Aanchal Dec-16

در جواب آں

مدیرہ

یاسمین نشاط… لاہور

ڈئیر یاسمین! سدا سہاگن رہو‘ آپ کی تمام تحریریں ہمارے پاس محفوظ ہیں کسی بھی خدشے کو ذہن میں مت لائیں جلد لگانے کی کوشش کریں گے۔ حجاب کی سال گرہ پر آپ کو بھی ڈھیروں مبارک باد۔ آپ کے والدین کی رحلت کے متعلق پڑھ کر افسوس ہوا‘ ان کی برسی کے موقع پر بے شک آپ کے دکھ درد کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا‘ نہ ہی جذبات و احساسات کو لفظوں کے پیراہن میں ڈھالا جاسکتا ہے۔ والدین کے بغیر زندگی گزارنا بے آب و گیاہ صحرا کی آبلہ پائی کے مترادف ہے۔ ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اگر ان چند الفاظ سے آپ کی تشفی ہوجائے تو ہمارے لیے خوشی کی بات ہے۔ قارئین سے بھی دعائے مغفرت کے ملتمس ہیں‘ امید ہے آئندہ بھی آپ کا قلمی تعاون ہمدم رہے گا۔ بے شک چھوٹے بچوں کے ساتھ وقت نکالنا دشوار ہوتا ہے لیکن محبت اور توجہ کے متقاضی کچھ لوگ یہاں بھی ہیں بس اتنا خیال رکھیے گا‘ نگہت عبداللہ تک آپ کا سلام ان سطور کے ذریعے پہنچ جائے گا۔

فاخرہ گل … اٹلی

ڈئیر گل! سدا سہاگن رہو‘ یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی آپ کی چوتھی اور سو لفظی کہانی کی پہلی کتاب شائع ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہے اور آپ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہوا کہ آپ پہلی خاتون لکھاری ہیں جن کی سو لفظی کہانیاں کتابی صورت میں شائع ہوئیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو ہمیشہ کامیاب و کامران رکھے ہر میدان و امتحان میں‘ آمین۔
حمیرا نگاہ… ملکوال
پیاری حمیرا! سدا سہاگن رہو‘ آپ کی ارسال کردہ پانچ اقساط موصول ہوگئی ہیں جلد لگانے کی کوشش کریں گے۔ شب و روز مصروفیت کے عالم میں کہاں اور کیسے گزراتے ہیں کچھ خبر نہیں۔ وہ جو شاعر کہہ گئے ہیں بالکل وہی بات ہے ’’ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی‘‘ آج ہم سب کا حال اسی شعر کے مصداق ہے مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ خود سے ملاقات کا بھی وقت نہیں مل پاتا اپنے لیے بھی چند پل نکالنا دشوار لگتا ہے بہرحال ان مصروف گھڑیوں میں سے چند پل ہمارے نام کیے بے حد اچھا لگا۔ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کی بچیوں کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرے اور ان کے والدین کا سایہ سدا سایہ فگن رکھے‘آمین۔

حمیرا نوشین… منڈی بہائو الدین

پیاری حمیرا! شاد و آباد رہو‘ یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ہماری حوصلہ افزائی نے آپ کو مصروف کردیا ہے اور دیکھا جائے تو اسی مصروفیت نے معروف بھی کردیا ہے۔ آج آپ کا نام بہت سے رسائل کی زینت بن رہا ہے‘ بہرحال اس بات سے تو ہمیں انکار نہیں کہ اسکول‘ گھر بچے اور اپنے ذاتی مشاغل کو یکساں وقت دینا اور سب پر توجہ رکھنا ایک مشکل امر ہے آپ اس قدر مصروف گھڑیوں میں بھی نصف ملاقات کے بہانے ڈھونڈ لیتی ہیں بے حد مشکور ہیں‘ آپ کی تحریر ہمارے پاس محفوظ ہے جلد شائع کرنے کی کوشش کریں گے آپ دیگر موضوعات پر بھی طبع آزمائی جاری رکھیں۔

فوزیہ سلطانہ… تونسہ شریف

عزیزی فوزیہ! شاد وآباد رہو‘ آپ کی دوسری تحریر کچھ خاص تاثر قائم کرنے میں ناکام رہی‘ اس لیے معذرت۔ ہم سے پوچھئے ایک تفریحی سلسلہ ہے تاکہ ٹینشن اور آلام و مصائب سے وقتی طور پر نجات حاصل کرکے سب کو ہنسنے اور مسکرانے پر مجبور کیا جاسکے اسی لیے تفریح طبع کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔ آنچل کی پسندیدگی کے لیے شکریہ۔

