Aanchal Jul-17

بے مشروط محبت

رفاقت جاوید

کچھ مسرت مزید ہو جائے
اس بہانے سے عید ہو جائے
عید ملنے جو آپ آجائیں
میری بھی عید‘ عید ہوجائے

وہ دونوں گاڑی کا دروازہ کھول کر شان بے نیازی سے باہر نکلے‘ حنا کے دونوں ہاتھوں میں بے شمار تھیلے تھے جو اس کی بھرپور خریداری کی غمازی کررہے تھے۔ وہ لہراتی‘ بل کھاتی دانیال کو ادائیں دکھاتی دلنشین مسکراہٹ کے ساتھ گھر کے دروازے کی جانب مڑ گئی‘ میں ڈرائنگ روم کی کھڑکی میں پردے کی اوٹ سے ان کا جائزہ لے رہی تھی۔ آگے بڑھ کر دانیال نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر سرگوشی کی تو اس نے برا سا منہ بناکر زمین پر زور سے اپنا پیر پٹخا اور سر کو جھٹکا دیا۔ دانیال نے قابل ستائش نظروں سے اسے دیکھا اور ہاتھ کا انگوٹھا اٹھا کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اس اجازت نامے پر وہ اس کی بانہوں میں جھول گئی‘ دانیال نے آگے بڑھ کر دروازے کی بیل پر انگلی رکھ دی۔ میں نفرت و حقارت اور حیرت و صدمے کی کیفیت میں ساکت و جامد کھڑی تھی۔
بیل مسلسل بج رہی تھی‘ جب دروازہ زور زور سے پیٹنا شروع ہوا تو میں ایک دم اس طرف لپکی اور دروازہ کھول دیا‘ میرے منہ سے بے اختیار ایک ہی لفظ نکل پایا۔
’’صبر…‘‘ دونوں لاتعلقی اور بے پروائی سے مجھے نظر انداز کرتے ہوئے کوریڈور کو عبور کرتے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ پل بھر میں میرا چہرہ ساون بھادوں کی جھڑی سے تربتر ہوگیا‘ ان کی دیدہ دلیری‘ بے حیائی اور ڈھٹائی کا یہ ردعمل قطعی غیر متوقع تھا۔ میں نے کمرے میں جانے کے بجائے لائونج میں خود پر قابو پانے میں عافیت سمجھی۔ بیوی اور جیون بھر کا ساتھی ہونے کے ناطے دانیال کی اصالت اور بے حجابانہ وضع قطع کو رد کرتے ہوئے۔
ابھی بھی میں خوش فہمیوں کی دنیا میں کھبتی چلی جارہی تھی‘ احساس کم مائیگی اور بے سرو سامانی نے گردو پیش کے ماحول میں ہولناک وحشت طاری کردی جب دانیال نے باہر جھانکنے کی تکلیف ہی گوارہ نہ کی۔ دو گھنٹے تک میں یک ٹک نگاہیں منجمد کیے سوچ کی گہری وادیوں میں کھوئی رہی‘ پچھتاوا میرے اعصاب پر بری طرح طاری ہوکر میری سبکی کو لعن طعن کی دلدل میں سمو رہا تھا۔ میں اپنی نرم مزاجی‘ مادرانہ اور خواہرانہ لگاوٹ اور انس کو کوستے ہوئے خود کو دنیا کی بے وقوف ترین اور ناقابل فہم عورت تصور کرتے ہوئے دل ہی دل میں واویلا کررہی تھی۔
وقت گزر چکا تھا اور اس بیتے ہوئے وقت کے غلط فیصلے کے بھیانک اشارے لمحہ بہ لمحہ نمایاں ہوتے جارہے تھے۔ بیٹے کے رونے کی آواز پر میں چونک اٹھی اور کمرے میں چلی آئی۔ دانیال کو خواب خرگوش کے مزے لوٹتے دیکھ کر پرمژدگی اور اضمحلال میری نس نس میں سرائیت کر گیا۔ میں نے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوکر عالم آشفتگی میں اپنے کمرے کے تمام بلب روشن کردیئے وہ پھر بھی گہری اور پُرسکون نیند میں ٹس سے مس نہ ہوا‘ میں نے بیٹے کو اٹھا کر کندھے سے لگایا اور ایک ناقدانہ نگاہ دانیال کے چہرے پر ڈالی‘ رنگ وفا کی عبارت مٹ چکی تھی۔ یہ احساس میری اندرونی کیفیت کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے یہ سوچ کر میں نے اپنے دل کو تسلی و تشفی دی‘ مجھے اس رشتہ خصائل شوہر پر ٹوٹ کر پیار امڈ آیا میں نے خود کو شکی اور تھوڑ دلی کا خطاب دیتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں اس کی کشادہ پیشانی پر بوسہ دیا تو وہ نیند کی حالت میں بڑبڑایا جہانی کدھر ہے۔
’’دانیال۔‘‘ میں نے پھر سے بوسہ دے دیا۔ ’’میں جہاں آرا ہوں نا۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ اس نے لاعلمی سے کہا اور آنکھیں موندے بے پروائی سے کروٹ بدلی اور خراٹے بھرنے لگا۔ مجھے ایسے لگا جیسے میرے کان زہر آلود ہوگئے ہوں۔ ’’جہانی کدھر ہے؟‘‘ اس کا یہ سوال کس سے تھا۔
میں نے اپنی منفی اور فہمائشی سوچ کو پھر سے ذہن سے کھرچ کر نکلانے کی کوشش کی ہمیشہ کی طرح خود کو غلط گردانتے ہوئے اس جان لیوا عارضہ سے نجات حاصل کرلی اور سوچنے لگی میں ہر معمولی بات کا بتنگڑ اور مین میکھ نکالنے سے باز کیوں نہیں آتی، نادان اور ناعاقبت اندیش عورت کھو دو گی اپنا سہاگ‘ یہ اپنے راج کا مزہ اور اپنے تاج کی شان و شوکت کو شک و شبہات کی آگ میں جھونک کر دربدر ہوجائوں گی‘ اپنے جنون اور بے کلی پر قابو پاکر تھوڑا سا صبر کرلو کچھ بھی ہونے والا نہیں فتور اور قصور میری سوچ کا ہے میں نے خود کو سمجھا بجھا کر دل کو رنج و کلفت سے پاک کیا اور بیٹے کو سلانے کی کوشش کرنے لگی۔
/…/…/
رمضان المبارک کی شروعات تھی دفتروں میں جانے والے حضرات اپنی ڈیوٹی پر جاچکے تھے‘ طلبا و طالبات اپنی تعلیم کے سلسلے میں گھروں سے رخصت ہوچکے تھے‘ گھروں میں مقیم خواتین بھی اپنی نیند پوری کرنے کے بعد قرآن کی تلاوت میں محو تھیں کہ ایک دم کے جھٹکے نے سب کے دلوں کو خوف و ہراس سے ہلا کر رکھ دیا اپنی حاضر دماغی کے مطابق ہر ایک نے رد عمل کا اظہار کیا خواتین ہکابکا کھڑی کی کھڑی رہ گئیں، کچھ اس شاق میں حواس باختہ ہوکر آہ و فغاں کرنے لگیں… افراتفری کے اس عالم میں زلزلے کا یہ جان لیوا اور روح فرسا جھٹکا آہستہ آہستہ کم ہوتے انجام تک پہنچ گیا مگر دل و دماغ ان ظالم جھٹکوں میں بری طرح مقید تھے اب سب لوگ سڑکوں پر نکل آئے، پیشن گوئیوں اور چہ میگوئیوں کا بازار گرم ہوگیا‘ میری ہچکولے کھاتی ہوئی جنت بھی بغیر کسی زیاں کے ساکت و جامد ہوگئی میں نے قرآن مبارک کو چوم کر بند کیا اور دعائیں مانگتے ہوئے ٹی وی آن کیا سڑک پر عورتوں، بچوں اور مردوں کا ایک شور برپا تھا ٹی وی کے تمام چینل بڑھ چڑھ کر زلزلے کی سفاکی کے بارے میں خبریں دے رہے تھے‘ مظفر آباد کے شمال سے آنے والا یہ زلزلہ بالا کوٹ، باغ، راولا کوٹ، بٹ گرام، مانسہرہ، مری، اسلام آباد کے گرد و نواح میں اپنی تباہی و بربادی کے بھیانک نشان چھوڑ گیا‘ اسی ہزار پیاروں کی ہلاکتیں، دو لاکھ پیاروں کے زخم اور چالیس لاکھ افراد کا بے گھر اور بے دست و پا ہوجانا ہماری قوم کے لیے بہت بڑی آزمائش سامنے آگئی‘ اللہ تعالیٰ نے پاکستانی قوم کی روح میں گردش کرنے والے خون کی حدت و تپش میں جو ہمدردانہ اور برادرانہ جذبہ ڈالا ہے وہ کسی اور قوم میں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے‘ اس کی چشم دید گواہ میں خود ہوں زلزلے کے چند دن بعد میں اپنی بساط کے مطابق زلزلے کی زد میں آنے والے لوگوں کی امداد کے لیے بالا کوٹ پہنچ گئی، میں اخلاص و اتحاد کی مثال دیکھ کر ششدر رہ گئی پُر فضا میدانوں میں نصب کیے گئے خیمے ایک ترتیب سے کھڑے کردیے گئے تھے‘ تباہ شدہ سڑک کے دونوں جانب امدادی کیمپ اپنی خاطر جوئی ہمدردی اور یگانت میں گریہ و زاری کرنے والے افراد کی بھرپور خبر گیری اور غم خواری کی منہ بولتے تصویر بنے ہوئے تھے‘ میں نے بھی رحمتوں اور محبتوں کے اس سمندر میں اپنی طرف سے ایک قطرے کا اضافہ کردیا میں بالا کوٹ سر زمین بوس وسیع و عریض گھروں، بازار اور دلکش مناظر میں تعمیر شدہ ہوٹلوں کو حسرت و یاس سے دیکھنے لگی، پہاڑوں پر آباد یہ شہر رات کو پرستان کا سماں پیش کیا کرتا تھا‘ وادی میں بہتے ہوئے دریا میں روشنی کے قمقموں کا عکس عاشقوں کے دلوں میں نئی امنگیں اجاگر کرنے کو کافی تھا‘ شاعروں کا قلم اور زبان بھی اس قدرتی حسن و جمال سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے وہاں کے اکابر و شرفا اپنی زیست کا ہر ساعت عیش و آرام کے انداز میں بسر کررہے تھے۔
یہاں کا ذریعہ معاش تسلی بخش نہ ہونے کی وجہ سے جوان پود بیرونی ممالک سے پیسہ کما کر بالا کوٹ کو شاندار بنانے میں اہم کردار ادا کررہی تھی، متوسط طبقہ غربا و مفلس سب بڑے پُرسکون اور مطمئن نظر آتے تھے‘ آج پہاڑوں پر بنے ہوئے خوب صورت کھر دریا کی نذر ہوچکے تھے وہ ہوٹل جس پر ہم کھڑے تھے غالباً ہوٹل کی سب سے بالائی چھت تھی باقی حصہ زمین میں دھنس کر عبرت کا سماں پیش کررہا تھا‘ بے شمار درخت جڑوں سمیت اکھڑ کر دریا کے بہتے پانی کو روکے ہوئے تھے‘ نسواری رنگ کے کھردی اور ناہموار چھال والے تناور اخروٹ کے شجر بھی اپنی تمام تر خوب صورتی کھو چکے تھے عورتیں گاگریں اور بالٹیاں اٹھائے دریا سے پانی لاکر خیموں میں جمع کررہی تھیں کچھ عورتیں دریا کے کنارے سمٹی سمٹائی کپڑے دھونے میں مگن ایک دوسرے سے گریہ وزاری کررہی تھیں‘ سردار خاندان کا ایک بہت بڑا محل نما گھر پہاڑی کی چوٹی پر بے حد محنت و شوق سے بنایا گیا تھا کروڑوں کی مالیت کا یہ گھر ان گنت کمروںِ، برآمدوں اور دلانوں پر مشتمل تھا اس خاندان کا ہر جوان فرد لندن میں رہائش پزیر تھا وہ یہاں صرف چھٹیوں میں عیاشی کرنے تشریف لاتے تھے انہوں نے یہاں اپنا نام اپنی پہچان اور اپنے خاندان کی ناک اونچی رکھنے کے لیے یہ گھر بنانے میں بے دریغ پیسہ خرچ کیا تھا اب اس کا نام و نشان بھی نہ بچا تھا‘ بس ایک عام پہاڑی کی چوٹی تھی بوسیدہ اور اجڑی ہوئی۔ بازار کی تمام دکانیں ملبے کا ڈھیر اور پُل جو دوسری سڑک کو ملاتا تھا سلامت تو تھا مگر اس کے ستون بری طرح ہل چکے تھے، لمبی چوڑی خوفناک دراڑیں نمایاں تھیں اس پل کو عبور کرنے کے لیے بیک وقت ایک گاڑی کا گزر ہوتا تھا۔
انسان و حیوان ابھی تک ملبے کے نیچے ہی دبے تھے‘ انہیں نکالنے کی کوششیں جاری تھی تو یہ کیا عبرت کا سماں تھا۔ میں پُرملال اور پُرآشوب ہوتی ایک خیمے میں چلی گئی وہاں چند عورتیں حسرت و یاس کی تصویر بنی بیٹھی تھیں میرے پاس انہیں تسلی و تشفی دینے کے الفاظ نہ تھے… انہوں نے مجھے چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھالیا اور چائے کا پوچھا ان لوگوں کی مہمان نوازی ان حالات میں بھی برقرار تھی میں نے شکریہ کہہ کر انہیں تسلی دی‘ سب اپنا اپنا دکھڑا رونے لگیں کسی کا بیٹا‘ کسی کا خاوند‘ کسی کا پورا گھرانہ یعنی سب اپنے متعلقین کی بابت بتانے لگیں‘ زندگی کس قدر پژمردگی اور افسردگی سے ہمکنار تھی کہ دل رنج و الم میں مقید ہوکر رہ گیا تھا‘ وہاں کے اسکول کی ایک استانی زندہ بچ گئی تھی وہ بھی اسے خیمے میں موجود تھی آنسو صاف کرتے ہوئے گویا ہوئی میڈم قرآن مجید میں جس تباہی کا ذکر آیا ہے وہ ان قوموں پر آئی تھی جو بدکار تھے‘ بے انصاف، لوطی، ظالم اور زنا کار تھے کیا ہم ایسے گناہوں کے مرتکب ہیں یہ راز اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہماری ظاہری اور باطنی برائیوں سے وہ بخوبی واقف ہے‘ ہڑپہ اور موہن جودڑوں کے کھنڈرات ظلم کی داستان پیش کرتے ہیں لمحہ فکر ہے‘ وقت توبہ ہے۔ آس پاس بیٹھی ہوئی تمام عورتوں کی ہچکیاں ماحول کو مزید سوگوار اور المناک بنانے لگیں۔
’’ہم کسی قسم کا بذات خود فیصلہ کرنے کے سزاوار نہیں ہیں‘ میں نے نرمی سے کہا بعض اوقات ایمان کی استقامت اور صداقت پرکھنے کے لیے بھی تو قوموں پر آزمائش آجاتی ہے یہ آزمائش ہمت حوصلے اور صبر سے ضرور لوٹ جائے گی بے شک ہمارے پیارے کبھی واپس نہ پلٹیں گے‘ ہمارے اجڑے ہوئے گھر پہلے کی طرح آباد ہونے میں کچھ وقت لگے گا‘ ہم نے اپنی سوچ کو مثبت رکھ کر اپنے یقین و ایمان کو بتدریج مستحکم بنا کر باری تعالیٰ کے حضور پر ضرور حاضر ہونا ہے زوال کے بعد عروج کا بول بالا ہوا کرتا ہے ہمیں بھلے کی امید رکھنی چاہیے۔‘‘
