Aanchal Jul-17

چراغ خانہ

رفعت سراج

اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرمِ خاموشی
ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں
کسی کو کیسے بتلائیں بھلا‘ کہ ہم خود بھی
تیرے بچھڑنے کے اسباب کم ہی جانتے ہیں

گزشتہ قسط کا خلاصہ
کمال فاروقی اور دانیال مشہود کی بے ہوشی کا فائدہ اٹھاتے اسے ہسپتال لے جاتے ہیں جہاں اسے فوری طبی امداد دی جاتی ہے۔ خراب طبیعت کی اصل وجہ ٹینشن اور نقاہت ہوتی ہے کمال فاروقی اس کی طرف مطمئن ہوکر دانیال کو پیاری کی طرف بھیج دیتے ہیں‘ ان کا خیال تھا کہ پیاری مشہود کی طرف سے فکرمند ہوگی لہٰذا ایسے میں دانیال کو وہاں ہونا چاہیے۔ دانیال باپ کے کہنے پر پیاری کے پاس پہنچ جاتا ہے مگر پیاری کو دانیال کی آمد بالکل اچھی نہیں لگتی اور وہ دانیال سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار برملا کرتی ہے ایسے میں دانیال کو اپنی ذات کی یہ تحقیر برداشت نہیں ہوتی محبت اس کا سب سے بڑا جرم بن جاتا ہے۔ مانو آپا کو جب یہ پتا چلتا ہے کہ مشہود ہسپتال میں ہے تو وہ بھائی کی محبت میں بے قرار ہوکر فوراً ہسپتال پہنچنے کا ارادہ کرتی ہے اور وہ رات میں مشہود کے پاس رک کر اس کا ساتھ دینا چاہتی ہیں۔ عالی جاہ کو تمام بات بتاکر وہ اس کے عتاب کا نشانہ بنتی ہیں کیونکہ عالی جاہ کو مشہود اور پیاری سے بے حد نفرت محسوس ہوتی ہے مگر وہ اپنی ماں کو اپنے جذبات سمجھانے میں ناکام رہتا ہے۔ سعدیہ دانیال اور پیاری کے گھر آنے اور یہاں رکنے کی بات کرتی ہیں جس پر کمال فاروقی انہیں سمجھا کر رضا مند کرلیتے ہیں۔ مانو آپا اپنی ہمدرد طبیعت کے پیش نظر مشہود کا خیال بالکل اپنے بیٹے کی طرح رکھتی ہیں اور رو رو کر اس کے لیے دعائیں کرتی ہیں۔ مشہود ان کی یہ رقت بھری کیفیت دیکھ گنگ رہ جاتا ہے اور بالآخر ان کے سچے جذبوں کو پذیرائی بخشتے ان سے اپنے تلخ رویوں کی معذرت کرتا ہے مانو آپا اسے تمام باتیں بھولنے کا مشورہ دیتی آرام کی تاکید کرتی ہیں۔ دانیال عجیب کشمکش کا شکار ہوکر واپس پیاری کے پاس آجاتا ہے پیاری رات کی تنہائی میں اس کی آمد پر گھبرا جاتی ہے وہ مشہود کی طرف سے مختلف خدشات کا شکار ہوکر دانیال سے بے اعتنائی و لاتعلقی برتتی ہے ایسے میں دانیال اپنی گاڑی میں رات گزارنے کا ارادہ کرتا ہے اور پیاری کا سامنا کرنے سے گریز کرتا ہے۔ پیاری اس کی خفگی کی پروا کیے بغیر چپ چاپ اندر آجاتی ہے لیکن کچھ دیر بعد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو وہ دانیال کے پاس آکر اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی ہے۔
اب آگے پڑھیے
ء…/…ء
پیاری نے بڑی ہمت کرکے کار کے شیشے پر اپنی انگوٹھی سے دستک دی‘ بہت محتاط انداز تھا کار کے اندر اندھیرا تھا اسے ایک نظر میں باہر سے کچھ دکھائی نہیں دیا۔ دستک دینے کے بعد وہ انتظار کرنے لگی کے یا تو کار کی کھڑکی کا شیشے نیچے ہوتا ہے یا پھر کار کا دروازہ کھلے گا لیکن کچھ بھی نہ ہوا ایک منٹ کا دورانیہ ایک صدی کے لگ بھگ محسوس ہوا تھا اس نے اس مرتبہ بڑی بے اختیار کیفیت میں ذرا زور سے دستک دی اور ردعمل کا انتظار کرنے لگی۔ دروازہ تو نہیں کھلا کھڑکی کا شیشہ نیچے سرکتا ہوا محسوس ہوا وہ بغور دیکھ رہی تھی۔ شیشہ آدھا نیچے ہوا تو اسے دانیال کی صورت دکھائی دی جو بکھرے بالوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں نیند اور خفگی کا ملا جلا تاثر تھا‘ پیاری کو سمجھ ہی نہ آئی کے وہ بات کس طرح شروع کرے۔ اس نے سوچا دانیال کچھ پوچھے مگر دانیال تو بالکل خاموش تھا یا پھر وہ بھی پیاری کی طرح انتظار کررہا تھا کہ پیاری اپنی طرف سے کوئی بات کرے۔
’’وہ میں کہہ رہی تھی کہ آپ اتنی گرمی میں سو رہے ہیں‘ اصولاً تو آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا…‘‘ پیاری اپنی ہی رو میں بولتی چلی گئی‘ دانیال نے جواب دیئے بغیر کھڑکی کا شیشہ دوبارہ اوپر کردیا۔ پیاری ہک دک شیشے کی طرف دیکھتی رہ گئی اب اسے سمجھ آگئی تھی کہ دانیال اس سے ناراض ہے لیکن اس نے کھڑکی کا شیشہ نیچے ہونے کے بعد جو دانیال کی حالت دیکھی تھی اب وہ اندر جاکر ایک پل چین سے نہیں بیٹھ سکتی تھی‘ اس نے دستک دینے کے بجائے اپنی ہتھیلی سے شیشے پر دھپ دھپ کی لیکن جواب میں مکمل خاموشی تھی۔ پیاری نے اب اپنے دونوں ہاتھوںسے کھڑکی کا شیشہ دھڑدھڑایا۔ دانیال نے شیشہ نیچے کرکے اس کی طرف بڑی برہمی سے دیکھا تھا۔
’’آپ اندر جاکر آرام فرمائیں۔‘‘
’’کیوں اتنی ہمدردی کررہی ہیں۔ بس چند گھنٹے کی بات ہے بہت بُرا پھنس گیا ہوں بس انتظار کررہا ہوں اس رات کے گزرنے کا ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ آپ کو زحمت نہیں دوں گا‘ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ کہہ کر پھر اس نے شیشہ اوپر کرلیا۔
پیاری نے گویا اپنا سر پیٹ لیا عجیب مشکل میں پھنس گئی تھی‘ غلطی بھی اسی کی تھی بداخلاقی کی انتہا بھی اسی نے کی تھی۔ اب معاملے کو سنبھالنا بھی اسی کا فرض بنتا تھا‘ اس نے اب لگا تار کھڑکی کا شیشہ بجانا شروع کردیا‘ چند سیکنڈ بعد کار کا دروازہ کھلا اور دانیال کار سے باہر آگیا۔
اس کی قمیص کے تین بٹن کھلے ہوئے تھے‘ آستینیں فولڈ تھیں‘ قمیص پسینے میں بھیگی ہوئی صاف محسوس ہورہی تھی۔ ظاہر ہے وہ ساری رات تو گاڑی اسٹارٹ کرکے سونے سے رہا۔ پتا نہیں گاڑی میں کتنا پیٹرول تھا یہ تو اسی کو پتا ہوگا لیکن وہ گاڑی کا اے سی آن کرکے بھی سو سکتا تھا۔ جانے اس نے ایسا کیوں نہیں کیا یا شاید وہ پیاری سے بدلہ لینا چاہتا تھا‘ اس کو جتانا چاہتا تھا کہ اس نے کتنی تکلیف میں رات کاٹی ہے۔ اس کے باوجود کے وہ بالکل بے قصور ہے‘ پیاری اسے کس قدر تنگ کررہی ہے‘ کسی ناکردہ گناہ کی ایک تسلسل سے سزا دے رہی ہے۔ وہ کار سے باہر آیا تو پیاری چار قدم پیچھے ہٹ گئی تھی۔
’’آپ پلیز مجھ پر چاہے کتنا بھی غصہ کرنا چاہیں کرلیں‘ مگر اندر آکر سوئیں‘ مجھے بہت تکلیف ہورہی ہے۔‘‘ پیاری کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا۔
دانیال نے بہت سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا‘ نظروں میں اب خفگی کی بجائے اجنبی پن کا تاثر تھا۔
’’آپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے‘ آپ کا اور میرا کوئی ایسا رشتہ تو نہیں ہے جس کی وجہ سے آپ کو میری کسی تکلیف پر تکلیف ہو‘ آپ آرام فرمائیں۔ میں نے آپ سے کہا نا کہ آپ کو آئندہ میری طرف سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی‘ اس طرح کے کسی امتحان میں نہیں ڈالوں گا آپ کو۔ اب یہ تنگ کرنا بند کریں اور جاکر اپنے ٹھنڈے کمرے میں سو جائیں اب اگر آپ نے مجھے تنگ کیا تو میں گھر سے چلا جائوں گا۔ چاہے مجھے ساحل سمندر پر رات گزارنا پڑے۔‘‘ دانیال نے اب دھمکی دے دی تھی۔
ساحل سمندر پر ویسے ہی حالات خراب ہیں لوگ اپنی گلی‘ اپنے گھر کے سامنے لٹ جاتے ہیں‘ اس ٹائم پر ساحل سمندر جائیں گے؟ پیاری کو اسی طرح کے اندیشے ستا رہے تھے‘ جو اندیشے کسی اپنے کو ستا سکتے ہیں۔ وہ خیال جو کسی اپنے ہی کو آسکتا ہے وہ احساس جو کسی اپنے ہی کو ہوسکتا ہے۔
’’آپ جو کچھ بھی کرنا چاہیں صبح کو کریں ابھی تو آپ کو میری بات ماننا پڑے گی اگر آپ گھر سے باہر گئے تو میں بھی گیٹ سے باہر جاکر بیٹھ جائوں گی۔ سب نے مل کر مجھے تو اتنا تنگ کیا ہے کہ میرا تو مر جانے کو جی چاہتا ہے جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ مجھے چھوڑتا نہیں ہے‘ میرا آخر قصور کیا ہے؟‘‘ پیاری وہیں کھڑے کھڑے بھل بھل رو پڑی۔ دانیال نے پیاری کی طرف دیکھا تو تڑپ کر رہ گیا‘ اس نے دل و جان سے اس بے وقوف سی لڑکی کو چاہا تھا جو جب چاہتی تھی اس کا دل بڑے آرام سے توڑ کر فاصلے پر کھڑی ہوجاتی تھی۔ اتنے فاصلے پر کہ وہ جتنا بھی دوڑ کر اس تک پہنچنے کی کوشش کرتا وہ مزید فاصلہ اختیار کر جاتی۔
