Aanchal Sep-17

بڑی عید کی بڑی خوشیاں

سباس گل

ہے تعلق تو اک سادہ لفظ
پھر جو بھی ہے وہ نباہ میں ہے
کب سے میں نے پلک نہیں جھپکی
کوئی امجدؔ میری نگاہ میں ہے

’’اے تابش… تُو اوپر چھت پر کیا کررہا تھا؟‘‘
’’ہوا کھا رہا تھا۔‘‘ تابش نے روکھے پن سے جواب دیتے ہوئے امینہ بیگم کو دیکھا۔
’’کھالی ہوا‘ بھر گیا پیٹ اور یہ شور کیسا تھا؟‘‘
’’حد ہوگئی اماں‘ میں تازہ ہوا کھانے چھت پر کیا گیا لوگوں نے شور ہی مچا دیا ’’چاند نظر آگیا‘ چاند نظر آگیا۔‘‘ تابش نے معصومیت سے جواب دیا۔
’’ہاں پہلی کا چاند۔‘‘ امینہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’ہاں تو پہلی کا چاند اور وہ بھی عید کا چاند ہی لوگ جوش و خروش اور شوق سے دیکھتے ہیں ناں۔‘‘ تابش فوراً بولا تو اس کی کزن ماہی شوخی سے مسکراتے ہوئے بولی۔
’’خالہ اماں تو آپ کو آپ کی اس دبلی پتلی صحت کی وجہ سے پہلی کا چاند کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’اچھا تو پھر اس حساب سے تو تم چوہدویں کا چاند ہوئیں‘ فٹ بال‘ موٹی بھینس اور پتا نہیں کیا کچھ۔‘‘
’’اے… اے اپنی بات سے مت پھرو ابھی چوہدویں کا چاند کہہ کے زبان جل گئی جو فٹ بال اور بھینس کو گھسیٹ لائے۔‘‘ ماہی نے چمک کر کہا تو وہ لڑنے والے انداز میں بولا۔
’’ہاں تو اس میں غلط کیا ہے؟ ماہی کا مطلب ہے مچھلی اور تم تو وہیل مچھلی ہو‘ کبھی غور سے دیکھا ہے خود کو‘ نہیں دیکھا ہوگا پورا دن چاہیے تمہیں پورا دیکھنے کے لیے بھی۔‘‘
’’بکواس نہیں کرو اچھا۔‘‘ ماہی روہنسی ہوئی۔
’’لو میں سچ کہہ رہا ہوں تمہیں بکواس لگ رہی ہے‘ کبھی اپنی اماں اور بھائی بہن کو دیکھا ہے کیسے دبلے پتلے سے ہیں بھنڈی کے خاندان کے لگتے ہیں سب کے سب۔‘‘
’’یعنی تمہارے خاندان کے۔‘‘ ماہی فوراً بولی۔
’’ہمارے خاندان میں تیلی اور بانس جیسے نمونے نہیں ہیں‘ یہ اعزاز بھی تمہارے ہاں ہی پایا جاتا ہے۔ بھنڈی جیسے وہ اور تم ان سب کے بیچ کدو کی طرح براجمان ہو کچھ کھانا ان بے چاروں کے لیے بھی چھوڑ دیا کرو۔ کل کلاں کو اگر تیز آندھی یا طوفان آگیا تو وہ اس کے ساتھ ہی اُڑنچھو ہوجائیں گے اور خدانخواستہ کوئی مر مرا گیا تو قبر میں کیڑے مکوڑوں کو بھی خاصی مایوسی ہوگی بنا بوٹی کے ہڈیوں کے ڈھانچے دیکھ کے ان کی بھوک بھی نہیں مٹے گی۔‘‘ تابش تیزی سے بولتا رہا مقصد اسے جلانا‘ ستانا ہی تھا اور وہ جل بھی گئی تھی۔
’’بکواس مت کرو اچھا‘ میں صرف اپنے حصے کا کھاتی ہوں۔‘‘
’’کتنے کلو‘ کتنے من‘ ٹن کھا جاتی ہو چوبیس گھنٹے میں اندازہ ہے کچھ۔‘‘ تابش نے اسے ستانے کے لیے مزید شرارت بھرے لہجے میں کہا تو امینہ بیگم نے تابش کو گھورتے ہوئے ڈانٹا۔
’’تابش… یہ تُو کیا اس کے کھانے کے پیچھے پڑا رہتا ہے اپنے باپ کا کھاتی ہے تیرا تھوڑی کھاتی ہے جو تجھے اتنی فکر ہورہی ہے۔‘‘
’’فکر تو ہوگی اماں‘ شادی کے بعد تو شوہر کا ہی کھائے گی مال بھی اور مغز بھی۔ میں تو اس بے چارے سے ہمدردی میں کہہ رہا تھا کہ کچھ تو ہاتھ ہلکا رکھنے کے مشق کرلے۔‘‘ تابش نے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص پُرمزاح لہجے میں کہا۔
