Naeyufaq Jun-17

ایک سوسولہ چاند کی راتیں(قسط نمبر10)

عشنا کوثر سردار

نواب زادی عین النور کا چہرہ پر سکون تھا وہ انتہائی مضبوطی سے قدم اٹھا رہی تھی شہاب نے اسے غلیظ نظروں سے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا اور اس کی تقلید کرنے لگا تھا اس کی بھوکی نظریں نواب زادی کو کسی بھیڑھیے کی طرح چھید رہی تھیں نواب زادی اس کی سمت متوجہ نہیں تھی مگر وہ ان آنکھوں کی غلاظت کو صاف محسوس کر سکتی تھی شہاب جسے آنکھوں ہی آنکھوں میں جیسے اسے نگل لینا چاہتا تھا اس کے چہرے پر بھرپور سرشاری تھی جیسے اس نے ابھی کوئی جہان فتح کرلیا تھا وہ مسرور سا قدم اٹھا رہا تھا اور نواب زادی عین النور بہت پر سکون سی بیت الخلا کے سامنے جا رکی تھی۔
شہاب نے اسے بغور دیکھا تھا نواب زادی نے اسے بہت اطمینان سے دیکھا تھا مگر اس کی آنکھوں میں عجیب غیض و غضب دکھائی دیا تھا۔
شہاب اس کے ادارے سمجھ نہیں پایا تھا مگر وہ اسے دیکھتا ہوا سرشاری سے مسکرایا تھا۔
’’ارے رک کیوں گئیں آپ، اندر چلیے نا؟‘‘ اس نے کہتے ہوئے ٹرین کے ڈبے کی سمت نگاہ کر کے گویا یقین کیا تھا کہ کوئی متوجہ تو نہیں اور دوبارہ ایک بے قراری سے نواب زادی کی سمت دیکھا تھا۔
’’چلیے نا اب انتظار نہیں ہوتا ہم سے‘ کیا جان لیں گی کب سے ترس رہے ہیں اب اتنا ظلم بھی مت کیجیے آپ کا دو آتشہ حسن ہمیں جلا کر خاکستر کرنے کو ہے اب ہمارے صبر کا اتنا بھی امتحان مت لیجیے۔‘‘
وہ اپنی غلاظت بھری نظروں سے اس کی سمت دیکھتا ہوا بولا تھا اس کے مکروہ چہرے پر ہوس بھری مسکراہٹ تھی نواب زادی نے بیت الخلا کے برابر میں بنے ٹرین کے داخلی دروازے کو دیکھا تھا اور پھر شہاب کی سمت دیکھا تھا۔
’’آئیے بیت الخلاء منتظر ہے۔‘‘ نواب زادی نے پر سکوت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے اور بیت الخلا میں بڑھنے کو کہا تھا۔
شہاب اس کی طرف سرشاری سے دیکھتا ہوا مسکرایا تھا اور قدم آگے بڑھا ئے تھے۔
…٭٭…
وہ بلوائیوں کی تعداد نہیں جانتی تھی مگر وہ اتنا جان گئی تھی کہ وہ کڑا وقت آگیا جب اسے زندگی اور موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا وہ عزت کی زندگی نہیں جی پائی تھی مگر وہ عزت کی موت مرنا چاہتی تھی سو وہ کسی بھی صورت حال کے لیے خود کو تیار کرنے لگی تھی کسی نے دروازے پر دستک دی تھی۔
’’جو کوئی بھی اندر ہے دروازہ کھول کر دیدار کرا دے ورنہ ہم دروازہ توڑنا بھی جانتے ہیں۔‘‘ کسی ایک بلوائی نے کہا تھا غالباً ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ غسل خانے میں کوئی موجود ضرور ہے اگر چہ خوش نما ایک لفظ نہیں بولی تھی مگر وہ سہمی ہوئی متلاشی نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی تھی، وہ کوئی کپڑا تلاش رہی تھی جس سے وہ خود کو چھپا سکے ایک طرف کھونٹی نئی سے کچھ میلے کپڑے لٹکے تھے اس نے ہاتھ بڑھا کر وہاں کچھ تلاشا تھا وہ اس حالت میں ان کے سامنے نہیں آنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی اس کی زندگی اور عزت ان سے محفوظ نہیں رہے گی، وہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے مگر وہ خود کو اس طرح برہنہ لانا نہیں چاہتی تھی۔
اسے خود کو چھپانا تھا سو اس نے کھونٹی پر ٹنگے کپڑوں میں سے ایک میلا جوڑا نکالا تھا اور کانپتے ہاتھوں سے پہن کر ایک میلی سیاہ چادر اوڑھی تھی۔
’’ہم کہتے ہیں دروازہ کھولو، کون چھپا بیٹھا ہے اندر؟ ہم دروازہ توڑ دیں گے۔‘‘ ایک بلوائی چیخا تھا خوشنما جانتی تھی مگر دروازہ نہیں بھی کھولا تو وہ توڑ دیں گے اگر وہ خود سے دروازہ کھولے گی تو تب بھی وہ ان کی ہوس پرستی کا شکار بن جائے گی اس کے مسلسل دروازہ بجانے پر کوئی جواب نہیں دیا تھا مگر اس کے باوجود جانے کیوں اس نے دروازہ نہیں کھولا تھا وہ جیسے کسی خدائی مدد کی امید رکھتی تھی ایسے سرد پڑتے وجود کے ساتھ اس نے دروازے کی کنڈی کو چھوا تھا دستک کی آواز بند ہوگئی تھی اس نے سانس روک کر چند لمحوں تک محسوس کیا تھا شاید وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تھے پیشانی پر پسینے کے قطرے اس میلی چادر سے پونچھتے ہوئے اس نے سرد ہاتھوں کو کنڈی کی سمت بڑھایا تھا مگر پھر ہاتھ روک لیا۔
’’یا اللہ مدد فرما، میں ایسی بے عزتی کی موت مرنا نہیں چاہتی تو نے اب تک کی زندگی میں جو دیا اس کے لیے ہمیشہ شکر ادا کیا مگر میں وہ بے عزتی اور بدنامی کی زندگی جی کر تھک چکی تھی میں نے یہ سفر اپنی عزت کے لیے کیا عزت کی زندگی جینے کے لیے اور میں چاہتی ہوں اگر آج موت بھی آئے تو عزت سے آئے میری عزت کی حفاظت تیرے حوالے میرے مولا میں تجھے اپنا محافظ بناتی ہوں۔ میری حفاظت فرما۔‘‘ اس نے بنا آواز صدق دل سے دعا مانگی تھی کئی لمحوں تک کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی سو بلوائی چلے گئے تھے اس نے دعا مانگ کر اللہ کا نام لے کر دروازہ کھول دیا تھا اور نگاہ حیرت سے بھر گئی تھی کچھ فاصلے پر بلوائی بیٹھے اسے دیکھ کر مسکرائے تھے انہوں نے سر تا پا اس کا جائزہ لیا تھا ان کی میلی نظروں میں ہوس تھی۔
’’یااللہ مدد تیری گناہ گار بندی تجھ سے مدد کی درخواست کرتی ہے تیرے علاوہ کوئی آسرا نہیں نہ کوئی مدد گار میں اپنی حفاظت تیرے ذمہ چھوڑتی ہوں میرا توکل تجھ پر ہے مجھے یقین ہے میرا رب مجھے مایوس نہیں کرے گا۔‘‘ اس نے دل سے دعا مانگی تھی اور ان کے اٹھ کر آنے سے قبل ہی دوڑ لگا دی تھی وہ بھاگتی ہوئی گھر کی دہلیزپار گئی تھی بلوائی پاگل ہو کر اس کے پیچھے بھاگے تھے خوش نما کے اندر جانے اتنی ہمت کیسے آگئی تھی اس کے قدموں کی رفتار نہ تھمنے والی تھی تبھی بادل گرجے تھے اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی تھی گیلی زمین پر ننگے پائوں بھاگنا دشوار ہوگیا تھا مگر وہ رکے یا مڑے بنا بھاگتی چلی گئی تھی تیز بارش کے باعث نظروں کے سامنے دھند سی چھا رہی تھی اسے دیکھنے میں مسئلہ ہو رہا تھا مگر وہ رک نہیں سکی تھی، یکدم اس کا پائوں پھسلا تھا وہ دھڑام سے زمین پر گری تھی گھٹنے پر جیسے شدید چوٹ لگی تھی اس کی سمت آنے والے بلوائیوں کی آوازیں اسے صاف سنائی دینے لگی تھیں جیسے وہ قریب آرہے تھے وہ اپنی اس تکلیف کو بھول کر اٹھی تھی، پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا۔
اس کا درمیانی فاصلہ کم ہو رہا تھا وہ تیزی سے قریب آرہے تھے وہ ان کا نوالہ نہیں بننا چاہتی تھی تبھی ہمت کر کے اٹھی تھی اور دوبارہ بھاگنا شروع کردیا تھا۔ وہ بھاگتی چلی گئی تھی آوازیں اس کا تعاقب کر رہی تھیں وہ جیسے اس کے بھاگنے سے محظوظ ہو رہے تھے اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ اس پر گھٹیا جملے کس رہے تھے وہ بلوائی جیسے آج تہیہ کر کے آئے تھے کہ شکار ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے وہ بھاگتی گئی تھی یکدم بجلی چمکی تھی ایک روشنی کی تیز لپک آسمان سے کوندتی ہوئی زمین کی طرف آتی دکھائی دی تھی اور یکدم سارا شور تھم سا گیا تھا۔
…٭٭…
فتح النساء نے دل کڑا کر کے نگاہ پیچھے کیے بنا بوا کو سہارا دے کر اٹھایا تھا۔
’’بیٹا تم میری پروا مت کرو، تم جائو یہاں سے۔‘‘ بوا نے اسے دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے پر اکسایا تھا مگر وہ سر نفی میں ہلانے لگی تھی۔
’’بوا ہم آپ کو چھوڑ کر جائیں یہ مناسب نہیں آپ نے ہماری پرورش کی ہمیں پالا آپ کا قرض ہم پر تمام عمر ہمارے دل پر بوجھ بن کر رہے گا آپ اٹھیے آپ کے بنا ہم نہیں جائیں گے۔‘‘ فتح النسا بولی تھی اور سہارا دے کر بوا کر کھڑا کر دیا تھا اور ان کو لے کر ساتھ چلنے لگی تھی مگر اپنے پیچھے اسے آگ کی لپٹیں دکھائی دی تھیں بلوائیوں نے حویلی کو آگ لگا دی تھی فتح النسا کی خوف کے مارے حالت غیر ہوئی تھی۔
’’جلدی چلیے بوا ہمیں جلد سے جلد اس حویلی سے نکلنا ہے آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔‘‘ وہ بوا کو دیکھتی ہوئی بولی تھی۔
’’بیٹا میں چل نہیں پائوں گی تم یہاں سے چلی جائو۔‘‘ وہ تھک کر بولی تھیں۔
’’میں آپ کو اس آگ کے حوالے کرکے نہیں جاسکتی بوا آپ کو لیے بنا میں یہاں سے نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ انکاری ہوئی تھی۔
’’بیٹا، یہ ممکن نہیں رہا مجھ میں ہمت نہیں بوڑھی ہڈیوں میں دم نہیں چلنے کا مجھے گھٹنے میں شدید چوٹ آتی ہے مجھ سے چلا نہیں جا رہا اور میں اپنی بچی کو اپنے باعث مصیبت میں نہیں ڈال سکتی۔‘‘ بوا نے کہا تھا جب فتح النساء نے ان کو کاندھے پر اٹھا لیا تھا اور چلتے ہوئے آگے بڑھنے لگی تھیں۔
’’ماں کا قرض نہیں اتارا جاسکتا بوا آپ نے مجھے ماں بن کر پرورش کی ہے میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتی، وہ بوا کے بوجھ کو کاندھے پر رکھے ایک عزم سے بولی تھیں۔
’’اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا فتح النساء میری بچی، تم بہت ہمت والی ہو،جو لوگ عزم رکھتے ہیں ان کی راہیں وہ ذات پاک کھول دیتا ہے۔‘‘ بوا دبلی پتلی تھیں مگر ان کے وجود کا ایک بوجھ بہرحال تھا اور فتح النساء اس کی پروا کیے بنا اس بوجھ کے ساتھ ایک عزم سے آگے بڑھ رہی تھیں۔
…٭٭…
شہاب نواب زادی کی ہمت دیکھ کر مسکرایا تھا وہ بیت الخلاء کے دروازے کے سامنے رکا کھڑا تھا اور نواب زادی عین النور بہت پر سکون انداز سے ان کی سمت دیکھ رہی تھیں۔
’’اللہ نے آپ کو بہت فرصت سے بنایا ہے آپ اتنی دلربا ہیں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم زندگی میں کسی ایسی دوشیزہ سے ملیں گے آپ کا حسن سچ میں حیران کن ہے اور ہوش اڑا دینے والا ہے ہم ایسے نفس کے کمزور نہیں ہیں مگر آپ کو دیکھ کر ہم خود پر قابو ہی نہیں رکھ پائے ابھی بھی ہمیں یقین نہیں آرہا کہ ہم آپ جیسی حسین و جمیل لڑکی کے ساتھ۔
وہ بات ادھوری چھوڑ کر مسکرایا تھا اس کی آنکھوں میں بھوک تھی اور انداز مسرور تھا۔
’’آپ ہم سے مذاق تو نہیں کر رہیں، کہیں ہم خواب تو نہیں دیکھ رہے۔‘‘ شہاب نے اپنی کلائی کی جلد پر چونٹی کاٹ کر جیسے یقین کرنا چاہا تھا۔
’’یا اللہ ہم اتنی حسین دلربا لڑکی کی ہمراہی کے قابل کب تھے یہ تو جیسے کوئی انعام ہاتھ لگا ہے ہم نے اتنی نیکیاں زندگی میں کمائیں نہیں ویسے جو اتنے کرامات کے مستحق ٹھہریں، ہم تو بہت گناہ گار بندے ہیں اس نے آپ کوہم سے کیسے ملا دیا؟‘‘ وہ مسکرایا تھا اس کی مسکراہٹ میں ایک تفاخر تھا نواب زادی نے خاموشی اور مکمل سکون سے اسے سنتے ہوئے اس کے پیلے دانتوں کی نمائش کو دیکھا تھا وہ کیا کرنے والی تھی اس کے چہرے سے اس کے ارادوں کی خبر شہاب کو نہیں ہوپائی تھی تبھی وہ اس کے کچھ قریب آکر جذباتی انداز میں گویا تھا۔