’’یعنی کہ غلطی بھی خود ہی کی ہے اور اب دھمکیاں بھی دوگی۔‘‘ پیاری کے آنسو اسے بہت تنگ کررہے تھے‘ وہ جانتا تھا کہ پیاری اپنی خوشی سے یہ سب کچھ نہیں کررہی‘ وہ جس امتحان سے گزر رہی ہے وہ امتحان ایک پتھریلا سفر ہے‘ جس پر چلتے چلتے نڈھال ہوکر گرنے لگتی ہے۔ ایک طرف خون کا رشتہ… دوسری طرف بنایا ہوا رشتہ یا دل کا رشتہ… دو رشتوں کی طاقت نے اسے اس طرح جکڑ کے رکھ تھا کہ اسے زندگی جیسے بوجھ لگنے لگی تھی‘ جس کا اظہار اس نے ابھی ابھی کیا بھی تھا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے بس دانیال کو ایک دم احساس ہوا کے وہ مشہود کے برابر آکھڑا ہوا ہے جو کچھ مشہود کررہا ہے وہی تو وہ بھی کرنے لگا ہے… مشہود گنجائش رکھ کر بات کررہا ہے نہ وہ کوئی رعایت دے رہا ہے اگر خدانخواستہ اس نے واقعی جان دے دی تو پھر کیا رہ جائے گا‘ اذیت کی انتہائوں پر انسان کچھ بھی کرسکتا ہے۔
دانیال کو اب خوف ستانے لگا وہ سارا غم و غصہ بھول گیا اور وہ چاہت دل پر غالب آنے لگی جس چاہت نے رات کے اس پہر اسے پیاری کے مقابل کھڑا کیا ہوا تھا جو کسی اور طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہیں دیتی تھی۔ اس نے روتی ہوئی پیاری کو چپ کرانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ اندر سے اسے خوف تھا کہ پیاری کسی چاہت کے اظہار پر… الٹا گلے نہ پڑ جائے۔ پھر کوئی ایسی بات نہ ہوجائے کہ اسے غصہ آجائے کیونکہ وہ بھی تو انسان ہی ہے۔ دل ٹوٹنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور جس سے پیار کیا جاتا ہے اس کی بدسلوکی تو سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے اب وہ کوئی خطرہ مول لینے کی غلطی نہیں کرسکتا تھا‘ چپ چاپ سر جھکا کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔
ء…/…ء
مانو آپا فجر کی نماز پڑھنے کے بعد درود شریف اور آیت شفاء کی تسبیح میں مشغول ہوگئی تھیں۔ تسبیحات مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک گلاس پانی پر دم کیا اور ڈھانپ کر رکھ دیا کہ جب مشہود کی آنکھ کھلے گی تو اسے یہ پانی پلائیں گی۔ اس کے بعد جاکر وہ دوسرے بیڈ پر لیٹ گئیں اور مشہود کے بارے میں سوچنے لگیں جوں جوں وہ مشہود کے بارے میں سوچتی تھیں‘ ان کا دل پگھلتا جارہا تھا اور مشہود انہیں یکسر بے قصور دکھائی دے رہا تھا۔
’’اس بچے کے غصے کے جواب میں کسی کو بھی غصہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ جو تکلیف اور مشقت اس نے اٹھائی وہ ہم میں سے کسی نے نہیں اٹھائی‘ سب نے وقت سے کھایا وقت سے پیا‘ ٹھنڈے کمروں میں پڑکر سوگئے۔ جانے بچہ کن کن ویرانوں سے گزرتا ہوا دھکے کھاتا ہوا‘ جان بچاتا ہوا یہاں تک پہنچا۔ میں دانیال کو بھی سمجھائوں گی کہ بیٹا ذرا صبر سے کام لو ایسی بھی کیا آفت اتری ہے‘ شادی ہوگئی ہے۔ تم اور پیاری ایک دوسرے کے ہوگئے ذرا صبر سے وقت گزار لو‘ کچھ نہیں بگڑے گا‘ ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا‘ یہ بے ماں باپ کا بچہ… ارے ماں باپ کی کمی تو بہت بڑی کمی ہوتی ہے۔ ماں باپ کی قدر تو وہ جانیں جو انہیں کھو بیٹھے ہیں‘ اولادکے عیبوں پر پردہ ڈالنے والے‘ اولاد کی تکلیف کو دونوں ہاتھ سے سمیٹنے والے‘ ہر دکھ تکلیف کے موقع پر سب سے بڑھ کر اپنے… ارے یہ رشتے کہاں ملتے ہیں اور جن کو مل کر چھن گئے وہ تو ایک طرح سے بڑے مسکین ہیں‘ بے چارے ہیں‘ ان پر تو غصہ کرنا بھی گناہ ہے۔ سب کو کہہ دوں گی کہ مشہود جس کو جو مرضی کہے سب سن لیں۔ ارے وہ تکلیف کسی نے نہیں اٹھائی جو اس بچے نے اٹھائی ہے‘ ذرا سا سُن لیں گے تو کیا جیب سے کچھ چلا جائے گا۔ یہ بھی ایک طرح سے نیکی ہوگی۔ آخر کسی دن تھکے گا تو سوچے گا پھر کچھ سمجھ جائے گا‘ کیا نہیں ہوتا اس دنیا میں‘ ارے روز وہ ہوجاتا ہے جو سوچا بھی نہ تھا۔ اللہ نے چاہا سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ آنکھیں موندے ہوئے دل ہی دل میں آنے والے وقت کے لیے اچھی اچھی دعائیں کرنے لگیں۔
ء…/…ء
دانیال مشہود کے کمرے میں آکر اس کے بستر پر لیٹ گیا تھا۔ یہ وہ کمرہ تھا جو اس کے لیے بالکل بھی اجنبی نہیں تھا‘ پیاری کو دیکھنے اور اس کی محبت میں گرفتار ہونے تک کے تمام مرحلے اسی کمرے میں اٹھتے بیٹھتے طے ہوئے تھے‘ وہ مشہود کے لاپتہ ہونے کے بعد بھی اس گھر میں مشہود کے کمرے میں ہی سویا تھا لیکن پتا نہیں آج اسے مشہود کے بستر پر سوتے ہوئے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وہ مشہود سے چھپ کر بہت غلط کام کررہا ہو یا کسی جرم کا ارتکاب کررہا ہو‘ کافی دیر کروٹیں بدلتے ہوئے گزر گئی۔
پیاری کی طرف بار بار سوچ کا پلٹنا تو بڑا فطری تھا چاہنے والے ایک چھت کے نیچے ہوں اور دونوں کے دلوں کو خبر ہوکے وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے اور ایک دوسرے کے بغیر رہنے پر مجبور ہوں۔ جو بہت ہی قریب ہوں اور بہت ہی دور ہوں‘ سوچ تو بار بار اس طرف ہی پلٹتی ہے جہاں محبوب کے قیام کا امکان ہوتا ہے۔
جس طرح ایک قبلہ ہے اور سارے اس طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں‘ قبلے کا تصور درحقیقت محبوب ہی کا تصور ہے‘ یہ ایک علامتی اشارہ ہے کہ یہ قبلہ نہیں ہے یہ محبوب کے ہونے کا یقین ہے۔ سوچ کو اسی طرف موڑے رکھتا ہے اِدھر اُدھر تکنے نہیں دینا۔ بالکل یہی صورت حال عشق مجاز کی ہے‘ جس طرف محبوب کی موجودگی کا گمان ہوتا ہے وہی سمت دل کا قبلہ بن جاتی ہے۔ آسان تو نہیں تھا بہت مشکل تھا‘ دل تو یہاں تک کہہ رہا تھا کہ چپکے سے اسے جھانک آئے‘ دیکھے تو سہی وہ کیا کررہی ہے۔
شاعر تو محبوب کو اپنے خیال میں ڈوبا دیکھ کر ترک ملاقات کر بیٹھتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنے خیال میں کھوئے بہت اچھے لگ رہے تھے‘ اس لیے ہم نے مداخلت کرنا مناسب نہ سمجھا اور جو کچھ کہنے گئے تھے وہ دل کی دل میں رہ گئی۔
اس کے کمرے میں آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی لائٹ آگئی تھی اس نے اسپلٹ آن کردیا تھا اب کمرے میں بڑی خوب صورت سی ٹھنڈک بکھر گئی تھی۔ کمرہ ٹھنڈا ہوتے ہی اوسان بحال ہونے لگے اور ذہن بھی پُرسکون ہوگیا‘ وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگا۔ کیا ٹین ایج لڑکوں کی طرح ڈرامے بازی کررہا تھا‘ کیا اسے یہ دیکھنا تھا کہ پیاری کتنی دیر انتظار کرتی ہے کہ وہ گرمی میں سو پائے گا یا نہیں‘ وہ کیوں پیاری کو آزما رہا تھا‘ وہ بے چاری تو ویسے ہی ہر طرف سے آزمائی جارہی ہے‘ بہت غلط حرکت کی اگر وہ پہلے ہی کمرے میں آکر لیٹ جاتا تو وہ بھی کب کی سو چکی ہوتی۔ ابھی تو معاملات اسی طرح چلیں گے جب تک مشہود کا دماغ صحیح نہیں ہوجاتا۔
وہ بڑے پختہ انداز میں سوچتے ہوئے اپنے اوپر لعن تعن کرکے اب صحیح معنوں میں سونے کا موڈ بنا چکا تھا گویا کہ اب واقعی سے صبر جمیل کا ذائقہ پتا چل رہا تھا۔
ء…/…ء
فجر کی نماز اور تسبیحات سے فارغ ہوکر مانو آپا نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے کمال فاروقی کو فون کیا کیونکہ انہیں پتا تھا کہ کمال فاروقی فجر کی اذان سے دس پندرہ منٹ پہلے جاگ جاتے ہیں اور باقاعدہ جماعت سے نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ اسی لیے انہوں نے وقت ضائع کیے بغیر ان کو مطلع کرنا ضروری سمجھا کہ وہ ابھی ڈاکٹر وغیرہ سے بات کررہی ہیں اور صبح کی ٹریٹمنٹ کے بعد وہ مشہود کو لے کر اپنے گھر روانہ ہوجائیں گی۔
کمال فاروقی نے دو تین بیل کے بعد مانو آپا کی کال ریسیو کی تھی ان کی آواز سے پریشانی جھلک رہی تھی کیونکہ اتنی صبح صبح ہسپتال سے فون آنا کوئی عام بات نہیں ہوتی اور کوئی متعلقہ فرد ہسپتال میں داخل ہو تو یونہی الٹے سیدھے وہم آلیتے ہیں۔
