Naeyufaq Nov-17

محبت مجھے امر کردو

بحیرہ نیلم

آج وہ اس کے سامنے تھی، پورے دس سال تین ماہ اور پانچ گھنٹوں کے بعد… اس دن کا سجل حسن نے بڑی شدت سے انتظار کیا تھا۔
وقت بہت ظالم شہ ہے یہ انسان کو اسی مقام پر لاکھڑا کرتا ہے۔ جس مقام پر اس نے کبھی کسی اور کو کھڑا کیا تھا۔ یہ دنیا تو مکافات عمل ہے، انسان جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔ انسان کیوں بھول جاتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کی کچھ سزا اس دنیا ہی میں بھگت کر جائے گا اور دوسروں کا برا چاہنے والا بھلا خود کیسے خوش رہ سکتا ہے۔
اس کے بے رونق چہرے کی اداسی گزشتہ دس سالوں کی تھکن کی عکاسی کررہی تھی، گویا وہ اس سے سب کچھ چھین کر بھی تہی دامن تھی۔ وہ نرمین احمد جس نے اس سے اس کا سب کچھ چھین لیا تھا۔ سب کچھ پا کر بھی وہ آج خالی ہا تھ تھی۔
’’مجھے معاف کردو سجل، میں… میں تمہاری قصور وار ہوں۔‘‘ آنسوئوں کے دو قطرے چپکے سے سجل کے رخسار بھگو گئے تھے۔
’’محبت کیا ہے؟‘‘ ہال میں ایک پُر شوق آواز، گونجی۔
سجل نے ڈائس پر کھڑے ہوئے اس آواز کے تعاقب میں نظریں دوڑائیں۔ پولیٹکل سائنس فائنل سمسٹر کا طالب علم حارب مصطفیٰ اس سے مخاطب تھا۔ اس نے پل بھر کو آنکھیں موندیں جیسے محبت کو محسوس کرنا چاہ رہی ہو اور دوسرے ہی پل اپنی ازلی خود اعتمادی سے گویا ہوئی۔
’’عمدہ سوال۔ محبت… محبت گیلی مٹی کی اس خوشبو کی مانند ہے جو انسان کی سانسوں کو مہکا دیتی ہے، اس طرح کے بعض اوقات ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا۔‘‘ اس کا ایک ایک لفظ گویا دل سے نکل رہا تھا۔ اس کی پُر فریب آواز نے پورے ہال میں سکتہ سا طاری کردیا تھا۔
’’محبت اس احساس کا نام ہے جو ہمیں اپنا پسندیدہ گلاب کا پھول توڑتے وقت ہوتا ہے، ایک خوب صورت احساس، اسے بے حد پسند کرنے اور پانے کی چاہت رکھتے ہوئے بھی ہم توڑتے نہیں اسے تاکہ مرجھا نہ جائے۔ محبت پرندے کی اس اڑان کا نام ہے، جو آسمان کی بلندیوں پر اڑتا ہے تو ہمارے دل میں اسے پانے کی خواہش ابھرتی ہے، لیکن ہم اس کے پر کاٹ کر اسے اپنے پاس قید نہیں کرتے بلکہ ہواؤں میں اسے رقص کرتا دیکھ کر، اسے خوش و آزاد دیکھ کر اسے چھونے یا پکڑنے کی خواہش دل میں دبا لیتے ہیں۔ محبت اپنی ذات میں مکمل ہوتی ہے، سمندروں سی وسعت رکھتی ہے اور اپنی وسعت سے دوسرے کو بھی مکمل کردیتی ہے۔ یہ کسی کے وجود سے نہیں ہوتی… محبت میں کوئی خامی کوئی کمی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔ معنی رکھتا ہے تو صرف محبتوں سے بھرا دل… اور اگر ایسا نہ ہو تو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلال حبشی سے اس قدر محبت نہ کرتے۔ کیوں کہ محبت تو اس ایمان کی مانند ہے جو بن دیکھے اپنے اللہ پر رکھتے ہیں۔‘‘ پورا ہال زور دار تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔
اس ہال میں دو انسان اور بھی موجود تھے، ایک وہ جس کے دل میں محبت کی اس ملکہ کے لیے دیے جل اٹھے تھے اور کوئی ایسا بھی تھا جس کے دل میں اس کے لیے حسد کے سائے اور گہرے ہوگئے تھے۔ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
…٭٭…
اور اگلے ہی روز حارب مصطفٰی نے سجل کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کردیا۔ جسے سجل نے کمال بے نیازی سے ٹھکرا دیا تھا۔ بے حد اصرار کے ساتھ وہ اپنا فون نمبر کاغذ کی چٹ پر لکھ کر اس کی گود میں رکھ گیا تھا۔ اور کہا تھا کہ وہ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچے۔
کیونکہ زندگی کے بائیس سالوں میں کبھی بھی کسی لڑکی نے اسے اتنا متاثر نہیں کیا تھا، جتنا ان چند دنوں میں سجل حسن نے کردیا تھا۔ وہ اس کے لیے بہت مخلص اور اسے اپنا بنانا چاہتا تھا۔
وہ تھی ہی ایسی… شوخ و چنچل سی، بادِ صبا جیسی، روشن پیشانی، ذہانت سے بھرپور آنکھیں، ستواں ناک، متناسب ہونٹوں کے نیچے ٹھوڑی سے ذرا اوپر بھورا تل… کسی طلسم کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہوا، دودھ سے دھلی رنگت، نین نقش ایسے گویا اللہ نے بہت فرصت سے بنایا ہو۔
شہر کی سب سے مشہور یونیورسٹی جس کے اخراجات آسمان کو چھوتے تھے، وہ اسکالرشپ کی بنیاد پر آئی تھی اور یہیں ہاسٹل میں رہائش پذیر بھی تھی۔ اکنامکس اس کا جنون تھا اور وہ فرسٹ سمسٹر میں تھی۔ پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والی وہ لڑکی اپنی منزل کو جلد حاصل کرنا چاہتی تھی اور منزل تھی بھی بہت قریب۔ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ، وہ اندرونی خوبصورتی سے بھی مالا مال تھی۔ ہر کوئی اس کی اچھائی اور ذہانت کا قائل تھا۔ اس کا اعتماد اس کی صلاحیتوں اور ذہانت کا منہ بولتا ثبوت تھا، اس پر بلاشبہ رشک کیا جاسکتا تھا۔
