Aanchal Dec-16

۴تیری زلف کے سر ہونے تک

اقرا صغیر احمد

اپنے خلاف فیصلہ خود ہی لکھا ہے آپ نے
ہاتھ بھی مل رہے ہیں آپ، آپ بہت عجیب ہیں
دائرہ وار ہی تو ہیں عشق کے سلسلے تمام
راہ بدل رہے ہیں آپ بہت عجیب ہیں

گزشتہ قسط کا خلاصہ
زید کو جب یہ پتا چلتا ہے کہ سودہ گھر میں کچھ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے تو وہ سخت اشتعال میں آجاتا ہے اسے یہ بات قطعاً پسند نہیں آتی اور اس بات کو لے کر عمرانہ اور صوفیہ میں خوب جھگڑا ہوجاتا ہے عمرانہ کو یہی لگتا ہے کہ صوفیہ اور ان کی بیٹی سودہ ان کے بچوں کے حقوق میں زبردستی شامل ہوگئی ہے اور ان حالات میں باپ کی محبت بھی زید کے بجائے سودہ کے حصے میں آرہی ہے۔ مدثر صاحب سودہ کو باہر لے کر چلے جاتے ہیں تاکہ اسے ٹینشن سے دور رکھ سکیں۔ انشراح نوین کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے اور روشن آپا کی مدد لیتی ہے ان کی زبانی اسے پتا چلتا ہے کہ نوین اماں کی سگی بیٹی تھی یہ جان کر اس کا تجسس مزید بڑھ جاتا ہے اسے اپنی زندگی رازوں سے مزین لگتی ہے اپنے ماں باپ کے متعلق بھی وہ صرف اتنا جانتی ہے کہ وہ اس کے بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔ لاریب اپنی رنگین طبیعت سے مجبور ہوکر راستے میں نظر آنے والی لڑکی سے تعلقات بڑھاتا ہے اور اپنے کچھ لمحات رنگین بنانے کی خاطر ان ماں بیٹی کو ہوٹل لے آتا ہے لیکن وہ دونوں لاریب کو دھوکا دے کر اس کا تمام قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتی ہیں ایسے میں لاریب نوفل کو فون کرکے تمام حالات کا بتاتا ہے نوفل اس کی حالت پر نہایت شرمندگی محسوس کرتے اسے شادی کرنے کا مشورہ دیتا ہے جسے وہ چٹکیوں میں اڑا دیتا ہے۔ نوفل یونیورسٹی میں انشراح کو دیکھ کر خفگی کا اظہار کرتا ہے جبکہ بابر پچھلے تمام واقعات کو بھول جانے کا مشورہ دیتا ہے مگر نوفل اس بات پر آمادہ نہیں ہوتا زرقا بیگم نوفل کو اپنے ماموں کی طرف جانے کا کہتی ہیں جس پر وہ رضامند نہیں ہوتا جب ہی وہ اس کی ماں کا تذکرہ کر بیٹھتی ہیں لیکن ماں کے ذکر پر نوفل کا غصہ مزید بڑھ جاتا ہے وہ اس عورت کو اپنی ماں کا درجہ دینے پر تیار نہیں ہوتا زرقا بیگم نوفل کی شادی کی خواہش مند ہوتی ہیں مگر وہ صنف مخالف سے نہایت بیزاریت کا اظہار کرتے ٹال جاتا ہے۔ انشراح اپنی دوست عاکفہ کے ہمراہ یونیورسٹی جاتی ہے وہیں چند لڑکے عاکفہ کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں ایسے میں انشراح اپنی دوست کا ساتھ دیتے اس لڑکے کو تھپڑ رسید کردیتی ہے عاکفہ اس صورت حال سے شدید خوف زدہ ہوجاتی ہے دوسری طرف وہ لڑکے بھی بدلہ لینے کے لیے ہر دم تیار نظر آتے ہیں اور انہیں یہ موقع بہت جلد مل جاتا ہے جب انشراح عاکفہ کی غیر موجودگی میں یونیورسٹی آتی ہے اور وہ لڑکے اسے زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر لے جاتے ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
خ…ء…خ
’’نوفل… آگے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔‘‘ سائیڈ سے آنے والی کار میں بابر اور نوفل تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑی سوزوکی کار میں اُدھم سا تھا۔
’’ہوں دیکھ تو میں بھی رہا ہوں کچھ گڑبڑ محسوس ہورہی ہے۔‘‘ ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کی نگاہیں بھی اسی سمت تھیں۔
’’دیکھتے ہیں کیا معاملہ ہے۔‘‘
’’چھوڑو یار‘ ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہوگئے ہیں۔‘‘
’’نہیں‘ نامعلوم کون ہے اور کیا میٹر ہے ہمیں ان کی ہیلپ کرنی چاہیے۔‘‘ وہ کہتا ہوا فاسٹ ڈرائیونگ کرکے وہاں پہنچا اور وہاں پہنچ کر وہ کار سے نکلے بھی نہیں تھے کہ انہوں نے دیکھا دو لڑکے کسی لڑکی کو کڈنیپ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ لڑکی بن جل مچھلی کی مانند چلتی کار سے نکل گئی تھی جس کو وہ دوبارہ اندر کار میں ڈالنے کی کوشش میں سرگرداں تھے۔
مگر وہ کمزور سی لڑکی ان کے لیے خطرناک فائٹر ثابت ہورہی تھی‘ دونوں صحت مند نوجوان اس کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہورہے تھے ان کی کار کو رکتے دیکھ کر ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان لڑکے نے اپنے ساتھیوں کو چیخ کر واپس آنے کا کہا اور ان کے نکلتے نکلتے وہ دونوں لڑکے اس لڑکی کو دیکھتے بھاگتے ہوئے کار میں بیٹھے تھے اور لمحوں میں کار ہوا ہوگئی تھی۔
’’بزدل… ڈر پوک…‘‘ نوفل نے فل اسپیڈ سے بھاگتی کار کو دیکھتے ہوئے کہا جبکہ بابر اس لڑکی کی طرف بڑھا جو اپنے منتشر حواسوں کو نارمل کررہی تھی۔
’’آر یو اوکے میم…‘‘ وہ قریب جاکر استفسار کرنے لگا تھا اور جب اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کے ساتھ ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑا نوفل بھی چونک گیا تھا۔
’’ارے آپ… کون لوگ تھے وہ؟ آپ کو کڈنیپ کیوں کرنا چاہ رہے تھے؟‘‘ انشراح کو دیکھ کر وہ پریشان سا استفسار کرنے لگا تھا جبکہ نوفل جہاں تھا وہیں تھم گیا تھا چند لمحے قبل جو اس لڑکی کو ان لڑکوں سے فائٹ کرتے دیکھ کر اس کی دلیری نے متاثر کیا تھا سب ختم ہوگئی۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر آگے نہیں بڑھا تھا ان کے درمیان جو ایک سرد مہری کی دیوار قائم تھی۔ وہ طویل ہوتی جارہی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کی دلیری و پُراعتمادی سے متاثر ہونے کے باوجود سپاٹ چہرہ لیے وہیں کھڑا رہا۔
’’میں نہیں جانتی وہ لوگ کون تھے اور کیوں کڈنیپ کرنا چاہتے تھے۔‘‘ اس نے بابر کے پیچھے کھڑے نوفل کو دیکھا‘ اس کے انداز میں وہی اکھڑپن و بے نیازی دور سے ہی نمایاں تھی۔ دیکھ کر بھی نہ دیکھنے کا انداز‘ جان کر بھی نہ جاننے کی سرد مہری مقابل کو احساس شرمندگی سے دوچار کردیتی تھی وہ اس وقت اس حالت میں اس کا سامنا کرنے سے بھی گریز پا تھی کہ ان کی دست درازی سے بچنے کے لیے اس نے سخت محنت کی تھی اور یہی وجہ تھی کہ وہ کوئی نازیبا حرکت نہ کرسکے تھے لیکن اس دوران چوٹیں لگنے سے اس کی ناک اور ہونٹ گھائل ہونے کے باعث ہلکا ہلکا خون رسنے لگا تھا۔
’’آپ تو خاصی زخمی ہوگئی ہیں‘ چلیں پہلے آپ کو ہسپتال لے چلتے ہیں پھر ان لوگوں کا بھی پتا لگائیں گے کون تھے وہ لوگ۔‘‘ بابر کے لہجے میں ہمدردی و فکر مندی در آئی تھی۔
’’نو تھینکس‘ مجھے آپ کی مدد کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’پلیز مس انشراح… یہ ناراضگی کا وقت نہیں ہے آپ کے زخموں سے خون رس رہا ہے۔‘‘ وہ اس کا سخت لہجہ نظر انداز کرکے گویا ہوا۔
’’میں نے کہا نہ مجھے آپ کی مدد نہیں چاہیے‘ سمجھے آپ؟‘‘ اس نے کہا اور آگے قدم بڑھا دیئے تھے اس کا انداز ہتک آمیز تھا۔
’’کم آن بابر… کسی پتھر سے سر پھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ابھی جو کچھ ہوا ہے وہ ایسی ہی گرلز کے ساتھ ہوتا ہے جو اوور کانفیڈنٹ اور اوور اسمارٹ ہوتی ہیں۔‘‘ اس کے کھردرے انداز سے نوفل کو بھی ہتک کا احساس ہوا تھا وہ ناگوار لہجے میں کہتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا۔
’’ہونہہ… آپ جاسکتے ہیں۔‘‘ بابر کو گومگو کی حالت میں کھڑا دیکھ کر اس نے کہا… پھر تیز تیز چلتی ہوئی گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’تم اگر کچھ دیر کے لیے اپنی زبان بند کرلیتے تو کیا نقصان ہوجانا تھا؟‘‘ بابر اب نوفل سے مخاطب ہوا۔
’’میں نے کیا کیا ہے؟‘‘
’’تم اس کو معاف کیوں نہیں کردیتے ہو؟‘‘
’’کچھ لوگ معاف کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔‘‘
’’قابل اصلاح ضرور ہوتے ہیں اصلاح کردو۔‘‘
’’آئی ڈونٹ کئیر… میں نے کبھی ایسے لوگوں سے ہمدردی محسوس نہیں کی۔‘‘
خ…ء…خ
عمرانہ کی بڑی بہن رضوانہ حال ہی میں جدہ سے کراچی شفٹ ہوئی تھیں۔ رضوانہ کے خاوند اکرم کا جدہ میں اعلیٰ پیمانے پر لیدر گارمنٹس کا کاروبار تھا‘ دولت کی خوب ریل پیل تھی۔ وہ اولاد نرینہ سے محروم دو بیٹیوں کے والدین تھے اور ان کے بے جا لاڈ پیار نے دونوں بچیوں کو مغرور بنادیا تھا‘ اپنے آگے کسی کو خاطر میں لانا ان کی سرشت میں شامل نہ تھا البتہ عمرانہ کو خالہ ہونے کے باعث بے حد پسند کرتی تھیں۔ مائدہ کی بھی دونوں بہنوں سے بہت گہری دوستی تھی اور عمرانہ جو ان کے جدہ میں ہونے کے سبب سے خود کو تنہا و کمزور محسوس کرتی تھیں ان کے یہاں شفٹ ہونے کے باعث خود کو طاقتور سمجھنے لگی تھیں کیونکہ والدین کے انتقال کے بعد وہ دونوں بہنیں ہی میکے نام پر ایک دوسرے کا سہارا تھیں۔ آج وہ مائدہ کے ہمراہ رضوانہ کے گھر آئی ہوئی تھیں‘ زید اور مدثر کے درمیان ہونے والی معمولی سی تلخ کلامی کو کئی دن گزر گئے تھے مگر وہ بھولنے والی نہیں تھیں اب بھی ان کے درمیان بیٹھ کر وہ صوفیہ اور سودہ کو برا کہنے میں مشغول تھیں کہ یہ ان کا من پسند مشغلہ بھی تھا۔
