Aanchal Jul-17

بابو بینڈ والے

یاسمین نشاط

آؤ مل کر مانگیں ہم عید کے دن
باقی نہ رہے کوئی بھی غم عید کے دن
ہر آنگن میں خوشیوں بھرا سورج اترے
اور چمکتا رہے ہر آنگن عید کے دن

صفیہ نے آٹے میں پانی گھول کر پتلی سی لئی بناکر کالی سلور کی دیگچی چولہے پر چڑھا دی۔ لکڑیاں گیلی تھیں‘ پھونک پھونک کر اس کی سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگی‘ آنکھوں میں دھوئیں کی کڑواہٹ بھر گئی تھی۔
شام ہونے والی تھی‘ انہیں علی الصبح آرڈر پورا کرکے دینا تھا‘ رضیہ ویسے کل سے بیمار تھی۔ زبیدہ سارے زمانے کی نکمّی ہانڈی کیا چڑھا لیتی سارے خاندان پر احسان کردیتی۔ نیامتے (ماں) سارا دن باہر کے کاموں میں لگی رہتی‘ لکڑیاں‘ تیل‘ گھی‘ آٹا‘ دال‘ سبزی… دس چکر فیکے کے دکان کے لگتے پھر کہیں جاکر کھانا نصیب ہوتا اور کھانا ہی کیا پتلی دال اور بھوسی سمیت پکی ایک ایک چپاتی اور کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔
’’صفو باجی جلدی کر ناں‘ ہانڈی چڑھانی ہے۔‘‘ زبیدہ نے ایک پھٹا پرانا رسالہ جو صبح ریڑھی والے سے کاٹھ کباڑ کے عوض خریدا گیا تھا‘ کھولتے ہوئے کہا۔ ابا نے اسے پانچ جماعتیں کیا پڑھادی تھیں‘ خود کو وکیل سمجھنے لگی تھی۔
’’بن گئی۔‘‘ صفیہ نے گاڑھے ہوتے مادے میں لکڑی مارتے ہوئے زبیدہ پر نظر ڈالی پھر دوپٹہ سے دیگچی نیچے اتارلی۔
’’سن ہانڈی پک جائے تو ذرا اندر آجانا‘ رضیہ کو بھی بخار ہے مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا صبح تک۔‘‘ پلاسٹک کے ڈبے میں لئی کی مطلوبہ مقدار انڈیلتے ہوئے اس نے زبیدہ سے کہا تو اس نے ٹکا سا جواب دیا۔
’’نہ بہن‘ یہ گندا کام مجھ سے نہیں ہوتا‘ اس لئی سے آتی بدبو تو میرے دماغ سے پہلے ہی نہیں نکلتی۔ اوپر سے تم کہہ رہی ہو تمہارے ساتھ بیٹھ کر لفافے بنائوں‘ نہ مجھے تو معاف ہی رکھو۔‘‘
’’ٹھہر جا ذرا تو۔‘‘ اندر آتی نیامتے نے پیروں سے چپل اتاری۔
’’ساری رات بیٹھ کر تیری بہنیں یہ لفافے بناتی ہیں تو جاکر شام کو دس بیس روپ ملتے ہیں اور تجھے دال روٹی کھانا نصیب ہوتی ہے تو رزق کے وسیلے پر باتیں بناتی ہے‘ توبہ کر‘ توبہ…‘‘
’’تُو تو اماں ایسا کہہ رہی ہے جیسے لفافے بناکر یہ دونوں خزانہ کما رہی ہیں۔ ہونہہ… اور توبہ کیوں کروں کون سا مجھ سے من و سلویٰ چھیننے لگا ہے‘ یہ پانی جیسی دال اور سوکھی روٹی اور یہ توبہ‘ ثواب اور گناہ بس ہم غریبوں کے لیے رہ گیا ہے ناں۔‘‘
’’چپ کر جا نکمی‘ اللہ کے غضب سے ڈر۔‘‘ نیامتے نے ہاتھ میں پکڑی ٹوٹی چپل اسے دے ماری۔ وہ ہائے کرکے رہ گئی‘ صفو اس ساری بات میں کچھ نہ بولی اپنی لئی والا ڈبہ اٹھایا اور بیٹھک میں چلی گئی۔ رضیہ وہیں چٹائی پر ٹیڑھی میڑھی لیٹی تھی‘ خالی کاغذوں کا بنڈل اٹھاتے ہوئے اس نے رضیہ کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ دہک رہی تھی۔ وہ بنڈل وہیں رکھ کر دروازے میں آکھڑی ہوئی۔ نیامتے اب پھنکنی لیے آگ جلانے کی کوشش کررہی تھی‘ زبیدہ پیاز کاٹ رہی تھی۔
’’اماں… رضیہ کا بخار نہیں ٹوٹ رہا‘ کسی ڈاکٹر کو دکھالے۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا‘ اماں کا جواب جانتی تھی اس لیے سنے بنا پلٹ آئی۔
