنا کچھ کہے اپنے مخصوص انداز میں خاموشی سے چیزیں پلیٹ میں نکالنے لگا۔
’’جی کچھ چیزیں تو تیار تھیں اور کچھ ابھی تیار کی ہیں‘ شاہ کے ساتھ جو جائیں گی۔‘‘ صغراں نے فروٹ سیلڈ کا بائول رکھتے ہوئے اطلاع دی۔
’’کہاں کی تیاری ہے؟‘ کولڈ ڈرنک اپنے گلاس میں انڈیلنے کے بعد سمہان آفندی اب اس کے گلاس میں بھی انڈیل رہا تھا۔ بھلے وہ اسے آپ جناب‘ بھائی نہیں کہتا تھا‘ بے تکلفی سے دوستوں کی طرح رہتا تھا مگر احترام ضرور کرتا تھا اور یہ احترام اس حویلی کا خاصا تھا۔
’’کراچی…‘‘ شاہ زر شمعون نے مختصراً کہہ کر گلاس لبوں سے لگایا۔
’’خیریت؟‘‘ کباب کو فورک سے توڑتے وہ متجسس تھا۔
’’شاہ زادی‘ شنائیہ کو ڈراپ کرنے۔‘‘ اس نے اتنے جلے بھنے لہجے میں کہا کہ سمہان آفندی کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
‘‘ایسا کون سا لطیفہ سن لیا جو منہ پھاڑ کر ہنس رہے ہو۔‘‘ عیشال اسی دم کچن میں داخل ہوئی تھی‘ دونوں کو خوشگوار موڈ کے ساتھ لنچ کرتے دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ ایسا منظر کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا کہ حویلی کے دو تیس مار خان ایک ساتھ نظر آئیں۔
’’کیا چاہیے میم؟‘‘ جینا نے مودب ہوکر پوچھا۔
’’چائے پکانے آئی ہوں‘ اپنے ہاتھ کی چائے پینے کو دل چاہ رہا تھا۔‘‘ عیشال نے کہتے ہوئے سائیڈ پر ہونے کا اشارہ کیا تو جینا مسکرا کر پیچھے ہٹ گئی کہ وہ اکثر اپنے لیے خود ہی چائے بناتی تھی۔ سمہان آفندی اسے دیکھتا رہ گیا۔
رات کے ساڑھے تین بجے کے بعد ابھی شام کو حویلی میں گھسا تو اس کی شکل دیکھنے کو نہیں ملی‘ جانے کہاں تھی اور اب کچن میں رونمائی ہوئی تھی۔ کتنے گھنٹوں بعد یہ چہرہ نظر آیا تھا‘ وہ گھنٹے‘ منٹ اور سیکنڈز بھی انگلیوں پہ گن کر بتا سکتا تھا۔
’’صغراں بی‘ لوگوں سے کہیں اگر اچھی سی چائے پکا رہی ہیں تو میرے لیے بھی بنادیں۔ دعائیں دوں گا۔‘‘ اس نے وہیں سے اونچی آواز میں صغراں بی کو مخاطب کرکے کہا مقصد اسے سنانا تھا۔ وہ کوئی اچھا سا جواب دے کر منہ بند کرنا جانتی تھی مگر شاہ زرشمعون کی موجودگی محسوس کرکے اسے صبر کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا… اس کے تاثرات سے سمہان آفندی رج کے محظوظ ہوا۔ وہ اس کی کیفیت سے جان گیا تھا کہ ابھی شاہ زرشمعون نا ہوتا تو اسے کیسا تگڑا منہ توڑ جواب ملنا تھا۔
’’میم… سمہان صاحب…‘‘
’’کہہ دیں اپنے سمہان صاحب سے بہری نہیں ہوں۔‘‘ وہ زیادہ دیر تک پھر بھی ضبط نہیں کرسکی۔ صغراں نے پیغام دوبارہ نشر کرنا چاہا… اس نے بھی اتنی تیز آواز سے کہا کہ وہ سن لے اور اس کے لبوں پہ محظوظ کن مسکراہٹ پھیل کر احساس دلاگئی کہ وہ فیض یاب ہوچکا ہے۔
’’کیوں ستاتے ہو اسے؟‘‘ شاہ زرشمعون نے دھیمی آواز میں گھرکا۔
’’اس کی شکل ایسی ہے ہر وقت لڑنے مرنے کو تیار قنوطی ہوجاتی ہے بول کر بھڑاس نکال لیتی ہے‘ نا بولے تو شاید گھٹ کے مر جائے…‘‘ سمہان آفندی نے بظاہر مسکرا کر لیکن سنجیدگی سے جواب دیا تھا‘ شاہ زرشمعون نے اتفاق کرنے والے لہجے میں سر ہلایا۔
’’کہہ تو ٹھیک رہے ہو‘ بہت ظلم ہوا اس کے ساتھ‘ بہت محرومی آئی ہے اس کے نصیب میں۔‘‘ شاہ زر شمعون بھی جملہ جوڑ گیا۔ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ وہ حویلی کی کسی لڑکی کو یوں ڈسکس کررہے ہوں جو دونوں کی ہی کزن تھی‘ ایک تو عیشال کے ساتھ سب کی ہمدردی تھی دوسرے دونوں میں دوستی بھی بہت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ دونوں ہی حویلی کی عورتوں سمیت تمام عورتوں کی عزت کرتے تھے۔ کوکنگ رینج اور ڈائننگ میز کے درمیان کافی فاصلہ تھا‘ تب ہی ان کی سرگوشی میں کی گئی گفتگو عیشال اور باقی سب تک نہیں پہنچ سکیں تھی۔
’’ویرے… آپ کو بھی دوں چائے پئیں گے؟‘‘ ان کی دھیمی سرگوشی سے بے نیاز عیشال نے اونچی آواز میں شاہ زرشمعون سے پوچھا سمہان آفندی تو منہ پھٹ تھا‘ خود کہہ گیا تھا‘ ایسے میں اس سے نا پوچھتی تو بداخلاقی ہوتی۔
’’دے دو تو مہربانی ہوگی۔‘‘ شاہ زر شمعون نرم لہجے میں بولا کہ اکثر وہ اس کے ساتھ نرمی برت جاتا تھا۔ وہ حویلی میں جتنی تنہا نظر آتی تھی اس کی کوشش ہوتی تھی اپنی سگی بہنوں کی طرح اس کی بھی فکر کرے۔
’’جی…‘‘ وہ مطمئن ہوکر کھولتے پانی میں پتی ڈالنے لگی۔
’’دیکھ لو برو‘ ڈیڑھ سال چھوٹا ہوں تم سے… تمہیں آپ کہہ کر عزت دی جاتی ہے‘ ویرے کہہ کر پکارا جاتا ہے‘ ایک ہم ہیں… تم اور تو جس کا مقدر ہے۔‘‘ سمہان آفندی نے ٹھنڈی آہ بھرتے جیسے رونا رویا… عیشال چلبلا کے رہ گئی‘ کیسا شمعون کے سامنے پکڑا تھا اس نے۔
’’کیوں بھئی عیشال…؟‘‘ شاہ زرشمعون کو بھی حیرانی ہوئی تھی۔ وہ کم ہی کسی کے سامنے سمہان آفندی سے مخاطب ہوتی تھی۔ علاوہ لڑکیوں کے ہر کوئی اس کی تو تڑاک سے ناآشنا تھا۔
’’وہ… ویرے…!‘‘ عیشال سمہان آفندی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے انگلیاں مروڑنے لگی۔
’’کہہ دو‘ آپ جناب کے لائق بھی تو بندہ ہو۔‘‘ اس کے دل کی بات خود سمہان آفندی نے کہہ کر اسے مشکل سے نکالا تھا۔ وہ جتاتی ہوئی نظر ڈال کر رہ گئی۔
’’یہ فتویٰ بھی تم نے خود دیا ہے‘ اب اس کے لیے بھی اس بے چاری کو الزام نا دینا۔‘‘ شاہ زرشمعون کے احساس دلانے پہ وہ مسکرایا۔
’’عیشال… کراچی جارہا ہوں‘ کوئی پیغام بھیجنا ہے چچا جہانگیر کے نام تو دے دو۔‘‘ شاہ زر شمعون کھانے سے فارغ ہوچکا تھا۔
چوہدری جہانگیر کے نام پہ اس کے چہرے پہ مردنی سی چھائی تھی۔ دونوں سے رخ موڑے چائے مگ میں ڈال رہی تھی۔
’’جو لوگ آپ کے وجود سے ہی لاعلم ہوں‘ بھولے بیٹھے ہوں‘ جن کے نزدیک آپ کا ہونا نا ہونا کوئی معنی نا رکھتا ہو‘ ان لوگوں کو بار بار اپنی موجودگی کا احساس دلانے کا کیا فائدہ‘ ایسے بے خبروں کو کوئی کیا پیغام بھیجے گا ویرے۔‘‘ دونوں کے آگے چائے کے مگ رکھ کر وہ تیزی سے کچن سے نکل گئی۔ آنکھیں بھر آئی تھیں‘ درد آنسوئوں کی شکل میں بہنے لگا تھا۔ جنہیں سب سے چھپانے کے لیے وہ تیزی سے باہر نکل گئی تھی۔
’’غلطی کسی کی‘ سزا کسی کی‘ بھگت یہ چھوٹی سی لڑکی رہی ہے۔‘‘ شاہ زرشمعون نے دکھ سے کہا‘ اس کی انصاف پسند طبیعت اکثر عیشال کے معاملے پہ بے چین ہوجاتی تھی۔
سمہان آفندی کی ساری شوخی ہوا ہوگئی اس کی نظر شیف پہ رکھے مگ پہ جمی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی چائے وہیں چھوڑ گئی تھی۔
٭…٭…٭
’’ایشان جاہ… کیسا ہوا ٹیسٹ؟‘‘ ٹیسٹ کا ٹائم ختم ہوچکا تھا‘ امیدوار اپنے اپنے پرچے جمع کروا کر روم سے نکل رہے تھے۔ جب عزیر نے ہانک لگائی۔
ایشان جان ٹی شرٹ میں اٹکا‘ گلاسز نکال کر آنکھوں پہ چڑھا گیا تھا۔ صحت مند چہرے کی سرخی‘ ہاتھوں میں موجود آئی فون‘ انگلی میں جھولتی مرسڈیز کی کی چین‘ برانڈڈ بلو جینز اور ٹی شرٹ ظاہر کررہی تھی کہ وہ کس کلاس سے تھا۔