’’ہم اس ہمراہی کو زندگی پر محیط کرنا چاہیں گے آج جو لمحے ہم آپ کے ساتھ گزاریں گے ان لمحوں کو ہمیشہ جینا چاہیں گے۔ ہم آپ سے شادی کرنا چاہیں گے اور تمام عمر ان لمحوں کی تازگی کو جینا چاہیں گے آپ کا حسن لا زوال ہے آپ بے مثال ہیں اور ہم بے صبرے ہوئے جا رہے ہیں ہم سے صبر نہیں ہو رہا اب اس سفر کو یادگار بن جانے دیجیے۔‘‘ شہاب نے کہا تھا اور اس کا چہرہ تھامنا چاہا تھا نواب زادی نے اس کا ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے اس کی پشت پر موجود کھلے ہوئے ٹرین کے داخلی دروازے کو دیکھا تھا اور پھر اس کا چہرہ دیکھ کر ایک عزم سے مضبوط ارادے کے ساتھ اس کے سینے پر دونوں ہاتھ کا دبائو بڑھا کر اپنی پوری طاقت سے اسے اس کھلے دروازے کی سمت دھکیل دیا تھا شہاب شاید ایسی کوئی توقع نہیں کر رہا تھا اور اپنے جذبات کے نشے میں چور تھا سو وہ ایسا کچھ سوچ بھی نہیں پایا تھا اور ایک چیخ کے ساتھ اس ٹرین سے باہر تھا نواب زادی نے کام تمام کر کے بہت پر سکون انداز میں دروازے کی سمت دیکھا تھا ٹرین اپنی مخصوص رفتار سے چل رہی تھی سفر آگے بڑھ رہا تھا اور شہاب گزرنے والے اس سفر کا حصہ بن گیا تھا نواب زادی کے چہرے پر اطمینان اور سکون دکھائی دیا تھا جیسے وہ اپنے کیے پر پشیمان نہ تھی شہاب جیسے لوگ جب کسی کی زندگی کو اس موڑ تک لاتے ہیں تو پھر ان کو رد عمل کے لیے تیار رہنا چاہیے شہاب نے اسے آسان ہدف سمجھ لیا تھا وہ اسے کمزور ترین سمجھ کر ہراساں کر رہا تھا مسلسل اس کے اعصاب پر سوار تھا نواب زادی کو اپنا یہ عمل اطمینان کی ایک گہری سانس لینے پر مجبور کر گیا تھا وہ پر سکون ہوئی تھی اس نے اس غلیظ سوچ والے انسان کو جہنم رسید کردیا تھا گہرا سانس لیتے ہوئے جانے کیوں یکدم اس کی آنکھیں نمی سے بھرنے لگی تھیں شاید وہ اپنی بے بسی پر روئی تھی مگر اس کی اس بہادری نے ایک برے انسان کو اس کے ارادوں کے ساتھ اس سفر سے خارج کردیا تھا اگر چہ اس کی موت اس کے سر تھی مگر اس نے اس عمل کے لیے خود اسے اکسایا تھا وہ اس کا تر نوالہ نہیں بن سکتی تھی اس نے اس لمحے ٹھان لیا تھا جب وہ مسلسل اپنی خواہشوں کے ساتھ اس سے رجوع کر رہا تھا اور مسلسل اسے ہراساں کر رہا تھا۔
’’بیٹی کیا ہوا تم اس طرح بیت الخلا کے سامنے اس دروازے کی سمت کیوں دیکھ رہی ہو؟‘‘ جانے کب وہ خاتون وہاں آئی تھیں نواب زادی نے آنکھیں رگڑتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا تھا اس کا چہرہ کسی ملال کا سایہ نہیں رکھتا تھا وہ اس وقت جس صورت حال سے گزری تھی وہاں جیسے وہ بہت بے حس ہوچکی تھی خاتون نے سہارا دے کر اسے اپنے ساتھ واپسی کے لیے کہا تھا مگر جیسے وہ کوئی آواز نہیں سن رہی تھی مگر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ آگے بڑھنے لگی تھی۔
…٭٭…
فتح النساء حویلی کے پچھلے دروازے سے باہر نکلی تھیں جب گاڑی میں شوفر کو منتظر پایا تھا شوفر نے احتراماً آگے بڑھ کر بوا کو تھام کر سہارا دیا تھا اور ان کو لے کر موٹر کار کی سمت بڑھا تھا فتح النساء نے پلٹ کر جلتی ہوئی شعلوں کی لپٹوں میں گھری اس حویلی کو ایک نظر دیکھا تھا اس گھر سے کئی یادیں جڑی تھیں انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا اس حویلی سے اس طرح نکلنا پڑے گا اس طرح بے یار و مددگار اور افراتفری میں جان بچا کر۔
’’بی بی صاحب جلدی نکلیے شعلوں کی لپٹیں بڑھ رہی ہیں اور حویلی کے داخلی دروازے کی سمت بلوائیوں کا شور ہے مجھے ڈر ہے وہ اس طرف آ کر ہمیں گھیر نہ لیں ہمیں یہاں سے جلد سے جلد نکلنا ہوگا۔‘‘ شوفر نے احترام سے کہا تھا اور فتح النساء نے نگاہ حویلی سے ہٹاتے ہوئے سر ہلایا تھا اور موٹر کار کی سمت بڑھنے لگی تھیں۔
…٭٭…
’’کیا ہوا میری بچی معاملہ کیا ہے اس طرح شکستہ کیوں لگ رہی ہو؟ صورت حال کا اندازہ تو ہے ہم سب ہی اپنوں کو چھوڑ کر نکلے ہیں ہم میں سے ہر ایک نے اس سفر پر گامزن ہونے کو بہت کچھ گنوا دیا ہے مگر بیٹا یہ تجربات زندگی کا حصہ ہیں اور انہی تجربات سے گزر کر زندگی کا پتا چلتا ہے ہم سب نے جو مصائب اور تکلیفیں اٹھائیں ہیں ان کا پھل ہمیں ضرور ملے گا خدا کرے تمہاری زندگی میں اس کے بعد دکھ اور تکلیف کا کوئی موقع نہ آئے میرا تم سے کوئی رشتہ تو نہیں مگر جانے کیوں تمہیں دیکھ کر میری بچی کا چہرہ تمہارے چہرے میں دکھائی دیتا ہے میں اپنی بچی کا دکھ نہیں بھلا پا رہی مگر تمہارا چہرہ اس کے چہرے میں مدغم ہو کر عجیب راحت دیتا ہے۔‘‘ وہ بھیگتی آنکھوں سے اس کا چہرہ تھام کر بولی تھیں نواب زادی نے ان کا چہرہ بغور دیکھا تھا ان کے نقوش میں یکدم اسے اماں کا چہرہ دکھائی دیا تھا ان کی آوازوں میں اماں کی آوازیں مدغم ہونے لگی تھیں۔
’’عین میری بچی۔‘‘ ان کا لہجہ کانوں میں سکون اور راحت دینے لگا تھا وہ میٹھی آواز دل کی تسکین کا باعث بننے لگی تھی۔
’’عین میری بچی۔‘‘ ماموں نے جیسے اسے دوبارہ پکارا تھا اور وہ خیالوں اور آوازوں کے پلو کو تھامتی ہوئی گزرے دنوں میں خود کو جانے سے روک نہیں پائی تھی۔
…٭٭…
’’عین النور ہماری بچی زندگی میں اتنی معمولی باتوں پر موڈ اتنا خراب نہیں کرتے آپ کو فتح النساء سے کوئی پرخاش ہے تو آپ ان سے ملیں بیٹھیں اور بات چیت کریں دوستی میں یہ سب معمولی باتیں آجائیں تو دوستی باقی نہیں رہتی وہ آپ کی بچپن کی سہیلی ہیں آپ ان کے بنا ایک پل بھی نہیں رہ سکتیں یہ بات تو ہم جانتے ہیں کہ آپ دونوں کا گزارہ ایک دوسرے کے بنا ممکن نہیں ہے وہ بھی بے چین ہوں گی اور یہاں آپ منہ بگاڑ کر بیٹھی ہیں دیکھیے اتنا تیز بخار چڑھا لیا تم نے خالہ جمن سے کہہ کر آپ کی ان پیاری دوست کو بلوایا ہے سو اب ان سے بات کر کے معاملات رفع دفع کریں باتوں کو پھیلانے سے باتوں کے سمندر بن جاتے ہیں پھر انہی سمندروں کی موجیں اپنی شوریدہ سر سروں سے ہمیں اپنے ساتھ بہانے لگتی ہیں دلوں میں میل نہیں آنا چاہیے اگر چہ ہمیں آپ کی دوستی اور اس درجہ قربت فتح النساء سے قابل قبول نہ تھی مگر ہم نے آپ کی خوشی کی خاطر ان کو ہمیشہ آپ کے ارد گرد موجود رہنے دیا کیونکہ ان کی موجودگی آپ کے لیے راحت کا باعث تھی ایک بار آپ دونوں کی لڑائی ہوگئی تھی اس وقت آپ دونوں پرائمری جماعت پاس کرنے کو تھیں انہوں نے آپ کا کھانے کا وہ ڈبہ لے لیا تھا جو آپ کو سب سے زیادہ پسند تھا وہ آپ کی نانی جان کی طرف سے آپ کی سالگرہ کا تحفہ تھا سو اس چاندی کے کھانے والے ٹفن کے لیے آپ خاص انسیت اور جذبات وابستہ رکھتی تھیں ہم نے آپ سے کہا بھی تھا کہ آپ ان سے اس بارے میں کوئی بات نہ کریں ہم آپ کو چاندی کا ایک ایسا ہی ڈبہ اور دلوا دیں گے مگر آپ ان سے خفا رہی تھیں اور جب انہوں نے خود وہ ڈبہ لا کر آپ کے ہاتھ میں تھما دیا تھا تو آپ نے روتے ہوئے انہیں گلے لگا لیا تھا آپ کہہ رہی تھیں کہ آپ کو دکھ اس کھانے والے ڈبے کے چلے جانے کا نہیں تھا آپ تو صرف اس باعث رنجیدہ تھیں کہ آپ اپنا غصہ دبا نہیں پائیں تو آپ نے ان سے اونچے لہجے میں بات کی اور نتیجتاً فتح النساء نے آپ سے بات بند کردی اور آپ کو یہی بات کھل رہی تھی کہ آپ سے بات کیوں نہیں کر رہی تھیں آپ دونوں تب بھی ایک دوسرے کے بنا نہیں رہ پائی تھیں اور اب تو آپ دونوں ایک دوسرے کی مزید عادی ہوگئی ہیں ہم تو سوچ رہے تھے کوئی رشتہ دیکھ کر آپ کے نکاح کے ساتھ ہم فتح النساء کا نکاح بھی وہیں مرزا سراج الدولہ بھائی صاحب کی حویلی میں کردیں۔‘‘ اماں مسکرائی تھیں عین نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا پھر مدہم لہجے میں بولی تھیں۔
’’آپ فتح النساء کا نکاح جلال بھیا کے ساتھ کیوں نہیں ہونے دینا چاہتی؟‘‘ ان کا سوال اماں کو خاموش کر گیا تھا وہ لب بھینچ گئی تھیں اور پھر عین کی سمت سے نگاہ پھیر کر بولی تھیں۔
’’یہ رشتہ کوئی جوڑ نہیں رکھتا عین‘ جلال کیوں اس رشتے کی بات کر رہا ہے؟ ہم نہیں جانتے مگر ہمیں فتح النساء قبول نہیں ہے ہم نے کبھی ان کو اس رشتے کی نظر سے نہیں دیکھا ایسا نہیں کہ ہم برابری کے قائل ہیں اور فتح النساء کو اس قابل نہیں سمجھتے ہماری نگاہ ان باتوں پر ہے اور…!‘‘
’’معذرت چاہتے ہیں ہم آپ کی بات میں مخل ہو رہے ہیں اماں جان مگر…!‘‘ عین نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے تھے اماں نے ان کی سمت سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔
’’آپ کہنا کیا چاہتی ہیں نواب زادی۔‘‘ اماں نے پوچھا تھا اور تبھی عین ان کی سمت سے نگاہ ہٹاتے ہوئے بولی تھیں۔
’’اماں پتا نہیں ہمیں فتح النساء پر یہ الزام لگانا بھی چاہیے کہ نہیں مگر جانے کیوں لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طور وہ ان واقعات سے جڑ گئی ہیں جن کے توسط سے پتا چلتا ہے کہ وہ مرزا حیدر سراج الدولہ سے… وہ بات کرتے کرتے رک گئی تھیں اماں نے ان کو حیرت سے دیکھا تھا۔
’’آپ کو یہ شک کیونکر گزرا اور نواب زادہ جلال کا فتح النساء سے نکاح کرنے پر اصرار کرنا کیا اسی سلسلے سے جڑی کوئی کڑی ہے۔‘‘ اماں نے دریافت کیا تھا اور تبھی نواب زادی نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی تھیں۔
’’یہ تو ہم نہیں جانتے اماں جان مگر فتح النساء نے مرزا حیدر سراج الدولہ پر الزامات لگائے ہیں وہ کہتی ہیں کہ حیدر میاں نے ان کو میلی نظروں سے دیکھا ہے۔‘‘
’’یا اللہ۔‘‘ اماں نے اپنا دل پکڑا تھا۔
’’یہ کب ہوا آپ نے ہمیں کیوں بے خبر رکھا ہم نے منع کیا تھا نا کہ فتح النساء سے اتنی دوستی مت بڑھائیں آپ تو سننے کو تیار ہی نہیں تھیں بات اس نہج تک پہنچ گئی اور آپ نے ہمیں بے خبر رکھا۔‘‘اماں حیران تھیں نواب زادی شرمندہ ہوگئی تھیں۔
’’معذرت چاہتے ہیں اماں ہم آپ کو بے خبر رکھنا نہیں چاہتے تھے مگر ہمیں اس رشتے کو خراب نہیں کرنا تھا فتح النساء ہماری دوست ہیں وہ ہم سے برابری کا نہیں سوچ سکتیں اور حیدر میاں ان کی مذاق کی عادت ہے ان کی مذاق میں کہی گئی باتوں کولے کر جیسے فتح النساء نے رائی کا پہاڑ بنا دیا اور ہمارا رشتہ اس پہاڑ کے نیچے دب کر سسکنے لگا۔‘‘ عین مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں اماں اسے پر خیال نظروں سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’حیدر میاں ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ہم ان پر شک نہیں کرسکتے وہ سلجھے ہوئے مزاج کے نوجوان ہیں یقینا فتح النساء کو کوئی غلط فہمی رہی ہوگی ہم محض فتح النساء کے کہنے پر حیدر میاں پر شک نہیں کرسکتے، ہوسکتا ہے فتح کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔‘‘ ان کے کہنے پر عین نے ان کو شاکی نظروں سے دیکھا تھا۔
’’آپ کو واقعی ایسا لگتا ہے اماں؟ ہم حیدر میاں سے منسوب ہیں ان کے لیے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں شاید ہم حیدر میاں کو کسی قدر خاص رعایت دے رہے ہوں مگر آپ غیر جانبداری سے ان معاملات کو دیکھ کر بتائیں کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے حیدر میاں ہمارے ساتھ کبھی ہم کلام ہوتے ہیں تو وہ دوسرا کوئی ذکر نہیں کرتے ایک خاص احترام اور حرمت ان کے لہجے میں ہوتی ہے ہم ان کی منگیتر ہیں اگر وہ ہمارے لیے اس احترام اور عزت کی سطح سے نیچے نہیں اترتے تو ہم کیسے مان لیں وہ فقط ہماری سہیلی کے لیے اپنا ضبط ہار جائیں گے جبکہ وہ ہم سے برابری بھی نہیں رکھتیں۔ معذرت چاہتے ہیں ہم چھوٹی بات کر رہے ہیں اماں ہم نے یہ نہیں سیکھا مگر ہم ہر پہلو سے اس مدعا کو جانچنا چاہتے ہیں ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ دراڑ کس باعث رونما ہوئی؟‘‘ نواب زادی نے بردبار لہجے میں کہا تھا اور اماں کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