کیا کسی کی زندگی اتنی بھی مکمل ہوسکتی ہے۔ اس کی زندگی پر حسد کرنے والے بھی بے شمار تھے۔ انہی میں ایک وہ بھی شامل تھی۔ اس کی بہترین سہیلی… نرمین احمد اور یوں یونیورسٹی کے سب سے حسین اور قابل طالب علم حارب مصطفٰی کے دل میں بھی سجل نے بسیرا کرلیا تھا چونکہ سجل کو اس کی شادی کی پیشکش میں کوئی دل چسپی نہیں تھی۔
سو اس نے کاغذ کو دو تین حصوں میں تقسیم کیا اور گراؤنڈ میں پڑے گملے میں پھینک کر آگے بڑھ گئی۔ وہی کاغذ کے ٹکڑے کسی اور نے اٹھا لیے اور انھیں جوڑ کر نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کرلیا تھا۔ شیطان اپنی چال چلنے والا تھا۔
سجل سے اس کی ملاقات یونیورسٹی کے پہلے روز ہوئی تھی۔ یونیورسٹی کی سب سے حسین لڑکی اس معمولی سی شکل وصورت اور سانولی رنگت کی حامل نرمین احمد کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گی۔ اسے یقین نہ تھا… اتفاق سے ان کے ہاسٹل میں ان کا کمرہ بھی ایک تھا سو جلد ہی وہ اچھی دوستیں بن گئیں۔ لیکن اپنی ازلی احساس کمتری نے جلد ہی اسے سجل سے متنفر کردیا تھا۔
’’ہونہہ اللہ نے سب اسے ہی کیوں دے دیا ہے؟‘‘ وہ جلتی کڑتھی رہتی تھی۔
’’سجل حسن…‘‘ ٹیچرز، سے لے کر طلباء تک۔
نصابی سرگرمیوں سے لے کر ہر مشغلے میں اس سے بڑھ کر کوئی نہ تھا۔ ہر کوئی اس کے گن گاتا، وہ بس ہنستی رہتی، نرمین اندر تک جلتی رہتی۔ نرمین شاید نہیں جانتی تھی کہ جب ہم کسی سے حسد کرتے ہیں تو در حقیقت اپنا ہی نقصان کررہے ہوتے ہیں اور اس طرح خود کو بہت پیچھے لے آتے ہیں۔
لیکن یہ باتیں اس کی سمجھ سے باہر تھیں حسد کی چنگاری تو پہلے ہی اس کے دل میں جل رہی تھی اس چنگاری نے آگ تب پکڑی، جب نرمین احمد کی پہلی محبت حارب مصطفیٰ… بھی سجل حسن کا طلب گار نکلا۔ شاید نرمین نے سجل کی ذات کا صرف ایک رخ دیکھا تھا۔ اگر دوسرا دیکھ لیتی تو اس کی روح تک کانپ جاتی۔ اس کی ذات کا دوسرا رخ کون سا تھا… کون جانتا تھا۔
…٭٭…
دو دن بعد نرمین نے اپنا کھیل شروع کردیا تھا اور حارب کو کال ملائی اور کہا کہ وہ سجل ہے اور اسے بھی حارب سے پہلی نظر میں محبت ہوگئی تھی۔
حارب کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ ہو تو خوشی سے پاگل سا ہوگیا تھا، اگلے چند دنوں میں گویا معمول بن گیا تھا۔ روزانہ لمبی لمبی فون کالز پر بات کرنا۔ اعتراف و اقرار کے سلسلے بڑی تیزی سے عبور ہورہے تھے۔
’’اچھا مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ یونی میں‘ میں جب بھی آتا ہوں تم تو میری طرف ایک نظر ڈالنا بھی گنوارا نہیں کرتی… کیا میں اتنا برا دکھتا ہوں۔‘‘ حارب نے الجھن زرہ لہجے میں پوچھا۔
’’ارے نہیں… نہیں تم تو جانتے ہو نہ حارب یونی میں میری کتنی عزت ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کوئی مجھے تمہارے ساتھ دیکھ کر غلط سمجھے۔ کیونکہ ہمارا رشتہ بہت پاکیزہ ہے… تم سمجھتے ہو ناں اور پلیز تم یونی میں مجھے کبھی مخاطب کرنے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘
’’مگر سجل…‘‘ وہ الجھا۔
’’تمہیں میری قسم۔‘‘ وہ فوراً سے پیشتر بولی۔ ’’مجھے فخر ہے اپنی محبت پہ جو کہ اتنی پاکیزگی رکھتی ہے کہ کسی کی غلط نظر بھی اپنے پیار پر پڑنا پسند نہیں کرتی۔‘‘ وہ مطمئن ہوگیا تھا۔
’’تم کبھی مجھے چھوڑو گے تو نہیں نہ حارب؟‘‘ غالباً اس کے دل میں بچھڑنے کا خدشہ تھا۔
’’ارے بالکل بھی نہیں… پاگل ہو کیا… تمہارے بغیر جینے کا تو میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ میں ممی پاپا سے بات کرتا ہوں کہ اب وہ پاکستان آئیں اور بیٹے کے سر پر سہرا سجا دیں اور پھر ہم ایک ہو جائیں گے کبھی نہ جدا ہونے کے لیے، سجل حسن صرف میری ہو جائے گی۔‘‘ اس کے لفظ لفظ میں سچائی تھی۔
’’ارے نہیں… نہیں اتنی جلدی بھی کیا ہے ہماری پڑھائی تو مکمل ہونے دو۔‘‘ وہ سٹپٹائی۔
’’جس طرح آپ کہیں ویسا ہی ہو گا ملکہ عالیہ۔‘‘ وہ چاہت سے بولا۔ پر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔
آنے والے دن بہت اذیت ناک تھے۔ ایک طرف نرمین حارب مصطفیٰ کی محبت میں پور پور ڈوب چکی تھی اور دوسری طرف اس بات کا بھی ڈر رہی تھا کہ جب اسے سچائی معلوم ہوگی تو کیا ہوگا۔
’’کیا وہ اسے چھوڑ دے گا؟ نہیں… نہیں میں تو مر جاؤں گی اس کے بغیر…‘‘ بچپن سے ہی اس نے سب کچھ کھویا ہی تو تھا۔
پہلے والدین‘ بہن بھائیوں کی محبت‘ شکل و صورت ہر طرح سے وہ کم تر تھی اور اب حارب مصطفیٰ اس کی ضد بن چکا تھا۔
’’ہونہہ… سب کچھ تو ہے سجل کے پاس… ایک حارب کو میں حاصل کرلوں تو اس کا کیا جائے گا۔‘‘
’’سجل…‘‘ وہ رات کو دوپٹہ اتار کر ایک سائیڈ پہ رکھنے کے بعد کمبل کھولتے ہوئے سونے کی تیاری کررہی تھی۔ جب نرمین نے اسے پکارا۔
