Aanchal Jul-17

جنون سے عشق تک

سمیرا شریف طور

دل میں پھر ایک شور سا ہے برپا
کہ برس بعد دیکھا ہے چاند عید کا
دل میں ہے تیری یاد کا نشتر لگا ہوا
پھر کس طرح کریں اہتمام ہم عید کا

گزشتہ قسط کا خلاصہ
شہرینہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہے دو بھائیوں اور ماں باپ کے بے جا لاڈ پیار نے اسے کافی ضدی و خود سر بنادیا تھا۔ اس کے والد عثمان فاروق حکومت کے شعبہ اطلاعات و نشریات میں تعینات ہیں‘ ان کی پوسٹ کا شہرینہ ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے۔ شہرینہ کو خاندانی تقریب کے سلسلے میں اسلام آباد سے لاہور آنا ہوتا ہے‘ فائقہ (شہرینہ کی والدہ) ڈرائیور کو تاکید کرتی ہے کہ گاڑی وہ ہی ڈرائیو کرے گا لیکن شہرینہ اسے پچھلی سیٹ پر بٹھا کر کار خود ڈرائیو کرنے لگ جاتی ہے تب لاہور میں داخل ہوتے ہی اس کی گاڑی سے ایک بائیک سوار کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے جس پر پولیس اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ افگن شہرینہ کے بڑے پاپا (تایا) کا سب سے بڑا بیٹا ہے افگن اپنا زیادہ تر وقت بزنس کے امور سنبھالنے میں گزارتا ہے ایسے میں اسے شہرینہ کے اس حادثے اور لاہور آمد کا پتا چلتا ہے جس پر وہ نہایت شرمندگی محسوس کرتے اسے گھر تک لاتا ہے۔ شہرینہ کو اپنا یہ بددماغ اور اکھڑ مزاج کزن بالکل بھی پسند نہیں ہوتا افگن شہرینہ کی ان بچگانہ حرکتوں پر اسے نہایت برا بھلا کہتا ہے۔ رخشندہ جو کہ فائقہ کی خالہ زاد ہے شروع سے ہی فائقہ سے رقابت رکھتی ہے اور اس کے حسن سے خائف نظر آتی ہے۔ فریحہ ماں کے اشاروں پر عمل کرتی ہمیشہ شہرینہ کی ٹوہ میں رہتی ہے۔ رخشندہ کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ افگن سے طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں اسی مقصد کی خاطر وہ شہرینہ کو افگن اور دیگر لوگوں کے سامنے برا ثابت کرنے کی کوششیں کرتی ہیں۔ فریحہ بھی اس مقصد کے لیے ماں کا بھرپور ساتھ دیتی ہے‘ افگن کے چھوٹے بھائی شایان کی شادی بڑی پھوپو کی بیٹی زوبیہ سے طے پاتی ہے اور شہرینہ شادی کے ان ہنگاموں میں خوش و پرجوش ہوتی ہے۔ گھر مہمانوں سے بھرا ہوتا ہے ایسے میں شہرینہ کو آرام کرنے کی خاطر افگن کا کمرہ دیا جاتا ہے لیکن افگن کو یہ سب بالکل پسند نہیں آتا جب ہی دونوں میں اس بات کو لے کر خاصی تلخ کلامی ہوجاتی ہے۔ افگن کے والد اشفاق فاروق افگن کو سمجھاتے شہرینہ کو بہلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر اسے اپنی یہ توہین قطعاً برداشت نہیں ہوپاتی۔ افگن کی بہن فرح کے ساتھ شہرینہ کی خوب دوستی ہوجاتی ہے جب ہی وہ اس کے ساتھ شاپنگ پر جاتی ہے ایسے میں فریحہ بھی ان کے ہمراہ ہوجاتی ہے وہاں موجود ایک لڑکا کافی دیر سے انہیں اپنی نظروں کے حصار میں رکھتا ہے جس پر فریحہ چونک جاتی ہے اور اسے یوں پیچھے آتے دیکھ کر شہرینہ خاصے جارحانہ انداز میں اس کی طرف بڑھتی ہے۔
اب آگے پڑھیے
ظ …ژ…ظ… ژ
’’ڈونٹ وری آئی کین ہینڈل اٹ۔‘‘ شہرینہ ابھی بھی پُرسکون تھی جبکہ فرح کے چہرے پر ہلکی سی پریشانی چھائی ہوئی تھی۔
’’کوئی ضرورت نہیں ایسے آوارہ لوگوں کے منہ لگنے کی۔‘‘ اس نے ٹوکا تو شہرینہ نے گھورا۔
’’کیوں ہم کیوں ایسے گھٹیا لوگوں کو برداشت کریں مجھے ایسے لوگوں کو ڈیل کرنا بہت اچھی طرح آتا ہے… جسٹ آ منٹ۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹی۔
’’شہری رکو تو…!‘‘ فرح پکارتی رہ گئی جبکہ شہرینہ دوسرے لمحے اس لڑکے کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔
’’واٹ دا پرابلم ود یو۔‘‘ وہ تیکھے نقوش لیے لڑکے سے مخاطب ہوئی۔
فرح اور فریحہ بھی فوراً ان کے پاس آئی تھیں۔ لڑکا کوئی بیس سال کے لگ بھگ تھا ڈریسنگ سے کسی ایلیٹ فیملی کا لگتا تھا لمبے بال، اسٹائلش سا خط (ہلکی داڑھی) اور ہاتھ میں جھولتا کی چین۔ شہرینہ نے اسے سر سے پائوں تک دیکھ کر اس کے چہرے کو فوکس کیا تھا۔ وہ لڑکا ڈرے سہمے بغیر مسکرایا۔
’’یو آر سو پریٹی… ول یو گیو می یور ٹائم۔‘‘ لڑکے کا انداز بڑا واہیات تھا اور آفر اس سے بھی زیادہ واہیات شہرینہ کا دماغ ایک دم گھوما تھا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ اس نے کھینچ کر اس لڑکے کو تھپڑ مارا۔
وہ لڑکا ایسی صورت حال کے لیے تیار نہ تھا لڑکی خود اس کے پاس آکر مخاطب ہوئی تھی وہ سمجھا تھا کہ وہ بھی لڑکی کو اٹریکٹ کر گیا ہے لیکن اپنی گھٹیا آفر کے جواب میں اتنا جاندار تھپڑ کھانے کو ملے گا اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا وہ کراہ کر پیچھے گرا تھا جبکہ فرح اور فریحہ کی چیخیں بے اختیار نکلیں تھیں۔ ارد گرد چلتے لوگ ایک دم رکے تھے۔
’’ہائو ڈیئر یو… (تمہاری ہمت کیسے ہوئی)‘‘ وہ لڑکا ایک دم سنبھل کر پلٹا‘ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا یا شہرینہ کا ہاتھ دوبارہ اٹھتا فرح نے ایک دم شہرینہ کو کھینچ کر اپنے پیچھے کرلیا۔
’’میں تمہیں شوٹ کردوں گا۔ تمہیں پتا نہیں میں کون ہوں۔‘‘ وہ لڑکا چیخا۔
ارد گرد موجود مردوں میں سے دو مردوں نے آگے بڑھ کر اس لڑکے کو نہ تھام لیا ہوتا تو یقینا اب تک وہ کچھ کرچکا ہوتا۔ فرح کا دل بند ہونے والا تھا اور فریحہ گنگ سی دیکھ رہی تھی۔
’’تم جانتے نہیں میں کون ہوں ابھی ایک کال کروں تو تم لاک اپ میں بند ہوجائو، ایسی درگت بنوائوں گی تمہاری کہ تم دوبارہ کبھی کسی لڑکی کو فالو کرنا بھول جائو گے۔‘‘ شہرینہ بالکل مطمئن تھی۔ اس کے لیے جیسے ساری صورت حال بہت نارمل سی تھی۔
جواباً وہ لڑکا مغلظات بکنا شروع ہوگیا تھا۔ وہاں ایک ہجوم سا اکٹھا ہوگیا تھا۔ فرح کے لیے یہ ساری صورت حال بڑی عجیب سی تھی۔ وہ ہمیشہ بھائیوں یا ماں کے ساتھ گھر سے نکلی تھی کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں ہوا تھا اسے علم نہیں تھا کہ ایسی صورت حال کو کیسے ہینڈیل کرنا ہے ایسے میں اگر اسد آجائے تو نجانے کیا ہو۔
’’چلو شہری کوئی ضرورت نہیں ایسے لوگوں کے منہ لگنے کی… پلیز چلو یہاں سے۔‘‘ لوگ لڑکے کو برا بھلا کہنے لگے تھے بلکہ ایک دو نے تو لڑکیوں کو تنگ کرنے پر دو ہاتھ بھی لگا دیے تھے۔
’’آپ لوگ جائیں یہاں سے پلیز ہم دیکھ لیں گے۔‘‘ ایک مہذب شخص نے کہا تو فرح شہرینہ کا ہاتھ کھینچتے فوراً وہاں سے نکلی جبکہ شہرینہ کا دل خوب اچھی طرح اس لڑکے کی درگت بنانے کا تھا۔
بمشکل وہ ان دونوں کے ساتھ وہاں سے نکلی انہیں ابھی اور شاپنگ کرنا تھی لیکن فرح بہت خوف زدہ ہوگئی تھی، اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ شہرینہ بی بی ایسی مرد مار قسم کی لڑکی ہے۔ اس نے کال کرکے اسد کو فوراً وہاں پہنچنے کا کہا۔
’’تم مجھے بلاوجہ ہی کھینچ لائی ہو۔ تم جیسی ڈرپوک لڑکیوں کی وجہ سے ہی ان لڑکوں کو اتنی جرأت ملتی ہے ایک ہاتھ لگ جائے تو کسی کی مجال ہے جو عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھے۔‘‘ شہرینہ کو اپنا وہاں سے زبردستی کھینچ کر لایا جانا قطعی نہ بھایا تھا سو وہ فرح پر چڑھ دوڑی تھی۔
’’ایسے لڑکوں سے دور ہی رہنا چاہیے دیکھا نہیں کیسے دھمکیاں دے رہا تھا‘ لگتا بھی کسی ہائی کلاس سے تھا۔‘‘ فریحہ کو بھی گویائی مل گئی تھی۔
’’ہائی فائی کلاس مائی فٹ، میرے پاپا بھی کسی سے کم نہیں ایسے لڑکوں کو ڈیل کرنا مجھے بہت اچھی طرح آتا ہے۔‘‘ وہ اب بھی اسی طرح پُر اعتماد تھی۔
’’اتنا اوور کانفیڈنٹ ہونا بھی اچھی بات نہیں، سوچو ذرا وہ بھی تم پر ہاتھ اٹھا لیتا تو۔‘‘
’’ایسے لوگوں کو میں اچھی طرح جانتی ہوں یہ لوگ صرف گیدڑ بھبھکیاں ہی دے سکتے ہیں عملاً بالکل زیرو ہوتے ہیں۔‘‘ وہ حد سے زیادہ مطمئن اور پُرسکون تھی۔
