Naeyufaq Nov-17

خالی ہاتھ

فلک شیر

سراغ رسان مارٹن اپنے پرائیویٹ دفتر میں بیٹھا سگریٹ پہ سگریٹ پھونکے جارہاتھا۔ بیئر کے بھی کئی گلاس اپنے اندر انڈیل چکاتھا مگر ذرا بھی اس کی پریشانی کم نہیں ہوئی تھی۔ وہ گہری سوچوں میں گم ‘ اس قتل کیس کے بارے میں بہت پریشان دکھائی دے رہاتھا‘ جس کا مجرم ابھی تک قانون کی پہنچ سے دور تھا۔ امریکا کی سیکرٹ ایجنسی کا یہ سراغ رساں بہت ذہین اور چالاک تھا۔ یہ پہلا کیس تھا جس میں مارٹن بے بس نظر آیا تھا ورنہ اس سے پہلے وہ ہزاروں مجرموں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچاچکاتھا۔ اس کے ٹیبل پرپڑی یہ بلیک رنگ کی فائل وہ کئی مرتبہ پڑھ چکاتھا‘ جس میںکیتھرین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ساتھ ایک اور اہم دستاویز کی لیبارٹری رپورٹ بھی تھی۔ ایک دفعہ پھر اس نے اس فائل کی ورق گردانی شروع کردی۔
آج سے کچھ دن پہلے یعنی بائیس دسمبر کی ایک سرد ترین رات کیتھرین کو ایک ایسا زہر دے کر ہلاک کیاگیاتھا جس سے انسان ایک دو منٹ میں ہی موت کے منہ میں چلاجاتاہے۔ یہ مہلک قسم کازہر اس وقت دیاگیا جب مسز کیتھرین ایک چیئرٹی شو سے واپس گھر جانے کی لیے اپنی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔ زہردینے کا یہ انوکھا طریقہ سمجھ سے بالاتر تھا۔ مجرم بہت ہوشیار تھا‘ اور ابھی تک نظروں سے اوجھل تھا۔
کیتھرین بمشکل تین سال کی تھی جب اس کے والدین ایک ایکسیڈنٹ میں چل بسے تھے۔ پولیس کمانڈرز اور جیوری نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ کیتھرین جب تک بڑی نہیں ہوجاتی اسے ٹرسٹ میں رکھاجائے۔ نیویارک میں ایسے کسی ادارے میںجو لاوارث بچوں کی کفالت کرتے ہیں‘۱ن میں مادام ڈیلناس ٹرسٹ‘ کی رپورٹ باقی اداروں کی نسبت بہتر تھی۔ یوں کیتھرین کو اس ٹرسٹ کے حوالے کردیاگیا۔
مادام ڈیلناس ایک معمر خاتون تھیں جو اس ٹرسٹ کو چلارہی تھیں۔ وہ بڑی ہمدرد اورپرخلوص عورت تھی‘ اس ٹرسٹ میں اور بھی کافی بچے‘ بچیاں زیر تربیت تھے۔ کیتھرین کچھ دن تو بہت اداس رہی‘ مگر آہستہ آہستہ وہاں ننھے منے بچوں میں اس کادل بہل گیا۔ کچھ لڑکے لڑکیوں سے اس کی دوستی بھی ہوگئی جن میں ریگن پال اور الیگزا بھی شامل تھے۔ وہ اس کے ہم عمر ہی تھے الیگزا اس سے ایک سال چھوٹی تھی اور ریگن دو برس بڑاتھا۔ تعلیم کے علاوہ وہاں او ربھی کافی تفریح کاسامان تھا۔ جس سے کیتھرین محظوظ ہوتی رہتی۔
وقت گزرتارہا‘ کیتھرین او رریگن پال کی محبت بھی پروان چڑھتی رہی۔ الیگزا بھی ریگن کوچاہتی تھی مگر کیتھرین کا پیار دیکھ کر وہ خموش ہی رہی۔ اور پھر وہ دن آپہنچا جب کیتھرین ‘ریگن اور الیگزا کو اس ٹرسٹ سے فارغ کردیاگیا کیونکہ اب وہ جوانی کی حدوں کوپہنچ گئے تھے۔
کیتھرین کے لیے وہ گھڑی بڑی پریشان کن تھی جب وہ اور ریگن بچھڑ رہے تھے تو دونوں کی آنکھوں میں آنسوئوں کی نمی تھی وہ الیگزا نے بھی دیکھ لی تھی۔ وہ بھی رو رہی تھی‘ اس کابھی دنیا میں کوئی نہیں تھا‘ سوائے ایک خالہ کے‘ وہ بھی ناجانے زندہ تھی یامرچکی تھی۔
ریگن پال نے بتایاتھا کہ وہ شگاگو جائے گا‘ شاید کوئی جاب وغیرہ مل جائے‘ یوں یہ تینوں ساتھی اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں ہوگئے۔
کیتھرین اب سترہ برس کی عمر میں پہنچ چکی تھی‘ خوب رنگ روپ نکالاتھا‘ اس نے ‘اپنی ماں کی طرح‘ پانچ فٹ آٹھ انچ قد کے ساتھ سرخ وسفید رنگت دراز بال‘ لمبی گردن اس کو اور بھی باوقاربنارہی تھی۔ گویا کہ وہ مکمل ایک باشعور خوبصورت عورت بن چکی تھی۔
ٹرسٹ سے وہ سیدھی اپنے خاندانی وکیل مسٹر سائمن کے پاس گئی تھی‘ سائمن اسے ٹرسٹ میں بھی مل چکاتھا۔ اس وقت کیتھرین آٹھ برس کی تھی۔
آج سائمن کیتھرین کودیکھ کر بہت خوش ہواتھا۔ اس نے الماری سے کچھ کاغذات پرکیتھرین کے دستخط کروائے‘ وہ کاغذات سائن بھی کرتی جارہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کے کان مسٹر سائمن کی طرف لگے ہوئے تھے جوماضی کے بند دریچوں کو آہستہ آہستہ کھول رہاتھا۔ وہ کہہ رہاتھا۔