’’میں نے تمہیں پہلے دن ہی کہا تھا عمرانہ… صوفیہ جس دن بیوہ ہوکر آئی تھی کہ ان ماں بیٹی کو کسی نہ کسی طرح گھر سے نکالو‘ اگر وہ رک گئیں تو تمہارا جینا دشوار ہوجائے گا‘ اب دیکھ لو وہ ہی ہوا نہ۔‘‘ رضوانہ نے تنبیہہ بھرے لہجے میں کہا۔
’’کوشش میں نے بہت کی کہ وہ ماں بیٹی وہاں ٹکنے نہ پائیں مگر وہ ہی بات ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے۔ پہلے منور بھائی اور زمرد بھابی کون سی کم ہیں دونوں میاں بیوی ہمدردیوں و خدا ترسی کے بخار میں ہر دم مبتلا رہتے ہیں اور رہ گئے مدثر وہ تو ہر دم بہن و بھانجی کی محبت میں اپنی اولاد کو بھلائے رہتے ہیں‘ کسی نے نہیں سنی میری۔‘‘
’’ہوں‘ یہ بات تمہاری سچ ہے صوفیہ کی اہمیت وہاں شروع سے ہی رہی ہے۔‘‘
’’اور بیوگی کے بعد اس اہمیت کو عروج حاصل ہوگیا۔‘‘
’’ہاں‘ اکلوتی بیٹی و بہن تھی پھر تمہارے سسرال میں بیٹی و بہن کو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی محبت دی جاتی ہے جو اُن کے دماغ آسمانوں پر چڑھا دیتی ہے۔‘‘
’’آنٹی… زید آپ کے ساتھ کیوں نہیں آئے؟‘‘ عفرا جو خاصی دیر سے یہ سوال پوچھنے کے لیے بے قرار تھی ان کے خاموش ہوتے ہی استفسار کیا‘ وہ مسکرا کر گویا ہوئیں۔
’’زید کی آج کوئی خاص میٹنگ تھی اس وجہ سے وہ نہیں آیا۔‘‘
’’جب بھی آپ یہاں آتی ہیں زید ساتھ ہی نہیں آتے‘ کوئی وجہ ضرور ہے ایسا لگتا ہے وہ ہم سے ملنا نہیں چاہتے۔‘‘ عفرا نے ماں کی جانب دیکھتے ہوئے اٹھلاتے ہوئے کہا۔
’’عفرا ٹھیک کہہ رہی ہے ہمیں یہاں شفٹ ہوئے تین ماہ ہوچکے ہیں اور ان دنوں میں فقط دو مرتبہ ہی زید آیا ہے اور وہ کھڑے کھڑے تمہیں پک کرنے کے لیے ڈنر تک نہیں کیا اس نے ہمارے ساتھ۔‘‘ رضوانہ بیگم نے بھی فوراً بیٹی کی شکایتوں کی تائید کی۔
’’ارے ایسی کوئی بات نہیں ہے آپی… زید تو ہر گھڑی یہاں آنے کے لیے تیار رہتا ہے ہم سے زیادہ خوشی اس کو آپ کے یہاں شفٹ ہونے کی ہوئی ہے اور خوشی کیوں نہ ہو بھئی ننھیال میں آپ کے سوا ہے کون پھر وہ کسی کو لفٹ کہاں دیتا ہے پورے گھر میں محض بھابی اور منور بھائی ہیں جن سے وہ محبت کرتا ہے وگرنہ صوفیہ اور اس کی بیٹی کی شکلوں پر تھوکنا بھی گوارا نہیں‘ سخت نفرت کرتا ہے ان سے۔‘‘
’’اچھا‘ مجھے بھی وہ بیٹوں کی طرح عزیز ہے زید کو ہی دیکھ کر میں خوش ہوتی ہوں‘ کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ میرا کوئی بیٹا نہیں ہے۔‘‘
’’زید بھی جان چھڑکتا ہے آپ پر۔‘‘ انہوں نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’دل سے دل کو راہ ہوتی ہے عمرانہ۔‘‘
’’آنٹی… آپ زید کو کال کریں کہ آج وہ ڈنر ہمارے ساتھ ہی کریں۔‘‘ عفرا نے اپنے شانوں تک پھیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’آپ خود کال کیوں نہیں کرلیتی؟‘‘ مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کئی بار کال کی ہے مگر وہ ریسیو نہیں کرتے بہت روڈ ہیں وہ۔‘‘
’’ارے نہیں نہیں میری جان۔‘‘ عمرانہ نے اٹھ کر اسے لپٹاتے ہوئے کہا۔
’’زید تو بہت نرم دل وہنس مکھ ہے‘ حساس اس قدر کہ چہرے سے ہی احساسات سمجھ جاتا ہے۔ آپ کی کال شاید اس لیے ریسیو نہیں کی ہوگی کہ کسی میٹنگ وغیرہ میں ہوگا۔‘‘ عروہ مائدہ کو لے کر اپنے کمرے میں آگئی تھی باتوں کے دوران اس نے اپنا سیل فون اسے دکھایا تو مائدہ حیرانی سے گویا ہوئی تھی۔
’’تم سیل یوز کرتی ہو؟‘‘
’’آف کورس‘ میں یوز کرتی ہوں تب ہی میرے پاس ہے۔‘‘
’’آنٹی انکل کو کوئی اعتراض نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں‘ بالکل بھی نہیں اور یہ فون تو ڈیڈی نے ہی گفٹ کیا ہے وہ ٹورنٹو سے میرے لیے ہی لائے تھے اسپیشلی۔‘‘
’’اوہ رئیلی…! انکل لائے تھے تو پھر تو تم کو کوئی منع کرنے والا نہیں ہے‘ کاش ہمارے پاپا بھی ہمارے لیے اسی انداز سے سوچتے تو مجھے بھی کوئی سیل فون یوز کرنے سے روک نہیں سکتا تھا۔‘‘ وہ بری طرح افسردہ ہوگئی تھی۔
’’ارے‘ کیا تمہارے پاس سیل فون نہیں؟‘‘ عروہ کے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی۔
’’نہیں‘ میرا کوئی سیل فون نہیں ہے۔‘‘ وہ شرمندگی محسوس کرنے لگی۔
’’ایم رئیلی شاکڈ…! لیکن یہ تو بہت ضروری ہے اس دور میں بلکہ میں کہتی ہوں اس کے بنا تو زندگی ادھوری ہے تم بے حد عجیب ہو۔‘‘
’’عجیب نہیں عجوبہ کہو عجوبہ۔‘‘ اس نے شانے اچکا کر کہا۔
’’لیکن آنٹی کے پاس موبائل ہے۔ تمہارے پاس کیوں نہیں ہے؟‘‘ اس کی حیرانی کم نہ ہورہی تھی۔
’’تایا جان اس کے بے حد خلاف ہیں کہ لڑکیوں کے پاس سیل فون ہو اور زید بھائی تایا جان کی ہر بات پر عمل کرتے ہیں اور زید بھائی کے حکم پر ہی میں اور سودہ سیل فون استعمال نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم گھر میں کسی کا سیل فون استعمال کرتے ہیں البتہ لائونج میں لگے لینڈ لائن نمبر یوز کرنے کی اجازت ہے ہمیں۔‘‘
’’یہ تو کوئی پرائیویسی نہ ہوئی‘ کسی فرینڈ سے سب کی موجودگی میں بات کس طرح ہوسکتی ہے؟‘‘ وہ آنکھیں پھاڑ کر کہنے لگی۔
’’خیر‘ میں اور سودہ ایک دوسرے کی بہترین فرینڈز ہیں‘ کالج میں گھر میں ہم ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ کالج کی فرینڈز سے دوستی صرف کالج کی حد تک ہی ہے کبھی کسی سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔‘‘
خ…ء…خ
ناک اور ہونٹ کے بائیں حصے میں لگنے والی چوٹ کے باعث خاصی سوجن آنے کے ساتھ ساتھ اس کی تکلیف میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ دو پیریڈ اٹینڈ کرنے کے بعد گھر جانے کا ارادہ کرچکی تھی معاً عاکفہ کو اپنی طرف تیز تیز قدموں سے آتے ہوئے دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رک گئی۔
’’وہ ہی ہوا نہ جس سے میں ڈر رہی تھی۔‘‘ وہ آتے ہی اس سے لپٹ کر رونے لگی۔
’’تم کس طرح آگئی؟ تمہیں تو ابھی بھی اتنا تیز بخار ہورہا ہے اور تمہیں بتایا کس نے؟‘‘ وہ سخت سراسیمہ ہورہی تھی۔
’’بابر نے کال کی ہے اور سب بتایا ہے میں کہہ رہی تھی پولیس میں شکایت کرنے دو مگر تم نہیں مانی اور دیکھا نہ کس طرح سے وہ تمہیں کڈنیپ کرنا چاہ رہے تھے۔‘‘
’’بابر کے پاس تمہارا نمبر کہاں سے آیا؟‘‘ وہ سیڑھیوں پر بیٹھ گئی تھیں۔
’’کہہ رہا تھا زینت سے لیا ہے اس کے پاس ہے میرا رابطہ نمبر۔‘‘
’’زینت ہے کہاں ابھی بتاتی ہوں اس نے جرأت کیسے کی‘ بغیر اجازت نمبر دینے کی۔ اس کو نمبر دینے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ نمبر بانٹتی پھرے۔‘‘ انشراح کو غصہ عود کر آیا تھا۔
’’ارے زینت ایسی غیر ذمہ دار لڑکی نہیں ہے اب نامعلوم بابر نے کیا کہہ کر اس سے نمبر لیا ہے اور مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ اس نے کوئی غلط حرکت نہیں کی۔ تمہارے متعلق ہی بتایا ہے وہ خود بھی بے حد پریشان تھا۔‘‘ اس کے بگڑے تیور دیکھ کر عاکفہ نے بابر کی سائیڈ لی۔
’’وہ کیوں پریشان ہونے لگا میرا کیا واسطہ اس سے۔‘‘
’’اس طرح مت کہو‘ بہت عزت کرتا ہے وہ تمہاری۔‘‘
’’ہونہہ… اس کے دوست کو دیکھو کہہ رہا تھا مجھ جیسی لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘‘ نوفل کی بات اس کے دل میں کھب گئی تھی۔
’’تم کیوں پروا کرتی ہو اس کی‘ اپنی حالت دیکھی ہے تم نے سوجن بڑھتی جارہی ہے چلو ہم پہلے کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔‘‘
’’واہ… میں کیوں اس لنگور کی پروا کرنے لگی وہ تو اس نے بات ایسی کی ہے کہ میرا دل چاہ رہا ہے گولی مار دوں اس کمینے کو۔‘‘
’’چلو‘ بس تم پر ہر وقت مرنے مارنے کا بھوت سوار رہتا ہے۔‘‘ عاکفہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھی۔
’’میں آپ لوگوں کو ڈراپ کردیتا ہوں‘ اس حادثے کے بعد آپ لوگوں کا تنہا جانا بالکل مناسب نہیں ہے۔‘‘ بابر گویا ان کے انتظار میں ہی بیٹھا تھا ان کو گیٹ کے قریب آتے دیکھ کر گویا ہوا۔
’’پہلے یہ بتایئے آپ کی ان مہربانیوں کے پیچھے کیا مطلب پنہاں ہے؟‘‘ عاکفہ کے بولنے سے قبل ہی وہ تفتیشی انداز میں گویا ہوئی۔
’’مطلب… مطلب تو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ قدرے گھبرایا۔
’’پھر کیوں ہمارے پیچھے سائے کی مانند لگ گئے ہو اور…‘‘
’’پلیز انشراح… وہ ہماری مدد کررہا ہے اور تم اس کی بے عزتی کررہی ہو‘ بی ہیو یور سلف۔‘‘ عاکفہ نے انشراح کا ہاتھ پکڑ کر اس سے کچھ فاصلے پر لے جاکر آہستگی سے کہا… پھر بابر سے مخاطب ہوئی۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ سچ میں ان لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اگر وہ واپس آگئے تو… یہ سوچ کر ہی مجھے کچھ ہونے لگتا ہے آپ اپنی کار میری کار کے پیچھے ہی رکھیے گا بہت مشکور ہوں میں آپ کی۔‘‘ انشراح گہری سانس لے کر کار کی طرف بڑھ گئی۔
خ…ء…خ
’’بیٹا… طبیعت کیسی ہے اب؟‘‘ زرقا لاریب کی مزاج پرسی کے لیے آئی تھیں جو اس دن کے بعد سے بخار اور بدن درد میں مبتلا ہوگیا تھا شہر کے بہترین ڈاکٹرز کے علاج ہونے کے باوجود بستر سے اٹھ نہیں پارہا تھا۔ ایک تو وہ ازحد نازک طبع تھا مستزاد ماں اور باپ کی محبتوں نے بالکل ہی کمزور بنا ڈالا تھا وہ معمولی سی بھی تکلیف برداشت نہیں کرپاتا تھا۔