’’تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ ماہی نے تپ کر کہا۔
’’ارے مجھے ہی تو ہے ضرورت فکر کرنے کی۔‘‘
’’بس بس رہنے دو تم۔‘‘ وہ تیزی سے ہاتھ اٹھا کر بولی۔ ’’میری فکر کرنے سے بہتر ہے کہ تم اپنی نوکری کی فکر کرو‘ کوئی کام کرو کب تک اپنے ابا کے ٹکڑوں پر پلتے رہو گے۔‘‘
’’او ہیلو‘ میں روٹی کے ٹکڑوں پر پلتا ہوں ابا کے ٹکڑوں پہ نہیں پلتا‘ تمہارے منہ میں خاک۔ اپنے ابا کے ٹکڑوں پر تو تم پلتی ہو جبھی بھینس کی طرح ہوگئی ہو گوشت کا پہاڑ سومو پہلوان۔ دو چار سال بعد انہی کے خاندان کی لگنے لگو گی اور اس علاقے میں گوشت اور گندم کی شدید قلت اور بحران پیدا ہوجائے گا صرف تمہاری خوش خوراکی کے سبب۔‘‘ تابش بے لگام بولتا چلا گیا تھا‘ ماہی کے موٹاپے پر مبالغہ آرائی کی حد تک طنزیہ جملے کستے ہوئے اس کی جان جلاتا گیا۔
’’سن رہی ہیں خالہ اماں… کیسی جلی کٹی سنا رہا ہے اپنے حلق سے تو اس کے نوالہ نیچے نہیں اترتا جب تک میرے نوالے نہ گن لے۔ اپنی صحت تو ہے نہیں میری صحت اور میرے کھانے پر نظر لگاتا رہتا ہے ہر وقت۔‘‘ ماہی نے امینہ بیگم کو دیکھتے ہوئے روہانسی ہوکر تابش کی شکایت کی۔
’’ماہی بچی‘ تُو دل بُرا نہ کیا کر‘ یہ تو بس ایسے ہی تجھے چھیڑتا ہے۔‘‘ امینہ بیگم اسے پیار سے پچکارتے ہوئے بولیں۔
’’مجھے چھیڑ کے تو دیکھے‘ ہاتھ توڑ دوں گی میں اس کے۔‘‘ ماہی بپھری ہوئی شیرنی کی طرح بولی تابش کی باتوں نے نہ صرف اس کا دل دکھایا‘ جلایا تھا بلکہ اسے شدید غصہ بھی دلایا تھا۔ ہمیشہ یہی ہوتا تھا تابش اور وہ جب بھی آمنے سامنے آتے تابش سے ایسی ہی طنزیہ باتیں سناتا‘ جلاتا اس کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔
’’او ہیلو… پہلوان کی کپتان‘ مجھ پر ابھی اتنا برا وقت نہیں آیا کہ میں تمہیں چھیڑوں نہ ہی میرا ذوق‘ میری پسند‘ میرا ٹیسٹ اتنا گیا گزرا‘ تھرڈ کلاس ہوسکتا ہے۔‘‘ تابش نے بھی فٹ سے بدلہ اتارتے ہوئے اس کی اچھی خاصی بے عزتی کردی تھی جس کا اسے خود بھی احساس نہیں تھا۔ احساس تو ماہی کے دل کو ہورہا تھا جس پر وہ پے در پے حملے کررہا تھا‘ اپنی طنز و تمسخر بھری باتوں کے نشتر چبھو رہا تھا مگر وہ پھر بھی ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی۔
’’تم تو بڑے فرسٹ کلاس کے ماسٹر ہونا جیسے‘ ہمیشہ تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوتے رہے ہو اسکول‘ کالج میں نالائق طالب علم تھے تم۔‘‘ ماہی نے بھی اس کی بات سے بات نکالتے ہوئے کہا تو وہ ہنس کر بولا۔
’’بس رہنے دو تم‘ تھرڈ ڈویژن تمہاری آتی ہوگی دیکھنا مجھے کیسے اچھے اسکول میں نوکری ملتی ہے ہمیشہ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوتا تھا میں وہ تو تمہیں غلط بتاتا تھا کہ کہیں تمہاری نظر ہی نہ لگ جائے اور تم حسد ہی نہ کرنے لگو میری کامیابی سے۔ ابھی بھی نہ بتاتا وہ تو تم نے میری قابلیت پر انگلی اٹھائی ہے تو میں نے غیرت اور جوش میں آکر تمہیں سچ بتایا ہے چاہو تو میری تعلیمی اسناد اور سرٹیفکیٹ بھی دیکھ سکتی ہو۔‘‘ تابش نے مسکراتے ہوئے انکشاف کیا تو وہ تحیر آمیز نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی سر جھٹک کر وہاں سے چلی گئی اور وہ اسے لاجواب ہوکر جاتے دیکھ کر ہنس دیا تھا۔
