Naeyufaq Sep-17

اجڑتا عشق

قرۃ العین سکندر

وہ ایک عام ساہی دن تھا‘ وہ گلاس ونڈو سے باہر ہونے والی بارش کے پرلطف نظارے میں محو تھی‘ سرسبز درختوں کو بارش نے ہولے ہولے نم کرکے انہیں سیرابی بخشی تھی‘ ہرشے ہی نکھری دھلی دھلی سی لگ رہی تھی‘ بارش اس کی کمزوری رہی ہے‘ بارش میں ٹک کر بیٹھ جانااس کے بس میں نہ رہتاتھا‘ بارش میں وہ بی جان سے کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے باہر کی راہ لیتی تھی۔ کبھی قریبی پارک میں چل دیتی اور کبھی یونہی شاپنگ کے لیے چل دیتی۔ قطرہ قطرہ پانی کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں جذب کرنے کاالگ ہی مزہ تھا مگر شادی کے بعد کئی سالوں سے یہ سلسلہ موقوف تھا‘ وہ ایک پابند سلاسل زندگی بسر کررہی تھی۔ اب ہر قدم اٹھانے سے قبل کئی بار سوچنا پڑتاتھا‘کیا سجیل کے لیے وہ اب پرائی ہوگئی تھی۔ اس کی اور سجیل کی ملاقات بھی تو اس بارش میں ہوئی تھی۔ وہ اپنی ماں جی کے اصرار پر پھل سبزیاں خریدنے کے ارادے سے نکلا تھا کہ اچانک بادلوں نے آنکھ مچولی دکھانا شروع کردی تھی اور دوسری جانب نیلم بھی بارش کی ٹک ٹک کانوں میں پڑتے ہی‘ تھیلا تھامے نکل پڑی تھی یوں ہی ادھر سے ادھر پھدک رہی تھی‘ وہ خدا کی صناعی کامکمل نمونہ تھی۔ خوبصورت غزالی آنکھیں گھنیری پلکیں گلابوں کی سی سرخی رخساروں پر دمکتی ہوئی تھی۔
وہ یوں ہی مبہوت سااسے یک ٹک تکے گئے تھے۔ وہ ان کی نظروں کی فسوں خیزی سے بے خبر ہاتھوں میں پانی کے قطروں کو محویت سے اپنے ہاتھوں کی پوروں میں جذب کررہی تھی۔ ایک دم نجانے کیا سوچ کر وہ کھلکھلا کر ہنسی تو موتیوں جیسے دانت جگمگاتے ہوئے ایک لڑ ی کی صورت میں پروئے ہوئے لگے تھے۔
’’کیاہو رہاہے‘ صبح صبح ہی وقت کیوں کھوٹا کررہی ہو‘ کام کاج کاہوش نہیں تمہیں۔‘‘ اپنے عین عقب سے آتی ثریا آپا کی آواز پر وہ بری طرح سٹپٹائی تھی۔ وہ جو اس ایک لمحہ وصل میں بری طرح جذب ہو کر اپنے اردگرد سے بے بہرہ ہوچکی تھی۔ وہ اک لمحہ وصل جو اسے نئی طاقت دے جاتاتھا‘ ہرنئے طلوع ہونے والے دن میں تھکادینے والی مسافت میں ایک گھڑی دم بھر سانس لینے کا مجاز بنتاتھا‘ وہ اک لمحہ وصل اس کے ہاتھوں کی پوروں سے پھسل گیاتھا۔ وہ بے حد مایوسی سے مڑی تھی‘ ثریا آپا نے اس کے چہرے پربکھرے آس سے لے کر پاس تک کے سبھی بکھرے ہوئے رنگ بے حد محویت سے دیکھے تھے‘ اس لیے ٹھنڈی سانس بھری اور طمانیت سے بولیں۔
’’تم خود کو خوابوں میں رکھنا چھوڑ دو اب تم سجیل کی محبوبہ نہیں بلکہ اس کی بیوی ہو اور محبوبہ کو دل سے اترتے دیر نہیں لگتی ہے جب وہ بیوی کی مسند پر آن جمان ہوتی ہے‘ اس کوہر قدم بے حد پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے اور تم تو اپنی ہی دنیا میں جئے جاتی ہو۔‘‘
وہ ثریا آپاکا اشارہ سمجھ گئی تھی تبھی جلدی سے سارے کام کرنے لگ گئی تھی۔ صبح سویرے نگہت بیگم اور نصیر صاحب کو چائے کے کپ کی اشد ضرورت ہوتی تھی۔ وہ نما ز فجر کی ادائیگی کے بعد سب سے پہلے چائے کی طلب محسوس کرتے تھے۔ اس لیے وہ پہلے چائے بنانے لگی‘ دوسری طرف ناشتے کی تیاری کرنے لگی۔
نصیر صاحب اور نگہت بیگم کے چار بچے تھے۔ سب سے بڑی ثریا آپا تھیں‘ جن کا گھر قریب بھی تھا‘وہ ہردوسرے دن ادھر ہی پائی جاتی تھیں‘ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہیں اپنی گھرداری میں وہ لطف نہیں ملتا جو دوسروں کی گھرداری میں اسرار ورموز جان کر ملتاہے۔
پھرسجیل تھے۔ اس کے بعد عامر اور سب سے چھوٹی فریحہ تھی۔ فریحہ نازوں پلی تھی۔ ابھی کالج میں پڑھتی تھی‘ اس کو ابھی تک بچہ جان کرگھر گھرہستی کے کاموں سے دور رکھا جاتاتھا۔