’’تم یہ سب اس لیے کررہی ہو کہ تمہارے پیچھے ایک مضبوط بیگ ہے جو تمہیں ہر حال میں سپورٹ کرے گی لیکن وہ تمام لڑکیاں جن کے پیچھے کوئی مضبوط سہارا نہ ہو وہ بیچاری تو خاموش ہوکر اپنی عزت بچا کر نکلنے کی کریں گی۔‘‘ فریحہ نے کہا تو شہرینہ نے سنجیدگی سے دیکھا۔
’’تمہارا موقف شاید درست ہو لیکن میں اس سے ایگری نہیں کرتی کسی بھی لڑکی کو اپنی سیلف ریسپیکٹ اور عزت کے لیے کمزور نہیں ہونا چاہیے ورنہ ایسے لڑکے ان کا جینا دوبھر کردیں۔‘‘ اس کی بات فریحہ کے چہر پر اکتاہٹ در آئی۔
’’اور مجھے اپنے مضبوط بیک گرائونڈ پر فخر ضرور ہے لیکن میں اسے ڈھال کے طور پر یوز نہیں کرتی‘ ہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں استعمال ضرور کرتی ہوں۔‘‘ تبھی اسد وہاں چلا آیا تھا وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ گئی تھیں۔
’’ہوگئی شاپنگ۔‘‘ اس نے پوچھا تو فرح نے سر ہلادیا۔
’’کیا ہوا، موڈ کیوں آف ہے۔‘‘ شہرینہ کے چہرے پر اکتاہٹ تھی جبکہ فریحہ خاموش، فرح نے مسکرانے کی کوشش کی۔
’’کچھ نہیں ہوا؟‘‘
’’چھوٹے سٹی کے اپنے مسائل ہیں عجیب سے لوگ ہیں یہاں کے اسلام آباد میں یہ سب نہیں ہوتا وہاں ایلیٹ کلاس کا اپنا ایک لائف اسٹائل ہے کوئی کسی پر تنقید نہیں کرتا اور یہاں کوئی اچھا سا لباس پہن کر باہر نکل آئے تو لوگوں کی آنکھیں ایکسرے مشین بن جاتی ہیں۔‘‘ شہرینہ گزشتہ تجربے سے سخت اکتائی ہوئی تھی اس نے کہا تو فرح کا جی چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے، وہ سعد کو اس معاملے کی بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی لیکن شہرینہ کے تیوروں سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ بتا کر ہی دم لینے والی تھی۔
’’واٹ ہیپنڈ؟‘‘ اسد نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’کچھ نہیں ہوا۔‘‘ فرح نے ٹالنا چاہا۔
’’کیوں نہیں ہوا کچھ‘ شہری کی وجہ سے اتنا بڑا ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا اگر لوگ انوالو نہ ہوتے وہ لڑکا تو شہرینہ پر یقینا ہاتھ اٹھا چکا ہوتا۔‘‘ فریحہ نے کہا تو فرح نے سر تھام لیا۔
’’گو ٹو ہیل۔ مجھے بھی ایسے لوگوں کی طبیعت صاف کرنا آتی ہے۔‘‘ وہ جواباً بھنا کر بولی۔
’’وہ بھی کسی عام گھرانے سے نہ تھا تم تو طبیعت صاف کردیتی لیکن اس کے بعد جو ہونا تھا اس کے نتائج بھی کچھ اچھے نہ ہوتے۔‘‘ فریحہ نے ناگواری سے کہا۔ اس نے حیرانی سے دیکھا۔
’’ہوا کیا ہے؟‘‘ اس نے شہرینہ اور پھر فریحہ کو دیکھا۔
’’ایک لڑکا کب سے فالو کررہا تھا ہمیں‘ شہرینہ نے اسے روک کر ایک تھپڑ لگا دیا۔‘‘ بات ہی ایسی تھی کہ اسد سن کر حیرت زدہ رہ گیا۔ فریحہ نے ایک تھپڑ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔
’’مائی گاڈ…‘‘ تم نے مجھے کیوں نہیں کال کی۔‘‘ اسد نے فرح کو گھورا۔
’’میں گھبرا گئی تھی۔‘‘
’’اس لڑکے کی ہمت کیسے ہوئی۔‘‘ اس نے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا۔ ’’جواباً کوئی بدتمیزی تو نہیں کی…!‘‘ اسد نے براہ راست شہرینہ سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ اس نے ناگواری سے کہا۔
’’وہ غصے سے شہری کی طرف آیا اور اس نے ہاتھ بھی اٹھایا تھا لیکن لوگوں نے درمیان میں روک لیا تھا وہ گندی زبان استعمال کرتا دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔‘‘
’’اوہ، کہاں ہے وہ لڑکا؟‘‘ اس کا ضبط ایک دم جواب دینے لگا تھا۔
’’لوگ اسے کھینچ کر لے گئے تھے اور ہم ادھر آگئے تھے۔‘‘ فرح نے جواب دیا۔
اسد نے شہرینہ کو دیکھا جو سنجیدہ تاثرات لیے ان سے لاتعلق باہر دیکھ رہی تھی شہرینہ کو کچھ بھی سمجھانا فضول تھا۔ لیکن اسد کو یہ ساری صورت حال جان کر از حد غصہ آرہا تھا۔ اسے افسوس ہورہا تھا کہ وہ ان تینوں کو تنہا چھوڑ کر ہی کیوں گیا… اسے رہ رہ کر اس لڑکے پر بھی طیش آرہا تھا وہ یقینا اس وقت وہاں موجود ہوتا تو حقیقتاً اس لڑکے کا حشر نشر کرچکا ہوتا لیکن اب وہ سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
ظ …ژ…ظ… ژ
فریحہ میڈم کو فرح نے سختی سے منع کردیا تھا کہ گھر جاکر کسی سے بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ فریحہ ہی کیا جو باز آجاتی اسے تو قدرت کی طرف سے ایک موقع ملا تھا گھر آتے ہی وہ ماں کے پاس آئی تھی۔
رخشندہ نے ساری بات سنی تھی کچھ دیر غور کیا اور پھر بیٹی کو مسکرا کر دیکھا۔
’’اچھا ہوا تم ساتھ چلی گئی تھی میری مانو تو سارا وقت فرح اور شہرینہ کے ساتھ لگی رہو کچھ نہ کچھ تو جاننے کو ملے گا ہی نا۔‘‘
’’لیکن آپ تو کہہ رہی تھیں کہ میں سارا وقت افگن کے ساتھ رہوں ایک منٹ بھی کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دوں۔‘‘ رخشندہ نے اپنا ماتھا پیٹا۔
’’او میری کم عقل اولاد ہر بات سمجھانی پڑتی ہے افگن ابھی اِدھر موجود نہیں ہے جب تک وہ اِدھر نہیں تو شہری کے ساتھ رہو بس۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ فریحہ نے پُرسوچ انداز میں سر ہلایا۔
ماں سے تازہ احکامات و ہدایات لے کر وہ پھر فرح کے کمرے میں آگئی تھی، فرح تو موجود نہ تھی لیکن شہرینہ موبائل کے ساتھ نیم دراز تھی۔
فریحہ بھی اس کے پاس لیٹ گئی اور اس کے لیٹنے پر بھی شہرینہ اسی طرح لیٹی رہی تھی اس کی توجہ ابھی بھی موبائل کی طرف تھی۔
’’آج کیا پروگرام ہے؟‘‘ فریحہ نے موبائل کی اسکرین کو بغور دیکھتے پوچھا۔ وہ فیس بک پر گروپ چیٹنگ میں مصروف تھی۔
اس گروپ میں اس کے یونیورسٹی کے مختلف فیلوز ایڈ تھے جن کے ساتھ اس کی ڈسکشن ہورہی تھی۔ فریحہ کے سوال پر اس نے سرسری سا اسے دیکھا۔
’’آئی ڈونٹ نو۔ فرح کو ہی علم ہوگا۔‘‘
’’وہ شاید آج زوبیہ کی طرف جانے کا کہہ رہی تھی۔‘‘ فریحہ نے کہا۔
’’مے بی۔‘‘ اس نے مختصراً جواب دیا۔
فریحہ کو اس کی مصروفیت زہر لگنے لگی تھی اس نے مشکوک نظروں سے اس کے موبائل کو دیکھا۔
’’کیا کررہی ہو؟‘‘
’’فرینڈز سے بات کررہی ہوں۔‘‘
’’یہ زین شاہ کون ہے؟‘‘ فریحہ نے ان باکس میں دکھائی دینے والے نام کو دیکھ کر پوچھا یہ شکل اسے جانی پہچانی لگ رہی تھی لیکن ذہن میں نہیں آرہا تھا۔
’’کلاس فیلو ہے ہمارا۔‘‘ فریحہ اس کے ذہن میں ایک دم کلک ہوا تھا۔
’’ہاں یار یہ تو وہی ہے جو تم لوگوں کا سی آر ہے۔‘‘ فریحہ نے اس کی نظر آتی ڈی پی کو بغور دیکھتے کہا شہرینہ نے توجہ نہ دی۔
’’ہوں۔‘‘
’’تم لوگوں کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف کافی دفعہ دیکھا ہے اسے کافی جینس لڑکا ہے یہ۔‘‘ شہرینہ اس سے حالیہ ہونے والے پرچوں سے متعلق بات کررہی تھی گروپ چیٹ میں زین کے علاوہ ایک اور لڑکی بھی اس وقت آن لائن تھی حوریہ عباس وہ بھی بات کررہی تھی، زین شاہ کا سائیڈ پوز تھا اس لیے فریحہ فوراً پہچان نہ سکی تھی ورنہ وہ اسے اچھی طرح جانتی تھی۔
’’تمہاری اور زین شاہ کی کافی دوستی ہے نا؟‘‘ فریحہ کے انداز میں کچھ تھا۔ شہرینہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا فریحہ مسکرائی۔
’’وہ میرا کلاس فیلو اور بہت اچھا ساتھی ہے۔‘‘
’’میری دوست ساریہ کا کزن ہے۔ ساریہ تو بہت زیادہ ذکر کرتی رہتی ہے اس کا۔‘‘
’’ساریہ، وہی جو تمہارے ساتھ انگلش ڈیپارٹمنٹ میں ہے وہ تمہاری دوست ہے۔‘‘ شہرینہ نے چونک کر فریحہ کو دیکھا۔
’’ہاں بہت اچھی دوست ہے میری۔ اصل میں ساریہ زین کو بہت زیادہ پسند کرتی ہے، بہت امپریس ہے زین کی پرسنالٹی اور اس کی ذہانت سے…‘‘ شہرینہ چونکی۔
’’زین بھی ایک ہائی فائی فیملی سے بی لانگ کرتا تھا ذہانت اور وجاہت اسے ورثے میں ملی تھی۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ہر دل عزیز شخصیت تھا ہر ایکٹیویٹی میں آگے اس کا اکیڈمک ریکارڈ بہت شاندار تھا وہ اپنے امیر کبیر والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔
ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ بھی بہت سی لڑکیاں ایسی تھیں جو اسے دیکھ کر آہیں بھرا کرتی تھیں۔ شہرینہ سے اس کی اچھی خاصی سلام دعا اور دوستی تھی وہ اگرچہ دلی طور پر زین کی طرف انوالو نہیں ہوئی تھی لیکن وہ زین کی ذہانت، اس کے اخلاق و کردار سے متاثر ضرور تھی‘ زین سے متعلق ساریہ کی پسندیدگی سن کر وہ چونکی ضرور تھی جبکہ اس کا یہ چونک جانا فریحہ نے بطور خاص نوٹ کیا تھا۔
چیٹ میں شہرینہ کی دلچسپی ایک دم ختم ہوگئی تھی اس نے اکتا کر فوراً چیٹ باکس اور فیس بک بند کرکے موبائل ایک طرف رکھ دیا تھا۔
’’تم نے موبائل کیوں بند کردیا‘ بات کرو نا میں تو ویسے ہی بات کررہی تھی۔‘‘ فریحہ نے کہا تو شہرینہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
فریحہ انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ تھی یونیورسٹی میں بھی وہ اکثر شہرینہ کے پاس آتی جاتی رہتی تھی اس کی دوستیں فریحہ کی چپکو طبیعت کی وجہ سے اسے سخت ناپسند کرتی تھیں جبکہ شہرینہ اسے اکثر اگنور کردیا کرتی تھی لیکن اس وقت وہ پھر چپکو بنی سر پر مسلط ہوچکی تھی۔
’’فرح کہاں ہے؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہتے اس کے سوال کو قطعی نظر انداز کردیا تھا۔
’’پتا نہیں۔‘‘ فریحہ نے کندھے اچکائے۔
شہرینہ نے موبائل ایک طرف رکھا اور خود بستر سے اتر گئی تھی فریحہ فوراً سیدھی ہوئی۔
’’کہاں چلیں۔‘‘
’’فرح کو دیکھوں۔‘‘ وہ اپنے لیئر کٹ بالوں کو نفیس سے کیچر میں جکڑتے دوپٹا کندھے پر ڈالتے باہر کی طرف لپکی تھی۔ فریحہ نے اسے خاموشی سے جاتے دیکھا تھا۔
اس کے کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے شہرینہ کا موبائل اٹھا لیا تھا۔ اس نے موبائل کو آن کیا لیکن ناکامی ہوئی تھی شہرینہ کے موبائل پر حسب توقع پاسورڈ لگا ہوا تھا فریحہ نے دوبارہ موبائل بستر پر رکھ دیا اور کچھ سوچتے خود بھی کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔
ظ …ژ…ظ… ژ
وہ باہر آئی تو شایان اور اسد سر جوڑے لائونج میں کسی خفیہ میٹنگ میں مصروف نظر آئے اسد اسے دیکھ کر سیدھا ہوا جبکہ شایان نے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
’’یہ جو اسد بتارہا ہے یہ کیا واقعہ ہے۔‘‘ شہرینہ قریب آئی تو شایان نے فوراً پوچھا۔ جس پر شہرینہ کا مزاج بگڑا۔ یہ سب لوگ ایک چھوٹے سے واقعے کو اتنی اہمیت دے رہے تھے۔
’’کون سا واقعہ۔‘‘ اس کے تیکھے چتون تھے۔
’’وہ جو شاپنگ کے دوران ہوا…‘‘
’’کیوں اسد نے تفصیل نہیں بتائی؟‘‘ اس نے دونوں کو گھور کے دیکھا۔
’’ہاں دی ہے لیکن شہری یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے تمہیں محتاط رہنا چاہیے تھا تمہارے ہاتھ اٹھانے پر اگر جواباً وہ لڑکا بھی ہاتھ اٹھا لیتا تو۔‘‘ شایان نے اس کے بگڑے تیوروں سے الجھ کر کچھ خفگی سے کہا۔
’’تو میں بھی ایسے لوگوں کو اچھے سے ڈیل کرنا جانتی ہوں۔‘‘ وہ مزید خفا ہوئی۔
بات ابھی بڑوں تک نہیں پہنچی تھی اگر پہنچ جاتی تو یقینا اس سے زیادہ باز پرس کا سامنا کرنا پڑتا جبکہ شہرینہ ان باتوں سے انجان صرف اپنی من مانی کرنے کی عادی تھی۔
’’یہ تمہارا ہائی ایلیٹ کلاس والا اسلام آباد نہیں ہے جہاں جو بھی کرتی پھرو کوئی پوچھنے والا نہ ہو یہاں بہت کچھ دیکھ کر اور پھر سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے۔‘‘
’’مائی فٹ، یار کیا پرابلم ہے تم لوگوں کے ساتھ‘ تم سب لوگوں نے مجھے یہ سب جتا جتا کر مس فٹ بنادیا ہے ایک چھوٹا سا قصہ ہے تم لوگوں نے اس کو ہوا بنا لیا ہے آئی ڈونٹ کیئر۔‘‘ وہ حد سے زیادہ بدظن ہوئی تھی شایان کی باز پرس پر فوراً تپ کر کہہ گئی تھی شایان نے غصے سے دیکھا۔
’’تم سے تو کچھ کہنا ہی فضول ہے جو جی میں آئے کرو میری بلا سے لیکن ایک بات ذہن نشین کرلو اگر کوئی سنگین مسئلہ ہوا تو پھر تم خود ہی بھگتنا ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔‘‘ وہ بھی غصے سے کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔
اسد نے خفگی سے شہرینہ کو دیکھا… شہرینہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے تن فن کرتی لان کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ اسد نے سنجیدگی سے اپنا سر تھاما تھا۔ شہرینہ جیسی لڑکی کو کچھ بھی سمجھا لینا آبیل مجھے مار والی صورت حال تھی۔ اس نے ناامیدی سے نفی میں گردن ہلائی جیسے وہ کوئی لاعلاج مریض ہو۔
ظ …ژ…ظ… ژ
آج شام پھوپو کی طرف جانا تھا ادھر مایوں کی رسم تھی وہ سب تیار ہورہی تھیں جب اماں بی اور بابا صاحب کے آنے کا شور بلند ہوا۔ اماں بی اور بابا صاحب سے تو شہرینہ کو بھی خاص انسیت تھی۔ ماما نے مایوں کی رسم کے لیے اس کے لیے بطور خاص شرارہ اور شرٹ والا سوٹ ڈیزائن کرایا تھا‘ سوٹ کے اوپر ایمبرائڈی کا بڑا ہلکا پھلکا نفیس سا کام تھا گلے پر بین پٹی کی صورت کام تھا جبکہ قمیص کے دامن پر فرنٹ کی دونوں سائیڈ پر ہلکا پھلکا کام تھا۔ دوپٹا سادہ تھا البتہ دوپٹے کے کناروں پر میچنگ لیس مزین تھی ساتھ میچنگ کھسہ اور جیولری تھی۔
ماما فنکشنز کے حوالے سے اس کی ڈریسنگ کا بطور خاص خیال رکھتی تھی انہیں علم تھا کہ اگر شہرینہ بی بی کی ذاتی پسند کو ملحوظ خاطر رکھیں گی تو شہرینہ بی بی نے سوائے شلوار قمیص، جینز یا ٹائٹ کے کسی اور ڈھنگ کے لباس کا انتخاب نہیں کرنا تھا۔ سو ایسے مواقع پر وہ خصوصاً شہرینہ کی رائے لیے بغیر اپنی مرضی سے اس کے لیے ڈریسنگ کا انتخاب کرتی تھیں اور شہرینہ ہمیشہ ان کی منتخب کردہ ڈریسنگ بلا چوں چرا کیے زیب تن کرتی تھی۔ اس وقت بھی وہ مشرقی انداز میں ملبوس کافی اچھی لگ رہی تھی۔
بڑی ماما نے فنکشن کے لیے بطور خاص دو تین بیوٹیشنز کو گھر پر بلوا رکھا تھا اماں بی اور بابا صاحب کی آمد کا سن کر شہرینہ ابھی واش روم سے لباس بدل کر نکلی تھی جب اطلاع ملی تھی وہ فوراً ہینگر سے دوپٹہ کھینچ کر کندھے پر ڈالتی جیسے تیسے کھسے میں پائوں اڑس کر باہر بھاگی تھی۔ اماں بی ہال میں ہی بیٹھی تھیں وہ تیزی سے بھاگتی ان تک پہنچی تھی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ وہ بھی اسے دیکھ کر فوراً بے قرار ہوکر اپنی جگہ سے اٹھیں اور محبت سے ساتھ لگایا۔
’’جیتی رہو۔‘‘ پیشانی چوم کر بغور اسے دیکھتے انہوں نے دعا دی۔ رخشندہ خالہ پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ اماں بی جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی تھیں سب سے پہلے وہی ملنے والی تھیں اور پھر ان کے ساتھ ہی جڑ کر بیٹھ گئی تھیں۔
محبت لگاوٹ کے خاص مظاہرے ہورہے تھے ایسے میں شہرینہ کی آواز نے اماں بی کی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔
رخشندہ نے بہت سنجیدگی سے میک اپ سے مبرا جگمگ جگمگ کرتا شہرینہ کا چہرہ دیکھا وہ تو ہزار والٹ کے بلب سے بھی زیادہ روشن تھی۔ رخشندہ کے چہرے پر ناگواری پھیلی تھی۔
بلاشبہ شہرینہ از حد خوب صورت لڑکی تھی اور انہیں اس کی یہ خوب صورتی تکلیف دیتی تھی ان کی تینوں بیٹیوں سے کئی گناہ زیادہ اٹریکٹیو خوب صورت اور چھا جانے والی شخصیت کی مالک تھی۔ شہرینہ اپنی ماں کی طرح خوب صورت تھی فائقہ خاندان کی خوب صورت ترین لڑکی تھی، فائقہ کی خوب صورتی، نفاست پسند طبیعت اور خوش قسمتی کے چہار عالم ڈنکے بجتے تھے‘ ایسے میں فائقہ سے جیلسی فیل ہونا ایک فطری امر تھا۔ فائقہ سے ان کی ہمیشہ سے مقابلے بازی چلتی رہی تھی۔ فائقہ سے حسد کی کیفیت رفتہ رفتہ نفرت میں بدلتی چلی گئی تھی اور یہ نفرت فائقہ کے بعد اب اس کی بیٹی شہرینہ کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔
فائقہ تو ان کو زندگی کے ہر میدان میں ہراتی آرہی تھی لیکن اب زندگی کے میدان میں وہ اپنی بیٹیوں کے مقابل شہرینہ کو جیتتے نہیں دیکھ سکتی تھیں اس لیے شہرینہ کے خلاف انہوں نے نہایت خاموشی سے ایک محاذ بنا لیا تھا۔ وہ ہر آئے گئے کے سامنے کچھ اس انداز میں فائقہ کی آزاد خیالی کو لے کر شہرینہ کی ذات کو ہدف بناتی تھیں کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ رخشندہ کوئی پروپیگنڈہ کررہی ہے۔ بلکہ آہستہ آہستہ بہت سے لوگ رخشندہ کے سوچے سمجھے تیار کیے ہوئے پروپیگنڈے کے تحت رفتہ رفتہ فائقہ اور شہرینہ کی آزاد خیالی کو لے کر کافی کانشس بھی ہوگئے تھے اور شہرینہ رفتہ رفتہ اس پروپیگنڈے کا شکار ہوتی جارہی تھی۔ ہر کوئی شہرینہ کو سمجھانے بجھانے میں لگا رہتا تھا جس کے سبب وہ اور زیادہ منہ زور ہوتی جارہی تھی۔ اماں بی نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا تھا۔ وہ اس سے ماما، پاپا اور بھائیوں کا حال احوال دریافت کرنے لگی تھیں وہ تہذیب و شائستگی اور تفصیل سے جواب دے رہی تھی۔
’’بابا صاحب کہاں ہیں؟‘‘ شہرینہ نے کچھ توقف کے بعد دریافت کیا۔
’’وہ مردوں کے پاس ہی بیٹھ گئے تھے۔‘‘
’’شہری آجائو تیار ہوجائو پارلر والی بلا رہی ہے۔‘‘ فرح اسے ڈھونڈتی اس طرف آئی تھی جو اماں بی کے ساتھ بے تکلفی سے گائوں والوں کی تفصیل سن کر ہنس رہی تھی۔
اسے گائوں ہمیشہ سے ہی اٹریکٹ کرتا تھا وہاں کے لوگ‘ ان کا رہن سہن‘ انداز زندگی گائوں کی فضا، فصلیں، کھیت، درخت، ٹیوب ویل اور جانور۔
اپنی اسٹڈی کی وجہ سے بہت زیادہ گائوں جا کر رہنے کا موقع نہیں ملتا تھا لیکن جب بھی موقع ملتا تھا وہ گائوں جا کر رہنے کو اہمیت دیتی تھی۔ وہ فرح کے بار بار بلانے پر اٹھ کر تیاری ہونے چل دی تھی جبکہ رخشندہ نے اسے ناگواری سے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’قسم سے خالہ بی آپ کی یہ پوتی بڑی پٹاخہ قسم کی چیز ہے۔‘‘ ان کے لہجے کی ناگواری اماں بی نے بغور خاص نوٹ کی تھی۔ ارد گرد اور خواتین بھی تھیں۔
’’اللہ سلامت رکھے، ہنس مکھ بچی ہے تھوڑی شوخ سی ہے لیکن بدلحاظ نہیں۔‘‘ اماں بی کے لہجے میں پوتی کے لیے از حد محبت اور مان تھا۔ رخشندہ کا دل جل کر راکھ ہوا۔
’’خالہ بی برا مت منائیے گا ہر وقت ایک دھماکہ کیے رکھتی ہے۔ آج بھی دوپہر میں یہ فرح، فریحہ اور اسد کے ساتھ مارکیٹ تک گئی تھی یوں سمجھیں وہاں خون خرابہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔‘‘ انہوں نے بات کو بڑھا چڑھا کر اماں بی کا دل ایک دم ہولا دیا تھا۔
’’کیسا خون خرابہ۔‘‘
’’میں تو یہی کہوں گی فائقہ نے اولاد کی تربیت کرنے میں بڑی خود غرضی دکھائی ہے جیسی خود آزاد خیال تھی ویسی ہی اولاد بھی ہے نہ کسی کا ڈر نہ خوف یونیورسٹی کے قصے کہانیاں تو مشہور تھے ہی اس کے‘ اس کے علاوہ بھی کہیں آجائے تو نئے نئے کارنامے سر انجام دیتی رہتی ہے۔‘‘ اماں بی کے چہرے پر پریشانی کی کیفیت گہری ہوتی گئی۔
بڑی ماما کو تو سو کام تھے اماں بی سے مل کر وہ ادھر مصروف ہوگئی تھیں اماں بی مہمانوں میں آبیٹھی تھیں رخشندہ بھی ساتھ تھی فرح چائے دے کر چلی گئی تھی اس وقت مہمان خواتین کے سامنے اماں بی کا دل ہولانے کا رخشندہ کو اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں مل سکتا تھا انہوں نے فوراً فائدہ اٹھایا۔
’’اللہ خیر کرے کیا کیا ہے بچی نے۔‘‘ جواباً رخشندہ نے آج مارکیٹ میں ہونے والی تمام صورت حال خود سے بڑھا چڑھا کر کچھ اس انداز میں بیان کی تھی کہ وہاں موجود خواتین بھی شہرینہ کی آزاد خیالی پر اپنی اپنی رائے دینے لگی تھیں۔
’’ہماری بھی بچیاں ہیں خالہ بی ایسی بے خوف نہیں ہوئیں کہ لڑکوں کو پیچھے لگوا کر پھر ان سے الجھنے تک جائیں اسد ہمراہ تھا جوان خون ہے بھائی کہاں برداشت کرتے ہیں ایسی صورت حال‘ اللہ معاف کرے میری فری تو خوف سے نیلی پیلی پڑ گئی تھی گھر آکر بھی کانپتی رہی تھی اسد تو مرنے مارنے پر اترا ہوا تھا بڑی مشکل سے لوگ اس لڑکے کو لے کر نکل گئے تھے ورنہ اسد تو مار دیتا اس لڑکے کو سچ تو یہ ہے کہ یہ سارا خرابہ شہرینہ کی وجہ سے ہورہا ہے۔‘‘ اماں بی تو حیرت سے سب سن رہی تھیں۔
اور رخشندہ وہ شہرینہ کی حرکتوں اور کارناموں کی ایک طویل فہرست کھول کر بیٹھ گئی تھی اور وہاں موجود خواتین بڑی دلچسپی سے رخشندہ کی زبانی وقتاً فوقتاً کئی اور مواقع پر سر انجام دیے شہرینہ بی بی کے کارنامے سن سن کر توبہ توبہ کرنے لگ گئی تھیں۔
ظ …ژ…ظ… ژ
فائقہ کا فون آیا تھا وہ عثمان اور ٹیپو تینوں شادی والے دن ہی پہنچ سکتے تھے عثمان پاکستان آگئے تھے لیکن حکومتی سطح پر ضروری امور تھے جس کی وجہ سے وہ فوری نہیں آسکتے تھے ان کی وجہ سے فائقہ کو بھی وہاں رکنا پڑ رہا تھا۔ انہوں نے شہرینہ کو خاصے محتاط انداز میں رہنے کی خاص تاکید کی تھی ساری بے پروائیاں چھوڑ کر سلجھی ہوئی لڑکیوں کی طرح بی ہیو کرنے کی بار بار تلقین کرتی رہی تھیں شہرینہ ان کی باتوں پر بس سر ہلاتی رہی۔ وہ سب جانے کے لیے تیار تھیں۔
اشفاق صاحب نے سب کو گاڑیوں میں بیٹھنے کو کہا تھا بڑے سبھی گاڑیوں میں جاچکے تھے اب بس نوجوان پارٹی ہی رہ گئی تھی جیسے تیسے کرکے اشفاق صاحب کی جھاڑ پر سب گاڑیوں میں جا گھسے تھے اب گھر میں فائزہ بیگم کے علاوہ چند ایک ملازم اور اشفاق صاحب تھے فائزہ تو کافی مصروف تھیں اسد نے ان کو لینے آنا تھا۔ وہ سب کمروں کو دیکھتی افگن کے کمرے کی طرف بڑھی تھیں اور افگن کو وہاں موجود پاکر حیران ہوئی تھیں۔
’’تم ابھی گئے نہیں؟‘‘ انہوں نے اسے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر سفید لباس پہنے بال بناتے دیکھ کر پوچھا۔
’’بابا صاحب کے کام سے نکل گیا تھا۔ ابھی لوٹا ہوں سب چلے گئے۔‘‘
’’ہوں۔ آپ ابھی تک ادھر ہی ہیں۔‘‘ وہ بستر پر بیٹھ کر لیدر کا اسٹائلش سا جوتا پہنے لگا۔
’’ہاں تمہارے ابو بھی ابھی ادھر ہی ہیں اسد لڑکیوں کو چھوڑنے گیا تھا واپسی پر ہمیں لینے آنا ہے۔‘‘ جوتے پہن کر وہ پھر آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔
’’اسد کو فون کردیتا ہوں آپ دونوں میرے ساتھ چلیں۔‘‘ خود پر پرفیوم اسپرے کرکے اپنا موبائل اور والٹ جیب میں رکھ کر وہ کمرے سے ماں کو لے کر نکل آیا تھا۔ اسد کو فون کردیا تھا۔
گھر سارا دیکھ کر ملازمین کو ہدایت دیتے فائزہ اور اشفاق افگن کے ساتھ گاڑی میں آبیٹھے تھے۔ اشفاق صاحب نے بیٹے کو دیکھا۔ صحت مند تروتازہ خوب صورت خدوخال سے مزین چہرہ لیے وہ مکمل توجہ سے گاڑی ڈرائیو کررہا تھا‘ فائزہ کوئی نہ کوئی بات پوچھ لیتی تو وہ گاہے بگاہے اس کا جواب دے دیتا تھا۔ انہیں آج صبح کا واقعہ یاد آگیا تھا۔ شہرینہ افگن کی وجہ سے واپس جارہی تھی۔ افگن نے شہرینہ کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اپنایا تھا وہ ابھی بھی الجھے ہوئے تھے، وہ افگن کی طرف سے اسے روکنے کی کبھی امید نہیں کرسکتے تھے۔
’’صبح تم نے شہرینہ کو کیوں ڈانٹا؟‘‘ انہوں نے پوچھا اس پر افگن نے باپ کو دیکھا۔
’’کل جب میں اسے لینے پولیس اسٹیشن گیا تھا وہاں سے جو کچھ سننے کو ملا اس کے بعد شہرینہ کا میرے ساتھ جو رویہ تھا اس کے بعد اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر آپ امید کرتے ہیں کہ میرا اس کے ساتھ رویہ بہت اچھا ہوتا۔‘‘
’’لیکن گھر آئے مہمان کی تذلیل کرنا بھی ہمارا شیوہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے ازحد سنجیدگی سے کہا۔ فائزہ نے سنجیدگی سے باپ بیٹے کو دیکھا۔
’’شکر کریں کہ میں نے محض زبانی کلامی یہ سب کہا تھا جس طرح اس کی حرکتیں ہیں اس کی جگہ فرح ہوتی تو میں اب تک شوٹ کرچکا ہوتا۔‘‘ اس کا انداز قطعی تھا فائزہ نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا… اتنا غصہ اشفاق صاحب نے حیرت سے بیٹے کے اس قدر انتہائی سرد انداز کو ملاحظہ کیا۔