’’بہت پین ہورہا ہے باڈی میں بڑی ماما۔‘‘ وہ کراہ رہا تھا۔
’’پین تو ہوگا ہی میری جان… اس بری طرح سے چوٹیں آئی ہیں۔ خدا غارت کرے ایسے لوگوں کو جو اس طرح سے ڈرائیونگ کرتے ہیں سامنے والا بچنے کی سعی میں بھی بچ نہیں پاتا۔‘‘ لاریب کے قریب بیٹھی سامعہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’بیٹا… آپ کو بھی احتیاط کرنی چاہیے تھی سڑک پر چلتے ہوئے۔ ویسے بھی فٹ پاتھ اسی لیے ہوتا ہے سڑک پر ایکسیڈنٹ کا ہی خطرہ رہتا ہے پھر بھی اللہ کا احسان ہے اس کی رحمت سے کوئی فریکچر وغیرہ نہیں ہوا۔‘‘
’’آپ سے کس نے کہا لاریب سڑک پر چل رہا تھا؟‘‘ وہ استعجابیہ انداز میں گویا ہوئیں۔
’’پرسوں انہوں نے ہی بتایا تھا سڑک پر چلتے ہوئے پیچھے سے آنے والی کار نے ٹکر ماری تھی۔‘‘ وہ لاریب کی جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تھیں جبکہ وہ تذبذب کا شکار کچھ کہہ نہیں پارہا تھا۔
’’لیکن بیٹا… آپ تو مجھ سے کہہ رہے تھے آپ کار میں کہیں جارہے تھے تب ایکسیڈنٹ ہوا…‘‘ سامعہ کو بیٹے کی دماغی حالت پر شک ہوا تھا۔
’’جی مما… دراصل مجھے کچھ اچھی طرح سے یاد نہیں ہے۔‘‘ ایک جھوٹ کئی جھوٹ بلواتا ہے یہی حالت لاریب کی تھی اس نے حقیقت چھپاتے ہوئے کئی جھوٹ گھڑے تھے۔
’’اوہ مائی گاڈ… مجھے فیل ہورہا ہے لاریب کو دماغی چوٹ بھی لگی ہے۔‘‘
’’پریشان مت ہو سامعہ‘ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے خدانخواستہ ایسی کوئی پرابلم ہوتی تو ڈاکٹرز ضرور ڈائگنوز کرتے ڈاکٹر ابراہیم اور ان کے پینل کی ملک میں بہت اچھی ساکھ ہے۔‘‘ وہ رسانیت سے گویا ہوئیں۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہیں بڑی مما آپ‘ ایسی کوئی پرابلم نہیں ہے وہ شدید پین کی وجہ سے میں نہ جانے کیا کچھ کہہ گیا ہوں۔‘‘
خ…ء…خ
اچھی آپا کی کال آئی تھی ان کا اصرار تھا سودہ کو ان کے گھر چند دن قیام کے لیے بھیج دیا جائے صوفیہ نے صاف انکار کردیا تھا جس پر اچھی آپا کو غصہ عود کر آیا تھا اور وہ چیختے ہوئے گویا ہوئی تھیں۔
’’دیکھو صوفیہ… تم میرے صبر کو مت للکارو میں جتنے صبر سے کام لے رہی ہوں تم اتنا ہی میرے سر پر چڑھتی چلی آرہی ہو۔ میں سودہ کو لے کر آئوں گی‘ اپنے گھر رکھوں گی‘ تم ہوتی کون ہو روکنے والی؟‘‘
’’میں ماں ہوں اس کی۔‘‘
’’میں پھوپو ہوں اس کی۔ سولہ آنے کھری سچی اس کے باپ کی بہن۔‘‘
’’معلوم ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔‘‘
’’معلوم ہے پھر بھی سودہ کو میرے گھر بھیجنے سے انکاری ہو؟‘‘
’’نہیں بھیجوں گی میں سودہ کو یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘ انہوں نے جتانے والے انداز میں کہہ کر فون بند کردیا اور صوفے پر بیٹھ کر اتھل پتھل ہوتا ہوا سانس درست کررہی تھیں تب ہی مدثر کا بیٹا سلام کرتا ہوا آیا اور ان کے برابر میں بیٹھ گیا۔
’’شاہ زیب… کب آئے میرے بچے؟‘‘ وہ سلام کا جواب دیتی ہوئیں اس کے گھنیرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے شفقت سے گویا ہوئیں۔
’’کچھ دیر قبل ہی آیا ہوں‘ کس سے فائٹ ہورہی تھی آپ کی؟‘‘ وہ محبت بھرے انداز میں ان کے شانے پر سر رکھ کر بیٹھا تھا۔
’’میرے دشمنوں کو کچھ نہ کچھ بکواس کرنے کی عادت ہے کوئی نہ کوئی محاذ گرم ہی رہتا ہے‘ اب اچھی آپا کو دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘ وہ جلے بھنے انداز میں کہنے لگیں۔
’’کیا دل کا دورہ پڑ گیا ہے؟‘‘ وہ فون پر ہونے والی گفتگو کسی حد تک سن چکا تھا‘ شرارت سے گویا ہوا۔
’’اللہ کرے دل کا دورہ پڑ ہی جائے اور جان چھوٹ جائے ہماری۔‘‘
’’توبہ ہے صوفیہ… سب کے لیے خیر وعافیت کی دعا مانگا کرو۔‘‘ زمرد بیگم بوا کے ہمراہ وہاں آتے ہوئے بولیں۔
’’کچھ لوگوں کو چھوڑ کر سب کی خیر وسلامتی کی دعا مانگتی ہوں اور یہ اچھی آپا اور عمرانہ بھابی کے لیے کبھی دعائیں نکل ہی نہیں سکتی ہیں یہ آپ لکھوا کر رکھ لیں مجھ سے یہ کبھی بھی سدھرنے والی عورتیں نہیں ہیں۔‘‘
’’اچھی باتیں نہیں ہوتی ہیں یہ۔ پر اچھی آپا سے بات کیا ہوئی ہے؟‘‘ زمرد بیٹھتی ہوئیں استفسار کرنے لگی تھیں‘ بوا جو ٹرے میں چائے کے مگ اور ڈرائی فروٹس کی ٹرے لے کر آئی تھیں‘ چائے سب کو دینے لگیں۔
’’ان کا حکم ہے کہ سودہ کو کچھ دن رہنے کے لیے ان کے گھر بھیج دوں‘ اب آپ ہی بتایئے میں سودہ کو کہیں بھیج سکتی ہوں۔‘‘
’’یہ تو بات تمہاری بالکل درست ہے۔ سودہ کے لیے اچھی آپا کی محبت کا اچانک جاگنا پھر بیٹے سے اس کی شادی کی خواہش اور اب یہ نئی بے قراری گھر بلانے کی کچھ سمجھ سے بالاتر ہے یہ تو سب ہی جانتے ہیں‘ اچھی آپا نام کی اچھی ہیں وگرنہ برائیاں ان کی سانسوں کے ساتھ چلتی ہیں۔‘‘ بوا ان کو چائے سرو کرکے اپنا چائے کا مگ لے کر ان کے درمیان ہی بیٹھ گئی تھیں۔ ان کو کبھی اس گھر میں ملازمہ نہیں سمجھا گیا تھا‘ وہ گھر کی بزرگ تھیں۔
’’اچھی آنٹی… سودہ کی شادی اپنے بیٹے سے کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ شاہ زیب نے چونک کر استفسار کیا۔
’’ہاں‘ دو تین ہفتے قبل ہی تو اتنا ہنگامہ کرکے گئی تھیں میرے انکار کرنے پر اور اب بھی سودہ پر حق جتانے کا مقصد یہی ہے لیکن میں بھی ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ صوفیہ نے گردن جھٹک کر کہا۔
’’تم فکر مت کرو‘ رشتے ناطے یہ شادی کے بندھن زندگی بھر کے ہوتے ہیں ان رشتوں کو فرد واحد کی منشا پر باندھا نہیں جاتا ہے پھر رشتہ طے ہونے سے پہلے سودہ کی مرضی بھی معلوم کی جائے گی۔‘‘ زمرد چائے پیتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔
’’سودہ تو اللہ میاں کی گائے ہے جس کھونٹے سے باندھو‘ بندھ جائے گی اپنی مرضی کرنا اس کی سرشت میں شامل نہیں۔‘‘
’’بے فکر رہو‘ منور اور مدثر کبھی اس کے ساتھ بے ناانصافی نہیں ہونے دیں گے‘ ہم سب ہی اس کے بہترین مستقبل کے خواہاں ہیں۔‘‘ شاہ زیب نے چائے پی کر ڈرائی فروٹس جیکٹ کی جیبوں میں بھرے اور ان کو باتوں میں مصروف چھوڑ کر وہاں سے لان میں آگیا جہاں پودوں کی گوڈی کرتی سودہ کو دیکھ کر اسے شرارت سوجھی۔
خ…ء…خ
عاکفہ اسے گھر لے آئی تھی جہاں اس کی مما نے تمام باتیں تحمل سے سننے کے ساتھ ساتھ برف سے اس کی ناک اور ہونٹوں پر ٹکور کی اور ساتھ ہی کوئی ٹیبلٹ بھی کھلائی تھی اور اسے وہیں عاکفہ کے بیڈ پر لٹادیا تھا۔
’’تھینکس آنٹی… آپ بہت اچھی ہیں بہت ریلیکس فیل کررہی ہوں میں۔‘‘ ان کی شفقت بھری دیکھ بھال اسے بہت اچھی لگی تھی۔
’’شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے آپ بھی میری بیٹی ہی ہو۔‘‘ وہ کہہ کر اس کے قریب ہی بیٹھ گئیں‘ وہ درمیانی عمر کی اسمارٹ سی عورت تھیں بے حد سادہ اور پُرخلوص طبیعت کی مالک۔
’’میں ملازمہ کو کہہ کر آگئی ہوں کہ وہ کافی اور کچھ کھانے کو لے آئے۔‘‘ عاکفہ ساری روداد سناکر ملازمہ کے پاس چلی گئی تھی‘ وہاں سے آکر بولی۔
’’کافی کیوں؟ اب تو لنچ کا ٹائم ہونے والا ہے۔ انشراح اس ٹائم کھانا نہیں کھاتی ہے۔‘‘ وہ بھی اس کے قریب بیٹھ چکی تھی۔
’’جی آنٹی… میں لنچ نہیں کرتی‘ صرف جوس کے ساتھ کوکیز لے لیتی ہوں۔‘‘ وہ تکیے کے سہارے بیٹھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’جب ہی اتنی نازک سی ہو مگر بیٹا… یہ صحت سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے‘ اس عمر میں ڈٹ کر کھانا کھانا چاہیے۔ ہماری عمر میں بھوک ازخود ہی کم ہوجاتی ہے۔‘‘
’’میں بھی یہی سمجھاتی ہوں لیکن ایسی باتیں سر سے گزر جاتی ہیں محترمہ کے۔‘‘
’’آپ کی باتوں پر عمل کرنے کی ضرور کوشش کروں گی‘ اب یہ بتایئے کیا کریں آج جو کچھ ہوا ہے کیا اس کی کمپلین پولیس میں ہونی چاہیے؟‘‘ اس کے ذہن میں گردش کرتا سوال ہونٹوں پر ابھرا۔
’’کمپلین ضرور ہونی چاہیے بیٹا… ایسے لوگوں کو کھلا چھوڑ دینا مناسب نہیں ہے۔ کسی کی دعا سے آپ کو کوئی آنچ نہیں آئی ہے وگرنہ ایسے لوگ تو حیوان ہوتے ہیں‘ میں رات کو ہی عاکفہ کے بابا سے بات کروں گی۔‘‘ وہ سنجیدہ و تفکرانہ انداز میں گویا ہوئی تھیں۔
’’آنٹی… نانو کو پتا چل گیا تو میرا یونیورسٹی جانا بند ہوجائے گا‘ بہت مشکل سے میری یہ دیرینہ خواہش پوری ہورہی ہے جس کی خاطر میں جان تو دے سکتی ہوں مگر پڑھائی نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘ وہ خاصی جذباتی ہوگئی تھی۔
’’ان شاء اللہ ایسا کچھ نہیں ہوگا‘ عاکفہ کے بابا کے دوست محکمہ پولیس میں بھی ہیں۔ میں ان کو سمجھادوں گی وہ راز داری کے ساتھ ان لڑکوں کا سراغ لگوا کر گرفتار کروائیں‘ میں وعدہ کرتی ہوں آپ کی نانو کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی اور نہ ہی آپ کی پڑھائی متاثر ہوگی۔‘‘ ان کو اس کی پڑھائی کے لیے طلب و تڑپ بہت بھائی تھی۔
