Naeyufaq Oct-17

مرشد/قسط 4

ساحر جمیل سید

 ’’کون ہے بھئی ؟‘‘
’’کون ہے ووئے؟‘‘
ایک ساتھ دو آوازیں بلند ہوئی تھیں‘ ایک مکان کی دوسری منزل سے اکرم عرف اکو کی ‘جو بشیرے کے ساتھ پہرے پرمامور تھااوردوسری مرشد کی‘ کتکان نے بھی فوراً بھونکنا شروع کردیاتھا۔
’’دروازہ کھول شاہ زادے !‘‘
جواب میں سنائی دینے والی بلند اور پاٹ دار آواز پر وہ سبھی چونک پڑے۔ مرشد فوراً ہی دروازے کی طرف بڑھ گیاتھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو رستم لہوری کوبالکل دروازے کے سامنے کھڑاپایا۔ اس کے عقب میں اس کے چند کارندے بھی موجود تھے۔
’’رستم لالا! اس وقت‘ اس طرح اچانک… خیریت تو ہے نا؟‘‘
مرشد نے کسی قدر تعجب سے پوچھا۔ رستم لہوری کی آمد قطعی طور پر غیر متوقع تھی۔وہ تو کبھی مہینوں بعدہی ادھرکارخ کرتاتھا۔ اکثر اوقات مرشد ہی اس کے ڈیرے پرچکر لگاآتاتھا۔
’’سب خیریت ہی ہے شاہ زادے‘ بس دل کیا اور اٹھ کرچلا آیا۔‘‘
رستم نے آگے بڑھ کرمرشد کوبازوئوں میں بھرتے ہوئے کہا۔
’’تو تو ہوگیاہے مہنگا‘ آج تین ہفتے ہوگئے اور تجھے اپنے لالا کا خیال نہیں آیا کہ شکل ہی دکھادے‘ سومیں چھاپامارنے آگیا۔‘‘
’’مگر… اس وقت!‘‘ شاید رستم کے جواز پر مرشد کی تشفی نہیں ہوئی تھی۔
’’چھاپے توایسے بے وقتے ہی ہوتے ہیں نا۔‘‘ یہ نصیر تھا‘عقب میں سات بندے اور تھے۔ سبھی مرشد کو سلام کرتے ہوئے اندر آگئے۔ وہ چبوترے کی طرف بڑھے۔ ساون اور مراد پہلے ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
رستم‘ نصیر‘ مرشد اور ساون تو چبوترے پربیٹھ گئے جب کہ مراد رسمی علیک سلیک کے بعد تین بندوں کو ساتھ لے کر اندرونی طرف چلاگیا۔ چبوترے کے اردگرد فوراً ہی تین چار چارپائیاں نکال کربچھادی گئیں۔ اوپری منزل سے اکو اور شبیر بھی اتر آئے اور مرشد کے مزید تین ساتھی جو دوسری منزل پر سو رہے تھے وہ بھی فورااً چہروں پر پانی کے چھینٹے مار کر رستم لہوری کے گھٹنے چھونے کی غرض سے چلے آئے۔ وہ لوگ نیچے آئے تو رستم کے دو آدمی غیر محسوس سے انداز میں اوپری منزل کی طرف چلے گئے۔
مراد اکو اور جعفر کو ساتھ لے کرناشتے پانی کے انتظام کے لیے نکل گیا۔ باقی چارپائیوں پر مسلط ہوگئے۔ بظاہر وہ لوگ خود کومطمئن ثابت کررہے تھے مگر مرشد نے محسوس کرلیا کہ وہ کچھ چوکنے سے ہیں اور جو دوبندے چھت پر گئے تھے انہیں بھی مرشد نے کھسکتے ہوئے دیکھ لیاتھا۔
’’جوانوں نے رات بھرجاگامنایاہے … ہیں۔‘‘
رستم نے جگ گلاس اور بوتل کو دیکھ لیاتھا۔
’’بس چبل پنے کا موڈ بن گیاتھا۔‘‘
عورت اور شراب دونوں چیزیں مرد کو کہیں کانہیں چھوڑتیں‘ عورت گھٹنوں سے لے بیٹھتی ہے تو شراب کم بخت کلیجہ کھاجاتی ہے۔‘‘
مرشد نے نظروں کازاویہ بدل کر دیکھا‘ اس کارکھاہوا گلاس ویسے کاویسا بھرا رکھاتھا‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر گلاس اٹھالیااور ایک شعر جیسے خود بخود اس کے ہونٹوں سے پھسل پڑا۔
پیتاہوں اس غرض سے کہ جل جائے جوانی
واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا!
گھٹنوں میں تو ہمیشہ سریارہے گا لالا‘مگر یہ کلیجہ … یہ کم بخت خون بن کرمنہ سے باہر آجائے تو شاید سینے میں کچھ ٹھنڈک اتر آئے۔‘‘
اس نے گلاس ہونٹوں سے لگالیا۔
’’تونے کسرت وغیرہ چھوڑ رکھی ہے ؟‘‘
’’نہیں‘ بس ایک وقت… صبح یاپھر شام میں۔‘‘
’’زندگی تو بس جوانی کانام ہے شاہ زادے! اسے موت تک قائم رکھاجاسکتاہے لیکن اسے سنبھال کر‘ لگام دے کر نہ رکھاجائے تو یہ بس چند سال کی ہوا ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد بندہ فارغ… لہٰذا اس کی قدر کرو… کلیجہ خون کرنے میں تو کوئی وقت نہیں لگتا۔‘‘ رستم نے لاچا تھوڑاسمیٹتے ہوئے گائوتکیے سے ٹیک لگالی۔
نصیر ساون کے ساتھ کسی بات میں مگن تھااور ان کے باقی کارندے اور مرشد کے ساتھی آپس میں گپ شپ کرنے لگے تھے۔ مرشد اوررستم کے درمیان یونہی بے مقصد سی باتیں ہو رہی تھیں۔ صحن میں صبح کی سپیدی اتر آئی تھی‘ پھربیرونی دروازے سے مراد لوگ اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے ناشتے کے برتن بھانڈے اور شاپرز وغیرہ اٹھارکھے تھے۔ اندر آتے ہی وہ لوگ فوراً سب کے سامنے ناشتہ سجانے لگے۔
رستم لہوری‘ نصیر‘مرشد‘ ساون اور مراد چبوترے پر ہی بیٹھ گئے۔ مراد نے خوب اچھاانتظام کیاتھا۔ سری پائے‘ نہاری‘ دھی‘ پراٹھے‘اکو تین چار بندوں جتنا کھانا لے کر چھت پرچلاگیا اور مراد جب چبوترے پربیٹھاتودزدیدہ نظروں سے رستم کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں مرشد سے مخاطب ہوا۔
’’پانچ چھ بندے باہر بھی ہیں… انہوں نے نہ تو ناشتہ قبول کیااور نہ ہی ا ندر آنے کو تیار ہوئے‘ ان کاکیا؟‘‘
’’کہاں؟‘‘ مرشد نے مختصراً پوچھا۔
’’تین باہر گلی میں ہیں اور دو ادھر… گلی کی نکڑ پر۔‘‘
’’ٹھیک ہے … ان کی ٹینشن مت لو‘ وہ فی الوقت ڈیوٹی پرہیں۔‘‘مرشد زیرلب مسکرایاتھا۔
’’کیسی ڈیوٹی ؟‘‘
’’جب لالا پردہ رکھ رہا ہے‘ نہیں بتاناچاہتاتو پوچھ بھی مت۔‘‘
مرشد ناشتے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مراد نے ایک نظر رستم اور مرشد کی طرف دیکھااور خاموشی سے کھانے لگا۔ ناشتہ سبھی نے خوب سیر ہو کر کیا‘ اس کے بعد رستم نے مرشد اور نصیر کوساتھ لیااور ایک اندرونی کمرے میں آگیا۔
کمرے میں صرف لکڑی کا ایک بینچ‘ دو کرسیاں اور ایک چارپائی رکھی تھی۔ رستم چارپائی پربیٹھ گیا جبکہ مرشد اور نصیر کرسیوں پر…چند لمحے ان کے درمیان خاموشی رہی پھرمرشد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’چلو لالا! بہت ہوگئی اب دل کابوجھ اگل بھی دو۔ کب تک داڑدوتلے کنکر دبائے رہوگے۔‘‘
’’خبر ملی تھی کہ یہاں دوگروہ حملہ آورہونے والے ہیں۔ کچھ بندے کالے خان کے اور باقی اجو گھوڑے کے مسٹنڈے… سنا ہے کہ گھوڑا خود ان سب کے ساتھ آنے والا ہے۔‘‘
رستم بغور مرشد کے چہرے کو دیکھ رہاتھا مگر اس کاچہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
’’تو یعنی تم اپنی فوج کے ساتھ مرشد کابچائو کرنے کے لیے پہنچے ہو۔‘‘
’’نہیں … گھوڑے کی طبیعت درست کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘‘
’’گھوڑا…‘‘ مرشد نے ہنکارا سا بھرا۔ ’’کالے کے کتوں کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ کل چھترول کروا کرگئے ہیں مگر گھوڑے کے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھا ہے… اسے کیا تکلیف ہے۔‘‘
’’کالے خان کابھائی اوراس کے کچھ مزید بندے گھوڑے سے جاملے ہیں اورگھوڑا تو تیرے لیے عرصے سے دل میں کدورت رکھتاہے۔ وجہ تو جانتاہی ہے۔‘‘
’’ہاں! وہ بھی اپنے چیلوں سمیت ادھر سے جوتی کھاکرگیاتھا مگر شاید کسر باقی رہ گئی۔ عقل نہیں آئی اسے …مزید سیوا خاطر چاہتاہے وہ۔‘‘
’’دشمن کوہمیشہ خود سے زیادہ سمجھنا چاہیے مرشد اور پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے تو گھوڑا ویسے ہی کافی زور پکڑ چکاہے۔ رانا سرفراز اس کی پشت پناہی کررہاہے۔‘ نصیر نے سنجیدگی سے کہا۔ رانا سرفراز سے مرشد بھی واقف تھا۔ وہ شیخوپورہ کارہائشی تھااور پنجاب اسمبلی میں ممبر تھا۔ خاصے اثر ورسوخ والا بندہ تھا وہ۔
’’گھوڑا اور دشمن۔‘‘ مرشد کے چہرے پربدمزگی کے تاثرات پھیل گئے۔
’’حد کرتے ہو لالا نصیر! اب گھوڑے جیسی چیزوں کو دشمنوں میں شمار کرنا ہوگا… دشمنی کابھی کوئی معیار ہوتا ہے۔ ایسے شہدوں سے اپنا کیا واسطہ بھلا۔ باقی اگروہ آجاتا ہے تو اچھاہی ہوگا پہلے وہ یہاں کی ساری گلیوں میں مجرا کرے گا اس کے بعد اسے نتھ پہنا کررانا سرفراز کے ہاں بھیج دوں گا۔ ذرا بھی عقل نام کی چیز اس راناکے پاس ہوئی تو خود ہی گھوڑے کی پشت سے ہاتھ ہٹالے گا وہ۔‘‘
’’میں نے دلاور کوبھیجاہے ناگھوڑے کی طرف… سمجھ داری سے کام لے گاتو شرارت سے باز رہے گا‘ نہیں تو پھر دیکھ لیں گے اسے۔‘‘
رستم نے نصیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اگر گھوڑا شریف کی خدمت میں ایلچی بھیج دیا تھاتو پھر ادھر آنے کی کیاضرورت تھی ؟‘‘ دلاور کی گھوڑے کی طرف بھیجنے والی بات شاید مرشد کواچھی نہیں لگی تھی۔
’’یہ بات تجھے سمجھانا تھوڑا مشکل ہے۔ تیری عمر میں ‘میں بھی ایسا ہی ہوا کرتاتھا۔ ضدی‘ جذباتی‘ بالکل اکھڑ مزاج‘ جوانی کے خون کی تاثیر ہی الگ ہوتی ہے‘ بندے کوہرمشکل‘ ہر مسئلے کاایک ہی حل سمجھ آتا ہے‘ بازو کی طاقت‘ مگر بازوئوں کی طاقت سے زیادہ طاقت ہوتی ہے انسان کے دماغ میں … جسے عقل کہا جاتاہے لیکن عقل بھی آتے آتے ہی آتی ہے‘ ابھی تونے خود ہی کہاتھا ناکہ دشمنی کابھی کوئی معیار ہوتا ہے توبس اسی طرح سمجھ لے کہ گھوڑے جیسے لوگوں سے کسی سڑک چوراہے پردنگل کرناہم لوگوں کوجچتانہیں۔‘‘
وہ تینوں کچھ دیر مزید وہیں بیٹھے بات چیت کرتے رہے۔ ان کے وہیں بیٹھے بیٹھے دلاور بھی پہنچ گیا۔ وہ گرم جوشی کے ساتھ مرشد سے ملاتھا‘ رستم کی سوالیہ نظروں پر اس نے بتایا کہ اس کی بات گھوڑے کی سمجھ میں آگئی ہے‘ او راب وہ ادھر کومنہ نہیں کرے گا‘ ساتھ ہی اس نے کالے خان کابھی بتایا کہ ا س نے بھی فون پراپنے بھائی اور گھوڑے کومنع کیاہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی قدم ابھی نہ اٹھایاجائے اور یہ کہ آج شام تک کالے خان خود بھی واپس پہنچ جائے گا۔ یعنی فی الوقت فساد ٹل گیاتھا مگر رستم لہوری ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہواتھا۔ وہ کافی دیر تک وہیں موجود رہااور جب جانے لگاتو مرشد کے منع کرنے کے باوجود اپنے پانچ بندوں کووہیں چھوڑ گیا۔
رستم کے جانے کے بعد مرشد دوسری منزل پر اپنے کمرے میں پہنچ گیا۔ اسے ذرا بھربھی کوئی فکر یاپریشانی نہیں تھی۔ رات بھر کا جاگاہواتھا‘ شراب بھی کچھ زیادہ ہی پی تھی‘ سووہ بوجھل طبیعت کے ساتھ بستر پر دراز ہوااور کچھ ہی دیر میں اپنے گردوپیش سے بے خبر ہوگیا‘ پھرجس وقت اس کی آنکھ کھلی اس وقت عصر کی اذانیں سنائی دے رہی تھیں‘ سرقدرے بھاری تھا‘ کچھ کسلمندی سی طاری تھی‘ فجر اور ظہر کی نمازیں بھی آج قضا ہوگئی تھیں۔ لہٰذااس نے غسل کرکے سب سے پہلے نماز ادا کی اور پھر زینے اتر کرنیچے چلاآیا۔
مراد اور شبیر چبوترے پربیٹھے تھے‘ ان کے ساتھ دوبندے رستم لہوری کے بھی موجود تھے۔ جعفر اور اکو کسیاں سنبھالے صحن کے آدھے حصے میں بنائے گئے اکھاڑے کوتازہ کرنے میں مصروف تھے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے پرجگت بازی بھی کررہے تھے۔