میری گفتگو کے ہر انداز میں بے پناہ شناسائی اور اپنائیت عود کر آئی تھی میری عاجزی و انکساری سے مرعوب ہوکر وہ مزید حال دل سنانے لگیں شام کے سائے تاریک ہوتے ایک بھیانک منظر پیش کررہے تھے مائیں اپنی جوان بچیوں کو خیموں سے باہر نکلنے پر پابندی لگانے لگیں اور بچوں کو اپنی آغوش میں بھر کر مطمئن ہوگئیں لڑکے گروہ کی صورت میں باہر بیٹھے کھانے کے منتظر تھے‘ فضا میں خنکی بڑھتی جارہی تھی گردو پیش کے ماحول میں خیمے سنگ مرمر کی مانند چمکتے اپنے ہونے کی خبر دے رہے تھے‘ موم بتی کی ٹمٹماتی ہوئی لو سردی کی شدت، خیموں میں ٹپکتے ہوئے آب باراں کے قطرے شکم اسیری سب کچھ ہی تو جان لیوا تھا مگر قوم کا دھرتی کی مانند وسیع و کشادہ دل اور ہمدردانہ سوچ اس تاریکی اور دھندلکے کو بتدریج کم کرنے میں کوشاں تھی‘ آبادی کے اس ریلیف ورک میں لوگوں کا جوش موافقت قابلِ فخر اور قابلِ ستائش تھا نہ یہاں آرائش و زیبائش تھی‘ صرف زندہ رہنے کی تگ و دو جاری تھی۔ پھر بھی اس ماحول و فضا میں ایک نشہ تھا یہ آس اور امید کا سخر تھا واسطہ فقط اللہ کی ذات سے تھا مجھے معاً واپسی کا خیال آیا میں نے عالم سراسیمگی میں خود کا جائزہ لیا خیموں میں کھانا تقسیم کرتے کرتے میری حالت کافی غیر ہوچکی تھی میں نے سب کو اللہ حافظ کہا اور اپنی گاڑی کی طرف چل دی ڈرائیور کی گزارش پر مجھے ایک خیمے میں رات گزارنا پڑی کیونکہ اس وقت سفر کسی بھی حادثے کی نظر ہونے کا اندیشہ تھا اس کے ٹھوس جوازکے سامنے میں نے وہاں رات قیام کرنے میں عافیت سمجھی ایک ٹرسٹ ادارے کے خیمے میں، میں نے شدت کی سردی رات کی تاریکی، عورتوں کی آہ و بکا اور بچوں کے مسلسل رونے کی آوازوں میں، میں نے رت جگا منایا اور میری زندگی کے تجربات میں اس انوکھے ناقابل فراموش تجربے کا اضافہ ہوگیا۔
/…/…/
میں بقرہ عید کے موقع پر مصیبت زدگان کے لیے تحائف، نئے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان لے کر بالا کوٹ پہنچ گئی کیونکہ عید کا تہوار ان لوگوں کے ساتھ منانے میں مجھے جو دلی طمانیت ملتی وہ گھر میں کہاں… میں تقریباً تین مہینوں کے بعد آئی تھی‘ خیمہ گاہوں میں لوگ کافی حد تک آرام و سکون سے رہائش پزیر تھے‘ ہر خیمے میں ضروریات زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں موجود تھیں‘ ہر خیمے کے باہر اٹھتا ہوا دھواں ان کے کھانا پکنے کی گواہی دیتا ہوا مجھے بے حد بھلا لگا‘ بازار میں بھی چھوٹے پیمانے پر کاروبار جاری تھا اِدھر اُدھر خردہ فروش بھی اپنی مخصوص آواز میں بولتے ہوئے توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے‘ خیموں کے آس پاس مرغیاں کُوکُو کرتیں اور بکریاں مِیں مِیں کرتی ماحول میں فطری موسیقی کا حصہ بنی ہوئی تھیں‘ دریا کے بہائو کی شل شل فضا کو مسحور کررہی تھی‘ خیمہ گاہوں میں کریانے اور جنرل مرچنٹ کی چھوٹی چھوٹی دکانیں کھل چکی تھیں‘ سورج پہاڑوں پر سونا بکھیرتا ہوا چار سو اپنا حسن بانٹ کر لوگوں کو محظوظ کررہا تھا۔ میں نے سکون سے لمبی سانس لی اور پھر سے اِدھر اُدھر کا ہر زاویے سے جائزہ لینے لگی یک دم میں چونک اٹھی ایک زمین بوس گھر کے ملبے کی آڑ میں ایک نیا خیمہ نصب تھا اس گھر کے تمام مکین عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف جاچکے تھے گھر کا تمام اثاثہ تباہ و برباد ہوچکا تھا اس گھر کا ملبہ جوں کا توں پڑا تھا آج اس گھر کے احاطے میں خیمہ دیکھ کر مجھے تجسس کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ اس کنبے کا کوئی تو والی وارث نمودار ہوا‘ میں نے خیمے میں داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کی ایک پینتیس سالہ خاتون ہاتھ میں قرآن اٹھائے بازو میں تسبیح ڈالے وارد ہوئیں چہرہ مایوسی و اداسی کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، میں نے احتراماً سلام پیش کیا تو اس نے مودبانہ انداز میں جواب دیا اور اندر آنے کا اشارہ کیا خیمے کے فرش پر دری اور اوپر قالین بچھا ہوا تھا ایک طرف تین اٹیچی کیس رکھے ہوئے تھے‘ لوہے کی ایک چارپائی پر صاف ستھرا بستر بچھا ہوا تھا اور لال رنگ کی مخملیں رضائی رکھی ہوئی تھی اس نے رضائی کو ایک طرف کیا اور مجھے بیٹھنے کو کہا خاتون اپنے نین نقش اور طرز و ڈھنگ سے پڑھی لکھی اور کھاتے پیتے گھرانے کی معلوم ہورہی تھی‘ اس نے قرآن مجید کو چوم کر بند کیا اور خود پر پھونک مار کر میری طرف متوجہ ہوئی۔
’’آپ کہاں سے تشریف لائی ہیں۔‘‘
’’اسلام آباد سے۔‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔
’’سوشل ورکر لگتی ہیں آپ۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’بس یوں ہی سمجھ لیں۔ آپ سب کے ساتھ عید گزارنے آئی ہوں۔‘‘ میں نے نہایت ملائمت سے کہا اور بیگ سے ایک لفافہ جس میں ایک ہزار کا نوٹ تھا اور پلاسٹک کے تھیلے سے ایک پیکٹ نکالا جس میں گرم شال تھی میں نے قدرے لجاجت سے اس کی طرف بڑھایا۔
’’مجھے یہ سب کچھ قطعاً نہیں چاہیے ضروریات زندگی کو جتنا طول دینا چاہیے اس کی کوئی انتہا نہیں ہوسکتی گزارے کے لیے میرے پاس سب کچھ موجود ہے یہ آپ کسی حاجت مند کو دے کر ثواب حاصل کریں۔ آپ نے برا تو نہیں منایا۔‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’ہرگز نہیں میں آپ کی انا اور خودداری کو مجروح نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مقصد آپ کو عید کا تحفہ پیش کرنا تھا۔‘‘ میں خجل ہوکر بولی۔
’’مقصد بہت اعلیٰ اور قابل آفرین ہے۔‘‘ وہ تھوڑی سی جزبز ہوگئی لرزش زدہ آواز میں خفگی کے بجائے ہلکی سی ندامت کی رمق موجود تھی۔
’’سردی کی شدت میں چائے کیسی رہے گی۔‘‘
’’بہترین۔‘‘ میں نے ذرا مسکرا کر کہا کیونکہ میں اس کے پاس وقت گزارنا چاہتی تھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کرکے اس کے دکھوں اور محرومیوں کا مداوا کرنا چاہتی تھی وہ اس ملبے کے ڈھیر پر بے یار و مددگار رہنے والی شخصیت نہ تھی اس کی ہستی کا اپنا ہی فسوں تھا ظاہری زندگی اور حالت کے مہیب خلا نے مجھے حیرت و تجسس میں ڈال دیا بہر نوع میں نرم گداز بستر پر بیٹھ گئی اور نہایت اپنائیت سے بولی۔
’’کیا میں آپ سے یہ سوال کرنے کی جسارت کرسکتی ہوں کہ آپ کا اس تباہ شدہ گھر سے کیا تعلق ہے۔‘‘
’’یہ میرا میکہ ہے‘ دوسرے لفظوں میں دھرتی کی جنت الفردوس اس کے کھنڈرات میں بھی بے پناہ سکون اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔‘‘ چہرے پر اعتماد اور بھروسے کی ایک لہر دوڑ گئی۔
’’آپ کا سسرال…؟‘‘ میں اسے گمبھیر باتوں میں الجھانا نہیں چاہتی تھی چند الفاظ مجھے اس کی زندگی کے نشیب و فراز تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکتے تھے تو میں طولانی تمہید میں کیونکر پڑوں میں نے اس کی شخصیت کے کچھ پہلو کو تھوڑی ہی دیر میں پرکھ لیا تھا۔
’’فیصل آباد۔‘‘ جواب پنا تلا سن کر میں نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’تو پھر یہاں رہنے کا مقصد؟‘‘
’’باز پرس کرنے اور میری زندگی کے حالات کو کریدنے سے مجھے رتی پھر طمانیت یا تسکین حاصل نہیں ہوگی بلکہ یہ میری عزت نفس پر بھاری ضرب ہوگی۔‘‘ وہ نہایت رکھائی کے انداز میں بولی تو میں کھسیانی سی نہایت پشیمان مسکراہٹ سے اپنی ندامت کو چھپاتے ہوئے بولی۔
’’میں آپ کے پاس زخموں پر مرہم رکھنے آئی ہوں نہ کہ ان پر نمک چھڑکنے مجھ پر بھروسہ رکھیں۔‘‘ وہ کچھ نہ بولی اور اٹھ کر چائے کی کیتلی اٹھا کر باہر نکل گئی میں بھی اس کے پیچھے ہولی اخروٹ کے تندرست تنے کے ساتھ اینٹوں کے چولہے میں اس نے گیلی لکڑیوں اور سوکھے تنکوں کو جوڑ کر ماچس سے آگ جلانے کی کوشش کی کبھی پھونکوں سے کبھی گتے سے ہوا دے کر آخر اس نے ایک شعلے میں جان ڈال دی۔ کھولتا ہوا پانی مگ میں ڈال کر اس نے اس میں ٹی بیگ ڈالا اور پائوڈر ملک ڈال کر خیمے کے اندر آگئی چائے کے ساتھ اس نے بسکٹ کا ڈبہ کھولا اور بے حد لگاوٹ سے مجھے تھمایا بس اسی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔
’’اس کڑوے دھوئیں نے آپ کی آنکھوں کو کس قدر سرخ کردیا ہے ریلیف فنڈ سے چولہے اور مٹی کا تیل ہر خیمے کو فراہم کیا گیا ہے آپ تک کیوں نہیں پہنچا؟‘‘ میں نے قدرے ہمدری سے کہا۔ ’’یہ دھواں پھپھڑوں کے لیے مضر ہے۔‘‘
’’میں ریلیف فنڈ سے کچھ بھی لینے کے حق میں نہیں ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیٹ پالنے کی استطاعت بخشی ہے میں نے اپنے نوکر کو چیزوں کی فہرست بنا کر آپ کے شہر بھیجا ہے شام تک ضروریات کی ہر چیز اس خیمے میں موجود ہوگی یہ پریشانی یہ آزمائش وقتی ہے ان شاء اللہ اپنے والدین کے گھر کو پھر سے آباد کرلوں گی یہ میری عزت ہے یہی میرا نام ہے۔‘‘ لہجہ مستحکم تھا۔
’’زندگی سے انصاف برتنا اسی کو کہتے ہیں نور جہاں میں آپ کو سلامی پیش کرتی ہوں آپ کی ہمت و حوصلے اور حقیقت پر مبنی سوچ پر میں سچ مچ ایک عورت سے سبق سیکھ رہی تھی‘ دلیری اور بہادری کا اﷲ نے ہمیں اس دنیا میں رونے پیٹنے کے لیے نہیں بھیجا اس نے ہمیں حسین مکمل اور بھرپور بنا کر اس دنیا کو سوارنے اور سجانے کے لیے پیدا کیا ہے یہی ہمارا شکرانہ ہے اس کی رحمتوں اور نعمتوں کا۔‘‘ میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہی۔
’’مجھے نیکی کرنے اور اس کے بہترین اجر پر پورا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ انسانی نیت اور اعمال کے مطابق بخشش فرماتا ہے آپ سکون قلب اور روح تسکین کی خاطر خدمت خلق کے لیے اتنی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کررہی ہیں نا، جو طرز زندگی آپ نے تعین ہے وہ پچھتاوے یا کسمپرسی کی راہ نہیں آپ اس پر دن بدن بڑھتی جائیں گی میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ جب بھی بالا کوٹ تشریف لائیں مجھ سے ملے بغیر واپسی کا سوچنا بھی ناقابل معافی ہوگا۔‘‘ اب وہ مسکرا رہی تھی میں نے اس کی اس تبدیلی پر دل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے نور جہاں میں نے بالا کوٹ میں آپ جیسی سمجھدار عورت نہیں دیکھی‘ آپ جیسی باہمت عورتیں ایک کامیاب معاشرے کو جنم دیتی ہیں آپ نے اس گھر کو آباد کرنے کے ساتھ خدمت خلق کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘
’’گلیوں میں کھیلنے والے یتیم بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کا پروگرام بنا رکھا ہے دیکھتے ہیں کب تک پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی تو میں اسے ہکابکا دیکھنے لگی۔ میری ہستی اور میری ذات اس کے سامنے کس قدر حقیر و ناتواں لگ رہی تھی۔ میں نے ایسا منصوبہ بنانے کا کبھی سوچا بھی نہ تھا میں نے تو ان یتیم بچوں کو تحائف دے کر اور کھانے کھلا کر بھکاری بننے کی تربیت دی ہے اس احساس نے میرے دنوں کا چین اور راتوں کا سکون غارت کردیا تھا۔ نور جہاں میرے ہوش و حواس پر بری طرح مسلط ہوچکی تھی اعصابی جنگ نے میرے تن اور من کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا‘ میں نور جہاں کے ساتھ ہی خیمے میں راتیں گزارنے لگی اس کی باتوں کی چاشنی اور تعمیرانہ سوچ نے میری خدمات کا انداز ہی بدل ڈالا تھا اب میں بچوں کو کتابیں کاپیاں، تختی و سلیٹ کا تحفہ دیتی تھی نور جہاں نے دوسرے خیمے میں بچوں کو پڑھانا شروع کردیا تھا۔ بالا کوٹ میں میرا نام ملبے کے ڈھیروں کے نیچے مدفن ہوگیا اور ہر طرف میڈم نور جہاں کا نام گونجنے لگا‘ جس کی سب سے زیادہ دلی خوشی مجھے ہوا کرتی تھی مگر اب بھی مجھے اس کے بیتے ہوئے ماضی کو جاننے کی ہمت نہ ہوئی تھی گو کہ وہ میرے بہت قریب تھی میں کبھی کبھار سوچ میں پڑجاتی عورت ذات تو پیٹ کی بڑی ہی ہلکی اور جذباتی گردانی جاتی ہے نور جہاں کس گوشت پوست و خون پانی سے بنائی گئی ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی جدائی میں نہ آہ و فغاں کرتی ہے نہ اپنے سسرال کے بارے میں کوئی گلہ و شکوہ کرتی ہے۔