’’تھینکس آنٹی… عاکفہ بہت لکی ہے جس کو آپ جیسی کیوٹ مما ملی۔‘‘ اس کے لہجے میں پہلی بار کوئی حسرت پیدا ہوئی تھی اور دل میں اس خواہش نے جنم لیا تھا کہ اس کی بھی مما ہوتیں اور جس طرح عاکفہ کی مما ایک ڈھال بن کر ان کے سامنے کھڑی ہوگئی تھیں‘ اس کی مما بھی ایسا ہی کرتیں۔
’’میں آپ کی بھی مما ہوں‘ ذرا جاکر ملازمہ کو دیکھتی ہوں ابھی تک وہ کافی لے کر نہیں آئی۔ آپ آرام سے لیٹ جائیں‘ لنچ کے بعد میں خود آپ کو گھر چھوڑ کر آئوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے چلی گئیں۔
’’سن لیا نہ تم نے مما نے جو کہا ہے اب ریلیکس ہوکر لیٹ جائو‘ مما بابا کے ساتھ مل کر اس معاملے کو آسانی سے حل کرلیں گی۔‘‘ وہ اطمینان سے اسپلٹ کا ریموٹ اٹھاتی ہوئی گویا ہوئی تھی۔
خ…ء…خ
یوسف‘ زرقا‘ حمرہ اور نوفل لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے‘ امینہ انہیں چائے کے ساتھ دیگر لوازمات سرو کررہی تھی معاً یوسف گویا ہوئے۔
’’میری تو خواہش تھی آپ بھی گھر کے دیگر بچوں کی طرح تعلیم باہر کی کسی بہترین یونیورسٹی سے حاصل کرتے تو بہتر تھا۔‘‘
’’میں سمجھتا ہوں‘ میرے ملک میرے شہر سے بہتر کوئی ملک و شہر نہیں ہے پھر یہاں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔‘‘ اس کے مودب لہجے میں اپنے وطن سے پیار جھلک رہا تھا‘ یوسف صاحب نے اس کی طرف دیکھا تھا اس کے وجیہہ چہرے پر انہیں اپنی نوجوانی کا جذبہ و عزم دکھائی دیا تھا اور یہی جذبہ انہیں سیاست کی پُرخار وادیوں میں لے گیا تھا۔
’’یہاں کوئی اسٹینڈر رہا ہے تعلیمی ادارے ہوں یا ہاسپٹلز سب جگہ کرپشن ہی کرپشن ہے‘ کوئی کسی سے سوال کرنے والا نہیں… اس طرح کا ماحول صرف مفاد پرستوں کو ہی سوٹ کرتا ہے دوسرے لوگوں کو کوئی ریلیف تو کیا ان کا حق بھی نہیں مل رہا… میں کہتی ہوں ایک بار پھر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلیجیے۔‘‘ حمرہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے کہا۔
’’فورس مت کرو حمرہ… میں نوفل کے دلی جذبات سے آگاہ ہوں۔ ایک زمانے میں مجھے بھی بے حد فورس کیا گیا تھا کہ میں ایبروڈ میں تعلیمی مراحل طے کروں اور میں کسی کے دبائو میں نہیں آیا تھا‘ جن کو اپنی مٹی سے پیار ہوتا ہے وہ کسی قیمت پر اس کو کمتر محسوس نہیں کرتے۔‘‘
’’آپ کا بھی کیا سیاست میں آنے کا ارادہ ہے نوفل؟‘‘ زرقا نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔
’’سیاست ہماری رگوں میں خون بن کر بہتی ہے۔‘‘
’’سوری بڑے بابا… مجھے سیاست میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے میں کبھی بھی پارٹی جوائن کرنا پسند نہیں کروں گا۔‘‘ اس کے وجیہہ چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
’’جیسے تمہاری مرضی بیٹے‘ میں کبھی بھی آپ کو پریشرائز نہیں کروں گا۔‘‘
’’ایک معاملے میں آپ کو پریشرائز کرنا ہوگا حمرہ… درست کہہ رہی ہوں نا؟‘‘ انہوں نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے حمرہ سے کہا۔
’’جی… بالکل درست کہہ رہی ہیں زرقا آپی آپ‘ یوسف کو یہ بات تو سچ مچ منوانی ہی ہوگی نوفل سے۔‘‘ وہ شوخی سے نوفل کی جانب دیکھتی ہوئی کہہ رہی تھیں جبکہ وہ بھی استعجابیہ انداز میں ان کو دیکھ رہا تھا۔
’’اللہ خیر کرے جب دو عورتیں کسی مرد کی تباہی کا پلان بناتی ہیں تو اسی طرح متحد ہوجاتی ہیں۔ مجھے تو کسی گڑبڑ کا احساس ہورہا ہے۔‘‘
’’میں ماما سے یہ اسپیکٹ نہیں کرتا کہ وہ میرے لیے کچھ برا پلان کریں۔‘‘ نوفل نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے انداز میں کہا۔
’’شادی کرنا کوئی تباہی کی بات نہیں ہے یوسف صاحب… ہم نوفل کی منگنی اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ہاہاہا… یعنی آپ شیر کو پنجرے میں قید کرنے کی پلاننگ کررہی ہیں۔‘‘ وہ نوفل کو جھینپتے ہوئے دیکھ کر قہقہہ لگا کر گویا ہوئے۔
’’ابھی تو برخودار کے آزادی کے دن ہیں کیوں اتنی جلدی پابند کرنا چاہ رہی ہو دونوں خواتین مل کر‘ ابھی پنچھی کو آزاد ہی رہنے دیں۔‘‘
’’میں نے سوچا تھا آپ نوفل کو اچھی طرح راضی کریں گے مگر…‘‘
’’میں معذرت چاہتاہوں ماما… میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا‘ میں آپ کی کسی بات سے حکم عدولی کروں گا مگر آپ کی خواہش پوری کرنا میرے بس سے باہر ہے۔ ایم سوری… میری زندگی میں کوئی لڑکی داخل نہیں ہوگی۔‘‘ وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
خ…ء…خ
ایک دلدوز چیخ تھی جو وہاں پھیلتی چلی گئی تھی۔ زید عمرانہ اور مائدہ کو پک کرنے رضوانہ کے گھر جانے کے لیے آرہا تھا کہ سودہ کی چیخ کی آواز سن کر پہلے چونک کر رکا تھا کہ اس کے لیے دل میں بھری نفرت عود کر آئی تھی لیکن پھر دل میں پنپنے والے پُرخلوص و بے لوث جذبے نے زور آوری دکھائی تو وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا لان کے اس حصے کی طرف پہنچ گیا تھا جہاں سودہ کھڑی بڑے خوف زدہ انداز میں چیخیں مار رہی تھی اور قریب ہی اس کے سیاہ رنگ کا سانپ پڑا ہوا تھا۔
وہ پھرتی سے آگے بڑھا اور سانپ کو کچلنے کے لیے پائوں اوپر کیا ہی تھا کہ اسے محسوس ہوا سانپ تو پہلے ہی بے حس و حرکت پڑا ہے ابھی وہ اسے زمین سے اٹھانا ہی چاہ رہا تھا کہ کچھ فاصلے پر درخت کے پیچھے چھپ کر سودہ کے خوف سے لطف اندوز ہوتا ہوا شاہ زیب پھرتی سے آگے بڑھا۔
’’بھائی… یہ میری شرارت تھی‘ میں سودہ کو ڈرانے کے لیے لایا تھا۔‘‘ وہ ربڑ کے سانپ کو جیب میں ڈالتے ہوئے آہستگی سے گویا ہوا۔
’’اسٹوپڈ… سوچ سمجھ کر شرارت کیا کرو‘ تایا اور تائی ہارٹ پیشنٹ ہیں‘ ان کے لیے ایسی چیخ و پکار نقصان دہ ہے۔‘‘ اس کی بے ساختہ نگاہیں لمحے بھر کو سودہ کی طرف اٹھی تھیں‘ جو مارے خوف کے پسینہ پسینہ ہورہی تھی‘ خوف زدہ شاہ زیب بھی ہوگیا تھا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا زید گھر پر نہیں ہے لیکن اس کی بے موقع آمد نے اس کے چھکے چھڑا دیئے تھے۔
بے شک ان کے درمیان سوتیلے رشتے کی ایک کانٹے دار دیوار حائل تھی وہ مدثر صاحب کی دوسری بیوی سے پیدا ہوا تھا اور یہاں ماں کی بے پناہ مخالفت نفرت اور بے انتہا واویلا مچانے کے باوجود تایا اور تائی کی محبتوں کا بھرم رکھنے کے لیے اس نے اس رشتے کو گلے لگایا تھا جو اس کے لیے بھی پسندیدہ نہیں تھا مگر وہ تایا اور تائی کو مایوس نہیں کرسکا تھا۔
’’سوری بھائی… مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ اس آرٹیفیشل سانپ سے اس طرح ڈرے گی حد ہوتی ہے ڈرنے کی بھی۔‘‘ وہ مودب لہجے میں کہہ رہا تھا پھر اس نے کچھ نہیں کہا تھا وہاں سے پورٹیکو کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’آپ کہیں جارہے ہیں؟ آج اتنے دنوں بعد آپ سے ملاقات ہوئی ہے میں سوچ رہا تھا ہم ساتھ میں ڈنر کرتے مزہ آتا۔‘‘ وہ اس سے کے ساتھ ساتھ ہی چل پڑا تھا۔ سودہ بری طرح خوف زدہ ہوگئی تھی اس لیے وہیں بنچ پر بیٹھ گئی تھی۔
’’تم ڈنر کرلینا میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔‘‘
’’آپ کہیں جارہے ہیں کسی کام سے؟‘‘
’’ہوں‘ خالہ کے گھر جارہا ہوں ڈنر پر انوائٹ ہوں وہاں پر۔‘‘ دل نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس کو تحمل سے جواب دیا کرتا تھا۔
’’اوہ اچھا اچھا‘ پھر تو آپ کو ضرور جانا چاہیے۔‘‘
’’جارہا ہوں۔‘‘ وہ کار کے قریب پہنچ کر جیب سے چابیاں نکلتا ہوا بولا۔
’’یہ بتا کر جایئے ہم ساتھ ڈنر کب کریں گے میں آپ کے ساتھ ڈنر کرنا چاہتا ہوں آپ کبھی موقع ہی نہیں دیتے‘ آج تو بتادیجیے۔‘‘ وہ اس کی وجاہت و سنجیدگی سے بے حد متاثر تھا۔
حالانکہ وہ بخوبی جانتا تھا زید اس کو مجبوراً برداشت کرتا ہے کیونکہ زید نے صاف گوئی سے اسے بتادیا تھا کہ وہ مجبوراً اس رشتے کو نبھا رہا ہے لیکن اس کی کوئی مجبوری نہ تھی وہ اس کو دل و جان سے چاہتا تھا۔
’’ابھی میرا شیڈول بہت ٹف ہے گھر میں ڈنر کرنے کا بھی ٹائم کم ہی ملتا ہے میں تم سے پرامس نہیں کرسکتا ڈنر کا۔‘‘
خ…ء…خ
عاکفہ کی مما سے وہ کئی بار ملی تھی اور ہر بار پہلے سے زیادہ ملنسار‘ بامروت ومخلص پایا تھا اور اس کے اندر بھی یہ احساس محرومی جڑ پکڑنے لگا تھا کہ اس کی مما بھی حیات ہوتیں تو وہ ایک مختلف لڑکی ہوتی‘ ایک مکمل لڑکی‘ جیسی عاکفہ تھی۔
’’بالی بتا رہی ہے یونیورسٹی سے آنے کے بعد سے روم میں بند ہوگئی ہو‘ بہت چپ چپ بھی ہو‘ کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘ وہ گھر آئی تو حسب معمول نانو گھر میں نہیں تھیں۔ خالی گھر ملازمین کی موجودگی میں بھی خالی لگ رہا تھا‘ وہ اپنے کمرے میں آکر لیٹ گئی تھی۔ بالی نے ہر ممکن دل جوئی کرنے کی سعی کی مگر وہ چپ چاپ پڑی رہی تھی۔
’’آپ روز روز کہاں چلی جاتی ہیں نانو؟‘‘
’’بہت ملنے جلنے والے ہیں میرے لیکن تم کو کیا ہوا؟‘‘ وہ حیران سی اس کے قریب ہی ٹک گئی تھیں۔
’’آپ روز روز گھر سے نہیں جایا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا آپ کا اس طرح جانا عاکفہ کی مما کو دیکھیں وہ بھی گھر میں رہتی ہیں اور گھر میں اتنی رونق اور خوشیاں ہوتی ہیں کہ عجیب سا سکون ملتا ہے۔‘‘ وہ خاصی جذباتی ہورہی تھی‘ نانو نے قریب کھڑی بالی کو دیکھا جو پریشانی سے انشراح کی طرف دیکھ رہی تھی پھر اس سے مخاطب ہوئیں۔