’’شہرینہ بے پروا، تند مزاج ضرور ہے لیکن بگڑی ہوئی بچی نہیں ہے عثمان کی تربیت اماں بی اور بابا صاحب کے ہاتھوں ہوئی ہے اور عثمان کی اولاد میں بھی اس کی ذات کا کچھ نہ کچھ عکس تو ہوگا‘ عثمان اولاد کی تربیت پر کمپرومائز کرنے والا انسان نہیں… تم اپنے رویے پر غور کرو وہ غلط نہیں ہے۔ تیز مزاج ضرور ہے۔‘‘ اشفاق صاحب کا انداز ناصحانہ تھا۔ افگن طنزیہ مسکرایا۔
’’تند مزاج؟‘‘ اس کے انداز پر اشفاق صاحب اور فائزہ نے ایک اور دوسرے کو دیکھا تھا افگن کا جی چاہا کہ وہ سب کہہ دے جو رخشندہ خالہ نے اماں بی سے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا لیکن وہ لب بھینچ گیا کیونکہ شہرینہ اس کا مسئلہ نہیں تھی سو وہ اسے درد سر بھی نہیں بنانا چاہتا تھا۔
’’بہرحال جو بھی بات ہے جب تک شہرینہ ہمارے گھر مہمان کی حیثیت سے موجود ہے تم اس سے کچھ بھی نہیں کہو گے وہ نازوں میں پلی بچی ہے تمہارے تند رویے اسے ہرٹ کرتے ہیں آئندہ محتاط رہنا۔‘‘ آخر میں اشفاق صاحب کا مزاج قطعی ہوگیا تھا۔ افگن نے کچھ کہنا چاہا لیکن پھر کچھ سوچ کر لب دانتوں تلے دبا لیے فائزہ نے اس کی حرکت نوٹ کی تھی۔ انہوں نے پریشان نگاہوں سے شوہر کے سنجیدہ اور پھر دزدیدہ نگاہوں سے افگن کے بگڑے تیوروں والے چہرے کو باری باری دیکھا ان کے دل میں کئی سوالوں نے سر اٹھایا تھا۔ کئی جذبات ابھرے تھے لیکن شوہر کی سنجیدگی اور بیٹے کی قطعیت کے سامنے چہرے پر پریشانی لیے ہاتھوں کو مسلنے لگ گئی تھیں۔
ظ …ژ…ظ… ژ
زوبیہ کے ہاں ان کا بڑے پُرجوش انداز میں خیر مقدم کیا گیا تھا لان کے بڑے سے حصے کو دو حصوں میں بانٹ کر مردانہ اور زنانہ نشست کا اہتمام کیا گیا تھا اگرچہ مردانہ اور زنانہ الگ الگ تھے لیکن دونوں طرف کے مہمان انتہائی قریبی لوگوں پر مشتمل تھے سو ینگ پارٹی آرام و سکون سے ادھر سے ادھر گھومتی پھر رہی تھی۔ بڑی پھوپو کی سسرال خاصی وسیع تھی پھوپا صاحب کے چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں پھر ان کے بچے۔ ان لوگوں کی طرف خوب رونق تھی۔ زوبیہ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی گھر بھر کی لاڈلی سو ہزاروں ارمان پورے کیے جا رہے تھے۔ مایوں کی رسم رات دس بجے کے بعد جاکر شروع ہوئی تھی، اس سے پہلے سب لوگ کھانے پینے اور دیگر تمام لوازمات سے فارغ ہوچکے تھے۔
زنانہ حصے کی طرف چاندنیاں بچھا کر گائوں تکیے لگا کر بڑے خوب صورت، صوفے رکھ کر بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
رسم کا آغاز خاندان کے بڑوں نے کیا تھا متفقہ طور پر ہی طے پایا تھا کہ بڑے رسم کرکے ایک طرف آرام و سکون سے بیٹھ جائیں گے اور اس کے بعد پنگ پارٹی تہذیب و تمدن کے دائرے میں رہتے ہوئے ہلہ گلہ کرے گی۔ بابا صاحب کو اعتراض ہوا تھا لیکن بڑی پھوپو کی طرف کا انتہائی سلجھا ہوا انداز فکر اور رہن سہن کے سبب اشفاق صاحب نے کوئی اعتراض نہ کیا تھا۔ سو بابا صاحب کو بھی راضی ہونا پڑا تھا جبکہ افگن کو ہلے گلے کی فرمائش کچھ خاص نہ بھائی تھی لیکن باپ کے سامنے خاموش رہا تھا۔
بزرگ رسم کرکے ایک طرف جا کر بیٹھ گئے تھے اشفاق صاحب کی طرف سے آنے والے مہمانوں میں سے جو تھک چکے تھے اور جلد لوٹنا چاہتے تھے ان کا گھر جانے کا انتظام کردیا گیا تھا۔ کافی مہمان بارہ بجے کے بعد واپس چلے گئے اب بس قریبی احباب اور بزرگ موجود تھے یا گھر کے لوگ تھے فائزہ مہمانوں کی وجہ سے گھر جاچکی تھیں، زوبیہ کی تمام کزنز اجازت نامے ملنے کے بعد ایک دم متحرک ہوگئی تھیں، انہوں نے ڈھولک رکھ لی تھی۔
پہلے دونوں طرف شادی کے گیتوں کا مقابلہ ہوا اور خوب رونق لگی تھی لڑکے بھی بیٹھ کر شرافت سے انجوائے کرتے رہے تھے رات کافی گہری ہورہی تھی اشفاق صاحب واپسی کے لیے کہہ رہے تھے زوبیہ کے اصرار پر شہرینہ اور فرح کے علاوہ چند اور کزنز لڑکیوں کو رات رکنے کا کہا تھا۔
چھوٹی پھوپو اور بڑی پھوپو کے اصرار پر اشفاق صاحب مان گئے تھے جبکہ رخشندہ خالہ کی تینوں بیٹیاں بھی وہیں رک گئی تھیں۔ چند ایک ذاتی سواریوں کے مالک لڑکوں کے علاوہ باقی سب چلے گئے تھے وہ بھی اس لیے رکے تھے کہ اشفاق صاحب نے لڑکیوں کو واپس لانے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی تھی۔ اصل شغل تو اب لگا تھا عورتوں والی نشست گاہ میں اب صرف خواتین ہی تھیں زوبیہ کی تمام کزنز دوستوں اور تمام خواتین نے پھیری والے اسٹائل میں وہ دیہاتی رقص پیش کیا تھا کہ لڑکیوں کے ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ گئے تھے۔
شہرینہ کے لیے یہ سب بہت مزے کا تھا زوبیہ کے ساتھ جم کر بیٹھی وہ تالیاں پیٹ پیٹ کر ہتھیلیاں سرخ کررہی تھی۔ خواتین کی روایتی پھیری رقص کے بعد زوبیہ کی چچا کی بہنوں اور چھوٹی پھوپو کی بیٹیوں نے مل کر بڑے روایتی انداز میں سسرال گیندا پھول پر رقص شروع کیا تو محفل ایک عروج پر پہنچی تھی۔ ڈیک پر گیت سلیکٹ ہوا تو سبھی ایک دم ایکٹیو ہوئی تھی۔
سیاں چھیڑ دیوے نند چٹکی لیوے سسرال گیندا پھول
ساس گالی دیوے دیور سمجھا لیوے
سسرال گیندا پھول
شہرینہ بہت پُر جوش تھی۔ چاروں لڑکیاں گیت کے بولوں کے ساتھ اسٹیپ لے رہی تھیں خوب صورت زرق برق لباس میں جگمگ جگمگ کرتی یہ لڑکیاں بڑا خوش کن تاثر دے رہی تھیں۔ شہرینہ کے لیے گائوں میں شادی کوئی انوکھا تجربہ نہ تھی۔
گائوں آتے جاتے مختلف رشتہ داروں کے ہاں چند ایک بار اس نے بھی خالص گائوں کے ماحول والی شادیاں ضرور اٹینڈ کی تھیں لیکن پھوپو کے گھر میں شہر میں رہنے کے باوجود گائوں والی ثقافت اس وقت مکمل طور پر دکھائی دے رہی تھی‘ اس کی شاید وجہ یہ تھی کہ پھوپو کے سسرالیوں میں سے میجورٹی گائوں سے بی لانگ کرتی تھی۔ خواتین گیت کی لے پر تالیاں بجا رہی تھیں۔ بڑا خوب صورت سا منظر تھا۔
بشرٹ بہنے کھائی کے بیڑا پان
نورے رے پورے سے الگ ہے پیا جی کی شان
ساس گالی دیوے دیور جی سمجھا لیوے
سسرال گیندا پھول
گیت کا اختتام بڑے پُر جوش انداز میں داد سمیٹ کر ہوا تھا۔
’’جی او کے تم لوگ تو چھا گئی ہو۔‘‘ شہرینہ نے چھوٹی پھوپو کی بیٹیوں کو خوب داد دی۔
’’کچھ کم تو آپ بھی نہیں ہیں سنا ہے آفاق کی لاسٹ ایئر سالگرہ کے موقع پر اپنی دوستوں کے ساتھ مل کر آپ نے بہت خوب صورت ڈانس کیا تھا۔‘‘ چھوٹی پھوپو کی بیٹی نے کہا تو وہ ہنسی۔
بالکل شہری کو تو ضرور ڈانس کرنا چاہیے۔‘‘ دو تین اور لڑکیاں بھی سر ہوگئیں تھیں۔
’’ارے توبہ کرو مجھے کچھ نہیں آتا۔‘‘ شہرینہ نے لاکھ پہلو تہی کرنا چاہی تھی لیکن ان سب کے اصرار کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔
’’ماما کو علم ہوگیا تو وہ بہت خفا ہوں گی انہیں یہ سب کام قطعی پسند نہیں۔‘‘ شہرینہ نے ٹالنا چاہا تھا لیکن کوئی بھی سننے کو تیار ہی نہ تھی۔
’’چلو شہری نخرے مت کرو آج تمہیں کچھ نہ کچھ پر فارم تو کرنا ہی ہوگا۔‘‘ زوبیہ نے بھی اصرار کیا تو اسے ناچار اٹھنا ہی پڑا تھا۔
بہت گھریلو اور ذاتی قسم کی صرف دوستوں یا کزنز کی حد تک کی تقریب میں پرفارم کرلینا اور بات تھی لیکن اس طرح اتنی گیدرنگ میں یوں پرفارم کرنا شہرینہ کا دل نہیں مان رہا تھا وہ کھڑی تو ہوگئی تھی لیکن کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے۔
’’اچھا زیادہ نخرہ مت کرو ہم نے بھی تو ڈانس کیا ہے نا۔‘‘ زوبیہ کی ایک کزن نے کہا تو اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’اگر یہ نہیں کرنا چاہتی تو فورس مت کرو ہوسکتا ہے یہ ڈرتی ہو۔‘‘ فریحہ نے طنزیہ انداز میں کہا تو شہرینہ کو اس کا لہجہ قطعی نہ بھایا۔
’’تم گانا سلیکٹ کرو۔‘‘ اس نے ڈیک کے پاس بیٹھی لڑکی کو کہا تو سب ایک دم پُر جوش ہوگئی تھیں دو تین گانوں میں سے شہرینہ کو ایک گانا پسند آ ہی گیا تھا۔
میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آگیا
میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آگیا