مرشد کے پہنچتے ہی رستم کے بندوں نے چبوترہ چھوڑد یا۔
’’آج تو گھوڑے گدھے سب بیچ کر سوئے ہو استاد! ظہر کی نماز بھی نہیں پڑھی۔‘‘ مراد فوراً چہکاتھا۔ مرشد اس کے قریب ہی ٹانگیں لٹکا کر چبوترے پرٹک گیا۔
’’ساون کدھر ہے ؟‘‘
’’وہ بھی ابھی جاگاتھا۔ منہ بھی نہیں دھویااور نکل گیا‘ اپنی گلابو کی طرف‘ کہہ رہاتھا کہ میں نے خواب میں دیکھاہے کہ گلابومجھے یاد کررہی ہے۔‘‘
’’یہ گلابو کچھ زیادہ ہی سوار نہیں ہوتی جارہی اس کے دماغ پر؟‘‘
’’ہوتی جانہیں رہی … ہوچکی ہے۔‘‘
’’ بس کر مرادے! کیوں الزام لگا وے ہے اس غریب پر۔‘‘ جعفر کسی ایک طرف رکھتا ہوابولا۔
’’اپنے ساون کے دماغ پر سوار نہیں وہ … ساون اس کمینی کے دماغ پرچڑھا ہواہے۔ ساون تو اپنے گھر چکر لگانے گیاہے استاد۔‘‘
جعفر بات کرتا ہواچبوترے کی طرف آیا تو اکمل اور دلشاد(رستم کے حواری) قمیص اتارتے ہوئے اکھاڑے کی طرف بڑھ گئے۔
’’اجازت ہے نااستاد۔‘‘
دلشاد نے مرشد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھاتھا۔ مرشد نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے مراد کومخاطب کیا۔
’’کیوں ہر وقت فضول کی ہانکتا رہتا ہے تو؟‘‘
’’پتانہیں پھرگھر ہی گیا ہوگا‘میرے سامنے تو گلابو ہی کویاد کررہاتھا۔‘‘
’’لالا کے باقی تین بندے کدھر ہیں ؟‘‘
’’ایک چھت پر اور دوباہر ادھر… چاچے گوگے کے تھڑے پربیٹھے ہیں۔‘‘ شبیرے نے جواب دیاتو جیسے مراد کو بھی یاد آگیا۔
’اوئے ہاں! مجھے تو خیال ہی نہیں رہا‘ یہ چکر کیا ہے استاد۔‘‘
’’مطلب ؟‘‘
’’مطلب یہی … ان کی یہاں موجودگی اور استاد رستم کااس طرح پہنچنا‘ کیارولا ہے ؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں ۔‘‘
’’چلوعام ہی سہی‘ پتاتو چلے۔‘‘
’’لالا کاخیال ہے کہ کالے خان کے لوگوں کی طرف سے انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’او واہ بھئی ! تو ان زنخوں کے لیے استاد چل کر یہاں تک آپہنچا‘ حد ہے۔‘‘
’’ان سب کے لیے تو ہم دوچار ہی کافی تھے۔‘‘
شبیرے نے فوراً اظہار کیاتھا۔
’’مرشد استاد! کہوتو ان کے ڈیرے پرجاکر کھڑکا آویں سب کو؟‘‘ جعفر ان کے قریب آکھڑاہواتھا۔
’’لعنت ڈالو۔‘‘
‘’’کل پانچ جنے جوتے کھاکے گئے ہیں اور آج باقیوں کوخارش شروع ہوگئی۔‘‘
’’کہاہے نامٹی ڈالو‘ کوئی اور بات کرو۔ بلکہ لنگوٹ کسو‘ اکھاڑہ تازہ ہوچکا ہے۔‘‘
مرشد نے بے پرواہی سے کہااور پھر سب حسب معمول باری باری تیاری کرکے زور آزمائی اور کسرت میں مشغول ہوگئے۔ ہمیشہ کی طرح مرشد نے ایک ایک دو دو کو پچھاڑااور ہاتھ پائوں جھاڑتا ہوا اکھاڑے سے نکل گیا۔
’’تم لوگ جاری رکھو‘ اذان ہونے والی ہے‘ میں نماز پڑھ کرآتاہوں۔‘‘
اس کے ساتھی جانتے تھے کہ مغرب کی نماز مرشد نے کہاں پڑھنی ہے۔
مرشد نے نہا کر لباس تبدیل کیا… اتنے میں مغرب کی اذان شروع ہوگئی اور وہ مکان سے نکل کر‘ عموماً وہ صبح سے رات تک تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر دوتین بار گھر کا چکر ضرور لگالیاکرتاتھا مگر آج سارا دن وہ یہیں موجود رہاتھا۔ اسے اپنی باجی امی کاخیال آیاتو سینے میں وہی مخصوص تلخ سی جلن جاگ اٹھی جو بچپن سے اس کے ساتھ ہی پروان چڑھی تھی۔
’’پتانہیں آج دن میں اماں نے دوا بھی کھائی ہوگی یانہیں۔‘‘
اس نے سرجھٹکااور اپنے شناسائوں کے سلام کاجواب دیتاہوا آگے بڑھتاگیا۔
حسب سابق اس کے ذہن میں یہی تھا کہ سب سے پہلے چپ چاپ اماں کودوا کی خوراک کھلائوں گااس کے بعد چھت پر جاکر نماز ادا کروں گااور کچھ دیر وہاں کی کھلی اور شفاف آب وہوا میں بیٹھ کر فضا کی وسعتوں کانظارہ کروں گا۔ وہ یہی سب سوچتا ہوا حسن آرا کے کمرے تک پہنچاتھا‘ پھر جب دروازے کے سامنے لٹکتاہوا باریک پردہ ہٹاتے ہوئے وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا‘ بے اختیار ٹھٹک گیا۔ اس کے بالکل سامنے ہی ایک ایسا انوکھااور غیر متوقع منظر تھا کہ اس کے پائوں قالین پر جم کررہ گئے۔ آنکھیں جھپکنا بھول گئیں اور وہ کسی پتھر کے بت کی طرح وہیں کھڑے کاکھڑارہ گیا۔
:…ء … ً
حجاب بی بی کے لیے زندگی ایک بھیانک خواب بن کررہ گئی تھی۔ ایک ایسا بھیانک خواب جس کادور دور تک انت دکھائی نہیں دیتاتھا۔
نزہت بیگم جن ارادوں کااظہار کرگئی تھی‘ وہ حجاب کے نزدیک زندگی اور موت سے بھی بدتر تھے۔ آنے والی رات اور متوقع ذلت کا خیال ہی سوہان روح تھا۔ حجاب کے نزدیک ایسی کسی صورت حال سے گزرنے کی بجائے مرجانا لاکھ درجے بہترتھا۔ خودکشی حرام سہی مگر حجاب کے نزدیک ان لمحوں میں یہ حرام کاری اس سلوک سے تو افضل تھی جو کہ نزہت بیگم آج کی رات اس کے ساتھ کرنے کاارادہ رکھتی تھی۔ خود پر ٹوٹنے والا قہر اور سبھی اذیتیں اب تک وہ برداشت کرتی آئی تھی۔ اب جو صورت حال بن گئی تھی اس نے جیسے خودبخود حجاب کو اس فیصلے پر آمادہ کرلیاتھا کہ یہاں غنڈوں کے ہاتھوں پامال ہونے کی بجائے حرام موت مرکرجہنم کی آگ میں جل لینا زیادہ بہتر رہے گا۔ اسی ْخیال کے تحت اس نے پورے کمرے کااچھی طرح جائزہ لیاکہ کوئی ایسی چیز دستیاب ہوجائے جس سے وہ خود کوختم کرسکے مگر کمرے میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ دروازہ اتنا مضبوط تھا کہ اسے کھولنا یاتوڑنا ممکن نہیں تھا‘ ایک روشن دان تھا اور وہ اتنی بلندی پر تھا کہ اول تووہاں تک پہنچانہیں جاسکتاتھااوربالفرض اس تک رسائی ہو بھی جاتی تو اس میں موجود موٹی سلاخوں کاکوئی حل نہیں تھا۔ وہ پوری طرح بے بس اور لاچار تھی۔ حالات کے رحم وکرم پر تھی اور جب انسان خود کومکمل طور پر بے بس اورمجبور پاتاہے‘ اسے کوئی آسرا سہارا‘ کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتااور وہ خود کومایوسی کی دلدل میں دھنستاہوا محسوس کرتاہے تو ایسے میں خودبخود سے خدا کا خیال آتا ہے‘ حجاب بھی بے اختیار اسے پکارنے لگی کہ اور کربھی کیا سکتی تھی!
شام کے بعد رات آئی اور وقت جیسے جیسے آگے رینگتا رہاحجاب کاخون خشک ہوتارہا۔ اس کی سماعتیں پوری طرح باہر کی آوازوں کی طرف متوجہ رہیں۔ مگر صرف موسیقی کی مخلوط مدھم آوازیں تھیں جو کمرے کے اندر پہنچ رہی تھیں۔ اس نے دل میں ٹھان لی تھی کہ جیسے ہی کوئی آئے گاوہ اس سے بھڑجائے گی۔ نوچ لے گی‘ دانتوں سے بوٹیاں ادھیڑ دے گی‘ مرجانے کی حد تک مدافعت کرے گی مگررات لمحہ لمحہ سکڑتی رہی اور کمرے کے قریب کوئی آہٹ سنائی نہیں دی‘ کوئی اس طرف نہیں آیا‘ وہ ساری رات جاگتی رہی اور ہولتی رہی‘ ایک پل کوبھی اس کی آنکھ نہیں لگی اور آخر کار صبح ہوگئی۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی‘ کل دوپہر سے اس نے کچھ نہیں کھایا پیا تھا‘ اور نہ ہی اسے ایسی کوئی طلب محسوس ہو رہی تھی۔
صبح کے بعد سورج بلند ہوتا ہوااپنے عروج پر جاپہنچا‘ قریب قریب دوپہر کاوقت تھا جب دروازے کے باہر آہٹ بلند ہوئی‘ حجاب اس وقت پلنگ سے کمرٹکائے فرش ہی پربیٹھی تھی۔ اس کی تمام حسیات فوراً سے پیشتر دروازے کی جانب مبذول ہوگئیں۔
زنجیر ہٹنے کی آواز سنائی دی۔ دروازہ کھلا اور نزہت بیگم کی کریہہ صورت اندر درآئی۔ اس کے عقب میں عشرت جہاں اور بدصورت ہاشو بھی موجود تھا۔
نزہت بیگم نے ایک ذرارک کردیکھا‘ گنگھروئوں کی جوڑی پلنگ پر اسی جگہ پڑی تھی جہاں کل اس نے پھینکی تھی۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھی اور گھنگرو اٹھا کرحجاب کے سامنے کردیئے۔
’’لے پہن۔‘‘
نزہت بیگم کالہجہ انتہائی سرد تھا مگر حجاب یوں ساکت بیٹھی رہی جیسے اس نے سناہی نہ ہو۔
’’پہن انہیں۔‘‘
حجاب پر پوری طرح روشن تھا کہ رات بے شک گزر چکی ہے مگر مصیبت نہیں‘ پہلے وہ چوہدریوں جیسے وحشی جانوروں کے شکنجے میں تھی تو اب گویا خون آشام بلائوں کے نرغے میں۔
’’میں نے کہا ہے انہیں پہن۔‘‘
’’میں ایسا نہیں کروں گی۔‘‘
حجاب کاجملہ مکمل ہوتے ہی نزہت بیگم نے اسے ایک زور کی لات رسید کی اور وہ پہلو کے بل گرپڑی۔
’’نہیں پہنتی تو نہ پہن‘ رات کا ادھار ابھی چکتا کرتے ہیں۔‘‘
نزہت بیگم نے زہرخند سے کہاپھرہاشو سے مخاطب ہوئی۔
’’ہاشو! کل تو کہہ رہاتھا کہ تو اکیلا ہی اس کی طبیعت بحال کردے گا‘ چل… شروع ہوجا… تو اس کی طبیعت بحال کر میں اورعشرت ادھر بیٹھ کر براہ راست ساری نشریات دیکھیں گے۔ آعشرت! ادھر بیٹھ کرتماشا دیکھتے ہیں۔‘‘ آخر میں اس نے عشرت جہاں کومخاطب کیااور دیوار کے ساتھ موجود مسہری پربیٹھ گئی۔ عشرت نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔ جب کہ ہاشو بھوکی نظروں سے حجاب کودیکھتا ہواآگے بڑھا۔
’’میں تو کل سے اشارے کامنتظر تھا بائی جی! اس کی عزت شرم کاجنازہ نکلے گا تو یہ کوئی بات سنے مانے گی۔ پھرگھنگرو بھی خود ہی پہنے گی اور مجرا بھی کرے گی۔‘‘ ہاشو نے قمیص اتار کر پلنگ پر اچھال دی۔ حجاب پہلے فرش پرہی تیزی سے پیچھے کھسکی اور پھر تڑپ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کادماغ چیخ چیخ کر کہنے لگاتھا کہ زندگی کے بدترین لمحات آن پہنچے ہیں۔
عقب میں دیوار تھی‘ سامنے کمرے کادروازہ جوچوپٹ کھلا ہواتھا‘ مگر دروازے اور حجاب کے درمیان ہاشو حائل تھا۔
’’چل میری مخمل کی گڈی! خود ہی ادھر پلنگ پر آجاورنہ زیادہ تکلیف اٹھاناپڑے گی تجھے… چل شاباش۔‘‘
ہاشو نے حجاب کے سامنے رکتے ہوئے پلنگ کی طرف آنکھ کااشارہ کرکے اوباشانہ انداز میں کہا۔
’’دیکھو! تم لوگوں کوخدا رسول کاواسطہ ہے مجھے یہاں سے جانے دو‘ میں… میں کبھی بھی یہ سب نہیں کرسکتی اور… اور اگر تم لوگ نہیں مانے تومیں موقع ملتے ہی اپنی جان دے دوں گی… مارڈالوں گی خود کو مگر ایسی زندگی نہیں گزاروں گی۔ خدا کے لیے مجھے جانے دو… جانے دومجھے۔‘‘
بات کرتے کرتے حجاب کی آواز بھراگئی۔ وہ عقب میں دیوار سے جالگی تھی دل ودماغ میں گھبراہٹ اور خوف نے ایک ہیجان برپا کرڈالا تھا۔
اوئے کچھ نہیں ہوتا‘ سب ٹھیک ہوجائے گاتو ادھر آ۔‘‘
ہاشو نے آگے بڑھ کر حجاب کوبازو سے دبوچ کر اپنی طرف کھینچا توحجاب نے اس کی کلائی میں اپنے دانت گاڑ دیئے‘ ہاشو کے حلق سے سسکاری سی نکل گئی۔ حجاب کے بازو سے اس کی گرفت ختم ہوئی تو اس نے دوسرے ہاتھ سے حجاب کو چٹیا سے دبوچااور کھینچ کر پلنگ پر دھکادے دیا‘ حجاب کے حلق سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔ اس نے تڑپ کر پلنگ سے دروازے کی طرف بڑھناچاہا مگر ہاشو نے دوبارہ اسے بالوں سے دبوچااور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پررسید کردیا۔ وہ دوبارہ چیختی ہوئی پلنگ پر الٹ گئی‘ اگلے ہی پل وہ پھڑک کر سیدھی ہوئی تو منہ پر ایک اور زور دار ضرب پڑی۔
