Naeyufaq Dec-17

ہرکارہ موت

زرین قمر

کھڑکی کے پٹ کی روح میں اتر جانے والی پراسرار سی چرچراہٹ اور سیٹیاں بجاتی ہوا سے کھڑکی کے پردے کی پھڑپھراہٹ نے کرن کوچونکادیاتھا‘ کمرے میں بالکل اندھیرا تھا‘ لائٹ پھر چلی گئی تھی یہ تو کراچی کے شب وروز کا عذاب بن گیاتھا ہرچند گھنٹوں بعد لائٹ غائب ہوجاتی تھی اس نے اندھیرے کمرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا اسے لگا جیسے کوئی غیر مانوس ہستی کمرے میں گھس آئی ہو‘ جس کے سائے اسے ہر طرف حرکت کرتے نظر آرہے ہوں پھراچانک اسے یوں لگا جیسے پڑوس سے آنے والی مدھم روشنی میں کھڑکی کے باہر کسی کا سرنظر آیا ہو پھرجسم آہستہ آہستہ اوپراٹھاتھااور پوری کھڑکی سے اس کے آدھے جسم کاسایہ اندر جھانک رہاتھا۔ اس کی سانس رک سی گئی اوراس کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک ٹھنڈی تیز لہر دوڑ گئی اس کادل چاہا کہ وہ زور سے چیخے… بھاگو بھاگو… لیکن اس کی چیخ اس کے گلے میں گھٹ کررہ گئی وہ دعائیں مانگ رہی تھی کہ یہ اس کاوہم ہوخوف کی شدت سے وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرسکتی تھی۔
اچانک ہواسے ایک بار پھر کھڑکی کاپردہ ہلااوراس بار وہ سایہ ایک مدھم سی آواز کے ساتھ کمرے میں کود گیا اوراس نے سوچا کہ جب اس نے کھڑکی کھلی دیکھی تھی تواسے پولیس کو فون کردینا چاہیے تھا لیکن اب دیر ہوچکی تھی اس کی سانسیں تیز ہوگئیں اس نے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے تاکہ اپنی چیخوں کو روک سکے‘ اس کی نظریں سائے کو دیکھ رہی تھیں جوآہستہ آہستہ اس کے بیڈ کے قریب سے گزررہاتھا‘ کرن نے اپنے قریب میز پررکھا دھاتی گلدان اٹھایاہواتھا تاکہ موقع ملتے ہی اس سائے کے سر پر دے مارے اچانک لائٹ آگئی اوراس کی آنکھیں چندھیاگئیں آنے والا کمرے کے وسط میں ہی رک گیاتھا۔
’’مام؟‘‘
کرن نے گلدان واپس رکھ دیا‘ اس کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہاتھا۔ وہ حیران تھی کہ اس کا تیرہ سالہ بیٹا کمال رات گئے اس طرح گھر میں داخل ہواتھا جیسے کوئی چور ہو آج کل شہر میں ایک نفسیاتی مجرم کی کہانیاں عام تھیں جو اندھیری راتوں میں عورتوں کی عزتیں لوٹ کرانہیں مارڈالتاتھا اور ب تک پولیس کے ہاتھ نہیں آیا تھا‘ وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ رات کے اندھیرے میں کہیں وہی مجرم توگھر میں داخل نہیں ہوگیا…؟ کمال اس کے سامنے کھڑاتھالیکن اس سے نظریں چرا رہاتھا‘چند لمحے اسی طرح گزر گئے رات کے اندھیرے میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی پھرکرن اپنے بیڈ پرسیدھی ہو کر بیٹھ گئی لیکن وہ کچھ بولی نہیں تھی بس ناگواری سے کما ل کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’مام‘ میں معافی چاہتاہوں‘ میں وعدہ کرتاہوں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ کمال نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’کیسانہیں ہوگا؟‘‘ اس نے غصے سے مگر دھیمی آواز میں پوچھا۔
’آپ سے بغیر پوچھے باہر نہیں جائوں گا۔‘‘ کمال نے معصومانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’ا…و…ر؟‘‘ کرن نے ذرااونچی آواز سے پٖوچھا اور کمال کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
’’وہ… بس… میں اور میرے کچھ دوست تھے‘ ہم یونہی ادھر ادھر گھوم رہے تھے کوئی خاص بات نہیں۔‘‘ کمال نے اٹک اٹک کرکہا جیسے اسے خود بھی احساس ہو کہ وہ غلط کررہاتھا۔
’’کہاں ؟‘‘
’’یہیں‘ آس پاس۔‘‘
’’کیاتمہارے ہیڈ ماسٹر احتشام صاحب کو تم پراعتراض نہیں ہوا؟‘‘ کرن نے ناگواری سے پوچھا۔
’’آپ کو کیسے پتہ چلا؟‘‘ کمال ایک قدم پیچھے کھسکا اور حیرت سے پوچھا۔
’’انہوںنے فون کیاتھا وہ تمہارے اور دوستوں کے خلاف مقامی تھانے میں رپورٹ لکھوانے جارہے تھے۔‘‘
’’اوہ‘ کیا وہ ایسا کرسکتے ہیں ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’ہم نے کوئی چیز نہیں توڑی ہے‘ میں سچ کہہ رہاہوں ہم نے صرف کچھ ٹوائلٹ پیپرز ان کے درختوں اور جھاڑیوں پرلٹکادیئے تھے۔‘‘
’’تم اپنے گھر سے اتنی دور احتشام صاحب کے گھر تک کیسے گئے تھے ؟‘‘
’’ایک کار میں۔‘‘
’’گاڑی کون چلارہاتھا؟‘‘
’’جمیل۔‘‘
’’کیااس کے پاس لائسنس ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ کمال نے شرمندگی سے کہااور کرن بیڈ سے نیچے اتر کر اس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑی ہوگئیں وہ اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسواس سے چھپانے کی کوشش کررہی تھیں۔
’’کیاتم لوگوں نے کار چرائی تھی ؟‘‘
’’جمیل اپنی امی کی کار چپکے سے لے آیاتھا ۔ ‘‘ کمال نے کہااور کرن نے قریبی دیوار کاسہارا لینے کے لیے ا س سے پشت ٹکادی وہ سوچ رہی تھی کمال ابھی صرف تیرہ سال کاہے کیا وہ غلط راستے پر لگ گیا ہے اسے ابتک دواسکولوں سے نکالاجاچکا ہے‘ لڑنے کی وجہ سے اب اگر احتشام صاحب نے بھی اسے گرین فیلڈ اسکول سے نکال دیاتو میں کیاکروں گی؟ اس خیال کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے اوراس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپالیاتھا۔
’’یہ سب بہت تکلیف دہ ہے۔‘‘ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔
’’کیا؟‘‘ کمال نے پوچھا۔
’’میری زندگی… میری ملازمت… اور تمہاری پرورش اکیلے کرنا۔‘‘
’’ہم اکیلے کیوں ہیں؟‘‘
’’کیا…؟‘‘ کرن کمال کے اس بے موقع سوال پر چونکی۔
’’میرے والد کیوں نہیں ہیں‘ یادادا‘ یاپھوپھیاں‘ یاکزنز ؟ میری کوئی فیملی کیوں نہیں ہے ؟ جیسے دوسرے بچوں کی فیملیز ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تم جانتے ہو…‘‘ کرن نے اس کی طرف مڑتے ہوئے پوچھا۔
’’میں وہی جانتا ہوں جو آپ نے مجھے بتایا ہے ۔‘‘
’’میں… میں تمہیں کیابتائوں … جبکہ مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔‘‘ کرن نے کہا۔
’’میرے والد کیسے تھے ؟‘‘
’’وہ بالکل تمہاری طرح تھے ۔‘‘
’’ہمارے پاس ان کی کوئی تصویر کیوں نہیں ہے ؟‘‘
’’جب میں نے گھر بدلا تو وہ کھوگئی تھیں۔‘‘
’’آپ جھوٹ بول رہی ہیں۔‘‘ کمال نے غصے اور نفرت سے کہا۔
’’کیا؟ تم مجھ سے اس طرح بات نہیں کرسکتے۔‘‘
’’جب میں چھوٹاتھا تو آپ مجھے ایسی کہانیاںسنا سکتی تھیں جیسے میرے والد کوئی ہیرو تھے ؟‘‘
’وہ واقعی ہیرو تھے… وہ فوجی تھے اور عراق کی جنگ میں لڑنے گئے تھے جہاں وہ شہید ہوگئے۔‘‘
’’نہیں یہ جھوٹ ہے‘ میرے سب دوست یہ بات جانتے ہیں۔‘‘ کمال نے غصے سے کہا۔
’’میں جانتاہوں کہ انٹرنیٹ کیسے استعمال کیاجاتاہے‘ میں نے پتاکیاتھا ایئرفورس کے پاس کسی حماد کاریکارڈ نہیں ہے جو A-10کاپائلٹ تھا‘ آپ کے پاس میرا کوئی پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہے یا آپ کی شادی کاکوئی ریکارڈ‘ آپ کون ہیں مام؟ میں کون ہوں ؟ ‘‘ کمال نے دکھ سے کہااب اس کی آنکھوں میں بھی آنسو جھلملارہے تھے۔
v…٭…v
دوسری صبح کرن حماد نے اٹھتے ہی اپنے ماہر نفسیات کوفون ملایاتھا۔
’’ڈاکٹر بدر آفس؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’یس پلیز۔‘‘ دوسری طرف سے نسوانی آواز سنائی دی۔
’’سعدیہ! پلیز کیااس وقت ڈاکٹر بدرمجھ سے بات کرسکتے ہیں؟‘‘
’’میں چیک کرتی ہوں۔‘‘
چندلمحوں میں ڈاکٹر بدر سے رابطہ ہوگیاتھااور کرن نے بڑی عجلت میں اس سے بات کی تھی۔
’’ڈاکٹر بدر میں چاہتی ہوں آپ فوراً ہی میرے لیے ایک سیشن شیڈول کرلیں۔‘‘
’’کرن‘ یہ بہت نامناسب ہے کہ جب ہم حال ہی میں مل چکے ہیں تو اتنی جلدی دوبارہ سیشن کریں۔‘‘
’’نہیں‘ میرے لیے نہیں بلکہ میںکمال کو لانا چاہتی ہوں‘ وہ کل رات گھر سی غائب ہوگیاپھراس نے اپنے ہیڈ ماسٹر کے گھر پرجگہ جگہ ٹوائلٹ پیپرز لگادیئے اور… گھر آکر وہ مجھ سے میری اور اپنی فیملی کے بارے میں پوچھ رہاتھا۔‘‘
’’اچھا‘ کیا تم سات بجے تک یہاں آسکتی ہو؟‘‘
’’ہاں‘ میں آجائوں گی تمہارا شکریہ ڈاکٹر۔‘‘
’’کرن‘ میں تمہیں پہلے بھی بتاچکاہوں کہ کمال اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتا جب تک تم اپنا مسئلہ حل نہیں کرلیتیں۔‘‘ڈاکٹر بدر نے کہا۔
’’ڈاکٹر میراباس مجھے پسند نہیں کرتااور اگراسے یہ پتہ چل گیا کہ میں کسی ماہر نفسیات کے علاج میں ہوں تووہ مجھے ملازمت سے نکال دے گا پھرمیں کیا کروں گی؟‘‘
’’تم مجھ سے شادی کرسکتی ہو اور میں تمہاری تھراپی گھر پرہی کردیاکروں گا۔‘‘ڈاکٹر بدرنے مزاحیہ انداز میں کہا وہ اس سے اکثر ایسے مذاق کرتارہتاتھا۔
’’خدا کے لیے یہ مذاق بند کرو اور اب مجھے مزید پھول بھی مت بھیجنا۔‘‘
’’اب بہت دیر ہوچکی ہے کرن اب واپسی ممکن نہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے ذومعنی انداز میں کہا۔
’’ہم تم سے سات بجے ملیں گے پھر بات ہوگی… خدا حافظ۔‘‘ کرن نے فون بند کرتے ہوئے کہا پھراس نے اپنی انگلیاں اپنے بالوں میں پھیری تھیں اور بالوں کو شانوں پربکھراتے ہوئے اس کی نظریں اپنے بالوں میں موجود سفید لٹ پرپڑی تھیں جوبہت عرصے سے یونہی موجود تھی لیکن اسے یاد نہیں تھا کہ سفید لٹ اس کے سیاہ بالوں میں کب سے موجود تھی اس نے بے پروائی سے کاندھوں کوجنبش دی اور بال درست کرکے سیڑھیاں اترتی نچلی منزل کی طرف گئی جہاں بیرونی دروازے کے قریب ہی فرش پر اسے ایک گلاب کاپھول پڑانظر آیا جسے وہ کچھ دیر تک دیکھتی رہی اس کے چہرے پرناگواری تھی اب تک تواس کے آفس میں اس کی میز پراسے گلاب کاپھول رکھاملتاتھا لیکن اب یہ اس کے گھرتک بھی آگیاتھا‘اس نے ناگواری سے پھول کو ایک ٹھوکرسے ایک طرف کیا وہ سوچ رہی تھی کہ اگر یہ حرکت ڈاکٹر بدر بھی کررہاہے تب بھی یہ مناسب نہیں ہے ۔
v…٭…v
شہرکے بڑے پولیس اسٹیشن میں آفیسر مرد اور عورتیں اپنے یونیفارم میں موجود تھے ان میں کچھ لوگ سادہ لباس میں بھی تھے ان کے درمیان سراغرساں پرویز جہانگیر اور جوادحسین بھی تھے وہ ایک بڑے ہال میں موجود تھے۔
’’سب لوگ دھیان سے میری بات سنیں‘ کیپٹن ولید احمد نے باآواز بلند کہااور سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’سنسان سڑکوں پر ہونے والے واقعات حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں ان میں اب تک دو لوگ مارے جاچکے ہیں اور گیارہ شدید زخمی ہوئے ہیں یہ سب ڈکیتی‘ شوٹنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ہوا ہے۔‘‘ کیپٹن نے خاموش ہو کر اطراف کاجائزہ لیاسب بغور اسے سن رہے تھے۔
’’پچھلے ایک مہینے میں سڑکوں سے تین عورتوں کواٹھالیاگیا اوران پر تشدد کیا گیابعد میں وہ زخمی حالت میں ملیں‘ آج صبح بھی ایک لڑکی غائب ہونے کی رپورٹ لکھوائی گئی ہے‘ وہ کلب سے واپس گھر جانے کے لیے نکلی تھی لیکن اپنی کار تک بھی نہ پہنچ پائی وہ غائب ہے ۔‘‘
’’ہمارے چیف ان حالات کی وجہ سے پریشان ہیں او ران معاملات کوجلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔ میں چاہتاہوں کہ علاقے میں سادے کپڑوں اور یونیفارم والے لوگوں کی تعداد بڑھادی جائے‘ اس پر ابھی سے عمل درآمد ہوگا آگے کی تفصیلات آپ کوسراغرساں پرویز جہانگیر بتائیں گے۔‘‘ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد کیپٹن ولید اپنے کمرے میں چلاگیااور سراغرساں پرویز نے اس کی جگہ سنبھال لی۔
’’سنسان سڑکوں پر ہونے والے واقعات سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ کسی ایک فرد کاکام ہے لیکن ہمیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں بس اتنا جانتے ہیں کہ اس کی کالے رنگ کی وین ہے جس میں کارپٹ بچھاہوا ہے‘ ان واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اور شدت بھی آرہی ہے۔‘‘ پرویز جہانگیر نے کہاپھراس نے مختلف آفیسرز کی ڈیوٹیاں مختلف علاقوں میں لگائی تھیں۔
’’سب اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور کسی بھی غیر فطری واقعے پر مجھے اطلاع دیں جواد حسین مجھے اسٹ کریں گے۔‘‘
اسی صبح دس بجے ایک پولیس آفیسر اپنی ڈیوٹی کے دووران ایک بندگیراج کے پیچھے ایک خالی عمارت کے قریب واقع کوڑا گھر کے پاس سے گزررہاتھا کہ اسے ایک نسوانی آواز سنائی دی۔
’’مدد… مدد کرو… کوئی میری مدد کرو۔‘‘ پولیس آفیسر نے چونک کر چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا اچانک آواز پھرسنائی دی۔
’’میری مدد کرو۔‘‘ اس نے آواز کی سمت کااندازہ کرکے ایک طرف دیکھا وہ آواز کچرے کے کنٹینر سے آرہی تھی پولیس آفیسر نے حیرت سے ادھر دیکھا۔
’’تم کہاں ہو؟‘‘
’’کچرے کے کنٹینر میں۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ پولیس آفیسر کے منہ سے نکلا اور اس نے آگے بڑھ کر کنٹینر کاڈھکن اٹھایااس کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی اس کے سامنے ایک نوعمر لڑکی پھٹے ہوئے لباس میں زخمی حالت میں کنٹینر میں پڑی تھی۔
’’مجھے یہاں سے نکالو۔‘‘ اس نے روتے ہوئے کہااس کاچہرہ سوجاہواتھا اور جسم پر بھی جگہ جگہ نیل پڑے تھے۔
’’تم حرکت مت کرو‘ میں کسی کومدد کے لیے بلاتاہوں۔‘‘ اس نے کہااور جیب سے موبائل نکال کر نمبر ڈائل کیے۔
’’میں انسپکٹر طارق بول رہاہوں‘ فوراً ایک ایمبولینس یہاں بھیج دو۔‘‘ اس نے جگہ کاپتہ بتاتے ہوئے کہااور فون رکھ کر لڑکی کونکالنے میں مصروف ہوگیا کچھ ہی دیر میں اس نے لڑکی کونکال لیاتھااسی وقت ایمبولینس بھی آگئی تھی اور وہ جیسے ہی پیچھے مڑاتھااس کی نظر ٹی وی کیمرے پرپڑی تھی۔
’’اوہ حامد تم …؟ تم ایمبولینس کے ساتھ ساتھ یہاں کیسے پہنچ گئے۔‘‘ انسپکٹر طارق نے حیرت سے کہا۔
اور کیمرہ مین حامد اسے دیکھ کر ہنسنے لگا وہ ایک مشہور ٹی وی چینل کارپورٹر تھا۔
’’ہاں میں‘ تم نے اسے کیسے ڈھونڈا؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’تم یہ بتائو کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے۔‘‘ انسپکٹر طارق نے اپنی بات دہرائی۔
’’اس کاجواب ہے کارکردگی اور قسمت جناب۔‘‘ حامد نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’لیکن میر امشورہ ہے کہ جب تک ہم کام کررہے ہیں تم یہاں سے چلے جائو۔‘‘ انسپکٹر طارق نے حامد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہااور ایمبولینس کے عملے کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’اسے میں نے ابھی کچرے کے کنٹینر سے نکالا ہے۔‘‘ ا نسپکٹر طارق نے ایمبولینس کے عملے کوبتایا تو ایک کارندے نے ایمبولینس میں سے ایک کمبل نکال کر لڑکی کے جسم کوڈھانپ دیا اسی وقت سراغرساں پرویز اپنے اسسٹنٹ جواد حسین کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔
’’ہائے پرویز۔‘‘ حامد نے دور سے ہاتھ ہلا کرسراغرساں کوخوش آمدید کہا ساتھ ساتھ وہ لڑکی کی تصویریں بھی لیتاجارہاتھا‘ جسے ایمبولینس میں ڈالا جارہاتھا‘ کچھ دیربعد ایمبولینس وہاں سے چلی گئی تھی۔
’’اگر تم کچھ دیر کنٹینر کے قریب ہی کھڑے رہوتو میں تمہاری کچھ تصویریں بنالوں۔‘‘ حامد نے انسپکٹر طارق سے کہا جوناگواری سے اسے دیکھ رہاتھا۔
’’تم پاگل تو نہیں ہو؟ یہاں کتنی گندگی اور لال بیگ ہیں‘ کیسی بدبو آرہی ہے ایسا کرو کہ تم یہاں آجائو اورمیں تمہاری تصویریں بنادیتاہوں۔‘‘ انسپکٹر طارق نے کہااور سراغرساں اس کی بات پرمسکرانے لگا وہ جانتاتھا کہ رپورٹر حامد اور انسپکٹر طارق کی نوک جھونک یونہی چلتی رہتی تھی۔
’’دیکھو انسپکٹر میں تمہیں ایک ہفتے تک مفت کافی پلائوں گا اگر تم بتادو کہ اس لڑکی نے تمہیں کیابتایاہے؟‘‘حامد نے اس سے پوچھا دراصل وہ اپنی رپورٹ کے لیے مواد جمع کرناچاہتاتھا۔
’’میںنے اس سے کچھ نہیں پوچھا؟ تم اس ڈاکٹر سے پوچھنا جو اسے یہاں سے لے گیاہے۔‘‘
’’کیااس لڑکی نے اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کے بارے میں تمہیں کچھ بتایا ہے یامجرم کا کوئی حلیہ وغیرہ؟‘‘ حامد نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’تم اتنے بے چین کیوں ہو؟‘‘ انسپکٹر طارق نے الجھتے ہوئے کہا۔
’’اس علاقے میں تین واقعات ہوچکے ہیں۔‘‘
’’میری اس سے بات ہوئی ہے۔‘‘ انسپکٹر طارق نے کہا۔
’’کس بارے میں؟‘‘
’’یہ میں تمہیں نہیں بتاسکتامیں اپنی رپورٹ میں لکھوں گا بس۔‘‘
’’مت بھولو میںنے کچرا کنٹینر سے نکالتے ہوئے تمہاری ویڈیو بنالی ہے میں وہ چینل پرچلادوں گا۔‘‘ حامد نے بظاہر دھمکی دی۔
’’کیاتم نہیں جانتے کہ بلیک میل کرنا قانون کے خلاف ہے میں چینل 10 کے خلاف کارروائی کرسکتاہوں اور تمہاری اس حرکت کی وجہ سے تمہیں جیل بھجواسکتاہوں۔‘‘ انسپکٹر طارق نے غصے میں کہا۔
’’اچھاتم جیت گئے ۔‘‘ حامد نے ہارمانتے ہوئے کہا۔’’میں تمہاری کوئی ویڈیو نہیں چلائوں گا لیکن تم میرے ایک سوال کا جواب تودے ہی سکتے ہو تمہارے خیال میں اسے یہاں کس نے ڈالاہوگا۔‘‘
