Aanchal Jun-17

میں محبت اور تم

اقبال بانو

جب وفاؤں کا سلسلہ ہی نہ رہا
پھر تو جینے کا کچھ مدعا نہ رہا
دل دھڑکنے کی آواز آتی رہی
سازِ ہستی کبھی بے صدا نہ رہا

اس کا تو بھیجا ہی الٹ گیا تھا جب اس نے گیٹ کے پار اندر بیلوں سے گھرے کمپائونڈ میں شہریار کو کھڑے دیکھا تھا۔ اسے اپنی آنکھوں پر شبہ سا ہوا۔ ایک لحظہ کے لیے اس نے آنکھیں میچ لیں مگر آنکھیں کھولیں تو وہی منظر تھا۔ اس کے ساتھ ہما بھی تھی اور وہ اس کی جانب جھک کر نجانے کیا کہہ رہا تھا کہ ہما نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ وہ یقینا ہنس رہی تھی کہ اس کے ہنسنے کے اسٹائل کو وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی۔
وہ تو ہما سے ملنے آئی تھی اور بیل بجانے سے پہلے غیر ارادی طور پر اس نے گیٹ کے اوپر سے جھانک کر یہ دلدوز منظر دیکھا تھا۔ اس کا ہاتھ لرز کر رہ گیا اور آنکھوں میں سنگریزے چبھنے لگے تھے۔ وہ ایک دم ہی پلٹی رکشہ ریورس ہوچکا تھا کہ اس نے ہاتھ کے اشارے سے روکا تو وہ جھٹکے سے اس کے قریب رکا۔
’’واپس چلنا ہے۔‘‘ اس نے کہا اور ڈرائیور کے جواب دینے سے پہلے ہی اچک کر بیٹھ گئی۔ رکشہ آگے بڑھ گیا۔ اس کا ذہن سلگ رہا تھا اور دل کی عجیب حالت تھی۔
تو تم مل لیں ہما سے بشریٰ بیگم۔ ہما سے ملنے کی گھبراہٹ تمہیں یہاں تک لے آئی تھی۔ تمہارا دل اسی لیے گھبرا رہا تھا۔ جیسے کچھ ہونے والا ہو‘ کوئی حادثہ یا کچھ بھی اور… اور یہ بات کسی حادثے سے کم تو نہ تھی کہ شہریار اس کی عزیز ترین سہیلی ہما وقار کے ہاں اس وقت موجود تھا جو اس کا ڈیوٹی ٹائم تھا۔ اس کے اعتبار کے شیشے میں کتنی دراڑیں پڑ گئی تھیں مگر پھر بھی اس نے چٹخے ہوئے شیشے کو حوصلے سے تھاما ہوا تھا کہ اسے معلوم تھا اگر شیشہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا تو کرچیاں اس کے اپنے ہی دل میں دھنسیں گی۔ وہ ابھی تک آنکھوں دیکھی حقیقت پر اعتبار کرنے کی پوزیشن میں خود کو نا پا رہی تھی۔
’’شاید جو میں نے دیکھا وہ نظر کا دھوکا ہو۔‘‘ اس نے خود کو سمجھانا چاہا۔
’’دوبارہ چلی جائو اس سے مختلف نہ دیکھوگی۔‘‘ ذہن چلبلا کر بولا۔
’’کس طرف جانا ہے جی؟‘‘ ڈرائیور رکشہ کی رفتار دھیمی کرکے گردن موڑ کر پوچھ رہا تھا۔
’’الٹے ہاتھ کو موڑ لو نہیں… نہیں سیدھے ہاتھ کی سڑک پر…‘‘ اس کا ذہن ہی قابو میں نہ تھا اور رکشہ والا بھی کوئی شریف ہی آدمی تھا… جس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ شاید وہ اس کی ذہنی کیفیت کو جان رہا تھا یا پھر واقعی تحمل والا بندہ تھا ورنہ ایسے لوگ اس پیشے میں بہت کم ہی ہیں۔
’’بس یہاں روک دو۔‘‘ اپنے گھر کا گیٹ کھول کر اندر چلی آئی۔ قدم کہیں رکھتی اور پڑتے کہیں تھے۔
اس کا جی چاہ رہا تھا چیخ چیخ کر روئے تاکہ دل کا درد تو کچھ کم ہو… اپنے کمرے میں آکر اس نے شہریار کو آفس فون کیا… حالانکہ اسے علم تھا کہ وہ وہاں نہیں ہوگا‘ مگر اعتبار کا بت اب بھی اس کے دل میں ایستادہ تھا۔ حسب معمول شہریار کے پی… اے نے ریسیور اٹھایا۔
’’میں مسز شہریار بول رہی ہوں‘ ذرا صاحب سے بات کروائیں۔‘‘
’’وہ صاحب تو وزٹ پر گئے ہیں۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’شاید کاٹن فیکٹری۔‘‘
’’کب سے گئے ہیں؟‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔
’’تقریباً دو گھنٹے ہوگئے ہیں۔‘‘
’’بہتر۔‘‘
’’آئیں تو فون کروا دوں؟‘‘