’’ہوں بولو۔‘‘ اب وہ لیٹ کر کمبل اوپر اوڑھ چکی تھی۔
’’حارب مصطفیٰ تمہیں کیسا لگتا ہے…؟‘‘ وہ چھت پر نظریں جمائے گویا کسی غیر مرئی شے کو تلاش کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
ایک پل کو سجل کی آنکھوں میں روشنیوں کے دئیے جل اٹھے تھے، لیکن اگلے ہی لمحے گویا ویرانیاں سمٹ آئی تھیں۔
’’اچھا ہے…‘‘ اس نے لاپروائی سے جواب دیا۔
گو کہ سجل حارب کی آنکھوں میں اپنے لیے سچے جذبوں کی شدت کو بخوبی دیکھ چکی تھی۔ جو اکثر گزرتے وقت ایک نرم سی مسکراہٹ اسے پاس کردیتا تھا۔ چھ فٹ لمبے قد کے ساتھ کسرتی بدن اور رعب دار شخصیت کا حامل حارب مصطفیٰ بلاشبہ متاثر کن انداز کا حامل تھا۔
مگر جانے کیوں وہ خاموش تھی۔
’’پسند کرتی ہو کیا… اگر وہ تم سے شادی کرنا چاہے تو کرو گی کیا؟‘‘ وہ ہنوز چھت کو تک رہی تھی۔
’’کیا بکواس ہے نرمین… حد ہوتی ہے بات کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہو۔‘‘ سجل کو خوامخواہ ہی غصہ آگیا تھا۔
’’میں جو پوچھ رہی ہوں وہ بتاؤ کرو گی یا نہیں؟‘‘ نرمین جواب حاصل کرنے پہ بضد تھی۔
’’ہرگز نہیں کروں گی… سن لیا اب سونے دو بہت نیند آرہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فوراً لائٹ بند کی اور رخ موڑ لیا مبادا وہ اس کی آنکھوں پہ اٹکے موتیوں سے اس کے دل کا حال نہ جان لے۔
وہ کیسے بتاتی کہ حارب کو تو وہ پہلی نظر میں اپنا دل دے چکی تھی۔ وہ اسے بہت اپنا اپنا سا لگا تھا دل کے بہت قریب لیکن جانے کیا بات تھی کچھ سوچ کر اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
’’اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے حارب مصطفیٰ…‘‘ اس نے دل سے دعا دی تھی۔
’’کوئی اتنا بھی مجبور ہوتا ہے کیا؟‘‘
اور اگلے ہی دن وہ حارب سے پوچھ رہی تھی۔
’’اگر کوئی تمہیں مجھ سے بھی زیادہ چاہے تو؟‘‘
’’تو چاہتا رہے میرے دل کی سیج پر تو صرف اور صرف سجل حسن براجمان ہیں اور یہ جگہ کسی اور کو نہیں مل سکتی مادام…‘‘ وہ شوخ ہوا تھا۔
وہ چپ سی ہوگئی آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا تھا۔ تین زندگیاں بالکل بدلنے والی تھیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا۔
’’جو بھی ہو حارب میں تمہیں حاصل کرکے ہی رہوں گی اور اس میں اللہ بھی میرا ہی ساتھ دے گا۔‘‘ وہ خود سے مخاطب تھی۔
ایک سال یونہی آنکھ مچولی میں گزر گیا۔ یونیورسٹی میں سجل کو مخاطب نہ کرنے کی اس، نے قسم اٹھا رکھی تھی اور دوسری طرف فون کالز کے ذریعے اس نے حارب کو مکمل اپنے زیر اثر کرلیا تھا۔ حارب کا آخری سمسٹر مکمل ہوا اور وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ سجل کے ساتھ شادی کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔
ان دونوں کا ابھی ایک سمسٹر باقی تھا اور سجل کو پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اپنے خوابوں کی تعبیر ملنی تھی۔
’’صورت کا کیا ہے سیرت سے تو مجھے ہی چاہتا ہے نہ اور شادی کے بعد میں اسے اپنی محبت سے بدل لوں گی… اپنا بنا لوں گی۔‘‘ وہ مکارانہ چالیں سوچ سوچ کر خوش ہوتی رہتی اب بس تاش کے دو پتے کھیلنے باقی تھے۔
سجل کو کسی طرح یہاں سے بہت دور کرنا اور حارب مصطفیٰ کو اپنا بنانا، منزل اس کے بہت قریب تھی۔
وہ بہت عام سا دن تھا۔ ماحول کی سوگواری شاید آنے والی قیامت کی پیش گوئی کررہی تھی۔ آخری سمسٹر کے امتحانات ہورہے تھے ابھی ایک سمسٹر باقی تھا، سجل بہت مطمئن تھی کیونکہ اس نے تمام سوالوں کی تیاری بہت اچھے طریقے سے کی تھی۔ کمرہ امتحان میں سب طلباء اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے۔ کوئی نوٹس کھولے رٹ رہا تھا۔ کوئی بے فکر بیٹھا ہنس رہا تھا۔ سجل نے یہ منظر دیکھا اور اپنی کرسی پر رول نمبر دیکھ کر باہر آگئی، ابھی تھوڑا وقت باقی تھا۔
ہلکی دھوپ نکلی ہوئی تھی وہ وہی گھاس پر بیٹھ گئی اور انگلیوں کی پوروں سے سبز گھاس ہر موجود شبنم کے قطروں کو محسوس کرنے لگی۔ یہ جانے بغیر کہ کلاس روم میں شیطان اپنی چال چل رہا تھا۔
وہ ہال میں آئی تو ممتحن صاحب نے باری باری سب میں سوالیہ پرچے تقسیم کیے اور جب سب اپنے اپنے پرچوں کی طرف جھک گئے، تو ممتحن صاحب نگرانی کی غرض سے چکر کاٹنے لگے۔
تقریباً آدھا گھنٹا یونہی گزر چکا تھا کہ اچانک ان کی نظر رول نمبر 37 کی کرسی پر پڑی۔ اس کے اوپر لگی آرم کے نیچے سے کچھ سفید چیز دکھائی دے رہی تھی وہ فوراً ادھر آئے اور اس کاغذ کو باہر نکال لیا اور پڑھنے کی دیر تھی کہ غصے سے ان کے چہرے کی رگیں تن گئیں۔