کبھی کبھی اس کا دل زبیدہ کی باتوں کی بھرپور تائید کرنے لگتا تھا۔ سارا دن رومانوی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اس کا دماغ تو خراب رہتا ہی تھا لیکن وہ جب بھی اماں سے بحث کرتی کئی کئی دن صفو کا دل بھی زبیدہ کی حمایت میں پیش پیش رہتا۔
ابھی اس نے بنڈل کھولا ہی تھا کہ بیرونی دروازہ بجا اور پھر کھلنے کی آواز آئی۔ سرور آگیا تھا اس کی ہلکی پھلکی کھانسی کی آواز میں سارے زمانے کی تھکن تھی۔
ابا کی چال میں اب لڑکھڑاہٹ آنے لگی تھی سر کے بال تو مدت ہوئی سفید ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجود سرور نے اپنا حوصلہ نہیں کھونے دیا تھا‘ اس کے خواب ابھی بھی زندہ تھے‘ برسوں پہلے جب اس کے آنگن میں صفو نے آنکھ کھولی تھی تو اس ننھی منی گڑیا کو دیکھ کر اس کا جواں دل خوابوں سے بھر گیا تھا۔
’’دیکھ نیامتے‘ میں اپنی گڑیا کی شادی پر خود شہنائی بجائوں گا‘ ایسی کہ لوگ مدتوں یاد رکھیں گے کہ بابو بینڈ والے کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی۔‘‘ وہ محبت سے اس ننھی گڑیا کو تک رہا تھا اور اس کو ابھی سے دلہن کے روپ میں دیکھ رہا تھا‘ جس نے ابھی تک صحیح طرح سے آنکھیں بھی نہیں کھولی تھیں۔
’’جانے دے سرور‘ بڑے سالوں کی بات ہے یہ اور تُو نے ابھی سے اس کے بیاہ کے سپنے دیکھنے شروع کردیئے۔‘‘ نیامتے ہنسی۔
’’بیٹیوں کے قد بڑھتے دیر نہیں لگتی‘ تُو دیکھنا چند سال میں کیسے تیرے جتنی ہوجائے گی۔‘‘ اور اس کا کہا سچ تھا‘ صفو نے بڑی جلدی قد کاٹھ نکالا اور اس کے بعد رجو اور زیبی نے بھی‘ جتنی جلدی وہ بڑھیں اتنی جلدی سرور کا بڑھاپا بھی اترا۔ جب اس نے شہنائی بجانا شروع کی تب ابھی وہ لڑکپن میں تھا ان کے ساتھ والے گھر میں چاچا فوجی رہا کرتے تھے۔ کسی زمانے میں چاچا فوجی‘ فوجی بینڈ میں شامل تھا بعد میں سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا ذاتی بینڈ بنالیا۔
چاچا فوجی بہت اچھا شہنائی نواز تھا‘ اس نے گھر کے کمرے میں ہی نوجوانوں کو شہنائی بجائے کی تربیت دینا شروع کی اور کچھ باجا بجانے والے اور ڈھول بجانے والے اس نے تنخواہ پر ملازم رکھے چند ہی دنوں میں اس کے بینڈ کا نام ہوگیا۔ اب وہ تقریباً ہر بڑے فنکشن میں جاتے تھے۔ چاچا فوجی نے ہی آوارہ پھرتے سرور کو شہنائی بجانا سکھائی‘ چاچا فوجی اس کی بہت تعریف کیا کرتے تھے یوں تو شہنائی کی آواز ہوتی ہی درد بھری ہے لیکن جب سرور شہنائی بجاتا تو گویا ہر سُر سے آنسو ٹپکتے محسوس ہوتے۔ چاچا فوجی کے بینڈ میں بہت جلد اس کا نام ہوگیا۔ وہ اور چاچا فوجی کا بینڈ لازم و ملزم ہوگئے۔ ابے کی سبزی کی دکان تھی‘ اس کے میراثی بن جانے کا اسے خاصا قلق ہوا لیکن اس نے کہا کچھ نہیں۔
سرور کو بڑا اچھا لگتا تھا جب وہ بینڈ والوں کا یونیفارم پہنتا اور جب وہ شہنائی پر ’’ساڈا چڑیاں دا چمبہ‘‘ بجاتا تو ہر کس ونا کس کی آنکھ سے آنسو نکل آتے۔ وقت گزرا چاچا فوجی مر گیا‘ سب آپوں دھاپ ہوگئے‘ دینے باجے والے نے اسے سمجھایا کہ اب وہ اپنا بینڈ بنالیتے ہیں چاچا فوجی تو گیا لیکن سرور کا دل نہ مانا‘ وہ یونہی ادھر اُدھر پھرتا رہا۔
ابا مرکھپ گیا ساتھ میں سبزی کی دکان بھی بند ہوگئی تب بے بے نے اس کا کھانا پانی بند کردیا۔
