Naeyufaq Nov-17

ایک سوسولہ چاند کی راتیں

عشناکوثرسردار

وہاں جیسے کوئی موجود تھا ان کے چونکنے پر جو کوئی بھی تھا اپنی جگہ چھوڑ گیا تھا نواب صاحب نے خاموشی سے دیکھا تھا حکمت صاحب بولے تھے۔
’’نواب صاحب محل میں کون ہے جو گھر کے معاملات کی خبر گیری رکھتا ہے۔‘‘
’’کوئی نہیں ہے کوئی ملازم ہوگا شاید کوئی کام کر رہا تھا۔‘‘ وہ سرسری لہجے میں بولا تھا حکمت صاحب نے ایک نگاہ ان پر ڈالی تھی اور دانستہ بات کو طول دیے بنا سمیٹ لیا تھا۔
’’خیر کل ملتے ہیں پھر اجلاس میں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
فتح النساء نے از سر نو معاملات کو جانچا تھا انہیں جلال کی طبیعت پر غصہ نہیں آیا تھا یہ بد گمانیاں اس طور پھیلائی گئی تھیں کہ رشتوں میں دراڑ ہمیشہ باقی رہے حیدر میاں نے جس طور اپنی اوقات دکھائی تھی انہیں حیرت ان سے بھی نہیں تھی جب وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے تو انہوں نے ایسا جال بچھا دیا تھا کہ ہر دیکھنے والا ان معاملات کو کسی اور کے زاویے سے دیکھے۔
’’بیگم صاحبہ چھوٹے نواب صاحب کو کھانے پر مدعو کر رہے ہیں۔‘‘ ملازم نے کہا تھا اور فتح النساء نے چونک کر دیکھا تھا۔
’’ہمیں بھوک نہیں۔‘‘ انہوں نے مدہم لہجے میں کہا تھا اور چلتی ہوئی فون اسٹینڈ کی طرف بڑھ گئی تھیں ملازمہ واپس پلٹ گئی تھیں۔ جب وہ بوا سے بات کر رہی تھیں تبھی جلال دروازے میں آن رکے تھے فتح النساء ان کو دیکھ کر چونکی تھیں۔
’’ہم آپ سے بعد میں بات کریں گے بوا۔‘‘ انہوں نے فون کال کا سلسلہ منقطع کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’آپ کھانے کے لیے نہیں تشریف لائیں۔‘‘ جلال نے شکوہ کیا تھا۔
’’وہ دراصل ہمیں بھوک نہیں تھی اور۔‘‘ وہ وضاحت دینا چاہتی تھیں جب وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولے تھے۔
’’جب تک یہاں ہیں محل کے اصولوں کی پاس داری کرلیا کریں فتح النساء اس کے بعد آپ یقینا اس سے آزاد ہوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر پلٹ گئے تھے ان کی لا تعلقی اور شکوہ جیسے دل میں پیوست ہو کر رہ گیا تھا مگر وہ خاموشی سے ان کی تقلید کرتی ہوئی ان کے پیچھے چل پڑی تھیں۔
ابا جان نے اسے بلوایا تھا تو وہ کسی قدر حیرت میں مبتلا ہوئی تھیں۔
’’ابا جان آپ نے بلوایا تھا۔‘‘ عین نے پوچھا تھا ابا نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا عین بیٹھ کر ان کی طرف خاموشی سے دیکھنے لگی تھیں۔ اتنا تو پتا چل گیا تھا کہ کوئی اہم معاملہ تھا ورنہ وہ اس طرح ان کو طلب نہیں کرتے تھے۔
’’بیٹا مرزا صاحب نکاح کی بات کر رہے ہیں، بچپن میں طے کیے گئے اس رشتے کو وہ اب عملی جامہ پہنانے کے خواہشمند ہیں، وہ حیدر میاں پر ذمہ داریاں ڈالنا چاہتے ہیں ان کے نزدیک ایسا کرنا انہیں راہ راست پر لاسکتا ہے۔‘‘
’’لیکن ابا جان۔‘‘ عین نے ان کی بات کو قطع کرنا چاہا تھا مگر پھر احتراماً خاموش ہوگئی تھیں تبھی ابا جان بولے تھے۔
’’ہم جانتے ہیں مرزا سراج الدولہ ہمارے خلاف سازشوں کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ مگر ہم مرزا سراج کو پہلے ہی معاف کرچکے ہیں اور دوسری بات ہم ایک انسان کے قول و فعل کا ذمہ دار دوسرے کو نہیں مانتے جو سراج صاحب نے کیا اس کی سزا ہم حیدر میاں کو نہیں دے سکتے ہم یہ رشتہ ختم نہیں کرسکتے۔ مرزا سراج کا سازشوں میں ملوث پایا جانا ایک قیاس ہے ہم ملازم کی گواہی کا یقین نہیں رکھتے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ ایسا کرتے رہے ہیں تو کیا معاف کردینا بہتر نہیں، ہم معاف کرچکے ہیں سو ہم شادی کے معاملے میں رضا مندی دینا چاہتے ہیں۔‘‘ ابا جان نے کہا تھا اور عین ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔
’’آپ کو اپنے بیٹے کی کوئی فکر ہے کہ نہیں؟ معاملات کو نواب صاحب کے کان میں کیوں نہیں ڈالتے آپ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو میں خوش بخت کے ساتھ ان کی بات پکی کردوں گی اور اس کے اثرات کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘‘ بیگم حکمت نے کہا تھا اور حکمت صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے پھر نرمی سے بولے تھے۔
’’بیگم یہ اقدام مناسب نہیں لگتا میں ایسے رشتے کی بات نہیں کرسکتا کیونکہ عین بیٹی کی بات ان کے بچپن سے طے ہے اور اس رشتے کی موجودگی میں ایک نئے رشتے کی بات کرنا مناسب نہیں لگتا۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا تب بیگم حکمت ان کو خاموشی سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’یہ ضروری نہیں کہ رشتے مرضی سے طے ہوں تیمور کے نصیب میں جو ہوگا وہ اسے مل کر رہے گا آپ ایسے زبردستی چیزوں کو توڑنے موڑنے کی کوشش مت کریں جو شے ہمارے اختیار میں نہیں ہم اس کے متعلق تردد نہیں کرسکتے۔‘‘ وہ متانت سے بولے تھے اور بیگم حکمت انہیں دیکھنے لگی تھیں۔
’’آپ کو جو مناسب لگے آپ کریں۔ ہم نے ٹھان لی ہے کہ ہم تیمور کا رشتہ خوش بخت کے ساتھ طے کردیں گے باقی آپ جو سوچیں آگاہ کردیں۔‘‘ وہ لا تعلقی سے بولی تھیں حکمت صاحب دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’بیگم ہم سوچ رہے ہیں بہو بیگم کی رخصتی کرا لیں جیسے جو بھی ہوا سو ہوا مگر بہرحال فتح النساء اس محل اور خاندان کی بہو ہیں نکاح جیسے بھی ہوا ہو مگر ان کا باقاعدہ اس گھر میں آنا ضروری ہے آپ کیا کہتی ہیں؟‘‘ نواب صاحب نے پوچھا تھا بیگم صاحبہ ان کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’بچے بھی کیا گھر بساتے ہیں شادی بیاہ کو بچوں کا کھیل سمجھ لیا آپ نے؟‘‘ وہ سخت لجہے میں گویا ہوئیں۔
’’بیگم یہ بات تو آپ کو اپنے لاڈلے سپوت سے پوچھنا چاہیے نکاح انہوں نے کیا ہے اس کا الزام کسی اور کے سر کیا دھرنا۔‘‘ نواب صاحب غیر جانبداری سے بولتے ہوئے مسکرائے تھے۔
’’ہم نے کب کہا کسی کو کچھ بات الزام دینے والی نہیں نواب صاحب بات اصول کی ہے مانا نکاح ہوگیا مگر فتح النساء تو نکاح کے بعد تنی بیٹھی ہیں ایک بار ان کو احساس ہوا کہ آئیں اور ہم سے ملیں چلی گئیں محل میں آتے ان کو قدغن ہے؟‘‘ بیگم صاحبہ نے دانستہ سخت لہجہ اختیار کیا تھا نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’جانے دیجیے بیگم آپ کی بہو ہیں بہو کو بیٹی سمجھنا چاہیے بیٹی کو جا کر گھر لانے میں کوئی قباحت نہیں۔‘‘ نواب صاحب نے نرم لہجے میں کہا تھا بیگم صاحبہ دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’بیٹی کو دعوت کہاں دینا پڑتی ہے نواب صاحب جانے دیجیے ہم بیٹی جانتے رہیں اور وہ بہو بن کر تن کر بیٹھی رہیں۔‘‘ بیگم صاحبہ نے غصہ کا اظہار کیا تھا۔
’’بیگم آپ بھی تو بہو ہیں آپ کے ناز نخرے تو ابھی تک اٹھائے جا رہے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے چھیڑا تھا بیگم صاحبہ جھینپ کر رہ گئی تھیں۔
’’آپ بھی نا۔‘‘
’’ہاں تو آپ کی ساس بیگم تو ابھی تک آپ کو دلہن بیگم کہہ کر بلاتی ہیں اور تو اور ابھی تک آپ کے ناز بھی نئی نویلی بہوئوں کی طرح اٹھاتی ہیں اکلوتی بہو ہیں آپ اور خیر سے فتح النساء بھی ہماری اکلوتی بہو ہوئیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تھا تو بیگم صاحبہ نے سر ہلایا تھا۔
’’آپ اماں سے بات کرلیں جو اماں کہتی ہیں وہ کرلیتے ہیں۔‘‘ بیگم صاحبہ نے گویا نیم رضا مندی ظاہر کی تھی نواب صاحب نے سر ہلا دیا تھا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے بیگم مگر آپ کے صاحبزادے نے نکاح زبردستی کیا ہے اپنی مرضی کو اہم جانا ہے آپ کو جا کر ایک بار فتح النساء بیٹی سے ملنا ہوگا، ان کے دل کی بات جاننا بھی ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نکاح کے لیے رضا مندی دینا ہی نہ چاہتی ہوں اگر ان کی آمادگی نہیں تو یہ نکاح کوئی وقعت نہیں رکھے گا دونوں فریقین کی مرضی جاننا ضروری ہے نکاح اور شادی کے معاملات کسی ایک فریق کی مرضی سے نہیں چلتے۔‘‘ نواب صاحب نے سمجھایا تھا۔
’’ویسے یہ چھوٹے نواب پر الزام لگتا ہے وہ بھلا کیوں ایسا چاہیں گے ان کو لڑکیوں کی کمی تھی کیا کہ وہ زبردستی نکاح کسی پر مسلط کرنا چاہیں گے یہ بات دل کو جمتی نہیں، محبت کا کوئی معاملہ بھی نہیں عشق ہوتا تو ہم کہتے کہ چھوٹے نواب کی آنکھوں پر اور عقل پر پٹی بندھی تھی سو عشق نے کچھ دیکھنے نہیں دیا۔‘‘ بیگم صاحب نے کہا تھا۔
’’بیگم جیسے بھی ہوا عشق کی موجودگی میں یا عشق کے بنا بہرحال عشق نہ سہی ایک جائز رشتہ تو ہے اور ہم خود بیٹی والے ہیں ہم کسی پر انگلی نہیں اٹھا سکتے اور فتح النساء کو تو یوں بھی ہم نے ہمیشہ اس گھر کی بیٹی کا درجہ دیا ہے اور ان کو بیٹی سمجھا بھی ہے ہم ان پر رتی بھر بھی شک نہیں کرسکتے۔‘‘ نواب صاحب سنجیدگی سے گویا ہوئے تھے تبھی وہ بولی تھیں۔
’’شک کی بات نہیں نواب صاحب شک کی بات تو سرے سے ہم نے کی ہی نہیں ہم تو یہ کہہ رہے ہیں کہ چھوٹے نواب نے اچانک سے فتح النساء کو زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کیونکر کرلیا فتح النساء کو جانتے ہیں ہم وہ با کردار لڑکی ہیں ان کی حقیقت منعکشف ہے اس گھر پر بہرحال نوابی دماغ ہے نواب کا دماغ اور اونٹ کا دماغ ایک جیسا ہوتا ہے کس کروٹ بیٹھے خبر نہیں ہوتی چھوٹے نواب کے دل و دماغ کی ان کو خبر مگر ہم پھر بھی کہیں گے آپ کو فتح النساء کی فکر ہو رہی ہے وہ تو خیر لڑکی ہیں۔‘‘ لڑکیاں تو زندگی میں سمجھوتے کر لیتی ہیں ہمیں جلال کی فکر ہے آپ ان سے بات کرلیں کہیں ایسا نہ ہو ہم فتح النساء کو یہاں لانے کا ذکر چھیڑیں اور جلال بدک جائیں جوان اولاد ہے ان کی مرضی کا خیال کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘ بیگم صاحب نے کہا تھا تو نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’مرزا صاحب جتنی سبکی آپ کی ہوئی ہے اس کا خاتمہ ایک ہی صورت میں ممکن ہے آپ سیدھا جا کر نواب صاحب سے حیدر میاں کی شادی کے معاملات طے کرلیں معاملات بدلیں گے تو توجہ بھی بٹ جائے گی توجہ بٹے گی تو آپ کی شرمندگی بھی جاتی رہے گی اور سبکی کا احساس بھی معدوم ہوجائے گا۔‘‘ ایک احباب نے بہت سلجھائو کے ساتھ مشورہ دیا تھا مرزا صاحب پرسوچ نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگے تھے۔