مدیحہ نورین مہک… گجرات

عزیزی مدیحہ! جیتی رہو‘ سولہ دسمبر کے حوالے سے آپ نے اپنے جذبوں کا اظہار نہایت عمدگی سے کیا ہے بے شک آج ایک سال کا عرصہ ہی گزرا ہے مگر جن مائوں کی گود اجڑی تھی ان کے لیے جدائی کے یہ پل صدیوں پر محیط ہیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ ہمارے وطن کو شر پسند عناصر سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو اپنی امان میں رکھے‘ آمین۔

ثناء کنول… لودھراں

ڈئیر ثناء! شاد رہو‘ آپ کے مفصل خط سے اندازہ ہوا کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہیں اور آنچل ایسی ہی نو آموز رائٹرز کو یہ پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کا اظہار کرکے اپنا ایک منفرد مقام اور پہچان بناسکتی ہیں۔ آنچل کے دروازے آپ پر بھی کھلے ہیں‘ آپ اپنی تحریر ارسال کردیں اگر معیاری ہوئی تو ضرور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وسیع مطالعہ اور دیگر رائٹرز کی تحاریر کے بغور مطالعہ کے بعد آپ بہتر لکھ کر اپنا خواب پورا کرسکتی ہیں۔

قرۃ العین سکندر… لاہور

ڈئیر عینی! سدا سہاگن رہو‘ یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے آپ کو ایک بار پھر اپنی رحمت سے نوازا۔ اب تو آپ کی مصروفیات مزید بڑھ گئی ہوں گی‘ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے بچوں کو صحت و تندرستی سے بھرپور زندگی عطا فرمائے اور آپ کے گھر کی رونق یونہی قائم و دائم رہے‘ آمین۔

صائمہ مشتاق… سرگودھا

ڈئیر صائمہ! سدا سہاگن رہو‘ آپ کی ارسال کردہ رقم موصول ہوگئی ہے اور سالانہ خریدار بھی آپ بن چکی ہیں۔ نومبر سے آنچل آپ کو جاری کردیا گیا ہے اب ہر ماہ گھر بیٹھے ہی آنچل کا مطالعہ کرپائیں گی۔ آپ کی علمی لگن اور حصول تعلیم کے شوق کے متعلق جان کر اچھا لگا۔ ہمیں آپ کی مخلصانہ دعائوں سے بڑھ کر کوئی تحفہ ہمارے لیے انمول نہیں بہرحال آپ کی اس قدر چاہت و خلوص کے مقروض و مشکور ہیں۔

منیبہ نواز… صبور شریف

عزیزی منیبہ! جگ جگ جیو‘ دو ماہ کی غیر حاضری کے بعد بزم آنچل میں ایک بار پھر آپ کی شرکت بہت اچھی لگی۔ بے شک آج کل ہر کوئی شب و روز کے مسائل میں اس قدر مصروف ہے کہ فرصت کا وجود عنقا ہوگیا ہے اور ہر کوئی یہی شکوہ کرتا نظر آتا ہے ’’دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن‘‘ آپ نے اپنی مصروف گھڑیوں میں سے چند پل نکال کر ہمارے نام کیے بے حد خوشی ہوئی۔ بے شک گھریلو مصروفیات اور روزگار کے مسائل میں الجھ کر وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے لیکن امید ہے آئندہ بھی شریک محفل رہیں گی۔

فوزیہ تحریم… منڈی فیـض آباد

ڈئیر فوزیہ! سدا شاد رہو‘ آپ کے خط سے آپ کے مخلصانہ اور والہانہ جذبات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے اور یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے چند الفاظ نے آپ کے لیے دلی مسرت کا سامان فراہم کیا آپ اپنی دیگر نگارشات اور تعارف ارسال کردیں جلد شائع کرنے کی کوشش کریں گے‘ آنچل کی پسندیدگی کا شکریہ۔