’’واٹ از دس مس سجل حسن۔‘‘ وہ کاغذ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھ رہے تھے سجل کو کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔ اس نے دھڑکتے دل سے وہ کاغذ ہاتھ میں لیا۔
زمیں آسمان اس کی نگاہوں کہ آگے سے گھوم گئے۔ تمام سوالات کے فارمولے اس پر درج تھے۔
’’بتائیے مس سجل واٹ دا ہیل اٹ از…‘‘
’’سر… سر… یہ ممم… میرا نہیں ہے اللہ کی قسم مم… میں نے نہیں رکھا یہاں سر میرا… میرا یقین کیجئے۔‘‘ بے یقینی سے وہ بامشکل اپنی صفائی دے پائی تھی۔
’’تو اس کا مطلب ہے یہ ہم نے رکھا ہے ادھر؟ بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے آپ نے‘ آپ اپنی غلطی چھپانے کے لیے ہم پر الزام لگا رہی ہیں۔‘‘ ہال میں موجود سبھی طلباء متوجہ ہوگئے تھے۔
’’می… میرا یہ مطلب نہیں۔‘‘ اس کی آواز گلے میں اٹک گئی تھی۔
’’ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔‘‘ شور کی آواز، سے امتحانی عملی کمرہ میں داخل ہوا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی بے گناہی کا ثبوت کیسے دے۔
’’سر… سر… دیکھیں، آپ تو جانتے ہیں نہ مجھے… میری تعلیمی کارکردگی کا بھی پتا ہے‘ میں نے بہت اچھی تیاری کی ہوئی ہے۔‘‘ وہ منمنائی۔ خدارا میرا یقین کیجئے۔ اسے لگ رہا تھا آج اس کا آخری دن ہے۔
’’شٹ اپ سجل حسن۔‘‘ پروفیسر خالد غرائے۔
’’ہمیں آپ سے یہ امید بالکل بھی نہیں تھی… میں تو آپ کو ایک ہونہار طالبہ سمجھتا تھا۔ آپ نے ہمارے ڈپارٹمنٹ کا نام شرم سے جھکا دیا ہے بہت شرم ناک حرکت کی ہے آپ نے اور اس کی سزا آپ کو بھگتنی پڑے گی۔‘‘ وہ گویا اس کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہ تھے۔
’’ڈپٹی آفتاب اصغر امتحان میں نقل کا پرچہ برآمد ہونے کے جرم میں تین سال تک کے لیے ان کی ڈگری منسوخ کردی جائے۔ یہ کسی بھی ادارے سے امتحان دینے کی اہل نہ رہیں۔‘‘ سجل کا دماغ مائوف ہوگیا تھا۔
’’ایسے طالبات کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔‘‘ اس کی موت کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔
’’سر اللہ کی قسم میرا یقین کیجیے… کیسے یقین دلاوں آپ کو میں… میں نے نہیں کیا یہ سب… میری ڈگری منسوخ نہ کیجیے۔ میں برباد ہو جاؤں گی۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
’’یہ ہمارا حتمی فیصلہ ہے، مسں سجل، آپ اب جاسکتی ہیں۔‘‘ حتمی فیصلہ سنادیا گیا تھا۔ ہر طرف چہ میگوئیاں ہورہی تھی۔
ایسی لگتی تو نہیں تھی… کوئی کہہ رہا تھا شکل دیکھو کام دیکھو۔ مجھے تو لگتا ہے ذہانت کا نرا ڈھونگ ہی تھا کوئی کہہ رہا تھا۔
انسان بہت عجیب ہے اگر کسی میں وہ ایک خامی بھی دیکھ لے تو اس کی سب اچھائیاں بھول جاتا ہے… اس کا دل کررہا تھا وہ زمیں میں سما جائے۔ اس نے تو آج تک کسی کا برا بھی نہیں چاہا تھا پھر اس کے ساتھ کس نے کیا ایسا… اس کا دماغ شل ہو گیا تھا۔
یونیورسٹی کی پوری عمارت اسے اپنے اوپر گرتی محسوس ہوئی اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے… ابھی ایک اور قیامت ڈھلنا باقی تھی۔
اس نے فون پکڑا اور حارب مصطفیٰ کو کال ملائی۔ رابطہ ہونے پر ڈرامہ شروع ہوگیا۔
’’حارب… حارب… کہاں ہو تم… میں… میں بہت بڑی مصیبت میں ہوں… مجھے بچا لو حارب پلیز مجھے بچا لو۔‘‘ وہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی تھی۔
’’کیا ہوا سجل خیریت تو ہے‘ تم رو کیوں رہی ہو جلدی بتاؤ مجھے۔‘‘ وہ بہت فکر مند ہو گیا تھا۔
حارب تمہیں ابھی اسی وقت مجھ سے نکاح کرنا ہوگا۔ اس نے فوراً کہا۔
’’سجل ریلیکس رہو، میں نے ممی پاپا سے بات کرلی ہے وہ اگلے ہفتے آرہے ہیں۔ پھر سب کی موجودگی میں ہمارا نکاح ہوجائے گا اور رخصتی تمہاری پڑھائی پوری ہونے کے بعد کرلیں گے۔‘‘ اس نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’نہیں میرے پاس زیادہ وقت نہیں حارب میں نے تمہیں بتایا نہیں میرے چچا چچی بہت ظالم اور لالچی لوگ ہیں… میں ان کے ساتھ رہتی ہوں۔ وہ میری شادی 45 سالہ امیر بڑھے شخص سے کروانا چاہتے ہیں۔ وہ بہت برا انسان ہے، میں تمہارے سوا کسی اور کو سوچ بھی نہیں سکتی۔ ہم نکاح کے بعد سب کو راضی کرلیں گے حارب تمیں ابھی مجھ سے نکاح کرنا ہو گا۔ ورنہ… ورنہ میں جان دے دوں گی۔‘‘ آخری دھمکی کارگر ثابت ہوئی۔
’’ٹھیک ہے سجل میں تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تم کہاں ہو میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ وہ فکر مندی بولا۔
’’میں گلشن ٹاون کے بلاک 5 میں ہاؤس نمبر 8 میں ہوں اپنی سہیلی کے گھر۔‘‘
’’میں نے نکاح کا بندوبست کرلیا ہے جلدی آؤ اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔ ‘‘ اس نے اپنا آخری پتہ پھینکا تھا۔
’’میں پندرہ منٹ میں پہنچتا ہوں۔‘‘ اس نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور اپنی بربادی کی طرف روانہ ہوگیا۔