’’صحیح کہا آپ نے آفتاب صاحب یوں بھی کسی کے بال پائوں میں ہوں تو کوئی سر مشکل سے اٹھاتا ہے ان موصوف کی عزت ہمارے گھر ہوگی تو وہ کوئی معاملہ اٹھا ہی نہیں سکیں گے۔‘‘ مرزا صاحب نے کہا تھا اور آفتاب مسکرائے تھے۔
’’آپ کی ہمشیرہ زندہ ہوتیں تو معاملہ وٹہ سٹہ کا ہوجاتا ان کی عزت آپ کے گھر آپ کی عزت ان کے گھر سو کوئی فریق بھی سر نہ اٹھا پاتا۔‘‘ آفتاب صاحب مسکرائے تھے اور مرزا سراج الدولہ کی رگیں تن گئی تھیں ان کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا انہوں نے غصے کو گویا دبانے کو مشروب کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔
آفتاب صاحب نے تسلی دینے کو ہاتھ ان کے شانے پر رکھا تھا۔
’’ہم موجود تھے مرزا صاحب ابا جان مرحوم نے رشتہ بھی بجھوایا تھا مگر آپ تب تک اپنی ہمشیرہ کی بات نواب صاحب کے بڑے بھائی کے ساتھ طے کر چکے تھے اگر ان کا نکاح ہم سے ہوا ہوتا تو شاید آج وہ زندہ ہوتیں اور خوش و خرم زندگی گزار رہی ہوتیں۔‘‘ آفتاب صاحب نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا تھا مرزا سراج الدولہ کی گرفت گلاس پر اس قدر بڑھی تھی کہ کانچ کا گلاس ان کے ہاتھ کے دبائو سے چکنا چور ہو کر رہ گیا تھا۔
’’اوہ مرزا صاحب آپ نے تو ہاتھ زخمی کرلیا دیکھیے خون رس رہا ہے۔‘‘ آفتاب صاحب ہمدردی سے بولے تھے اور ان کے ہاتھ سے کانچ لے کر ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے رومال سے زخم کو لپیٹا تھا۔
’’ہم کبھی بھول نہیں سکیں گے ہماری ہمشیرہ نے جتنی تکلیف سہی اس کا ازالہ نواب صاحب کی بیٹی کو کرنا ہوگا ہم نے نواب صاحب کو معاف نہیں کیا نہ ان کے بھیا کو ان کے بھیا نے جتنی تکلیفیں ہماری ہمشیرہ کو دیں اس سے زیادہ بری تکلیف ہم نواب صاحب اور ان کے خاندان کو دیں گے۔‘‘ وہ مضبوط ارادے سے بولے تھے تبھی آفتاب صاحب گویا ہوئے تھے۔
’’جناب ہمیں تو یہ تمام نواب صاحب کا کیا دھرا لگتا ہے انہوں نے بڑے بھائی کو جائیداد سے برخاست کرنے کے لیے پاگل قرار دلوایا اور پھر راستے سے ہٹا دیا اوراس خود کشی سے قبل انہوں نے آپ کی ہمشیرہ کی زندگی کو جہنم بنائے رکھا اور اتنا مجبور کیا کہ وہ زندگی کوخیر باد کہہ گئیں نواب صاحب کا اصل چہرہ چھپا ہوا ہے اپنی نیت کی خرابی کا ازالہ کرنے کو بہت میٹھے بنے پھرتے ہیں مگر در حقیقت وہ ایک چالباز شخص ہیں۔‘‘ آفتاب صاحب نے کہا تھا مرزا سراج الدولہ نے سر ہلایا تھا۔
’’جانتے ہیں ہم اور ہم نواب صاحب کو معاف نہیں کریں گے ان کو وہ سزا دیں گے کہ ان کی پشتوں کو یاد رہے گا کہ کسی نے سزا دی تھی، معاف کرنے والے ہم بھی نہیں ہماری ہمشیرہ کو جو اذیت دی اس سے کہیں زیادہ ہم نواب خاندان کے ہر فرد کو دیں گے۔‘‘ وہ مضبوط ارادے سے بولے تھے اور آفتاب صاحب مسکرا دیے تھے انہوں نے ڈرنک کا گلاس مرزا کی طرف بڑھایا تھا جسے تھام کر مرزا سراج الدولہ نے منہ سے لگا لیا تھا۔
’ابا جان آپ نے ارادہ کر لیا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم نے نکاح کیا ہے اور ہم نکاح کی اہمیت بہرحال سمجھتے ہیں فتح النساء اس خاندان کا حصہ بن چکی ہیں اور آپ کو ان کو اس محل میں لانا چاہیے اسی عزت اور احترام کے ساتھ جس کی حق دار وہ ہیں۔‘‘ جلال نے سمجھداری سے کہا تھا اور نواب صاحب نے ان کو دیکھتے ہوئے فخر سے ان کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’بیٹا ہمیں خوشی ہوئی ایک نواب زادے کا جو سوچ اور طرز تخاطب ہونا چاہیے وہ آپ کا ہے ہمیں خوشی ہے ہمارے سپوت بیرون ملک رہ کر بھی اپنی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے فخریہ کہا تھا اور جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’یہ بات تو ہے کہ آپ فتح النساء کو محض دینے کے لیے اس رشتے کو نبھانا چاہتے ہیں فتح النساء کو اس گھر میں لانا چاہتے ہیں مگر اس کے برعکس آپ کیا سوچتے ہیں کیا آپ اس نکاح کو قائم رکھ سکیں گے۔‘‘ اس تعلق کو نباہ سکیں گے اگر چہ ایسا ممکن نہیں کہ ہماری اولاد ہو کر آپ اپنی قدروں کے خلاف جائیں یا پھر اس تعلق یا رشتے کو کوئی اہمیت نہ دیں مگر پھر بھی ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا آپ فتح النساء کے وفادار رہیں گے۔ ہم نے فتح النساء کو بیٹی سمجھ کر پالا ہے ہمیں وہ بہت عزیز ہیں اور ہم ان کو دکھ کی کیفیت میں نہیں دیکھ سکیں گے آپ ہمارے ہونہار اور لاڈلے سپوت ضرور ہیں مگر ہم آپ کو ایسی کسی کوتاہی کے لیے معاف نہیں کریں گے۔‘‘ نواب صاحب نے حتمی انداز میں کہا تھا اور جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے پھر جیسے کچھ سوچ کر قدرے توقف سے بولے تھے۔
’’ابا جان، ہم نواب خاندان سے جڑے ہیں اور آپ کا خون ہیں قدم اٹھا کر واپس لینا ہم نے نہیں سیکھا اتنا یقین دلاتے ہیں کہ ہم فتح النساء کو اس رشتے سے جڑی عزت، توقیر اور مکمل احترام ملے گا اور ہم ان کے حقوق ہمیشہ ادا کریں گے۔‘‘ جلال نے بردباری سے کہا تھا نواب صاحب نے سر ہلا دیا تھا۔
یگم صاحبہ فتح النساء کے سامنے وضع داری سے بیٹھتے ہوئے انہیں بغور دیکھا تھا۔
’’آپ نے کیوں زحمت کی ہمیں حکم بجھوا دیا ہوتا اماں جان ہم حاضر ہوجاتے۔‘‘ فتح النساء شرمندہ ہو کر بولی تھیں اماں جان نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا پھر قدرے نرمی سے گویا ہوئی تھیں۔
’’آپ نواب خاندان کی بہو ہیں فتح النساء یہ وقار یہ مرتبہ اب آپ کو زیب دیتا ہے۔
ہمیں نواب خاندان کی بہو ہونے کا شرف حاصل ہے اور جو عزت ہمیں ملی ہم اس کا حق دار آپ کو تصور کرتے ہیں آپ سے ملنے آنا ہمیں رشتوں کی قدر کرنا سکھاتا ہے مرتبے سے نیچے نہیں لاتا ہمیں ایک بیٹی سمجھ کر محل میں جو مقام اب تک ملا ہے آپ بھی یقیناً اس کی حقدار ہیں۔ اماں جان ہم سے ملنے اسی طور آئی تھیں اور اب ہمارا چل کر آنا اور آپ سے ملاقات کرنا اسی عمل کی پیروی ہے۔‘‘ بیگم نے بہت نرمی سے کہا تھا فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
فتح النساء یقینا اس ملاقات کا مدعا جاننے کی خواہش مند تھیں اور بیگم صاحبہ بھی وقت ضائع کرنے کی قائل نہیں تھیں تبھی گویا ہوئی تھیں۔
’’ہمیں باتوں کو توڑنا موڑنا پسند نہیں فتح النساء آپ کے سر نواب صاحب نے حکم صادر کیا تھا کہ آپ سے رائے طلب کی جائے آپ جلال سے نکاح کو ایک بندھن کے طور پر قائم رکھ کر آگے بڑھانا چاہتی ہیں یا آپ تصور کرتی ہیں کہ یہ نکاح آپ کی مرضی کے خلاف ہوا سو آپ متفق نہیں دوسرے اور صاف لفظوں میں ہم یہ پوچھنے حاضر ہیں کہ چھوٹے نواب جلال الدین پٹوڈی بطور خاوند قبول ہیں کہ نہیں اگر نہیں تو آپ کو اس رشتے سے برخاست کردیا جائے گا اگر آپ چھوٹے نواب کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہشمند ہوں گی تو ہم رخصتی کا عمل مکمل کریں گے اور آپ کو محل میں عزت و احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کیا فیصلہ لینا ضروری خیال کرتی ہیں مگر نواب خاندان آپ کے فیصلے کو اہم سمجھتا ہے اور ہر صورت میں آپ کے فیصلے کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا سو آپ بے خوف و خطر اس فیصلے کے عمل سے گزریے اور ہمیں آگاہ کردیجیے ہم آپ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔‘‘ بیگم صاحبہ نے آگاہ کیا تھا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھیں فتح النساء ان کے ساتھ احتراماً کھڑی ہوئی تھیں اور نرمی سے بولی تھیں۔
’’ہم پر نواب خاندان کے اتنے احسانات ہیں کہ ہم اس وزن تلے خود کو دبا محسوس کرتے ہیں ہم ایسی حیثیت نہیں رکھتے کہ نواب صاحب کے فیصلے کی نافرمانی کے مرتکب ہوں ہم نواب چاچا کی عزت اپنے والد محترم کی طرح کرتے ہیں سو ہم ان کے فیصلے کے آگے سر جھکانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ان کے فیصلے سے انحراف ممکن نہیں۔‘‘ وہ احتراماً گویا ہوئی تھیں بیگم صاحبہ نے ان کی سمت دیکھا تھا۔
’’فتح النساء ہم آپ کو جتانا بھول گئے ہم کسی احسان کے باعث آپ کا جواب سننا نہیں چاہتے آپ کا فیصلہ اس سب سے مبرا ہونا شرط ہے آپ سوچ سمجھ کر جواب دے سکتی ہیں اس بات کو یکسر دل سے نکال دیجیے کہ آپ پر کوئی احسان کیا گیا یا آپ بوجھ تلے دبی ہوئی ہوئی ہیں، نواب خاندان نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ کوئی ہمارے احسانوں تلے دب کر اپنے کسی فیصلے کو متاثر کرے۔‘‘ بیگم صاحبہ نے کہا تھا۔
’’فی امان اللہ۔‘‘ وہ کہہ کر مڑ گئی تھیں۔
’’فی امان اللہ۔‘‘ فتح النساء کے لب آہستگی سے ہلے تھے۔
’’مرزا صاحب عین آپ کی ہی بیٹی ہیں اور آپ کی ہی امانت ہیں ایسی بھی کیا جلدی ہے ہم چاہتے ہیں یہ تقسیم کا معاملہ نبٹ جائے اس کے بعد نکاح کی کوئی بات چھیڑی جائے۔‘‘ نواب صاحب نے مرزا سراج الدولہ کو سمجھایا تھا مرزا سراج الدولہ مسکرا دیے تھے۔
’’تقسیم کے وقت جو آپ یہاں سے ویسے ہی کوچ کر جائیں گے پھر آپ کو ڈھونڈتے ہوئے پاکستان کون جائے گا۔‘‘ سراج صاحب نے بات کو مزاح کا رنگ دیا تھا اور نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’یہ بات بھی مناسب ہے میاں مگر پاکستان سے بھاگ کر کہاں جائیں گے پاکستان تو ہماری آخری منزل ہے بہرحال عین بیٹی کا جو فرض ہے وہ تو بہرطور پورا کرنا ہی ہے ان شاء اللہ کچھ سوچتے ہیں۔‘‘ نواب صاحب نے سہولت سے قصے کو سمیٹا تھا مگر مرزا صاحب مسکرا دیے تھے اور گویا ہوئے تھے۔
’’نواب صاحب آپ کی طرف سے دھڑسا لگا رہتا ہے کہیں فیصلہ مت بدل دیجیے گا۔‘‘ وہ مسکرائے تھے تو نواب صاحب نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے تسلی دینا ضروری خیال کیا تھا۔
’’کیسی باتیں کرتے ہیں جناب نواب خاندان فیصلہ کر کے مکرنے والوں میں سے نہیں زبان کی بات ہے زبان کا اعتبار کیجیے زبان سے بڑھ کر تو کچھ نہیں زبان کے لیے ناک تو کٹوانے سے رہے۔‘‘ مرزا صاحب ہنسے تھے۔
’’یہ بات بھی خوب کہی نواب صاحب جس مزاج کا جواب نہیں آپ کی جانب سے قتل بھی ہوگا تو کرامت لگے گی۔‘‘ سراج صاحب مسکرائے تھے نواب صاحب نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’خدا نہ کرے مرزا صاحب دوستوں پر وار نہیں کرتے ہیں دوستی میں تو سر جھکا دیتے ہیں ہم مزاج یار میں جو آئے سو کرے۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تھا ان کے لبوں کی خفیف سی مسکراہٹ ان کے قلبی سکون کا پتا دے رہی تھی مرزا نے جانچتے ہوئے کہا تھا۔