’’میں کیا کہہ سکتاہوں تم سراغرساں پرویز سے یہ بات پوچھ لو وہی اس کیس کی تحقیقات کررہے ہیں۔‘‘ انسپکٹر نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے کہا۔
’’میں ان سے بھی پوچھ لوں گا لیکن تم کوہی وہ لڑکی ملی ہے تم اپنی رائے توبتائو تمہارا اندازہ کیا کہتاہے؟‘‘
’’تم اس لڑکی ہی کے پیچھے کیوں پڑگئے ہواور بھی خبریں ہیں شہر میں ان پرکام کرو۔‘‘ انسپکٹر نے کہا اور حامد سراغرساں کی طرف بڑھ گیا جواب کچراکنٹینر کاجائزہ لے رہاتھا۔
’’کیا عورتوں پرتشدد کے واقعات میں سے کوئی کیس حل ہوا؟‘‘ اس نے سراغرساں پرویز سے سوال کیا لیکن پرویز نے اس کے سوال کا جواب نہیں دیاتھا۔
’’پرویز تمہارا کیا خیال ہے کیا ہمیںکسی سیریل کلر کا سامنا ہے؟‘‘ اس نے دوسرا سوال کردیااور ساتھ ہی ویڈیو بنانے کے لیے اپنا کیمرہ آن کردیا۔
’’میں نہیں جانتا۔‘‘ پرویز نے خشک لہجے میں کہا۔ ’’اور اپنا یہ کیمرہ بند کرو۔‘‘
’’اب تک جو ثبوت ملے ہیں ان کا کیا ہوا؟‘‘ حامد نے ایک اور سوال کردیا۔’’یہ علاقہ بدنام ہوچکاہے اب تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا مجھے پتہ ہے کچھ دن بعد اس کیس کی فائلیں بند ہوجائیں گی اورسرد خانے میں ڈال دی جائیں گی… مجھے بتائو کیمرے کے سامنے بتائو کہ وہ لڑکی کیسے ملی ؟‘‘
’’نہیں ۔‘‘ سراغرساں نے سخت لہجے میں کہا۔
’’اوہ‘ تم پریشان کیوں کررہے ہو مجھے معلومات کیوں نہیں دیتے؟‘‘ حامد نے غصے سے کہا۔
’’تم انسپکٹر طارق سے بات کرو میں لیب کے اسٹاف سے بات کرنا چاہتاہوں۔‘‘ سراغرساں پرویز نے کہااور اپنی کار کی طرف بڑھ گیا حامد پھر طارق کی طرف متوجہ ہوگیاتھا۔
’’اوہ تمہیں میری ضرورت نہیں ہے جائو اپنے کیمرے کے ساتھ لڑکی سے جاکر خود بات کرلو۔‘‘ طارق نے غصے سے کہا۔
’’دیکھو میری مجبوری کوسمجھو مجھے اپنے چینل کو رپورٹ کرنی ہے اور میری اسٹوری اس وقت تک ادھوری ہے جب تک تم یہ نہیں بتاتے کہ لڑکی تمہیں کیسے ملی ؟‘‘
’’اچھاٹھیک ہے لیکن تم مجھ سے صرف یہ پوچھو گے کہ مجھے وہ کیسے ملی؟ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘‘ انسپکٹر طارق نے اپنی پتلون اپنی توند پرچڑھاتے ہوئے کہا گویا کیمرے کاسامنا کرنے کی تیاری کررہاہو‘ حامد نے بھی موقع غنیمت جان کرچند قدم پیچھے ہٹ کرکیمرہ اس پرفوکس کردیاتھااور ریکارڈنگ کابٹن دبادیاتھا۔
’’چلو شروع ہوجائو۔‘‘
’’میں یہاں معمول کے گشت پر تھا ہمارے پاس ایک کلب سے غائب ہوجانے والی لڑکی کی رپورٹ تھی اچانک میں نے لڑکی کے کراہنے اور مدد مانگنے کی آواز سنی … ‘‘ انسپکٹر طارق نے کہنا شروع کیا پھراس نے لڑکی کے ملنے کی ساری تفصیل بتادی تھی اور حامد ویڈیو بناتارہاتھا۔
v…٭…v
’’ہمارے معاشرے میں جرائم بڑھتے جارہے ہیں لیکن اتوار کی رات کو تو انتہا ہی ہوگئی۔‘‘ کرن حماد بولتے بولتے رکی اور چند لمحے تک کیمرے کوگھورتی رہی‘ ایک نوجوان لڑکی کوایک کچراکنٹینر میں ٹھونس دیاگیا‘ جیسے وہ بھی کوئی کچرا ہوکیاعورت کی اس معاشرے میں یہی عزت ہے ؟باقی تفصیل دس بجے کی خبروں میں ملاحظہ کیجیے … میں کرن حماد کیمرہ مین حامد کے ساتھ کراچی سے ۔‘‘ کرن نے کہااور اپنے کان میں لگاایئرفون نکال دیا پھراس نے میز کی دراز میں رکھا اپنا پرس نکالاتھااور اسٹوڈیو سے نکل گئی تھی اس کے چہرے پرپریشانی تھی اوروہ سوچ رہی تھی کہ اس کابیٹا کمال اسپتال میں کیوں ہے ؟ اسی وقت کوریڈور میں اس کاسامنا فلور ڈائریکٹر مس کشور سے ہوگیا جولمبی اور صحت مند جسم کی مالک تھی اس کے چہرے سے بھی پریشانی جھلک رہی تھی۔
’’اوہ تم نے بہت اچھی پرفارمنس دی ہے۔‘‘ کشور نے کرن کی تعریف کی۔
’’ہوں‘ لیکن تمہارے چہرے پرپریشانی کیوں ہے ؟‘‘
’’تمہار اباس بہت غصے میں ہے وہ کنٹرول رول میں تھااور تم پر غصہ کررہاتھا۔‘‘
’’یہ کون سی نئی بات ہے … و ہ مجھے پسند نہیں کرتا میں جانتی ہوں۔‘‘ کرن نے بددلی سے کہا۔
’’لیکن اس نے تمہیں بلوایا ہے وہ بہت غصے میں ہے ۔‘‘
’’وہ انتظار کرسکتا ہے… مجھے ایک فیملی مسئلہ درپیش ہے۔‘‘ کرن نے کہااور آگے بڑھی۔
’’سنوتو… شہر میں کوئی اور نیا حادثہ ہوا ہے‘باس شجاع الدین تمہیں اپنے آفس میں بلارہاہے۔‘‘ کشور نے کہا۔
’’میں ابھی اس سے نہیں مل سکتی کشور تم اسے بتادو۔‘‘
’’تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے نیوز ڈپارٹمنٹ کاہرکام کتنا اہم ہوتا ہے تم اس کی بات نہیں سنوگی تو وہ تمہیں ملازمت سے نکال دے گا۔‘‘ کشور نے سمجھایا۔
’’اس وقت میرے بیٹے کومیری زیادہ ضرورت ہے اوراس کے سامنے یہ ملازمت میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔‘‘ کرن نے غصے سے کہا۔
’’تمہارے بیٹے کوباپ کی ضرورت ہے تمہاری نہیں۔‘‘ کشور بھی غصے سے بولی۔
’’اس معاملے میں تم مت بولو کشور۔‘‘ کرن نے کہااور رفتار بڑھادی۔
’’اگرتم اپنی ملازمت برقرار رکھنا چاہتی ہو تو جائو باس شجاع سے مل لو تمہیں ابھی اینکر کی ملازمت کرتے ہوئے صرف ایک ماہ ہی ہوا ہے جب تم تجربہ کار ہوجائوگی تو تمہاری زیادہ اہمیت ہوگی‘ اچھاعہدہ ہوگا۔‘‘
’’تم شجاع کوبتادو میں اس سے ملوں گی لیکن لیاقت اسپتال سے واپس آنے کے بعد۔‘‘
’’اسپتال؟ کیا کمال کاکوئی ایکسیڈنٹ ہوگیاہے؟‘‘ کشور نے تشویش سے پوچھا۔
’’میں نہیں جانتی اس کے ہیڈ ماسٹر احتشام صاحب نے مجھے میسج کیاہے کہ میں انہیں لیاقت اسپتال میںملوں۔‘‘
’’وہ اسپتال میں کیوں ہے ؟‘‘
’’میں نہیں جانتی ۔‘‘
’’کیامیں تمہارے ساتھ چلوں؟‘ کشور کے لہجے میں ہمدردی آگئی تھی۔
’’نہیں‘ مجھے جانے دو اس سے پہلے کہ شجاع ادھر آنکلے تم مہربانی کرکے میرے ڈاکٹر بدر کوفون کرکے کہہ دینا کہ اپائنمنٹ کینسل کردے میں اسے پھر فون کروں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے ‘تم اسپتا ل پہنچ کرمجھے کمال کے بارے میں فون ضرور کردینا۔‘‘ کشور نے کہا۔
’’ہاں کردوں گی لیکن تم شجاع کومیری طرف سے بتادینا کہ عورتوں پرتشدد کی اسٹوری کواتنااچھالنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘
’’اوکے کہہ دوں گی ایک منٹ رکو… جب تم پروگرام کررہی تھیں تو تمہارے لیے یہ آیا تھا۔‘‘ کشور نے ایک گلاب کا پھول اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’پیلا گلاب؟‘‘ یہ کس نے بھیجا ہے؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’میں نہیں جانتی اس کی ڈنڈی کے ساتھ ایک پرچہ بھی لگاہے۔‘‘کشور نے کہا۔کرن نے اس کے ہاتھ سے گلاب لے لیااوراس میں لگا کارڈ نکال کر اپنے پرس میں رکھ دیا اور ٹی وی اسٹیشن سے باہر نکل گئی۔
ٹی وی اسٹیشن سے باہر آتے ہی اسے سردی کااحساس ہواتھا بارش بھی ابھی رکی تھی اور ہوائیں سرد تھیں اس نے اپنا کوٹ اچھی طرح بند کیااور اپنی کار میں آبیٹھی پھراسے اسپتال پہنچنے میں آدھا گھنٹے سے زیادہ نہیں لگا تھا لیکن اس نے محسوس کیاتھا کہ ایک بلوکلر کی وین برابر اس کے پیچھے سفر کر رہی تھی جیسے اس کاتعاقب کررہی ہو اسپتال پہنچی تو اس کی ملاقات سب سے پہلے ہیڈ ماسٹر احتشام سے ہوئی تھی جو اپنے چھوٹے قد اور بھاری بدن کے ساتھ وہاں موجود تھے‘ اس وقت انہوںنے کالاسوٹ پہناہواتھاکرن کودیکھتے ہی انہوںنے اپنی آنکھوں پرٹکا چشمہ درست کیاتھا۔
’’مسٹر احتشام‘ کمال کہاں ہے ؟‘‘ کرن نے عجلت میں پوچھا۔
’’مسز حماد‘ میں نے آپ کو ایک گھنٹے پہلے میسج کیاتھا۔‘‘ ہیڈماسٹر نے ناگواری سے کہا۔
’’میں’آن ایئر‘ تھی جیسے ہی فارغ ہوئی ہوں آگئی ہوں۔‘‘
’’مجھے بھی بہت سے ضروری کام نمٹانے ہوتے ہیں مسز حماد میرے پاس فالتو وقت نہیں کہ یہاں آپ کاانتظار کرتا رہوں۔‘‘
’’کمال ٹھیک تو ہے ؟‘‘ کرن نے ہیڈ ماسٹر کی بات کاجواب دینے کے بجائے پوچھا۔
’’ہاں‘ مسز حماد‘ یہ گرین فیلڈ اسکول کے قانونی مشیر مسٹر سلیم احمد ہیں‘ آپ ہمارے ساتھ آئیں تاکہ ہم بیٹھ کربات کرسکیں۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے کہا۔
’’کیامطلب ؟‘‘ کرن نے کہا لیکن ہیڈ ماسٹر نے اس کی بات کاجواب نہیں دیاتھااور چلتا ہوا ایک کمرے میں داخل ہوگیا کرن اور سلیم احمد نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
’’مسٹر احتشام آپ نے کہا کہ کمال ٹھیک ہے تو پھر آپ نے مجھے اسپتال میں کیوں بلایا؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’آپ کو اطلاع دینے کے لیے کہ کمال اب ہمارے اسکول کاطالب علم نہیں ہے یہ رہااس کاٹرمینیشن لیٹر۔‘‘ ہیڈماسٹر نے ایک پیپر کرن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’لیکن کیوں ؟‘‘
’’گرین فیلڈ اسکول ایک معیاری اسکول ہے۔‘‘ اس بار جواب قانونی مشیر سلیم احمد نے دیاتھا۔’’ اور وہاں شہر کی بہترین فیملیز کے بچے پڑھتے ہیں اور قانونی مشیر ہونے کے ناتے یہ میری ذمے داری ہے کہ میں گرین فیلڈ کادفاع کروں‘ آپ اور آپ کابیٹا اسکول کے معیا رپر پورے نہیں اترتے چنانچہ ہم آپ کو اسکول کیمپس میں داخلے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘
’’کیایہ کل رات ہونے والے واقعے کی وجہ سے کیا گیاہے؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’ایک وجہ وہ بھی ہے لیکن آج تواس نے حد کردی۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے کہا۔
’’کیامطلب؟ اس نے کیا کیا ہے ؟‘‘
’’یہ بات آپ کو پولیس اور مسٹر فرقان کاوکیل ہی بتائے گا۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے کہااور دروازے کی طرف بڑھا لیکن کرن اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
’’میرابیٹا کہاں ہے ؟‘‘
’’اتناچراغ پاہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کابیٹاویٹنگ روم میں ہے مجھے جانے دیں۔‘‘ ہیڈماسٹر نے کہااوراسے اپنے سامنے سے ہٹایا۔
’’مجھے بتائو کیا ہوا ہے ؟‘‘ کرن نے ضدی لہجے میں کہا۔
’’اس نے لڑائی کی ہے‘ تمہیں پولیس کی رپورٹ میں سب مل جائے گا۔‘‘
’’پولیس…؟‘مسٹر احتشام آپ اسکول میں ڈسپلن کے لیے ذمہ دار ہیں آپ نے ایسا کیوں ہونے دیا۔‘‘
’’میرے علم میں آنے تک تمہارے بیٹے نے ایک اسٹوڈنٹ کوزخمی کردیاتھا۔‘‘
’’اسٹوڈنٹ کتنازخمی ہوگیا ہے؟ کیااس پر کوئی کارروائی کرنے سے پہلے بات نہیں ہوسکتی تھی ؟‘‘ کرن نے پوچھا اس کی آواز تیز ہوگئی تھی قریب سے گزرتے ہوئے کچھ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
’’اوہ کیا یہ کرن حماد نہیں ہے ؟ وہی چینل10 نیوز والی اینکر۔‘‘ ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا۔
’’ہاں‘ وہ دیکھواس کے بالوں میں ایک سفید لٹ موجود ہے جو اس کی خاص نشانی بن گئی ہے۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا کرن سنبھل کرکھڑی ہوگئی تھی اوراس نے اپنی آواز بھی دھیمی کرلی تھی۔
’’تمہارے بیٹے نے مسٹر فرقان احمد کے بیٹے اصغر کی ناک توڑ دی ہے اورایک دانت بھی ‘ تمہیں پتہ ہے مسٹر فرقان احمد ہمارے گرین فیلڈ اسکول میں فنڈ دیتے ہیں‘ ہم ان سے تعلقات خراب نہیں کرسکتے۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے کہااور اپنے وکیل کے ساتھ وہاں سے چلاگیا۔
کرن جب ویٹنگ روم میں گئی تو کمال ایک پولیس آفیسراور اصغر کے والدین کے ساتھ وہاں موجود تھاکرن کمال سے بات کرنے کے بجائے اصغر کے والدین کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔
’’مسٹر اور مسز فرقان‘ میں کمال کی والدہ ہوں آپ کابیٹا کیساہے؟‘‘
’’وہ زخمی تو ہوا ہے لیکن اسے بھی سبق مل گیا ہے۔‘‘ اصغر کے والد فرقان احمد نے کہا۔
’’تم اس بات کواتنے معمولی انداز میں مت لو۔‘‘ مسز فرقان نے اپنے شوہر پر برستے ہوئے کہا وہ بہت غصے میں تھیں۔
’’تمہارے بیٹے کمال نے میرے بیٹے کومارا اوراس کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرایا وہ اس کی پشت پر سوار ہوگیاتھا۔‘ ‘مسز فرقان نے غصے سے کہا۔’’اگر ہیڈماسٹر نہ روکتے تو میرابیٹا تو مرہی جاتا۔‘‘
’’ایسا نہیں ہے … ضرور کچھ آپ کے بیٹے نے بھی کیا ہوگا؟‘‘ کرن نے کہااور اسی وقت وہاں موجود پولیس آفیسر نے مداخلت کی۔
’’دیکھیں آپ دونوں کچھ خیال کریں یہ اسپتال ہے۔‘‘
’’سارہ چلو…‘‘مسٹر فرقان نے اپنی بیوی کاہاتھ پکڑ کر کہااور کرن کی طرف مڑا۔
’’مجھے افسوس ہے مسز حماد کہ ہماری ملاقات ایسے حالات میں ہوئی میں اپنی بیوی کی طرف سے معذرت چاہتاہوں۔‘‘
’’تمہیں معافی مانگنے کی کیاضرورت ہے؟ میں کمال کے خلاف قانونی کارروائی کروں گی… بہت جلد میرے وکیل کا نوٹس تمہیں ملے گا۔‘‘ مسز فرقان نے دھمکی آمیز انداز میں کرن سے کہا جس کے بعد مسٹر فرقان انہیں ویٹنگ روم سے باہر لے گئے۔
’میری بات سنیں مام۔‘‘ کمال نے کہا۔
’’تم خاموش رہو‘ تم سے میں گھر جاکربات کروں گی ۔‘‘ کرن نے کہااور پولیس آفیسر کی طرف مڑی۔
’’کمال کے ہیڈماسٹر نے اسے اسکول سے نکال دیاہے اور مسز فرقان کمال کوگرفتار کروانے کی بات کررہی ہیں میں کیا کروں مجھے نہیں معلوم کہ اصل معاملہ کیاہے؟‘‘
’’بچے ہیں اتنا سنگین واقعہ بھی نہیں ہوامسزفرقان زیادہ ہی غصہ کررہی ہیں۔‘‘ پولیس آفیسر بولا۔
’’کیامیں کمال کولے جائوں؟‘‘ کرن نے آفیسر سے پوچھا۔
’’ہاں آپ لے جاسکتی ہیں اس کاداخلہ کسی اور اسکول میں کروادیں۔‘‘
’’دیکھتی ہوں کیا کرناہے۔‘‘ کرن نے کہا پھر وہ کمال کاہاتھ پکڑے اپنی کار میں آبیٹھی تھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے او روہ سو چ رہی تھی کہ کشور ٹھیک ہی کہتی ہے کمال کوباپ کی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
’’مام‘ پلیز آپ مت روئیں… میں شرمندہ ہوں ۔‘‘ کمال نے افسردگی سے کہا۔
’’نہیں‘ قصور میرا ہے‘میں نے تمہاری بات سنے بغیر ہی تمہیں قصور وار مان لیا۔‘‘ کرن نے کہااور کمال نے اس کی کار میں رکھا ہواپیلا گلاب اٹھالیا۔
’’اس مرجھائے ہوئے پھول کاآپ کیا کریں گی ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’یہ ٹی وی اسٹیشن پر کسی نے میرے لیے بھیجاتھا۔‘‘ کرن نے کہا اور پھول کے قریب رکھا کارڈ اٹھایا جس پر لکھاتھا۔ ’’مجھے معاف کردو۔‘‘ اس پر کسی کے دستخط نہیں تھے۔
’’لگتا ہے میرا کوئی پراسرار دوست ہے۔‘‘ کرن نے کہا او رکار اسٹارٹ کرکے آگے بڑھادی۔
’’کمال بتائو تم نے لڑائی کیوں کی تھی ؟‘‘
’’کیایہ پھول موٹے ڈاکٹر بدر نے بھیجا ہے؟‘‘ کمال نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے پوچھا۔
’’میںنے تمہیں منع کیا ہے ناکہ ڈاکٹر بدر کواس نام سے مت پکاراکرو۔‘‘
’’بتائیں کیااس نے بھیجا ہے؟‘‘
’’میں نہیں جانتی یہ کون بھیجتا ہے‘ جب میں پروگرام کررہی تھی تب یہ آیاتھا۔‘‘
’’یہ یقینا اس موٹے نے ہی بھیجا ہوگا۔‘‘ کمال نے غصے سے کہااور پھول کو توڑ مروڑ کر پھینک دیا۔
’’اب تمہیں سکون مل گیا؟‘‘ کرن نے پوچھا۔ ’’اب میرے سوال کا جواب دو تم نے لڑائی کیوں کی تھی؟ تم جانتے ہو‘ تمہیں اسکول جانا ہوگا۔‘‘
’’مجھے اسکول اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’دیکھو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میںتمہارے ساتھ گھر میںرہوں لیکن اگرمیں کام نہیں کروں گی تو گھر کیسے چلے گا ہمارے اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘ ہماری مجبوری ہے مجھے ملازمت کرناہے اور تمہیں اسکول جاناہے۔‘‘ کرن نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’لیکن جو آپ آفس جائیں تو میں گھرپر بھی رہ سکتاہوں۔‘‘
’’نہیں‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’کیاہیڈماسٹر واقعی مجھے اسکول سے نکال دیں گے؟‘‘
’’ہاں! اور یہ تمہارا تیسرا اسکول ہوگا جہاں سے تمہیں نکالاجارہاہے‘ میں جاننا چاہتی ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔‘‘ کرن نے کہااوراسی وقت اس کی نظریں عقبی آئینے میں اس نیلی وین پر پڑیں جو ٹی وی اسٹیشن سے روانگی کے وقت بھی اس کاپیچھا کررہی تھی۔
’’یہ وین پھر میرے پیچھے کیوں ہے؟‘‘ کرن نے زیرلب کہااور پھرکمال کی طرف متوجہ ہوگئی۔
’میری بات کا جواب دوکمال۔‘‘
’’کیایہ ضروری ہے ؟‘‘
’ہاں بہت ضروری ہے۔‘‘ کرن نے کہا لیکن کمال نے اس کی بات کا جواب نہیں دیاتھا۔
گھرپہنچنے کے بعد دونوں گھر میں داخل ہوئے تھے لیکن کرن کافی دیر تک ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے پردے کی اوٹ سے جھانک کر باہر سڑک پر دیکھتی رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کیا کسی پولیس کی پیٹرولنگ کار نے بھی اس وین کو کرن کاتعاقب کرتے نہیں دیکھا؟
’’آپ باہر کیا دیکھ رہی ہیں؟‘‘ کمال نے پوچھا۔
’’میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ میں نے کار کی لائٹیں بند کردی ہیں یانہیں۔‘‘ کرن نے جھوٹ بولا۔وہ کمال کوبتاناچاہتی تھی کہ کوئی کار صبح سے اس کے تعاقب میں ہے اچانک دوسرے کمرے میں رکھے کارڈلیس فون کی گھنٹی بجی۔
