Naeyufaq Nov-17

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد۔

نومبر کا شمارہ حاضر ہے جس وقت ہم یہ سطور تحریر کر رہے ہیں باہر سورج آگ برسا رہا ہے صبح کے وقت ہی درجہ حرارت 39 ڈگری تک جا پہنچا ہے اللہ ہمارے حال پر رحم کرے، ادھر طاہر صاحب کا حکم ہے کہ کاپیاں جلد سے جلد دی جائیں تاکہ پرنٹنگ کا عمل شروع ہوسکے طاہر صاحب کی خوبی یہ ہے کہ پرچے کی تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کرتے خواہ کتنا بھی نقصان ہوجائے وہ قارئین تک پرچہ بروقت پہنچانے کی روایت برقرار رکھتے ہیں سو ان کے حکم کے آگے سرجھکاتے ہوئے ہم نے بہت سی کہانیوں کو ڈراپ کردیا تاکہ پرچہ بروقت تیار ہوسکے لہٰذا جن قارئین کی کہانیاں اور خطوط شامل نہیں ہوسکے ان سے معذرت وہ مائنڈ نہ کریں۔
ہمارے قارئین کی اکثریت نے سلسلے وار کہانی مرشد جسے ساحر جمیل سید تحریر کر رہے ہیں خاصا پسند کیا ہر پل کروٹ بدلتی یہ کہانی آگے بھی دلچسپ موڑلے گی اور آپ کے دل موہ لے گی۔ مریم جہانگیر کے طویل اور دلچسپ ناول حصار کی دوسری اور آخری قسط شامل اشاعت ہے جن قارئین نے اسے پسند کیا ان کا شکریہ اس ماہ سے نوجوان قلم کار فارس مغل کا ناول ’’ہمجان‘‘ شروع کیا جا رہا ہے تین اقساط پر مشتمل، یہ ناول آپ کو بہت پسند آئے گا فارس مغل کا انداز تحریر آپ کو دیگر لکھنے والوں سے یکسر مختلف محسوس ہوگا پڑھ کر اپنی رائے سے ضرور نوازیے گا محترمہ زرین قمر نے انگریزی ناول کے تراجم کا محاذ خوب سنبھالا ہوا ہے وہ بڑی عرق ریزی کے ساتھ نئے افق کے قارئین کے لیے انگریزی ناول کا انتخاب کرتی ہیں اور پھر انتہائی خوب صورتی سے اسے اردو کے قالب میں ڈھالتی ہیں کہ پڑھنے والا ان کی تحریر کے حسن میں کھو کر رہ جاتا ہے اس شمارے میں ان کا ناول اندھیرے کے مسافر شامل ہے، جو آپ کو خاصا پسند آئے گا پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔ امید کرتا ہوں کہ بخیر و عافیت ہوں گے اکتوبر کا نئے افق کافی دیر سے ملا بہرحال خوشی ہوئی کہ مل تو گیا، ورنہ جس طرح بک اسٹال والے صاحب نخرے دکھا رہے تھے میں تو سوچ چکا تھا کہ دکان کا شٹر گرا کر ان کی پھینٹی لگائو مگر پھر نئے افق موصول ہوگیا، ٹائٹل اس دفعہ خلاف معمول کچھ ماٹھا تھا، اگر خاتون کو پیلے کی بجائے کالا جوڑا پہنایا جاتا تو شاید کچھ بات بن جاتی۔ خیر، اندر داخل ہوئے بڑے قریشی صاحب کی دستک اس سے پہلے کالم کی صورت میں بھی پڑھ چکا ہوں، بہرحال دوسری مرتبہ پڑھ کر اچھا لگا وطن دشمنوں کی کارستانیوں اور سیاست دانوں کے جو ڈرامے آپ نے بیان کیے وہ کئی دہائیوں سے چلتے آرہے ہیں اللہ تعالیٰ ارض وطن کو ہر قسم کی سازشوں سے محفوظ رکھے گفتگو کی طرف بڑھے تو چالیس ہزاروں وولٹ کا ایک مہربان جھٹکا لگا ہائے بلیک لسٹ ہونے کا بھی اپنا ہی ایک مزہ ہوتا ہے ہر جانب گہری تاریکی اور اس تاریکی میں ڈوبتے ابھرتے ہوئے ہر مظلوم آہ کیا کچھ طے کر کے ایک تبصرہ لکھتے ہیں اور وہ بے چارہ محکمہ ڈاک کے بے رحم شکنجے سے نکل کر جب ایڈیٹر کی میز پر پہنچ کر غائب ہوجائے تو پھر جو دکھ ہوتا ہے، اس کا مداوا ممکن نہیں، بہرحال گفتگو میں پرانے ساتھی موجود تھے بہت اچھا لگا دستگیر شہزاد صاحب صدارت کی کرسی پر براجمان تھے اور کافی غصے میں لگ رہے تھے ارے بھائی آپ کیوں اس طرح اپنی توانائیاں کھپا رہے ہیں تنقید کرنے والے تو خوامخوا کہہ دیتے ہیں آپ صرف اپنا کام کرتے رہیے اللہ مزید کامیابیوں سے نوازے، ریاض بٹ صاحب عزت افزائی کا شکریہ آپ کی کہانیاں اب واقعی نیا موڑ لے رہی ہیں امید ہے کہ آئندہ مزید نئے آئیڈیا لے کر آئیں گے کچھ قارئین اب بھی مجید جائی کو صلواتیں سنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ان سے میری گزارش ہے کہ خود کو ضائع مت کریں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا اب اگر آپ کو امید ہے کہ موصوف کوئی معافی مانگ کر بڑے پن کا ثبوت دیں گے تو یہ آپ کی بھول ہے صائمہ نور صاحبہ جائز تنقید کیا کریں ناجائز تنقید کر کے کسی کو موقع مت دیں کہ کوئی آپ کو بھی پرسنل لیول تک آکر مخاطب کرے مسکان ظفر پر آپ کی تنقید بہت ہی بھدے اور بھونڈے انداز میں کی گئی ہے مسکان ظفر نئے افق کی مسلسل قاری ہے اور یہ حق رکھتی ہیں کہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے ہر ماہ تشریف لائیں یا پورے ایک سال بعد اس سے آپ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے جو بات ان کو اچھی نہیں لگی انہوں نے ادارے کو خط لکھ کر اپنی رائے سے آگاہ کردیا آپ کیچڑ اچھالنا اور زہر نکالنا جیسے الفاظ استعمال کر کے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ آپ خود کسی قبیل سے ہیں ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں آپ کو تبصرہ کرتے ہوئے جبکہ مسکان ظفر ایک ادیب کی بیٹی ہے اور ادب سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے براہ کرم ذاتی تنقید سے پرہیز