’’السلام علیکم آپا…! آپ خیریت سے ہیں۔‘‘ کمال فاروقی نے بہت محتاط انداز میں بات شروع کی۔
’’وعلیکم السلام! بھیا میں بالکل خیریت سے ہوں الحمدللہ اور اللہ کا احسان ہے۔ مشہود کی طبیعت بھی بہت بہتر ہے۔ رات اس نے مجھ سے بہت باتیں کیں‘ بہت اچھے موڈ میں تھا میں نے اسے کافی سمجھایا بجھایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج اسے کوئی نہ ملے‘ بس میں ہی اس کی دیکھ بھال کروں۔‘‘
’’یعنی آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ آج ہم میں سے کسی کو اسپتال نہیں آنا چاہیے۔‘‘ کمال فاروقی نے مانو آپا سے استفسار کیا۔
’’ہاں… بھیا بات یہ ہے کہ بڑی مشکل سے بچہ سنبھلا ہے‘ میں سوچتی ہوں کہ ذرا اس کے دماغ کو تھوڑی دیر سکون رہے‘ دیکھو نہ دماغ پُرسکون ہوگا تو بندہ عقل کی بات سوچے گا۔‘‘
’’جی جی… ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ لیکن آپا‘ مجھے تو آپ کی فکر ہورہی ہے کہ آپ رات بھر اسپتال میں رہیں اور اب دن بھر وہیں رہیں گی تو آپ خود تھک جائیں گی آپا‘ اب آپ کی عمر بھی نہیں ہے۔‘‘ کمال فاروقی بہن کی تکلیف کے احساس سے بے چین محسوس ہوئے۔
’’ارے نہیں… نہیں کمال‘ اللہ جب کسی کو بھلائی کے کام کی توفیق دیتا ہے تو پھر اسے ہمت قوت بھی دیتا ہے‘ تم میری بالکل فکر نہ کرو۔ میں نے تو تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ دیکھو اب اس کا بار بار ہسپتال کے چکر لگانا بھی ٹھیک نہیں ہے‘ میں اسے اپنے گھر لے کر جارہی ہوں۔‘‘
’’اپنے گھر…‘‘ مارے حیرت کے کمال فاروقی نے ان کی بات کاٹی۔ ’’یہ کیا ہونے جارہا ہے۔‘‘ وہ الجھنے لگے۔
’’میں تمہیں سمجھا رہی ہوں نا ابھی تھوڑا سا میری باتوں کا اس پر اثر نظر آرہا ہے‘ ارے اسپتال میں تو اچھے اچھے چڑچڑے ہوجاتے ہیں‘ اپنے گھر لے جائوں گی‘ کافی بہتر ہے یہ دوائی وغیرہ خود کھلاتی رہوں گی‘ اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں نے تمہیں یہ ہی بتانے کو فون کیا تھا اور ہاں تم بھی گھڑی گھڑی میرے موبائل پر فون مت کرنا‘ کیا پتا کسی بات پر کھٹک جائے کہ پتا نہیں کیا ہورہا ہے‘ ٹھیک ہے نا ابھی بالکل خاموش ہی رہو اور جیسے میں کہہ رہی ہوں ویسے کرو۔‘‘
’’پھر بھی آپا… ٹھیک ہے‘ ظاہر ہے آپ اچھا ہی کررہی ہوں گی مجھے تو کوئی شک نہیں ہے۔‘‘
’’بس بھیا تو بات ختم‘ ٹھیک ہے میں ان شاء اللہ نو دس بجے گھر پہنچ جائوں گی۔‘‘
’’لیکن آپ نے مشہود سے بات تو کرلی ہے نا؟‘‘ کمال فاروقی نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
’’ارے اس سے بات کرنے کے بعد ہی تم سے بات کررہی ہوں نا‘ اب اتنی پاگل تو نہیں ہوں کہ سوت نا کپاس اور گولی سے لٹھم لٹھا…‘‘
’’ٹھیک ہے‘ ٹھیک ہے آپا‘ میں سمجھ گیا‘ مجھے آپ کی باتوں سے واقعی سکون ملا ہے۔‘‘
’’جزاک اللہ‘ خوش رہو بھیا اور سعدیہ سے بھی کہنا کے وہ دانیال سے کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کو پریشان کرے۔‘‘
’’ٹھیک ہے‘ ٹھیک ہے آپا… وہ کوئی ایسی بات نہیں کرے گی آپ نے دیکھا ہے نا اس میں کافی چینج ہے۔ وہ سعدیہ تو رہی نہیں ہے میں تو خود حیران بھی ہوں اور اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ بات سمجھ آگئی۔‘‘
’’بھیا… اللہ تم دونوں کو خوش رکھے‘ اللہ حافظ۔‘‘ مانو آپا نے اپنی طرف سے فون بند کردیا تھا‘ دوسری طرف کمال فاروقی بھی اپنے کان سے سیل فون ہٹاتے ہوئے بہت پُرسکون نظر آرہے تھے۔
ء…/…ء
ماسی نے کال بیل کی تھی تو پیاری کی گہری نیند ٹوٹی تھی‘ ویسے تو اسے نیند ہی نہیں آرہی تھی لیکن وہ مثل مشہور ہے کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے۔ وہ دانیال کے بارے میں سوچتے سوچتے ناجانے کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔ آنکھ کھلتے ہی اسے احساس ہوا کہ اچھا خاصا دن چڑھ آیا ہے‘ ذہن ماسی سے ہٹ کر فوراً دانیال کی طرف چلا گیا۔ وہ بھی تو صبح ہی سوئے ہوں گے‘ گاڑی میں کہاں نیند آسکتی ہے۔ شاید گاڑی میں پیٹرول نہیں ہوگا ورنہ تو اے سی آن کرکے سو جاتے یا پھر مجھے تنگ کرنے کے لیے گاڑی بند کرکے لیٹے ہوئے تھے‘ خیر گزر گئی رات اسی طرح جیسے دن گزر جاتا ہے۔
وہ ماسی کے لیے دروازہ کھولنے کمرے سے باہر نکلی تو دل مچلا کے ذرا جھانک کر مشہود کے کمرے میں دیکھے دانیال سو رہا ہے یا جاگ چکا ہے۔ ماسی نے اتنی دفعہ گھنٹی بجائی تھی کہ نیند تو اس کی بھی ٹوٹی ہوگی‘ خود سمجھ میں آجانے والی بات ہے یہ تو اس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ کمرے میں جھانک کر دیکھے کیونکہ دل نے اسے یقین دلادیا تھا کہ گھنٹی کی تیز آواز سے دانیال کی نیند ٹوٹ گئی ہوگی اور وہ جاگ رہا ہوگا‘ وہ اس سے نگاہ نہیں ملاسکتی تھی اسے خود ہی اندازہ ہورہا تھا اس لیے چپ چاپ گیٹ کی طرف بڑھ گئی لیکن ایک دم چونکی تھی‘ پورچ میں دانیال کی گاڑی نہیں تھی۔
’’ہیں… یہ کب چلے گئے؟ گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آتی ہے‘ انجن کا اچھا خاصا شور ہوتا ہے اسے اتنی گہری نیند آئی تھی کہ گاڑی اسٹارٹ ہونے پر بھی اس کی نیند نہیں ٹوٹی۔‘‘ ایک نئی سوچ نے اسے آلیا۔ بہرحال اس نے گیٹ کھولا ماسی فوراً ندر آنے کی بجائے اپنا سر پکڑے ایکٹنگ کررہی تھی۔
’’توبہ باجی… میں تو گھنٹیاں بجا بجا کے تھک گئی تھی‘ میں نے سوچا آخر بار بجاتی ہوں گیٹ کھولا تو ٹھیک ورنہ میں تو جاتی ہوں۔ دھوپ بھی اتنی تیز ہے اور اس بلاک سے اس بلاک تک آنے میں میری جو حالت ہوتی ہے وہ آپ کو کیا بتائوں۔‘‘ ماسی نے گیٹ سے اندر آنے سے پہلے ہی اپنے دکھڑے سنانے شروع کردیئے تھے۔ پیاری کا ذہن اتنا الجھا ہوا تھا کہ اس نے بے اختیاری کیفیت میں ماسی کی طرف دیکھا۔
’’اب کیا ارادے ہیں‘ اندر آنا ہے یا چھٹی کرو گی؟‘‘ اس نے بڑے سرد لہجے میں اور روکھائی سے ماسی سے سوال کیا تھا۔ ماسی کے لیے اس کا یہ انداز بڑا اجنبی سا تھا‘ حیران حیران سی بجلی کی سی تیزی سے اندر داخل ہوئی تھی‘ پیاری نے گیٹ بند کیا تو وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’باجی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ اب وہ اپنا سر کھجاتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
’’ہاں… ہاں میری طبیعت ٹھیک ہے‘ سوئی ہوئی تھی اس لیے دیر ہوگئی‘ تم اپنا کام کرو۔ میں چائے بنارہی ہوں‘ تمہارے لیے ناشتا بنائوں۔‘‘ اسے فوراً ہی احساس ہوگیا تھا کہ ماسی نے اس کے رویے میں کچھ تبدیلی محسوس کی ہے جو آگے بڑھنے کی بجائے اس سے سوال کرنے رک گئی تھی اس نے فوراً ہی اپنے آپ کو کنٹرول کیا اور نارمل انداز میں بات کرنے لگی۔ ذہن تو ابھی تک دانیال ہی کی طرف لگا ہوا تھا‘ ساری رات جاگے تو کیا صبح ہی چلے گئے‘ ماسی آگے بڑھی تو وہ بھی سوچتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی۔
ء…/…ء
’’ابھی تو میرا خیال ہے آپ پہلے اسپتال جائیں گے‘ اتنی جلدی تو آپ آفس نہیں جاتے مگر تیار نظر آرہے ہیں۔‘‘ سعدیہ ناشتا کرنے ڈائننگ ہال میں آئیں تو وہاں کمال فاروقی کو پہلے ہی سے موجود پایا‘ بڑے نک سک سے تیار اور فریش نظر آرہے تھے۔ یہ ان کے آفس جانے کا ٹائم نہیں تھا‘ کبھی جلدی ناشتا کرتے بھی تھے تو گھر کے کپڑوں میں باہر آتے تھے۔
’’نہیں میں ناشتا کرکے مانو آپا کی طرف جائوں گا۔‘‘ سعدیہ نے چونک کر کمال فاروقی کی طرف دیکھا۔
’’لیکن مانو آپا تو کیا نام ہے اس لڑکے کا… مشہود کے پاس اسپتال میں ہیں بتایا تو تھا آپ نے کل…‘‘ سعدیہ بڑی حیرت سے کمال فاروقی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’ہاں لیکن تھوڑی دیر میں وہ مشہود کو لے کر گھر پہنچ جائیں گی۔‘‘
’’تو مشہود کو لے کر اس کے گھر پہنچیں گی‘ آپ تو مانو آپا کے گھر جانے کی بات کررہے ہیں۔‘‘ سعدیہ مزید الجھ گئیں۔