’’کمال ذرا فون اٹھاکرلائو۔‘‘ کرن نے کہااور کمال فون اٹھالایا۔
’’مام!طوفان کا فون ہے۔‘‘ کمال نے کہا۔
’’بری بات کمال‘ میں نے تمہیں منع کیا ہے کہ تم انہیں ایسے مت پکاراکرو‘ وہ بڑی ہیں اور بڑوں کاادب کرتے ہیں۔‘‘ کرن نے کہااور فون کمال کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’کیاکمال ٹھیک ہے ؟‘‘ دوسری طرف سے کشور کی آواز سنائی دی۔
’’نہیں‘ اس نے پھراسکول میں لڑائی کی تھی اور ہیڈماسٹر نے اسکول کے سرمایہ دار کو دکھانے کے لیے ایک شو منعقد کیاتھا اسپتال میں۔‘‘ کرن کے لہجے میں طنز تھا۔
’’اگرمیری مدد کی ضرورت ہوتو بتائو؟‘‘
’’نہیں ٹھیک ہے میں کل آکر بات کروں گی۔‘‘ کرن نے کہااور فون بند کردیا پھراس نے کمال سے بات کی تھی اور اسے سمجھادیاتھا کہ اسکول جانااس کے لیے ناگزیر ہے وہ کسی حالت میںاس کی تعلیم نہیں روک سکتی۔
’’میں تمہیں کسی دوسرے اچھے اسکول میں داخلہ دلوادوں گی۔‘‘
’’اوراگر انہوںنے بھی مجھے قبول نہ کیا؟‘‘
’’تم کیا چاہتے ہو کھل کر بتائو۔‘‘ کرن نے تنگ آکر پوچھا۔
’’میں چاہتاہوں کہ دوسروں کی طرح ہماری بھی ایک فیملی ہو۔‘‘
’’کیایہی وجہ ہے کہ تم لڑتے ہو؟‘‘
’’مجھے نیند آرہی ہے کل بات کریں گے کمال نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
’’وعدہ۔‘‘ کرن نے پوچھا وہ بھی اس وقت بات بڑانا نہیں چاہتی تھی۔
’’ہاں‘ وعدہ۔‘‘
v…٭…v
دوسری صبح کرن نیوزکے آفس پہنچی تو بڑی جلدی میں تھی وہ فوراً اپنے نیوز ڈائریکٹر شجاع الدین سے ملنا چاہتی تھی تاکہ ایک روز پہلے ہونے والی غلط فہمی کودور کیاجاسکے یہ ملازمت اس کی ضرورت تھی۔
’’ارے ارے اتنی جلدی میں کدھر جارہی ہوں۔‘‘ دوست کشور نے اسے راستے میں روک لیا۔
’’آج تواس خوبصورت جینز اور کوٹ میں غضب ڈھارہی ہو ایک تو تم خوبصورت ہو اور پھر تمہارے یہ انداز… ہائے کاش میں لڑکا ہوتی تو تمہیں لے اڑتی۔‘‘ کشور اس وقت مذاق کے موڈ میں تھی۔
’’راستہ چھوڑوکشور مجھے ابھی شجاع سے ملناہے۔‘‘ کرن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اچھا ٹھہرو میں ذرا تمہارا معائنہ کرلوں… سب ٹھیک ٹھاک ہے کوئی کمی تو نہیں‘ ذراگھوم کر دکھائو… اچھی لگوگی تو باس کاموڈ بھی ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’کشور یہ باتیں پھر کرلینا… کل میں پروگرام چھوڑ کر چلی گئی تھی شجاع کاغصہ عروج پر ہوگاآج بھی دیر میں پہنچی تو معافی نہیں ملے گی۔‘‘ کرن نے وضاحت کی۔
’’ڈرومت‘ پروفیشنل بنو‘ خوبصورت تو تم ہوہی اسے اپنی مجبوری مت بتانا بلکہ کہناکہ تم نے وقت کی ضرورت کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ لوگوں کواس خبر کے لیے انتظار کروایا جائے اس طرح ان کا تجسس بڑھے گا او رپھر جب خبر نشر ہوگی تو زیادہ تعداد اسے دیکھے گی اس سے ریٹنگ بڑھے گی اور ہاں شجاع باس ہے اس کی کسی بات سے اختلاف مت کرنا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب جانے دو۔‘‘ کرن نے کہااور اسی وقت ایک ہینڈسم نوجوان وہاں آکھڑا ہوا۔
’’ایکسکیوز می خواتین‘ کیا کوئی مجھے بتائے گا کہ شجاع الدین مجھے کہاں مل سکتے ہیں ؟‘‘
’’بتانے کے بجائے میں آپ کووہاں لے چلتی ہوں۔‘‘ کشور نے کہا۔’’میرا نام کشور ہے اور یہ کرن ہے تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ کشور خوش مزاجی سے بات کررہی تھی۔
’’میں سراغرساں پرویز جہانگیر ہوں اور میرا تعلق مقامی پولیس ڈپارٹمنٹ سے ہے۔‘‘ اس نے اپنا بیج دکھاتے ہوئے کہا۔
’’تم بات کرو میں باس سے ملنے جاتی ہوں۔‘‘ کرن نے کشور سے کہا اورشجاع الدین کے آفس کی طرف مڑ گئی۔
کمرے کے دروازے پرپہنچ کراس نے اندر جھانکاتھاایک چالیس سالہ صحت مند شخص میز کے پیچھے رکھی کرسی پربیٹھاتھااور فون پر کسی سے بات کررہاتھااس کے قریب رکھی کرسی پرملک کے مشہور اخبارات پڑے تھے ایک دیوار میں لگی الماریوں میں بہت سی کتابیں‘ ایوارڈز‘ ٹرافیز رکھی تھیںاور نیوز روم سے متصل دیوار جوشیشے کی تھی اس سے دوسری طرف سب کچھ صاف نظر آرہاتھااور درمیان میں لگا دروازہ بھی کھلاہواتھا‘ کرن اندرجانے سے جھجک رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اس کے اور شجاع کے درمیان ہونے والی گفتگو نیوز روم میں موجود لوگ بخوبی سن سکیں گے اورانہیں دیکھ بھی سکیں گے ۔
’میں نہیں جانتا تم کرسکتے ہویانہیں مجھے آج ہی اس کاانٹرویو چاہیے۔‘‘ شجاع نے فون پرچیخ کر کہا۔وہ کام کے سلسلے میں کسی سے رعایت نہیں کرتاتھااس نے ہاتھ میں پکڑا ہواریسیور کریڈل پر رکھ دیااور اپناسر کھجانے لگا۔
’’ان خاتون رپورٹرز سے تو اللہ بچائے ۔‘‘ وہ بڑبڑایااور اسی وقت کرن نے دروازے پرہلکی سی دستک دی اور اندرداخل ہوئی وہ چند قدم آگے آکررک گئی تھی۔
’’تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو؟‘‘ شجاع نے غصے سے پوچھا۔
’’جی۔‘‘
’’میںنے تمہیں چوبیس گھنٹے پہلے بلایاتھا۔‘‘
’’میرے ساتھ کچھ فیملی پرابلم تھا۔‘‘
’’اس کے لیے انتظار نہیں کیاجاسکتاتھا؟‘‘
’’میرابیٹا لیاقت اسپتال میں تھا‘‘ اس نے آنکھوں میں آنسو بھر کرکہا۔
’’کیاوہ زخمی تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’توپھرانتظار کیا جاسکتاتھا۔‘‘
’’میں جانتی ہوں۔‘‘
’’ہم ایک نیوز آپریشن چلارہے ہیں اور کچھ چینلز ہم سے اس مقابلے میں صرف دو پوائنٹ پیچھے ہیں اورتم سنجیدہ نہیں ہو کیاواقعی تم صحافی بننا چاہتی ہو؟ اگر ہاں تو پھرکام بھی صحافی کی طرح کرو۔‘‘
’’میں جانتی ہوں آپ مصروف ہیں‘ اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو میں پھرآجائوں گی۔‘‘ کرن نے کہا توشجاع کے چہرے پر نرمی کے آثار نظر آنے لگے۔
’’تم نے لڑکیوں پر تشدد والی اسٹوری کیوں کور نہیں کی ؟‘‘ شجاع نے قدرے نرم لہجے میں پوچھا۔
’’میرے خیال میں ایسا کرناٹھیک نہیں تھا۔‘‘ کرن نے کہا۔
’’کیامطلب؟ تم کہنا کیاچاہتی ہو؟‘‘
’’بچے بھی ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘
’’لیکن خبریں تو نشر کرنا ہی ہوتی ہیں بھلا خبروں سے اس کاکیاتعلق ؟‘‘
’’بچے حساس ہوتے ہیں وہ ایسی خبروں سے اثر لے سکتے ہیں… وہ معاشرے کی غلط تصویر ذہن میں بٹھاسکتے ہیں۔‘‘
’’میری بلاسے‘ کیاتمہاری جرنلزم کی کلاس میں تمہیں یہی پڑھایاگیاتھا؟ لوگوں کاحق ہے کہ انہیں سچائی بتائی جائے۔‘‘شجاع نے ایک ایک لفظ پرزور دیتے ہوئے کہا۔
’’مجھے صرف جنسی تشدد کی خبروں پراعتراض ہے۔‘‘ کرن نے کہااسے اپنی جرات پرخود بھی حیرت ہو رہی تھی۔اور شجاع بھی اسے غیریقینی انداز سے دیکھ رہاتھا۔
’’مجھے سکھایاگیاہے کہ لوگوں تک سچی خبریں پہنچائی جائیں لیکن ہمیں جنسی تشدد کاشکار ہونے والی لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کابھی خیال رکھناچاہیے‘ کہ ایسی خبروںسے ان پر کیا گزرے گی۔‘‘ کرن نے کہا۔ ’’اور بچے …‘‘
’’بس کرو کرن … ہماری پہلی ترجیح ہمارے اسٹاک ہولڈرز ہیں جتنا زیادہ ہمارا چینل دیکھاجائے گااتنی ہی ریٹنگ بڑھے گی اتنے ہی اشتہار ملیں گے اور ڈالرز میں کمائی ہوگی‘ ہمارا فرض ہے کہ خبریں ڈھونڈیں اورانہیں من وعن پیش کردیں اس سے قطع نظر کہ کون دیکھ رہا ہے یہ ایک کاروبار ہے۔‘‘
’’کاروبار؟‘‘ کرن نے حیرت سے کہا۔
’’ہاں‘ میں نیوز ڈائریکٹر ہوں اوراگر میں کہہ رہاہوں کہ یہ کاروبار ہے تو ہے‘ تم کچھ نہیں ہوسوائے ان خبروں کو پیش کرنے والی کے‘ تم میرے چینل کے لیے کام کرتی ہومیں چاہوں تو تمہیں نکال باہر کرسکتاہوں۔‘‘
’’چینل سے میرا کانٹریکٹ پرائم ٹائم نیوز اینکر کاہے۔‘‘ کرن نے اپنے غصے پرقابو پاتے ہوئے کہا ۔
’’کیا؟ کیاکہا۔‘‘ شجاع غصے میں آپے سے باہر ہوگیا ۔’’وہ کانٹریکٹ تمہاری ملازمت بچاسکتاہے لیکن تم اس ڈیپارٹمنٹ کے لیے کام کروگی اور تمہیں اسائنمنٹ میں دوں گا تمہاری خبروں کی نشریات صرف تیس منٹ کی ہیں باقی وقت میں تم ایک سڑکوں پر پھرنے والی رپورٹر ہوگی تم ایساکرنے پر مجبور ہوگی تمہیں پتہ چلناچاہیے کہ ایک صحافی کے لیے صرف خوبصورت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اور بھی بہت مشقت کرناپڑتی ہے تمہیں ہر پیش آنے والے واقعے کی رپورٹنگ کرناہوگی‘ چاہے وہ کیساہی چھوٹے سے چھوٹا واقعہ ہو کسی چھوٹی سی تقریب میں فیتہ کاٹنے سے لے کر شہر کی سیاسی تقریب کی کورنگ تک۔‘‘ شجاع کاغصہ عروج پرتھا۔
’’شکریہ شجاع صاحب۔‘‘ کرن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ؟ یہ کیا بکواس ہے میں تمہیں ڈانٹ رہاہوں اور تم…‘‘
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ شام کی خبروں میں کسی تجربہ کاراینکر کوہوناچاہیے ‘ میں اس کام میں دلچسپی رکھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ آپ میری رہنمائی اور اصلاح کریں میں وعدہ کرتی ہوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے تجربہ حاصل ہوگااور آپ کو ایک تجربہ کار اینکر ملے گی۔ میری صحافت کی ڈگری مجھے اس ملازمت کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ آپ کااطمینان اور رضامندی ضروری ہے اورمیں رپورٹنگ کاکام دینے پر بھی آپ کی مشکور ہوں مجھے واقعی ایسی پریکٹس کی ضرورت ہے۔‘‘ کرن نے عقلمندی سے صورت حال کوسنبھالنے کی کوشش کی‘ شجاع الدین اس کے رویے پرحیرت زدہ اور خوش نظر آرہاتھا۔
’’لیکن میں اگلے پیر سے پہلے کام شروع نہیں کرسکتی۔‘‘ کرن نے جلدی سے کہا۔
’’کیوں؟ اس کی وجہ ؟‘‘
’’میرابیٹا کمال اسکول میں لڑنے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیاگیا ہے وہ گھر پراکیلا ہے میں اس کاداخلہ کسی دوسرے اچھے اسکول میں کروانا چاہتی ہوں تاکہ یکسوئی سے کام کرسکوں۔‘‘ کرن نے کہااور شجاع نے انٹر کام کابٹن دبا کر ہانک لگائی۔
’’حامد‘ میرے آفس میں آئو۔‘‘ شجاع کی بات ختم ہوئی تو کرن نے مڑ کردروازے کی طرف دیکھا حامد اپنے کیمرے کے ساتھ نیوزروم سے شجاع کے آفس میں داخل ہو رہاتھااندرآتے ہوئے اس نے کرن کو بھی سلام کیااوراس کے قریب ہی کھڑا ہوگیا۔ وہ شجاع کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہاتھا۔
’’حامد؛ اب سے کرن تمہارے ساتھ تمہاری گاڑی میں رپورٹنگ پرجایا کرے گی۔‘‘ شجاع نے کا۔
’’شجاع یہ مت کرو تمام پولیس والے مجھ پربھروسہ کرتے ہیں‘ ہم میں بے تکلفی ہے وہ مجھ سے اور میں ان سے تعاون کرتاہوں‘ ہمارے ساتھ ایک عورت ہمارے کام میں خلل کے سوااور کچھ نہیں ہوگی ہمیں اپنی ہر بات سوچ سمجھ کرکرناہوگی‘ ہم بے تکلفی سے گفتگو نہیں کرسکیں گے۔‘‘
’’تواس کوسکھائو کہ ایک رپورٹر کیسے بناجاتاہے۔‘‘ شجاع نے کہا۔
’’مجھ پررحم کرو میرے کام کومشکل مت بنائو تمہیں پتہ ہے کوئی حادثہ ہو تو پولیس کی وجہ سے مجھے فوراً اطلاع مل جاتی ہے اور میں واقعے کی تصویریں اور ویڈیو بنا کروہاں سے چلاآتا ہوں‘ اس سے پہلے کہ دوسرے چینل کے رپورٹر وہاں پہنچیں وہ کام کومشکل بنادیتے ہیں۔‘‘
’’لیکن میرے خیال میں کرن کوتمہاری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘
’’کیایہ اب بھی شام کی خبریں پیش کرے گی؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘
’’تو یہ نہیں ہوسکتا نیوز کا کوئی شیڈول نہیں ہوتا کوئی بھی ہنگامی خبر کبھی بھی آسکتی ہے۔‘‘
’’یہ پیر سے تمہارے ساتھ کام شروع کررہی ہے بس۔‘‘ شجاع کچھ سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔
’’ٹھیک ہے ۔‘‘
’’کیامیں گھر جاسکتی ہوں ‘مجھے کمال کی فکر ہے۔‘‘ کرن نے شجاع سے کہا۔
’’کیا وہ بیمار ہے ؟‘‘ شجاع نے پوچھا۔
’’نہیں‘ میں نے بتایانامیں اس کا داخلہ کسی دوسرے اسکول میں کروانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’حامد‘ کیاتم پاک سٹی اسکول میں کسی کوجانتے ہو؟‘‘ شجاع نے حامد سے پوچھا۔
’’ہاں چند لوگوں کوجانتاہوں۔‘‘
’’کرن اوراس کے بیٹے کوساتھ لے جائواوراس کاداخلہ کروادو… اور آج رات کی خبر ضرور نشر ہونا چاہیے کرن وہی کچراکنٹینروالی ہم اب بھی اسے ٹیلی کاسٹ کرسکتے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ کرن نے کہااور پھر وہ حامد کے ساتھ شجاع کے آفس سے نکل گئی تھی اس کے بعد اس نے کچراکنٹینر کی خبر کے لیے جائے حادثہ پرجاکرخبر کی ویڈیوبنوائی تھی اور پھر حامد کے ساتھ کمال کے اسکول پہنچی تھی جہاں سے اسے کمال کے کاغذات لیناتھے جونئے اسکول میں جمع کرواناتھے۔
’’اگرتم مناسب سمجھو تو میں تمہارے ساتھ اسکول کے اندر چلوں؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’نہیں‘ میں خود یہ معاملہ طے کروں گی۔‘‘کرن نے کہا ’’تم میرا یہیں انتظار کرو۔‘‘ وہ گاڑی سے اتر کراسکول میں داخل ہوئی تھی جہاں رجسٹرار آفس میں اس کی ملاقات خاتون رجسٹرارسے ہوئی تھی۔ جس نے ایک گرمجوش مسکراہٹ کے ساتھ اس کااستقبال کیاتھا۔
’’کیامیں آپ کی کچھ مدد کرسکتی ہوں؟‘‘
’’ہاں میرے بچے کاٹرانسفر دوسرے اسکول میں ہوگیاہے میں اس کے ریکارڈ کے کاغذات لینے آئی ہوں۔‘‘
’’کیا آپ اس علاقے سے شفٹ کررہی ہیں ؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’دراصل ہم اپنے طالب علموں کو کھونا نہیں چاہتے …‘‘رجسٹرار خاتون نے کہا۔ ’’آپ اپنے بچے کو کیوں لے جانا چاہتی ہیں؟‘‘
’’میں نے اس کے لیے یہی بہتر سمجھا۔‘‘ کرن نے کہااور خاتون رجسٹرار نے الماری کی دراز سے کمال کی ریکارڈ فائل نکال لی۔
’’لیکن مجھے حیرت ہے اس فائل کے ساتھ نوٹ لگا ہے کہ اسے ہیڈ ماسٹر کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔‘‘ رجسٹرار خاتون نے کہا۔
’’یہ درست کہہ رہی ہے ۔‘‘ اسی وقت ہیڈ ماسٹر احتشام کمرے میں داخل ہوئے۔
’’لیکن یہ میرے بیٹے کاریکارڈ ہے مجھے دوسرے اسکول میں جمع کراناہے۔‘‘
’’یہاں انچارج میں ہو ں جب مناسب سمجھوں گا خود ریکارڈ بھیج دوں گا تم یہاں سے جاسکتی ہوورنہ میں پولیس کوفون کروں گا۔‘‘
’’مسٹر احتشام ذرا مسکرائیے۔‘‘ کرن کے جواب دینے سے پہلے حامد اپنے کیمرے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔
’’تم کون ہو؟‘‘ احتشام تیزی سے اس کی طرف مڑا۔ ’’کیمرہ بند کرو… تمہیں یہاں تصویریں بنانے کی اجازت نہیں ہے تم ان تصویروں کو میرے خلاف استعمال نہیں کرسکتے۔‘‘
’’ہم کرسکتے ہیں یہ بھی ایک خبر ہے۔‘‘ حامد نے کہا او رکرن رجسٹرار خاتون کی میز سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔
’’حامد ویڈیو بنائو… اس ویڈیو میں لوگ دیکھیں گے کہ ایک غیر ذمہ دار ہیڈماسٹر کس طرح ایک معصوم تیرہ سالہ بچے کی زندگی سے کھیل رہا ہے‘ہاں اگر تم اسپتال میں او ریہاں جو میری بے عزتی کی اس کے لیے معافی مانگ لوتو میں حامد سے درخواست کروں گی کہ وہ یہ ویڈیو ضائع کردے۔‘‘ کرن نے کہا۔
’’تم یہی کہنا چاہتی ہو نا کرن کہ کمال کواسکول سے نکال کرہیڈماسٹر نے غلطی کی ہے او راب اسے اس کی غلطی کااحساس ہوگیاہے۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’ہاں… تم سوری کرلو۔‘‘ کرن نے ہیڈ ماسٹر سے کہا۔
’میں ایسا نہیں کرسکتاورنہ مسز فرقان بہت برہم ہوں گی۔‘‘
’مسز فرقان کی خوشنودی زیادہ اہم ہے یاگرین فیلڈ اسکول کے بورڈ کو اورسارے شہر کو یہ دکھانا کہ تم کتنے ظالم اور خوشامد پسند ہو۔‘‘ کرن نے غصے سے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں تمہیں ریکارڈ دے دوں گا پہلے تم مجھے یہ ویڈیو دو۔‘‘ احتشام نے زچ ہو کر کہا۔
’’حامد‘ مجھے ٹیپ دو۔‘‘ کرن نے حامد سے کہااوراس نے ٹیپ کرن کو دے دی۔
’’انہیں کمال کاریکارڈ دے دو۔‘‘ ہیڈ ماسٹر نے رجسٹرار خاتون سے کہااتنی دیر میں حامد دوبارہ ویڈیوکیمرہ آن کرچکاتھا۔
’’اب معافی مانگنے کاوقت ہے تم معافی مانگو تو تمہیں وہ ویڈیو ملے گی جس میں تم نے کرن کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’ٹھیک ہے مس کرن میں آپ سے معافی چاہتاہوں کہ میںنے آپ کا دل دکھایا اور آپ کے بیٹے کو بے وجہ اسکول سے نکالا۔‘‘ احتشام نے کہااس کے چہرے سے غصہ نمایاں تھاکرن کمال کاریکارڈ لے کر واپس گاڑی میں آبیٹھی تھی۔
’’تم نے کمال کردیاحامد ورنہ ہیڈ ماسٹر اتنی آسانی سے ریکارڈ دینے والا نہیں تھا۔‘‘
’’ہاں‘جب تمہیں دیر لگی تومیں تمہارے پیچھے آگیااور میں نے وہاں جومنظر دیکھا فوراً اس کو شوٹ کرنے لگا۔‘‘حامد نے جواب دیاپھر وہ دونوں پاک سٹی اسکول گئے تھے اور وہاں کمال کے کاغذات جمع کروادیئے تھے۔
v…٭…v
وہ جب سے ڈاکٹر بدر کے کلینک آئی مسلسل رو رہی تھی وہ اس کے خاص کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ جہاں وہ اکثر اس کی تھراپی کرتاتھااس کابیٹاکمال برابر کے کمرے میںبیٹھا ٹی وی دیکھ رہاتھا جہاں ڈاکٹر بدر نے اسے بٹھایا تھا تاکہ وہ اسے دیکھنے سے پہلے اس کی ماں کی تھراپی بھی کردے جووہ کافی عرصے سے کررہاتھا اور کمال کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ اتنے عرصے ڈاکٹر بدر سے علاج کروانے کے باوجود اس کی ماں ٹھیک کیوں نہیں ہوتی‘ ڈاکٹرسے ملنے کے بعد اس کی نفسیاتی کیفیت زیادہ خراب ہوجاتی ہے۔