رانی کوثر… ہری پور ہزارہ

ڈئیر رانی! سدا سہاگن رہو‘ امید ہے جب تک یہ سطور آپ کی نظروں سے گزریں گی آپ پیا دیس سدھار چکی ہوگی اور ان کے دل کی رانی بھی بن گئی ہوگی۔ ہماری جانب سے شادی کی ڈھیروں مبارک باد۔ بے شک یہ مرحلہ جہاں والدین کے لیے خوشیوں کا باعث ہوتا ہے وہیں اولاد کی جدائی کا خیال بے حد تکلیف دہ اور کٹھن امر بھی ہوتا ہے۔ ایسے میں باپ کی دائمی جدائی کا صدمہ ان گھڑیوں میں ایک مشکل گھڑی ہے اور ہر بیٹی کو اس لمحے میں اپنے مشفق باپ کی دعائوں اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے‘ بہرحال آپ کے والد جنت کے باسی ہیں اور آج بھی آپ کے سنگ ان کی ڈھیروں دعائیں ہوں گی اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ آپ کو آنے والی زندگی میں ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے اور آپ کے والد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین۔

آسیہ شاہین… چوآسیدن شاہ

ڈئیر آسیہ! سدا خوش رہو‘ آپ کا لکھا شعر بے حد پسند آیا‘ آپ کا تعارف ہمارے پاس محفوظ ہے لیکن اس سلسلے میں ہر ماہ کثیر تعداد میں بہنوں کے تعارف موصول ہوتے ہیں اسی بناء پر تاخیر ہوجاتی ہے بہرحال مایوس مت ہوں‘ جلد شائع کرنے کی کوشش کریں گے۔ آنچل کو پسند کرنے‘ سراہنے‘ اپنی آرأ وتجاویز سے آگاہ کرنے کا بے حد شکریہ۔ امید ہے آئندہ بھی آپ کا تعاون ہمارے سنگ رہے گا۔

فاطمہ مشہد… فیصل آباد

ڈئیر فاطمہ! جیتی رہو‘ بزم آنچل میں پہلی بار شرکت پر خوش آمدید۔ بے شک آپ کا کہنا بجا ہے کہ بہت سے نو آموز شاعر اپنی کاوش نیرنگ خیال میں ارسال کرکے اپنی شاعری میں بہتری اور نکھار لائے ہیں۔ آپ کے لیے ہماری رہنمائی حاضر ہے بس تھوڑا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ اس سلسلے کے لیے ہر ماہ کثیر تعداد میں بہنوں کی شاعری موصول ہوتی ہے اگر معیاری ہوئی تو اصلاح کے عمل سے گزرنے کے بعد ضرورشائع ہوجائے گی۔

مسز ربیعہ اساور بٹ… فیصل آباد

عزیزی ربیعہ! سدا سہاگن رہو‘ طویل عرصے کے بعد آپ سے نصف ملاقات بہت خوشگوار رہی یقینا ماں کی دائمی جدائی انسان کی ذات میں ایک ایسا خلاء پیدا کردیتی ہے جسے کسی اور کی محبت و شفقت ہرگز پورا نہیں کرپاتی اور بیٹیاں تو ویسی بھی ماں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ اپنا تمام وقت ماں کے آنچل تلے گزارتی ہیں بہرحال آپ اپنا غم بھول کر زندگی کی طرف لوٹ رہی ہیں‘ خوش آئند ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کو زندگی کی ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے اور والدہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین‘ آنچل کی پسندیدگی کے لیے مشکور ہیں۔
شازیہ ہاشم عرف تمثال

ہاشمی … کھڈیاں قصور

عزیزی شازیہ! شاد و آباد رہو‘ مصروفیت کے بہتے سمندر سے فراغت کے ساحل پر قدم جما کر آپ نے ہمیں یاد رکھا بے حد خوشی ہوئی۔ پیاری بہنا ہر ماہ کثیر تعداد میں پیغامات موصول ہوتے ہیں ہم چاہ کر بھی آپ کے تمام خطوط صفحات کی کمیابی کی بناء پر شائع نہیں کرپاتے۔ اسی لیے آئندہ ماہ کے لیے محفوظ کرلیتے ہیں۔ آپ ہماری مجبوری سمجھنے کی کوشش کریں یا پھر کوئی تجویز آپ ہی بتائیں کہ ہم بتلائیں کیا۔ امید ہے خفگی کے چھائے بادل مٹ جائیں گے‘ آپ کا پیغام جلد شائع کرنے کی کوشش کریں گے۔

ثوبیہ ملک… کراچی

ڈئیر ثوبیہ! سدا سکھی رہو‘ آپ کی بے ساختہ خوشی کا اظہار ہمیں بھی خوشی کے احساسات سے دوچار کر گیا۔ اعزازی پرچہ ہر رائٹر کو بھیجا جاتا ہے۔ بہرحال آپ پہلے سے لے چکی تھیں چلیں کوئی بات نہیں۔ اس خوشی میں آپ اپنے دستخط بھی بھول گئیں یہ اہم بات ہے بہرحال اس کامیابی پر ڈھیروں مبارک باد۔ ’’بچھڑنا بھی ضروری تھا‘‘ آپ کی اس تحریر کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