یوں ثریا آپا ان کے تین بچے اور باقی تمام اہل خانہ کے لیے اس نے عین وقت پر ناشتہ کا اہتمام کرنا ہوتاتھا۔ ذراسی دیر پرثریا آپا اس کوبے نقط سناتی تھیں۔
کبھی کبھار تو اس طرح کے طنزیہ جملے بولتی تھیں کہ اس کواپنی روح اندر تک چھلنی ہوتی محسوس ہوتی تھی۔ اس خوف کے سائے تلے وہ اپنے تمام کام وقت پر ہی انجام دینے کی سعی میں ہلکان ہوجاتی تھی۔ وہ اپنے گھر میں دوسرے نمبر پر تھی۔ پہلے بھائی تھے پھر چھوٹی ندا تھی۔
مگران کے گھر میں کوئی اتنی روک ٹوک نہ تھی۔ اگرچہ بھابی بھی آچکی تھیں مگر سارے کام خود ان کی والدہ طاہرہ بیگم سرانجام دیتی تھیں۔ ثوبان بھائی اور عالیہ بھابی بھی ماں کے آرام کا خوب خیال رکھتے تھے۔ ان کااپنا گھرانہ بے حد مثالی تھا۔ جہاں ساس بہو کی روایتی چپقلش کاشائبہ تک نہ تھا۔ وہاں ایک پرسکون فضا ہوا کرتی تھی۔ جبکہ یہاں ہر کام پربات بات پر ڈانٹ ڈپٹ سہہ سہہ کر نیلم اپنی خود اعتمادی کھوتی جارہی تھی۔ ا س کاوہ مسکراتا ہوا اٹھکیلیاں کرتاوجود اب ہروقت ہراساں رہنے لگاتھا۔
سجیل بھی ماں اور بہن کی عینک لگا کر ہی منصف بن کر فرائض سرانجام دینے لگتاتھا۔پھراسے بھی ماں اور بہنوں کی طرح نیلم کے ہر کام میں مین میخ نکالتے دیر نہیں لگتی تھی۔ نصیر صاحب سمجھاتے تھے۔
’’تم لوگ کچھ تو عقل سے کام لو اور نگہت بیگم یہ ثریا کا زیادہ آنا جانا مناسب نہیں ہے‘اسے اپنے گھر گھرہستی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی اپنی بچیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہیں۔ کیاوہ ماں سے یہی سیکھ رہی ہیں۔ ہروقت نیلم کا پیچھا کرنے سے بہتر ہے اپنے گھر کوقرینے سے سنوارے نکھارے میاں کوراضی رکھے۔‘‘
نصیر صاحب متانت سے سمجھاتے تھے مگر کوئی بھی ان کی بات پر خاص کان نہ دھرتاتھا۔ اس کی اصل وجہ تو یہ تھی اک عرصہ دراز سے اس گھر پرنگہت بیگم کی حکومت رہی تھی۔ انہی کے حکم کا سکہ چلتاتھا۔ اب اچانک نصیر صاحب کی بات پر کیسے عمل درآمد ہوسکتاتھا۔ پھرجب نصیر صاحب زیادہ زور دیتے تو ثریا تین دن میکے سے واپس سسرال کی راہ لیتی تھی اور پھر دوبارہ واپس آجاتی تھی۔ نیلم کی بے ثبات زندگی میں ہم نفس ہوتے ہوئے بھی وہ خود کو بالکل تنہا محسوس کرتی تھی۔ سجیل کے محبت کے وہ تما م دعوے جو شادی سے قبل اس نے کیے تھے‘ دھرے کے دھرے رہ گئے تھے۔
ناشتے کی ٹیبل پر تمام اہل خانہ موجود تھے۔ وہ تیزی سے سب کی من پسند کھانے کی ڈشز ٹیبل پررکھ رہی تھی۔
’’تم نے عامر کے لیے جوس نہیں نکالا بچہ سارا دن پڑھ کر ہلکان ہوجاتاہے۔ صبح سویرے اسے جوس دیاکرو۔‘‘
نگہت بیگم نے اسے نیا حکم سنایاتووہ اپنے قدموں پرواپس پلٹنے والی تھی جب عامر کی آواز پررک گئی تھی۔
’’بھابی رہنے دیں‘ میں آج پراٹھاانڈہ ہی کھالوں گااور امی کچھ تو خیال کریں اتنے سارے افراد کا فرمائشی ناشتہ ہی کافی ہے میں اس فرمائشی لسٹ میں شال نہیں ہوسکتا۔‘‘عامر نے کہا۔
نگہت بیگم نے خشمگیں سی نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھاتھا۔’’اب اس لڑکی کے پیچھے تم اپنی ماں کی بات رد کروگے؟‘‘
نگہت بیگم کی بات پر فضا میں گہری خاموشی کی فضا تن گئی تھی۔
’’نہیں امی میرا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا۔ میں آپ کی دل شکنی نہیں کررہامیں تو… ‘‘ عامر نے وضاحتی لہجہ میںکہا تھا‘ مگر ان کی بات درمیان میں ہی ثریانے اچک لی تھی۔
’’تو کیامقصدتھاتمہارا‘ میں خوب جانتی ہوں جو ہروقت یہ تمہارے آگے پیچھے کام کرتی پھرتی ہے‘ تمہارا دل موم کرکے تمہیں مہرہ بنا کر ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے‘ اب سجیل ہاتھ سے نکلتا دکھائی دینے لگا تو عامر پر اپنے ہتھکنڈے آزمانے شروع کردیے۔‘‘
ثریا آپا کازہرخند لہجہ سارے ماحول کو یکبارگی آلودہ کرگیاتھا۔