’’عاکفہ کی مما سے میرا بھلا کیا مقابلہ اور مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے تم یہ کیسی باتیں کررہی ہو وہ ایک محدود ماحول میں رہنے والی پردے دار عورت ہے وہ تمہیں کیوں بھانے لگی؟‘‘ وہ متعجب ہوئیں۔
’’میں کہتی ہوں‘ ضرور کوئی بات ہوئی ہے چہرہ دیکھو بے بی کا کس قدر اترا اترا پھیکا لگ رہا ہے‘ کیا ہوا ہے بتائو نہ؟‘‘ بالی اس کے چہرے سے کوئی بھید پاگئی تھی شاید اسے اس کے چہرے پر ہلکی سی رہ جانے والی سوجن اور درد کا احساس ہورہا تھا جبکہ نانو بے پروائی سے کہہ رہی تھیں بالی کو ڈانٹتے ہوئے بولیں۔
’’تم تو خوامخواہ کی باتیں کرتی ہو بالی… کچھ نہیں ہوا انشی کو مجھے یہ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہے سونے دو۔ تھوڑی نیند لے لے گی تو فریش ہوجائے گی۔‘‘ وہ اسے آرام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’نانو… یہیں بیٹھ جائیں میرے پاس کہاں جارہی ہیں۔‘‘
’’ارے کیا ہوگیا ہے تمہیں انشی… میں نے تمہاری تربیت بزدلوں جیسی نہیں کی۔ لڑکی ہونے کے باوجود بھی تمہیں لڑکوں کی طرح ٹرینڈ کیا ہے اور تم شروع سے ہی میری توقع سے بڑھ کر ثابت ہوئی ہو پھر اب کیوں بزدل کمزور لڑکیوں کی مانند ری ایکٹ کررہی ہو۔‘‘ نانو کو وہ ایک عام سی کمزور و ڈرپوک لڑکی لگ رہی تھی اور اس کا یہ روپ ان کو ایک آنکھ نہیں بھارہا تھا۔
’’نانو… آپ نے لڑکی ہوتے ہوئے بھی مجھے لڑکا بنانے کی جستجو میں نامعلوم کیا بنا رکھا ہے کہ میں لوگوں کے لیے ناپسندیدہ ہستی بن گئی ہوں۔‘‘ اس کی سماعتوں میں نوفل کے طنزیہ جملے گونج رہے تھے ان جملوں کی تلخی اسے اس وقت تو اتنی محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی اب محسوس ہورہی تھی نہ جانے کس طرح سے اس کی نسوانی انا جاگ گئی تھی۔
’’کون لوگ تمہیں ناپسند کرتے ہیں ذرا ایک دفعہ میرے منہ پر بول کر دیکھیں کیا حال کرتی ہو‘ کون کم بخت لوگ ہیں وہ؟‘‘
’’کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس نے انکھوں پر بازو رکھتے ہوئے کہا۔
’’چل بالی… میرے سر میں آئلی مساج کر‘ اس لڑکی نے آج دماغ چکرا کر رکھ دیا ہے نامعلوم کیا ہوا ہے اسے؟‘‘
خ…ء…خ
’’آج تو سچ مچ چاند میرے گھر اتر آیا ہے‘ دیکھو ذرا کس قدر روشن و مکمل گھر لگ رہا ہے میرے زید کے آجانے سے۔‘‘ پُرتکلف کھانے کے بعد لائونج میں گرین ٹی پیتے ہوئے رضوانہ عمرانہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے زید کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئی تھیں۔
’’زید بھی آپ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے آپی۔‘‘
’’لگتا تو نہیں ہے جب سے آئے ہیں‘ خاموش بیٹھے ہیں محسوس ہورہا ہے گویا چپ کا روزہ رکھ کر آئے ہیں۔ جو یہاں کھلنے والا نہیں ہے۔‘‘ عفرا نے اس کی کم گوئی پر بے تکلفی سے تنقید کی تھی۔
’’یہ چپ کا روزہ کیسا ہوتا ہے میں تو فرسٹ ٹائم نام سن رہا ہوں۔‘‘ زید کے بے ساختہ کہنے پر وہاں سب ہی ہنس پڑے تھے۔
’’تھینکس گاڈ… آپ نے بھی بتادیا کہ منہ میں زبان رکھتے ہیں وگرنہ آپ کی طویل خاموشی سے فیل ہورہا تھا‘ ہم سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔‘‘ عفرا اس کی آمد کا سن کر خوب دل لگا کر تیار ہوئی تھی۔ پٹیالہ شلوار پر شوخ رنگوں سے چمکتی شارٹ شرٹ زیب تن کی تھی کئی گھنٹے صرف آئی میک اپ پر صرف کیے تھے جیولری اور ہئیر اسٹائل نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی زید اسے دیکھے گا اور نگاہیں نہ جھکا پائے گا مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا ثابت ہوا تھا‘ وہ ٹکٹکی باندھ کر کیا دیکھتا اس نے نگاہیں اٹھانا ہی گوارا نہ کیا تھا اور اب بھی جواب اس نے رضوانہ کی طرف دیکھتے ہوئے دیا تھا‘ عفرا کے لیے اس کی یہ بے نیازی سراسر توہین کے زمرے میں آتی تھی۔
’’ارے نہیں عفرا ڈئیر… آپ مائنڈ نہ کرنا زید کی کم بات کرنے کی عادت ہے لیکن ہر بات اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں۔‘‘ عمرانہ نے مسکرا کر کہا۔
’’اوہ رئیلی…! مجھے لگ رہا ہے ان کو زبردستی یہاں لایا گیا ہے۔ ایک بار بھی انہوں نے مسکرا کر بات نہیں کی ہے کیا آپ کو مسکرانا نہیں آتا؟‘‘
’’عفرا اپیا… آپ مسلسل بھائی کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں خیریت تو ہے نا؟‘‘ مائدہ کو اس کو خوامخواہ زید کو مخاطب کرنا ناگوار لگ رہا تھا۔
’’جب ہم دبئی میں تھے وہاں ممی بہت قصے سناتی تھیں زید کے بارے میں کہ زید بہت شرارتی و ہنس مکھ ہیں مگر…‘‘
’’زید کی شرارتوں کے قصے سناتی تھی بچپن میں یہ بے حد شوق و چنچل تھے۔ وہ تو بیڑا غرق ہو مدثر کی آوارگیوں کا جس نے عمرانہ کے ساتھ ساتھ ان دونوں بچوں کی زندگی سے بھی شوخیاں و شرارتیں چھین لیں۔‘‘ رضوانہ نے سرد آہیں بھرتے ہوئے کہا۔
’’مدثر انکل رہتے بھی اپنی سیکنڈ وائف اور بیٹے کے پاس ہی ہیں۔‘‘ عروہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
زید نے گرین ٹی کا مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے عمرانہ کی طرف دیکھا تھا جہاں وہ ہی مخصوص بے چینی پھیل گئی تھی۔
’’ارے کیا ہوا بیٹا… گرین ٹی پسند نہیں آئی ہے؟‘‘ رضوانہ بھرا مگ دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’ٹائم زیادہ ہوگیا ہے مما کو ریسٹ کرنا ہے اور مجھے بھی آفس ورک دیکھنا ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں ایسی قطعیت تھی کہ وہ چاہنے کے باوجود ان کو روک نہیں سکیں اور گیٹ تک ان کو الوداع کہنے آئی تھیں۔
’’بہت اکڑو ہے آپ کا بھانجا اور اتنا ہی ہینڈسم بھی۔‘‘ ان کی کار گیٹ سے نکل جانے کے بعد عفرا ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔
’’تم کیا کرو گی اب… زید نے تمہیں گھاس ہی نہیں ڈالی؟‘‘ عروہ نے کہا۔
’’گھاس میں کھاتی بھی نہیں ہوں تمہاری طرح‘ خیر وقت گزرنے کے ساتھ وہ میرے پیچھے پیچھے گھومے گا۔‘‘
’’ہائے خوش فہمی دیکھئے ذرا‘ جس شخص نے پہلی ملاقات میں ہی نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا‘ وہ ان کے پیچھے پیچھے گھومے گا۔‘‘ عروہ نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے استہزائیہ قہقہہ لگایا۔
’’ممی… دیکھ رہی ہیں آپ کس قدر جیلس ہوتی ہے یہ مجھ سے‘ اس کو سمجھا دیں باز آجائے اپنی حرکتوں سے ورنہ دماغ ٹھکانے لگانے آتا ہے مجھے۔‘‘
’’دیکھتی ہوں کس طرح دماغ ٹھکانے لگاتی ہو میرا‘ میں نے سچ کہا ہے۔‘‘
’’خاموش رہو‘ شرم نہیں آتی ہے یہاں آکر بھی دونوں چونچیں لڑانے سے باز نہیں آتی‘ حد ہوگئی ہے اگر اسی طرح سے لڑتی رہو گی تو کسی ایک کا بھی رشتہ نہیں ہوپائے گا۔‘‘ رضوانہ نے دونوں کو تنبیہی کی تھی۔ عمرانہ نے کار ڈرائیو کرتے زید کے چہرے پر ناگواری شدت سے محسوس کی۔
خ…ء…خ
’’گرین ٹی کا تم نے ایک گھونٹ بھی نہیں لیا ایسے ہی چھوڑ آئے جہاں مدثر کی بات ہوتی ہے وہاں آپ کا موڈ بہت خراب ہوجاتا ہے۔ ابھی بھی یہی ہوا… آپی کی محبت سے بنوائی گئی گرین ٹی غصے میں چھوڑ کر آگئے ہو مجھے پسند نہیں آیا آپ کا ایٹی ٹیوڈ۔‘‘
’’ان کو ڈیڈی کے لیے اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ وہ اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے خشک لہجے میں گویا ہوا۔
’’یہ کیسا دوغلا پن ہے زید… کھلی منافقت ہے خود تو باپ کے خلاف رہتے ہو اگر کوئی دوسرا تمہارے باپ کو آئینہ دکھانے لگے تو تم سے برداشت نہیں ہوتا‘ پھر تم اوور ری ایکٹ کرتے ہو۔‘‘
’’رائٹ مما… میرے اور ڈیڈی کے درمیان کچھ ایشوز ایسے ہیں جن پر ہماری مخالفت چلتی ہے اور اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں ان کی عزت نہیں کرتا یا ان کو باپ کا درجہ نہیں دیتا۔ میرے ڈیڈ تھے اور رہیں گے اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ان کی بے عزتی کرے گا میرے سامنے اور میں برداشت کرلوں گا۔‘‘
’’اوہ… یہ تم کہہ رہے ہو زید؟‘‘ وہ شاکڈ ہوئیں۔
’’میں مانتا ہوں مما… ڈیڈی سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں‘ زیادتیاں ہوئی ہیں جن کا تاوان ان کے ساتھ ہم بھی بھر رہے ہیں لیکن میں یہ کبھی بھی نہیں چاہوں گا ان کو میرے سامنے ڈی گریڈ کیا جائے۔‘‘ اس نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
خ…ء…خ
زرقا بیگم نے محسوس کیا تھا جب سے انہوں نے اس کی منگنی کرنے کی آرزو ظاہر کی تھی تب سے نوفل بہت الجھا الجھا تنہا رہنے لگا تھا۔ کچھ دن وہ برداشت کرتی رہی تھیں لیکن پھر ان کی ممتا بے قرار ہونے لگی‘ اس دوری نے زندگی میں بڑا خلاء پیدا کردیا تھا وہ سوچ رہی تھیں اس سے دور رہ کر اسے اپنی بات منوانے پر مجبور کردیں گی لیکن ان کی ممتا ان کی خواہش سے ہار گئی تھی۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس جانے کا قصد کررہی تھیں کہ وہ دروازہ ناک کرکے سلام کرتا ہوا ان کے روم میں داخل ہوا۔