’’ بے بی کیتھرین‘ آپ کے والدمسٹر رابرٹ جان‘ بہت بڑے بزنس مین تھے۔ ساتھ وہ ایک کنسٹرکشن کمپنی بھی چلارہے تھے۔ مسٹر رابرٹ نے کیتھرین کی والدہ سے اس وقت شادی کی تھی جب وہ لاوارث تھی اور کسی ٹرسٹ میں تھی پھر وکیل سائمن نے اس ساری جائداد کی تفصیل بتائی جومسٹر رابرٹ اور مسز رابرٹ نے مرتے وقت چھوڑی تھی۔ کچھ پلاٹس تھے جو مختلف شہروں میں تھے‘ نیوجرسی میں کچھ لاس ویگاس‘ واشنگٹن او ردو پلاٹ نیویارک میں تھے۔ پچاس لاکھ ڈالرز بینک بیلنس تھا‘نیویارک میں بہت بڑ اگھر اورایک بڑا اسٹور تھا جس کو مسٹر رابرٹ کاایک وفادار منیجر جیرالڈ چلارہاتھا۔ اس ساری پراپرٹی کی اب واحد مالک کیتھرین تھی۔ سائمن وکیل نے کچھ فائلیں ‘ چیک بکس اور گھر کی چابیوں کاایک بڑ اسا گچھا کیتھرین کے حوالے کردیا۔ سائمن کیتھرین کواس کے گھر تک چھوڑنے آیا تھا اور پھر جلدی واپس چلاگیا۔
دوسوچالیس گز کایہ محل نما بنگلہ تھا۔ مسٹر رابرٹ نے بڑے شوق سے بنوایا تھا۔ کیتھرین نے تالا کھولااور اندر داخل ہوگئی۔ وہ عجیب سی کشمکش کاشکار تھی۔ بچپن کی دھندلی یادیں دامن گیر ہو رہی تھیں۔ وہ جھولا ابھی تک وہیں موجود تھا جس میں وہ لوریاں سنتی تھی۔
جدیدفرنیچر سے آراستہ ہرکمرہ سجاہواتھا۔ اس نے ایک فائل کھولی تو اس میں کیتھرین کے ماں باپ کی تصویریں تھیں‘ وہ بہت دیر تک ان تصویروں کو چومتی رہی اور روتی رہی۔ روتے روتے وہ سوگئی‘ پتہ نہیں کب تلک سوتی کہ کسی خواب نے اسے جگادیا‘ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ وہ لان میں چلی گئی‘ وہاں بھی اس کا دل نہیں لگا تو وہ باہر نکل گئی۔ شام کو گھر لوٹی تو اس کے ساتھ ایک ملازمہ بھی تھی‘ آج کیتھرین نے دل کھول کر شاپنگ کی تھی‘ ڈھیر سارے ملبوسات اور نئی ہنڈا سوک گاڑی بھی خریدی تھی۔ اس کے علاوہ کچھ جیولری‘ ایک رنگ اور ایک نفیس قسم کاڈائمنڈ نیکلس بھی لیا جوکیتھرین کی لمبی گردن میں اس کے حسن میں اور بھی اضافہ کررہاتھا۔
وہ اپنے اسٹور پر بھی گئی‘ منیجر جیرالڈ نے بڑی گرمجوشی اور خوشی کااظہار کیاتھا۔ مس کیتھرین کوملتے ہوئے اور اسٹور کی ساری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے جیرالڈ اس بات پربہت خوش تھا کہ اسٹور کی اصل مالکہ آچکی ہے۔
منیجر جیرالڈ بہت محنتی اور وفاشعار تھا۔ وہ پہلی نظر میں ہی پہچان گئی تھی کہ جیرالڈ پر بھروسہ کیاجاسکتاہ
اتوار ہونے کی وجہ سے آج چھٹی تھی کیتھرین نے ساحل سمندر پر جانے کاپروگرام بنایااور اپنی ملازمہ کو ساتھ لے کر ساحل کی طرف روانہ ہوگئی۔ سڑک پر کیتھرین کی گاڑی سمندر کی طرف رواں دواں تھی۔ اور وہ گہری سوچوں میں گم‘ اپنے مستقبل کے بارے میں الجھی ہوئی تھی
ساحل سمندر پر بہت رش تھا۔ طرح طرح کے لوگ کچھ ٹولیوں کی شکل میں ناچ رہے تھے۔ کچھ ریت پردوڑ رہے تھے‘ بچے اونٹ کی سواری کررہے تھے‘ کیتھرین نے ایک بحری جہاز کو دیکھا جو لنگر انداز ہورہاتھا۔ جس میں بہت سارے فوجی نظر آرہے تھے‘ ان کی ٹوپیوں او رکندھوں پر سجے بیج چمک رہے تھے۔ پھریکایک کیتھرین کی نظر جیسے جھپکنا بھول گئی ہو۔ انہی فوجیوں میں اس نے ریگن پال کودیکھ لیاتھا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ ریگن ہاتھ ہلارہاتھا شاید اس نے بھی کیتھرین کوپہچان لیاتھا۔ جہاز رکاتووہ نیچے اتر آیا‘ اس نے کیتھرین کو بہت دیر تک اپنے سینے سے چمٹائے رکھا۔ کیف وسرور کے یہ لمحے اس وقت ختم ہوئے جب جہاز کے کمانڈر نے سب فوجیوں کو نئے آرڈرز جاری کرنے کے لیے بلایا۔ ریگن نے اپنی ساری کہانی کیتھرین کے گوش گزار کردی تھی کہ امریکا اورعراق جنگ میں اسے جبری بھرتی کرلیاگیاہے ‘جونہی جنگ ختم ہوگی‘ وہ فوج سے فارغ ہوجائے گا۔ کچھ دنوں تک جنگ کے خاتمے کااعلان ہوچکاتھا۔ اس جنگ میں عراق کوبہت نقصان پہنچاتھا۔ یوں ریگن پال شگاگوپہنچ کر کچھ دن یونہی آوارہ گردی کرتا رہا‘ پھرایک دن اس کی جیب سے ایک پرچی ملی جس پر کیتھرین کاسیل نمبر اور نیویارک کاایڈریس لکھاہواتھا۔ اس نے وہ نمبر ڈائل کیاتو کیتھرین کی رس بھری آواز سن کر مدہوش ہونے لگا۔ ریگن نے بتایا کہ وہ فوج سے جان چھڑاچکاہے اب کل کی فلائٹ سے نیویارک پہنچے گا۔ اس خبر نے کیتھرین کے دل میں ایسے شعلے پیدا کردیئے جس کی تپش اس کے چہرے پر بھی دیکھی جاسکتی تھی۔