عجلت میں نکاح پڑھا دیا گیا۔ شاید وہ پاگل ہوگئی تھی، اپنی ضد پوری کرنے میں اور صحیح غلط کی پہچان کھو بیٹھی تھی۔ دلہن کو گھونگٹ میں بٹھایا ہوا تھا۔
’’شادی مبارک ہو…‘‘ اس کی دوست ان دونوں کو کمرے میں چھوڑ کر خود باہر چلی گئی۔
’’آہممممم… اب تو چہرا دیکھا دو جان من، اب تو میں پورے حقوق کے ساتھ حاضر ہوں۔‘‘ اس نے بہت پیار سے گھونگٹ اٹھایا۔ ’’نرمین تم…!‘‘ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا، گویا بجلی کی ننگی تار کو چھو لیا ہو۔
’’ہاں حارب میں تمہاری بیوی۔‘‘ وہ سر شار سی بولی۔
قیامت آکر گزر چکی تھی۔
’’یہ کیا بکواس ہے… سجل کہاں ہے؟‘‘ وہ حیرانی کے عالم میں بولا۔
’’حارب… سجل نہیں ہے… آج تک میں ہی تم سے بات کرتی رہی جسے تم سجل سمجھتے رہے… اور میں تم کو اتنا پیار دوں گی اتنا کہ تم بھول جاؤ گے اسے وہ تم سے پیار نہیں کرتی بلکہ نفرت کرتی ہے… میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمہیں بہت پیار دوں گی اتنا کہ تم اندازہ نہیں کرسکتے۔‘‘ وہ آگے بڑھی اور دیوانوں کی طرح اس کے سینے سے لگ گئی۔
’’بکواس بند کرو کمینی عورت۔‘‘ اس نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ مارا۔ رخسار پر انگلیوں کے نشان ثبت ہوگئے تھے۔
’’تم جیسی گھٹیا لڑکی جو اپنی خوشی کے لیے دوسروں کو برباد کرسکتی ہے، کیا جانے محبت کیا ہوتی ہے، میں نے اس کی اچھی سوچ‘ اس کے لفظوں کی سچائی سے محبت کی ہے۔ تم جیسی حاسدانہ ذہن کی مالک عورت کبھی میرے دل تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔ لعنت بھیجتا ہوں میں تم پہ جارہا ہوں میں اپنے پیار کے پاس۔‘‘
’’تت… ممم مجھے چھوڑ کے نہیں جاسکتے میں… میں تمہاری بیوی ہوں اب۔‘‘ اس نے حارب کو روکنا چاہا۔
’’نہیں مانتا میں اس دھوکے کے رشتے کو چھوڑو مجھے۔‘‘ اس نے اپنا آپ اس سے چھڑوایا۔
’’حارب وہ چلی گئی بہت دورتم… اب صرف میرے ہو… صر ف میرے۔‘‘ حارب پاگل سا ہوگیا۔
’’ہٹو پیچھے۔‘‘ اس نے اسے دھکا دیا۔
…٭٭…
جانے دنیا کے کس کونے میں جا چھپی تھی۔ حارب پاگلوں کی طرح اسے دن رات ڈھونڈتا رہا… اسے رہ رہ کر نرمین پر غصہ آتا۔
وہ عورت پہ ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا مگر نرمین کی اس گھٹیا حرکت نے اسے مجبور کردیا تھا۔
’’پہلے میں نے سوچا تھا کہ تمہیں طلاق دے دوں۔ لیکن نہیں میں تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ تمہاری روح تک کانپ جاے گی… موت سے بھی بدتر حالت ہوجائے گی تمہاری… موت مانگو گی پر تمہیں وہ بھی نہیں مل سکے گی۔‘‘ اس نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔
’’تم نے میری سجل کو مجھ سے دور کیا… اس کی زندگی میں زہر گھولا… میں تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑوں گا، نہ تم میری ہو سکو گی اور نہ کسی اور کی ہو پاؤ گی ساری عمر یونہی سڑتی رہو گی۔ اسی کی سزا کی تم مستحق ہو۔‘‘ نرمین اندر تک کانپ گئی تھی۔
یہ کہیں سے بھی وہ حارب مصطفیٰ نہیں لگ رہا تھا۔ جو اس پر جان لٹانے کے دعوے کرتا تھا، یہ تو کوئی محبتوں میں لٹا ہوا دیوانہ لگ رہ تھا، اس نے اسے زور سے بیڈ پر پٹخا تھا۔
اور سنو… خبر دار جو کبھی اپنی منحوس شکل لے کر میرے پاس آنے کی یا بات کرنے کی جرات بھی کی تو ورنہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی۔‘‘ لال بھبھوکا آنکھوں سے اس نے اسے انگلی کے اشارے سے وارننگ دی۔
’’اور اس گھر سے باہر قدم بھی نکالنے کی کوشش نہ کرنا یہ میرا حکم ہے۔ آخر بیوی ہو تم میری۔‘‘ آخر میں وہ طنزیہ مسکرایا۔
نرمین کو لگا کہ اس کی زندگی کو کسی مظلوم کی آہ اسے لگ گئی ہے۔
…٭٭…
وقت کو گزرنا ہوتا ہے وہ گزر ہی جاتا ہے…اچھا ہو یا برا۔
حارب نے اسے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا لیکن اسے نہ ملنا تھا نہ ملی اور اسی دوران حارب کے والدین کینیڈا کی فلائٹ کریش ہونے کے باعث اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے، حارب کی بزنس سیٹینگ کی وجہ سے وہ کراچی شفٹ ہوگئے تھے۔
نرمین کو ایک بے جان چیز کے علاوہ اس گھر میں اور کوئی اہمیت نہیں مل پائی تھی۔ گھر کاٹنے کو دورڑتا جس سے وحشت ہوتی تھی اندر سے باہر چکر لگا لگا کے وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتی اس نے کیسی محبت کی تھی کہ اپنی محبت سے ہی اس کی خوشی چھین لی‘ کتنی خود غرض تھی وہ جس نے اپنی سہیلی کو بے عزت کیا تھا جو اسے سب سے زیادہ اپنا مانتی تھی۔