مجھے اس حد تک علم تھا کہ اس کے دو بچے ہیں‘ خود ہوم اکنامکس کالج سے گریجویشن کی تھی‘ میاں نے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں ماسٹر کیا تھا اور اب فیصل آباد میں اپنی ذاتی کمپنی کا مالک تھا۔ میں نے اپنے ذہن میں ان کی کہانی مکمل طور پر گڑ رکھی تھی شادی دونوں فریفین کی پسندیدگی کو مدنظر رکھ کر کی ہوگی‘ ذہنی مطابقت اور موافقت میں شادی کے دس سالوں میں دو بچے بھی پیدا ہوگئے وغیرہ وغیرہ یہاں وہ سب کچھ چھوڑ کر کیوں آبسی؟ کہانی یہاں آکر رک جاتی اس کا اپنا گھر بار پیار کرنے والا شوہر اور معصوم بچوں کو چھوڑ کر یہاں خدمت خلق کو پیش نظر رکھ کر سکونت اختیار کرلینا ایک بہت بڑا معمہ تھا جو حل نہ ہورہا تھا میں غیر شادی شدہ تھی میں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کے لیے وقف کردیا تھا کیونکہ ازدواجی زندگی کی ان گنت ذمہ داریوں کے سنگ میں حاجت مندوں سے انصاف نہ کرپاتی، میرے لیے بامعنی فائدہ مند زیست گزارنے کا یہ ڈھنگ ہر ذمہ داری سے اہم تھا مگر نور جہاں پر اس کی اپنی خاندانی ذمہ داریاں خاص اہمیت حاصل تھیں میں ہر دفعہ کوشش کے باوجود اس سے کچھ نہ پوچھ پاتی کیونکہ میں اسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی۔ ہم خیال ہونے کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے کی رفاقت میں بے پناہ سکون ملتا‘ ہماری تمام باتیں اپنی ذاتیات سے ہٹ کر معصوم یتیم بچوں اور جوان بیوہ عورتوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے منصوبوں کے ارد گرد محو گردش رہتیں جن کو ریلیف اداروں کی مدد سے ہم عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں تھیں۔
آج کی شام قدرے گرم اور خشک تھی نور جہاں بھی خلاف توقع چپ سادھے بیٹھی خلائوں میں گھور کر کسی مسئلے کو سلجھانے کی کوشش میں تھی میں خاموشی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھائو کا جائزہ لے رہی تھی آنسوئوں کو پینے اور چھپانے کی کوشش نے اس کے چہرے کے رنگ کو مزید سرخی بخش دی تھی مجھ سے رہا نہ گیا میں اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ گئی اس نے ذرا سی جنبش کی اور پھر کہیں سوچوں میں کھو گئی چند ثانیے گزرنے کے بعد میں نے اسے جھنجوڑ دیا۔
’’نور، کیا مسئلہ ہے۔‘‘ میں نے بے کلی سے کہا۔
’’کوئی خاص نہیں۔‘‘ وہ بے پروائی سے بولی۔
’’نور، تم مجھے نہیں بتائو گی تو میں خفا ہوجائوں گی اور آج کے بعد تمہاری طرف کبھی رخ نہیں کروں گی۔‘‘ میں خفگی سے بولی۔
’’کیوں مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے کیا؟‘‘ وہ بے چین ہوگئی۔ ’’مجھے تنہا چھوڑ دو گی…‘‘
’’ہاں۔‘‘ میں نے غصہ دکھایا۔
’’تو سہارا کیوں دیا تھا اگر انجام یہ ہونا تھا تمہارا قصور نہیں دنیا نام ہی اسی کا ہے تم بھی مجھے چھوڑ دو مجھے سب نے چھوڑ دیا تو کیا میں مر گئی ہوں‘ زندہ ہوں نا تمہارے بغیر بھی مجھے کچھ نہیں ہونے والا۔‘‘ وہ تقریباً چیخ اٹھی۔
’’تم اپنی ذات میں گم رہنے والی ہستی ہو تم نے اپنے گرد و پیش جو حصار بنا رکھا ہے‘ اس سے باہر نکل آئو میری جان تمہاری ازدواجی زندگی میں ایسا کون سا گھنائونا اور جان لیوا حادثہ پیش آیا ہے کہ تمہیں مجھ سے شیئر کرنے میں سبکی محسوس ہوتی ہے۔ ایسی کون سی غلطی سرزد ہوئی ہے تم سے کہ تم اس غلطی کو ماننے سے کترا رہی ہو‘ بتائو مجھے نور جہاں شاید میں تمہارے دل کے بوجھ کو ہلکا کرسکوں۔‘‘ میں بھی چیخ اٹھی۔ ’’میں غیر کی غیر ہی رہی باہر جا کر تمہارا ڈھونڈورا پٹوا دوں گی تمہیں زمانے بھر میں بدنام کردوں گی یہ ہے مجھ پر بھروسہ لعنت ایسی دوستی پر۔‘‘
’’میں نے ہمیشہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں میں دلچسپی لی ہے‘ اچھے برے کی فکر کی ہے‘ میں اپنی ذات سے لاتعلق اور ناآشنا رہ کر دوسروں کی رہنمائی کرتی رہی‘ اپنے شوہر سے وفاداری اپنے بچوں سے کبھی نہ ختم ہونے والی بے لوث محبت ان پر چھڑکتی رہی مگر کسی نے قدر نہ جانی۔ اس قلیل مدت میں میں نے آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا میرا آپ کو روکنے کا کوئی حق نہیں، میں نے زندگی میں جس بے عزتی اور بے حرمتی کا سامنا کیا ہے اس کے مقابلے میں تمہارا خفا ہوکر مجھے چھوڑ جانا قطعاً تکلیف دہ نہ ہوگا جب ڈاکٹر مریض کو کینسر کی بیماری کی اطلاع دیتا ہے تو مریض ہونے والے سر درد کو یکسر فراموش کردیتا ہے جو اسے ہر وقت نڈھال رکھتا ہے یہ تنہائی، خاموشی اور دنیا سے لاتعلقی مجھے ہرگز مضطرب نہیں کرتی‘ میرے دکھوں کے سامنے سب کچھ ہیچ ہے‘ حقیت وہ ہے جس سے میں بھاگ آئی ہوں‘ سچائی وہ ہے جسے میرا دل ماننے سے انکار کرتا ہے۔‘‘
طولانی گفتگو کے بعد وہ کمزور پڑ گئی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھڑی لگ گئی اس ناگہانی اور غیر متوقع انقلاب پر میں دہل گئی۔
’’اطلاعاً عرض ہے اپنا گھر، شوہر اور بچوں کے ساتھ زندگی گزارنے کی راہ نکالی جائے تو اسی میں ہمارا مفاد ہے، میں تمہاری ان نیلی حسین آنکھوں میں ایک آنسو بھی دیکھنے کی رو داد نہیں ہوں کان کھول کر سن لو۔‘‘ میں نے اپنائیت سے اس کا کان کھینچا تو وہ مسکرا دی۔
’’میں صرف مسکراہٹ سے ٹلنے والی نہیں ہوں مجھے اپنا مسئلہ تو بتائو نا میری جان۔‘‘
’’اپنی ناسمجھی اور بے وقوفی کی داستان سناتے ہوئے مجھے شرمندگی کا احساس ہورہا ہے۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’بڑے بڑے پختہ مغز لوگ حالات کی گرفت میں پھنس جاتے ہیں‘ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو ہوش میں آتے ہیں اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے مگر ہم محض پچھتاوے پر اکتفا کرنے والی خواتین نہیں ہیں ہم نے کامرانی، شادمانی کی راہ کی کھوج لگانی ہے۔‘‘ میں اسے لاڈ اور دلار کرنے لگی تو اس نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا اور تشکر آمیز آواز میں بولی۔
’’یہ میری نیکیوں کا اجر ہی تو ہے جو مجھے تم جیسی ہمدرد اور غم گسار دوست میرے گھر کے دروازے پر مل گئی۔‘‘ وہ پوری طرح مراقبے سے باہر نکل آئی تھی اس کے مشتعل اور مضحمل اعصاب پر اس کی دل نوازی اور دلاسہ تاثر چھوڑے بغیر نہ رہ سکا میں نے اعتماد اور پیار سے لبریز لہجے میں کہا۔
’’ذرہ نوازی کا شکریہ تم بے فکر رہو، مسئلے کا حل ڈھونڈتے ہیں کوئی مسئلہ ناقابل حل نہیں ہوتا۔‘‘ میرا انداز اس کے دل کو کریدنے والا تھا۔
’’یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ہوم اکنامکس کی اسٹوڈنٹ تھی میں اپنی سہیلیوں کے ہمراہ پرل کانٹینینٹل میں پینٹنگز کی نمائش پر ہال میں خوب صورت شاہکاروں کو دیکھ کر لطف اندوز ہورہی تھی‘ انجانے میں میرا ہینڈ بیگ نیچے گر گیا دانیال میرے پیچھے ہی کھڑا تھا اس نے چپکے سے بیگ اٹھایا اور مجھے بتائے بغیر میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا میں نے نوٹس ہی نہ کیا کہ ایک نا آشنا ہر جگہ میرے ساتھ کیونکر چپکا ہوا ہے‘ جب میں ہال سے باہر نکلنے لگی تو وہ ایک دم سے میرے سامنے آگیا میں اس کے ہاتھ میں اپنا پرس دیکھ کر چونکی۔ یہ آپ کے پاس کیسے۔‘‘
’’محترمہ بندہ پچھلے دو گھنٹوں سے آپ کی شرف غلامی پر نازاں ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر شرارت تھی مجھے اس کی اس حرکت پر معمولی سا غصہ بھی آیا مگر ندامت بھی در آئی میں نے ممنونیت سے شکریہ کہتے ہوئے پرس اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’آئی ایم سوری۔ نجانے یہ کب میرے ہاتھ سے نکل گیا۔‘‘
’’آپ کا قصور نہیں‘ یہ لڑکیاں ایک طرف متوجہ ہوتی ہیں تو پھر گرد و پیش کی خبر تک نہیں رکھتیں‘ میں دو گھنٹے سے پرسنل گارڈ کی مانند مستعدی سے پرس کو رائفل تصور کرتے ہوئے ایک وفادار اور احسان مند محافظ بنا ساتھ ساتھ چل رہا ہوں محترمہ کو علم تک نہ ہوا کس دنیا میں رہتی ہیں ان مصنوعی قوس و قزح کے رنگوں سے باہر جھانک کر دیکھیں دنیا کے حقیقی رنگوں میں بے پناہ حسن ہے۔‘‘ وہ شوخ انداز سے بول رہا تھا۔
’’مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس نے آغاز گفتگو کا یہ رستہ نکالا ہو مجھے اس کی بے تکلفی پر رتی بھر اعتراض نہ ہوا اپنے نسوانی وقار اور عزت نفس کو معمولی سا دھچکا ضرور لگا تھا میں معذرت خواہانہ لہجے میں گویا ہوئی تھی… میں تہہ دل سے آپ کی شکر گزار ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے آپ کے شکرانے کو ہم قبول کرلیتے ہیں آئندہ کے لیے بھی یہ پرسنل گارڈ آپ کے تحفظ کے لیے باوردی تیار ملے گا۔‘‘ اس نے اپنا کارڈ میری طرف بڑھایا تو میں نے مروتاً لرزش زدہ ہاتھوں سے اسے پکڑ لیا اور وہ پل بھر میں بھیڑ میں غائب ہوگیا مجھے کچھ کہنے کا موقع دینا اسے مناسب نہ لگا تھا کم از کم مجھے ماہر وکیل کی طرح کچھ تو اپنے بارے میں صفائی پیش کرنے دیتا عجیب انسان ہے میں نے بے نیازی سے سر جھٹکا اور دور کھڑی منتظر سہیلیوں کی طرف چل دی جو آپس میں کھسر پھسر کررہی تھیں۔
’’یہ کون عاشق تھا ذرا ہمیں بھی تو بتائو بڑی چھپی رستم نکلی ہو۔‘‘ ایک سہیلی نے چھیڑا جو مجھے بہت برا لگا میں نے غصے سے کارڈ کے ٹکڑے کیے اور خاموشی سے چل دی۔
’’میرا خیال ہے پہلا تجربہ ہے بیچاری کا کوئی بات نہیں اسے عادت ہوجائے گی آج بچ گئی ہے کل پھنس جائے گی، مگر یاد رکھنا یہ من مندر کے دیوتا تو بن سکتے ہیں مگر شوہر بننے سے کتراتے ہیں۔‘‘ سہیلی کی یہ بات سن کر غصہ میرے انگ انگ میں سرائیت کر گیا اعصاب بری طرح شکنجے میں جکڑ گئے میرے لہجے میں زہر گھل چکا تھا میں اول فول بکنے لگی سب خاموش ہوگئیں اسی بدمزگی کے عالم میں‘ میں ہاسٹل پہنچ گئی اور کئی ہفتوں تک اپنی اس بے عزتی پر نالہ شب گیر رہی کیونکہ میری جس ماحول میں پرورش ہوئی تھی جس فضا میں پروان چڑھی تھی اس کی چھاپ مجھ پر لگ چکی تھی مجھے اپنی شناخت اور اپنی ذات کی پہچان کا بنیادی ہتھیار جو ماں کی طرف سے ملا تھا وہ عزت نفس ہی تو تھی اب میری سہیلیوں کی حتی الامکان یہی کوشش رہتی کہ وہ مجھ سے اس موضوع پر کسی قسم کی چھیڑ خانیوں سے پرہیز کریں میرا وطیرہ اور ڈھنگ دیکھ کر کتنی لڑکیاں راہ راست پر آگئیں، انہوں نے لڑکوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کو غیرت اور شرم کی توہین سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔ ایک شام سب مل کر آئس کریم کھانے نکلی ہوئی تھیں کہ دانیال سے مدبھیڑ ہوگئی میری سہیلیوں نے کنارہ کشی میں ہی عافیت سمجھی انہیں میرے تیور دیکھ کر اندازہ ہوچکا تھا کہ آج اس عاشق نامراد کی درگت بننے والی ہے۔ دانیال میرے قریب کھڑا اپنی دلنشین مسکراہٹ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کررہا تھا میں نے نظر انداز کردیا اور بے پروائی سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔‘‘
’’محترمہ میں نے آپ کو کارڈ دیا تھا کیونکہ بوقت ضرورت بندہ حکم کا تابعدار ہے۔‘‘ لہجے میں شکوے کے ساتھ اپنائیت تھی۔
’’مسٹر مجھے آپ کا تعلق کسی باعزت گھرانے سے لگتا ہے لڑکیوں کو چھیڑنا اور خوامخواہ فری ہونے کی کوشش کرنا مرد کی غیرت، انا اور مردانگی کے خلاف ہے میں وہ لڑکی نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں جائیے اس بڑے شہر میں آپ کو بے شمار آپ کی ہم خیال لڑکیاں مل جائیں گی۔‘‘ میں نے نہایت ملائمت سے سمجھانے کے انداز میں کہا۔ تو ایک دم وہ سنجیدہ ہوگیا۔
’’آئی ایم سوری میرا یہ مطلب ہرگز نہ تھا یہ تو میری پسندیدگی کا رد عمل تھا۔‘‘