’’کما کر لا سرورے‘ میں کہاں سے کھلائوں تجھے۔‘‘ اور تب سرور نے سنجیدگی سے سوچا‘ ہنر تو کوئی آتا نہ تھا ٹرنک میں رکھی شہنائی دوبارہ نکال لی‘ دینا اپنا بینڈ تو نہ بنا سکا تھا البتہ کسی اور باجے والے کے ہاں ملازم ہوگیا تھا‘ سرور کو بھی لے گیا۔
’’دیکھ سرور۔‘‘ ماسٹر نے اس کی شہنائی کی لے سنی‘ سگریٹ کی راکھ فرش پر جھاڑی اور کہنے لگا۔ ’’بے شک تیری شہنائی میں بڑا درد ہے پر میں تجھے تنخواہ نہیں دے سکتا۔‘‘ سرور کا دل ڈوب گیا۔
(بے بے اس کو گھر سے نکال باہر کرے گی بغیر تنخواہ کے کام کرنے کا فیدہ)
’’پر جتنی ویلیں ہوں گی ساری تمہاری۔‘‘ ماسٹر نے بات مکمل کی۔ ’’مطلب جو ویل تمہیں ملے گی وہ تمہاری۔‘‘
سرور کو یہ نا انصافی پسند نہیں تھی‘ چاچا فوجی تو مہینے کے بیس روپے الگ دیتا تھا اور بارات کے ساتھ جانے کے جو پیسے طے ہوتے تھے وہ بھی سب میں برابر تقسیم ہوتے تھے اس کے علاوہ دن میں ایک بار کی چائے اور کبھی کبھار کھانا بھی مل جایا کرتا تھا لیکن ماسٹر تو بہت ہی کنجوس تھا‘ سرور کی مجبوری تھی سو ہامی بھرلی۔
اس وقت شہر میں دو ہی تو بینڈ تھے ایک چاچا فوجی کا جو ختم ہوگیا اور دوسرا ماسٹر کا۔ زندگی گزرنے لگی‘ ویلیں اتنی بھی نہیں ہوتی تھیں کہ گھر چل سکے لیکن ہفتے بعد پانچ چھ روپے بن ہی جایا کرتے۔
وقت تھوڑا اور گزرا بے بے نے اپنی بھتیجی نیامتے سے اس کا بیاہ کردیا۔ نیامتے بھی صبر کی مٹی سے گندھی تھی‘ روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرنے لگی سو سرور پر کچھ خاص بوجھ نہیں پڑا۔ ایک دن دینے کی پیسوں کے لین دین پر ماسٹر سے لڑائی ہوگئی‘ ماسٹر نے اسے نکال باہر کیا۔ وہ جاتے جاتے سرور کو بھی ساتھ لے گیا اس کا مقصد ماسٹر کو دکھ پہنچانا تھا‘ نالاں تو سرور بھی تھا لیکن روکھی سوکھی کا انتظام تو چل ہی رہا تھا۔ ہفتہ فارغ بیٹھا تو گھر میںفاقے ہونے لگے‘ وہ دوبارہ ماسٹر کے پاس جانے کی سوچ رہا تھا کہ دینا آگیا۔
’’چل میرے ساتھ رب نے بڑی سوہنی جگہ انتظام کردیا ہے۔‘‘ سرور خوش ہوگیا‘ اپنی شہنائی اٹھائی اور چل پڑا۔
سمیع بابو حیدر آبادی تھے‘ عادت کے اچھے‘ طبیعت کے نرم۔ وہ شہر میں نئے تھے اور نئی طرز کا ہی بینڈ بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اچھے کم از کم مڈل پاس جوان بھرتی کیے‘ تیس روپے ماہوار روز کا کھانا اور چائے ان کا‘ اس کے علاوہ ویلیں بھی ان کی۔ وہ صرف بکنگ کے پیسے رکھتے تھے اور کچھ نہیں‘ زندگی بہت بہتر ہوگئی سرور کے لیے اور یہ سب اس کے خیال میں اس بچے کے مبارک قدم تھے جو دنیا میں آنے والا تھا اور یہ تیس روپے کئی سال نہ بڑھے البتہ بچوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی۔ تینوں بیٹیاں اور قد نکالنے میں ایک دوسرے سے بھاگ بھاگ کر آگے اور سرور بابو کی ہمت اور آمدن پیچھے۔ گزر اوقات مشکل سے ہونے لگی‘ اماں مر گئی‘ ایک کھانے والا کم ہوگیا۔ نیامتے ایک دن منڈی گئی اور خاکی کاغذوں کا بنڈل اٹھا لائی‘ سلور کی دیگچی پر لئی چڑھاتے ہوئے اس نے ان لفافوں سے ہونے والی آمدن کا حساب کتاب لگالیا۔ صفو اور رجو تو اسکول جانے والی عمر سے آگے نکل گئی تھیں البتہ زبیدہ ابھی پانچ سال کی تھی‘ سرکاری اسکول میں بٹھادیا‘ سرور نے اعتراض کیا وہ اب تھکنے لگا تھا سانس میں پہلے جیسے روانی نہ رہی تھی۔
