Naeyufaq Sep-17

بازگشت

عرفان رامے

وہ بہت دیر سے خالی دیوار پر نظریں جمائے کسی غیر مرئی وجود کو گھور رہا تھا۔ اس کے چہرے پر چٹانوںکی سی سنجیدگی تھی اور اُداس آنکھوں سے چھلکنے والا کرب چھپائے نہیں چھپتا تھا۔ کمرے میںنیم تاریکی تھی اور سانسوںکی سرسراہٹ کے علاوہ زندگی کی کوئی دوسری علامت محسوس نہیںکی جا سکتی تھی۔
آج وہ اپنے فلیٹ میںبالکل تنہا تھا۔ یہاں تک کہ اپنے کام کو یکسوئی اور ہمت سے انجام دینے کے لیے اس نے اکلوتے ملازم بہادر کو بھی چھٹی پر گائوں بھیج دیا تھا۔
کافی دیر تک یونہی گم صم دیوار کو گھورنے کے بعد اس نے بے اختیار جھرجھری لیتے ہوئے خود کو تلخ یادوں سے آزاد کرایا اور پھر گردن گھماکر سائیڈ ٹیبل پر پڑے ریوالور کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اپنے مرحوم باپ کی اس خوفناک نشانی کو ہاتھ میں تولنے کے بعد اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ریوالور کی نالی کو اپنی کنپٹی پر رکھ لیا۔
موت کے ٹھنڈے ٹھنڈے لمس کو محسوس کرتے ہی اس کے وجود میں سردی کی تیز لہر دوڑ گئی تھی۔ خود کو فناکردینے کے خیال نے اس کے چہرے کی رنگت دھلے ہوئے کپڑے کی سی کر دی تھی۔
موت کے دھانے پر پہنچتے ہی زندگی ریوائنڈ کی جانے والی فلم کی طرح ذہن کے پردے پر تیزی سے منظر بدلنے لگی او ر آنکھوںمیں بسا کرب پانی بن کر جھلملانے لگا۔۔۔۔مگر اس مرتبہ وہ ہر گز پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ وہ ہر صورت اس سسکتی زندگی سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ چنانچہ ہمت کر کے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کی گرفت ریوالور کے دستے پر مضبوط کی ۔۔۔۔اور پھر بنا تاخیر ٹریگر پر انگلی کا دبائو بڑھا دیا ۔
فائر کا حکم ملتے ہی ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں ٹریگر نے اپنا فرض ادا کر دیا۔۔۔۔ اور ٹک کی ہلکی سی آواز کمرے کے سہمے ہوئے سکوت کو پارہ پارہ کر گئی ۔ اب ریوالور اس کے کانپتے ہاتھ سے نکل کر فرش پر جا گراتھا۔
ٹریگر دب چکا تھا ۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی کہ چیمبر فل ہونے کے باوجود گولی نہیں چل سکی تھی۔ پچھلے اڑتالیس گھنٹوںکے دوران ٹریگر دبانے کی یہ دوسری کامیاب کوشش تھی جو فائر نہ ہونے پر ناکام ثابت ہوئی تھی۔
موت کی دہلیز سے واپسی کے بعد اس نے حسب سابق گہری سانس لیتے ہوئے بے ترتیب دھڑکنوںکو معمول پر لانے کی کوشش کی ۔ پیشانی پر نمودار ہونے والے پسینے کے قطرے اپنی آستین سے صاف کرنے کے بعد وہ قریب پڑی بیساکھی کے سہارے اٹھ کر بیڈ پر جا لیٹا۔بیڈ پر گرتے ہی وہ یوں تیز تیز سانس لینے لگا تھا جیسے میلوںکی مسافت پیدال طے کر کے آیا ہو۔
خودکشی میںآج کی ناکامی کے بعد اس کے دل و دماغ نے برسوں پہلے کہی ایک نجومی کی بات کا مکمل یقین کر لیا تھا کہ تمہاری موت غیر طبعی ہو گی اور تمہیں قتل کیا جائے گا ۔تمہیں قدم قدم پر سنگین حادثات کا سامنا رہے گا۔یہاں تک کہ ایسے مواقع بھی آئیں گے جب زندگی تمہارے لیے بوجھ بن جائے گی ۔ تم خود کو ختم کرنے کی کوشش بھی کرو گے، مگر ناکامی ہو گی۔ کیوںکہ ابدی نیند تمہیں صرف ایک جانا پہچانا نہایت عزیز دوست ہی سلا سکے گا۔
یہ پیشن گوئی کافی حد تک درست ثابت ہوئی تھی ۔ ڈپریشن حد سے زیادہ بڑھنے کے باعث وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ماہ قبل جب اس نے بھاری مقدار میں نیند کی گولیاں کھا کر خود کو زندگی کے جھنجٹ سے آزاد کر نا چاہا تو بھی نہ جانے اس کے ملازم بہادر کو کیسے خبر ہو گئی اور اس نے فوراََایمبولینس منگوا کر اسے اسپتال پہنچا دیا ۔ اس کے بعد وہ کئی مرتبہ ریلوئے لائن پر گیا مگر کبھی ٹرین کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا نہ ہو سکا۔۔۔۔اور اب جب کہ وہ ریوالور بھی استعمال نہیںکر سکا تھا تو نجومی کی کہی ہوئی بات پر مکمل یقین آ گیا تھا۔
ٹریفک کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہو کر زندہ بچ جانا اس کے نزدیک یقینا ایک معجزہ تھا ۔ مگر یہ معجزہ اسی روز اپنی اہمیت کھو بیٹھا تھا جب وہ اپنا رنگ روپ گنو ا کر پہلی مرتبہ لوگوں کے سامنے آیا۔
لوگوں کی نظروںمیں اس کے لیے صرف ہمدردی تھی اور قابل رحم رویوں نے اس سے جینے کا حوصلہ چھین لیا تھا۔۔۔۔پھر زندگی کی تلخ حقیقتوں نے اسے ذہنی مریض بنا دیا تھا۔
اب وہ ہر صورت مر جانا چاہتا تھا۔۔۔۔لیکن اس مرحلے پر پہنچ کر احساس ہوا تھا کہ مر جانا بھی آسان نہیں۔
’’توکیا خود کو زندگی نامی اس اذیت سے نجات دلانے کے لیے مجھے کسی کرائے کے قاتل کو ڈھونڈنا پڑے گا۔‘‘
یہ نیا خیال ذہن میں آتے ہی وہ چونک کر اُٹھ بیٹھا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے ایک سفاکانہ مسکراہٹ اس کے خشک ہونٹوں پر رقص کرنے لگی تھی۔
…٭…