’’میں مانو آپا ہی کے گھر جانے کی بات کررہا ہوں‘ وہ مشہود کو لے کر اپنے گھر پہنچیں گی۔‘‘
’’یہ رات ہی رات میں اتنا کچھ ہوگیا مجھے خبر ہی نہیں ہوئی‘ واقعی مجھے سمجھ نہیں آئی مانو آپا مشہود کو لے کر اپنے گھر کیوں جارہی ہیں جبکہ اس کا اپنا گھر موجود ہے۔‘‘
’’افوہ تم تو بس اپنی ہی کہے جاتی ہو جب کہہ لیتی ہو تو سامنے والے کی بھی سن لیا کرو۔‘‘ کمال فاروقی نے چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے بڑے جھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
’’ہاں تو ظاہر سی بات ہے صبح صبح نئی نئی باتیں سن رہی ہوں‘ سوال تو خودبخود پیدا ہوتا ہے۔‘‘ سعدیہ بھی کب ہار ماننے والی تھیں‘ ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’’ہاں صبح صبح مانو آپا کا فون آیا تھا بات ہوئی تھی ان سے۔‘‘ کمال فاروقی یہ کہہ کر چائے کا سپ لینے لگے۔
’’اچھا تو اب ہمدرد دواخانہ اب مانو آپا کے گھر دکھائی دے گا‘ حد ہے مانو آپا سے بھی‘ کیا ضرورت ہے اس عمر میں اتنی ذمہ داریاں اٹھانے کی۔ چین نہیں ہے ان کو بھی۔‘‘ سعدیہ یہ کہہ کر سلائس پر مارجرین لگانے لگیں۔
بڑا سا کافی کا مگ نوکر رکھ کر چلا گیا تھا‘ صبح کو ان کا ہلکا پھلکا ناشتا ہوتا تھا پھر وہ گیارہ اور بارہ کے درمیان بہت اچھے طریقے سے ’’برنچ‘‘ کیا کرتی تھیں جس میں سالن روٹی کے علاوہ دوسرے لوازمات بھی ہوتے تھے۔ دوپہر کا کھانا ان کا دو اور تین کے درمیان ہوتا تھا‘ رات کو بہت ہلکا پھلکا لیتی تھیں اور ان کی خوب صورتی کا راز بھی یہی تھا کہ رات کو کبھی وہ پیٹ بھر کر نہیں کھاتی تھیں‘ فنکشن پارٹیز میں بھی اس بات کا بہت خیال رکھتی تھیں‘ اسی لیے اپنی عمر سے پندرہ سال کم ہی نظر آتی تھیں۔
’’اب کوئی نیکی کررہا ہو تو اس کو تو چھوڑ دیا کرو‘ تنقید کرنے کے لیے اور بہت ساری باتیں ہوتی ہیں‘ ضرور شوق پورا کیا کرو اس میں کیا برائی ہے اگر وہ کسی کی تکلیف میں خوشی خوشی خدمت کرتی ہیں تو اس عمل کا اللہ کی طرف سے اجر اور ثواب ملے گا‘ تمہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’کیا ہوگیا کمال آج پھر آپ کا موڈ خراب ہے…‘‘ سعدیہ کو مختلف قسم کے شکوک نے آگھیرا ان کو یوں لگا کے جیسے دال میں کچھ کالا ہے۔ پس پردہ کچھ ہے اس کی وجہ سے کمال فاروقی اپ سیٹ ہیں اور وہ اپنے معمول کے انداز میں بات نہیں کررہے اگر ان کی طرف سے کوئی بدکلامی یا اظہار ہوتا تو وہ اس کو ردعمل جان کر ایک طرف کردیتیں‘ وہ تو ان سے بہت اچھے موڈ میں بات کررہی تھیں کمال فاروقی ہی جھنجھلا کر جواب دے رہے تھے۔
’’اصل میں بات یہ ہے کہ رات میں ٹھیک سے سو نہیں سکا‘ نیند پوری نہیں ہوئی۔‘‘ کمال فاروقی نے ایسا عذر پیش کیا جس کے بعد سعدیہ کو کچھ کہنا اچھا نہ لگا۔
درحقیقت کمال فاروقی کی جھنجھلاہٹ صرف اور صرف مشہود تھا‘ وہ مشہود کی طرف سے بہت ذہنی تنائو کا شکار ہورہے تھے۔ مشہود کا مسئلہ کس طرح ٹھیک کیا جائے ان کا ذہن صرف ایک نقطہ پر کام کرتا رہتا تھا کیونکہ مشہود کی طرف سے جب تک تسلی نہیں ہوجاتی تھی‘ اس وقت تک انہیں بھی سکون نہیں ملنا تھا اور ان کی بے سکونی کی وجہ ظاہر ہے پیاری اور دانیال تھے۔ مشہود کے رویے کا براہ راست ان پر اثر پڑ رہا تھا‘ وہ دونوں نہ کھل کر خوشی مناسکتے تھے نہ ایک دوسرے کی رفاقت میں بھرپور مسرت محسوس کرسکتے ہیں‘ گویا ملن کے بعد بھی عجیب قسم کی کرکری تھی اور خوشی دور کھڑی جیسے منہ چڑا رہی تھی۔
سعدیہ نے کمال فاروقی کو گہری سوچ میں گم پایا تو پھر خود ہی مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کردیا اور چپ چاپ ناشتا کرنے لگیں۔
ء…/…ء
مانو آپا نو ساڑھے نو بجے تک مشہود کو لے کر گھر پہنچ گئی تھیں‘ مشہود ان کے ساتھ کشاں کشاں یوں کھنچا چلا آیا جیسے کوئی ان دیکھا مقناطیس اسے مانو آپا کے پیچھے چلنے پر مجبور کررہا ہو‘ کھینچ رہا ہو۔
مانو آپا کا وہ گھر پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا‘ مانو آپا کی سادگی سے یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنے پُرشکوہ گھر میں رہتی ہیں‘ وسیع و عریض گھر جس کے تین اطراف سرسبز لان تھا اور چمکتے ہوئے سیاہ آبنوسی بڑے بڑے دروازے‘ پیتل کی بڑی منفرد سی کنڈیاں گھر پر نظر ڈالتے ہی وکٹورین نواب کا گھر یاد آنے لگا۔ اس نے بڑے حیرت سے مانو آپا کی طرف دیکھا تھا اتنا شاندار گھر جس کی ایک ایک شے سے امارت ٹپکتی تھی۔
’’یہ مانو آپا کا گھر ہے۔‘‘ وہ حیرت سے سوچ رہا تھا۔ ’’کتنی سادگی ہے ان میں‘ بات بھی کرتی ہیں تو بالکل ایسے جیسے عام گھروں کی عورتیں۔ ظاہر ہے جب گھر اتنا عالی شان ہے تو نوکر چاکر بھی ہوں گے‘ اتنا بڑا گھر تو بغیر نوکروں چاکروں کے سنبھالا نہیں جاسکتا لیکن کتنی ایکٹو ہیں ہر کام کرنے کے لیے آگے بڑھتی ہیں۔‘‘ وہ تعجب بھری نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔
وسیع و عریض پُرشکوہ لائونج جس میں بے حد قیمتی اور نادر قسم کے ڈریکوریشن پیسز سجے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ابھی مشہود کا ذہن مانو آپا کے بیٹے عالی جاہ کی طرف نہیں گیا تھا ورنہ یہ سوچ کر مطمئن ہوجاتا کے اس تمام لش پش کے پیچھے سارا کمال ان کے بیٹے عالی جاہ کا ہے۔ اتنا شاندار گھر تو شاید دانیال کا بھی نہیں ہے‘ گھر دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ مانو پھوپو کے مرحوم شوہر کسی اسٹیٹ کے نواب تھے۔
’’ارے بیٹا… وہاں کیوں رک گئے۔‘‘ مانو آپا نے مشہود کو ایک جگہ جما ہوا پاکر چونک کر مخاطب کیا۔ وہ تو یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے آرہا ہے‘ واکر کی کھٹ کھٹ بھی بند ہوچکی تھی جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ وہ رک گیا ہے۔
’’جی پھوپو… میں حیران ہورہا ہوں آپ نے گھر بہت اچھا ماشاء اللہ ڈیکوریٹ کیا ہے۔‘‘
’’ارے بیٹا… تم میرا کمرا جاکر دیکھو‘ سیدھا سادہ سا ایک بستر دو چار کرسیاں وہ بھی پرانے زمانے کی۔ میری طبیعت میں تصنع اور بناوٹ بالکل بھی نہیں ہے یہ سب آرائش تو میرے بیٹے عالی جاہ کے شوق کے مظہر ہیں۔
ء…/…ء
کمال فاروقی جتنی تیزی سے پورچ کی طرف گئے تھے اس سے دوگنی تیزی سے واپس آئے تھے۔ سعدیہ ابھی ڈائننگ میں ہی سمیٹا سماٹی کروا رہی تھیں۔ اپنے حساب سے اللہ حافظ کہہ چکی تھیں‘ سوچ کی گہری لکیریں پیشانی پر ابھری ہوئی تھیں۔ قدموں کی آہٹ پر کوفت بھری نگاہیں اٹھائی تھیں کہ کون آگیا‘ دیکھا تو کمال فاروقی کھڑے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’یہ دانیال کس وقت آگیا۔‘‘ وہ بڑی حیرت سے سعدیہ سے پوچھ رہے تھے‘ سعدیہ جواب میں خود ان کو حیرت سے دیکھنے لگیں۔
’’دانیال وہ تو رات سے گھر میں نہیں تھا آپ ہی نے تو کہا تھا کہ وہ مشہود کی طرف چلا گیا ہے کیونکہ وہاں پیاری اکیلی ہے۔‘‘
’’ہاں رات کو تو وہ گھر پر نہیں تھا لیکن ابھی میں باہر گیا تو دیکھا اس کی گاڑی کھڑی ہے‘ یہ کس وقت آگیا؟‘‘
’’مجھے تو نہیں پتا۔‘‘ سعدیہ نے جواب دیا۔ ’’ہوسکتا ہے کہ بہت صبح آگیا ہو خیر گاڑی کھڑی ہے تو اس کا مطلب گھر میں ہے۔‘‘
’’گھر میں ہے تو اس سے پوچھو تو سہی اتنی صبح وہ کیوں آگیا۔‘‘
’’اپنے گھر آیا ہے آپ پریشان کیوں ہورہے ہیں۔‘‘ سعدیہ اب گویا چڑ کر گویا ہوئیں۔
’’ہاں چلو‘ ٹھیک ہے گھر میں ہی ہے نا‘ اٹھے تو پوچھ لینا خیریت پیاری کی بھی اور مجھے موقع ملا تو میں خود فون کرلوں گا‘ اللہ حافظ۔‘‘ اب وہ دوبارہ اللہ حافظ کہہ کر چلے گئے۔
سعدیہ اپنی جگہ پر کھڑی سوچ رہی تھیں کہ دانیال کس وقت آیا ہوگا کیونکہ سات بجے سے وہ پہلے نیچے کے دو چار چکر لگا چکیں تھیں انہوں نے گاڑی کی آواز سنی نہ دانیال کو آتے دیکھا۔
ء…/…ء