کیا کریں آپ کے اکثر تبصروں میں یہی کچھ ہوتا ہے ابتدائی صفحات پر ایکس ون اپنے اختتام کو پہنچا زرین قمر صاحبہ نے ترجمہ کرنے کا حق ادا کیا ناول کا انجام واقعی چونکا دینے والا تھا امین صدر الدین ہمیشہ دلچسپ اور منفرد موضوع پر لکھتے ہیں پچھے دنوں میں نے ان کو سوشل میڈیا پر ڈھونڈ نکالا ماشاء اللہ نفیس انسان ہیں اللہ صحت والی زندگی دے ان کی کہانیوں میں مجھے بیدی اور پریم چند کے افسانوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے خلیل جبار اچھی رپورٹنگ کرنے کے ساتھ اسے کہانی کی صورت میں ڈھال کر کمال کردیتے ہیں اس دفعہ ناکام پلان نے خاصا متاثر کیا، کہانی کا تانا بانا بالکل کسی جاسوسی ناول جیسا تھا اور انجام بھی چونکا دینے والا تھا سلسلے وار ناولز میں مرشد ٹاپ پر جا رہا ہے ہر قسط ایک نئی سنسنی خیزی لیے ہوتی ہے اور دل کی دھڑکنیں زیر و زبر کرتی جاتی ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ اپنا فیورٹ ناول ایک سو سولہ چاند کی راتیں اس دفعہ نہیں پڑھ سکا کیونکہ اسے پڑھنے کے لیے مجھے مکمل پر سکون ماحول کی تلاش ہوتی ہے تاکہ پوری طرح لطف اندوز ہوا جاسکے ایکشن تھرل اور رومان کس خوبی کے ساتھ یکجا کردیا ہے عشنا صاحبہ نے اور رومان بھی ایسا جو جنسیت سے کوسوں دور کمال ہے واقعی مریم جہانگیر کو پہلے بھی تھوڑا بہت پڑھ رکھا ہے بہرحال ناول کا پہلا حصہ پڑھا ہے ابھی اپنی رائے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں ان شاء اللہ ناول کے اختتام کے بعد اس پر بھرپور تبصرہ کروں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ویلڈن مریم جی، اب کچھ بات کرتے ہیں گوشہ ابن صفی کی ابن صفی کو میں نے بہت پڑھا ہے اور میری بڑی خواہش تھی کہ ان پر آرٹیکل لکھوں لیکن میری بد قسمتی کہ سید عادل اسد صاحب کا فیس بک گروپ بڑی دیر سے میری نظروں میں آیا جب میں نے اسے جوائن کیا تو یہ سیزن ختم ہوچکا تھا بہرحال میں ابن صفی کے تمام متوالوں کو نسخہ کے طور پر عادل بھائی کا یہ گروپ تجویز کروں گا۔ اس دفعہ میرے کافی دوستوں کے آرٹیکلز شامل ہیں جن میں سیف خان، اعتزاز وصلی اور لبنیٰ رضوان نمایاں ہیں، میں ان سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ نئے افق کے ساتھ اب وہ اپنا تعلق قائم رکھیں گے تمام دوستوں کے لیے نیک تمنائیں، والسلام۔
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر۔ اس بار اکتوبر کا شمارہ 24 ستمبر کو ہی مل گیا سرورق کی حسینہ دیکھ کر ہمارے ہونٹوں پر یہ شعر مچلنے لگا۔
پھر اس کے بعد تو آنکھوں میں بس گیا وہ شخص
اگرچہ ہم نے اسے بے دلی سے دیکھا تھا
دستک میں انکل جی میاں صاحب کو کچھ سمجھا رہے تھے کہ عدلیہ کے فیصلے کو تسلیم کریں اور اسے بدنام نہ کریں اور دشمن کا آلہ کار نہ بنیں انکل جی مجھے نہیں لگتا کہ میاں صاحب آپ کی سچی اور کھری باتوں کو سیریس لیں گے انہوں نے کرنی اپنی ہے اور گڑھے میں گرنا ہے پھر لوگ انہیں باہر نکالیں گے اور میاں صاحب پھر ہر کسی سے پوچھتے پھریں گے کہ مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا۔ اقرا میں بھائی طاہر قریشی صاحب اللہ کے ایک اور بابرکت نام الجبار کے بارے میں اس نام کی فضیلت بیان فرما رہے تھے اللہ کا ہر نام ہی بابرکت شاندار ہے گفتگو میں بھٹی صاحب ایک زبردست ناول حصار کے بارے میں فرما رہے تھے کہ مریم جہانگیر یہ طویل ناول نئے افق کے قارئین کے لیے شروع کر رہی ہیں اور اس کا پہلا حصہ شامل اشاعت ہے ناول نے واقعی اپنے پہلے حصے سے ہی اپنے پڑھنے والوں کو اپنے حصار میں لے لیا ہے دوسری خوش خبری آپ نے یہ دی ہے کہ آئندہ ماہ سے فارس مغل کا تین حصوں پر مشتمل ناول ہمجان شامل اشاعت ہوگا دستگیر شہزاد نے اپنے خط میں بہت ہی شاندار الفاظ تحریر کیے ہیں ان کا خط واقعی شاندار تھا امید ہے وہ آئند بھی نئے افق میں لکھتے رہیں گے صائمہ نور مجھے اور میری بیگم کو دعائیں دینے کا بہت بہت شکریہ ریاض بٹ صاحب میرے شعر کے جواب میں زبردست شعر تحریر فرمانے کا بہت شکریہ میرا تبصرہ پسند فرمانے کا بہت شکریہ بارش علی سمیرمیرا تبصرہ پسند فرمانے کا شکریہ، ریاض حسین قمر آپ کا کلام پسند آیا تو تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکا ایم حسن نظامی میرا خط پسند فرمانے کا شکریہ اللہ تعالیٰ آپ کی ہمشیرہ کو جنت میں جگہ دے اور آپ سب لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین، خواجہ حسین میرے خط نئے افق کی رونق بڑھاتے ہیں یہ شعر آپ کا حسن نظر ہے عبدالجبار رومی انصاری آپ کے خط کے شروع کا شعر لا جواب ہوتا ہے میرا خط پسند فرمانے کا بہت شکریہ، تقریباً تمام ہی کہانیاں زبردست رہیں ذوق آگہی میں سباس گل غلام فاطمہ، مہوش نورین خوش بوئے سخن میں قمر آسی مریم ناز، فرح بھٹو، ناہید اختر بلوچ، چھائے رہے، اگر ہوسکے میرا پچھلا خط (جوکہ شائع نہیں ہوسکا) وہ اور یہ خط اکٹھے کر کے شائع فرما دیجیے گا آپ کی بہت بہت مہربانی ہوگی اجازت دیں اللہ حافظ۔