’’نہیں‘ اس کی ضرورت نہیں ہے‘ ویسے کب تک آئیں گے؟‘‘
’’اب تک تو آجانا چاہیے جی‘ دیر بھی لگ سکتی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے سلسلہ منقطع کردیا۔
’’تو تم وزٹ پر گئے ہو؟‘‘ یقینا ہما کے گھر کے قریب ہی کہیں تمہارا ڈرائیور بھی گاڑی لیے کھڑا ہوسکتا ہے‘ یا یہ بھی ہوسکتا ہے اسے تم نے بھیج دیا ہو اور تھوڑی دیر بعد آنے کا کہا ہو۔ اگر ڈرائیور نے مجھے دیکھا ہے تو وہ تمہیں ضرور بتائے گا… مگر اس سے پہلے میں ہما سے کیوں نہ پوچھوں کہ تم اس کے گھر کیا کررہے تھے؟ ہما کے باپ اور بھائیوں کا نہ ہی کوئی بزنس ہے اور نہ ہی وہ لوگ مل اونر ہیں۔ پھر تمہارا وہاں جانے کا مقصد کیا ہے؟
اگر میرے ناطے گئے ہو تو یہ خلاف اصول بات ہے‘ ہما میری دوست ہے اور تم میرے ساتھ ہی وہاں جاسکتے ہو… ویسے نہیں‘ مگر… مگر مجھے تو لگتا ہے وہ گھر اور اس گھر کے مکین تمہارے لیے نئے نہیں ہیں… اگر ایسا نہ ہوتا تو تم وہاں بے دھڑک کیسے جاتے؟ ہاں شہریار… ہما کے تم اتنے قریب کھڑے تھے کہ… شاید یہ بھی نظر کا دھوکا ہو… اس نے خود کو پھر دلاسا دیا… دوست اسے بہت عزیز تھے اور اس کے اندر کی اچھائی اور سچائی ہی تو تھی جو اسے ہما سے بدگمان ہونے سے روک رہی تھی۔
’’تم ہما سے پوچھ لو کہ شہریار اس کے ہاں کیوں گیا تھا؟‘‘ اس کے ذہن ہی نے اسے راہ دکھائی۔ آخر الجھن کا کوئی تو سرا ملنا ہی چاہیے تھا۔ اس نے ہما کا نمبر ڈائل کیا۔ تیسری گھنٹی پر کال پک کرلی گئی اور دوسری جانب سے ہما کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔
’’ہیلو ہما اسپیکنگ۔‘‘
’’میں بشریٰ بول رہی ہوں۔‘‘
’’اوہ بشی کیسی ہے تو؟‘‘
’’ٹھیک ہوں‘ ابھی تھوڑی دیر پہلے بھی میں نے فون کیا تھا مگر تم نے کال نہیں پک کی۔‘‘
’’کب؟‘‘
’’تقریباً بیس منٹ ہوئے ہیں۔‘‘
’’میں لان میں دھوپ سینک رہی تھی۔‘‘
’’میں نے سمجھا شاید کہیں گئی ہوئی ہو۔‘‘
’’یار میں نے کہاں جانا ہے۔‘‘
’’آنٹی کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ صفدر بھائی کے ہاں کل سے گئی ہوئی ہیں فرزانہ بھابی کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘ ہما تفصیل بتانے لگی جس سے اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کا دل بار بار کہہ رہا تھا وہ اس سے پوچھے کہ شہریار اس کے گھر کیوں آیا تھا؟ مگر لفظ ہونٹوں تک آہی نہ رہے تھے۔
’’یعنی ہما آج گھر میں اکیلی ہی تھی۔‘‘ اسے پتا تھا کہ ہما کے والد جو ریٹائرڈ کرنل تھے وہ تو زیادہ تر اپنے فارم ہائوس پر رہتے تھے‘ جو اندرون سندھ میں تھا‘ یہاں گھر پہ ہما اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی جبکہ تینوں بھائی الگ رہتے تھے۔
تو کیا شہریار کو علم تھا کہ آج ہما اکیلی ہے؟ ایسا بھی تو ہوسکتا ہے ہما نے اسے بلایا ہو مگر کیوں؟ یہی کیوں اس کے لیے عذاب بنا ہوا تھا۔
’’تم کیا کررہی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’تو آجائو ادھر۔‘‘ اس کا جی چاہا ہما سے کہے میں آئی تو تھی تمہاری طرف لیکن واپس لوٹنا پڑا۔ پتا نہیں شہریار کہاں تک پہنچا ہوا ہے وہ واپس آئے گا بھی یا مزید آگے بڑھتا چلا جائے گا۔
’’آجائو نا۔‘‘ ہما اصرار کررہی تھی۔
’’پھرکبھی آجائوں گی‘ شہریار آنے والے ہوں گے۔ دوپہر کا کھانا گھر ہی میں کھاتے ہیں نا‘ اگر میں گھر میں موجود نہیں ہوئی تو پارہ ہائی ہوجائے گا۔‘‘
’’اب ایسا بھی نہیں ہے۔‘‘
’’تم نہیں جانتیں۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی۔