ہاشو پر پوری طرح جنون سوار ہوگیاتھا‘ وہ غصے میں بول رہاتھا‘حجاب کوگندی گالیاں دے رہاتھا۔
’’پیار کی زبان تجھے سمجھ نہیں آئی… اب تجھے سیدھے طریقے سے سمجھاتاہوں۔‘‘ حجاب کی دونوں ٹانگیں اپنے گھٹنوں کے درمیان جکڑتے ہوئے ہاشو نے ایک ہاتھ سے اس کی ایک کلائی دبوچ لی اور دوسرا ہاتھ اس کے گریبان پرڈال دیا۔ غالباً وہ جھٹکا دے کر اس کاگریبان پھاڑنا چاہتاتھا ‘حجاب کے لیے وہ بڑے قیامت خیز لمحات تھے۔ اس نے اپنے آزاد ہاتھ سے فوراً ہاشو کی کلائی تھامی اور اپنے گریبان پر موجود اس کے ہاتھ کے انگوٹھے پراپنے دانت جمادیئے۔ اس کے رگ وپے میں دوڑتی تمام وحشت اور ہیجان اس سمے اس کے دانتوں میں سمٹ آیا تھا۔ لاکھ ضبط کے باوجود ہاشو کے حلق سے ایک درد ناک چیخ نکل گئی۔ انگوٹھے میں اترنے والی اذیت نے ایک ذرا تو اس کے حواس مختل کرکے رکھ دیئے۔ حجاب کے گریبان سے اس کی گرفت ازخود ختم ہوگئی۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے حجاب کے چہرے پر مکارسید کرنے کی کوشش کی‘ ٹھیک اسی وقت حجاب نے اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش میں اپنی تمام قوت صرف کرڈالی‘ ہاشو کاتوازن کچھ گڑبڑایا‘ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی مگر حجاب کے گھٹنوں کی اضطراری مگر شدید حرکت نے اسے دھکاسا دیااو روہ سنبھلتے سنبھلتے پلنگ سے نیچے لڑھک گیا۔
حجاب بجلی کی سی تیزی سے تڑپ کر پلنگ کی پائنتی کی طرف کھسکی‘ آگے صرف تین چار قدم کے فاصلے پر دروازہ تھا مگر یہ گویا صدیوں کافاصلہ تھا‘ لیکن صورت حال کی سنگینی نے اس کے وجود میں بھی برقی رو دوڑا دی تھی۔ اس نے پلنگ ہی سے دروازے کی سمت جست لگائی تھی۔ نزہت بیگم کی جھنجلائی ہوئی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی مگر الفاظ سمجھ نہیں آئے ہاشو بھی سنبھل کر اٹھ کھڑا ہواتھا۔ پھرنزہت بیگم اور ہاشو ایک ساتھ عقب سے اس پر جھپٹے‘ ہاشو کاہاتھ اس کے کندھے پرپڑا تو اس کے حلق سے بے ساختہ ایک دہشت زدہ چیخ نکل گئی۔ ایک تیز چررر… کی آواز ابھری اوراس کی قمیص کابازو کندھے سے آستین تک ادھڑتاچلاگیا۔ نزہت بیگم اور ہاشو آپس میں الجھ کرگرے تو برق رفتاری سے آگے بڑھتی ہوئی حجاب ڈگمگا کر دروازے سے جاٹکرائی لیکن نہ تو اس نے پلٹ کردیکھااور نہ دروازی کی ٹکر سے چہرے پر لگنے والی چوٹ کومحسوس کیا۔ اگلے ہی پل وہ دروازے سے باہر نکل چکی تھی۔ وہ بغیر سوچے سمجھے دوڑی تھی۔ احساس اس وقت ہواجب اس نے خود کو اس مختصر سے صحن سے آگے موجود طویل برآمدے میں پایا۔ تین چار دروازے تھے اور بائیں ہاتھ ایک راہداری‘ عقب میں قریب آتی ہاشو اور نزہت بیگم کی غیرانسانی آوازیں جو بالکل اس کے سر پرپہنچ آئی تھیں۔ کسی بھی لمحے ہاشو کاپنجہ اسے عقب سے دبوچ سکتاتھا۔ حجاب کے پائوں اسے راہداری کی طرف بھگا لے گئے۔ اس کی دہشت زدہ چیخیں اورنزہت بیگم وہاشو کی آوازیں پورے گھر میں گونج اٹھی تھیں۔
حجاب نے دوڑتے ہوئے دیکھا کہ راہداری کے سامنے کی سمت سے شگفتہ بانو اور ایک پستہ قامت شخص نمودار ہواجسے وہ پہلے بھی ایک دو بار دیکھ چکی تھی۔ وہ دونوں اسی سمت آرہے تھے اور عقب سے ہاشواور نزہت بیگم دوڑتے آرہے تھے۔
’’اے شگفتہ اچھو‘پکڑنا ذرااس کتیاکو۔‘‘
نزہت بیگم کی تیز پکار اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ شگفتہ اور وہ اچھو نامی ٹڈا انسان فوراً چوکس ہوتے دکھائی دیئے‘حجاب اس صورت حال پرکچھ مزید حواس باختہ ہوگئی‘ واحد یہی ایک راستہ اس کے سامنے تھااور یہ بھی مسدود ہوچکاتھا۔ پچیس تیس قدم کی اس راہداری کو وہ آدھے سے زیادہ طے کر آئی تھی کہ اچانک راہداری میں بائیں ہاتھ موجود ایک کمرے کے دروازے سے ایک گھبرائی ہوئی سی عورت نکل کر اچانک اس کے سامنے آگئی۔
گھبرائی ہوئی سی یہ صورت بھی اس کی نظر آشناتھی۔ کل جس وقت اس نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اس وقت یہ عورت برآمدے میں کھڑی دکھائی دی تھی اور غالباً اسی نے مرشد نامی غنڈے سے ہاشو کی جان چھڑائی تھی۔
حجاب کو اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ بے اختیار اس عورت کے عقب میں سمٹ گئی۔
’’خالہ جی‘ مجھے بچالیں آ… آپ کو آپ کے رب کاواسطہ‘ رسول کاواسطہ مجھے بچالیں۔‘‘
’’کک… کیا بات ہے ؟‘‘
’’بائی جی…ہٹ جائو۔‘‘
’’اندرجا حسن آرا‘ پکڑ لے ہاشو اس حرام کی جنی کو۔‘‘
ہاشو اور نزہت بیگم سرپر پہنچ چکے تھے۔
’’خدا کے لیے مجھے بچالیں… یااللہ…‘‘
حجاب کی حالت اور دلدوز آہ وبکا پرحسن آرا کادل ہل کررہ گیا۔
’’رک جائو ہاشو۔‘‘
حسن آرا نے حجاب کی طرف بڑھتا ہوا ہاشو کاہاتھ درمیان ہی میں تھام لیا۔ حجاب بے اختیار دوقدم مزید پیچھے ہٹ کرکمرے کے اندر سرک گئی ۔ دروازے کے بالکل سامنے حسن آرا موجود تھی۔
’’بائی جی! تم ایک طرف ہوجائو۔‘‘
’’میں نے کہا رک جائو۔‘‘
ہاشو نے پیش قدمی کی کوشش کی تو حسن آرا کچھ مزید دروازے کے سامنے جم کرکھڑی ہوگئی۔
’’خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو!‘‘
’’بائی جی !‘‘
’’حسن آرا تو ہٹ جاسامنے سے‘ ہاشو! چٹیا سے کھینچ کر لااس …(ناقابل اشاعت) کو‘‘‘ نزہت بیگم نے قریب پہنچتے ہی حسن آرا کوبازو سے پکڑ کر دروازے کے سامنے سے ایک طرف ہٹانا چاہا تو حسن آرا نے ایک جھٹکے سے بازو چھڑالیا۔
’’پیچھے ہٹوہاشو۔‘‘ اس نے ہاشو کے برہنہ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کی طرف دھکیلا تو وہ متذبذب سے انداز میں نزہت بیگم کی طرف دیکھنے لگا۔
اس کے زخمی انگوٹھے سے خون رس رہاتھا اور چہرے پرغیض وغضب رقصاں تھا۔
’’حسن آرا! میں کہہ رہی ہوں تو ایک طرف ہوجا۔‘‘
نزہت بیگم نے دوبارہ حسن آرا کابازو تھامنا چاہا مگر حسن آرا نے اس کاہاتھ پکڑلیا۔
’’رک جائو اماں! بات کیاہے‘ کیوں اس لڑکی پر ظلم ڈھارہی ہو تم۔‘‘
حسن آرا کے لہجے میں سخت ناگواری تھی۔ پہلے حجاب کی حالت زار اور اب ہاشو کودیکھتے ہوئے پوری صورت حال خودبخود اس پر واضح ہوچکی تھی۔
حجاب نے اضطراری انداز میں اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی دوسرا دروازہ نہیں تھا۔ واحد یہی ایک دروازہ تھا جس کے سامنے یہ بیمار صورت کمزور سی عورت کھڑی آنے والی خون آشام بدروحوں کوباہر ہی روکے رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس عورت اور حجاب کے درمیان صرف دو قدم کافاصلہ تھا اور درمیان میں ایک باریک سفید ریشمی پردہ۔ کسی بھی لمحے ہاشو اور نزہت بیگم اس عورت کوایک طرف دھکیل کر اندر آسکتے تھے۔ حجاب کا دل اس بری طرح دھڑک رہاتھا جیسے پسلیاں توڑ کرباہر آجاناچاہتا ہو‘ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے‘ وجود پر لرزہ ساطاری تھا‘ پائوں ننگے تھے او روہ قمیص کے پھٹے ہوئے بازو کو سمیٹ لپیٹ کر اپنے برہنہ بازو کوڈھانپنے کی ناکام لاشعوری کوشش کررہی تھی۔
’’تجھے اس سے کیا؟ تو اندرجا کے آرام کر‘ ہٹ سامنے سے۔‘‘
’’میں نہیں ہٹوں گی‘ تم مجھ سے بات کرو‘ پہلے مجھے بتائو سمجھائو‘ کیاہے یہ سب‘ کیوں ایسا کررہی ہو تم۔‘‘
’’دیکھ حسن آرا تو اپنی گزار‘ اپنی بھوگ‘ ہمارے معاملات کے بیچ مت آ‘میں کیا کررہی ہوں‘ کیوں کررہی ہوں‘اس کے لیے میں تجھے جواب دہ نہیں ہوں‘ نہ تو ایسی جواب طلبی کا حق رکھتی ہی‘ اس حرافہ کوباہر نکال اور جاکر اپنے بستر پر آرام کر‘ نکال اس کو…ہٹ۔‘‘
پھروہ ہاشو کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’منحوس صورت ‘تو یوں کھڑا کیاکررہاہے ؟ اندر سے کھینچ کرنکال لااس اتھری گھوڑی کو۔‘‘
’’خالہ تو اس کی حمایتی کیوں بن رہی ہے تو ایک طرف ہوجا۔‘‘
شگفتہ نے آتے ہی اس کوبازو سے پکڑ کر ایک طرف کھینچا۔ دوسرے بازو سے فوراً نزہت بیگم نے اسے تھام لیااور ہاشو چھپاک سے کمرے کے اندر داخل ہوگیا۔
’’نہیں…خدا کے لیے نہیں … خد اکے لیے مجھے جانے دو… جانے دومجھے۔‘‘
ہاشو کے اندر آتے ہی حجاب بری طرح گھگھیائی تھی۔ حسن آرا نے خود کوچھڑانا چاہا تو عشرت جہاں آکر اس کے اور دروازے کے درمیان حائل ہوگئی۔
’’شگفتہ! چھوڑ مجھے ۔‘‘
’’پاگل مت بن حسن آرا! تو اس معاملے سے الگ رہ۔‘‘
نزہت بیگم نے دانت پیسے تھے۔
ہاشو کے اندر آتے ہی حجاب تڑپ کر کئی قدم پیچھے ہٹتی چلی گئی‘ مگر ہاشو نے لپک کر اسے بالوں سے دبوچ لیا۔
’’خدا کے لیے کوئی تو میری مدد کرے ۔‘‘ حجاب حلق کے بل چیخ اٹھی‘ اس کی دل خراش چیخ پر حسن آرا کو اپنا دل کٹتا ہوا محسو س ہوا‘ اس کے دیمک زدہ اعصاب اور کمزور دل کے لیے یہ سب ناقابل برداشت تھا۔ اس نے ایک زور کے جھٹکے سے اپنے بازو چھڑائے اور عشرت جہاں کودھکیلتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہو آئی۔ وہ تینوں اسے پکڑتی پکارتی رہیں‘ مگر حسن آرا نے فوراً آگے بڑھ کر ہاشو کی کمر پردوہتڑ رسید کیے۔
’’چھوڑ دے اسے ہاشو! میں کہتی ہوں چھوڑ اسے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ ہاشو حجاب کوبالوں سے پکڑے دروازے کی طرف گھسیٹنا چاہ رہاتھا حسن آرا نے جھپٹ کر اسے بالوں سے دبوچ لیا۔ ہاشو کی گرفت حجاب کے بالوں سے ختم ہوئی تو نزہت بیگم اور شگفتہ اس پرجھپٹ پڑیں۔ حسن آرا نے فوراً سے پیشتر ایک قدم آگے بڑھا کر شگفتہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیااور نزہت بیگم کودھکادے کر حجاب سے دور کردیا۔ فوراً ہی وہ بازو پھیلا کر حجاب کے سامنے ڈھال بن کرکھڑی ہوگئی۔
’’بس… بہت ہوگیا‘ اب کوئی ایک قدم بھی آگے بڑھاتو میں کسی کالحاظ نہیں کروں گی منہ نوچ لوں گی میں۔‘‘
حسن آرا کے چہرے اور لب ولہجے میں ایسی تپش تھی جو ایک دفعہ تو ان چاروں کوٹھٹکا گئی۔ حسن آرا کایہ روپ ‘ یہ تیور ان سبھی کے لیے بالکل نئے تھے۔ ان میں سے کسی کوبھی اس سے اس درجہ سخت اور شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ تینوں کینہ توز نظروں سے حسن آرا کو گھوررہے تھے ان کابس چلتاتو حسن آرا کو بھی دھنکا کررکھ دیتے مگر ایک مشترکہ خیال ان تینوں کے لیے جیسے نادیدہ زنجیر بن گیاتھااور وہ تھا مرشد کا خیال۔