عبدالجبار رومی انصاری… لاہور۔
میری آنکھوں میں دیکھ کیسا حزن و ملال ہے
دل شکستہ نہیں ہوں پھر بھی میرا حوصلہ کمال ہے
تخیل پرواز ہوں میں تو یہ بھی اک انداز ہے
حسن دوشیزگی بھی میرا بے مثال ہے
ہوئے تم دوست جس کے یہ جس کے دوست ہوئے ہیں ان کے ساتھ ناتہ ہونے پر یہ اہل مسلم کا درد نہیں جان سکتے تو یہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کیونکر کرسکتے ہیں بس ایک بیان کی حد تک اور یہ تو ہم اخلاقی اور سفارتی سطح تک کشمیریوں کی حمایت کر رہے ہیں کاش کہ عملی طور اپنے مسلمان بھائیوں، بہنوں، بیٹیوں، بچوں کو انڈیا کے ظلم و ستم سے آزادی بھی دلوائیں کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور یہ شہ رگ ہی ہم ستر سالوں سے آزاد نہیں کرا سکے اقوام متحدہ کی تو بات کرنا ہی بے سود ہے اس ادارے میں مسلمانوں کی کوئی شنوائی نہیں ہے وہ صرف یہود و نصاری و ہنود کے مفاد میں ہے اور مسلمانوں پر ظلم کا تماشہ دیکھنے کو ہے چین ہمارا دوست ہے تو ہماری حمایت بھی کرتا ہے اس کے کردار کو سراہتے ہیں اور مولانا مسعود اظہر لشکر طیبہ کے نہیں جیش محمد کے سربراہ ہیں دوسری طرف روہنگیائی مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس پر بھی کوئی عملی اقدام نظر نہیں آرہا میانمار حکومت ہٹ دھرمی اور ظلم و ستم ڈھانے کی مثالیں قائم کر رہی ہے مسلم ملکوں کو چاہیے انہیں روکے اور مظلوم مسلمانوں کو بچانے میں کردار ادا کرے۔ گفتگو میں دستگیر شہزاد کا دفاعی خط برجستگی کا علمبردار تھا لفظوں کی جادوگری میں بہت کچھ کہہ گئے ہیں سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں باقی انداز بہت اچھا لگا مجید احمد جائی نے طویل بحث میں پڑنے سے گریز کیا اور کروٹ بدل لی بہت اچھا لگا تبصرہ عمدہ رہا صائمہ نور نے بھی اچھا لکھا ثابت قدمی سے انسان ڈٹا رہے تو اسے کوئی بھی نہیں ہرا سکتا ریاض بٹ کے خوب صورت تبصرے میں خوب صورت شعر کے جواب میں کہوں گا۔
رخ تابندہ کی جھلک کی بھی تاب کر
یہ حسن فریفتہ ہے جب چھیڑے آداب کر
علی اصغر انصاری کا آگہی بھرا تبصرہ عمدہ رہا لیجیے بارش علی سمیر آپ نے یاد کیا تو ہم نے بھی خود کو تیرے روبرو کیا انکل ریاض حسین قمر کا بھرپور تبصرہ اچھا رہا اسی طرح حسن نظامی انکل نے بھی خوب صورت گفتگو کی حسین خواجہ کا تبصرہ بھی خوب رہا، اقرا میں الجبار کی خوب صورت تشریح نے دل میں گھر کرلیا اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور عمل نیک کی توفیق دے۔ ایکس ون میں ابنارمل قسم کے جافری کو جتنا بچایا جاتا وہ اتنا ہی دشمنوں کے چنگل میں پھنستا اور آخر کار مارا ہی گیا جبکہ ریٹائرڈ فوجی اپنے مقصد میں کامیاب لوٹتا ہے چور سپاہی کی طرح آگے پیچھے بھاگتے کرداروں کی کہانی ایکس ون اچھی رہی خلیل جبار کی تحریر بھی عمدہ لگی آسان زندگی کے چکر میں صائمہ سہیلی نے فرہاد کا چراغ گل کیا تو ساتھ اپنے دوستوں کی بربادی بھی لے کر آئی لوگ ایسے پیار محبت کا غلط استعمال کرتے ہیں تو برائی کے انجام کو دعوت دیتے ہیں ناکام پلان سے مثبت اور اچھا پلان کر لیں تو زندگی بھی کامیاب ہوجائے بے نور قندیل نے کہاں انڈیا سے سفر شروع کیا اور پر خار راستوں سے پاکستان میں بھی کہیں روشنی نہ کرسکی اگر روشنی کی بھی تو شیراز جیسی کچی اور ظالم بنیاد نے وفا نہ کی اس کے بعد معاشرے کے ظلم و ستم نے اس بے نور قندیل کو ادھیڑ کر رکھ دیا سلمیٰ کی دکھ بھری کہانی نے دکھی کردیا پر اسرار جنگل سے شجاعت علی تو مار کھا کے بحفاظت نکل آیا اور گلنار کا پیار مکمل ہوا البتہ اسے مارنے والے حاکم خان اور منشیات فروش اپنے انجام کو پہنچے ریاض بٹ کی تحریر اچھی لگی واہ اس دفعہ تو محترمہ عشنا کوثر سردار نے پنجابی ماہیے سنا کر سما ہی باندھ دیا بہت اچھے لگے اور امید ہے خوشنما بھی اس بندھن میں بندھ جائے گی لگ تو ایسا ہی رہا ہے ٹرین میں عین کی ثابت قدمی خوب رہی اور تیمور بھی آن ملا مگر ٹرین ابھی بھی پاکستان نہیں پہنچی کوئی میرے حصار میں کوئی تیرے حصار میں ہے ماہ روز جس کو حصار سمجھتی تھی اس سے بھی عدم تحفظ کا احساس ہوا خوبصورت لفظوں سے گندھی مریم جہانگیر کی تحریر حصار زبردست رہی حجاب کی بھرپور مزاحمت اور ثابت قدمی نے ہاشو اور نزہت بیگم کی ایک نہ چلنے دی اور اس غلیظ ماحول میں حجاب کو حسن آرا کی صورت شفیق سایہ میسر آگیا مرشد اچھی جا رہی ہے۔