کیتھرین این جی روز کی ممبر‘اورایک سماجی کارکن ہونے کی حیثیت سے کافی شہرت پاچکی تھی۔ وہ ایک غمگسار قسم کی لڑکی تھی۔ وہ اکثر اوقات بے سہارا بچوں کے اداروں میں جاتی تھی۔ کچھ وقت ان یتیم اور نادار و بے کس لوگوں میں گزار کر اسے بہت خوشی ہوتی۔ فنڈز کے علاوہ بھی وہ ان کی بہت خدمت کرتی‘ اس کی دلی خواہش تھی کہ ان لاوارث بچوں کے لیے کوئی ایسا کام کیاجائے جس کی روشنی آنے والی نسلوں تک پھیلے۔
وہ ایئرپورٹ کے باہر کھڑی تھی‘ اس کی نظر پسنجر لائونج کی طرف بار بار اٹھ رہی تھی۔ پھر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں کیونکہ ریگن ایک بیگ ہاتھوں میں لیے نمودار ہوا۔ نظروں سے نظریں ملیں‘ دل سے دل ‘ او رریگن نے کیتھرین کواپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ کیتھرین کے چہرے پر شفق کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ گلاب سے بھی معصوم کیتھرین کی ایک دیرینہ خواہش پوری ہونے والی تھی۔
گاڑی ایک خوبصورت بنگلے کے سامنے رک گئی تھی۔ جس پر بڑے حروف مین کیتھرین لاج کابورڈ آویزاں تھا۔
چند دنوں میں ہی کیتھرین مسز ریگن پال بن گئی۔ سہاگ کے جوڑے میں وہ مجسمہ حسن یوں لگ رہی تھی جیسے آکاش سے کوئی شہزادی اتر آئی ہو۔ ریگن بھی کسرتی جسم والا چھ فٹ کاجوان زبردست شخصیت کامالک تھا۔ دونوں کی جوڑی خوب جچ رہی تھی۔ ہنی مون دو ماہ پرمشتمل تھا۔ لاس و یگاس میںکچھ عرصہ گزارہ پھرلندن اور گرین لینڈ سے ہوتے ہوئے واپس گھرپہنچ گئے۔
یہ سنہری لمحات کیتھرین کی زندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے تھے۔ ریگن‘ کیتھرین سے بہت پیار کرتاتھا‘ کیتھرین کواپنی محبت مل گئی تھی‘ او رریگن پال کو محبوب کے علاوہ ٹھکانابھی۔
وقت کی گھڑیاں چلتی رہیں‘ ان کی شادی کو تین سال ہوگئے تھے مگر کیتھرین ابھی تک ماں نہیں بن سکی تھی۔ دوسری عورتوں کی طرح اس کی بھی یہ خواہش تھی کہ اس کے صحن چمن میں بھی کوئی پھول کھلے‘ اس نے اپنے تمام ٹیسٹ کروائے‘ جو کہ نارمل تھے‘ پھر ریگن کو بھی ایک ماہر ڈاکٹر کے پاس بھیجا‘ رپورٹ کے مطابق ریگن‘ بانجھ تھا۔ ڈاکٹر نے ریگن کوبتایا کہ بچپن میں اس کی سپرم والی نالی پر کوئی چوٹ لگی تھی جس کی وجہ سے وہ نالی بند ہوچکی ہے او راب وہ باپ نہیں بن سکتا۔ ریگن پریشان تھا مگراس نے کیتھرین کو رپورٹ کے متعلق نہیں بتایا… کہ کہیںوہ شک وشبہہ میں مبتلا نہ ہوجائے۔ کیتھرین کو اس نے مطمئن کردیاتھا کہ ٹیسٹ نارمل ہیں‘ وہ رپورٹ اس نے اسٹور کے بیڈروم میں اپنی الماری کے خفیہ خانے میں رکھ دی۔
٭…٭…٭
کیتھرین نے ریگن کو اسٹور کامالک بنادیاتھا۔ تاکہ وہاں کاسارا نظام وہ اپنی نگرانی میں چلائے‘ وہ صبح ناشتہ کرکے اسٹور پر چلاجاتا‘ دوپہر کاکھانا وہ وہیں کھاتا۔ رات نوبجے وہ گھر آجاتا‘ کیتھرین سے گپ شپ رات گئے تک ہوتی رہتی‘ شب وروز بڑے پرسکون گزررہے تھے۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔
آج صبح ریگن حسب معمول ناشتہ کرکے اسٹور کی طرف جارہاتھا تو بازاروں میں لوگوں کاکافی رش تھا۔ موسم میں کچھ ٹھنڈک کااحساس ہورہاتھا‘ آسمان پر سفید بادلوں کے ٹکڑے تیررہے تھے۔ شاید کرسمس قریب آرہاتھا‘ اس لیے لوگ برف باری کے خدشے کے پیش نظر جلدی جلدی شاپنگ میں مصروف تھے۔
وہ جونہی اسٹور میں داخل ہوا۔ اس کی نظر ایک شناساسی لڑکی پر پڑی۔ لڑکی نے مختصر سالباس پہناہواتھا‘ ریگن نے ذہن پر زور دیا وہ الیگزا کوپہچان چکاتھا۔ الیگزا نے بھی ریگن کو دیکھ لیا تھا۔ اس اچانک ملاقات پر وہ اچھل پڑی تھی۔ وہ بلاکی حسین ہوگئی تھی۔ سنہری رنگت‘ موٹی موٹی سفید آنکھوں میں پیار کاٹھاٹھیں مارتا سمندر‘ لمبے بال جوجوڑے کی شکل میں بندھے ہوئے تھے۔الیگزا نے باریک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس میں سے جسم کے سارے خدوخال واضح طور پر نمایاں تھے۔ لمبے سفید بازو اس کی شخصیت کو اور بھی اجاگر کررہے تھے‘ جونیکر اس نے پہناتھا وہ گھٹنوں سے اوپر تک تھا‘ سرخ وسفید موٹی پنڈلیاں اس کی بھرپور جوانی کی عکاسی کررہی تھیں۔