’’حسن آرا! تو پاگل ہوگئی ہے کیا۔‘‘نزہت بیگم نے جھلاہٹ سے کہا۔
’’پاگل تو تم لوگ ہوچکے ہو اماں! کیابگاڑا ہے اس لڑکی نے تمہارا‘ کس بات کی دشمنی نکال رہے ہو تم سب؟‘‘
’’ا س کلموہی نے کس کاکیابگاڑا ہے یہ تو نہیں جانتی‘ بہتریہی ہوگا کہ تو درمیان سے ہٹ جا… نہ اپنے لیے مصیبت کھڑی کر اور نہ ہمارے لیے۔‘‘
’’اماں! تو اس چھوکری کے بدلے اس حسنو کی بات طے کرلے آگے ‘اور اسی کوروانہ کردے‘ سب کی جان چھوٹ جائے گی۔‘‘
شگفتہ نے زہرناک لہجے میں کہا تو عشرت جہاں نے فوراً اسے جھڑک دیا۔
’’تواپنا منہ بند رکھ‘ کوئی ضرورت نہیں تجھے درمیان میں بولنے کی۔‘‘
شگفتہ نے ایک نظر ناگوار عشرت جہاں پر ڈالی اور غصے سے پائوں پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ اچھو دروازے میں کھڑا اپنی موٹی موٹی آنکھیں پٹپٹا پٹپٹا کر سب کچھ دیکھ سن رہاتھا۔
حجاب کسی کم سن بچی کی طرح حسن آرا کے عقب میں سہمی سہمی کھڑی تھی۔
’’یہ دشمن داری کاشکار لڑکی ہے حسن آرا! اوراس کے دشمن بہت بااثر بہت بااختیار لوگ ہیں۔ وہ اتنے طاقت ور اتنے اناپرست اور ظالم لوگ ہیں کہ اگر ہماری طرف سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی تو وہ دن دہاڑے ہم سب کوزندہ جلا جائیں گے۔ سب کچھ ختم ہوجائے گا ‘ خود پرنہیں توکم از کم ہم سب پر ترس کھا۔‘‘
نزہت بیگم نے لہجے میں نرمی پیدا کرلی تھی۔
’’تم نے ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی معاملہ طے ہی کیوں کیاتھا۔‘‘
’’تو کیسے لوگوں سے معاملات کروں میں؟ یہ کوئی دربار مزار یامدرسہ نہیں ہے ‘کیا ہوگیا ہے تیری عقل کو؟‘‘
جوبھی ہو… میں یہ سب نہیں دیکھ سن سکتی… میرے دل ودماغ میں اتنی تاب نہیں ہے۔‘‘
’’توپھر توایسی جگہ‘ ایسے ماحول میں رہ کیوں رہی ہے ؟ کیوں مرشد کی بات مان کر کسی پرسکون اور پرامن جگہ پر نہیں چلی جاتی؟‘‘
’’میری مٹی جو یہیں کی ہے۔‘‘
حسن آرا کے لہجے میں یکایک آزردگی گھل آئی۔
’’یہیںپید اہوئی ہوں… یہیں مروں گی۔‘‘
’’تو نہیں مرے گی حسن آرا! توہم سب کومروائے گی‘ اپنے ساتھ ساتھ تو ہمارے ساتھ بھی دشمنی کررہی ہے۔‘‘
’’دیکھ حسن آرا! تو اپنی زندگی اپنے ڈھنگ سے جیتی آئی ہے‘ تجھے اماں یا کسی نے بھی کبھی کسی بات پرمجبور نہیں کیا‘ کسی نے تیری زندگی میں مداخلت نہیں کی پھر تو کیوں دوسروں کے معاملات میں دخل دے رہی ہے۔ کیوں دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے ؟‘‘ عشرت جہاں نے بھی نرمی اختیار کرلی تھی۔
’’میں کسی کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کررہی‘ بس میرے لیے یہ شور شرابا یہ ظلم‘ مار پیٹ قابل برداشت نہیں‘ میں یہ سب نہیں دیکھ سن سکتی۔‘‘
’’ہم بھی یہ سب نہیں چاہتے‘ مگر یہ لڑکی ہماری مجبوری اور اپنی قسمت اپنی مصیبت کوماننے‘سمجھنے کو تیار ہی نہیں تو پھراور کیا طریقہ اختیار کریں ہم۔‘‘
’’بالکل … تو خود اس سے پوچھو کہ دیکھ لے ہم سب نے باری باری کتنا سمجھایاہے اسے کہ نہ تیرے پاس اور کوئی راستہ ہے نہ ہمارے پاس کوئی چارہ لیکن اول لڑکی ڈھیٹ اور ضدی ہے اس حقیقت کوقبول کرنا چاہتی ہی نہیں یہ۔‘‘
نزہت بیگم نے لہجے میں کچھ مزید نرمی سمولی۔
’’اسے سوچنے سمجھنے کاوقت تو دو اماں! زبردستی تو کوئی طریقہ نہیں ہے کچھ بھی سمجھانے کا۔‘‘ حسن آرا کی بات پرنزہت بیگم اندرہی اندر دانت پیس کررہ گئی۔ اس نے یوں حسن آرا کی طرف دیکھا جیسے اس کی عقل پرماتم کرنے کاسوچ رہی ہو۔
’’جائو ہاشو تم…‘‘ حسن آرا کی بات پر ہاشو نے فوراً نزہت بیگم کی طرف دیکھا۔
’’حسن آرا…‘‘
’’تم بھی جائو اماں!‘‘ حسن آرا نے نزہت بیگم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’یہ فی الوقت یہیں میرے پاس رہے گی‘ میں اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں‘ ابھی تم لوگ جائو‘ میں کچھ دیر میں آتی ہوں‘ پھر بات کرتے ہیں اس موضوع پر۔‘‘
عشرت جہاں‘ ہاشو اور نزہت بیگم نے باری باری ایک دوسرے کی صورت دیکھی پھر نزہت بیگم کی آنکھوں کا اشارہ سمجھ کر عشرت جہاں اورہاشو وہاں سے چلے گئے اچھو بھی ان کے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔
’’چل پھر میرے ساتھ ہی چل تو‘ دروازہ باہر سے بند کردیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں ابھی کچھ دیر میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔ سرمیں شدید درد شروع ہوچکاہے میرے … تم بے فکر ہو کرجائو‘ یہ یہیں ہے میرے پاس۔‘‘
نزہت بیگم چند لمحے کھڑی رہی پھر جاتے ہوئے بولی۔
’’ٹھیک ہے‘ میں جاکر انتظار کرتی ہوں۔‘‘
وہ بھی کمرے سے نکل گئی تو حسن آرا حجاب کی طرف متوجہ ہوئی‘ جو اس کے عقب میں کھڑی سسک رہی تھی۔ اس کے نچلے ہونٹ کے گوشے سے خون رس رہاتھا۔ دائیں آنکھ کی ہڈی پرہلکا نیلگوں ہلالی نشان بناہواتھا اوراس سے نیچے اس کی خوبصورت اور نازک سے گال پر انگلیوں کے نشان چھپے ہوئے تھے۔ حسن آرا نے ہاتھ بڑھا کر حجاب کا سراپنے کندھے پررکھاتو حجاب کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
اتنے روز کی مسلسل عذاب ناکی کے بعد حسن آرا کی صورت ایک مہربان اور ہمدرد کے ہونے کااحساس یکایک ہی اس کے اندر جیسے ایک سیلاب لے آیا تھا۔ وہ حسن آرا کے کندھے پر سررکھ کر پھوٹ پھوٹ کررو دی۔
’’خا…لہ…مجھ پر…رحم کریں… مو…مو مجھے بچالیں‘ یہ … یہ لوگ… اس سے ٹھیک سے بولابھی نہیں جارہاتھا۔
حسن آرا آہستہ آہستہ اس کی کمر تھپک تھپک کر اسے حوصلہ اور دلاسہ دیتے ہوئے اپنے پلنگ تک لے آئی۔
’’بیٹھو یہاں… بالکل بے فکر ہوجائو میں ہوں نا۔‘‘
حجاب کوپلنگ پربٹھا کر اس نے ایک طرف الماری سے اپنا ایک شلوار سوٹ نکالا اورحجاب کوتھمادیا۔
’’اس پردے کے پیچھے غسل خانے کادروازہ ہے تم کپڑے بدل لو‘ میںاتنے میں نماز پڑھ لوں۔ پھر آرام سکون سے بیٹھتے ہیں۔ پریشان ہونے یاگھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ سمجھ گئیں؟‘‘
حجاب بس آہستہ سے اثبات میں سرہلا کررہ گئی پھراس نے کمرے کے کونے میں چھت یافرش تک لٹکتے اس بھورے رنگ کے بھاری پردے کی طرف دیکھااور آنسو پونچھتی ہوئی اٹھ کر اس طرف بڑھ گئی۔ دروازے کی طرف ایک چھوٹاسااسٹور نما کمرہ ساتھااوراس کے سامنے کی دیوار میں ایک اور دروازہ تھا۔ حجاب وہ دروازہ کھول کرغسل خانے میں داخل ہوگئی۔
حسن آرا نامی یہ عورت فی الوقت تواس کے لیے خدا کی طرف سے غیبی مدد بن کر ظاہر ہوئی تھی۔ اسے یہ بھی بخوبی اندازہ ہوگیاتھا کہ کم از کم یہاں کے لوگوں پر وہ اثرورسوخ بھی رکھتی ہے۔ اس نے دیکھاتھا کہ وہ خبیث عورتیں حتیٰ کہ وہ جنگلی سور نماانسان ہاشو بھی اس کے سامنے جھجک کاشکار رہاتھااور نزہت بیگم بھی اس کے ساتھ محتاط سے لب ولہجے کے ساتھ بات کرتی رہی تھی۔ اب ایسا کیوں تھا؟ اس حسن آرا کی یہاں کیا حیثیت ‘کیامرتبہ تھا‘ اس کااسے کچھ اندازہ نہیں تھا۔
حجاب کو یہ عورت ویسے بھی یہاں موجود باقی عورتوں سے خاصی مختلف سی دکھائی دی تھی۔ اس کے چہرے پروہ خرانٹ پنا‘ وہ مکروہ تاثر نہیں تھا جو یہاں کی باقی عورتوں کے چہرے پراسے دکھائی دیتارہاتھا۔
اطمینان کاتو خیر کوئی سوال ہی نہیں تھا‘ پھر بھی غسل اس نے پوری تسلی سے کیااور پھر جب کپڑے تبدیل کرکے واپس کمرے میں پہنچی تو حسن آرا پلنگ پربیٹھی دکھائی دی۔ پلنگ کے سرہانے ہی مصلادھرادکھائی دے رہاتھا۔غالباً وہ نماز پڑھ چکی تھی۔
’’آئو… آئو ادھر آجائو۔‘‘ حسن آرا نے فوراً اسے پکاراتھا۔
’’میںبھی نماز پڑھ لوں…؟‘‘
حجاب نے دھیمے سے لہجے میں پوچھا‘ یوں جیسے کسی جرم کی اجازت مانگ رہی ہو۔
’’کیوں نہیںضرور‘ یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے کی بات ہے۔‘‘
حسن آرا نے خوش گوار لہجے میں کہااور فوراً سرہانے سے مصلااٹؑھا کر حجاب کی طرف بڑھا دیا۔
’’قبلہ اس طرف ہے۔‘‘
حسن آرا نے اسے سمت سے آگاہ کیا۔ اور وہ مصلا بچھا کرکھڑی ہوگئی‘ آج کئی روز بعد اسے نماز پڑھنا نصیب ہو رہاتھا۔ اتنے روز کے وقفے سے پہلے کی آخری نماز اس نے عشاء کی پڑھی تھی۔ اپنے گھر‘ اپنے برآمدے میں‘ اور اتنے دنوں کے بعد آج عصر کی نماز وہ ایک کوٹھے پر ادا کرنے کھڑی ہوئی تھی‘ حسن آرا کے کمرے میں ۔
مکمل خشوع وخضوع کے ساتھ نماز اور دعا کے بعد دل کو قدرے ٹھنڈک اور اطمینان کااحساس ہوا‘ اس نے مصلا واپس حسن آرا کے حوالے کیااوراس کے قریب ہی پلنگ پر بیٹھ گئی۔
’’تمہارا نام کیا ہے بیٹی؟‘‘ حسن آرا نے مشفق لہجے میں سوال کیااور ساتھ ہی نرمی سے حجاب کاہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
’’جی!حجاب۔‘‘
:…ء … ً
مغرب کاوقت ہونے کوتھا…نزہت بیگم کے کمرے میں اس کی دونوں بیٹیاں عشرت جہاں اور سندس جہاں کے علاوہ حسن آرا بھی موجود تھی۔ گزشتہ آدھ پون گھنٹے سے ان کے درمیان بات چیت جاری تھی‘ موضوع حجاب کی ذات تھی۔
حسن آرا حجاب کی زبانی اس کی ساری بپتا تفصیل سے سن چکی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ ایک نجیب الطرفین سید گھرانے سے تعلق رکھتی ہے حسن آرا کی تو روح ہی فنا ہوکررہ گئی تھی۔ وہ ایک طویل مدت سے اپنے دل میں سادات کی بے انتہا عزت وتکریم رکھتی تھی۔ سادات سے اسے غیر معمولی حد تک عقیدت سی تھی اوراس غیر معمولی عقیدت کی وجہ وہ غیر معمولی ہستی تھی جو اس کی زندگی کا محور ومرکز تھی۔ برسوں بیت چکنے کے باوجود آج بھی جو اس کے جسم وجاں میں رچی بسی ہوئی تھی۔ جسے ایک لحظے کے لیے بھی وہ کبھی فراموش نہیں کرپائی تھی اور آج بھی وہ ہستی حسن آرا کی پہلی اور آخری ترجیح تھی۔
’’حسن آرا! جو تو کہہ رہی ہے وہ کبھی نہیں ہوگا‘ کسی صورت نہیں ہوگا۔‘‘نزہت بیگم بول رہی تھی۔
’’میری عمر گزر چکی‘ میری ماں اور نانی بھی یہیں بھسم ہوئی مگر میں یہاں ختم نہیں ہونا چاہتی‘ مجھے جیتے جی یہاں سے جاناہے‘ اپنابڑھاپا رولنا نہیں چاہتی میں اوراس کی واحد صور ت یہی ایک ہے … یہ لڑکی … حالات اور قسمت کاپھیر ہے سب‘ یہ لڑکی ذمہ دار نہیں تو ہم بھی کب ذمہ دار ہیں‘ وہ اپنی جگہ مجبور ہے توہم بھی اپنی جگہ مجبور ولاچار ہیں۔‘‘
’’اماں ٹھیک کہہ رہی ہے حسنہ! یہ بازار اور یہاں کادھندا زوال پذیر ہے‘ ایک موقع مل رہاہے تو ہمیں یہ ضائع نہیں کرناچاہیے ‘جاگیردار نے زبان دی ہے تووہ ضرور پوری کرے گا‘ بہتر ہے کہ ہم سب عقل مندی سے کام لیں تو ذراسوچ تو سہی تین کنال کی عالی شان کوٹھی… ایسے موقعے روز روز تھوڑے ہی ملتے ہیں بھلا۔‘‘ یہ سندس جہاں تھی۔