سائرہ محمد… ٹوبہ ٹیک سنگھ

پیاری سائرہ! سدا آباد رہو‘ زندگی میں آنے والی ایک اور سال گرہ کی ڈھیروں مبارک باد قبول کریں اور ایسی بہت سی خوشیاں اللہ سبحان و تعالیٰ آپ کے مقدر میں لکھ دیں۔ آنچل کے لیے نگارشات ارسال کردیں ہر سلسلے مین شرکت کے لیے کاغذ پر اپنا اور شہر کا نام ضرور لکھنا اگر معیاری ہوئی تو ضرور حوصلہ افزائی کی جائے گی‘ بزم آنچل میں خوش آمدید۔

حنا کامران… ملتان

عزیزی حنا! مانند حنا مہکتی رہو‘ آپ کی ارسال کردہ تین تحریریں بعنوان ’’شمع فروزاں‘ خزاں سے بہار تک‘‘ اور ’’نشاط کار‘‘ موصول ہوئیں۔ اول الذکر دو تحریریں کچھ خاص تاثر قائم کرنے میں ناکام ٹھہریں۔ وجہ موضوع کا چنائو بہت کمزور تھا‘ کہانی پر گرفت بالکل بھی نظر نہیں آئی البتہ ایک خوشی کی خبر یہ ہے کہ مؤخر الذکر تحریر موضوع کی انفرادیت کی بدولت قابل قبول ٹھہری۔ آپ مزید محنت کے ساتھ لکھیں ہمیشہ یہ بات پیش نظر رکھیں کہ مختصر مگر مؤثر لکھیں تاکہ آپ کی بات دوسروں کے دلوں میں اپنی جگہ بناسکے۔

کوثر خالد… جڑانوالہ

پیاری کوثر! جگ جگ جیو‘ آپ کا شگفتہ انداز بہت پسند آیا۔ درجواب آں اور آئینہ ساتھ لکھ بیٹھی اب کیا ہوگا؟ جناب کچھ نہیں ہوگا دونوں شامل محفل ہیں۔ آپ کی کتاب ’’حوض کوثر‘‘ ہمیں موصول نہیں ہوئی ورنہ ضرور اپنی رائے سے آگاہ کرتے بہرحال سب کو پسند آرہی ہے تو ضرور قابل تعریف و قابل تحسین ہوگی اور جس عظیم الشان ذات کی مدح سرائی بیان کی گئی ہے وہ تو ہیں ہی قابل تعریف اور جس کی تعریف و شان خود اللہ سبحان و تعالیٰ اور اس کے فرشتے بیان کرتے ہوں اس کے متعلق ہم جیسے گناہ گارہ بندے کیا کہنے کے قابل ہیں۔ حمدونعت پر مبنی آپ کی یہ کتاب آپ کے لیے توشۂ آخرت ثابت ہوگی۔ خدمت خلق سے بھرپور آپ کا جذبہ بہت پسند آیا‘ بے شک اگر آپ حق پر ہیں تو اللہ کی مدد ہی کافی ہے۔

عنزہ یونس… حافظ آباد

عزیزی عنزہ! ہنستی مسکراتی رہو‘ آپ کے مفصل خط سے آپ کے جذبہ حب الوطنی کا بخوبی ادراک ہوا۔ آپ کا کہنا بجا ہے کہ آج جب سرحد پر حالات کشیدہ ہیں اس حالت میں بھی ہم اپنے اندرونی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ملکی مفادات سے بڑھ کر اپنے مفادات عزیز ہیں۔ ہماری اس بے حسی و خود غرضی نے ہی آج ہم مسلمان قوم کو تہی داماں کردیا ہے کہ ہم اغیارکے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں وہ قوم جو اللہ سبحان و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا ہوکر دنیا پر قابض و حکمران تھی آج ذلت و پستی کی اتاہ گہرائیوں میں ڈوبی ہے خدا نہ کرے کہ اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر 1971ء کی قیامت خیزی کا پھر سے سامنا کرنا پڑے۔ بہرحال اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وطن عزیز کو اپنی امان میں رکھے‘ آپ کا ارسال کردہ ’’آغوش مادر‘‘ حجاب نومبر کے شمارے میں شائع ہوچکا ہے۔