’’حد ہوتی ہے آپا‘ ہر انسان کو سوچ کر ناپ تول کر بولنا چاہیے تاکہ بعد میں شرمندہ نہ ہوناپڑے… اور آپ توواقعی یہاں کے حالات زیادہ بہتر جانتی ہیں‘ کیونکہ وہ آپ کے ہی مرہون منت ہیں۔ رشتوں کو ان کے اصل مقام پررکھ کر دیکھیں سارے کام سیدھے ہوجائیں گے کب تک ولن کارول نبھاتی رہیں گی؟‘‘ عامر نے دوبدو جواب دیا۔
اس ساری صورت حال میں اس کی اپنی حالت غیر ہو رہی تھی۔ وہی سزاوار ٹھہرائی جارہی تھی۔
سجیل نے اچانک کھانے کی پلیٹ پٹخ دی تھی۔
’’کیا طریقہ ہے بڑوں سے بات کرنے کا؟‘‘ سجیل کالہجہ بارعب اور غصیلاتھا۔
عامر ان کی سرزنش پر خاموشی سے قطع تعلقی اپناتاوہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلاگیاتھا۔
’’دیکھ لیا تم نے سجیل‘ اتنی سی بات پر کتنا واویلا کھڑا کروادیااس عورت نے۔‘‘ ثریا آپا نے مصنوعی آنسو آنکھوں میں لاتے ہوئے کہاتو سجیل کو اس سارے واقعے میں اس کی خاموشی بھی جرم لگنے لگی تھی۔ جیسے پس پردہ وہی اس سارے واقعے کی روح رواں رہی ہو۔ جبکہ خود اس کا چہرہ فق تھا اور چہرے پر ہوائیاں اڑرہی تھیں۔ ہاتھ برف بارتھے۔ دل تو اب شادی کے بعد سے ہی اپنی جگہ قائم ودائم نہ رہتاتھا‘ حادثوں کی آماجگاہ بن چکاتھا۔
اب سجیل کاموڈ ٹھیک ہونے میں کئی دن لگ جانے تھے اور جب تک سجیل کاموڈ اعتدال پر نہ آجاتا وہ بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپتی رہتی تھی۔ دل تو اس کی محبت میں خوار تھا‘ مگر ذہن سمجھاتا تھاکہ جب اسے کوئی پروا نہیں تووہ بھی فکر چھوڑ دے ۔
مگر سجیل اسے محبت کی راہ دکھا کر خود کہیں کھوچکاتھا۔
اب وہ اکیلی اس پرپیج راہ میں قدم قدم آبلہ پائی کادرد سہہ رہی تھی۔ نارسائی اب اس کامقدر بن چکی تھی۔ ہر لحظہ درد‘ اس کادل کامسکن ٹھہراتھا۔
٭…٭…٭
’’آج ہم لوگ عامر کے رشتے کے لیے جارہے ہیں شام میں‘ تم سب کووقت پر کھانا کھلا دینا‘کیامعلوم دیر سویر کا۔‘‘
نگہت بیگم اور ثریا آپا خاصے دنوں سے سرجوڑے راز ونیاز میں لگی رہتی تھیں۔ اب اتنے دنوں بعد عقدہ کھلا تویہ تھا۔
’’جی۔‘‘ وہ مودب ہوکربولی تھی۔
عامر کے رشتے کی مہم بڑے زوروں پر تھی‘ ثریا آپ اسے جتلانے کی خاطر باآواز بلند تبصرہ فرماتی تھیں۔
’’اماں اس مرتبہ ہم کسی قسم کا کوئی دھوکا نہ کھائیں گے۔ سجیل کی تو مت ماری گئی تھی جو بنا جہیز کے لڑکی بیاہ لایا جس کونہ تو بڑوں کااحترام کرنا آتا ہے نہ ہی گھرگھرہستی کی الف ب معلوم ہے۔‘‘
ثریا آپا کی باتوں پر وہ خاصی جز بز ہوتی رہتی تھی‘ مگر لب بستہ رہتی۔اس کا شدت سے دل چاہتا تھا کہ پوچھے اس نے کب بے ادبی کی؟ پھر جہیز میں اتنا کچھ تو اس کے والدین نے دیاتھا مگر یہاں آکر اسے علم ہوا کہ سونے کے زیورات کابھاری سیٹ نہ صرف یہ کہ ہونے والی ساس کو پیش کرنا ہوتا ہے بلکہ یہاں رواج ہے کہ دونوں یاجتنی بھی نندیں ہوں‘ ان کو بھی مکمل سیٹ دینا ہوتاتھا‘ مگر وہ تو اس ساری بات سے یکسر لاعلم تھی۔ نہ ہی ان کے والدین تک کو اس سوچ کی رسائی حاصل ہوسکی تھی‘ اب ہر بات میں یہی طعنہ اس کامقدر بنتاتھا‘ وہ مارے باندھے زبردستی کی مسکان سجائے ہر طنز ‘ہر تضحیک آمیز جملہ سہہ رہی تھی۔
اس کی خاموشی کو بھی بسااوقات جرم گردانا جاتاتھا۔
عامر کی مہم ابھی سرنہ ہوئی تھی کہ نئی بات ہوگئی۔ جس گھر یہ لوگ رشتہ کی غرض سے گئے تھے‘ وہاں ان لوگوں کو فریحہ بے حد پسند آگئی تھی۔ اب عامر کوبھول کر فریحہ کی بابت سوچاجانے لگا۔ یوں بھی امتحانات کے بعد فریحہ کوفراغت ہی فراغت تھی۔
’’اچھا ہے ناں ہماری فری وقت پر اپنے گھربار کی ہوجائے گی۔ فری خوش رہے گی‘ کیاٹھاٹ باٹ ہوں گے۔ اتنابڑا ساتو ان کابنگلہ ہے‘ اور پھرہم اچھا خاصا دے دلاکرہی تجھے رخصت کریں گے تاکہ کوئی طعنہ نہ ملے تجھے۔‘‘