کیتھرین کی پانچ کالز آچکی تھیں مگر ریگن الیگزا کی دوشیزگی کے پیچ وخم میں اس قدر کھویا ہواتھا کہ وہ فون کی گھنٹی بھی نہیں سن سکا۔ وہ الیگزا کو لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وہ دونوں ایک ہی صوفے پربیٹھ گئے۔ سامنے شیشے کاایک بڑا ٹیبل تھا جس پر کھانے کے کچھ لوازمات تھے جو ریگن نے منگوالیے تھے اور شراب کے دو جام بھی تھے جو لبالب بھرے ہوئے تھے۔ پھر جام سے جام ٹکرائے اور خالی ہوگئے۔ ریگن کاہاتھ الیگزا کی سفید گردن سے بازوئوں کوٹٹولتاہوا ٹانگوں سے گھٹنوں تک پہنچ چکاتھا کہ اچانک منیجر جیرالڈ اندر آگیا‘ وہ بہت گھبرایا ہوالگ رہاتھا پھراس نے معذرت خواہ لہجے میں بتایا کہ سوری سر ایک شرابی اسٹور کے اندر گھس آیاہے‘ وہ نشے میں دھت اندرہنگامہ کررہاہے‘ تمام گاہک ڈسٹرب ہو رہے ہیں۔
ریگن یہ لمحات کھونا نہیں چاہتاتھا مگر مجبوری میں جانا پڑا‘ اس نے الیگزا سے معذرت کی اورجاتے جاتے اپنا فون نمبر اس کی جیب میں ڈال دیا۔ الیگزا جب اسٹور سے نکل رہی تھی تو یہ نوخیز کلی سراپا آگ بنی ہوئی تھی‘ شاید پہلی مرتبہ اسے کسی مرد نے اس طرح چھواتھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری تھی۔ سفاکانہ قسم کی چمک۔
پھریہ سلسلہ چلتارہا‘ کبھی الیگزا کال کرلیتی تو کبھی ریگن گھنٹوں اس کی آواز سے محظوظ ہوتارہتا۔
کیتھرین کے دل میں پہلی دراڑ اس وقت پڑی جب جیرالڈ نے اسے ریگن اور الیگزا کے بارے میں سب کچھ بتادیااور ساتھ ریگن کی میڈیکل رپورٹ کے متعلق بھی کہ وہ بانجھ ہے۔ اب ریگن کے رویے میں بھی بہت فرق آگیاتھا۔ وہ کبھی رات گیارہ بارہ بجے آتااور کبھی وہیں اسٹور میں ہی سوجاتا‘ جب سے ریگن نے الیگزا کابھرپور شباب اور دوشیزگی کی جھلک دیکھی تھی‘ اسے چین نہیں آرہاتھا۔ وہ کچھ بیقرار سارہنے لگاتھا‘ کیتھرین اسے پرانی پرانی سی لگنے لگی تھی حالانکہ وہ اب بھی ایک خوبرو لڑکی تھی۔ شاید یہ چیز انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ہر چیز سے جلدی اکتاجاتاہے۔
ریگن کی مثال اس بھنورے کی طرح تھی جوایک پھول کارس چوس کردوسرے پرجابیٹھتاہے۔ ریگن اب کیتھرین سے نظریں چرانے لگاتھا مگر وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی محبت ناکام ہوجائے‘ وہ ریگن کوکھونا نہیں چاہتی تھی اس کی ساری کوششیں بے کار ثابت ہوئی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوریاں بڑھتی گئیں‘ پیار نفرت میں تبدیل ہوتاگیا۔
عورت ہر دکھ‘ ہر غم سب کچھ برداشت کرسکتی ہے مگر اس کاشوہر کسی غیر لڑکی سے تعلق رکھے یہ اس کے ضبط سے باہر ہے۔
آج اکیس دسمبر کی رات تھی‘ برف گرنابندہوچکی تھی۔ ریگن ابھی تک اسٹورسے واپس نہیں آیا تھا۔ رات کے تین بجے تھے اور کیتھرین ابھی تک سو نہیں سکی تھی۔ سفید رنگ کالفافہ جس میں کیتھرین کادعوتی کارڈ تھا میز پرپڑاتھا۔
جس میں این جی اوز کے تمام ارکان وممبران کودعوت دی گئی تھی اس شو میں شرکت کرنے کے لیے جو بائیس دسمبر رات نوبجے شروع ہوناتھا۔ ’’ادارہ برائے کفالت‘ کیتھرین ٹرسٹ‘‘ کے نام سے بنایا جارہاتھا۔ اس ٹرسٹ کی نقاب کشائی کی اس تقریب کی مہمان خصوصی بھی کیتھرین تھی جس نے بھرپور جدوجہد کرکے اس ٹرسٹ کو چھ ماہ میں ہی مکمل کروالیاتھا۔ اس تقریب رونمائی کی تشہیر اخبار میں بھی کی گئی تھی جسے ریگن نے بھی پڑھا ہوگا۔
صبح ہونے کو تھی اور کیتھرین جوساری رات کوئی فیصلہ نہیں کرپائی تھی۔ اچانک اس کے منہ سے یسYESکے الفاظ نکل گئے۔ اس نے فیصلہ کرلیاتھا۔ ریگن سے علیحدگی کا فیصلہ‘ طلاق کافیصلہ۔
آج بائیس دسمبر تھا۔صبح سے ہی یخ بستہ ہوائیںچلنا شروع ہوگئی تھیں۔ سنوفال کچھ دیر تک جاری رہی جونہی موسم کچھ بہتر ہوا‘ وہ گھر سے نکل گئی۔ وکیل سائمن کے پاس بھی وہ گئی تھی‘ پھر کورٹ گئی‘ یوں وہ سارا دن مصروف رہی‘ جب وہ شام پانچ بجے گھر پہنچی تھی‘ اس کے بریف کیس میں بہت سی اہم دستاویزات تھیں۔
ریگن شام سات بجے کے قریب گھر آیا تھا‘ اورپھر واپس جانے لگا تو کیتھرین نے اسے دلفریب مسکراہٹ سے شب بخیر کہاتھا‘ اوروہ بڑی پرسکون تھی۔ ملازمہ نے چائے دی‘ کیتھرین آج بہت اچھے موڈ میں تھی‘ اس نے ملازمہ کو ڈھیر سارے کپڑے‘ اورنقد رقم بھی دی۔