…٭٭…
’’ہم نے ٹھان لی ہے چاہے اماں جان اس کو حکم عدولی تصور کریں مگر ہم محل میں واپس نہیں جائیں گے ہم اس مدعا پر کوئی بات کرنا ضروری خیال نہیں کرتے۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا بوا ان کو چپ چاپ دیکھنے لگی تھیں فتح النساء کچھ الجھی دکھائی دی تھیں۔
’’بیٹی یہ معاملات حساس ہیں معاملہ دوستی کا ہے اور اس گھر سے آپ کے تعلق کا‘ اس گھر میں آپ کو بہت عزت ملی ہے اگر بیگم صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں تو آپ کو ان سے ملنے جانا چاہیے اس وقت اس سے زیادہ ضروری کوئی معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ بوا نے سمجھایا تھا مگر فتح النساء کا چہرہ اندرونی خلفشار کی عجیب کہانی بیان کر رہا تھا۔
’’ہم نہیں جائیں گے ہمیں فی الحال بات نہیں کرنی آپ جمن بوا کو کہہ دیں ہماری طبیعت ٹھیک نہیں ہم پھر کبھی جا کر بیگم صاحبہ سے مل لیں گے ان سے کہیے گستاخی معاف مگر فی الحال ہماری طبیعت اس قابل نہیں کہ ہم فوری طور پر حاضر ہوجائیں۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا اور تب بوا نے ملازمہ کو بلا کر جمن بوا کو واپس جانے کی ہدایت دی تھی اور پھر ان کی سمت دیکھتے ہوئے بولی تھیں۔
’’یہ کیا معاملات ہیں فتح النساء معمولی ناراضگی اتنی کیسے بڑھتی جا رہی ہے کیا آپ ہم سے کوئی بات چھپا رہی ہیں۔‘‘ بوا نے کہا تھا اور تب اس نے سر ان کی گود میں رکھ دیا تھا بوا جان گئی تھیں کہ وہ دل گرفتہ ہیں اور مشکل وقت سے گزر رہی ہیں تبھی ان کے سر پر آہستگی سے ہاتھ پھیرنے لگی تھیں انہوں نے فوری طور پر ہی مدعا پربات کرنا ضروری خیال نہیں کیا تھا اور اس لمحے جانے کیوں فتح النساء کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
’’جس سہیلی پر ہمیں اتنا اعتبار تھا جن پر ہم بہت مان اور بھروسہ کرتے تھے وہ سہیلی ہم پر اعتبار کرنے سے قاصر ہیں وہ ہمارے کہے کو بھی جھٹلا رہی ہیں ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک روایتی نواب زادی بن جائیں گی اور ہم کو محض اپنے ٹکڑوں پر پلنے والی ایک بے سہارا لڑکی سمجھا ہم ان کی برابری کرنا نہیں چاہتے تھے کبھی نہ ہم نے کبھی نواب زادی کی برابری کرنا چاہی ہم اپنی حیثیت کبھی بھولے نہیں تھے ہم جانتے ہیں ہم نواب صاحب کے ٹکڑوں پر پلے ہوئے ہیں ہمیں مراعات ملی ہیں مگر ہم ان مراعات سے نواب زادی نہیں بن جاتے ہم ایک عام سی لڑکی ہیں اور یہ بات ہم اپنی یادداشت سے نکال نہیں پائے ہیں۔‘‘ بوا نے ان کی سمت دیکھا تھا مگر انہوں نے اسے بولنے دیا ان کی آنکھوں کے کنارے گرم گرم آنسوئوں سے جلتے ہوئے لگ رہے تھے مگر بوا نے ان کھولتے پانیوں کوپونچھنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ چاہتی تھیں کہ اندر سے یہ غبار بہہ جائے اور وہ ایک ہی بار رہ کر اپنے اندر کے اس لاوے کو باہر نکال دیں۔ بوا ہم یقین نہیں کر پائے کہ نواب زادی نے ہم پر ایسا الزام کیوں لگایا، ہم پر شک کیونکر کیا اور جب ہم نے تمام حقائق بیان کردیے تو وہ ہماری بات کو رد کیونکر کرنے لگیں ایک طویل عرصے کی دوستی کیا اعتبار کرنا نہیں سکھاتی ہم نے ان سے حیدر میاں کی اصلیت کہہ دی اور وہ بجائے ہمارا اعتبار کرنے کے الٹا ہمیں کو اپنے شک کے دائرے میں لے آئیں، ہم خود سے نگاہ نہیں ملا پا رہے بوا انہوں نے ہمیں ہماری نظروں میں ہی گرا دیا ہے ہم نے ان سے کہا کہ حیدر میاں اچھے کردار کے نہیں ہیں وہ ہم کو میلی نظروں سے دیکھتے رہے ہیں اور ہمیں ہوس پرست منصوبوں کا شکار کرنا چاہتے ہیں محبت ایسی اندھی ہوتی ہے کیا کہ کسی اپنے اتنے عزیز دوست کے کہے پر بھی اعتبار نہ آئے ان کو لگا کہ میں غلط ہوں اور حیدر میاں درست ہیں ان کو لگا حیدر میاں ایسا کبھی کر ہی نہیں سکتے وہ حقائق پر نگاہ کرنے کو تیار نہیں ان کی نگاہ میں ہم نے جو کہا وہ جھوٹ ہے تو پھر کیا فائدہ اس دوست کا جب ان کو ہم پر اعتبار بھی نہیں ان کی نگاہ میں ہم اتنے گرے ہوئے ہیں تو پھر تعلقات کو آگے بڑھانے سے فائدہ۔ کوئی دوستی نا مستقل دوستی رہ سکتی ہے نا مستقل دشمنی سو اگر یہ دوستی اپنا وجود کھو رہی ہے تو ہمیں اس دوستی کو خیر باد کہہ کر کنارہ کشی کرلینا چاہیے۔‘‘ وہ دکھ کی کیفیت سے نڈھال تھیں بوا نے ان کو اس طرح روتے ہوئے یا اس طرح رنجیدہ ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا یقینا ان کے دل کو بہت ٹھیس لگی تھی بوا کا دل ان کی کیفیت پر کٹ کر رہ گیا تھا۔
’’آپ وضاحت دینے کی کوشش کریں ہوسکتا ہے نواب زادی کو آپ پر اعتبار آجائے۔‘‘ بوا نے محض ان کا دل رکھنے اور دوستی میں دراڑ کو ختم کرنے کی غرض سے کہا تھا مگر وہ نفی میں سر ہلانے لگی تھیں۔
’’رشتے اس طور بسر نہیں ہوتے بوا مجھے یہ بات آپ کو سمجھانا نہیں چاہیے آپ جانتی ہیں بوا رشتے کیسے بنائے جاتے ہیں میرا آپ سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں مگر آپ نے مجھے اولاد سے بڑھ کر چاہا ہے اتنی محبت کوئی اپنی اولاد کو بھی نہیں دیتا اور میرے رشتے نے کیا دیا مجھے‘ مجھے میری نظروں سے گرا دیا۔‘‘ اس کے آنسو تھم نہیں رہے تھے بوا نے ان کی آنکھوں کو ضبط سے پونچھا تھا اور اسے مزید نہ رونے کا اشارہ کیا تھا۔
’’بیٹا غلط فہمیاں رشتوں میں دراڑوں کا باعث بن جاتی ہیں مگر یہ وقتی توڑ پھوڑ ہوتی ہے اگر چہ یہ تکلیف دہ ہوتی ہیں مگر اس سے گزرنا بھی ایک آزمائش ہے جو اس آزمائش سے گزر جاتا ہے اللہ اس پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘ بوا نے مثبت انداز فکر کے تحت اسے سمجھایا تھا۔
’’ہم نہیں جانتے بوا اگر چہ یہ توڑ پھوڑ یا دراڑیں وقتی عمل نہیں مگر یہ انتشار جان لیوا ہے ہم اس آزمائش سے گزرنے کی سکت نہیں رکھتے یہ عمل بہت کٹھن ہے ہم سب کی باتوں کو بھول بھی جائیں تو اس بات کو نہیں بھول پائیں گے کہ کسی طور ہمیں ہماری نظروںسے ہی گرا دیا گیا ہمارا وقار، ہماری عزت نفس دو کوڑی کی نہیں رہی ہمارا خود پر مان غرور کچھ باقی نہیں رہا کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے اور وہ کوئی بھی ان کو تسلی دیتے میں ناکام رہی تھیں مگر ان کی خود کی آنکھیں اس غم میں بھیگنے لگی تھیں۔
…٭٭…
نواب صاحب نے کھانا نوش فرماتے ہوئے بیگم کو دیکھا تھا۔
’’یہ کیامدعا ہے بیگم۔‘‘ ہم نے سنا ہے ہمارے صاحبزادے اپنی مرضی سے فتح النساء کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے؟ آپ اس معاملے میںکیا کہتی ہیں؟‘‘ نواب صاحب نے رسانیت سے پوچھا تھا تبھی بیگم صاحبہ نے ان کو ترچھی نظروں سے دیکھا تھا۔
’’کیا آپ اس معاملے میں رضا مندی دینے کا سوچ رہے ہیں؟‘‘ ان کا لہجہ حیرت سے بھرپور تھا نواب صاحب خاموشی سے کھانا تناول فرماتے رہے تھے۔
’’ہم نہیں سمجھتے یہ رشتہ قائم ہونا چاہیے اگر چہ ہم فتح النساء کو اپنی بیٹی کی طرح ہی عزیز جانتے ہیں مگر…!‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولے تھے تبھی بیگم صاحب نے انہیں دیکھا تھا۔
’’یہ کیا معاملہ ہے نواب صاحب آپ کا اپنے سپوت پر اختیار نہیں رہا، کسی کو بھی نکاح میں لینے کا عندیہ ظاہر کرے گا تو کیا ہم اس طور ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش بیٹھے رہیں گے نواب زادے چاند سے کھیلنے کی ضد کرتے ہیں مگر ہمیں نہیں لگتا فتح النساء وہ چاند ہیں۔‘‘ بیگم صاحبہ کا لہجہ ترش تھا نواب صاحب نے ان کو رسانیت سے دیکھا تھا پھر نرمی سے بولے تھے۔
’’نواب خاندان کا خون ہے پر جوش اور ضدی تو ہوگا مگر ہمیں حقائق پر بھی نگاہ رکھنا چاہیے۔‘‘ وہ مدبرانہ لہجے میں بولے تھے بیگم صاحبہ نے کھانے سے ہاتھ روک کر انہیں دیکھا تھا۔
’’یہ آپ کے انہی دوست کی بیگم کی اولاد ہیں نا جن سے آپ محبت فرما رہے تھے۔‘‘ بیگم صاھبہ کے لہجے کی کاٹ صاف محسوس کی جاسکتی تھی مگر نواب صاحب خاموش رہے تھے۔
’’ہم یہ نکاح کسی صورت میں نہیں ہونے دیں گے نواب صاحب اگر آپ بھی خاموش رہے تو یہ بھیانک ترین ہوگا۔‘‘ بیگم صاحبہ نے نواب صاحب کو جتایا تھا وہ خاموشی سے کھانا تناول فرماتے رہے تھے۔
’’نواب صاحب ہم اس مدعا پر بحث کرنا نہیں چاہتے ہم آپ کا فیصلہ نہیں جانتے لیکن آپ سچائی سے واقف ہیں آپ نے فتح النساء کی ذمہ داری پوری کی اس کی دیکھ بھال پر خاص توجہ دی ہم خاموش رہے آپ نے اپنی وراثت میں اس کا حصہ رکھا ہم اس پر بھی خاموش رہے مگر یہ مناسب نہیں ہے۔‘‘ بیگم صاحبہ نے کہا تھا اور نواب صاحب خاموشی سے کھانا نوش فرماتے رہے تھے۔
…٭٭…
’’ابا جان ہم آپ سے کچھ بات چیت کرنے کے خواہاں تھے اگر آپ کے پاس وقت ہو تو کیا ہم اپ کا کچھ وقت لے سکتے ہیں۔‘‘ جلال نے بہت بردبار انداز میں ابا کے سامنے آتے ہوئے کہا تھا اور ابا نے ان کو خاموشی سے بغور دیکھا تھا پھر نرمی سے بولے تھے۔
’’کوئی سیاسی مسئلہ آگیا ہے کیا؟‘‘ وہ جان بوجھ کر معاملے کو نظر انداز کرنا چاہتے تھے جیسے جلال نے ان کو بغور جانچا تھا۔
’’کیا آپ اس معاملے پر بات کرنے کے خواہاں نہیں؟‘‘ وہ صاف گوئی سے کوئی لگی لپٹی رکھے بنا بولا تھا نواب صاحب نے گھڑی کو دیکھا تھا۔
’’ہم کسی ضروری کام سے نکل رہے تھے کیا ہم کسی اور وقت اس بارے میں بات کرسکتے ہیں۔‘‘ نواب صاحب جیسے قصداً نظر انداز کرتے ہوئے بولے تھے جلال الدین نے سر ہلا دیا تھا اور پلٹ کر زینہ اترنے لگا تھا۔ نواب صاحب اسے دیکھ کر رہ گئے تھے۔
جلال الدین دادی جان کے پاس تخت پر بیٹھ کر جانے کیا بات کرنے لگا تھا نواب صاحب چلتے ہوئے وہاں سے نکل گئے تھے۔
’’دادی جان ہم نکاح کرنا چاہتے ہیں مگر ابا اس معاملے پر بات کرنے کے جیسے خواہاں دکھائی نہیں دیتے آپ کے خیال میں ہم اس معاملے میں درست قرار دیے جائیں گے اگر ہم اپنی مرضی اور منشا سے اس نکاح کو منعقد ہونے دیں؟‘‘ جلال نے دادی جان کے سامنے معاملات کو کھول کر رکھا تھا دادی جان نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
’’آپ عاقل اور بالغ ہیں چھوٹے نواب آپ کو کون قرار دے سکتا ہے شرعی طور پر یہ نکاح جائز ہوگا اور آپ کے ابا جان کو اصولاً اس نکاح پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ دادی اماں نے نرم خوئی سے کہا تھا۔
’’لیکن پھر بھی ابا جان کو کوئی اعتراض ہو تو؟‘‘ جلال الدین نے پوچھا تھا تب دادی جان نے انہیں لمحہ بھر کو خاموش ہو کر دیکھا تھا۔
’’آپ کے لیے کیا اہم ہے چھوٹے نواب آپ اپنے دل کی سننا چاہتے ہیں؟‘‘ دادی جان نے ان کے اندر کی مرضی جاننا چاہی تھی وہ جواب دیے بنا گردن پھیر گئے تھے۔
’’آپ دل کے معاملات کو اہمیت دینا ضروری خیال کرتے ہیں؟‘‘ دادی جان نے پوچھا تھا جلال الدین نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
’’دادی جان ہم دل کے معاملات کی بات کب کر رہے ہیں؟‘‘ وہ گویا حیران ہوئے تھے اور ان کی یہ حیرت دادی جان کو دو گنا حیران کر گئی تھی۔
’’چھوٹے نواب آپ کے معاملات خاصے پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں آپ مخالفت مول لے کر شادی کرنے کے خواہاں ہیں اور اس شادی کے بندھن میںمحبت کا سرے سے کوئی ذکر نہیں یہ کیسی وابستگی ہے جو محبت کے بنا قائم ہے اور اس درجہ مضبوطی سے قائم ہے؟‘‘ دادی جان نے ان کو جیسے چشمے کے پیچھے سے بغور جانچا تھا۔