’’سپرب…‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کے اردگرد کئی لڑکے اور ایک لڑکی آکھڑی ہوئی تھی۔ وہ سب کچھ اس انداز سے آکھڑے ہوئے تھے کہ نکلنے کا راستہ بلاک ہوگیا تھا۔
ماورا بھی ٹیسٹ سے فری ہوکر اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ ان سب کی پُرجوش آواز پہ اس نے ایک نظر ان کے گروپ پہ ڈالی۔ چلتی پھرتی برانڈ کا مرقع بنے شخص کی پشت اس کی طرف تھی۔
’’یعنی لسٹ کے ٹاپ تھری میں تمہارا نام آنے والا ہے؟‘‘ کسی نے اسے چڑھایا۔
’’نو ڈائوٹ ابائوٹ اٹ لیکن ٹاپ تھری…؟ نو مائے ڈیئر ٹاپ آف دا لسٹ میرا ہی نام آئے گا۔‘‘ اس نے غرور سے اکڑتے ہوئے کہا۔ ابھی ابھی سب ٹیسٹ سے فری ہوئے تھے اور سب نے رزلٹ کی پیشن گوئی بھی شروع کردی تھی۔ ماورا نے ان کی آوازوں سے سر جھٹک کر چیزیں بیگ میں منتقل کرنے کا کام انجام دیا۔
’’اور جو ایسا ناہوسکا؟‘‘ ان میں سے ایک نے ڈرانا چاہا۔
’’یار… آج کل لڑکیاں ہر فیلڈ میں ٹاپ پہ ہیں اور ایم بی اے تو لڑکیوں کا کریز بن چکا ہے۔ اتنی خبطی‘ پڑھاکو ہوتی ہیں کہ مجھے تو ڈر ہے ٹاپ تھری میں اس بار لڑکیاں ہی بازی نا مار جائیں۔‘‘ دوسرے نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’مڈل کلاس لڑکیوں کو بڑا تیر مارنے کا شوق ہوتا ہے۔ بے چاریوں کو ایک ہی آس ہوتی ہے کہ پڑھ لکھ کر ڈگری لیں اور اچھی سی جاب مل جائے جسے کرکے وہ اپنے حالات سدھار لیں… پاگل لوگ… فضول کلاس…‘‘ وہ حددرجہ استہزائیہ انداز میں گویا تھا۔
سب ہی آگاہ تھے کہ وہ بگڑا رئیس زادہ مڈل کلاس سے کس قدر چڑتا تھا۔ اس کے تجزیے پہ ماورا بری طرح چونکی۔ اس کے لہجے میں استہزا کا رنگ دیکھ کر اسے غصہ تو بہت آیا مگر ضبط کر گئی۔ اب اس کے گروپ نے واک شروع کردی تھی۔ سب اس طرح لائن بنا کر چل رہے تھے کہ کاریڈور بزی ہوگیا تھا‘ پیچھے آنے والے کو آگے نکلنے کا راستہ ملنا مشکل تھا۔ ماورا بھی کلاس سے نکل آئی تھی مگر ان کے گروپ کے خراماں خراماں چہل قدمی سے اس کی چال سست ہوگئی تھی۔
’’عجیب لوگ ہیں مڈل کلاس کے باہر نکلنے کے اتنے شوقین مگر گھر سے باہر نکلتے وقت پھٹ پھٹی بائیک چلانے سے پہلے اس کی مینٹین چیک نہیں کرتے۔ اکثر تو ان کی بائیک کا پیٹرول ہی ختم ہوجاتا ہے‘ بیوی بچہ کندھے سے لگائے پیچھے پیچھے چل رہی ہوتی ہے اور میاں بائیک کو گھسیٹتا پیٹرول پمپ ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ اکثر ہی یہ منظر سڑک پہ دیکھنے کو ملتا ہے۔‘‘ ایشان جاہ اپنے مشاہدے کی روشنی میں بول رہا تھا‘ اس کی بات کے اختتام پہ گروپ نے قہقہہ لگانا ضروری سمجھا۔
’’سو فیصد درست۔‘‘ کسی نے داد دی۔
ان کے پیچھے بحالت مجبوری سست قدموں سے چلتی ماورا کا ان کی بکواس پہ خون کھولنے لگا تھا۔ وہ ان کی فضول گوئی سے مستفید ہونے کا کوئی شوق نہیں رکھتی تھی مگر وہ سب یوں چیونٹی کی رفتار سے لائن میں چل رہے تھے کہ ماورا کی سماعت تک ساری باتیں پہنچ رہی تھیں۔
’’مڈل کلاس کے لیے اتنا بغض اور جو کسی مڈل کلاس نے تجھ سے بازی لے لی‘ پھر کیا کرے گا؟‘‘ عزیر نے دھیان واپس ٹیسٹ رزلٹ کی طرف لگایا۔
’’کلاس میں لڑکیاں تو بہت ہی کم تھیں‘ ان میں سے کوئی مڈل کلاس سے تھی کیا؟‘‘ ان کے گروپ کی اکلوتی لڑکی انشراح نے سوال اٹھایا۔ وہ بھی حلیے سے بروکن فیملی سے ہی لگ رہی تھی۔
’’میں نے تو اتنا دھیان نہیں دیا‘ کوئی مڈل کلاس کی ٹاپر ہی کیوں ناں ہو مجھ سے آگے نہیں نکل سکے گی… میں ایشان جاہ ہوں اور مجھے ہارنا ان دو ٹکے کی لڑکیوں کے بس کی بات نہیں۔‘‘ ایشان جاہ کی لمٹ کو کراس کرتی بکواس نے ماورا کو سر تا پیر سلگا دیا تھا۔ اس کی برداشت جواب دے گئی تھی۔
’’ایکسیکوز می گائز۔‘‘ اس کی آواز غصے سے کچھ زیادہ ہی اونچی ہوگئی تھی۔ تب ہی ان سب کے قدم بے ساختہ رکے تھے اور سب کی مڑی گردن اس بات کا ثبوت تھی کہ اس کی آواز میں غیر معمولی پن نمایاں تھا۔ آسائشوں اور دولت میں کھیلنے والوں کے ایک ایک ممبر نے سر سے پائوں تک اس پہ نظر ڈالی‘ اس کی معمولی چپل‘ اس کے پھیکے رنگوں والا سوٹ… بس کہیں چمک تھی تو چہرے پہ… رنگ تھے تو آنکھوں میں… وہ بھی غصے کے‘ سب اس پہ نظر جمائے کھڑے تھے‘ ماورا غصے کے تاثرات لیے پُراعتماد ان سب کے مقابل آن کھڑی ہوئی۔
’’یہ آپ سب کا پارک نہیں ہے جس میں آپ سب پچھلے سات منٹ سے چیونٹی کی رفتار سے واک کرنے میں لگے ہوئے ہیں‘ پیچھے آنے والوں کا راستہ بلاک کرکے… آپ سب کو بھلے جلدی نا ہو‘ مگر دوسروں کو ہے۔‘‘ وہ غصے سے گویا ہوئی۔
سب نے اچھنبے سے اس کی جرأت کو دیکھا‘ ایشان جاہ نے آنکھوں پہ چڑھا گلاسز انگلیوں کی مدد سے سر پہ منتقل کیا۔
’’ایکسکیوز می!‘‘ وہ ان سب پہ ایک سخت نظر ڈال کر ترش لہجے میں کہہ کر عزیر کو راستہ دینے کا اشارہ کررہی تھی۔ عزیر نے سرعت سے لائن توڑی تھی اور وہ رخ موڑ کر تیزی سے ان سب کے بیچ سے نکل گئی تھی۔ کچھ اس طرح کہ کسی سے ٹچ نا ہوسکے۔
’’اوہنہ‘ کون تھی یہ تیکھی مرچ؟‘‘ اس کے جانے کے بعد سہیل کی زبان میں سب سے پہلے کھجلی ہوئی۔
’’آئے تھنک یہ ہمارے ساتھ ٹیسٹ دے رہی تھی۔‘‘ انشراح نے ذہن پہ زور دیتے ہوئے کہا۔
’’لو تم نے مڈل کلاس کو یاد کیا اور محترمہ آبھی گئیں سامنے۔ چہرے اور کپڑوں سے تو پکی کچی آباد والی لگ رہی تھی۔‘‘ سعید نے بھی لب کشائی کی۔ ایشان جاہ کی نظریں دور جاتی ماورا پہ تھیں‘ جو دائیں طرف مڑ کر اس کی نظرون سے اوجھل ہوگئی تھی۔
’’اب دیکھتے رہو‘ اس وقت تو کچھ بولانہیں گیا‘ جب محترمہ آ گ بگولا ہورہی تھیں۔‘‘ عزیر نے ایشان جاہ کو رگیدا۔ اس کے تیور سنجیدہ ہوگئے تھے۔
’’تم نے کون سا تیر مار لیا…؟ اس کے اشارہ کرتے ہی دیوار سے لگ گئے۔‘‘ سعید نے عزیر کو آڑے ہاتھوں لیا۔
’’ہاں تو‘ اتنے غصے میں تھی‘ تم سب تو اسے دیکھنے میں مصروف تھے اور جو وہ مجھے کچلتی گزر جاتی پھر…‘‘ عزیر نے معصوم بنتے ہوئے کہا تو سب فہمائشی نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔
’’اکڑ کتنی تھی اس میں‘ زبان تو ہوتی ہی لمبی ہے مڈل کلاس لڑکیوں کی۔‘‘ انشراح نے بھی ناگواری سے کہہ کر منہ بنایا۔
’’تم کیوں چپ ہو‘ تمہیں کیوں سانپ سونگھ گیا؟‘‘ سعید نے ایشان جاہ کی خاموشی پہ چوٹ کی۔
’’یہ خود کو بادشاہ اکبر سمجھ کر محترمہ کو انارکلی کی طرح دیوار میں چنوانے کا سوچ رہا ہے۔‘‘ سہیل جو اس کا مزاج آشنا تھا قیاس کیا۔ سب ہنسنے لگے۔
ایشان جاہ کو ماورا کا انداز نہیں بھول رہا تھا۔ اتنی اکڑ‘ اتنی رعونت اور کتنے غصے سے وہ اسے مخاطب کر گئی تھی۔ اور یہی اسے اپنی شان کے خلاف لگا تھا کہ کوئی اس سے اونچے سروں میں بات کرکے چلا جائے اور وہ منہ دیکھتا رہ جائے۔ اس کی سلگتی نظریں انہیں راہوں پہ جمی تھیں جن سے گزر کر وہ گئی تھی۔
٭…٭…٭