’’میں جاننا چاہتاہوں کرن کہ تم کیوں چاہتی ہو کہ کمال کومزید تھراپی کی ضرورت ہے۔‘‘ ڈاکٹر بدر نے کرن سے پوچھا جواس کے سامنے صوفے پربیٹھی رومال سے اپنے آنسو صاف کررہی تھی۔
’’اسے گرین فیلڈ اسکول سے نکال دیاگیا ہے لڑنے کی وجہ سے۔‘‘
’’اس کی وجہ یہ بھی توہوسکتی ہے کہ اسے دوسرے لڑکے تنگ کرتے ہوں جس کے جواب میں وہ لڑتاہو‘ اس عمر میں اکثر لڑکے ایسا کرتے ہیں‘ تم چاہو تو میں اسے مارشل آرٹ سکھاسکتاہوں تاکہ وہ ایسے لڑکوں سے اپنی حفاظت کرسکے۔‘‘
’’نہیں‘ میں نہیں چاہتی وہ پہلے بھی بہت لڑتا ہے مارشل آرٹ سیکھنے کے بعد تو…‘‘
’’ایسا نہیں ہے مارشل آرٹ کی ایک قسم کریومیگا(krav Maga) ہے جو ذہن کوسکون میں رکھنا سکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ لڑنے سے کیسے خود کوباز رکھا جائے۔‘‘
’’میں چاہتی ہوں کہ لڑنابند کردے جبکہ مارشل آرٹ اسے جسم کے خاص حصوں پرکاری ضرب لگانا بھی سکھاتاہے میں نہیں چاہتی کہ وہ کسی ساتھی کوخطرناک حد تک نقصا ن پہنچابیٹھے وہ تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتاتھا میں اسے زبردستی لائی ہوں۔‘‘ کرن نے کہااور ڈاکٹر بدر نے اٹھ کرکمرے کادروازہ اندر سے بند کرلیا۔
’’میں… اپنی تھراپی کے لیے نہیں آئی ہوں… ‘ کرن نے جلدی سے کہا کافی عرصے سے ڈاکٹر بدر کے ساتھ تنہائی میں خود کو بے آرام سمجھتی تھی اسے ڈاکٹر کی قربت ناگوار گزرتی تھی کیونکہ وہ تھراپی کے بہانے اس سے بہت نزدیک آنے کی کوشش کرتاتھا۔
’’تمہیں سکون کی ضرورت ہے … تھراپی کی کمال سے زیادہ تمہیں ضرورت ہے۔‘‘ ڈاکٹر بدر نے کہا۔ ’’اتنی دیر تک رک کر ہم دونوں کاانتظار کرنے کے لیے میں تمہاری مشکور ہوں۔‘‘
’’تمہیں دیکھ کر اور تم سے مل کرمجھے بہت خوشی ہوتی ہے تم جانتی ہو۔‘‘ڈاکٹر نے اپنائیت سے کہااور اسے آرام دہ لیدر کے صوفے پرمنتقل ہونے کااشارہ کیا۔
’’مجھے بتائو کمال سے تمہیں اور کیاشکایت ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے اس کے سامنے کے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اسکول سے بھاگ نکلااور اپنے ہیڈ ماسٹر کے گھر کے لان میں جگہ جگہ ٹوائلٹ پیپر لگادیئے۔‘‘
’’وہ تیرہ سال کاہے اوراس عمر میں لڑکے ایسی شرارتیں کرتے ہی ہیں۔‘‘
’’وہ پہلے بھی ایسی حرکتیں کرتارہا ہے اوراس نے مجھ سے وعدہ کیا تھاکہ آئندہ وہ ایسا نہیں کرے گا ایساپہلی بار ہوا ہے اس نے پہلے کبھی مجھ سے کیاہواوعدہ نہیں توڑا۔‘‘
’’اور تم اپنی طرف سے کیوںپریشان ہو؟‘‘
’’میں اپنی ملازمت کے لیے شاید قابلیت نہیں رکھتی میراباس مجھے ملازمت سے نکالنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے اوراگراسے پتہ چل گیا کہ میں ذہنی طور پر بھی بیمار ہوں اورایک ماہر نفسیات سے علاج کروارہی ہوں تواسے مجھے نکالنے کی بہت اچھی وجہ مل جائے گی اورمیں ایک تیرہ سالہ نالائق بچے کی ماں ہوں جسے اسکول سے تین بار نکالا جاچکا ہے۔‘‘ کرن اتنا کہہ کرخاموش ہوگئی وہ اٹھ کرکھڑکی کے پاس چلی گئی تھی اورباہر سڑک پرجاتی ٹریفک کو دیکھ رہی تھی لیکن دراصل وہ ڈاکٹر بدر سے اپنے آنسو چھپارہی تھی۔
’’اور؟‘‘ ڈاکٹر بدر نے اس کے قریب آکر اس کے کاندھے پرہاتھ رکھ دیا اور وہ چونک کر پیچھے مڑی۔
’’ڈاکٹر‘ تم میرے بہت اچھے دوست ہو‘میں جانتی ہوں تم مجھے پسند کرتے ہو مجھ سے ملنا چاہتے ہو‘لیکن میں مجبور ہوں تم عرصے سے میرا علاج کررہے ہو تم سے میرا کوئی راز پوشیدہ نہیں لیکن اب میں تم سے ملنا نہیں چاہتی کمال بھی تم سے میرے ملنے کوپسند نہیں کرتا اس سے میری پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔‘‘
’’تم اب بھی مجھے صحیح بات نہیں بتارہی ہو کہ کمال سے تمہیں کیا شکایت ہے؟‘‘
’’وہ سمجھتا ہے کہ میں جھوٹی ہوں۔‘‘
’’کیاایسا ہے ؟‘‘
’’وہ اپنے والد کے بارے میں جاننا چاہتا ہے اور میں اسے نہیں بتاسکتی مجھے کچھ یاد ہی نہیں ہے۔‘‘
’’اس نے تمہاری کسی بات پرتمہیں جھوٹا سمجھا؟‘‘
’’اس نے مجھ سے پوچھا وہ کون ہے…؟ اس کاباپ کون تھا؟ ہمار اکوئی خاندان کیوں نہیں ہے ؟ ہمارے پاس اپنی فیملی اوراس کے باپ کی تصویریں کیوں نہیں ہیں؟‘‘ کرن بات کرتے کرتے بڑے سے صوفے میں دھنس کربیٹھ گئی اس کے آنسو پھربہہ رہے تھے ۔’’میں نہیں جانتی اس کی ان باتوں کاکیا جواب دوں مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔‘‘
’’کرن میں نے تم سے کئی بار کہا ہے کہ تم اپنی پچھلی یادداشت ریکور کرنے کے لیے تھراپی کرالو لیکن تم سنتی ہی نہیں ہو۔میں تم پرزور نہیں دوں گا لیکن میری درخواست ہے کہ تم اس بارے میں سوچو۔‘‘
’’لیکن میں کمال کو کیابتائوں ؟‘‘
’’سچائی بتائو جوتمہیںپتاہے تمہیں آخری بات جو یاد ہے کہ جب تم ہوش میں آئیں تو تم ایک اسپتال میں تھیں اور تم نے کمال کوجنم دیاتھا اس سے پہلے کی کوئی بات تمہیں یاد ہی نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا ایکسیڈنٹ ہواتھااور پھر اسپتال میں آنکھ کھلی تھی جہاں تم سے ملنے کبھی کوئی نہیں آیا اورتم نے اکیلے ہی نئی زندگی کاآغاز کیا۔‘‘ڈاکٹر نے کہااوراس کے قریب سے ہٹ گیا کرن کی آنکھیں بند تھیں پھر اسے ڈاکٹر کے دور ہوتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی تھی اور کمرے میں ہلکی ہلکی موسیقی گونجنے لگی تھی ڈاکٹر نے اسے ایک کمبل اوڑھادیاتھا۔
’’میںکمال کے ساتھ ہوں اس کی تھراپی کررہاہوں تم جب تک آرام کرو۔‘‘ڈاکٹر نے کہااور کرن نیند کی وادی میں چلی گئی۔
واپسی پر ڈاکٹربدر اپنی گاڑی میں کرن اور کمال کوچھوڑنے اس کے گھر تک آیا تھا دور ہی رپورٹر حامد کی گاڑی کھڑی تھی جونظروں سے اوجھل تھی حامد نے ایک حساس مائیک کرن کے گھر کی کھڑکی میں لگایاہواتھا جہاں سے اسے کرن اور دوسروں کے باتیں کرنے کی آوازیں اپنی گاڑی میں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
’’مام‘ جلدی آئیں میں بہت تھک گیاہوں۔‘‘ کمال نے ڈاکٹر کی گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹر بدر ہمیں گھر تک چھوڑنے کاشکریہ۔‘‘ کرن نے کہا۔ ’میں تونیند میں تھی پتہ نہیں کیسے گھر آئی تم اب یہاں اترنے کی زحمت مت کرو میں کمال سے بھی کچھ بات کرناچاہتی ہوں تمہارا شکریہ کہ تم نے کمال سے بات کی اور ہمارے مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کی۔‘‘ کرن نے کہا۔
’’تم لوگوں سے مل کر خوشی ہوئی جب اپنی کار لینے آئوتومجھے ضرور بتانا ہم ساتھ لنچ کریں گے۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’نہیں میرا دوست حامد میری مدد کردے گا۔‘‘
’’میرے خیال میں یہ ضروری نہیں ہے۔‘‘
’’میرے خیال میں ہے‘ تم مجھ سے ایک دوست سے زیادہ کی توقع رکھتے ہو اور مجھے اس وقت صرف ایک دوست کی ضرورت ہے میں تمہاری امیدوں پر پوری نہیں اترسکتی شب بخیر۔‘‘ کرن نے کہااور کمال کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوگئی۔ڈاکٹر بدر کی گاڑی جانے کے بعد حامد بھی وہاں سے رخصت ہوگیاتھا۔
دوسری صبح جب کرن سو کراٹھی تو اسے بہت حیرت ہوئی کیونکہ اس کے کچن کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور اسے اچھی طرح یاد تھا کہ رات کوسونے سے پہلے اس نے تمام کھڑکی دروازے خود بند کیے تھے‘اس نے کمال سے بھی ا س بارے میں پوچھا کہ شاید اس نے کسی وقت کھڑکی کھولی ہو لیکن وہ بھی اس بارے میں کچھ نہیں جانتاتھا‘ اس روز کرن نے کمال کے ساتھ باہر ہی لنچ کرنے کافیصلہ کیااوراسکول سے اسے جلد ہی اپنے ساتھ لے کرایک قریبی ریسٹورنٹ میں پہنچ گئی جہاں اس کی ملاقات سراغرساں پرویز سے ہوئی وہ بھی اپنے بیٹے رحمان کے ساتھ وہاں لنچ کرنے آیاہواتھا۔ وہ کرن کوپہچان گیااوراسے اپنے ساتھ لنچ کرنے کی دعوت دی۔وہ کمال سے مل کربہت خوش ہواتھااور کمال جلد ہی رحمان سے بے تکلف ہوگیاتھا کیونکہ وہ اس کاہم عمر تھا۔
’’مام‘ کیامیں اور رحمان وہ گیم کھیلنے جائیں۔‘‘ کمال نے ریسٹورنٹ میں لگی گیم کی مشینوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘ رحمان بھی اپنے والد سے اجازت لے رہاتھا پھر وہ دونوں گیم کھیلنے چلے گئے اور سراغرساں پرویز اور کرن اپنی میز پر تنہا رہ گئے۔
’’اپنی بیوی کے انتقال کے بعد پہلا موقع ہے کہ میں کسی خاتون کے ساتھ اکیلاہوں۔‘ ‘سراغرساں پرویز نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’میں بھول ہی گیاہوں کہ خواتین سے کیسے بات کی جاتی ہے ۔‘‘
’’میں بھی۔‘‘ کرن نے اداسی سے کہا۔
’’کیامطلب؟ آپ کے شوہر؟‘‘
’’ان کابھی انتقال ہوگیاہے۔‘‘ کرن نے کہا۔
’’اوہ مجھے افسوس ہوا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’پرویز‘تم مجھے اپنی ملازمت کے بارے میں بتائو۔‘‘
’کیابتائوں؟ سراغرساں ہوں… سراغرسانی کرتاہوں۔‘‘ پرویز نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’وہ تومیں جانتی ہوں… میںیہ جاننا چاہتی ہوں کہ شہرمیں خواتین پرجنسی تشدد کی جووارداتیں ہو رہی ہیں ان کے بارے میں تمہاری کیا معلومات ہیں؟‘‘ کرن نے وضاحت کی۔
’’ہاں ضرور اگر تم چاہتی ہو لیکن اس بارے میں ابھی زیادہ معلومات جمع نہیں ہوئی ہیں وہ جو بھی کوئی ہے کوئی طاقت ور شخص ہے اپنے شکار کوپیچھے سے دبوچتا ہے اس نے چہرے پرماسک لگایاہوتاہے اس کے پاس ایک وین ہے جس میں کارپٹ بچھاہے ہم ابھی تک اسے نہیں ڈھونڈ سکے ہیں اس کے علاوہ ہمیں کچھ معلومات نہیں ہیں جائے حادثہ پر وہ صرف زخمی یامردہ شکار کوچھوڑ جاتا ہے اورایک سفید گلاب وہاں سے ضرور ملتا ہے۔‘‘
’گلاب؟‘‘ کرن نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں جب بھی کوئی زخمی یامردہ شخص ملتا ہے تو گلاب اس کے سینے پر رکھاہوتاہے یاہاتھ میں ہوتا ہے ۔‘‘
’’کیاگلاب سے کوئی کچھ اشارہ دینا چاہتا ہے؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’ہم نے پھول فروخت کرنے والوں سے معلوم کیا ہے ایک سفید گلاب کسی کی معصومیت اور پاکبازی کوظاہر کرتاہے۔‘‘
’’اور ایک پیلا گلاب کیا ظاہر کرتاہے؟‘‘
’’لیکن میراخیال ہے کہ کسی بھی شکار لڑکی کے پاس سے ہمیں پیلا گلاب نہیں ملاہے۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’کوئی مجھے ٹی وی اسٹیشن پرروزانہ ایک پیلا گلاب بھیجتاہے جس میں ایک کارڈ لگاہوتاہے اوراس پرلکھاہوتا ہے’مجھے معاف کردو‘ اس ہفتے ایک گلاب میری کار میں بھی ملااور ایک گلاب میرے گھر کے دروازے پر بھی ملا۔‘‘ کرن نے کہا تو پرویز نے اپنی جیب سے ایک کاغذ کا پرزہ نکالا ۔
’’کیاگلاب تازہ تھا؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’ایک تازہ گلاب کامطلب ہے ‘میں اب بھی تم سے محبت کرتاہوں‘ اورایک پیلا گلاب جوتازہ نہ ہوحسد کی نشاندہی کرتاہے یامحبت ختم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے اوریہ تم سے ایک درخواست ہی ہوسکتی ہے کہ تم بھیجنے والے کاخیال کرو۔‘‘
’’تمہار اکیاخیال ہے کیامیں خطرے میں ہوں؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’یقین سے تو کچھ نہیں کہاجاسکتا کیااس کے علاوہ بھی کچھ ہواہے ؟‘‘
’’اکثر ایک نیلے رنگ کی بڑی وین میرے گھر تک میر اپیچھا کرتی ہے او رآج صبح میرے کچن کی کھڑکی بھی مجھے کھلی ملی تمہارا کیا خیال ہے کہیں کوئی گھر میں داخل ہونے کی کوشش تو نہیں کررہاتھا۔‘‘
’’میراخیال ہے کہ تم کسی بھی نئی تبدیلی پرسخت نظررکھو جومعمول سے ہٹ کر ہو۔احتیاط برتو۔‘‘ پرویز نے کہااور ایک کارڈ اس کی طرف بڑھایا۔
’’یہ میرا کارڈ ہے اگر تمہیں اب گلاب ملے تو مجھے کال کرنا اسے یااس کے اطراف کسی چیز کوہاتھ مت لگانا۔‘‘
جس وقت پرویز کرن کواپنابزنس کارڈ دے رہاتھا ریسٹورینٹ کی دوسری بالکونی سے ایک قیمتی سوٹ میں ملبوس شخص ادھرہی دیکھ رہاتھااس کے چہرے پرناگواری کے آثار تھے اس نے زو رسے بالکونی کی ریلنگ پرہاتھ مارا۔
’’وہ میری ہے اور سراغرساں پرویز اس کی موجودگی کے لیے تم ایک ایک سانس کی قیمت ادا کروگے۔‘‘ وہ تیزی سے مڑا اور اپنے پیچھے کھڑی لڑکی کودھکادے کر زینے سے نیچے اترنے لگا پھر وہ ریستوران سے باہر چلاگیاتھا قریب ہی ایک بوڑھاپھول بیچ رہاتھاوہ وہاں رک گیا۔
’’جی جناب؟‘‘ بوڑھے نے پوچھا اس شخص کی نظر مرجھائے ہوئے پھولوں پرتھیں جو ایک بکس میں پڑے تھے۔
’’کیایہ برائے فروخت ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’اوہ نہیں… یہ تو باسی اورمرجھائے ہوئے ہیں… میں نے کچرے میں ڈال د یئے ہیں۔‘‘
’’مجھے یہ چاہیے۔‘‘اس نے ایک سفید مرجھایا ہوا گلاب اٹھایا۔ ’’یہ کتنے کاہے؟‘‘
پھراس نے جواب کاانتظار کیے بغیر دس روپے بوڑھے کوپکڑائے تھے اور آگے بڑھ گیاتھا۔
’’وہ میرے دل کی ملکہ ہے … کوئی اوراسے پسند نہیں کرسکتا…‘‘ وہ بڑبڑاتا ہواقریب کھڑی نیلی وین میں بیٹھ گیاتھا۔
شام کوکرن کمال کے ساتھ گھر واپس آئی تو اس نے کچھ شاپنگ بھی کی تھی اور وہ تھک گئی تھی وہ آرام کی غرض سے اپنے بیڈروم میں گئی تو حیران رہ گئی‘ اس نے بیڈ روم کادروازہ واپس بند کردیاتھااور دیوار سے لگ گئی تھی۔
’’اوہ خدایا نہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں خوف تھااس نے کمال کو کئی بار پکارا لیکن کمال نے اس کی آواز نہیں سنی کیونکہ اس نے تیز آواز میں میوزک چلایاہواتھا آخر وہ کمال کے کمرے کے دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
’’کمال‘ میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ اتنی تیز آواز میں میوزک مت سناکرو۔‘‘ اس نے کمال کو ڈانٹااور وہ حیران رہ گیا کیونکہ کچھ دیر پہلے تو اس کاموڈ ٹھیک تھااوراب وہ اچانک غصے میں آگئی تھی ۔’’اسے بند کرو۔‘‘ کرن نے کہا تو کمال نے ٹی وی بند کردیا۔
’’اپنابیگ لوہم ابھی باہر جارہے ہیں۔‘‘ کرن نے کہا۔
’’کیوں؟‘‘
’’گھر میں کوئی داخل ہوا ہے‘ممکن ہے وہ اب بھی کہیں چھپا ہوا ہو۔‘‘ کرن نے سرگوشی میں کہااورکمال کے ساتھ سیڑھیوں سے اترتی نیچے آگئی پھر وہ سیدھی اپنی کار میں آبیٹھی تھی اور کار کے دروازے لاک کرلیے تھے اس کے بعد اس نے اپنے سیل فون سے سراغرساں پرویز کوفون کیاتھا جس کانمبر اس نے ریستوران ہی میں سیو کرلیاتھا۔
’’ہیلو‘ پرویز میںکرن بول رہی ہوں کیاتم ابھی میرے گھر آسکتے ہو؟یہ بہت ضروری ہے۔‘‘
’’کیاہوا؟‘‘
’’میں ابھی گھر ؔآئی ہوں اور یہاں ایسی چیز ہے جو میں تمہیں دکھانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تم ٹھیک ہو؟‘‘
’’ہاں…لیکن کوئی ہمارے گھر میں داخل ہوا ہے۔‘‘
’’تم گھرسے باہر نکل جائو فوراً ۔‘‘ پرویز نے ہدایت کی۔
’’میں اپنی کار میں ہوں‘ گھر کے باہر۔‘‘
’’میں اس وقت پولیس اسٹیشن میں ہوں تم وہیں آجائو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ کرن نے کہااو رکاراسٹارٹ کرکے آگے بڑھادی۔
’’مام‘ آپ کوکیسے پتا چلا کہ کوئی ہمارے گھر میں داخل ہوا ہے؟‘‘ کمال نے پوچھا۔
’’میرے بیڈ پرایک مرجھایا ہوا سفید گلاب پڑاتھا۔‘‘
’’تو؟‘‘
’’میں نے وہ وہاں نہیں رکھاتھا میرے خیال میں یہ میرے لیے ایک پیغام ہے ۔‘‘
’’کیساپیغام؟‘‘
’’یہ میں نہیں جانتی یہ سراغرساں پرویز ہی بتاسکتاہے۔‘‘
’’وہ کیسے بتاسکتاہے؟‘‘
’’وہ جانتا ہے پھولوں کے بارے میں‘ جب لوگ کسی کوپھول بھیجتے ہیں توان کی قسمیں ان کے بھیجے جانے کی وجہ بتاتی ہیں۔‘‘
’’یہ توبکواس ہے۔‘‘
’’کمال…‘‘ کرن نے تنبیہی انداز میں کہا۔
جب وہ پولیس اسٹیشن پہنچی توسراغرساں پرویز اپنے اسسٹنٹ جوادحسین کے ساتھ اس کامنتظر تھا۔ اس نے پرویز کومرجھائے ہوئے سفید گلاب کے بارے میں بتایا جو اس کے بیڈ پرپڑاتھا۔
’’تم نے کسی چیز کو چھواتو نہیں ؟‘‘
’’نہیں… ہم فوراً ہی گھر سے نکل گئے۔‘‘
’’اچھا تم یہیں میرے آفس میںرکو مجھے اپنے گھر کی چابیاں دواپنا پتہ بھی دو۔‘‘ پرویز نے کہا پھراس نے جواد حسین سے اس کاتعارف بھی کروایاتھااور وہاں سے روانہ ہوگئے تھے۔
کرن کے گھر کی تلاشی لینے پر کوئی نہیں ملاتھالیکن ایک دروازے کاشیشہ ٹوٹاہواتھا پھر پڑوس سے پوچھنے پر پرویز کوپتہ چلاتھا کہ ایک نیلے رنگ کی وین اکثر وہاں آتی ہے اور کرن کے دروازے کے سامنے رکھتی ہے لیکن اس میں سے کوئی اترتانہیں کبھی کبھی وہ وین آہستہ روی سے چلتی وہاں سے گزرجاتی ہے سراغرساں پرویز نے کرن کو کچھ دن کے لیے کسی اور جگہ رہنے کامشورہ دیاتھااوراس کے بیٹے کمال کو اپنے گھر لے گیاتھا جہاں وہ اس کے بیٹے رحمان کے ساتھ خوش رہ سکتاتھا‘ ان دونوں میں خاصی دوستی ہوگئی تھی وہ ہم عمر بھی تھے او رایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے کرن کے گھر کوسیکیورٹی کے حساب سے سیٹ کروادیاگیاتھا تمام لاک نئے لگوائے گئے تھے اور گھر میں جگہ جگہ سیکیورٹی کیمرے اورالارم نصب کیے گئے تھے اس تمام کام میں پندرہ دن لگے تھے اوران پندرہ دنوں میں جنسی تشدد کی دو وارداتیں ہوچکی تھیں جن میں دولڑکیوں کو ماردیاگیاتھا جس کی خبر چینل 10- سے کرن نے ہی نشر کی تھی۔
