Naeyufaq Nov-17

اقرا

طاہر قریشی

المتکبر

(عظمت وبزرگی والا)

متکبر کے معنی ہیں‘ سربلند‘ عظمت کی آخری حد کوپہنچاہوا‘جس کے سامنے تمام مخلوقات حقیر ہوں‘ عظمت وجلال والا‘ اسم فاعل مفرد مرفوع تکبر مصدر(مدارک) ہر نامناسب صفت سے برتر(محلی) تکبر دوطرح کا ہوتا ہے۔(۱)فی نفسہ کسی میں خوبیاں اور صفات ِحسنہ سب سے زیادہ ہوں(۲)واقع میں تو صفاتِ حسنہ سے خالی ہو اور مدعی ہوکمالِ صفت کا‘اول محمود ہے اور دوسرا مذموم ہے اس لئے پہلے معنی کے اعتبار سے متکبر اللہ تعالیٰ کی صفت ہے وہ محمود ہے۔ دوسرے معنی کا اطلاق کافر اورمغرورانسان پرہوتا ہے‘ جومذموم اور قبیح ہے۔ تکبر کی بدترین قسم یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے سرکشی اختیار کرتے ہوئے خود سربن جائے۔ بڑائی کا گھمنڈ کرنا دراصل اللہ کی بندگی سے منہ موڑنا اور شیطان کے پیچھے لگنا ہے غروروتکبر‘ گھمنڈ‘ بڑائی یہ سب شیاطین کاکام ہے جس کانتیجہ تنزّلی‘پستی ہے۔ بخلاف اس کے اللہ کے آگے جھکنا‘ اس کی بندگی واطاعت کرنا اور ثابت قدم رہنا‘ متقی وپرہیزگاررہناملکوتی عمل ہے جس کانتیجہ ترقی وبلندی اور قربِ الٰہی ہے اور غروروتکبر باعثِ ذلت ورسوائی ہے‘ اس لئے ہی قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے غرور وتکبر‘ گھمنڈ سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے جیساکہ سورہ ٔبنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے۔
ولاتمش فی الارض مرحاانک لناتخرق الارض ولن تبلغ الجبار طولا۔
ترجمہ:۔اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو‘ کہ نہ تم زمین کو پھاڑسکتے ہو اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کوپہنچ سکتے ہو۔ (بنی اسرائیل۔۳۷)
اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو ہدایت فرمارہاہے کہ اے انسانو‘ جباروں متکبروں کی روش سے بچو۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت انفرادی طرز عمل اور قومی رویوں‘ دلوں پریکساں اثرانداز ہوتی ہے۔ اللہ کی ایسی ہی ہدایات کا اثر تھا کہ خلافتِ راشدہ اور اسلامی مملکت کے گورنروں‘ سپہ سالاروں کی زندگی میں اپنی قوت اور اقتدار کا ذربرابر نہ گھمنڈ تھا نہ غروروتکبر‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ایک سے ایک قوی‘ بہادر پائے جاتے تھے لیکن ان کی زندگی میں کسی بھی طرح‘کسی بھی قسم سے نہ جباری کی جھلک تھی نہ کبریائی کی بوباس کاشائبہ تھا۔ یہاں تک کہ عین حالتِ جنگ میں بھی ان کی زبان سے کبھی غرو ر وفخر کی کوئی بات نہیں نکلتی تھی۔ان کا طرز ِزندگی ان کی نشست وبرخاست‘ چال ڈھال‘ لباس مکان‘ سواری‘ تمام بول چال اور برتائو وانکسار‘ تواضع‘ سب میں فقیری درویشی کی شان نمایاں پائی جاتی تھی۔ وہ کوئی ایسا کام کبھی نہیں کرتے تھے جس سے اللہ نے ناپسندیدگی کااظہار کردیاہو۔ غرور وتکبر کواللہ ناپسند فرماتاہے۔ تمام بڑائی‘ تمام غرور وتکبر اللہ جلِ شانہُ کی صفتِ عالی ہے‘ صرف اُسے ہی زیب دیتی ہے کسی اور کوہرگز ہرگز نہیںاور جو لوگ غروروگھمنڈکرتے ہیں اللہ انہیں پسند نہیں کرتا جیساکہ سورۂ الاعراف میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ:۔میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جودنیا میں تکبر کرتے ہیں۔ (الاعراف۔۱۴۶)
تکبر کامطلب ہے احکام ِالٰہی اور آیات ِالٰہی کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور لوگوں کو حقیر گرداننا۔ بڑابننایا تکبر کرنا‘قرآن مجید میں ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالاترسمجھے اور احکامِ الٰہی کی پروانہ کرے‘ اور ایسا طرز عمل اختیار کرے گویا وہ اللہ کابندہ نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے۔ اس کی اس خود سری کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اس زمین میں رہتے ہوئے اللہ کے احکام سے انحراف کرے اور اللہ کی بندگی کااقرار نہ کرے۔ تکبر انسان کو ز یبا نہیں۔ اللہ تعالیٰ توخالق ومالک ہے اور انسان اس کی مخلوق ہے اور کوئی بھی مخلوق اپنے خالق کے مقابل کیسے آسکتی ہے۔ اسی لئے خالق کا مقابلہ کرنا‘ اس کے احکام نہ ماننا اوران سے اعراض برتنا‘انسان کے لئے کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔اس لئے ہی آیتِ مبارکہ میں ارشاد ہواہے کہ میں ایسے لوگوں کو جوتکبر‘ گھمنڈ وغرور کرتے ہیں اپنے احکام سے دورہی رکھو ںگا کیونکہ انسانوں کاتکبر اللہ تبارک وتعالیٰ کوسخت ناپسند ہے۔یہی ارشاد سورۂ یونس (۹۶۔۹۷) میں بھی ہوا ہے کہ ’’جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی‘ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ چاہے ان کے پاس ہر طرح کی نشانیاں آجائیں۔ حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔‘‘
آج ہم ہر جگہ اور ہرمعاشرے میں حتیٰ کہ مسلمان معاشروں میں بھی بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ نیکی منہ چھپائے پھررہی ہے اور بدی کوہر کوئی لپک لپک کر اختیار کررہا ہے۔ احکامِ الٰہی سے اعراض واجتناب کرنے والوں کی ایک عادت یانفسیات یہ بھی ہے کہ وہ ہدایت کی بات کواس طرح نہیں مانتے جس طرح گمراہی کی بات کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ اسے فوراً اپنالیتے ہیں۔
خواص: شیخ عبدالمجید مغربیؒ کافرماناہے کہ جوشخص صالح اس’’اسم المتکبر‘‘ کا ذکر کرے گا اس میں شائستگی اوراس کے کاموں میں باقاعدگی پیداہوجائے گی اور وہ عوام وخواص میں عزت وحرمت پائے گا۔ ۲۳۲ دوسوبتیس مرتبہ روزانہ ’’المتکبر‘‘ پڑھنے سے بزرگی وعزت حاصل ہوتی ہے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close