’’یا شاید مجھ سے زیادہ تم جانتی ہو۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ ہما نے چونک کر کہا۔ یقینا اس کا رنگ زرد ہوگیا ہوگا۔ بشریٰ نے تصور کی آنکھ سے دیکھا اور ہنس کر بولی۔
’’بھئی تم مردم شناس ہو اور بقول تمہارے میں ایک دم بونگی ہوں۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ ہما نے اطمینان کی سانس لی… جو برقی لہروں پر بشریٰ کی سماعتوں میں اتر گئی تھی۔
’’اچھا بھئی اوکے۔ میں کھانا پکا رہی ہوں۔‘‘ بشریٰ نے ہما کے جواب سے پہلے ہی سلسلہ منقطع کردیا۔
تو بشریٰ شہریار یہ بھی ہونا تھا… ایسے بھی ہونا تھا… کب تم نے سوچا تھا اس طرح؟
آج اس کا کس قدر جی چاہ رہا تھا ہما سے ملنے کا بالکل اچانک ہی ایک دم ہی۔ اس نے تو لباس بدلنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی تھی۔ وہ رات کا پہنا ہوا پھولوں والا برائون سوٹ جس میں کتنی ہی سلوٹیں تھیں اس میں وہ ہما کے ہاں پہنچ گئی تھی۔ وہ جو بہت ہی ویل ڈریسڈ مشہور تھی۔ ہر لباس کے ساتھ میچنگ کی شوقین… تقریبات میں وہ جو لباس بھی پہنتی تھی ایک بار تو دیکھنے والا ٹھٹک کر رہ جاتا… عورت کو پہننے اوڑھنے کا ڈھنگ آتا ہو تو معمولی شکل وصورت کی عورت بھی محفل کی جان بن سکتی ہے مگر وہ تو خوب صورتی میں بھی یکتا تھی۔ بالکل مجسمے کی طرح اس کا جسم تھا… ہر لباس اس پر سجتا اور لوگ شہریار پر رشک کرتے تھے۔
شہریار کی خاطر ہی تو وہ سجتی سنورتی تھی۔ وہ ایکسائز میں آفیسر تھا‘ شوہر کے عہدے کا رعب بھی بشریٰ کے چہرے پر عیاں ہوتا‘ پھر شہریار کی طرف سے کوئی روک ٹوک تو نہ تھی کسی بھی معاملے میں اسی لیے سارے شوق وہ پورے کرتی… سب سے بڑھ کر اس کا شوق فرینڈز سے گپ شپ لگانے کا تھا… شادی کے بعد بھی یہ شوق ماند نہ پڑا تھا۔ ذمہ داریاں زیادہ نہ تھیں‘ گھر میں کام کے لیے ملازم تھے تو وہ بھلا کیا کرتی اس لیے فرینڈز سے ناتا نہ توڑا تھا اور نہ ہی وہ توڑنا چاہتی تھی۔ اسے تو حیرت ہوتی تھی کہ عورتیں شادی کے بعد اپنی دوستوں سے دور کیوں ہوجاتی ہیں؟
بشریٰ کو اچھی طرح یاد تھا جب وہ کالج میں پڑھتی تھی تو انہی دنوں اس کے بڑے بھائی حسنات احمد کی شادی جمیلہ مختار سے ہوئی تھی۔ اتفاق سے جمیلہ بھابی کی دوست رضیہ انہی کے کالج میں پڑھاتی تھیں اور آئے روز ہی مس رضیہ اسے جمیلہ کے لیے سلام دعا کا پیغام دیتی تھیں اور وہ جمیلہ بھابی کے گوش گزار کرتے ہوئے کہتی۔
’’آپ کبھی ان سے ملنے کالج آئیں نا؟‘‘
’’بھئی فرصت نہیں۔‘‘
’’لیں فرصت کی کیا بات ہے‘ گھر میں رخسانہ آپا ہیں‘ امی ہیں چند گھنٹے کی تو بات ہے۔‘‘
’’بھئی جواباً تم بھی میری محبتیں پہنچا دیا کرو۔‘‘
’’اچھا… آپ نہیں جاتیں تو میں انہیں لے آئوں گی۔‘‘
’’نہیں… نہیں شاید امی برا مانیں۔‘‘ جمیلہ بھابی گھبرائیں تھیں۔
’’لیں کیوں برا مانیں گی۔‘‘ بشریٰ نے کہا تھا مگر جمیلہ بھابی اس کی دلیلوں پر بھی راضی نہ ہوئیں کہ رضیہ ان کے گھر آئے۔
’’بھئی شادی کے بعد ایک الگ لائف ہوتی ہے۔ پرانے سارے رشتے توڑ کر نئے لوگوں میں ایڈجسٹ کرنے کے لیے بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں بشریٰ تمہیں کیا پتا کہ زندگی شادی کے بعد کس قدر بدل جاتی ہے۔‘‘
’’یعنی شادی کے بعد سب چھوڑ دو‘ دوست بھی۔‘‘