’’چلیے مرزا کو جانے دیجیے ہم مدعے پر آتے ہیں اور مدعا یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹی کو اب اپنے گھر میں اتارنا چاہتے ہیں آپ بھی اب پس و پیش سے کام نہ لیجیے کو فیصلہ کر ڈالیے تقسیم کے وقت میں کتنی دیر ہے ہمیں کیا خبر یہ فرنگی اتنی آسانی سے اس سونے کی چڑیا کی جان کہاں چھوڑیں گے ان کی سامراجیت جانے کب تک قائم رہے چاہے دوسری جنگ عظیم نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہو اور باقی کی کئی جگہوں سے ان کا انخلا ہو رہا ہو مگر اس سائوتھ ایسٹ ایشیا سے گویا انہیں عشق ہوچکا ہے حکمرانی کا بھی اپنا نشہ ہے صاحب کسی کی گردن دبا کر رکھنا کبھی کبھی بہت لطف دیتا ہے اور فرنگی یہ کام بہت خوبی سے کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مسکرائے تھے نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’بہرحال امید اچھی رکھنا چاہیے جناب بات چاہے مسلم لیگ کی ہو یا کانگریس کی دونوں کی خواہش یہی ہے کہ فرنگی اب اس خطے کی جان چھوڑ دیں۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تھا اور مرزا نے سر تائید میں ہلایا تھا۔
’’اب تو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ان کو یہ خطہ چھوڑنا ہی پڑے گا نواب صاحب جنگ عظیم دوم نے ان کی معیشت کو جو دھچکا لگایا ہے وہ اسے ایسے فراموش نہیں کرسکتے یہ بھرائی کرتے ان کی نسلیں تھک جائیں گی دوبارہ سے کسی مملکت پر سامراجیت کا جھنڈا کرنے سے قبل دس بار سوچیںگے ضرور۔‘‘ مرزا نے کہا تھا تو نواب نے مثبت انداز میں سر ہلایا تھا۔
’’بجا فرما رہے ہیں میاں آپ لگتا تو یہی ہے کہ یہ سامراجیت کا خاتمہ ہے اور اس کے بعد مملکتیں آزادی سے سانس لے سکیں گی مگر فرنگیوں کا کچھ پتا نہیں وہ وہاں سے بھی کاٹتے ہیں جہاں بوتے نہیں۔‘‘ نواب صاحب مسکرائے تھے مرزا صاحب مسکرائے تھے۔
’’ٹھیک کہا جناب چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی حکمران اور سامراجیت کا نشہ جاتے جاتے جائے گا مگر حالات تو کہتے ہیں کہ آئندہ برطانیہ کی طاقت کا سورج ہر جگہ نہیں چلے گا جہاں چمکنا تھا چمک چکا اب اس آفتاب کی روشنی میں وہ آب و تاب نہیں رہی وہ وقت گئے جب لوگ کہتے تھے کہ برطانیہ کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا آنے والا وقت برطانیہ کی معیشت کے لیے کڑا ہوا ہم نہ لکھیں گے تو آنے والی نسلیں دیکھیں گی کیونکہ بہرحال ہر عروج کو زوال ہے بے انتہا سرمستی کے بعد زوال دیکھنا بھی شرط ہے ہم نہ دیکھیں گے تو دنیا دیکھے گی جناب۔‘‘ مرزا نے کہا تھا اور نواب صاحب نے سر تائید میں ہلایا تھا۔
’’بات تو مناسب ہے آپ کی مرزا سراج الدولہ صاحب بہرحال آپ نے کیا سوچ رکھا ہے آنے والے دنوں کے لیے کیا حکمت عملی ہے آپ کی سننے میں آیا تھا کہ کانگریس کے ساتھ اگر چہ آپ ہیں مگر حمایت آپ مسلم لیگ کی کرتے دکھائی دیتے ہیں اس معاملے میں راز پنہاں ہے۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا تھا مرزا صاحب ہنس دیے تھے۔
’’جانے دیجیے نواب صاحب کیوں مذاق بناتے ہیں کانگریس ہو یا مسلم لیگ ہمیں تو بس ان فرنگیوں کی سامراجیت سے نجات چاہیے مگر مسلم لیگ کے ایک دوست ہیں ان کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی وہیں باتوں باتوں میں تذکرہ چل پڑا کہ کس لیڈر نے اپنا موقف بہتر انداز میں بیان کیا ہم نے نہرو کی بجائے جناح صاحب کا نام لے لیا اور وہیں اخباروں میں شہ سرخیاں بننے لگیں لوگ تو رائی کا پہاڑ بنا لیتے ہیں مسلم لیگ کی حمایت مہنگی پڑی ویسے جواباً ہمیں تردید کرنا پڑی کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا خیر ان سیاست کی باتوں میں اہم معاملات کہیں در گزر نہ ہوجائیں آپ کو یاد دہانی کرائے دیتے ہیں کہ آنے والے رمضان سے قبل ہم اپنی بیٹی کی رخصتی اپنے گھر میں چاہتے ہیں پھر جو ہو سو ہو اگر عین بیٹی اور حیدر میاں کو کوچ کرنا ہوا تو ہم ان کی مدد خود کریں گے۔‘‘ مرزا جیسے ٹھان کر آئے تھے کہ نواب صاحب کو قائل کر کے جائیں گے اور نواب نے سر ہلا دیا تھا۔
خوابوں کی تعبیریں بھیانک ہوتی ہیں یا خوب صورت وہ جان نہیں پائی تھیں انہوں نے جس شے کی تمنا کی تھی وہ خواہش کسی بھی طور پوری ہوگئی تھی مگر بعض اوقات خواہش مکمل پوری نہیں ہوتیں، کہیں نہ کہیں کچھ ادھورا پن رہ جاتا ہے ایسا ہی ادھورا پن اس خواہش میں بھی رہ گیا تھا۔
’’جلال آپ ہماری زندگی میں آئے بھی تو کیا رنگ لے کر کہ ہماری خواہشیں اپنے ہونے پر خود حیران سی ہمیں تکتی ہیں ان خواہشوں کا کیا کریں ہم ہم آپ کے ہم سفر تو ہیں مگر ہمنوا نہیں کیا کریں کیا درج ہے ہمارے بخت میں ہم نہیں جانتے مگر یہ باتیں ہمارا سکون رخصت کرنے آتی ہیں تو سارا دل ویران کر کے رکھ جاتی ہیں۔‘‘ وہ سوچ کر رہ گئی تھیں انہوں نے فیصلہ جلال کے نام کردیا تھا وہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ فیصلہ صحیح تھا کہ غلط مگر اس فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ ہونا ممکن نہیں تھا۔
’’ہمارا سکون جتنا بھی بے مزہ ہو جلال ہم آُ کے جنوں کے بے کمال ہونے پر ششدر نہیں کیونکہ ہم آپ کے اختیارات سے واقف ہیں اور ہماری بے بسی بھی ہماری نگاہ میں ہے عشق کو حیرتوں میں مائل کرنا آپ کو زبانی ازبر ہے اور ہم شکوہ کے لیے لب بھی نہیں کھول سکتے۔
حیرتوں کے ساتھ سرنگوں کے لیے ہم ایسا کہتے تو پابند ہیں کہ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی یہی جنوں کی کوئی منزل ہے تو ہم کو قبول ہے۔‘‘ وہ ہتھیار ڈالنے والے انداز میں سوچتے ہوئے شکست کا گویا باقاعدہ اعتراف کرلیا تھا۔
ؤ /…/… /ؤ
’’تیمور آپ چاہیں اب انکار کریں یا کتنے بھی بہانے گھڑیں ہم آپ کی بات خوش بخت کے ساتھ پکی کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ بیگم حکمت نے کہا تھا تو تیمور ماں کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’معلوم ہے آپ معاملات کو ٹالنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ کسی خوش فہمی میں ہیں یا پھر کسی امید میں مبتلا ہیں مگر معجزے ہر بار ہوں یہ ضروری نہیں۔ بیٹا آپ کو حقیت تسلیم کرنا ہوگی عین کی بات حیدر میاں کے ساتھ پکی ہے اور اس تعلق کے ختم ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملتے۔‘‘ بیگم حکمت بیٹے کی دل جوئی نہیں کرسکتی تھیں سو ان کو حقیقت کی سمت دھکیلتے ہوئے گویا ہوئی تھیں تیمور اٹھے تھے اور چلتے ہوئے باہر نکل گئے تھے۔
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم
خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی
اٹھاتی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم
خوش نما کے لب ہولے سے ہلے تھے۔
’’چھوٹے نواب محبت کی ہمیں کیا خبر، یہاں محبت نہیں ہوتی سودے بازی ہوتی ہے اور سودے بازی میں محبت مخل نہیں ہوتی ہمارا نصیب یہ ہے کہ ہم محبت کی م کے متعلق بھی سوچ نہیں سکتے اس م کے متعلق سوچنے کی بھی اجازت نہیں ہے ہمیں۔‘‘ وہ عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے خوش نما ان کو دیکھتی رہی تھی پھر ہوئے سے بولی بھی۔
اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں
کوئی جانے کہ وفا کرتے ہیں
یوں وفا عہد وفا کرتے ہیں
آپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں
اس لیے دل کو لگا رکھا ہے
اس میں محبوب رہا کرتے ہیں
تم ملو گے نہ وہاں بھی ہم سے
حشر سے پہلے گلہ کرتے ہیں
روز لیتے ہیں نیا دل دلبر
نہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں
داغ تو دیکھ کر کیا ہوتا ہے
جبر پر صبر کیا کرتے ہیں
’’ہم نہیں جانتے خوشنما ہم نے وہ کیا جو ہمیں کرنا چاہیے تھا ہمارے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے ہم اس سے منہ نہیں موڑ سکتے۔‘‘ چھوٹے نواب نے گویا وضاحت دینا چاہی تھی وہ عجیب زخمی انداز میں مسکرا دی تھیں۔
’’ہم کہاں گلہ کرتے ہیں نواب صاحب ہم تو تذکرہ بھی نہیں کرتے آہ کرنا تو دور کی بات ہے ہمیں تو خود سے ذکر کرنے کے اسلوب بھی نہیں معلوم خوش رہیے ہم آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں بس۔‘‘ خوشنما کا انداز دکھ سے عبارت تھا۔
’’ہم بے وفائی کے مرتکب نہیں ہوئے خوش نما ہم نہیں جانتے مگر محبت کے متعلق شاید ہمیں خبر نہیں ہے۔‘‘ جلال نے کہا تھا وہ مسکرا دی تھیں۔
آرزو تیری برقرار رہے
دل کا کیا ہے رہا نہ رہا
حسرت موہانی کے ساتھ کیا معاملہ رہا ہوگا ہمارا دل تو رہا ہی نہیں۔‘‘ خوشنما نے لمحہ بھر کو ان کی طرف نگاہ کی تھی اور آہستگی سے بولی تھیں۔
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا
جیسے دل تھا ہی نہیں دل ہوتا تو درد کا گمان بھی ہوتا۔ دل نے تو طوفان مچایا ہوا تھا مگر اچھا ہوا خبر ہوگئی کہ دل تھا ہی نہیں۔‘‘ وہ عجیب حسرت و یاس سے بولی تھیں جلال آئے تھے اس نے بے ارادہ ان کا ہاتھ تھام لیا تھا جلال نے ان کی طرف نہیں دیکھا تھا خوشنما نگاہ اٹھا کر ان کی سمت بغورتکتی رہی تھیں ان کی آنکھوں میں عجیب پیاس تھی۔
’’نگاہ پیاس سے بلکتی ہے ہوسکے تو دیدار کا سامان کیجیے۔‘‘ وہ جیسے دیوانگی کی اتھاہ میں تھیں جلال نے ان کی جان بنا دیکھے ہاتھ چھڑایا تھا۔
اک عشق کا غم اور اس پر یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
خوشنما نے مسکراتے ہوئے ان کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا جلال نے دانستہ ان کی سمت نگاہ کی تھی خاموشی سے دیکھا تھا اور پلٹ کر باہر نکلنے لگے تھے خوشنما ان کی سمت دیکھی رہی تھی پھر نگاہیں بند کرلی تھی۔
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
ان کے لب ہلے تھے اور آنسوئوں کے قطرے آہستگی سے ٹوٹ کر رخساروں پر بہہ نکلے تھے
’’یا رب دل میں محبت ڈالنا تھی تو نصیب ایسا کیوں دیا؟‘‘ ایک شکوہ ان کے لبوں پر تھا آواز میں بہت درد تھا جیسے سینہ چھلنی تھا۔