’’آپ مجھے جانتے تک نہیں پسندیدگی کا رشتہ دوسروں کے فصائل و اوصاف اور خوبی کردار کو پرکھنے کے بعد آٹو میٹکلی استوار ہوجایا کرتا ہے آپ کس رشتے کی بات کرتے ہیں۔‘‘ میں خود اعتمادی سے بول رہی تھی مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میں ایک دم دادی اماں کے روپ میں ایک معصوم اور ننھے منے بچے کو سمجھا رہی ہوں۔ ’’والدین ہم پر اعتماد بھروسہ کرکے کوسوں دور کیوں بھیج دیتے ہیں تاکہ ہمارا مستبل ضوفشانی اور تابناکی سے ہمکنار ہوسکے نہ کہ یہاں عشق و معاشقوں میں مبتلا ہوکر گھر کی عزت بالائے طاق رکھ دیں۔ آپ مجھے بے حد خلیق نفیس اور خوش مزاج انسان لگتے ہیں یہ لڑکیوں کے چکر آپ کی پرسنلٹی کو داغدار کردیں گے۔‘‘ میری باتیں وہ سر جھکائے نہایت انہماک سے سن رہا تھا اس کے ہشاش و بشاش چہرے پر ناگواری یا ندامت کی ہلکی سی رمق بھی نہ تھی اس نے پلکیں اٹھا کر مجھے بغور دیکھا۔
’’عقل مند وہ جو اشارہ سمجھ جائے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’مگر آپ نے مجھے بے وقوف اور ناسمجھ جان کر خوب لمبی چوڑی کلاس لے لی ہے۔ ٹھیک ہے یاد رکھوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا خوف و ہراس سے میں نے جھرجھری لی اور کپکپی میرے حواس پر چھا گئی پر اسرار اور نا آشنا اشارہ مجھے عقل مند کے لیے کافی تھی اب میں نے کالج سے باہر نکلنا چھوڑ دیا تھا ہر وقت ایک خوف و وحشت میرے اعصاب پر طاری رہتی لیکن خوش قسمتی سے پھر دانیال کا سایہ تک مجھے نظر نہ آیا۔
اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد چند مہینوں کے آرام کے لیے میں بالا کوٹ آگئی اس کے بعد میرا کوئی باعزت نوکری کرنے کا پروگرام تھا میں ان لڑکیوں کو بے حد افسوس سے دیکھا کرتی تھی جو معاشرے کو اپنی علمیت کے خزانے سے محروم رکھ کر فقط اپنی ذات میں مدفن ہوجاتی تھیں میں اپنے ہنر کو دوسروں تک پہنچانے کی خواہش مند تھی یہی میری ذات کے ساتھ انصاف تھا، میری عزت اور پہچان کا نیا باب کھلنے کی امید مجھے ہر دم خوشی و انبساط سے لبریز رکھتی ابھی مجھے یہاں آئے ہفتہ بھر گزرا تھا کہ میری بہت قریبی دوست کا فون آگیا کہ وہ اپنی چند چھٹیاں پاکستان کے سوئٹزر لینڈ میں گزارنے آرہی ہے مجھے اور کیا چاہیے تھا بس گھر بھر کی صفائیاں ستھرائیاں شروع ہوگئیں بے شمار پرانی بوسیدہ گھریلو اشیا کی جگہ نئی چیزوں نے لے لی اور میں نے آرٹ کے زور پر کم خرچ بالا نشین کے مقولے کو مدنظر رکھتے ہوئے گھر کا کونا کونا سجا دیا پہاڑی کی چوٹی پر تعمیر شدہ گھر کے باہر گہرے سبز رنگ کے گھنے اخروٹوں کے تناور درختوں کے تنوں میں مقامی جھاڑیوں کو ترتیب دے کر خوب صورت راہ گز بنادی۔
درختوں کے گھنیری شاخوں کے جھنڈ میں سوکھے پیڑوں کے تنے کٹوا کر بینچ بنوا دیں، یہاں کے سادہ لوح لوگوں کو میری اس ڈگری کے فوائد، خدوخال ہی معلوم ہوتے تھے وہ ہمیشہ کی طرح میرے والدین کو طعنوں تشنوں سے نوازتے مجھ پر خرچ ہونے والے پیسے کے زیاں ہونے کا افسوس کرتے بعض مضحکہ خیز سوالات کی بھرمار کردیتے کچھ طنز و تشنیع کے نشتر چلاتے جن کا میرے والدین پر رتی بھر اثر نہ ہوتا تھا۔ جب وہ میرے ساتھ تھے تو مجھے کسی کی پروا کیونکر ہوتی میں بھی کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھی قلم اور زبان کی طاقت نے میری سوچ کو یکسر بدل دیا تھا۔ اپنی دوست کی آمد پر میں نے اپنے روشن مستقبل کا ایک نقشہ تشکیل دینے کے تمام مثبت پہلو سوچ رکھے تھے اور میں اس کے صلاح و مشورے سے بہرہ مند ہونے کو تیار بیٹھی تھی کیونکہ زارا گولڈ میڈلسٹ اسٹوڈنٹ تھی اور مجھے اس کی ذہانت پر پورا بھروسہ تھا میں اس کو اپنے ہنر سے سجے ہوئے گھر، قدرتی حسن و جمال سے مزین بالا کوٹ اور والدین کی حسن سلوک کی خوشی گفتاری اور مہمان نوازی اور اپنے علاقے کے رسم و رواج سے امپریس کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس نے آج تک شہروں کے علاوہ گائوں اور پہاڑی علاقے نہ دیکھے تھے اس کی بہترین دنیا زندہ دلوں کا شہر لاہور تھا۔ میں اپنے حسین ملک کا یہ گوشہ دکھانے میں بہت فخر محسوس کررہی تھی اب میرا ہر لمحہ اس کے انتظار میں گزرنے لگا آخر اس کے بالا کوٹ پہنچنے کا فون آگیا میں اسے خوش آمدید کہنے اپنے گھر سے نیچے سڑک پر اتر آئی تھی اس کی کالی مرسڈیز آکر رکی ڈرائیور نے تیزی سے دروازہ کھولا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا زارا کے ساتھ دانیال اور ایک بے حد اسمارٹ خاتون نمودار ہوئی مشابہت کے مطابق دانیال کی والدہ محترمہ معلوم ہوتی تھی میرے کانوں میں اس کے آخری الفاظ گونج اٹھے‘ ’’ٹھیک ہے میں یاد رکھوں گا۔‘‘
مجھے میرے پائوں کے نیچے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی سر چکرانے لگا اور میں بے اختیاری سے زارا کے شانے پر سر رکھ کر حیرت و تجسس سے منمنائی۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’جہاں آرا تم دانیال کو شکل سے پہچانتی ہو انہوں نے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں ماسٹر کیا ہے اور فیصل آباد میں اپنی کمپنی اسٹارٹ کرچکے ہیں یہ ان کی والدہ محترمہ جو رشتے میں میری تائی جان لگتی ہیں۔‘‘ زارا نے شوخ انداز میں تعارف کرایا میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور انہیں گھر کی جانب لے کر چل دی۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے بالا کوٹ کے ملکوتی حسن آنکھوں کو چندھیا دینے والی برف پوش سنگ مرمر کی مانند چمکتی ہوئی پہاڑوں کی چوٹیاں نیلے آکاش کے نیچے بہتے ہوئے دریا کی شوریدہ لہریں، بے حدود و بیکراں مقدس و پاکیزہ فضا سے بہت جلد محروم کرکے لاہور کی جاگتی اور پُر رونق راتوں اور ہنگامہ خیز دنوں کے حوالے کردیا سب کچھ ایسے معجزانہ طریقے سے ہوا کہ میں باعث حیرت و اشتیاق کے کئی دن نہ سنبھل سکی۔
میں نے فیصل آباد میں دانیال کی کمپنی میں کام شروع کردیا دانیال کی طبیعت میں ہلکے پھلکے مزاح کا عنصر بہت نمایاں تھا وہ خاموش طبع مرد نہ تھا ہمیشہ ہر موضوع پر بامعنی معلومات پر مبنی گفتگو سے ہر ایک کو سیریاب کرکے بے پناہ خوش ہوتا‘ پڑھائی کے زمانے میں نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا موسیقی و ادب سے گہرا لگائو ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں اسٹیج کی رونق اور ہم نصابی سرگرمیوں کا روح رواں بن کر سب کے دلوں پر راج کرتا تھا۔ تفریحات اور سیر و سیاحت کا ایسا دلدادہ کہ کے ٹو کی چوٹی کو سر کرچکا تھا مجھے اس کی عادات اور خصلتیں بے حد پسند تھیں کیونکہ میں نے اپنے خاندان کے مردوں کے اصول اور قانون اس سے ہٹ کر دیکھے تھے یہاں کے کلچر میں مرد کی سنجیدگی اور خاموشی اس کی جہاندیدگی دانش مندی اور بڑے پن کی غمازی کرتی ہے ان کی غیرت اور مردانگی کو اسی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ مجھے اپنے خاندان کے کسی لڑکے سے کوئی سروکار نہ تھا اور نہ ہی میں نے کبھی اپنے عم زاد سے شادی کرنے کا تصور کیا تھا والدین کی اکلوتی بیٹی ہونے کی وجہ سے میں ناز و نعم میں پل کر جوان ہوئی تھی انہوں نے ہمیشہ میری ہر خواہش کو اولیت دی تھی مگر میں ان کی نافرمان اور ان کے پیار کا ناجائز فائدہ اٹھانے والی اولاد ہرگز نہ تھی مجھے ہمیشہ ان کی عزت و تحریم کا پاس رہتا تھا اور وہ مجھ پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتے تھے دانیال مہینے میں ایک دفعہ مجھے والدین سے ملوانے بالا کوٹ لے آتا اِدھر اُدھر ہائکنگ کرتا ماحول سے لطف اندوز ہوتا اور آخر میں ہم خوشی خوشی واپس چلے جاتے۔ دو سال بعد میں نے بیٹی کو جنم دیا اب آفس کے بجائے میں گھر کی ملکہ بن گئی تھی مہرجان جب چار سال کی ہوگئی تو میری آغوش منے میکائیل سے بھر گئی‘ شکل و شباہت اور خوشی و شرارت اور زندہ دلی میں میکائیل ہو بہو باپ کی کاپی تھا ازدواجی زندگی ان گنت خوشیوں کی آماجگاہ بن چکی تھی وقت کو جیسے پر لگ گئے تھے انسان کو بھلے وقت کے گزرنے کا یہی احساس تو بے کل کردیتا ہے۔ پھر ایک منحوس صبح کے جھٹکے نے میری جنت کے در و دیوار میں دراڑیں ڈال دیں میری چھت زمین بوس گئی۔ میرے والدین اور میرے بے شمار رشتے دار خالق حقیقی سے جا ملے۔
What a way to go
مظفر آباد میں مقیم میرے چچا کا گھرانا ملبے کے نیچے دب کر رہ گیا حنا مری کونونٹ اسکول میں زیر تعلیم تھی میٹرک کے امتحان سے وہ فارغ ہوکر نو اکتوبر کو اپنے گھر جانے کا پروگرام بنا چکی تھی مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا میں اسے اپنے گھر لے آئی اس کے ماموں دوبئی میں رہائش پزیر تھے وہ اپنی بہن کی نشانی کو اپنے دار شفقت میں رکھنے کے خواہش مند تھے سو ہم نے پاسپورٹ بنوا کر ویزے کے لیے بجھوا دیا۔
حنا سے دانیال کا حسن سلوک بہت اعلیٰ تھا وہ اسے بچوں کی طرح بہلاتا اور خوش رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا اس کی اداس و مایوس شکل دیکھ کر پہیلیاں بجھواتا لطیفے سنا کر اسے ہنساتا رہتا وقتاً فوقتاً وہ اسے اپنے دفتر لے جا کر کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھنے کی کوشش کرتا مگر وہ اپنے فراق میں اس حد تک مقید رہتی کہ دنیا جہاں سے جیسے کوئی ناطہ اور تعلق نہ کبھی تھا اور نہ ہی مستقبل میں استوار ہوگا میں نے اسے ہتھیلی کا پھپولا بنا رکھا تھا وہ معصوم کس قدر بے ضرر اور بے قصور معلوم ہوتی تھی میرا دل کٹ کر رہ جاتا۔ وہ دن میں کئی بار ویزے کے بارے میں سوال کرکے جواب کی انکاری پر سوچوں میں گم ہوجاتی کبھی زار و قطار رونے لگتی اس کی دل خراش گھٹی گھٹی سسکیاں گھر کی فضا کو سوگوار بنا دیتیں بچے چڑچڑے ہوکر ضد پر اتر آتے اور آخر دانیال حنا کو باہر گھمانے لے جاتا۔
دن رنج و کلفت میں گزر رہے تھے گھر کی فضا میں عجیب سا سونا پن سما گیا تھا میرے والدین بھی عالم جاودانی کی طرف سدھار گئے تھے مجھے ان کی محرومی کا احساس ہر وقت غمگین رکھتا تھا مگر پھر بھی اپنا گھر، شوہر اور بچوں کی موجودگی میری دل نوازی اور دلاسے کے لیے انمول تھی حنا کا دامن اور اس کے ہاتھ خالی تھے وہ اپنا دل کس سے بہلاتی مجھے اس کی پریشانی کی سمجھ آتی تھی میں اس کے ویزے کے انتظار میں دن بدن گھلی جارہی تھی کیونکہ اب گھر کے غمگین ماحول کے اثرات نمایاں طور پر نظر آنے لگے تھے۔
دھیرے دھیرے حنا کی طبیعت اور مزاج بہتر ہونے لگا اس نے بچوں سے کھیلنا‘ انہیں کھانا کھلانا‘ نہلانا دھلانا شروع کردیا باورچی خانے میں خانساماں کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگی اگلا قدم اپنی ذات میں دلچسپی لینے کا تھا‘ اچھا لباس زیب تن ہونے لگا میک اپ سے خود کو دلکش بنانے پر بے پناہ توجہ دی جانے لگی مگر ساتھ ہی بدقسمتی سے میرے ساتھ بات بات پر الجھ جاتی مجھ سے ڈانٹ کھاتی اور انجام رونے دھونے پر ہوتا دانیال سب کچھ بغور دیکھ رہا تھا اس نے حنا کی طرف داری شروع کردی اب حنا مجھے کسی خاطر میں نہ لاتی دانیال کے گھر آنے پر وہ فوراً دروازہ کھولتی‘ اس کا بریف کیس پکڑ لیتی‘ تیزی سے چائے کی ٹرالی پاس لے آتی‘ گپ شپ کی چاشنی کے ہمراہ اسے چائے پلاتی اس کے بوٹوں کے تسمے کھولتی اور بچوں کو اس کے قریب ہونے سے روکے رکھتی اتوار کو وہ لائونج میں بیٹھی اس کا بے چینی سے انتظار کرتی اس دوران وہ دس چکر میرے کمرے کے دروازے تک لگا لیتی جونہی وہ باہر نکلتا اس کے گلے لگ جاتی اور آنکھیں مٹکاتی اسے اپنی بے چینی اور انتظار کی روداد گوش گزار دیتی وہ مسکرا کر ایک ہی لفظ کہتا پگلی وہ مارے مسرت کے کھل جاتی اتوار کا دن اس کی خدمات میں گزر جاتا اس کے بالوں کا مساج کرتے ہوئے وہ دنیا جہاں کی فضول ترین خبریں سناتی اور دانیال مجھ سے اور بچوں سے بے نیاز لطف انداز ہوتا رہتا۔ پیڈی کیور سے اسے سکون مہیا کرنا ہر روز کا معمول بن چکا تھا دانیال ان شاہانہ عنایتوں اور توجہ سے اظہار تشکر کیے بغیر کیسے رہ سکتا تھا اس کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا اور اس پزیرائی کے بدلے میں وہ ہر بات پر احمق اور ناقابل فہم ہونے کا احساس دلانے سے باز نہ آتی اگر میں اعتراض کر جاتی تو مجھے یہ سننے کو ملتا ’’بچی ہے اس سے تمہارا کیا مقابلہ، اس وقت تمہارا ہاتھ دینے والا ہے جو زیادتی اور ظلم تم کرنا چاہو کرسکتی کیونکہ وہ اس وقت تمہاری محتاج ہے مجبوراً اور بے بس ہے اللہ تعالیٰ سے ڈر کر رہو جہاں آرا اللہ کی لاٹھی کی صدا سنائی نہیں دیتی۔‘‘ وہ مجھے کوسنے لگا۔