ریحان کاشمار اُن لوگوں میں ہوتا تھا جو بچپن ہی میں اپنی عمر سے کہیں بڑھ کر سوچنے لگتے ہیں ۔ اس نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا تھا۔ ہوش سنبھالا تو ماںہی اس کا واحد سہارا تھی۔وہ بیٹے سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔شاید یہی وجہ تھی کہ بھری جوانی میںبیوہ ہو جانے کے بعد اس نے صرف اپنے بیٹے کی خاطر دوسری شادی نہیںکی تھی۔۔۔ اس کو مرے اب بیس سال گزر چکے تھے۔ مگر آج بھی وہ اپنی ماں کو یاد کر کے اکثر آبدیدہ ہو جاتا تھا۔
جب ریحان کی ماں کا انتقال ہوا تو اس کی خالہ اسے اپنے ساتھ لے گئیں۔گو خالہ کے شوہر اس کی آمد سے خوش نہیں تھے اور اس نووارد بچے کو اپنے بچوں کے حق پر ڈاکا تصور کر رہے تھے، مگر بیوی کے اصرار پر خاموش رہے ۔والدین نے اس کے لیے کافی اثاثہ چھوڑا تھا۔ مگر پھر بھی تنہائی ان سب آسائشات پر حاوی رہی اور وہ کم گو لوگوں میںشمار کیا جانے لگا۔
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے اصرار کر کے گریجویشن کرنے کے لیے کراچی کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ۔ ہاسٹل لائف میسر آئی تو اسے کچھ راحت نصیب ہوئی۔اب اسے اپنے وجود کا احساس بھی ہونے لگا تھا۔وہ کسی پر بوجھ نہیں تھا۔ کسی کی نفرت بھری آنکھیں اس کے تعاقب میںنہیں رہتی تھیں۔بالغ ہونے کے بعد اس کے والدین کا اثاثہ بھی اس کے نام منتقل کر دیاگیا تھا۔
گائوںمیں چند ایکٹرزمین کے علاوہ کچھ بینک بیلنس بھی اس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش میں معاون ثابت ہو ا تھا۔ اب وہ اپنی تمام توجہ صرف حصول علم پر دے رہاتھا ۔ یہاں تک کہ فیصل آباد میں اپنی خالہ سے ملنے بھی بہت کم جاتا تھا۔
ان کے خاندانی وکیل نے اس کے والدین کی وصیت کے مطابق تمام جائیداد کے کاغذات اس کے حوالے کر دیے تھے۔۔۔۔ اب وہ اپنی مرضی سے پر پھیلا کر اڑنے کے لیے تیار تھا ۔ چنانچہ چند قریبی دوستوں سے مشورے کے بعد ایڈورٹائزنگ کا شعبہ اختیار کیا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد گائوں کی زمین بیچ کر ایڈورٹائزنگ ایجنسی کھول لی۔
رنگ و نور کی دنیا کا حصہ بننے کے بعد اس نے ایک نئے انداز میں جیناشروع کر دیا تھا ۔ ماڈلنگ کی دنیا میں وارد ہونے والی ہر لڑکی اس سے تعلقات کی خواہاں دکھائی دے رہی تھی جس کی ایک بڑی وجہ اس کی پر کشش شخصیت تھی۔
چنانچہ کاروبار کے ابتدائی دور ہی سے اس کے بہت سی پریوں سے مراسم قائم ہو گئے لیکن یہ تعلقات کسی ایک مہ جبیں سے بھی دیر پا ثابت نہ ہو سکے۔ریحان جانتا تھا کہ یہ لڑکیا ں اس کی دولت اور معاشرتی مقام پر مرتی ہیں۔۔۔۔ وہ جنم جنم سے محبت کا پیاسا تھا اور اسی خواہش سے ان کی جانب بڑھتا تھا مگر انہیں تو جیسے صرف ایک دولت مند عاشق کی تلاش تھی۔
اس کی عمر چالیس کے قریب تھی لیکن وہ ابھی تک کنوارہ تھا۔۔۔۔ پھر ایک پارٹی میں اس کی ملاقات ماریا سے ہوئی۔ ماریا کی عمر ستائیس اٹھائیس کے لگ بھگ تھی۔ اس کا تعلق متوسط طبقے سے تھا اور وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کرتی تھی۔ ماریا نہایت دلکش اور نازک اندام حسینہ تھی۔ پہلی ہی ملاقات میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئے ۔
پارٹی ختم ہوئی تو دونوں اچھے دوست بن چکے تھے۔ اب ان کی ملاقاتیں باقاعدگی سے ہونے لگیں۔۔۔۔ اور پھر ایک کینڈل نائٹ ڈنر کے دوران ریحان نے اسے شادی کے لیے پرپوز کر دیا۔
ماریا اس کی بات سن کر یکدم خاموش ہو گئی اور وعدہ کیا کہ بہت جلد سوچ کر جواب دے گی۔ ریحان کو یقین تھا کہ وہ مہلت صرف اسے ستانے کے لیے مانگ رہی ہے۔ ورنہ اس کا بھی دنیا میںکوئی نہیںتھا۔ اس نے اپنے چچا کے ہاں پرورش پائی تھی جو اب دنیا میں نہیں رہے تھے۔
ماریا سے ملنے کے بعد اس کی زندگی مزید خوب صورت ہو گئی تھی اور وہ پھر سے جینے کے خواب دیکھنے لگا تھا۔
آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب ماریا نے اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا تھا۔ اس روز سر شام ہی وہ ماریا کے ہاں جانے کی تیاری کرنے لگا تھا۔ ماریا نے اسے اپنے گھر چائے پر مدعو کیا تھا اور خصوصی درخواست کی تھی کہ گاڑی کے بجائے موٹر بائیک پر آئے۔ماریا کو موٹر بائیک پر گھومنا جنون کی حد تک پسند تھا ۔ ریحان نے صرف اس کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہیوی بائیک خرید لی تھی اور دونوں اکثر خوشگوار شاموںمیں سرد ہوائوں سے کھیلتے لمبی سیر پر جایا کرتے تھے۔
وقت مقرر ہ پر ریحان گھر سے نکلا تو موسم ابر آلود تھا۔ پھر ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی۔ سڑکوںپر پھسلن بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ وہ احتیاط سے آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک دائیں طر ف سے موڑ کاٹنے والی ایک تیز رفتار جیپ نے اسے کسی بد مست بھینسے کی مانند ٹکر ماری اور وہ ہوا میںقلابازیاںکھاتا کئی میٹر دور جا گرا۔