’’وعلیکم السلام نوفل… میرے بچے۔‘‘ انہوں نے اسے بڑھ کر سینے سے لگایا اور بے ساختہ رونے لگیں۔
’’میں نے ایک خواہش کیا کی کہ آپ مجھ سے بہت دور ہوگئے۔‘‘
’’سوچ لیجیے ابھی بھی آپ‘ ایک لڑکی کی خواہش نے ہمارے درمیان اتنے فاصلے ڈال دیئے ہیں پھر اس کی آمد ہمیں جدا ہی کردے گی۔‘‘ وہ محبت سے ان کے آنسو صاف کرتا ہوا سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’ایسا نہیں ہوتا میری جان… ایسا نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر وہیں بیٹھتے ہوئے محبت سے گویا ہوئیں۔
’’میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ماما… میں آپ سے خفا تھا اور سوچا تھا آپ سے برائے نام ہی تعلق رکھوں گا۔ آپ کو میری پروا نہیں تو میں بھی کیوں پروا کروں؟ لیکن…‘‘ اس کی ڈارک برائون چمکیلی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تیرنے لگی تھی۔
’’مجھے ادراک ہوا‘ آپ سب کو چھوڑ سکتے ہو کسی سے بھی خفا رہ سکتے ہو مگر ماں کو نہیں چھوڑ سکتے‘ ماں سے خفا نہیں رہ سکتے۔‘‘
’’ماں سے دور رہنا موت ہے صرف موت۔‘‘ وہ عقیدت بھرے انداز میں ان کے ہاتھ چومتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ’’ساری دنیا ایک طرف اور میری ماں ایک طرف‘ میری ماں صرف میرے لیے۔‘‘
’’خوش رہو بیٹا… میری دعا ہے اللہ تمہارا دل بدل دے‘ تمہارے ساتھ بہت اعلیٰ و بہترین معاملات ہوں۔ ساری زندگی خوشیاں و کامرانیاں سمیٹو‘ کوئی دکھ کوئی رنج و بلا چھو کر بھی نہ گزرے‘ آمین۔‘‘ وہ اس کی پیشانی چومتی ہوئی نہال ہوکر گویا ہوئیں۔
’’ماما… پرامس کریں آپ پھر کبھی مجھے شادی کے لیے فورس نہیں کریں گی‘ آپ کی یہ خواہش ہمارے لیے جدائی کی دیوار ہے۔‘‘
’’چلیں ٹھیک ہے میں آپ کو شادی کے لیے فورس نہیں کروں گی مگر یہ دعا ضرور کروں گی کہ کوئی ایسا معجزہ ہوجائے کہ آپ کو کسی لڑکی سے اتنی شدید محبت ہوجائے اور آپ…‘‘
’’نہیں نہیں ماما… یہ ناممکن ہے۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرایا۔
’’اوکے میرے بچے… اب دیکھتے ہیں آپ کی ضد میں زیادہ طاقت ہے یا میری دعائیں بے اثر رہیں گی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے جتانے والے انداز میں گویا ہوئیں وہ سر ہلا کر رہ گیا۔
’’میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں‘ آپ لاریب کے سہرے کے پھول کھلانے کی سعی کیجیے اس طرح وہ ایک بہترین لائف گزار سکتے ہیں اور ساتھ ہی آپ کی بہو گھر لانے کی خواہش بھی تشنہ نہیں رہے گی۔‘‘
’’کہہ تو ٹھیک رہے ہیں آپ اگر میرے اختیار میں فیصلے کرنے ہوتے تو میں یہ کام کب کا کرچکی تھی‘ یہاں اجارہ داری سامعہ کی ہے انہیں لاریب کی سرگرمیوں سے واقف ہونے کے باوجود بھی اس کو کوئی فکر نہیں… وہ اسے دودھ پیتا بچہ ہی خیال کرتی ہے حالانکہ وہ نہ پڑھائی میں انٹرسٹ لیتا ہے نہ بزنس میں۔ وہ کسی نے کہا ہے خالی ذہن و دماغ شیطان کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔‘‘
’’میں ٹرائی کروں گا کہ سامعہ آنٹی کو قائل کرسکوں۔‘‘
’’ایسی کوشش بھی کرنا فضول ہے‘ سامعہ کسی کی ماننے والی نہیں۔‘‘
’’اوکے‘ آپ فری ہیں۔‘‘
’’جی‘ کوئی کام ہے آپ کو؟‘‘
’’آج لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں‘ بہت دن ہوگئے ہیں گئے ہوئے۔‘‘
’’میں… میں کیا کروں گی بیٹا… لانگ ڈرائیو پر جاکر اب تو گھر بیٹھے بیٹھے ہی تھکنے لگی ہوں۔‘‘ وہ کمزور لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’آر یو رائٹ ماما… کیوں تھکنے لگی ہیں آپ؟‘‘ اس کے انداز میں بے چینی تھی۔
’’بڑھاپا ہے میرا اور بڑھاپے میں بنا کام کے ہی تھکن ہونے لگتی ہے اس میں کوئی پریشان ہونے والی بات نہیں۔‘‘
’’آپ میری مما ہیں اور میری مما کبھی ہمت نہیں ہار سکتیں۔‘‘
خ…ء…خ
وہ شاہ زیب سے بری طرح ناراض ہوگئی تھی۔ وہ اکثر اس کو کبھی ربڑ سے بنی چھپکلی‘ کاکروچ سے اسی طرح ڈرایا کرتا تھا اور آج اس نے حد ہی کردی تھی وہ اس کی آمد سے بے خبر پودوں کو صاف کرنے میں مگن تھی اور وہ اس کی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر سانپ اس کی طرف اچھال کر چھپ گیا تھا وہ سیاہ رنگ کا سانپ اصلی ہی محسوس ہوا تھا پھر کیا تھا مارے خوف کے اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تھیں۔ اندر گھر سے کوئی نہیں آیا تھا اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ زید وہاں آیا تھا اور اس نے آتے ہی جوتے سے سانپ کو کچلنا چاہا تھا کہ سانپ کو بے حس و حرکت دیکھ کر وہ سمجھ گیا وہ نقلی ہے قبل اس کے کہ سانپ کو ٹھوکر مارتا شاہ زیب نے سامنے آکر خود ہی اپنا جرم قبول کرلیا تھا۔
زید کے جانے کے بعد وہ سودہ کے پاس آیا… حسب عادت معافی مانگتا ہوا اور وہ ہر بار بہت آسانی سے اس کو معاف کردیا کرتی تھی لیکن اس بار جو خفت زید کے سامنے اسے اٹھانی پڑی تھی وہ سوچ سوچ کر شرمندہ ہورہی تھی اور یہی بات جب اس نے شاہ زیب کو بتائی تو وہ ہنستے ہوئے بولا۔
’’تم بھی سوچتی سمجھتی نہیں ہو کہ سانپ کہاں سے آئے گا اور چیخنا شروع کردیا… رئیلی بڑے مزے کا سین تھا مگر بھائی نے آکر سارا پروگرام خراب کردیا۔‘‘
’’میں سمجھی پودوں میں سے نکلا ہے اور میری جان نکلتے نکلتے رہ گئی۔‘‘
’’میرے ہوتے ہوئے تمہاری جان کیسے نکل سکتی ہے۔‘‘
’’بس… بس… تم تو جیسے بڑے خیر خواہ ہو میرے زید بھائی کے سامنے تماشہ بنوادیا میرا‘ میری تو ویسے ہی ان سے جان جاتی ہے۔‘‘
’’یہ بات بالکل درست کہہ رہی ہو یار… بھائی سے بات کرتے ہوئے میرا بھی یہی حال ہوتا ہے حالانکہ انہوں نے کبھی مجھ پر غصہ نہیں کیا نہ کبھی ڈانٹا‘ اس کے باوجود ان کی سنجیدگی کا رعب ہوتا ہے کہ میرا دل ان سے بات کرتے ہوئے تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔‘‘
’’ہوں ڈرپوک انسان… تمہارے لیے ایسے ہی انسان ٹھیک ہیں جن سے بات کرتے ہوئے بھی دس بار سوچنا پڑے وگرنہ مجھ جیسے کو تم ڈرا ڈرا کر ہی مار دوگے۔‘‘ اس لمحے صوفیہ وہاں آکر بیٹھ گئی تھیں شاہ زیب نے ہنستے ہوئے سارا واقعہ ان کو سنایا تو خاصی حیرانی سے کہنے لگیں۔
’’یہ تو بالکل انہونی ہوگئی ہے کہ زید سودہ کی چیخ سن کر آگیا۔‘‘
’’ارے پھوپو جان… آپ اتنی حیران کیوں ہورہی ہیں بھائی ہر ایک کی مدد کرنے والے نرم مزاج طبیعت کے مالک ہیں‘ سب کا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
’’تمہیں نہیں معلوم بیٹاؔ… وہ سب کے لیے خدا ترس اور حاتم طائی ہے اگر پتھر ہے تو صرف ہم ماں بیٹی کے لیے۔ ہم مر بھی رہے ہوں گے تو وہ مڑکر بھی نہیں دیکھے گا ہمیں‘ اتنی شدید نفرت کرتا ہے ہم سے۔‘‘ ان کے لہجے میں دکھ کی گہری کاٹ تھی۔ ’’نامعلوم کس دھیان میں وہ سودہ کی چیخ پر وہاں آگیا ہوگا۔‘‘
’’چھوڑیں امی… آپ کیوں اتنا سوچتی ہیں اور سب لوگ ہم سے بہت اچھی طرح پیش آتے ہیں‘ ہمارا خیال رکھتے ہیں‘ محبت کرتے ہیں یہ سب بہت ہے ہمارے لیے۔‘‘ سودہ نے مسکرا کر کہتے ہوئے ماحول کی افسردگی دور کرنی چاہی۔
’’پھولوں کے ڈھیر میں ایک کانٹا بھی چبھ رہا ہو تو ناقابل برداشت ہوتا ہے‘ یہی حال رشتوں میں بھی ہوتا ہے۔ ڈھیروں محبتوں میں چند نفرتیں بے کل و بے چین رکھتی ہیں۔‘‘ وہ گرم مزاج اور نرم دل کی مالک تھیں۔
’’آپ فکر مت کریں پھوپو… وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ شاہ زیب نے انہیں تسلی دینے کی سعی کی۔
’’وقت تو سب گزر گیا‘ اب صرف آخری وقت ہی رہ گیا ہے یہ بھی گزر جائے گا۔‘‘
’’امی…! ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں۔‘‘ سودہ گلوگیر ہوئی۔
’’پھوپو جانی… ابھی تو آپ کی عمر ہی کیا ہے پھر آپ کو ہمارے بچے بھی پالنے ہیں‘ اتنی آسانی سے جان چھڑانے تھوڑی دیں گے بہت جینا ہے آپ کو۔‘‘ وہ اٹھ کر ان سے لپٹتے ہوئے بولا… انہوں نے بھی محبت سے اس کی پیشانی چومی‘ وہ اس سے بے حد محبت کرتی تھیں۔
’’جگ جگ جیو شاہ زیب… تم نے زید کے بدلے کی بھی عزت و محبت دی ہے۔‘‘
’’شکریہ پھوپو جان… چلیں آج ڈنر کہیں باہر ہی کرتے ہیں۔‘‘
’’ابھی منور بھائی کی کال آئی ہے میں اور بھابی ان کے ساتھ کسی پارٹی میں جائیں گے‘ میں نہیں جاسکتی پھر کبھی چلیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں سودہ کو لے جاتا ہوں۔‘‘ سودہ نے انکار کردیا۔
’’چلی جائو بیٹی… شاہ زیب کئی بار کہہ چکا ہے اچھا ہے آئوٹنگ ہوجائے گی۔‘‘
خ…ء…خ
یونیورسٹی میں ہنگامہ دو گروپوں کے درمیان نامعلوم کس بات پر شروع ہوا تھا جو بڑھتا ہی چلا گیا اور اس دوران فائرنگ سے ایک جماعت کا طالب علم جاں بحق ہوا تو پھر شدید افراتفری ہر سو پھیل گئی تھی۔ بابر نوفل سے کھڑا کچھ ڈسکس کررہا تھا شاید وہ حالات کی نزاکت کو بھانپ گئے تھے۔ بابر ان کی طرف آیا اور یونیورسٹی سے فوراً نکل جانے کو کہا اور وہ اسی ٹائم وہاں سے نکل گئے تھے۔