’’بی جان… رات کے کھانے کے لیے مینو بتادیں‘ کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا پکوائوں… آپ کہیں تو گوبھی پالک گوشت پکوا لوں؟‘‘ فائزہ حویلی کی بڑی بہو چوہدری فیروز کی بیوی تھیں۔ زمرد بیگم کے بعد حویلی میں کچن کے امور پہ ان کی ہی حکمرانی میں کھانے تیار ہوتے تھے۔ جن میں وہ اکثر سب سے چھوٹی دیورانی فریال کو بھی شامل کرلیتی تھیں۔ ان کی یہی دانائی حویلی کو دیورانی اور جٹھانی کی چپقلش سے دور رکھتی تھی۔
یوں تو حویلی کی چار بہوئیں تھیں مگر دو کراچی میں مقیم تھیں۔ حویلی میں بس فریال اور فائزہ ہی ہوتی تھیں اور ان کی اولادیں اس وقت شام کی چائے سے فراغت کا وقت تھا‘ جب فائزہ نے رات کے مینو کے لیے استفسار کیا تاکہ وہ تیاری شروع کروا سکیں۔ ہال میں زمرد بیگم اپنے مخصوص انداز میں تسبیح لیے بیٹھی تھیں۔ لڑکیاں اپنے اپنے کاموں میں مگن تھیں‘ کوئی ایل ای ڈی روشن کیے اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھ رہی تھی تو کوئی نیٹ پہ بزی تھی۔ کوئی اسائنمنٹ کی تیاری میں جتی ہوئی تھی۔ فریال بھی اس وقت ہال میں داخل ہوئی تھیں۔
’’بھابی جان‘ صغراں مینو پوچھ رہی ہے۔‘‘ فریال کچن سے پیغام لے کر آئیں۔
’’یہی مسئلہ لیے تو میں بی جان کے پاس آئی ہوں۔ روز روز کیا پکائوں یہ بھی ایک الگ درد سر ہے۔‘‘ فائزہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو فریال نے بھی ٹکڑا لگایا۔
’’درد سر‘ مہم کہیں بھابی جان۔‘‘ وہ مسکرا کر زمرد بیگم کے قریب ہی ٹک گئیں۔
’’چچی جان آپ پہ بھی سمہان بھائی کا رنگ چڑھتا جارہا ہے‘ ہر بات کا برمحل جواب دیتی ہیں۔‘‘ یمنیٰ‘ فریال کی جملے بازی سے بے حد محظوظ ہوتی تھی۔ اس وقت بھی بے ساختہ سراہ گئی۔
’’کیوں نہیں ہوگا لڑکی‘ مگر تم جملہ الٹا بول گئیں‘ اس پہ میرا اثر ہے‘ آخر کو ماں جو ہوں اس کی۔‘‘ فریال نے مزا لیتے ہوئے تصحیح کی۔
’’اگر جو آپ کسی کو نا بتائیں تو کوئی یقین نا کرے کہ آپ سمہان کی ماں ہیں۔ بہت چھوٹی لگتی ہیں چچی جان۔‘‘ ندا نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
’’لڑکیوں اب چڑھانے کی نہیں ہورہی‘ تمہارے چچا جان نے سن لیا تو خوب مذاق اڑائیں گے‘ کل ہی کہہ رہے تھے ابھی تک سولہ سالہ لڑکیوں کی طرح کدکڑے لگاتی ہو‘ داماد اور بہو لانے کی عمر میں… فقط اتنا جرم ہوا مجھ سے‘ انہوں نے پانی مانگا اور میں دوڑ کر لے آئی۔‘‘ فریال نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو لڑکیاں ان کے دلچسپ انداز بیاں پہ ہنس دیں… مگر دھیمی آواز سے کہ حویلی میں اونچی ہنسی کی اجازت نا تھی۔
’’ہاں تو اتنی تیز رفتاری دکھانے کی تمہیں ضرورت کیا تھی میرے دیور کو؟‘‘ فائزہ نے بھی محظوظ ہوتے ہوئے خبر لی۔
’’وہ کیا ہے ناں بھابی جان‘ بی جان نے ایک بار کہا تھا کہ میاں کے منہ سے بات نکلنے سے پہلے ہی وہ حکم بجالائو… وہ تو جب پانی کا گلاس دوڑ کر لے آئی تو آپ کے دیور نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا… ’نیک بخت پہلے پوری بات تو سن لیتیں پانی لینے دوڑ لگادی‘ میں پوچھ رہا تھا پانی آرہا ہے شاور میں؟‘‘
’’توبہ ہے۔‘‘ زمرد بیگم بھی مسکرائے بنا نا رہ سکیں۔ لڑکیوں کی ہنسی بے ساختہ تھی۔
’’تسی کمال ہو چچی جان۔‘‘ شاذمہ نے بھی سراہا… فریال مسکرا کر شانے اچکا گئیں۔
’’تمہاری بریکنگ نیوز میں تو مینو کا معاملہ ہی دب گیا۔‘‘ فائزہ کو اپنا دکھڑا یاد آیا۔
’’بتائیں بی جان… پھر پکوالوں گوبھی پالک گوشت؟‘‘ فائزہ پھر زمرد بیگم کے سر ہوئیں۔
’’پالک اور گوبھی زود ہضم سبزیاں ہیں‘ رات کو ناپکوائو تو اچھا ہے۔ کل دن میں پکوالینا‘ ابھی مکس سبزی پکوالو‘ لیکن سبزیوں کا انتخاب دیکھ کر کرنا۔‘‘
’’بہتر۔‘‘ فائزہ نے بھی اتفاقیہ انداز میں سر ہلایا۔
’’ساتھ بھنا بکرا بنوا لو اور مچھلی فرائی کروا لو… کسی کا منہ نہیں بنے گا کھانے پہ۔‘‘ زمرد بیگم نے مینو گوش گزار کردیا۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہیں بی جان‘ کسی کو بکرا نہیں کھانا تو کسی کو مچھلی کی یاد آتی ہے۔‘‘ فریال نے بھی تائید کی۔ فائزہ نے بھی شکر کی سانس لیا کہ مسئلہ حل ہوا۔
’’ویسے بھی شاہ تو ہوگا نہیں ڈنر پہ اسی کے بڑے نخرے ہوتے ہیں۔‘‘ فائزہ مطمئن تھیں۔
’’کہاں جارہے ہیں شاہ بھابی جان؟ اور یہ عیشال اور شنائیہ نظر نہیں آرہیں؟‘‘ فریال نے سوال کے ساتھ دونوں کی غیر موجودگی محسوس کی۔ ان کا خیال تھا وہ کوئی چائنیز ڈش بنوانے کا بھی مشورہ دے دیں‘ شنائیہ کو دیسی کھانے ذرا کم ہی پسند آتے تھے۔
’’اوکے گائز… میں جارہی ہوں۔‘‘ اس سے پہلے کہ فائزہ کوئی جواب دیتیں‘ شنائیہ اپنا بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوئی۔ سب ہی اسے دیکھنے لگیں۔
’’بالآخر مقدمہ جیت ہی گئیں۔‘‘ زرش واقف تھی کہ وہ جانے کے سلسلے میں چوہدری حشمت سے بات کرنے گئی تھی اور اب واپسی کی نوید سنا رہی تھی۔
’’جارہی ہو‘ کس کے ساتھ؟ رکتیں نا کچھ دن مزید۔‘‘ فریال اسے گلے لگائے اصرار کررہی تھیں۔
’’شاہ زرشمعون اسے کراچی چھوڑنے جارہا ہے‘ فریال تم ذرا صغراں سے پوچھو‘ اسے میں نے جو چیزیں تیار کرنے کی ہدایت کی تھی اس نے شاہ زر شمعون کی گاڑی میں رکھوا دیں؟‘‘ زمرد بیگم اطلاع دے کر انہیں ذمہ داری بھی سونپ گئیں تو وہ سر ہلا کرکچن کی طرف چل دیں۔
لڑکیاں اس کے اتنی جلدی جانے پہ گلے شکوے کررہی تھیں۔ بلاشبہ ان سب سے اس کی بے حد دوستی تھی مگر یہاں کا ماحول اسے زیادہ دیر ان کے ساتھ رہنے نہیں دیتا تھا۔
’’تم سب آئو جلدی سے کراچی پھر مل کر بہت مزا کریں گے۔‘‘ وہ سب کو دعوت دے رہی تھی۔
’’داجان کہاں ہمیں حویلی سے باہر رکنے کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘ شازمہ نے منہ بنایا۔
حویلی کی دو اہم ہستیاں اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ کراچی میں مقیم تھیں مگر اس کے باوجود ان سب کا کم ہی چکر لگتا تھا۔ دو تین دن رکنا تو دور کی بات‘ ان سب کا وہاں کے ہوٹلز اور تفریحی مقامات کا سن کر جی چاہتا تھا کہ وہ بھی انجوائے کریں مگر حویلی کی عورتوں کو بلا ضرورت باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔
’’بات تو کرکے دیکھو… کیوں نہیں دیں گے اجازت داجان… کسی غیر کا گھر تھوڑی ہے… دونوں چاچوئوں کا گھر ہے وہاں… کبھی ہمارے ہاں رکو‘ کبھی جہانگیر چچا جان کی طرف…‘‘ وہ پُرجوش انداز سے سب کو سمجھا رہی تھی۔
’’بی بی جی‘ شاہ زرشمعون کہہ رہے ہیں اگر آپ دو منٹ میں آکر نہیں بیٹھیں تو وہ گاڑی کو لاک کردیں گے اور ڈراپ کرنے بھی نہیں جائیں گے۔‘‘ شنائیہ سب سے باتیں بگھار رہی تھی جب چوکیدار نے آکر من وعن پیغام پہنچایا۔ وہ یقینا گاڑی میں بیٹھا اس کا منتظر تھا۔
’’یہ شاہ بھی ناں۔‘‘ ندا کے ساتھ یہی پیغام سن کر سب ہی ہنسیں تھیں۔ وہ سب کے سامنے پھیکی سی پڑگئی۔
’’جائو بیٹا‘ ویسے بھی اندھیرا پھیلنے والا ہے‘ کیا ہی اچھا ہوتا جو تم کل صبح ہی نکلتیں۔ خیر ان کا حکم ہے‘ جائو۔‘‘ زمرد بیگم اس کے سر پہ ہاتھ پھیر گئیں تو وہ بھی جلدی سے فائزہ کی طرف مڑی۔