اپنے گھر میں شفٹ ہونے کے بعد کرن زیادہ مصروف ہوگئی تھی اور ڈاکٹر بدر کے پاس تھراپی کے لیے نہیں جاسکی تھی ویسے بھی اس کاارادہ اب تھراپی کرانے کانہیں تھا وہ کمال کے لیے پریشان تھی اسے راہ راست پر لانا چاہتی تھی اچانک ایک روز ڈاکٹر بدر کافون آیا وہ اپنے آفس میں بیٹھی تھی۔
’’ہیلو‘ کرن میں تم سے ملنا چاہتاہوں۔‘‘
’’میرے خیال میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’یہ بہت ضروری ہے کرن میں تم سے بات کرناچاہتاہوں‘ یہ ہم دونوں کے لیے ضروری ہے کیا تم میرے ساتھ آج لنچ کرسکتی ہو؟‘‘
’’میں مصروف ہوں اور میرے روزانہ کے کام پہلے سے پلان ہوتے ہیں‘ حامد تھوڑی دیر میں آتاہی ہوگا اس کے بعد مجھے رپورٹنگ پرجاناہے۔‘‘
’’بس کچھ دیر کے لیے آجائو میں تم سے بہت ضروری بات کرناچاہتاہوں۔‘‘ ڈاکٹر بدر نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ کرن نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہامی بھرلی۔
جب وہ ریستوران میں پہنچی توڈاکٹر بدر وہاں موجود تھااس نے گرمجوشی سے کرن کااستقبال کیا۔
’’میں آگئی ہوں لیکن مجھے جلدی واپس جانا ہے۔‘‘ کرن نے بیٹھتے ہوئے کہااس نے میز پررکھا ہوا نیپکن اپنے زانو پرپھیلایاتھااور مینو دیکھنے لگی تھی۔
’میں نے کھانے کاآرڈر دے دیاہے۔‘‘ ڈاکٹر بدر نے جلدی سے کہا۔
’’اوہ‘ اچھاکیا مجھے بہت کام کرناہے۔‘‘
’’ابھی تمہاراشو ہونے میں کافی وقت ہے تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے ؟‘‘
’’حامد میراانتظار کررہاہے میں نے تمہیں بتایا بھی تھا۔‘‘ کرن نے اسے یاددلایا۔
’’آج ہاف ڈے کرلو۔‘‘
’’کیا؟ میری ملازمت نئی ہے میں ایسا نہیں کرسکتی۔‘‘
’’یہ ایک مہنگا ریستوران ہے میں نے تمہارے لیے بکنگ کرائی ہے تم میرے ساتھ ایسانہیں کرسکتیں۔‘‘ اس نے خاصے اونچے لہجے میں کہاکہ اردگرد کے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے کرن اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی توڈاکٹر بدر نے اس کاہاتھ تھام کراسے بٹھادیا۔
’’دیکھو کرن‘ میں کچھ وقت تمہارے ساتھ گزارنا چاہتاہوں ہم یہاں سے اپنا لنچ پیک کرواکرچلتے ہیں میری بوٹ تیار ہے ہم کھلے سمندر میں سیر کے لیے جائیں گے وہیں باتیں ہوں گی۔‘‘
’’میں تمہاری بات سے متفق نہیں ہوں‘ میں نے بتایا‘ میں آفس سے غیرحاضر نہیں ہوسکتی‘ لنچ کرکے واپس چلی جائوں گی۔‘‘
’’حامد تمہاری جگہ سنبھال لے گا میں تمہیں خبروں کے وقت تک واپس پہنچادوں گا۔‘‘
’’ڈاکٹر بدر‘ میں نے پہلے کبھی تمہیں ایسے موڈ میں نہیں دیکھا‘ کیا بات ہے؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’تم جانتی ہومیں تمہارا اورکمال کابہت خیال رکھتاہوں وہ میرے لیے بالکل میرے بیٹے کی طرح ہے او رتم … ‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کیسے بات کروں …؟ میں دوبارہ شروع کرتاہوں۔‘‘
’’خداکے لیے ڈاکٹر… بس کرو۔‘‘
’’کرن؟‘‘
’’تم اب تک میرے بہت اچھے دوست رہے ہو۔‘‘
’’ہاں‘ وہ تو میں ہوں اور میں کوشش کررہاہوں کہ تمہاری یادداشت بھی واپس لاسکوں۔‘‘
’’میری زندگی میں کوئی اور شامل ہوگیا ہے۔‘‘ کرن نے کہااور ڈاکٹر بدر اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
’’تم کسی اور سے ملتی ہو اورتم نے مجھے بتایا بھی نہیں؟‘‘ ڈاکٹر بدر کی آواز میں غصے کی جھلک نمایاں تھی۔
’’نہیں میں ابھی اس سے ملی نہیں ہوں لیکن ملنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تمہارے ماہر نفسیات کے طو رپر میر امشورہ ہے کہ یہ خیال اپنے دل سے نکال دو تم ذہنی مریض ہو۔‘‘ڈاکٹر بدر نے غصے سے کہااور کھڑ اہوگیا پھروہ تیز تیز چلتاہوا ریستوران سے نکل گیاتھا اور کرن اسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی تھی پھر وہ بھی واپس آفس چلی گئی تھی جہاں اس نے حامد کوڈاکٹر بدر کے بارے میں بتایا تھا تووہ ہنس پڑا۔
’’میں اسے جانتاہوں ایک زمانے میں‘ میں بھی اس کے پاس جاتاتھا‘ پھرمیں نے جانا چھوڑ دیا۔‘‘
’’کیوں ؟‘‘
’’مجھے شک تھا کہ وہ مجھے ہپناٹائز کرکے اپنے اشاروں پرچلاتاہے۔‘‘
’’مجھے بھی یونہی لگا‘جیسے وہ مجھے کٹھ پتلی کی طرح استعمال کررہاہے میں نے بھی جانا چھوڑ دیا۔‘‘
’’اس کے پاس گاڑی کون سی ہے ؟‘‘
’’بلوکلر کی بڑی وین۔‘‘ کرن نے جواب دیا۔
’’میں نے کئی بار تمہارے گھر کے سامنے سے اسے دیکھا ہے۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’کیاوہ میری جاسوسی کررہاہے؟‘‘
’یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن اگرایساہے تو کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔‘‘
’’حیرت ہے‘ میں جب سے اسے جانتی ہوں آج تک اس نے شکایت کاموقع نہیں دیا۔ہمیشہ وہ میری ضرورت پرمیرے کام آیا ہے لیکن کمال اسے پسند نہیں کرتا۔‘‘
’’بعض اوقات بچوں کی چھٹی حس بڑوں سے زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے بھلاہم ڈاکٹر بدر کے بارے میں کتنا جانتے ہیں سوائے اس کے کہ ہم نے اس سے علاج کروایا اس کی فیسیں دیں لیکن کوئی فائدہ ہمیں نہیں ہوا۔‘‘
’’تم نے کل رات اسے میرے گھر کے باہر دیکھاتھا؟‘‘
’’مجھے شک ہے یقین نہیں۔‘‘
’’کمال اسے پسند نہیں کرتا۔‘‘ کرن نے کہا پھروہ اس کے ساتھ رپورٹنگ کے لیے چلی گئی تھی واپسی پرحامد نے اسے اس کے گھر پر ڈراپ کیاتھا۔
اسی رات ایک نیلے کلر کی وین آہستہ آہستہ چلتی کرن کے گھر کے سامنے آرکی تھی کچھ فاصلے پر ہمسایوں کے گھر سے ہلکی ہلکی روشنی نظر آرہی تھی لیکن وین کے ڈرائیور کی توجہ کرن کے گھر کی طرف تھی جو سڑک کے دوسری جانب واقع تھا۔
’’تم سمجھتی ہو کہ خوبصورت ہوتو سب سے برتر ہو؟ کل جب خبریں نشر ہوں گی تو تم بھی ایک خبر بن چکی ہوگی پھر کیاکروگی؟‘‘ ڈرائیور منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور وین سے اتر کر سڑک پار کرکے کرن کے گھر کے لان میں داخل ہوگیا وہ جھاڑیوں کی اوٹ لیتاہوا تمام کھڑکیوں کوچیک کررہاتھا جواندر سے لاک تھیں پھرگھر کے پچھلی طرف اسے ایک کھڑکی کھلی مل گئی اس نے ایک ماسک نکال کرمنہ پر چڑھایا اور کھڑکی کھول دی وہ کھڑکی کچن میں کھلتی تھی وہ کرن کو کام کرتے ہوئے دیکھ سکتاتھا وہ جلدی سے نیچے جھک گیا اورسوچ رہاتھا کہ جب و ہ اسے پکڑے گاتواس کاردعمل کیاہوگا‘ میں اس کے دروازے پراپناپیغام چھوڑ جائوں گا۔
تھوڑے ہی فاصلے پر حامد بھی اپنی وین میں موجود تھا‘ آج کرن سے بات کرنے کے بعد اسے محسوس ہواتھا کہ کرن خطرے میں ہے چنانچہ اس کے گھر میں سیکیورٹی نظام ہونے کے باوجود اس نے خود کرن کوبتائے بغیر اس کے گھر کاپہرہ دینے کافیصلہ کیاتھا کچھ دیر بعد کمال کے کمرے کی لائٹ بند ہوگئی تھی‘ اور گھر اندھیرے میں ڈوب گیاتھا حامد نے کچھ دیر آرام کرنے کافیصلہ کیااور اپنی وین ہی میں لیٹنے کی کوشش کی اسی لمحے کسی نے دروازہ کھول کر اسے بالوں سے گھسیٹ کرباہر نکال لیاتھا وہ جو کوئی بھی تھا بہت طاقتور تھااس نے حامد کوسنبھلنے کی مہلت نہیں دی تھی۔
’’میرے بال چھوڑو۔‘‘
’’تم کیا سمجھتے ہو‘میں تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب ہونے دوں گا؟ وہ میری ہے ۔‘‘ بولنے والے نے ایک مکا پوری طاقت سے اس کی کنپٹی پر ماراتھااوراس کی آنکھوں میں ستارے ناچ گئے تھے‘ وہ بے ہوش ہوگیاتھا۔
کرن کے لان میں چھپاسایہ پھرآہستہ آہستہ کچن کی کھڑکی کی طرف بڑھاتھااوراچانک ایک جھاڑی میں الجھ گیاتھا جس میں بے انتہا کانٹے تھے وہ ابھی خود کو ان کانٹوں سے آزاد ہی کرارہاتھا کہ اسے اپنے عقب سے ایک کرخت آواز آئی۔
’’رک جائو‘ ورنہ میں تم پراپناکتا چھوڑ دوں گا۔‘‘ یہ کرن کے پڑوسی بلال کی آواز تھی سائے نے مڑ کر دیکھا بلال اس سے مخاطب نہیں تھا بلکہ وہ سڑک پرپڑے حامد کے پاس کھڑے دوسایوں سے مخاطب تھا جو اس پرجھکے ہوئے تھے‘ اس کے کتے نے ایک سائے کو زمین پرگرادیاتھااوردوسرا سایہ بھاگ نکلاتھا‘ کتا سائے کوگرا کر اس کے سینے پرکھڑا ہوگیاتھااور بلال نے جیب سے موبائل نکال کر پولیس کوفون ملایاتھااور صورت حال بتاکرپتہ سمجھادیاتھا۔
کچھ ہی دیر میں پولیس وہاں پہنچ گئی تھی اور زخمی حامد اورایک مجرم کوپکڑ کر لے گئی تھی جس کو بلال کے کتے نے گرایاہواتھا‘ کرن کے لان میں موجود سایہ ایک دیوار کی آڑ میں اس وقت تک چھپارہا جب تک سب وہاں سے چلے نہیں گئے تھے سب کے جانے کے بعد وہ ایک بار پھر کچن کی کھڑکی کے قریب گیا تھااور کھڑکی کھول کراندر کچن میں اتر گیاتھا۔
’’مام‘ ادھر آئیں اوپرمیرے کمرے میں‘ دیکھیں کیاہو رہا ہے پولیس نے کسی کوگرفتار کیا ہے۔‘‘ اچانک کمال کی آواز سنائی دی اور اندر آنے والا تیزی سے الماری کی اوٹ میں چھپ گیااوپر منزل میںکوئی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
’’کمال بہت رات ہوگئی ہے صبح تمہیں اسکول جانا ہے اب سوجائو۔‘‘
’’میں سوگیاتھا ایمبولینس کی آواز سے اٹھاہوں‘ میرا خیال ہے کسی کوچوٹ لگی ہے ۔‘‘
’’بہت زیادہ دھند ہے کچھ دکھائی نہیں دے رہا اور ایمبولینس بھی چلی گئی ہے چلو اب سوجائو۔‘‘ کرن کی آواز آئی۔
’’کیا آپ جاننا نہیں چاہتیں آپ مسٹر بلال سے تو پوچھ سکتی ہیں۔‘‘ کمال نے کہا۔
’’نہیں‘میں بہت تھک گئی ہوں اور ہم دونوں کو اب سوجانا چاہیے‘ میں اپنے لیے چائے بنائوں گی کیا تم کچھ لوگے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’توپھرلائٹ آف کرواورسوجائو۔‘‘ کرن نے کہااور اندرچھپے سائے نے اپنی جیب سے ایک سرنج نکالی پھرجیسے ہی کرن بارچی خانے میں آئی تھی اس نے پیچھے سے اسے دبوچ لیاتھااور سرنج اس کی گردن میں پیوست کردی تھی اور وہ بے ہوش ہوگئی تھی اورا س کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔ سائے نے اسے سنبھالے سنبھالے کچن کاپیچھے کا دروازہ کھولاتھااور باہر نکل کردھندمیں غائب ہوگیاتھا۔
v…٭…v
دوسری صبح حامد کی آنکھ کافی دیر سے کھلی تھی‘ وہ اسکول جانے کے لیے لیٹ ہوگیاتھا‘ آنکھ کھلتے ہی وہ بستر سے اٹھ بیٹھااور کرن کوآواز دی۔
’’مام… مام… ‘آپ کہاں ہیں… جلدی کریں ہم اسکول کے لیے لیٹ ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے زور سے ہانک لگائی اور باتھ روم میں گھس گیااس نے جلدی جلدی کپڑے بدلے تھے اور تیزی سے اپنے کمرے سے باہر آیاتھا۔
’’مام… اٹھیں جلدی کریں… دیر ہو رہی ہے۔‘‘ اس نے کرن کے کمرے کادروازہ کھٹکھٹایا لیکن جب کوئی جواب نہ ملاتووہ دروازہ کھول کر اند رگیا لیکن کرن وہاں موجود نہیں تھی پھرا س نے سارے گھر میں اسے تلاش کیا لیکن جب وہ نہ ملی تو اس نے حامد کوفون کیا کہ شاید وہ ایمرجنسی میں حامد کے ساتھ کسی رپورٹنگ پرچلی گئی ہو لیکن اسے حامد کے فون پر بھی جواب نہیں ملاتب اس نے چینل 10 میں نیوز ایڈیٹر کشور کوفون کیا کہ شاید اسے کچھ پتہ ہو لیکن اسے پتہ چلا کہ کرن ٹی وی اسٹیشن بھی نہیں پہنچی ہے تب اس نے سراغرساں پرویز کوفون کیا جو اس وقت حامد کے ساتھ اسپتال میں موجود تھااوراس کے ساتھ ہونے والے حادثے کی تفصیلات معلوم کررہاتھا اس کے دو اسسٹنٹ بھی اس کے ساتھ تھے۔
’’حامد تم وہاں کیا کررہے تھے آخر کسی نے تمہیں تشدد کانشانہ کیوں بنایا؟‘‘ سراغرساں پرویز نے کہا۔
’’میں نہیں جانتا کہ کسی نے ایسا کیوں کیا؟‘‘
’’کیا تم انہیں پہچان سکتے ہو؟‘‘
’’نہیں‘ میں نے انہیں نہیں دیکھا ‘اندھیرا بہت تھا کہر بھی تھی وہ شاید دو تھے یااس سے زیادہ۔‘‘
’’تم وہاں کیاکررہے تھے؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’کرن نے مجھے کچھ ایسی باتیں بتائی تھیں جن سے مجھے شک تھا کہ کوئی اس کے پیچھے لگاہوا ہے اور موقع پاکر اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے چنانچہ کچھ دن سے میں اس کے گھر کے باہر حفاظت کے نقطہ نظر سے ٹھہرجاتاتھا۔‘‘
’’تم نے کسی کو اس بارے میں بتایا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں نہیں ؟‘‘
’’یہ میرا شک بھی ہوسکتاتھااگر مجھے یقین ہوجاتا کہ میرا خیال درست ہے تو میں ضرور کسی کوبتاتا۔‘‘
’’تم نے غلطی کی تمہیں کسی نہ کسی کو اعتماد میں لینا چاہیے تھااس طرح تم تو پربھی شک کیاجاسکتا ہے۔‘‘
’’کیا…؟ تم کیا کہہ رہے ہو… میں اس کاساتھی ہوں … وہ ہر جگہ رپورٹنگ پرمیرے ساتھ جاتی ہے او رتم… مجھ پر شک کررہے ہو؟‘‘ حامد نے حیرت سے کہااسی وقت حامد کے فون کی بیل بجی تھی اور پرویز نے اس کی کال ریسیو کی تھی۔
’’حامد… حامد کیا تم اپنی وین میں ہو؟… حامد جواب دو۔‘‘
’’ہیلو!‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’حامد؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نیوزڈپارٹمنٹ کاڈائریکٹر شجاع الدین بول رہاہوں… حامد کاباس… تم کون ہو؟‘‘
’’حامد اس و قت تم سے بات نہیں کرسکتا۔‘‘
’’تم کون ہو؟ میں کس سے بات کررہاہوں؟‘‘
’’سراغرساں پرویز۔‘‘
’’حامد کہاں ہے ؟‘‘
’’وہ لیاقت اسپتال میں ہے۔‘‘ پرویز نے کہااور فون بند کردیاپھر وہ حامد کی طرف مڑاتھاجسے نرس بے ہوشی کاانجکشن لگا چکی تھی۔
’’حامد تم بات کرسکتے ہو؟‘‘ پرویز نے پوچھا کیونکہ حامد کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں۔
’’ہاں۔‘‘
’’تمہیں یقین ہے کہ تم نہیں جانتے کس نے تم پرحملہ کیاتھا؟ کیا فون پرمیرے باس تھے ؟‘‘ اس نے ٖوچھا۔
’’تم کتنے دن سے کرن کے گھر کے باہر پہرہ دے رہے تھے؟‘‘ پرویز نے پوچھا لیکن حامد کی آنکھیں بند ہوگئیں۔
’’حامد…حامد… ہمارے ساتھ رہو یہ بتائو تم نے وہاں کسی کودیکھا؟‘‘
’’دو…سائے… تھے… ایک نیلی وین …‘‘ حامد نے کہااور بے ہوش ہوگیااسی وقت سراغرساں پرویز کے فون کی گھنٹی پھربجی۔
’’ہیلو۔‘‘
’’مام… چلی گئی ہیں۔‘‘ دوسری طرف سے کمال بول رہاتھا۔
’’کمال…‘‘
’’جی انکل پرویز۔‘‘
’’میں اس وقت مصروف ہوں‘ تمہیں ابھی فون کرتاہوں۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’مام یہاں نہیں ہیں۔‘‘ کمال نے کہا۔ پرویز نے اس کی آواز میں خوف کی کپکپاہٹ محسوس کی تھی۔
’’کیا وہ کہاں ہے ؟‘‘
’’پتہ نہیں… وہ گھر پر بھی نہیں ہیں اور ٹی وی اسٹیشن پر بھی نہیں… میں نے میڈم کشور کوفون کیاتھا لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ وہاں نہیں پہنچیں۔‘‘
’’کمال پریشان مت ہو… مجھے یقین ہے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہوگی مجھے تفصیل سے بتائو جب انہوں نے تمہیں صبح اسکول جانے کے لیے اٹھایا اس کے بعد کیاہوا؟‘‘
’’انہوں نے مجھے نہیں اٹھایا… میری آنکھ آٹھ بجے کے قریب کھلی جب میں نے گھر میں دیکھا تووہ نہیں تھیں میں نے انہیں فون کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ ان کاپرس اور سیل فون گھر پر ہی ہے۔‘‘ کمال رک رک کربول رہاتھا اس کے لہجے سے گھبراہٹ نمایاں تھی۔
’’میڈم کشوُر نے کہا ہے کہ وہ آرہی ہیں میں ان کاانتظار کروں وہ مجھے اسکول لے جائیں گی۔‘‘
’’تم کہاں ہو؟‘‘
’’میں گھر پر ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے وہیں رہو… میں آرہاہوں… تم کسی چیز کوہاتھ مت لگانااور کسی کوگھر میں مت آنے دینا۔‘‘ پرویز نے اسے ہدایت کی۔
’’ایک نیوز ٹیم آرہی ہے کیا میں انہیں آنے دوں۔‘‘ کمال نے پوچھا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے ؟‘‘
’’میڈم کشور نے بتایا ہے کہ انہو ں نے اپنے باس کوکہتے ہوئے سنا تھا کہ مام کھوگئی ہیں اور ان کے باس کچھ لوگوں کو بھیج رہے ہیں جومیراانٹرویو لیں گے۔‘‘
’’کمال‘ میری بات غور سے سنو… ان رپورٹرز کو کسی صور ت اندر مت آنے دینا۔ ‘‘ پرویز نے ایک ایک لفظ پرزور دے کر اپنی بات دہرائی۔
’’اور ہاں… مس کشور کو بھی گھر میں مت آنے دینا ان سے کہنا کہ پولیس نے ہدایت کی ہے کہ کسی کوگھر میں نہ آنے دیاجائے‘ انہیں کہنا کہ وہ انتظار کریں ہم آرہے ہیں۔‘‘ پرویز نے بات مکمل کرکے فون بند کردیا۔
کوئی نہیں جانتاتھا کہ شجاع نے نیوز ٹیم کو کرن کے گھر جانے کاآرڈر دینے سے پہلے اس کے پاس ایک کال آئی تھی وہ اپنے آفس میں بیٹھاتھااور کسی نے اسے اطلاع دی تھی کہ کرن کواغوا کرلیاگیاہے اس وقت تک اس بارے میں کوئی نہیں جانتاتھا شجاع اس خبر کے ملنے پر خوش ہواتھااوراس نے سوچاتھا کہ کرن کامسئلہ خودبخود حل ہوگیااب ایک خبریںپڑھنے والی خود خبر بن گئی تھی اور شاید اسے کرن کے مسئلے سے نجات ملنے والی تھی حقیقت تک پہنچنے کے لیے اس نے نیوز ٹیم کو کرن کے گھر بھیج کرکمال کاانٹرویو کرنے کی ہدایت کی تھی ۔)