مجیداحمد جائی…ملتان شریف مزاج گرامی ! اُمید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے خاص کرم و فضل سے خوشگوار زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ حق سچ سننے اور حق سچ کہنے کی توفیق عطا کرتا رہے ۔صحت کی بادشاہی کے ساتھ انصاف کرنے والا بنائے ۔حق تلفی سے بچائے اور ضرورت مندوں کا سہارا بننے کی توفیق دیتا رہے آمین ثم آمین ! ماہنامہ نئے اُفق حسب عادت اور حسب منشاء بروقت مل گیا ۔سرورق جاذب نظر ہے اور دل کش بھی ۔دستک میں نامور اور سینئر کالم نگار جناب مشتاق احمد قریشی صاحب بجا فرمارہے ہیں اور جب نومبر کا شمارہ ہماری دسترس میں آئے گا میاں نواز شریف پھر سے اپنی پارٹی کے صدر بن چکے ہوں گے اورنااہلی سے اہل ہو کر پھر سے وزیراعظم بننے کے خواب بھی دیکھ رہے ہوں گے ۔ قصہ مختصر اللہ تعالیٰ ہمارے وطن اور ہماری ہر طر ف سے ہر طرح کی حفاظت فرمائے آمین ! گفتگو کا آغاز حدیث مبارکہ سے ہوا اللہ تعالیٰ ہمیں حضوراکرم ﷺ کی اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے آمین!محترمہ مریم جہانگیر کا طویل ناول بطور خاص نئے افق کے قارئین کے لیے لکھا گیا ،بڑی خوش آئندہ بات ہے اور یہ خوشی کی خبر بھی لگے ہاتھوں سنائی گئی کہ اگلے ماہ سے فارس مغل کا ناول ’’ہم جان‘‘پڑھنے کو ملے گا ۔خوشیوں کے موسم میں خوشی بھری خبر اچھی لگی لیکن گفتگو کی پُررونق محفل کی رونقیںاب مانڈ پڑتی جاتیں رہی ۔دستگیر شہزاد صاحب نے بہترین انداز تحریر میں کنویں کے مینڈکوں کو جواب دیا ہے ۔چور مچائے شور کے مصدق ان کا کام ہی یہی ہے ۔عمل سے قاصر لوگ صرف واویلا ہی کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اقبال بھٹی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے ،میرے خط کا کچومربنا دیا ۔تین صفحات پر مشتمل دلائل سے مزین خط کایہی حال کرنا تھا تو شائع ہی نہ کرتے ۔آپ جس منصب پر فائز ہیں وہاں مساوات اور انصاف کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے ۔یقینا آپ پورا پورا خیال رکھتے ہی ہیں لیکن سابقہ مہینے اور اس ماہ میں چند معتبر لکھاریوں نے ادب سے ہٹ کر،میری ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے میری دل آزاری ہوئی ۔میں بھی انسان ہوں اور گوشت پوست کا دِل رکھتا ہوں ۔تنقید برائے اصلاح کریں تو سر آنکھوں پرلیکن اگر اپنی تحریروں سے حسد،کینہ پروری اور ذاتی دُشمنی کو فروغ دیں تو زیادتی ہے قارئین کے لیے بھی اور ادارے کے لیے ۔ادارہ کو اس چیز کا خیال ضرور رکھنا چاہیے۔ ریا ض بٹ صاحب کیسے ہیں ۔سدا خوش رہیں اب ہم کتابوں میں ملیں گے ،میرا پرانا نمبر آن ہی ہے رابطہ کیجئے گا۔رہے نام اللہ کا۔علی اصغر انصاری صاحب محبتوں کا بہت شکریہ ،کوئی بھی دودھ کا دُھلا نہیں ہے ۔ریاض حسین قمر صاحب کیسے ہیں ،آپ کا حکم سر آنکھوں پر ،مسکان ظفر بھٹی کا کوئی وجود نہیں ہے ،ایک ہی شخص نام بدل کر خط لکھتا ہے عبدالجبار رومی کہاں مصروف رہتے ہوآپ کی حاضری کم کم ہوتی ہے ۔اقراء پڑھ کر اپنے رب تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا کیا ۔ ایکس ون کا خوبصورت اختتام ہوا ۔پُراسرار جنگل اس بار کہانی خوب اسراریت بھری تھی ۔آخر تک تجسس قائم رہا ۔واقعات اور جملوں کی بنت اعلی تھی ۔بہت خوب ۔بے نور قندیل بہت اعلی اور نہلے پہ دہلا نے کما ل ہی کر دیا ۔پولیس جو ہر عام شہری کو لوٹنے پر تلی ہے اور اپنے کوٹے پورے کرتے ہیں ۔سلمان نے ٹھیک کیا ۔سیانے سچ ہی تو کہتے ہیں لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں ۔عمدہ کہانی ۔گوشہ ابن صفی کمال کا تھا ۔کیا ہی اچھا ہوتا ابن صفی نمبر نکالا جاتا ۔حصار کا آغاز اچھا رہا ۔ناکام پلان نے بھی حیرت میں مبتلا کیا ۔ہیروکون لاجواب تحریرتھی۔مرشد قسط نمبر چار خوب رہی ۔ایک سو سولہ چاند کی راتیں بہتر سے بہترین ہوتا جا رہا ہے ۔ذوق آگہی اور خوشبوئے سخن حسب روایت اچھے رہے ۔
صائمہ نور…ملتان۔ آداب!اُمید کرتی ہوں ہنستے مسکراتے اور صحت بھری زندگی بسر کررہے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ خوشیوں اور مسرتوں سے مالامال فرمائے۔ ماہ اکتوبر کا نئے اُفق اپنی تمام تر رعنائیوں سے مزین بہت جلد مل گیا۔یہ نئے افق کا ہی خاصا ہے کہ یکم سے پندرہ دن پہلے ہی مل جاتا ہے ۔اللہ کرے یہ روایت جاری و ساری رہے آمین ۔یہ سطور لکھ رہی ہوں تو محرم الحرام خیر خیرت سے گزر گیا ہے ۔الحمد للہ کوئی بُری خبر ،کوئی سانحہ نہیں ہوا۔ دستک میں انکل مشتاق احمد قریشی صاحب گہرا تجزیہ کر رہے ہیں اور سیاسی اتار چڑھائو پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔گفتگو کی محفل میں دستگیر شہزادصدارت کی کرسی پر جلوہ گر ہیں اورچوٹ دار جملوں سے کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی گئے ۔عمدہ اسلوب سے مزین خوبصورت خط ۔عقل والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے نشانیاں رکھی ہیں اور گدھوں پر لاکھوں کتابیں لاد دی جائیں ان کو عقل نہیں آتی ۔مجیداحمد جائی کا نام اس بار’’اجیداحمد جائی ‘‘لکھا گیا ۔توجہ دیا کریں ۔مجھے مسلسل شائع کرنے کا شکریہ ۔ریاض بٹ آپ کی دعائوں پر آمین کہتی ہوں ۔اللہ تعالیٰ سلامت رکھے آمین ۔اس بار پرُاسرار جنگل میں تمام راز ہی اُگل دئیے گئے ہیں ۔اگلی تفتیش کہاں سے ہوگی ۔