مانو آپا مشہود کو گیسٹ روم میں چھوڑ کر واپس جاچکی تھیں‘ مشہود نظریں گھما گھما کر گیسٹ روم کا جائزہ لے رہا تھا۔ گیسٹ روم میں بھی ہر شے اعلیٰ کوالٹی کی تھی‘ بیڈ روم سیٹ سے لے کر تمام آرائشی اشیاء اس بات کی مظہر تھیں کہ ان کو بہت پیار اور اہتمام سے حاصل کیا گیا ہے‘ بڑے سے دریچے سے روشنی چھن چھن کر اندر آرہی تھی‘ آف وائٹ بلائنڈ کھڑکی پر کھینچے ہوئے تھے۔
اس نے چند لمحے سوچا پھر واکر کے سہارے آہستہ آہستہ چلتا ہوا کھڑکی تک گیا‘ ڈوری کھینچ کر بلائنڈ تھوڑا سا سرکائے اور باہر جھانکا سامنے لان کا خوب صورت منظر تھا۔ کچھ حصہ پورچ کا بھی دکھائی دے رہا تھا‘ پورچ میں دو بڑی لگژری کاریں کھڑی ہوئی تھیں‘ ایک کار تو وہی تھی جس میں کچھ دیر پہلے وہ مانو آپا کے گھر آیا تھا دوسری کار غالباً ان کے بیٹے کی ہوگی کیونکہ یہی پتا چلا ہے کہ ان کا اکلوتا بیٹا ہی ان کے ساتھ ہوتا ہے اور جو غیر شادی شدہ ہے۔
مشہود کھڑکی سے باہر نظاہرہ کرنے کے بعد تھکے تھکے انداز میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا اور اپنی زندگی پر نئے سرے سے غورو خوض کرنے لگا۔ مانو آپا اس کا ایسے ہی خیال رکھ رہی تھیں جیسے کے بوا رکھتی تھیں۔ ماں کا چہرہ تو ہر وقت نگاہوں کے سامنے رہتا تھا‘ ماں تو ایسی ہستی ہے کہ گزرتے وقت کی گرد بھی اس آئینے کو دھندلا نہیں سکتی۔ ماں کی کمی بہت بڑی کمی تھی لیکن بوا نے جس طرح ان دونوں بہن بھائیوں کا خیال رکھا تھا کہ پھر اس کے بعد ان کو کسی غمگسار کی کمی محسوس نہیں ہوئی تھی۔
معاً اسے باہر سے کچھ شور کی آواز سنائی دی‘ اس کے کان کھڑے ہوگئے۔ بند دروازہ ہونے کی وجہ سے آوازیں واضح نہیں تھیں لیکن اس نے انداز لگایا کہ ایک مردانہ آواز مانو پھوپو کی آواز پر مسلسل غالب آرہی ہے‘ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے واکر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پورا وزن ڈال کر کھڑا ہوگیا۔ شور سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی لڑائی جھگڑا ہورہا ہے اور یہی بات اس کے تجسس کو بڑھا رہی تھی جیسے تیسے کرکے دروازے تک پہنچا اور کان لگا کر سننے کی کوشش کی کے باہر سے آنے والی آوازیں کس کی ہیں پھر مردانہ آواز کے ایک جملے نے اسے چونکا کر رکھ دیا۔
’’اماں میں آپ کو آخری بار کہہ رہا ہوں اس کے بعد نہیں کہوں گا۔‘‘
’’ارے بیٹا… اتنا بڑا گھر خالی پڑا ہے‘ بیس آدمی اس گھر میں آرام سے رہ سکتے ہیں۔ بچہ تکلیف میں ہے دو چار دن کے لیے گھر لے آئی ہوں‘ ارے ہسپتال تو ہسپتال ہوتا ہے بہرحال دیکھ بھال تو کرنا پڑتی ہے۔ وہ تو بیچارہ کہہ رہا تھا کہ یہاں پر دیکھ بھال کرنے کے لیے نرسیں بہت ہیں آپ اتنی تکلیف کررہی ہیں‘ ارے اس کا حال دیکھو بے چارے سے چلنا پھرنا مشکل ہے۔‘‘
’’میں کب کہہ رہا ہوں کہ آپ غلط کہہ رہی ہیں‘ ضرور وہ بیمار ہوگا اسے تکلیف ہوگی لیکن وہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کی بہن تو شادی رچا کر لائف انجوائے کررہی ہے‘ بھائی کو ہم سنبھالتے پھیریں یہ نہیں ہوگا۔‘‘ اب مشہود سمجھ گیا کہ بولنے والا شخص مانو آپا کا بیٹا ہے۔
’’اچھا تم آواز تو ذرا نیچی کرو اگر وہ سنے گا تو کیا سوچے گا‘ وہ تو ویسے ہی نہیں آرہا تھا میں ہاتھ پیر جوڑ کر لائی ہوں۔‘‘
’’ارے تو کیوں جوڑ کر لائی ہیں ہاتھ پیر‘ آخر آپ کو مسئلہ کیا ہے؟ آپ جاکر ایدھی سینٹر جوائن کرلیں‘ صبح چلی جایا کریں اور شام کو واپس آفس ٹائم کی طرح آجایا کریں‘ آپ کو سکون مل جائے گا۔‘‘
’’لو بتائو میں اپنا گھر چھوڑ کر ایدھی سینٹر کیوں ڈیوٹیاں دیتی پھروں‘ بھئی جو نیکی کرنے کا موقع مل رہا ہے وہ کیوں نہ کروں؟‘‘ مانو آپا اب جزبز ہوکر کہہ رہی تھیں وہ حتی المقدور کوشش کررہی تھیں کہ ان کی آواز اونچی نہ ہونے پائے لیکن مشہود دروازے سے کان لگانے کے بعد دونوں ماں بیٹے کی گفتگو بالکل صاف سن رہا تھا۔
’’اماں اگر مشہود کی جگہ کوئی اور ہوتا نا تو شاید میں برداشت کرلیتا مگر پیاری کا بھائی مشہود اس کے لیے میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں۔‘‘
’’ارے میاں جائو جاکر کام کرو‘ ابھی میں زندہ ہوں اور میرے شوہر کا گھر ہے تمہارا کہاں سے ہوگیا… جب میں مر جائوں گی تب تمہارا ہوگا۔‘‘ مانو آپا کو غصہ آگیا‘ اصل میں وہ خوف زدہ ہورہی تھیں کہ مشہود کچھ نہ سن لے اس وجہ سے جلد سے جلد قصہ کوتاہ کرنے کے لیے غصہ ظاہر کررہی تھیں تاکہ وہ ان کے غصہ ہی سے کچھ اثر لے اور یہاں سے کھسک جائے۔
’’اماں میں اس وقت جس کیفیت میں ہوں نہ آپ اس کا اندازہ نہیں کرسکتیں۔ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ جو زمین میرے پائوں کے نیچے ہے وہ زمین نہیں ہے‘ میں کسی تندور کے اندر کھڑا ہوا ہوں اور میرے پیروں کے نیچے انگارے بچھے ہوئے ہیں جس کی تپش میرے دماغ کو چھو رہی ہے۔‘‘
’’ارے توبہ استغفار‘ کیا ہوگیا ہے عالی جاہ… تم نے کیوں مفت کا بیر باندھ لیا ہے‘ ارے جو قسمت میں لکھا تھا ہوگیا تمہارے لیے لڑکیاں بہت…‘‘
’’ہاں میرے لیے لڑکیاں بہت‘ میرے سامنے تو اس کا نام بھی نہ لیجیے گا وہ ایک لوز کریکٹر لڑکی ہے‘ پتا نہیں کتنے لڑکوں کو پھنسانے کے بعد دانیال کو پکڑا ہے۔‘‘ عالی جاہ یہ کہہ کر رکا نہیں تھا‘ اس کے دھپ دھپ چلنے کی آوازیں مشہود سن رہا تھا لیکن اس طرح کے اس کا پورا وجود پتھرا چکا تھا۔
لوز کریکٹر لڑکی یہ الفاظ‘ یہ شخص اس کی بہن کے لیے کہہ کر گیا ہے؟ اسے یوں لگا کہ کمرہ گول گول چکر کھا رہا ہو‘ اسے اپنی پوری ہستی ڈولتی ہوئی محسوس ہوئی‘ بہن کا معصوم چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا اور کانوں میں عالی جاہ کے الفاظ جلتی ہوئی سلاخوں کی طرح گھسے ہوئے تھے اس نے بڑی بے بسی سے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچی تھیں۔ کون ہے وہ کس طرح کی بات کررہا تھا‘ اس نے یہ باتیں میری بہن کے لیے کی ہیں؟ مشہود کو یوں لگا کے جیسے اس نے اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو یہیں کھڑے کھڑے گر جائے گا‘ محاورۃ نہیں اسے سچ مچ چکر آرہے تھے۔
ء…/…ء
کمال فاروقی مانو آپا کے گھر کی طرف رواں دواں تھے کہ راستے میں ہی دانیال کی کال آگئی‘ انہوں نے دانیال کی کال اٹینڈ کی اور اس کے بولنے سے پہلے ہی بولنا شروع کردیا۔
’’ہاں دانیال سب ٹھیک ہے‘ خیریت ہے۔ وہ… تم رات کو کب آکر سوگئے تھے؟ میں گھر سے نکل گیا ہوں‘ مانو آپا کی طرف جارہا ہوں۔ مانو آپا مشہود کو لے کر اپنے گھر چلی گئی ہیں‘ اب تم بے فکر ہوکر آرام سے سو جائو پھر ملتے ہیں۔ آفس میں بات کرتے ہیں میں مانو آپا سے مل کر سیدھا آفس جائوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اب انہوں نے دانیال کی بات سننے کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ وہ اس وقت کافی رش میں پھنسے ہوئے تھے اور اختصار کے پیرائے میں بات مکمل کرنے کی جلدی میں تھے۔
’’پاپا آپ مشہود سے ملنے جارہے ہیں۔‘‘
’’ہاں‘ میں نے تمہیں بتایا نا کہ مانو آپا اسے گھر لے گئی ہیں۔‘‘ کمال فاروقی نے دانیال کے سوال کے جواب میں بڑے عجلت بھرے انداز میں کہا۔
’’پاپا بہتر ہے آپ اس وقت وہاں نہ جائیں‘ میں آپ کو کہہ رہا ہوں کہ آپ وہاں نہیں جایئے۔‘‘
’’کیا مطلب…‘‘ دانیال کی بات سن کر کمال فاروقی ساری جلدی بھول بھال گئے۔
’’پاپا آپ گھر آجائیں یا پھر آفس چلے جائیں میں آپ سے مل کر آپ کو بتاتا ہوں کہ میں آپ کو کیوں منع کررہا ہوں۔‘‘
’’نہیں‘ ابھی میں رکا ہوا ہوں کافی رش ہے تم اپنی بات مکمل کرنا چاہو تو کرسکتے ہو۔‘‘ کمال فاروقی نے دانیال کو جواب دیا۔
’’پاپا بات یہ ہے کہ آپ ڈرائیو کررہے ہیں مجھے بہت سیریس بات آپ سے کرنی ہے۔ بہتر ہے کہ ہم آفس میں مل لیں‘ آرام سے بیٹھ کر بات کرلیں۔‘‘ دانیال کی بات سن کر کمال فاروقی ایک دفعہ تو چکرا کر رہ گئے کیونکہ دانیال سیریس بات کرنے کی بات نہیں کررہا تھا بہت سیریس انداز میں بات کررہا تھا اور اس کا یہ انداز بہت غیر معمولی اور نیا تھا‘ کمال فاروقی حیران ہوکر رہ گئے۔