امینہ بیگم اور ثمینہ بیگم دونوں بہنیں تھیں ان کی شادیاں خالہ اور تایا کے بیٹوں سے ہوئی تھیں اتفاق سے امینہ بیگم کے شوہر امتیاز احمد اور ثمینہ بیگم کے شوہر نصیر الدین ایک ہی ہی گلی میں رہتے تھے اور تقریباً ہر دوسرے دن ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ امتیاز احمد کی کریانے کی دکان تھی اور نصیر الدین کا ہوٹل تھا جہاں چائے‘ کھانا‘ بریانی‘ چکن کڑاہی‘ نان‘ چکن تکے وغیرہ ملتے تھے اور پورے محلے میں ان کے ہوٹل کے چکن تکوں کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلتی اور بھوک بڑھاتی تھی چونکہ نصیر الدین کا کھانے پکانے کا کاروبار تھا تو ماہی کا موٹا ہونا بھی قدرتی امر تھا۔ وہ گوری چٹی‘ سلکی بالوں کے ساتھ دلکش نین نقش کی مالک تھی‘ زیادتی تھی تو بس ایک یہ کہ وزن کافی بڑھتا جارہا تھا اس کا وہ موٹاپے کی جانب بڑھ رہی تھی اور کھانے کی بے حد شوقین تھی۔
نصیر الدین‘ ثمینہ بیگم ماہی کی بہن مدیحہ اور بھائی شہیر دبلے پتلے تھے مگر ملیحہ عرف ماہی فربہی مائل تھی۔ بس یہی وجہ تھی کہ تابش اسے تنگ کرتا تاکہ وہ اپنا وزن کنٹرول کرنے کی جانب توجہ دے‘ تابش نے ایم ایس سی کا امتحان ابھی پاس کیا تھا فی الحال وہ ٹیوشن پڑھانے اور امتیاز احمد کے ساتھ دکان چلانے میں مصروف تھا۔ ملیحہ عرف ماہی نے ایف اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی اور گھر داری سیکھنے میں لگ گئی‘ اسے پڑھنے کا شوق بھی نہیں تھا‘ اسے تو نت نئے پکوان پکانے اور کھانے کا شوق تھا۔ باپ کے کام میں بھی ان کا ہاتھ بٹایا کرتی تھی‘ ماں اسے وزن کم کرنے کا کہتی رہتی تھیں کہ ابھی تو اس کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی صرف اکیس برس کی ہوئی تھی وہ اور بڑھے ہوئے وزن کی وجہ سے پچیس‘ چھبیس کی دکھنے لگی تھی۔ تابش ستائیس برس کا ہونے والا تھا‘ جسمانی لحاظ سے اپنے گھر والوں میں سب سے دبلا تھا اور آج کل جم جوائن کرکے اپنی باڈی بنانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔
تابش سے دو سال چھوٹی اس کی ایک ہی بہن تھی‘ تانیہ جس کی شادی کو بھی دو سال ہوچکے تھے اور وہ ایک بیٹے کی ماں بن چکی تھی‘ سسرال میں خوش تھی۔ بس اب امینہ اور امتیاز احمد کو تابش کی نوکری لگنے کا انتظار تھا تاکہ وہ اس کے سر پر سہرا سجا سکیں۔ امینہ بیگم کو تو تابش کے لیے ماہی بہت پسند تھی‘ ان کی بھانجی تھی اس لیے ان کو موٹی نہیں لگتی تھی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند‘ بھری بھری جسامت رکھنے والی لڑکیاں ہر وقت طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بناکر بلڈ پیشر لو ہونے کا بہانہ کرکے گھر کے کاموں سے جان چھڑا کے بستر پر نہیں پڑی رہتیں بلکہ پھرتی سے سارے کام نبٹا لیتی ہیں جبکہ دبلی پتلی لڑکیاں تو ہر وقت بیماری اور کمزوری کا رونا روتی رہتی ہیں۔ تھک جاتی ہیں جلدی اور بچے پیدا کرنے کا مرحلہ آئے تو سو طرح کے مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں نہ اپنی صحت اچھی ہوتی ہے نہ بچہ صحت مند پیدا ہوتا ہے‘ یہ ان کا خیال تھا اور کافی اچھا خیال تھا بقول تابش کے۔
تابش اور ماہی کی ہر وقت کی نوک جھونک اور تو تکار دیکھ دیکھ کر امینہ بیگم کو عجیب سی الجھن نے گھیر لیا تھا کہ یہ دونوں ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں کیا ان کی آپس میں شادی کروانا صحیح رہے گا؟
٭…٭…٭…٭
آسمان پر اچانک ہی کالے بادلوں کی ٹولیاں نمودار ہوگئی تھیں‘ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جب تابش کے کانوں میں پڑوسیوں کے بکرے کی آواز آئی تو اسے یاد آیا کہ عید میں صرف سات دن باقی ہیں اور انہوں نے ابھی تک قربانی کا جانور نہیں خریدا بس یہی خیال اسے امینہ بیگم کے پاس لے آیا جو کپڑوں کی تہہ لگا رہی تھیں۔
’’اماں… بکرا عید میں صرف سات دن رہ گئے ہیں بکرا یا گائے نہیں خریدنی کیا قربانی کے لیے؟‘‘
’’خریدیں گے ان شاء اللہ۔‘‘ امینہ بیگم نے کپڑوں کو تہہ لگا کر ترتیب سے رکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’تُو اپنا بٹوہ ڈھیلا کریں چالیس‘ پچاس ہزار روپے نکالیں جانور خریدنے کے لیے۔‘‘ تابش نے فوراً کہا تو وہ بولیں۔
’’یہ میرا بٹوہ ہے‘ کوئی بینک نہیں کہ ادھر تُو چالیس پچاس ہزار مانگے اور ادھر میں جھٹ سے نکال کے تیرے ہاتھ پر دھر دوں‘ کیا ہُن برس رہا ہے؟‘‘
’’ہُن نہیں… مینہ برس رہی ہے۔‘‘ تابش نے صحن میں آسمان سے برسنے والی بوندوں کو خوشگوار حیرت سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’لو یہ بادل کہاں رستہ بھول گئے اچانک سے؟‘‘
’’شکر الحمدللہ… یہاں بھی مینہ برسا۔‘‘ تابش نے مسکراتے ہوئے صحن میں بارش کی بوندوں میں خوشی محسوس کرتے ہوئے کہا تو امینہ بیگم کہنے لگیں۔
’’یہ دو گھڑی کا برسنا ہے بس‘ مٹکے بھربھر کے یہ بادل کہیں اور لے جارہے ہوں گے پانی یہاں ذرا دیر کو سانس لینے کو رکے ہوں گے کہ پانی چھلک گیا ہے اور چند بوندیں یہاں وہاں برس رہی ہیں ورنہ ہمارے شہر کا نصیب ایسا کہاں کے بارشوں سے نہال ہوسکے۔‘‘
’’ہاں اماں… وہ شاعر نے کہا ہے نا کہ…
وہ میرے شہر کی بارشیں کسی اور شہر میں برس گئیں‘‘
تابش نے شعر کو اپنے حساب سے موقع کی مناسبت سے ایک نئے قالب میں ڈھالتے ہوئے کہا تو وہ بولیں۔
’’کہہ تُو ٹھیک ہی رہے ہو موسم بھی بے برکتے ہوگئے اب تو یہ ہمارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے۔‘‘
’’اماں… قربانی کا کیا کرنا ہے؟‘‘ وہ پھر سے پانی کی طرف آتے ہوئے پوچھنے لگا۔
’’بکرا ہی کرنا ہے اور کیا کرنا ہے؟ تیرے ابا گائے میں حصہ ڈالنے کو کہہ رہے تھے۔‘‘