/…/…/
’’ہم گئے تھے فلم دیکھنے۔‘‘ وہ بے باکی سے بولا۔
’’تمہیں اس لیے ساتھ لے جانے کی دعوت نہ دی کیونکہ تم تو ہر وقت بچوں اور گھر میں ہی مصروف رہتی ہو تمہیں نہ اپنی پروا ہے نہ ہی کسی اور کی۔‘‘
’’آپ کو علم ہے کہ آپ دونوں کی یہ ایکٹیوٹیز ایک کوٹھی سے دوسرے دروازے پر دستک دینے لگی ہیں‘ اس کالونی سے ہمارا مرنا جینا وابستہ ہے اگر آپ باز نہ آئے تو لوگ ہمارے منہ پر تھوکیں گے دانیال‘ خدارا باز آجائیں آپ کی مخلصانہ نیت کی میں گواہی دے سکتی ہوں میں جانتی ہوں آپ بے حد نفیس، خوش اخلاق اور شریف النفس انسان ہیں کاش آپ کی شریر اور شوخ طبیعت میں تھوڑی سی ہوشیاری اور چالاکی کی ملاوٹ بھی ہوتی مجھے ڈر ہے آپ کی منطق راست بازی اور نرم دلی کہیں ضلالت بن کر ہماری زندگی کو داغدار نہ کردے‘ ہمارے معاشرے کی بے مہرو بے حس دنیا آپ کی جبلت کو بے راہ روی اور گمراہی کا نام دے کر الزام تراشی کی جھوٹی غیر مناسب کہانیاں گھڑنے لگ جائے گی آپ والدین کے زیر سایہ بے حد پاکیزہ اور سچے ماحول میں پل کر جوان ہوئے ہیں آپ کو دنیا کے مثبت اور حسین رنگوں میں کبھی منفی اور بھیانک رنگ دیکھنے کا نہ تجربہ ہوا ہے نہ ہی طبعاً آپ دیکھنے کی چاہ رکھتے ہیں آپ کی سوچ کے مطابق سب کچھ بے حد مُومنیت اور صداقت سے بھرپور ہے مگر ایسا نہیں ہے۔‘‘ میں بے حد بزرگانہ انداز میں بول رہی تھی۔
’’جہاں آرا تم نے تو مجھے بالکل ناعاقبت اندیش اور ناقابل فہم قرار دے دیا ہے ایسا ہرگز نہیں‘ میں بھی اسی دنیا کا پروردہ باسی ہو مجھے بھی اونچ نیچ کی خبر اور شناخت ہے میں مزاجاً ایسا ہی ہوں اس کا کوئی علاج نہیں‘ اب میں تم سے یہ ڈیمانڈ کرنے لگ جائوں کہ اپنی فطرت سے ہٹ کر میرے ساتھ نبھا کرو تو تب ہماری ازدواجی زندگی خوشگوار ہوسکتی ہے ایسے کبھی نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ دو مخالف جنس انسانوں کی فطرت کو ایک دوسرے سے متبادل بنا کر خاندان کو بے پناہ رفعتیں بخش دیتا ہے‘ ہم پر تو اللہ کا کرم ہے ہم ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کے محاذپر نہایت سکون اور اطمینان سے گامزن ہیں تم فکر نہ کرو مجھے زمانہ جانتا ہے۔‘‘ اس نے مجھے تسلی دینے کے انداز میں کہا مگر میرا دل اس کی باتوں پر آمادہ نہ ہوسکا۔
’’ٹھیک ہے مگر میری ایک التجا ہے کہ حنا کے چائو چونچلے اور ناز برداریاں اٹھانا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ یہ معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں میں جانوں اور وہ جانے آپ درمیان سے کنارہ کشی اختیار کرلیں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔‘‘ میں نے نہایت ملائمت سے کہا۔
’’ارے مری جان کل کی بچی ہے‘ دکھیا بھی ہے‘ ہم نے نیکی کا کام کیا ہے بدنامی کاہے کی۔‘‘ وہ بے پروائی سے بولا۔
’’دانیال اللہ تعالیٰ نے نیکی کرنے اور غیر محرم رشتوں کو نبھانے کی حدیں مقرر کی ہیں آپ ان حدوں کو عبور کریں گے تو آپ خود کو مشکل میں ملوث کریں تو اس عمل کا شمار نیکی اور بھلائی میں نہیں ہوگا بلکہ اس کا اجر نہایت گھنائونا اور بھیانک ہونے کے امکان زیادہ روشن ہوسکتے ہیں۔‘‘ میری فکر مندی نمایاں تھی۔
’’تم نے خوامخواہ بات کا بتنگڑ بنا رکھا ہے چند دنوں کی بات ہے یہ دبئی چلی جائے گی میرے لیے اسے نظر انداز کرکے اپنے ضمیر کی لعنت و ملائمت کو برداشت کرنا خاصا مشکل ہوگا تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ ذرا غور کرو اس کے یہاں آنے سے گھر میں کتنی رونق ہوگئی ہے‘ بچے بھی اس سے ہل گئے ہیں‘ تمہاری قربت اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی‘ تم اس کے لیے ایک بہترین کردار ہو تمہیں اس کا بہترین اور خوش آئند اجر ملنے والا ہے۔‘‘ وہ بہت ممنونیت سے بولا تو میں خاموشی سے اس کا منہ تکنے لگی، کہ یہ کس قدر عظیم اور میں کس قدر پستی کی دلدل میں اتری ہوئی ہستی ہوں اس احساس کے باوجود میں نے حنا کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ تھوڑی ندامت کے ساتھ عجلت سے بولی۔
’’آپی مجھے محسوس ہوا ہے کہ آپ مجھے بہت چھوٹی کم عقل بچی تصور کرتی ہیں میں نے کونونٹ کی تعلیم حاصل کی ہے میں اپنی عمر سے دس سال آگے دیکھتی ہوں سوچتی ہوں آپ فکر نہ کریں کچھ نہیں ہونے والا۔‘‘
’’یعنی آپ بہت بڑی ہوگئی ہیں۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’جی، آپی ڈونٹ وری۔‘‘ وہ بے پروائی سے بولی۔ ؔ
’’تم بڑی ہوگئی ہو میں نے مان لیا تو پھر کبھی یہ سوچ بھی تو آئی ہوگی کہ دانیال مجھ سے اور اپنے بچوں سے تمہاری وجہ سے کتنا دور ہوگیا ہے میرے اور دانیال کے درمیان ایک وسیع و طویل خلیج حائل ہورہی ہے کیا تم میرے گھر کے اجڑ جانے کو برداشت کرلو گی‘ دنیا کی تمہاری سمت اٹھنے والی انگلیوں کی پروا کیے بغیر زندگی میں مطمئن رہ سکو گی؟‘‘ میں نے راز درانہ انداز میں پوچھا۔
’’مجھے کسی کی پروا نہیں دانیال بھائی کی خاطر میں اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام مظالم کا سامنا کرسکتی ہوں۔ کیونکہ مجھے زندگی میں واپس لانے والے دانیال بھائی ہی تو ہیں‘ آپی آپ کتنی خوش قسمت ہیں آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں آپ کا ہر وقت کا خفگی اور غصے کا اظہار مجھے بہت افسردہ کر جاتا ہے‘ میرا دل غم و ترس سے ہچکولے کھانے لگتا ہے‘ میری آنکھیں میرا دل و ذہن اس لمحے انہیں اپنے اندر سمو لینے کو بے تاب ہوجاتا ہے… آپی میری التجا پر غور کریں ان سے لڑنا جھگڑنا بند کردیں ان سے آشنائی، دوستی اور یگانگت کا سبب آپ ہیں وہ مجھے پدرانہ شفقت سے دل نوازی اور دلارو لاڈ سے بہلا دیتے ہیں تو اس کی آپ کو دلی مسرت حاصل ہونی چاہیے۔‘‘ اس کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔
میں اس کے دلائل سن کر پھر مدہم ہوگئی غصہ اور الجھن دور ہوگئی مگر ہمیشہ کی طرح سکون کا دورانیہ بہت مختصر تھا۔ دن جیسے تیسے بیت رہے تھے اب معمولات زندگی میں بدمزگی اور ناچاقی کا اضافہ ہوچکا تھا جس کا علاج ڈھونڈنے میں مجھے ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا اور معمولی سی بات میری جان پر عذاب بن کر نازل ہوتی، اب حنا کی موجودگی میں میری ہر بات کا مذاق اور غلط قرار دیا جانے لگا۔ میری ہر خوبی کو خامی کا نام دے کر چڑیا جانا روز کا معمول بن چکا تھا‘ بچوں کو دھتکارا جانے لگا حنا اس رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھ سے بات کرنے سے گریز کرنے لگی تمام دن کمرے میں گھسی رہتی جونہی دانیال گھر آتا وہ سیدھا کمرے میں چلا جاتا وہیں ٹرالی پر کھانا پیش کیا جاتا اور وہ وہیں بیڈ پر آڑھا ترچھا لیٹ کر اس سے گپ شپ میں مگن ہوجاتا میں انتظار کے بعد کمرے میں چلی جاتی‘ وہ مجھے سراسیمہ نظروں سے گھور کر لاتعلقی اور جذبات سے عاری چہرے دوسری طرف موڑ کر باتوں میں مصروف رہتے دیدہ دلیری کی انتہا تھی یا بے غیرتی اور بے شرمی کا مقام تھا کہ ان کے لیے یہ ڈھنگ اور طریقہ بے حد نارمل تھا مگر مجھے پاگل پن اور وہم نے زندگی سے سبکدوش ہوکر انتظار مرگ کے خاردار اور تاریک راستے پر گامزن کردیا تھا جس کا احساس کسی کو نہ ہوا‘ دانیال ذہنی اور جذباتی طور پر مجھ سے کوسوں دور نجانے کس دنیا میں کھو گیا تھا اب حنا اس کے سامنے مظلوم بن کر میری ہر سیدھی بات کو توڑ مروڑ کر دانیال کی عدالت میں پیش کرکے میری وہ درگت بنواتی کہ میں وکیل صفائی بن کر بھی اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے میں ناکام رہتی اور وہ مظلوم بنی نظریں جھکائے ٹسوئے بہاتی اس کی ہمدردیاں وصول کرتی رہتی‘ یہ ایک دن کی بات نہ تھی روز کا معمول تھا وہ مالکن کی حیثیت سے گھر میں ہر ایک پر حکم چلاتی سب اس کے اشاروں پر ناچتے اس کے حکم کے غلام اور تابعدار بن کر رہ گئے‘ میں پہلے ہی خاموش طبع اور صلاح جو عورت تھی مزید خاموشی کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتی چلی گئی اور لامتناہی فاصلے ہمارے درمیان حائل ہوتے چلے گئے‘ گھر کے ہر کونے سے حنا سے ہمدردی اور اپنائیت کی گونجتی ہوئی صدا مجھے ظالم و جابر قرار دیتی ہر طرح کے القابات سے نوازتی رہتی خاموشی اور گھٹی ہوئی جنگ زوروں پر تھی۔ چونکہ بگڑے ہوئے حالات کے پیش نظر میرے منہ سے نکلا ہوا ایک لفظ تشدد اور زد و کوب کی جانب مائل کرسکتا تھا اپنی عزت نفس کی خاطر میں خاموش تو ہوگئی تھی مگر زندگی کے رنگوں سے دور بہت دور جاچکی تھی۔
آخر ایک دن سوچ بچار کے بعد میں نے پینترا بدل کر حنا کو اپنے ہاتھوں میں کرنے کا پروگرام بنایا میں نے تنہائی میں اس سے جی بھر کر دل کے دکھڑے روئے اسے اپنا ہمراز ہونے کا احساس دلانے کی لاکھ کوشش کی پھر اس سے ہاتھ جوڑ کر اپنے سلوک اور رویے کی معافی مانگی دانیال اور میری نامواقفت کو صلاح و اتفاق میں بدلنے کی عرضداشت پیش کی اور اسے اپنا محسن و مربی کا قرار کرتے ہوئے میں نے اسے اپنے سینے سے بھینچ لیا وہ احساس فتح مندی سے کھل اٹھی تھی اسے اپنی اہمیت و حیثیت پوری تدریج سے فہم میں آچکی تھی اس نے بے حد احسان جتانے والے انداز میں مجھے تسلی دی‘ میں نے معذرت خواہانہ انداز میں اس کے سامنے سر جھکا دیا اور آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی مجھے وہ کہاوت یاد آنے لگی۔
آگ لینے آئی تھی گھر والی بن بیٹھی۔
میں نے ایسی تمام سوچوں کو ذہن سے کھرچ کر نکالنے کی کوشش کی اور اس کے سامنے اپنے سہاگ اپنے گھر کی سلامتی اور خوش حالی کی بھیگ مانگتی رہی وہ اس اعزاز و اکرام سے مجھ پر قربان اور نثار ہوئے جارہی تھی میں خوش فہمی کی دنیا میں اترتی چلی گئی میں کس قدر بے وقوفی اور بے بسی کا مکار ہوچکی تھی کہ ہمراز بنایا بھی تو کس کو جس نے پہلی فرصت میں میری تمام تر التجائیں اور درخواستیں لفظ بہ لفظ اس کے گوش گزا کردیں۔ اس کے بعد وہ سانپ کی طرح پھنکارا۔
’’تمہاری یہ باتیں ہمیں تباہ و برباد کردیں گی‘ تمہاری رشتے داری کا بوجھ میں اٹھائے ہوئے ہوں اور تم مجھ پر ہی سیخ پا ہورہی ہو۔‘‘ میں خود سراسر فاترالعقل تصور کرتے ہوئے کھسیانی سی ہنسی سے اپنی کی ہوئی تمام باتوں اور شکایتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے لگی مگر میرے دل کو ایک کھٹکا لگ چکا تھا کہ اگر دانیال کی ہمدردی پسندیدگی میں بدل گئی تو میرا اور بچوں کا کیا بنے گا؟ وقتی طور پر میں اس کے ٹھوس دلائل کی تائب تو ہوجاتی تھی لیکن ذہن میں اٹھنے والی شک و شبہات سے بھرپور سوچوں کا کیا کرتی حنا جلوت و خلوت میں اس کے وہ تمام کام نہایت ترنگ اور شوق سے کیا کرتی تھی جنہیں میں اپنے فرائض کا حصہ نہیں سمجھتی تھی بیوی کے ناطے نظر انداز کرنے میں قباحت نہ لگتی تھی طنز و مزاح اور مذاق اڑانا دانیال کو گھٹی سے ملا تھا میرے لاکھ سمجھانے پر میرے خفا ہوجانے پر بھی اس کی یہ عادت برقرار تھی حنا نے اس کی اس عادت کو دل و جان سے سراہا تھا جو بات مجھے بری لگتی وہ اس کی مدح سرائی میں گھنٹوں صرف کردیتی میری التجا کو سرے سے رد کردیا تھا بلکہ میری ہار اور بے بسی نے اسے مزید خود اعتمادی بخش دی تھی۔
اس لحاظ سے صنف قوی بہت ہی نادان اور کم عقل گردانا کیا ہے جو عورت کی چال کو کسی بھی جنم میں نہ جان سکا۔