زمین پر گر تے ہی ریحان نے ٹکر مارنے والی قاتل جیپ کو دیکھا تو ڈرائیوراُسے بغور دیکھنے کے بعد وہاں سے فرار ہو گیا تھا ۔
…٭…
جانے کتنی دیر بعد ریحان کو ہوش آیا تو اس کا سارا جسم پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا اور چہرے کی کئی ہڈیا ں اس طور ٹوٹ چکی تھیںکہ وہ کسی پچکی ہوئی گاڑی کا فریم محسوس ہو رہا تھا،یہاں تک کہ مقابل پہلی نظر میں اسے دیکھتے ہی خوف محسو س کرنے لگتا تھا۔
طویل بے ہوشی کے بعد آنکھ کھلی تو ماریاایک ہمدرد دوست کی حیثیت سے اسپتال میں موجود تھی۔وہ خود کو اس کی حالت کا ذمہ دا رسمجھ کر روئے چلی جا رہی تھی۔ریحان نے حالات سے سمجھوتا کرتے ہوئے اسے اس احساس جرم سے نجات دلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ دن رات اس کی خدمت میں مصروف رہی۔
قریباََ ایک ماہ بعد اسے اسپتال سے گھر منتقل کر دیا تھا۔گھر پہنچنے کے بعد ماریا نے اس سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا تو ریحان نے انکار کر دیا۔
’’آخر کیوں۔۔۔۔؟میں آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں۔‘‘
’’ میںنہیں چاہتا کہ لوگ تمہیںمیرے ساتھ دیکھ کر ترس کھائیں۔۔۔۔ میںتمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوںکہ تم خود کو قصوروارسمجھتے ہوئے اپنی محبت کا کفارہ ادا کرنا چاہتی ہو۔ مگر میں اتنا خود غرض نہیںکہ تمہیںحاصل کرنے کیلئے کوئی گھٹیا راستہ اختیا رکروں۔۔۔۔ ویسے بھی جس رشتے کی بنیاد ہمدردی ہو وہ زیادہ دیر نہیںچل پاتا۔‘‘
’’مگر میںایسا نہیںسوچتی۔۔۔۔؟‘‘ ماریا نے تڑپ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’لوگ تو سوچیں گے ناں ۔۔۔۔ تمہیں اس غلط فیصلے پر ملامت بھری نظروں سے دیکھیں گے اور مجھے مجرمانہ سوچ کا مالک تصور کر کے مزید نفرت کرنے لگیںگے۔میرے لیے یہی بہت بڑا اثاثہ ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور میں اس تعلق کو دوستی سے زیادہ کوئی نام دینے کے لیے تیار نہیں۔‘‘
ریحان کا حتمی فیصلہ سن کر ماریا نے مزید کچھ نہ کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
’’میںمانتی ہوںکہ تمہارے ساتھ ایک حادثہ پیش آیاہے مگر یقین کرو میں تم سے سچی محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔ اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہاری حالت سنبھلتے ہی ہم دونوں شادی کر لیں گے۔ ‘‘ وہ بھی اپنی بات پر ڈٹ گئی تھی۔
’’اس کا فائدہ؟‘‘ ریحان مسکرایا ۔
’’محبت میںفائدے نہیں دیکھے جاتے۔‘‘
’’محبت میں گھاٹے کا سودا کرنا بھی دانشمندی نہیں ۔ابھی تم جذباتی ہو ۔ چند روز بعد ٹھنڈے دماغ سے میری باتوں پر غور کرو گی تو اپنا فیصلہ احمقانہ محسوس ہونے لگے گا۔‘‘
…٭…
وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا رہا ۔ ماریا نے شادی کا بہت اصرار کیا مگر ریحان نے صاف انکار کر دیا ۔ ابتدائی چند ہفتے تو وہ بلا ناغہ آفس سے اس کے ہاں آ تی رہی ۔۔۔۔ مگر دھیرے دھیرے اس روٹین میں تبدیلی رونما ہونے لگی۔
اب وہ دوسرے تیسرے دن آنے لگی تھی اور درمیان میںکبھی کبھار فون کر لیتی تھی۔وہ اپنی بدلی ہوئی روٹین کی وجہ دفتر میں کام کی زیادتی بتایا کرتی تھی۔
ریحان نے بھی ماریا کی اس بدلتی عادت کا خاص نوٹس نہیںلیا تھا۔ اسے اپنی حالت کا احساس تھا اور وہ نہیںچاہتا تھاکہ ماریا اس کی خاطر اپنی زندگی برباد کرے۔ پھر ایک روز ماریا نے اسے بتایا کہ کمپنی نے اس کا ٹرانسفر کراچی کر دیا ہے۔
ماریا کی بات سن کر ریحان کے دل کود ھچکا ضرور لگا مگر اس نے کسی طور یہ احساس نہ ہونے دیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ماریا اس کی خاطر اپنی زندگی برباد کرے۔۔۔۔شاید ماریا نے بھی یہی سوچ کر شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔چنانچہ اس نے بڑی محبت سے ماریا کو الوداع کہا۔
کراچی جانے کے بعد کچھ عرصہ تک ماریا نے اس سے بھرپور رابطہ رکھا اور پھر ناصرف اپنا فون نمبر بدل لیا بلکہ ملازمت بھی چھوڑ دی۔
ریحان کو ماریا کے اس رویے نے بہت بے چین کر دیا تھا۔ سچی بات یہ تھی کہ وہ اسے کھونا نہیںچاہتا تھا۔
بہت دنوں بعد اسے ماریا کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ۔۔۔۔اس نے محبت میں بے وفائی پر معذرت کرتے ہوئے اپنی شادی کا انکشاف کیا تھا۔ریحان کو ماریا کی اس بے اعتنائی سے بہت دکھ پہنچا مگر اس نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے خود کو تسلی دی کہ ماریا کے حق میںیہی بہتر تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے بہتر انداز میں سوچے۔
ریحان کی ٹانگوں کا پلاسٹر کھل گیا تھا۔وہ کسی حد تک چلنے پھرنے کے قابل بھی ہو گیا تھا مگر چال میں مستقل لنگڑا پن آ گیا تھا ۔ ساتھ ہی دوسرا نہایت کربناک احساس اس کے چہرے کی بدصورتی تھی۔ ملنے والوں نے اسے اس حد تک احساس کمتری میںمبتلا کر دیا تھا کہ نوبت خودکشی تک پہنچ گئی تھی۔