آخری جملہ خاصادھیمی آواز میں ادا کیا گیا تھا۔ مبادا وہ نہ سن لے۔ جبکہ اس کاذہن تو پہلے ہی ان گنت خیالات کی آماجگاہ بناہواتھا۔ جہاں ریل کی مانند مسلسل پٹری پرپہیہ چل رہاتھا۔
’’کیابات ہے میں دیکھ رہی ہوں تم خاصی جلن کاشکار ہو رہی ہو‘ فری کااتنا اچھا رشتہ ہورہاہے‘ تم برداشت نہیں کرپارہی ہو ناں۔‘‘ثریا آپا کانیاالزام سن کر چائے کا کپ جووہ انہیں پیش کرنے کے ارادے سے ٹرے سے اٹھا رہی تھی‘ چھلک اٹھا تھا۔
وہ حواسہ باختہ ان کامنہ تک رہی تھی۔ لفظ بھی اب اس کاساتھ چھوڑ گئے تھے۔
’’میں تمہاری رونی صورت کافی دنوں سے دیکھ رہی ہوں‘ بھابیاں تو ایسے مواقع پر بڑھ چڑھ کر کام کرتی ہیں ‘ایک تم ہو تمہیں تو ایک کام کہہ دو کچن کا موت آجاتی ہے۔‘‘
نگہت بیگم کہاں چوکنے والی تھیں دور کی کوڑی لائی تھیں۔ نیلم متعجب رہ گئی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو اتنی خوش ہوں۔ سجیل سے پوچھ لیں آپ۔‘‘
اسے فوری طور پر کوئی بات سمجھ میںنہ آئی تو سجیل کا حوالہ دے ڈالا تھا۔
’’اس کی تو رہنے ہی دو۔ تمہاری زبان ہی بولے گا ناں وہ تو۔‘‘ ثریا آپاتمسخرانہ ہنسی تھیں۔
نیلم کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔
یاد رکھنا میری ایک بات میں خوب جانتی ہوں تمہارے انداز‘ مجھے بات کرنے کا خوب ڈھنگ آتا ہے۔ سجیل سے کہہ دیاناں ایک بار تو وہ وہی کرے گا جومیں کہوں گی۔ مجھ سے اچھا توبات کرنے کاہنر کسی کو آتا ہی نہیں ہے۔‘‘
ثریا آپا کا یہ لہجہ اس بات کاغماز تھا کہ وہ دبے دبے انداز میں اسے دھمکی دے رہی ہیں۔ نیلم بسااوقات سوچتی تھی کہ ثریا آپا کی تو اپنی بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھیں او راب ان کے جلد ہی رشتے طے کرنے کے مراحل درپیش ہونے تھے پھربھی وہ خوف خدا سے مبراتھیں۔ انہیں اس کی کسی آہ کا کوئی خوف تک نہ تھا۔ ہر بات میں ان کاانداز دوٹوک ہواکرتاتھا۔
پھربات بے بات یہی دھمکی۔
’’بات کرنے کاہنر خوب جانتی ہوں۔ڈھنگ آتا ہے مجھے بات کرنے کا۔‘‘
دوسرے لفظوں میں ثریاآپا کو سجیل کو ہینڈل کرنا آتاتھا۔ وہ جو منظر کشی کرتی تھیں‘ سجیل اسی کو یکھتے تھے‘ پھران کاموڈ ان کی باتوں کے نتیجے میں کئی دن تک نیلم سے خراب رہتااور وہ بھی نیلم کو زچ کرتے اسے مسلسل طنزیہ باتوں سے ارزاں کرتے رہتے تھے۔
’’اماں یہ وٹے سٹے کی شادیاں ٹھیک نہیں ہوتی ہیں ان میں ایک گھر نہیں بلکہ دو گھرانے تباہ ہوجاتے ہیں۔‘‘ عامر نے احتجاج کیاتھا۔
’’نہ تو ہم نے کوئی آنکھیں بند کرکے تو ہاں نہیں کہا‘ زہرہ اور زاہد دونوں ہیرا ہیں‘ زاہد اپنی فریحہ کو خوش رکھے گا۔ اور زہرہ بھی خاصی خوبصورت لڑکی ہے‘ اس کودیکھ کر تو میں اسی وقت فریفتہ ہوگئی تھی۔‘‘ثریا آپا کااپنا ہی نقطہ نگاہ تھا۔
’’آپا آپ بھی محض چہروں کو اہمیت دیتی ہیں‘ سیرت اور کردار ہی سب سے اہم ہوا کرتے ہیں اور پھرمجھے زہرہ خاصی مغرور لگتی ہے۔‘‘ؔ
عامر نے دل کی بات کہہ دی تھی۔ اس ایک مرتبہ زہرہ سے آمنا سامنا کرنے پر ہی وہ لڑکی خاصی تیز طرار لگی تھی۔ اسے تو بھابی جیسی لڑکی کی تمنا تھی۔ جوگھر بار کوسنبھال سکے اور سب کی تلخ وترش باتوں کو بھی امرت سمجھ کر پی لے۔
وہ جانتاتھا کہ گھر قربانیوں کی اور صبر کی عمارت پر بنتے ہیں۔ ان کی تعمیر ہر رو ز دل میں اترنے والے آنسوئوں کی ضبط گریہ کاباعث ہوتے ہیں۔ یہی آنسو آبیاری کرتے ہیں تو تناور درخت بن جاتا ہے۔ جہاںتمام رشتے بیک وقت سجتے ہیں۔
’’چہروں کو اہمیت نہیں دے رہی پگلے ہرنقطہ نگاہ سے سوچا ہے۔ ہرجگہ خوار ہونے سے ہم بچ گئے بیک وقت تم دونوں کارشتہ طے ہوگیا۔ پھر وہ لوگ امیر کبیر ہیں‘ سارے معاملات ہی ازخود آفر کی ہے کہ سارے اخراجات وہ ساتھ باہمی رضامندی سے اٹھالیں گے۔ شادی ہال بھی انہوں نے ارینج کرکے دیا ہے‘ ہرمعاملہ میں ان کارول ہے‘اسے نہیں جیسے ہم نے پہلے دھوکا کھایا تھا۔‘‘