’’اماں… گائے کے گوشت کے کباب‘ قیمہ‘ کوفتے‘ پسندے‘ نہاری‘ پائے مغز سبھی لاجواب مزے دار بنتے ہیں۔ بکرے کے گوشت میں تو کچھ نکلتا ہی نہیں ہے گائے میں سات حصے ہوتے ہیں کیوں نہ ہم گائے ہی کرلیں؟‘‘ تابش نے تیزی سے کہا۔
’’جب تیری نوکری لگ جائے گی نا؟ تب کرنا گائے‘ جو تیرا دل کرے۔ ابھی اتنی حیثیت نہیں ہے ہماری کہ ساٹھ ستر ہزار کی گائے خریدیں اور یہ تو سب سے کم ریٹ ہے باقی تو لاکھوں تک قیمتیں پہنچی ہوئی ہیں‘ تیرے ابا نے پتا کیا تھا جانوروں کے بھائو بہت بڑھ گئے ہیں۔‘‘
’’اور انسانوں کے بھائو بہت گر گئے ہیں۔‘‘ تابش نے آسمان سے برستی بوندوں میں اپنے چہرے کو بھگوتے ہوئے کہا۔
’’سچ کہا بیٹا۔‘‘ امینہ بیگم نے گہرا سانس لیا اور تہہ شدہ کپڑے اٹھا کر کمرے میں چلی گئیں۔
٭…٭…٭…٭
’’اے تابش… سنا تُو نے؟ ماہی سیڑھیوں سے گر گئی۔‘‘ اگلی صبح وہ اپنی موٹر سائیکل صاف کررہا تھا جب امینہ بیگم صحن کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’شکر کریں نظروں سے نہیں گری ورنہ اٹھنا‘ اٹھانا مشکل ہو جاتا۔‘‘ وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔
’’کیا بول رہا ہے میں نے جو کہا وہ سنا؟‘‘
’’ہاں سنا اماں جان‘ یہ بتائیں موٹی کو زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘ وہ اٹھ کر واش بیسن کی طرف چلا آیا اور ہاتھ دھونے لگا۔
’’پائوں اور سر پر چوٹ لگی ہے سر پھٹ گیا بچی کا اور اچھا خاصا خون بہہ گیا۔‘‘ امینہ بیگم نے چادر اتارتے ہوئے بتایا۔
’’چلیں کچھ تو وزن کم ہوگا‘ کھایا پیا حلال کیا نہ کسی ضرورت مند کو خون کا عطیہ کیا کہ وہ غریب اسے دعا دیتا۔‘‘
’’شرم کر تابش’ بچی بے چاری تکلیف میں ہے بجائے اس کے کہ تُو اس کا حال پوچھنے جائے اس کے بارے میں ایسی باتیں کررہا ہے تیری ہی نظر لگی ہے اسے ہر وقت اس کی صحت پر جملے کستا رہتا تھا۔‘‘ امینہ بیگم نے غصیلے لہجے میں اسے ڈانٹا۔
’’ہم تو نظر بھر کے بھی نہیں دیکھتے اس کے نظر ہی نہ لگ جائے‘ نظر لگانے کی نیت سے کبھی دیکھا ہی نہیں اسے ویسے موٹاپا جچتا ہے آپ کی بھانجی پر۔‘‘ تابش نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہوئے کنگھی سے اپنے بالوں کو درست کرتے ہوئے کہا۔ وہ گندمی رنگت والا خوش شکل نوجوان تھا‘ امینہ بیگم تو آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کی نظر اتارتی رہتی تھیں‘ دل ہی دل میں اس کی کامیابی اور خوشیوں کی دعائیں مانگا کرتیں۔
’’ہاں جبھی اس معصوم کا مذاق اڑتا رہتا ہے ہر وقت۔‘‘
’’مذاق اڑاتا نہیں ہوں اماں‘ مذاق کرتا ہوں اس کے ساتھ آخر کو وہ میری کزن ہے‘ ہر روز کا ملنا جلنا ہے اتنا تو حق بنتا ہے نا میرا اس پر لیکن پر ایک بات ہے اماں‘ مجال ہے جو اس پر میری کسی بات کا‘ کسی طنز‘ طعنے یا مذاق کا اثر ہوا ہو وہ تو دن بدن پھیلتی پھولتی جارہی ہے مجھے لگتا ہے وہ میری باتوں سے غصے میں آکر جل کر اور زیادہ کھاتی ہوگی۔‘‘ تابش نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولیں۔
’’تُو جان بوجھ کے ستاتا ہے اسے شرم نہیں آتی تجھے اس کا دل دکھا کے خوش ہوتا ہے۔‘‘