وہ تقریب میں جانے سے پہلے کچھ اور کام بھی کرنا چاہتی تھی۔اس نے اپنے اسٹور منیجر جیرالڈ کوگھربلایاتھا اور تمام قیمتی زیورات وغیرہ اس کے حوالے کیے تھے تاکہ بینک کے لاکر میں رکھوا دیئے جائیں۔
پھروہ اپنی گاڑی کو یونیورسٹی روڈ پر دوڑارہی تھی‘ یہ تقریب اس یونیورسٹی کے بڑے ہال میں منعقد کی گئی تھی جس کے ساتھ ملحقہ عمارت میں کیتھرین ٹرسٹ بنایاگیاتھا۔ ہال کوبڑی خوبصورتی سے سجایا گیاتھا۔ بڑے بڑے پوسٹر لگائے گئے تھے جن پرکیتھرین کی تصویر سجائی گئی تھی۔ پارکنگ لاٹ میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد کیتھرین جب وہاں پہنچی تو تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر چیف گیسٹ کااستقبال کیا۔ تالیوں کی گونج میں کیتھرین نے اپنے ہاتھ سے اس تختی سے ریشمی نقاب کوہٹایا جس پر کیتھرین ٹرسٹ کے الفاظ کندہ تھے۔ ہال میں تمام کرسیوں پر لوگ براجمان ہوچکے تھے۔ چیف گیسٹ کی چیئر پر بیٹھی کیتھرین حسن کی دیوی لگ رہی تھی۔
جب یہ تقریب ہورہی تھی۔ اس وقت الیگزا اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور گداز جسم کے ساتھ ریگن کے اسٹور میں موجود تھی۔ ریگن نشے میں دھت تھا البتہ الیگزا ہوش میں تھی۔ ریگن آج خلوت کے مزے لینا چاہتاتھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ الیگزا آج رات اس کی ہر جائز وناجائز خواہش کوپورا کرے‘ مگر وہ دلربا‘ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پختہ کردار کی مالک بھی تھی۔ اس نے ریگن سے محبت ضرور کی تھی لیکن شادی سے پہلے‘ وہ اس گناہ کی دلدل میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی۔ وہ ریگن کوبیہوشی کی حالت میں چھوڑ کر جاچکی تھی۔
اس تقریب میں مادام ڈیلناس نے بھی شرکت کی تھی‘ مقررین خطاب کررہے تھے اور کیتھرین گہرے خیالوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کا طلسم اس وقت ٹوٹا جب چیف گیسٹ‘ کو اسٹیج پربلایا جارہاتھا۔ وہ اٹھی اور باوقار چال چلتی ہوئی ڈائس کے پیچھے جاکھڑی ہوئی۔ ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا۔
تقریر کامتن کچھ یوں تھا۔ لیڈیز اینڈ جنٹلمین‘ سدا مسکراتے رہو۔ میں وہ بدنصیب عورت ہوں جوبچپن میں ہی یتیم ہوگئی تھی‘ آپ لوگوں کی دعائوں سے آج اس مقام پرکھڑی ہوں ‘امید ہے کہ آپ ہمیشہ نیک تمنائوں اور اچھے جذبات سے مجھے یاد رکھوگے۔ آج میں یہ اعلان کرتی ہوں کہ میرے گھر کے علاوہ ’’جب تک میں زندہ ہوں ‘‘ میری تمام جائداد کیتھرین ٹرسٹ‘ کے نام کردی جائے اور میرے مرنے کے بعد میرا بنگلہ بھی فروخت کرکے بے سہارا بچوں کی کفالت میں لگادیا جائے۔ اس نے جیوری اور این جی اوز کے ممبران کوبتادیا کہ تمام دستاویزات اس کے وکیل مسٹر سائمن کے پاس ہے جوایک ماہ کے اندر سارا پروسیجر مکمل کرکے ٹرسٹ کے حوالے کردے گا۔ دیٹس آل… کے ساتھ ہی تالیوں کی گونج بھی بند ہوچکی تھی۔ تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے اپنے گھروں کو جانے کی فکر کرنے لگے۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ کیتھرین اپنی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔ اس نے اندر کی لائٹ آن کی تو اس کی نظر ڈش بورڈ پررکھی ہوئی ایک چھوٹی سی پاکٹ نما ڈائری پرپڑی‘ گاڑی کے اندر والی چھوٹی لائٹ آن کرکے اس نے ڈائری کوکھولنا چاہا‘ مگرا س کے صفحے جڑے ہوئے تھے‘ وہ کوشش کررہی تھی تاکہ یہ پیج کھل جائیں اوراس پراسرار ڈائری کاپتہ چل سکے۔ وہ انڈکس والی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے ان اوراق کوکھول رہی تھی ایک صفحے پر جلی حروف میں کچھ الفاظ تحریر تھے مگر کچھ سمجھ نہیں آرہے تھے۔