فتح النساء بے دھیانی میں چل رہی تھی جب حیدر ان کے مقابل آن کھڑے ہوئے تھے اور وہ چونکتے ہوئے حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھیں وہ مسکرایا تھا اور پھر ہاتھ بڑھا کر ان کا چہرہ چھوا تھا فتح النساء بدک کر پیچھے ہٹی تھیں جب انہوں نے ہاتھ تھام کر ان کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا فتح النساء نے الجھ کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی تھی حیدر میاں مائل دکھائی نہیں دیے تھے تب فتح النساء نے ان کو زور سے تمانچہ رسید کردیا تھا وہ غصے سے آگ بگولہ ہو کر ان کو دیکھنے لگے تھے۔
’’آپ کی یہ اوقات ایسی ہمت دماغ ٹھکانے لگا دیں گے آپ کا۔‘‘
وہ دھمکی پر اتر آئے تھے ان کی سرخ آنکھوں میں جیسے خون تیرنے لگا تھا فتح النساء دو قدم پیچھے سرکی تھیں اور جواباً غصے سے انہیں دیکھا تھا۔
’’آپ کی بد تمیزیوں کا کیا مطلب ہے آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہماری حویلی میں آنے کی اجازت کس نے دی آپ کو۔‘‘ وہ آگ بگولہ ہوئی تھیں مگر وہ مسکرا دیا تھا اور ان کی سمت دیکھتے ہوئے عجیب لہجے میں گویا ہوا تھا حویلی میں کیا محترمہ آپ کی خواب گاہ میں بھی کود سکتے ہیں ہم آپ ایسی ارزاں کو اس سے بھی ارزاں کرسکتے ہیں آپ ہماری ہمت سے واقف نہیں ابھی ہمیں جلال کا بھی ڈر نہیں آپ ان کی منکوحہ ہیں تو ہوا کریں شرافت سے آپ کو آپ کی مرضی سے چاہتے ہیں سو اپنا آپ سونپ دیں ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ حیدر نے انہیں عجیب ہوس سے دیکھا تھا ان کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی اور حیدر ہنسنے لگے تھے۔
’’ہرنی کا شکار کرنے کا اپنا لطف ہے اور ہم اس لطف کو انتہا پر دیکھنا چاہتے ہیں جلال سے قبل حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اعلان کرتے ہیں جلال سے قبل آپ کو حاصل کر کے رہیں گے۔‘‘ وہ کھلی دھمکی دے رہے تھے فتح النساء اپنی جگہ ششدر رہ گئی تھیں وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل جانا چاہتی تھیں مگر ان کا رادہ بھانپ کر حیدر نے ان کی کلائی دبوچ لی تھی۔
دل کا کیا حال کیوں صبح کو جب اس بت نے
لے کر انگڑائی کیا ناز سے ہم جاتے ہیں
حیدر نے مدہم لہجے میں مسکراتے ہوئے فتح کی سماعتوں کے پاس ایک سرگوشی کی تھی وہ ان کی گرفت میں مچلنے لگی تھیں۔
دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیں
کتنی ظالم ہے تیری انگڑائی
’’جی میں آتا ہے کہ پی جائیں مگر پھر کچھ سوچ کر رک جاتے ہیں آپ کے معاملے میں ہم خود کو خود ترسی میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں ہاتھ بڑھا کر تھامنا نا ممکن نہیں مگر ہم دانستہ ہاتھ بڑھانا نہیں چاہتے خود کو اس حد بندی میں مصلحتا جکڑے ہوئے ہیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ شوق کی حد کیا ہے اور اشتیاق کیسے بڑھتا ہے سرور کی مدعا چاہتے ہیں سو خود کو روکے ہوئے ہیں ورنہ نا ممکن کچھ نہیں ہے محترمہ فتح النساء۔‘‘ وہ کلائی کو موڑ کر ان کو قریب کرتے ہوئے بولا تھا فتح النساء ان کی گرفت میں کراہ کر رہ گئی تھیں حیدر نے ان کو بغور دیکھا تھا۔
’’وقت دے رہے ہیں آپ کو چرا لیں گے ایک دن کوئی اسباب کرنا چاہتی ہیں تو کرلیں۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے ان کو چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا تھا فتح النساء درد کی شدت سے اس سمت دیکھنے لگی تھیں۔
’’آپ منگنی کر رہے ہیں۔‘‘ عین نے پوچھا تھا تیمور نے ان کی سمت دیکھے بنا دھیان پھیر لیا تھا کوئی جواب نہیں دیا تھا عین ان کی خاموشی سے الجھنے لگی تھیں۔
’’کیا ہو رہا ہے یہ؟‘‘ وہ حیرت سے پوچھ رہی تھیں۔
’’کس بابت پوچھ رہی ہیں آپ؟‘‘ وہ ان کی طرف دیکھے بنا بولے تھے۔
’’آپ منگنی کر رہے ہیں اسی دوشیزہ سے۔‘‘ وہ اسے دیکھ چکی تھیں سو خوش بخت کے متعلق دریافت کیا تھا تیمور نے شانے اچکا دیے تھے اور مدہم لہجے میں بولا تھا۔
’’یہ ذکر اہم نہیں عین آپ کے نکاح کے معاملات طے پا رہے ہیں۔‘‘ تیمور نے الٹا دریافت کیا تھا عین اس کی سمت دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی تھیں۔
’’ہم نہیں جانتے ایسا کوئی ذکر ہم نے اب تک نہیں سنا۔‘‘ وہ بے خبری سے گویا ہوئی تھیں تیمور مسکرا دیا تھا مگر عجیب بجھا بجھا انداز تھا۔
’’خوشی کی بات ہے آپ کی رخصتی عمل میں آئے گی بچپن کی محبت تکمیل کی سمت گامزن ہے۔‘‘ وہ عجیب طنز بھرے لہجے میں گویا تھا عین چونکی تھی۔
’’ایسا کچھ فی الحال نہیں ہو رہا گھر میں ان دنوں صرف ایک تذکرہ عام ہے اور وہ جلال بھیا کی شادی کا ہے فتح النساء کی رخصتی عمل میں لائی جا رہی ہے اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے۔‘‘ وہ لا علمی کا شکار دکھائی دی تھیں تیمور ان کو خاموشی سے دیکھنے لگا تھا وہ دھیمے لہجے میں بولی تھیں۔
’’اب آپ بتائیے کیا چل رہا ہے؟‘‘
’’کیا یہ ذکر اہم ہے۔‘‘ تیمور نے پوچھا تھا ان کے لبوں پر ایک مرجھائی سی مسکراہٹ تھی عین نے بغور ان کی سمت دیکھتے ہوئے سر ہلا دیا تھا۔
’’آپ اہم دوست ہیں تیمور آپ کے متعلق خبر رکھنا ضروری ہے۔‘‘
’’ضروری نہیں ہے عین آپ اپنی بات کیجیے آپ اہم ترین ہیں۔‘‘ وہ جتاتے ہوئے بولا تھا وہ الجھی نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔
’’آپ کو کیوں لگتا ہے کہ ہم اہم ترین ہیں۔‘‘
’’کیا حیدر میاں نے یہ بات کبھی نہیں جتائی۔‘‘ تیمور نے پوچھا تھا مگر عین نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ الٹا پوچھنے لگی تھی۔
’’کوئی اہم ترین کیسے ہوتا ہے تیمور۔‘‘ اور تیمور نے شانے اچکادیے تھے اور اٹھ کھڑا ہوا تھا جب عین نے ان کا ہاتھ تھاما تھا وہ پلٹ کر دیکھنے لگا تھا عین نے جھینپ کر ان کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا اور مدہم لہجے میں نگاہ چراتے ہوئے بولی تھیں۔
’’آپ کی منگنی کا سوچ کر ہی اتنی راحت مل رہی ہے ہم آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں وہ دیکھنے میں بہت دلکش ہے محبت کا واقع ہونا صاف دکھائی دیتا ہے۔‘‘ وہ بات بناتے ہوئے بولی تھیں۔
’’محبت بلا سبب نہیں ہوتی عین محبت کے اسباب ڈھونڈنے نکلو تو شاید کبھی نہیں ملتے مگر دل جانتا ہے کہ وہ مبتلا کیونکر ہوا دل کو تمام اسباب معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ وہ سمجھانے لگے تھے عین نے سر نفی میں ہلایا تھا تیمور ان کی معصومیت پر مسکرایا تھا۔
’’آپ تو حیدر میاں کی محبت میں مبتلا ہیں آپ کو ایسے سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی ضرورت کیونکر آگئی؟‘‘ تیمور نے پوچھا تھا وہ نگاہ پھیر گئی تھیں پھر پلٹ کر چلتے ہوئے وہاں سے نکلنے لگی تھیں تیمور تادیر ان کو دور جاتا دیکھتے رہے تھے پھر چلتے ہوئے مخالف سمت میں آگے بڑھنے لگے تھے۔
رخصتی کی تاریخ طے پا گئی تھی گھر میں شادی کی تیاریاں ہونے لگی تھیں ڈھولک شادی بیاہ کے گیت مگر فتح النساء جانے کیوں خاموش سی تھیں وہ جلال سے ملنا چاہتی تھیں ان سے بات کرنا چاہتی تھیں مگر جیسے اب ایسا ممکن نہیں رہا تھا ہاتھوں میں ان کے نام کی مہندی رچ گئی تھی اور بالآخر وہ بیاہ کر محل بھی آگئی تھیں تب جلال سے سامنا ہوا تھا اور ان کو لگا تھا جیسے وہ کسی اجنبی کے سامنے کھڑی ہوں۔
’’ہم آپ کے تمام حقوق ادا کریں گے مگر فی الحال ہمیں وقت درکار ہے سو ہم سے کوئی سوال مت کیجیے گا کیوں اور کیوں نہیں جیسے سوال فی الحال ہم سننا نہیں چاہتے آپ سوجائیے ہمیں اسٹڈی میں کچھ کام ہے ہم صبح ناشتے پر ملیں گے آپ سے۔‘‘ وہ کہہ کر مڑے تھے اور کمرے سے نکل گئے تھے۔
’’کیا جلال کو واقعی حاکم خاتون سے اس درجہ محبت تھی۔‘‘ فتح النساء کے ذہن میں وہ واقعہ گھوما تھا جب وہ سو رہے تھے وہ انہیں جگانے گئی تھیں اور وہ حاکم خاتون کا نام پکار رہے تھے ان کو پل میں سب خسارہ لگا تھا آنکھیں بھیگنے لگی تھیں مگر انہوں نے کسی سے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔
’’نواب صاحب ہم نے تیرہ شعبان کی تاریخ نکالی ہے کیا مناسب نہ ہوگا اب بنا کسی حیل حجت کے آپ ہاں کردیں۔‘‘ مرزا صاحب نے کہا تھا اور نواب صاحب سوچنے لگے تھے۔
’’چلیے جیسا آپ کو مناسب لگے بیٹے کی ذمہ داری سے تو نمٹ ہی چکے ہیں سوچتے ہیں بیٹی کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہو جائیں ہم۔‘‘ نواب صاحب نے کہا تھا۔
’’ارے جناب تو پھر نیک کام میں دیر کیسی، ایسا نیک خیال ہو تو پھر عمل پیدا ہونے میں دیر نہیں ہونا چاہیے ہم حیدر میاں کو ایک نیا تجارت کا کاروبار سونپ رہے ہیں، موصوف خاصے ذمہ دار ہوچکے ہیں بچہ جب اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے تو پھر کوئی پریشانی نہیں رہتی یقینا حیدر میاں اب زندگی کی سمجھ بوجھ پہلے سے زیادہ رکھتے ہیں۔‘‘ مرزا صاحب نے بیٹے کو سراہا تھا نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’ایک بار گھر میں بات کرلیں بیگم سے بات کرنا مشورہ لینا بھی اہم ہے۔‘‘ نواب صاحب نے ازرا مذاق کہا تھا مرزا صاحب ہنسے تھے۔
’’ارے نواب صاحب جانے دیجیے آپ جیسا اثر و رسوخ رکھنے والا انسان اب عورتوں سے مشورے لے کر چلے گا۔‘‘ مرزا صاحب نے جیسے ان کے لیے عام دروازے بند کرنے چاہے تھے مگر وہ سہولت سے مسکرا دیے تھے۔
’’ایسی بات نہیں جناب آپ کی بھابی عقلمندی میں ثانی نہیں رکھتیں اور یوں بھی وہ گھریلو امور میں سربراہ کی حیثیت رکھتی ہیں دل سے مشورے کے ساتھ ان سے مشورہ بھی ضروری ہے۔‘‘ نواب صاحب نے ٹالا تھا۔
’’چلیے صاحب جیسا آپ کو مناسب لگے ہم نے تو آپ کے کان میں ڈال دی اب آپ جو مناسب جانیں۔‘‘ مرزا صاحب نے گھیرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام ہو کر سرد آہ بھری تھی۔
’’اتنا اعتبار کیسے کرسکتے ہیں آپ ان پر جانتے نہیں آپ ان کو۔‘‘ ابا جان ہمیں یہ عجلت پسندی لگتی ہے مرزا چاچا گھاگ ہیں وہ جال بچھا کر آپ کو پھانسنا چاہتے ہیں آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘ جلال نے کہا تھا مگر نواب صاحب مسکرائے تھے۔
’’ایسا نہیں جلال غلطی انسان سے ہوتی ہے مگر جب کوئی شرمندہ ہو تو پھر لکیر پیٹنا مناسب نہیں۔‘‘ نواب صاحب نے سمجھایا تھا مگر جلال نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’آپ بہتر جانتے ہیں ابا جان آپ یقیناً ہم سے زیادہ فہم و فراست رکھتے ہیں مگر…!‘‘ جلال کچھ کہتے کہتے رک گئے تھے نواب صاحب نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’ہمیں نہیں لگتا مرزا صاحب کے ساتھ رشتے داری رکھ کر کوئی نقصان ہوگا جو ہوا اسے بھول کر رشتے کو آگے بڑھانا ہی عقلمندی ہوگی اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘ وہ بردباری سے بولے۔