کمال سے بات کرنے کے بعد پرویز کچھ دیر تک اپنی اگلی منصوبہ بندی کے بارے میں سوچتا رہا تھااور پھر اس نے کمال کوفون کیاتھا۔
’’کمال… تم پریشان تو نہیں ہو رہے ہو؟ اگر تم کچھ پوچھنا چاہو تو مجھ سے پوچھ سکتے ہو۔‘‘ اس نے کمال کی پریشانی دور کرنے کے خیال سے کہا۔
’’کیامیری مام ٹھیک ہیں ؟‘‘
’’مجھے یقین ہے وہ ٹھیک ہوں گی۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ وہ کسی اسٹور پر گئی ہوں گی کچھ خریدنے اوران کی کار خراب ہوگئی ہوگی۔‘‘
’’ان کی کار تو یہاں‘ گھر پر موجود ہے۔‘‘
’’اور ان کاپرس بھی۔‘‘ کمال نے چند لمحوں بعد کہا۔ ’’وہ پرس کے بغیر شاپنگ پرکیسے جاسکتی ہیں؟‘‘
’’اچھا سوال ہے‘ میں آتاہوں اور صورت حال دیکھ کر تم سے بات کرتاہوں تم گھر پر ہی رہنا‘ کسی سے بات مت کرنا کسی کو اندرمت آنے دینا میں راستے میں ہوں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر ہدایت کی۔
’’تم… کہاں…جارہے ہو؟‘‘ حامد نے بیڈ پر سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے پھربیڈ پر ڈھیر ہوگیا بے ہوشی کی دوااپنا اثر دکھارہی تھی۔
’’جلدی کر وایک نرس کویہاں بلائو‘ ‘پرویز نے اپنے اسسٹنٹ جواد سے کہاجو دروازے کے قریب ہی کھڑاتھااور پھر حامد کی طرف مڑا۔
’’ہمارے آنے تک تم یہاں رہوگے… تم خود کوگرفتار نہ سمجھو… کیا میں تمہیں بیڈ کے ساتھ باندھ کر ہتھکڑی لگادوں؟‘‘
’’نہیں… میںیہاں ہی رہوں گا۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’تم نے میرے مریض کے ساتھ کیاکیاہے؟‘‘ ایک نرس نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے تیزی سے کہا۔
’’اس پرنظررکھو… یہ میرا قیدی ہے اورایک اغوا کاچشم دید گواہ بھی۔‘‘ پرویز نے نرس سے کہا۔ پھروہ اپنے اسسٹنٹ کے ساتھ وہاں سے نکل گیاتھا۔
’’کیامعاملہ ہے ؟‘‘ جواد نے پوچھا۔
’’کرن غائب ہے … میں چاہتاہوں تم شہر کے واحد ریستوران کے مالک کاپتہ لگائو وہ کون ہے کیونکہ کرن نے بتایاتھا کہ وہاں لنچ کرنے کے بعد اسے ایک گلاب موصول ہواتھا اور وہاں آنے والے لوگوں کی فہرست بھی چیک کرو مجھے تفصیل چاہیے۔‘‘
v…٭…v
سراغرساں اپنے دوساتھیوں جواد حسین اور ارشد خان کے ساتھ جیسے ہی لیاقت اسپتال سے نکلا ایک نارنجی کپڑوں میںملبوس لڑکی ہاتھ میں مائیک پکڑے اس کی طرف بڑھی اس کے ساتھ ایک کیمرہ مین بھی تھا۔
’’میں سارہ ہوں… چینل 10 نیوز سے۔‘‘ اس نے کہا لیکن پرویز اور اس کے دونوں اسسٹنٹ آگے اپنی کار کی طرف بڑھتے رہے انہوں نے کوئی جواب نہیں دیاتھا۔
’’آفیسرز‘ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حامد‘ کرن کواغوا ہونے سے بچاتے ہوئے زْخمی ہوا ہے ؟‘‘ رپورٹر سارہ نے مائیک ان کے چہروں کے آگے کردیا۔ ’’کیا کرن …؟‘‘ سارہ کے سوال کاجواب دینے کے بجائے پرویز اپنی گاڑی میں بیٹھاتھا اور اس نے دروازہ بند کرلیاتھااس کے دونوں ساتھیوں نے بھی ایسا ہی کیاتھا۔
’’خدایا! بھلا اس سوال کا کوئی کیاجواب دے سکتا ہے ؟ اگر ہم ہاں کہتے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ کرن اغوا ہوگئی ہے اور نہیں کہتے ہیں تب بھی کرن اغوا ہوگئی ہے۔‘‘ پرویز بڑبڑایا سارہ نے اس کے سائڈ کی کھڑکی کا شیشہ تھپتھپایا اس کاکیمرہ مین اس منظر کی بھی ویڈیو بنارہاتھا۔
’’آفیسرز…‘ اس نے پھر کہا۔
’’بھلاان کوکیسے پتہ کہ کرن کے ساتھ کیاہوا ہے ؟ انہیں کس نے بتایا ہے ؟‘‘ ارشد نے پرویز سے کہا۔
’’کسی نہ کسی نے تو یہ خبر لیک کی ہے … بھلا یہ رپورٹرز کیسے کہہ سکتے ہیں کہ لوگ جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ بھلا لوگوں کوکیا پتہ؟ ابھی یہ خبر یاافواہ کہیں سے نشر ہی نہیں ہوئی ہے ؟‘‘ پرویز نے کہااورگاڑی آگے بڑھادی۔
’’لوگوں کو کسی کی اتنی پروا نہیں وہ دوسروں کے معاملوں سے اتنی دلچسپی نہیں رکھتے۔‘‘ جواد نے کہا۔
’’جواد ‘جب تم پولیس اسٹیشن فون کرو تووہاں سے کچھ سیکیورٹی کے لوگوں کو ان کے یونیفارم میں کرن کے گھر پہنچنے کے لیے کہنااور انہیں ہدایت کرو کہ وہ علاقے کو فیتے سے نشان زد کردیں اورا س کے گھر کے پیچھے کی سڑک اور لان کوبلاک کردیں اس کے ساتھ ساتھ وہاں کھڑی ہوئی حامد کی کالی وین کوبھی بلاک کریں جس پرپیلے رنگ سے چینل 10- کامونوگرام بناہے تاکہ کوئی اس کے قریب نہ جاسکے۔‘‘ پرویز نے ہدایت کی اور جواد نے فوراً اس کی ہدایات پرعمل کیاتھا۔
’’ارشد تم گھر کے باہر کے ایریا کی ذمہ داری سنبھالوگے اور جواد تم گھر کے اندر کی تحقیقات کروگے اور میں میڈیااور کمال سے بات کروں گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ دونوں اسسٹنٹ نے ایک ساتھ کہا۔
’’میرا خیال ہے کرن اگر اغوا ہوئی ہے تواس اغوا کاتعلق کسی نہ کسی جنسی تشدد کے کیس سے ملتا ہے میں تمہیں تفصیل بتاتاہوں۔‘‘ پرویز نے دنوں اسسٹنٹس کومخاطب کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔
’’آج کل شہر میں جنسی تشدد کے واقعات بہت ہو رہے ہیں مجرم اپنے ہرشکار کوشکار کرنے کے بعد وہاں ایک گلاب چھوڑ جاتا ہے اور کرن کوبھی کوئی نامعلوم شخص گلاب کاپھول بھیجتا تھا کوئی اس کے گھر میں گھسااوراس کے بیڈ پر گلاب رکھ گیا اب وہ غائب ہے … او راب حامد… وہ کرن کاپارٹنر ہے وہ سارا دن اس کے ساتھ کام کرتا ہے اور کئی دنوں سے راتیں اس کے گھرکے باہر پہرہ دیتے ہوئے گزار رہاتھا۔ آخر کیوں ؟ شاید وہ کچھ جانتا ہو؟ اس کے علاوہ کرن کو اپنے آفس میں جوگلاب ملاتھااس کی ڈنڈی پرہمیں حامد کی انگلیوں کے نشان ملے ہیں اوراس کے ساتھ ایک نوٹ بھی تھا جس پرلکھاتھا کہ ’’مجھے معاف کردو‘‘ اس کے علاوہ حامد بھی وین چلاتاہے اور مجرم کی بھی وین ہے دونوں کا کلر خاصا ملتاجلتا ہے ایک گہری نیلی اور دوسری سیاہی مائل نیلی۔‘‘
’’لیکن حامد تو اسپتال میں ہے۔‘‘ ارشد نے کہا۔
’’ہاِں‘ لیکن اسے کرن کے گھر کے باہر کسی نے تشدد کانشانہ بنایا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’تم سمجھتے ہو کہ حامد مجرم ہوسکتا ہے ؟‘‘ جواد نے پوچھا۔
’’وہ اس ٹائپ کالگتاتو نہیں اوراس پر ہونے والے تشدد سے بھی کچھ ثابت نہیں ہوتا لیکن کرن کاکہنا تھا کہ کوئی اس پرنظررکھے ہوئے ہے اور ایک وین اکثراس کا پیچھا کرتی ہے ممکن ہے اس نے حماد کو بھی یہ بتایا ہو اوروہ اس کی نگرانی کررہاہو… لیکن ایک اور بھی بات ہے کہ اسے ہم سے پہلے کیسے کرائم اوراس کے وقوعہ کاپتہ چل جاتا ہے وہ ہم سے پہلے وہاں موجود ہوتا ہے ممکن ہے یہ اتفاق ہو لیکن اتفاق بار بار نہیں ہوتا۔‘‘ پرویز نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’ممکن نے وہ نفسیاتی مریض ہو۔‘‘ جواد نے کہا۔
’’اس کے علاوہ کرن کاباس شجاع الدین… وہ عورتوں سے نفرت کرتا ہے۔‘‘ پرویز نے جواد کی بات کاجواب دینے کے بجائے اپنی بات جاری رکھی۔
’’خاص طور پر کرن سے تو اسے اللہ واسطے کابیر ہے اسے کرن کے اغوا سے بڑی خوشی ملی ہوگی اوروہ کہہ سکتا ہے کہ جنسی تشدد کے مجرم نے یہ اغوا کیا ہے ۔‘‘
’’اس کامطلب ہے کہ خبر کو اس نے ہی پھیلایا ہے؟‘‘ جواد نے کہا۔
’’ممکن ہے۔‘‘ پرویز نے جواب دیا۔
’’لیکن انہیں اس کے بیٹے کے ساتھ ایساسلوک نہیں کرناچاہیے تھابغیر تصدیق کے اسے پریشان کردیا۔‘‘ پرویز نے ناگواری سے کہا۔
’’ممکن نے عوام کے لیے ایک سنسنی خیز خبربنانے کے لیے شجاع نے کوئی چال چلی ہو؟‘‘ جواد نے کہا۔
’’لیکن کرن اس کاحصہ نہیں بن سکتی کم سے کم اپنے بچے کو ہراساں کرنے میں اس کاہاتھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’’لیکن ایک بات اور بھی ہوسکتی ہے اس کے تعلقات گرین فیلڈ اسکول کے ہیڈ ماسٹر احتشام سے بھی اچھے نہیں تھے کمال کواس نے اسکول سے نکال دیاتھا کرن کی بے عزتی کی تھی وہ بھی مشکوک ہے۔‘‘ پرویز نے کہا لیکن یہ باتیں ہمارے درمیان راز رہیں گی۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
’’میں نے یہ باتیں صرف اس لیے کی ہیںکہ تمہیں میرے ساتھ انویسٹی گیشن کرنے میں آسانی ہو۔‘‘
’’کیاتمہارا خیال ہے کہ اسے پھول ملنا اور حامد پرتشدد ہونااس کے ماضی کی کسی کہانی کاحصہ ہوسکتے ہیں ؟‘‘ ارشد نے پوچھا۔
’’میں نہیں جانتا کیونکہ میں یہ جانتاہوں کہ کرن کی یادداشت صرف پچھلے چودہ سال پرمشتمل ہے اس سے پہلے کہ اسے کوئی بات یاد نہیں۔‘‘ پرویز نے جواب دیا۔
’’ممکن ہے اس کی یادداشت کا کچھ تعلق اس کے بیٹے سے بھی ہو کیونکہ اس کی عمر بھی اتنی ہی ہے تقریباً۔‘‘ جواد نے کہا۔
’’ہاں‘ لیکن یقین سے کچھ کہانہیں جاسکتا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
جب سراغرساں پرویز اوراس کے اسسٹنٹ کرن کے گھرپہنچے تو چینل 10- نیوز کی گاڑی وہاں موجود تھی گھر اورعلاقے کو فیتہ لگا کر ٹیپ کردیاگیاتھاجیسے ہی پرویز اپنے ساتھیوں کے ساتھ گاڑی سے اترا ایک شخص ہاتھ میں مائیک لیے اس کی طرف لپکا۔
’’میں جاوید ہوں چینل 10-نیوز سے کیا کرن اغوا ہوگئی ہے ؟‘‘ رپورٹر نے مائیک پرویز کی طرف بڑھایا۔
’’ہم ابھی یہاں پہنچے ہیں اور آپ سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔‘‘ پرویز کی جگہ اس کے اسسٹنٹ جواد نے جواب دیا۔
’’کرن کے گھر کو ٹیپ سے کیوں احاطہ کیا گیاہے ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ابھی ہم آئے ہیں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘ جواد نے پھر کہااب وہ پرویز اور دوسرے ساتھی کے ساتھ کرن کے لان میں داخل ہوچکاتھا۔
’’کرن کی کار یہاں کیوں پارک ہے ؟‘‘ رپورٹر جاوید نے پھرسوال کیا وہ سائے کی طرح ان کے پیچھے َلگاتھا۔
’’نوکمنٹس۔‘‘ پرویز نے کہااور آگے بڑھا۔
’’حامد لیاقت اسپتال میں کیوں داخل ہے ؟‘‘
’’ہم جیسے ہی تحقیقات کے بعد کوئی رپورٹ بنائیں گے تمہیں بتادیں گے اور مجھے یقین ہے پولیس ہیڈ کوارٹر ضرور کوئی رپورٹ ایشو کرے گا۔‘‘ پرویز نے کہااور پھر رپورٹر کی طرف مڑاجو پیلا ٹیپ کراس کرکے اس کے پیچھے لان میں داخل ہونے کی کوشش کررہاتھا۔
’’اور میں تمہیں گرفتار کرلوں گا اگرتم نے اس ٹیپ کو پار کرکے ادھر آنے کی کوشش کی۔‘‘ پرویز کی تنبیہ پر رپورٹر وہیں رک گیاتھا۔
’’پرویز صاحب۔‘‘ اسے اپنے پیچھے ایک خاتون کی آواز سنائی دی تووہ مڑا‘ کشور اس کے سامنے کھڑی تھی۔
’’تم میرے ساتھ آئو کشور۔‘‘ پرویز نے کہااور کشور کے ساتھ گھر میں داخل ہوگیا۔
’’جب کمال نے تم سے بات کی تو اس کے محسوسات کیاتھے؟‘‘ پرویز نے کشور سے پوچھا۔
’’وہ بہت فکرمند تھااورمیں بھی۔‘‘
’’مجھے تمہاری مدد چاہیے جب میں یہاں تحقیقات مکمل کرلوں تو تم کمال کواپنے ساتھ لے جانااسے یہاں اکیلا بھی نہیں چھوڑا جاسکتا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’ہاں… ضرور…‘‘ کشور نے جواب دیا۔
’’میں تم سے بھی کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘پرویز نے گھر میں جاکر ایک کرسی پربیٹھتے ہوئے کہا۔ اسی وقت کمال بھی کمرے میں داخل ہوا۔
’’کمال تم تھوڑی دیر اپنے کمرے میں رہو میں تمہاری کشور آنٹی سے کچھ سوالات کرنا چاہتاہوں۔‘‘ پرویز نے کہا تو کمال اثبات میںسرہلا کروہاں سے چلاگیا۔
’’کیاپچھلے چند دن میں کرن نے تم سے کوئی بات کی… ایسی بات جس سے کچھ اندازہ ہوسکے؟‘‘
’’نہیں‘ بلکہ وہ ہمیشہ سے زیادہ پر اعتماد تھی یہاں تک کہ اس نے باس کوبھی ڈانٹ دیاتھا۔‘‘
’’شجاع الدین کو… نیوز ڈائریکٹر کو؟‘‘ پرویز نے حیرت سے کہا۔
’’ہاں۔‘‘
’’لیکن کیوں ؟‘‘
’’کل حامد اور کرن ایک رپورٹ بنانے گئے تھے ایک ایسے علاقے میں جہاں جنسی تشدد کے مجرم کی موجودگی کا شک کیاجارہاتھا لیکن وہ کوئی رپورٹ نہیں لائے جس پر باس بہت غصے میں تھا حالانکہ وہ دونوں بہت مشکل سے وہاں سے جان بچا کرنکلنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن باس کو اس کی پروا نہیں تھی اسے رپورٹ کی فکر تھی۔
’’اس نے کیا کہاتھا؟‘‘
’’وہ چیخ رہاتھا کہ وہ اسے ملازمت سے نکال دے گا۔‘‘
’’اور حامد؟ وہ کرن کے ساتھ ہی تھانا؟‘‘
’’ہاں‘ وہ اس کے ساتھ ہی تھا لیکن اداس تھا۔‘‘
’’کیاتم اس کی وجہ بتاسکتی ہو؟‘‘
’’وہ ذر اذاتی سی وجہ ہے ۔‘‘
’’میں جانناچاہتاہوں کیونکہ حامد اس وقت زخمی حالت میں اسپتال میں ہے او رکرن غائب ہے۔‘‘ پرویز نے کہااور اسی وقت پھرکمال کمرے میں داخل ہوا۔
’’تھوڑی دیر اور انتظار کرو کمال میں ابھی بات کررہاہوں۔‘‘ پرویز نے کہااور کمال وہیں فرش پربیٹھ گیااس کے چہرے سے مایوسی جھلک رہی تھی او روہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں مل رہاتھا۔ پرویز اور کشور لپک کر اس کے قریب گئے۔
’پریشان مت ہو کمال… ہم تمہاری مام کوڈھونڈھ لیں گے…کیاتم میری مدد کروگے؟‘‘ پرویز نے کہا۔
’’جی انکل ضرور ‘کیامیں جان سکتاہوں کہ آپ آنٹی کشور سے کیا بات کررہے ہیں؟‘‘ کمال نے کہا تو پرویز نے کشور کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کشور نے اثبات میں سرہلایا۔
’’کیوں نہیں؟ ہوسکتا ہے ہم جو کچھ جاننا چاہتے ہیں تم اس بارے میں کچھ جانتے ہو۔‘‘ پرویز نے کہا جس پر کمال بھی ایک کرسی پر بیٹھ گیااور کشور اور پرویز اپنی جگہوں پر واپس آگئے۔
’’سب سے پہلی بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتاہوں کمال وہ یہ ہے کہ تم جو کچھ بھی سنوگے اور بولوگے وہ ایک راز ہوگا جوتم کسی کونہیں بتائوگے کسی رپورٹر کو بھی نہیں ‘سمجھ گئے؟‘‘ پرویز نے کہا۔
’’جی‘ کیامیں ایک سوال پوچھ سکتاہوں؟‘‘
’’ہاں… ہم اسی لیے یہاں موجود ہیں۔‘‘
’حامد انکل اسپتال میں کیوں ہیں ؟‘‘
’’کیا حامد کوکوئی نقصان پہنچا ہے ؟‘‘ کشور نے جلدی سے پوچھا۔وہ کس اسپتال میں ہے اوراس کا کرن کے معاملے سے تو کوئی تعلق نہیں ؟‘‘
’’میں اسی لیے پریشان ہوں کہ حامد کی وین ابھی بھی یہاں موجود ہے وہ کئی دنوں سے یہاں پہرہ دے رہا تھا‘جب سے کرن نے اسے بتایاتھا کہ کوئی اس پرنظررکھے ہوئے ہے اور کل رات اس پرتشدد ہوا کسی نے اسے وین سے کھینچ کرباہر نکالااور بہت مارا۔‘‘
’’وہ ٹھیک تو ہوجائے گا نا؟‘‘
’’وہ بے ہوش ہے اس کے ہوش میں آنے کاانتظار کررہے ہیں‘ تاکہ اس سے کچھ سوالات کرسکیں۔‘‘
’’کمال تم بتائو حامد انکل اور تمہاری مام ایک دوسرے سے کیسے ملتے تھے ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔ ’’میرامطلب ہے کہ رپورٹنگ کے علاوہ بھی وہ ان کے ساتھ کبھی باہر گئیں؟‘‘
’’نہیں … وہ کبھی ان کے ساتھ بغیر کام کے باہر نہیں گئیں بلکہ وہ ان کا بہت خیال کرتے تھے۔‘‘
’’کیاوہ کسی بات پرایک دوسرے سے ناراض تھے؟‘‘
’’نہیں؟‘‘ کمال نے کہا جس پرپرویز نے کشور کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’وہ تم سے ملنا چاہتی تھی اور حامد کو اعتراض تھا۔‘‘ کشور نے دبے لہجے میں کہا۔
’’کیا! مجھ سے ؟‘‘
’’ہاں‘ وہ تمہیں پسند کرتی ہے لیکن اظہار کی ہمت نہیں رکھتی اس نے مجھے بتایاتھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اب تم جاسکتی ہو اگر کوئی تم سے پوچھے تو کہنا کہ میں نے تم سے تمہاری اور کرن کی آخری ملاقات کے بارے میں پوچھا ہے اور بس۔‘‘ پرویز نے کہااور کمال کی طرف مڑا۔
’’آئو پارٹنر تھوڑی سراغرسانی کرتے ہیں۔‘‘ پرویز نے کمال کی کمرمیں ہاتھ ڈالتے ہوئے دوستانہ انداز میں کہا۔
’’کیامیری مام خیریت سے ہوں گی؟‘‘ ‘کمال نے پوچھا۔
’’ہاں‘ میں سمجھتاہوں وہ شاپنگ کے لیے گئی ہوگی۔‘‘
’’وہ واپس آجائیں گی ؟‘‘
’’ہاں مجھے یقین ہے ‘ تم مجھے ہر وہ بات بتائو جوتم نے یہاں دیکھی جب وہ یہاں تھی۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ کمال نے کہااور اسی وقت پرویز کے اسسٹنٹ ارشد اور جواد وہاں آگئے۔
’’ہاں بولو۔‘‘ پرویز نے کمال کوٹوکا۔
’’میں اپنے کمرے میں سورہاتھا جب ایک سائرن سے میری آنکھ کھلی میںنے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ایک ایمبولینس کھڑی تھی میں نے مام کو آواز دے کر اوپربلایا۔ ‘‘ کمال نے کہا۔
’’اچھا تم مجھے اوپر اپنے کمرے میں لے چلو باقی باتیں وہیں ہوں گی۔‘‘ پرویز نے کہا اور اسے لے کر اوپر چلاگیا۔
’’آج صبح جب تمہاری آنکھ کھلی تو تمہارے کمرے کادروازہ کھلاتھایابند تھا؟‘‘
’’بند تھا… مام نے مجھ سے پوچھاتھا کہ وہ اپنے لیے چائے بنانے جارہی ہیں کیا میں پیوئوں گا تومیں نے انکار کردیاتھا اوروہ دروازہ بند کرکے کچن میں چلی گئی تھیں۔‘‘
’’صبح دروازہ کس نے کھولا؟‘‘
’’میںنے‘جب میری کئی آوازیں دینے پر بھی وہ نہیں آئیں تو میں خود دروازہ کھول کرباہر نکلا تاکہ دیکھوں وہ اپنے کمرے میں کیا کررہی ہیں ۔‘‘
’’وہ کمرے میں تھیں؟‘‘