ثریا آپا کی تان آجاکر نیلم پر ہی ٹوٹتی تھی۔ عامر کچھ کہنے والا تھا مگر پھر یہ سوچ کر خاموش ہوگیا کہ اس کی کوئی بھی بات جو نیلم کے حق میں بولی جائے گی یہاں نیلم کے لیے مزید پریشانیاں اور دشواریاں ہی لائے گی۔
جبکہ وہ دل میں نیلم کی چھوٹی بہن ندا کوچاہتاتھا۔ وہ ہوبہو نیلم بھابی کا عکس تھی مگر یہاں تو نیلم بھابی کی ہی گنجائش نہ نکلتی تھی‘ کجایہ کہ ان کی چھوٹی بہن کے لیے گنجائش نکالی جاتی۔ بہتری اسی میں تھی کہ خاموشی اختیار کرلیتا اور وقت کے دھارے پر خود کو بہتاہواچھوڑ دیتا۔
نیلم دیکھ رہی تھی کہ یہاں بھی دو رخی معاملہ روارکھا جارہاتھا‘ فری کو د ینے کے معاملے میں بہترین شے کاانتخاب کیاجارہاتھا‘ جبکہ آنے والی بہو کے لیے کم مالیت کی شے کاانتخاب کیاجارہاتھا۔ یہ سب قصداً ہورہاتھا۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت۔
فری تو جس شے پرہاتھ رکھتی تھی وہ فری کے لیے حاضر کردی جاتی تھی جبکہ آنے والی کی آرزوئوں کی کوئی قدروقیمت نہ تھی۔
پھرزہرہ دعائوں کے حصار میں اس دہلیز پر آئی تو فریحہ نئے گلشن میں چل دی تھی۔
زہرہ نے جب اپنے لیے منتخب سوٹ دیکھے تو خاصے نخریلے انداز میں ناک بھوں چڑھائی تھی۔
’’آپ کی امی نے ایک بھی ڈھنگ کا سوٹ میرے لیے منتخب نہیں کیا۔ بہتر تویہ ہے کہ یہ سارے سوٹ آپ اپنی بہن کو ہی بھجوادیں‘ میں نئے سرے سے اپنی پسند کی شاپنگ کروں گی فی الحال تو سلنے میں بھی دشواری ہوگی اس لیے میں ریڈی میڈ سوٹ ہی پہن لوں گی۔‘‘
زہرہ سارے معاملات ازخود ہی طے کرتی چلی جارہی تھی اور عامر متعجب اس کاچہرہ تک رہاتھا۔
’’یہ تو اب ممکن نہیں ہے ‘ کم از کم میرے بجٹ کے حساب سے تو ایسا مشکل ہے۔‘‘ عامر ہچکچایا تھا۔ پھر ماں کی خفگی کابھی سامنا کرنے سے گھبراتاتھا۔ اگر وہ اتناہی بہادر ہوتاتو ندا آج اس کی جیون ساتھی بن چکی ہوتی۔
پھر زہرہ نے تو ضد ہی پکڑلی تھی۔ اس لیے مجبوراً عامر اسے شاپنگ کے لیے لے گیاواپسی پر وہ ڈھیر سارے شاپنگ بیگز تھامے فاتحانہ انداز میں لوٹی تھی۔
’’ارے ابھی تو اتنے سارے کپڑے لیے تھے اس کے لیے اب اور شاپنگ کرآئی ہو۔‘‘
نگہت بیگم دبے دبے لفظوں میں اس کے لائے شوخ اور نکھرے رنگوں والے لباس دیکھ کر بولی تھیں۔ مبادا وہ برا ہی نہ مان جائے۔ یہ بھی اس مجبوری کے تحت تھا کہ دوسری جانب ان کی اپنی بیٹی بیاہی تھی اور اس کی خوشی کاانحصار اب اس پر تھا کہ زہرہ کتنا خوش اور مطمئن رہتی ہے۔
’’افوہ وہ بھی کوئی سوٹ ہیں‘ مجھے اتنے پھیکے رنگ پسند نہیں پھر وہ بالکل سستے سے کپڑے والے کام کے سوٹ تھے مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھائے‘الٹا میر ادل اتنا خراب ہوا ہے‘ وہ اگر آپ لوگوں کواتنے ہی پسند ہیں تو ایسا کریں فری بھابی کوبھیج دیں۔‘‘
زہرہ لگی لپٹی رکھے بغیر دوٹوک انداز میں بولی تھی۔
نگہت بیگم تو برامنا کربھی خاموش رہ گئی تھیں مگر ثریا آپا خاموش نہ رہ سکی تھیں۔ ان کاموڈ سخت آف ہوگیاتھا۔
’’یہ تو کوئی طور طریقہ نہیں ہے اور آج تک نہ دیکھا نہ سنا کہ لڑکی اپنے ملبوسات سسرال والوں کے منہ پر دے مارے۔ ہماری بہن بھی تو ہے اس نے تو ایسی کوئی مین میخ نہیں نکالی۔‘‘
ثریاآپا نے غصیلے لہجے میں کہاتھا۔
ہونہہ وہ بھلا کیا مین میخ نکالیں گی‘ ان کی حیثیت ہی کہاں تھی کہ اتنے قیمتی ملبوسات زیب تن کرتیں۔ ہرشے ہم نے اعلیٰ پائے کی منتخب کی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کواپنی اوقات کے مطابق دیاہے‘ اب آپ لوگ شاید اتناہی دے سکتے تھے۔‘‘