’’لیکن تم اس کی فکر نہ کرو تم بات کرسکتے ہو۔‘‘
’’پاپا آپ گاڑی موڑ لیں‘ آفس آجائیں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں میں آفس پہنچتا ہوں پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں مگر برائے مہربانی میری بات مان لیں۔ پلیز آپ مانو پھوپو کی طرف نہیں جائیں۔‘‘ یہ کہہ کر دانیال نے اپنی طرف سے سلسلہ منقطع کردیا تھا‘ کمال فاروقی حیران پریشان سامنے دیکھ رہے تھے جہاں ہر سائز کی گاڑی کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔
ء…/…ء
مشہود کی غیر حالت دیکھ کر مانو آپا کی اپنی حالت بھی غیر ہورہی تھی۔
’’ارے بیٹا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے‘ مجھے تو تمہاری طبیعت بہت اچھی لگی تھی تو میں تمہیں گھر لے آئی تھی۔ کچھ بولو تو سہی بیٹا! تم تو پسینے پسینے ہورہے ہو‘ اے سی چل رہا ہے۔ کیا بات ہے بیٹا؟ دل گھبرا رہا ہے‘ کیسا محسوس کررہے ہو۔‘‘ مانو آپا بڑی بے قراری سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس کے چہرے کو غور سے تکتے ہوئے پوچھ رہی تھیں۔
’’مجھے گھر جانا ہے۔‘‘
’’گھر…‘‘ مانو آپا حیران پریشان ہوکر مشہود کی شکل دیکھنے لگیں‘ ابھی آئے ہوئے اسے دیر ہی کتنی ہوئی تھی۔ وہ تو سوچ رہی تھیں کہ کچھ اچھا سا ناشتا بنوالیں اور وہ کچھ دیر آرام کرلے۔
’’مانو پھوپو آپ نے بہت مہربانی کی‘ میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔ یہ دیکھئے میرے ہاتھ آپ کے سامنے جڑے ہیں‘ مجھے اپنے گھر جانا ہے۔‘‘
’’ہیں…‘‘ وہ مشہود کے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ کر ہکابکا کھڑی تھیں۔ ’’یہ بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا‘ ابھی یہاں تمہیں چھوڑ کر گئی تمہاری طبیعت اچھی تھی اتنی سی دیر میں کیا ہوگیا۔ بیٹا مجھے کچھ بتائو تو سہی ہوسکتا ہے کہ تمہیں اس وقت ڈاکٹرکی ضرورت ہو‘ ڈاکٹر کو دکھا کر گھر چلے جائیں گے۔‘‘
’’نہیں مانو پھوپو… مجھے ابھی اسی وقت گھر جانا ہے‘ میں آپ کو تکلیف دے رہا ہوں مجھے بہت شرمندگی ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے اگر میں تھوڑی دیر یہاں رہا تو میرا دماغ دھماکے سے پھٹ جائے گا۔‘‘ مشہود بڑی بے اختیاری کیفیت میں بول اٹھا تھا حالانکہ وہ مانو آپا کے سامنے اس طرح کا جملہ بولنا نہیں چاہ رہا تھا‘ ان بے چاری کا کیا قصور تھا وہ تو کل سے اب تک اس کی خدمتیں کررہی تھیں۔
’’پھوپو پلیز…‘‘ مشہود کی اب آواز بھی بھراّنے لگی تھی‘ جیسے وہ رو پڑے گا۔ اب تو سچ مچ مانو آپا کے ہاتھ پائوں پھول گئے تھے وہ تو مشہود کو اس لیے اپنے گھر لائی تھیں کچھ دن سکون سے گزارے گا تو طبیعت ٹھیک ہوجائے گی۔ وہ اس کے ساتھ ہوں گی تو اس کی دیکھ بھال کریں گی اس کی چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھیں گی‘ کچھ دماغ کو سکون ملے گا تو اپنا اچھا بھی سوچے گا۔‘‘
’’اچھا بیٹا تم اتنی ضد کررہے ہو تو میں تمہیں گھر لے چلتی ہوں۔‘‘
’’نہیں پھوپو… آپ ڈرائیور سے کہیں وہ مجھے چھوڑ آئے گا‘ آپ اتنا تکلف کررہی ہیں مجھے بہت تکلیف ہورہی ہے۔‘‘
’’نہیں بیٹا… میں نے کون سا گاڑی کے آگے لگنا ہے‘ گاڑی تو ڈرائیور نے ہی چلانی ہے لیکن میں تمہیں گھر چھوڑ آئوں گی تمہیں آرام سے لیٹا بیٹھا دیکھوں گی تو مجھے سکون مل جائے گا۔‘‘ مانو آپا کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت مشہود کی کوئی پُرتکلف بات سننے پر تیار نہیں مشہود نے جیسے ایک دم سر ڈال دیا۔
’’ٹھیک ہے پھوپو… آپ چلیں میرے ساتھ میں تو آپ کی تکلیف کی خاطر کہہ رہا تھا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں بیٹا… میں اپنی خوشی سے یہ سب کررہی ہوں‘ مجھے تکلیف ہوتی تو میں یہ سب کچھ کرتی۔ میرے اوپر کوئی پستول تانے کھڑا ہے‘ یہ تو بیٹا دل کا معاملہ ہے تم میرے اپنے بچے ہو۔‘‘ مانو آپا نے اب اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
مشہود کا دل چاہ رہا تھا کہ اس وقت وہ مانو پھوپو کے گلے لگ کر اتنا روئے اتنا روئے کہ سمندر بہادے۔ وہ خود پر بڑے صبر و ضبط سے خود پر قابو رکھنے کی سعی کررہا تھا اور مانو آپا ششدر کھڑی اس کی شکل دیکھ رہی تھیں‘ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ ذرا سی دیر میں کیا سے کیا ہوگیا‘ مشہود ایک دم گھر جانے کی بات کیوں کرنے لگا۔
’’بیٹا… ہماری طرف سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو ضرور بتائو۔ ہم بھی آخر انسان ہیں بھول چوک ہوسکتی ہے۔‘‘ مانو پھوپو مارے پریشانی کے روہانسی ہونے لگیں‘ کتنے پُرخلوص جذبے سے وہ اسے لے کر آئی تھیں‘ عادت سے نہیں فطرت سے مجبور تھیں یا شاید بھائی کی محبت کی وہ شدید قوت تھی جو اس عمر میں بھی ان کو طاقتور جذبوں کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کررہی تھی۔
ان کا بھی آج دنیا میں ایک بھائی کے سوا کوئی نہ تھا‘ وہ خود کو پیاری کی جگہ رکھ کر محسوس کرتی تھیں۔ پیاری بھائی کے ہوتے ہوئے اس کی محبت و شفقت سے محروم ہورہی تھی وہ بھی ناحق‘ بلاوجہ‘ محض بدگمانی کے سبب…!
ء…/…ء
دانیال بڑے عجلت بھرے انداز میں تیار ہوکر باہر کی طرف جارہا تھا کہ اسے عقب سے سعدیہ کی آواز سنائی دی۔
’’ارے کیا مسئلہ ہے‘ نہ تمہارے آنے کا پتا چلتا ہے نہ تمہارے جانے کا۔ اب بغیر ناشتا کیے کہاں جارہے ہو؟‘‘ دانیال یوں اپنی جگہ جم گیا جیسے مڑ کر دیکھنے والے پتھر بن جاتے ہیں اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا وہ شاید اپنے چہرے کے تاثرات ماں سے چھپانا چاہتا تھا۔
’’ممی میں نے رات کو دیر سے کھانا کھایا تھا‘ اس لیے ناشتے کا موڈ نہیں۔ میں آفس جارہا ہوں اگر بھوک لگی تو وہیں کچھ کھالوں گا آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘ وہ سعدیہ کی طرف دیکھے بغیر بات کررہا تھا۔ سعدیہ کو اس کا انداز بھی غیر معمولی لگا اور لہجہ بھی مختلف‘ وہ کچھ کھٹک گئی تھیں۔ تیز تیز چلتی ہوئی اس تک آپہنچیں اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف موڑنے کی کوشش کی۔
’’تم صبح کس وقت آئے تھے‘ تمہارے پاپا بھی پوچھ رہے تھے کہ دانیال تو مشہود کے گھر تھا صبح صبح کب آگیا۔ میں نے کہا مجھے تو خود نہیں پتا چلا حالانکہ میں تو آٹھ بجے سے پہلے ہی نیچے تھی‘ کس وقت آئے تھے تم؟‘‘ وہ دانیال کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کررہی تھیں۔
’’ممی وہ مشہود کے گھر ساری رات لائٹ نہیں تھی اور جنریٹر بھی کام نہیں کررہا تھا میں نے تو پیاری کو بھی کہا تھا‘ میرے ساتھ چلے تھوڑا آرام کرلے گی لیکن وہ کہنے لگی پتا نہیں مشہود بھائی کب واپس گھر آجائیں تو اچھا نہیں لگے گا۔‘‘ وہ جھوٹ بولتے ہوئے اپنے بائیں طرف یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہاں کوئی فلم چل رہی ہو۔
سعدیہ کو اس کا یہ انداز غیر معمولی لگ رہا تھا‘ وہ اس بات ہی سے کھٹک رہی تھیں کہ وہ نگاہ ملا کے کیوں بات نہیں کررہا۔
’’بیٹا ساری رات جاگے تھے تو تھوڑی دیر تو سوئے رہتے‘ اب ایسی افراتفری میں جارہے ہو جیسے جانے کتنا حرج ہورہا ہے۔ اپنا کام ہے ٹینشن کیا ہے تھوڑی دیر میں تمہارے پاپا بھی وہاں پہنچ جائیں گے‘ ابھی تو وہ کہہ کر گئے ہیں کہ وہ مانو آپا کی طرف جارہے ہیں۔‘‘ دانیال کو سب باتوں کی خبر تھی لیکن سعدیہ کے سامنے خود کو انجان ظاہر کررہا تھا‘ اسے پتا تھا کہ کمال فاروقی مانو پھوپو کی طرف جارہے تھے اور اس نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا تھا پھر بھی وہ ایسے کھڑا سن رہا تھا جیسے اس کے لیے یہ ساری باتیں نئی ہوں۔
’’ممی آپ پریشان نہ ہوں میں کوئی چھوٹا بچہ تو نہیں ہوں اور بھوک کون برداشت کرتا ہے‘ بھوک لگے گی تو کچھ نہ کچھ کھالوں گی آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’ارے نہیں ناشتے واشتے کو چھوڑو مجھے تو یہ ٹینشن ہورہی ہے کہ تم ساری رات کے جاگے ہوئے ہو تھوڑی دیر سو جائو آرام سے چلے جانا۔‘‘