’’نہیں‘ پھرمیں نیچے گیا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھیں۔‘‘ کمال نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’چلو کچن میں چلتے ہیں شاید وہاں سے کچھ معلوم ہوسکے۔‘‘ پرویز نے کہااور کمال کے ساتھ پھرنیچے آگیا۔’’کمال‘ کیا جب تم کچن میں آئے تھے تو تمہیں کوئی غیر معمولی چیز نظر آئی تھی ؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’ہاں‘ مائیکرو ویو کی سیٹی بجتی ہے جب اسے کھولو… میںنے کھولاتھا اندرایک کپ رکھا ہے۔‘‘ کمال نے کہا۔
اورپرویز نے جیب سے دستانے نکال کر مائیکرو ویو کھولا سیٹی بجی اس نے کپ میں پانی چیک کیا وہ ٹھنڈا تھااس نے جیب سے نوٹ بک نکال کر اس میں کچھ لکھا پھر وہ کمال کی طرف مڑا۔
’’کمال تمہاری مام چائے کیسی بناتی ہیں ؟‘‘
’’جیسے سب بناتے ہیں وہ گرم پانی میں ٹی بیگ ڈال کر چائے بناتی ہیں۔‘‘
’’اور ٹی بیگ کہاں رکھتی ہیں ؟‘‘
’’اس الماری میں ۔‘‘ کمال نے کچن کے پچھلے دروازے کی طرف بنی الماری کی طرف اشارہ کیااوراس کادروازہ کھولنے کے لیے ہینڈل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
’’ٹھہرو‘اسے مت چھونا۔‘‘ پرویز نے کہااور پھر دستانے والے ہاتھ سے الماری کھولی اس نے الماری کاجائزہ لیا لیکن الماری کے اندر کچھ خاص چیز نہیں ملی تھی پھراس کی نظر نیچے زمین پرپڑی جہاں ایک خالی سرنج پڑی ہوئی تھی۔
’‘’کیاتمہاری مام شوگر کی مریض ہیں اور انسولین لیتی ہیں ؟‘‘ پرویز نے کمال سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘کمال نے کہااور پرویز نے دستانے والے ہاتھ سے سرنج اٹھا کر ایک لفافے میں رکھی۔
’’سرنج توڈاکٹر استعمال کرتے ہیں میری مام ڈاکٹر بدر کے پاس جاتی ہیں وہ غلیظ ڈاکٹر… میں اسے پسند نہیں کرتا۔‘‘ کمال نے غصے سے کہا۔
’’دیکھو کمال صرف ایک سرنج کے ملنے کی وجہ سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ڈاکٹر بدر مجرم ہے‘ سرنج تو بہت سے لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘‘ پرویز نے اسے سمجھایا۔
v…٭…v
اگلے روز سراغرساں پرویز کمال کے ساتھ اسپتال پہنچاتھا وہ حامد سے بھی کچھ مزید سوالات کرنا چاہتاتھا جب وہ اسپتال پہنچا تو حامد کمرے میں تنہاتھا۔
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ اس نے حامد سے پوچھا۔
’’بہترہے کرن کاکچھ پتہ چلا؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’تمہیں کرن کے بارے میں کیاپتہ ہے ؟‘‘
’’میں نے تمہیں فون پرباتیں کرتے ہوئے سناتھا پھر تمہارے جانے کے بعد بھی یہاں جوآفیسر تھاوہ کسی سے کہہ رہاتھا کہ کرن اغوا ہوگئی ہے کچھ پتہ چلا؟ وہ کہاں ہے ؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’وہ ڈاکٹر بدر کے پاس ہے۔‘‘ کمال نے جلدی سے کہا توحامد نے سوالیہ نظروں سے پرویز کی طرف دیکھا۔
’’تم بار بار یہ کیوں کہہ رہے ہو کمال؟‘‘ پرویزنے اسے پھرٹوکا۔
’’وہ اکثر میری مام سے الجھتا رہتا تھا۔‘‘
’’اس کے علاج کے دوران؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’ہاں‘ مجھے پتہ نہیں جب میں آخری بار اسکول سے نکالا گیاتو وہ مجھے کیوں اس سے ملوانے لے گئی تھیں۔انہوںنے اس سے ملنا چھوڑ دیاتھا اور کہہ دیاتھا کہ وہ مزید سیشن نہیں کریں گی۔‘‘ کمال نے کہا۔
’’ان کی لڑائی کے بارے میں کچھ بتائو؟‘‘ حامد نے کہا۔
’’مجھے پچھلا واقعہ یاد ہے جب ڈاکٹر بدر میری مام کوچھوڑنے گھرآیا تھا وہ اکثر جب اس کے پاس سے واپس آتی تھیں تومجھے لگتاتھا کہ وہ کافی دیر تک روتی رہتی ہیں۔‘‘
’’آخری بار کی کیابات تمہیں یاد ہے ؟‘‘پرویز نے پوچھا۔
’’میں نے زور زور سے بولنے کی آوازیں سنی تھیں تو میں اپنے کمرے سے باہر آیا تھا وہ دونوں بیرونی دروازے کے قریب کھڑے تھے اور ڈاکٹر بدر میری مام سے شادی کے لیے کہہ رہاتھا لیکن مام نے انکار کرتے ہوئے اسے گھر سے چلے جانے کے لیے کہاتھا جس پرڈاکٹر بہت چیخاتھا اور کہاتھا کہ تم مجھے واپس بھیجنے والی کون ہوتی ہو میں جب چاہوں گا جائوں گا… میں نے تمہیں بنایاہے … میرے بغیر تم کچھ نہیں ہو‘ تمہارا نہ کوئی ماضی ہے اور نہ مستقبل۔‘‘
’’تمہیں یقین ہے اس نے یہی کہاتھا؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’ہاں‘مام رو رہی تھیں اوراس سے خاموش ہونے کے لیے کہہ رہی تھیں اس نے مام کو کاندھوں سے پکڑ کردروازے کی طرف دھکیلا تھا تومیں زور سے چیخاتھااوردوڑتا ہوا سیڑھیاں اتر کرنیچے پہنچاتھا۔‘‘
’’پھراس نے کیا کیا؟‘‘
’’ایسالگاجیسے وہ مجھے مارنا چاہتا ہے لیکن پھروہ مام پرچیخا… تم میری ہو… میں نے تمہیں بنایاہے۔‘‘ اس نے چیخ کر کہااور پھردروازہ کھول کرباہر نکل گیا۔‘‘
’’تمہاری مام نے پھر کیا کیا؟‘‘
’’وہ بہت دیر تک روتی رہی تھیں پھرہم لوگ سوگئے تھے جب صبح میں اٹھا تب بھی وہ میرے کمرے میں ایک کرسی پربیٹھی رورہی تھیں۔‘‘
’’کیاوہ آخری موقع تھاجب وہ ڈاکٹر بدر سے ملی تھیں؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’ہاں‘انہوں نے اپناعلاج ختم کردیاتھااوروہ اس سے ملنے نہیں جاتی تھیں وہ ہرروز انہیں فون کرتاتھااور روز ایک گلاب بھیجتاتھا لیکن وہ اس سے پھرنہیں ملیں صرف آخری بار مجھے لے کراس کے پاس گئی تھیں۔‘‘
’’وہ تمہیں کسی اور ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں لے گئیں؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’شاید وہ کسی اور کو نہ جانتی ہوں۔‘‘ کمال نے کہا۔
’’کیا تم جانتے ہو کہ وہ اپنا کیا علاج کروارہی تھیں؟‘‘ حامد نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
‘’کیاتمہیں پتہ ہے کہ انہوں نے علاج کیوں بند کیا؟‘‘ پرویز نے کہا۔
’’شاید وہ اس سے خوفزدہ تھیں۔‘‘ کمال نے جواب دیااور حامد سوچ میں پڑگیا کہ اگر کرن ڈاکٹر سے خوفزدہ تھی تواس نے کسی کو کیوں نہیں بتایا اورکمال کو اس کے پاس کیوں لے گئی اوراس کے ساتھ لنچ کرنے کیوں گئی۔‘‘
’’انکل پرویز کیا آپ ڈاکٹربدر سے میری مام واپس لاسکتے ہیں؟‘‘کمال نے پوچھا۔
’’میراخیال ہے کہ مجھے ایک بار اس سے ملنا ہی پڑے گا۔‘‘ سراغرساں پرویز نے کا۔
اگلے روز سراغرساں ڈاکٹر بدر سے ملاتھا وہ اس بلڈنگ کے انڈرگرائونڈ پارکنگ میں اس کاانتظار کررہاتھا۔ اورجب اس کی گہری نیلی سیاہی مائل وین آکررکی اور ڈاکٹر باہر نکلا تو وہ اس کی طرف بڑھا۔
’’ڈاکٹر بدر؟‘‘
’’جی‘کیابات ہے ؟ آپ جانے پہچانے لگ رہے ہیں لیکن آپ کانام مجھے یاد نہیں آرہا۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
’’میں سراغرساں پرویز ہوں۔ مقامی پولیس اسٹیشن سے میرا تعلق ہے۔‘‘
’’آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟‘‘
’’مجھے آپ سے کچھ سوالوں کے جوابات چاہئے۔‘‘
’میرے پاس وقت نہیں ہے اور میں اگلے ہفتے بھی مصروف ہوں۔‘‘
’’مجھے صرف چند منٹ چاہئیں کچھ سوالوں کے لیے۔‘‘ پرویز نے کہا لیکن ڈاکٹر اس کی بات سننے کے لیے رکا نہیں تھااور لفٹ کی طرف بڑھ گیاتھاپرویز نے بھی اس کی تقلید کی۔
’’میرے مریض میرے منتظر ہیں اورمجھے فرصت نہیں ہے۔‘‘ڈاکٹر بدر نے پھر کہا۔
’’تم کرن حماد کو جانتے ہو؟‘‘
’’بے وقوفی کے سوالوں سے میرا وقت ضائع مت کرو جبکہ تمہیں پتہ ہے میں اسے جانتاہوں۔‘‘
’’ڈاکٹر، کرن غائب ہوگئی ہے شاید اسے کسی نے اغواکرلیا ہے۔‘‘ پرویز نے کہا لیکن ڈاکٹر بدر نے کوئی جواب نہیں دیا وہ لفٹ سے نکل کر اپنے آفس میں داخل ہواتھااور دروازہ بند کرلیاتھا۔
’’اگر تم کرن کوجانتے ہو تو اس کے بیٹے کمال کوبھی جانتے ہوگے اس کاکہنا ہے کہ تم اس کی ماں کو دھمکیاں دیتے تھے۔‘‘ پرویز نے اس کے پیچھے اس کے آفس میں داخل ہوتے ہوئے کہااندربیٹھے مریض ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
’’کل رات تم کہاں تھے ؟‘‘ پرویز نے چیخ کر پوچھا اور ڈاکٹر بدر نے اپنے خاص کمرے کادروازہ کھولا پھراس نے مڑ کر اپنی ریسپشنٹ کی طرف دیکھاتھا اورایک مسکراہٹ اور دھیمے لہجے میں اس سے مخاطب ہواتھا۔
’’پلیز پولیس کمشنر سے میری بات کرائو۔‘‘ اس نے کہااور دروازہ بند کرلیا۔
v…٭…v
کچھ ہی دیر بعد سراغرساں پرویز اپنے باس کیپٹن ولید احمد کے سامنے کھڑا تھاوہ کافی دیر سے وہاں کھڑاتھااور کیپٹن ولید کسی کام میں مصروف تھا۔
’کیپٹن اگر آپ مصروف ہیں تو میںپھر آجائوں گا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’اس بات کی وضاحت کرو کہ تم آج ڈاکٹر بدر کے دفتر میں کیا کررہے تھے اوراس کے مریضوں کے سامنے تم نے اس کی بے عزتی کیوں کی ؟‘‘
’’ایک گواہ نے شک ظاہر کیاتھا کہ وہی کرن کواغوا کرنے والا ہوسکتا ہے۔‘‘ پرویز نے جواب دیا۔
’’ایک تیرہ سالہ بچہ جوصدمے سے بے حال ہے وہ تمہارا گواہ ہے؟ تم ایسی غلطی کیسے کرسکتے ہو پرویز۔‘‘
’’ہمیں کچھ شواہد ملے ہیں۔‘‘
’’شواہد؟ کیسے ؟ کب ؟ کہاں؟ میں جاننا چاہتاہوں کہ ڈاکٹر بدر کوتم نے تنگ کیوں کیا؟ کیاتمہارے شواہد اسے مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں؟‘‘
’’میراشک ہے کہ وہی اصل مجرم ہے ۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’سراغرساں پرویز‘ مجھے تم جیسے تجربہ کار آفیسر سے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی تمہیں اندازہ ہے کہ یہ ڈاکٹر بدر کتنا اثرورسوخ رکھتاہے تمہاری اس حرکت کی وجہ سے میں حکام بالا کووضاحتیں دیتا پھروں گا؟‘‘
’’مجھے اپنا کام کرنے دیں میں ثبوت بھی فراہم کر دوں گا کرن نے مجھے بتایاتھا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں تھی وہ بھی علاج کروارہی تھی پھراس نے علاج بند کردیا ہمیں بہرحال اسے چیک تو کرنا چاہیے جبکہ کرن غائب ہے۔‘‘
’’لیکن اس شک پر نہ تو اسے گرفتارکیاجاسکتا ہے اورنہ ہی عدالت میں پیش کیاجاسکتا ہے چنانچہ میں تمہیں اس کیس کی تحقیقات کی اجازت تو دیتاہوں لیکن بغیر ثبوت کے اب تم ڈاکٹر بدر کے آفس نہیں جائوگے۔‘‘
’’یس سر۔‘‘
’’میں چاہتاہوں کہ تم جلد از جلدثبوت ڈھونڈو اور اصل مجرم کو سامنے لائو‘ وہ جو بھی کوئی ہے۔ خواہ مخواہ ڈاکٹر بدر کوتنگ کرنے سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا سوائے پریشانی کے تم نہیں جانتے کہ وہ کیا کچھ کرسکتا ہے۔‘‘ کیپٹن ولید نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’ٹھیک ہے میں آپ کی ہدایت پرعمل کروں گا۔‘‘ پرویز نے کہااور کیپٹن ولید کے دفتر سے نکلنے کے بعد حامد کوفون کیا۔
’’حامد‘ کمال ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں ٹھیک ہے‘ اس نے مجھے ایک اور بات بتائی ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’اس کاکہناہے کہ ایک بار ڈاکٹر بدر نے اسے بتایاتھا کہ وہ بچپن میں یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک فارم ہے ’’دلکشا فارم‘‘ کے نام سے ‘یہی نام کمال نے بتایا تھا‘شہر سے نکل کر سپرہائی وے پرسیدھے ہاتھ پرپڑتاہے‘ اس کے ساتھ ہی ایک نہر بھی موجود ہے کچھ جنگلات پرمشتمل حصہ ہے لیکن آج کل ویران پڑا ہے۔‘‘
’’حامد‘ہم تیرہ سال کے بچے کے کہنے پر صرف شہادت پرکام کررہے ہیں اور اب یہ ویران فارم جہاں ظاہر ہے کوئی نہیں رہتا ہوگا۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’لیکن کسی نہ کسی کوتواس کیس کوانجام تک پہنچانا ہے۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’ہوں… ایسا کرو حامد صبح میں کمال اور اپنے بیٹے کواسکول چھوڑنے کے بعد تم سے ملتاہوں پھر طے کریں گے کہ کیاکرناہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘حامد نے کہااور فون بند کردیا۔
v…٭…v
اس کی آنکھ اندھیرے کمرے میں کھلی تھی اسے پیاس لگی تھی ہونٹ خشک تھے اور گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کراندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا‘ اس نے ٹانگیں پھیلائیں تو فرش کی ٹھنڈک کااحساس ہواتب اس نے سوچا کہ میں فرش پرکیوں لیٹی ہوں‘ پھراس نے محسوس کیا کہ اس کے جسم پر پورے کپڑے بھی نہیں تھے اس نے اپنے پائوں اپنی قمیص میں سکیڑ لیے اسے محسوس ہورہاتھا جیسے وہاں اس کے علاوہ بھی کوئی موجود ہو۔
’’کمال… کمال… میری مدد کرو۔‘‘ اس نے پھر کہا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اس نے سوچا ایسے لمحات میں اس پرپہلے بھی آچکے ہیں اسے سوتے سوتے اکثر سانس گھٹنے کااحساس ہوتاتھا لیکن کروٹیں بدلنے پر کیفیت ٹھیک ہوجاتی تھی پرآج ایسانہیں ہو رہاتھا کچھ دیر بعد اسے قدموں کی آواز سنائی دی اس نے پھر کمال کو آوازیں دیں لیکن شاید کوئی سننے والا نہیں تھا پھروہ ہلکی سی روشنی کی مدد سے دروازے کااندازہ کرکے اس طرف کھسک گئی اور دروازے کا ہینڈل ڈھونڈنے لگی لیکن وہاں کوئی ہینڈل نہیں تھا۔
’’اوہ خدایا… یہ سب کیا ہے ؟‘‘ وہ چیخی باہر پھر کوئی آہٹ سنائی دی۔
’’کون ہے…؟ وہاں کون ہے ؟‘‘
’’تم کیاچاہتے ہو؟ کون ہو؟‘‘
’’مجھے باہر نکالو… پلیز میری مدد کرو۔‘‘ وہ برابر چیخ رہی تھی۔
’’کمال… کمال تم کہاں ہو… کیا میری آواز سن رہے ہو؟‘‘ اس نے کہااور پھراس کی آواز اور سسکیاں مدھم ہوتی چلی گئیں وہ ایک بار پھر بے ہوش ہوگئی تھی۔
کچھ دیر بعد پھراسے ہوش آیا تھاتو وہ اپنی پوری طاقت جمع کرکے کھڑی ہوئی تھی اور اندھیرے میں ہاتھوں سے ٹٹولتی لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھی تھی۔
’’کمال…! کمال!‘‘ اس نے پھر اپنے بیٹے کوپکاراتھا لیکن جواب میں اسے تالیوں کی آواز سنائی دی تھی جو اس کی پشت کی طرف سے آرہی تھی‘ وہ تیزی سے مڑی تھی کمرے کادروازہ کھلا تھااور وہاں ہلکی ہلکی روشنی میں ایک شخص کھڑانظر آرہاتھاجس نے کالے رنگ کا سوٹ پہناہواتھااس کے چہرے پرنقاب تھی اوراس کے ایک ہاتھ میں لمبی ڈنڈی والا گلاب تھا وہ آہستہ آہستہ کرن کی طرف بڑھااور کرن پیچھے ہٹنے لگی۔
’’تمہاری‘ بہت اچھی تصویریں آئی ہیں۔‘‘ آنے والے نے کہا۔ ’’میڈیاپرچلیں گی تودھوم مچ جائے گی۔ مشہور اینکر اور رپورٹر برہنہ حالت میں… ویسے تم خاصی خوصورت ہو۔‘‘
’’بکواس بند کرو… تم کون ہو؟‘‘ کرن نے غصے سے کہاوہ نیچے بیٹھ گئی تھی اور آنے والے نے ہاتھ میںپکڑ اگلاب اس کی طرف اچھال دیاتھا پھراس نے دروازے کی چوکھٹ کے اوپر لگا ہوا بٹن دبایا تھااور کمرہ روشن ہوگیاتھا۔
’’میرا بیٹا کمال کہاں ہے ؟‘‘ کرن نے پوچھاتو آنے والا ہنس پڑا اس کے باریک ماسک سے اس کے سفید سفید دانت جھانک رہے تھے۔
’’اچھا سوال ہے لیکن اس سے زیادہ اچھا سوال یہ ہے کہ جب تک تم میری مہمان ہو تمہیں کس طرح رہناہے میں جاننا چاہتاہوں کہ تمہاری نفسیاتی کیفیت ٹھیک ہوگئی ہے یاتم ابھی تک مریض ہواور دیکھنا چاہتاہوں کہ ایک زخمی شیرنی اپنے بچے کو حاصل کرنے کے لیے کیا کرسکتی ہے دونوں صورتوںمیں شہرت میرے قدم چومے گی۔‘‘ اس نے اپنا بایاں ہاتھ آگے بڑھایا جس میں مگرمچھ کی کھال سے بنے اسٹریپ کی گھڑی بندھی تھی اور کرن کواچھی طرح یاد تھا کہ ڈاکٹر بدر ہی وہ گھڑی پہنتاتھا۔
’’دیکھو تم جو کہوگے میں کروں گی لیکن تم کمال کوچھوڑ دو پلیز۔‘‘ کرن نے التجاآمیز لہجے میں کہا۔
v…٭…v
حامد اپنی وین میں سپرہائی وے پرجارہاتھا کافی دیر سفر کرنے کے بعد اس نے اپنی وین سیدھے ہاتھ پرموڑ کر ایک کچے ر استے پرڈال دی تھی جو اس کے اندازے کے مطابق دلکش فارم کی طرف جاتاتھا‘ راستے میں بہت خودروجھاڑیاں تھیں جوآگے چل کرجنگل میں تبدیل ہوگئی تھیں اس سے اور آگے دور ایک نہر بہہ ر ہی تھی اس نے جھاڑیوں میں چھپا کروین روکی تھی اور انجن اسٹارٹ ہی چھوڑ کرنیچے اتر گیا تھا پھروہ ایک پگڈنڈی پرآگے بڑھنے لگاتھا جس پر کسی ہیوی گاڑی کے ٹائروں کے نشانات موجود تھے کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد جھاڑیوں سے پاراس کی نظر لکڑیوں سے بنے ایک بڑے سے کیبن پرپڑی تھی پھروہ واپس اپنی وین تک آیاتھااور وہاں سے اس نے سراغرساں پرویز کوفون کیاتھا۔
’’پرویز مجھے مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ اس نے کہا اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات ناچ رہے تھے وہ سوچ رہاتھا کہ ممکن ہے کہ کرن اس کیبن میں موجود ہواسے مدد کی ضرورت ہو وہ خاصا پریشان ہورہاتھا‘اتناعرصہ کرن کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ اس سے خاصا قریب ہوگیاتھااس کاخیال کرنے لگاتھا اس کی اور کمال کی تکلیف کواپنی تکلیف سمجھنے لگاتھا۔
’’تم کہاں ہو؟‘‘ اچانک پرویز کی آواز سے وہ چونکاتھا۔
’’میراخیال ہے میں نے ڈاکٹر بدر کاٹھکانہ ڈھونڈ لیا ہے یہ سپرہائی وے سے ایک میل اندر کی طرف واقع ہے۔‘‘
’’میںنے تمہیںکہاتھا کہ تم انتظار کرو۔‘‘
’’میری بات سنو پرویز یہ ضروری ہے یہ بتائو کہ جنسی تشدد کے مریض یا مجرم کی وین کی پہچان کیا ہے ؟‘‘ اس نے پرویز سے پوچھا۔
’’وہ نیوی کلر یابلیک کلر کی بتائی جاتی ہے اس میں کھڑکیاں نہیں ہیں ایک شخص نے ہی اسے دیکھا ہے اور اس کاکہناہے کہ وہ گہرے رنگ کی ہے اندرشاید کارپٹ بچھا ہے اور…‘‘