’’اماں… ایسا نہیں ہوں میں کیوں دل دکھا کے خوش ہوئوں گا‘ میں دل بہلانے کو مذاق کرتا ہوں آئندہ نہیں کروں گا۔‘‘ تابش نے ایک دم سے سنجیدہ ہوتے سپاٹ لہجے میں کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔ امینہ بیگم کو لگا کے وہ کچھ زیادہ ہی ڈانٹ گئیں اسے تو وہ خود ہی افسوس کرنے لگیں۔
٭…٭…٭…٭
’’سنا ہے دشمنوں کی طبیعت ناساز ہے کچھ ٹوٹ پھوٹ بھی ہوئی ہے۔‘‘ تابش‘ ماہی کے گھر آیا تھا خالہ خالو سے مل کر سیدھا اس کے کمرے میں چلا آیا وہ سر اور پائوں پر پٹی باندھے بیڈ پر بے سدھ سی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی اس کی آواز سن کر چونک کر آنکھیں کھولی تھیں اس نے اور تابش کو سامنے کھڑے مسکراتا دیکھ کر اٹھتے ہوئے بولی۔
’’ہاں تمہیں تو یہ سن کر دلی مسرت ہوئی ہوگی ناں؟‘‘
’’ہاں ایسی ویسی‘ میرا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ خوشی سے بھنگڑے ڈالوں‘ بس اماں ابا کی وجہ سے صبر کیے رہا۔‘‘ تابش نے بھی حسب عادت اسے ستانے کے لیے مذاق سے کہا تو وہ رونے والی ہوگئی۔
’’ہاں تم سے مجھے یہی امید تھی۔‘‘
’’تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ میں تمہاری امید پر کھرا اترا ہوں۔‘‘ تابش نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے کہا۔
’’تم بہت بے حس ہو۔‘‘ ماہی کے آنسو بہہ نکلے درد چوٹ سے زیادہ اس وقت اس کے باتوں اور بے پروا لہجے و رویے سے ہورہا تھا۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟‘‘
’’میرے گرنے کا تم پر کوئی اثر نہیں ہوا ناں؟‘‘
’’اثر کیسے نہیں ہوا؟ میں سکون سے گہری نیند سورہا تھا جب تم سیڑھیوں سے گریں۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور زلزلہ سمجھ کر کمرے سے باہر بھاگا تھا‘ وہ تو بعد میں اماں سے پتا چلا کہ زلزلہ نہیں آیا تھا ان کی لاڈلی بھانجی ماہی صاحبہ زمین بوس ہوگئی تھیں جس کے جھٹکے دور دور تک محسوس کیے گئے ہیں۔‘‘ تابش حسب عادت مذاق سے بولا مگر انداز نہایت سنجیدہ تھا ماہی تو دکھ سے تڑپ کر رونے لگی۔
’’تم بہت بے حس ہو‘ سنگ دل ہو چلے جائو یہاں سے میرے زخموں پر نمک چھڑکنے آئے ہو ناں۔‘‘
’’نہیں تو‘ قسم سے میں نمک ساتھ نہیں لایا۔‘‘ اس نے معصومیت سے کہا۔
’’تمہاری زبان ہی کافی ہے خاصا تیز اور نوکیلا ہتھیار ہے یہ تمہارا کھڑے کھڑے انسان کو چیر پھاڑ دے‘ جلا دے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو کیونکہ تم تو ہو ہی بے حس۔‘‘
’’اُف‘ کتنا غلط سوچتی ہو تم میرے بارے میں‘ میں تمہارا جی بہلانے کا مذاق کیا کرتا ہوں اور تم دل جلا کے بجھی بجھی سی پھرتی ہو۔ ٹھیک ہے بھئی میں بے حس ہوں‘ بے پروا ہوں مجھے معاف کردو اور ہاں…‘‘ وہ جاتے جاتے واپس پلٹتے ہوئے اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’عید تک ٹھیک ہوجائو ورنہ…‘‘