آخری جملہ اس نے خاصے چبھتے ہوئے انداز میں کہاتھا‘ نگہت بیگم تو سلگ ہی اٹھی تھیں۔ وہ کہاں عادی تھیں بہو بیگم کے لب ولہجہ میں اتنی تندی اور تیزی کی۔
مگر وہ نیلم نہ تھی زہرہ تھی۔ جسے دوبدو جواب دینے آتے تھے‘ اور منہ پر باتوں سے تھپڑ برسانا بھی آتے تھے۔
’’سن رہے ہو سب اور منہ بند کے گڑکھائے بیٹھے ہو۔‘‘ نگہت بیگم کاسارا غصہ اب عامر کی جانب منتقل ہوگیاتھاجو ساری بات سن کربھی بالکل پر سکون انداز میں بیٹھا تھا۔
’’میں کیا کہہ سکتاہوں‘ زہرہ آپ کی ہی پسند کردہ بہو ہے۔‘‘عامر نے یہ کہہ کر وہاں بیٹھنابھی بیکار سمجھاتھا تبھی وہاں سے خاموشی سے پلٹ آیاتھا۔ پھر آئے دن کے جھگڑوں نے طول پکڑ لیاتھا۔ جس میں عامر بالکل خاموش تماشائی کاکردار ادا کرتاتھا۔ چپ کی مہر لگائے بیٹھاسب سنتا مگر بولتا کچھ بھی نہ تھا۔ نہ ماں کے حق میں نہ بیوی کی طرف داری میں‘ پھردونوں گھرانے متاثر ہورہے تھے اگر یہاں زہرہ کاموڈ خراب ہوتادوسری طرف زاہد فری کو طعنہ دینے لگتاتھا۔ اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جاتاتو ایک گھرانہ کارویہ دوسرے گھرانے پراثرانداز ہونے لگاتھااور رشتوں میں دراڑ سی پڑنے لگی تھی۔
یہ ایک سمجھوتہ تھا جسے دونوں اطراف کے گھرانے نبھارہے تھے‘ اس کا سبب وہ وٹہ سٹہ تھا۔
ایک سال ہونے کوآیا تھا‘ مگر زہرہ کے وہی نازو انداز تھے۔ محض سجنا سنورنااور شام کو ضرور کسی جگہ کے لیے آئوٹنگ کی غرض سے چل دینا اگر ساس یانند منع کرتیں تو زہرہ واویلامچادیتی تھی۔
زہرہ اکثر نیلم کو بھی بغاوت پراکساتی تھی‘ مگر نیلم جانتی تھی کہ زہرہ کی خود سری کے کئی ایک جواز ہیں‘ مثلاً دولت کی ریل پیل تھی‘ پھر وٹہ سٹہ کی شادی تھی سب سے بڑھ کر عامر کارویہ تھا‘ اگر عامر اور سجیل کے رویے کو پیمانے میں رکھ کر تولا جاتاتوعامر پرماں اور بہن کی کسی بات کابھی خاطر خواہ اثرنہ پڑتاتھا‘ جبکہ سجیل توہر معاملہ میں ماں اور بہن کی بات کو حرف آخر قرار دینے لگتاتھا۔ اس لیے نیلم اور زہرہ کی کیفیت میں بھی فرق تھا۔
’’میری بات سنو بہن یہ کب تک چلے گا‘ آخر کب تک یوں ہی زہرہ بیٹھ کر کھاتی رہے گی‘ ٹرے کھانے کی کمرے میں جاتی ہے اور واپس میری بڑی بہو نوکرانی کی طرح اٹھا کر لے آتی ہے‘ ارے ہم ہیں جو اسے پکاپکا کر کھلارہے ہیں‘ ا س نے توایک دن اپنے شوہر کو ڈھنگ کا پکا کرنہیں کھلایا ہے‘ رہناپڑے الگ تو عقل ٹھکانے آجائے۔‘‘
نگہت بیگم غصیلے لہجے میں ساس سے مخاطب تھیں‘ اگر وہ ایک عرصہ سے برداشت کرتی چلی آرہی تھیں مگراب سال سے اوپر ہوچلاتھا مگر زہرہ تو ٹس سی مس نہ ہورہی تھی۔
دوسری جانب سے فر ی پرظلم وستم توڑے جانے لگے۔ ادھر زہرہ خفا ہو کر میکے جاتی اور فری پرمصیبت آجاتی۔
’’میں کہتی ہوں جب میری بچی ہی خوش نہیں تو تو کیوں اس کلموہی کو اس کی ماں کے گھر نہیں چھوڑ آتا۔‘‘
اور پھر واقعی ایک مرتبہ زاہد نے طیش میں آکر فری کو گھرسے نکال باہر کیا… فری روتی بلکتی ہوئی ماں کی دہلیز پرآن بیٹھی تھی۔
سب کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ثریا آپا بھی اس معاملے میں خود کو پہلی مرتبہ بے بس پارہی تھیں‘ سجیل سے توہربات منوالیا کرتی تھیں‘ اورسجیل کے ہاتھوں نیلم کی وہ عزت افزائی کرواتی تھیں کہ نیلم کی آنکھیں اشکبار ہوجایا کرتی تھیں اور پھر فاتحانہ انداز میں نیلم کودیکھ کر ایک ہی جملہ اکثر بولا کرتی تھیں۔
’’جانتی ہو ناں مجھے بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ مجھ سے بڑھ کر بات کرنے کا ڈھنگ بھلا کسے آتاہوگا۔‘‘ اس میں اک دھمکی بھی پوشیدہ ہوا کرتی تھی۔ جس کے خوف کے سائے میں آکر نیلم ہر وقت چابکدستی سے کاموں میں لگی رہتی تھی اور وہی کچھ کرتی جیسا کہ اس کی ساس اور نند کی منشا ہوا کرتی تھی… مگر اس مرتبہ حالات مختلف تھے۔
فری ان کے لیے آزمائش بن گئی تھی جس دولت کی ریل پیل دیکھ کر انہوں نے شادی میں جلدی کی تھی‘ وہی دولت اب فری کے لیے طعنہ بن چکی تھی۔
’’ارے کہاں دیکھی تھی اتنی دولت تم نے کہاں دیکھے تھے اتنے عیش تم نے‘تمہاری تواوقات ہی نہ تھی‘ دو کوڑی کی اوقات تھی‘ فرش سے عرش پرلابٹھایا ہے تم کو۔‘‘
زاہد اس کاتمسخر اڑایاکرتے تھے اور فری رو دیتی تھی۔
پھردوسری جانب جس خوبصورتی پرنگہت اور خود ثریا آپا فریفتہ تھیں‘ وہی زہرہ کا ہتھیار بن چکی تھی۔ عامر بیوی کی خوبصورتی کی چکاچوند میں آکر ماں اور بہن کی کوئی بھی با ت سننے کاروادار نہ تھا۔ الٹا وہ اگر کبھی بولتاتو فقط اتنا ہی کہتاتھا۔
’’زہرہ کی خوب صورتی پر تو آپ دونوں ہی مرمٹی تھیں‘ اب ان شکایات کا دفتر کھول کر اپنا اور میرا وقت ضائع نہ کریں۔ ایک تو انسان پہلے ہی آفس سے تھکاہارا آتا ہے اور پھر آپ لوگ شروع ہوجاتے ہیں۔‘‘
عامر سرے سے ہی منکر ہوجاتاتھا اوراس کااس سارے معاملے سے جیسے کوئی تعلق کوئی رابطہ ہی نہ ہو۔
فری ان دنوں جس دور سے گزر رہی تھی ‘اس میں یہ ناروا سلوک اور پھر گھر سے نکال دینا اس پرایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ وہ ہروقت روتی رہتی تھی۔ ماں اس کے آنسو دیکھ کر کڑھتی رہتی تھیں۔
مزید ستم یہ کہ دودسری جانب سے خلع کی دھمکی دی گئی تھی۔ اب پانی سر سے اوپر اٹھ چکاتھا‘ ان لوگوں کاکہناتھا کہ عامر اور زہرہ کو علیحدہ گھر لے کر دیاجائے ورنہ زہرہ واپس آنے کو قطعی طور پر تیار نہیں ہے اور پھر اس کی واپسی نہ ہونے کی صورت میں فری بھی طلاق کے لیے انتظار کرے‘ اب ان لوگوں کو صحیح معنوں میں ہوش آیاتھا‘ او روٹہ سٹہ کی اس شادی کے مضر ہونے کااحساس ہواتھا۔
وقت ہاتھ سے نکل جائے تو سوائے خسارے کے کچھ باقی نہیں رہتا۔ ایساہی اب ان کے ساتھ ہو رہاتھا۔ پھر نگہت بیگم نے قبل اس کے وہ اپنے بیٹے کو کھودیتیں‘ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے زہرہ کوبلالیاتھا۔
’’بیٹی تم بس خوش رہو‘ ہماری خیر ہے۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی گلہ ان کے لبوں پر پھسلاتھا۔ پھرزہرہ سارا دن آرام کرتی اور سر شام تیار ہو کر میاں کے ساتھ چلی جاتی تھی۔ اب نگہت بیگم اور ثریا آپا کو شدت سے احساس ہونے لگاتھا کہ اس گھر کو صحیح معنوں میں چلانے والی نیلم ہی ہے‘ جس نے ہر ستم ہنس کر سہا مگر اف تک نہ کی۔
رشتوں کوتوازن کے ساتھ ان کے اصل مقام پر رکھناان کی ہی مہارت تھی۔ رفتہ رفتہ اب سب کا رویہ نیلم کے ساتھ نرم ہوتاجارہاتھا۔
نیلم بھی مطمئن سی ہوگئی تھی کہ اب سب کو اس کی وقعت کااحساس ہوجائے گا۔ مگر قبل اس کے کہ سب کچھ بالکل نارمل ہوجاتا‘ زہرہ نے خوشخبری سنادی جو خوشخبری نیلم اتنے سال میں نہ سناپائی تھی‘ جو پلٹا حالات کانیلم کے پلڑے میں ہواتھا‘ اب دوبارہ سارا جھکائو زہرہ کی جانب ہوگیاتھا۔ زہرہ کے ہزار نخرے تھے‘ وہ تو یوں بھی نخریلی سی تھی ‘اور اب اس حالت میں تو اس کے نخرے آسمان کوچھو رہے تھے۔
نت نئے پکوان بنتے اس کے سامنے سجائے جاتے مگر وہ ناک بھوں چڑھاتی ہوئی انکار کردیتی ‘اور کبھی کبھار احسان عظیم کرتے ہوئے کھالیتی۔ مگر تشکر اور احساس ممنونیت جیسے کوئی لفظ اس کی ڈکشنری میں رقم نہ تھے۔
وہ ان ساری خدمت گزاریوں کو اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی تھی۔ نگہت بیگم بھی خوش تھیں‘ جو خوشی پوتے کی اب تک ان کونہ مل سکی تھی‘ اب وہ انہیں زہرہ کی جانب سے ملنے والی تھی۔ جو تھوڑا بہت گلہ رہ گیاتھا عامر کے دل میں وہ بھی اب زہرہ کے حوالے سے دھل گیاتھا۔ نیلم سار ادن زہرہ کے لیے فرمائشی کھانے بناتی رہتی تھی‘ جسے بعد میں چکھے کے ساتھ ہی زہرہ رد کردیتی تھی اور پھر اسے کوئی اور مینو یاد آجاتاتھا‘ ایک دن زہرہ کسی بات پربحث کررہی تھی تو نیلم نے اتنی جسارت کرلی۔