’’کبھی کبھی معاملات دل ضروری نہیں ہوتے دادی جان۔‘‘ جلال بولے تھے اور دادی جان سر ہلانے لگی تھیں۔
’’بہرحال آپ کی خوش اہم ہے چھوٹے نواب کیا چاہتے ہیں یہ ضروری ہے باقی سب غیر ضروری ہوجاتا ہے ویسے آپ ہم سے کیا توقع کرتے ہیں ہم آپ کے ابا حضور سے بات کریں۔‘‘ دادی نے پوچھا تھا جلال نے سر ہلایا تھا۔
’’آپ سمجھ دار ہیں دادی جان آپ معاملات کو سنبھال سکتی ہیں۔‘‘ وہ سر جھکا کر بولا تھا دادی جان نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
’’ہم کوشش کریں گے چھوٹے نواب ہمارے خاندان کے چشم و چراغ ہیں آپ ہم آپ کی خوشیوں کو اہم جانتے ہیں۔‘‘ دادی جان نے کہا تھا اور مسکرا کر پوتے کا ماتھا چوما تھا۔
’’سلامت رہیے۔‘‘ دادی جان نے مدہم لہجے میں کہا تھا۔
…٭٭…
’’آپ کیوں باتوں کو اپنے زاویے پر موڑ رہی ہیں؟‘‘ تیمور بہادر یار جنگ نے کہا تھا اور وہ الجھی ہوئی سی اس کی سمت دیکھنے لگی تھی پھر مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’آپ چیزوں کو اپنے طور پر اخذ کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔‘‘ عین نے کسی قدر برہمی سے تیمور کو دیکھا تھا۔
’’کبھی کبھی معاملات کا کھل کر بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا نواب زادی عقل کے لیے لا محدود کناروں تک رسائی ممکن ہوتی ہے خرد اتنی محدود نہیں ہے۔‘‘ تیمور نے جتاایا تھا عین اسے دیکھ کر رہ گئی تھی پھر آہستگی سے پوچھنے لگی تھی۔
’’آپ کو کیسے خبر ہوئی؟‘‘ وہ جیسے جان گئی تھی کہ وہ معاملات تک رسائی رکھتا ہے تیمور نے اسے لمحہ بھر کو خاموشی سے دیکھتے ہونے شانے اچکا دیے تھے۔
’’آپ نے کہا میرا جاننا ضروری نہیں۔‘‘
’’اور آپ پہلے سے سب جان چکے ہیں؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’مگر آپ نے مطلع کرنا ضروری خیال نہیں کیا۔‘‘ تیمور کے لہجے میں شکوہ تھا۔
’’یہ ضروری نہیں تھا۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں بولی تھی۔
’’آپ کے لیے ضروری کچھ بھی نہیں تھا نواب زادی۔‘‘ تیمور کے لہجے میں ایک شکوہ تھا وہ خاموش رہی تھی اور نگاہ چرا گئی تھی جب وہ بولا تھا۔
’’محبت اس قدر اندھی نہیں ہوتی نواب زادی۔‘‘ وہ جیسے اس کو بغور پڑھتے ہوئے بولا تھا اس کا انداز جتانے والا تھا۔
’’ہم اس بارے میں بات کرنا ضروری خیال نہیں کرتے۔‘‘ اس کا انداز لا تعلق تھا مگر وہ نظر انداز کرتے ہوئے بولا تھا۔
’’زندگی میں کوئی ایک رشتہ چن کر بقا ممکن نہیں ہے نواب زادی تمام دیگر رشتوں سے بھی ہماری زندگی اس قدر شدت اور مضبوطی سے جڑی ہوتی ہے کہ ہم حقائق کو نظر انداز کرسکیں۔‘‘ وہ جیسے اسے سمجھانا ضروری خیال کر رہا تھا وہ خاموشی سے دیکھنے لگی تھی پھر بولی تھی۔
’’ہم جانتے ہیں تیمور بہادر یار جنگ مگر دیگر رشتوں کو بھی اپنی حدود کا یقین کرلینا ضروری ہے اگر وہ اپنی حدود پھلانگنے لگیں تو ایسے رشتے مسلط شدہ بوجھ بن جاتے ہیں ہم جانتے ہیں آپ کے ذہن میں اس وقت فتح النساء ہے اور اس سے جڑے کئی سوال اور آپ ان مسائل کا سدباب چاہتے ہیں مگر بعض اوقات چیزوں کو قبل از وقت سمیٹنا چیزوں کو اور بکھیر دیتا ہے اور یوں بھی یک طرفہ مدعا سن کر کچھ بھی قیاس کرلینا مناسب نہیں ہے۔‘‘ وہ پر سکون لہجے میں بولی تھی تیمور نے سر ہلایا تھا۔
’’جانتا ہوں نواب زادی ہمیں آپ کے نجی معاملات پر نکتہ چینی کرنے اور مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں مگر اچھے دوست مشکل سے ملتے ہیں انہیں ہاتھ سے نکال دینا بے وقوفی ہے اور نکال کر ہاتھ ملنا کو تدارک باقی نہیں رکھتا سو یہ موقع آنے سے قبل صورت حال کو سنبھال لینا ضروری ہے۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا۔ نواب زادی نے سر ہلایا تھا۔
’’آپ دوست ہیں اس مدعا پر بات کرنے کی اجازت رکھتے ہیں مگر فی الحال آپ پوری بات نہیں جانتے اور آدھی بات سن کر الجھنا مناسب نہیں۔‘‘
’’آپ سمجھتی ہیں فتح النساء حیدر میاں پر ڈورے ڈال رہی ہیں؟‘‘ تیمور نے رسانیت سے کہتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔
’’ہم اس معاملے پر بحث نہیں چاہتے۔‘‘ وہ لا تعلق لہجے میں بولی تھی۔
’’آپ سمجھتی ہیں فتح النساء حیدر میاں پر ڈورے ڈال رہی ہیں۔‘‘ تیمور نے رسانیت کہتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔
’’ہم اس معاملے پر بحث نہیں چاہتے۔‘‘ وہ لا تعلق لہجے میں بولی تھی۔
’’آپ حماقت کر رہی ہیں نواب زادی یہ حماقت ہے محبت نہیں محبت فرد خاص کے عیب گننے نہیں دیتی کیونکہ محبت کی آنکھوں کو ایسے عیب سرے سے دکھائی ہی نہیں دیتے سو ان پر نظر کرنا محبت کے لیے ممکن نہیں۔‘‘ تیمور نے مناسب لفظوں کا انتخاب کر کے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
’’حیدر میاں میں کتنے عیب ہیں تیمور بہادر یار جنگ۔‘‘ وہ تنک کر پوچھنے لگی تھی وہ مسکرا دیا تھا۔
’’حیدر میاں کے عیب ہم نے گننا ضروری نہیں جانا۔ ہمارا حیدر میاں سے واسطہ نہیں ہے نواب زادی حیدر میاں آپ کا نجی معاملہ ہیںمگر ہم فتح النساء کی فکر کر رہے ہیں اگر چہ ہمیں آپ کی فکر بھی ہے مگر آپ اس حالات ایسے وقت سے گزر رہی ہیں جہاں آپ کو کسی کی خیر خواہی مطلوب نہیں آپ کو لگتا ہے ساری دنیا اگر حیدر میاں کے خلاف ہے تو آپ کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ آپ کی نگاہ نہیں دیکھتی کہ ساری دنیا اندھی نہیں ہے نا ان کو حیدر میاں سے یا آپ سے کوئی دشمنی ہے۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولا تھا وہ بغور دیکھنے لگی تھی۔
’’ہم نہیں جانتے تیمور! حیدر میاں واقعی غلط ہیں مگر ہم ان کی منگیتر ہیں اور ان کے متعلق ایسی بے سر و پا باتیں ہم سے نہیں سنی جاتیں چاہے وہ کیسے بھی ہوں۔‘‘ وہ تھک کر بولی تھیں۔ تیمور کچھ دیر کو خاموش ہوئے پھر بولے تھے۔
’’ہم نہیں جانتے ہیں عین النور آپ اپنے اندر کی مخالفت کیوں کر رہی ہیں آپ جانتی ہیں کردہ غلط ہیں آپ یہ بھی جانتی ہیںکہ آپ کو ان سے محبت نہیں ہے پھر بھی آپ اپنے کو رد کرنا ضروری خیال کیوں کرتی ہیں اس بات کا جواب صرف آپ ہی اپنے اندر ڈھونڈ سکتی ہیں۔‘‘ تیمور نے رسانیت بھرے لہجے میں کہا تھا وہ دیکھ کر رہ گئی تھیں تیمور نے انہیں بغور دیکھا تھا ان نگاہوں میں کیا بات تھی جو بھرپور انداز میں جتانے کی کوشش میں تھی کہ عین کی آنکھوں نے رخ پھیرنا ضروری خیال کیا تھا۔
’’جلال بھائی نے بتایا ہے کہ آپ کے لیے کوئی رشتہ موجود ہے اور آپ کی والدہ آپ کو اس رشتے کو باندھنے کے لیے بھی اکسا رہی ہیں۔‘‘ اس نے موضوع بدلتے ہوئے کہا تھا تیمور نے ان کی طرف خاموشی سے دیکھا تھا ان کی نگاہ جیسے کہہ رہی تھی کہ آپ کو کیا فرق پڑتا ہے یا کیا یہ جاننے کے بعد آپ صورت حال کو بدلنے کا ارادہ باندھ لیں گی؟
’’یہ ضروری نہیں نواب زادی فی الحال جو آپ کی زندگی میں چل رہا ہے وہ زیادہ الجھا ہوا ہے ہم اپنی زندگی کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔‘‘ وہ سر سری انداز میں بولے تھے جیسے یہ ذکر انتہائی غیر اہم ہو۔
’’اوہ، مگر آپ تو بتا رہے تھے آپ کو کسی سے بہت دھواں دھار سی محبت ہوئی تھی آپ نے کہکشائوں میں ستاروں میں ان کو ڈھونڈ نکالا تھا پھر آپ اور کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟‘‘ وہ جیسے اس ذکر کے خاتمے سے کس قدر نسبتاً کم الجھی ہوئی دکھائی دی تھیں گویا تیمور کی زندگی کو ڈسکس کرنا ان کو قدرے پر سکون کر رہا تھا یا وہ غور نہیں کرنا چاہتی تھیں کہ ان آنکھوں کی بے چینی کتنی بڑھتی جا رہی تھی۔
’’کہکشائوں پر رشتے آباد نہیں ہوتے نواب زادی، نہ کہکشائوں اور ستاروں پر گھر بنتے ہیں اگر بن سکتے تو ہم اپنا گھر وہاں بنانا چاہتے مگر محبت کی کمیت اور ہیت ان کہکشائوں پر اپنا وجود کھونے لگتی ہے اور محبت اس ثقیل آب و ہوا اور ماحول کی عادی نہیں رکھتیں۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولا تھا اور جانے کیوں نواب زادی نے ان کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا تھا وہ اٹھے تھے اور چلتے ہوئے باہر نکلتے چلے گئے تھے نواب زادی عین النور پٹوڈی نے تب ایک نگاہ ان کی سمت کی تھی مگر جانے کیوں اگلے ہی لمحے اجنبی بن جانا ضروری خیال کیا تھا۔
وہ نہیں جانتی تھیں کہ کیوں وہ تیمور بہادر یار جنگ کی سمت دیکھنے کی خواہاں نہیں تھیں یا اپنے اندر کی تھی کیوں کر رہی تھیں کیا واقعی ان کو حیدر میاں سے محبت نہیں تھی؟ ان کے اندر ایک بے چینی سی پھیلنے لگی تھی۔
’’تیمور نے کیوں کہا کہ ہمیں حیدر میاں سے محبت نہیں کیا ایسا انہوں نے ہمارے چہرے پر پڑھا مگر ہم تو حیدر میاں سے ایک خاص تعلق سے وابستہ ہیں اور اس رشتے سے ایماندار رہنا ہماری ذمہ داری ہے اورمحبت۔‘‘ وہ سوچتے سوچتے تھکنے لگی تھیں انہیں لگتا تھا یہ لفظ جیسے ان کے لیے انتہائی اجنبی ہو یا جیسے ان کا واسطہ اس لفظ سے کبھی پڑا ہی نہ ہو انہوں نے لمحہ پھر کو جیسے تھک کر آنکھیں میچی تھیں۔
’’محبت ہمیں یہ لفظ اتنا دقیق کیوں لگ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے حیرت سے سوچا تھا اور جانے کیوں آنکھوں کے سامنے تیمور بہادر یار جنگ کا چہرہ آگیا تھا ان نظروں کی بے چینی تھی یا کوئی اور کیفیت عین النور پٹوڈی نے جھٹ سے آنکھیں کھول دی تھیں وہ الجھ کر رہ گئی تھیں۔
تیمور کی ان بے چین نظروں کا ان سے کیا واسطہ تھا یا تعلق تھا وہ کیوں ان آنکھوں کے بارے میں سوچنے لگی تھیں کیوں ان نظروں کی بے چینی ان کو اپنے وجود کے اندر سرایت کرتی محسوس ہوئی تھی۔
’’ہمیں حیدر میاں کے ساتھ زندگی بسر کرنی ہے ان کی زندگی سے ہماری زندگی جڑی ہے، ان کے علاوہ ہمیں کسی اور کا نہ بننا ہے نا واسطہ رکھنا ہے ہمیں حیدر میاں کا ساتھ دینا ہے ہم نہیں جانتے ان سے جڑی باتیں حقیقت میں یا ان کا کوئی وجود نہیں ہم اس بارے میں سوچ کر اپنی توانائی ضائع نہیں کرسکتے ہم جس رشتے سے آغاز سے منسوب ہیں ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ ہم اس رشتے کے ساتھ وفادار رہیں ہماری وفاداریاں اس رشتے کے لیے وقف رہنا ضروری ہے ہم نواب خاندان کی عزت ہیں اگر یہ رشتہ کسی باعث ختم ہوتا ہے تو سب لوگ باتیں ہمیں سے منسوب کریں گے انگلیاں پٹوڈی خاندان پر اٹھیں گی ہم ان تہمتوں کے جواب میں کچھ وضاحت نہیں دے سکیں گے ہم نہیں چاہیں گے کوئی حرف پٹوڈی خاندان کی عزت و حرمت پر ہمارے باعث آئے اس خاندان کی عزت و حرمت بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔
ہم اس خاندان کی سمت ہماری وجہ سے انگلیاں اٹھتے نہیں دیکھ پائیں گے ہم صرف وہ کر رہے ہیں جو ہمارا فرض ہے ہم وہ کر رہے ہیں جو پٹوڈی خاندان کی ہونہار بیٹی کو کرنا چاہیے ہمارے ابا کی عزت، ان کا نام ان کا رتبہ بہت بڑا ہے اور اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے یا ہم اس رشتے کی ڈور توڑتے ہیں تو اس بات کا شور ایوانوں تک جائے گا ان ایوانوں میں لوگ منہ جوڑ جوڑ کر اسے ڈسکس کریں گے اور نواب خاندان کی عزت کو خوب اچھالیں گے سو ہم یہ سب نہیں دیکھ پائیں گے ابا کی عزت ان سب باتوں سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے اور فتح النساء۔