گیت کے بول فضا میں گونجے تھے شہرینہ نے باقاعدہ اسٹیپ لیے تھے سبھی لڑکیوں کی ہوہا کا شور دور تک پھیلا تھا۔
برق سی گر گئی، کام سی کر گئی
آگ ایسی لگائی مزہ آگیا
فائزہ کی کال تھی ان کو اپنے کمرے کی الماری کی چابیاں نہیں مل رہی تھیں انہوں نے فرح کو کال کی تھی لیکن اس قدر شور میں فرح کو موبائل کا ہوش ہی نہ تھا انہوں نے افگن کو کال کی تھی افگن زوبیہ کے بھائیوں کے ساتھ ان کے کمرے میں تھا وہ ماں کو ہولڈ کرنے اور فرح سے بات کروانے کا کہہ کر کمرے سے نکلا تھا باہر خواتین کے لیے مخصوص کیے گئے حصے کی طرف ڈیک آن تھا گیت چل رہا تھا۔ لڑکیوں کی تالیوں کی آوازیں، پُر جوش چہکاریں گونج رہی تھیں، وہ اشفاق صاحب کے کہنے پر رک گیا تھا صبح لڑکیوں کو واپس لے جانے کی ذمہ داری اشفاق صاحب اس کے اور ایک دو اور لڑکوں کے سپرد کر گئے تھے، وہ خواتین والے حصے کی طرف آیا تھا۔ اس نے پردہ اٹھایا تو ٹھٹک گیا تھا۔ شہرینہ محو رقص تھی باقی سبھی لڑکیاں باقاعدہ تالیاں پیٹ رہی تھیں‘ گیت کے بولوں کی آواز باہر تک آرہی تھی۔ افگن چند پل تو سکت ہوا تھا۔ خوب صورت لباس، متناسب سراپا سر و قد اور اوپر سے قاتلانہ انداز وہ کیا کوئی بھی ہوتا شہرینہ جیسا قاتل حسن دیکھ کر مبہوت ہی ہوجاتا وہ بھی اپنی جگہ جامد ہوگیا تھا۔
لڑکیاں اپنی سرگرمیوں میں اس قدر مگن تھیں کہ کیسی نے بھی اس جانب دھیان نہ دیا تھا۔
بے حجابانہ وہ سامنے آگئے
اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
آنکھ ان کی لڑی یوں میری آنکھ سے
دیکھ کر یہ لڑائی مزہ آگیا
میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آگیا
شہرینہ اپنے دھیان میں مست تھی جب رخ پلٹنے پر اسٹیپ لیے تو اس کی نگاہ سامنے کی طرف اٹھی تھی۔
اٹھا ہوا پردہ اور وہاں کھڑا وجود وہ ساکت ہوئی تھی۔
’’کیا ہوا رک کیوں گئیں۔‘‘ کئی آوازیں بلند ہوئی تھیں۔
چونکا تو افگن بھی تھا۔ وہ پہلے سنبھلا تھا پھر اس کے چہرے پر ناگواریت کی کیفیت چھائی تھی جبکہ ڈیک پر ابھی بھی گیت چل رہا تھا۔
آنکھ میں بھی حیا ہر ملاقات پر
سرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر
اس نے شرما کے میرے سوالات پر
ایسے گردن جھکائی مزہ آگیا
میرے رشک قمر…
افگن کی آنکھوں کی چمک شعلوں میں بدلی تھی۔ ناگواریت نے شدید نفرت کی ردا اوڑھی تو شہرینہ ایک دم زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ لڑکیوں نے پلٹ کر دیکھا افگن واپس پلٹ گیا تھا۔
’’کون تھا؟‘‘
لڑکیاں سوال کررہی تھیں جبکہ وہ خاموش تھی۔ وہ لاکھ بے باک سہی لیکن وہ اس طرح بے حجابانہ گھر کے مردوں کے سامنے نہیں آئی تھی۔ افگن کی آنکھوں کی لپک اور پھر شعلوں کی حدت اسے وہ صاف محسوس کرسکتی تھی۔
’’افگن بھائی…!‘‘ فریحہ نے کہا تو شہرینہ نے دیکھا فریحہ مسکرائی تھی۔
’’ان کو شہرینہ کا ڈانس کرنا شاید پسند نہیں آیا بہت غصے سے واپس گئے ہیں۔‘‘ وہ ہنس کر کہہ رہی تھی۔
شہرینہ جیسے ہی رکی تھی فریحہ نے فوراً دیکھا تھا اور پھر افگن کو پا کر وہ طنزیہ مسکرائی تھی۔
’’وہ ادھر کیا لینے آئے تھے میں نے سب کو سختی سے منع کر رکھا تھا کہ اس جانب کوئی نہیں آئے گا۔‘‘ زوبیہ کی چچا زاد نے کہا۔
’’ہوسکتا ہے کوئی کام ہو۔‘‘ کسی اور نے کہا۔
’’اچھا چھوڑو، اب زینی بھنگڑا ڈالے گی پورا ہفتہ اسپیشل تیاری کی ہے اس نے چلو زینی شروع ہوجائو۔‘‘ زینی زوبیہ کی پھوپو زاد تھی وہ فوراً کھڑی ہوگئی۔ محفل ایک دم پھر رواں دواں تھی۔ شہرینہ جو کچھ پل پہلے شرمندہ سی بیٹھی تھی ہال میں سب کچھ بھول کر پھر پہلے جیسی بن گئی تھی۔ جوش سے تالیاں بجاتی و سلنگ‘ ہوہا کرتی پُر جوش شہری۔
ظ …ژ…ظ… ژ
زوبیہ کی طرف گزاری گئی رات بھر کی تھکن اگلے دن گھر پر سب بستر پر گریں تو دوپہر گئے تک سوتی رہی تھیں۔ فرح نے اسے بمشکل اٹھایا تھا۔ لنچ کے بعد وہ آج رات کے فنکشن کی تیاریوں میں لگ گئی تھیں۔ فرح نے پارلر جانا تھا چہرے کی کچھ ڈینٹنگ پینٹنگ کرانی تھی۔ اس نے اسے بھی ساتھ چلنے کو کہا تو ہ فوراً تیار ہوگئی۔
وہاں جا کر فرح نے کٹنگ کرائی اور اسکن پالش وغیرہ کا کام کرایا تھا شہرینہ نے فرح کے کہنے پر صرف مینی کیور اور پیڈی کیور کرایا تھا۔ کٹنگ اس نے کچھ دن پہلے اسلام آباد سے کرائی تھی۔ چہرہ اس کا ویسے بھی آل ٹائم بہت فریش اور چمکتا دمکتا رہتا تھا وہ دونوں شام کے وقت واپس لوٹیں تو افگن نے فوراً فرح کو بلوایا۔
’’کل تم، شہرینہ اور فریحہ اسد کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھیں؟‘‘ سامنا ہوتے ہی افگن نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’جی کیوں خیریت؟‘‘ وہ الجھی۔
’’وہاں کیا ہنگامہ ہوا تھا؟‘‘ افگن نے پوچھا تو وہ چونکی۔
’’ہنگامہ…‘‘ اسے کل شاپنگ کے دوران پیش آنے والا سارا واقعہ یاد آنے لگا یعنی افگن تک خبر پہنچ چکی تھی۔ اسد نے منع کیا تھا کہ گھر میں کسی کو بھی خبر نہ ہو۔ تو پھر افگن کو کیسے علم ہوگیا۔
’’کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تھا۔‘‘ فرح نے ٹالنا چاہا۔
’’میں سب جان چکا ہوں تم آرام و سکون سے تفصیل بتائو۔‘‘ افگن کا انداز دو ٹوک تھا۔ فرح نے گہرا سانس لیتے سب کہہ دیا افگن نے بہت غصے سے سنا۔
’’یہ لڑکی؟‘‘ اس نے غصے سے ہاتھ ٹیبل پر مارا۔
’’اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے مجھے یہ انتہائی بری لگتی ہے۔‘‘
’’بھائی اس میں شہرینہ کی کیا غلطی، غلطی اس لڑکے کی تھی شہرینہ نے تو اپنا ڈیفنس کیا تھا بس…!‘‘ فرح کو بھائی کا انداز ایک آنکھ نہ بھایا تھا اس نے شہرینہ کا دفاع کرنا چاہا لیکن افگن کے اندر تو ایک دم شدید طیش نے سر اٹھایا تھا۔
’’شٹ اپ۔‘‘
’’اب تم مجھے مت سمجھائو کہ کون غلط ہے اور کون درست‘ لڑکیوں کو ہر معاملے میں محتاط روی ہی اختیار کرنی چاہیے وہ لڑکا کوئی غلط حرکت کر بیٹھتا تو پھر کون ذمہ دار ہوتا اس نقصان کا شادی میں شرکت کی وجہ سے میں چپ ہوں ورنہ میں قطعی پسند نہیں کرتا کہ وہ تمہارے ساتھ گھلے ملے۔‘‘
’’لیکن بھائی وہ ہماری کزن…!‘‘ فرح نے احتجاج کرنا چاہا۔
’’جو کہا ہے وہ کرو اس سے ملنے میں ایک لمٹ میں رہو، میں نہیں چاہتا کہ وہ تمہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ دے‘ خود تو بگڑی ہوئی ہے ساتھ تمہیں بھی لے ڈوبے گی۔‘‘ افگن کا انداز اور لب و لہجہ سخت تھا فرح کی آنکھیں نم ہونے لگی تو وہ خاموشی سے وہاں سے چلی آئی تھی۔
پتا نہیں افگن کو کس نے بتایا تھا؟ افگن شہرینہ سے اس قدر بدظن کیوں تھا اور افگن کا ری ایکشن اسے رہ رہ کر دکھ ہورہا تھا۔ وہ خاموشی سے شہرینہ سے ذکر کیے بغیر اپنے کمرے میں آبیٹھی تھی۔
ظ …ژ…ظ… ژ
اماں بی فائزہ کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھیں آج دونوں گھروں میں مہندی کا کمبائن فنکشن تھا جس کا انتظام اشفاق صاحب نے بطور خاص ہوٹل میں کیا ہوا تھا۔ سبھی تیار ہورہے تھے جبکہ اماں سنجیدہ سی تھیں۔ کل سے لے کر اب تک رخشندہ بیگم سائے کی طرح ان کے ساتھ تھیں۔ رخشندہ کا ہارٹ فیورٹ موضوع صرف اور صرف اپنی بیٹیوں کی تعریفیں کرنا اور فائقہ اور اس کی بیٹی کی مسلسل برائیاں کرنا تھا۔ رخشندہ کی باتیں سن سن کر اماں بی کے کان پک گئے تھے۔
اس وقت بھی وہ تیار ہونے کے بہانے بڑی مشکل سے رخشندہ سے دامن بچا کر فائزہ کے پاس آئی تھیں۔ فائزہ نے انہیں مسلسل چپ سادھے دیکھا تو الجھی تھیں اور پھر ان کے پاس آبیٹھیں۔
’’اماں کیا بات ہے؟ چپ چپ سی ہیں۔‘‘
’’میں تو شادی میں شرکت کے لیے آئی تھی لیکن یہاں آکر یہاں کے حالات دیکھ کر میں تو پریشان ہوگئی ہوں۔‘‘ انہوں نے جواباً تلخی سے کہا تو فائزہ حیران ہوئیں۔