کسی نے مشورہ دیا رجو کو سلائی کڑھائی سکھا دے‘ گھر بیٹھے کپڑے سیئے گی اچھی خاصی آمدن ہوجائے گی۔ نیامتے کو خیال اچھا لگا مگر رجو نے انکار کردیا‘ روز اٹھ کر کسی کے گھر جاکر بیٹھے رہنا اسے پسند نہیں تھا۔ ویسے بھی ہفتے کے تین دن تو اسے کوئی نہ کوئی مسئلہ ہی رہتا‘ سر درد‘ بخار‘ کھانسی لے دے کے صفو ہی تھی لیکن صفو نے بھی گھر سنبھال رکھا تھا۔ چولہا چوکا‘ صفائی ستھرائی اس کے بعد نیامتے کے ساتھ ہاتھ بٹا دیتی‘ صفو سولہ کی ہوگئی تو نیامتے کو ہول اٹھنے شروع ہوئے‘ ابھی تک کسی نے بھی کبھی باتوں باتوں میں بھی اس کی بیٹیوں کا ذکر تک نہ کیا تھا۔ صفو کی اٹھان اچھی تھی‘ رنگ روپ دمکتا ہوا پھر عمر بھی نکھار والی‘ صفو کی آنکھوں میں بھی سپنوں نے ڈیرے ڈال لیے۔
سرور جب بھی شادی کے فنکشن کے لیے جاتا‘ صفو دیوار پر لگے سالوں پرانے پلاسٹک کے اس گول شیشے کے آگے آکھڑی ہوتی جو پلستر اکھڑی دیوار پر زنک آلود کیل پر بڑی مستقل مزاجی سے ٹنگا کھڑا تھا۔
زنک لگے شیشے میں کچھ واضح نظر نہیں آتا تھا لیکن صفو کو اپنا زرتار آنچل والا ٹیکے نتھ سے مزین چہرہ بہت واضح نظر آتا۔ ابا کی شہنائی کی آواز کانوں میں رس گھولتی اور وہ خوابوں کے گھوڑے پر سوار جہان بھر کی سیر کر آتی۔
نیامتے کی آواز سارا سحر چکنا چُور کر ڈالتی اور وہ پھر سے لئی میں انگلی ڈبو ڈبو کر لفافے جوڑنے لگتی۔ رجو کی نہ نظر آنے والی بیماری دن رات حاوی رہنے لگی۔ نیامتے نے باہر کی ذمہ داری اٹھالی‘ زبیدہ پانچ جماعتوں کے بعد گھر بیٹھ گئی کہ آگے نہ وسائل تھے نہ سرور میں اب پہلے جیسا جوش و خروش رہا تھا۔
زمانے کو پَر لگ گئے اور لوگوں کی زبانیں لمبی ہوگئیں‘ شرافت و نجابت کو تو کوئی اب پوچھتا ہی نہ تھا۔ گھر کی ظاہری حالت ہی بتادیتی تھی لڑکی جہیز میں کیا لانے والی ہے‘ وہ تو صد شکر بھلے وقتوں میں سرور کے ابا نے ڈیڑھ مرلے کی یہ کٹیا بنالی تھی ورنہ جو حالات تھے کرایہ دینا بھی مشکل ہوجاتا۔
بوسیدہ دروازے پر لٹکا ٹاٹ کا پھٹا پردہ کسی کو بھی یہ دہلیز پھلانگنے نہ دیتا۔ جہیز کے نام پر ایک پائی نہ تھی اور ایسے میں وہ تینوں بیاہ کے انتظام میں روز عمر کو چابک مارتیں اور وہ سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑے چلا جاتا۔ صفو بیس کی ہوئی تو سرور کی امیدیں دم توڑنے لگیں‘ ابھی تک کوئی رشتہ نہ آیا تھا‘ صفو کے بعد رجو بھی تیار بیٹھی تھی اور زبیدہ تو سب سے پہلے ہی تیار تھی۔ اس کی شہنائی کے سُر میں دن بدن مایوسی اترنے لگی۔ خواب مرنے لگے اسے لگا اس کی بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی‘ اس گھر کی غربت کبھی شہنائی کی آواز نہیں سنے گی۔ نیامتے نے دو گھروں کا کام بھی پکڑلیا تھا لیکن سمجھ نہیں آتی تھی چادر کو اوڑھیں تو اوڑھیں کیسے؟ کبھی سر ننگا ہوتا کبھی پائوں‘ زبیدہ کی عمر ابھی کم تھی خواب جواں تھے جبکہ صفو نے اپنے خوابوں پر عمر کی سفیدی گرتی دیکھ لی تھی۔