’’میںنے کہاتو ہے کہ میں خود اسے سمجھائوں گی۔‘‘ حسن آرا کالہجہ تھکاہوااور کمزور تھا۔
’’اتناوقت نہیں ہے حسن آرا! وہ سمجھائے سے سمجھنے والی چیز بھی نہیں ہے‘ میں مغز مار کے دیکھ چکی ہوں‘ وہ لاتوں کی بھوت ہے‘ باتوں سے نہیں سمجھے گی۔‘‘
’’میں باتوں ہی سے سمجھالوں گی تم دیکھ لینا‘ صرف دو دن صبر کرلو۔‘‘
’’تو کیوں بے وجہ سردردی پیدا کررہی ہے‘ کیوں بحث کیے جارہی ہے‘ تیری کوئی سگے والی تووہ ہے نہیں جوتجھے اتنی تکلیف ہو رہی ہے‘ اپنے معاملے میں تونے من مانی کرلی‘ ایک ٹکے کافائدہ نہیں دے سکی اب مزید تو جینا حرام مت کرہمارا۔‘‘ بے زاری اور تلخی توجیسے نزہت بیگم کے حلق تک بھر آئی تھی۔
’’بات بات پرطعنے مت دیاکرو اماں! کوئی ایک آدھ بار نہیں بیسیوں بار میں نے محفل میں رقص کیا ہے‘ تمہارے لیے ہی کیا کرتی تھی‘ اورکتنے سال گاتی رہی ہوں‘ کس کے لیے ؟ تمہارے لیے ‘ تمہاری ضرورت اور خوشی کے لیے‘ اب اگر میرا سانس ہی میرا ساتھ نہیں دیتا تو میں کیا کروں ؟ کہاں جامروں۔‘‘
’’ہاں‘دس بیس محفلیں کرکے بڑ اتیر مارا ہے تونے پتا نہیں وہ کیسی منحوس گھڑی تھی جب اس نحوست زدہ میرارشد…‘‘
’’اماں…‘‘ حسن آرا یک بہ یک اس زور سے چیخی کہ نزہت بیگم اپنی بات درمیان میں ہی بھول گئی‘ حسن آرا کے چہرے پر شدید رنج اور آنکھوں میں غصے کی آگ روشن تھی‘ اس کے بعد وہ وہاں رکی نہیں‘ اٹھی اور تیز قدموں سے کمرے سے نکل گئی۔ نزہت بیگم‘ عشرت اور سندس‘ حسن آرا او رمرشد سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پالینے کے متعلق صلاح مشورہ کرنے لگیں اور حسن آرا عقبی طرف صحن میں نکل آئی‘ اس کے دل میں ٹیسیں سی اٹھنے لگی تھیں‘ نزہت بیگم کاجملہ ادھورہ رہ گیاتھا مگر حسن آرا جانتی تھی کہ نزہت بیگم کیا کہنے والی تھی‘ وہ ادھورا جملہ بھی اس کے دل میں کسی تیز دھار خنجر کی طرح اتر کر رہ گیاتھا۔ دل ودماغ تو پہلے ہی بری طرح الجھے ہوئے تھے‘ حجاب پر گزرچکنے والے ظلم اور اس کو آگے پیش کرنے والے حالات کے تصور نے حسن آرا کو بری طرح فکروپریشانی میں مبتلاکردیاتھا۔
مغرب کی اذانیں ہوچکی تھیں‘ نماز کاوقت بھی گزرتاجارہاتھا مگر حسن آرا کا دل نہیں چاہ رہاتھا کہ وہ اپنے کمرے میں واپس جائے‘ وہ مظلوم ومعصوم لڑکی تو پہلے ہی بری طرح ڈری سہمی ہوئی تھی اور حسن آرا اسے مسلسل حوصلے دلاسے دیتی رہی تھی۔ وہ چاہ رہی تھی کہ واپس کمرے میں اس کے سامنے جائے تو بالکل مطمئن اور پرسکون ہو‘ وہ وہیں صحن میں آہستہ قدموں سے ٹہلنے لگی۔
اس نے کہنے کو تو نزہت بیگم سے کہہ دیاتھا کہ دو دن صبر کرلو میں اس لڑکی کوسمجھالوں گی‘ یعنی اسے طوائفیت قبول کرلینے پرآمادہ کرلوں گی مگر درحقیقت اس کے دل ودماغ میں ایسا کوئی خیال تک نہیں تھا۔ وہ تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس کا اس بات سے مقصد صرف اتناتھا کہ دو دن کی مہلت مل جائے ‘ وہ ایک طرح سے اس نے حاصل کر بھی لی تھی‘ لیکن اب اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس دوران کیا کرے ؟ دو دن تو یونہی گزر جائیں گے اس کے بعد؟
ایک بار تو اس نے سوچاتھا کہ مرشد کے ذریعے حجاب کو اس کے گھر‘ اس کے ورثا تک پہنچادے مگر فوراً ہی اس نے اس خیال کو ذہن سے جھٹک پھینکا۔ حجاب نے بتایاتھا کہ وہ نندی پور گائوں کی رہنے والی ہے اوراس پر‘اس کے گھرانے پر قہرڈھانے والے اوراسے اس کوٹھے پر لاپھینکنے والے وہاں کے جاگیردار ہیں… چوہدری فرزند علی اوراس کاباپ جاگیردار اکبر علی خان حجاب کے منہ سے نندی پور کے جاگیردارگھرانے کاذکر سنتے ہی حسن آرا بری طرح چونک پڑی تھی اور اسی وقت سے اسے گہری فکر مندی اور پریشانی نے آلیاتھا۔
جاگیردار اکبر علی سے وہ بہت اچھی طرح آشناتھی اور یہ آشنائی بہت پرانی تھی۔ اس خاندان کی قوت واختیار اور کمینہ خصلتی کووہ خوب جانتی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ یہ لوگ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور کچھ بھی کرگزرنے کی طاقت رکھتے ہیں‘ مرشد کو ایسے زہریلے اور بااختیار لوگوں کے مقابل توکیا لانااس نے فیصلہ کرلیاتھا کہ وہ اسے ویسے ہی اس معاملے سے بالکل بے خبر رکھے گی اوراس مسئلے کا کوئی دوسرا حل کوئی دوسرا ذریعہ نکالے گی… پھرساتھ ہی یہ الجھن بھی تھی کہ حجاب کے اغوا کے بعد وہاں …نندی پور میں نجانے کیاہوا… جتنا حجاب کی زبانی اسے معلوم ہواتھااور جوحالات حجاب کودرپیش تھے ان سے تو یہی اندازہ ہوتا تھا کہ اس کے بھائیوں اور باپ کو جاگیرداروں کے سامنے بری طرح ہزیمت اٹھاناپڑی ہوگی‘ جاگیرداروں کی فرعونیت کے پیش نظر بھی حسن آرا کی سمجھ میں یہی آرہاتھا کہ جو سنگین صورت حال وہاں پیدا ہوگئی تھی وہ یقینا خرابی کاباعث بنی ہوگی اور عین ممکن تھا کہ جاگیرداروں نے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑا ہو۔
وہ ٹہلتی رہی اوراس کادماغ جمع نفی میں مصروف رہا۔ اگر وہاں کوئی زندہ باقی ہے بھی تو حجاب وہاں پہنچ کربھی غیر محفوظ ہی رہے گی … جاگیرداروں کی دسترس میں ‘انہی کی سلطنت میں ‘انہی کے رحم وکرم پر…اوراگر اسے کہیں اور پہنچایاجائے تو کہاں… کیسے ؟ او ربالفرض اسے کسی طرح یہاں سے نکال کر کسی محفوظ جگہ پہنچابھی دیاجائے تو ؟ اس کے بعد…؟ ایسے میں جاگیرداروں کی اندھی انا‘ ان کے انتقام کارخ کس کی طرف ہوگا یہ بھی واضح اور روشن تھا۔ ایسے میں مرشد اور جاگیرداروں کاٹکرائو لازمی تھااور حسن آرا اچھی طرح جانتی تھی کہ مرشد لڑ کر مرجانا تو پسند کرلے گا مگر اپنی باجی امی کی توہین یافرعونوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنا کبھی بھی اور کسی بھی صورت گوارا نہیں کرے گا۔
شدید الجھن کے باعث حسن آرا اپنی پیشانی مسلتی ہوئی صحن کی ایک دیوار سے ٹیک لگا کر فرش ہی پربیٹھ گئی۔ کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا۔ ذہنی کشمکش کسی کنارے نہیں لگ رہی تھی۔ کیا کیا جاناچاہیے اور کیانہیں… اس حوالے سے وہ فی الوقت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر تھی۔
:…ء … ً
چار قدم کے فاصلے پربالکل سامنے ہی قالین پر مصلا بچھا ہواتھا مگر توقع کے برخلاف مصلے پر اماں نہیں کوئی اور ہی بیٹھاتھا‘ ایک لڑکی … اس کابایاں رخ ہی سہی مگر وہ پوری طرح نظر ناآشناتھا‘ اور … اور وہ نماز پڑھ رہی تھی۔
مرشد نے ایک عجیب خوشگوار حیرت کومحسوس کیا‘ وہ متعجب سادروازے کے بیچ میں کھڑ ارہ گیا۔
اس کے وجود پر موجود جامنی رنگ کے اس سوٹ کومرشد کی آنکھوں نے فوراً پہچان لیا‘ جامنی دوپٹے کے ہالے میں جھلک دکھلاتا وہ آدھا چہرہ توجیسے آدھے سچ کی صورت کمرے میں روشن تھا۔ ایک سنجیدہ سی سادگی جیسے اس چہرے کے خال وؔخد ہی کا حصہ تھی۔آنکھ کے قریب ایک نیلگوں نشان تھااور نچلے ہونٹ پربھی ہلکا ساورم موجود تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ سرجھکائے قعدے کی حالت میں بیٹھی تھی۔
مرشد نے آج سے پہلے تک یہاں صرف اپنی باجی امی ہی کونماز پڑھتے دیکھاتھا یاپھر وہ خود تھا۔ باقی سب تو یونہی تھے … گیارہویں شریف‘ داتا صاحب کاعرس اور محرموں کی رسم نبھانے والے… مگر آج یہاں اس کے سامنے ایک تیسری اجنبی شخصیت اپنے اطراف سے بالکل غافل خدا کے حضور سرجھکائے بیٹھی تھی۔
پھراس لڑکی نے آہستہ سے سلام پھیرا‘ اور کچھ دیر تک ویسے ہی آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی۔ سر کچھ مزید جھک گیاتھا۔ پھرایک آہ نما سانس لیتے ہوئے اس نے سراٹھایااور آنکھیں کھولتے ہوئے دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیئے۔ تبھی شاید اسے دروازے میں کسی اجنبی کی موجودگی کااحساس ہوا… اس نے چونک کر گردن موڑی اور مرشد کو یک ٹک اپنی طرف گھورتے پاکر بری طرح گھبراہٹ کاشکار ہوگئی‘ مرشد نے دیکھا کہ ایک ہی لمحے میں اس لڑکی کے چہرے اور آنکھوں میں کتنے ہی رنگ گڈمڈ ہو کر رہ گئے۔ سراسیمگی ‘اندیشے ‘ گھبراہٹ‘ پریشانی‘ وہ گڑبڑا کراٹھی اور اضطراری انداز میں چند قدم پرے ہٹ گئی۔
وہ اس غنڈے بدمعاش کوفوراً پہچان گئی تھی۔
مرشدسرتاپا بغوراس لڑکی کاجہائزہ لیتاہوا کمرے کے اندر داخل ہو آیا‘لڑکی اچھی صحت اوراچھے قد کاٹھ کی مالک تھی‘ وجود انتہائی موزوں اور متناسب ‘چھوٹے چھوٹے سے نرم ونازک ہاتھ پیر‘ کشادہ پیشانی‘ شفاف اور چمک دار آنکھیں‘ جن میں اس وقت خوف اور وحشت چمک رہی تھی۔ چہرے کی بناوٹ انتہائی دلکش اور صاف گور اچٹارنگ۔
اس پہلی بھرپور نظر میں ہی مرشد کواندازہ ہوگیا کہ یہ روح تو کسی اور ہی دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لڑکی کے چہرے‘ اس کی آنکھوں … اس کی شخصیت میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جس نے مرشد کے اندر کہیں گہرائی میں ایک عجیب سمجھ میں نہ آسکنے والی ہلچل سی مچادی۔ ایک جھنجلاہٹ سی تھی جو برق رفتاری سے اس کے اندر بیدار ہوئی تھی‘ مرشد کو پہلے تو کچھ الجھن ہوئی اور پھر ایک عجیب سی گھبراہٹ اس کے دل میں آدھڑکی۔
’’کون ہے تو؟‘‘
اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے بھویں اچکا کر کھردرے سے انداز میں سوال کیا۔
’’جی میں … وہ… خالہ…‘‘
وہ صرف ہکلا کررہ گئی۔ مرشد کواندازہ ہوگیا کہ لڑکی کاحلق خشک ہے او روہ اس سے خوف زدہ بھی ہے۔ مگر کیوں؟ مرشد کے لیے تو وہ قطعی اجنبی تھی وہ تو اسے دیکھ ہی پہلی بار رہاتھا‘ پھر بھلا وہ اس سے کیوں اتنی دہشت زدہ تھی؟ نجانے کیوں یکایک ہی مرشد کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ لڑکی اپنی جگہ ڈری ہوئی ہرنی کی طرح کھڑی سراسیمہ نظروں سے مرشد نامی اس غنڈے کو دیکھ رہی تھی‘ جونجانے کس نیت سے کمرے میں گھس آیاتھا۔
مرشد چند لمحے کھڑاسے گھورتا رہا پھر دو قدم مزید آگے بڑھا تو لڑکی بے اختیار پیچھے ہٹ کر دیوار سے جالگی۔
’’خالہ…‘‘