جلال نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا تبھی نواب صاحب حتمی انداز میں بولے تھے۔
تاہم نکاح کی تاریخ طے کرنے جا رہے ہیں اب آگے جو ہو سو ہو، اللہ کی رضا اہم ہے۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولے تھے اور جلال دیکھ کر رہ گیا تھا۔
’’مبارک ہو میری گڑیا سی بیٹی دلہن بنے گی، ابھی کل کی ہی بات لگتی ہے جب وہ محل میں یہاں سے وہاں بھاگا کرتی تھیں عین میری پیاری بچی بیٹیاں کتنی جلد بڑی ہوجاتی ہیں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔‘‘ اماں جان نے عین کے سر پر سرخ آنچل ڈالتے ہوئے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا اور اس کی بلائیں لی تھیں عین حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔
’’اماں جان یہ کب ہوا اور۔‘‘ اماں نے مسکراتے ہوئے ان کے منہ ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’فکروں میں گھلنے کی ضرورت آپ کو نہیں آپ خوش رہیں چہرے پر تازگی تبھی تو آئے گی آج سے دو ملازمائیں۔‘‘ آپ کے ہمراہ رہیں گی اور آپ کا خاص خیال رکھیں گی۔‘‘ اماں جان نے کہا تھا عین نے جواباً کچھ نہیں کہا تھا اور چلتی ہوئی باہر نکل گئی تھیں۔
شرما گئی ہیں۔‘‘ اماں نے دادی جان کو دیکھتے ہوئے کہا تھا دادی جان نے سر ہلایا تھا۔
’’میں نے بٹیا کا جوڑا بننے کو دے دیا ہے خالص سونے کے تار کا کام ہے اور کئی قیمتی جواہرات ان کے جوڑے میں ٹانکے جائیں گے آخر کو نواب خاندان کی اکلوتی بیٹی کا نکاح ہے لگنا تو چاہیے کہ نواب خاندان کی بیٹی ہیں۔‘‘ اماں نے کہا تو دادی جان نے ناگواری سے دیکھا تھا
’’یہ کیا بہو بیگم ارے سادگی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ما شاء اللہ ہماری عین بیٹی پڑھی لکھی اور با شعور ہے والدین کی طرف سے اس سے بڑا تحفہ کوئی نہیں ہوسکتا اس دور میں جب بیٹیوں کو پڑھایا بھی مشکل سے جاتا ہو اس میں عین بیٹی کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کی گئی ہے کہتے ہیں بیٹی کا بہترین زیور اس کی پرورش ہے ہم نے نواب زادی کی عمدہ پرورش کر کے اپنا فرض احسن طریقے سے پورا کردیا ہے باقی بیٹیوں کے جیتے تو کبھی ہاتھ رکتا نہیں عمر بھر دینا چلتا رہتا ہے۔‘‘ دادی اماں نے سمجھایا تھا دادی اماں کے کہنے پر اماں جان قریب بیٹھ گئی تھیں۔
’’ہاں آپ ٹھیک کہتی ہیں اماں جان بیٹی کو تو ساری عمر ہی دینا ہوتا ہے مگر ہم اپنے دل کی حسرت نکالنا چاہتے ہیں اکلوتی بیٹی ہے ہماری خیر سے بہو بیگم بھی گھر گئی ہیں یہاں تو خوشی دیدنی ہے۔‘‘ اماں جان نے وضاحت دی تھی۔
’’چلیے جیسے آپ کی مرضی بہو بیگم مگر بیٹی اور بہو میں کوئی تفریق مت کیجیے گا ہمیشہ ایک جیسا سلوک روا رکھیے گا جہاں لباس بیٹی کے لیے بنوا رہی ہیں ویسا ہی لباس بہو بیگم کے لیے بھی بنوا لیں وہ اس گھر کو آباد کرنے آئی ہیں اس خاندان کی اصل بیٹی تو وہی ہیں۔‘‘ دادی اماں نے کہا تھا اور اماں جان نے سر ہلایا تھا۔
’’اماں جان تفریق کیسی بہو بھی تو بیٹی ہوتی ہے ہم نے تو پہلے ہی یہ بات فتح النساء کو باور کرا دی ہے ہمیں جو عزت و مرتبہ اس خاندان میں آکر ملا اسی روایت آگے برقرار رکھیں گے ہم نے جتا دیا ہے ان کو دہلیز میں پائوں رکھیں تو خود کو اس گھر کی بیٹی تصور کریں یہاں بہوئوں کا کوئی نظریہ موجود نہیں ہے۔‘‘ اماں مسکرائی تھیں دادی اماں نے سر ہلا دیا تھا۔
فتح النساء پریشانی سے یہاں سے وہاں ٹہلتی رہی تھیں سکون جیسے رخصت ہوگیا تھا حیدر میاں جس طرح گھر میں آکر دھمکا کر گئے تھے ان کے ارادے خطرناک لگتے تھے مگر وہ سوچ سوچ کر تھکنے لگی تھیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طور یہ بات جلال کو بتائی جائے وہ پہلے ہی اکھڑے ہوئے سے تھے ان کا مزاج وہ سمجھتی تھیں جس طرح اس گھر میں لا کر وہ ان کو بھول گئے تھے وہ ان سے کوئی خاص امید نہیں رکھتی تھیں وہ یقینا اس بات سے چڑ جاتے شک کا بیج ان کے دل میں شاید اور گہرا ہوجاتا مگر وہ یہ سوچ کر اور بھی پریشان ہو رہی تھیں اگر وہ آگاہ نہ کرسکیں اور اس دوران حیدر میاں نے کوئی چال چل دی تو پھر اور اب تو یوں بھی ان سے سامنا رہنا تھا گھر میں نکاح کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں تاریخ کیا ٹھہری تھی گھر میں ہلچل سی مچ گئی تھی وہ زیادہ تر کمرے میں بند رہنے لگی تھیں، وہ حیدر میاں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھیں یہ تو طے تھا کہ وہ مزید سازشوں کے جال بن رہے تھے اور وہ ان کو ایسا کرنے سے باز نہیں رکھ سکی تھی بہتر یہی تھا کہ جلال کو اعتماد میں لیا جاتا مگر اس ضمن میں کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا۔
’’کیا ہوا بیٹی ایسے پریشان کیوں ہیں آپ بوا کی یاد آرہی ہے؟‘‘ دادی اماں نے ان کو غیر موجود پا کر کمرے میں قدم رکھا تھا اور وہ سٹپٹا کر رہ گئی تھیں۔
’’نہیں دادی جان ایسی بات نہیں۔‘‘ وہ کوئی معقول جواز نہیں ڈھونڈ سکی تھیں دادی جان نے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور شفقت سے بولی تھیں۔
’’اس قدر چہرہ ہونق کیوں ہے کیا چھوٹے نواب سے کوئی معاملہ درپیش ہے کوئی شکایت ہو تو ہم سے کہیے دو کانوں میں سر کردیں گے ان کی اتنی مجال جو ہماری بہو بیگم کو پریشان کریں یا ان کا دل دکھائیں۔‘‘ دادی اماں نے کہا تھا فتح النساء نے سر نفی میں ہلایا تھا اور مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’ایسا کوئی معاملہ درپیش نہیں دادی اماں ہم اداس یا پریشان نہیں دراصل گھر میں عین کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور ہم سوچ رہے تھے کہ کیسے اماں جان کا ہاتھ بٹائیں۔‘‘ فتح النساء نے بہانہ گھڑا تھا۔
’’ارے بیٹا اس میں پریشانی والی کیا بات ہے آپ تو عین کی اچھی سہیلی ہیں آپ ان معاملات میں بنا ہچکچاہٹ حصہ لیں ہم تو آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں بس اس گھر کو اپنا ہی گھر جانیے اب شادی کے بعد لڑکی کا اصل گھر ان کا سسرال ہی ہوتا ہے رہی بات آپ کی بوا کی تو ہم کسی کو بھیج کر ان کو بھی یہیں بلوا لیتے ہیں وہ وہاں کہاں اکیلی پڑی رہیں گی۔ یہاں ہونگی تو ان کا دل بہلا رہے گا۔‘‘ دادی اماں نے معقول حل نکالا تھا۔
’’شکریہ دادی جان۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا وہ ان کی بلائیں لیتی ہوئی باہر نکل گئی تھیں فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’کچھ کہنا چاہتی ہیں آپ۔‘‘ تیمور نے ان کو ٹہلتا دیکھ کر پوچھا تھا عین رکی تھیں ان کی طرف دیکھا تھا اور پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے نگاہ پھیر لی تھی۔
’’آپ کے نکاح کی تاریخ ٹھہر گئی خوش نہیں آپ۔‘‘ تیمور نے پوچھا تھا مگر عین نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تیمور ان کی طرف بغور دیکھنے لگا تھا۔
’’ہم خوش ہیں آپ کے لیے آپ کے خواب تعبیر پانے جا رہے ہیں اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی؟‘‘ تیمور نے کہا تھا وہ ان کی طرف دیکھ نہیں سکی تھیں کچھ دیر تک خاموش رہی تھی تب وہ بولی تھی۔
’’آپ سے کس نے کہا کہ ہماری خواہش یہ تھی۔‘‘ عین نے پوچھا تھا تیمور فوری طور پر کوئی جواب نہیں دے سکا تھا۔
’’خواہش دل کے اندر پرندوں کی طرح رہتی ہے ان پرندوں کی سوچ کی خبر ہر ایک کو ہونا ضروری نہیں ہوتی۔‘‘ عین سر جھکا کر بولی تھیں۔
’’آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔‘‘ تیمور نے جاننا چاہا تھا مگر عین نے ان کی طرف دیکھے بنا سر انکار میں ہلا دیا تھا اور چلتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی تھیں تیمور ان کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
’’ممی ہم یہ رشتہ استوار کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور بیگم حکمت چونکتے ہوئے دیکھنے لگی تھیں۔‘‘
’’اس کا کیا مطلب ہے تیمور کیا چاہتے ہوتم عین کی شادی ہو رہی ہے وہ بیاہ کر اپنے گھر جانے کو ہیں ان کی محبت کو گلے میں طوق کی طرح سجا کر رکھیں گے آپ کیا چاہتے ہیں جوگ لینے کا ارادہ کرلیا ہے؟‘‘ بیگم حکمت غصے میں بولی تھیں تیمور ان کی طرف دیکھ کر رہ گئے تھے پھر سر جھکا کر بولے تھے۔
’’ہم فی الحال آپ کی خواہش کو پورا نہیں کرسکتے معذرت خواہ ہیں اس معاملے کو کبھی بعد کے لیے اٹھا رکھیں۔‘‘ وہ کہہ کر باہر نکل گئے تھے۔
شادی کے گھر میں جس قدر گہما گہمی ہوسکتی ہے وہ دکھائی دے رہی تھی مگر عین بہت الجھی الجھی سی تھیں فتح النساء کھوئے سے انداز میں کمرے میں داخل ہوئی تو ان کو دیکھ کر چونک پڑیں۔
’’کیا ہوا، یہ کیسے بیٹھی ہیں آپ آپ کی رسم حنا ہے آج آپ ایسے اداس کیوں بیٹھی ہیں عین۔‘‘ مگر عین نے کوئی جواب نہیں دیا تھا فتح النساء ان کو سمجھانے لگی تھیں تبھی ملازمہ اندر داخل ہوئی تھیں۔
’’بہو بیگم چھوٹے نواب نے آپ کو یاد فرمایا ہے۔‘‘ اطلاع ملنے پر فتح النساء چونکی تھیں اور عین نے سر پر آنچل ڈال کر آگے بڑھ گئی تھیں۔ کمرے میں آکر دیکھا تھا جلال منتظر تھے۔
’’جی آپ نے یاد کیا تھا۔‘‘ فتح النساء نے مدعا پوچھا تھا۔
جلال نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا۔
’’اماں جان نے کہا آپ کو ہدایت کردو کہ آپ کو اس تقریب میں بہت اچھے سے تیار ہونا ہے لوگوں کو یہ نہ لگے کہ بیٹی کی شادی میں نئی نویلی بہو کو جت کر رکھ دیا۔ سو ان کی خواہشوں کا احترام کیجیے۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور عین نے سر ہلایا تھا عجیب کھویا کھویا سا انداز تھا جلال ان کو دیکھنے لگے تھے۔
’’کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے آپ کی۔‘‘ جلال نے دریافت کیا تھا فتح النساء نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا اور پلٹ کر باہر نکلنے کو تمہیں جب یکدم جلال نے ہاتھ گرفت میں لیا تھا وہ چونک کر دیکھنے لگی تھیں مگر وہ نگاہیں پر سکوت تھیں ان میں کچھ نہیں تھا نہ کوئی اشتیاق نہ کوئی خواہش اور فتح النساء کا دل بجھنے لگا تھا۔