اللہ اللہ کرکے حنا کا ویزہ آگیا خوشی سے میرے دل میں لڈو پھوٹنے لگے میں نے اپنا اور بچوں کا قیمتی وقت اس کی جھولی میں ڈال کر جو قربانی دی تھی مجھے اس کے اجر کی امید تھی کہ حنا میرے گھر سے رخصت ہوکر ماموں کے پاس چلی جائے گی اور میرا گھر پھر سے جنت کا گہوارا بن جائے گا۔
یہ مژدہ راحت حنا کو طمانیت اور تسکین دینے کی بجائے پژمردہ و افسردہ کر گیا وہ بے جان اور بوجھل قدموں سے چلتی اپنے کمرے میں چلی گئی اور دو دن تک نظر نہ آئی۔ میں نے فکر مندی کا اظہار کیا تو دانیال نے تنبیہہ نظروں سے مجھے گھورا۔
’’شیرنی بانٹو جہاں آرا وہ جارہی ہے۔‘‘
’’بات تو خوشی کی ہے اس میں کوئی شک نہیں آج شام ہم اسے شاپنگ کرا دیتے ہیں تاکہ اس کی تیاری مکمل ہو اور یہ جلد از جلد اپنوں میں جائے۔‘‘ میں نے بے نیازی کا اظہار کیا۔
’’اپنوں میں‘ کون اپنے؟ اپنی تم ہو جہاں آرا اس کا سہارا بنتا تمہارے فرائض میں ہے۔‘‘ وہ جل کر بولا۔
’’جناب عالی عرض ہے کہ اب میں مزید ایک جوان لڑکی کی ذمہ داری اٹھانا نہیں چاہتی آپ کو علم ہے کہ اڑوس پڑوس میں کیا چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کیسی پیشن گوئیاں کی جارہی ہیں وہ تو میں نے عورتوں کی باتوں پر کان نہیں دھرا ورنہ یہ شہزادی کب کی یہاں سے رخصت ہوچکی ہوتی۔‘‘ میں نے بے ساختہ بولنا شروع کردیا۔
’’یہ سب تمہاری کمزوری کے نتائج ہیں ورنہ کسی کی کیا جرأت کہ دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کریں۔‘‘ وہ قہر آلود لہجے میں بولا۔
’’یعنی میں غلطی پر ہوں‘ ٹھیک ہے بے انصافی تو کوئی آپ سے سیکھے مجھے اس کی نظروں میں ذلیل و بے عزت کرنے والے آپ ہیں کبھی سوچا ہے آپ نے یہ بے باکی اور اس کا بے حجابانہ آپ سے لپٹنا اور گھومنا پھرنا‘ میں اس گھر کی سلامتی کے لیے برداشت کر گئی اب یہ باب بند ہونے جارہا ہے۔‘‘ میں تلخی سے بولی اور کمرے سے باہر نکل کر لمبے سانس بھرنے لگی۔
/…/…/
’’اس نے یہاں اپنا وقت گزارنے کے لیے بچوں کی آیا گیری کی گھر کی نوکرانی بنی‘ جی بھر کر تمہاری خوشامد کی دل کھول کر میری خدمت گزاری کی پھر بھی ڈانٹ ڈپٹ لعن طعن اس کا نصیب رہی اب یہ کہ اس کی پاک دامنی اور معصومیت پر کیچڑ بھی اچھالا جانے لگا ہے تم نے بغض و عناد میں میری عزت کی بھی دھجیاں اڑا دی ہیں تم کس قسم کی بیوی ہو؟‘‘ وہ لمحہ بھر کے توقف کے بعد بولا۔ ’’مجھے تم سے ایسی امید ہرگز نہ تھی۔‘‘ اسی اثنا حنا ملحقہ کمرے سے وارد ہوئی اور مجھ کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔
’’آپی لاہور میں حاصل کی جانے والی تعلیم نے آپ کے خیالات میں رتی بھر وسعت پیدا نہیں کی آپ گناہ اور ثواب کی تفریق سے ہی بے بہرہ رہیں آپ نے تو خاندان کی عزت کی بھینٹ چڑھا دیا مجھے بھی‘ اپنی مشرقی روایات اور کلچر سے بے پناہ انس ہے اگر آپ نے میرے چہرے پر بدکرداری اور گناہ گاری کا لیبل چسپاں کرکے گھر سے نکالنا تھا تو مجھے ساتھ کیوں لے آئیں کسی یتیم خانے میں چھوڑ دیا ہوتا اگر میں غلطی پر ہوتی تو تمہارا جیون ساتھی میری طرف داری کیوں کرتا میں ان کا احسان زندگی بھر فراموش نہیں کروں گی۔ جنہوں نے مجھے اس دنیا کے سنگ چلنے کے گر سکھا دیے دنیا کی حقیقت اور سچائی سے روشناس کردیا‘ انہوں نے میری ناز برداریاں اٹھائیں بے پناہ مانوسیت اور بے تکلیف میں بھی فرق اور فاصلوں کی حدوں کو عبور نہ کیا… آپ کے کہنے کے مطابق نسوانی وقار و کروفر اور عزت نفس کو ہر قسم کی آزمائش میں اولیت دیتی ہیں۔‘‘
’’میرے بارے میں کیا خیال ہے۔ میں بھی اسی خاندان کی پروردہ بیٹی ہوں۔ آپ میں اور مجھ میں جو تعلیمی فاصلہ ہے ہمیں کبھی بھی ایک دوسرے کے قریب نہ آنے دے گا قسمت نے یاوری کی تو بدلہ ضرور لوں گی۔‘‘
وہ اپنی نو عمری اور کمسنی میں بھی مجھے ایسے لعنت ملامت کررہی تھی کہ حیرت و افسوس سے میں اس کا منہ تکتی رہ گئی، کانوں میں بجتے ہوئے ناقوس نے زبان گنگ کردی دانیال اس دوران سر جھکائے حسرت و یاس کی تصویر بنے بیٹھا رہا۔
’’جاتے جاتے تمہارا انداز شکرانہ بہت بھلا لگا‘ واہ واہ کیا کہنے تمہاری اس تعلیم کے جو تم نے کونونٹ سے حاصل کی جواب نہیں اس تربیت کا جو تم نے دانیال سے حاصل کی انٹلکچول کی جیتی جاگتی مثال ہو تم۔‘‘ میں نے طنزیہ کہا۔
’’آپی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ میں دبئی جارہی ہوں میں دانیال بھائی کے بغیر کہیں نہیں رہ سکتی میں نے اس گھر میں رہ کر خود کو سرتاپا بدلا ہے اب میں مامی اور ان کی اولاد کے لیے نئے سرے سے خود کو بدلنے سے رہی میرا جینا اور مرنا اب اسی گھر سے وابستہ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ خود اعتمادی سے بولی تو میرے وجود کے ہر اعضا میں پھریری دوڑی۔
’’یہ نا ممکن ہے۔‘‘ میرے منہ سے دلخراش ہوک نکلی۔
’’دانیال آپ چپ سادھے بیٹھے ہیں اس بے وقوف کو سمجھائیں یہ ہماری ذمہ داری ہرگز نہیں اگر مجھ سے بنی رہتی تو اس کی موجودگی بسر و چشم منظور ہوئی اس کے سوا میرا اپنا کون ہے جو حال دل سنے بدبخت لڑکی ہم دونوں کی خوشیاں اور دکھ تو یکساں تھے تم نے مجھے چھوڑ کر میرے سہارے کو اہم اور بہترین سمجھا تم کسی قدر ناعاقبت اندیش ہو مجھے تمہاری عقل پر رحم اور ترس آتا ہے۔‘‘ میں نے یاس انگیز نگاہ اس پر ڈالی۔
’’آپ کے سامنے جھولی پھیلا کر بھیگ مانگنے سے موت بہتر ہے‘ اللہ وہ دن نہ دکھائے کہ مجھے آپ کی ہمدردی اور رہنمائی میں زندگی گزارنی پڑے۔ دانیال بھائی اگر آپ مجھے اس گھر میں پناہ دینے کی سکت سے عاری ہیں تو مجھے کسی ہاسٹل میں بھیج دیں مگر میں دبئی نہیں جائوں گی یہاں کے تلخ تجربے نے مجھے باغی بنادیا ہے‘ دانیال بھائی یا پھر اپنے ہاتھوں سے زہر پلا دیں میں خوشی خوشی اسے آب حیات سمجھ کر پی جائوں گی۔‘‘ اس کی آنکھوں سے جھڑی برس رہی تھی۔
’’تم کہیں نہیں جائو گی‘ تمہارا اس گھر پر اتنا ہی حق ہے جتنا جہانی کا ہے۔ جہاں آرا تم کان کھول کر سن لو گھر کے ماحول کو خوشگوار اور پُر رونق بنانے کا ذمہ تم پر ہے فضا میں تمہاری خود غرضی کی نحوست نے جو آگ لگا رکھی ہے نہ دن کو چین نہ رات کو سکون ہے ہر وقت کی گریہ و زاری طعنے و تشنے، شبہ آلود حرکات و سکنات۔ تمہاری اور میری ناموافقت بحثیں سب بکواس بند کرو بہت ہوگئی میں تنگ آگیا ہوں روز کی چخ چخ بک بک سے۔‘‘ اس کی جنونی باتوں میں حقارت و نفرت چیخ چیخ کر دھائی دے رہی تھی میں نے ہمت کو یکجا کیا اور راز داری سے گویا ہوئی۔
’’دانیال اس چڑیل کے جانے کے بعد سب کچھ ویسے ہی ہوگا جیسا آپ چاہیں گے میں نے ہر زیادتی اور بے انصافی کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ہے‘ اب میرے صبر اور غم کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے مجھ سے مزید توقع وابستہ رکھنا آپ کی بہت بڑی نادانی ہوگی۔‘‘ شورش اور بغاوت سے بھرپور آواز پر وہ چونکا۔
’’میرا آخری اور حتمی فیصلہ پلے باندھ لو جہاں آرا حنا اسی گھر میں ایک قابل احترام فرد کی حیثیت سے رہے گی۔‘‘ وہ سختی سے بولا۔
’’ایسے کبھی نہیں ہونے دوں گی میں‘ دنیا میں اس ظلم کے خلاف ڈھونڈورا پٹوا دوں گی اپنی گھٹی اور دبی آواز بلند کرکے اپنے حقوق کا مطالبہ کروں گی تم دونوں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے۔‘‘ میں غصے سے کانپنے لگی۔
’’تمہاری جاہلانہ اور باغیانہ باتیں ہمارے گھر کو تباہ و برباد کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں خود پر قابو رکھو جہاں آرا ورنہ بہت پچھتائو گی۔‘‘ وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔
’’اللہ نے جو اختیار آپ کو دیا ہے کیا یہ اس کی دھمکی دی جارہی ہے۔‘‘ میں بے ساختہ بولی۔
’’ہاں۔‘‘ وہ پائوں پٹخ کر بولا ’’میں تمہیں آنے والے وقت سے آگاہ کررہا ہوں۔‘‘
’’اچھا تو نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اف… میں نے آنکھیں کاہے کو بند رکھیں حنا یہ مرد پرایا تھا تم تو میری اپنی تھی تم نے مجھے سراب میں رکھا مجھے دھوکہ دے ڈالا میرے بھروسے اور اعتماد کا قتل کر ڈالا تم نے میری نیکی اور ایثار کا یہ صلہ دیا زندگی میں سکھ کو ترسو گی مگر وہ تم سے کوسوں دور بھاگے گا اللہ کی ذات ہے انصاف کرنے والی۔‘‘ میں بے بسی اور لاچارگی کا مجسمہ بن گئی تھی حالات میرے قابو سے نکل چکے تھے۔
’’بکواس بند کرو جہاں آرا اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’مت دو مجھے دھمکی دس سالوں کی رفاقت کا ہی خیال رکھ لو بے مروت اور بے فیض انسان۔‘‘ میں چیخ اٹھی دانیال کا ہاتھ غصے میں اٹھا اور میرے گال کو سہلا گیا پھر دونوں ہاتھوں سے اس نے میرے بال پکڑے حنا صوفے پر بدستور ساکت و جامد بیٹھی تماشا دیکھتی رہی اس کے لبوں کی فتح مندانہ مسکراہٹ آج بھی مجھے راتوں میں رلا دیتی ہے اپنی بے عزتی، توہین اور ذلت کا جان لیوا کرب مجھے کسی پل چین نہیں لینے دیتا اس نے بے دردی سے مجھے گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیا اور میرے چیختے چلاتے بچے باپ کی بانہوں کی گرفت سے آزاد ہونے میں ناکام رہے تھے۔
’’اور تم شکستگی کا رونا روتی مظلومیت کا واویلا کرتی اپنے ماں باپ کے کھنڈرات پر آکر بیٹھ گئی واہ بھئی واہ… تم نے کس قدر بہادری اور عقل مندی کا ثبوت دیا ہے کہ نسلیں یاد رکھیں گی۔‘‘ میں نے طنزیہ تالی بجائی تو وہ اپنے گرد و پیش طاری ہونے والے فسوں ہالے سے باہر نکل آئی اور اس کی آواز بھرا گئی۔
’’طلاق کے ڈر سے میں نے وہاں سے روپوش ہونے میں عافیت جانی کیونکہ ہم دونوں کا غصہ اور خفگی عروج پر تھی اگر میں خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ کر خاموش رہتی تو پھر بھی بربادی میری تقدیر کا حصہ ہوتی اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا ہے تو پھر بھی میں اجڑ گئی تم مجھے قصور وار نہیں ٹھہرا سکتی‘ میں اپنے حالات تمہیں بتانے سے اس لیے ہچکچا رہی تھی کیونکہ یہ ناقابل حل مسئلہ ہے جب شوہر کسی دوسری عورت میں دلچسپی لینے لگتا ہے تو اسے اپنی بیوی کی ہر وہ خوبی جس پر وہ فریفتہ ہوا کرتا تھا خامی میں بدل جاتی ہے اور پچھتاوا ہر وقت اس کا پیچھا کرتا ہے کہ میں نے اتنے سال اس عورت کے ساتھ جھک کیوں ماری اور دسترس دور دوسری عورت تمام تر خصائل کا شاہکار اور وفا و ایثار کا پیکر بن کر اس کے ہوش و خرد پر ایسے چھا جاتی ہے کہ وہ شنوائی سے محروم ہوکر ترک قرابت کا صریحاً غلط فیصلہ کرلیتا ہے میرے اور اس کے درمیان حائل ہونے والی خلیج کو وسعت دینے کے خوف سے یہاں چلی آئی اگر وہ بچے میرے ہمراہ آنا بھی چاہتے تو میں انہیں یہاں لانے کی غلطی ہرگز نہ کرتی یہاں کھنڈرات اور اس ملبے کے ڈھیر میں ان کا مستقبل مدفن ہوکر رہ جاتا۔ میں شب و روز ان کے فراق میں گھلتی جارہی ہوں‘ دانیال میرا پیار اور میرا عشق ہے‘ وہ بہت اعلیٰ ظرف فراخ دل اور بے حد خلیق و شریف النفس انسان ہے اس لیے تو حنا کی گرفت میں نہایت آسانی سے پھسل گیا‘ میں اس لمحے کو بھول نہیں پاتی جب مجھے ہر عورت نے اشارے کنارے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جوان کنواری دوشیزہ کو گھر میں رکھنے کا مطلب ہے علیحدگی اور جہاں بھر کی ذلت اور پرلے درجے کی شقاوت اور بدبختی مگر میرے سر پر نیکی کرنے اور ثواب کمانے کا بھوت سوار تھا میں نے ہر ایک کو بڑے ٹھوس دلائل دے کر چپ کرا دیا۔ کبھی کبھار اپنی ذات کے ذہنی خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بات پر کان دھر لینے میں دانش مندی پنہاں ہوتی ہے۔ بعض اوقات جو نتائج دوسروں کی عقابی نگاہیں دیکھ رہی ہوتی ہیں آپ کی نا تجربہ کار سوچ وہاں تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ آپ مثبت سے منفی سوچ کی طرف آنے والے فاصلوں کو عبور کرنے کے موڈ میں آنا ہی نہیں چاہتی اپنا ذہن ایک ہی نقطے پر منجمد کیے اس سفر پر رواں دواں ہوجاتی ہیں جس کی منزل مقصود کی آپ کو خبر تک نہیں ہوتی۔ میری گویائی پچھتائوں کا اکھاڑہ بن چکی تھی۔‘‘ وہ حیرت انگیز انداز میں بولی۔