ساری رات بیٹھنے کے باوجود وہ کام ختم نہیں کرپائی تھی‘ فجر کے وقت اسے اونگھ آگئی‘ وہ وہیں پڑگئی کل گرمی بھی زوروں پر تھی‘ مصروفیت میں اس نے دیکھا بھی نہیں کہ رجو کا کیا حال ہے‘ بخار اترا کہ نہیں‘ وہ اسی طرح گٹھڑی بنی لیٹی تھی۔ صبح دم نیامتے کی چیخ سے اس کی آنکھ کھلی‘ وہ رجو کو زور زور سے جھنجھوڑ رہی تھی جبکہ وہ بے حس بنی لیٹی تھی۔
’’رجو…‘‘ یک دم صفو کے دل کو کچھ ہوا‘ وہ بھاگ کر اس کی جانب آئی لیکن اب وہاں رجو نہیں تھی اس کا سرد جسم تھا اکڑا ہوا۔ وہ شہنائی کی آواز سننے کی چاہ دل میں لیے چپ چاپ کفن اوڑھ گئی تھی۔
بیٹی کی جواں مرگی نے سرور کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی‘ وہ رویا اور بے حساب رویا۔ وہ کچھ بھی تو نہ دے پایا تھا اپنی بیٹیوں کو‘ کوئی سکھ بھی نہیں‘ پیٹ بھر کھانا تو نصیب نہیں تھا انہیں‘ دوائی‘ علاج کہاں سے ہوتا۔ جانے رجو کو کون سی بیماری چاٹ گئی‘ کیسا بخار تھا جو اترا ہی نہیں۔ گھر میں کئی دن موت کا سناٹا چھایا رہا‘ نیامتے بھی چپ ہوگئی تھی اس نے دکان والے کو کہہ دیا تھا سامان گھر پہنچادیا کرے اور تیار مال لے جایا کرے۔ سو دکان دار گھر آنے لگا اور اگلے فساد کی بنیاد نیامتے کا یہی فیصلہ بنا۔
راشد باہر آکر موٹر سائیکل کا ہارن دیا کرتا اور نیامتے تیار مال اسے تھما آتی۔ اگلے دن کا سامان پکڑلیتی‘ پچھلے دو دن سے وہ بخار میں پھنک رہی تھی سو اُن دونوں میں صفو کو ہی یہ کام کرنا پڑا۔ پھٹے ٹاٹ کے پیچھے سے وہ ہاتھ برآمد ہوتا اور سامان رکھ کر پلک جھپکتے میں غائب۔ تیسرے دن صفو نے اسے مال خود ہی دیا لیکن اس روز راشد اس چمپئی ہاتھ کو چھونے کی خواہش لے کر آیا تھا سو اس نے سامان زمین پر رکھنے کی بجائے اس کی طرف بڑھایا۔ صفو کو ٹاٹ کے سوراخوں میں سے وہ دکھائی دے رہا تھا‘ وہ متذبذب سی تھوڑا سا اوٹ سے باہر ہوگئی اور بس وہی لمحہ اس کی اکیس بائیس سالہ احتیاط کو کھا گیا۔
راشد نے جن نظروں سے صفو کو دیکھا اس کی نیندیں اڑا دینے کو کافی تھا‘ سوئے ہوئے خوابوں میں اتھل پتھل ہوئی۔ کانوں میں شہنائیاں گونجیں اور اس رات وہ دیوار پر ٹنگا شیشہ اتار کر کمرے میں لے آئی‘ اس نے کئی بار اپنا چہرہ دیکھا اور کئی بار ان نظروں کو محسوس کیا اور پھر اس نے نیامتے کو آواز لگانی ہی چھوڑ دی‘ ادھر ہارن بجتا‘ صفو لفافوں کا بنڈل اٹھائے باہر‘ نہ کبھی راشد نے کچھ کہا‘ نہ کبھی اس نے لیکن وہ ایک نظر اگلے دن تک کے لیے کافی رہتی۔
اس روز نیامتے بڑے گھر سے کچھ پرانے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھا لائی‘ بیگم صاحبہ نے دیئے تھے‘ اچھی حالت میں تھے۔ دو کام والے سوٹ اور کچھ گرم کپڑے‘ صفو نے لپک کر لال رنگ کا کامدانی جوڑا اٹھالیا۔ نیامتے نے بس ایک نظر ڈالی پھر سے کپڑوں کو پھٹکنے لگی‘ صفو نے وہ جوڑا سنبھال لیا‘ رات جب سب سو گئے تو اس نے پہن کر دیکھا۔ بلب کی زرد روشنی میں اسے اپنا آپ عجیب سا لگا لیکن یہ اسے خوابوں کا جوڑا لگ رہا تھا‘ اس کی چمکتی تاروں میں اسے خوش رنگ زندگی کی نوید سنائی دینے لگی تھی‘ ابا کا خواب اب پورا ہونے کو تھا۔
