Aanchal Sep-17

حمد و نعت

وجدچغتائی/عبداستارنیازی

حمد باری تعالیٰ
ذرہ ہوں آفتاب کی توصیف کیا لکھوں
کرنیں ملیں کرم کی تو حمد و ثنا لکھوں
تیری صفات و ذات میں تفریق ہے عبث
جلوہ لکھوں تجھے کہ میں جلوہ نما لکھوں
واحد کہوں، وحید کہوں، حامد و حمید
تجھ کو حکیم و حاکمِ روز جزا لکھوں
قیوم بھی، قدیم بھی ہے تو عظیم بھی
مطلق لکھوں، صمد لکھوں، رب العلیٰ لکھوں
ذروں کو آفتاب کے جلوے عطا کیے
اس سے سوا میں اور کیا تیری عطا لکھوں
عالم نیا ہو روز مرے وجد و حال کا
مضمون تیری حمد کا ہر دم نیا لکھوں

وجد چغتائی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم 
محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں
آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں
وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندر ہیں
جو سرورِ عالم کا میلاد مناتے ہیں
آقا کی ثناء خوانی دراصل عبادت ہے
ہم نعت کی صورت میں قرآن سناتے ہیں
جن کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی
ان کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں
جو سرورِ عالم کو لجپال سمجھتے ہیں
دامانِ طلب بھر کر محفل سے وہ جاتے ہیں
اس آس پہ جیتا ہوں کہہ دے یہ کوئی آکر
چل تجھ کو مدینے میں سرکار صیلی اللہ علیہ وسلم  بلاتے ہیں
اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں نبی سرور
یہ سچ ہے نیازی ہم سرکار صیلی اللہ علیہ وسلم کا کھاتے ہیں

عبد الستار نیازی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close