’’ورنہ کیا؟‘‘ ماہی نے تحیر آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ابا اماں بڑی عید پر بکرے کی قربانی دیں گے اور میں گائے کی۔‘‘ تابش نے ذومعنی بات کہی تو وہ الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب تمہاری جگہ کسی بکری کو بیاہ لائوں گا وہ ’’میں میں‘‘ کرکے میرا دماغ کھایا کرے گی اور تم جل جل کے دبلی ہوتی جائو گی۔‘‘ تابش نے اسے دیکھتے ہوئے گہری بات بنا کسی جھجک تمہید کے سیدھے اور صاف لفظوں میں کہتے ہوئے اس کے ہوش اڑا دیئے تھے۔ وہ سر اور پائوں میں اٹھتی ٹیسوں کو سہتے ہوئے اپنی حیرت چھپاتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’ہاں تو کرلو اپنے جیسی کسی دبلی پتلی لڑکی سے شادی جو تمہارا دماغ بھی کھائے اور تمہیں تگنی کا ناچ بھی نچائے۔‘‘
’’یہ کام تو تم بھی بخوبی کرلیتی ہو پھر میں نیا تجربہ کیوں کروں‘ نئی مصیبت کیوں مول لوں؟ ویسے بھی مجھ بڑا گوشت بہت پسند ہے۔‘‘ وہ شرارت سے بولا اور اس کے رخسار پر رکا ہوا آنسو اپنی انگلی کی پور سے چن لیا۔
’’کیا… تم نے مجھے گائے کہا‘ بڑا گوشت کہا؟ اب میں اتنی بھی موٹی نہیں ہوں۔‘‘ وہ خفگی سے بولی۔
’’جتنی بھی ہو کافی ہو‘ تمہاری انگلی کے سائز کی انگوٹھی تو مل ہی جائے گی منگنی پر پہنانے کے لیے۔‘‘
’’مجھے نہیں کرنی تم سے منگنی۔‘‘ وہ حیا آمیز لہجے میں کہتی ہوئی رخ پھیر کر خوشی سے مسکرادی انکار تو خفگی میں کررہی تھی۔
’’ٹھیک ہے میں اماں سے کہہ دیتا ہوں کہ آج سے ہمارے گھر میں بڑا گوشت بند۔‘‘ وہ دروازے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔
’’کیا؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ تابش نے اس کے چہرے پر حیرت مسرت‘ حیا‘ خفگی اور بے کلی کے ملے جلے رنگ بکھرتے دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔
’’میں نے منگنی سے منع کیا ہے شادی سے تو نہیں۔‘‘ ماہی کی زبان بے اختیار پھسلی تھی اور اسے فوراً ہی اپنی بے ساختگی بے اختیاری کا احساس بھی ہوگیا تھا‘ جبھی اس نے مارے شرمندگی کے اپنی زبان دانتوں تلے دبالی۔ تابش کو اس کی بے اختیاری میں اس کی رضا مندی کا یقین مل گیا تھا اور وہ پُرسکون ہوگیا تھا۔ یہ سچ‘ یہ راز تو اس نے آج تک خود سے بھی چھپا رکھا تھا کہ وہ ماہی کو چاہتا ہے اور اسے اپنی شریک حیات بنانے کے خواب دیکھتا ہے بس اس صحیح وقت کا انتظار تھا‘ مناسب حالات اور درست موقع پر ہی وہ اپنے اس راز کو اس پر ظاہر کرنا چاہتا تھا سو اسی لیے خاموش تھا اب تک۔
’’کیا کہا؟ ذرا پھر سے کہو مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دیا۔‘‘ تابش اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے شریر لہجے میں بولا وہ مارے شرم کے سر جھکا کے مدھم لہجے میں بولی۔
’’میں نے ہر بڑی‘ چھوٹی عید تمہارے سنگ منانے کے خواب دیکھے ہیں تابش… میرے خوابوں کو تعبیر دو یا توڑ دو یہ تمہاری مرضی ہے لیکن… میں تمہارے گھر آنا نہیں چھوڑوں گی سمجھے۔‘‘
’’سمجھ گیا‘ جانتا بھی ہوں بہت ہی ڈھٹ ہو تم۔‘‘ وہ اس کی دلی چاہت اپنے لیے جان کر خوشی سے مزید شوخ و شریر ہوتے ہوئے بولا تو وہ خفگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کیا… میں ڈھیٹ ہوں؟‘‘