’’ہاں… اب دیکھو ناں‘ میں رضیہ سے اس بے تکلفی سے بات نہیں کرسکوں گی‘ جیسا کہ ہم پہلے کرتے تھے‘ پھر وہ یہ سمجھے گی میں سسرال میں خوش نہیں ہوں‘ تو یہ بات وہ کتنی ہی اپنی اور میری مشترکہ ملنے والیوں سے کرے گی‘ یوں رائی کا پہاڑ بننے سے بہتر ہے کہ ملا ہی نہ جائے۔‘‘ ان کی بات اپنی جگہ تھی مگر یہ دلیل بشریٰ کے نزدیک نہایت بودی تھی۔ جس نے اس کے دل پر ذرا اثر نہ کیا۔
مگر اس نے محسوس کیا تھا کہ شادی کے بعد لڑکیاں عموماً اپنی دوستوں سے کنارہ کش ہوجاتی ہیں‘ یہ بات اس کی سمجھ ہی میں نہ آتی تھی… مگر اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اپنی دوستوں سے کبھی بھی ملنا نہیں چھوڑے گی۔ یونیورسٹی میں اپنے اکنامکس‘ ڈیپارٹمنٹ میں ان پانچوں کا گروپ‘ فائیو اسٹار گروپ‘ کی حیثیت سے مشہور تھا۔ آپس میں اتنی انڈراسٹینڈنگ تھی کہ کہیں جانا ہو تو ایک ساتھ جاتیں‘ چھٹی کرنی ہوتی تو ایک ساتھ ہی کرتیں… غرض کہ وہ پانچوں یعنی وہ‘ طلعت علی‘ لبنیٰ ظفر‘ ہما رفیق اور تابندہ انجم ساتھ ساتھ رہتیں۔ نوٹس اکھٹے بناتیں‘ ایک دوسرے سے جدا ہونے کا سو چ بھی نہ سکتی تھیں… وہ ابھی فائنل ایئر میں آئی ہی تھیں کہ ہما کی دھڑکنوں میں آفندی بس گیا… وہ کراچی جیمخانہ میں ایک تقریب میں ہما سے ملا تھا اور ہما بہت جلد گوڈے گوڈے اس کی محبت میں دھنس گئی تھی۔
یہ اس کا ذاتی معاملہ تھا اس لیے ان میں سے کسی نے سرزنش نہ کی تھی اور نہ ہی وہ آفندی سے ملاقاتوں کی روداد سناتی تھی۔ بس اس نے وہ کارڈ ضرور دکھایا تھا جو آفندی نے اس کے جنم دن پر بھیجا تھا۔ خوب صورت سا کارڈ جس پر گلاب کی کلی بنی ہوئی تھی اور لکھا تھا۔
’’پیاری ہما!
تمہاری سالگرہ کے موقع پر میری تمام تر نیک خواہشات اور پیار صرف اور صرف تمہارے نام…
تمہارا… آفندی‘‘
اور ہما کی فائل میں وہ کارڈ کتنے ہی دن رکھا رہا تھا۔
’’اگر تجھے نہ ملا تو…؟‘‘ بشریٰ نے پوچھا۔
’’تو شاید میں کبھی کسی دوسرے کو وہ جگہ نہ دے سکوں گی وہ مقام کسی کو نہیں دے پائوں گی جو آفندی کا ہے۔‘‘ ہما کی آنکھوں میں رنگ لہرانے لگے تھے اور اس روز ان چاروں نے صدق دل سے دعا کی تھی۔
’’ہما اپنی محبت کو پالے۔‘‘
ہما کے چھوٹے بھائی تنویر علی کی شادی تھی اور ان سب نے خصوصی شرکت بھی کی تھی۔ شادی میں ہما نے آفندی کو بھی بلایا تھا‘ وہ خود ہی جان گئی تھی کہ آفندی بلا روک ٹوک اس کے ہاں آتا رہتا ہے اور یہ بڑی بات بھی نہ تھی۔ باہر ملنے کی بجائے وہ آفندی سے اپنے گھر میں مل لیتی تھی مگر ان سب کو افسوس تھا کہ وہ آفندی سے نہ مل سکی تھیں… ہما کی پسند دیکھنے کا اچھا موقع ضائع ہوگیا تھا… تنویر علی بھی شادی کے بعد اور دونوں بھائیوں کی طرح الگ ہوگیا تھا اب گھر میں وہ دونوں ماں بیٹی تھیں۔ کرنل رفیق احمد فارم ہائوس پر چلے گئے تھے۔ ہفتے بعد آجاتے تھے۔
زندگی اپنے معمول پر رواں دواں تھی کہ ایک دم ہی بشریٰ کی پُرسکون زندگی میں ہلچل مچ گئی۔
اس کے فائنل سمسٹر کے کمپری ہنسوٹسٹ ہونے والے تھے کہ صادق آباد سے امی کی بچپن کی فرینڈ سلمیٰ بیگم برسوں بعد ملنے چلی آئیں۔ کراچی میں ان کا بیٹا رہتا تھا‘ آئی تو وہ اپنے بیٹے کے پاس تھیں کہ امی کی یاد بھی آگئی۔ ایڈریس تو وہ بشریٰ کے ماموں عابد خان سے لے ہی آئی تھیں۔ بس انہیں نہ جانے بشریٰ میں کیا نظر آیا کہ وہ انہیں اپنے بیٹے شہریار کے لیے بے تحاشہ پسند آگئی اور انہوں نے رشتہ دے دیا۔ جو دوسرے روز منظور بھی ہوگیا اور ایک ہفتے کے اندر ہی اس کا نکاح شہریار سے ہوگیا۔ رخصتی بشریٰ کے ایگزام کے بعد ہونی تھی۔ وہ نہایت حیرت سے اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی کو دیکھتی… اپنے ہاتھ کی تیسری انگلی میں انگوٹھی کو دیکھ کر خود کو یقین دلاتی کہ واقعی اس کی زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی آگئی تھی۔ ہما بہت گم صم سی رہنے لگی تھی‘ مگر بشریٰ تو خوشی کے ایسے ہنڈولوں میں جھول رہی تھی کہ اسے بھلا کیا احساس ہوتا۔ وہ تو طلعت نے توجہ دلائی تھی۔