’’خوشیاں کبھی بھی چھین کر حاصل نہیں کی جاسکتیں، ہم کسی دوسرے کی گود خالی کرکے اپنی گود کیسے بھر سکتے ہیں؟ دس سال تک وہ یونہی نامراد رہی تھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کرکے بھی وہ خالی ہاتھ رہی تھی۔ حارب اپنی بات پر پورا کھرا اترا تھا۔ اس نے ان دس سالوں میں کبھی اسے ایک بے جان چیز سے زیادہ نہ دی تھی۔ جب بھی وہ بلانے کی کوشش کرتی وہ سخت لہجے سے بولتا کہ اس کی روح تک کانپ جاتی۔
وہ دن بھر گھر میں تنہا بھٹکی روحوں کی طرح چکر لگاتی رہتی۔ اسے بار بار سجل کا معصوم چہرہ یاد آتا۔ جس سے اس نے سب چھین لیا تھا، کبھی وحشت میں آکر چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکتی خودکشی حرام نہ ہوتی تو جانے کب کی کرچکی ہوتی۔ پھر اس کے دل کو سکون آنے لگا جب اس نے رب سے رابطہ استوار کرلیا۔ نمازیں لمبی ہونے لگیں۔
’’بس ایک بار مجھے اس سے ملوا دے یا رب۔‘‘ وہ رو رو کر دعا کیا کرتی۔ ’’مجھے میرے گناہوں سے بری کر دے اے اللہ مجھ میں اب اور ہمت نہیں رہی۔‘‘
…٭٭…
اور پھرشاید اللہ نے اس کی سن لی تھی۔ دس سال بعد اس نے حارب سے سجل کا واسطہ دے کر اس سے جاب کرنے کی اجازت مانگی آخر زندگی کے دن بھی تو پورے کرنے تھے۔ جسے حارب نے بے دلی سے اجازت دے دی تھی۔
شاید زندگی میں پہلی بار اسے اس پہ کچھ رحم آیا تھا۔ اخبار میں ’ایچ ایس ملٹی نیشنل کمپنی‘ میں جاب کا اشتہار پڑھا۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ جس ماضی سے بھاگ رہی ہے وہ اس کے سامنے آنے والا ہے آخر جو کیا تھا اس کا حساب بھی تو دینا تھا۔
اور اگلے دن جب انٹرویو کے لیے آفس میں داخل ہوئی تو زمین آسمان اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، وقت اتنی جلدی گزر گیا تھا۔ اس کا اندازہ اسے آج ہوا تھا۔
وہ آج بھی اتنی حسین لگ رہی تھی بلکہ وقت کی تمازت نے اسے مزید پُر وقار بنا دیا تھا، اور اسے ہر طرح سے برباد کر دیا تھا، آج بھی وہ اس کے سامنے کامیاب کھڑی تھی۔
’’ایچ ایس ملٹی نیشنل کمپنی‘‘ کی اکلوتی مالک اور یہ سب اس نے اپنی ذہانت، انتھک محنت، صبر اور لگن سے حاصل کیا تھا۔ جبکہ اس کے پاس کیا تھا۔
’’سجل…! سجل مجھے معاف کر دو… پچھلے دس سالوں سے میں اذیت میں مبتلا ہوں، تمہارا سب کچھ چھین کر بھی مجھے سکون نہ مل سکا۔ ہمیشہ یہی دعا مانگی کہ ایک بار تم مل جاؤ۔ میں حسد کی آگ میں پاگل ہوگئی تھی، اپنے حواس کھو بیٹھی تھی یہ برداشت نہ کر سکی کے تمہارے پاس سب کچھ ہے حارب بھی تمہارا ہے۔ میں اسے تم سے دور کرنا چاہتی تھی، اس کے دل میں اپنی محبت پیدا کرنا چاہتی تھی۔ لیکن میں غلط تھی سجل۔ اس دن تمہاری سیٹ کے نیچے وہ پرچہ بھی میں نے ہی رکھا تھا تاکہ تم ہماری زندگی سے دور ہو جاؤ ہمیشہ کے لیے۔‘‘ اس کی روتے روتے آواز دب گئی۔
جبکہ سجل آرام سے بیٹھی سب کچھ سن رہی تھی، گویا سب جانتی ہو۔
’’میں نے دھوکے سے حارب سے شادی کی… سوچا تھا اسے اپنی محبت اور چاہت سے اپنا بنالو ں گی، لیکن میں غلط تھی سجل بھول گئی تھی کے محبت میں محبوب کے علاوہ باقی کچھ بھی کرنا کفر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جیسے خدا کو چاہنے میں شرک کی اجازت نہیں ویسے ہی محبت بھی ان تمام خامیوں سے پاک بلکہ شفاف ہوتی ہے۔ وقت کے گزرے دس سال بھی اسے میرا نہ کرسکے سجل وہ آج بھی تمہارا ہے دل و جان سے اسے اپنا لو سجل… وہ آج بھی تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ خدارا مجھے معاف کردو میں تم دونوں کی مجرم ہوں۔‘‘ وہ اس کے قدموں میں گر گئی تھی۔ رو رو کے اس کی آواز بیٹھ گئی تھی۔
سجل آگے بڑھی اور نرمین کو اٹھایا۔
’’جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا نرمین…‘‘ وہ ایسی ہی تھی سمندروں سا ظرف رکھنے والی۔
’’میں نے کسی عدالت کا در نہ کھٹکھٹایا بلکہ اپنا فیصلہ اپنے رب کی عدالت میں داخل کردیا تھا، تم اپنے کیے پر شرمندہ ہو میرے لیے یہی بہت ہے۔ شاید اس وقت تم ایسا نہ کرتی تو جس مقام پر میں کھڑی ہوں شاید یہاں نہ ہوتی۔ اس حرکت نے میرے تن بدن میں آگے بڑھنے کی آگ لگا دی تھی اور انتظار کی بھٹی میں، میں جل جل کے کندن بن گئی تھی۔‘‘ اس نے نرمین کو گلے لگایا‘ وہ اس کی بہترین سہیلی رہ چکی تھی۔
حارب مصطفٰی آج بھی اس کی آنکھوں کے جھروکوں میں بستا تھا۔
’’وہ مل گئی…‘‘ آج پہلی بار حارب کو مخاطب کرتے ہوے نرمین کے لہجے میں بلا کا سکون تھا۔
’’کون مل گئی؟‘‘ حارب نے شوز کے تسمے بند کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’سجل حسن…‘‘ وہ آہستہ سے بولی ایک پل کو حارب کی دل کی دھڑکن رک سی گئی تھی، اس کا تسمے باندھتا ہاتھ رک گیا تھا۔
’’ک… ک… کہاں ہے وہ جلدی بتائو۔‘‘ وہ فوراً اس کے قریب ہوا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر پوچھنے لگا۔
خوشی کی رمک آج دس سال بعد اس کے چہرے سے عیاں ہورہی تھی، آج دس سال بعد وہ پہلے جیسا حارب لگ رہا تھا۔