دیہاتی کلچر کو اجاگر کریں کس طرح پولیس دیہاتی لوگوں کو اور دیہاتی چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا کر کورٹ کچہریوں کا رُخ کرتے ہیں اور اپنی جمع پونجی اور جائیداد تک ختم کر بیٹھتے ہیں پلے کچھ نہیں پڑتا ۔آپ کا تعلق دیہات سے ہے آپ بخوبی جانتے ہیں ،ان موضوعات کو اپنی تفتیش کا حصہ بنائیں ۔علی اصغر انصاری بھائی گروپ بندی کبھی کسی کی نہیں ہوئی ،آج جس کے ساتھ آپ ہیں کل کو یہی آپ کے دُشمن ہوں گے ، بارش علی سمیر شکر کریں اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بنایا ہے ،اگر مکمل اختیار انسان کو نہیں دیا۔ ریاض حسین قمر بھائی کیسے ہیں ؟اللہ تعالیٰ آپ کو خوشیوں بھری زندگی عطا کیے رکھے آمین ایم حسن نظامی کا خط پیارا ہے ۔عبدالجبار رومی انصاری بہت شکریہ ۔سلامت رہیں ۔ اقراء ہر بار کی طرح لاجواب ہے ۔ایکس ون آپی زرین قمر نے کمال کر دیا ،ہیرو کون امین صدرالدین بھایانی صاحب دیار غیر میں بیٹھ کر اچھی کہانیاں تخلیق کر رہے ہیں ،ناکام پلان خلیل جبار ہر بار عمدہ تحریر لاتے ہیں ۔بے نور قندیل ،سلیم اختر کا دورانیہ غیر حاضری طوالت پکڑتی جارہی ہے ،کم کم نظر آتے ہیں ۔پُراسرار جنگل نے اس بار تمام ریکارڈ توڑ دیئے ۔نہلے پہ دہلا نے کمال کر دیا ۔پولیس والوں کے وہم و گمان میںبھی نہیں تھا کہ ایک عام لڑکا ان کو اس طرح پھنسا دے گا اور پورا عملہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔حصار کا آغاز اچھا رہا ۔گوشہ ابن صفی نے متاثر کیا ۔چاہنے والوں نے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا ۔ہو سکے تو ابن صفی کی کہانیاں پھر سے یاد رفتگان کے طور پر شائع کی جائیں ۔مرشد بہترین جا رہا ہے ،ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن معیاری ہیں ۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم اقبال بھٹی صاحب السلام علیکم جناب گفتگو میں شرکت کر رہا ہوں امید ہے آپ کی تمام ٹیم نئے افق کی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے خیر خیریت سے ہوگی اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی تمام ٹیم کو صحت تندرستی کے ساتھ خوش و خرم رکھے، آمین۔ محترم جناب مشتاق احمد قریشی نے بھی کیا خوب تحریر پیش کی ہے کوئی تو ہے اس کی تعریف نہ کی جائے یہ ہو نہیں سکتا محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے جس طرح پاکستان کے حالات کی عکاسی کی ہے اس سے تمام پاکستانی لوگ اپنی جگہ سوچیں تو ان کو آج کے پاکستان کی تصویر نظر آئے گی محترم ریاض بٹ صاحب نے میری تعریف کردی بھائی ہم کہاں اس قابل ہیں لکھنا تو کوئی آپ سے سیکھے جناب حسین خواجہ صاحب کا تبصرہ پڑھا بہت خوب جناب اچھا ہی نہیں بلکہ بہت اچھا تبصرہ ہے میری طرف سے مبارک باد قبول ہو صائمہ نور، مجید احمد جائی صاحب اور محترم ریاض حسین قمر صاحب آپ کے خط بہت ہی اچھے ہیں اور میری خط پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ آتے ہیں کہانیوں کی طرف تو جناب ریاض بٹ صاحب کی حاضری لگی ہوئی ہے اور کہانی نفس کے قیدی بہت شاندار ہے جناب آپ کو مبارک ہو لگا تار آپ نئے افق میں شائع ہو رہے ہو یہ ایک ریکارڈ ہے اس کے لیے الگ سے مبارک باد قبول ہو تلخ یادیں، محترم خلیل جبار صاحب، بھوتوں کی جیل محترم دستگیر شہزاد صاحب کی اجڑتا عشق، قرۃ العین سکندر صاحبہ کی جامن کا درخت رابعہ امجد صاحبہ کی بہت اچھی کہانیاں تھیں اور ایکس ون اور مرشد زریں قمر صاحبہ ساحر جمیل سید صاحب کی مدتوں یاد رکھی جانے والی تحریریں ہیں اور نئے افق کی جان تھیں میری طرف سے مبارک باد قبول ہو، محترم اقبال بھٹی صاحب آپ درست ہی کہتے ہیں جو لوگ بھی تبصرہ کریں وہ دوسروں کا خیال رکھیں تاکہ کسی کی بھی دل آزاری نہ ہو ایک غلط لفظ سے کیا سے کیا بات بن جاتی ہے لوگوں کے خیالات ہی ان تبصروں سے معلوم ہوتے ہیں ہمیں ہر حال میں دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے عائشہ بٹ کی رسالے میں کمی محسوس ہوئی اس دفعہ بہت ہی اچھا رسالہ پڑھنے کو ملا اور رسالہ جلد ہی مل گیا جس کے لیے میں آپ کا اور آپ کے ادارے کا شکر گزار ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو اچھی صحت دے اور آپ کا رسالہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے میری کہانیاں ضرور شائع کریں بس صرف آپ سے اتنا ہی کہنا ہے ہمیں بھی آپ اپنی دعائوں میں یاد رکھیں آپ کا بہت بہت شکریہ، اجازت ان شاء اللہ اگلے ماہ زندگی رہی تو پھر شامل ہوں گا۔