گھر جاکر نیوز چینلز کے ذریعے معلوم ہوا یونیورسٹی غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوچکی ہے۔ اس دوران اس کا آنا جانا عاکفہ کی مما کے پاس کچھ زیادہ ہی رہا تھا‘ وہاں کا ماحول بہت سادہ تھا عاکفہ کی ممی اور پپا بہت پُرخلوص و بامروت لوگ تھے ایک بار مل کر بار بار ملنے کو دل چاہتا تھا۔ جب سے انہیں معلوم ہوا تھا انشراح کے والدین حیات نہیں ہیں تب سے وہ ان لوگوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی تھی اور ان کی بے لوث محبتوں میں بھیگنے کے بعد اسے معلوم ہوا وہ کب سے ان محبتوں کے لیے تشنہ لب تھی دل کسی شیر خوار بچے کی مانند ہمک ہمک کر یہیں آنے کو کرتا تھا۔
’’نانی جان… میں عاکفہ کی طرف جارہی ہوں رات تک آئوں گی۔‘‘ وہ بیگ اٹھا کر ان کے پاس سے جاتے ہوئے کہنے لگی۔
’’اب تم عاکفہ کی طرف نہیں جائو گی۔‘‘ وہ سرد لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’میں عاکفہ کے گھر کیوں نہیں جائوں گی؟‘‘ وہ تعجب سے گویا ہوئی۔
’’وہ لوگ ہمارے اسٹینڈر کے نہیں۔‘‘
’’کیا مطلب نانی… وہ لوگ ہمارے اسٹینڈر کے نہیں‘ اسرار انکل ملٹی نیشنل کمپنی کے ہیڈ ہیں اور گائوں میں ان کی زمینیں ہیں۔‘‘
’’میں فنانشلی بات نہیں کررہی‘ ان کے گھر کا ماحول بہت دقیانوسی ہے اس کے باپ کی گز بھر لمبی داڑھی ہے اور اس کی ماں دوپٹے کے نام پر پورا تھان لپٹتی ہے اور اتنی عجیب عورت ہے کہ آج تک اس نے پارلر کی شکل ہی نہیں دیکھی‘ نہ عاکفہ کو پارلر بھیجتی ہے اور تو اور گھر میں ٹی وی تک نہیں ہے۔‘‘ وہ اپنے نظریے کہ مطابق ایک کے بعد ایک خامیاں گنواتی چلی گئی تھیں‘ بالی بھی ان کے قریب گردن جھکائے بیٹھی تھی۔
’’نانی… یہ بلاوجہ کی مداخلت ہے کوئی اپنے گھر میں ٹی وی نہیں رکھتا تو وہ ناپسندیدہ کیسے ہوسکتا ہے؟ عاکفہ‘ اسرار انکل‘ عروسہ آنٹی جس طرح سے بھی لائف چاہیں گزاریں۔ ان پر اعتراض کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟‘‘
’’تمہیں مجھ سے بحث کرنے کی قطعی ضرورت نہیں… میں ان پر کوئی پابندی نہیں لگارہی‘ میں تمہیں پابند کررہی ہوں ان کو نہیں۔‘‘ وہ غصے سے کہتی ہوئیں پائوں اوپر کرکے آرام سے بیٹھ گئیں۔
’’بے بی… ماسی کو تمہارا ان لوگوں سے ملنا بالکل بھی پسند نہیں آرہا‘ ابھی ہم وہاں سے ہی آرہے ہیں۔ ماسی نے عروسہ آنٹی کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ تم اب ان کے گھر نہیں جائو گی‘ وہ لوگ شدت پسند ہیں۔‘‘
’’کیا… کیا کہہ رہے ہو بالی بھائی…! تم عاکفہ کے گھر گئے تھے۔‘‘ بالی نے گویا اس کے سر پر بم دے مارا تھا وہ ہکابکا رہ گئی۔
’’ہاں… میں ساتھ لے کر گئی تھی بالی کو اور کھری کھری سنا کر آئی ہوں کہ میری معصوم بچی کو آئندہ گھر بلانے یا ورغلانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ بالی کی جگہ وہ سخت لہجے میں گویا ہوئیں۔
’’یہ کیا‘ کیا آپ نے نانی جان؟‘‘ وہ دکھ و صدمے سے چکرا کر رہ گئی۔
خ…ء…خ
صوفیہ کو قلق تھا کہ وہ تو اکثر وبیشتر کہیں نہ کہیں کسی رشتے دار کے گھر یا محلے میں اور منور کے ساتھ زمرد کے سنگ پارٹیز اٹینڈ کرتی رہتی تھیں۔ مائدہ عمرانہ اور زید کے ساتھ اکثر باہر جایا کرتی تھی اور جب سے اس کی خالہ دبئی سے یہاں شفٹ ہوئی تھیں وہ دونوں ماں بیٹی ہر دوسرے دن وہاں پہنچی ہوتی تھیں یا اس کی خالہ اور کزنز یہاں آجاتی تھیں۔ وہ لوگ عمرانہ جیسا رویہ رکھتے تھے صوفیہ اور سودہ ناپسند تھیں ان کو پھر عمرانہ کے خوف سے مائدہ بھی سودہ سے دور ہی ہوجاتی تھی اور جو بظاہر بیٹی سے لیا دیا انداز رکھتی تھیں۔ دل ہی دل میں بیٹی کی بڑھتی تنہائی پر وہ رنجیدہ ہونے لگی تھیں‘ ایسے میں شاہ زیب کی آفر ان کو بہت بھائی تھی پھر سودہ کے منع کرنے کے باوجود انہوں نے اسے شاہ زیب کے ہمراہ بھیجا تھا۔
شاہ زیب پہلے اسے چنکی منکی لے گیا تھا۔ ایک کے بعد ایک جھولے میں اسے لے کر بیٹھتا… اس کے انکار کو اس نے ذرا اہمیت نہیں دی۔ ایک اسٹال سے بھیل پوری بھی کھائی‘ میٹھے پان وہ شوق سے کھاتی تھی‘ شاہ زیب نے خاصی تعداد میں لے لیے تھے۔
’’شاہ زیب… اتنے پان کون کھائے گا؟ گھر میں کوئی اور نہیں کھاتا‘ میں کس کو دوں گی اتنے پان؟‘‘ وہ شاپر پکڑتی بولی۔
’’تم کھانا اور مائدہ کو بھی دینا وہ بھی شوق سے کھاتی ہے پان۔‘‘
’’مائدہ کو دوں پان؟ وہ تمہارے دیئے ہوئے پان کھالے گی؟‘‘ اس نے آہستگی سے کہتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔
’’تم اس کو بتانا ہی نہیں یہ پان میں نے دیئے ہیں ویری سمپل۔‘‘ اس کے لہجے میں وہ ہی محبت تھی جو زید کے لہجے میں مائدہ کے لیے مخصوص تھی۔
’’یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو۔‘‘
’’کیا مقصد ہوا اس بات کا؟‘‘ وہ وہاں سے نکل رہے تھے۔
’’یہی کہ وہ جانتی ہے میری پرواز کہاں تک ہے ایسی چیزیں مجھے کون دلاسکتا ہے اور وہ تمہاری دلائی ہوئی چیزیں کبھی بھی نہیں لے گی۔‘‘
’’ہاں‘ یہ سوتیلے رشتوں کا زہر بہت بدصورت و خطرناک ہوتا ہے اس میں کی جانے والی بے لوث محبت بھی پل پل تڑپتی رہتی ہے نامعلوم کب تک یہ سوتیلے پن کا ناگ ڈستا ہی رہے گا۔‘‘ اس کے مسکراتے چہرے پر ایک دم سے افسردگی چھاگئی تھی‘ ملال کا رنگ سودہ کے چہرے پر بھی پھیل سا گیا تھا۔ وہ جانتی تھی مائدہ بری لڑکی نہیں… مگر عمرانہ کی نفرت اور خفگی کے خوف نے ایک خول میں مقید کردیا تھا۔ شاہ زیب نے کئی مرتبہ پیش قدمی کرتے ہوئے اس سے بھی ایسی ہی بے تکلفی پیدا کرنا چاہی تھی جیسے سودہ کے ساتھ تھی لیکن اس نے ہر بار اسے دھتکار دیا تھا اور صاف کہہ دیا تھا وہ اس کا بھائی کبھی نہیں بن سکتا۔
موسم سرد تھا اور ہوائوں میں نمی تھی۔ ڈنر کے لیے ان کی کار آگے بڑھتی جارہی تھی‘ رات کے گیارہ کا عمل تھا باہر سڑک کے دائیں طرف سمندر اور سمندر سے فاصلے پر بنے ہٹس‘ ہوٹلز اور ریسٹورنٹ نظر آرہے تھے۔ بائیں طرف اکا دُکا ہی کوئی گھر دکھائی دیتا تھا وگرنہ میدان تھے جو اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے اور لگ رہا تھا گویا آدھی رات کا پہر ہو سناٹا و ویرانی پھیلی ہوئی تھی۔
’’کتنا تضاد ہے ماحول میں کچھ دیر روشنیوںکی بہتات میں دن کا سماں تھا اور اب لگ رہا ہے اندھیرا ہی اندھیرا ہر سمت پھیلا ہوا ہے۔‘‘
’’ابھی آگے بھی دیکھنا روشنی اور اندھیرے کا ساتھ کس طرح چلتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح تمہارا اور میرا ساتھ ہے‘ چاند اور رات کی مانند۔‘‘ اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے شوخی سے کہا۔
’’فالتو بات نہیں کیا کرو چاند اور رات تم مجھے چاند جیسے لگتے ہو۔‘‘
’’اوہ رئیلی… تم مجھے اتنا لائک کرتی ہو؟‘‘
’’بس‘ ہر بہن کی محبت اپنے بھائی کے لیے ایسی ہی ہوتی ہے۔‘‘
’’ارے… رے… لاحول ولا قوۃ کیا بول رہی ہو بھائی؟‘‘ اس نے شاکڈ انداز میں کہتے ہوئے کار روک دی۔
’’کان‘ منہ‘ ناک اور آنکھیں کھول کر سن لو میں تمہارا کوئی بھائی وائی نہیں ہوں۔ مائدہ میری بہن ہے وہ مانے نہ مانے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا… میں مانتا ہوں وہ میری بہن ہے‘ تم میری بہن نہیں ہو۔‘‘
’’کار اسٹارٹ کرو کیا ہوگیا ہے تم کو فضول باتیں کررہے ہو۔‘‘ سودہ نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا۔
’’پہلے وعدہ کرو آئندہ مجھے بھائی نہیں کہوگی بہت چیپ لگتا ہے تمہارے منہ سے نکلتا ہوا یہ ورڈ‘ بھائی۔‘‘ وہ بضد ہوا۔
’’پلیز شاہ زیب… یہ مذاق کا وقت نہیں ہے باہر دیکھو کس قدر اندھیرا‘ ویرانی ہے مجھے قسم سے بے حد ڈر لگ رہا ہے میں کہتی ہوں واپس چلتے ہیں۔‘‘ وہ گھر سے بہت کم ہی نکلتی تھی‘ گھر سے کالج اور کالج سے گھر دن کی روشنی میں یہ معاملات نپٹ جاتے تھے۔ پہلی بار وہ امی اور اس کے بے حد اصرار پر رات میں گھر سے نکلی تھی اور لے کر بھی وہ اسے دو دریا پر آیا تھا جہاں اسٹریٹ لائٹس کی روشنیاں ماحول کی تاریکیوں کو ختم کرنے کے لیے ناکافی تھیں۔
’’تم میرے ساتھ ہو پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ اس نے کار اسٹارٹ کی۔ اس کے چہرے پر خوف دیکھ کر شاہ زیب کو ترس آگیا تھا۔
’’مجھے پتا ہوتا اگر یہاں ایسا راستہ ہے تو میں کبھی بھی نہیں آتی۔‘‘
’’مائی گاڈ… تم کراچی میں رہتی ہو یار… کراچی والی بنو یہاں رات اور دن کی کوئی قید نہیں… پھر یہاں کچھ جگہوں کا حسن ہی رات کو دکھائی دیتا ہے۔‘‘ وہ اسے سمجھاتا ہوا کار ڈرائیو کررہا تھا کار آگے بڑھتی جارہی تھی اور دور فاصلے پر روشنیاں چمکتی دکھائی دے رہی تھیں۔
خ…ء…خ
’’تمہاری ماں میرے حوالے تم کو کرکے گئی تھی‘ میں نے ماں بن کر ہی پالا ہے تمہیں اب تم مجھ کو بتارہی ہو وہ تم کو ماں جیسی لگتی ہے۔ تمہاری یہ محبت مجھے سمجھ نہیں آئی… میری محبت میں کہاں کمی رہ گئی ہے جو تم دوسروں میں محسوس کررہی ہو۔‘‘ پہلی بار نانی نے اسے روتے ہوئے دیکھا تھا‘ ان کے ساتھ بالی بھی ہک دک رہ گئی تھی۔ وہ ایسی گداز دل کی نامعلوم کب سے ہوگئی تھی وگرنہ تو وہ ایک آنسو بہانے والی نہ تھی‘ اس کی یہ تبدیلی بڑی عجیب تھی۔