’’نیکی کا پچھتاوا وہ دکھ ہے جو انسان کے من میں اصالت کا بیج بو کر اسے زندہ درگور کردیتا ہے۔ نیکی کا اجر ہمیشہ تسکین آمیز ہوتا ہے‘ سب سے پہلے اپنے قلب کو حقارت و حسرت سے پاک کرو‘ ذہنی احتراعات اور پیچ و خم میں ملوث خیالات سے چھٹکارا حاصل کرکے باری تعالیٰ کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو دیکھنا تمہاری زندگی کا ہر لمحہ شادمانیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار ہوجائے گا۔‘‘ میں اسے بزرگانہ انداز میں سمجھا رہی تھی اور اس لمحے وہ خود کو کس قدر کمتر اور حقیر سمجھ رہی تھی‘ میں نے اس کی آنکھوں میں شرمندگی و ندامت کی پرچھائیں سے انداز لگا لیا تھا۔ تھوڑے توقف کے بعد بولی۔
’’جہاں آرا تمہارا یہاں آنے کا فیصلہ رشک و حسد اور غیض و غضب کی طرف نشاندہی کررہا ہے، تم ٹھنڈے دل سے سوچو کہ تمہارا شوہر جو لاتعداد خوبیوں کا مالک ہے تم پر ظلم و ستم ڈھانے کا خطا وار کیسے ہوسکتا ہے‘ ممکنات میں سے ہے کہ اس کا حنا سے تعلق ہمدردانہ اور برادرانہ ہی ہو جسے تم نے ایسی عینک سے دیکھا اور پرکھا کہ ہر بار تمہیں وہی نظر آیا جیسی تم نے عینک پہن رکھی تھی۔ حنا ایک دکھیاری بچی ہے اس نے دانیال کو اپنے بھائی اور باپ کے روپ میں قبول کیا ہے اور دانیال نے یہ محسوس کرتے ہوئے غیر اختیار طور پر اپنی بیوی کی معمولی سی روک ٹوک پر بھی ایک ہنگامہ کھڑا کرکے حنا کو مطمئن اور پُرسکون رکھنے کو بہتر سمجھا ہوا اس کی انجانے میں کی جانے والی غلطی اس کی تمام خوبیوں اور اچھائیوں کو گھن کی مانند چاٹ گئی اور تمہارے اندر شک و شبے کی بنیاد مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی اور آخر انجام یہ ہوا یہاں کے برباد و تباہ لوگوں کے کام آنے سے بہتر یہ ہے کہ تم اپنے گھر کو آباد رکھو چاہے اس کے لیے تمہیں خود کو سولی پر کیوں نہ لٹکانا پڑے ورنہ تمہاری نسل تاریکیوں کی آماجگاہ میں بسیرا کرلے گی۔‘‘
’’اس میں میرا کوئی قصور نہیں رابعہ، دانیال کو ان رشتوں کو بیلنس کرنا ہی نہ آیا جس کا ناجائز فائدہ حنا نے اٹھایا حالات کو بگاڑنے میں دانیال کا ہاتھ ہے‘ میں ہمیشہ ہر زاویے سے خود کا جائزہ لے کر صبر و تحمل کا دامن تھام لیتی تھی مگر میں بیوی ہونے کے رشتے سے اتنی فراخ دل نہ ہوسکی کہ میں ہر وقت ان دونوں کے ہر انداز میں میرے لیے اجنبیت اور لاتعلقی دیکھ کر خاموش رہتی دانیال کی عقل گھاس چرنے گئی تھی کیا؟‘‘ وہ زہرخند سے بولی۔
’’جہاں آرا یقین جانو مجھے تمہارے اس مسئلے کا حل بے حد سہل اور سادہ معلوم ہورہا ہے‘ تنائو کی کیفیت اور بدمزگی میں بتدریج اضافے کا سبب تمہاری ہٹ دھرمی اور ضد ہے اس ضمن میں پہلا قدم تمہاری طرف سے اٹھے گا۔‘‘ میں زیرک سوچ کے مطابق اسے یہ معاملہ رفع کرنے کا مشورہ دینے لگی۔ میری تنقید بے جا اور مفادات میں اسے تسلی و تشفی دینے اور دانیال سے رابطہ کرنے کی تلقین کرتی رہی مگر اس کی طرف سے آمادگی کا ہلکا سا شائبہ تک نہ تھا۔
’’تو تمہارا ارادہ کیا ہے کچھ تو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچا ہوگا‘ یہاں خیمے میں درویشانہ زندگی گزارنے سے تو رہی۔‘‘ میں نے اسے پھر سمجھایا مگر مجھے اس کے اس ردعمل کی ہرگز توقع نہ تھی۔
’’میں جاہل عورت نہیں ہوں کہ شوہر کے پائوں پڑ کر گڑگڑاتی ہوئی محبت و توجہ کی بھیگ مانگتی رہوں۔ میں اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت رکھتی ہوں اور دانیال کو باخبر کرنا چاہتی ہوں کہ تمہاری طلاق کی دھمکی اور بچے چھین لینے کی زیادتی مجھے بے بس و لاچار نہیں کرسکتی جس کو تم اپنی فتح مندی کی سیڑھی سمجھ کر استعمال کرنا چاہتے ہو وہ تمہاری خوش فہمی ہے تمہاری مردانگی کی پستی اور ناکامی ہے۔‘‘
’’تو میرے سمجھانے کی تمام محنت اکارت گئی۔‘‘ میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔
’’مرد عورت کے جذبات سے کھیل کر عمر بھر کے لیے اسے اپنا غلام و مطیع بنانے میں فخر محسوس کیوں کرتا ہے، کیونکہ عورت اس کو ہر طرح کی بے انصافی اور ظلم کرنے کی اجازت دیتی ہے رابعہ میرا قصور صرف اتنا سا ہے کہ میں اسے یہ احساس دلانے میں ضرور کامیاب ہوئی ہوں کہ میں اس کی ملکیت اور زر خرید لونڈی ہرگز نہیں ہوں۔ اگر تم چاہو تو مجھے زمین کے اندر گاڑ دو دل کہے تو آسمان کی بلندیوں پہ میرا آشیانہ بنا دو میری رگوں میں بھی سرخ خون گردش کررہا ہے‘ میرا دل و دماغ بھی جذبات و احساس سے لبریز تھا مجھے بھی نشیب و فراز اور مدو جزر کی شناخت ہے بالکل تمہاری طرح‘ مجھ سے صرف ایک ہی قدم آگے ہو ناں جس کے اظہار نے مجھے ان چٹانوں جیسا مستحکم بنا دیا اللہ کے بنائے ہوئے ڈیزائن کو تم چیلنج کرنے والے کون ہوتے ہو، بزدل‘ ڈرپوک اور ناقابل فہم انسان اپنی حیثیت پہچانو عورت کے بغیر تم کیا ہو۔‘‘ وہ تصور میں دانیال کے بٹھا کر اپنا غصہ اتار رہی تھی دل کا غبار اور کہڑ دھل رہا تھا اور میں چپ سادھے بیٹھی تھی۔
’’تم پل ہو اپنی نئی نسل کا اور میں اس پل کا ستون ہوں میری اہمیت کو فراخ دلی سے مان لو دانیال‘ بے شک وہ غصے اور ناراضگی میں کھولتے ہوئے سچائی پر تھی بدقسمتی سے اس معاشرے کے مرد کے سامنے تمام منطق بے کار تھی۔‘‘
’’تمہارا گھر ہچکولے لے رہا ہے، اسے کیسے بچایا جائے۔‘‘ میں پریشانی میں بولی۔
’’جب تک دانیال کو اپنے سلوک رویے کے غیر فطری ہونے کا احساس نہیں ہوتا تب تک میری ہزار منتیں خوشامدیں کار آمد ثابت نہ ہوں گی ہم پرانے زمانے کی عورتوں کی بات کروں کہ وہ بے حد مرنجاں مرنج رہ کر شوہر کی نور نظر و تسکین قلب بن کر زندگی گزارتی تھیں‘ آج کی عورت میں خود سری درشتی و سختی نے معاشرے میں طلاق کو عام کردیا ہے ایسا ہرگز نہیں پہلے کی عورتوں میں بعض خوبیاں آج کی نسل سے زیادہ سہی مگر عورت کو آزادی تھی پردے اور پابندیوں کی قیود سے فارغ تھی اس کی عزت نفس اور خودداری کو مدنظر رکھ کر گفتگو کی جاتی تھی انہیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور صرف گھر داری اور بچے پالنے تک محدود نہ تھا بلکہ کاروباری، سیاسی اور معاشرتی مسائل میں ان سے مشورے لیے جاتے تھے اور ان کی رائے کو نہایت سنجیدگی سے زیر غور لایا جاتا تھا‘ آج کی عورت کے پاس کیا ہے، اس کی تعلیم، عقل و شعور کو مرد نے مان کے نہ دیا جھگڑے کی بنیاد ہی یہ ہے دانیال کی ہر غیر مہذب حرکت میں چپ کی چادر اوڑھ لوں تو معاملہ سدھرا رہے گا اگر احتجاج کروں گی تو مار دھتکار ہوگی یہ خوب رہی۔‘‘ وہ ذہنی رد و کد کا شکار تو ہوہی چکی تھی اب زبان پر تمام شکایتیں و گلے کڑواہٹ بن کر ماحول کو کہر آلود اور دھندلا بنا رہے تھے میں معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی تھی سچ تھا کہ دانیال غلطی پر تھا دو عورتوں کی ناموافقت میں کود پڑنا اسے زیب نہیں دیتا تھا۔ دونوں کو باہمی مفاہمت کے لیے وقت درکار تھا جو دانیال نے اپنے ہاتھ میں لے کر چکی کے دو پاٹوں میں خوامخواہ پیس لیا اور گھر کے سکون کو ناسمجھی اور نادانی سے خیرباد کہہ دیا۔
لیکن میں نے پھر بھی جہاں آرا کو بڑے ٹھوس اور منطقی دلائل دے کر اس بات پر رضامند کرلیا کہ تعلیم حاصل کرنے اور اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ شوہر کے روبرو مقابلے پر اتر آئو اللہ نے جو برتری اس کو سونپ رکھی ہے اس میں بہت بڑا راز پنہاں ہے اس سے انکار کرنا ہی عورت کی تباہی کو آواز دینا ہے‘ جو عورتیں مردوں کے اس مقام کو پہچانتے اور ماننے سے انکار کی مرتکب ہوتی ہیں نئی نسل کی بھلائی کے لیے شادی نہ کرنا مناسب رہتا ہے کیونکہ شادی کھیل یا ڈرامے کا نام نہیں دو دلوں کے عہد و پیمان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا نام ہے‘ دراصل عورت اور مرد کی ایک دوسرے پر ملکیت بے پناہ توقعات لے کر تخت شعور میں اتر جاتی ہے توقعات ہی اس بندھن کو توڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بندہ بشر کے لیے توقعات کا استوار کرنا ایک قدرتی امر ہے ان کا تناسب کرلینا ہی بڑائی اور عظمت ہے۔‘‘ میرے سر کھپانے پر وہ کچھ رام ہوگئی اور اس مسرت نے ماحول کی کثافت کو یکسر ہی اجلا اور پاکیزہ بنا دیا تھا اور میں اس کے خیمے میں دھرنا مار کر بیٹھ گئی اس وقت تک کے لیے جب تک جہاں آرا اپنے گھر سدھار نہیں جاتی‘ جب ان کی باہمی صلح میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو میں اسے اپنے ہمراہ اپنے گھر لے آئی اور زارا کو پاکستان آنے پر آمادہ کرنے لگی کیونکہ جہاں آرا کے دلائل کے سامنے میری تمام نصیحتیں لاحاصل و لایعنی ہوجاتی تھیں لیکن میں ہمت ہارنے والی اور شکست ماننے والی کہاں تھی میں نے حتی الامکان ایک گھر، ایک نسل، ایک معاشرے کو اپنے اخلاص و اتحاد اور صبر و تحمل سے آباد و شاداب کرنے کا تہیہ کرلیا تھا دھواں دھار گفتگو، بحث مباحثہ، کوفت اور بے کلی کا سبب ضرور بن جاتی مگر مجھے اس کی رتی بھر پروا نہ تھی کئی دفعہ غصے میں وہ مجھے کافی کھری کھری سنا جاتی مگر اگلے لمحے معذرت خواہانہ رویہ مجھے مزید اس کا محسن اور مربی بنا دیتا میں زارا کے انتظار میں تھی کیونکہ وہ دانیال سے براہ راست رابطہ کرکے ان کے کچے بندھن اور جدائی کو نیا رنگ سونپ سکتی تھی میری رسائی دانیال تک اس کی وساطت سے ہی ہوسکتی تھی۔
/…/…/
میرے گھر چند دن گزارنے کے بعد وہ مضطرب رہنے لگی اپنا بوجھ اور ذمہ داری وہ بذات خود اٹھانے کے حق میں تھی آخر لمبی چوڑی گفتگو کے بعد میں نے اس کے لیے نہایت کارآمد رستہ ڈھونڈ لیا میں نے اپنا ڈرائننگ روم خالی کرا کر پارلر بنانے کا آرڈر دے دیا کیونکہ میرا ڈرائننگ روم میرے اکیلے پن کی وجہ سے مہینوں میں کہیں ایک آدھ بار استعمال میں آتا تھا اوپر کے حصے میں ورکشاپ بنا کر بوتیک کھولنے کی تیاریاں ہونے لگیں مگر مجھے دانیال کا انتظار ہر وقت بے کل اور تذبذب میں رکھتا مہینے بیت رہے تھے فاصلوں میں استقامت بڑھتی جارہی تھی جہاں آرا بظاہر تو قدرے مطمئن نظر آنے لگی تھی اس کے ہاتھ میں کئی قسموں کے ہنر تھے جو کامیابی کا منہ بولتا ثبوت بن چکے تھے مگر اپنا گھر اور اپنے معصوم بچوں کی کمی اسے وقتاً فوقتاً دل حزیں رکھتی جس پر اس کا اپنا اختیار ہی نہ تھا اب وہ اس قابل ہوگئی تھی کہ اپنے بچوں کو حاصل کرکے ان کی تمام تر ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرنے کی مجاز تھی وہ دن رات مجھے انصاف اور راست بازی پر اکساتی رہتی میں نے اپنی تمام تر زیست دوسروں کی طمانیت اور تسکین بخشنے کے نام تو کردی تھی اس کی تمام باتیں اور فکریں میری سمجھ سے بالا تر ہرگز نہ تھیں۔ اس کی تڑپتی مامتا‘ بلکتی روح تک اترنے میں میرے لیے کوئی مشکل نہ تھی مگر کون سا قابل عزت و قابل قبول ذریعہ اپنایا جاتا کہ اس کی تحریم پر حرف بھی نہ آئے اور بچے بھی اس کی مامتا کی ٹھنڈی چھائوں میں پناہ گزیں ہوجائیں۔
اس کے یہاں آنے سے میں نے بھی اپنی زندگی کے تجربات کو ہر رنگ اور ہر طرح کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا تھا موسموں کے بدلتے رنگ کے اصول اور قانون کا درس مجھے دن بدن بہت میچور کرتا گیا اپنے آئینے اور گریبان میں جھانک کر دوسروں کے بات و احساسات کو تعین کرنے سے پہلے مستعدی اور سمجھداری سے حقیقت کی گہرائی میں جاکر کسی بھی نیکی کا بیڑہ اٹھانے کا فیصلہ کرنا مجھے دانش مندی لگا۔