وہ ہماری دوست ہیں ہمیں ان سے ایسا رویہ رکھنا زیب نہیں دیتا۔ وہ خود کا محاسبہ کرتے کیوں خود کو کسی قدر چھوٹا محسوس کرنے لگی تھیں۔
…٭٭…
فتح النساء نے اپنے سامنے کھڑے اس مضبوط وجود والے شخص کو حیرت سے دیکھا تھا وہ وہاں سے ہٹ جانا چاہتی تھی ان کے مقابل کھڑا رہنا نہیں چاہتی تھی مگر جلال الدین پٹوڈی نے ان کا ہاتھ تھام لیا تھا وہ چونکتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی تھیں۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے چھوٹے نواب ہمارا ہاتھ چھوڑئیے آپ ہم آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ فتح النساء کا انداز قطعی تھا مگر جلال الدین پٹوڈی ان کا ہاتھ تھام کر باہر کی سمت نکلنے لگے تھے۔
وہ حیرت زدہ سی رہ گئی تھیں اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چھڑانا چاہا تھا مگر جلال کی گرفت مضبوطی تھی۔
’’یہ سب کیا ہے جلال، آپ ہم سے اس طرح پیش کیوں آرہے ہیں؟ یہ کیا طریقہ ہے کہاں لے جا رہے ہیں آپ ہمیں، ہمیں آپ سے کوئی سروکار نہیں نہ کوئی واسطہ آپ ہماری بات سن کیوں نہیں رہے۔‘‘ ان کی بات ختم ہونے سے قبل ہی یکدم پلٹ کر جلال نے ان کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا وہ ساکت رہ گئی تھیں جلال ان کی سمت بغور دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم کوئی ایک آواز بھی سننا نہیں چاہتے اس وقت اتنا سمجھ لیجیے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے ہم آپ کو نہ ایسا کوئی ہمارا ارادہ ہے ہم جس خاندان سے ہیں اس خاندان کا نام نہیں ڈبوئیں گے ہمیں اس بات کا پورا خیال ہے ساتھ ہی ہمیں آپ کی عزت کا بھی مکمل خیال ہے ہم کوئی غلط قدم نہیں اٹھائیں گے اگر آپ ہم پر یقین کر سکتی ہیں تو کرلیں۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولا تھا فتح النساء نے ساکت نظروں سے ان کی سمت دیکھا تھا جلال کا لہجہ سپاٹ تھا جذبات سے عاری آنکھوں میں کوئی محسوسات نہیں تھے سو وہ ان کا چہرہ دیکھ کر قیاس نہیں کر پائی تھی کہ اس وقت ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے یا وہ سوچ رہے ہیں وہ خود کو ان کے رحم و کرم پر نہیں ڈال سکتی تھیں ان پر اس طرح انحصار نہیں کرسکتی تھیں تبھی مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’ہم جاننا چاہتے ہیں چھوٹے نواب یہ سب کس بات کا پیش خیمہ ہے، کہاں جا رہے ہیں آپ اور ہم کیوں آپ سے کوئی سوال پوچھنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے؟‘‘ وہ سلگ کر بولی تھیں۔ جلال نے قطعی انداز میں ان کی سمت تکتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’ہم سوال سننا نہیں چاہتے فتح النساء کیونکہ ہمارے پاس فی الحال کوئی جواب نہیں ہے سو اپنے سوالوں کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیں۔‘‘ ان کا انداز قطعی تھا اس کے ساتھ ہی وہ فوراً ان کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے لگے تھے اور وہ ان کے ہمراہ کھنچتی چلی گئی تھیں۔
’’چھوٹے نواب یہ استحقاق جتانے کا طریقہ غلط ہے آپ کی رعایا ہیں مگر آپ کو جان لینا چاہیے کہ رعایا کی مرضیات میں اہم ہوسکتی ہیں آپ اس طرح رعب ہم پر نہیں جما سکتے۔‘‘ وہ بولی تھی مگر جلال نے سنی ان سنی کردی تھی اور چلتے ہوئے موٹر گاڑی کے پاس آن رکے تھے مگر وہ بیٹھنے سے انکاری تھی سو ان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی مکمل سعی کی تھی مگر چھوٹے نواب نے زبردستی ان کو گاڑی میں بٹھا کر موٹر کار اسٹارٹ کر کے راستوں پر ڈال دی تھی۔
…٭٭…
’’کیا بات ہے تیمور بچے آپ اس طرح الجھے ہوئے سے کیوں دکھائی دے رہے ہیں سب خیریت تو ہے نا؟‘‘ حکمت صاحب کی بیگم نے بیٹے سے پوچھا تھا تیمور نے انکار میں سر ہلایا تھا۔
تب وہ ان کے مقابل بیٹھ گئی تھیں اور شفقت سے بیٹے کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوئے بولی تھیں۔
’’بیٹا ہم چاہتے ہیں آپ زندگی کو آگے بڑھنے دیں‘ چلیں ہم آپ کو تمام اختیار دیتے ہیں ساتھ اس بات کی بھی گارنٹی دیتے ہیں کہ حکمت صاحب اس معاملے میں آپ سے کوئی باز پرس نہیں کریں گے، آپ اپنی پسند کی کوئی ایک لڑکی منتخب کرلیں ہمیں اس گھر کو آباد کرنے کا عندیہ دے دیں۔‘‘ حکمت صاحب کی بیگم بیٹے کا چہرہ محبت سے تھام کر مسکرائی تھیں تیمور مسکرا دیے تھے۔
’’ممی، محبت اتنی آسان نہیں ہے یہ عمل دقیق ترین ہے ہم کسی سمیت نگاہ اٹھا کر اشارہ نہیں کرسکتے کہ محبت بس یہی ہے اور آپ اسے آگے بڑھ کر ہمارے لیے سمیٹ دیں کیونکہ اگر یہ اس قدر آسان ہوتا تو ہم ان سب باتوں سے قبل اسے اختیار میں لے کر آپ کو مطلع کرچکے ہوتے۔‘‘ وہ مسکرایا تھا لہجہ عجب بجھا بجھا سا تھا۔ بیگم حکمت نے تیمور کا چہرہ پیار سے تھاما تھا۔
’’میرے بچے آج تک ایسی کوئی خواہش ہے ایسی جو منہ سے نکلی ہوا اور پوری نہ ہوئی ہو بچوں کی خوشی سے بڑھ کر اور کیا ہوتا ہے اور آپ تو ہماری اولاد ہیں ہماری دنیا کی روشنی آپ کے ہی تو دم سے ہے اگر آپ خوش نہیں تو ہماری خوشی کیا معنی رکھتی ہے۔‘‘ بیگم حکمت کا لہجہ مامتا کی چاشنی سے بھرا تھا تیمور نے ان کے ہاتھ لبوں سے لگا لیے تھے۔
’’بتائو کون ہے وہ‘ ایسی کیا رسائی ممکن نہیں ہے‘ اس دنیا سے ہیں نا۔ پرستان سے بھی ہوئی تو ہم جا کر ان کو آپ کے لیے منالیں گے کچھ خبر تو دو، نام بتائو۔‘‘ بیگم حکمت نے بیٹے کو بولنے پر اکسایا تھا۔
’’ممی یہ ممکن نہیں ہے آپ ان کو جانتی ہیں اور اس رشتے کی ضرورت نہیں ہے وہ پہلے سے کسی سے وابستہ ہیں۔‘‘ تیمور مسکرایا تھا۔
’’اوہ، آپ کو پہلے سے شادی شدہ لڑکی سے محبت ہوگئی؟‘‘ بیگم حکمت نے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’نہیں ممی وہ میرڈ نہیں ہیں۔‘‘ تیمور نے وضاحت دی تھی۔
’’تو پھر؟‘‘ بیگم حکمت کا چہرہ حیرت سے کھلا تھا۔
تیمور چند ثانیوں تک خاموش رہا تھا پھر مدہم لہجے میں بولا تھا۔
’’ان کا رشتہ طے ہے وہ انگیجڈ ہیں۔‘‘ وہ سر جھکا کر بولا تھا۔
’’اوہ۔‘‘ بیگم حکمت کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔
’’نواب زادی عین النور پٹوڈی۔‘‘ بیگم حکمت کو قیاس کرنے میں دیر نہیں لگی تھی وہ کچھ نہیں بولا تھا اور وہ حیرت سے بیٹے کی سمت تکنے لگی تھیں۔
’’آپ کو محبت کے لیے ساری دنیا چھوڑ کر وہی ملی تھیں؟‘‘ ہم نے آپ کو اڑنے کو آسمان دے دیا ستاروں پر کمند ڈال آئے آپ اورمحبت کی تو ان نواب زادی سے؟‘‘ بیگم حکمت کا لہجہ بے یقینی سے بھرا تھا تیمور کچھ نہیں بولے تھے خاموشی سے ماں کی سمت دیکھ کر سر جھکا گئے تھے۔
’’ان باتوں میں اعداد و شمار کام نہیں آتے ہم نے تخمینے نہیں لگائے نا جانچ پڑتال کرنا ضروری خیال کیا کیونکہ اس عمل میں یہ سب نہیں دیکھا جاتا محبت ایسی باتوں کو نہیں دیکھتی۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ نے عجب منتشر سے لہجے میں کہا تھا۔
’’ان نواب زادی میں کیا خاص دکھائی دیا آپ کو؟ دنیا میں ان سے خوب صورت لڑکیاں بھی موجود ہیں۔‘‘ بیگم حکمت نے جتایا تھا۔
’’محبت خوب صورتی سے نہیں ہوتی ممی یہ انسیت پرانی ہے ہمیں ان کی عادت سی ہوگئی تھی ان کا با رعب انداز ہمیں بھاتا تھا جب چھوٹے تھے تو وہ اکثر ہم پر حکم چلاتی تھیں اور ہم چپ چاپ ان کی سنتے جاتے تھے ہمیں ان کے احکامات کے سامنے سر جھکانا اچھا لگتا تھا ان کی تابعداری میں عجب ایک خوشی ملتی تھی ان کی کھری کھری سن کر ہم مسکرا دیتے تھے ان کی سزائیں عجب تسکین دیتی تھیں اور تب تو ہم محبت کے معنی بھی نہیں جانتے تھے تب تو ہمیں خبر ہی نہیں تھی کہ محبت ہے یا محبت ایسی ہوتی ہے جب اسکول مکمل کر کے ہم اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر گئے تب ہم نے ہر چہرے میں وہ چہرہ ڈھونڈا بے اختیاری میں کئی بار وہ نام پکارا اور تب علم ہوا کہ محبت ایسی ہوتی ہے۔ ہم نے خسارہ نہیں دیکھا ہم نے نفع شمار کرنا ضروری خیال نہیں کیا ہم گنتی بھول گئے ہمیں کچھ یاد نہیں رہا نواب زادی کی آنکھوں نے کچھ یاد نہیں رہنے دیا وہ آنکھیں تمام سفر میں ہمارے ساتھ رہیں ہمیں دیکھتی رہیں، مسکراتی رہیں جتاتی رہیں لفظ نہیں تھے مگر فضائوں میںنا سمجھ میں آنے والے حرفوں کی سرگوشیاں تھیں اور ان سرگوشیوں میں محبت تھی کہ نہیں ہم نے جاننا ضروری نہیں سمجھا ہم ہندوستان لوٹے تو پہلا خیال یہی تھا کہ نواب زادی کسی ہوچکی ہوں گی۔ ان کی آنکھیں کیسی دکھتی ہوں گی ان کی روشنی اور بڑھ گئی ہوگی؟ اور ہم نے جب ان آنکھوں کو دیکھا تو جسم میں جیسے جان نہ رہی سینے میں دل کہیں تھا بھی کہ نہیں ہم نے جاننا ضروری خیال نہیں کیا ہماری سماعتین ان لہجوں کو سننے کو پاگل ہوئی تھیں اور ہم اس کے علاوہ دیگر کوئی خیال نہ سوچ پاتے تھے نا کوئی آواز سن پاتے تھے ہم پر کھلا تھا کہ وہ لڑکپن کی یا بچپن کی محبت ہمارے اندر کس قدر گھر کر چکی تھی ہم نے یہ بھید جانا کہ ہم کیوں ہر چہرے میں وہ ایک چہرہ تلاشتے رہے تھے ہم کیوں نواب زادی عین النور کا چہرہ بھول کیوں نہیں پائے تھے اور کسی اور کا چہرہ ان کی جگہ کیوں نہیں لے پایا تھا یہ اسرار ہمارے اندر خموشی میں کھلنے لگا تھا وہ ہمارے ان محسوسات سے واقف نہیں تھیں اور شاید نہ کبھی ہوں گی مگر…!‘‘ تیمور لمحہ بھر کو رکا تھا بیگم حکمت نے ان کوٹوکنا مناسب خیال نہیں کیا تھا اور تبھی وہ مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’محبت یکطرفہ یا دو طرفہ ہونا اہم نہیں محبت کا ہونا اہم ہے ہم نے ان آنکھوں سے اپنی دنیا کو منور دیکھا ہے جن سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں وہ مرزا حیدر سراج الدولہ سے منسوب ہیں ان کی محبت کا دم بھرتی ہیں اور انہی کے ہمراہ زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔‘‘ تیمور نے کہا تھا اور بیگم حکمت نے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’مرزا حیدر مگر ان کی شہرت تو کچھ اچھی نہیں، حکمت صاحب کئی بار ان کا تذکرہ کرتے دکھائی دیے ہیں مرزا سراج الدولہ شہر کے امرا میں شمار ضرور ہوتے ہیںمگر ان کے کالے کرتوتوں سے سبھی واقف ہیں یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے اگر یہ بات ہم جانتے ہیں تو نواب صاحب بھی تو ضرور واقف ہوں گے نا؟ کیا اس کے باوجود بھی وہ اپنی دختر کا نکاح ایسے لڑکے سے کرنا چاہیں گے جن کو اپنی اقدار کا کوئی ہوش نہیں۔‘‘ بیگم حکمت نے نکتہ اٹھایا تھا شاید ان کو امید کی ایک مبہم سی کرن دکھائی دی تھی مگر تیمور ان کے دل کی بات جیسے جان گئے تھے تبھی بولے تھے۔
’’آپ یا ڈیڈ ان باتوں کی سچائی دانستہ نواب چاچا کے سامنے ظاہر نہیں کریں گے ہمیں اس طور تعلق نہیں بنانا یہ دیانت داری نہیں کسی کے عیب سامنے لا کر اپنی خصوصیات جتانا دانش مندی نہیں اگر نصیب میں ہوا تو سے تعلق بن جائے گا۔‘‘ وہ مایوس نہیں تھے ان کے لہجے میں کوئی نا امیدی نہیں تھی اور تبھی بیگم حکمت گویا ہوئی تھیں۔
’’تیمور بہادر یار جنگ کوئی معجزہ ہی آپ کو اس زندگی میں نواب زادی سے ملوا سکتا ہے۔‘‘ وہ بیٹے کے دل کا احوال سن کر سراسیمہ سی رہ گئی تھیں۔ مگر ان کے لیے اس خوشی کو ڈھونڈلانا جیسے ممکن نہیں تھا۔