کیوں شامل کیا ہمیں زندگی میں۔ اگر ہماری کوئی خواہش آپ کے دل میں تھی ہی نہیں یہ سفر اختیار ہی کیوں کیا اس رشتے کا کیا فائدہ جس میں آپ تنہا ہیں اور ہم تنہا اس تنہائی نے کیا دیا آپ کو۔‘‘ فتح النساء بھیگتی آنکھوں سے پوچھنے لگی تھی اور تبھی وہ بولا تھا۔
’’اور آپ کو کیا ملا کس شے کی تمنا تھی کیا چاہ تھی آپ کہہ دیتیں ہم سب رکوا دیتے۔‘‘ جلال کا لہجہ الزام دیتا تھا فتح النساء کی آنکھیں بھیگتی رہی تھیں۔
’’ہم میں جو رشتہ ہے اس کی بنیاد ہے کہ نہیں ہم نہیں جانتے مگر ہم اتنا جانتے ہیں کہ اس رشتے میں اعتبار کی کوئی ایک اینٹ بھی نہیں۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا اور وہ بجھے سے انداز میں مسکرا دیے تھے۔
’’ایسے رشتے اعتبار نہیں رکھتے فتح النساء جہاں دھیان او رنظر کہیں اور ٹکی رہے۔‘‘ وہ وار کرتے ہوئے بولے تھے فتح ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔
’’اللہ گواہ ہے ہم نے آپ کے ساتھ کبھی کوئی بے وفائی نہیں کی۔‘‘ اور جلال نے بجائے یقین کرنے کے گردن نفی میں ہلائی تھی۔
’’وفا کی بات نہیں ہو رہی وفا پر الزام نہیں لگایا یہ معاملہ الگ ہے فتح النساء آپ و ہ بات سوچتی بھی نہیں جو دل میں ہے اور جو سوچتی ہیں اس کا سوچوں سے کوئی واسطہ نہیں بنتا۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولا تھا۔ اور فتح کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔
’’آپ کو اعتبار نہیں۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولا تھا اور فتح کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔
’’آپ کو اعتبار نہیں۔‘‘ وہ شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’ہاں نہیں۔‘‘ وہ بنا کوئی لگی لپٹی رکھے بولا تھا۔
’’کیوں؟‘‘ وہ تڑپ کر رہ گئی تھی۔
’’اس کی وضاحت آپ کو خود سے مانگنا چاہیے فتح النساء مجھ سے نہیں۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولا تھا فتح کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے تھے۔
’’کیا وجہ ہے ہم آپ کو قابل اعتبار کیوں نہیں لگتے۔‘‘
’’وجہ آپ کو خود سے دریافت کرنا چاہیے فتح النساء آپ اب بھی حیدر میاں سے رابطے میں میں اس کی وجہ تو فقط آپ ہی جان سکتی ہیں۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور وہ دنگ سی اسے دیکھنے لگی تھی۔ یعنی وہ اس حقیقت سے بھی واقف تھا کہ حیدر میاں اس سے ملنے آیا تھا وہ کیوں بھول گئی تھیں کہ وہ کتنے اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ بات ان سے ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی؟ وہ جو اپنی صفائی دینے کے متعلق اور حیدر کی دھمکی کے متعلق بتانے کا سوچتی رہی تھی اس لمحے عجیب کیفیت میں جلال کو دیکھ رہی تھیں گویا انہوں نے جلال سے اس بابت بات نہ کر کے غلط کیا تھا گویا اس معاملے تو خود اپنے خلاف کرلیا تھا اگر وہ اعتماد میں لے کر بتا دیتی کہ حیدر ملنے آیا تھا اور اس نے ایسی دھمکی بھی دی تھی تو شاید جلال کی نظر میں ان کا کوئی مان باقی رہتا مگر ان کے نا بتانے پر معاملہ الٹ ہوگیا تھا۔
’’آپ نے اس معاملے کو چھپایا نا صرف چھپایا آپ نے یہ بھی نظر انداز کردیا کہ وہ آپ کی سہیلی کے ہونے والے خاوند ہیں اور نواب خاندان کے داماد ہیں جس خاندان کی بہو آپ ہیں ان کا رشتہ بھی اسی خاندان سے جڑا ہے اور وہ آپ کی سہیلی کا سہاگ ہیں وہ سہیلی جو آپ پر جان چھڑکتی ہیں اور انہی کا گھر برباد کرنے چلی ہیں اسے کہتے ہیں جس برتن میں کھانا اسی میں چھید کرنا۔‘‘ وہ تلخ کڑوے لہجے میں بولے تھے اور بھیگتی آنکھوں سے ان کو دیکھتی رہ گئی تھیں۔
نگاہ یار من
ایسی مستی طاری کی
ہم بھول گئے جفا کے معنی
ہائے یاد آگئی تیری وفا
وہ ان کے چہرے کو چھوتے ہوئے مسکرائے تھے عجب ایک طنز تھا عجیب ایک کاٹ تھی انداز میں فتح النساء ایک لفظ بھول نہ پائی تھیں۔
’’آپ سے وفا کی امید عبث تھی فتح النساء مگر ہم نے اعتبار کیا اور اس رشتے کو آگے بڑھایا ہمیں لگتا تھا آپ وفادار مگر حسن کو وفا کے معنی معلوم نہیں ہوتے یہ بات بھول گئے تھے بھول گئے تھے ہم کہ حسن کے تیمور جدا ہیں عشق کی وفائیں بڑھتی ہیں تو حسن مزید بے خبر ہونے لگتا ہے عشق سلگتا ہے تڑپتا ہے تو حسن کے سر مزید غرور سمانے لگتا ہے عشق پیچھے آتا ہے تو حسن پر سمیٹ کر سمت بدل لیتا ہے ریت پرانی ہے فتح النساء ہم نے کیا گنوایا ہے اس کا ادراک آپ کو نہیں ہوگا۔‘‘ جلال الدین پٹوڈی نے کہا تھا اور ان کو عجیب الزام دیتی نظروں سے دیکھتا چلتا ہوا باہر نکل گیا تھا فتح النساء بھیگتی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
’’آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا تیمور، کیا طریقہ ہے یہ؟‘‘ بیگم حکمت نے ڈانٹا تھا مگر تیمور نے سر جھکائے رکھا تھا کوئی جواب نہیں دیا تھا تب بیگم حکمت نے تیمور کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور شفقت بھرے لہجے میں بولی تھیں۔
’’ہم ماں ہیں آپ کی آپ کو اس طرح نہیں دیکھ سکتے ہم جانتے ہیں آپ کے دل پر کیا گزر رہی ہے مگر ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے کوئی معجزہ ہی اب آپ کو عین سے ملا سکتا ہے۔‘‘ وہ دل گرفتگی سے گویا ہوئی تھیں تیمور ان کو دیکھنے لگا تھا۔
’’ممی ہم خوش بخت سے کوئی رشتہ استوار نہیں کرسکتے ہم مخلص نہیں رہ سکیں گے جب تک ہم ایک تعلق کے لیے خود کو تیار نہیں پاتے ہم کوئی رشتہ بنانا نہیں چاہیں گے آپ پلیز کسی طرح کی ضد مت کیجیے گا۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا بیگم حکمت کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔
’’ہمارے اختیار میں ہوتا تو ہم کیا آپ کی خواہش رد کرتے ہمارے اکلوتے بیٹے ہیں آپ، آپ کی خواہش کو کیسے ٹال سکتے ہیں آپ کی خوشی میں ہی ہم والدین کی خوشی ہے آپ اگر چاند بھی مانگتے تو ہم آپ کی جھولی میں ڈال دیتے مگر آپ نے مانگا بھی کیا جو ہم آپ کو نہیں دے سکتے۔‘‘ بیگم حکمت بھیگتی آنکھوں سے بولی تھیں۔ تیمور کو ماں کے آنسو اچھے نہیں لگے تھے تبھی اس نے ہاتھ بڑھا کر ان کی آنکھوں کو پونچھا تھا اور نرمی سے گویا ہوا تھا۔
’’ممی پلیز آپ ان باتوں کو اتنا دل پر مت لیجیے دل ہی تو ہے سنبھل جائے گا پھر آپ جیسا کہیں گی ہم ویسا کریں گے آپ کی حکم عدولی نہیں کرنا چاہتے مگر فی الحال ہم کسی بھی رشتے کے لیے خود کو تیار نہیں پاتے۔‘‘ وہ سمجھاتے ہوئے بولا تھا۔
’’ہمیں رشتے کی پروا نہیں تیمور ہمارے بیٹے کا دل درد سے گھرا ہے ہمیں آپ کی فکر ہے ہم آپ پر دبائو ڈالنا بھی نہیں چاہتے ہم اپنے بیٹے کا دکھ سمجھتے ہیں بیٹا قسمت کا لکھا کوئی نہیں بدل سکتا اگر عین آپ کے نصیب میں درج ہیں تو کسی نا کسی طرح وہ آپ سے آن ملے گی ہم کوئی خوامخواہ کی امید آپ کو دلانا نہیں چاہتے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ اس درجہ بے وقوف نہیں آپ اتنی سمجھ بوجھ تو رکھتے ہیں سو آپ خود کو سنبھالنے کی کوشش کریں عین آپ کو اپنا بہترین دوست مانتی ہیں ان کی خوشی میں آپ کا اداس ہونا مناسب نہیں ان کی خوشیوں کے لیے دعا کریں اللہ ان کو آباد رکھے اگر یہی لکھا ہے تو یہی سہی۔‘‘ بیگم حکمت نے سمجھایا تھا تیمور نے سمجھ داری سے سر ہلایا تھا۔
’’ہم معاملات کو سمجھتے ہیں ممی آپ پریشان نہ ہوں ہم عین کی خوشی میں شریک ضرور ہوں گے اتنے بے ہمت نہیں ہیں ہم کہ اپنا درد ان پر آشکارا کردیں درد دل میں رہنے کے لیے ہے بھید کھولنے کے لیے نہیں ہمیں ان سے کسی طرح کی کوئی مدارات نہیں چاہیے وہ بس خوش رہیں ان کی خوشی ہی ہماری خوشی ہے دل میں بس ایک چبھن ہے اور کچھ نہیں ایک ہلکا سا درد ہے اور ملال بھی مگر اس کا شکوہ کس اور سے کرنا جائز نہیں۔‘‘ وہ بردباری سے گویا ہوئے تھے اور بیگم حکمت نے ان کا سر چوم لیا تھا۔
’’میرے بچے سلامت رہ اللہ تیری ساری مرادیں پوری کرے۔‘‘ انہوں نے دل سے دعا دی تھی۔
’’کیا ہوا عین آپ اس طرح الجھی ہوئی کیوں ہیں سب خیریت ہے؟‘‘ جلال نے پوچھا تھا عین نے کوئی جواب نہیں دیا تھا سر جھکائے بیٹھی رہی تھی جلال نے ان کے ہاتھ میں بنے مہندی کے نقش و نگار کو بغور دیکھا تھا۔
’’عین آپ ہماری ہمشیرہ ہیں اور ہم ہمیشہ آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ہم اس عمل کی مخالفت کریں گے جو آپ کی راہ میں رکاوٹ بنے گا جو آپ کی خوشیوں کو روکے گا اگر ہمیں زندگی سے لڑ کر بھی آپ کی خوشیوں کا رخ آپ کی طرف موڑنا پڑا تو بخدا ہم ایسا کر گزریں گے ہم ہمیشہ اپنی بہن کی حمایت میں کھڑے ہوں گے یہ ہمارا وعدہ ہے ہمارے ہوتے ہوئے کوئی آپ کی طرف اور آپ کی خوشیوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈال سکے گا۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں گویا تھے میں نے نگاہ اٹھا کر ان کو دیکھا تھا اور بھائی کے شانے پر سر رکھ دیا تھا ان کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں جلال ان کے اس عمل پر ساکت رہ گیا تھا۔
’’آپ خوش نہیں ہیں عین۔‘‘ انہوں نے پوچھا تھا مگر عین نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
’’آپ ہم سے زیادہ دور نہیں جا رہی عین ہم آپ سے ملنے آتے رہیں گے اس میں رونے کی کیا بات ہے اب آپ چھوٹی سی اسکول جاتی عین نہیں ہیں جو ذرا ذرا سی بات پر رو پڑتی تھیں اب آپ بہت بہادر اور سمجھدار سی عین ہیں اور آپ کا بھائی کا سایہ بن کر آپ کے ہمراہ رہے گا کوئی پریشانی ہو آپ ہمیں بتائیے گا ہم آپ کے لیے کھڑے ہونے والے پہلے انسان ہوں گے۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولا تھا بہن کے آنسو پونچھتے ہوئے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔
’’وعدہ کریں آپ زندگی میں آج کے بعد کبھی نہیں روئیں گی اگر آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے یا کوئی آپ کی آنکھوں میں آنسو لانے کا سبب بنا تو ہم اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘‘ جلال نے ترچھی نگاہ سے قریب کھڑی فتح النساء کو دیکھا تھا۔
’’ہم اس انسان کی زندگی جہنم بنا دیں گے جو آپ کی خوشیوں کی سمت نگاہ کرے گا۔‘‘ وہ جیسے کھلی دھمکی دے رہے تھے فتح النساء ان کو سنا رہی تھی سو نگاہ پھیر کر باہر نکل گئی تھیں جلال نے فتح النساء کو جاتے دیکھا تھا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