اس کے حلق سے اچانک نکلنے والی چیخ نما پکار پرمرشد نے حیرت بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ مزید دہشت زدہ دکھائی دینے لگی تھی۔ مرشد نے جھکتے ہوئے قالین پربچھا مصلا اٹھایااور لڑکی کو گھورتاہوا خاموشی سے باہر نکل آیا۔ اس کارخ برآمدے کی طرف تھا جس کے کونے میں چھت پرجانے والی سیڑھیاں تھیں۔ یہ لڑکی کون تھی اور یہاں کیا کررہی تھی ؟ یہ بات کچھ دیر بعد یا صبح معلوم ہوہی جانی تھی۔ اس نے سرجھٹکااور سیدھا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ زینے طے کرتاہوا وہ چھت پر پہنچااور اپنی مخصوص جگہ پر مصلا بچھا کر نماز کے لیے کھڑا ہوگیا… اسی مصلے پر کچھ دیر پہلے وہ روشن چہرے والی لڑکی بیٹھی تھی …وہ جس کی آنکھ کے قریب رخسار کی ہڈی پرنیلگوں نشان تھا اور سرخ انگور جیسے ہونٹ کاایک گوشہ ورم زدہ تھا۔
مرشد نے پھراس کے خیال کو ذہن سے جھٹکااور اپنا دھیان نماز کی طرف لگایا۔ رکوع کے بعد وہ سجدے میں گیاتو دو شفاف چمک دار سراسیمہ آنکھیں اس کے دماغ مین روشن ہوگئیں۔
مرشد نے خاصی کوشش کی مگر وہ ڈھنگ سے نماز ادا نہیں کرپایا‘ دھیان بار بار بھٹکتا رہا… وہ چہرہ … وہ آنکھیں بار بار اس کے پردہ تصور پر چمکتی رہیں۔ نماز کے بعد وہ عادت کے مطابق وہیں بیٹھا رہا مگر نجانے کیوں اس لڑکی کا خیال وہ ذہن سے نہیں نکال پایا‘ آخر وہ جھنجلا کر اٹھااور مصلا تہ کرکے نیچے اتر آیا۔
اس نے سوچاتھا کہ جاکے براہ راست اس لڑکی سے پوچھ لے کہ وہ کون ہے اور یہاں کیوں ہے ؟مگر نیچے برآمدے میں ہی اس کا سامنا اچھو سے ہوگیا‘اچھو کے ہاتھ میں کاغذ میں لپٹے ہوئے پان کے پتے دکھائی دے رہے تھے۔
’’اوگھوڑے کی شکل والے خچر!‘‘‘
مرشد اس کے سامنے کھڑا ہوگیاتھا۔ ’’اماں کے کمرے میں یہ پٹولا کون ہے؟‘‘
’’وہ … وہ ہے ایک لڑکی۔‘‘
اچھو نجانے کیوں مرشد کے اس سوال پر پریشان ساہوگیا۔
’’ہے کون ؟‘‘ اس نے انگلی سے اچھو کے ماتھے پردستک دیتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ تو پتا نہیں ۔‘‘
’’کب سے یہاں ہے ؟‘‘
’’ہفتہ ہونے والا ہے ۔‘‘
’’کون لایا ہے اسے یہاں ؟‘‘
’’یہ بھی پتانہیں ۔‘‘
’’اسے یہاں کسی نے مارا پیٹابھی ہے ؟‘‘
’’وہ … وہ شاید ہا…ہاشو خان کے ہاتھ پرکاٹاتھااس لڑکی نے… مرشد بھائی تم ہاشو سے پوچھ لو‘ نا اسے ساری باتوں کاپتاہوگا۔‘‘
اچھو غالباً اپنی جان چھڑاناچاہتاتھا۔
’’یہ پکڑ۔‘‘ مرشد نے مصلا اس کے منہ پر پٹخا۔
’’یہ جاکے اماں کو دے آ۔‘‘
مصلااس کے حوالے کرکے مرشد وہاں رکانہیں‘ سیدھا باہر آیااور اپنی بیٹھک کی طرف بڑھ گیا۔ بازار اور بالاخانوں کی تمام روشنیاں جل چکی تھیں ۔ معمول کی رونق شروع ہوچکی تھی اور اردگرد سازندوں کی سازوں سے چھیڑ چھاڑ کی آوازیں بھی ڈوب ابھررہی تھیں۔ کچھ ہی فاصلے پرچاچے گوگے کاکھوکھاتھااوراس کے برابر فضلوقصائی کاپھٹہ جس پراس وقت ساون اور مراد بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔ مرشد انہی کی طرف بڑھ گیا۔
’’چاچا! تین پیپسی کھول دے…‘‘ مرشد ساون اور مراد کے برابر پھٹے پربیٹھ گیا۔
دائیں ہاتھ وہ… سامنے بیٹھک کادروازہ تھااور دروازے کے باہر جعفر اور اکو کھڑے دکھائی دے رہے تھے۔
’’سناہے موالی پھرواپس آگیا ہے۔‘‘
مراد نے کہا۔
’’کدھر سے سناہے ؟‘‘
’’یہ ‘ابھی چاچا ہی بتارہاتھا۔‘‘
’’عصر کی اذان کے وقت یہیں بیٹھاتھا پھٹے پر۔‘‘
چاچا نے تین بوتلیں لاکران کے درمیان رکھ دیں۔
ایک گٹھڑی تھی او رایک ریڈیو لیے بیٹھاتھا‘ جتنی دیر بیٹھارہا ریڈیو سے ہی الجھا رہا‘ نہ ریڈیو کچھ بولا نہ وہ خود‘ پھر خاموشی سے اٹھااور ادھر کوسیدھا ہی نکل گیا‘ پہلے سے کچھ کمزور نظر آرہاتھا۔‘‘
دوگاہک آئے تو چاچا بات کرتے ہوئے اپنی جگہ جاکھڑاہوا۔
’’جب تک ادھر رہے خیرخبررکھنااس کی… اپنے پر ذمہ داری بنتی ہے۔‘‘ مرشد نے کہا تو ساون اور مراد دونوں نے گردن ہلادی۔
موالی کون تھا‘ کہاں کارہنے والا تھا اس بارے میں یقینی طور پر تو کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتاتھا‘ بس رنگ برنگی باتیں ہی تھیں‘ اس کاذہنی توازن بھی درست نہیں تھا۔ مرشد اسے بچپن سے دیکھتا آرہاتھا‘ وہ فقیروں ملنگوں کے سے انداز میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا رہتاتھا‘ یاتو بالکل گم صم اور چپ چاپ یاپھر بغیروقفے کے بے تکان بولتا ہوا… انداز اور رنگ ڈھنگ ایسے ہوتے تھے کہ بازار والے اسے موالی ملنگ کہنے لگے تھے۔ کچھ لوگوں کاکہناتھا کہ وہ کسی نواب گھرانے سے تعلق رکھتاتھا مگر یہاں کی کسی طوائف کے چکر میںپڑ کر پہلے کنگال ہوااور پھر پاگل ہوگیا۔ کچھ کامانناتھا کہ وہ کسی دوسرے شہر کابدمعاش تھا‘ یہاں کی ایک طوائف کے عشق میں مبتلا ہوااورہوش وحواس لٹابیٹھا‘ تب سے یونہی دیوانوں کی طرح مارا مار اپھر رہاہے۔
مرشد کونوعمری ہی سے اس کے ساتھ ایک ترحم آمیز لگائو رہاتھا۔ بعض اوقات وہ ہفتوں غائب رہتا‘ نجانے کدھر چلا جاتا لیکن آخر کار پھر اسی بازار‘ اسی محلے میں آن موجود ہوتا۔
’’مرشد! ترنم پرانجمن کی نئی فلم لگی ہے‘ چلتے ہیں دیکھنے۔‘‘
مراد نے پیپسی کا بڑا ساگھونٹ بھرتے ہوئے کہاتھا۔
’’میراتو بالکل بھی موڈ نہیں ‘ تم لوگ جاناچاہو تو جائو۔‘‘
’’ایسے کیا مزہ آئے گا بھلا۔‘‘
’’میں پہلے ہی مزے میں ہوں‘ میری چھوڑ تو۔‘‘
’’پھرایسا کرتے ہیں کہ کل ٹھیکے کی رقم آرہی ہے اس بار کسی لمبے روٹ پرآوارہ گردی کرنے نکلتے ہیں۔‘‘
ٹھیکے سے مراد وہ ماہانہ آمدنی تھی جو چاروں طرف پھیلے بازار سے اکٹھی ہوتی تھی۔ بازار والوں کی سلامتی اور نفع نقصان کامرشد نے ٹھیکہ لے رکھاتھا۔ ان کے ہرمسئلے پریشانی اور پھڈے فساد کافیصلہ مرشد کیاکرتاتھا اور بدلے میں وہ سب اپنی آمدن میں سے ایک مخصوص حصہ خودبخود ہرماہ باقاعدگی سے مرشد تک پہنچادیاکرتے تھے۔
’’مثلاً کہاں کی آوارہ گردی ؟‘‘
’’کہیں بھی ‘ مری‘ ایبٹ آباد‘ ناران کاغان یا… یا پھر امام بری سلام کرنے چلتے ہیں‘ نہیں تو ملتان شاہ شمس سائیں کے ہاں حاضری دینے چلے چلتے ہیں۔‘‘
’’ہاں‘ تیری یہ آخری بات کچھ دماغ کو لگنے والی ہے۔‘‘
’’بس پھر لگالو دماغ کو‘بلکہ میں تو کہتاہوں کہ پانچ چھ دن ہیں گیارہویں شریف کو‘ اس بار کی گیارہویںوہیں جاکے کرتے ہیں۔ شاہ شمس‘ ملتان۔‘‘ تینوں نے اپنی اپنی بوتل خالی کی‘ مرشد نے پیسے نکال کر دیئے اور پھر تینوں اٹھ کربیٹھک کی طرف بڑھ گئے۔
:…ء … ً
حجاب نے خود پربیتنے والی ساری ظلم کتھا پوری تفصیل کے ساتھ حسن آرا نامی اس مہربان خاتون کے گوش گزار کردی تھی۔
نازو اور اسرار کابچپنا‘ناسمجھی‘ انا گھر‘ خاندان‘ باپ اور بھائی اکبر علی اور فرزند علی کی جنونیت‘ اپنا اغوااوریہاں موجودگی… سب کا سب کہہ سنایاتھا اس نے… اور اس کے بعد اس نے واسطے دے دے کر منتیں اور فریادیں کی تھیں کہ اسے کسی طرح اس سب سے بچالیاجائے … یہاں سے جانے دیاجائے …حسن آرا نے ہامی بھرلی تھی کہ وہ دوچار دن میں ہی اسے اس کے وارثوں تک پہنچادے گی۔ حجاب کادماغ اس سے کہہ رہاتھا کہ حسن آرا کی یہ ہامی محض اس کے دل بہلاوے اور تسلی کابہانہ ہے‘ پھربھی وہ حسن آرا سے امید باندھ بیٹھی تھی کیونکہ یہ عورت اسے بالکل مختلف مزاج کی محسوس ہوئی تھی اور ویسے بھی ڈوبتے کو تنکے کاسہارا والی صورت حال جو درپیش تھی اسے۔
اس سب کے بعد حسن آرا نے اسے کھانا کھلایا تھااور مغرب سے قریباً آدھ گھنٹا پہلے وہ اٹھ کر گئی تھی کہ جاکراماں کوسمجھاتی ہوں‘ حجاب ساری رات بھی جاگتی رہی تھی سو اس پر بیٹھے بیٹھے ہی غنودگی طاری ہونے لگی مگر کچھ ہی دیر بعد مغرب کی اذان سن کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وضو کیااور مغرب کی نماز ادا کی اسے خبرہی نہ ہوسکی تھی کہ مرشد نامی وہ جنونی غنڈہ کس وقت کمرے کے دروازے میں آن کھڑا ہواہے… نماز کے بعد جب اسے معلوم ہوا تب ایک بار تو اس کی جان ہی نکل گئی تھی وہ عجیب نظروں سے یک ٹک اسی کو تک رہاتھا۔
اس نے حجاب سے اس کے متعلق سوال بھی کیاتھا مگر وہ بس ہکلاکررہ گئی ‘دہشت زدہ تھی‘ ایسے ہی لگ رہا تھا کہ ابھی یہ جھٹ کر مجھے دبوچ لے گا‘ اس کے آگے بڑھنے پرحجاب نے بے اختیار حسن آرا کو پکارابھی تھااور… پتا نہیں کیوں اس کے ایسا کرنے پراس غنڈے نے عجیب حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھاتھا؟ پھروہ بغیر کچھ بولے‘ مصلا اٹھا کر کمرے سے نکل گیاتھا۔
کچھ دیر مزید گزری ہوگی کہ حسن آرا واپس آگئی‘ حجاب اس وقت پلنگ پر بیٹھی تھی۔ حسن آرا نے سب سے پہلے مصلے ہی کاپوچھاتھا۔
’’وہ… مرشد نامی جوغنڈہ ہے ‘ وہ آیا تھا‘ مصلااٹھا کر لے گیا۔‘‘
حجاب کے جواب پر حسن آرا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا مگر بولی کچھ نہیں۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ او پرتلے رنگین پایوں والی تین چارپائیاں دھری تھیں‘ حسن آرا نے ان میں سے درمیانی چارپائی پر سے ایک سفید چادر اٹھا کر اس پر نماز ادا کی اور پھر چادر دوبارہ اسی جگہ رکھ کر حجاب کی طرف آئی اور پلنگ کے ساتھ ہی نیچے قالین پر بیٹھ گئی۔
حجاب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا‘ اب سے پہلے بھی وہ چونکی تھی‘ جس وقت وہ سرجھکائے بیٹھی اپنے متعلق تفصیل بیان کررہی تھی تب اس نے حسن آرا کے چہرے کے بنتے بگڑتے تاثرات تو نہیں دیکھے تھے البتہ اسی دوران جب وہ غیر محسوس سے انداز میں پلنگ سے سرک کرنیچے قالین پراتر بیٹھی تو حجاب چونک پڑی تھی۔ اس کے بعد سے حسن آرا کااس کے ساتھ بات چیت کاانداز بھی کچھ بدلا بدلاساتھا۔ مگر حجاب نے زیادہ غور نہیں کیاتھا‘ ویسے بھی وہ تو اپنے کھرنڈ چھیلنے میں لگی ہوئی تھی مگر اس بار وہ بے ساختہ بول پڑی۔
’’خالہ؟ آپ… یوں نیچے کیوں بیٹھ رہی ہیں… یہاں… اوپر بیٹھیے نا۔‘‘
’’نہیں‘ میں بس یہیں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’ایسے کیسے بھلا۔‘‘
حجاب پلنگ سے اترنے لگی توحسن آرا نے اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔
’’آپ بیٹھیے‘ یہیں بیٹھیے آپ۔‘‘
حجاب نے دیکھا کہ حسن آرا کے چہرے پرنقاہت کے اثرات پھیلے ہوئے تھے۔
’’نہیں خالہ … مجھے اچھا نہیں لگ رہا‘ آپ… آپ ادھر اوپر بیٹھیں‘ نہیں تو مجھے بھی نیچے اپنے برابربیٹھنے دیں۔‘‘
’’ایسا مت کیجیے ‘ میں تو پہلے ہی بہت گناہ گار ہوں‘ مجھے مزید گناہ گار مت کریں‘ آرام سے بیٹھیںآپ‘ میں ٹھیک بیٹھی ہوں‘ باقی سب پریشانیاں بھی ذہن سے جھٹک دیں۔ مین اماں کواچھے سے سمجھا آئی ہوں‘ اب آپ کوکوئی تنگ پریشان نہیں کرے گا۔‘‘ حجاب متذبذب سی اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی۔ گزشتہ کچھ دنوں میں کیا‘ کچھ نہیں ہواتھا‘ اس کے ساتھ… مسلسل مار پیٹ… غلیظ گندی گالیاں‘تذلیل ہی تذلیل‘ مگر اب… اب یہ تھکی ٹوٹی سی عورت اوراپنے ساتھ اس کایہ ناقابل یقین رویہ … وہ حیران پریشان سی بیٹھی حسن آرا کی طرف دیکھتی رہی۔