’’ممی… اب تو میں تیار ہوگیا ہوں آپ مجھے جانے دیں اور بالکل ریلیکس کریں ٹھیک ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
ء…/…ء
مانو آپا اپنے کمرے سے تیار ہوکر باہر آئیں تو عالی جاہ ناشتے کی نیت سے ڈائننگ کی طرف جارہا تھا اس نے ماں کو شولڈر بیگ کندھے سے لٹکائے ہوئے دیکھا تو جاتے جاتے رک گیا۔
’’اب کہاں تشریف لے جارہی ہیں۔‘‘ اس کا انداز بہت چبھنے والا تھا مگر اس وقت مانو آپا کو ہر صورت برداشت کرنا تھا۔
’’ارے تم میری فکر نہیں کرو اپنا کھانا پینا کرو اور اپنے کام سیدھے کرو۔‘‘
’’پھر بھی کچھ پتا تو چلے کہاں جارہی ہیں؟‘‘
’’تمہیں بتا کر کوئی فائدہ ہے‘ ارے یوں ہی مجھے ایک دم خیال آیا کہ وہ جانے پر کیوں تُل گیا‘ کہیں اس نے تمہاری یہ الٹی سیدھی بکواس تو نہیں سن لی۔‘‘ مانو آپا کو ایک دم ہی خیال آگیا تھا کیونکہ وہ جب سے مشہود کے کمرے سے آئی تھیں مسلسل اسی کے بارے میں سوچ رہی تھیں کہ مشہود ایک دم سے جانے کی ضد کیوں کرنے لگا۔
’’اگر سن لیا تو بہت ہی اچھا ہوگیا جان چھوٹی ہماری۔ اماں آپ اپنے بیٹے اور گھر کی فکر کریں آپ نے تو خدائی خدمت گاری کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ تنگ آگیا ہوں میں کبھی کوئی آرہا ہے کبھی کوئی آرہا ہے‘ کبھی اُس کا مسئلہ حل ہورہا ہے کبھی اِس کا مسئلہ حل ہورہا ہے۔‘‘ عالی جاہ نے عقل کھرے انداز میں بڑی بے لحاظی سے کہا۔ مانو آپا نے ایک دم اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
’’ارے بس چپ کر جائو تنگ آگئی ہوں میں تمہاری اس زبان سے‘ زبان نہ ہوئی کمہار کے ڈھائی ہاتھ کا ڈنڈا۔ خندق کھدی ہوئی ہے تمہاری زبان کے آگے‘ بولے چلے جاتے ہو‘ بولے چلے جاتے ہو‘ یہ نہیں دیکھتے کوئی گھر میں آیا ہوا ہے کوئی الٹی سیدھی بات ہوئی تو سن نہ لے۔‘‘
’’ارے تو مجھے کون سی فکر ہے کسی کے سننے اور نہ سننے کی جس کا دل چاہے بڑے شوق سے سنے میں کسی سے ڈرتا ہوں کیا۔‘‘ وہ یہ کہتا ہوا پیر پٹختے ہوئے آگے بڑھ گیا۔
مانو آپا بڑی بے بسی کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھیں۔ اس معصوم عورت کو کیا خبر تھی کہ جب سے یہ کائنات بنی ہے جب سے یہ زمین تخلیق کی گئی ہے‘ جب سے آدم اور حوا جنت کو چھوڑ کر زمین پر آباد ہوئے ہیں۔ زر‘ زن‘ زمین… یہ تینوں چیزیں فساد کی جڑ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ایک لڑکی جو مشکل سے اس کے دل پر چڑھی تھی اس کی آنکھوں کا خواب بن گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی‘ وہ انا پرست انسان اپنی شکست تسلیم کرکے ہی نہیں دے رہا تھا۔ پیاری آج بھی اس کی آنکھوں کا خواب تھی جو اس کے کزن کی منکوحہ بن چکی تھی۔ یہ وہ آگ تھی جو اس کو دن رات جلا کر خاکستر کرنے کے درپے تھی۔
ء…/…ء
’’کیا کہہ رہے ہو تم؟‘‘ کمال فاروقی ششدر سے دانیال کی طرف دیکھ رہے تھے ان کو یوں لگ رہا تھا جیسے ان کا دل کسی نے مٹھی میں بند کرکے زور سے بھینچا ہو۔ ساری بھاگ دوڑ محنت کا یہ حاصل حصول‘ وہ گنگ سے رہ گئے تھے۔ جیسے بات تو کرنا چاہ رہے تھے لیکن الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
’’جی پاپا… میں آپ کو یہی بتانے کے لیے اس وقت آیا ہوں‘ پلیز بس اب رہنے دیں۔‘‘
’’تم اتنے مایوس ہوگئے ہو وہ بھی ایک کمزور سی لڑکی کے سامنے۔‘‘ کمال فاروقی کے منہ سے بمشکل چند الفاظ نکلے۔
’’پاپا بات ایک کمزور لڑکی کی نہیں ہے۔ مشہود تو کمزور سی لڑکی نہیں ہے نا‘ وہ اپنی سوچ کو بدلنے پر تیار نہیں ہے اور اس کی سوچ نہ بدلنے سے نہ وقت بدلے گا نہ حالات۔ پیاری نے جب صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی خاطر سب کچھ کرسکتی ہے اپنی ہر چھوٹی بڑی خوشی قربان کرسکتی ہے کیونکہ اس کا بھائی ہی اس کا باپ اور ماں بھی ہے اگر وہ خون کے اس رشتے سے بھی الگ ہوگئی تو تڑپتی رہے گی بے چین رہے گی۔‘‘
’’تو بیٹا بچی ہے پریشان ہوگئی ہے‘ مشہود کے رویے نے اسے پریشان کردیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں اور تم بھی ہتھیار ڈال دیں۔ ٹھیک ہے تھوڑے دن صبر کرلیتے ہیں‘ وقت اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں جیسے ہی وقت ہمیں اپنے فیور میں دکھائی دیا تو ہم نئے سرے سے اٹھ کھڑے ہوں گے‘ یہ شادی ہے کوئی مذاق تو نہیں ہے اور پھر شادی بھی تم دونوں کی پسند کی ہے۔ تم دونوں کو کسی نے بھی مجبور نہیںکیا تھا کہ تم اس بندھن میں بندھو۔‘‘ کمال فاروقی اب ایک دم جیسے ہوش میں آگئے تھے اور ان کا ذہن بالکل درست سمت کام کررہا تھا۔
’’میں پیاری سے بات کرتا ہوں اس کو سمجھاتا ہوں‘ دیکھو بیٹا… مشکل وقت میں کوئی اپنا ہی ہوتا ہے جو اپنے کو مشکل سے نکالنے میں جدوجہد کرتا ہے۔ پیاری ہماری اپنی ہے ہمیں اس کی کسی بات پر غصہ نہیں کرنا چاہیے۔ ظاہر سی بات ہے مشہود کے رویے نے اسے نڈھال کردیا ہے‘ پریشان کردیا ہے‘ اب وہ اس طرح کی باتیں نہیں کرے گی تو اور کس طرح کرے گی؟ تم نے تو حد ہی کردی اس نے کہہ دیا اور تم نے ہار مان لی۔‘‘
’’پاپا میں بھی آپ کی طرح یہی سوچ رہا تھا لیکن جس وقت پیاری نے خلع کی بات کی تو میں ٹوٹ کر رہ گیا۔ میری محبت کا اس نے بہت خوب جواب دیا‘ آپ مجھے صبر کرنے کا کہہ رہے ہیں کچھ دیر تو وہ بھی کرسکتی تھی‘ وہ مجھے یہ کہہ سکتی تھی کہ آپ صبر سے بیٹھ جائیں لیکن وہ تو سیدھے سیدھے مجھ سے خلع کی بات کررہی ہے۔‘‘
’’کیا یہ بات رات اس نے تم سے کی ہے۔‘‘ کمال فاروقی نے تولتی ہوئی نظروں سے دانیال کی طرف دیکھا جو رات بھر بے چین رہنے کی وجہ سے نڈھال اور تھکا تھکا نظر آرہا تھا۔
’’نہیں اس نے پہلے کی تھی۔‘‘
’’پھر تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ کمال فاروقی نے ایک دم اس پر چڑھائی کردی۔
’’پاپا مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ بات میں آپ سے کیسے کروں۔ میری ہمت نہیں ہورہی تھی لیکن رات کو جب آپ نے مجھے وہاں جانے پر مجبور کیا اور میں نے محسوس کیا درحقیقت پیاری کو میری کوئی پروا نہیں‘ اس نے تو مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہیں کی۔ میں کئی گھنٹے گاڑی میں بند رہا اور جب لائٹ چلی گئی تو وہ شاید انسانی فطرت سے مجبور ہوکر میرا احساس کرکے مجھے بلانے کے لیے آگئی۔‘‘ دانیال بول رہا تھا اور کمال فاروقی گم صم کیفیت میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بہت غور سے سن رہے تھے۔
’’ٹھیک ہے بیٹا جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ اللہ کے حساب سے ٹھیک ہورہا ہے۔ ہمیں پسند نہیں آرہا وہ الگ بات ہے لیکن اللہ پر ہم یقین رکھتے ہیں اور اللہ ہمیں کہتا ہے کہ مشکل حالات میں ہم صبر سے کام لیں جلدی نہ کریں صبر میں بڑی قوت ہے اس لیے کہ صبر کی قوت کے پیچھے اللہ کی قوت ہے جب ہم صبر کرنے کی نیت کرلیتے ہیں تو ایک عظیم الشان قوت ہمارا ساتھ دے رہی ہوتی ہے۔ میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا کہ تم پہلے سے بھی زیادہ مایوس ہوکر میرے پاس سے اٹھو‘ ابھی تم جاکر آرام کرو اور جو کچھ میں کرنے جارہا ہوں مجھے کرنے دو‘ میرے کسی کام میں رکاوٹ نہ بنو۔‘‘ کمال فاروقی کا انداز حتمی ہی نہیں بہت حوصلہ افزا بھی تھا شکست خوردہ دانیال کو بڑی تقویت سی ملی۔
’’اللہ کے ذکر سے تو فاسق اور فاجر بھی تقویت پکڑتے ہیں۔ وہ تو بہت محتاط زندگی گزار رہا تھا‘ دنیا کی رنگینیوں سے دور تھا‘ ایک لڑکی سے محبت کی اور اس ہی سے شادی کی‘ اس کی سوچیں کبھی اِدھر اُدھر نہیں بھٹکی تھیں وہ بظاہر ماڈرن دکھائی دینے والا نوجوان بے حد پارسا تھا اسے اپنے نفس پر مکمل کنٹرول تھا اور اس نے ثابت بھی کیا تھا۔