…٭…
خود کشی کی اس آخری کوشش کے بعد اب وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو اسے موت کی نیندسلا سکے۔ اس مقصد کے لیے وہ اکثر ان جگہوںکے چکر لگایا کرتا تھا جہاں اس کی دانست میں جرائم پیشہ افراد کا آنا جانا تھا۔
ایک روز وہ چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں چائے پینے کے لیے جا بیٹھا۔ چائے کا آرڈر دینے کے بعد وہ اردگرد بیٹھے لوگوںکے چہرے پڑھ رہا تھا کہ قریبی میز پر بیٹھے دوافراد کو دیکھتے ہی ان کی جانب متوجہ ہو گیا۔ ان کے چہروں سے مفلسی ٹپک رہی تھی ۔صاف محسو س ہو رہا تھا کہ وہ دونوںنشہ کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کی عمر پینتیس اور دوسرے کی بمشکل پچیس کے قریب تھی۔
اپنے لباس اور بیٹھنے کے انداز سے وہ جاہل نہیںلگ رہے تھے۔۔۔۔ مگر یہ حقیقت بھی عیاںتھی کہ وہ نشے کے لیے پیسوں کے متلاشی تھے۔ اس بات کا اندازہ ریحان کو اس وقت ہوا جب وہ اپنے اپنے گھروں سے مال چوری کر کے نشہ کرنے کی باتیں بڑی ڈھٹائی سے سنا رہے تھے۔
ہال میںگاہک نہ ہونے کے برابر تھے اور مکمل خاموشی ہونے کے باعث وہ ان کی سرگوشیاں واضح طور پر سن سکتا تھا۔
پھر بڑی عمر کا شخص جسے ہاشم کہہ کر پکارا جا رہا تھا دوسرے ساتھی ناصر کو ہدایت دینے لگا کہ انہیں جلد از جلد کہیں ہاتھ مار کر پیسہ حاصل کرنا ہو گا کیوںکہ اب ادھار سگریٹ ملنا بند ہو گئے تھے۔
ان کی باتیں سن کر ریحان کے ہونٹوںپر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر بیساکھی سنبھالی اور بلا اجازت ان کے سامنے خالی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا:
’’کیا میںیہاں بیٹھ سکتا ہوں۔‘‘
’’ میرا خیال ہے تم بیٹھ چکے ہو؟‘‘ہاشم نے منہ بنایا۔
’’میرا نام ریحان ہے۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کروانا چاہا۔
’’ تم ریحان ہو یا فرمان ہمیں تم سے کوئی دلچسپی نہیںہے ۔ صرف مطلب کی بات کرو۔ ہم ذرا مصروف ہیں ۔‘‘ناصر نے منہ بنایا۔ انہیں ریحان کا یوں اچانک ٹپک پڑنا اچھانہیںلگا تھا ۔
’’بلا اجازت آپ کے درمیان مخل ہونے پر معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔۔ باقی دلچسپیاں تو ملنے سے ہی پیدا ہوتی ہیں ناں۔ ممکن ہے مجھ سے ملاقات آپ دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ ‘‘ریحان نے مسکرا کر نرمی سے کہا۔
اس کی بات سن کر ہاشم نے غور سے اس بدصورت چہرے والے شخص کی جانب دیکھا اور پھر جھرجھری لیتے ہوئے نظریںجھکالیں۔ یوںلگتا تھا جیسے اس کے چہرے کی ایک بھی ہڈی اپنی صحیح جگہ پر قائم نہ رہی ہو۔
’’تم شاید کسی حادثے میںاپنی یہ درگت بنوا بیٹھے ہو۔‘‘وہ اس کی چہرے سے نظریں ہٹا کر ہمدردانہ لہجے میںبولا:
’’ہاں۔ بس سانس ہی بچی تھی اُس بھیانک حادثے میں ۔‘‘
’’تو آپریشن کروا لیتے۔ ۔۔میںنے تو سنا ہے آج کل تو پلاسٹک سرجری سے گدھوں کو بھی انسان بنادیا جاتا ہے ۔تم تو پھر بھی کہیںکہیںسے انسان دکھتے ہو۔‘‘ ناصر نے طنزیہ لہجے میں جگت لگائی اور پھر خود ہی کھی کھی کرنے لگا۔
’’کوشش کی تھی میں نے لیکن ڈاکٹرو ںنے کہا کہ چہرہ بہت بری طرح مسخ ہو چکا ہے۔ شاید ہی انیس بیس کا فرق پڑے گا۔ویسے میری ایک آنکھ بھی ضائع ہو چکی ہے اور اس میں پتھرکا ڈیلافٹ کر کے کارروائی پوری کر دی گئی ہے۔ سوچتا ہوں اگر نتائج کی توقع نہیں تو کیا فائدہ خود کو مزید اذیت دینے کا ۔ ‘‘ ریحان نے اس کا طنز نظر اندا ز کر تے ہوئے کہا۔
’’اذیت سے تو تم اب بھی گزر رہے ہو میرے دوست۔۔۔۔ ہمت ہے تمہاری جو ہر روزملنے والے بے شمار لوگوںکا سامنا کرتے ہو ۔قسم سے تمہاری جگہ میںہوتا تو اس کرب سے نجات حاصل کرنے کے لیے خودسوز ی کر چکا ہوتا۔‘‘ہاشم نے ایک بار پھر جھرجھری لی۔
’’اپنے ہاتھوں اپنی جان لینا بھی تو آسان نہیں ہے۔ ‘‘ ریحان نے دلیل پیش کی۔
’’ تو پھر اس کا ایک ہی حل ہے کہ تم کسی دوردراز تفریحی مقام پر نکل جائو اور کسی خوبصورت جگہ پر اچھا سا گھر بنا کر باقی زندگی وہیںگزاردو۔۔۔۔ قیمتی لباس سے لگتا ہے تمہارے پاس دولت کی بھی کمی نہیں ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کوئی بھی حسین لڑکی پیسے کے لالچ میں تمہاری تنہائی دور کر دے گی۔۔۔۔میرے مشوروں پر عمل کرو، عیش کرو گے باقی زندگی۔‘‘ناصر کافی باتونی تھا۔
’’اگر دنیا کی ہر آسائش دولت ہی سے حاصل ہو سکتی تو لوگ بے بسی کے عالم میںنہ مرتے۔ میں ان لوگوں میں سے ہوںجو جیتنا چاہتے ہیں۔ میں نے تمام عمر اپنی کمزوریوںکو شکست دی ہے اور آج بھی اپنی اسی بدصورتی کو شکست دینے کے لیے میدان میںاترا ہوں۔‘‘ساتھ ہی ریحان نے کھانے کا آرڈر دے دیاجس پر ان دونوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔
کھانے کے بعد ریحان نے ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا اور پھر بل کے ساتھ بھاری ٹپ سے بھی نوازدیا۔
ہاشم اور ناصر اب اس سے کافی بے تکلف ہو چکے تھے۔ وہ ریحان کا نوٹوں سے بھرا بٹوا اور سخاوت دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ اب وہ آنکھوں ہی آنکھوںمیں ایک دوسرے کو اس تگڑی اسامی کوقابوکرنے کا پیغام دینے لگے۔ان کے لہجے میںمٹھاس لمحہ بہ لمحہ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ چنانچہ کچھ دیر بعد ناصر مسکین صورت بنا کر بولا:
’’آج کل ہمارا ہاتھ پیسے کے معاملے میں کچھ تنگ ہے۔ کیا تم ہماری کچھ مدد کر سکتے ہو۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ تنخواہ ملتے ہی تمہاری رقم شکریہ کے ساتھ واپس لوٹا دیں گے۔‘‘
’’کب ملے گی تنخواہ؟‘‘ ریحان نے سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔
’’جیسے ہی نوکری ملی۔۔۔۔اس کے ایک ماہ بعد۔‘‘ناصر نے فٹ سے جوا ب دیا۔
’’یعنی آج کل تم دونوں فارغ ہو۔‘‘
’’ہاں بالکل۔ بس یوں سمجھو حالات کے مارے ہوئے ہیں۔ لیکن خدا پر مکمل بھروسہ ہے ۔ دیکھنا بہت جلد ہمارے حالات بدل جائیں گے۔ویسے بتا دوں ہم دونوںکا تعلق اچھے گھرانوں سے ہے ۔ ہم کوئی گرے پڑے لوگ نہیں۔ بس خودداری زیادہ ہے۔ خوامخواہ کسی کے سامنے اپنے حالات کا رونا نہیں روتے۔‘‘
’’وہ سب تو ٹھیک ہے۔۔۔۔مگر میں معافی چاہتا ہوں کہ تم دونوں کی مدد نہیںکر سکتا ۔تم لوگوں کا کام دھنداتو ہے نہیں ۔میں اپنے ادھار کی وصولی کے لیے کہاں تلاش کرتا پھروں گا تمہیں۔۔۔۔‘‘ ریحان نے ٹکا سا جواب دیا۔
’’یقین کرو ہم برے لوگ نہیںہیں۔‘‘ ہاشم نے کہا۔
’’ تم لوگ اتنے شریف بھی نہیں لگتے۔۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی مجبور اور کمزور شخص تمہارے ہتھے چڑھ جائے تو تم اسے کبھی معاف نہیں کرو گے۔‘‘
یہ کہہ کر ریحان نے چند لمحے توقف اختیار کیا اور ان دونوںکی جانب غور سے دیکھتے ہوئے بولا: ’’فرض کرو اگر میں کسی سنسان راستے میںمل جاتا اور میرے پاس نقدی ہوتی تو تم دونوں میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟‘‘
’’تمہاری سوچ سے بھی بھیانک۔‘‘ہاشم اس کی بات سن کر غصے سے کھول اٹھا۔
’’لیکن شاید تم دونوں یہ نہیں جانتے کہ ان کاموںکے لیے بڑی جرات اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ریحان نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگائی۔
’’ ایسی بات ہے توآزما کر دیکھ لو۔‘‘ ہاشم نے پہلو بدلا۔
’’سوچ لو۔۔۔۔‘‘
’’بھوک او ر مایوسی میں انسان کچھ بھی کر سکتا ہے۔ہم تمہارا مقابلہ کرنے کے لیے کہیں بھی جا سکتے ہیں۔‘‘ناصر کسی صورت شکار کو بچ نکلنے کا موقعہ نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اگر یہ بے وقوف اور بدصورت آدمی جوش میںہوش کھو کر ان ہتھے چڑھ گیا تو کافی دنوں کا خرچہ پانی نکل آئے گا۔
ریحان نے ان کا جو ش و خروش دیکھ کر اثبات میں سرہلایا اور بیساکھی سنبھال کر ان کے ہمراہ دروازے کی جانب چل پڑا۔
جب وہ ریسٹورنٹ سے نکل کر سڑک پر پہنچے تو وہ ریحان کی ثابت قدمی دیکھ پریشان ہو گئے۔
’’کہاں چلنا ہے؟‘‘ ہاشم نے کھوکھلے لہجے میں کہا۔
’’کسی سنسان جگہ ۔۔۔۔جہاں کوئی نہ ہو۔‘‘
’’مگر کیوں؟‘‘ ناصر حیرت سے بولا۔
’’تاکہ تم دونوں سکون سے اپنی ہمت کا مظاہرہ کر سکو۔‘‘
’’تم شاید مذاق کر رہے ہو؟‘‘
’’ہمارے درمیان مذاق کا کوئی رشتہ نہیںہے۔میرا خیال ہے کہ تم لوگ ڈر گئے ہو۔‘‘ریحان کے لہجے میں طنز تھا۔
’’ایسی بات نہیں۔ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیںکہ آخر تم چاہتے کیا ہو۔ بظاہر تم ایک معذور آدمی ہو اور تم میں ایسی کوئی صلا حیت دکھائی نہیں دیتی کہ ہم دونوںپر حاوی ہو سکو ۔۔۔۔ پھر اس سارے ڈرامے کا مقصد کیا ہے ؟‘‘ناصر معاملے کی تہ تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے لگا ۔
’’میں چاہتا ہوں تم لوگ مجھے قتل کر دو۔‘‘ریحان نے پر سکون لہجے میںجوا ب دیا تو دونوں کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں۔
’’تم یقینا پاگل ہو۔۔۔۔‘‘ ہاشم تھوک نگل کر بمشکل یہی کہہ پایا تھا۔
’’نہیں میں بالکل ہوش میں ہوں۔۔۔۔اور یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے قتل کر کے میرے والٹ میں موجود رقم دو حصوں میںبانٹ لو ۔ یقین مانو اس وقت میرے پر س میں اتنی رقم موجود ہے کہ تم پورا مہینہ سکون سے خرچ کرسکتے ہو۔‘‘
’’کیوںمرنا چاہتے ہو تم۔۔۔۔خدا گواہ ہے ہمارا مقصد قطعاََ تمہیںجان سے مارنا نہیںتھا۔ ہم توصرف تمہیں دھمکانے کے لیے باہر نکل آئے تھے ۔ورنہ ہم دونوں کوئی پیشہ ور قاتل یا لٹیرے نہیں ہیں ۔ ‘‘ ہاشم نے اسے سمجھانا چاہا۔
’’مگر میں ہر گز مذاق نہیں کر رہا ۔ میں واقعی مرنا چاہتا ہوں ۔ میں عاجز آ چکا ہوں اپنی زندگی سے جس میںمیرے لیے سوائے نفرت کے اب کچھ نہیںبچا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں اس اذیت سے نجات حاصل کرنے میںمیری مدد کرو۔‘‘ ریحان نے اپنا مسئلہ بیان کیا۔