خوابوں کی دنیا میں رہنے والی رابعہ خوش فہمیوں اور امیدوں کے مرغزاروں سے باہر نکل آئی تھی‘ مجھے جہاں آرا پر ہونے والے ظلم و ستم کا احساس کسی پل چین نہ لینے دیتا‘ اس معاشرے میں لاکھوں ایسی جہاں آرا موجود ہیں جو ازراہ مجبوری بے بسی ہی گھٹ گھٹ کر اپنی زیست کو انتظار مرگ میں بیتا رہی ہیں جو عورت اپنے حقوق و خود اعتمادی کے شعور سے روشناس ہوکر آواز بلند کرتی ہیں ان سے ان کی حکومت چھین کر اس معاشرے کے روبرو چلنے کی قابلیت اور اعتماد کو کچل دیا جاتا ہے اور ذلالت و توہین ان کے مقدر کی تختی پر لکھ دی جاتی ہے۔
انہیں ایسا کون سا رستہ اختیار کرنا چاہیے جو انہیں سکون اطمینان اور عزت و تحریم جیسی دولت سے ہمکنار کردے انسانی مقصد حیات دائمی سکون سے ہی منسلک ہے خدمت خلق کے جذبے کی گہرائی پر غور و فکر کرنے سے ایک پوشیدہ پہلو کی سچائی کا اقرار بڑا دشوار معلوم ہوتا ہے یعنی بعض اوقات خود غرضی، پزیرائی، اور ذاتی ذہنی سکون کی خاطر ہم دوسروں کی زندگی کی تلخیوں اور ناکامیوں کو حلاوت سے لبریز کرتے ہوئے وہ ناقابل عبور حدیں ایثار و قربانی سے پار کر جاتے ہیں‘ اپنے ذہن و قلب کو لطافت و اطمینان کی چاشنی بھرنے کی کوشش میں ہم سے لاتعداد غیر فطری عمل سرزد ہونے لگتے ہیں جن کا انجام ہمشہ روح فرسا ہی ہوتا ہے۔
’’نجانے تم نے کیا سوچ کر یہ قدم اٹھایا تھا۔ خود غرضی تھی یا سچ مچ ہمدردی۔‘‘ میں نے جہاں آرا سے سوال کیا تو وہ سوچ میں ڈوب کر اپنا موازنہ کرنے لگی اسی تڑپ اور کسک کے سنگ دن گزرتے گئے اسلام آباد میں جہاں آرا کا بوتیک اور بیوٹی پارلر اس کی پہچان بن گیا۔ اﷲ نے اسے ہر طرح کی نعمتوں سے نواز دیا تھا مگر دل کے ٹکڑوں کی شوخیاں اور شرارتیں اور اپنے جیون ساتھی کی محبت و چاہ کی شعاعوں کی محرومی اسے ہر وقت بے کل رکھتی۔
گرمیوں کی مختصر راتیں جوانی کی مستانی نیندیں گزرتی کیسی بھلی اور پُر لطف ہوا کرتی تھیں‘ سردیوں کی شب کی گہری بے ہوشی اب روٹھ کر نجانے کہاں ڈیرے جمائے ہوئے تھی‘ جدائی کی بے قراری دن بدن بڑھ رہی تھی بے شک آج وہ اپنے زور بازو پر بہترین تیراک تو بن گئی تھی مگر ساحل کا کہیں اتا پتا نہ تھا‘ وہ اکتا جانے سے پہلے اور احساس تھکن کے عود آنے کے خوف سے اس کی ساحل تک پہنچ جانے کی خواہش زور پکڑنے لگی تھی مگر آج تک اس طرف سے صلح جوئی کی پیش رفت نہ ہوئی تھی نہ ہی سسرال نے اس کو ضروری سمجھا تھا نہ ہی دانیال نے کمی محسوس کی تھی بے حیثیت اور بے وقعت ہونے کے احساس نے ذہنی و اعصابی تنائو کی کیفیت کو بتدریج بڑھا دیا تھا پھر بھی زبان پر کوئی شکوہ وشکایت نہ تھی‘ میں اس کے صبر و تحمل کو دل ہی دل میں داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔
/…/…/
اس پگھل جانے والی گرمی کی دوپہر میں بھی ان خواتین کو چین نصیب نہیں میری ایک گھنٹے کی بریک بھی ان کو کس قدر کھٹکتی ہے فارغ البال ہیں ناں زرق برق لباس اور ڈائمنڈ کی خریداری پر کیسے نہال ہوتی جاتی ہیں اور پارلر میں گھنٹوں صرف کرنا ان کی بے کاری کی نشاندہی کو کافی ہے وہ میرے ساتھ بیٹھی تیزی سے کھانا کھا رہی تھی کیونکہ پارلر سے تین دفعہ بلاوا آچکا تھا۔ اس نے کھانا زہر مار کیا اور پانی پیے بغیر تیزی سے باہر نکل گئی جونہی آفس میں قدم رکھا ٹھٹک کر دروازے کا سہارا لے کر سنبھلی سامنے دانیال دونوں بچوں کے ہمراہ کھڑا تھا‘ پلکیں ندامت کے بوجھل پن کی غمازی کررہی تھیں وہ ہمیشہ کی طرح سراپا مردانگی و مروت کا مجسمہ معلوم ہوا بچوں کی وضع وقطع پر ماں کے سایہ عاطفت کی محرومی کے آثار نمایاں تھے چھ فٹ دو انچ کے جوان دانیال نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑے تو وہ افق پر چڑھتے سورج کو یکسر ڈوبتے دیکھ کر گھبرائی اور پیچھے ہٹ گئی۔
’’مجھے تم سے معافی مانگنے کا حق تو نہیں ملنا چاہیے لیکن میں اس امید پر تمہارے درپر آیا ہوں کہ تم میں درگزر اور رحم قلب کی جو صلاحیتں موجود ہیں وہ میرے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیں گی۔‘‘ اس نے اس کے التجا بھرے لہجے کو یکسر نظر انداز کیا اور بچوں کی طرف بڑھ گئی۔
’’میرا میکائل اور میری مرجان۔‘‘ اس نے انہیں پیار سے پکارا اور گلے لگا لیا وہ انہیں عالم وارفتگی سے چومے جارہی تھی۔
’’میرے لیے کیا حکم ہے؟‘‘ دانیال نے اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے پوچھا۔
’’مرجان بابا سے کہو یہاں سے چلے جائیں۔‘‘ وہ تیزی سے اس کی گرفت سے نکلی۔
’’دلہا لینے آیا ہے ڈولی لے کر جائے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں پرانی شوخی عود کر آئی تھی‘ جہاں آرا کے خوب صورت چہرے پر کسی جذبات کی ہلکی سی رمق بھی نہ تھی۔ وہ بچوں کو گلے لگائے کرسی پر براجمان ہوگئی اور خود اعتمادی سے بولی۔
’’آپ کو معافی مل سکتی ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ملزم اپنی خطا و گناہ کی سزا بھگتنے کے بعد معافی کا حق دار ہوسکتا ہے۔‘‘
’’آپ بھی اس بیتے ہوئے وقت کی تلخیوں اور محرومیوں کا حساب چکا سکتے ہیں اگر ایسا ہوسکتا ہے تو آپ کی معافی پر غور ہونے کے امکان ہیں۔‘‘ وہ بے حد سنجیدہ تھی۔
’’میں بے حد شرمندہ ہوں جہانی، تم سچ کہتی تھی کہ میری نرم دلی ہمارے گھر کو تباہ و برباد کردے گی تمہاری ہر بات کی صداقت اور گہرائی کا اندازہ مجھے ہوچکا ہے‘ تمہاری قربت کی محرومی اور تمہاری غیر موجودگی نے میری زندگی کی رعنائیوں اور کامرانیوں کو نگل لیا… مجھے تم سے بھلے کی امید ہے کیونکہ تم ناعاقبت اندیش عورت نہیں ہو تمہاری جیسی عورتیں شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔‘‘ وہ جزبز بولے جارہا تھا۔
’’خوشامد کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ سختی سے بولی۔
’’جہاں آرا میں سچائی کے سامنے ہار مان رہا ہوں خوشامد کا زہر تمہاری ذات میں سمو کر میں خود کو معاف نہیں کروں گا میں نے زندگی میں کسی بھی موڑ پر دھوکہ یا فریب نہیں دیا ماضی کے ہر لمحے پر غور کرنے کا تمہارا حق ہے۔‘‘ وہ عالم تذبذب میں بولا۔
’’ہوں…‘‘ ایک لمبے توقف کے بعد وہ گویا ہوئی۔ ’’کیا مجھے حنا کی خاطر گھر سے نکالنا میرے ساتھ وفاداری اور عزت افزائی تھی؟‘‘
’’بس جہاں آرا نیکی کرنے اور اس کا بہترین اجر پانے کا بھوت جو سر پر سوار تھا وہ حنا کے ایک فقرے نے ہی اتار دیا… تم مجھے معاف کرو تو پھر میں تمہیں اپنی روداد سناتا ہوں۔‘‘ وہ بے کل ہوکر بولا۔
’’معاف تو میں نے آپ کو ان معصوم بچوں کی وجہ سے کر ہی دیا ہے ورنہ آپ کا گناہ قابل معافی ہرگز نہیں تھا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’ان بچوں کو کس قصور کی سزا مل رہی ہے، آپ کی ناسمجھی کی یا میرے صبر کی۔‘‘ وہ گلوگیر ہوئی۔
’’دونوں باتیں درست ہیں کیونکہ میری ناعاقبت اندیش سوچ میں میرے تمام اعمال بہت پاکیزہ اور مقدس تھے‘ تمہارے اعتراض پر میں بہت حیراں ہوکر تمہیں لعن طعن کرنے لگ جاتا تھا کیونکہ مجھے اس معصوم سے دور ہونے کا کوئی جواز نظر نہ آیا تھا تمہیں میری راست گفتاری پر ابھی بھی پورا بھروسہ ہوگا کیونکہ ایسی باتوں پر میں ہمیشہ فائق رہ کر پر تسکین رہا ہوں میری کچھ حرکات و سکنات رجماً بانصیب سرزد ہوتی ہیں کیونکہ گرد و پیش کے ماحول کی گہرائی سے جانچ پڑتال کرنا میری فطرت کے خلاف ہے میری اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھائے حنا بغیر نہ رہ سکی تمہاری غیر موجودگی میں اس نے گھر کی فضا کو ایسا پُرسکون اور مسحور کن بنا ڈالا کہ میں اس فسوں میں ڈوبتا چلا گیا ایسے خوشگوار لمحات کو امر بنانے کے تمام حربے حنا کی طرف سے دن بدن عروج پر تھے جن پر شک و شبے کی کوئی گنجائش نہ تھی مگر اس نے میری سادگی اور شرارت کے تمام حسین رنگوں کو گڈمڈ کردیا اور ایک رات میرے کمرے میں آگئی میری نظروں میں اس کا مقام بہت برتر تھا وہ میری چھوٹی بہن اور بیٹی کے رشتے سے منسلک ہوچکی تھی‘ اس کی توجہ پیار اور ستائش سے کبھی بھی کسی خوشی فہمی کا شکار نہ ہوا تھا نہ ہی میں نے دوسروں کی فضولیات الزام تراشیوں پر کان دھرے اور سوچنے سمجھنے کی تکلیف گوارا کی تھی‘ تمہارا مجھے چھوڑ کر یہاں آباد ہوجانے کے اثرات سے بچے اور گھر بالکل محفوظ تھے میں ہر وقت اس کا شکر گزار رہتا، بس یوں سمجھو کہ میں پوری طرح اس کی گرفت میں تھا اور اس کے بغیر مجھے سانس لینا بھی دشوار لگتا تھا۔ امی‘ بڑے بھائی کے پاس امریکا شفٹ ہوگئی تھیں ورنہ نوبت یہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی تمہارا اور میرا ملاپ ہوچکا ہوتا زارا نے بہت کوشش کی کہ میں تمہیں اپنے گھر لے آئوں مگر اکڑ، غصہ اور ضد ہر دفعہ میرے آڑے آتی رہی، دوسری وجہ حنا کی بے پناہ توجہ کا بھی کمال تھا۔‘‘ دانیال بیتے ہوئے دنوں کے لمحوں کی سچائی اور تلخی اس کے گوش گزار کررہا تھا۔
’’جس رات وہ میرے کمرے میں پہنچی تو ایسی انہونی حرکت تو نہ تھی مگر اس کی نگاہوں کی بے باکی اور بے شرمی کو محسوس کرتے ہوئے میں بیڈ سے نیچے اتر آیا تو وہ میرے پائوں پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا کر زار و قطار رونے لگی میں نے اسے کھڑا کرنے کی کوشش کی تو وہ ایک ہی فقرے پر بضد میرے پائوں پکڑے بیٹھی رہی۔‘‘
’’دانیال میں آپ کے بغیر سانس لینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی، جہاں آرا کو طلاق دے کر مجھ سے شادی کرلیں۔‘‘
’’یہ ناممکن ہے حنا ہوش میں آئو، تم سے میرا رشتہ ایک بھائی اور باپ کے مشابہہ ہے۔‘‘
’’ایسا ہرگز نہیں‘ آپ نے مجھے اپنی بیوی سے بڑھ کر پیار اور عزت بخشی‘ میری ہر ادا پر آپ دل و جان سے فریفتہ ہوتے رہتے ہیں‘ میری محبت اور چاہتوں کے نشے میں آپ نے جہاں آرا سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے، مجھے آپ سے عشق ہوگیا ہے‘ جیسے ہیر رانجھے کے بغیر اور سسی پنوں کی جدائی میں ہلکان ہوگئے تھے انہیں دنیا کی کوئی پروا نہ رہی تھی بالکل اسی طرح مجھے کسی کی کوئی پروا ہے نہ ہی ضرورت…‘‘
’’تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجائو پھر بھی ایسی دغا بازی جہاں آرا سے نہیں کرسکتا وہ میرے بچوں کی ماں ہے آج نہیں تو کل آخر وہ اسی گھر کی مالکن ہے۔ میں فقط اس کی انا و خودداری کا امتحان لے رہا ہوں جب پیمانہ لبریز ہوگیا تو میں اسے ضرور یاد آئوں گا کیا تمہیں علم ہے کہ میں ہر شب اس کی یادوں کے دیے جلا کر روشن رکھتا ہوں اور میرا ہر دن اس کی واپسی کی امید و موہوم میں بیت رہا ہے دس سال کی رفاقت کو فراموش کردینا اور اپنی آگہی سے قطعی لاعلم ہوجانا آسان کام نہیں ہے حنا‘ میری توجہ اور پیار کو غلط تصور کرنا بھی گناہ ہے تمہیں میرے بارے میں غلط فہمی ہوگئی ہے… میری تمام باتوں کے باوجود وہ اپنی خواہشات کے اظہار میں اس حد تک گر گئی کہ دفعتاً بے نیازی سے بولی۔‘‘
’’دانیال میں جہاں آرا کی سوتن بن کر آپ کی زندگی میں شامل ہونے کو تیار ہوں پھر بھی آپ کی طرف سے انکاری ہے تو میں زندگی سے منہ موڑ جاؤں گی۔‘‘ اس کی یہ باتیں سن کر میں غیظ و غضب سے چیخ اٹھا میں اسے بازو سے گھسیتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا اور اگلے دن میں نے اسے دبئی ماموں کے ہاں بھیج کر سکون کا سانس لیا زندگی میں پہلی بار میں نے اپنے لاابالی پن سے باہر نکل کر ہر طرح کے نشیب و فراز کا جائزہ لیا تھا اور تم مجھے کس قدر معصوم بے گناہ اور بے عذر لگی تھی…‘‘ یہ سن کر فتح مندانہ مسکراہٹ جہاں آرا کے لبوں پر پھیل گئی۔
وہ قدرے تفاخر سے کرسی سے اٹھی مگر قدم منوں بھاری ہوچکے تھے دانیال نے اس کی اس مشکل کو آسان کردیا اور اسے اپنی بانہوں کے حصار میں مقید کرلیا اور وہ اس تحفظ کے فسوں میں مدہوش ہوتی چلی گئی۔ زندگی ایک بار پھر بے مشروط محبت کے سنگ اس کے ہم قدم تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close