اگلے دن جب راشد آیا اس نے اسے بیٹھک میں بٹھالیا‘ اماں نیامتے زبیدہ کو لے کر بیگم صاحبہ کے گھر گئی ہوئی تھی اور ابا کام پر۔ وہ راشد کے لیے لال شربت کا گلاس لے کر آئی‘ جس کے ہر گھونٹ کے ساتھ اس نے صفو کو نظروں میں اتارا اور صفو دعا کرتی رہی یہ شربت کا گلاس کبھی ختم نہ ہو‘ وہ منتظر رہی کہ راشد کوئی پیار بھری بات‘ کوئی آس امید والا جملہ بولے لیکن اس نے آخری گھونٹ لیا‘ گلاس اسے تھمایا اور سامان اٹھا کر چلا گیا۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اماں نیامتے نے اسے بیٹھک سے نکلتے دیکھ لیا ہے‘ وہ بھی چپ تھی‘ چاہتی تھی کہ اس طرح ہی صفو کا انتظام ہوجائے ورنہ تو پھٹے ٹاٹ والی دہلیز کوئی پھلانگنے کو تیار ہی نہ تھا۔ صفو کو راشد پر غصہ آیا‘ موقع ملا تھا کوئی دل کی بات تو کرتا‘ کچھ کہتا تو سہی کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے لیکن کچھ بھی نہیں بولا۔
اگلے دو دن وہ غصہ میں رہی‘ سامان لینے دینے اس نے زبیدہ کو بھیجا اور سوچ کر بیٹھی رہی وہ زبیدہ سے اس کے بارے میں پوچھے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ اب زبیدہ کو کہنا ہی نہ پڑتا‘ وہ ٹائم پیس پر نظریں جمائے بیٹھی رہتی جیسے ہی دس بجتے وہ بنڈل اٹھا کر دروازے پر جا پہنچی۔ موٹر سائیکل کا ہارن بجنا اب بند ہوگیا تھا اور ساتھ میں جیسے صفو کا دل بھی۔ اسے زبیدہ کے لچھن کچھ ٹھیک نہ لگ رہے تھے‘ ایک دن زبیدہ سامان لے کر اندر آئی تو اس کے ہاتھ میں رنگ برنگی چوڑیوں کا لفافہ تھا‘ مہندی اور جھمکے۔
صفوں کا رہا سہا سکون بھی غارت ہوگیا‘ راشد اتنی جلدی راستہ بدل لے گا اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ زبیدہ سے پوچھنا چاہتی تھی لیکن شرم و حیا آڑے آئی‘ زبیدہ پر تھرڈ کلاس رومانوی کہانیوں کا اثر تھا۔ وہ چیزیں پہن پہن کر سارا دن گھر میں اتراتی‘ گنگناتی رہتی۔ نیامتے کو راشد کی طرف سے امید بندھی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ جیسے ہی راشد صفو کا ہاتھ مانگے گا وہ اسے رخصت کرنے میں دیر نہیں کرے گی لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔
ایک صبح گھر سے زبیدہ کے تکیے کے نیچے سے پرچہ ملا‘ صفو ان پڑھ اٹھا کر ابا کے پاس لے آئی‘ ابا کہاں پڑھا لکھا تھا‘ باہر نکل کر محلے کے بچے کو بلا لایا‘ زبیدہ کے بارے میں کسی نے سوچا ہی نہیں‘ یہی سمجھا کہ کسی سہیلی کے گھر چلی گئی ہوگی۔ بچے نے جو ٹوٹی پھوٹی اردو میں پڑھنا شروع کیا تو ابا کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے‘ اس نے بچے کے ہاتھ سے پرچہ جھپٹا اور کمرے میں آگیا لیکن اب اس کا وجود بے جان تھا اور رنگ پیلا‘ جیسے کسی نے سارا لہو نچوڑ لیا ہو۔
وہ چارپائی کی ٹوٹی ادوائن پر ٹک گیا‘ صفو باہر آئی تو سرور کی حالت دیکھ کر دوڑی‘ نیامتے کام پر جاچکی تھی‘ وہ زبیدہ کو آوازیں دینے لگی‘ سرور نے بولنا چاہا مگر بول نہ پایا اور ایک طرف کو لڑھک گیا‘ صفو چیخنے لگی‘ گھسیٹ کر ابا کو کمرے میں لے کر آئی‘ سینے پر سر رکھا سانسیں چل رہی تھیں مگر مدھم مدھم۔
اس نے چہرے پر پانی چھڑکا‘ ہاتھ پیر مسلے لیکن اسے ہوش نہ آیا وہ اماں شبراتن کو بلا کر لائی‘ بچے کو بڑے گھر دوڑایا۔ نیامتے کے آنے تک وہ رکشہ میں سرور کو بیٹھا چکی تھی‘ سرور کو فالج کا شدید اٹیک ہوا تھا اور وہ کومہ میں چلا گیا تھا۔