’’اگر تم مرناہی چاہتے ہو تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔ پھر آخری وقت میں اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ ہاشم نے منہ بنایا ۔
’’ اگر مجھ میں خودکشی کرنے کی ہمت ہوتی تو کب کا کر چکا ہوتا۔ ویسے بھی یہ قتل نہیں مدد ہے ۔ اور میں اپنی مرضی سے مرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ریحان نے جواز پیش کیا۔
’’کچھ بھی کہہ لوپولیس اسے قتل ہی کہے گی۔ ایسے میں اگر ہم ایک مرتبہ قانون کے ہتھے چڑھ گئے تو بلا تاخیر سولی پر جھولتے دکھائی دیں گے۔ ‘‘ہاشم نے جواب دیا۔ ابھی وہ اپنی بات مکمل نہیںکر پایا تھا کہ ناصر نے اس کی بات کاٹی:
’’ہم یہ کام ضرور کریں گے۔۔۔ اور اتنی صفائی سے کریں گے کہ پولیس کا باپ بھی ہم تک نہیں پہنچ سکے گا۔‘‘اس کی آنکھوں میں لالچ کی چمک لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی چلی جا رہی تھی ۔ یہ کہہ کر وہ ہاشم کے جوا ب کا انتظار کیے بغیر ریحان سے مخاطب ہوا:
’’ یہ بتائو !تم کس طرح مرنے میں سہولت محسوس کرو گے؟‘‘
’’ریوالور سے۔۔۔۔ میںاپنا ریوالور ہمراہ لایا ہوں۔ میرا یقین کرو تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ پیسہ کمانے کا اس سے آسان طریقہ تم دونوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا۔ ‘‘ ریحان ہر صورت انہیں قائل کرنا چاہتا تھا ۔
’’ یعنی تم بھرپور تیاری سے آئے ہو ۔۔۔۔خیر پسٹل تو ہمارے پاس بھی ہے۔۔۔۔یہ بتائو چلنا کہا ں ہے ۔ میرا مطلب ہے تم کہاں مرنا پسند کرو گے۔‘‘ناصر اب یوں ڈیل کر رہا تھا جیسے دکاندار اور گاہک کے درمیان مکالمہ چل رہا ہو۔
’’میں تو روز انہ ہی تیاری سے نکلتا ہوں، کبھی کوئی ڈھنگ کا آدمی ملا ہی نہیںتھا۔‘‘
’’ناصر ہوش کرو۔۔۔۔یہ شخص پاگل ہے۔ خود تو مر جائے گا لیکن جاتے جاتے ہمارے لیے بھی قبریں کھدوا جائے گا ۔‘‘ہاشم نے اسے ٹوکا۔
’’ کم ان یار! یہ بے چارا تو پہلے ہی مجبور ہے۔ ہم مفلسوں کو ایسے مجبوروںکی مدد کرنے میں دیر نہیںکرنی چاہیے جو ہمیں فائدہ پہنچانے والے ہوں۔مجھے یا د ہے یہ بات ایک بار تم نے ہی کہی تھی۔ اس لیے اب میں پیچھے ہٹنے والا نہیں۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ محض کاروباری ڈیل ہے۔۔۔۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ خود سوچو اس کی جیب میں پچاس ہزار روپے ہیں جو ہم جیسے کنگلوں کے لیے کسی خزانے سے کم نہیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ ریحان کی جانب پلٹا:
’’ تم نے اپنی موت کے لیے یقینا کسی خاص جگہ کا انتخاب بھی کر رکھا ہوگا ۔ وہ بھی بتا دو تاکہ کام جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔ ‘‘
’’کوئی خاص جگہ نہیں ہے۔جہاںتم لوگوںکو سہولت ہو۔‘‘
ہاشم، ریحان کی باتیں سن کر حیرت سے آنکھیںجھپکنا بھول گیا تھا ۔ کوئی شخص یوں بھی اپنی موت کے بارے ڈیل کر سکتا تھا۔ وہ تمام معاملات یوں خوش دلی سے طے کر رہا تھا جیسے مرنے نہیں ہنی مون کے لیے جانے والا ہو۔یہ اس کی زندگی کے نا قابل فراموش لمحات تھے۔
’’اچھا اب باتیں ختم ،کام شروع ۔میں سامنے پارکنگ سے گاڑی نکال کر لاتا ہوں۔ تم لوگ چوک کراس کر کے دائیں سڑک پر مڑ جائو ۔میں وہیں پہنچ رہا ہوں۔‘‘ ریحان ایک بیساکھی کے سہارے پھدکتا ہوا کار پارکنگ میں جا گھسا ۔ جب کہ ناصر ، ہاشم کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا۔
’’ ہمیں اس مسئلے میںنہیں الجھنا چاہیے۔ یہ پاگل لگتا ہے ۔دیکھنا ہمیں بھی لے ڈوبے گا ۔ ‘‘ ہاشم نے ایک بار پھر ناصرکو سمجھانا چاہا۔
’’تم تو خوامخواہ پریشان ہو رہے ہو۔ ویسے بھی اگر یہ پاگل ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا ہی دانش مندی کا تقاضا ہے ۔۔۔۔ خود سوچو اگر ہم اس پاگل سے ڈر کر پچاس ہزار روپے گنوا دیں گے تو کون عقل مند کہے گا ہمیں۔ حوصلہ کرو۔ دیکھنا کام ختم ہونے کے فوراََ بعد جیسے ہی گرماگرم نوٹ تمہاری جیب میںمنتقل ہوں گے سارا خوف ہرن ہو جائے گا۔ ‘‘ناصر نے اس کا کاندھا تھپتھپایا تو وہ نیم رضامندی سے آگے بڑھ گیا۔
…٭…
کچھ دیر بعد وہ تینوںفارسٹ گارڈن کی جانب اڑے چلے جا رہے تھے جس کا انتخاب انہوں نے باہمی مشورے سے کیا تھا۔
فارسٹ گارڈن شہر کے بڑے پارکوںمیںسے ایک تھا۔ وسیع رقبے پر پھیلے اس پارک کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہاں دن میں بھی ویرانی چھائی رہتی تھی اورایسے بہت سے گوشے موجود تھے جہاں کسی بھی شخص کو موت کے گھاٹ اتار کر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہا جا سکتا تھا۔