سب اسے چھوڑنے قافلے کی صورت میں پارکنگ ایریا تک آئے تھے۔ ملازم نے اس کا سامان پہلے ہی گاڑی میں رکھ دیا تھا۔ شاہ زر شمعون لینڈ کروزر کی ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان غالباً غصے میں تھا۔ سمہان آفندی بھی پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔
’’بائے سمہان‘ تھینکس فار یور کمپنی۔‘‘ شنائیہ بے ساختہ اسے کہہ گئی۔
’’کمپنی اتنی اچھی لگتی تو آپ اتنی جلدی جانے کا فیصلہ کہاں کرتیں۔‘‘ سمہان آفندی نے جیسے چڑایا۔
’’آپ ہوتے کب ہیں حویلی میں حضور‘ آپ کے تو دورے ہی ختم نہیں ہوتے۔‘‘ شنائیہ اس کی ہم عمر ہی تھی دونوں میں دوستی بھی خوب تھی۔ سمہان آفندی اس گلے پہ مسکرا کے رہ گیا کہ ایسا تو واقعی تھا‘ وہ سچ ہی کہہ رہی تھی۔
’’عیشال کہاں ہے‘ اسے تو اللہ حافظ کہہ دوں۔‘‘ شنائیہ نے متلاشی نظروں سے سب کے چہرے دیکھے… سمہان آفندی نے آتے ہی ایک نظر میں جانچ لیا تھا کہ کیا مسنگ ہے۔
’’جانے وہ کہاں ہے‘ دیر ہوجائے گی۔ تم بیٹھ جائو گاڑی میں۔‘‘ فائزہ شاہ زرشمعون کے تیور دیکھ رہی تھیں جو شاید چوہدری حشمت اور سب کی موجودگی کے باعث خود پہ ضبط کررہا تھا۔
’’شاہ… جہانگیر کی طرف بھی چکر لگا لینا… اسے کہنا جلدی آکر شکل دکھا جایا کرے‘ ایسی بھی کیا لاتعلقی۔‘‘ فائزہ کی ہدایت پہ شنائیہ جھٹ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئی تو شاہ زرشمعون گاڑی سے اتر کر چوہدری حشمت تک آیا۔ چوہدری حشمت کے لہجے کا دکھ شاہ زرشمعون کو ہمیشہ ہی محسوس ہوتا تھا‘ جو صرف چوہدری جہانگیر کے لیے تھا۔
’’جی بہتر داجان‘ کہہ دوں گا۔‘‘ وہ سعادت مند سے بولا۔
’’دعائیں پڑھ کر سفر کا آغاز کرنا۔‘‘ فائزہ ماں ہونے کے ناتے طویل سفر پہ متفکر تھیں۔ زمرد بیگم دعائیں پڑھ رہی تھیں جب اس نے ان کے آگے سر جھکایا تو اس پہ پھونکیں مار کر وہ دعائیں دینے لگیں۔
’’رب کی امان میں۔‘‘
’’اوکے برو‘ طویل سفر ہے‘ کیپ آن ٹچ۔‘‘ سمہان آفندی گویا ہوا۔ وہ مسکرا کر ڈرائیونگ سیٹ پہ آبیٹھا۔
ملازم پہلے ہی کھانے پینے کی چیزوں اور تحفے تحائف سے گاڑی کو بھر چکے تھے۔ حویلی سے کوئی خالی ہاتھ جائے یہ حویلی کی روایت نہیں تھی۔
’’بائے‘ ایوری ون‘ بائے بائے…‘‘ گاڑی گیٹ سے نکل رہی تھی جب شنائیہ سب کو الوداعی ہاتھ ہلا رہی تھی۔ شاہ زرشمعون بری طرح جل گیا۔
’’اگر اتنا ہی افسوس ہورہا ہے انہیں چھوڑ کر جانے کا تو گاڑی واپس اندر لے لیتا ہوں۔‘‘ وہ پہلے ہی قافلے کی صورت میں اسے آتے دیکھ کر سلگ گیا تھا۔ اب بھی اس کا انداز اسے آگ لگا گیا تو وہ چپ نا رہ سکا اور شنائیہ دبک سی گئی کہ کہیں وہ گاڑی اندر ہی نا لے جائے۔ بائے کے لیے لہراتا ہاتھ اس نے مرے مرے انداز میں نیچے کرلیا۔ گاڑی گیٹ سے نکل گئی اور اپنے سفر پہ زن سے گامزن ہوگئی تھی۔ خطرناک حد تک انتہائی اسپیڈ پہ شنائیہ نے بے چارگی سے اس کی طرف ڈرتے ڈرتے دیکھا پھر نظریں سڑک پہ جمادیں‘ دعاگو تھی کہ وہ صحیح سلامت گھر پہنچ جائے۔
گاڑی نکلنے کے بعد سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئے تھے۔ زرگل خان گیٹ بند کررہا تھا۔ سمہان آفندی نے نچلا لب دانتوں تلے دباتے طائرانہ نگاہ چھت سے لے کر لان تک ڈالی‘ اسے خبر تھی وہ اس وقت کہاں ہوگی۔
٭…٭…٭
محبت کے بنا دنیا کے رنگ پھیکے ہیں۔ دنیا کو وجود میں لایا ہی اس لیے گیا تھا کہ آدم وحوا ایسی زندگی گزاریں جیسی کبھی کسی نے ناگزاری ہو۔ یہ محبت ہی تھی جو خالق حقیقی نے دنیا بنانے سے کئی برس قبل اپنے محبوب کو نور کی شکل میں اتار رکھا تھا۔
یہ محبت ہی ہے جو دنیاوی رشتے سے بندھ کر ہمیں وجود کی شکل دیتی ہے… یہ محبت ہی ہے جسے فنا نہیں… لیکن ضروری تو نہیں‘ ہر وجود ہی محبت کی تکمیل سے وجود میں آیا ہو کچھ مجھ جیسے بھی تو ہوتے ہیں جو نجانے کس لمحے کی گرفت میں آکر نمو پاجاتے ہیں۔ بس فرق ہے تو اتنا کہ مجھے حلال کا سرٹیفکیٹ ملا ہوا ہے‘ ایک معتبر حوالہ میری ذات کے ساتھ ہے اگر یہ معتبر حوالہ بھی ساتھ نا ہوتا تو میں کیا کرلیتی۔
’’ہونہہ معتبر حوالہ…‘‘ اس نے نفرت سے سر جھٹکا۔
ملک کے موسٹ پاپولر ان کائونٹر اسپیشلسٹ کی بیٹی جس کے ارمانوں‘ خواہشوں‘ خوشیوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا‘ جس کے احساسات وجذبات کو محسوس کیے بناء مٹا دیا گیا تھا جس کا ہونا نا ہونا کسی کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔
شاہ زرشمعون کے لینڈ کروزر کی آواز اس تک آئی تھی اسے احساس ہوا تھا کہ شنائیہ جارہی ہے مگر کسی نے اسے بلانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی‘ کسی کو اس کی کمی محسوس کب ہوتی تھی‘ خود ترسی کی انتہا کو چھوتی عیشال کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔
’’خبر تھی روتی دھوتی شکل والی یہاں بیٹھی جھولا جھولتی ٹسوے بہا رہی ہوگی۔‘‘ وہ چھت پہ اپنے مخصوص جھولے پہ جھولتی رونے کا اہم فریضہ انجام دے رہی تھی۔ اس اچانک آواز پہ وہ بری طرح ڈر گئی‘ آواز کی سمت گردن گھمائی تو جھولے کی راڈ سے دایاں شولڈر ٹکائے سمہان آفندی کی فہمائشی نظریں خود پہ محسوس کرکے وہ ذرا سا رخ موڑ کر اپنے آنسو رخساروں سے صاف کرنے لگی۔
’’کیوں آئے ہو تم یہاں؟‘‘ اس نے اپنی تنہائی میں دخل اندازی کرنے پہ ناگواری کا اظہار کیا۔
’’تم اتنی دیر سے نظر نہیں آرہی تھیں اس لیے۔‘‘ عیشال نے چونک کر اسے دیکھا‘ وہ کیا کہہ گیا تھا۔
’’سب ہی شنائیہ کو سی آف کررہے تھے‘ ایک تم ہی نہیں تھیں تو فکر ہوئی کہیں پنکھے میں پھندا ڈال کر لٹک تو نہیں گئیں۔ اسی لیے تلاش میں چلا آیا۔‘‘
’’عیشال اتنی بزدل نہیں ہے‘ نا ہی اتنی کمزور کہ اتنی بودی حرکتیں کرتی پھرے اور کوئی جائے یا آئے میری بلا سے‘ کون سا شنائیہ پہلی بار آئی یا گئی ہے۔‘‘ حقیقت یہی تھی کہ سمہان آفندی کو اس کی زود رنج طبیعت کی وجہ سے ہر وقت اس کی طرف سے دھڑکا ہی لگا رہتا تھا۔ اسی خدشے کے پیش نظر وہ پھندے والی بات کہہ گیا‘ مگر اس کے جواب پہ اسے گونا گو سکون ملا تھا۔
’’شنائیہ جی پوچھ رہی تھیں تمہارا۔‘‘ اس نے موڈ چینج کرنا چاہا۔
’’تو تم بتا دیتے میرے بارے میں شنائیہ جی کو۔‘‘ اسے گھورتے ہوئے اس نے ’’جی‘‘ پہ زور دے کر کہا تو وہ بے ساختہ ہنس پڑا۔
’’کیوں مرچیں چباتی رہتی ہو ہر وقت… شنائیہ جی سے کوئی لڑائی ہے کیا؟‘‘ وہ ہمدرد بنا پوچھ رہا تھا۔
’’مجھے کیوں ہونے لگی۔‘‘ وہ صاف مکر گئی۔
’’تو باقی سب کی طرح اچھے سے کیوں نہیں ملتیں؟‘‘ جرح کی۔
’’تم جو میرے بدلے اچھے سے یہ کام کرلیتے ہو… سب سے اچھے سے مل کے۔‘‘ اس نے جل کے سنائی۔
’’میرا خیال ہے تمہیں کراچی والوں سے کوئی خاص دشمنی ہے اگر تمہیں خبر ہو کہ یہ ہوا ابھی کراچی سے ہوکر آئی ہے تو شاید تم کبھی اس ہوا میں سانس بھی نا لو۔‘‘ سمہان آفندی اس کی دکھتی رگ کو چھیڑ کر اسے چڑا گیا۔