تیمور مہندی کی تقریب میں شرکت کرنے کی غرض سے آ تو گئے تھے مگر دل بہت بوجھل تھا وہ عین کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے مگر یکدم فتح النساء ان سے آن ٹکرائی تھیں اور انہوں نے اسے سنبھالا تھا۔
’’کیا ہوا فتح النساء آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں خیریت ہے نئی نویلی دلہن کا چہرہ ایسا اترا ہوا؟‘‘ تیمور نے جانچنے کی کوشش کی تھی فتح النساء نے نگاہ بچا کر اپنے آنسو پونچھے تھے اور سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’معاملہ کیا ہے؟‘‘ تیمور نے بھانپ کر پوچھا تھا مگر فتح نے کوئی جواب دیے بنا قدم آگے بڑھا دیے تھے تیمور ان کی سمت کسی قدر حیرت سے دیکھنے لگا تھا پھر نگاہ سامنے سے آتے حیدر میاں پر کی تھی ان کو دیکھ کر جو خوف فتح کے چہرے پر دکھائی دیا تھا وہ تیمور نے بغور جانچا تھا جانے قریب سے گزرنے پر حیدر میاں نے کیا کہا تھا کہ فتح النساء کے چہرے کا خوف مزید بڑھ گیا تھا مرزا حیدر مسکرائے تھے اور دائیں بائیں نگاہ کرتے مسکراتے ہوئے آگے ہو لیے تھے تیمور نے ان کے تیور صاف دیکھے تھے سو وہ کسی قدر متفکر ہوگئے تھے۔
مہندی کی رسم کا آغاز ہوچکا تھا سکھیاں ڈھولک کی تھاپ پر سہاگ کے گیت گارہی تھیں قہقہوں اور ہنسی کے ساتھ خوشیوں کا ماحول سماں باندھ رہا تھا فتح النساء دادی اماں کے کہنے پر اوپر والی منزل سے مٹھائی کا ٹوکرا لینے آئی تھیں۔ جب اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ محسوس کر کے وہ رک گئی تھیں پلٹ کر دیکھا تھا جب حیدر میاں کو دیکھ کر ان کی سانس رک گئی تھی حیدر میاں مسکرائے تھے اور قدم ان کی طرف بڑھانے لگے تھے اور فتح النساء کے دل کی دھڑکیں جیسے بند ہونے لگی تھیں۔
تیمور جانے کیا سوچ کر اوپر آیا تھا جب شور سن کر اوپر کی منزل کے اس کمرے میں قدم رکھا تھا اور حیدر میاں کے ساتھ دیکھ کر وہ سرعت سے آگے بڑھا تھا یہ بھول کر کہ وہ کون ہیں اس نے ان کو دو مکے جڑے تھے حیدر میاں کے جبڑے سے خون رسنے لگا تھا اور وہ چکرا کر وہیں گر گئے تھے تیمور نے فتح النساء کا زمین پر گرا آنچل اٹھا کر ان کے شانوں پر ڈالا تھا اور مڑے تھے جب جلال وہاں کھڑا دکھائی دیا تھا۔
’’یہ محترمہ ہم پر نظر رکھتی تھیں جو ہوا ان کی منشا سے ہوا انہوں نے ہمیں اوپر والی منزل پر بلایا تھا ہم وہاں انہی کی ایما پر گئے تھے ہم جھوٹ نہیں کہہ رہے ہمیں کہتے ہوئے شرم آتی ہے ہم نے ان کو انکار بھی کیا تھا کہ آپ نواب خاندان کی عزت ہیں ہم آپ کا احترام کرتے ہیں مگر ان کو کچھ سمجھ نہیں آیا سو ہم بھی فرشتہ تو نہیں ہم نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔‘‘ حیدر میاں نے جلال کے سامنے کہنے میں کوئی حیل و حجت نہیں جانی تھی اور تیمور ان کے سفید جھوٹ پر دہاڑے تھے۔
’’جلال ان کا یقین مت کیجیے گا یہ درست نہیں کہہ رہے فتح النساء پاک دامن ہیں انہوں نے انہیں نہیں بلایا تھا ان کو دیکھ کر فتح النساء کے چہرے پر جو خوف دکھائی دیا تھا اسی کو دیکھ کر ہم ان کے پیچھے گئے تھے اور تبھی ان کے ارادوں کا انکشاف ہوا اور ہم نے فتح النساء کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی آپ ان کا اعتبار مت کیجیے گا یہ ٹھیک انسان نہیں ہم ان کو جانتے ہیں۔‘‘ تیمور نے کہا تھا مگرجلال نے ہاتھ اٹھا کر تیمور کو چپ کرا دیا تھا۔ اور فتح کی سمت دیکھا تھا اور زہر خند لہجے میں بولا تھا۔
’’آپ ایسی بد چلن اور بد کردار ہوں گی یہ بات ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کی تھی آپ نے ہماری بہن کی خوشیوں پر ڈاکہ ڈالا ہے ہم آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے برائے کرم اپنی اس درجہ بے شرمی کے ساتھ اس محل سے تشریف لے جائیں ورنہ ہم کچھ کر گزریں گے۔‘‘ جلال کا لہجہ اشتعال سے بھرا تھا فتح النساء ششدر سی ان کی سمت تکتی چلتی ہوئی خاموشی سے محل سے نکلتی چلی گئی تھیں تیمور نے جلال کی طرف حیرت سے دیکھا تھا۔
’’جلال یہ کیا کیا آپ نے آپ نے فتح النساء کا یقین نہیں کیا وہ آپ کی زوجہ ہیں وہ آپ سے بے وفائی کرسکتی ہیں آپ نے سوچا بھی کیسے؟‘‘ تیمور نے جلال کو سمجھانا چاہا تھا مگر جلال نے ہاتھ اٹھا کر ان کو چپ کرا دیا تھا۔
’’تیمور آپ ہمارے دوست ہیں اور محل کے اہم فیصلوں میں ہمیشہ شامل رہے ہیں مگر اس بار ہم آپ کی مداخلت نہیں چاہتے ہمارے نجی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت پر ہم اگر آپ کو روک دیں تو برائے کرم اسے منفی نظر سے مت دیکھیے گا۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور پلٹ کر چلتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا تیمور اسے دیکھ کر رہ گیا تھا جلال کے جاتے ہی حیدر میاں کھلکھلا کر ہنسا تھا۔
’’راجا اور رانی کی کہانی ختم ہوگئی راجا اندھا نکلا اور رانی کانی بس آپ یہی کہانی دنیا کو ازبر رہے گی اور یہی بات راجہ کے سینے میں پھنسی رہے گی کہ ان کی رانی نے وفا نہیں کی چچ چچ آپ اچھے دوست ہو کر بھی جلال کو قائل نہ کرسکے اور ہم بازی مار گئے سچ وہی ہے جو ہم نے کہا سو آپ بھی زبانی یاد کرلیں رانی بد چلن ہیں انہوں نے خود ہمیں دعوت دی۔‘‘ یہ بات سن کر تیمور آپے سے باہر ہوگیا تھا اور ان پر لاتوں گھونسوں کی بارش کردی تھی مگر وہ دیوانہ وار ہنستے چلے گئے تھے۔
شادی والے گھر میں یکدم خاموشی چھا گئی تھی شادی ملتوی کردی گئی تھی ہر کوئی ایک دوسرے سے نگاہ چرا رہا تھا کسی میں اس معاملے پر بات کرنے کی جیسے ہمت ہی نہیں تھی ہر کوئی اپنی جگہ جیسے چور تھا تیمور نے نواب خاندان کے اندرونی اور نجی معاملات میں مداخلت نہیں کی تھی اور دوبارہ وہاں پلٹ کر نہیں دیکھا تھا جلال پچھتاوا محسوس کر رہے تھے کہ نہیں اس بارے میں ان کو خبر نہیں تھی مگر وہ مرزا حیدر سراج الدولہ کی سازش پر حیران رہ گئے تھے۔
’’مرزا سراج الدولہ نے چال چل دی ہمیں یقین تھا وہ ایسے ہی کوئی چال چلیں گے ان کی دشمنی کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی مگر نواب صاحب معصوم ہیں ان کی عقل میں یہ بات نہیں آتی اور جلال الدین بھی عقل کے اندھے نکلے جس لمحے ان کو زوجہ پر اعتماد کرنا چاہیے تھا اس لمحے وہ ان کی طرف انگلی اٹھانے والے پہلے انسان تھے۔‘‘ حکمت صاحب تاسف سے بولے تھے بیگم حکمت نے افسوس سے سر ہلایا تھا۔
’’اچھا نہیں ہوا ہر کوئی ششدر تھا شادی والے گھر میں سناٹا چھا گیا تھا ہمیں یقین نہیں اگر فتح النساء نے ایسا کیا ہوا وہ تو بہت سلجھے ہوئے مزاج کی لڑکی ہیں نواب صاحب نے پرورش کی ہے ان کی ایسا کیسے ممکن ہے عین او وہ اچھی دوست ہیں بھلا فتح النساء اپنی سہیلی کا گھر کیوں اجاڑنا چاہیں گی اور جب کہ ان کو محل میں ایک خاص مقام حاصل ہے وہ جلال کی بیگم ہیں ہر شے پر مکمل اختیار ہے ان کو اور کیا درکار تھا ان کو ہماری عقل نہیں مانتی یہ حیدر میاں کوئی چال چل گئے ہیں۔‘‘ بیگم حکمت نے کہا تھا حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’جلال کی عقل پر یقینا پتھر پڑے ہیں وہ زوجہ کی نہیں سن رہے جس وقت میں ایک شوہر بیوی کے ہمراہ کھڑا ہوا تھا وہ اس لمحے بیوی کو بے اعتبار ٹھہرا کر گھر سے نکال چکے تھے یہ بھی اچھا ہوا کہ نواب صاحب نے شادی رکوا دی اگر شادی ہوجاتی تو جانے عین کی زندگی کس طور گزرتی حیدر جیسے نوجوان کے ہاتھ اپنی بیٹی کی زندگی سونپنا کوئی دانشمندانہ فیصلہ یقینا نہیں تھا بہرحال جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے فی الحال شادی ملتوی ہوئی ہے ہمیں یقین ہے اگر حیدر میاں غلط ثابت ہوتے ہیں تو نواب صاحب اس شادی کو ہونے نہیں دیں گے مگر معاملہ یہ ہے کہ حیدر میاں کو غلط ثابت کون کرے گا یہاں تو گواہوں کی سنی گئی نا مدعی کی بہرحال لوگ جو باتیں کر رہے ہیں اس سے نواب صاحب بھی واقف ہیں عزت پر کافی حرف آیا ہے اب اللہ ہی جانے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔‘‘ حکمت صاحب خاصے متفکر دکھائی دیے تھے تیمور نے انہیں خاموشی سے سنا تھا۔
ہر کوئی اپنی جگہ اسی طور خاموش رہا تھا وقت سرکنے لگا تھا مرزا سراج نے ایک بار پھر رخصتی کی بات کی تھی مگر نواب صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا عین خاصی بجھ سی گئی تھیں جلال ان کے روبرو آکر نظر نہ ملا سکے تھے۔
’’فتح ایسا کیسے کرسکتی ہیں؟ وہ جلال کی محبت میں گرفتار تھیں ان کو جلال کے علاوہ کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا تھا پھر یہ کیا ہوا؟‘‘ وہ اپنی جگہ حیران تھی۔
’’شاید اقتدار کا حصول ان کو جلال کے قریب لایا ہو وہ نواب خاندان کے ٹھاٹھ باٹھ سے شاید متاثر ہو گئی تھیں انہوں نے جلال سے نکاح کرنا چاہا تھا۔‘‘ اماں جان نے کہا تھا مگر عین نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
وہ بار بار سوچ رہی تھیں مگر کسی نتیجے پر پہنچ نہیں پا رہی تھیں مگر وہ حیدر کے متعلق بھی کچھ غلط سوچنا نہیں چاہتی تھیں بہرحال وہ ان کے منگیتر تھے اور وہ ان کا اعتبار کرتی تھیں کہ ان کے سامنے ان کا کردار اس درجہ واضح نہ تھا انہوں نے حیدر کا اصل چہرہ نہیں دیکھا تھا سو وہ اس معاملے میں چپ سادھے ہوئے تھیں۔
’’نواب صاحب جانے دیجیے معاملہ رفع دفع ہوگیا ہوا سو ہوا اس بات کو بھول کر رخصتی کی بات کریں ہم عزت دار لوگ ہیں ہم آپ کی عزت پر حرف آتا نہیں دیکھ سکتے عین بیٹی کے نکاح کی بات ہو گی تو لوگ پچھلا واقعہ بھول جائیں گے یہ کہانی بھی فراموش ہوجائے گی۔‘‘ مرزا سراج الدولہ نے کہا تھا مگر نواب صاحب نے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں دیا تھا۔
’’مرزا صاحب عین آپ کی امانت ہے مگر فی الحال اس معاملے کو رہنے دیجیے ہم اس معاملے پر رمضان کے بعد بات کریں گے فی الحال اس معاملے کو جوں کا توں رہنے دیں۔‘‘ نواب صاحب جیسے خود بہت الجھ کر رہ گئے تھے انہوں نے یہ واقعہ کسی کے توسط سے سنا تھا وہ سمجھ نہیں پائے تھے سچائی ان کو معلوم نہیں تھی مگر وہ جانتے تھے کہ فتح النساء ایسا کچھ نہیں کرسکتیں وہ فتح النساء سے ملنے گئے تھے مگر پھر ملے بنا لوٹ آئے تھے۔
’’ہم نے ان کو بیٹی سمجھا ہے بیٹی جانا ہے ہم ان کے کردار کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے ہم ان کے والد کی جگہ رہے ہیں ان کی پرورش محل میں ہوئی ہے ہم یقین نہیں کر پا رہے جن کو ہم نے بیٹی کا درجہ دیا ہے وہ اس حرکت کی مرتکب کیسے ہوسکتی ہیں۔‘‘ نواب صاحب لہجے میں افسوس اور دکھ تھا وہ ابھی تک بے یقینی کا شکار تھے۔