’’اوہ حارب مصطفٰی دس سالوں میں تم آج تک میرے اتنے قریب نہیں آئے، جتنا آج اس کا نام سن کر آئے ہو۔ وہ جیت گئی تھی۔‘‘
’’ایچ ایس ملٹی نیشنل کمپنی… کی آنر ہے وہ۔‘‘ اس نے ہولے سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی، حارب کے چہرے پر زندگی لوٹ آئی تھی۔
اور اگلے دن ہی وہ اس کے آفس سے ایڈریس لے کر اس کے گھر جا پہنچا… طبیعت خراب ہونے کے باعث وہ آفس نہیں گئی تھی۔ شاید ماضی کی یادوں نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا، اسے ڈراینگ روم میں بٹھایا گیا۔ گھر کی خوبصورتی اور بناوٹ اس کے اعلیٰ ذوق کا ثبوت تھی۔
چند لمحوں بعد دل کی دھڑکنیں تھم گئی تھیں۔ وہ سامنے آئی تو ایسا لگا جیسے وقت رک سا گیا ہو۔ وہ دشمنان زیست آج اس کے سامنے موجود تھی۔
’’آؤ حارب…‘‘ وہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی۔
وہ چہرہ جس نے حارب کو اپنا دیوانہ بنایا ہوا تھا‘ آج بھی اتنا ہی حسیں لگ رہا تھا بلکہ اور زیادہ پُرکشش اور پُراعتماد ہوگیا تھا۔ حارب کو لگا جیسے دس سال درمیان میں آئے ہی نہ ہوں۔
’’کیسی ہو؟‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔
’’اچھی ہوں۔‘‘ وہ سرسری سا جواب دے کر صوفے پر لگی فال کو ناحنوں سے کھریدنے لگی۔
’’اور تم۔‘‘چند لمحوں کے بعد وہ بولی۔
’’بہت برا ہوں…‘‘ بلاشبہ اس کے چہرے پر دس سالہ جدائی کا غم نمایاں تھا۔ چہرے پر بڑھی شیو اور مرجھایا ہوا چہرہ اس کے نامکمل ہونے کی عکاسی کررہا تھا۔
’’اور کیسے آنا ہوا…؟‘‘ ملازم لوازمات کی ٹرے رکھ گیا تھا۔
’’میں آج وہ کہانی پوری کرنے آیا ہوں جو آج سے دس سال پہلے اپنی بے وقوفی کی وجہ سے چھوڑ گیا تھا۔ سنو سجل تم میری پہلی اور آخری محبت ہو میں نے تمہیں دل سے چاہا ہے۔ تم نے مجھے اپنی محبت کے جال میں جکڑ لیا تھا جس سے میں آج تک نکل نہیں پایا تم ساحرہ ہو… سجل تمہیں بھولنا مجھے کفر کے مترادف لگتا تھا اور دیکھ لو میری سچی محبت جس وجہ سے تم آج مجھے واپس مل گئی۔ میں آج بھی تمھیں اپنانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ وہ بے تابی سے اپنے دل کا حال سنا رہا تھا۔
’’بس کہہ لیا اب جاؤں میں…‘‘ چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’کیوں کررہی ہو ایسا سجل؟ تمھاری دوست نے مجھ سے شادی کی تھی دھوکے سے سجل بن کر… پر مجھ تک رسائی حاصل نہ کر پائی۔ آج تک… آج تک وہ میرے گھر میں بے جان شے کی طرح پڑی ہے آج تک نہیں اپنایا میں نے اسے کیونکہ میں تم سے پیار کرتا ہوں کاش میں اس وقت تم سے ایک بار پوچھ لیتا اور اپنی محبت کا اعتراف کروا لیتا تو آج یہ دن نہ آتا میرے صبر کا اب اور امتحان نہ لو اب میں تم بن جی نہ پاؤں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں بلا کا درد تھا۔
’’تم کیوں کررہی ہو خود پر ظلم آخر ایسی بھی کیا مجبوری تھی کے دس سال ایسے جیسے کھو ہی گئی تھی۔ ایک بار بھی تم نے موڑ کر نہیں دیکھا۔ ایک بار مجھے میری محبت کا انتظار کا ثمر دے دو سجل اور میری زندگی میں آجاؤ میرے دل اور گھر میں کب سے جگہ سونی پڑی ہے آج تک کسی کو وہ حق نہیں دے پایا۔ آ کر اسے سجا دو۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بولا۔
’’سنیے مسٹر حارب مصطفٰی۔ میری طرف سے کل بھی انکار تھا اور آج بھی انکار ہے مجھے بھول جاؤ اور نرمین کو دل سے قبول کرلو یہی بہتر ہے ہمارے لیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ فوراً اٹھ کر جانے لگی گویا وہ اس کے پلکوں میں اٹکے موتیوں سے اس کے دل کا حال نہ جان جائے۔
’’کوئی اتنا سنگ دل کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘ حارب کو حیرت ہوئی۔
’’جانتا ہوں تم بھی میرے لیے وہی جذبات رکھتی ہو جو میں رکھتا ہوں، اگر ایسا نہ ہوتا تو تمہارا چہرہ تمہارے الفاظ کی نفی نہ کررہا ہوتا…‘‘ وہ بھی کوئی جادوگر تھا شاید جو آنکھوں سے دل کی بات جان لیتا تھا۔
شاید محبت کرنے والوں میں یہ حِس موجود ہوتی ہے کہ وہ اپنے محبوب کی بات احساس بن کہے جان لیتے ہیں۔
’’ضروری نہیں محبت ہر کسی کو مل جائے بعض اوقات کھو دینے کا نام بھی محبت ہوتا ہے اور دل جلوں کے دل جلنے میں بھی تو اپنا ہی مزا ہے اور اس درد کا مزہ محبت کو حاصل کرلینے والے کیا جانیں۔ جو لذت لاحاصل میں ہوتی ہے۔‘‘ وہ محبتوں کی پجارن آج بھی اپنے الفاظ سے امرت اس گھول رہی تھی۔ لیکن آج اس کے الفاظ میں درد اور کھو دینے کا احساس تھا۔
’’دیکھو سجل میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں کہ تم صرف میری ہو اس کا واضح ثبوت یہی ہے کہ تم نے آج تک شادی نہیں کی تم آج بھی اتنی ہی خوبصورت ہو جتنی دس سال پہلے تھی کیا میں اس کی وجہ جان سکتا ہوں۔‘‘ وہ محظوظ ہوتے ہوئے بولا۔