’’وہ یہاں ہے ایسی ہی ایک وین یہاں موجود ہے۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’کیاتم روڈ پرموجود ہو؟‘‘ پرویز نے پوچھا۔
’’نہیں‘میں روڈ سے دائیں ہاتھ پرمڑنے والی ایک پگڈنڈی پر بنے وین کے ٹائروں کے نشانات کے تعاقب میں یہاں تک پہنچاہوں جہاں میں نے اپنی وین کھڑکی کی ہے وہاں ایک جنگل ہے۔‘‘
’’تم وہیں ٹھہرو‘ میں کمال اور رحمان کواسکول سے لے کرآتاہوں۔‘‘ پرویز نے کہا۔ ’میں انہیں کشور کے پاس چھوڑ کر آئوں گا تم موقع سے دور رہنا کوشش کرنا کہ تم کسی کی نظر میں نہ آئو… میں وہاں پہنچ کر وین کوچیک کروں گااوراگروہ واقعی مطلوبہ وین ہوگی تو پولیس کوفون کروں گا۔‘‘ پرویز نے کہااور حامد نے فون بند کردیا اس کے ہونٹوں پرمسکراہٹ تھی۔
’’سوری پرویز میں یہ بات نہیں مان سکتا‘ممکن ہے اسے میری ضرورت ہو… ‘‘ حامد منہ ہی منہ میں بڑبڑایااور وین کادروازہ بند کرکے واپس اسی راستے پر چل دیاجہاں آگے اسے کیبن اور وین نظر آئے تھے۔
v…٭…v
ویران فارم ہائوس کے کیبن میں کرن وقت کی قید سے آزاد ایک کرسی پرنیم برہنہ حالت میں بیٹھی تھی‘ کمرے میں روشنی ہونے کے بعد اس نے دیکھاتھا کہ وہاں کچھ سامان بھی موجود تھا کمرے میں ناگوار سی بو بسی ہوئی تھی ‘فرش پر ایک میٹریس پڑی تھی ایک کونے میں بڑی سی میز تھی دیوار میں اوپر کی طرف کیمرے نصب تھے جن سے کرن کے خیال میں اس کی تصاویر یاویڈیوز یقینا بنائی گئی تھیں وہ جاننا چاہتی تھی کہ اسے یہاں لاکر کیسے قیدی بنایاگیا‘کمرے میں ایک ہی دروازہ تھا جو لاک تھا چنانچہ فرار کاکوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔
’’اب وقت آگیا ہے کہ میں تجربہ شروع کروں۔‘‘ اچانک آواز پر وہ چونکی تھی۔
’’کیا؟‘‘ اس نے سامنے کھڑے شخص کودیکھا جس نے وائٹ کلر کالیب کوٹ پہناہواتھا۔
’’بس کرو ڈاکٹر بدر میں نے تمہیں پہچان لیا ہے اپنے چہرے سے ماسک اتارواورمجھے یہاں سے جانے دو۔‘‘ کرن نے ہمت جمع کرکے کہا۔
’’چالاک خاتون… تم نے مجھے کیسے پہچانا؟‘‘
’’تمہاری گھڑی‘ تمہارا بولنے کاانداز‘ تمہارے الفاظ… بس اب مجھے میرے کپڑے واپس کرواورجانے دو۔‘‘
’’ابھی نہیں مائی ڈیئر‘ اس طرح میر اتجربہ توناکام ہوجائے گا۔‘‘
’’تم کیابکواس کررہے ہو کیسا تجربہ؟‘‘
’’تم نے ثابت کردیاہے کہ تم کتنی اسمارٹ ہو چنانچہ میں تمہیں ایک اشارہ دیتاہوں نفسیاتی مریض میںpost-traumatic stressPTSDکاتجربہ۔‘‘
’’اس سے میرا کیا تعلق ہے ؟‘‘
’’تمہارا تعلق ہے ۔‘‘
’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘
’’یہ ممکن ہے ‘ عورتوں اور بچوں میں یہ ممکن ہے کہ جب انہیں زندگی کے خطرناک حالات کاسامناہوتاہے تووہ اس پرفتح پالیتے ہیں لیکن تمہارا معاملہ اس سے مختلف ہے ‘تمہارا دماغ تمہاراساتھ نہیں دیتا تم نے اپنے گرد ایک تصوراتی دنیا بسارکھی ہے جس نے ایک نئی حقیقت کو جنم دیاہے گائوں کی رہنے والی ایک لڑکی جوشہر میں آکر ایک مشہور ٹی وی رپورٹر بن گئی ہے‘ اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔‘‘ ڈاکٹر بدر نے کہا اس نے ماسک اتار دیاتھااوراس کے چہرے پرطنزیہ مسکراہٹ تھی کرن اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی اسے زندگی میں پہلی بار احساس ہواتھا کہ ڈاکٹر بدر کی مسکراہٹ کتنی خوفناک تھی اسے جھرجھری آگئی اور وہ سوچنے لگی کہ اس نے ڈاکٹر بدر کوپہچاننے میں کتنی غلطی کی تھی۔
’’تم جانتے ہو میں کون ہوں ؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’ہاں میں ہی تو جانتاہوں تم کون ہو۔‘‘ ڈاکٹر بدرنے ہنستے ہوئے کہا۔
’’توتم مجھ سے کھیل رہے تھے؟ مجھے بے وقوف بنارہے تھے؟‘‘
’یقینا… بھلامیں اپنے نئے تجربات کس پرکرتا؟‘‘
’’کیسے تجربات؟‘‘
’’یہ میں تمہیں نہیں بتاسکتا۔‘‘
’’تم ذہنی مریض ہو۔‘‘ کرن نے چیخ کر کہا اور ڈاکٹر نے اس کے گال پرزور سے طمانچہ ماراپھر ڈاکٹر نے اس کے بال پکڑکراسے اپنی طرف کھینچا تھااور کرن نے زور سے اس کے پیٹ میں لات ماری تھی وہ دہرا ہوگیاتھا اور کرن اپنی جگہ سے اچھل کرکھڑی ہوگئی تھی۔ڈاکٹر نے پھراس پرچھلانگ لگائی تھی اور میز پر رکھاہو الیمپ اٹھا کراس کے سرپردے ماراتھا وہ کرسی پرگراتھااور کرسی سمیت فرش پرڈھیر ہوگیاتھا اتنی دیر کرن کے لیے کافی تھی وہ دروازہ کھول کر کمرے سے نکل کر بھاگی تھی۔
v…٭…v
حامد کیبن کے قریب پہنچ کر اندرسے آنے والی آوازوں کوسن رہاتھا یوں لگ رہاتھا جیسے دو افراد لڑرہے ہوں کسی جنریٹر کے چلنے کی آواز بھی آرہی تھی پھر اچانک اسے ایک عورت کے چیخنے کی آواز سنائی دی اور وہ پہچان گیا کہ وہ کرن ہی کی آواز تھی۔
’’کرن… میں حامد ہوں… میں آرہاہوں۔‘‘ وہ آواز کی سمت کااندازہ کرکے بھاگا پھروہ جیسے ہی کیبن میں داخل ہوا تھاایک کمرے کادروازہ کھول کر باہر نکلتی ہوئی نیم برہنہ کرن اس سے ٹکرائی تھی اور حامد نے اسے تھام لیاتھا۔
’’اوہ خدایا کرن؟‘‘ حامد کے منہ سے بے ساختہ نکلاتھالیکن کرن اسے چھوڑ کرباہر کی طرف بھاگی تھی پھراس نے پیچھے مڑ کر دیکھاتھا ڈاکٹر بدر نے حامد کوپکڑ لیاتھا۔
’’نہیں… خدا کے واسطے اسے چھوڑ دو۔‘‘ کرن چیخی تھی۔
’’تم کہیں نہیں جاسکتیں…تم میری ہو۔‘‘ ڈاکٹر بدر بھی چیخاتھا لیکن کرن بھاگتی ہوئی جنگل میں چلی گئی تھی۔
’’میںنے تمہیں بنایاہے… ابھی میرا تجربہ باقی ہے… تم کہیں نہیں جاسکتیں…‘‘ اس نے کہا اور حامد کو گھسیٹتا ہوااندر کمرے میں لے گیا پھراس نے حامد کوبے تحاشہ مارناشروع کردیاتھا۔
کرن کچھ دور تک بناسوچے سمجھے بھاگتی رہی تھی پھراچانک ایک جگہ رک گئی تھی اسے حامد کا خیال آیاتھا جونہ جانے کیسے اسے بچانے پہنچ گیاتھااور وہ اسے اکیلا ڈاکٹر بدر کے ساتھ چھوڑ آئی تھی اس خیال کے آتے ہی وہ دوبارہ پلٹی تھی اس نے سوچاتھا کہ شاید وہ حامد کی کوئی مدد کرسکے جب وہ واپس کیبن تک پہنچی تھی تووہاں خاموشی تھی اوراس کمرے کا دروازہ نیم واتھاجس سے وہ نکل کربھاگی تھی یوں لگ رہاتھا کہ کیبن میں کوئی موجود نہ ہو۔
’’حامد… حامد…‘‘اس نے کئی بار حامد کو آواز دی لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر بہت احتیاط سے قدم اٹھاتی کمرے میں داخل ہوئی دروازہ کھول کر وہ دو قدم آگے ہی گئی تھی کہ کوئی سخت چیز اس کے سر پرٹکرائی تھی اوروہ اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی تھی۔
جب اسے ہوش آیا تھاتو کمرے میں موجود تیز روشنیوں سے اس کی آنکھیں چندھیاگئی تھیں۔ اس کاہاتھ غیر ارادی طور پر اپنے سر کے پیچھے اس حصے کی طرف بڑھ گیا تھاجہاں شدید درد ہورہاتھااس کی انگلیاں بھیگ گئی تھیں اوراسے احساس ہواتھا کہ اس کے سر سے خون بہہ رہاتھا وہ اٹھ کربیٹھ گئی۔
’’کرن… کیاتم ٹھیک ہو؟‘‘ کسی نے پوچھا تو کرن نے آواز کی سمت گردن گھمائی اور وہ حیران رہ گئی۔
’’اوہ خدایا… اس نے تمہارے ساتھ کیاکیا ہے ؟‘‘ اس نے حامد کو دیکھ کر کہا وہ فرش پر زخمی حالت میں پڑاتھااس کے جسم سے جگہ جگہ سے خون بہہ رہاتھا ‘ کرن اس کی طرف بڑھی لیکن دو قدم بڑھانے کے بعد گر گئی اس کادایاں پائوں زنجیر میں بندھاہواتھا۔
’’اوہ حامد…‘‘ وہ کراہی ۔‘‘ میں تم تک نہیں پہنچ سکتی … میں زنجیر میں بندھی ہوں جودیوار کے ساتھ لگے ایک لوہے کے کنڈے میںلگی ہے کیاتم میرے قریب کھسک کر آسکتے ہو تاکہ میں تمہاری مدد کرسکوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اس کی ضرورت نہیں … تم غور سے میری بات سنو…‘‘ حامد نے کہااوراسے زور سے کھانسی آئی پھراس کے منہ سے خون نکلاتھا۔
’’باتیں مت کرو… تمہیں کھانسی آرہی ہے… اوہ خدایا… اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے؟‘‘
’’سنو‘ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔‘‘ حامد نے پھربولنا شروع کیا۔’’میں تمہیں کچھ بتانا چاہتاہوں۔‘‘ حامد نے کہااور پھر کھانسی کے ساتھ خون آیا۔
’’حامد پلیز… مت بولو۔‘‘
’’کرن… یہ بہت ضروری ہے … میں تمہیں بچانے کی کوشش کررہاتھا۔‘‘ حامد نے کہا۔
’’ڈاکٹر بدر کہاں ہے ؟‘‘ کرن نے پوچھا۔
’’وہ کہہ رہاتھا کہ وہ میری وین نہر میں ڈبونے جارہا ہے وہ بیس فٹ گہری ہے۔‘‘
’’اچھا‘ خاموش ہوجائو… تمہارابہت خون بہہ گیا ہے… شاید کوئی ہماری مدد کوآجائے۔‘‘
’’نہیں‘ وہ ہمیں نہیں ڈھونڈ سکیں گے… یہ جگہ غیر آباد ہے اور میری وین بھی اس نے پانی میں ڈبودی ہوگی… کوئی نشانی نہیں ہے۔‘‘
’’سنو‘ہمت کرو… تم یہاں سے نکل جائو… اپنی جان بچائو۔‘‘
’’لیکن میں تو زنجیر سے بندھی ہوں کیا کروں؟‘‘ کرن نے کہا۔
’’حامد تم بہت بڑے بے وقوف ہو۔‘‘ اچانک ڈاکٹر بدر کی آواز آئی وہ کمرے کے دروازے میں کھڑا تھا۔’’تم کرن کی محبت میں گرفتار ہو تب ہی اسے بچانے یہاں آگئے بھلا اور کوئی کیسے یہ ہمت کرسکتاتھا۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’لیکن تمہیں اچھی سزا مل گئی ہے۔‘‘
’بدر… تم ایک ڈاکٹر ہو… اس پررحم کرو اس کی حالت اچھی نہیں ہے پلیز اسے اسپتال لے چلو۔‘‘ کرن نے درخواست کی اور ڈاکٹربدر ہنس پڑا۔
’’تم بھی کتنی احمق ہوا سے میں نے ہی اس حال کوپہنچایا ہے اس لیے نہیں کہ پھراس کواسپتال لے جاکر اس کاعلاج کروائوں۔‘‘
’’دیکھو تم جوکہوگے میں کروں گی تم اسے چھوڑ دو۔‘‘ کرن نے کہا لیکن جواب میں ڈاکٹر بدر نے حامد کے سینے پر ٹھوکریں مارنا شروع کردیں وہ درد سے چیخ رہاتھا۔
’’اسے سبق ملنا چاہیے اس نے یہاں آنے کی جرات کیسے کی؟‘‘ وہ غصے سے بولا‘ کرن اپنی جگہ سے اٹھی اوراس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن زنجیر کی وجہ سے وہ آگے نہ بڑھ سکی بس طاقت لگاتی رہی جس پرڈاکٹر نے تالیاں بجائیں۔
’’واہ‘ واہ کیامنظر ہے۔‘‘ڈاکٹر نے کہا۔ ’’اب میرا تجربہ مکمل ہوگا۔‘‘
’’کیسا تجربہ ؟‘‘
’’جوتمہارے شوہر کی موت سے شروع ہواتھاجب تم کومے میں چلی گئی تھیں تب کمال پیدا ہونے والا تھا‘میں نے ہی تمہیں حاصل کرنے کے لیے تمہارے شوہر تمیز الدین کوماراتھا وہ میرے راستے کاپتھر تھا‘ لیکن جب تم ہوش میں آئیں تو یادداشت کھوچکی تھیں ایسی حالت میں ہی کمال پیدا ہوا‘میں نے تمہارے سارے اخراجات اٹھائے … تمہیں پھر سے زندہ رہنا سکھایا… یوں سمجھ لو تمہیں نئی زندگی دی… تمہیں ٹی وی چینل میں ملازمت دلائی … تمہیں گھر دلایا… اور اب… اب یہ تمہارے نئے عاشق میرے راستے کی دیوار بننا چاہتے ہیں…میں اسے مار دوں گا… تاکہ تم پھر ایک بار اسی کیفیت سے گزرو… ہاہاہاہا کتنا مزہ آئے گا آج ایک محبت کی قربانی ہوگی۔‘‘
’’تم پاگل ہوگئے ہو۔‘‘ کرن نے غصے سے کہا۔
’’تم جب غصے کی کیفیت سے باہر آئوگی تو تمہیں اندازہ ہوگا جب میرے تجربات پرمیرا تحقیقی کام چھپے گا تو دنیا میں میری شہرت ہوجائے گی اور تم… تم گمنام ہوجائوگی ایک باسی پھول کی طرح… ایک مسلے ہوئے گلاب کی طرح جسے صرف میرے باغ میں کھلنا چاہیے تھا لیکن تم نے خود یہ انجام اپنے لیے منتخب کیا ہے۔‘‘ اس نے پھر ٹھوکروں سے حامد کومارتے ہوئے کہا۔
’’رک جائو… ڈاکٹر… خداکے لیے … ایسا مت کرو…‘‘ کرن چیخی اور ڈاکٹر نے زور سے اسے تھپڑ ماراوہ پیچھے کی طرف گر گئی۔ وہ اس کے خاصا قریب آگیا تھا کرن نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریب پڑی کرسی اٹھائی اور لگاتار اس کے سراور گھٹنوں پرمارتی چلی گئی وہ کراہ رہاتھا پھروہ گر گیاتھا لیکن گرتے گرتے اس نے کرن کاسر پکڑ کر دیوار سے دے ماراتھا وہ چکرا کررہ گئی تھی اور پھر اس کے غصے اور سر کی چوٹ نے مل کراس کے ذہن میں پچھلی یادوں کا سیلاب برپا کردیاتھا‘ وہ دیوار کاسہارا لے کر کھڑی ہوگئی تھی۔
’’اوہ ‘ڈاکٹر مجھے یاد آگیا… میں ملائیکہ تمیز الدین ہوں… میں ملائکہ ہوں۔‘‘
’’اسے باندھ دو…‘‘ حامد نے کہا۔
’’اوہ… اس نے مجھے ٹھیک کردیاہے… میں جانتی ہوں میں ملائیکہ ہوں۔‘‘
’’باندھ دو… اسے باندھ دو۔‘‘ حامد نے پھر کہا‘اس کے منہ سے خون بہہ رہاتھا۔
’’کیسے …؟ یہاں تو صرف یہ زنجیر ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’دیکھو… ڈاکٹر بدر بے ہوش ہے اور تمہارے قریب ہی پڑا ہے اس کی جیبیں تلاش کرو اس میں زنجیر کے تالے کی چابی ہوگی۔‘‘ حامد نے کہااور کرن نے اس کی تقلید کی ڈاکٹر کے کوٹ کی جیب میں چابی مل گئی تھی اور کرن نے اپنے پیر میں بندھی زنجیر کھول لی تھی اسی وقت کمرے میں باہر قدموں کی آواز سنائی دی تھی اور سراغرساں پرویز چند پولیس افسران کے ساتھ کمرے میں داخل ہواتھااس کے ہاتھ میں پستول تھی۔
’’جو جہاں ہے وہیں ٹھہرجائے۔‘‘ اس نے کڑک دار آواز میں کہا پولیس افسران نے کمرے میں پوزیشن سنبھال لی تھی اور پرویز کرن کی طرف بڑھاتھا۔
’’اوہ… تم زخمی ہو؟‘‘ اس نے کا۔
’’مجھے چھوڑو… اسے دیکھو… حامد کو… اس نے بہت مارا ہے… اسے جلدی اسپتال پہنچائو۔‘‘ کرن نے کہااور پرویز نے پولیس افسران کو حامد کی طرف اشارہ کیا دوپولیس افسران ڈاکٹر بدر کو ہتھکڑی لگا کرباہر لے گئے تھے اور پرویز کرن کے قریب آگیاتھا۔
’’اوہ پرویز‘ میں سمجھی کہ شاید اب تم سے کبھی نہیں مل سکوں گی۔‘‘
’’جب تک میں زندہ ہوں ایسا نہیں ہوسکتا… کرن… تم میری ہو۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’میں کرن نہیں‘ ملائیکہ ہوں…میری یادداشت واپس آگئی ہے۔‘‘ اس نے کہااور پرویز اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
v…٭…v
دو ہفتے بعد کرن اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھی کمال اس کے قریب صوفے پرموجود تھا‘ اور سراغرساں پرویز کرن کیساتھ بیٹھا ٹی وی دیکھ رہاتھا۔
’’کرن… میں بہت خوش ہوں…‘‘ پرویز نے کہنا شروع کیا۔
’’کرن نہیں… ملائیکہ تمیز الدین… میری مام کانام ملائیکہ ہے آ پ پھر بھول گئے۔‘‘ کمال نے ہنستے ہوئے کہا‘ کمال بہت خوش تھااسے ایک پہچان مل گئی تھی کرن کی یادداشت آنے کے بعد اسے پتہ چل گیاتھا کہ وہ تمیز الدین کابیٹاتھا جسے ڈاکٹر بدر نے چودہ سال پہلے مار دیاتھا ‘ڈاکٹر بدر گرفتارہوچکاتھا ‘حامد اسپتال میں داخل تھا اس کی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی تھی اور سراغرساں پرویز اپنے بیٹے رحمان سمیت ‘کمال اور ملائیکہ کابن بلایا مہمان بن گیاتھا۔
’’تم جانتی ہو… بغیر ایک خاتون کے گھر کھانے کودوڑتا ہے۔‘‘ پرویز نے کہا۔
’’ہوں…‘‘ ملائیکہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’کل لنچ پرچلتے ہیں۔‘‘ پرویز نے پیش کش کی۔
’’کیاخیال ہے کمال۔‘‘ ملائیکہ نے کمال کی طرف دیکھا جوپرویز کو بہت پسند کرتاتھا۔
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ کمال نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
v…٭…v
اگلے روز خبرنامہ ختم کرتے ہوئے وہ بہت خوش تھی۔
’’ناظرین‘ آج جنسی تشدد کی آخری تفصیلی رپورٹ میں نے پیش کردی ہے امید ہے کہ آپ کویہ پروگرام پسند آیا ہوگا‘ اب چینل 10-نیوز کی رپورٹر ملائیکہ تمیز الدین کواجازت دیں‘ شب بخیر۔‘‘
’’بہت اچھا پروگرام رہاملائیکہ۔‘‘ کشور نے آگے بڑھ کرمبارک باد دی اور ملائیکہ مسکرادی۔
’’مبارک ہوملائیکہ پروگرام بہت زبردست گیاہے۔‘‘ا س کے باس شجاع نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
’’شکریہ باس۔‘‘
’’مجھے احساس ہے میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا… میں معافی چاہتاہوں۔‘‘ شجاع نے کہا۔
’’اب آپ خوش ہیں؟‘‘
’’خوش… بہت خوش… ہم نے سارے نیوز چینلز کو پیچھے چھوڑ دیاہے ہماری ریٹنگ سب سے زیادہ رہی ہے‘ تمہیں بہت سے چینلز بک کرنا چاہتے ہیں ہمیں تمہارے لیے ایک پرسنل سیکرٹری رکھناپڑے گی‘ جو تمہارے معاملات سنبھالے … سب ہی تمہاری خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں نے سب سے کہہ دیاہے کہ تم ہم سے کنٹریکٹ کرچکی ہو… میں تمہارے ساتھ ڈنر کرنا چاہتا ہوں تاکہ ہم اس کنٹریکٹ کی مدت بڑھانے پربات کرسکیں۔‘‘
’’سوری میں آج فارغ نہیں ہوں۔‘‘ ملائیکہ نے مسکرا کر کہا۔
’’پھراگلے ہفتے ؟‘‘
’’دراصل میں کل اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گائوں جارہی ہوں۔‘‘
’’بچوں…؟ میراخیال ہے تمہارا ایک ہی بیٹا ہے کمال۔‘‘
’’ہاں‘ لیکن ایک بیٹا رحمان بھی ہے… رحمان پرویز… سراغرساں پرویز کابیٹا… ہم سب گائوں جارہے ہیں ممکن ہے وہاں مجھے میرے بچپن کی بہت سی یادیں مل جائیں۔‘‘ ملائیکہ نے کہا۔
’’اوہ مبارک ہوملائیکہ … میں پرویز کے لیے مبارکباد دے رہی ہوں جسے تم نے اپنے اچھے دوستوں میں شامل کرلیاہے۔‘‘ کشور نے کہا۔
’’شکریہ … کشور… پرویز میرااچھا دوست ہی نہیں بلکہ اب میری زندگی میں میر اجیون ساتھی ہوگا… میرے کمال اور رحمان کامحافظ… سرپرست اور ان کے سرکاسایہ۔‘‘ملائیکہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close