’’جانے دیجیے نواب صاحب ہم کسی کی قسم نہیں لے سکتے ضروری نہیں فتح النساء کی پرورش ہمارے ہاتھوں ہوتی ہے تو عین کی طرح با کردار بھی ہوں وہ اچھی، سلجھی ہوئی طبیعت کی مالک تھیں مگر اب ہمیں کیا پتا ان کے دل میں کیا تھا انسان کی نیت کا کچھ پتا نہیں تبھی تو وہ چپ چاپ محل سے چل گئیں بے قصور ہوتیں تو اپنے لیے آواز اٹھاتیں عورت ذات پر ایسا ہی برا وقت نہیں آیا کہ اس کی سنی نہ جائے ہمارے خاندان کی بہو تھیں ہم ان کی سنتے ان کی حمایت میں بھی کھڑے ہوتے مگر نواب صاحب جس طور وہ خاموشی سے رخصت ہوئی یہ سب ان کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘ بیگم نے کہا تھا تو نواب صاحب کچھ بولے بنا اٹھ کر وہاں سے رخصت ہوگئے تھے۔
’’فتح النساء آپ نے اس طرح خاموشی سے محل چھوڑ کر اچھا نہیں کیا اس طرح آپ مجرم ثابت ہو رہی ہیں آپ نے کیوں ایسا کیا؟‘‘ بوا نے پوچھا تھا مگر وہ پتھر بنی بیٹھی رہی تھیں۔
’’حیدر میاں کی طبیعت ہر کوئی جانتا ہے افسوس نواب صاحب نے بھی آپ کا اعتبار نہیں کیا چلو جلال تو گرم خون ہیں ہوش سے کام نہیں لیا مگر نواب صاحب تو وہ انتہائی سمجھدار ہیں ان سے ایسی توقع نہیں تھی آپ کو گھر سے بے دخل کردینا کیا معنی رکھتا ہے کہ وہ آپ کے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں آپ نواب خاندان کی عزت ہیں آپ کے کردار پر انگلی اٹھانا چاند پر تھوکنا ہے۔‘‘ بوا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا فتح النساء پتھر بنی بیٹھی رہی تھیں۔
’’فتح النساء کچھ بول میری بچی ایسے خاموش رہیں گی آپ تو لوگوں کو یقین ہونے لگے گا۔‘‘ بوا نے انہیں جھنجوڑا تھا۔
’’ہم کیا کہیں بوا کہنے کو کیا باقی ہے ہم مرچکے ہیں کوئی پوچھنے آئے تو کہہ دیجیے گا فتح النساء باقی نہیں۔‘‘ وہ بولی تھیں اور پھر اٹھ کر وہاں سے چلی گئی تھیں بوا کا جی بھر آیا تھا اور وہ فتح النساء کے لیے آنسو بہانے لگی تھیں
جلال چپ چاپ بیٹھے تھے جب تیمور اندر داخل ہوا تھا۔
’’آپ نے بلوایا خیریت؟‘‘ جلال چونکا تھا اور تیمور کو بیٹھنے کو کہا تھا۔
’’ہم کسی مدعے پر بات کرنا نہیں چاہتے سو آپ کسی بات کو دہرانا ضروری مت جانیے گا ہم صرف آپ سے شرمندہ تھے اس دن ہم نے آپ سے تلخ لہجے میں بات کی ہمیں اس کا افسوس تھا آپ ہمارے بہت قریبی دوست ہیں ہم آپ پر اعتبار کرتے ہیں مگر اس معاملے میں یہ اعتبار برقرار نہیں رہ سکا مگر آپ کا شکریہ آپ نے خود کو ہمیشہ مددگار کی حیثیت سے پیش کیا۔‘‘ جلال نے تیمور کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا تیمور نے انہیں خاموشی سے دیکھا تھا پھر مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’جلال آپ کے نجی معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے مگر وہ آپ کی شریک حیات ہیں آپ کو ایک بار معاملات کی چھان بین کرنا چاہیے تھی فتح النساء پر آپ یقین کرتے ہیں کہ نہیں یہ تو بعد کی بات تھی مگر ایک شریک حیات کو اپنی زندگی کے ہمسفر پر جو اعتبار ظاہر کرنا چاہیے آپ کو اس کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہیے تھا۔‘‘ تیمور نے کہا تھا مگر جلال نے جیسے سنا ہی نہیں تھا سو ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔
’’جلال میں بے حسی فتح النساء کے لیے مناسب نہیں وہ آپ کی عزت ہیں ان کی آبرو کی قدر آپ سے زیادہ کسی کو نہیں مگر آپ وہ انسان نہیں جو ان کی آبرو کے لیے کھڑا ہوا ہو جو گھونسا ہم نے حیدر میاں کے منہ پر مارا وہ آپ کو مارنا چاہیے تھا اور۔‘‘ تیمور جذباتی انداز میں بول رہے تھے جب جلال بولے تھے۔
’’تعلقات اپنی موت مرجائیں تو ان کے متعلق بات کرنا فضول ہوتا ہے ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارا کوئی واسطہ فتح النساء سے تھا آپ ہی بھول جائیے۔‘‘ جلال کا لہجہ سرد تھا اور تیمور حیران ہوا تھا۔
’’جلال اس درجہ بے حسی، آپ کی آنکھیں کہتی ہیں آپ فتح النساء کے لیے بے قرار ہیں ان کے عشق میں مبتلا ہیں پھر آپ ان پر اعتبار کیونکر نہ کرسکے؟‘‘ تیمور کو حیرت ہوئی تھی جب جلال بولے تھے۔
’’ہمیں فتح النساء سے محبت نہیں ہے وہ محبت تھی ہی نہیں نہ کبھی ہوگی ہم نے ان کا اعتبار کیا بس وہی غلط کیا۔‘‘ وہ بولے تھے اور تیمور ان کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔
’’ہم ان کے لیے مر چکے ہیں تیمور یہ رشتہ ختم ہوچکا ہے یہاں کچھ باقی نہیں سو تذکرہ عجیب لگتا ہے۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور تیمور نگاہ پھیر کر گہری سانس لے کر رہ گئے تھے۔
3 جون 1947ء کو آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں نے اصولی طور پر جس منصوبے کو منظور کیا تھا وہی دن قیام پاکستان کی نوید لے کر طلوع ہوا تھا کیونکہ اسی شام کو آل انڈیا ریڈیو پر لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہر مجیٹسی گورنمنٹ کی طرف سے اپنے منصوبے کا اعلان کردیا تھا 9 جون کو جو اجلاس ہوا تھا اس پر غور و خوص کے بعد 3 جون 1947ء کو منصوبہ As a basis for compromises کے طور پر منظور کیا گیا تھا کیونکہ مسلم لیگ ایسا نہ کرتی تو انگریز حکومت کانگریس کے حوالے کر کے وہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لیتی اور مسلمان ہندوئوں کے رحم و کرم پر رہ جاتے آل انڈیا کانگریس نے بھی اس منصوبے کی منظوری دے دی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس سیاسی ڈرامہ کا اختتام ہوا تھا اور 4 اگست کا دن بھی آن پہنچا تھا جب پاکستان کی آزادی کا اعلان کردیا گیا۔
رمضان کریم کی مبارک ساعتوں میں 26 روزہ کو 27 ویں کی رات آزادی کے دیوانے، آل انڈیا مسلم لیگ کے پروانے اور قائد اعظم کے محبان شام سے ٹولیوں اور گروپوں کی شکل میں چھتوں پر موجود تھے شب بارہ بجے جب اعلان ہوا تو فضا نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، پاکستان زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد اور قائد اعظم زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگی تھی اس دن ہر گھر میں چراغ روشن کیے گئے تھے۔
مرزا صاحب نے سب سے پہلے فون کر کے نواب صاحب کو مبارکباد دی تھی۔
’’مبارکباد نواب صاحب آپ کا اور آپ کے رہنمائوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا پاکستان بلآخر معرض وجود میں آگیا اگرچہ پاکستان کے اعلان کے بعد پنجاب، بنگال، بہار اڑیسہ میں نسلی فسادات کی خبریں آنے لگی ہیں مگر خوشی میں ایسی خبریں نظر انداز کردی جائیں تو بہتر ہیں۔‘‘ وہ ہنسے تھے نواب صاحب نے خیانت سے انہیں سنا تھا اور بولے تھے۔
’’میاں سوچی سمجھی سازش کو اتفاق نہیں سمجھا جاسکتا بہرحال اس مدعا پر بات کرنا مناسب نہیں سب جانتے ہیں کہ جب لارڈ مائونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے بنا کر بھیجا گیا حلف اٹھانے کے فوراً بعد لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہندوستان کے تمام با اثر اور اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کا آغاز کیا قائد اعظم نے تبھی وائسرائے پر اپنا موقف واضح کردیا تھا کہ وہ سندھ، بلوچستان، صوبہ سرحد، پنجاب، بنگال اور آسام کے صوبوں پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار پاکستان چاہتے ہیں دوسری طرف کانگریس لیڈروں نے بھی وائسرائے کو یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ ہندوستان کی تقسیم اس صورت میں قبول کرلیں گے جس کے تحت بنگال اور پنجاب کے صوبے ہندوئوں او رمسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ قیام پاکستان سے قبل سندھ بلوچستان، صوبہ سرحد، مغربی پنجاب اور مشرق بنگال کے عوام کی مرضی بھی معلوم کی جائے گی ان ملاقاتوں کے سلسلے کا جو آغاز کیا تھا اس میں قائد اعظم نے اپنا موقف واضح کردیا تھا وائسرائے اس ضمن میں ایک نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ متحدہ ہندوستان کی خواہش ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا وائسرائے کی ہندوستانی رہنمائوں سے بات چیت کے تناظر میں لندن سے شائع ہونے والے اخبار سنڈے آبزرور نے لکھا تھا کہ
’’ان ملاقاتوں سے یقینا وائسرائے اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ تقسیم ہی انتشار کو ختم کرنے کا سبب بن سکتی ہے 3 جون 1947ء وہ دن تھا جب ہندوئوں اور انگریزوں نے مسلمانوں کے مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم کیا لیکن افسوس جس جغرافیائی حدود کا تعین قائد اعظم نے کیا تھا ویسا پاکستان مسلمانوں کو نصیب نہیں ہونے دیا گیا بہرحال پاکستان اور انڈیا ریاستوں کی صورت نقشے پر ابھر چکے ہیں اور اس کو غنیمت جاننا چاہیے۔‘‘ نواب صاحب کا لہجہ شکوہ کناں تھا اور مرزا صاحب ہنس دیے تھے۔
’’چلیے بھاگتے چور کی لنگوٹھ ہی سہی کچھ ہاتھ تو لگا کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے جناب فرنگیوں کو جانا تھا سو ایسی تقسیم ہی مناسب ہے فرنگیوں کی سامراجیت کا خاتمہ تو ہوا ورنہ تو انہی کی غلامی کرتے نکل جانا تھی۔‘‘ مرزا سراج الدولہ نے کہا تھا اور نواب صاحب ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’اب کیا ارادہ ہے محترم آپ تو پاکستان سدھارنا چاہیں گے اور ہم یہیں رہنا چاہیں گے مگر ان معاملات میں اور پاکستان بننے کی خوشی میں یہ مت بھول جائیے کہ عین ہماری امانت ہیں اور مرزا خاندان کی بہو ہیں۔‘‘ مرزا نے یاد دلایا تھا اور نواب خاموشی سے انہیں دیکھنے لگے تھے۔
’’مرزا صاحب مدعا کچھ یوں ہے کہ ہم یہ نکاح نہیں چاہتے۔‘‘ اور مرزا صاحب حیرت سے انہیں دیکھنے لگے تھے۔
’’یہ کیسے ممکن ہے جناب آپ نے تو وعدہ کیا تھا؟‘‘ انہوں نے یاد دلایا تھا۔
’’ہاں مگر اب ہم اس وعدے سے مکر رہے ہیں ہم نکاح نہیں چاہتے۔‘‘ نواب صاحب نے سکون سے کہا تھا۔
’’آپ ایسا کیونکر اور کیسے کرسکتے ہیں نواب صاحب کوئی آدمی اپنی بات سے کیسے مکر سکتا ہے گویا نواب صاحب کی کوئی زبان ہی نہیں واہ صاحب واہ کیا خوب کہی لگتا ہے آپ کو جگ ہنسائی کی بھی کوئی فکر نہیں رہی۔‘‘ مرزا نے چڑانے والے انداز میں کہا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close