’’آپ یہاں سے تشریف لے جاسکتے ہیں۔‘‘ اس کا منہ بن گیا۔ واضح اشارہ تھا وہ اس موضوع پہ اس وقت کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔
’’تمہیں تو خبر ہے سمہان آفندی صرف بڑوں کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر اسے چڑا رہا تھا۔
’’ٹھیک ہے تم یہاں بیٹھو میں ہی چلی جاتی ہوں۔‘‘ عیشال کا یہاں سے جانے کا موڈ نہیں تھا۔
کمرے کے علاوہ یہ واحد اس کی دل پسند جگہ تھی جس میں اپنی تنہائی کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت برسوں پرانی تھی۔ جب چھوٹی تھی اس وقت بھی سب کے سامنے آنسو آجاتے‘ دل دکھی ہو جاتا تو وہ بھاگ کر اسی جھولے پہ آکر اپنے آنسو بہاتی تھی کہ سب روتا دیکھ کر اسے گندی بچی ناکہہ سکیں۔ وہ بچپن سے ہی اپنی ذات کے حوالے سے بہت کانشس رہی تھی۔ اپنی ذات پہ کسی کا ایک فقرہ بھی اسے گھنٹوں سوچنے پہ مجبور کر جاتا تھا۔
’’جتنا تم خود کو دکھی پوز کرتی ہو ناں یہ تمہاری صحت کے لیے اچھا ہے ہی نہیں‘ ویسے جو نہیں ہے اس کو سوچنے سے بہتر ہے کہ تم اپنے اردگرد محبت تلاش کرو… حویلی میں ہر کوئی تم سے ہمدردی دکھاتا ہے‘ سب کو احساس ہے تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے‘ مگر تم دکھ کا اشتہار بنا کر سب کو تماشا دکھاتی رہتی ہو‘ الگ تھلگ رہتی ہو‘ سب کے درمیان رہوگی تو ان کی محبت محسوس ہوگی ناں۔‘‘ سمہان آفندی نے نرمی سے سمجھایا۔
’’مجھے کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے‘ سنا تم نے۔‘‘ وہ تڑخ کے کہہ گئی۔ ’’اس حویلی نے میری ماں کو بھی آنسو دیے‘ اس حویلی کے مکینوں نے انہیں موذی مرض میں مبتلا کردیا‘ وہ لاوارثوں کی طرح سسک سسک کے مر گئیں… ان کا احساس کسی نے نہیں کیا… یہاں تک کہ انہوں نے بھی نہیں جو نکاح کرکے انہیں لائے تھے۔ پانچ سال کی عیشال نے اپنی ماں کو اس شخص کے لیے ایڑیاں رگڑتے دیکھا ہے انہیں آخری بار دیکھنے کی آس لیے اپنی ماں کو تڑپتے دیکھا ہے۔ مجھے اس حویلی اور یہاں کے مکینوں کی محبت کی جھوٹی کہانیاں مت سنایا کرو سمہان آفندی… تم یہاں سے ہو تو میری جڑیں بھی یہیں سے ہیں…‘‘ وہ حددرجہ تنفر سے کہتی چلی گئی۔
سمہان آفندی اس کی کدورت‘ اس کے لفظوں کی کاٹ اور دل میں پنپتے ہزاروں گلہ شکوہ سے بخوبی واقف تھا مگر ایک بار پھر جان کر وہ چپ ساد گیا تھا۔
بے دلی سے جو لکھ دیا جائے
ہم تو وہ کردار ہیں کہانی کے
استہزائیہ انداز سے کہتے عیشال بھی جیسے تھک سی گئی تھی۔ کالے بادل کافی دیر سے منڈلا رہے تھے‘ بلا کا حبس تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بادل گرجنے لگے تھے۔ آسمان پہ بجلیاں چمکنے لگیں۔ یک دم موٹی موٹی بوندوں نے آسمان کے سینے سے زمین تک کا سفر شروع کردیا تھا۔ وہ گھٹنوں پہ دونوں بازو لپیٹے ٹھوڑی گھٹنوں پہ جمائے زمین پہ بوندوں کا رقص دیکھ رہی تھی۔ جھولے کے راڈ سے بازو ٹکائے سمہان آفندی بھی پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ مگر اسے اپنے بھیگنے سے زیادہ اس کے آنسوئوں کی کسک ہورہی تھی جو بارش کے پانی کے ساتھ مل کر اپنا وجود تو پوشیدہ رکھ رہے تھے مگر وہ سمہان آفندی کی نظر سے مخفی نہیں تھے۔ وہ بغور اس بھیگی نازک سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا‘ جسے بنا پلکیں جھپکے دیکھنے کی کوشش بارش ناکام بنانا چاہ رہی تھی مگر سمہان آفندی کی ضد پہ بوندیں بھی جیسے ہار رہی تھیں۔
٭…٭…٭
ماورا یحییٰ کوئی ناسمجھ‘ ناپختہ لڑکی نہیں تھی‘ ناہی اسے سطحی لڑکوں کو کبھی جواب دینے میں دلچسپی رہی تھی‘ جو آوازیں کستے تھے یا توجہ حاصل کرنے کے لیے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ ان جیسوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتی تھی کہ پلٹ کر جواب دے مگر آج جو کچھ ہوا خود اس کے لیے بھی تعجب کا باعث بنا تھا‘ وہ اتنی جلدی ٹمپر لوز نہیں کرتی تھی مگر مقابل کے لفظوں‘ جملوں اور انداز میں جتنی تحقیر تھی اس نے اسے مجبور کردیا تھا کہ وہ ناچاہتے ہوئے بھی ان سے سختی سے کلام کر گئی تھی۔
وہ مڈل کلاس سے تھی‘ اس کلاس کی صعوبتوں سے واقف تھی‘ لوئر کلاس تو مانگ تانگ کے کسی ناں کسی طرح گزر بسر کر ہی لیتی ہے مگر مڈل کلاس سب سے مشکل صورت حال سے دوچار رہتی تھی۔ عزت نفس انہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہیں دیتی۔ تن ڈھانپے تو پیر ننگے‘ پیر ڈھانپے تو سر… لیکن پھر بھی یہ عظیم کلاس سب سے زیادہ ہنر مند اور تعلیم یافتہ لوگوں کو جنم دے رہی تھی۔ ایک بگڑا رئیس زادہ‘ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا جب اس کلاس کی تحقیر کرے‘ گھمنڈ سے دھتکارنا اس کے ماتھے پہ لکھ دے تب ان جیسوں کو برداشت کرنا عبث ہوتا ہے۔ برانڈڈ کا سمبل بن کر گھومنے والوں کو اندازہ ہی کب ہوتا ہے کہ لوئر اور مڈل کلاس کیسے جی رہی ہے‘ کس طرح گھر کا ایک ایک فرد جب صبح نکلتا اور راتوں کو جب سب اکھٹا ہوکر اپنی تھکاوٹ‘ جھرکیوں‘ کام کی زیادتیوں کا تذکرہ کرکے مہینے کے شروع میں جب چند ہزار پاتے ہیں تو کیا احساسات ہوتے ہیں… آدھی تنخواہ گھر آنے سے پہلے ہی تخمینہ لگا لیتے تھے کہ یہ تو ادھار میں جائیں گے اسے نکال دو اور جو باقی بچتا تھا اسے بار بار بجٹ بنا کر بھی پریشان رہتے تھے کہ پورا مہینہ کیسے چلے کا… دال روٹی کہاں سے آئے گی‘ گیس وبجلی کے خوفناک بھوت سے بچ کر کہاں چھپیں گے؟ جس نے بھوک‘ غربت وافلاس کا گھونٹ نا پیا ہو وہ تو ہر بوند کو امرت ہی سمجھے گا‘ اسے کیا خبر کہ ایک طبقہ جو منرل واٹر افورڈ نہیں کرسکتا اس کے لیے واٹر بورڈ سے آنے والا پانی ہی کبھی بوند کی شکل میں نلوں سے ٹپکنے لگے تو وہ اسے امرت سمجھتے ہیں۔ برانڈڈ سمبل لوگ‘ کافی شاپ میں بیٹھ کر بس لوئر مڈل کلاس پر چرچا ہی کرسکتے تھے۔
ماورا کا دل سخت کبیدہ ہوا تھا۔ اس نے گھر آکر بھی اس فضول خیال سے سر جھٹکنا چاہا مگر ذہن ریلیکس نہیں ہورہا تھا۔ اس کی کلاس کی ہنسی اڑا کر عیش وعشرت کے ٹھیکیداروں نے اس کے پندار کو ٹھیس لگائی تھی‘ انہوں نے اس کی کلاس کا نہیں جیسے اس کا مذاق اڑایا تھا۔
’’کیا ہوا؟ موڈ خراب لگ رہا ہے… کیسا ہوا ٹیسٹ؟‘‘ انوشا نے اس کے سامنے کھانا رکھتے ہوئے تشویش سے پوچھا۔ وہ فریش ہوکر آئی مگر کچھ الجھی الجھی سی تھی۔
’’ٹیسٹ تو بہت اچھا ہوا‘ تم دعا کرنا‘ ٹاپ آف دالسٹ میرا ہی نام آئے’ اماں سے بھی کہہ دو‘ دعا کریں۔‘‘ جانے کیوں اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ شاید ایشان جاہ کا زعم تھا جو لاشعور میں ہلچل مچا گیا تھا۔
’’دعا تک کی بات تو ٹھیک ہے کہ لسٹ میں نام آجائے مگر یہ ٹاپ آف دا لسٹ کی شرط کیوں دعا کے لیے۔‘‘ انوشا اس سے دو سال بڑی تھی مگر اس بڑائی کے باوجود دونوں میں اچھی دوستی تھی۔