’’دیکھو اتنے مزے کی تو بنی ہے بریانی کھالو‘ یہ یخنی ہی پی لو‘ یہ تو نہایت فائدہ مند ہے تمہارے اور بچے کے لیے۔‘‘
اس کاانداز حکمیہ نہ تھا بلکہ ملتجیانہ ساتھا مگر زہرہ کو اس کانصیحت آموز انداز ایک آنکھ نہ بھایاتھا۔ اس لیے کڑے تیور لیے بولی تھی۔
’’تم کو کیامعلوم تمہارے کون سے بچے ہیں؟‘‘وہ لطف اندو ز ہو رہی تھی‘ نیلم کے فق چہرے کودیکھ کر۔ نیلم کی آنکھ نم ہوگئی تھی‘ تبھی ثریا آپا کی انٹری ہوئی تھی‘ بولیں۔
نیلم اپنی منحوس نظریں سنبھال کر رکھا کرو‘ تم خود تو کوئی خوشی ہمیں دے نہ سکی‘ اب اگر زہرہ ہمیںیہ نوید دے رہی ہے تو کیوں نحوست پھیلا رہی ہو‘ جائو دفعان ہوجائو۔‘‘
ثریا آپا شاید سسرال کے کسی جھمگٹے میں پہلے ہی الجھی تھیں‘ اس پر یہاں کوئی معاملہ الجھا دیکھ کر اس نے فوراً لب کشائی کی تھی۔
نیلم بالکل پرسکون تھی۔اپنی قسمت پر شاکر تھی۔
گلہ تھا تو فقط اپنے محبوب شوہر سے۔ جس نے چاہت سے اپنا کر پرایاکرڈالا تھا۔ پھرایک دن جب سب گھروالے کسی دعوت میں شریک تھے۔ گھر میں نیلم رہ گئی تھی اور زہرہ اپنی طبیعت کی وجہ سے جانہ سکی تھی۔ اچانک زہرہ کسی کام کے لیے سیڑھیوں سے اتررہی تھی کہ بری طرح سے پھسل گئی۔
جتنی دیر میں اسے ہاسپٹل لے جایا گیا‘ سب کچھ ختم ہوچکاتھا‘ زہرہ اب کبھی مامتا کے جذبے سے سیراب نہ ہوسکتی تھی‘ ڈاکٹرز نے جواب دے دیاتھا‘ زہرہ کارو رو کر براحال تھا۔ باقی تووہ جیسی بھی تھی مامتا کے حوالے سے اس نے بہت سے خواب دیکھے تھے اور ہرخواب ادھورارہ گیاتھا‘ انہی دنوں اچانک نیلم کوبخار نے آن گھیرا تھا۔ سارا گھر الٹ پلٹ ہورہاتھا‘ دوسری جانب نیلم کابخار تو کم ہونے میںنہ آرہاتھا‘ بالکل زردی مائل رنگت ہو رہی تھی پھر ڈاکٹر کو دکھایاگیاتو اس نے گھر میں ننھے مہمان کی آمد کی نوید دی‘ سب کھوئی خوشیوں کو کسی اور صورت میں پانے کوبے تاب تھے۔ عامر کی جانب سے نہ سہی سجیل کی جانب سے‘ اب بھی وہ دادی بن سکتی تھیں۔
نیلم کایا پلٹ پرحیران تھی۔ ڈاکٹر کی تلقین کے مطابق اسے سخت آرام کی ضرورت تھی۔ اس لیے اب سب ہی اس کاخیال رکھنے لگے تھے وہ اداس تھی‘ کیونکہ جانتی تھی کہ سجیل کی فکر مندی کی اصل وجہ وہ بچہ ہے جو ابھی دنیا میں بھی نہیں آیا ہے۔
٭…٭…٭
جس دن اس نے دو جڑواں بیٹوں کو جنم دیا وہ مکمل ہوگئی تھی۔ سارے شکوے جونہاں خانے میں تھے مٹ گئے تھے۔ زہرہ نے محبت سے اس کے گل گوتھنے بچوں کوچوماتھا‘ نجانے وہ کونسا لمحہ تھا جب نیلم نے ایک بچہ اٹھا کر زہرہ کو دے ڈالا‘ گود میں اٹھائے زہرہ متعجب تھی۔ کیا کسی کااتنابڑا دل بھی ہوسکتا ہے ؟ اور پھر زہرہ نے آبدیدہ ہو کر نیلم کوگلے سے لگالیاتھا‘ اس کا ظرف کتنابلند تھا جبکہ وہ اس کوطعنے ہی دیتی رہی تھی۔
ثریا آپا‘نگہت بیگم سب خوش تھے‘ دونوں بھابیوں کی گود بھرگئی تھی۔ زہرہ کے انداز میں جوچڑچڑا پن عود کرآیاتھا‘ وہ بھی زائل ہوگیاتھا۔
نیلم کی مسلسل قربانیوں نے اس گھر کو نئی جہت دی تھی۔ محبت کی جہت۔
نیلم بہ ظاہر مطمئن تھی اس نے سب کی محبت حاصل کرلی تھی مگر اس طویل سفر میں شریک سفر کی محبت ہی حاصل نہ رہی تھی۔ ایک نہ محسوس کی جانے والی خلش تھی۔
پھرایک شام جب وہ کمرے میں دودھ کاگلاس رکھنے آئی تھی تو سجیل نے اس کاہاتھ تھام لیاتھا۔
محبت کی گرمائی نے عرصہ بعد نیلم کو پگھلانا شروع کردیاتھا۔ اجڑتا عشق سنورنے لگاتھا‘ ابھی اتنی دیربھی تو نہ ہوئی تھی کہ سب سنوارانہ جاتا۔
سجیل کی محبت پاش نگاہوں میں اسے اپنا عکس جھلملاتا دکھائی دینے لگا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close