ریحان ایک ٹانگ سے معذورہونے کے باوجود اعتماد سے کار چلا رہا تھا کیوںکہ کار میںایسے خصوصی آلات موجود تھے جو معذور لوگوںکی سہولت کے لیے لگائے گئے تھے۔جیسے ہی ان کی کار شہر کی مصروف شاہراہ کو خیر آباد کہہ کر نسبتاََ پر سکون سڑک پر مڑی ریحان نے ڈیش بورڈ کھول کر ایک چمکتا ہوا ریوالور نکالا اور ہاشم کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا:
’’احتیاط سے پکڑنا۔۔۔ لوڈ ہے۔‘‘
وہ تو ٹھیک ہے۔۔ ۔مگر ہمیں یہ فیصلہ بھی تو کر لینا چاہیے کہ تم پر فائر کون کرے گا؟‘‘ وہ ریوالور تھام کر ہچکچاتے ہوئے ناصر سے مخاطب ہوا۔
’’یہ کوئی بڑامسئلہ نہیںہے۔ اگر تم گھبرا رہے ہو تو یہ نیک کام میں کر دوں گا۔تم تو ویسے بھی پیدائشی بزدل ہو۔‘‘ناصر کو اس کی بات سن کر سخت کوفت محسوس ہوئی تھی۔ وہ کسی صورت ریحان کے سامنے خود کو کمزور ثابت نہیںکرنا چاہتا تھا۔
’’تم نے کب مجھے بزدلی کا مظاہرہ کرتے دیکھاہے ۔‘‘ ہاشم بھی اپنی عزت پر حرف آتا دیکھ کر غرایا۔
’’بارہا ۔۔۔۔بلکہ تم تو اپنی بیوی کے سامنے بھیگی بلی بننے رہتے ہو۔ پھر کسی دوسرے کے سامنے کیسے بول سکتے ہو۔‘‘ وہ اس کے راز اگلنے لگا۔
’’تو کیا تم اس کی بیوی کے بارے میں بھی جانتے ہو۔‘‘ ریحان نے قہقہہ لگایا۔
’’اس کے بارے کون نہیںجانتا۔ ‘‘ ناصر نے چٹخارہ لیا۔
’’مگر میں تو نہیںجانتاناں۔‘‘ ریحان نے اس کی ہمت بندھائی۔
’’تو مرنے سے پہلے تمہاری آخری کوشش بھی پوری کیے دیتے ہیں۔۔۔۔ میرا یہ دوست خود جتنا لگڑ بگڑ دکھائی دیتا ہے اس کی بیوی اتنی ہی پٹاخہ ہے۔ اگر تم ایک بار اسے دیکھ لو تو گولی سے مرنے کے بجائے اس پر مر مٹنے کو ترجیح دو۔۔۔۔اور قتل ہونے کے بجائے اس منحوس کا کام تمام کر دو جسے اپنی ہیرے جیسی بیوی کی قدر نہیں ہے ۔ سچ کہتا ہوں وہ تو پری ہے پری ۔۔۔۔ ایک بڑی فیکٹری میں استقبالیہ کلرک ہے اور نائٹ ڈیوٹی کو ترجیح دیتی ہے۔۔۔۔بس یار کیا کیاسنو گے ،کیا کیا بتائوں۔۔۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ رات کے پچھلے پہر جب سارا جگ سو جاتا ہے تو وہ اکثر ڈیوٹی کے دوران اپنی سیٹ سے غائب پائی جاتی ہے۔ ‘‘
ناصر نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تو غصے سے بے قابو ہاشم نے ہاتھ میں پکڑا ریوالور اس کی کنپٹی پر رکھ دیا۔ ’’اس سے زیادہ ایک لفظ بھی منہ سے نکلا تو دماغ میں سوراخ کر دوں گا تمہارے۔ ‘‘
’’اتنی غیرت کب سے جاگ اٹھی تمہارے دل میں ۔۔۔۔مت بھولو کہ تم اسے جوئے میںہار چکے ہو میرے پاس اور اگر پرسوں تک رقم ادا نہ کی تو ایک ہفتے کے لیے میرے حوالے کرنا پڑے گا اسے۔ ‘‘ موقع ملتے ہی ناصر نے بھی جیب سے پسٹل نکال کر ہاشم پر تان لیا۔
ریحان اطمینان سے سنسان سڑک پر کار بھگائے چلا جا رہا تھا جب کہ پچھلی سیٹ میدان جنگ بن چکی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو اپنے اپنے احسانات جتانے کے بعد آپس میں گتھم گتھا ہو چکے تھے ۔ کار سبک رفتار ی سے اپنی منزل کی جانب رواں تھی کہ ایک چھوٹے سے گڑھے میںٹائر آتے ہی زور دار جھٹکا لگااور گاڑی فائر کی آواز سے گونج اٹھی۔
گولی کی آواز سن کر ریحان نے جلدی سے گاڑی روکی اور پلٹ کر پچھلی سیٹ کی جانب دیکھا ۔ ناصر کے ماتھے سے لکیر کی صورت میں بہتا ہوا خون ناک تک پہنچ چکا تھا۔ اس کی بے نور آنکھیں یوں کھلی تھیں جیسے وہ سوچ بھی نہ سکتا ہو کہ ہاشم اس پر گولی بھی چلا سکتا ہے۔
ادھر ہاشم کا چہرہ بالکل سفید ہو چکا تھا۔
’’یہ کیا کیا تم نے؟‘‘ ریحان نے سخت لہجے میں کہا۔
’’مم۔۔۔۔میںنے جان بوجھ کر نہیںمارا۔ گاڑی کو ایک دم جھٹکا لگا تو ٹریگر پر میری انگلی کا دبائو بڑھ گیا۔۔۔۔میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا۔ بس ذرا دھمکا رہا تھا۔یہ تو میرا بہت عزیز دوست تھا۔ ‘‘ وہ اس کا سر گود میں رکھ کر آنسو بہانے لگا۔
’’ خیر۔۔۔۔ اب جو ہونا تھا ہو چکا۔یو ں ٹسوئے بہانے سے وہ واپس نہیں لوٹ آئے گا۔تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اسے بھی پارک کے کسی گمنام گوشے میں دبا دیں گے۔ تمہیں توخوش ہو نا چاہیے کہ اب پچاس ہزار ملنے والے ہیں۔جو آدھی رقم وہ تم سے ہتھیانے والا تھا و ہ بھی اب تمہیں ملے گی۔ یعنی پچاس ہزار روپے تم سے صرف ایک کلومیٹر دور ہیں۔۔۔۔کیوںکہ فارسٹ گارڈن کا فاصلہ بھی یہاںسے ایک کلو میٹر ہے۔ ‘‘
’’نہیں چاہیے مجھے پچاس ہزار۔۔۔۔ میںبے موت نہیں مرنا چاہتا۔ میں اپنے دوست کی موت کے الزام میںسولی نہیں چڑھنا چاہتا ۔۔۔۔میںایک قتل مزید نہیںکر سکتا ۔‘‘
اس سے قبل کہ ریحان اس کی بات سمجھ پاتا وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور بھاگتا ہوا درختوںکے جھنڈمیں غائب ہو گیا۔
…٭…
رات گئے ریحان واپس اپنے فلیٹ پر لوٹا تو بہت تھک چکا تھا ۔ ناصر کی لاش ٹھکانے لگانے کے چکر میں اس کے کپڑوں پر جا بجا خون کے دھبے لگ چکے تھے۔ اپنے فلیٹ میںپہنچ کر ا س نے لباس تبدیل کیا اور کھانا کھا کر بسترمیں گھس گیا ۔