’’محبت بھی تو معجزہ ہی ہے نا اگر ایک معجزہ اس روئے زمین پر رونما ہو سکتا ہے تو ہم اس اللہ پاک کی ذات سے مایوس نہیں ہیں وہ نا ممکنات کو ممکنات کرنے والی ذات ہے سب اس کے اختیار میں ہے وہ بھی جو ہمارے اختیارات سے باہر ہے اور دسترس میں نہیں۔‘‘ تیمور کے چہرے پر بہت پھیکی سی مسکراہٹ تھی بیگم حکمت نے بیٹے کی پیشانی کو چوم لیا تھا۔
’’میرے بچے اگر مجھ سے بن پڑا تو میں اس چاند کو تیرے آنگن کی زینت ضرور بنائوں گی۔‘‘ ممی نے مضبوط لہجے میں کہا تھا مگر تیمور نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’ممی یہ مناسب نہیں اس صورت حال میں جب ہم برسوں کے مراسم اس خاندان سے وابستہ رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ عین کسی اور سے منسوب ہیں ایسے ہیں ان کا ہاتھ مانگنا بہت غیر مناسب ہوگا۔‘‘ تیمور نے کہا تھا مگر بیگم حکمت نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا تھا پھر بیٹے کی سمت شفقت سے دیکھتے ہوئے بولی تھیں۔
’’ہم خواتین باتوں باتوں میں بہت کچھ کہہ سکنے کا ہنر رکھتی ہیں میں بیگم صاحبہ سے بات ضرور کروں گی اگر چہ واضح رشتے کی بات نہیں ہوئی مگر میں کہنا چاہوں گی۔‘‘ ان کا لہجہ مضبوط تھا جیسے وہ بیٹے کے لیے سب ایک پل میں ممکن کردینا چاہتی تھیں۔
’’ممی وہ ہمارے آسمان کا چاند نہیں ہیں ہم ان کو اپنے آسمان پر لا کر نہیں سجا سکتے وہ کسی اور سے منسوب ہیں ایسے میں ان کا ہاتھ مانگنا بہت غیر مناسب ہوگا۔‘‘ تیمور نے کہا تھا مگر بیگم حکمت نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا تھا پھر بیٹے کی سمت شفقت سے دیکھتے ہوئے بولی تھیں۔
’’ہم خواتین باتوں باتوں میں بہت کچھ کہہ سکنے کا ہنر رکھتی ہیں میں بیگم صاحبہ سے بات ضرور کروں گی اگر چہ واضح رشتے کی بات نہیں ہوئی مگر میں کہنا چاہوں گی۔‘‘ ان کا لہجہ مضبوط تھا جیسے وہ بیٹے کیلئے سب ایک پل میں ممکن کردینا چاہتی تھیں۔
’’ممی وہ ہمارے آسمان کا چاند نہیں ہم ان کو اپنے آسمان پر لا کر نہیں سجا سکتے وہ کسی اور سے منسوب ہیں نواب خاندان اس رشتے کو ختم کرنا نہیں چاہے گا یہ نا ممکن ہوگا۔‘‘ تیمور نے ماں کو روکنا چاہا تھا مگر وہ آہستگی سے مسکرا دی تھیں۔
’’آپ اس کی فکر مت کریں ہم اس رشتے کو تڑانے کی منصوبہ سازی نہیں کر رہے۔‘‘ انہوں نے بیٹے کا چہرہ تھاما تھا۔
’’مگر ہم اپنے بیٹے کی خواہش کو اس طرح رد ہوتے نہیں دیکھ سکتے ہم جائز طریقے سے ذکر کریں گے اور کسی معاملے کو متاثر کیے بنا حقیقت کھولنے کی کوشش ضرور کریں گی۔‘‘
’’لیکن ممی۔‘‘ تیمور نے ان کو روکنا چاہا تھا ممی نے ہاتھ اٹھا کر ان کو دیکھا تھا اور مضبوط لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’آپ ہمیں روکنے کی کوشش نہیں کریں گے تیمور بہادر یار جنگ۔‘‘ اور تیمور کچھ مزید بول نہیں پایا تھا۔
…٭٭…
اس شام عجیب سانحہ ہوا تھا فتح النساء تادیر اپنی قسمت پر روتی رہی تھی اگر چہ اس کی خواہشات میں وہ شخص شامل رہا تھا مگر وہ اسے اس طور پانا نہیں چاہتی تھی اس نے سوچا بھی نہیں تھا جلال الدین چھوٹے نواب اسے اپنے نکاح میں لے لیں گے اور بنا کوئی نگاہ غلط انداز ڈالے نکاح کے فوراً بعد ان کو واپس گھر کی دہلیز پر چھوڑ جائیں گے وہ حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھیں وہ ایسا کیونکر کر سکے تھے اور اس نکاح کو کرنے کا کیا مقصد تھا کیا وہ اس کو اپنی ہمشیرہ عین النور پٹوڈی سے کیے کی سزا دینا چاہتے تھے؟ ان نگاہوں میں کوئی انسیت نہیں تھی وہ نگاہ انجان تھی جیسے کوئی واسطہ نہ رکھتی ہو اور ایسے میں اس سے اتنا بڑا رشتہ قائم کرنا؟ اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا تھا۔
وہ اس نکاح کے لیے آمادہ نہیں تھا مگر جلال نے سخت لہجے میں کہا تھا۔
’’اگر آپ خاموشی سے ہاں نہیں کریں گی اور نکاح نامے پر دستخط نہیں کریں گی تو ہم زبردستی بھی ایسا کروا لیں گے۔‘‘ وہ جلال الدین پٹوڈی کے مزاج سے واقف تھیں وہ جو ٹھان لیتے تھے کر کے دم لیتے تھے اور وہ اس لمحے خود کو لاچار سمجھ رہی تھیں ان کے رحم و کرم پر ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ چپ چاپ اس نکاح نامے پر دستخط کردیتیں ان کا وجود ناتواں سا ہو رہا تھا وہ چکرا کر گر جانے کو تھیں جب جلال نے ان کو سہارا دیا تھا۔
’’فتح النساء آپ تو ابھی سے ہمت ہارنے لگیں جانے کیا چل رہا ہے آپ کے دل و دماغ میں مگر ہمیں رشتوں کو ان کے مقام پر رکھنا آتا ہے، ہماری منکوحہ ہونے کا اعزاز آپ کو حاصل ہے اور اس اعتبار سے جو بھی مرتبہ یا عزت آپ کو ملنا چاہیے یا جس کی آپ حق دار ہیں وہ ضرور آپ کو ملے گا مگر آپ کا کوئی حق چھوٹے نواب جلال الدین پٹوڈی پر نہیں ہوگا اور نہ ہی آپ اس معاملے میں کبھی کوئی پیش رفت کریں گی۔‘‘ انہوں نے سرد لہجے میں کہا تھا اور فتح نے نگاہ اٹھا کر ان کو دیکھا تھا۔
’’ہمیں اپنے ساتھ اس رشتے میںباندھنے کا مقصد کیا تھا چھوٹے نواب کیا ہم جان سکتے ہیں؟‘‘ ان کا لہجہ دھیما مگر مضبوط تھا وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھ رہی تھیں اور تب جانے کیوں چھوٹے نواب نے ہاتھ بڑھا کر ان کی نازک کلائی کو تھام لیا تھا ان کی گرفت سخت ترین تھی فتح النساء کی کلائی کی کئی چوڑیاں ٹوٹ کر ان کی نازک کلائی میں پیوست ہوتی چلی گئی تھیں مگر جلال کوجیسے سرے سے اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوا تھا۔
’’اس نکاح کا مقصد کیا ہے چھوٹے نواب؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی مگر وہ خاموشی سے اس چہرے کو دیکھنے لگا تھا پھر یکدم ان کی کلائی کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا اور پلٹ کر چلتے ہوئے باہر نکل گئے تھے ان کی خاموشی کیا کہہ رہی تھی فتح النساء جان نہیں پائی تھیں مگر جلال وہ تھے جن کی انہوں نے آرزو کی تھی وہ ان سے محبت میں مبتلا تھی ان کی خواہشوں میں جی رہی تھی خاموشی میں بندگی کر رہی تھی اس نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ان کا نام فتح النساء کے نام سے جڑے گا بھی اور آج جب وہ ان کے نکاح میں تھی وہ خوش نہیں تھی ان کا ذہن سوچوں سے بھرا ہوا تھا۔
اس رشتے کا سبب کیا تھا کیا جلال الدین پٹوڈی سے بدلہ لینا چاہتا تھا صرف کیونکہ ان کو شک تھا کہ فتح النساء حیدر میاں جو کہ ان کی ہمشیرہ سے وابستہ ہیں وہ ان کے متعلق سوچنے لگی ہے؟ کیا ان کے اس اقدام کا مقصد صرف اپنی ہمشیرہ کی زندگی کو محفوظ کرنا چاہا تھا کیا ان کو واقعی لگتا تھا کہ وہ ان کی ہمشیرہ کی زندگی کے لیے خطرہ ہے؟
کیا ان کو واقعی یقین تھا کہ وہ حیدر میاں کے لیے ایسا کچھ سوچنے لگی ہے، سو سچ کہنے کے باوجود وہ اسے مجرم سمجھ رہے تھے اور ان کی مخلصی پر شک کر رہے تھے؟ وہ سمجھتے تھے کہ وہ مخلص دوست نہیں ہیں اور اپنی سہیلی کی خوشیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں سو یہ رشتہ کسی اور کی خوشیوں کی ضمانت کے لیے بنا تھا؟ اگر وہ جلال کے نکاح میں ہوگی تو وہ اسے اپنا پابند رکھ سکیں گے؟ کیا وہ ایسا سوچتے تھے؟
ان کی خاموشی کچھ نہیں کہہ رہی تھی مگر ان کا عمل بہت کچھ ظاہر کر گیا تھا ان کی نفرت یقینا عروج پر تھی وہ صرف اپنی بہن کے لیے سوچ رہے تھے انہوں نے ایک بے سہارا لڑکی کو اپنی بہن کے لیے تختہ مشق بنایا تھا دوسرے لفظوں میں اپنی بہن کی راہ کا کانٹا صاف کیا تھا۔ فتح النساء کو اپنا آپ بہت چھوٹا لگا تھا کوئی اس کو کسی زاویے سے دیکھ اور پرکھ رہا تھا اگر چہ یہ زاویہ کس کا اپنا تھا مگر منظر کشی اس کی ذات اور زندگی کی ہو رہی تھی اور وہ زاویہ اس کو وہ بنا کر پیش کر رہا تھا جو وہ نہیں تھا اس کی کردار کشی کی گئی تھی حیدر میاں کے ساتھ اس کے کردار کو جوڑتا اس کو اس کی نظروں میں گرا رہا تھا وہ جلال سے محبت کرتی تھی اس نے اسے بہت بلندی پر دیکھا تھا، محبت کر کے اسے مزید بلندی پر رکھ دیا تھا اور نواب زادہ جلال الدین پٹودی نے اسے کس قدر پستی میں دیکھا تھا ان کے زاویوں میں وہ پستیوں میں گری تھی اور پستیوں کا حصہ تھی۔
محبت کیسے مقام دیتی ہے کس درجہ عزت دیتی ہے کیسی مراعات دیتی ہے اور نفرت کس درجہ چھوٹا کردیتی ہے یہ اس پر اب کھلا تھا۔
وہ جیسے سانس نہیں لے پا رہی تھی اس نے چند گہرے گہرے سانس لیے تھے اور پھر اس کی آواز حلق سے برآمد ہوئی تھی اور وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی بوا اس کی آواز پر تیزی سے چلتی ہوئی دروازے پر آن رکی تھیں وہ زمین پر جھکی زار و قطار رو رہی تھی وہ فوری طور پر آگے نہیں بڑھ پائی تھیں اتنا تو وہ جانتی تھیں کہ کچھ ہوا تھا مگر کیا یہ وہ نہیں جانتی تھیں مگر اس طرح فوری سہارا دینا اسے مزید کمزور کرسکتا تھا اور بوا اسے مزید کمزور کرنا نہیں چاہتی تھیں وہ چاہتی تھیں اس کے اندر کا غبار دھل جائے اس کے اندر سے وہ سب نکل جائے جو تکلیف کا باعث بن رہا ہے سو وہ اس کی سمت رنجیدگی سے تکتے ہوئے واپس لوٹ گئی تھیں۔
…٭٭…
’’کیا آپ نے شادی کرلی؟‘‘ اماں نے ان کو بے یقینی سے دیکھا تھا۔
’’شادی نہیں کی ہم نے نکاح کیا ہے رخصتی آپ سب کی رضا مندی سے کروا کر لائیں گے ہم نافرمان اولاد نہیں ہیں ہم نے ثابت کردیاہے جلال نے رسانیت سے بھرے لہجے میں کہا تھا اماں اس کو دیکھ کر رہ گئی تھیں ان کے چہرے پر شدید حیرت تھی جلال نے ان کا ہاتھ تھاما تھا۔
’’سوری اماں بیگم، ہم نے آپ کی اور ابا کی مرضی کے بنا یہ قدم اٹھایا مگر یقین کیجیے ایسا کرنا ضروری تھا۔‘‘ جلال نے وضاحت دینا چاہی تھی اماں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا جلال نے ان کے انتہائی رد عمل کو دیکھا تھا تبھی وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی تھیں۔
’’آپ نے گناہ کیا ہے نواب زادے یہ گناہ عظیم ہے فتح النساء سے آپ کا رشتہ‘ آپ نہیں جانتے مگر یہ کچھ ایسا متنازعہ ہے کہ اس کا خمیازہ اور کفارہ آپ کبھی ادا نہیں کرپائیں گے بہتر ہوگا آپ اس رشتے سے مستعفی ہوجائیں فتح النساء کو طلاق دیں۔‘‘اماں بیگم کی بات پر وہ حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
’’کیا مطلب اماں جان ہم آپ کی بات نہیں سمجھے کیا کہنا چاہتی ہیں آپ؟ ہم گناہ کے مرتکب کیسے ہوئے ہیں یہ نکاح کیونکر ناجائز ہے برائے کرم کھل کر بات کیجیے۔‘‘ جلال الدین پٹوڈی نے کہا تھا جب اماں نے کچھ کہے بنا اٹھنا چاہا تھا۔
’’اماں ہم جاننا چاہتے ہیں یہ رشتہ متنازع کیونکر ہے کیا بات ہے جو اس رشتے کو گناہ کے زمرے میں ڈال رہی ہے آپ ہم سے کیا چھپا رہی ہیں۔‘‘ جلال نے پوچھا تھا اماں نے ڈبڈباتی آنکھوں سے جلال کو دیکھا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’فتح النساء کے خون میں ملاوٹ ہے ہمیں شک ہے وہ نواب سیف الدین پٹوڈی کی اولاد ہیں۔‘‘ اماں نے کہا تھا اور جلال حیرت زدہ رہ گئے تھے۔
’’کیا؟ یہ کیسے ممکن ہے اماں کیا ابا جان نے کوئی نکاح کیا تھا، یہ وہ سچائی جاننے کو بے صبر ہوئے تھے اماں سے سر نفی میں ہلایا تھا۔