وہ باری باری انگلی کو زبان پرلگا کرڈائری کھولنے کی کوشش کرتی رہی‘ حتیٰ کہ اس کی زبان پر کڑواہٹ کے ساتھ ساتھ اس کی نظر بھی دھندلانے لگی۔ سرچکرانے لگا۔ اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی ‘اس کے ہاتھ لرز رہے تھے‘ پائوں میں بھی طاقت کم ہونے لگی تھی۔ جونہی گاڑی ففٹی ون ایونیو والی سڑک پرچڑھی تو کیتھرین کاجسم جواب دے چکاتھا۔ ایک جھٹکا لگا‘ گاڑی رک گئی ۔ رات کاپچھلا پہر تھا غالباً تین بج چکے تھے۔ اتنی سرد رات میں شاذو نادر ہی کوئی ادھر سے گزرتا… کیتھرین مرچکی تھی‘ اوراس کی گردن ایک طرف کوڈھلک گئی تھی۔ اس کے ہونٹ اور چہرے کا رنگ نیلا پڑچکاتھا۔ پولیس کی دو گاڑیاں جوگشت پرتھیں ابھی ابھی وہاں پہنچی تھیں۔ گشتی ٹیم کے انچارج نے ڈپٹی ولیم کو یہ اطلاع وائرلیس سیٹ پر دے دی تھی جو چند منٹوں میں ہی وہاں پہنچ گیا‘ اس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی تھی‘ گاڑی کے معائنے کے دوران وہ پاکٹ ڈائری بھی مل گئی تھی‘ اور کچھ دستاویزات وغیرہ بھی۔ کیتھرین کی گاڑی کو بھی پولیس اسٹیشن پہنچادیاگیا۔
صبح ہو رہی تھی‘ ریگن ابھی تک سویاہواتھا کہ اس کے فون پرسرخ سبز رنگ کے نقطے ابھرنے لگے۔ یہ نقطے عموماً پولیس چیف یاڈپٹی چیف کی کال کوظاہر کرتے ہیں۔
وہ بوکھلا کر اٹھااور فون کان سے لگایاہی تھا کہ دوسری طرف سے ڈپٹی ولیم کی بھاری اور کرخت آواز ابھری… ڈپٹی ولیم از سپیکنگ‘‘ آپ غالباً ریگن پال ہو کیتھرین کے شوہر… ڈپٹی نے پوچھا۔
’’جی میں ریگن پال بول رہاہوں۔ اس کی آواز میں لرزش واضح طور پر محسوس ہو رہی تھی۔ ڈپٹی نے اسے پولیس اسٹیشن طلب کیا… اورساتھ اس کی بیوی کی موت کی خبر بھی اسے سنادی۔ اس خبر نے ریگن کے اعصاب کوجھنجوڑ کررکھ دیا تھا ۔وہ گزری رات والی ساری مستی بھول چکاتھا۔
پولیس اسٹیشن میں پولیس چیف کے علاوہ بھی کچھ لوگ تھے جن میں سراغ رساں مارٹن بھی موجود تھا۔ اس نے ریگن سے چند سوال کیے گزشتہ رات کے حوالے سے‘ مگر ریگن رات اسٹور میں تھا‘ اوراس کے بیان کی تصدیق وہاں سیکورٹی پرتعینات گارڈز نے بھی کردی تھی۔ اس کیس کوسراغ رساں مارٹن کے حوالے کیاگیاتھا‘ سوریگن اس کیس سے بری الذمہ ہوگیاتھا۔
پوسٹ مارٹم ہوچکاتھا‘ کیتھرین کی لاش ریگن کے حوالے کردی گئی ۔
ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کیمیکل لیبارٹری سے اس پاکٹ نما ڈائری کا تجزیہ سامنے آیا تھا۔
کیتھرین کی آخری رسومات ادا کردی گئی تھیں جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی‘ ٹرسٹ‘ این جی اوز کے ممبران کے علاوہ بھی بہت سے سوگوار چہروں نے شرکت کی‘ کیتھرین نے اپناگھر بار مال ودولت جن پھولوں کے لیے وقف کردیاتھا‘ یہ وہی اداس چہرے تھے‘ جواپنی مالکہ کو آخری سلام پیش کرنے آئے تھے۔ اس کے اپنے آنگن میں تو کوئی غنچہ نہ کھل سکا تھا‘ مگر جاتے جاتے اس نے ان بے شمار لاوارث پھولوں کی آبیاری کاسامان کردیاتھا۔ بظاہر وہ مرچکی تھی مگر ہزاروں دلوں میں وہ آج بھی زندہ تھی۔
انہی دنوں امریکہ طالبان کازور توڑنے کے لیے افغانستان پر لشکر کشی کرنا چاہتا تھا‘ اس سلسلے میں آج یعنی تین جنوری کو حکومتی سطح پر ایک بڑا اجلاس ہورہاتھا جس میں حکومتی عہدیداروں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈرز‘ فوجی کمانڈر خفیہ اداروں کے سربراہ ‘سیکرٹ اور خفیہ ایجنٹوں کے مشہور سراغ رساں بھی شامل کیے گئے‘ جن میں سراغ رساں مارٹن بھی تھا جس کے کوٹ کی جیب میں کیتھرین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ساتھ اس ڈائری کی بھی کیمیکل رپورٹ موجود تھی جو مقتولہ کی گاڑی کے ڈیش بورڈ سے ملی تھی۔
کچھ سائنسدان بھی اس اجلاس میں شریک تھے اور کچھ رپورٹرز تھے۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہوچکی تھی۔ گرماگرم بحث جاری تھی‘ طالبان اور افغانستان پرکہ ایک نوجوان رپورٹر نے ایک عجیب سا سوال اٹھایا۔ رپورٹر نے ارباب اختیار اور فوجی کمانڈرز سے پوچھا کہ جنگ کے دوران اگر کوئی امریکی فوجی طالبان کی قید میں چلاجائے تو کیا ہوگا؟ تشدد کے ذریعے اس امریکی فوجی سے وہ سارے خفیہ راز اگلوالیں گے اور پھر نائن الیون جیسا واقعہ دوبارہ رونما ہوسکتا ہے‘ پورے اسمبلی ہال میں ایک خموشی چھاگئی تھی۔