فاطمہ ماریہ… فیصل آباد

ڈئیر فاطمہ! سدا سہاگن رہو‘ یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ آپ والدہ کے عہدے پر فائز ہوگئی ہیں۔ بے شک ماں کی ممتا کے احساسات اور محبت بھرے جذبوں سے آشنا ہونا ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ مصروفیات مزید بڑھ گئی ہوں گی‘ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے بیٹے کو صحت و تندرستی سے بھرپور زندگی عطا فرمائے اور آپ کے گھر کی رونق یونہی قائم و دائم رہے‘ آمین۔

مونا شاہ قریشی… ملتان

ڈئیر مونا! جگ جگ جیو‘ آپ کا نیا نام جو آپ نے خود ہی اپنے لیے تجویز کیا ہے انتظار شاہ بہت پسند آیا اور ہے بھی کافی منفرد ویسے بھی آج کل ہر کوئی نئے نام کے چکر میں الجھا ہوا ہے ایک آپ بھی سہی۔ آپ کا شکوہ‘ جواب شکوہ کے ساتھ حاضر ہے‘ آپ کی جرأت گفتار کا انداز اس قدر بھایا کہ ہم نے ہر لغزش و لرزش کو پس پشت ڈال دیا۔ بہرحال آپ کا کہنا بجا ہے انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی ہیں لیکن اس جانگسل مرحلے سے گزر کر ہی سب اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ آپ کا شکوہ جو کچھ یوں تھا
متوقع آنچل کی لسٹ میں شامل میرا نام کردیجیے
گر ہوسکے یہ نوازش مجھے مصنفہ کا شرف دان کردیجیے
تو پیاری گڑیا! مصنفہ کا شرف تو ہم دان کرچکے آپ کی تحریروں کو قبولیت کا درجہ بخش کر‘ اب تو صرف منظر عام پر آپ کا نام لانا ہے تو جلد آجائے گا اب دیکھئے آنچل کے صفحات پر نام تو آگیا ہے ناں تو جلد ہی کہانی کے ساتھ بھی آجائے گا۔ پیوستہ رہ آنچل سے امید بہار رکھ‘ یہ بہار آپ کے دامن میں بھی پھول کھلا دے گی‘ بس تھوڑا سا انتظار۔

اقراء لیاقت… حافظ آباد

پیاری اقراء! سدا سکھی رہو‘ ہم بالکل خیریت سے ہیں آپ نے بالخصوص ہمیں یاد رکھا اچھا لگا یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ آپ اپنی ٹیچر سمعیہ ضیاء کا اس قدر احترام کرتی ہیں بے شک با ادب ہی بانصیب ہوا کرتے ہیں اور بے ادب بے نصیب ہی ٹھہرتے ہیں۔ یہ استاد ہی ہوتا ہے جو علم و ادب کے افق پر لے جاتا ہے اور آپ کو ترقی کی منازل سے روشناس کرواتا ہے۔ بے شک حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا تو ذرا تو سوچئے جو ہمارے استاد کے عہدے پر فائز ہے وہ ہمیں کس طرح لگن اور محنت سے ہر بات سکھاتا ہے‘ آپ کی ٹیچر مس سمعیہ کو سال گرہ کی ڈھیروں مبارک باد۔ اللہ سبحان و تعالیٰ ان کے علم میں مزید برکت عطا فرمائے تاکہ علم کی یہ شمع فروزاں رہے‘ آمین۔

حافظہ شہر بانو… فیصل آباد

گڑیا شہر بانو! سدا خوش و خرم رہو‘ آپ کی تحریر ’’ادھوری خواہش‘‘ موصول ہوئی‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن موضوع کمزور ہونے کی بناء پر تحریر اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔ مایوس و دل برداشتہ ہونے کے بجائے کسی دوسرے موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے قلم اٹھائیں۔

کرن نعمان… کراچی

ڈئیر کرن! صبح کی پہلی کرن بن کر اجالا بکھرتی رہو‘ آپ کی تحریر شاہدہ اور رضیہ خالہ موصول ہوئی۔ بہتر موضوع پر آپ کی گرفت بھی خوب رہی‘ اس کامیابی پر ہماری جانب سے مبارک باد۔ امید ہے آئندہ بھی آپ ایسے ہی موضوعات کا انتخاب کرتے محفل میں شامل رہیں گی۔