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام علیکم، ماہ اکتوبر کا شمارہ حیرت انگیز طور پر 20 ستمبر کو ہی مل گیا بہت مہربانی اور نوازش بروقت پرچہ بھیجنے کی اس بار سرورق بہت ہی دیدہ زیب سندر اور منفرد لگا ویل ڈن اس بار مشتاق احمد قریشی صاحب دستک میں جو حقیقت بیان کر رہے ہیں جو آئینہ دکھا رہے ہیں وہ وقت کی آواز ہے لیکن بات وہی ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے بہرحال اس میں ہمارے عوام کا بھی برابر کا ہاتھ ہے لاہور کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ان کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ ہم عوام کی عدالت سے سر خرو ہوئے ہیں بہرحال اس موقع پر ہماری عقل نے بروقت کام کیا اور ہم اس موضوع پر مزید بحث کو فضول سمجھتے ہوئے خطوط کی محفل میں پہنچے پہلا خط ہے جناب دستگیر شہزاد کا اپنے خط میں دستگیر صاحب نام نہاد نقادوں کو آئینہ دکھاتے نظر آئے یہ تو صرف تنقید برائے تنقید ہی کرتے ہیں دو رسالوں میں ایک ہی کہانی شائع ہونے کے متعلق جو وجہ انہوں نے بیان کی ہے اس سے میں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں اب بات ہوجائے جناب مجید احمد جائی صاحب سے بھائی آپ کے سوالوں کے جواب تو کافی حد تک میری اس ماہ کی تفتیشی کہانی پر اسرار جنگل میں آپ کو مل جائیں گے لیکن کچھ باتوں کا جواب بلکہ وضاحت میں خود ہی کردیتا ہوں کوئی کہانی کسی کو پسند نہ آنا ایک الگ بات ہے کیونکہ ظاہر ہے جب گھر میں ہانڈی پکتی ہے تو وہ سب کی پسند کی نہیں ہوتی بہرحال جہاں تک غلطیوں کی بات ہے تو غلطی کا امکان ہر جگہ ہوتا ہے کمپوزنگ کرنے والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور لکھاری بھی ایک انسان ہوتا ہے باقی رہی بات گھر میں درندہ پالنے کی تو گائوں دیہاتوں میں یہ بات کوئی عجوبہ نہیں کھلی فضا، کھلے گھر اور شوق ہوتا ہے بھیڑیے کی خصلت اور فطرت سے شاید آپ واقف نہیں ہیں، بکریوں پر حملہ کرنا اس کی فطرت میں شامل ہے باقی کام اس نے زخمی ہونے کے بعد کیا تھا باقی اس بات کی وضاحت کہ انہوں نے بچایا کیوں نہیں، تو ایسے حالات میں انسان کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں پھر نذیرے کے ساتھ تو ایک لڑکی بھی تھی جو بے ہوش ہوگئی تھی بہرحال آپ کا تبصرہ سر آنکھوں پر خوش رہیں مجید احمد جائی کے بعد خط ہے صائمہ نور بہن کا بہن یہ جان کر خوشی ہوئی کہ حسن ابدال سے آپ کی یادیں وابستہ ہیں یادیں تو پیتل کے برتن کی طرح ہوتی ہیں اگر ان کو مانجھتے رہو تو یہ نکھری رہتی ہیں ورنہ وقت ان پر کائی جما دیتا ہے میری تفتیشی کہانی پسند کرنے کا شکریہ بہن میری بیٹی ملتان میں بیاہی ہوئی ہے علی اصغر انصاری کیسی ہو آپ کا تبصرہ بھی اچھا ہے بارش علی سمیر میرا تبصرہ پسند کرنے کا شکریہ پیارے بھائی ریاض حسین قمر دکھ سکھ تو زندگی کے ساتھی ہیں جیون ساتھی کا خلا تو تا حیات پورا نہیں ہوتا لیکن صبر کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں ہوتا آپ کا تبصرہ بڑا مدلل اور خوب صورت ہوتا ہے اس بات سے کہ آپ میری تفتیشی کہانی سب سے پہلے پڑھتے ہیں میرا سیروں خون بڑھ جاتا ہے اللہ آپ کو خوش رکھے اور حسب معمول میری کہانی نفس کے قیدی پسند کرنے کا بے حد شکریہ یہ بات بھی سچ ہے کہ سیاستدان اپنی کرسی بچانے یا کرسی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے اوپر کیچڑ اچھالتے ہیں انہیں عوام اور ان کے مسئلوں سے کوئی غرض نہیں عبدالجبار رومی انصاری، میری تفتیشی کہانی نفس کے قیدی پسند کرنے کا بے حد شکریہ اور میرا تبصرہ بھی آپ کو اچھا لگا جس کے لیے مزید شکریہ اور مہربانی آپ کا تبصرہ بھی خوب ہے لو جی خطوط تو ختم ہوئے اس بار کافی ریگولر بھائیوں اور بہنوں کے خطوط غائب تھے خدارا جلدی لوٹ آئیے آپ کے بغیر یہ محفل سونی سونی ہے اقرا میں طاہر قریشی صاحب ایمان افروز تحریر لے کر آئے ویل ڈن اب بڑھتے ہیں کہانیوں کی طرف زریں قمر کی ایکس ون کا انجام بہت ونڈر فل ہے اب ان کی اگلی کہانی کا انتظار رہے گا امین صدر الدین بھایانی کی کہانی ہیرو کون ایک اچھی اور لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ہے یہ تو ان کا خاص انداز ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ خلیل جبار صاحب اس بار بھی ایک اچھی اور سبق آموز کہانی ناکام پلان لے کر آئے صائمہ کو لالچ نے کہیں کا نہیں رکھا اس نے یہ تو سوچا ہی نہیں کہ اس کے اور فرہاد کے تعلقات کا فرہاد کے گھر والوں کو پتا ہے بہرحال اچھے مستقبل کا خواب دیکھنا کوئی بری بات نہیں لیکن اس کو شارٹ کٹ یا غلط طریقے سے حاصل کرنا ایسے ہی انجام سے دو چار کرتا ہے بے نور قندیل سلیم اختر صاحب کی ایک ایسی کہانی ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے دنیا میں ایسے بھی ہوتا ہے ویل ڈن آپ کی کہانیاں دل کو چھو لیتی ہیں عارف شیخ کی مختصر کہانی بھی کمال کی ہے واقعی سیر کو سوا سیر مل گیا تھا اب بڑھتے ہیں گوشہ ابن صفی کی طرف اس سلسلے میں حافظ ابو بکر، سید فہد حسینی، عالیہ چوہدری، عبدالودود عامر، حمزہ رمضان، ظہیر شیخ، اعتزاز سلیم وصلی، لقمان احمد اعوان، اصفینہ ناز، مریم کاشف، فرحان خان، کوثر اسلام، جوہر عباس، لبنیٰ رضوان، وریشہ عبدالجلیل، روشی خان، شائب شیخ، شمعون علی چوہدری، حمیرہ ثاقب، اسماعیل بن محمد، ابن آس، داور عزیز، احتشام شاہ، سیدہ ذکیہ، ثناء اللہ خان احسن، سیف خان، سیدہ عطیہ حنا، عرفان نجمی کانپوری نے اپنی اپنی محبت، عقیدت، یادداشت اور اشعار کا سہارا لے کر خوب سے خوب تر لکھا اور اپنے جذبات اور احساسات صفحہ قرطاس پر بکھیرے میرے خیال میں اگر ان لوگوں کی تعریف نہ کی جائے تو زیادتی اور کوتاہی ہوگی پڑھی لکھی اور اردو ادب پڑھنے والی قومیں اسی طرح اپنے محسن اردو کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور ادارہ بھی اس بات پر تعریف کا مستحق ہے لیکن ادارے سے ایک شکایت بہرحال بنتی ہے کہ انہوں نے شمارہ ماہ ستمبر اور ماہ اکتوبر کو ابن صفی نمبر نہیں دیا میری بھی بڑی خواہش تھی (جیسا کہ ایک قاری) نے بھی لکھا ہے کہ میں جناب ابن صفی قابل صد احترام استاد کو بندہ ناچیز خراج تحسین پیش کرتا لیکن اپنی کم مائیگی کے ہاتھوں مجبور ہوگیا کیونکہ میرے قلم میں وہ الفاظ نہیں جن سے میں ان کے فن کی تعریف کرسکوں ان کے اردو ادب پر اور ہم جیسے طفل مکتب لکھاریوں پر احسانات کا ذکر کرسکوں ان کا ردو ادب میں جو مقام ہے اس کو بیان کرنے کے لیے واقعی الفاظ کا قحط ہے میرے پاس۔
تعریف کیا کروں میں ان کی اے ریاض
ان کا ہے مقام اونچا ہیں لفظ کمیاب
اب اجازت اگلے ماہ ان شاء اللہ ملاقات ہوگی۔
ایم حسن نظامانی… قبولہ شریف۔ قابل قدر بھٹی صاحب آداب سلام عقیدت۔ امید ہے افقی قبیلہ کے سبھی احباب بخیریت ہوں گے اکتوبر کا پرچہ بدلتے موسم کی نوید لیے جلوہ گر ہوا مشتاق احمد قریشی، اقبال بھٹی اور طاہر قریشی کے علاوہ پوری ٹیم نے اسے سجانے سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا تبھی روز بروز اس میں نمایاں نکھار رونما ہو رہا ہے۔ سر مشتاق احمد صاحب سبھی پاکستانیوں کے دلوں پر پر زور دستک دیتے نظر نواز ہوئے جو بلا شبہ معیاری اور معقول فقرات اور عمدہ گفتگو کی عکاس پائیں۔ دستگیر شہزاد نے لفظوں، محاوروں اور تشبیہات سے اپنی گفتگو کو چار چاند لگا دیے تبھی کرسی صدارت کے حقدار ٹھہرے بہن صائمہ نور، ریاض بٹ، علی اصغر انصاری، بارش علی سمیر، ریاض حسین قمر، خواجہ حسین اور عبدالجبار رومی سبھی ساتھیوں نے پرچے پر اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر کسی کی گفتگو پر اثر ٹھہری مگر بہت سے احباب اس محفل میں غیر حاضر پائے میری سبھی سے گزارش ہے کہ واپس لوٹ آئیں اس بزم کو ویران و سنسان نہ ہونے دیں۔ طاہر بھائی نے خداوند کریم کے نام کی فضیلت اور تشریح بے حد عمدگی اور پر اثر فقرات سے کی جس سے من کے سبھی جذبے معطر ہوگئے، میگزین کی پہلی تحریر زرین قمر صاحبہ کے حصہ میں آئی انہوں نے اپنی قابلیت لفظوں، فقروں کے اچھوتے روپ میں بھرپور اجاگر کی اور غدار کی سزا موت ٹھہری۔ امین صدر الدین بھایانی کی عمدہ سوچ بھی منفرد ٹھہری اور تحریر معیاری پائی خلیل جبار کی کورٹ رپورٹ زندگی کے نجی رویوں اور خوب صورت پلاٹ کا احاطہ کرتی پائی عشنا کوثر سردار اور سر سلیم اختر دونوں کی تحریریں لا جواب پائیں ویلڈن جی، ریاض بٹ بھی وسیع و عریض الفاظ رکھتے ہیں ان کے من کی ڈکشنری کے لفظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے انتظار میں سرنگوں کھڑے مسکرا رہے ہوتے ہیں اور اپنے استعمال کی باری پہ جیسے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مریم جہانگیر کے حصار کا پہلا حصہ بے حد اچھا لگا اسریٰ کے کردار پہ حیرت ہوئی نہلے پر دہلا بھی اچھی رہی۔ ابن صفی کے بارے میں سبھی ساتھیوں نے خوب صورت پیرا گراف میں عمدہ باتوں سے اچھی محفل سجائی اردو ادب میں ان کی خدمات مدتوں یاد رکھی جائیں گی ایسے نامور اور معروف لوگ صدیوں بعد پیدا ہوا کرتے ہیں اور تاریخ کے اوراق پر سنہرے حروف بن کر سدا چمکتے رہتے ہیں ذوق آگہی میں سبھی ساتھیوں کے خوب صورت تاثرات اور منفرد تجزیے اچھے لگے خوش بو سخن کی شاعری دل کو بھا گئی۔ ساحر جمیل سید کے ناول کی چوتھی کڑی اچھوتے اور منفرد مقام پر پائی ساتھیوں اشکوں کی جھڑی آسمان سے ہی نہیں آنکھوں سے بھی برستی ہے اور رونے کے لیے آنکھ ہی نہیں دل بھی ہوتا ہے اور دل بے سبب نہیں روتا کبھی یاد زخم بن کر دھڑکنوں پر دستک دیتی ہے تو ایک ایک کر کے یادوں کے دریچوں سے چمکتی ریت صاف ہونے لگتی ہے دھندلائے مناظر جیتے جاگتے کردار بن کر آنکھوں کے سامنے لہرانے لگتے ہیں پھر نگاہوں سے اشک ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگتے ہیں مگر ملنا اور بچھڑنا دنیا کی ریت ہی نہیں ایک اٹل حقیقت بھی ہے کوئی دو پل کے لیے بھی یا پھر عمر بھر آخر ایک روز تو جدا ہونا ہی پڑتا ہے نا میں نہایت افسوس سے لکھ رہا ہوں کہ میری ماں جیسی عظیم ہستی بڑی ہمشیرہ مجھے بیکراں تنہائیاں اور ویرانیاں سونپ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ انا للہ و انا علیہ راجعون۔