گہری خموشی کے بعد ایک بزرگ سائنسدان کھڑ اہوگیا‘اس نے اپنا نام پروفیسر برگ پیٹر بتایاتھا۔ لمبے قد کے ساتھ سفید بال اس کے مہذب ہونے کا پتہ دیتے تھے۔ پروفیسر نے اونچی آواز میں بتایا کہ جوامریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں‘ سامان جنگ کے ساتھ ہر ایک کو دوقطرے ’’قلوپطرہ‘‘ زہر کسی کیپسول میں ڈال کر دیاجائے تاکہ اگر کوئی فوجی دشمن کے نرغے میں آجائے تو ایک قطرہ زہر اپنی زبان پر لگانے سے اپنی زندگی کاخاتمہ کرسکتاہے۔
پھر پروفیسر نے بتایا وہ کچھ عرصہ پہلے چند سالوں کے لیے سائوتھ افریقہ کے شہر کیپ ٹائون سے دس کلومیٹر شمال کی طرف ایک ایسی لیبارٹری میں رہا ہے جہاں پرندوں پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ یہ سمندری پرندے صومالیہ اور سائوتھ افریقہ میںبہت پائے جاتے ہیں۔ ان پرندوں میں ایک ایسا نایاب پرندہ ہے جس کے پتے میں یہ زہر پایا جاتا ہے‘ یہ بہت خطرناک زہر ہے اور صرف نیلسن منڈیلا نامی لیبارٹری میں دستیاب ہے۔ یعنی سائوتھ افریقہ سے یہ زہر جس کو’’قلوپطرہ پوائزن سے پکارا جاتا ہے۔ مل سکتا ہے۔ اجلاس میں شریک تمام لوگوں نے پروفیسر برگ کی اس تجویز کوسراہاتھا۔یوں صبح آٹھ بجے شروع ہونے والا یہ اجلاس بارہ بجے ختم ہوا۔
کچھ ریفریش منٹ کرنے کے بعد تمام حضرات جارہے تھے‘ مگر مارٹن پروفیسر پیٹر برگ کاسیل نمبر لینا نہیں بھولا تھا۔ کیونکہ اس کے انکشاف نے جو اس نے قلوپطرہ زہر کے متعلق کیاتھا‘ مارٹن کے پیٹ میں ایک بے چینی سی پیدا کردی تھی‘ جوزہر ڈائری کے صفحوں پر لگا کر کیتھرین کی گاڑی میں رکھاگیاتھا‘ اور جس سے فوراً ہی اس کی موت واقع ہوگئی تھی وہ یہی مہلک قسم کازہر تھا۔
ایک بجے سراغرساں مارٹن اپنے دفتر میں نیویارک ٹائمز اخبار پڑھتے پڑھتے کچھ چونک ساگیاتھا۔ اخبار میں ریگن کی شادی کی خبر چھپی تھی اوراس کے ساتھ جس لڑکی کی تصویر تھی‘ وہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ عروسی جوڑے میں ملبوس تھی۔ اور بڑی دلکش بھی تھی۔
مارٹن سوچ رہاتھا کہ کیتھرین کو مرے ابھی پندرہ دن بھی نہیں گزرے کہ ریگن نے نئی شادی کرلی۔
مارٹن نے کافی پی اور سگریٹ سلگالی۔ وہ جب بھی بیئریاکافی پی کر سگریٹ پیتاتو اس کاذہن تیز ہوجاتاتھا۔ اس نے اخبار لپیٹااور سیدھا پروفیسر سائنسدان پیٹر برگ کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ فون نمبر کے ساتھ ہی مارٹن نے پروفیسر کا ایڈریس بھی لے لیاتھا۔ جب وہ وہاں پہنچا تواس نے کال بیل کابٹن دبادیا‘۱ کچھ دیرخاموشی رہی‘ کوئی دس بارہ منٹ بعد دروازہ کھلا تو پروفیسر سامنے کھڑ امسکرارہاتھا۔ آئیے آئیے مسٹر سراغ رساں صاحب‘ پروفیسر نے بڑی بے تکلفی سے کہا۔ دونوں اندر چلے گئے۔ پروفیسر نے ملازم سے کہہ کرچائے منگوائی‘ کچھ سینڈوچز ‘برگر وغیرہ بھی تھے۔
اور پھر پروفیسر پیٹربرگ نے اپنی کہانی شروع کی جو کچھ یوں تھی… میں میکسیکو کارہنے والا ہوں‘ بچپن میں ہی والدین فوت ہوگئے‘ مجھے کسی رشتہ دار کاکوئی علم نہیں تھا‘ اس وقت میری عمر لگ بھگ تین سال کی ہوگی‘ مجھے سرکاری ٹرسٹ میں رکھا گیا۔ وہاں میں نے سائنس کی تعلیم پر زور دیا۔ یوں جب میں جوان ہواتو مجھے ڈگری مل چکی تھی۔ ٹرسٹ سے نکلا تو مجھے واشنگٹن میں ایک ایٹمی ریسرچ لیبارٹری میں جاب مل گئی‘ میں نے ابھی تک شادی نہیں کی کیونکہ میری ساری دلچسپی سائنس میں تھی۔ شادی کاخیال ہی نہیں آیا‘ پھر مجھے کچھ عرصہ سائوتھ افریقہ بھیج دیا گیا‘ ابھی حال ہی میں وہاں سے واپس لوٹاہوں۔ اور جس زہرکے بارے میں آ پ پوچھنے آئے ہیں یہ زہر اسی لیبارٹری میں موجود ہے۔ پروفیسر نے اپنی داستان ختم کرکے سگریٹ سلگالیاتھا۔ مگر جس مقصد کے لیے مارٹن آیا تھا وہ ابھی پورا نہیں ہواتھا۔ مارٹن نے اپنے کوٹ کی جیب سے وہ اخبار نکال لیاتھا‘ جس میں ریگن اور اس کی دوسری بیوی کی تصویر تھی۔
پروفیسر برگ اس لڑکی کی تصویر کوپہچان چکاتھا۔ یہ وہی الیگزا تھی جو پروفیسر برگ کے ساتھ کیپ ٹائون کی اس لیبارٹری میں کام کرچکی تھی‘ اور جسے سائنسدان پروفیسر برگ نے شادی کے لیے پروپوز بھی کیاتھا‘ مگر وہ ٹال گئی تھی۔