’’کیااب وہ مجھے یہاں سے جانے دیں گی ؟‘‘
حجاب کے انداز میں ہچکچاہٹ اور بے یقینی سی تھی۔
’’کہاں جانا چاہتی ہیں آپ؟‘‘
’’واپس …اپ… اپنے گھر۔‘‘
’’کیاوہاں پہنچ کر آپ جاگیرداروں کی دسترس سے محفوظ ہوجائیں گی… سب کچھ پہلے جیسا ہوگا وہاں ؟‘‘ حسن آرا کے سوال پرحجاب کوچپ لگ گئی‘ حسن آرا مزید بولی۔
’’جو کچھ آپ نے بتایا ہے‘ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہاں نندی پور میں بڑی خرابی ہوئی ہوگی اور خدانہ کرے … خدانہ کرے … مگر حالات وواقعات یہی کہتے ہیں کہ آپ کے گھر والے خیروعافیت سے نہیں ہوں گے … ایسے میں آپ کا واپس اسی جگہ جاپہنچنا کسی صورت بھی آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوگا‘ لہٰذا آپ تھوڑا حوصلے اورصبر سے کام لیں‘ میں ایک آدھ روز میں کسی طرح وہاں کے حالات معلوم کراتی ہوں‘ اور آپ کے گھر والوں تک آپ کی یہاں موجودگی کی اطلاع پہنچاتی ہوں‘ خدابہتر کرے گا ۔ تب تک آپ بے فکری سے یہاں آرام کریں … آپ اب یہاں بالکل محفوظ ہیں۔‘‘
’’یعنی … یعنی آپ کسی کومیرے گائوں بھیجیں گی؟‘‘
’’ہاں جی! کچھ ایساہی کرناپڑے گا۔‘‘
’’کب… کب تک؟‘‘
حسن آرا نے ایک ذرا سوچا۔
’’کل صبح ہی کسی کو روانہ کرتی ہوں۔‘‘
’’آپ… آپ سچ کہہ رہی ہیں ناخالہ؟‘‘
حجاب کویقین نہیں آرہاتھا وہ بغور حسن آرا کی صورت دیکھ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سامنے بیٹھی یہ خوبصورت مگر مرجھائی ہوئی سی عورت سچ میں اتنی مہربان اور ہم درد طبیعت کی مالک ہے یااس کے ساتھ کوئی نیا ڈرامہ شروع کیاگیاہے‘ کسی سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق… جس عزت واحترام سے وہ حجاب کے ساتھ پیش آرہی تھی وہ بھی حجاب کوحیرت اور الجھن میں ڈال رہاتھا۔
’’ایک آدھ روز میں آپ کوخود ہی یقین آجائے گا۔‘‘
’’خالہ! میرے بابا سائیں یا میرے کسی بھائی تک ایک بار اطلاع پہنچادیں‘ میں زندگی بھر آپ کی احسان مند رہوں گی۔‘‘
’’نہیں‘ نہیں احسان کیسا بھلا! اپنی عاقبت سنوارنے کی کوئی کوشش کسی دوسرے پر کوئی احسان تھوڑی ہوتی ہے۔ میں تو خوش بخت ہوگئی ہوں کہ مجھے یہ موقع مل رہاہے یہ تو میرے رب کی مجھ پرکرم نوازی ہے کہ آپ کو کسی مشکل سے نکالنے کے لیے اس نے مجھ نصیب جلی کوچنا‘ مجھے ذریعہ بنارہاہے وہ۔‘‘
’’آپ یہاں کے باقی لوگوں سے کتنی مختلف ہیں۔ بالکل الگ مزاج ہے آپ کا‘ سب سے ‘کب سے یہاں ہیں آپ اور… اور آپ یہاں پہنچی کیسے ؟‘‘
حسن آرا کے ہونٹوں پر ایک افسردہ سی مسکراہٹ کسمسا کررہ گئی۔ اس نے تکیے کے نیچے سے کچھ ٹیبلٹس نکالیں اور انہیں دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’میں تو جنم جنم سے یہیں ہوں‘ یہیں پیدا ہوئی تھی‘ میری ماں اور ماں کی ماں بھی اسی مٹی سے اٹھی تھیں پھر یہیں ختم ہوگئیں۔
حسن آرا نے ایک طرف پڑی تپائی سے جگ اٹھا کر گلاس پانی سے بھرا اور دوگولیاں منہ میں ڈال کر گلاس ہونٹوں سے لگالیا۔ دو تین گھونٹ پینے کے بعد وہ دوبارہ گویاہوئی۔
’’یہ نزہت بیگم میری سگی خالہ ہے ‘اسی نے پالا ہے مجھے‘ میری ماں کوخدا نے جوفرائض اور ذمہ داریاں سونپی تھیں ‘ان میں آخری ذمہ داری مجھے جنم دینے کی تھی‘ سووہ مجھے پیدا کرتے ہی زندگی کی قید سے آزاد ہوگئی‘ بالکل جوانی کے دنوں میں مرگئی تھی وہ۔‘‘
حسن آرا نے پلنگ کی سرہاندی سے تکیہ ٹکاتے ہوئے حجاب کومخاطب کیا۔
’’آپ ادھر ٹیک لگالیں۔‘‘
’’آپ یوں نیچے بیٹھی ہیں‘مجھے اچھا نہیں لگ رہا خالہ۔‘‘
’’مجھے تو عادت ہے‘…کمر میں درد رہتا ہے اس لیے اکثر یہیں نیچے ہی سوتی ہوں‘ سکون اور آرام ملتا ہے۔‘‘
’’توپھر میں بھی نیچے ہی لیٹتی ہوں۔‘‘
حجاب نے ایک بار پھر پلنگ سے اترنا چاہا تو حسن آرا نے دوبارہ تڑپ کر اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔
’’نہیں‘ نہیں‘ ایسا مت کریں‘ آپ خدا کے لیے یہیں بیٹھیں ‘ بلکہ ادھر تکیے کے ساتھ ٹیک لگالیں۔‘‘
حسن آرا نے باقاعدہ اسے بازو تھام کرتکیے اور سرہاندی کے ساتھ ٹیک لگوادی۔
’’آپ بہت تھکی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں‘ آرام کریں‘ میں آپ کے پائوں دبادیتی ہوں۔‘‘ حسن آرا نے حجاب کے پائوں کی طرف ہاتھ بڑھائے تووہ تڑپ اٹھی۔
’’خالہ! یہ… یہ آپ کیا کررہی ہیں ۃ‘‘
’’آپ کی خدمت کرنا چاہتی ہوں‘ جومیرا فرض بنتاہے۔ میرے لیے سعادت کی بات ہے۔‘‘
’’آپ کیسی باتیں کررہی ہیں خالہ! کیوں اتنے عزت واحترام سے پیش آرہی ہیں مجھے … مجھے شرمندگی ہو رہی ہے ۔‘‘
’’اس میں شرمندگی کی بھلا کیابات ہے اور آپ کااحترام وادب تو مجھ پرواجب ہے۔ آپ سرکار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہیں۔ رحمتہ اللعالمین سے نسبت ہے آپ کو… آپ کااحترام اور خدمت نہیں کروں گی تو خدا کے حضور کیسے پیش ہوسکوں گی‘ آپ کے قدموں میں تومیری نجات ہے۔‘‘
حجاب اپنی جگہ ساکت بیٹھی حیرت زدہ نظروں سے حسن آرا کی صورت دیکھ رہی تھی۔
’’میںنے باقی سب کوبھی بتایاہے۔‘‘ حسن آرا اپنی رومیں بول رہی تھی۔ ’’بہت سمجھانے کی کوشش کی ہے سب کومگر ان کے دلوں پر پوری طرح سیاہی پھرچکی ہے‘ عقلوں پر پردے پڑچکے ہیں‘ یا… یاپھرآپ کی غم گساری اور خدمت کی سعادت خدا تعالیٰ صرف میرے حصے میں ڈالنا چاہتا ہے‘ مگر… میں تو خود گناہ زادی ہوں… خود گناہ گار ہوں‘ پھر بھی اگر یہ میرے حصے میں آئی ہے تو اسے صرف خدا کی کرم نوازی ہی کہہ سکتی ہوں میں۔‘‘
حسن آرا بول رہی تھی‘ کچھ عجیب سی کیفیت میں جاپہنچی تھی وہ اور یہ بات حجاب نے بھی بخوبی محسوس کی ۔ حسن آرا بولتے بولتے ذہنی طور پر جیسے کہیں دور جاپہنچی تھی۔ اس کاانداز خود کلامی جیسا ہوگیاتھا۔
’’سانسیں تو یوں بھی پوری ہوہی رہی تھیں‘ او راب تو کوئی گھڑی بھی آخری ہوسکتی ہے۔ شاید آپ ہی کے وسیلے میری مشکل آسان ہوجائے …سکون کاکوئی بہانہ بن جائے …بہانے بن بھی تو جاتے ہیں نا‘ ورنہ کہاں سادات اور کہاں یہ گناہوں کی دلدل… ایک سیدزادی‘ سید بی بی اور یہاں … خدا کی کون جانے کون سمجھے ۔‘‘ حجاب کی آنکھوں میں نمی اتر ائی‘ ادب وعقیدت کایہ رنگ اس کے لیے نیاتو نہیں تھا البتہ یہاں اسے کسی سے ایسے اظہار کی توقع نہیں تھی‘ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ مسلسل جس ذلت اور عذاب ناکی کاشکار تھی اس میں قطعی غیر متوقع طور پر اچانک اس قدر عزت افزائی اس کے لیے ایسے ہی تھی جیسے جہنم میں جنت کی کوئی کھڑکی کھل آئی ہو۔
’’بی بی جی ! آپ میری اس محبت اور عقیدت سے بدگمان نہ ہوں‘ اس میں کوئی کھوٹ نہیں ہے ۔‘‘
حسن آرا حجاب سے مخاطب ہوئی۔ اس کی آنکھیں اور لہجہ اب بھی کچھ کھویا کھویا ساتھا۔
’’نہیں خالہ‘بدگمانی والی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ تو میری محسن ہیں۔ آپ یہاں نہ ہوتیں تو میں توجیتے جی ہی مرگئی ہوتی… بس آپ بزرگ ہو کرمجھے اتنی عزت دے رہی ہیں تو… مجھے عجیب سی شرمندگی ہو رہی ہے ۔‘‘
’’بوڑھی یاضعیف کہہ لیجیے بزرگی سے میرا بھلا کیاواسطہ‘ اور آپ ادھر ٹیک لگالیجیے لیٹ جائیے۔‘‘
حسن آرا نے دوبارہ بازو پکڑ کرحجاب کی ٹیک لگوادی۔ چھت والا پنکھا چل رہاتھا‘ کمرے کی بغلی دیوار میں موجود کھڑکی اور اوپر چھت کے قریب موجود روشندان سے موسیقی کی آواز کمرے کے اندر آرہی تھی۔
’’کھانالائوں آپ کے لیے ؟‘‘
’’نہیں خالہ! کچھ دیر پہلے ہی تو کھایاہے۔‘‘
’’دودھ؟‘‘
’’نہیں‘ ابھی کسی چیز کی طلب نہیں‘ آپ بس میرے گھر تک اطلاع پہنچادیں اب۔‘‘ؔ
’’وہ تو کل پہنچ جائے گی۔‘‘
’’پتانہیں وہ سب کس حال میں ہوں گے‘ کیاگزررہی ہوگی ان سب پر؟‘‘
’’خدا بہت غفور ورحیم ہے وہ سب ٹھیک کردے گا‘ آپ اب سوچ سوچ کر خود کومزید ہلکان مت کریں۔‘‘
حجاب کومعلوم بھی نہیں ہوا اور کچھ ہی دیر مین اس کی آنکھ لگ گئی۔ حسن آرا نے بھی اس کی بے آرامی کے پیش نظر اسے نہیں چھیڑا‘ بس خاموش بیٹھی گہری سنجیدہ نظروں سے اس کی اجلی اور بھولی صورت کودیکھے گئی۔
:…ء … ً
تین بار آنکھ لگی تھی اور تینوں بار خواب میں ایک ہی صورت دکھائی دی تھی‘ ایک ہی چہرہ مختلف زاویوں سے روشن ہواتھا‘ آدھی صورت‘ ایک رخ‘ آنکھ کے قریب رخسار کی ہڈی پر‘ کسی چوٹ‘ کسی ضرب کا نیلگوں ہلالی نشان‘ سرخ انگور جیسے ہونٹ کا ورم زدہ گوشہ… سنجیدگی‘ سادگی اور… اور پھر پورے چہرے پر چھائی ہوئی دہشت ‘وحشت اور ہراس بھری آنکھیں …!
اذان میں ابھی دیر تھی مگر مرشد اٹھ کربیٹھ گیا… اس کے برابر‘ چبوترے پر ساون لیٹاسورہاتھا‘ مراد اور جعفر کی آج چھت پر ڈیوٹی تھی۔
چبوترے سے دوقدم آگے کتکان شیر کے سے انداز میں بیٹھاتھا‘ اس کی پشت چبوترے کی طرف تھی اور منہ بیرونی دروازے کی طرف… وہ بھی جیسے چوکس بیٹھااپنی کوئی ذمہ داری نبھارہاتھا۔
مرشد نے جب سے اس لڑکی کودیکھاتھا‘ اسے ذہن سے جھٹکنے اور نظرانداز کرنے کی کوشش کرتارہاتھا مگر اب… رات کے اس آخری پہر وہ اس چبوترے پربیٹھا شعوری طور پر اس لڑکی کے متعلق سوچنے لگا کہ آخر کیابات‘ کیاوجہ ہے جووہ لڑکی اس کے دماغ سے چپک کررہ گئی ہے؟
جس طرح دھول مٹی میں پڑا گلاب کاپھول‘ یاپھولوں کی چادر پرپڑا کوئی پتھر دور ہی سے صاف اور واضح دکھائی دے جاتا ہے‘ وہ لڑکی بھی اس ماحول‘ اس بازار میںکچھ ایسی ہی تھی… مرشد بچپن سے جو نسوانی چہرے اور آنکھیں دیکھتاپڑھتا آیاتھا‘ان کے دونوں رنگ وہ بخوبی جانتاپہچانتاتھا‘ گھاگ‘خرانٹ اورتجربہ کار چہرے‘ حیاکی پاکیزگی سے عاری آنکھیں … پھیکی بھدی مسکراہٹیں ‘ گناہوں کے کیچڑ میں لتھڑے رنگ وروپ‘ اس سب کے بیچ وہ لڑکی یوں دکھائی پڑی تھی جیسے کیچڑ میں کنول کاکوئی نوخیز پھول… بالکل ان چھوا… دوشیزگی اور کوملتا کی ایک ایسی جیتی جاگتی اور بولتی ہوئی مورتی جس کا سراپا پاکیزگی اور تقدس کاامین محسوس ہوتاتھا‘ دوسری بات یاوجہ جو اسے سمجھ آئی وہ اس لڑکی کے چہرے پر پھیلی گھبراہٹ وپریشانی اورآنکھوں میں بھراخوف تھا جسے مرشد یہ سمجھتا رہاتھا کہ شاید وہ اسی سے خوف زدہ ہے‘ لیکن جب مرشد نے پہلے اسے کبھی کہیں دیکھا ہی نہیں تھاتوپھر وہ بطور خاص اس سے خوف زدہ بھی نہیں تھی بلکہ اس کے رخسار کی ہڈی پر دکھائی دینے والا چوٹ کا نشان اور ورم زدہ ہونٹ غمازی کرتاتھا کہ وہ خوف زدہ کیوں ہے !