سبھی احباب سے ان کی بخشش کی دعا کی اپیل ہے خداوند کریم انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ مدیر محترم جناب اقبال بھٹی صاحب سلام شوق امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے نئے افق اکتوبر کا شمارہ بروقت مل گیا تھا سرورق اس بار سادہ مگر خوب صورت ہے رب کریم اپنے حبیب ﷺ کے صدقے جناب مصور صاحب کے ہاتھ میں مزید صفائی لائے آمین۔ دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے جس طرح بہت کڑوا سچ بیان کیا ہے وہ قابل تعریف ہے میں یہاں عرض کرتا چلوں کہ نام نہاد اقوام متحدہ (یو این او) دراصل بھارت کی لونڈی بڑی بڑی عالمی طاقتوں کی داشتہ اور تمام مسلمانوں کی کٹر دشمن ہے وہ بھلا مسئلہ کشمیر کو کیسے حل کرائے گی ان شاء اللہ اس پلید ادارے کا بھی سابقہ لیگ آف نیشنز جیسا انجام ہوگا مگر اس وقت تک یہ مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا چکا ہوگا، رب لم یزل دور حاضر کے مسلم حکمرانوں کو عقل کے ناخن عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔ گفتگو کے آغاز میں بیان کی گئی حدیث مبارکہ اس دور کے نوجوانوں کے لیے ایک ایسا سبق ہے جو نئی نسل کو ازبر ہوجانا چاہیے خطوط میں کرسی صدارت جناب دستگیر شہزاد کے حصے میں آئی ہے ان کا خط بڑا مدلل ہے انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں ایک بات سمجھانے کی کوشش کی ہے وہ اس میں بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں جائی صاحب کا خط بھی کافی مدلل اور پر معنی ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ بہن صائمہ نور صاحبہ نے جس پیارے انداز میں مجھے یاد رکھا اور یاد کیا ہے اس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں جناب ریاض بٹ صاحب ایسی انوکھی تفتیشی کہانی اور پیارے خط کے ساتھ تشریف لائے ہیں ریاض بھائی میرے تبصرے کو پسند فرمانے کا بہت بہت شکریہ ایم حسن نظامی صاحب خط پسند فرمانے کا شکریہ باقی خطوط بھی اپنی اپنی جگہ خوب ہیں، خوش بوئے سخن اور ذوق آگہی بہت ہی خوب ہیں اقرا میں جناب طاہر قریشی صاحب حسب معمول ایمان تازہ فرما رہے ہیں، مدیر محترم آخر میں کچھ گلے شکوے بندہ ناچیز نئے افق کا بہت ہی مخلص اور پرانا قاری ہے اس ناتے میرا گلہ کرنا حق بنتا ہے میں نے دودفعہ جوابی لفافہ بھیج کر محترم نسیم سحر کا موبائل نمبر اور گھر کا پتا مانگا تھا مگر دونوں دفعہ ادارے کے کانوں پر جوں نہیں رینگی اور میرے جوابی لفافے ردی کی ٹوکری کی نذر کردیے گئے جس کا مجھے بہت قلق ہے۔
(محترم ہمارے پاس نسیم سحر کا ایڈریس دستیاب نہیں اگر ہوتا تو ضرور ارسال کرتے)
محمد فرقان… چکوال۔ آداب امید نہیں بلکہ یقین اور پکے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ تمام حاضرین محفل خیر و عافیت سے ہوں گے اور کیوں نہ ہوں، جن کے سر پر نئے افق کا سایہ تا ابد لہراتا رہے گا ستمبر کا پرچہ دیر سے ملا اس لیے تبصرہ نہ کرسکے، میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں، اس لیے سارا رسالہ نہیں پڑھ سکتا، ٹائم ملے تو سارا بھی پڑھ لیتا ہوں، اکتوبر کا شمارہ پچیس کو ملا سرورق پہ طائرانہ نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ پری نما مخلوق آئینہ میں پرتوئے جمال دیکھا رہی تھی، ریاض بٹ جی آپ میرا کیوں شکریہ ادا کرتے ہیں بلکہ ہم تو آپ کے شکر گزار ہیں کہ ہر ماہ اچھوتے پلاٹ کے ساتھ حاضری دیتے ہیں دستگیر شہزاد صاحب نے اپنے طویل خط میں حق کہا اور دو ٹوک کہا مجید احمد جائی نے بھی درست کہا کہ آدھا گلاس خالی ہے کہ بجائے آدھا گلاس بھرا ہوا ہے، پر اعتماد ہونا چاہیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو صائمہ نور صاحبہ ہی بتائیں گی کیونکہ ہم نے تو اونٹ نہیںرکھے ہوئے اور جہاں تک محاورے کا تعلق ہے تو وہ وقت بتائے گا۔ علی اصغر انصاری جی آپ کی ہدایت کو مد نگاہ رکھتے ہوئے ہی مفصل خط لکھ رہا ہوں (خیر اتنا مفصل بھی نہیں)بارش علی سمیر ہماری پوسٹ اگر سپر ہٹ ہے تو آپ کی بھی سوپر سے بھی اوپر ہے واہ جی واہ ۔ ریاض حسین قمر بھی شریک بزم تھے عبدالجبار رومی انصاری نے بھی اچھا تبصرہ کیا عارف شیخ نے نہلے پہ دہلا میں دو صفحوں پر عقل مندی کا فلسفہ آشکار کیا، مریم جہانگیر نے حصار میں حقیقت سے قریب تر باتیں لکھیں اور بہت خوب بہت خوب لکھا، اس بار فن پارے نہیں تھے مگر ابن صفی کی بابت میں گفتگو فن پاروں سے کم نہیں تھی پلیز فن پاروں میں ہر بار پریم چند کی کہانی شامل کریں ستمبر کے شمارے میں ڈیرہ غازی خان سے انابیہ رحمان کے خوش بوئے سخن میں پیا نام کی غزل لکھی تھی جو خوب رہی، آئندہ بھی ایسی ہی غزلیں لکھتی رہا کریں امین صدر الدین بھایانی کے قلم سے ہیرو کون فٹ رہی، ریاض بٹ صاحب کی پر اسرار جنگل اس بار بھی سب پر سبقت لے گئی۔ اگلے ماہ تک لیے فی امان اللہ۔
ناقابل اشاعت کہانیاں:۔
زندگی ہے تو(قرۃ العین سکندر)، صلہ (عائشہ بٹ)، ابن آدم (اکرم اسلم)، چاچا کرمو (عائشہ بٹ)،چھوٹی پکار)(گل مہر)، پاگل (گل مہر)، حسین ناگن (معاویہ عنبر وٹو)

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close