گھر میں لوگ ہی کتنے تھے‘ صرف دو بہنیں اور منزہ… یحییٰ تو کئی سالوں پہلے ہی انہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ دونوں بچیوں کو تو ٹھیک سے باپ کی شکل بھی یاد نا تھی بس تصویر میں انہیں دیکھا تھا۔
’’بس ہے ناں۔‘‘ اس نے بات آئی گئی کرنا چاہی۔
’’تمہاری ہر بات کے پیچھے کوئی ناکوئی وجہ ہوتی ہے‘ یقینا اس بات کے پیچھے بھی کوئی معقول وجہ ہوگی‘ ورنہ تمہیں ٹاپ آف دی لسٹ کی فکرکیوں ستانے لگتی جو گریجویشن میں ٹاپر رہ چکی ہو‘ کیا بیٹ لگائی ہے کسی نے؟‘‘ انوشا بہن ہونے کے ناتے اس کی فطرت سے بہت اچھی طرح واقف بھی تھی تب ہی معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے اس نے سوال کیا۔
ماورا کھانے کی ٹرے سامنے کھینچ چکی تھی‘ چھوٹا سا نوالہ بنا کر اسے چباتے ہوئے اسے انوشا کی سوالیہ نظریں خود پہ محسوس ہورہی تھیں۔ قدرے توقف کے بعد اس نے سارا احوال کہہ سنایا تو انوشا کو بھی سب جان کر افسوس ہوا۔
’’مجھے اس رئیس زادے کا زعم اور ہماری کلاس کے لیے استعمال ہوئی زبان نہیں بھول رہی‘ جیسے ہم کیڑے مکوڑے جتنی اہمیت رکھتے ہوں‘ اس کی نظر میں۔‘‘ ماورا کا خون ایک بار پھر کھول اٹھا۔
’’لعنت بھیجو ایسے لوگوں پہ‘ ہر انسان اپنی تربیت اور نظریے کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ حرام کے ٹکڑوں پہ پلنے والوں کی ہی زمین‘ جائیداد اور بڑے بڑے بنگلے ہوتے ہیں۔ ہم تم برسوں بھی حق حلال کی کمائیں ناں تو کبھی ایک بنگلہ بنانے کی اوقات ناہو ہماری… ایسے لوگوں کی باتوں کو کیا اہمیت دینا جو انسانیت کے رتبے سے ہی گرے ہوئے ہوں… کرلینے دو انہیں آج عیش… بنا لینے دو زمین پہ اپنے لیے جنت‘ مرکے تو اسی اندھیری مٹی والی قبر میں ہی دفن ہوں گے ناں‘ جہاں برانڈڈ کفن کی چمک ان کے ایمان کو چمکا ناسکے گی۔‘‘ انوشا خود ایک صاحب دماغ‘ ذہین لڑکی تھی۔ وہ بے ساختہ اپنے افکار کا اظہار کر گئی تو ماورا کی بے قرار سوچوں کو بھی تھوڑا قرار نصیب ہوا۔
’’کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو‘ لیکن پلیز دعا کرنا نام ٹاپ پہ میرا ہی ہو۔ اس کا گھمنڈ تو مٹی میں ملے۔ بکواس کررہا تھا۔ کوئی مڈ کلاس کی ٹاپر ہی کیوں ناں ہو‘ مجھ سے آگے نہیں نکل سکے گی… میں ایشان جاہ ہوں اور مجھے ہارنا ان دو ٹکے کی لڑکیوں کے بس میں نہیں ہے۔‘‘ ماورا نے اس کے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔ باوجود اس کے جملے سخت تھے انوشا کو ہنسی آگئی۔
’’توبہ ہے‘ تمہاری ادکاری پہ بھی۔‘‘ وہ ہنس رہی تھی اور ماورا کا بس نہیں چل رہا تھا وہ آج ہی لسٹ چیک کرنے پہنچ جائے۔
’’تم ٹیسٹ دینے گئی تھیں یا لڑکوں سے مکالمہ بازی کرنے؟‘‘ اسی لمحے منزہ کمرے میں داخل ہوئیں غالباً انہوں نے صحن سے ہی ان کی تمام باتیں سن لی تھیں اور اب سخت تیوروں سے تفتیش کرنے آگئی تھیں انوشا کی مسکراہٹ ایک دم سمٹ گئی تھی‘ ماورا بھی ایک لحظے کو نظر نا اٹھا سکی تھی۔
’’میں نے تم لوگوں کی پرورش کرتے ہوئے اس بات کی ہمیشہ تلقین کی ہے کہ تم لوگوں کی گفتگو کا موضوع کبھی کوئی مرد نا ہو… یا ان سے کسی قسم کی بات چیت نا ہو‘ اس کے باوجود…‘‘ منزہ سخت تیوروں سے پوچھ گچھ کررہی تھیں۔ انوشا نے ڈرتے ہوئے ماورا کی طرف دیکھا کہ وہ شاید کچھ بولے۔
’’ہمیں آپ کی تربیت کا ایک ایک حرف یاد ہے اماں… اس لیے کبھی ہمارے مرد دوست نہیں رہے لیکن جب کوئی بلاوجہ آپ کی کلاس کو برا بھلا کہے‘ مذاق اڑائے تو چپ رہنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘ ماورا نے دھیمے سے انہیں صورت حال سے آگاہ کرنا چاہا مگر منزہ کا غصہ برقرار رہا۔
’’سیاست میں جانے کا ارادہ ہے‘ لیڈر بننے کا شوق ہے؟ تم نے کسی کی سوچ بدلنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے یا تمہاری تقریر پہ وہ تمہاری کلاس کے گن گانے لگا؟‘‘ منزہ طنزیہ لب ولہجے میں سختی سے استفسار کررہی تھیں ماورا کے پاس کوئی جواب نا تھا‘ وہ سر جھکا گئی۔
انوشا نے ڈرتے ہوئے منزہ کے چہرے کی طرف دیکھا‘ اتنا غصہ انہیں ان غیر معمولی باتوں پہ ہی آتا تھا‘ جو ان کی نظر میں غلط تھیں۔ دونوں بیٹیوں کی تربیت بھی انہوں نے ان ہی خطوط پر کی تھیں۔ تب ہی تو تعلیمی اداروں‘ گلی محلوں میں انہوں نے کبھی بھی کسی کو اہمیت نہیں دی تھی لیکن آج جانے کیسے ماورا سے چوک ہوگئی تھی جس پہ منزہ برہم ہوگئیں۔
’’آئندہ سے اگر تم نے یہ روش اختیار کی تو پڑھنے کا خیال دل سے نکال کر گھر بیٹھ جانا‘ کیونکہ پڑھائی کی آڑ میں لڑکوں سے بات چیت اور مقابلہ بازی کی اجازت میں نہیں دے سکتی۔ آئندہ سے خیال رہے۔‘‘ منزہ بھڑک کر اپنی بات مکمل کرکے جاچکی تھیں۔ انوشا نے ماورا کے چہرے کی طرف دیکھا‘ اس کے چہرے پہ سرخی سی دوڑ گئی تھی جو اس بات کی دلیل تھی کہ منزہ کے غصے اور دکھی ہونے پہ وہ ملول ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭
’’جی… جی بابا جان… بخت آپریشن میں مصروف ہیں تب ہی ان کا نمبر بند جارہا ہے۔‘‘ چوہدری بخت اپنے روم میں لیب کوٹ کے ساتھ ماسک فیس سے ہٹاتے ہوئے داخل ہوئے تو دیا مستعد سی سیل فون کان سے لگائے محو گفتگو تھیں۔ ان کی پشت دروازے کی طرف تھی‘ بخت اپنے روم سے ملحق واش بیسن کی طرف رخ کرچکے تھے۔
’’بہتر بابا جان… جی بہت شکریہ… شاہ کا احسان ہے… بہت طویل سفر ہے‘ بہتر ہوتا کہ ہوائی…‘‘ وہ سمجھ رہے تھے کسی معمول کے پیشنٹ کی کال پہ دیا بزی ہیں‘ مگر ان کے منہ سے بابا جان سن کر وہ چونک گئے۔ دیا کی ادھوری بات رہ گئی تھی‘ چوہدری بخت نے ہاتھ تیزی سے واش کرتے گردن موڑ کر دیا کے چہرے کی طرف دیکھا… غالباً دوسری طرف سے کچھ سخت کہا گیا تھا تب ہی دیا گڑبڑا سی گئی۔
’’جی باباجان‘ بہتر‘ نہیں اکیلی تو ہوائی سفر نہیں کرتی شنائیہ… آپ تسلی رکھیں…‘‘ دیا شدو مد سے اب صفائی دے رہی تھیں… چوہدری بخت اپنی چیئر پہ بیٹھتے ہوئے ٹشو باکس سے کئی ٹشو نکال کر ہاتھ خشک کرنے لگے۔
’’لیجیے باباجان‘ بخت آگئے… ان سے بات کرلیجیے۔‘‘ دیا نے جلدی سے کہہ کر فون بے ساختہ بخت کی طرف بڑھایا۔
’’السلام علیکم بابا جان! کیسے مزاج ہیں؟‘‘ شریک سفر کے اتنی جلدی فون پکڑانے پہ فہمائشی نظروں سے دیکھتے انہوں نے سیل فون دیا کے ہاتھ سے لے کر بے ساختہ کان سے لگایا تھا‘ جانے ان کے بیچ کیا موضوع زیر بحث تھا۔
’’وعلیکم السلام! چوہدری بخت‘ یہ اچھی زندگی گزر رہی ہے تم دونوں میاں بیوی کی‘ شنائیہ تو چلو ہمارے پاس تھی مگر ماہم… اسے گھر میں اکیلا نوکروں کے رحم وکرم پہ چھوڑ کر تم دونوں ہمیشہ ہاسپٹل میں بیٹھے رہتے ہو۔ گھر میں جوان بچی اکیلی ہے‘ یہ بات تمہیں کیسے بے فکر رکھتی ہے؟‘‘ چوہدری حشمت دوسری طرف غصے سے گویا تھے۔ چوہدری بخت بھی چھوٹتے ہی کلاس ہونے پہ گڑبڑا سے گئے۔ دیا کا عجلت میں فون دینے کی وجہ سمجھ آگئی تھی۔