’’بشی… تو نے غور کیا ہما کیسی بجھ گئی ہے؟‘‘
’’نہیں تو…‘‘
’’تجھے فرصت ملے شہریار بھائی کے خیالوں سے تب نا؟‘‘
’’یہ بات نہیں ہے۔‘‘ وہ بری طرح جھینپ گئی۔ ’’تم نے پوچھا نہیں؟‘‘
’’نہیں… ایسا کچھ ہوتا تو ضرور بتاتی۔‘‘
’’میں پوچھوں گی…‘‘ بشریٰ نے کہا اور پھر اس کے پوچھنے پر ہما نے وہی جواب دیا تھا جو وہ طلعت کو دے چکی تھی کہ تنہائی اسے پریشان کرتی ہے۔ اور اس کی بات پر سب ہی نے اعتبار کرلیا تھا۔
فائنل ایئر کے ایگزام ہوئے تھے وہ گھر بیٹھ گئیں‘ مگر ایک دوسرے سے ملنا جلنا قائم رہا تھا۔ لبنیٰ تو اپنے پاپا کی ٹریولنگ ایجنسی میں کھپ گئی تھی۔ جب کہ طلعت کی شادی ہوگئی اور اس کی شادی کے ایک ہفتے بعد ہی بشریٰ بھی بیاہ کر شہریار کے ساتھ صادق آباد چلی آئی۔ شہریار کی ہوکر اسے اپنے آپ پر رشک آتا۔ وہ بھی تو پروانہ وار اس پر نثار ہوتا‘ ایک ماہ کی چھٹی ختم ہونے کا پتا بھی نہ چلا تھا۔ وہ دونوں کراچی لوٹ آئے۔
بشریٰ نے اپنے گھر کو خوب سجایا‘ سنوارا اسے شہریار کا انتظار کرنا بے حد اچھا لگتا تھا‘ دوپہر کا کھانا وہ گھر ہی آکر کھاتا تھا اور وہ ملازموں کے ساتھ مل کر کھانے تیار کرتی۔
اس کا رزلٹ آیا تو ’’فائیو اسٹار گروپ‘‘ فرسٹ کلاس میں کامیاب ہوگیا تھا۔ شہریار نے اس خوشی کے موقع پر گھر ہی میں تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ تب بشریٰ نے ان چاروں کا تعارف کرایا تھا اور اسی روز اسے پتا چلا کہ اس عرصے میں اس نے شہریار کی محبت میں کھوکر اپنی دوستوں کو مس ہی نہیں کیا۔
کیا واقعی ایک شخص کی محبت اتنی زور آور ہوتی ہے کہ ساری محبتیں اور تعلق بھلا دیتی ہے۔ وہ یہ سوچ سوچ کر حیران کم اور پریشان زیادہ ہوتی رہی تھی اور پھر اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اپنی دوستوں سے ملنا نہیں چھوڑے گی۔ تابندہ انجم نے تو بینک میں جاب کرلی تھی‘ جبکہ طلعت اپنے میاں کے ساتھ پنڈی چلی گئی تھی‘ لے دے کے ہما ہی ایسی تھی جس سے اس کی گاڑی چھن سکتی تھی۔ وہ کبھی شام کو تابندہ کے ہاں چلی جاتی اور کبھی لبنیٰ کی طرف۔ کبھی شہریار اسے ہما کے ہاں چھوڑ جاتے اور وقت گزرنے کا پتا بھی نہ چلتا۔ جب وہ چند گھنٹوں بعد لوٹتا تو ہارن کی آواز پر بشریٰ جلدی سے باہر آتی… ہما نے کئی بار شہریار کو اندر آنے کو کہا تھا مگر وہ آتا ہی نہ تھا۔
’’بھئی دو دوستوں کے درمیان ظالم سماج نہیں بن سکتا۔‘‘ وہ نہایت خوب صورتی سے انکار کردیتا۔ اور ایک روز جب بشریٰ نے ہما سے کہا تھا۔
’’یار اب تو بھی آفندی سے کہہ اپنے گھر لے جائے تجھے۔‘‘
’’شاید وہ مجھے کبھی نہ لے جائے۔‘‘ ہما آہ بھر کر بولی۔
’’کیوں؟‘‘ بشریٰ نے اسے دیکھا۔
’’بس۔‘‘ ہما مسکرائی۔ ’’ضروری تو نہیں محبت کی معراج شادی ہو۔‘‘
’’یہ کیا تک ہے بھلا؟‘‘
’’بس مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔‘‘
’’مگر کوئی وجہ بھی تو ہوگی نا۔‘‘
’’میرے پاپا نہیں مانتے… بس جب تک دوستی ہے رہے گی۔‘‘