’’اچھا بھلا تھا ابا…‘‘ صفو رو رو کر نیامتے کو بتارہی تھی۔ ’’زبیدہ کے سرہانے سے ایک کاغذ نکلا وہی پڑھوانے باہر نکلا تھا‘ واپس آیا تو یہ حالت تھی۔‘‘ سرور آئی سی یو میں تھا۔
’’زبیدہ…‘‘ نیامتے چونکی۔ ’’زبیدہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تیرے ساتھ نہیں گئی‘ وہ تو صبح سے غائب ہے‘ وہی پرچہ تو…‘‘ بولتے بولتے ذہن میں ایک وسوسہ جاگا۔
’’اماں… زبیدہ کہیں گھر سے بھاگ تو نہیں گئی‘ آج کل اس کے طور طریقے عجیب سے ہورہے تھے۔‘‘ اس نے دل میں در آنے والا خیال نیامتے سے کہہ ڈالا‘ نیامتے کے دل کو دھچکا لگا۔ وہ دوسری بیٹی کھونے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی‘ رجو کے بعد زبیدہ‘ اس نے بے اختیار صفو کو دیکھا۔ اس کا اترا چہرہ غماز تھا کہ اس کے خوابوں کی مٹی پلید ہورہی تھی اور اس کا باپ سرور‘ شہر بھر کی باراتوں میں شہنائی بجانے والا اپنی بیٹیوں کی خوشیاں ٹاٹ لگے دروازے سے اندر نہیں لاسکا تھا۔ ایک مر گئی‘ ایک بھاگ گئی اور جو رہ گئی اس کے ساتھ جانے کیا ہونے والا تھا۔ اتنی محنت کے باوجود وہ اپنی بچیوں کے لیے ایک ٹکا نہیں جوڑ پائی تھی‘ دال سبزی کرتے ہی پیسے ختم ہوجاتے اور اب سرور کی بیماری کی صورت میں ایک نیا خرچہ‘ اس کا ذہن مائوف ہورہا تھا‘ سرکاری اسپتال کے اس بنچ پر بیٹھے بیٹھے اس نے اپنی ساری زندگی کھنگال ڈالی تھی‘ کہیں خوشی سے مل بیٹھنے کی کوئی یاد نہیں تھی‘ بھاگ دوڑ‘ تھکان اور بس… اور زبیدہ نے جو پانچ جماعتیں پڑھ لیں اس کو بھی لیک لگادی‘ پڑھائی دماغ خراب کرتی ہے اس کی مرحومہ ساس کہا کرتی تھی اور اب اسے لگا صحیح کہا کرتی تھی۔
سرور گھر آگیا‘ ایک نیا خرچہ۔ وہ جو کبھی کبھار دو چار ویلیں آجاتی تھیں وہ بھی گئیں۔ صفو نے لفافے بنانے بھی بند کردیئے‘ راشد دوبارہ آیا ہی نہیں‘ آنا بنتا بھی نہیں تھا زبیدہ کو بھگا لے گیا تھا کس منہ سے آتا۔ اماں بھی دوبارہ اس کی دکان پر نہیں گئی‘ اماں کے چار سو روپے پر سارے گھر کا دارومدار آگیا‘ صفیہ نے صحن میں ٹنگا شیشہ اتار کر ٹرنک میں رکھ دیا‘ نہ ہو‘ نہ وہ دیکھے گی اور نہ زندگی کی حسرتیں اس کے ذہن کو خراب کریں گی۔
اس نے اپنے آپ کو ابا کی خدمت کے لیے وقف کردیا‘ صبح شام مالش‘ کھانا پینا‘ دیکھ بھال وہ ایک بار پھرمصروف ہوگئی۔ اماں نے ایک اور گھر پکڑ لیا تھا اب وہ شام کو آتی‘ اس کی دن رات کی خدمت رنگ لائی اور ابا کی حالت سنبھلنے لگی۔ وہ ابا کے پاس بیٹھی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہتی اور سرور کی بند آنکھوں کے کنارے بھیگتے رہتے پھر ایک دن اسی طرح چپ چپ ابا رخصت ہوگیا۔
گھر میں مزید سناٹے اتر آئے‘ اماں نے جو چار پیسے جوڑے تھے سرور کے کفن دفن پر خرچ ہوگئے۔ گھر کی ایک دیوار پر شہنائی ٹنگی رہ گئی‘ ایک دن راشد آگیا‘ صفو کا دل آنکھوں میں آگیا۔ اس شخص نے بہت کھیل کھیلا تھا اس کے ساتھ‘ وہ غصہ اور نفرت سے اسے دیکھتی رہی پھر جانے کیوں بیٹھک کا دروازہ کھول دیا‘ وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ اس نے زبیدہ کو کیوں بھگایا۔ وہ رشتہ لے کر بھی آسکتا تھا‘ ابا کی خواہش بھی پوری ہوجاتی اور جان بھی بچ جاتی لیکن راشد کا جواب اسے حیران کر گیا۔