’’نہیں ان کا کوئی نکاح نہیں ہوا تھا ہم ان کی اکلوتی زوجہ ہیں۔ وہ ہم سے وفادار رہے ہیں مگر ہمارے نکاح سے قبل وہ اپنی جس پھوپی زاد کو چاہتے تھے ان سے ان کا نکاح نہیں ہوسکا تھا کسی خاندانی مخالفت کے باعث نواب صاحب کو محبت میں ناکامی کا سامنا رہا تھا ان کی محبت اپنی پھوپی زاد کے لیے جنوں کا درجہ رکھتی تھی۔
کئی بار ان دونوں کو چوری چھپے خلوت میں ملاقاتیں کرتے دیکھا گیا نواب صاحب کے لیے اپنی محبت سے دستبردار ہونا آسان نہیں تھا مگر شاید ان کی پھوپی زاد نے کسی طرح ان کو میرے اور نواب صاحب کے نکاح کے لیے رضا مند کرلیا تھا کیونکہ آپ کی دادی جان کی خواہش تھی کہ یہ شادی ہو ہمارا خاندان سیاسی اعتبار سے مضبوط تھا سو آپ کی دادی اماں کو خدشہ تھا مخالف بڑھ گئی تو بات ہاتھ سے نکل جائے گی سو انہوں نے ان پھوپی زاد کو حکم دیا کہ وہ نواب صاحب کو ہمارے نکاح کے لیے رضا مند کر کے ان کی زندگی سے دور چلی جائیں ان پھوپی زاد کی جن سے شادی ہوئی وہ نواب صاحب کے اچھے دوستوں میں سے تھے، مگر ان کو پھوپی زاد کے نواب صاحب سے عشق کی خبر نہیں تھی ہمیں گمان ہے فتح النساء نواب صاحب کا اپنا خون ہے کیونکہ ہمارے نکاح کے بعد بھی نواب صاحب اپنی پھوپی زاد سے متواتر ملتے رہے تھے وہ اس عشق کو بھلا نہیں پا رہے تھے۔
ان پھوپھی زاد نے قسم نہیںتوڑی تھی مگر نواب صاحب کے قدم ان کی سمت بڑھنے لگے تھے جب آپ کی پیدائش کے بعد عین ہماری گود میں آئیں اس کے کچھ دن بعد فتح النساء نے اس دنیا میں آنکھ کھولی محل میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں کہ یہ نواب صاحب کی اولاد ہیں مگر نواب صاحب خاموش رہے انہوں نے اس معاملے میں کوئی بات نہیں کہی نہ تردید نہ وضاحت نا تصدیق جیسے ان کو اس سے سروکار نہیں تھا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ بات نواب صاحب یا ان کی پھوپھی زاد کے علاوہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ان خلوتوں کی کہانی کیا تھی مگر محلوں میں ایسی باتیں معمول کا حصہ ہیں امرا اور روسا کے محل ایسی کہانیوں سے بھرے پڑے ہیں ہم نے بھی چپ سادھ لی نواب صاحب سے کوئی وضاحت نہیں مانگی، آوازوں پر کان بند کرلیے اور اپنی وفاداریوں کے ساتھ نواب صاحب کی اس غلطی کو فراموش کر دیا اگر نواب صاحب سچے ہوتے تو کوئی تردید ضرور کرتے یا ہمیں ایک وضاحت ضرور دیتے چاہے ہم نے اس معاملے میں ان سے کچھ پوچھا تھا کہ نہیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا پھر ان کے اس دوست اور پھوپی زاد کا ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوا تو نواب صاحب بے چینی سے دوڑے بھاگے گئے اور ایک ملازم خاص کو اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری سونپ کر ان کو اپنی ایک حویلی میں اٹھا لائے اور تب سے وہ بچی یعنی فتح النساء اور ان کی بوا اس حویلی میں رہائش پذیر ہیں اور نواب صاحب ان کی تمام تر ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں فتح النساء کا ددھیال بہت امیر تھا مگر تمام رشتے دار لالچی نکلے کسی نے پلٹ کر خبر نہیں لی سب نے جائیدادوں پر قرعہ فال ڈال کر مل بانٹ لیا اور فتح النساء کی ایسی دگرگوں حالت نواب صاحب کو ان کے مزید قریب کھینچ لے گئی ہم نے کسی پرائی بچی کے لیے اس طرح ان کی بے چینی پہلی بار دیکھی۔
ایک بار عین فتح النساء کھیلتے ہوئے گر گئے تو نواب صاحب نے بے چینی سے لپک کر فتح النساء کو زمین سے اٹھایا ہم دور کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے سو چلتے ہوئے پاس آئے اور عین کو زمین سے اٹھا کر ان کے خون رستے زخم پر مرہم پٹی کی یہ بات ہمیں کھلتی رہی مگر نواب صاحب نے کئی مواقع پر ایسی بھرپور پدرانہ شفقت کا مظاہرہ کیا مگر جہاں ان کو لگا کہ کوئی ان کو بغور جانچ رہا ہے وہ جان بوجھ کر بے خبر بننے لگے یا جان بوجھ کر دنیا دکھاوے کو ظاہر کرنے لگے کہ فتح النساء سے ان کو کوئی لگائو نہیں مگر اس بچی کے لیے ان کی شفقت کا امڈ آنا اور اس درجہ محبت اور خیال ظاہر کرنا صاف بتاتا رہا تھا کہ فتح النساء ان کے لیے کسی حوالے سے بہت خاص ضرور ہے۔‘‘ اماں کہہ کر خاموش ہوئی تھیں جب جلال نے ان کو دیکھا تھا اور ہاتھ بڑھا کر ان کی آنکھوں کو پونچھا تھا اور نرمی سے بولے تھے۔
’’ہم اس راز سے پردہ اٹھا کر رہیں گے اماں اور اگر یہ ثابت ہوگیا کہ فتح النساء نواب صاحب کی اولاد ہیں تو ہم یہ رشتہ ختم کردیں گے فی الحال ہم نے راز داری سے یہ رشتہ باندھا ہے گواہوں اور مولوی صاحب کے علاوہ اس راز سے کوئی واقف نہیں آپ فکر مت کریں اگر یہ گناہ ہے تو ہم یہ گناہ کی زندگی یقیناً جینا نہیں چاہیں گے مگر اس کے لیے ہمیں اس راز کو کھولنا ضروری ہے۔‘‘ وہ مضبوط لہجے میں بولے تھے۔ اماں بیگم بیٹے کو دیکھ کر رہ گئی تھیں وہ اٹھے تھے اورچلتے ہوئے وہاں سے نکل گئے تھے۔
…٭٭…
نواب زادی نے دور سے دیکھا تھا جلال تیمور کے ساتھ کھڑا تھا اور دونوں بہت سنجیدگی سے کسی پہلو پر بات چیت کرتے دکھائی دیے تھے جانے کیوں نواب زادی کو لگا تھا وہ کسی خاص پہلو پر بات کر رہے ہیں تیمور اور جلال اچھے دوست تھے ان کا ملنا اور گفتگو کرنا عجب نہیں تھا مگر جیسی کشمکش جلال کے چہرے پر دکھائی دی تھی اور جس طرح تیمور نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مدہم لہجے میں کوئی تسلی دی تھی اس سے وہ چونک گئی تھی تیمور کا رخ اس کی سمت تھا سو وہ جان گیا تھا کہ نواب زادی ان کی سمت متوجہ ہیں شاید تبھی اس نے جلال کو مزید بات چیت کرنے سے روک دیا تھا اور کوئی اور ذکر چھیڑ دیا تھا یہ دانستہ عمل کسی گمبھیرتا کو ظاہر کرتا تھا؟
ایسا کون سا موضوع زیر گفتگو تھا اور تیمور کو اندازہ ہونے پر کہ وہ متوجہ ہے تو انہوں نے موضوع کیوں بدل دیا تھا۔
جلال سر ہلانے لگے تھے تیمور نے جیسے اسے بتا دیا تھا کہ فی الحال یہ ذکر مناسب نہیں اور وہ سر ہلا کر پلٹے تھے اور چلتے ہوئے اپنی موٹر کار کی طرف بڑھ گئے تھے تب تیمور بھی جانے کو پلٹے تھے جب نواب زادی چلتی ہوئی ان کے مقابل آن رکی تھی۔
تیمور نے سر سری انداز میں ان کی طرف دیکھا تھا اس کا انداز سوالیہ تھا گویا وہ پوچھ رہے تھے کہ اس طرح راستہ روکنے کا مقصد کیا ہے؟‘‘ نواب زادی کو کچھ عجیب لگا تھا تبھی بنا کوئی تمہید باندھے گویا ہوئی تھیں۔
’’تیمور بہادر یار جنگ کیا ہم جان سکتے ہیں کہ آپ جلال بھیا سے کس موضوع کو لے کر بات چیت کر رہے تھے۔‘‘ اس کے براہ راست پوچھنے پر تیمور چونکا نہیں تھا نرمی سے مسکرا دیا تھا۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا نواب زادی کیا ہم دوست کوئی بات راز داری سے نہیں کرسکتے کم آن جلال ہمارا دوست ہے۔‘‘ تیمور نے بات کا رخ بدلنا چاہا تھا نواب زادی نے سر ہلایا تھا۔
’’جانتے ہیں ہم آپ دونوں بہت اچھے دوست ہیں مگر ہم نے جلال بھائی کے چہرے پر ایک تنائو دیکھا ہے اور ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ تنائو کس باعث ہے کیا ہم جاننے کا حق نہیں رکھتے۔‘‘ وہ عجیب ایک ناز سے تنی گردن سے ان کی سمت تکتی ہوئی گویا ہوئی تھیں تیمور نے فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا تھا تبھی نواب زادی منتظر نظروں سے ان کی سمت تکنے لگی تھیں اور وہ بغور ان کو دیکھتے ہوئے بہت دھیمے سے مسکرائے تھے۔
’’آپ پر تجسس ہیں نواب زادی؟‘‘ جیسے وہ اسے جتا رہا تھا نواب زادی نے بلا تامل سر ہلا دیا تھا تب وہ سوالیہ نظروں سے ان کی سمت تکنے لگے تھے۔
’’ایسا کیوں نواب زادی؟‘‘ تجسس کا مطلب آپ کے اندر سب جان لینے کی لگن ہے مگر کبھی کبھی سب جان لینا مناسب نہیں ہوتا جتنا آپ جانتے ہیں اتنا ہی مناسب ہوتا ہے۔‘‘ وہ جیسے اسے ٹالنا چاہا تھا۔
’’آپ ہمیں بتانا نہیں چاہتے تیمور اس کا مطلب ہے کوئی بہت گمبھیر بات ہے جس کا ذکر آپ کے اور جلال بھائی کے درمیان رہنا ضروری ہے اور کسی تیسرے کو اس کی خبر ہونا ضروری نہیں۔‘‘ نواب زادی نے تیکھی نظروں سے دیکھا تیمور نے ان کی سمت بھرپور اطمینان سے دیکھا تھا۔
’’اگر ہم کہیں کہ آپ دو دوستوں کے ذاتی معاملات میں مخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں تو؟‘‘ تیمور کچھ بھی بتانے سے گریز کرتا ہوا بولا تھا عین النور خاموشی سے ان کو دیکھنے لگی تھیں پھر مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔
’’ہم جانتے ہیں ہم مخل ہو رہے ہیں مگر ایسا اس لیے کہ ہم ان معاملات کو لے کر فکر مند ہیں ہم چھوٹے نواب کی فکر کر رہے ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں ہمیں وہ بہت متفکر لگے ہم نے پہلی بار ان کو اس طرح بہت الجھا ہوا دیکھا ہمیں لگا اگر ہم جان پائیں گے تو شاید ان معاملات کی گتھی سلجھا پائیں گے۔
’’ہم صرف اپنے بھیا کی مدد کرنا چاہ رہے تھے ہماری نیت آپ کے اور ان کے آپس کے معاملات میں مداخلت یقینا نہیں تھی۔‘‘ وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی تھیں ان کے چہرے پر بہت سی پریشانی آن رکی تھی تیمور نے اس چہرے کو بغور دیکھا پھر ان کا ہاتھ تھام کر قریبی سنگی بینچ پر بٹھایا تھا اور خود ان کے قریب بیٹھ گئے تھے عین کی آنکھیں آنسوئوں سے بھری تھیں اور چھلک جانے کو جیسے تیار تھیں۔
’’آپ فکر مند نہ ہوں نواب زادی ایسی کوئی بڑی بات نہیں ہے کوئی سیاسی معاملہ تھا اور جلال کو ہم سے مشورہ درکار تھا ہم اسی مدعا پر بات کر رہے تھے کہ آپ کی نظر پڑ گئی اور آپ پریشان ہو اٹھیں۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بولا تھا عین نے ان کو نگاہ اٹھا کر دیکھا تھا۔
’’آپ ہمیں ٹال رہے ہیں تیمور ہم جانتے ہیں سیاسی معاملات کو لے کر جلال بھائی ایسے پریشان نہیں ہوتے ان کی قوت برداشت اور چیزوں کو نرمی سے حل کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے ہم ان کو جانتے ہیں۔‘‘ عین النور بولی تھیں تیمور خاموشی سے انہیں دیکھنے لگے تھے پھر ان کی طرف سے نگاہ پھیرتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم آپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتے اس لیے بات کو آپ تک پہنچانا ضروری خیال کر رہے ہیں مگر آپ وعدہ کریں گے ان معاملات کو لے کر آپ جذباتی نہیں ہوں گی۔‘‘ تیمور نے اس سے وعدہ مانگا تھا اور اس نے ایک لمحے میں فوراً سر ہلادیا تھا۔
’’ہم وعدہ کرتے ہیں ہم بہت متانت انداز میں بات کو سنیں گے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ عین النور نے کہا تھا اور تب تیمور نے ان کو دیکھتا ہوا مدہم لہجے میں بولا تھا۔
’’جلال نے فتح النساء سے نکاح کرلیا ہے اور عقدہ یہ کھلا کہ…‘‘ وہ آدھی بات بتا کر رک گئے تھے کیونکہ نواب زادی کا منہ فقط آدھی بات سن کر ہی کھلا رہ گیا تھا اور آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئی تھیں تیمور کے رک جانے پر اس نے منتظر نظروں سے ان کی سمت دیکھا تھا پھر گہری سانس لے کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی اور بولی تھیں۔