’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی‘ تو اس کے بغیر کیسے رہ لے گی۔‘‘
’’رہنا پڑے گا بشی… اور میں رہنے کی کوشش کرتی ہوں‘ ارادہ کرتی ہوں مگر… مگر وہ میرے ارادے توڑ دیتا ہے‘ میں اس سے ملنا نہیں چاہتی‘ نہیں جانا چاہتی اس راہ پر جو اس کی سمت جاتی ہے لیکن…‘‘ ہما کی آواز بھرا گئی۔
’’ہما میرے لائق کوئی بات ہو تو کہو۔ میں انکل سے بات کروں۔‘‘
’’کیا کروگی بات کرکے بھی کھوئوگی‘ وہ نہیں مانیں گے۔‘‘ ہما کا لہجہ یاسیت بھرا تھا اور بشریٰ اس کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔ اس بارے میں پھر اس کی ہما سے بات نہ ہوئی تھی۔
چھٹی کے روز وہ تینوں اس کے ہاں آجاتیں… اور خاصا شغل سا رہتا… زندگی میں ہر طرف رنگ ہی رنگ تھے۔
گزرے ڈیڑھ برس میں اسے شہریار سے کوئی شکایت نہ ہوئی تھی۔ وہ اسے بے تحاشہ چاہتا تھا (اب پتا نہیں حقیقت تھی یا اپنی کوئی کمزوری وہ چھپاتا تھا) اس کی دوستوں کے آنے پر کبھی اس نے منہ نہ بنایا تھا۔ وہ خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی تھی مگر آج اسے پتا چلا کہ ایسا تو نہ تھا۔ وہ تو بہت ہی کمتر تھی‘ سارے پردے ہٹ گئے تھے۔
تو ہما رفیق کا آفندی یہی تھا… جو میرا شوہر ہے یعنی شہریار آفندی… تو شہریار آفندی… تم میں اتنی سکت نہیں تھی جو تم اپنی ماں سے احتجاج کرسکتے‘ اپنی بات منواسکتے‘ اپنی پسند اپنا سکتے‘ یااللہ میں کس قدر اندھیرے میں رہی۔
’’کیا تم نے ہما سے محبت کا کھیل کھیلا تھا… یا پھر مجھ سے کھیل رہے ہو؟‘‘
’’کیا سچ ہے شہریار… تم اتنے دوغلے بھی ہوسکتے ہو۔‘‘ رہ رہ کر درد کی لہریں اس کے دل میں اٹھ رہی تھیں۔
’’کاش… مجھے پتا ہوتا کہ میرا شہریار‘ ہما کی محبت آفندی ہے تو شاید میں شادی ہی سے انکار کردیتی۔‘‘ ہاں مجھ میں اس قدر حوصلہ تھا اس کا جی چاہ رہا تھا کہ دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر روئے۔ خیالوں میں اس قدر غلطاں تھی کہ اسے شہریار کے آنے کی بھی خبر نہ ہوئی تھی۔
’’کیا بات ہے بیگم آج تم میری گاڑی کی آواز سن کر بھی باہر نہیں نکلیں… طبیعت تو ٹھیک ہے نا…؟‘‘ شہریار اس کا بازو چھو کر محبت بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا… اس کا جی چاہا کہے میرے اندر اتنی آوازیں اودھم مچا رہی ہیں کہ باہر کی کوئی آواز میری سماعتوں میں نہیں اتر رہی۔
’’کیا ہوا…؟‘‘ اس کی خاموشی سے شہریار گھبرا گیا۔
’’کچھ نہیں…‘‘ وہ ہولے سے بولی۔
’’پھر اس قدرگم صم کیوں ہو؟‘‘ شہریار اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’سوئی ہوئی اٹھی ہوں۔‘‘ اب بھی بشریٰ کا لہجہ مدھم تھا۔
’’مگر مجھے تو لگتا ہے… تم گھنٹوں سے اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی ہو۔‘‘ وہ بولا۔
’’کبھی کبھی انسان بیٹھے بیٹھے بھی تو سو جاتا ہے نا؟‘‘
’’بھئی فلسفہ مت بولا کرو میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ شہریار ہنس کر بولا۔
’’اور تم نے کپڑے بھی چینج نہیں کیے غلط بات ہے بشی… میں تروتازہ چہرہ دیکھنا چاہتا ہوں تمہارا۔‘‘
’’اور اگر میں مرجھا گئی تو…‘‘ بشریٰ نے اس کی طرف دیکھا۔
’’میری محبت کے چھینٹے تمہیں کبھی مرجھانے نہیں دیں گے۔‘‘ وہ جذب دل کی تمام تر شدتیں اپنے لہجے میں سمو کر بولا۔
’’اتنا اپنی محبت پر یقین ہے؟‘‘ بشریٰ کا لہجہ چبھتا ہوا تھا جو شہریار نے محسوس کیا۔
’’جی جناب… اس سے بھی کہیں زیادہ۔‘‘ وہ چہکا۔