’’کیا ہوا اماں جی کوئی غلطی ہوگئی ہے ہم سے کیا؟ یا کسی نے کچھ کہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید پوچھا۔ اماں بی نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’رخشندہ کی باتیں سن سن کر الجھتی رہی ہوں۔‘‘ فائزہ الجھیں۔
’’رخشندہ کی… کیا ہوا؟‘‘ جواباً اماں بی نے کل سے لے کر اب تک کی ساری صورت حال کہہ سنائی، فائزہ حیران ہوئیں، خصوصاً شاپنگ والے واقعے پر۔
’’رخشندہ کی تو ویسے بھی عادت ہے لگائی بجھائی کی ادھر سے سن کر اپنے پاس سے دس لگا کر اگلے کو سنانا فائقہ سے تو ویسے بھی اسے اللہ واسطے کا بیر ہے۔‘‘ انہوں نے تلخی سے کہا۔
’’لیکن کل والا واقعہ بھی غلط نہیں ہے میں نے اسد کو بلوا کر پوچھا تھا اس نے بھی بتا دیا تھا مجھے۔ سمجھ نہیں آتی شہری کی وہ ایسے کیوں کرتی ہے؟ یہاں لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع مل جاتا ہے کل زوبیہ کی طرف لڑکیوں کے ساتھ مل کر کچھ اودھم مچا لیا ہوگا شہری نے بھی سنا ہے ناچ گانے میں حصہ لیا تھا اب وہاں سبھی لوگ تو خیر خواہ نہیں تھے سوا دھر کی ادھر لگانے والے ہیں رخشندہ کی تو زبان کو ہی سکون نہیں ادھر یہ لڑکیاں گھر واپس آئیں ادھر رخشندہ نئی تازی سرخی تیار کر کے میرے سامنے تھی میں تو سوچ سوچ کر ہول رہی ہوں کہ عثمان کو علم ہوگا تو کتنی تکلیف ہوگی۔‘‘ اماں بھی آزردہ تھی۔ فائزہ نے سنجیدگی سے سب سنا اور اندر ہی اندر یہ سب جان کر از حد تکلیف بھی ہوئی تھی۔
’’رخشندہ گھر آئی مہمان ہے بس یہی سوچ کر چپ ہوجاتی ہوں ورنہ شہرینہ کوئی غیر نہیں میرے عثمان کی بیٹی میری سگی پوتی ہے جیسی میرے لیے فرح ویسی ہی وہ۔‘‘ اماں بی نے مزید کہا۔
’’آپ کو خاموشی اختیار کرنا ہی نہیں چاہیے تھی رخشندہ کو صاف جواب دیا ہوتا تو وہ اتنی آگے بڑھتی ہی نہ مجھے تو سوچ سوچ کر ہول اٹھ رہے ہیں کہ بارات والے دن عثمان اور فائقہ نے بھی پہنچ جانا ہے اگر ان کو یہ سب پتا چل گیا تو کتنی تکلیف ہوگی۔ ویسے اماں بی رخشندہ یہ سب کس خوش فہمی میں کررہی ہیں ان کی اپنی اس سب میں کیا غرض ہے۔‘‘ فائزہ نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔
’’جہاں تک میرا ذہن جاتا ہے مجھے لگتا ہے کہ رخشندہ اپنی بڑی بیٹی فریحہ کا رشتہ افگن کے لیے دینا چاہتی ہے۔‘‘ فائزہ نے حیران ہوکر دیکھا۔
’’اس نے خود بات کی تھی آپ سے۔‘‘
’’نہیں پچھلے سال جب وہ گائوں گئی تھی اشاروں کنائیوں میں اس نے کہا تھا کہ وہ اور تم دونوں مل جائو تو کیا مضائقہ ہے میں نے خاموشی اختیار رکھی تھی اس کے بعد اگلی دفعہ ملی تو میں نے بھی باتوں باتوں میں کہہ دیا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ فائزہ بہن سے رشتہ داری کر لے ایک طرح سے میں نے اس کی امید ختم کرنا چاہی تھی لیکن وہ تو ایک نیا ہی محاذ کھول کر بیٹھ گئی ہے، جب بھی ملتی ہے فائقہ اور اس کی بچی کے وہ بخیے ادھیڑتی ہے کہ الاامان والحفیظ۔‘‘ اماں بی نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
’’اگر آپ کہتی ہیں تو میں خود رخشندہ سے بات کروں۔‘‘
’’نہیں میں خود ہی بات کروں گی بس یہ موقع کچھ مناسب نہیں اس کی زبان بے لگام ہے میں چاہتی ہوں یہ خوشیوں کی گھڑیاں ہیں آرام و سکون سے گزر جائیں پھر تسلی سے دماغ سیدھا کروں گی اس کا۔‘‘ فائزہ نے سر ہلایا۔
وہ اور بھی باتیں کررہی تھیں جب فرح آگئی تھی اشفاق صاحب انہیں بلا رہے تھے وہ اٹھ کر چلی گئی تھیں۔
ظ …ژ…ظ… ژ
مہندی کا فنکشن اگرچہ کمبائن تھا لیکن بہت ہی خوشگوار انداز میں اختتام پزیر ہوا تھا۔ دونوں طرف کے انتظامات بہت ہی اچھے تھے مہندی کے فنکشن میں کافی گیدرنگ موجود تھی شہرینہ نے آج شلوار قیمیص پہن رکھی تھی۔ ہلکا پھلکا میک اپ کیے وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی وہ سارا وقت فرح کے ساتھ ساتھ رہی تھی۔ فائزہ بیگم کی طرف سے فرح کو خاص ہدایت تھی کہ وہ سارا وقت شہری کے ساتھ رہے گی اور کوئی بھی غیر معقول بات نہ ہونے پائے۔ شایان اور زوبیہ کو مہندی لگاتے وقت اس نے کچھ شرارت کرنا چاہی تھی۔ تھوڑا بہت مزاح کیا تھا۔
سلجھے ہوئے انداز میں ہلکا پھلکا سا مزاح مٹھائی کھلاتے وقت اس نے شایان کے منہ کی طرف مٹھائی لے جاتے کئی بار ہاتھ کھینچا تھا۔ وہاں موجود حاضرین میں سے تقریباً سبھی اس حرکت سے محفوظ ہوئے تھے تیل لگاتے ہوئے بھی اس سے قبل شایان کے بالوں کے ساتھ اس کے چہرے پر بھی خوب ملا تھا۔
یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تھیں جسے سبھی نے انجوائے کیا تھا لیکن اسٹیج پر موجود افگن کے چہرے کے زاویے بگڑتے چلے گئے تھے۔ یہی سب اس نے زوبیہ کے ساتھ بھی کیا تھا حاضرین میں سے لڑکیاں شہرینہ کو سپورٹ کررہی تھیں تبھی افگن کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ وہ تنگ نظر نہیں تھا لیکن نجانے کیوں شہرینہ کے مقابلے میں وہ اپنے دل و دماغ کو وسیع نہیں کر پارہا تھا۔
’’زیادہ تماشا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آرام سے رسم کرو اور چلتی بنو‘ باقی لوگوں نے بھی رسم کرنی ہے۔‘‘ وہ عادت سے مجبور تھا۔ شہرینہ نے ناگواری سے اس کی تند مزاح کو دیکھا۔
’’تماشا کرنا کسے کہتے ہیں اگر میں تماشے پر اتر آئی تو یہاں تھوڑی بہت جو آپ کی عزت ہے وہ کوڑی کی کرکے رکھ سکتی ہوں آپ اپنی شادی میں نہ بلائیے گا ہمیں تو یہی طور طریقے آتے ہیں ہم تو ایسے ہی رسم کریں گے جن کو اعتراض ہے وہ اسٹیج سے نیچے اتر جائیں۔‘‘ وہ بڑا تگڑا توڑ تھی۔ افگن کے تو تلوں سے لگی اور سر پر بجھی تھی۔
’’شٹ اپ نان سینس… ایڈٹ لڑکی۔‘‘ وہ غصے سے واقعی اسٹیج سے اتر گیا تھا۔ وہاں اسٹیج پر موجود لوگوں نے حیران سے افگن کا یہ رد عمل دیکھا تھا۔
’’خس کم جہاں پاک۔‘‘ شہرینہ طنزیہ مسکرائی۔
’’بری بات شہری وہ ہمارے بڑے ہیں۔‘‘ شایان نے ٹوکا۔
’’تمہارے بڑے ہوں گے جیسا ان کا کڑوے کریلے جیسا مزاج ہے اور میرے ساتھ بی ہیو ہے میں تو ان کو بڑوں میں تو ایک طرف چھوٹوں میں بھی شمار نہیں کرتی۔‘‘ وہ تلخی سے کہہ کر اسٹیج سے اتری تھی۔ اچھا بھلا موڈ غارت کرکے رکھ دیا تھا۔ باقی سارا وقت وہ ایک طرف بیٹھی اپنے موبائل کے ساتھ لگی رہی تھی۔ اگر ماما پاپا کی رشتہ داری کا مسئلہ نہ ہوتا تو وہ بڑے پاپا اور فائزہ کی محبت کے باوجود وہ اتنی ذلت آمیز انسلٹ کے بعد ایک منٹ بھی یہاں نہ رکتی۔ وہ جوں جوں افگن کے رویوں کو سوچتی جارہی تھی اس کے اندر غم و غصے کا شدید غبار بڑھتا جارہا تھا۔ وہ چاہتی تو ان باتوں اور افگن کی حرکتوں کو نظر انداز کرسکتی تھی۔ لیکن نظر انداز کرنا اس کی عادت نہ تھی وہ اپنے حاسد کو تو معاف کرسکتی تھی لیکن اپنے مخالف کو نہیں‘ اس کی فطرت خاندان کی باقی لڑکیوں سے بہت مختلف تھی اور یہ لوگ گائوں کے ماحول سے نکل کر آئے تھے۔ ان لوگوں کی سوچ و نظریات پر ابھی بھی گائوں کی چھاپ تھی۔ خصوصاً افگن۔
اس نے اپنے موبائل سے نظریں ہٹا کر زوبیہ کے بھائیوں کے ساتھ بڑے خوشگوار موڈ میں باتیں کرتے افگن کو دیکھا تھا۔
’’مجھ سے دشمنی تمہیں بہت مہنگی پڑسکتی ہے۔ اب میں تمہیں بتائوں گی کہ شہرینہ عثمان اصل ہے کیا۔‘‘ افگن کو دیکھ کر وہ مسکرائی۔ کچھ سوچ کر وہ ری لیکس ہوگئی تھی۔
ظ …ژ…ظ… ژ
اسد کے ساتھ وہ گھر آئی تھی باقی لوگوں سے وہ جلدی گھر آگئی تھی ابھی وہاں سبھی مہمان موجود تھے لیکن اس کی ضد پر اسد اسے گھر چھوڑنے آیا تھا۔ گھر میں ملازمین موجود تھے اسد اسے چھوڑ کر واپس ہال چلا گیا تھا وہ فرح کے کمرے میں آگئی تھی۔ اس نے لباس بدلا تھا۔ بال کیچر میں سمیٹ کر سر پر جمائے‘ منہ ہاتھ دھو کر ٹاول سے چہرہ صاف کرکے وہ کمرے سے نکلی تھی۔ کچن میں آکر فریج میں جھانکا۔ وہاں اورنج جوس کا پیک تھا اس نے نکال کر ویسے ہی لز (Lid) کھول کر پیک منہ سے لگا لیا تھا۔ پیک خالی کرکے ڈسٹ بن میں ڈالتے وہ فریج بند کرتے اوپر والے حصے کی طرف آگئی تھی۔