زبیدہ اس کے ساتھ نہیں بھاگی تھی بلکہ سامنے والے گھر میں جو دودھ دہی والا (گوالا) آتا تھا اس کے ساتھ بھاگی تھی۔ راشد نے بتایا تھا اس کہ شادی ہوگئی تھی اور وہ مارے شرم کے ادھر نہیں آیا تھا‘ وہ شرمندہ تھا کہ اپنے ماں باپ کو اس کے گھر نہیں لاسکا تھا پھر راشد روز آنے لگا‘ صفو پھر سے دیگچی بھر لئی پکانے لگی‘ ٹرنک میں رکھا شیشہ دوبارہ دیوار پر ٹانگ دیا۔
نیامتے نے سب دیکھا پر خاموش رہی‘ وہ اب بولتی ہی نہ تھی۔ سرور کے بعد جیسے اس کی ساری حسیں ہی مر گئی تھیں‘ بس ایک کام کرنا وہ نہیں بھولتی تھی دیوار پر ٹنکی سرور کی شہنائی کو دن میں دوبار ضرور صاف کرتی اور ایسے میں اس کی آنکھ سے ٹپکنے والے وہ دو آنسو گویا اس کی حسرتوں بھری زندگی کے ترجمان ہوتے‘ پھر ایک دن زبیدہ لوٹ آئی‘ لٹی پٹی‘ ویران حلیہ‘ اجاڑ شکل‘ نہ ان دونوں نے کچھ پوچھا نہ اس نے بتایا۔
سارا دن چپ خلائوں میں گھورتی رہتی‘ صفو روٹی اس کے آگے رکھ دیتی‘ وہ کھالیتی‘ نہ رکھتی تو مانگتی بھی نا۔ اس روز وہ راشد کے لیے شربت کا گلاس لے کر جارہی تھی کہ زبیدہ نے روک لیا‘ اس کی چپ ٹوٹی تھی۔
’’صفو باجی… تجھے راشد نے ابھی تک ویٹنگ روم میں بٹھا رکھا ہے؟ یہ ساری عمر تجھے یہیں بٹھائے گا‘ جھوٹی محبت کے دعوے کرے گا پر تجھے بیاہنے نہیں آئے گا۔ اس بوسیدہ ٹاٹ کے دروازے کو کوئی عبور نہیں کرے گا‘ یہاں بیوپاری تو آسکتے ہیں طلب گار نہیں۔‘‘ جانے کس بھٹی میں پک کر آئی تھی سیانی ہوگئی تھی اور باتیں بھی پڑھے لکھے لوگوں والی کرنے لگی تھی۔
صفو نے اس کی باتوں پر دھیان نہیں دیا اور شربت کا گلاس لے کر بیٹھک میں آگئی۔ راشد کرسی پر پائوں پسارے بیٹھا تھا‘ گلاس اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ صفو کے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا‘ وہ ہاتھ چھڑانا چاہتی تھی چھڑا نہ سکی۔ راشد اپنی نگاہیں اس پر گاڑھے رہا‘ وہ مٹی کا ڈھیر بنتی گئی اور پھر ذرہ ذرہ ہوگئی‘ اس کی کوئی وقعت نہ رہی۔ برسوں سے سنبھالا وجود ایک منٹ میں خاک ہوگیا‘ وہ کتنی دیر سر جھکائے بیٹھی رہی اور سوچتی رہی اسے راشد کے سامنے بے بس نہیں ہونا چاہیے تھا۔
’’میں کل پھر آئوں گا‘ ہم شادی نہیں کرسکتے‘ محبت سے تو رہ سکتے ہیں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا اور صفو کو اس محبت کی ’’غلاظت‘‘ کا اندازہ ہوگیا تھا‘ راشد جاتے جاتے اس کی مٹھی میں کچھ تھما گیا تھا‘ اس نے مٹھی کھولی سو سو کے پانچ نوٹ تھے۔
’’میں اپنے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں رکھنا چاہتا۔‘‘ اس نے کہا تھا۔ صفو نے ساری زندگی اتنے پیسے نہیں دیکھے تھے‘ زبیدہ نے ٹھیک کہا تھا ’’ٹاٹ کے دروازے کے اندر کوئی بیوپاری ہی آسکتا ہے‘ طلب گار نہیں۔‘‘
وہ اپنا حلیہ درست کرتی باہر نکلی اور نظر بلا ارادہ ہی دیوار کی جانب اٹھ گئی‘ دیوار خالی تھی۔ نیامتے فرش پر بیٹھی تھی‘ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں دبے نوٹوں کو دیکھا پھر نیامتے کے ہاتھوں کی طرف‘ بابو بینڈ والے کی شہنائی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close