’’مگر بعض مرتبہ لوگ محبت کے مینہ کے باوجود کیوں کملا جاتے ہیں؟‘‘ بشریٰ کا لہجہ عجیب سا تھا۔
’’پھر ان کی محبت میں یقینا کھوٹ ہوتا ہے۔‘‘
’’پھر آپ کی محبت میں بھی تو کھوٹ ہے کہ…‘‘ بشریٰ نے لب بھینچ لیے۔
’’کیا مطلب ؟‘‘ شہریار چونکا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔ ’’کھانا لگوائوں؟‘‘
’’تم… تم میری محبت پر شک کیوں کررہی ہو بشی؟‘‘ شہریار کا لہجہ اس قدر نرم تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بشریٰ کی آنکھوں میں گھٹائیں امڈ آئیں۔
’’پلیز بشی… مجھے بتائو مجھ سے کہاں غلطی ہوئی ہے کہ آج بے اعتباریاں تمہاری آنکھوں اور لہجے میں بول رہی ہیں۔‘‘ شہریار اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دبائو دیتا ہوا بولا۔
’’آپ… آف… آفس سے کہاں گئے تھے؟‘‘
’’وزٹ پر گیا تھا۔‘‘
’’سچ بول رہے ہیں…؟‘‘ بشریٰ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بشریٰ کے لہجے اور آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ شہریار سمجھ گیا کہ وہ کچھ نہ کچھ جان گئی ہے۔ شہریار کی نظریں جھک گئیں اور وہ بولا۔
’’میں ہما کی طرف گیا تھا۔‘‘
’’ارے اتنی جلدی مان گئے۔‘‘ بشریٰ ہنسی تو آنکھوں سے پلکوں کا بند توڑ کر آنسو بھی اس کے گالوں پر آگئے۔
(کاش شہریار تم کہہ دیتے کہ تم وہاں نہیں گئے تھے اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا ہے‘ میرا اعتبار تو قائم رہتا)
’’ہاں میں گیا تھا وہاں۔‘‘ اس نے دوبارہ اعتراف کیا۔
’’شیری… آپ واقعی ہما کو چاہتے ہیں تو… تو آپ اس سے شادی کرلیں‘ یقین کریں مجھے…‘‘
’’پلیز بشی… آگے کچھ مت کہنا‘ تم نے ایسا سوچا ہی کیوں؟‘‘ شہریار نے ترش لہجے میں کہا۔
’’جب پرانی محبت اب تک آپ کے پیروں کی زنجیر بنی ہوئی ہے تو پھر خود کو جلانے تڑپانے سے فائدہ۔‘‘
’’یہ کبھی نہیں ہوسکتا؟‘‘
’’انکل کو میں منالوں گی۔‘‘
’’بات ان کی نہیں میرے ماننے کی ہے۔‘‘ شہریار بولا تو بشریٰ نے نہایت حیرت سے اسے دیکھا۔
’’ہاں بشی… میں ہی نہیں کرنا چاہتا میری ماں کی پسند مجھے جی جان سے پیاری ہے۔‘‘
’’آپ بھول رہے ہیں کہ ہما آپ کی پسند ہے۔‘‘ بشریٰ نے یاد دلایا۔
’’ہونے دو۔‘‘ وہ بے پروائی سے بولا۔
’’پھر آپ اس سے کیوں ملتے ہیں۔ جب ماں کی پسند پہ اکتفا کیا ہوا ہے۔‘‘ بشریٰ نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
’’یہ ہما کی خواہش ہے اور میں بھی جسٹ فار انجوائمنٹ چلا جاتا ہوں۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’انجوائے منٹ کا نام لے کر خود کو اور مجھے مت بہلائیں شیری… صاف کہیں کہ دل کے کسی جذبے اور تقاضے سے مجبور ہوکر آپ وہاں جاتے ہیں۔‘‘
’’تم یقین کرو بشی… تمہارا کیا خیال ہے اگر میں ہما سے شادی کرنا چاہتا تو میری ماں میرے راستے میں رکاوٹ ڈالتی کبھی نہیں… میں نے تو ہما کا غرور توڑا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’ہما ہمارے دور پار کی رشتہ دار بھی ہے‘ اس کی والدہ بابا جان کی کزن ہوتی ہیں خاندانی رنجشوں کے باعث یہ لوگ اور ہم ان سے نہیں ملتے اور گزرے کچھ برس پہلے فرزانہ بھابی جو میری ماموں زاد ہونے کے ساتھ ساتھ میری بہت اچھی دوست بھی ہیں عمر کے فرق کے باوجود بھی جب ایک بار انہوں نے یہ ذکر کیا کہ دونوں خاندان ایک ہوجائیں اس کے لیے انہوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہما کو مجھ سے منسوب کردیا جائے۔ ان دنوں ہما سیکنڈ ایئر میں تھی اور اس نے اچک کر کہا تھا کہ وہ کسی صورت ایک پینڈو سے شادی نہیں کرے گی۔ یہ بات فرزانہ آپا کی بہن ریحانہ باجی نے مجھے بتائی تھی ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کررہا تھا۔ تم اندازہ کرسکتی ہو کہ میری مردانگی پر کیسی ضرب لگی تھی۔‘‘