کمال فاروقی اپنی جگہ سے اٹھے اور میز کے گرد چکر لگاتے ہوئے اس کے قریب آکھڑے ہوئے اور پیار سے اس کا سر اپنے سینے سے لگالیا۔
’’میرے یار ابھی تمہارا باپ زندہ ہے ایک لڑکی کی باتوں سے حوصلہ ہار بیٹھے ہو اور لڑکی بھی وہ جو اس وقت چاروں طرف سے پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے اور درست اور بہتر سوچنے کی صلاحیت عارضی طور پر کھوچکی ہے اس کی کسی بات کو سیریس نہیں لیں گے۔ شاباش تم اپنے کام کرو۔‘‘ کمال فاروقی نے دانیال کا کندھا زور سے دبا کر اپنی محبت کی قوت کا بھرپور احساس دلایا۔
دانیال کے پاس الفاظ ختم ہوچکے تھے باپ کی محبت کے سامنے وہ لاجواب سا بیٹھا تھا۔
ء…/…ء
کال بیل کی آواز نے پھر اسے اندازوں سے کھیلنے پر لگا دیا۔
’’اب کون آگیا؟‘‘ دل ذرا تیزی سے سکڑ کر پھیلا۔
’’دانیال تو جس انداز میں گئے ہیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اتنی جلدی پلٹ کر آجائیں۔‘‘ ماسی کپڑے دھوکر چھت پر پھیلا رہی تھی۔
’’کون آسکتا ہے؟‘‘
’’اوہ شاید کمال انکل…‘‘ پیاری ایک خیال پر مستحکم ہوگئی۔ ’’ہوسکتا ہے دانیال نے انہیں وہ سب کچھ بتادیا ہو جو میں ان کو کہہ چکی ہوں۔‘‘ گیٹ تک پہنچتے پہنچتے وہ یہ سب کچھ سوچ کر فارغ ہوچکی تھی۔ گیٹ کھولتے ہی اسے یوں لگا جیسے زلزلہ آیا ہو‘ زمین ہلی ہو۔ مشہود کار سے باہر آکر اپنی واکر سنبھال چکا تھا‘ مانو پھوپو دوسرے دروازے سے باہر آچکی تھیں۔
پیاری کی نظریں غیر ارادی طور پر مشہود کی نگاہوں سے ٹکرائی تھیں‘ زلزلے کا دوسرا جھٹکا لگا۔ مشہود کی نگاہ میں بڑا جانا پہچانا سا پیار تھا‘ بڑی ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ پیاری کو گویا چکر آنے لگے۔
’’ارے آگے بڑھو رک کیوں گئے‘ بیٹا تمہارا اپنا گھر ہی تو ہے۔‘‘ مانو آپا بہت الجھی ہوئی نظر آرہی تھیں‘ لہجہ کمزور سا تھا۔ پیاری ایک طرف ہٹ گئی تھی‘ مشہود واکر کے سہارے اندر آگیا پھر بھی مانو آپا نے اس کا بازو بہت محبت سے تھام رکھا تھا۔ پیاری حیران و پریشان سی لب بستہ کھڑی تھی‘ گیٹ بند کرنا بھول گئی‘ خوامخواہ سہمی ہوئی تھی۔ مشہود نے ہاتھ بڑھا کر خود سے گیٹ بند کردیا تھا۔
’’السلام علیکم! سوری… میں آپ کو اچانک دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی‘ گیٹ بند ہوتے ہی پیاری کو خیال آیا کہ وہ ابھی تک گونگی بنی ان کی شکلیں تک رہی ہے۔
’’ارے بھیا خیر سے گھر آیا ہے‘ یہ پریشانی کی نہیں خوشی کی بات ہے بیٹا۔‘‘ مانو پھوپو پریشانی چھپا کر خود کو تروتازہ ظاہر کرنے کی سعی کررہی تھیں‘ پیاری نے ڈرتے ڈرتے مشہود کی طرف دیکھا۔ مشہود نے اشارے سے پیاری کو قریب آنے کے لیے کہا تو پیاری خوف سے لرزنے لگی مگر قدم آگے بڑھائے۔ چار قدم وہ چلی دو قدم مشہود اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پیاری کا سر اپنے سینے سے لگالیا‘ مانو پھوپو اپنی جگہ ہکابکا رہ گئیں۔
’’مجھے معاف کردو پیاری… معاف کردو اپنے مشہود بھائی کو۔‘‘ یہ کہہ کر مشہود بلک بلک کر رو دیا۔ ’’میں نے تمہاری خاطر زندگی اور موت کی جنگ لڑی‘ مجھے لڑنا چاہیے تھی‘ میں نے کوئی احسان نہیںکیا تھا۔ میری بہن کبھی اکیلی شاپنگ مال نہیں گئی‘ جس لڑکی کو سات پردوں میں چھپا کر پالا پوسا گیا ہو‘ وہ اس خود غرض معاشرے میں بغیر محرم کے کیسے رہ سکتی تھی؟ دانیال نے تو مجھ پر بہت بڑا احسان کیا‘ میں مر بھی تو سکتا تھا‘ بچ گیا‘ اللہ کی مرضی۔‘‘ مشہود نے اعتراف جرم کیا کیا پیاری کے سارے بند ٹوٹ گئے۔ وہ مشہود سے لپٹ کر اس بری طرح روئی کہ جیسے آج سارے آنسو بہا کر ہی رہے گی۔
’’بس بیٹا… اب اندر چل کر آرام سے بیٹھ کر باتیں کرو‘ اللہ نے تمہاری سن لی اس لیے کہ وہ رب کریم سنتا ہے۔‘‘
’’میرا دل تو پہلے ہی کہتا تھا کہ اللہ ضرور رحم کرے گا۔‘‘
’’پھوپو… میں نے اپنی بہن کو گالی دلوائی ہے‘ اب تو سچ مچ مر جانے کو جی چاہتا ہے۔‘‘ مشہود روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
مانو آپا تو ششدر ہوکر یوں دیکھ رہی تھیں گویا دھلا کپڑا نچوڑ دیا گیا ہو‘ چند لمحات کے لیے تو قوت گویائی ہی ساتھ چھوڑ گئی۔ جی چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں‘ ان کا خدشہ درست نکلا۔ مشہود نے عالی جاہ کی بات سن لی تھی‘ وہ بند دروازے کی رعایت لے رہی تھیں کہ ائیر ٹائٹ دروازہ بند ہو تو باہر کی آواز سنی نہیں جاسکتی‘ اتنی دیر سے اسی خود فریبی سے خود کو سنبھال رہی تھیں مگر مشہود کے منہ سے جو سنا اتنی شرمندہ ہوئیں کہ نظر اٹھانا محال ہوگیا۔
بہن شادی شدہ بھی ہوجائے تو بھی بھائی کو اس کے تمام حالات پر نظر رکھنا چاہیے‘ عورت محرم اور حقیقی رشتوں کی وجہ سے یا تو بہت مضبوط ہوتی ہے یا بہت ہی کمزور۔
’’پھوپو… مشرق کی عورت بغیر محرم کے ویران ہوجاتی ہے‘ باپ کو‘ بھائیوں کو ہر وقت اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ تو روشن چراغ ہوتی ہے جس سے گھر میں روشنی ہوتی‘ باپ بھائی عورت کے حقیقی محرم ہوتے ہیں‘ عورت کو مضبوط بناتے ہیں‘ چاہے اسے شوہر کی صورت میں نیا محرم مل جائے تب بھی ہم اپنے گھر کی عورتوں کو سکھ اور خوشی نہیں دے سکتے تو ہماری دوسری نیکیوں اور عبادتوں کی اللہ کی نظر میں کیا حیثیت ہوگی؟‘‘ مشہود شدت غم سے نڈھال ہورہا تھا‘ ندامت و پچھتاوے کی انتہاء تھی۔ مانو آپا نے بمشکل خود کو سنبھالا‘ مارے شرمندگی کے ان کی اپنی حالت غیر تھی۔
’’بیٹا… میں اپنے نکمّے نااہل بیٹے کی طرف سے معافی مانگتی ہوں‘ میرے پاس ہر طرح کی نعمت ہے تو اولاد آزمائش بن گئی ہے لیکن مجھے اپنے رب سے پوری امید ہے وہ میری آنسو بھری دعائوں کی ضرور لاج رکھے گا۔‘‘ وہ مشہود کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اظہار شرمندگی کررہی تھیں‘ پیاری مشہود کو چھوڑ کر مانو آپا سے لپٹ گئی۔
’’پھوپو… میں مر کر بھی آپ کے احسانات نہیں بھلا سکتی‘ آپ ہم سے معافی مانگ کر شرمندہ نہ کریں۔‘‘
’’ارے بیٹا… میری اولاد نے تو سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا‘ میں مشہود سے نظر نہیں ملاسکتی۔‘‘ بولتے ہوئے مانو آپا کی آواز بھرانے لگی۔
’’آپ کی جو عزت ہماری نظر میں ہے پھوپو… اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ ہوگی۔‘‘ مشہود نے اب مانو پھوپو کے شانے پر ہاتھ رکھ کر آنسوئوں میں بھیگے ہوئے لہجے میں کہا۔
ء…/…ء
کمال فاروقی دانیال کو لے کر مشہود کے گھر پہنچے تو کایا ہی پلٹی ہوئی تھی۔ مشہود نے دانیال کو گلے سے بھی لگایا ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی تھی۔
یہ سب کیسے ہوا؟ معجزہ یا کرامت جو بھی سمجھا جائے کیونکر ظہور میں آیا‘ کسی کی سوچ شاید مصلحت خداوندی تک رسائی حاصل نہیں کرپا رہی تھی۔
عالی جاہ برا تھا‘ منافق نہیں تھا‘ کھل کر بولتا تھا وہ سر سے پائوں تک سازش بن چکا تھا۔ وہ پیاری اور دانیال کے درمیان جدائی ڈالنے کی سر توڑ کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ شانِ خداوندی کا مظاہرہ ہوا‘ جو رشتہ توڑنے میں مصروف تھا۔ اسی کے سبب تمام رشتے جڑگئے چراغ کو بجھانا چاہا مزید روشن ہوگیا‘ بڑے بوڑھے کہہ گئے ہیں دشمن فیض پہنچاتے ہیں یہاں تو ان کی کہاوت سچ ثابت ہوگئی تھی۔
ء…/…ء
’’اب آئی ہو قابو میں‘ گن گن کر بدلے نہ لیے تو میرا نام دانیال نہیں۔‘‘ دانیال پیاری کو تنگ کررہا تھا‘ نگاہوں میں پیار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔
’’بدلے ضرور لیں مگر ذرا احتیاط سے۔ آپ نے مجھے تنگ کیا تو مشہود بھائی آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔‘‘ پیاری نے بڑے نازو اعتماد سے کہا تو دانیال دیکھتا ہی رہ گیا‘ یہ نرالا روپ تو وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔
(ختم شد)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close