مرشد کو سمجھ آگئی کہ وہ اس سے خوف زدہ نہیں تھی بلکہ خود کو درپیش حالات وواقعات نے اس کے دل ودماغ میں خوف بٹھادیاتھا جس کی ایک جھلک مرشد کو کل شام اس کے چہرے اور آنکھوں میں دکھائی دی تھی۔
کچھ دیر وہ یونہی چبوترے پرچپ چاپ بیٹھا رہا پھر نہانے کی نیت سے اٹھ کرباتھ روم میں جاگھسا۔
نہانے کے بعد مرشد وہی دھوتی اور کرتاپہن کر واپس چبوترے پر آبیٹھاتھا‘ کتکان فوراً سرک کرا س کے پیروں میں آگیااور مرشد پیر سے اس کی گردن سہلانے لگا‘ لمس محسوس کرتے ہی کتکان نے گردن بالکل ہی زمین پر ڈال دی۔ البتہ اس کی دم خوش گواری سے رقص کرنے لگی تھی۔ اسے وہاں بیٹھے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کچھ آوازیں اس کی سماعت سے ٹکرائیں… چند مردانہ آوازیں تھیں‘ مرشد نے توجہ سے سننے کی کوشش کی… باہر گلی میں دائیں طرف کچھ فاصلے پر شاید چند افراد آپس میں الجھ رہے تھے۔ رات کا آخری پہر تھا‘ کچھ ہی دیر میں اذان ہونے والی تھی۔ ساری رونقیں کب کی خاموشی اور اندھیروں میں گم ہوچکی تھیں اور اب اس وقت باہر کچھ ہلچل کے آثار محسوس ہورہے تھے۔ مرشد نے ہاتھ بڑھا کر تکیے کے نیچے سے ٹٹول کرپسٹل نکالا‘ اسے دب میں لگایا اور دھوتی کی طنابیں کستاہوا اٹھ کربیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا… ساون بے سدھ سو رہاتھا‘البتہ کتکان فوراً اٹھ کر مرشد کے پیچھے لپکاتھا… وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آیا‘ سارا بازار مکمل طور پر خاموش اور سنسان پڑاتھا… بس دائیں ہاتھ کچھ فاصلے پر جہاں یہ راستہ دوشاخوں میں تقسیم ہوتاتھا‘ وہیں فیروزہ بائی کے کوٹھے کے بالکل سامنے پانچ چھ افراد موجود تھے اوران کی آپس میں توتکرار چل رہی تھی‘ دوکوتو مرشد نے پہچان لیا تھا‘ان میں سے ایک بگاتھااور دوسرا الیاسا چوئی۔
’’اوچوئی! کیابات ہے‘ کیاڈرامہ لگارکھا ہے ؟‘‘
مرشد نے ان کی طرف بڑھتے ہوئے بلند آوازمیں پوچھا۔
’’کچھ نہیں باواجی! بس یہ بائو صاحب کو تھوڑی چڑھ گئی ہے۔‘‘
’’الو کے پٹھے! جاہل‘ کمینے اور کن ٹٹے بدمعاش۔‘‘
مرشد نے آواز کی سمت دیکھا‘ بائیں طرف ایک دکان کے سامنے فرش پر موالی ملنگ لیٹا ہواتھااور غالباً ان آوازوں سے اپنی نیند میں خلل پڑنے کی وجہ سے ناگواری اور بیزاری کااظہار کررہاتھا۔
مرشد اس پر توجہ دیئے بغیر الیاسے لوگوں کے پاس پہنچ آیا۔ ان کے سامنے تین خوش لباس اور خوش شکل آدمی کھڑے تھے… تینوں نشے میں تھے البتہ ایک کچھ زیادہ ہی دھت تھااور وہی بگے اور الیاسے کے ساتھ الجھ رہاتھا۔
’’تم پیسہ بولو… صرف پیسہ بولو… جتنا بولو… میں دیتاہوں… پیسے میں تول دوں گا تم سب کو…فیروزہ کے وزن کے برابر تول… تول کے دوں گا میں… بولو۔‘‘
’’اوبابو صاحب! جائو اب اپنے گھر جائو یار… ہماری کھوپڑی مت پکائو۔‘‘
’’زریون! ابھی چلو پلیز… صبح ہونے والی ہی‘ کل دوبارہ آجائیں گے اور تسلی سے ساری بات چیت کرلیں گے۔‘‘
اس کے ایک ساتھی نے اسے بازو سے پکڑ کر سمجھایا تو اس نے ساتھی کو جھڑک دیا۔
’’شٹ اپ۔‘‘
’’یہ ٹھیک کہہ رہا ہے زریون! ابھی ہمیں چلنا چاہیے کل پھر آجائیں گے۔‘‘
’’شت یور مائوتھ ڈیوڈ۔‘‘
دوسرے ساتھی کی مداخلت پراس زریون نامی شخص نے اسے بھی جھاڑ پلادی۔
’’میری زندگی میں ‘کل کبھی نہیں آیا‘ سمجھے تم؟کل نہیں آیا… کل…مجھے اس سے آج ملنا ہے‘ ابھی ملناہے۔‘‘
ان تینوں کے رنگ روپ ‘ پنہاوے اور لب ولہجے سے بالکل واضح تھا کہ تینوں جوان اعلیٰ طبقے اور اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ الیاسا اور بگا بھی شاید اسی وجہ سے کوئی سخت رویہ نہیں دکھارہے تھے۔
’’کیا‘مسئلہ کیا ہے ؟‘‘
مرشد نے الیاسے اور بگے کی طرف دیکھتے ہوئے استفسارکیا۔
’’وہ… فیروزہ کاعشق دماغ کوچڑھ گیاہے ان بابو کے… ساری رات خدمت کی ہے او راب یہ ذلیل ہی کرنے پر تل گئے ہیں… جان ہی نہیں چھوڑ رہے۔‘‘
’’تم لوگ صرف پیسے کی بات کرو… ابھی ختم ہوگئے تو کیا… میں ابھی منگوابھی لوں گا۔ جتنے تم بولو۔‘‘
نشے کی زیادتی کے باعث اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ آواز ہی کی طرح وہ خود بھی کھڑاکھڑا جیسے ڈگمگا رہاتھا‘ ہولے ہولے جھول رہاتھا‘ اچانک وہ مرشد سے مخاطب ہوا اوراس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
’’تم مجھے شکل سے شریف اور… اور سمجھدار آدمی دکھائی دیتے ہو…تم بتائو ‘تم بتائو کہ کیامیں… میں غلط کہہ رہاہوں… میں وقت کی قیمت…دینے کو تیار ہوں۔‘‘ چند قدم کے فاصلے پر ادھر ادھر سونگھتا پھرتا کتکان ٹھٹک کر زریون کوگھورنے لگا تھا۔ اس نے سفید کلف لگے کاٹن کے شلوار قمیص پرایک نفیس قسم کی سیاہ واسکٹ زیب تن کررکھی تھی۔ سر کے بال گھنگریالے تھے اور چہرے پر مشین سے رشی ہوئی باریک اسٹائلش داڑھی… مرشد نے اس کے خوبرو چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’رب نے تمہیں اچھی پروقار شخصیت دی ہے جوان! کیوں اس وقار کو یہاں یوں پامال کرنے کی ضد پر تلے ہو… ہوش کرو۔‘‘
’’کیا…!‘‘ اس نے بغور مرشد کی طرف دیکھا پھر تعجب سے باقی لوگوں کی طرف۔
’’کیا…میںنے کچھ غلط کہا ہے کیا؟ کیا غلط… کہاہے‘میں نے!‘‘
’’مرشد کوئی رولاہے کیا؟‘‘
مراد کی آواز پر مرشد نے رخ پھیر کر دیکھا… مراداور جعفر بیٹھک کے دروازے کے سامنے کھڑے اسی طرف دیکھ رہے تھے۔ جعفر کے ہاتھ میں رائفل بھی دکھائی دے رہی تھی۔
’’کوئی رولا نہیں ‘ سکون کرو۔‘‘
مرشد اسے جواب دے کر دوبارہ زریون کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’جائو جوان! گھر جاکرآرام کرو‘ رات کے لیے حوصلہ اکٹھا کرو اور پھرآجائو… ابھی جاکے آرام کرو۔‘‘
’’حوصلہ بہت ہے… بہت حوصلہ ہے ‘یہاں… ادھر۔‘‘اس نے اپنی چھاتی ٹھونکتے ہوئے کہا۔
’’تم لوگ اب ادھر سے دفع ہوئوگے یاپھرمیں جوتا لے کے آئوں ادھر؟‘‘ مرشد نے دیکھا موالی ملنگ اپنی جگہ اٹھ کر کھڑ اہوچکاتھا‘ اوراس کی گھسی پٹی چپل اس کے دائیں ہاتھ میں دبی تھی۔
’’ایں… اب اس موصوف کو کیا… تکلیف ہوئی ہے ۔‘‘زریون منہ ٹیڑھا کرکے موالی کی طرف دیکھنے لگا۔
’’زریون! اب چل پڑو۔‘‘ اس کا ساتھی دوبارہ بولاتھا۔
’’کدھر کو چل پڑو؟‘‘
’’دیکھو زریون! اگر تم نے ہماری بات نہیں سننی ماننی توپھرہمیں اجازت دو‘ہم آئندہ تمہارے ساتھ کوئی فنکشن یاپارٹی اٹینڈ نہیں کریں گے۔‘‘ دوسرا ساتھی بھی بول پڑا۔
ان دونوں کواندازہ ہو رہاتھا کہ اب یہاں صورت حال خراب بھی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا دونوں ہی کے چہروں پر فکر مندی اور تشویش کے آثار ابھر آئے تھے۔
’’تم دونوں کوکیا پرابلم ہے ؟‘‘
’’یہاں سے چلو بس… ورنہ ہم یہاں سے سیدھے جاتے ہیں آغاجی کے پاس اور پھر وہ خود ہی آکر لے جائیں گے تمہیں۔‘‘
’’دھونس دے رہے …ہو مجھے ۔‘‘
’’ابے! تم لوگوں کوسمجھ نہیں آئی‘ میں نے کیا بکواس کی ہے؟ انگریزی میں بھونکوں کیا؟‘‘ موالی نے دوبارہ آواز لگائی اور گھسٹتے ہوئے قدموں سے دووتین قدم آگے چلا آیا۔
’’اوموالی…تیرے کوکیاجوش چڑھ رہا ہے‘ بیٹھ جاسکون سے۔‘‘
جعفر نے موالی کومخاطب کیا… تووہ وہیں سے جعفر کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’ذلیل کر ماراہے انہوں نے میرے کو‘ روزروز کا تماشہ ہے۔ جدھر بھی جائوں سر پہ سوار ہوآویں ہیں۔ نہ خود سوویں مریں ہیں نہ میرے کو سکون سے مرنے دیویں ہیں۔‘‘
’’جائو جوان! گھرجائو۔‘‘ مرشد نے زریون کاکندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا پھر اس کے ساتھیوں سے مخاطب ہوا۔
’’چلو لے جائو اسے… تم لوگ بھی جائو اب۔‘‘
اس نے آخری جملہ بگے اور الیاسے سے کہااور خود بھی واپس بیٹھک کی طرف چل پڑا۔
’’چلو زریون ! گاڑی تک تو چلناپڑے گا۔‘‘
’’کیسے دوست ہو تم لوگ… میری… میری فیلنگز کونہیں سمجھتے تم۔‘‘
’’فی الحال تم ہماری فیلنگز کو سمجھو پلیز۔‘
’’ادھر… اس طرف۔‘‘
مرشد عقب میں ان کی آوازیں سنتا واپس آگیا۔ اس کے قریب آجانے پر موالی اس سے مخاطب ہوا۔
’’اوئے مرشد! توبھی ان کے ساتھ مل گیا ہے۔ یعنی اب توبھی میرے ساتھ دشمنی کرے گا‘ ہیں ؟‘‘
’’کیاپریشانی ہے تجھے‘ کیاہوگیا ہے؟‘‘
’’تم لوگ میرے کوسونے کیوں نہیں دیتے؟‘‘
’’کس نے منع کیا ہے تجھے سونے سے؟‘‘
’’تم لوگ زیادتی کرو ہو میرے ساتھ۔‘‘
’’ابھی کونسی زیادتی ہوگئی تیرے ساتھ۔‘‘
مرشد کے ساتھ ہی موالی بھی بیٹھک کے سامنے جعفر اور مراد کے قریب چلاآیا۔
’’دیکھو جب میری نیند تم لوگوں کے جگارے میں رکاوٹ نہیں بنے ہے تو پھر تم لوگوں کاجگارامیری نیند میں رکاوٹ کیوں بنے ہے ؟‘‘
وہ اپنے جھاڑ جھنکاڑ چہرے پرگہری سنجیدگی لیے متفسرانہ نظروں سے مرشد کی صورت تک رہا تھا۔
’’توسونے سے پہلے تھوڑی افیم کھالیاکرنا۔‘‘
مراد کے مشورے پرموالی نے سخت ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔
’’تیری ماں بیچے ہے کیا؟ اگر بیچے ہے تو لادے‘ کھالیاکروں گا۔‘‘
’’تو اس کے منہ نہ لگ‘ آتجھے کھانا کھلائوں۔‘‘ مرشد نے فوراً مداخلت کی تھی۔
’’اس کو کھلادے۔‘‘
موالی نے مراد کی طرف اشارہ کیااور جھٹکے سے پلٹ کر اپنی جائے آرام کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں پڑے ایک بڑے سے ریڈیو او رایک گٹھڑی کاکتکان جائزہ لیتا پھررہاتھا۔
’’اچھا آچائے پلاتاہوں۔‘‘
’’وہ اس کی ماں کوپلادے… افیم والی کو۔‘‘
موالی نے بغیر پلٹے کہا… مرشد‘ مراد اور جعفر تینوں کے چہروں پرمسکراہٹ تھی۔
’’کیامسئلہ تھاادھر؟‘‘
’’کچھ نہیں‘ ظرف سے زیادہ چڑھائے پھررہے تھے بس۔‘‘
مراد کے سوال پر مرشد نے کہااور دروازے سے اندر داخل ہوا۔ تبھی اذان کی آواز بلند ہوئی‘ ساون ویسے ہی غٹ پڑا سو رہاتھا‘ مراد اور مرشد تو اس کے قریب ہی چبوترے پربیٹھ گئے البتہ جعفر چھت پرجانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
باہرسے کسی موٹر سائیکل کی آواز سنائی دی جوفاصلے سے قریب آئی اور پھر آگے نکل گئی۔ ؔؔ
مرشد حسب عادت سرجھکائے بیٹھا اذان سن رہاتھا۔ مراد سوئے پڑے ساون کے ساتھ چھیڑ خانی میں مصروف ہوگیا اور جعفر سیڑھیوں پرپہنچ چکاتھا کہ اچانک فضا فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھی۔ جعفر ٹھٹک گیا‘ مرشد اورمراد بھی بری طرح چونک پڑے۔ آواز باہر سے بلند ہوئی تھی۔ اوپر تلے تین فائر ہوئے تھے۔ موالی کی بے معنی آواز کے ساتھ ساتھ کتکان کی ڈری ہوئی چیخ نما آواز بھی سنائی دی تھی۔ اگلے ہی لمحے مرشد ڈب سے پسٹل نکالتے ہوئے اٹھ کربیرونی دروازے کی طرف دوڑ پڑا۔
’’باواجی باہر مت جائو۔‘‘
’’مرشد رک جائو۔‘‘
جعفر اور مراد نے ایک ساتھ اسے پکاراتھا مگر مرشد اتنے میں دروازے تک پہنچ چکاتھا‘ ساون بھی ہڑبڑا کراٹھ بیٹھا۔ٹھیک اسی وقت یکے بعددیگرے تین چار فائر مزید ہوئے اور انہوں نے مرشد کومنہ کے بل گرتے ہوئے دیکھا۔ ساون مراد اور جعفر تینوں دیوانہ وار دوڑتے ہوئے مرشد کی طرف لپکے تھے۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close