’’یعنی آپ نے اپنے ٹھکرائے جانے کا بدلہ اس سے لیا ہے۔‘‘ بشریٰ اس کے چپ ہوتے ہی بولی۔
’’یہ بات میں نے کبھی سوچی بھی نہ تھی بس اچانک سامنے آگئی تو میں نے سوچا آخر حرج ہی کیا ہے۔‘‘ شہریار نے وضاحت کی۔
’’اور آپ نے اس کا غرور توڑتے توڑتے اسے بھی توڑ ڈالا۔ یہ کیسی مردانگی ہے شیری؟‘‘
’’ایسا ہی ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’فرزانہ آپا کو نہیں پتا کہ آپ نے ان کی نند کے ساتھ یہ کھیل کھیلا ہے۔‘‘
’’میں کبھی ان کے سامنے ہی نہیں گیا اور یوں بھی برسوں سے وہ ہمارے ہاں نہیں آئیں کہ ان کے مجازی خدا پسند نہیں کرتے… میں عرصہ تین برس سے کراچی میں ہوں۔ میں خود کبھی ان سے ملنے نہیں گیا کوئی اپنے سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔‘‘
’’اور آپ ہما کے گھر چلے جاتے ہیں…‘‘
’’اس وقت جب اس کے والدین نہیں ہوتے اور تمہیں یاد ہونا چاہیے کہ میں تنویر کی شادی میں بھی نہیں گیا تھا۔‘‘ شہریار نے یاد دلایا۔
’’آپ کا نام اس کے لیے نیا تو نہ تھا۔‘‘
’’وہ میرا نام جانتی تھی پھر ہماری شادی پر وہ سب کچھ جان گئی… سب کو دیکھ لیا تھا اس نے مگر جو جذبے میری وجہ سے اس کے اندر جاگے تھے وہ اسے مجبور کرتے رہے کہ وہ مجھ سے ملتی رہے اور میں نے بھی سوچا اپنا کیا جاتا ہے مگر اب میں نے سوچ لیا ہے کہ آج کے بعد اس سے نہیں ملوں گا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ بشریٰ نے پوچھا۔
’’تم جو بدگمان ہوگئی ہو۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔
’’میری وجہ سے نہیں ملیں گے؟‘‘
’’ہاں اور ویسے بھی میں اب اکتا گیا ہوں۔‘‘ وہ طویل سانس لے کر انتہائی بے پروائی سے بولا تو بشریٰ نے نہایت حیرت سے اسے دیکھا شہریار نے آنکھیں موند لیں اور وہ سوچنے لگی۔
’’کچھ بھی کہو شہریار آفندی… تم بھی اس کی محبت میں گوڈے گوڈے دھنسے ہوئے ہو… خاندانی چپقلش تمہیں ایک ہونے سے روکتی رہیں‘ اب مجھے ادراک ہوا ہے کہ تمہاری ماں بھی اسی لیے آئی تھیں اور جب ہما کے والد نہیں مانے تو انہوں نے ایک دم ہی تمہیں پابہ زنجیر کرنے کا فیصلہ کرکے میرے پلے باندھ دیا کہ تم کوئی قدم نہ اٹھالو… تم کچھ بھی کہتے رہو… مگر میرے دل کے شیشے میں دراڑ آگئی ہے… اور عورت کا دل کتنا نازک ہوتا ہے۔ اب میرے دل کے شجر پر کبھی بھی اعتبار کا موسم نہیں اترے گا‘ میں تمہارے ساتھ ہی رہوں گی مگر سدا بے اعتبار… تم نے اور ہما‘ دنوں نے ہی میرا اعتبار توڑا ہے اور میری مجبوری دیکھو میں تم دونوں کو کچھ کہہ نہیں سکتی۔ مگر یہ تو کرسکتی ہوں کہ ہما کی دوستی سے دستبردار ہوجائوں؟‘‘ بشریٰ نے یہ فیصلہ کیا تو اس کے اندر کہیں بھی دکھ کی لہر نہ اٹھی بلکہ ہر طرف سکھ چین کے پودے لہلہانے لگے تھے۔
’’یار کھانا لگوائو سخت بھوک لگی ہے۔‘‘ شہریار کی آواز پر وہ چونکی اور مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔
سمجھوتے کی زندگی میں… بے اعتباریوں کے موسم میں نہ چاہتے ہوئے بھی تو مسکرانا پڑتا ہے اور اب طویل عمر اس نے یونہی گزارنی تھی…!!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close