’’میں نے آپ سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی نانی… لیکن آپ نے میرا مان توڑ دیا‘ آپ نے انکل اور آنٹی کی بے عزتی نہیں کی‘ مجھے میری نظروں سے گرا دیا ہے‘ شرمندہ کردیا ہے‘ ان کی محبتیں آپ کا کیا بگاڑ رہی تھیں۔‘‘ رو رو کر اس کی آنکھیں سوجھ گئی تھیں۔
’’میں نہیں چاہتی تم ان سے ملو اور ان کی طرح شدت پسند بنو‘ ہمارے معاشرے میں جو آج کل افراتفری بے چینی پھیلی ہوئی ہے‘ وہ سب ان جیسے شدت پسندوں کی وجہ سے ہے۔‘‘
’’میں نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی‘ آپ کسی غلط فہمی کا شکار ہورہی ہیں۔ وہ شدت پسند نہیں‘ امن پسند لوگ ہیں‘ ان کے گھر ٹی وی نہیں ہے تو کیا سکون ہے‘ محبت ہے‘ وہ لوگ آپس میں جڑے رہتے ہیں ایک دوسرے سے۔‘‘ اس کے لہجے میں ان کے لیے احترام و محبت تھی۔
’’وہ جڑے ہوئے ہیں اور ہم آپس میں بنے ہوئے ہیں کیا‘ کیسی اسٹوپڈ سی سوچ ہوگئی ہے تمہاری انشی… چند دنوں میں تمہاری سوچ بدلی ہے اور کچھ دن بعد تم بھی وہ سب کرو گی‘ جو وہ ماں بیٹی کرتی ہیں۔‘‘ نانی اس کو سرد نگاہوں سے گھورتی ہوئی گویا ہوئیں۔
’’کیوں ماسی کو غصہ دلانے والی باتیں کررہی ہو بے بی… چلو میرے ساتھ اپنے روم میں‘ ماسی کو آرام کرنے دو۔‘‘ بالی نے معاملہ بگڑتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے کمرے میں چلی آئی اور بیڈ پر بٹھا دیا۔
’’لو پانی پیو‘ ماسی کے ساتھ مجھے بھی بے حد حیرت ہورہی ہے‘ تم نے کبھی ایک آنسو نہیں بہایا اور آج تمہارے آنسو نہیں تھم رہے۔‘‘ وہ اسے گلاس تھماتی ہوئی اپنائیت سے کہہ رہی تھی۔
’’تم نہیں سمجھو گے بالے بھائی… نانی بھی نہیں سمجھ سکتیں میرے جذبات کو۔‘‘
خ…ء…خ
لاریب نے مسکراتے ہوئے نوفل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں سمجھ نہیں پاتا تم کس طرح اتنی بورنگ لائف اسپنڈ کررہے ہو؟ میں اگر ایک دن بھی کسی حسینہ کی بانہوں کا سہارا نہ لوں تو مجھے سکون نہیں ملتا۔ بہت بورنگ لائف لگتی ہے اور ایک تم ہو نامعلوم کس طرح زندہ ہو۔‘‘
’’میں نہیں۔ تم بدصورت زندگی گزار رہے ہو‘ عورت کی بانہوں میں زندگی گزارنا کہاں کی مرادنگی ہے۔ جس کو تم انجوائے منٹ کہتے ہو وہ میری نگاہ میں ذلالت و سراسر بے حمیتی ہے۔‘‘ اس نے بھرپور اندازمیں جواب دیا۔
’’ہاہاہا… میں بے حمیت ہوں۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنسا اور اسٹیئرنگ اس کے ہاتھ سے بہک گیا تھا‘ برابر میں بیٹھے نوفل نے فوراً کنٹرول کیا۔
’’سوری یار… ابھی ایکسیڈنٹ ہوجاتا اگر نہ ہوتے میرے ساتھ تم۔‘‘
’’تم نے ڈرنک کی ہے؟‘‘ جھکنے سے جو اس کے منہ سے ناگوار بو محسوس ہوئی تھی اس نے نوفل کی پیشانی پر ناگواری کی شکنیں در آئی تھیں۔
’’نہیں‘ زیادہ نہیں پی… فرینڈز نے زبردستی ہی…‘‘
’’شٹ اپ‘ کار روکو۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا۔
’’سوری… ویری سوری نوفل… مجھے معلوم نہ تھا راستے میں تم سے ملاقات ہوجائے گی تو میں چکھتا بھی نہیں‘ معاف کردو پلیز۔‘‘ اس کی ناراضی اسے سخت مضطرب کردیا کرتی تھی۔
’’مجھے تم سے کچھ نہیں سننا… کار روکو‘ میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گا۔‘‘
’’میں نے کہا نہ پلیز… معاف کردو‘ غلطی ہوگئی۔‘‘
’’میں تمہاری صورت دیکھنا نہیں چاہتا لاریب… کسی چیز کی لمٹ بھی ہوتی ہے توبہ کبھی بھی بار بار گناہ کرنے کی امید پر نہیں کی جاتی ہے اور معافیاں مانگ کر ڈھٹائی کے ساتھ وہ ہی کام کرنا ہو تو ایسی معافی کس کام کی۔‘‘
’’اب میں بے حد مجبور ہوں چھوڑنا بھی چاہوں تو نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
’’دنیا کے کمزور ترین انسان ہو میں تمہارے ساتھ بیٹھنا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔‘‘
’’پلیز نوفل یار… اگر تم ناراض ہوگئے تو…‘‘ اس نے ہاتھ اس کے شانے پر رکھتے کہا اور ایسے میں اس کی توجہ تمام اس کی طرف مبذول ہوگئی تھی‘ نشے کی وجہ سے کنٹرول میں وہ خود بھی کم ہی تھا نتیجتاً کار بے قابو ہوکر آگے بڑھتی چلی گئی اور قبل اس کے کہ وہ کنٹرول ہوتی فٹ پاتھ پر چلتی لڑکی سے جاٹکرائی تھی‘ فضا نسوانی چیخ سے گونج اٹھی تھی۔
خ…ء…خ
ماحول میں خنکی بڑھتی جارہی تھی۔ شاہ زیب نے ڈنر کے لیے سیکنڈ فلور منتخب کیا تھا ہوٹل میں لائٹس بہت خوب صورت لگی ہوئی تھیں جدید و قدیم دور کا امتزاج بڑا خواب ناک لگ رہا تھا۔ سامنے حد نگاہ تک سمندر تھا جس کی لہروں میں کبھی کبھی مچھلیوں کے غول گرتے تو چاندنی ہر سو پھیل جاتی تھی۔
’’میں نے کہا تھا نہ کراچی میں کچھ پوائنٹس ہیں جن کی خوب صورتی رات ہی کو نمایاں ہوتی ہے اب یہاں کھانا بھی کھائو اور سمندر کی خوب صورتی کو بھی انجوائے کرو۔‘‘ اس کے چہرے پر چھائی ایک الوہی سی خوشی سے شاہ زیب کو قلبی اطمینان ہوا تھا۔
’’کھانا بھی شروع کرو ٹھنڈا ہوکر بے مزہ ہوجائے گا۔‘‘
’’اتنا کھانا کیوں منگوایا ہے تم نے‘ ہم یہ سب کیسے کھائیں گے۔‘‘ وہ ٹیبل دیکھتے ہوئے بولی جو ڈشز سے بھری ہوئی تھی۔
’’تم کھانا شروع کرو۔‘‘ اس نے منچورین کی ڈش اٹھاتے ہوئے کہا۔
کھانے کے بعد اس نے کافی منگوائی‘ وہاں سے نکلتے ہوئے ان کو ایک بجے کا ٹائم ہوگیا تھا۔ آتے وقت اب وہاں اکا دُکا ہی کاریں موجود تھیں جو ان کے ساتھ ہی رواں دواں ہوئی تھیں۔
ابھی وہ آدھا راستہ طے بھی نہ کرپائے تھے کہ اس کی کار ایک جھٹکے سے رک گئی اور اس کے بار بار اسٹارٹ کرنے کے باوجود اسٹارٹ نہ ہوئی تھی۔
’’اب کیا ہوگیا۔ کار اسٹارٹ کیوں نہیں ہورہی؟‘‘ وہ اتر کر اس کے پاس آئی جو کار کا بونٹ اٹھائے جھکا کھڑا تھا۔
’’سمجھ نہیں آرہا کیا فالٹ ہوا ہے میں نے سب چیک کرلیا۔‘‘
’’گھر کیسے جائیں گے؟ رات بھی زیادہ ہوگئی ہے۔‘‘ سودہ حسب عادت بری طرح خوف زدہ ہوگئی تھی ہر طرف اندھیرے اور ویرانی کا راج تھا آگے پیچھے گزرنے والی گاڑیاں بھی آگے جاچکی تھیں اب ان کے سوا وہاں کوئی اور نہ تھا۔
’’ڈونٹ وری یار… تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو میں تمہارے ساتھ ہوں‘ ہم آگے چلتے ہیں کنوینس مل ہی جائے گی۔‘‘ گھبرا تو وہ بھی گیا تھا باتوں باتوں میں ٹائم گزرنے کا پتا نہیں چلا تھا اور اب مزید مسئلہ کار نے خراب ہوکر کردیا تھا۔
چاند کی درمیانی تاریخ کا چاند ستاروں کے جھرمٹ آب و تاب سے روشنی بکھیر رہا تھا۔ اس چاندنی میں اندھیرا دور نہ ہوسکا تھا مگر ماحول پر ماورائی سا رنگ پھیلا ہوا تھا‘ اس نے پنک دوپٹے کو بہت اچھی طرح لپیٹا ہوا تھا۔
’’میں نے تمہیں محبت میں کہا تھا کہ یادگار ڈنر کروائوں گا‘ مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ ڈنر اس طرح یادگار ہوجائے گا۔ خیر میں تو کہتا ہوں ہر وقت کو انجوائے کرنا چاہیے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’مجھے تو بے حد ڈر لگ رہا ہے تم گھر فون کرکے شوفر کو بلوالو۔‘‘
’’یہی تو پرابلم ہوگئی ہے میرے سیل فون کی بیٹری بھی ڈیڈ ہوگئی ہے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ اس کا دل دھک سے رہ گیا‘ وہ ابھی کچھ آگے ہی بڑھے تھے معاً پیٹرولنگ کرتی رینجرز کی جیپ ان کے سامنے ہی آکر رک گئی۔
’’’کون ہیں آپ لوگ… یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘ آفیسر نے وہاں آکر ان سے دریافت کیا جبکہ اس کے ساتھی پیچھے تھے۔
’’سر… ہم ڈنر کرنے آئے تھے واپسی میں گاڑی خراب ہوگئی‘ اس وجہ سے ہمیں پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ کنوینس کی تلاش میں۔‘‘ شاہ زیب نے مودبانہ انداز میں آفیسر کو جواب دیا۔
’’آئی ڈی کارڈ دکھائیں…؟‘‘ آفیسر کا لہجہ مشکوک تھا۔
’’آئی ڈی کارڈ… سوری میرے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’یہ کون ہے آپ کے ساتھ؟‘‘ آفیسر کی نگاہیں بڑے متحرک انداز میں اس کا جائزہ لے رہی تھیں جو خوف سے لرزتی شاہ زیب کے شانے کے پیچھے تقریباً چھپی ہوئی تھی۔ اس نئی افتاد نے اس کے اوسان خطا کردیے تھے۔
’’سر… یہ میری بہن ہے… آئی مین کزن۔‘‘
’’لگ رہا ہے کسی اچھی فیملی سے تعلق ہے آپ کا‘ مگر رات کے پہر ایک جوان لڑکی کو اس طرح ساتھ لے کر گھومنا مجھے شک میں مبتلا کررہا ہے‘ آپ ہمارے ساتھ چلیں۔‘‘ وہ حکیمہ انداز میں گویا ہوا۔
’’سر… ہم آپ کے ساتھ کیوں جائیں‘ ہم نے کیا جرم کیا ہے؟‘‘ اس کے انداز پر شاہ زیب سرد لہجے میں گویا ہوا۔
’’ہم روزانہ ایسے کیسز ڈیل کرتے ہیں جہاں لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو بہن بھائی بتاتے ہیں اور بعد میں سچ بتاتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔‘‘
’’پلیز سر… آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔‘‘
’’ہمارے ساتھ چلو پھر خود فرفر سچ بولو گے ہری اپ۔‘‘ شاہ زیب کی ایک نہ چلی تھی وہ آفیسر سخت مزاج اور اصول کا پابند تھا۔ وہ سودہ کو ساتھ لے کر جیب میں بیٹھ گیا تھا‘ شاہ زیب نے سودہ کو دیکھا تھا وہ خوف و تفکر سے زرد پڑتی جارہی تھی۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close