’’لیجیے ہم آپ کی بات مکمل پر سکون انداز میں سن رہے ہیں اب کہیے۔‘‘ نواب زادی نے یقین دلایا تھا اور تبھی تیمور نے سر ہلاتے ہوئے بات جاری رکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’ماحول میں سراسیمگی ہے نواب زادی محل میں چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں کہ فتح النساء اس محل سے وابستہ ہیں۔‘‘ انہوں نے مناسب لفظوں میں بات بیان کردی تھی مگر عین النور ان کو نا سمجھتے ہوئے دیکھنے لگی تھی۔ جیسے وہ بات کو سمجھ نہیں پائی تھیں اس کی نظروں میں سوالیہ نشان واضح طور پر دکھائی دیا تھا تیمور اس سوالیہ نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھ کر جانے کا قصد کرنے لگے تھے جب عین نے فوراً ان کے ہاتھ پر اپنا نازک سا ہاتھ رکھ دیا تھا یہ عمل بہت فطری تھا تیمور نے اس اقدام پر چونکتے ہوئے انہیں دیکھا تھا اور وہ ان کی سمت سے نگاہ پھیرتے ہوئے بہت آہستگی سے ان کے مضبوط ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ ہٹا کر مدہم لہجے میںبولی تھی۔
’’ہم الجھ گئے ہیں آپ کی بات سمجھ نہیں سکے، برائے کرم بات کو کسی قدر واضح کریں فتح النساء کسی طور اس محل سے وابستہ ہیں وہ ہماری سہیلی ہیں اور ابا جان کے بچپن کے دوست کی دختر ہیں اگر یہ رشتہ ہی حوالہ ہے تو اس کے لیے چہ میگوئیاں کیسی اور اس ذکر کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔‘‘ وہ یقینا بات سمجھنے سے قاصر رہی تھیں اور ان کی لا علمی پر تیمور نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا اگر بات کا اصل ان کو معلوم کرنا پڑ جاتا تو یقینا وہ بہت حیران رہ جاتیں مگر ان کے لیے اس معاملے کو جاننا ضروری تھا اور تیمور بھی ان سے کچھ چھپانا نہیں چاہتے تھے تبھی ان کی سمت دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم نہیں جانتے نواب زادی آپ کا رد عمل کیا ہوگا یا آپ اس بات کی توقع رکھ بھی رہی ہیں کہ نہیں یقینا یہ بات یا اس سے جڑا کوئی سرا آپ کے دماغ میں نہیں ہوگا تبھی ہم چاہتے ہیں آپ اس بات کو مکمل سکون سے سنیں فتح النساء کے بارے میں اور ان کی اس محل سے وابستگی آپ سے نہیں جڑی وہ حوالہ یقینا آپ نہیں ہیں ان کا نام نواب صاحب سے منسلک کیا جا رہا ہے۔‘‘ تیمور نے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
’’کیا؟‘‘ عین حیرت زدہ رہ گئی تھیں۔
’’ابا ان کے ساتھ یا وہ ابا کے ساتھ؟‘‘ عین کسی اور حوالے سے بات کو سمجھے ہوئے ساکت رہ گئی تھیں تیمور نے سر انکار میں ہلایا تھا اور گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولے تھے۔
’’آپ جو سمجھ رہی ہیں بات وہ نہیں ہے عین آپ نے بات کا رخ یکدم بدل دیا ہے۔‘‘ یہ وابستگی اور حوالہ وہ یقینا نہیں ہے جو آپ سمجھ رہی ہیں جو آپ نے سوچا ہے وہ اس سے بہت بڑا گناہ تصور کیا جائے گا فتح النساء کو نواب صاحب کی بیٹی سمجھا جا رہا ہے ایسا گمان سب کو ہے کیونکہ فتح النساء کی والدہ سے نواب صاحبہ کے مراسم تھے اور وہ مراسم خلوتوں کی کہانی بھی رکھتے ہیں اگر چہ یہ بات کوئی ثبوت نہیں رکھتی مگر اس محبت کی کہانی کو عجب ایک موڑ پر لا کر سوالیہ نشان بنا دیا گیا ہے اس کی وضاحت یا ترویج آج تک نواب صاحب نے نہیں کی اور یہی بات سب کو کھل رہی ہے کہ اتنا کچھ سننے کے بعد بھی نواب صاحب خاموش کیوں ہیں اگر فتح النساء نواب صاحب کی صاحبزادی ہیں تو جلال نے جو نکاح قائم کیا ہے وہ اپنی وقعت کھودیتا ہے کیونکہ یہ گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے معاملہ بہت پیچیدہ ہے اور فی الحال کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا اور جلال بھی اسی معاملے کو لے کر پریشان ہیں وہ اس معاملے میں ہم سے مدد چاہ رہے تھے ان کا خیال ہے ہم مل کر اس معاملے کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ تیمور نے کہا تھا۔
اور عین النور ساکت رہ گئی تھیں نگاہوں کے سامنے کا فتح النساء کا چہرہ گھوما تھا اور پھر ابا کا۔
’’یا اللہ، یہ کیسے ممکن ہے اور جلال بھائی۔‘‘ وہ الجھ کر رہ گئی تھیں۔
’’آپ زیادہ مت سوچیں نواب زادی ہم جانتے ہیں آپ کے لیے پریشان ہونا فطری ہے یہ تمام معاملات آپ سے جڑے ہیں مگر فی الحال کسی بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے سو ان کے بارے میں اتنا سوچنا اور الجھنا مناسب نہیں ہوگا جب تک ثبوت اور تحقیق سے ثابت نہیں ہوجاتا اور نواب صاحب یہ خاموشی نہیں توڑ دیتے آپ کو اس معاملے کو صیغہ راز میں ہی رکھنا ہوگا اور نواب صاحب سے معمول کے مطابق بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا آپ اپنی شفیق والدہ سے مراسم خراب نہ کریں یہی دانش مندی ہے جب تک معاملات سلجھ نہ جائیں خاموشی اختیار رکھی جائے جلال اس وقت بہت الجھے ہوئے ہیں اور معاملہ ان کے خلاف جا رہا ہے شرعی اور معاشرتی اعتبار سے یہ گناہ عظیم ہے اور اس کی سزا بھی بھیانک ہوسکتی ہے سو ان باتوں کا ذکر کرنا یا ہوا دنیا اس معاملے کو بگاڑ سکتا ہے برائے کرم اس بات کو صرف اپنے آپ تک محدود رکھیں۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا عین النور الجھ کر رہ گئی تھیں۔
’’مگر ابا ایسے کیسے؟‘‘ ان کے دماغ کا کوئی حصہ اسی ذکر کے ساتھ بندھ کر رہ گیا تھا جیسے وہ بے یقینی سے سر انکار میں ہلانے لگی تھیں۔
’’ہمیں نہیں یقین اس بے ڈھب کہانی پر ہمارے ابا جان ایسا نہیں کرسکتے وہ بہت سلجھے ہوئے مزاج کے انسان ہیں انہوں نے زندگی اپنے اصولوں پر ڈٹ کر گزاری ہے ہم ابا پر اس طرح شک نہیں کرسکتے اور ایسا یقینا ہے بھی نہیں۔‘‘ عین النور آنسوئوں کے ساتھ مدہم لہجے میں بولی تھیں تیمور نے ان کی جانب دیکھتے ہوئے سر ہلایا تھا۔
’’ہم بھی توقع رکھتے ہیں کہ کہانی ایسی بھیانک سچائی کا پہلو نہیں رکھتی ہوگی نواب صاحب کو ہم بھی جانتے ہیں ڈیڈ کے بہترین دوست ہیں‘ وہ ڈیڈ نے کبھی اس بات کا تذکرہ نہیں کیا ہم ڈیڈ سے آج ہی اس معاملے میں باز پرس کریں گے اگر ایسا کچھ ہے تو ڈیڈ کو اس کی حقیقت ضرور معلوم ہوگی۔‘‘ تیمور نے رسانیت سے کہا تھا عین ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی ان آنکھوں سے آنسو متواتر بہتے چلے گئے تھے۔
’’پلیز نواب زادی آپ اس طرح خود کو ہلکان مت کریں اگر آپ کو یقین ہے کہ نواب صاحب ایسے کردار کے حامل نہیں تو پھر کوئی بات پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے آپ یہ آنسو پونچھیے ہم اپنے ڈیڈ سے آج ہی اس معاملے کی چھان بین کرتے ہیں۔‘‘ تیمور نے ایک سرا ڈھونڈا تھا۔
’’مگر ہم ابا جان سے اس بارے میں بات کیوں نہیں کرسکتے ابا جان سے زیادہ سچائی کون جانتا ہوگا ہم ابا جان پر شک نہیں کر رہے سو ہمیں ان کی ہر بات پر اعتبار ہوگا۔‘‘ عین النور ایک عزم سے بولی تھیں مگر تیمور نے ان کی بات کو رد کردیا تھا اور نرمی سے بولے تھے۔
’’نواب زادی فی الحال آپ چاچا جان سے کوئی بات نہیں کریں گی، ہمیں اپنے ڈیڈ سے بات کرنے دیں تب تک آپ خاموشی سادھے رہیں اور کسی سے اس معاملے کا ذکر نہ کریں۔‘‘ معاملہ حساس تھا سو تیمور اس معاملے کو راز میں رکھنا چاہتے تھے اور عین النور اس بات کو سمجھ رہی تھیں تبھی انہوں نے سر ہلا دیا تھا۔
’’ڈیٹس لائک اے گڈ گرل۔‘‘ ان کے سمجھ جانے پر تیمور مدہم لہجے میں بولے تھے اور اٹھ کھڑے ہوئے تھے مگر دو ہی قدم چلے ہوں گے کہ عین نے پکار لیا تھا۔
’’تیمور۔‘‘ تیمور یکدم رک گئے تھے انہوں نے پلٹ کر نواب زادی کو دیکھا تھا نواب زادی نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا پھر جانے کیوں بات کہنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے تیمور کو دیکھا تھا اور سر انکار میں ہلا دیا تھا وہ عجب انتشار کی کیفیت سے دو چار تھیں جیسے ان کے اندر اس معاملے کو لے کر عجب توڑ پھوڑ مچی تھی ان کی متفکر آنکھیں بے شمار الجھنیں اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں اور تیمور ان کی سمت چلتا ہوا آیا تھا اور بغور ان کو دیکھتے ہوئے ان کا ہاتھ نرمی سے تھام کر دیکھا تھا مگر جیسے عین اپنا ضبط ہار گئی تھیں اور اٹھ کر ان کے شانے پر سر رکھ کر دھواں دھار رونے لگی تھیں تیمور ان کی کیفیت پر اس یکدم اقدام پر چونک گئے تھے مگر وہ نواب زادی کی کیفیت سمجھ رہے تھے سو انہوں نے فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا اور نواب زادی کو چپ چاپ آنسو بہانے دیتے تھے عین النور کئی لمحوں تک خاموشی کے ساتھ ان کے شانے پر سر رکھ کر روتی رہی تھی ان کے اندر کا خلفشار کچھ لمحوں بعد معدوم ہوا تھا تو وہ تیمور کے شانے پر سے سر اٹھا کر بنا اس کی سمت دیکھے ان سے الگ ہوئی تھیں وہ اپنی اس حرکت پر کچھ نادم دکھائی دی تھیں ان کا انداز عجلت بھرا تھا اور تیمور ان کی کیفیت سمجھ رہا تھا سو اس نے خاموشی سے کچھ جتائے بنا ان کی سمت سے نگاہ پھیر لی تھی اور مدہم لہجے میں گویا ہوئے تھے۔
’’ہم آپ کی کیفیت سمجھ سکتے ہیں نواب زادی آپ یقینا بہت انتشار کا شکار ہیں اور آپ کے اندر بہت سی توڑ پھوڑ ہو رہی ہے ہم ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں مگر آپ کو خود کو سنبھالنا ہے اور خود سے جڑے ان باقی لوگوں کا بھی خیال رکھنا ہے اس وقت آپ کو متانت اور سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہے اس گھر کی اور نواب صاحب کی صاحبزادی ہونے کی بہت بڑی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر ہے آپ کو اس مشکل وقت سے بہت حوصلے سے گزرنا ہے اور بہت ہمت کا بھی مظاہرہ کرنا ہے ہم نہیں جانتے اگر آپ ہماری باتوں کو کوئی اہمیت دیں گی کہ نہیں مگر ہم آپ سے درخواست کرنا چاہیں گے کہ آپ تمام مخالفتوں کو بھول کر اپنی بہترین سہیلی فتح النساء سے دوبارہ بات چیت کا آغاز کریں وہ اس وقت تنہا ہیں ان کو آپ کی اشد ضرورت ہے جب ہم طوفان میں گھرے ہوں تو موجوں کی سمجھ نہیں آتی نا پتا چلتا ہے کہ طغیانی کتنی ہے اور ہم اس طوفان سے کس طور نبٹ سکتے ہیں۔ مگر جب عقل تھوڑی متحرک ہوجائے تو اس کٹھن پیچیدہ وقت میں بھی بہت سی گتھیاں سلجھنے لگتی ہیں آپ فی الحال اپنی طرف سے معاملات کو اخذ کرنے کا عمل متروک کردیں۔
کوئی انسان نہ تو مکمل فرشتہ ہوسکتا ہے نا شیطان بات حیدر میاں کی تھی اور آپ ان کے لیے ڈٹ گئیں آپ نے کوئی ثبوت اکٹھے کرنا ضروری خیال نہیں کیے نہ بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوئی کوشش کی آپ نے جذباتی ہو کر فتح النساء پر الزامات کی بارش کردی، جو کہ کسی طور سے مناسب عمل نہیں تھا آپ جیسی دانشمند لڑکی ایسی بے وقوفی کا ثبوت دے گی ہم اس کی توقع نہیں کر رہے تھے اور…!‘‘ تیمور بول رہے تھے جب عین نے ان کی بات کاٹ دی تھی۔
’’تیمور وہ دیگر معاملہ ہے اور ہم اس میں غلط نہیں ہیں فتح النساء کو ایسی بات نہیں کہنا چاہیے تھی۔‘‘ وہ یکدم تنائو میں گھرنے لگی تھیں تیمور نے ان کو بغور دیکھا تھا پھر مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’عین فتح النساء آپ کی بچپن کی سہیلی ہیں ان پر ہمیں اعتبار ہے پھر آپ کو کیوں نہیں وہ سلجھے ہوئے مزاج کی لڑکی ہیں وہ اتنا بڑا الزام کسی پر کیوں لگائیں گی آپ بات کو جذباتیت کی نذر کر رہی ہیں آپ کو از سر نو سوچنے کی ضرورت ہے۔‘‘
(باقی ان شاء اللہ آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close