مختلف کمروں کے سامنے سے گزرتے وہ افگن کے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔ دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا۔ وہ اندر داخل ہوگئی اس نے اطراف میں دیکھا۔ کمرہ سلیقے سے سجا صاف ستھرا تھا اس نے سنجیدہ سی نگاہ ڈالی تھی۔ وہ بیڈ کی طرف بڑھی تھی اس نے بیڈ شیٹ اٹھا کر نیچے پھینکی تھی، افگن نے اس کمرے میں فرح کے سامنے اس کو بری طرح ذلیل کیا تھا اس نے تمام کشنز اٹھا اٹھا کر کونے کھدروں میں پھینکے تھے۔ دو تین قیمتی نفیس شو پیس اس نے توڑ دیے تھے کمرے کی حالت ابتر کردی تھی ہر چیز اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھی۔ الماری میں موجود کپڑے تک اس نے ہینگروں سے نکال کر رول بنا کر پھینک دیے تھے۔ سارے کمرے کی حالت خراب کرنے کے بعد وہ بڑے فاتحانہ انداز میں کمرے کے درمیان میں کھڑی سب دیکھنے کے بعد مطمئن ہوگئی تھی۔ اس نے افگن کے کمرے کی اسٹڈی ٹیبل کی طرف رخ کیا تھا ساری کتابیں اور اہم کاغذات نکال کر پھینک دیے تھے۔
وہ ٹمپرامنٹ کے لحاظ سے کوئی سیدھی سادھی لڑکی نہ تھی۔ وہ اپنے مخالفین کے چھکے چھڑا دیا کرتی تھی۔ وہ اپنے سامنے کسی بھی مخالفت اور کسی بھی انسان کی سرزنش کو اہمیت نہیں دیتی تھی۔ اس کے سامنے اگر اہمیت تھی تو صرف اور صرف اپنی ذات کی۔ وہ اگر دنیا میں کسی کی سنتی تھی تو وہ عثمان فاروق تھے۔ باقی وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ کمرہ میدان جنگ کا نقشہ پیش کرنے لگا تھا۔
شہرینہ کے اعصاب اس تخریبی کارروائی کے بعد بہت پُرسکون ہوگئے تھے‘ کمرے پر ایک حتمی اور فائنل نگاہ ڈالنے کے بعد بہت مطمئن سے انداز میں وہ کمرے سے نکلی۔ وہ واپس فرح والے کمرے میںآئی تھی۔ اس نے ہلکا پھلکا سا میوزک لگا لیا تھا۔ وہ بڑے ریلیکس موڈ میں بستر پر لیٹ کر اپنے موبائل کو سائیڈ پر رکھ کر آنکھیں بند کرکے پُرسکون ہوگئی تھی۔ آج اسے بڑی پُرسکون نیند آئی تھی۔ اپنی اس کارروائی کے بعد اس کے رگ و پے میں دور دور تک طمانیت کا ایک گہرا احساس جا گزیں ہوچکا تھا۔
ظ …ژ…ظ… ژ
رات گئے فنکشن اختتام پزیر ہوا تھا سبھی گھر واپس جانا شروع ہوگئے تھے افگن کے ذمے ہوٹل کے معاملات دیکھنا تھے سب کے چلے جانے کے بعد اس نے ہوٹل کے تمام معاملات دیکھے اور پھر اپنی گاڑی میں آبیٹھا تھا کچھ دیر بعد وہ گھر میں تھا اشفاق صاحب کو اطلاع دے کر ان سے ضروری بات ڈسکس کرکے وہ اپنے کمرے کی طرف چلا آیا تھا۔
ملازمہ کو چائے تیار کرنے کا کہا‘ وہ فوراً فریش ہوکر نیچے آنا چاہتا تھا، وہ اپنے کمرے کی طرف آیا… اس نے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھل گیا‘ لائٹس آف تھیں، وہ آگے بڑھا لیکن اس کے پائوں میں کوئی چیز آئی تھی، وہ گرتے گرتے بچا تھا۔ وہ حیران ہوتا دیوار کی طرف آیا۔ اس نے ہاتھ مار کر سارے بٹن آن کردیے تھے کمرہ ایک دم تیز روشنیوں میں نہا گیا تھا کمرے کی حالت دیکھ کر افگن بت بن گیا حیرت زدہ… انتہائی حیرت زدہ۔
وہ کمرے کو جب چھوڑ کر گیا تھا کمرہ انتہائی صاف ستھرا اور نفاست سے سجا ہوا تھا لیکن اب کمرہ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کسی جنگ کے بعد کا کوئی منظر ہو، افگن تو حیرت سے گنگ تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں اس کے کمرے کے دروازے کو کوئی ہاتھ بھی لگا لے ناممکن بات تھی۔ لیکن یہاں تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ ایسے جیسے کسی نے بہت دل سے اپنے دل کے تمام ارمان پورے کیے ہوں… اس کے تمام قیمتی ملبوسات‘ ڈیکوریشن پیسز، بیڈ شیٹ، کشنز، ڈریسنگ کا سامان قالین غرض ہر چیز کی حالت خراب تھی۔ افگن کا کمرے کی حالت دیکھ کر دماغ گھومنے لگا تھا۔ آنکھوں میں تو سچ مچ خون اتر آیا تھا۔
’’امی… فرح…!‘‘ وہ زور سے چیخا۔ لیکن گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ سوچتے وہ تن فن کرتا اپنے کمرے سے نکلا تھا وہ امی کے کمرے کی طرف آیا۔
’’امی… امی…!‘‘ وہ چیختا چلاتا اندر گھسا تھا فائزہ اسے دیکھ کر پریشان ہوئی۔
’’کیا ہوا افگن؟‘‘ وہ کھڑی ہوگئیں۔
’’میرے ساتھ چلیں۔‘‘ افگن نے لب بھینچ رکھے تھے ماں کا ہاتھ پکڑ کر واپس پلٹا۔
’’ہوا کیا ہے سکون سے بتائو۔‘‘ لیکن وہ ان کو جواب دیے بغیر اس طرح چلتا رہا تھا فرح اپنے کمرے سے نکلی اور اس کا ارادہ چائے پینے کا تھا لیکن ماں اور بھائی کو اس طوفانی انداز میں جاتے دیکھ کر وہ بھی پیچھے لپکی، افگن سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا۔ فائزہ کو بھی اس کے ساتھ تیز رفتاری سے سیڑھیاں چڑھنا پڑی تھیں، فرح تو پیچھے بھاگ رہی تھی۔ افگن کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا افگن نے ماں کا بازو کمرے کے درمیان میں جا کر چھوڑا تھا۔
’’یہ دیکھیں۔‘‘ افگن بولا نہیں تقریباً چیخا تھا۔ فائزہ حیرت سے گنگ دیکھ رہی تھیں، بالکل افگن والی کیفیت تھی، فرح بھی اندر داخل ہوئی تو میدان کار زار کا نقشہ دیکھ کر ششدر رہ گئی تھی۔
’’مائی گاڈ۔‘‘ اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔
’’یہ… یہ… کس نے کیا…!‘‘ فائزہ تو حواس باختہ تھیں وہ ملازمین کو گھر کا خیال رکھنے کا کہہ کر گئی تھی، ان کی غیر موجودگی میں گھر میں کوئی گھس آیا تھا۔
’’یہی تو میں جاننا چاہ رہا ہوں کہ یہ کس نے کیا ہے؟‘‘ وہ ماں کے سامنے پھٹا تھا۔ فائزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
’’مجھے کیا پتا؟ میں تو خود ابھی گھر لوٹی ہوں۔‘‘ فائزہ اور فرح کمرے میں گھوم کر دیکھ رہی تھیں۔ ہر چیز کی حالت ابتر تھی۔ لگتا تھا بڑے دل سے اور خوب دل کی بھڑاس نکال کر یہ حالت بنا گئی تھی۔
’’میں ملازمہ کو بلاتی ہوں۔‘‘ فائزہ نے کہا۔
کچھ دیر میں سبھی ملازمین افگن کے کمرے میں تھے کمرے کی حالت دیکھ کر سبھی حیرت زدہ تھے سبھی لاعلم تھے۔
’’تم لوگوں کی موجودگی میں یہ تخریب کاری ہوئی ہے اور تم لوگوں کو علم ہی نہیں میں تم سب کو فارغ کردوں گا۔ تم سب ہڈ حرام ہو مالک کی غیر موجودگی میں کمروں میں جاکر آرام کرتے رہتے ہو بس۔‘‘ اس نے ملازمین کی بھی ایسی تسی کردی تھی۔ ملازمین سر جھکائے خاموش تھے۔ افگن ان سے مختلف سوال کرتا رہا تھا۔
’’کون کون آیا‘ کب کب آیا؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
’’اچھا تم لوگ جائو۔‘‘ فائزہ نے ان کو بھیج دیا تھا فرح کمرے میں دیکھ رہی تھی، افگن کے فیورٹ ڈیکوریشن پیسز جو وہ ابروڈ سے لایا تھا ٹوٹ چکے تھے فرح کو حقیقتاً افسوس ہوا تھا۔ ہر چیز کا ستیاناس مارا گیا تھا، افگن خاموش تھا۔ اس کا چہرہ بہت سنجیدہ تھا۔ اس نے ملازمین سے پوچھا تھا کہ سب سے پہلے تقریب سے واپس گھر کون آیا تھا جواباً جو نام سننے کو ملا تھا اس کے بعد افگن کی سوچ وہیں رک گئی تھی۔
’’شہرینہ بی بی اگر یہ سب تم نے کیا ہے تو پھر دیکھو اب تمہارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔‘‘ اس نے بہت نفرت سے سوچا اور پھر ایک پائوں زور سے کمرے کے دروازے پر مارتے کمرے سے نکلا تھا۔
’’افگن… رکو تو… افگن…!‘‘ گھبرائی پریشان سی فائزہ اس کے پیچھے تک آئی تھیں، لیکن افگن رکے بغیر اسپیڈ سے اپنی گاڑی کی چابی نکال کر لان کی طرف نکل گیا تھا وہ گاڑی نکال کر لے گیا تو فائزہ نے پریشانی سے سر تھاما تھا فرح بھی ساتھ تھی۔
’’پتا نہیں کس نے کیا ہے مہمانوں سے گھر بھرا ہوا ہے اب میں کس کس کی خبر گیری کروں۔‘‘ فرح نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ انداز تسلی دینے والا تھا۔
’’کسی سے پوچھوں گی تو کوئی اپنی بے عزتی محسوس ہی کرے گا۔‘‘
’’امی ٹینشن نہ لیں۔‘‘
’’پتا نہیں اب یہ کہاں چلا گیا ہے۔‘‘ وہ اور زیادہ فکر مند ہوچکی تھیں۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close