چوہدری بخت سرجن تھے‘ وہ ایک عرصہ سے کراچی میں مقیم تھے‘ ان کی شادی خاندان کی واحد ڈاکٹر لڑکی سے ہوئی تھی۔ دیا ان کی دور کی رشتے دار تھیں۔ جنہوں نے شوق میں ایم بی بی ایس تو کرلیا تھا مگر گھر والوں سے پریکٹس اور اسپیشلائزیشن کی اجازت ملنا ناممکن تھی۔ گھر والوں کا اتنا ہی احسان بہت تھا کہ انہوں نے ان کی خواہش پہ دیا کو ڈاکٹری پڑھنے کی اجازت دی لیکن ڈاکٹری کی ڈگری لے کر گھر ہی بیٹھنا تھا تو دیا کو اتنی محنت کرنے پہ افسوس ہوا لیکن ان کا افسوس چوہدری بخت سے شادی کرکے کافی حد تک دور ہوگیا۔
چوہدری بخت ایک روشن خیال انسان تھے‘ شادی کے بعد دیا کی خواہش کو دیکھ کر انہوں نے پریکٹس کروائی اور فیلڈ میں آنے کے لیے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ جہاں دیا شوہر کی مشکور تھیں‘ وہیں چوہدری حشمت کو چوہدری بخت کا عمل پسند نہیں آیا تھا۔ وہ عورتوں سے نوکری کروانے کے حق میں نہیں تھے لیکن لیڈی ڈاکٹر کی اہمیت اور انسانیت کی خدمت پہ چوہدری بخت نے روشنی ڈالی تو چوہدری حشمت نے اجازت دے دی کہ حویلی کی عورتوں کو بھی نجی مسائل کے لیے میل ڈاکٹرز کے پاس نا جانا پڑے۔ شنائیہ اور ماہم کی پیدائش بھی شہر میں ہی وقوع پذیر ہوئی تھی۔
چوہدری بخت اور دیا تب تک مستقل کراچی شفٹ ہوگئے تھے۔ تب تک چوہدری جہانگیر کی شادی نہیں ہوئی تھی اور چوہدری اسفند بھی زیر تعلیم تھے۔ دیا کا گائنا کالوجسٹ ہونا حویلی کی عورتوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوا تھا۔ اسی باعث چوہدری حشمت بھی چپ رہتے تھے مگر ابھی دونوں کو ڈیوٹی پہ پاکر ماہم کی تنہائی کے خیال سے انہیں غصہ آگیا تھا تب ہی انہوں نے دیا کو باتیں سنانا شروع کردی تھیں اور انہوں نے مارے ڈر کے فون شریک سفر کو تھما دیا تھا۔
’’بابا جان اکثر ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گھر پہ ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی ایمرجنسی ہوجاتی ہے تو دونوں کو ہی اتفاق سے ہاسپٹل میں رہنا پڑجاتا ہے۔‘‘ جوان بچوں کے ہونے کے باوجود چوہدری حشمت کے آگے بولنے کی ان میں جرأت نہ تھی۔
’’ہم نے تم دونوں کو اجازت اس وقت دی تھی جب ہمیں خبر نہیں تھی کہ ہمیں حویلی کی عورتوں کو کچھ حدود میں رہنے کی اجازت دینا پڑے گی لیکن اب لگتا ہے ہمیں تم دونوں کے معاملے میں ایک بار پھر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ چوہدری حشمت کے لہجے میں دبا دبا غصہ تھا۔ چوہدری بخت سہنے پہ مجبور تھے۔ ان کے انداز پہ وہ کچھ متفکر نظر آرہے تھے۔ دیا ان پہ نظریں جمائے ان کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کررہی تھیں۔
’’بہرحال‘ ہم نے یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ شنائیہ کو ہم نے شاہ زرشمعون کے ساتھ روانہ کردیا ہے اگر تم دونوں میاں بیوی کو ہاسپٹل کے مریضوں سے زیادہ محبت ہے تو ہمیں بتادو‘ ہم شاہ زرشمعون کوہدایت کردیتے ہیں‘ وہ شنائیہ کو چھوڑ کر آنے کی بجائے ماہم کو بھی ساتھ حویلی لے آئے گا۔ دونوں بچیاں ہماری نگرانی میں حویلی میں رہیں گی۔ تم دونوں میاں بیوی آرام سے ساری زندگی اپنا شوق پورا کرتے رہو۔‘‘ چوہدری حشمت کے کہنے پہ چوہدری بخت ایک دم گڑبڑائے۔
’’معافی چاہتا ہوں بابا جان کہ آپ کی دل آزاری ہوئی۔ بچیاں ہمارے پاس رہیں یا حویلی میں ہمارے لیے ایک ہی بات ہے لیکن بس بچیوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے… آپ فکر نہ کریں ہماری پوری کوشش ہوگی ہم آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نا دیں‘ بالفرض آپ کا حکم سر آنکھوں پہ۔‘‘ چوہدری بخت بہت عاجزی سے گویا ہوئے۔ وہ ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کا حکم بجا لانے کی حتی الامکان کوشش کرتے تھے مگر پروفیشن ایسا تھا تو کبھی کبھی یہ صورت حال ہوجاتی تھی ورنہ دونوں اپنی ٹائمنگ اس طرح سیٹ کرتے تھے کہ کوئی ایک تو گھر پہ ہو۔ جب کبھی ایمرجنسی میں ایسی صورت حال ہوجاتی تھی تب بھی وہ گھر سے لاپروا نہیں ہوتے تھے‘ بچیوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ ان کے انداز پہ چوہدری حشمت کچھ نرم ہوئے تھے۔
’’ٹھیک ہے خیال رکھنا بچیوں اور بہو کا… اللہ حافظ۔‘‘
’’جی آپ بھی اپناخیال رکھیے گا‘ بی جان کو سلام کہیے گا اللہ حافظ۔‘‘ چوہدری بخت نے بھی الوداعی کلمات ادا کرتے کال ڈسکنیکٹ کردی۔
’’کیا کہہ رہے تھے بابا جان؟‘‘ دیا نے انہیں ریلکس ہوکر چیئر سے ٹیک لگاتے دیکھا تو بے ساختہ استفسار کر بیٹھیں۔
’’وہی جو تمہیں کہہ رہے تھے‘ شاہ زرشمعون‘ شنائیہ کو چھوڑنے آرہا ہے اور ماہم کو گھر پہ اکیلا چھوڑ کر ہم دونوں ہاسپٹل میں ہیں۔‘‘ انہوں نے گفتگو کا لب لباب کہہ ڈالا۔
’’ہاں مجھے بھی ڈانٹ رہے تھے کہ میں یہاں بیٹھی ہوں اور ماہم گھر پہ اکیلی ہے۔‘‘ دیا نے بھی اپنا تجربہ شیئر کیا۔
’’دیکھا جائے تو کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہے تھے۔ کتنی بار تم سے کہا ہے‘ خیال رکھا کرو جب میں ہاسپٹل میں تھا تو تم نا آتیں۔‘‘
’’میری پشنٹ کو ایمرجنسی ہوگئی تھی بخت‘ کال آئی تھی تب ہی آنا پڑا… آپ کو خبر ہے اس فیلڈ کی مصروفیت کا۔‘‘ دیا نے بیچارگی سے شریک سفر کو احساس دلایا۔
’’بہرحال‘ آئندہ دھیان رکھنا‘ بابا جان نے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو دونوں بچیوں کو ہمیشہ کے لیے حویلی میں شفٹ کردو اور تم دونوں ہاسپٹل میں ڈاکٹری کرو۔‘‘
’’ایسا کہا انہوں نے؟‘‘ دیا بھی چونکیں۔ ’’خاک رہ پائیں گی بچیاں حویلی میں‘ شنائیہ کو ہی دیکھ لیں‘ چند روز صبر نا ہوا اس سے‘ رات ہی میں نے کہا تھا تین چار روز میں‘ میں اور آپ لینے آجائیں گے مگر جانے کیسا شور مچایا ہوگا اس نے حویلی میں کہ شاہ زرشمعون چھوڑنے آرہا ہے۔ ایک تو بابا جان ہوائی سفر کے خلاف بھی جانے کیوں ہیں گھنٹوں کا سفر دنوں میں کرنے کے قائل ہیں۔‘‘ دیا نے بھی لمبی سانس لی۔
’’اب تم انہیں ہوائی سفر پہ نہ کہنا کچھ… میرے منہ سے نکل گیا غلطی سے تو مجھے اس پہ بھی جھاڑ پلادی انہوں نے‘ شنائیہ نے بھی شاید ذکر کیا حویلی میں تب ہی پوچھ گچھ کررہے تھے کہ کیا بچیاں اکیلی ہوائی سفر کرتی ہیں۔‘‘ چوہدری بخت نے وارن کیا۔
’’میری مت ماری گئی ہے جو میں ان سے ایسی بات کروں‘ مجھے علم ہے کہ بابا جان کس مزاج کے ہیں۔‘‘ دیا جیسے تنبیہہ کا برا مان گئیں۔
’’ابھی کیا اسکیجول ہے تمہارا… میں تو چند گھنٹے رکوں گا۔‘‘
’’نہیں میں بس نکل رہی ہوں اس سے پہلے کہ بابا جان ماہم کو فون کرکے خیریت پوچھنے کے ساتھ اس سے یہ پوچھ لیں کہ میں گھر پہنچی یا نہیں۔‘‘ دیا جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹ کر بیگ میں رکھنے لگیں چوہدری بخت ان کے الہڑ انداز پہ بے ساختہ مسکرادیئے۔ جوان بیٹیوں کی ماں ہونے کے بعد بھی وہ سسر سے ڈر کر جلدی جارہی تھیں۔