’’پتہ نہیں…‘‘ وہ الجھن کا شکار ہورہی تھی۔
’’لیکن مجھے پتہ ہے تم نے آج بھی اپنے دل میں مجھے بسا رکھا ہے اور تم یہ جگہ کسی اور کو دے ہی نہیں پائی… میں نے درست فرمایا نہ محترمہ۔‘‘ وہ شوخ ہوا۔ شاید محبت ہی انسان کو خوش گمان بنا دہتی ہے۔
’’میں نے کہہ دیا نہ کہ ہماری شادی نہیں ہوسکتی تو نہیں ہوسکتی۔‘‘
’’اللہ کے لیے… بس کر دو اب… پلیز۔‘‘ اسے اب غصہ آرہا تھا وہ اس کے صبر کا امتحان لیے جارہی تھی۔ حارب کا ماتھا شکنوں کے جال میں سے بھر گیا تھا۔
’’کیوں نہیں ہوسکتی تم میری؟ کوئی ایک وجہ بتاؤ۔‘‘ اس نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا۔ ’’کیوں خود پر اور مجھ پر بھی ظلم کررہی ہو۔‘‘ شاید محبت کے انکار پر وہ جنونی ہوگیا تھا۔
’’کیونکہ میری شادی کسی سے بھی نہیں ہوسکتی…‘‘ بلا ارادہ ہی اس کے ہونٹوں سے پھسلا اور فوراً ہی اس نے اپنا نچلا لب دانتوں تلے دبا لیا تھا۔
’’کیوں نہیں ہوسکتی ہماری شادی بولو؟‘‘ وہ ٹھنکا۔
’’کیونکہ… کیونکہ…‘‘ اس نے خشک ہوتے گلے کو تر کرتے ہوئے کہا۔
’’میں مکمل عورت نہیں… میں ادھوری ہوں… میں خواجہ سرا ہوں…‘‘ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے تھے۔ گلے میں آنسوئوں کا پھندا بن گیا تھا۔
آنسو پلکوں کی سر حد توڑ کر بہنے کو تیار تھے۔ لیکن اس نے ہمیشہ کی طرح خود کو سنبھال رکھا تھا کیونکہ وہ خود کو کمزور نہیں ثابت کرنا چاہتی تھی۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت جسے آج تک وہ سب سے چھپاتی آئی تھی۔ آج پل بھر میں اسے بتا گئی تھی۔ اسے گویا بچھو نے کاٹ لیا تھا وہ جھٹکے سے دو قدم دور ہوا۔
ایک پل کو درو دیوار ہل گئے، وقت تھم گیا گھڑی کی سویاں ٹک ٹک کرنا بھول گئیں دلوں کی دھڑکنیں رک گئیں، حارب مصطفٰی کو ایسا محسوس ہوا جیسے پورے بنگلہ کا ملبا اس پر آن گرا ہو۔
‘‘بس اتنا ہی پیار تھا نہ… حارب مصطفٰی دل والوں کی محبت بس یہی آکے ختم ہوجاتی ہے… ادھورے لوگوں کو کوئی نہیں اپناتا… ہم جیسوں کے لیے محبت کوئی معنی نہیں رکھتی ہم اس دنیا میں اکیلے جینے کے لیے آتے ہیں اور قبر کی دیوروں تک یہ اکیلا پن ہمارے نصیب میں رہتا ہے۔ کوئی ہمیں اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا، ہمارا کوئی ساتھی نہیں بنتا سوائے اللہ کی ذات کے… ہم اس دنیا میں ایک گالی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں میں نے سوچا تھا کہ میں ایک کامیاب انسان بن کر عام انسانوں جیسا بن کر دکھائوِں گی۔ یہ دکھاوں گی کہ ہمارا وجود محض دھتکارے جانے اور مذاق کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہے۔ ہمارے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے۔ سوچا تھا، اپنی پہچان بناؤں گی۔ پر میں شاید غلط تھی… میں کل بھی ادھوری تھی… آج بھی ہوں اور ہمیشہ رہوں گی۔ ادھورے انسانوں کے ساتھ محبت کون کرتا ہے میں بھول گئی تھی کہ ہمیں تو محبت کرنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ اپنوں نے تو کب کا چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم کسی کے ساتھ کے قابل نہیں ہوتے تم بھی آج چلے جاؤ حارب مصطفٰی اور کسی ایسے انسان کو اپناؤ جو مکمل ہو جو تمہیں زندگی کی ہر خوشی دے سکے۔ جس میں کوئی کمی نہ ہو، مجھ جیسی ادھوری اور نامراد انسان تمہیں کچھ نہیں دے پائے گی۔ کچھ بھی نہیں۔ امید ہے اب سمجھ جاؤ گے۔ جاسکتے ہو۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور باہر نکل گئی۔ اور وہ بت بنا کھڑا رہا تھا۔
’’خواجہ سرا…‘‘ اس نے زیرلب ان دو لفظوں کو دہرایا کتنا درد و کرب تھا، کتنی شدت تھی، عمر بھر کا روگ تھا، محض ان دو لفظوں میں۔
…٭٭…
سجل اپنی زندگی کا ایک مقصد لے کر آگے بڑھی تھی بے شک وہ ایک نا مکمل لڑکی تھی لیکن اس بات کو لے کر وہ دنیا سے کٹ نہیں گئی اور نہ کہیں چھپ کر بیٹھی بلکہ اس نے اس نا محرمی کے ساتھ دنیا کا مقابلہ کیا اور آج ایک اچھی پوسٹ پر فائز تھی۔
حارب مصطفی جانتا تھا کہ ان دونوں کا ملاپ کسی صورت ممکن نہیں لیکن وہ پھر بھی اس کا ساتھ چاہتا تھا دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور محبت کا احترام کرتے ہوئے اس نے سجل کے ساتھ ایک مدرسے کی بنیاد رکھی تھی جہاں اس نے محبت کی شمع کو علم کی روشنی دے کر ہر ذی روح کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔
نرمین کی دعائیں بھی قبول ہوگئی تھیں، حارب مصطفی کا دل اب پوری طرح نہ سہی لیکن اس کی طرف مائل ہونے لگا تھا اور اس کے لیے یہ بھی بہت تھا اس لیے اب وہ بھی ان دونوں کے ہم قدم تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close