وہ سائوتھ افریقہ کیسے پہنچی یہ کہانی ذرا لمبی ہے‘ فی الوقت آپ یہ سمجھیں کہ وہاں اس کی خالہ رہتی تھی‘ وہ اس کے پاس چلی گئی تھی اور لیبارٹری میں اسے جاب مل گئی۔
اور آج وہی الیگزامسز ریگن پال بن کرسہاگ رات منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی مگر کاتب تقدیر کے فیصلوں کو کوئی نہیں جانتا۔
شام کے پانچ بج رہے تھے جب سراغ رساں مارٹن اپنے دفتر سے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں فون کررہاتھا۔ پھرجونہی شام ڈھلنے لگی‘ دن رات میں بدل گیا‘ آسمان پر کچھ ستارے نمودار ہوچکے تھے۔ جب مارٹن نے کیتھرین لاج کے بڑے گیٹ پرلگی بیل پرہاتھ رکھا‘ ریگن نے جلدی سے دروازہ کھولا‘ وہ سمجھاتھا شاید جیرالڈ گلاب کے پھول لایاہے مگر ایک پولیس آفیسر کے ہاتھ میں ہتھکڑی دیکھ کر اس کی بھویں سکڑ گئی تھیں اور سانسیں پھولنے لگی تھیں۔
اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا۔ پولیس کی تین گاڑیاں اس کے گھر کوگھیرے میں لیے ہوئے تھیں ‘ پولیس چیف کے ساتھ لیڈی پولیس آفیسر بھی تھی۔ مارٹن نے الیگزا کے وارنٹ گرفتاری دکھاتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھادیئے ‘ پولیس چیف اور لیڈی پولیس آفیسر کے علاوہ اور بھی کافی پولیس کی نفری ساتھ تھی۔ اندر الیگزا حجلہ عروسی میں بیٹھی ریگن کاانتظار کررہی تھی۔ مگر اچانک پولیس کو دیکھ کر اس کاگلابی چہرہ پیلاپڑگیاتھا۔ لیڈی پولیس آفیسر نے الیگزا کے مہندی لگے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگادی تھی۔ الیگزا نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ سراغ رساں مارٹن نے اس کے کان میں کہاتھا جو کسی کاسہاگ اجاڑ دے وہ کیسے سہاگن بن سکتی ہے ۔ ریگن جو بت بنا کھڑاتھا ساری صور تحال سمجھ چکاتھا۔ اس کی وہ خواہش آج بھی شاید ادھوری رہ گئی تھی۔ جو وہ بائیس دسمبر کی رات پوری کرنا چاہتاتھا‘ جب الیگزا کو پولیس گاڑی میں لے جارہی تھی‘ ریگن نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں تھا۔ اگلے دن الیگزا کاپانچ دن کاجسمانی ریمانڈ لے لیاگیا‘ مگر پہلے دن ہی اس نے اقرار جرم کرلیا۔
اقبال جرم کرتے ہوئے الیگزا نے بتایا کہ جب کیتھرین بائیس دسمبر کی رات نو بجے یونیورسٹی ہال میں جارہی تھی تواس نے ماسٹر کی کے ذریعے کیتھرین کی گاڑی کادروازہ کھول کر وہ زہریلے کاغذوں والی ڈائری ڈیش بورڈ پررکھ دی تھی‘ اور پھر ریگن کے پاس اسٹور میں پہنچ گئی تھی۔ وہ اس دن کو کوس رہی تھی جب ریگن سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس کے پیار میں ڈوب گئی تھی وہ رو رہی تھی کہ اس نے کیتھرین جیسی معصوم لڑکی کو قتل کردیا۔
جس دن الیگزا کو سزائے موت سنائی جارہی تھی‘ پروفیسر پیٹر برگ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا۔ اس نے الیگزا کے کان میں کچھ کہاتھا مگر الیگزا نے جیسے انکار میں سرہلایاتھا۔ وہ جیل جاچکی تھی۔ مارٹن کے پیٹ میں پھر مروڑ اٹھ رہے تھے۔ وہ بات جاننا چاہتاتھا جوپروفیسر برگ نے کمرہ عدالت میں الیگزا کے کان میں کہی تھی۔ وہ جیل میں الیگزا سے ملا‘ جس کا حسن ماند پڑچکاتھا۔ وہ جسم جو کبھی آفتاب کی طرح چمکتا تھا‘ ہڈیوں کاڈھانچہ بن گیاتھا۔ باتوں باتوں میں مارٹن نے اس سے وہ بات پوچھ ہی لی‘ جس کے لیے وہ بے تاب تھا۔ الیگزا نے بتایا کہ پروفیسر کہہ رہاتھا مجھ سے شادی کرنے کی ہامی بھرلو میں ہائر اتھارٹی سے آپ کی رہائی کی سفارش کردوں گا۔ مگر میں اپنے گناہ کاکفارہ ادا کرنا چاہتی ہوں‘ جیل میں رہ کر۔
آج کیتھرین کی موت کوایک مہینہ ہوچکاتھا۔ اس کی تمام جائداد ٹرسٹ کے حوالے کردی گئی تھی۔ آج اس کاگھربھی نیلام کرکے ساری رقم’’ کیتھرین ٹرسٹ‘‘ کو دی جارہی تھی۔
ریگن پال جب شگاگو جانے والی بس میں سوار ہورہاتھا تواس نے ایک آخری نظر نیویارک شہر پرڈالی تھی‘ اس شہر میں اس کی بہت سی یادیں دفن ہوچکی تھیں۔ وہ جب لاوارث ہو کر یہاں ٹرسٹ میں آیا تھا تو خالی ہاتھ تھا‘ اور آج جب وہ یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جارہاتھا تو بھی ’’خالی ؔہاتھ‘‘

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close