’’ہاں‘ جبھی میرے دل کے اندر گھس کے بیٹھی ہو کب سے اور اتنی موٹی اور وزنی ہوکے میں تمہیں دھکے دے کر یا اٹھا کر باہر بھی نہیں پھینک سکتا۔‘‘ وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا۔
’’باہر پھینک کے تو دکھائو‘ جان لے لوں گی تمہاری۔‘‘ ماہی نے اسے دیکھتے ہوئے پیار بھری دھمکی دی۔
’’بس اسی بات کا تو ڈر ہے تم دل سے نکل گئیں تو دم بھی نکل جائے گا اور فی الحال میرا مرنے کا کوئی موڈ نہیں اس لیے اب زندگی میں بھی آجائو۔‘‘ تابش نے اسے محبت لٹاتی نظروں سے دیکھتے ہوئے دل سے کہا تو وہ اپنی ساری تکلیف‘ درد اور اذیت بھول کر خوشی سے کھل اٹھی اور شرمیلے پن سے مسکراتے ہوئے بولی۔
’’تو لے جائو ناں۔‘‘
’’تم بس چلنے کی تیاری کرلو میں جارہا ہوں اماں ابا سے کہنے کے عید کے دن بکرا قربان کرنے سے پہلے اس موٹی گائے کو سنگل… میرا مطلب ہے انگوٹھی پہنادیں میرے نام کی اور شادی کی ڈیٹ بھی پکی کردیں ورنہ یہ گائے سینگ مارتی رہے گی ان کے بیٹے کو اور اس کی نیندیں حرام کرتی رہے گی۔‘‘ تابش نے شوخ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے شرارت بھرے لہجے میں کہا تو وہ شرما کر چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر ہنس دی تابش اس کی اس ادا پر نثار ہوگیا۔
٭…٭…٭…٭
اور عیدالضحیٰ کے دن نماز عید کے بعد وہ سب ماہی کے گھر جمع تھے‘ دونوں کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی گئی اور ربیع الاول کے مہینے میں ان کی شادی کرنے کا پروگرام طے پایا۔ اس منگنی سے دونوں گھرانے بہت خوش تھے خاص کر تابش اور ماہی بہت زیادہ خوش نظر آرہے تھے۔ بڑی عید بڑی خوشی لے کر اُن کی زندگی میں آئی تھی۔
قصائی آگیا تو دونوں گھروں میں بکرے ذبح کیے گئے‘ تابش‘ ماہی کے گھر گوشت دینے سب سے پہلے آیا تھا‘ ٹرے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے تابش نے ذومعنی بات کہی۔
’’مبارک ہو بکرا ذبح ہوگیا تمہارے ہاتھوں۔‘‘
’’تمہیں بھی مبارک ہو ڈبل عید‘ اب ساری زندگی بڑا گوشت کھانا بیٹھ کر۔‘‘ تابش کی بات پر وہ ہنس کر بولی تو وہ بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
’’عید مبارک۔‘‘ ماہی نے شرماتے ہوئے کہا اور ٹرے لے کر باورچی خانے کی طرف بھاگ گئی۔
تابش بھی دل سے باآواز بلند اسے ’’عید مبارک‘‘ کہہ کر دل ہی دل میں اللہ کا شکر دا کرتا ہوا‘ باہر قصائی کے پاس چلا گیا جہاں بکرے کی قربانی عمل میں لائی گئی تھی اور گوشت تقسیم کے لیے بوٹیوں کی شکل میں بنایا جاچکا تھا۔ تابش نے دل میں یہ قربانی قبول ہونے کی دعا کی اور گوشت کے حصے بنانے لگا جو اس نے غرباء و مساکین میں‘ عزیز رشتے داروں میں تقسیم کرنا تھا۔ عید قربان کی اصل روح کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہی اصل عید اور اصل قربانی ہے۔ یہ بات تابش اچھی طرح سمجھتا تھا اور خوشی خوشی یہ فریضہ انجام دے رہا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close