زینب ملک ندیم… گوجرانوالہ

پیاری زینب! شاد رہو‘ آپ کی دو تحریر موصول ہوئیں ’’میں ادھورا چاند‘ تم میری دعا‘‘ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے اس بناء پر آپ کی دونوں تحریریں کامیابی کی سند حاصل کر گئیں۔ اسی طرح منفرد موضوع کو اپنے مزاج کا حصہ بناتے ہوئے قلم کو تھامے رکھیں‘ اس کامیابی پر ہماری جانب سے مبارک باد۔

صالحہ عزیز صدیقی… کراچی

ڈئیر صالحہ! سدا مسکرائو‘ آپ کی جانب سے ارسال کردہ تحریر ’’دو پیاسے نین‘‘ پڑھ ڈالی۔ موضوع کا چنائو بہتر ہے لیکن آپ کے انداز میں پختگی کا عنصر مفقود ہے۔ آپ بچوں کے لیے کہانیاں لکھ چکی ہیں اسی لیے اس تحریر میں انداز بچوں جیسا اور بالکل سادہ لگ رہا ہے‘ آئندہ اس چیز کا بطور خاص خیال رکھیں بچوں کے لیے یہ انداز تو بالکل ٹھیک ہے لیکن دیگر پرچوں میں یہ چیز اچھا تاثر پیدا نہیں کرتی امید ہے آئندہ ان باتوں کا خیال رکھیں گی‘ آپ کی تحریر کانٹ چھانٹ کے بعد شائع کردی جائے گی۔

رشک حنا… ملکوال

ڈئیر حنا! سدا مسکراتی رہو‘ آپ کی ارسال کردہ تحریر ’’یہ رات آخری ہوگی‘‘ بے شک حقیقت پر مبنی اور سچائی کی عکاس تحریر ہے لیکن آپ کا انداز کمزور ہے۔ ایک حادثے کی صورت آپ نے واقعہ کو قلم بند کیا ہے اس پر ہمیں اس ماں کے دکھ کا اندازہ بخوبی ہوگیا ہے جس کا جوان بیٹا اور بہو اسے تنہا چھوڑ کر ابدی سفر پر روانہ ہوجائیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ اس ماں کو صبر و تحمل عطا فرمائے اور مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین۔ تحریر کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

ناقابل اشاعت:۔

بلا عنوان‘ سجدہ‘ اعتبار نہ کریو‘ اضطراب‘ جو وہ چاہیے‘ بلا عنوان‘ ایسا بھی ہونا ہے‘ خوشیاں‘ غم اور یہ بندھن‘ خاک اور خون اور دوسرا منظر‘ دل آباد ویران‘ شہری بابو‘ ادھوری خواہش‘ بددعا‘ وچھوڑا‘ کیا ملے گا‘ جنت کا دروازہ‘ تضاد‘ سلسلہ‘ نقص‘ جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم‘ حیات جرم نہ ہو‘ تمردر‘ وہ لمحہ جو مہربان ٹھہرا‘ تم صرف میرے ہو‘ ابر رحمت‘ ملن کا موسم‘ پچھتاوا‘ مسافت‘ محافظ‘ بلا عنوان‘ تیرے سنگ‘ یہ رات آخری ہوگی‘ محبت لاحاصل‘ ملن کا موسم‘ اندرون مشرق‘ دادی شہزاد‘ دل بے رحم‘ خوشبوئوں کا سفر‘ حکمت و عظمت‘ بڑے نادان تھے ہم بھی‘ اماں جی‘ ذرا سی غلط فہمی‘ خزاں ہے بہار تک‘ شمع فروزاں‘ رہنما‘ بلا عنوان‘ زیست کی کٹھنائیاں‘ سبق‘ بازی گر‘ احسان‘ ریحان‘ عبرت‘ دل بے رحم‘ تضاد‘ دستِ قدرت۔

قابل اشاعت:۔

وہ اک خطا‘ خواہش ادھوری‘ دہری زندگی‘ زندگی دھوپ تم گھنا سایہ‘ اکتوبر اور نہیں‘ دل موم کا کھلونا‘ دسمبر بیت جائے‘ محبت کی آنکھیں‘ تیری خواہشوں کے لیے‘ نور معرفت‘ صراط مستقیم‘ اماں جی‘ دل گمراہ‘ شاہدہ اور رضیہ خالہ‘ مڈل کلاس‘ گھٹی‘ رانی بیٹی راج کرے‘ کدھر جائیں ہم‘ دوپیاسے نین‘ چاند کے اس پار چلو‘ اک تیرا انتظار ہے‘ میں ادھورا چاند‘ ادھورا‘ محافظ‘ بلاعنوان‘ مسافت۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close