لاش کو ٹھکانے لگانے سے قبل ریحان نے اس کی جیبوں کی تلاشی بھی لے لی تھی جن میں سے ایک پسٹل، چندر وپے اور اورایک چھوٹی سی ڈائری ملی تھی جس میں ہاشم کا فون نمبر اور ایڈریس بھی موجود تھا۔ کچھ دیر سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہاشم کے گھر پہنچ کر اسے قابو کرے اور یہ ادھورامشن ہر صورت اسی کے ہاتھوں پورا کروائے۔
ریحان کی حالت اس ذہنی مریض کی سی ہو کر رہ گئی تھی جو ہر صورت مر نا چاہتا ہو۔ وہ رات اس نے آنکھوںمیں گزاری اور دوسرے روز صبح سویر ے اس کے گھر پہنچ گیا ۔ وہ ایک متوسط علاقے میں رہتا تھا ۔ گھر ڈھونڈنے میں اسے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی۔
دروازے پر دستک دی تو کچھ ہی دیر بعدکسی کے قدموں کی مدہم چاپ قریب آتی محسو س ہوئی ۔۔۔۔اور پھر جھٹکے سے دروازہ کھل گیا۔ مقابل کو دیکھ کر ریحان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی ۔کیوں کہ دروازہ کھولنے والا خود ہاشم تھا۔ ادھر ہاشم کی آنکھیں بھی حیرت اور خوف سے پھیل گئی تھیں۔
’’تم اور یہاں۔۔۔۔‘‘
’’ہاںمیں نے سوچا تمہیںگھر سے پک کر لوں۔‘‘ ریحان نے اطمینان سے کہا۔
’’تمہیں میرے گھر کا ایڈریس کس نے بتایا؟ ‘‘
’’یہ سب فضول باتیں ہیں۔۔۔۔ہمیں کام کی بات کرنی چاہیے ۔ ویسے تمہارے ہاں مہمان نوازی کا رواج نہیںہے۔۔۔۔ میرا مطلب ہے اندر آنے کے لیے نہیں کہو گے؟‘‘
’’ٹھیک ہے آ جائو۔۔۔۔‘‘ وہ اسے ایک سادہ سے ڈرائنگ روم میں لے آیا ا ور پھر بنا توقف تیز لہجے میں بولا:
’’دیکھو تمہیں مجھ سے جو بات بھی کرنی ہے شام کو اسی ریسٹورنٹ میں آ جانا ۔اس وقت میں بہت پریشان ہوں۔۔۔۔ ویسے بھی میری بیوی رات بھر ڈیوٹی کر کے واپس لوٹنے والی ہے۔ میں اسے گھر پہنچتے ہی پریشان نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔ کیوں کہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔‘‘وہ قریباََ گڑگڑا رہا تھا۔
’’اگر اس سے اتنی محبت کرتے ہو تو پھر اپنی محبت کا حق ادا کرنا بھی سیکھو۔۔۔۔ یہ کیسی محبت ہے کہ تم مر دہو کر گھر میں پڑے رہتے ہو اور وہ عورت ہو کر بھی تمہارا پیٹ پالنے کے لیے راتوںکو کام کرتی ہے۔ تھوڑی غیرت کھائواور چلو میرے ساتھ۔ ‘‘ ریحان نے اسے جوش دلایا۔
’’آخر تم میرے ہاتھوںہی کیوںمرنا چاہتے ہو۔۔۔۔ میں نے کیا گنوایا ہے تمہار ا۔‘‘
’’ تم نے ہی تو سب کچھ گنوایا ہے میرا۔۔۔۔تم ہی تو ذمہ دار ہو میری اس حالت کے۔‘‘
’’کک۔۔۔۔کیا کہنا چاہتے ہو تم۔‘‘ ہاشم ہکلایا۔
یاد کرو چند سال پہلے تمہاری جیپ ایک موٹر سائیکل سوار پر چڑھ دوڑی تھی۔۔۔۔ تم نشے میں دھت تھے اور اس زخمی شخص کو اسپتال پہچانے کے بجائے تڑپتا چھوڑ کرفرار ہو گئے تھے۔ ‘‘
’’کون ہو تم ۔۔۔۔اور کیسے جانتے ہو یہ سب۔۔۔۔‘ ہاشم نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
’’میںوہی بد قسمت موٹر سائیکل سوار ہوں۔۔۔۔جو کبھی تمہارا چہرہ نہیں بھلا پایا۔ تمہاری بے حسی نے مجھے اس لمحے اتنی تکلیف نہیں پہنچائی تھی جتنا کرب میںنے صحت یاب ہونے کے بعد جھیلا ہے۔ تم ہی وہ جلاد ہو جس نے مجھے سسک سسک کر مرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ جیسے ہی اس روز تم مجھے ریسٹورنٹ میں بیٹھے دکھائی دیے میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب تم ہی مجھے موت کے گھاٹ اتار کر اس کہانی کو انجام تک پہنچائو گے۔‘‘ ریحان کے لہجے میں نفرت اور بے بسی کا امتزاج تھا ۔
’’میں یہ سب نہیں کر سکتا۔۔۔۔‘‘ ہاشم نے دو ٹوک جواب دیا۔
’’اگر تم نے مجھے قتل نہ کیا تو میں تمہیں جان سے مار کر یہیں پر خود کشی کر لوں گا۔۔۔۔ تمہیں قتل کرتے ہی موت میرے لیے آسان ہو جائے گی اور میں سکون سے خودکشی کر لوں گا۔۔۔۔ چلو شاباش ۔نکالو میرا ریوالور اور کرو فائر ۔‘‘
ریحان نے اسے بچے کی طرح پچکارا مگر وہ تو جیسے پتھر کا ہو گیا تھا:
’’جلدی کرو۔۔۔۔ میں صرف تین تک گننے کے بعد تمہیں گولی سے اڑا دوں گا۔‘‘وارننگ دے کر ریحان نے چند لمحے توقف اختیار کیا اور پھر سر د مہری سے پسٹل تان کرالٹی گنتی گننے لگا:
’’تین۔۔۔۔ دو ۔۔۔۔ایک۔۔۔۔‘‘
جیسے ہی اس کے زبان سے ایک کا لفظ نکلا گرفت پسٹل پر سخت ہوتی چلی گئی، مگر اس سے قبل کہ وہ ٹریگر دبا کراپنے مشن کو انجام تک پہنچاتا اچانک اس سر پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔
ضرب اتنی اچانک اور شدید تھی کہ ریحان کو ا پنادماغ لہو بن سرسے بہتا محسوس ہوا ۔۔۔۔ پسٹل اس کے ہاتھ سے نکل کر زمین پر گر پڑا تھا ۔
جب وہ دونوں ہاتھو ں سے اپنا سر تھام کر حملہ آور کا چہرہ دیکھنے کے لیے پلٹا ۔۔۔۔تو لوہے کا راڈ تھامے ماریا پر نظر پڑتے ہی اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوںمیں نمی اُمڈ آئی۔
برسوں پہلے نجومی کا کہا جملہ ایک بار پھر بازگشت بن کر اس کے کانوںمیں گونج اٹھا تھا۔۔۔۔
’’ یاد رکھو! تمہار ا قاتل نہایت قریبی دوستوں میں سے ہوگا۔۔۔۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close