چوہدری حشمت بہت دور رہ کر بھی اپنے اصولوں کی صورت ان سب کی زندگیوں میں بہت قریب تھے۔ بہت اہمیت رکھتے تھے‘ کہیں ڈر سے ان کی بات کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا تو کہیں محبت سے لیکن بہرطور دونوں صورتوں میں عزت ومان کا رنگ گہرا ہوتا تھا۔ ان سب کو خبر تھی ان کے تجربہ کارانہ باتوں میں ہی ان کی زندگی کی بقا پوشیدہ ہے۔
٭…٭…٭
شنائیہ اس وقت زندگی کے سخت ترین امتحان میں پھنسی ہوئی تھی اگر ایسا کہا جائے تو یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا‘ کئی گھنٹے ہوگئے تھے اسے گاڑی میں سکڑ سمٹ کر بیٹھے۔ ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست ہوکر جیسے بولنا بھول گئے تھے بولتے بھی تو کس کے آگے۔ ڈرائیونگ سیٹ پہ تو وہ کھڑوس ناک کی سیدھ میں دیکھتا ڈرائیو کرنے میں مصروف تھا‘ ہوں‘ ہاں بولنا بھی جیسے اس کی لغت میں شامل نہیں تھا۔ کہاں وہ تیز میوزک میں کراچی کی شاہراہوں پر ڈرائیو کرنے والی کہاں گھنٹوں سے چپکی بیٹھی تھی کہ اس کے آگے تو پہلو بدلتے بھی ڈر لگتا تھا کہ کچھ سنا نا دے۔ بوریت سے بچنے کا حل نکالنے کے خیال سے اس نے اپنا لیٹس ماڈل کا سیل نکال کر ڈیٹا کنکشن آن کرکے فیس بک لاگ ان کی تو اس گستاخی پہ شاہ زرشمعون نے ایک نظر اس کے سیل کی روشن اسکرین پہ ڈال کر دوسری گہری نظر شنائیہ پہ ڈالی۔ شنائیہ کو اس کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی مگر اس نے اپنے ڈرتے دل کو بہادری پہ لیکچر دے کر ’بی بریو‘ کہنا سکھایا۔
’’زیادہ سوشل ازم بھی آپ کی امیج پہ اچھا اثر نہیں ڈالتی۔ اپنی وال کی پرائیویسی چینج کرو۔ فیس بک پہ ساری پوسٹ پبلک ہیں تمہاری۔‘‘
’’ایں…!‘‘ شنائیہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اسے ڈر تو تھا کہ اس کی طرف سے کوئی کمنٹ ضرور آئے گا مگر ایڈ نا ہونے کے باوجود اس کی وال اس کی نظر میں رہتی تھی۔ یہ جان کر اس سے سانس لینا بھی دوبھر ہونے لگا۔ اسے اپنی وال کی اوٹ پٹانگ کی ساری پوسٹ اور اپنی فرینڈز کے کمنٹ میں ہنسی ٹھٹول بھی یاد آگئی۔ ایک بار اس کی فرینڈ نے آپ کی نظر میں سڑیل کی کیا تعریف ہے سوال پوچھ کر اسے ٹیگ کیا تھا اور اس نے حویلی میں کھینچی تصویر کو گروپ کرکے شاہ زرشمعون کی تصویر کمنٹ میں پوسٹ کردی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے اسے دیکھا۔ انسان کو جس طرح مشکل میں اپنی غلطیاں یاد آتی ہیں بالکل اسی طرح اس وقت شنائیہ کو اپنی ساری غلطیاں یاد آرہی تھی۔
’’پا… پانی کی بوتل کہاں ہے؟‘‘ یہ نہیں تھا کہ وہ گفتگو کا موضوع تبدیل کرنا چاہتی تھی‘ حقیقتاً اس کا گلہ سوکھ گیا تھا۔
’’شنائیہ چوہدری تمہاری ساری تیز طراری‘ خود اعتمادی کہاں چلی جاتی ہے جو اس کے آگے منمنانے لگتی ہو۔‘‘ خود کی ڈری‘ سہمی آواز پہ خود کو گھرکنے لگی۔
’’کھانے پینے کی چیزیں بیک سیٹ پہ ہیں۔‘‘ اس نے اتنا احسان کیا کہ بتا دیا تھا۔ شنائیہ نے گاڑی کی اسپیڈ کو دیکھا اور دوسری نظر سے بیک سیٹ کو… اور شاید یہ خود کو لعنت ملامت کا نتیجہ ہی تھا جو اس سے کہنے کی بجائے اس نے سیٹ سے اٹھ کر پچھلی سیٹ سے چیزوں کو نکالا تھا‘ بھوک بھی محسوس ہورہی تھی۔
’’اتنا لمبا سفر ہے اب کیا بھوکی مروں اس کے ساتھ۔‘‘ گرم گرم سینڈوچ کو دیکھ کر اس کی بھوک مزید بڑھ گئی۔
’’شنائیہ چوہدری اس طرح منہ بند کرکے اس ہلاکو کے ساتھ سفر کرتی رہیں تو تمہاری لاش ہی کراچی پہنچے گی۔‘‘ منرل واٹر کی بوتل کو منہ سے لگا کر پانی پیتے اس کا ذہن بہت تیزی سے خود کو وارم اپ کررہا تھا۔
’’یہ کون سا طریقہ ہے پانی پینے کا۔ پیچھے دیکھو‘ دی جان نے ڈسپوزیبل گلاس بھی رکھوایا ہوگا۔‘‘ شاہ زرشمعون نے ناگواری سے اس کے لبوں سے لگی بوتل کو دیکھا۔
’’گلاس لے کر کون پھرتا ہے ہر جگہ؟ یااللہ میں نے کون سی غلطی کردی واپس جانے کی بات کرکے… مجھے لگا تھا سمہان آفندی مجھے ٹرمینل یا ایئرپورٹ تک ڈراپ کردے گا‘ مگر یہ بلا پیچھے لگ گئی… مما جانی۔‘‘ اسے دیا کی یاد آنے لگی۔ انہوں نے رات ہی فون پہ کہا تھا کہ وہ دو تین دن میں لینے آجائیں گی۔ اسی کی مت ماری گئی تھی جو اس نے چوہدری حشمت کے سامنے پڑھائی کا حرج ہونے کا جھوٹا ڈرامہ کیا تاکہ وہ اسے بھیج دیں اور گلے پڑ گیا یہ سفر۔
’’شنائیہ چوہدری اگر زندہ سلامت پہنچنا چاہتی ہو تو اللہ کے دیے ہوئے دو کانوں سے فائدہ اٹھائو۔‘‘ خود کو سمجھاتے ہوئے اس نے سینڈوچ باکس کھول کر سینڈوچ نکالا۔
’’آپ کھائیں گے؟‘‘ سینڈوچ منہ تک لے جاتے اسے دستر خوان کے اصول یاد آگئے ورنہ اس پہ بھی کچھ سننے کو مل جاتا۔
’’نہیں شکریہ‘ آپ پکنک انجوائے کریں‘ آن ڈرائیو۔‘‘ وہی جلا سڑا جواب آیا تھا۔ ایک نظر اس پہ ڈال کر شاہ زرشمعون نے نگاہیں دوبارہ ونڈ اسکرین پہ جمادی تھیں۔
’’جانے میٹھا بولتے ہوئے یہ شخص کیسا دکھتا ہوگا۔‘‘ سینڈوچ کی بائیٹ لیتے شنائیہ نے دزدیدہ نظروں سے اسے دیکھا۔ گرے شلوار سوٹ میں ہم رنگ چادر بازو سے لپیٹے وہ شاندار لگ رہا تھا۔
’’ہونہہ مغرور انسان۔‘‘ اس کی اونچی کھڑی ناک کو دیکھ کر منہ بناتے اس نے فلاسک سے چائے مگ میں نکالی۔
’’موصوف کی نظر میں جب پکنک ہے تو‘ ڈھنگ سے تو انجوائے کروں۔‘‘ خود کو باور کراتے اس نے مگ لبوں سے لگا کر سپ لیا۔
سورج غروب ہورہا تھا لیکن روشنی اب بھی تھی۔ اس وقت وہ غیر آباد علاقے سے گزر رہے تھے۔ اردگرد بیابان جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں۔ اچانک بارش شروع ہوگئی تو شنائیہ گلاس نیچے کیے بوندوں کو انجوائے کرنے لگی لیکن بارش بھی جلد رک گئی تھی۔ شاہ زرشمعون نے لینڈ کروزر کی رفتار مزید تیز کردی تھی۔ اس نے گلاس اوپر کرنے کی ہدایت کی مگر وہ منظر دیکھنے میں اتنی منہک تھی کہ اس کی احتیاط کو بھی نظر انداز کر گئی۔ سینڈوچ اور چائے انجوائے کرکے وہ تازہ دم ہوگئی تھی۔ سورج غروب ہونے کا بڑا دلکش منظر تھا‘ نکھرے نکھرے درختوں کے بیچ زرد سورج دیکھ کر اسے اپنے سیل فون کی گیلری میں قید کرلینے کی خواہش اتنی شدید تھی کہ وہ بھول گئی کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ ہے۔
’’روکو… روکو گاڑی روکو جلدی سے۔‘‘ وہ خوشی سے چلاتی اپنی طرف کا لاک چلتی تیز رفتار گاڑی میں کھولتی اسے ایک پل کو حیران کر گئی تھی۔
’’روکو…‘‘ وہ اس بری طرح چلائی کہ شاہ زرشمعون کا پیر بے ساختہ بریک پہ جا پڑا‘ اگلے ہی لمحے اس نے گاڑی کے خانوں سے اپنی لوڈڈ پسٹل کی طرف ہاتھ بڑھایا… وہ جب تک پسٹل نکال کر پوزیشن لیتا اس سے پہلے شنائیہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر دوڑی اور پھر کچھ وقت کے بعد۔
’’آ… آ… شاہ۔‘‘ ایک زور دار چیخ مار کر شنائیہ ٹیلے سے گر پڑی تھی۔
( ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں )

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close